تاریخ ٢

ڈاکٹر اسرار احمد کا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں یہ موقف تھا ۔۔۔۔ کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حسن رضی کی خلافت کے بارے میں پوچھا گیا تو حضرت علی رضی نے فرمایا ۔۔۔نہ میں تم کو اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اس سے منع کرتا ہوں تم جسے چاہو امر خلافت کے لئے بہتر سمجھو اُسے مقرر کر لینا ۔۔۔۔۔ کیا یہ صحیح ہے؟

جواب

البداية والنهاية میں ابن کثیر نے لکھا ہے کہ علی نے کہا
قَدْ ذَكَرْنَا أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا ضَرَبَهُ ابْنُ مُلْجَمٍ قَالُوا لَهُ: اسْتَخْلِفْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَدَعُكُمْ كَمَا تَرَكَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَنْهُ وَسَلَّمَ – يَعْنِي بِغَيْرِ اسْتِخْلَافٍ
میں تم کو کسی کی طرف نہیں بلاتا اور ایسے ہی چھوڑ رہا ہوں جیسے رسول الله نے بغیر خلیفہ کیے چھوڑا
یہ قول بلا سند ہے
ابن کثیر تاریخ میں بے پر کی اڑا دیتے ہیں اور وثوق سے بیان کرتے ہیں کہ گویا یہ سچ ہو
اغلبا اسرار احمد نے اسی کتاب کو دیکھا ہو گا
راقم سمجھتا ہے علی رضی الله عنہ نے ایسا کچھ نہیں کہا ہو گا وہ حسن رضی الله عنہ کو ہی خلیفہ کر کے گئے ہوں گے کیونکہ علی شروع سے خلافت کے متمنی تھے (اس پر بخاری کی روایت بھی ہے) اور بڑی مشکل سے وہ خلیفہ ہوئے تھے – خلافت کوئی عام چیز نہیں کہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے
—————
انساب الاشرف میں ہے خلافت چھوڑنے کے بعد حسن نے کہا
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بن أبراهيم الدور في، ومحمد بن حاتم المروزي قالا: حدثنا أَبُو دَاوُدَ- صَاحِبُ الطَّيَالِسَةِ- عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يزيد بن حمير، عن عبد الرحمان بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ: إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ: إِنَّكَ تُرِيدُ الْخِلَافَةَ. فَقَالَ: [كَانَتْ جَمَاجِمُ الْعَرَبِ بِيَدِي يُسَالِمُونَ مَنْ سَالَمْتُ، وَيُحَارِبُونَ مَنْ حَارَبْتُ، فَتَرَكْتُهَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، ثُمَّ أُرِيدُهَا بِأَهْلِ الْحِجَازِ؟ وَقَالَ أحدهما: يا أتياس الحجاز؟
جبیر بن نفیر نے روایت کیا کہ انہوں نے حسن سے کہا لوگ کہتے ہیں اپ خلافت چاہتے ہیں – حسن نے کہا عرب کی کھوپڑیاں (یعنی جمہور) میرے پاس ہیں جس کو میں چھوڑووں یہ چھوڑتے ہیں جس میں میں لڑو لڑتے ہیں لیکن میں نے الله کی رضا کے لئے اس کو چھوڑا – پھر یہ اہل حجاز کیا چاہتے ہیں یا کہا یہ بلیک میل کرتے ہیں
ایک نسخہ میں لکھا ہے
فتركتها ابتغاء وجه الله، ثم أبتزها بأتياس أهل الحجاز؟
اہل حجاز بلیک میل کرتے ہیں
سند میں يزيد بن حمير مجھول ہے
——

امام حاکم نے مستدرک میں روایت کیا ہے کہ علی کے قتل کی رات حسن نے خطبہ دیا

أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَأَنَا ابْنُ النَّبِيِّ، وَأَنَا ابْنُ الْوَصِيِّ، وَأَنَا ابْنُ الْبَشِيرِ، وَأَنَا ابْنُ النَّذِيرِ، وَأَنَا ابْنُ الدَّاعِي إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ، وَأَنَا ابْنُ السِّرَاجِ الْمُنِيرِ، وَأَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ الَّذِي كَانَ جِبْرِيلُ يَنْزِلُ إِلَيْنَا وَيَصْعَدُ مِنْ عِنْدِنَا، وَأَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ الَّذِي أَذْهَبَ اللَّهُ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرَهُمْ تَطْهِيرًا، وَأَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ الَّذِي افْتَرَضَ اللَّهُ مَوَدَّتَهُمْ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى وَمَنْ يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا} [الشورى: 23] فَاقْتِرَافُ الْحَسَنَةِ مَوَدَّتُنَا أَهْلَ الْبَيْتِ
اے لوگوں جو مجھے جانتا ہے وہ جانتا ہے اور جو نہیں جانتا وہ جان لے کہ میں حسن بن علی ہوں اور میں ابن نبی ہوں اور ابن الوصی ہوں اور میں ابن النذیر ہوں اور ابن بشیر ہوں اور ابن الداعی ہوں الله کے اذن سے اور میں روشن چراغ کا بیٹا ہوں اور میں اہل بیت میں سے ہوں ہم پر جبریل اتے تھے اور ہمارے ہاں سے اوپر جاتے تھے اور میں وہ اہل بیت ہوں جن سے رجس کو دور کیا گیا اور ان کو خوب پاک کیا گیا اور میں اہل بیت میں سے ہوں جن سے محبت کرنا الله نے ہر مسلم پر فرض کیا پس الله تعالی نے کہا

اس کی سند میں إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ جَعْفَرِ مجہول ہے
———–

مستدرک الحاکم میں ہے
أَنَا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ الْعَقَبِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ السَّوَّاقُ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: بُويِعَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِالْكُوفَةِ عُقَيْبَ قَتْلِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ وَأَخَذَ الْبَيْعَةَ عَنْ أَصْحَابِهِ، فَحَدَّثَنِي حَارِثَةُ بْنُ مُضَرِّبٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ يَقُولُ: «وَاللَّهِ لَا أُبَايِعُكُمْ إِلَّا عَلَى مَا أَقُولُ لَكُمْ» ، قَالُوا: مَا هِيَ؟ قَالَ: «تُسَالِمُونَ مَنْ سَالَمْتُ، وَتُحَارِبُونَ مَنْ حَارَبْتُ» ، وَلَمَّا تَمَّتِ الْبَيْعَةُ خَطَبَ
حسن کی بیعت ہوئی علی کی کے بعد اور میں نے سنا حسن نے کہا الله کی قسم میں جو کہہ رہا ہوں اس پر بیعت کر رہا ہوں – لوگوں نے پوچھا کیا ؟ حسن نے کہا کہ جس کو چھوڑوں چھوڑ دینا اور جس سے جنگ کروں کرنا
اس کی سند میں عبيد الله بن موسى کٹر شیعہ ہیں اور محدثین اس سے روایت میں متذبذب رہے ہیں کبھی لکھتے کبھی نہ لکھتے
امام بخاری کے شیخ ہیں

———-
الغرض اس پر یہ روایت و آراء ہیں

3199 – أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِیُّ، ثنا أَبُو نُعَیْمٍ، وَقَبِیصَةُ، قَالَا: ثنا سُفْیَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَعَانَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَبْلَ تَحْرِیمِ الْخَمْرِ، فَحَضَرَتْ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ، فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ ” فَقَرَأَ قُلْ یَا أَیُّهَا الْکَافِرُونَ فَالْتَبَسَ عَلَیْهِ فَنَزَلَتْ {لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُکَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ} [النساء: 43] الْآیَةُ «هَذَا حَدِیثٌ صَحِیحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ یُخْرِجَاهُ» وَفِی هَذَا الْحَدِیثِ فَائِدَةٌ کَثِیرَةٌ وَهِیَ أَنَّ الْخَوَارِجَ تَنْسِبُ هَذَا السُّکْرَ، وَهَذِهِ الْقِرَاءَةَ إِلَى أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ دُونَ غَیْرِهِ وَقَدْ بَرَّأَهُ اللَّهُ مِنْهَا فَإِنَّهُ رَاوِی هَذَا الْحَدِیثِ ”

[التعلیق – من تلخیص الذهبی] 3199 – صحیح

جواب

عبد الله بن حبيب أبو عبد الرحمن السلمي نے کہا علی نے کہا انصار میں سے ایک رجل نے ہمیں بلایا – مغرب کی نماز کا وقت ہوا وہ شخص آگے بڑھا نماز میں قرات کی جس میں التباس پیدا ہوا اس پر آیت نازل ہوئی
حاکم نے کہا یہ صحیح الاسناد ہے … اس میں خوارج نے علی سے اس مدہوشی کی نسبت کی اور الله نے ان کو اس الزام سے فارغ کیا
————

مستدرک حاکم میں ہے
———-

سند منقطع ہے یا نہیں اس پر اختلاف ہے
عبد الله بن حبيب أبو عبد الرحمن السلمي کا سماع علی سے نہیں ہے
قال أبو حاتم لا تثبت روايته عن علي رضي الله عنه
ابو حاتم نے کہا اس کی روایت علی سے ثابت نہیں ہے
قال شعبة: لم يسمع أبو عبد الرحمن من عثمان، ولا من عبد الله، ولكن قد سمع من علي
شعبہ کہتے ہیں علی سے سنا ہے

واقدی کا کہنا ہے
قال: أبو عبد الرحمن [السلمي] شهد مع علي صفين، ثم صار بعدذلك عثمانيا يعب أمر علي
أبو عبد الرحمن نے علی کے ساتھ صفین کی جنگ کو دیکھا پھر ان سے الگ ہو کر عثمان کے (حمایتی) ہوئے اور علی کو امر (خلافت) میں عیب دیتے تھے
یعنی یہ صاحب علی سے ان کی زندگی میں ہی متنفر ہو چکے تھے
——-
امامت کس نے کی ؟ اس پر روایات میں اختلاف ہے
روى أن عبد الرحمن ابن عوف رضى الله عنه دعا المسلمين لطعام ، فأكلوا وشربوا الخر ، قبل أن تحرم ، فسكروا ، فصلوا المغرب ، وقرأ إمامهم علىّ بن أبى طالب ، وقيل عبد الرحمن بن عوف ، كما روى عن عبد الله نفسه أنه المصلى إماماً وكما روى وعن علىّ أن الإمام حينئذ عبد الرحمن
روایت کیا جاتا ہے عبد الرحمن ابن عوف رضى الله عنه نے مسلمانوں کی دعوت کی اور کھایا پیا شراب پی پھر مغرب پڑھی اور علی امام ہوئے قرات کی اور کہا جاتا ہے قرات عبد الرحمن ابن عوف رضى الله عنه نے کی اور عبد الله ابن مسعود کی اپنی روایت میں انہوں نے امامت کی اور علی کی روایت ہے کہ عبد الرحمن ابن عوف رضى الله عنه نے امامت کی

سنن الکبری بیہقی میں ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا مُسَدَّدٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ [ص:573] رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ دَعَاهُ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَسَقَاهُمَا قَبْلَ أَنْ يَحْرُمَ الْخَمْرُ فَأَمَّهُمْ عَلِيٌّ فِي الْمَغْرِبِ وَقَرَأَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ فَخَلَطَ فِيهَا فَنَزَلَتْ {لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعَلْمُوا مَا تَقُولُونَ} [النساء: 43]

أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِی نے کہا علی نے امامت کی
—–
سنن الکبری نسائی میں ہے علی نے امامت کی
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ دَعَاهُ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَسَقَاهُمَا قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ، فَأَمَّهُمْ عَلِيٌّ فِي الْمَغْرِبِ فَقَرَأَ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ فَخَلَطَ فِيهَا، فَنَزَلَتْ: {لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ} [النساء: 43] ”
أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِی نے کہا علی نے امامت کی
—-
ترمذی میں یہی راوی کہتا ہے عبد الرحمان بن عوف نے کی

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، نَحْوَ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ هِشَامٍ.
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: صَنَعَ لَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ طَعَامًا فَدَعَانَا وَسَقَانَا مِنَ الخَمْرِ، فَأَخَذَتِ الخَمْرُ مِنَّا، وَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَقَدَّمُونِي فَقَرَأْتُ: {قُلْ يَا أَيُّهَا الكَافِرُونَ لاَ أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ} وَنَحْنُ نَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ. قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ}.
هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِی نے کہا عبد الرحمان بن عوف نے امامت کی

———–

یعنی متن میں اضطراب بھی ہے أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِی نے کہا علی نے امامت کی اور یہ بھی بعض دفعہ کہا کسی انصاری نے کی
امام حاکم کو معلوم نہیں کیوں خوارج کی سوجھی کیونکہ شراب پی کر قرات میں غلطی کرنا سورہ نساء کی آیات کے نزول سے پہلے گناہ نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ ایک چیز جب حرام ہی نہیں تو اس کے اثرات کے تحت کوئی کچھ بھی کر سکتا ہے

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ لَمَّا مَاتَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ الله عَنْهُ بُكِيَ عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ الله عَنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَبْكُوا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ الله عَنْهُ لِهِشَامِ بْنِ الْوَلِيدِ قُمْ فَأَخْرِجِ النِّسَاءَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ الله عَنْهَا أُحَرِّجُكَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ الله عَنْهُ ادْخُلْ فَقَدْ أَذِنْتُ لَكَ فَدَخَلَ فَقَالَتْ أَمُخْرِجِي أَنْتَ يَا بُنَيَّ فَقَالَ أَمَّا لَكِ فَقَدْ أَذِنْتُ لَكِ فَجَعَلَ يُخْرِجُهُنَّ امْرَأَةً امْرَأَةً وَهُوَ رَضِيَ الله عَنْهُ يَضْرِبُهُنَّ بِالدِّرَّةِ فَخَرَجَتْ أُمُّ فَرْوَةَ وَفَرَّقَ بَيْنَهُنَّ أَوْ قَالَ فَرَّقَ بَيْنَ النَّوَائِحِ

سعید بن مسیب نے کہا جب ابو بکر مر گئے ان پر (گھر والے) روئے – عمر نے کہا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے میت کو زندہ کے رونے پر عذاب ہوتا ہے پس انہوں نے منع کیا- عمر نے ہشام بن الولید سے کہا اٹھو عورتوں کو باہر کرو – عائشہ نے کہا تم نکلو- عمر نے کہا ہشام تم حجرہ میں داخل ہو تم کو اجازت میں نے دی – عائشہ نے کہا تم مجھ کو بیٹے نکالو گے ؟ اس نے کہا اپ یہ کریں اپ کے لئے مجھے حکم دیا گیا ہے – پس ایک ایک عورت کو نکال دیا اور عائشہ نے اس کو درہ مارا پس ام فروہ نکلیں اور عائشہ اور ہشام کو دور کیا یا کہا رونے والیوں کو اس سے الگ کیا

جواب

سند منقطع ہے سعید بن المسیب
ولد لسنتين مضتا من خلافة عمر رضي الله عنه
خلافت عمر میں دو سال گزرے تب پیدا ہوئے
یہ قول خود سعید کا ہے
يحيى بن سعيد قال: سمعت سعيد بن المسيب يقول: ولدت لسنتين مضتا من خلافة عمر »

قال أبو حاتم لا يصح له سماع
ابی حاتم کہتے ہیں عمر سے سماع بھی نہیں ہے

راقم کو لگتا ہے یہ عبد الرزاق کے اختلاط کے دور کی روایت ہے

صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ ؓ) صحیح بخاری: کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

(باب: نبی کریمﷺ اور صحابہ کی قبروں کا بیان)

1390 . حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلاَلٍ هُوَ الوَزَّانُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ: «لَعَنَ اللَّهُ اليَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ، لَوْلاَ ذَلِكَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ غَيْرَ أَنَّهُ خَشِيَ – أَوْ خُشِيَ أَنَّ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا وَعَنْ هِلاَلٍ، قَالَ: كَنَّانِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَلَمْ يُولَدْ لِيحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سُفْيَانَ التَّمَّارِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ: «أَنَّهُ رَأَى قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَنَّمًا» حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، لَمَّا سَقَطَ عَلَيْهِمُ الحَائِطُ فِي زَمَانِ الوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ المَلِكِ، أَخَذُوا فِي بِنَائِهِ فَبَدَتْ لَهُمْ قَدَمٌ، فَفَزِعُوا وَظَنُّوا أَنَّهَا قَدَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا يَعْلَمُ ذَلِكَ حَتَّى قَالَ لَهُمْ عُرْوَةُ: «لاَ وَاللَّهِ مَا هِيَ قَدَمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا هِيَ إِلَّا قَدَمُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ»

حکم : صحیح 1390 .

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا‘ ان سے ہلال بن حمیدنے‘ ان سے عروہ نے اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مرض کے موقع پر فرمایا تھا جس سے آپ جانبرنہ ہوسکے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی یہود ونصاریٰ پر لعنت ہو۔ انہوں نے اپنے انبیاءکی قبروں کو مساجد بنالیا۔ اگر یہ ڈرنہ ہوتاتو آپ کی قبر بھی کھلی رہنے دی جاتی۔ لیکن ڈر اس کا ہے کہ کہیں اسے بھی لوگ سجدہ گاہ نہ بنالیں۔ اور ہلال سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر نے میری کنیت ( ابوعوانہ یعنی عوانہ کے والد ) رکھ دی تھی ورنہ میرے کوئی اولاد نہ تھی۔ہم سے محمد نے بیان کیا‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ نے خبر دی ‘ کہا کہ ہمیں ابوبکر بن عیاش نے خبر دی اور ان سے سفیان تمار نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک دیکھی ہے جو کوہان نما ہے۔ ہم نے فروہ بن ابی المغراءنے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے علی بن مسہرنے بیان کیا‘ ان سے ہشام بن عروہ نے‘ ان سے ان کے والد نے کہ ولید بن عبدالملک بن مروان کے عہد حکومت میں ( جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک کی ) دیوار گری اور لوگ اسے ( زیادہ اونچی ) اٹھانے لگے تو وہاں ایک قدم ظاہر ہوا۔ لوگ یہ سمجھ کر گھبرا گئے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم مبارک ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں تھا جو قدم کو پہچان سکتا۔ آخر عروہ بن زبیر نے بتایا کہ نہیں خدا گواہ ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم نہیں ہے بلکہ یہ تو عمر رضی اللہ عنہ کا قدم ہے۔

جواب

روایت صحیح ہے
اس پر کیا اشکال ہے ؟

طبقات ابن سعد میں ہے
قَالَ: أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: لَمَّا سَقَطَ الْحَائِطُ عَنْهُمْ فِي زَمَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ أُخِذَ فِي بِنَائِهِ فَبَدَتْ لَهُمْ قَدَمٌ فَفَزِعُوا وَظَنُّوا أَنَّهَا قَدَمُ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا يَعْلَمُ ذَلِكَ حَتَّى قَالَ لَهُمْ عُرْوَةُ: لا وَاللَّهِ مَا هِيَ قَدَمُ النَّبِيِّ. مَا هِيَ إِلا قَدَمُ عُمَرَ.

جمل من أنساب الأشراف از المؤلف: أحمد بن يحيى بن جابر بن داود البَلَاذُري (المتوفى: 279هـ) میں بھی ہے

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الأَنْبَارِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: لَمَّا سَقَطَ الْحَائِطُ عَلَى قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وأَبِي بَكْر وَعُمَرَ رَضِيَ الله عنهما فِي زَمَنِ الْوَليِدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخَذُوا فِي بِنَائِهِ فَبَدَتْ لَهُمْ قَدَمٌ فَفَزِعُوا وَظَنُّوا أَنَّهَا قَدَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا يَعْلَمُ ذَلِكَ حَتَّى قَالَ لَهُمْ عُرْوَةُ: وَاللَّهِ مَا هِيَ قَدَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا هِيَ إِلا قَدَمُ عُمَرَ.

الشريعة المؤلف: أبو بكر محمد بن الحسين بن عبد الله الآجُرِّيُّ البغدادي (المتوفى: 360هـ) میں ہے
وَحَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ بْنِ زَكَرِيَّا أَبُو حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ إِلَى الْقَبْرِ , فَأَمَرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللَّهُ فَرُفِعَ حَتَّى لَا يُصَلِّيَ فِيهِ النَّاسُ , فَلَمَّا هُدِمَ بَدَتْ قَدَمٌ بِسَاقٍ وَرَقَبَةٍ؛ قَالَ: فَفَزِعَ مِنْ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَأَتَاهُ عُرْوَةُ فَقَالَ: هَذَا سَاقُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرُكْبَتُهُ , فَسُرِّيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ
شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ نے هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ سے روایت کیا کہ میرے باپ عُرْوَةَ نے بیان کیا کہ لوگ قبر پر نماز پڑھتے – پس عمر بن عبد العزیز رحمہ الله نے اس کو بلند کیا کہ لوگ اس میں نماز نہ پڑھیں پس جب اس کو منہدم کیا تو ایک قدم پنڈلی … کے ساتھ دیکھا- کہا پس عمر بن عبد العزیز اس پر گھبرا گئے اور عروه آئے اور کہا یہ عمر کی پنڈلی ہے اور گھٹنے ہے -پس اس سے عمر بن عبد العزیز خوش ہوئے

حجرہ کی تعمیر کے وقت ایک دیوار گری اور قدم ظاہر ہو گیا – لوگوں کو لگا یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا قدم ہو سکتا ہے اور سراسیمگی پھیل گئی اور پھر عروہ بن زبیر جو حجرہ عائشہ کو جانتے تھے انہوں نے انداز کر لیا کہ یہ قدم عمر کا ہے

اول اس کو صرف ہشام بن عروہ نے روایت کیا ہے
دوم عائشہ خود جنگ احد میں شامل تھیں

سیدنا انس فرماتے ہیں میں نے عائشہ بنت ابی بکر اور ام سلیم کو دیکھا۔ وہ دونوں پائنچے چڑھائے ہوئے تھیں اور مجھے ان کی پنڈلیوں کے پچھلے حصے نظر آ رہے تھے۔ یہ دونوں مشکیں اوپر اٹھائے ہوئے تھیں اور مجاہدین کو پانی پلاتیں۔ پھر جا کر انھیں بھر لاتیں اور مجاہدین کو پانی پلاتیں۔
سوم جنگ بدر کے ایک واقعہ کی راوی ہیں

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قِبَلَ بَدْرٍ فَلَمَّا كَانَ بِحَرَّةِ الْوَبَرَةِ أَدْرَكَهُ رَجُلٌ قَدْ كَانَ يُذْكَرُ مِنْهُ جُرْأَةٌ وَ نَجْدَةٌ فَفَرِحَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم حِينَ رَأَوْهُ فَلَمَّا أَدْرَكَهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم جِئْتُ لِأَتَّبِعَكَ وَ أُصِيبَ مَعَكَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ؟ قَالَ لاَ قَالَ فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ قَالَتْ ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالشَّجَرَةِ أَدْرَكَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ قَالَ فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ قَالَ ثُمَّ رَجَعَ فَأَدْرَكَهُ بِالْبَيْدَائِ فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ ؟ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَانْطَلِقْ
ام ا لمومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ،بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ بدر کی طرف نکلے۔ جب (مقام) حرۃ الوبرہ (جو مدینہ سے چار میل پر ہے) پہنچے ،تو ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا، جس کی بہادری اور اصالت کا شہرہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اس کو دیکھ کر خوش ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو اس نے کہا کہ میں اس لیے آیا ہوںکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلوں اور جو ملے اس میں حصہ پاؤں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہے؟” اس نے کہا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” تو لوٹ جا، میں مشرک کی مدد نہیں چاہتا ۔”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جب (مقام)شجرہ پہنچے، تو وہ شخص پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور وہی کہا جو پہلے کہا تھااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی فرمایا جو پہلے فرمایا تھا اور فرمایا:” لوٹ جا میں مشرک کی مدد نہیں چاہتا۔” پھر وہ لوٹ گیا۔ اس کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (مقام) بیداء میں ملا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی فرمایا جو پہلے فرمایا تھا :”کیا تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یقین رکھتا ہے؟ ” اب وہ شخص بولا کہ ہاں میں یقین رکھتا ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” پھر چل۔ ”

چہارم اسامہ کے زخمی چہرہ  کو صاف کرنے کا حکم نبی نے ان کو دیا

سیدہ عائشہ صدیقہ کا بیان ہے کہ اسامہ دروازے کی چوکھٹ پر سے پھسل گئے اور ان کے چہرے پر زخم آ گیا۔ رسول اللہ نے مجھ سے فرمایا کہ اسامہ سے گندگی دور کر دو۔ مجھے گھن آئی اسامہ تو خون چاٹنے لگے اور اسے اپنے چہرے سے ہٹانے لگے۔
جواب

اس حدیث میں ہشام کا تفرد نہیں ہے
مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِ عَشْرَةَ»

مسند اسحاق میں ہے
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَجْلَحُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ وَدَخَلَ بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ

مسند ابی یعلی میں ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ. زَوَّجَهَا إِيَّاهُ أَبُو بَكْرٍ»

طبرانی میں ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْحَنَّاطُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ»

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «أُدْخِلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، وَمَكَثْتُ عِنْدَهُ تِسْعَ سِنِينَ»
یہ روایات صحیح ہیں
———–
ان تمام کی اسناد میں “ملزم” ہشام بن عروه اور ان کی اولاد نہیں ہے

———-

ہجرت سے نو سال قبل عائشہ رضی الله عنہا کی پیدائش ہوئی اور اس دور میں نبی صلی الله علیہ وسلم کا ابو بکر رضی الله عنہ کے گھر آنا جانا بھی تھا
پھر جب اپ ٦ سال کی ہوئیں تو ہجرت سے ٣ سال قبل اپ کا نکاح ہوا
اس عمر میں اپ جو باتیں یاد رکھ سکیں وہ وہی ہیں جو ایک ٦ سال کی بچی یاد رکھ سکے

کیا قرآن میں اسماعیل کا ذکر نہیں کہ بچہ جب چلنے لگا تو اس کے ذبح کا حکم آیا اس نے کہا اے باپ کر گزریے اپ مجھ کو صبر والا پائیں گے

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَابُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَى قَالَ يَاأَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ

——-

سنن ابن ماجہ میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ ذُرَيْحٍ، عَنْ البَهِي عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: عَثَرَ أُسَامَةُ بِعَتَبَةِ الْبَابِ، فَشُجَّ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: “أَمِيطِي عَنْهُ الْأَذَى” فَتَقَذَّرْتُهُ، فَجَعَلَ يَمُصُّ عَنْهُ الدَّمَ وَيَمُجُّهُ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: “لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً لَحَلَّيْتُهُ وَكَسَوْتُهُ حَتَّى أُنَفِّقَهُ

اس کی سند منقطع ہے راوی عبد الله البهي کا سماع عائشہ سے نہیں ہے
کتاب جامع التحصیل میں ہے
سئل أحمد بن حنبل هل سمع من عائشة رضي الله عنها قال ما أرى في هذا شيئا إنما يروي عن عروة
امام احمد سے سوال کیا کہ البھی نے عائشہ سے سنا ہے ؟ کہا میں نہیں دیکھتا کہ کوئی چیز روایت کرتا ہو بلکہ یہ تو عروه سے روایت کرتا ہے
———
اقتباس میں جو حوالے دیے گئے ہیں وہ اور مزید یہ ہیں
وأخرجه أحمد (25082)، وابن سعد في “الطبقات” 4/ 61 – 62، وابن أبي شيبة 12/ 139 – 140، وابن أبي الدنيا في “العيال” (228)، وأبو يعلى (4597)، وابن حبان (7056)، والبيهقي في “الشعب” (11017) میں سب میں اسی منقطع طرق سے ہے

روایت ضعیف ہے لہذا اس پر تبصرہ بے کار ہے
—-

جنگ بدر والا واقعہ عائشہ نے نبی سے سنا ہے جبکہ وہ وہاں خود موجود نہیں تھیں
ام المومنین عائشہ رضی الله عنہا بہت سی روایت بیان کرتی ہیں جن کی خبر ان کو نبی صلی الله علیہ وسلم سے ہوئی مثلا الوحی کیسے شروع ہوئی بخاری کی شروع کی روایات میں سے ہے لیکن یہ انہوں نے کس سے سنا ؟ ظاہر ہے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا – اسی طرح یہ مشرک والا واقعہ بھی انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا

اس کی مثال اس طرح بھی ہے کہ معراج کی روایت ابو ذر اور انس سے مروی ہیں جبکہ یہ معراج کے موقعہ پر موجود نہیں تھے

——

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ” لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ، انْهَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ، أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا تَنْقُزَانِ القِرَبَ، وَقَالَ غَيْرُهُ: تَنْقُلاَنِ القِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا، ثُمَّ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ القَوْمِ، ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآَنِهَا، ثُمَّ تَجِيئَانِ فَتُفْرِغَانِهَا فِي أَفْوَاهِ القَوْمِ ”

حدیث صحیح ہے
——–

یہ جنگ احد کا ذکر ہے اس کے بعد الاحزاب میں پردے کی آیات نازل ہوئیں

عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ثقہ ہیں اور ان کے استاد بھی

ام المومنین محاذ جنگ پر لڑ رہی ہیں یا زخمیوں کو پانی پلا رہی ہیں ؟ روایت میں تلوار کا ذکر ہی نہیں لہذا یہ کسی حدیث میں نہیں کہ ام المومنین نے تلوار بھی چلائی

ایک شیعہ کا اعترض یہ ہے کہ

مصنف ابن ابی شیبہ کا شمار اہلسنت کے مستند ترین کتب میں ہوتا ہے۔ جلد ۷، صفحہ ۴۳۲، طبع مکتبۃ الرشد، ریاض؛

لنک

http://shamela.ws/browse.php/book-9944/page-41850

میں ایک روایت نقل ہوئی ہے، جس میں ایک جملہ آتا ہے کہ عمر نے کہا

وَايْمُ اللَّهِ مَا ذَاكَ بِمَانِعِي إِنِ اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ النَّفَرُ عِنْدَكِ ; أَنْ أَمَرْتُهُمْ أَنْ يُحَرَّقَ عَلَيْهِمِ الْبَيْتُ

خدا کی قسم! یہ بات مجھے اس بات سے نہیں روکے گی کہ یہ لوگ آپ کے گھر میں جمع ہوں- میں حکم دوں گا کہ گھر کو جلا دیا جائے

دوسری طرف

ڈاکٹر علی صلابی نے اس روایت کو اپنی کتاب، اسمی المطالب فی سیرۃ امیر المومنین علی ابن ابی طالب، جز ۱، صفحہ ۲۰۲، طبع مکتبۃ الصحابہ، امارات؛ پر نقل کیا ہے- اور حاشیہ میں سند کو بھی صحیح مانا ہے

مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اس جملے کو بالکل غائب کر دیا ہے۔ اور عمر کے گفتگو کا ایک لفظ میں ختم کر دیا کہ انہوں نے بات چیت کی ( وكلمها)۔

چلیں نقل نہیں کی تو نہیں کی

موصوف نے ایک اور ہی بات کہہ ڈالی

کہتے ہیں

وقد زاد الروافض في هذه الرواية واختلفوا إفكا وبهتانًا وزورًا، وقالوا إن عمر قال: إذا اجتمع عندك هؤلاء النفر ان لأُحرقنَّ عليهم هذا البيت، لأنهم أرادوا شق عصا المسلمين

رافضیوں نے اس روایت میں اضافہ کیا، اور جھوٹ، بہتان اور دروغ گوئی کی کہ عمر نے کہا کہ ( إذا اجتمع عندك هؤلاء النفر ان لأُحرقنَّ عليهم هذا البيت) کیونکہ وہ مسلمانوں کے عصا(یعنی قوت) کو توڑنے کا ارادہ رکھتے تھے

لنک

http://shamela.ws/browse.php/book-36424/page-200

جواب

شیعہ عالم کی بات درست ہے

روایت کے متن میں جس کو وہابی علماء نے درست قرار دیے دیا ہے اس میں ہے کہ عمر نے دھمکی دی کہ میں گھر جلا دوں گا

مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ہے

مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , نا عُبَيْدُ الله بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ أَنَّهُ حِينَ بُويِعَ لِأَبِي بَكْرٍ بَعْدَ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ يَدْخُلَانِ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُشَاوِرُونَهَا وَيَرْتَجِعُونَ فِي أَمْرِهِمْ , فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ فَقَالَ: «يَا بِنْتَ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَالله مَا مِنْ أَحَدٍ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْ أَبِيكِ , وَمَا مِنْ أَحَدٍ أَحَبَّ إِلَيْنَا بَعْدَ أَبِيكِ مِنْكِ , وَايْمُ الله مَا ذَاكَ بِمَانِعِي إِنِ اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ النَّفَرُ عِنْدَكِ ; أَنْ أَمَرْتُهُمْ أَنْ يُحَرَّقَ عَلَيْهِمِ الْبَيْتُ» , قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ عُمَرُ جَاءُوهَا فَقَالَتْ: تَعْلَمُونَ أَنَّ عُمَرَ قَدْ جَاءَنِي وَقَدْ حَلَفَ بِاللَّهِ لَئِنْ عُدْتُمْ لَيُحَرِّقَنَّ عَلَيْكُمُ الْبَيْتَ وَايْمُ الله لَيَمْضِيَنَّ لِمَا حَلَفَ عَلَيْهِ , فَانْصَرِفُوا رَاشِدِينَ , فَرَوْا رَأْيَكُمْ وَلَا تَرْجِعُوا إِلَيَّ , فَانْصَرَفُوا عَنْهَا فَلَمْ يَرْجِعُوا إِلَيْهَا حَتَّى بَايَعُوا لِأَبِي بَكْرٍ

زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابو بکر کی بیعت ہوئی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد تو علی اور زبیر، فاطمہ کے پاس آئے اور ان سے مشورہ کرنے لگے اور … پس جب اس کی خبر عمر کو ہوئی تو وہ فاطمہ کے پاس آئے اور کہا اے رسول اللہ کی بیٹی الله کی قسم ہم کو آپ کے باپ سے زیادہ کوئی محبوب نہ تھا اور ان کے بعد آپ سے زیادہ لیکن الله کے لئے یہ مجھے مانع نہ ہو گا کہ میں ایک جتھا اپ کے لئے لے آوں کہ وہ اس گھر کو جلا دے، پس جب عمر چلے گئے تو فاطمہ نے علی سے کہا کیا اپ کو پتا ہے عمر آئے تھے اور الله کی قسم لے کر گئے ہیں کہ اگر دیر کی تو وہ گھر جلا ڈالیں گے اور الله کی قسم وہ یہ کر دیں گے جس کی قسم لی ہے پس سید ھے سیدھے جاؤ …. اور واپس نہ آنا حتی کہ ابو بکر کی بیعت کر لو

راقم اس روایت کو رد کرتا ہے الصلابی اور بن باز کا اس کو درست کہتا ان کی حماقت ہے

اس کی تفصیل اسی ویب سائٹ پر ایک دوسرے سوال میں ہے

ان چار احادیث کی تحقیق چاہیے

١.

مصنف عبد الرزاق

قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ: ” أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ (صلى الله عليه وسلم ) فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَاسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ، قَالَتْ: فَخَرَجَ وَيَدٌ لَهُ عَلَى الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَيَدٌ أُخْرَى عَلَى يَدِ رَجُلٍ آخَرَ، وَهُوَ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ فِي الأَرْضِ “، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ؟ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ،وَلَكِنَّ عَائِشَةَ لا تَطِيبُ لَهَا نَفْسًا بِخَيْرٍ .

٢.

صحيح البخاري

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ ” لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ (صلى الله عليه وسلم ) وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ الْأَرْضَ، وَكَانَ بَيْنَ الْعَبَّاسِ وَرَجُلٍ آخَرَ “، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ، فَقَالَ لِي: وَهَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ

٣.

مسند أحمد بن حنبل

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَت: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَاسْتَأْذَنَ نِسَاءَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ رَسُولُ (صلى الله عليه وسلم ) مُعْتَمِدًا عَلَى الْعَبَّاسِ وَعَلَى رَجُلٍ آخَرَ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاس: أَتَدْرِي مَنْ ذَلِكَ الرَّجُلُ؟ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَلَكِنَّ عَائِشَةَ لَا تَطِيبُ لَهَا نَفْسًا، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَقَالَ النَّبِيُّ (صلى الله عليه وسلم) وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ: ” مُرْ النَّاسَ فَلْيُصَلُّوا ” فَلَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: يَا عُمَرُ، صَلِّ بِالنَّاسِ، فَصَلَّى بِهِمْ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ (صلى الله عليه وسلم ) صَوْتَهُ فَعَرَفَهُ، وَكَانَ جَهِيرَ الصَّوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (صلى الله عليه وسلم ): ” أَلَيْسَ هَذَا صَوْتَ عُمَرَ؟ “، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: ” يَأْبَى اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ ذَلِكَ وَالْمُؤْمِنُونَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ “، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ، وَإِنَّهُ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ بَكَى، قَالَتْ: وَمَا قُلْتِ ذَلِكَ إِلَّا كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَشاءم النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ أَنْ يَكُونَ أَوَّلَ مَنْ قَامَ مَقَامَ رَسُولِ اللَّهِ (صلى الله عليه وسلم ) فَقَالَ: ” مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ “، فَرَاجَعَتْهُ، فَقَالَ: ” مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ

اس حدیث کو دیکھیں

لنک

http://www.hadithurdu.com/musnad-ahmad/11-9-4046/?s=%D9%85%DB%8C%D9%85%D9%88%D9%86%DB%81+%DA%A9%DB%92+%DA%AF%DA%BE%D8%B1+

مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 4046

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَاسْتَأْذَنَ نِسَاءَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِدًا عَلَى الْعَبَّاسِ وَعَلَى رَجُلٍ آخَرَ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَدْرِي مَنْ ذَلِكَ الرَّجُلُ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَلَكِنَّ عَائِشَةَ لَا تَطِيبُ لَهَا نَفْسًا قَالَ الزُّهْرِيُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ مُرْ النَّاسَ فَلْيُصَلُّوا فَلَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَصَلَّى بِهِمْ فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ فَعَرَفَهُ وَكَانَ جَهِيرَ الصَّوْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ هَذَا صَوْتَ عُمَرَ قَالُوا بَلَى قَالَ يَأْبَى اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ ذَلِكَ وَالْمُؤْمِنُونَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ وَإِنَّهُ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ بَكَى قَالَ وَمَا قُلْتِ ذَلِكَ إِلَّا كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَأَثَّمَ النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ أَنْ يَكُونَ أَوَّلَ مَنْ قَامَ مَقَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَرَاجَعَتْهُ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ إِنَّكُمْ صَوَاحِبُ يُوسُفَ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا آغاز حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں ہوا تھا، نبی علیہ السلام نے اپنی ازواج مطہرات سے بیماری کے ایام میرے گھر میں گذارنے کی اجازت طلب کی تو سب نے اجازت دے دی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے آدمی (بقول راوی وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کا نام ذکر کرنا ضروری نہ سمجھا) کے سہارے پر وہاں سے نکلے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک زمین پر گھستے ہوئے جا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں ہی حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے فرما دیا تھا کہ لوگوں سے کہہ دو، وہ نماز پڑھ لیں، عبداللہ واپس جا رہے تھے کہ راستے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہہ دیا کہ اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، چنانچہ وہ نماز پڑھانے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو فوراً پہچان گئے کیونکہ ان کی آواز بلند تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ عمر کی آواز نہیں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اور مومنین اس سے انکار کرتے ہیں، ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گے، کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب بھی قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو رونے لگتے تھے، اور میں نے یہ بات صرف اس لئے کہی تھی کہ کہیں لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ نہ کہنا شروع کر دیں کہ یہ ہے وہ پہلا آدمی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑا ہوا تھا اور گنہگار بن جائیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، جب میں نے تکرار کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم دیا اور فرمایا تم تو یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو (جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں)

============

اس حدیث پر شعَيب الأرنؤوط نے کہا ہے کہ

الحكم على المتن: صحيح
إسناده متصل ، رجاله ثقات ، رجاله رجال الشيخين
٤.

مسند احمد

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَاسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِهَا فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ وَيَدٌ لَهُ عَلَى الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَيَدٌ لَهُ عَلَى رَجُلٍ آخَرَ وَهُوَ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ فِي الْأَرْضِ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَتَدْرُونَ مَنْ الرَّجُلُ الْآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ هُوَ عَلِيٌّ وَلَكِنَّ عَائِشَةَ لَا تَطِيبُ لَهُ نَفْسًا

==============

الله آپ کو جزایۓ خیر دے – آمین

جواب

اس میں ایک علت ہے

پہلی اور چوتھی کو معمر سے عبد الرازق نے روایت کیا ہے یعنی یہ یمن میں سنائی گئی صحیح سمجھی گئی ہے
دوسری کو هشام بن يوسف الصنعانى ، أبو عبد الرحمن الأبناوى نے معمر سے روایت کیا ہے جو یمن کے ہیں اس کو بھی صحیح سمجھا گیا ہے
لیکن مسند احمد والی کو معمر سے عَبْدُ الأَعْلَى بنُ عَبْدِ الأَعْلَى السَّامِيُّ القُرَشِيُّ نے روایت کیا ہے جو بصرہ کے ہیں اور اس پر محدثین کو اعتراض ہے کہ معمر کی روایت بصرہ میں صحیح نہیں ہیں
عبد الاعلی کے لئے ابن سعد کہتے ہیں ولم يكن بالقوي في الحديث یہ حدیث میں قوی نہیں ہیں
دوم معمر کی بصرہ میں روایت بعض محدثین کے نزدیک صحیح نہیں ہے

قال أبو حاتم صالح الحديث وما حدث به بالبصرة ففيه أغاليط
ابو حاتم نے کہا معمر صالح حدیث ہے جو بصرہ میں روایت کیا اس میں غلطیاں ہیں

کتاب معرفة الرجال عن يحيى بن معين کے مطابق
وحدثنى ابو بكر بن بن ابى النصر قال سألت يحيى بن معين قلت من اثبت الناس فى الزهرى ممن روى عنه قال مالك بن انس فقلت له ثم من بعد مالك بن انس فقال معمر
ابن معین نے کہا زہری کی روایت میں امام مالک سب سے بہتر ہیں پھر معمر

چہارم قال ابن العطار: إنه يدلس
معمر تدلیس بھی کرتے ہیں

امام احمد نے کہا
قال عبد الله بن أحمد: حدثني أبي. قال: حدثنا عبد الرزاق، قال: سمعت ابن المبارك يقول: ما رأيت أحدًا أروى عن الزهري من معمر، إلا ما كان من يونس، فإن يونس كتب كل شيء. «العلل» (109)
ابن مبارک نے کہا میں نہیں دیکھتا کہ معمر کی زہری سے روایت کوئی لکھتا ہو سوائے اس کے کہ اس روایت کے جو یونس کی زہری سے ہوں

یعنی بعض محدثین کے نزدیک معمر کی بصرہ میں روایت قابل قبول ہے (مثلا امام بخاری ) اور بعض کے نزدیک اس قسم کی اسناد میں اغلاط و انقطاع و تدلیس ہو سکتی ہے مثلا ابی حاتم کے نزدیک یہ غلطیوں سے پر ہیں

صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ (بَابُ اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ ﷺ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ) صحیح مسلم: کتاب: ایمان کا بیان (باب: نبی ﷺنے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے ہو جنت کی سفارش کرنے والا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہونگے)

500 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيْنَ أَبِي؟ قَالَ: «فِي النَّارِ»، فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ، فَقَالَ: «إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ»

حکم : صحیح 500 . حضرت انس ﷜ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا:اے اللہ کے رسول ! میرا باپ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا:’’ آگ میں ۔‘‘ پھر جب وہ پلٹ گیا توآپ نے اسے بلا کر فرمایا:’’ بلاشبہ میراباپ اور تمہارا باپ آگ میں ہیں ۔ ‘‘

===========

کیا عربی میں لوگ چچا کے لئے بھی أَبِي بولتے ہیں

جیسا کہ ان دو احادیث میں کہا گیا

صحيح مسلم: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابٌ فِي تَقْدِيمِ الزَّكَاةِ وَمَنْعِهَا) صحیح مسلم: کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل (باب: وقت سے پہلے زکاۃ دینا اور زکاۃ کی ادائیگی روک لینا)

2277 . و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقِيلَ مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا قَدْ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتَادَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا مَعَهَا ثُمَّ قَالَ يَا عُمَرُ أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ

2277 . حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زکا ۃ کی وصولی کے لیے بھیجا تو (بعد میں آپ سے) کہا گیا کہ ابن جمیل خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زکاۃ روک لی ہے (نہیں دی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :” ابن جمیل تو اس کے علاوہ کسی اور بات کا بدلہ نہیں لے رہا کہ وہ پہلے فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کر دیا رہے خالد تو تم ان پر زیادتی کر ہے ہو۔انھوں نے اپنی زر ہیں اور ہتھیا ر (جنگی ساز و سامان ) اللہ کی را ہ میں وقف کر رکھے ہیں باقی رہے عباس تو ان کی زکاۃ میرے ذمے ہے اور اتنی اس کے ساتھ اور بھی ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :” اے عمر!کیا تمھیں معلوم نہیں ،انسان کا چچا اس کے باپ جیسا ہو تا ہے ؟”(ان کی زکاۃ تم مجھ سے طلب کر سکتے تھے۔)

……..

صحيح البخاري: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَفِي الرِّقَابِ وَالغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ) صحیح بخاری: کتاب: زکوٰۃ کے مسائل کا بیان (باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان)

1468 . حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ فَقِيلَ مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا قَدْ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَعَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهِيَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ وَمِثْلُهَا مَعَهَا تَابَعَهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ هِيَ عَلَيْهِ وَمِثْلُهَا مَعَهَا وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ حُدِّثْتُ عَنِ الْأَعْرَجِ بِمِثْلِهِ

. ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے اعرج سے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم دیا۔ پھر آپ سے کہا گیا کہ ابن جمیل اور خالد بن ولید اور عباس بن عبدالمطلب نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابن جمیل یہ شکر نہیں کرتا کہ کل تک وہ فقیر تھا۔ پھر اللہ نے اپنے رسول کی دعا کی برکت سے اسے مالدار بنادیا۔ باقی رہے خالد ‘ تو ان پر تم لوگ ظلم کرتے ہو۔ انہوں نے تو اپنی زرہیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں وقف کررکھی ہیں۔ اور عباس بن عبدالمطلب ‘ تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں۔ اور ان کی زکوٰۃ انہی پر صدقہ ہے۔ اور اتنا ہی اور انہیں میری طرف سے دینا ہے۔ اس روایت کی متابعت ابوالزناد نے اپنے والد سے کی اور ابن اسحاق نے ابوالزناد سے یہ الفاظ بیان کیے۔ ہی علیہ ومثلہا معہا ( صدقہ کے لفظ کے بغیر ) اور ابن جریج نے کہا کہ مجھ سے اعرج سے اسی طرح یہ حدیث بیان کی گئی۔

=============

حضور صلی الله علیہ وسلم کے والدین کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے – ایک بھائی نے پوچھا ہے اور یہ حدیث پیش کی ہے

صحيح مسلم: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ اسْتِئْذَانِ النَّبِيِّ ﷺ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ) صحیح مسلم: کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: بنی اکرم ﷺ کا اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کے لیے اجازت مانگنا)

2259 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ فَقَالَ اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأُذِنَ لِي فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ

. محمد بن عبید نے یزید بن کیسان سے ،انھوں نے ابو حازم سے اور اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی،آپ روئے اور اپنے اردگرد والوں کو بھی رلایا،پھر فرمایا:”میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ میں ان کے لئے بخشش کی طلب کروں تو مجھے اجازت نہیں دی گئی اور میں نے اجازت مانگی کہ میں ان کی قبر کی زیارت کروں تو اس نے مجھے اجازت دے دی،پس تم بھی قبروں کی زیارت کیاکرو کیونکہ وہ تمھیں موت کی یاددلاتی ہیں۔”

جواب

نبوت سے قبل نبی صلی الله علیہ وسلم کے رشتہ دار بھی اسی مشرکین کے مذھب پر تھے جو چلا آ رہا تھا – اس کی دلیل البیہقی شعب الایمان کی روایت ہے کہ جب نبی صلی الله علیہ وسلم پیدا ہوئے تو دادا عبد المطلب نے ان کو ھبل بت پر کعبہ میں پیش کیا
فَأَخَذَهُ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ فَأَدْخَلَهُ على هُبَلَ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ، وَذَكَرَ ابْنُ إِسْحَاقَ دُعَاءَهُ وَأَبْيَاتَهُ الَّتِي قَالَهَا فِي شُكْرِ اللهِ تَعَالَى عَلَى مَا وَهَبَهُ
اس روایت کی سند سیرت کی احادیث کے معیار کے مطابق صحیح ہے

مشرکین اللہ کی عبادت کرتے تھے اور ساتھ ہی اپنے قبائلی اله کی بھی

یہی عقیدہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے سگے چچا ابو لھب، ابو طالب، حمزہ اور عباس کا تھا

——

حدیث میں کہا گیا چچا باپ کی طرح ہے – یہ بات رشتہ داری کی ہے کہ چچا کا مقام باپ جیسا ہے- جب والد نہ ہوں تو چچا کا رتبہ بلند سمجھا گیا ہے – ہماری برصغیر کی روایات میں بھی ہے کہ چچا کو باپ کی طرح عزت دی جاتی ہے لیکن اس کو ابا جان نہیں کہا جاتا
لیکن عربی میں ہمیں کچھ مختلف انداز ملتا ہے

قرآن میں ہے
نعبد إلهك وإله آبائك ابراهيم واسماعيل واسحاق
یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے کہا : ہم اپ کے اله کی اور اپ کے باپوں ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق کے الہ کی عبادت کریں گے

یہ معلوم ہے کہ اسمعیل ، یعقوب کے چچا ہیں لیکن قرآن میں ان کو بھی باپ کا رتبہ دیا گیا ہے

حدیث میں ہے رسول الله نے کہا
أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبَ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ
میں ابن عبد المطلب ہوں

جبکہ نبی ابن عبدالله بن عبد المطلب ہیں نہ کہ ابن عبد المطلب
لیکن مجاز میں دادا کو بھی باپ کہا جا سکتا ہے دوم نبی صلی الله علیہ وسلم کی پرورش ان کے والد نے نہیں کی بلکہ دادا نے کی
اور یہ بات معروف تھی

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے فتح مکہ پر نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہا
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُدُّوا عَلَيَّ أَبِي , رُدُّوا عَلَيَّ أَبِي
میرے باپ کو لاو
یھاں اپ نے عباس کو طلب کیا تھا

اگرچہ یہ منقطع روایت ہے اور عکرمہ مولی ابن عباس نے روایت کیا ہے

لہذا سیاق و سباق دیکھ کر متعین کیا جائے گا کہ کیا کہا جا رہا ہے ایسا انداز کہ چچا یا دادا کو بھی باپ کہا گیا ہو بہت کم ہوتا ہے لیکن یہ ممکن ہے

———

قرآن میں ہے
(واذ قال ابراهيم لابيه آزر أتتخذ اصناما آلهة انى اريك وقومك في ضلال مبين

اس پر تفسیر قمی میں ہے
حدثني ابى عن صفوان عن ابن مسكان قال قال ابوعبدالله عليه السلام ان آزر ابا ابراهيم كان منجما لنمرود بن كنعان فقال له انى ارى في حساب النجوم ان هذا الزمان يحدث رجلا فينسخ هذا الدين ويدعو إلى دين آخر، فقال نمرود في أي بلاد يكون؟ قال في هذه البلاد، وكان منزل نمرود بكونى ربا (كوثي ريا خ ل)

ابن مسکان نے کہا امام ابو عبد الله علیہ السلام نے فرمایا ازر ابراہیم کے والد، نمرود کے ایک منجم تھے

یعنی ابي الحسن علي بن ابراهيم القمي کے دور تک اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ یہ ثابت کیا جائے کہ ازر باپ نہیں تھا
اس کی وجہ اہل تشیع کے عقیدہ میں ارتقاء ہے جو معصوم عن الخطا کے حوالے سے ہے کہ جو معصوم ہے اس کی نسل بھی معصوم ہوتی ہے اور یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ سن ٣٣٠ ہجری تک اہل تشیع اس عقیدہ میں ہم خیال نہیں تھے

ازر، ابراہیم کے باپ ہی تھے اس کی دلیل ہے کہ قرآن میں ان کو یا ابتی بھی لکھا گیا ہے ورنہ یہاں یا عمی ہوتا
اور حدیث میں ازر کو ایک دنبے کی صورت جہنم میں پھینکا جائے گا کیونکہ ابراہیم نے دعا کی کہ روز محشر ذلت نہ دی جائے

حدیث مسلم شریف کی تھی کہ جس میں سیدہ عائشہ کے پاس ایک نوجوان آتے ہیں اور رسول کے غسل کا پوچھتے ہیں ، جب آپ بتاتی ہیں کہ آپ محض دو صاع پانی سے بھی غسل کر لیتے تھے تو حیرانی میں سوال ہوتا ہے کہ کیسے ممکن ؟- تو سیدہ کہتی ہیں لو میں ابھی کر رہی ہوں – قصہ مختصر انہوں نے غسل کیا –

کیا ایسی کوئی حدیث ہے اور کیا یہ صحیح ہے

جواب

باب : اس بارے میں کہ ایک صاع یا اسی طرح کسی چیز کے وزن بھر پانی سے غسل کرنا چاہیے

حدیث نمبر : 251
حدثنا عبد الله بن محمد، قال حدثني عبد الصمد، قال حدثني شعبة، قال حدثني أبو بكر بن حفص، قال سمعت أبا سلمة، يقول دخلت أنا وأخو، عائشة على عائشة فسألها أخوها عن غسل النبي، صلى الله عليه وسلم فدعت بإناء نحوا من صاع، فاغتسلت وأفاضت على رأسها، وبيننا وبينها حجاب‏.‏ قال أبو عبد الله قال يزيد بن هارون وبهز والجدي عن شعبة قدر صاع‏.‏
ہم سے عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی، انھوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد نے، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے، انھوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن حفص نے، انھوں نے کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے یہ حدیث سنی کہ میں ( ابوسلمہ ) اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت عائشہ کی خدمت میں گئے۔ ان کے بھائی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا۔ تو آپ نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا۔ پھر غسل کیا اور اپنے اوپر پانی بہایا۔ اس وقت ہمارے درمیان اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔ امام ابوعبداللہ ( بخاری ) کہتے ہیں کہ یزید بن ہارون، بہز اور جدی نے شعبہ سے قدر صاع کے الفاظ روایت کئے ہیں۔
————–
تشریح : یہ ابوسلمہ عبد الله بن عبد الرحمن بن عوف ، عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھانجے تھے اور آپ کے محرم تھے- ان صاحب کو دودھ أُمُّ كُلْثُومٍ بنت ابی بکر نے پلایا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پردہ سے خود غسل فرماکر ان کو طریقہ غسل کی تعلیم فرمائ
دوسرے شخص کے لئے کہا جاتا ہے یہ عائشہ رضی الله عنہا کے بھائی تھے یا عبدالله بن یزید تھے
عبد الرحمن بن أبي بكر رضي الله عنهما وقيل هو عبد الله بن يزيد أخوها من الرضاع

——-

عائشہ رضی الله عنہا نے صرف یہ سمجھانے کے لئے کہ وہ خود کم ازلم ایک صاع پانی سے غسل کی قائل ہیں انہوں نے اس کو بہا کر دیکھایا کہ یہ کیا جا سکتا ہے جب ان دونوں نے پردے کے نیچے سے پانی بہتا دیکھا تو جان گئے کہ یہی عائشہ رضی الله عنہا کی رائے ہے
یہ پریکٹکل کرنا ضروری نہیں تھا لیکن اغلبا مکلمل بات ہم تک نہیں پہنچی کہ یہ دو حضرات ایک صاع کے حوالے سے اس قدر شش و پنج میں کیوں تھے کہ عائشہ رضی الله عنہا کو ایسا کرنا پڑا
——–

سندا اس کو صرف عبد الله بن حفص بن عمر بن سَعْد بن أبي وقاص الزهري نے بیان کیا ہے
بہت سے محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں ابن عبد البر کی طرف سے کہا جاتا ہے
والثقة أجمعوا على ذلك.

لیکن امام یحیی بن سعید کہتے ہیں
ليسوا بشَيْءٍ.
کوئی چیز نہیں
الکامل از ابن عدی

جواب

اس پر روایات ہیں

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: «ذُكِرَ لِي أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ، وَأَصْحَابَهُ شَرِبُوا شَرَابًا بِالشَّامِ، وَأَنَا سَائِلٌ عَنْهُ، فَإِنْ كَانَ مُسْكِرًا جَلَدْتُهُمْ»
السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ نے کہا مجھ سے عمر رضی الله عنہ نے کہا کہ مجھ سے ذکر کیا گیا ہے کہ عبید الله اور اس کے اصحاب نے شام میں شراب پی ہے اور میں اس پر سوال کروں گا اگر ایسا ہوا تو کوڑے لگاؤں گا

مصنف عبد الرزاق میں ہے
عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: «شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا» فَقَالَ: «إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رِيحَ الشَّرَابِ، وَإِنِّي سَأَلْتُهُ عَنْهَا فَزَعَمَ أَنَّهَا الطِّلَاءُ، وَإِنِّي سَائِلٌ عَنِ الشَّرَابِ الَّذِي شَرِبَ، فَإِنْ كَانَ مُسْكِرًا جَلَدْتُهُ» قَالَ: فَشَهِدْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَجْلِدُهُ
السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ میں نے عمر کے ساتھ جنازہ پڑھا اس کے بعد وہ ہماری طرف پلٹے کہا میں نے عبید الله میں سے شراب کی بو پائی اور میں نے جب سوال کیا تو یہ الطِّلَاءُ تھا میں نے اس سے پوچھا یہ کیا پیا تھا اگر نشہ اور ہوا تو کوڑے ماروں گا – پس میں نے دیکھا انہوں نے اس کو کوڑے مارے

موطا میں ہے
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، أَخْبَرَهُ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ فُلانٍ رِيحَ شَرَابٍ، فَسَأَلْتُهُ، فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرِبَ طِلاءً، وَأَنَا سَائِلٌ عَنْهُ، فَإِنْ كَانَ يُسْكِرُ جَلَدْتُهُ الْحَدَّ، فَجَلَدَهُ الْحَدَّ
عمر نے کہا میں نے فلاں کے منہ سے شراب کی بو پائی

الاصابہ از ابن حجر میں ہے
أبو شحمة بن عمر بن الخطاب «2» . جاء في خبر واه أن أباه جلده في الزنا فمات
أبو شحمة بن عمر بن الخطاب کے بارے میں ایک واہی خبر ہے کہ ان کے باپ نے کوڑے مارے زنا کی وجہ سے یہاں تک کہ مرے

قال ابن قتيبة، قال: وأما أبو شحمة بن عمر فضربه عمر الحد في الشراب، وفي أمر آخر، فمات ولا عقب له
ابن قتیبہ نے کہا کہ عمر نے اپنے بیٹے ابو شحمہ کو شراب پر کوڑے مارے اور یہ مر گئے

کیا قبلہ اول بیت المقدس تھا اور بعد میں قبلہ تبدیل ہوکر خانہ کعبہ ہوا یا قبلہ اول پہلے ہی سے خانہ کعبہ تھا البتہ کچھ مصلحت کے تحت کچھ عرصے کے لئے قبلہ بیت القدس بنایا گیا جو بعدمیں دوبارہ خانہ کعبہ میں تبدیل ہو ا اس بارے میں آپ سے قران و حدیث سے و ضاحت درکا ر ہے

جواب

موسی علیہ السلام جب مصر میں تھے تو قبلہ مسلمانوں کے گھر تھے
وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى وَأَخِيهِ أَنْ تَبَوَّآ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوتًا وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ
سورہ یونس

مسلمانوں نے اس آیت کے مفہوم کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے لہذا التَّفْسِيرُ البَسِيْط از الواحدی میں ہے کہ
وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً}، قال يريد: إلى الكعبة
تفسیر ابن جریر طبری میں اس کی سند ہے
حدثنا ابن حميد قال، حدثنا حكام، عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن المنهال، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس: (واجعلوا بيوتكم قبلة) ، يعني الكعبة.
جس پر التَّفْسِيرُ البَسِيْط کے عرب محقق کہتے ہیں
من رواية محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن المنهال بن عمرو الأسدي؛ والأول سيء الحفظ جدًا، فاخش الخطأ، كثير المناكير كما في “تهذيب التهذيب” 3/ 627، والثاني صدوق ربما وهم كما في “التقريب” (6918).
اس کی سند میں محمد بن  عبد الرحمان بن ابی لیلی ہے جو خراب حافظہ اور فحش غلطیاں کریا ہے دوسرا المنھال ہے جو وہمی ہے

وابن جريج عن ابن عباس قال: كانت الكعبة قبلة موسى ومن معه
اور ابن جریج نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ کعبہ موسی اور جو ان کے ساتھ تھے ان کا قبلہ تھا
لیکن التَّفْسِيرُ البَسِيْط کے عرب محقق کہتے ہیں اس میں ابن جریج کا عنعنہ ہے اور یہ مدلس ہے

اسی تفسیر میں دوسرا قول ابن عباس سے منسوب ہے
فأُمروا أن يتخذوا مساجد في بيوتهم ويصلوا فيها خوفًا من فرعون (3)، وهذا قول ابن عباس في رواية عكرمة (4)، وإبراهيم (5)، وابن زيد (6)، والربيع (7)، وأبي مالك (8)، والسدي (9)، والضحاك (10)، واختيار الفراء (11)، والزجاج (12).
جس کے مطابق مصر میں فرعون کے خوف سے گھروں کو قبلہ کیا یہ ابن عباس کا قول ہے
جس کو ٨ شاگردوں نے بیان کیا ہے

کعبہ کو قبلہ موسی کے لئے مقرر نہیں کیا گیا نہ یہ حکم توریت میں ہے اور خود سنت داود  پر عمل کرتے ہوئے نبی صلی الله علیہ وسلم نے ١٧ ماہ یروشلم کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہے

مصر کے بعد بنی اسرائیل کے لئے دشت میں خیمہ ربانی قبلہ تھا کیونکہ ٤٠ سال تک ان پر سمت واضح نہیں رہی تھی
پھر فتح یروشلم یا کنعان کے بعد داود علیہ السلام کو حکم ہوا کہ بیت المقدس تعمیر کریں اور وہ قبلہ ہوا
یہودی روایات کے مطابق خروج مصر سے لے کر داود علیہ السلام کے بادشاہ بننے تک ٤٣٦ سال ہیں
یعنی ٤٣٦ سال تک خیمہ ربانی ہی قبلہ رہا یہاں تک کہ داود علیہ السلام نے یروشلم کو دار الخلافہ کیا اور وہاں مسجد الاقصی تعمیر کی

حشر دوم کے بعد بیت المقدس نہ رہا لہذا اہل کتاب قبلہ کو مشرق کہتے ہیں چاہے یروشلم مغرب میں ہی کیوں نہ ہو
تفسیر میں ص ٩٢ پر راقم نے لکھا ہے
Jews called their Qiblah Mizrah (Hebrew: …meaning East). Mizrah or East thus become
the word for direction of prayer among Jews.

مسلمان شروع سے کعبہ کو قبلہ مان کر نماز پڑھتے تھے صرف مدینہ میں ١٧ ماہ کے لئے بیت المقدس کو قبلہ کیا گیا اور پھر واپس مکہ کو کر دیا گیا

———–
ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے
وَقَدْ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْميّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَر، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ قلتُ: يَا رسولَ اللَّهِ، أيُّ مَسجِد وُضِع فِي الْأَرْضِ أوَّلُ؟ قَالَ: “الْمسْجِدُ الْحَرَامُ”. قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: “الْمسجِدُ الأقْصَى”. قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: “أرْبَعُونَ سَنَةً”. قلتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: ثُم حَيْثُ أدْرَكْت (3) الصَلاةَ فَصَلِّ، فَكُلُّهَا مَسْجِدٌ”.
وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ، مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، بِهِ ((4) المسند (5/150) وصحيح البخاري برقم (3366، 3425) وصحيح مسلم برقم (520)
ابوذر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ہے؟
آپ نے فرمایا مسجد الحرام، پوچھا پھر کون سی؟ فرمایا مسجد بیت المقدس پوچھا ان دونوں کے درمیان کتنا وقت ہے؟ فرمایا چالیس سال پوچھا پھر کون سی؟ آپ نے فرمایا جہاں کہیں نماز کا وقت آ جائے نماز پڑھ لیا کرو ساری زمین مسجد ہے (مسند احمد وبخاری مسلم)۔(صحیح بخاری:3366)

تبصرہ
⇓ کیا مسجد الحرام اور مسجد الاقصی کی تعمیر میں ٤٠ سال کا دور تھا ؟
http://www.islamic-belief.net/q-a/مساجد/
صحیح متن نہیں ہے روایت متنا غلط ہے

وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا شَرِيك عَنْ مُجالد، عَنِ الشَّعْبيّ عَنْ علِيّ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا} قَالَ: كَانَتِ الْبُيُوتُ قِبْلَةً، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِعِبَادَةِ اللَّهِ [تَعَالَى] علی نے کہا الله کا قول پہلا گھر جو انسانوں نے لئے بنا وہ بکہ میں ہے مبارک ہے علی نے کہا پہلے گھر قبلہ ہوتے اور جو گھر عبادت کے لئے بنا وہ کعبہ تھا

تبصرہ
سند میں شریک کا حافظہ خراب ہے مجالد ضعیف ہے
شعبی کا سماع علی رضی الله عنہ سے نہیں ہے
اگرچہ امام بخاری نے شعبی کی علی سے روایت لی ہے لیکن العلائی  جامع التحصیل میں  کہتے ہیں مجرد امکان لقاء پر اس کو نہیں لیا جا سکتا
عامر بن شراحيل الشعبي أحد الأئمة روى عن علي رضي الله عنه وذلك في صحيح البخاري وهو لا يكتفي بمجرد إمكان اللقاء

مسند احمد میں ایک روایت ہے کہ:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:
( بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْكَ قَالَتْ فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ قَالَتْ ثُمَّ دَخَلَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْكَ قَالَتْ ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكَ قَالَتْ فَقُلْتُ بَلْ السَّامُ عَلَيْكُمْ وَغَضَبُ اللَّهِ إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ أَتُحَيُّونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا لَمْ يُحَيِّهِ بِهِ اللَّهُ قَالَتْ:
فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ مَهْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ قَالُوا قَوْلًا فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يَضُرَّنَا شَيْءٌ وَلَزِمَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِنَّهُمْ لَا يَحْسُدُونَا عَلَى شَيْءٍ كَمَا يَحْسُدُونَا عَلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا وَعَلَى الْقِبْلَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا وَعَلَى قَوْلِنَا خَلْفَ الْإِمَامِ آمِينَ )
صححه الألباني.، وله شواهد. :
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ ایک یہودی آدمی نے اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اسے اجازت دے دی، اس نے آکر ” السام علیک ” کہا نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے صرف ” وعلیک ” کہہ دیا میں نے کچھ بولنا چاہا لیکن رک گئی، تین مرتبہ وہ اسی طرح آیا اور یہی کہتا رہا،
آخر کار میں نے کہہ دیا کہ اے بندروں اور خنزیروں کے بھائی ! تم پر ہی موت اور اللہ کا غضب نازل ہو، کیا تم نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اس انداز میں آداب کرتے ہو، جس میں اللہ نے انہیں مخاطب نہیں کیا، اس پر نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے میری طرف دیکھ کر فرمایا رک جاؤ، اللہ تعالیٰ فحش کلامی اور بیہودہ گوئی کو پسند نہیں فرماتا، انہوں نے ایک بات کہی، ہم نے انہیں اس کا جواب دے دیا، اب ہمیں تو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی البتہ ان کے ساتھ قیامت تک لے لئے یہ چیز لازم ہوجائے گی، یہ لوگ ہماری کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا جمعہ کے دن پر حسد کرتے ہیں جس کی ہدایت اللہ نے ہمیں دی ہے، اور (کعبہ کو )ہمارا قبلہ بنائے جانے پر بھی ہم سے حسد کرتے ہیں اور یہ لوگ اس سے گمراہ رہے، اسی طرح یہ لوگ ہم سے امام کے پیچھے آمین کہنے پر حسد کرتے ہیں

تبصرہ
یہ روایت بھی ضعیف ہے
حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ اختلاط کا شکار ہوئے
سند میں على بن عاصم [د، ق، ت] بن صهيب، أبو الحسن الواسطي، مولى آل أبي بكر الصديق بھی ضعیف ہے

⇓ کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم یہودیوں کو سور اور بندرووں کے بھائی کہہ کر کلام کرتے تھے؟
http://www.islamic-belief.net/q-a/متفرق/

=============

کعبہ پہلی عبادت گاہ مسجد ہے جو تعمیر ہوئی

قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ (96) سورۃ آل عمران
بلاشبہ سب سے پہلا گھر (عبادت گاہ) جو لوگوں کے لیے تعمیر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے، اس گھر کو برکت دی گئی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا ”
کعبہ کا مقام الله تعالیٰٰ کے رازوں میں سے ہے جس کو مخلوق پر ظاہر نہیں کیا گیا کہ ایک بے اب وادی جو لاوا کی چٹانوں سے گھری ہے اس میں ایسی کیا بات ہے کہ کائنات کی تخلیق کے وقت اس کی وجہ سے زمین و آسمان کی گردش میں ٤ ماہ محترم ہو گئے
ہم کو اس کا علم نہیں دیا گیا کہ اس کی کیا وجہ ہے لیکن کعبہ کی ایک اہمیت شروع سے تخلیق کائنات سے ہے اس کو لیکن قبلہ ہر نبی کے لئے نہیں کیا گیا

جیسا راقم کو معلوم ہے کہ داود سے لے کر عیسیٰ تک سب نے بیت المقدس میں ہیکل کی طرف منہ کر کے ہی عبادت کی ہے
قرآن میں ہے
وَمَا أَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ
تم ان کے قبلہ کی اتباع نہیں کرو گے

تو ظاہر ہے قبلوں کا یہ فرق الله کا حکم ہی تھا جو پہلے کچھ تھا پھر بدل دیا گیا

قبلے بدلنا الله کا حکم تھا – بنی اسرائیل کے لیے کچھ امت محمد کے لئے کچھ

ابراھیم علیہ السلام نے کعبہ تعمیر کیا لیکن اس وقت قبلہ کا کوئی حکم نہیں ملتا – کعبہ ایک عبادت گاہ ضرور تھی جس کے مناسک حج بھی ابراہیم نے بحکم الہی بتائے
کعبه کے اندر عبادت کی جاتی تھی جو کسی بھی رخ پر کی جا سکتی ہے

اسی طرح کہا جاتا ہے طوفان نوح سے کعبہ مٹی میں چلا گیا اور ہم کو معلوم ہے کہ عرب میں انے والے انبیاء ہود علیہ السلام اور صالح علیہ السلام کے قبلہ کی کوئی تفصیل نہیں آئی ہے صرف یہ پتا ہے کہ قوم ثمود کا ایک شخص حرم کی حدود میں تھا جب اس کی قوم پر عذاب آیا لیکن جیسے ہی نکلا ایک پتھر آسمان سے آیا اور وہ اس سے ہلاک ہوا
ایک سفر میں اس کی قبر سے اصحاب رسول نے سونا نکالا

ابن سعد طبقات میں لکہتے ہیں
جب اسماء بنت نعمان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کی پناہ مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ سے باہر آگئے تب اشعث بن قیس نے کہا کہ آپ غمگین نہ ہوں میں آپ کا نکاح اس سے نہ کردوں جو اس سے حسب نسب میں کم نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کون اس نے کہا میری بہن قتیلہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے نکاح کرلیا۔ پھر اشعث یمن اسے لینے گئے اور یمن سے آگے بڑہے تو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ملی تو یہ دونوں بہن بہائی مرتد ہوگئے۔ پھر قتیلہ نے اور نکاح کرلیا کیوں کہ مرتد ہونے کے ساتھ اس کا نکاح ٹوٹ گیا تھا اور پھر مکشوع مرادی نے ان سے نکاح کیا۔
آگے لکہتے ہیں کہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب فوت ہوئے تو قبیلہ کندہ کی ایک عورت قتیلہ کے مالک ہوئے تھے لیکن وہ اپنی قوم کے ساتھ مرتد ہوگئی تھی پھر بعد میں اس سے عکرمہ نے نکاح کرلیا یہ بات حضرت صدیق رضہ کو گراں گزری لیکن حضرت عمر رضہ نے انہیں کہا کہ یہ عورت امہات میں سے نہیں ہے نہ آپ نے اس کو اختیار دیا نہ ہی اس کو پردہ کرایا اور اللہ تعالی نے آپ کو اس سے بری کردیا ہے کیوں کہ وہ مرتد ہوگئی ہے،،
ھمیں اس عورت قتیلہ کے ام المومنین ھونے یا نہ ھونے کی بحث سے کچھ لینا دینا نہیں ،، بس یہ طریقہ نکاح جو روایت ھوا ھے کہ ایک خیمے سے عزت کرا کر نکلے ھیں تو گلی میں کھڑے کھڑے دوسرا نکاح کر لیا اور وہ بھی اس عورت سے کہ جو اتنے ایمان والی تھی کہ وفات کا سن کر ھی مرتد ھو گئ ،،، انا للہ و انا الیہ راجعون ،،،

جواب

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کسی أميمة بنت النعمان بن شراحيل الجونية نامی عورت سے شادی کی اور وہ اس نے الله کی پناہ مانگی
یہ واقعہ صحیح بخاری میں بھی ہے اور کتب حدیث میں اس کی سند میں حَمْزَةُ بْنُ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ السَّاعِدِيُّ الْمَدَنِيُّ کا تفرد ہے
یہ قلیل حدیث ہے اور متقدمین میں اس کی توثیق سوائے ابن حبان کے کسی نے نہیں کی
راقم اس روایت کو صحیح نہیں سمجھتا معلوم نہیں کہ امام بخاری نے یہ حدیث کس بنا پر لکھی ہے کیونکہ انہوں نے خود تاریخ الکبیر میں اس کی توثیق نہیں کی

اس کی دوسری سند میں عَبَّاسُ بنُ سَهْلِ بنِ سَعْدٍ الأَنْصَارِيُّ ہے – یہ ثقہ ہیں
لیکن اس خبر کا انفراد ایسا ہے کہ یہ امہات المومنین ہی بیان کریں تو صحیح سمجھی جا سکتی ہے
کیونکہ میاں بیوی کی بات ہر ایک کا مسئلہ نہیں ہے
اس کے لئے ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ عائشہ رضی الله عنہا نے بھی یہ بیان کیا
کتاب معرفة الصحابة لابن منده میں اس کی سند ہے
أخبرنا أبو عمرو أحمد بن محمد بن إبراهيم، حدثنا محمد بن علي بن راشد الطبري، حدثنا يحيى بن عبد الله بن الضحاك، عن الأوزاعي، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة: أن الجونية لما أتي بها النبي صلى الله عليه وسلم قالت: أعوذ بالله منك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لقد عذت بمعاذ، الحقي بأهلك.

لیکن اس میں يحيى بن عبد الله بن الضحاك ہے جو ضعیف ہے

کتاب : الْمُخْتَصَرُ النَّصِيحُ فِي تَهْذِيبِ الْكِتَابِ الْجَامِعِ الْصَّحِيحِ از المھلب میں اس کی سند ہے
وَنَا الْحُمَيْدِيُّ, نَا الْوَلِيدُ, نَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ: أَيُّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ, عَنْ عَائِشَةَ, أَنَّ ابْنَةَ الْجَوْنِ لَمَّا أُدْخِلَتْ عَلَى رَسُولِ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَنَا مِنْهَا, قَالَتْ: أَعُوذُ بِالله مِنْكَ, فَقَالَ لَهَا: «لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِي بِأَهْلِكِ».
اس میں الولید بن مسلم ہے جس کا الأَوْزَاعِيُّ سے سماع پر محدثین کو اعتراض ہے

پھر کیا زبردستی شادی ہو سکتی ہے ؟ جو عورت رسول الله سے شادی نہ کرنا چاہتی ہو ممکن نہیں کہ نبی صلی الله علیہ

وسلم اس سے شادی کرتے
وَكَانَ تَزَوُّجُهُ إِيَّاهَا فِي شَهْرِ رَبِيعٍ الأَوَّلِ سَنَةَ تِسْعٍ مِنَ الْهِجْرَةِ
یہ واقعہ سنن ٩ ہجری کا کہا جاتا ہے

سوره الاحزاب میں ہے

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ الّٰتِیْٓ اٰتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّآ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلَیْکَ وَبَنٰتِ عَمِّکَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَبَنٰتِ خَالِکَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِکَ الّٰتِیْ ھَاجَرْنَ مَعَکَ وَامْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنْ وَّھَبَتْ نَفْسَھَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْکِحَھَا خَالِصَۃً لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْھِمْ فِیْٓ اَزْوَاجِھِمْ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ لِکَیْلَا یَکُوْنَ عَلَیْکَ حَرَجٌ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا. تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْھُنَّ وَتُءْوِیْٓ اِلَیْکَ مَنْ تَشَآءُ وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکَ ذٰلِکَ اَدْآٰی اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُھُنَّ وَلَا یَحْزَنَّ وَیَرْضَیْنَ بِمَآ اٰتَیْتَھُنَّ کُلُّھُنَّ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا. لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنْم بَعْدُ وَلَآاَنْ تَبَدَّلَ بِھِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّلَوْ اَعْجَبَکَ حُسْنُھُنَّ اِلَّا مَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا. (الاحزاب۳۳: ۵۰۔۵۲)
’’اے پیغمبر( صلی اللہ علیہ وسلم)، ہم نے تمھاری وہ بیویاں تمھارے لیے جائز ٹھہرائی ہیں جن کے مہر تم ادا کرچکے ہو اور (اسی طرح)وہ (خاندانی) عورتیں جو (تمھارے کسی جنگی اقدام کے نتیجے میں) اللہ تمھارے قبضے میں لے آئے اور تمھاری وہ چچا زاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنھوں نے تمھارے ساتھ ہجرت کی ہے اور وہ مسلمان عورت جواپنے آپ کو نبی کے لیے ہبہ کردے، اگر نبی اس سے نکاح کرنا چاہے۔ یہ حکم دوسرے مسلمانوں سے الگ صرف آپ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے خاص ہے۔ ہم کو معلوم ہے جو کچھ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے معاملے میں ان پر فرض کیا ہے۔(اس لیے خاص ہے)کہ اپنی ذمہ داریوں کے ادا کرنے میں) تم پر کوئی تنگی نہ رہے۔ اور (اگر کوئی کوتاہی ہو تو)اللہ بخشنے والا ہے، اس کی شفقت ابدی ہے۔ تمھیں اختیار ہے کہ ان میں سے جسے چاہو، الگ رکھو اور جسے چاہو، ساتھ رکھو، اور جسے چاہو الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلا لو۔ اس معاملے میں تم پر کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ وضاحت اس کے زیادہ قرین ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ رنجیدہ نہ ہوں گی اور جو کچھ بھی تم ان سب کو دو گے، اس پر راضی رہیں گی۔ اور اللہ جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے اور اللہ علیم وحکیم ہے۔ ان کے علاوہ کوئی عورت تمھارے لیے جائز نہیں ہے اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کی جگہ اور بیویاں لے آؤ ، اگرچہ وہ تمھیں کتنی ہی پسند ہوں۔ لونڈیاں البتہ (اس کے بعد بھی) جائز ہیں اور (یہ حقیقت ہے کہ)اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھے ہوئے۔‘‘

آیات میں موجود ہے
ان کے علاوہ کوئی عورت تمھارے لیے جائز نہیں ہے اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کی جگہ اور بیویاں لے آؤ

سن ٧ هجري مين المقوقس حاكم مصر نے ماریہ قبطیہ اپ صلی الله علیہ وسلم کو تحفہ میں دیں اپ نے ان کو لونڈی بنا لیا بیوی نہیں اس سے معلوم ہوتا ہے اس وقت یہ مزید نکاح کی پابندی آ چکی تھی اس بنا پر راقم سمجھتا ہے کہ یہ قصہ جو واقدی اور ہشام نے بیان کیا گھڑا ہوا ہے

جواب

ایک قول بیان ہوا ہے جو الکامل سے لیا گیا ہے

الكامل 7: 75. از ابن الاثیر میں سن ٢٤٠ ہجری کے حالات پر لکھا ہے
وفيها توفى القاضي أبو عبد الله أحمد بن دؤاد في المحرم بعد ابنه أبي الوليد بعشرين يوما، وكان داعية إلى القول بخلق القرآن وغيره من مذاهب المعتزلة وأخذ ذلك عن بشر المريسي وأخذه بشر من الجهم بن صفوان، وأخذه جهم من الجعد بن درهم، وأخذه الجعد من أبان بن سمعان، وأخذه أبان من طالوت ابن أخت لبيد بن الاعصم وختنه. وأخذه طالوت من لبيد بن الاعصم اليهودي الذي سحر النبي صلى الله عليه وسلم، وكان لبيد يقول: بخلق التوراة، وأول من صنف في ذلك طالوت، وكان زنديقا، فأفشى الزندقة
اور اس میں القاضي أبو عبد الله أحمد بن دؤاد کی وفات ، ان کے بیٹے أبي الوليد کی وفات کے ٢٠ دن بعد محرم میں ہوئی- اور وہ خلق قرآن کے داعی تھے جو معتزلة کا مذھب ہے اور اس کو انہوں نے بشر المريسي نے لیا اور بشر المريسي نے اس کو جھم بن صفوان سے لیا اور جھم بن صفوان نے اس کو الجعد بن درهم لیا اور الجعد بن درهم نے اس کو ابان بن سمعان سے لیا

لیکن یہ معلوم نہیں کہ اس کا قائل کون ہے کیونکہ ابن اثیر بہت بعد کے ہیں
جادو کی بنیاد بات یہ ہے کہ کلمات میں قوت ہے اسی وجہ سے کلمات کو اعداد میں تبدیل کیا جاتا ہے لہذا خلق قرآن کا قول ممکن نہیں کہ جادو گروں سے لیا گیا ہو یہ پروپیگنڈا معلوم ہوتا ہے

امام احمد کے ساتھ کیا ہوا معلوم نہیں ان کے حوالے سے احمد کے شاگرد حنبل بن اسحاق نے ایک کتاب گھڑی جس کو المنحہ امام احمد کہا جاتا ہے
اس میں امام احمد کے مرنے کے بعد بیان کیا گیا کہ احمد نے حنبل بن اسحق کو بیان کیا کہ دربار میں کیا کلام ہوا کس طرح کوڑے لگے وغیرہ
راقم سمجھتا ہے کتاب جھوٹ ہے کیونکہ اس میں امام احمد کہتے ہیں خلق قرآن کا قائل کافر ہے اور پھر عباسی خلیفہ جو اسی کا قائل ہے اس کو امیر المومنین کہتے ہیں
امام احمد نے جیل میں اور کوڑے کھانے کے دوران نبی صلی الله علیہ وسلم کے بال قمیص میں باندھ رکھے تھے جو ان کو کسی نے جیل میں دیے ؟ یہ کتاب پوری فسانہ عجائب ہے
عباسی خلفاء کے دور تک نہ تو نبی صلی الله علیہ وسلم کی تلوار معلوم تھی نہ جوتی معلوم تھی نہ بال معلوم تھے
ان بالوں کو بعد میں احمد کی قبر میں بھی رکھا گیا
سب جھوٹ ہے جو اماموں کی شان بڑھانے اور ان کو طاغوت بنانے کے لئے بیان کیا گیا ہے
اگر سچ ہے تو امام احمد بدعتی ثابت ہوتے ہیں

شمس الدین ذہبی لکھتے ہیں:

قال: وقد کانَ صار اليّ شعرٌ من شعرِ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم في کُمّ قمیصي، فوجَّہ اليّ اسحاقُ بنُ ابراہیمَ، یقول: ما ہذا المصرور؟ قلت شعرٌ من شعر رسولِ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وسعی بعضہم لیخرق القمیص عنّي، فقال المعتصم لاتخرقوہ، فنزع، فظننت أنہ انما دُرِیٴَ عن القمیصِ الخرقُ بالشعر. (سیر أعلام النبلاء، ص:۴۸۱، ج:۹)

امام احمد بن حنبل نے کہا کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے موئے مبارک میں سے چند موئے مبارک مجھے حاصل ہوئے تھے، جو میرے کُرتے کی آستین میں تھے، اسحاق بن ابراہیم میرے پاس آکر کہنے لگا: یہ بندھی (رکھی) ہوئی چیز کیا ہے؟ میں نے کہا: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے چند موئے مبارک ہیں، خلیفہ کے آدمیوں میں سے ایک میرا کُرتا پھاڑنے کے لیے لپکا، تو معتصم نے کہا: اس کو مت پھاڑو، پس کرتا اتارلیاگیا، (أحمد نے کہا ) میرے گمان میں موئے مبارک کی برکت کی وجہ سے کرتا پھاڑے جانے سے محفوظ رہا۔

كتاب مين مشهور محدثين مثلا امام یحیی بن معین اور ابن سعد پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے معتزلہ کے آگے گھٹنے ٹیک دیے اور اپنے خلق قرآن کے موقف سے رجوع کیا
=======
البتہ یہ مشہور بات ہے کہ امام احمد کو کوڑے لگے اس کو مورخین نے قبول کیا ہے

تاریخ دمشق از ابن عساکر اور سير أعلام النبلاء از الذھبی کے مطابق
وَفِي رَمَضَانَ: كَانَتْ مِحْنَةُ الإِمَامِ أَحْمَدَ فِي القُرْآنِ، وضُرِبَ بِالسِّيَاطِ حَتَّى زَالَ عَقْلُهُ، وَلَمْ يُجِبْ، فَأَطْلَقُوهُ
سن ٢٢٠ ہجری میں امام احمد کی آزمائش ہوئی اور اس میں کوڑے لگے یہاں تک کہ عقل چلی گئی

راقم اس قول کو قبول کرتا ہے – لگتا ہے عقائد میں اضطراب اسی بنا پر پیدا ہوا اور اس کے بعد امام احمد نے عود روح کو قبول کر لیا ہو گا

شذرات الذهب في أخبار من ذهب

(3/ 188)
قال الرّبيع: كتب إليه الشّافعيّ من مصر، فلما قرأ الكتاب بكى، فسألته عن ذلك فقال: إنه يذكر أنه رأى النّبيّ- صلى الله عليه وسلم- وقال: «اكتب إلى أبي عبد الله أحمد بن حنبل واقرأ عليه مني السّلام وقل له: إنك ستمتحن على القول بخلق القرآن فلا تجبهم، نرفع لك علما إلى يوم القيامة» .
قال الربيع: فقلت له: البشارة، فخلع عليّ قميصه وأخذت جوابه، فلما قدمت على الشافعيّ وأخبرته بالقميص قال: لا نفجعك فيه ولكن بلّه وادفع إليّ ماءه حتّى أكون شريكا لك فيه.

امام شافعی رحمہ اللہ نے لکھا تھا

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے ٗ وہ فرماتے ہیں کہ احمد کو میرا سلام کہو… اور انہیں اطلاع دو کہ عن قریب خلقِ قرآن کے مسئلے میں ان کی آزمائش ہو گی… خبر دار خلقِ قرآن کا اقرار نہ کریں… اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ان کے علم کو قیامت تک برقرار رکھیں گے۔
خط پڑھ کر امام احمد رونے لگے ۔ پھر اپنا کرتا اُتار کر مجھے دیا۔ میں اسے لے کر مصر واپس آ گیا اور امام شافعی رحمہ اللہ سے سفر کے حالات بیان کیے۔ اس کے کرتے کا بھی ذکر کیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے سن کر فرمایا
میں وہ کرتا تو تم سے نہیں مانگتا… ہاں اتنا کرو کہ اسے پانی میں تر کر کے ٗ وہ پانی مجھے دے دو… تاکہ میں اس سے برکت حاصل کروں۔ ​

جواب

شذرات الذهب في أخبار من ذهب
المؤلف: عبد الحي بن أحمد بن محمد ابن العماد العَكري الحنبلي، أبو الفلاح (المتوفى: 1089هـ) نامی کتاب میں یہ قول ہے جس کی سند نہیں ہے

البتہ کتاب المنحة إمام أحمد أز المقدسي أور مناقب إمام أحمد أز ابن جوزي مين اس کی سند ہے

أخبرنا عبد الملك بن أبي القاسم، قال: أخبرنا عبد الله بن محمد الأنصاري، قال: أخبرنا غالب بن علي، قال: أخبرنا محمد بن الحسين، قال: حدثنا محمد بن عبد الله بن شاذان، قال: سمعت أبا القاسم بن صدقة، يقول: سمعت علي بن عبد العزيز الطلحي، قال: قال لي الربيع: قال لي الشافعي: يا ربيع، خذ كتابي وامض به وسلمه إلى أبي عبد الله أحمد بن حنبل، وأتني بالجواب، قال الربيع: فدخلت بغداد ومعي الكتاب، فلقيت أحمد بن حنبل صلاة الصبح، فصليت معه الفجر، فلما انفتل من المحراب، سلمت إليه الكتاب، وقلت له: هذا كتاب أخيك الشافعي من مصر. فقال أحمد: نظرت فيه؟ قلت: لا، فكسر أحمد الخاتم، وقرأ الكتاب فتغرغرت عيناه بالدموع، فقلت له: أي شيء فيه يا أبا عبد الله؟ فقال: يذكر أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم في المنام، فقال له: اكتب إلى أبي عبد الله أحمد بن حنبل، واقرأ عليه مني السلام، وقل: إنك ستمتحن وتدعى إلى خلق القرآن، فلا تجبهم يرفع الله لك علماً إلى يوم القيامة.
قال الربيع: فقلت: البشارة، فخلع قميصه الذي يلي جلده، فدفعه إلي فأخذته وخرجت إلى مصر، وأخذت جواب الكتاب، وسلمته إلى الشافعي، فقال لي: يا ربيع، أي شيء الذي دفع إليك؟ قلت: القميص الذي يلي جلده. فقال لي الشافعي: ليس نفجعك به، ولكن بله، وادفع إلينا الماء حتى أشركك فيه.

تاریخ دمشق میں اس کی سند ہے
أخبرني أبو المظفر عبد المنعم بن عبد الكريم القشيري أنا أبو بكر أحمد بن الحسين البيهقي أنا أبو عبد الرحمن محمد بن الحسين (1) بن محمد بن موسى قراءة عليه قال سمعت محمد بن عبد الله بن شاذان يقول سمعت أبا القاسم بن صدقة يقول سمعت علي بن عبد العزيز الطلحي يقول قال لي الربيع إن الشافعي خرج إلى مصر وأنا معه فقال لي يا ربيع خذ كتابي هذا فامض به وسلمه إلى أبي عبد الله أحمد بن حنبل وائتني بالجواب قال الربيع فدخلت بغداد ومعي الكتاب فلقيت أحمد بن حنبل صلاة الصبح فصليت معه الفجر فلما انفتل من المحراب سلمت إليه الكتاب وقلت له هذا كتاب أخيك الشافعي من مصر فقال أحمد نظرت فيه قلت لا فكسر أبو عبد الله الختم وقرأ الكتاب وتغرغرت عيناه بالدموع فقلت إيش فيه يا أبا عبد الله قال يذكر أنه رأى النبي (صلى الله عليه وسلم) في النوم فقال له اكتب إلى أبي عبد الله أحمد بن حنبل واقرأ عليه مني السلام وقل إنك ستمتحن وتدعى إلى خلق القرآن فلا تجبهم فسيرفع الله لك علما إلى يوم القيامة قال الربيع فقلت البشارة فخلع أحد قميصيه الذي يلي جلده ودفعه إلي فأخذته وخرجت إلى مصر وأخذت جواب الكتاب فسلمته إلى الشافعي فقال لي الشافعي يا ربيع إيش الذي دفع إليك قلت القميص الذي يلي جلده قال الشافعي ليس نفجعك به ولكن بله وادفع إلي الماء حتى أشركك فيه حدثناها أبو محمد عبد الجبار بن محمد بن أحمد الحواري البيهقي الفقيه إملاء بنيسابور نا الإمام أبو سعيد القشيري إملاء وهو عبد الواحد بن عبد الكريم أنا الحاكم أبو جعفر محمد بن محمد الصفار أنا عبد الله بن يوسف قال سمعت محمد بن عبد الله الرازي قال سمعت جعفر بن محمد المالكي يقول قال الربيع بن سليمان إن الشافعي رحمه الله خرج إلى مصر فقال لي يا ربيع خذ كتابي هذا فامض

علي بن عبد العزيز الطلحي کا معلوم نہیں ہو سکا کون ہے
اس کے علاوہ محمد بن عبد الله بن عبد العزيز بن شاذان الصُّوفِي الرازي: ليس بثقة. ہے
محمَّد بن الحسين بن محمَّد بن موسى صوفی انسان تھے امام بیہقی اور حاکم کے شیخ ہیں بحوالہ السَّلسَبِيلُ النَّقِي في تَرَاجِمِ شيُوخ البَيِهَقِيّ اور الرّوض الباسم في تراجم شيوخ الحاكم – تاریخ بغداد کے مطابق یہ غير ثقة ہے

================
اسی طرح کا کے قول کا ذکر بدر الدین عینی نے عمدہ القاری میں بھی کیا ہے
وَأَخْبرنِي الْحَافِظ أَبُو سعيد ابْن العلائي قَالَ: رَأَيْت فِي كَلَام أَحْمد بن حَنْبَل فِي جُزْء قديم عَلَيْهِ خطّ ابْن نَاصِر وَغَيره من الْحفاظ، أَن الإِمَام أَحْمد سُئِلَ عَن تَقْبِيل قبر النَّبِي، صلى الله عَلَيْهِ وَسلم، وتقبيل منبره، فَقَالَ: لَا بَأْس بذلك، قَالَ: فأريناه للشَّيْخ تَقِيّ الدّين بن تَيْمِية فَصَارَ يتعجب من ذَلِك، وَيَقُول: عجبت أَحْمد عِنْدِي جليل يَقُوله؟ هَذَا كَلَامه أَو معنى كَلَامه؟ وَقَالَ: وَأي عجب فِي ذَلِك وَقد روينَا عَن الإِمَام أَحْمد أَنه غسل قَمِيصًا للشَّافِعِيّ وَشرب المَاء الَّذِي غسله بِهِ، وَإِذا كَانَ هَذَا تَعْظِيمه لأهل الْعلم فَكيف بمقادير الصَّحَابَة؟ وَكَيف بآثار الْأَنْبِيَاء، عَلَيْهِم الصَّلَاة وَالسَّلَام؟

الْحَافِظ أَبُو سعيد ابْن العلائي نے خبر دی کہ انہوں نے احمد کی ایک قدیم تحریر میں دیکھا کہ ان سے سوال ہوا کہ کیا قبر نبی کو بوسہ دیا جا سکتا ہے ؟ امام احمد نے کہا کوئی برائی نہیں پس ہم نے یہ قول ابن تیمیہ کو دکھایا تو ان کو تعجب ہوا اور کہا کسی عجیب بات احمد نے کی؟ کیا یہ احمد کا ہی کلام ہے یا کسی نے اس پر کہا ہے –
اس پر کہا گیا کہ اس میں کیا عجیب بات ہے جب یہ روایت بھی کیا گیا ہے کہ احمد نے امام شافعی کی قمیص کو دھویا اور اس کا دھون پیا تو یہ تھی اہل علم کی تعظیم
=========================
لگتا ہے عربوں نے اماموں کو چڑھانے کے لئے اس قسم کے قول گھڑے کہ لوگ ایک دوسرے کی قمیصوں کا دھون پیتے تھے

وره نور کی یہ آیات کن لوگوں کے لئے نازل ہوئی ہیں اور وہ لوگ کون تھے

إِنَّ الَّذِينَ جَاءُو بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿24:11﴾ لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَذَا إِفْكٌ مُبِينٌ ﴿24:12﴾ لَوْلَا جَاءُو عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَإِذْ لَمْ يَأْتُوا بِالشُّهَدَاءِ فَأُولَئِكَ عِنْدَ اللَّهِ هُمُ الْكَاذِبُونَ ﴿24:13﴾ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآَخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِي مَا أَفَضْتُمْ فِيهِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿24:14﴾ إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُمْ مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمٌ ﴿24:15﴾ وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ ﴿24:16﴾ يَعِظُكُمَ اللَّهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ﴿24:17﴾ وَيُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآَيَاتِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿24:18﴾ إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آَمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآَخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿24:19﴾ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّهَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ
﴿24:20﴾

جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں8 وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہیں۔ 9 اس واقعے کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو بلکہ یہ بھی تمہارے لیے خیر ہی ہے۔ 10 جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا، اور جس شخص نے اِس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا 11 اس کے لیے عذابِ عظیم ہے ۔ جس وقت تم لوگوں نے اسے سُنا تھا اُسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گمان کیا 12 اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے؟ 13 وہ لوگ (اپنے الزام کے ثبوت میں) چار گواہ کیوں نہ لائے؟

اب کہ وہ گواہ نہیں لائے ہیں، اللہ کے نزدیک وہی جھُوٹے ہیں۔ 14 اگر تم لوگوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور رحم و کرم نہ ہوتا تو جن باتوں میں تم پڑ گئے تھے ان کی پاداش میں بڑا عذاب تمہیں آلیتا۔ (ذرا غور تو کرو، اُس وقت تم کیسی سخت غلطی کر رہے تھے) جبکہ تمہاری ایک زبان سے دُوسری زبان اس جھوٹ کو لیتی چلی جا رہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہے جا رہے تھے جس کی متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا۔ تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بڑی بات تھی۔

کیوں نہ اُسے سُنتے ہی تم نے کہہ دیا کہ ”ہمیں ایسی بات زبان سے نکالنا زیب نہیں دیتا، سُبحان اللہ، یہ تو ایک بہتانِ عظیم ہے۔“ اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کرنا اگر تم مومن ہو۔ اللہ تمہیں صاف صاف ہدایات دیتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔ 15

جولوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں، 16 اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔17 اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا شفیق و رحیم ہے، (تو یہ چیز جو ابھی تمہارے اندر پھیلائی گئی تھی بدترین نتائج دکھا دیتی)۔

جواب

واقعہ افک اصل میں ام المومنین عائشہ رضی الله عنہا پر الزام تھا – اس افواہ کو منافقین نے پھیلایا اور کافی دن مدینہ میں اس پر ماحول پس مردہ رہا اور مسلمانوں کی آزمائش ہوئی

رسول اللہ ﷺ کا دستور تھا کہ سفر میں جاتے ہوئے ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے تھے جس کا قرعہ نکل آتا اسے ہمراہ لے جاتے۔اس غزوہ میں قرعہ حضرت عائشہ رض کے نام نکلا اور آپ ﷺ انہیں ساتھ لےگئے غزوے سے واپسی میں ایک جگہ پڑاؤ ڈالا گیا۔حضر ت عائشہ اپنی حاجت کےلئےگئیں اور اپنی بہن کا ہار جسے عاریتاً لےگئی تھیں کھو بیٹھیں،احساس ہوتے ہی فوراً اس جگہ واپس گئیں جہاں ہار غائب ہوا تھا اسی دوران وہ لوگ آئے جو آپ کا ہودج اونٹ پر لادا کرتے تھے، انہوں نے سمجھا کہ آپ ہودج کے اندر تشریف فرماہیں ۔اس لئے اسے اونٹ پر لاد دیا اور ہودج کےہلکے پن پر نہ چونکے۔کیونکہ عائشہ رض ابھی نو عمر تھیں۔بدن موٹااور بوجھل نہ تھا نیز چونکہ کئی آدمیوں نے مل کر ہودج اٹھایا تھااسلئے بھی ہلکے پن پر تعجب نہ ہوا۔اگر صرف ایک آدمی یا دو آدمی اٹھاتے تو انہیں ضرور محسوس ہوجاتا۔
بہرحال حضرت عائشہ رض ہار ڈھونڈھ کر قیام گاہ پہنچیں تو پورا لشکرجاچکا تھا،اور میدان بالکل خالی پڑا تھا نہ کوئی پکارنے والا اور نہ جواب دینے والا،وہ اس خیال سے وہیں بیٹھ گئیں کہ اگرلوگ انہیں نہ پائیں گےتو پلٹ کر واپس اسی جگہ تلاش کرنے آئیں گے۔لیکن اللہ اپنے امر پر غالب ہے وہ بالائے عرش سے جو تدبیر چاہتا ہے کرتا ہے۔چنانچہ حضرت عائشہ رض کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گئیں پھر صفوان بن معطل رض کی یہ آواز سن کر بیدار ہوئیں کہ “انا للہ وانا الیہ راجعون” رسول اللہ ﷺ کی بیوی ۔۔۔۔۔۔؟ وہ پچھلی رات کو چلا آرہا تھا۔صبح کو اس جگہ پہنچا جہاں آپ موجود تھیں۔انہوں نے جب حضرت عائشہ رض کو دیکھا تو پہچان لیا ،کیونکہ وہ پردے کا حکم نازل ہونے پہلے بھی انہیں دیکھ چکےتھے۔انہوں نے انا للہ پڑھی اور اپنی سوار ی بٹھا کر حضرت عائشہ رض کے قریب کر دی۔ حضرت عائشہ رض اس پر سوار ہو گئیں ۔حضرت صفوان نے انا للہ کے سوا زبان سے ایک لفظ نہ نکالا چپ چاپ سواری کی نکیل تھامی اور پیدل چلتے ہوئے لشکر میں آگئے ۔یہ ٹھیک دوپہر کا وقت تھا اور لشکر پڑاؤ ڈال چکاتھا۔انہیں اسی کیفیت میں آتاد دیکھ کر مختلف لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کیا اور اللہ کے دشمن خبیث عبد اللہ بن ابی کو بھڑاس نکالنے کا ایک موقع مل گیا ۔چنانچہ اس کے پہلو میں نفاق اور حسد کی جو چنگاری سلگ رہی تھی اس نے اس کے کرب پنہاں کو عیاں اور نمایاں کیا،یعنی بدکاری کی تہمت تراش کر واقعات کے تانے بانے بننا ،تہمت کے خاک میں رنگ بھرنا ،اور اسے پھیلانابڑھانا ادھیڑنا اور بننا شروع کیا ۔اس کے ساتھی اسی بات کو بنیاد بنا کر اس کا تقرب حاصل کرنے لگے۔اور جب مدینہ آئے تو ان تہمت تراشوں نے خوب جم کرپرپیگنڈہ کیا۔ادھر رسو ل اللہ ﷺ خاموش تھے کچھ بول نہیں رہے تھے،لیکن جب لمبے عرصے تک وحی نہ آئی تو آپ ﷺ نے حضرت عائشہ رض سے علیحدگی کے متعلق اپنے خاص صحابہ سے مشورہ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صراحت کیئے بغیر اشاروں اشاروں میں مشورہ دیا کہ آپ ان سے علیحدگی اختیار کرکے کسی اور سے شادی کر لیں،لیکن حضرت اسامہ وغیرہ نے مشورہ دیا کہ آپ ﷺ انہیں اپنی زوجیت سے میں برقرار رکھیں،اور دشمنوں کی بات پر کان نہ دھریں۔اس کے بعد آپ ﷺ نے منر پر کھڑے ہوکر عبد اللہ بنن ابی کی ایذارسانیوں سے نجات دلانے کی طرف توجہ دلائی،اس پر حضرت سعد بن معاذ اور اسیدبن حضیررضی اللہ عنھما نے اسکے قتل کی اجازت چاہی لیکن حضرت سعد بن عبادہ پر جو عبدا للہ بن ابی کے قبیلہ خزرج کے سردار تھے قبائلی حمیت غالب آگئی،اور دونوں حضرات میں ترش کلامی ہو گئی،جس کے نتیجے میں دونوں قبیلے بھڑک اٹھے ،رسول اللہ ﷺ نے خاصی مشکل سے انہیں خاموش کیا ،پھر خود بھی خاموش ہوگئے۔ادھر حضرت عائشہ رض کا حال یہ تھا کہ وہ غزوے سے واپس آتے ہی بیمارپڑگئی تھیں اور ایک مہینےتک مسلسل بیمار رہیں انہیں اس تہمت کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ تھا ،البتہ انہیں یہ بات کھٹکتی رہتی تھی کہ بیماری کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جو لطف و عنایت ہو ا کرتی تھی اب وہ نظر نہیں آرہی تھی۔بیماری ختم ہوئی تو وہ ایک رات ام مسطح کے ہمراہ قضائے حاجت کےلئے میدان میں گئیں،اتفاق سے ام مسطح اپنی چادر میں پھنس کر پھسل گئیں اور اس پر انہوں نے اپنے بیٹے کو بد دعا دی ۔حضرت عائشہ رض نے اس حرکت پر انہیں ٹوکا تو انہوں نے حضرت عائشہ رض کو یہ بتلانے کےلئے کہ میرا بیٹا بھی پرو پیگنڈے کے جرم میں شریک ہے تہمت کا واقعہ کہہ سنایا۔حضرت عائشہ رض نے واپس آکر اس خبر کا ٹھیک ٹھیک پتہ لگانےکی غرض سے رسول اللہ ﷺسے والدیں کے پاس جانے کی اجازت چاہی پھر اجاز ت پا کر والدین کے پاس تشریف لے گئیں اور صورت حال کا یقینی طورپ علم ہو گیا تو بے اختیار رونے لگیں۔اورپھر دو راتیں اور ایک دن روتے روتے گذر گیا۔اس دوران نہ نیند کا سرمہ لگایا نہ آنسوکی جھڑی رکی ۔وہ محسوس کرتی تھیں کہ روتے روتے کلیجہ شق ہو جائے گا۔اسی حالت میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے کلمہ شہادت پر مشتمل خطبہ پڑھااور اما بعد کہہ کر فرمایا: اے عائشہ مجھے تمہارے متعلق ایسی اور ایسی بات کا پتہ چلا ہے ،اگر تم اس سے بری ہو تو اللہ تعالی عنقریب تمہاری برات نازل فرما دیں گے ۔اور اگر خدا نخواستہ تم سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہے تو تم اللہ سےمغفرت مانگو اور توبہ کر کیونکہ بندہ جب کوئی گناہ کا اقرار کرےکے اللہ کے حضورتوبہ کرتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتے ہیں۔
اس وقت حضرت عائشہ رض کے آنسو ایک دم تھم گئے اور اب انہیں آنسو کا ایک قطرہ بھی محسوس نہ ہو رہا تھا۔انہوں نے اپنے والدین سے کہا کہ وہ آپﷺ کو جواب دیں لیکن ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ وہ کیا جواب دیں۔اس کے بعد حضرت عاشہ رض نے خو ہی کہا: “واللہ میں جانتی ہوں کہ یہ بات سنتے سنتے آپ لوگوں کے دلوں میان چھی طرح بیٹھ گئ ہے اور آپ لوگوں نے اسے بالکل سچ مان لیا ہے اسلئے اب اگر میں یہ کہوں کہ میں بری ہوں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں بری ہوں۔تو آُ لوگ میری بات سچ نہیں سمجھیں گئے اور اگر میں کسی بات کا اعتراف کر لوں ۔۔۔حالانکہ اللہ خوب جانتا کہ میں سے بری ہوں۔۔۔تو آپ لوگ صحیح مان لیں گے۔ایسی صورت میں واللہ میرے لئے اور آپ لوگوں کے لئے وہی مثل ہے جسے حضرت یوسف ؑ کے والد نے کہا تھا کہ”:
فصبر جمیل واللہ المستعان علیٰ ما تصفون۔
صبر ہی بہتر ہے اور جو کچھ تم لوگ کہتے ہو اس پر اللہ کی مدد مطلوب ہے۔
اس کے بعد حضرت عائشہ رض دوسری طرف جا کر لیٹ گئیں اور اسی وقت رسول اللہ ﷺ پروحی کا نزول شروع ہو گیا۔جب آپ ﷺ پر نزول وحی کی شدت و کیفیت ختم ہوئی تو آپ مسکرارہےتھےاور آپ ﷺ نے پہلی بات جو فرمائی تھی وہ یہ تھی کہ:اے عائشہ رض اللہ نے تمہیں بری کر دیا۔اس پر (خوشی سے) ان کی ماں بولیں (عائشہ ) حضور کی جانب اٹھوا(شکریہ ادا کرو) انہوں نے اپنے دامن کی براءت اور رسول اللہ ﷺ کی محبت پر اعتمادووثوق کے سبب قدرے ناز کے انداز سے کہا : “واللہ میں تو ان کی طرف نہ اٹھوں گی اور صرف اللہ حمد کروں گی” اس موقع پر واقعہ افک سے متعلق جو آیات اللہ نے نازل فرمائی وہ سورہ نور کی دس آیات ہیں جو:
ان الذین جاء وک بالا فک عصبۃ منکم” سے شروع ہوتی ہیں۔

====================

اپ نے اس واقعہ کا ذکر کیا اور تمنا عمادی کی کتب کا یا قاری حنیف ڈار کا حوالہ دیا تھا – ان دونوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایسا نہیں ہوا بلکہ معلوم نہیں یہ کس کے بارے میں آیات ہیں
دوم تمنا عمادی نے اس کو امام الزہری کی گھرنٹ قرار دیا کہ انہوں نے اس کو شامی لوگوں کے ساتھ یا بنی امیہ کے ساتھ مل کر گھڑا اور یہ سب عبد الملک بن مروان کے کہنے پر کیا گیا
اسی قسم کی بے سروپا باتیں امام الزہری پر تحقیق میں تمنا نے لکھیں جس کو بعد میں حبیب الرحمان کاندھلوی گروپ نے چھاپا- راقم نے اس کو سن ٩٠ کی دہائی میں پڑھا تھا اور اسی دور میں اس پر تحقیق کر کے تمنا عمادی کی کتاب کو فضول کتاب قرار دے دیا تھا

بہر الحال مقدمہ کے پہلو یہ ہیں کہ
اول اس کو صرف امام الزہری نے روایت کیا ہے ان کا تفرد ہے

راقم کہتا ہے یہ دعوی باطل ہے

امام الزہری کا اس واقعہ کو روایت کرنے میں تفرد نہیں ہے
کتاب المعجم الكبير از طبرانی میں واقعہ تفصیلی موجود ہے
سند الگ ہے یھاں اس کو ابن عمر سے روایت کیا گیا ہے الزہری کا نام و نشان نہیں ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ زَكَرِيَّا الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ التَّيْمِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ أَثْلَاثًا،

صحیح بخاری میں امام زہری کے علاوہ یہ سليمان ، عن ابي الضحى ، عن مسروق کی سند سے بھی ہے کہ افک کی آیات عائشہ رضی الله عنہا سے متعلق ہیں
فواد عبدالباقی حدیث نمبر: 2488

حدثني بشر بن خالد ، اخبرنا محمد يعني ابن جعفر ، عن شعبة ، عن سليمان ، عن ابي الضحى ، عن مسروق ، قال:‏‏‏‏ ” دخلت على عائشة وعندها حسان بن ثابت، ‏‏‏‏‏‏ينشدها شعرا يشبب بابيات له، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ حصان رزان ما تزن بريبة وتصبح غرثى من لحوم الغوافل فقالت له عائشة : لكنك لست كذلك، ‏‏‏‏‏‏قال مسروق:‏‏‏‏ فقلت لها:‏‏‏‏ لم تاذنين له يدخل عليك وقد، ‏‏‏‏‏‏قال الله:‏‏‏‏ والذي تولى كبره منهم له عذاب عظيم سورة النور آية 11، ‏‏‏‏‏‏فقالت:‏‏‏‏ فاي عذاب اشد من العمى؟ إنه كان ينافح او عن رسول الله صلى الله عليه وسلم.

مسروق سے روایت ہے کہ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، ان کے پاس سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے، ایک شعر سنا رہے تھے، اپنی غزل میں سے جو چند بیتوں کی انہوں نے کہی تھی: وہ شعر یہ ہے۔ پاک ہیں اور عقل والی ان پہ کچھ تہمت نہیں صبح کو اٹھتی ہیں بھوکی غافلوں کے گوشت سے  ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حسان رضی اللہ عنہ سے کہا:تو ایسا نہیں ہے   مسروق نے کہا: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ حسان کو اپنے پاس کیوں آنے دیتی ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی شان میں فرمایا: «وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ» (۲۴-النور:۱۱) یعنی جس شخص نے ان میں سے بیڑا اٹھایا بڑی بات کا (یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے کا) اس کے واسطے بڑا عذاب ہے۔   سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس سے زیادہ عذاب کیا ہو گا کہ وہ اندھا ہو گیا اور کہا کہ حسان جواب دیا کرتا تھا یا ہجو کرتا تھا کافروں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔

روایت میں ہے
يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذُرُنِي مِنْ رَجُلٍ بَلَغَنِي أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي
اے مسلمانوں کون ہے جو اس شخص کے حوالے سے عذر دے کہ کہ یہ میرے اہل بیت تک کیسے جا رہا ہے

یعنی امہات المومننیں کے حوالے سے آوٹ پٹانگ بک رہا ہے

دوسرا اعتراض تھا کہ یہ روایت مجموعہ ہے

مسند احمد میں سند ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سند میں امام الزہری نے ایک مکسچر بنا دیا ہے یعنی تمام اقوال جمع کر کے مکمل قصہ کی شکل دی ہے
محدثین کو یہ بات معلوم ہے اور یہ کام ابن اسحاق اور واقدی بھی کرتے ہیں جب تاریخی روایات اتی ہیں
لیکن ہم کو معلوم ہے کہ الزہری کا اس میں تفرد نہیں لہذا یہ اعتراض مضبوط نہیں رہا
———–

واقعہ افک مدینہ میں منافقین کی وجہ سے ہوا اس پر مزید شواہد ہیں
سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ المتوفی ٥ ہجری کا ذکر اتا ہے – غزوہ خندق ٥ ہجری میں ہوئی.
واقعہ افک غزوہ بنی مصطلق یا غزوۂ مُرَیسیع سے واپسی پر پیش آیا جو٥ ہجری میں ہوا اس وقت تک پردے کی آیات نازل ہو چکی تھیں
ابن حجر کا بھی یہی قول ہے کہ یہ دونوں واقعات سن ٥ ہجری میں ہوئے
——–
بَرِيْرَةُ مَوْلاَةُ أُمِّ المُؤْمِنِيْنَ عَائِشَةَ کا ذکر اس میں اتا ہے کہ ان سے بھی ام المومنین کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے
الذھبی کہتے ہیں یہ عُتْبَةَ بنِ أَبِي لَهَبٍ کی لونڈی تھیں اور پھر عائشہ رضی الله عنہا نے ان کو لیا
فِي حَدِيْثِ القَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ: كَانَ فِي بَرِيْرَةَ ثَلاَثُ سُنَنٍ
یہ تین سال لونڈی رہیں
الذہبی کہتے ہیں
قُلْتُ: بَرِيْرَةُ لَمَّا أَعْتَقَتْهَا عَائِشَةُ – وَقْتَ بَاعُوْهَا – كَانَ ذَلِكَ وَابْنُ عَبَّاسٍ بِالمَدِيْنَةِ، وَإِنَّمَا قَدِمَهَا بَعْدَ عَامِ الفَتْحِ. فَأَمَّا الجَارِيَةُ الَّتِي فِي حَدِيْثِ الإِفْكِ الَّتِي سُئِلَتْ عَمَّا تَعْلَمُ مِنْ عَائِشَةَ، فَأُخْرَى غَيْرُ بَرِيْرَةَ
میں کہتا ہوں بریرہ کو جب عائشہ نے آزاد کیا … تو ابن عباس مدینہ میں تھے اور یہ فتح مکہ کے بعد آئے – پس وہ لونڈی جو افک کی حدیث میں ہے وہ بریرہ نہیں کوئی اور ہو گی
اگر یہ غلطی ہے تو یہ نہایت معمولی ہے کیونکہ لونڈی کا نام بھلایا جا سکتا ہے
شعيب الأرناؤوط نے سیر الاعلام کی تعلیق میں کہا ہے
كون الجارية بريرة هنا، وهم من بعض الرواة نبه عليه ابن القيم، في ” زاد المعاد ” 3 / 268؟ ؟ مؤسسة الرسالة بتحقيقنا، واخذه عنه الزركشي في ” الاجابة ” ص 48.

الْإِجَابَةُ لِإِيْرَادِ مَا اسْتَدْرَكَتْهُ عَائِشَةُ عَلَى الصَّحَابَةِ المؤلف: أبو عبد الله بدر الدين محمد بن عبد الله بن بهادر الزركشي الشافعي (المتوفى: 794هـ) کے مطابق اس میں

وَالْمَخْلَصُ مِنْ هَذَاالْإِشْكَالِ أَنَّ تَفْسِيْرَالْجَارِيَةِ بِبَرِيْرَةَ مُدْرَجٌ فِي الْحَدِيْث مِنْ بَعْضِ الرُّوَاة ظَنًّا مِنْهُ أَنَّهَا هِيَ. وَهَذَا كَثِيْرًا مَّا يَقَعُ فِي الْحَدِيْثِ مِنْ تَفْسِيْرِ بَعْضِ الرُّوَاةِ، فَيُظَنُّ أَنَّهُ مِنَ الْحَدِيْث وَهُوَ نَوْع غَامِضٌ لَا يَنْتَبِهُ لَهُ إِلَّا الْحُذَّاقُ.
بریرہ رضی الله عنہا کا ذکر راوی کا ادراج ہے
—————-
روایت میں مِسْطَحُ بنُ أُثَاثَةَ بنِ عَبَّادِ بنِ المُطَّلِبِ المُطَّلِبِيُّ المتوفی ٣٤ کا ذکر اتا ہے

اس واقعہ کی پاداش میں کسی کو کوڑے نہیں مارے گئے کیونکہ کوئی گواہ بن کر کھڑا نہ ہوا تھا
سنن ابو داود میں ہے
حدَّثنا قتيبةُ بنُ سعيدٍ الثقفيُّ ومالكُ بنُ عبدِ الواحد المِسمَعِيُّ -وهذا حديثه- أن ابنَ أبي عدي حدَّثهم، عن محمَّد بنِ إسحاق، عن عبدِ اللهِ بنِ أبي بكرٍ، عن عَمرةَ
عن عائِشَة، قالت: لما نزلَ عُذري قامَ النبيَّ -صلَّى الله عليه وسلم- على المِنبرِ فذَكَر ذلكَ، وتلا -تعني القرآنَ- فلما نزلَ مِن المِنْبرِ أمَرَ بالرَّجُلينِ والمرأةِ فضُرِبُوا حَدَّهم
أمر بالرجلين والمرأة فضربوا حدهم.
رسول الله نے حکم کیا کہ دو مردوں اور ایک عورت کو کوڑے مارے جائیں
سنن ابو داود میں ہے
حدَّثنا النُّفيليُّ، حدَّثنا محمدُ بنُ سَلَمَة، عن محمدِ بنِ إسحاقَ، بهذا الحديثِ، لم يذكُر عائِشةَ، قال:
فأمَرَ برجلين وامرأةٍ ممن تكلمَ بالفاحِشَة: حسانَ بنِ ثابتٍ ومِسْطَح بنِ أُثاثَةَ. قال النُّفيلي: ويقولُونَ: المرأة: حمْنَةُ بنتُ جَحْشٍ
کہ ان تین کو کوڑے لگے

راقم کہتا ہے ابن اسحاق اور عبد الله بن محمَّد بن علي بن نُفَيل الحراني سے اصحاب رسول تک کی سند نہیں ہے
عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم بہت ارسال کرتا ہے
ابن اسحاق مدلس بھی ہے اور اس کا تفرد بھی ہے

ابن قتیبہ کے مطابق مسطح بن أثاثة رضى الله عنه
وهو الّذي قذف «عائشة» – رضى الله عنها.
والّذي قذفت به: صفوان بن المعطّل-
مسطح بن أثاثة رضى الله عنه نے الزام لگایا تھا

ابو داود کی روایت کو البانی نے حسن کہا ہے یعنی یہ صحیح کے درجے کی نہیں
راقم کہتا ہے ابن اسحق کو یونہی جھوٹا نہیں کہا گیا اس کی وجوہات بھی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے
==============
اہل تشیع نے حادثہ افک کو مارية القبطية کے حوالے سے آیات قرار دیا ہے
تفسیر قمی میں ہے
واما قوله: (ان الذين جاؤا بالافك عصبة منكم لا تحسبوه شرا لكم بل هو خير لكم) فان العامة رووا انها نزلت في عائشة وما رميت به في غزوة بني المصطلق من خزاعة واما الخاصة فانهم رووا انها نزلت في مارية القبطية وما رمتها به عايشة ء المنافقات.
حدثنا محمد بن جعفر قال حدثنا محمد بن عيسى عن الحسن بن علي بن فضال قال حدثنا عبدالله (محمد خ ل) بن بكير عن زرارة قال: سمعت ابا جعفر عليهما السلام يقول: لما مات ابراهيم بن رسول الله صلى الله عليه وآله حزن عليه حزنا شديدا فقالت عايشة ما الذي يحزنك عليه فما هو إلا ابن جريح، فبعث رسول الله صلى الله عليه وآله عليا وامره بقتله فذهب علي عليه السلام اليه ومعه السيف وكان جريح القبطي في حائط وضرب علي عليه السلام باب البستان فأقبل اليه جريح ليفتح له الباب فلما رأى عليا عليه السلام عرف في وجهه الغضب فأدبر راجعا ولم يفتح الباب فوثب علي عليه السلام على الحائط ونزل إلى البستان واتبعه وولى جريح مدبرا فلما خشي ان يرهقه صعد في نخلة وصعد علي عليه السلام في اثره فلما دنا منه رمى بنفسه من فوق النخلة فبدت عورته فاذا ليس له ما للرجال ولا ما للنساء فانصرف علي عليه السلام إلى النبي صلى الله عليه وآله فقال يا رسول الله إذا بعثتني في الامر اكون فيه كالمسمار المحمى في الوتر ام اثبت؟ قال فقال لا بل اثبت، فقال والذي بعثك بالحق ما له ما للرجال ولا ما للنساء فقال رسول الله صلى الله عليه وآله الحمد لله الذى يصرف عنا السوء اهل البيت

عام یہ ہے کہ یہ عائشہ کے بارے میں ہے .. لیکن خواص روایت کرتے ہیں کہ یہ مارية القبطية کے لئے نازل ہوئیں
زرارة بن أعين نے کہا میں نے ابو جعفر سے سنا کہ جب ابراہیم کی وفات ہوئی تو اپ صلی الله علیہ وسلم کو شدید غم ہوا یہاں تک کہ عائشہ نے کہا اپ کو کس نے غم میں مبتلا کر دیا سوائے اس جریج کے بیٹے نے (یعنی ابراہیم کو جریج کا بیٹا قرار دیا ) پس یہ سن کر نبی نے علی کو ایک لشکر کے ساتھ بھیجا کہ جریج قبطی کو قتل کر دے اس کے باغ میں اور علی نے باغ کے دروازے پر ضرب لگائی – جریج آیا اور دروازہ کھولا جب علی کو دیکھا تو بھاگا … جریج ننگا ہو گیا دیکھا اس میں مردوں والی چیز نہیں ہے پس واپس آئے اور خبر دی … نبی نے فرمایا اللہ کا شکر جس نے میرے اہل بیت سے برائی کو درو رکھا

راقم کہتا ہے : ميزان الاعتدال في نقد الرجال از الذھبی کے مطابق زرارة بن أعين الكوفي ایک نمبر کا جھوٹا ہے
قال سفيان الثوري: ما رأى أبا جعفر.
الثوري کہتے ہیں اس نے ابو جعفر کو نہیں دیکھا

انساب کے ماہر ابن حزم الأندلسي القرطبي (المتوفى: 456هـ) کتاب جمهرة أنساب العرب میں لکھتے ہیں

ومات إبراهيم قبل موت النبي صلى الله عليه وسلم، بأربعة أشهر؛ ودفن بالبقيع
اور ابراہیم کی وفات نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات سے چار ماہ پہلے ہوئی اور بقیع میں دفن ہوئے

یعنی ذیقعد میں ١٠ ہجری میں وفات ہوئی اور ١١ ہجری میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات ہوئی

یہ واقعہ آخری دور نبوی کا ہے اس کے بعد حجه الوداع ہوا اور یہ ممکن نہیں کہ سوره النور سن ٩ یا ١٠ میں نازل ہوئی ہو

تفسیر التبيان في تفسير القرآن از أبي جعفر محمد بن الحسن الطوسي میں ہے
وكان سبب الافك ان عائشة ضاع عقدها في غزوة بني المصطلق، وكانت تباعدت لقضاء الحاجة، فرجعت تطلبه، وحمل هودجها على بعيرها ظنا منهم بها أنها فيه، فلما صارت إلى الموضع وجدتهم قد رحلوا عنه، وكان صفوان ابن معطل السلمي الذكواني من وراء الجيش فمر بها، فلما عرفها أناخ بعيره حتى ركبته، وهو يسوقه حتى أتى الجيش بعد ما نزلوا في قائم الظهيرة. هكذا رواه الزهري عن عائشة.

أبي جعفر محمد بن الحسن الطوسي نے سرے سے زرارة کی روایت نقل ہی نہیں کی بلکہ وہی امام الزہری کی روایت بیان کی
تفسير مجمع البيان از أبي على الفضل بن الحسن الطبرسي میں بھی امام الزہری کی روایت بیان ہوئی ہے

قرآن میں ہے کہ
لو لا إذ سمعتموه ظن المؤمنون و المؤمنات بأنفسهم خيرا
کیوں نہ مومن مردوں اور عورتوں نے گمان نیک کیا اپنے دلوں جب اس کو سنا

یہ افک لوگوں میں پھیل گیا تھا لیکن ابی جعفر سے منسوب قول میں ابراہیم پسر نبی کو ولد الزنا کا قول لوگوں میں پھیلا نہیں کہا گیا

لہذا شیعہ عالم الطباطبائي نے تفسیر تفسير الميزان میں عبد الله بن بكير اور زرارہ کی روایت کو رد کیا ہے
و هذه الروايات لا تخلو من نظر…..اللهم إلا أن تكون الروايات قاصرة في شرحها للقصة.
الطباطبائي نے کہا یہ روایات نظر سے خالی نہیں … اور ان آیات کی شرح میں قاصر ہیں
=========

واقعہ افک پر خوارج کی آراء

تفسير الهواري کے مطابق
هذا كان في شأن عائشة
آیات کا شان نزول عائشہ سے متعلق ہے

تفسير اطفيش کے مطابق
إنَّ الَّذين جاءوا بالإفك } الكذب العظيم ، وهو قذف عائشة وصفوان بالزنى { عُصبةٌ } جماعة ، وأصله الجماعة المتعصبون
یہ واقعہ عائشہ رضی الله عنہا سے متعلق ہوا

یہ خوارج کی مشہور تفاسیر ہیں

صحیح بخاری کی اس حدیث

لنک

http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/4750

آپ نے دریافت فرمایا کہ زینب ! تم نے بھی کوئی چیز کبھی دیکھی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے کان اور میری آنکھ کو خدا سلامت رکھے ، میں نے ان کے اندر خیر کے سوا اور کوئی چیز نہیں دیکھی ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ازواج مطہرات میں وہی ایک تھیں جو مجھ سے بھی اوپر رہنا چاہتی تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی پرہیز گاری کی وجہ سے انہیں تہمت لگانے سے محفوظ رکھا ۔ لیکن ان کی بہن حمنہ ان کے لئے لڑی اور تہمت لگانے والوں کے ساتھ وہ بھی ہلاک ہوگئی ۔

جواب

حمنة بنت جحش نبی صلی الله علیہ وسلم کی کزن تھیں- یہ رسول الله کی چچی أميمة بنت عبد المطلب کی بیٹی تھیں – پہلے یہ مصعب بن عُمَير کی بیوی تھیں جنگ احد میں جب مصعب بن عُمَير شہید ہوئے تو یہ طلحة بن عُبَيد الله کی بیوی بنیں
أفك سے پہلے پردے کی آیات نازل ہو چکی تھیں لہذا اس طرح مومن عورتوں کا منافقوں سے گٹھ جوڑ ممکن نہیں کہ وہ عبد الله بن ابی سے ملتی ہوں اور ام المومنین کے خلاف کسی سازش کا حصہ بن گئی ہوں

کہا گیا کہ اس میں ان حد لگی جبکہ حد قذف کے احکام بعد میں نازل ہوئے ہیں
عن عائشة -رضي اللَّه عنها-، قالت: “لما نزل عُذْرِي قام النبيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- عَلَى المنبر، فذكر ذاكَ، وتلا -تعني القرآن- فلما نزلَ من المنبر أمر بالرجلين والمرأة، فضُرِبوا حَدَّهم
منذری نے سنن ابو داود میں کہا ہے کہ
وقد تقدم الاختلاف في الاحتجاج بحديث محمد بن إسحاق.
سند میں ابن اسحق ہے جس سے دلیل لینے پر اختلاف ہے
———-
الْقَاضِي عِيَاضٌ نے کہا
وَعِنْدِي أَنَّهُ إنَّمَا لَمْ يُحَدَّ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَقْذِفْ
میرے نزدیک عبد الله بن ابی پر کوئی حد نہیں لگی کیونکہ اسنے الزام نہیں لگایا تھا

الْمَاوَرْدِيِّ کہتے ہیں
إنَّهُ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – لَمْ يَجْلِدْ أَحَدًا مِنْ الْقَذَفَةِ، لِعَائِشَةَ
نبی صلی الله علیہ وسلم نے کسی کو قذف میں کوڑے عائشہ کے لئے نہیں مارے

حمنة بنت جحش سات سال تک استحاضہ کی بیماری میں مبتلا رہیں یہاں تک کہ نمازوں کا مسئلہ رہا یہ ممکن نہیں کہ ایک بیمار عورت اس طرح مدینہ میں سازش کا حصہ بن جائے
———-

صحیح بخاری میں ہے
http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/4141
عروہ نے پہلی سند کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ حسان بن ثابت ‘ مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش کے سوا تہمت لگانے میں شریک کسی کا بھی نام نہیں لیا کہ مجھے ان کا علم ہوتا ۔ اگرچہ اس میں شریک ہونے والے بہت سے تھے ۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ( کہ جن لوگوں نے تہمت لگائی ہے وہ بہت سے ہیں ) لیکن اس معاملہ میں سب سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والا عبد اللہ بن ابی ابن سلول تھا ۔

سند میں ابراہیم بن سعد ہے اور اس شخص پر راقم اسماء و صفات کے سلسلے میں جرح کر چکا ہے

إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ کی سند

إبراهيم بن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف المتوفی ١٨٤ ھ یا ١٨٥ ھ

امام المحدثین يحيى بن سعيد القطان اس راوی کے سخت خلاف ہیں

امام احمد کے بیٹے العلل میں بتاتے ہیں کہ

قال عبد الله بن أحمد: حدثني أبي. قال: ذكرنا عند يحيى بن سعيد حديثا من حديث عقيل. فقال لي يحيى: يا أبا عبد الله، عقيل وإبراهيم بن سعد!! عقيل وإبراهيم بن سعد!! كأنه يضعفهما. قال أبي: وأي شيء ينفعه من ذا، هؤلاء ثقات، لم يخبرهما يحي. «العلل» (282 و2475 و3422) .

میرے باپ نے ذکر کیا کہ یحیی کے سامنے عقیل کی حدیث کا ہم نے ذکر کیا انہوں نے کہا اے ابو عبد الله عقیل اور ابراہیم بن سعد، عقیل اور ابراہیم بن سعد جیسا کہ وہ تضعیف کر رہے ہوں

کتاب سیر الاعلام النبلاء کے مطابق

كَانَ وَكِيْعٌ كَفَّ عَنِ الرِّوَايَةِ عَنْهُ، ثُمَّ حَدَّثَ عَنْهُ.

وَكِيْعٌ اس کی روایت سے رکے رہے پھر روایت کرنا شروع کر دیا

اس کے برعکس امام عقیلی کہتے ہیں بحوالہ إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال از مغلطاي

ذكره العقيلي في كتاب ” الجرح والتعديل ” قال: قال عبد الله بن أحمد بن حنبل قال أبي: حدثنا وكيع مرة عن إبراهيم بن سعد، ثم قال: أجيزوا عليه وتركه بأخرة.

عقیلی نے اس کا ذکر کتاب الجرح والتعديل میں کیا اور کہا کہ عبد الله نے کہا کہ امام احمد نے کہا وكيع نے ایک بار ابراہیم سے روایت کیا پھر کہا اور … آخر میں بالکل ترک کر دیا

قَالَ صَالِحُ بنُ مُحَمَّدٍ جَزَرَةُ: سَمَاعُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ لَيْسَ بِذَاكَ، لأَنَّهُ كَانَ صَغِيْراً.

صَالِحُ بنُ مُحَمَّدٍ جَزَرَةُ نے کہا اس کا سماع امام الزہری ویسا (اچھا نہیں) ہے کیونکہ یہ چھوٹا تھا

تاریخ الاسلام میں الذھبی نے جزرہ کا قول پیش کیا کہ كَانَ صغيرا حين سمع من الزهري انہوں نے بچپنے میں الزہری سے سنا

کتاب إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال از مغلطاي کے مطابق أبي عبد الرحمن السلمي نے کہا

قدم إبراهيم العراق سنة أربع وثمانين ومائة، فأكرمه الرشيد وأظهر بره، وتوفي في هذه السنة، وله خمس وسبعون سنة.

ابراہیم عراق سن ١٨٤ ھ میں پہنچے ان کی الرشید نے عزت افزائی کی اور اسی سال انتقال ہوا اور یہ ٧٥ سال کے تھے

اس دور میں عراقیوں نے ان سے روایات لیں جن پر امام یحیی بن سعید القطان اور امام وکیع کو اعتراض تھا اور انہوں نے ان کو ترک کیا لیکن امام احمد امام ابن معین نے ان کی روایات لے لیں اور اسی طرح امام بخاری و مسلم کے شیوخ نے بھی لے لیں

اور دوسری حدیث صحیح مسلم کی ہے
اس کی سند ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ
اس سند پر بھی راقم اپنے مضمون کیا عائشہ مسلسل پردہ کرتیں میں جرح کر چکا ہے
سند میں حماد بن اسامہ ہے جس کے لئے محدثین نے کہا تھا

يعقوب بن سفيان بن جوان الفارسي الفسوي، أبو يوسف (المتوفى: 277هـ) کتاب المعرفة والتاريخ میں لکھتے ہیں

قَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: كَانَ أَبُو أُسَامَةَ ِذَا رَأَى عَائِشَةَ فِي الْكِتَابِ حَكَّهَا فَلَيْتَهُ لَا يَكُونُ إِفْرَاطٌ فِي الْوَجْهِ الْآخَرِ.

سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ يُوهِنُ أَبَا أُسَامَةَ، ثُمَّ قَالَ يُعْجَبُ لِأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَمَعْرِفَتِهِ بِأَبِي أُسَامَةَ ثُمَّ هُوَ يُحَدِّثُ عَنْهُ

عمر بن حفص بن غیاث المتوفی ٢٢٢ ھ کہتے ہیں میں نے اپنے باپ کو کہتے سنا ابو اسامہ جب کتاب میں عائشہ لکھا دیکھتا تو اس کو مسخ کر دیتا یہاں تک کہ اس ( روایت) میں پھر کسی دوسری جانب سے اتنا افراط نہیں آ پآتا

يعقوب بن سفيان کہتے ہیں میں نے مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ کو سنا وہ ابو اسامہ کو کمزور قرار دیتے تھے پھر کہا مجھے (مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ کو) ابی بکر بن ابی شیبہ پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ اس ابو اسامہ کو جانتے ہیں لیکن پھر بھی اس سے روایت لیتے ہیں

===========

ممکن ہے کہ حمنہ رضی الله عنہا نے کچھ ایسا کہا ہو جو عائشہ رضی الله عنہا کو پسند نہ آیا ہو
لیکن کیا کہا اس کی تفصیل کہیں نہیں ہے

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ

(بَابٌ فِي فَضْلِ النَّبِيِّ ﷺ​) جامع ترمذی: كتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں

(باب: نبی اکرم ﷺ کی فضیلت کابیان​)

3609 . حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ قَالَ وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَفِي الْبَاب عَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ
حکم : صحیح

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول ! نبوت آپ کے لیے کب واجب ہوئی؟ تو آپ نے فرمایا:’ جب آدم روح اورجسم کے درمیان تھے’ ۱؎ ۔( یعنی ان کی پیدائش کی تیاری ہورہی تھی)۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں،۲- اس باب میں میسرہ فجر سے بھی روایت آئی ہے۔

=========

اس حدیث کی تحقیق درکار ہے۔۔۔۔۔کہا جاتا ہے کہ اس حدیث کہ امام ترمذی اور ناصر البانی نے حسن کہا ہے

جواب

مسند احمد میں بھی ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَتَى كُتِبْتَ نَبِيًّا؟ قَالَ: ” وآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ
عبد الله بن أبي الجذعاء مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا اپ کب نبی ہوئے؟ فرمایا جب آدم جسد و روح کے درمیان تھے

اس کو شعیب نے صحیح کہا ہے

یہ روایت قابل غور ہے اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ آدم علیہ السلام اس وقت نبی نہیں تھے کیونکہ تخیلق سے پہلے تقدیر لکھی گئی اس میں تمام انبیاء جو صلب آدم سے ہیں ان کو نبی مقرر کیا گیا ان کی ارواح کو خلق کیا گیا اور آدم جب جسد و روح کے درمیان تھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا مقدر لکھا گیا کہ یہ آخری نبی ہوں گے

طحاوی مشکل الاثار میں کہتے ہیں
وَأَمَّا قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” كُنْتُ نَبِيًّا وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ “، فَإِنَّهُ، وَإِنْ كَانَ حِينَئِذٍ نَبِيًّا، فَقَدْ كَانَ اللهُ تَعَالَى كَتَبَهُ فِي اللَّوْحِ الْمَحْفُوظِ نَبِيًّا
اس حدیث میں ہے کہ وہ اس وقت نبی تھے تپ پس الله نے ان کا نبی ہونا لوح محفوط میں لکھا

یعنی بنی آدم کی تقدیر لکھی گئی جب آدم جسد اور روح کے درمیان کی حالت میں تھے

Comments are closed.