علم حدیث ٢

اسلام علیکم
ایک روایت بخاری اور مسلم میں ھے کہ: موسی علیه سلام کے کپڑے پتھر لے کر بھاگ گیا اور موسی علیہ سلام کا ننگا جسم لوگوں نے دیکھ لیا.
پلیز اس روایت کی وضاحت کر دیں
جزاکم الله خیرا

جواب

قرآن کی ایک آیت الأحزاب: 69 کی ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا
اے ایمان والوں ان کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسی کو تکلیف دی پس الله نے اس سے اس قول کو دور کیا اور وہ الله کے نزدیک وجیہہ تھے

امام بخاری نے صحیح میں ہی ایک دوسرے مقام پر یحیی علیہ السلام کے حوالے سے وجیہا کے الفاظ کی شرح کی ہے
{وَجِيهًا} [آل عمران: 45]: شَرِيفًا
یعنی شریف

اس کے علاوہ سوره الاحزاب کی آیت کی شرح ایک روایت سے کی

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنِ الحَسَنِ، وَمُحَمَّدٍ، وَخِلاَسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِنَّ مُوسَى كَانَ رَجُلًا حَيِيًّا سِتِّيرًا، لاَ يُرَى مِنْ جِلْدِهِ شَيْءٌ اسْتِحْيَاءً مِنْهُ، فَآذَاهُ مَنْ آذَاهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالُوا: مَا يَسْتَتِرُ هَذَا التَّسَتُّرَ، إِلَّا مِنْ عَيْبٍ بِجِلْدِهِ: إِمَّا بَرَصٌ وَإِمَّا أُدْرَةٌ: وَإِمَّا آفَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ أَرَادَ أَنْ يُبَرِّئَهُ مِمَّا قَالُوا لِمُوسَى، فَخَلاَ يَوْمًا وَحْدَهُ، فَوَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى الحَجَرِ، ثُمَّ اغْتَسَلَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ إِلَى ثِيَابِهِ لِيَأْخُذَهَا، وَإِنَّ الحَجَرَ عَدَا بِثَوْبِهِ، فَأَخَذَ مُوسَى عَصَاهُ وَطَلَبَ الحَجَرَ، فَجَعَلَ يَقُولُ: ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَرَأَوْهُ عُرْيَانًا أَحْسَنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ، وَأَبْرَأَهُ مِمَّا يَقُولُونَ، وَقَامَ الحَجَرُ، فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَلَبِسَهُ، وَطَفِقَ بِالحَجَرِ ضَرْبًا بِعَصَاهُ، فَوَاللَّهِ إِنَّ بِالحَجَرِ لَنَدَبًا مِنْ أَثَرِ ضَرْبِهِ، ثَلاَثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا [ص:157] لاَ تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا ”

مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ‘ ان سے عوف بن ابوجمیلہ نے بیان کیا ‘ ان سے امام حسن بصری اور محمد بن سیرین اور خلاس بن عمرو نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام بڑے ہی شرم والے اور بدن ڈھانپنے والے تھے۔ ان کی حیاء کی وجہ سے ان کے بدن کو کوئی حصہ بھی نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ بنی اسرائیل کے جو لوگ انہیں اذیت پہنچانے کے درپے تھے ‘ وہ کیوں باز رہ سکتے تھے ‘ ان لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ اس درجہ بدن چھپانے کا اہتمام صرف اس لیے ہے کہ ان کے جسم میں عیب ہے یا کوڑھ ہے یا ان کے خصیتین بڑھے ہوئے ہیں یا پھر کوئی اور بیماری ہے۔ ادھر اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کی ان کی ہفوات سے پاکی دکھلائے۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام اکیلے غسل کرنے کے لیے آئے ایک پتھر پر اپنے کپڑے (اتار کر) رکھ دیئے۔ پھر غسل شروع کیا۔ جب فارغ ہوئے تو کپڑے اٹھانے کے لیے بڑھے لیکن پتھر ان کے کپڑوں سمیت بھاگنے لگا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا اٹھایا اور پتھر کے پیچھے دوڑے۔ یہ کہتے ہوئے کہ پتھر! میرا کپڑا دیدے۔ آخر بنی اسرائیل کی ایک جماعت تک پہنچ گئے اور ان سب نے آپ کو ننگا دیکھ لیا ‘ اللہ کی مخلوق میں سب سے بہتر حالت میں اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی تہمت سے ان کی برات کر دی۔ اب پتھر بھی رک گیا اور آپ نے کپڑا اٹھا کر پہنا۔ پھر پتھر کو اپنے عصا سے مارنے لگے۔ اللہ کی قسم اس پتھر پر موسیٰ علیہ السلام کے مارنے کی وجہ سے تین یا چار یا پانچ جگہ نشان پڑ گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «يا أيها الذين آمنوا لا تكونوا كالذين آذوا موسى فبرأه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها‏» تم ان کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو اذیت دی تھی ‘ پھر ان کی تہمت سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بری قرار دیا اور وہ اللہ کی بارگاہ میں بڑی شان والے اور عزت والے تھے۔ میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔

امام مسلم نے بھی اس کو روایت کیا ہے
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: ” كَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ رَجُلًا حَيِيًّا، قَالَ فَكَانَ لَا يُرَى مُتَجَرِّدًا، قَالَ فَقَالَ: بَنُو إِسْرَائِيلَ: إِنَّهُ آدَرُ، قَالَ: فَاغْتَسَلَ عِنْدَ مُوَيْهٍ، فَوَضَعَ ثَوْبهُ عَلَى حَجَرٍ، فَانْطَلَقَ الْحَجَرُ يَسْعَى، وَاتَّبَعَهُ بِعَصَاهُ يَضْرِبُهُ: ثَوْبِي، حَجَرُ ‍ ثَوْبِي، حَجَرُ حَتَّى وَقَفَ عَلَى مَلَأٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَنَزَلَتْ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللهِ وَجِيهًا} [الأحزاب: 69]

یعنی ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے اس کو چار بصریوں نے روایت کیا ہے
بصری عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ
خلاس ابن عمرو البصري
محمد ابن سيرين بصری
حسن بصری

ابو داود کہتے ہیں خلاس نے ابو ہریرہ سے نہیں سنا
أنه لم يسمع من أبي هريرة

عینی کتاب عمدة القاري شرح صحيح البخاري میں کہتے ہیں
وَأما الْحسن فَلم يسمع من أبي هُرَيْرَة عِنْد الْمُحَقِّقين من الْحفاظ، وَيَقُولُونَ: مَا وَقع فِي بعض الرِّوَايَات من سَمَاعه عَنهُ فَهُوَ وهم
حسن بصری نے ابو ہریرہ سے نہیں سنا

ابن سیرین کے لئے کہا جاتا ہے انہوں نے ابو ہریرہ سے سنا ہے اور عبد الله بن شقیق کی سند ہے کہ اس کو قبول کیا جاتا ہے

متنا یہ روایت مبہم ہے – موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام ساتھ ساتھ رہے – روایت میں صرف موسی کا ذکر ہے ہارون کا ذکر نہیں یہ معلوم ہے کہ ہارون (١٢٣ سال عمر)، موسی سے پہلے انتقال کر گئے تھے لیکن اس وقت موسی علیہ السلام بوڑھے تھے – بائبل کے مطابق فرعون سے اس مطالبہ کے وقت کہ نبی اسرئیل کو چھوڑ دے موسی ٨٠ سال کے تھے اور ہارون ٨٣ سال کے تھے – ظاہر ہے یہ دونوں جوان نہ تھے جب نبی اسرائیل کو لے کر نکلے
موسی علیہ السلام چھپ کر نہاتے تھے تو ہارون علیہ السلام کیا سب کے ساتھ نہاتے تھے ؟ یقینا وہ بھی چھپ کر نہاتے ہوں گے تو نبی اسرائیل کا الزام ہارون پر کیوں نہیں؟
روایت میں اس ابہام کی وجہ سے اس کو قبول نہیں کیا جا سکتا

روایت میں ہے کہ بنواسرائیل تمام برہنہ نہاتے تھے جبکہ حیا ایمان میں سے ہے تو یقینا تمام بنو اسرائیل برہنہ نہیں نہا سکتے – کیونکہ قرآن کے مطابق خروج سے پہلے ایسے مومن موسی کے ساتھ تھے جنہوں نے گھروں کو قبلہ بنایا ہوا تھا وہ یقینا موسی کی طرح چھپ کر ہی نہاتے ہوں گے

الغرض راقم کو یہ روایت سمجھ نہیں آئی کہ اس کو موسی علیہ السلام کے لئے خاص کر سکے

قرآن میں بنی اسرائیل کے کسی قول کا ذکر ہے جس سے انہوں نے موسی علیہ السلام کو الزام دیا لیکن الله نے اس کو ان سے دور کیا قرآن میں اس کی تفصیل نہیں کہ وہ الزام کیا تھا –

حقیقت الله کو پتا ہے


عصر حاضر کے بعض شیعہ کہتے ہیں کہ یہ ابو ہریرہ نے بیان کی جبکہ یہ ابی عبد الله سے بھی منسوب ہے

شیعہ تفسیر قمی میں آیت يا ايها الذين آمنوا لا تكونوا كالذين آذوا موسى فبراه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها میں سند کے ساتھ اس کی وضاحت کی گئی ہے  ہے

وحدثني أبي عن النضر بن سويد عن صفوان عن ابي بصير عن ابي عبدالله عليه السلام ان بني إسرائيل كانوا يقولون ليس لموسى ما للرجال وكان موسى إذا أراد الاغتسال يذهب إلى موضع لا يراه فيه أحد من الناس وكان يوما يغتسل على شط نهر وقد وضع ثيابه على صخرة فأمر الله الصخرة فتباعدت عنه حتى نظر بنو إسرائيل اليه فعلموا انه ليس كما قالوا فانزل الله (يا ايها الذين آمنوا لا تكونوا …الخ

ابی عبد الله علیہ السلام نے کہا کہ بنی اسرائیل کہا کرتے کہ موسی میں وہ نہیں جو مردوں میں ہے اور موسی جب غسل کا ارادہ کرتے تو اس جگہ جاتے جہاں کوئی ان کو دیکھ نہ سکتا تھا اور وہ نہر کنارے غسل کر رہے تھے اور کپڑے پتھر پر رکھے تھے پس الله نے چٹان کو حکم کیا  انہوں نے پیچھا کیا یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے دیکھا

شیعہ تفسیر مجمع البیان از مجلسی میں ہے

و اختلفوا فيما أوذي به موسى على أقوال …  أن موسى كان حييا ستيرا يغتسل وحده فقالوا ما يستتر منا إلا لعيب بجلده إما برص و إما أدرة فذهب مرة يغتسل فوضع ثوبه على حجر فمر الحجر بثوبه فطلبه موسى فرآه بنو إسرائيل عريانا كأحسن الرجال خلقا فبرأه الله مما قالوا رواه أبو هريرة مرفوعا

تفسیر قمی   شروع کی تفاسیر میں سے ہے

جواب

امام بخاری نے ابواب میں اور تبصروں میں اس صیغہ کو استعمال کیا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے دور میں یہ صیغہ صرف ضعیف کے لئے نہیں بولا جاتا تھا جیسا کہ متاخرین النووی وغیرہ کا قول ہے

بخاری کی معلق روایات پر ابن حجر فتح الباری میں کہتے ہیں

والحق أن هذه الصيغة لا تختص بالضعيف، بل قد تستعمل في الصحيح أيضًا ، بخلاف صيغة الجزم فإنها لا تستعمل إلا في الصحيح

اور حق یہ ہے کہ یہ صيغة ضعیف کے لئے خاص نہیں ہے بلکہ صحیح کے لئے بھی استعمالہوتا ہے بخلاف صيغة جزم کے جو صرف صحیح کے لئے استعمالہوتا ہے

امام بخاری صحیح میں کہتے ہیں

باب الجمع بين السورتين في الركعة .. ويُذكر عن عبد الله بن السائب : ( قرأ النبي صلى الله عليه وسلم المؤمنون في الصبح، حتى إذا جاء ذكر موسى، وهارون – أو ذكر عيسى – أخذته سعلة فركع

باب ایک رکعت میں سورتیں جمع کرنا اور (صيغة تمريض يذكر) ذکر کیا جاتا ہے

اس روایت کی سند امام مسلم اور ابن خزیمہ کے نزدیک صحیح ہے اور انہوں نے اس کو صحیح میں بیان کیا ہے

امام بخاری نے اس طرح ایک دوسرے مقام پر صيغة تمريض مين کہا ويُذكر عن أبي موسى

باب ذكر العشاء والعتمة .. ويُذكر عن أبي موسى، قال: «كنا نتناوب النبي صلى الله عليه وسلم عند صلاة العشاء فأعتم بها

لیکن یہ روایت صحیح ہی میں ٨٩ ، ٢٤٦٨ رقم سے بیان بھی ہے

فتح الباری میں اس پر ابن حجر نے کہا

قوله ويذكر عن أبي موسى سيأتي موصولًا عند المصنف مطولا بعد باب واحد وكأنه لم يجزم به لأنه اختصر لفظه نبه على ذلك شيخنا الحافظ أبو الفضل .

اور ان کا قول ويذكر عن أبي موسى تو یہ موصول ہے مصنف کے نزدیک … اور یہاں جزم سے نہیں کہا کیونکہ انہوں نے اس کو مختصر کر دیا ہے

اسی طرح باب میں امام بخاری نے کہا

باب الرقى بفاتحة الكتاب ويُذكر عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم

یہاں بھی صيغة تمريض يذكر ہے

یہ روایت صحیح بخاری میں موجود ہے لیکن باب میں اختصار کی بنا پر صیغہ تمرض ہے

ان امثال سے ظاہر ہے کہ امام بخاری صيغة تمريض صحیح روایات پر بھی استعمال کرتے تھے

امام بخاری جب صيغة تمريض استعمال کرتے ہیں تو بعض اوقات ان کی مراد ضعیف روایت بھی ہوتی ہے لیکن وہ فورا اس کے بعد اس کے ضعف کی طرف اشارہ کرتے ہیں مثلا

امام البخاري نے صحیح میں ( 1 / 169 ) کہا

ويُذكر عن أبي هريرة، رفعه « لا يتطوع الإمام في مكانه ولم يصح

اور ابو ہریرہ سے ذکر کیا جاتا ہے … جو صحیح نہیں

صحیح میں امام بخاری نے کہا

ويُذكر عن ابن عباس: « أن جلساءه شركاء » ولم يصح

ایسا ابن عباس سے ذکر کیا جاتا ہے .. جو صحیح نہیں

یہاں امام بخاری نے صيغة تمريض استعمال کیا ہے لیکن ساتھ ہی اس کے ضعف کا حوالہ دیا ہے

النكت الوفية بما في شرح الألفية از البقاعی کے مطابق

قولهُ: (استعمالها في الضعيفِ أكثرُ) (5) وكذا تعبيرُ ابنِ الصلاحِ بقولهِ: ((لأنَّ مثلَ هذهِ العباراتِ تستعملُ في الحديثِ الضعيفِ أيضاً)) (6) يدفعُ الاعتراضَ بأنَّ البخاريَّ قد يخرجُ ما صحَّ بصيغةِ التمريضِ، كقولهِ في بابِ الرُّقَى بفاتحةِ الكتابِ: ((ويذكرُ عنِ ابنِ عباسٍ، عن النبي – صلى الله عليه وسلم -)) (7) في الرقى بفاتحةِ الكتابِ معَ أنَّهُ أسندَ

قول اس صیغہ کا استعمال اکثر ضعیف کے لئے ہوتا ہے اور یہ ابن الصلاح کی تعبیر ہے قول سے کہ اس قسم کی عبارات کا استعمال حدیث میں ضعیف پر بھی ہوتا ہے یہ اس اعتراض کو دفع کرتا ہے کہ بےشک امام بخاری نے صحیح روایت کی تخریج کی ہے صیغہ تمریض سے جیسا کہ باب فاتحہ سے دم کرنے میں ہے یذکر عن ابن عباس اور یہ ان کی کتاب میں سندا بھی ہے

کتاب النكت على مقدمة ابن الصلاح از الزركشي الشافعي (المتوفى: 794هـ) کے مطابق

كَذَلِكَ نَازع فِيهِ الشَّيْخ عَلَاء الدّين مغلطاي – رَحمَه الله تَعَالَى -[قَالَ] فَإنَّا نجد البُخَارِيّ فِي مواضيع يَأْتِي بِصِيغَة الْجَزْم وَهِي ضَعِيفَة من خَارج وَيَأْتِي بِصِيغَة التمريض وَهِي صَحِيحَة مخرجة فِي كِتَابه

اسی طرح نزاع کیا ہے مغلطاي نے الله رحم کرے کہا ہم صحیح بخاری میں پاتے ہیں بعض مقام پر کہ صیغہ جزم ہے اور روایت صحیح سے باہر کی کتب میں ضعیف ہے اور صیغہ تمریض بخاری نے استعمال کیا ہے اور روایت صحیح ہے جو ان کی کتاب میں موجود نہیں ہے

یعنی امام بخاری تو صیغہ جزم تک سے ضعیف روایت بیان کرتے تھے جس کے لئے النووی اور سیوطی کا دعوی ہے کہ یہ صرف صحیح روایت پر استعمال ہوتا ہے

اپنی کتاب، التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل، جلد ۲، صفحہ ٦٦٦-٦٦۷،میں فرماتے ہیں

لنک

http://shamela.ws/browse.php/book-12767/page-647

وأما التنديد بابن حبان فذكر الأستاذ أمورا:
منها أن ابن الصلاح وصفه بأنه غلط الغلط الفاحش في تصرفه.
أقول: ابن الصلاح ليس منزلته أن يقبل كلامه في مثل ابن حبان بلا تفسير،والمعروف مما ينسب ابن حبان فيه إلى الغلط أنه يذكر بعض الرواة في (الثقات) ثم يذكرهم في (الضعفاء) ، أو يذكر الرجل مرتين أو يذكره في طبقتين ونحو ذلك. وليس بالكثير وهو معذور في عامة ذلك وكثير من ذلك أو ما يشبهه قد وقع لغيره كابن معين والبخاري.

جہاں تک ابن حبان کی مذمت میں جو باتیں استاد کوثری نے کی ہیں، ان میں ایک یہ ہے کہ ابن صلاح نے ان کے بارے میں کہا ہے کہ وہ شدید ترین غلطیاں کرتے ہیں
میں یہ کہتا ہوں: کہ ابن صلاح ایسی منزلت کے حامل نہیں کہ ان کی بات بغیر وجہ بتائے مان لی جائے۔ اور جو مشہور بات ابن حبان سے منسوب ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اس طرح کی غلطی کرتے ہیں کہ ایک راوی کو الثقات میں درج کرتے، اور پھر اس کا تذکرہ الضعفاء میں کرتے ۔ یا پھر ایک راوی کا ۲ بار ذکر کر دیتے یا پھر ۲ طبقوں میں ذکر کر دیتے۔ یہ کثیر مواقع پر نہیں ہے، اور عمومی طور پر انہیں معذور سمجھا جائے گا- اور اس معاملے میں (یعنی علم الرجال میں غلطیوں کے ضمن میں) کثیر مواقع پر یہ کام دیگر لوگوں سے ہوا ہے جیسا کہ ابن معین یا بخاری

جواب

معلمی ایک اچھے محقق تھے – راقم کے نزدیک ان کی تحقیق میں بعض باتیں صحیح ہیں مثلا یہ جوزجانی کے قدر دان ہیں اور ان کے مطابق شیعہ راویوں پر جوزجانی کی رائے صحیح ہے لہذا راقم نے اس کا ذکر اپنی تحقیق میں کیا ہے

رہی یہ بات کہ امام بخاری نے تاریخ میں غلطیاں کی ہیں تو اس میں المعلمی منفرد نہیں ہیں یہ بات ابن ابی حاتم نے بھی کی ہے
بیان خطا البخاری نام کی کتاب موجود ہے
http://waqfeya.com/book.php?bid=7454

ابن أبي حاتم الرازي – أبو زرعة الرازي نے امام بخاری کی غلطیاں گنوائی ہیں کیونکہ ان کے نزدیک امام صاحب اس علم میں پکے نہیں تھے

البتہ راقم سمجھتا ہے کہ تاریخ کی امام بخاری کی کتب میں غلطیاں ، اس وجہ سے ہیں کہ انہوں نے اس پر کام چھوڑ کر صحیح پر اپنی توجہ کر دی تھی مثلا لا تعداد راویوں پر امام بخاری نے نہ جرح کی ہے نہ تعدیل صرف نام لکھ دیے ہیں یعنی لسٹ بنا لی تھی اس پر کام کر رہے تھے پھر چھوڑ کر صحیح پر کام شروع کر دیا
اور عمر نے وفا نہ کی کہ اس ادھورے کام کو مکمل کرتے اور جرح و تعدیل بیان کرتے

یہ راقم کی رائے ہے

اپنی کتاب، التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل، جلد ۲، صفحہ ٦٦٦-٦٦۷،میں فرماتے ہیں

لنک

http://shamela.ws/browse.php/book-12767/page-647

وأما التنديد بابن حبان فذكر الأستاذ أمورا:
منها أن ابن الصلاح وصفه بأنه غلط الغلط الفاحش في تصرفه.
أقول: ابن الصلاح ليس منزلته أن يقبل كلامه في مثل ابن حبان بلا تفسير،والمعروف مما ينسب ابن حبان فيه إلى الغلط أنه يذكر بعض الرواة في (الثقات) ثم يذكرهم في (الضعفاء) ، أو يذكر الرجل مرتين أو يذكره في طبقتين ونحو ذلك. وليس بالكثير وهو معذور في عامة ذلك وكثير من ذلك أو ما يشبهه قد وقع لغيره كابن معين والبخاري.

جہاں تک ابن حبان کی مذمت میں جو باتیں استاد کوثری نے کی ہیں، ان میں ایک یہ ہے کہ ابن صلاح نے ان کے بارے میں کہا ہے کہ وہ شدید ترین غلطیاں کرتے ہیں
میں یہ کہتا ہوں: کہ ابن صلاح ایسی منزلت کے حامل نہیں کہ ان کی بات بغیر وجہ بتائے مان لی جائے۔ اور جو مشہور بات ابن حبان سے منسوب ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اس طرح کی غلطی کرتے ہیں کہ ایک راوی کو الثقات میں درج کرتے، اور پھر اس کا تذکرہ الضعفاء میں کرتے ۔ یا پھر ایک راوی کا ۲ بار ذکر کر دیتے یا پھر ۲ طبقوں میں ذکر کر دیتے۔ یہ کثیر مواقع پر نہیں ہے، اور عمومی طور پر انہیں معذور سمجھا جائے گا- اور اس معاملے میں (یعنی علم الرجال میں غلطیوں کے ضمن میں) کثیر مواقع پر یہ کام دیگر لوگوں سے ہوا ہے جیسا کہ ابن معین یا بخاری

جواب

معلمی ایک اچھے محقق تھے – راقم کے نزدیک ان کی تحقیق میں بعض باتیں صحیح ہیں مثلا یہ جوزجانی کے قدر دان ہیں اور ان کے مطابق شیعہ راویوں پر جوزجانی کی رائے صحیح ہے لہذا راقم نے اس کا ذکر اپنی تحقیق میں کیا ہے

رہی یہ بات کہ امام بخاری نے تاریخ میں غلطیاں کی ہیں تو اس میں المعلمی منفرد نہیں ہیں یہ بات ابن ابی حاتم نے بھی کی ہے
بیان خطا البخاری نام کی کتاب موجود ہے
http://waqfeya.com/book.php?bid=7454

ابن أبي حاتم الرازي – أبو زرعة الرازي نے امام بخاری کی غلطیاں گنوائی ہیں کیونکہ ان کے نزدیک امام صاحب اس علم میں پکے نہیں تھے
اس کی تفصیل اپ کو میں پہلے دے چکا ہوں

البتہ راقم سمجھتا ہے کہ تاریخ کی امام بخاری کی کتب میں غلطیاں ، اس وجہ سے ہیں کہ انہوں نے اس پر کام چھوڑ کر صحیح پر اپنی توجہ کر دی تھی مثلا لا تعداد راویوں پر امام بخاری نے نہ جرح کی ہے نہ تعدیل صرف نام لکھ دیے ہیں یعنی لسٹ بنا لی تھی اس پر کام کر رہے تھے پھر چھوڑ کر صحیح پر کام شروع کر دیا
اور عمر نے وفا نہ کی کہ اس ادھورے کام کو مکمل کرتے اور جرح و تعدیل بیان کرتے

یہ راقم کی رائے ہے

ایک اور بات کہ امام بخاری رحمہ الله نے کئی احادیث کا متن مختصر کیا اور کچھ جگہ ناموں کی جگہ فلاں فلاں لکھا

===========
مثال نمبر ١
===========

صحيح مسلم: كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِؓ (بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍؓ) صحیح مسلم:

کتاب: صحابہ کرامؓ کے فضائل ومناقب

(باب: حضرت علی ؓ کے فضائل)

6229 . حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: اسْتُعْمِلَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ قَالَ: فَدَعَا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتِمَ عَلِيًّا قَالَ: فَأَبَى سَهْلٌ فَقَالَ لَهُ: أَمَّا إِذْ أَبَيْتَ فَقُلْ: لَعَنَ اللهُ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ سَهْلٌ: مَا كَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي التُّرَابِ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ إِذَا دُعِيَ بِهَا، فَقَالَ لَهُ: أَخْبِرْنَا عَنْ قِصَّتِهِ، لِمَ سُمِّيَ أَبَا تُرَابٍ؟ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ، فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ «أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟» فَقَالَتْ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ، فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ «انْظُرْ، أَيْنَ هُوَ؟» فَجَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ، قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ، فَأَصَابَهُ تُرَابٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ وَيَقُولُ «قُمْ أَبَا التُّرَابِ قُمْ أَبَا التُّرَابِ»

حکم : صحیح

ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا: کہ مدینہ میں مروان کی اولاد میں سے ایک شخص حاکم ہوا تو اس نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کو بلایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالی دینے کا حکم دیا۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے انکار کیا تو وہ شخص بولا کہ اگر تو گالی دینے سے انکار کرتا ہے تو کہہ کہ ابوتراب پر اللہ کی لعنت ہو۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ابوتراب سے زیادہ کوئی نام پسند نہ تھا اور وہ اس نام کے ساتھ پکارنے والے شخص سے خوش ہوتے تھے۔ وہ شخص بولا کہ اس کا قصہ بیان کرو کہ ان کا نام ابوتراب کیوں ہوا؟ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گھر میں نہ پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تیرے چچا کا بیٹا کہاں ہے؟ وہ بولیں کہ مجھ میں اور ان میں کچھ باتیں ہوئیں اور وہ غصہ ہو کر چلے گئے اور یہاں نہیں سوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا کہ دیکھو وہ کہاں ہیں؟ وہ آیا اور بولا کہ یا رسول اللہ! علی مسجد میں سو رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے، وہ لیٹے ہوئے تھے اور چادر ان کے پہلو سے الگ ہو گئی تھی اور (ان کے بدن سے) مٹی لگ گئی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی پونچھنا شروع کی اور فرمانے لگے کہ اے ابوتراب! اٹھ۔ اے ابوتراب! اٹھ۔

صحيح البخاري: كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ (بَابُ القَائِلَةِ فِي المَسْجِدِ)

صحیح بخاری: کتاب: اجازت لینے کے بیان میں

(باب: مسجد میں بھی قیلولہ کرنا جائز ہے)

6280 . حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: مَا كَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي تُرَابٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ بِهِ إِذَا دُعِيَ بِهَا، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ، فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي البَيْتِ، فَقَالَ: «أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ» فَقَالَتْ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ: «انْظُرْ أَيْنَ هُوَ» فَجَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ فِي المَسْجِدِ رَاقِدٌ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ، قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ فَأَصَابَهُ تُرَابٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ: «قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ»

حکم : صحیح

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد العزیز بن حازم نے بیان کیا، ان سے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کوئی نام ” ابو تراب “ سے زیادہ محبوب نہیں تھا۔ جب ان کو اس نام سے بلایا جاتا تو وہ خوش ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ علیہا السلام کے گھر تشریف لائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گھر میں نہیں پایا تو فرمایا کہ بیٹی تمہارے چچا کے لڑکے ( اور شوہر ) کہا ں گئے ہیں ؟ انہوں نے کہا میرے اور ان کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوگئی تھی وہ مجھ پر غصہ ہوکر باہر چلے گئے اور میرے یہاں ( گھر میں ) قیلولہ نہیں کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہاکہ دیکھو وہ کہاں ہیں ۔ وہ صحابی واپس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ تو مسجد میں سوئے ہوئے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے اور چادر آپ کے پہلو سے گرگئی تھی اور گرد آلود ہوگئی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مٹی صاف کرنے لگے اور فرمانے لگے ، ابو تراب ! ( مٹی والے ) اٹھو، ابو تراب ! اٹھو۔

اب ان دونوں احادیث کا سارا متن ایک جیسا ہی ہے، صرف فرق یہ ہے کہ ان جملوں کو امام بخاری نے نہیں لکھا

قال استعمل على المدينة رجل من آل مروان قال فدعا سهل بن سعد فأمره أن يشتم عليا قال فأبى سهل فقال له أما إذ أبيت فقل لعن الله أبا التراب فقال سهل ما كان لعلي اسم أحب إليه

شاید قیتبہ بن سعید نے یہ روایت بخاری و مسلم سے الگ الگ بیان کی ہو؟

لیکن بیہقی نے سنن کبری، جلد ۲، صفحہ ۴۴٦؛ میں اس روایت کو قتیبہ سے نقل کیا، اور ان الفاظ کو نقل کیا

لنک

http://islamport.com/w/mtn/Web/969/917.htm

ابن عساکر اپنی تاریخ میں یہی روایت نقل کرتے ہیں اور وہاں بھی یہ الفاظ ہیں

لنک

http://shamela.ws/browse.php/book-71/page-19003

===============
مثال نمبر ٢
===============

ًبخاری نے اپنی صحیح میں ایک روایت درج کی ہے کہ

‌صحيح البخاري: كِتَابُ البُيُوعِ (بَابٌ: لاَ يُذَابُ شَحْمُ المَيْتَةِ وَلاَ يُبَاعُ وَدَكُهُ) صحیح بخاری:

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان

(باب : مردار کی چربی گلانا اور اس کا بیچنا جائز نہیں)

2223 . حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ بَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنَّ فُلَانًا بَاعَ خَمْرًا فَقَالَ قَاتَلَ اللَّهُ فُلَانًا أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا

حکم : صحیح

ہم سے حمیدی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ مجھے طاؤس نے خبر دی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ فلاں شخص نے شراب فروخت کی ہے، تو آپ نے فرمایا کہ اسے اللہ تعالیٰ تباہ و برباد کردے۔ کیا اسے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ چربی ان پر حرام کی گئی تھی لیکن ان لوگوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا۔

اب یہ روایت مسند حمیدی میں موجود ہے، مگر انہوں نے فلاں نہیں کہا، بلکہ نام لیا ہے

13 – حدثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا عمرو بن دينار قال أخبرني طاوس سمع بن عباس يقول بلغ عمر بن الخطاب أن سمرة باع خمرا فقال قاتل الله سمرة ألم يعلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لعن الله اليهود حرمت عليهم الشحوم فجملوها فباعوها

(1/9)

لنک

http://islamport.com/d/1/mtn/1/98/3619.html

ابن عبدالبر نے اپنی کتاب، التمہید میں یہ سند درج کی ہے

لنک

http://islamport.com/d/1/srh/1/8/136.html

=============
مثال نمبر ٣
=============

صحيح مسلم: كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ

بَاب تَحْرِيمِ تَصْوِيرِ صُورَةِ الْحَيَوَانِ وَتَحْرِيمِ اتِّخَاذِ مَا فِيهِ صُورَةٌ غَيْرُ مُمْتَهَنَةٍ بِالْفَرْشِ وَنَحْوِهِ وَأَنَّ الْمَلَائِكَةَ عَلَيْهِمْ السَّلَام لَا يَدْخُلُونَ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ

صحیح مسلم: کتاب: لباس اور زینت کے احکام

(باب: جاندار کی تصویر بنا نے اور جوفرش پر روندی نہ جا رہی ہو ں ان تصویروں کو استعمال کرنے کی ممانعت نیز یہ کہ جس گھر میں تصویر یا کتاہوا ہو اس میں ملا ئیکہ علیہ السلام دا خل نہیں ہو تے)

5543 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي دَارِ مَرْوَانَ فَرَأَى فِيهَا تَصَاوِيرَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ خَلْقًا كَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً

حکم : صحیح

ابن فضیل نے عمارہ سے،انھوں نے ابو زرعہ سے روایت کی،انھوں نے کہا : میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مروان کے گھر گیا نھوں نے اس گھر میں تصوریں دیکھیں تو کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ،آپ نے فرما یا :” اللہ عزوجل نے فر ما یا اس شخص سے بڑا ظالم کو ن ہوگا جو میری مخلوق کی طرح مخلوق بنا نے چلا ہو۔وہ ایک ذرہ تو بنا ئیں یا ایک دانہ تو بنا ئیں یا ایک جو تو بنا ئیں !”

صحيح البخاري: كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم

(بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ} [الصافات: 96])

صحیح بخاری: کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں اور جهميہ وغیرہ کی تردید

(باب: اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ الصافات میں )

(ارشاد اور اللہ نے پیدا کیا تمہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو)

7559 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ شَعِيرَةً

حکم : صحیح

ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، ان سے ابن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ نے، ان سے ابوزرعہ نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر حد سے تجاوز کرنے والا اور کون ہے جو میری مخلوق کی طرح مخلوق بناتا ہے، ذرا وہ چنے کا دانہ پیدا کر کے تو دیکھیں یا گیہوں کا ایک دانہ یا جَو کا ایک دانہ پیدا کر کے تو دیکھیں۔

اب یہاں یہ الفاظ نہیں ہیں صحیح بخاری میں


مروان کے گھر گیا نھوں نے اس گھر میں تصوریں دیکھیں تو کہا

یہ روایت یہاں یہاں بھی آئ ہے

سنن کبری بیہقی

14345 – أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق ثنا موسى بن إسحاق الأنصاري ثنا عبد الله بن أبي شيبة ح وأخبرنا محمد أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن أبي طالب وعبد الله بن محمد قالا ثنا أبو كريب قالا ثنا محمد بن فضيل ثنا عمارة بن القعقاع عن أبي زرعة قال : دخلت مع أبي هريرة رضي الله عنه دار مروان فرأى فيها تصاوير فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول ومن أظلم ممن ذهب يخلق خلقا كخلقي فليخلقوا ذرة أو ليخلقوا حبة أو ليخلقوا شعيرة رواه البخاري في الصحيح عن أبي كريب ورواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة

(7/268)

لنک

http://islamport.com/d/1/mtn/1/52/1906.html

——

مسند امام احمد بن حنبل

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، دَارَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَرَأَى فِيهَا تَصَاوِيرَ، وَهِيَ تُبْنَى، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ خَلْقًا كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً، أَوْ فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً، أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً

لنک

http://shamela.ws/browse.php/book-25794/page-5661

جواب

امام بخاری واقعی ایسا کرتے ہیں کہ نام غائب کر دیتے ہیں

راقم نے یہ بات خود بھی نوٹ کی ہے

ائمہ نے اس بات کو واضح لکھا ہے کہ قاتلین امام حسین کی روایتوں رد کی جائیں۔ ابن ابی خیثمہ نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ یحیی ابن معین نے کہا کہ عمر بن سعد کوفی ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا وہ ثقہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ کیسے ثقہ ہو سکتا ہے جب اس نے امام حسین کو قتل کیا

عمر ابن سعد کے کئی روایات اہلسنت کے کتب میں موجود ہیں

ایک روایت مسند احمد، ج 3، ص 105 سے پیش خدمت ہے

1519 – حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” قِتَالُ المسلم كُفْرٌ وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ، وَلا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ

عمر بن سعد اپنے والد سے، اور وہ نبی اکرم سے نقل کرتے ہیں کہ نبی پاک نے کہا کہ مسلمان سے لڑنا کفر ہے، اور اس کی توہین کرنا گناہ۔ اور مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ 3 دن سے زیادہ اپنے بھائی سے دوری رکھے

کتاب کے محقق، شیخ شعیب، نے سند کو حسن قرار دیا

مسند احمد کے دوسرے محقق، شیخ احمد شاکر نے اپنی تحقیق کے ج 2، ص 243 پر سند کو صحیح قرار دیا

جواب

عُمَر بن سعد بن أَبي وقاص القرشي الزُّهْرِيّ سے نسائی نے روایت سنن میں لی ہے
أخبرنا إسحق بن إبراهيم قال أنبأنا عبد الرزاق قال حدثنا معمر عن أبي إسحق عن عمر بن سعد قال حدثنا سعد بن أبي وقاص أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قتال المسلم كفر وسبابه فسوق.

مسند احمد میں بھی ہے

بعض محدثین مثلا ابن معین نے اس سے منع کیا لیکن ظاہر ہے اس پر اجماع نہیں ہے

عمر سے اہل سنت اور شیعہ دونوں روایت کرتے تھے
رَوَى عَنه: ابنه إِبْرَاهِيم بْن عُمَر بن سعد، ويزيد بن أَبي مريم السلولي، وسعد بْن عُبَيدة، والعيزار بْن حريث (سي) ، وقتادة، ومحمد بْن عَبْد الرَّحْمَنِ بْن أَبي لبيبة، ومحمد بن مسلم ابن شهاب الزُّهْرِيّ، والمطلب بْن عَبد اللَّه بْن حنطب، ويزيد بْن أَبي حبيب المِصْرِي، وأبو إسحاق السبيعي (س) ، وابن ابنه أَبُو بكر بْن حفص بْن عُمَر بْن سعد.

اس میں أبو إسحاق السبيعي کوفی شیعہ ہیں جو عمر سے روایت کرتے رہے ہیں

دارقطنی نے کہا عمر سے ما خرجوا عنه في الصحيح
صحیح میں کوئی روایت نہیں لی گئی
———

راقم کی رائے
عمر بن سعد نے ہی قتل حسین کیا اس پر کوئی صریح دلیل نہیں ہے
یہ بات مختار ثقفی کذاب کی مشہور کردہ ہے جو تاریخ میں چلی آ رہی ہے

الشيخ عبد الرحمن المعلمي اليماني وہ یہ لکھ کر کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں

التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل، ج1، ص677

وكان بنو فاطمة في عصر تأسيس المذاهب مضطهدين مروعين لا يكاد أحد يتصل بهم إلا وهو خائف على نفسه فلم يتمكنوا من نشر علمهم كما ينبغي

جواب

جعفر بن محمد بن على بن الحسين بن على بن أبى طالب القرشى الهاشمى ، أبو عبد الله المدنى الصادق پیدائش ٨٠ ہجری- المتوفی ١٤٨ ھ سے کتب ستہ میں پانچ میں روایات لی گئی ہیں
البخاري في الأدب المفرد – مسلم – أبو داود – الترمذي – النسائي – ابن ماجه
امام بخاری نے صحیح میں ان سے کچھ روایت نہیں کیا ہے
امام مسلم نے ان کی روایت الْوضُوء وَالصَّلَاة وَالصَّوْم وَالْحج وَالْجهَاد والزهد میں نقل کی ہے

امام یحیی بن سعید القطان کے نزدیک یہ مضبوط نہیں تھے
قَالَ عَلِيٌّ: عَنْ يَحْيَى بنِ سَعِيْدٍ، قَالَ: أَملَى عَلَيَّ جَعْفَرُ بنُ مُحَمَّدٍ الحَدِيْثَ الطَّوِيْلَ -يَعْنِي: فِي الحَجِّ (1) – ثُمَّ قَالَ: وَفِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْءٌ (2) ، مُجَالِدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ.
یحیی بن سعید نے کہا – امام جعفر نے حج سے متعلق ایک طویل حدیث مجھے املاء کرائی پھر یحیی نے کہا میرے دل میں اس پر کچھ ہے اور مجالد مجھ کو ان سے زیادہ پسند ہے

حج والی یہ روایت کہا جاتا ہے
أخرجه مسلم (1218) في الحج، باب حجة النبي، عليه السلام، میں ہے

راقم کہتا ہے مجالد تو ضعیف ہے اور امام شافعی کے مطابق مجالد روایت کو کوڑے مارتا ہے یہ تقابل بہت سخت ہے اس وجہ سے الذھبی نے امام القطان پر جرح کی ہے
ابن معین ، شافعی نے امام جعفر کو ثقہ کہا ہے – امام احمد نے امام جعفر کو ضعیف کہا ہے
قال الميموني: قال أبو عبد الله: جعفر بن محمد، ضعيف الحديث، مضطرب. «سؤالاته» (360) .

جعفر کی احادیث جو ان کی اولاد سے ہوں ان کو بھی رد کیا گیا ہے – کتاب إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال از مغلطاي میں ہے
وقد اعتبرت حديثه من حديث الثقات عنه مثل: ابن جريج والثوري ومالك وشعبة وابن عيينة ووهب بن خالد وذويهم فرأيت أحاديث مستقيمة ليس فيها شيء يخالف حديث الأثبات، ورأيت في رواية ولده عنه أشياء ليس من حديثه ولا من حديث أبيه ولا من حديث جده،

ایک صاحب کہتے ہیں تقریب تہذیب کے مولف یعنی ابن حجر نے کہا

عبد الرزاق کا شیعہ ہونا ثابت نہیں کیونکہ ہم کو شیعوں کے پاس ان کی کوئی روایت نہیں ملی اگر شیعہ ہوتے تو ان سے وہ روایت کرتے

جواب

تقریب میں یہ الفاظ ہیں

عبد الرزاق ابن همام ابن نافع الحميري مولاهم أبو بكر الصنعاني ثقة حافظ مصنف شهير عمي في آخر عمره فتغير وكان يتشيع من التاسعة مات سنة إحدى عشرة وله خمس وثمانون

اس میں عبد الرزاق کو شیعہ لکھا گیا ہے

یہ مختلط تھے ابن صلاح کا قول ہے

حافظ عراقی نے لکھا ہے
لم يذكر المصنف أحدا ممن سمع من عبد الرزاق بعد تغيره إلا إسحق بن إبراهيم الدبرى فقط وممن سمع منه بعد ما عمى أحمد بن محمد بن شبوية قاله أحمد بن حنبل وسمع منه أيضا بعد التغير محمد بن حماد الطهرانى والظاهر أن الذين سمع منهم الطبرانى فى رحلته إلى صنعاء من أصحاب عبد الرزاق كلهم سمع منه بعد التغير وهم أربعة أحدهم الدبرى الذى ذكره المصنف وكان سماعه من عبد الرزاق سنة عشر ومائتين
مصنف ( ابن الصلاح) نے ذکر نہیں کیا کہ عبد الرزاق سے کس نے تغیر کے بعد سنا صرف اسحاق بن ابراہیم کے اور جس نے سنا ان کے نابینا ہونے کے بعد ان میں ہیں احمد بن محمد یہ امام احمد نے کہا اور ان سے اس حالت میں سنا محمد بن حماد نے اور ان سے سنا طبرانی نے جب صنعاء کا سفر کیا – ان سب نے بعد میں سنا اور یہ چار ہوئے جن میں الدبری ایک ہیں
ان سب نے ١٢٠ میں سنا

——-

تقریب تہذیب کے مولف یعنی ابن حجر نے کہا
ان کا شیعہ ہونا ثابت نہیں کیونکہ ہم کو شیعوں کے پاس ان کی کوئی روایت نہیں ملی اگر شیعہ ہوتے تو ان سے وہ روایت کرتے

راقم کہتا ہے ابن حجر کی تحقیق میں نقص ہے اگر ایسا کہا
قال الذهبي: عبد الرزاق بن همام ابن نافع، الحافظ الكبير، عالم اليمن، أبو بكر الحميري الصنعاني الثقة الشيعي
امام الذھبی نے ان کو شیعی کہا ہے

رجال الطوسي جو شیعوں کی کتاب ہے اس میں عبد الرزاق کا شمار شیعوں میں کیا گیا ہے
اور امام جعفر کے اصحاب میں شمار کیا گیا ہے

کتاب نقد الرجال از السيد مصطفى بن الحسين الحسيني التفرشي کے مطابق
عبد الرزاق بن همام اليماني: من أصحاب الباقر والصادق عليهما السلام، رجال الشيخ

امام احمد نے کہا
العلل ومعرفة الرجال: 2 / 59 الرقم 1545
قال عبد الله بن أحمد بن حنبل: سألت أبي، قلت له: عبد الرزاق كان يتشيع ويفرط في التشيع ؟ فقال: أما أنا فلم أسمع منه في هذا شيئا، ولكن كان رجلا تعجبه أخبار الناس – أو الأخبار
عبد الله نے احمد سے سوال کیا : کیا شیعہ تھے اور مفرط تھے ؟ احمد نے کہا جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے ان سے ایسا کچھ نہیں سنا لیکن یہ ایک آدمی تھے جن کی خبروں پر لوگوں کو تعجب ہوتا

ابن عدی نے کہا
وقد روى أحاديث في الفضائل مما لا يوافقه عليها أحد من الثقات
یہ فضائل علی میں وہ روایت کرتے جن کی ثقات موافقت نہیں کرتے

یعنی اہل تشیع کے پاس یہ شیعہ تھے اور امام جعفر سے اور امام صادق سے روایت کرتے تھے

——–

اہل تشیع کی کتب میں ان کی سند سے بہت سی روایات ہیں جو فضائل علی سے متعلق ہیں جو اہل سنت روایت نہیں کرتے

غیر مقلد عالم ابو جابر دامانوی کتاب دین الخالص میں لکھتے ہیں

کان للنبی فی حائطنا فرش له اللحیف
بخاری2855
ضعیف الجامع الصغیر/والضعیفه حدیث
قال الله تعالی ثلاثة انا خصمهم یوم القیامه رجل اعطی ثم غدر..الخ
بخاری ومسلم
ضعیف الجامع الصغیر 4054
اے دو روایت مثال ہے بہت ایسے احادیث جو بخاری اور مسلم کا ہے البانی انکو ضعیف کہا ہے،سوال اے ہے کیا واقعی اے روایات ضعیف ہے؟یا البانی صاحب کا تحقیق صحیح نہے ہے؟
پلیز وضاحت کردے
جزاکم الله خیرا

جواب

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: «كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطِنَا فَرَسٌ يُقَالُ لَهُ اللُّحَيْفُ»، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: ” وَقَالَ بَعْضُهُمُ: اللُّخَيْفُ ”

صحیح بخاری کی اس حدیث کو البانی نے “الضعيفة” (4226) میں رد کیا ہے

البانی نے اس کی وجہ نقل کی

وأخوه أبي بن عباس؛ ضعيف كما في “التقريب”، مع أنه من رجال البخاري كما يأتي، وقد اتفقوا على تضعيفه، منهم البخاري نفسه؛ فقد قال:
“ليس بالقوي”! فالعجب منه كيف أخرج له هذا الحديث؟!

اس میں ابی بن عباس ضعیف ہے جیسا التقریب میں ہے اس کے ساتھ کہ یہ صحیح بخاری کے رجال میں سے ہے جیسا آئے گا اور اس کی تضعیف پر اجماع ہے جس میں بخاری خود بھی ہیں (یعنی اس کو مجروح کہتے ہیں ) پس بخاری نے کہا قوی نہیں لیکن تعجب ہے کہ اس حدیث کی تخریج کیسے الصحیح میں کر دی

راقم کے نزدیک البانی نے صحیح کہا ہے امام بخاری سے غلطی ہوئی
اس قسم کی بعض روایات جن میں انہوں نے راوی کو تاریخ صغیر و کبیر میں ضعیف کہا اور پھر صحیح میں اس سے روایت لی چند ہیں ، ان پر کہا جاتا ہے کہ صحیح البخاری ایک غیر مکلمل کتاب تھی اس پر کام جاری تھا لیکن عمر نے وفا نہ کی

ایک کتاب جس کا نام ضحى الإسلام ہے

لنک

http://www.hindawi.org/books/30536269/

جو مصر سے چھپی ہے – ایک شیعہ اس کے بارے میں لکھتا ہے کہ

——-

حفاظ نے صحیح بخاری کے اسی 80 رجال کو ضعیف قرار دیا ہے, اس طرح انہوں نے صحیح بخاری کیلئے سب سے بڑی مشکل پیدا کر دی ہے- کیونکہ ان میں بعض رجال کاذب اور غیر معتبر ہونا اس قدر مسلم ہے جن میں شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں چنانچہ ان کا حال معلوم ہے- لیکن بعض رجال ایسے بھی ہیں جن کا حال مجہول ہے- لہذا اس قسم کے افراد حدیث کی اسناد میں آئے ہیں- ان کے بارے میں ہمارے لئے حدیث کی تشخیص بڑا مشکل مسئلہ ہے- ان مجہول الحال راویوں میں ہی حضرت ابن عباس کا غلام عکرمہ ہے- اس نے قدر حدیثیں نقل کی ہیں جس کی حد و انتہا نہیں- چناچہ اس کی جھوٹی حدیثوں سے حدیث و تفسیر کی دنیا مّملو نظر آتی ہے- حالانکہ بعض رجال نے اسے مجہول الحال ، کاذب اور خوارج کہ پیرو بتلایا ہے- یہ امراء سے انعام حاصل کر کے حدیثیں گڑھتا تھا- علمائے رجال نے اس جھوٹ کے متعدد شواہد نقل کئے ہیں

ضحى الإسلام ـ الجزء ۲ صفحہ 117-

جواب

أحمد أمين إبراهيم الطباخ مصر کے ہیں سن ١٩٥٤ میں انتقال ہوا

عکرمہ حصين بْن أبي الحر کے غلام تھے انہوں نے ان کو تحفہ میں ابن عباس کو دیا

الکامل از ابن عدی میں ان پر سخت جرح ہے

ان کو كَانَ يرى رأي الخوارج رأي الصفرية کہا گیا یعنی گمراہ
ان کو ابن سیرین نے کذاب کہا
ان کا جنازہ اکثریت نے چھوڑ دیا

أبي الشعثاء (خوارج کے مطابق یہ ان کے امیر ہیں) کہتے عکرمہ عالم ہیں
عَن عَمْرو بن دينار، قَالَ: سَمِعْتُ أبا الشعثاء يَقُولُ هَذَا مولى ابن عباس هَذَا أعلم الناس

وكان جابر بْن زيد يقول، حَدَّثَنا العين يعني عِكرمَة.
أبي الشعثاء جابر بْن زيد ان کو العين کہتا

جابر بْن زيد اہل سنت کے مطابق خارجی نہیں لیکن خوارج کے مطابق خارجی ہیں

امام بخاری نے عکرمہ سے حدیث لی ہے اور ان پر جرح کو نقل نہیں کیا اس میں وہ مشھور حدیث بھی ہے کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا

  بعض لوگوں کا اعتراض ہے کہ ضعیف حدیث کا آدھا حصہ بیان کر دیا اور آدھا حصہ صحیح قرار دیا ڈاکٹر صاحب نے. اور انہوں نے خیانت کی آدھا حصہ وہ اس حدیث کو کہتے ہیں کہ یہ بھی ضعیف ہے لا تجعلوا قبری او بیتی عیدا جبکہ ڈاکٹر صاحب نے اسے صحیح قرار دیا پلیز آپ حقیقت واضح کر دیجیے کہ کونسی خیانت کی گی ہے یا بہتان ہے؟ ؟؟ جزاک اللہ

جواب

ڈاکٹر عثماني رحمہ الله عليہ نے مزار يا ميلے ص 29 پر لکھا

لا تجلوأ قبري أو بيتي عيدا
ميري قبر يا گھر کو ميلہ کي جکہ نہ بناو
رواه ابو يعلي و سعيد بن منصور

ڈاکٹر صاحب نے جو حديث پيش کي ہے اس کے الفاظ ہیں

لا تجعلوا قبري او بيتي عيدا

ان الفاظ کے ساتھ يہ روايت کتب ميں نہيں ہے
اغلبا عثماني صاحب نے کسي اور کتاب ميں يہ حوالہ ديکھا اور بيان کيا – اصلا يہ دو الگ روايات ہيں جن کو غلطي سے انہوں نے ملا ديا ہے
ايک صحيح اور ايک ضعيف ہے

تتخذوا کا مطلب ہے اختيار کرنا
تجعلوا مطلب بنانا

قبر کو بت کرنا
موطا ميں ہے
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا يُعْبَدُ. اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ»
رسول الله نے دعا کي اے الله ميري قبر کو بت نہ کريے گا
اس کي سند صحيح ہے
عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ نے کہا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا اے الله ميري قبر کو بت مت بنا – الله کا غضب پڑھتا ہے اس قوم پر جو اپنے انبياء کي قبروں کو مسجد بنا دے
اس ميں عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ کو بعض نے صحابي تسليم نہيں کيا ہے ليکن  کتاب الاستذكار از ابن عبد البر ج 2 ص 359 پر ہے
وَلَمْ يَنْفَرِدْ بِهِ مَالِكٌ كَمَا زَعَمَ بَعْضُ النَّاسِ
اس روايت ميں امام مالک کا تفرد نہيں جيسا بعض لوگوں کا دعوي ہے

پھر ابن عبد البر نے اس کے طرق کا ذکر کيا ہے اور اسکو ثابت قرار ديا ہے

التمہيد ميں ابن عبد البر نے اس روايت پر کہا ہے
وَلَا خِلَافَ بن عُلَمَاءِ أَهْلِ الْأَثَرِ وَالْفِقْهِ أَنَّ الْحَدِيثَ إِذَا رَوَاهُ ثِقَةٌ عَنْ ثِقَةٍ حَتَّى يَتَّصِلَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ حُجَّةٌ يُعْمَلُ بِهَا إِلَّا أَنْ يَنْسَخَهُ غَيْرُهُ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عِنْدَ جَمِيعِهِمْ حُجَّةٌ فِيمَا نَقَلَ وَقَدْ أَسْنَدَ حَدِيثَهُ هَذَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ مِنْ ثِقَاتِ أَشْرَافِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
اور علماء اثر اور فقہاء ميں اس پر کوئي اختلاف نہيں کہ اگر ثقہ کي ثقہ سے روايت ہو يہاں تک کہ رسول الله صلي الله عليہ وسلم تک جائے تو وہ حجت ہے قابل عمل ہے سوائے اس کے منسوخ ہو کسي دوسري روايت سے اور مالک سب کے نزديک حجت ہيں جو بھي وہ نقل کريں اور اس حديث کو مسند روايت کيا ہے عمر بن محمد بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ نے جو ثقات ميں سے ہيں اہل مدينہ کے اشرافيہ ميں سے ہيں

اس طرح يہ روايت مسند بھي روايت ہوئي  ہے

راقم کو يہ سنن سعيد بن منصور ميں نہيں ملي
ليکن ابن تيميہ نے اپني کتابوں ميں اس کا حوالہ سنن سعيد بن منصور ديا ہے
وہاں وہ جو سند ديتے ہيں وہ وہي مسند ابو يعلي والي ہے جو مندرجہ ذيل ہے

گھر کو عيد کا مقام کرنا
کتاب حديث علي بن حجر السعدي عن إسماعيل بن جعفر المدني از إسماعيل بن جعفر بن أبي كثير الأنصاري الزرقي مولاهم، أبو إسحاق المدني – ويكني أيضا: أبا إبراهيم (المتوفى: 180هـ) ميں ہے
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ أَنَّهُ رَأَى قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالْتَزَمَهُ، وَمَسَحَ قَالَ: فَحَصَبَنِي حَسَنُ بْنُ حَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: [ص:492] «لَا تَتَّخِذُوا بَيْتِي عِيدًا، وَلَا تَتَّخِذُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ»
حسن بن حسن بن ابي طالب نے کہا کہ رسول الله صلي الله عليہ وسلم نے فرمايا ميرے گھر کو ميلہ کي جگہ مت کرو اور نہ اپنے گھروں کو قبريں بنائو
اس کي سند ميں مجھول ہے لہذا ضعيف ہے

اسي متن سے مسند ابو يعلي ميں ہے يعني ابو يعلي کي سند ضعيف ہے
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ، لَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا، وَلَا تَتَّخِذُوا بَيْتِي عِيدًا، صَلُّوا عَلَيَّ وَسَلِّمُوا، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ وَسَلَامَكُمْ يَبْلُغُنِي أَيْنَمَا كُنْتُمْ»
[حكم حسين سليم أسد] : إسناده ضعيف

اس کي سند ميں عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ضعيف ہے

مسند احمد، مصنف عبد الرزاق ميں ہے
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا، لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ»
اس کي سند صحيح ہے
ابو ہريرہ رضي الله عنہ سے مروي ہے کہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فريا : اے الله ميري قبر کو بت نہ کرنا الله کي لعنت ہو اس قوم پر جو اپنے انبياء کي قبروں کو مسجد بنا دے

ڈاکٹر عثماني اصلا قبر کو بت بنانے سے منع کر رہے ہيں اس تناظر ميں ان کي بات صحيح ہے ليکن ان کا حوالہ درست نہيں ہے

التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِيرِ
المؤلف: محمد بن إسماعيل بن صلاح بن محمد الحسني، الكحلاني ثم الصنعاني، أبو إبراهيم، عز الدين، المعروف كأسلافه بالأمير (المتوفى: 1182هـ)
کے مطابق
روايت کے الفاظ صلوا في بيوتكم ولا تتخذوها قبورًا، ولا تتخذوا بيتي عيداً) کا مطلب ہے

فأظهر معانيه هنا لا تجعلوا قبري مجمعاً لكم ومنه ويرشد إليه قوله – صلى الله عليه وسلم – “اللهم لا
تجعل قبري وثنا يعبد” لأن العبادة لازمة للاجتماع فالنهي عن اتخاذه عيدا نهى عن ذريعة عبادته فلا يتخذ قبره كذلك
پس ظاہري معنوں ميں يہاں ہے کہ قبر کو مجمع کي جگہ مت کرنا اور اس کي طرف ہدايت کا قول ہے صلي الله عليہ وسلم کا کہ اے الله ميري قبر کو بت مت کريو – کيونکہ عبادت کے لئے اجتماع لازم ہے پس ميلہ سے منع کيا جو نہي عن ذريعہ ہے عبادت کا

عثماني صاحب نے غلط حوالہ ديا کيونکہ انہوں نے اغلبا شروحات سے اس کو ليا ہے جہاں وہ غلط تھا اور يہ خيانت نہيں بلکہ تسامح ہے بعض اوقات اصل مصدر سے نہيں بلکہ شروحات سے بات لے لي جاتي ہے مثلا فتح الباري ميں شرح ميں احاديث ہيں اگر کسي کے پاس اصل کتب نہيں تو وہ اصل کي تلاش کي بجائے نقل سے لے ليتا ہے

لہذا اعتراض بظاہر درست ہے ليکن اس سے ڈاکٹر صاحب کے موقف پر کوئي فرق نہيں پڑتا کيونکہ يہ روايت دوسري کتابوں ميں صحيح سند سے ہے

اصلا يہ شوشہ چھوڑا گيا تھا کہ ڈاکٹر عثماني نے قبر کو بت يا ميلہ کا مقام نہ بنا والي روايت جو دي ہے اس کے آگے کے حصہ ميں ہے کہ تم جہاں بھي ہو درود و سلام مجھ تک آ جاتا ہے چنانچہ مسعود احمد امير جماعت المسلمين نے يہ چيلنج ديا تھا کہ جس روايت ميں بھي ہو کہ قبر کو بت نہ بنا اس ميں درود والا حصہ ضرور ہے بعد ميں اس کو لوگ نقل کرتے رہے
ڈاکٹر عثماني صاحب کے آخري دور کي بات ہے ان کا انتقال ہوا اور جواب نہيں ديا جا سکا نہ تبديلي کي جا سکتي تھي کيونکہ يہ ان کي تحرير تھي

جو لوگ اعتراض کر رہے ہيں انہوں نے بھي نہيں ديکھا کہ يہ روايت اس طرح بھي ہے کہ اس ميں درود کا ذکر نہيں اتا لہذا ابھي ميں نے وہي يہاں بيان کي ہيں

ڈاکٹر عثماني سے غلطي ممکن ہے اور اس طرح مخالفين کي بات صحيح ہے کہ انہوں نے غلطي کي ليکن يہ تسامح کہلاتا ہے خيانت نہيں

اگر ہم اس طرح اعتراض کريں تو ہم بھي اس طرح کئي غلطياں متقدمين و متاخرين ميں دکھا سکتے ہيں

جواب

حدثنا فلاں
اخبرنا فلاں
انبانا فلاں

http://fatwa.islamweb.net/fatwa/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=226357

حدثنا مطلب جو شیخ سے سنا

اخبرنا مطلب جو شیخ نے پڑھ کر سنایا

انبانا مطلب جو شیخ نے پڑھا یا سنایا متقدمین کے مطابق لیکن متاخرین کے نزدیک اس کا مطلب اجازہ ہے کہ انہوں نے اجازت دی کہ ان کی کتاب سے پڑھ دیا جائے

جواب

ایک دور میں روایت بیان کرنا بہت خوبی کی بات تھی خاص کر عراق میں لوگ ثقہ غیر ثقہ سب سے سن رہے تھے اور جب دوسرے سے روایت بیان کرتے تو اس کو چھپا لیتے کہ کس سے سنا ہے کیونکہ اس طرح ان کی اہمیت کم ہونے کا اندیشہ تھا

اس میں بہت سے مشھور لوگ یا راوی مبتلا تھے کوئی زیادہ کرتا تو کوئی کم

دلس کہتے ہیں دھوکہ کو

http://www.almaany.com/ar/dict/ar-en/دلس/

کہ یہ راوی دھوکہ دیتا ہے مدلس ہے لہذا جب کہے عن اس سے تو چوکنہ ہو جاؤ یہ نام چھپا لیتا ہے

تحصیل علم کیسے ہوا اس کو اخبرنا یا اخبرنی یا حدثنی وغیرہ نہ کہا ہو تو یہ شک بڑھ جاتا ہے اس لئے اس میں اختلاف تھا کہ ان کی روایت مطلقا چھوڑ دی جائیں یا بعض لی جائیں

صحیحین میں لی گئی ہے اور تحدیث کی تحقیق ہوئی یا نہیں واضح نہیں ہے

زبیر علی مقالات حدیث میں لکھتے ہیں

یہ دعوی بلا دلیل ہے اور صحیحین کی تمام روایات جن میں مدلس ہوں ان کی تحقیق ابھی تک نہیں کی گئی ہے ان کو سماع پر محمول کیا جا سکے- بلکہ یہ بات علم حدیث میں معروف ہے کہ امام مسلم صرف امکان لقاء پر روایت لیتے ہیں نہ صرف یہ بلکہ بعض لوگوں سے امام مسلم نے روایت لے لی ہے جبکہ امام بخاری نے نزدیک ان کا سماع نہیں ہے

صحیح بخاری میں ہے

حدیث نمبر: 2125 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ “أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَجَلْ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ إِنَّهُ لَمَوْصُوفٌ فِي التَّوْرَاةِ بِبَعْضِ صِفَتِهِ فِي الْقُرْآنِ، ‏‏‏‏‏‏يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَحِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي سَمَّيْتُكَ المتَوَكِّلَ، ‏‏‏‏‏‏لَيْسَ بِفَظٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا غَلِيظٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَدْفَعُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ حَتَّى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ بِأَنْ يَقُولُوا:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَفْتَحُ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا، ‏‏‏‏‏‏وَآذَانًا صُمًّا، ‏‏‏‏‏‏وَقُلُوبًا غُلْفًا”، ‏‏‏‏‏‏تَابَعَهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِلَالٍ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ سَعِيدٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِلَالٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ سَلَامٍ ، ‏‏‏‏‏‏غُلْفٌ كُلُّ شَيْءٍ فِي غِلَافٍ سَيْفٌ أَغْلَفُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَوْسٌ غَلْفَاءُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَجُلٌ أَغْلَفُ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَخْتُونًا.

ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ہلال بن علی نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ملا اور عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفات توریت میں آئی ہیں ان کے متعلق مجھے کچھ بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں! قسم اللہ کی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تورات میں بالکل بعض وہی صفات آئی ہیں جو قرآن شریف میں مذکور ہیں۔ جیسے کہ اے نبی! ہم نے تمہیں گواہ، خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا، اور ان پڑھ قوم کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تم میرے بندے اور میرے رسول ہو۔ میں نے تمہارا نام متوکل رکھا ہے۔ تم نہ بدخو ہو، نہ سخت دل اور نہ بازاروں میں شور غل مچانے والے، (اور تورات میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ) وہ (میرا بندہ اور رسول) برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لے گا۔ بلکہ معاف اور درگزر کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اس کی روح قبض نہیں کرے گا جب تک ٹیڑھی شریعت کو اس سے سیدھی نہ کرا لے، یعنی لوگ «لا إله إلا الله» نہ کہنے لگیں اور اس کے ذریعہ وہ اندھی آنکھوں کو بینا، بہرے کانوں کو شنوا اور پردہ پڑے ہوئے دلوں کو پردے کھول دے گا۔ اس حدیث کی متابعت عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے ہلال سے کی ہے۔ اور سعید نے بیان کیا کہ ان سے ہلال نے، ان سے عطاء نے کہ «غلف» ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو پردے میں ہو۔ «سيف أغلف،‏‏‏‏ وقوس غلفاء» اسی سے ہے اور «رجل أغلف» اس شخص کو کہتے ہیں جس کا ختنہ نہ ہوا ہو۔

جواب

یہ روایت صحیح نہیں ہے

ایسا توریت کے کسی نسخہ میں  نہیں ملا  یہاں تک کہ بحر مردار کے طومار میں بھی نہیں ملا

سند میں  فليح بن سليمان المدني بھی ہے جس کی روایت لینے سے محدثین ابن معین ، النسائي نے منع کیا ہے

مسند دارمی میں ہے

أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مَعْنٌ (2) – هُوَ ابْنُ عِيسَى -، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَأَلَ كَعْبَ الأَحْبَارِ: كَيْفَ تَجِدُ نَعْتَ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَليهِ وسَلم فِي التَّوْرَاةِ؟ فَقَالَ كَعْبٌ: نَجِدُهُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يُولَدُ بِمَكَّةَ، وَيُهَاجِرُ إِلَى طَابَةَ وَيَكُونُ مُلْكُهُ بِالشَّامِ، وَلَيْسَ بِفَحَّاشٍ، وَلَا بِسَخَّابٍ فِي الأَسْوَاقِ، وَلَا يُكَافِئُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ، أُمَّتُهُ الْحَمَّادُونَ، يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي كُلِّ سَرَّاءٍ، وَيُكَبِّرُونَ اللَّهَ عَلَى كُلِّ نَجْدٍ، يُوَضِّؤُونَ أَطْرَافَهُمْ، وَيَأتَزِرُونَ فِي أَوْسَاطِهِمْ، يَصُفُّونَ فِي صَلَاتِهِمْ كَمَا يَصُفُّونَ فِي قِتَالِهِمْ، دَوِيُّهُمْ فِي مَسَاجِدِهِمْ كَدَوِيِّ النَّحْلِ، يُسْمَعُ مُنَادِيهِمْ فِي جَوِّ السَّمَاءِ.

ابن عباس  نے کعب الاحبار سے پوچھا کہ توریت میں رسول الله کی کیا صفت ہے ؟ کعب نے کہا محمد مکہ میں پیدا ہوں گے ہجرت کر کے طابہ جائیں گے جہاں اپ کی حکمرانی شام تک ہو گی نہ بدکلام کریں گے نہ بازار میں شور نہ برائی کا بدلہ  برائی سے لیں گے بلکہ معاف کریں گے اپ کے امتی اپ کی تعریف کریں گے جو پریشانی و خوشی میں الله کی حمد کریں گے ہر ٹیلے و اونچائی سے الله کی تکبیر کہیں گے اپنے ہاتھ پیر کا وضو کریں گے اور کمر پر آزار باندھیں گے نماز میں جنگ جیسی صف بنائیں گے اور مسجد میں شہد کی مکھی کی طرح بھبھنائیں گے جس کی آواز آسمان تک جائے گی

اس کی سند میں  معاوية بن صالح بن حدير ہے جس سے عبد الرحمان بن المہدی کو وحشت ہوتی تھی اور ابن القطان اس سے خوش نہ تھے ابی حاتم کہتے اس سے دلیل مت لو

مسند دارمی میں اس کی دو اور اسناد ہیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، قال: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قال: حَدَّثَنِي خَالِدٌ – هُوَ ابْنُ يَزِيدَ (1) -، عَنْ سَعِيدٍ – هُوَ ابْنُ أَبِي هِلَالٍ -، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ سَلَامٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّا لَنَجِدُ صِفَةَ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَليهِ وسَلم: إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَحِرْزًا لِلأُمِّيِّينَ، أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي، سَمَّيْتُهُ الْمُتَوَكِّلَ، لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ بِالأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ مِثْلَهَا وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَتَجَاوَزُ، وَلَنْ أَقْبِضَهُ حَتْى يُقِيمَ الْمِلَّةَ الْمُتَعَوِّجَةَ، بِأَنْ يُشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلاَّ اللهُ، نَفْتَحُ بِهِ أَعْيُنًا عُمْيًا، وَآذَانًا صُمًّا، وَقُلُوبًا غُلْفًا. [الإتحاف:7182]

عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ نے اس قول کو عبد الله بن سلام رضی الله عنہ سے بھی منسوب کیا ہے

اس کو سعيد بن أبى هلال نے روایت کیا ہے جو مختلط تھے

سنن دارمی کے مطابق یہ قول کعب الاحبار کا تھا

– قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ: أَنَّهُ سَمِعَ كَعْبًا يَقُولُ: مِثْلَ مَا قَالَ ابْنُ سَلَامٍ.

أَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ نے کہا ایسا ہی کعب الاحبار نے کہا جیسا ابن سلام نے کہا

کعب الاحبار یا ابن سلام رضی الله عنہ کے حوالے سے کہا گیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم بازار میں شور نہ کریں گے – یہ آیات توریت میں نہیں بلکہ انبیاء سے منسوب کتاب یسعیاہ باب ٤٢ میں انے والے مسیح سے متعلق  ہے

Is. 42:1 See my servant, whom I am supporting, my loved one, in whom I take delight: I have put my spirit on him; he will give the knowledge of the true God to the nations.
Is. 42:2 He will make no cry, his voice will not be loud: his words will not come to men’s ears in the streets.

میرا بندہ جس کی میں مدد کر رہا ہوں میرا محبوب جس سے میں راضی ہوں اس میں میں نے اپنی روح ڈالی ہے یہ اقوام کو اصل رب کا علم دے گا
یہ شور و غوغہ نہ کرے گا اور اس کی آواز بلند نہ ہو گی اور لوگوں کو سڑکوں پر اس کی آواز سنائی نہ دے گی

جبکہ ہم کو معلوم ہے کہ مکی زندگی میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی دعوت الی الله بازاروں میں ہی تھی جہاں بلند آواز سے اپ الله کی طرف سب کو پکارتے تھے

صحیح بخاری کی روایت کے مطابق

وَيَفْتَحُ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا، وَآذَانًا صُمًّا، وَقُلُوبًا غُلْفًا

رسول الله اس سے اندھے کی آنکھ کھولے گا اور  بہرے کے کان اور دلوں کے تالے

جبکہ یہ بھی کتاب یسعیاہ سے لیا گیا گے

Book of Isaiah chapter 35
Say to those who have an anxious heart,
“Be strong; fear not!
Behold, your God
will come with vengeance,
with the recompense of God.
He will come and save you.”
Then the eyes of the blind shall be opened,
and the ears of the deaf unstopped;
then shall the lame man leap like a deer,
and the tongue of the mute sing for joy.
For waters break forth in the wilderness,
and streams in the desert;
the burning sand shall become a pool,
and the thirsty ground springs of water;
کہو ان سے جن کے دل متذذب ہیں
ڈرو مت مظبوط رہو
خبردار تمہارا رب
انتقام کے ساتھ نمودار ہو گا
الله کی جانب سے بدلہ
وہ آ کر تم کو بچائے گا
اندھے کی اس وقت آنکھ کھل جائے گی
بہرے کے کان بند نہ رہیں گے
لنگڑا ہرن کی طرح دوڑے گا
اور گونگے کی زبان اس وقت گنگنائے گی
پس ویرانے میں پانی بہے گا
اور نہریں صحرا میں
اور جلتی ریت ، ایک حوض ہو گی
اور سوکھی زمین ، پانی کا چشمہ
یسعیاہ باب ٣٥ آیات 4 سے 7 تک
یہود میں ان آیات کی بنیاد پر ایک مسیح کا انتظار تھا جو جنم کے اندھے کو بینا کرے، بہرے کو سامع الصوت کرے، لنگڑے کو ٹھیک کر دے، گونگے کو زبان دے دے –

راویوں کا کتاب یسعیاہ کی آیات کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر منطبق کرنا عجیب بات ہے کیونکہ اول یہ توریت نہیں دوم یہ مسیح سے متعلق آیات ہیں نہ کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے متعلق

صحیح مسلم پر امام ابوزرعہ رازی کے اعتراضات کا جائزہ

لنک

http://forum.mohaddis.com/threads/%D8%B5%D8%AD%DB%8C%D8%AD-%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85-%D9%BE%D8%B1-%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D8%A8%D9%88%D8%B2%D8%B1%D8%B9%DB%81-%D8%B1%D8%A7%D8%B2%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%B6%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%D8%A7-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%B2%DB%81.35918/

جواب

محمد خبیب احمد مضمون صحیح مسلم پر امام ابوزرعہ رازی کے اعتراضات کا جائزہ (ہفتہ روزہ الاعتصام 1438ھ) میں لکھتے ہیں
“امام مسلم نے صحیح مسلم میں ان سے صرف ایک روایت لی ہے۔(ملاحظہ ہو صحیح مسلم، حدیث: ۲۷۳۹) اور امام ابوزرعہ امام مسلم کے شاگرد بھی ہیں۔ (سؤالات البرذعي: ۵۲۵/۲، ۵۹۱)یا پھر یہ روایۃ الأقران کی صورت ہے۔”

تبصرہ: کتاب رجال صحیح مسلم از ابن منجویہ کے مطابق
عبيد الله بن عبد الكريم أَبُو زرْعَة الرَّازِيّ وَهُوَ ابْن عبد الكريم بن يزِيد بن فروخ مولى عَبَّاس بن مطرف الْقرشِي
روى عَن يحيى بن عبد الله بن بكير فِي الدُّعَاء
امام ابو زرْعَة سے ایک روایت الدعا میں لی گئی ہے

صحیح مسلم کی روایت ہے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبُو زُرْعَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ، وَجَمِيعِ سَخَطِكَ
اس سے امام ابو زرْعَة، امام مسلم کے شیخ ہوئے

إمام أبو زرعه كه إمام مسلم كا شاگرد ثابت کرنے کے جوش میں انہوں نے أبو زرعة الرازي وجهوده في السنة النبوية کا بھی حوالہ دیا ہے جس کو سؤالات البرذعي: ۵۲۵/۲، ۵۹۱) بھی کہا جاتا ہے جو البرذعي روایت ہے اس میں کا کہنا ہے
حدثني مسلم بن الحجاج قال: سمعت إسحاق بن راهويه (4) قال: أتيت أبا داود سليمان بن عمرو فقلت في نفسي لأسألنه عن شيء لا أعرف فيه من قول المتقدمين شيئاً فقلت له: يا أبا داود ما عندك في التوقيت بين دَمي المرأة في
یہاں حدثنی اصل میں البرذعي نے کہا ہے نہ کہ أبو زرعة الرازي نے

——-

امام ابو زرعہ کے الفاظ کا ترجمہ کیا گیا ہے
///////
میں ابوزرعہ کی مجلس میں تھا کہ صحیح مسلم کا تذکرہ چھڑ گیا، پھر فضل الصائغ(امام فضل بن عباس جو حافظ و ناقد ہیں اور فضلک الرازی کے نام سے شہرت یافتہ ہیں) کی کتاب کا ذکر ہوا تو ابوزرعہ مجھے فرمانے لگے: ان لوگوں نے قبل از وقت پیش رفت کی ہے۔ انھوں نے ایسا کام کیا ہے جس کے ذریعے سے وہ سربلند ہونا چاہتے ہیں۔ انھوں نے ایسی کتاب لکھی جو ان سے پہلے نہیں لکھی گئی تاکہ وہ قبل از وقت اپنی علمی دھاک بٹھا سکیں۔
ایک روز امام ابوزرعہ کے پاس ایک آدمی صحیح مسلم لایا۔ میں بھی وہیں موجود تھا۔ ابوزرعہ اسے دیکھنے لگے تو یکایک اسباط بن نصر کی حدیث نظر سے گزری۔ مجھے ابوزرعہ نے کہا: یہ صحیح سے کس قدر دُور ہے،
/////////

اب ظاہر ہے کہ امام ابو زرعہ کو صرف تین راویون پر اعتراض نہیں ہے بلکہ یہ اجمالا کہا گیا ہے کہ دیکھو اس قسم کے راویوں سے روایت لی گئی ہے

اس پر فاضل محقق کو سمجھ آیا وہ لکھتے ہیں
////
مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابوزرعہ نے صحیح مسلم پر دو قسم کے اعتراضات وارد کیے ہیں:
اولًا: امام مسلم نے بعض متکلم فیہ راویوں کی روایات تو ذکر کی ہیں، جب کہ بعض ثقہ راویوں کی احادیث اصالتاً بیان کرنا تو کجا متابعتاً اور شاہداً بھی بیان نہیں کیں!
ثانیاً: انھوں نے اپنی کتاب کا نام ’’الجامع الصحیح‘‘ رکھا ہے جس کا تقاضہ ہے کہ سبھی یا اکثر صحیح احادیث اس میں موجود ہوں، جب کہ امرِ واقع ایسا نہیں ہے۔ اس لیے جب بدعتیوں کی تردید میں صحیح حدیث پیش کی جائیں گی تو وہ اس پر اعتراض کرتے ہوئے چلااُٹھیں گے کہ یہ صحیح مسلم میں موجود نہیں، لہٰذا صحیح کیوں کر ہو گی؟

//////

امام ابو زرعہ نے کہا کہ ابن عجلان جیسوں کی روایت نہیں لی اور اہل بدعت کی روایت لے لی ہے
دوم امام مسلم نے کذاب راویوں تک سے روایت لے لی ہے یہاں ان کا مقصد صرف ایک راوی پر جرح کرنا نہیں ہے جس کا دفاع کرنے یہ محقق صاحب بیٹھ گئے ہیں
پھر فرماتے ہیں کہ امام ابو زرعہ نے یہ اعتراضات صحیح البخاری پر کیوں نہ کیے

راقم کہتا ہے امام ابو زرعہ نے تو صحیح بخاری مکمل ہونے سے پہلے ہی امام بخاری کا بائیکاٹ کر دیا تھا جیسا الکلابازی نے خبر دی

ابن ابی حاتم کتاب الجرح و التعدیل میں لکھتے ہیں کہ میرے باپ اور امام ابو زرعہ نے امام بخاری کی روایات ترک کر دیں ان کے خلق القرآن کے مسئلہ میں عقیدے کی بنا پر

سمع منه أبي وأبو زرعة ثم تركا حديثه عندما كتب اليهما محمد ابن يحيى النيسابوري انه اظهر عندهم ان لفظه بالقرآن مخلوق.

إن سے میرے باپ اور ابو زرعہ المتوفی ٢٧٤ ھ نے سنا پھر ترک کیا جب امام الذھلی نے لکھا کہ یہ ان پر امام بخاری کا لفظه بالقرآن مخلوق (کا عقیدہ) ظاہر ہوا

کتاب المعلم بشيوخ البخاري ومسلم از أبو بكر محمد بن إسماعيل بن خلفون (المتوفى 636 هـ) کے مطابق

وقال أبو الفضل صالح بن أحمد بن محمد الحافظ: لما وافى محمد بن إسماعيل البخاري صاحب الجامع المعروف بالصحيح إلى الري قصد أبا زرعة عبيد الله ابن عبد الكريم بن فروخ وأبا حاتم محمد بن إدريس وكانا إمامي المسلمين في وقتهما وزمانهما والمرجوع إليهما في الحديث وعلم ما اختلف فيه الرواة، فاحتجبا عنه فعاود ولم يأذنا له بالدخول عليهما، فعاود أبا زرعة فأبى وشدد في ذلك وقال: لا أحب أن أراه ولا يراني، فبلغ بعض العلماء أن أبا زرعة منع محمد بن إسماعيل أن يدخل عليه، وتحدث الناس بذلك فقصد أبا زرعة وسأله عن ذلك وذكر الحديث.

أبو الفضل صالح بن أحمد بن محمد الحافظ کہتے ہیں کہ جب امام بخاری صاحب جامع المعروف الصحیح نے الری کا قصد کیا کہ امام ابوزرعہ اور ابی حاتم سے ملیں جو مسلمانوں کے اپنے زمانے کے امام تھے اور حدیث میں ان کی طرف رجوع کیا جاتا تھا اور ان کو راویوں کے اختلاف کا علم تھا تو یہ دونوں ، امام بخاری سے چھپ گئے اور امام بخاری کا اپنے پاس داخلہ بند کر دیا اور ابو زرعہ….. نے کہا مجھے پسند نہیں کہ اس کو دیکھوں یا یہ (بخاری) مجھے- پس یہ بات علماء تک پہنچی کہ امام ابو زرعہ امام بخاری کو منع کرتے ہیں کہ وہ داخل ہوں

لہذا یہ بھی فاضل محقق کی ناقص تحقیق ہے
——–

صحیحین میں ضعیف راویوں سے روایت لی گئی ہے جس پر امام ابو زرعہ کو اعتراض ہے لیکن متاخرین نے اسی سے متابعت اور شواہد وغیرہ کی اصطلاحات ایجاد کی ہیں ان کو ملا کر محمد خبیب احمد امام ابو زرعہ کو سمجھا رہے ہیں کہ یہ روایات کیوں لکھی گئی ہیں

یہ متاخرین کی رائے ہوئی جو امام مسلم کے ہم عصر ہیں ان کے نزدیک نہ متابعات کوئی شی ہے نہ شاہد کوئی بلا ہے اگر ایسا کسی کتاب میں کیا جائے تو کم از کم اس کو الصحیح نہیں کہنا چاہیے
مثلا امام ترمذی نے بھی ہر صحیح و ضعیف نقل کی ہیں لیکن کتاب میں روایت کو حسن کہہ کر اس کا مرتبہ بلند نہیں کیا – امام مسلم نے صحیح میں ان اس قسم کے متکلم فیہ رواة کی روایت بھی لی اور اس کو صحیح بھی کہا

کذاب کی روایت کا دفاع

امام ابو زرعہ نے فرمایا
کہا: مسلم، احمد بن عیسیٰ مصری کی روایت صحیح مسلم میں ذکر کرتے ہیں! مجھے ابوزرعہ نے کہا: میں نے مصریوں کو احمد بن عیسیٰ کے بارے میں شک کرتے ہوئے نہیں دیکھا (انھیں یقین تھا)۔ ابوزرعہ نے اپنے ہاتھ سے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا، گویا وہ کہنا چاہتے تھے: وہ جھوٹ بولتا ہے۔

فاضل محقق یہاں بھی متقدمیں محدثین کا منہج سمجنے میں ٹھوکر کھا گئے ہیں اور چلے ایک کذاب کا دفاع کرنے – جو شخص اپنے محلہ میں ہی کذاب مشہور ہو وہ نیشاپور پہنچ کر صحیح مسلم کا عالی مقام راوی بن گیا امام ابو زرعہ جو خود نیشا پوری ہیں ان کو امام مسلم کی اس حرکت پر سخت افسوس ہوا اور امام مسلم کی سخت سست کہا

محقق خود بھی مان گئے ہیں کہ
امام ابن معین نے حلفاً کہا ہے کہ وہ کذاب ہے

امام ابی حاتم نے کہا
مجھے بتلایا گیا کہ وہ مصر گیا، وہاں سے ابن وہب اور مفضل بن فضالہ کی کتب خریدیں۔ پھر میں بغداد آیا، پوچھا: کیا احمد، مفضل سے بیان کرتا ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں۔ میں نے اس پر نکیر کی کیوں کہ ابن وہب اور مفضل کی روایت برابر نہیں ہو سکتی۔ لوگوں نے اس پر تنقید کی ہے۔‘‘(الجرح و التعدیل: ۶۴/۲(

مصیبت یہ ہوئی کہ محقق کہتے ہیں احمد بن عیسی امام بخاری و مسلم کے استاد ہیں لہذا ان پر اس کا دفاع فرض ہو گیا
یہاں تک کہ ابن حبان جیسے متساھل شخص کا حوالہ لکھا
امام ابن حبان:
’’و کان متقنا․‘‘ ’’وہ متقن تھے۔‘‘ (الثقات: ۱۵/۸(
امام ابن حبان کا ایسے الفاظ سے توثیق کرنا اس راوی کی زبردست ثقاہت پر دلالت کرتا ہے

راقم کہتا ہے خوب ہے ابن حبان کا کسی کو ثقہ قرار دینا کب سے زبردست ثقات کی دلیل ہوا؟

صحیح مسلم میں اس کذاب احمد بن عیسیٰ کی ایک دو نہیں یہ روایات ہیں
صحیح مسلم میں احمد کی مرویات حسب ذیل ۳۲ ہیں:
۲۱، ۲۴۰، ۲۸۳، ۲۹۵، ۳۰۳، ۳۵۵، ۳۵۸، ۵۳۳، ۵۶۶، ۶۱۵، ۶۲۴، ۸۴۷، ۸۵۳، ۹۸۲، ۱۱۴۷، ۱۱۸۸، ۱۱۹۸، ۱۲۱۱)۳۲۲۳(، ۱۲۳۷، ۱۳۴۸، ۱۴۴۸، ۱۵۳۶)۳۹۲۵(، ۱۵۸۵، ۱۶۲۲، ۱۶۴۵، ۱۶۸۴، ۱۷۰۸، ۲۱۱۸، ۲۲۰۴، ۲۲۵۴، ۲۶۵۸، ۵۳۳)۷۴۷۰(

ان روایات میں سے ایک روایت (حدیث: ۱۷۰۸) اصالتاً، ایک روایت (حدیث: ۷۹۳/۳۵۵) متابعتاً، ایک روایت (حدیث: ۲۱۱۸) شاہداً، جب کہ باقی انتیس مرویات مقروناً ہیں

لیکن کذاب لوگوں نے بیان کیا مثلا امام مسلم کے قول کی توضیح ابوبکر بن غزرہ نے بیان کی کہ مکی بن عبدان ابوحاتم کا بیان ہے کہ میں نے امام مسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
’’میں نے یہ مسند کتاب امام ابوزرعہ رازی کی خدمت میں پیش کی۔ انھوں نے اس کتاب میں جس جس حدیث کے بارے میں مجھے اشارہ کیا کہ اس میں علّت (اور ضعف کا سبب) ہے، میں نے اسے چھوڑ دیا۔ ان کی رائے کی روشنی میں جو صحیح تھی اور اس میں کوئی علت نہ تھی اسے میں نے بیان کیا ہے۔‘‘ (فوائد أبي بکر بن عقال الصقلي عن أبي بکر بن غزرۃ قال: ذکر مکي بن عبدان …… بہ حوالہ ضعیف بخاری و مسلم․ تقیید المہمل للغساني الجیاني: ۶۷/۱ و السیاق لہ․ مقدمۃ إکمال المعلم للقاضي عیاض، ص: ۱۱۰․ المفہم للقرطبي: ۳۹/۱․ صیانۃ صحیح مسلم لابن الصلاح، ص: ۶۷․ فہرسۃ ابن الخیر، ص: ۸۷․ سیر أعلام النبلاء: ۵۶۸/۱۲)
اس قول کے راوی ابوبکر بن غزرہ کا ترجمہ نہیں ملا۔

یعنی جب کذاب کی روایت صحیح مسلم سے نکلی ہی نہیں آج تک ہے تو پھر یہ بات ایک اور جھوٹ ہوئی جو کسی مجھول نے نقل کی

لیکن فاضل محقق نے اس کو بھی بیان کر دیا ہے-

ایک جھوٹے کو بچانے کے لئے ایک مجہول کی مدد حاصل کی گئی ہے
——-

راقم کہتا ہے کہ امام بخاری و مسلم نے اس کذاب کی روایت لکھی ہے
امام بخاری: (صحیح بخاری، حدیث:۶۸۴۸، ۶۸۴۹، ۶۸۵۰

اور ان دو کے علاوہ کوئی اور اس دور میں نہیں جو اس راوی کی روایت کو صحیح کہتا ہو کذاب کی روایت کو صحیح کہنا تھا کہ امام ابو زرعہ نے کہا
انہوں نے کتابیں تالیف کیں جس کو ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تاکہ اپنے تئیں دوسروں پر سردار بنیں وقت سے پہلے

——–

بہر حال یہ تو ثابت ہوا کہ امام ابو زرعہ اور امام ابی حاتم کتاب صحیح مسلم کو صحیح نہیں قرار دیتے تھے اس کی روایات پر جرح کرتے تھے

امثال

امام ابوزرعہ سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان کی حدیث کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں ربیعہ پر اختلاف ہوا۔ بشر بن مفضل نے یوں بیان کیا:
’’عن عمارۃ بن غزیۃ عن ربیعۃ عن عبدالملک بن سعید بن سوید الأنصاري عن أبي حُمید الساعدي أو عن أبي أسید الساعدي عن النبيﷺ أنہ قال: ((إذا دخل أحدکم المسجد فلیسلم و لیقل: اﷲم افتح لي أبواب رحمتک․ و إذا خرج فلیقل: اللّٰہم إني أسألک من فضلک․))‘‘
اسے سلیمان بن بلال یوں بیان کرتے ہیں:
’’عن ربیعۃ عن عبدالملک بن سعید بن سُوید عن أبي حمید و أبي أسید عن النبيﷺ․‘‘
امام ابوزرعہ نے فرمایا:
’’عن أبي حمید و أبي أسید کلاہما عن النبيﷺ أصح․‘‘(العلل لابن أبي حاتم، رقم: ۵۰۹)

امام ابن ابی حاتم رقم طراز ہیں:
’’سألت أبازرعۃ عن حدیث رواہ ابن عیینۃ عن عمر بن سعید بن مسروق عن أبیہ عن عبایۃ بن رفاعۃ بن رافع بن خدیج عن رافع بن خدیج، قال: أعطی النبيﷺ أبا سفیان -یوم حنین- و صفوان بن أمیۃ و عیینۃ بن حصن و الأقرع بن حابس مائۃ من الإبل …… إلخ․فقال أبو زرعۃ: ہذا خطأ،رواہ الثوري، فقال: عن أبیہ عن ابن أبي نعم عن أبي سعید الخدري عن النبيﷺ․ و ہذا الصحیح․ قلت لأبي زرعۃ: ممن الوہم؟ قال: من عمر․‘‘ (العلل، رقم: ۹۱۶)

امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں:
’’سألت أبي و أبا زرعۃ عن حدیث رواہ أبوعوانۃ عن الأعمش عن إبراہیم عن الأسود عن عائشۃ قالت: ما رأیت النبيﷺ صام العشر من ذي الحجۃ قط․و رواہ أبوالأحوص فقال: عن منصور عن إبراہیم عن عائشۃ؟ فقالا: ہذا خطأ․ و رواہ الثوري عن الأعمش و منصور عن إبراہیم قال: حدثت عن النبيﷺ․‘‘ (العلل، رقم: ۷۸۱)
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس حدیث کا مرسل ہونا صحیح ہے۔
جبکہ اس کو مرفوع امام مسلم نے روایت کیا ہے

امام ابن ابی حاتم رقم طراز ہیں:
’’سألت أبازرعۃ عن حدیث النبيﷺ في تختمہ، أفي یمینہ أصح أم في یسارہ؟ فقال: في یمینہ الحدیث أکثر، و لم یصح ہذا و لا ہذا․‘‘ (کتاب العلل، رقم: ۱۴۳۹)
’’میں نے امام ابوزرعہ سے نبی کریمﷺ کی انگوٹھی والی حدیث کے بارے میں سوال کیا کہ دائیں ہاتھ کے بارے میں زیادہ صحیح ہے یا بائیں ہاتھ کے بارے میں؟ فرمایا: اکثر احادیث میں دائیں ہاتھ کا ذکر ہے۔ نہ دائیں ہاتھ کی تصریح والی حدیث صحیح ہے اور نہ بائیں ہاتھ والی حدیث۔‘‘
امام مسلم فرماتے ہیں:
1۔ ’’و حدثنا عثمان بن أبي شیبۃ و عباد بن موسی قالا: حدثنا طلحۃ بن یحیی – و ہو الأنصاري ثم الزرقي- عن یونس عن ابن شہاب عن أنس بن مالک أن رسول اللّٰہﷺ لبس خاتم فضۃ في یمینہ، فیہ فص حبشي، کان یجعل مما یلي کفہ․‘‘
2۔ ’’و حدثني زہیر بن حرب حدثني إسماعیل بن أبي أویس حدثني سلیمان بن بلال عن یونس بن یزید بہذا الإسناد مثل حدیث طلحۃ بن یحیی․‘‘ (صحیح مسلم، رقم: ۵۴۸۷، ۵۴۸۸․ دارالسلام)

امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں:
’’و سئل أبو زرعۃ عن حدیث رواہ الأوزاعي و حسین المعلم عن یحي بن أبي کثیر عن سالم الدوسي، قال: دخلت مع عبدالرحمان بن أبي بکر علی عائشۃ فدعا بوضوء فقالت: یا عبدالرحمان! أسبغ الوضوء، فإني سمعت رسول اللّٰہﷺ یقول: ((ویل للأعقاب من النار․)) و رواہ عکرمۃ بن عمار عن یحي بن أبي کثیر عن أبي سلمۃ بن عبدالرحمان عن أبي سالم مولی المہریین، قال: دخلت مع عبدالرحمان بن أبي بکر علی عائشۃ …… فذکر الحدیث․ فقال أبو زرعۃ: الحدیث حدیث الأوزاعي و حسین المعلم․ وحدیث شیبان وہم، وہم فیہ أبو نعیم․‘‘ (العلل، رقم: ۱۴۸)
امام ابوزرعہ کا مقصود یہ ہے کہ اوزاعی اور حسین المعلم کی سند راجح ہے کیوں کہ اس میں ابوسلمہ بن عبدالرحمان کا واسطہ نہیں برعکس روایت عکرمہ بن عمار کے۔عکرمہ کی حدیث صحیح مسلم (حدیث: ۵۶۸) میں ابوسلمہ بن عبدالرحمان کے اضافی واسطے کے ساتھ موجود ہے۔

نویں روایت:
امام ابن ابی حاتم نے امام ابوحاتم اور امام ابوزرعہ سے درج ذیل حدیث کی بابت دریافت کیا:
’’محمد بن عباد عن عبدالعزیز الدرواردي عن حمید عن أنس أن النبيﷺ قال: ((إن لم یثمرہا اللّٰہ فبم یستحل أحدکم مال أخیہ!))‘‘
یعنی رسول اﷲﷺ نے فرمایا: ’’اگر اﷲ تعالیٰ اسے پھل دار نہ کرے تو تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا مال کیسے حلال قرار دیتا ہے!‘‘
’’امام ابوحاتم اور امام ابوزرعہ فرمانے لگے: یہ (مرفوع بیان کرنا) غلطی ہے، وہ تو حضرت انس کا کلام ہے۔ امام ابوزرعہ نے مزید فرمایا: دراوردی (عبدالعزیز بن محمد) اور مالک بن انس اسے مرفوع بیان کرتے ہیں، جب کہ دیگر رواۃ موقوف بیان کرتے ہوئے حضرت انس کا کلام ذکر کرتے ہیں۔‘‘ (کتاب العلل، رقم: ۱۱۲۹)
محمد بن عباد بن زبرقان مکی کی روایت صحیح مسلم (حدیث: ۱۵۵۵، دار السلام ترقیم: ۳۹۷۹) میں شاہد میں بہ طورِ متابعت ہے۔

یعنی نیشاپور کے محدثین میں ہی اپس میں روایات کی تصحیح پر اختلافات تھے تو یہ کہنا کہ صحیح مسلم پر اجماع ہو گیا کہ اس کی سب روایات صحیح ہیں کیسے درست ہو سکتا ہے

محقق نے خود نقل کیا ہے

صحیح مسلم میں اصول میں ذکر کردہ پانچ روایات کی تحقیق کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
پہلی حدیث: ’’کان یذکر اللّٰہ علی کل أحیانہ․‘‘
اس روایت کو امام ابوزرعہ اور امام ابو حاتم نے ضعیف کہا ہے، جب کہ امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام ابوعوانہ، امام ابونعیم، امام ابن خزیمہ، امام ابن حبان، حافظ ابن حجر اور محدث البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔ اور یہی راجح ہے۔

تبصرہ : امام ترمذی نے صحیح نہیں حسن صحیح کہا ہے اور امام بخاری و مسلم کا اس کو صحیح کہنا ان کا ہم عصر محدثین سے اختلاف ہے باقی جتنے نام ہیں یہ سب متاخر ہیں

دوسری حدیث: ((من نفس عن مؤمن کربۃ……․إلخ))
اس روایت کو امام ابوزرعہ، امام ابن عمار، امام ترمذی اور حافظ ابن رجب نے ضعیف قرار دیا ہے، جب کہ امام مسلم، امام ابن جارود، امام حاکم، امام ابوموسیٰ مدینی، حافظ ابن حبان، حافظ ابن قیم، حافظ ابن حجر، محدث البانی، محدث حوینی، الشیخ علی حسن حلبی، ڈاکٹر خالد بن منصور الدریس وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ اور یہی موقف درست ہے۔
تیسری حدیث: ’’عن رافع بن خدیج قال: أعلی النبيﷺ أبا سفیان …… مئۃ من الإبل ……إلخ․‘‘
امام مسلم، امام ابو عوانہ اور حافظ ابن حبان کے نزدیک صحیح حدیث ہے، جب کہ امام ابوزرعہ کے نزدیک یہ حدیث حضرت ابوسعید خدری سے صحیح ہے۔ اسے مسند رافع بن خدیج سے بیان کرنا عمر بن سعید بن مسروق کی غلطی ہے۔ اس بابت امام مسلم وغیرہ کا موقف درست ہے۔

تبصرہ : اس میں امام مسلم کے سوا ان کے دور کا کوئی شخص نہیں جو اس کو صحیح کہے جو نام ہیں وہ سب متاخر ہیں

چوتھی حدیث: ’’عن أبي حمید الساعدي أو عن أبي أسید الساعدي مرفوعا: ((الدعاء عند دخول المسجد و خروجہ……إلخ․))
امام ابوزرعہ کے نزدیک یہ روایت دونوں صحابہ کرام سے مروی ہے۔ ان کی تائید امام ابن ابی حاتم اور امام بزار نے کی ہے، جب کہ اس کی تصحیح کرنے والے امام مسلم کے علاوہ امام ابونعیم، امام ابن حبان، امام نووی، حافظ ابن حجر اور محدث البانی وغیرہ ہیں۔

تبصرہ : اس روایت کی تصحیح میں بھی امام مسلم کا ہم عصر محدثین سے اختلاف ہے

پانچویں حدیث: حدیثِ عائشہ: ’’ما رأیت النبيﷺ صام العشر من ذي الحجۃ قط․‘‘
امام ابوزرعہ اور امام ابو حاتم کے نزدیک اس حدیث کا موصول ہونا غلط ہے، مرسل ہونا صحیح ہے۔جب کہ امام مسلم، امام ابوعوانہ، امام ابونعیم، امام ابن خزیمہ اور حافظ ابن حبان کے نزدیک اس کا موصول ہونا بھی درست ہے۔ اور یہ موقف صحیح ہے کہ یہ روایت موصولاً اور مرسلاً دونوں طرح مروی ہے اودونوں طرح صحیح ہے۔
تبصرہ اس روایت کی تصحیح نہیں بھی امام مسلم کا ہم عصر محدثین سے اختلاف ہے

یعنی یہ تو معلوم ہوا کہ امام مسلم کے ہم عصر محدثین ان سے تصحیح احادیث پر متفق نہیں تھے البتہ متاخرین نے جن میں ابن حبان یا ابن خزیمہ یا ابوعوانہ ہیں انہوں نے ان کو صحیح کہا ہے

جواب

اس روایت کو ابن معین نے رد کیا ہے اور سوالات الجنید میں ہے
قيل ليحيى: حديث داود بن عبد الرحمن العطار، عن ابن جريج، عن عطاء، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «أفطر الحاجم والمحجوم» ؟ قال يحيى: «ليس هذا بشيء، إنما هو موقوف عن أبي هريرة
یہ ابو ہریرہ رضی الله کا قول ہے جو ابن جریج مدلس نے بیان کیا ہے

فتح الباری میں ابن حجر کا قول ہے
وقال المروزي: قلت لأحمد: إن يحيى بن معين قال: ليس فيه شيء يثبت! فقال: هذه مجازفة
المروزی نے کہا میں نے امام احمد سے کہا کہ ابن معین نے کہا اس میں کوئی چیز ثابت نہیں ہے- احمد نے کہا یہ بد احتیاطی ہے
——-
الضعفاء الكبير از عقیلی کے مطابق امام بخاری اس کو موقوف قول کہتے ہیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» قَالَ: قَالَ: وَهَذَا، أَيِ الْمَوْقُوفُ، أَوْلَى

عقیلی خود کہتے ہیں
حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْبَابِ مَعْلُولٌ، فِيهِ اخْتِلَافٌ، وَأَصْلَحُ الْأَحَادِيثِ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ الْأَنْصَارِيِّ
ابو ہریرہ کی حدیث معلول ہے اور اس میں اصح وہ ہے جو شداد کی سند سے ہے

کتاب العلل ترمذی میں ہے
وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: لَيْسَ فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ
امام بخاری نے کہا اصح وہ ہے جو شداد کی سند سے ہے

یہ سند مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، فَأَبْصَرَ رَجُلًا يَحْتَجِمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ ” (1)

یہ صحیح نہیں ہے ابو قلابہ مدلس ہے
البانی نے اس سند کو صحيح لغيره قرار دیا ہے
“الإرواء” (4/ 68 – 70)، “الصحيحة” (2050 – 2051)، “المشكاة” (2012).
قال الزيلعي في “نصب الراية” 3/ 52 – 53: وبالجملة فهذا الحديث -أعني حديث: “أفطر الحاجم”- روي من طرق كثيرة وبأسانيد مختلفة كثيرة الاضطراب،
الزيلعي نے کہا ہے اس میں اضطراب بہت ہے

بعض نے اس کو منسوخ بھی قرار دیا ہے

ترمذی سنن میں کہتے ہیں
وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: الحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ حَتَّى أَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ بِاللَّيْلِ
اہل علم کی اصحاب رسول میں سے میں سے ایک قوم نے کراہت کی ہے کہ وہ حجامہ کرائیں اور روزہ سے ہوں یہاں تک وہ رات میں اس کو کرتے

طحاوی مشکل الاثار میں سند دیتے ہیں
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ: ثنا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: سَأَلَ ثَابِتُ الْبُنَانِيُّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ هَلْ كُنْتُمْ تَكْرَهُونَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ؟ قَالَ لَا إِلَّا مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ
انس رضی الله عنہ نے کہا ہم صرف اس لئے روزہ میں حجامہ نہیں کرتے کہ کمزوری ہوتی ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ شَيْبَةَ , قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَ: أنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ , قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ الْحِجَامَةِ , لِلصَّائِمِ فَقَالَ: ” مَا كُنْتُ أَرَى الْحِجَامَةَ تُكْرَهُ لِلصَّائِمِ إِلَّا مِنَ الْجَهْدِ
انس نے کہا ہم نہیں کرتے کیونکہ اس میں محنت ہوتی ہے

ابراہیم النخعی نے کہا روزے میں کمزوری کی وجہ سے اس کو مکروہ سمجھتے ہیں
حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ سِنَانٍ قَالَ: ثنا يَحْيَى الْقَطَّانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ , فَقَالَ: «إِنَّمَا كُرِهَتْ مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ»

ابن عباس سے مروی نے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے روزے میں حجامہ کرایا ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ صَائِمٌ»

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ شَيْبَةَ , قَالَ: ثنا أَبُو غَسَّانَ , قَالَ: ثنا مَسْعُودُ بْنُ سَعْدٍ الْجُعْفِيُّ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ مِقْسَمٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ»

وَقَدْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ قَالَ: ثنا حَجَّاجٌ قَالَ: ثنا حَمَّادٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ كَانَا لَا يَرَيَانِ بِالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ بَأْسًا وَقَالَا: أَرَأَيْتَ لَوِ احْتَجَمَ عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ أَكَانَ ذَلِكَ يُفْطِرُهُ؟
قاسم بن محمد فقیہ مدینہ کہتے تھے کہ روزے میں حجامہ میں کوئی برائی نہیں ہے اور کہتے کہ جو چیز پشت پر ہو اس سے کیا روزہ ٹوٹ جائے گا ؟

یعنی فقہاء میں اختلاف ہوا بہت سے اس طرف گئے ہیں مثلا اہل شام کہتے ہیں روزہ ٹوٹ جائے گا اور اہل حجاز میں عکرمہ اور محمد بن قاسم کا کہنا ہے کہ کوئی نہیں ٹوٹے گا یہ قول ابو ہریرہ کا ہے اور نبی صلی الله علیہ وسلم کا روزہ میں حجامہ کرانا معلوم ہے
محدثین میں ابن معین نے سختی سے اس روایت کو رد کر دیا اور امام احمداور امام بخاری نے صحیح قرار دیا ہے

جواب

حدیث کہ تم دنیا کے امور مجھ سے بہتر جانتے ہو

یہ روایت مرسل صحیح ہے

علل دارقطنی میں ہے
وَسُئِلَ عَنْ حَدِيثِ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ سَمِعَ تَأَبُّرَ النَّخْلِ , فَقَالَ : ” لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا لَصَلُحَ ” . فَلَمْ يُوبِّرُوا , فَصَارَ شَيْصًا , فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : ” إِذَا كَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنَكُمْ بِهِ ” . فَقَالَ : رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ . وَخَالَفَهُ خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ , وَمُحَاضِرٌ , وَغَيْرُهُمَا , رَوَوْهُ عَنْ هِشَامٍ , عَنْ أَبِيهِ , مُرْسَلا , وَهُوَ الصَّوَابُ

دارقطنی کے بقول اس کو عروہ نے مرسل روایت کیا ہے جو ٹھیک ہے
———

اس روایت کو انس اور عائشہ رضی الله عنہما سے مروی کیا گیا ہے لیکن دونوں اسناد میں اس حماد بن سلمة کا تفرد ہے
حماد بن سلمة آخری عمر میں مختلط ہوئے اس لئے یہ طرق مشکوک ہے

—–

اس روایت کو طلحة بن عبيد الله رضی الله عنہ سے بھی روایت کیا گیا ہے
سماك بن حرب عن موسى بن طلحة عن أبيه طلحة بن عبيد الله رضي الله عنه
سند میں سماک ضعیف ہے
—–

جابر بن عبد الله رضی الله عنہ کی سند سے مسند البزار میں ہے
عياش بن أبان ، حَدَّثَنا محمد بن فُضَيل ، عَن مجالد عن الشعبي عن جابر

اس میں مجالد ضعیف ہے
——

صحیح مسلم میں رافع بن خديج رضی الله عنہ کی سند سے ہے
عكرمة بن عمار عن أبو النجاشي عطاء بن صهيب مولى رافع عن رافع بن خديج قَالَ : ” قَدِمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، وَهُمْ يَأْبُرُونَ النَّخْلَ ، يَقُولُونَ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ ، فَقَالَ : مَا تَصْنَعُونَ ؟ قَالُوا : كُنَّا نَصْنَعُهُ ، قَالَ : لَعَلَّكُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا ، فَتَرَكُوهُ ، فَنَفَضَتْ أَوْ فَنَقَصَتْ ، قَالَ : فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ ، فَخُذُوا بِهِ ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْيٍ ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ”

سند میں عكرمة بن عمار اليمامي کا عنعنہ ہے اور عكرمة بن عمار اليمامي ایک مدلس ہے
—-

لہذا اس کی تمام اسناد میں کلام ہے

——-

باقی جو اقتباس سے اس میں ایسی کوئی چیز نہیں جس سے اختلاف ہو

زمینی مسائل بدلتے رہتے ہیں اوررہیں گے اس کا حل قیاس و رائے کی طرف جانا ہے جس کے سلف میں امام الشافعی قائل تھے اور امام ابو حنیفہ بھی کرتے تھے باقی جن مسلکوں میں قیاس ممنوع ہے ان کے پاس ضعیف روایات بھی نہیں ہیں کہ وہ ان سے جدید مسائل پر استنباط کر سکیں اور روایات گھڑنے کا دور بھی گزر چکا لہذا انھے اپنے موقف سے رجوع کرنا چاہئے

جواب

سمندری جانور جو اس پانی سے نکلنے پر مر جائیں حلال ہیں
أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعاً لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُماً وَاتَّقُواْ اللّهَ الَّذِيَ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ [المائدة : 96] اس کو الله نے حلال کیا ہے
لہذا مچھلی حلال ہے مردار نہیں- مردار وہ جانور ہوتا ہے جس کو ذبح کیا جاتا ہے جبکہ مچھلی کو ذبح نہیں کیا جاتا لہذا اس پر المیتہ کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا

قرآن کے مطابق موسی نے مچھلی کھائی اور صحیح بخاری کے مطابق موسی و خضر والا واقعہ نزول توریت کے بعد ہوا
جو کھانے توریت میں حلال ہیں وہ مسلمانوں پر بھی حلال ہیں

توریت میں ٹڈی حلال ہے اور یہ مردار نہیں کیونکہ اس کو بھی ذبح نہیں کیا جا سکتا

حلال جانور میں سے اندر سے جو پاک چیز نکلے وہ حلال ہے لہذا بول و بزار کے علاوہ جانور کو بحکم قرآن کھا سکتے ہیں
=============

اب روایت ہے

احلت لنا ميتتان ودمان:الجراد وايحستان والکبيروالطحال۔ (البيهقی ، رقم ١١٢٨ )
”ہمارے لیے دو مری ہوئی چیزیں اور دو خون حلال ہیں: مری ہوئی چیزیں مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون جگر اور تلی ہیں

اس کی سند ضعیف ہے سند میں عبد الرحمن بن زيد بن أسلم ہے جس پر جرح ہے اور یہ وہی راوی ہے جو کہتا ہے کہ آدم علیہ السلام کی دعا نبی کے وسیلہ سے پوری ہوئی

اس کے ایک طرق میں عبد الله بن زيد ہے جس کو ابن معین اور نسائی نے رد کیا ہے
ایک طرق میں إسماعيل بن أبي أويس ہے یہ بھی مجروح ہے
کہا جاتا ہے یہ روایت موقوف صحیح ہے

معرفہ سنن میں بیہقی کہتے ہیں
وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: «أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ»

18856 – وَهَذَا أَصَحُّ، وَهُوَ فِي مَعْنَى الْمَرْفُوعِ
اس کو سلیمان بن بلال نے بھی روایت کیا ہے جو اصح ہے اور مرفوع کے معنوں میں ہے
سنن الکبری میں بیہقی کہتے ہیں
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَهُوَ فِي مَعْنَى الْمُسْنَدِ وَقَدْ رَفَعَهُ أَوْلَادُ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِمْ

یعنی اگرچہ یہ صحابی کا موقوف قول ہے لیکن ان کو حلال و حرام کا نبی صلی الله علیہ وسلم سے ہی پتا چلا ہو گا لہذا یہ مرفوع سمجھ لی گئی ہے
لیکن راقم کہتا ہے اس روایت کی ضرورت کیا ہے؟ حلال و حرام تو قرانی اور توریت کی آیات پر استنباط کرنے سے معلوم ہو گئے ہیں

موطا کی روایت ہے

أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَزْرَقِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنَّا رَكْبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا ” أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحَلالُ مَيْتَتُهُ ” , قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ مَاءُ الْبَحْرِ طَهُورٌ كَغَيْرِهِ مِنَ الْمِيَاهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَالْعَامَّةِ

سعيد بن سلمة المدني صاحب حديث: هو الطهور ماؤه کو الذھبی نے میزان میں صدوق کہا ہے اور نسائی نے ثقہ لیکن کسی اور محدث نے اس پر کوئی رائے نہیں دی ہے

دارقطنی نے علل میں  اس کی اسناد جمع کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسناد میں اضطراب ہے

مشکل آثار میں طحاوی نے اس کی اسناد جمع کی ہیں پھر کہا

وَكَانَ هَذَا الْحَدِيثُ مِمَّا قَدِ اضْطَرَبَ عَلَيْنَا إِسْنَادُهُ الِاضْطِرَابَ الَّذِي لَا يَصْلُحُ مَعَهُ الِاحْتِجَاجُ بِمِثْلِهِ

اور اس حدیث میں اسناد میں اضطراب ہے جس سے دلیل نہیں لی جا سکتی

طحاوی ایک روایت پیش کرتے ہیں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: ” إِنَّ السَّمَكَةَ الطَّافِيَةَ حَلَالٌ لِمَنْ أَرَادَ أَكْلَهَا

ابن عباس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ ابو بکر رضی الله عنہ نے کہا کہ تازہ مچھلی حلال ہے جو کھانا چاہے

اور روایت دی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: ” لَيْسَ فِي الْبَحْرِ شَيْءٌ إِلَّا قَدْ ذَبَحَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكُمْ “

ابن عمر نے کہا میں  نے ابو بکر سے سنا کہ سمندر میں کوئی چیز ایسی نہیں جس کو الله تمہارے لئے ذبح نہ کرے

ابن عبدالبر نے [جامع بیان العلم،۲؍۳۳] میں اس حدیث کو روایت کیا ہے.
إذَا جَائَ کُمْ عَنِّیْ حَدِیْثٌ فَأَعْرِضُوہُ عَلَی کِتَابِ اللّٰہِ فَمَا وَافَقَ فَخُذُوْہُ وَمَا خَالَفَ فَاتْرُکُوْہُ۔
جب تمہارے پاس میری کوئی حدیث پہنچے تو اسے قرآن پر پیش کیا کرو۔ جو اس کے مطابق ہو اسے قبول کرلو اور جو مخالف ہو اسے چھوڑ دو۔
الأصول لِلْبَزْدَوِی میں کسی بھی حدیث کے صحیح ہونے کا یہ قاعدہ بتایا گیا ہے.
قاَلَ النَّبِیُّ ﷺ تَکْثُرُ لَکُمُ الْاَحَادِیْثُ مِنْ بَعْدِیْ فَإِذَا رُوِیَ لَکُمْ عَنِّیْ حَدِیْثٌ فَأَعْرِضُوْہُ عَلَی کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی ، فَمَا وَافَقَ کِتَابَ اللّٰہِ تَعَالٰی فَاقْبَلُوہُ وَمَا خَالَفَہُ فَرَدُّوْہُ۔
٭۔ تمہارے سامنے میرے بعد بکثرت احادیث روایت کی جائیں گی تو انہیں کتاب اللہ پر پیش کرنا جو اس کے موافق ہو اسے لے لینا او رجو مخالف ہو اسے ترک کردینا۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی اس کی کیا حیثیت ہے ۔۔ کیا یہ صحیح ہے

جواب

اس کتاب جامع بیان العلم میں جس کا اپ نے حوالہ دیا ہے اس میں اس قول پر جرح ہے
قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ: ” الزَّنَادِقَةُ وَالْخَوَارِجُ وَضَعُوا ذَلِكَ الْحَدِيثَ، يَعْنِي مَا رُوِيَ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَا أَتَاكُمْ عَنِّي فَاعْرِضُوهُ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ وَافَقَ كِتَابَ اللَّهِ فَأَنَا قُلْتُهُ وَإِنْ خَالَفَ كِتَابَ اللَّهِ فَلَمْ أَقُلْهُ أَنَا، وَكَيْفَ أُخَالِفُ كِتَابَ اللَّهِ، وَبِهِ هَدَانِي اللَّهُ» وَهَذِهِ الْأَلْفَاظُ لَا تَصِحُّ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ
عبد الرحمان بن مہدی نے کہا کہ زنادقه اور خوارج نے اس روایت کو گھڑا یعنی جو نبی صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی گئی ہے کہ جو میں دوں اس کو کتاب الله پر پیش کرو اگر اس کے موافق ہو تو میں نے اس کو کہا ہے اور میں کیسے کتاب الله کی مخالفت کر سکتا ہوں اور الله نے اس سے ہدایت دی ہے .. اور یہ الفاظ اہل علم کے نزدیک نبی صلی الله علیہ وسلم سے صحیح نہیں ہیں
——-

دوسری روایت کا حوالہ امام الشافعی نے اپنی کتاب الام میں دیا ہے اور تنقید کی ہے
قَالَ فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ «مَا جَاءَكُمْ عَنِّي فَاعْرِضُوهُ عَلَى الْقُرْآنِ فَإِنْ وَافَقَهُ، فَأَنَا قُلْته وَإِنْ خَالَفَهُ فَلَمْ أَقُلْهُ» فَقُلْت لَهُ فَهَذَا غَيْرُ مَعْرُوفٍ عِنْدَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَالْمَعْرُوفُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – عِنْدَنَا خِلَافُ هَذَا وَلَيْسَ يُعْرَفُ مَا أَرَادَ خَاصًّا وَعَامًّا وَفَرْضًا وَأَدَبًا وَنَاسِخًا وَمَنْسُوخًا إلَّا بِسُنَّتِهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
کہتے ہیں پہنچا ہے کہ رسول الله نے فرمایا میری طرف سے تم تک جو پہنچے اس کو قرآن پر پیش کرو اگر موافق ہو تو میں نے کہا ہے اگر اگر مخالف تو میں نے نہیں کہا لیکن یہ قول نبوی غیر معروف ہے ہمارے نزدیک اور جو معروف ہے رسول الله کی طرف سے وہ اس کے خلاف ہے اور خاص و عام اور فرض اور نسخ و منسوخ کا پتا نہیں چلتا سوائے سنت رسول سے

علی بن محمد بن عبد الكريم بن موسى البزدوی المتوفی ٤٨٢ ھ نے اس حدیث کو اصول الفقہ مشہور اصول البزدوی میں لکھا ہے لیکن یہ ان کی غلطی ہے کیونکہ یہ روایت محدثین کے نزدیک اور امام شافعی کے نزدیک صحیح نہیں ہے

خوارج قرآن میں ناسخ و منسوخ کو نہیں مانتے لہذا ان کی کتاب مسند الربيع بن حبيب بن عمر الأزدي البصري (المتوفى حوالي سنة: 170هـ) میں اس کی سند ہے
أَبُو عُبَيْدَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيءِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّكُمْ سَتَخْتَلِفُونَ مِنْ بَعْدِي فَمَا جَاءَكُمْ عَنِّي فَاعْرِضُوهُ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ فَمَا وَافَقَهُ فَعَنِّي وَمَا خَالَفَهُ فَلَيْسَ عَنِّي
اہل سنت کے نزدیک جابر بن زید کا نام لے کر خوارج نے روایات گھڑی ہیں

قال السّخاوي: وقد سئل شيخنا عن هذا الحديث فقال: إنّه جاء من طرق لا تخلو من مقال
سخاوی نے کہا میں نے ابن حجر سے اس روایت کے بارے میں پوچھا تو کہا اس کے تمام طرق میں کلام ہے

كتاب المدخل میں بیہقی نے اس کے طرق جمع کیے ہیں

جواب

موسی والی روایت کے متن میں ابہام ہے

اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت ِ صحت میں فرماتے تھے: ’’ہر نبی اپنی موت سے پہلے جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے۔ پھر اسے دنیا اور آخر کے بارے میں اختیار دیا جاتا ہے (کہ آپ دنیا میں دائمی زندگی کو پسند کرتے ہیں یا آخرت کی زندگی)۔ اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر میری ران پر تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہو گئی۔ افاقہ ہوا تو اپنی نظر چھت کی طرف اٹھائی پھر کہا: ’’اَللّٰھُمَّ الرَّفِیْقَ اللاعلیٰ‘‘ ’’میں رفیق اعلی اللہ تعالیٰ کی رفاقت چاہتا ہوں‘‘۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں رہنا پسند نہیں کریں گے‘‘۔ وہ کہتی ہیں: میں نے سمجھ لیا کہ صحتمندی کی حالت میں جو حدیث بیان کرتے تھے، یہ حالت اس کی تعبیر ہے۔ (متفق علیہ)۔

جب ہر نبی پر ملک الموت اسی وقت بھیجا جاتا جب اس کو اختیار دے دیا جاتا ہے کہ دنیا کو لے یا آخرت کو تو اس میں موسی علیہ السلام کے ساتھ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انہوں نے آخرت کی بجآنے دینا کی زندگی کو پسند کیا ہو؟

کہا گیا کہ موسی نے ملک الموت کو پہچانا نہیں گھر میں دیکھا مارا اس سے پہلے کہ فرشتہ کچھ بول پاتا

: الأسماء والصفات للبيهقي
المؤلف: أحمد بن الحسين بن علي بن موسى الخُسْرَوْجِردي الخراساني، أبو بكر البيهقي (المتوفى: 458هـ)

وَأَمَرَهُ بِالتَّعَرُّضِ لَهُ عَلَى سَبِيلِ الِامْتِحَانِ فِي صُورَةِ بَشَرٍ، فَلَمَّا رَآهُ مُوسَى اسْتَنْكَرَ شَأْنَهُ، وَاسْتَوْعَرَ مَكَانَهُ، فَاحْتَجَرَ مِنْهُ دَفْعًا عَنْ نَفْسِهِ بِمَا كَانَ مِنْ صَكِّهِ إِيَّاهُ، فَأَتَى ذَلِكَ عَلَى عَيْنِهِ الَّتِي رُكِّبَتْ فِي الصُّورَةِ الْبَشَرِّيَّةِ الَّتِي جَاءَهُ فِيهَا دُونَ الصُّورَةِ الْمَلَكِيَّةِ الَّتِي هُوَ مَجْبُولُ الْخِلْقَةِ عَلَيْهَا،

شرح السنہ از بغوی
وَأَمَرَهُ بِالتَّعَرُّضِ لَهُ عَلَى سَبِيلِ الامْتِحَانِ فِي صُورَةِ بَشَرٍ، فَلَمَّا رَآهُ مُوسَى اسْتَنْكَرَ شَأْنَهُ، وَاسْتَوْعَرَ مَكَانَهُ، فَاحْتَجَزَ مِنْهُ دَفْعًا عَنْ نَفْسِهِ، بِمَا كَانَ مِنْ صَكِّهِ إِيَّاهُ، فَأَتَى ذَلِكَ عَلَى عَيْنِهِ الَّتِي رُكِّبَتْ فِي الصُّورَةِ الْبَشَرِيَّةِ الَّتِي جَاءَهُ فِيهَا، دُونَ صُورَةِ الْمَلَكِيَّةِ الَّتِي هُوَ مَجْبُولٌ عَلَيْهَا،

ان تاویلات میں جان نہیں ہے کیونکہ کسی روایت میں نہیں کہ یہ واقعہ گھر میں یا خلوت گاہ میں پیش آیا
یہ تاویل بعید ہے اگر ایسا ہے تو جنگ بدر و احد میں فرشتے مشرکین کے ہاتھوں زخمی ہوتے اور ان کا خون بہتا

قَالَ اِبْنُ خُزَيْمَةَ: أَنْكَرَ بَعْضُ الْمُبْتَدَعَةِ هَذَا الْحَدِيثَ , وَقَالُوا: إِنْ كَانَ مُوسَى عَرَفَهُ , فَقَدْ اِسْتَخَفَّ بِهِ، وَإِنْ كَانَ لَمْ يَعْرِفْهُ فَكَيْفَ لَمْ يُقْتَصَّ لَهُ مِنْ فَقْءِ عَيْنِهِ؟ , وَالْجَوَابُ: أَنَّ اللهَ لَمْ يَبْعَثْ مَلَكَ الْمَوْتِ لِمُوسَى وَهُوَ يُرِيدُ قَبْضَ رُوحِهِ حِينَئِذٍ، وَإِنَّمَا بَعَثَهُ إِلَيْهِ اِخْتِبَارًا , وَإِنَّمَا لَطَمَ مُوسَى مَلَكَ الْمَوْتِ لِأَنَّهُ رَأَى آدَمِيًّا دَخَلَ دَارَهُ بِغَيْرِ إِذْنِهِ , وَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّهُ مَلَكُ الْمَوْتِ، وَقَدْ أَبَاحَ الشَّارِعُ فَقْءَ عَيْنِ النَّاظِرِ فِي دَارِ الْمُسْلِمِ بِغَيْرِ إِذْنٍ
ابن خزیمہ کہتے ہیں : بعض بدعتییوں نے اس روایت کا انکار کیا اور کہا اگر موسی جانتے تو ہونے دیتے اور اگر نہیں پہچان سکے تو کیسے آنکھ نکالی؟ اور جواب ہے کہ الله تعالی نے تو اس لئے نہیں فرشتے کو بھیجا تھا کہ وہ ان کی اس وقت روح قبض کرے بلکہ ان کو اختیار بتانے کے لئے بھیجا تھا اور موسی نے ملک الموت کو تھپڑ مارا کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ آدمی بلا اجازت گھر میں داخل ہو گیا ہے ان کے اذن کے بغیر اور وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ ملک الموت ہے اور شارع نے یہ مباح کیا ہے دار مسلم میں بغیر اجازت دیکھنے والے کی آنکھ پھوڑ دی جائے

راقم کو اس روایت کے متن میں نہیں ملا کہ یہ گھر میں واقعہ پیش آیا ہو لہذا ابن خزیمہ کی تاویل دور کی کوڑی ہے
صحیح مسلم میں ہے
جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ. فَقَالَ لَهُ: أَجِبْ رَبَّكَ قَالَ فَلَطَمَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا
ملک الموت موسی کے پاس پہنچا اور کہا اپنے رب کو جواب دو- پس موسی نے تھپڑ مارا اور ملک الموت کی آنکھ نکل آئی

یھاں پر واضح ہے کہ اپنے رب کو جواب دو سے موسی سمجھ گئے ہوں گے کہ کیا کہا جا رہا ہے

اس روایت کو ابو ہریرہ سے یہ لوگ نقل کرتے ہیں
اول ھمام بن منبہ
دوم عمار بن ابی عمار
سوم أبي يونس سُليم ابن جبير
چہارم طاووس بن كيسان
———–

یہ روایت هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهِ بْنِ كَامِلِ بْنِ سَيْجٍ الصَّنْعَانِيِّ کی سند سے ہے جو یمنی تھے اور ١٤٠ احادیث ابو ہریرہ سے انہوں نے روایت کی ہیں
ان کی روایات کا محور موسی علیہ السلام ہوتے ہیں اور ان کے غیر معروف فضائل بیان کرتے ہیں
جو باقی اصحاب رسول بیان نہیں کرتے

هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهِ بْنِ كَامِلِ بْنِ سَيْجٍ الصَّنْعَانِيِّ ایک مسٹری مین ہیں ان کے بارے میں ہے کہ انہوں نے صرف تین لوگوں کو روایات سنائی ہیں
امام بخاری نے اس کو مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کی سند سے روایت کیا ہے إس میں معمر بن راشد ہیں جو مدلس ہیں لیکن محدثین کی ایک جماعت ان کی ہمام بن منبہ والی روایات قبول کرتی ہے – ہمام بن منبہ یمن سے مدینہ پہنچے اور ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے ١٤٠ روایات لیں ان میں اپنی باتیں بھی شامل کر دیں اور ان کا نسخہ بقول امام احمد اسی وجہ سے معدوم ہوا کہ لوگ یہ تمیز ہی نہیں کر پائے کیا قول نبی اور کیا ان کا اپنا قول ہے – ہمام سوڈان گئے وہاں معمر بن راشد ملے اور ان کو روایت سنائیں اس کے بعد حجاز میں ابن زبیر رضی الله عنہ کی فوج نے ہمام کو پکڑا اور یہ عباسیوں کے خروج تک زندہ تھے سن ١٣٢ هجري میں فوت ہوئے – الذھبی کے مطابق ممکن ہے سو سال انکی زندگی ہو لیکن اس دوران انہوں نے بہت کم لوگوں کو روایات سنائی ہیں ان سے صرف ان کے بھائی وھب بن منبہ صَاحِبُ القَصَصِ ، ان کے بھتیجے عَقِيْلُ بنُ مَعْقِلٍ اور معمر بن راشد اور ایک یمنی عَلِيُّ بنُ الحَسَنِ بنِ أَنَسٍ الصَّنْعَانِيُّ روایت کرتے ہیں – الذھبی سیر الآعلام النبلاء میں کہتے ہیں وَمَا رَأَينَا مَنْ رَوَى الصَّحِيْفَةَ عَنْ هَمَّامٍ إِلاَّ مَعْمَرٌ اور ہم نہیں دیکھتے کہ اس الصَّحِيْفَةَ کو ہمام سے کوئی روایت کرتا ہو سوائے معمر کے- امام احمد کے مطابق معمر نے یہ صحیفہ سوڈان میں سنا- معمر خود کوفی ہیں وہاں سے یمن گئے اور پھر سوڈان – سوڈان علم حدیث کے لئے کوئی مشھور مقام نہ تھا – خود معمر روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہ سختی سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کی کوئی ایک روایت کو رد کرتے
—–

ابو یونس کی سند میں مسند احمد میں ہے کہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، [قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ] : قَالَ أَبِي: ” لَمْ يَرْفَعْهُ
احمد نے کہا ابو ہریرہ نے اس کو مرفوع نہیں کیا
یعنی یہ تمام روایت ابو ہریرہ کا قول ہے حدیث نہیں ہے

کتاب سیر الآعلام النبلاء از الذھبی کے مطابق
وَقَالَ أَبُو زُرْعَةَ: لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ابو زرعہ کہتے ہیں سليم بن جبير ابو یونس نے ابو ہریرہ سے نہیں سنا
یعنی یہ منقطع سند ہے
—–
اس کی ایک سند
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سے بھی ہے
یہ صحیح بخاری میں ہے

طاووس بن كيسان کے لئے الكرابيسي کہتے ہیں اس نے عکرمہ سے لیا ہے اور ابن عباس سے ارسال کیا ہے
طاووس بن كيسان کا سماع ابن عباس سے نہیں جبکہ یہ مکہ کے ہیں
لیکن ابو ہریرہ سے ہے جو ابن عباس سے بھی پہلے معاویہ کی خلافت میں مدینہ میں فوت ہوئے؟
ابو ہریرہ المتوفی ٥٧ کے اس پاس وفات پانے والی ام المومنین عائشہ رضی الله عنہا المتوفی ٥٧ سے بھی اس کا سماع نہیں ہے
بعض مورخین کے مطابق عائشہ اور ابو ہریرہ کی ایک سال وفات ہوئی سن ٥٧ میں
یہاں تک کہ هِشام بْن عُروَة کے حوالے سے یہ سن وفات امام بخاری نے تاریخ الکبیر میں بھی لکھا ہے
عَنْ هِشام بْن عُروَة، قَالَ: مات أَبو هُرَيرةَ، وعَائِشَة، رَضِيَ الله عَنْهُمَا، سَنَة سبع وخمسين
تعريف اهل التقديس بمراتب الموصوفين بالتدليس از ابن حجر کے مطابق
ثم كان بعد ذلك يرسل عن بن عباس وروى عن عائشة فقال بن معين لا أراه سمع منها وقال أبو داود لا أعلمه سمع منها
یہ ابن عباس سے ارسال کرتے ہیں اور عائشہ سے روایت کرتے ہیں ابن معین کہتے ہیں میں نہیں دیکھتا ان کا عائشہ سے سماع ہوا ہو اور ابو داؤد نے کہا ہم کو ان کے سماع کا علم نہیں ہے

——-
اس کی ایک سند عمار سے بھی ہے
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، وَيُونُسُ، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِى عَمَّارٍ، عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم، قَالَ يُونُسُ: رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم
لیکن عمار ایک ضعیف راوی ہے
حماد بن سلمہ مختلط ہے
یہ مسند احمد میں ہے اس میں ہے
“كان ملك الموت يأتي الناس عِياناً
ملک الموت لوگوں کے پاس ظاہری اتے ہیں
لہذا
اس کو منکر کہا جاتا ہے
شعيب الأرنؤوط کہتے ہیں
رجاله رجال الصحيح، وفي أوله نكارة، وهي قوله: “كان ملك الموت يأتي الناس عِياناً”، وهذه اللفظة تفرد بها عمار بن أبي عمار، وعنه حماد بن سلمة، ولكل منهما بعض المناكير، ثم إن الحديث قد اختُلِفَ في رفعه ووقفه،
اس کے رجال صحیح کے ہیں لیکن اس میں شروع میں نکارت ہے کہ وہ یہ قول ہے کہ ملک الموت ظاہری اتے ہیں اور ان الفاظ میں عمار کا تفرد ہے اور ان سے حماد نے روایت کیا ہے اور اس سب میں یہ منکر میں سے ہے پھر اس میں بھی اختلاف ہے کہ یہ مرفوع ہے یا نہیں

=====================

Legends of the Jews
BY LOUIS GINZBERG
کے مطابق جب سمائیل فرشتہ کو بھیجا گیا کہ جا کر موسی کو وفات دے تو موسی نے تقریر کی اور مرنے سے انکار کر دیا
Moses: “Dost thou not know that I am the son of Amram, that came circumcised out of my mother’s womb, that at the age of three days not only walked, but even talked with my parents, that took no milk from my mother until she received her pay from Pharaoh’s daughter? When I was three months old, my wisdom was so great that I made prophecies and said, ‘I shall hereafter from God’s right hand receive the Torah.’ At the age of six months I entered Pharaoh’s palace and took off the crown from his head. When I was eighty years old, I brought the ten plagues upon Pharaoh and the Egyptians, slew their guardian angel, and led the sixty myriads of Israel out of Egypt. I then clove the sea into twelve parts, led Israel through the midst of them, and drowned the Egyptians in the same, and it was not thou that took their souls, but I. It was I, too, that turned the bitter water into sweet, that mounted into heaven, and there spoke face to face with God! I hewed out two tables of stone, upon which God at my request wrote the Torah. One hundred and twenty days and as many nights did I dwell in heaven, where I dwelled under the Throne of Glory; like an angel during all this time I ate no bread and drank no water. I conquered the inhabitants of heaven, made known there secrets to mankind, received the Torah from God’s right hand, and at His command wrote six hundred and thirteen commandments, which I then taught to Israel. I furthermore waged war against the heroes of Sihon and Og, that had been created before the flood and were so tall that the waters of the flood did not even reach their ankles. In battle with them I bade sun and moon to stand still, and with my staff slew the two heroes. Where, perchance, is there in the world a mortal who could do all this? How darest thou, wicked one, presume to wish to seize my pure soul that was given me in holiness and purity by the Lord of holiness and purity? Thou hast no power to sit where I sit, or to stand where I stand. Get thee hence, I will not give thee my soul.”

فرشتہ واپس الله کے پاس گیا اور خبر دی کہ یہ بندہ مرنا نہیں چاہتا- الله نے حکم کیا کہ واپس جاو روح قبض کرو- سمائیل واپس گیا لیکن اس بار
Samael now drew his sword out of its sheath and in a towering fury betook himself to Moses, saying, “Either I shall kill him or he shall kill me.” When Moses perceived him he arose in anger, and with his staff in his hand, upon which was engraved the Ineffable Name, set about to drive Samael away. Samael fled in fear, but Moses pursued him, and when he reached him, he struck him with his staff, blinded him with the radiance of his face, and then let him run on, covered with shame and confusion. He was not far from killing him, but a voice resounded from heaven and said, “Let him live, Moses, for the world is in need of him,” so Moses had to content himself with Samael’s chastisement.
سمائیل نے اپنی تلوار نکالی اور غصے سے موسی کی طرف پڑھا کہتا ہوا یا تو یہ مرے گا یا میں- جب موسی نے اس کو محسوس کیا وہ غصے میں کھڑے ہوئے اور عصا لیا جس پر اسم اعظم کدا ہوا تھا انہوں نے سمائیل کو اپنے نور الوجہہ سے اندھا کر دیا اور فرشتہ بھاگا موسی اس کو قتل ہی کر دیتے کہ الله نے پکارا اس کو چھوڑ دو دنیا کو اس کی ضرورت ہے

http://www.answering-islam.org/Books/Legends/v3_7.htm
——
معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی اسرائیلی روایت تھی جو اغلبا کعب الاحبار سے آئی ہو گی اور ابو ہریرہ رضی الله عنہ نے اس کو بیان کیا تو لوگ سمجھے یہ حدیث نبوی ہے

کتاب التمييز( ص /175 ) کے مطابق امام مسلم نے بسر بن سعيد کا قول بیان کیا
حَدثنَا عبد الله بن عبد الرَّحْمَن الدَّارمِيّ ثَنَا مَرْوَان الدِّمَشْقِي عَن اللَّيْث بن سعد حَدثنِي بكير بن الاشج قَالَ قَالَ لنا بسر بن سعيد اتَّقوا الله وتحفظوا من الحَدِيث فوَاللَّه لقد رَأَيْتنَا نجالس أَبَا هُرَيْرَة فَيحدث عَن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَن كَعْب وَحَدِيث كَعْب عَن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم
بكير بن الاشج نے کہا ہم سے بسر بن سعيد نے کہا : الله سے ڈرو اور حدیث میں حفاظت کرو – الله کی قسم ! ہم دیکھتے ابو ہریرہ کی مجالس میں کہ وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتے اور وہ (باتیں) کعب ( کی ہوتیں) اور ہم سے کعب الاحبار ( کے اقوال) کو روایت کرتے جو حدیثیں رسول الله سے ہوتیں

صحیح مسلم میں ہے
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ أَلَا يُعْجِبُکَ أَبُو هُرَيْرَةَ جَائَ فَجَلَسَ إِلَی جَنْبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِکَ وَکُنْتُ أُسَبِّحُ فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي وَلَوْ أَدْرَکْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ کَسَرْدِکُمْ

حرملہ بن یحیی تجیبی ابن وہب، یونس ابن شہاب عروہ بن زبیر عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ کیا تم ابوہریرہ (رض) پر تعجب نہیں کرتے وہ آئے اور میرے حجرہ کے ایک طرف بیٹھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرنے لگے اور میں سن رہی تھی اور میں تسبیح کر رہی تھی اور میری تسبیح پوری ہونے سے پہلے ہی وہ اٹھ کر چلے گئے اور اگر میں ان کو پا لیتی تو تردید کرتی کہ رسول اللہ تمہاری طرح احادیث کی فہرستیں نہیں بیان کرتے تھے جس طرح تم
فہرستیں بیان کرتے ہو

یعنی ابو ہریرہ رضی الله عنہ ایک کے بعد ایک حدیث سناتے چلے جاتے کہ گویا ہو فہرست ہو – اس میں ان کا کلام بھی شامل ہوا جیسا امام مسلم نے التمییز میں بیان کیا ہے

صحیح بخاری ٣٥٦٨ میں البتہ امام بخاری نے نام غائب کر دیا ہے جو علمی خیانت ہے
وَقَالَ اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «أَلاَ يُعْجِبُكَ أَبُو فُلاَنٍ، جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ حُجْرَتِي، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُسْمِعُنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أُسَبِّحُ فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي، وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ»
یہاں ابو فلاں کون ہے ؟ ابو ہریرہ رضی الله عنہ ہیں

تاریخ دمشق میں ہے

قال بسر بن سعيد: كان يقوم فينا أبو هريرة فيقول: سمعت النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول كذا وكذا، سمعت كعباً يقول كذا. فعمد الناس إلى ما روى عن كعب فجعلوه عن النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وبعض ما روي عن النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فجعلوه عن كعب فمن ثم أنفي حديث أبي هريرة. قال ابن لهيعة: هو من الناس ليس من أبي هريرة. قال إبراهيم النخعي: ما كانوا يأخذون من حديث أبي هريرة إلا ما كان من حديث جنة أو نار. وقال إبراهيم: ما كانوا يأخذون بكل حديث أبي هريرة. وقال شعبة: كان أبو هريرة يدلس. قالوا: وقول إبراهيم النخعي هذا غير مقبول منه.

بسر بن سعید نے کہا ہمارے پاس ابو ہریرہ رکے انہوں نے کہا میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ایسا ایسا سنا- اور کعب الاحبار سے ایسا ایسا سنا- تو لوگوں نے جو ابو ہریرہ نے کعب سے روایت کیا تھا اس کو قول نبی صلی الله علیہ وسلم سمجھ لیا اور بعض احادیث نبوی کو کعب کا قول پھر لوگوں نے ابو ہریرہ کی احادیث کا انکار کیا- ابن لھعیہ نے کہا یہ لوگوں سے ہوا نہ کہ ابو ہریرہ سے – اور ابراہیم النخعی نے کہا ابو ہریرہ صرف وہ حدیث لو جس میں جنت جہنم کا ذکر ہو اور انہوں نے کہا میں ابو ہریرہ کی ہر حدیث نہیں لیتا اور شعبہ نے کہا ابو ہریرہ تدلیس کرتے ہیں اور کہتے ہیں ابراھیم النخعی کا قول غیر مقبول ہوا

راقم کہتا ہے ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی جنت جہنم سے متعلق احادیث کو غور سے دیکھا جائے ان سے راویوں نے بہت سی متضاد روایات منسوب کی ہیں
========
شیعہ علماء کے مطابق یہ روایت صحیح ہے

كتاب: لئالى الاخبار
تأليف: الشيخ محمد نبي بن احمد التوسيركاني
الناشر: انتشارات جيهان
الطبعة: الاولى
جلد اول ص ٩١ پر ہے

في سلوك موسى عليه السلام في دار الدنيا وزهدها فيها، وفي قصة لطمه ملك الموت حين أراد قبض روحه، واحتياله له في قبضها …. وقد كان موسى عليه السلام أشدّ الأنبياء كراهة للموت ، قد روى إنه لم جاء ملك الموت، ليقبض روحه، فلطمه فأعور ، فقال يارب إنك أرسلتني إلى عبد لا يحب الموت، فأوحى الله إليه أن ضع يدك على متن ثور ولك بكل شعرة دارتها يدك سنة ، فقال: ثم ماذا ؟ فقال الموت، فقال الموتة ، فقال أنته إلى أمر ربك.
موسی انبیاء میں موت سے کراہت کرنے میں سب سے متشدد تھے روایت کیا گیا ہے کہ فرشتہ ان کی روح قبض کرنے آیا تو انہوں نے اس کی آنکھ پھوڑ دی

اسی کتاب میں ہے
عن الصادق (ع)، قال: إن ملك الموت أتى موسى بن عمران ، فسلّم عليه، فقال: من أنت ؟ قال: أنا ملك الموت، قال: ما حاجتك ؟ قال له: جئت أقبض روحك من لسانك، قال كيف وقد تكلمت به ربي ؟ قال فمن يدك فقال له موسى: كيف وقد حملت بهما التورية ؟ فقال: من رجليك، فقال له وكيف وقد وطأت بهما طور سيناء ! قال: وعدّ أشياء غير هذا ، قال: فقال له ملك الموت : فإني أمرت أن أتركك حتى تكون أنت الذي تريد ذلك، فمكث موسى ما شاء الله، ثم مرّ برجل وهو يحفر قبراً فقال له موسى: ألا أعينك على حفر هذا القبر؟ فقال له الرجل: بلى. قال: فأعانه حتى حفر القبر ولحد اللحد وأراد الرجل أن يضطجع في اللحد لينظر كيف هو؟ فقال موسى عليه السلام: أنا اضطجع فيه، فاضطجع موسىفرأى مكانه من الجنة، فقال: يا رب اقبضني إليك فقبض ملك الموت روحه ودفته في القبر واستوى عليه التراب قال: وكان الذي يحفر القبر ملك بصورة آدمي ، فلذلك لا يعرف قبر موسى .
امام صادق سے روایت ہے کہ ملک الموت موسی کے پاس آیا سلام کیا پوچھا تو کون ؟ کہا موت کا فرشتہ – کہا کس لئے آئے؟ بولا اپ کی زبان پر روح قبض کرنے موسی نے کہا میں نے تو رب سے کلام کیا ہے .. میرے پاس توریت ہے … میں اس پاؤں سے کوہ طور پر چڑھا …

راقم کہتا ہے یہ بیان
legends of Jews
کا چربہ ہے

نعمت الله الجزائرى سنة 1050 ه کی کتاب الأنوار النعمانية 4 /148 في نور الأجل والموت میں بھی موسی کا فرشتے کی آنکھ نکالنے کا قصہ ہے
http://ia600502.us.archive.org/4/items/89748920389/12746198181.pdf

جواب

صحیح بخاری میں روایت کے متن میں اس کو جسر جہنم کہا گیا ہے لیکن دیگر مرفوع حدیث میں اس کو صراط کہا گیا – امام بخاری نے باب قائم کیا ہے
باب الصِّرَاطُ جِسْرُ جَهَنَّمَ
باب الصِّرَاطُ جہنم کا پل

صحیح ابن حبان کی ایک روایت میں متن میں ہے کہ ابو سعید الخدری نے اس پل کے ذکر میں کہا
: وَعَلَى الصِّرَاطِ ثَلَاثُ شَجَرَاتٍ
الصِّرَاطِ پر تین طرق ہوں گے

ایک روایت ابن ماجہ میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ بْنِ الْعُتْوَارِيِّ، أَحَدِ بَنِي لَيْثٍ، قَالَ: – وَكَانَ فِي حَجْرِ أَبِي سَعِيدٍ – قَالَ: سَمِعْتُهُ يَعْنِي أَبَا سَعِيدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: “يُوضَعُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ جَهَنَّمَ، عَلَى حَسَكٍ كَحَسَكِ السَّعْدَانِ، ثُمَّ يَسْتَجِيزُ النَّاسُ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ، وَمَخْدُوجٌ بِهِ، ثُمَّ نَاجٍ، وَمُحْتَبَسٌ بِهِ، وَمَنْكُوسٌ فِيهَا” , (جة) 4280 [قال الألباني]: صحيح
اس میں اس کو صراط کہا گیا ہے البانی نے صحیح کہا ہے
————–
عرف عام میں پل صراط مشہور ہے

اس کا ذکر روایات میں ان اصحاب رسول سے مروی ہے
مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ – روایت ابو داود میں ہے شعَيب الأرنؤوط کہتے ہیں سند ضعیف ہے سند میں إسماعيل بن يحيى المعافري مجھول ہے یہی سند مسند احمد میں ہے
أَبِي أُمَامَةَ
عَائِشَةُ – مسند احمد میں ہے سند میں إبراهيم بن إسحاق أبو إسحاق بن عيسى الطالقاني ہے جو ابن مبارک سے محدثین کے مطابق غرائب روایت کرتا ہے اس سند میں ابن مبارک ہی ہیں البتہ اس کا متن دیگر صحیح سند سے معلوم ہے
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ – مسند احمد میں ہے اس سند میں المنذر بن مالك العبْدي ہے ابن سعد کا کہنا ہے وليس كل أحد يحتج به. اس کی ہر روایت سے دلیل نہیں لی جا سکتی
جَابِرً بن عبد الله – مسند احمد میں ہے لیکن سند میں أَبُو الزُّبَيْرِ المکی ہے جس کی جابر بن عبد الله سے روایت پر بعض محدثین کو اعتراض ہے
أَبِي ذَرٍّ – مسند احمد میں ہے سند میں دو مدلسین عمرو بن مرثد الرحبي اور عبد الله بن زيد الجرمي ہیں
أَبِي هُرَيْرَةَ – صحیح بخاری میں ہے سند أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ سے شروع ہوتی ہے جو بعض محدثین کے نزدیک سماع نہیں ہے اجازہ ہے
ابْنُ عَبَّاسٍ – مسند احمد میں ہے روایت سندا حسن ہے

الغرض اس کی اسناد اتنی ہیں یعنی اس کا اصل ہے یہ روایت قبول کی جائے گی سندا یہ صحیح و حسن ہیں
اس میں ابن عبّاس یا عائشہ رضی الله عنہما کی روایت کی سند سب سے بہتر لگی ہے
———-

مسند احمد میں ہے کہ ابن عباس نے کہا
حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ: {وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ} [الزمر: 67] فَأَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «هُمْ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ»
عائشہ رضی الله عنہا نے مجھ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا کہ الله کا قول زمین تمام اس کے قبضہ میں ہو گی اور آسمان دائیں پر لپٹے ہوں گے تو اس وقت لوگ کہاں ہوں گے ؟ رسول الله نے فرمایا جہنم کے پل پر

حدیث کے مطابق زمین ایک چپٹی روٹی جیسی ہو گی اور جہنم اس روز لائی جائے گی
وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ ۚ
الفجر

اور جنت آسمان سے الگ ایک وسیع جگہ ہے کیونکہ جنت کا عرض آسمانون اور زمین کے برابر ہے
وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ
أل عمران

يعني تين مقام ہوئے ایک زمین – دوسرا جہنم- تیسری جنت
زمین سے جنت تک جو رستہ ہو گا اس پر یہ پل ہو گا
——-

قرآن میں محشر کے بہت سے منظر ہیں
بعض میں ہے کہ زمرا کی صورت کفار کو جہنم کی طرف بھگایا جائے گا جب جہنم پر پہنچیں گے تو دروازہ بند ہو گا کھولا جائے گا
وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ جَهَنَّمَ زُمَرًا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا –

وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَى جَهَنَّمَ وِرْدًا
اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے
سوره مریم
یہ بڑے کفار ہوں گے
——–
قرآن میں ہے منافق و مومن کو اندھیرا کر کے الگ کیا جائے گا یہاں تک کہ محشر میں اندھیرا ہو جائے گا منافق نور مانگیں گے

يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (12) يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا انْظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِكُمْ قِيلَ ارْجِعُوا وَرَاءَكُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ (13) يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُنْ مَعَكُمْ قَالُوا بَلَى وَلَكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ أَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّى جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ (14) فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْيَةٌ وَلَا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مَأْوَاكُمُ النَّارُ هِيَ مَوْلَاكُمْ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ (15)
——
مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: {يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ} قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: ” عَلَى الصِّرَاطِ
مسروق نے کہا عائشہ نے کہا میں نے رسول اللہ سے سب سے پہلے اس آیت يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ پر سوال کیا پوچھا اس روز لوگ کہاں ہوں گے فرمایا صراط پر
سند صحیح ہے
شعيب الأرنؤوط کہتے ہیں إسناده صحيح على شرط مسلم
اب آخر میں جب مالک الملک تمام آسمانوں کو لپیٹ دے گا اس سے پہلے جو محشر میں رہ جائیں گے ان کو جسر جہنم پر جانے کا حکم ہو گا گویا زمیں و آسمان لپیٹ دیے جائیں گے اور انسان جسر جہنم پر ہوں گے

جب زمین و ساتوں آسمان مالک الملک لپیٹے گا تو ظاہر ہے نہ زمیں میں نہ سات آسمانوں میں کوئی مخلوق باقی نہ رہے گی اور چونکہ اس کو دکھایا جائے گا لہذا اس وقت مخلوق اس کو دیکھے کی جنت والے جنت سے جہنم والے جہنم سے اور جو رہ گئے وہ جسر جہنم پر سے
و الله اعلم
———

نوٹ
جسر جہنم کا ذکر کتب شیعہ میں بھی ہے
کتاب : عيون أخبار الرضا از صدوق
وعن علي بن محمد قال: حدثنا أبو القاسم محمد بن العباس بن موسى بن جعفر العلوي ودارم بن قبيصة النهشلي قالا: حدثنا علي بن موسى الرضا عليه السلام قال: سمعت أبي يحدث، عن أبيه عن جده محمد بن علي، عن علي بن الحسين، عن أبيه ومحمد بن الحنفيه عن علي بن أبي طالب عليه السلام، قال: سمعت رسول الله (ص): يقول تختموا بالعقيق، فانه أول جبل أقر لله تعالى بالوحدانية ولي بالنبوة ولك يا علي بالوصية ولشيعتك بالجنة. 325 – وبهذا الاسناد، قال: قال رسول الله (ص): اكثروا من ذكر هادم اللذات. 326 – وبهذا الاسناد، قال: قال رسول الله (ص): من أذل مؤمنا أو حقره لفقره وقلة ذات يده شهره الله على جسر جهنم يوم القيامة

کتاب وسائل الشيعة ج ٢٠ میں

أبي عمير ، عن أبي بكر الحضرمي ، عن أبي عبدالله ( عليه السلام ) ـ في حديث ـ قال : قال رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) : وان الرجل ليؤتى في حقبه فيحبسه الله على جسر جهنم حتى يفرغ الله من حساب الخلائق ، ثم يؤمر به إلى جهنم فيعذب بطبقاتها طبقة طبقة حتى يرد إلى أسفلها ولا يخرج منها

کتاب وسائل الشيعة ج ٦ میں
وعنه ، عن أبان بن عبد الملك ، عن كرام الخثعميّ ، عن أبي عبد الله ( عليه السلام ) قال : من قرأ ( إذا جاء نصر الله والفتح ) في نافلة أو فريضة نصره الله على جميع أعدائه وجاء يوم القيامة ومعه كتاب ينطق قد أخرجه الله من جوف قبره فيه أمان من جسر جهنّم ومن النار ومن زفير جهنّم ، فلا يمرّ على شيء يوم القيامة إلاّ بشّره وأخبره بكل خير حتىّ يدخل الجنّة ويفتح له في الدنيا من أسباب الخير ما لم يتمنّ ولم يخطر على قلبه.

کتاب مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول – العلامة المجلسي کے مطابق
روى الصدوق في معاني الأخبار بإسناده عن المفضل قال: سألت أبا عبد الله عليه السلام عن الصراط فقال: هو الطريق إلى معرفة الله عز و جل، و هما صراطان صراط في الدنيا و صراط في الآخرة فأما الصراط الذي في الدنيا فهو الإمام المفروض الطاعة، من عرفه في الدنيا و اقتدى بهداه مر على الصراط الذي هو جسر جهنم في الآخرة، و من لم يعرفه في الدنيا زلت قدمه عن الصراط في الآخرة فتردى في نار جهنم، فقوله تعالى:
” فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ”

بحار الانور از مجلسی
القطان عن عبد الرحمن بن
محمد الحسني عن أحمد بن عيسى العجلي عن محمد بن أحمد بن عبد الله العرزمي عن علي بن
حاتم عن المفضل قال: سألت أبا عبد الله عليه السلام عن الصراط فقال: هو الطريق إلى
معرفة الله عزوجل، وهما صراطان: صراط في الدنيا وصراط في الآخرة، فأما الصراط الذي
في الدنيا فهو الامام المفروض الطاعة، من عرفه في الدنيا واقتدى بهداه مر على
الصراط الذي هو جسر جهنم في الآخرة، ومن لم يعرفه في الدنيا زلت قدمه عن الصراط في
الآخرة فتردى في نار جهنم

لیکن عصر حاضر کے شیعہ محققین دھوکہ دیتے ہیں اور اس صراط کی خبر کو ابو ہریرہ کا قول قرار دیتے ہیں

جواب

علوم الحديث ومصطلحه – عرضٌ ودراسة
المؤلف: د. صبحي إبراهيم الصالح (المتوفى: 1407هـ)

أن يكون المروي مخالفًا للعقل أو الحس والمشاهدة، غير قابل للتأويل (2). قِيلَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ: حَدَّثَكَ أَبُوكَ عَنْ جَدِّكَ أَن رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ سَفِينَةَ نُوحٍ طَافَتْ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَصَلَّتْ خَلْفَ المَقَامِ رَكْعَتَيْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ. (3). وواضع هذا الخبر، عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، مشهور بكذبه وافترائه، ففي ” التهذيب ” نقلاً عن
الإمام الشافعي: «ذَكَرَ رَجُلٌ لِمَالِكٍ حَدِيثًا، مُنْقَطِعًا، فَقَالَ: اذْهَبْ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ يُحَدِّثْكَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نُوحٍ!

اگر حدیث خلاف عقل ہو تو رد ہو گی اس کی مثال ہے کہ عبد الرحمان بن زید نے اپنے باپ سے پھر دادا سے روایت کیا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ نوح کی کشتی نے کعبہ کا طواف کیا
—-
کتاب الموضوعات کے مقدمہ میں ابن جوزی نے کہا
أَلا ترى أَنه لَو اجْتمع خلق من الثِّقَات فَأخْبرُوا أَن الْجمل قد دخل فِي سم الْخياط لما نفعننا ثقتهم وَلَا أثرت فِي خبرهم، لأَنهم أخبروا بمستحيل، فَكل حَدِيث رَأَيْته يُخَالف الْمَعْقُول، أَو يُنَاقض الْأُصُول، فَاعْلَم أَنه مَوْضُوع فَلَا تتكلف اعْتِبَاره.
کیا تم دیکھتے نہیں کہ اگر مخلوق کے تمام ثقات جمع ہوں اور خبر دیں کہ اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر گیا تو ان کی ثقاہت کا کوئی فائدہ ہم کو اس خبر سے نہیں کیونکہ انہوں نے وہ خبر دی جو ممکن نہیں – پس ہر وہ حدیث جو عقل والے کی مخالفت کرے اور اصول (عقائد) سے متصادم ہو تو جان لو وہ گھڑی ہوئی ہے پس اس کے اعتبار کی تکلیف نہ کرو
ابن جوزی نے مزید کہا
وَاعْلَم أَنه قد يجِئ فِي كتَابنَا هَذَا من الْأَحَادِيث مَا لَا يشك فِي وَضعه، غير أَنه لَا يتَعَيَّن لنا الْوَاضِع من الروَاة، وَقد يتَّفق رجال الحَدِيث كلهم ثقاة والْحَدِيث مَوْضُوع أَو مقلوب أَو مُدَلّس، وَهَذَا أشكل الْأُمُور، وَقد تكلمنا فِي هَذَا فِي الْبَاب الْمُتَقَدّم.

اور جان لو کہ اس کتاب میں آئیں گی روایات جن پر کوئی شک نہیں کہ وہ گھڑی ہوئی ہیں لیکن اس میں یہ تعین نہیں کیا جا سکتا کہ کس راوی نے گھڑی ہے اور اس میں اتفاق بھی ہو گا کہ تمام رجال ثقہ ہیں جبکہ یہ حدیث یا تو گھڑی ہوئی ہے یا مقلوب ہے یا تدلیس ہے اور یہ مشکل کاموں میں ہے

: الوسيط في علوم ومصطلح الحديث
المؤلف: محمد بن محمد بن سويلم أبو شُهبة (المتوفى: 1403هـ) میں ہے
قال الإمام ابن الجوزي: “ما أحسن قول القائل: كل حديث رأيته تخالفه العقول وتباينه النقول وتناقضه الأصول فاعلم أنه موضوع
امام ابن جوزی نے کہا کتنا اچھا ہے یہ قائل کا قول کہ ہر حدیث جو دیکھو عقلوں کی مخالف ہو اور نقلا بیان کی اور اصول سے متصادم ہو تو جان لو یہ گھڑی ہوئی ہے

اسی کتاب میں ابن جوزی نے کہا
وَاعْلَم أَن حَدِيث الْمُنكر يقشعر لَهُ جلد طَالب الْعلم مِنْهُ
اور جان لو کہ حدیث منکر سنتے ہی طالب علم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں

گویا علم حدیث کا دارومدار صرف سند اور رجال ہی نہیں اس کا متن بھی ہے

غیر مقلدین اور وہابی علماء کا ایک گروپ کہتے ہیں کہ اگر راوی ثقہ ہوں تو روایت آٹومیٹک صحیح ہوتی ہے اس طرح یہ سلف کے منہج پر نہیں اپنے ہی کسی خود ساختہ منہج پر ہیں
اصل میں ابن جوزی کا یہ ذکر نہیں کرتے کیونکہ ابن جوزی اسماء و صفات میں وہابییوں سے الگ عقیدہ رکھتے ہیں اور علم حدیث میں بھی ابن جوزی کی آراء کو نہیں لیتے

——–

معتزلہ عقل نہیں فلسفہ کو مقدم رکھتے تھے – عقل الگ چیز ہے ہر انسان میں ہے فلسفہ ہر انسان کو نہیں اتا
اس کی شقیں ہیں
افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے معتزلہ کی کتب کی تاریخی دستاویز کے طور پر حفاظت نہیں کی- لہذا ان کے دلائل ان کی کتب سے معلوم نہیں ہیں بلکہ مخالفین کی کتب میں سرسری تبصروں سے ان کے بارے میں پتا چلا ہے

* انس بن مالک ر۔ع۔ فرماتے ہیں کہ محمدﷺ اپنی سب بیویوں کے پاس ایک گھنٹے کےاندر دورہ فرما لیا کرتے تھے اور وہ گیارہ تھیں۔ (کتاب الغسل میں امام بخاری کے نام سے اس حدیث کا عنوان لکھا گیا ہے “ایک ہی غسل سے جماع کےبعد جماع تمام بیویوں کے ساتھ کرنا” صفحہ ٩٨١، صحیح بخاری، جلد دوم۔)۔۔۔۔بھائی اس کی تحقیق چاہئے

جواب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الوَاحِدَةِ، مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ»

——–
اس کی سند میں معاذ بن هشام الدستوائي ہے جو بعض محدثین کے نزدیک حجت نہیں
قال ابن معين وليس بحجة وقال غيره له غرائب
ابن معین نے کہا اس سے دلیل مت لو اور دوسرے محدثین نے کہا عجیب انوکھی باتیں کرتا ہے

قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ الآجُرِّيُّ: قُلْتُ لأَبِي دَاوُدَ: مُعَاذُ بنُ هِشَامٍ عِنْدَكَ حُجَّةٌ؟
فَقَالَ: أَكْرَهُ أَنْ أَقُوْلَ شَيْئاً، كَانَ يَحْيَى لاَ يَرْضَاهُ.

الاجری نے ابو داود سے پوچھا کہ کیا یہ حجت ہے ؟ ابو داود نے کراہت کی کہ کچھ کہیں اور کہا یحیی اس سے خوش نہ تھے

علی المدینی کہتے ہیں کہ یہ اپنے باپ سے ١٢٠٠٠ روایات بیان کرتا جس پر ہم نے اس کا انکار کیا پھر بصرہ میں اس نے ہم کو بتایا کہ کون سی سنی ہے اور کون سی نہیں سنی
اور زیر بحث روایت کو علی المدینی نے اس سے روایت کیا ہے

وقال ابن أبي خيثمة: سئل يحيى بن معين عن معاذ بن هشام فقال: ليس بذاك القوي.
ابن معین نے اس راوی کو اتنا بھی قوی نہیں قرار دیا ہے
معلوم ہوتا ہے اس راوی پر محدثین کا اختلاف رہا ہے بعض نے اس کو قبول کیا اور بعض نے چھوڑ دیا

اگر صحیح ہے تو وہ معجزہ نبوی ہے ایک عام آدمی کے لئے ہے بھی نہیں تو اس سے باب میں ہم لوگوں کے لئے دلیل نہیں لی جا سکتی لیکن امام بخاری نے لی ہے – ہم کو اس روایت سے کیا فائدہ ہے ؟
اور اصحاب رسول کیا یہ دیکھتے رہتے تھے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کس حجرہ سے نکل کر اب کس حجرہ میں جا رہے رہے جیسا اس میں قول بھی بیان ہوا کہ ہے کہ انس رضی الله عنہ کہتے کہ ہم کہتے ان کو ٣٠ مردوں کی قوت دی گئی ہے
راقم سمجھتا ہے اس روایت میں کچھ غریب باتیں ہیں جیسا ابن معین نے کہا یہ راوی عجائب بیان کرتا ہے

جواب

لَا يَدْخُلِ الْقَبْرَ أَحَدٌ قَارَفَ أَهْلَهُ اللَّيْلَةَ
قبر میں داخل نہ ہو رات جس نے اپنے اہل کے ساتھ ارتکاب کیا ہو

یہ الفاظ مبہم ہیں مسند احمد میں ہے
فَلَمْ يَدْخُلْ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ الْقَبْرَ
پس عثمان قبر میں نہیں اترے
———–
مسند احمد 13383 میں ایک راوی نے کہا
قَالَ سُرَيْجٌ: يَعْنِي ذَنْبًا،
قَالَ سُرَيْجٌ بنُ النُّعْمَانِ بنِ مَرْوَانَ الجَوْهَرِيُّ: يَعْنِي گناہ
یعنی کوئی بھی گناہ اہل کے حوالے سے کیا ہو وہ قبر میں نہ اترے
قرآن سوره الانعام آیت ١١٣ میں ہے
وليقترفوا ما هم مقترفون
اور گناہ کا ارتکاب کریں انہی کی طرح افترا‎‎‎
پردازی کرنے لگیں
امام بخاری نے اس رائے کو ترجیح دی ہے صحیح میں کہا
قَالَ ابْنُ مُبَارَكٍ: قَالَ فُلَيْحٌ: «أُرَاهُ يَعْنِي الذَّنْبَ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: {لِيَقْتَرِفُوا} [الأنعام: 113]: أَيْ لِيَكْتَسِبُوا , (خ) 1342
————
لغوا اس سے مراد مقارفة المرأة: مجامعتها عورت سے جماع کرنا ہے
من قارف: قارب.
* مقارفةء الاثم: ارتكابه … Perpetration of a sin * مقارفة المرأة: مجامعتها … (Sexual Intercourse) with a woman
: معجم لغة الفقهاء
المؤلف: محمد رواس قلعجي – حامد صادق قنيبي
—–
کتاب : شمس العلوم ودواء كلام العرب من الكلوم
المؤلف: نشوان بن سعيد الحميرى اليمني (المتوفى: 573هـ)
میں ہے کہ
حدیث میں ہے
كان النبي عليه السلام يصبح جنبا في شهر رمضان من قرافٍ غير احتلام
یعنی جماع کرنا

ابن حزم نے اس رائے کو ترجیح دی ہے
——–

امام طحاوی مشکل الاثار میں کہتے ہیں
قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: فَابْنَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ هِيَ أُمُّ كُلْثُومٍ، تُوُفِّيَتْ وَكَانَتْ وَفَاتُهَا رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي سَنَةِ تِسْعٍ مِنَ الْهِجْرَةِ
یہ ام کلثوم رضی الله عنہا ہیں جنکی وفات ٩ ہجری میں ہوئی
جبکہ مسند احمد میں ہے
رُقَيَّةَ تھیں یعنی ٢ ہجری میں
===========================================
اسنادی حیثیت

روایت کی سند میں مسائل ہیں

اس کو امام بخاری نے فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کی سند سے روایت کیا ہے
فليح بن سليمان المدني پر جرح ہے
قال ابن معين والنسائي وغيرهما ليس بقوي وقال الدارقطني يختلفون فيه ولا بأس به وقال عباس عن ابن معين فليح وابن عقيل وعاصم بن عبد الله لا يحتج بحديثهم
ابن معين والنسائي کے نزدیک ضعیف ہے اور ابو داود کہتے ہیں لا يحتج بفليح. اس سے دلیل مت لو
ميزان الاعتدال في نقد الرجال میں ہے الساجی کہتے ہیں
كنا نتهمه، لانه كان يتناول من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم.
ہم اس کو الزام دیتے کیونکہ یہ اصحاب رسول کو برا کہتا

دوسرا طرق مسند احمد کا ہے
حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رُقَيَّةَ لَمَّا مَاتَتْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلِ الْقَبْرَ رَجُلٌ قَارَفَ أَهْلَهُ». فَلَمْ يَدْخُلْ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ الْقَبْر.
اس میں حماد بن سلمہ مختلط ہے
احد ائمة المسلمين إلا أنه لما كبر ساء حفظه فلدا تركه البخاري
امام بخاری نے حماد سے کوئی روایت نہیں لی امام مسلم نے لی ہے لیکن اس روایت کو صحیح میں نہیں لکھا

یعنی اس روایت کو مضبوط نہیں کہا جا سکتا

——–

مسند احمد میں ا گیا کہ یہ رقیہ رضی الله عنہا کی وفات اور تدفین پر ہوا تو اگر عثمان رضی الله عنہ نے کچھ ایسا غلط کیا تھا تو دوسری بیٹی ام کلثوم رضی الله عنہا ان سے کیوں بیاہ دی ؟ یہ عقل سلیم کے خلاف ہے

یہ روایت فقہاء نے پسند کی کیونکہ اس میں پہلی بیوی کے لئے مرد کو روکا جا رہا ہے سوره النساء میں ہے
وأن تجمعوا بين الأختين إلا ما قد سلف إن الله كان غفورا رحيما
اور تم دو بہنوں کو جمع نہ کرو

چونکہ ام کلثوم اور رقیہ رضی الله عنہا بہن ہیں تو یہ ثابت کرنے کے لئے کہ مرد کا نکاح پہلی بیوی کی موت پر اس سے ختم ہو جاتا ہے اس روایت کو پیش کیا جاتا ہے
سوره نساء سن ٣ سے ٤ ہجری میں نازل ہوئی

اور رقیہ رضی الله عنہا کی وفات ٢ ہجری میں ہوئی اور اس کے بعد ام کلثوم رضی الله عنہا سے نکاح ہوا یعنی سوره نساء کی آیت کے نازل ہونے سے قبل عثمان رضی الله عنہ اور ام کلثوم رضی الله عنہا کا نکاح ہوا لہذا اس آیت کی شرح اس روایت سے ممکن نہیں ہے

سکی بدعت کی تائید نہ کر رہی ہو دونوں صورتوں میں امام بخاری کے دور میں بدعتی کو کیا سمجھا جاتا تھا کافر یا مسلم؟ امام بخاری کے دور میں رافضیوں کا مسلک کیا تھا اس دور کے رافضی اور آج کے دور کے رافضی کے عقیدہ میں کیا فرق تھا؟؟؟

جواب

بدعت کا لفظ صحیح منہج یا عقیدہ سے الگ ہونے پر استمعال ہوتا تھا – اس میں شیعہ ہو یا رافضی ہو یا قدری ہو یا جھمی یا خارجی ہو یا معتزلی ان سب کو بدعتی سمجھا جاتا تھا اور ظاہر ہے یہ سب اہل قبلہ ہیں ان کو عرف عام میں مسلمانوں میں سے سمجھا جاتا تھا
اب اس میں بدعت مکفرہ یا غیر مکفرہ کی بحث تھی کہ بعض محدثین مثلا امام احمد اور امام بخاری جھمی کو کافر کہتے ہیں-

سؤالات محمد بن عثمان بن أبي شيبة لعلي بن المديني کے مطابق
وَحدثنَا مُحَمَّد بن عُثْمَان قَالَ سَمِعت عليا على الْمِنْبَر يَقُول من زعم أَن الْقُرْآن مَخْلُوق فقد كفر وَمن زعم أَن الله عز وَجل لَا يرى فَهُوَ كَافِر وَمن زعم أَن الله عز وَجل لم يكلم مُوسَى على الحقيقه فَهُوَ كَافِر
محمد بن عثمان نے کہا میں نے منبر پر امام علی المدینی کو کہتے سنا
جس نے دعوی کیا قرآن مخلوق ہے وہ کافر
جس نے دعوی کیا کہ الله کو نہیں دیکھا جا سکتا وہ کافر
جس نے دعوی کیا کہ الله نے فی الحقیقت موسی سے کلام نہ کیا وہ کافر

شیعہ اور خوارج کا عقیدہ ہے کہ محشر میں الله کو نہیں دیکھا جا سکتا – باقی اقوال معتزلہ کے لئے ہیں
علی المدینی کے فتوی کی چوٹ ان فرقوں پر ہے

——
تہذیب التہذیب میں ہے
قال عبد الواحد بن غياث عن ابن مهدي: جلس إلينا أبو جزء على باب أبي عمرو بن العلاء فقال: “أشهد أن الكلبي كافر
ابن مہدی نے کہا کہ أبو جزء نے کہا کہ الکلبی کافر ہے

یعنی محدثین میں سے بعض کے نزدیک یہ راوی ( اہل قبلہ میں سے ہیں مسلمان کہلاتے ہیں لیکن) یہ راوی کافر ہیں
لیکن مورخین و محدثین نے الکلبی کی روایت لکھی ہے – خیال رہے اس سے دلیل لینا ثابت نہیں ہوتا

——-
أبي عبيد الآجري نے ابو داود سے سوال کیا
سألت أبا دَاوُد عَن عَمرو بْن ثَابت فَقَالَ: “كَانَ رَجُلَ سَوءٍ. قال هناد ولم أصلِّ عَلَيْهِ”. قَالَ: “لما مَات النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كفر الناس إلاّ خمسة
میں نے ابو داود سے عمرو بن ثابت ابن أبي المقدام الكوفي کے بارے میں پوچھا کہا برا آدمی ہے هناد بن السّري نے کہا اس کا جنازہ مت پڑھنا یہ کہتا ہے کہ جب النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی وفات ہوئی تو سب کافر ہوئے سوائے پانچ کے

قال عبد الله، عن أبيه: كان يشتم عثمان، ترك ابن المبارك حديثه. «تهذيب التهذيب» 8/ (11) .
احمد نے کہا یہ عثمان (رضی الله عنہ ) کو گالی دیتا تھا ابن مبارک نے اس کی احادیث ترک کر دیں
اور کہتے
لا تحدثوا عن عمرو بن ثابت، فإنه يسب السلف
اس سے روایت نہ کرو سلف کو گالی دیتا ہے

میزان میں الذھبی کے مطابق ابو داود نے اس کو رافضي بھی کہا ہے

راوی عبد الله بن شريك العامري، الكوفي کے لئے ابن حبان لکھتے ہیں
قال ابن حبان: “كان – يعني عبد الله بن شريك – غاليا في التشيع
یہ غالی تھا

لہذا یہ معلوم ہوا کہ رافضی آج کل کا ہو یا امام بخاری کے دور کا ایک ہی جیسے عقیدہ رکھتے تھے- بعض محدثین اس بنا پر روایت ترک کرتے تھے اور بعض لکھتے تھے لیکن لکھنے کا مطلب دلیل لینا نہیں ہوتا

———

اپ نے جو عبارت پیش کی ہے
“اس میں علم حدیث کا اصول تھا کہ بدعتی کی روایت لی جائے گی الا یہ کہ وہ اس کی بدعت کے حق میں ہو اس کو کافر نہیں سمجھا جاتا تھا”
وہ صحیحین کے راویوں کے لئے ہے کہ جو بد عقیدہ ہیں یا بدعتی لیکن ان کو کافر نہیں سمجھا گیا
صحیح بات ہے کہ بدعتی سے روایت لی گئی ہے البتہ صحیح میں اس کی بدعت کی تقویت نہیں ہے

مزید دیکھیں
⇑ صحیح بخاری میں کیا رافضیوں سے روایت لی گئی ہے ؟ جبکہ آج بعض علماء کہتے ہیں رافضی کافر ہیں
http://www.islamic-belief.net/q-a/علم-الحدیث/

========================

نوٹ
خیال رہے کہ فرقہ پرست مثلا اہل حدیث اپنی کتابوں میں آج کل لکھ رہے ہیں کہ بدعتی راوی کی روایت رد کرو کا اصول امام جوزجانی کا تھا جبکہ یہ اصول جوزجانی سے پرانا ہے – محدثین کا کتاب میں روایت لکھنا اس کو قبول کرنا نہیں ہے ، اس کو بیان کرنا ہے – قبول اس وقت تصور ہو گا جب اس کے اوپر عقیدہ کی بنیاد رکھی جائے

اس قسم کا فراڈ ابو جابر دامانوی نے اپنی کتابوں میں دیا ہے جس میں ابن حجر کے قول پر جرح کی جو نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر
میں ہے
نعمْ، الأكثرُ على قَبولِ غيرِ الدَّاعيةِ، إلا أنْ يَروي ما يُقَوِّي بِدْعَتَهُ فَيُرَدُّ، على المذهَبِ المُخْتارِ،
“ہاں یہ بات درست ہے کہ غیر داعی بدعتی کی اکثر نے روایت قبول کی ہے – لیکن اگر وہ روایت کرے جس سے اس کی بدعت کی تقویت ہو تو المذهَبِ المُخْتارِ کی طرف رد ہو گی”

اور یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ صحیح بخاری میں بدعتوں کی روایت موجود ہے جبکہ یہ حماقت ہے کیونکہ کہا یہ گیا ہے کہ اگر بدعتی اپنی بدعت کے حق میں روایت کرے تو رد ہو گی اور ایسا صحیح میں ہے کہ رافضی سے روایت لی گئی ہے اس کی بدعت کی موید روایت نہیں لی گئی

بعض کبار محدثین اس کے بھی خلاف تھے مثلا امام ابو زرعہ جو امام مسلم کے استاد ہیں انہوں نے نے صحیح مسلم کے لئے کہا
! ويُطرِّق لأهل البدع علينا، فيجدون السبيل بأن يقولوا لحديثٍ إذا احتُجَّ عليهم به
مسلم بن حجاج نے اہل بدعت کو اس طرح رستہ بنا کر دیا ہے کہ اہل بدعت اب ہم پر سبیل پائیں گے کہ جرح کریں اور کہیں گے کہ اس کی حدیث سے دلیل لی گئی ہے
أبو زرعة الرازي وجهوده في السنة النبوية

صحیح منهج قرآن اور حدیث اور صحابه کا قول اور عمل کے رو سے کانسا ہے
۱/خبر واحد عقیده میں حجت ہے
۲/خبر واحد عقیده میں حجت نہیں ہے

جواب

خبر واحد پر اختلاف چلا آ رہا ہے

اسلام سے پہلے اور بعد میں بھی جب تک نشر و اشاعت کے ادارے نہیں تھے ایک سچے شخص کی بات قبول کی جاتی تھی

قیصر نے ابو سفیان کو طلب کیا ان سے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات پوچھی اور ہم تک پہنچا وہ متاثر ہوا
قیصر نصرانی تھا اور ابو سفیان رضی الله عنہ اس وقت مشرک تھے

اسی طرح نجاشی جو نصرانی تھا اس نے بھی اصحاب رسول اور قریش مکہ کا مقدمہ سنا
اسی طرح سفیروں کو بھیجا جاتا تھا وہ حکمرانوں کو بات ایک دوسرے کو بتاتے تھے یہ مسلم و مشرک و اہل کتاب بھی کرتے تھے
رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا کسی مشرک یا اہل کتاب کو خط لکھنا خبر واحد کی دلیل نہیں کیونکہ یہ تو دنیا کا رواج ہے- خیال رہے کہ ان خطوط کی بنا پر کوئی ایمان بھی نہیں لایا
تو اس کو بطور دلیل پیش کرنا ہی صحیح نہیں

یوسف علیہ السلام نے جو مصر میں ملازم تھے انہوں نے ایک مصری کو بھیجا کہ قمیص جا کر یعقوب علیہ السلام پر ڈالو

فَلَمّا أَن جاءَ البَشيرُ أَلقىٰهُ عَلىٰ وَجهِهِ فَارتَدَّ بَصيرًا﴾ [9] جب خوشخبری دینے والے نے پہنچ کر ان کے منہ پر کرتہ ڈالا اسی وقت وہ پھر بینا ہو گئے۔

یہ خوشخبری دینے والا مومن تھا یا نہیں اس کا کوئی ذکر نہیں لیکن چونکہ بینائی انے سے اس کی خبر کا سچ ظاہر ہوا اس بات کی اہمیت ختم ہوئی کہ یہ کون تھا
اس آیت کو خبر واحد کی حجیت کی دلیل پر پیش نہیں کیا جا سکتا

قرآن میں ہے کہ سلیمان علیہ السلام کو ہدہد کی خبر واحد کا یقین نہیں تھا کہا جا کر خط ملکہ کو دو تاکہ یہ اگر سچ ہے تو سامنے آئے

قرآن میں ہے
فَلَولا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرقَةٍ مِنهُم طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهوا فِى الدّينِ وَلِيُنذِروا قَومَهُم إِذا رَجَعوا إِلَيهِم لَعَلَّهُم يَحذَرونَ ﴿١٢٢﴾ [12] ’’ سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ وه دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کو جب کہ وه ان کے پاس آئیں، ڈرائیں تاکہ وه ڈر جائیں۔‘‘
یہ خبر واحد کی دلیل نہیں کیونکہ طائِفَةٌ کا مقصد یھاں تبلیغ دین ہے جو صرف قرآن سے بھی ممکن ہے الله کا قول ہے
فذكر بالقرآن من يخاف وعيد
قرآن سے اس کو نصحت کرو جو وعيد سے ڈر جائے

یعنی خبر واحد اگر ثقہ بیان کرے تو “مخبر کے مقام و مرتبہ کی وجہ سے” اس کو سب قبول کرتے ہیں اس میں اسلام کا کوئی کمال نہیں ہے- رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی زندگی سے متعلق بہت سی خبریں امہات المومنین کی دی ہوئی ہیں جو ظاہر ہے یہ خبر واحد کی دلیل نہیں ہے یہ تو میاں بیوی کی خبر ہے

کہا جاتا ہے راغب ا الصفهانی کا کہنا ہے (طائفة)ایک اور زیاده پر اطلاق ہوسکتا ہے

یہ آیت خبر واحد کی حجیت پر قطعی دلیل نہیں ہے

طائفة والی آیت کا حکم تبلیغ کے لئے ہے کہ ایک یا زیادہ کر سکتا ہے
حدیث رسول کے قبول و رد کا حکم نہیں ہے
کیونکہ تبلیغ صرف قرآن سے ممکن ہے
فذكر بالقرآن من يخاف وعيد

اسی طرح بعض نے کہا قرآن میں ہے

یاایهاالذین آمنو جاءکم فاسق بنبأ فتبینو….الایة
آیت کا مفهم ان کے نزدیک یہ ہے کہ اگر عادل شخص خبر دے تو تحقیق کے ضرورت پھرنہیں  ہے

راقم کہتا ہے

آیات میں تلقین ہے کہ خبر کی تحقیق کرو – فسق والے کی اس لئے کہ کہیں اس سے جنگ ہی نہ شروع ہو جائے پھر شرمندہ ہونا پڑے
یہ انسان کے معاملات کے حوالے سے حکم ہے حدیث نبوی کے قبول و رد پر حکم نہیں ہے
کیونکہ اگر رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے منسوب موضوع روایت لے لی تو اس پر آخرت میں ہی شرمندگی ہو گی دنیا میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا

عمر رضی الله عنہ نے خبر واحد کو مطلقا قبول نہیں کیا
مثلا

سعيد بن عبد العزيز عن إسماعيل بن عبيد الله عن السائب بن يزيد قال سمعت عمر بن الخطاب يقول لأبي هريرة لتتركن الحديث عن رسول الله (صلى الله عليه وسلم) أو لألحقنك بأرض دوس وانقطع من كتاب أبي بكر كلمة معناها دوس وقال لكعب لتتركن الحديث أو لألحقنك بأرض القردة

سعید بن عبد العزیز کہتے ہیں اسمعیل نے السائب بن يزيد رضی الله عنہ سے کہ انہوں نے عمررضی الله عنہ کو ابو بریرہ رضی الله عنہ سے کہتے سنا کہ رسول الله سے حدیث روایت کرنا چھوڑو ورنہ تم کو ارض دوس اور کعب الاحبار کو کہا کہ تم کو بندروں کی زمین میں بدر کروں گا

الذھبی نے خود تبصرہ کیا

قُلْتُ: هَكَذَا هُوَ كَانَ عُمَرُ -رَضِيَ اللهُ عَنْهُ- يَقُوْلُ: أَقِلُّوا الحَدِيْثَ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-. وَزَجَرَ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ عَنْ بَثِّ الحَدِيْثِ، وَهَذَا مَذْهَبٌ لِعُمَرَ وَلِغَيْرِهِ
میں کہتا ہوں یہ عمر ایسے ہی تھے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے کم روایت کرو- انہوں نے ایک سےزیادہ اصحاب رسول کو ڈانٹا حدیث بیان کرنے پر اور یہ ان کا مذھب ہے اور دوسروں کا

اسی طرح عمر رضی الله عنہ نے فاطمہ بیت قیس کی حدیث کو رد کر دیا کہ ایک عورت کے قول پر ہم بھروسہ نہیں کر سکتے جس کا معلوم نہیں کہ بھول گئی ہو
عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا :

ما کنا لندع کتاب ربنا وسنۃ نبینا لقول امراۃ لا ندری احفظت ام لا ۔(سنن ابی داؤد:کتاب الطلاق، حدیث ۲۲۹۱)
’’ہم کتاب اللہ اور رسول اللہ کی سنت کو ایک عورت کی بات پر نہیں چھوڑ سکتے جس کو پتہ نہیں بات یاد بھی رہی یا نہیں۔

یعنی خبر واحد کو عمر رضی الله عنہ نے تسلیم نہیں کیا اگر کتاب الله کی مخالف ہو یہی عمر دور نبوی میں اس کے قائل تھے
عمرؓ فرماتے ہیں میں نے اپنے ایک انصاری پڑوسی سے باری مقرر کررکھی تھی جو مدینہ کے بالائی علاقہ میں بنو اُمیہ میں رہتا تھا، او رہم باری باری نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوا کرتے تھے۔ ایک دن میں آتا (وہ اپنا کام کاج کرتا) او رایک دن وہ آپ کے پاس حاضر ہوتا اور میں اپنے گھریلو کام کاج کرتا رہتا۔ اور ہم میں ہر ایک، نبی اکرم ﷺ پر جو وحی نازل ہوتی یا کوئی دیگر مسئلہ ہوتا تو ،اپنے ساتھی کو آکربتا دیتے تھے۔ ” اس طرح گویا دونوں علم نبوت حاصل کیا کرتے تھے۔

یہاں ایک آدمی کی خبر یہ قبول کر لیتے ہیں کیونکہ جب نبی صلی الله علیہ وسلم سے ملتے تو تصدیق کر لیتے یا دیگر اصحاب سے پوچھ لیتے ہوں گے – وفات النبی کے بعد عمر کا رویہ بدل گیا ابو ہریرہ کی احادیث کو نہیں لیا اسی طرح فاطمہ بیت قیس کی حدیث کو قبول نہیں کیا

ابن عمر رضی الله عنہ کی روایت ہے
بینما الناس بقباء في صلوٰة الصبح إذ جاءهم اٰتٍ فقال إن رسول الله ﷺ قد أنزل علیه اللیلة قرآن وقد أمر أن یستقبل الکعبة فاستقبلوها وکانت وجوههم إلىٰ الشام فاستداروا إلىٰ الکعبة»13
” قبا والے فجر کی نماز بیتُ المقدس کی طرف متوجہ ہوکر پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والےنے آکر اُنہیں بتایا کہ نبی اکرم ﷺ پر قرآن نازل ہوچکا ہے اور آپ کو خانہ کعبہ کی طرف متوجہ ہوکر نماز پڑھنےکا حکم دے دیا گیا ہے لہٰذا تم بھی کعبہ کی طرف منہ کرلو، جبکہ ان کے چہرے سے شام (یعنی بیت المقدس)کی طرف تھے تو (وہ ایک آدمی کے خبر دینے سےبیت المقدس سے)بیت اللہ (خانہ کعبہ)کی طرف متوجہ ہوگئے۔”

یہاں نماز میں لوگوں نے ایک آواز سنی اس کو قبول کیا اور عمل کیا لیکن ظاہر ہے جو آواز سنی وہ ان کے نزدیک ثقہ شخص کی تھی انہوں نے اس خبر کو لیا
کیونکہ اس دور میں یہ سمجھا جا رہا تھا کہ عنقریب تحویل قبلہ کا حکم آ جائے گا لوگ اس کے منتظر تھے

عمر رضی الله عنہ نے ایک شخص کو قرآن پڑھتے سنا جو اس قرات پر تھا جس کا ان کو علم نہیں تھا اس شخص نے کہا میں نے رسول الله سے اس کو سیکھا ہے – عمر نے اس خبر واحد کو رد کر دیا اور نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس لائے کہ تصدیق ہو یعنی کتاب الله کے خلاف جو بھی روایت پہنچی اس کو عمر رضی الله عنہ نے قبول نہیں کیا یہاں تک کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے دھن مبارک سے اس کی تصدیق ہوئی

معلوم ہوا خبر واحد عقیدہ میں حجت نہیں عمل میں لیا جا سکتا ہے اگر خبر مشھور ہو
مثلا استسقاء کی نماز کی نماز کا ایک راوی ہے احناف نے اس کو قبول نہیں کیا ہے
السنَّة” أي العمل بهذا الحديث في الحجاز
سنت کا مفہوم امام محمد کے نزدیک یہ ہے کہ حجاز میں اس پر عمل ہو اور اصحاب رسول سے ثابت ہو اس کے مقابلے پر اگر کوئی خبر واحد یا حدیث واحد آئے گی تو رد ہو گی
الأَصْلُ از أبو عبد الله محمد بن الحسن بن فرقد الشيباني (المتوفى: 189 هـ) میں اس کی امثال ہیں
⇑ کیا نماز استسقاء بدعت ہے ؟
http://www.islamic-belief.net/q-a/عبادت/

یعنی عقیدے میں اگر قرآن مخالف ہے تو رد ہو گی- عمل مشہور کو خبر واحد سے رد نہیں کیا جائے گا

شوال کے روزے خبر واحد سے معلوم ہیں

وقال مَالِك: فِي صِيَامِ سِتَّةِ أَيَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ: إِنَّهُ لَمْ يَرَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالْفِقْهِ يَصُومُهَا، وَلَمْ يَبْلُغْه ذَلِكَ عَنْ أَحَدٍ مِنَ السَّلَفِ، وَإِنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ يَكْرَهُونَ ذَلِكَ، وَيَخَافُونَ بِدْعَتَهُ، وَأَنْ يُلْحِقَ بِرَمَضَانَ أهل الْجَفَاءِ وَأَهْلُ الْجَهَالَةِ، مَا لَيْسَ فيهُ لَوْ رَأَوْا فِي ذَلِكَ رُخْصَةً من أَهْلِ الْعِلْمِ، وَرَأَوْهُمْ يَعْمَلُونَ ذَلِكَ.

امام مالک بن انس رمضان کے بعد شوال کے چھ روزوں کے بارے میں فرماتے ہیں:’’ میں نے کسی اہل علم یا فقیہ کو نہیں دیکھا جو یہ روزے رکھتا ہو اور نہ سلف (صحابہ و تابعین) سے مجھے یہ پہنچا، بلکہ اہل علم اسے مکروہ سمجھتے ہیں

امام مالک اور مدینہ کے اہل علم نہیں رکھتے تھے

بہر حال لوگوں میں اس پر اختلاف ہوا اور امام ابو حنیفہ نے خبر واحد کی بنیاد پر نماز استسقاء کو نہیں لیا
امام مالک نے تعامل کی بنیاد پر شوال کے روزوں کو نہیں لیا
امام احمد اور شافعی نے خبر واحد کو لیا یہاں تک کہ احمد نے ضعیف تک کو حجت قرار دیا

عبد اللہ بن احمد اپنے باپ احمد سے کتاب السننہ میں نقل کرتے ہیں

سَأَلْتُ أَبِي رَحِمَهُ الله عَنِ الرَّجُلِ، يُرِيدُ أَنْ يَسْأَلَ، عَنِ الشَّيْءِ، مِنْ أَمْرِ دِينِهِ مَا يُبْتَلَى بِهِ مِنَ الْأَيْمَانِ فِي الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ فِي حَضْرَةِ قَوْمٍ مِنْ أَصْحَابِ الرَّأْي وَمِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ لَا يَحْفَظُونَ وَلَا يَعْرِفُونَ الْحَدِيثَ الضَّعِيفَ الْإِسْنَادِ وَالْقَوِيَّ الْإِسْنَادِ فَلِمَنْ يَسْأَلُ، أَصْحَابَ الرَّأْي أَوْ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ عَلَى مَا كَانَ مِنْ قِلَّةَ مَعْرِفَتِهِمْ؟ [ص:181] قَالَ: يَسْأَلُ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ وَلَا يَسْأَلُ أَصْحَابَ الرَّأْي، الضَّعِيفُ الْحَدِيثِ خَيْرٌ مِنْ رَأْي أَبِي حَنِيفَةَ

میں نے اپنے باپ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو دین کے کسی کام پر جس سے ایمان برباد نہ ہو جسے طلاق یا دیگر پر اصحاب رائے کے پاس جائے یا ان اصحاب حدیث کے پاس جائے جو حدیث کو صحیح طرح یاد نہیں رکھتے اور قوی الاسناد کو ضعیف الاسناد سے جدا نہیں کر پاتے تو ان دونوں میں سے کس سے سوال کرے اصحاب رائے سے یا قلت معرفت والے اصحاب حدیث سے امام احمد نے کہا اصحاب حدیث سے سوال کرے اور اصحاب رائے سے نہیں ایک ضعیف حدیث ابو حنیفہ کی رائے سے بہتر ہے

ترمذی کہتے ہیں کان میں اذان دینے پر عمل چلا آ رہا ہے – ہم کو معلوم ہے اس کی روایت کی سند ضعیف ہے جس سے دلیل لی گئی اس کو حسن کہہ کر قبول کیا گیا

معلوم ہوا کہ فقہاء میں امام احمد کے نزدیک خبر واحد تو رہنے دیں ضعیف حدیث بھی حجت بن گئی تھی اور دوسری طرف محتاط فقہاء تھے جو تعامل اہل حجاز یا خبر مشھور لیتے خبر واحد کو عمل میں رد کر دیتے تھے
یہ اختلاف تو عمل میں تھا

عقیدہ تو مزید احتیاط کا متقاضی ہے لہذا خبر واحد کی بنیاد پر عقیدہ نہیں لیا جائے گا الا یہ کہ قرآن سے اس کی تائید ہو یا کہہ لیں قرآن میں اس کے شواہد ہوں

اصحاب رسول میں ابن عباس خبر واحد کو عقیدے میں نہیں لیتے

صحیح مسلم میں ہے

وحدثني أبو أيوب سليمان بن عبيد الله الغيلاني، حدثنا أبو عامر يعني العقدي، حدثنا رباح، عن قيس بن سعد، عن مجاهد، قال: جاء بشير العدوي إلى ابن عباس، فجعل يحدث، ويقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجعل ابن عباس لا يأذن لحديثه، ولا ينظر إليه، فقال: يا ابن عباس، مالي لا أراك تسمع لحديثي، أحدثك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا تسمع، فقال ابن عباس: ” إنا كنا مرة إذا سمعنا رجلا يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، ابتدرته أبصارنا، وأصغينا إليه بآذاننا، فلما ركب الناس الصعب، والذلول، لم نأخذ من الناس إلا ما نعرف

بشیر العدوی، ابن عباس کے پاس آیا اور روایت کرنے لگا اور بولا رسول الله نے کہا ،رسول الله نے کہا ،پس ابن عباس نے اس کی حدیث کی اجازت نہیں دی اور نہ اس کی طرف دیکھا. اس پر وہ ابن عبّاس سے مخاطب ہوا کیا وجہ ہے کہ اپ میری حدیث نہیں سنتے جبکہ میں رسول الله کی حدیث سنا رہاہوں؟ پس ابن عباس نے کہا ایک وقت تھا جب ہم سنتے کسی نے کہا قال رسول الله ہم نگاہ رکھتے اور اپنے کان اس (حدیث) پر لگاتے . لیکن جب سے لوگوں نے الصعب اور الذلول کی سواری کی تو ہم روایات نہیں لیتے مگر صرف اس سے جس کو جانتے ہوں

كتاب السنة از أبو بكر بن أبي عاصم وهو أحمد بن عمرو بن الضحاك بن مخلد الشيباني (المتوفى: 287هـ) کے مطابق

ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ثنا ابْنُ ثَوْرٍ عَنْ مَعْمَرٍ عن ابن طاووس عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَ رَجُلٌ بِحَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ فَانْتَفَضَ: قال ابن عباس ما بال هؤلاء يجدّون (يحيدون) عند محكمه ويهلكون عند متشابهه.

البانی کے مطابق اغلبا الفاظ يحيدون ہیں اور يجدّون غیر محفوظ ہیں

ابن عباس رضی الله عنہ نے فرمایا يحيدون جھٹک دو (رد کرو) جب کوئی شخص ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث روایت کرے – ابن عباس نے کہا ان جیسوں کو کیا ہوا ہے کہ محکمات سے ہٹ گئے اور متشابھات سے ہلاک ہوئے

البانی کتاب ظِلال الجنة في تخريج السنة میں کہتے ہیں

يعني استنكارا لما سمع من حديث أبي هريرة, ولم أقف على من نبه على المراد بهذا الحديث, ويغلب على الظن أنه حديث “إن اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ” وهو حديث صحيح, مخرج في “سلسلة الأحاديث الصحيحة” 860.

یعنی انکار کیا جب ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث سنی اور میں نہیں جان سکا کہ کون سی حدیث مراد تھی جس کی خبر دی اور جو گمان غالب ہے وہ یہ کہ یہ حدیث ہے کہ الله نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا اور یہ حدیث صحیح ہے اس کی تخریج الصحیحہ ٨٦٠ میں کی ہے

محدثین میں امام مالک خبر واحد کو عقیدے میں نہیں لیتے

کتاب الضعفاء الكبير از امام العقيلي المكي (المتوفى: 322هـ) کے مطابق

حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْغِمْرِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ: سَأَلْتُ مَالِكًا عَمَّنْ يُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ الَّذِي قَالُوا: إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ مَالِكٌ إِنْكَارًا شَدِيدًا، وَنَهَى أَنْ يَتَحَدَّثَ بِهِ أَحَدٌ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَتَحَدَّثُونَ بِهِ؟ فَقَالَ: مَنْ هُمْ، فَقِيلَ: مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ يَعْرِفُ ابْنُ عَجْلَانَ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ، وَلَمْ يَكُنْ عَالِمًا، وَذُكِرَ أَبُو الزِّنَادِ فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَزَلْ عَامِلًا لِهَؤُلَاءِ حَتَّى مَاتَ، وَكَانَ صَاحِبَ عُمَّالٍ يَتَّبِعُهُمْ

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ کہتے ہیں میں نے امام مالک سے حدیث کے متعلق پوچھا کہ کس نے اس کو روایت کیا ہے جس میں ہے کہ الله نے آدم کو اپنی صورت پر خلق کیا ؟ پس امام مالک نے اس حدیث کا شدت سے انکار کیا اور منع کیا کہ کوئی اس کو روایت کرے تو میں نے ان سے کہا کہ یہ اہل علم میں سے لوگ اس کو روایت کر رہے ہیں – امام مالک نے کہا کون ہیں وہ ؟ میں نے کہا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ اس پر امام مالک نے کہا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ کو ان چیزوں کا اتا پتا نہیں ہے اور نہ ہی کوئی عالم ہے اور أَبُو الزِّنَاد کا ذکر کیا کہ یہ تو ان کا (حکومت کا) عامل تھا – یہاں تک کہ مرا اور عمال کے لوگ اسکی اتباع کرتے ہیں

اس میں ابہام آج کل لوگ پیدا کرتے ہیں کہ امام مالک راوی پر طعن کر رہے ہیں جبکہ امام مالک راوی سے زیادہ اس کا متن بھی دیکھ رہے ہیں

اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم نے خبر واحد مطلقا قبول نہیں کیا ہے تحقیق کی ہے یا رد کیا ہے مثلا بشیر عدوی یا ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی روایات کو ابن عباس رضی الله عنہ نے رد کیا ہے
محدثین اولین مثلا امام مالک نے خبر واحد کو عقیدہ میں نہیں لیا ہے
محدثین متاخرین جن میں صحاح ستہ کے مولفین ہیں انہوں نے خبر واحد کو عمل و عقیدہ دونوں میں لیا ہے

جواب

صحیح ابن حبان نے ہے
خْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّقَّالُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَافْتَرَقَتِ النَّصَارَى عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً»

شعيب الأرنؤوط نے حسن کہا ہے البانی نے حسن صحیح کہا ہے – امام حاکم نے صحیح سمجھا ہے
ابن ماجہ میں شعیب نے اس کو صحيح لغيره بھی کہا ہے
احمد شاکر نے اس کو مسند احمد پر تحقیق میں إسناده صحيح، کہا ہے

منذری وغیرہ نے اس سے دلیل لی ہے

کتاب التيسير بشرح الجامع الصغير از المناوی میں
وَهَذَا من معجزاته لِأَنَّهُ إِخْبَار عَن غيب وَقع وَالْكل متفقون على إِثْبَات الصَّانِع وأنّ لَهُ الْكَمَال الْمُطلق (4 عَن أبي هُرَيْرَة) بأسانيد جَيِّدَة
اس کو سند جید کہا ہے اور روایت کو معجزہ قرار دیا

ابن تیمیہ نے اس کو صحیح کہا ہے
الحديث صحيح مشهور في السنن والمسانيد، كسنن أبي داود، والترمذيّ، والنسائيّ، وغيرهم، ولفظه: “افترقت اليهود على إحدى وسبعين فرقةً كلها في النار إلا واحدةً، وافترقت النصارى على اثنتين وسبعين فرقة كلها في النار إلا واحدةً، وستفترق هذه الأمة على ثلاث وسبعين فرقةً كلها في النار إلا واحدة”، وفي لفظ: “على ثلاث وسبعين ملّةً

مسند أبي داود الطيالسي ج1، ص 125، رقم الحديث 141، تحقيق: محمد بن عبد المحسن التركي، الناشر: دار هجر میں ایک حدیث اس طرح ہے

لنک

http://shamela.ws/browse.php/book-1456#page-147

141 – حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ، يَقُولُ: صَلَّى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الظُّهْرَ فِي الرَّحَبَةِ ثُمَّ جَلَسَ فِي حَوَائِجِ النَّاسِ حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ أُتِيَ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّ مِنْهُ كَفًّا فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ الْمَاءِ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبُوا وَهُمْ قِيَامٌ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ الَّذِي فَعَلْتُ وَقَالَ: «هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ»

اس حدیث میں الفاظ ہیں کہ

فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ

لیکن دوسری طرف یہی حدیث صحیح بخاری میں بھی بیان ہوئی ہے

صحيح البخاري: كِتَابُ الأَشْرِبَةِ (بَابُ الشُّرْبِ قَائِمًا) صحیح بخاری: کتاب: مشروبات کے بیان میں (باب: کھڑے کھڑے پانی پینا)

5616 .

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ المَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ قَعَدَ فِي حَوَائِجِ النَّاسِ فِي رَحَبَةِ الكُوفَةِ، حَتَّى حَضَرَتْ صَلاَةُ العَصْرِ، ثُمَّ أُتِيَ بِمَاءٍ، فَشَرِبَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَذَكَرَ رَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَامَ «فَشَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ» ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قِيَامًا، «وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ»

حکم : صحیح 5616 . ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا ، انہوں نے نزال بن سبرہ سے سنا ، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے ظہر کی نماز پڑھی پھر مسجد کوفہ کے صحن میں لوگوں کی ضرورتوں کے لیے بیٹھ گئے ۔ اس عرصہ میں عصر کی نماز کا وقت آگیا پھر ان کے پاس پانی لایا گیا ۔ انہوں نے پانی پیا اور اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے ، ان کے سر اور پاؤں ( کے دھونے کا بھی ) ذکر کیا ۔ پھر انہوں نے کھڑے ہوکر وضو کا بچا ہو اپانی پیا ، اس کے بعد کہا کہ کچھ لوگ کھڑے ہوکر پانی پینے کو برا سمجھتے ہیں حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یو نہی کیا تھا جس طرح میں نے کیا ۔ وضو کا پانی کھڑے ہو کر پیا ۔

اس حدیث میں الفاظ ہیں کہ

وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَذَكَرَ رَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ

اب سند تقریباً ایک جیسی ہے لیکن الفاظ الگ الگ ہیں

صحیح بات کیا ہے

جواب

مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ قَعَدَ لِحَوَائِجِ النَّاسِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ “أُتِيَ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَأَخَذَ مِنْهُ كَفًّا فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ فَضْلَهُ فَشَرِبَ قَائِمًا”، وَقَالَ: “إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ هَذَا وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ”، وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِث

علی نے سر اور پیر کا مسح کیا
شعيب الأرنؤوط نے اس کو صحیح کہا ہے
یہ روایت صحیح ابن خزیمہ میں بھی ہے

============
ساتھ ہی علی نے کہا
هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ
یہ وضو ہے جس کا کوئی ذکر نہیں کرتا

علی رضی الله عنہ کے نزدیک پیر کے مسح سے بھی وضو ہو جاتا ہے باقی اصحاب رسول اس کو دھونے کا ذکر کرتے ہیں

جواب

امام بخاری نے نعیم بن حماد سے مقرؤنا روایت لی ہے جن کے لئے الذھبی کتاب ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين    میں لکھتے ہیں

قال الأزدي: قالوا: كان يضع الحديث، وقال أبو داود: عنده نحو من عشرين حديثاً ليس لها أصل

الأزدي: نے کہا یہ حدیث گھڑتے تھے اور ابو داود نے کہا انہوں نے ٢٠ احادیث بیان کیں جن کا اصل نہیں ہے

صحیح بخاری کی مشہور بندروں کے رجم والی روایت بھی انہی کی بیان کردہ ہے اور البانی نے خاص نعیم پر اس وجہ سے جرح کی ہے

سنن النسائي: کِتَابُ ذِكْرِ الْفِطْرَةِ (بَابُ الْمَاءِ الدَّائِمِ) سنن نسائی: کتاب: امور فطرت کا بیان (باب: کھڑے پانی کا حکم)

58

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ كَانَ يَعْقُوبُ لَا يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا بِدِينَارٍ

حکم : صحیح 58

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی ٹھہرے پانی میں بالکل پیشاب نہ کرے (ہوسکتا ہے) کہ پھر بعد میں اس سے غسل کرے۔‘‘ ابو عبدالرحمٰن (امام نسائی) رحمہ اللہ نے فرمایا: (میرے استاذ) یعقوب بن ابراہیم یہ حدیث دینار لیے بغیر بیان نہیں کرتے تھے

جواب

روایت سند سے لی جاتی ہے – راوی با شرع کام کرتا ہے یا نہیں اس پر حدیث کے قبول و رد پر اختلاف ہے

احمد اور ابو حاتم کے نزدیک صحیح نہیں ہے لیکن نسائی نے لی ہے

————-
مثال
توریت اور انجیل اپ کو کس سے ملی؟ انہی لوگوں سے ملی ہے جو اس کی آیات کو بیچ دیتے تھے
لیکن قرآن میں توریت کا حوالہ ہے سوره مائدہ میں اس کے احکام کو نافذ کرنے کا حکم ہے
یعنی جو ثابت ہے اس کو لیا جائے گا پہنچانے والے چاہے یہودی ہوں یا نصرانی

جواب

ذھبی جس پر سکوت کریں وہ ان کے نزدیک ضعیف بھی ہو سکتی ہے اور اس پر ابہام بھی ہو سکتا ہے

تقریبا ٩٣١ روایات پر الذھبی نے سکوت کیا ہے

کتاب نصب الراية میں الزيلعي (المتوفى: 762هـ) لکھتے ہیں
وَأَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ فِي “الْمُسْتَدْرَكِ” 5 – فِي تَفْسِيرِ آلِ عِمْرَانَ”، وَسَكَتَ عَنْهُ، وَلَمْ يَتَعَقَّبْهُ الذَّهَبِيُّ فِي “مُخْتَصَرِهِ” بِالِانْقِطَاعِ
حاکم نے اس روایت کی تخریج مستدرک میں تفسیر سوره ال عمران میں کی ہے اور اس پر سکوت کیا ہے اور الذھبی نے تعقب نہیں کیا ہے مختصرہ میں اس کے انقطاع کی وجہ سے

وَرَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي “الْمُسْتَدْرَكِ”، وَقَالَ: حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَمْ يَتَعَقَّبْهُ الذَّهَبِيُّ فِي “مُخْتَصَرِهِ” وَلَكِنَّهُ فِي “مِيزَانِهِ” أَعَلَّهُ بِمُحَمَّدِ بْنِ عَوْنٍ
حاکم نے مستدرک میں اس کو روایت کر کے کہا ہے حدیث صحیح الاسناد ہے اور انہوں نے تخریج نہیں کی ہے اور امام الذھبی نے اس کا تعقب نہیں کیا ہے مختصرہ میں لیکن میزان میں اس پر علت بیان کی ہے کہ اس میں محمد بن عون ہے

الزيلعي (المتوفى: 762هـ) امام الذھبی کے شاگرد تھے لہذا یہ اقوال قابل غور ہیں
یعنی الذھبی نے جن روایات پر سکوت کیا ہے دیگر کتب میں ان کو ضعیف بھی کہا ہے اور دروس میں شاگردوں کو مطلع کیا

کہا جاتا ہے تلخیص مستدرک الذھبی کی شروع کی کتب میں سے ہے اس وجہ سے ایسا ہوا ہے

 

Comments are closed.