مساجد

جواب

تیل نکلنے سے پہلے عرب میں قحط پڑنا ایک عام چیز تھی لہذا اکثر استسقا کی نماز ہوتی عمر رضی الله عنہ کے دور تک میں قحط پڑا جس کو عام الرماد کہا جاتا ہے یعنی راکھ کا سال

 استسقا کے لئے عمر رضی الله عنہ اپنی شوری کے رکن عباس رضی الله عنہ کو کہتے کہ وہ نماز پڑھائیں

کسی نیک بزرک سے دعائیں کرانا مذھب کے عین مطابق ہے لیکن وفات کے بعد ان سے یہ نہیں کرایا جا سکتا کیونکہ وہ غیب سے غافل ہیں اور ان کی ارواح اس عالم سے نکل چکی ہیں

 ایک کتاب میں وسیلہ کے شرک کے دفاع میں ایک روایت پیش کی گئی ہےکہ

tawasul-1

اس کے بعد لکھتے ہیں کہ

matlab

ڈاکٹر عثمانی رحمہ الله علیہ اس روایت پر کتاب مزار اور میلے میں اس روایت کا ائمہ حدیث کے اقوال کی روشنی میں رد کرتے  ہیں

usmani-1

الألباني نے «المشكاة» 3/ 1676 (5950): میں کہا ہے کہ  إسناده ضعيف، اس کی اسناد ضعیف ہیں

بحر الحال امت  کے جمہور نے اس عمل کو پذیرائی دی اور علماء نے اس عمل  میں آسانی کے لئے گنبد میں ایک روشن دان بھی  بنوا دیا

window-grave

Exif_JPEG_PICTURE

السمهودي (المتوفى: 911هـ) کتاب وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفى  میں لکھتے ہیں کہ  مسجد النبی میں آگ لگنے سے پہلے ابن رشد (المتوفی ٥٢٠ ھ)  تک حجرہ کے اوپر سوۓ مسجد کی چھت کے کوئی چھت نہ تھی

 السمهودي مزید لکھتے ہیں

سنة أهل المدينة في أعوام الجدب

قال: قحط أهل المدينة قحطا شديدا، فشكوا إلى عائشة رضي الله عنها فقالت:

فانظروا قبر النبي صلّى الله عليه وسلّم، فاجعلوا منه كوة إلى السماء حتى لا يكون بينه وبين السماء سقف، ففعلوا، فمطروا حتى نبت العشب وسمنت الإبل حتى تفتقت من الشحم، فسمي عام الفتق.

قال الزين المراغي: واعلم أن فتح الكوة عند الجدب سنة أهل المدينة حتى الآن، يفتحون كوة في سفل قبة الحجرة: أي القبة الزرقاء المقدسة من جهة القبلة، وإن كان السقف حائلا بين القبر الشريف وبين السماء.

قلت: وسنتهم اليوم فتح الباب المواجه للوجه الشريف من المقصورة المحيطة بالحجرة، والاجتماع هناك، والله أعلم.

(ابی الجوزاء کی اوپر والی روایت بیان کرنے کے بعد)

زین المراغی کہتے ہیں: اور جان لو کہ یہ كوة  روشن دان قحط  پر کھولنا اہل مدینہ کی سنت ہے  آج تک  ،  حجرہ کے اوپر گنبد کے نچلے حصے میں كوة  روشندان کھولتے ہیں  یعنی قبہ الزرقا  المقدس قبلے کی جانب سے اگر قبر اور آسمان کے درمیان چھت حائل ھو

السمهودي کہتے ہیں میں کہتا ہوں: اور آج کل ان کی سنت ہے کہ حجرہ کے سامنے مقصورہ کی دیوار میں دروازہ کھولتے ہیں اور وہاں جمع ہوتے ہیں

كوة یا سوراخ  یا شباک یا کھڑکی  کو اس تصویر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے

window-grave3

كوة نا صرف گنبد میں ہے بلکہ حجرہ عائشہ کی چھت میں بھی ہے جو ایک اندرونی گنبد ہے واضح رہے کہ ٥٢٠ھ سے قبل نہ اندرونی گنبد تھا نہ گنبد الخضراء

گنبد الخضراء کے ماضی میں کئی نام رہے ہیں

فصول من تاريخ المدينة المنورة  جو علي حافظ کی کتاب ہے اور  شركة المدينة للطباعة والنشر نے اس کو سن  ١٤١٧ ھ  میں چھاپا ہے اسکے مطابق

لم تكن على الحجرة المطهرة قبة، وكان في سطح المسجد على ما يوازي الحجرة حظير من الآجر بمقدار نصف قامة تمييزاً للحجرة عن بقية سطح المسجد.  والسلطان قلاوون الصالحي هو أول من أحدث على الحجرة الشريفة قبة، فقد عملها سنَة 678 هـ، مربَّعة من أسفلها، مثمنة من أعلاها بأخشاب، أقيمت على رؤوس السواري المحيطة بالحجرة، وسمَّر عليها ألواحاً من الخشب، وصفَّحها بألواح الرصاص، وجعل محل حظير الآجر حظيراً من خشب.  وجددت القبة زمن الناصر حسن بن محمد قلاوون، ثم اختلت ألواح الرصاص عن موضعها، وجددت، وأحكمت أيام الأشرف شعبان بن حسين بن محمد سنة 765 هـ، وحصل بها خلل، وأصلحت زمن السلطان قايتباي سنة 881هـ.  وقد احترقت المقصورة والقبة في حريق المسجد النبوي الثاني سنة 886 هـ، وفي عهد السلطان قايتباي سنة 887هـ جددت القبة، وأسست لها دعائم عظيمة في أرض المسجد النبوي، وبنيت بالآجر بارتفاع متناه،….بعد ما تم بناء القبة بالصورة الموضحة: تشققت من أعاليها، ولما لم يُجدِ الترميم فيها: أمر السلطان قايتباي بهدم أعاليها، وأعيدت محكمة البناء بالجبس الأبيض، فتمت محكمةً، متقنةً سنة 892 هـ.  وفي سنة 1253هـ صدر أمر السلطان عبد الحميد العثماني بصبغ القبة المذكورة باللون الأخضر، وهو أول من صبغ القبة بالأخضر، ثم لم يزل يجدد صبغها بالأخضر كلما احتاجت لذلك إلى يومنا هذا.  وسميت بالقبة الخضراء بعد صبغها بالأخضر، وكانت تعرف بالبيضاء، والفيحاء، والزرقاء” انتهى.

حجرہ مطهرہ پر کوئی گنبد نہ تھا، اور حجرہ مطهرہ  کو باقی مسجد سے علیحدہ کرنے کے لئے سطح مسجد سے آدھے قد کی مقدار تک ایک منڈھیر بنی ہوئی تھی. اور سلطان قلاوون الصالحي وہ پہلا شخص ہے جس نے حجرہ مطهرہ پر  سن 678 هـ (بمطابق 1279ء میں آج سے ٧٣٤ سال پہلے)،  میں گنبد بنایا، جو نیچے سے چکور تھا ، اوپر سے آٹھ حصوں میں تھا جو لکڑی کےتھے. … پھر اس کی الناصر حسن بن محمد قلاوون کے زمانے میں تجدید ہوئی. .. پھر سن 765 هـ،  میں الأشرف شعبان بن حسين بن محمد کے زمانے میں  پھر اس میں خرابی ہوئی اور السلطان قايتباي  کے دور میں سن  881هـ میں اس کی اصلاح ہوئی.   پھر سن 886 هـ میں اور السلطان قايتباي  کے دور میں مسجد النبی میں آگ میں گنبد جل گیا. اور سن 887هـ  میں اور السلطان قايتباي ہی  کے دور میں اس کو دوبارہ بنایا گیا…. سن 892 ھ میں اس کو سفید رنگ کیا گیا …  سن 1253هـ  میں  السلطان عبد الحميد العثماني نے حکم دیا اور اس کو موجودہ شکل میں  سبز رنگ دیا گیا. … اور یہ گنبد البيضاء (سفید)، الفيحاء (چمک دار) ، والزرقاء (نیلا) کے ناموں سے بھی مشھور رہا

 قارئین آپ دیکھ سکتے ہیں کہ دسویں ہجری تک اتنی گمراہی پھیل چکی تھی کہ امت نے قبر کے ساتھ عجیب و غریب سلوک اختیار کیا ہوا تھا اور اس کو بارش پانے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا تھا

واضح رہے کہ گنبد میں  تبدیلی کے عمل میں پرانے گنبدوں کو مقدس سمجھتے ہوئے توڑ کر مسمار نہیں کیا گیا بلکہ

انہی میں اضافہ کیا جاتا رہا

گنبد بنانے میں شاید یہی حکمت پوشیدہ تھی کہ جب بھی قحط پڑے روشن دان کو کھولا جا سکے

والله آعلم

السلطان الناصر محمد بن قلاوون (جس کی ماں ایک منگول تھی ) نے قبر نبوی پر گنبد بنوایا وہ امام ابن تیمیہ کا ہم عصر تھا – اس کے دور میں منگول مسلمانوں (التتار) نے دمشق پر حملہ کیا اور مصریوں کو دمشق سے کوئی دلچسپی نہیں تھی – دمشق کی حکومت نے ابن تیمیہ کو ایک طرح سرکاری مفتی بنا دیا اور اس نے سلطان مصر کو خط لکھا کہ آ کر منگولوں سے لڑے اور دمشق کی  حکومت کی مدد کرے – السلطان الناصر محمد بن قلاوون   اپنے لشکر کے ساتھ آیا اور ابن تیمیہ کے ساتھ مل کر منگول مسلمانوں سے لڑا جن پر ابن تیمیہ نے کفر کا فتوی لگا دیا تھا – حیرت ہے کہ موصوف نے  اس گنبد کو بنانے پر الناصر محمد بن قلاوون کو کوئی خط نہیں لکھا

ابن تیمیہ کتاب الرد علی البکری میں لکھتے ہیں

وما روي عن عائشة رضي الله عنها من فتح الكوة من قبره إلى السماء، لينزل المطر فليس بصحيح، ولا يثبت إسناده، ومما يبين كذب هذا أنه في مدة حياة عائشة لم يكن للبيت كوة، بل كان باقياً كما كان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم، بعضه مسقوف وبعضه مكشوف، وكانت الشمس تنزل فيه، كما ثبت في “الصحيحين” عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي العصر والشمس في حجرتها

اور وہ جو عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کیا جاتا ہے کہ   روشن دان کو کھول دو قبر سے آسمان تک  کہ اس پر بارش ہو یہ صحیح نہیں ہے اور نہ ثابت اسناد سے ہے اور جو بات اس کے جھوٹ ہونے کو  واضح کرتی ہے وہ یہ ہے کہ عائشہ کی مدت حیات میں  گھر میں کوئی روشن دان نہیں تھا بلکہ وہ ویسا ہی باقی تھا جیسا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے  عہد میں تھا بعض پر چھت تھی اور بعض    پر نہیں تھی اور   سورج   نیچے اتا    اس پر اور صحیحین میں ہے عائشہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم عصر و   شمس  (کی نفل نماز) حجرے میں پڑھتے

صحیح بخاری  ج   ٢  ص ٣٧٧    حدیث  ٥١٢  میں ہے    عائشہ رضی الله عنہ روایت کرتی ہیں کہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا لَمْ يَظْهَرْ الْفَيْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا

بے شک رسول الله صلی الله علیہ وسلم عصر اور شمس (کے نوافل) حجرے ہی میں پڑھتے جب حجرے  میں سایہ  نہیں  ظاہر ہوتا تھا

ابن رجب فتح الباری میں لکھتے ہیں

قال ابو عبد الله: وقال مالك، ويحيى بن سعيد، وشعيب، وابن أبي حفصة: والشمس قبل أن تظهر

امام بخاری کہتے ہیں امام مالک اور یحیی اور شعیب اور ابن ابی حفصہ کہتے ہیں شمس  سے مراد ظہر سے پہلے

یعنی ظہر  سے پہلے جب سورج پورا بلند نہ ہوا ہو اس وقت حجرہ میں باہر والی چیزوں اور لوگوں کا  سایہ  نہیں اتا تھا اسی طرح جب عصر سے پہلے غروب ہوتا اس وقت بھی یہی کیفیت تھی

ابن رجب فتح الباری میں لکھتے ہیں

والفيء: هو الظل بعد الزوال بذهاب الشمس منه ، والمعنى: أن الفيء لم يعم جميع حجرتها، بل الشمس باقية في بعضها.

اور الفيء: یہ سایہ ہے سورج کا زوال کے بعد اور معنی ہے کہ یہ سایہ پورے حجرے میں  نہیں ہوتا تھا بلکہ سورج (کی دھوپ) باقی رہتی  حجرے کے بعض (حصہ)  پر

اس روایت میں یہ کہیں نہیں ہے کہ حجرہ عائشہ رضی الله عنہا کی چھت نہیں تھی بلکہ دھوپ دروازہ سے اندر اتی تھی کیونکہ دروازہ خالص لکڑی کا نہیں بلکہ ادب المفرد از امام بخاری کے مطابق  ڈنڈیوں کا تھا جس روۓ  لگے ہوئے تھے   لہذا اس سے گزر کر دھوپ اندر تک نظر اتی تھی جو حجرے کے ایک حصہ میں رہتی اور پورا حجرہ میں سایہ نہیں ہوتا تھا-   دوم عرب کی چلچلاتی دھوپ میں یہ تصور بالکل ناممکن ہے کہ حجرات کی چھت نہ ہو جبکہ مسجد النبی کی چھت  تھی- ظاہر ہے گھر سکون اور پردہ کے لئے ہے جس میں چھت، مسجد سے زیادہ ضروری ہے-

لہذا  ابن تیمیہ کی یہ  بات کہ حجرہ عائشہ کی چھت نہیں تھی  بے سروپا تاویل ہے

_الحجر_الأسو

جواب

حجر اسود کی ایک خبر سنن الترمذی میں اور مسند البزار میں   جرير عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير کی سند سے دی ہے اور اسکو حسن بھی قرار دیا ہے البانی اس کو صحیح کہہ دیا ہے

حدثنا قتيبة حدثنا جرير عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم نزل الحجر الأسود من الجنة وهو أشد بياضا من اللبن فسودته خطايا بني آدم قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وأبي هريرة قال أبو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح.

جریر روایت کرتے ہیں عطاء بن السائب سے وہ روایت کرتے ہیں   سعيد بن جبير سے کہ ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول   صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  حجراسود جنت سے آیا تودودھ سے بھی زیادہ سفید تھا اوراسے بنو آدم کے گناہوں نے سیاہ کردیاہے

اس روایت کو عطاء بن السائب نے روایت کیا  ہے – عطاء بن السائب ثقہ ہیں لیکن آخری عمر میں اختلاط کا شکار تھے – امام عقیلی کی رائے میں سے آخر میں بصرہ میں عطاء بن السائب المتوفی ١٣٦ ھ  سے سننے والوں میں یہ لوگ ہیں

فأما جرير وخالد بن عبد الله وابن علية وعلى بن عاصم وحماد بن سلمة وبالجملة أهل البصرة فأحاديثهم عنه مما سمع منه بعد الاختلاط لانه إنما قدم عليهم فى آخر عمره انتهى

پس جریر اور خالد بن عبد الله اور ابن علية اور على بن عاصم  اور حماد بن سلمة اور دیگر اہل بصرہ آخر میں سننے والوں میں ہیں اختلاط کے عالم میں

کتاب الجرح والتعديل از ابن ابی حاتم میں ہے

وقال أبو طالب: سألت أحمد، يعني ابن حنبل، عن عطاء بن السائب. قال: من سمع منه قديماً كان صحيحاً، ومن سمع منه حديثاً لم يكن بشيء، سمع منه قديماً شعبة، وسفيان، وسمع منه حديثاً جرير، وخالد بن عبد الله، وإسماعيل، يعني ابن علية، وعلي بن عاصم، فكان يرفع عن سعيد بن جبير أشياء لم يكن يرفعها. . «الجرح والتعديل» 6/ (1848)

ابو طالب کہتے ہیں میں نے امام احمد سے عطاء بن السائب پر سوال کیا انہوں نے کہا جس نے ان سے قدیم سنا ہے وہ صحیح ہے اور جس نے بعد میں اس کا سماع کوئی چیز نہیں اور ان سے قدیم سننے والوں میں شعبة، وسفيان ہیں اور جرير اور خالد بن عبد الله اور إسماعيل ابن علية اور علي بن عاصم نے اس سے حدیث سنی جس میں انہوں نے اس کو رفع کر کے سعيد بن جبير تک ان چیزوں کو پہنچایا جو ان تک نہیں جاتی تھیں

یعنی عطاء بن السائب سے جریر نے آخر میں سنا جو عالم اختلاط تھا اور اس میں انہوں نے روایات کو سعید بن جبیر تک پہنچا دیا-  اس عالم میں عطاء بن السائب روایات کو صحابہ تک لے جاتے جبکہ وہ التابعين کی بات ہوتی

الأحاديث المختارة أو المستخرج من الأحاديث المختارة مما لم يخرجه البخاري ومسلم في صحيحيهما از ضياء الدين أبو عبد الله محمد بن عبد الواحد المقدسي (المتوفى: 643هـ)  ، شعب الإيمان  از البیہقی ،  مسند احمد کے مطابق اسکو حماد بن سلمہ نے بھی  عطاء بن السائب سے روایت کیا ہے- ابن حجر نے  فتح الباري (3/462) میں رائے اختیار کی ہے کہ نے حماد بن سلمة نے عطاء بن السائب سے اختلاط سے قبل یا بعد سنا ہے اس میں اختلاف ہے فتح الباری  (ج ١ ص ٤٢٥) میں  کہتے ہیں

وَتحصل لي من مَجْمُوع كَلَام الْأَئِمَّة أَن رِوَايَة شُعْبَة وسُفْيَان الثَّوْريّ وَزُهَيْر بن مُعَاوِيَة وزائدة وَأَيوب وَحَمَّاد بن زيد عَنهُ قبل الِاخْتِلَاط وَأَن جَمِيع من روى عَنهُ غير هَؤُلَاءِ فَحَدِيثه ضَعِيف لِأَنَّهُ بعد اخْتِلَاطه إِلَّا حَمَّاد بن سَلمَة فَاخْتلف قَوْلهم فِيهِ

اور جو اس تمام کلام سے حاصل ہوا ہوا وہ یہ کہ شعبہ اور سفیان اور زہیر اور زائدہ اور ایوب اور حماد بن زید نے عطَاءٍ  سے اختلاط سے قبل سنا پس ان کے علاوہ کسی اور کی حدیث ضعیف ہو گی سوائے حماد بن سلمہ کی روایت کے کہ ان کے بارے میں اختلاف قول ہے

 لیکن ج 3 ص ٤٥٢ پر جا کر جب حجر اسود والی یہ روایت پر بحث آئی تو اس کے دفاع میں سب بھول بھال گئے اور کہا وَحَمَّادٌ مِمَّنْ سَمِعَ مِنْ عَطَاءٍ قَبْلَ الِاخْتِلَاطِ اور حماد بن سملہ نے عَطَاءٍ سے اختلاط سے قبل سنا ہے- یعنی ایک ہی کتاب میں موقف تبدیل کر گئے –   ابن حجر کی بات کی کوئی دلیل نہیں – کتاب الضعفاء الكبير از  العقيلي (المتوفى: 322هـ) میں اس پر بحث ہے

قَالَ عَلِيٌّ: قُلْتُ لِيَحْيَى: وَكَانَ أَبُو عَوَانَةَ حَمَلَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِطَ؟ فَقَالَ: كَانَ لَا يَفْصِلُ هَذَا مِنْ هَذَا، وَكَذَلِكَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ -وَكَانَ يَحْيَى لَا يَرْوِي حَدِيثَ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ إِلَّا عَنْ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ.

علی المدینی نے کہا میں نے یحیی القطان سے کہا کہ أَبُو عَوَانَةَ نے عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ سے اختلاط سے قبل روایت لی ؟ انہوں نے کہا  اس نے اس کو واضح نہیں کیا اور اسی طرح حماد بن سملہ نے بھی اور یحیی،  عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ کی صرف شعبہ اور سفیان کی روایت لکھتے

الضعفاء الكبير از عقیلی کے مطابق

عباس کہتے ہیں میں نے یحیی کو سنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ  کے حوالے سے کہ

سَمِعْتُ يَحْيَى قَالَ: عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ قَالَ: مَنْ سَمِعَ مِنْهُ قَدِيمًا، وَمَنْ سَمِعَ وَقَدْ تَغَيَّرَ فَلَيْسَ هُوَ بِذَاكَ

جس نے اس سے قدیم سنا (وہ صحیح ہے) لیکن جس کسی نے بعد میں سنا اور یہ بدل گیا تھا تو وہ ایسا (صحیح) نہیں

عصر حاضر کے ایک محقق کتاب مَنْهجُ الإمَامِ الدَّارَقطنِي في نقدِ الحديث في كِتَابِ العِلَّل از  أبو عبد الرحمن الداودي ایک دوسری روایت کی بحث میں کہتے ہیں

لأن جرير وحماد سمعا من عطاء بن السائب بعد الاختلاط، قال أبو سعيد العلائي: ” وذكر العقيلي أن حماد بن سلمة ممن سمع منه بعد الاختلاط. قال ابن القطان: وكذلك جرير وخالد بن عبد الله وابن علية وعلي بن عاصم وبالجملة- أهل البصرة فإنَّ أحاديثهم عنه مما سمع بعد الاختلاط لأنَّه قدم عليهم في آخرة عمره

 کیونکہ بے شک حماد بن سلمہ اور جریر نے عطاء بن السائب سے اختلا ط کے بعد سنا ہے ایسا خليل بن كيكلدي بن عبدالله  العلائي نے کہا کہ اس کا ذکر عقیلی نے کیا کہ حماد بن سلمہ سے اختلاط کے بعد سنا ہے اور ابن القطان کہتے

ہیں اور اسی طرح جریر… اھل بصرہ نے عطاء بن السائب سے آخری عمر میں عالم اختلاط میں اس سے سنا

اس روایت کی دو اور سندیں بھی ہیں –  صحیح ابن خُزَيمة میں زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ  (امام علی المدینی کہتے ہیں اس سے روایت نہ کرو،  ابو حاتم کہتے ہیں لاَ يُحْتَجُّ بِهِ ناقابل دلیل ہے، ابن حبان اس کی ایک روایت کو  بَاطِلٌ کہتے ہیں – بخاری نے  اگرچہ روایت لی ہے- ابن القيسراني کہتے ہیں یہ راوی کوئی چیز نہیں ہے  ) اور مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ (ابو داؤد ضعیف کہتے ہیں ) نے بھی   عطاء بن السائب سے روایت کیا ہے

اس بحث سے علم ہوا کہ حماد بن سلمہ اور جریر بن عبد الله نے عطاء بن السائب سے جو روایت کیا وہ متقدمین محدثین کے ہاں  ضعیف سمجھا جاتا تھا – عطاء بن السائب نے سعید بن جبیر کی بات رفع کر کے ابن عباس تک پہنچا دی

ان دو کے علاوہ جنہوں نے روایت کیا ہے وہ خود ضعیف ہیں- کتاب مستخرج الطوسي على جامع الترمذي کے مطابق اس کی ایک اور سند مجاہد سے ہے لیکن اس میں مجہولین ہیں

صحيحُ ابن خُزَيمة میں اس کی جیسی ایک اور روایت ہے

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا أَبُو الْجُنَيْدِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ: الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ يَاقُوتَةٌ بَيْضَاءُ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّمَا سَوَّدَتْهُ خَطَايَا الْمُشْرِكِينَ، يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْل أُحُدٍ يَشْهَدُ لِمَنِ اسْتَلَمَهُ وَقَبَّلَهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا”.

کتاب الكامل في ضعفاء الرجال از ابن عدی کے مطابق

اسکی سند میں عَبد الله بن عثمان بن خثيم مكي ہے  یحییٰ ابن معین کہتے ہیں أحاديثه ليست بالقوية اسکی احادیث قوی نہیں – کتاب الإلزامات والتتبع میں دارقطنی اس کو ضعیف کہتے ہیں

حجر اسود کا رنگ  ایام جاہلیت میں بھی کالا نہ تھا -ایک روایت ہے – کتاب  الآحاد والمثاني از  ابو بكر بن أبي عاصم المتوفى  287ه  کے مطابق   کے مطابق

حَدَّثَنَا سَمَوَيْهُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، نا الْهُذَيْلُ بْنُ بِلَالٍ، نا الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: ” رَأَيْتُ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ وَكَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا ذَبَحُوا لَطَّخُوهُ بِالْفَرْثِ وَالدَّمِ

أَبِي الطُّفَيْلِ اپنے باپ سے  یا دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حجر اسود کو ایام جاہلیت میں دیکھا برف جیسا سفید تھا اور اہل جاہلیہ ذبح کرنے کے بعد اس پر آنتیں  اورخون لیپتے تھے

کتاب اخبار المکہ از الْأَزْرَقِيّ  کے مطابق مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کہتے ہیں کہ انکی والدہ نے کہا كَانَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ قَبْلَ الْحَرِيقِ مِثْلَ لَوْنِ الْمَقَامِ فَلَمَّا احْتَرَقَ اسْوَدَّ  انہوں نے کہا حجر اسود کا رنگ   کعبه جلنے سے پہلے ، مقام ابراہیم جیسا تھا پس جب کعبہ جلا تو یہ  کالا ہو گیا

اہل تشیع کی روایات

الكافي از الكليني – ج 4 – ص 184 – کی روایت ہے

محمد بن يحيى ; وغيره ، عن محمد بن أحمد ، عن موسى بن عمر ، عن ابن سنان ، عن أبي سعيد القماط ، عن بكير بن أعين قال : سألت أبا عبد الله ( عليه السلام ) لأي علة وضع الله الحجر في الركن الذي هو فيه ولم يوضع في غيره ولأي علة تقبل ولأي علة اخرج من الجنة ؟ ولأي علة وضع ميثاق العباد والعهد فيه ولم يوضع في غيره ؟ وكيف السبب في ذلك ؟ تخبرني جعلني الله فداك فإن تفكري فيه لعجب ، قال : فقال سألت وأعضلت في المسألة ( 2 ) واستقصيت فافهم الجواب وفرغ قلبك واصغ سمعك أخبرك إن شاء الله ‹ صفحة 185 › إن الله تبارك وتعالى وضع الحجر الأسود وهي جوهرة أخرجت من الجنة إلى آدم ( عليه السلام ) فوضعت في ذلك الركن لعلة الميثاق وذلك أنه لما اخذ من بني آدم من ظهورهم ذريتهم حين أخذ الله عليهم الميثاق في ذلك المكان وفي ذلك المكان ترائى ( 1 ) لهم ومن ذلك المكان يهبط الطير على القائم ( عليه السلام ) فأول من يبايعه ذلك الطائر وهو والله جبرئيل ( عليه السلام ) وإلى ذلك المقام يسند القائم ظهره وهو الحجة والدليل على القائم وهو الشاهد لمن وافا [ ه ] في ذلك المكان والشاهد على من أدى إليه الميثاق والعهد الذي أخذ الله عز وجل على العباد

محمد بن یحیی اور دیگر، محمد بن احمد سے وہ موسی بن عمر سے وہ ابن سنان سے وہ ابی سعید سے اور بکیر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام جعفر سے سوال کیا کس وجہ سے حجر اسود کو الله نے رکن کعبہ میں لگوایا اور کہیں اور نہ لگوایا ؟ اور کس وجہ سے اس کو جنت سے نکالا گیا ؟ اور کس وجہ سے بندوں سے عہد اس پر ہوا اور کسی اور پر نہ ہوا ؟  اور اس کا سبب کیا ہے ؟ مجھ کو خبر دیں … پس امام جعفر نے کہا … اس کا جواب ہے … کہ بے شک الله نے اس حجر اسود  کو جو ایک جوہر تھا اور جنت سے آدم کے ساتھ نکلا اس کو اس رکن میں نصب کیا گیا بطور میثاق اور یہ اس وجہ سے ہے کہ الله نے ان سے عہد لیا جب الله نے بنی آدم کو ان کی پشت سے نکالا  اس مکان پر (یعنی میثاق ازل حجر اسود پر لیا گیا) اور اسی مقام پر پرندہ امام مہدی پر اڑے گا- پس جو ان کی بیعت کرے گا سب سے پہلے وہ ایک پرندہ ہو گا اور وہ جبریل علیہ السلام ہوں گے اور اس مقام سے امام مہدی ظاہر ہوں گے اور وہ حجت و دلیل ہوں گے

جواهر الكلام – الشيخ الجواهري – ج 14 – ص 141 –  کی اصبع بن نباتہ کی  راویت ہے

أن أمير المؤمنين ( عليه السلام ) قال : يا أهل الكوفة لقد حباكم الله بما لم يحب به أحدا ، من فضل مصلاكم بيت آدم وبيت نوح ، وبيت إدريس ، ومصلى إبراهيم الخليل ، ومصلى أخي الخضر ، ومصلاي وإن مسجدكم هذا لأحد المساجد الأربعة التي اختارها الله عز وجل لأهلها ، وكان قد أتي به يوم القيامة في ثوبين أبيضين شبيه المحرم ، ويشفع لأهله ولمن يصلي فيه ، فلا ترد شفاعته ، ولا تذهب الأيام والليالي حتى ينصب الحجر الأسود فيه ، وليأتين عليه زمان يكون مصلى المهدي من ولدي ، ومصلى كل مؤمن ، ولا يبقى على الأرض مؤمن إلا كان به أو حن قلبه إليه ، فلا تهجروه ، وتقربوا إلى الله عز وجل بالصلاة ‹ صفحة 142 › فيه ، وارغبوا إليه في قضاء حوائجكم ، فلو يعلم الناس ما فيه من البركة أتوه من أقطار الأرض ولو حبوا على الثلج

الوسائل الباب 44 من أبواب أحكام المساجد الحديث 18

اصبع بن نباتہ نے کہآ کہ امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا اے اہل کوفہ بے شک الله  تمہیں ایسی چیز عطا کی ہے جو اس نے دوسروں کو نہیں دی ہے، اس   نے تمہاری اس  مسجد  کو خاص قسم کی برتری بخشی۔  میری نماز کی جگہ آدم کا گھر ہے نوح کا گھر ہے یہی ادریس کا گھر ہے اور ابراہیم خلیل کا گھر ہے اور میرے بھائی خضر کی نماز کی جگہ ہے – اور یہ میری نماز کی جگہ اور بے شک یہ مسجد ان چار مسجدوں میں سے ہے جن کو الله نے اختیار کیا  ہے اس کے اہل کے لئے اور قیاَمت کے دن یہ مسجد دو سفید کپڑوں میں نمودار ہو گی جیسے ایک محرم (حالت احرام میں) ہوتا ہے اور اس میں نماز پڑھنے والوں کے لئے شفاعت کرے گی پس شفاعت رد نہ ہو گی اور دن و رات نہیں جائیں گے کہ یہاں تک کہ مسجد کوفہ میں حجر الاسود نصب ہو گا اور اس پر ایک دور آئے گا کہ میری نسل میں سے مہدی ائے گا اور ہر مومن اس میں نماز پڑھے گا اور زمین پر ایسا کوئی مومن  نہ رہے گا جس کا دل اس کی طرف مائل نہ ہو، پس اس (مسجد) کو مت چھوڑو اور الله کا قرب نماز سے حاصل کرو اور اس کی طرف اپنے حوائج کے لئے رغبت کرو پس جب لوگوں کو اس میں برکت کا علم ہو گا وہ اس (مسجد) کی طرف آئیں گے دنیا کے گوشے گوشے سے چاہے وہ برف پر گھسٹ کر ہی کیوں نہ پہنچیں

 قرامطہ   نے مکہ پر حملہ کیا اور  حجر اسود کو کعبہ سے نکالا اس کی تفصیل کتاب النجوم الزاهرة في ملوك مصر  القاهرة
ازأبو المحاسن، جمال الدين (المتوفى: 874هـ)  میں ہے

وجلس بو طاهر على باب الكعبة والرجال تصرع حوله في المسجد الحرام يوم التروية، الذي هو من أشرف الأيام، وهو يقول
أنا لله وبالله أنا … يخلق الخلق وأفنيهم أنا »
ودخل رجل من القرامطة الى حاشية الطواف وهو راكب سكران، فبال فرسه عند البيت، ثم ضرب الحجر الأسود بدبّوس فكسره ثم اقتلعه. وكانت إقامة القرمطىّ بمكّة أحد عشر يوما. فلما عاد القرمطىّ الى بلاده رماه الله تعالى في جسده حتى طال عذابه وتقطّعت أوصاله وأطرافه وهو ينظر اليها، وتناثر الدود من لحمه.

اور ابو طاہر کعبہ کے دروازے پر بیٹھا اور لوگ مسجد الحرام کے سامنے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ ) میں تھے جو سب سے اشرف دن ہے اور اس نے کہا

میں الله ہوں اور الله کی قسم

میں تخلیق کرتا اور فنا کرتا ہوں

اور قرامطہ کا ایک شخص  نشے کی حالت میں آیا اور اس نے دبوس ( یعنی کیلا ) حجر اسود پر مارا جس سے وہ ٹوٹ گیا اور اس کو اکھاڑا اور ابو طاہر مکہ میں ١١ دن رہا پس جب یہ واپس گیا الله نے اس کا جسم گھلا دیا اس پر عذاب بڑھا اور اس کے  (جسم کے) حصے کاٹ دے گئے کہ یہ دیکھ رہا تھا اور اس کے گوشت میں کیڑے پڑے

قرامطہ اس کو لے کر کوفہ پھنچے اور اس کو مسجد کوفہ میں لے آئی اس طرح انہوں نے قرب قیامت کی امیر المومنین علی علیہ السلام کی بات پوری کر دی

شیعہ عالم کی کتاب خاتمة المستدرك – الميرزا النوري الطبرسی – ج 2 – ص 296 – 297 کے مطابق

السيد الأجل الأكمل ، الأرشد المؤيد ، العلامة النحرير ، بهاء الدين على  بن السيد غياث الدين عبد الكريم بن عبد الحميد بن عبد الله ابن أحمد بن حسن بن علي بن محمد بن علي غياث الدين – الذي خرج عليه جماعة من العرب بشط سوراء بالعراق ، وحملوا عليه وسلبوه ، فمانعهم عن سلب  سراويله فضربه أحدهم فقتله . وكان عالما ” تقيا ” – ابن السيد جلال الدين عبد الحميد : الذي يروي عنه محمد بن جعفر المشهدي في المزار الكبير ، وقال فيه : أخبرني السيد الأجل العالم عبد الحميد بن التقي عبد الله بن أسامة العلوي الحسيني رضي الله عنه ، في ذي القعدة من سنة ثمانين وخمسمائة قراءة عليه بحلة الجامعين  ، ابن عبد الله بن أسامة – المتولي للنقابة بالعراق – ابن أحمد بن علي ابن محمد بن عمر ، الرئيس الجليل الذي رد الله على يده الحجر الأسود ، لما نهبت القرامطة مكة في سنة ثلاث وعشرين وثلاثمائة ، وأخذوا الحجر ، وأتوا به إلى الكوفة ، وعلقوه في السارية السابعة من المسجد التي كان ذكرها أمير المؤمنين عليه السلام ، فإنه قال ذات يوم بالكوفة : لا بد أن يصلب في هذه السارية ( 2 ) وأوما إلى السارية السابعة . والقصة طويلة ( 3 ) . وبنى قبة جده أمير المؤمنين عليه السلام من خالص ماله ، ابن يحيى القائم بالكوفة ابن الحسين النقيب الطاهر ابن أبي عانقة أحمد الشاعر المحدث بن أبي علي عمر بن أبي الحسين يحيى – من أصحاب الكاظم عليه السلام ، المقتول سنة خمسين ومائتين ، الذي حمل رأسه في قوصرة إلى المستعين – بن أبي عبد الله الزاهد العابد الحسين الملقب بذي الدمعة ، الذي رباه الصاد

ابن عبد الله بن أسامة ابن أحمد بن علي ابن محمد بن عمر  – المتولي للنقابة بالعراق  تھے جن کے ہاتھ پر الله نے حجر اسود لوٹایا  نے فرمایا کہ جب قرامطہ نے مکہ کو سن ٣٢٣ ھ میں لوٹا اور حجر اسود کو اس میں سے لیا اور اس کو لے کر وہ کوفہ پہنچے  اور اس کو مسجد کے  ساتویں السارية (ستون یا علم و جھنڈے کا ستون)  پر لٹکایا جس کا ذکر امیر المومننین (علی) نے (پہلے) کیا تھا

یعنی حجر اسود مکہ سے کوفہ پہنچا

اثنا عشری شیعوں نے حجر اسود واپس کر دیا اور قرامطہ اس کو لے کر سعودی عرب کے مشرقی شہر الحسا  چلے گئے جہاں ایک کنواں نما تعمیر میں اس کو رکھ  دیا گیا

كعبة القرامطة3

كعبة القرامطة2

-قرامطہ کی بدبختی کی وجہ سے حجر اسود کئی  ٹکڑوں میں ٹوٹا اور بعد میں اس پر دور عثمانی خلافت میں ایک عیسائی نے ضرب لگائی –  اس کو جوڑنے کے لئے  کالے رنگ کا مواد ستعمال کیا گیا  اور آج دیکھنے والے کو یہ مکمل ایک ٹھوس کالا پتھر لگتا ہے – حقیقت میں یہ پتھر کے کئی ٹکڑے ہیں جو اس کالے مواد میں چھپے ہوئے ہیں اصل حجر اسود ایک ہتھیلی برابر تھا   جو اسود یا کالا نہ تھا (کتاب اخبار المکہ از الْأَزْرَقِيّ )  بلکہ  ابن زبیر کی شہادت کے وقت ہونے والے واقعے میں کعبه جلنے پر کالا ہوا اور یہی لفظ ابن زبیر رضی الله عنہ کے بعد مستعمل ہوا- حجر اسود کو اصلا رکن کہا جاتا تھا  جن صحابہ (مثلا جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، ابن عَبَّاسٍ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَرْجِسَ ) اور تابعین (مثلا مجاہد ) نے اس کو حجر اسود کہا ہے وہ سب ابن زبیر رضی الله عنہ کے بعد تک رہے اور یہی لفظ اس پتھر کے لئے مشھور ہو گیا اور حدیث  لٹریچر میں آ گیا

الغرض حجر اسود  کے رنگ کے حوالے سے دو رائے ہیں ایک مشھور ہے کہ یہ کفار کی وجہ سے کالا ہوا

 ابن قتیبہ اس بات پر کہ مُلْحِدِينَ کہتے ہیں کہ اگر یہ کفار کی وجہ سے کالا تھا تو ابرار کی وجہ سے سفید کیوں نہ ہوا پر کہتے ہیں

لَوْ شَاءَ اللَّهُ لَكَانَ ذَلِكَ وَإِنَّمَا أَجْرَى اللَّهُ الْعَادَةَ بِأَنَّ السَّوَادَ يَصْبُغُ وَلَا يَنْصَبِغُ عَلَى الْعَكْسِ مِنَ الْبَيَاضِ

اگراللہ تعالی چاہتا تواس طرح ہوجاتا ، اللہ تعالی نے یہ طریقہ اورعادت بنائ ہے کہ سیاہ رنگا ہوجاتا ہے اوراس کے خلاف  نہيں ہوتا

دوسری رائے ہے کہ حجر اسود کالا نہ تھا مسلمانوں نے جب کعبہ جلایا اس وقت کالا ہوا یہ الْأَزْرَقِيّ   کی روایت ہے

دو افراد کا نام تاریخ میں ملتا ہے کہ ان کی پیدائش کعبه میں ہوئی- سب سے پہلے حکیم بن حزام رضی الله عنہ اور دوسرے علی بن ابی طالب رضی الله عنہ ہیں

صحیح مسلم بَابُ الصِّدْقِ فِي الْبَيْعِ وَالْبَيَانِ کی روایت ہے

حَدَّثَنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ، يُحَدِّثُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ: “وُلِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ، وَعَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ سَنَةً”

امام مسلم کہتے ہیں حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ ابن خويلد رضی الله تعالی عنہ ( المتوفی ٥٤ ھ ) کعبہ کے پیٹ (بیچوں بیچ) میں پیدا ہوئے اور ١٢٠ سال زندہ رہے

ان کی والدہ کا نام فَاخِتَةَ ابْنَةَ زُهَيْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ہے- حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ ابن خويلد رضی الله تعالی خدیجہ رضی الله عنہا کے بھتیجے  ہیں –  ابن کثیر کے مطابق واقعہ الفیل سے ١٣ سال پہلے ان کی پیدائش ہوئی الذھبی تاریخ الاسلام میں لکھتے ہیں أَنَّهُ وُلد في جوف الكعبة یہ کعبہ کے پیٹ میں پیدا ہوئے عام الفتح پر ایمان لائے لیکن قبل نبوت سے نبی صلی الله علیہ وسلم کے دوست رہے تھے

مستدرک الحاکم میں ہے

سَمِعْتُ أَبَا الْفَضْلِ الْحَسَنَ بْنَ يَعْقُوبَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا أَحْمَدَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْوَهَّابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ غَنَّامٍ الْعَامِرِيَّ، يَقُولُ: «وُلِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ، دَخَلَتْ أُمُّهُ الْكَعْبَةَ فَمَخَضَتْ فِيهَا فَوَلَدَتْ فِي الْبَيْتِ

عَلِيَّ بْنَ غَنَّامٍ الْعَامِرِيَّ کہتے ہیں حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ رضی الله تعالی عنہ کعبہ کے پیٹ (بیچوں بیچ) میں پیدا ہوئے ان کی ماں کعبہ میں داخل ہوئی کہ ان کو درد ہوا اور حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ کی کعبہ میں پیدائش ہوئی

یہی بات الزبيرُ بن بكَّار، ابن مندہ  نے بھی کہی ہے

ان کی والدہ زیارت کی غرض سے گئیں کہ درد ہوا اور کعبہ میں داخل ہو گئیں  جو ایک اتفاقیہ امر تھا

مستدرک میں امام حاکم لکھتے ہیں

فَقَدْ تَوَاتَرَتِ الْأَخْبَارِ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَسَدٍ وَلَدَتْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ»

پس تواتر سے خبر ملی ہے کہ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَسَدٍ نے امیر المومنین علی بن ابی طالب کو کعبہ میں جنم دیا

کتاب أخبار مكة في قديم الدهر وحديثه از أبو عبد الله الفاكهي (المتوفى: 272هـ)   کے مطابق عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ کہتے ہیں کہ  عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ کہتے ہیں

وَأَوَّلُ مَنْ وُلِدَ فِي الْكَعْبَةِ: حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ …..وَأَوَّلُ مَنْ وُلِدَ فِي الْكَعْبَةِ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ: عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ

کعبہ میں جو سب سے پہلے پیدا ہوا وہ  حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ہیں اور بنو ہاشم میں سب  سے پہلے  عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ  پیدا ہوئے

کتاب تاريخ مكة المشرفة والمسجد الحرام والمدينة الشريفة والقبر الشريف از محمد بن أحمد بن الضياء ابن الضياء (المتوفى: 854هـ) کے مطابق

وَقيل: ولد عَليّ بن أبي طَالب فِي جَوف الْكَعْبَة. وَهَذَا ضَعِيف عِنْد الْعلمَاء كَمَا قَالَه النَّوَوِيّ فِي ” تَهْذِيب الْأَسْمَاء

اور کہا جاتا ہے کہ  عَليّ بن أبي طَالب کعبہ کے پیٹ میں پیدا ہوئے لیکن یہ قول علماء کے نزدیک ضعیف ہے جیسا کہ النووی نے تَهْذِيب الْأَسْمَاء  میں کہا ہے

النووی کہتے ہیں

ولد حكيم فى جوف الكعبة، ولا يُعرف أحد ولد فيها غيره، وأما ما روى أن على بن أبى طالب، رضى الله عنه، ولد فيها، فضعيف عند العلماء.

حکیم کعبہ کے پیٹ میں پیدا ہوئے اور ہم یہ بات  کسی اور کے لئے نہیں جانتے اور یہ جو علی بن ابی طالب کے لئے روایت کیا جاتا ہے کہ وہ اس میں پیدا ہوئے تو یہ علماء کے نزدیک ضعیف ہے

کتاب  إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال  از مغلطاي (المتوفى: 762هـ)  کے مطابق

وذكر أبو الفرج بن الجوزي في كتابه «مثير العزم الساكن إلى أشرف الأماكن»: وقول من قال: إن علي بن أبي طالب ولد في جوف الكعبة ليس بصحيح، لم يولد فيها غير حكيم.

اور ابو الفرج بن الجوزی نے کتاب  مثير العزم الساكن إلى أشرف الأماكن میں ذکر کیا ہے کہ کہنے والے کا قول کہ علی بن ابی طالب کعبہ کے پیٹ میں پیدا ہوئے صحیح نہیں ہے اس میں سوائے حکیم کے کوئی اور پیدا نہیں ہوا

کعبہ میں پیدائش ہمارے نزدیک کوئی منقبت نہیں بلکہ تاریخ کے مطابق  ” هبل ” في جوف الكعبة  کعبہ کے بیچ میں ھبل کا بت تھا (تاریخ دمشق، طبری  وغیرہ) اس کے سامنے  کسی کا جنم ہونا  اور اس کو عظمت سمجھنا عقل سے بالا ہے

شیعہ کتب میں واقعہ بیان کیا جاتا ہے

سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ میں یزید بن قعنب کو یہ کہتے سنا کہ میں عباس بن عبد المطلب اور بنی عبد العزیٰ کے کچھ لوگوں کے ساتھ خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک فاطمہ بن اسد (مادر حضرت علی علیہ السلام) خانہ کعبہ کی طرف آئیں۔ وہ نو ماہ کے حمل سے تھیں اور ان کے درد زہ ہو رہا تھا۔ انھوں نے اپنے ہاتھوں کو دعا کے لےے اٹھایا اور کہا کہ اے اللہ! میں تجھ پر، تیرے نبیوں پر اور تیری طرف سے نازل ہونے والی کتابوں پر ایمان رکھتی ہوں۔ میں اپنے جد ابراہیم علیہ السلام کی باتوں کی تصدیق کرتی ہوں اور یہ بھی تصدیق کرتی ہوں کہ اس مقدس گھر کی بنیاد انھوں نے  ہی رکھی ہے۔ بس اس گھر کی بنیاد رکھنے والے کے واسطے سے اور اس بچے کے واسطے سے جو میرے شکم میں ہے، میرے لےے اس پیدائش کے مرحلہ کو آسان فرما۔

یزید بن قعنب کہتا ہے کہ ہم نے دیکھا کہ خانہ کعبہ میں پشت کی طرف درار پیدا ہوئی۔ فاطمہ بن اسد اس میں داخل ہو کر ہماری نظروں سے چھپ گئیں اور دیوار پھر سے آپس میں مل گئی۔ ہم نے اس واقعہ کی حقیقت جاننے کے لےے خانہ کعبہ کا تالا کھولنا چاہا، مگر وہ نہ کھل سکا، تب ہم نے سمجھا کہ یہ امر الہی ہے۔

چار دن کے بعد فاطمہ بنت اسد علی کو گود میں لئے ہوئے خانہ کعبہ سے باہر آئیں اور کہا کہ مجھے پچھلی تمام عورتوں پر فضیلت دی گئی ہے۔ کیونکہ آسیہ بن مزاحم (فرعون کی بیوی) نے اللہ کی عباد ت وہاں چھپ کر کی جہاں اسے پسند نہیں ہے (مگر یہ کہ ایسی جگہ صرف مجبوری کی حالت میں عبادت کی جائے۔) مریم بنت عمران (مادر حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے کھجور کے پیڑ کو ہلایا تا کہ اس سے تازی کھجوریں کھا سکے۔ لیکن میں وہ ہوں جو بیت اللہ میں داخل ہوئی اور جنت کے پھل اور کھانے کھائے۔ جب میں نے باہر آنا چاہا تا ہاتف نے مجھ سے کہا کہ اے فاطمہ! آپ نے اس بچے کا نام علی رکھنا۔ کیونکہ وہ علی ہے اور خدائے علی و اعلیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اس کا نام اپنے نام سے مشتق کیا ہے، اسے اپنے احترام سے احترام دیا ہے اور اپنے علم غیب سے آگاہ کیا ہے۔ یہ بچہ وہ ہے جو میرے گھر سے بتوں کو باہر نکالے گا، میرے گھر کی چھت سے آذان کہے گا اور میری تقدیس و تمجید کرے گا۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس سے محبت کرتے ہوئے اس کی اطاعت کریں اور بد بخت ہیں وہ لوگ جو اس سے دشمنی رکھیں اور گناہ کریں۔

اس  کی سند ہے

بشارة المصطفى – محمد بن علي الطبري – ص 26 – 27

أخبرنا الرئيس الزاهد العابد العالم أبو محمد الحسن بن الحسين بن الحسن

في الري سنة عشرة وخمسمائة ، عن عمه محمد بن الحسن ، عن أبيه الحسن بن

الحسين ، عن عمه الشيخ السعيد أبي جعفر محمد بن علي بن الحسين بن بابويه y ،

قال : حدثني علي بن أحمد بن موسى  الدقاق ، قال : حدثنا محمد بن جعفر

الأسدي ، قال : حدثنا موسى بن عمران ، عن الحسين بن يزيد ، عن محمد بن سنان ،

عن المفضل بن عمر ، عن ثابت بن دينار ، عن سعيد بن جبير ، قال : قال يزيد بن قعنب :

” كنت جالسا مع العباس بن عبد المطلب وفريق من عبد العزى  بإزاء بيت

الله الحرام ، إذ أقبلت فاطمة بنت أسد أم أمير المؤمنين ، وكانت حاملا به لتسعة

أشهر ، وقد أخذها الطلق ، فقالت : رب إني مؤمنة بك وبما جاء من عندك من رسل

وكتب ، وإني مصدقة بكلام جدي إبراهيم الخليل ، وأنه بنى بيتك العتيق ، فبحق

الذي بنى هذا البيت ، وبحق المولود الذي في بطني لما يسرت علي ولادتي .

قال يزيد بن قعنب : فرأينا البيت قد انفتح عن ظهره ودخلت فاطمة وغابت

عن أبصارنا فيه والتزق الحائط ، فرمنا أن ينفتح لنا قفل الباب ، فلم ينفتح ، فعلمنا ان

ذلك أمر من الله عز وجل ، ثم خرجت بعد الرابع وبيدها أمير المؤمنين علي ( عليه السلام ) .

فقالت : إني فضلت على من تقدمني من النساء لأن آسية بنت مزاحم عبدت

الله عز وجل سرا في موضع لا يحب أن يعبد الله فيه إلا اضطرارا ، وان مريم بنت

عمران هزت النخلة اليابسة بيدها حتى أكلت منها رطبا جنيا ، واني دخلت بيت الله

الحرام فأكلت من ثمار الجنة وأرزاقها ، فلما أردت أن أخرج هتف بي هاتف :

يا فاطمة ! سميه عليا ، فهو علي ، والله العلي الأعلى يقول : إني شققت اسمه من

اسمي وأدبته بأدبي ووقفته على غامض علمي ، وهو الذي يكسر الأصنام في بيتي

وهو الذي يؤذن فوق ظهر بيتي ويقدسني ويمجدني ، فطوبى لمن أحبه وأطاعه ،

وويل لمن أبغضه وعصاه

کتاب الأمالي – الشيخ الصدوق – ص  ١٩٤ پر بھی اس کی سند میں مجھول شخص ہے

حدثنا علي بن أحمد بن موسى الدقاق ( رحمه الله ) ، قال : حدثنا محمد

ابن جعفر الأسدي ، قال : حدثنا موسى بن عمران ، عن الحسين بن يزيد ، عن محمد بن

سنان ، عن المفضل بن عمر ، عن ثابت بن دينار ، عن سعيد بن جبير ، قال : قال يزيد بن

قعنب

يزيد بن قعنب مجھول ہے جس کو ذکر نہ شیعہ کتب رجال میں ہے نہ اہل سنت کی کتب میں

کتاب المفيد من معجم رجال الحديث از محمد الجواهري میں بھی اس کا ذکر نہیں ہے – لیکن اسی مجھول راوی کی سند سے صدوق اور طوسی نے اس کو لکھا ہے جس کا ترجمہ تک کتب رجال شیعہ میں نہیں ملتا

دیوار کعبه میں ان کو ایک شگاف بھی نظر آ گیا ہے لیکن کیا کعبہ کی تعمیر مشرکین کے زمانے سے لے کر آج تک نہیں ہوئی

کعبہ کو ابن زبیر کے دور میں  جمادى الآخرة   ٦٤ ھ  میں گرایا گیا اور دوبارہ  بنایا گیا جس میں حطیم کو اس میں شامل کر دیا گیا اس کے بعد مخالفین نے ابن زبیر کو قتل کرنے کے لئے کعبہ پر پتھر برسائے کیونکہ ابن زبیر نے اپنے اپ کو اس میں بند کر لیا تھا کعبہ ٹوٹا اور دوبارہ تعمیر ہوا (تعجيل المنفعة صـ453) جس میں حطیم کو واپس نکال دیا گیا

مزید دیکھئے : شفاء الغرام بأخبار البلد الحرام از  محمد بن أحمد بن علي، تقي الدين، أبو الطيب المكي الحسني الفاسي

 قرامطہ نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا اور اسکی بےحرمتی کی، خاص طور سے وہاں  ٣٠ ہزار حاجیوں  کا قتل عام کیا- انہوں نے خانہ کعبہ سے حجر اسود کو بھی چرایہ اور زمزم میں لوگوں کی لاشیں پھینکیں

قرامطہ کے شیعہ نے بھی اس کو خراب کیا یہاں تک کہ اس سے حجر اسود اکھاڑ کر لے  گئے

 جواب  صحیحین میں حجر الاسود کی تاریخ پر روایت نہیں صرف عمر رضی الله عنہ کا اس سے کلام کا ذکر ہے کہ میں جانتا ہوں تو ایک پتھر ہے وغیرہ

آپ کا سوال شاید یہ ہے کہ یہ کہاں سے آیا؟  ضعیف روایات میں آتا ہے کہ آدم علیہ السلام کو ہند یا سندھ  میں اتارا گیا اور ان کے ساتھ  جنت کا حجر تھا-

صحيح ابن خزيمه ، ترمدی اور نسائی كي ابن عباس سے مروی  روایت ہے

نَزَلَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ

حجر الاسود جنت سے نازل ہوا اور یہ برف سے زیادہ سفید تھا

البتہ اس کا مقصد حدیث میں بیان نہیں ہوا- ایک مشھور قول ہے کہ  اس کا مقصد آدم کو  مقام کعبہ  دکھانا تھا اور طوفان نوح کے بعد یہ اسی مقام سے نکلا جب ابراہیم نے کعبہ کی بنیاد رکھی-

مستدرک حاکم کی روایت ہے جس کو حاکم اور الذھبی مسلم کی شرط پر کہتے ہیں

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبِ بْنِ حَيَّانَ، ثنا عُبَيْدُ الله بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، قَالَا: ثنا إِسْرَائِيلُ، ثنا خَالِدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا رَضِيَ الله عَنْهُ عَنْ {أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا} [آل عمران: 96] أَهُوَ أَوَّلُ بَيْتٍ بُنِيَ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ  أَوَّلُ بَيْتٍ وُضِعَ فِيهِ الْبَرَكَةُ وَالْهُدَى، وَمَقَامُ إِبْرَاهِيمَ، وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمَنَّا، وَلَإِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُكَ كَيْفَ بَنَاهُ الله عَزَّ وَجَلَّ، إِنَّ الله أَوْحَى إِلَى إِبْرَاهِيمَ أَنِ ابْنِ لِي بَيْتًا فِي الْأَرْضِ فَضَاقَ بِهِ ذَرْعًا، فَأَرْسَلَ الله إِلَيْهِ السَّكِينَةَ، وَهِيَ رِيحٌ خَجُوجٌ، لَهَا رَأْسٌ، فَاتَّبَعَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ حَتَّى انْتَهَتْ، ثُمَّ تَطَوَّقَتْ إِلَى مَوْضِعِ الْبَيْتِ تَطَوُّقَ الْحَيَّةِ، فَبَنَى إِبْرَاهِيمُ فَكَانَ يَبْنِي هُوَ سَاقًا كُلَّ يَوْمٍ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَكَانَ الْحَجَرِ، قَالَ لِابْنِهِ: أَبْغِنِي حَجَرًا فَالْتَمَسَ ثَمَّةَ حَجَرًا حَتَّى أَتَاهُ بِهِ، فَوَجَدَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ قَدْ رُكِّبَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ: مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا؟ قَالَ: جَاءَ بِهِ مَنْ لَمْ يَتَّكِلْ عَلَى بِنَائِكَ جَاءَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ السَّمَاءِ فَأَتَمَّهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے علی رضی الله عنہ سے پوچھا  کہ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكً  میں  کیا یہ زمین پر بننے والا پہلا گھر ہے ؟ علی نے کہا نہیں لیکن پہلے گھر میں برکت اور ہدایت ہے اور وہ مقام ابراہیم ہے جو اس میں داخل ہو امن میں ہے اور اگر چاہو تو میں تمہیں خبر دوں کہ الله نے یہ کیسے بنوایا  بے شک الله نے ابراہیم پر الہام کیا کہ زمین پر میرے لئے گھر بناو پس ان کا دل تنگ ہوا پس الله نے سکینہ کو بھیجا جو ایک تند و تیز ہوا تھی جس کا سر بھی تھا پس اس کے پیچھے ابراہیم کا ایک ساتھی لگا یہاں تک کہ وہ رک گئی اور بیت الله کا ایک زندہ کی طرح طواف کرنے لگی پس ابراہیم اس مقام پر روز بیت الله بناتے یہاں تک کہ (بنیاد کھودتے ہوئے) کہ ایک (بڑے) پتھر تک پہنچ گئے پس انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا یہ پتھر دو اور انہوں نے اس کو اٹھایا تو اس کے نیچے حجر الاسود تھا جس پر ابراہیم بیٹھ  گئے تو ان کے بیٹے  نے کہا یہ آپ کو کہاں سے ملا؟  یہ ان سے ملا جن تک تمہاری نگاہ نہیں جاتی – جبریل آسمان سے لائے اور یہ پورا کیا

يه روایت تفسیر طبری میں بھی نقل ہوئی ہے

حجر الاسود کو رکن بھی کہا جاتا ہے –  کیونکہ اس کو ایک کنارہ میں نصب کیا گیا تھا – علی رضی الله عنہ رسول الله کی  نبوت سے ١٣ سال پہلے پیدا ہوئے –  بعض روایات کے مطابق نبوت سے پانچ سال قبل  کعبہ میں آگ لگی اور اس کا ایک حصہ جل گیا اور اس کی تعمیر کی گئی –   روایات  کے مطابق ایک ڈوبی ہوئی رومی کشتی کی لکڑی سے بنایا گیا  جو حبشہ جا رہی تھی لیکن جدہ کے ساحل پر آ لگی اور مسافروں کو عربوں نے بچایا ( مصنف عبد الرزاق) لہذا اس کو نبوت سے پانچ سال پہلے بنایا گیا جس میں یہ جھگڑا پیدا ہوا کہ کعبہ میں حجر الاسود کہاں نصب ہو  گا؟  اس میں نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنی حکمت سے حرم میں قتل و غارت گری روک دی اور اہم قبائل کے سرداروں نے چادر کے حصے پکڑے جس پر حجر الاسود کو رکھا گیا اور نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس کو کعبہ میں نصب کیا

إس کو البيهقي نے  شعب الإيمان (3 – 436) میں ذکر کیا ہے اور مسند احمد میں بھی اس طرح کی ایک روایت ہے-

بخاری مسلم میں ہے کہ پتھروں  کو کعبہ تک لے جایا جا رہا تھا کہ آپ کے چچا عباس نے کہا کہ اپنا آزار دو تاکہ اس پر رکھ کر لے جائیں آپ نے آزار کھولا تو غشی آ گئی  – شارحین کے مطابق یہ واقعہ ہوا جب اپ کی عمر ١٥ سال تھی اگر یہ قول درست ہے تو اس کا مطلب ہے کہ حجر الاسود کو کعبہ سے نکالا اور واپس لگایا جاتا رہا ہے –

کتاب  أخبار مكة وما جاء فيها من الأثار از الأزرقي کے مطابق

هَدَمَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْبَيْتَ حَتَّى سَوَّاهُ بِالْأَرْضِ

ابن زبیر نے کعبہ کو منہدم کیا حتی کہ زمین کے برابر کر دیا

اور وَجَعَلَ الرُّكْنَ فِي تَابُوتٍ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ  رکن یا حجر کو ایک تابوت میں رکھا جس میں ریشمی کپڑا تھا

قَالَ عِكْرِمَةُ: فَرَأَيْتُ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، فَإِذَا هُوَ ذِرَاعٌ أَوْ يَزِيدُ

عکرمہ نے کہا میں نے حجر الاسود کو دیکھا وہ ایک ہتھیلی یا اس سے بڑا تھا

ابن کثیر البدایہ و النہایہ میں قرامطہ   کے حوالے سے جو لکھا ہے اس کا خلاصہ ہے

قرامطہ  ٣١٧ ھ میں  ایام ترویہ میں حرم میں داخل ہوئے ٣٠ ہزار حجاج کا قتل کیا اور لاشوں کو اٹھا کر زمزم میں پھینک دیا ان کا سردار ابو طاہر بولا کہاں ہیں ابابیل ؟ کہاں ہیں سجیل؟  پھر حجر الاسود کو اکھاڑ کر نکالا جس میں اس کے ٹکڑے ہو گئے  ان کو وہ بحرین لے گئے اور ٢٢ سال ان کے پاس رہا- سن ٣٣٩ ھ میں خلیفہ مقتدر کو ٣٠ ہزار دینار میں واپس  کیا –

حنبلی عالم ابی بکر الجراعی  المتوفی ٨٨٣ ھ    کتاب تحفة الراكع والساجد بأحكام المساجد میں لکھتے ہیں

إنهم باعوه [أي القرامطة] من الخليفة المقتدر بثلاثين ألف دينار. ولما أرادوا تسليمه، أشهدوا عليهم ألا تسلّموا الحجر الأسود، وقاله لهم بعد الشهادة: يا من لا عقل لهم، من علم منكم أن هذا هو الحجر الأسود ولعلنا أحضرنا حجرا أسودا من هذه البرية عوضة، فسكت الناس، وكان فيهم عبد الله بن عكيم المحدث، فقال لنا في الحجر الأسود علامة، فإن كانت موجودة : فهو هو، وإن كانت معدومة، فليس هو، ثم رفع حديثا غريبا أن الحجر الأسود يطفو على وجه الماء ولا يسخن بالنار إذا أوقدت عليه، فأحضر القرمطي طستا فيه ماء ووضع الحجر فيه فطفى على الماء، ثم أوقدت عليه النار فلم يحس بها فمد عبد الله المحدث يده وأخذ الحجر وقبله وقال: أشهد أنه الحجر الأسود، فتعجب القرمطي من ذلك، وقال: هذا دين مضبوط بالنقل. وأرسل الحجر إلى مكة

قرامطہ نے خلیفہ المقتدر سے معاہدہ کیا کہ ٣٠ ہزار درہم میں اس کو دیں گے …. ( جب وہ دینے لگے تو کہا)  اے احمقوں تم کو کیسے پتا کہ یہ ہی حجر الاسود ہے؟ اور ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی زمین سے کوئی کالا پتھر  لے آئیں ہوں اور دے دیں پس لوگ چپ ہو گئے- ان میں محدث عبد الله بن عكيم تھے  انہوں نے کہا کہ اس حجر الاسود کی ہمارے پاس ایک نشانی ہے اگر اس میں ہوئی تو یہی ہے اور اگر نہیں تو یہ وہ  نہیں ہو سکتا پھر ایک غریب حدیث بیان کی کہ اگر حجر الاسود کو پانی میں ڈالو تو ڈوبے گا نہیں اور اگ میں ڈالو تو گرم نہیں ہو گا پس …( یہ سب کیا گیا)…. اور محدث عبد الله نے کہا  میں شہادت دیتا ہوں یہی حجر الاسود ہے پس ابو طاہر کو تعجب ہوا اور بولا یہ دین روایت میں بہت مظبوط ہے پس حجر کو واپس مکہ بھیجا گیا

ابی بکر الجراعی یہ بھی کہتے ہیں کہ  ابن دحیہ کہتے ہیں کہ عبد الله بن عكيم  نامعلوم ہیں-  البتہ اصلی حجر الاسود کو کیسے ثابت کیا گیا کہ وہی حجر اسود ہے کسی اور روایت میں نہیں

الغرض  حجر الاسود جنت کا پتھر ہے اور اس کو رکن کہا جاتا ہے  اسی قدر معلوم ہو سکا ہے

ہاب ثاقب کے پتھر پانی میں ڈوب جاتے ہیں اور لاوا والے کچھ پتھر پانی میں کچھ عرصے تیرتے ہیں لیکن وہ بھی بعد میں

ڈوب جاتے ہیں جن کو پومس(١) کہاجاتا ہے

(١)Pumice

 یہ صرف حجر الاسود ہے کہ ہزاروں سال بعد بھی تیر سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کو اس دنیا کا  نہیں سمجھا جاتا تھا اور عربوں کو اس کا پتا تھا

جواب

یہ بات کہ مسجد الحرام اور مسجد الاقصی کی تعمیر میں ٤٠ سال کا دور تھا – صرف ایک سند سے آئی ہے

الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ

اس میں اعمش کا تفرد ہے جو مدلس ہے اور ذخیرہ احادیث میں اس مخصوص روایت کی ہر سند میں اس نے عن سے ہی روایت کیا ہے

کتاب  جامع التحصيل في أحكام المراسيل از العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق

وقال سفيان الثوري لم يسمع الأعمش حديث إبراهيم في الوضوء من القهقهة منه

سفيان الثوري کہتے ہیں کہ  الأعمش نے ابراہیم کی حدیث وضو میں قہقہہ پر نہیں سنی

احمد یہ بات العلل میں کہتے ہیں

قال سفيان: لم يسمع الأعمش حديث إبراهيم في الضحك.

کتاب المعرفة والتاريخ کے مطابق امام احمد کہتے تھے کہ ابراہیم سے روایت کرنے میں اگر اعمش یا منصور غلطی کریں تو فوقیت منصور کودو

وقال الفضل بن زياد: سمعت أبا عبد الله أحمد بن حنبل، وقيل له: إذا اختلف

منصور، والأعمش، عن إبراهيم فبقول من تأخذ؟ قال: بقول منصور، فإنه أقل سقطاً

تدليس الإسناد کے حوالے سے علم حدیث کی کتابوں میں یہ بات موجود ہے کہ اسناد میں گڑبڑ ہوئی ہے مثلا  أبو عوانة نے عن الأعمش عن إبراهيم التيمي، عن أبيه، عن أبي ذر کی سند سے روایت کیا ہے

أن النبي – صلى الله عليه وسلم – قال: فلان في النار ينادي، يا حنان يا منان.

قال أبو عوانة: قلت للأعمش سمعت هذا من إبراهيم؟ قال: لا، حدثني به حكيم بن جبير عنه.

ابو عوانة کہتے ہیں میں نے اعمش سے پوچھا تم نے یہ روایت ابراہیم سے سنی ہے ؟ بولے نہیں اس کو حكيم بن جبير نے ان سے روایت کیا ہے دیکھئے معرفة علوم الحديث ص: 105 پر

اسی طرح العلل دارقطنی میں ہے

وَسُئِلَ عَنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاتَيْنِ تَنْتِطَحَانِ.

فَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، وَلَا يَثْبُتُ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحديث.

الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ کی سند سے روایت ہے اس کو دارقطنی کہتے ہیں اعمش سے ثابت نہیں ہے

اب  مثالیں موجود ہیں کہ اعمش جب عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ کی سند سے روایت کرتے ہیں تو بعض اوقات انہوں نے تدلیس کی ہے اور  ان سے غلطی ہوئی ہے لہذا  صحیح کی یہ روایت کہ مسجد الحرام اور مسجد الاقصی کی تعمیر میں صرف چالیس سال کا فرق تھا درست نہیں کیونکہ یہ تاریخآ غلط روایت ہے- مسجد الحرام یا کعبہ کی تعمیر ابراہیم علیہ السلام نے کی اس کے بعد سلیمان یا داؤد  علیہ السلام کے دور میں مسجد الآقصی تعمیر ہوئی- اس کے مقابلے پر یہ کہنا تاریخ بے سند ، من گھڑت ہے جاہلانہ بات ہے – تاریخ بھی سند سے ہی ہے اور انبیاء کے ادوار میں جو تفاوت ہے وہ قرآن میں بھی موجود ہے جس سے کسی بھی طرح اس حدیث کی تطبیق قرآن سے نہیں ہو سکتی

بعض لوگوں نے اسطرح تطبیق دی ہے کہ مسجد الحرام آدم علیہ السلام نے تعمیر کی  لیکن اس صورت میں انبیاء کے درمیان فاصلہ گھٹنے کے بجاے اور بڑھ جاتا ہے- خود نوح علیہ السلام نے ٩٥٠ سال تبلیغ کی ہے

کہا جاتا ہے کہ ابن حجر  نے حوالہ دیا ہے کہ ابن ہشام کی کتاب التیجان میں ہے کہ جب آدم علیہ السلام کعبہ تعمیر کرچکے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بیت المقدس کی صرف جانے کا حکم دیا-  لیکن اس کی سند کیا ہے ؟ ایک بے سند قول سے یہ کیسے ثابت ہو گیا

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسند احمد کی روایت ہے

عن ابن عباس قال لمامر رسول اللہ ﷺ بوادی عسفان حین حج قال یا ابا بکرای واد ھذا قال وادی عسفان قال لقدمر بہ ھود وصالح علی بکرات حمر خطمھا اللیف ازرھم العباء واردیتھم النمار یلیون یحجون البیت العتیق۔ (مسند امام احمد فتح ربانی جز ۲۰، ص۴۲)

ابن عباس نے کہا  ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج  پر  وادی عسفان سے گزرے، تو آپ نے   فرمایا، اے ابوبکر یہ کون سی وادی ہے، انہوں نے  کہا  یہ وادی عسفان ہے، آپ نے فرمایا، یہاں سے هود اور صالح علیہ السلام بھی سرخ اونٹنیوں پر گزرے ہیں… وہ حج کرتے تھے اس بیت عتیق (یعنی کعبہ) کا۔
کیونکہ   هود اور صالح علیہ السلام   پیغمبروں کا زمانہ ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ہے، لہٰذا کعبہ   ابراہیم سے پہلے بھی موجود تھا۔

مسند احمد کی اس روایت کی سند ہے

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَادِي عُسْفَانَ حِينَ حَجَّ، قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، أَيُّ وَادٍ هَذَا؟» قَالَ: وَادِي عُسْفَانَ، قَالَ: «لَقَدْ مَرَّ بِهِ هُودٌ، وَصَالِحٌ عَلَى بَكَرَاتٍ حُمْرٍ خُطُمُهَا اللِّيفُ، أُزُرُهُمْ الْعَبَاءُ، وَأَرْدِيَتُهُمْ النِّمَارُ، يُلَبُّونَ يَحُجُّونَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ»

کتاب موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله کے مطابق امام احمد خود العلل میں  کہتے ہیں

سلمة بن وهرام اليماني.   قال عبد الله بن أحمد: سألته (يعني أباه) ، عن سلمة بن وهرام. فقال: روى عنه زمعة أحاديث مناكير، أخشى أن يكون حديثه حديثاً ضعيفاً. «العلل» (3479)

راوی سلمة بن وهرام اليماني پر عبد الله بن احمد کہتے ہیں میں نے اپنے باپ سے سلمة بن وهرام اليماني کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا زمعة ان سے منکر روایات نقل کرتا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ اس کی حدیث ضعیف ہے

 قرآن کہتا ہے

   اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًاوَّ ھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ   اٰل عمران
سب سے پہلا گھر جو انسانوں کی عبادت کے لیے بنایا گیا وہ ، وہ ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا اور عالمین کے لیے ہدایت ہے

معلوم ہوا ابراہیم سے بھی پہلے آدم علیہ السلام نے بیت الله تعمیر کیا تھا لیکن ان کا مسجد الاقصی تعمیر کرنا کسی صحیح السند روایت میں نہیں آیا

قرآن میں ہے موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو حکم دیا

   یٰقَوْمِ ادْخُلُوْا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللہُ لَکُمْ   المائدہ

اے قوم ارض مقدس میں داخل ہو جاؤ، یہ اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے

اس سے یہ استخراج کیا جاتا ہے کہ ارض مقدس پہلے سے موجود تھی   لہذا اس میں کسی موقعہ پر مسجد تعمیر ہوئی ہو گی –  کہا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ سے صدیوں پہلے اس سرزمین میں بیت المقدس تعمیر ہوچکا تھا- لہذا اس روشنی میں اگر صحیح کی روایت دیکھی جائے تو مطلب ہوا کہ کعبه  جو آدم نے تعمیر کیا اس میں اور مسجد اقصی بھی جو آدم نے تعمیر کی اس میں ٤٠ سال کا فرق تھا- لیکن یہ دلیل نہیں بلکہ محتاج دلیل قول ہے – آدم علیہ السلام کا بیت الله تعمیر کرنا تو قرآن سے ثابت ہے لیکن ارض مقدس شام میں ان کا کچھ تعمیر کرنا  قرآن س میں نہیں اور کسی صحیح حدیث میں نہیں

الغرض روایت اعمش کی غلطی ہے اس میں تدلیس کی گئی ہے جس طرح انھوں نے ابراہیم عن ابیہ عن ابی ذر کی دوسری روایات میں کی ہے

جواب

یہ روایت دو اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم سے منسوب کی جاتی ہے

ابی سعید رضی الله عنہ کی روایات

صحیح مسلم کی روایت ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْهُ حَدِيثًا فَأَعْجَبَنِي، فَقُلْتُ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَأَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ أَسْمَعْ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” لَا تَشُدُّوا الرِّحَالَ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى

عَبْدِ الْمَلِكِ ابْنُ عُمَيْرٍ، قَزَعَةَ سے وہ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ  سے روایت کرتے ہیں کہ قَزَعَةَ نے کہا میں نے ایک حدیث سنی جس پر میں حیران ہوا پس میں نے پوچھا کیا آپ نے اس کو رسول الله سے سنا ؟ انہوں نے کہا میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے حدیث روایت کروں جو ان سے سنی نہ ہو !  اور فرمایا میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا کہ سواریاں نہ کسی جائیں سوائے تین مسجدوں کے لئے مسجد یہ والی ، مسجد الحرام اور مسجد الاقصی

  قَزَعَة بْن يَحيى، مَولَى زِياد  یا قَزَعَة بْن الأَسود مَولَى عَبد الملك  ہیں جن کے لئے ہے کہ یہ بصرہ کے ہیں اور ثقہ ہیں بني الحريش  أهل العراق میں سے ہیں دمشق پہنچے بعض مقام پر انہیں أَبُو الغادية الْبَصْرِيّ لکھا گیا ہے – یہ ثقہ سمجھے جاتے ہیں اور امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت لکھی ہے

اس کی سند میں عبد الملك بن عُمير الكوفي ہے – کتاب المختلطين از العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق

قال أبو حاتم: تغير حفظه. ابو حاتم کہتے ہیں اس کا حافظہ متغیر ہوا

وقال ابن معين: مخلط اور ابن معین کہتے ہیں مختلط ہے

اس کے علاوہ  امام احمد کہتے ہیں  في حديثه اضطراب  اسکی حدیثوں میں اضطراب ہے

عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ سے سننے والے زُهَيْرٌ، شُعْبَةُ، جَرِيرٌ ، سُفْيَانُ  ہیں

محدثین نے یہ واضح نہیں کیا کہ عبد الملک سے عالم اختلاط میں کس کس نے سنا اور کس نے پہلے سنا جو ایک ضروری امر تھا لیکن افسوس ایسا بیان نہیں ہوا

اس روایت کو قَتَادَةَ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ کی سند سے بھی روایت کیا گیا ہے

قتادہ مدلس ہیں اور عن سے روایت کر رہے ہیں لہذا ضروری نہیں کہ سنا بھی ہو

ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی روایت

اس روایت کے کچھ متن میں ہے کہ أَبُو بَصْرَةَ الْغِفَارِيُّ طور پہاڑ گئے کہ وہاں عبادت کریں واپس پر ابو ہریرہ سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے یہ حدیث سنائی مسند احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَقِيَ أَبُو بَصْرَةَ الْغِفَارِيُّ، أَبَا هُرَيْرَةَ، وَهُوَ جَاءٍ مِنَ الطُّورِ فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ قَالَ: مِنَ الطُّورِ صَلَّيْتُ فِيهِ قَالَ: أَمَا لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَرْحَلَ إِلَيْهِ مَا رَحَلْتَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ کہتے ہیں میں ابو بصرہ رضی الله عنہ  کی ملاقات ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے ہوئی اور وہ طور سے آ رہے تھے پس کہا کہاں سے آئے؟ ابو بصرہ رضی الله عنہ نے کہا طور سے وہاں نماز پڑھی ابو ہریرہ رضی الله عنہ نے کہا اگر میں آپ سے پہلے ملتا تو آپ یہ سفر نہ کرتے  میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ سفر نہ کیا جائے مگر تین مسجدوں کے لئے ایک مسجد الحرام دوسرے میری یہ مسجد اور مسجد الاقصی

مسند ابو داود طیالسی کی روایت ہے

حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ، أَنَّ أَبَا بَصْرَةَ لَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ جَاءٍ فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ قَالَ: أَقْبَلْتُ مِنَ الطُّورِ صَلَّيْتُ فِيهِ قَالَ: أَمَا إِنِّي لَوْ أَدْرَكَتُكَ لَمْ تَذْهَبْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى»

ان دونوں سندوں میں پھر وہی عبد الملك بْن عمير ہے جو عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ سے اس روایت کو بیان کر رہا ہے

مسند احمد میں ایک دوسری روایت میں سب الگ  ہے

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ: لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَسِيرُ إِلَى مَسْجِدِ الطُّورِ لِيُصَلِّيَ فِيهِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَرْتَحِلَ مَا ارْتَحَلْتَ، قَالَ: فَقَالَ: وَلِمَ؟ قَالَ: قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى، وَمَسْجِدِي

مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيّ رضی الله عنہ ِ سے روایت کرتے ہیں کہ میں ابو ہریرہ رضی الله عنہ  سے ملا اور وہ مسجد الطور سے آ  رہے تھے کہ وہاں عبادت کریں میں نے ان سے کہا اگر میں آپ کے سفر سے پہلے آپ سے ملا ہوتا  تو آپ یہ نہ کرتے ابو ہریرہ رضی الله عنہ  نے کہا کیوں میں نے کہا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم  سے سنا کہ سواری نہ کسی جائے سوائے اس کے تین مسجدوں کے لئے مسجد الحرام الاقصی اور میری مسجد

یعنی ابو بصرہ رضی الله عنہ کہتے کہ ابو ہریرہ رضی الله عنہ کوہ طور کا سفر کرتے تھے

کوہ طور آجکل مصر میں جزیرہ سینآ میں بتایا جاتا ہے جبکہ اس  کا اصل مقام ثابت نہیں – موجودہ کوہ طور اصل میں   ہیلینا اور عیسائی مبلغ  یسوبؤس کی دریافت تھے  جن پر کوئی دلیل نہیں تھی صرف کونسٹنتیں مشرک بادشاہ کی خواہش پر اس کو دریافت کیا گیا تھا – پاول کے خطوط کے مطابق کوہ طور عرب میں ہے نہ کہ مصر میں – الغرض آج  یہودی تو سرے سے اس مقام کو کوہ طور کے لئے قبول ہی نہیں کرتے اور عیسائیوں کی بھی ایک بڑی تعداد اس مقام کو کوہ طور تسلیم نہیں کرتی- لہذا اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم اس پہاڑ تک کا سفر کیوں کرتے جبکہ اس کا مقام خود اہل کتاب میں متنازعہ ہے

دارقطنی علل میں کہتے ہیں لا تشد الرحال کی

وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَقَالَ أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ

اور صحیح ہے حَدِيثُ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَقَالَ أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ

لیکن دارقطنی کی بات صحیح نہیں ہے

کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل از العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق

محمد بن المنكدر قال بن معين وأبو زرعة لم يسمع من أبي هريرة ولم يلقه

محمد بن المنكدر :  ابن معین  اور أبو زرعة کہتے ہیں اس نے ابو ہریرہ سے نہیں سنا نہ ان سے ملاقات ہوئی

لہذا روایت اس سند سے ضعیف ہے

اور اسی کتاب میں دارقطنی اس کی دو اور سندیں دیتے ہیں

حدثنا النيسابوري، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابن المسيب، عن أبي هريرة، قال

رسول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَمَسْجِدِ الأقصى.

صحیح بخاری و مسلم معمر بن راشد کی امام الزہری سے حدیث لکھی گئی لہذا یہ سند صحیح ہے

اگرچہ تمام محدثین کے نزدیک ایسا نہیں تھا

امام احمد کہتے ہیں کہ ابن مبارک نے کہا

ما رأيت أحدًا أروى عن الزهري من معمر، إلا ما كان من يونس، فإن يونس كتب كل شيء. «العلل» (109

میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی معمر کی امام الزہری کی روایت لکھتا ہو سوائے وہ جو یونس کی سند سے ہوں

علل دارقطنی کی دوسری سند ہے

حدثنا محمد بن إسماعيل الفارسي، حدثنا أبو أسامة الحلبي، حدثنا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّمَا الرِّحْلَةُ إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: إلى المسجد الحرام، ومسجدي هذا، وإيلياء.

اس روایت کی سند میں حجاج بن يوسف بن أبى منيع  ، نَا جَدِّي (عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ) المتوفی ١٥٩ ھ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ہے

تاریخ الکبیر از امام بخاری کے مطابق عُبَيد اللهِ بْن أَبي زِياد، الشامي  پر نہ جرح ہے نہ تعدیل ہے لیکن دارقطنی نے ان کو ثقہ کہا ہے تاریخ الاسلام از الذھبی کے مطابق ولينه بعضهم بعض نے ان کو کمزور کہا ہے

دوسری طرف حجاج بن يوسف بن أبى منيع کو

الساجي: متروك الحديث کہتے ہیں

ابن السمعاني: منكر الحديث، تركوا حديثه  منکر الحدیث ہے حدیث ترک کر دو

لہذا یہ روایت اس  سند سے ضعیف ہے

مسند الحمیدی کی سند ہے

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ، إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى

سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ روایت الزُّهْرِيُّ سے روایت کر رہے ہیں – روایت اس سند سے صحیح ہے

اب اس  کے  مخالف اقوال

اس کے برعکس مصنف ابن ابی شیبه میں ہے کہ عبد الله بن أبي الهذيل کا قول ہے

لا تشد الرحال إلا إلى البيت العتيق

سواری نہ کسی جائے سوائے مسجد الحرام کے لئے

اور مسند الفاروق از ابن کثیر کے مطابق عمر رضی الله عنہ کہتے تھے

لا تشد الرحال إلا إلى البيت العتيق

سواری نہ کسی جائے سوائے مسجد الحرام کے لئے

امام بخاری تاریخ الکبیر میں لکھتے ہیں

قَالَ: حدَّثنا يَحيى بْنُ آدَمَ، حدَّثنا الأشجَعِيّ، عَنْ سُفيان بْنِ سَعِيد، عَنْ أَبي سِنان ضِرار، حدَّثنا عَبد اللهِ بْنُ أَبي الهُذَيل، سَمِعتُ عُمَر بْنَ الخَطّاب خَطِيبًا بالرَّوحاء؛ لا تَشُدُّوا الرِّحال إِلا إِلَى الْبَيْتِ العَتِيق.

وَقَالَ النَّبيُّ صَلى اللَّهُ عَلَيه وسَلم: إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَة، وحديثُ النَّبيِّ صَلى اللَّهُ عَلَيه وسَلم أَولَي

عَبد اللهِ بْنُ أَبي الهُذَيل کہتے ہیں انہوں نے عمر رضی الله عنہ کو روحا میں خطاب کرتے سنا کہ سواری مت کسنا لیکن صرف بیت العتیق کے لئے

اور نبی صلی الله علیہ وسلم کا قول ہے تین کے لئے اور حدیث نبوی کو اولیت حاصل ہے

لیکن جب عمر رضی الله عنہ نے مجمع میں اس رائے کا اظہار کیا تو کسی صحابی نے اس کی تردید کیوں نہ کی؟

واضح رہے کہ عمر رضی الله عنہ نے بیت المقدس کا سفر کیا لیکن خود وہ اس کے قائل نہ تھے کہ بیت المقدس کا سفر اس  مسجد  کے لئے کیا جائے – بیت المقدس کا سفر عیسائیوں کی درخوست پر کیا گیا تھا کہ وہ اپنے کلیساووں کی چابیاں امیر المومنین کو دین گے نہ کہ کسی اور کو –    عمر رضی الله  عنہ  ،  اہل کتاب کے مطابق   یروشلم وہاں کے پٹریارک    صوفرونئوس (المتوفی ١٧ ھ/  ٦٣٨ ع)   کی درخواست پر گئے کہ یروشلم کے اہم   چرچ  کی چابی وہ کسی عام مسلمان کو نہیں  بلکہ  مسلمانوں کے خلیفہ کو دیں  گے-   اس کا آج تک  احترام کیا جاتا   اور  چرچ اف  نتویتے    یعنی  عیسیٰ کی پیدائش کے چرچ   کی چابی  مسلمانوں کے پاس ہے اور اس کا تالا مسلمان ہی کھولتے ہیں  اور اس روایت کا عیسائی بھی  احترام کرتے ہیں –

امیر المومنین عمر رضی الله عنہ جہنوں نے یروشلم تک کا سفر کیا اور وہ خود  اس سے منع کرتے کہ کوئی مسجد الحرام کے علاوہ  کسی اور مسجد کے لئے سفر کرے قابل غور ہے

جواب

اس میں اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم کا اختلاف تھا سب سے پہلے تو یہ بات ذہن میں رکھیں یہ سب ایک کرشمہ الہی اور معجزاتی رات ہے اس میں جو بھی ہو گا وہ عام نہیں ہے خاص ہے

امام طحآوی نے مشکل الاثار میں اس بات  پر بحث کی ہے اور ان کی رائے میں نماز پڑھائی ہے

وہاں انہوں نے عبد الله ابن مسعود رضی الله عنہ کی ایک روایت دی ہے

 عبد الله ابن مسعود رضی الله عنہ کی ایک  روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے براق کو باندھا اور وہاں تین انبیاء ابراہیم علیہ السلام ، موسی علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی بشمول دیگر انبیاء کے جن کا نام قرآن میں نہیں ہے واضح رہے کہ مسجد الاقصی داود یا  سلیمان علیہ السلام کے دور میں بنی اس میں نہ موسی علیہ السلام نے نماز پڑھی نہ ابراہیم علیہ السلام نے نماز پڑھی  لہذا روایت میں ہے انبیاء نے نماز پڑھی  فَصَلَّيْتُ بِهِمْ إِلَّا هَؤُلَاءِ النَّفْرَ سوائے ان تین کے جن میں إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى عَلَيْهِمُ السَّلَامُ ہیں  – اسکی سند میں مَيْمُون أَبُو حَمْزَة الْقَصَّاب الأعور كوفي. کا تفرد ہے جو متروک الحدیث ہے حیرت ہے امام حاکم اس روایت کو اسی سند سے  مستدرک میں پیش کرتے ہیں

الهيثمي  اس ابن مسعود رضی الله عنہ کی روایت کو کتاب  المقصد العلي في زوائد أبي يعلى الموصلي میں پیش کرتے ہیں کہتے ہیں

قُلْتُ: لابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ فِي الإِسْرَاءِ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا

میں کہتا ہوں صحیح میں اس سے الگ روایت ہے

مسند احمد میں انس رضی الله عنہ کی روایت میں ہے کہ  رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے براق کو باندھا  ثُمَّ دَخَلْتُ، فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ میں اس مسجد میں داخل ہوا اور دو رکعت پڑھی-   لیکن انبیاء کی امامت کا ذکر نہیں – اس روایت میں حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ البصری کا تفرد بھی ہے جو آخری عمر میں  اختلاط کا شکار تھے  اور بصرہ  کے ہیں

مشکل آثار میں الطحاوی نے اس بات کے لئے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انبیاء کی امامت کی کچھ اور روایات پیش کی ہیں مثلا

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي أُسْرِيَ بِهِ إِلَيْهِ فِيهَا، بُعِثَ لَهُ آدَمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ دُونَهُ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، وَأَمَّهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ،  انس سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول الله صلی الله علیہ وسلم بیت المقدس معراج کی رات پہنچے وہاں آدم علیہ السلام دیگر انبیاء کے ساتھ آئے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے امامت کی

اس کی سند میں عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ہیں جو مجھول ہیں دیکھئے المعجم الصغير لرواة الإمام ابن جرير الطبري از أكرم بن محمد زيادة الفالوجي الأثري

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ

قَالَ: فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ الْأَقْصَى قَامَ يُصَلِّي، ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا النَّبِيُّونَ أَجْمَعُونَ يُصَلُّونَ مَعَهُ

جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد اقصی میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے، پھر آپ نے ادھر ادھر دیکھا تو تمام انبیائے کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ نماز ادا کر رہے تھے

امام احمد ( 4 / 167 ) نے اس کو ابن عباس سے روایت کیا ہے، لیکن اس کی سند بھی کمزور ہے سند میں قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ الْجَنْبِيُّ ہے جس کے لئے ابن سعد کہتے ہیں  وَفِيهِ ضَعْفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ اس میں کزوری ہے نا قابل دلیل ہے البتہ ابن کثیر نے اس روایت کو تفسیر میں صحیح کہا ہے شعيب الأرنؤوط  اس کو اسنادہ ضعیف اور احمد شاکر صحیح کہتے ہیں

صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ بیت المقدس میں فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ  نمازکا وقت آیا تومیں نے انبیاء کی امامت کرائی

 سندآ یہ بات  صرف  أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمنِ بنِ عَوْفٍ الزُّهْرِيُّ  المتوفی ١١٠ ھ  ، أَبِي هُرَيْرَةَ سے نقل کرتے ہیں

یہ روایت صحیح نہیں کیونکہ اس وقت – وقت نہیں ہے –  وقت تھم چکا ہے اور کسی نماز کا وقت نہیں آ سکتا کیونکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم رات کی نماز پڑھ کر سوتے تھے انکو سونے کے بعد جگایا گیا اور اسی رات میں آپ مکہ سے یروشلم  گئے وہاں سے سات آسمان اور پھر انبیاء سے مکالمے  ہوئے – جنت و جنہم کے مناظر، سدرہ المنتہی کا منظر یہ  سب دیکھا تو کیا وقت ڈھلتا رہا؟ نہیں

صحیح بخاری کی کسی بھی حدیث میں معراج کی رات انبیاء کی امامت کا ذکر نہیں ہے جبکہ بخاری میں أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا کی سند سے روایات موجود ہیں – لہذا انس رضی الله عنہ کی کسی بھی صحیح روایت میں انبیاء کی امامت کا ذکر نہیں ہے

الغرض یہ قول اغلبا  ابو ہریرہ رضی الله عنہ کا تھا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بیت المقدس میں انبیاء کی امامت کی بقیہ اصحاب رسول اس کو بیان نہیں کرتے

روایات کا اضطراب آپ کے سامنے ہے ایک میں ہے باقاعدہ نماز کے وقت جماعت ہوئی جبکہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ رات کے وقت سونے کی حالت میں آپ  کو جگایا گیا دوسری میں ہے رسول الله نے خود دو رکعت پڑھی امامت کا ذکر نہیں تیسری میں ہے رسول الله نماز پڑھ رہے تھے جب سلام پھیرا تو دیکھا انبیا ساتھ ہیں یعنی یہ سب مضطرب روایات ہیں

صحیح ابن حبان اور مسند احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: ” فَانْطَلَقْتُ ـ أَوْ انْطَلَقْنَا   ـ حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ “، فَلَمْ يَدْخُلَاهُ، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ دَخَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ وَصَلَّى فِيهِ، قَالَ: مَا اسْمُكَ يَا أَصْلَعُ؟ فَإِنِّي أَعْرِفُ وَجْهَكَ، وَلَا أَدْرِي مَا اسْمُكَ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ، قَالَ: فَمَا عِلْمُكَ بِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيهِ لَيْلَتَئِذٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: الْقُرْآنُ يُخْبِرُنِي بِذَلِكَ، قَالَ: مَنْ تَكَلَّمَ بِالْقُرْآنِ فَلَجَ، اقْرَأْ، قَالَ: فَقَرَأْتُ: {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} [الإسراء: 1] ، قَالَ: فَلَمْ أَجِدْهُ صَلَّى فِيهِ، قَالَ: يَا أَصْلَعُ، هَلْ تَجِدُ صَلَّى فِيهِ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: وَاللهِ مَا صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ، لَوْ صَلَّى فِيهِ لَكُتِبَ عَلَيْكُمْ صَلَاةٌ فِيهِ، كَمَا كُتِبَ عَلَيْكُمْ صَلَاةٌ فِي الْبَيْتِ الْعَتِيقِ، وَاللهِ مَا زَايَلَا الْبُرَاقَ حَتَّى فُتِحَتْ لَهُمَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَرَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَوَعْدَ الْآخِرَةِ أَجْمَعَ، ثُمَّ عَادَا عَوْدَهُمَا عَلَى بَدْئِهِمَا، قَالَ: ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ، قَالَ: وَيُحَدِّثُونَ أَنَّهُ رَبَطَهُ   أَلِيَفِرَّ مِنْهُ؟، وَإِنَّمَا سَخَّرَهُ لَهُ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، قَالَ: قُلْتُ: أَبَا عَبْدِ اللهِ، أَيُّ دَابَّةٍ الْبُرَاقُ؟ قَالَ: دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ هَكَذَا خَطْوُهُ مَدُّ الْبَصَرِ

أَبُو النَّضْرِ  کہتے ہیں ہم سے شَيْبَانُ نے روایت کیا ان سے ْ عَاصِمٍ نے ان سے  زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ نے کہا میں حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رضی الله عنہ کے پاس پہنچا اور وہ معراج کی رات کا بیان کر رہے تھے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ  میں چلا یا ہم چلے (یعنی جبریل و نبی) یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچے لیکن اس میں داخل نہ ہوئے- میں ( زر بن حبیش ) نے کہا بلکہ وہ داخل ہوئے اس رات اور اس میں نماز پڑھی – حُذَيْفَةَ رضی الله عنہ نے کہا اے گنجے تیرا نام کیا ہے ؟ میں تیرا چہرہ جانتا ہوں لیکن نام نہیں – میں نے کہا زر بن حبیش- حُذَيْفَةَ نے کہا تمہیں کیسے پتا کہ اس رات رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نماز بھی پڑھی ؟ میں نے کہا قرآن نے اس پر خبر دی – حُذَيْفَةَ نے کہ جس نے قرآن کی بات کی وہ حجت میں غالب ہوا  – پڑھ !  میں نے پڑھاپاک ہے وہ جو لے گیا رات کے سفر میں  اپنے بندے کو مسجد الحرام سے مسجد الاقصی  .. حُذَيْفَةَ نے کہا مجھے تو اس میں نہیں ملا کہ نماز بھی پڑھی – انہوں نے کہا اے گنجے کیا تجھے اس میں ملا کہ نماز بھی پڑھی ؟ میں نے کہا نہیں – حُذَيْفَةَ نے کہا الله کی قسم کوئی نماز نہ پڑھی رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس رات  اگر پڑھی ہوتی تو فرض ہو جاتا جیسا کہ بیت الحرام کے لئے فرض ہے اور الله کی قسم وہ براق سے نہ اترے حتی کہ آسمان کے دروازے کھلے اور جنت و جہنم کو دیکھا اور  دوسری باتوں کو دیکھا جن کا وعدہ ہے پھر وہ آسمان ویسا ہی ہو گیا  جسے کہ پہلے تھآ -زر نے کہا  پھر حُذَيْفَةَ ہنسے  اور کہا اور لوگ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اس کو (براق کو) باندھا کہ بھاگ نہ جائے،  جبکہ اس کو تو عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لئے مسخر کیا

حذیفہ رضی الله عنہ کی روایت عاصم بن ابی النجود سے ہے جو اختلاط کا شکار ہو گئے تھے لہذا اس روایت کو بھی رد کیا جاتا ہے لیکن جتنی کمزور امامت کرنے والی روایت ہے اتنی ہی امامت نہ کرنے والی ہے

 راقم کے نزدیک حذیفہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث صحیح ہے اور  صوآب  ہے- یہ صحابہ کا اختلاف ہے – حذیفہ رضی الله عنہ  کے مطابق رسول الله صلی الله علیہ وسلم یروشلم گئے آپ کو مسجد الاقصی فضا سے ہی  دکھائی گئی –  واضح رہے  براق سے اترنے کا صحیح بخاری میں بھی  کوئی ذکر نہیں ہے- محدث ابن حبان  کے نزدیک حذیفہ رضی الله عنہ کی روایت صحیح ہے اور انہوں نے اسکو صحیح ابن حبان میں بیان کیا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے دوسرے اصحاب کے اقوال بھی نقل کیے ہیں جن میں براق سے اترنے کا ذکر ہے

جواب

اسماعیلی فرقہ شیعوں کے ان فرقوں میں سے ہے جن میں شریعت اور اس کے ظاہری اعمال کی کوئی حیثیت نہیں ہے بلکہ امیریا امام کی جانب سے شریعت کی حدود بدل جاتی ہیں لہذا حج میں قتل کرنا اور کعبه کی تعظیم نہ کرنے کے باوجود بھی یہ مسلمان ہی سمجھتے ہیں -قرامطہ ایک عجیب غالی فرقہ تھا لہذا بہت سے کاموں کا حکم قرآن جو صآمت یا گونگا ہے سے لینے کی بجائے قرآن ناطق یا امام سے لیا جاتا تھا
ابو طاہر  اسماعیلی شیعہ تھا جو علی کے اقوال کو اہمیت دیتا ہے جس میں حجر اسود کا کوفہ پہنچنا بیان ہوا تھا اس کے نزدیک رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی کوئی اہمیت نہیں تھی کیونکہ وہ شارع نہیں بلکہ علی اصل شارع تھے

بعض  مورخین کے مطابق قرامطہ حجر اسود کو ایک مقناطیس سمجھتے تھے

قرامطہ نے حجر اسود کو ایک مقناطیسی قوت کا مالک سمجھا
تاريخ ابن الوردي کے مطابق
أَنه لما أَخذ الْحجر الْأسود قَالَ: هَذَا مغناطيس بني آدم وَهُوَ يجرهم إِلَى مَكَّة وَأَرَادَ أَن يحول الْحَج إِلَى الإحساء
انہوں نے حجر اسود کو لیا اور کہا یہ مقناطیس ہے بنی آدم کا جس سے یہ مکہ تک جاتے ہیں انکا ارادہ حج کو الآحسا لانے کا تھا

کتاب اتعاظ الحنفاء بأخبار الأئمة الفاطميين الخلفاء از المقريزي کے مطابق
وقلع الحجر الأسود وأخذه معه وظن أنه مغناطيس القلوب
حجر اسود کو اکھاڑا اور ساتھ لیا اور گمان کیا کہ دلوں کا مقناطیس ہے

لیکن یہ اصل بات نہیں ہے راقم کے نزدیک صحیح بات اہل تشیع اور دیگر مورخین بتاتے ہیں

جواهر الكلام – الشيخ الجواهري – ج 14 – ص 141 –  کی اصبع بن نباتہ کی  راویت ہے

أن أمير المؤمنين ( عليه السلام ) قال : يا أهل الكوفة لقد حباكم الله بما لم يحب به أحدا ، من فضل مصلاكم بيت آدم وبيت نوح ، وبيت إدريس ، ومصلى إبراهيم الخليل ، ومصلى أخي الخضر ، ومصلاي وإن مسجدكم هذا لأحد المساجد الأربعة التي اختارها الله عز وجل لأهلها ، وكان قد أتي به يوم القيامة في ثوبين أبيضين شبيه المحرم ، ويشفع لأهله ولمن يصلي فيه ، فلا ترد شفاعته ، ولا تذهب الأيام والليالي حتى ينصب الحجر الأسود فيه ، وليأتين عليه زمان يكون مصلى المهدي من ولدي ، ومصلى كل مؤمن ، ولا يبقى على الأرض مؤمن إلا كان به أو حن قلبه إليه ، فلا تهجروه ، وتقربوا إلى الله عز وجل بالصلاة ‹ صفحة 142 › فيه ، وارغبوا إليه في قضاء حوائجكم ، فلو يعلم الناس ما فيه من البركة أتوه من أقطار الأرض ولو حبوا على الثلج

الوسائل الباب 44 من أبواب أحكام المساجد الحديث 18

اصبع بن نباتہ نے کہآ کہ امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا اے اہل کوفہ بے شک الله  تمہیں ایسی چیز عطا کی ہے جو اس نے دوسروں کو نہیں دی ہے، اس   نے تمہاری اس  مسجد  کو خاص قسم کی برتری بخشی۔  میری نماز کی جگہ آدم کا گھر ہے نوح کا گھر ہے یہی ادریس کا گھر ہے اور ابراہیم خلیل کا گھر ہے اور میرے بھائی خضر کی نماز کی جگہ ہے – اور یہ میری نماز کی جگہ اور بے شک یہ مسجد ان چار مسجدوں میں سے ہے جن کو الله نے اختیار کیا  ہے اس کے اہل کے لئے اور قیاَمت کے دن یہ مسجد دو سفید کپڑوں میں نمودار ہو گی جیسے ایک محرم (حالت احرام میں) ہوتا ہے اور اس میں نماز پڑھنے والوں کے لئے شفاعت کرے گی پس شفاعت رد نہ ہو گی اور دن و رات نہیں جائیں گے کہ یہاں تک کہ مسجد کوفہ میں حجر الاسود نصب ہو گا اور اس پر ایک دور آئے گا کہ میری نسل میں سے مہدی ائے گا اور ہر مومن اس میں نماز پڑھے گا اور زمین پر ایسا کوئی مومن  نہ رہے گا جس کا دل اس کی طرف مائل نہ ہو، پس اس (مسجد) کو مت چھوڑو اور الله کا قرب نماز سے حاصل کرو اور اس کی طرف اپنے حوائج کے لئے رغبت کرو پس جب لوگوں کو اس میں برکت کا علم ہو گا وہ اس (مسجد) کی طرف آئیں گے دنیا کے گوشے گوشے سے چاہے وہ برف پر گھسٹ کر ہی کیوں نہ پہنچیں

قرامطہ کا لیڈر ابو طاہر القرامطی اصلا اپنے آپ کو امام المہدی ثابت کرنا چاہتا تھا یا المہدی کے لئے راہ ہموار کر رہا تھا  اور اس کے لئے اس کو اثنا عشری شیعوں پراتمام حجت کرنا تھا اس کی وجہ شیعوں کی روایات تھیں کہ آخری دور میں مہدی مسجد کوفہ میں آئے گا اور وہاں حجر اسود بھی آئے گا اس کو ثابت کرنے کے لئے یہ سب کشت و خون ہو رہا تھا لیکن اثنا عشری اس کو مہدی نہیں مان سکے کیونکہ یہ اسماعیلی شیعہ تھا اور اہل بیت کی نسل سے نہ تھا

يه وقت بہت اہم تھا گیارہویں امام حسن العسکری کی وفات ٢٦٠ ھ میں ہوئی اور بارہویں امام غیبت میں تھے لہذا اس وقت اثنا عشری اگر ابو طاہر کو مہدی مان جاتے تو آج اسماعیلی اور اثنا عشری ایک ہوتے

کتاب كنز الدرر وجامع الغرر از الدواداري کے مطابق
وكان قصدهم بذلك استمالة قلوب الناس. فنصبوه فى مسجد الجامع على الأسطوانة السّابعة فى القبلة مما يلى صحن المسجد. وكان فى ذلك آية عظيمة من آيات النبوة بيّن الله صدق رسوله صلّى الله عليه وسلم عند نجوم الأشكال فيه. فوطّى الله بذلك حجة نبوة محمد صلى الله عليه وسلم، ومكّن به صحة شريعته بأن جاء عنه فى الخبر أنّ الحجر الأسود يعلّق فى مسجد الجامع بالكوفة فى آخر وقت. وجاء الخبر بذلك منقولا مشهورا عن محمد بن على بن الحسين بن على بن أبى طالب عليه السلام. ومثل هذا لا يكون عن منّجم، ولا يوصل إليه إلاّ بخبر من رسول ربّ العالمين.
فهذا ما جرى من أبى سعيد الجنّابى وولده فى تلك الديار. وهم شعب من القرامطة.
کوفہ لانے میں ایک عظیم نشانی تھی جو نبوت کی نشانیوں میں سے تھی اس کی ایک خبر رسول الله سے منقول تھی اور اسی طرح کی علی سے بھی

اب ایک شاذ قول بھی بیان ہوا ہے –  نظام الملک الطوسی ابو علی حسن بن علی سلجوقی حکمرانوں کا ایک وزیر تھا
اس نے سیر الملوک کے نام سے کتاب لکھی جس میں بادشاہوں کا تذکرہ ہے  کتاب میں لکھا ہے قرامطہ نے
وشق الْحجر الاسود نِصْفَيْنِ وَوَضعه على حافتي مرحاض وَكَانَ يضع إِحْدَى رجلَيْهِ حِين يجلس على نصفه وَالْأُخْرَى على النّصْف الآخر
حجر اسود کو بیچ میں توڑا اور حصوں کو کھڈی میں قدمچی کے طور پر لگوایا کہ ایک پیر ایک پر رکھتا اور دوسرا حجر اسود کے دوسرے حصے پر

یہ بات جھوٹ ہے کیونکہ قرامطہ کی خبریں ان کے مخالفین نے ہم تک پہنچائیں ہیں قرامطہ شیعہ تھے کافر نہیں حجر اسود کو اکھاڑنے کا مقصد اس کو مسجد کوفہ لانا تھا
شیعہ عالم کی کتاب خاتمة المستدرك – الميرزا النوري الطبرسی – ج 2 – ص 296 – 297 کے مطابق حجر اسود کو قرامطہ لے کر کوفہ پہنچے تاکہ علی کرم الله وجھہ کی بات سچ کر سکیں کہ قیامت سے پہلے یہ حجر اسود کوفہ کی مسجد میں نصب ہو گا لہذا یہ وہاں ایک ستون سے باندھ دیا گیا لیکن اثنا عشری شیعہ (ال بویہ) کا کوفہ پر کنٹرول تھا انہوں نے اس کو واپس قرامطہ کو دے دیا اور وہ اس کو الحسا لے گے وہاں ایک عبادت گاہ بنوائی جس میں اس کو نصب کر دیا

قرامطہ اور اثنا عشری شیعہ کے اچھے تعلقات تھے اور ظاہر ہے وہ حجر الاسود کی بے حرمتی کروانے کے لئے اس کو قرامطہ کو واپس کرنے والے نہیں تھے

السمنانی ابو قاسم علی بن محمد المتوفی ٤٩٩ ھ نے اپنی تاریخ کی کتاب میں اس کا ذکر کیا یہ اور نظام الملک ہم عصر ہیں
الذہبی نے اس پر تاریخ الاسلام میں لکھا کہ حجر اسود کو بیت الخلا میں پھیکنے کا حکم دیا لیکن غلام بھول گیا

ثمّ ذكر السِّمْنانيّ خرافات لا تصح
اس کے بعد السمنانی نے خرافات ذکر کیں جو صحیح نہیں ہیں

نظام الملک ایک وزیر تھا کوئی مورخ نہیں تھا اس کے مقابلے پر کتب اہل سنت اور کتب شیعہ میں مسجد کوفہ کے حوالہ جات اس قدر ہیں کہ الطوسی کی بات منفرد ہونے کی بنا پر شاذ ہے یہ اس کے بیت الخلاء تک کیسے پہنچے ؟ خود ١٢٠ سال بعد اس نے یہ سب لکھا ہے جبکہ قرامطہ حجر اسود کو جامع الکوفہ لے گئے اور وہیں سے واپس مکہ لائے

حجر اسود کوفہ پہنچ گیا 

کتاب مآثر الإنافة في معالم الخلافة از أحمد بن علي بن أحمد الفزاري القلقشندي ثم القاهري (المتوفى: 821هـ) کے مطابق
لِأَحْمَد بن أبي سعيد أَمِير القرامطة بعد موت أبي طَاهِر القرمطي برد الْحجر الْأسود إِلَى مَكَانَهُ فَرده فِي سنة سبع وَثَلَاثِينَ وثلاثمائة
ابی طاہر القرامطی کی موت کے بعد امیر قرامطہ احمد بن ابی سعید نے سن ٣٣٧ ھ میں واپس کیا

کتاب تاريخ مكة المشرفة والمسجد الحرام از ابو البقاء کے مطابق
ثمَّ انْصَرف وَمَعَهُ الْحجر الْأسود وعلقه على الاسطوانة السَّابِعَة من جَامع الْكُوفَة
حجر اسود کو نکال کر قرامطہ جامع کوفہ لائے ہے اس کو ساتویں ستون پر لٹکا دیا

حجر اسود کے واپس کرنے پر  بھی نظام الملک ایک جھوٹ لکھتا ہے  نظام الملک   کتاب سیر الملوک میں کہتا ہے
وَلما صَار الْمُسلمُونَ إِلَى مَسْجِد الْكُوفَة الْجَامِع إِذا الْحجر الْأسود ملقى هُنَاكَ
اور مسلمان مسجد کوفہ پہنچے کہ حجر اسود وہاں پھینکا گیا

حالانکہ قرامطہ نے حجر اسود  کو مسجد کوفہ میں ستون پر لٹکایا کہ لوگ اس کو دیکھیں

اس سب بلوہ کے پیچھے مہدی کا نظریہ کارفرما تھا  الذھبی تاریخ الاسلام ج ٢٥ ص 9 میں ابو طاہر کے لئے لکھتے ہیں
وزعم بعض أصحابه به أنّه إله المسيح، ومنهم مَن قالَ هو نبيّ. وقيل: هو المهديّ، وقيل: هو الممهّد للمهديّ.
اور اس کے اصحاب میں سے بعض کا دعوی تھا کہ ابو طاہر  مسیح رب ہے اور بعض کہتے نبی ہے اور کہا جاتا ہے یہ المہدی تھا اور کہا گیا مہدی کی راہ دکھانے والا

كتاب النجوم الزاهرة في ملوك مصر والقاهرة أز آبن تغري کے مطابق
وكان زنديقا ملحدا لا يصلّى ولا يصوم شهر رمضان، مع أنه كان يظهر الإسلام ويزعم أنه داعية المهدىّ عبيد الله
یہ زندیق ملحد تھا نماز نہ پڑھتا تھا نہ روزہ رکھتا تھا….. اور دعوی کرتا تھا کہ یہ المہدی عبید الله کا داعی ہے

تاریخ ابن خلدون کے مطابق عبید الله فاطمی اس سے خود نالا تھے
وبلغ الخبر إلى المهدي عبيد الله بإفريقية وكانوا يظهرون الدعاء له، فكتب إليه بالنكير واللعن
ابو طاہر کی خبر المہدی عبید الله تک پہنچی افریقہ میں کہ ان کے لئے لوگ ظاہر ہوئے ہیں پس انہوں نے خط لکھا اور نکیر اور لعنت کی

الذھبی نے تاریخ الاسلام میں ابو طاہر کے اشعآر نقل کیے ہیں
أَنَا الدّاعي المهديّ لَا شكَّ غيرُه … أَنَا الضَّيْغَمُ  الضِّرُغام والفارسُ الذَّكَرْ
أُعَمَّرُ حتّى يأتي عيسى بْنُ مريمَ … فيحمَدُ آثاري وأرضى بما أمَرْ

میں المہدی کا داعی ہوں اس میں شک نہیں

عیسیٰ ابن مریم کا انتظار کرتے ایک عمر ہوئی پس میں نے بدلہ لینے کی تعریف کی اور حکم پر راضی ہوا

لہذا یہ بھی تاریخ میں ہے کہ ابو طاہر اسماعیلی امام عبید الله (المہدی) کا داعی تھا اور خود اس کے بعض اصحاب ابو طاہر کو ہی مہدی ماننے لگ چکے تھے

ابی طاہر کے بعد اس کے بیٹے منصور نے المہدی ہونے کا دعوی کیا اور بقول عماد الدين أبو حامد محمد بن محمد الأصفهاني (المتوفى 597 هـ ) کے
المهدي المنصور أمير المؤمنين
کے نام کے سکے ڈھالے گئے

بحوالہ  البستان الجامع لجميع تواريخ أهل الزمان

کتاب الروضتين في أخبار الدولتين النورية والصلاحية از ابی شامہ کے مطابق
وَقَامَ بعده ابْنه الْمُسَمّى بالمعز فَبَثَّ دعاته فَكَانُوا يَقُولُونَ هُوَ الْمهْدي الَّذِي يملك وَهُوَ الشَّمْس الَّتِي تطلع من مغْرِبهَا
ابو طاہر کے پوتے معز نے بھی المہدی کا دعوی کیا اور سورج ہونے کا جو مغرب سے طلوع ھوا

محمد بن سنبر العامري القرمطي نے حجر اسود کو واپس کعبہ میں نصب کیا جو ابو طاہر کی موت پر واپس کیا گیا
ظاہر ہے ابو طاہر نہیں تو اس کے بیٹے یا پوتے جو مہدی ہونے کے دعویدار تھے انہوں نے اس کو کوفہ کے راستے مکہ پہنچایا تاکہ اپنا سیاسی اثرورسوخ بڑھا سکیں

اسی طرح جب واپس کر نے لگے تو
الكامل في التاريخ از ابن اثیر کے مطابق جب قرامطہ حجر واپس کرنے لگے تو اس کو کوفہ لائے اور اس کو جامع کوفہ میں لٹکا دیا
فَلَمَّا أَرَادُوا رَدَّهُ حَمَلُوهُ إِلَى الْكُوفَةِ، وَعَلَّقُوهُ بِجَامِعِهَا حَتَّى رَآهُ النَّاسُ، ثُمَّ حَمَلُوهُ إِلَى مَكَّةَ

کتاب تاريخ ابن الوردي کے مطابق
، وَقبل إِعَادَته علقوه بِجَامِع الْكُوفَة ليراه النَّاس وَالله أعلم.
اور واپس کرنے سے پہلے حجر کو جامع کوفہ میں لٹکا دیا کہ لوگ دیکھیں

کتاب نزهة الأنظار في عجائب التواريخ والأخبار
کے مطابق
واپس کرتے وقت سنبر بن الحسن القرمطي جو قرامطہ کا سفیر تھا اس نے خود اس کو واپس کعبہ میں نصب کیا

اتنے دلائل کی روشنی میں واضح ہے کہ حجر اسود قرامطہ کی جانب سے ایک عظیم نشانی کو پورا کرنے کے لئے نکالا گیا تھا اور واپس کرتے وقت بھی اس کو کوفہ لایا گیا تاکہ لوگوں کو علی کی بیان کردہ نشانی پر یقین آئے

یہ شمشاد کی لکڑی کا بنا ھوا ایک صندوق تھا جو آدم علیہ سلام پر نازل ھواتھا۔، یہ پوری زندگی آپ کے پاس رھا۔ پھر بطور میراث آپکے اولاد کو ملتا رھا، یہاں تک کہ یہ حضرت یعقوب علیہ سلام کو ملا اور آپکے بعد آپکی اولاد بنی اسرایئل کو ملا اور بعد میں یہ حضرت موسئ علیہ سلام کو ملا جس میں وہ اپنا حاص سامان اور تورات شریف رکھا کرتے تھے۔یہ بڑا ھی مقدس اور بابرکت صندوق تھا، بنی اسرایئل جب کفار سے جہاد کرتے اور انکو شکست کاڈر ھوتا تو وہ اس صندوق کو آگے رکھتے تو اس صندوق سے ایسی رحمتوں اور برکتوں کا ظہور ھوتا کہ مجاھدین کے دلوں کو چین آرام و سکون حاصل ھو جاتا اور صندوق وہ جتنا آگے بڑھاتے آسمان سے نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ کی بشارت عظمی نازل ھوتی۔بنی اسرایئل میں جب بھی کھبی احتلاف ھوتا تو وہ اسی صندوق سے فیصلہ کراتے۔ صندوق سے فیصلہ کی آواز حود ھی آتی العرض یہ تابوت بنی اسرایئل کے لیے تابوت سکینہ ثابت ھوی۔

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَن يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَىٰ وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے

جواب

تابوت سریانی کا لفظ ہے اور سکینہ عبرانی کا لفظ ہے

الله تعالی کا قول ہے کہ اس تابوت میں سکینہ ہے تو اس سے مراد سکون و اطمینان ہے اس کی موجودگی بنی اسرئیل کے لئے باعث سکون تھی

اس کو موسی علیہ السلام نے دشت میں بنایا تھا اس میں توریت کی الواح کو رکھا گیا تھا اور یہ تابوت خیمہ ربانی یا طبرنقل میں رکھا گیا تھا موسی علیہ السلام کے بعد ان کا عصا اور ال ہارون کے تبرکات کو اس میں رکھا گیا یھاں تک کہ داود علیہ السلام کے دور میں اس کو فلسطینی چرا کر لے گئے اور حکم ہوا کہ ان سے قتال کرو
اس پر نبی اسرئیل میں شش و پنج ہوا کہ ہم کس کی سربراہی میں قتال کریں ہمارے تو الگ الگ سردار ہیں جس پر اس دور کے نبی جن کا نام بائبل میں سمائل ہے انہوں نے کہا کہ ایک شخص طالوت کو تم پر من جانب الله حاکم کر دیا گیا ہے جس کی نشانی یہ ہے کہ جب تم قتل کرو گے تو یہ تابوت تم کو واپس مل جائے گا

یہودی تصوف کے مطابق تابوت میں الواح تھیں جن پر اسم اعظم لکھا تھا یہ اسم بولتا بھی تھا
لہذا اپ نے جو اقتباس پیش کیا ہے اس میں ہے “بنی اسرایئل میں جب بھی کھبی احتلاف ھوتا تو وہ اسی صندوق سے فیصلہ کراتے۔ صندوق سے فیصلہ کی آواز خود ھی آتی” جو ایک عجیب قول ہے
اس پر راقم کی تفسیر
Two Illuminated Clouds of Quran pg 65
پر تفصیل ہے
——–
The Great Divine Name manifested as an Angel who thinks independent of God. Even Ark of Covenant
has power as it was actually the incarnation of Name of God (see 2 Samuel 6:1-2). According to
Jews Ark contains Sekinah (feminine version of God’s power). God name has lips (Isaiah 30:27)
———-
گویا اپ نے جو اقتباس پیش کیا ہے اس میں اس یہودی تصوف کو قبول کر لیا گیا ہے

یہود کے مطابق اس تابوت میں سکینہ نام کا ایک مونث فرشتہ تھا جو ایک ہوا کی مانند تھا ہمارے محدثین نے سکینہ کا ذکر کیا ہے

مستدرک حاکم کی روایت ہے جس کو حاکم اور الذھبی مسلم کی شرط پر کہتے ہیں

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبِ بْنِ حَيَّانَ، ثنا عُبَيْدُ الله بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، قَالَا: ثنا إِسْرَائِيلُ، ثنا خَالِدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا رَضِيَ الله عَنْهُ عَنْ {أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا} [آل عمران: 96] أَهُوَ أَوَّلُ بَيْتٍ بُنِيَ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ أَوَّلُ بَيْتٍ وُضِعَ فِيهِ الْبَرَكَةُ وَالْهُدَى، وَمَقَامُ إِبْرَاهِيمَ، وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمَنَّا، وَلَإِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُكَ كَيْفَ بَنَاهُ الله عَزَّ وَجَلَّ، إِنَّ الله أَوْحَى إِلَى إِبْرَاهِيمَ أَنِ ابْنِ لِي بَيْتًا فِي الْأَرْضِ فَضَاقَ بِهِ ذَرْعًا، فَأَرْسَلَ الله إِلَيْهِ السَّكِينَةَ، وَهِيَ رِيحٌ خَجُوجٌ، لَهَا رَأْسٌ، فَاتَّبَعَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ حَتَّى انْتَهَتْ، ثُمَّ تَطَوَّقَتْ إِلَى مَوْضِعِ الْبَيْتِ تَطَوُّقَ الْحَيَّةِ، فَبَنَى إِبْرَاهِيمُ فَكَانَ يَبْنِي هُوَ سَاقًا كُلَّ يَوْمٍ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَكَانَ الْحَجَرِ، قَالَ لِابْنِهِ: أَبْغِنِي حَجَرًا فَالْتَمَسَ ثَمَّةَ حَجَرًا حَتَّى أَتَاهُ بِهِ، فَوَجَدَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ قَدْ رُكِّبَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ: مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا؟ قَالَ: جَاءَ بِهِ مَنْ لَمْ يَتَّكِلْ عَلَى بِنَائِكَ جَاءَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ السَّمَاءِ فَأَتَمَّهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے علی رضی الله عنہ سے پوچھا کہ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكً میں کیا یہ زمین پر بننے والا پہلا گھر ہے ؟ علی نے کہا نہیں لیکن پہلے گھر میں برکت اور ہدایت ہے اور وہ مقام ابراہیم ہے جو اس میں داخل ہو امن میں ہے اور اگر چاہو تو میں تمہیں خبر دوں کہ الله نے یہ کیسے بنوایا بے شک الله نے ابراہیم پر الہام کیا کہ زمین پر میرے لئے گھر بناو پس ان کا دل تنگ ہوا پس الله نے سکینہ کو بھیجا جو ایک تند و تیز ہوا تھی جس کا سر بھی تھا پس اس کے پیچھے ابراہیم کا ایک ساتھی لگا یہاں تک کہ وہ رک گئی اور بیت الله کا ایک زندہ کی طرح طواف کرنے لگی پس ابراہیم اس مقام پر روز بیت الله بناتے یہاں تک کہ (بنیاد کھودتے ہوئے) کہ ایک (بڑے) پتھر تک پہنچ گئے پس انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا یہ پتھر دو اور انہوں نے اس کو اٹھایا تو اس کے نیچے حجر الاسود تھا جس پر ابراہیم بیٹھ گئے تو ان کے بیٹے نے کہا یہ آپ کو کہاں سے ملا؟ یہ ان سے ملا جن تک تمہاری نگاہ نہیں جاتی – جبریل آسمان سے لائے اور یہ پورا کیا

يه روایت تفسیر طبری میں بھی نقل ہوئی ہے

یہود کے مطابق یہ مونث فرشتہ  سکینہ کہلاتی تھی اوریہ تابوت میں تھی اسی کی آواز اتی تھی محققین کے مطابق جب بابل والوں نے حملہ کیا اس دور میں اس فرشتہ کی بطور دیوی پوجا پاٹ بھی شروع ہو چکی تھی

شیعہ عالم سيد نعمت الله جزائرى المتوفی ١١١٢ ھ کتاب قصص الانبیاء میں لکھتے ہیں
قوله فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ فإن التابوت كان يوضع بين يدي العدو و بين المسلمين فيخرج منه ريح طيبة لها وجه كوجه الإنسان و عن الرضا ع قال السكينة ريح من الجنة لها وجه كوجه الإنسان
اور الله تعالی کا قول اس میں تمہارے رب کی طرف سے سکینہ ہے تو پس تابوت مسلمانوں اور دشمن کے درمیان رکھا جاتا اس میں ایک طیب ہوا نکلتی جس کا چہرہ انسان جیسا تھا اور امام الرضا سے روایت ہے کہ سکینہ جنت کی ایک ہوا تھی جس کا چہرہ انسان جیسا تھا

راقم کہتا ہے سکینہ ایک ہوا تھی نہ کہ فرشتہ اور اس کا تابوت سے کوئی تعلق نہیں تھا یہ یہودی تصوف تھا جس نے اس سکینہ کو ایک دیوی بنا دیا لہذا تابوت سکینہ کا بولنا ایک بے سروپا قول ہے

اپ نے جو اقتباس پیش کیا ہے اس کے مطابق یہ جنت میں آدم علیہ السلام کے پاس بھی تھا جو کوئی یہودی قول لگتا ہے

http://www.jewishencyclopedia.com/articles/1777-ark-of-the-covenant
کے مطابق یہ قصص الانبیاء يا عرائس المجالس الثعلبی میں لکھا ہے

———-

راقم کہتا ہے سن ٥٨٧ میں حشر اول سے یہ تابوت لا پتہ ہے اور اغلبا یہ اس روز جل کر معدوم ہو گیا
سوره بنی اسرئیل میں ہے
پھر جب پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے سخت لڑائی والے بھیجے پھر وہ تمہارے گھروں میں گھس گئے، اور اللہ کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا

یعنی جب بابلی افواج نے مسجد اقصی کو تباہ کیا تو اس میں سے ابھی تک کوئی چیز نہیں ملی ہے ظاہر ہے الله کا حکم پلٹ نہیں سکتا جو لکھا تھا وہ شدنی تھا لہذا راقم کی رائے میں یہ تابوت اور اس کے تبرکات فنا ہو گئے

یہود کے مطابق یہ معدوم نہیں ہو سکتا اس کو ہو سکتا ہے حشر اول کے بپا ہونے سے قبل کہیں چھپا دیا گیا ہو گا یہود کی رائے ہے مصر میں اور مسلمان کہتے ہیں انطاکیہ میں

ظہور مہدی کے منتظرین کے نزدیک یہ تابوت امام مہدی نکالیں گے اور یہودی کہتے ہیں مسیح نکالے گا

جواب

مسلمانوں کے پاس قالین نہیں تھے پہلا قالین کسری کے مال غمیمت میں آیا جس کا عرض بہت تھا لیکن اس کو فارس میں ہی کاٹ کاٹ کر اونٹوں اور گھوڑوں پر لاد کر مدینہ لایا گیا
مجوسیوں کو اس قالین کا بہت قلق ہے آج تک اس کا تذکرہ کرتے ہیں کہ یہ کتنا شاندار تھا
ان کے بعض ہمدردوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ نماز زمین یا مٹی پر پڑھی جائے تو قبول ہو گی ورنہ نہیں

اپ صلی الله علیہ وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی ہے

صحیح بخاری کی روایت ہے
عبداللہ بن شداد سے، انہوں نے کہا میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ تھیں سنا کہ میں حائضہ ہوتی تو نماز نہیں پڑھتی تھی اور یہ کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (گھر میں) نماز پڑھنے کی جگہ کے قریب لیٹی ہوتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز اپنی چٹائی پر پڑھتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کا کوئی حصہ مجھ سے لگ جاتا تھا۔

امام بخاری باب قائم کرتے ہیں
بَابُ الصَّلاَةِ عَلَى الْخُمْرَةِ:
باب: کھجور کی چٹائی پر نماز پڑھنا

صحیح بخاری کی حدیث ہے
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن سیرین نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انصار میں سے ایک مرد نے عذر پیش کیا کہ میں آپ کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہو سکتا اور وہ موٹا آدمی تھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر دعوت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک چٹائی بچھا دی اور اس کے ایک کنارہ کو (صاف کر کے) دھو دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بوریے پر دو رکعتیں پڑھیں۔ آل جارود کے ایک شخص (عبدالحمید) نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ اس دن کے سوا اور کبھی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے نہیں دیکھا

ایک اور حدیث ہے

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے، انہیں انس بن سیرین نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ انصار کے گھرانہ میں ملاقات کے لیے تشریف لے گئے اور انہیں کے یہاں کھانا کھایا، جب آپ واپس تشریف لانے لگے تو آپ کے حکم سے ایک چٹائی پر پانی چھڑکا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور گھر والوں کے لیے دعا کی۔

جواب

مینار بنانا بدعت ہے – اسلام میں پہلا مینار عباسي خلیفہ المتوكل على الله ابن الخليفة المعتصم بالله، کے دور میں سن ٢٣٤ سے ٢٣٧ ہجری میں جامع الملوية سامراء میں بنا- اس کو بابل کے مینار کی طرز پر بنایا گیا جس کو
ziggurat
کہا جاتا ہے

ظاہر ہے کسی جاہل نے عبّاسی خلفاء کو یہ مشورہ دیا کہ اس طرح بابل کے مقام پر اسی طرح کا مینار نما مسجد بنا دو جو بقول توریت قدیم بابل پر عذاب کا موجب بنی تھی

کتاب پیدائش باب ١٠ میں ہے
And the Lord descended to see the city and the tower that the sons of man had built.
And the Lord said, “Lo! [they are] one people, and they all have one language, and this is what they have commenced to do. Now, will it not be withheld from them, all that they have planned to do?

اس سے قبل جامع اموی دمشق جو اصل میں ایک چرچ تھا اس پر جب قبضہ کر کے اس کو مسجد قرار دیا گیا الولید بن عبد الملک (سن ٨٦ ہجری تا ٩٦ ہجری) کے دور میں تو اس سے منسلک مینار جس میں ناقوس لٹک رہا ہو گا اس کو مسجد کا مینار قرار دیا گیا
شام میں یہ روایت بھی تھی کہ مینار پر نصرانی راہب عبادت کیا کرتے تھے اور دور بنو امیہ میں النوبی نام کا ایک راہب اسی طرح کے کسی مینار پر رہتا تھا
جامع اموی پر قبضہ کیا گیا جو یحیی علیہ السلام کے سر کا مدفن کہا جاتا ہے یا ھود علیہ السلام کا مدفن بھی کہا گیا ہے جبکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا حکم تھا
الله کی لعنت ہو یہود و نصاری پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو مسجد بنا دیا
——–
مینار یا کیل نما عمارت مشرک قوموں کی نشانی ہے قرآن میں ہے
وفرعون ذو الاوتاد
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ ذُو الْأَوْتَادِ
إس كا ترجمه میںخون والا فرعون کیا جاتا ہے

لیکن یہ ممکن ہے
Obelisk
ہو جس کو آجکل عرب المسلة بولتے ہیں
المسلة کا ترجمہ میںخ ہی ہے
http://www.almaany.com/en/dict/ar-en/المسلة/
from Ancient Greek: ὀβελίσκος obeliskos; diminutive of ὀβελός obelos, “spit, nail, pointed pillar

Obelisk
یا
المسلة کو مندروں کے ساتھ ہی بنایا جاتا تھا گویا یہ مینار ہی تھا یعنی دور سے انسان دیکھ سکے کہ مندر کہاں ہے

مصری زبان میں اس کو
tekhenu
کہا جاتا تھا جس کا ترجمہ ہے وہ جو آسمان میں میںخ لگا دے
راقم سمجھتا ہے کہ مساجد کی تطہیر کی ضرورت ہے
⇑ مساجد کی تطہیر
⇑ ہڑپہ کی تہذیب حرم کی زیبائش
http://www.islamic-belief.net/masalik/وھابیت/

مسلم میں یے کہ عیسی علیہ السلام قیامت سے پہلے دمشق کی مسجد کے مشرقی مینار پر اترے گےبعض اس سے استدلال کرتے ہیں کہ مینار بنانا جائز ہے جبکہ وہ روایت منکر ہے
کعب الاحبار کے اقوال کا مجموعہ ہے جس کو حدیث نبوی بنا دیا گیا ہے
http://www.islamic-belief.net/نزول-المسیح-و-خروج-الدجال-پر-کتاب/

شیعوں کی کتاب موسوعة أحاديث امير المؤمنين علي کے مطابق

حدَّثنا محمّد بن إبراهيم بن إسحاق ـ رضي اللّه عنه ـ قال: حدَّثنا عبد العزيز ابن يحيى الجلوديّ بالبصرة قال: حدَّثنا الحسين بن معاذ قال: حدَّثنا قيس بن حفص قال: حدَّثنا يونس بن أرقم، عن أبي سيّار الشيباني، عن الضحّاك بن مزاحم، عن النَّزال ابن سبرة قال: خطبنا أمير الموَمنين عليُّ بن أبي طالب ـ عليه السلام ـ فحمدَ اللّهَ عزَّ وجلَّ وأثنى عليه وصلّى على مُحمدٍ وآلهِ، ثمَّ قال: سَلُوني أيُّها النَّاسُ قَبْلَ أن تَفقِدُوني ـ ثلاثاً ـ فقامَ إليه صعصَعَةُ بن صُوحانَ فقال: يا أمير الموَمنين متى يخرجُ الدَّجّالُ؟ فقال لهُ علي _ عليه السلام _

علی رضی الله عنہ سے سوال ہوا کہ دجال کب نکلے گا انہوں نے جو نشانیاں بتائیں ان میں تھا وَطُوِّلَتِ المَنارَاتُ اور مینار طویل کیے جائیں گے – جبکہ مینار کا اس دور میں اسلامی تعمیرات میں  کوئی ذکر نہیں ملتا

جواب

الموسوعة الفقهية الكويتية کے مطابق
لَمْ يَكُنْ لِلْمَسْجِدِ النَّبَوِيِّ الشَّرِيفِ مِحْرَابٌ فِي عَهْدِ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلاَ فِي عَهْدِ الْخُلَفَاءِ بَعْدَهُ، وَأَوَّل مَنِ اتَّخَذَ الْمِحْرَابَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَحْدَثَهُ وَهُوَ عَامِل الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَلَى الْمَدِينَةِ الْمُنَوَّرَةِ عِنْدَمَا أَسَّسَ مَسْجِدَ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا هَدَمَهُ وَزَادَ فِيهِ، وَكَانَ هَدْمُهُ لِلْمَسْجِدِ سَنَةَ إِحْدَى وَتِسْعِينَ لِلْهِجْرَةِ، وَقِيل سَنَةَ ثَمَانٍ وَثَمَانِينَ وَفَرَغَ مِنْهُ سَنَةَ إِحْدَى وَتِسْعِينَ – وَهُوَ أَشْبَهُ – وَفِيهَا حَجَّ الْوَلِيدُ
مسجد النبی میں محراب دور نبوی میں نہیں تھی نہ دور خلفاء میں تھی اور گورنر مدینہ عمر بن عبد العزیز پہلے شخص ہیں جنہوں نے مسجد النبی میں محراب بنوائی جنہوں نے خلیفہ الولید بن عبد الملک کے دور میں مسجد النبی کو منہدم کیا اور اس میں اضافہ کیا اور یہ انہدام سن ٩١ ہجری میں ہوا اور کہا جاتا ہے ٨٨ ہجری میںہوا اور اس تعمیر سے سے ٩١ میں فارغ ہوئے جو اچھا ہے

————-
محراب مسجد الاقصی یا ہیکل سلمانی کی نشانی ہے اس کا ذکر قرآن میں بھی ہے کہ وہاں مریم اور زکریا نماز پڑھتے تھے
راقم کی تحقیق کے مطابق مسجد الاقصی کے صحن میں ایک الاو جلتا رہتا تھا جس میں سوختی قربانی ڈالی جاتی تھی اس کو
Azarah
کہا جاتا تھا
مسجد کے منتظمین کے لئے ایک بڑا ہال نما حجرہ
Bet ha-Moed or Bet Hamoked (Chamber of the Hearth)
اس صحن سے متصل تھا جس کی چھت محراب نما تھی تلمود کے مطابق آدھے گنبد جیسی تھی اس میں لاوی رہتے تھے جو ہارون علیہ السلام کی نسل کے لوگ تھے مسجد الاقصی یا ہیکل کے منتظم تھے اور زکریا علیہ السلام بھی انہی میں سے تھے چونکہ وہ مریم علیہ السلام کے کفیل مقرر ہوئے تھے لہذا اسی بڑے حجرہ میں ایک مشرقی کونہ میں مریم معتکف ہوئیں تاکہ نذر پوری کی جا سکے
نصرانییوں نے جب چرچ قائم کیے تو اسی مسجد الاقصی کی تعمیر سے بہت سی چیزیں لیں جن میں محراب بھی تھی – اسلام کے بعد ان چرچوں اور یہود کی مساجد کو جب مسلمانوں نے قبضہ میں لیا ان کو یہ چیز پسند آئی کہ اپنی مسجدوں میں محراب بنا دی جائے

Bet ha-Moed or Bet Hamoked (Chamber of the Hearth) was the domed chamber in temple, was in north of the ’Azarah (inner court where burning altar was placed), See Jewish Encyclopedia

راقم کی تفسیر ص ٢٠٢ بھی دیکھ سکتی ہیں
http://www.islamic-belief.net/wp-content/uploads/2015/09/Tafseer-book.pdf

بہت سی مساجد میں محراب پر یہ آیت لکھی جاتی ہے
فنادته الملائكة وهو قائم يصلي في المحراب

نصرانی کلیسا میں اس کو
https://en.wikipedia.org/wiki/Apse
کہا جاتا ہے جو لاطینی میں محراب کا ترجمہ ہے

الجامع لعلوم الإمام أحمد – علل الحديث ما جاء في المحراب في المسجد کے مطابق
قال الإمام أحمد: ما أعلم فيه حديثًا يثبت
احمد نے کہا محراب کے حوالے سے کوئی ثابت حدیث نہیں ہے

شروع میں اس کو الطاق بھی کہا جاتا تھا

شهيد المحراب عمر بن الخطاب کو کہا جاتا ہے جبکہ ان پر حملہ محراب میں نہیں ہوا کیونکہ اس دور میں مسجد النبی میں محراب نہیں تھی
کتاب البدء والتاريخ از المطهر بن طاهر المقدسي (المتوفى: نحو 355هـ) کے مطابق
وأول من نصب المحراب في المسجد
الحسن بن علي رضي الله عنهما پہلے خلیفہ ہیں جنہوں نے مسجد میں محراب بنائی

الاستيعاب في معرفة الأصحاب أز قرطبي کے مطابق ابن ملجم نے جب علی پر حملہ کیا
فأما أحدهما فوقعت ضربته فِي الطاق
وہ طاق میں تھے یعنی محراب میں

محراب کوفہ میں اغلبا خوارج کے نماز میں حملہ سے بچنے کے لئے بنائی گئی کہ اگر کوئی مقتدیوں میں ہوں تو نماز کے امام یعنی خلیفہ علی یا حسن تک آسانی سے نہ جا سکیں

شام میں محراب نصرانی کنیسہ اور کلیسا میں پہلے سے تھیں لیکن ان کا رخ مشرق کی طرف تھا اور کعبہ جنوب میں تھا
شام میں نصرانی عبادت گاہوں پر جب قبضہ کیا گیا تو کتاب المعرفة والتاريخ از الفسوی کے مطابق
كان الوليد قال للنصارى من أهل دمشق: ما شئتم ان أخذتم كنيسة توما عنوة وكنيسة الداخلة صلحا، فانا لنهدم كنيسة توما.
– قال هشام: وتلك أكبر من الداخلة- قال: فرضوا أن أهدم كنيسة الداخلة وأدخلها في المسجد.
قال: وكان بابها قبلة المسجد. اليوم المحراب الّذي يصلّي فيه.
الولید بن عبد الملک نے جس کنیسہ پر قبضہ کیا اس کا باب جہاں تھا وہاں محراب بنا دی گئی

الثمر المستطاب في فقه السنة والكتاب المؤلف : محمد ناصر الدين الألباني کے مطابق
المناوی نے کہا
خفي على قوم كون المحراب في المسجد بدعة وظنوا أنه كان في زمن النبي صلى الله عليه وسلم ولم يكن في زمنه ولا في زمن أحد من خلفائه بل حدث في المائة الثانية مع ثبوت النهي عن اتخاذه
اور ایک قوم پر مخفی رہا ہے کہ مسجد میں محراب ایک بدعت ہے یہ نہ دور نبوی میں تھی نہ دور خلفاء میں بلکہ اس کا آغاز قرن دوم میں ہوا اس کی نھی کے ثبوت کے ساتھ

تاریخ الکبیر از امام بخاری میں ہے
هُرَيم بْن سُفيان، البَجَلِيُّ، أَبو مُحَمد.
عَنْ أُم عَمرو، قَالَت: رأَيتُ البَراء بْن عازب يُصلي فِي الطاق.
البَراء بْن عازب رضی الله عنہ طاق میں نماز پڑھتے

الجرح والتعديل از ابن ابی حاتم کے مطابق
الفضل أبو يزيد قال رأيت سعيد بن مسروق يصلى في الطاق
مسروق طاق میں نماز پڑھتے

کتاب الجامع لعلوم الإمام أحمد – الفقه کے مطابق

الصلاة في المحراب وطاق القبلة
قال إسحاق بن منصور: قُلْتُ: تكره المحراب في المسجدِ؟
قال: ما أعلم فيه حديثًا يثبتُ، ورُبَّ مسجدٍ يحتاجُ إليه يُرتفق بِهِ.
قال إسحاق: كما قال.
“مسائل الكوسج” (248)
إسحاق بن منصور نے امام احمد سے پوچھا اپ مسجد میں محراب سے کراہت کرتے ہیں ؟ احمد نے کہا اس پر کوئی ثابت حدیث نہیں ہے اور مسجد بڑھانے والوں نے دلیل لی کہ اس سے (جہت قبلہ میں) اتفاق ہوتا ہے
اسحاق نے ایسا ہی کہا

قال إسحاق بن منصور: قال إسحاق: وأما المحاريب فجائزة، للأئمةِ أن يعدلوا يمنة عن الطّاق، فإن لمْ يفعلوا فقاموا في الطّيقان أجزأتهم صلاتُهم.
“مسائل الكوسج” (249)
اسحاق بن راھویہ نے کہا محرابین جائز ہے اماموں کے لئے کہ طاق میں جائیں اگر ایسا نہ کریں تو نماز کا کچھ اس میں کریں

قال صالح: حدثني أبي، قال: حَدَّثنَا علي بن مجاهد، عن أبي شهاب قال: رأيت سعيد بن جبير يصلي في الطاق (1).
“مسائل صالح” (854)
مجاہد نے ابی شھاب سے روایت کیا کہ انہوں نے سعید بن جبیر کو طاق میں نماز پڑھتے دیکھا

قال أبو داود: سمعت أحمد سُئِلَ عن محراب يريد أن ينحرف عنه الإمام؟
قال: ينبغي بأن يحول ويحرف.
“مسائل أبي داود” (321)
ابو داود نے کہا میں نے احمد سے پوچھا محراب کے بارے میں کہ امام اس سے دور ہو جاتا ہے
احمد نے کہا اس کو چاہیے کہ اس سے دور ہو

الغرض محراب یا طاق کو بنانے پر اختلاف ہوا لیکن وقت کے ساتھ اس کو قبول کر لیا گیا

Comments are closed.