Category Archives: روافض

ساحل عدیم اور ابن سبا کا فلسفہ

قرن اول و دوم میں عبد اللہ بن سبا کا فلسفہ عراق میں پھیل رہا تھا اور بعض کذاب و جھوٹے راوی بیان کرتے تھے کہ علی بادلوں میں ہیں اور اس فلسفے کو شیعہ روافض نے اس فلسفے کو قبول کر لیا تھا

محدث المزی کتاب تحفة الأشراف بمعرفة الأطراف میں لکھتے ہیں

يث عن الحميدي، عن سفيان: قال: كان الناس يحملون عن جابر – يعني الجعتفي – قبل أن يظهر ما أظهر، فلما أظهر ما أظهر اتهمه الناس في حديثه وتركه بعض الناس، فقيل له: وما أظهر؟ قال: الإيمان بالرجعة، وعن الحميدي، عن سفيان، قال: سمعت رجلا سأل جابرا عن قوله: فلن أبرح الأرض … الآية (12: 80) فقال جابر: لم يجىء تأويل هذه، قال سفيان: وكذب. فقلنا: وما أراد بهذا؟ فقال: إن الرافضة تقول: إن عليا في السحاب فلا نخرج مع من خرج من ولده حتى ينادي من السماء، يريد عليا أنه ينادي: اخرجوا مع فلان، يقول جابر: فذا تأويل هذه الآية وكذب، كانت في إخوة يوسف عليه السلام. وعن الحميدي، عن سفيان، قال: سمعت جابرا يحدث بنحو من ثلاثين حديثا ما أستحل أن أذكر منها شيئا وإن لي كذا وكذا. (م) في مقدمة كتابه (6: 22، 26، 27) عن سلمة بن شبيب، عن الحميدي بهذا.

سفیان کہتے ہیں کہ الحمیدی کے واسطے سے روایت ہے: انہوں نے کہا کہ لوگ جابر سے حدیثیں لیا کرتے تھے یعنی جابر الجعفی سے اس کے ان عقائد کے ظاہر ہونے سے پہلے، پھر جب اس نے وہ بات ظاہر کر دی جو اس نے ظاہر کی تو لوگوں نے اس کی حدیثوں میں اس پر الزام لگایا اور بعض لوگوں نے اسے چھوڑ دیا۔ اس سے پوچھا گیا کہ اس نے کیا ظاہر کیا؟ انہوں نے کہا: رجعت پر ایمان۔ اور الحمیدی کے واسطے سے سفیان کہتے ہیں: میں نے ایک شخص کو جابر سے اس آیت کے بارے میں پوچھتے ہوئے سنا: فلن أبرح الأرض … الآية (12: 80)، تو جابر نے کہا: اس کی تاویل ابھی نہیں آئی۔ سفیان کہتے ہیں: یہ جھوٹ ہے۔ ہم نے کہا: اس سے اس کی مراد کیا تھی؟ انہوں نے کہا: رافضہ کہتے ہیں کہ علی بادلوں میں ہیں، لہٰذا ہم ان کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ خروج نہیں کریں گے یہاں تک کہ آسمان سے ایک منادی پکارے، اس سے مراد علی ہیں کہ وہ پکاریں گے: فلاں کے ساتھ نکلو۔ جابر کہتا تھا کہ یہی اس آیت کی تاویل ہے، اور یہ جھوٹ ہے۔ یہ آیت تو یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ اور الحمیدی کے واسطے سے سفیان کہتے ہیں: میں نے جابر کو تقریباً تیس حدیثیں بیان کرتے ہوئے سنا، جن میں سے کسی ایک کو بھی بیان کرنا میں اپنے لیے حلال نہیں سمجھتا، حالانکہ مجھے اتنا اور اتنا فائدہ ہو۔ مزی نے یہ سب اپنی کتاب کے مقدمہ میں ذکر کیا ہے۔

ابن الأثير کتاب جامع الأصول في أحاديث الرسول میں لکھتے ہیں

سفيان الثوري قال: سمعتُ رَجُلاً سأل جابراً الجُعفِي عن قوله تعالى: {فَلَن أَبْرَحَ الأرضَ حتى يَأذَنَ لي أَبي أو يحكُمَ الله [ص:61] لِي وهو خيرُ الحاكمين} [يوسف: 80] قال جابر: لم يجئْ تأويلها بعدُ، قال سفيان: كذَبَ، قيل لسفيان: ما أراد بهذا؟ فقال: طائفة من الرافضة يقولون: إن عَليّاً في السحاب، فلا تخرج مع من خَرَجَ من ولده حتى يُنادي مُناد من السماء – يريدون علياً – اخرجوا مع فلان، فذلك تأويل هذه الآية عندهم، وكذب جابر، وكذبوا هم، إنما كانت هذه الآية في إِخوة يوسف عليه السلام

سفیان ثوری کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو جابر الجعفی سے اس آیت کے بارے میں پوچھتے ہوئے سنا: {فَلَن أَبْرَحَ الأرضَ حتى يَأذَنَ لي أَبي أو يحكُمَ الله لِي وهو خيرُ الحاكمين}، تو جابر نے کہا: اس کی تاویل ابھی نہیں آئی۔ سفیان نے کہا: اس نے جھوٹ کہا۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ اس کی مراد کیا تھی؟ انہوں نے کہا: رافضہ کا ایک گروہ کہتا ہے کہ علی بادلوں میں ہیں، لہٰذا تم ان کی اولاد میں سے جس نے خروج کیا ہے اس کے ساتھ نہ نکلو، یہاں تک کہ آسمان سے ایک منادی پکارے، وہ علی کو مراد لیتے ہیں، کہے گا: فلاں کے ساتھ نکلو۔ ان کے نزدیک یہی اس آیت کی تاویل ہے، اور جابر نے جھوٹ کہا اور وہ سب بھی جھوٹے ہیں۔ یہ آیت تو صرف یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے بارے میں تھی۔

امام عقیلی کتاب الضعفاء الكبير میں لکھتے ہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ قَالَ: كَانَ عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ غَيْرَ حَصِيفٍ، كَانَ يَجْلِسُ مَعَنَا فَيُبْصِرُ سَحَابَةً فَيَقُولُ: هَذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَدْ مَرَّ فِي السَّحَابِ

محمد بن اسماعیل بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ حسن بن علی نے ہم سے روایت کی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی مریم کو ابن لہیعہ سے روایت کرتے ہوئے سنا، وہ کہتے ہیں: عمرو بن جابر الحضرمی غیر دانا تھا، وہ ہمارے ساتھ بیٹھا کرتا تھا، پھر بادل کو دیکھتا تو کہتا: یہ علی بن ابی طالب ہیں جو بادل میں سے گزر رہے ہیں۔

حديث علي بن الحسين قال: كا رسول الله صلى الله عليه وعلى آله وسلم علياً عمامة يقاله لها: السحاب، فأقبل علي رضي الله عنه وهي عليه، فقال رسول الله صلى الله عليه وعلى آله وسلم: هذا عاي قد أقبل في السحاب. قال الراوي: ((فحرفها هؤلاء، فقالوا: على في السحاب)) . وهذا حديث لا يصح، رواه أبو الشيخ في ((الأخلاق)) (ص123-124) ، وفيه مسعده بن اليسع، وهو كذاب

علی بن حسین سے منسوب ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی کو ایک عمامہ پہنایا جس کا نام السحاب تھا۔ پھر علی رضی اللہ عنہ آئے اور وہ عمامہ ان کے سر پر تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ علی ہیں جو بادل میں آ رہے ہیں۔ راوی کہتا ہے کہ بعد کے لوگوں نے اس روایت میں تحریف کی اور کہنے لگے: علی بادلوں میں ہیں۔ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ اسے ابو الشیخ نے کتاب الاخلاق میں روایت کیا ہے، اور اس کی سند میں مسعدہ بن الیسع ہے، اور وہ کذاب ہے۔

کتاب نزهة الألباب في قول الترمذي «وفي الباب» میں مؤلف: أبو الفضل، حسن بن محمد بن حيدر الوائليّ الصنعانيّ لکھتے ہیں

فرات بن أحنف وقد ضعف وقال ابن نمير: “كان من أولئك الذين كانوا يقولون إن عليًّا في السحاب”.
فرات بن احنف ضعیف ہے، اور ابن نمیر نے کہا: وہ ان لوگوں میں سے تھا جو کہتے تھے کہ علی بادلوں میں ہیں۔

کتاب البدء والتاريخ میں المطهر بن طاهر المقدسي (المتوفى: نحو 355هـ) لکھتے ہیں

وأن علياً لم يمت وأنه في السحاب وإذا سمعوا صوت الرعد قالوا غضب علي

اور یہ عقیدہ کہ علی فوت نہیں ہوئے بلکہ وہ بادلوں میں ہیں، اور جب وہ گرج کی آواز سنتے تو کہتے: علی غضب ناک ہو گئے ہیں۔

کتاب الهادي والمهتدي میں مرزوق بن هياس لکھتے ہیں

ومنهم من يسلم على السحاب ويقول إذا مرت سحابة به: إن علياً – رضي الله عنه – بها.
وفيهم يقول بعض الشعراء:
برئت من الخوارج لست منهم … من الغزال منهم وابن باب
ومن قوم إذا ذكروا علياً … يردون السلام على السحاب

ان میں سے بعض لوگ بادلوں کو سلام کرتے ہیں، اور جب کوئی بادل ان کے پاس سے گزرتا ہے تو کہتے ہیں: اس میں علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ انہی کے بارے میں ایک شاعر نے کہا:
میں خوارج سے بیزار ہوں، میں ان میں سے نہیں ہوں
ان میں غزال بھی ہے اور ابن باب بھی
اور ایک قوم ایسی ہے کہ جب وہ علی کا ذکر کرتے ہیں
تو بادلوں کو سلام لوٹاتے ہیں

بَهْجَة المحَافِل وأجمل الوَسائل بالتعريف برواة الشَّمَائل میں إبراهيم بن إبراهيم بن حسن اللقاني لکھتے ہیں

وله أصحاب كانوا يعتقدون أن علياً رضي الله تعالى عنه لم يَمُت، وأنه في السَّحَاب

ان کے کچھ ایسے ساتھی تھے جو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت نہیں ہوئے بلکہ وہ بادلوں میں ہیں۔

عصر حاضر میں اس سبائی فلسفہ میں ایک جاہل ساحل عدیم نے روح پھونکی ہے اور اس کو اپنے پورٹل فلسفے سے ملا کر پیش کیا ہے – نوجوان نسل ان سے متاثر ہے اور اس جھل پر منبی عقیدے کو قبول کر رہے ہیں کہ نہ صرف علی بلکہ دجال و یاجوج و ماجوج بھی سب آسمان میں خلائی مخلوق ہیں اور وہاں سے زمین پر نازل ہونے والے ہیں

یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے

لا تنظر إلى من قال بل أنظر إلى ما قيل

یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے یہ دیکھو کیا کہا جا رہا ہے

لا تنظروا الیٰ من قال، انظروا الیٰ ما قال

کہا جاتا ہے کہ امیر المومنین  علی رضی اللہ عنہ نے  کہا کہ یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے – اس کی اسناد جمع کی جانی چاہیے تھیں   کہ دیکھا جائے اس قول کا علی پر بہتان کس نے باندھا  ہے،  کیونکہ یہ قول علی ممکن نہیں ہے – یہ قرآن کے حکم  خبر فاسق   کی تحقیق کرو (سورہ الحجرات) سے براہ راست متصادم  ہے

حیرت کی بات یہ ہے مصادر اہل تشیع میں یہ قول سندا کہیں بھی بیان نہیں ہوا – كتاب غُرر الحِكم ودُرر الكلم، للقاضي ناصح الدين أبي الفتح عبد الواحد بن محمَّد التميمي الآمدي (ت: 550 للهجرة)، میں اس کو بلا سند علی سے منسوب  کیا گیا ہے

اور اہل سنت کی کتب میں کہا جاتا ہے ابن السمعاني نے   اپنی کتاب الدلائل اور تاریخ  میں اس کا ذکر کیا ہے البتہ یہ کتاب مفقود ہیں

  کتاب  الفوائد الموضوعة في الأحاديث الموضوعة المؤلف: مرعي بن يوسف بن أبى بكر بن أحمد الكرمى المقدسي الحنبلى (المتوفى: 1033هـ) کے مطابق  یہ قول علی ہے لیکن اس میں بھی کوئی  سند نہیں دی

سن چھ  ہجری تک اہل تشیع میں  مکمل  جرح و تعدیل شروع   نہیں ہو سکی تھی لہذا علم  اسماء الرجال سے جان چھڑانے  کے لئے یہ قول ایجاد  کیا گیا  کہ  اہل بیت سے منسوب کچھ بھی مل جائے اس کو مستند مان لو – یہ مت دیکھو  کون (کذاب  یا جاہل)   کہہ رہا ہے  بلکہ صرف متن پسند آ جائے تو اس کو قبول کر لو

کسی کے پاس علی سے منسوب  اس قول کی سند ہو تو برائے  مہربانی  یہاں پیش کرے

خروج حسین سنجیدہ تحقیق

410 Downloads

کتاب  ڈونلوڈ  کرنے کے  لئے پہلے   کنڈیشن والے باکس پر کلک کریں پھر  ڈونلوڈ بٹن کو کلک کریں 

قصہ مختصر

حسن رضی اللہ عنہ نے سن ٤١ ھ میں معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس شرط پر خلافت سونپ دی کہ خلافت معاویہ کی وفات پر حسن پر واپس لوٹ آئے گی – اللہ کو منظور ہوا کہ حسن کی وفات ، معاویہ سے پہلے ہو گئی اور یہ معائدہ ختم ہو گیا – معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو خلیفہ نامزدہ کر دیا – اس پر بعض اصاغر صحابہ مثلا حسین اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو اعتراض ہوا کیونکہ یہ خلیفہ بننے کے متمنی تھے- اکابر اصحاب رسول نے بیعت یزید کر لی لیکن حسین اور ابن زبیر نے توقف کی راہ لی – اس دوران پانچ ماہ گذر گئے اور یزید کی جانب سے کوئی سرزنش نہ کی گئی – لیکن اس کے بعد حسین اپنے عزیز و اقارب اور رفقاء کو لے کر ببانگ دھل مدینہ سے عراق گئے کہ وہ وہاں اپنی خلافت قائم کریں گے – بنو امیہ کی حکومت نے ان کو نہیں روکا یہاں تک کہ حسین کے کزن مسلم بن عقیل کوفہ میں بلوا میں گرفتار ہوئے اور حسین کے ہمدرد روپوش ہو گئے – حسین نے کوفہ کا ارادہ ترک کیا اور شمال کا رخ کیا یہاں تک کہ ٤٠ میل دور کربلا پہنچے – حسین شہید ہوئے اور ان کے ساتھی بھی ، صرف امام زین العابدین بچ گئے جن کو کسی شیعہ نے بے ہوش کیا اور جب ان کو ہوش آیا تو وہ دمشق میں تھے – اسی دوران کربلا میں حسین کا سر گورنر ابن زیاد پر پیش ہوا اور ابن زیاد نے حسین کی تعریف کی اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی – دمشق سے زین العابدین کو مدینہ واپس بھیج دیا گیا – اس واقعہ کے ایک سال بعد ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں خروج کیا اور مکہ کی طرف فرار ہوئے جب حکومت نے مدینہ کا کنٹرول واپس حاصل کیا – سو سال بعد ابو مخنف نام کے ایک قصہ گو نے مقتل حسین کی داستان رقم کی اور اس میں وہ لوگوں کو قتل حسین اور ابن زبیر کی واردات سناتا تھا – اسی طرح اور قصہ گو بھی کر رہے تھے – حسین اور ابن زبیر کے قصوں کو سن ٢٠٠ ہجری کے بعد امام طبری نے اپنی تاریخ میں جمع کیا

 

سن ٦٠ ہجری میں نواسہ رسول ، حسین رضی اللہ عنہ اپنے شیعوں (یعنی حمایتیوں ) کے ایک امیر و امام تھے جو کوفہ و عراق میں موجود تھے – وہ عراق میں اپنی خلافت قائم کرنا چاہتے تھے لیکن اس کوشش میں شہید ہو گئے – حسین بن ابی طالب (پیدائش سن ٤ ھ ) کی شہادت محرم کی دس راتیں گرزنے کے بعد سن ٦١ ہجری بمطابق دس اکتوبر سن ٦٨٠ ع اتوار کے دن ہوئی –

مقتل حسین پر سب سے اول کتاب متروک محدث و اخباری ابو مخنف لوط بن یحیی الأزدي المتوفی ١٥٧ ھ کی کتاب ہے – ابو مخنف کی کتاب مقتل حسین کا اصل نسخہ دنیا میں موجود نہیں ہے لیکن اسی کی رویات بعد میں تاریخ طبری میں جا بجا نقل ہوئی ہیں – اہل سنت میں تاریخ ابن کثیر ، تاریخ اسلام از امام الذھبی ، ابن اثیر کی الکامل بہت پیش کی جاتی ہیں – انہی کتب میں بیان کردہ روایات کو ملا جلا کر آجکل مکمل قصے بنا دیے جاتے ہیں – امام طبری نے اپنی تاریخ میں اسناد دیں ہیں اور اس میں یزید و معاویہ پر قابل اعتراض مواد ابو مخنف متروک کی سند سے ہے – البتہ الکامل از اثیر اور ابن کثیر کی البدایہ و النہایہ میں سندیں نہیں دی گئیں اور روایات کو ضعیف و موضوع کی تہذیب کے بغیر ملا کر لکھ دیا گیا ہے – افسوس اس بد احتیاطی کی وجہ سے یہ کتب لائق اعتبار نہیں ہیں – ابن خلدون نے ان لوگوں کا شمار لکیر کے فقیروں میں کیا ہے – علامہ لکھتے ہیں

ہمارے بڑے بڑے اسلامی مورخین نے تاریخیں لکھیں اور واقعات پورے پورے قلم بند کردئے لیکن بعد میں آنے والے بن بلائے نالائقوں نے تاریخ میں جھوٹ اور خود ساختہ افسانے ملا دیے ، اوہام و ذاتی خیالات بھر دئے – اسی طرح کمزور منقولہ اور خود تراشیدہ روایات تاریخ میں بھر دیں – بعد میں آنے والے لکیر کے فقیر بن کر ان کے راستے پر چل پڑے، جو واقعات انہوں نے سنے تھے وہی بلا کم و کاست ہم تک پہنچا دئے – انہوں نے واقعات کے اسباب پر غور و فکر نہیں کیا اور نہ … بے پر کی اڑائی ہوئی باتوں کا رد کیا اور نہ معقول جواب دیا

چونکہ لوگ مجبور ہیں کہ جرح و تعدیل نہیں کر سکتے لہذا انہی تواریخ کو پڑھ کر پریشان ہو جاتے ہیں – ان کو یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ ابن کثیر ایک محدث تھے لیکن یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ اپنی تاریخ پر کتاب البدایہ میں انہوں نے روایات پر جرح و تعدیل نہیں کی ہے جس طرح وہ درکار تھی – عام لوگ ان کتب کو پڑھ کر اس طرح منکر و معلول و منقطع روایات کو بھی سر آنکھوں پر بیٹھا دیتے ہیں – رہی سہی کسر البانی نے پوری کر دی ہے جس نے بغض معاویہ کی کوئی روایت نہیں جس کی تصحیح یا تحسین نہ کی ہو – پھر اہل حدیث مقلدوں کا ایک لشکر ہے جو یو ٹیوب پر رافضیوں کی ڈفلی بجا رہا ہے – فرقوں کے ان اعمال سیاہ کو دیکھ کر راقم نے محسوس کیا کہ صحیح تاریخ مرتب کی جائے – الحمد للہ اس حوالے سے کتاب المشاجرت و المشاحنات کافی پسند کی گئی

قتل حسین پر کتب جذباتیت سے بھر پور ہیں – اکثر بحث اس پر ہی مذکور ہوتی ہے کہ یزید بن معاویہ (پیدائش٢٣ یا ٢٥ ھ – وفات صفر سن ٦٤ ہجری )نے قتل کا حکم دیا تھا یا نہیں دیا تھا – اس پر بحث کم ہوتی ہے کہ حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما میں جو معائدہ ہوا وہ کیا تھا – اس کی شقوں پر کیا اختلاف ہوا ؟ علی رضی اللہ عنہ کا خروج کرنے والے پر کیا حکم ہے ؟ ان سوالات سے بچ کر خروج حسین پر کلام کرنا عبث مشقت ہے

بعض افسانہ سازوں نے تحقیق کے نام پر گمان کیا ہے کہ حسین کوفہ اپنے شیعوں کو سمجھانے گئے تھے یا کوفہ کا دورہ کر رہے تھے – راقم کہتا ہے یہ خیال آرائی بالکل لغو ہے – حسین کوفہ میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور سن ٦١ میں بلا شبہ اپنی خلافت قائم کرنا چاہتے تھے لیکن افسوس وہ عصبیت جمع نہ کر پائے جو ان ساتھ لڑتی اور مدد کرتی – حسین کا قتل حکومت بنو امیہ کی ایماء پر کیا گیا تھا یا نہیں یہ صحیح سند سے معلوم نہیں ہے اور نہ ہی صحیح طور پر معلوم ہے کہ قاتلین حسین کون لوگ تھے – البتہ یہ معروف ہے کہ حسین شہید ہوئے ، ان کے قافلہ کے بچنے والے افراد دمشق شام لے جائے گئے اور پھر مدینہ منتقل کیے گئے –

خروج حسین کے حوالے سے امت میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے – اہل تشیع میں سے بعض کے نزدیک قتل حسین اصل میں طلقاء (مکہ کے نو مسلموں ) کا بدلہ عداوت تھا جو وہ بنو ہاشم سے لے رہے تھے – یہ بات احمقانہ ہے کیونکہ بدر کے مشرک مقتولین کے ساتھ ہر قریشی و انصاری نے قتال کیا تھا یہ کوئی بنو ہاشم یا بنو امیہ کی جنگ نہیں تھی مومنوں اور کفار کی جنگ تھی – اہل تشیع کے نزدیک خلیفہ کا تقرر کرنا اللہ کا کام ہے اور اہل تشیع کے نزدیک حسین کا بطور خلیفہ تقرر اللہ تعالی نے کیا تھا – اس عقیدے کو عقیدہ امامت کہا جاتا ہے البتہ اس کی منصوص دلیل قرآن میں نہیں ہے – اہل سنت اس میں ان سے اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جمہور جس کو خلیفہ مقرر کر دیں وہی خلیفہ ہے ، منصف خلافت وھبی یا من جانب اللہ نہیں ہے – اہل سنت میں سے بعض کے نزدیک قتل حسین کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی – تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ محض غالیوں کی روایات و تصورات ہیں –

اہل تشیع میں تمام کا اور اہل سنت میں سے بعض کا موقف ہے کہ معاویہ (رضی اللہ عنہ ) ایک ظالم حاکم تھے ، ان کی حکومت بادشاہت تھی ، حق پر نہیں تھی – ان کے مطابق معاویہ کی بھنبھوڑ کھا نے والی سلطنت کی خبر حدیث میں دی گئی تھی اور معاویہ کے گورنر حرام خور تھے – ان لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اہل بیت کو خمس (مال غنیمت میں پانچواں حصہ ) وقت پر نہیں دیا جاتا تھا – راقم کہتا ہے ان اقوال پر غور کرنے سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ خمس کا مال اسی صورت مال حلال بنتا ہے جب دین حق کی خاطر جنگ کی گئی ہو – اب جب معاویہ اور ان کے اہلکار ظالم تھے اور ان کی جنگیں حق کے لئے نہیں تھی تو ان کی پروسٹی ممالک سے جنگیں ظلم و جبر ہی ہوئیں لہذا ان جنگوں سے حاصل شدہ مال غنیمت اور پھر اس کا خمس بھی مال حرام ہوا – لیکن ہم جانتے ہیں کہ حسن و حسين نے معاویہ سے مال خمس لیا جس سے ظاہر ہے کہ معاویہ حق پر تھے اور ان کی جانب سے کی جانے والی جنگیں بھی حق پر تھیں –

زیر نظر کتاب اصلا راقم کی کتاب المشاجرات و المشاحنات (قرن اول کی جنگیں ) کے چند چنیدہ مباحث ہیں جن کو ضروری اضافہ جات کے بعد افادہ عامہ کی غرض سے یہاں جمع کیا گیا ہے – کتاب میں مصادر اہل سنت کے علاوہ مصادر اہل تشیع کو بھی ملا کر جذباتیت سے الگ ہو کر ایک سنجیدہ بحث کی گئی ہے – کتاب میں قتل حسین اور منکرات یزید سے متعلق روایات پر جرح و تعدیل پیش کی گئی ہے تاکہ تحقیق کرنے والے اس مقام سے آگے جا سکیں-
ابو شہر یار
٢٠٢٠