Q & A

You may also send us your questions and suggestions via Contact form

Post for Questions 

قارئین سے درخواست ہے کہ سوال لکھتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ سوال دینی مسئلہ پر ہونا چاہیے- وقت قیمتی شی ہے لہذا بے مقصد سوال سے پرہیز کریں – سوالات کے سیکشن کو غور سے دیکھ لیں ہو سکتا ہے وہاں اس کا جواب پہلے سے موجود ہو –

یاد رہے کہ دین میں غیر ضروری سوالات ممنوع ہیں اور انسانی علم محدود ہے

 اپ ان شرائط پر سوال کر سکتے ہیں

اول سوال اپ کا اپنا ہونا چاہیے کسی ویب سائٹ یا کسی اور فورم کا نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا مواد  اپ وہاں سے یہاں کاپی کریں

دوم : جو جواب ملے اس کو اپ کسی اور ویب سائٹ پر پوسٹ کر کے اس پر سوال نہیں کریں گے نہ ہی اس ویب سائٹ کے کسی بلاگ کو پوسٹ کر کے کسی دوسری سائٹ سے جواب طلب کریں گے – یعنی اپ سوال کو اپنے الفاظ میں منتقل کریں اس کو کاپی پیسٹ نہ  کریں اگر اپ کو کسی اور سے یہی بات پوچھنی ہے تو اپنے الفاظ میں پوچھیں

سوم کسی عالم کو ہماری رائے سے “علمی” اختلاف ہو تو اس کو بھی اپنے الفاظ میں منتقل کر کے اپ اس پر ہمارا جواب پوچھ سکتے ہیں

چہارم نہ ہی اپ ہماری ویب سائٹ کے لنک پوسٹ کریں کہ وہاں دوسری سائٹ پر لکھا ہو “اپ یہ کہہ رہے ہیں اور وہ یہ کہہ رہے ہیں ” یہ انداز مناظرہ کی طرف لے جاتا ہے جو راقم کے نزدیک دین کو کھیل تماشہ بنانے کے مترادف ہے

تنبیہشرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں جوابات پر پابندی لگا دی جائے گی

10 thoughts on “Q & A

  1. Aysha

    Sir قرن اول کی جنگوں والی کتاب میں 30 سال والی خلافت والی حدیث کے تحت آپ نے علل امام احمد سے قول نقول کیا ہے تو وہ علل۔کیکتاب کی کس جلد اور کس صفحے پہ ہے جس میں سعید کہتا میں سفینہ سے حجاج کے دور میں ملا

    Reply
    1. Islamic-Belief Post author

      العلل ومعرفة الرجال
      المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)

      جلا 2
      ص ٥٦٥

      Reply
      1. Aysha

        تحکیم کے نتیجے میں کیا فیصلہ ہوا تھا۔ اگر یہ کہ دونوں اپنی حدود میں حکومت کریں گے تو مصر۔ تو علی ر کی حدود میں ہے وہاں پیش قدمی کیوں کی گئی
        مالک اشتر کو جب اس پیش قدمی کے وقت بھیجا گیا۔ راستے میں ان کا انتقال زہر سے ہوا تھا کیا
        کہا جاتا کہ معاویہ ر نے دیا
        بتائیں

        Reply
        1. Islamic-Belief Post author

          بیشتر قاتلین عثمان مصری تھے – تحکیم کے نتیجے میں یہ صورت پیدا ہوئی کہ علی جو قاتلین عثمان میں گھرے ہوئے تہے ان سے الگ ہو سکے اور قاتلین مصر واپس اپنے علاقوں میں پہنچے
          پیش قدمی اس لئے کی گئی کہ قصاص کو مد میں قاتلین کو پکڑا گیا
          علی کی حکومت مصر پر ہی رہی ختم نہیں کی گئی

          معاویہ رضی اللہ عنہ اور باقی مسلمانوں نے علی رضی اللہ عنہ کو کبھی بھی خلیفہ قرار نہیں دیا محض وقتی ڈیل کی تھی کہ قتل و غارت کو ختم کیا جا سکے

          مالگ اشتر کے حوالے سے کوئی صحیح روایت نہیں کہ اس کو زہر دیا گیا

          Jesus said: One who live by sword shall die by sword (Injeel)

          دہشت گردوں کو اسلام میں قتل کرنے کا حکم ہے پناہ دینے کا نہیں

          Reply
  2. مست خان

    دعاے سیف کے فضاہل اور طریقہ کار
    چاھیے

    Reply
    1. Islamic-Belief Post author

      یہ دعا جادوگروں کی ایجاد ہے اس سے دور رہا جائے

      Reply
  3. Aysha

    Agr un ki hukmat misar py khtm nahi ki gai to to es iqdam k bd. Mavia Ra k ameer amr binas Ra Kesy phir SE Hakim bn gae

    Reply
    1. Islamic-Belief Post author

      علی بن ابی طالب نے مصر میں کمزور انتظامی صورت حال کے باعث محمد بن ابی بکر کو ہٹا دیا اور اس کی جگہ مالک اشتر کو مقرر کر دیا مگر مالک اشتر مصر پہنچنے سے پہلے راستے میں وفات پا گیا ۔ اس دوران محمد بن ابی بکر جب مصر میں ہی تھا اور گورنر نہ تھا تب معاویہ بن ابی سفیان کی فوج نے 658 سے 659 عیسوی کے درمیان مصر پر حملہ کیا تو مقابلہ محمد بن ابی بکر نے کیا، اس کو شکست دی گئی اور بعد میں قتل کر دیا گیا۔ اس طرح اگرچہ تقرری تبدیل کرنے کا فیصلہ ہو چکا تھا، لیکن عملی طور پر اس وقت مصر پر کوئی گورنر نہ تھا۔

      Reply
  4. محمد نعیم

    اسلام علیکم
    کچھ لوگ کہتے ہیں
    آذان مغرب میں افطار کرنا غلط ہے ادا گھنٹے کے بعد افطار کرنا چاہیے
    ثم اتموا الصيام الى
    آیت سے استدلال کرتے ہیں
    پلیز وضاحت کردیں

    Reply
    1. Islamic-Belief Post author

      سلام علیکم

      ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ

      لیل یعنی رات کا آغاز مغرب یعنی سورج غروب ہونے سے ہو جاتا ہے – لغت قریش میں اس کا یہی مطلب ہے

      الليل عقيب النهار ومبدؤه من غروب الشمس

      من مغرب الشمس إلى طلوع الفجر الصادق أو الشمس

      لیل یعنی رات کسی ستارے کو دیکھ کر شروع نہیں ہوتی

      Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *