https://quranacademy.com/SnapshotView/MediaID/3287/Title/25-Umm-ul-Musabbehaat-(Surah-Al-Hadeed)

کتاب ام المسبحات تفسیر  سورہ الحدید  از ڈاکٹر اسرار احمد

نصرانیوں نے جب تثلیث کا عقیدہ گھڑا تو ان کے نزدیک الفاظ کا چناؤ بہت اہم تھا لہذا یہ کہنے کے لئے انہوں نے یونانی لفظ
Homoousios
کا استعمال کیا ۔

اس لفظ کا مطلب یونانی میں یہ تھا کہ ایک ہی عنصر – اس کو عربی میں وحدت الوجود کہا جاتا ہے۔

یعنی معاذ اللہ – عیسیٰ علیہ السلام ، روح القدس ، اور اللہ تعالی ایک ہی وحدت میں جڑے ہیں۔

یہی لفظ بعد میں فارسی میں ہمہ اوست بن گیا- اور مدعا یہ رہا کہ جو بھی چیز وجود رکھتی ہے وہ حقیقت میں سب  اللہ ہے۔ اسی کو اللہ ھو کی ضربوں  میں بیان کیا  جاتا ہے۔ – ہمہ اوست يعني سب ايک عنصر ہيں وجود ہيں – اس کو وحدت الوجود کہتے ہيں۔  اس ميں وجود کا اثبات ہے کہ سب کا وجود حقيقي ہے۔ يہ نظريہ غزالي کا ہے

لا موجود الا اللہ

غزالی سے منسوب قول ہے کہ خواص کی توحید لا موجود الا اللہ ہے۔

جہمی اپنا نام بدل کر صوفی بن گئے اور صوفیاء اس عقیدے پر پر چارک بن گئے کہ اللہ تعالی کائنات میں جذب کیے ہوئے ہے اصلی وجود اسی کا ہے-  قرآن کی سوره حديد كي آیت

وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ   وه تمھارے ساتھ ہے جہاں کہیں بھی تم ہو۔

سے  صوفیاء  کے نزدیک  یہ ثابت ہو جاتا ہے۔

صوفیاء میں ایک دوسرے گروہ  کا نظریہ یہ بھی ہے کہ کائنات وہم و خیال ہے، اس کا کوئی حقیقی وجود نہیں – یہ  وجود ہی نہیں رکھتی – اس کو ہمہ از اوست کہا جاتا ہے – اس کوعربی میں  وحدت الشہود کہتے ہيں يعني جو نظر آ رہا ہے وہ سب ايک ہے۔ اس ميں وجود حقیقی  کا انکار ہے – سب کا وجود وہم و خيال و مايا ہے۔
يہ نظريہ شيخ سر ہندي اور مجدد الف ثاني ، ابن عربی کا ہے۔

اس طرح وحدت الوجود ہو یا وحدت الشہود دونوں باطل نظریات ہیں۔

اللہ تعالي – قرآن ميں اس کائنات کو خلق کہتا ہے اور صوفياء اس کے منکر ہيں ان میں بعض (شاہ ولي اللہ اور ابن عربي) کے نزديک کائنات کا نقشہ اللہ کے علم ميں ہے ابھي يہ کائنات تخليق نہيں ہوئي کہ وجود کي شکل لے۔

ان عقائد کو اپس میں ملا کر ڈاکٹر اسرار احمد نے سورہ الحدید کی تفسیر بنام امّ المسبحات میں تشریح اپنے مخصوص مغالطہ آمیز انداز میں کی۔

https://www.youtube.com/watch?v=V9cO9JWa1rY

اسرار احمد کے بقول ہمہ اوست اور وحدت الوجود الگ الگ ہیں-
ہمہ اوست اسرار احمد کے مطابق سادہ الفاظ میں ہے کہ اللہ نے روپ دھار لیا، یہ ساری چیزیں بالفعل موجود ہیں یہ ہمہ اوست ہے یہ شرک ہے  – گویا ڈاکٹر اسرار کے نزدیک اگر ہم بولیں ہم اللہ تعالی سے الگ وجود  ہیں تو یہ ہمہ اوست ہے جو  شرک ہوا  – راقم  کہتا ہے ہم اوست اور وحدت الوجود ہم معنی  الفاظ ہیں  ایک فارسی میں ہے ایک عربی میں ہے

اسرار احمد کے بقول وحدت الوجود کا مطلب چیز کے وجود کا انکار ہے اور ہمہ اوست چیز کے وجود کا اثبات ہے-
ایک توحید ہے ایک شرک ہے-

پھر ڈاکٹر اسرار 2:03 منٹ پر کہتے ہیں:

“موجود صرف ایک ذات ہے”

“اس کو شرک نہ کہیں”

راقم  کہتا ہے یہ شرک نہیں تو کیا ہے پھر؟

پھر 2:49 منٹ پر کہتے ہیں :

“اس کو شرک نہیں کہیں گے آپ”

پھر 2:57 منٹ پر کہتے ہیں:

“جب یہ کہا جائے گا یہ چیز ہے ہی نہیں صرف اللہ ہے یہ وحدت الوجود ہے”

ہمہ اوست کو وحدت الوجود سے الگ کرنا متاخرین صوفیاء کا کمال ہے جبکہ اصلا یہ نصرانی غناسطی
(Gnostic)
فلسفہ کا لفظ ہے جس کا مطلب وجود کا اثبات ہے اس کو ہم عنصر قرار دینا ہے۔