مذھب تکفیر

دماغ کو درست حالت پر رکھنے کے لئے ان بلوگز کو پڑھیں

الْخِلَافَةُ عَلَى مَنَهَاجِ النُّبُوَّةِ کا انتظار

کیا ایمان میں کمی و زیادتی ہوتی ہے؟

اصحاب رسول کا اصول تکفیر کے سلسلے میں تھا کہ گناہ کبیرہ کرنے والوں کی تکفیر نہیں کی جائے گی الا یہ کہ یہ عقیدہ میں ہو یاد رہے کہ ایک صحابی کو رجم بھی کیا گیا ہے ان کی تکفیر نہیں کی گئی

سلفی جہادی تنظیمین اور ان سے متاثر دیوبندی جہادی تنظیموں میں مماثلت ہے  یہ لوگ امام مہدی کے منتظر ہیں  جو ایک فرضی کردار ہے دوم یہ مرجیہ کو واجب القتل قرار دیتے ہیں اور ان کے مطابق ایمان کم ہوتے ہوتے معدوم ہو جاتا ہے

ہمارے نزدیک نہ امام مہدی کا کوئی تصور ہے نہ ہم گناہ کبیرہ کے مرتکب کو کافر سمجھتے ہیں اور ہم ایمان کو دل کا اقرار کہتے ہیں

لا هجرة بعد الفتح،ولکن جهاد و نیة و إذا استفزتم فانفروا
بخاری
وفی الحدیث بشارة بأن مکة تبقی دارالسلام ابدآ
فتح الباری
قرآن اور صحیح حدیث اور صحابه کے منھج مے دارالسلام اور دارلکفر کا صحیح تصور کیا ہے؟
کیونکء. ھم علما کا بہت اختلاف دیکا ہے اس موضوع پر.
جزاکم الله خیرا

جواب

دار السلام اور دار الکفر متاخرین کی اصطلاحات ہیں- دار السلام یعنی مسلمانوں کی خلافت اور دار الکفر سے مراد ان کے مخالف

نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
اب کوئی ہجرت نہیں

کیونکہ ہجرت کا حکم ایک نبی ہی دے سکتا ہے یہ حکم من جانب الله اتا ہے اور نبی صلی الله علیہ وسلم کو مکی دور میں سوره یونس کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی کہ اپنے اجتہاد پر وہ ہجرت نہیں کر سکتے – اس کے علاوہ فتح مکہ پر مسلمانوں کا مکہ سے ہجرت کرنے کا حکم ختم ہوا کیونکہ اس پر مشرکین کا غلبہ ختم ہوا تھا
اس سے قبل سوره الممتحنہ میں حکم تھا کہ ہجرت جاری رکھی جائے اور انے والوں سے سوال کیے جائیں
لہذا اب قیامت تک کسی مسلمان کا ایک ملک سے دوسرے ملک جانا ہجرت نہیں ہے-

کتب حدیث میں دار الکفر کی اصطلاح موجود نہیں ہے- یہ اصطلاح بھی حربی ممالک (جن سے اعلانیہ جنگ کی جا رہی ہی) کے لئے استعمال ہوتی تھی – ان سے معاہدوں کے بعد اس کو استعمال نہیں کیا گیا
صحیح مسلم اور صحیح ابن حبان کے ابواب میں ہے یعنی یہ اصطلاح بہت بعد کی ہے یہاں تک کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ صحیح مسلم کے ابواب امام النووی نے قائم کیے ہیں

جواب

اسلام دین کا نام ہے – ایمان یقین کا نام ہے
ایک شخص مسلم ہونے کا دعوی دار ہو سکتا ہے ممکن ہے دل میں ایمان نہ ہو اس کو دور نبوی میں منافق کہا جاتا تھا
نفاق کا تعین الوحی سے ہی ہو سکتا ہے اس کا علم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چند افراد کے حوالے سے تھا تمام کے لئے نہیں تھا جیسا سوره توبہ میں ہے
وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ (10
رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد چونکہ الوحی کا سلسلہ ختم ہوا کسی اہل قبلہ پر منافق کا حکم نہیں لگایا جا سکتا تھا
لہذا یہ لفظ استمعال ہونا بند ہو گیا

پھر ١٢٠ سال بعد عباسی خلفاء کے دور میں اسی کانسپٹ کا آغاز ہوا – مخالف کو زندیق کہا جاتا تھا یعنی زنداوستا پر ایمان رکھنے والا یا چھپا مجوسی- یہ ایک سیاسی ٹائٹل تھا عباسی خلفاء اپنے مخالفین کو اس طرح لیبل کرنے کے بعد قتل کرا دیتے تھے کہ یہ مجوس سے مل گیا تھا مثلا ابو مسلم خراسانی پر اس کا اطلاق کیا گیا

اس کے بعد منافق یا زندیق کا استعمال اسلامی لٹریچر میں ہم عصر لوگوں کے حوالے سے نہیں ملتا یہاں تک کہ انگریز کی آمد کے بعد دوبارہ ایک ہی زمانے کے لوگ ایک دوسرے کو منافق کہنے لگے

خیال رہے کہ ارتاد الگ چیز ہے – اس کا فیصلہ ظواہر پر ہوتا ہے

جواب

انبیاء کی دعوت اصل میں میں ایک ہی دعوت ہے. الله سوره الشوریٰ میں کہتا ہے:
شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ (13) وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ أُورِثُوا الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِهِمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ (14) فَلِذَلِكَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَقُلْ آَمَنْتُ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ كِتَابٍ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ اللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اللَّهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ (15)
الله نے تمہارے لئے اسی دین کا حکم دیا ہے جس کا حکم اس نے تم سے پہلے نوح کو دیا، جس کو تم پر اے محمّد نازل کیا اورجس کا حکم ابراہیم کو، موسیٰ کو اورعیسیٰ کو کیا کہ دین کو قایم کرو اور اس میں فرقے نہ بنو. مشرکوں پر تمہاری دعوت بہت گراں گزرتی ہے . الله جس کو چاہتا ہے چنتا ہے اور اپنی طرف ہدایت دیتا ہے رجوع کرنے والے کو. اور انہوں نے اختلاف نہ کیا ، لیکن علم آ جانے کے بعد آپس میں عداوت کی وجہ سے. اور اگر یہ پہلے سے تمہارے رب نے (مہلت کا ) نہ کہا ہوتا تو ان کا فیصلہ کر دیا جاتا. اور بلاشبہ جن کو ان کے بعد کتاب کا وارث (یہود و نصاریٰ) بنایا گیا تھا وہ اس بارے میں سخت خلجان میں مبتلا ہیں. پس ان کو تبلیغ و تلقین کرو اور استقامت اختیار کرو جیسا حکم دیا گیا ہے اور ان کی خواہشات کی اتباع نہ کرو بلکہ کہو: میں اس کتاب پر ایمان لایا ہوں جو الله نے نازل کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان عدل کروں ، الله ہی میرا اور تمہارا رب ہے. ہمارے لئے ہمارا عمل اور تمہارے لئے تمہارا عمل. ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں . بے شک الله ہم سب کو جمع کرے گا اور ہمیں اسی کیطرف پلٹنا ہے

اس کا مطلب یہ ہوا کہ سارے انبیاء ایک ہی دین پر تھے جس کا اصل توحید، انکار طاغوت، آخرت کا خوف اور الله کی مغفرت کی امید تھا. نبی صلی الله علیہ وسلم نے (صحیح مسلم) فرمایا
الأنبياء إخوة من علات وأمهاتهم شتى ودينهم واحد
انبیاء آپس میں بھائی بھائی کی طرح ہیں جن کی مائیں جدا ہوں اور ان سب کا دین ایک ہے
===================

یعنی شریعت کا اصل اور مصدر ایک ہے- اصول ایک ہیں لیکن قرآن ہی میں ہے کہ ان شریعتوں کا ظاہر الگ ہے

پچھلی شریعت جس پر عمل ہوا وہ موسی علیہ السلام کی توریت کی ہے جس پر عیسیٰ علیہ السلام کا عمل بھی تھا
یہ شریعت امت یہود و عیسیٰ کے لئے ہے
قرآن میں ہے
ولكل امة جعلنا منسكا هم ناسكوه
ہم نے ہر امت کے لئے مناسک مقرر کیے جس پر وہ عمل کرتے ہیں

اہل کتاب یہود میں توریت کے مطابق سوختی قربانی دی جاتی ہے جس میں اگ میں قربانی کو ڈالا جاتا ہے
قرآن نے اس کو ان کی اوپر نافذ شریعت کہا ہے

بلکہ قرآن میں
ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون
کی آیات کو سابقہ کتب پر ہی لگایا گیا ہے کہ جو توریت و انجیل کے مطابق فیصلہ نہ کرے وہ ظالم ہے کافر ہے فاسق ہے

اسی طرح قرآن کہتا ہے اہل کتاب کا قبلہ الگ ہے
وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَّا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ ۚ وَمَا أَنتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُم بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ۚ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ إِنَّكَ إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ (145)

لیکن قرآن نے اہل کتاب کو یہ حکم نہیں دیا کہ وہ بیت المقدس کو چھوڑ کر کعبہ کی طرف منہ کریں

ہم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے جو شریعت ملی ہم کو اس پر عمل کرنا ہے

نبی صلی الله علیہ وسلم نے اسی توریت کا حکم یہود پر نافذ کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک یہ لوگ نبوت محمدی پر ایمان نہ لائیں ان کی ہی شریعت سے ان کے اوپر احکام نافذ ہوں گے
قرآن میں صریحا ایسا کہیں نہیں کہ توریت و انجیل منسوخ ہیں

توریت و انجیل کے بعض احکام پر عمل رسول الله نے بھی کیا ہے
http://www.islamic-belief.net/توریت-کے-تین-حکم/

اسی طرح کھانے کے حلال و حرام کے بعض احکام اصل میں توریت میں بھی وہی ہیں جو ہمارے پاس ہیں
اگرچہ وہ اپ صلی الله علیہ وسلم کو الوحی سے ملے نہ کہ توریت سے لیکن جب ہم ان احکام کا تقابل توریت سے کرتے ہیں تو ان کو اس میں پاتے ہیں
اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت من جانب الله ہے چاہے توریت سے ہو یا قرآن سے

جواب

بیعت کا مطلب عہد ہے یعنی اپ حاکم کی اطاعت کریں گے اس سے سرکشی نہیں کریں گےجب تک حاکم کھلا کفر یا شرک نہ کرے (جس کا ذکر قرآن میں صریحا ذکر ہو) اس کی اطاعت کی جائے گئی دوسری صورت میں خروج ہو گا
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ سمع و اطاعت کرے (خواہ اس حکم کو) وہ پسند کرے یا اسے ناگوار خاطر گزرے جب کہ اسے اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے اور جب اسے اللہ کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو اطاعت نہ کی جائے‘‘۔ (بخاری و مسلم)۔
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ کی) نافرمانی میں اطاعت نہیں ہے، اطاعت تو اچھے کاموں میں ہے‘‘۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی کہ ہم سنیں گے اور تنگی و آسانی میں، خوشی و ناخوشی میں اطاعت کریں گے اور اگر ہم پر (کسی کو) ترجیح دی جائے گی تو بھی اطاعت کریں گے اور ہم ان لوگوں سے امارت نہیں چھینیں گے جو اس پر قابض ہوں گے اور ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے، حق بات کہیں گے۔ اللہ (کے احکام کے بارے) میں ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خائف نہ ہوں گے اور ایک روایت میں ہے: ہم امارت پر قابضوں سے امارت نہیں چھینیں گے البتہ جب ان میں ظاہر کفر دیکھیں گے اور اس میں اللہ کی جانب سے دلیل موجود ہو گی‘‘۔ (بخاری و مسلم)۔
——–بیعت توڑنا یا خروج کرنے کی صورت میں عہد شکنی متصور ہو گا اور خروج کرنے والے پر حد لگے گی جس میں فساد فی الارض کا حکم لیا جاتا رہا ہے اور سورہ مائدہ کی آیات سے حاکم کے لئے جائز ہو جاتا ہے کہ وہ سولی دے یا ہاتھ پیر کاٹ دے
ایسا قرآن میں ہے خلفاء نے اسی بنا پر خروج کرنے والوں کو قتل کیا ہے——-موجودہ دور میں بیعت کا کوئی تصور باقی نہیں رہا ہے کیونکہ حاکم خلیفہ نہیں ہے نہ وہ قوانین الله نافذ کرنا چاہتا ہے لہذا نہ بیعت ہے نہ خروج ہےباقی آجکل مذہبی تنظیموں میں بھی بیعت کا تصور موجود ہے لیکن یہ مذہبی تماشہ ہے کیونکہ بیعت حاکم کے لئے ہے فرضی حاکموں کے لئے نہیں ہے
حدیث میں ہےعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے اپنا ہاتھ امیر کی اطاعت سے کھینچ لیا وہ قیامت کے دن اللہ سے ملاقات کرے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو گی اور جو شخص فوت ہوا اور اس کی گردن میں امیر کی بیعت نہیں، وہ جاہلیت کی موت مرا‘‘۔ (صحیح مسلم)۔
لیکن یہ حکومت کے گورنروں سے متعلق حکم ہے کسی مذہبی تنظیم کے امیر یا کسی پیر کی اطاعت کا حکم نہیں ہے———–

ذیلی مباحثیہ بھی دیکھ لیں

⇑ جب دو خلیفہ ہوں تو ایک کو قتل کر دو کیسی روایت ہے ؟

فتن و آثار

خیال رہے دور نبوی میں اس کی مثال نہیں ملی کہ ان آیات پر عمل کی کوئی صورت پیدا ہوئی ہو
صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ ان آیات پر دور نبوی میں عمل ہوا لیکن احناف میں طحاوی کے نزدیک یہ منکر روایت ہے⇓ احادیث میں ذکر ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا؟http://www.islamic-belief.net/q-a/علم-الحدیث/
راقم کے نزدیک بھی یہ منکر روایت ہے

جواب

واضح انداز میں اپ کا سوال یہ ہے

اول خروج عن الاسلام يعني ارتاد عقیدہ يا الردة – ایسا کرنے والا المرتد على الحقيقة ہے
دوم خروج على اركان الاسلام – ایسا کرنے والا المرتد على ظاہر کہا جاتا ہے
سوم خروج على الحاكم ہے یعنی خلیفہ سے خروج کرنے والا

=============

اول جو شخص اسلام کو چھوڑے وہ مرتد واجب القتل ہے
تفصیل یہاں ہے
http://www.islamic-belief.net/توریت-کے-تین-حکم/

دوم جو شخص ارکان اسلام کو چھوڑے وہ احناف کے نزدیک فاسق ہے اور باقی کے نزدیک اگر نماز چھوڑے تو اس کا حکم مرتد کا ہے یعنی واجب القتل ہے
راقم کہتا ہے

دور نبوی میں تارک نماز کفر کی نشانی تھا کیونکہ منافق رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو نبی تسلیم نہیں کرتے تھے اس پر وعید تھی کہ نماز میں تساہل کرتے ہیں
اللہ کو بھول چکے ہیں یتیم کو مال نہیں دیتے جہاد میں مال نہیں دیتے لہذا یہ بات ایک چیک تھی کہ کون نماز پڑھ رہا ہے کون تساہل دکھا رہا ہے

بغوی شرح السنہ میں کہتے ہیں
اختلف أهل العلم في تكفير تارك الصلاة المفروضة عمداً، فذهب إبراهيم النخعي وابن المبارك وأحمد وإسحاق إلى تكفيره … وذهب الآخرون إلى أنه لا يكفَر … وقال حماد بن زيد ومكحول ومالك والشافعي: تارك الصلاة يقتل كالمرتد، ولا يخرج به عن الدين. وقال الزهري: وبه قال أصحاب الرأي: لا يقتل، بل يحبس ويضرب حتى يصلي، كما لا يقتل تارك الصوم والزكاة والحج.

اہل علم کا اختلاف ہے کہ نماز فرض کو جان بوجھ کر ترک کرنے والا کافر ہے یا نہیں پس إبراهيم النخعي وابن المبارك وأحمد وإسحاق تکفیر کی طرف مذھب رکھتے ہیں اور باقی اس پر تکفیر نہیں کرتے … حماد بن زيد ومكحول ومالك والشافعي کہتے ہیں کہ اس کو مرتد کی طرح قتل کیا جائے اور امام الزہری اور اصحاب رائے کہتے ہیں قتل نہیں کیا جائے بلکہ قید کیا جائے اور پٹائی کی جائے یہاں تک کہ نماز پڑھے ایسے ہی جیسے روزہ و زکوه اور حج نہ کرنے والے کو قتل نہیں کیا جاتا

سوم جو حاکم یا خلیفہ سے خروج کرے یا بغاوت کرے اس کا حکم مرتد کا نہیں لیا گیا ہے جبکہ یہ قرآن کی آیات کی مخالفت ہے
مثلا خوارج کو علی نے واجب القتل قرار نہیں دیا لیکن ان کے حوالے سے بہت متضاد خبریں پہنچی ہیں

جواب

جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کہتا ہے‘ او کافر! تو یہ لفظ ان میں سے کسی ایک پر صادق آتا ہے۔ اگر (جسے کہا گیا ہے) وہ ایسے ہی ہے جیسا کہ کہا گیا (پھر تو وہ کافر ہے ہی) ورنہ یہ (لفظ) کہنے والے پر لوٹ آتا ہے

صحیح بخاری
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ المُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا»، وَقَالَ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ: سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ: سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

صحیح بخاری
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا»

موطا امام مالک
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَالَ لِأَخِيهِ يَا كَافِرٌ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا»

حدیث صحیح ہے لیکن اس کو قبول نہیں کیا جاتا کہ اس کا مطلب اس کے ظاہر پر لیا جائے

معتزلہ کی تکفیر محدثین نے کی کہ وہ خلق قرآن کے قائل تھے
شیعہ اور خوارج کی تکفیر محدثین نے کی کہ وہ رویت باری تعالی کے انکاری تھے

شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة از أبو القاسم هبة الله بن الحسن بن منصور الطبري الرازي اللالكائي (المتوفى: 418هـ)
کے مطابق
«ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ» هَذَا عَلَى التَّغْلِيظِ , نَرْوِيهَا كَمَا جَاءَتْ وَلَا نُفَسِّرُهَا. وَقَوْلُهُ: «لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» , وَمِثْلُ: «إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ» , [ص:184] وَمِثْلُ: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ» , وَمِثْلُ: ” مَنْ قَالَ لِأَخِيهِ: يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا ” , وَمِثْلُ: «كُفْرٌ بِاللَّهِ تَبَرُّؤٌ مِنْ نَسَبٍ , وَإِنْ دَقَّ» . وَنَحْوُهُ مِنَ الْأَحَادِيثِ مِمَّا قَدْ صَحَّ وَحُفِظَ فَإِنَّا نُسَلِّمُ لَهُ وَإِنْ لَمْ يُعْلَمْ تَفْسِيرُهَا , وَلَا يُتَكَلَّمُ فِيهِ وَلَا يُجَادَلُ فِيهِ وَلَا تُفَسَّرُ هَذِهِ الْأَحَادِيثُ إِلَّا بٍمِثْلِ مَا جَاءَتْ , وَلَا نَرُدُّهَا إِلَّا بِأَحَقِّ مِنْهَا
احادیث کہ جس میں تین باتیں ہوں وہ منافق ہے تو یہ تغلیظ ہے ہم اس کو روایت کریں گے تفسیر نہیں کریں گے اور قول میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ گردن مارو ایک دوسرے کی اور مثال ہے جب دو مسلمان تلوار لے کر آمنے سامنے ہوں تو قاتل و مقتول جہنمی ہیں اور مثال ہے کہ مسلم کو گالی دینا فسق ہے اور قتل کفر ہے اور مثال ہے کہ جس نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو دونوں میں سے ایک پر یہ پلٹے گا اور مثال ہے کہ … اور اس طرح کی احادیث جن میں سے بعض کی تصحیح کی گئی ہے اور یاد رکھا گیا ہے تو ہم ان کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کی تفسیر ہم کو معلوم نہیں ہے اور ہم ان پر کلام نہیں کریں گے اور نہ اس پر جھگڑا کریں گے اور نہ ان کی تفسیر کریں گے بلکہ جیسی ہیں ویسی لیں گے اور نہ رد کریں گے سوائے وہ جو حق ہو

جواب

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ
اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہو جنہوں نے اپنے دین میں فرقے کیے اور گروہ بنے ہر گروہ کے پاس جو ہے اس میں مگن ہے
سوره الروم

یعنی فرقہ بننا مشرکوں کا عمل ہے

عن ابن عباس أنه قال:إنه لیس باکفر الذی یذهبون الیه إنه لیس کفر ینقل عن الملة(من لم یحکم بما انزل الله فأولئک هم الکافرون)کفر دون کفر
صحه البانی و حاکم
کیا یہ اثر صحیح ہے؟
اور کفر دون کفر کا کیا مطلب ہے؟

جواب

وہ من لم یحکم کی آیات یہود و نصاری کے تناظر میں ہیں کہ یہ حکم کرتے وقت وہ نہیں کرتے جو الله کا ہے
خاص کر توحید کے معاملے میں
————
سوره المائدہ آیت ٥٠ میں ہے
آپ ان کے درمیان اس (فرمان) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اﷲ نے نازل فرمایا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں اور آپ ان سے بچتے رہیں کہیں وہ آپ کو ان بعض (احکام) سے جو اللہ نے آپ کی طرف نازل فرمائے ہیں پھیر (نہ) دیں، پھر اگر وہ (آپ کے فیصلہ سے) روگردانی کریں تو آپ جان لیں کہ بس اﷲ ان کے بعض گناہوں کے باعث انہیں سزا دینا چاہتا ہے، اور لوگوں میں سے اکثر نافرمان (ہوتے) ہیں
———–
یعنی اہل کتاب کی خواہش پر فیصلہ نہ کرو

مستدرک الحاکم کی روایت ہے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: إِنَّهُ ” لَيْسَ بِالْكُفْرِ الَّذِي يَذْهَبُونَ إِلَيْهِ إِنَّهُ لَيْسَ كُفْرًا يَنْقِلُ عَنِ الْمِلَّةِ {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: 44] كُفْرٌ دُونَ كُفْرٍ
ابن عباس رضی الله عنہ نے کہا : جو اس طرف گئے (اغلبا خوارج مراد ہیں) یہ کفر نہیں- یہ کفر نہیں جو ان کو ملت سے نکالا جائے
اور وہ جو الله کے نازل کردہ حکم کے مطابق حکم نہ کریں وہ کافر ہیں
کفر (امیر)، کفر(باللہ) سے الگ ہے

سفیان ثوری کی تفسیر کے مطابق ابن عباس اس آیت پر کہتے
قال: هي كفره، وليس كمن كفر بالله واليوم الآخر
یہ انکار تو ہے لیکن الله اور یوم آخرت کے انکار جیسا نہیں ہے

تفسیر عبد الرزاق میں ہے
عبد الرزاق في “تفسيره” (1 / 191) عن معمر، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سئل ابن عباس عن قوله: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ الله فأولئك هم الكافرون} ، قال: هي كفر، قال ابن طاوس: وليس كمن كفر بالله وملائكته وكتبه ورسله.
ابن عباس سے اس آیت پر سوال ہوا کہا یہ کفر ہے- ابن طاوس نے کہا لیکن الله اور اس کی کتابوں اور فرشتوں کا کفر کرنے جیسا نہیں ہے

خوارج کہتے تھے کہ جس نے قرآن کی کسی آیت پر اجتہادی غلطی کی وہ بھی کافر ہے اور اس آیت کو لگاتے اس میں مسئلہ یہ تھا کہ وہ اس آیت کو اصحاب رسول پر لگا رہے تھے جن کے ایمان پر قرآن گواہ ہے – اصحاب رسول نے بردباری کا مظاہرہ کیا اور اس پر کہا کہ خوارج کافر نہیں ہیں وہ امیر یعنی علی کی اطاعت سے خارجی ہیں لیکن ان کا یہ انکار ، کفر نہیں ہے
یا کہہ لیں ابن عباس کے نزدیک خوارج کافر نہیں تھے
اور یہاں تک کہ کوئی غلط موقف اپنا لے لیکن الله ، اس کی کتاب ، قبلہ ، رسولوں اور فرشتوں کا اقراری ہو تو کافر نہیں تھا

خیال رہے کہ سن ٣٧ ہجری میں خوارج اور اصحاب رسول میں عقیدے کوئی اختلاف نہیں تھا بلکہ معاملات پر تھا جو بگڑ کر تاویل قرآن کا اختلاف بن گیا
———————-
بیہقی نے نہ جانے کس طرح اس کو صفات و اسماء کی بحث بنا دیا

سنن الکبری بیہقی نے اس قول پر لکھا ہے
قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: ” فَكَأَنَّهُمْ أَرَادُوا بِتَكْفِيرِهِمْ مَا ذَهَبُوا إِلَيْهِ مِنْ نَفْيِ هَذِهِ الصِّفَاتِ الَّتِي أَثْبَتَهَا اللهُ تَعَالَى لِنَفْسِهِ وَجُحُودِهِمْ لَهَا بِتَأْوِيلٍ بَعِيدٍ , مَعَ اعْتِقَادِهِمْ إِثْبَاتَ مَا أَثْبَتَ اللهُ تَعَالَى , فَعَدَلُوا عَنِ الظَّاهِرِ بِتَأْوِيلٍ , فَلَمْ يَخْرُجُوا بِهِ عَنِ الْمِلَّةِ وَإِنْ كَانَ التَّأْوِيلُ خَطَأً , كَمَا لَمْ يَخْرُجْ مَنْ أَنْكَرَ إِثْبَاتَ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي الْمَصَاحِفِ كَسَائِرِ السُّوَرِ مِنَ الْمِلَّةِ
قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: ” فَكَأَنَّهُمْ أَرَادُوا بِتَكْفِيرِهِمْ مَا ذَهَبُوا إِلَيْهِ مِنْ نَفْيِ هَذِهِ الصِّفَاتِ الَّتِي أَثْبَتَهَا اللهُ تَعَالَى لِنَفْسِهِ وَجُحُودِهِمْ لَهَا بِتَأْوِيلٍ بَعِيدٍ , مَعَ اعْتِقَادِهِمْ إِثْبَاتَ مَا أَثْبَتَ اللهُ تَعَالَى , فَعَدَلُوا عَنِ الظَّاهِرِ بِتَأْوِيلٍ , فَلَمْ يَخْرُجُوا بِهِ عَنِ الْمِلَّةِ وَإِنْ كَانَ التَّأْوِيلُ خَطَأً , كَمَا لَمْ يَخْرُجْ مَنْ أَنْكَرَ إِثْبَاتَ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي الْمَصَاحِفِ كَسَائِرِ السُّوَرِ مِنَ الْمِلَّةِ

پس وہ لوگ ان کی تکفیر کا ارادہ رکھتے تھے ان کے لئے جو اس طرف گئے کہ صفات کی نفی کرتے جو الله نے اپنے لئے ثابت کی ہیں اور ان کی تاویل بعید پر اس عقیدے کے ساتھ کہ جو الله نے ثابت کیا ہے اس کو مانیں … پس (ابن عباس) ان کو ملت سے نہیں نکالا باوجود یہ کہ ان کی تاویل غلط تھی – ایسے ہی جو سوره فلق و الناس کا اقرار نہیں کرتے ان بھی ملت سے خارج نہیں کیا گیا

و الله اعلم

========

مستدرک کی روایت میں هشام بن حجير المكي ہے جو ابن جریج کے شیوخ میں سے ہے اس کو ابن معین اور احمد کے ضعیف کھا ہے البتہ اس کی اور سندیں بھی ہیں جو صحیح ہیں یعنی تفسیر عبد الرزاق والی

24 : سورة النور 55

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۵۵﴾

تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالٰی وعدہ فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کے لئے وہ پسند فرما چکا ہے اور ان کے اس خوف و خطر کو وہ امن امان سے بدل دے گا ، وہ میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وہ یقیناً فاسق ہیں ۔

جواب

الله تعالی نے فرمایا سوره النور

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (55)

الله کا وعدہ ہے کہ تم میں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کے ان کو زمین میں جانشین کے طور پر مقرر کرے گا جیسا پہلوں کو کیا- ان کے دین کو تمکنت دے گا جو اس نے پسند کیا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا کہ وہ میری عبادت کریں اور شرک نہ کریں کسی چیز کا بھی اور جس نے کفر کیا وہ فاسق ہیں

یہ آیت خاص ہے صرف رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لئے ہیں اور جو ان کے ساتھ اصحاب تھے عموم نہیں ہیں

آیت میں منکم ہے یعنی تم اصحاب النبی میں سے جو ایمان لائے ہیں ان کو جانشیں مقرر کرے گا

– مسلمانوں کی غلطی ہے کہ خاص کو عام کر دیتے ہیں اور عام کو خاص
جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو عرب پر حکومت مل گئی تو یہ وعدہ پورا ہوا
و للہ الحمد

اب اس وعدہ کا کوئی اعادہ نہیں ہو گا
اس سے ظاہر ہے کہ یہ وعدہ خاص صرف رسول الله کے لئے ہے
—————
ابن زبیر اصحاب النبی میں سے شمار کے جاتے ہیں جبکہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے کوئی سماع نہیں کیا
ان کی پیدائش ہوئی تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے ان کو گود میں لیا
لیکن اہل سنت میں بنو امیہ کی مخالفت کی وجہ سے ابن زبیر کو صحابی تسلیم کر لیا گیا
صحابی کی شرط ہے کہ اس نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو نہ صرف دیکھا ہو بلکہ ان سے سماع بھی ہوا ہو جو علمی حدیث بن سکے

لیکن اہل سنت کا یہ دوہرا معیار تھا کیونکہ وہ لوگ جو دور نبوی میں ہی مرد تھے ان میں سے بعض کو صحابی تسلیم نہیں کیا گیا کہ ان افراد کا سماع نبی صلی الله علیہ وسلم سے نہ ہوا لیکن ابن زبیر جو شیر خوار بچے تھے ان کو صحابی مان لیا گیا

اگر ہم اس مشہور بات کو تسلیم کریں کہ ابن زبیر رضی الله عنہ بھی صحابی ہیں تو قابل غور ہے کہ کیا عبد الله ابن زبیر کی خلافت کو الله نے برباد نہیں کیا ؟ ان کے استخلاف کو ختم کیا ؟
عبد الله ابن زبیر صحیح عقیدہ حاکم ہیں خلیفہ ہیں ان کے مخالف (بنو امیہ صحیح عقیدہ ہیں لیکن) ظاہر ہے ان سے بہتر نہیں ہیں لیکن پھر بھی ابن زبیر کی خلآفت چند سال کی ہے اور اس کا انجام بہت برا ہوتا ہے ہمارے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟ کیا ہم آیات کو اپنا معنی پہنا کر الله سے معجزات کی امید تو نہیں لگا رہے ؟

آخری وقت میں خلیفہ مسلمین ابن زبیر کو اصحاب رسول چھوڑ کر جا چکے تھے

کتاب البدایہ و النہایہ از ابن کثیر کے مطابق

وقال الشافعي: ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اعْتَزَلَ لَيَالِيَ قِتَالِ ابن الزبير ووالحجاج بِمِنًى، فَكَانَ يُصَلِّي مَعَ الْحَجَّاجِ
نافع نے کہا کہ ابن عمر نے ابن زبیر کے قتل سے چند راتوں پہلے ان کو چھوڑا اور حجاج منی میں تھا اور وہ حجاج کے ساتھ منی میں نمازیں پڑھتے

یعنی ابن عمر رضی الله عنہ نے ابن زبیر کی خلافت کو غلط سمجھا اور ان کو
Abandon
کر دیا

اسی طرح ابن عباس رضی الله عنہ نے بھی ابن زبیر کو چھوڑ دیا اور طائف چلے گئے

کڑوی بات ہے لیکن سچ ہے ہم تعبیر کی غلطی کا شکار نہیں ہوں گے

خلافت ختم ہو چکی

خلیفہ کا مطلب تھا رسول الله کے بعد حاکم اور یہ سلسلہ اس وقت رہا جب تک خلافت ایک کے بعد ایک ہوئی تسلسل کے ساتھ
اس میں صرف اہمیت بارہ قریشی خلفاء کی تھی جن کے لئے زبان نبوت سے نکلا تھا کہ ان کے مخالفین ان پر غالب نہ ہو سکیں گے اور یہ بارہ خلفاء گزر چکے
لہذا وہ خلافت جس کا ذکر احادیث میں ہے وہ ان بارہ خلفاء سے متعلق ہے

جواب

⇓ الطاغوت کیا ہے اس کے کفر کا کیا مطلب ہے ؟
http://www.islamic-belief.net/q-a/عقائد/اہم-مباحث/

طاغوت کی نشان دہی نام لے کر کرنا سنت سے ثابت ہے نبی صلی الله علیہ وسلم نے مبہم انداز میں طاغوت کا ذکر نہیں کیا بلکہ کعب بن اشرف یا اسی طرح کے دیگر اکابرین عرب کا نام لے کر ذکر کیا
جنگ بدر کے بعد ٢٤ سرداران قریش یا طواغیت کا نام لے لے کر ان کا ذکر کیا
عمرو بن لحی کا نام لے کر ذکر کیا
ابو جھل کو منبر پر الله کا دشمن کہا کہ اس کی بیٹی سے علی شادی نہیں کر سکتا

اس میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے ہم عصر بھی ہیں اور جو پہلے گزرے وہ بھی ہیں

———-

نبی صلی الله علیہ وسلم نرم مزاج تھے اور تند خو اور جذباتی نہیں تھے لیکن بہت سے علماء کا مزاج ایسا ہے کہ وہ فورا کافر جاہل کہنے لگ جاتے ہیں

لہذا پہلے دلیل دی جاتی ہے بات ثابت کی جاتی ہے اس کے بعد جو نہ مانے کو سمجھایا جاتا ہے اور صبر کیا جاتا ہے
اگر کوئی کسی کو کافر اپنی ذاتی بھڑاس نکالنے کے لئے کہہ رہا ہے تو وہ اس منہج پر نہیں جس پر انبیاء تھے اس صورت میں یہ فتوی پلٹ جاتا ہے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب کوئی آدمی اپنے بھائی کو کافر کہتا ہے تو ان دونوں میں سے کوئی ایک اس کا مستحق بن جاتا ہے

ابن عمر (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی آدمی اپنے بھائی کو کافر کہے تو ان میں سے کوئی ایک اس کا مستحق بن جاتا ہے، اگر اس نے کہا، جیسا کہ وہ تھا اور اگر نہیں تو یہ اسی کی طرف پلٹے گا

لیکن اگر وہ دلیل قائم کرنے کے بعد صرف الله اور اس کے رسول کی محبت میں کسی کو طاغوت کہہ رہا ہے تو یہ کیا جا سکتا ہے
ابو بکر رضی الله عنہ نے اہل قبلہ کو کافر قرار دیا جو زکواه نہیں دے رہے تھے
امام احمد نے اہل قبلہ مسلموں کو جو خلق قرآن کے قائل تھے کافر کہا
اور امام بخاری نے بھی یہ فتوی دیا ہے

اس میں جو چیز قابل غور ہے وہ اولوالامر کی اطاعت سے امام احمد اور امام بخاری کا انکار ہے
ابو بکر رضی الله عنہ خلیفہ ہیں وہ کفر کا فتوی دے سکتے ہیں – اور اصولا کفر کا فتوی حکومت کا چلتا ہے عام لوگوں یا علماء کا نہیں چلتا
یہ وہ اصول ہے جو قرآن میں ہے کہ اولو الامر کی اطاعت کرو

دوسری اہم بات یہ ہے کہ قرآن کی آیات کا انکار کرنا یعنی اس کے مخالف عقیدہ دینا- اگر کوئی یہ کرتا ہے چاہے لا علم ہو یا علم والا ہو تو آٹومیٹک کفر ہو جاتا ہے لہذا ایک دوسرے کی اصلاح کرنے کا حکم ہے – جب علماء کسی کو کافر کہتے ہیں تو یہ اصلاح کا مقصد ہوتا ہے

جواب

ابو بکر رضی الله عنہ کو کیا حق تھا کہ کسی کو زکواه نہ دینے پر قتل کیا ؟ انہوں نے ان کو مرتد قرار دیا

ابو بکر رضی الله عنہ خلیفہ ہیں وہ کفر کا فتوی دے سکتے ہیں – اور اصولا کفر کا فتوی حکومت کا چلتا ہے عام لوگوں یا علماء کا نہیں چلتا
اگر کوئی ارکان اسلام میں میں کوئی ادا نہیں کر رہا تو کیا خلیفہ کے پاس یہ حق ہے کہ وہ قتل کرے؟ نہیں حاکم صرف قتل نفس میں قصاص اور زنا میں رجم کا حکم کر سکتا ہے یا مرتد پر قتل کا حکم کر سکتا ہے
بطور حاکم ابو بکر رضی الله عنہ کا یہ قتال کا حکم ان قبائل کو مرتد قرار دینا تھا

جواب

یہ روایت احکام کی نہیں ہے حقیقت کی ہے لہذا اس میں نسخ نہیں ہے اور یہ صحیح ہے
مسلم سے مراد صحیح عقیدہ رکھنے والا ہے یعنی وہ عقیدہ جو الله اور اس کے رسول نے دیا -اس پر مرنے والا مراد ہے

جواب

فرقہ پرست آیت پیش کرتے ہیں

سوره توبہ میں ہے
وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (122)
اور مومنوں کے لئے یہ نہیں ہے کہ وہ تمام کے تمام نکل کھڑے ہوں – پس کیوں نہ تم میں سے کچھ لوگ ہر فرقہ سے جاتے کہ دین کی سمجھ دیتے اور اپنی قوم کو ڈراتے جب ان کی طرف پلٹتے تاکہ وہ خبر دار کرتے

اس سے دلیل پکڑتے ہیں کہ فرقہ بازی قرآن سے ثابت ہے – یہ ان کا فہم ہے چونکہ یہ کوڑھ مغز لوگ ہیں

یہ آیات سورہ التوبہ میں ہے اور بحث اس پر چل رہی ہے مدینہ کے قرب و جوار کی بستیوں کو رسول الله کی مدد کرنے چاہیے – اس تناظر میں الله تعالی کا فرمان ہے کہ ان بستیوں کی اصلاح کے لئے اہل مدینہ کے مسلمانوں میں سے تمام کا نکلنا درکار نہیں بلکہ ہر فرقہ میں سے کچھ افراد درکار تھے جو دعوت کا کام کرتے اور اپنے اپنے قبائل میں جا کر تبلیغ کرتے

یہ فرقہ پرست کیا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دور نبوی میں ہی اصحاب رسول فرقوں میں بٹ چکے تھے ؟ یہاں فرقہ سے مراد گروپ یا گروہ ہیں جو مختلف قبائل کے لوگ ہیں

——

دوسری طرف قرآن میں ہے
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
جنہوں نے اپنے دین میں تفریق کی اور گروہ در گروہ ہوئے ان سے کوئی سروکار نہیں – ان کا حکم الله پر ہے

یہاں دین ابراہیم میں فرقہ کرنا مراد ہے کہ بعض یہودی ہوئے بعض نصرانی

——
فرقہ پرستی شرک اس طرح ہے کہ یہ اکابر پرستی کا دوسرا نام ہے – جو علماء کہہ گئے ہیں اس کو حرف آخر قرار دینا اور قرآن کے مد مقابل عالم کی رائے کو ترجیح دینا شرک ہے

الله اس سے بچائے

جواب

عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : “جس وقت معاذ شام سے واپس آئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (معاذ یہ کیا کر رہے ہو؟) تو انہوں نے کہا: میں نے شام میں دیکھا تھا کہ شامی لوگ اپنے پادریوں اور مذہبی شخصیات کو سجدے کرتے ہیں، تو میرے دل میں یہ بات آئی کہ ہم ایسے آپ کیلیے بھی کریں گے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم ایسا مت کرو، اگر میں کسی کو غیر اللہ کیلیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں بیوی کو خاوند کیلیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! عورت اپنے پروردگار کا اس وقت تک حق ادا نہیں کر سکتی جب تک اپنے خاوند کا حق ادا نہ کرے)ابن ماجہ: (1853) اسے البانی نے حسن کہا ہے۔

ابن ماجہ میں سند و متن ہے
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِي
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ مُعَاذٌ مِنْ الشَّامِ سَجَدَ لِلنَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فقَالَ: “مَا هَذَا يَا مُعَاذُ؟ ” قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ فَوَافَقْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ وَبَطَارِقَتِهِمْ، فَوَدِدْتُ فِي نَفْسِي أَنْ نَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: “فَلَا تَفْعَلُوا، فَإِنِّي لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِغَيْرِ اللَّهِ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ رَبِّهَا حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا، وَلَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا، وَهِيَ عَلَى قَتَبٍ، لَمْ تَمْنَعْهُ”

مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ القَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: قَدِمَ مُعَاذٌ الْيَمَنَ، أَوْ قَالَ: الشَّامَ، فَرَأَى النَّصَارَى تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِهَا وَأَسَاقِفَتِهَا، فَرَوَّى فِي نَفْسِهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ يُعَظَّمَ، فَلَمَّا قَدِمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْتُ النَّصَارَى تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِهَا وَأَسَاقِفَتِهَا، فَرَوَّأْتُ فِي نَفْسِي أَنَّكَ أَحَقُّ أَنْ تُعَظَّمَ، فَقَالَ: ” لَوْ كُنْتُ آمُرُ (1) أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَلَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا كُلَّهُ، حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا عَلَيْهَا كُلَّهُ، حَتَّى لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ لَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ ”

اس کی سند میں القاسم بن عوف الشيبانى البكرى الكوفى ہے
قال أبو حاتم مضطرب الحديث
يحيى بن سعيد : ضعیف

شام عمر رضی الله عنہ کے دور میں فتح ہوا اور معاذ وہاں نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد گئے

لہذا تاریخا غلط اور سندا ضعیف ہے

دارقطنی نے کتاب العلل میں اس ہی سند کا ذکر کر کے کہا
والاضطرابُ فيه من القاسم بن عوف
اس میں اضطراب قاسم بن عوف سے ہے

اس کی دو سندیں اور ہیں
قَالَ الثَّوْرِيُّ وَأَبُو نُعَيْمٍ: عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ مُعَاذٍ.
اس میں مجھول ہے

اور دوسری ہے
قَالَ وَكِيعٌ وَجَرِيرٌ: عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ مُعَاذٍ
اس پر دارقطنی نے کہا أَبُو ظَبْيَانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ
راوی کا سماع نہیں ہے

البتہ اس کو سندا حسن یا صحیح لغیرہ کہا گیا ہے جبکہ اس کی کوئی بھی سند اس قدر مظبوط نہیں کہ اس کو قول نبوی قرار دیا جائے

مزید دیکھئے

⇓ حدیث میں ارشاد فرمایا گیا ہے اگر اللہ کے علاوہ کسی اور کیلئے میں سجدہ کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ؟
http://www.islamic-belief.net/q-a/عقائد/اہم-مباحث/

السلام علیکم بھائی میں کیا یہ تمام دلائل کسی کلمہ گو تکفیر مانع ہیں اور موسی علیہ السلام نے کہا تھا فرعون کے جواب پر

20 : سورة طه 51

قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰی ﴿۵۱﴾

اس نے کہا اچھا یہ تو بتاؤ اگلے زمانے والوں کا حال کیا ہونا ہے۔

تو آپ نے جواب دیا ؟

20 : سورة طه 52

قَالَ عِلۡمُہَا عِنۡدَ رَبِّیۡ فِیۡ کِتٰبٍ ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیۡ وَ لَا یَنۡسَی ﴿۫۵۲﴾

جواب دیا کہ ان کا علم میرے رب کے ہاں کتاب میں موجود ہے، نہ تو میرا رب غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے۔

جواب

فرعوں کا یہ سوال ال فرعون سے متعلق ہے جو اس سے پہلے گزرے جو مصری سحر کے مذھب پر تھے- موسی علیہ السلام کو فرعون کے پاس دو مقاصد سے بھیجا گیا تھا
اول بنی اسرائیل کو آزاد کر دے
دوم فرعون سے نرمی سے بات کی جائے ممکن ہے ایمان لائے

سورة طه میں ہے
فقولا له قولا لينا لعله يتذكر أو يخشى
فرعون سے نرمی سے بات کرنا ممکن ہے نصیحت پکڑے یا ڈر جائے

لہذا اس حکم کی بنا پر موسی علیہ السلام نے خوبصورتی سے بات کا رخ واپس اس کلام کی طرف لے آئے جو چل رہا تھا کہ فرعون بنی اسرائیل کو چھوڑ دے

فرعون نے یہ سوال کلام میں یک دم جڑ دیا تھا کیونکہ وہ بات ادھر ادھر کرنا چاہ رہا تھا

اس سوال میں کلمہ گو کا ذکر نہیں بلکہ مصری مذھب پر مرنے والوں سے متعلق پوچھا گیا ہے

یہ نرمی کا حکم فرعون کے لئے خاص تھا

ایسا حکم دیگر انبیاء کے لئے معلوم نہیں

——

اپ اپنے ذھن کو آزاد کریے اور ہم کیا حکم کرتے ہیں فرقہ پرست کیا کہتے ہیں اس سے ہٹ کر سوچیں

موسی علیہ السلام اگر کہتے اے فرعون! تو کافر، تیرا باپ کافر، تیری ماں کافر، تیرا سارا خاندان کافر وغیرہ وغیرہ- جو صحیح بھی ہے – لیکن اس کا نتیجہ کیا ہوتا موسی علیہ السلام کو قید کیا جاتا- مصری کے قتل کے قصاص میں ان کو قتل کیا جاتا- بات ختم ہو جاتی- انبیاء کا قتل ہوتا رہا ہے
لیکن اصلا الله کا منصوبہ الگ ہے لہذا تھوڑی چھوٹ دی کہ فورا شاہ مصر فرعون بدک نہ جائے، بات میں لچک رکھی جائے اور توریہ کا استعمال کیا جائے

آج کل کے دور میں ایسا ممکن نہیں – کیونکہ اب امت کی اکثریت گمراہی کا شکار ہے- قبر و اکابر پرستی عام ہے
انبیاء کا دور ختم ہو چکا لہذا ہم کو جو آخری حکم اپنے نبی صلی الله علیہ وسلم کا ملا ہے وہ لعنت کرنے کا ہے کہ قبر پرستوں پر لعنت ہے جو انبیاء و صلحا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا چکے ہیں

اس میں دو گروہ ہیں ایک وہ ہیں جو سجدہ کر رہے ہیں اور دوسرے احبار ہیں جو سند جواز دیتے ہیں اورضعیف روایات پر مٹ مرنے کو تیار ہیں

ﷲ تعالی نے حجت قائم کرنے سے پھلے سزا کو روا نہیں رکھا ۔

قرآن مجید سے دلائل ؟

ﷲ تعالی کا فرمان ھے ۔

17 : سورة بنی اسراءیل 15

مَنِ اہۡتَدٰی فَاِنَّمَا یَہۡتَدِیۡ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیۡہَا ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ؕ وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴿۱۵﴾

جو راہ راست حاصل کر لے وہ خود اپنے ہی بھلے کے لئے راہ یافتہ ہوتا ہے اور جو بھٹک جائے اس کا بوجھ اسی کے اوپر ہے ، کوئی بوجھ والا کسی اور کا بوجھ اپنے اوپر نہ لادے گا اور ہماری سنت نہیں کہ رسول بھیجنے سے پہلے ہی عذاب کرنے لگیں ۔

اور فرمایا

4 : سورة النساء 165

رُسُلًا مُّبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۱۶۵﴾

ہم نے انہیں رسول بنایا ہے خوشخبریاں سنانے والے اور آگاہ کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالٰی پر رہ نہ جائے اللہ تعالٰی بڑا غالب اور بڑا باحکمت ہے ۔

اور فرمایا

28 : سورة القصص 59

وَ مَا کَانَ رَبُّکَ مُہۡلِکَ الۡقُرٰی حَتّٰی یَبۡعَثَ فِیۡۤ اُمِّہَا رَسُوۡلًا یَّتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا ۚ وَ مَا کُنَّا مُہۡلِکِی الۡقُرٰۤی اِلَّا وَ اَہۡلُہَا ظٰلِمُوۡنَ ﴿۵۹﴾

تیرا رب کسی ایک بستی کو بھی اس وقت تک ہلاک نہیں

سوال یہ ہے کہ پہلے حجت تمام کرنی چاہیے حجت تمام کرنے کے بعد
ہی کسی کو کافر مشرک کہنا چاہیے کیونکہ رسول کے آنے کا مقصد حجت تمام کرنا اللہ تعالی رسول کو بھیجے کے بعد ہی کسی کو عذاب دیتا ہے تو بعض.لوگوں کا.کہنا ہے کہ یہ جاہل.لوگ ہے انکو علم نہیں ہے یہ کلمہ گو ہے وغیرہ وغیرہ

جواب

اس کو غور سے سمجھنے کی ضرورت ہے

اتمام حجت ہم یا اپ یا عالم نہیں کرتے – اتمام حجت کی جو آیات اپ نے ذکر کی ہیں وہ انبیاء کا فریضہ ہے ان کو بالکل حق کی تائید الوحی سے حاصل ہوتی ہے لہذا ان کی اقوام پر ان انبیاء کی زندگی میں اتمام حجت کیا گیا
بعد والے جو انبیاء کے متبع ہیں ان میں اتمام حجت اگرچہ لکھ دیا جاتا ہے لیکن یہ قول صحیح نہیں

قرآن میں الله کی سنت کا چار مرتبہ ذکر ہے کہ اس میں تبدیلی نہیں کی جاتی اور یہ خاص اسی اتمام حجت سے متعلق ہیں کہ جب اتمام حجت ہو جاتا ہے اور قوم ایمان نہیں لائی ہوتی تو اس کو نیست و نابود کر دیا جاتا ہے یہ الله کی سنت ہے جس میں تبدیلی نہیں ہے

اور یہ دور ١٤٠٠ سال پہلے گزر چکا جب نبی صلی الله علیہ وسلم زندہ تھے انہوں نے اتمام حجت کر دیا ان کی قوم والے ایمان لے آئے اور بچ گئے

—-

دوسری غلطی جو لوگ کرتے ہیں وہ انبیاء سے متعلق الله کی ایک اور سنت ہے کہ اس کو اپنے اوپر لگا دیتے ہیں وہ ہے کہ
تم غالب رہو گے اگر تم مومن ہو
یہ آیت بھی رسول الله کے لئے خاص ہے اور ان کے ساتھ ایمان والوں کے لئے

یہ عموم نہیں لیکن لوگ اس میں بھی تعبیر کی غلطی کر گئے ہیں کہ وہ اس کو اپنے لئے سمجھتے ہیں – ہم کو معلوم ہے کہ انبیاء و رسل کا قتل بھی ہوا ہے- بہت سوں کے ساتھ ایک ہی فرد تھا جو ایمان لایا اور وہ دنیا میں غالب نہ ہوئے

لہذا اس کو سمجھیں – قرآن میں ہے الله نے لکھ دیا ہے کہ وہ اور اس کے رسول غالب ہوں گے لیکن قرآن میں ہی ہے کہ رسول قتل بھی ہو جاتے ہیں
اس میں آخرت کا غلبہ مراد ہے اور دنیا کی حقیقت یہ ہے کہ انبیاء غالب نہ ہو سکے سوائے چند کے

لہذا اتمام حجت قرآن نازل ہونے پر قیامت تک کے لئے ہو چکا – الله کی جانب سے حق آ چکا اب کوئی اس کو پڑھے نہیں یا پڑھ کر بدل دے تو اس پر لعنت ہے

جواب

یہ التباس ہے جو پیدا کیا جاتا ہے

مسائل دو طرح کے ہیں ایک فروعی اور ایک عقیدہ کے

فروع میں اختلاف میں اجر مل سکتا ہے لیکن عقیدہ غلط دیا جائے تو الله کا غضب ہے

یہاں وقت نہیں لیکن یہ فرقہ پرست بھی اسی کے قائل ہیں کہ غلط عقیدہ پر تکفیر کی جائے گی مثلا امام احمد، خلق قرآن کے قائل جو اہل قبلہ اور کلمہ گو تھے ان کو جھمی کافر کہنے میں چوک نہیں کرتے

یہ ائمہ تکفیری تھے

⇓ کیا امت میں تکفیر محدثین سے شروع ہوئی
http://www.islamic-belief.net/q-a/علم-الحدیث/

تکفیری جہادیوں کے دلائل کا جائزہ

طبقات ابن سعد کی روایت ہے

قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سُمَيْرٍ قَالَ: خَطَبَ الْحَجَّاجُ الْفَاسِقُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَرَّفَ كِتَابَ اللَّهِ. فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: كَذَبْتَ كَذَبْتَ كَذَبْتَ. مَا يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ وَلا أَنْتَ مَعَهُ.
فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ: اسْكُتْ فَإِنَّكَ شَيْخٌ قَدْ خَرِفْتَ وَذَهَبَ عَقْلُكَ.

خالد بن سمیر کہتے ہیں ایک دفعہ حجاج (بن یوسف) الفاسق نے منبر پر خطبہ دیا تو کہا:بے شک (عبداللہ) بن زبیر نے قرآن میں تحریف کی ہے۔تو (عبداللہ) بن عمر بولے:تو نے جھوٹ بولا ہے،نہ وہ اس کی طاقت رکھتے تھے اور نہ تو اس (تحریف) کی طاقت رکھتا ہے۔حجاج (غصے) سے بولا:چپ ہو جا اے بوڑھے! تو سٹھیا گیا ہے اور تیری عقل چلی گئی ہے۔

جواب

اسکی سند میں خالد بن سمیر ہے جس کا ذکر محدثین نے اسناد میں کیا ہےلیکن جرح و تعدیل نہیں کی سوائے نسائی، الهيثمي  اور ابن حبان کے جنہوں نے اس کو ثقہ کہا ہے-  المطَالبُ العَاليَةُ میں ابن حجر نے صدوق کہا ہے – الصنعاني   کتاب فتح الغفار میں کہتے ہیں اس کو وہم ہوتا ہے –   اس کی روایت کا درجہ حسن کا ہے

حجاج بن یوسف سے منسوب قول مبہم ہے کہ اس تحریف کا کیا مطلب تھا ؟ اس قسم کے قول کی وضاحت نہیں ملی لہذا یہ روایت غیر واضح ہونے پر دلیل نہیں ہے

صحیح بخاری کی کتاب الحج کی حدیث ہے

حدثنا عبد الله بن يوسف ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرنا مالك ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن ابن شهاب ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن سالم ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال كتب عبد الملك إلى الحجاج أن لا يخالف ابن عمر في الحج ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فجاء ابن عمر ـ رضى الله عنه ـ وأنا معه يوم عرفة حين زالت الشمس ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فصاح عند سرادق الحجاج ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فخرج وعليه ملحفة معصفرة فقال ما لك يا أبا عبد الرحمن فقال الرواح إن كنت تريد السنة‏.‏ قال هذه الساعة قال نعم‏.‏ قال فأنظرني حتى أفيض على رأسي ثم أخرج‏.‏ فنزل حتى خرج الحجاج ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فسار بيني وبين أبي ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقلت إن كنت تريد السنة فاقصر الخطبة وعجل الوقوف‏.‏ فجعل ينظر إلى عبد الله ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فلما رأى ذلك عبد الله قال صدق‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے اور ان سے سالم نے بیان کیا کہ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو لکھا کہ حج کے احکام میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے خلاف نہ کرے ۔ سالم نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عرفہ کے دن سورج ڈھلتے ہی تشریف لائے میں بھی ان کے ساتھ تھا ۔ آپ نے حجاج کے خیمہ کے پاس بلند آواز سے پکارا ۔ حجاج باہر نکلا اس کے بدن میں ایک کسم میں رنگی ہوئی چادر تھی ۔ اس نے پوچھا ابوعبدالرحمن ! کیا بات ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر سنت کے مطابق عمل چاہتے ہو تو جلدی اٹھ کر چل کھڑے ہو جاؤ ۔ اس نے کہا کیا اسی وقت ؟ عبداللہ نے فرمایا کہ ہاں اسی وقت ۔ حجاج نے کہا کہ پھر تھوڑی سی مہلت دیجئیے کہ میں اپنے سر پر پانی ڈال لوں یعنی غسل کر لوں پھر نکلتا ہوں ۔ اس کے بعد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ( سواری سے ) اتر گئے اور جب حجاج باہر آیا تو میرے اور والد ( ابن عمر ) کے درمیان چلنے لگا تو میں نے کہا کہ اگر سنت پر عمل کا ارادہ ہے تو خطبہ میں اختصار اور وقوف ( عرفات ) میں جلدی کرنا ۔ اس بات پر وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھنے لگا  عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ سچ کہتا ہے ۔

حجاج بن یوسف تو عبد الله ابن عمر کی اتنی عزت کر رہے ہیں – طبقات ابن سعد والی روایت شاذ ہے

اسد الغابہ  میں ابن الأثير (المتوفى: 630هـ) ایک بے سند بات لکھتے ہیں

وعاش سهل وطال عمره، حتى أدرك الحجاج بْن يوسف، وامتحن معه، أرسل الحجاج سنة أربع وسبعين إِلَى سهل بْن سعد رضي اللَّه عنه، وقال له: ما منعك من نصر أمير المؤمنين عثمان؟ قال: قد فعلته، قال: كذبت، ثم أمر به فختم في عنقه، وختم أيضًا في عنق أنس بْن مالك رضي اللَّه عنه، حتى ورد عليه كتاب عَبْد الْمَلِكِ بْن مروان فيه

سهل بن سعد رضی اللہ عنہ زندہ رہے اور ان کی طویل عمر ہوئی یہاں تک کہ حجاج بن یوسف آیا اور اس سے ان کی آزمائش ہوئی – سن ٧٤ ہجری میں حجاج سہل کے پاس آیا اور کہا کس چیز نے تجھ کو منع کیا کہ تو نے عثمان کی مدد نہ کی سہل نے کہا بلکہ میں نے مدد کی حجاج نے کہا جھوٹ پھر اس نے سہل کی گردن داغ دی اور انس بن مالک رضی الله عنہ  کی بھی یہاں تک کہ عبد الملک نے اس پر خط لکھا

یہ سب بلا سند ہے

کتاب المحن از أبو العرب (المتوفى: 333هـ) کے مطابق یہ  يزيد بن بشر کا قول ہے جس کو الذھبی نے میزان میں مجھول کہا ہے

قَالَ زَيْدُ بْنُ بِشْرٍ وَبَعَثَ الْحَجَّاجُ إِلَى سهل بن سعد السَّاعِدِيّ فَقَالَ مَا لَكَ لَمْ تَنْصُرْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَان فَقَالَ قَدْ فَعَلْتُ قَالَ كَذَبْتَ فَخَتَمَ فِي عُنُقِهِ

اسی کتاب میں اس کی دوسری سند ہے

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَبَّاسٍ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ خَتَمَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ عَلَى يَدِ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ

اسکی سند میں   داود بن يحيى الافريقى ہے جس   پر میزان الاعتدال از الذھبی میں ہے قال ابن يونس: أحاديثه موضوعة.

اس کی روایات موضوع ہیں

تاریخ الطبری کی روایت ہے

وعن ابن أبي ذئب، عن إسحاق بن يزيد، أنه رأى أنس بن مالك مختوما في عنقه

إسحاق بن يزيد کہتا ہے اس نے انس رضی الله عنہ کی داغی گئی گردن دیکھی

اس کی سند میں اسحٰق بن یزید ہے جس کو ابن حجر مجھول کہتے ہیں

امام بخاری کہتے ہیں کہ  ابْنِ أَبي ذِئب  کی اس سے روایت مرسل ہے

تیسری روایت تاریخ الطبری کی  ہے

قال ابن عُمَرَ: وَحَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ أبيه، قال: رأيت الحجاج أرسل إلى سهل بن سعد فدعاه، فقال: ما منعك أن تنصر أمير المؤمنين عثمان بن عفان! قال: قد فعلت قال: كذبت، ثم أمر به فختم في عنقه برصاص

اس میں شرحبيل بن أبي عون کا باپ ہے کتاب  المعجم الصغير لرواة الإمام ابن جرير الطبري میں الفالوجی کہتے ہیں

والد شرحبيل بن أبي عون، مولى أم بكر بنت المسور بن مخرمة، المصري، من الثالثة، فما دونها، لم أعرفه، ولم أجد له ترجمة

شرحبيل بن أبي عون کے والد ….  میں نہیں جانتا اس کا ترجمہ نہیں ملا

تاریخ دمشق میں انس بن مالک اور عبد الملک بن مروان کے حوالے سے قصہ ہے کہ ان کی حجاج کے بارے میں بات ہوئی اس کو عوانة بن الحكم بن عوانة بن عياض  نے بیان کیا ہے کتاب الأعلام از الزركلي  کے متب

واتهم بوضع الأخبار لبني أمية

اس پر بنی امیہ کے لئے خبریں گھڑنے کا الزام ہے

جواب

یہ بات امام حاکم نے مستدرک میں بیان کی ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْقُرَشِيُّ، ثَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ: ” اخْتَلَفْتُ أَنَا وَذَرٌّ الْمُرْهِبِيُّ فِي الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: مُؤْمِنٌ، وَقُلْتُ: كَافِرٌ «وَبَيَانُ صِحَّتِهِ مَا أَطْلَقَ فِيهِ مُجَاهِدُ بْنُ جَبْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ کہتا ہے کہ ہم سے سفیان الثوری نے بیان کیا انہوں نے سلمہ بن کھیل سے کہ میرا اور ذر المرھبی کا حجاج کے حوالے سے اختلاف ہوا – ذر المرھبی نے کہا یہ مومن ہے میں ( سلمہ بن کھیل) نے کہا کافر ہے

امام حاکم  کہتے ہیں اس بیان کی صحت پر مجاہد کا قول ہے

یہ قول دو تابعین کی آراء ہیں جن میں ایک حجاج کو مومن کہتا ہے اور دوسرا کافر کہتا ہے کافر کے قول کی تائید امام حاکم نے کی کہ اس پر مجاہد کا قول بھی ہے  – راقم کہتا ہے یہ افراط ہے کیونکہ ابن زبیر رضی الله عنہ کے بعد ابن عمر رضی الله عنہ نے حجاج کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور اس کی اقتداء میں حج کیا ہے

سلمہ بن کھیل شیعہ ہیں اور یہ قول تعصب پر مبنی ہے اور ان کو دین میں  حثیت ابن عمر رضی الله عنہ سے بڑھ کر نہیں ہے

مجاہد  اور شعبی کے اقوال المحن ج1/ص247 میں ہیں

وحدثني ابن أسامة وعمر عن علي بن عبد العزيز بأسانيد اختصرتها عن الشعبي قال كان الحجاج بن يوسف مؤمنا بالطاغوت كافرا بالرحمن وقال مجاهد فيه الشيخ الكافر

علی بن عبد العزیز نے اسناد کو مختصر کرتے ہوئے شعبی سے روایت کیا کہ حجاج بن یوسف طاغوت پر ایمان رکھتا تھا اور الرحمان کا کافر تھا اور مجاہد نے کہ اس میں ایک بڈہا کافر ہے

ان اقوال کی سند ثابت نہیں ہے کیونکہ سند کو مختصر کر کے اس کا ضعف چھپا دیا گیا ہے

کتاب الایمان از ابن ابی شیبہ کی روایت ہے

أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: عَجَبًا لِإِخْوَانِنَا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ يُسَمَّوْنَ الْحَجَّاجَ مُؤْمِنًا

طاؤس نے کہا مجھے اہل عراق کے اپنے بھائیوں پر حیرت ہے کہ وہ حجاج کو مومن کہتے ہیں

طاؤس مکہ کے ہیں ان کو ابن عمر رضی الله عنہ پر حیرت کیوں نہیں ہوئی جنہوں نے ابن زبیر  کے قتل کے بعد فورا حجاج کو بتایا کہ وہ خلیفہ عبد الملک کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں اور حجاج کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کر دیا دوم علی رضی الله عنہ کے صلبی بیٹے محمد بن حنفیہ نے بھی سکھ کا سانس لیا جن کو ابن زبیر نے مکہ میں قیدی بنا رکھا تھا ابن حنفیہ  نے بھی فورا عبد الملک کی بیعت کی اور دمشق چلے گئے

کتاب البدایہ و النہایہ از ابن کثیر کے مطابق

وقال الشافعي: ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اعْتَزَلَ لَيَالِيَ قِتَالِ ابن الزبير ووالحجاج بِمِنًى، فَكَانَ يُصَلِّي مَعَ الْحَجَّاجِ

نافع نے کہا کہ ابن عمر نے ابن زبیر کے قتل سے چند راتوں پہلے ان کو چھوڑا اور حجاج منی میں تھا اس وہ حجاج کے ساتھ منی میں نمازیں پڑھتے

کتاب الایمان از ابن ابی شیبہ کی روایت ہے

 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «أَشْهَدُ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ بِالطَّاغُوتِ كَافِرٌ بِاللَّهِ، يَعْنِي الْحَجَّاجَ»

الأجلح بْن عَبد اللهِ بْن حُجَيَّة کہتا ہے کہ الشعبی نے کہا میں شہادت دیتا ہوں کہ حجاج طاغوت پر ایمان رکھتا اور اللہ کا کفر کرتا تھا

الأجلح بْن عَبد اللهِ بْن حُجَيَّة کٹر شیعہ ہے ابن سعد کہتے ہیں كان ضعيفا جدا یہ سخت ضعیف تھا

کتاب الایمان از ابن ابی شیبہ کی روایت ہے

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: «كَفَى بِمَنْ يَشُكُّ فِي أَمْرِ الْحَجَّاجِ لَحَاهُ اللَّهُ

ابراہیم النخعی کہتے ہیں جس کو حجاج کے معاملے پر کوئی شک ہو اس بر الله كي لعنت

اس کی سند میں المنصور بن المعتمر ہیں یہ بھی شیعہ ہیں

اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم نے حجاج کو کافر قرار نہیں دیا صرف چند تابعین سے یہ اقوال منسوب ہیں جو صبر نہ کر سکے اور اس میں ان سے افراط سر زرد ہوا

جواب

اس سلسلے میں مضطرب روایات ہیں

صحیح مسلم اور دیگر کتب میں  راوی الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ  کے تفرد سے روایت ہے کہ بد کلامی ہوئی

 حدثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ، أَنَّ الْحَجَّاجَ لَمَّا قَتَلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَبَهُ، وَأَرْسَلَ إِلَى أُمِّهِ أَنْ تَأْتِيَهُ، فَأبَتْ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا لَتَأْتِيَنَّ أَوْ لَأَبْعَثَنَّ مَنْ يَسْحَبُكِ بقُرُونِكِ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ: وَاللَّهِ لا آتِيكَ حَتَّى تَبْعَثَ إِلَيَّ مَنْ يَسْحَبُنِي بِقُرُونِي، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ أَتَى إِلَيْهَا فَقَالَ: كَيْفَ رَأَيْتِنِي صَنَعْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُكَ أَفْسَدْتَ عَلَيْهِ دُنْيَاهُ، وَأَفْسَدَ عَلَيْكَ آخِرَتَكَ، وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ كُنْتَ تُعَيِّرُهُ بِابْنِ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ

حجاج نے جب ابن زبیر کو قتل کر دیا تو ان کی ماں کے پاس کسی کو بھیجا کہ وہ ادھر آئیں پس اسماء رضی الله عنہا نے  انکار کیا حجاج نے کہا  وہ یہاں آئے ورنہ کسی کو بھیجوں گا جو اس کو قرون سے کھینچے گا پس کسی کو بھیجا اسماء رضی الله عنہا نے کہا الله کی قسم نہیں جاؤں گی یہاں تک کہ کسی کو بھیجے جو قرون سے کھینچے پس جب حجاج نے یہ صورت دیکھی وہ ان کے پاس گیا اور کہا تم نے دیکھا میں نے عبد الله کے ساتھ کیا گیا؟ اسماء نے کہا میں نے دیکھا تو نے دنیا بردباد کی اور آخرت بھی اور مجھ تک پہنچا تو اس کو ابن ذات النطاقتین کہتا تھا

صحیح مسلم کی اس روایت  کے مطابق نہایت بدکلامی ہوئی اور حجاج نے تمام حدود پھلانگ دیں اس کے علاوہ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ ابن زبیر کا جسد ایک یہودی قبرستان میں پھینک دیا گیا یعنی ان کی لاش کی تدفین نہ ہوئی – راقم کہتا ہے روایت عجیب متن والی ہے تاریخا غلط ہے مکہ میں یہود کبھی نہیں رہے اور نہ ہی وہاں ان کا کوئی قبرستان تھا

الذھبی تاریخ الاسلام میں ( المعجم الكبير از طبرانی) ایک اور روایت پیش کرتے ہیں

وقال ابن عيينة: حدثنا أَبُو الْمُحَيَّاةِ، عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: لَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ دَخَلَ عَلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ وَقَالَ لَهَا: يَا أُمَّهْ، إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَوْصَانِي بِكِ فَهَلْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ؟ فَقَالَتْ: لَسْتُ لَكَ بِأُمٍّ، وَلَكِنِّي أُمُّ الْمَصْلُوبِ عَلَى رأس الثنية، وَمَا لِي مِنْ حَاجَةٍ، وَلَكِنْ أُحَدِّثُكَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول: ” يَخْرُجُ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ “، فَأَمَّا الْكَذَّابُ، فَقَدْ رَأَيْنَاهُ – تَعْنِي: الْمُخْتَارَ بْنَ أَبِي عُبَيْدٍ -، وَأمَّا الْمُبِيرُ فَأَنْتَ، فَقَالَ لَهَا: مُبِيرُ الْمُنَافِقِينَ.
أَبُو المُحَيَّاةِ هُوَ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى التَّيْمِيُّ.

أَبُو المُحَيَّاةِ  يَحْيَى بْنُ يَعْلَى التَّيْمِيُّ اپنی ماں سے روایت کرتے ہیں کہ جب حجاج نے ابن زبیر کا قتل کیا وہ ان کی ماں اسماء کے پاس آیا اور کہا اے ماں امیر المومنین نے مجھے اپ کے حوالے سے وصیت کی ہے تو اپ کو کوئی حآجت ہے ؟ اسماء رضی الله عنہا نے کہا میں تیری ماں نہیں میں تو مصلوب کی ماں ہوں اور مجھے تمہاری ضرورت نہیں ہے لیکن میں روایت کرتی ہوں جو میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے ثقیف سے ایک کذاب اور ایک لیڈر نکلے گا کذاب ہم نے دیکھ لیا  یعنی مختار  اور لیڈرتو وہ تو ہے منافقین کا لیڈر ہے

یہ روایت صحیح مسلم سے الگ ہے

حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ: فَبَيْنَا [ص:200] أَنَا جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَابْنُ عُمَرَ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةٍ وَابْنَاهُ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ , وَقَدْ خَطَبَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ النَّاسَ فَقَالَ: أَلَا إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ نَكَّسَ كِتَابَ اللَّهِ , نَكَّسَ اللَّهُ قَلْبَهُ , فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَلَا إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِيَدِكَ وَلَا بِيَدِهِ , فَسَكَتَ الْحَجَّاجُ هَنِيئَةً إِنْ شِئْتَ قُلْتُ طَوِيلًا وَإِنْ شِئْتَ قُلْتُ لَيْسَ بِطَوِيلٍ ثُمَّ قَالَ: أَلَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ عَلَّمَنَا، كُلَّ مُسْلِمٍ وَإِيَّاكَ أَيُّهَا الشَّيْخُ، أَنَّهُ يَفْعَلُ , قَالَ: فَجَعَلَ ابْنُ عُمَرَ يَضْحَكُ فَقَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ: ” أَمَّا إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ الَّتِي فِيهَا الْفَصْلُ أَنْ أَقُولَ: كَذَبْتَ “

حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ کہتا ہے

عبد الله بن عمر رضی الله عنہ ایک کونے میں تھے اور اپ کے بیٹے بھی دائیں بائیں تھے تو حجاج بن یوسف نے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا اگاہ ہو جاو ابن زبیر نے کتاب اللہ کو توڑا الله نے اس کے دل کو توڑ ڈالا اس پر ابن عمر رضی الله عنہ نے کہا ابن زبیر کا معاملہ نہ تیرے پاس ہے نہ تیرا معاملہ ابن زبیر کے پاس ہے اس پر حجاج خاموش ہو گیا ….پھر بولا اگاہ ہو جاو کیا الله نے ہم پر تمام مسلمانوں پر اور تم پر ظاہر نہیں کیا کہ اس نے ایسا ہی کام کیا اس پر ابن عمر مسکرا دیے اور اپنے گرد و نواح کے لوگوں سے کہا میں نے اس مسئلہ میں یہ بات کہہ کر فیصلہ نہیں کر دیا کہ تو جھوٹا ہے

جواب

یہ روایت ضعیف ہے اس میں جبیب بن ابی ثابت ہے جس کا سماع ابن عمر رضی الله عنہ سے نہیں ہے یہ مدلس ہے

کتاب  جامع التحصيل في أحكام المراسيل  از العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق امام علی کہتے ہیں

قال علي بن المديني حبيب بن أبي ثابت لقي بن عباس وسمع من عائشة ولم يسمع من غيرهما من الصحابة رضي الله عنهم

حبیب بن ابی ثابت کی ملاقات ابن عباس سے ہوئی اور انکا سماع عائشہ سے ہے لیکن انہوں نے کسی اور صحابی رضی الله عنہم سے نہیں سنا

لہذا یہ روایت تدلیس کی بنا پر ضعیف ہے

مستدرک الحاکم کی روایت ہے

 حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ قَالَ: قُلْتُ لِمَوْلًى لِابْنِ عُمَرَ: كَيْفَ كَانَ مَوْتُ ابْنُ عُمَرَ؟ قَالَ: إِنَّهُ أَنْكَرَ عَلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ أَفَاعِيلَهُ فِي قَتْلِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَقَامَ إِلَيْهِ فَأَسْمَعُهُ، فَقَالَ الْحَجَّاجُ: اسْكُتْ يَا شَيْخًا، قَدْ خَرِفْتَ

عطيه کہتا ہے میں نے پوچھا ابن عمر رضی الله عنہ کے آزاد کردہ غلام سے پوچھا کہ ابن عمر رضی الله عنہ کی موت کس حال میں ہوئی ؟ انہوں نے کہا اپ رضی الله عنہ حجاج کی نکیر کرنے والے تھے بسب ان افعال کے جو اس نے ابن زبیر رضی الله عنہ کے قتل پر کیے چناچہ اپ کھڑے ہوئے اور اپ نے اس کو سنایا اس پر حجاج نے کہا چپ کر بڈھے تو تو سٹھیا گیا ہے

جواب

یہ روایت ضعیف ہے امام الذھبی اس پر تلخیص میں کہتے ہیں

عطية ضعيف

مستدرک الحاکم کی ایک دوسری روایت ہے

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي النِّدَاءَ» قِيلَ: وَلِمَ ذَاكَ؟ قَالَ: «إِنَّهُمْ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، قَدْ ذَكَرْتُ فِي مَقْتَلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ جُرْأَةِ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى وَعَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَهَاوُنِهِ بِالْحَرَمَيْنِ وَأَهْلِ بَيْتِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ مَا يَكْتَفِي بِهِ الْعَاقِلُ مِنْ مَعْرِفَتِهِ، فَاسْمَعِ الْآنَ أَقَاوِيلَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَالتَّابِعِينَ فِيهِ وَشَهَادَتَهُمْ عَلَى سُوءِ عَقِيدَتِهِ بَعْدَ قَتْلِهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَسَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ

عروہ سے مروی ہے کہ ابن زبیر رضی الله عنہ نے کہا میں چاہتا تھا کہ رسول الله مجھے پکار لگانے کا حکم کریں میں نے پوچھا ایسا کیوں ؟ کہا کہ ان کی گردن سب سے لمبی روز محشر میں ہو گی – یہ حدیث صحیح ہے لیکن بخاری و مسلم نے اس کی تخریج نہیں کی – میں (الحاکم) نے اس کا ذکر مقتل ابن زبیر رضی الله عنہ میں حجاج بن یوسف کی ابن زبیر پر، الله پر اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر  جرات کی بنا پر کیا کہ  حجاج نے حرم کو برباد کیا اور اہل بیت ابی بکر صدیق کی بے حرمتی کی اور عقل والوں کو یہ معرفت دیتا ہے پس اب سن لو کہ اصحاب رسول  اور تابعین کے قصے اور ان کی گواہی ہے ابن زبیر   کے  اور ابن عمر اور سعید بن جبیر کے قتل کے  بعد حجاج کے برے عقیدے پر

إمام حاكم کا یہ کہنا افراط ہے کیونکہ ابن عمر رضی الله عنہ کا قدم ایک تیر پر پڑنے سے زخمی ہوا تھا نہ کہ یہ کوئی سازش تھی اس بات کو ابن اثیر نے اسد الغابہ میں لکھا ہے جو خود شیعہ ہے لہذا بلا سند لکھا ہے

فأمر رجلًا معه حربة مسمومة، فلصق بابن عُمَر عند دفع النَّاس، فوضع الحربة عَلَى ظهر قدمه

حجاج نے ایک شخص کو حکم کیا کہ زہر میں بجھا ہوا حربہ رکھے جس پر ابن عمر گرے اور ان کے قدم میں پیوست ہو گیا

إمام بخاری روایت کرتے ہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ العَاصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلَ الحَجَّاجُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: كَيْفَ هُوَ؟ فَقَالَ: صَالِحٌ، فَقَالَ: مَنْ أَصَابَكَ؟ قَالَ: «أَصَابَنِي مَنْ أَمَرَ بِحَمْلِ السِّلاَحِ فِي يَوْمٍ لاَ يَحِلُّ فِيهِ حَمْلُهُ» يَعْنِي الحَجَّاجَ

سعید بن العاص کہتے ہیں حجاج ابن عمر رضی الله عنہ کے پاس آیا اور میں بھی وہاں تھا پوچھا اپ کیسے ہیں ؟ کہا ٹھیک ہوں حجاج نے پوچھا اپ کو کیا تکلیف پہنچی؟ کہا تم نے مجھے تکلیف دی کہ اسلحہ لینے کا حکم کیا جس دن اس کا اٹھانا منع ہے

یعنی یہ محض ایک اتفاق تھا کہ اسلحہ گرا ہوا تھا اور اس پر ابن عمر کا پیر پڑا اور وہ زخمی ہو گئے

ابن بطال صحیح البخاری کی شرح میں کہتے ہیں

 وقول ابن عمر: (أنت أصبتنى) ، دليل على قطع الذرائع؛ لأنه لامه على ما أدّاه إلى أذاه، وإن كان لم يقصد الحجاج ذلك.

ابن عمر کا قول تم نے اس کو پہنچایا  … تو ان کا مقصد یہ نہیں کہ (اس کے پیچھے) حجاج تھا

گردن کاٹنے کے دلائل کا جائزہ

فی غزوة بدر:فقد روی ابن وهب باالسناد صحیح علی شرط مسلم ای حنش بن عبدالله ان رسول الله قتل عقبة بن أبی معیط أتی به أسیرا یوم بدر فذبحه

جواب

دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني کے مطابق اس کا قتل عاصم بن ثابت نے کیا
فَأُسِرَ عُقْبَةُ يَوْمَ بَدْرٍ فَقُتِلَ صَبْرًا وَلَمْ يُقْتَلْ مِنَ الْأُسَارَى غَيْرُهُ قَتْلَهُ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتُ بْنُ الْأَقْلَحِ
اس کی سند ہے
مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ
جس میں الکلبی ہے جو ضعیف ہے محمد مجھول ہے اور ابی صالح واضح نہیں کون ہے

بیہقی کے مطابق رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے حکم پر اس کا قتل ہوا اپ نے خود نہیں کیا
فَأَخَذَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَمَةَ الْعَجْلَانِيُّ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ فَضَرَبَ عُنُقَهُ صَبْرًا
اس میں یہ واقدی کا قول ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ بُطَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَاقِدِيُّ
جس سے لے کر اصحاب رسول تک سند نہیں ہے
الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ کو کذاب کہا گیا ہے

الجامع في الحديث لابن وهب میں اس قسم کی کوئی روایت نہیں ملی جو اپ نے بیان کی ہے

لہذا عقبہ کا قتل کس طرح ہوا اس پر کوئی صحیح روایت نہیں ملی

سنن أبي داود كتاب الجهاد باب في قتل الأسير صبرا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَرَادَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْس أَنْ يَسْتَعْمِلَ مَسْرُوقًا فَقَالَ لَهُ عُمَارَةُ بْنُ عُقْبَةَ: أَتَسْتَعْمِلُ رَجُلًا مِنْ بَقَايَا قَتَلَةِ عُثْمَانَ؟ فَقَالَ لَهُ مَسْرُوقٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَكَانَ فِي أَنْفُسِنَا مَوْثُوقَ الْحَدِيثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ قَتْلَ أَبِيكَ قَالَ: «مَنْ لِلصِّبْيَةِ؟» قَالَ: النَّارُ، فَقَدْ رَضِيتُ لَكَ مَا رَضِيَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

جناب ابراہیم نخعی کہتے ہے ضحاک بن قیس نے ارادہ کیا کہ مسروق کو عامل بنائے۔ تو عمارہ بن عقبہ نے کہا کہ تم ایسے آدمی کو عامل بنانا چاہتے ہو جو عثمان کے قاتلوں میں سے باقی رہ گیا ہے؟ تو مسروق نے اس سے کہا ہمیں حضرت عبداللہ بن مسعود نے بیان کیا اور وہ ہمارے نزدیک حدیث بیان کرنے میں معتبر تھے کہ نبی ص نے جب تیرے باپ (عقبہ) کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اس (عقبہ) نے کہا میرے بچوں کا کفیل کون ہوگا؟ آپ نے فرمایا آگ۔ سو میں تیرے لئے وہی پسند کرتا ہوں جسے تیرے لئے رسول ص نے پسند کیا۔

جواب

یہ قول کہ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ کا قتل رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خود کیا ثابت نہیں ہے

اس روایت کے متن میں زيد بن أبي أنيسة کا تفرد ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان کی بعض احادیث میں نکارت ہے جو امام احمد کا قول ہے
، وإن فيها لبعض النكارة، وهو على ذلك حسن الحديث. «ضعفاء العقيلي» (519) .

لہذا یہ روایت منکر ہے

اسلام میں کافر کا عذاب اس کی نسل کے لئے نہیں ہے

حکمرانوں کی تکفیر کے دلائل کا جائزہ

جواب

صحیح بخاری میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے کہ حجاج نماز لیٹ پڑھاتا تھا
صحیح میں ہے
وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ الحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ، عَامَ نَزَلَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَيْفَ تَصْنَعُ فِي المَوْقِفِ يَوْمَ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ سَالِمٌ: «إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَهَجِّرْ بِالصَّلاَةِ يَوْمَ عَرَفَةَ»، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: «صَدَقَ، إِنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالعَصْرِ فِي السُّنَّةِ»، فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: أَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ سَالِمٌ: «وَهَلْ تَتَّبِعُونَ فِي ذَلِكَ إِلَّا سُنَّتَهُ»

حجاج بن یوسف کو یوم عرفہ میں نماز میں جمع کرنا بتایا گیا

بعض روایات میں ہے کہ وہ نماز لیٹ کرتا تھا لیکن ان میں ایک راوی کا تفرد ہے

مسند ابو داود الطیالسی کی روایت ہے کہ حجاج نماز میں تاخیر کرتا جس پر محمد بن عمرو بن الحسن نے جابر بن عبد الله سے سوال کیا
ثنا شعبة، عن سعد بن إبراهيم، قال: سمعت محمد بن عمرو بن الحسن يقول: “لما قدم الحجاج بن يوسف كان يؤخر الصلاة، فسألنا جابر بن عبد الله عن وقت الصلاة، فقال: كان رسول الله – عليه السلام – يصلي الظهر بالهجير أو حين تزول، ويصلي العصر والشمس مرتفعة، ويصلي المغرب حين تغرب الشمس، ويصلي العشاء يؤخر أحيانًا ويعجل أحيانًا، إذا اجتمع الناس عَجَّل، وإذا تأخروا أَخَّر، وكان يصلي الصبح بغلس أو قال: كانوا يصلونها بغلس” قال أبو داود: هكذا قال شعبة.

مسند دارمی میں ہے
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ – وَكَانَ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ – فَقَالَ جَابِرٌ: كَانَ النَّبِيُّ صَلى الله عَليهِ وسَلم يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ, وَالْعَصْرَ,

صحیح مسلم میں ہے
وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ الْحَجَّاجُ يُؤَخِّرُ الصَّلَوَاتِ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ

ان تمام میں سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف کا تفرد ہے جو امام مالک کے نزدیک متروک ہے

امام بخاری نے اسی کی سند سے باب وقتِ المغرب میں اس کو روایت کیا ہے لیکن اس میں یہ الفاظ کہ حجاج نماز لیٹ کرتا تھا بیان نہیں کیے جس کا مطلب ہے یہ الفاظ ان کے نزدیک غیر محفوظ تھے
عن محمد بن عمْرو بن الحسن بن علي قال: قدِم الحَجَّاج فسألْنا جابرَ بن عبدِ اللهِ [عن صلاة النبي – صلى الله عليه وسلم] فقالَ:  كان النبيُّ – صلى الله عليه وسلم – يصَلي الظهرَ بالهاجرةِ، والعصرَ والشمسُ نقيَّةٌ، والمغربَ إذا وَجبتْ، والعشاءَ أحياناً وأحياناً؛ إذا رآهم اجتمَعوا عجَّل، وإذا رآهُمْ أبطَؤا أخَّر، والصبحَ كانوا أو كانَ النبيُّ – صلى الله عليه وسلم – يصَليها بغلَسٍ.

صحیح مسلم کی روایت ہے

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، قَالَ: أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ، فَجَاءَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّامِتِ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا، فَجَلَسَ عَلَيْهِ، فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنُ زِيَادٍ، فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ، وَضَرَبَ فَخِذِي، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، وَقَالَ: «صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ مَعَهُمْ فَصَلِّ، وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي»

 زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب، حضرت ابوالعالیہ فرماتے ہیں کہ ابن زیاد نے نماز میں تاخیر کی تو  عبداللہ بن صامت (رض) میرے پاس آئے اور میں نے ان کے لئے کرسی ڈالی وہ اس کر سی پر بیٹھے تو میں نے ان سے ابن زیاد کے کام کا ذکر کیا تو انہوں نے اپنے ہونٹ دبائے اور میری ران پر مارا اور فرمایا کہ میں نے ابوذر (رض) سے پوچھا تھا جس طرح تو نے مجھ سے پوچھا ہے اور انہوں نے بھی میری ران پر مارا جس طرح میں نے تیری ران پر مارا اور فرمایا کہ نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا اور اگر تو نے نماز ان کے ساتھ پا لی تو پڑھ لینا یہ مت کہنا کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے اس لئے اب میں نماز نہیں پڑھتا

اسی طرح صحیح مسلم کی حدیث ہے

وحَدَّثَني يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنُ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَضَرَبَ فَخِذِي: “كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟ ” قَالَ: قَالَ: مَا تَأْمُرُ؟ قَالَ: “صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، ثُمَّ اذْهَبْ لِحَاجَتِكَ، فَإِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلِّ”

:  یحیی بن حبیب، خالد بن حارث، شعبہ، بدیل، ابوعالیہ، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور میری ران پر ہاتھ مارا کہ تیرا کیا حال ہوگا جب تو ایسے لوگوں میں باقی رہ جائے گا جو نماز کو اپنے وقت سے تاخیر کر کے پڑھیں میں نے عرض کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے وقت کے لئے مجھے کیا حکم فرماتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا پھر اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے جانا پھر اگر نماز کی اقامت کہی جائے اس حال میں کہ تم مسجد میں ہو تو نماز پڑھ لینا۔

اسی طرح صحیح مسلم میں ہے

حَدَّثَنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ، فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ صَلَّيْتَ لِوَقْتِهَا كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً، وَإِلَّا كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ”

:  یحیی بن یحیی، جعفر بن سلیمان، ابی عمران جونی، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا اے ابوذر عنقریب میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو نماز کو مٹا ڈالیں گے تو تم نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا تو اگر تو نے نماز کو اپنے وقت پر پڑھ لیا تو وہ نماز (جو حاکم کے ساتھ پڑھی گئی) تیرے لئے نفل ہوگی ورنہ تو نے تو اپنی نماز پوری کر ہی لی۔

جواب

ابو ذر رضی الله عنہ شام میں رہے وہاں سے مدینہ آئے اور پھر زبده میں وفات عثمان رضی الله عنہ کے دور میں ہوئی

امراء کا نماز دیر سے پڑھانے میں معاویہ رضی الله عنہ پر اعتراض اتا ہے کہ وہ شام میں نماز دیر سے پڑھاتے تھے

 عبد الله بن الصامت الغفارى البصرى   صحابی أبى ذر الغفارى کے بھتیجے ہیں عبد الله کا درجہ صدوق کا ہے اور امام الذھبی میزان میں کہتے ہیں وقال بعضهم: ليس بحجة. بعض کہتے ہیں یہ حجت نہیں ہیں

امام بخاری نے ان سے تعلیق میں  شاہد  روایت لی ہے اور امام مسلم نے دس روایات لی ہیں

راقم کہتا ہے روایات  ضعیف ہیں ان میں بصریوں کا تفرد ہے   اگرچہ بات ابن زیاد سے شروع ہوتی ہے لیکن بعد میں اس کو عثمان اور معاویہ رضی الله عنہم پر اتہام میں بدل دیا جاتا ہے

کتاب العلل میں ابن ابی حاتم اپنے باپ سے اس  روایت أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ  پر سوال کرتے ہیں

 وسألتُ أَبِي عَنْ حديثٍ رَوَاهُ الوليدُ ابن مسلم ، عن عبد الرحمن بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدان، عن عبد الله  بْنِ الصَّامِت، عَنْ أَبِي ذَرٍّ؛ قال: جِئْتُ رسولَ الله (ص) وَهُوَ يَتوضَّأ، فحرَّك رأسَهُ كَهَيْئَةِ المتعجِّب، فقلتُ: يَا رسولَ اللَّهِ، وَمَاذَا  تعجَبُ مِنْهُ؟ قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يُمِيتُونَ الصَّلاَةَ! ، قَالَ: فقلتُ: وَمَا إِماتَتُهُمْ إيَّاها؟ قَالَ: يُؤَخِّرُونَهَا  عَنْ وَقْتِهَا. قلتُ: فَمَا تأمُرُني إنْ أدركتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: صَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا، وَاجْعَلْ صَلاَتَكَ مَعَهُمْ سُبْحَةً؟

عبد الله بن الصامت ، ابو ذر رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول الله کے پاس پہنچا اور وہ وضو کر رہے تھے پس اپ نے تعجب سے ہاتھ کو حرکت دی اور میں نے پوچھا اے رسول اللہ کس بات پر اپ کو تعجب ہوا؟ اپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے لوگ نماز کو مٹا دیں گے میں نے پوچھا کیا مٹا دیں گے فرمایا یعنی اس کو وقت سے موخر کریں گے میں نے پوچھا اس پر کیا حکم ہے جب ان کو پاؤں؟ فرمایا نماز وقت پر پڑھو اور اپنی نماز ان کے ساتھ بھی  بطور تسبیح کرو

قَالَ أَبِي: هَذَا حديثٌ مُنكَرٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ

ابی حاتم نے کہا یہ روایت ان اسناد سے منکر ہے

===

جواب

الله تعالی نے فرمایا سوره النور

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (55)

الله کا وعدہ ہے کہ تم میں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کے ان کو زمین میں جانشین کے طور پر مقرر کرے گا جیسا پہلوں کو کیا- ان کے دین کو تمکنت دے گا جو اس نے پسند کیا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا کہ وہ میری عبادت کریں اور شرک نہ کریں کسی چیز کا بھی اور جس نے کفر کیا وہ فاسق ہیں

یہ آیت خاص ہے صرف رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لئے ہیں اور جو ان کے ساتھ اصحاب تھے عموم نہیں ہیں

آیت میں منکم ہے یعنی تم اصحاب النبی میں سے جو ایمان لائے ہیں ان کو جانشیں مقرر کرے گا

– مسلمانوں کی غلطی ہے کہ خاص کو عام کر دیتے ہیں اور عام کو خاص
جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو عرب پر حکومت مل گئی تو یہ وعدہ پورا ہوا
و للہ الحمد

اب اس وعدہ کا کوئی اعادہ نہیں ہو گا
اس سے ظاہر ہے کہ یہ وعدہ خاص صرف رسول الله کے لئے ہے
—————
ابن زبیر اصحاب النبی میں سے شمار کے جاتے ہیں جبکہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے کوئی سماع نہیں کیا
ان کی پیدائش ہوئی تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے ان کو گود میں لیا
لیکن اہل سنت میں بنو امیہ کی مخالفت کی وجہ سے ابن زبیر کو صحابی تسلیم کر لیا گیا
صحابی کی شرط ہے کہ اس نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو نہ صرف دیکھا ہو بلکہ ان سے سماع بھی ہوا ہو جو علمی حدیث بن سکے

لیکن اہل سنت کا یہ دوہرا معیار تھا کیونکہ وہ لوگ جو دور نبوی میں ہی مرد تھے ان میں سے بعض کو صحابی تسلیم نہیں کیا گیا کہ ان افراد کا سماع نبی صلی الله علیہ وسلم سے نہ ہوا لیکن ابن زبیر جو شیر خوار بچے تھے ان کو صحابی مان لیا گیا

اگر ہم اس مشہور بات کو تسلیم کریں کہ ابن زبیر رضی الله عنہ بھی صحابی ہیں تو قابل غور ہے کہ کیا عبد الله ابن زبیر کی خلافت کو الله نے برباد نہیں کیا ؟ ان کے استخلاف کو ختم کیا ؟
عبد الله ابن زبیر صحیح عقیدہ حاکم ہیں خلیفہ ہیں ان کے مخالف (بنو امیہ صحیح عقیدہ ہیں لیکن) ظاہر ہے ان سے بہتر نہیں ہیں لیکن پھر بھی ابن زبیر کی خلآفت چند سال کی ہے اور اس کا انجام بہت برا ہوتا ہے ہمارے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟ کیا ہم آیات کو اپنا معنی پہنا کر الله سے معجزات کی امید تو نہیں لگا رہے ؟

آخری وقت میں خلیفہ مسلمین ابن زبیر کو اصحاب رسول چھوڑ کر جا چکے تھے

کتاب البدایہ و النہایہ از ابن کثیر کے مطابق

وقال الشافعي: ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اعْتَزَلَ لَيَالِيَ قِتَالِ ابن الزبير ووالحجاج بِمِنًى، فَكَانَ يُصَلِّي مَعَ الْحَجَّاجِ
نافع نے کہا کہ ابن عمر نے ابن زبیر کے قتل سے چند راتوں پہلے ان کو چھوڑا اور حجاج منی میں تھا اور وہ حجاج کے ساتھ منی میں نمازیں پڑھتے

یعنی ابن عمر رضی الله عنہ نے ابن زبیر کی خلافت کو غلط سمجھا اور ان کو
Abandon
کر دیا

اسی طرح ابن عباس رضی الله عنہ نے بھی ابن زبیر کو چھوڑ دیا اور طائف چلے گئے

کڑوی بات ہے لیکن سچ ہے ہم تعبیر کی غلطی کا شکار نہیں ہوں گے

 

Comments are closed.