منکرین نزول مسیح کے دلائل کا بطلان

کیا حسن رضی الله عنہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے ؟

جواب

طبقات از ابن سعد کی روایت ہے

: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى قَالا: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ   …..  وَلَقَدْ قُبِضَ فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي عُرِجَ فِيهَا بِرُوحِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ لَيْلَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ.

أَبِي إِسْحَاقَ  مدلس عن سے روایت کرتے ہوئے هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ کا قول نقل کر رہا ہے کہ اس نے حسن رضی الله عنہ کا علی رضی الله عنہ کی شہادت پر خطبہ سنا اس میں انہوں نے کہا

بے شک علی کی جان قبض ہوئی اسی رات جس رات اپنی روح کے ساتھ عیسیٰ  بلند ہوئے  یعنی ٢٧ رمضان کو

اس کی  سند میں هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ہے جس پر محدثین کی جرح ہے

 النسائي: ليس بالقوي. قوی نہیں ہے  ابن خراش: ضعيف،  أبو حاتم: شبيه بالمجهول. مجھول جیسا ہے

سوال  معتزلہ کا نظریہ رفع عیسیٰ پر کیا تھا؟

جواب

قرآن کی سوره ال عمران کی آیت إِذْ قالَ اللَّهُ يا عِيسى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرافِعُكَ إِلَيَّ  کی تفسیر ، الزمخشري جار الله (المتوفى: 538هـ) الكشاف میں کرتے ہیں

إنى عاصمك  من أن يقتلك الكفار ومؤخرك إلى أجل كتبته لك. ومميتك حتف أنفك لا قتيلا بأيديهم وَرافِعُكَ إِلَيَّ إلى سمائي ومقرّ ملائكتي

میں تجھے بچاؤں گا کہ  کفار تجھ کو قتل کریں  اور اسکو تمہارے لئے  موخر کردوں گا جو لکھ دیا ہے اور موت دوں گا تیری موت کے وقت نہ کہ ان کے ہاتھ سے قتل کرواؤں گا اور تم کو اٹھاؤں گا اپنے آسمان کی طرف اور فرشتوں کے ساتھ مقام کروں گا

الزمخشري کا قول مبہم ہے کہ الله نے اگر عیسیٰ کو بچا لیا تو کب کہاں کیسے موت دی اور ان کو آسمان  کی طرف  کب  اٹھایا گیا لہذا وہ مزید غیر مبہم باتیں کرتے ہیں

وقيل: مميتك في وقتك بعد النزول من السماء ورافعك الآن: وقيل: متوفى نفسك بالنوم

اور کہا جاتا ہے موت دوں گا تمہارے (مقدر شدہ) وقت پر آسمان میں انے کے بعد،  اور تم کو رفع کروں گا – اور کہا جاتا ہے تم کو نیند میں موت دوں گا

یعنی معتزلہ کی کوئی ایک رائے نہیں تھی کیونکہ وہ نزول عیسیٰ کی روایات قبول نہیں کرتے تھے ان کے پاس میدان صاف تھا جتنی چاہتے قیاس ارائیاں کر سکتے تھے

عصر حاضر کے مصری معتزلہ جدید مثلا محمد متولي الشعراوي (المتوفى: 1418هـ)  نے عقیدہ اختیار کیا کہ عیسیٰ کی وفات ہو چکی ہے- محمد رشيد بن علي رضا   (المتوفى: 1354هـ) نے تفسیر المنار میں لکھا

 إِنِّي مُمِيتُكَ وَجَاعِلُكَ بَعْدَ الْمَوْتِ فِي مَكَانٍ رَفِيعٍ عِنْدِي

میں تجھے موت دوں گا اور موت کے بعد ایک مکان رفیع میں کروں گا

محمد بن أحمد بن مصطفى بن أحمد المعروف بأبي زهرة (المتوفى: 1394هـ) اپنی تفسیر زهرة التفاسير  میں کہتے ہیں

ففريق من العلماء وهم الأقل عددا، أجروا قوله تعالى في الآية الكريمة التي نتكلم في معناها على ظاهرها وأولوا ما عداها، ففسروا قوله تعالى: (إِنِّي مُتَوَفِيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ) بمعنى مميتك ورافع منزلتك وروحك إليّ، فالله سبحانه وتعالى توفاه كما يتوفى الأنفس كلها، ورفع روحه كما يرفع أرواح النبيين إليه.

علماء کا ایک فریق جو تعداد میں بہت کم ہیں انہوں نے الله تعالی کے قول کہا کہ ہم ظاہری معنوں پر بات کریں گے  پس انہوں نے تفسیر کی کہ قول  (إِنِّي مُتَوَفِيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ) سے مراد موت دوں گا ہے اور رفع منزلت آ  روح کا  الله کی طرف  پس الله نے انکو وفات دی جیسی ہر نفس کو دیتا ہے اور ان کی روح کا رفع ہوا جیسے باقی نبیوں کی روحوں کا ہوا

اسی تفسیر میں  (بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ)  پر لکھا فيه إشارة إلى معنى الكرامة والإعزاز والحماية اس میں اشارہ ہے کہ انکی تکریم ہو گی اور اعزاز و حمایت ہو گی

اسی طرح سر سید،   ابو الکلام آزاد،  عبید اللہ سندھی   نے بھی نزول مسیح کا انکار کیا

ان سب  نزول عیسیٰ کے انکاریوں میں جو  چیز مشترک ہے وہ یہ ہے کہ یہ ان علاقوں کے محققین  ہیں جو غلام بنائے گئے اور ایک ہی دور کے ہیں یا  قریب کے ہیں

سوال کیا حسن بصری بھی عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں؟

جواب

یہ قول تفسیر از أبو بكر محمد بن إبراهيم بن المنذر النيسابوري (المتوفى: 319هـ)  میں ہے سند ہے

حَدَّثَنَا النجار، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْد الرزاق، عَنْ معمر، عَنْ الحسن، فِي قوله: {إِنِّي مُتَوَفِّيكَ} قَالَ   متوفيك فِي الأرض

معمر ، حسن بصری سے روایت کرتے ہیں کہ الله تعالی کا قول کہا میں تجھ کو زمین میں موت دوں گا

کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل از العلائي (المتوفى: 761هـ)  کے مطابق

وقال أحمد بن حنبل لم يسمع من الحسن ولم يره بينهما رجل ويقال إنه عمرو بن عبيد

اور امام احمد کہتے ہیں معمر نے حسن سے نہیں سنا نہ دیکھا اور کہا جاتا ہے کہ انکے اور حسن کے بیچ کوئی آدمی ہے کہا جاتا ہے عمرو بن عبید ہے

افسوس عمرو بن عبید رئیس معتزلہ  سے  مدلس معمربن راشد  روایت لیتے تھے

اسی کتاب میں ایک دوسرا قول بھی ہے

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا محمد بْن يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا محمد بْن يوسف، قَالَ: حَدَّثَنَا محرز، قَالَ: سألت الحسن عَنْ قول الله عَزَّ وَجَلَّ: {إِذْ قَالَ اللهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا} قَالَ ” عِيسَى مرفوع عِنْد الرب تبارك وتعالى، ثُمَّ ينزل قبل يَوْم الْقِيَامَةِ

محرز ، أَبو إِسرائِيل کہتے ہیں میں نے حسن بصری سے آیت إِذْ قَالَ اللهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا پر پوچھا  کہا عیسیٰ کو رب تعالی کی طرف اٹھا لیا گیا پھر وہ اتریں گے قیامت کے دن سے پہلے

محرز پر جرح و تعدیل کی کتب خاموش ہیں

سوال کیا امام مالک عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے؟

جواب  کتاب  المحرر الوجيز في تفسير الكتاب العزيز از ابن عطية الأندلسي المحاربي (المتوفى: 542هـ) میں ایک قول ہے

قال مالك في جامع العتبية: مات عيسى وهو ابن ثلاث وثلاثين سنة

أبو الوليد محمد بن أحمد بن رشد القرطبي (المتوفى: 520هـ)  نے کہا

قوله ومات ابن ثلاث وثلاثين سنة، معناه خرج من الدنيا ورفع إلى الله عز وجل وهو في هذا السن، …. وسينزل في آخر الزمان على ما تواترت به الآثار

اور مالک کا قول کہ وہ مرے تو سن ٣٣ کے تھے اسکا معنی ہے دنیا سے نکلے اور ان کا رفع ہوا الله کی طرف تو اس عمر کے تھے … اور وہ واپس نازل ہوں گے آخری زمانے میں جس پر تواتر سے آثار ہیں

  ابْنُ رُشْدٍ نے یہ بھی کہا

 ويحتمل أن يكون معنى قوله: {بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ} [النساء: 158] أي رفع روحه إليه بعد أن مات ويحييه في آخر الزمان فينزله إلى الأرض على ما جاءت به الآثار، فيكون قول مالك على هذا ومات وهو ابن ثلاث وثلاثين سنة على الحقيقة لا على المجاز، وبالله التوفيق.

اور ایک احتمال یہ ہے کہ قول {بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ} [النساء: 158] کا مطلب ہے کہ انکی روح کے درجات بلند ہوئے انکی موت کے بعد اور وہ زندہ ہیں آخری زمانے تک پس پھر نازل ہوں گے زمین پر جس پر آثار آ چکے ہیں یعنی احادیث تو ہو سکتا ہے امام مالک کا یہ قول کہ وہ ٣٣ سال کے ہو کر مر گئے سے مراد حقیقت ہو نہ کہ مجاز

یعنی چونکہ نزول عیسیٰ قیامت کی نشانی ہے معجزہ ہے تو ممکن ہے عیسیٰ کی وفات کے باوجود انکو واپس بھیجا جائے جیسا کہ احادیث میں ہے

منکرین نزول مسیح صرف ادھی پونی بات پیش کر کے اپنا مدعآ ثابت کرتے ہیں

دوم یہ کتاب  جامع العتبية مفقود ہے اور اغلبا اس میں امام مالک کے اس قول کی سند بھی نہیں ہو گی کیونکہ کسی نے بھی اسکو سند سے پیش نہیں کیا ہے لہذا امام مالک سے قول ثابت نہیں ہے

سوال  ان اقوال کی اسناد کیسی ہیں

حضرت عیسیٰ بن مریم ایک سو بیس سال زندہ رہے ۔ (کنزالعمال جلد ۶ صفحہ ۱۲۰ از علاؤالدین علی المتقی ۔ دائرہ المعارف النظامیہ ۔ حیدرآباد ۱۳۱۲ھ)

اگر حضرت موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے بغیرچارہ نہ ہوتا ۔ (الیواقیت والجواہر صفحہ ۲۲ از علامہ عبدالوہاب شعرانی مطبع ازہریہ مصر ، مطبع سوم ، ۱۳۲۱ھ)

ایک اور روایت میں ہے ۔ اگرحضرت عیسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔(شرح فقہ اکبر مصری صفحہ ۱۱۲ از حضرت امام علی القاری مطبوعہ ۱۳۷۵ھ)

آنحضرت ﷺ نے نجران کے عیسائیوں کو توحید کا پیغام دیتے ہوئے فرمایا ۔ ’ کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب زندہ ہے کبھی نہیں مرے گامگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں ۔ (اسباب النزول صفحہ ۵۳ از حضرت ابوالحسن الواحدی طبع اولیٰ ۱۹۵۹ء مطبع مصطفی البابی مصر)

جواب

کتاب  الأجوبة المرضية فيما سئل السخاوي عنه من الأحاديث النبوية از السخاوي (المتوفى: 902 هـ)  میں روایت

وإن عيسى عاش عشرين ومائة سنة اور بے شک عیسیٰ ١٢٠ سال زندہ رہے پر لکھتے ہیں

وهو غريب جدًا، ولذا قال ابن عساكر: الصحيح أن عيسى لم يبلغ هذا العمر، وإنما أراد مدة مقامه في أمته،

اور یہ بہت غریب ہے اور اس لئے ابن عساکر نے کہا صحیح ہے کہ عیسیٰ اس عمر تک نہیں پہنچے اور ان کا ارادہ انکی امت کے ساتھ مدت اقامت کا ہے

کتاب  المطَالبُ العَاليَةُ بِزَوَائِدِ المسَانيد الثّمَانِيَةِ از ابن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ) کے مطابق

أخرجه يعقوب بن سفيان كما في البداية والنهاية 2/ 95، وابن أبي عاصم في الآحاد والمثاني 5/ (2970) عن عمر بن الخطاب السجستاني، والطحاوي في شرح المشكل 1/ (146)، 5/ (1937) عن يوسف بن يزيد، والطبرانى في الكبير 22/ 416 عن يحيى بن أيوب العلاف  أربعتهم عن سعيد ابن أبي مريم، عن نافع بن يزيد، حدَّثني عمارة بن غزية عن محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان، عن أمّه فاطمة بنت الحسن حدَّثته عن عائشة.

وهذا إسناد لين محمد بن عبد الله بن عمرو، وهو الديباج لين الحديث كما في ترجمته في تهذيب الكمال 25/ 516.

اور اس کی اسناد کمزور ہیں محمد بن عبد الله بن عمرو الديباج لين الحديث ہے

وأخرجه البزّار كما في الكشف 2/ 846 عن سعيد ابن أبي مريم، والدولابي في الذرية الظاهرة رقم 186 عن عثمان بن سعيد.

كلاهما عن ابن لهيعة عن جعفر بن ربيعة، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عنها.

وعبد الله هذا لم أعرفه وعند الدولابي عبد الملك وعبد الله بن لهيعة ضعيف

اور اس میں عبد الله کا مجھے پتا نہیں ہے اور عبد الله بن لهيعة ضعيف ہے.

ثانيًا عن يزيد بن زياد، ولفظه: لم يكن نبي إلَّا عاش نصف عمر أخيه الذي قبله، عاش عيسى ابن مريم مائة وخمسة وعشرين سنة، وهذه اثنتان وستون سنة.

أخرجه ابن سعد 2/ 194، أخبرنا هاشم بن القاسم، أخبرنا أبو معشر عن يزيد بن زياد به، وهذا على إرساله ضعيف الإِسناد. نجيح السعدي أبو معشر ضعيف واختلط.

دوسری یزید بن زیاد سے ہے اور اس میں لفظ  …. عیسیٰ ١٢٥ سال زندہ رہے ہے اور یہ ہے ٦٢ سال

ابو معشر کا ارسال ہے جو ضعیف اور مختلط تھا

 دوسری روایت

اگر حضرت موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے بغیرچارہ نہ ہوتا ۔ (الیواقیت والجواہر صفحہ ۲۲ از علامہ عبدالوہاب شعرانی مطبع ازہریہ مصر ، مطبع سوم ، ۱۳۲۱ھ)

ایک اور روایت میں ہے ۔ اگرحضرت عیسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔(شرح فقہ اکبر مصری صفحہ ۱۱۲ از حضرت امام علی القاری مطبوعہ ۱۳۷۵ھ)

لو كان موسى وعيسى حيَّينِ؛ لما وسعهما إلا اتباعي

جواب

تفسیر ابن کثیر میں ہے

وفي بعض الأحاديث: «لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتِّبَاعِي» فَالرَّسُولُ مُحَمَّدٌ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ دَائِمًا إِلَى يَوْمِ الدِّينِ

اسی طرح تفسیر البحر المحيط في التفسير از أبو حيان   الأندلسي (المتوفى: 745هـ) میں یہ لکھا ہے

روایت کسی بھی حدیث کی کتاب میں عیسیٰ  و موسی کے الفاظ  سے نہیں ہے ابن کثیر نے اغلبا ابو حیان کی تفسیر سے ان الفاظ کو سرقه کیا لیکن کہتے ہیں نقل کے لئے بھی عقل درکار ہے یہ مثال آپ کے لئے ہے

تیسری روایت

نبی صلی الله علیہ وسلم نے  نے نجران کے عیسائیوں کو توحید کا پیغام دیتے ہوئے فرمایا ۔ ’ کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب زندہ ہے کبھی نہیں مرے گامگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں ۔ (اسباب النزول صفحہ ۵۳ از حضرت ابوالحسن الواحدی طبع اولیٰ ۱۹۵۹ء مطبع مصطفی البابی مصر)

جواب کتاب  أسباب نزول القرآن از  الواحدي، النيسابوري، الشافعي (المتوفى: 468هـ) میں الفاظ ہیں کہ مفسرین کہتے ہیں اور پھر الواحدی بلا سند ایک اقتباس لکھتے ہیں جس میں ہے رسول الله نے نصاری سے کہا

قَالَ: “أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَبَّنَا حَيٌّ لَا يَمُوتُ، وأن عيسى أتى عَلَيْهِ الْفَنَاءُ؟ ” قَالُوا: بَلَى

کیا تم کو پتا نہیں کہ ہمارا رب زندہ ہے اسکو موت نہیں ہے اور عیسیٰ (جن کو تم رب سمجھ رہے ہو) پر فنا آئی ؟ انہوں نے کہا ایسا ہے

ان الفاظ کی سند نہیں ہے لیکن واضح ہے کہ نصاری کے بقول عیسیٰ نے صلیب پر جان دی اور ان پر موت طاری ہوئی اس کو دلیل بناتے ہوئے ان کے غلط عقائد  پر جرح ہو رہی ہے

This entry was posted in Aqaid. Bookmark the permalink.

28 Responses to منکرین نزول مسیح کے دلائل کا بطلان

  1. فیضان اکبر says:

    السلام علیکم۔
    میرے پاس قرآن مجید سے تحقیق ہے جس میں واضح سوالات کا جواب دیا گیا اور یہ دلائل دی گئی کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں انہوں نے نہیں آنا ایک آیت کی دوسری آیت سے تفسیر لی گئی ہے کیا یہ عقیدہ درست ہے ۔؟

    • Islamic-Belief says:

      اپ نے تحقیق کیا ہے یہ بیان نہیں کیا

      عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی ایک معجزہ ہے ان کا پیدا ہونا ان کا رفع ہونا اور ان کا آنا

      بعض لوگوں نے سوره المائدہ سے یہ دلیل لی ہے کہ عیسیٰ روز محشر کہیں گے کہ مجھ کو علم نہیں انہوں نے جو عقیدہ اختیار کیا
      جب اپ نے مجھے توفی کیا تو اپ ہی ان پر رقیب تھے

      جو نزول کو نہیں مانتے ان کے نزدیک توفی یہاں موت ہے اور جو نزول کو مانتے ہیں ان کے نزدیک یہ نیند ہے یا قبضہ میں لینا ہے

      • فیضان اکبر says:

        مندرجہ ذیل میں تحقیق ہے۔ سب سے پہلے قیامت کی نشانی کے بارے میں۔

        عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہیں۔وہ نشانی نہیں جو لوگوں نے بنا لی ہے یعنی قیامت کے قریب عیسیٰ علیہ السلام کا نزول نہیں۔
        بلکہ یہ ہے نشانی اللہ نے آلِ عمران آیت 49 میں واضح بیان کیا اور بتایا کہ نشانی کیا ہے۔
        سورة آلِ عمران3آیت نمبر 49۔
        ”اور وہ بنی اسرائیل کی طرف سے رسول ہوگا، کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں، میں تمہارے لئے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں۔پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے میں مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو اچھا کر لیتا اور مردے کو جگا دیتا ہوں۔اور جو کچھ تم کھاﺅ اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو میں تمہیں بتا دیتا ہوں،اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے۔ اگر تم ایمان لانے والے ہو۔
        سورة بنی اسرائیل17آیت نمبر 49۔
        انہوں نے کہا کہ جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیاہم از سر نو پیدا کرکے پھر دوبارہ اٹھا کر کھڑے کر دئیے جائیں گے۔
        ٭نوٹ۔جب کبھی کسی پیغمبر نے قیامت کے دن کا ذکر کیا تقریبا تمام پیغمبروں کو جھٹلا دیا گیا ایسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کو بھی اور کہا کہ یہ شخص کہتا ہے کہ ہم قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جائیں گے جب ہم اس مٹی میں ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔تم قیامت میں شک نہ کرو عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہے دیکھو عیسیٰ ؑ کو وہ ایسی مٹی کے زروں کو اکٹھا کرتا ہے اور میرے حکم سے سچ مچ کا پرندہ بنا تا ہے۔اللہ کا فرمان ہے تم لوگوں نے قیامت کے دن ایسی طرح میرے پاس اسی مٹی سے دوبارہ زندہ ہو کر واپس آنا ہےاور تم لوگ سمجھتے ہو میں قیامت کے تمہاری ہڈیوں کے زروں کو اکھٹا کر کے تمہیں پیدا نہیں کر سکتا۔بلکہ یہ کام مجھے بہت آسان ہے۔دیکھو عیسیٰ ؑ کو نشانے قدرت بنا دیا ہے قیامت کا۔

        سورة القیامہ75آیت نمبر 3۔
        کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں۔
        سورة النازعات 79آیت نمبر 11تا10
        کہتے ہیں کہ کیا پہلی کی سی حالت کی طرف لوٹائے جائیں گے۔کیا اس وقت جب کہ ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے۔
        سورة الانبیاء21آیت نمبر 91۔
        اور وہ پاک دامن بی بی جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور خود انہیں اور ان کے لڑکے کو تمام جہان کے لئے نشانی بنا دیا۔
        سورة بنی اسرائیل 17آیت نمبر 98۔
        یہ سب ہماری آیتوں سے کفر کرنے اور اس کے کہنے کا بدلہ ہے کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزے ریزے ہو جائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں اٹھ کھڑے کئے جائیں گے؟۔
        سورۃ مریم 19۔
        قَالَ كَذٰلِكِ ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ ۚ وَلِنَجْعَلَهٗٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا 2١؁
        فرشتے نے کہا ’’ ایسا ہی ہوگا ، تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اُس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت۔ اور یہ کام ہو کر رہنا ہے۔‘‘ (21)

        110۔
        ”جب کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم ! میرا انعام یاد کرو جو تم پر اور تمہاری والدہ پر ہوا جب میں نے تم کو روح القدس سے تائید دی۔تم لوگوں سے کلام کرتے تھے گود میں بھی اور بڑی عمر میں بھی جب کہ میں نے تم کو کتاب اور حکمت کی باتیں اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی، اور جب کہ تم میرے حکم سے گارے سے ایک شکل بناتے تھے جیسے پرندے کی شکل ہوتی ہے پھر تم اس کے اندر پھونک مار دیتے تھے جس سے وہ پرندہ بن جاتا تھا میرے حکم سے اور تم اچھا کر ددیتے تھے مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو میرے حکم سے جب کہ تم مردوں کو نکال کر کھڑا کر لیتے تھے میرے حکم سے اور جب کہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا جب تم ان کے پاس دلیلیں لے کر آئے تھے، پھران میں جو کافر تھے انہوں نے کہا کہ بجز کھلے جادو کے یہ اور کچھ بھی نہیں۔
        سورة آلِ عمران 3آیت نمبر 50۔
        اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے اور میں اس لئے آیا ہوں کہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کروں جو تم پر حرام کر دی گئیں ،اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں اس لئے تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو۔
        سورة المومنون 23آیت نمبر50۔
        ہم نے ابن مریم اور اس کی والدہ کو ایک نشانی بنایا، اور ان دونوں کو بلند صاف قرار والی اور جاری پانی والی جگہ میں پناہ دی۔

        ———
        اب اس تحقیق میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ یہ ہے اصل نشانی کا مفہوم کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی لائے ہیں دیکھو یہ کیا کرتے ہیں تم قیامت کے بارے میں شک مت کرو ۔جو تم کہتے ہو کہ قیامت کے دن دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا عیسیٰ علیہ السلام کی طرف دیکھووہ اسی مٹی کو اکٹھا کر کے واقع زندہ جانور اللہ کے حکم سے بناتے ہیں تم بھی قیامت کے دن اسی طرح زندہ کئے جائو گے !

        الزخرف 43آیت نمبر61تا59
        عیسیٰ ؑ بھی صرف بندہ ہی ہے جس پر ہم نے احسان کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لئے نشان قدرت بنایا،اگر ہم چاہتے تو تمہارے عوض فرشتے کر دیتے جو زمین میں جانشینی کرتے۔اور یقینا عیسیٰ ؑ قیامت کی نشانی ہے پس تم قیامت کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو یہ سیدھی راہ ہے۔

        19۔
        قَالَ كَذٰلِكِ ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ ۚ وَلِنَجْعَلَهٗٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا 2١؁
        فرشتے نے کہا ’’ ایسا ہی ہوگا ، تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اُس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت۔ اور یہ کام ہو کر رہنا ہے۔‘‘ (21)
        یعنی دیکھا جائے تو واقع ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ قرآن مجید خود ہی نشانی کی تفسیر بیان فرما رہا ہے کہ قیامت کی نشانی سے کیا مراد ہے ۔

        • Islamic-Belief says:

          بائبل کے مطابق اور یہودی مورخین کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں یہود کے یہ بڑے فرقے تھے

          ایک وہ تھے جو صحرا میں شہر سے باہر رہتے اور یحیی علیہ السلام کو مسیح قرار دیتے تھے
          دوم صدوق فرقہ : مسجد الاقصی کا امام اسی فرقہ کا رکھا جاتا تھا جو یہود میں بادشاہ اور حاکم کا معاہدہ تھا- جیسا آج کل ال سعود کا ال عبد الوہاب سے معاہدہ ہے کہ امام الحرم ال النجدی کا ہو گا
          Sadducee

          سوم فاریسی فرقہ : یہ مسجد کے منتظم تھے لیکن ہیڈ امام نہیں بن سکتے تھے یہ حدیث موسی کو مانتے تھے کہ یہ توریت کے ساتھ ملی اور حیات بعد الموت کے اقراری تھے
          Pharisee

          چہارم : اسین فرقہ – ان کا قتل رومیوں نے کیا یہ جہادی سوچ رکھتا تھا اور بحر مرادر کے طومار اسی فرقہ کے ہیں اور حیات بعد الموت کے اقراری تھے
          Essene

          ان تمام فرقوں نے عیسیٰ کا انکار کیا سوائے اس فرقہ کے جو یحیی کو مسیح سمجھ رہا تھا وہ عیسیٰ پر ایمان لے آیا
          ——–

          اس میں صرف صدوق فرقہ منکرین حدیث موسی تھا اور کہتا تھا کہ صرف توریت کو لیا جائے گا اس میں ان کو حیات بعد الموت کا ذکر نہیں ملتا تھا جبکہ فاریسی اور اسین فرقہ روایات کی وجہ سے حیات بعد الموت کا قائل تھا

          صدوقی فرقہ آ کر عیسیٰ سے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر سوال کرتا رہتا تھا لیکن باقی کو اس پر اشکال نہیں تھا

          آج بھی یہود مرنے کے بعد زندہ ہونے کے قائل ہیں جو نہیں مانتے تھے وہ معدوم ہو چکے
          اپ کو یاد ہونا چاہیے کہ قرآن میں یہود کا قول ہے کہ ہم جو عذاب جہنم چند دن ہو گا
          تو یہود تمام حیات بعد الموت کے انکاری نہیں ہیں

          مشرکین مکہ کہتے تھے کہ ایک نصرانی معبود (یعنی یسوع) کا ذکر محمد کیوں کرتا ہے کیا ہماری دیوی لات اور عزی اور منات کا ذکر کیوں نہیں ہے اس پر کہا گیا کہ عیسیٰ تو الله کا بندہ ہے انسان ہے

          الزخرف 43آیت نمبر61تا59
          عیسیٰ ؑ بھی صرف بندہ ہی ہے جس پر ہم نے احسان کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لئے نشان قدرت بنایا،اگر ہم چاہتے تو تمہارے عوض فرشتے کر دیتے جو زمین میں جانشینی کرتے۔اور یقینا عیسیٰ ؑ قیامت کی نشانی ہے پس تم قیامت کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو یہ سیدھی راہ ہے۔

          عیسیٰ قیامت کی نشانی ہیں اور حیات بعد الموت دو الگ مباحث ہیں قرآن نے اس کو ملا کر بیان نہیں کیا لہذا خلط مبحث نہ کریں

          ——–

          قرآن میں فرقہ کا نام نہیں لیا جاتا بلکہ سب پر اس بات کو لگایا جاتا ہے – قرآن میں ہے یہود نے کہ عزیر الله کا بیٹا ہے

          یہ قول تمام یہود کا نہیں تھا عرب کے بعض یہود کا تھا – یہ عقیدہ تلمود میں بھی نہیں ہے جو دور نبوی میں لکھی گئی ہے – آج بھی یہود میں کوئی بھی عزیر کو بیٹا قرار نہیں دیتا

          مثلا ہم کہیں مسلمانوں نے کہا کہ محمد الله کا نور ہے

          تو اس پر اہل حدیث یا وہابی یا توحیدی کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو تمام مسلمانوں کا قول نہیں صرف کچھ فرقوں کا ہے

          اب ہو سکتا ہے کہ بریلوی فرقہ اور شیعہ وقت کے ساتھ معدوم ہو جائیں تو کیا کوئی رہے گا جو محمد کو نور رب قرار دیتا ہو – نہیں

          لہذا اسی طرح حیات بعد الموت کا جھگڑا تھا ایک فرقہ قائل نہیں تھا ان کے لئے عیسیٰ نے معجزہ دکھایا لیکن سب اس پر متفق نہیں تھے

          =========

          راقم کہتا ہے اور اس پر بہت تفصیل سے تحقیق تفسیر میں کی ہے
          ⇑ Two Illuminated Clouds of Quran
          http://www.islamic-belief.net/literature/english-booklets/

          راقم کا موقف ہے کہ زکریا علیہ السلام منصب میں مسجد الاقصی کے ایک منتظم تھے وہ کوہن تھے اور لاوی تھے یعنی ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے اسی طرح عمران والد مریم علیہ السلام بھی نبی ہارون میں سے تھے اور لاوی تھے لیکن اغلبا مریم کے والد انتقال کر گئے اور ان کے والدہ کی نذر کے تحت مریم علیہ السلام کو مسجد الاقصی میں رکھا گیا

          یاد رہے کہ کوہن یا لاوی جو منتظم مسجد تھے ان کا بنی ہارون میں ہونا لازمی تھا

          اب اس کی دوسری دلیل اقلام والا واقعہ ہے – یہود کے مطابق اقلام ہیکل یا مسجد میں ڈیوٹی دیتے وقت پھینکے جاتے تھے – تلمود میں ہے کہ تمام منصب دار یا منتظمین ایک دائرۂ کی صورت گھڑے ہوتے اور اقلام پھینکتے تھے جو قرعہ اندازی کی شکل تھا- قرآن میں اس کا اجمالا ذکر ہے

          سوم نذر پوری کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا خاص کر لاوی کی بیوی یعنی زوجہ عمران کی منت پوری کرنے مریم کو مسجد الاقصی میں رکھا گیا اور وہاں ان کو محراب میں جگہ دی گئی جس میں ان کو باقی سے الگ کرنے ایک پردہ تھا

          تیسری دلیل- یہود کے مطابق مسجد الاقصی کے صحن میں ایک الاو جلتا تھا جس کو ” ازراہ” کہا جاتا تھا جس میں ہر وقت اگ جلتی رہتی تھی اور سوختنی قربانی اس میں ڈالی جاتی تھی- اس کے مشرقی سمت میں ایک بہت بڑا کمرہ تھا جس میں لاوی مقیم رہتے تھے جس کی چھت آدھے گنبد یا محراب جیسی تھی
          اس کا ذکر بھی قرآن میں ہے کہ مریم محراب میں مقیم تھیں اور وہاں محراب میں ہی زکریا نماز بھی پڑھتے تھے

          چوتھی دلیل: بائبل کے مطابق زکریا علیہ السلام پر الوحی اس وقت آئی جب وہ مسجد الاقصی میں دیا جلا رہے تھے
          اور قرآن میں ہے محراب میں نماز پڑھ رہے تھے باہر ا کر مجمع کو کہا تین دن الله کا ذکر کرو

          بحر حال ان معلومات کو یھاں بیان کیا گیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام الله کی نشانی ہیں یہ یہود خوب اچھی طرح جان چکے تھے کیونکہ یہ سب واقعات کسی گھر یا نا معلوم مقام پر نہیں ہوئے بلکہ عین مسجد الاقصی میں یہ سب ہوا

  2. shahzad khan says:

    اسلام و علیکم بھائی ۔۔اک سوال کیا گیا ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام پر تمام اہل کتاب ایمان لے آئیں گے عیسیٰ علیہ السلام پر،
    تو سوال یہ ہے کہ سورہ مائدہ آیت نمبر 64 میں اللہ فرماتا ہے کہ ان کے دلوں میں قیامت تک بغض رہے گا تو پھر اس آیت کی آپ کیا تعویل کرینگے
    برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں جذاک اللہ خیرا

    • Islamic-Belief says:

      قرآن میں جب قیامت کا ذکر ہوتا ہے تو بعض اوقات اس سے عین محشر نہیں ہوتا ہے بلکہ قرب قیامت کو بھی وعدہ یا دن کہا گیا ہے

      وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآَيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ
      پس جب ان پر ہمارا قول واقع ہو گا ہم ان کے لئے زمین سے جانور نکالیں گے جو کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پرایمان نہیں لاتے

      الله کا قول واقع ہو گا یعنی قیامت ہونے والی ہو گی
      ——-

      وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ
      أور إس روز هم ان یاجوج ماجوج کو چھوڑ دیں گے کہ موجوں کی طرح ایک دوسرے پر ہوں
      ——–

      اسی طرح نزول مسیح بھی قیامت کی نشانی ہے اور اسی مفہوم میں اس بات کو سمجھا جا سکتا ہے کہ بغض انسانوں کا رہے گا
      يهود کو ایک دوسرے سے بغض رہے گا
      وَأَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۚ
      اور ہم نے یہود کے درمیان دشمنی و بغض روز قیامت تک کے لئے ڈال دی

      یعنی ان کے فرقے اپس میں لڑیں گے – یہاں تک کہ محشر میں بھی تکرار کریں گے

      فرقہ بنتے اور ختم ہوتے رہتے ہیں ان کو چلانے والے لوگ مر جاتے ہیں

  3. shahzad khan says:

    اسلام و علیکم بھائی آپ کی کتاب روایات المسیح کا مطالعہ کیا اس میں صحیح مسلم کی حدیث الجساسہ کے بارے میں آپ نے آپ نے بتایا کہ وہ درست نہیں اور بخاری کی حدیث جس میں دجال کے بارے میں مار کر زندہ کرنے کے بارے میں لکھا ہے جس میں عبداللہ بن عبدللہ المدنی کا تفرد ہے ۔۔۔۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا صحیح بخاری نے میں بھی کچھ ضعیف روایات موجود ہیں یا پھر بعد میں اضافہ کیا گیا ۔۔۔
    برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں

    • Islamic-Belief says:

      صحیح بخاری میں بھی ضعیف روایات ہیں جو معلول ہیں یا راوی ضعیف ہیں امام بخاری کے ہم عصر محدثین کے ہی نزدیک

      اس کے لئے
      QA
      میں علم حدیث کے سیکشن میں کافی مثالیں لکھی ہیں

      یہ روایات امام بخاری نے ہی لکھی ہیں

      یاد رہے امام بخاری یا امام مسلم کا کسی روایت کو صحیح سمجھنا ان کا اجتہاد ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے

      ———-
      حدیث جساسہ امام مسلم نے صحیح میں لکھی ہے – امام بخاری نے اس کو صحیح میں شامل نہیں کیا ہے
      دجال مار ایک زندہ کرے گا روایت کے مطابق صرف ایک بار ہو گا
      کہتے ہیں جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا
      اگر ایک بار ہو گا تو فائدہ کس کو ہو گا
      دجال کے نرغے میں اس کے اپنے لوگوں کے بیچ ایک مرد مسلمان کے زندہ ہونے سے تو اہل دجال اس پر بہت خوش ہوں گے
      روایت مبہم ہے – لگتا ہے کسی اور کا قول ہے حدیث نبوی نہیں ہو سکتی

  4. محمد فیضان اکبر says:

    السلام علیکم!
    سورة النساء4آیت نمبر159۔
    (تفسیر ترجمان القرآن جلد اول صفہ نمبر 442 )(امام الہند مولانا ابوالکلام احمد آزاد صاحب)
    “اہل کتاب میں سے(یعنی یہودیوں میں سے جنہوں نے مسیح سے انکار کیا)کوئی نہ ہوگا جو اپنی موت سے پہلے (حقیقت حال پر مطلع نہ ہو جائے اور)اس پر (یعنی مسیح کی صداقت پر) یقین نہ لے آئے ۔ ایسا ہونا ضروری ہے(کیونکہ مرنے کے وقت غفلت و شرارت کے تمام پردے ہٹ جاتے ہیں، اور حقیقت نمودار ہوتی ہے) اور قیامت کے دن وہ (اللہ کے حضور یعنی عیسیٰ ؑ) ان پر شہادت دینے والا ہوگا۔”

    کیا یہ درست ترجمہ ہے؟

    • Islamic-Belief says:

      وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ﴿١٥٩﴾
      أور أهل كتاب میں سے ہوں گے جو ضرور اپنی موت سے قبل ان پر ایمان لائیں گے اور روز محشر ان پر گواہ ہوں گے

      ابو کلام کے ترجمہ میں سے بریکٹ ہٹا کر دیکھیں
      اہل کتاب میں سے کوئی نہ ہوگا جو اپنی موت سے پہلے اس پر یقین نہ لے آئے ۔ ایسا ہونا ضروری ہے اور قیامت کے دن وہ ان پر شہادت دینے والا ہوگا۔

      ترجمہ ایک حد تک صحیح ہے (سوائے ان الفاظ کے “ایسا ہونا ضروری ہے “) کیونکہ بریکٹ لگا کر انہوں نے ظاہر کر دیا ہے کہ یہ متن میں نہیں ان کے اپنے الفاظ ہیں

      اصل میں موتہ میں الھا کی ضمیر کس کی طرف ہے؟ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لی جائے تو ترجمہ بدل جائے گا
      کہ

      أور أهل كتاب میں سے ہوں گے جو ضرور ان کی موت سے قبل ان پر ایمان لائیں گے اور روز محشر ان پر گواہ ہوں گے

      • محمد فیضان اکبر says:

        السلام علیکم!
        یعنی ترجمہ سے واضح ہے کہ۔
        اہل کتاب جو بھی ہوں گے سب کے سب اپنی موت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائئں گے کہ وہ واقع اللہ کا بیٹا نہیں بلکہ ایک پیغمبر تھا اور اور اللہ کے ہی حکم سے ہمیں تبلیغ کرنے آیا تھا ۔۔۔۔
        کیا میں درست سمجھا ہوں؟

        • Islamic-Belief says:

          جی اس کا یہی مطلب ہے اور یہ بھی ہے

          اہل کتاب جو بھی ہوں گے سب کے سب عیسیٰ کی موت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائئں گے

          • محمد فیضان اکبر says:

            السلام علیکم۔
            اہل کتاب جو بھی ہوں گے سب کے سب عیسیٰ کی موت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائیں گے۔۔
            یہ ترجمہ غلط ہے۔
            اصل میں فرمایا گیا ہے کہ اہل کتاب میں جو بھی مرے گا یعنی جو 1400ساک پہلے مرا اور جو آج مرے گا اور جو قیامت کے قریب مرے گا وہ اہل کتاب مرنے سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر ضرور ایمان لائے گا کہ وہ اللہ کے نیک بندے اور رسول تھے اور اپنے کفر و شرک کا صاف قبول کریں گے کہ ہم کافر تھے۔

          • Islamic-Belief says:

            اپ کی تشریح بھی ایک تفسیری قول ہے

            آیت میں ہے

            وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ﴿١٥٩﴾
            أور أهل كتاب میں سے ہوں گے جو ضرور اپنی موت سے قبل ان پر ایمان لائیں گے اور روز محشر ان پر گواہ ہوں گے

            اس میں ہے اہل کتاب میں سے ہوں گے جو سب کے سب عیسیٰ پر ایمان لائیں گے اس میں یہ نہیں کہ جو بھی اہل کتاب میں مر رہا ہے وہ عیسیٰ پر ایمان لا رہا ہے

            تفسیر ابی حاتم کے مطابق یہ حسن بصری کا قول ہے کہ اس سے مراد نجاشی اور اس کے اصحاب ہیں
            حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ فِي قَوْلِهِ: وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ قَالَ: النَّجَاشِيُّ وَأَصْحَابُهُ.
            لیکن یہ اپ کے قول کے خلاف ہے کیونکہ اپ من کو عام کر رہے ہیں اور اس قول میں اس کو خاص کر دیا گیا ہے

            تفسیر طبری میں حسن بصری سے اس کے مخالف قول ہے
            حدثني المثنى قال، حدثنا الحجاج بن المنهال، قال، حدثنا حماد بن سلمة، عن حميد، عن الحسن قال:”قبل موته”، قال: قبل أن يموت عيسى ابن مريم.
            حدثني يعقوب قال، حدثنا ابن علية، عن أبي رجاء، عن الحسن في قوله:”وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته”، قال: قبل موت عيسى. والله إنه الآن لحيٌّ عند الله، ولكن إذا نزل آمنوا به أجمعون.
            حسن کہتے ہیں یہاں عیسیٰ کی موت مراد ہے

            تفسیر ابی حاتم کے مطابق ابن عباس کے مطابق اس میں الھا عیسیٰ کی طرف ہے
            حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلَهُ: وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا ليؤمنن به قبل موته قَالَ: قَبْلَ مَوْتِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ.
            وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَمُجَاهِدٍ، وَالْحَسَنِ، وَقَتَادَةَ نَحْوُ ذَلِكَ.

            تفسیر طبری کے مطابق ابن عباس کہتے اس میں کتابی کی موت مراد ہے
            حدثني المثنى قال، حدثنا عبد الله بن صالح قال، حدثني معاوية، عن علي بن أبي طلحة، عن ابن عباس قوله:”وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته”، قال: لا يموت يهودي حتى يؤمن بعيسى.
            یہ سند منقطع ہے کیونکہ علی بن ابی طلحہ کا سماع ابن عباس سے نہیں ہے

            اس قول کو ابن سیرین سے بھی منسوب کیا گیا ہے
            حدثنا ابن بشار قال، حدثنا عبد الرحمن قال، حدثنا الحكم بن عطية، عن محمد بن سيرين:”وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته”، قال: موتِ الرجل من أهل الكتاب
            یہں سند میں الحکم بن عطیہ ضعیف ہے

            ——
            جب قرآن کہتا ہے ایمان لائے گا تو یہ ایمان ہی ہوا اور اس کی بنا پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی زندگی میں ہی اس آیت کے نزول کے بعد سے مرنے والے تمام اہل کتاب جہنمی نہیں رہتے

            زمخشری جن کو معتزلی متاثر کہا جاتا ہے وہ تک نزول مسیح کو مانتے ہیں لہذا اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں
            وَإِنَّهُ وإن عيسى عليه السلام لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ أى شرط من أشراطها تعلم به
            عیسیٰ قیامت کا علم ہیں اس کی شرطوں میں سے ایک ہیں جس کا علم دیا گیا

            مشہور متکلم قاضی الباقلانی المتوفی ٤٠٣ ھ کتاب الانتصار للقرآن میں کہتے ہیں
            فليست الهاء راجعةَ
            على المكلَّف من أهل الكتاب، وإنّما أراد أن أهلَ العصر الذي ينزل فيه
            عيسى من السماء من أهل الكتاب، يؤمنون به عندَ نزوله ويعرفون صدقه.
            یہاں الھا اہل کتاب کے مکلف کی طرف نہیں کہ بلکہ اس میں مراد وہ ہیں جو نزول عیسیٰ کے دور میں ان پر ایمان لائیں گے ان کو پہچانیں گے تصدیق کریں گے

            غريب القرآن لابن قتيبة المتوفی ٢٤٧ کہتے ہیں
            وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ يريد: ليس
            من أهل الكتاب في آخر الزمان عند نزوله- أحد إلا آمن به حتى تكون الملّة واحدة، ثم يموت عيسى بعد ذلك.
            مراد ہے آخری زمانے میں اہل کتاب میں کوئی نہ ہو گا جو عیسیٰ کے نزول کے بعد ان پر ایمان نہ لائے اور ملت ایک ہو گی پھر عیسیٰ کی موت ہو گی

            اپ کی تفسیر بھی مفسرین نے بیان کی ہے لیکن وہ باوجود اس تفسیر کے نزول مسیح کے قائل ہیں کیونکہ وہ انہ علم للساعہ میں مراد عیسیٰ لیتے ہیں

            عرب نحوی الفراء (المتوفى: 207هـ) کہتے ہیں
            ويُقال: يؤمن كل يهوديّ بعيسى عند موته «1» . وتَحقيق ذَلِكَ فِي قراءة أبي إِلا ليؤمنُنَّ بِهِ قبل موتهم
            اور کہا جاتا ہے کہ اپنی موت پر تمام یہودی عیسیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور تحقیق ہے کہ ابی بن کعب کی قرات میں تھا کہ اپنی موتوں سے پہلے یہ ایمان لائیں گے

            زمخشری نے تفسیر میں لکھا
            وتدل عليه قراءة أبىّ: إلا ليؤمننّ به قبل موتهم، بضم النون على معنى: وإن منهم أحد إلا سيؤمنون به قبل موتهم
            اور اس پر دلالت کرتا ہے ابی بن کعب کی قرات کہ ان میں سے ہر ایک اپنی موت سے قبل ایمان لاتا ہے

            لیکن اس قول کی سند تفسیر طبری میں ہے
            حدثني إسحاق بن إبراهيم بن حبيب بن الشهيد قال، حدثنا عتاب بن بشير، عن خصيف، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس:”وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته”، قال: هي في قراءة أبيّ: (قبل موتهم)
            سند میں عتاب بن بشير ہے جو ضعیف ہے
            عتاب بن بشير الجزرى کے لئے احمد نے کہا
            قال أحمد : أحاديثه عن خصيف منكرة
            خصيف سے منکرات بیان کرتا ہے
            وخصيف بن عبد الرحمن الجزري بھی ضعیف ہے

            تفسیر الدر المنثور میں لکھا ہے
            وَأخرج ابْن الْمُنْذر عَن أبي هَاشم وَعُرْوَة قَالَا: فِي مصحف أبي بن كَعْب: وَإِن من أهل الْكتاب إِلَّا ليُؤْمِنن بِهِ قبل مَوْتهمْ
            ابن منذر نے ابی ہاشم اور عروه سے روایت کیا کہ ابی بن کعب کی قرات میں یہ تھا

            یعنی آیت میں الھا کی ضمیر کو اہل کتاب کی موت کی طرف لے جانے کے لئے لوگوں کو یہ دلیل ملی ہے

            اگر یہ بات ہے تو آج ہمارے پاس ابی بن کعب کی قرات ہی ہے جس کو عاصم بن ابی النجود کی سند سے ہم جانتے ہیں اس میں ایسا نہیں ہے

            عمر رضی الله عنہ کے دور میں ابی بن کعب کی قرات پر تراویح ہوئی بہت سے اصحاب رسول نے اس قرات کے مطابق قرآن سنا لیکن آج جو دس قرات ہمارے پاس ہیں ان میں ایک میں بھی قبل موتھم نہیں ہے
            خود یہ قول تفسیر ابن المنذر میں بھی موجود نہیں ہے

            دوم ابی ہاشم اور عروہ تک سے لے کر ابی تک کوئی سند کا علم نہیں ہے
            لہذا یہ قول پایہ ثبوت تک نہیں پہنچتا اور اس بنیاد پر اپ کی تشریح قابل قبول نہیں ہے

            اب اپ غور کریں قرآن میں ہے
            وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ
            اور اہل کتاب میں سے ہیں جو الله پر ایمان لائے اور جو تم پر نازل ہوا اور جو ان پر نازل ہوا

            جبکہ ہم کو معلوم ہے کہ دور نبوی میں تمام اہل کتاب ایمان نہیں لائے یہاں بھی ان من اھل الکتاب ہے

            ———
            اس آیات کی تفسیر میں ایک اور قول بھی ہے جو اہل سنت کی تفسیر میں ہے جس کو بلا سند بیان کیا گیا ہے
            وروى أن الحجاج بن يوسف قال : ما قرأت هذه الآية الا وفى نفسى منها شىء ، فانى أضرب عنق اليهودى والنصرانى ، ولا أسمع منه ذلك .
            فقلت : ان اليهودى اذا حضره الموت ضربت الملائكة وجهه ودبره وقالوا : يا عدوا الله أتاك عيسى نبيا فكذبت به ، فيقول : آمنت أنه عبد الله ورسوله ، وتقول للنصرانى ، أتاك عيسى نبيا فزعمت أنه الله أو ابن الله ، فيقول آمنت أنه عبد الله ورسوله ، فأهل الكتاب يؤمنون به حين لا ينفعهم الايمان .
            فاستوى الحجاج جالسا وقل : عمن نقلت هذا؟ فقلت : حدثنى به محمد بن الحنفية فأخذ ينكت فى الأرض بقضيب ثم قال : لقد أخذتها من عين صافية

            – راقم کو اس قول کی سند شیعہ تفاسیر میں ملی ہے

            وفي تفسير علي بن إبراهيم: حدثني أبي، عن القاسم بن محمد، عن سليمان بن داود المنقري، عن أبي حمزة، عن شهر بن حوشب قال: قال لي الحجاج: يا شهر، آية في كتاب الله قد أعيتني ؟ ! فقلت: أيها الامير أية آية هي ؟ فقال قوله: ” وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ” والله إني لآمر باليهودي والنصراني فيضرب عنقه، ثم أرمقه بعيني فما أراه يحرك شفتيه حتى يخمد، فقلت: أصلح الل الامير، ليس على ما تأولت، قال: كيف هو ؟ قلت: إن عيسى ينزل قبل يوم القيامة إلى الدنيا فلا يبقى أهل ملة يهودي ولا غيره إلا آمن به قبل موته، ويصلي خلف المهدي، قال: ويحك أنى لك هذا ومن أين جئت به ؟ ! فقلت: حدثني به محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب (عليهم السلام)، فقال: جئت بها من عين صافية

            شہر بن حوشب نے کہا مجھ سے حجاج بن یوسف نے کہا اے شہر مجھ کو ایک آیت کتاب الله میں ملی ہے میں نے کہا اے امیر کون سی ؟ حجاج نے کہا وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته – الله کی قسم میں تو جس یہودی و نصرانی کی گردن قلم کرنے کا حکم کرتا ہوں تو میں اس کے ہونٹ دیکھتا رہتا ہوں یہاں تک کہ سد پڑ جائے – میں نے کہا الله اپ کی اصلاح کرے اے امیر ایسا نہیں ہے جیسا اپ تاویل کر رہے ہیں حجاج نے کہا تو پھر کیا ہے ؟ میں نے کہا عیسیٰ محشر سے قبل نازل ہوں گے یہاں تک کہ دنیا کا کوئی یہودی یا کوئی اور نہ ہو گا تو مرنے سے قبل ان پر ایمان نہ لائے اور المہدی کے پیچھے نماز پڑھے – حجاج نے کہا بربادی تجھ کو یہ تفسیر کہاں سے ملی ؟ میں نے کہا ایسا محمد بن حنفیہ نے بیان کیا ہے – حجاج بولا تو تجھ کو یہ ایک صاف چشمے سے ملا

            اس کی سند میں مجہولین ہیں
            البتہ شیعہ مفسرین نے اس آیت میں الھا کی ضمیر عیسیٰ کی طرف کی ہے

            خوارج کے اباضی عالم هود بن محكم الهواري المتوفی ٢٨٠ ھ تفسير الهواري میں کہتے ہیں
            قوله : { وَإِن مِّنْ أَهْلِ الكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ } يقول : قبل موت عيسى إذا نزل علهيم
            الله کا قول سے مراد یعنی عیسیٰ کی موت سے قبل جب وہ نازل ہوں گے

            اس طرح تمام فرقے اس آیت میں الھا کی ضمیر عیسیٰ کی طرف لے کر جا رہے ہیں اور جو قول اس سے الگ ہیں ان کی اسناد نہیں ہیں جب تک سند نہ ہوا یا نص واضح نہ ہو اپ کی تفسیر ایک قول سمجھی جائے گی قبول نہیں کی جائے گی – اس پر نص درکار ہے

  5. حذیفہ says:

    صحیح بخاری میں ان سے متعلق کون سا قول ہے جس کو قادیانی لوگ ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس حضرت عیسیٰ کی موت کے قائل تھے۔

    وضاحت مطلوب ہے

    • Islamic-Belief says:

      قرآن کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کا یہود قتل نہ کر سکے اور ان پر معاملہ مشتبہ کر دیا گیا
      ============
      اس کو دلیل بناتے ہوئے بعض اہل سنت میں سے لوگوں نے دعوی کیا کہ الله تعالی نے عیسیٰ علیہ السلام کو موت دے دی اور ان کی لاش کو آسمان پر اٹھا لیا گیا
      قادیانیوں کا ( مولوی نورالدین و مرزا غلام احمد الدجال کا) قول ہے کہ عیسیٰ صلیب پر نہیں مرے وہ مردہ لگے لوگوں نے اتار کر ان کو غار میں رکھا اور پھر عیسیٰ ہجرت کر کے کشمیر آ گئے جہاں محلہ خانیار سری نگر میں یزآسپ یا آصف جاہ کی قبر اصل میں عیسیٰ کی قبر ہے یعنی ان کے نزدیک عیسیٰ طبعی موت مرے
      عیسیٰ علیہ السلام سری نگر ان کے بقول
      Lost Tribes
      کی تلاش میں آئے اور ١٢٠ سال زندہ رہے
      https://ur.wikipedia.org/wiki/مسیح_ہندوستان_میں_(کتاب)

      اصلا مرزا قادیانی کی تحقیق روسی مفکر اور چھوڑو نوٹووچ کی کتاب کا چربہ ہے
      https://www.amazon.com/Life-Jesus-Christ-Nicolas-Notovitch/dp/1604593660
      Nicolas Notovitch (1858-?) was a Russian aristocrat, adventurer, Cossack officer, spy and journalist.
      نوٹووچ تھیوری کے مطابق عیسیٰ کشمیر اور تبت میں کسی خانقاہ میں رو پوش رہے اور اس طرح ابراہمی ادیان کا غیر ابراہیمی ادیان سے کنکشن ثابت کیا گیا
      انجیل متی 15:24 میں ہے عیسیٰ نے یہود سے کہا مجھے صرف اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس بھیجا گیا تھا
      لہذا عیسیٰ کا اصل مشن یروشلم کا نہیں بلکہ کشمیر و تبت میں بنی اسرائیل کے کھوئے ہوئے قبیلوں کو ڈھونڈنا تھا
      نوٹووچ ایک یہودی تھا اس کے بقول عیسیٰ نے ١٣ سال کی عمر میں یروشلم چھوڑا اور سندھ سے کشمیر اور لداخ آئے اور وہاں تبتی عقائد سیکھے پھر واپس یروشلم آئے لیکن مرزا نے اس میں
      twist
      ڈالا اور دعوی کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام انتقال کر گئے
      اصل میں یہود کا یہ دعوی ہے کہ عیسیٰ کے عقیدہ صحیح نہیں تھا تلمود کے مطابق عیسیٰ مصر گئے وہاں انہوں نے سحر سیکھا نعوذ باللہ لیکن اس روسی یہودی محقق کا دعوی تھا کہ بدھمت کی تعلیمات حاصل کیں -اس کی ضرورت اس طرح پیش آئی کہ جس عیسیٰ علیہ السلام کے دور تک مصر کا سحر کا مذھب معدوم ہو چلا تھا اور تلمود کا بیان قابل اعتماد نہیں رہا تھا- نوٹووچ نے عیسیٰ کو ہندوستان پہنچوایا جو سحر کے حوالے سے دوسری مشھور جگہ تھا اس کے مطابق اس کے بعد ہی عیسیٰ نے ابن الله کا دعوی کیا
      نعوذ باللہ من تلک الخرافات
      نوٹووچ ١٨٨٧ میں برصغیر میں تھا اور ممکن ہے مرزا غلام احمد کی امرتسر میں اس ملاقات ہو یا اس کی سن گن پڑی ہو سن ١٨٩١ میں غلام احمد نے مسیح الزمان کا دعوی کے
      نوٹووچ کے خلاف جرمن محقق
      https://en.wikipedia.org/wiki/Max_Müller
      نے تحقیق کی اور لداخ کی اس خانقاہ کو خط بھی لکھا کہ نوٹووچ وہاں پہنچا بھی تھا یا نہیں- جواب ملا کہ پچھلے ١٥ سال سے کوئی مغربی شخص یھاں نہیں رکا
      اس طرح نوٹووچ جھوٹا اپنی زندگی میں ہی ثابت ہوا
      اصل میں قصہ طویل ہو جائے گا نوٹووچ ایک روسی جاسوس تھا جو رشین امپائر کی ایما پر برطانوی ایمپائر کی جاسوسی کر رہا تھا اور پنجاب میں ہی رکا ہوا تھا نہ کشمیر گیا نہ لداخ
      لیکن نوٹووچ جھوٹے نے ایک جھوٹی تحقیق کی آڑ میں خود کو چھپا رکھا تھا
      مرزا الدجال کو یہ سب بہت من بھایا اور آوٹ پٹانگ دعووں کا دور شروع ہوا
      اس کے بعد ایک ہندو سوامی کو یہ تمام قصہ دلچسپ لگا اور اس نے دعوی کیا کہ وہ بھی لداخ گیا اور جو جو نوٹووچ نے کہا تھا وہی اس نے دہرایا اور اس طرح یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ابراہمی ادیان میں غیر ابراہیمی ادیان کی آمیزش ہے
      https://en.wikipedia.org/wiki/Swami_Abhedananda
      یاد رہے کہ اسی دور میں میڈم بلاوتسکی (١) آنجہانی ١٨٩١ ع جو اپنے وقت کی ایک مشھور شخصیت رہیں – وہ قدیمی ادیان اور فلسفوں کی چیمپئن بنتی تھیں اور ساحرہ اور کاہنہ تھیں وہ بھی ہندوستان میں تھیں وہ بھی روسی تھیں اور اسی کی قائل تھیں جو نوٹووچ کہہ رہا تھا یہ بھی لداخ یا تبت میں دلچپسی رکھتی تھیں
      اور شمبلہ نامی کسی کم گشتہ بستی کی تلاش میں تھیں جہاں تمام دنیا کی حقیقت ان کے بقول چھپی تھی
      https://en.wikipedia.org/wiki/Shambhala
      =========

      راقم کہتا ہے یہ اقوال بے سروپا ہے – عیسیٰ علیہ السلام کے لئے آیا ہے کہ الله نے ان کو کہا انی متوفیک و رفعک الی کہ میں تم کو قبضہ میں لوں گا اور اٹھا لوں گا

      توفی کا مطلب موت نہیں ہے توفی کا مطلب ہے کسی چیز کو پورا پورا قبضہ میں لینا قرآن میں یہی لفظ زندہ انسانوں کی حالت نیند کے لئے بھی استعمال ہوا ہے یعنی زندہ انسان بھی ہر روز توفی کے عمل سےگزرتے ہیں جس میں ان پر حالت نیند طاری کی جاتی ہے لہذا توفی کا لفظ کا مطلب موت دینا مجازی ہے دیکھینے سوره الزمر اور سوره الانعام

      تمام انسانوں کو قیامت کے دن زمین سے اٹھایا جائے گا اگر یہ مان لیا جائے کہ عیسیٰ کا مردہ جسم آسمان میں کہیں ہے تو ان کے جسد کو واپس کب دنیا میں منتقل کیا جائے گا ؟

      تفسیر الطبری اور ابن ابی حاتم کے مطابق اس سلسلے میں اقوال ہیں

      حسن البصری المتوفی ١١٠ ھ ، ابن جریج المتوفی ١٥٠ ھ ، ابن اسحاق المتوفی ١٥٩ ھ کی رائے ہے کہ عیسیٰ کو(زندہ) قبضہ میں لیا اور اٹھا لیا

      ربیع بن انس البصری المتوفی ١٤٠ ھ کی رائے میں عیسیٰ پر نیند طاری کی گئی اور اٹھایا گیا

      ان آراء کے مطابق عیسیٰ زندہ ہی تھے کہ رفع ہوا

      اس کے بر عکس علی بن ابی طلحہ المتوفی ١٤٣ ھ نے بیان کیا ہے کہ ابن عباس نے کہا متوفیک کا مطلب ممیتک یعنی موت دی

      تفسیر ابن المنذر اور ابن ابی حاتم کے مطابق

      حَدَّثَنَا عَلانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قوله: ” {إِنِّي مُتَوَفِّيكَ} يَقُولُ: مُمِيتُكَ

      علی بن ابی طلحہ ابن عبّاس سے روایت کرتا ہے کہ قول {إِنِّي مُتَوَفِّيكَ} کے لئے انہوں نے کہا موت دی

      جبکہ علی بن ابی طلحہ کا ابن عباس سے سماع ثابت نہیں دیکھئے جامع التحصیل اور میزان الاعتدال

      کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل از العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق

      علي بن أبي طلحة قال دحيم لم يسمع التفسير من بن عباس وقال أبو حاتم علي بن أبي طلحة عن بن عباس مرسل

      علی بن ابی طلحہ – دحیم کہتے ہیں اس نے ابن عباس سے تفسیر نہیں سنی اور ابو حاتم کہتے ہیں علی بن ابی طلحہ ابن عبّاس سے مرسل ہے

      وھب بن منبہ المتوفی ١١٤ ھ کے مطابق ان پر تین ساعات کے لئے موت طاری کی گئی ایک قول ابن اسحاق سے بھی منسوب کیا جاتا ہے جس میں ہے کہ سات ساعتو ں کے لئے ان پر موت طاری کی گئی

      حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مَنَ، لَا يُتَّهَمُ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَنَّهُ قَالَ: تَوَفَّى اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ثَلَاثَ سَاعَاتٍ مِنَ النَّهَارِ حِينَ رَفَعَهُ إِلَيْهِ

      محمد بن اسحاق کہتا ہے اس نے کسی سے سنا جس نے وھب بن منبہ سے سنا

      وھب بن منبہ کے قول کی سند بھی ثابت نہیں ہے دوم ابن اسحاق اور وھب کی رائے میں موت صرف چند گھنٹوں کی تھی لہذا اب عیسیٰ زندہ ہی ہوئے – صرف ابن عباس سے منسوب قول ہے جس کا ذکر بخاری نے ابواب کی تعلیق میں کیا ہے لیکن جیسا واضح کیا اس کا کہنے والا علی بن ابی طلحہ ہے جس کا سماع ابن عبّاس سے ثابت نہیں ہے

      ========

      راقم نے تفسیر میں ص ٢١١ – ٢١٦ پر تفصیل سے اس کے متعلق لکھا ہے
      http://www.islamic-belief.net/wp-content/uploads/2015/09/Tafseer-book.pdf

  6. shahzad khan says:

    اَللَّـهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِـهَا وَالَّتِىْ لَمْ تَمُتْ فِىْ مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِىْ قَضٰى عَلَيْـهَا الْمَوْتَ وَيُـرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّـقَوْمٍ يَّتَفَكَّـرُوْنَ (42)
    اللہ ہی جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور ان جانوں کو بھی جن کی موت ان کے سونے کے وقت نہیں آئی، پھر ان جانوں کو روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم فرما چکا ہے اور باقی جانوں کو ایک میعاد معین تک بھیج دیتا ہے، بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور کرتے ہیں۔۔۔۔بھائی اس کی تفسیر کیا چاہئے کہ سوتے وقت روح کا قبض ہونا اور جن کی موت کا حکم ہو ان کو روک لینا ۔۔جبکہ قرآن پاک میں روح قبض برائے موت کے لئے فرشتوں کو بھیجے جانے کا حکم آیا ہے ۔۔۔اور عیسیٰ علیہ السلام کا رفع والا معاملہ بھی نیند والا معاملہ ہے بھائی اس کی وضاحت فرما دیں ۔۔جزاک اللہ

    • Islamic-Belief says:

      اپ کا سوال بہت اہم ہے اور اس آیت کا صحیح مفہوم سمجھنا بھی بہت اہم ہے کیونکہ اکثر اس کا غلط ترجمہ کر دیا جاتا ہے اور معنی و مفہوم بدل جاتا ہے

      قبض کرنا یعنی
      seize
      کرنا ہے جسد سے نکالنا اس کا ہمشہ مطلب نہیں ہوتا- سیاق و سباق سے متعین ہوتا ہے
      مقابلے پر ارسال کا لفظ ہے جس کا مطلب بھیجنا یا چھوڑنا ہے

      جب موت اتی ہے تو روح قبض ہوتی ہے لیکن جسد سے اخراج بھی ہوتا ہے جو قرآن کی دوسری آیات سے معلوم ہوا ہے
      جب نیند اتی ہے تو قبض ہوتا ہے لیکن روح کا جسد سے اخراج نہیں ہوتا روح کو جسد میں ہی
      seize
      کر دیا جاتا ہے پھر قرآن میں ہے جو نہیں مرا ان کی روحوں کا ارسال ہوتا ہے یعنی ان کو پچھلی حالت پر واپس چھوڑا جاتا ہے

      سوره الزمر کی آیت ٤٢ ہے
      اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنامِها فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرى إِلى أَجَلٍ مُسَمًّى
      أبو محمد عبد الله بن مسلم بن قتيبة الدينوري (المتوفى: 276ھ) اپنی کتاب غريب القرآن لابن قتيبة میں لکھتے ہیں کہ
      وقوله: يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ [سورة الزمر آية: 42] ، هو من استيفاء العدد واستيفاء الشيء إذا استقصيته كله. يقال: توفيته واستوفيته. كما يقال: تيقنت الخبر واستيقنته، وتثبت في الأمر واستثبته. وهذا [هو] الأصل. ثم قيل للموت: وفاة وتوف.
      اور الله کا قول يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ [سورة الزمر آية: 42] يَتَوَفَّى (مراد ہے کہ ) پورا گننا اور کسی چیز کی جب پوری جانچ پڑتال کی جائے تو کہا جائے گا توفيته واستوفيته جسے کہا جاتا ہے خبر پر (پورا ) یقین کیا اور انہوں نے اس پر يقين کیا اور امر پر (پورا ) اثبات کیا اور اس کو ثبت کیا اور یہی (اس لفظ کا) اصل ہے اور پھر کہا گیا موت کے لیے بھی وفاة وتوف
      راغب الأصفهانى (المتوفى: 502ھ) اپنی کتاب المفردات في غريب القرآن میں لکھتے ہیں کہ
      وقوله: كُلُّ نَفْسٍ ذائِقَةُ الْمَوْتِ [آل عمران/ 185] فعبارة عن زوال القوّة الحيوانيَّة وإبانة الرُّوح عن الجسد
      اور (الله تعالیٰ کا ) قول : كُلُّ نَفْسٍ ذائِقَةُ الْمَوْتِ [آل عمران/ 185] پس یہ عبارت ہے قوت حیوانی کے زوال اور روح کی جسد سے علیحدگی سے
      صلاح عبد الفتاح الخالدي اپنی کتاب القرآن ونقض مطاعن الرهبان میں لکھتے ہیں کہ
      والتوفّي معناه القبضُ، أَيْ: اللهُ يَقبضُ أَرواحَ الأنفس كُلِّها حينَ نومِها، فإِن انتهى عُمْرُ بعضِ الأَنفسِ أَمسكَ أَرواحَها أَثناءَ نومِها، وإِنْ بقيتْ في عمرِ بعضِ الأَنفسِ بقيةٌ أَعادَ لها أَرواحَها.
      اور التوفّي سے مرا د قبض کرنا ہے کہ الله سب کی روحیں قبضے میں لیتا ہے نیند کے وقت اگر بعض نفس کی عمر پوری ہو گئی ہے تو روحوں کو پکڑ کے رکھتا ہے نیند میں – اور اگر عمر کا کچھ حصہ باقی ہے تو روحوں کو واپس کرتا ہے
      الله تعالیٰ نفس یا روح کو قبضے میں لیتا ہے چاہے بندہ نیند میں ہو یا مردہ – نیند کا تعلق موت سے اتنا ہے کہ قبض نفس کے نتیجے میں کچھ جسمانی کیفیت مشترک ہے جسے سونے والے کا شعور جاگنے والی کیفیت سے علیحدہ ہے – اس مماثلت کے باوجود الله تعالیٰ نے یہ بھی کہا کہ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ کہ زندہ اور مردہ برابر نہیں – یہی اصل مسلمہ بات ہے
      واضح رہے کہ قبض اور اخراج میں فرق ہے – حالت نیند میں صرف توفی یا قبض نفس ہوتا ہے نہ کہ اخراج – اس کے بر عکس موت میں جسد سے اخراج نفس بھی ہوتا ہے
      قبض یا توفی متبادل الفاظ ہیں لیکن ان کا مفہوم اخراج نہیں – اس کی مثال قرآن ہی میں ہے جہاں عیسیٰ علیہ السلام کو الله نے خبر دی
      إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ
      اور جب الله نے کہا اے عیسیٰ میں تم کو قبض کروں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا
      أبو عبيدة معمر بن المثنى التيمى البصري (المتوفى: 209هـ) اپنی کتاب مجاز القرآن میں لکھتے ہیں کہ
      اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنامِها فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرى إِلى أَجَلٍ مُسَمًّى» (42) فجعل النائم متوفى أيضا إلا أنه يرده إلى الدنيا..
      الله پورا قبضے میں لیتا ہے نفس کو موت کے وقت اور جو نہیں مرا اس کا نفس نیند کے وقت پس پکڑ کے رکھتا ہے اس نفس کو جس پر موت کا حکم لگاتا ہے اور چھوڑ دیتا ہے دوسروں کو اک وقت مقرر تک کے لئے ) پس سونے والے کو بھی متوفی بنایا کیونکہ اس کو واپس دنیا کی طرف لوٹایا گیا
      اسی طرح رسل کا لفظ ہے جس کا مفہوم ہے بھیجنا یا چھوڑنا – بخاری کی آغاز وحی والی روایت کے الفاظ ہیں
      فأخذني فغطني حتى بلغ مني الجهد ثم أرسلني فقال اقرأ قلت ما أنا بقارىء
      پس اس (فرشتے ) نے مجھے پکڑا اور بھینچا یہاں تک کہ میری بسا ط تک اور پھر چھوڑ دیا پھر کہا پڑھو میں نے کہا میں قاری نہیں
      توفی کا مطلب کھینچنا نہیں – کھینچنے کے لئے عربی میں سحب کا لفظ ہے – بعض حضرا ت نے اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ کا ترجمہ کیا ہے کہ الله روحوں کو کھینچ لیتا ہے اور اس طرح حالت نیند کے لئے بھی یہی ترجمہ کیا ہے جو سیاق و سباق کے نہ صرف خلاف ہے بلکہ اس سے قرآن کی دو موتوں والی آیت بھی متصادم ہے – اس واضح تضاد کے باوجود بعض کا اصرار ہے کہ نیند اور موت میں کوئی فرق نہیں ایک آدمی زندگی میں ہزاروں بار سوتا اور اٹھتا ہے لہذا وہ ہزاروں موتوں سے دوچار ہوتا ہے-
      أبو محمد مكي بن أبي طالب القيرواني المالكي (المتوفى: 437ھ) کتاب الهداية إلى بلوغ النهاية في علم معاني القرآن وتفسيره، وأحكامه، وجمل من فنون علومه میں لکھتے ہیں
      وإن الله هو الذي يتوفاكم، (أي): يقبض أرواحكم من أجسادكم بالليل
      اور بے شک وہ الله ہی ہے جو قبض کرتا ہے یعنی روحوں کو جسموں میں رات میں

      ابو جعفر طبری (المتوفى: 310هـ) تفسیر میں لکھتے ہیں
      القول في تأويل قوله: {وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ}
      قال أبو جعفر: يقول تعالى ذكره لنبيه صلى الله عليه وسلم: وقل لهم، يا محمد، والله أعلم بالظالمين، والله هو الذي يتوفى أرواحكم بالليل فيقبضها من أجسادكم “ويعلم ما جرحتم بالنهار”، يقول: ويعلم ما كسبتم من الأعمال بالنهار.
      ابو جعفر کہتے ہیں کہ الله تعالی نے ذکر کیا اپنے نبی صلی الله علیہ وسلم سے کہ اور ان سے کہو، اے محمّد، بے شک الله ظالموں کو جانتا ہے ، اور الله کی قسم وہی ہے جو رات کو روحیں جسموں میں قبض کرتا ہے
      یمسک کا مطلب یہاں پر پکڑنا ہے جیسے الله نے کہا فَمن يكفر بالطاغوت ويؤمن بِاللَّه فقد استمسك بالعروة الوثقى کہ جس نے طاغوت کا کفر کیا اور الله پر ایمان لایا اس نے ایک مضبوط حلقہ پکڑ لیا – عربی لغت المعجم الوسيط کے مطابق (أمسك) بالشَّيْء مسك وَعَن الطَّعَام وَنَحْوه كف عَنهُ وَامْتنع وَعَن الْإِنْفَاق اشْتَدَّ بخله وَالشَّيْء بِيَدِهِ قبض عَلَيْهِ بهَا وَالشَّيْء على نَفسه حَبسه أمسك کا لفظ کسی چیز کے ساتھ آئے تو مفہوم روکنا ہوتا ہے – اگر یہ لفظ کھانے کے ساتھ آئے تو مفہوم کھانا کھانے سے رکنا ہے اگر یہ لفظ انفاق کے ساتھ آئے تو مفہوم بخل ہوتا ہے اگر ہاتھ میں کسی چیز کے لئے آئے تو مفہوم قبض کرنا ہوتا ہے اور اس کو قید کرنا ہوتا ہے
      یہاں یمسک کا لفظ قبض کرنے ، پکڑنے اور قید کرنے کے مفہوم میں ہی استعمال ہوا ہے -اگر الله مرنے والے کی روح پکڑ لیتا ہے تو پھر واپس عود روح کیسے ہو سکتا ہے ؟ کیا یہ آیت کے مفہوم سے انحراف نہیں ؟
      اب اس آیت پر غور کرتے ہیں
      اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنامِها فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرى إِلى أَجَلٍ مُسَمًّى
      الله پورا قبضے میں لیتا ہے نفس کو موت کے وقت اور جو نہیں مرا اس کا نفس نیند کے وقت پس پکڑ کے رکھتا ہے اس نفس کو جس پر موت کا حکم لگاتا ہے اور چھوڑ دیتا ہے دوسروں کو اک وقت مقرر تک کے لئے
      آیت میں کوئی ابہام نہیں حالت نیند میں اور موت میں قبض نفس ہوتا ہے نیند میں قبض جسم میں ہی ہوتا ہے اور نفس کا اخراج نہیں ہوتا جبکہ موت میں امساک کا لفظ اشارہ کرتا ہے کہ روح کو جسم سے نکال لیا گیا ہے اور اس کی تفصیل قرآن کی دوسری آیات سے ہوتی ہے
      اس کی تشریح قرآن نے اس طرح کی سوره الانعام
      کاش تم دیکھ سکو کہ جب ظالم موت کی سختیوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں: لاؤ نکالو اپنی جانیں آج تمہیں ذلت کے عذاب کا صلہ دیا جائے گا اس لیے کہ تم اللہ کے ذمہ ناحق باتیں کہتے تھے اور اس کی آیات سے تکبر کیا کرتے تھے۔

      تفصیل یہاں اس کتاب میں بھی موجود موجود ہے
      http://www.islamic-belief.net/wp-content/uploads/2015/10/عذاب-قبرکی-حقیقت-کتاب.pdf

  7. shahzad khan says:

    بھائی ادھر یہ بات سمجھنی تھی کہ اللہ ڈائریکٹ بھی روح کو قبضے میں لیتا ہے؟ یا اللہ کا قانون ہے کہ موت کے وقت فرشتے روح قبض کر کے لے جاتے ہیں؟ جیسا کہ باقی آیات میں آیا ہے کہ فرشتے ان کی روحوں کو بدنوں سے نکالتے ہیں

    • Islamic-Belief says:

      جی نیند میں روح کا قبض کرنا الله تعالی کا کام ہے – اس روح کو جسد سے نہیں نکالا جاتا جبکہ موت میں چونکہ روح کو نکالا جاتا ہے اس لئے فرشتوں کا ذکر اتا ہے
      قرآن میں صرف موت کے حوالے سے فرشتوں کا ذکر آیا ہے نیند کے حوالے سے نہیں آیا
      و اللہ اعلم

      ——
      أيسر التفاسير لكلام العلي الكبير
      المؤلف: جابر بن موسى بن عبد القادر بن جابر أبو بكر الجزائري
      الناشر: مكتبة العلوم والحكم، المدينة المنورة، المملكة العربية السعودية
      الطبعة: الخامسة، 1424هـ/2003م

      وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا} أي يقبضها بمعنى يحبسها عن التصرف، حال النوم
      وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا یعنی الله قبضہ میں لیتا ہے بمعنی (حبس) قید کرتا ہے کہ (انسان) تصرف کرے جو(اسکی) حالت نیند ہے

      یہ تفسیر ہماری رائے کے مطابق ہے

      اب اس کے خلاف اقوال جن کے مطابق نیند ہو یا موت دونوں میں روح قبض ہوتی ہےجسد سے نکال لی جاتی ہے
      اس سلسلے میں تفسیر طبری میں ہے
      حدثنا ابن حميد، قال: ثنا يعقوب، عن جعفر، عن سعيد بن جُبَير، في قوله: (اللَّهُ يَتَوَفَّى الأنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا) … الآية. قال: يجمع بين أرواح الأحياء، وأرواح الأموات، فيتعارف منها ما شاء الله أن يتعارف، فيمسك التي قضى عليها الموت، ويُرسل الأخرى إلى أجسادها.
      اس قول کو سعید بن جبیر سے منسوب کیا گیا ہے کہ مردوں اور زندہ کی روحیں ملاقات کرتی ہیں

      سند میں جَعفَر بْن أَبي المُغِيرة، الخُزاعِيّ (قال ابن مندة: ليس هو بالقوى في سعيد بن جبير) اور يعقوب بن عبد الله القمي ( قال الدارقطني ليس بالقوي) ہیں
      ———-

      دوسرا قول ہے
      حدثنا محمد بن الحسين، قال: ثنا أحمد بن المفضل، قال: ثنا أسباط، عن السديّ، في قوله: (اللَّهُ يَتَوَفَّى الأنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا) قال: تقبض الأرواح عند نيام النائم، فتقبض روحه في منامه، فتلقى الأرواح بعضها بعضا: أرواح الموتى وأرواح النيام، فتلتقي فتساءل، قال: فيخلي عن أرواح الأحياء، فترجع إلى أجسادها، وتريد الأخرى أن ترجع، فيحبس التي قضى عليها الموت، ويرسل الأخرى إلى أجل مسمى، قال: إلى بقية آجالها.

      اس میں اسباط اور السدی دونوں ضعیف ہیں
      ————

      بعض روایات جو ابن عباس سے مروی ہیں ان کے مطابق انسان میں روح اور نفس ہوتا ہے نیند میں نفس قبض ہوتا ہے اور موت پر روح لیکن یہ قول الکلبی نے روایت کیا ہے

      کتاب البدء والتاريخ المؤلف : ابن المطهر کے مطابق
      وروى الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس رضي الله عنه أن الرجل إذا مات قبض الله روحه وبقى نفسه لأن النفس موصولة بالروح فإذا أراد الله قبض روحه للموت قبض نفسه مع روحه فمات وإذا أراد الله بعثه رد إليه رو

      یہ قول بھی صحیح سند سے نہیں ہے
      ———

      ابن عباس سے ایک اور قول منسوب کیا گیا ہے کہ نفس اور روح کے درمیان سورج کی روشنی جیسا تعلق ہوتا ہے
      تفسیر ابن ابی حاتم میں بلا سند لکھا ہے
      عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ:” ” اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ ” الْآيَةَ، قَالَ: نَفْسٌ، وَرُوْحٌ بينهما شعاع الشمس، فيتوفى الله النفس في منامه، ويدع الروح في جسده وجوفه يتقلب ويعيش، فإن بدا لله أَنْ يَقْبِضَهُ قَبْضَ الرُّوحَ فَمَاتَ، أَوْ أَخَّرَ أَجَلَهُ رَدَّ النَّفْسَ إِلَى مَكَانِهَا مِنْ جَوْفِهِ”

      ———–
      اس کے علاوہ بہت سی ضعیف روایات میں مردوں اور زندہ کی روحوں کے ملاقات کا ذکر اتا ہے
      http://www.islamic-belief.net/کتاب-الرویا-کا-بھید/

      لوگوں نے انہی ضعیف روایات سے آیات کی تفسیر کر دی ہے جس سے بہت تضاد جنم لیتا ہے اور یہاں تک کہ بعض علماء بد روحوں کے بھی قائل ہیں مثلا اہل حدیث عبد الرحمان کیلانی وغیرہ

      تفسیرالتفسير الحديث [مرتب حسب ترتيب النزول] المؤلف: دروزة محمد عزت میں اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها پر کہتے ہیں
      تعددت الأقوال والتأويلات التي أوردها المفسرون
      مفسرین سے اس سلسلے میں بہت سے اقوال اور تاویلات آئی ہیں

      پھر انہی اقوال کو جن کا ہم نے ذکر کیا وہ بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں
      وليس شيء من هذه التعريفات معزوا إلى النبي صلى الله عليه وسلم أو واردا في مساند الصحاح.
      ان کی تعریفات میں سے کوئی بھی نبی صلی الله علیہ وسلم سے منسوب نہیں ہے اور نہ ہی صحیح مصدر میں موجود ہیں

  8. shahzad khan says:

    بھائی جہاں تک میری سمجھ میں بات آئی ہے وہ یہ کہ یہود کا پروپکنڈہ یہ ہو سکتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا لوگوں کو قائل کیا جا سکے تاکہ جھوٹے مسیحوں کا راستہ صاف ہو جائے لیکن جب اس پر انہیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نا ہو سکی انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کی اکثریت احادیث رسول کا انکار کسی صورت نہیں کر سکتی تو یہود نے دجال کی آمد کا انکار کا عقیدہ پھیلانا شروع کر دیا کیونکہ جب امت مسلمہ میں دجال کی آمد کا انکار ہو جائے گا تو نزول عیسیٰ علیہ السلام کا تصور بھی معدوم ہو جائے گا ۔۔۔۔۔کیا ایسا ہی ہے یا کچھ اور وجہ ہو سکتی ہے

    • Islamic-Belief says:

      اپ جو کہا وہ
      Conspiracy Theory
      ہے -ایسا کہنے کا مقصد ہے کہ یہود اور منکرین حدیث کے روابط ہیں جس کی دلیل نہیں ہے

      البتہ اپ کو معلوم ہے سر سید نے دجال کا انکار کیا وہ معجزات کے منکر تھے اور ولادت مسیح بلا والد کے بھی قائل نہیں تھے
      اسی طرح غامدی صاحب کے شیخ مسلک حمید الدین فراہی بر صغیر میں جوزف ہوروفٹس کے ساتھ رہتے تھے اور شاید اسی یہودی سے انہوں نے عبرانی سیکھی تھی

      سترھویں اٹھارویں صدی میں مستشرقین میں اہم لوگ یہودی تھے اس کی وجہ عبرانی اور عربی کی مماثلت تھی مثلا
      Ignác (Yitzhaq Yehuda) Goldziher
      Theodor Nöldeke

      مستشرقین اسلام کے علاوہ یہودیت اور نصرانیت میں بھی ریفومرس چاہتے تھے- ان کے نزدیک یہ مذاھب یورپی ذہن سے میل نہیں کھاتے تھے
      ہم لوگ ہر وقت اسلام کی بات کرتے ہیں کہ مستشرقین نے اسلام پر یہ حملہ کیا وہ کیا -خود مغربی محققین کی جانب سے بھی اس کو چھپایا جاتا ہے کہ ان لوگوں نے توریت اور انجیل پر بھی اعتراضات کیے ہیں جس کو
      Higher Criticism
      کہا جاتا ہے

      خیال رہے کہ
      Orientalism
      یا استشراق
      سے مراد اسلام پر بحث نہیں ہے ان ادیان پر بحث ہے جو مشرق سے نکلے

      مستشرقین بہت سرور میں رہے ان کے نزدیک یورپی لوگ تمام دنیا پر قابض تھے تو مسیح کی کیا ضرورت رہی – ظاہر ہے مسیح موعود کی کوئی سیاسی ضرورت نہیں رہی تھی اس کو ایک یہودی خواب پارینہ سمجھا گیا جو مسلمانوں نے ان سے لیا- یہود کی تعداد بہت کم تھی – مسلمانوں کی بہت تھی لہذا ان میں ریفارم کی زیادہ ضرورت تھی لہذا انکار حدیث کا آغاز ہوا جس میں بعض یورپین متاثرین ہندوستانییوں نے اس کا آغاز کیا جن میں سر سید اور غلام احمد سر فہرست تھے

      یعنی اپ نے جو کہا اس کو اگر ١٠٠ یا ١٢٠ سال پہلے کے دور میں جا کر دیکھا جائے تو سمجھا جا سکتا ہے کہ انکار حدیث ایک ریفارم ہے جس کو شروع کیا گیا لیکن اس سے پہلے کہ اس پر کام مکمل ہوتا دنیا میں جنگ عظیم کا آغاز ہوا اور کام ادھورا رہ گیا
      تقسیم ہند کے بعد جو لوگ اس سوچ سے متاثر ہوئے تو عربی سے لا علم لوگ تھے لہذا وہ دین کے ماخذ تک نہیں جا سکتے تھے
      اس بنا پر انہوں نے جو کہا وہ سطحی سوچ کا حامل رہا مثلا علامہ پرویز کی کتب آوٹ پٹانگ اور بے ربط خیالات پر مشتمل ہیں
      اس کے علاوہ غلام جیلانی برق بھی اس قسم کے تھے

      کچھ مدرسوں والے بھی متاثریں میں تھے مثلا منکرین حدیث میں (علماء کے گمراہ بچے تھے مثلا) چکڑالوی یا تمنا عمادی وغیرہ نے مستشرقین کے لٹریچر سے ہی سرقه کر کے اپنی کتب میں مواد جمع کیا

      آج کل اسلام پر تحقیق کا انداز الگ ہے – جو اسکول اف تھاٹ اس وقت زوروں پر ہے اس کو
      Revisionist Historians
      کہا جاتا ہے
      اس گروپ کی اہم کتب ہیں
      Hagarism
      https://en.wikipedia.org/wiki/Hagarism
      اب اسی گروپ کے لوگ اسلام پر تحقیق میں چھائے ہوئے ہیں

      مسلمانوں میں اس گروہ کے خلاف کوئی کاونٹر تحقیق نہیں ہے کیونکہ وہ کبوتر کی طرح آنکھیں موند کر بیٹھے ہیں

  9. shahzad khan says:

    بھائی اک اور سوال جیسا کہ روایات میں ملتا ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال سے کے فتنے سے خبر دار کیا جبکہ کہتے ہیں کہ یہودی دجال کا انتظار کر رہے ہیں وہ اسے اپنا مسیحا سمجھتے ہیں ۔۔سوال یہ ہے کہ یہودی کس بنا پر دجال کو اپنا مسیحا سمجھتے ہیں

    • Islamic-Belief says:

      مسیح کا تصور اہل کتاب کے انبیاء کی کتب میں موجود ہے مثلا یسعیاہ یرمیاہ حزقی ایل ، زکریا وغیرہ ان تمام میں اس کا ذکر ہے
      یہ تصور ایک خواہش تھا جس کو الله نے پورا کیا ایک کنواری نے عیسیٰ کو جنا جیسا کہ کتاب یسعیاہ میں لکھا تھا
      لیکن یہود نے عیسیٰ کا انکار کیا کیونکہ انہوں نے علماء پر اعتراضات کیے- منحوس لوگوں نے ان پر ابن الله کا دعوی کرنے کا اور جادو کرنے کا الزام لگا کر رجم کا حکم کیا
      جس سے الله نے عیسیٰ علیہ السلام کو بچا لیا

      لہذا یہود کے نزدیک اصل مسیح ابھی تک نہیں آیا ہے- وہ دجال کو اپنا مسیحا نہیں کہتے یہ مسلمانوں نے مشہور کر رکھا ہے

  10. shahzad khan says:

    آپنے کہا کہ ایسا کہنے کا مقصد یہ ہوگا کہ یہود اور منکرین حدیث کے روابط ہو سکتے ہیں جبکہ اس کی دلیل نہیں ملتی ۔۔۔ لیکن ایسا ہونا بھی تو ممکن ہو سکتا ہے کہ یہود اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ان عقائد کا پرچار کر سکتے ہیں جیسا کہ اس کی مثال عثمان رضی کے دور میں عبداللہ ابن سبا کی صورت میں گزر چکی ہے جس کے لگائے گئے زخموں سے آج تک لہو رس رہا ہے اس امت کا

    • Islamic-Belief says:

      منکرین حدیث میں کوئی بھی شخص اتنی اہمیت نہیں لے سکا کہ وہ ان نظریات پھیلا سکے- یہ گروہوں میں بٹے ہوئے لوگ ہیں جن میں اتحاد نہیں ہے
      مثلا مصری منکرین حدیث اور بر صغیر کے منکرین حدیث کی باتوں میں اختلافات ہیں اگر ان سب کا رفع و نزول مسیح پر تقابل کیا جائے تو یہ سب ہم خیال نہیں ہیں بھانت بھانت کے خیالات ہیں

      میں نہیں سمجھتا کہ ایسا ہے جیسا اپ سمجھ رہے ہیں

  11. shahzad khan says:

    رفع کا لغوی معنی ہے کسی چیز کو بلند کرنا یا کسی چیز میں اضافہ کرنا مثال کے طور پر کسی کے درجات میں اضافہ ہوجانا، کسی کا تنخواہ زیادہ ہوجانا یا کسی کا گریڈ زیادہ ہوجانا یہ رفع کا لغوی معنی ہے۔ اس ایت میں ابراھیم علیہ السلام بیت اللہ کی دیواریں بلند کررہا ہے لیکن دیواریں اپنے بنیاد پر ہی قائیم ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ رفع اس بلندی کو کہتے ہے جو اپنا موجودہ جگہ نہ چھوڑے لیکن اس میں اضافہ ہوجائے۔

    عربی زبان میں کسی چیز کا زمین سے اوپر جانے اور اپنے موجودہ جگہ کو چھوڑنے کے لئے کبھی بھی رفع کا لفظ استعمال نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے صعود کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ صعود کا مطلب ہے کسی چیز کا اپنی موجودہ جگہ کو چھوڑ کر بلندی پر جانا مثال کے طور پر اگر ہم سیڑھیوں پر چڑھتے ہیں تو اس کو صعود کہتے ہے رفع نہیں کہتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ رفع کا ضد نزول نہیں ہے بلکہ نزول صعود کا ضد یعنی متضاد لفظ ہے۔ یعنی صعودا و نزولا۔ یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کے متضاد ہے رفع نزول کا متضاد بلکل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔جواب درکار ہے

    • Islamic-Belief says:

      رفع ابويه على العرش
      يوسف
      إس نے والدين کو عرش پر بلند کیا

      والدین نے اپنا مقام چھوڑا اور یوسف کے ساتھ تخت پر اوپر آ گئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *