رَسُول وَلَا نَبِي وَلَا مُحدث؟

کہا  جاتا ہے کہ قرآن میں نبی اور رسول کے علاوہ   محدث کا بھی ذکر تھا

تفسیر  الدر المنثور از سیوطی میں ہے

أخرج عبد بن حميد وَابْن الْأَنْبَارِي فِي الْمَصَاحِف عَن عَمْرو بن دِينَار قَالَ: كَانَ ابْن عَبَّاس رَضِي الله عَنهُ يقْرَأ (وَمَا أرسلنَا من قبلك من رَسُول وَلَا نَبِي وَلَا مُحدث)

وَأخرج ابْن أبي حَاتِم عَن سعد بن إِبْرَاهِيم بن عبد الرَّحْمَن بن عَوْف قَالَ: إِن فِيمَا أنزل الله {وَمَا أرسلنَا من قبلك من رَسُول وَلَا نَبِي} وَلَا مُحدث فنسخت مُحدث والمحدثون: صَاحب يس ولقمان وَهُوَ من آل فِرْعَوْن وَصَاحب مُوسَى

عبد بن حميد اور َابْن الْأَنْبَارِي نے عمرو بن دینار سے روایت کیا کہ ابن عباس کی قرات کرتے تھے

وَمَا أرسلنَا من قبلك من رَسُول وَلَا نَبِي وَلَا مُحدث

اور ہم نے تم سے قبل کوئی رسول یا نبی یا محدث نہیں بھیجا

اور ابن ابی حاتم نے سعد بن إِبْرَاهِيم بن عبد الرَّحْمَن بن عَوْف سے روایت کیا کہا اس میں تھا  وَمَا أرسلنَا من قبلك من رَسُول وَلَا نَبِي وَلَا مُحدث ، پھر اس میں محدث منسوخ ہوا اور محدثوں سے مراد صاحب یاسین ہے اور لقمان جو ال فرعون  میں سے تھے اور موسی کے صاحب

راقم کہتا ہے یہ قول باطل ہے حقیقت میں ناسخ و منسوخ نہیں ہوتا احکام میں ہوتا ہے – اگر یہ حقیقت تھی کہ پچھلی امتوں میں محدث تھے تو  بات منسوخ ممکن نہیں ہے

اسی تفسیر میں ہے

وَأخرج ابْن الْمُنْذر وَابْن أبي حَاتِم عَن مُجَاهِد رَضِي الله عَنهُ قَالَ: النَّبِي وَحده الَّذِي يكلم وَينزل عَلَيْهِ وَلَا يُرْسل

ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے تخریج کی ہے مجاہد نے کہا نبی وہ ہوتا ہے جس سے کلام کیا جاتا ہے اور اس پر نزول ہوتا ہے لیکن  (قوم کی طرف ) بھیجا نہیں جاتا

تفسیر قرطبی میں ہے

قَالَ ابْنُ عَطِيَّةَ: وَجَاءَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ:” وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ وَلَا مُحَدَّثٍ” ذَكَرَهُ مَسْلَمَةُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ

ابن عطیہ نے کہا ابن عباس کے حوالے سے آیا ہے کہ وہ قرات کرتے تھے

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ وَلَا مُحَدَّثٍ

اس کا ذکر کیا ہے مَسْلَمَةُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نے

راقم کہتا ہے اگر قرات منسوخ تھی اور ایسی کوئی آیت تھی تو ابن عباس اس کی قرات کیسے کر سکتے ہیں

قرطبی نے تفسیر میں کہا

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَهَذَا حَدِيثٌ لَا يُؤْخَذُ بِهِ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ قُرْآنٌ. وَالْمُحَدَّثُ هُوَ الَّذِي يُوحَى إِلَيْهِ فِي نَوْمِهِ

اس حدیث سے ہم یہ نہیں لیں گے کہ یہ قرآن میں ہے اور محدث وہ ہے جس پر نیند میں الوحی کی جائے

بہر حال بقول مفسرین  محدث کا لفظ قرات میں سے حذف کیا گیا اس کو منسوخ قرار دیا گیا اور مفسرین کے مطابق یہ آیت قرآن میں سورہ حج میں  اب اس طرح ہے

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (52) لِيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ

لیکن محدث کا وجود لوگوں میں باقی رہا

اہل سنت کا قول : عمر محدث ہیں

صحیح بخاری  کی حدیث میں ہے

 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ “لَقَدْ كَانَ فِيمَا قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ فَإِنْ يَكُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَإِنَّهُ عُمَرُ”. زَادَزَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ “لَقَدْ كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ رِجَالٌ يُكَلَّمُونَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونُوا أَنْبِيَاءَ فَإِنْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَعُمَرُ” قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: «مِنْ نَبِيٍّ وَلاَ مُحَدَّثٍ»

.ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلی امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے، اور اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہے تو وہ عمر ہیں۔ زکریا بن زائدہ نے اپنی روایت میں سعد سے یہ بڑھایا ہے کہ ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل کی امتوں میں کچھ لوگ ایسے ہوا کرتے تھے کہ نبی نہیں ہوتے تھے اور اس کے باوجود فرشتے ان سے کلام کیا کرتے تھے اور اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہو سکتا ہے تو وہ عمر ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پڑھا «من نبي ولا محدث» ۔

امام بخاری نے بھی روایت ٣٦٨٩  کے ساتھ جملہ ٹانک دیا کہ ابن عباس سے شاذ قرات کو منسوب کیا

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: «مِنْ نَبِيٍّ وَلاَ مُحَدَّثٍ»

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پڑھا «من نبي ولا محدث» ۔

سعد بن إِبْرَاهِيم بن عبد الرَّحْمَن بن عَوْف المتوفی ١٢٥ ھ ہے
امام مالک کے نزدیک متروک ہیں اگرچہ بغداد والے  ثقہ کہتے ہیں

الاصابة في تمييز الصحابة از ابن حجر میں ہے

قال الحاكم: مالك هو الحكم في حديث المدنيين

امام حاکم نے کہا – امام مالک فیصلہ کرنے والے  ہیں اہل مدینہ کی حدیث پر

مستدرک میں حاکم کہتے ہیں

مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ الْحَكَمُ فِي حَدِيثِ الْمَدَنِيِّينَ…..

اہل مدینہ کی احادیث پر امام مالک فیصلہ کرنے والے ہیں

إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ یہ سعد بن إِبْرَاهِيم بن عبد الرَّحْمَن بن عَوْف کا بیٹا ہے
ابراہیم ضعیف ہے
امام یحیی بن سعید القطان کے نزدیک
احمد نے کہا میں نے ابراہیم بن سعد سے روایت کیا تو امام القطان نے کہا
فقال لي يحيى: يا أبا عبد الله، عقيل وإبراهيم بن سعد!! عقيل وإبراهيم بن سعد!! كأنه يضعفهما
ابو عبد الله .. ابراہیم بن سعد … گویا کہ اس کی تضعیف کر رہے ہوں

امام وكيع نے اس کو ترک کر دیا تھا
وقال عبد الله: حدثني أبي. قال: حدثنا وكيع مرة، عن إبراهيم بن سعد. ثم قال: أجيزوا عليه، تركه بأخرة. «العلل» (4709)

یعنی یہ باپ بیٹے بڑے ائمہ حدیث کے نزدیک متروک ہیں

فضائل الخلفاء الأربعة وغيرهم لأبي نعيم الأصبهاني از أبو نعيم  الأصبهاني (المتوفى: 430هـ) میں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ كَانَ فِي الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ فَإِنْ يَكُنْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ فَهُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ» قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: الْمُحَدَّثُ الْمُلْهَمُ لِلصَّوَابِ

اس  کی سند  میں سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف أبو إسحاق  المتوفی ١٢٧ ھ قاضی مدینہ ہے جو ثقہ سمجھا گیا ہے لیکن امام مالک نے اس کو ترک کیا- مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ اور إبراهيم بن سعد بن إبراهيم  بن عبد الرحمن بن عوف نے اس کو روایت کیا ہے- ابن عَجْلَانَ کے بارے میں امام مالک کا قول ہے کہ اس کو حدیث کا اتا پتا نہیں ہوتا- یعنی مالک نے اس روایت کو اس سند سے  سرے سے قبول ہی نہیں کیا ہو گا 

ابن عجلان نے ہی ساریہ والی روایت بیان کی- البانی سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها (3/ 101۔104)     میں اس پر طویل گفتگو کی ہے ، اور اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ واقعہ صرف ابن عجلان کی سند سے صحیح ہے
 قلت: …. فتبين مما تقدم أنه لا يصح شيء من هذه الطرق إلا طريق ابن عجلان وليس فيه إلامناداة عمر ” يا سارية الجبل ” وسماع الجيش لندائه وانتصاره بسببه.ومما لا شك فيه أن النداء المذكور إنما كان إلهاما من الله تعالى لعمر وليس ذلك بغريب عنه، فأنه ” محدث ” كما ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم ولكن ليس فيه أن عمر كشف له حال الجيش، وأنه رآهم رأي العين

میں البانی کہتا ہوں : پس کے واضح ہوا کہ اس سلسلے میں ایک ہی طرق صحیح ہے جو ابن عجلان کی سند سے ہے اور اس میں عمر کی پکار کا ذکر ہے کہ يا سارية الجبل اور لشکر کا اس آواز کو سننا اور اس کے سبب مدد پانا تو اس میں شک نہیں کہ یہ الہام میں سے ہے جو الله تعالی نے عمر کو کیا اور اس میں کوئی عجیب بات بھی نہیں کیونکہ وہ محدث ہیں جیسا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے ثابت ہے اور اس میں یہ نہیں ہے کہ  عمر پر لشکر کا حال کشف ہوا اور انہوں نے اس کو آنکھوں سے دیکھا

یعنی عمر کو محدث قرار دینا  ، ان پر ساریہ والا واقعہ گھڑنا یہ سب ابن عجلان اور ان کے شیخ  کا کمال ہے – لہذا صوفی نا پسند حلقوں میں اس کی ساریہ والی روایت کو رد کیا جاتا ہے اور پھر عمر کو غیر محدث  قرار دیا جاتا  ہے – لہذا صحیح بخاری کی روایت  کا ترجمہ کیا جاتا ہے

راقم کہتا ہے اس کا ترجمہ یہ درست نہیں ہے اس میں کہا گیا ہے

پچھلی امتوں میں تم سے پہلے محدث تھے اور اگر  میری امت میں کوئی  ہے تو  عمر ہیں

اس روایت میں عمر کو محدث قرار دیا گیا ہے اور راقم اس کو رد کرتا ہے

راوی کا مدعا عمر کو محدث قرار دینا ہی ہے اسی لئے وہ ساریہ والا روایت بھی نقل کرتا ہے

عمر محدث تھے کی مثالیں

صحیح مسلم  میں ہے

حَدَّثَنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، أَخْبَرَنَا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: “وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ، فِي مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ، وَفِي الْحِجَابِ، وَفِي أُسَارَى بَدْرٍ” ,

عمر نے کہا تین میں میرے رب نے میری موافقت کی –  مقام ابراہیم کو قبلہ کریں،  عورتوں کو پردے کا حکم، غزوہ بدر کے قیدی

محدثین کا اس روایت پر بھی اعتراض ہے – جامع التحصيل في أحكام المراسيل از  العلائي (المتوفى: 761هـ) میں ہے

جويرية بن أسماء مكثر عن نافع وقد تقدم قول بن عمار الحافظ في حديثه عنه وافقت ربي في ثلاث وإن بينهما فيه رجلا غير مسمى

جويرية بن أسماء یہ نافع سے بہت روایت کرتا ہے اور ابن عمار کا قول اس کی حدیث میری رب نے تین باتوں میں میری موافقت پر گزرا ہے کہ جويرية بن أسماء اور  نافع  کے درمیان ایک شخص ہے جس کا نام نہیں لیا گیا

پھر  العلائي  لکھتے ہیں

فلو أن هذا الحديث عنده عنه لكان يساير ما روى عنه فلما رواه بواسطة بيه وبين شيخه المكثر عنه علم أن هذا الحديث لم يسمعه منه ولا سيما إذا كان ذلك الواسطة رجلا مبهما أو متكلما فيه مثاله حديث اخرجه مسلم من طريق سعيد بن عامر عن جويرية بنت أسماء عن نافع عن ابن عمر عن عمر رضي الله عنه حديث وافقت ربي في ثلاث وقد رواه محمد بن عمر المقدمي عن سعيد بن عامر عن جويرية عن رجل عن نافع وجويرية مكثر عن نافع جدا فلو كان هذا الحديث عنده لما رواه عن رجل مبهم عنه

جويرية بن أسماء جانتا تھا کہ اس کے شیخ نافع اور اس کے درمیان ایک شخص ہے اس نے نافع سے نہیں سنا تھا

علل الأحاديث في كتاب الصحيح المسلم بن الحجاج از  أَبُو الفَضْلِ ى بنِ الجَارُوْدِ الجَارُوْدِيُّ، الهَرَوِيُّ، الشَّهِيْدُ (المتوفى: 317هـ) میں ہے

وَوجدت فِيهِ حَدِيث سعيد بن عَامر عَن جوَيْرِية بن أَسمَاء عَن نَافِع عَن ابْن عمر عَن عمر قَالَ

وَافَقت رَبِّي فِي ثَلَاث

قَالَ أَبُو الْفضل فَوجدت لَهُ عِلّة

حَدثنِي مُحَمَّد بن إِسْحَاق بن إِبْرَاهِيم السراج حَدثنَا مُحَمَّد بن إِدْرِيس حَدثنَا مُحَمَّد بن عمر بن عَليّ حَدثنَا سعيد بن عَامر عَن جوَيْرِية عَن رجل عَن نَافِع أَن عمر قَالَ

وَافقنِي رَبِّي فِي ثَلَاث فَذكر الحَدِيث وَلم يذكر ابْن عمر فِي إِسْنَاده وَأدْخل بَين جوَيْرِية وَنَافِع رجلا غير مُسَمّى

میں نے حدیث سعيد بن عَامر عَن جوَيْرِية بن أَسمَاء عَن نَافِع عَن ابْن عمر عَن عمر کہ میرے رب نے تین میں میری موافق کی میں علت پائی – ابو الفضل نے کہا اس کو روایت کیا  مُحَمَّد بن إِسْحَاق بن إِبْرَاهِيم السراج حَدثنَا مُحَمَّد بن إِدْرِيس حَدثنَا مُحَمَّد بن عمر بن عَليّ حَدثنَا سعيد بن عَامر عَن جوَيْرِية عَن رجل عَن نَافِع أَن عمر کی سند سے …. پس سند میں جوَيْرِية  اور َنَافِع کے درمیان شخص ہے جس کا نام نہیں لیا گیا

الغرض صحیح مسلم کی سند میں مجہول ہے جو اس روایت کو ضعیف بنا دیتی ہے

صحیح بخاری  کی حدیث ہے کہ عمر نے مشورہ دیا کہ امہات المومنین کو پردہ کرایا جائے

حدیث نمبر: 4483حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،‏‏‏‏ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ عَنْ حُمَيْدٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ وَافَقْتُ اللَّهَ فِي ثَلَاثٍ أَوْ وَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلَاثٍ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏لَوِ اتَّخَذْتَ مَقَامَ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى، ‏‏‏‏‏‏وَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَوْ أَمَرْتَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِالْحِجَابِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَبَلَغَنِي مُعَاتَبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ نِسَائِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلْتُ عَلَيْهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنِ انْتَهَيْتُنَّ أَوْ لَيُبَدِّلَنَّ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا مِنْكُنَّ حَتَّى أَتَيْتُ إِحْدَى نِسَائِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏أَمَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَعِظُ نِسَاءَهُ حَتَّى تَعِظَهُنَّ أَنْتَ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ:‏‏‏‏ عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ سورة التحريم آية 5 الْآيَةَ،‏‏‏‏ وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ،‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَنَسًا،‏‏‏‏ عَنْ عُمَرَ.ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ فرمایا، تین مواقع پر اللہ تعالیٰ کے نازل ہونے والے حکم سے میری رائے نے پہلے ہی موافقت کی یا میرے رب نے تین مواقع پر میری رائے کے موافق حکم نازل فرمایا۔ میں نے عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ! کیا اچھا ہوتا کہ آپ مقام ابراہیم کو طواف کے بعد نماز پڑھنے کی جگہ بناتے تو بعد میں یہی آیت نازل ہوئی۔ اور میں نے عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ! آپ کے گھر میں اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں۔ کیا اچھا ہوتا کہ آپ امہات المؤمنین کو پردہ کا حکم دے دیتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت حجاب (پردہ کی آیت) نازل فرمائی اور انہوں نے بیان کیا اور مجھے بعض ازواج مطہرات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خفگی کی خبر ملی۔ میں نے ان کے یہاں گیا اور ان سے کہا کہ تم باز آ جاؤ، ورنہ اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بدل دے گا۔ بعد میں ازواج مطہرات میں سے ایک کے ہاں گیا تو وہ مجھ سے کہنے لگیں کہ عمر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی ازواج کو اتنی نصیحتیں نہیں کرتے جتنی تم انہیں کرتے رہتے ہو۔ آخر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «عسى ربه إن طلقكن أن يبدله أزواجا خيرا منكن مسلمات» کوئی تعجب نہ ہونا چاہئیے اگر اس نبی کا رب تمہیں طلاق دلا دے اور دوسری مسلمان بیویاں تم سے بہتر بدل دے۔ آخر آیت تک۔ اور ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، ان سے حمید نے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا۔

یہ روایت صحیح بخاری کی ہی دوسری روایت سے متصادم ہے جس کے مطابق پردے کا حکم زینب بنت جحش رضی الله عنہا کے ولیمہ کے بعد آیا کیونکہ بعض لوگ دیر تک بیٹھے رہے- سندا اس میں حمید الطویل مدلس کا عنعنہ ہے

زينب بنت جحش رضی الله عنہا سے شادی کے حوالے سے کتاب جمل من أنساب الأشراف میں بلاذری نے لکھا ہے
ويقال إنه تزوجها رجوعه من غزاة المريسيع، وكانت المريسيع فِي شعبان سنة خمس. ويقال إنه تزوجها في سنة ثلاث
اور کہا جاتا ہے ان سے نکاح کیا غزوۂ مُرَیسیع سے واپس پر اور غزوۂ مُرَیسیع شعبان سن ٥ ہجری میں ہوا اور کہا جاتا ہے سن 3 ہجری میں کیا

سوره الاحزاب کی ابتدائی آیات میں ہی پہلے زینب بنت جحش رضی الله عنہا سے نکاح کا حکم ہے –
زینب بنت جحش سے نکاح کے بعد رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دعوت دی جس میں بعض حضرات زیادہ دیر رہے اور رسول الله نے ان کو جانے کا بھی نہیں کہا – صحیح بخاری کی روایت کے مطابق
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِهَذِهِ الآيَةِ: آيَةِ الحِجَابِ ” لَمَّا أُهْدِيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتْ مَعَهُ فِي البَيْتِ صَنَعَ طَعَامًا وَدَعَا القَوْمَ، فَقَعَدُوا يَتَحَدَّثُونَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ ثُمَّ يَرْجِعُ، وَهُمْ قُعُودٌ يَتَحَدَّثُونَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ} [الأحزاب: 53] إِلَى قَوْلِهِ {مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} [الأحزاب: 53] فَضُرِبَ الحِجَابُ وَقَامَ القَوْمُ ”
رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب گئے تو دیکھا گھر میں لوگ ہیں پس آپ کو حیا آئی اور آپ چلے گئے اور الله نے حجاب کی آیت نازل کی
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ

السندی کہتے ہیں کہ زینب رضی الله عنہا سے سن 3 ہجری میں نکاح کیا
زينب بنت جحش، أمُّ المؤمنين رضي الله عنها، هي أَسَدِيَّةٌ، تزوَّجها النبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سنة ثلاث
غزوة الأحزاب ، غزوة بني المصطلق سے پہلے ہوا کیونکہ سن ٥ میں غزوة بني المصطلق ہوا تھا
لہذا امہات المومنین کو پردے کے جو احکام سوره الاحزاب میں دیے گئے وہ سن 3 میں دیے گئے ہیں

یہ روایت قرآن سے بھی موافقت نہیں رکھتی جس میں سورہ بقرہ میں مدینہ میں بتایا گیا کہ ابراہیم کو حکم دیا گیا تھا

وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى

مدینہ سے  مکہ جا کر  طواف  کی ضرورت صلح حدیبیہ تک نہیں ہوئی تھی لہذا یہ ممکن ہی نہیں  ہے کہ عمر نے اس حوالے سے کوئی مشورہ دیا ہو – مقام ابراہیم کو مصلی کرنے کا حکم تو ابراہیم سے چلا آ رہا تھا

المخلصيات وأجزاء أخرى لأبي طاهر المخلص از  محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا البغدادي المخَلِّص (المتوفى: 393هـ) میں ہے

حدثنا يحيى بنُ محمدٍ: حدثنا العلاءُ بنُ سالمٍ أبوالحسنِ: حدثنا حفصُ بنُ عمرَ الرازيُّ، عن قرةَ بنِ خالدٍ، عن حميدٍ الطويلِ، عن أنسٍ قالَ: قالَ عمرُ بنُ الخطابِ:وافقتُ ربِّي عزَّ وجلَّ في ثلاثٍ أو وافَقَني في ثلاثٍ، قلتُ: يا رسولَ اللهِ، هذا مقامُ أَبينا إبراهيمَ لو اتخَذْناه مُصلَّى، فنزلتْ: {وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: 125] وقلتُ: يا رسولَ اللهِ، لو اتخَذتَ حجاباً، فأَنزلَ اللهُ عزَّ وجلَّ آيةَ الحجابِ، وقلتُ لنسائِهِ: لتُطعْنَ رسولَ اللهِ أو ليُبدلنَّه اللهُ عزَّ وجلَّ أزواجاً خيراً مِنكن، فأَنزلَ اللهُ عزَّ وجلَّ: {عَسَى رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ} الآية [التحريم: 5] (1) .

قالَ ابنُ صاعدٍ: وهذا (2) حديثٌ غريبٌ عن قرةَ، ما سمعْناهُ إلا مِنه.

ابنُ صاعد نے کہا اس حدیث میں غرابت ہے قرہ سے – یہ ہم نے نہیں سنی سوائے اس سے

اس کی سند میں بھی حمید الطویل مدلس ہیں

مسند ابو داود طیالسی میں ہے

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ” وَافَقْتُ رَبِّي [ص:47] عَزَّ وَجَلَّ فِي أَرْبَعٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ صَلَّيْتَ خَلْفَ الْمَقَامِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: 125] وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ ضَرَبْتَ عَلَى نِسَائِكَ الْحِجَابَ فَإِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} [الأحزاب: 53] ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ} [المؤمنون: 12] الْآيَةَ، فَلَمَّا نَزَلَتْ قُلْتُ أَنَا: تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ فَنَزَلَتْ {فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ} [المؤمنون: 14] وَدَخَلْتُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُنَّ: لَتَنْتَهُنَّ أَوْ لَيُبْدِلَنَّهُ اللَّهُ بِأَزْوَاجٍ خَيْرٍ مِنْكُنَّ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ} [التحريم: 5] الْآيَةَ “

سن میں  عَلِيُّ بنُ زَيْدِ بنِ جُدْعَانَ التَّيْمِيُّ ضعیف ہے

الغرض یہ روایات صحیح اسناد سے نہیں – متن قرآن و تاریخ سے متصادم ہے – اور یہ روایت حدیث ساریہ کی طرح غالی اہل سنت کی روایات ہیں

اہل تشیع کا قول : ائمہ محدث ہیں

الکافی از کلینی میں ہے

https://app.box.com/s/9wh9cnvak35vuirl7rsumv7b92km6ha3

اس   تفصیل سے یہ جدول بنا

اس کی دلیل صحیح مسلم میں ہے

حديث:1603و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَکَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً يَسْمَعُ الصَّوْتَ وَيَرَی الضَّوْئَ سَبْعَ سِنِينَ وَلَا يَرَی شَيْئًا وَثَمَانَ سِنِينَ يُوحَی إِلَيْهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًاترجمہ :  اسحاق بن ابراہیم، حنظلی روح حماد بن سلمہ عمار بن ابی عمار حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ   میں پندرہ سال قیام پذیر رہے –  سات سالوں تک  آپ صرف  آواز سنتے   اور روشنی دیکھتے رہے اور  آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی چیز  (یعنی فرشتہ یا معجزہ)نہ دیکھا  –   اس  کے بعد   مکہ میں  صرف  آٹھ سال ان پر   وحی آئی –  آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دس سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا۔

البانی نے مختصر صحیح مسلم میں درست  کہا   هذه رواية شاذة

اس روایت میں عمار بن ابی عمار نے اپنا   رافضی عقیدہ پیش کیا ہے کہ   سات سال تک رسول الله صلی الله علیہ وسلم صرف   نچلے درجہ کے ایک نبی تھے  جس کا درجہ  امام جتنا ہے – اس میں    نفس پر الوحی اتی ہے  لیکن   فرشتہ بیداری میں نہیں   دیکھا  جا سکتا

سنن الصغیر بیہقی میں ہے

وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، فِي جَامِعِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ، قَالَ:  «أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ بَعْدَ خَدِيجَةَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ أَوْ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً» قُلْتُ: وَهَذَا صَحِيحٌ عَلَى مَا رَوَى عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:  «أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، عَشْرَةَ سَنَةً يَسْمَعُ الصَّوْتَ وَيَرَى الضَّوْءَ سَبْعَ سِنِينَ وَلَا يَرَى شَيْئًا، وَثَمَانِ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا» وَعَلَى مَا رُوِيَ فِي أَشْهَرِ الرِّوَايَاتِ أَنَّ عَلِيًّا قُتِلَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً، فَيَكُونُ إِسْلَامُهُ بَعْدَ سَبْعِ سِنِينَ وَهُوَ بَعْدَ نُزُولُ الْوَحْي فَمَكَثَ بَعْدَ الْإِسْلَامِ ثَمَانِيًا وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَعَاشَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ سَنَةً، فَيَكُونُ يَوْمَ أَسْلَمَ ابْنَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً كَمَا قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، وَإِلَى مِثْلِ رِوَايَةِ عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ذَهَبَ الْحَسَنُ وَذَلِكَ فِيمَا

بیہقی نے کہا مشہور ہے کہ علی کا قتل ہوا تو وہ ٦٣ سال کے تھے پس ان کا اسلام لانا سات سال بعد بعثت النبوی ہوا پھر وہ اسلام میں رہے ٨ سال مکہ میں اور ١٠ سال مدینہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ٣٠ سال زندہ رہے پس وہ اسلام لانے کے وقت ١٥ سال کے تھے جیسا حسن بصری کا قول ہےاور عمار کا قول ہے

بیہقی  کے حساب کتاب کے مطابق علی  بعثت نبوی کے سات سال بعد  ایمان لائے –  اس دوران رسول الله فرشتوں کو نہیں بلکہ روشنی دیکھ رہے تھے آوازیں سن رہے تھے – اس طرح عمار کے مطابق جب علی  بھی میدان میں آ گئے تو نبی محمد سے رسول الله بن گئے

شرح أصول الكافي – مولي محمد صالح المازندراني – ج ٦ – الصفحة ٦٦

http://shiaonlinelibrary.com/الكتب/1179_شرح-أصول-الكافي-مولي-محمد-صالح-المازندراني-ج-٦/الصفحة_66

باب أن الأئمة (عليهم السلام) محدثون مفهمون * الأصل:
1 – محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد، عن الحجال، عن القاسم بن محمد، عن عبيد بن زرارة قال: أرسل أبو جعفر (عليه السلام) إلى زرارة أن يعلم الحكم بن عتيبة أن أوصياء محمد عليه وعليهم السلام محدثون.

 امام ابو جعفر نے  زرارة  کے پاس بھیجا کہ حکم بن عتيبة جان لے کہ محمد علیہ السلام کے وصی محدث ہیں

محمد، عن أحمد بن محمد، عن ابن محبوب، عن جميل بن صالح، عن زياد بن سوقة، عن الحكم بن عتيبة قال: دخلت على علي بن الحسين (عليهما السلام) يوما فقال: يا حكم هل تدري الآية التي كان علي بن أبي طالب (عليه السلام) يعرف قاتله بها ويعرف بها الأمور العظام التي كان يحدث بها الناس؟ قال الحكم: فقلت في نفسي: قد وقعت على علم من علم علي بن الحسين، أعلم بذلك تلك الأمور العظام، قال: فقلت: لا والله لا أعلم، قال: ثم قلت: الآية تخبرني بها يا ابن رسول الله؟
قال: هو والله قول الله عز ذكره: (وما أرسلنا من قبلك من رسول ولا نبي (ولا محدث)) وكان علي بن أبي طالب (عليه السلام) محدثا

الحكم بن عتيبة نے کہا علي بن الحسين (عليهما السلام) ) کے پاس داخل ہوا پوچھا کیا علی اپنے قاتل کو جانتے تھے ؟ … علي بن الحسين (عليهما السلام) نے کہا ان کا ذکر قرآن میں ہے 

(وما أرسلنا من قبلك من رسول ولا نبي (ولا محدث)

اور یہ علی بن ابی طالب ہیں

اسی شرح میں لکھا ہے

 الشرح:
قوله (وما أرسلنا من قبلك من رسول ولا نبي – ولا محدث -) دل على أن قوله ولا محدث كان من تتمة الآية وهم أسقطوها،

قول وما أرسلنا من قبلك من رسول ولا نبي – ولا محدث دلالت کرتا ہے کہ محدث کا لفظ آیت میں تھا لیکن وہ سقط ہوا

الغرض اہل سنت کے پوشیدہ رافضی عمار بن ابی عمار نے نبی کو پہلے محدث پھر رسول قرار دیا اور پھر انہوں  نے  عمر رضی اللہ عنہ  کو محدث قرار دیا -دوسری طرف اہل تشیع نے علی اور تمام اوصیا یعنی ائمہ کو محدث قرار دیا جو ظاہر کرتا ہے کہ   دونوں فرقوں میں غلو  شروع سے تھا

28 thoughts on “رَسُول وَلَا نَبِي وَلَا مُحدث؟”

  1. ذرا اسکی وضاحت کردیں کہ جب بخاری نے (حمید عن انس) والی سند کے نیچے (حمید سمعت انسا) والی سند بھی درج کردی جس سے حمید الطویل کا انس رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہوگیا تو پھر بخاری کی روایت میں حمید الطویل کا مدلس ہونا یعنی عنعنہ مضر کیوں ہے؟

    1. Islamic-Belief says:

      جس روایت سے سماع ثابت کیا جا رہا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کی سند بھی صحیح ہو
      یہاں ہے
      وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، سَمِعْتُ أَنَسًا، عَنْ عُمَرَ
      اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ سند میں يحيى بن أيوب الغافقي المصري ہے جس کو ضعیف قرار دیا ہے
      أبو حاتم: لا يحتج به. اس سے دلیل مت لینا
      وقال النسائي: ليس بالقوي. قوی نہیں ہے
      أحمد: سيئ الحفظ. اس کا حافظہ خراب ہے
      بخاری نے ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، کی سند سے اس کو بیان کیا ہے
      اور ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، نے امام مالک سے یحیی بن ایوب کی کسی روایت کا ذکر کیا تو امام مالک نے کہا کذب ہے
      یعنی یہ امام مالک کے نزدیک کذاب ہے
      سیر الاعلام النبلاء از الذھبی میں ہے
      وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ: حَدَّثْتُ مَالِكًا بِحَدِيثٍ حَدَّثَنَا بِهِ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْهُ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ، فقال: كذب
      وغیرہ

      لہذا اس سند سے سماع ثابت نہیں ہوتا

      ———
      شارح بخاری
      المؤلف: شمس الدين البِرْماوي، أبو عبد الله محمد بن عبد الدائم بن موسى النعيمي العسقلاني المصري الشافعي (المتوفى: 831 هـ) کا اللامع الصبيح بشرح الجامع الصحيح میں کہنا ہے

      وإنَّما لم يجعل هذا الإسنادَ أصلًا لمَا في يَحيَى من سُوءِ حفْظه
      ولأنَّ ابن أبي مَرْيَم ذكَره مُذاكرةً، أي: على روايةِ (قال)، لا روايةِ (حدَّثنا).

      اس سند کو بخاری لائے ہیں اصل میں نہیں (بلکہ شاہد کے طور پر ) کیونکہ اس میں یحیی خراب حافظہ والا ہے
      اور بخاری نے یہ روایت حدثنا سے نہیں لی بلکہ کسی مذاکرے میں ابن ابی مریم نے ذکر کی تھی اس لئے قال کہا ہے

      یعنی یہ صحیح کی اصل روایت نہیں تعلیقا ذکر کی گئی ہے

  2. Islamic-Belief says:

    آپ کی بات بے وقوفی پر مبنی ہے
    بہتر ہے کہ آپ پہلے اردو میں سادہ الفاظ میں لکھی گئی عبارت کا مطلب سمجھنا سیکھیں پھر یہاں آئیں
    کذاب کی یا غیر محتج راوی کی سند سے کچھ ثابت نہیں ہوتا آپ قبول کرتے ہوں تو آپ کی مرضی

    کیا آپ خبر واحد کو عقیدہ میں قبول کرتے ہیں ؟

  3. شیخ یہی تو سمجھنا چاہتا ہوں کہ جب حمید الطویل کا انس رضی اللہ عنہ سے سماع صحیح بخاری ہی کی دیگر دوسری روایات سے ثابت ہے تو پھر امام بخاری کا (یحیی بن ایوب حدثنی حمید سمعت انسا) والی سند درج کرنے کا آخر مقصد کیا ہے؟

    1. Islamic-Belief says:

      امام بخاری کو یہ ثابت کرنا ھے کہُ سماع ھے اس روایت پر ذکر ایک راوی نے کیا ھے
      لیکن ان کو سند مظبوط نھین ملی
      سند میں ضعف ھے
      دیگر محدیثن کے نزدیک سماع ثابت نھین ھوتا
      کیونکہ یہ قال سے ھے حدثنا سے نھین
      امام بخاری کو محدث نے سنائی نھین لھذا یہ سماع ثابت نھین ھوتا

      اصل مین ھر متن پر دیکھا جاتا تھا کہ سماع ھے یا نھین
      متاخرین کا قول ھے کہ ذخیرہ احادیث مین کہین بھی سمعت بول دیا تو سماع ھے
      لیکن یہ بات غلط ھے

  4. شیخ یہ تو امام بخاری رح کی دقت نظر کا ثبوت ہوا کہ انہوں نے یحیی بن ایوب والی سند سے احتجاج نہیں کیا بلکہ صرف متابعت میں پیش کیا؟

    1. Islamic-Belief says:

      یہ امام صاحب کی دقت نظری نہیں ان کی مجبوری ہے کیونکہ اس سند میں تدلیس کا احتمال باقی ہے اور ان کے پاس اس کو دور کرنے کی کوئی اور دلیل نہیں تھی لہذا مجبورا یحیی کی سند دی

  5. آپ نے بخاری کی حدیث کو خلاف قرآن ثابت کرنے کے لئے ایک اعتراض یہ بھی اٹھایا کہ مقام ابراہیم کو مصلی بنانے کا حکم تو ابراہیم سے چلاآرہا ہے۔
    شیخ سوال یہ ہے کہ نبی علیہ لسلام کو کب ہتا چلا کہ مقام ابراہیم مصلی یے؟ عمر کے مشورے سے پہلے یا بعد؟

    1. Islamic-Belief says:

      عمر کا یا کسی بشر کا یہ مقام نہیں کہ رسول الله کو طاعات کی ادائیگی کے حوالے سے مشورے دیں
      یہ روایت باطل ہے
      ———-
      مصلی ابراہیم کا مطلب ہے کہ امام کعبہ کے سامنے جنوب مغرب میں رخ کرے اور یعقوب کے قبلہ کی طرف نہیں بلکہ ابراہیم کے قبلہ اور ان کے مصلی یعنی نماز پڑھنے کے مقام کو لے
      یہ سب تحویل قبلہ کے تناظر میں کہا گیا ہے

      جب تک رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں رہے جماعت سے نماز نہیں پڑھتے تھے بلکہ انفردا نماز ہوتی تھی
      مکہ میں ہونے کی وجہ سے کسی بھی جانب سے کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جاتی
      اس وقت صرف قبلہ کو لیا جاتا تھا مقام ابراہیم کو مصلی کا حکم نہیں تھا
      وربہ رسول الله پر فرض ہوتا کہ وہ مکہ میں جہاں بھی ہوں اس مقام ابراہیم پر عین کعبہ کے سامنے پہنچیں نماز پڑھیں اور یہ ممکن نہیں کیونکہ مشرک کعبہ کا مسلسل برہنہ طواف کرتے تھے
      مصلی ابراہیم کو لینا اسی وقت ممکن ہے جب جماعت سے نماز امام کے تحت ہو
      ————–
      آجکل مقام ابراہیم کعبہ سے دور ہے لیکن مورخین کے مطابق دور نبوی میں اس چٹان کو کعبہ کی دیوار سے ملا کر رکھا گیا تھا
      مقام ابراہیم کو مصلی بنانے کا حکم اصل میں امام کے لئے ہے کہ وہ مقام ابراہیم کے پاس کھڑا ہو گا
      کعبہ کی اس دیوار کی طرف جہاں پر دروازہ ہے یعنی امام کا منہ جنوب مغرب کے بیچ میں ہو گا
      یعنی ابراہیم علیہ السلام نے ااگر اس دیوار کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی تو انہوں نے بیت المقدس کی طرف رخ نہیں کیا بلکہ اس کی مخالف سمت میں رخ کیا تھا

      نماز جماعت سے مدینہ میں پڑھی گئی وہاں سے مکہ پہلی بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے وقت آئے اور کعبہ کا طواف کیا
      اس وقت نماز پڑھی ہو گی لیکن سورہ بقرہ میں یہ بات پہلے سے نازل ہو چکی تھی
      عمر کے حوالے سے منسوب بات اس وقت صحیح بیٹھتی جب سن ٦ ہجری میں اس پر بحث ہوئی ہو کہ مصلی کہاں گیا جائے اور سورہ بقرہ نازل نہ ہوئی ہوتی

      ان حقائق کی روشنی میں واضح ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مصلی کے بارے میں سورہ بقرہ سے مدینہ میں معلوم ہوا
      کیونکہ تحویل قبلہ میں اس کا ذکر کیا گیا کہ ابراہیم کا اصل قبلہ کیا تھا
      اب اسرائیل کے قبلہ کی طرف نہیں بلکہ ابراہیم کے قبلہ اور ان کے مصلی یعنی نماز پڑھنے کے مقام کو لیا جائے

      مقام ابراہیم کو مقام ابراہیم اس لئے کہا جاتا تھا کہ اس چٹان پر ان کے پیر کا نشان معجزاتی انداز موجود تھا

      روایات اہل بیت ہیں جو بتاتی ہیں کہ یہ نشان اس وقت بنا جب ابراہیم ایک موقعہ پر اسمعیل سے ملنے آئے ان کی بہو ملی اس سے بات ہوئی تو ابراہیم نے زمین پر قدم نہیں رکھا اور کہا میں اسمعیل کے لئے آیا ہوں- بہو نے کہا کہ آپ اگر زمین پر قدم نہیں رکھیں تو کم از کم چٹان پر رکھیں میں یہاں آپ کے پیر دھو دیتی ہوں
      اس وقت الله کے حکم سے یہ نشان چٹان پر بن گیا تاکہ اسمعیل کے لئے نشانی بن جائے کہ واقعی ابراہیم یہاں تک آئے تھے
      اسمعیل سے ملے بغیر ابراہیم واپس چلے گئے-

      صحيحين ميں نہيں ہے ليکن تاريخ طبري ميں ہے
      انْزِلْ حَتَّى أَغْسِلَ رَأْسَكَ، فَلَمْ يَنْزِلْ، فَجَاءَتْهُ بِالْمَقَامِ فَوَضَعَتْهُ عَنْ شِقِّهِ الأَيْمَنِ، فَوَضَعَ قَدَمَهُ عَلَيْهِ فَبَقِيَ أَثَرُ قَدَمِهِ عَلَيْهِ
      اسمعيل کي دوسري بيوي نے ابراہيم سے کہا سواري سے اتريے اور سر دھو ليں ليکن ابراہيم نہ اترے اور مقام تک آئے ہے اس … پر ان کے قدم کا اثر رہ گيا

      صحیح بخاری میں اس حکایت کا کچھ حصہ ہے کہ ابراہیم نے جاتے جاتے کہا اسمعیل کو کہنا چوکھٹ باقی رکھو
      اس چٹان کو کعبہ کی دیوار سے ملا کر باب کعبہ کے ساتھ رکھا جاتا تھا اور بعد میں اس دیوار کے پاس ہی ابراہیم نماز پڑھتے تھے اس کو مصلی ابراہیم کا نام دیا گیا
      یعنی اللہ تعالی نے حکم دیا کہ اس دیوار کی طرف منہ کر کے امام کھڑا ہو گا جس میں کعبہ کا دروازہ ہے

      یہ سب باتیں الوحی متلو کی ہیں مصلوں کا تقرر مشوروں سے ممکن نہیں ہے
      ———–
      محدث پچھلی امتوں میں وہ ہوتا تھا جو نبی نہ ہو لیکن اس کو کوئی غیبی اشارہ دیا جائے مثلا ام موسی کو اشارہ کیا گیا کہ موسی کو دریا برد کرو یا محدث کو خواب میں کچھ نظر اتا تھا

      عمر رضی الله عنہ میں اس قسم کی کوئی بات موجود نہیں تھی بلکہ ان کی بات یا مشورہ کو رد بھی کیا گیا ہے
      کیا عمر کو غیبی اشارات ملتے رہتے تھے ؟ اس روایت کا تصادم مبشرات والی حدیث سے ہے جس میں ہے کہ نبوت یا مخفی خبر میں کچھ باقی نہیں رہا صرف سچے خواب ہیں جو مومن میں کسی کو بھی آ سکتا ہے

  6. شیخ میں ابراھیم بن سعد کے متعلق ہوچھ رہا ہوں کیونکہ بخاری کی روایت کی پہلی سند میں ابراھیم بن سعد ہے جبکہ اسی روایت کی دوسری سند میں سعد بن ابراہیم ہے (زاد زکریاء بن ابی زائدة، عن سعد، عن ابی سلمة) اور آپ نے خود بتایا کہ ابراہیم اور سعد دونوں الگ الگ راوی ہیں؟

    1. Islamic-Belief says:

      سعد بن إِبْرَاهِيم بن عبد الرَّحْمَن بن عَوْف المتوفی ١٢٥ ھ ہے
      امام مالک کے نزدیک متروک ہیں
      ——–

      إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ یہ سعد بن إِبْرَاهِيم بن عبد الرَّحْمَن بن عَوْف کا بیٹا ہے
      ابراہیم ضعیف ہے
      امام یحیی بن سعید القطان کے نزدیک
      احمد نے کہا میں نے ابراہیم بن سعد سے روایت کیا تو امام القطان نے کہا
      فقال لي يحيى: يا أبا عبد الله، عقيل وإبراهيم بن سعد!! عقيل وإبراهيم بن سعد!! كأنه يضعفهما
      ابو عبد الله .. ابراہیم بن سعد … گویا کہ اس کی تضعیف کر رہے ہوں

      امام وكيع نے اس کو ترک کر دیا تھا
      وقال عبد الله: حدثني أبي. قال: حدثنا وكيع مرة، عن إبراهيم بن سعد. ثم قال: أجيزوا عليه، تركه بأخرة. «العلل» (4709)

      ===========
      یعنی یہ باپ بیٹے بڑے ائمہ حدیث کے نزدیک متروک ہیں

  7. بہرحال بخاری کی اصل سند میں وہ راوی نہیں جسے امام مالک نے ترک کیا لیکن آپ نے اسے بھی سعد بن ابراھیم کے ساتھ شامل کردیا ۔

    1. Islamic-Belief says:

      اس جرح کو میں نے بلاگ میں شامل کر دیا ہے یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ جس کی سند سے بخاری نے روایت لی وہ تو دو دو ائمہ کے نزدیک متروک ہے

      صحیح بخاری کی حدیث میں ہے

      حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ “لَقَدْ كَانَ فِيمَا قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ فَإِنْ يَكُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَإِنَّهُ عُمَرُ”. زَادَزَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ “لَقَدْ كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ رِجَالٌ يُكَلَّمُونَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونُوا أَنْبِيَاءَ فَإِنْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَعُمَرُ”

      .ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلی امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے، اور اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہے تو وہ عمر ہیں۔ زکریا بن زائدہ نے اپنی روایت میں سعد سے یہ بڑھایا ہے کہ ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل کی امتوں میں کچھ لوگ ایسے ہوا کرتے تھے کہ نبی نہیں ہوتے تھے اور اس کے باوجود فرشتے ان سے کلام کیا کرتے تھے اور اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہو سکتا ہے تو وہ عمر ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پڑھا «من نبي ولا محدث» ۔

      اصل سند میں ہے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے … یعنی
      اس میں إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ بن إِبْرَاهِيم ہے جو وکیع اور امام یحیی القطان کے نزدیک متروک ہیں
      اور سعد بن إِبْرَاهِيم بن عبد الرَّحْمَن بن عَوْف المتوفی ١٢٥ ھ ہے جو امام مالک کے نزدیک متروک ہیں
      گویا امام بخاری نے ایک سند میں دو متروکین کو جمع کیا

  8. شیخ عرض یہ ہے کہ ابن حجر نے فتح الباری کے مقدمے میں صحیح بخاری کے ان راویوں کی حیثیت بیان کی ہے جن پر آئمہ جرح وتعدیل نے کلام کیا ہے:(فاما ان خرج له في المتابعات والشواھدات والتعالیق فھو یتفاوت) ___ لہذا بخاری کی زیر بحث روایت کے راوی سعد
    بن ابراھیم کے متروک ہونے سے امام بخاری رح کی دقت نظری پر کیونکر طنز کیا جاسکتا ہے؟ باقی حمید الطویل کا انس رضی اللہ عنہ سے سماع اور تحدیث تو بخاری کی دوسری حدیث سے ثابت ہے۔

    1. Islamic-Belief says:

      ڈاکٹر عثمانی رحمہ اللہ علیہ نے اسی وجہ سے کہا تھا کہ کاش فتح الباری نہ لکھی جاتی کیونکہ جب معاملہ راوی کو بچانے کا ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے
      یہی ابن حجر النكت على كتاب ابن الصلاح میں لکھتا ہے
      قال الحافظ: قلت: “ولا يلزم من كون رجال الإسناد من رجال الصحيح أن يكون الحديث الوارد به صحيحا لاحتمال أن يكون فيه شذوذ أو علة وقد وجد هذا الاحتمال هنا فإنها رواية شاذة”.
      صحیح کا راوی ہونے سے وارد شدہ حدیث صحیح نہیں ہو جاتی کیونکہ اس میں شذوذ کا علت کا احتمال ممکن ہے

      آپ کو کس نے خبر دی کہ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ بن إِبْرَاهِيم اور اس کا باپ صحیح کے وہ راوی نہیں جن سے اصول میں روایت لی گئی ہو بلکہ وہ ہیں جن سے متابعت اور شواہد میں حدیث لی گئی ہے ؟ یہ علم آپ کو کیسے آیا ؟ کیا الہام ہوا ؟ یا کسی ابلیس کی دم اہل حدیث نے کان میں پھونکا؟

      متروک راوی سے روایت کرنا امام بخاری کی غلطی ہے – محدثین جب جرح کرتے ہیں تو اس کی وجہ ہوتی ہے

      بخاری نے متروک المنھال بن عمرو سے بھی روایت لی ہے جو عود روح کا راوی ہے امام شعبہ کے نزدیک متروک ہے
      اور اسی جرح کو ڈاکٹر عثمانی نے بھی پیش کیا ہے

      المنھال بن عمرو متروک کی سند سے امام بخاری نے کتاب خلق افعال العباد میں عقیدہ کو بھی لیا ہے اور اسی روایت کو صحیح میں بھی پیش کیا ہے
      حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ المِنْهَالِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الحَسَنَ وَالحُسَيْنَ، وَيَقُولُ: ” إِنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ ”

      اصلا متروک سے کچھ بھی روایت نہیں کیا جاتا – لیکن امام بخاری نے اپنے اور پچھلے محدثین سے اختلاف کرتے ہوئے ان احادیث کو رقم کیا ہے
      عقائد میں دلیل بھی لے لی ہے
      یہ صریح غلطی ہے
      ———–
      جب آپ کو ان بحثوں کا علم نہیں تو آپ اس میں کلام کیوں کر رہے ہیں ؟ راوی کا سماع ثابت پہلے بھی کہا تھا کہ ہر متن پر ہونا چاہیے
      مثلا قتادہ کا سماع انس سے قبول کیا گیا ہے لیکن قتادہ نے روایت سنائی کہ انس نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم کیا
      حمید الطویل نے کہا قتادہ نے تو یہ روایت سنی بھی نہیں تھی انس نے دودھ پینے کا ذکر کیا تھا
      دوم راوی مدلس بھی ہو تو بھی حدثنی کہتا ہے اس کی بھی مثالیں ہیں
      سوم
      قال أبو عبيدة الحداد عن شعبة لم يسمع حميد من أنس إلا أربعة وعشرين حديثا
      أبو عبيدة الحداد ، شعبة سے روایت کرتے ہیں کہ حميد نے أنس سے سوائے 24 روایات کے کچھ نہ سنا
      جبکہ صحیح بخاری میں حمید کی انس سے پچپن 55 روایات ہیں

      بخاری نے ضعیف سند سے اس روایت پر سماع کو ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے

  9. شیخ کم از کم آپ نے یہ تو مان لیا کہ امام بخاری رحمه الله نے یحي بن ایوب والی سند سے حمید الطویل کا سماع ثابت کیا ہے اور یہی میرا مدعا ہے باقی اختلاف کا آپ کو حق ہے۔ المنھال بن عمرو اور سعد بن ابراھیم وغیرہ کی روایت سے اگر امام بخاری نے احتجاج کیا ہو تو کوئی ایک بطور مثال پیش کریں۔

    1. Islamic-Belief says:

      امام بخاری رحمه الله نے یحي بن ایوب (ضعیف ) والی سند سے حمید الطویل کا سماع ثابت کیا ہے
      جو بخاری کی تحقیق کا معیار نہیں ہے لیکن مجبورا انہوں نے لکھا ہے
      اس کو اسی انداز سے بیان کر رہا ہوں
      ———–
      ان باپ بیٹا متروکین سے بہت سی روایات ہیں البتہ المنھال سے ایک روایت بخاری نے لی ہے

      مدعا یہ ہے کہ عمر کے موافقات کی فرضی حدیث ہے صحیح نہیں ہے

  10. شیخ آپ نے اربعةوعشرين کا ترجمہ چودہ کیا ہے جبکہ صحیح شمار چوبیس ہے۔ شعبة کی بات سے یہ کب ثابت ہوگیا کہ جن روایتوں میں سماع و تحدیث ثابت نہیں وہ سب ملاکر ٹوٹل چوبیس روایات ہیں اور بقول شعبة جن چوبیس میں سماع ثابت ہے وہ تمام کی تمام صحیح بخاری میں موجود ہیں؟؟؟ شیخ آپ کے کہنے سے موافقات والی حدیث فرضی نہیں ہوسکتی کیونکہ فنی اعتراض کے علاوہ جو عقلی اعتراض آپ نے اس حدیث کے متن پر وارد کیا ہے اس میں بھی جان نہیں ہے کہ:( مقام ابراھیم کو مصلی کرنے کا حکم تو ابراہیم سے چلا آرہا ہے ) بھلا کیا مشرکین مکہ مقام ابراہیم کو مصلی بناتے تھے؟

    1. Islamic-Belief says:

      عدد کی تصحیح کا شکریہ

      قال أبو عبيدة الحداد عن شعبة لم يسمع حميد من أنس إلا أربعة وعشرين حديثا
      أبو عبيدة الحداد ، شعبة سے روایت کرتے ہیں کہ حميد نے أنس سے سوائے 24 روایات کے کچھ نہ سنا

      شعبہ نے کہا حمید کا سماع صرف ٢٤ پر ہے جبکہ صحیح میں عن و تحدیث سب ملا کر 55 سے بھی زائد احادیث ہیں
      یعنی صحیح بخاری میں وہ بھی ہیں جن میں سماع نہیں ہے
      یہ سادہ جمع نفی ہے اس میں کوئی اشکال نہیں ہے

      شعبہ کی بات کی اہمیت بخاری کے اجتہاد سے بڑھ کر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ شعبہ كي وفاة امام بخاری سے ١٠٠ سال پہلے کی ہے اور حمید کے ہم عصر ہیں اور شعبہ اسی کے شہر کے ہیں
      امام بخاری کے اندازے اس درجے تک نہیں جا سکتے- جس کی ملاقات ان راویوں سے ہوئی ہو وہ راوی کی حدیث میں کس سے سماع ہے کس سے نہیں کو زیادہ جانتا ہے

      ———–
      موافقت والی حدیث کو میں متروک کی سند سے قبول نہیں کر سکتا کوئی کرے تو اس کی مرضی

      عقلی اعتراض ایک نہیں ہے کئی ہیں

      میں نے کہا
      مقام ابراھیم کو مصلی کرنے کا حکم تو ابراہیم سے چلا آرہا ہے
      یعنی یہ مصلی ابراہیم علیہ السلام کا تھا ان کے بعد اسمعیل کا اور مومنوں کا ایک وقت تک رہا پھر یہ علم معدوم ہو گیا
      اس مصلی کی تقرری کسی کے مشورے سے نہیں کی جائے گی بلکہ سنت ابراہیم کا اجراء کیا گیا

      ——
      آپ اپنی کی بات کا رد کر رہے ہیں
      کیا مشرکین مکہ مقام ابراہیم کو مصلی بناتے تھے
      جوابا کہتا ہوں عمر تو ایام جاہلیت میں ایک مشرک تھے ان کو کیسے معلوم ہوا کہ اس مقام کو مصلی کرو؟
      یعنی یہ اصحاب رسول جو مکہ میں ہی رهتے تھے ان کو معلوم نہیں لیکن عمر کو معلوم ہے ؟
      اور مشورہ عمر نے کب دیا مکہ میں ممکن نہیں ورنہ اس مقام پر مکی دور میں ہی نماز پڑھنا فرض ہو جاتا اور حدیبیہ میں بھی ممکن نہیں کیونکہ قرآن میں سورہ بقرہ میں یہ آ چکا ہے عمر کے مشوروں کی ضرورت نہیں
      دوم کیا عبادات کب کہاں کیسے کرنے ہے اس میں کوئی امتی مشورے دے سکتا ہے ؟ یہ تو صرف اللہ متعین کرتا ہے
      عمر کیا کسی بشر کا مقام نہیں کہ الوحی سے پہلے ان معاملات میں اپنی زبان کھول سکے

      ——-
      راوی نے کہا
      پچھلی امتوں میں تم سے پہلے محدث تھے اور اگر میری امت میں کوئی ہے تو عمر ہیں

      لگتا ہے آپ راویوں کے کہنے پر عمر پر الہام انے کے قائل ہو گئے ہیں یعنی ان کو محدث تسلیم کرنے لگے ہیں ؟ کیونکہ یہ موافقات کی باتیں صرف محدث (جس کو الہام آئے ) کے لئے ممکن ہیں
      ===========================

      اب اس بحث کو یہاں بند کیا جا رہا ہے

  11. آپ نے وہ روایت پیش نہیں کی جس میں المنهال بن عمرو سے امام بخاری نے صحیںح بخاری میں احتجاجا” روایت لی ہے اور بحث بند کردی

    1. Islamic-Belief says:

      توجہ کا شکریہ
      اس روایت کا اوپر جواب میں ذکر کر دیا ہے
      یہ امام صاحب کے عقیدے کی روایت ہے جو انہوں نے متروک راوی سے لی ہے
      اس کو خلق قرآن پر کتاب میں بھی لکھا ہے

      اب آپ کڑھ ہی سکتے ہیں کہ استاذ المحدثین امام شعبہ نے جس کو متروک قرار دیا ہو اس سے بھی بخاری نے خلق قرآن پر کتاب میں اور صحیح بخاری میں روایت لی ہے

  12. آپ اپنے دعوے کے ثبوت میں المنهال بن عمرو سے مروی صرف وہ روایت پیش کریں جسے امام بخاری نے اپنی الصحیح میں احتجاجا” درج کیا ہے۔ امام بخاری کی پچھلی کسی تصنیف کی یہاں بات نہیں ہورہی لہذا بات کو خلط ملط نہ کریں۔

    1. Islamic-Belief says:

      کیوں
      کیا خلق افعال العباد پر بخاری کا عقیدہ نھین؟
      پجھلئ تصنیف بھی خوب کہا گویا کہ اپ کو الہام ھوا کہ پرانی کتاب ھے
      کس نے بتایا؟

      دوم متاخرین کی ایجاد احتجاج کا ذکر مت کرین
      بخاری کا قول پیش کرین کہ یہ اصل ھے یہ متابعت ھے یہ شاھد ھے
      یہ تمام تعبیرات امام بخاری سے ثابت نھین
      انھوں نے کتاب دی
      سب کو صحیح قرار دیا ھے
      اور اس دور کا مشھور قول ھے
      اذا صح حدیث فھو مذھبی

      ———
      آپ کو اوپر دیکھنے کی توفیق بھی نہیں ہوئی روایت لکھی ہوئی ہے
      خلط ملط یھاں کیا ہے ؟
      پھر سے اپ کو وہی دورہ پڑ رہا ہے
      امام بخاری نے متروک کی سند سے صحیح میں روایت لی ہے
      یہ خلط ملط تو آپ کا ہے جو احتجاج کا لفظ بحث میں یہاں لائے ہیں

      ذرا یہاں فنی اصطلاح احتجاج کا مطلب بیان کریں

  13. السلام و علیکم و رحمت الله

    کیا کسی صحیح روایت سے ثابت ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اللہ پر توکل کرتے ہوے کافروں کے سامنے زہر کا پیالہ نوش فرما لیا اور ان پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا ؟؟

    ایک دیو بندی عالم مفتی طارق مسعود اس واقعہ سے استدلال کرتے ہوے کہتے ہیں- اولیاء الله پر الله کی طرف سے بعض مرتبہ الہام ہوتا ہے جس کی بنا پر وہ ایسا کام کر گزرتے ہیں جو بظاھر عام انسان کے لئے جائز نہیں کہ اس سے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے- پھر فرماتے ہیں کہ یہ کام اولیاء الله اسی وقت سر انجام دے سکتے ہیں جب انھیں ١٠٠ فیصد اس بات کا یقین ہو کہ یہ الہام الله کی طرف سے ہوا ہے – شیطان کا القاء نہیں ہے- وڈیو میں مزید کہتے ہیں کہ الله کا الہام غیر نبی پر ہوتا ہے اور یہ وحی کی قسم نہیں ہے- جیسے الله نے حضرت موسیٰ علیہ سلام کی والدہ پر الہام کیا کہ اپنے شیرخوار بچے کو دریا برد کردو- جبکہ عام حالات میں یہ بچے کی ہلاکت کا باعث ہو سکتا تھا

    https://www.youtube.com/watch?v=v95_72R_BGg

    کیا کہیں گے آپ ؟؟

    1. Islamic-Belief says:

      خالد بن الولید کا واقعہ مسند ابو یعلی میں ہے

      حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ قَالَ: نَزَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحِيرَةَ عَلَى أَمْرِ بَنِي الْمَرَازِبَةِ، فَقَالُوا لَهُ: احْذَرِ السُّمَّ، لَا يَسْقِيكَهُ الْأَعَاجِمُ، فَقَالَ: «ائْتُونِي بِهِ»، فَأُتِيَ بِهِ، فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ , ثُمَّ اقْتَحَمَهُ، وَقَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ»، فَلَمْ يَضُرَّهُ شَيْئًا
      [حكم حسين سليم أسد] : رجاله ثقات غير أنه منقطع

      محقق کا کہنا ہے سند منقطع ہے

      یہی سند فضائل صحابہ میں ہے

      طب النبوی از ابو نعیم میں ہے
      حَدَّثَنا عثمان بن محمد العثماني، حَدَّثَنا أبو عثمان سعيد بن عبد الله بن سعيد المهراني، حَدَّثَنا القاسم بن محمد بن عباد المهلبي، حَدَّثَنا هشام بن محمد السائب، عَن أَبِي محنف وشرفي بن قطامي، عَن الكلبي [ص:549] قال: لما أقبل خالد بن الوليد رضي الله عنه في خلافة أبي بكر الصديق رضي الله عنه يريد الحيرة قال: فبعثوا إليه عبد المسيح الغساني فقال له خالد: كم أنت لك؟ قال: خمسون وثلاثمِئَة سنة قال: ومعه سم ساعة يقلبه بيده فقال له خالد: ما هذا معك قال: سم قال: ما تصنع به؟ قال: أنبئك فإن يكن عندك ما يسرني وتوافق أهل بلدي قبلته وحمدت الله وإن يكن الأخرى لم أكن أول من أساق الذل إلى أهل بلده فآكل من هذا السم فأستريح من الدنيا فإنما بقي من عمري ليسير قال خالد: هاته فأخذه من يده ووضعه في راحته ثم قال: بسم الله وبالله رب الأرض والسماء بسم الله الذي لا يضر مع اسمه داء ثم أكله فنحلته عشية ثم عرق فأفاق فكأنما نشط من عقال فانصرف إلى قومه فقال: ياقوم جئتكم من عند شيطان يأكل سم ساعة فلم يضره صالحوهم

      اس کی سند میں ابو مخنف و کلبی مجروح ہیں
      ———
      کرامات اولیاء از الکائی میں ہے
      أخبرنا عِيسَى بْنُ عَلِيٍّ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: ثنا بَيَانٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: شَهِدْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْحِيرَةِ أُتِيَ بِسُمٍّ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: سُمُّ سَاعَةٍ، قَالَ: ” بِسْمِ اللَّهِ ثُمَّ ازْدَرَدَهُ
      اسی طرح طبرانی میں ہے
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: ” رَأَيْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أُتِيَ بِسُمٍّ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» ، قَالُوا: سُمٌّ، فَقَالَ: «بِسْمِ اللهِ وازْدَرَدَهُ»
      سند میں قیس بن ابی حازم ہے جو مختلط تھا اور حواب کی روایت بیان کرتا تھا
      میرے نزدیک یہ سند صحیح نہیں – البانی و دیگر وہابی علماء کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ صحیح ہے
      جو ان کی مجبوری ہے کیونکہ ابن تیمیہ اس کو صحیح کہہ چکے ہیں
      ابن تيمية: من السلف من يأتي بالآيات دلالة على صحة الاسلام، وصدق الرسول، كما ذكر أن خالد بن الوليد شرب السم لما طلب منه آية، ولم يضره.

      وقال أيضا: وخالد بن الوليد حاصر حصنًا منيعًا، فقالوا: لا نسلم حتى تشرب السم، فشربه فلم يضره.

      ==============================

      اب غور کریں

      حیرت ہے کہ یہ قصہ صرف شیعان علی نے خالد بن الولید سے متعلق ذکر کیا ہے
      اس کو کلبی و ابو مخنف کذاب نے روایت کیا ہے
      اس کو قیس بن ابی حازم نے روایت کیا ہے جو حواب کی روایت کا راوی ہے اور صفین میں علی کے ساتھ تھا
      اس کو ابی السفر سعيد بن يحمد الثوري من همدان نے روایت کیا ہے جو جنگ صفین میں علی کے ساتھ تھا

      اس طرح اس قصہ کو نقل کرنے والے صرف شیعان علی ہیں – صفین کے لشکری ہیں – شیعی پروپیگنڈے باز ہیں

      یہ قصہ شیعہ راویوں کے تفرد کی بنا پر میرے نزدیک صحیح نہیں ہے
      اس کا مقصد معلوم نہیں کہ کیا ہے کیونکہ اہل تشیع کی خالد پر رائے اچھی نہیں ہے
      اغلبا وہ یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ خالد بن الولید رضی اللہ عنہ ایک نا عاقبت اندیش شخص تھے – بے خطر کام کر جاتے اور تکے لگ جاتے

      شیعہ کتب مثلا بحار الانور از مجلسی میں ہے
      لا ينبغي للمرء الحازم أن يقدم عليها: شرب السم للتجربة
      آدمی کے لئے جائز نہیں کہ اس پر زہر پیش ہو اور وہ تجربہ کے لئے اس کو پی جائے

      اس طرح یہ قصہ تنقیص خالد بن الولید پر مبنی ہے
      و اللہ اعلم

      ———
      متاخرین نے اسی قصہ سے نکالا ہے کہ یہ واقعہ کرامات اولیاء کی دلیل میں سے ہے ان کو الہام ہوتا ہے وہ محدث ہوتے ہیں -صوفیاء کے مطابق اس امت میں صاحب الہام لوگ موجود ہیں اور یہ عمر بن خطاب کے بعد بھی ہوئے ہیں اور محدث اس امت میں اتے رہیں گے
      طارق مسعود صاحب کا تعلق مشرب تصوف سے ہے لہذا یہ واقعہ ان کے نزدیک غیر نبی پر الہام کی دلیل ہے
      الوسی تفسیر میں کہتے ہیں کہ خواص کا توکل اسی قسم کا ہوتا ہے
      قال بعض الأجلة : إن توكل الخواص ترك الأسباب بالكلية ، ومن ذلك ما روي عن خالد بن الوليد من شرب السم
      .
      سلفی حلقوں میں یہ قصہ کرامات اولیاء کے حوالے سے مشہور ہے اسی لئے البانی نے اس کو صحیح کہا ہے
      یعنی اس قصہ کی صحت پر اہل طریقت و اہل نقل کا اتفاق ہے
      ————-

      امام بخاری کا موقف
      امام بخاری نے صحیح میں زہر پینے پر باب قائم کیا ہے
      بَابُ شُرْبِ السُّمِّ وَالدَّوَاءِ بِهِ وَبِمَا يُخَافُ مِنْهُ وَالخَبِيثِ
      اور حدیث نقل کی ہے کہ جہنم میں خود کشی کرنے والا اپنے آپ کو اسی طرح قتل کرتا ہے جیسے اس نے زمین پر کیا تھا
      حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «[ص:140] مَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّى فِيهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَحَسَّى سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ، فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا»

      یعنی زہر مت پینا یہ ہلاک کرنا ہے ، حدیث نبوی کی مخالفت ہے
      ==============================

      میرے نزدیک قصہ کا مقصد تنقیص خالد ہے – الہام سابقہ امتوں میں ہوتا تھا – رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد غیبی اخبار النبوه میں صرف مبشرات اچھے خواب ہیں وہ بھی اب قرب قیامت میں مومنوں کو آئیں گے
      یہ حدیث میں آ گیا ہے

      1. جزاک الله

        آپ نے فرمایا کہ

        —————————————————————————-
        یہ قصہ شیعہ راویوں کے تفرد کی بنا پر میرے نزدیک صحیح نہیں ہے
        اس کا مقصد معلوم نہیں کہ کیا ہے کیونکہ اہل تشیع کی خالد پر رائے اچھی نہیں ہے
        اغلبا وہ یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ خالد بن الولید رضی اللہ عنہ ایک نا عاقبت اندیش شخص تھے – بے خطر کام کر جاتے اور تکے لگ جاتے
        —————————————————————————-

        لیکن بظاہر یہ مذکورہ بیان کردہ روایات تو خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کی مناقبت کی دلیل بن رہی ہیں کہ زہر جیسی شے بھی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکی اور ان پر الہام ہوتا تھا- بلکہ بیان کردہ روایات نبی کریم سے بھی ان کا درجہ بلند کر رہی ہیں کہ نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم پر مکہ میں ایک عورت کا دیا گیا زہراثر کرگیا تھا لیکن خالد پر اس کا اثرنہ ہوا- پھر کیسے اس قصہ کا مقصد تنقیص خالد ہو گیا ؟؟

        کیا کہیں گے آپ ؟؟

        1. Islamic-Belief says:

          درست کہا آپ نے – یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ نبی کو زہر کا علم ہوا اور آپ نے کھانا چھوڑ دیا اور خالد کو زہر کا علم ہوا اور انہوں نے کھا لیا
          نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری وقت تک بمطابق حدیث صحیح بخاری زہر کا اثر محسوس کرتے رہے اور خالد دوسری طرف زہر پی گئے اور صحت یاب رہے

          راویوں نے ایسا متن بنایا ہے کہ اس کو خالد کا تکا لگانا بھی کہا جا سکتا ہے اور منقبت بھی سمجھا جا سکتا ہے جو غلو کی نوعیت کی بن رہی ہے
          اس طرح اس میں تنقیص بھی ہے اور غلو بھی ہے

          1. ———————————–
            اس میں تنقیص بھی ہے اور غلو بھی ہے
            ———————————–
            درست فرمایا آپ نے – جزاک الله

Leave a Reply

Your email address will not be published.

15 − ten =