جادو، برج، فرشتےاورمحدثین

بابل میں جادو کا بہت زور تھا اور اس طرف اہل کتاب کا میلان ہوا اس کا ذکر قرآن میں سوره البقرہ میں موجود ہے

وہاں غلامی کے دور کے ایک شخص حزقی ایل نے دیکھا کہ

ezekiel-2

++====================================================

ezekiel-3

ezekiel-4

ترجمہ جیو لنک ریسورس کنسلٹنٹ بار اول ٢٠١٠

اس پورے مکاشفہ میں اہم بات یہ ہے

حزقی ایل باب ١: ٢٦ میں لکھتے ہیں

וּמִמַּעַל, לָרָקִיעַ אֲשֶׁר עַל-רֹאשָׁם, כְּמַרְאֵה אֶבֶן-סַפִּיר, דְּמוּת כִּסֵּא; וְעַל, דְּמוּת הַכִּסֵּא, דְּמוּת כְּמַרְאֵה אָדָם עָלָיו, מִלְמָעְלָה

اور آسمان سے اوپر جو ان کے سروں پر تھا  ایک عرش تھا جیسا کہ نیلم کا پتھر ہوتا ہے اور اس عرش نما پر ایک انسان نما  تخت افروز تھا

یہودیت تصوف میں ان آیات کا مفہوم اللہ کے حوالے سے لیا جاتا ہے اور مرکبہ کو عرش ہی سمجھا جاتا ہے جو بادلوں اوربجلی کی کڑک میں  ہے

 الله ، مرکبہ پر  تھا جس کو چار فرشتے اٹھاتے ہیں اور وہ بادل میں ہے فرشتوں کی شکلوں کے بارے میں ہے کہ ان میں سے

ایک چہرہ بیل جیسا

ایک انسان جیسا

ایک شیر جیسا

ایک عقاب جیسا تھا

اگلی صدیوں میں جب یہود نے بیت الفا  کی عبادت گاہ تعمیر کی تو اس کے فرش پر بارہ برج بھی بناۓ

buni-circle

https://en.wikipedia.org/wiki/Beth_Alpha

اس تصویر میں جو چیز اہم ہے وہ یہ کہ چار چہرے ہیں جو ایک دوسرے کے متوازی ہیں

ایک برج انسان جیسا (برج دلو) ہے اس کے متوازی ایک برج (اسد) شیر جیسا  ہے

ایک برج  بیل جیسا (برج ثور) اور اسکے متوازی برج بچھو  (عقرب) جیسا  ہے

دیو ملائی آسٹرولوجی یا علم نجوم پر ایک کتاب کے مطابق

Scorpio also holds out the promise of ressurection of returning to light; thus Scorpio is regarded as sign of transformation. And certainly it is scorpio that has always been associated with occult wisdom. Some astrologers have imagined scorpio as a fourfold process – from angry scorpion into introspective lizard (the underworld sojourn) to doaring eagle (rebirth) to whitewinged dove (Holy Spirit). (pg 312)

Babylonian linked this (scorpion) sign with the deadly scorpion they also linked it with eagle, as is clear in vision of Ezekiel. (pg 312)

Mythic Astrology: Archetypal Powers in the Horoscope  

By Ariel Guttman, Gail Guttman, Kenneth Johnson

بچھو  دوبارہ زندگی، روشی کی طرف پلٹنے کی نوید رکھتا ہے لہذا بچھو کو تبدیلی کا نشان کہا جاتا ہے …… اور اسی بچھو کو  چھپکلی (قبر کی زندگی) یا عقاب سے(دوبارہ زندگی) اور سفید پروالی فاختہ (روح القدس) سے  تبدیل کیا گیا صفحہ ٣١٢

بابلیوں نے اس (برج والے) نشان کو زہریلے بچھو سے ملایا اور اسی کو عقاب سے بھی ملایا جیسا کہ حزقی ایل کے مکاشفہ سے ظاہر ہے

اس اقتباس کے مطابق  ایک برج کو بابل میں بچھو (عقرب) یا عقاب سے بدلا جاتا رہا ہے اور جیسا کہ اوپر والی تصویر سے ظاہر ہے  اسی کو یہودیوں نے اپنی عبادت گاہ میں بنایا

اب دیکھیں محدثین کے کہہ رہے ہیں

کتاب نقض الإمام أبي سعيد على المريسي العنيد  از عثمان بن سعید میں ایک مقطوع حدیث نقل ہوئی ہے جو کتاب حزقی ایل کی  آیت ١٠ کی نقل ہے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا حَمَّادٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : ” حَمَلَةُ الْعَرْشِ مِنْهُمْ مَنْ صُورَتُهُ عَلَى صُورَةِ الْإِنْسَانِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ صُورَتُهُ عَلَى صُورَةِ النِّسْرِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ صُورَتُهُ عَلَى صُورَةِ الثَّوْرِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ صُورَتُهُ عَلَى صُورَةِ الْأَسَدِ

عروه کہتے ہیں کہ عرش کو جنہوں نے اٹھایا ہوا ہے ان میں انسانی صورت والے ہیں اور عقاب کی صورت والے اور بیل کی صورت والے اور شیر کی صورت والے

ابن ابی شیبہ کی  کتاب العرش  کی روایت ہے

حدثنا : علي بن مكتف بن بكر التميمي ، حدثنا : يعقوب بن إبراهيم بن سعد ، عن أبيه ، عن محمد بن إسحاق ، عن عبد الرحمن بن الحارث بن عياش بن أبي ربيعة ، عن عبد الله بن أبي سلمة قال : أرسل إبن عمر (ر) إلى إبن عباس (ر) يسأله : هل رأى محمد ربه ؟ فأرسل إليه إبن عباس : أن نعم ، قال : فرد عليه إبن عمر رسوله أن كيف رآه ؟ ، قال : رآه في روضة خضراء ، روضة من الفردوس دونه فراش من ذهب ، على سرير من ذهب يحمله أربعة من الملائكة ، ملك في صورة رجل ، وملك في صورة ثور ، وملك في صورة أسد ، وملك في صورة نسر.

عبد الله بن أبي سلمة کہتے ہیں کہ  ابن عمر نے ابن عباس کے پاس بھیجا کہ کیا نبی نے الله کو دیکھا؟ ابن عباس نے کہا ہاں دیکھا. اس پر ابن عمر نے اس کو رد کیا اور کہا کیسے؟ ابن عباس نے کہا الله  کو سبز باغ میں دیکھا،  فردوس کے باغ میں جس میں سونے کا فرش تھا اور ایک تخت تھا سونے کا جس کو چار فرشتوں نے اٹھایا ہوا تھا، ایک کی شکل انسان جیسی، ایک کی بیل جیسی ،ایک کی شیر جیسی ،ایک کی عقاب جیسی تھی

اس سند سے عبدللہ بن احمد بھی کتاب السنہ میں روایت کرتے ہیں، إبن خزيمة – التوحيد – باب ذكر الأخبار المأثورة میں ، البيهقي – الأسماء والصفات – باب ما جاء في العرش والكرسي میں، الآجري – الشريعة میں روایت کرتے ہیں

اس کی سند میں محمد بن إسحاق بن يسار کا تفرد ہے جس کو امام مالک دجالوں میں سے ایک دجال کہتے  ہیں

ابن  الجوزی اس کو کتاب العلل المتناهية في الأحاديث الواهية میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں

هَذَا حَدِيثٌ لا يَصِحُّ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَقَدْ كَذَّبَهُ مَالِكٌ وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ.

یہ حدیث صحیح نہیں اس میں محمد بن اسحاق کا تفرد ہے اور اس کو امام مالک اور ھشام بن عروہ جھوٹا کہتے ہیں

ابن کثیر سوره غافر کی آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں

 رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (8) وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ وَمَنْ تَقِ السَّيِّئَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (9)
يخبر تعالى عن الملائكة المقربين من حَمَلة العرش الأربعة، ومن حوله من الكروبيين، بأنهم يسبحون بحمد ربهم

الله نے خبر دی ان چار مقربین فرشتوں کے بارے میں جنہوں نے عرش کو اٹھایا ہوا ہے اور اس کے ارد گرد کروبیں کے بارے میں کہ وہ الله کی تسبیح کرتے ہیں اس کی تعریف کے ساتھ ……ہ

اس کے بعد ابن کثیر ایک روایت نقل کرتے ہیں جس میں محمد بن اسحاق ہے اور کے کچھ اشعار نقل ہوئے ہیں جن  میں آدمی، بیل، شیر اور عقاب کا ذکر ہے اور نبی صلی الله علیہ وسلم کہتے ہیں سچ کہا

 وقد قال الإمام أحمد: حدثنا عبد الله بن محمد -هو ابن أبي شيبة -حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن إسحاق، عن يعقوب بن عتبة، عن عكرمة عن ابن عباس [رضي الله عنه]  أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صَدّق أمية في شيء من شعره، فقال:

رَجُلٌ وَثَور تَحْتَ رِجْل يَمينه … وَالنَّسْرُ للأخْرَى وَلَيْثٌ مُرْصَدُ …فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “صدق”..

اس کے بعد ابن کثیر  کہتے ہیں

وهذا إسناد جيد: وهو يقتضي أن حملة العرش اليوم أربعة، فإذا كان يوم القيامة كانوا ثمانية

اس کی سند جید ہے عرش کو چار فرشتوں نے آج اٹھایا ہوا ہے پس جب قیامت ہو گی تو آٹھ اٹھائے ہوں گے

یعنی ابن کثیر کے نزدیک یہ جانوروں کے منہ والے فرشتے جو برجوں کی شکل تھے اصل میں فرشتے ہیں

کتاب  بحر الفوائد المشهور بمعاني الأخبار ازالكلاباذي  الحنفي (المتوفى: 380هـ) کے مطابق

وَقِيلَ فِي حَمَلَةِ الْعَرْشِ إِنَّهُمْ أَمْلَاكٌ أَحَدُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْإِنْسَانِ، يَشْفَعُ إِلَى اللَّهِ فِي أَرْزَاقِهِمْ، وَالثَّانِي عَلَى صُورَةِ النَّسْرِ يَشْفَعُ إِلَى اللَّهِ فِي أَرْزَاقِ الطَّيْرِ، وَالثَّالِثُ عَلَى صُورَةِ الْأَسَدِ يَشْفَعُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فِي أَرْزَاقِ الْبَهَائِمِ وَدَفْعِ الْأَذَى عَنْهُمْ، وَالرَّابِعُ عَلَى صُورَةِ الثَّوْرِ يَشْفَعُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فِي أَرْزَاقِ الْبَهَائِمِ، وَدَفْعِ الْأَذَى عَنْهُمْ يُصَدِّقُ ذَلِكَ

کہا جاتا ہے کہ عرش کو اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک انسان کی شکل کا ہے جو الله سےانسانوں کے رزق کی سفارش کرتا ہے دوسرا عقاب کی شکل کا ہے جو پرندوں کے رزق کی سفارش کرتا ہے تیسرا شیر کی شکل کا ہے جو درندوں کے رزق کی سفارش کرتا ہے چوتھا بیل کی شکل کا ہے جو چوپایوں کے رزق کی سفارش کرتا ہے

ایک اور روایت ہے ایک روز یہود رسول اللہﷺ کے پاس آئے

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقْبَلَتْ يَهُودُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا أَبَا القَاسِمِ، أَخْبِرْنَا عَنِ الرَّعْدِ مَا هُوَ؟ قَالَ: مَلَكٌ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ مَعَهُ مَخَارِيقُ مِنْ نَارٍ يَسُوقُ بِهَا السَّحَابَ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ فَقَالُوا: فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي نَسْمَعُ؟ قَالَ: زَجْرَةٌ بِالسَّحَابِ إِذَا زَجَرَهُ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى حَيْثُ أُمِرَ قَالُوا: صَدَقْتَ

 اور چند باتیں دریافت کرنے لگے کہ اے ابوالقاسم! رعد کون ہے؟ اور اس کی حقیقت کیا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: رعد اس فرشتے کا نام ہے جو بادلوں کو چلانے پر مقرر ہے اور کڑک اس فرشتے کی آواز ہے جو بادلوں کو ہانکنے کے وقت اس فرشتے کے منہ سے نکلتی ہے ۔ اس فرشتے کے پاس آگ کے کوڑے ہیں جن سے وہ بادلوں کو ہانکتا ہے۔ یہ چمک (بجلی) اسی کی آواز ہے

ترمذی اس کو حسن اور احمد شاکر اور البانی  صحیح کہتے ہیں جبکہ یہ حزقی ایل کی کتاب سے مماثلت رکھتی ہے

سند میں  بكير بن شهاب الدامغانى ہے جس کو ابن حجر اور ابن عدی منکر الحدیث کہتے ہیں

کتاب  بغية النقاد از ابن المواق (المتوفى: 642 هـ)  کے مطابق یہ روایت    وليست بصحيحة صحیح نہیں ہے

سوال ہے کہ یہ آثار کیوں پھیلائے گئے؟ اس پر کوئی تحقیق نہیں کرتا –  ان احادیث و آثار کو صحیح کہنے والے محدثین صرف سند دیکھ کر ہی خوش ہوتے رہے جبکہ یہ اصلا بابل کا جادو تھا

محدثین سند سے چلتے تھے اور اس میں ان کا منہج قبول عامہ والا تھا کہ کسی کی روایت اگر قبول ہوتی ہو تو اس کو ثقہ کہا جاتا لیکن یہ علم بھی غلطی سے پاک نہیں اور اس میں بھی خطا ممکن ہے کیونکہ انسانی علم محدود ہے

یہی وجہ ہے کہ احناف کا قول صحیح ہے کہ خبر واحد سے عقیدہ ثابت نہیں ہوتا

This entry was posted in Aqaid, history. Bookmark the permalink.

13 Responses to جادو، برج، فرشتےاورمحدثین

  1. Waheed says:

    Kiya allah kay arsh ko 4 firashtay utgayY hwayay haian. Kiya yeh sahih hai. Kiy as ka zikr sahih ahadees main hai.

    • Islamic-Belief says:

      اللہ کے عرش کو روز محشر آٹھ فرشتوں نے اٹھایا ھوا ھو گا ابھی کتنوں نے اٹھایا ھوا ھے یہ کسی صحیح حدیث میں نہیں ھے

  2. محمد حمیر یوسف says:

    یہاں پر میرا ایک سوال ہے، جب ہمارے علوم میں جب یہ ملاوٹی حدیثیں ملائی جارہی تھیں، جنکا آنحضرت ﷺ کی تعلیمات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا، تو کیسے اور کیوں ہمارے انہی محدثین نے ان جھوٹی حدیثوں کو اپنی کتب میں درج کردیا؟ کیا انکو ان جھوٹی حدیثوں کی کچھ خبر نہیں ہوئی؟ جب ایک جھوٹی خبر ہماری کتب حدیثوں میں درج ہونے جارہی ہوگی، تو اس وقت کے علماء یقینا اس خبر کو جانتے ہونگے کہ یہ جھوٹی خبر ہے ، جسکا آنحضرت ﷺ یا صحابہ کرام رض سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن پھر بھی درجنوں بلکہ سینکڑوں ہزاروں حدیثوں کی معتبر کتب میں اس طرح کی حدیث نہ صرف موجود ہیں، بلکہ انہی “گھڑی ہوئی” حدیثوں کے لے کر آج امت مسلمہ تقسیم در تقسیم ہوتی چلی آئی ہے۔ یہ صرف اور صرف کیا ہمارے علماء اور محدثین کی نااہلی نہیں ہے کیا؟

    • Islamic-Belief says:

      آپ کے سوال سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کس دور کے محدثین کی آپ نے بات کی ہے؟
      ایک وقت تھا جب ہر طرح کا رطب و یابس نقل کیا جاتا تھا اور اس میں صحیح و سقم کی تہذیب نہ تھی جیسے مسانید کا حال ہے
      پھر صحیح لکھی گئیں مثلا صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، صحیح ابن حبان ، صحیح ابن خزیمہ وغیرہ
      اور ان کے ساتھ ساتھ کتب زہد بھی لکھی جا رہی تھیں اور تاریخ کی کتب بھی
      اس دور میں اس طرح کی کتب لکھنا ہی بہت مشکل تھا اور حدیث پر ناقدانہ تبصرہ کرنے کی صورت میں کتب کا جو حجم ہوتا وہ آپ سوچ سکتے ہیں
      لہذا علماء سے سوالات کیے جاتے تھے جن کو علل کی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ محدثین اپنے شیوخ سے یا والدین سے سوال کرتے ہیں وہ جواب دیتے ہیں
      لیکن جرح و تعدیل اور ادوار اور راویوں کے حالات و واقعات کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور ذریعہ نہ تھا کہ ان روایات کو کسی اور زاویہ سے بھی دیکھیں
      یہ آج ممکن ہے اس دور میں ممکن نہ تھا

      لہذا عمومی طور سے اس کو بعض محدثین کی نااہلی کی بجائے ان کا منتہی علم سمجھنا چاہیے لیکن یقینا بعض کی نااہلی بھی ہے
      مثلا جھمیوں کے در میں عثمان بن سعید کی کتاب نقض الإمام أبي سعيد على المريسي میں راقم نے اس فرشتوں والی روایت کو سب سے پہلے دیکھا
      اس وقت تک اس کے منبع کا علم نہ تھا لیکن یہ عجیب روایت ذہن میں رہ گئی اس چار سال بعد اس کا عقدہ کھلا جب اہل کتاب کی کتب دیکھی

      ہمارے علماء اصل میں تحقیق میں ایک ہی زاویے سے تحقیق کرتے ہیں وہ جو ان کو متقدمین سے ملا
      اہل سنت میں تاریخ کو چھپانے کا رجحان ہے مثلا اس وجہ سے جب کوئی یزید بن معاویہ کی تعریف کرتا ہے تو یہ ایک دوسرے سے خود الجھ جاتے ہیں
      اس علم کو چھپانے کو حلم کہا جاتا ہے کہ اسلاف و بزرگوں کی غلطیاں نہ بتائی جائیں
      لیکن یہ غلطی بہت ہوئی اب انفارمیشن کا دور ہے-

      یہی نصیحت کی جا سکتی ہے کہ علماء جھوٹ اور مصنوعی زندگی کو چھوڑ دیں

  3. محمد حمیر یوسف says:

    محترم اخی، میری ان احادیث کی کتب سے مراد، وہی عرصہ ہے جب صحاح ستہ مرتب کی جارہی ہوگی۔ کیونکہ یہ بات اب حتمی ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ صحاح ستہ کی کتب میں بھی بکثرت غلط روایات درج ہیں، بشمول صحیح بخاری و مسلم۔ جیسے فدک کے معاملے میں سیدہ فاطمہ رض کی سیدنا ابوبکر رض سے مبینہ ناراضگی والی حدیث اور دیگر اسی قبیل کی حدیثیں۔ یا ترمذی کی سید شباب الجنہ والی حدیث، جو کہ صاف شیعوں کی گڑھی ہوئی روایت ہے۔ کیونکہ اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو کیا یہ بات پتہ نہیں ہوتی کہ جب حسین رض جنت میں سب کے سردار ہیں، تو وہ دنیا میں سب کے سردار نہیں ہوسکتے، پھر کیوں انکی سب نے واقعہ کربلا میں مخالفت کی۔ کبار صحابہ کرام کیا یہ حدیث جان کر بھی سیدنا حسین رض کی مخالفت کرتے؟ خود امیر یزید بھی کیا انکی مخالفت کرتے؟ اس وقت کسی بھی صحابی، کسی تابعی، کسی عالم کو یہ حدیث یاد کیوں نہیں آئی کہ حضور اکرم ﷺ کے ارشاد کی روشنی میں حسین رض سب جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں؟ بے شک جنت ہی سے ہونگے لیکن کیا دنیا میں بھی سردار نہیں ہوسکتے؟ کیا کربلا کے وقت کسی صحابی یا خود حضرت حسین رض کے منہ سے اس حدیث کا تذکرہ سننے کو ملا تھا؟ کسی صحیح تاریخی ثبوت کے ساتھ؟

    • Islamic-Belief says:

      محترم حمیر بھائی
      سلام

      جی کتب میں بعض غلط روایات ہیں جن پر اس ویب سائٹ پر تبصرہ ہے لیکن یہ روایات پھیل چکی ہیں انہی سے استنباط کیا جاتا ہے جس سے جو نتائج نکلتے ہیں وہ بھی غلط ہوتے ہیں
      دوم صحاح ستہ کی غلط اصطلاح کی وجہ سے یہ بات اور پھیل چکی ہے پھر البانی صاحب نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی کہ حسن درجے کی روایات کو بھی صحیح قرار دیا

      فدک کے باغ والی روایت ہم صحیح سمجھتے ہیں کہ اس میں ابتداء میں اختلاف ہوا لیکن بعد میں جب عمر رضی الله عنہ کی طرف سے اکاؤنٹ علی اور عبّاس رضی الله عنہم کو دے دیا گیا تو یہ ختم ہو گیا

      • محمد حمیر یوسف says:

        محترم ایڈمن،
        وعلیکم السلام اخی کریم

        اس سائیٹ کی سب سے بڑی خوبی میں نے یہ دیکھی ہے کہ یہاں جو بات سچ و حق ہے، اسکا برملا اعتراف کیا جاتا ہے، کبھی بھی یہاں غلط بات کو قالین کے نیچے دبایا نہیں جاتا، اسکے لئے آپکی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ اور میری دل سے یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح آپ لوگوں کو ہمیشہ حق و سچ بات کا پرچار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

        سر دست میں اتنا یہاں کہنا چاہ رہا ہوں کہ فدک والی حدیث کی جو بات میں نے کہی تھی،اسمیں اس حصہ کی طرف میرا اشارہ نہیں ہے کہ فدک کی جاگیر پر رسول اکرم ﷺ کی وفات کے بعد ملکیت کا تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔ میری بات میں اشارہ اس طرف ہے کہ بخاری کی حدیث میں صاف الفاظ میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رض کے جواب کے سیدہ فاطمہ رض کی ان سے مبینہ ناراضگی ہوگئی تھی، ، حتی کہ سیدہ صاحبہ اسی حالت ناراضگی میں انتقال فرماگئی۔ یہ بات تاریخی طور پر غلط ہے۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا، تو یہاں امام بخاری رح کو یہ نہیں چاہئے تھا کہ وہ اصلی واقعہ کی تحقیق کرکے اپنی صحیح میں “صحیح حدیث” درج کرتے؟ اور ان تک اگر حدیث اسطرح مدلس ملی تھی، تو یہ انکا کیا فرض نہیں بنتا تھا کہ وہ حدیث سے اس متنازع حصے کو نکال دیتے، جس سے ان دو عظیم ہستیوں کے لئے ہمارے دل میں بلاوجہ بدگمانیاں پیدا ہوتی ہے، جب ہم اس بخاری کی حدیث کو پڑھتے ہیں۔ کہ سیدہ فاطمہ ایک جاگیر کے چھوٹے سے ٹکڑے کی بناء پر حضرت ابوبکر رض سے تاحیات ناراض ہوگئی اور ان سے بات بھی نہیں کی۔ اہل تشیع اسی بات کو لیکر آج تک اہلسنت پر طعنہ زن رہتے ہیں۔

        • Islamic-Belief says:

          حمیر بھائی
          السلام علیکم

          آپ کی تحقیق میں اگر یہ بات ہے تو اس پر کچھ حوالہ جات دیں تاکہ ان پر غور کیا جائے
          راقم کے علم میں اضافہ ھو گا

          • محمد حمیر یوسف says:

            وعلیکم السلام برادر،

            جی پہلے میں یہاں صحیح بخاری کی وہ حدیث کوٹ کرتا ہوں، یہ ایک لمبی حدیث ہے جسکا صرف مطلوبہ حصہ ہی یہاں پیش کرتا ہوں

            حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ بِنْتَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكَ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏”‏ لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْمَالِ ‏”‏‏.‏ وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ، دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلاً، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا،
            ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے کہ حضرت فاطمہ زہراء نبیﷺ کی صاحبزادی نے کسی کو ابو بکر صدیقؓ کے پاس بھیجا وہ رسول اللہﷺ کا ترکہ مانگتی تھیں ان مالوں میں سے جو اللہ نے آپؑ کو مدینہ اور فدک میں عنایت فرمائے تھے اور خیبر کے پانچویں حصے میں سے جو بچ رہا تھا ابو بکرؓ نے جواب دیا کہ رسول اللہﷺ نے یوں فرمایا ہے ہم پیغبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم مال و اسباب چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے البتہ اس میں شک نہیں کہ حضرت محمدﷺ کی اولاد اسی مال میں سے کھائیں گے اور میں تو رسول اللہﷺ کی خیرات اسی حال پر رکھوں گا جیسے آپﷺ کی زندگی میں تھی اور جیسا آپﷺؑکیا کرتے تھے میں بھی ویسا ہی کرتا رہوں گا ( جس جس کو آپؑ دیتے تھے میں بھی انہی کو دیتا رہو ں گا ) غرض ابو بکر صدیقؓ نے فاطمہؓ کو اس ترکہ میں سے کچھ بھی دینا منظور نہ کیا اور حضرت فاطمہؓ کو ابو بکرؓ پر غصہ آیا انہوں نے انکی ملاقات ترک کردی اور مرے تک ان سے بات نہ کی وہ نبیﷺ کے بعد صرف چھ مہینے تو زندہ رہیں جب ان کی وفات ہوئی تو انکے خاوند حضرت علیؓ نے رات ہی کو انکو دفن کردیا اور ابو بکر صدیقؓ کو ان کی وفات کی خبر نہ دی اور حضرت علیؓ نے ان پر نماز پڑھی

            Sahih Al-Bukhari, Book: Al-Maghazi (Military Expeditions) (64) كتاب المغازي, Hadith No. 4242

            آن لائن لٓنک

            http://www.ahadith.net/bukhari/book/64/chapter/39/hadith/4242

            اب کے جواب میں جو بات کہی گئی ہے، اسکو تفضیل سے دیکھنے کے لئے اس ویب سائٹ کا یہ لنک دیکھے،جہاں تاریخی اعتبار سے دونوں شیعہ سنی کتابوں کے حوالے سے اس بات کو رد کیا گیا ہے کہ سیدہ فاطمہ رض کی کوئی اسطرح کی ناراضگی سیدنا ابوبکر رض سے تاحیات قائم کی گئی تھی۔چونکہ بات بہت طویل ہے اس لئے میں پورا حصہ یہاں نقل نہیں کرسکتا، آپ اس سائٹ سے یہ بات ملاحظہ کرسکتے ہیں

            http://tahaffuz.com/6820/

          • Islamic-Belief says:

            السلام علیکم

            حوالہ جات کا شکریہ
            آپ نے اس سلسلےمیں ہماری تحریر کو دیکھا
            ⇓ اہل بیت، حقوق اور ان کی ذمہ داریاں
            http://www.islamic-belief.net/masalik/شیعیت/

            فدک اصل میں وراثت تھا ہی نہیں یہ تو پانچ گروہوں کا حصہ تھا جس میں سے ایک اہل بیت تھے باقی چار کو ان کا حق ملا یا نہیں
            اس پر نہ شیعہ غور کر رہے ہیں نہ سنی
            کیا امت کے مسکین مسافر اور یتیموں کو ان کا حصہ ملا
            حقیقت میں ایک بھاری ذمہ داری اہل بیت نے اپنے سر لی

  4. محمد حمیر یوسف says:

    وعلیکم السلام برادر

    بھائی میرے سوال کے اتنےحصے کے متعلق آپکا کیا خیال ہے؟ کیونکہ آپکے دئیے ہوئے لنک میں اس موضوع پر کوئی بات نہیں کی گئی ہے

    میری بات میں اشارہ اس طرف ہے کہ بخاری کی حدیث میں صاف الفاظ میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رض کے جواب کے سیدہ فاطمہ رض کی ان سے مبینہ ناراضگی ہوگئی تھی، ، حتی کہ سیدہ صاحبہ اسی حالت ناراضگی میں انتقال فرماگئی۔ یہ بات تاریخی طور پر غلط ہے۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا، تو یہاں امام بخاری رح کو یہ نہیں چاہئے تھا کہ وہ اصلی واقعہ کی تحقیق کرکے اپنی صحیح میں “صحیح حدیث” درج کرتے؟ اور ان تک اگر حدیث اسطرح مدلس ملی تھی، تو یہ انکا کیا فرض نہیں بنتا تھا کہ وہ حدیث سے اس متنازع حصے کو نکال دیتے

    • Islamic-Belief says:

      سلام برادر
      آپ نے بخاری کی روایت کی سند پیش کی
      حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ
      اس میں امام الزہری مدلس کا عنعنہ ہے لہذا آپ نے اس پر سندی اعتراض کیا تھا
      لیکن جب صحیح ابن حبان ذِكْرُ السَّبَبِ الَّذِي مِنْ أَجْلِهِ كَانَ يَحْبِسُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُمْسَ خُمُسِهِ وَخُمْسَ الْغَنَائِمِ جَمِيعًا ح ٤٨٢٣ میں اسی روایت کی سند دیکھیں تو وہاں ہے
      أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ، بِحِمْصَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ
      یہاں اس میں حدثنی ہے لہذا صحیح بخاری کی روایت کی سند میں تدلیس کا خطرہ باقی نہیں رہتا

      آپ نے جو لنک بھیجا تھا اس میں کہ اہل تشیع کی کتب میں اس کے خلاف بھی لکھا ہے لہذا ان کو صحیح بخاری کی روایت کو دلیل بناتے ہوئے شیخین پر تنقید نہیں کرنی چاہیے
      لیکن بنیادی طور پر جن کتب کے اس میں حوالے ہیں وہ خود اہل تشیع کے ہاں دوسرے تیسرے درجےکی کتب ہیں بنیادی ماخذ نہیں ہیں
      بنیادی ماخذ میں ان کے ہاں بھی یہی ہے کہ فدک پر اختلاف ہوا

      ابو الحسن موسی بن جعفر الکاظم کہتے ہیں

      الكافي – الكليني – ج 1 – ص 543
      فأنزل الله على نبيه صلى الله عليه وآله ” وآت ذا القربى حقه ( 1 ) ” فلم يدر رسول الله صلى الله عليه وآله من هم ، فراجع في ذلك جبرئيل وراجع جبرئيل عليه السلام ربه فأوحى الله إليه أن ادفع فدك إلى فاطمة عليها السلام ، فدعاها رسول الله صلى الله عليه وآله فقال لها : يا فاطمة إن الله أمرني أن أدفع إليك فدك ، فقالت : قد قبلت يا رسول الله من الله ومنك . فلم يزل وكلاؤها فيها حياة رسول الله صلى الله عليه فلما ولي أبو بكر أخرج عنها وكلاء ها ، فأتته فسألته أن يردها عليها ، فقال لها : ائتيني بأسود أو أحمر يشهد لك بذلك ، فجاءت بأمير المؤمنين عليه السلام وأم أيمن فشهدا لها فكتب لها بترك التعرض ، فخرجت والكتاب معها فلقيها عمر فقال : ما هذا معك يا بنت محمد ؟ قالت كتاب كتبه لي ابن أبي قحافة ، قال : أرينيه فأبت ، فانتزعه من يدها ونظر فيه ، ثم تفل فيه ومحاه و خرقه ، فقال لها : هذا لم يوجف عليه أبوك بخيل ولا ركاب ؟ فضعي الحبال ( 2 ) في رقابنا فقال له المهدي : يا أبا الحسن حدها لي ، فقال : حد منها جبل أحد ، وحد منها عريش مصر ، وحد منها سيف البحر وحد منها دومة الجندل ، فقال له ، كل هذا ؟ قال : نعم يا أمير المؤمنين هذا كله ، إن هذا كله مما لم يوجف على أهله رسول الله صلى الله عليه وآله بخيل ولا ركاب ، فقال كثير ، وأنظر فيه

      الکافی کی اس روایت کے مطابق فدک رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی زندگی میں فاطمہ رضی الله عنہا کو بحکم الہی بخش دیا گیا تھا اور اس پر ان وفات النبی کے بعد اختلاف ہوا
      اس میں ہے ابو بکر رضی الله عنہ نے تحریر لکھ دی جس میں اس کا اکاؤنٹ فاطمہ کو دے دیا گیا لیکن جب وہ واپس جا رہی تھیں عمر رستے میں مل گئے انہوں نے فاطمہ سے پوچھا یہ کیا ہے انہوں نے سب بتایا عمر نے چال چلی اور تحریر دیکھنے کا مطالبہ کیا اور جب تحریر دیکھی تو اس کو مٹا دیا

      لیکن یہ کسی کو علم نہ ہوا کہ رسول الله نے فاطمہ کو فدک بخش دیا تھا لہذا الکافی کی روایت کے مطابق ابو بکر نے فاطمہ کو کہا کہ گواہ لاؤ اور ان کے حق میں علی اور ام ایمن نے گواہی دی اورابو بکر مان گئے

      یہ روایت ظاہر کرتی ہے کہ بعض شیعہ علی اس دور میں اتنے ابو بکر کے خلاف نہیں تھے جتنے عمر کے خلاف تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *