عمرو بن العاص کی وصیت ٢

مصر میں بعض عمل جنازہ کے بعد کیے جاتے تھے جو حجاز میں اہل اسلام سے نہیں ملے تھے اس کا ذکر امام الشافعی نے کیا  – کتاب الام میں امام الشافعی لکھتے ہیں

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ قَالَ (قَالَ الشَّافِعِيُّ) : وَقَدْ بَلَغَنِي عَنْ بَعْضِ مَنْ مَضَى أَنَّهُ أَمَرَ أَنْ يُقْعَدَ عِنْدَ قَبْرِهِ إذَا دُفِنَ بِقَدْرِ مَا تُجْزَرُ جَزُورٌ (قَالَ) : وَهَذَا أَحْسَنُ، وَلَمْ أَرَ النَّاسَ عِنْدَنَا يَصْنَعُونَهُ 

الرَّبِيعُ نے خبر دی کہ امام الشافعی نے کہا مجھ تک پہنچا کہ جو لوگ گزرے ہیں ان میں سے بعض اس کا حکم کرتے تھے کہ  تدفین کے بعد قبر کے پاس اتنی دیر بیٹھا جائے کہ اس میں اونٹ ذبح ہو جائے امام الشافعی نے کہا یہ احسن ہے اور ہمارے پاس جو لوگ ہیں ہم نے نہیں دیکھا کہ  لوگ ایسا کرتے ہوں

عصر حاضر کے وہابی علماء اور ہمارے نزدیک یہ عمل بدعت ہے اور حق کا تقاضہ ہے کہ کوئی امام کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اس کی تقلید نہ کی جائے –  یہ عمل مصریوں کی ایک بدعت تھا اور اس کو سند جواز بھی انہوں نے ہی دیا لہذا مصریوں نے روایت بیان کی کہ اس قسم کی وصیت صحابی رسول عمرو بن العاص رضی الله عنہ نے کی

صحیح مسلم کی روایت ہے جس کا ترجمہ ابو جابر دامانوی نے کتاب عذاب قبر میں پیش کیا ہے

http://forum.mohaddis.com/threads/عذاب-قبر.25558/page-4

جناب ابن شماسہ المہری ؒ بیان کرتے ہیں کہ ہم جناب عمرو بن العاص ؓ کے پاس اس وقت گئے جب کہ ان کی وفات کا وقت قریب تھا وہ بہت دیر تک روتے رہے او ردیوار کی طرف منہ پھیر لیا۔بیٹے نے کہا ابا جان کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں فلاں بشارت نہیں دی؟ پھر آپ اس قدر کیوں روتے ہیں ؟ تب انہوں نے اپنا منہ ہمارے طرف کیا اور فرمایا ہمارے لئے بہترین توشہ تو اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں (پھر فرمایا) میں تین ادوار سے گزرا ہوں۔ایک دور تو وہ تھا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی سے بغض نہ تھا اور کوئی چیز میری نظر میں اتنی محبوب نہ تھی جتنی یہ بات کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قدرت حاصل ہو جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر ڈالوں (معاذ اللہ)پھر دوسرا دور وہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کا خیال میرے دل میں پیدا کیا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ہاتھ پھیلائیے تا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پربیعت کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ پھیلایا تو میں نے اپناہاتھ کھینچ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمرو کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کیا میں شرط رکھنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا شرط ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ شرط یہ ہے کہ میرے سابقہ گناہ معاف ہو جائیں۔ فرمایا عمروؓ کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام تمام سابقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور ہجرت تمام پہلے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے اور حج تمام گناہوںکو مٹا دیتا ہے (چنانچہ میں نے بیعت کر لی) اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مجھے کسی سے محبت نہ تھی اور نہ میری آنکھوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی صاحب جلال تھا۔میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و جلال کے باعث آنکھ بھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکتا تھا اور چونکہ پورے طور پر چہرہ مبارک نہ دیکھ سکتا تھا اس لئے مجھ سے ان کا حلیہ دریافت کیا جائے تو میں بیان نہیں کر سکتا۔ اگر میں اسی حالت میں مر جاتا تو امید تھی کہ جنتی ہوتا۔اس کے بعد ہم بہت سی باتوں کے ذمہ دار بنائے گئے۔ معلوم نہیں میرا ان میں کیا حال رہے گا۔جب میں مر جائوں تو کوئی نوحہ کرنے والی میرے ساتھ نہ جائے اور نہ آگ ساتھ لے جائی جائے اور جب مجھے دفن کرنا تو اچھی طرح مٹی ڈال دینا پھر میری قبر کے چاروں طرف اتنی دیر کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کیا جائے اور اس کا گوشت تقسیم کیا جائے تا کہ میں تم سے انس حاصل کر سکوں اور دیکھوں کہ اپنے رب کے فرشتوں کو کیا جواب دیتا ہوں۔( صحیح مسلم جلد ۱ص۷۶ مسند احمد جلد ۴ ص۱۹۹)

عصر حاضر کے ایک مشھور و معروف  وہابی عالم شیخ   محمد بن صالح العثيمين اپنے فتوی میں کہتے ہیں جو  مجموعة أسئلة تهم الأسرة المسلمة  ج ٢١٩ ص ٣٥ میں چھپا ہے کہ

هذا أوصى به عمرو بن العاص ـ رضي الله عنه ـ فقال: «أقيموا حول قبري قدر ما تنحر جزور ويقسم لحمها»، لكن النبي صلى الله عليه وسلم لم يرشد إليه الأمة، ولم يفعله الصحابة ـ رضي الله عنهم ـ فيما نعلم

 یہ عمرو بن العاص ـ رضي الله عنه نے وصیت کی پس کہا میری قبر کے اطراف اتنی دیر کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کیا جائے اور اس کا گوشت تقسیم کیا جائے .. لیکن نبی صلی الله علیہ وسلم نے نہ ہی اسکی نصیحت امت کو کی، نہ صحابہ رضی الله تعالی عنہم نے ایسا کیا  جیسا ہمیں پتا ہے

کتاب  شرح رياض الصالحين  میں وہابی عالم  محمد بن صالح بن محمد العثيمين (المتوفى: 1421هـ)   مزید وضاحت کرتے ہیں

 أما ما ذكره رحمه الله عن عمرو بن العاص رضي الله عنه أنه أمر أهله أن يقيموا عنده إذا دفنوه قدر ما تنحر جزور قال لعلي أستأنس بكم وأنظر ماذا أراجع به رسل ربي يعني الملائكة فهذا اجتهاد منه رضي الله عنه لكنه اجتهاد لا نوافقه عليه لأن هدي النبي صلى الله عليه وسلم أكمل من هدي غيره ولم يكن النبي صلى الله عليه وسلم يقف أو يجلس عند القبر بعد الدفن قدر ما تنحر الجزور ويقسم لحمها ولم يأمر أصحابه بذلك 

اور جہاں تک وہ ہے جو امام نووی .. نے عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے لئے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اپنے اہل کو حکم کیا کہ وہ دفنانے کے بعد قبر کے گرد کھڑے ہوں اور اونٹ کو ذبح کرنے کی مدت کھڑے ہوں اور کہا کہ ہو سکتا ہے کہ میں مانوس ہو جائیں اور دیکھوں کہ کیا جواب دوں اپنے رب کے فرشتوں کو پس یہ ان کا اجتہاد تھا رضی الله عنہ لیکن یہ اجتہاد اس پر نہیں ہے کیونکہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی ہدایت اکمل ہدایت ہے کسی غیر سے اور نبی صلی الله علیہ وسلم تو نہ قبر پر رکے نہ بیٹھے قبر میں دفنانے کے بعد اونٹ نحر کرنے اور گوشت باٹنے کی مدت اور نہ اس کا حکم اصحاب رسول کو کیا اس کام کے لئے 

اسی طرح فتاوى نور على الدرب میں عبد العزيز بن عبد الله بن باز (المتوفى: 1420هـ)   کہتے ہیں

 أما كونهم يجلسون قدر ما تنحر جزور ويقسم لحمها فهذا من اجتهاد عمرو وليس عليه دليل

ان کے لئے قبر کے گرد اس قدر پیٹھنا کہ اس میں اونٹ نحر ہو اور اس کا گوشت تقسیم ہو تو یہ عمرو کا اجتہاد ہے اس اس پر کوئی دلیل نہیں 

وہ علماء جنہوں نے عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے منسوب  اس وصیت کے آخری الفاظ پر جرح کی ہے ان کے متعلق ابو جابر دامانوی کتاب عذاب قبر میں لکھتے ہیں کہ یہ روافض جیسے ہیں

http://forum.mohaddis.com/threads/عذاب-قبر.25558/page-4

شیعہ (روافض) توویسے ہی عمرو بن العاصؓ سے خا ر کھائے بیٹھے ہیں اوروہ ان سے سخت بغض و عداوت رکھتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ موصوف نے بھی روپ بدل کر اور تقیہ کالباس اوڑھ کر یہ سلسلہ شروع کر دیا ہو اور عمرو ؓ دشمنی کو توحید کا نام دے دیا ہو

مزید کہتے ہیں

عمرو بن العاص ؓ نے جو کچھ فرمایا اس کا ایک ایک لفظ احادیث سے ثابت ہے

دامانوی وہ الفاظ جو نزاع کا باعث ہیں ان کو چھوڑ کر ان روایات کو پیش کرتے ہیں جن پر ہمیں اور وہابی علماء کو  اعتراض نہیں بلکہ روایت کے آخری حصہ کو وہابی علماء بدعت قرار دیا ہے  – لیکن ابو جابر کہتے ہیں

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ عمرو بن العاصؓ کی وصیت بالکل صحیح تھی۔

دامانوی مزید کہتے ہیں

اگر عمرو بن العاصؓ نے سکرات موت میں غلط وصیت کی تھی تو ان کے صاحبزادے جناب عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ (جو خود ایک جلیل القدر اور عابد و زاہد صحابی ؓ ہیں ) کو ضرور اس غلط بات کی تردید کرنا چاہئے تھی مگر ایسا نہیں کیا گیا

افسوس اس جھل صریح پر کیا لب کشائی کریں ضروری نہیں کہ روایات میں ہر چیز ہو – کیا ان کے بیٹوں نے اس پر عمل کیا؟ اس کی روایت ہے کسی کے پاس ؟

اس روایت کو کتاب الزهد والرقائق لابن المبارك ، مسند امام احمد، مستدرک الحاکم  میں بیان کیا گیا ہے بعض میں متن ہے

 وَلَا تَجْعَلَنَّ فِي قَبْرِي خَشَبَةً وَلَا حَجَرًا، فَإِذَا وَارَيْتُمُونِي فَاقْعُدُوا عِنْدِي قَدْرَ نَحْرِ جَزُورٍ وَتَقْطِيعِهَا، أَسْتَأْنِسْ بِكُمْ

سند ہے

أَخْبَرَكُمْ أَبُو عُمَرَ بْنُ حَيَوَيْهِ، وَأَبُو بَكْرٍ الْوَرَّاقُ قَالَا: أَخْبَرَنَا يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ،

یہاں سند میں ابْنُ لَهِيعَةَ سخت ضعیف ہے اور یہ روایت عبادلہ  سے نہیں ہے یہ بھی مصری ہیں اور يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ اور عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ بھی مصری ہیں

 ابن سعد 4/258-259، ومسلم (121) (192) ، وابن أبي عاصم في “الآحاد والمثاني” (801) ، وابن خزيمة (2515) ، وأبو عوانة 1/70، وابن منده في “الإيمان” (270) ، والبيهقي 9/98، وابن عساكر 3/ورقة 534 من طريق حيوة بن شريح، عن يزيد بن أبي حبیب

امام مسلم نے اس کی سند دی ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ

اس میں ابو عاصم النبیل  سے لے کر ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ تک سب مصری ہیں اس میں ابو عاصم النبیل خود امام احمد کے نزدیک یثبج الحدیث (یعنی حدیث کو مضطرب کرنے والا) ہے

یہ اس روایت کی علت ہے کہ اس کو اہل مصر روایت کرتے ہیں تدفین کے بعد اس عمل کا کوئی اور شہر ذکر نہیں کرتا جبکہ اونٹ سب جگہ ہیں- نہ اس پر کوئی اور صحابی عمل کرتا ہے لہذا اس منفرد عمل پر شک ہوتا ہے کہ ایسا مصریوں نے کیوں روایت کیا کہ چار چار گھنٹے تک قبر کے گرد ہی بیٹھا جائے

اب  اس روایت میں الفاظ پر غور کرتے ہیں اور اردو ترجمے  دیکھتے ہیں

دیوبندی غلام رسول سعیدی کا ترجمہ اور شرح

اہل حدیث وحید الزمان کا ترجمہ

اہل حدیث خواجہ محمد قاسم کا ترجمہ

اہل حدیث صادق سیالکوٹی کا ترجمہ

آج کل اہل حدیث کہتے ہیں مردہ صرف جوتوں کی چاپ سنتا ہے جبکہ پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ مردہ اذکار و استغفار سنتا ہے

اہل حدیث ابو سعید سلفی کا ترجمہ

قارئیں اپ ان ترجموں کا تضاد دیکھ سکتے ہیں

الفاظ

وخشت سے بچ جاؤں

تنہائی میں گھبرا جاؤں

سرے سے متن میں ہیں ہی نہیں

اس روایت سے کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مردہ اتنا پاور فل ہوتا ہے قبر کے باہر لوگوں سے انس حاصل کر سکتا ہے اور ان کو دیکھ کر جواب بھی دیتا ہے؟ یقینا یہ روایت صحیح نقل نہیں ہوئی

مسند احمد میں ہے فَاقْعُدُوا عِنْدِي قَدْرَ نَحْرِ جَزُورٍ وَتَقْطِيعِهَا، أَسْتَأْنِسْ بِكُمْ کہ میری قبر یا میرے گرد حلقہ بنا کر بیٹھ جانا اس قدر تک کہ اس میں اونٹ ذبح ہو اور  کٹے اور بٹے یہاں تک کہ میں انسیت حاصل کروں

اونٹ ذبح ہو اور  کٹے اور بٹے اس میں تین چار گھنٹے تو لگ ہی جائیں گے گویا فرشتوں کے  مختصر سوالات

تمہارا رب کون ہے؟

تمہاری اس شخص (نبی صلی الله علیہ وسلم) پر کیا رائے ہے ؟

پر بیرونی دنیا سے اہل قبور کا انسیت حاصل کرنا فائدہ مند نہیں ہو سکتا جبکہ الله تو سریع الحساب ہے

عمرو بن العاص رضی الله تعالی عنہ کی روایت کے الفاظ کا ترجمہ کیا جاتا ہے

حتى أستأنس بكم، وأنظر ماذا أراجع به رسل ربي ))یعنی میری قبر پر اتنی دیر کھڑے رہنا تاکہ تمہاری دعا ء واستغفار سے مجھے قبر میں وحشت نہ ہو اور میں فرشتوں کو صحیح جواب دے سکوں ۔۔

حالانکہ أستأنس  کا یہ ترجمہ صحیح نہیں أستأنس کا مطلب مانوس ہونا ہی  ہے  أستأنس کا ترجمہ تمہاری دعا ء واستغفار سے مجھے قبر میں وحشت نہ ہو کرنا غلط ہے

بخاری کی عبدللہ بن سلام سے متعلق حدیث ہے

 قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فِي نَاسٍ، فِيهِمْ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فِي وَجْهِهِ أَثَرٌ مِنْ خُشُوعٍ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزُ فِيهِمَا، ثُمَّ خَرَجَ فَاتَّبَعْتُهُ، فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ، وَدَخَلْتُ، فَتَحَدَّثْنَا، فَلَمَّا اسْتَأْنَسَ قُلْتُ لَهُ

قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ کہتے ہیں کہ میں مدینہ میں لوگوں کے ساتھ تھا بعض ان میں اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم بھی تھے پس ایک شخص آیا جس کے چہرے پر خشوع تھا لوگوں نے کہا یہ اہل جنت میں سے ہے …. (اس کے بعد قیس عبدللہ بن سلام سے ملے) حتی کہ وہ (أستأنس)  مانوس ہوئے

صحیح رائے یہی ہے کہ عمرو بن العاص رضی الله عنہ کی وصیت کی روایت شاذ ہے اس میں اہل مصر کا تفرد ہے اور اس کا متن  نصوص سے متصادم ہے

طبقات ابن سعد اور سیر الاعلام النبلاء  میں عمرو بن العاص رضی الله عنہ کی وفات کا ذکر موجود ہے

إِسْرَائِيْلُ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بنِ المُخْتَارِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بنِ قُرَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَرْبٍ بنُ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بنِ عَمْرٍو:
أَنَّ أَبَاهُ أَوْصَاهُ: إِذَا مِتُّ، فَاغْسِلْنِي غَسْلَةً بِالمَاءِ، ثُمَّ جَفِّفْنِي فِي ثَوْبٍ، ثُمَّ اغْسِلْنِي الثَّانِيَةَ بِمَاءٍ قَرَاحٍ، ثُمَّ جَفِّفْنِي، ثُمَّ اغْسِلْنِي الثَّالِثَةَ بِمَاءٍ فِيْهِ كَافُوْرٌ، ثُمَّ جَفِّفْنِي، وَأَلْبِسْنِي الثِّيَابَ، وَزِرَّ عَلَيَّ، فَإِنِّي مُخَاصَمٌ.
ثُمَّ إِذَا أَنْتَ حَمَلْتَنِي عَلَى السَّرِيْرِ، فَامْشِ بِي مَشْياً بَيْنَ المِشْيَتَيْنِ، وَكُنْ خَلْفَ الجَنَازَةِ، فَإِنَّ مُقَدَّمَهَا لِلْمَلاَئِكَةِ، وَخَلْفَهَا لِبَنِي آدَمَ، فَإِذَا أَنْتَ وَضَعْتَنِي فِي القَبْرِ، فَسُنَّ عَلَيَّ التُّرَابَ سَنّاً.
ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَمَرْتَنَا فَأَضَعْنَا، وَنَهَيْتَنَا فَرَكِبْنَا، فَلاَ بَرِيْءٌ فَأَعْتَذِرَ، وَلاَعَزِيْزٌ فَأَنْتَصِرَ، وَلَكِنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ.
وَمَا زَالَ يَقُوْلُهَا حَتَّى مَاتَ

 شعيب الأرناؤوط کہتے ہیں اس کی  سند قوی ہے

 إسناده قوي، وهو في ” طبقات ابن سعد ” 4 / 260، و” ابن عساكر ” 13 / 269 / آ.

عبد الله بن عمرو کہتے ہیں میرے باپ نے وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے پانی سے غسل دینا پھر .. پھر جب مجھ کو کھاٹ پر لے کر چلو … میرے جنازے کے پیچھے رہنا اس اس اگلا فرشتوں کے لئے ہے اور پچھلا بنی آدم کے لئے ہے پس جب قبر میں رکھو تو مجھ پر مٹی ڈالنا پھر کہا اے الله تو نے حکم کیا ہم کمزور ہوئے تو نے منع کیا ہم اس کی طرف گئے میں بے قصور نہیں کہ معذرت کر سکوں میں طاقت والا نہیں کہ نصرت والا ہوں لیکن اے الله تیرے سوا کوئی اله نہیں ہے اور وہ یہ کہتے رہے یہاں تک کہ مر گئے

اس روایت میں وہ اختلافی و بدعتی  الفاظ سرے سے نہیں جو صحیح مسلم کی روایت میں ہیں

تفصیل کے لئے دیکھئے

⇓ عمرو بن العاص کی وصیت  کو وہابی عالم  ابن العثيمين  نے بدعت کہا ہے ایسا کیوں؟

حیات بعد الموت

This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

4 Responses to عمرو بن العاص کی وصیت ٢

  1. خاور says:

    صحیح مسلم کی حدیث میں الفاظ ہیں

    عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ

    اور ڈاکٹر عثمانی نے لکھا ہے

    وَهُوَ فِي سِيَاقَ الْمَوْتِ

    • Islamic-Belief says:

      جی اپ نے صحیح کہا ڈاکٹر عثمانی نے وہ الفاظ نقل نہیں کیے جو صحیح مسلم کے اس نسخہ کے تھے جو امام النووی کے پاس تھا بلکہ قدم نسخہ کے الفاظ نقل کیے ہیں

      یہ الفاظ کتاب مشكاة المصابيح از محمد بن عبد الله الخطيب العمري، أبو عبد الله، ولي الدين، التبريزي (المتوفى: 741هـ) میں ہیں

      وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ لِابْنِهِ وَهُوَ فِي سِيَاقِ الْمَوْتِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ وَلَا نَارٌ فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا يُنْحَرُ جَزُورٌ وَيُقَسَّمُ لَحْمُهَا حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ وَأَعْلَمَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي. رَوَاهُ مُسلم

      احادیث کی تخریج کی کتاب جامع الأصول في أحاديث الرسول از مجد الدين أبو السعادات المبارك بن محمد بن محمد بن محمد ابن عبد الكريم الشيباني الجزري ابن الأثير (المتوفى : 606هـ) میں الفاظ ہیں
      – (م) عبد الرحمن بن شماسة المهدي – رحمه الله -: قال: «حضرنا عمرو بن العاص [وهو] في سِياقِ الموت، فبكى طويلاً، وحول وجهه إلى الجدار
      ابن اثیر کے مطابق بھی صحیح مسلم میں الفاظ ہیں سیاق الموت

      کتاب جمع الفوائد من جامع الأصول ومجمع الزَّوائِد از محمد بن محمد بن سليمان بن الفاسي بن طاهر السوسي الردواني المغربي المالكي (المتوفى: 1094هـ) کے مطابق صحیح مسلم کی اس حدیث کے الفاظ ہیں
      عبد الله بن شماسة المهري: حضرنا عمرو بن العاص وهو في سياق الموت فبكى طويلًا وحوَّل وجهه إلى الجدار فجعل ابنه يقول: ما يبكيك يا أبتاه؟ أما بشرك

      معلوم ہوا کہ ہے قدیم نسخوں سیاقه الموت کی بجائے سیاق الموت بھی لکھا تھا

      سیاق الموت یا سیاقه الموت میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے

      شرح صحیح مسلم از النووی میں ہے
      وَأَمَّا أَلْفَاظُ مَتْنِهِ فَقَوْلُهُ (فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ) هُوَ بِكَسْرِ السين أى حال حضور الموت
      اور متن کے الفاظ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ … یعنی موت کے حاضر ہونے کے حال پر تھے

      مبارکپوری اہل حدیث کتاب مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابي میں لکھتے ہیں
      يقال: ساق المريض نفسه وسيق إذا شرع في نزع الروح.
      یہ نزع الروح کا وقت ہے

      یہی مفہوم عربی لغت میں لکھا ہے جس کا ذکر الدكتور موسى شاهين لاشين کتاب فتح المنعم شرح صحيح مسلم میں کرتے ہیں
      وفي القاموس: ساق المريض شرع في نزع الروح.

      محمد الأمين بن عبد الله الأُرَمي العَلَوي الهَرَري الشافعي کتاب الكوكب الوهاج شرح صحيح مسلم میں کہتے ہیں
      أن عمرًا (في سياقة الموت) أي في سكرة الموت وحضور مقدماته
      عمرو سیاق الموت میں تھے یعنی سکرات الموت میں تھے اس کے مقدمات کی حاضری پر

      اس حال میں زبان صحابی سے جو کلام ادا ہوا اس کو علماء نے بدعت قرار دیا ہے جس میں محمد بن صالح العثيمين بھی ہیں
      خواجہ محمد قاسم کراچی کا عثمانی مذھب میں لکھتے ہیں عمرو بن العاص کا خیال صحیح نہیں تھا

  2. خاور says:

    واقعہ قرطاس میں بعض نے کہا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ذات الجنب بیماری ہوئی؟

    • Islamic-Belief says:

      شرح صحيح البخارى لابن بطال میں ہے کہ دوا پلانے والے واقعہ میں یہ ہوا
      وقد جاء هذا المعنى فى رواية ابن إسحاق عن الزهرى، عن عبد الله بن كعب بن مالك (أنهم لدوا النبى عليه السلام فى مرضه، فلما أفاق قال: لم فعلتم ذلك؟ قالوا خشينا يارسول الله أن تكون بك ذات الجنب
      اس معنی کی روایت ابن اسحاق نے امام الزہری سے انہوں نے عبد الله بن كعب بن مالك سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دوا دی مرض وفات میں پس جب افاقہ ہوا تو فرمایا تم لوگوں نے ایسا کیوں کیا ؟ اصحاب رسول نے کہا ہم ڈر رہے تھے یا رسول الله کہ کہیں اپ کو ذات الجنب بیماری تو نہیں ہوئی

      مسند احمد میں ہے
      فظننا أن به ذات الجنب فلددناه
      عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا ہم نے گمان کیا کہ اپ صلی الله علیہ وسلم کو ذات الجنب ہوئی پس ہم نے دوا دی
      شعيب الأرنؤوط کہتے ہیں اسناد حسن ہیں یہی قول حسين سليم أسد کا مسند ابویعلی پر تحقیق پر ہے

      مستدرک الحاکم میں بھی ہے
      وَفَزِعَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَظَنَنَّا أَنَّ بِهِ ذَاتَ الْجَنْبِ فَلَدَدْنَاهُ
      تلخيص المستدرک میں الذهبي نے اسی روایت کو صحیح کہا ہے

      صحیح ابن حبان میں ہے
      فَقَالُوا: كُنَّا نَتَّهِمُ بِكَ ذَاتَ الْجَنْبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ
      اصحاب رسول اور اسماء بِنْتُ عُمَيْسٍ نے کہا ہم نے اپ کے لئے ذات الجنب کا خیال کیا

      نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس سے انکار کیا لیکن سوال یہ ہے کہ اصحاب رسول کو یہ خیال کیوں پیدا ہوا کہ اپ صلی الله علیہ وسلم کو یہ بیماری ہو سکتی ہے ؟

      خیال رہے کہ اصحاب رسول جو دوا پلا رہے تھے ان میں سے کسی کا گمان نہیں تھا کہ یہ مرض وفات ہو سکتا ہے وہ اس کو ایک وقتی بیماری سمجھ رہے تھے جس کا علاج کرنے کی انہوں نے بلا حکم نبوی جسارت کی

      ========
      ذات-الجنب سے مراد
      http://www.almaany.com/en/dict/ar-en/ذات-الجنب/
      pleurisy
      ہے

      اس بیماری میں کیا ہوتا اس کو اپ خود کتابوں میں دیکھ سکتے ہیں ڈاکٹروں سے پوچھ سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *