Category Archives: علم و اصول حدیث

دجّال سے آٹوگراف لینے والے متمنّین کے نام

اسلام میں دجّال کا ذکر تحت الاسباب یا فوق الاسباب نہیں کیا جاتا بلکہ آخرت کی علامت کے طور پر کیا جاتا ہے۔ دجّال فراڈی ہے نہ کہ اللہ کی نشانی، لیکن یار دوستوں نے نہ سمجھی میں اس کا دائرۂ تصرف اس قدر وسیع کر دیا ہے کہ اب دجّال کو فراڈ کی بجائے اللہ کے معجزہ کے تحت لے آئے ہیں۔

سوچنے پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن سوچتے سوچتے حقیقت کو لانگ جانا حماقت و جہل ہے – روایات میں بیان کردہ دجال کے تماشوں میں ایک ادھ میں ہے کہ وہ  ایک مردہ کو زندہ کرے گا –  یہ  واقعہ صرف دجال کے کیمپ کا بیان کیا جاتا ہے جہاں صرف ایک مومن  ہے جس  کے ساتھ یہ ہو رہا ہے اس طرح واقعہ کو خبر واحد خود  روایت  میں ہی بیان کیا گیا ہے – دجال کے حوالے سے ایک شخص کو زندہ کرنے کا تماشہ   روایت میں بیان ہوا ہے جو اس کے فراڈ  کے حوالے سے بیان کی گئی  ہے۔

اگر اس کو من و عن  قبول کیا جائے تو برزخ سے روح کو باہر نکالنے کا دجّال کا فعل خلافِ قرآن و احادیث ہے اور اس پر کوئی ایک بھی نص  نہیں جس میں ہو کہ کافروں کو آیت و معجزہ ملتا ہے یا  ان کے فراڈ کے پیچھے فاعل حقیقی اللہ تعالی  ہی ہوتا ہے ۔

روایت خبر واحد صحیح سے  عقیدہ نہیں رکھا جا سکتا  (الا یہ کہ نص قرآن کے مطابق ہو ) اور خبر متواتر تک قرآن کے خلاف نہیں لی جاتی  ۔ صرف یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ دجّال فتنہ ہے، فراڈ ہے اور من جانب اللہ آئی کوئی آیت یا نشانی نہیں۔

عثمانی صاحب کا موقف ہے کہ خبر واحد پر عقیدہ مت لینا، اس کی تاویل کر کے قرآن کے تحت کرنا۔

عثمانی صاحب  کتاب ایمان  خالص میں تبصرہ  فرماتے ہیں

سوال  و جواب میں بھی انہوں نے فتنہ دجال کے حوالے سے اس کے زندہ کرنے کے عمل کو مکمل حذف کر دیا ہے اور یہی کام واتقوا اللہ میں کیا گیا تھا  – اس کی وجہ یہی  ہے روایت کو اس حد تک قبول کیا جاتا ہے جتنا اس کا متن نص قرآن کے تحت قابل تاویل ہو

لیکن راقم کہتا ہے یہاں تو مسئلہ ہی دوسرا ہے علم حدیث کے تحت ایسی روایت جو قرائن پر نہ اتر رہی ہو اس کو قبول نہیں کیا جا سکتا لہذا راقم کہتا ہے غور کرو ہے سمجھو  کہ دجال کے کیمپ میں ایک مومن لایا جاتا ہے اس کو دجال بقول راوی مارے گا پھر   زندہ کرے گا پھر مارنے کی کوشش گا    – کیا تم نے غور کیا کہ جب یہ شخص واپس دیگر مومنوں سے ملے گا اور کہے گا کہ میرے ساتھ دجال نے یہ کیا کہ میری روح فرشتوں نے قبض  کی اور حکم دجال پر لوٹا دی تو مومن مل کر اس شخص کو پٹائی کریں گے جوتے ماریں گے اور کہیں گے کہ جاہل تو  نے دجال کو حکم قرآن کے تحت کیوں نہیں کہا کہ 

قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ

جب اس نے کہا میں زندہ کرتا  مارتا  ہوں  تو  ابراہیم  نے کہا  اللہ سورج کو مشرق سے لاتا ہے تو اس کو مغرب سے لا کر دکھا  پس بھونچکہ ہو گیا  کافر

رب تعالی کا تو یہ حکم  ہوا کہ اس قسم  کے مکالمہ پر جو راویوں نے بیان کیا صریحا حکم کرو کہ سورج کو مغرب سے نکال میرے جسم کو  مارنے جلانے کی چھوڑ

افسوس صد افسوس بعضوں نے اس پر کہا 

جو عقائد ہم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں رکھتے ہیں فاعل اللہ تعالیٰ ہے، سب کام میں لیکن عیسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں میں کرتا ہوں اللہ کے حکم سے، اللہ کے اذن سے۔

اگر یہ بات حدیث میں آگئی ہے تو قرآن و صحیح حدیث تو ہم مانتے ہیں۔

تو اعتراض کس بات پر ہے؟

سالوں  یہی تو عقیدے کا مسئلہ  رہا ہے ولی اللہ تک مردے زندہ  نہیں کر سکتے اسی کی ہم تبلیغ کرتے آئے ہیں اب کیا بغیر تاویل روایت  کیے ہم اب یہ مان لیں کہ اللہ کے دشمن تک زندہ کر سکتے ہیں ؟؟؟ یا للعجب

ہرگز  نہیں ! ہر اس شخص  کا رد کرو جو یہ مانے کہ دجال اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ  کرے گا

جاہلوں سے پوچھو  هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ  اپنی دلیل پیش کرو کہ اللہ نے تم پر نص نازل کو ہو کہ کافروں کو مردہ زندہ کرنے کی آیت نشانی دے دیتا ہے

روایت صحیح تک میں جو آیا ہے اس کی تاویل محدثین نے کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ  متن روایت کو من وعن نہیں جاتا – قرع النعال والی روایت کی مثال واضح ہے اس کو زمینی قبر نہیں سمجھا گیا – ابن حزم اور عثمانی صاحب  نے اسی تاویل کو پیش  کیا ہے – اسی طرح ہر اس روایت کی تاویل ہو گی جو نص قرآن  سے ٹکرا جائے

قرن دوم میں محدثین میں دجال کے حوالے سے  یہ روایت بھی نزاع کا مسئلہ تھی اور وضاحت کی جاتی تھی  – محدثین نے اس کی تاویل کی کہ اصلا دجال زندہ نہ کرے گا بلکہ یہ تمام معاملہ  خضر علیہ السلام کے ساتھ ہو گا جن کی موت  موخر ہے

اس طرح یہ تاویل محدثین میں چل رہی تھی اور امام مسلم کے کاتب شاگرد نے اسی کو وضاحت میں بیان کے ہے-  لہذا سمجھا جا سکتا ہے کہ قرن دوم میں محدثین میں امام بخاری بھی اس کو اسی تاویل کے تحت شاید لے رہے ہوں

واللہ اعلم

 

 

یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے

لا تنظر إلى من قال بل أنظر إلى ما قيل

یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے یہ دیکھو کیا کہا جا رہا ہے

لا تنظروا الیٰ من قال، انظروا الیٰ ما قال

کہا جاتا ہے کہ امیر المومنین  علی رضی اللہ عنہ نے  کہا کہ یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے – اس کی اسناد جمع کی جانی چاہیے تھیں   کہ دیکھا جائے اس قول کا علی پر بہتان کس نے باندھا  ہے،  کیونکہ یہ قول علی ممکن نہیں ہے – یہ قرآن کے حکم  خبر فاسق   کی تحقیق کرو (سورہ الحجرات) سے براہ راست متصادم  ہے

حیرت کی بات یہ ہے مصادر اہل تشیع میں یہ قول سندا کہیں بھی بیان نہیں ہوا – كتاب غُرر الحِكم ودُرر الكلم، للقاضي ناصح الدين أبي الفتح عبد الواحد بن محمَّد التميمي الآمدي (ت: 550 للهجرة)، میں اس کو بلا سند علی سے منسوب  کیا گیا ہے

اور اہل سنت کی کتب میں کہا جاتا ہے ابن السمعاني نے   اپنی کتاب الدلائل اور تاریخ  میں اس کا ذکر کیا ہے البتہ یہ کتاب مفقود ہیں

  کتاب  الفوائد الموضوعة في الأحاديث الموضوعة المؤلف: مرعي بن يوسف بن أبى بكر بن أحمد الكرمى المقدسي الحنبلى (المتوفى: 1033هـ) کے مطابق  یہ قول علی ہے لیکن اس میں بھی کوئی  سند نہیں دی

سن چھ  ہجری تک اہل تشیع میں  مکمل  جرح و تعدیل شروع   نہیں ہو سکی تھی لہذا علم  اسماء الرجال سے جان چھڑانے  کے لئے یہ قول ایجاد  کیا گیا  کہ  اہل بیت سے منسوب کچھ بھی مل جائے اس کو مستند مان لو – یہ مت دیکھو  کون (کذاب  یا جاہل)   کہہ رہا ہے  بلکہ صرف متن پسند آ جائے تو اس کو قبول کر لو

کسی کے پاس علی سے منسوب  اس قول کی سند ہو تو برائے  مہربانی  یہاں پیش کرے

کیا میت کو عذاب ہوتا ہے ، کوئی حدیث ہے ؟

قصہ مختصر
عذاب قبر کی بحث میں لوگ جنہوں نے صحیح طرح صحیح بخاری و مسلم نہیں پڑھی وہ بار بار ایک قول کو حدیث کی طرح پیش کرتے ہیں کہ میت کو رونے پر عذاب ہوتا ہے – راقم نے غور کیا تو پایا کہ یہ قول نبوی ہرگز نہیں بلکہ قول ابن عمر تھا جو ان کو مغالطہ سے ایجاد ہوا – اس قول کو علم حدیث کی متعدد کتب میں سامع کی غلطی کی مثال میں پیش کیا جاتا ہے بسا اوقات ایک شخص کسی اور سے کچھ سنتا ہے لیکن اصل مدعا نہیں جان پاتا تو متن حدیث نبوی میں علت قادحہ آ جاتی ہے جس کی تحقیق ضروری ہوتی ہے

روایات میں آیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک حدیث غلط بیان کی کہ کہا میرے والد ابو عبد الرحمان عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے میں نے سنا  تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ
میت کو عذاب ہوتا ہے جب اس کے گھر والے اس پر روتے ہیں

یہ قول عائشہ رضی اللہ عنہا تک پہنچا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا

إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونِّي عَنْ غَيْرِ كَاذِبَيْنِ، وَلاَ مُكَذَّبَيْنِ، وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ صحیح مسلم
یہ حدیث ان سے روایت کی گئی ہے جو جھوٹ نہیں بولتے تھے لیکن سننے میں غلطی ہو جاتی ہے

صحیح بخاری میں ہے کہ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا
قَالَتْ: رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ، لاَ وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – بِهَذَا
اللہ عمر پر رحم کرے ، اللہ کی قسم ایسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل نہیں فرمایا

علم حدیث میں یہ مثال بن گئی کہ یہ متن درست نہیں کہ میت کو عذاب ہوتا ہے اور کو متعدد کتب میں بیان کیا گیا مثلا

اليواقيت والدرر في شرح نخبة ابن حجر از المناوي القاهري (المتوفى: 1031هـ) میں ہے
وَقع هَذَا عَن الثِّقَات لَا عَن تعمد بل لنسيان كَمَا رُوِيَ أَن ابْن عمر روى أَن الْمَيِّت يعذب ببكاء أَهله فَبلغ ابْن عَبَّاس فَقَالَ: ذهل أَبُو عبد الرَّحْمَن
ثقات سے غلطی ہوتی ہے جان بوجھ کر نہیں بلکہ بھول جانے کی وجہ سے جیسا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ میت کو عذاب ہوتا ہے پس یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ تک پہنچا تو فرمایا ابو عبد الرحمان (صحیح متن ) بھول گئے

علوم الحديث ومصطلحه – عرضٌ ودراسة از د. صبحي إبراهيم الصالح (المتوفى: 1407هـ) کے مطابق

ويروي عبد الله بن عمر عن النبي – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ المَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ
فتقضي عليه عاثشة أم المؤمنين بأنه لم يأخذ الحديث على وجهه، ولم يضبط لفظه،

اور عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا میت کو اس کے اہل کے رونے سے عذاب ہوتا ہے پس ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فیصلہ دیا کہ ابن عمر نے یہ حدیث اس کے اصل پر نہیں لی اور (اصلی) الفاظ کو یاد نہ رکھا

قواعد التحديث من فنون مصطلح الحديث از محمد جمال الدين الحلاق القاسمي (المتوفى: 1332هـ) میں ہے

ومنها: اختلاف الضبط مثاله ما روى ابن عمر1 أو عمر عنه -صلى الله عليه وسلم- من أن الميت يعذب ببكاء أهله عليه، فقضت عائشة عليه بأنه لم يأخذ الحديث على وجهه

اور حدیث کے الفاظ کو یاد رکھنے میں اختلاف کی مثالوں میں سے ہے وہ جو عمر یا ابن عمر نے رسول اللہ سے روایت کیا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے پس عائشہ رضی اللہ عنہا نے فیصلہ دیا کہ انہوں نے حدیث کو صحیح رخ سے نہیں لیا

تحرير علوم الحديث از عبد الله بن يوسف الجدیع میں ہے
وعن عروة بن الزبير، قال: ذكر عند عائشة أن ابن عمر يرفع إلى النبي صلى الله عليه وسلم: ” إن الميت يعذب في قبره ببكاء أهله عليه “، فقالت: وَهل
ابن زبیر سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ابن عمر کی ایک حدیث بیان کی گئی جس کو رفع کر کے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر رہے تھے کہ رسول اللہ نے فرمایا میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے پس عائشہ نے فرمایا  بھول گئے

ان حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ کے ساتھ کوئی قول نہیں فرمایا کہ میت کو عذاب ہوتا ہے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا  جب آپ  ایک جنازہ  پر سے گزرے  کہ  مرنے والے یہودی کو عذاب ہوتا ہے – اور ہم کو معلوم ہے کہ عذاب کفار  کو وہیں ہے جہاں ال فرعون کو عذاب ہوتا ہے  جہنم کی اگ کے پاس جیسا کہ قرآن میں وارد ہے