قرن اول و دوم میں عبد اللہ بن سبا کا فلسفہ عراق میں پھیل رہا تھا اور بعض کذاب و جھوٹے راوی بیان کرتے تھے کہ علی بادلوں میں ہیں اور اس فلسفے کو شیعہ روافض نے اس فلسفے کو قبول کر لیا تھا
محدث المزی کتاب تحفة الأشراف بمعرفة الأطراف میں لکھتے ہیں
يث عن الحميدي، عن سفيان: قال: كان الناس يحملون عن جابر – يعني الجعتفي – قبل أن يظهر ما أظهر، فلما أظهر ما أظهر اتهمه الناس في حديثه وتركه بعض الناس، فقيل له: وما أظهر؟ قال: الإيمان بالرجعة، وعن الحميدي، عن سفيان، قال: سمعت رجلا سأل جابرا عن قوله: فلن أبرح الأرض … الآية (12: 80) فقال جابر: لم يجىء تأويل هذه، قال سفيان: وكذب. فقلنا: وما أراد بهذا؟ فقال: إن الرافضة تقول: إن عليا في السحاب فلا نخرج مع من خرج من ولده حتى ينادي من السماء، يريد عليا أنه ينادي: اخرجوا مع فلان، يقول جابر: فذا تأويل هذه الآية وكذب، كانت في إخوة يوسف عليه السلام. وعن الحميدي، عن سفيان، قال: سمعت جابرا يحدث بنحو من ثلاثين حديثا ما أستحل أن أذكر منها شيئا وإن لي كذا وكذا. (م) في مقدمة كتابه (6: 22، 26، 27) عن سلمة بن شبيب، عن الحميدي بهذا.
سفیان کہتے ہیں کہ الحمیدی کے واسطے سے روایت ہے: انہوں نے کہا کہ لوگ جابر سے حدیثیں لیا کرتے تھے یعنی جابر الجعفی سے اس کے ان عقائد کے ظاہر ہونے سے پہلے، پھر جب اس نے وہ بات ظاہر کر دی جو اس نے ظاہر کی تو لوگوں نے اس کی حدیثوں میں اس پر الزام لگایا اور بعض لوگوں نے اسے چھوڑ دیا۔ اس سے پوچھا گیا کہ اس نے کیا ظاہر کیا؟ انہوں نے کہا: رجعت پر ایمان۔ اور الحمیدی کے واسطے سے سفیان کہتے ہیں: میں نے ایک شخص کو جابر سے اس آیت کے بارے میں پوچھتے ہوئے سنا: فلن أبرح الأرض … الآية (12: 80)، تو جابر نے کہا: اس کی تاویل ابھی نہیں آئی۔ سفیان کہتے ہیں: یہ جھوٹ ہے۔ ہم نے کہا: اس سے اس کی مراد کیا تھی؟ انہوں نے کہا: رافضہ کہتے ہیں کہ علی بادلوں میں ہیں، لہٰذا ہم ان کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ خروج نہیں کریں گے یہاں تک کہ آسمان سے ایک منادی پکارے، اس سے مراد علی ہیں کہ وہ پکاریں گے: فلاں کے ساتھ نکلو۔ جابر کہتا تھا کہ یہی اس آیت کی تاویل ہے، اور یہ جھوٹ ہے۔ یہ آیت تو یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ اور الحمیدی کے واسطے سے سفیان کہتے ہیں: میں نے جابر کو تقریباً تیس حدیثیں بیان کرتے ہوئے سنا، جن میں سے کسی ایک کو بھی بیان کرنا میں اپنے لیے حلال نہیں سمجھتا، حالانکہ مجھے اتنا اور اتنا فائدہ ہو۔ مزی نے یہ سب اپنی کتاب کے مقدمہ میں ذکر کیا ہے۔
ابن الأثير کتاب جامع الأصول في أحاديث الرسول میں لکھتے ہیں
سفيان الثوري قال: سمعتُ رَجُلاً سأل جابراً الجُعفِي عن قوله تعالى: {فَلَن أَبْرَحَ الأرضَ حتى يَأذَنَ لي أَبي أو يحكُمَ الله [ص:61] لِي وهو خيرُ الحاكمين} [يوسف: 80] قال جابر: لم يجئْ تأويلها بعدُ، قال سفيان: كذَبَ، قيل لسفيان: ما أراد بهذا؟ فقال: طائفة من الرافضة يقولون: إن عَليّاً في السحاب، فلا تخرج مع من خَرَجَ من ولده حتى يُنادي مُناد من السماء – يريدون علياً – اخرجوا مع فلان، فذلك تأويل هذه الآية عندهم، وكذب جابر، وكذبوا هم، إنما كانت هذه الآية في إِخوة يوسف عليه السلام
سفیان ثوری کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو جابر الجعفی سے اس آیت کے بارے میں پوچھتے ہوئے سنا: {فَلَن أَبْرَحَ الأرضَ حتى يَأذَنَ لي أَبي أو يحكُمَ الله لِي وهو خيرُ الحاكمين}، تو جابر نے کہا: اس کی تاویل ابھی نہیں آئی۔ سفیان نے کہا: اس نے جھوٹ کہا۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ اس کی مراد کیا تھی؟ انہوں نے کہا: رافضہ کا ایک گروہ کہتا ہے کہ علی بادلوں میں ہیں، لہٰذا تم ان کی اولاد میں سے جس نے خروج کیا ہے اس کے ساتھ نہ نکلو، یہاں تک کہ آسمان سے ایک منادی پکارے، وہ علی کو مراد لیتے ہیں، کہے گا: فلاں کے ساتھ نکلو۔ ان کے نزدیک یہی اس آیت کی تاویل ہے، اور جابر نے جھوٹ کہا اور وہ سب بھی جھوٹے ہیں۔ یہ آیت تو صرف یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے بارے میں تھی۔
امام عقیلی کتاب الضعفاء الكبير میں لکھتے ہیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ قَالَ: كَانَ عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ غَيْرَ حَصِيفٍ، كَانَ يَجْلِسُ مَعَنَا فَيُبْصِرُ سَحَابَةً فَيَقُولُ: هَذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَدْ مَرَّ فِي السَّحَابِ
محمد بن اسماعیل بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ حسن بن علی نے ہم سے روایت کی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی مریم کو ابن لہیعہ سے روایت کرتے ہوئے سنا، وہ کہتے ہیں: عمرو بن جابر الحضرمی غیر دانا تھا، وہ ہمارے ساتھ بیٹھا کرتا تھا، پھر بادل کو دیکھتا تو کہتا: یہ علی بن ابی طالب ہیں جو بادل میں سے گزر رہے ہیں۔
حديث علي بن الحسين قال: كا رسول الله صلى الله عليه وعلى آله وسلم علياً عمامة يقاله لها: السحاب، فأقبل علي رضي الله عنه وهي عليه، فقال رسول الله صلى الله عليه وعلى آله وسلم: هذا عاي قد أقبل في السحاب. قال الراوي: ((فحرفها هؤلاء، فقالوا: على في السحاب)) . وهذا حديث لا يصح، رواه أبو الشيخ في ((الأخلاق)) (ص123-124) ، وفيه مسعده بن اليسع، وهو كذاب
علی بن حسین سے منسوب ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی کو ایک عمامہ پہنایا جس کا نام السحاب تھا۔ پھر علی رضی اللہ عنہ آئے اور وہ عمامہ ان کے سر پر تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ علی ہیں جو بادل میں آ رہے ہیں۔ راوی کہتا ہے کہ بعد کے لوگوں نے اس روایت میں تحریف کی اور کہنے لگے: علی بادلوں میں ہیں۔ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ اسے ابو الشیخ نے کتاب الاخلاق میں روایت کیا ہے، اور اس کی سند میں مسعدہ بن الیسع ہے، اور وہ کذاب ہے۔
کتاب نزهة الألباب في قول الترمذي «وفي الباب» میں مؤلف: أبو الفضل، حسن بن محمد بن حيدر الوائليّ الصنعانيّ لکھتے ہیں
فرات بن أحنف وقد ضعف وقال ابن نمير: “كان من أولئك الذين كانوا يقولون إن عليًّا في السحاب”.
فرات بن احنف ضعیف ہے، اور ابن نمیر نے کہا: وہ ان لوگوں میں سے تھا جو کہتے تھے کہ علی بادلوں میں ہیں۔
کتاب البدء والتاريخ میں المطهر بن طاهر المقدسي (المتوفى: نحو 355هـ) لکھتے ہیں
وأن علياً لم يمت وأنه في السحاب وإذا سمعوا صوت الرعد قالوا غضب علي
اور یہ عقیدہ کہ علی فوت نہیں ہوئے بلکہ وہ بادلوں میں ہیں، اور جب وہ گرج کی آواز سنتے تو کہتے: علی غضب ناک ہو گئے ہیں۔
کتاب الهادي والمهتدي میں مرزوق بن هياس لکھتے ہیں
ومنهم من يسلم على السحاب ويقول إذا مرت سحابة به: إن علياً – رضي الله عنه – بها.
وفيهم يقول بعض الشعراء:
برئت من الخوارج لست منهم … من الغزال منهم وابن باب
ومن قوم إذا ذكروا علياً … يردون السلام على السحاب
ان میں سے بعض لوگ بادلوں کو سلام کرتے ہیں، اور جب کوئی بادل ان کے پاس سے گزرتا ہے تو کہتے ہیں: اس میں علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ انہی کے بارے میں ایک شاعر نے کہا:
میں خوارج سے بیزار ہوں، میں ان میں سے نہیں ہوں
ان میں غزال بھی ہے اور ابن باب بھی
اور ایک قوم ایسی ہے کہ جب وہ علی کا ذکر کرتے ہیں
تو بادلوں کو سلام لوٹاتے ہیں
بَهْجَة المحَافِل وأجمل الوَسائل بالتعريف برواة الشَّمَائل میں إبراهيم بن إبراهيم بن حسن اللقاني لکھتے ہیں
وله أصحاب كانوا يعتقدون أن علياً رضي الله تعالى عنه لم يَمُت، وأنه في السَّحَاب
ان کے کچھ ایسے ساتھی تھے جو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت نہیں ہوئے بلکہ وہ بادلوں میں ہیں۔
عصر حاضر میں اس سبائی فلسفہ میں ایک جاہل ساحل عدیم نے روح پھونکی ہے اور اس کو اپنے پورٹل فلسفے سے ملا کر پیش کیا ہے – نوجوان نسل ان سے متاثر ہے اور اس جھل پر منبی عقیدے کو قبول کر رہے ہیں کہ نہ صرف علی بلکہ دجال و یاجوج و ماجوج بھی سب آسمان میں خلائی مخلوق ہیں اور وہاں سے زمین پر نازل ہونے والے ہیں

السلام علیکم
شیخ اللہ اپ سے راضی ہو
مجھے بھی ان کے لیکچرز میں شیعت کی بدبو ارہی تھی۔