شاتم رسول کی سزا کا اختلاف

ایک مومن کا ایمان مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے اپنے ماں باپ سے بھی بڑھ کر محبت نہ کرے –  رسول الله صلی الله علیہ وسلم اعلیٰ اخلاق اور ظرف کا نمونہ تھے اور کسی کو بھی آپ نے اپنی زندگی میں آیذآ نہ دی-

سن ٢٠٠ ہجری کے آس پاس فقہاء میں ایک بحث نے جنم لیا کہ ذمی یا اہل کتاب جو اہل اسلام کے ساتھ ہوں اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کریں ان کی کیا سزا ہے – اس پر فقہاء کا اختلاف ہوا

صحيح بخاري حدیث ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: مَرَّ يَهُودِيٌّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَعَلَيْكَ» فَقَالَ رَسُولُ   اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” أَتَدْرُونَ مَا يَقُولُ؟ قَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ ” قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلاَ نَقْتُلُهُ؟ قَالَ: ” لاَ، إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الكِتَابِ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ

انس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس گزرا بولا تم پر موت ہو پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہا تم پر بھی

لوگوں نے کہا یا رسول الله اس کو قتل کر دیں آپ نے کہا نہیں

اگر تم کو اہل کتاب سلام کہیں تو بولو تم پر بھی

امام  بخاری  نے اس روایت کو باب بَابُ قَتْلِ الخَوَارِجِ وَالمُلْحِدِينَ بَعْدَ إِقَامَةِ الحُجَّةِ عَلَيْهِمْ میں بیان کیا ہے یعنی خوارج اور ملحدوں کا قتل اتمام حجت کے بعد

اسی طرح اس کا بَابُ إِذَا عَرَّضَ الذِّمِّيُّ وَغَيْرُهُ بِسَبِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُصَرِّحْ میں ذکر کیا باب جب ذمی   رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو گالی دے

امام الشافعی کی رائے میں اگر کوئی اہل کتاب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو گالی دے تو وہ عہد توڑتا ہے اس کا خون مباح ہو جاتا ہے – امام  بخاری کی رائے اس کے خلاف ہے- یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے ایسا باب قائم کیا ہے

کتاب  رد المحتار على الدر المختار از ابن عابدين الدمشقي الحنفي (المتوفى: 1252هـ) کے مطابق قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ لَا يُنْقَضُ

عَهْدُهُ ابو حنیفہ کہتے ہیں اس سے عہد نہیں ٹوٹتا

کتاب مسائل أحمد بن حنبل رواية ابنه عبد الله کے مطابق

سَمِعت ابي يَقُول فِيمَن سبّ النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ تضرب عُنُقه

میں نے اپنے باپ کو سنا کہ جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو گالی دے اس کی گردن مار دو

کتاب مسائل الإمام أحمد بن حنبل وإسحاق بن راهويه کے مطابق أبو يعقوب المروزي کہتے ہیں إسحاق بن راهويه کہتے ہیں شاتم رسول کو

 قال إسحاق: إذا عرض بعيب النبي صلى الله عليه وسلم قام مقام الشتم، يُقتل، إذا لم يكن ذاك منه سهواً

قتل کیا جائے گا – اگر غلطی سے نہیں ہوا

یعنی اسحاق بن رهویہ نے گنجائش رکھی ہے کہ شاتم رسول اگر غلطی سے کر بیٹھا ہے تو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا

غیر مقلدین اور وہابیوں  کے امام ابن تیمیہ نے کتاب الصارم المسلول على شاتم الرسول ج ١ ص ٥٥٨  میں امام احمد کی رائے کو ترجیح دی  جو أحكام أهل الملل میں ابو بکر الخلال سے نقل کی گئی ہے کہ امام احمد نے کہا

كل من شتم النبي صلى الله عليه وسلم مسلما كان أو كافرا فعليه القتل

ہر کوئی جو نبی صلی الله علیہ وسلم کو گالی دے چاہے مسلمان ہو یا کافر اس پر قتل ہے

احناف کی فقہ کی کتاب  البحر الرائق شرح كنز الدقائق از ابن نجيم المصري (المتوفى: 970هـ) کے مطابق

وَمِمَّنْ صَرَّحَ بِقَبُولِ تَوْبَتِهِ عِنْدَنَا الْإِمَامُ السُّبْكِيُّ فِي السَّيْفِ الْمَسْلُولِ وَقَالَ إنَّهُ لَمْ يَجِدْ لِلْحَنَفِيَّةِ إلَّا قَبُولَ التَّوْبَةِ تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ فِي إسْقَاطِهِ الْقَتْلَ قَالُوا هَذَا مَذْهَبُ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَمَالِكٍ وَنُقِلَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

اور  ہم میں سے جنہوں نے اس کی صرآحت کی ہے کہ (شاتم رسول کی)  توبہ قبول ہوتی ہے ان میں امام سبکی ہیں کتاب السَّيْفِ الْمَسْلُولِ میں اور کہا ہے کہ ان کو احناف میں کوئی نہ ملا سوائے توبہ کی قبولیت کے کہ قبول توبہ  سے  شاتم النبی کے قتل کا حکم ختم ہو جاتا ہے جو اہل کوفہ اور امام مالک  کا مذھب ہے اور ابو بکر رضی الله عنہ سے نقل کیا گیا ہے

احناف کی فقہ کی کتاب مختصر القدوري في الفقه الحنفي   از أحمد بن محمد بن أحمد بن جعفر بن حمدان أبو الحسين القدوري (المتوفى: 428هـ) کے مطابق

ومن امتنع من أداء الجزية أو قتل مسلما أو سب النبي عليه الصلاة والسلام أو زنى بمسلمة لم ينقض عهده ولا ينتقض العهد إلا بأن يلحق بدار الحرب أو يغلبوا على موضع فيحاربونا

اور جو جزیہ نہ دے اور مسلمان کا قتل کرے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو گالی دے یا مسلمان سے زنا کرے تو اس سے عہد ختم نہیں ہوتا اور یہ عہد نہیں ٹوٹتا سوائے اس کے کہ وہ دار الحرب سے مل جائے اور کسی مقام پر غلبہ پا کر مسلمانوں سے  جنگ کرے

 اسی طرح کا قول حنفی فقہ کی  کتاب العناية شرح الهداية میں ہے

 امت میں شتم رسول کی سزا کا اختلاف شروع سے چلا آ رہا ہے اس میں کسی ایک رائے کو ہی مرجوع قرار نہیں دیا جا سکتا اور عجیب بات ہے کہ آج لوگوں نے قرآن کی آیات تک اس کے حوالے سے بیان کرنا شروع کر دی ہیں

جن سے ظاہر ہے کہ سیاق و سباق سے نکال کر آیات کو اپنے مدعآ میں پیش کیا گیا ہے ورنہ فقہاء کا اختلاف کیوں ہے

شتم رسول یا سب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم پر قتل کرنے کے لئے جو روایات پیش کی جاتی ہیں وہ یہ ہیں

کعب بن اشرف کا قتل

دلائل النبوه البیہقی، سنن ابی داود کی روایت ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ، وَكَانَ كَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ يَهْجُو النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُحَرِّضُ عَلَيْهِ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، وَأَهْلُهَا أَخْلَاطٌ، مِنْهُمُ الْمُسْلِمُونَ، وَالْمُشْرِكُونَ يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ، وَالْيَهُودُ وَكَانُوا يُؤْذُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ، فَأَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ بِالصَّبْرِ وَالْعَفْوِ، فَفِيهِمْ أَنْزَلَ اللَّهُ: {وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ} [آل عمران: 186] الْآيَةَ، فَلَمَّا أَبَى كَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ أَنْ يَنْزِعَ عَنْ أَذَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ أَنْ يَبْعَثَ رَهْطًا يَقْتُلُونَهُ،

 کعب بن اشرف یہودی شاعر تھا اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی ہجو کرتا تھا۔ اور اپنے شعروں میں قریش کے کافروں کو آپ صلی الله علیہ وسلم کے خلاف بھڑکاتا تھا۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ ملے جلے لوگ تھے۔   ان میں مسلمان بھی تھے جنہیں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعوت نے جمع کردیا تھا

اور مشرکین بھی تھے جو بت پرست  تھے  اور اُن میں یہودی بھی تھے جو ہتھیاروں او رقلعوں کے مالک تھے اور وہ اوس و خزرج قبائل کے حلیف تھے۔  رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی جب مدینہ تشریف آوری ہوئی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے سب لوگوں کی اصلاح کا ارادہ فرمایا۔ایک آدمی مسلمان ہوتا تو اس کا باپ مشرک ہوتا۔ کوئی دوسرا مسلمان ہوتا تو اس کابھائی مشرک ہوتا اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی آمد مبارک پرمشرکین اور یہودانِ مدینہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو اور آپ کے صحابہ کرام کو شدید قسم کی اذیت سے دوچار کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی الله علیہ وسلم اور مسلمانوں کو اس پر صبر و تحمل اور ان سے درگزر کرنے کا حکم دیا۔

ان کے بارے میں آیت نازل ہوئی  وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ} [آل عمران: 186] الْآيَةَ

اور بلاشبہ آپ ضرور ان سے سنیں گے جن کو آپ سے پہلے کتاب دی گئی

پھر جب کعب بن اشرف نے بغاوت کی تو آپ نے سعد بن معاذ کو حکم دیا کہ کسی کو بھیجیں جو اسکو قتل کرے

اسکی سند میں أبو اليمان الحكم بن نافع البهرانى الحمصى   جو شُعَيْبِ بنِ أَبِي حَمْزَةَ  سے روایت کر رہے ہیں  جن کے لئے الذھبی کتاب سير أعلام النبلاء میں لکھتے ہیں

سَعِيْدُ بنُ عَمْرٍو البَرْذَعِيُّ: عَنْ أَبِي زُرْعَةَ الرَّازِيِّ، قَالَ: لَمْ يَسْمَعْ أَبُو اليَمَانِ مِنْ شُعَيْبٍ إِلاَّ حَدِيْثاً وَاحِداً، وَالبَاقِي إِجَازَةً

سَعِيْدُ بنُ عَمْرٍو البَرْذَعِيُّ نے أَبِي زُرْعَةَ الرَّازِيِّ سے روایت کیا انہوں نے کہا ابو اليَمَانِ نے شُعَيْبٍ سے صرف ایک ہی حدیث روایت کی اور باقی اجازہ ہے

   تهذيب الكمال کے مطابق احمد کہتے ہیں

فَكَانَ وَلَدُ شُعَيْبٍ يَقُوْلُ: إِنَّ أَبَا اليَمَانِ جَاءنِي، فَأَخَذَ كُتُبَ شُعَيْبٍ مِنِّي بَعْدُ، وَهُوَ يَقُوْلُ: أَخْبَرَنَا.  فَكَأَنَّهُ اسْتَحَلَّ ذَلِكَ، بِأَنْ سَمِعَ شُعَيْباً يَقُوْلُ لِقَوْمٍ: ارْوُوْهُ عَنِّي.

قَالَ إِبْرَاهِيْمُ بنُ دَيْزِيْلَ: سَمِعْتُ أَبَا اليَمَانِ يَقُوْلُ: قَالَ لِي أَحْمَدُ بنُ حَنْبَلٍ: كَيْفَ سَمِعْتَ الكُتُبَ مِنْ شُعَيْبٍ؟ قُلْتُ: قَرَأْتُ عَلَيْهِ بَعْضَهُ، وَبَعْضُهُ قَرَأَهُ عَلَيَّ، وَبَعْضُهُ أَجَازَ لِي، وَبَعْضُهُ مُنَاوَلَةً. قَالَ: فَقَالَ فِي كُلِّهِ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ

شُعَيْبٍ کے بیٹے کہتے تھے کہ أَبَا اليَمَانِ میرے پاس آیا اور مجھ سے والد کی کتب لیں اور کہنے لگا اخبرنا!  پس اس نے اس کو جائز سمجھا اور میرے والد ایک قوم سے کہتے یہ مجھ سے روایت (کیسے)  کرتا ہے

إِبْرَاهِيْمُ بنُ دَيْزِيْلَ نے کہا میں نے أَبَا اليَمَانِ کو کہتے سنا وہ کہتے مجھ سے امام احمد نے کہا تم شُعَيْبٍ سے کتاب کیسے سنتے ہو ؟ میں نے کہا بعض میں اس پر پڑھتا ہوں اور بعض وہ مجھ کو سناتا ہے اور بعض کی اس نے اجازت دی اور بعض کا مناولہ کہا میں نے  اس سب پر کہا اخبرنا شُعَيْبٌ

یعنی أَبَا اليَمَانِ الحكم بن نافع اس کا کھلم کھلا اقرار کرتے تھے کہ ہر بات جس پر وہ اخبرنا شُعَيْبٌ کہتے ہیں اس میں سے ہر حدیث ان کی سنی ہوئی نہیں ہے

روایت تاریخ کے مطابق غلط ہے – صحیحین میں کعب کی قتل کی وجوہات نہیں بیان ہوئیں –  ابن اسحاق کی سیرت کے مطابق کعب مدینہ کا باسی نہ تھا اس کی ننھیال مدینہ میں تھی اور اس کے ہمدرد اس کے ساتھ تھے کعب کا باپ قبیلہ بنی طی کا تھا جو مدینہ کے شمال میں تھا  لیکن کعب ایک یہودی سیٹھ تھا اور عرب میں سفر کرتا اور قبائل کو مدینہ پر حملہ کے لئے اکساتا یہاں تک کہ اس نے عباس رضی الله عنہ کی بیوی نبی صلی الله علیہ وسلم کی مومنہ چچی لبابہ الکبری رضی الله عنہآ کے لئے بیہودہ شاعری کی

لہذا کعب کا قتل رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ہجو پر نہیں بلکہ فتنہ پردازی کرنے پر ہوا تھا

کعب کے واقعہ کا شتم رسول سے کوئی تعلق نہیں یہ ایک خاص حکم تھا جو فتنہ اور مدینہ کی سلامتی کے لئے لیا گیا تھا

ابو رافع کا قتل

محمد بن اسحٰق  سیرت میں لکھتے ہیں

ولما انقضی شأن الخندق وأمر بنی قریظة وکان سلام بن أبي الحقیق وهو أبو رافع فیمن حزب الأحزاب علی رسول الله صلی الله علیہ وسلم وکانت الأوس قبل أحد قتلت کعب بن الأشرف في عداوته لرسول اللہ صلی الله علیہ وسلم وتحریضه علیه استأذنت الخزرج رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم في قتل سلام بن أبي الحقیق وھو بخیبر فأذن لھم.

جب غزوۂ خندق اور بنو قریظہ کے یہود کامعاملہ پورا ہوگیا – ابو رافع  سلام بن ابی الحقیق یہودی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے  خلاف اتحادیوں کو جمع کیا تھا۔ اُحد سے پہلے اَوس قبیلے کےلوگوں نے کعب بن اشرف کو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم  کی عداوت اور لوگوں کی وجہ سےقتل کیا تھا توخزرج والوں نے ابورافع یہودی کے قتل کی اجازت رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے طلب کی اور اس وقت ابو رافع خیبر میں تھا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس کے قتل کی اجازت دی۔

اس واقعہ کا بھی سب و شتم کرنے سے تعلق نہیں ہے یہ بھی ایک خاص حکم ہے جو بطور حاکم نبی صلی الله علیہ وسلم نے مدینہ کی سلامتی کے لئے دیا

ایک ام ولد کا قتل

عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ ایک نابینا کی اُمّ ولد تھی جو نبی صلی الله علیہ وسلم کو گالیاں دیتی تھی اور آپ کی شان میں گستاخی کرتی تھی۔ وہ نابینا صحابی اسے منع کرتے لیکن وہ باز نہ آتی تھی۔…. ایک رات جب وہ نبی   صلی  الله علیہ وسلم کی بدگوئی کرنے لگی تو اُس نے برچھا پکڑا تو اسے اس کے پیٹ پر رکھ دیا اور اُس پر اپنا بوجھ ڈالا اور اسےقتل کردیا۔ جب یہ بات نبی کریم صلی  الله علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی الله علیہ وسلمنے فرمایا:

 ألا اشهدوا إن دمها هدر 

 خبردار، گواہ ہوجاؤ اس لونڈی کا خون ضائع و رائیگاں ہے

سنن أبي داود (4361)، سنن النسائي (4075)،سنن الدارقطني‎ المطالب العالیة (2046)، إتحاف الخيرة المھرة للبوصیری

البانی اس حدیث کے بارے  میں   إرواء الغلیل میں  کہتے  ہیں: إسنادہ صحیح علی شرط مسلم   اس کی سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔  امام حاکم کہتے ہیں هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مسلم کی شرط پر لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی –

امام حاکم تصحیح حدیث میں غلطیاں کرنے پر مشھور و معروف ہیں یہاں تک کہ انبیاء پر وسیلہ کی وسیلہ کی تہمت لگاتے اور رفض میں علی کو تمام صحابہ سے افضل قرار  دینے والی روایات  کو بھی صحیح کہتے  تھے

إس كي سند میں عثمان الشحام العدوى ہے –  جس کے لئے امام یحییٰ القطان  کہتے ہیں

يعرف وينكر ولم يكن عندي بذاك

اس کو پہچانا اور انکار کیا جاتا ہے اور میرے نزدیک ایسا (مظبوط) نہیں

میزان الاعتدال از الذھبی میں ہے :  نسائی خود کہتے ہیں قال النسائي: ليس بالقوى. میرے نزدیک قوی نہیں

جس راوی کی روایت نسائی خود کہیں مظبوط نہیں اس کو علماء آج انکی ہی کتاب سے نقل کر کے کیسے  صحیح قرار دے  سکتے ہیں

کتاب إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال کے مطابق

قال أبو أحمد الحاكم: عثمان بن مسلم أبو سلمة الشحام ليس بالمتين عندهم.

أبو أحمد الحاكم کہتے ہیں : عثمان محدثین کے نزدیک مظبوط نہیں ہے

الغرض بعض محدثین اس کو ثقہ کہتے ہیں لیکن حلال و حرام  میں اس کی روایت مظبوط نہیں وہ بھی جب اس بنیاد پر قتل کا فتوی دیا جا رہا ہو- عصر حاضر کے علماء میں سے شعَيب الأرنؤوط ، سنن ابو داود پر اپنی تحقیق میں  کہتے ہیں

إسناده قوي من أجل عثمان الشحام، فهو صدوق لا بأس به وباقي رجاله ثقات.

عثمان الشحام کی وجہ سے اس روایت کی اسناد قوی ہیں کیونکہ وہ صدوق ہے اس میں کوئی برائی نہیں اور باقی رجال ثقہ ہیں

یعنی جو راوی متقدمین  محدثین کے نزدیک مظبوط نہیں  تھا وہ آج معتبر ہو چلا ہے

ایک صحابی کا بہن کو قتل کرنا

معرفہ صحابہ از ابو نعیم کی روایت ہے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا ابْنُ كَاسِبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ السَّلَمَ بْنَ يَزِيدَ، وَيَزِيدَ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَاهُ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ أُخْتٌ، فَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آذَتْهُ فِيهِ وَشَتَمَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ مُشْرِكَةً، فَاشْتَمَلَ لَهَا يَوْمًا عَلَى السَّيْفِ، ثُمَّ أَتَاهَا فَوَضَعَهُ عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا، فَقَامَ بَنُوهَا وَصَاحُوا وَقَالُوا: قَدْ عَلِمْنَا مَنْ قَتَلَهَا، أَفَيَقْتُلُ أَمَّنَا وَهَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَهُمْ آبَاءٌ، وَأُمَّهَاتٌ مُشْرِكُونَ؟ فَلَمَّا خَافَ عُمَيْرٌ أَنْ يَقْتُلُوا غَيْرَ قَاتِلِهَا ذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: «أَقَتَلْتَ أُخْتَكَ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «وَلِمَ؟» ، قَالَ: إِنَّهَا كَانَتْ تُؤْذِينِي فِيكَ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِيهَا فَسَأَلَهُمْ، فَسَمَّوْا غَيْرَ قَاتِلِهَا، فَأَخْبَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ، وَأَهْدَرَ دَمَهَا، قَالُوا: سَمْعًا وَطَاعَةً

 عمیر بن اُمیہ کی ایک بہن تھی اور عمیر جب نبی صلی الله علیہ وسلم  کی طرف جاتے تو وہ اُنہیں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے حوالے سے تکلیف دیتی اور نبی   صلی الله علیہ وسلم کو گالیاں دیتی اور وہ مشرکہ تھی۔ اُنہوں نے ایک دن تلوار اُٹھائی پھر اپنی  بہن کے پاس آئے، اسے تلوار کا وار کرکے قتل کردیا۔ اس کے بیٹے اُٹھے، اُنہوں نے چیخ و پکار کی اور کہنے لگے کہ ہمیں معلوم ہے، کس نے اسے قتل کیا ہے؟ کیا ہمیں امن و امان دے کرقتل کیا گیا ہے؟ اور اس قوم کے آباء و اجداد اور مائیں مشرک ہیں۔ جب عمیر کو یہ خوف لاحق ہوا کہ وہ اپنی ماں کے بدلے میں کسی کو ناجائز قتل کردیں گے تو وہ نبی کریم صلی  الله علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کوخبر دی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

  أقتلت أختك

کیا تم نے اپنی بہن کوقتل کیا ہے۔

 انہوں نے کہا ہاں۔آپ صلی الله علیہ وسلمنے کہا:   ولم؟   تم نے اسے کیوں قتل کیا

 تو اُنہوں نے کہا:    إنها کانت تؤذینی فیك      یہ مجھے آپ کے بارے میں تکلیف دیتی تھی۔

 تو نبی صلی الله علیہ وسلمنےاس کے بیٹوں کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے پوچھا تو اُنہوں نے کسی اور کو قاتل بنایا۔ پھر آپ صلی الله علیہ وسلمنے ان کو خبر دی اور اس کا خون رائیگاں قراردیا تو اُنہوں نے کہا: ہم نے سنا اور مان لیا

الإصابة  ، المعجم الکبیر از طبرانی،  مجمع الزوائد, أسد الغابة‎‎

اسکی سند میں يَعْقُوب بْن حميد بن كاسب کا تفرد ہے  –  کتاب الكامل في ضعفاء الرجال از ا بن عدي الجرجاني (المتوفى: 365هـ) کے مطابق

قال النسائي يَعْقُوب بْن حميد بن كاسب ليس بشَيْءٍ

نسائی کہتے ہیں يَعْقُوب بْن حميد بن كاسب کوئی چیز نہیں

کتاب سیر الاعلام النبلاء از الذھبی  کے مطابق

أَبُو حَاتِمٍ کہتے ہیں ضَعِيْفُ الحَدِيْثِ

بخاری نے صحیح میں ایک یعقوب سے روایت لی اور لوگوں کا گمان ہے کہ یہ يَعْقُوب غير مَنْسُوب اصل میں ابْن حميد بن كاسب ہے دیکھئے الهداية والإرشاد في معرفة أهل الثقة والسداد از أحمد بن محمد بن الحسين بن الحسن، أبو نصر البخاري الكلاباذي – اس بنیاد پر یعقوب ابْن حميد بن كاسب کو صحیح بخاری کا راوی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ائمہ حدیث اس پر متفق نہیں ہیں

اس روایت میں عُمَيْرِ بْنِ أُمَيَّةَ نامی ایک صحابی کا ذکر ہے جو صرف اسی روایت سے جانے جاتے ہیں- یہ واقعی صحابی بھی تھے یا نہیں کسی اور دلیل سے ثابت نہیں-

ایک یہودیہ کا قتل

سنن ابو داود اور سنن الکبری البیہقی کی روایت ہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، «أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ، فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ، فَأَبْطَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا

ایک یہودیہ عورت نبی صلی الله علیہ وسلم  کو گالیاں دیا کرتی اور آپ کے بارے میں نازیبا کلمات کہا کرتی تھی۔ ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئی تو اللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے اس کا خون باطل قرار دیا۔

اس روایت کے بارے میں  إرواء الغلیل میں   البانی  کہتے ہیں   إسناده صحیح علی شرط الشیخین  اس کی سند بخاری ومسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن بعد میں اس قول سے رجوع کرتے ہیں اور کتاب صحيح وضعيف سنن أبي داود

 میں کہتے ہیں ضعيف الإسناد

کتاب  الأحاديث المختارة أو المستخرج من الأحاديث المختارة مما لم يخرجه البخاري ومسلم في صحيحيهما از ضياء الدين أبو عبد الله محمد بن عبد الواحد المقدسي (المتوفى: 643هـ) کے مطابق كَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُد  إِسْنَاده مُنْقَطع اسطرح ابو داود نے روایت کیا ہے اسناد منقطع ہیں

حد قتل صرف مرتکب ِتوہین رسالت کے لیے

سنن الکبری البیہقی کی روایت ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ، عَنْ  أَبِي بَرْزَةَ، أَنَّ رَجُلًا، سَبَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: ” أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَا لَيْسَتْ هَذِهِ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

 ابو برزہ کہتے ہیں ایک شخص نے ابو بکر رضی الله عنہ کو گالی دی -میں نے کہا یا خلیفہ رسول آپ کی اجازت ہو تو گردن مار دوں؟  ابو بکر رضی الله عنہ  نے کہا لَا لَيْسَتْ هَذِهِ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یہ حد رسول الله کے بعد کسی کے لئے نہیں

ایک اور روایت میں ہے   لا والله ما کانت لبشر بعد محمد صلی الله علیہ وسلم

الله کی قسم   رسول الله کے بعد یہ کسی  بشر کے لئے نہیں

سنن أبي داؤد    سنن النسائي   ‎‎ السنن الکبری للنسائي

میزان الاعتدال از الذھبی کے مطابق ابن معین اس کی سند میں توبہ العنبری کی تضعیف کرتے ہیں

یہ روایت مستدرک الحاکم میں بھی ہے لیکن الذھبی تلخيص میں اس پر سکوت کرتے ہیں جس سے ظاہر سے وہ اس کی صحت پر مطمئن نہ تھے

یہ روایت مبہم ہے- ابو بکر رضی الله عنہ کس بات پر ناراض تھے واضح نہیں- اور کسی کا اسطرح دخل در معقولات کرنا بے ادبی ہے –  الفاظ لَا لَيْسَتْ هَذِهِ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا مطلب ہے ایسا حکم دینا صرف رسول الله کا حق ہے –  صحیح  بخاری کی  حدیث میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یہودی جو کہتا تھا تم پر موت ہو اس کو قتل کرنے سے منع کیا

 ایک  عیسائی کو سزا

سنن الکبری بیہقی کی روایت ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ , أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْفَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: قَالَ نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ: ثنا الْمُبَارَكُ، أنبأ حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، أَنَّ عَرَفَةَ بْنَ الْحَارِثِ الْكِنْدِيَّ مَرَّ بِهِ نَصْرَانِيٌّ فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ , فَتَنَاوَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَهُ , فَرَفَعَ عَرَفَةُ يَدَهُ فَدَقَّ أَنْفَهُ , فَرُفِعَ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ , فَقَالَ عَمْرٌو: أَعْطَيْنَاهُمُ الْعَهْدَ. فَقَالَ عَرَفَةُ: مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَكُونَ أَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى أَنْ يُظْهِرُوا شَتْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِنَّمَا أَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى أَنْ نُخَلِّيَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ كَنَائِسِهِمْ , يَقُولُونَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُمْ , وَأَنْ لَا نُحَمِّلَهُمْ مَا لَا يَطِيقُونَ , وَإِنْ أَرَادَهُمْ عَدُوٌّ قَاتَلْنَاهُمْ مِنْ وَرَائِهِمْ , وَنُخَلِّيَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَحْكَامِهِمْ , إِلَّا أَنْ يَأْتُوا رَاضِينَ بِأَحْكَامِنَا , فَنَحْكُمَ بَيْنَهُمْ بِحُكْمِ اللهِ وَحُكْمِ رَسُولِهِ , وَإِنْ غَيَّبُوا عَنَّا لَمْ نَعْرِضْ لَهُمْ فِيهَا. قَالَ عَمْرٌو: صَدَقْتَ وَكَانَ عَرَفَةُ لَهُ صُحْبَةٌ

كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ  کہتے ہیں کہ َعرَفَةَ بْنَ الْحَارِثِ الْكِنْدِيَّ کے پاس سے ایک عیسائی گزرا تو اُنہوں نے اسے اسلام کی دعوت پیش کی تو اُس عیسائی نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم  کی اہانت کی۔ َعرَفَةَ بْنَ الْحَارِثِ الْكِنْدِيَّ نے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور اس کی ناک پھوڑ دی ۔ یہ مقدمه عمرو بن العاص کے پاس لایا گیا تو عمرو نے کہا  ہم نے ان کو عہد و پیمان دیا ہے (یعنی ان کی حفاظت ہم پر لازم ہے) َعرَفَةَ بْنَ الْحَارِثِ الْكِنْدِيَّ نے کہا اللہ کی پناہ! ہم ان کو اس بات پر عہد و پیمان دیں کہ وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم پر سب و شتم کا اظہار کریں۔ ہم نے ان کو اس بات کا عہد دیا ہے کہ ہم اُنہیں ان کے گرجا گھروں میں چھوڑ دیں وہ اپنے گرجا گھروں میں جو کہنا ہے کہیں اور ان کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈالیں اوراگر کوئی دشمن ان کا قصد کرے تو ہم ان کے پیچھے ان سے لڑائی لڑیں اور اُنہیں ان کے احکامات پر چھوڑ دیں، اِلا یہ کہ وہ ہمارے احکامات پر راضی ہوکر آئیں تو ہم ان کے درمیان اللہ اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے حکم کے مطابق فیصلہ کریں اوراگر وہ ہم سے غائب ہوں تو ہم ان کے پیچھے نہ پڑیں۔   عمرو بن العاص نے فرمایا: صدقتَ تم نے سچ کہا – (بیہقی نے کہا) اور عَرَفَةُ صحابی ہیں

سند میں كعب بن علقمة بن كعب التنوخى  المصری ہیں – بخاری نے تاریخ الکبیر میں نام لکھا ہے نہ جرح کی نہ تعدیل – صرف ابن حبان نے  ثقآت میں ذکر کیا ہے – بخاری نے الأدب المفرد  میں روایت لکھی ہے ایسے رویوں کا مجھول سمجھا جاتا ہے جن پر نہ جرح ہو نہ تعدیل ہو

عرَفَةَ بْنَ الْحَارِثِ الْكِنْدِيَّ کا صحابی ہونا واضح نہیں – لہذا دونوں مجھول راوی ہیں –روایت کے آخر میں بیہقی نے کہا ہے عَرَفَةُ صحابی ہیں لیکن ابن حجر الإصابة في تمييز الصحابة میں کہتے ہیں   ذكره ابن قانع، وابن حبّان ان کا ابن قانع اور ابن حبان نے ذکر کیا ہے – آبن  قانِع  المتوفی ٣٥١ ھ کتاب معجم الصحابة میں ان کا ذکر کرتے ہیں –  اس سے قبل کسی نے ان کو صحابی قرار نہ دیا – بہت سے لوگوں کو اس بنیاد پر صحابی نہیں کہا گیا کہ انہوں نے صرف رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا دور دیکھا ان سے کچھ سنا نہیں- عرَفَةَ بْنَ الْحَارِثِ الْكِنْدِيَّ کے بارے میں تو یہ بھی نہیں پتا کہ واقعی دور نبوی بھی پایا تھا یا نہیں-  ایک روایت کے مطابق جو جمع الفوائد من جامع الأصول ومجمع الزَّوائِد

 میں ہے عرفہ نے حجہ الوداع کے وقت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا لیکن اس کو البانی ضعیف کہتے ہیں

علی رضی الله عنہ کی روایت

ایک اور روایت ہے جو مجمع الزوائد ،میں ہے

عَنْ عَلِيٍّ – يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ – قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ” «مَنْ سَبَّ الْأَنْبِيَاءَ قُتِلَ، وَمَنْ سَبَّ أَصْحَابِي جُلِدَ

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ رَمَاهُ النَّسَائِيُّ بِالْكَذِبِ.

علی رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جو انبیاء کو گالی دے قتل کر دو اور جو میرے اصحاب کو گالی دے اسے کوڑے مارو

اس کو طبرانی نے الصغیر اور الاوسط میں اپنے شیخ عبید الله سے روایت کیا جن کو  نسائی نے جھوٹ بولنے پر پھینک دیا  ہے

عمیر بن عدی رضی الله عنہ کی روایت

مسند الشهاب از أبو عبد الله محمد بن سلامة بن جعفر بن علي بن حكمون القضاعي المصري (المتوفى: 454هـ) کی روایت ہے

أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو طَاهِرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدُونٍ الْمَوْصِلِيُّ، قَدِمَ عَلَيْنَا، أبنا أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ الْحَنْبَلِيُّ السُّكَّرِيُّ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ، جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الْجُرْجَرَائِيُّ بِهَا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الشَّامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ اللَّخْمِيُّ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: هَجَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي خَطْمَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِجَاءٍ لَهَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ ذَلِكَ، وَقَالَ: «مَنْ لِي بِهَا؟» فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهَا: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَانَتْ تَمَّارَةٌ تَبِيعُ التَّمْرَ، قَالَ: فَأَتَاهَا أَجْوَدَ مِنْ هَذَا قَالَ: فَدَخَلَتِ التُّرْبَةَ، قَالَ: وَدَخَلَ خَلْفَهَا، فَنَظَرَ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَلَمْ يَرَ إِلَّا خِوَانًا، قَالَ: فَعَلَا بِهِ رَأْسَهَا حَتَّى دَمَغَهَا بِهِ، قَالَ: ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ كَفَيْتُكَهَا، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّهُ لَا يَنْتَطِحُ فِيهَا عَنْزَانِ» ، فَأَرْسَلَهَا مَثَلًا

اس سند میں مجالد بن سعید ہے جو ضعیف ہے –  ابن عدی ، ابن جوزی اور البانی کے مطابق روایت موضوع ہے جس کو محمد بن الحجاج اللَّخمي نے گھڑا ہے

دوسری سند ہے

أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ التُّسْتَرِيُّ، وَذُو النُّونِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا نا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَسْكَرِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، نا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا الْوَاقِدِيُّ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ فَضْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَتْ عَصْمَاءُ بِنْتُ مَرْوَانَ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ، وَكَانَ زَوْجُهَا يَزِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ حِصْنٍ الْخَطْمِيُّ، وَكَانَتْ تُحَرِّضُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَتُؤْذِيهِمْ، وَتَقُولُ الشِّعْرَ، فَجَعَلَ عُمَيْرُ بْنُ عَدِيٍّ نَذْرًا أَنَّهُ لَئِنْ رَدَّ اللَّهُ رَسُولَهُ سَالِمًا مِنْ بَدْرٍ لَيَقْتُلَنَّهَا، قَالَ: فَعَدَا عَلَيْهَا عُمَيْرٌ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقَتَلَهَا، ثُمَّ لَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى مَعَهُ الصُّبْحَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَصَفَّحُهُمْ إِذَا قَامَ يَدْخُلُ مَنْزِلَهُ، فَقَالَ لِعُمَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ: «قَتَلْتَ عَصْمَاءَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَلْ عَلَيَّ فِي قَتْلِهَا شَيْءٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْتَطِحُ فِيهَا عَنْزَانِ» ، فَهِيَ أَوَّلُ مَا سَمِعْتُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اس کی سند میں َعبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ فَضْلٍ اور ان کا باپ دونوں مجھول ہیں ،  لگتا ہے یہ غلطی ہے،  کیونکہ ایک راوی عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الْفُضَيْلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ عَدِيِّ کے نام کا ہے

سند میں واقدی ہے جو ضعیف ہے

تہذیب التہذیب از ابن حجر کے مطابق امام احمد کہتے ہیں الْحَارِثِ بْنِ الْفُضَيْلِ

ليس بمحفوظ الحديث  حدیث میں محفوظ نہیں

ليس بمحمود الحديث حدیث میں قابل تعریف نہیں

عمیر بن عدی نے ایک گستاخ عورت کو قتل کیا اسکی خبر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ہوئی

آپ نے فرمایا

لا ينتطح فيها عنزان

اس میں دو بکریوں کے سینگ بھی نہیں الجھیں گے

یعنی اس میں کسی کو اختلاف نہ ہو گا

لیکن جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں محدثین اس کو ایک موضوع روایت کہتے ہیں

بنی قریظہ کی عورت کا قتل

مسند احمد کی راویت ہے

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: لَمْ يَقْتُلْ مِنْ نِسَائِهِمْ إِلَّا امْرَأَةً وَاحِدَةً. قَالَتْ: وَاللَّهِ إِنَّهَا لَعِنْدِي تَحَدَّثُ مَعِي، تَضْحَكُ ظَهْرًا وَبَطْنًا، «وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ رِجَالَهُمْ بِالسُّوقِ» ، إِذْ هَتَفَ هَاتِفٌ بِاسْمِهَا: أَيْنَ فُلَانَةُ؟ قَالَتْ: أَنَا وَاللَّهِ، قَالَتْ: قُلْتُ: وَيْلَكِ، وَمَا لَكِ؟ قَالَتْ: أُقْتَلُ. قَالَتْ: قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَتْ: حَدَثٌ أَحْدَثْتُهُ. قَالَتْ: فَانْطُلِقَ بِهَا، فَضُرِبَتْ عُنُقُهَا وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: وَاللَّهِ مَا أَنْسَى عَجَبِي مِنْ طِيبِ نَفْسِهَا، وَكَثْرَةِ ضَحِكِهَا وَقَدْ عَرَفَتْ أَنَّهَا تُقْتَلُ

عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ عورتوں میں سے کسی کا قتل نہ ہوا سوائے ایک عورت کے جو گستاخ تھی

اسکی تمام اسناد میں محمّد بن اسحاق ہے جو ضعیف ہے اور احمد کہتے ہیں اس سے حلال و حرام کی روایت نہیں لینی چاہیے

مصنف عبد الرزاق کی روایت

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ. . . أَوْ قَالَ: أَلْفَيْنِ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَسُبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَكْفِينِي عَدُوِّي؟» فَخَرَجَ إِلَيْهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَتَلَهَا

مصنف عبد الرزاق کے نسخہ میں الفاظ مکمل نقل نہیں ہوئے  أبو نعيم نے  معرفة الصحابة (6/ 3162) میں اس کا مکمل متن و سند نقل کیا ہے :
حدثنا أحمد بن محمد بن يوسف، ثنا عبد الله بن محمد البغوي، ثنا زهير بن محمد، ثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن سماك بن الفضل، عن عروة بن محمد، عن رجل  من بلقين، قال: كانت امرأة تسب النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: «من يكفيني عدوتي، فخرج خالد بن الوليد فقتلها

سماك بن الفضل روایت کرتے ہیں  عروة بن محمد سے وہ  بلقين میں سے ایک شخص سے کہ ایک عورت تھی جو نبی صلی الله علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کون میری مدد کرتا ہے میری دشمن کے لئے پس خالد بن ولید نکلے اور اس کو قتل کر دیا

اسکی سند میں عروة بْن مُحَمَّد بْن عطية السعدي الجشمي ہیں جن کو  سُلَيْمان بن عبد الملك اور عُمَر بْن عبد العزيز اور يزيد بن عبد الملك نے يمن پر عامل مقرر کیا تھا – عروہ ایک مجھول سے روایت نقل کر رہے ہیں جس کا نام و نسب نہیں پتا

لیکن پانچویں صدی کی کتاب المحلی از ابن حزم کی روایت ہے

وَحَدَّثَنَا حُمَامٌ نا عَبَّاسُ بْنُ أَصْبَغَ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَيْمَنَ نا أَبُو مُحَمَّدٍ حَبِيبٌ الْبُخَارِيُّ – هُوَ صَاحِبُ أَبِي ثَوْرٍ ثِقَةٌ مَشْهُورٌ – نا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ سَمِعْت عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ: ” دَخَلْت عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَ لِي: أَتَعْرِفُ حَدِيثًا مُسْنَدًا فِيمَنْ سَبَّ النَّبِيَّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ – فَيُقْتَلُ؟ قُلْت: نَعَمْ، فَذَكَرْت لَهُ حَدِيثَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ ” رَجُلٍ ” مِنْ بُلْقِينَ قَالَ «كَانَ رَجُلٌ يَشْتُمُ النَّبِيَّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ – فَقَالَ النَّبِيُّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -: مَنْ يَكْفِينِي عَدُوًّا لِي؟ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: أَنَا فَبَعَثَهُ النَّبِيُّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ – إلَيْهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ لَهُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ: لَيْسَ هَذَا مُسْنَدًا، هُوَ عَنْ رَجُلٍ؟ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِهَذَا يُعْرَفُ هَذَا الرَّجُلُ وَهُوَ اسْمُهُ، قَدْ أَتَى النَّبِيَّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فَبَايَعَهُ، وَهُوَ مَشْهُورٌ مَعْرُوفٌ؟ قَالَ: فَأَمَرَ لِي بِأَلْفِ دِينَارٍ؟»

علی المدینی کو کہتے محمد بن سہل نے سنا کہ میں (علی المدینی) امیر المومنین (المامون) کے پاس داخل ہوا انہوں نے پوچھا :کیا آپ کو کوئی مسند روایت پتا ہے جس میں نبی کی گستاخی پر قتل کی سزا ہو؟ میں نے کہا جی ؛ پس ان سے حدیث ذکر کی کہ عبد الرزاق نے معمر سے انہوں نے سماک سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے بلقین کے رجل سے روایت کیا کہ … امیر المومنین نے کہا اس میں تو روایت عن رجل سے ہے مسند کیسے ہوئی؟ میں نے کہا اے امیر المومنین اس رجل کا نام ہی ایسے لیا جاتا تھا اور یہی اسکا نام ہے یہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور انکی بیعت کی اور یہ مشھور و معروف ہیں پس امیر المومنین نے ہزار دینار عطا کیے

ابن حزم کہتے ہیں

 هَذَا حَدِيثٌ مُسْنَدٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ عَنْ عَبْدُ الرَّزَّاقِ كَمَا ذَكَرَهُ، وَهَذَا رَجُلٌ مِنْ الصَّحَابَةِ مَعْرُوفٌ اسْمُهُ الَّذِي سَمَّاهُ بِهِ أَهْلُهُ ” رَجُلٌ ” مِنْ بُلْقِينَ.

یہ حدیث مسند ہے صحیح ہے اس کو علی بن المدینی نے روایت کیا ہے عبد الرزاق سے جیسا کہ ذکر کیا اور یہ  رجل صحابہ میں سے ہے جن کو انکے گھر والوں نے ایسا نام دیا کہ بلقین کا آدمی

یہ سب اگر آپ نے پڑھ لیا ہے تو سنئے یہ سب غلط ہے اور اس کی وجوہ یہ ہیں

اول محدثین اور عباسی خلفاء میں باپ مارے کا بیر تھا وہ ایک دوسرے کو پسند نہ کرتے تھے اور معتزلی عقائد رکھتے تھے

دوم محدثین کی خلق قرآن کے مسئلہ پر سخت جانچ پڑتال کی جاتی – امام احمد کو علی المدینی کے دور کے ہیں ان کو کوڑے بھی لگے

سوم عبّاسی خلفاء نے اہل رائے والے علماء کو قاضی کے منصب دیے  – محدثین کی عزت افزائی کا ان کو کوئی شوق نہ تھا یہی وجہ تھی کہ محدثین اور اہل رائے میں ایک مخاصمت جنم لے چکی تھی

لہذا عباسی خلفاء کے اہل رائے والے قاضی امام ابو حنیفہ ، امام یوسف اور امام محمد کا فتوی یہ تھا کہ ذمی شاتم کو قتل نہیں کیا جائے گا – امیر المومنین المأمون  نے انعام سے نوازا اور حدیث کو ایک طرح علی المدینی نے بیچ دیا – ایسا ممکن نہیں محدثین حدیث سنانے کے پیسے نہ لیتے تھے

اب رجل من بلقین کا قبول کرنا بھی ایک فرضی داستان ہے اس کے لئے کہا جاتا ہے کہ رجل من بلقین ایک صحابی ہے اور  صحابہ کلھم عدول ہیں لہذا روایت درست ہے لیکن اس بنیاد پر تو ہر وہ روایت درست مان لینی چاہیے جس میں دور نبوی کے لوگوں کا لقاء ثابت نہ ہو

اب غور سے پڑھیں اسی کتاب المحلی میں ابن حزم ایک دوسرے مسئلہ پر لکھتے ہیں

رُوِّينَاهُ مِنْ طَرِيقِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ «عَنْ رَجُلٍ مِنْ بُلْقِينَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ أَحَدٌ أَحَقُّ بِشَيْءٍ مِنْ الْمَغْنَمِ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالَ: لَا، حَتَّى السَّهْمُ يَأْخُذُهُ أَحَدُكُمْ مِنْ جَنْبِهِ فَلَيْسَ أَحَقَّ مِنْ أَخِيهِ بِهِ» . قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: هَذَا عَنْ رَجُلٍ مَجْهُولٍ لَا يُدْرَى أَصَدَقَ فِي ادِّعَائِهِ الصُّحْبَةَ أَمْ لَا؟

اور ہم سے روایت کیا گیا ہے حماد بن سلمہ عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ «عَنْ رَجُلٍ مِنْ بُلْقِينَ کے طرق سے …. ابن حزم کہتے ہیں یہ رجل مجھول ہے – نہیں پتا کہ اس کا دعوی صحابی ہونا سچا بھی ہے یا نہیں

یعنی ایک ہی کتاب میں رجل من بلقین کو مجھول کہہ کر رد کیا اور جب اس کی شاتم رسول کی روایت آئی تو سب بھول بھال گئے

یہ روایت ان علماء میں چلتی رہی جو قتل کا فتوی دیتے تھے یہاں تک کہ ابن حجر نے  الإصابة في تمييز الصحابة
میں لکھا کہ اوپر امیر المومنین المامون والآ قصہ جس کو ابن حزم صحیح کہہ گئے ہیں  کذب ہے کتاب میں ابن حجر نے لکھآ

قلت: محمد بن سهل ما عرفته، وفي طبقته محمد بن سهل العطار رماه الدارقطنيّ بالوضع وقال: ناقض ابن حزم

میں کہتا ہوں کہ محمد بن سہل نہیں جانا جاتا اور اس طبقہ میں محمد بن سهل العطار ہے جس کو دارقطنی نے حدیث وضع کرنے پر پھینک دیا ہے اور یہ ابن حزم کی غلطی ہے

الغرض روایات مظبوط نہیں اور فقہاء باوجود قرآن پڑھنے کے اس مسئلہ میں ایک رائے نہیں لہذا آج یہ کہنا کہ اس عمل کی سزا پر اجماع ہے  غلط قول ہے

ابن خطل کا قتل

حدیث میں ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول الله صلی الله علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو ابن خطل کعبہ کے پردے میں چھپ گیا آپ نے حکم دیا اس کو وہیں قتل کر دیا جائے

ابو داود کہتے ہیں أَبُو بَرْزَةَ رضی الله عنہ  نے  اس کا قتل کیا اور امام مالک کا قول ہے کہ اس روز رسول الله احرام میں نہ تھے اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپ نے کالا عمامہ باندھا ہوا تھا یعنی سر بھی ڈھکا ہوا تھا

کیونکہ احرام کی حالت میں قتل حرام ہے اس لئے فقہاء میں اس پر بحث ہوتی ہے کہ کیا حرم میں بغیر احرام داخل ہو سکتے ہیں یا نہیں ؟  یہ عمل الله کی خاص اجازت سے ہوا

اب بحث یہ ہے کہ ابن خطل کا قتل کیوں ہوا ؟  کتاب الشريعة از الآجُرِّيُّ کے مطابق علی رضی الله عنہ کا قول ہے

كَانَ ابْنُ خَطَلٍ يَكْتُبُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابن خطل رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لئے لکھتا تھا

یعنی ابن خطل  ایک کاتب تھا جو مرتد ہو گیا تھا اور چونکہ مرتد کا قتل ہوتا ہے اس لئے اس کا قتل ہوا یہ گناہ تمام دیگر گناہوں پر سبقت لے گیا ورنہ مکہ میں تو سب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے مخالف تھے

کتاب  شرح السنة از البغوي  کے مطابق

أَنَّ ابْنَ خَطْلٍ كَانَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهٍ مَعَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَمَّرَ الْأَنْصَارِيَّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، وَثَبَ عَلَى الْأَنْصَارِيِّ، فَقَتَلَهُ، وَذَهَبَ بِمَالِهِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ لِخِيَانَتِهِ.

ابن خطل کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک کام سے ایک انصاری صحابی کے ساتھ  بھیجا اور انصاری کو امیر کیا پس جب وہ رستہ میں تھے ابن خطل نے انصاری پر قابو پایا اور ان کو قتل  کر کے مال لے بھاگا پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کا قتل خیانت کرنے پر کیا

اہل مکہ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے نام رکھے ہوئے تھے بعض ان کو

ابن ابی کبشہ کہتے (سیرت ابن اسحاق)  یعنی ابی کبشہ کا بیٹا جو ایک ستارہ پرست تھا اور الشعری کا پجاری تھا یعنی عربوں کے نزدیک لا دین تھا

بعض اہل مکہ ان کو مذمم کہتے (مسند احمد، صحیح بخاری) یعنی وہ جو قابل مذمت ہو

صحیح بخاری کی ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث ہے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم  نے فرمایا

أَلاَ تَعْجَبُونَ كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعْنَهُمْ، يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا، وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ

کیا تم کو حیرت نہیں ہوتی کہ کس طرح الله نے قریش کی گالیوں کو ہٹایا اور ان کی لعنت کو؟ کہ وہ ایک مذمم کو گالی دیتے ہیں اور مذمم پر لعنت کرتے ہیں اور میں محمد ہوں

یعنی الله میری تعریف کر رہا ہے اور قریش الله سے دعائیں کر رہے ہیں کہ مجھ پر لعنت ہو

 آپ صلی الله علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ان تمام گالی دینے والوں کو معاف کر دیا

—-

معالم السنن میں خطابی کہتے ہیں

وحكي، عَن أبي حنيفة أنه قاله لا يقتل الذمي بشتم النبي صلى الله عليه وسلم ما هم عليه من الشرك أعظم.

اور امام ابو حنیفہ سے حکایت کیا گیا ہے کہ ذمی کو گالی دینے پر قتل نہیں کیا جائے گا ان پر پہلے سے شرک  (کا گناہ) ہے جو بڑا ہے

یعنی جب شرک جسے گناہ پر ان کو قتل نہیں کیا جاتا تو نبی صلی الله علیہ وسلم کو گالی دینے  پر کیسے کیا جا سکتا ہے؟

امام ابو حنیفہ کی رائے کی تائید صحیح البخاری کی حدیث سے ہوتی ہے

ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ اللَّهُ: «كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، وَشَتَمَنِي، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ [ص:20] إِيَّايَ فَزَعَمَ أَنِّي لاَ أَقْدِرُ أَنْ أُعِيدَهُ كَمَا كَانَ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ، فَقَوْلُهُ لِي وَلَدٌ، فَسُبْحَانِي أَنْ أَتَّخِذَ صَاحِبَةً أَوْ وَلَدًا»

ابن عباس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالی کہتا ہے

ابن آدم نے میری تکذیب کی اور اس کے لئے یہ مقام نہیں

اور مجھ کو گالی دی …. یہ کہہ کر کہ میرا بیٹا ہے جبکہ میں پاک ہوں کہ کسی کو بیٹے کے  طور پر لوں

آجکل بعض جھلا کہتے پھرتے ہیں کہ شاتم رسول ذمی کی سزا پر بحث نہ کی جائے کیونکہ یہ دین دار اور دنیا پرست لوگوں کا جھگڑا ہے لیکن ان جھلا نے امام ابو حنیفہ رحمہ الله علیہ تک کو دنیا دار طبقہ میں ملا دیا ہے

ناطقہ سربہ گریباں خامہ انگشت

 علی نے گستاخِ رسولؐ کی زبان کاٹ دی

اہل تشیع کی کتب میں ایک دلچسپ واقعہ بیان ہوا ہے

رسول الله کے مدنی دور میں کسی گستاخ شاعر نے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان کے خلاف گستاخانہ اشعار لکھے۔ اصحاب نے اس گستاخ شاعر کو پکڑ کر بوری میں بند کر کے رسول الله کے سامنے پھینک دیا- رسول اللہ نے حکم دیا: اس کی زبان کاٹ دو۔ بعض صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ میں اس کی زبان کاٹنے کی سعادت حاصل کروں؟  رسول الله نے فرمایا: نہیں، تم نہیں اور علی کو حکم دیا اس کی زبان کاٹ دو – علی بوری اٹھا کر شہر سے باہر نکلے اور قنبر کو حکم دیا: جا کر میرا اونٹ لے آئیں اونٹ آیا علی نے اونٹ کے پیروں سے رسی کھول دی اور شاعر کو بھی کھولا اور 2000 درہم اس کے ہاتھ میں دیے اور اس کو اونٹ پہ بیٹھایا، پھر فرمایا: تم بھاگ جاؤ ان کو میں دیکھ لونگا- اب جو لوگ تماشا دیکھنے آئے تھے حیران رہ گئے کہ یا اللہ، علی نے تو رسول اللہ کی نافرمانی کی – رسول الله کے پاس شکایت لے کر پہنچ گئے: یا رسول اللہ آپ نے کہا تھا زبان کاٹ دو، اور علی نے اس گستاخ شاعر کو 2000 درہم دیے اور آزاد کر دیا رسول الله مسکرائے اور فرمایا علی میری بات سمجھ گئے – افسوس ہے کہ تمہاری سمجھ میں نہیں آئی – وہ لوگ پریشان ہوکر یہ کہتے چل دیے کہ: یہی تو کہا تھا کہ زبان کاٹ دو ،علی نے تو کاٹی ہی نہیں – اگلے دن صبح، فجر کی نماز کو جب گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شاعر وضو کررہا ہے- پھر وہ مسجد میں جا کر جیب سے ایک پرچہ نکال کر کہتا ہے: یا رسول الله آپ کی شان میں نعت لکھ کر لایا ہوں اور یوں ہوا کہ علی نے گستاخ رسول کی گستاخ زبان کو کاٹ کر اسے مدحتِ رسالت والی زبان میں تبدیل کردیا۔

مختصرا یہ واقعہ کتاب دعائم الإسلام – القاضي النعمان المغربي – ج 2 – ص 323 میں بیان ہوا ہے
وعنه ( ع ) أنه قال : جاء شاعر إلى النبي ( صلع ) فسأله
وأطرأه ( 1 ) ، فقال بعض أصحابه : قم معه فاقطع لسانه . فخرج ثم رجع
فقال : يا رسول الله ، أقطع لسانه ؟ قال : إنما أمرتك أن تقطع لسانه
بالعطاء .

کتاب  شرح أصول الكافي از  مولي محمد صالح المازندراني میں پر لکھا ہے

ويختلف الناس في فهم القرآن ومثاله ما روي أن شاعرا مدح النبي (صلى الله عليه وآله) فقال لبعض أصحابه: إقطع لسانه. والظاهر منه قطع اللسان بالسكين لكن القرينة العقلية تدل على عدم كونه مرادا ولم يفهمه الصحابي حتى دله غيره بأن المراد الإحسان إلى الشاعر فان الإحسان يقطع اللسان إذ لا يأمر النبي (صلى الله عليه وآله) بقطع اللسان 

اور لوگوں کا فہم قرآن پر اختلاف ہوا اور اس کی مثال ہے جو روایت کیا جاتا ہے کہ ایک شاعر نے (گستاخانہ) مدح النبی صلی الله علیہ و اله کی پس بعض اصحاب نے کہا اس کی زبان کاٹ دو اور ظاہر مفہوم ہے کہ چھری سے زبان کاٹ دو لیکن عقلی قرینہ دلالت کرتا ہے کہ یھاں اس سے یہ مراد نہیں ہے اور صحابی اس کو سمجھ نہ سکے یہاں تک کہ دوسروں نے دلیل دی کہ اس سے مراد شاعر پر احسان ہے کیونکہ احسان زبان کاٹ دیتا ہے کیونکہ نبی صلی الله علیہ و اله نے  قطع زبان کا حکم نہیں کیا تھا

الغرض شاتم رسول اگر غیر مسلم ہے تو اس  کے قتل پر کوئی صحیح حدیث نہیں اور جن لوگوں کا ذکر کیا جاتا ہے مثلا کعب بن اشرف وغیرہ ان کا قتل اس تناظر میں نہیں ہوا بلکہ مدینہ کی سلامتی لے لئے کیا گیا تھا

This entry was posted in history, ilm ul hadith. Bookmark the permalink.

8 Responses to شاتم رسول کی سزا کا اختلاف

  1. jawad says:

    امام ابو حنیفہ سے حکایت کیا گیا ہے کہ ذمی کو گالی دینے پر قتل نہیں کیا جائے گا ان پر پہلے سے شرک (کا گناہ) ہے جو بڑا ہے

    یعنی جب شرک جسے گناہ پر ان کو قتل نہیں کیا جاتا تو نبی صلی الله علیہ وسلم کو گالی دینے پر کیسے کیا جا سکتا ہے؟

    یہ اجتہاد سرارسر غلط ہے – قرآن و احادیث نبویہ سے ثابت ہے کہ کسی مسلمان کو عمداً قتل کی سزا قتل ہے – جماعت یا خلیفہ سے بغاوت کی سزا قتل ہے – شادی شدہ زانی کی سزا (رجم) قتل ہے- فساد فی الارض کی سزا قتل یا سولی ہے -یہ سب گناہ الله کی ذات سے شرک کرنے سے کم تر درجہ کے ہیں- تو پھر گستاخ رسول صل الله (اگرچہ شرک سے کام تر درجہ کا گناہ ہے) لیکن فساد فی الارض کی آیات کے مطابق اول درجے کا گناہ ہے کیوں کہ اس سے زمین میں فساد رونما ہوتا ہے – تو اس پرقتل کی سزا کیوں واجب نہیں ہو سکتی ہے؟؟

    • Islamic-Belief says:

      قرآن کی ان سزاؤں کا تعلق انسانوں کے اپس کے معاملات سے ہے جو آپ نے گنوائے ہیں

      لیکن اس میں کیا اللہ کو گالی دینے کی سزا ھے یعنی شرک کی؟ بلکہ مال (جزیہ) لے کر اہل کتاب کو چھوٹ دے دی گئی ہے کہ الله کو گالی دیں یعنی شرک کریں -ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت مسلمان کریں گے- مسلمان علاقوں میں یہودی و عیسائی اپنی عبادت گاہوں میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ایک تسلیم نہ کرنے کے دلائل بھی دیں گے
      وہ بائبل پڑھیں گے جس میں انبیاء پر رکیک الزامات اپنے خطبوں میں بیان کریں گے جن کی مثالیں یہاں لکھنا شروع کریں تو یہ طویل فہرست بن جائے
      لیکن اسلام میں اس سب کی اجازت ہے- آپ اس کو تسلیم کریں اور ذمیوں کے حقوق سمجھیں اور ان کو جو چھوٹ دی گئی ہے اس کو تسلیم کریں

      کیا صحیح بخاری کی حدیث میں یہ نہیں کہ رسول اللہ کو گالی دینے والے کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کرنے سے منع کیا؟
      فساد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم نہیں ان کو یھود نے گالی دی اس دن مدینہ میں فساد ھو سکتا تھا لیکن یہ دین کا حکم نہیں

      الله کو گالی کی سزا، الله ہی آخرت میں دے گا، اسی طرح رسول الله کو گالی دینے کی سزا بھی آخرت میں ہے دنیا میں اس کی سزا خود رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نہیں دی
      آپ بخاری و مسلم کی ایک صحیح حدیث پیش کر دیں جس میں ذمی جو شاتم ہو اسکی سزا ہو اور صریح گالی کا لکھا ہو

      اب فساد پر غور کریں قرآن کا حکم ہے
      وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ
      اور جو الله کے سوا دوسروں کو پکار رہے ہیں ان ( مشرکین کے الہ ) کو گالی نہ دو ورنہ وہ (مشرکین) دشمنی و لا علمی میں الله کو گالی دیں گے
      سورة الأنعام

      لیکن کیا مسلمان خود پر کنڑول رکھتے ہیں ہندوؤں کے بتوں کا مذاق اڑانا علماء کا شعار ہے
      مثلا اکثر مسلمان محراب و منبر سے پکارتے ہیں کہ گاؤ ماتا کا پیشاب پینے والا ہندو ایسا کرتے ہیں
      کیا یہ قرآن کے حکم کے خلاف نہیں؟

      اصلاح کی ضرورت ہم لوگوں کو ہے- ہم خود جو چاہیں بولیں اور کوئی پلٹ کر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے تو علماء فتوی دیتے ہیں کہ ہجوم کا تشدد اختیار کرنا جائز ہے
      بھلا یہ دین ہے ؟

  2. Ghulamullah. says:

    A.O.A.

  3. waheed says:

    شرعی سزاؤں کی تعریف اور ان کی اقسام

    دنیا کے عام قوانین میں جرائم کی تمام سزاؤں کو تعزیرات کا نام دیا جاتاہے‘ خواہ وہ کسی بھی جرم سے متعلق ہوں‘اس لئے تعزیرات ہند‘ تعزیرات پاکستان کے نام سے جو کتابیں ملک میں پائی جاتی ہیں‘ اس میں ہرقسم کے جرائم اور ہرطرح کی سزاؤں کا ذکر ہے جب کہ شریعت اسلامیہ میں جرائم کی سزاؤں کی تین قسمیں ہیں:
    ۱:․․․حدود ۲:․․․قصاص ۳:․․․تعزیرات۔
    جرائم کی وہ سزا جو قرآن وسنت اور اجماع نے متعین کردی ہو‘ اس کی دو قسمیں ہیں: ۱:․․․حدود،۲:․․․․قصاص

    حدود
    شرعی اصطلاح میں ایسے جرم کی سزا کو کہا جاتاہے جس میں حق اللہ غالب ہو۔

    قصاص
    ایسی سزا جس میں حق العبد غالب ہو۔

    تعزیرات
    کسی بھی جرم کی وہ سزا جو قرآن وسنت نے متعین نہیں فرمائی‘ بلکہ اسے حاکم ِ وقت یا قاضی کی صوابدید پر چھوڑدیا۔
    شریعت اسلام میں حدود کی تعداد چھ ہے: ۱:․․․ ڈاکہ‘ ۲:․․․چوری‘ ۳:․․․زنا‘ ۴:․․․تہمتِ زنا‘ ۵:․․․ شراب خوری‘ ۶:․․․مرتد کی سزا۔

    حدود وقصاص میں فرق
    جرائم کی وہ سزا جو قرآن وسنت نے متعین فرمادی ہے‘ اس کی دو قسمیں ہیں:۱:․․ ایک حد ۲:․․․ قصاص۔ بنیادی طور پر یہ دونوں اگرچہ اس امر میں مشترک ہیں کہ ان میں سزاکی تعیین قرآن کریم اور سنت رسول کریم ا سے کی جاتی ہے‘ لیکن ان دونوں کے حکم میں یہ فرق ہے کہ: حدود ․․․پانچ جرائم کی سزائیں․․․ جس طرح کوئی حاکم وامیر کم یا معاف نہیں کرسکتا اسی طرح توبہ کر لینے سے بھی معاف نہیں ہوتیں‘ البتہ اگر اخلاص کے ساتھ توبہ کرلے تو آخرت میں معافی ہوجاتی ہے۔ ان پانچ میں سے صرف ڈاکہ کی سزا ایسی ہے کہ اگر ڈاکو گرفتاری سے قبل توبہ کرلے اور معاملات سے اس کی توبہ کا اطمینان ہوجائے تو یہ حد ساقط ہوجائے گی‘ البتہ گرفتاری کے بعد کی توبہ کا اعتبار نہیں ہے۔ دوسری حدود توبہ سے بھی دنیا کے حق میں معاف نہیں ہوتیں ‘ خواہ توبہ گرفتاری سے قبل کرے یا بعد میں۔ قصاص کی سزا بھی اگرچہ حدود کی طرح قرآن کریم میں متعین ہے کہ جان کے بدلے میں جان اور زخموں کے بدلہ میں مساوی زخموں کی سزا دی جائے ‘ لیکن حدود کو چونکہ بحیثیت حق اللہ کے نافذ کیا جاتا ہے‘ اس لئے اگر صاحب حق معاف بھی کرنا چاہے تو معاف نہیں ہوگا اور حد ساقط نہیں ہوگی‘ مثلاً جس کا مال چوری کیا ہے وہ معاف بھی کردے تو چوری کی شرعی سزا معاف نہ ہوگی۔رہا قصاص کا معاملہ تو چونکہ اس میں حق العبد غالب ہے‘ اس لئے ولی مقتول کو اختیار ہے کہ وہ قصاص لے لے یا معاف کردے‘ اسی طرح زخموں کے قصاص میں بھی یہی حکم ہے۔

    حدود اور تعزیر کا فرق
    حدود اللہ ان سزاؤں کو کہا جاتا ہے جو متعین سزائیں ہیں اور تعزیر غیر متعینہ سزاؤں کوکہا جاتاہے۔ تمام تعزیری جرائم میں صحیح اور جائز سفارش سنی جاسکتی ہے‘ لیکن حدود میں سفارش کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس کا سننا جائز ہے۔ حدود کی سزائیں چونکہ سخت ہیں اور ان کی شرائط بھی کڑی ہیں‘ اس لئے شبہات سے ساقط ہوجاتی ہیں‘ چنانچہ مسلمہ قانون ہے : ”الحدود تندرئ بالشبہات“ جبکہ تعزیر شبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ تعزیری سزائیں حالات کے تحت ہلکی سے ہلکی بھی کی جاسکتی ہیں اور سخت سے سخت بھی اور یہ اختیار بھی ہے کہ انہیں معاف کردیا جائے اور حدود میں کسی حکومت‘ امیر اورحاکم کو نہ معاف کرنے کا اختیار ہے اور نہ ہی کسی قسم کے رد وبدل اور تغیر کا۔

    تعزیر کے سلسلہ میں ایک وضاحت
    جن جرائم میں شریعت نے سزا متعین نہیں فرمائی‘ ان میں دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ قاضی کے اختیار میں دیدیا جائے کہ وہ ہر زمانہ‘ ہر مکان اور ماحول کے لحاظ سے جیسی اور جتنی سزا انسداد جرم کے لئے ضروری سمجھے وہ جاری کرے۔ دوسرے یہ کہ اسلامی حکومت شرعی قواعد کا لحاظ کرتے ہوئے قاضیوں کے اختیارات پر کوئی پابندی لگادے اور جرائم کی سزاؤں کا کوئی خاص پیمانہ مقرر کردے‘ دونوں صورتیں جائز ہیں ‘ لیکن دوسری صورت آج کل کے حالات کے پیش نظر زیادہ بہتر ہے۔

    ایک شبہ کا ازالہ
    بعض حضرات کا شبہ ہے کہ جب قرآن وسنت میں مقررہ حد کا نفاذ نہ ہو سکے‘ یعنی حد کسی شبہ یا کسی شرط کے فقدان کی وجہ سے ساقط ہوجائے تو مجرم کو کھلی چھٹی مل جائے گی‘ جس سے اس کو جرم پر اور جرأت پیدا ہوگی اور جرائم بڑھتے چلے جائیں گے۔ یہ شبہ عام طور پر بیان کیا جاتاہے‘ لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ حد کے عدم نفاذ سے یہ سمجھنا کہ مجرم کو کھلی چھٹی مل جائے گی‘ صحیح نہیں۔ کیونکہ اس صورت میں حاکم اسے مناسب تعزیری سزا دے سکتا ہے اور تعزیری سزا عموماً بدنی اور جسمانی سزائیں ہیں جو عبرت انگیز ہونے کی وجہ سے انسداد جرائم کا سبب بن سکتی ہیں۔ مثلاً: زنا کے ثبوت پر صرف تین گواہ ہیں اور گواہ بھی عادل اور ثقہ ہیں جن پر جھوٹ کا شبہ نہیں ہوسکتا‘ مگر از روئے قانون شرعاً چوتھا گواہ نہ ہونے کی وجہ سے اس پرحد شرعی جاری نہیں ہوگی‘ لیکن اس صورت میں بھی مجرم کو یوں نہیں چھوڑدیا جائے گا‘ بلکہ حاکم وقت اس کو مناسب سزا دے گا جو کوڑے لگانے کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے جس سے آئندہ یہ شخص جرم پر بے باک نہیں ہوگا۔ اسی طرح چوری کے لئے جو شرائط مقرر ہیں ان میں کمی یا شبہ کی وجہ سے اگر مجرم پر حدِ شرعی یعنی قطع ید کی سزا نافذ نہ ہو سکے تو اسے بھی حسب حال دوسری مناسب سزا دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح اگر قصاص ساقط ہوجائے تو اس سے یہ ہرگز لازم نہیں آتا کہ مجرم کو کھلی چھٹی دے دی جائے گی‘ کیونکہ حاکم تعزیری سزا دے سکتا ہے۔ اس پر یہ شبہ کہ اگر خود مجرم کو اولیاء مقتول معاف کردیں تو قاتل کو جرأت بڑھ جائے گی‘ صحیح نہیں‘ کیونکہ قاتل کی جان لینا ولی مقتول کا حق تھا‘ وہ اس نے معاف کردیا‘ لیکن دوسرے لوگوں کی جانوں کی حفاظت کی جو ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے‘ وہ اس کے تحفظ کے لئے قاتل کو عمر قید یا دوسری سزا دے کر اس خطرہ کا انسداد کر سکتی ہے۔​

    • Islamic-Belief says:

      اس اقتباس کا اس مخصوص عمل کی سزا سے کیا تعلق ہے واضح سوال کریں اور مختصر بھی

  4. jawad says:

    معاملات دو طرح کے ہیں- حقوق الله اور دوسرا حقوق العباد – شرک کا تعلق حقوق الله سے ہے -اس لئے انسانوں کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ اپنے اختیارسے کسی کو سزا دیں- جب کہ الله کے نبی کوگالی دینے کا تعلق حقوق العباد سے ہے- اس لئے اس کی سزا کا مقرر ہونا فطری امر ہے اب چاہے اللہ رب العزت براہ راست ان کو عذاب دے یا پھران پرحدود کا نفاذ کرکے ان کو سزا دے – کیوں کہ نبی انسانوں میں سب سے افضل ہوتا ہے- اور قوموں کی اکثریت کی باوجود نبیوں کی تعلیمات کو فراموش کرنے کے ہمیشہ سے اپنے اپنے انبیاء سے بہرحال جذباتی وابستگی رہی ہے- جیسے یہود و نصاریٰ حضرت ابراہیم علیہ سلام سے اپنی وابستگی کے معاملے میں ہمیشہ سے آپس میں لڑتے رہے ہیں- لہذا جب کسی قوم کا فرد کسی نبی کی تکذیب کرتا ہے تو حقیقت میں وہ اخلاقیات کے سب سے نچلے درجے پرہوتا ہے اس لئے اس کے لئے سزا کا مقرر ہونا انتہائی ضروری امر ہو جاتا ہے- جو انبیاء کی عزت کا پاس نہیں رکھتا وہ کسی عام انسان یا مسلمان کی عزت کی کیا پروا کرے گا- یہی وجہ ہے کہ پچھلی قوموں پرانبیاء کی تکذیب پر براہ راست عذاب الہی نازل ہوے – جب کہ امّت محمّدیہ کے لئے الله رب العزت نے ایسے جرائم پرحدود و تعزیر مقررکیں ہیں- جو فساد فی الارض کے زمرے میں آتی ہیں- ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ انسانی حدود و تعزیر کا نفاذ حاکم وقت کا کام ہے – از خود کسی شاتم رسول کو سزا دینا یا قتل کرنا مزید فتنوں کو جنم دے سکتا ہے- (واللہ اعلم-

    مزید یہ کہ آپ کی اوپر دی گئی تحقیق میں آپ خود یہ بات لکھ رہے ہیں کہ ” شاتم رسول” کی سزا میں قرون اولیٰ سے اختلاف چلا آ رہا ہے- تو اس سے تو دونوں طرح کے احتمالات ثابت ہوتے ہیں – یعنی اسلام میں شاتم رسول کی سزا قتل بھی ہو سکتی ہے یا پھرقتل کی سزا نہیں بھی ہو سکتی ہے- تو پھر اس بات پر ہی اسرار کیوں کہ اسلام میں کبھی بھی شاتم رسول کی سزا کبھی مقرر ہی نہیں ہوئی؟؟ اب چاہے وہ شاتم رسول زمی ہو یا مسلمان ہو- البتہ اس پر آئمہ کا اجتہادی اختلاف ضرور تھا – ورنہ اگر ہم اس بات پر مصر ہیں کہ قرآن و احادیث نبوی میں شاتم رسول کی سزا قتل کا ہمیں کوئی ثبوت نہیں ملتا- تو اس طرح تو قرآن و احادیث نبوی میں معدنین زکات کو قتل یا ان سے تلوار سے جہاد کا حکم بھی ہمیں کہیں نہیں ملتا- لیکن تاریخ گواہ ہے کہ صدیق اکبر رضی الله عنہ نے اپنے دور خلافت میں اپنے اجتہاد سے ان معدنین زکات کے خلاف کاروائی کی جب کہ اس وقت کچھ اصحاب رسول جن میں حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ سر فہرست ہیں – ان کے اس اقدام اٹھانے سے پہلے خلیفہ وقت کی اس اجتہادی و جہادی کاروائی سے یہ کہہ کر اختلاف کیا تھا کہ “اے امیرالمومنین آپ ان کے خلاف تلوار اٹھا رہے ہیں جو اس اللہ کے ایک ہونے اور محمّد صل الله علیہ وآله سلم کے آخری نبی ہونے کی گواہی دیتے ہیں”؟؟ –

    • Islamic-Belief says:

      آپ کی رائے ہے کہ
      لہذا جب کسی قوم کا فرد کسی نبی کی تکذیب کرتا ہے تو حقیقت میں وہ اخلاقیات کے سب سے نچلے درجے پرہوتا ہے اس لئے اس کے لئے سزا کا مقرر ہونا انتہائی ضروری امر ہو جاتا ہے

      اور آپ نے اسکو فساد فی الارض میں شمار کیا

      جواب
      بات اس وقت ذمیوں کی ہو رہی ہے نہ کہ انکار کرنے والے کافروں کی، نہ نبی کو تسلیم کرنے والے مسلمانوں کی

      ابھی تک جن دلائل کی بنیاد پر ذمی کو قتل کیا گیا ہے وہ سب ضعیف روایتین ہیں – جن فقہاء نے قتل کا فتوی دیا ہے ان کے نزدیک یہ روایات صحیح ہیں مثلا ابن حزم کے نزدیک شاتم رسول کا قتل ہو گا اور دلیل میں انہوں نے مصنف عبد الرزاق والی روایت دی ہے
      اس کو پیش کیا جاتا رہا حتی کہ اس کو نویں صدی میں ابن حجر نے کذب کہا
      امام احمد نے توبہ العنبری کی روایت سے دلیل لی جن کو امام احمد کے ہی ہم عصر یحیی ابن معین ضعیف کہتے تھے
      اسحاق بن راہویہ نے کہا اگر ملزم سے غلطی ہو گئی ہو تو قتل نہیں کیا جائے گا

      کعب بن اشرف جو ذمی نہیں تھا اس کے قتل کی مثال بھی دی جاتی ہے جبکہ بات ذمی کے قتل کی ہے کہ جو ذمی ہو اور مسلمان علاقوں میں ہو اس پر اس حد کو نافذ کرنے کی کیا دلیل ہے جبکہ صحیح بخاری کی حدیث اس کے صریح خلاف ہے کعب بن اشرف مدینہ کا باسی نہ تھا اس پر ذمی کی حدود نہیں لگ سکتیں
      اور اگر اس طرح لگتی ہیں تو قریش مکہ کو کیوں چھوڑ دیں جو ابن ابی کبشہ اور مذمم کہتے تھے اور ہجو کی شاعری کرتے تھے
      نبی صلی الله علیہ وسلم نے نہ قریش مکہ کو اس پر کچھ کہا ہے نہ اہل کتاب کو
      نبی صلی الله علیہ وسلم نے خود اس عمل کو فساد فی الارض میں شمار نہ کیا
      آپ کوئی صحیح حدیث پیش کریں کیونکہ جن علماء نے اس قتل کو جائز کہا ہے انہوں نے یہی ضعیف روایات پیش کی ہیں اگر کوئی صحیح روایت ہوتی تو وہ سب سے پہلے اس کو پیش کرتے

      آپ کی رائے ہے
      ورنہ اگر ہم اس بات پر مصر ہیں کہ قرآن و احادیث نبوی میں شاتم رسول کی سزا قتل کا ہمیں کوئی ثبوت نہیں ملتا- تو اس طرح تو قرآن و احادیث نبوی میں معدنین زکات کو قتل یا ان سے تلوار سے جہاد کا حکم بھی ہمیں کہیں نہیں ملتا- لیکن تاریخ گواہ ہے کہ صدیق اکبر رضی الله عنہ نے اپنے دور خلافت میں اپنے اجتہاد سے ان معدنین زکات کے خلاف کاروائی کی جب کہ اس وقت کچھ اصحاب رسول جن میں حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ سر فہرست ہیں – ان کے اس اقدام اٹھانے سے پہلے خلیفہ وقت کی اس اجتہادی و جہادی کاروائی سے یہ کہہ کر اختلاف کیا تھا کہ “اے امیرالمومنین آپ ان کے خلاف تلوار اٹھا رہے ہیں جو اس اللہ کے ایک ہونے اور محمّد صل الله علیہ وآله سلم کے آخری نبی ہونے کی گواہی دیتے ہیں”؟؟ –

      جواب

      عمر رضی الله عنہ کئی موقعوں پر ابو بکر رضی الله عنہ کی دقت معرفت تک نہیں پہچ سکے
      وفات نبی کے دن وفات سے انکار کی
      معدنین زکات کے مسئلہ پر اختلاف کیا
      اور تدوین قرآن پر بھی
      – لیکن بالاخر ان کا شرح الصدر ہوا اور بات سمجھ گئے
      ابو بکر رضی الله عنہ بلا شبہ ان سے زیادہ تفقہ رکھتے تھے مثلا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وفات سے چند دن قبل خطبہ میں کہا کہ الله نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا کہ دنیا پسند کرے یا آخرت اس پر ابو بکر رو دے لیکن عمر رضی الله عنہ اس بات کی تہہ تک نہ جا سکے
      حدیث میں ہے بنی الاسلام علی خمس کہ اسلام پانچ چیزوں پر ہے جن میں زکوت بھی ہے لہذا ابو بکر رضی الله عنہ کا ایسے قبائل سے جہاد سراسر درست اقدام تھا
      زکوات کا انکار اسلام کے نظم کا انکار ہے مثلا کوئی حج نہیں کرتا روزہ نہیں رکھتا یا نماز نہیں پڑھتا تو شاید پتا نہ چلے لیکن زکوات سے باقی مسلمان محروم رہیں اور مال چند ہاتھوں میں ہی رہے دین کی تعلیم نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *