دين میں عقل و فکر کی اہمیت

 کیا عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے ؟

اسلام کو دین فطرت کہا جاتا ہے – نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

ما مِنْ موْلودٍ إلا يولَدُ على الفِطرةِ

ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے

فطرت انسان میں  جبلی قوت دی گئی ہیں ان میں حواس خمسہ رکھے گئے ہیں – جس میں قرآن میں بار بار سمع و الابصار کا ذکر ہے کہ مشرک اس کو استمعال نہیں کرتے اور اس کی وجہ قرآن کہتا ہے کہ یہ اندھے نہیں ان کے دل اندھے ہیں- یعنی جو لوگ الله کی دی ہوئی نعمتوں کو حق کی تلاش کے لئے استمعال نہیں کرتے ان کے قلوب پر زنگ آ جاتا ہے وہ اگرچہ آنکھوں سے بینا ہیں لیکن ان میں عقل و سمجھ مفقود ہے لہذا قرآن میں الله تبارک و تعالی کہتے ہیں

فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ   النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ

یہ الله کی (دی ہوئی) فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو خلق کیا ہے ، الله کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں

یعنی ہر انسان اس فطرت پر پیدا ہو رہا ہے جس میں تعقل و فکر کر کے وہ الله کو پا سکتا ہے

هود عليه السلام نے اپنی قوم سے کہا جب انکی قوم نے گمراہی پر اصرار کیا

قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ

 بلا شبہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے رجس و غضب واقع ہو چکا ہے

سوره الانعام میں کہا

فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ كَذَلِكَ يَجْعَلُ اللَّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ

پس الله جس کو ہدایت دینے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھولتا ہے اور جس کو گمراہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے اس کے سینے کو گھٹتا ہوا تنگ کرتا ہے  گویا کہ وہ آسمان کی طرف جا رہا ہو – اس طرح الله گندگی ڈالتا ہے ان پر جو ایمان نہیں لاتے

سوره یونس میں کہا

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ (100)

اور نفس کے لئے نہیں ہے کہ ایمان لائے سوائے الله کے اذن سے اور وہ گندگی ڈالتا ہے ان پر جو عقل سے کام نہیں لیتے

یعنی عقل استمعال نہ کرنے کی وجہ سے جب و فطرت سے ہٹے تو الله نے ان پر رجس یا گندگی ڈال دی جس نے ان کو قبر پرستی اصنام پرستی اکابر پرستی کی لعنت میں مبتلا کیا اور وہ اس کے جواز کے فتوے دینے لگے اس میں کتاب الله اور حدیث کا درس دینے والے بھی تھے لیکن الله نے اہل کتاب کے علماء کے لئے کہا کہ ان پر گدھوں کی طرح کتابیں لدھی ہیں ان کو پڑھتے ہیں لیکن رجس سے نہیں نکل پا رہے –  عقل و فراست ہی تفقہ فی الدین ہے کہ روایت کو آگے کرنے حدثنا و اخبرنا کہنے والے تو بہت ہیں لیکن رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے مطابق اس  میں تفقہ ہر ایک کے بس کا روگ نہیں ہے

عقل کتنی بے کار شی ہے اس پر ارشد کمال کتاب عذاب قبر ص ١٨٢ میں لکھتے ہیں

aqel-baykar

یقینا  رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا فہم و فراست سب سے بلند ہے لیکن کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ  کی آراء یا سلمان فارسی کی آراء یا اذان  کے سلسلے میں اصحاب رسول کی آراء نہیں سنیں- پھر ایک حدیث ضعیف ہو یا موضوع  ہو اور اپ لوگ مسلسل اصرار کرتے رہیں کہ یہی فہم دین ہے تو یہ سب ہم ماننے سے رہے

صحیح بخاری تک کی احادیث پر محدثین اعتراض کرتے رہے ہیں مثلا کتاب التوحید صحیح بخاری کی معراج کی روایت ہے جس کا راوی شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ  ہے

الذھبی میزان میں کہتے ہیں

ووهاه ابن حزم لاجل حديثه في الاسراء

ابن حزم نے اسکو ضعیف قرار دیا  ہے اس کی حدیث معراج کی وجہ سے

تاریخ الاسلام میں الذھبی کہتے ہیں

وَهُوَ رَاوِي حَدِيثَ الْمِعْرَاجِ وَانْفَرَدَ فِيهِ بِأَلْفَاظٍ غَرِيبَةٍ

اور یہ راوی ہے حدیث معراج کا جس میں یہ منفرد ہے اور اس کے الفاظ عجیب و غریب ہیں

سیر الاعلام النبلاء  میں الذھبی  کہتے ہیں

وَفِي حَدِيْثِ الإِسْرَاءِ مِنْ طَرِيْقِه أَلْفَاظٌ، لَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهَا، وَذَلِكَ فِي صَحِيْحِ البُخَارِيِّ

اور معراج والی حدیث میں جو الفاظ ہیں انکی متابعت کوئی نہیں کرتا اور یہ صحیح البخاری میں ہے

یعنی غرابت کی وجہ سے اس روایت کو علماء رد کر رہے ہیں

اسی طرح صحیح بخاری کی روایت ہے

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ، فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ، فَيَبْقَى كُلُّ مَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِيَاءً وَسُمْعَةً، فَيَذْهَبُ لِيَسْجُدَ، فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا»

سعید بن ابی ہلال روایت کرتا ہے زید بن اسلم سے وہ عطا سے وہ ابی سعید سے کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو سنا انہوں نے فرمایا ہمارا رب اپنی پنڈلی ظاہر کرے گا

قرآن میں آیت يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ [القلم: 42]  جس روز پنڈلی کھل جائے گی –  عربی زبان کے علماء کے مطابق یہ الفاظ شدت وقوعہ میں بولے جاتے ہیں کہ محشر میں سختی ہو گی-  مصطفی البغاء تعلیق صحیح بخاری میں لکھتے ہیں

هذا الكلام عبارة عن شدة الأمر يوم القيامة للحساب والجزاء والعرب تقول لمن وقع في أمر يحتاج إلى اجتهاد ومعاناة شمر عن ساقه وتقول للحرب إذا اشتدت كشفت عن ساقها

یہ کلام عبارت ہے روز محشر کی شدت سے حساب اور جزا  کی وجہ سے اور عرب ایسا کہتے ہیں اس کام کے لئے جس میں اجتہاد ہو…  اور جنگ کے لئے کہتے ہیں جب یہ شدت اختیار کرے گی تو  پنڈلی کھل جائے گی

لیکن بعض علماء نے اس روایت کو صحیح سمجھتے ہوئے پنڈلی کو الله کی صفت ذات بنا دیا

ابن الملقن سراج الدين أبو حفص عمر بن علي بن أحمد الشافعي المصري (المتوفى: 804هـ) نے کتاب  التوضيح لشرح الجامع الصحيح میں لکھا

هذا يدل -والله أعلم- أن الله تعالى عرف المؤمنين على ألسنة الرسل يوم القيامة أو على ألسنة الملائكة المتلقين لهم بالبشرى، أن الله تعالى قد جعل لكم علامة تجليه لكم الساق

اور یہ دلیل ہے کہ و الله اعلم … کہ الله تعالی   تمہارے لئے ایک علامت کرے گا کہ تجلی  کرے گا پنڈلی کی

ابن جوزی اپنی کتاب دفع  شبه ألتشبھة  میں لکھتے ہیں کہ قاضی ابو یعلی نے اس قسم کی روایات سے یہ نکالا کہ الله کی پنڈلی اس کی صفت ذات ہے

ابن جوزی -ساق

یہاں تک کہ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں

وَوَقَعَ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فَأَخْرَجَهَا الْإِسْمَاعِيلِيُّ كَذَلِكَ ثُمَّ قَالَ فِي قَوْلِهِ عَنْ سَاقِهِ نَكِرَةٌ ثُمَّ أَخْرَجَهُ مِنْ طَرِيقِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِلَفْظ يكْشف عَن سَاق قَالَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ هَذِهِ أَصَحُّ لِمُوَافَقَتِهَا لَفْظَ الْقُرْآنِ فِي الْجُمْلَةِ لَا يُظَنُّ أَنَّ اللَّهَ ذُو أَعْضَاءٍ وَجَوَارِحٍ لِمَا فِي ذَلِكَ مِنْ مُشَابَهَةِ الْمَخْلُوقِينَ تَعَالَى اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْء

اور صحیح بخاری میں اس مقام پر ہے يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ کہ ہمارا رب اپنی پنڈلی کو کھولے گا اور یہ روایت ہے سعید بن ابی ہلال کی عن زید بن اسلم کی سند سے پس اس کی تخریج کی ہے الْإِسْمَاعِيلِيُّ نے اسی طرح پھر کہا ہے اپنی پنڈلی پر یہ نَكِرَةٌ ہے پھر اس کی تخریج کی حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ  کے طرق سے  اور الفاظ ہیں يكْشف عَن سَاق اور الْإِسْمَاعِيلِيُّ نے کہا یہ زیادہ صحیح ہے جو قرآن کی موافقت میں ہے فی جملہ – نا گمان کرو کہ الله   أَعْضَاءٍ وَجَوَارِحٍ  والا ہے  کیونکہ یہ مخلوق سے مشابہت کا قول ہے الله تعالی اس سے بلند ہے  اس کے مثل کوئی چیز نہیں ہے

یعنی صحیح بخاری کی اس روایت کا متن صحیح نقل نہیں ہوا اس متن میں سعید بن ابی ہلال نے غلطی کی

ارشد کمال کتاب عذاب القبر میں  لکھتے ہیں

ڈاکٹر عثمانی ارشد

ڈاکٹر عثمانی نے صحیح بخاری کی کسی روایت کو اپنی کتابوں میں ضعیف نہیں کہا بلکہ جہاں تک ممکن ہوا بظاہر متصادم روایات کی انہوں نے  تاویل کی ہے لیکن ان سے قبل انے والے علماء  اس مقام پر نہیں رکے بلکہ کھل کر صحیح کی روایت کو غلط بھی کہا جس کی سر دست دو مثالیں اوپر دی ہیں

امت میں قبر پرستی کو سند جواز دینے والے علماء نے آج یہ لکھنا شروع کر دیا ہے کہ دینی معاملات میں عقل کو معیار نہیں بنایا جا سکتا – تشابھت قلوبھم – ان کے اور اہل کتاب کے علماء کی تان یہیں آ کر ٹوٹی کہ اگر ہم غور و فکر کریں تو علمانے اسباط یا سلف  کے  اقوال غلط ہو جاتے ہیں – اسی فرقہ پرستی سے دین میں منع کیا گیا تھا کہ جب حق عقل و فکر کے میزان میں کتاب الله کی  تائید  میں آ جائے تو پھر اس کو قبول کر لینا چاہیئے

اس قبیل کے علمائے سوء کی جانب سے علی رضی الله کا ایک قول پیش کیا جاتا ہے

علی رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ دین کا دارومدار رائے (اور عقل) پر ہوتا تو موزوں کے نیچے مسح کرنا بہتر ہوتا اوپر مسح کرنے سے اور بلاشبہ میں نے دیکھا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم موزوں کے اوپر مسح کیا کرتے تھے۔(رواہ ابو دائود‘والدارمی معناہ ‘ مشکوٰۃ ص ۵۴

ہم کہتے ہیں  کیا رائے ہمیشہ عقل سے نکلتی ہے ؟ رائے تو نصوص سے بھی اتی ہے اور عقل و فکر سے دانش سے فقہ سے سب سے اتی ہے – یہ قول سنن دارمی  اور ابی داود کا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ لَكَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلَى بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلَاهُ، وَقَدْ «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِ خُفَّيْهِ

رائے کا لفظ صحابہ کے دور میں مستعمل نہیں تھا لہذا یہ متن منکر ہے اس میں ابی اسحاق ہے جو مدلس ہے عن سے روایت کر رہا ہے-  اس کی سند میں  الأعمش ہے جو مدلس ہے عن سے روایت کر رہا ہے

العلل دارقطنی میں اس روایت کی اسناد و متن پر بحث ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رائے کا لفظ الاعمش کی سند میں ہے
وَاخْتَلَفُوا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ فَقَالَ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ فِيهِ لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ لَكَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلَى بِالْمَسْحِ.
وَقَالَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ فِيهِ كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ أَعَلَاهُمَا
وَتَابَعَهُمَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَإِسْرَائِيلُ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
وَالصَّحِيحُ مِنْ ذَلِكَ قَوْلُ مَنْ قَالَ: كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْخُفَّيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلَاهُمَا.

لہذا رائے (یا غیر مقلدین کے بقول عقل) کا لفظ جو اس روایت میں بیان ہوا ہے وہ دارقطنی کے بقولصحیح روایت نہیں ہے بلکہ صحیح وہ ہے جس میں رائے کا لفظ نہیں ہے

کتاب الجرح و التعدیل از ابن ابی حاتم کے مطابق

قال علي إنما ذكره يحيى على أن الأعمش كان مضطربا في حديث أبي إسحاق.

علی المدینی نے ذکر کیا کہ یحیی القطان کے حوالے سے کہ اعمش  مضطرب ہے ابو اسحاق سے روایت کرنے میں

ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَمْ يَزَلْ أَمْرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُعْتَدِلًا حَتَّى نَشَأَ فِيهِمُ الْمُوَلَّدُونَ، وَأَبْنَاءُ سَبَايَا الْأُمَمِ، فَقَالُوا بِالرَّأْيِ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا»

عبد الله بن عمرو بن العآص رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کہتے سنا بنی اسرائیل کا امر معتدل رہا یہاں تک کہ ان میں الْمُوَلَّدُونَ پیدا کرنے والے بڑھے اور فاحشہ کی اولادیں  پس انہوں نے رائے سے کلام کیا گمراہ ہوئے اور  گمراہ کیا

ابن ماجه كي اس روایت کو شعيب الأرنؤوط ، محمد فؤاد عبد الباقي اور البانی  ضعیف کہتے ہیں

یہ روایت مسند البزار میں بھی ایک دوسری سند سے ہے

وَأَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ يَزَلْ أَمْرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُعْتَدِلًا حَتَّى بَدَا فِيهِمْ أَبْنَاءُ سَبَايَا الْأُمَمِ، فَأَفْتَوْا بِالرَّأْيِ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا» . وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ: عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، إِلَّا قَيْسٌ، وَرَوَاهُ غَيْرُ قَيْسٍ مُرْسَلًا

اس میں قیس بن الربیع ہے جس پر محدثین کی جرح ہے یہ ایک جاہل تھا اور ائمہ اہل رائے  کی شان میں سب و شتم کرتا تھا وكِيع  اس کی تضعیف کرتے تھے اور جب اس کا ذکر ہوتا کہتے الله المستعان- امام احمد کہتے ہیں منکرات بیان کرتا تھا

مسند دارمی میں هِشَامٍ بْنُ عُرْوَةَ کی سند سے  اسکو ابن زبیر رضی الله عنہ کا قول کہا گیا ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ – هُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ-، عَنْ هِشَامٍ- هُوَ ابْنُ عُرْوَةَ-، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: مَا زَالَ أَمْرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُعْتَدِلاً لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ حَتَّى نَشَأَ فِيهِمُ الْمُوَلَّدُونَ أَبْنَاءُ سَبَايَا الأُمَمِ, أَبْنَاءُ النِّسَاءِ الَّتِي سَبَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ مِنْ غَيْرِهِمْ، فَقَالُوا فِيهِمْ بِالرَّأْيِ فَأَضَلُّوهُمْ.

مصنف ابن ابی شیبہ میں هِشَامٍ بْنُ عُرْوَةَ کی سند سے  اس کو عبد الله بن عمرو بن العآص کا قول کہا گیا ہے

وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «لَمْ يَزَلْ أَمْرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُعْتَدِلًا حَتَّى نَشَأَ فِيهِمْ أَبْنَاءُ سَبَايَا الْأُمَمِ , فَقَالُوا فِيهِمْ بِالرَّأْيِ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا»

ان دونوں میں ہشام بن عروه کا تفرد ہے اور یہ روایات انہوں نے کوفہ میں بیان کی ہیں اور کبھی اسکو ابن زبیر کا قول کہا ہے کبھی اسکو عبد الله کا قول – محدثین نے اس کی طرف اشارہ کیا تھا کہ آخری عمر میں ان کا حافظہ اچھا نہیں رہا تھا – رائے کا لفظ بولنے میں بھی  ان کا تفرد ہے

کتاب  السنن المأثورة للشافعي  از إسماعيل بن يحيى بن إسماعيل، أبو إبراهيم المزني (المتوفى: 264هـ) میں اس کو عمر بن عبد العزیز کا قول کہا گیا ہے

وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُؤَمَّلٍ الْمَخْزُومِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّهُ قَالَ: ” لَمْ يَزَلْ أَمْرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسْتَقِيمًا حَتَّى حَدَّثَ فِيهِمُ الْمُوَلَّدُونَ أَبْنَاءُ سَبَايَا الْأُمَمِ فَقَالُوا فِيهِمْ بِالرَّأْيِ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا

اسکی سند میں عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُؤَمَّلٍ الْمَخْزُومِيَّ خود ایک مجھول ہے

مسند ابی یعلی کی روایت ہے

حَدَّثَنَا الْهُذَيْلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعْمَلُ هَذِهِ الْأُمَّةُ بُرْهَةً بِكِتَابِ اللَّهِ، ثُمَّ تَعْمَلُ بُرْهَةً بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ، ثُمَّ تَعْمَلُ بِالرَّأْيِ، فَإِذَا عَمِلُوا بِالرَّأْيِ فَقَدْ ضَلُّوا وَأَضَلُّوا»

أَبِي هُرَيْرَةَ کہتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا یہ امت ایک دور تک کتاب الله پر عمل کرے گی پھر ایک دور سنت رسول پر پھر جب یہ رائے پر عمل کرے گی  تو گمراہ ہو گی اور کرے گی

اس کی سند میں عثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ ہے جو کذاب اور متروک ہے

کتاب  أمالي ابن بشران – الجزء الثاني از  أبو القاسم عبد الملك  البغدادي (المتوفى: 430هـ) کی روایت ہے

وَابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: ” ثَلاثَةٌ لا يُقْبَلُ مَعَهُنَّ عَمَلٌ: الشِّرْكُ , وَالْكُفْرُ , وَالرَّأْيُ “.  قَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَمَا الرَّأْيُ؟ قَالَ: «تَدَعُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُولِهِ وَتَعْمَلُ بِالرَّأْيِ

الأَعْمَشِ نے عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ سے روایت کیا اس نے زر سے اس نے علی رضی الله عنہ سے کہ تین  کے ساتھ عمل قبول نہیں ہوتا شرک اور کفر اور رائے ہم نے کہا اے امیر المومنین یہ رائے کیا ہے کہا تم کو کتاب الله اور سنت کی طرف بلایا جائے اور تم رائے پر عمل کرو

روایت کے الفاظ کہ لوگوں نے پوچھا یہ رائے کیا ہے ظاہر کرتا ہے کہ اس دور میں یہ لفظ مستعمل نہ تھا اور یہ ہی بات اس روایت کے رد کے لئے کافی ہے – اسنادی حیثیت میں اس میں الأَعْمَشِ کا عنعنہ ہے اور عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ خود مفرط شیعہ ہے

سنن دارقطنی کی روایت ہے

نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , نا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ , نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَرِيكٍ , نا أَبِي , عَنْ مُجَالِدٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , قَالَ:  «إِيَّاكُمْ وَأَصْحَابَ الرَّأْيِ فَإِنَّهُمْ أَعْدَاءَ السُّنَنِ أَعْيَتْهُمُ الْأَحَادِيثُ أَنْ يَحْفَظُوهَا فَقَالُوا بِالرَّأْيِ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا»

مُجَالِدٍ بن سعید، الشَّعْبِيِّ سے ، وہ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ سے وہ عمر رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اصحاب رائے سے بچو کیونکہ یہ سنت کے دشمن ہیں – احادیث میں ملوث  ہیں کہ انکو یاد کریں پھر رائے سے بولیں گمراہ ہوں اور کریں

اسکی سند میں مُجَالِدُ بنُ سَعِيْدِ بنِ عُمَيْرِ بنِ بِسْطَامَ الهَمْدَانِيُّ المتوفی ١٤٤ ھ  ہے

 أَبُو حَاتِمٍ کہتے ہیں لاَ يُحْتَجُّ بِهِ اس سے دلیل نہ لی جائے

ابْنُ عَدِيٍّ کہتے ہیں اس کی حدیث: لَهُ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ أَحَادِيْثُ صَالِحَةٌ  صالح ہیں

أَبُو سَعِيْدٍ الأَشَجُّ اس کو  شِيْعِيٌّ یعنی شیعہ کہتے ہیں

الميموني کہتے ہیں ابو عبدللہ کہتے ہیں

 قال أبو عبد الله: مجالد عن الشعبي وغيره، ضعيف الحديث. «سؤالاته» احمد کہتے ہیں مجالد کی الشعبي سے روایت ضعیف ہے

ابن سعد کہتے ہیں  كان ضعيفا في الحديث، حدیث میں ضعیف ہے

المجروحین میں ابن حبان کہتے ہیں كان رديء الحفظ يقلب الأسانيد ويرفع، ردی حافظہ اور اسناد تبدیل کرنا اور انکو اونچا کرنا  کام تھا

ابن حبان نے صحیح میں اس سے کوئی روایت نہیں لی

ابن حبان المجروحین میں لکھتے ہیں کہ امام الشافعی نے کہا  وَالْحَدِيثُ عَنْ مُجَالِدٍ يُجَالِدُ الْحَدِيثَ

اور مجالد   يُجَالِدُ الْحَدِيثَ ہے یعنی اس سے روایت کرنا حدیث کو کوڑے مارنے کے مترادف ہے

صحیح بخاری کی روایت ہے

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ  : حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ لاَ يَقْبِضُ العِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ العِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا

امام مالک ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، سے وہ اپنے باپ سے وہ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العَاصِ  سے روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا بے شک الله اس علم کو قبض یکایک نہیں کرے گا … بلکہ علماء کو قبض کرے گا یہاں تک کہ کوئی عالم نہ رہے گا لہذا لوگ جہلاء کو سردار بنا لیں گے ان سے سوال کریں گے وہ فتوی دیں گے بغیر علم کے، پس گمراہ ہوں گے اور کریں گے

یہ روایت ہشام بن عروہ نے مدینہ میں بیان کی ہے  – صحیح ابن حبان  اور مسند احمد کے مطابق  بصرہ اور کوفہ میں اس میں اضافہ کیا مثلا حماد بن زید اور وَكِيعٌ بنُ الجَرَّاحِ بنِ مَلِيْحِ  کہتے ہیں ہشام نے کہا:

وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعُلَمَاءَ بِعِلْمِهِمْ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمٌ

لیکن الله علماء کو انکے علم کے ساتھ قبض کرے گا یہاں تک کہ ایک بھی عالم باقی نہ رہے گا

مسند احمد کے مطابق کوفہ میں یحیی کہتے ہیں اور طبرانی کے مطابق ابن عيينة کہتے ہیں  ہشام نے کہا حَتَّى إِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا یہاں تک کہ کوئی عالم نہیں رہے گا

صحیح مسلم میں  جرير بن عبد الحميد الضبي کوفی عن هِشَامٍ بْنُ عُرْوَةَ کی سند سے  عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ کی یہی روایت ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا»

ہشام بْنِ عُرْوَةَ نے یہ روایت کوفہ میں بیان کی ہے یہاں پر رائے کا لفظ نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ بغیر علم فتوی دیں گے

صحیح بخاری میں بهز بن أسد العمى أبو الأسود البصرى کی روایت میں ہے کہ ہشام نے بصرہ میں بغیر علم کی بجائے  کہا فَيُفْتُونَ بِرَأْيِهِمْ وہ اپنی رائے سے فتوی دیں گے

محدثین کے مطابق ہشام بْنِ عُرْوَةَ نے عراق میں روایات آخری عمر میں بیان کیں جب ان کا حافظہ اتنا اچھا نہیں تھا اسی وجہ امام مالک ان کی عراق میں بیان کردہ روایات سے راضی نہیں تھے الذھبی میزان میں لکھتے ہیں

عبد الرحمن بن خراش: كان مالك لا يرضاه، نقم عليه حديثه لاهل العراق

بحر کیف رائے بغیر علم صحیح نہیں ہے جو ظاہر ہے نہایت منطقی بات ہے- جو اس کا ارتکاب کرے جاہل ہے لیکن رائے اگر منبی بر علم ہو تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے لہذا اس روایت کو مطلقا اہل رائے کے خلاف پیش کرنا نری جہالت ہے

واضح رہے ک انہی محدثین میں سے بہت سے اہل رائے کے امام ابو حنیفہ کی بات کو بغور سنتے

کتاب  سؤالات ابن الجنيد لأبي زكريا يحيى بن معين میں ابن جنید کہتے ہیں

 قلت ليحيى بن معين: ترى أن ينظر الرجل في شيء من الرأي؟ فقال: «أي رأي؟» ، قلت: رأي الشافعي وأبي حنيفة، فقال: «ما أرى لمسلم أن ينظر في رأي الشافعي، ينظر في رأي أبي حنيفة أحب إلي من أن ينظر في رأي الشافعي

میں نے ابن معین سے کہا اپ کیا کہتے ہیں اس شخص کے بارے میں جو رائے کے کو دیکھے؟ انہوں نے پوچھا کس کی رائے؟ کہا شافعی یا ابو حنیفہ! ابن معین نے کہا میرے مطابق مسلمان  کے لئے  شافعی کی رائے میں کچھ (برائی) نہیں اور ابو حنیفہ کی رائے جاننا میرے لئے شافعی کی رائے سے زیادہ محبوب ہے

اسی کتاب میں ابن معین یحیی بن سعید کی بات نقل کرتے ہیں

وسمعت يحيى يقول: «سمعت يحيى بن سعيد يقول: أنا لا أكذب الله، ربما بلغنا الشيء من قول أبي حنيفة، فنستحسنه فنأخذ به

یحیی کہتے ہیں بے شک میں جھوٹ نہیں کہتا بعض اوقات ہم کو ابو حنیفہ کی بات ملتی ہے اس کو پسند کرتے ہیں اور لیتے ہیں

معلوم ہوا کہ ابو حنیفہ  کی آراء کو محدثین  یحیی ابن معین اور  یحیی بن سعید القطان قبول کرتے تھے

امام  الشافعي بھی رائے اور قیاس لینے کے قائل تھے – کتاب الأم  میں امام  الشافعي (المتوفى: 204هـ) لکھتے ہیں

وَالْعِلْمُ مِنْ وَجْهَيْنِ اتِّبَاعٌ، أَوْ اسْتِنْبَاطٌ وَالِاتِّبَاعُ اتِّبَاعُ كِتَابٍ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَسُنَّةٍ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ فَقَوْلِ عَامَّةٍ مِنْ سَلَفِنَا لَا نَعْلَمُ لَهُ مُخَالِفًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَقِيَاسٍ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَقِيَاسٍ عَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَقِيَاسٍ عَلَى قَوْلِ عَامَّةٍ مِنْ سَلَفٍ لَا مُخَالِفَ لَهُ وَلَا يَجُوزُ الْقَوْلُ إلَّا بِالْقِيَاسِ وَإِذَا قَاسَ مَنْ لَهُ الْقِيَاسُ فَاخْتَلَفُوا وَسِعَ كُلًّا أَنْ يَقُولَ بِمَبْلَغِ اجْتِهَادِهِ وَلَمْ يَسَعْهُ اتِّبَاعُ غَيْرِهِ فِيمَا أَدَّى إلَيْهِ اجْتِهَادُهُ بِخِلَافِهِ، وَاَللَّهُ أَعْلَمُ

اور علم کے دو رخ ہیں اتباع ہے یا استنباط ہے- اتباع ،  کتاب الله کی اتباع ہے اور اگر اس میں نہ ہو تو پھر سنت اور اگر اس میں نہ ہو تو ہم وہ کہیں گے جو ہم سے پہلے گزرنے والوں نے  کہا اس میں ہم انکی مخالفت نہیں جانتے، پس اگر اس میں بھی نہ تو ہم پھر کتاب الله پر قیاس کریں گے ، اگر  کتاب الله  پر نہیں تو سنت رسول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  پر قیاس کریں گے – اوراگر سنت رسول  پر نہیں تو بیشتر سلف نے جو کہا ہو اس پر قیاس کریں گے اس میں انکی مخالفت نہیں کریں گے اور قول جائز نہیں ہے سوائے اس کے کہ قیاس ہو اور جب قیاس ہو تو  (اپس میں مسلمان) اختلاف بھی کریں گے  اس سب میں وسعت ہے کہ ہم ان کے اجتہاد  کی پہنچ اور اتباع کی کوشش پر بات  کریں کہ یہ پیروی نہ کر سکے  جو لے جاتا ہے اس کے خلاف  اجتہاد پر والله اعلم

امام الشافعی قیاس اور اجتہاد کو ایک ہی سمجھتے ہیں – اسی طرح کتاب الام میں لکھتے ہیں

  إنَّ مَنْ حَكَمَ أَوْ أَفْتَى بِخَيْرٍ لَازِمٍ أَوْ قِيَاسٍ عَلَيْهِ فَقَدْ أَدَّى مَا عَلَيْهِ وَحَكَمَ وَأَفْتَى مِنْ حَيْثُ أُمِرَ فَكَانَ فِي النَّصِّ مُؤَدَّيَا مَا أُمِرَ بِهِ نَصًّا وَفِي الْقِيَاسِ مُؤَدِّيًا مَا أُمِرَ بِهِ اجْتِهَادًا وَكَانَ مُطِيعًا لِلَّهِ فِي الْأَمْرَيْنِ.  ثُمَّ لِرَسُولِهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – أَمَرَهُمْ بِطَاعَةِ اللَّهِ ثُمَّ رَسُولِهِ  ، ثُمَّ الِاجْتِهَادِ فَيُرْوَى «أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاذٍ بِمَ تَقْضِي؟ قَالَ بِكِتَابِ اللَّهِ قَالَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ قَالَ أَجْتَهِدُ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -» وَقَالَ: «إذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ  – وَإِنْ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ» فَأَعْلَمَ أَنَّ لِلْحَاكِمِ الِاجْتِهَادَ وَالْمَقِيسَ فِي مَوْضِعِ الْحُكْمِ

امام الشافعی کہتے ہیں جو فیصلہ کرے یا فتوی دے خیر کو لازم کرے، یا اس پر قیاس کرے تو اس معاملہ میں بھی خیر کو لازم کرے۔اس طرح اس نے اس کو وہ پورا کیا جو اس پر لازم تھا کہ فیصلہ اور قیاس کرتا ہے جیسا کہ حکم ہے تو وہ نص جس پر قیاس کیا گیا ہے وہ نص مودیا ہے۔یا جس پر اجتہاد کیا ہے تو وہ قیاس مودیا ہے یہ ان معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے۔کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی اطاعت اور پھر اسکے رسول کی اطاعت اور اس کے بعد اس پر اجتہاد کا حکم دیا ہے۔جیسا کہ مروی ہے کہ آپ نے معاذ بن جبل سے فرمایا کس پر فیصلہ کرو گے تو انہوں نے جواب دیا اللہ کی کتاب پر۔آپ نے فرمایا اگر وہ اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو ؟ معاذ نے جواب دیا کہ اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق۔اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر اس میں بھی نہ ملے تو کیا کرو گے۔انہوں نے جواب دیا اجتہاد کروں گا۔اس پر اللہ کے نبی نے کہا الحمد للہ ۔اور معاذ کی اس بات کی اللہ کے نبی نے موافقت فرمائی۔اور کہا جب کوئی حاکم اجتہاد سے فیصلہ کرے اور وہ فیصلہ صحیح ہو تو اس کو دوھرا اجر ہے اور اگر اس میں غلطی ہوجائے تو بھی اس کے لیے ایک اجر تو ہے ہی۔ جان لو کہ حاکم کے اجتہاد اور قیاس کا درجہ حکم کا ہے۔

امام الشافعی تو باقاعدہ وہی معاذ بن جبل والی روایت سے دلیل لے رہے ہیں جس کو منکر کہتے اہل حدیث نہیں تھکتے اور طرفہ تماشہ ہے کہ اپنے اپ کو سلف کا متبع کہتے ہیں امام الشافعی نے سنت رسول سے دلیل لی اور اس میں اہل رائے کی موافقت کی ہے

غیر مقلدین کے  شمارہ ١٩٤ محدث سن ١٩٩٣  میں مضمون  امام بخاری اور الجامع الصحیح چھپا اس میں محقق محمد عبدہ الفلاح  لکھتے ہیں

امام بخاری نے استخراج مسائل اور استنباط کے ذریعہ قوانین نقلیہ کو قواعد عقلیہ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی ہے اور دوسرے الفاظ میں ان کو معیار عقل پر پرکھا ہے جسے درایت سے تعبیر کرسکتے ہیں۔

عصر حاضر کے محقق بشارعواد معروف کتاب سیر الاعلام النبلاء کے مقدمہ میں لکھتے ہیں

وقد وجدنا الذهبي بعد ذلك لا يقتصر على أسلوب واحد في النقد، بل يتوسل بكل ممكن يوصله إلى الحقيقة، فنقد السند والمتن، واستعمل عقله في رد كثير من الروايات.

اور ہم نے پایا ہے کہ الذھبی نے اس کے بعد  تنقید  میں ایک اسلوب ہی نہیں لیا بلکہ اس تنقید کو حقیقت سے ملایا ہے پس سند و متن پر تنقید کی ہے اور عقل کا استمعال کیا ہے کثیر روایات کے رد کے لئے

معلوم ہوا عقل سے احادیث کو پرکھنا بھی محدثین کا اصول ہے جس کا انکاری یہ غیر مقلدین کا ٹولہ ہے

الغرض دین میں عقل کی اہمیت ہے اس کو شجر ممنوعہ قرار نہیں دیا گیا – عقل کو رائے والی احادیث سے ملا کر دینی معاملات میں یہ کہنا کہ عقل معیار نہیں بن سکتی ،  نری جہالت ہے – حقیقت میں یہ قول خود  ایک رائے ہے

This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

4 Responses to دين میں عقل و فکر کی اہمیت

  1. luqman says:

    لفظ “عشق” اللہ یا اللہ کے رسول یا اعمال صالحہ کے لئے استعمال کرنا کیسا ہے؟

  2. luqman says:

    کیا یہ صحیح لکھا ہے

    —–

    صحیح حدیث اور اہل حدیث​

    صحیح حدیث دین ہے، صحیح حدیث کو اپنانا اہل حدیث کا شعار ہے، جیساکہ:
    ۱۔ امام مسلمؒ فرماتے ہیں:

    واعلم۔ رحمک اللہ۔ أنّ صناعۃ الحدیث، ومعرفۃ أسبابہ من الصحیح والسقیم، إنّما ھی لأھل الحدیث خاصّۃ، لأنّھم الحفّاظ لروایات الناس، العارفین بھا دون غیرھم، إذ الأصل الذی یعتمدون لأدیانھم السنن والآثار المنقولۃ، من عصر إلی عصر، من لدن النبیّ صلّی اللہ علیہ وسلّم إلی عصرنا ھذا۔

    اللہ آپ پر رحم کرے! جان لیں کہ فن حدیث اور اس کی صحت وسقم کے اسباب کی معرفت صرف اہل حدیث کا خاصہ ہے، کیونکہ وہ لوگوں کی روایات کو یاد رکھنے والے اور وہی ان کو جاننے والے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ مذاہب کی دلیل وہ سنن و آثار ہیں جو زمانہ بہ زمانہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے دور تک نقل ہوتے آئے ہیں۔
    (کتاب التمییز لامام مسلم: ص ۲۱۸)
    ۲۔امام ابن خزیمہؒ لکھتے ہیں:

    و أنّا مبّین عللہ، إن وفّق اللہ لذلک، حتّی لا یغترّ بعض طّلاب الحدیث بہ، فیلتبس الصحیح بغیر الثابت من الأخبار، قد أعلمت ما لا أحصی من مرّۃ أنّی لا أستحلّ أن أموّہ علی طّلاب العلم بالاحتجاج بالخبر الواھیۃ، و أنّی خائف من خالقی جلّ وعلا، إذا موّھت علی طّلاب العلم بالاحتجاج بالأخبار الواھیۃ، وإن کان حجّۃ لمذھبی۔

    اگر اللہ تعالی نے توفیق دی تو میں اس کی علتیں واضح کروں گا تاکہ بعض طالبانِ حدیث اس سے دھوکہ نہ کھا جائیں اور صحیح حدیث غیر ثابت حدیث کے ساتھ گڈ مڈ نہ ہو جائے۔ میں نے بہت دفعہ خبردار کیا ہے کہ میں ضعیف احادیث کے ساتھ طالبانِ حدیث پر حجت پکڑ کر دھوکہ دینے کو حلال نہیں سمجھتا۔ میں اپنے خالق جل وعلا سے ڈرتا ہوں کہ میں طالبانِ حدیث کو ضعیف حدیث کے ساتھ حجت پکڑ کر دھوکہ دوں، اگرچہ وہ میرے مذہب کی دلیل ہی کیوں نہ ہوں!
    (کتاب التوحید لابن خزیمۃ: ۵۳۳/۲)
    ۳۔ امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں:

    لأنّا نستحلّ الاحتجاج بغیر الصحیح من سائر الأخبار، و إن وافق ذلک مذھبنا، ولا نعتمد من المذاھب إلّا علی المنتزع من الآثار، و إن خالف ذلک قول أئمتنا۔

    کیونکہ ہم غیر صحیح احادیث کے ساتھ حجت و دلیل لینا جائز نہیں سمجھتے اگرچہ وہ ہمارے مذہب کے موافق ہو اور ہم صرف اسی مذہب پر اعتماد کرتے ہیں جو احادیث و آثار سے ثابت ہو، اگرچہ وہ ہمارے آئمہ کے قول کے خلاف ہی ہو۔
    (صحیح ابن حبان، تحت حدیث: ۱۱۱۲)
    نیز فرماتے ہیں:

    [ARB]ذکر رحمۃ اللہ جلّ و علا من بلّغ أمّۃ المصطفٰی صلّی اللہ علیہ وسلّم حدیثا صحیحا عنہ۔[/ARB]

    ‘‘ اس شخص پر اللہ تعالی کی رحمت کا بیان جو محمدﷺ کی اُمت کو آپ کی کوئی صحیح حدیث پہنچائے۔
    (صحیح ابن حبان، تحت حدیث: ۶۷)
    ۴۔ امام ابو المظفر السمعانیؒ فرماتے ہیں:

    ولکن یحتجّ بقول التابعیّ علی قول النبّی أو بحدیث مرسل ضعیف علی حدیث متّصل قویّ، و من ھنا امتاز أھل اتّباع السنّۃ عن غیرھم، لأنّ صاحب السنّۃ لا یألو أن یتّبع من السنن أقواھا، ومن الشھود علیھا أعدلھا و أتقاھا، و صاحب الھوی کالغریق یتعلّق بکلّ عود ضعیف أو قویّ۔

    لیکن ہر بدعتی نبی اکرمﷺ کے فرمان کے خلاف کسی تابعی کا قول بطور حجت پیش کرتا ہے یا متصل قوی سند والی حدیث کے خلاف مرسل ضعیف حدیث کو پیش کرتا ہے۔ اس بنیاد پر سنت کے متبعین غیروں سے ممتاز ہوتے ہیں، کیونکہ صاحب سنت حدیثوں میں سے سب سے قوی اور گواہوں میں سے سب سے عادل اور متقی کی بات کو ماننے میں کوتاہی نہیں کرتا، جبکہ بدعتی شخص اس ڈوبنے والے کی طرح ہوتا ہے، جو ہر کمزور اور مضبوط تنکے کا سہارا لیتا ہے۔
    (الانتصار لاصحاب الحدیث للسمعانی: ص ۵۶-۵۵)
    ۵۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:

    [ARB]لا یجوز أن یعتمد فی الشریعۃ علی الأحادیث الضعیفۃ التی لیست صحیحۃ و لا حسنۃ۔[/ARB]

    شریعت میں ان ضعیف احادیث پر اعتماد کرنا جائز نہیں، جو صحیح یا حسن نہ ہوں۔
    (مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ: ۲۵۰/۱)
    ۶۔ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

    فأمّا الأئمّۃ و فقھاء أھل الحدیث، فإنّھم یتّبعون الحدیث الصحیح حیث کان، إذا کان معمولا بہ عند الصحابۃ و من بعدھم، أو عند طائفۃ منھم، فأمّا ما اتفّق علی ترکہ، فلا یجوز العمل بہ، لأنّھم ما ترکوہ إلّا علی علم أنّہ لا یعمل بہ۔

    ائمہ و فقہائے اہل حدیث صحیح حدیث کا اتباع کرتے ہیں، وہ جہاں بھی ہو، جب وہ صحابہ کرام اور تابعین عظام کے نزدیک اتفاقی طور پر یا ان میں سے ایک طائفہ کے ہاں معمول بہ ہو۔ رہی وہ صورت کہ جب اس کے ترک پر صحابہ و تابعین کا اتفاق ہو جائے تواس پر عمل جائز نہیں، کیونکہ صحابہ و تابعین نے اس پر عمل اسی لیے چھوڑا ہے کہ ان کو معلوم تھا کہ اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔
    (ٖفضل علم السلف علی الخلف لابن رجب: ص ۵۷)
    مسلک اہلحدیث کی بنیاد قرآن، صحیح احادیث، اجماع امت اور فہم سلف پر ہے۔ مسلک اہل حدیث کا ایک بھی مسئلہ ایسا نہیں، جس کی بنیاد کسی ضعیف حدیث پرہو۔ مدعی پر دلیل لازم ہے! یاد رہے کہ کسی شخص کا انفرادی اجتہاد مسلک اہل حدیث نہیں ہے۔

    • Islamic-Belief says:

      جی یہ باتیں ائمہ اہل رائے بھی کہتے ہیں بہت سے ائمہ اہل رائے محدث ہیں مثلا امام محمد اور امام یوسف وغیرہ
      اور بخاری کے شاگرد فربری کے تین شاگرد جنفی ہیں جن سے صحیح ہم تک پہنچی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *