غلو | وسیلہ | عرض اعمال

جواب

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيّ صلیٰ الله علیه وآله وسلم مَا شَائَ االله وَشِئْتَ فَقَالَ لَه النَّبِيُّ صلیٰ الله علیه وآله وسلم أَجَعَلْتَنِي وَالله عَدْلًا بَلْ مَا شَائَ الله وَحْدَحه
احمد بن حنبل، المسند، 1: 214، رقم: 1839، موسسۃ قرطبۃ، مصر
ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا جو اﷲ چاہے اور آپ چاہیں ۔ نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کیا تو مجھے اور اﷲ کو برابر کر رہا ہے ؟ یوں کہو جو اکیلے اﷲ نے چاہا۔
یہ صحيح لغيره روایت ہے یعنی مسند احمد کی سند ضعیف ہے لیکن متن دیگر صحیح سند سے معلوم ہے

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلْ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ شِئْتَ
ابن ماجه، السنن، 1: 684، رقم: 2117، دار الفکر بیروت
عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہما کا بیان ہے کہ نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی قسم کھائے تو یوں نہ کہے کہ جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں بلکہ یوں کہے جو اللہ چاہے پھر آپ چاہیں۔
سند ضعیف ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ قُتَيْلَةَ بِنْتِ صَيْفِيٍّ الْجُهَنِيَّةِ قَالَتْ: أَتَى حَبْرٌ مِنَ الْأَحْبَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تُشْرِكُونَ، قَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ، وَمَا ذَاكَ؟»، قَالَ: تَقُولُونَ إِذَا حَلَفْتُمْ وَالْكَعْبَةِ، قَالَتْ: فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ: ” إِنَّهُ قَدْ قَالَ: فَمَنْ حَلَفَ فَلْيَحْلِفْ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ “، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تَجْعَلُونَ لِلَّهِ نِدًّا، قَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ، وَمَا ذَاكَ؟»، قَالَ: تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ، قَالَ: فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ: «إِنَّهُ قَدْ قَالَ، فَمَنْ قَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ فَلْيَفْصِلْ بَيْنَهُمَا ثُمَّ شِئْتَ» (حم) 27093
قُتَیْلَہ بنت صیفی جُہینْہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ یہودیوں کا ایک بڑا عالم بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے محمد صلی اﷲ علیک وسلم تم بہت اچھے لوگ ہو اگر شرک نہ کرو۔آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اﷲ وہ کیا ہے؟ اس نے کہا تم لوگ قسم اٹھاتے وقت بولتے ہو ’کعبہ کی قسم‘ کھاتی ہیں: نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ وقت خاموش رہنے کے بعد فرمایا کہ اس یہودی نے یہ کہا ہے۔ لہذا جو (مسلمان) قسم اٹھائے ’رب کعبہ‘ کی اٹھائے پھر یہودی عالم بولا اے محمد صلی اﷲ علیک وسلم تم بہت اچھے لوگ ہواگر اﷲ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ۔آپ نے فرمایا: سبحان اﷲ وہ کیا؟ کہنے لگا تم (مسلمان) کہتے ہو جو اﷲ چاہے
اور آپ چاہیں ۔اس پرنبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا کہ اس یہودی نے یہ کہا ہے ۔اب جو کہے ماشاء اﷲ دونوں میں فاصلہ رکھ کر کہے پھر آپ چاہیں۔

یہ روایت منقطع ہے جامع التحصيل في أحكام المراسيل میں ہے
عبد الله بن يسار آخر قال عثمان بن سعيد سألت يحيى بن معين عن عبد الله بن يسار الذي يروي منصور عنه عن حذيفة لا تقولوا ما شاء الله ألقي حذيفة قال لا أعلمه قلت وروي أيضا عن علي رضي الله عنه فيكون أيضا مرسلا
عثمان نے امام ابن معین سے عبد الله بن يسار پر سوال کیا جو حذيفة سے روایت کرتا ہے لا تقولوا ما شاء الله – اس نے اس روایت کو حذيفة پر ڈالا ابن معین نے کہا نہیں جانتا اور اسنے اس کو علی سے بھی روایت کیا ہے تو یہ بھی مرسل ہے

ابن ماجہ میں ہے
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَأَى فِي النَّوْمِ أَنَّهُ لَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَالَ: نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تُشْرِكُونَ، تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ، وَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ” أَمَا وَاللَّهِ، إِنْ كُنْتُ لَأَعْرِفُهَا لَكُمْ، قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ “، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ، أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
__________

لہذا خواب والی روایت صحیح ہے جو ابن ماجہ میں ہے
اور اس کی تائید صحیح مسلم کی روایت سے بھی ہوتی ہے

صحيح مسلم، كتاب الجمعة، باب تخيف الصلاة والخطبة : 870۔ نسائي، كتاب النكاح، باب ما يكره من الخطبة : 3281۔ ابوداؤد، كتاب الصلاة، باب الرجل يخطب على قوس : 1099۔ كتاب الادب : 4981۔ مسند احمد : 4/ 256۔ بيهقي : 1/ 86، 3/ 216۔ مستدرك حاكم : 1/ 289]

حَدَّثَنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ رَجُلًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَقَدْ غَوَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ، قُلْ: وَمَنْ يَعْصِ اللهَ وَرَسُولَهُ “. قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: فَقَدْ غَوِي

اس میں ہے کہ ایک ضمیر میں جمع کرنے سے منع کیا
——–
اس کی مخالف حدیث ابو داود میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سکھایا اس میں مذکور ہے :
حدَّثنا محمدُ بنُ بشارٍ، حدَّثنا أبو عاصم، حدَّثنا عِمران، عن قتادةَ، عن عبدِ ربه، عن أبي عياض
عن ابنِ مسعود: أن رسولَ الله – صلَّى الله عليه وسلم – كان إذا تشهدَ، ذكر نحوه، قال بعد قوله: “ورسوله”: “أرسله بالحق بشيراً ونذيراً بين يدي الساعة، من يطع الله ورسوله فقد رَشَدَ، ومن يعصهما فإنه لا يَضُرُّ إلا نفسَه، ولا يَضُرُّ الله شيئاً

اس کی سند میں أبي عياض مجھول ہے – البانی نے اس کو ضعیف کہا ہے

جواب

جواب
سوره ال عمران میں ہے
وإذ أخذ الله ميثاق النبيين لما آتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاءكم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه قال أأقررتم وأخذتم على ذلكم إصري قالوا أقررنا قال فاشهدوا وأنا معكم من الشاهدين ( 81 ) فمن تولى بعد ذلك فأولئك هم الفاسقون
انبیاء کو ایک دوسرے کا مدد گار کہا گیا ہے غلام تو یہ صرف الله کے ہیں
نبی صلی الله علیہ وسلم کی جب جنت میں انبیاء سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ایک دوسرے کو سلام کیا اور عبد صالح کہا مالک یا آقا نہیں کہا

 فرشتے بھی الله کے غلام ہیں – رسول الله صلی الله علیہ وسلم بہت سے موقعوں پر فرشتوں کو پہچان نہ سکے یہاں تک کہ ان کو خبر دی گئی کہ یہ فرشتے ہیں
مثلا
خواب میں نبی صلی الله علیہ وسلم کو دو شخص آ کر  لے گئے ان کو بہشت میں ان کا مقام دکھایا گیا
آخر میں بتایا گیا کہ یہ جبریل اور یہ میکایل ہیں

غلام کے لئے جائز نہیں کہ آقا کو اپنے اپ کو ظاہر نہ کرے

ظاہر ہے یہ سب بحکم الہی ہوا جس کے سب غلام ہیں

جواب

مختصرا انبیاء و اولیاء کی وفات ہو چکی ہے وہ دار فانی سے جا چکے ہیں ان کو ان کی زندگی میں قریب سے بطور خطاب و کلام پکارا گیا انہوں نے جواب دیا – دور سے کوئی پکارے تو یہ نہیں سن سکتے تھے مثلا کوئی مکہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو پکارتا ہے تو اس کی خبر مدینہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو نہیں تھی – بالکل ایک بشر کی طرح وہ ان اخبار سے بے خبر تھے الا یہ کہ الله خود خبر دے
——–

جو لوگ رسول الله کو پکارتے ہیں ان کے نزدیک وہ سن سکتے ہیں اور مدد کرتے ہیں یہ مقام صرف الله کا ہے وہی سنتا و جانتا ہے – اور کسی حدیث و آیات میں نہیں کہ رسول الله کو ایسا کوئی اختیار دیا گیا تھا
بعض کہتے ہیں مثلا شیعہ کہ یہ ان کے علماء کے نزدیک وسیلہ ہے
بعض کہتے ہیں کہ درود پہنچتا ہے اور جو درود نبی نے سکھایا اس میں خطاب کا صغیہ ہے
بعض بے سند روایات اور صوفیوں کے قصے بھی ہیں

بریلوی دلیل
نبی اکرم صلی اللہ اپنے چچا سیدنا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی عزوہ احد میں شہادت پر اس قدر روئے کہ انہیں ساری زندگی اتنی شدت سے روتے نہیں دیکھا گیا۔ پھر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمانے لگے :
يا حمزة يا عم رسول الله اسد الله واسد رسوله يا حمزة يا فاعل الخيرات! يا حمزة ياکاشف الکربات يا ذاب عن وجه رسول الله.
(المواهب اللدينه، 1 : 212)
نبی علیہ الصلوۃ والسلام اپنے وفات شدہ چچا سے فرما رہے ہیں یا کاشف الکربات (اے تکالیف کو دور کرنے والے)۔

راقم کہتا ہے اس کی سند کہیں نہیں ملی لہذا دلیل نہیں لی جا سکتی

شیعہ کی دلیل
http://www.erfan.ir/urdu/67540.html
شیخ عباس قمی المعروف “محدث قمی” رحمة اللہ علیہ نے اپنی مشہور زمانہ اور زندہ جاوید کتاب دعاء “مفاتیح الجنان” (جنت کی کنجیاں) میں تحریر فرمایا ہے کہ حضرت امام زمانہ ولی العصر بقیةاللہ الاعظم سلام اللہ علیہ و علی آبائہ الطیبین الطاہرین، نے ایک شخص کو اس دعا کی تعلیم دی جو اسیر تھا اور وہ اسیری سے رہا ہو گیا۔ یہ دعاء کفعمی کی کتاب بلدالامین سے نقل ہوئی ہے۔ شیعہ کے نزدیک یہ یا محمد (ص) اور یا علی (ع) کہنا بعنوان وسیلہ الی اللہ، جائز ہے۔
دعائے فَرَج:
الهی عظم البلاء و برح الخفاء وانکشف الغطاء و انقطع الرجاء وضاقت الارض و منعت السماء و انت المستعان و الیک المشتکی و علیک المعول فی الشدة و الرخا اللهم صل علی محمد و آل محمد اولی الامر الذین فرحت علینا طاعتهم و عرفتنا بذلک منزلتهم ففرج عنا بحقهم فرجا عاجلا فریبا کلمح البصر او هو اقرب یا محمد یا علی یا علی یا محمد اکفیانی فانکما کافیان و انصرانی فانکما ناصران یا مولانا یا صاحب الزمان الغوث الغوث ادرکنی ادرکنی الساعه الساعه الساعه العجل العجل العجل یا ارحم الراحمین بحق محمد و اله الطاهرین۔

راقم کہتا ہے اس کتاب میں لکھا ہے
قال الكفعمي في البلد الامين: هذا دعاء صاحِب الامر (عليه السلام) وقد علّمه سجيناً فأطلق سراحه
یہ صاحِب الامر کی دعا ہے جو انہوں نے جیل میں سکھائی
گیارہویں امام الحَسنِ العَسكرىِّ سے اس کو منسوب کیا گیا ہے
لیکن اس قول کی کوئی سند نہیں ہے جیل میں ظاہر ہے کسی سے ملاقات کیا ہوئی ہو گی؟

اسی طرح شیعوں میں ایک نظم ہے جس کو ناد علی کہا جاتا ہے اس سے دلیل لی جاتی ہے کہ اس میں پکار کا حکم ہے

راقم کہتا ہے
سیرت ابن ہشام میں ہے کہ یوم احد میں رسول الله نے فرمایا
قَالَ ابْنُ هِشَامٍ: وَحَدَّثَنِي بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ ابْنَ أَبِي نَجِيحٍ قَالَ: نَادَى مُنَادٍ يَوْمَ أُحُدٍ:
لَا سَيْفَ إلَّا ذُو الْفَقَارِ، وَلَا فَتَى إلَّا عَلِيٌّ
کوئی تلوار نہیں سوائے ذو الفقار کے کوئی جوان نہیں سوائے علی کے
بحار الأنوار / جزء 20 / صفحة[ 73 ] از مجلسی میں ہے اس قول پر فرشتوں کو حیرت ہوئی کہ کس نے یہ کہا
بتایا گیا یہ جبریل کا قول ہے
فقد تعجبت الملائكة، أما علمت أن جبرئيل قال في ذلك اليوم وهو يعرج إلى السماء: لا
سيف إلا ذو الفقار، ولا فتى إلا علي.

وعن عكرمة، عن علي عليه السلام قال قال لي
النبي صلى الله عليه وآله يوم احد: أما تسمع مديحك في السماء ؟ إن ملكا اسمه رضوان
ينادي: لا سيف إلا ذو الفقار، ولا فتى إلا علي. قال: ويقال: إن النبي صلى الله عليه
وآله نودي في هذا اليوم: ناد عليا مظهر العجائب * تجده عونا لك في النوائب كل غم
وهم سينجلي * بولايتك يا علي يا علي يا علي
اور عکرمہ نے علی سے روایت کیا کہ نبی صلی الله علیہ و الہ نے احد کے دن کہا کیا تم نے آسمان میں اپنی تعریف سنی ؟ وہاں ایک فرشتہ رضوان ہے اس نے پکارا کوئی تلوار نہیں سوائے ذو الفقار کے کوئی جوان نہیں سوائے علی کے اور فرمایا اس نے کہا
ناد عليا مظهر العجائب *
تجده عونا لك في النوائب
كل غموهم سينجلي *
بولايتك يا علي يا علي يا علي
علی کو پکارو جو عجائبات کا مظہر ہے
تم اس کو مدد گار پاؤ گے اپنی مشکل میں
تمام غم اس سے حل ہوں گے
تمھاری ولایت سے اے علی علی علی

عکرمہ خارجی سوچ کا حامل تھا جو تقیہ کرتا تھا لیکن عکرمہ سے لے کر مجلسی تک سند نہیں ہے

الانتباہ فی سلاسل الاولیاء میں درج ہے کہ شاہ ولی اللہ خرقہ ابو طاہر کردی کے ہاتھ سے پہنا جس نے اُس عمل کی اجازت دی جو جواہر خمسہ میں ہیں

اسی جواہر خمسہ میں دعائے سیفی کی ترکیب میں لکھا ہے

ناد علی ہفت بار یا سہ بار یا یک بار بخواند وآں ایں است

ناد علیاً مظہر العجائب
تجدہ عونالک فی نوائب
کل ھم وغم سینجلی
بولایتک یا علی یاعلی یاعلی

https://www.islamimehfil.com/topic/23459-نادِ-علی-کرّم-اللّٰہ-وجھہ-کے-بارے-درست-معلومات-بمع-حوالہ-چاہئے/

بریلوی فرقہ کہتا ہے اس کو پڑھنا جائز ہے
http://www.thefatwa.com/urdu/questionID/2918/نادِ-علی-کیا-ہے/

https://www.dawateislami.net/bookslibrary/1454/page/837
————-
یعنی بریلوی اور شیعہ دونوں نے بے سند اقوال سے اتنا بڑا شرک کرنے کی دلیل لے لی ہے جبکہ اسناد معلوم نہیں کون کس نے سنا کوئی خبر نہیں

نماز میں تشہد میں اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُه پڑھا جاتا ہے اس کا مقصد بھی سنانا نہیں نہ یہ پکار ہے یہ تو دعا ہے
لیکن اس مفہوم کو صوفیوں نے بدلا غزالی نے لکھا
واحضر فی قلبک النبي صلي الله عليه وآله وسلم وشخصه الکريم، وقُلْ : سَلَامٌ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُه. وليصدق أملک في أنه يبلغه و يرد عليک ما هو أوفٰي منه.

’’(اے نمازی! پہلے) تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کریم شخصیت اور ذاتِ مقدسہ کو اپنے دل میں حاضر کر پھر کہہ : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُه. تیری امید اور آرزو اس معاملہ میں مبنی پر صدق و اخلاص ہونی چاہیے کہ تیرا سلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہنچتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے کامل تر جواب سے تجھے نوازتے ہیں۔‘‘

غزالی، إحياء علوم الدين، 1 : 151

راقم کہتا ہے گویا درود نبی پر پیش ہوتا ہے اور روایات میں ہے دور والا پہنچا دیا جاتا ہے اس کو دلیل بناتے ہوئے یا نبی کی پکار کا جواز لیا گیا ہے جو اصل میں یا نبی سلام علیک تھا لیکن مختصر ہو کر یا نبی ہو گیا
یہ روایات ضعیف ہیں

ابن قیم نے کتاب الكلم الطيب میں ذکر کیا

في الرجل إذا خدرت
عن الهيثم بن حنش قال: كنا عند عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، فخدرت رجله فقال له رجل: اذكر أحب الناس إليك، فقال: يا محمد، فكأنما نشط من عقال

الهيثم بن حنش نے کہا کہ ابن عمر کے پاس ایک شخص کی ٹانگ سن ہو گئی انہوں نے کہا اس شخص کو یاد کرو جو لوگوں میں سب سے محبوب ہو اس نے کہا اے محمد

ابن قیم نے کتاب الکلم الطیب میں اس روایت کا ان اذکار میں ذکر کیا ہے جو ایک مسلم کو کرنے چاہیے ہیں

اسی طرح کتاب  الوابل الصيب من الكلم الطيب میں اس روایت کا ذکر کیا

یہ تو علماء نے جواز کے فتوے دیے اس طرح نبی کو پکارا اور وسیلہ بنا لیا گیا جبکہ روایات ضعیف ہیں بے سند ہیں
قرآن کے خلاف ہیں

ایک اور دلیل
بخاری و مسلم کی روایت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
مَنْ کَانَ فِیْ حَاجَةِ اَخِيْهِ کَانَ اللّٰهُ فِی حَاجته وَمَن فَرَّجَ عَنْ مُسْلمٍ کُرْبَةً فَرَّجَ اللّٰهُ عَنْهُ بِهَا کُرْبَةَ مِنْ کُرْب يوم الْقيامة.
’’جو شخص اپنے کسی بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری فرماتا ہے۔ اور جس نے کسی مسلمان کی ایک تکلیف دور کی (مشکل حل کر دی) اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے قیامت کی تکلیفوں میں سے اس کی ایک تکلیف دور فرما دے گا‘‘۔

کہا جاتا ہے یہ کیسسے ممکن ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم امتی کی مدد نہ کریں
قبر سے باہر انے کا نظریہ یہیں سے لیا گیا ہے کہ بزرگان دین و انبیاء قبروں سے باہر آ کر مدد کرتے ہیں
یہ دلیل قیاس پر ہے

جبکہ انبیاء تو زمین پر گر جاتے ہیں جیسے سلیمان علیہ السلام کا جسد گرا جنوں نے دیکھا وہ قبر سے باہر کھڑے نہیں رہ سکتے

قرآن میں صرف الله کو پکارنے کا حکم ہے اور اس کے ساتھ کسی کو پاور فل ماننا
لا حول و لا قوه الا باللہ
کا انکار ہے

جواب

تاریخ بغداد باب ما ذكر في مقابر بغداد المخصوصة بالعلماء والزهاد از خطیب بغدادی میں ہے ابو علی الخلال جن کا ذکر خطیب نے صاحب أَحْمَد بْن حنبل کے نام سے کیا ہے ان کے بارے میں بتایا کہ

أَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو مُحَمَّد الْحَسَن بْن الحسين بْن مُحَمَّد بْن رامين الإستراباذي، قَالَ: أَخبرنا أَحْمَد بْن جعفر بْن حمدان القطيعي، قَالَ: سمعت الْحَسَن بْن إِبْرَاهِيمَ أبا عَلِيّ الخلال، يقول: ما همني أمر فقصدت قبر مُوسَى بْن جعفر، فتوسلت به إلا سهل الله تعالى لي ما أحب.

القطيعي، نے کہا میں نے ابو علی الخلال کو کہتے سنا جب کسی امر میں الجھ جاتا ہوں تو قبر موسی بن جعفر پر جاتا ہوں ان کا توسل لیتا ہوں

اس کی سند صحیح ہے

ذهبی کتا ب سیر اعلام النبلاء ،ج ٩ ص ٣٤٤ ، میں لکھتے ہیں
وعن ابراهیم الحربی ، قال ۰ قبر معروف ( الکرخی ) التریاق المجرب
اور ابراهیم حربی کہتے هیں کہ معروف (کرخی) کی قبر مجرب تریاق هے

الذھبی، سیر الاعلام النبلاء ج ٩ ص ٣٤٣ پر اس با ت کی تا ئید کرتے ہیں

يُرِيْدُ إِجَابَةَ دُعَاءِ المُضْطَرِ عِنْدَهُ؛ لأَنَّ البِقَاعَ المُبَارَكَةِ يُسْتَجَابُ عِنْدَهَا الدُّعَاءُ، كَمَا أَنَّ الدُّعَاءَ فِي السَّحَرِ مَرْجُوٌّ، وَدُبُرَ المَكْتُوْبَاتِ، وَفِي المَسَاجِدِ، بَلْ دُعَاءُ المُضْطَرِ مُجَابٌ فِي أَيِّ مَكَانٍ اتَّفَقَ، اللَّهُمَّ إِنِّيْ مُضْطَرٌ إِلَى العَفْوِ، فَاعْفُ عَنِّي

ابراہیم حربی کی مراد یہ هے کہ معروف کرخی کی قبر کے پاس مضطر آدمی کی دعا قبول هوتی هے ،کیونکہ مبارک مقامات کے پاس دعا قبول هوتی هے ،جیسا کہ سحری کے وقت ،اور فرض نمازوں کے بعد ،اور مساجد میں ،بلکہ مضطر آدمی کی دعا هر جگہ قبول هو تی هے

امام احمد کہتے ہیں بحر الدم (1010) بحوالہ موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله، دار الکتب

وقال أحمد: معروف من الأبدال، وهو مجاب الدعوة

احمد کہتے ہیں معروف ابدال میں سے ہیں اور ان کی دعا قبول ہوتی ہے

امام احمد صوفیوں کے مدح تھے اور ان کے شاگرد ابراہیم الحربی صوفی معروف الکرخی کی قبر کو تریاق المجرب کہتے تھے

الله تعالی تو جس کو چاہتا ہے سنوا دیتا ہے

الله تعالی نبی پر درود بھیجتا ہے

جواب

وسیلہ کی بعض شکلیں جائز ہیں اور بعض شرک ہیں

صورت حال : اپ ایک مشکل میں ہیں کافی دن سے الله کو براہ راست پکار رہی ہیں لیکن مشکل حل نہیں ہوئی اب اپ وسیلہ کرنے کا سوچتی ہیں

قسم اول : اپ ایک زندہ بزرگ سے درخواست کرتی ہیں کہ اپ کے لئے دعا کرے یہ جائز ہے
قرآن میں ہے

قَالُوا يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
بنی یعقوب نے کہا اے ابا جان ہمارے گناہوں کی معافی کے لئے دعا کریں ہم خطا کار تھے – میں تمھارے لئے دعا کروں گا اپنے رب سے وہ بہت غفور و رحیم ہے

قسم دوم : اپ کی مشکل ابھی بھی حل نہیں ہوئی اب اپ ایک مردہ بزرگ کی قبر پر جا کر ان سے دعا کی درخواست کرتی ہیں
یہاں سے عقیدہ کا اضطراب شروع ہوتا ہے کیونکہ اپ ایک مردہ کو پکار رہی ہیں جبکہ اپ خود کہتی ہیں کہ الله جس کو چاہتا ہے سنواتا ہے تو اپ کو کیسے معلوم ہوا کہ الله اس مردہ کو سنوانا چاہ رہا ہے
پھر اگر اپ اس مردہ کو مردہ نہیں سمجھتیں تو اپ ایک زندہ مقبور سے کلام کر رہی ہیں تو اس آیت سے دلیل نہیں لے سکتیں کیونکہ آیت مردوں کے بارے میں ہے نہ کہ زندوں سے متعلق ہے
پھر آیت کا سیاق و سباق تو کفار سے متعلق ہے جبکہ اپ تو کسی فوت شدہ مسلم کی قبر پر گئی ہوں گی

قسم ثالث: اپ کی مشکل اب بھی حل نہیں ہوئی- اب اپ نہ تو کسی قبر تک جاتی ہیں نہ کسی زندہ بزرگ سے درخواست کرتی ہیں بلکہ الله پر زور زبردستی والے انداز میں نبی کا صدقے میں اہل بیت کے صدقے میں کے الفاظ استمعال کرتی ہیں تو یہ صریح شرک ہے کیونکہ الله صمد ہے اس پر کسی کا حق نہیں جس کو جتایا جا سکے یا اس کے فصلے کو بدلا جا سکے
خود نبی صلی الله علیہ وسلم کا بیٹا ان کے ہاتھوں میں دم توڑ گیا
——-

الله صلی کرتا ہے یعنی سلامتی نازل کرتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ الله سے نبی کی جاہ و حشمت کا واسطہ دے کر مانگا جا سکتا ہے

جواب

سوره التوبہ کی آیت ١٠٥ ہے

وقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى الله عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلى عالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِما كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ

یہ آیت غزوہ تبوک کے تناظر میں نازل ہوئی تھی .ایسے لوگ جو متساہل یا منافق تھے ان کو کہا جا رہا ہے کہ الله، اس کا رسول اور عام مومنین تمہارے اعمال کا مشاہدہ کریں گے کہ تم لوگ واقعی سنجیدہ ہو یا بہانے بناتے ہو اور جان لو کہ واپس الله عالم الغیب کی طرف ہی پلٹنا ہے

ان اعمال میں مسجد آنا، زکواة دینا وغیرہ شامل ہے جو مشاھدے میں آ سکیں. مقصد یہ ہے اب منافقین کی حرکات و سکنات پر نگاہ رکھی جائے گی پہلے جیسی چھوٹ ختم ہو گئی

شیعوں نے اس آیت کے مفھوم میں وسعت پیدا کی اور روایت بیان کر دی

عبداللہ بن ابان ایک روایت میں کہتے ہیں:“ میں نے حضرت امام رضا ﴿ع﴾ کی خدمت میں عرض کی کہ: میرے اور میرے خاندان کے لئے ایک دعا فرمائیے۔ حضرت ﴿ع﴾ نے فرمایا:“ کیا میں دعا نہیں کرتا ھوں؟ خدا کی قسم آپ کے اعمال ہر روز وشب میرے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، لہذا ہر ناسب امر کے بارے میں دعا کرتا ہوں”۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ امام ﴿ع﴾ کا یہ کلام میرے لئے عجیب تھا کہ ہمارے اعمال ہر روز و شب امام ﴿ع﴾ کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں۔ جب امام ﴿ع﴾ میرے تعجب کے بارے میں آگاہ ھوئے تو مجھ سے مخاطب ھوکر فر مایا:“ کیا آپ خداوند متعال کی کتاب نہیں پڑھتے ہیں، جہاں پر خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے:“ وقل اعملوا فسیراللہ عملکم و رسولہ والمؤمنون” اور اس کے بعد فرمایا:“ خدا کی قسم اس آیت میں مومنون سے مراد علی بن ابی طالب ﴿ع﴾ ہیں الکافی ج1، ص ‏219، ح‏  ٤

ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں  کہتے ہیں

قَدْ وَرَدَ: أَنَّ أَعْمَالَ الْأَحْيَاءِ تُعرَض عَلَى الْأَمْوَاتِ مِنَ الْأَقْرِبَاءِ وَالْعَشَائِرِ فِي الْبَرْزَخِ

بے شک یہ آیا ہے کہ زندوں کے اعمال مردہ رشتہ داروں پر البرزخ میں پیش ہوتے ہیں

خالصتا شیعوں کا عقیدہ لے کر اہل سنت میں پھیلایا گیا کیونکہ آیت  کا یہ مفھوم  شیعہ کی معتمد علیہ کتاب الکافی سے لیا گیا ہے

ابن کثیر شاید وہ پہلے مفسر ہیں جنہوں نے سوره توبہ کی آیت سے یہ اسخراج کیا ہے کہ رشتہ داروں پر اعمال پیش ہوتے ہیں ان سے پہلے یہ تفسیر کرنے کی، سوائے شیعہ حضرات کے ، کسی کی ہمت نہ ہوئی

 ابن کثیر تفسیر ج ٣ ص ٤٤٠ میں یہ بھی  لکھتے ہیں

اس باب میں صحابہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) سے بہت سے آثار و روایات مروی ہیں- حضرت عبداللہ ابن رواحۃ کے انصاری رشتہ داروں میں سے ایک فرمایا کرتے تھے :اللّٰہم انی اعوذ بک من عمل اخزیٰ بہ عند عبداللّٰہ بن رواحۃ،اے اللہ میں ایسے عمل سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس سے عبداللہ بن رواحہ کی نگاہ میں میری رسوائی ہو

ابن تیمیہ فتوی میں لکھتے ہیں

ولما کانت اعمال الاحیاء تعرض علی الموتٰی کان ابوالدرداء یقول اللّٰہم انی اعوذ بک ان اعمل عملاً اخزیٰ بہٖ عند عبداللّٰہ ابن رواحۃ-(مجموعہ فتاویٰ ابن تیمیہ، ج ٢٤ ، ص ٣١٨)

چونکہ زندوں کے اعمال مردوں پر پیش کیے جاتے ہیں اس لیے ابو درداء  فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے عمل سے جس سے عبداللہ ابن رواحۃ کی نظر میں میری رسوائی ہو

 ابن حجر عسقلانی  فتح الباری (ج ۸، ص١٤٩ ) میں لکھتے ہیں

قَالَ الْخَطَّابِيُّ زَعَمَ بَعْضُ مَنْ لَا يُعَدُّ فِي أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْمُرَادَ بِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَا كَرْبَ عَلَى أَبِيكِ بَعْدَ الْيَوْمِ أَنَّ كَرْبَهُ كَانَ شَفَقَةً عَلَى أُمَّتِهِ لِمَا عَلِمَ مِنْ وُقُوعِ الْفِتَنِ وَالِاخْتِلَافِ وَهَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ لِأَنَّهُ كَانَ يَلْزَمُ أَنْ تَنْقَطِعَ شَفَقَتُهُ عَلَى أُمَّتِهِ بِمَوْتِهِ وَالْوَاقِعُ أَنَّهَا بَاقِيَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لِأَنَّهُ مَبْعُوثٌ إِلَى مَنْ جَاءَ بَعْدَهُ وَأَعْمَالُهُمْ تُعْرَضُ عَلَيْهِ

خطابی نے کہا  کہ نبی علیہ السلام نے فاطمہ سے وفات سے کچھ پہلے کھا تھا کہ لا کرب علی ابیک بعد الیوم (یعنی اے فاطمہ تمہارے والد کو آج کے دن کے بعد اب کوئی تکلیف نہیں ہوگی) بعض وہ لوگ جن کا شمار اہل علم میں نہیں ہوتا وہ یہ گمان کرتے ہیں کہنبی صلی الله علیہ وسلم  کو علم دیا گیا تھا کہ ان کے بعد ان کی امت میں فتنے اور اختلافات پیدا ہوں گے، امت پر شفقت و محبت کی وجہ سے آپ کو اس کی فکر رہتی تھی، یہ فکر آپ کی تکلیف کا باعث تھی اب چونکہ آپ دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں لہٰذا آپ کی یہ فکر بھی دور ہو رہی ہے، اس حدیث میں تکلیف سے یہی مراد ہے، حالانکہ یہ بالکل بے سروپا  بات ہے، اس لیے کہ اس سے لازم آتا ہے کہ امت پر نبی کی شفقت و محبت آپ کی وفات کے ساتھ ہی منقطع اور ختم ہو جائے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی امت پر آپ کی شفقت و محبت قیامت تک باقی ہے، کیونکہ آپ ان لوگوں کے لیے بھی مبعوث کیے گئے ہیں جو آپ کے بعد آئیں گے اور ان کے اعمال آپ پر پیش کیے جائیں گے

ڈاکٹر عثمانی رحمہ الله علیہ نے جب اس باطل عقیدے پر چوٹ کی تو وَانْصُرُوا (مدد کرو) کی  پکار اس طرح بلند ہوئی

خواجہ محمد قاسم کتاب کراچی کا عثمانی مذھب میں لکھتے ہیں

qasim-ibnkaseer

قارئین آپ بھی ہماری طرح متحر ہونگے کہ روایت کی سندی حثیت کی تحقیق کی بجائے یہ کیا کیفیت ہے کہ ضعیف روایت کو مانا جائے گا  ورنہ صحابہ پر فتوی لگنا چاہیے. قاسم صاحب کی اس عبارت سے علم حدیث، جرح و تعدیل کی تمام کتب آتش بغض میں بھسم ہو گئیں

یہ روایت المنامات  از ابن أبي الدنيا سے لی گئی ہے. ابن أبي الدنيا کی کتب ، احادیث کے ذخیرہ کی کمزور ترین روایات کا مجموعہ ہے. اس کی سند ہے

حدثنا أبو بكر ، ثني محمد بن الحسين ، ثنا علي بن الحسن بن شقيق ، ثنا عبد الله بن المبارك ، عن صفوان بن عمرو ، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير ، أن أبا الدرداء ، كان يقول : « إن أعمالكم تعرض على موتاكم فيسرون ويساءون » وكان أبو الدرداء ، يقول عند ذلك : « اللهم إني أعوذ بك أن أعمل عملا يخزى به عبد الله بن رواحة

الذهبی کتاب العبر في خبر من غبر میں لکھتے ہیں

 عبد الرحمن بن جبيْر بن نفَير الحضرمِي الحمصي. وهو مُكْثرٌ عن أبيه وغيره. ولا أعلمه روى عن الصحابة. وقد رأى جماعة من الصحابة

عبد الرحمن بن جبيْر بن نفَير الحضرمِي الحمصي ہیں اپنے باپ سے بہت سی روایات کی ہیں اور میں نہیں جانتا ان کی صحابہ سے کوئی روایت اور انہوں نے صحابہ کو دیکھا ہے

ابن ماكولا کتاب الإكمال میں لکھتے ہیں

جبير بن نفير من قدماء التابعين، روى عن أبيه وغيره. وابنه عبد الرحمن بن جبير بن نفير.

جبير بن نفير قدیم تابعين میں سے ہیں اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں اور ان کے بیٹے عبد الرحمن بن جبير بن نفير ہیں

معلوم ہوا کہ یہ روایت متصل نہیں. عبد الرحمن بن جبير بن نفير کا صحابہ سے سماع ثابت نہیں اور ان کے باپ خود تابعی ہیں

دوسری روایت

حاکم نے مستدرک میں (ج ۴/ص : ۳۴۲ ) روایت بیان کرتے ہیں

أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِئُ، قَالَا: ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، ثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ السَّكُونِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أُدَىٍّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، رَضِيَ الله عَنْهُمَا يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَلَا إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مِثْلُ الذُّبَابِ تَمُورُ فِي جَوِّهَا، فَاللَّهَ  فِي إِخْوَانِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْقُبُورِ فَإِنَّ أَعْمَالَكُمْ تُعْرَضُ عَلَيْهِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ “

نعمان بن بشیر رضی الله تعالی عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا …. لوگوں اپنے مردہ بھائیوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو کیونکہ تمہارے اعمال ان پر پیش کیے جاتے ہیں

الذهبی کہتے ہیں فيه مجهولان  اس میں مجھول راوی ہیں

تیسری روایت 

طبرانی معجم کبیرج ٤ ص  ۱۲۹اور معجم اوسط ج ١، ص  ٥٤ روایت کرتے ہیں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ثنا مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلَامَةَ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ السَّمَاعِيَّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” إِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنِ إِذَا قُبِضَتْ تَلَقَّاهَا مِنْ أَهْلِ الرَّحْمَةِ مِنْ عَبَادِ اللهِ كَمَا تَلْقَوْنَ الْبَشِيرَ فِي الدُّنْيَا، فَيَقُولُونَ: انْظُرُوا صَاحِبَكُمْ يَسْتَرِيحُ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ فِي كَرْبٍ شَدِيدٍ، ثُمَّ يَسْأَلُونَهُ مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ؟، وَمَا فَعَلَتْ فُلَانَةُ؟ هَلْ تَزَوَّجَتْ؟ فَإِذَا سَأَلُوهُ عَنِ الرَّجُلِ قَدْ مَاتَ قَبْلَهُ، فَيَقُولُ: أَيْهَاتَ قَدْ مَاتَ ذَاكَ قَبْلِي، فَيَقُولُونَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، ذُهِبَتْ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ فَبِئْسَتِ الْأُمُّ وَبِئْسَتِ الْمُرَبِّيَةُ ” قَالَ: ” وَإِنَّ أَعْمَالَكُمْ تُعْرَضُ عَلَى أَقَارِبِكُمْ وَعَشَائِرِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْآخِرَةِ، فَإِنْ كَانَ خَيْرًا فَرِحُوا وَاسْتَبْشَرُوا، وَقَالُوا: اللهُمَّ هَذَا فَضْلُكَ وَرَحْمَتُكَ فَأَتْمِمْ نِعْمَتَكَ عَلَيْهِ، وَأَمِتْهُ عَلَيْهَا وَيُعْرَضُ عَلَيْهِمْ عَمَلُ الْمُسِيءِ، فَيَقُولُونَ: اللهُمَّ أَلْهِمْهُ عَمَلًا صَالِحًا تَرْضَى بِهِ عَنْهُ وتُقَرِّبُهُ إِلَيْكَ “.

روایت کے الفاظ ہیں

وان اعمالکم تعرض علی اقاربکم وعشائرکم فان کان خیراً فرحوا واستبشروا وقالوا اللّٰھم ھٰذا فضلک ورحمتک فأتمم نعمتک علیہ ویعرض علیہم عمل المسئی فیقولون اللّٰہم الہمہ عملا صالحاً ترضٰی بہٖ عنہ و تقربہ الیک

ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

 تمہارے اعمال تمہارے  عزیز و اقارب پر پیش کیےجاتے ہیں، اگر وہ اعمال اچھے ہوتے ہیں تو وہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ یہ تیرا فضل و رحمت ہے تو اس پر اپنی نعمتوں کا اتمام فرما دے اور جب ان پر برے عمل پیش کیے جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اے اللہ اس کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما جس سے تو اس سے راضی ہو جائے اور تیری قربت حاصل ہو

 الہیثمی مجمع الزوائد میں اس روایت پر کہتے ہیں کہ اس کی سند میں مسلمہ بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے

رشتہ داروں پر اعمال پیش ہونے کی کوئی ایک روایت بھی سندا صحیح نہیں لیکن اس کو عقیدے کا حصہ بنایا گیا

زبیر علی زئی کتاب توضیح الاحکام میں لکھتے ہیں

zubair-amal-paish

اہل حدیث حضرات ابھی تک حدیث کی صحت پر متفق نہیں

ابن قیم سنن ابی داود پر اپنے حاشیہ تهذيب سنن أبي داود وإيضاح علله ومشكلاته  میں کہتے ہیں

وَلَا رَيْب أَنَّ الْمَيِّت يَسْمَع بُكَاء الْحَيّ وَيَسْمَع قَرْع نِعَالهمْ وَتُعْرَض عَلَيْهِ أعمال أقاربه الأحياء

اور کوئی شک نہیں کہ میت زندوں کا رونا اور ان کے قدموں کی چاپ سنتی ہے اور اس پر زندہ رشتہ داروں کے  اعمال پیش ہوتے ہیں

الله اس شرک سے نکلنے کی توفیق دے

جواب

مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ہے

حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة ، حدثنا زيد بن الحباب ، حدثنا جعفر بن إبراهيم ، من ولد ذي الجناحين ، قال : حدثنا علي بن عمر ، عن أبيه ، عن علي بن حسين ، أنه رأى رجلا يجيء إلى فرجة كانت عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم ، فيدخل فيها فيدعو ، فنهاه ، فقال : ألا أحدثكم حديثا سمعته من أبي ، عن جدي ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال : « لا تتخذوا قبري عيدا ، ولا بيوتكم قبورا ، فإن تسليمكم يبلغني أينما كنتم »

علی زین العابدین رحمہ اللہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر کے پاس ایک سوراخ کے پاس آکر اس میں داخل ہوتا ہے اور دعا کرتا ہے ، چنانچہ اسے اپنے پاس بلایا اور فرمایا: کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ سناوں جو میں نے اپنے باپ سے سنی ہے اور میرے باپ نے میرے دادا سے سنی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میری قبر کو عید [میلہ گاہ] نہ بناو اور جہاں کہیں بھی رہو مجھ پر سلام پڑھو تمھارا سلام مجھ تک پہنچ جائے گا۔

یہ روایت صحیح نہیں ہے اس میں ہے کہ قبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں خلل پیدا ہوا کہ حتی کہ ایک اتنا بڑا گڑھا ہو گیا کہ شخص اس میں داخل ہو جاتا اور اس نقص کی طرف کسی کی توجہ نہ ہوئی ایسا کسی بھی حدیث یا تاریخی روایت میں نہیں لہذا ضعیف ہے

ہیثمی نے اس پر لکھا ہے

رواه أبو يعلى وفيه جعفر بن إبراهيم الجعفري ذكره ابن أبي حاتم ولم يذكر فيه جرحاً وبقية رجاله ثقات

اس کو ابو یعلی نے روایت کیا ہے اور اس میں جعفر بن ابراہیم ہے جس کا ذکر ابن اب حاتم نے کیا ہے اور اس پر جرح نہیں کی باقی راوی ثقہ ہیں

یعنی یہ جعفر مجھول ہے

جواب

یہ سورہ النساء کی آیت ٦٤ ہے

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا

ابن کثیر نے تفسیر میں ایک باطل روایت لکھی ہے
وَقَدْ ذَكَرَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ الشَّيْخُ أَبُو نَصْرِ بْنُ الصَّبَّاغِ فِي كِتَابِهِ الشَّامِلِ الْحِكَايَةَ الْمَشْهُورَةَ عَنْ الْعُتْبِيِّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِعْتُ اللَّهَ يَقُولُ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جاؤُكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّاباً رَحِيماً

ابن کثیر المتوفی ٧٧٤ ھ نے اس جھوٹی روایت کو اپنی تفسیر میں لکھ کر اپنی بد عقیدتی کا اظہار کیا ان سے قبل شمس الدين أبي عبد الله محمد بن أحمد بن عبد الهادي المقدسي الحنبلي المتوفی ٧٤٤ ھ اس کو کتاب الصارم المنكي في الرد على السبكي میں رد کر چکے تھے

اس روایت کو امام النووی نے بھی صحیح مان کر لکھا ہے

آیت کا تعلق منافقین کی جنگ میں شرکت نہ کرنے سے ہے کہ ان کی حیلہ سازی کے باوجود اگر وہ الله سے معافی مانگیں تو الله معاف کر دے گا لیکن سوره التوبہ میں یہ بات ختم ہوئی جب منافق کا جنازہ پڑھنے سے روک دیا گیا اور کہا کہ اب معافی ختم
ان آیات کا سیاق و سباق ہے

الله نے حکم دیا ہے کہ اس سے براہ راست طلب کیا جائے کسی کے وسیلہ کا حکم نہیں دیا نہ یہ قرآن میں کسی کے لئے ہے بلکہ یعقوب علیہ السلام کے بیٹے باپ سے کہتے ہیں کہ ہمارے لئے دعائیں کریں وہ چاھتے تو ابراہیم اور اسحاق و اسمعیل کا وسیلہ پکڑ سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا

الله ہر ایک سے بے پرواہ ہے اس کی شان یہ ہے کہ انسان صرف اس سے مانگے یہی انبیاء کا عمل تھا

دوا کھانا اور لعاب دھن کے معجزہ کا اس بحث سے کوئی تعلق نہیں

الله نے بیماری کی شفا نازل کی ہے جو اس نے کیمکل میں رکھی ہے اور انسان ان کیمکل کو کھا لے تو اس کو شفا ہوتی ہے اس پر سب سے زیادہ تحقیق پرانے زمانے میں ہندووں نے کی جو آریو وید کے نام سے مشھور ہے ان سے یہ علم یونان کو منتقل ہوا – یہ سب مشرک اقوام تھیں جنہوں نے تجربات سے کیمکل دریافت کیے اور دیکھا کس چیز میں شفا ہے کس میں نہیں

اس سب کو لکھنے کا مقصد ہے کہ اردو میں محاورہ ہے
اگن کے بچے کھجور میں بتانا
یعنی کہیں کی بات کہیں منڈنا – دوا اور شفا کا وسیلہ کے عقیدے سے کوئی ربط نہیں ہے اور خارج عن بحث بات ہے

لعآب دھن تو رسول الله کا معجزہ تھا اور معجزہ الله کا خاص حکم ہوتا ہے اس کا وسیلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے

دنیا کے بہت سے کام ہمیں کرنا ہوں تو وہ کام کسی کے ذریعہ ہوتا ہے
بہت سے کام ہم خود کر لیتے ہیں مثلا کھانا کھانا ناک سنکنا وغیرہ کیا اس میں کوئی وسیلہ ہے ؟ کوئی نہیں ہے

بعض لوگ کوئی دوا نہیں لیتے صرف الله سے دعآ کرتے ہیں اور شفا پاتے ہیں مثلا یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں اتنا عرصۂ رہے کوئی وسیلہ نہ لیا تو نکل آئے لیکن جب الله کا حکم ہوا دعائیں تو وہ کافی عرصہ کرتے رہے یعنی ایک زندہ نبی تک کی دعآ پوری نہیں ہوئی اس کو بھی ٹائم لگا تو ایک عام آدمی جو نبی کا وسیلہ لگا رہا ہے اس کو کوئی فائدہ نہیں

امام ابو حنیفہ کا فتوی ہے کہ بحق فلاں کہنے پر اگ کا عذاب ہو گا

فقه حنفي كي كتاب هدايه از المرغيناني، أبو الحسن برهان الدين (المتوفى: 593هـ) مين ہے
ويكره أن يقول الرجل في دعائه بحق فلان أو بحق أنبياؤك ورسلك”؛ لأنه لا حق للمخلوق على الخالق.
اور کراہت کی جاتی ہے کہ آدمی دعا میں بحق فلاں کہے یا بحق انبیاء اور رسول کیونکہ مخلوق کا خالق پر کوئی حق نہیں

جواب  أَبَا إِسْمَاعِيْل عَبْدَ اللهِ بنَ مُحَمَّدٍ الهَرَوِيَّ  محدث    ابو عبدللہ محمّد بن عبدللہ   حاکم النیشابوری      صاحب المستدرک کے لئے کہتے ہیں     رَافضيٌّ خَبِيْث   ( سیر الاعلام النبلاء ج ١٢، ص ٥٧٦، دار الحديث- القاهرة    ).    الذھبی  کہتے ہیں   قُلْتُ: كَلاَّ لَيْسَ هُوَ رافضيًّا، بل يتشيِّع.  یہ رافضی تو نہیں لیکن شیعیت رکھتے تھے

عقائد میں حاکم صاحب مستدرک  صحیح منہج پر نہیں تھے وہ انبیاء پر وسیلے کی تہمت لگاتے تھے جیسا کہ انہوں نے مستدرک میں آدم علیہ السلام  کی دعا نبی علیہ السلام کے وسیلے سے قبول ہوئی روایت کیا ہے اور اس کو صحیح کہا ہے

حالانکہ ان کی سند میں متکلم فیہ راوی ہے اس پر اپنی کتاب المدخل میں خود  اس پر جرح کی  ہے  بعض محدثین ابن حجر کی رائے میں مستدرک لکھتے وقت  ان کی  دماغی حالت صحیح نہیں تھی اور اسی آخری وقت میں انہوں نے مستدرک لکھی ہے

لہذا مستدرک میں حاکم کی تصحیح  قبول نہیں کی جاتی

جواب ابن کثیر اپنی کتاب : البداية والنهاية ج ٧ ص ٩١ اور ٩٢  میں روایت نقل کرتے ہیں

وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ الْبَيْهَقِيُّ: أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ وَأَبُو بكر الفارسي قالا: حدثنا أبو عمر بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ مَالِكٍ قال: أصاب الناس قحط في زمن عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَسْقِ اللَّهَ لِأُمَّتِكَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في المنام فقال: ايت عمر فأقره منى السلام وأخبرهم أنهم مسقون، وقل له عليك بالكيس الْكَيْسَ. فَأَتَى الرَّجُلُ فَأَخْبَرَ عُمَرَ فَقَالَ: يَا رب ما آلوا إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ. وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.

ابن-کثیر

إس كي سند ضعیف ہے اعمش مدلس عن سے روایت کر رہا ہے جبکہ امام مالک سے عمر رضی الله عنہ تک سند نہیں ہے ابو صالح غیر واضح ہے افسوس ابن کثیر اتنی علتوں کے باوجود اس کو صحیح کہتے ہیں جبکہ قبر پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا سننا ثابت نہیں

لہذا ابن کثیر کی بد عقیدگی کی نشانی ہے

 ابن حبان المتوفی  ٣٥٤ ھ   اپنی صحیح میں روایت کرتے  ہیں

 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّقَّالُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا مَرَرْتُمْ بِقُبُورِنَا وَقُبُورِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَخْبِرُوهُمْ أَنَّهُمْ فِي النَّارِ

ابو هُرَيْرَةَ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا  جب تم ہماری (اہل اسلام) اور اہل الْجَاهِلِيَّةِ کی قبروں پر سے گزرتے ہو تو پس ان کو خبر دو کہ وہ اگ والے ہیں

البانی کتاب التعليقات الحسان على صحيح ابن حبان وتمييز سقيمه من صحيحه، وشاذه من محفوظه میں  کہتے ہیں صحيح اور اسی طرح – «الصحيحة» (18)، «أحكام الجنائز» (252) میں اس کو صحیح قرار دیتے ہیں

ibn-habban-title

ibn-habbanj2pg220

جبکہ شعيب الأرنؤوط کتاب الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان   پر اپنی تعلیق میں کہتے ہیں

إسناده ضعيف جداً، الحارث بن سريج قال ابن معين. ليس شيء، وقال النسائي. ليس بثقة، وقال ابن عدي: ضعيف يسرق الحديث، وشيخه يحيي بن اليمان كثير الخط.

اس کی سند بہت ضعیف ہے اس میں الحارث بن سريج ہے جس کو ابن معین کوئی چیز نہیں کہتے ہیں نسائی کہتے ہیں ثقہ نہیں ہے اور ابن عدی کہتے ہیں ضعیف حدیث چوری کرتا تھا اور اس کا شیخ يحيي بن اليمان  بہت غلطیاں کرتا تھا

ابن حبان اس حدیث پر صحیح ابن حبان میں حاشیہ لکھتے ہیں

قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْمُسْلِمَ إِذَا مَرَّ بِقَبْرِ غَيْرِ الْمُسْلِمِ، أَنْ يَحْمَدَ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا عَلَى هِدَايَتِهِ إِيَّاهُ الْإِسْلَامَ، بِلَفْظِ الْأَمْرِ بِالْإِخْبَارِ إِيَّاهُ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يُخَاطَبَ مَنْ قَدْ بَلِيَ بِمَا لَا يَقْبَلُ عَنِ الْمُخَاطِبِ بِمَا يُخَاطِبُهُ بِهِ

  نبی صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا اس حدیث میں کہ جب کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کی قبر پر سے گزرے تو الله کی تعریف کرے اس ہدایت پر جو اس نے اسلام سے دی اور حکم کے الفاظ جو اس حدیث میں ہیں کہ وہ اگ میں سے ہیں سے یہ محال ہے کہ ان  کو مخاطب کیا جائے جو بے شک (اتنے) گل سڑ گئے ہوں کہ  خطاب کرنے والے (کی اس بات ) کو قبول نہ کر سکتے ہوں جس پر ان کو مخاطب کیا گیا ہے

ابن حبان کے حساب سے ایسا خطاب نبی صلی الله علیہ وسلم نے سکھایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مردے سمجھنے اور سننے کے قابل  ہیں اس ضعیف روایت کو اپنی صحیح  میں بھی لکھتے ہیں اس سے بھی عجیب بات ہے کہ مردوں کے نہ سننے کے قائل البانی اس روایت کو صحیح کہتے ہیں جبکہ سندا یہ روایت کمزور ہے

ابن حبان مردوں کے سننے کے قائل  تھے اور نیک و صالحین کی قبور پر جا کر دعا کرتے اور وہ ان کے مطابق قبول بھی ہوتیں

وما حلت بي شدة في وقت مقامي بطوس, فزرت قبر علي بن موسى الرضا صلوات الله على جده وعليه ودعوت الله إزالتها عني إلا أستجيب لي, وزالت عني تلك الشدة, وهذا شيء جربته مرارا, فوجدته كذلك
طوس میں قیام کے وقت جب بھی مجھے کوئی پریشانی لاحق ہوئی ،میں نے (امام) علی بن موسی الرضا صلوات الله على جده وعليه کی قبرکی زیارت کی، اور اللہ سے اس پریشانی کے ازالہ کے لئے دعاء کی ۔تو میری دعاقبول کی گئی،اورمجھ سے وہ پریشانی دورہوگئی۔اوریہ ایسی چیز ہے جس کامیں نے بارہا تجربہ کیا تو اسی طرح پایا

[الثقات لابن حبان، ط دار الفكر: 8/ 456]

 قبروں سے فیض حاصل کرنے اور مردوں کے سننے کے ابن حبان قائل تھے

کہا جاتا ہے کہ ابن حبان  صالحین کی قبروں کی زیارت کے وقت کودعاء کی قبولیت کاوقت سمجھتے ہوں گے لیکن ایسا کسی حدیث میں نہیں لہذا یہ بدعت ہوئی اور پھر ان کا مردوں کے سننے کا عقیدہ اس بات کو اور الجھا دیتا ہے

ذهبی   کتا ب  سیر اعلام النبلاء ،ج ٩ ص ٣٤٤ ، میں لکھتے ہیں
وعن ابراهیم الحربی ، قال ۰ قبر معروف ( الکرخی ) التریاق المجرب 
 اور ابراهیم حربی کہتے هیں کہ  معروف (کرخی) کی قبر مجرب تریاق هے

الذھبی، سیر الاعلام النبلاء ج ٩ ص ٣٤٣ پر اس با ت کی تا ئید کرتے ہیں

يُرِيْدُ إِجَابَةَ دُعَاءِ المُضْطَرِ عِنْدَهُ؛ لأَنَّ البِقَاعَ المُبَارَكَةِ يُسْتَجَابُ عِنْدَهَا الدُّعَاءُ، كَمَا أَنَّ الدُّعَاءَ فِي السَّحَرِ مَرْجُوٌّ، وَدُبُرَ المَكْتُوْبَاتِ، وَفِي المَسَاجِدِ، بَلْ دُعَاءُ المُضْطَرِ مُجَابٌ فِي أَيِّ مَكَانٍ اتَّفَقَ، اللَّهُمَّ إِنِّيْ مُضْطَرٌ إِلَى العَفْوِ، فَاعْفُ عَنِّي

  ابراہیم حربی کی مراد یہ هے کہ معروف کرخی کی قبر کے پاس مضطر آدمی کی دعا قبول هوتی هے ،کیونکہ مبارک مقامات کے پاس دعا قبول هوتی هے ،جیسا کہ سحری کے وقت ،اور فرض نمازوں کے بعد ،اور مساجد میں ،بلکہ مضطر آدمی کی دعا هر جگہ قبول هو تی هے

اس پر شعيب الأرناؤوط  تعلیق میں لکھتے ہیں

هذا الكلام لا يسلم لقائله، إذ كيف يكون قبر أحد من الاموات الصالحين ترياقا ودواءا للاحياء، وليس ثمة نص من كتاب الله يدل على خصوصية الدعاء عند قبر ما من القبور، ولم يأمر به النبي صلى الله عليه وسلم، ولا سنه لامته، ولا فعله أحد من الصحابة والتابعين لهم بإحسان، ولا استحسنه أحد من أئمة المسلمين الذين يقتدى بقولهم، بل ثبت النهي عن قصد قبور الأنبياء والصالحين لاجل الصلاة والدعاء عندها

ایسا کلام قائل کے لئے مناسب نہیں کیونکہ کسی نیک شخص کی قبر کیسے تریاق یا دوا زندوں کے لئے ہو سکتی ہے ؟اور اس پر ایک رتی بھی کتاب الله میں دلیل نہیں کہ کوئی خصوصیت نکلتی ہو قبروں کے پاس دعا کی اور ایسا نبی صلی الله علیہ وسلم نے حکم نہیں کیا اور امت کو کہا اور نہ صحابہ نے نہ التابعين  نے ایسا کیا نہ ائمہ مسلمین نے اس کو مستحسن کہا جن کے قول کی اقتدہ کی جاتی ہے، بلکہ  دعا یا نماز کے لئے  انبیاء والصالحين  کی قبروں (کے سفر ) کے قصد  کی ممانعت ثابت ہے

امام احمد کہتے ہیں بحر الدم (1010) بحوالہ موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله،  دار الکتب

وقال أحمد: معروف من الأبدال، وهو مجاب الدعوة

احمد کہتے ہیں معروف ابدال میں سے ہیں اور ان کی دعا قبول ہوتی ہے

امام احمد صوفیوں کے مدح  تھے اور ان  کے شاگرد ابراہیم الحربی صوفی معروف الکرخی کی قبر کو تریاق المجرب کہتے تھے

امت  میں احبار اور رہبان  کی تمیز کا دور اب  ختم ہو رہا ہے (تیسری صدی ہجری کا اختتام) اور  اپس میں اشتراک کا دور شروع ہو گیا ہے اب حدود  واضح نہیں رہیں گی اور محدثین صوفیوں کے مدح نظر آنا شروع ہوں گے اور صوفی منش  اور زہاد لوگ محدث بنیں  گے بات زہد سے نقل کر عقیدے کی خرابی کا سبب بنے گی

ہمارے نزدیک  مردوں کے سننے کا عقیدہ اور قبروں سے فیض حاصل کرنا گمراہی ہے

اللہ ہم سب کو ہدایت دے

جواب

ڈاکٹر عثمانی کتاب مزار یا میلے میں لکھتے ہیں کہ توسل سے متعلق روایات بے اصل ہیں

mazar1

فقہ حنفی میں توسل  حرام ہے – ڈاکٹر عثمانی حوالہ دیتے ہیں

mazar2

افسوس محدثین میں سے کچھ  توسل یا وسیلہ  کے قائل تھے

امام النووی ساتویں صدی کے محدث ہیں- انہوں نے صحیح مسلم کی شرح لکھی ہے، اس کے علاوہ ریاض الصالحین کے نام سے ان کی ایک کتاب مشھور ہے جس میں صحیح و ضعیف روایات کو ملا جلا کر مختلف عنوانات کے تحت لکھا گیا ہے- اسی طرح ان کا فقہ شافعی پر بھی کام ہے- اپنی فقہ سے متعلق کتاب میں نووی نے زیارت قبر نبوی کے آداب لکھے ہیں، جن کو پڑھ کر آج بھی زیارت حج و عمرہ اور مدینہ کی کتب ترتیب دی جاتی ہیں-

امام النووی  قبر کے پاس سماع کے قائل  تھے کتاب کتاب المجموع شرح المهذب میں لکھتے ہیں

قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إلَّا رَدَّ الله عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ) رَوَاهُ أَبُو دَاوُد بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا 

ایسا کوئی نہیں کہ مجھے سلام کہے اور الله میری روح نہ لوٹا دے یہاں تک کہ میں سلام پلٹ کر کہوں

اس کو ابو داود نے صحیح اسناد سے روایت کیا ہے

ہمارے نزدیک یہ روایت صحیح نہیں لیکن امام النووی اسی کی بنیاد پر قبر کے پاس درود و سلام کے قائل تھے

امام نووی المتوفى: 676هـ  کتاب المجموع شرح المهذب   میں لکھتے ہیں

ثُمَّ يَأْتِي الْقَبْرَ الْكَرِيمَ فَيَسْتَدْبِرُ الْقِبْلَةَ وَيَسْتَقْبِلُ جِدَارَ الْقَبْرِ وَيُبْعِدُ مِنْ رَأْسِ الْقَبْرِ نَحْوَ أَرْبَعِ أَذْرُعٍ وَيَجْعَلُ الْقِنْدِيلَ الَّذِي فِي الْقِبْلَةِ عِنْدَ الْقَبْرِ عَلَى رَأْسِهِ وَيَقِفُ نَاظِرًا إلَى أَسْفَلِ مَا يَسْتَقْبِلُهُ مِنْ جِدَارِ الْقَبْرِ غَاضَّ الطَّرْفِ فِي مَقَامِ الْهَيْبَةِ وَالْإِجْلَالِ فَارِغَ الْقَلْبِ مِنْ عَلَائِقِ الدُّنْيَا مُسْتَحْضِرًا فِي قَلْبِهِ جَلَالَةَ مَوْقِفِهِ وَمَنْزِلَةَ مَنْ هُوَ بِحَضْرَتِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ وَلَا يَرْفَعُ صَوْتَهُ بَلْ يَقْصِدُ فَيَقُولُ السَّلَامُ عَلَيْك يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْك يَا نَبِيَّ الله السَّلَامُ عَلَيْك يَا خِيرَةَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْك يا حبيب الله السلام عيك يَا سَيِّدَ الْمُرْسَلِينَ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ السَّلَامُ عَلَيْك يَا خَيْرَ  الْخَلَائِقِ أَجْمَعِينَ السَّلَامُ عَلَيْك وَعَلَى آلِكَ وَأَهْلِ بَيْتِك وَأَزْوَاجِك وَأَصْحَابِك أَجْمَعِينَ السَّلَامُ عليك وعلى سائر النبيين وجميع عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ جَزَاك الله يَا رَسُولَ الله عَنَّا أَفْضَلَ مَا جَزَى نَبِيًّا وَرَسُولًا عَنْ أُمَّتِهِ وَصَلَّى عَلَيْك كُلَّمَا ذَكَرَك ذَاكِرٌ وَغَفَلَ عَنْ ذِكْرِك غَافِلٌ أَفْضَلَ وَأَكْمَلَ مَا صَلَّى عَلَى أَحَدٍ مِنْ  الْخَلْقِ أَجْمَعِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إلَهَ إلَّا الله وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّك عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَخِيرَتُهُ مِنْ خَلْقِهِ وَأَشْهَدُ أَنَّك بَلَّغْت الرِّسَالَةَ وَأَدَّيْت الْأَمَانَةَ وَنَصَحْت الْأُمَّةَ وَجَاهَدْت فِي الله حَقَّ جِهَادِهِ اللَّهُمَّ آتِهِ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ وَآتِهِ نِهَايَةَ مَا يَنْبَغِي أَنْ يَسْأَلَهُ السَّائِلُونَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إنَّك حَمِيدٌ مَجِيدٌ

وَمَنْ طَالَ عَلَيْهِ هَذَا كُلُّهُ اقْتَصَرَ عَلَى بَعْضِهِ وَأَقَلُّهُ السَّلَامُ عَلَيْك يَا رسول الله صلى الله عليك وَسَلَّمَ

پھر قبر کریم کے پاس آئے، قبلہ پیٹھ کی جانب رکھے اور سامنے قبر کی دیوار کو اور قبر کی اٹھان سے چار ہاتھ دور رہے اور قندیل جو قبلہ کی طرف ہے وہ سر پر ہو اور نظر نیچے رکھے قبر کے پاس اور نظر مقام ہیبت و جلال سے نیچے ہو اور دل دنیا و مافیھا سے دور اپنے قلب میں اس مقام کی جلالت کو حاضر رکھتے ہوئے اور….، پھر سلام کرے  اور آواز بلند نہ ہو بلکہ دھیمی ہو، پس کہے

السَّلَامُ عَلَيْك يَا رَسُولَ الله

السَّلَامُ عَلَيْك يَا نَبِيَّ الله

 السَّلَامُ عَلَيْك يَا خِيرَةَ الله

السَّلَامُ عَلَيْك يا حبيب الله

السلام عيك يَا سَيِّدَ الْمُرْسَلِينَ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ

السَّلَامُ عَلَيْك يَا خَيْرَ  الْخَلَائِقِ أَجْمَعِينَ

 السَّلَامُ عَلَيْك وَعَلَى آلِكَ وَأَهْلِ بَيْتِك وَأَزْوَاجِك وَأَصْحَابِك أَجْمَعِينَ

 السَّلَامُ عليك وعلى سائر النبيين وجميع عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ

جَزَاك الله يَا رَسُولَ الله عَنَّا أَفْضَلَ مَا جَزَى نَبِيًّا وَرَسُولًا عَنْ أُمَّتِهِ

 وَصَلَّى عَلَيْك كُلَّمَا ذَكَرَك ذَاكِرٌ وَغَفَلَ عَنْ ذِكْرِك غَافِلٌ

 أَفْضَلَ وَأَكْمَلَ مَا صَلَّى عَلَى أَحَدٍ مِنْ  الْخَلْقِ أَجْمَعِينَ

 أَشْهَدُ أَنْ لَا إلَهَ إلَّا الله وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّك عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

 وَخِيرَتُهُ مِنْ خَلْقِهِ وَأَشْهَدُ أَنَّك بَلَّغْت الرِّسَالَةَ وَأَدَّيْت الْأَمَانَةَ

 وَنَصَحْت الْأُمَّةَ وَجَاهَدْت فِي الله حَقَّ جِهَادِهِ

اللَّهُمَّ آتِهِ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ وَآتِهِ نِهَايَةَ مَا يَنْبَغِي أَنْ يَسْأَلَهُ السَّائِلُونَ

 اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إنَّك حَمِيدٌ مَجِيدٌ

وَمَنْ طَالَ عَلَيْهِ هَذَا كُلُّهُ اقْتَصَرَ عَلَى بَعْضِهِ وَأَقَلُّهُ السَّلَامُ عَلَيْك يَا رسول الله صلى الله عليك وَسَلَّمَ

اس کے بعد امام النووی کہتے ہیں کہ ابو بکر اور عمر پر بھی سلام پڑھے

فَيَقُولُ السَّلَامُ عَلَيْك يَا أَبَا بَكْرٍ صَفِيَّ رَسُولِ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَانِيَهُ فِي الْغَارِ

 جَزَاك الله عَنْ أُمَّةِ رَسُولِ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا

ثُمَّ يَتَأَخَّرُ إلَى صَوْبِ يَمِينِهِ قَدْرَ ذِرَاعٍ لِلسَّلَامِ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ الله عَنْهُ وَيَقُولُ

 السَّلَامُ عَلَيْك يَا عُمَرُ الَّذِي أَعَزَّ الله بِهِ الْإِسْلَامَ جَزَاك الله عَنْ أُمَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّىالله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا

اس کے بعد امام النووی کہتے ہیں

ثُمَّ يَرْجِعُ إلَى مَوْقِفِهِ الْأَوَّلِ قُبَالَةَ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَتَوَسَّلُ بِهِ فِي حَقِّ نَفْسِهِ وَيَسْتَشْفِعُ بِهِ إلَى رَبِّهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى وَمِنْ أَحْسَنِ مَا يَقُولُ مَا حَكَاهُ الْمَاوَرْدِيُّ وَالْقَاضِي أَبُو الطَّيِّبِ وَسَائِرُ أَصْحَابِنَا عَنْ الْعُتْبِيِّ مُسْتَحْسِنِينَ لَهُ قَالَ (كُنْت جَالِسًا عِنْدَ قَبْرِ رَسُولِ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْك يَا رَسُولَ الله سَمِعْت الله يَقُولُ (وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا الله وَاسْتَغْفَرَ لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيما) وَقَدْ جِئْتُك مُسْتَغْفِرًا مِنْ ذَنْبِي

مُسْتَشْفِعًا بِك إلَى رَبِّي ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ

* يَا خَيْرَ مَنْ دُفِنْت بِالْقَاعِ أَعْظَمُهُ

* فَطَابَ مِنْ طِيبِهِنَّ الْقَاعُ وَالْأَكَمُ نَفْسِي الْفِدَاءُ لِقَبْرٍ أَنْتَ سَاكِنُهُ

* فِيهِ الْعَفَافُ وَفِيهِ الْجُودُ وَالْكَرَمُ ثُمَّ انْصَرَفَ فَحَمَلَتْنِي عَيْنَايَ

فَرَأَيْت النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ فَقَالَ يَا عُتْبِيُّ الْحَقْ الْأَعْرَابِيَّ فَبَشِّرْهُ بِأَنَّ الله تَعَالَى قَدْ غَفَرَ لَهُ

پھر سلام کے بعد واپس جائے اول موقف پر کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے سامنے ہو اور ان سے توسل کرے اپنے لئے اور ان کی شفاعت کے ذریعہ اپنے رب  الله سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى سے طلب کرے- اور اور کیا خوب الْمَاوَرْدِيُّ اور وَالْقَاضِي أَبُو الطَّيِّبِ اور ہمارے تمام اصحاب  .. نے حکایت نقل کی ہے کہ میں قبر رسول کے پاس بیٹھا تھا پس ایک اعرابی آیا اور کہا السَّلَامُ عَلَيْك يَا رَسُولَ الله، الله کا کہا سنا  وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا الله وَاسْتَغْفَرَ لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيما،  پس میں آیا ہوں مغفرت مانگتے ہوئے اپنے گناہوں سے اپنے رب کے حضور پس اس نے اشعار کہے

اے بہترین انسان کہ جس کا پیکر اس سرزمین میں دفن ہے اور جس کے عطر و خوشبو سے اس سرزمین کی بلندی اور پستی معطر ہوگئی ہے، میری جان ایسی زمین پر قربان کہ جسے آپ نے انتخاب کیا اور اس میں عفت و جود وکرم پوشیدہ ہوگیا ہے۔

  پس نبی صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا انہوں نے فرمآیا  الله نے تجھے بخش دیا

افسوس اس روایت ابن کثیر نے تفسیر ابن کثیر میں سوره النساء میں نقل کر دیا ہے جو گمراہی پھیلا رہا ہے

وَقَدْ ذَكَرَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ الشَّيْخُ أَبُو نَصْرِ بْنُ الصَّبَّاغِ فِي كِتَابِهِ الشَّامِلِ الْحِكَايَةَ الْمَشْهُورَةَ عَنْ الْعُتْبِيِّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ الله، سَمِعْتُ الله يَقُولُ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جاؤُكَ فَاسْتَغْفَرُوا الله وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا الله تَوَّاباً رَحِيماً وَقَدْ جِئْتُكَ مُسْتَغْفِرًا لِذَنْبِي مُسْتَشْفِعًا بك إلى ربي. ثم أنشأ يقول: [البسيط] يَا خَيْرَ مَنْ دُفِنَتْ بِالْقَاعِ أَعْظُمُهُ … فَطَابَ مِنْ طِيبِهِنَّ الْقَاعُ وَالْأَكَمُ
نَفْسِي الْفِدَاءُ لِقَبْرٍ أَنْتَ سَاكِنُهُ … فِيهِ الْعَفَافُ وَفِيهِ الْجُودُ وَالْكَرَمُ
ثُمَّ انْصَرَفَ الْأَعْرَابِيُّ، فَغَلَبَتْنِي عَيْنِي فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ، فَقَالَ يَا عُتْبِيُّ، الْحَقِ الْأَعْرَابِيَّ فَبَشِّرْهُ أَنَّ الله قَدْ غَفَرَ لَهُ» .

بعض بزرگان مانند شیخ ابو نصر صباغ نے اس مشہور داستان کو عتبی سے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے کہ وہ کہتا ہے : میں قبر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک اعرابی داخل ہوا اور کہا: ”السلام علیک یا رسول اللہ

النووی کہتے ہیں

لَا يَجُوزُ أَنْ يُطَافَ بِقَبْرِهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُكْرَهُ إلْصَاقُ الظُّهْرِ وَالْبَطْنِ بِجِدَارِ الْقَبْرِ قَالَهُ أَبُو عُبَيْدِ الله الْحَلِيمِيُّ وَغَيْرُهُ قَالُوا وَيُكْرَهُ مَسْحُهُ بِالْيَدِ وَتَقْبِيلُهُ

یہ جائز نہیں کہ قبر صلی الله علیہ وسلم کا طواف کیا جائے اور کراہت کی ہے کہ پیٹھ یا  پیٹ کو قبر کی دیوار سے لگائے اور أَبُو عُبَيْدِ الله الْحَلِيمِيُّ اور دوسرے کہتے ہیں کہ کراہت کرتے ہیں کہ قبر کو ہاتھ سے مس کیا جائے یا اس کو چوما جائے

ایک دوسرے محدث امام احمد کا نقطہ نظر الگ تھا

عبد الله بن احمد کتاب العلل ومعرفة الرجال میں اپنے باپ امام احمد کی رائے پیش کرتے ہیں

سَأَلته عَن الرجل يمس مِنْبَر النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ويتبرك بمسه ويقبله وَيفْعل بالقبر مثل ذَلِك أَو نَحْو هَذَا يُرِيد بذلك التَّقَرُّب إِلَى الله جلّ وَعز فَقَالَ لَا بَأْس بذلك

میں نے باپ سے سوال کیا اس شخص کے بارے میں جو رسول الله کا منبر چھوئے اور اس سے تبرک حاصل کرے اور اس کو چومے اور ایسا ہی قبر سے کرے اور اس سے الله کا تقرب حاصل کرے پس انہوں نے کہا اس میں کوئی برائی نہیں

افسوس

قبر پر درود و سلام پڑھنا ان کو چومنا اور پھر ان سے توسل لینا اور نبی کا خواب میں آنا

یہ سب  سلف کے اہل حدیث کہہ رہے ہیں

 یہ سب غلط ہوا جو بھی ہوا

لہذا توحید  کی کھلی دعوت دی جائے اور بتایا جائے کہ جو ہوا سو ہوا اس سب سے توبہ کرو

جواب

كتاب الفروع ومعه تصحيح الفروع لعلاء الدين علي بن سليمان المرداوي  کے مطابق

قَالَ أَحْمَدُ فِي مَنْسَكِهِ الَّذِي كَتَبَهُ لِلْمَرُّوذِيِّ: إنَّهُ يَتَوَسَّلُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دُعَائِهِ

احمد نے مَنْسَكِهِ میں کہا جو انہوں نے المروزی کے لئے لکھی کہ وہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے وسیلہ سے دعائیں کرتے ہیں

 کتاب  الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف از  علاء الدين أبو الحسن علي بن سليمان المرداوي الدمشقي الصالحي الحنبلي کے مطابق

قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: الْمَرُّوذِيُّ يَتَوَسَّلُ بِالنَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فِي دُعَائِهِ وَجَزَمَ بِهِ فِي الْمُسْتَوْعِبِ

امام احمد نے کہا المروزی کو کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو وسیلہ لیں دعاووں میں

اسی طرح کتاب  كشاف القناع عن متن الإقناع از  منصور بن يونس بن صلاح الدين ابن حسن بن إدريس البهوتى الحنبلى کے مطابق بھی وسیلہ جائز ہے

واضح رہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے صحابہ دعا کرنے کی درخواست کرتے تھے لیکن وفات النبی کے بعد دعا میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا وسلیہ غلط عمل ہے

لہذا حنابلہ کے ہاں یہ تلقھا بالقبول کا درجہ رکھتا تھا

اس تحریر “مَنْسَكِهِ ” کو چھپا دیا گیا ہے اور اب اس کا ذکر نہیں کیا جاتا

امام احمد کے وسیلہ کے قول کا ذکر عبد الوہاب النجدی نے اپنے فتوی تک میں کیا ہے

wasilah-ahmed-najdi

دسواں مسئلہ – علماء اسلام کا قول ہے کہ دعائے استسقاء میں نیکوکاروں کا وسیلہ اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں اور امام احمد فرماتے ہیں: صرف نبی صلی الله علیہ وسلم کا وسیلہ لینا چاہئے ، اسی کے ساتھ ان علماء نے صراحت کے ساتھ یہ بھی کہا کہ کسی بھی مخلوق سے مدد طلب کرنا درست نہیں ، لہٰذا (مدد طلب کرنے اور وسیلہ لینے کے درمیان) فرق بلکل واضح ہے اور ہم جو مسئلہ بیان کر رہے ہیں ، اس پر کوئی اعتراض نہیں ، بعض صالحین توسل کو جائز قرار دیتے ہیں ، تو یہ ایک فقہی مسئلہ ہے ، اگرچہ ہمارے نزدیک صحیح قول جمہور کا ہے کہ توسل مکروہ ہے ، مگر وسیلہ لینے والوں کو ہم غلط بھی نہیں کہتے ، کیونکہ اجتہادی مسائل میں انکار و اعتراض کی گنجائش نہیں ہے – (مؤلفات محمد بن عبد الوہاب / فتاویٰ و مسائل ، جلد ٤ ، صفحہ ٦٨)

البانی کتاب التوسل أنواعه وأحكامه میں اعتراف کرتے ہیں کہ امام احمد نے نبی صلی الله علیہ وسلم کا وسیلہ لینے  کو جائز کیا ہے

فأجاز الإمام أحمد التوسل بالرسول صلى الله عليه وسلم وحده فقط، وأجاز غيره كالإمام الشوكاني التوسل به وبغيره من الأنبياء والصالحين

پس امام احمد نے صرف نبی صلی الله علیہ وسلم کا وسیلہ لینے  کو جائز قرار دیا ہے اور دیگر نے جیسے امام شوکانی نے انبیاء و صالحین سے اور نبی صلی الله علیہ وسلم سے وسیلہ لینے کو جائز کیا ہے

مجموع فتاوى میں ابن تيمية، الجزء الأول، ص 347   پر کہتے ہیں

وَرَأَيْت فِي فَتَاوِي الْفَقِيهِ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ قَالَ: لَا يَجُوزُ أَنْ يُتَوَسَّلَ إلَى اللَّهِ بِأَحَدِ مِنْ خَلْقِهِ إلَّا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إنْ صَحَّ حَدِيثُ الْأَعْمَى: فَلَمْ يُعْرَفْ صِحَّتُهُ – ثُمَّ رَأَيْت عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ وَغَيْرِهِمَا مِنْ الْعُلَمَاءِ أَنَّهُمْ قَالُوا: لَا يَجُوزُ الْإِقْسَامُ عَلَى اللَّهِ بِأَحَدٍ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ وَرَأَيْت فِي كَلَامِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ أَنَّهُ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

میں نے فَتَاوِي الْفَقِيهِ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ میں دیکھا کہ کہا کسی کے لئے جائز نہیں کہ مخلوق میں سے کسی کا وسیلہ لے سوائے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اگر اندھے والی حدیث صحیح ہے – اس کی صحت کا علم بھی نہیں ہے – پھر میں نے دیکھا کہ ابو حنیفہ نے اور ابو یوسف نے اور دیگر علماء نے کہ وہ کہتے ہیں کسی کے لئے جائز نہیں کہ ان (وسیلہ کی اقسام کو انبیاء میں سے کسی کی بھی الله کے لئے جائز کرتے ہوں اور میں نے امام احمد کا کلام دیکھا کہ وہ جائز کرتے ہیں

یہ دلائل ثابت کرتے ہیں کہ امام احمد توسل کے قائل تھے جبکہ یہ بدعت اور شرک ہے

جواب ایک روایت ہے جو المعجم الكبير  طبرانی اور حلية الأولياء وطبقات الأصفياء اور  مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

میں نقل ہوئی ہے اس کے مطابق علی رضی الله عنہ کی والدہ فاطمہ بنت اسد کی وفات پر صلی الله علیہ وسلم نے دعا کی

اللهُ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، اغْفِرْ لِأُمِّي فَاطِمَةَ بِنْتِ أَسَدٍ، ولَقِّنْهَا حُجَّتَها، وَوَسِّعْ عَلَيْهَا مُدْخَلَهَا، بِحَقِّ نَبِيِّكَ وَالْأَنْبِيَاءِ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِي فَإِنَّكَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ

اے الله جو زندہ کرتا ہے مردہ کرتا ہے جو زندہ ہے اور جس کو موت نہیں ہے مغفرت کر میری ماں فاطمہ بنت اسد کی اور ان کی قبر وسیع کر اس حق پر جو انبیاء کا ہے اور پچھلے انبیاء کا ہے کہ آپ رحم کرنے والے ہیں

یہ روایت ایک ہی راوی رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ  سے آئی ہے جو ضعیف ہے

 الدَّارَقُطْنِيّ کہتے ہیں : كان ضعيفًا في الحديث، سكن مصر.  حدیث میں ضعیف ہے مصر کا باسی تھا «المؤتلف والمختلف

ابن عدي کہتے ہیں: ضعيف

ابن ماكولا کہتے ہیں : ضعفوه سكن مصر ضعیف ہے مصر کا باسی تھا

امام حاکم نے ثقہ کہا ہے لیکن جمہور کے مقابلے پر ان کی تعدیل کلعدم ہے

مخلوق کا الله پر کوئی حق نہیں بلکہ الله الصمد الله سب سے بے نیاز ہے چاہے فرشتے ہوں یا انبیاء ہوں

جواب

اس دنیا کی جو بھی شی نظر اتی ہے اس کے پیچھے روشنی کا انعکاس کارفرما ہے روشی ٹھوس جسم پر پڑتی ہے اور پلٹ کر دیکھنے والے کی نگاہ تک جاتی ہے جب ایسا ہو تو اس جسم کا سایہ بننا لازمی ہے لہذا اس سے کوئی بھی ٹھوس جسم نہیں بچا البتہ مادہ کی دوسری حالت گیس کا سایہ نظر نہیں اتا  جیسے ہوا کا سایہ  نظر نہیں اتا کیونکہ اس میں ایٹم دور ہیں اور روشنی گزر جاتی ہے

 صحیح ابن خزیمہ کی صحیح سند سے روایت ہے

 نا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلَانِيُّ، نا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ فِي الصَّلَاةِ مَدَّ يَدَهُ، ثُمَّ أَخَّرَهَا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَنَعْتَ فِي صَلَاتِكَ هَذِهِ مَا لَمْ تَصْنَعْ فِي صَلَاةٍ قَبْلَهَا قَالَ: «إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ قَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ، وَرَأَيْتُ فِيهَا. . . . قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ، حَبُّهَا كَالدُّبَّاءِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْهَا، فَأُوحِيَ إِلَيْهَا أَنِ اسْتَأْخِرِي، فَاسْتَأْخَرَتْ، ثُمَّ عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ حَتَّى رَأَيْتُ ظِلِّيَ وَظِلَّكُمْ، فَأَوْمَأْتُ إِلَيْكُمْ أَنِ اسْتَأْخَرُوا، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ أَقِرَّهُمْ، فَإِنَّكَ أَسْلَمْتَ وَأَسْلَمُوا، وَهَاجَرْتَ وَهَاجَرُوا، وَجَاهَدْتَ وَجَاهَدُوا، فَلَمْ أَرَ لِي عَلَيْكُمْ فَضْلًا إِلَّا بِالنُّبُوَّةِ» 

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم  کے ساتھ ہم نے صبح کی نماز پڑھی پھر نماز کے دوران انہوں نے باتھ کو آگے کیا پھر پیچھے پس ہم نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا کہ آپ نے نماز میں کیا کیا  جو اس سے پہلے نہیں کیا – فرمایا میں نے جنت دیکھی اور اس میں لٹکتے پھل دیکھے … پس ارادہ کیا کہ اس کو لوں تو وحی کی گئی کہ چھوڑ کروں لہٰذا چھوڑ دیا  پھر جہنم پیش کی گئی یہاں تک (روشنی میں)  میں نے اپنآ سایہ اور تمھارے سائے تک دیکھے

الذھبی نے اسکو صحیح کہا ہے روایت دلیل ہے کہ رسول الله کا سایہ تھا

صحیح مسلم کی روایت ہے کہ نور سے فرشتوں کو تخلیق کیا گیا صحیح بخاری میں فرشتوں کے سایہ کا ذکر ہے

عن جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ أَبِي جَعَلْتُ أَبْكِي، وَأَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، فَجَعَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَوْنِي وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” لاَ تَبْكِيهِ – أَوْ: مَا تَبْكِيهِ – مَا زَالَتِ المَلاَئِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ “[صحيح البخاري 5/ 102 رقم 4080 ]۔

جابر بن عبد الله رضی الله عنہ کہتے ہیں میرے والد کا قتل شہادت ہوئی میں رونے لگا اور ان کے چہرے پر سے کپڑا ہٹاتا  پس اصحاب رسول نے منع کیا لیکن رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے منع نہ کیا اور کہا مت رو فرشتوں نے ان پراپنے پروں  سایہ کرنا نہ چھوڑا یہاں تک کہ بلند ہوئے

یعنی انکی روح کی پرواز تک فرشتے ان پر پروں سے سایہ کیے رہے

بعض علماء نے غلو کا عقیدہ اختیار کیا مثلا   زرقاني (المتوفى1122 ) نے کہا
روى ابن المبارك وابن الجوزي، عن ابن عباس: لم يكن للنبي -صلى الله عليه وسلم- ظل، ولم يقم مع الشمس قط إلا غلب ضوؤه ضوء الشمس، ولم يقم مع سراج قط إلا غلب ضوء السراج[شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية 5/ 525]۔

ابن مبارک اور ابن جوزی نے روایت کیا ہے ابن عباس سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کا سایہ نہیں تھا اور نبی مبارک سورج کے ساتھ کبھی کھڑے نہ ہوئے الا یہ کہ نبی کی روشنی سورج سے بڑھ کر ہوتی یا چراغ کے ساتھ کھڑے نہ ہوئے کہ نبی کی روشی چراغ سے بڑھ کر ہوتی

الزرقاني (المتوفى1122) نے نقل کیا
وقال ابن سبع: كان -صلى الله عليه وسلم- نورًا، فكان إذا مشى في الشمس أو القمر لا يظهر له ظل”؛ لأن النور لا ظلَّ له[شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية 5/ 525]۔

أبو ربيع سليمان ابن سبع نے کہا نبی صلی الله علیہ وسلم نور تھے پس جب چلتے سورج یا چاند کی روشنی میں تو ان کا سایہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کیونکہ نور کا سایہ نہیں ہوتا

کتاب المواهب اللدنية بالمنح المحمدية  از أحمد بن محمد بن أبى بكر بن عبد الملك القسطلاني القتيبي المصري، أبو العباس، شهاب الدين (المتوفى: 923هـ) کے مطابق

 ولم يكن له- صلى الله عليه وسلم- ظل فى شمس ولا قمر رواه الترمذى الحكيم عن ذكوان

نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ مبارک نہ سورج کی دھوپ میں نظر آتا تھا نہ چاند میں اس کو حکیم الترمذی نے ذکوان سے روایت کیا ہے 

حکیم الترمذی ایک صوفی تھا اس کی کتاب نوادر میں یہ قول نہیں ملا البتہ سیوطی نے الخصائص الکبری میں اس کی سند دی ہے

عبد الرحمن بن قيس الزعفراني عن عبد الملك بن عبد الله بن الوليد عن ذكوان ان رسول الله  لم يكن يرى له ظل في شمس ولا قمر ولا أثر قضاء حاجة

اس  کی سند میں   عبدالرحمن بن قیس زعفرانی ہے جو احادیث گھڑتا تھا

المواھب میں ایک اور قول بھی ہے

رواه البيهقى، ولم يقع له ظل على الأرض، ولا رؤى له ظل فى شمس ولا قمر. ويشهد له أنه- صلى الله عليه وسلم- لما سأل الله تعالى أن يجعل فى جميع أعضائه وجهاته نورا، ختم بقوله: «واجعلنى نورا»

البیہقی نے روایت کیا ہے کہ ان کا سایہ زمین پر نہیں اتا نہ ان کا سایہ سورج میں دیکھا گیا نہ چاند میں اور اس کی شہادت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب الله سے دعا کرتے تو وہ مانگتے کہ ان کے تمام  جسم میں نور ہو جائے اور کہتے اور مجھ میں نور کر دے

یہ دعا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تمام امت کو سکھائی اور اس کو رات کی نماز میں پڑھا جاتا  ہے  آج تک یہ دعا کسی بھی مومن کی قبول نہیں ہوئی؟  ظاہر ہے یہ بلا دلیل ہے اور نور قلبی ایمان ہے

افسوس عقل سلیم سے عاری علماء اس قول کو بیان کر گئے ورنہ کیا رات میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے سفر نہ کیا  کسی صحابی نے اس قسم کا محیر العقول معجزہ نقل نہ کیا

مخلوق میں سایہ ہونا خوبی ہے الله اس کو اپنی  الوہیت کی نشانی کہتا ہے اور سورج اس پر دلیل ہے

سوره الرعد میں ہے

لِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلَالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ١٥
اور (سات) آسمانوں اور زمین میں جو  ہیں مرضی اور بغیر مرضی سے اللہ تعالیٰ کے آگے سجدہ کرتی ہیں اور ان کے سائے بھی صبح و شام سجدہ کرتے ہیں۔

سوره النحل میں ہے

أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ٤٨
کیا انہوں نے جو  اللہ نے خلق کیا ان  میں کسی کو نہیں دیکھا کہ ان کے سائے دائیں اور بائیں گرتے ہیں الله کے لئے سجدے میں اور وہ کم ترکیے گئے ہیں

الله سایہ ہونے کو مخلوق کی شان کہتا ہے لیکن ان غلو پسندوں نے دعوی کیا ہے کہ یہ رسول الله میں نہیں تھا جو ان کا کھلا کذب و افتراء ہے جس کو کوئی دلیل نہیں اور مخلوق کو خالق سے ملانے کی کوشش ہے

کہا جاتا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا سایہ اس لئے نہیں بننے دیا گیا کہ کہیں کسی بے ادب کا پیر سایہ مبارک پر نہ پڑھ جائے

اس قول کو  نسفی نے  تفسیر مدارک ج ٢ ص ٤٩٢ میں سوره النور کی تفسیر میں نقل کیا ہے

 وقال عثمان إن الله ما أوقع ظلم على الأرض لئلا يضع إنسان قدمه على ذلك الظل فلما لم يمكن أحداً من وضع القدم على ظلك

 عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ الله عزوجل نے آپ کا سایہ زمین پر پڑنے نہیں دیا تاکہ اس پر کسی انسان کا قدم نہ پڑ جائے۔

لیکن خود رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر مشرکین مکہ نے اوجڑی ڈالی ان  کے دانت پر سر پر ضرب لگائی جسد مبارک  ان کی دی گئی تکلیف کو بشری شان سے برداشت کرتا رہا

نسفی کا  عثمان رضی الله عنہ سے منسوب قول بلا سند ہے

ایک اور دلیل بھی پیش کی جاتی ہے

عن الحسن بن علی رضی ﷲ تعالیٰ عنھما قال سألت خالی ھند بن ابی ھالۃ(ربیب النبی ﷺ) وکان وصافاً عن حلیۃ النبی ﷺ وانا اشتھی ان یصف لی منھا شیئاً اتعلق بہٖ فقال کان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہٖ وسلم فخما مفخماً یتلا لؤ وجھہٗ تلا لؤ القمر لیلۃ البدر۔
(شمائل ترمذی، ص۲)
ترجمہ۔ سیدنا امام حسن بن علی کہتے ہیں  کہ میں نے اپنے ماموں (نبی ﷺ کے ربیب) ہند بنی ابی ہالہ سے جو نبی صلی الله علیہ وسلم کے بہترین وصاف تھے، نبی  حلیہ مبارکہ دریافت کیا، میرا دل چاہتا تھا کہ وہ حلیہ مقدسہ سے کچھ بیان کریں اور میں اس سے پوری طرح متعارف ہو جائوں، توانہوں نے فرمایا  عظیم اور معظم تھے، آپ کا چہرۂ انور ایسا چمکتا اور روشنی دیتا تھا جیسے چودہویں رات میں چاند چمکتا ہے

دلائل النبوہ ابو نعیم میں اس کی سند ہے

 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ: ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ وَثنا أَبُو بَكْرٍ الطَّلْحِيُّ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ قَالَ: ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: ثنا جَمِيعُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعِجْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ بِمَكَّةَ عَنِ ابْنِ أَبِي هَالَةَ التَّمِيمِيِّ [ص:628] عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: سَأَلْتُ خَالِي هِنْدَ بْنَ أَبِي هَالَةَ التَّمِيمِيَّ وَكَانَ وَصَّافًا عَنْ حِلْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَنِّي أَشْتَهِي أَنْ يَصِفَ لِي مِنْهَا شَيْئًا أَتَعَلَّقُ بِهِ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخْمًا مُفَخَّمًا يَتَلَأْلَأُ وَجْهُهُ تَلَأْلُؤَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ

اس میں ایک مجھول شخص حسن بن علی سے روایت کر رہا ہے لہذا ضعیف روایت ہے

در محتار میں مطلب فِي زِيَارَة الْقُبُور کے باب میں ہے
رَوَى ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – كَانَ يَأْتِي قُبُورَ الشُّهَدَاءِ بِأُحُدٍ عَلَى رَأْسِ كُلِّ حَوْلٍ
تاریخ ابن شبہ میں اس کی سند ہے
قال أَبُو غَسَّانَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، ” أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِي قُبُورَ الشُّهَدَاءِ بِأُحُدٍ عَلَى رَأْسِ كُلِّ حَوْلٍ ، فيقول : سَلامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ سورة الرعد آية 24 ، قال : وَجَاءَهَا أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ عُمَرُ ، ثُمَّ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، فَلَمَّا قَدِمَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، حَاجًّا ، جَاءَهُمْ قال : وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَاجَهَ الشِّعْبَ ، قال : ” سَلامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ ”
روایت مصنف ابن ابی شیبہ میں نہیں ملی
اس کی سند میں عباد بن ابی صالح ہے
الذھبی میزان میں کہتے ہیں
قال علي بن المديني: ليس بشئ. کوئی چیز نہیں
وقال ابن حبان: لا يجوز الاحتجاج به إذا انفرد اس کی منفرد روایت سے احتجاج نہ کیا جائے
صحیح مسلم کے مطابق صرف سال وفات میں اپ آخری ایام میں احد کے شہداء کی قبور پر گئے

————-

حضرت مالک دار رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں لوگ قحط میں مبتلا ہوگئے۔ ایک صحابی نبی کریمﷺ کی قبر اطہر پر آئے اور عرض کیا۔ یارسولﷺ آپ اپنی امت کے لئے بارش مانگئے کیونکہ وہ ہلاک ہوگئی۔(مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، حدیث نمبر 32002، مکتبہ الرشد، ریاض، سعودی عرب)

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مَالِكِ الدَّارِ، قَالَ: وَكَانَ خَازِنَ عُمَرَ عَلَى الطَّعَامِ، قَالَ: أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِي زَمَنِ عُمَرَ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَسْقِ لِأُمَّتِكَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا، فَأَتَى الرَّجُلَ فِي الْمَنَامِ فَقِيلَ لَهُ: ” ائْتِ عُمَرَ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُ أَنَّكُمْ مُسْتَقِيمُونَ وَقُلْ لَهُ: عَلَيْكَ الْكَيْسُ، عَلَيْكَ الْكَيْسُ “، فَأَتَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَبَكَى عُمَرُ ثُمَّ قَالَ: يَا رَبِّ لَا آلُو إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ
الْأَعْمَشِ مدلس عن سے روایت کر رہا ہے ضعیف ہے
ابن حجر حسب روایت اپنی ناقص تحقیق فتح الباری میں پیش کرتے ہیں کہتے ہیں

وروى بن أَبِي شَيْبَةَ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ مَالِكٍ الدَّارِيِّ وَكَانَ خَازِنُ عُمَرَ قَالَ أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِي زَمَنِ عُمَرَ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى قَبْرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَسْقِ لِأُمَّتِكَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا فَأَتَى الرَّجُلَ فِي الْمَنَامِ فَقِيلَ
لَهُ ائْتِ عُمَرَ الْحَدِيثَ وَقَدْ رَوَى سَيْفٌ فِي الْفُتُوحِ أَنَّ الَّذِي رَأَى الْمَنَامَ الْمَذْكُورَ هُوَ بِلَالُ بْنُ الْحَارِثِ الْمُزَنِيُّ أَحَدُ الصَّحَابَةِ وَظَهَرَ بِهَذَا كُلِّهِ مُنَاسَبَةُ التَّرْجَمَةِ لِأَصْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ أَيْضًا وَاللَّهُ الْمُوَفِّقُ
یہ روایت صحیح ہے

مسند الفاروق میں ابن کثیر اس کو پیش کر کے کہتے ہیں
هذا إسناد جيد قوي
اس کی سند اچھی بہت قوی ہے
مالك الدَّار ایک مجہول شخص ہے افسوس ابن حجر اور ابن کثیر نے وسیلہ کی بد عقیدتی پھیلا دی ہے

البيهقي نے اس کو دلائل النبوة 7 / 47 میں باب ما جاؤ في رؤية النبي صلى الله عليه وسلم في المنام ذکر کیا ہے رسول اللہ کو خواب میں دیکھا جا سکتا ہے

کتاب المجالسة وجواهر العلم از أبو بكر أحمد بن مروان الدينوري المالكي (المتوفى : 333هـ) کے مطابق
قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْمَالِكِيُّ: مَالِكُ الدَّارِ هَذَا هُوَ مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، وَسُمِّيَ مَالِكُ الدَّارِ، لِأَنَّ عُمَرَ وَلَّاهُ دَارَ الصَّدَقَةِ
امام بخاری کہتے ہیں
مَالِكُ بنُ أَوْسٍ، قَالَ بَعْضُهُم: لَهُ صُحْبَةٌ، وَلاَ يَصِحُّ
یہ صحابی نہیں ہے

طبقات ابن سعد کے مطابق مالک الدار اصل میں مالك بن عياض الدار مولى عمر ہیں
ابن أبي حاتم نے الجرح میں اور امام بخاری نے تاریخ الکبیر اس پر سکوت کیا ہے جو مجھول راویوں کے ساتھ کا معاملہ ہے
المنذري (المتوفى: 656هـ) کتاب الترغيب والترهيب من الحديث الشريف میں مالک الدار اور عمر رضی الله عنہ کی ایک دوسری روایت پر لکھتے ہیں
وَمَالك الدَّار لَا أعرفهُ
اور مالک الدار کو نہیں جانتا

الهيثمي في ((مجمع الزوائد)) (3/ 127): مالك الدار لم أعرفه
ہیثمی بھی یہی کہتے ہیں

نخب الأفكار في تنقيح مباني الأخبار في شرح معاني الآثار از الحنفى بدر الدين العينى (المتوفى: 855هـ) کے مطابق
ابن المديني مالک الدار کو مجهول کہتے ہیں

یعنی احناف متقدمین میں یہ مالک الدار مجھول ہے
————
حضرت دائود بن صالح سے مروی ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز مروان آیا اور اس نے دیکھا کہ ایک آدمی حضور نبی کریمﷺ کی مزارِ انور پر اپنا منہ رکھے ہوئے تو اس (مروان) نے کہا: کیا تو جانتا ہے کہ توکیا کررہا ہے؟ جب مروان اس کی طرف بڑھا تودیکھا وہ صحابی رسولﷺ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ تھے۔ اور انہوں نے جواب دیا۔ ہاں میں جانتا ہوں۔ میں رسول اﷲﷺ کے پاس آیا ہوں ’’لم ات الحجر‘‘ میں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا۔ (مسند امام احمد بن حنبل،حدیث نمبر 23646، مطبوعہ دارالفکر ، بیروت )

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: أَقْبَلَ مَرْوَانُ يَوْمًا فَوَجَدَ رَجُلًا وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلَى الْقَبْرِ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مَا تَصْنَعُ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ أَبُو أَيُّوبَ، فَقَالَ: نَعَمْ، جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَبْكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ أَهْلُهُ، وَلَكِنْ ابْكُوا عَلَيْهِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ»

اسکی سند میں داود بن صالح ہے کتاب إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال از مغلطاي بن قليج الحنفي (المتوفى: 762هـ) کے مطابق
ذكره العقيلي وابن الجاورد في «جملة الضعفاء».
وخرج الحاكم حديثه في «المستدرك».
وقال ابن حبان: يروي الموضوعات عن الثقات حتى كأنه متعمد لها.
یہ ضعیف راویوں میں سے ہے

مغلطاي حنفی ہیں یہاں بھی متقدمین احناف اس روایت کو ضعیف سمجھتے ہیں
———-

تاریخ بغداد کی امام شافعی کی روایت ہے
أَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو عَبْد اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْن عَلِيّ بْن مُحَمَّد الصيمري قال أنبأنا عمر بن إبراهيم قال نبأنا عَلِيّ بْن ميمون قَالَ: سمعت الشافعي يقول: إني لأتبرك بأبي حنيفة وأجيء إِلَى قبره في كل يوم- يَعْنِي زائرا- فإذا عرضت لي حاجة صليت ركعتين وجئت إِلَى قبره وسألت الله تعالى الحاجة عنده، فما تبعد عني حتى تقضى
کہ میں امام ابو حنیفہ کی قبر پر جاتا تھا

سند میں عُمَر بْن إسحاق بْن إِبْرَاهِيمَ مجھول ہے
علی بن میمون الرقی ایک صاحب ہیں لیکن امام الشافعی کے اصحاب میں سے نہیں ہیں
————
محدث ابن خزیمہ کا امام موسی کی قبر کی زیارت کا حوالہ نہیں ملا اغلبا یہ غلطی ہے یہ بات امام ابن حبان کی ہے وہ قبر امام پر جاتے تھے
⇓ محدث ابن حبان قبروں سے فیض لینے کے قائل تھے ؟
http://www.islamic-belief.net/q-a/عقائد/عرض-اعمال/

محدثین میں قبروں سے فیض حاصل کرنے کی بدعت تیسری اورچوتھی صدی میں شروع ہوئی

قبروں کے پاس جا کر دعائیں کرنے سے ان کی قبولیت پر شریعت میں کوئی رتی دلیل نہیں بلکہ اس پر دلائل تار عنکبوت ہیں

ابن عباس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ خضر ایک ایسے شخص تھے جس کو علم غیب پتا تھا

 وكان رجلا يعلم علم الغيب

جواب

سند ہے

حدثنا ابن حميد، قال: ثنا سلمة، قال: ثنا ابن إسحاق، عن الحسن بن عمارة، عن الحكم بن عتيبة، عن سعيد بن جبير، قال: جلست فأسْنَدَ ابن عباس

اس روایت کی سند میں الحسن بن عمارة  بن المضرب البجلي مولاهم، أبو محمد الكوفي الفقيه، قاضي بغداد المتوفی ١٥٣ ھ ہے

شعبہ کہتے ہیں کذاب ہے اور محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک متروک ہے

میزان الاعتدال في نقد الرجال از الذہبی  کے مطابق

 روى الحسن بن عمارة أحاديث عن الحكم، فسألنا [الحكم]  عنها، فقال: ما سمعت منها شيئا.

حسن بن عمارہ نے الحکم سے روایت  کیا پھر ہم نے ان روایات کے بارے میں الحکم سے پوچھا تو انہوں نے کہا اس نے مجھ سے کچھ نہ سنا

اور کہا وقال أحمد بن سعيد الدارمي: حدثنا النضر بن شميل، حدثنا شعبة، قال: أفادني الحسن بن عمارة عن الحكم سبعين حديثاً، فلم يكن لها أصل

حسن بن عمارہ نے الحکم بن عتيبة سے ستر احادیث روایت کیں جن کا کوئی اصل نہیں ہے

حیرت ہے کہ ابن کثیر نے بھی اس روایت کو تفسیر میں بلا جرح نقل کیا ہے اور السيوطي نے الدر المنثور  میں اس روایت کو بیان کیا ہے

جواب

یہ عقیدہ اس طرح بنا کہ ابن فورک المتوفی ٤٠٦ ھ جو امام بیہقی کے استاد تھے ایک متکلم تھے ان کی بحث ہوئی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نبی ہیں یا نبی تھے اس کلامی بحث کا انجام اس پر ہوا کہ یہ عقیدہ بنایا گیا کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ رسول الله کی وفات ہوئی تو یہ گویا ان کی نبوت کا انکار ہو جائے گا کہ رسول الله نبی نہیں رہے گویا موت ان متکمین کے نزدیک تمام خوبیوں کی ختم کرنے والی ہے لہذا انہوں نے یہ عقیدہ اختیار کیا کہ رسول الله قبر میں مسلسل زندہ ہی ہیں وہ زندہ ہیں اس لئے رسول بھی رہیں گے لہذا ان کی نبوت قیامت تک ہے

دوسرا عقیدہ یہ بنا کہ قرآن میں ہے کہ ازواج النبی رسول الله کی بیویاں ہیں جن کے بعد وہ اور نکاح نہیں کر سکتے لہذا یہ ازواج بھی حیات سے متصف ہیں اور مسلسل زندہ ہیں
اب چونکہ دونوں زندہ ہیں اور نبی اور ان کی ازواج کا نکاح بھی ہے تو وہ قبر میں ملاقات بھی کرتے ہیں

یہ اس بحث کا ایک کلامی نتیجہ تھا جس کو لوگوں نے قبول کر لیا اور اہل طریقت اور شریعت کا حیات النبی فی القبر پر عقیدہ بن گیا

برصغیر میں اس عقیدہ کو احمد رضا خان صاحب نے پیش کیا
انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی حیات حقیقی،حسی،دنیاوی ہے ۔ان پر تصدیق وعدہ الٰہیہ کے لئے محض ایک آن کو موت طاری ہوتی ہے، پھر فورا اُن کو ویسے ہی حیات عطا فرما دی جاتی ہے۔ اس حیات پر وہی احکام دنیویہ ہیں۔ان کا ترکہ نہیں بانٹا جائے گا ،ان کی ازواج کو نکاح حرام نیز ازواج مطہرات پر عدت نہیں ہے وہ اپنی قبور میں کھاتے پیتے اور نماز پڑھتے ہیں،بلکہ سیدی محمد عبدالباقی زرقانی یہ فرماتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کی قبور مطہرہ میں ازواج مطہرات پیش کی جاتی ہیں ، وہ اُن سے شب باشی کرتے ہیں ” (ملفوظات حصہ سوم صفہ 362)۔(
———–

راقم کہتا ہے بعض زاویے شروع سے ہی غلط ہوتے ہیں ان کی بنیاد پر سوچ کے پیمانے بھی غلط ہوتے ہیں اور اگر بنیاد ٹیڑھی ہو تو عمارت بھی سیدھی نہیں رہتی نبوت کو موت سے ختم نہیں کیا جا سکتا یہ سمجھنا کہ ایک نبی کا منصب نبوت موت پر ختم ہوا غلط ہے اصلا انبیاء کی جو ڈیوٹی تھی وہ قومی تھی سوائے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے کہ ان کی نبوت و رسالت آخری اور تمام انسانیت کے لئے تھی مثلا جب عالم بالا میں برزخ میں رسول الله کی ملاقات فوت شدہ انبیاء سے معراج پر ہوتی ہے تو اپ صلی الله علیہ وسلم ان کو نبی ہی کہتے ہیں یہ کلامی بحث جنت میں معراج پر نہیں چھڑی کہ یہ انبیاء جو فوت ہوئے اب یہ نبی کیسے ہیں
لہذا متکلمین کا نبوت کو موت سے منسلک کرنا ہی سرے سے غلط تھا

آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے شارعِ مُجاز بناکر پاک چیزوں کو حلال اور ناپاک چیزوں کو حرام قرار دینے کا اختیاربھی عطا فرمایا ہے ،چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”سنو!مجھے کتاب عطافرمائی گئی ہے اور اُس کی مثل (یعنی میری سنت)بھی اُس کے ساتھ ہے،سنو!قریب ہے کہ ایک شخص پیٹ بھرا ہوا اپنی مَسند پر ٹیک لگائے ہوگا (اور)کہے گا:اس کتاب (قرآن)کو لازم پکڑو،پس جو کچھ تم اس میں حلال پائو ،اُسے حلال جانو اور جو کچھ تم اِس میں حرام پائو، اُسے حرام جانو،سنو!میںتمہارے لیے پالتو گدھے اور کُچلیوں سے شکار کرنے والے درندوں کو حرام قرار دیتا ہوں ،(ابودائود:4604)‘‘۔اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں ،جن کی حرمت کا ذکر قرآنِ مجید میں نہیں ہے ، مگر میں انہیں حرام قرار دیتا ہوں اور یہ اختیار قرآن کی رُو سے اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمایا ہے –

جواب

یہ روایت صحیح ہے

پالتو گدھوں کا گوشت جنگ خیبر پر ممنوع قرار دیا گیا اور روایات کے مطابق اس روز کھانے میں صرف ان کی ممانعت کا حکم ہوا لہذا ظاہر ہے کہ یہ قول نبوی جو اپ نے پیش کیا اس کے بعد کا ہے
فتح خیبر سن ٦ یا ٧ ہجری میں ہوئی اس سے قبل سن ٢ ہجری کی سوره بقرہ میں حکم آ چکا تھا کہ طیب چیزیں کھاؤ مسلمانوں کا خیبر میں گدھوں کو پکانا ظاہر کرتا ہے کہ چونکہ جنگی حالت تھی ان کو اشتباہ تھا کہ یہ حرام نہیں جبکہ یہ حرام تھے لہذا ان کو ذبح کر کے پکا بھی لیا یہاں تک کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو خبر ہوئی اور اپ نے اس سے منع کیا یہاں تک کہ برتن بھی تڑوا دیے گئے

جانوروں کی حرمت توریت میں بھی ہے جس کے مطابق گدھے حرام ہیں اور وہ جانور جو کچلیوں سے شکار کرتے ہیں حرام ہیں لہذا یہ حرمت حدیث سے نہیں ہے یہ تو قرآن سے بھی پہلے رسول الله سے بھی پہلے توریت سے چلی آ رہی ہے تمام انبیاء کا دین اسلام ہے جس میں ان چیزوں کی حرمت پہلے سے ہے

توریت میں حکم ہے
you shall not eat this out of those that regurgitate the cud and out of those that have a (undivided) hoof
تم پر حرام ہے کہ کھاؤ ان جانوروں کو جو جگالی کرتے ہیں اور ان میں سے جن کا کھر جڑا ہے

گدھے کا کھر بیچ سے ٹوٹا نہیں ہے لہذا توریت کے مطابق حرام ہے

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کا واپس اعادہ کیا ہے ظاہر ہے اس دور میں توریت عبرانی میں تھی اور احبار اس کو چھپا کر رکھتے تھے لہذا مسلمان اس توریت کے کھانے کے احکام سے لا علم تھے لیکن رسول الله کو من جانب الله علم تھا اور آپ صلی الله علیہ وسلم کو براہ راست وہی علم دیا گیا جو توریت میں پہلے بیان ہو چکا تھا

لہذا یہ کہنا کہ رسول الله کو شارع مجاز کیا گیا الفاظ صحیح نہیں ہیں شریعت ساز تو الله ہی ہے اسی کا حکم چلتا ہے اور جو رسول الله حکم کرتے ہیں وہ بھی الوحی کے تحت ہوتے ہیں

ان جانوروں کی حرمت کا حکم کتاب الله قرآن اور توریت دونوں میں ہے یعنی یہ طیب نہیں لیکن چونکہ یہ قرآن کا استخراجی حکم بنتا ہے لہذا رسول الله نے فرمایا کہ لوگ سمجھیں گے کہ یہ کتاب الله سے نہیں لیا گیا لیکن جیسا ہم نے وضاحت کی یہ احکام کتاب الله یعنی توریت سے لیا گیا اور اپ صلی الله علیہ وسلم نے اسی حکم کا اعادہ کیا

جواب

راقم کے نزدیک اس کی دلیل نہیں ہے رسول الله الوحی کے تابع عمل و حکم کرتے ہیں جو من جانب الله ہے لہذا بہت سے احکام حدیث میں ہیں ان کی بنیاد پر رسول الله کو شارع نہیں کہا جاتا کیونکہ شریعت الله کی ہے
—————-
سوره الاعراف میں ہے
الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (157
جو اس رسول النبی الامی کی اتباع کرتے ہیں جس کا ذکر یہ توریت و انجیل میں پاتے ہیں جو ان کو معروف کا حکم کرتا ہے اور منکر سے روکتا ہے اور طیبات کو حلال کرتا ہے اور خبیت کو حرام کرتا ہے اور بوجھ اور زنجیروں کو اتارنے والا ہے پس جو اس پر رسول پر ایمان لائے اور اس کی مدد کی اور نصرت کی اور اس نور کی اتباع کی جو اس کے ساتھ ہے تو یہ مفلح ہیں
——————–
اس پر کہا جاتا ہے رسول الله کو یہ حثیت حاصل تھی کہ طیب کو حلال کریں کہا جاتا ہے کہ اگر چیز طیب ہو تو اس کو حلال کیوں گیا گیا وہ تو سب کو پتا تھی اسی طرح خبیث بھی سب کو پتا ہو گی تو اس کو رسول الله کے کہنے پر حرام کیا گیا ؟ یہ انداز بریلوی فرقہ کا ہے
https://www.facebook.com/video.php?v=641054195967611&permPage=1
اس کا جواب ہے کہ یہ آیات اہل کتاب کے بارے میں ہے جو کہتے تھے کہ اونٹ حرام ہے جو یہ نبی کھاتا ہے اور توریت میں اونٹ ایک حرام جانور ہے یہ وہ زنجیر تھی جو اہل کتاب نے اپنے اوپر ڈالی ہوئی تھی اونٹ کا گوشت طیب تھا اس کو حلال الله نے کیا لیکن چونکہ رسول الله کی نبوت و رسالت میں یہود و نصاری کو شک ہے اس کو ایک نشانی کے طور پر پیش کیا گیا کہ یہ نبی جو طیب ہے اسی کو حلال کر رہا ہے کیونکہ اونٹ کا گوشت تو یعقوب نے بھی کھایا ہے اسی طرح حرام جن چیزوں کو کیا ان میں سور ہے جس کو نصرانی کھا رہے تھے جو تھا ہی اصلا خبیث

تحقیق درکار ہے

خالد بن معدان رحمہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں آپ اپنے بارے میں بتلائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میں اپنے والد ابراہیم کی دعا اور عیسی کی دی ہوئی خوشخبری ہوں، میری والدہ جب امید سے ہوئیں تو [انہیں ایسا محسوس ہوا کہ] گویا ان کے جسم سے روشنی نکلی ہے جس کی وجہ سے سرزمین شام میں بصری کے محل روشن ہو گئے )
خالد بن معدان رحمہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں آپ اپنے بارے میں بتلائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میں اپنے والد ابراہیم کی دعا اور عیسی کی دی ہوئی خوشخبری ہوں، میری والدہ جب امید سے ہوئیں تو [انہیں ایسا محسوس ہوا کہ] گویا ان کے جسم سے روشنی نکلی ہے جس کی وجہ سے سرزمین شام میں بصری کے محل روشن ہو گئے )

اس روایت کو ابن اسحاق نے اپنی سند سے بیان کیا ہے: (سیرت ابن ہشام: 1/66) اور انہی کی سند سے امام طبری نے اسے اپنی تفسیر طبری : (1/566) میں اور امام حاکم نے اپنی کتاب مستدرک : (2/600) میں روایت کیا ہے، اور ساتھ امام حاکم یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح سند والی ہے، لیکن بخاری اور مسلم نے اسے روایت نہیں کیا، ان کے اس تبصرے پر امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔

مزید کیلیے دیکھیں: سلسلہ صحیحہ: (1545)(سیرت ابن ہشام: 1/66) اور انہی کی سند سے امام طبری نے اسے اپنی تفسیر طبری : (1/566) میں اور امام حاکم نے اپنی کتاب مستدرک : (2/600) میں روایت کیا ہے، اور ساتھ امام حاکم یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح سند والی ہے، لیکن بخاری اور مسلم نے اسے روایت نہیں کیا، ان کے اس تبصرے پر امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔

مزید کیلیے دیکھیں: سلسلہ صحیحہ:

(1545)

جواب

ابن اسحاق امام مالک کے ہم عصر ہیں اور واقدی امام احمد کے دونوں میں 60 سال کا فرق ہے اس دور میں غلو مسلمانوں میں شروع ہو چکا تھا ان کو کسی طرح یہ ثابت کرنا تھا کہ ان کے نبی سب سے افضل ہیں
اس میں راقم کو کوئی شک نہیں ہے لیکن ان مسلمانوں نے جو طریقه اختیار کیا وہ صحیح نہیں تھا مثلا اہل کتاب نے جو جھوٹی باتیں مشھور کر رکھی تھیں ان کی ان مسلموں نے ایسی تاویل کی کہ یہ باتیں اسلام کے حق میں ہو جائیں یہ روایات پرو پیگنڈا کا ایک نہایت منفی انداز تھا مثلا اہل کتاب میں مشھور تھا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے دوران سفر کسی نسطوری نصرانی سے علم لیا جس کے بعد نبوت کا دعوی کیا یہ کتب آج چھپ چکی ہیں ابن اسحاق نے اس کا جواب دینا ضروری سمجھا اور وہ بھی اس طرح کہ نسطوری راہب بحیرہ سے نبی صلی الله علیہ وسلم کی بچپن میں ملاقات کا واقعہ بیان کیا جو کذب تھا
نصرانی راہب کو نسطوری اس لیے بیان کیا جاتا ہے کیونکہ وہ کتھلویک یا آرتھوڈوکس چرچ کا نہیں تھا ان دونوں کا مخالف تھا

اسی طرح انجیل یوحنا کے مطابق عیسیٰ ایک نور تھا جو مجسم ہوا باب اول آیات ایک تا ١٤ میں یہ عقیدہ بیان ہوا ہے مسلمان اس ڈور میں پیچھے کیوں رہتے انہوں نے بھی بیان کیا کہ رسول الله جب پیدا ہوئے تو نور نکلا جس سے شام اور بصرہ عراق روشن ہو گئے کیونکہ بصرہ اور شام میں اس وقت قیصر نصرانی کی حکومت تھی گویا ہمارا نبی دنیا میں آیا تو اس کا نور عیسیٰ سے بڑھ کر تھا

اس طرح کی بہت سی اور روایات ہیں جو صرف نصرانیوں سے مقابلے پر بنانی گئی ہیں

شام کے محلات روشن ہوئے پر روایات مسند احمد میں ہیں جن  کو  بہت ذوق و شوق سے تمام فرقوں کے لوگ بیان کرتے ہیں یہاں تک کہ عصر حاضر کے علماء میں البانی ( صحيح لغيره – “الصحيحة” (1546 و 1925)) اور شعيب الأرنؤوط – عادل مرشد بھی مسند احمد پر تعلیق میں اس کو صحیح لغیرہ کہتے ہیں

مسند احمد کی سند ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” إِنِّي عِنْدَ اللهِ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ، وَسَأُنَبِّئُكُمْ  بِتَأْوِيلِ ذَلِكَ، دَعْوَةِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ وَبِشَارَةِ عِيسَى قَوْمَهُ، وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ لَهُ قُصُورُ الشَّامِ، وَكَذَلِكَ تَرَى أُمَّهَاتُ النَّبِيِّينَ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمْ

سند میں  سعيد بن سويد شام حمص کا ہے  میزان الاعتدال از الذھبی کے مطابق

امام  البخاري: لا يتابع في حديثه.

امام بخاری کہتے ہیں اس کی حدیث کی متا بعت نہیں کی جاتی

البزار المتوفی ٢٩٢ ھ بھی اس کو مسند میں بیان کرتے ہیں کہتے ہیں

وَهَذَا الْحَدِيثُ لا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم بِإِسْنَادٍ مُتَّصِلٍ عَنْهُ بِأَحْسَنَ مِنْ هَذَا الإِسْنَادِ وَسَعِيدُ بْنُ سُوَيْدٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ

یہ حدیث ہم نہیں جانتے  کہ اس کو اس سے اچھی متصل اسناد سے رسول اللہ سے کسی نے روایت کیا ہو سوائے اس سند کے اور سعید بن سوید شام کا ایک آدمی ہے جس میں برائی نہیں ہے

یعنی امام بخاری اور البزار کا اس راوی پر اختلاف تھا ایک اس میں کوئی برائی نہیں جانتا تھا اور دوسرا اس کی روایات کو منفرد کہتا تھا

صحیح ابن حبان میں ابن حبان نے اسی سند سے  اس روایت کو علامت نبوت میں شمار کیا ہے اور اسی سند کو تلخیص مستدرک میں امام الذھبی نے صحیح کہا ہے

راقم کہتا ہے روایت  چاہے  سعید بن سوید کی سند سے ہو یا کسی اور کی سند سے اس میں شامیوں کا تفرد ہے اور ان شامیوں کو اپنے پروسٹیوں اہل کتاب پر ثابت کرنا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم  کا نور عیسیٰ علیہ السلام سے بڑھ کر ہےاور یہ شامیوں کا غلو ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ التَّمَّارِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏”أَنَّهُ رَأَى قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَنَّمًا”. حَدَّثَنَا فَرْوَةُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ “لَمَّا سَقَطَ عَلَيْهِمُ الْحَائِطُ فِي زَمَانِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخَذُوا فِي بِنَائِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَبَدَتْ لَهُمْ قَدَمٌ فَفَزِعُوا،‏‏‏‏ وَظَنُّوا أَنَّهَا قَدَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا يَعْلَمُ ذَلِكَ،‏‏‏‏ حَتَّى قَالَ لَهُمْ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ مَا هِيَ قَدَمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مَا هِيَ إِلَّا قَدَمُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ”.

ہم سے محمد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ نے خبر دی ‘ کہا کہ ہمیں ابوبکر بن عیاش نے خبر دی اور ان سے سفیان تمار نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک دیکھی ہے جو کوہان نما ہے۔ ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے کہ ولید بن عبدالملک بن مروان کے عہد حکومت میں (جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک کی) دیوار گری اور لوگ اسے (زیادہ اونچی) اٹھانے لگے تو وہاں ایک قدم ظاہر ہوا۔ لوگ یہ سمجھ کر گھبرا گئے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم مبارک ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں تھا جو قدم کو پہچان سکتا۔ آخر عروہ بن زبیر نے بتایا کہ نہیں اللہ گواہ ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم نہیں ہے بلکہ یہ تو عمر رضی اللہ عنہ کا قدم ہے۔

جواب

ابنِ منظور افریقی المتوفی ٧١١ ھ کتاب  لسان العرب میں  لکھتے ہیں

وَالمَزَارُ موضع الزيارة.

مزار سے مراد زیارت کرنے کا مقام ہے۔

ابن منظور إفريقي، لسان العرب، 4 : 333

کتاب  المصباح المنير في غريب الشرح الكبير  المؤلف: أحمد بن محمد بن علي الفيومي ثم الحموي، أبو العباس (المتوفى: نحو 770هـ) کے مطابق

 وَالْمَزَارُ يَكُونُ مَصْدَرًا وَمَوْضِعُ الزِّيَارَةِ وَالزِّيَارَةُ فِي الْعُرْفِ قَصْدُ الْمَزُورِ إكْرَامًا لَهُ وَاسْتِئْنَاسًا بِهِ.

مزار مصدر ہے اور زیارت کا مقام ہے اور اس سے مراد زیارت کرنے والے کا قصد اکرام ہے

اسی سے زَائِر کا لفظ  ہے جس کا معنی ہے : زیارت کے لئے جانے والا شخص یا ملاقاتی۔

حجرہ عائشہ رضی الله عنہا کو دور اصحاب رسول میں مزار نہیں کہا گیا جبکہ یہ عربی کا لفظ ہے

مزار کا لفظ آٹھویں صدی سے پہلے عربی میں نہیں ملتا قرون ثلاثہ میں تو کہیں بھی یہ لفظ موجود نہیں

امیر المومنین الولید نے لہذا مزار کی تعمیر نہیں کی تھی بلکہ حجرہ عائشہ کی تعمیر نو کی تھی تاکہ اس کو مظبوط کیا جا سکے

قبر نبی مرجع الخلائق نہیں تھی  عائشہ رضی الله عنہا کے بعد ان کے بھانجے عبد الله بن زبیر رضی الله عنہ اور ان کے بعد خبیب بن عبد الله بن زبیر اس کے متولی تھے  خبیب کے قتل کے بعد الولید کے حکم پر عمر بن عبد العزیز نے اس حجرہ کی تعمیر کی تاکہ اس کو مخالفین کا گھڑ بننے سے بچایا جا سکے اور ال زبیر کو اس سے نکالا گیا

لہذا اس حجرہ میں نہ اس سے قبل نہ اس کے بعد کوئی داخل نہیں ہو سکتا تھا جس کو زیارت کہا جائے یہ تاریخ سے ثابت ہے

موطأ مالك برواية محمد بن الحسن الشيباني میں ہے

أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ «كَانَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا، أَوْ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ جَاءَ قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَدَعَا ثُمَّ انْصَرَفَ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: هَكَذَا يَنْبَغِي أَنْ يَفْعَلَهُ إِذَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ يَأْتِي قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبد الله بن دینار المتوفی ١٢٧ ھ نے کہا کہ ابن عمر جب سفر کا ارادہ کرتے اور سفر سے اتے تو قبر نبی صلی الله علیہ وسلم تک جاتے اور وہاں درود پڑھتے اور دعا کرتے پھر جاتے

امام محمد نے کہا : اس طرح  یہ ہونا چاہیے کہ  جب وہ مدینہ جاتے ہوں کہ قبر نبی صلی الله علیہ وسلم پر اتے ہوں

امام محمد نے ایسا کہا کیونکہ ابن عمر رضی الله عنہ مدینہ سے مکہ منتقل ہو گئے تھے

موطا کی اور اسناد  عن: معن والقعنبي، وابن بكير، وأبي مصعب. وقال ابن وهب میں ہے ثم يدعو لأبي بكر وعمر

پھر ابن عمر رضی الله عنہ ، ابو بکر اور عمر کے لئے دعا کرتے

یہ عمل تمام اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم کا نہیں تھا صرف ابن عمر رضی الله عنہ کا تھا

کیا یہ زیارت ملاقات ہے ؟  نہیں یہ تو دعا ہے جس کی ضرورت ابن عمر کے مطابق شیخین کو ہے

لہذا زیارت جو بریلوی فرقہ کے ذہن میں ہے وہ اس  روایت نہیں ہے جس میں اہل قبور سے فیض لیا جاتا ہے ان سے بپتائیں بیان کی جاتی ہیں الٹا یہاں تو ان کے لئے دعا کی جا رہی ہے جو شریعت میں معلوم ہے

جواب

سوال : ذو القرنین کون تھے ؟ نبی یا پیغمبر؟
جواب : قرآن میں ان کا بطور حاکم ذکر ہے جو الله کی جانب سے ہدایت پا رہے تھے ان کا دور ابراہیم علیہ السلام سے بھی پہلے کا ہے یہاں تک کہ تاریخ لکھنے سے بھی قبل کا ہے
انہوں نے دیوار بنائی اور الله نے ان کو خبر دی کہ یہ قیامت تک رہے گی لیکن حتمی طور پر ہم کو خبر نہیں کہ واقعی نبی تھے یا نہیں
مستدرک الحاکم کی روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
وَمَا أَدْرِي ذُو الْقَرْنَيْنِ نَبِيًّا كَانَ أَمْ لَا
میں نہیں جانتا کہ ذوالقرنین نبی تھے یا نہیں

——–
سوال: سوره کہف میں ہے کہ میری زندگی رہی تو اصحاب کہف کے غار پر مسجد بناو گا اس سے حوالہ لیا جاتا ہے کہ دربار بنانا یا قبر سے تبرک لینا جائز ہے
قرآن میں ذکر ہے تو کیوں نہیں بنا سکتے

جواب : قرآن میں سوره کہف میں ہے جب لوگوں نے اصحاب کہف کو دریافت کر لیا اور ان کے غار پر پہنچ کر یہ دیکھ لیا تو
فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَسْجِدًا (21)
انہوں نے کہا یہاں دیوار بنا کر (غار کا دھانہ پاٹ دو) ان کا رب ان کے بارے میں جانتا ہے- ان پر جو غلبہ رکھتے تھے انہوں نے کہا ہم اس مقام کو مسجد کے طور پر اختیار کریں گے

یہ قرآن میں ان کا اختلاف بیان ہوا کہ لوگ حکمران کا مذھب اختیار کر لیتے ہیں ورنہ رائے عامہ تھی کہ غار کو بند کر دیا جائے لیکن انہوں نے اس مقام کو مسجد بنا دیا یعنی چرچ – یہ روایت قدیم نصرانییوں میں چلی آئی ہے کہ چرچ اسی مقام پر بنایا جاتا ہے جہاں کوئی بزرگ دفن ہو – ہم کو معلوم ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس چیز سے منع کیا
مزید تفصیل کے لئے کتاب دیکھیں

http://www.islamic-belief.net/wp-content/uploads/2013/11/مجمع-البحرین.pdf
صفحہ ٢٢ یا ٢٤ پر

مسجد مطلب جہاں سجدہ ہو لہذا حدیث میں چرچ کو بھی مسجد کہا گیا ہے-
نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
الله کی لعنت ہو یہود و نصاری پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا دیا

آج کل بھی روم میں سنت پیٹر برگ میں پوپ پیٹر کی قبر کو سجدہ کرتا ہے
https://www.youtube.com/watch?v=eAJi3q01TUM

پوپ کے آگے اصل میں پطرس کی قبر ہے

اصحاب کہف کا واقعہ ان لوگوں کے ساتھ ہوا جو دوبارہ زندہ ہونے پر شک کر رہے تھے- یہ مسلمان نہیں تھے –
پہلا بادشاہ یونانی و رومی مذھب کا تھا
Roman emperor Decius, around 250 AD
اور دوسرا نصرانی
Theodosius II
کہا جاتا ہے
اس وقت نصرانی تھے لیکن ان میں تثلیث کا عقیدہ بھی تھا اور الوہیت عیسیٰ کا بھی تھا اس میں ان کا اختلاف تھا کہ عیسیٰ کب الوہی ہوا
یہ بادشاہ نصرانی نسطور راھب سے متاثر تھا جو مریم کو والدہ اله کہتا تھا

نصرانی اصحاب کہف کو
the Seven Sleepers of Ephesus
کے نام سے جانتے ہیں

جواب

متن ہے
“أول ما خلق الله نور نبيك يا جابر
اے جابر الله نے سب سے پہلے تمھارے نبی کا نور خلق کیا

سند دی جاتی
عبدالرزق عن معمر عن ابن المنکدر عن جابر

جبکہ یہ روایت مصنف عبد الرزق میں نہیں تھی پھر کسی صوفی دور میں اس کو اس کے کسی نسخہ میں شامل کیا گیا
دیگر روایات میں یہ بھی ہے
إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمَ
سب سے پہلے قلم بنا

ایک اور میں ہے
إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى الْعَقْلُ
سب سے پہلے عقل بنی

ایک میں ہے
أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْقَلَمُ وَالْحُوتُ ,
سب سے پہلے ایک قلم و مچھلی بنی

راقم اس قسم کی بے سروپا بحث نہیں کرنا چاہتا لیکن بریلوی ذہن کی سطح پر آ کر کچھ کلام کرتا ہے

نبی صلی الله علیہ وسلم کو نور کا ثابت کرنے کے لئے اس کو پیش کیا جاتا ہے لیکن صحیح مسلم میں ہے نور بدھ کو خلق ہوا اور فرشتے نور سے بنے
پھر نوری فرشتوں نے خاکی آدم کو سجدہ کیا اس طرح خاک کی اہمیت نور اور اگ (ابلیس کا عنصر) دونوں سے بلند ہو گئی

ابلیس کو صرف عناصر اربعہ کی خبر تھی ہوا – اگ پانی اور زمین اسی میں اس کا ذہن چلا اور بہک کیا – نور عنصر نہیں اگ کا مظہر ہے – اگ جلتی ہے تو نور نکلتا ہے لہذا اگ کو نور سے پہلے خلق کیا گیا ہو گا اور اگ سے ابلیس بنا

نبی کو نور کا کہنے کے بعد یہ لوگ الله تعالی کو نور کہتے ہیں جبکہ الله اپنی مخلوق کی طرح نہیں ہے –
نور الله کی مخلوق ہے کیونکہ یہ جعل یا خلق ہوا

——
یہ روایت اصلا اہل تشیع کی ہے
في البحار، عن رياض الجنان لفضل الله بن محمود الفارسي: عن جابر بن عبد الله قال: قلت لرسول الله (صلى الله عليه وآله): أول شئ خلق الله تعالى ما هو ؟ فقال: نور نبيك يا جابر، خلقه ثم خلق منه كل خير
جس میں سند کو بدل کر اس کو مصنف عبد الرزاق میں لکھا گیا ہے

———
أحمد بن محمد بن أبى بكر بن عبد الملك القسطلاني القتيبي المصري، أبو العباس، شهاب الدين (المتوفى: 923هـ) نے اس روایت کا ذکر کتاب المواهب اللدنية بالمنح المحمدية
میں کیا ہے
وروى عبد الرزاق بسنده عن جابر بن عبد الله الأنصارى قال: قلت يا رسول الله، بأبى أنت وأمى، أخبرنى عن أول شىء خلقه الله تعالى قبل الأشياء. قال: يا جابر، إن الله تعالى قد خلق قبل الأشياء نور نبيك من نوره،
اس سے پہلے اغلبا کسی نے اس روایت کو بیان نہیں کیا جس سے محسوس ہوتا ہے کہ دسویں صدی میں اس روایت کااندراج مصنف عبد الرزاق میں کیا گیا

مستدرک حاکم میں ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، إِمْلَاءً، ثنا هَارُونُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْهَاشِمِيُّ، ثنا جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَا عِيسَى آمِنْ بِمُحَمَّدٍ وَأْمُرْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْ أُمَّتِكَ أَنْ يُؤْمِنُوا بِهِ فَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ آدَمَ وَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ الْجَنَّةَ وَلَا النَّارَ وَلَقَدْ خَلَقْتُ الْعَرْشَ عَلَى الْمَاءِ فَاضْطَرَبَ فَكَتَبْتُ عَلَيْهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولٌ اللَّهِ فَسَكَنَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ ”

ابن عباس نے کہا الله نے عیسیٰ پر الوحی کی و لو لا محمد ما خلقت آدم ، ولولا محمد ما خلقت الجنة والنار
اور اگر محمد نہ ہوتے تو جنت و جہنم خلق نہ ہوتے
سند میں جندل بن والق بن هجرس التغلبي أبو علي الكوفي ہے امام مسلم اس کو «الكنى» میں متروك الحديث کہتے ہیں

ابن عباس کو عیسیٰ علیہ السلام پر ہونے والی الوحی کا علم کیسے ہوا؟

میزان میں الذہبی کہتے ہیں
عمرو بن أوس.
يجهل حاله.
أتى بخبر منكر.
أخرجه الحاكم في مستدركه، وأظنه موضوعا من طريق جندل بن والق.
حدثنا عمرو بن أوس، حدثنا سعيد عن أبي عروبة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن ابن عباس، قال: أوحى الله إلى عيسى آمن بمحمد، فلولاه ما خلقت آدم ولا الجنة ولا النار … الحديث.

سند کا دوسرا راوی عمرو بن اوس مجھول ہے منکر خبر لایا ہے کہ اگر محمد نہ ہوتے تو آدم و جنت و جہنم نہ ہوتے

Comments are closed.