کیا قرن دوم کے اصحاب حدیث خبر واحد کو عقیدے میں نہیں لیتے تھے

اصحاب حدیث کی اصطلاح سے محدثین کی کیا مراد ہے

احمد نے کہا: صاحب الحدیث عندنا من يستعمل الحديث۔ الملقب لابن الجوزي ص 268
صاحب حدیث ہمارے نزدیک وہ ہے جو حدیث کو استعمال کرے۔

وہ فقہاء جو ضعیف حدیث کی بجائے رائے کی طرف گئے ہیں ان کو اصحاب حدیث میں شمار نہیں کیا جاتا ان میں امام ابو حنیفہ شامل ہیں جو صاحب حدیث نہیں بلکہ اہل رائے میں شمار کیے جاتے ہیں

اب وہ محدثین جو حدیث کو عقیدے و عمل دونوں میں لیتے ہیں ان میں متعدد محدثین شامل ہیں مثلا امام ابو داود و امام ابن ماجہ نے عقائد سے متعلق ضعیف حدیث پر ابواب بنائے ہیں اور جب امام ابو داود سے اہل مکہ نے سوال کیا سنن ابو داود میں کون سی احادیث ان کے نزدیک صحاح نہیں تو اس پر انہوں نے خط میں لکھا کہ جہاں جہاں میں نے کتاب میں نشاندھی کر دی ہے محض وہ اس درجے کی صحیح نہیں ہیں

محدثین میں اسطرح دو گروہ ہو گئے تھے جو ضعیف حدیث کو بھی عمل میں لے لیتے تھے اور ایک دوسرا گروہ تھا جو محض صحیح احادیث کو جمع کر رہا تھا ان میں امام بخاری و امام مسلم و امام ابن حبان و امام ابو خذیمہ ہیں جنہوں نے صحیح کے عنوانات سے کتاب لکھی ہیں گویا کہ ان کے نزدیک صرف صحیح پر عقیدہ لیا جا سکتا ہے

لیکن ضعیف حدیث کو عمل میں قبول کرنے والا طبقہ ترقی کر رہا تھا اور حالت یہاں تک پہنچی کہ اس طبقہ نے وہ روایات جو موقوف تھیں ان سے بھی عقیدہ لینا شروع کر دیا مثلا امام احمد نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک روایت کی بنیاد پر تعویذ لینے کا عقیدہ اختیار کیا ، امام مجاہد سے منسوب ایک قول کی بنیاد پر یہ عقیدہ لیا کہ روز محشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرش پر بٹھایا جائے گا – یہ ایقاد النبی علی العرش کا عقیدہ اسقدر پھیلا کہ بہت سے محدثین نے اس کو قبول کر لیا مثلا – اس کا تذکرہ راقم اپنے بلاگ میں کر چکا ہے

ابو بکر الخلال کتاب السنہ میں لکھتے ہیں

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، ثَنَا أَبُو الْهُذَيْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا} [الإسراء: 79] قَالَ: «يُجْلِسُهُ مَعَهُ عَلَى الْعَرْشِ» ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ جَمَاعَةٍ، وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنَ الْمُحَدِّثِينَ يُنْكِرُهُ، وَكَانَ عِنْدَنَا فِي وَقْتٍ مَا سَمِعْنَاهُ مِنَ الْمَشَايِخِ أَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ إِنَّمَا تُنْكِرُهُ الْجَهْمِيَّةُ، وَأَنَا مُنْكَرٌ عَلَى كُلِّ مَنْ رَدَّ هَذَا الْحَدِيثَ، وَهُوَ مُتَّهِمٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابو مَعْمَرٍ نے أَبُو الْهُذَيْلِ سے انہوں نے محمّد بن فُضَيْلٍ سے انہوں نے لیث سے انہوں نے مجاہد سے کہا عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا [الإسراء: 79] کہا ان کو عرش پر بٹھائے گا. عبد اللہ (بن احمد) نے کہا میں نے اس حدیث کو ایک جماعت سے سنا ہے اور میں نے محدثین میں سے کسی کو نہیں دیکھا جو اس کو رد کرتا ہو اور ہم اپنے الْمَشَايِخِ سے سنتے رہے ہیں کہ اس کو سوائے الْجَهْمِيَّةُ کے کوئی رد نہیں کرتا اور میں ہر اس شخص کا منکر ہوں جو اس حدیث کو رد کرے

ابن قیم کتاب بدائع الفوائد میں لسٹ دیتے ہیں جو اس عقیدے کو مانتے ہیں جن میں امام دارقطنی بھی ہیں اور کے اشعار لکھتے ہیں

قال القاضي: “صنف المروزي كتابا في فضيلة النبي صلى الله عليه وسلم وذكر فيه إقعاده على العرش” قال القاضي: “وهو قول أبي داود وأحمد بن أصرم ويحيى بن أبي طالب وأبى بكر بن حماد وأبى جعفر الدمشقي وعياش الدوري وإسحاق بن راهوية وعبد الوهاب الوراق وإبراهيم الأصبهإني وإبراهيم الحربي وهارون بن معروف ومحمد بن إسماعيل السلمي ومحمد بن مصعب بن العابد وأبي بن صدقة ومحمد بن بشر بن شريك وأبى قلابة وعلي بن سهل وأبى عبد الله بن عبد النور وأبي عبيد والحسن بن فضل وهارون بن العباس الهاشمي وإسماعيل بن إبراهيم الهاشمي ومحمد بن عمران الفارسي الزاهد ومحمد بن يونس البصري وعبد الله ابن الإمام والمروزي وبشر الحافي”. انتهى

قاضی (ابن قتیبہ یا ابن أبی یعلى، سیاق پر منحصر) کہتے ہیں:
امام مروزی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت پر ایک کتاب تصنیف کی، جس میں ‘إقعاده على العرش’ کا ذکر کیا۔

پھر قاضی کہتے ہیں:
یہ امام ابو داود، احمد بن أصرم، یحییٰ بن ابی طالب، ابو بکر بن حماد، ابو جعفر الدمشقی، عیاش الدوري، اسحاق بن راہویہ، عبد الوہاب الوراق، ابراہیم الاصبہانی، ابراہیم الحربی، ہارون بن معروف، محمد بن اسماعیل السلمی، محمد بن مصعب العابد، ابی بن صدقہ، محمد بن بشر بن شریک، ابو قلابة، علی بن سهل، ابو عبداللہ بن عبد النور، ابو عبید، حسن بن فضل، ہارون بن العباس الہاشمی، اسماعیل بن ابراہیم الہاشمی، محمد بن عمران الفارسی الزاہد، محمد بن یونس البصری، عبداللہ بن امام، امام مروزی اور بشر حافی — ان سب کا یہی قول ہے

اس سے معلوم ہوا کہ اصحاب حدیث یا محدثین کا اس پر کوئی اتفاق نہیں تھا کہ خبر واحد پر عقیدہ نہیں لیا جا سکتا وہ موقوف اقوال پر بھی عقائد بنا رہے تھے اور محدثین میں گروہ ہو چکے تھے جن میں بعض صرف صحیح پر عقیدہ لینے کا کہہ رہے تھے مثلا امام بخاری و مسلم

آٹھویں صدی میں جا کر جب محدثین مثلا امام الذھبی نے عرش پر نبی کو بٹھائے جانے کے عقیدے کا رد کیا تو پھر اس دور میں اس بات کو شوافع نے تو قبول کیا لیکن حنابلہ نے اس کو قبول نہیں کیا

کتاب الإحكام في أصول الأحكام میں امام ابن حزم قرطبی ظاہری (وفات: 456ھ) لکھتے ہیں

قال أبو محمد قال أبو سليمان والحسين عن أبي علي الكرابيسي والحارث بن أسد المحاسبي وغيرهم أن خبر الواحد العدل عن مثله إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوجب العلم والعمل معا وبهذا نقول وقد ذكر هذا القول أحمد بن إسحاق المعروف بابن خويز منداد عن مالك بن أنس وقال الحنفيون والشافعيون وجمهور المالكيين وجميع المعتزلة والخوارج إن خبر الواحد لا يوجب العلم

ابن حزم نے کہا: ابو سلیمان، اور حسین نے ابو علی الکرابیسی، حارث بن اسد المحاسبی اور دیگر علماء سے نقل کیا کہ: عادل راوی کی رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ک متصل روایت، جب وہ عادل سے عادل تک ہو، تو وہ علم (یقینی علم) اور عمل دونوں کو واجب کرتی ہے۔ہم اسی قول پر ہیں۔ یہی قول احمد بن اسحاق المعروف ابن خویز منداد نے امام مالک بن انس سے نقل کیا ہے۔

جبکہ احناف، شوافع، جمہور مالکیہ، معتزلہ اور خوارج نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ خبر واحد سے علم حاصل نہیں ہوتا۔

ابن حزم مزید کہتے ہیں:
فصح بهذا إجماع الأمة كلها على قبول خبر الواحد الثقة عن النبي صلى الله عليه وسلم وأيضا فإن جميع أهل الإسلام كانوا على قبول خبر الواحد الثقة عن النبي صلى الله عليه وسلم يجزي على ذلك كل فرقة في علمها كأهل السنة والخوارج والشيعة والقدرية

اس سے یہ بات درست ثابت ہو گئی کہ امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر کوئی ثقہ راوی خبر واحد بیان کرے، تو وہ قابل قبول ہے۔ اور مزید یہ کہ تمام اہل اسلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو اگر کوئی ثقہ راوی بیان کرے، تو وہ اس کو قبول کرتے رہے ہیں۔ اس پر ہر فرقہ کی علمی روایت گواہ ہے، جیسے: اہلِ سنت، خوارج، شیعہ اور قدریہ۔

اس بحث کا لب لباب یہ ہے کہ محدثین میں گروہ بندی ہو چکی تھی – بعض موقوف صحابی یا تابعی سے عقائد ثابت کر رہے تھے اور بعض سرے سے صحیح سند موقوف تو دور کی بات صحیح سند حدیث تک کو عمل میں نہیں لے رہے تھے جن میں امام بو حنیفہ پیش پیش ہیں – ان کو چڑ کر اہل رائے محدثین کی ہی جانب سے کہا جاتا تھا

لہذا یہ قول کہ اصحاب حدیث کا اتفاق ہے کہ خبر واحد صحیح سے عمل تو ثابت ہو سکتا ہے عقیدہ نہیں – تمام اصحاب حدیث یا محدثین کا موقف نہیں لہذا اس پر اتفاق کا کہا بھی نہیں جا سکتا

یہاں جو تجزیہ پیش کیا گیا ہے اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حنابلہ آج تک خبر واحد کو عقیدہ میں لیتے ہیں کیونکہ ان کا آیقاد النبی علی العرش کے عقیدے سے رجوع معلوم نہیں بلکہ ابی تک اپنی کتاب میں وہ اس کا پرچار کرتے ہیں

راقم کہتا ہے کہ حدیث صحیح جو خبر واحد ہو اس کو عقیدے کی تفصیل کے تحت لیا جاتا ہے مثلا عذاب قبر پر کتاب میں عثمانی صاحب نے احادیث کو ہی پیش کیا ہے بعض اوقات تفصیل میں ڈاکٹر عثمانی حسن روایت کو بھی پیش کرتے ہیں کتاب تعویذات کا شرک دیکھی جا سکتی ہے – عقائد کی بنیاد قرآن ہے لیکن اس کی تفصیل خبر واحد سے ہی لی جاتی رہی ہے – حدیث معراج سے ہی ہم پانچ نمازوں کے حکم کا ذکر کرتے ہیں جبکہ قرآن میں معراج پر نماز کی فرضیت کا ذکر نہیں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *