History

سن ٣٢٥ بعد مسیح  کی بات ہے  قیصر روم کونستینٹین کی والدہ فلاویہ اولیا  ہیلینا آگسٹا  نے  عیسائی مبلغ  یسوبئوس کو طلب کیا اور نصرانی دھرم کی حقانیت جاننے کے لئے شواہد طلب کیے-

 کونستینٹین نے اپنی والدہ کو نصرانی دھرم  سے متعلق آثار جمع کرنے پر مقرر کیا یا بالفاظ دیگر ان کو آرکیالوجی کی وزارت کا قلمدان دیا گیا اور اس سب کام میں اس قدر جلدی کی وجہ یہ تھی کہ مملکت کے حکمران طبقہ نے متھرا دھرم چھوڑ کر نصرانی دھرم قبول کر لیا تھا اور اب اس کو عوام میں بھی استوار کرنا تھا لہذا راتوں رات

روم میں بیچ شہر میں موجود جوپیٹر یا مشتری کے مندر کو ایک عیسائی عبادت گاہ میں تبدیل کیا گیا اس کے علاوہ یہی کام دیگر اہم شہروں یعنی دمشق اور یروشلم میں بھی کرنے تھے لیکن ایک مشکل درپیش تھی کہ کن کن مندروں اور مقامات کو گرجا گھروں میں تبدیل کیا جائے اسی کام کو کرنے کا کونستینٹین کی والدہ   ہیلینا نے بیڑا اٹھا لیا اور عیسائی مبلغ  یسوبئوس کو ایک مختصر مدت میں ساری مملکت میں اس قسم کے آثار جمع کرنے کا حکم دیا

عیسائی مبلغ  یسوبئوس  نے نصرانیت کی تاریخ پر کتاب بھی  لکھی اور بتایا کہ ہیلینا کس قدر مذہبی تھیں – یہ یسوبئوس   ہی تھے جنہوں نے کونستینٹین کے سامنے نصرانیوں کا عیسیٰ کی الوہیت پر اختلاف پیش کیا اور سن ٣٢٥ ب م   میں  بادشاہ نے فریقین کا مدعا سننے کے بعد تثلیث کے عقیدے کا پسند کیا اور اس کو نصرانی دھرم قرار دیا گیا واضح رہے کہ کونستینٹین ابھی ایک کافر بت پرست ہی تھا کہ اس کی سربراہی میں نصرانی دھرم کا یہ اہم فیصلہ کیا گیا کچھ عرصہ  بعد بادشاہ کونستینٹین  نے خود بھی اس مذھب کو قبول کیا

 بحر الحال،  یسوبئوس  نے راتوں رات کافی کچھ برآمد کر ڈالا جن میں انبیاء کی قبریں، عیسیٰ کی پیدائش اور تدفین کا مقام ،اصلی صلیب، یحیی علیہ السلام کے سر کا مقام، وہ مقام جہاں ہابیل قتل ہوا، کوہ طور، بھڑکتا شجر جو موسی کا دکھایا گیا اور عیسیٰ کے ٹوکرے جن میں مچھلیوں والا معجزہ ہوا تھا  وغیرہ شامل تھے – یہودی جو فارس یا بابل میں تھے وہ بھی بعض انبیاء سے منسوب قبروں کو پوجتے تھے   مثلا دانیال کی قبر وغیرہ- ان مقامات کو فورا مقدس قرار دیا گیا اور یروشلم واپس دنیا کا ایک اہم  تفریحی اور مذہبی مقام بن گیا جہاں ایک میوزیم کی طرح تمام اہم چیزیں لوگوں کو دین مسیحیت کی حقانیت کی طرح بلاتی تھیں

 یسوبئوس سے قبل ان مقامات کوکوئی  جانتا تک نہیں تھا اور نہ ہی کوئی تاریخی شواہد اس پر تھے اور نہ ہی یہودی اور عیسائیوں میں یہ مشھور تھے- مسلمان آج اپنی تفسیروں ،میگزین  اور  فلموں میں انہی مقامات کو دکھاتے ہیں جو در حققت یسوبئوس  کی دریافت تھے

اسی  نام نہاد اصلی صلیب کو فارس والے ایک لڑائی میں روم والوں سے مال غنیمت میں لے گئے اور پھر ان میں ایک معاہدہ کے بعد اس کو واپس کیا گیا یہ سب نبی صلی الله علیہ وسلم کے دور  میں  ہوا

 سن ١٧ ہجری میں مسلمان ان علاقوں میں داخل ہوئے اور ان  مذہبی مقامات کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا – خلیفہ عبد الملک بن مروان کے دور میں ان میں سے بعض مقامات کو مسجد قرار دیا گیا مثلا جامع الاموی دمشق جس میں مشھور تھا کہ اس میں یحیی علیہ السلام کا سر دفن ہے اس سے قبل اس مقام پر الحداد کا مندر تھا پھر مشتری کا مندر بنا اور  جس کو یسوبئوس   کی دریافت پر یحیی علیہ السلام کے سر کا مدفن کہا گیا

اسی مقام پر نصرانیوں نے ایک گرجا بنا دیا اور اس میں ان کی عبادت ہونے لگی –  کہا جاتا ہے کہ جب مسلمان دمشق میں داخل ہوئے تو شہر کے وسط میں ہونے کی وجہ سے اس کے ایک حصے میں مسلمان اپنی عبادت کرتے رہے جو جنوب  شرقی حصے میں ایک چھوٹا سا مصلی تھا –  لیکن مکمل گرجا پر عسائیوں کا ہی کنٹرول تھا وقت کے ساتھ کافی لوگ مسلمان ہوئے اور ولید بن عبد الملک کے دور میں اس پر مسلمانوں نے مکمل قبضہ کیا

مسجد الدمشق میں یحیی علیہ السلام سے منسوب مقام

  وقت کے ساتھ مسلمانوں نے ان مقامات پر قبضہ کرنا شروع کیا جو بنیادی طور پر یسوبئوس  کی دریافت تھے اور وہی قبریں جن سے دور رہنے کا فرمان نبوی تھا ان کو اس  امت میں واپس آباد کیا گیا- ولید بن عبد الملک بن مروان نے کافی تعمیراتی کام کروایے لیکن ان سب کو اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد کیا گیا – اگر ان کے سامنے یہ سب ہوتا تو وہ اس کو پسند نہ کرتے

ابن بطوطہ المتوفی ٧٧٩ ھ کتاب تحفة النظار في غرائب الأمصار وعجائب الأسفار میں لکھتے ہیں

وفي وسط المسجد قبر زكرياء عليه السلام  ، وعليه تابوت معترض بين أسطوانتين مكسو بثوب حرير أسود معلّم فيه مكتوب بالأبيض:” يا زكرياء إنا نبشرك بغلام اسمه يحيى «

اور مسجد کے وسط میں زکریا علیہ السلام کی قبر ہے اور تابوت ہے دو ستونوں کے درمیان جس پر کالا ریشمی کپڑا ہے

اور اس پر لکھا ہے سفید رنگ میں  یا زكرياء إنا نبشرك بغلام اسمه يحيى

کبھی اس کو یحیی کی قبر کہا جاتا ہے کہیں اس کو زکریا کی قبر کہا جاتا ہے بعض کتابوں میں اس کو هود علیہ السلام کی قبر

بھی کہا گیا ہے

کتاب  فضائل الشام ودمشق از ابن أبي الهول (المتوفى: 444هـ)  کے مطابق

 أخبرنا عبد الرحمن بن عمر حدثنا الحسن بن حبيب حدثنا أحمد بن المعلى حدثنا أبو التقي الحمصي حدثنا الوليد بن مسلم قال لما أمر الوليد بن عبد الملك ببناء مسجد دمشق كان سليمان بن عبد الملك هو القيم عليه مع الصناع فوجدوا في حائط المسجد القبلي لوح من حجر فيه كتاب نقش فأتوا به الوليد بن عبد الملك فبعث به إلى الروم فلم يستخرجوه ثم بعث به إلى العبرانيين فلم يستخرجوه ثم بعث به إلى من كان بدمشق من بقية الأشبان فلم يقدر أحد على أن يستخرجه فدلوه على وهب بن منبه فبعث إليه فلما قدم عليه أخبروه بموضع ذلك الحجر الذي وجدوه في ذلك الحائط ويقال إن ذلك الحائط من بناء هود  النبي عليه السلام وفيه قبره

ولید بن مسلم کہتے ہیں کہ جب ولید بن عبد الملک نے مسجد دمشق بنانے کا ارادہ کیا تو سلیمان بن عبد الملک اس پر مقرر کیا

جو کاریگروں کا کام دیکھتے تھے اور ان کو ایک لوح ملی مسجد کے صحن سے پتھر کی جس پر نقش تھے اور اس کو ولید

بن عبد الملک کو دکھایا گیا جس نے اس کو روم بھجوایا  ان سے بھی حل نہ ہوا پھر یہودیوں کو دکھایا ان سے بھی حل نہ ہوا

پھر دمشق کے بقیہ افراد کو دکھایا اور کوئی بھی اس کے حل پر قادر نہ ہوا پس اس کو وھب بن منبہ پر پیش کیا  انہوں نے کہا کہ یہ دیوار هود کے دور کی ہے اور یہاں صحن میں  ان کی قبر ہے

 افسوس امت کو کسی نہ کسی قبر کی تلاش رہی

الغرض صحابہ رضوان الله علیھم اجمعین اس مقام کو گرجا کے طور پر ہی جانتے تھے اور ایسی مسجد جس میں جمعہ ہو

کے لئے یہ جگہ معروف نہ تھی

منار بنانا ایک عیسائی روایت تھی جس میں راہب اس کے اوپر بیٹھتے اور عبادت کرتے اور باقی لوگوں کو اوپر انے کی اجازت نہیں ہوتی تھی  کتاب  أخبار وحكايات لأبي الحسن الغساني   از  محمد بن الفيض بن محمد بن الفياض أبو الحسن ويقال أبو الفيض الغساني (المتوفى: 315هـ) کی ایک مقطوع روایت ہے

 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامِ بن يحيى الغساني قَالَ حدثن أَبِي عَنْ جَدِّي يَحْيَى بْنِ يحي قَالَ لَمَّا هَمَّ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بِكَنِيسَةِ مَرْيُحَنَّا لِيَهْدِمَهَا وَيَزِيدَهَا فِي الْمَسْجِدِ دَخَلَ الْكَنِيسَةَ ثُمَّ صَعَدَ مَنَارَةَ ذَاتِ الْأَكَارِعِ الْمَعْرُوفَةَ بِالسَّاعَاتِ وَفِيهَا رَاهِبٌ نُوبِيٌّ صومعة لَهُ فأحدره من الصوعمعة فَأَكْثَرَ الرَّاهِبُ كَلَامَهُ فَلَمْ تَزَلْ يَدُ الْوَلِيدِ فِي قَفَاهُ حَتَّى أَحْدَرَهُ مِنَ الْمَنَارَةِ ثُمَّ هَمَّ بِهَدْمِ الْكَنِيسَةِ فَقَالَ لَهُ جَمَاعَةٌ مِنْ نَجَّارِي النَّصَارَى مَا نَجْسُرُ عَلَى أَنْ نَبْدَأَ فِي هَدْمِهَا يَا أَمِير الْمُؤمنِينَ نخشى أنَعْثُرَ أَوْ يُصِيبَنَا شَيْءٌ فَقَالَ الْوَلِيد تحذرون وتخافون يَا غلان هَاتِ الْمِعْوَلَ ثُمَّ أُتِيَ بِسُلَّمٍ فَنَصَبَهُ عَلَى مِحْرَابِ الْمَذْبَحِ وَصَعَدَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ الْمَذْبَحَ حَتَّى أَثَّرَ فِي هـ أَثَرًا كَبِيرًا ثُمَّ صَعَدَ الْمُسْلِمُونَ فَهَدَمُوهُ وَأَعْطَاهُمُ الْوَلِيدُ مَكَانَ الْكَنِيسَةِ الَّتِي فِي الْمَسْجِدِ الْكَنِيسَةَ الَّتِي تُعْرَفُ بِحَمَّامِ الْقَاسِمِ بِحِذَاءِ دَارِ أَن الْبَنِينَ فِي الْفَرَادِيسِ فَهِيَ تُسَمَّى مَرْيُحَنَّا مَكْانَ هَذِهِ الَّتِي فِي الْمجد وَحَوَّلُوا شَاهِدَهَا فِيمَا يَقُولُونَ هُمْ إِلَيْهَا إِلَى تِلْكَ الْكَنِيسَةِ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَنَا رَأَيْتُ الْوَلِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ فَعَلَ ذَلِكَ بِكَنِيسَةِ

 يَحْيَى بْنِ يحي کہتے ہیں کہ جب الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ نے کنِيسَةِ مَرْيُحَنَّا کو گرانے کا ارادہ کیا اور اس کی جگہ مسجد کو بنانے کا تو وہ کنِيسَةِ میں آئے اور مَنَارَةَ ذَاتِ الْأَكَارِعِ  پر چڑھے جو السَّاعَاتِ کے نام سے معروف ہے جن میں  راہب نُوبِيٌّ تھا … پس عیسائی بڑھییوں نے کہا اے امیر المومنین ہم خوف زدہ ہیں کہ ہم کو کوئی برائی نہ پہنچے پس ولید نے کہا تم سب ڈرتے ہو اوزار لاؤ پھر محراب الْمَذْبَحِ پر گئے اور وہاں ضرب لگائی جس پر بہت اثر ہوا پھر مسلمان چڑھے اور انہوں نے ضرب لگائی اور اس کو گرایا اور ولید نے عیسائیوں کو کنِيسَةِ کی جگہ….. دوسرا مقام دیا

 مسلمانوں نے بھی اپنے شہروں کا ٹورزم بڑھانے کے لئے کافی مقامات دریافت کر ڈالے

 مثلا تاریخ بیت المقدس نامی کتاب میں جو ابن جوزی تصنیف ہے اس میں مصنف نے بتایا ہے  یہاں کس کس کی قبر ہے جو روایت  بلا سند کے مطابق جبریل علیہ السلام نے بتایا

هذا قبر أبراهيم، هذا قبر سارة، هذا قبر إسحاق، هذا قبر ربعة، هذا قبر يعقوب، هذا قبر زوجته

انہی قبروں کو یہود و نصاری نے آباد کر رکھا تھا جن پر کوئی دلیل نہیں تھی کہ یہ انہی کی قبریں ہیں اب  مسلمانوں نے ان کو آباد کر رکھا ہے

ابن عساکر تاریخ الدمشق ج ٢ ص ٣١٥ میں لکھتے ہیں

مسجد مغارة الدم مسجد الدير الذي  كان لرهبان النصارى فجعل مسجدا

مسجد مغارة الدم  مسجد دیر عیسائی راہبوں کا مسکن تھے جن کو مسجد بنایا گیا

یہ مقام  جبل قاسيون دمشق میں ہے اور ہابیل علیہ السلام سے منسوب تھا اور بعض کے نزدیک عزیر سے

کتاب البداية والنهاية از ابن کثیر کے مطابق

بِجَبَلِ قَاسِيُونَ شَمَالِيَّ دِمَشْقَ مَغَارَةٌ يُقَالُ لَهَا مَغَارَةُ الدَّمِ مَشْهُورَةٌ بِأَنَّهَا الْمَكَانُ الَّذِي قَتَلَ قَابِيلُ أَخَاهُ هَابِيلَ عِنْدَهَا وَذَلِكَ مِمَّا تَلَقَّوْهُ عَنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَاللَّهُ أَعْلَمُ بِصِحَّةِ ذَلِكَ.

 جبل قاسیون شمال دمشق میں ایک غار ہے جس کو مَغَارَةُ الدَّمِ  کہا جاتا ہے جو اس مکان کے طور پر مشھور ہے اس میں قابیل نے ہابیل  کا قتل کیا تھا اور ایسا اہل کتاب میں قبول چلا آ رہا  ہے اور الله ہی اس بات کی صحت جانتا ہے

ابن کثیر مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ قدامة کے لئے البداية والنهاية میں لکھتے ہیں کہ ہر پیر اور جمعرات کو وہ اس مقام پر جاتے

 وَكَانَ يَزُورُ مَغَارَةَ الدَّمِ فِي كُلِّ يَوْمِ اثنين وخميس

جو مقامات  یسوبئوس نے کھوجے تھے ان کو بغیر تحقیق کے قبول کر لیا گیا جبکہ نہ کوئی حدیث تھی نہ حکم رسول

کتاب  فضائل الشام ودمشق از ابن أبي الهول (المتوفى: 444هـ) کے مطابق

قال هشام: سمعت  الوليد بن مسلم يقول سمعت سعيد بن عبد العزيز يقول صعدنا في خلافة هشام بن عبد الملك إلى موضع دم ابن آدم نسأل الله سقيا فأتانا فأقمنا في المغارة ستة أيام

هشام بن عمار کہتے ہیں میں سے ولید بن مسلم کو سنا کہ انہوں نے سعید بن عبد العزیز کو سنا کہ ہم  هشام بن عبد الملك  کی خلافت میں ابن آدم کے قتل کے مقام پر گئے اور الله سے بارش کی دعا کی اور وہاں چھ دن رہے

اسی کتاب میں ہے

وأخبرنا تمام قال: حدثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ المعلى حدثنا القاسم بن عثمان قال: سمعت الوليد بن مسلم وسأله رجل يا أبا العباس أين بلغك رأس يحيى بن زكريا صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بلغني أنه ثم وأشار بيده إلى العمود المسفط الرابع من الركن الشرقي.

ولید بن مسلم  نے  ایک شخص کے سوال پر کہ یحیی کا سر کہاں ہے کہا کہ مجھ تک پہنچا پھر ہاتھ سے چوتھے ستون کی طرف رکن شرقی کی طرف اشارہ کیا کہ وہاں ہے

یکایک یہ  دریافتیں شاید دمشق کی اہمیت بڑھانے کے لئے تھیں  کہ امت دمشق کو بھی مقدس سمجھے اور وہاں جا کر ان

مقامات کو دیکھے، جبکہ بخاری و مسلم میں انبیاء کی ان  نام نہاد قبروں کا وجود و خبر نہیں

عبد الله بن احمد کتاب العلل ومعرفة الرجال میں اپنے باپ امام احمد کی رائے پیش کرتے ہیں

سَأَلته عَن الرجل يمس مِنْبَر النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ويتبرك بمسه ويقبله وَيفْعل بالقبر مثل ذَلِك أَو نَحْو هَذَا يُرِيد بذلك التَّقَرُّب إِلَى الله جلّ وَعز فَقَالَ لَا بَأْس بذلك

میں نے باپ سے سوال کیا اس شخص کے بارے میں جو رسول الله کا  منبر چھوئے اور اس سے تبرک حاصل کرے

اور اس کو چومے اور  ایسا ہی قبر سے کرے اور اس سے الله کا تقرب حاصل کرے پس انہوں نے کہا اس میں کوئی برائی نہیں

 کتاب القراءة عند القبور از أبو بكر أحمد بن محمد بن هارون بن يزيد الخَلَّال البغدادي الحنبلي (المتوفى: 311هـ) کے مطابق

 وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَرَّاقُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُوسَى الْحَدَّادُ، وَكَانَ صَدُوقًا، وَكَانَ ابْنُ حَمَّادٍ الْمُقْرِئُ يُرْشِدُ إِلَيْهِ، فَأَخْبَرَنِي قَالَ: ” كُنْتُ مَعَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ قُدَامَةَ الْجَوْهَرِيِّ فِي جِنَازَةٍ، فَلَمَّا دُفِنَ الْمَيِّتُ جَلَسَ رَجُلٌ ضَرِيرٌ يَقْرَأُ عِنْدَ الْقَبْرِ، فَقَالَ لَهُ أَحْمَدُ: يَا هَذَا، ” إِنَّ الْقِرَاءَةَ عِنْدَ الْقَبْرِ بِدْعَةٌ فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنَ الْمَقَابِرِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي مُبَشِّرٍ الْحَلَبِيِّ؟ قَالَ: ثِقَةٌ، قَالَ: كَتَبْتَ عَنْهُ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي مُبَشِّرٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَوْصَى إِذَا دُفِنَ أَنْ يُقْرَأَ عِنْدَ رَأْسِهِ بِفَاتِحَةِ الْبَقَرَةِ وَخَاتِمَتِهَا، وَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُوصِي بِذَلِكَ. فَقَالَ لَهُ أَحْمَدُ: فَارْجِعْ، فَقُلْ لِلرَّجُلِ يَقْرَأْ

 الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَرَّاقُ نے خبر دی کہا مجھ کو عَلِيُّ بْنُ مُوسَى الْحَدَّادُ نے خبر دی … کہ میں احمد بن حنبل اور محمد بْنِ قُدَامَةَ الْجَوْهَرِيِّ ایک جنازہ میں تھے پس جب میت دفن کی تو ایک اندھے شخص نے قبر پر قرات شروع کی پس امام احمد نے کہا یہ کیا بے شک قبر پر قرات بدعت ہے پس جب ہم قبرستان سے نکلنے لگے تو مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ نے احمد سے کہا اے ابو عبد الله اپ کی مُبَشِّرٍ الْحَلَبِيِّ کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ انہوں نے کہا ثقہ ہے میں نے پوچھا اپ نے اس سے لکھا کہا ہاں میں نے کہا کہ مجھے مُبَشِّرٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، نے اپنے باپ سے خبر دی کہ انہوں نے وصیت کی کہ جب دفن کرو تو سوره البقرہ کا شروع اور آخر پڑھو اور کہا میں نے ابن عمر سے سنا انہوں نے بھی اسی طرح کی وصیت کی- پس احمد نے ان سے کہا آؤ واپس چلیں اور اس شخص سے کہیں کہ پڑھے

الغرض  بعض علماء کے نزدیک  قبر کا ہونا اور  تبرک حاصل کرنا ، اس بات کے لئے کافی تھا کہ اس سے الله کا قرب حاصل ہو،  لیکن اس  رائے کی دلیل پیش نہیں کی گئی

آجکل اس پر آشوب دور میں صحابہ رضوان الله علیھم اجمعین  کے حوالے سے شکوک و شبھات پھیلائے جا رہے ہیں  کہ وہ نعوذ باللہ دنیا پرست اور مال و زر کے رسیا تھے.  رافضیوں کو کیا کوسیں،  سب سے افسوس ناک خود نام نہاد اہل سنت کا  عمل ہے جنہوں نے علی و معاویہ رضی الله تعالی عنہم کے اختلاف پر آج تک اپنے اپ کو دو کیمپوں میں تقسیم کیا ہوا ہے.  ایک طرف حب علی کے نام پر بقیہ صحابہ پر مخفی تبراء بھیجنے کا انداز ہے. دوسری طرف بغض علی میں ناصبیت بھی زوروں پر ہے.  ایسے میں ایک عام آدمی کے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جاتی اور آہستہ آہستہ وہ بھی ان دو شیعوں میں شامل ہو جاتا ہے یعنی شیعان علی یا پھر شیعان معاویہ.

اس کی وجہ ہماری تاریخ کے وہ تاریک باب ہیں جو سبائی قلم سے لکھے گئے ہیں  تفصیل میں جائے بغیر ، سبائی سازشوں کے نتیجے میں امت کے اندر ایسے  ہمدرد پیدا ہوئے ،  جنہوں نے اپنے  دل کی بھڑاس نکال کر حدیث نبوی کی عظمت تک کو پامال کر ڈالا ہے . جھوٹی اور من گھڑت روایات کی داستان طلسم ہے جس میں انہوں نے  اپنے مکروہ عقائد  کا ذکر کیا ہے اور اب  صفحہ قرطاس پر ہمارے لئے چھوڑ گئے ہیں

ایسی ہی ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ سعید بن جمھان المتوفی ١٣٦ھ کہتا ہے کہ سفینہ رضی الله تعالی عنہ نے کہا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

الخلافۃ ثلٰثون سنۃً ثم یکون ملکا ثم یقول سفینۃ: امسک خلافۃ أبی بکر سنتین و خلافۃ عمر عشرۃ و عثمان اثنتی عشرۃ و علی ست

نبوت کی خلافت تیس برس تک رہے گی، پھر بادشاہت ہو گی. پھر سفینہ نے کہا  اب تم گن لو، ابو بکر کی خلافت دو برس اور عمر کی دس برس اور عثمان کی بارہ برس اور علی کی چھ برس۔

ایک دوسری روایت میں الفاظ ہیں الْخلَافَة فِي أمتِي ثَلَاثُونَ سنة

ترمذی کی روایت میں ہے کہ سعید بن جمھان کہتا ہے کہ

قَالَ لِي سَفِينَةُ: أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ، وَخِلَافَةَ عُمَرَ، وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ، ثُمَّ قَالَ لِي: أَمْسِكْ خِلَافَةَ عَلِيٍّ قَالَ: فَوَجَدْنَاهَا ثَلَاثِينَ سَنَةً، قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ بَنِي أُمَيَّةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ الخِلَافَةَ فِيهِمْ؟ قَالَ: كَذَبُوا بَنُو الزَّرْقَاءِ بَلْ هُمْ مُلُوكٌ مِنْ شَرِّ المُلُوكِ،

مجھ سے سفینہ رضی الله تعالی عنہ نے کہا ابی بکر اور عمر اور عثمان کی خلافت لو پھر کہا علی کی خلافت لو کہا پس ہم نے انکو تیس سال پایا سعید نے کہا میں نے سفینہ سے کہا بے شک بنی امیہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کے پاس خلافت ہے سفینہ نے کہا جھوٹ بولتے ہیں بَنُو الزَّرْقَاءِ والے  بلکہ وہ تو بادشاہ ہیں بہت شری بادشاہ

روایت میں جو حساب کیا گیا ہے وہ بھی مشکوک ہے تاریخ کی  کتابوں  کو اگر لیا جائے تو  یہ حساب اس طرح بنتا  ہے

ابو بکر رضی الله تعالی عنہ مدت خلافت ربیع الاول  ١١ ہجری  سے  ١٣ ہجری جمادی الاولی

٢ سال ٢ماہ

عمر رضی الله تعالی عنہ مدت خلافت  جمادی الاولی ،   ١٣  ہجری سے  ٢٣ ہجری  ذی الحجہ

١٠  سال  ٧ ماہ

عثمان رضی الله تعالی عنہ مدت خلافت ذی الحجہ  ٢٣ ہجری سے  ٣٥ہجری ذی الحجہ

١٢ سال

علی رضی الله تعالی عنہ مدت خلافت ذی الحجہ  ٣٥ ہجری سے   ٤٠ہجری رمضان

٤ سال ٩ ماہ

جمع  سال٢ ، ١٠، ١٢،  ٤= ٢٨   سال ہوئے اور ١٨ ماہ یعنی ایک سال ٦ ماہ کل حساب ٢٩ سال اور ٦ ماہ ہوئے جو  مکمل ٣٠ سال نہیں ہوتے 

اگر اس میں  حسن رضی الله تعالی عنہ کی خلافت جو سات ماہ  گیارہ دن کی ہے کو شامل کیا جائے تو تیس سال ایک ماہ اور گیارہ دن ہوتے ہیں لیکن پھر یہ مکمل تیس سال نہیں ہونگے. راوی نے بھی ایسا حساب لگوایا ہے کہ حسن رضی الله تعالی عنہ  کو اس میں سے نکال دیا ہے اور بظاہر ان کی خلافت کا ہی انکاری معلوم ہوتا ہے

ابی داود میں ہے سعید بن جمھان نے سفینہ سے پوچھا

قَالَ سَعِيدٌ، قُلْتُ: لِسَفِينَةَ إِنَّ هَؤُلَاءِ يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام لَمْ يَكُنْ بِخَلِيفَةٍ قَالَ: “كَذَبَتْ أَسْتَاهُ بَنِي الزَّرْقَاءِ يَعْنِي بَنِي مَرْوَانَ”

سعید  بن جمھان  نے سفینہ رضی الله تعالی عنہ سے کہا

یہ دعوی کرتے ہیں کہ علی علیہ السلام خلیفہ نہیں تھے سفینہ بولے جھوٹ بولتے ہیں  بَنُو الزَّرْقَاءِ کی مقعد  یعنی بنی مروان

أَسْتَاهُ بَنِي الزَّرْقَاءِ انتہائی بیہودہ الفاظ ہیں

الزَّرْقَاءُ اِمْرَأَةٌ مِنْ أُمَّهَاتِ بَنِي أُمَيَّةَ. تحفة الأحوذي – (ج 6 / ص 8) الزَّرْقَاءُ بنو امیہ کی ماؤں میں سےایک کا نام ہے

مسند ابی داود میں سعید بن جمھان کے الفاظ ہیں

قُلْتُ: فَمُعَاوِيَةُ؟ قَالَ: كَانَ أَوَّلَ الْمُلُوكِ

میں نے کہا اور مُعَاوِيَةُ؟ سفینہ رضی الله تعالی عنہ نے کہا وہ پہلا بادشاہ ہے

سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ  ہیں اور بیہقی  کتاب الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد على مذهب السلف وأصحاب الحديث  میں انکو أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہتے ہیں

احمد العلل میں کہتے ہیں

وقال عبد الله: حدثني أبي. قال: حدثنا أبو النضر. قال: حدثنا حشرج بن نباته العبسي كوفي. قال: قلت لسعيد بن جمهان: اين لقيت سفينة؟ قال: لقيته ببطن نخلة في زمن الحجاج، فأقمت عنده ثمان ليال أسأله عن أحاديث رسول الله – صلى الله عليه وسلم -. قلت: ما اسمك؟ قال: سماني رسول الله – صلى الله عليه وسلم – سفينة. «العلل» 

عبدللہ کہتے ہیں کہ میرے باپ احمد کہتے ہیں حشرج نے کہا کہ میں نے سعید سے پوچھا کہ سفینہ سے کہاں ملے کہا نخلہ میں حجاج کے دور میں ان کے  ساتھ آٹھ راتیں گزاریں

یعنی سعید کی جانب سے  یہ ساری دل کی بھڑاس حجاج بن یوسف المتوفی 95 ھ پر نکالی جا رہی تھی خود سعید بن جمہان نے بنو امیہ کا پورا دور دیکھا  ہے لیکن اموی دور میں عدل کا یہ عالم تھا کہ کسی اموی خلیفہ نے ان کو ایسی روایات بیان کرنے پر  ہلاک نہیں کیا

روایت کا راوی ضعیف ہے

سعید بن جمھان کے لئے محدثین کہتے تھے

ابن معين: روى عن سفينة أحاديث لا يرويها غيره، وأرجو أنه لا بأس به

ابن معین- یہ سفینہ سے روایات کرتے ہیں جن کو کوئی اور روایت نہیں کرتا اور مجھے امید ہے کہ ان میں برائی نہیں

 وقال البخاري: في حديثه عجائب  اس کی روایات میں عجائب ہیں

 وقال أبو حاتم: يكتب حديثه، ولا يحتج به،  اس کی روایت لکھ لو لیکن دلیل نہ لو

وقال الساجي: لا يتابع على حديثه ان کی حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی

 امام عقیلی  الضعفاء الكبير  میں لکھتے ہیں

حَدَّثَنِي آدَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ الْبُخَارِيَّ، يَقُولُ: حَشْرَجُ بْنُ نَبَاتَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ: «هَؤُلَاءِ الْخُلَفَاءُ مِنْ بَعْدِي» قَالَ: لَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ لِأَنَّ عُمَرَ وَعَلِيًّا قَالَا: لَمْ يَسْتَخْلِفِ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ

 آدَمُ بْنُ مُوسَى کہتے ہیں میں نے امام بخاری کو کہتے سنا

 حَشْرَجُ بْنُ نَبَاتَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ  سے کہ بے شک نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ابی بکر اور عمر اور عثمان (رضوان الله علیھم) کے لئے کہ یہ میرے بعد خلفاء ہونگے . امام بخاری نے کہا (اسکے برعکس) علی اور عمر  (رضوان الله علیھم) نے کہا نبی علیہ السلام نے کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا

اگرچہ یہ روایت الگ ہے لیکن امام بخاری کا سعید بن جمھان کے بارے میں موقف پتا چلتا ہے کہ ان کے نزدیک اسکی سفینہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت صحیح نہیں

ابن القيسراني (المتوفى: 507هـ) کتاب  ذخيرة الحفاظ (من الكامل لابن عدي) کہتے ہیں

حَدِيث: الْخلَافَة ثَلَاثُونَ سنة. رَوَاهُ سعيد بن جمْهَان: عَن سفينة. قَالَ: وثنا الْحسن بن عَليّ، ثَنَا هشيم، عَن الْعَوام بن حَوْشَب، عَن سعيد بن جمْهَان، عَن سفينة أَن رَسُول الله – صلى الله عَلَيْهِ وَسلم – قَالَ. وَقد حدث أَيْضا عَن سعيد: حَمَّاد بن سَلمَة، وحشرج بن نباتة، وَيحيى بن طَلْحَة بن أبي شهدة. وَأوردهُ فِي تَرْجَمَة حشرج: عَن سعيد، عَن سفينة. وَقد رَوَاهُ مَعَه حَمَّاد بن سَلمَة، وَعبد الْوَارِث بن سعيد، والعوام بن حَوْشَب، وَيحيى بن طَلْحَة بن أبي شهدة، وَغَيرهم.

وَرَوَاهُ يحيى بن مُحَمَّد بن ييحى ابْن أخي حَرْمَلَة بن يحيى: عَن عَمه، عَن عبد الله بن وهب، عَن ابْن لَهِيعَة، عَن يزِيد بن أبي حبيب، عَن سعيد بن عَمْرو، عَن سفينة. وَهَذَا رَوَاهُ حَمَّاد بن سَلمَة، وَيحيى بن طَلْحَة بن أبي شهدة، وحشرج بن نباتة: عَن سعيد بن جمْهَان عَن سفينة. وَأما بِهَذَا الْإِسْنَاد فَلم نَكْتُبهُ إِلَّا عَن يحيى، وَكَانَ ضَعِيفا.

حدیث خلافت تیس سال ہے اسکو روایت کیا ہے سعيد بن جمْهَان نے سفينة سے کہا

وثنا الْحسن بن عَليّ، ثَنَا هشيم، عَن الْعَوام بن حَوْشَب، عَن سعيد بن جمْهَان، عَن سفينة أَن رَسُول الله – صلى الله عَلَيْهِ وَسلم – قَالَ.

اور اس کو سعید سے بھی روایت کیا ہے حَمَّاد بن سَلمَة اور حشرج بن نباتة اور َيحيى بن طَلْحَة بن أبي شهدة اور کو لائے ہیں  حشرج کے ترجمے میں : عَن سعيد، عَن سفينة.

اور بے شک اسکو روایت کیا ہے حَمَّاد بن سَلمَة، وَعبد الْوَارِث بن سعيد، والعوام بن حَوْشَب، وَيحيى بن طَلْحَة بن أبي شهدة اور دوسروں نے

اور اسکو روایت کیا ہے يحيى بن مُحَمَّد بن ييحى ابْن أخي حَرْمَلَة بن يحيى: عَن عَمه، عَن عبد الله بن وهب، عَن ابْن لَهِيعَة، عَن يزِيد بن أبي حبيب، عَن سعيد بن عَمْرو، عَن سفينة

اور ایسا روایت کیا ہے حَمَّاد بن سَلمَة اور يحيى بن طَلْحَة بن أبي شهدة اور حشرج بن نباتة نے  عَن سعيد بن جمْهَان عَن سفينة سے

وَأما بِهَذَا الْإِسْنَاد فَلم نَكْتُبهُ إِلَّا عَن يحيى، وَكَانَ ضَعِيفا.

اور ان اسناد کے ساتھ  ہم نہیں لکھیں گے سوائے یحیی سے اور وہ ضعیف ہے

تحقیق اصلاحی میں زبیر علی زئی  اس خلافت تیس سال والی روایت کے دفاع میں لکھتا ہے

munkr-hadith

اپنے مخصوص عقائد و نظریات کو صحیح ثابت کرنے کے لئے کسی بھی حد سے گزرنا اہل حدیث کا شیوہ بن چکا ہے  لہذا اگر کوئی حدیث کی تصحیح میں ان سے اختلاف کرے تو اس پر فورا منکر حدیث کا فتوی جڑنا ان کا سب سے آسان عمل ہے

اس روایت کو منکر حدیث  نے ہی ضعیف   نہیں کہا بلکہ ابن قیسرانی نے بھی اس روایت پر جرح کی ہے ہمارا مقصد انکار حدیث کا دفاع نہیں بلکہ اس سوچ کا رد ہے جو روایت پرست علماء کا  ہے

بلا سوچے سمجھے اپنی عقل گروی رکھ کر اہل حدیث اوران کے ہم قبیل ایسی روایات کو صحیح کہتے رہے ہیں جس سے نہ صرف مسلکی تعصب، صحابہ سے بغض اور شرک کی ترویج ہوتی ہے مثلا ابن تیمیہ نے یہ تک مان لیا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم قبر سے حرہ کے واقعہ میں اذان دیتے رہے .اسی ڈگر پر یہ لوگ روایات سے شرک کو پھیلاتے ہیں اور پھر بھولے بن کر  لوگوں کو جو قبروں پر جا رہے ہیں مشرک کہتے  ہیں یعنی اگ خود لگاتے ہیں اور جب کوئی الاو میں چلا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اس کی غلطی ہے

روایت کا مسلکی دفاع

اس روایت کے دفاع میں کہا جاتا ہے کہ ابن ابی حاتم کی جرح لا يحتج به, غیر مفسر ہے. کیا ابن ابی حاتم نے نہیں بتایا کہ ان الفاظ  لا يحتج به کا کیا مفھوم ہے وہ کتاب الجرح و تعدیل میں لکھتے ہیں

قال عبد الرحمن بن أبي حاتم: قلت لأبي: ما معنى (لا يحتج به) ؟ قال:  كانوا قوما لا يحفظون، فيحدثون بما لا يحفظون، فيغلطون، ترى في أحاديثهم اضطرابا ما شئت “. انتهى.

فبين أبوحاتم في إجابته لابنه: السبب في أنه لا يحتج بحديثهم،  وهو ضعف حفظهم، واضطراب حديثهم.

عبد الرحمن بن أبي حاتم کہتے ہیں میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ  لا يحتج به  کیا مطلب ہے انہوں نے کہا  ایک قوم ہے رجال کی جو یاد نہیں رکھتے تھے اور حدیثیں بیان کرتے ہیں جو انکو یاد نہیں ہوتیں پس ان میں غلطیاں کرتے ہیں پس تم دیکھو گے کہ انکی حدیثوں میں اضطراب کثرت کے ساتھ پایا جاتا ہے

ابن ابی حاتم نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ  لا يحتج به کا کیا مطلب ہے. باقی یہ  اعتراض کہ یہ الفاظ صرف وہ بولتے ہیں بھی درست نہیں. الساجی بھی سعید بن جمہان کو انہی الفاظ سے یاد کرتے ہیں اور یہ جرح بالکل مفسر ہے

جرح غیر مفسر، متاخرین کا شوشہ ہے جس کا مقصد صرف اپنے محبوب راویوں کو بچانا ہے

کہا جاتا ہے کہ  ابی حاتم متشدد ہیں.  المنذری المتوفی ٦٥٦ ھ کتاب  جواب الحافظ أبى محمد عبد العظيم المنذري المصري عن أسئلة فى الجرح والتعديل میں لکھتے ہیں

الذهبی، “سير أعلام النبلاء” 13: 260، في ترجمة  (أبي حاتم)  میں لکھتے ہیں

إذا وثق أبوحاتم رجلا فتمسك بقوله، فإنه لا يوثق إلا رجلا صحيح  الحديث، لاذا ليق رجلا أوقال فيه: لا يحتج به، فتوقف حتى ترى ما قال غيره  فيه، فإن وثقه أحد، فلا تبن على تجريح أبي حاتم، فانه متعنت في الرجال، قد قال  في طائفة من رجال “الصحاح “: ليس بحجة، ليس بقوي، أونحوذلك

جب  امام ابو حاتم کسی شخص کو ثقہ قرار دیں تو اس بات کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو کیونکہ وہ صرف اس شخص کو ثقہ کہتے ہیں جو کہ صحیح الحدیث ہوتا ہے۔ اور اگر وہ کسی کی تضعیف کریں یا اس کے بارے میں ‘‘ لایحتج بہ’’ کہیں تو توقف کرو تا کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اوروں نے کیا کہا ہے؟ اور اگر کسی نے ثقہ کہا ہے تو پھر ابو حاتم کی جرح نہ مانو کیونکہ وہ اسماء الرجال میں متشدد ہیں۔ انہوں نے صحیحین کے ایک گروہ کے بارے میں لیس بحجۃ لیس بقوی وغیرہ کہا ہے

ہم الذھبی کی اس رائے سے متفق نہیں.  اسناد، دین ہیں اگر کوئی اس معاملے میں متشدد ہے تو یہ اچھی بات ہے. جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ابی حاتم  نے صحیحین کے راویوں پر بھی جرح کی ہے تو وہ بھی مضر رساں نہیں ان راویوں کی ساری روایات صحیح ہونے کے قائل کون میں ماسوا آج کل کے اہل حدیث فرقہ کے

چند سال قبل تک انکا بھی یہ موقف  نہیں تھا. مبارک پوری اہل حدیث ہیں ، ترمذی کی شرح تحفہ الاحوذی میں لکھتے ہیں

وَأَمَّا قَوْلُ الْهَيْثَمِيِّ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ فَلَا يَدُلُّ عَلَى صِحَّتِهِ لِاحْتِمَالِ أَنْ يَكُونَ فِيهِمْ مُدَلِّسٌ وَرَوَاهُ بِالْعَنْعَنَةِ أَوْ يَكُونَ فِيهِمْ مُخْتَلِطٌ وَرَوَاهُ عَنْهُ صَاحِبُهُ بَعْدَ اِخْتِلَاطِهِ أَوْ يَكُونَ فِيهِمْ مَنْ لَمْ يُدْرِكْ مَنْ رَوَاهُ عَنْهُ أَوْ يَكُونَ فِيهِ عِلَّةٌ أَوْ شُذُوذٌ ، قَالَ الْحَافِظُ الزَّيْلَعِيُّ فِي نَصْبِ الرَّايَةِ فِي الْكَلَامِ عَلَى بَعْضِ رِوَايَاتِ الْجَهْرِ بِالْبَسْمَلَةِ لَا يَلْزَمُ مِنْ ثِقَةِ الرِّجَالِ صِحَّةُ الْحَدِيثِ حَتَّى يَنْتَفِيَ مِنْهُ الشُّذُوذُ وَالْعِلَّةُ ، وَقَالَ الْحَافِظُ اِبْنُ حَجَرٍ فِي التَّلْخِيصِ فِي الْكَلَامِ عَلَى بَعْضِ رِوَايَاتِ حَدِيثِ بَيْعِ الْعِينَةِ لَا يَلْزَمُ مِنْ كَوْنِ رِجَالِ الْحَدِيثِ ثِقَاتٍ أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا اِنْتَهَى

اور   الْهَيْثَمِيِّ کا یہ کہنا کہ رجال ثقہ ہیں دلیل نہیں بنتا کہ یہ روایت صحیح ہے کیونکہ اسمیں شذوذ یا علّت ہو سکتی ہے اور ہو سکتا ہے اس میں مدلس ہو جو عن سے روایت کرے . الزَّيْلَعِيُّ کہتے ہیں… کسی حدیث میں ثقہ راوی ہونے سے وہ صحیح نہیں ہو جاتی

ابن حجر النکت میں کہتے ہیں

قلت : ولا يلزم في كون رجال الإسناد من رجال الصحيح أن يكون الحديث الوارد به صحيحاً ، لاحتمال أن يكون فيه شذوذ أو علة

میں کہتا ہوں اگر کسی حدیث کی اسناد میں صحیح کے رجال ہیں تو اس سے حدیث صحیح نہیں ہو گی اس احتمال کی وجہ سے کہ اس میں شذوذ یا علّت ہو

معلوم ہوا کہ صحیحین کے راویوں کی وہ روایات جو صحیحین سے باہر ہیں ضعیف ہو سکتی ہیں

کیا روایت صحیح ہے؟

أبو الحسن خيثمة بن سليمان بن حيدرة بن سليمان القرشي الشامي الأطرابلسي (المتوفى: 343هـ) کتاب میں امام احمد کا موقف لکھتے ہیں

أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا خَيْثَمَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَلِيٍّ النَّوْفَلِيُّ , قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ عَنْ تَفْضِيلِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لِي: أَبُو بَكْرٍ خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ عُمَرُ , ثُمَّ عُثْمَانُ , ثُمَّ عَلِيُّ فِي الْخِلَافَةِ وَيَذْهَبُ إِلَى حَدِيثِ سَفِينَةَ: «يَكُونُ خِلَافَةٌ وَرَحْمَةٌ ثَلَاثِينَ سَنَةً» , قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ , فَتَعْرِفُ مَنْ قَالَ: عَلِيٌّ فِي الْإِمَامَةِ وَالْخِلَافَةِ؟ قَالَ: لَا , قَالَ: أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ , وَلَا يُعْجِبُنِي مَنْ وَقَفَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْخِلَافَةِ , قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَنَتَرَحَّمُ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْمَعِينَ

صَالِحُ بْنُ عَلِيٍّ النَّوْفَلِيُّ کہتے ہیں میں نے امام احمد  سے اصحاب رسول کی فضیلت کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا ابو بکر انسانوں میں سب سے بہتر تھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے بعد پھر عمر پھر عثمان پھر علی خلافت میں اور انہوں نے   سفینہ کی حدیث  پر مذھب لیا  کہ خلافت و رحمت تیس سال ہوگی . میں نے پوچھا  کہ اے ابو عبدللہ  پس کیا اپ جانتے ہیں (کسی کو) جو کہتا ہو   علی کی امامت و خلافت کے حوالے سے  کہا نہیں.  امام احمد نے کہا اور مجھے حیرت نہ ہو گی اگر کوئی علی بن ابی طالب کے لئے موقف رکھے ان کی خلافت (برحق ہونے) پر 

السنة للخلال (636) کے مطابق امام احمد اس روایت کو صحیح کہتے تھے

القرطبي (المتوفى: 463هـ) کتاب جامع بيان العلم وفضله  میں لکھتے ہیں

أَبُو عُمَرَ: ” قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: حَدِيثُ سَفِينَةَ فِي الْخِلَافَةِ صَحِيحٌ وَإِلَيْهِ أَذْهَبُ فِي الْخُلَفَاءِ

ابو عمر القرطبي کہتے ہیں احمد بن حنبل کہتے ہیں سفینہ کی خلافت والی حدیث صحیح ہے اور اسی پر خلفاء (کے بارے ) میں مذھب ہے

مسائل الإمام أحمد بن حنبل رواية ابن أبي الفضل صالح المتوفی ٢٦٦ ھ  میں ہے کہ امام احمد کے بیٹے پوچھتے ہیں

قلت وَتذهب إِلَى حَدِيث سفينة قَالَ نعم نستعمل الْخَبَرَيْنِ جَمِيعًا حَدِيث سفينة الْخلَافَة ثَلَاثُونَ سنة فَملك أَبُو بكر سنتَيْن وشيئا وَعمر عشرا وَعُثْمَان اثْنَتَيْ عشر وَعلي سِتا رضوَان الله عَلَيْهِم

میں کہتا ہوں اور (کیا) آپ  حدیث سفینہ پر مذھب لیتے ہیں امام احمد نے کہا ہاں

ابن بَطَّة العكبري (المتوفى ٣٨٧ ھ ) کتاب الإبانة الكبرى  میں لکھتے ہیں

 قال الشيخ: فكانت هذه خلافة النبوة، وهؤلاء الخلفاء الذين نزلت فيهم الآية وعليّ آخرهم، وبه تمت خلافة النبوة على ما بين النبي صلى الله عليه وسلم.

پس یہ خلافت النبوه ہے اور یہ خلفاء ہیں جن کے لئے آیات نازل ہوئیں اور علی ان میں آخری ہیں اور ان پر خلافت النبوه مکمل ہوئی

الغرض تیسری  اور چوتھی صدی ہجری  تک اس روایت کو علماء اپنے مذھب کا حصہ بنا چکے تھے

اگرچہ بعض  محدثین نے اس راوی سعید بن جمھان کو ضعیف قرار دیا لیکن ان کی چلنے نہ دی گئی

تیسری صدی کے امام احمد کے شاگرد  امام نسائی جو کتب ستہ کے ایک مصنف تھے ان پر بعض معاویہ کا بہت اثر تھا انہوں نے کتاب خصائص علی لکھی تھی.  ان سے سوال ہوا کہ معاویہ کی فضیلت میں کوئی روایت بتائیے انہوں نے کہا  ان کی فضیلت میں کوئی حدیث نہیں بلکہ صرف ایک حدیث ہے کہ الله اس کا پیٹ نہ بھرے بس یہ ایک روایت ہے! یہ کہنا تھا کہ اس پر ایک فساد برپا ہوا اوران کو شدید زخمی کر دیا گیا اسی واقعہ میں ان کی جان قبض ہوئی

امام نسائی کی موت بغض صحابہ پر ہوئی اور الله کا قرآن ان صحابہ کے سچ کی گواہی دیتا ہے

وَكُلًّا وَعَدَ اللَّـهُ الْحُسْنَىٰ

اور بھلائی (جنت) کا وعده تو اللہ تعالیٰ کا ان سب سے ہے

سوره الحدید

اہل سنت کے  علماء افراط و تفریط کا شکار ہو چکے تھے امام  نسائی نے جب علی کے نام پر بقیہ اصحاب رسول پر چھپے لفظوں تنقید شروع کر دی  تھی جبکہ امام بخاری اس سے الگ معاویہ رضی الله تعالی عنہ کی جانب سے یزید کی تقرری کے بارے میں صحیح رائے بیان کر رہے تھے اور امام ابو زرعہ کہتے تھے کہ اگر تم کسی کو دیکھو کہ صحابہ کو برا کہہ رہا ہے تو سمجھ لو وہ زندیق ہے

حدثنا ابن أبي مريم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا نافع بن عمر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثني ابن أبي مليكة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قيل لابن عباس هل لك في أمير المؤمنين معاوية،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإنه ما أوتر إلا بواحدة‏.‏ قال إنه فقيه‏.
ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ امیرالمؤمنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں، انہوں نے وتر کی نماز صرف ایک رکعت پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ خود فقیہ ہیں۔

صحابہ جس کو فقیہ کہیں اس پر صرف یہ حدیث پیش کر سکتے ہیں

ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم  کو فرماتے ہوئے سنا
 اَللّٰھمَّ فَأَیُّمَا مُؤمِنٍ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْ ذٰلِکَ لَهُ قُرْبَةً إِلَیْکَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ‘‘ (صحیح البخاري،صحیح مسلم
یا الله  میں جس مومن کو بھی گالی دوں تو قیامت کے دن اُسکو اپنی قربت کاسبب بنا دے۔

روایت کہ اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے سندا اتنی مضبوط بھی نہیں لیکن امام مسلم نے اس کی تاویل اوپر والی حدیث سے کی ہے

رافضیت میں ڈوبی سعید کی سفینہ رضی الله تعالی عنہ سے  روایت اس قابل نہیں کہ اس کو حدیث رسول صلی الله علیہ وسلم کہا جائے .سفینہ رضی الله تعالی عنہ جو خود ایک فارسی النسل تھے انکا بنو الزرقاء سے بغض بھی سمجھ سے بالا تر ہے. مُعَاوِيَةُ رضی الله تعالی عنہ کس طرح ایک بادشاہ تھے اور خلافت النبوه سے کس طرح خارج  تھے روایت  میں واضح نہیں کیا گیا

یہ روایت کئی وجوہ سے منکر ہے

اول امت کے پانچویں خلیفہ حسن رضی الله تعالی عنہ تھے لیکن روایت میں علی رضی الله تعالی عنہ کے بعد سب کو  بادشاہ بتایا گیا ہے. سعید کا  سفینہ رضی الله عنہ  کے حوالے سے معاویہ رضی الله عنہ کو پہلا بادشاہ کہنا خلاف تاریخ ہے . جو حساب کتاب اس روایت میں ہے اس کے مطابق پہلے  بادشاہ حسن رضی الله تعالی عنہ ہوتے ہیں علی رضی الله تعالی عنہ نے وفات سے پہلے حسن رضی الله تعالی عنہ  کو خلیفہ کیا تھا

الذهبی کتاب سیر الاعلام  میں لکھتے ہیں

بُوْيِعَ الحَسَنُ، فَوَلِيَهَا سَبْعَةَ أَشْهُرٍ وَأَحَدَ عَشَرَ يَوْماً، ثُمَّ سَلَّمَ الأَمْرَ إِلَى مُعَاوِيَةَ

حسن پر بعیت ہوئی پس انہوں نے سات مہینے ١١ دن حکومت کی، پھر خلافت مُعَاوِيَةَ  کو دے دی

دوئم صحیح حدیث میں آتا ہے کہ حسن رضی الله عنہ  امت کے دو گروہوں میں صلح کرائیں گے لیکن اس روایت کے مطابق حسن رضی الله عنہ نے  معاویہ رضی الله عنہ کے حق میں دستبردار ہو کر غلط کیا . اگر حسن خلیفہ نہیں تھے تو وہ کس چیز سے دست بردار ہوئے. سارا الزام حسن پر اتا ہے کہ وہ باشاہوں کو امت پر مسلط کر کے چلے گئے. اصل میں یہ روایت نہ صرف معاویہ رضی الله عنہ  بلکہ حسن رضی الله عنہ پربھی تبرا ہے

الذھبی کتاب سیرالاعلام  میں لکھتے ہیں

zahabi-moawiah

الذهبی کہتے ہیں نبی صلی الله علیہ وسلم نے حسن رضی الله تعالی عنہ کے لئے فرمایا بے شک یہ میرا بیٹا سردار ہے اور الله اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائے گا پس جب معاویہ نے صلح کو مانا اور اس پر تیار ہوئے تو وہ اور حسن چلتے ہوئے کوفہ میں داخل ہوئے اور معاویہ خلیفہ ہوئے ربیع  الثانی میں اور وہ سال، عام الجماعہ  کے نام سے پڑ گیا ان دونوں کے اجماع کی وجہ سے اور یہ سال ٤١ ھ کا ہے

 جو سال صحابہ کے درمیان عام الجماعه کے نام سے مشھور ہو  اس سال کو تواس حدیث کی روشنی  میں عام الملوک  (بادشاہوں کا سال ) کہا جانا چاہیے تھا

سوم اسلام میں بادشاہت معیوب نظام نہیں قرآن میں  انبیاء داود ، سلیمان علیھما السلام کو ملک یعنی بادشاہ ہا گیا ہے. نام میں کیا رکھا ہے کام دیکھا جائے گا

کیا حسن رضی الله تعالی عنہ  ایک ایسے بادشاہ کے حق میں دستبردار ہو گئے جس کو نانا جان صلی الله علیہ وسلم کہا کرتے تھے کہ الله اس کا پیٹ نہ بھرے

چہآرم معاویہ رضی الله عنہ کے دور میں جو جہاد ہوئے ان میں حسین رضی الله تعالی عنہ بھی شریک تھے کیا وہ ایسے نظام کو مظبوط کر رہے تھے جو تھا ہی غلط . کیا اس جہاد کے نتیجے میں جو علاقے فتح ہوئے ان پر غیر اسلامی نظام مسلط کرنے کے لئے انہوں نے غلط کام نہیں کیا

familytree-1.

پنجم کہا جاتا ہے کہ الله کفر کی حکومت چلنے دیتا ہے لیکن ظلم کی نہیں. اب ہم بھی حساب لگاتے ہیں دیکھتے ہیں بنی امیہ  کی حکومت کب تک چلی

معاویہ بن ابی سفیان رضی الله تعالی عنہ  ٤١ سے ٦٠ ہجری

یزید بن معاویہ رحمه الله علیہ  ٦٠ سے ٦٤ ہجری

معاویہ  بن یزید  ٦٤ ہجری

مروان بن الحکم  ٦٥ ہجری

عبدالملک بن مروان ٦٥ سے ٨٦ ہجری

ولید بن عبدالملک  ٨٦  سے  ٩٦ہجری

سلیمان بن عبدالملک ٩٦ سے ٩٩ ہجری

عمر بن عبد العزیز ٩٩ سے ١٠١  ہجری

یزید بن عبدالملک بن مروان ١٠١ سے ١٠٥  ہجری

ہشام بن عبدالملک ١٠٥ سے ١٢٥ ہجری

ولید بن یزید ١٢٥ سے  ١٢٦ ہجری

یزید بن ولید ١٢٦  ہجری

ابراہیم بن ولید  ١٢٦ہجری

مروان بن محمّد ١٢٦ سے ١٣٢ ہجری

بنو امیہ کی حکومت ٩١ سال رہی یعنی تقریبا ایک صدی . یہ حکومت کیوں رہی اس کا جواب بھی حدیث الصحیح لمسلم ، باب الناس ، تبع لقریش  میں ملتا ہے

معاویہ رضی الله تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا
إن ھذا الأمر فی قریش لا یعادیھم أحد إلا کبہ اللہ علی وجھہ ما أقامو ا الدین
یہ امر خلافت قریش رہے گا جو شخص ان کی مخالفت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اوندھا کر دے گا جب تک کہ وہ دین کو قائم رکھیں گے۔ صحیح بخاری کتاب المناقب باب مناقب قریش ،کتاب الاحکام

صحیح مسلم کی روایت ہے

عن جابر بن سمرۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ یقول : سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم یقول : لاَ یزَالُ الْاِسْلاَمِ عَزِیزًا اِلیٰ اِثْنَی عَشَرَ خَلِیفَۃً ۔

 حضرت جابر بن سمرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اسلام کو کوئی زوال نہیں ہو گا بارہ خلفاء تک

صحیح مسلم کی دوسری حدیث ہے

جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ لَا يَنْقَضِي حَتَّى يَمْضِيَ فِيهِمِ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً»، قَالَ: ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلَامٍ خَفِيَ عَلَيَّ، قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي: مَا قَالَ؟ قَالَ: «كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ»

جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ کہتے ہیں کہ میں اپنے باپ کے ساتھ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس گیا اپ صلی الله علیہ وسلم کو کہتے سنا بے شک یہ امر( دین) نہیں کم ہو گا حتی کہ  ان میں سے بارہ خلفاء نہ گزر جائیں .. جو سب قریش کے ہونگے

سلیمان بن عبدالملک تک بارہ خلفاء ہوتے ہیں اور اسلام دینا میں غالب  رہا اور اس کی سرحدیں ہند اور یورپ تک پہنچ گئیں

شیعوں نے بارہ خلفاء والی روایت سے اپنے بارہ امام نکال لئے. افسوس روایت میں اسلام کی جس سر بلندی کا ان بارہ خلفاء کے دور کا ذکر ہے اس پر ان کے امام نہیں اترتے.  بنو امیہ اور بنو عبّاس کے خوف میں تقیہ اختیار کر کے زندہ رہنے والے اسلام کی کیا سر بلندی کر پائے  آج تک کسی شیعہ نے نہیں بتایا لہذا اس روایت کا وہ مصداق نہیں ہو سکتے

دوسری طرف اہل سنت کے  گمراہ ائمہ نے  شیعیت سے متاثر ہو کر  لوگوں کے ذہنوں کو بنو امیہ کے خلاف تعصب سے بھر دیا اور عوام الناس کو یہ خیال ہوا کہ بارہ خلفاء ابھی آئیں گے. امداد زمانہ کے ساتھ اہل سنت کے ہاں اب بارہ خلفاء کا انتظار بھی ختم ہو گیا اور اب تو شیعوں کی طرح امام المہدی کا سب کو انتظار ہے

ابن الجوزی کشف المشکل میں لکھتے ہیں

 قد اطلت البحث عن معنی ہذا الحدیث ، و طلبت مظانہ وسألت عنہ فلم ا قع علی المقصود بہ ۔

 میں نے مدتوں اس  (بارہ خلفاء والی) حدیث کے معنی کی تفتیش کی ۔ اور جہاں جہاں گمان تھا وہ کتابیں دیکھیں ۔ اپنے زمانہ کے ائمہ سے سوال کئے ۔ مگر مراد متعین نہ ہوئی

ہوتی بھی کیسے بارہ خلفاء آ چکے لیکن اپ کو وہ پسند نہیں آئے

کہا جاتا ہے ١٢ خلفاء والی روایت کی سفینہ والی روایت سات تطبیق ممکن ہے ایک کے مطابق رشید خلفاء تیس سال رہیں ہے اس کے بعد صرف خلفاء ہوں گے

تحقیق اصلاحی میں زبیر علی زئی لکھتا ہے

maqalat-319

لیکن اصول ہے کہ راوی اپنی روایت کو زیادہ جانتا ہے سعید بن جمھان کہتے ہیں

سعید نے کہا میں نے سفینہ سے کہا بے شک بنی امیہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کے پاس خلافت ہے سفینہ نے کہا جھوٹ بولتے ہیں بَنُو الزَّرْقَاءِ والے  بلکہ وہ تو بادشاہ ہیں بہت شری بادشا

سعید تو باقی کو خلفاء نہیں بادشاہ کہہ رہا ہے

کہا جاتا ہے کہ اس روایت میں شیعیت کہاں ہے؟ اسمیں تو پہلے چار خلفاء کو خلفاء النبوه مایا گیا ہے!  بنیادی طور سے یہ بنو امیہ مخالف روایت ہے . خاندانی دشمنی پر مبنی کوئی بھی بات حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہو سکتی. نبی صلی الله علیہ وسلم نے تو فتح مکّہ والے دن ساری عصبیتوں کو اپنے قدموں تلے روند ڈالا تھا اور نبی صلی الله علیہ وسلم کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہے. اس روایت کا مقصد  صحابہ کو قابض اور خلافت النبوه سے علیحدہ کرنا ہے یہ ان سارے صحابہ پر اتہام ہے جنہوں نے بنو امیہ کے خلفاء کے باتھ پر بعیت کی .جن من جلیل القدر اصحاب رسول عبدللہ ابن عبّاس ، عبدللہ بن عمر، انس بن مالک  ، ابو الدرداء،  جابر بن عبدللہ، ابو واقد لیثی،  ابو سعید الخدری رضی الله تعالی عنہم اتے ہیں

اسی روایت کی بنیاد پر آگے چل کر خلافت راشدہ کی اصطلاح گھڑلی گئییعنی پہلے چار خلفاء ہدایت یافتہ اور ان کے بعد بننے والے حسن رضی الله تعالی عنہ ،  معاویہ رضی الله تعالی عنہ وغیرہ غیر ہدایت یافتہ نعوذ باللہ من تلک الخرافات

کہا جاتا ہے اس کے لئے ابن حجر کی  فتح الباری اور  ابن تیمیہ کا مجموع فتاوی  دیکھو. افسوس ان صحابہ رضی الله تعالی عنہ کو کیا کہا جائے گا جنہوں نے  بنو امیہ کا ساتھ دیا  عمرو بن العآص  رضی الله تعالی عنہ ، نعمان بن بشیر رضی الله تعالی عنہ وغیرہ کیا اس روایت میں ان پر مخفی تبرا نہیں . کہاں ہیں صحابہ کلھم عدول کا نعرہ لگانے والے

زبیر علی زئی  کتاب تحقیق اصلاحی میں صحابہ میں تفریق کرتے ہوئے لکھتا ہے

tahqeqislahi-320

قارئیں اپ کے دیکھا کس طرح مخفی تبرہ بھیجا گیا کیا یہ ممکن ہے کہ معاویہ اور حسن رضی الله تعالی عنہما  نے جو خلافت قائم کی وہ اس اصولوں پر نہیں تھی جو نبی صلی الله علیہ وسلم نے سکھائے تھے ہم تو یہ  سوچنا ہی غلط سمجھتے  ہیں. رافضی تو حسن رضی الله تعالی عنہ کو پسند نہیں کرتے  اس پر شاہد انکی کتب ہیں کیونکہ انہوں نی معاویہ سے معاہدہ کرکے بنا بنایا کھیل بگاڑ دیا تھا

کہا جاتا ہے کہ اگر اس تیس سال والی روایت کو ضعیف مانا جائے تو یزید بھی خلیفہ بن جاتا ہے لہذا یہ صحیح رائے نہیں لیکن خود یزید کو اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم کی تائید حاصل تھی

صحیح بخاری کی حدیث ہے

باب إِذَا قَالَ عِنْدَ قَوْمٍ شَيْئًا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ بِخِلاَفِهِ

 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ فَقَالَ إِنِّى سَمِعْتُ النَّبِىَّ – صلى الله عليه وسلم – يَقُولُ «يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّى لاَ أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، ثُمَّ يُنْصَبُ

نافع کہتے ہیں کہ جب مدینہ والوں نے يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ کی بیعت توڑی تو عبدللہ ابن عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنے خاندان  والوں کو جمع کیا اور  کہا کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ  ہر دغا باز کے لئے قیامت کے دن اک جھنڈا گا ڑھا جائے گا – اور بے شک میں نے اس  آدمی کی بیعت کی ہے الله اور اس کے رسول (کی اتبا ع  پر) اور میں کوئی ایسا بڑا عذر نہیں جانتا کہ کسی کی الله اور رسول کے لئے بیعت کی جائے اور پھر توڑی جائے

بخاری  یزید بن معاویہ کو حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کی شہادت کا ذمہ دار نہیں سمجھتے تھے بخاری  بَابُ مَنَاقِبِ الحَسَنِ وَالحُسَيْنِ رَضِيَ الله عَنْهُمَا میں روایت کرتے ہیں کہ

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَسَأَلَهُ عَنِ المُحْرِمِ؟ قَالَ: شُعْبَةُ أَحْسِبُهُ يَقْتُلُ الذُّبَابَ، فَقَالَ: أَهْلُ العِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابن ابی نُعْمٍ کہتے ہیں میں نے عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کو سنا جب ان سے محرم (حالت احرام) کے بارے میں سوال ہوا کہ اگر محرم (احرام ) کی حالت میں مکھی قتل ہو جائے تو کیا کریں پس انہوں نے کہا أَهْلُ العِرَاقِ مکھی کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور انہوں نے رسول اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے نواسے کا قتل کیا

لیکن امت کے جمہور نے الله کے بندے یزید بن معاویہ کے حق میں عبدللہ بن عمر رضی الله تعالی عنہ کی رائے نہیں مانی ، اور اب سنی ہونے کے دعوے داروں کو بارہ خلفاء نہ اتا ہے نہ پتا.

ایک دوسری روایت جو حُذَيْفَةُ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے  پیش کی جاتی ہے امام احمد مسند میں بیان کرتے ہیں

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ بَشِيرٌ رَجُلًا يَكُفُّ حَدِيثَهُ، فَجَاءَ أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ، فَقَالَ: يَا بَشِيرُ بْنَ سَعْدٍ أَتَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْأُمَرَاءِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا أَحْفَظُ خُطْبَتَهُ، فَجَلَسَ أَبُو ثَعْلَبَةَ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًّا، فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ نُبُوَّةٍ» ثُمَّ سَكَتَ، قَالَ حَبِيبٌ: ” فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَكَانَ يَزِيدُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي صَحَابَتِهِ، فَكَتَبْتُ إِلَيْهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ أُذَكِّرُهُ إِيَّاهُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أَرْجُو أَنْ يَكُونَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، يَعْنِي عُمَرَ، بَعْدَ الْمُلْكِ الْعَاضِّ وَالْجَبْرِيَّةِ، فَأُدْخِلَ كِتَابِي عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَسُرَّ بِهِ وَأَعْجَبَهُ

تم میں نبوت کا وجود اس وقت تک رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نبوت کو اٹھالے گا اور اس کے بعد خلافت ہو گی جو نبوت کے طریقہ پر ہوگی۔ پھر خلافت کو اٹھالے گا اور اس کے بعد بادشاہت ہو گی کاٹنے والی پھر جب تک اللہ چاہے گا اسے قائم رکھے گا پھر اس کو بھی  اللہ تعالیٰ اٹھا لے گا۔ پھر تکبر اور غلبہ کی حکومت ہو گی اور جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ قائم رہے گی پھر اللہ تعالیٰ اس کو اٹھا لے گا اور اس کے بعد (دوبارہ ) نبوت کے طریقہ پر خلافت قائم ہو گی اتنا فرما کر آپ خاموش ہو گئے۔حبیب بْنُ سَالِمٍ کہتے ہیں جب عمر بن عبدالعزیز خلیفہ ہوئے اور یزید بن النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ انکے اصحاب میں سے تھے پس انہوں نے   عمر بن عبدالعزیز  کو یہ حدیث لکھ بھیجی پس انہوں (یزید بن النُّعْمَانِ بن بشیر) نے مجھ  سے کہا مجھے امید ہے کہ امیر المومنین عمر خلیفہ ہوئے ہیں کاٹنے والے بادشاہ کے بعد، پس میں خط لے کر عمر بن عبدالعزیز کے پاس گیا اور یہ وضاحت کی اور ان  (عمر بن عبدالعزیز) کو حیرانگی ہوئی

یہ روایت صحیح نہیں کم از کم امام بخاری کے نزدیک

حَبِيبُ بْنُ سَالِمٍ کے لئے امام بخاری فیه نظر کہتے ہیں اور ان سے صحیح میں کوئی روایت نہیں لی

امام مسلم نے صرف ایک روایت لی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز میں سوره الغاشیہ پڑھتے تھے

امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز کا حیران ہونا بھی معنی خیز ہے

کتاب من قال فيه البخاري فيه نظراز أبو ذر عبد القادر بن مصطفى بن عبد الرزاق المحمدي کے مطابق

حبيب بن سالم الأنصاري مولى النعمان بن بشير: قال البخاري: “فيه نظر”. وقال ابن عدي: ليس في متون أحاديثه حديث منكر بل اضطرب في أسانيد ما يروى عنه، ووثقه أبو حاتم وأبو داود، وأورده ابن حبّان في الثقات، وقال عنه ابن حجر: لا بأس به. قلت: له عند مسلم حديثٌ واحدٌ متابعةً، وروى له أحمد والدارمي والأربعة ما مجموعه أربعة أحاديث دون المكرر.

بخاری اس راوی (حبيب بن سالم الأنصاري مولى النعمان بن بشير) کو فیہ نظر کہتے ہیں ابن عدی کہتے ہیں حدیثوں میں توازن نہیں اس کی حدیث منکر ہے بلکہ اسناد میں اضطراب بھی کرتا ہے .ابو حاتم اور ابو داود ثقہ کہتے ہیں اور ابن حبان ثقات میں لائے ہیں اور اس کو ابن حجر کہتے ہیں کوئی برائی نہیں. میں  ( أبو ذر عبد القادر) کہتا ہوں مسلم نے متابعت میں صرف ایک حدیث نقل کی ہے اور اس سے احمد ،دارمی اور چاروں سنن والوں نےبلا تکرار حدیث لی ہے 

السیوطی کتاب تدريب الراوي  میں وضاحت کرتے ہیں

تنبيهات الأول البخاري يطلق فيه نظر وسكتوا عنه فيمن تركوا حديثه 

پہلی تنبیہ بخاری اگرکسی راوی پر  فیه نظر کا اطلاق کریں اور سكتوا عنه کہیں تو مراد حدیث ترک کرنا ہے

کتاب التنكيل از الشيخ المعلمي کے مطابق

وكلمة فيه نظر معدودة من أشد الجرح في اصطلاح البخاري

اور کلمہ فیہ نظر بخاری کی شدید جرح کی چند اصطلاح میں سے ہے 

اللكنوي کتاب الرفع والتكميل في الجرح والتعديل میں اس پر کہتے ہیں

 فيه نظر: يدل على أنه متهم عنده ولا كذلك عند غيره

فیہ نظر دلالت کرتا ہے کہ راوی بخاری کے نزدیک متہم ہے اور دوسروں کے نزدیک ایسا نہیں 

افسوس بخاری کی شدید جرح کو نظر انداز کر کے اس پر عقیدہ بنایا گیا ہے ہماری اپنی تحقیق کے مطابق اگرچہ مسلم اور باقی سنن اربعہ والوں نے اس کی حدیث نقل کی ہے لیکن کوئی بھی عقیدے سے متعلق نہیں ہے

اس روایت کی وجہ  سے ایک نئی اصطلاح ایجاد ہوئی یعنی خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ نُبُوَّةٍ

اس خلافت خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ نُبُوَّةٍ کے قیام کے لئے عجیب و غریب وضع قطع و نظریات کے لوگ  اہل سنت میں اٹھتے رہے ہیں اور رہیں گے . سنی علماء ان کا دفاع  بھی کرتے ہیں اور دعا بھی کرتے رہے ہیں. ان تحریکوں میں زمانہ قریب اور حال کی تحریکیں شامل ہیں مثلا مہدی سوڈانی،  محمّد بن عبدللہ القحطانی اور اسی فلسفے پر اٹھنے والی جماعتیں یعنی طالبان، ملا عمر اور اسامہ بن لادن کی تحریک، جماعت الارشاد و الدعوہ، حزب التحریر اور اب داعش .  یہ سب مہدی ہونے یا اس کے ظہور کا انتظار کرنے والے لوگ ہیں اسی لئے کالے کپڑے اور پگڑیاں پہنتے ہیں (مہدی سے متعلق تمام روایات ضعیف ہیں تفصیل کے لئے

پڑھیے ( Awaited alMahdi

لا علم جھلا لوگ انہی ضعیف روایات کو حزر جان بنا کر ایسے لوگوں کے ساتھ جہنم کا حصہ بنتے رہیں گے .کیونکہ  یہ تمام گروہ  عقیدے میں تہی داماں طاغوت پرست اور مشرکانہ عقائد رکھتے ہیں

یزید رحمہ الله علیہ کے بارے میں کذب و اتہام

تاریخ الطبری دار التراث – بيروت ج ٥ ص ٤٨٠  کے مطابق

 قَالَ لوط: وَحَدَّثَنِي أَيْضًا مُحَمَّد بن عَبْدِ الْعَزِيزِ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عوف ورجع المنذر من عِنْدَ يَزِيد بن مُعَاوِيَة، فقدم عَلَى عُبَيْد اللَّهِ بن زياد الْبَصْرَة… فأتى أهل الْمَدِينَة، فكان فيمن يحرض الناس عَلَى يَزِيد، وَكَانَ من قوله يَوْمَئِذٍ: إن يَزِيد وَاللَّهِ لقد أجازني بمائة ألف درهم، وإنه لا يمنعني مَا صنع إلي أن أخبركم خبره، وأصدقكم عنه، وَاللَّهِ إنه ليشرب الخمر، وإنه ليسكر حَتَّى يدع الصَّلاة

منذربن الزبیر اہل مدینہ کے پاس آئے تو یہ ان لوگوں میں سے تھے جو لوگوں کو یزید بن معاویہ کے خلاف بھڑکا رہے تھے۔ اور یہ اس دن کہتے تھے : اللہ کی قسم ! یزید نے مجھے ایک لاکھ درہم دئے، لیکن اس نے مجھ پر جو نوازش کی ہے وہ مجھے اس چیز سے نہیں روک سکتی کہ میں تمہیں اس کی خبر بتلاؤں اور اس کے متعلق سچ بیان کردوں ۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! یزید شرابی ہے اور شراب کے نشے میں نماز بھی چھوڑ دیتا ہے

أبو مخنف، لوط بن يحيى بن سعيد بن مخنف الكوفي ہے متروک راوی ہے

وقال الدارقطني: ضعيف

 وقال يحيى بن معين: ((ليس بثقة)). وقال مرةً أخرى: ((ليس بشيء)). ثقه نہیں ، کوئی چیز نہیں

وقال ابن عدي: ((شيعي محترق، صاحب أخبارهم)) اگ لگانے والا شیعہ ہے

 الطبقات الكبرى ، دار الكتب العلمية – بيروت، ج ٥ ص ٤٩ میں ہے

 خْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَأَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي حَسَّانَ قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيم عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَعَنْ غَيْرِهِمْ أَيْضًا. كُلٌّ قَدْ حَدَّثَنِي. قَالُوا: لَمَّا وَثَبَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيَالِيَ الحرة فأخرجوا بَنِي أُمَيَّةَ عَنِ الْمَدِينَةِ وَأَظْهَرُوا عَيْبَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَخِلافَهُ أَجْمَعُوا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ فَأَسْنَدُوا أَمْرَهُمْ إِلَيْهِ فَبَايَعَهُمْ عَلَى الْمَوْتِ وَقَالَ: يَا قَوْمُ اتَّقُوا اللَّهَ وَحْدَهُ لا شريك له. فو الله مَا خَرَجْنَا عَلَى يَزِيدَ حَتَّى خِفْنَا أَنْ نُرْمَى بِالْحِجَارَةِ مِنَ السَّمَاءِ. إِنَّ رَجُلا يَنْكِحُ الأُمَّهَاتِ وَالْبَنَاتَ وَالأَخَوَاتِ وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ وَيَدَعُ الصَّلاةَ

جب اہل مدینہ نے حرہ کے موقع پر فساد کیا، بنوامیہ کو مدینہ سے نکال دیا گیا ، یزید کے عیوب کا پرچار  اس کی مخالفت کی تو لوگوں نے عبداللہ بن حنظلہ کے پاس آکر اپنے معاملات انہیں سونپ دئے ۔ عبداللہ بن حنظلہ نے ان سے موت پر بیعت کی اور کہا: اے لوگو ! اللہ وحدہ لاشریک سے ڈرو ! اللہ کی قسم ہم نے یزید کے خلاف تبھی خروج کیا ہے جب ہمیں یہ خوف لاحق ہوا کہ ہم پر کہیں آسمان سے پتھروں کی بارش نہ ہوجائے کہ ایک آدمی ماؤں ، بیٹیوں اور بہنوں سے نکاح کرتا ہے ، شراب پیتا ہے اور نماز چھوڑتا ہے

اس کی سند میں  أبو عبد الله، محمد بن عمر بن واقد، الواقدي ، الأسلمي مولاهم، المدني ہیں. الواقدی  قاضي بغداد تھے عبد الله بن بريدة، الأسلمي کے آزاد کردہ غلام تھے سن ٢٠٧ ھ میں وفات ہوئی  انکو محدثین متروك مع سعة علمه یعنی اپنی علمی وسعت کے باوجود متروک ہیں کہتے ہیں

الواقدي کٹر شیعہ ہیں اس وجہ سے انکی روایت  نہیں لی جا سکتی ورنہ تاریخ اور جرح و تعدیل کی کتابوں میں انکے اقوال راویوں کی وفات کے حوالے سے قابل قبول ہیں اگر یہ کسی کو شیعہ کہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ بھی کٹر شیعہ ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ زِيَادٍ الأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ … أَنْ ذَكَرَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ. فَقَالَ: إِنِّي خَرَجْتُ كَرْهًا بِبَيْعَةِ هَذَا الرَّجُلِ. وَقَدْ كَانَ مِنَ الْقَضَاءِ وَالْقَدَرِ خُرُوجِي إِلَيْهِ. رَجُلٌ يَشْرَبُ الْخَمْرَ وَيَنْكِحُ الْحُرُمَ

معقل بن سنان نے یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کا ذکر کیا اور کہا: میں اس شخص کی بیعت سے کراہت کی وجہ سے نکلا ہوں ، اور اس کی طرف جانا ،قضاو قدر میں تھا ۔یہ ایسا آدمی ہے جو شراب پیتا ہے ، محرمات سے نکاح کرتا ہے

اسکی سند میں عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ زِيَاد ہے جو مجھول ہے دوسرے الواقدی شیعہ بھی ہے

أبو عمرو خليفة بن خياط بن خليفة الشيباني العصفري البصري (المتوفى: 240هـ) تاریخ میں لکھتے ہیں

وَفَاة يزِيد بن مُعَاوِيَة قرئَ عَلَى ابْن بكير وَأَنا أسمع عَن اللَّيْث قَالَ توفّي أَمِير الْمُؤمنِينَ يَزِيد فِي سنة أَربع وَسِتِّينَ لَيْلَة الْبَدْر فِي شهر ربيع الأول

وَفَاة يزِيد بن مُعَاوِيَة ، عَلَى ابْن بكير نے بیان کیا اور میں سن رہا تھا کہ لیث نے کہا أَمِير الْمُؤمنِينَ يَزِيد کی وفات ٦٤ ھ البدر ( مکمل چاند ) کی رات ہوئی ربيع الأول کے مہینے میں

اس پر ابوبکرابن العربی (المتوفی: ٥٤٣) کتاب العواصم من القواصم میں لکھتے ہیں

فإن قيل. كان يزيد خمارًا. قلنا: لا يحل إلا بشاهدين، فمن شهد بذلك عليه بل شهد العدل بعدالته. فروى يحيى بن بكير، عن الليث بن سعد، قال الليث:  توفي أمير المؤمنين يزيد في تاريخ كذا  فسماه الليث  أمير المؤمنين  بعد ذهاب ملكهم وانقراض دولتهم، ولولا كونه عنده كذلك ما قال إلا توفي يزيد

اگرکہاجائے کہ یزید شرابی تھا تو ہم کہتے ہیں کہ بغیردوگواہ کے یہ بات ثابت نہیں ہوسکتی تو کس نے اس بات کی گواہی دی ہے؟ بلکہ عادل لوگوں نے تو یزید کے عدل کی گواہی دی ہے۔چنانچہ یحیی بن بکیرنے روایت کیا کہ امام لیث بن سعد  نے کہا: امیرالمؤمنین یزید فلاں تاریخ میں فوت ہوئے ۔تو یہاں پراما م لیث  نے یزید کو امیرالمؤمنین کہا ہے ان کی حکومت اور ان کا دور ختم ہونے کے بعد ۔اگران کے نزدیک یزید اس درجہ قابل احترام نہ ہوتا تو یہ صرف یوں کہتے کہ یزید فوت ہوئے

ایک طرف تو صحابہ و صلحا امت کی یزید کی صفائی میں یہ الفاظ ہیں دوسری طرف جرح و تعدیل کے امام کہتے ہیں

لسان المیزان میں ابن حجر امام احمد کی یزید رحمہ الله علیہ کے بارے میں جرح نقل کرتے ہیں

مقدوح في عدالته ، وليس بأهل ان يروي عنه

وقال أحمد بن حنبل لا ينبغي أن يروي عنه

 (یزید بن معاویہ) اس کی عدالت میں جرح و قدح کی گئی
پس وہ اس قابل نہیں کہ اس سے روایت لی جائے اور احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ اس (یزید بن معاویہ) سے روایت نہ لی جائے

وہ شخص (یزید) جس کی عدالت کی گواہی ابن عمر رضی الله تعالی عنہ دے رہے ہیں  اور اس کے خلاف خروج کرنے کو غداری کہہ رہے ہیں ،تب انکے سامنے اس شخص (امام احمد) کے الفاظ کی کیا وقعت ہے

قَالَ صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ” قُلْت لِأَبِي: إنَّ قَوْمًا يَقُولُونَ: إنَّهُمْ يُحِبُّونَ يَزِيدَ. قَالَ: يَا بُنَيَّ وَهَلْ يُحِبُّ يَزِيدَ أَحَدٌ يُؤْمِنُ بِاَللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ؟ فَقُلْت: يَا أَبَتِ فَلِمَاذَا لَا تلعنه؟ قَالَ: يَا بُنَيَّ وَمَتَى رَأَيْت أَبَاك يَلْعَنُ أَحَدًا؟

صالح کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (امام احمد) سے  سے پوچھا کہ لوگ کہتے ہیں ہم یزید سے محبت کرتے ہیں تو انہوں نے کہا بیٹا الله پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص یزید سے محبت کر سکتا ہے میں نے کھا تو پھر اپ اس پر لعنت کیوں نہیں کرتے امام احمد نے کہا تم نے اپنے باپ کو کسی پر لعنت کرتے دیکھا ہے

بحوالہ فتآوی امام ابن تیمیہ

اللہ کے نبی صلی الله علیہ وسلم کی سچی خبر  کو کس جزم سے رد کر دیا گیا

امام بخاری صحیح میں باب ما قيل في قتال الروم میں روایت بیان کرتے ہیں کہ الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ

میری امّت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر (الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ) پر حملہ کرے گا وہ مغفور ہے

بخاری کے شا رح الْمُهَلَّبُ کہتے ہیں کہ

قَالَ الْمُهَلَّبُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَنْقَبَةٌ لِمُعَاوِيَةَ لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ غَزَا الْبَحْرَ وَمَنْقَبَةٌ لِوَلَدِهِ يَزِيدَ لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ غَزَا مَدِينَةَ قَيْصَرَ – بحوا لہ فتح الباری از ابن الحجر

الْمُهَلَّبُ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں منقبت ہے معاویہ کی کیونکہ ان کے دور میں بحری حملہ ہوا اور منقبت ہے ان کے بیٹے کی کہ انہوں نے سب سے پہلے قیصر کے شہر پر حملہ کیا

 جن خلفاء  نے امت کو رومیوں کے شر سے بچایا ان   کو ہی سراپا شر قرار دیا گیا

 امام احمد کا فضائل معاویہ کے حوالے سے کیا نقطہ نظر تھا اس پر ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں

ابن الجوزي أيضا من طريق عبد الله بن أحمد بن حنبل : سألت أبي ما تقول في علي ومعاوية ؟ فأطرق ثم قال : اعلم أن عليا كان كثير الأعداء ففتش أعداؤه له عيبا فلم يجدوا ، فعمدوا إلى رجل قد حاربه فأطروه كيادا منهم لعلي ، فأشار بهذا إلى ما اختلقوه لمعاوية من الفضائل مما لا أصل له . وقد ورد في فضائل معاوية أحاديث كثيرة لكن ليس فيها ما يصح من طريق الإسناد

  ابن الجوزی نے عبد الله بن احمد بن حنبل سے روایت کیا کہ: میں نے اپنے باپ (احمد بن حنبل) سے پوچھا کہ آپ علی رضی الله عنہ اور معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ انہوں نےہہ تھوڑے سکون کے بعد جواب دیا علی رضی الله عنہ کے بہت دشمن تھے – دشمنوں نے علی رضی الله عنھ کی زندگی میں عیوب تلاش کئے مگر ان کو نہیں ملے تو انہوں نے بھروسہ کیا اس آدمی (معاویہ رضی الله عنھ) پر جو ان (علی رضی الله عنھ) سے لڑتا تھا تو علی رضی الله عنھ کی دشمنی میں اس کی طرف توجہ کی پھر انہوں (احمد بن حنبل) نے اشارہ کیا ان فضائل کی طرف جو ان (معاویہ رضی الله عنھ) کے لئے گھڑ لئے گئے معاویہ رضی الله عنھ کے فضائل میں متعدد احادیث ہیں ان میں ایسی کوئی نہیں جو اسناد کے لحاظ سے صحیح ہو

اس  منفی سوچ  نے اہل سنت میں تفرقے کا بیج بو دیا اور اہل سنت حب اہل بیت کے دھوکے میں صلحا امت پر سب و شتم کرنے لگے اور اس کو ایمان کا  درجہ دے دیا گیا

معاویہ رضی الله تعالی عنہ نے سنت کو بدلا

یہاں ایک اور روایت پر بحث قارئیں کے لئے اہم ہے کہ کیا معاویہ رضی الله تعالی عنہ نے سنت رسول کو بدلا

امام نسائی نے سنن میں، ابن خزیمہ نے صحیح میں ،امام حاکم مستدرک میں  یہ روایت  بیان کی اور کہا هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ  کہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی روایت ہے کہ

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں عرفات میں ابن عبّاس رضی الله تعالی عنہ کے ساتھ تھا انہوں نے مجھ سے پوچھا کیا وجہ کے کہ لوگ لبیک نہیں کہہ رہے؟ میں نے کہا کہ لوگ معاویہ سے خوف زدہ ہیں. پھر ابن عبّاس باہر آئے لبیک کہا اور کہا کہ علی سے بغض کی وجہ سے انہوں  نے سنت رسول ترک کر دی

سند ہے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِعَرَفَاتٍ، فَقَالَ: “مَا لِي لَا أَسْمَعُ النَّاسَ يُلَبُّونَ؟ ” قُلْتُ: يَخَافُونَ مِنْ مُعَاوِيَةَ، فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ، مِنْ فُسْطَاطِهِ، فَقَالَ: “لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ فَإِنَّهُمْ قَدْ تَرَكُوا السُّنَّةَ مِنْ بُغْضِ عَلِيٍّ

اس کی سند میں منہال بن عمرو ہے جس کو امام جوزجانی سی المذہب یعنی بد عقیدہ کہتے ہیں اور یہ الفاظ جوزجانی شیعہ راویوں کے لئے کہتے ہیں

یہی راوی منہال بن عمرو روایت کرتا تھا کہ

علی رضی الله تعالی عنہ نے کہا

أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ، لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَذَّابٌ

میں عبد الله ہوں اور رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا بھائی ہوں اور میں سب سے بڑا صدیق ہوں، اس کا دعوی میرے بعد کوئی نہیں کرے گا سوائے كَذَّابٌ کے

امت آج تک صرف ابو بکر صدیق کو ہی صدیق کہتی آئی ہے جب کہ یہ راوی کہتا ہے کہ علی سب سے بڑے صدیق ہیں

یاد رہے کہ منہال بن عمرو صحیح بخاری کا راوی ہے لیکن امام بخاری نے اس سے عقیدے میں کوئی روایت نہیں لی اور صرف ایک،دو  روایات لکھی  ہیں

زبیر علی زئی کتاب توضیح الاحکام میں اسی راوی کی عود روح والی روایت کا  دفاع کرتے ہوئے لکھتا ہے

zubair-minhal

حالانکہ کسی راوی سے صحیح میں روایت لینے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی ہر روایت کو صحیح مانا جائے

حسین رضی الله عنہ کی شہادت

حسن رضی الله عنہ نے علی رضی الله عنہ کی وفات کے  اگلے سال ٤١ ھجری میں  خلافت سے دست برداری کا ١علان کر دیا – چونکہ وہ حسین رضی الله عنہ کے بڑے بھائی تھے اس لئے خاندان علی کے اک نمائندہ تھے – معاویہ رضی الله عنہ کے دور میں دونوں بھائیوں کو وظیفہ بھی ملتا رہا – حسن رضی الله عنہ کی سن ٥٠ ھجری میں وفات ہوئی – سن ٥١ ہجری میں یزید بن معاویہ نے الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ پر حملہ کر کے امّت میں اپنی امیر کی صلاحیتوں کو منوا لیا – اس حملے میں جلیل القدر اصحاب رسول بھی ساتھ تھے – سن ٥١ ھجری میں معاویہ رضی الله عنہ نے یزید کی بیعت کی طرف لوگوں کو دعوت دی

بخاری نے سوره الاحقاف کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ

باب {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُونُ مِنْ قَبْلِي وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ اللَّهَ وَيْلَكَ آمِنْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَيَقُولُ مَا هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ (17)} [الأحقاف: 17]

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِى بِشْرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ قَالَ كَانَ مَرْوَانُ عَلَى الْحِجَازِ اسْتَعْمَلَهُ مُعَاوِيَةُ، فَخَطَبَ فَجَعَلَ يَذْكُرُ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، لِكَىْ يُبَايِعَ لَهُ بَعْدَ أَبِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ شَيْئًا، فَقَالَ خُذُوهُ. فَدَخَلَ بَيْتَ عَائِشَةَ فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْوَانُ إِنَّ هَذَا الَّذِى أَنْزَلَ الله فِيهِ {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي}. فَقَالَتْ عَائِشَةُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ مَا أَنْزَلَ الله فِينَا شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِلاَّ أَنَّ الله أَنْزَلَ عُذْرِى.

مروان جو معاویہ رضی الله تعالیٰ کی جانب سے حجاز پر (گورنر ) مقرر تھے انہوں نے معاویہ کے بعد يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ کی بیعت کے لئے خطبہ دیا – پس عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ نے کچھ بولا – جس پر مروان بولے اس کو پکڑو اور عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ عائشہ رضی الله تعالیٰ کے گھر میں داخل ہو گئے – اس پر مروان بولے کہ یہی وہ شخص ہے جس کے لئے نازل ہوا ہے {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي} – اس پر عائشہ رضی الله تعالیٰ نے پردے کے پیچھے سے فرمایا کہ ھمارے لئے قرآن میں سواے برات کی آیات کے کچھ نازل نہ ہوا

عائشہ رضی الله تعالی عنہا ٰ کی وفات ٥٧ ھجری کی ہے لہذا یہ واقعہ معاویہ ر ضی الله تعالیٰ عنہ سے کم از کم تین سال پہلے کا ہے

أبو عمرو خليفة بن خياط (المتوفى: 240هـ) اپنی کتاب تاريخ خليفة بن خياط میں لکتھے ہیں کہ

فِي سنة إِحْدَى وَخمسين وفيهَا غزا يَزِيد بْن مُعَاوِيَة أَرض الرّوم وَمَعَهُ أَبُو أَيُّوب الْأنْصَارِيّ وفيهَا دَعَا مُعَاوِيَة بْن أَبِي سُفْيَان أهل الشَّام إِلَى بيعَة ابْنه يَزِيد بْن مُعَاوِيَة فأجأبوه وَبَايَعُوا

اور سن ٥١ ھجری میں یزید بن معاویہ نے رومی سر زمین پر جہاد کیا اور ان کے ساتھ تھے أَبُو أَيُّوب الْأنْصَارِيّ اور اسی سال مُعَاوِيَة بْن أَبِي سُفْيَان نے اہل شام کو یزید بن معاویہ کی بیعت کی دعوت دی جس کو انہوں نے قبول کیا اور بیعت کی

کوفیوں نے حسین رضی الله تعالی عنہ کو ورغلایا اور کوفہ آنے کی دعوت دی  حسین اپنے خاندان والوں کو لے کر کوفہ گئے راستے میں حسین نے مسلم بن عقیل بن ابی طالب کو کوفہ بھیجا – مسلم نے کوفہ میں حسین کی اجازت سے پہلے خروج ظاہر کر دیا اور بیت المال لوٹا جس کی پاداش میں بصرہ کے گورنر عبید الله ابن زیاد نے مسلم بن عقیل کا سر تن سے جدا کر دیا- اس کی خبر حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کو ہو گئی اور وہ زور اور قوت جس کا دعویٰ کوفیوں نے کیا تھا اس کی قلعی کھل گئی – حسین رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنا راستہ بدل لیا اور اسی سے ظاہر ہے کہ حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کا خروج کے حوالے سے موقف بدل چکا تھا اور وہ کوفہ سے دور جا رہے تھے – کوفہ کے بلوائیوں کو پتا تھا کہ اگر حسین کے پاس سے وہ خطوط حکومت تک پہنچ گئے تو ان کی شامت آ جاۓ گی لہذا خط تلف کرنے کی غرض سے حسینی قافلے کا پیچھا کیا گیا اور خیموں کو آگ لگا دی گئی. یہ سب کربلہ میں کوفہ سے چالیس میل دور ہوا اور ہوش مندوں کے لئے نشانی چھوڑ گیا کہ حسین کا موقف خروج کے حوالے سے بدل چکا تھا . مدینہ سے اگر کوئی کربلا جائے تو کوفہ پہلے اور کربلا بعد میں اتا ہے – اس بلوے میں علی بن حسین اور کچھ خواتین بچ گئیں لیکن حسین رضی الله تعالیٰ عنہ شہید ہو گئے

اجتہادی غلطی

عبدللہ بن زبیر اور حسین بن علی رضی الله عنہم کا خروج حدیث رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے خلاف تھا

یزید بن معاویہ کی بعیت ان دونوں کے خروج سے دس سال پہلے سے ہو رہی تھی لیکن انہوں نے اس پر اپنا اعتراض پیش نہیں کیا لیکن معاویہ رضی الله تعالی عنہ کی وفات کے بعد خروج کیا جبکہ ان دونوں کو وہ عصبیت یا سپورٹ حاصل نہ تھی جو یزید کو حاصل تھی

امت کے پاس اس وقت یہ فرمودات النبوی تھے

ابو سعید خدری رضی الله تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
إذا ابو یع للخلیفتین فاقتلو الآخر منھما
جب دو خلفاء کی بیعت کی جائے تو ان دونوں میں سے آخر والے کو قتل کردو۔ صحیح مسلم

عرفجہ رضی الله تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا
جو شخص تمہارے پاس آئے اور حالت یہ ہو کہ تم سب ایک شخص (خلیفہ) پر متحد ہو اور وہ تمہارے اتحاد کو توڑنے کا ارادہ رکھتا ہو یا تمہاری جماعت کو متفرق کر دینا چاہتا ہو تو تم اس کو قتل کر دو

صحیح مسلم

دوسری روایت میں اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں
عنقریب طرح طرح کے شر و فسادات رونما ہوں گے پس جو شخص اس امت کے اتحاد و اتفاق کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کرے جب کہ وہ (ایک خلیفہ پر ) مجتمع ہو چکی ہو تو اسے تلوار سے قتل کر دو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ صحیح مسلم کتاب الامارۃ ،

عبداللہ بن عمر و بن العاص رضی الله تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
جس شخص نے امام سے خلوص نیت کے ساتھ بیعت کر لی حتی المقدور اس کی اطاعت کرے اور اگر کوئی دوسرا شخص اس کے مقابلے میں (خلافت کا دعویٰ لے کر ) آ جائے تو اس کی گردن ماردو. صحیح  مسلم

ان احادیث کی روشنی میں کسی بھی خروج کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی شاید ابن زبیر رضی الله عنہ کا گمان ہو کہ مکّہ میں انکی خلافت اور باقی جگہ مروان کی خلافت قائم ہو سکتی ہے. اسی طرح حسین رضی الله تعالی عنہ کا گمان ہو گا کہ کوفہ میں میری خلافت اور شام میں یزید کی خلافت قائم رہ سکتی ہے لیکن انہوں نے اندازہ نہیں لگایا کہ صرف خلافت کا  اعلان و قیام ہی ضروری نہیں بلکہ اس کا استحکام بھی ضروری ہے جس کے لئے عصبیت درکار ہے جو مفقود ہے

یہی وجہ ہے حسین رضی الله تعالی عنہ کے ساتھ صرف ان کے خاندان والے تھے سارے اہلبیت بھی نہیں تھے( مثلا حسین کے بھائی  محمد بن (علی) حنفیہ بن ابی طالب  ابن عباس رضی الله تعالی عنہ )،  اور ابن زبیر رضی الله تعالی عنہ کے ساتھ مکہ والے .فرق صرف یہ ہے کہ ابن زبیررضی الله تعالی عنہ کے ساتھ مکّہ والے لڑےلیکن حسین رضی الله تعالی عنہ کے حامی کوفہ والے بھگوڑے نکلے اور عین موقعہ پر بھآگ نکلے

یاد رہے کہ  صحیحین کی حدیث میں ہے

إنما الإمام جنۃ یقاتل من ورائہ ویتقی بہ فإن أمر بتقوی اللہ وعدل فإن لہ بذلک أجراً وإن قال بغیرہ فإن علیہ منہ

بے شک امام (خلیفہ) ڈھال کی مانند ہے جس کے پیچھے (یعنی سربراہی  میں دشمنوں سے ) جنگ کی جاتی ہے اور (اس کی خلافت میں )  ڈر کررہا جاتاہے،  پس اگر الله سے ڈز کر حکم کرے اور عدل کرے تواس کو اس کے سبب اجر ملے گا اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کا گناہ اس پر ہو گا۔

اب اگر امام ہی اپنے اپ کو نہ بچا پائے تو پھر اس کو اس کا حق نہیں کہ اپنے ساتھ لوگوں کو خروج کی دعوت دے

صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ ابن عمر رضی الله تعالی عنہ نے ابن زبیر رضی الله تعالی عنہ کی سولی پر لاش سے کلام کیا

عبدالله بن عمر فوقف عليه فقال السلام عليك أبا خبيب السلام عليك أبا خبيب السلام عليك أبا خبيب أما والله لقد كنت أنهاك عن هذا أما والله لقد كنت أنهاك عن هذا أما والله لقد كنت أنهاك عن هذا

سلام ہو تم پر اے أبا خبيب! سلام ہو تم پر اےأبا خبيب ! سلام ہو تم پر اے أبا خبيب ! اللہ کی قسم میں نے تم کو اس سے منع کیا تھا، الله کی قسم میں نے تم کو اس سے منع کیا تھا، الله کی قسم میں نے تم کو اس سے منع کیا تھا

اس اجتہادی غلطی کی وجہ سے امت کو جو غم ملا وہ انتہائی شدید تھا اور الفاظ شاید اس کو بیان نہیں کر سکتے لیکن افسوس اتنی جلیل القدر ہستیوں کو کون سمجھا سکتا تھا،یہ تو کر گزرنے والا فعل تھا جس کا نتیجہ الله پر چھوڑ دیا گیا  تھا. اس میں جذبات زیادہ تھے اور اسی لئے آج تک امت کا اس واقعہ سے جذباتی لگاو ہے .جس کو قیامت تک ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن اس نے تعصب اور شرک  کا ایک نیا باب کھول  دیا

جلتی پر تیل

ابن عبّاس رضی اللہ عنہ کی روایت

امام احمد مسند میں روایت لکھتے ہیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ” رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذَا؟ قَالَ: دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ لَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ

الْيَوْمَ ” قَالَ عَمَّارٌ: ” فَحَفِظْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ

ابن عباس رضی الله عنہ فرماتے ہیں

میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں اس حال میں دیکھا کہ آپ کے بال بکھرے ہوۓ تھے، اور ان پر گرد و غبار پڑا ہوا تھا، اور ہاتھ میں خون سے بھری ایک بوتل تھی،میں نے پوچھا یا رسول الله یہ کیا ہے؟تو آپ نے فرمایا  یہ حسین اور اسکے ساتھیوں کا خون ہے جسکو میں صبح سے جمع کر رہا ہوں

علم الغیب میں نقب لگانے والے اس اس جھوٹے راوی پر الله کی مار ظالموں الله کے نبی صرف اپنے رشتہ داروں کے لئے نہیں بنے تھے پوری امت کے نبی تھے اس واقعہ سے پہلے ایک دفعہ بھی خواب میں نہ آئے زمین خوں سے رنگین ہوئی جنگ جمل و صفین میں لیکن امت  کی رہنمائی نہیں کی

اسکی سند کا راوی مختلف فیہ ہے عمار بن أبي عمار مولى بني هاشم ہے کتاب  اکمال مغلطائی  میں ہے

وقال البخاري: أكثر من روى عنه أهل البصرة…و لا یتابع علیہ

ابن حبان مشاہیر میں کہتے ہیں

وكان يهم في الشئ بعد الشئ

اسکو بات بے بات وہم ہوتا ہے

ابو داود کہتے ہیں شعبہ نے اس سے روایت لی لیکن کہا

وكان لا يصحح لي

میرے نزدیک صحیح نہیں

یحیی بن سعید کہتے ہیں شعبہ نے صرف ایک روایت اس سے لی

امام مسلم نےاس سےصرف ایک روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم مکہ میں کتنے عرصے رہے

امام بخاری نے کوئی روایت نقل نہیں کی لہذا اس سے عقیدے پر روایت نہیں لی گئی

زبیر علی زئی  مضمون شہادت حسین اور بعض غلط فہمیوں کا ازالہ  میں مقلدانہ انداز میں   ابن عبّاس کی اس روایت  کو حسن لذاتہ قرار دیتے  ہیں

کیا یہ بد عقیدگی نہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو علم الغیب ہے کہ حسین شہید ہو گئے ہیں. حسین کی لاش دنیا میں اور روح جنت میں ہو گی لیکن نبی صلی الله علیہ وسلم انکو جنت میں چھوڑ کر کربلا میں خوں جمع کر رہے ہیں یہ کیا بات ہوئی

عبدللہ ابن عبّاس رضی الله تعالی عنہ المتوفی ٦٨ ھ نے یزید بن معاویہ کے ہاتھ پر بعیت کی اور انکے بعد مروان بن الحکم  اور مروان بن الحکم کے ہاتھ پر بھی .شیعہ اسکو تقیہ کہتے ہیں اور اہل سنت چھپاتے ہیں

عبدللہ بن عبّاس رضی الله تعالی عنہ اہل بیت میں سے ہیں لیکن حسین رضی الله تعالی عنہ کے ساتھ کوفہ نہیں گئے بلکہ انکو اس خروج سے منع بھی کیا

ام سلمہ رضی الله تعالی عنہا کی روایت

طبرانی روایت کرتے ہیں کہ عَمَّارِ بنِ أَبِي عَمَّارٍ کہتا ہے کہ

حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ: عَنْ عَمَّارِ بنِ أَبِي عَمَّارٍ؛ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُوْلُ
سَمِعْتُ الجِنَّ يَبكِيْنَ عَلَى حُسَيْنٍ، وَتَنُوحُ عَلَيْهِ

ام سلمہ کو سنا میں نے ایک جن کو سنا جو حسین پر نوحہ کر رہا تھا

عَمَّارِ بنِ أَبِي عَمَّارٍ پر بحث اوپر گزری ہے ابن عبّاس کو نبی نے خواب میں حسین کی شہادت کا بتایا اور ام سلمہ کو جن نے

جبکہ ام سلمہ تو حسین کی شہادت سے پہلے وفات پا چکی ہیں

ترمذی روایت کرتے ہیں

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَزِينٌ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي سَلْمَى، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، وَهِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَعْنِي فِي المَنَامِ، وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ الله، قَالَ: “شَهِدْتُ قَتْلَ الحُسَيْنِ آنِفًا” هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

سلمی سے روایت ہے کہ میں نے ام المومنین ام سلمہ رضی الله تعالی عنہا سے رونے کا سبب پوچھا اور کہا : کس شے نے آپ کو گریہ وزاری میں مبتلا کر دیا ہے؟ آپ نے کہا : میں نے خواب میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی زیارت کی ہے . اپ کا سر اور ریش مبارک گرد آلود تھی.میں نے عرض کی ، یارسول ،آپ کی کیسی حالت بنی ہوئی ہے ؟ رسول الله نے فرمایا: میں نے ابھی ابھی حسین کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے

ترمذی اور مستدرک الحاکم میں یہ روایت نقل ہوئی ہے

اس کی سند میں سَلْمَى الْبَكْرِيَّةِ ہیں

تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي میں مبارکپوری لکھتے ہیں

هَذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ لِجَهَالَةِ سَلْمَى

سَلْمَى کے مجھول ہونے کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے

کتاب مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح کے مطابق

وَمَاتَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ

اور ام سلمہ کی وفات ٥٩ ھ میں ہوئی

تاریخ کے مطابق حسین کی شہادت سن ٦١ ہجری میں ہوئی

لہذا یہ ایک جھوٹی روایت ہے

الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم خواب میں نظر آ رہے ہیں وہ بھی پریشان اور غم میں ڈوبے ہوئے

انہی روایات کی بنیاد پر امت میں شرک در آیا کہ الله کے نبی وفات کے بعد غیب کی خبر بھی دیتےہیں اور اس  روایت کو البانی صحیح قرار دیتے ہیں جس چیز کو یہ شرک مانتے ہیں اس کی روایت پڑھتے وقت ان کی عقل ماؤف ہو جاتی ہے

تاریخ دمشق ابن عساکر کی روایت ہے

أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الباقي أنا أبو محمد الحسن بن علي أنا أبو عمر محمد بن العباس أنا أبو الحسن أحمد بن معروف أنا الحسين بن الفهم أنا محمد بن سعد أنا محمد بن عبد الله الأنصاري نا قرة بن خالد أخبرني عامر بن عبد الواحد عن شهر بن حوشب قال أنا لعند أم سلمة زوج النبي (صلى الله عليه وسلم) قال فسمعنا صارخة فأقبلت حتى انتهيت إلى أم سلمة فقالت قتل الحسين قالت قد فعلوها ملأ الله بيوتهم أو قبورهم عليهم نارا ووقعت مغشيا عليها وقمنا

شہر بن حوشب سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی زوجہ ام سلمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے پاس موجود تھا۔ میں نے  حسین  کی شہادت کی خبر سنی تو ام سلمہ کو بتایا ۔(کہ سیدنا حسینؓ شہید ہوگئے ہیں) انہوں نے فرمایا: ان لوگوں نے یہ کام کردیاہے، اللہ ان کے گھروں یا قبروں کو آگ سے بھر دے ۔ اور وہ (غم کی شدت سے ) بیہوش ہوگئی

تاریخ دمشق ابن عساکر کی روایت ہے

أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الباقي أنا أبو محمد الحسن بن علي إملاء ح

وأخبرنا أبو نصر بن رضوان وأبو غالب أحمد بن الحسن وأبو محمد عبد الله بن محمد قالوا أنا أبو محمد الحسن بن علي أنا أبو بكر بن مالك أنا إبراهيم بن عبد الله نا حجاج نا حماد عن أبان عن  شهر بن حوشب عن أم سلمة قالت كان جبريل عند النبي (صلى الله عليه وسلم) والحسين معي فبكى فتركته فدنا من النبي (صلى الله عليه وسلم) فقال جبريل أتحبه يا محمد فقال نعم قال جبرائيل إن أمتك ستقتله وإن شئت أريتك من تربة الأرض التي يقتل بها فأراه إياه فإذا الأرض يقال لها كربلا

شہر بن حوشب کہتا ہے کہ ام سلمة رضی الله عنہا نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے اور حسین ان کے ساتھ تھے پس وہ روئے…جبریل نے بتایا کہ اپ کی امت اس بچے کو قتل کرے گی اور اپ چاہیں تو میں وہ مٹی بھی دکھا دوں جس پر قتل ہونگے پس اپ صلی الله علیہ وسلم کو زمین دکھائی اور اپ نے اس کو كربلا  کہا

ان دونوں روایات میں کی سند میں  شہر بن حوشب  ہے

النَّسَائِيُّ  کہتے ہیں : لَيْسَ بِالقَوِيِّ، قوی نہیں .

ابْنُ عَدِيٍّ کہتے ہیں: لاَ يُحْتَجُّ بِهِ، وَلاَ يُتَدَيَّنُ بِحَدِيْثِهِ اس کی حدیث ناقابل دلیل ہے.

أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ کہتے ہیں: وَلاَ يُحْتَجُّ بِهِ،  اس کی حدیث نا قابل دلیل ہے .

يَحْيَى بنِ مَعِيْنٍ: ثِقَةٌ کہتے ہیں.

عَبْدِ اللهِ بنِ عَوْنٍ، قَالَ: إِنَّ شَهْراً تَرَكُوْهُ  اس کو متروک کہتے ہیں

الذھبی  کہتے ہیں اس کی حدیث حسن ہے اگر متن صحیح ہو اور اگر متن صحیح نہ ہو تو اس سے دور رہا جائے کیونکہ یہ ایک احمق مغرور تھا

الذھبی کتاب سير أعلام النبلاء  میں اس پر لکھتے ہیں

قُلْتُ: مَنْ فَعَلَهُ لِيُعِزَّ الدِّيْنَ، وَيُرْغِمَ المُنَافِقِيْنَ، وَيَتَوَاضَعَ مَعَ ذَلِكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ، وَيَحْمَدَ رَبَّ العَالِمِيْنَ، فَحَسَنٌ، وَمَنْ فَعَلَهُ بَذْخاً وَتِيْهاً وَفَخْراً، أَذَلَّهُ اللهُ وَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَإِنْ عُوْتِبَ وَوُعِظِ، فَكَابَرَ، وَادَّعَى أَنَّهُ لَيْسَ بِمُخْتَالٍ وَلاَ تَيَّاهٍ، فَأَعْرِضْ عَنْهُ، فَإِنَّهُ أَحْمَقٌ مَغْرُوْرٌ بِنَفْسِهِ.

اس سے سنن اربعا اور مسلم نے مقرونا روایت لی ہے

کتاب رجال صحیح مسلم  از ابن مَنْجُويَه (المتوفى: 428هـ) کے مطابق

مسلم نے صرف ایک روایت کہ کھمبی ، من میں سے ہے لی ہے

تاریخ دمشق ابن عساکر کی ایک اور روایت ہے

أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسين نا أبو الحسين بن المهتدي أنا أبو الحسن علي بن عمر  الحربي نا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار نا عبد الرحمن يعني ابن صالح الأزدي نا أبو بكر بن عياش عن موسى بن عقبة عن داود قال قالت أم سلمة دخل الحسين على رسول الله (صلى الله عليه وسلم) ففزع فقالت أم سلمة ما لك يا رسول الله قال إن جبريل أخبرني أن ابني هذا يقتل وأنه اشتد غضب الله على من يقتله

ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس حسین بن علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) موجود تھے اورآپ رو رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: مجھے جبریل (علیہ السلام) نے بتایا کہ میری امت اسے میرے بعد قتل کرے گی

اس کی سند میں موسى بن عقبة ہے جو ثقہ ہیں لیکن مدلس. داود مجھول ہے جس سے یہ روایت نقل کر رہے ہیں

معجم الکبیر طبرانی ج ٣ ص ١٠٨  میں روایت ہے

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ فِي بَيْتِي، فَقَالَ: «لَا يَدْخُلْ عَلَيَّ أَحَدٌ» . فَانْتَظَرْتُ فَدَخَلَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَمِعْتُ نَشِيجَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي، فَاطَّلَعْتُ فَإِذَا حُسَيْنٌ فِي حِجْرِهِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ جَبِينَهُ وَهُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ: وَاللهِ مَا عَلِمْتُ حِينَ دَخَلَ، فَقَالَ: ” إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ مَعَنَا فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: تُحِبُّهُ؟ قُلْتُ: أَمَّا مِنَ الدُّنْيَا فَنَعَمْ. قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُ هَذَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا كَرْبَلَاءُ “. فَتَنَاوَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ تُرْبَتِهَا، فَأَرَاهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُحِيطَ بِحُسَينٍ حِينَ قُتِلَ، قَالَ: مَا اسْمُ هَذِهِ الْأَرْضِ؟ قَالُوا: كَرْبَلَاءُ. قَالَ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ، أَرْضُ كَرْبٍ وَبَلَاءٍ

اس کی سند میں عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَب  ہے جو مجھول ہے

طبرانی الکبیر میں قول ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «لَوْ كُنْتُ فِيمَنْ قَتَلَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، ثُمَّ غُفِرَ لِي، ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَمُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْظُرَ فِي وَجْهِي»

 ابراہیم بن یزید النخعی نے فرمایا:اگر میں ان لوگوں میں ہوتا جنہوں نے حسین بن علی کو قتل (شہید) کیا، پھر میری مغفرت کردی جاتی ، پھر میں جنت میں داخل ہوتا تو میں نبی صلی الله علیہ وسلم  کے پاس گزرنے سے شرم کرتا کہ کہیں آپ میری طرف دیکھ نہ لیں۔

اس کی سند میں مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الضَّبِّيِّ ہے

الأزدي اس کو منكر الحديث کہتے  ہیں ابن حجر صدوق کہتے ہیں

اسکی سند میں سعيد بن خثيم بن رشد الهلالى  ہے جس  ابن حجر ،  صدوق رمى بالتشيع له أغاليط کو کہتے ہیں

اصل میں روایت پرستی میں مبتلا اہل حدیث دیوبندی اور وہابی حضرات ان روایات کو صحیح کرتے رہے ہیں جن سے  شرک  پھیل رہا ہے

الله ہدایت دے

امام بخاری صحیح میں باب ما قيل في قتال الروم  میں روایت بیان کرتے ہیں کہ الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ

 میری امّت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر (الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ) پر حملہ کرے گا وہ مغفور ہے

بخاری کے شا رح  الْمُهَلَّبُ  کہتے ہیں کہ

قَالَ الْمُهَلَّبُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَنْقَبَةٌ لِمُعَاوِيَةَ لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ غَزَا الْبَحْرَ وَمَنْقَبَةٌ لِوَلَدِهِ يَزِيدَ لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ غَزَا مَدِينَةَ قَيْصَرَ – بحوا لہ فتح الباری از ابن الحجر

 الْمُهَلَّبُ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں منقبت ہے معاویہ کی کیونکہ ان کے دور میں بحری حملہ ہوا اور منقبت ہے ان کے بیٹے کی کہ انہوں نے سب سے پہلے قیصر کے شہر پر حملہ کیا

اس کے برعکس ماہ نامہ الحدیث حضرو نمبر ٦ سن ٢٠٠٤ کے شمارے میں اہل حدیث عالم  حافظ زبیر علی زئی لکھتے ہیں کہ
سنن ابی داود کی ایک حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یزید والے حملے سے پہلے بھی قسطنطينية پر حملہ ہوا ہے جس میں جماعت (پورے لشکر ) کے امیر عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ تھے – چونکہ یہ حدیث ان لوگوں کے لئے زبردست رکاوٹ ہے جو ضرور بالضرور یزید کا بخشا بخشا یا ہونا ثابت کرنا چاہتے ہیں

مزید لکھتے ہیں کہ
خلاصہ تحقیق : یزید بن معاویہ کے بارے میں دو باتیں انتہائی اہم ہیں

١. قسطنطينية پر پہلے حملہ آور لشکر میں اسکا موجود ہونا ثابت نہیں

٢. یزید کے بارے میں سکوت کرنا چاہیے حدیث کی روایت میں وہ مجروح راوی ہے

ضروری ہے کہ تاریخی حقائق کو تسلیم کیا جائے اور کسی کو بھی اپنے بغض و عناد کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے لہذا اس بلاگ میں اس تاریخی مسئلہ پر بحث کی گئی ہے

أبو عمرو خليفة بن خياط  (المتوفى: 240هـ) اپنی کتاب تاريخ خليفة بن خياط میں لکھتے  ہیں کہ

كتب عُثْمَان إِلَى مُعَاوِيَة أَن يغزي بِلَاد الرّوم فَوجه يَزِيد بْن الْحر الْعَبْسِي ثمَّ عَبْد الرَّحْمَن بْن خَالِد بْن الْوَلِيد عَلَى الصائفتين جَمِيعًا ثمَّ عَزله وَولى سُفْيَان ابْن عَوْف الغامدي فَكَانَ سُفْيَان يخرج فِي الْبر ويستخلف عَلَى الْبَحْر جُنَادَة بْن أَبِي أُميَّة فَلم يزل كَذَلِكَ حَتَّى مَاتَ سُفْيَان فولى مُعَاوِيَة عَبْد الرَّحْمَن بْن خَالِد بْن الْوَلِيد ثمَّ ولى عبيد اللَّه بْن رَبَاح وشتى فِي أَرض الرّوم سنة سِتّ وَثَلَاثِينَ

عثمان رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں معاویہ رضی الله تعالیٰ عنہ  کو حکم لکھا کہ روم کے شہروں پر حملے کئے جائیں پس معاویہ نے توجہ کی يَزِيد بْن الْحر الْعَبْسِي  کی طرف  عَبْد الرَّحْمَن بْن خَالِد بْن الْوَلِيد  کی طرف  اور دونوں کو گرمیوں کے  موسم میں امیر مقرر کیا پھر ہٹا دیا اور سُفْيَان ابْن عَوْف الغامدي کو مقرر کیا – سُفْيَان ابْن عَوْف الغامدي کو بری جنگ پر اور بحری معرکے پر جُنَادَة بْن أَبِي أُميَّة  کو مقرر کیا اور ان کو معذول نہیں کیا حتیٰ کہ سفیان کی وفات ہوئی – اس کے بعد مُعَاوِيَة عَبْد الرَّحْمَن بْن خَالِد بْن الْوَلِيد کو مقرر کیا اور ان کے بعد عبيد اللَّه بْن رَبَاح  کو روم کے شہروں کے لئے مقرر کیا سن ٣٦  ھجری تک

الذهبي (المتوفى: 748هـ) اپنی کتاب  تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام  میں سن ٣٢  ھجری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ

سنة اثنتين وثلاثين:  فيها كانت وقعة المضيق بالقرب من قسطنطينية، وأميرها معاوية

سن ٣٢ ھجری : اور اس میں  المضيق  کا واقعہ ہوا جو قسطنطينية کے قریب  ہے ، اور اس کے امیر  معاوية تھے

المضيق اک استریت ہے اور اس سے مراد دردانیلیس ہے جو ایجین سمندر کو مرمرا سمندر سے ملاتا ہے اور اک تنگ سمندری گزر گاہ ہے

strait= استریت

Dardanelles= دردانیلیس

Aegean Sea=ایجین

Marmara= مرمرا

لیکن ان تمام معرکوں کے باوجود اسلامی لشکر الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ  نہیں پہنچ سکا

الذهبي (المتوفى: 748هـ) اپنی کتاب  تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام  میں سن ٥٠ ھجری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ

وَفِيهَا غَزْوَةُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ، كَانَ أَمِيرُ الْجَيْشِ إِلَيْهَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَكَانَ مَعَهُ وُجُوهُ النَّاسِ، وَمِمَّنْ كَانَ مَعَهُ أَبُو أيوب الأنصاري -رضي الله عنه

اور اس میں غَزْوَةُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ ہوا اور امیر لشکر عساکر یزید بن معاویہ تھے اور ان کے ساتھ لوگ تھے اور أَبُو أيوب الأنصاري -رضي الله عنه. بھی ساتھ تھے

  مزید تفصیل أبي زرعة الدمشقي (المتوفى: 281هـ) بتاتے ہیں کہ

أبي زرعة الدمشقي (المتوفى: 281هـ) اپنی کتاب تاريخ أبي زرعة الدمشقي میں لکھتے ہیں کہ

قَالَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: فَأَغْزَا مُعَاوِيةُ الصَّوَائِفَ، وَشَتَّاهُمْ بِأَرْضِ الرُّومِ سِتَّ عَشْرَةَ صَائِفَةً، تَصِيفُ بِهَا وَتَشْتُو، ثُمَّ تُقْفِلُ وَتَدْخُلُ مُعَقِّبَتُهَا، ثُمَّ أَغْزَاهُمْ مُعَاوِيَةُ ابْنُهُ يَزِيدَ فِي سَنَةِ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ فِي جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ فِي الْبَرِّ وَالبْحَرِ حَتَّى جَازَ بِهِمِ الْخَلِيجَ، وَقَاتَلُوا أَهْلَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ عَلَى بَابِهَا، ثُمَّ قَفَلَ

سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِکہتے ہیں کہ مُعَاوِيةُ نے الصَّوَائِفَ (گرمیوں کے موسم میں حملے ) کیے اور سولہ حملے ارض روم پر کیے … پھر یزید بن معاویہ نے ٥٥ ھجری میں اصحاب رسول کی جماعت کے ساتھ سمندر اور خشکی کے ذریعہ حملہ کر کے خلیج کو پار کیا اور اہل الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ سے ان کے دروازے پر جنگ کی …

(عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ (المتوفى: ٤٦ هـ

 عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ کے حوالے سے روایات میں بیان ہوا ہے کہ وہ اس لشکر کے اوپر امیر تھے جس نے الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ  پر حملہ کیا – یہ روایت سنن ابی داوود ، جا مع ترمذی ، تفسیر ابن ابی حاتم ، مستدرک حاکم وغیرہ میں بیان ہوئی ہیں – تفسیر کی کتابوں میں یہ روایت اس لئے موجود ہے کہ اس میں سوره البقرہ کی اک آیت   {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلاَ تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ}  کا ذکر بھی آتا ہے –  عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ کے حوالے سے تاریخ خلیفہ بن خیاط  میں بیان ہوا ہے کہ  ارض روم پر کسی حملے میں معاویہ رضی الله عنہ نے ان کو استعمال کیا تھا لیکن ان کے بعد اور لوگوں کو مقرر کیا جس  سے ظاہر ہے کہ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ کو ابتدائی دور میں امیر لشکر بنایا گیا تھا – سب سے  اہم بات یہ ہے کہ ٣٢ ھجری میں  خود معاویہ رضی الله عنہ بھی الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ  کے پاس المضيق  تک پہنچ پائے – اس سے صاف ظاہر ہے کہ  عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ بھی الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ   نہیں پہنچ سکے تھے

الذهبي (المتوفى: 748هـ) اپنی کتاب  تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام  میں عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ کے لئے لکھتے ہیں کہ

وَكَانَ يَسْتَعْمِلُهُ مُعَاوِيَةُ عَلَى غَزْوِ الرُّومِ. وَكَانَ شَرِيفًا شُجَاعًا مُمَدَّحًا

ان کو معاویہ رضی الله تعالیٰ عنہ  نے روم کے معرکے  میں مقرر کیا اور یہ شریف – بہادر  اور ممدوح تھے

الذهبي جو اک معتدل مورخ ہیں انہوں نے کہیں بھی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ کے لئے الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ کے معرکوں کا ذکر نہیں کیا- ا وہ ان معرکوں میں شامل ہوۓ جو ارض روم کے مختلف شہروں میں ہوۓ – روم وسیع علاقہ تھا جس میں موجودہ ترکی اور قبرص و یونان کے جزائر بھی شامل تھے

اب ان روایات کی اسناد دیکھتے ہیں جن میں عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ  کا  الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ پر  حملے کا تذکرہ آ رہا ہے – الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ کے حوالے سے یہ تمام روایات تقریبا اک سند  (حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، وَابْنِ لَهِيعَةَ  عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ)  سے آ رہی ہیں لیکن اضطراب کا شکار ہیں جیسا کہ مندرجہ ذیل شجرہ کو دیکھنے  سے ہوتا ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، وَابْنِ لَهِيعَةَ

عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ

غَزَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ

سنن أبي داود

مَا قُرِئَ عَلَى يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ

غَزَوْنَا الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ

تفسير القرآن العظيم لابن أبي حاتم

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ، مَوْلًى لِكِنْدَةَ

كُنَّا بِمَدِينَةِ الرُّومِ

صحيح ابن حبان

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ

غَزَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ

المستدرك على الصحيحين

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، أَنْبَأَ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَخْبَرَنِي أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ، مَوْلَى بَنِي تُجِيبَ

: كُنَّا بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ

المستدرك على الصحيحين

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ التُّجِيبِيِّ

كُنَّا بِمَدِينَةِ الرُّومِ

الجامع الكبير – سنن الترمذي

 

 کبھی راوی کہتے ہیں

غَزَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ – ہم نے جنگ کی اک شہر میں ہم الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ  چاہتے تھے

غَزَوْنَا الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ  ہم نے الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ  میں جنگ کی

كُنَّا بِمَدِينَةِ الرُّومِ  ہم روم کے اک شہر  میں تھے

كُنَّا بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ  ہم الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ  میں تھے

اسی اضطراب کی وجہ سے شاید  یہ روایت صحیحین میں نہیں اور امام ترمذی بھی اس کو  حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ کا درجہ دیتے ہیں

دراصل عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ کے امیر لشکر ہونے کے حوالے سے صحیح بات یہی ہے کہ وہ كُنَّا بِمَدِينَةِ الرُّومِ ہم روم کے اک شہر میں تھے اور غَزَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ اور انہوں نے جنگ کی اک شہر میں اور وہ ا لْقُسْطَنْطِينِيَّةَ تک رسائی چاہتے تھے

منطقی نقطۂ نگاہ سے بھی یہ بات درست نہیں کہ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيد کی قیادت میں ہونے والا یہ حملہ پہلا تھا کیونکہ اگر یہ پہلا حملہ تھا اور ا لْقُسْطَنْطِينِيَّةَ تک رسائی ہو گئی تھی تو پھر ا لْقُسْطَنْطِينِيَّةَ پر سولہ حملوں کی کیا ضرورت تھی – اصل بات یہی ہے کہ یہ سارے حملے قُسْطَنْطِينِيَّةَ تک بری راستہ بنانے کے لئے تھے کیونکہ ا لْقُسْطَنْطِينِيَّةَ (موجودہ استنبول )ایک بندر گاہ تھی اور اس کا دفاع بہت اچھا تھا

اس روایت میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ایک مسلمان کفّار کی صفوں میں کود پڑا جس پر لوگوں نے کہا کہ اس نے اپنے آپ کو ہلاک کیا اور آیت {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ الله وَلاَ تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} پڑھی اس پر أَبُو أيوب الأنصاري رضي الله عنه.نے فرمایا کہ یہ آیت جہاد سے کنارہ کشی کرنے کی ہماری خواھش کی بنا پر نازل ہوئی تھی- اس کے برعکس امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ آیت {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ الله وَلاَ تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: 195] کی تفسیر حذیفہ رضی الله تعالیٰ عنہنے بیان کی ہے کہ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ الله وَلاَ تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: 195] قَالَ: «نَزَلَتْ فِي النَّفَقَةِ»

یہ آیت انفاق کے بارے میں نازل ہوئی ہے

اس  بحث کا خلاصہ ہے کہ تاریخ کی مستند کتابوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ یزید بن معاویہ   الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ پر حملہ کرنے والے لشکروں میں شامل تھے –  الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ پر دو دفعہ حملہ ہوا – ایک  سن ٥٠  یا ٥١  ھجری  میں  ہوا اور اس میں  أَبُو أيوب الأنصاري رضي الله عنه. بھی ساتھ تھے- دوسرا  حملہ  سن ٥٥ ھجری میں ہوا اور اصحاب رسول کی جماعت کے ساتھ سمندر اور خشکی کے ذریعہ حملہ کر کے خلیج کو پار کیا اور اہل الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ  سے ان کے دروازے پر جنگ کی – ان دونوں حملوں میں سپہ سالار لشکر یزید بن معاویہ  تھے

حدیث الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ   پر شیعہ اعتراضات

تمام راویوں کا شامی ہونا. وہی شام جو معاویہ ابن ابی سفیان اور اسکے بیٹے یزید کا دارلحکومت تھا اور یہاں کے لوگ سخت مخالفین اہلبیت تھے اور بنی امیہ کی شان میں احادیث گھڑنے میں مشہور تھے

جواب: اس روایت میں شامیوں کا تفرد نہیں. اس کے ایک راوی خالد بن معدان بن أبي كرب الكلاعي بھی ہیں

الأعلام الزركلي کے مطابق : خالد بن معدان بن أبي كرب الكلاعي، أبو عبد الله: تابعيّ، ثقة، ممن اشتهروا بالعبادة. أصله من اليمن، وإقامته في حمص (بالشام)

خالد بن معدان بن أبي كرب الكلاعي، أبو عبد الله یمنی تھے لیکن حمص شام میں رہتے تھے

 یہ روایت ام حرام بنت ملحان رضی الله تعالی عنہا  کی ہے اور ام حرام ، انس بن مالک رضی الله تعالی عنہ کی خالہ اور عُبَادَةَ بنِ الصَّامِتِ  رضی الله تعالی عنہ کی بیوی ہیں. مدینہ کی رہنے والی تھیں.  یہ بھی شامی نہیں. مسلمان فتوحات کی وجہ سے بہت علاقوں میں پھیل گئے تھے. اگر اس اعتراض کو صحیح مانا جاے تو اس بنیاد پر تو علی رضی الله تعالی عنہ بھی کوفی کہلائیں گے.

روایت کے دوسرے راوی ثور بن يزيد کے لئے لکھتے ہیں کہ

یحیی ابن معین (جن کے فن رجال کو تمام علماء مانتے ہیں) اس ثور کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ ثور اس جماعت میں شامل تھا جو علی ابن ابی طالب پر سب کرتے تھے (سب کا مطلب ہے برا کہنا اور گالیاں وغیرہ دینا)۔ یحیی ابن معین کے الفاظ یہ ہیں : و قال فى موضع آخر : أزهر الحرازى ، و أسد بن وداعة و جماعة كانوا يجلسون  و يسبون على بن أبى طالب ، و كان ثور بن يزيد لا يسب عليا ، فإذا لم يسب جروا برجلہ.

جواب: احمد کہتے ہیں کہ : وكان من أهل حمص  اور یہ اہل حمص میں سے تہے.  ابن معین کے الفاظ کا مطلب ہے:   أزهر الحرازي اورأسد بْن وداعة  علی کو  گالیاں دتیے تھے و كان ثور بن يزيد لا يسب عليا  اور ثور بن يزيد  علی کو گالیاں نہیں دیتے تھے بحوالہ الكامل في ضعفاء الرجال از ابن عدی

اس بات کا تو مطلب ہی الٹا ہے ثور بن يزيد ، علی کو گالیاں نہیں دیتے تھے. ہاں یہ ضرور ہے کہ ابن سعد کے مطابق  وہ لا أحب رجلا قتل جدى : علی کو اپنے دادا  کے صفیں میں قتل کی وجہ سے نا پسند کرتے تھے

یزید بن معاویہ  کی بیعت

اب ہم اک دوسرے مسئلے کی طرف آتے ہیں جو کافی بحث طلب ہے اور اس مختصر بلاگ میں اس کو مکمّل احاطہ ممکن بھی نہیں لیکن چند معروضات پیش خدمت ہیں

١ سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ یزید بن معاویہ کی بیعت سے لے کر متمکن خلافت ہونے تک کل دس سال ہیں یعنی سن ٥١ ھجری سے لے کر سن ٦٠ ھجری تک – اس دوران تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ کسی نے مخالفت نہ کی لیکن معاویہ رضی الله عنہ کی وفات کے اک سال بعد یعنی ٦١ ھجری میں حسین رضی الله عنہ نے اور عبدللہ بن زبیر رضی الله عنہ نے خروج کیا – دونوں کو وہ عصبیت یا سپورٹ نہ مل سکی جو یزید بن معاویہ کو حاصل تھی – ان دونوں نے راست قدم اٹھایا یا نہیں – اس پر رائے زنی کرنے کا ہمارا مقام نہیں کیونکہ حسین رضی الله عنہ اور عبدللہ بن زبیر رضی الله عنہ دونوں جلیل القدر ہیں

٢ معاویہ رضی الله عنہ کا اپنے بیٹے کو خلیفہ مقرر کرنے کا عمل بھی قابل جرح نہیں کیونکہ اسلام میں خلیفہ مقرر کرنے کا حق خلیفہ کا ہی ہے جیسے ابوبکر رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ کو خلیفہ مقرر کیا – عمر رضی الله عنہ نے شہادت سے پہلے اک کمیٹی مقرر کی – علی رضی الله عنہ نے شہادت سے پہلے اپنے بیٹے حسن رضی الله عنہ کو مقرر کیا – اسی طرح معاویہ رضی الله عنہ نے بھی علی رضی الله عنہ کی طرح اپنے بیٹے یزید کو مقرر کیا- اسلام میں موروثی خلافت کا نظریہ علی رضی الله عنہ نے ہی پیش کیا

٣ حسن رضی الله عنہ نے علی رضی الله عنہ کی وفات کے اگلے سال ٤١ ھجری میں  سات ماہ کے بعد خلافت سے دست برداری کا ١علان کر دیا – چونکہ وہ حسین رضی الله عنہ کے بڑے بھائی تھے اس لئے خاندان علی کے اک نمائندہ تھے – معاویہ رضی الله عنہ کے دور میں دونوں بھائیوں کو وظیفہ بھی ملتا رہا – حسن رضی الله عنہ کی سن ٥٠ ھجری میں وفات ہوئی – سن ٥١ ہجری میں یزید بن معاویہ نے الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ پر حملہ کر کے امّت میں اپنی امیر کی صلاحیتوں کو منوا لیا – اس حملے میں جلیل القدر اصحاب رسول بھی ساتھ تھے – سن ٥١ ھجری میں معاویہ رضی الله عنہ نے یزید کی بیعت کی طرف لوگوں کو دعوت دی

بخاری نے سوره الاحقاف کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ

باب {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُونُ مِنْ قَبْلِي وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ الله وَيْلَكَ آمِنْ إِنَّ وَعْدَ الله حَقٌّ فَيَقُولُ مَا هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ (17)} [الأحقاف: 17]

 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِى بِشْرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ قَالَ كَانَ مَرْوَانُ عَلَى الْحِجَازِ اسْتَعْمَلَهُ مُعَاوِيَةُ، فَخَطَبَ فَجَعَلَ يَذْكُرُ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، لِكَىْ يُبَايِعَ لَهُ بَعْدَ أَبِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ شَيْئًا، فَقَالَ خُذُوهُ. فَدَخَلَ بَيْتَ عَائِشَةَ فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْوَانُ إِنَّ هَذَا الَّذِى أَنْزَلَ الله فِيهِ {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي}. فَقَالَتْ عَائِشَةُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ مَا أَنْزَلَ الله فِينَا شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِلاَّ أَنَّ الله أَنْزَلَ عُذْرِى.

مروان جو معاویہ رضی الله تعالیٰ کی جانب سے حجاز پر (گورنر ) مقرر تھے انہوں نے  معاویہ  کے بعد يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ کی بیعت  کے لئے خطبہ دیا – پس عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ  نے کچھ  بولا – جس پر مروان بولے اس کو پکڑو  اور عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ  عائشہ رضی الله تعالیٰ کے گھر میں داخل ہو گئے – اس پر مروان بولے کہ یہی وہ شخص ہے جس کے لئے نازل ہوا ہے {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي} – اس پر عائشہ رضی الله تعالیٰ  نے  پردے کے پیچھے سے فرمایا کہ ھمارے لئے قرآن میں سواے برات کی آیات کے کچھ نازل نہ ہوا

عائشہ رضی الله تعالی عنہا ٰ کی وفات ٥٧ ھجری کی ہے لہذا یہ واقعہ معاویہ ر ضی الله تعالیٰ عنہ سے کم از کم تین سال پہلے کا ہے

أبو عمرو خليفة بن خياط  (المتوفى: 240هـ) اپنی کتاب تاريخ خليفة بن خياط میں لکتھے ہیں کہ

فِي سنة إِحْدَى وَخمسين وفيهَا غزا يَزِيد بْن مُعَاوِيَة أَرض الرّوم وَمَعَهُ أَبُو أَيُّوب الْأنْصَارِيّ وفيهَا دَعَا مُعَاوِيَة بْن أَبِي سُفْيَان أهل الشَّام إِلَى بيعَة ابْنه يَزِيد بْن مُعَاوِيَة فأجأبوه وَبَايَعُوا

اور سن ٥١ ھجری  میں یزید بن معاویہ نے رومی سر زمین پر جہاد کیا اور ان کے ساتھ تھے أَبُو أَيُّوب الْأنْصَارِيّ اور اسی سال مُعَاوِيَة بْن أَبِي سُفْيَان نے اہل شام کو یزید بن معاویہ کی بیعت کی دعوت دی  جس کو انہوں نے قبول کیا اور بیعت کی

بخاری مزید بیان کرتے ہیں کہ

– باب إِذَا قَالَ عِنْدَ قَوْمٍ شَيْئًا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ بِخِلاَفِهِ

 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ فَقَالَ إِنِّى سَمِعْتُ النَّبِىَّ – صلى الله عليه وسلم – يَقُولُ «يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ الله وَرَسُولِهِ، وَإِنِّى لاَ أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ الله وَرَسُولِهِ، ثُمَّ يُنْصَبُ

نافع کہتے ہیں کہ جب مدینہ والوں نے يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ کی بیعت توڑی تو عبدللہ ابن عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنے خاندان  والوں کو جمع کیا اور  کہا کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ  ہر دغا باز کے لئے قیامت کے دن اک جھنڈا گا ڑھا جائے گا – اور بے شک میں نے اس  آدمی کی بیعت کی ہے الله اور اس کے رسول (کی اتبا ع  پر) اور میں کوئی ایسا بڑا عذر نہیں جانتا کہ کسی کی الله اور رسول کے لئے بیعت کی جائے اور پھر توڑی جائے

عبد الله ابن عمر رضی الله عنہ کی رائے یزید کے خلاف خروج کرنے والوں کے لئے کتنی سخت ہے مسلم بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مُطِيعٍ حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ، زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ آتِكَ لِأَجْلِسَ، أَتَيْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ، لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»

نافع کہتے ہیں عبد الله ابن عمر عبد الله  بن  نِ مُطِيعٍ  کے پاس گئے جب حرہ میں ہوا جو ہوا یزید بن معاویہ کے دور میں اس نے کہا ابی عبد الرحمان اور ان کے سرداروں کے لئے ہٹاؤ عبد الله ابن عمر نے کہا میں یہاں بیٹھنے نہیں آیا تم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو رسول الله سے سنی کہ جو اطاعت میں  سے ایک ہاتھ نکلا اس کی الله سے ایسے ملاقات ہو گی کہ اس کے پاس کوئی حجت نہ ہو گی اور جو مرا کہ اس کی گردن پر اطاعت کی بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کو موت مرا

بخاری  یزید بن معاویہ کو حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کی شہادت کا ذمہ دار نہیں سمجھتے تھے بخاری  بَابُ مَنَاقِبِ الحَسَنِ وَالحُسَيْنِ رَضِيَ الله عَنْهُمَا میں روایت کرتے ہیں کہ

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ الله بْنَ عُمَرَ، وَسَأَلَهُ عَنِ المُحْرِمِ؟ قَالَ: شُعْبَةُ أَحْسِبُهُ يَقْتُلُ الذُّبَابَ، فَقَالَ: أَهْلُ العِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ ابْنَةِ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابن ابی نُعْمٍ کہتے ہیں میں نے عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کو سنا جب ان سے محرم کے بارے میں سوال ہوا کہ اگر محرم (احرام ) کی حالت میں مکھی قتل ہو جائے تو کیا کریں پس انہوں نے کہا أَهْلُ العِرَاقِ مکھی کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور انہوں نے رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے نواسے کا قتل کیا

بخاری نے ابن عمر کی  یہ روایت بیان کر کے قتل حسین کا بوجھ أَهْلُ العِرَاقِ پر بتایا  اور أَهْلُ الشام کو اس کا ذمہ دار قرار نہ دیا

تاریخ کے مطابق حسین رضی الله تعالیٰ مدینہ سے کوفہ جا رہے تھے لیکن شہید کربلہ میں ہوۓ – اگر مدینہ سے سفر کیا جائے تو کربلہ کوفہ کے بعد آتا ہے جیسا کہ نقشہ سے واضح ہے – زمینی حقائق کو جھٹلانا مشکل ہے –  کربلہ سے کوفہ کا فاصلہ ٤٠ میل ہے گویا حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کوفہ کو چھوڑ کر کربلہ میں ٤٠ میل دور شہید  ہوئے بعض لا علم لوگ کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے لہ حسین رضی الله عنہ اس رستے سے کوفہ گئے ہوں جو مدینہ سے کربلا ہوتا ہوا جاتا ہے لیکن یہ ان کی لا علمی ہے ابن کثیر کی البدایہ و النہایہ اور شیعہ کتب میں یہ موجود ہے کہ حسین نے کون سا رستہ اختیار کیا اور بیچ رستے ہیں اپنا رخ کوفہ سے کربلا کی طرف تبدیل کیا

کوفہ پہنچنے سے پہلے وہاں کی معلومات کے لیے حسین نے مسلم بن عقیل بن ابی طالب کو کوفہ بھیجا – مسلم نے کوفہ میں حسین کی اجازت سے پہلے خروج ظاہر کر دیا اور بیت المال لوٹا جس کی پاداش میں بصرہ کے گورنر عبید الله ابن زیاد نے مسلم بن عقیل کا سر تن سے جدا کر دیا- اس کی خبر حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کو ہو گئی اور وہ زور اور قوت جس کا دعویٰ کوفیوں نے کیا تھا اس کی قلعی کھل گئی – حسین رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنا راستہ بدل لیا اور اسی سے ظاہر ہے کہ حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کا خروج کے حوالے سے موقف بدل چکا تھا اور وہ کوفہ سے دور جا رہے تھے – کوفہ کے بلوائیوں کو پتا تھا کہ اگر حسین کے پاس سے وہ خطوط حکومت تک پہنچ گئے تو ان کی شامت آ جاۓ گی لہذا خط تلف کرنے کی غرض سے حسینی قافلے کا پیچھا کیا گیا اور خیموں کو آگ لگا دی گئی – اس بلوے میں علی بن حسین اور کچھ خواتین بچ گئیں لیکن حسین رضی الله تعالیٰ عنہ شہید ہو گئے – علی بن حسین اور خواتین کو حکومت نے دمشق پہنچا دیا گیا کیونکہ ان کی حفاظت ضروری تھی – اگر خلیفہ وقت کا ان کو قتل کرنا ہی مقصود ہوتا تو راستہ میں ہی سب کو چن چن کر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا لیکن نہ صرف وہاں ان کو عزت و تکریم سے رکھا گیا بلکہ واپس مدینہ پہنچا دیا گیا –

بخاری بَابُ مَنَاقِبِ الحَسَنِ وَالحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا میں بیان کرتے ہیں کہ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ الله عَنْهُ، أُتِيَ عُبَيْدُ الله بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ، وَقَالَ فِي حُسْنِهِ شَيْئًا، فَقَالَ أَنَسٌ: «كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالوَسْمَةِ»

عبید الله ابن زیاد کے پاس صحابی رسول انس بن مالک بھی موجود تھے اور حسین کا سر اک طشت میں رکھا گیا تو عبید الله ابن زیاد نے سوچ میں غرق ( زمین ) کریدتے ہوئے حسین  کے حسن کے بارے میں کچھ کہا جس پر انس رضی اللہ تعالیٰ بولے کہ یہ رسول صلی الله علیہ وسلم کے مشابہ ہیں اور حسین نے بالوں کو خضاب دیا ہوا تھا

صحابی رسول انس بن مالک کی عبید الله ابن زیاد کے پاس موجودگی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ عبید الله ابن زیاد کا حسین کو قتل کرنے کا ارادہ نہ تھا ورنہ وہ حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کی تعریف بالکل نہ کرتا

اس واقعہ کے ١٠٠ سال بعد ابو مخنف لوط بن یحییٰ نے جو اپنے زمانے میں آگ لگانے والا شیعہ مشہور تھا اور اک قصہ گو تھا اس نے گھڑ کر مختلف قصے اس واقعہ سے متعلق مشھور کیے جن کو ذاکرین اب شام غریباں میں بیان کرتے ہیں جو نہایت عجیب اور محیر العقول ہیں مثلا حسین کا اک اک کر کے اپنے رشتہ داروں کو شہید ہونے بھیجنا – ان کے قتل کے وقت آسمان سے خون کی بارش ہونا – آسمان سے ھاتف غیبی کا پکارنا – قبر نبی سے سسکیوں اور رونے کی آواز آنا – حسین کے کٹے ہوۓ سر کا نوک نیزہ پر تلاوت سوره کہف کرنا – وغیرہ

رہی بات  یزید بن معاویہ کی  حدیث کی روایت کی تو یہ بھی غیر ضروری ہے کیونکہ یزید بن معاویہ نے کچھ روایت نہیں کیا – اور اصحاب رسول کی  سینکڑوں اولادیں ہیں جنہوں نے کوئی روایت بیان ہی نہیں کی – لہذا یہ مسئلہ پیدا ہی نہیں ہو گا  تو اس کو بیان کرنے کا فائدہ کیا ہے

انہی اختلافات پر امّت میں پہلے سیاسی گروہ اور پھر مذہبی فرقے بنے ورنہ اس سے پہلے نہ عقائد کا اختلاف تھا نہ عمل میں کوئی بحث – آج ١٤٠٠ سال گذرنے کے باوجود ہم انہی مسئلوں میں الجھے ہوۓ ہیں جن کی تفصیل میں جانے کا فائدہ نہیں

الله کعبہ کو بیت العتیق یعنی قدیم گھر کہتا ہے جس میں مقام ابراہیم ہے- مقام ابراہیم ایک چٹان کا ٹکڑا ہے جو اس گھر کا نشان ہے- قدیم دور میں سائن بورڈ نہیں تھے لہذا پتھر پر اس مقام کی اہمیت کے حساب سے نشان لگا دیا جاتا تھا اور اس کو اس مقام کے ساتھ ہی نصب کیا جاتا تھا

 الله کا حکم ہے

وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْراهِيمَ مُصَلًیّ

اور مقام ابراہیم کو نماز کے لئے اختیار کرو

بیت الله کی عظمت و حرمت ایک دور میں اہل کتاب میں مسلمہ تھی –  خاص طور پر دوسرے ہیکل کے دور کی یہودیوں کی ایک کتاب ،  کتاب جوبلی   کے نام سے مشھور ہے- جو بہت قدیم کتاب ہے اور اس کا مکمل متن اتھوپیا کی زبان میں ملا ہے – اس کتاب کو اہل کتاب آجکل جھوٹی قرار دیتے ہیں- لیکن یہ بات اب علماۓ اہل کتاب قبول کرتے ہیں کہ زمانہ قدیم میں  بعض یہودی فرقوں کی ایک مستند کتاب تھی اور خاص کر عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں یہ ہیکل کے فریسی یہودی فرقے کی  مخالف جماعتوں میں ایک مستند کتاب مانی جاتی تھی

اس کتاب میں مقام ابراہیم کا ذکر موجود ہے کتاب کے باب ٢٢ کی آیت ہے  کہ الله نے ابراہیم کو  ایک گھر بنانے کا حکم دیا جس کو مقام ابراہیم کہا جائے گا

24 This house have I built for myself that I might put my name upon it in the earth: [it is given to you and to your seed forever], and it will be named the house of Abraham; it is given to you and to your seed forever; for you will build my house and establish my name before YAHWEH forever: your seed and your name will stand throughout all generations of the earth.

یہ بیت (یا مقام)  جس کو  میں نے اپنے لئے بنایا ہے کہ میں اس سے ارض پر اپنا نام (باقی) رکھوں اس کو(بیت) مقام ابراہیم کہا جائے گا جو تم کو اوراولاد ابراہیم کو ملے گا ہمیشہ کے لئے کیونکہ تم ہی اس بیت کو بناؤ گے اور میرا نام ی ھ و ھ  (١) کو ہمیشہ رکھو گے اور تمہاری نسل اور تمہارا نام اس سے منسلک رہے گا،  ارض کی نسلوں میں

اس کتاب کے ٢٢وں باب میں لکھا ہے کہ ابراہیم کی وفات کا علم اسمعیل کو مقام ابراہیم میں آواز سے ہوا

And the voices were heard in the house of Abraham, and Ishmael his son arose, and went to Abraham his father, and wept over Abraham his father, he and all the house of Abraham, and they wept with a great weeping.

اور بیت ابراہیم میں آوازیں سنی گئیں اور اسمعیل اس کا بیٹا اٹھا اور اپنے باپ ابراہیم کے پاس گیا اور سارا کٹم خوب رویا

واضح رہے کہ بیت ابراہیم اور ہیکل سلیمانی دو الگ عبادت گاہیں ہیں – اسمعیل یقینا یروشلم سے بہت دور تھے کہ ان کو غیبی اشارہ ملا اور ابراہیم کے پاس  گئے

یہودیوں کا عیسیٰ علیہ السلام کے دور کا ایک فرقہ قمران میں آباد تھا جو بحر مردار پر ایک مقام ہے- انہوں نے ٧٠ ع میں رومیوں سے اپنی کتابیں بچانے کے لئے مرتبانوں میں رکھیں اور آس پاس کے غاروں میں چھپا دیں – ١٩٤٧ میں یہ کتابیں دریافت ہوئیں اور اس وقت دینا کی قدیم توریت  بھی انہی میں سے ہے – کاربن ڈیٹنگ اور دوسرے سائنسی نتائج سے یہ ثابت ہو چکا ہے یہ کتب عیسیٰ کے زمانے میں کم و بیش سو سال کے اندر کی ہیں-  ان کو بحر مردار کے طومار کہا جاتا ہے

Dead Sea Scrolls

اس کی ایک کتاب میں یہ تفصیل ملی کہ

Abraham’s travel east to the Euphrates and the Persian Gulf region, then around the coast of Arabia to the Red Sea, and finally to the Sinai desert and then to his home

(Geza Vermes, The Complete Dead Sea Scrolls, Genesis Apocryphon 448–459).

ابراہیم علیہ السلام نے مشرق میں فرات تک سفر کیا اور خلیج عرب کا اور بحیرہ احمر کے ساحل پر عرب کا سفر کیا اور دشت سینا تک آئے

یہ پہلی کتاب ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ابراہیم کبھی بحیرہ احمر کے ساحل تک گئے کیونکہ موجودہ تورات میں اس کا ذکر نہیں ہے

کتاب جوبلی  بحر مردار کے طومار میں موجود ہے لیکن ابھی تک اس کا ترجمہ شائع نہیں ہوا ہے

قرآن کہتا ہے

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ – فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا

بے شک، پہلا بیت، جو لوگوں (کی تطہیر) کے لئے بنایا گیا وہ جو بکہ (مکہ) میں ہے ، مبارک ہے اور تمام عالم کے لئے ہدایت ہے  اس میں واضح نشانیاں ، مقام ابراہیم ہے ، اور جو اس میں داخل ہو امن میں ہے

Mqam

ایک زمانے میں مقام ابراہیم کعبہ کی دیوار کے ساتھ تھا لیکن طواف میں آسانی کے لئے اس کو اب دور نصب کر دیا گیا ہے

بن باز، فتاوى نور على الدرب میں  کہتے ہیں

مقام إبراهيم حجر كان يقوم عليه يبني، فلما فرغ جعله تحت جدار الكعبة، فلما بُعِثَ النبي صلى الله عليه وسلم أُمِرَ بأن يصلي خلفه، أمره الله، قال: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى}. وكان قرب الكعبة، فأخره عمر في المكان المعروف، المقصود أنه حجر كان يقوم عليه إبراهيم للبناء عليه الصلاة والسلام، هذا مقام إبراهيم

مقام ابراہیم پتھر ہے اس پر کھڑے ہو کر اس کو بنایا گیا جب اس سے فارغ ہوئے تو اس کو کعبہ کی دیوار کے نیچے کر دیا پس جب نبی صلی الله علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو الله نے  حکم دیا  کہ اس کے پیچھے نماز پڑھو اور یہ کعبہ کے قریب تھا/ پس اس کو دوسرے مکان جو اب مشھور ہے وہاں بنا دیا گیا ہے اور یہ پتھر ہے جس پر ابراہیم نے تعمیر کی یہی مقام ابراہیم ہے

مجموع فتاوى ورسائل فضيلة الشيخ محمد بن صالح العثيمين میں العثيمين کہتے ہیں

لا شك أن مقام إبراهيم ثابت وأن هذا الذي بني عليه الزجاج هو مقام إبراهيم عليه الصلاة والسلام، لكن الحفر الذي فيه، لا يظهر أنه أثر القدمين؛ لأن المعروف من الناحية التاريخية أن أثر القدمين قد زال منذ أزمنة متطاولة، ولكن حفرت هذه، أو صنعت للعلامة فقط، ولا يمكن أن نجزم بأن هذا الحفر هو موضع قدمي إبراهيم عليه الصلاة والسلام.

بے شک مقام ابراہیم ثابت ہے جس پر اب شیشہ لگا دیا گیا ہے وہی مقام ابراہیم ہے لیکن اس میں جو گڑھے ہیں ان سے اصلی قدم ظاہر نہیں ہوتے کیونکہ تاریخ میں ہے کہ قدم کے نشان کافی عرصہ پہلے ختم ہو چکے تھے لیکن یہ گڑھے صرف علامتی ہیں اور ہم جزم سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ ابراہیم علیہ السلام کے ہی قدم کے نشان ہیں

قرآن میں ہے

جَعَلَ اللهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ

الله نے الْكَعْبَةَ کو بیت الحرام بنایا لوگوں کے نماز کی جگہ

ابراہیم علیہ السلام نے جب اسمعیل اور ہاجرہ علیہما السلام کو مکہ میں چھوڑا تو وہ ایک بے آب  وادی تھی وہاں سے ایک عرب قافلہ اتفاقا گزرا جو بنو جرہم سے تھا انہوں نے وہاں پرندے دیکھے  اور  زمزم کی وجہ سے وہاں پڑاؤ ڈال دیا

بخاری کی روایت ہے

قال ابن عباس رضي الله عنهما: قال النبي صلى الله عليه وسلم: ” يرحم الله أم إسماعيل، لو تركت زمزم – أو قال: لو لم تغرف من الماء – لكانت عينا معينا “، وأقبل جرهم فقالوا: أتأذنين أن ننزل عندك؟ قالت: نعم، ولا حق لكم في الماء، قالوا: نعم

ابن عبّاس کہتے ہیں نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا الله ام اسمعیل پر رحم کرے اگر وہ زمزم کو چھوڑ دیتیں یا کہا پانی پر بند نہیں باندھتین تو وہ چشمہ کی طرح بہتا اور جرهم والے ان کے پاس آئے اور کہا کیا آپ اجازت دیں گی کہ ہم یہاں رکیں کہا ہاں لیکن تمہارا پانی پر حق نہ ہو گا انہوں نے کہا  جی

کتاب تَارِيخِ العَوْتَبِي از أبو المنذر سلمة بن مسلم بن إبراهيم الصحاري العوتبي (المتوفى: 511هـ) کے مطابق قبیلہ   جرہم کا تعلق

جُرْهُم بن قَحْطان، وهم يومئذ بمكة، ولم يزل اللسان العربيْ في ولد إرم بن سام بن نوح إلى زمن هودٍ عليه السلام

جُرْهُم بن قَحْطان… عربی زبان نہیں چھوڑی إرم بن سام بن نوح سے لے کر  هودٍ عليه السلام کے زمانے تک

معلوم ہوا کہ عرب قوم ابراہیم علیہ السلام سے پہلے سے موجود تھی اور ابراہیم کو عربوں کا جد امجد کہنا صحیح نہیں کیونکہ ابراہیم اور اسمعیل عرب نہیں تھے- البتہ ہاجرہ  علیہ السلام کا تعلق مصر سے تھا اور ممکن ہے وہ عربی سے واقف ہوں- اسمٰعیل علیہ السلام نے اسی قبیلہ کی ایک خاتون سے نکاح کیا اور اس طرح ابراہیم علیہ السلام کی عربوں سے رشتہ داری شروع ہوئی

بخاری کی حدیث میں ہے

وَشَبَّ الْغُلامُ وَتَعَلَّمَ الْعَرَبِيَّةَ مِنْهُمْ

اور لڑکا (اسمعیل) جوان ہوا اور ان  (قبیلہ جرھم) سے عربی (بھی ) سیکھ لی

قرآن میں سوره ابراہیم میں ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ہے کہ انہوں نے کہا

الْحَمْد لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَر إِسْمَاعِيل وَإِسْحَاق إِنَّ رَبِّي لَسَمِيع الدُّعَاء

الله کی تعریف ہے جس نے بڑھاپے میں مجھ کو اسمعیل اور اسحاق دیے بے شک میرا رب دعا سنتا ہے

شاید یہی وجہ ہے کہ پہلے بیٹے کا نام اسمعیل رکھا یعنی جس کی ایل (الله) سنے

قرآن میں ہے کہ سارہ علیہ السلام کو جب بیٹے کی بشارت ملی تو

فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ

 اس کی بیوی آگے بڑھی،  اپنے چہرہ پر (خوشی و حیرت میں) ہاتھ مارتی ہوئی اور بولی : بوڑھی بانجھ

اس بیٹے کا نام اسحاق رکھا گیا یعنی ہنسنے والا

سوره الصافات میں ترتیب میں پہلے بیٹے کا ذکر ہے جس کی قربانی کا حکم دیا گیا جو ظاہر ہے اسمعیل ہیں اس کے بعد کہا گیا کہ اسحاق کی بھی بشارت دی تاکہ بتایا جائے کہ قربانی والا واقعہ اسمعیل کے ساتھ ہوا

قرآن اور توریت کی کتاب پیداش کے مطابق سارہ بانجھ تھیں لیکن اولاد کا ہونا  الله کی نشانی تھا اولاد نہ ہونے کی وجہ سے سارہ نے ہاجرہ سے نکاح کا ابراہیم کو مشورہ دیا تھا ظاہر ہے کہ اگر اسحاق

پیدا ہو چکے ہوتے تو یہ سب کرنے کی ضرروت نہ تھی اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ اسمعیل  بڑے اور اسحاق چھوٹے تھے

اسمعیل اور اسحاق میں بائبل کے مطابق ١٣ سال کا فرق تھا قرآن کی سوره الصفافات میں جس طرح بیان ہوا ہے اس سے

محسوس ہوتا ہے کہ اسمعیل کی قربانی والے واقعہ کے بعد الله نے اسحاق کی بشارت دی

قرآن کہتا ہے

وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَاماً قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي قَالَ لاَ يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِين

أور جب تمہارے رب نے ابراہیم کی آزمائش کی  کلمات  (ألقا کردہ أحكام) سے، پس وہ ان میں کامیاب ہوا 

 کہا :میں تم  کو لوگوں کا امام بنا تا ہوں

 بولے:  میری نسل کو بھی ؟

کہا: نہیں یہ وعدہ  ظالموں سے نہیں

ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش کی گئی خواب میں  ایک حکم القا کیا گیا ، انہوں نے اس پر عمل کیا ، کامیاب ہوئے اور امام بن گئے

آج مسلمان، یہودی، نصرانی سب ابراہیم  کے  امام ہونے کے قائل ہیں اور اپنے ادیان کو ابراہیم علیہ السلام  سے جوڑتے ہیں

کتاب أخبار مكة في قديم الدهر وحديثه از أبو عبد الله محمد بن إسحاق بن العباس المكي الفاكهي (المتوفى: 272هـ) کے مطابق

وَذَلِكَ أَوَّلُ يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ أَرْسَلَ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ إِلَى الْحَجَبَةِ يَأْمُرُهُمْ بِحَمْلِ الْمَقَامِ إِلَى دَارِ الْإِمَارَةِ لِيُرَكِّبُوا عَلَيْهِ الطَّوْقَيْنِ اللَّذَيْنِ عُمِلَا لَهُ عَلَى مَا وَصَفْنَا لِيَكُونَ أَقَلَّ لِزِحَامِ النَّاسِ، فَأَتَوْا بِهِ إِلَى دَارِ الْإِمَارَةِ، وَأَنَا عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ جَمَاعَةٌ مِنَ النَّاسِ مِنْ حَمَلَةِ الْعِلْمِ وَغَيْرِهِمْ فِي ثَوْبٍ يَحْمِلُونَهُ حَتَّى وَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَجَاءَ بِشْرٌ الْخَادِمُ مَوْلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، وَقَدْ قَدِمَ فِي هَذِهِ السَّنَةِ عَلَى عِمَارَةِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ وَالسَّلَامُ، وَإِصْلَاحِهِمَا فَأَمَرَ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْفَعَلَةَ أَنْ يُذِيبُوا الْعَقَاقِيرَ فَأَذَابُوهَا بِالزِّئْبَقِ، ثُمَّ أَخْرَجَ الْمَقَامَ، وَمَا سَقَطَ مِنْهُ مِنَ الْحِجَارَةِ، فَأَلْصَقَهَا بِشْرٌ بِيَدِهِ بِذَلِكَ الْعَلَكِ حَتَّى الْتَأَمَتْ وَأَخَذَ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَتَمَسَّحَ النَّاسُ بِالْمَقَامِ وَدَعَوُا اللهَ تَعَالَى وَذَكَرُوهُ وَذَكَرُوا خَلِيلَهُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، وَقَلَّبُوهُ وَنَظَرُوا وَنَظَرْتُ مَعَهُمْ، فَإِذَا فِي جَوَانِبِ الْمَقَامِ كُلِّهَا كَمَا يَدُورُ خُطُوطًا فِي طُولِ الْجَانِبِ الْمُسْتَدِقِّ مِنْهُ الْبَارِزِ عَنِ الذَّهَبِ سَبْعُ خُطُوطٍ مُسْتَطِيلَةٌ، ثُمَّ [ص:479] تَرْجِعُ الْخُطُوطُ فِي أَسْفَلِهِ حَتَّى تَرْجِعَ إِلَى الْجَانِبِ الْآخَرِ حَتَّى تَسْتَبِينَ فِيهِ مِنَ الْجَانِبِ الْآخَرِ، وَذَلِكَ فِي التَّرْبِيعِ سِتَّةُ خُطُوطٍ، وَفِيهِ حَفْرٌ قِيَاسُهُ هَذَا الْخَطُّ الَّذِي أَخُطُّهُ، وَذَلِكَ فِي عَرْضِهِ، وَفِيهِ أَيْضًا دَوَاوِيرُ قِيَاسُهَا هَذَا الَّذِي أَخُطُّهُ، وَفِي وَسَطِهِ نَكْيَةٌ مِنَ الْحَجَرِ، وَفِيهِ أَيْضًا دَوَّارَةٌ فِي عَرْضِهِ مِنَ الْجَانِبِ الْآخَرِ، قِيَاسُهَا هَذَا الَّذِي أَخُطُّهُ، وَإِذَا فِيهِ كِتَابٌ بِالْعِبْرَانِيَّةِ، وَيُقَالُ بِالْحِمْيَرِيَّةِ، وَهُوَ الْكِتَابُ الَّذِي وَجَدَتْهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَخَذْتُ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنْ الْمَقَامِ بِأَمْرِ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بِيَدِي وَحَكَيْتُهُ كَمَا رَأَيْتُهُ مَخْطُوطًا فِيهِ،

ربیع الاول کے پہلے دن علی بن الحسن نے لوگوں کو بھیجا کہ مقام ابراہیم کو دار الامارہ لایا جائے  کیونکہ مقام ٹکڑوں میں ہو رہا تھا … اس کو سونے چاندی سے جوڑا گیا ….   الفاکھی کہتے ہیں میں نے غور سے مقام کو دیکھا اس پر سات لکیریں ترچھی تھیں جو نیچے سے اوپر جا رہی تھیں  … اس پر عبرانی میں بھی لکھا ہوا تھا .. اور کچھ کے خیال میں حمیری زبان میں  یہ وہ  خطوط سے جن سے قریش جاہلیت میں واقف تھے  میں نے اپنے ہاتھ سے وہ تمام خطوط نقل کئے

الفاکھی لکھتے ہیں

فَحَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ الْفَرَائِضِيُّ وَأَخَذَ مِنِّي هَذَا الْكِتَابَ عَلَى الْمَقَامِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو زَكَرِيَّا الْمَغْرِبِيُّ بِمِصْرَ وَقَدْ أَخَذَ مِنِّي هَذِهِ النُّسْخَةَ، يَعْنِي نُسْخَةَ هَذَا الْكِتَابِ، فَقَرَأْتُهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ لِي: أَنَا أَعْرِفُ تَفْسِيرَ هَذَا، أَنَا أَطْلُبُ الْبَرَابِيَ، وَالْبَرَابِي كِتَابٌ فِي الْحِجَارَةِ بِمِصْرَ مِنْ كِتَابِ الْأَوَّلِينَ، قَالَ: فَأَنَا أَطْلُبُهُ مُنْذُ ثَلَاثِينَ سَنَةً، وَأَنَا أَرَى أَيَّ شَيْءٍ هَذَا الْمَكْتُوبَ فِي الْمَقَامِ فِي السَّطْرِ الْأَوَّلِ: ” إِنِّي أَنَا اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا، وَالسَّطْرِ الثَّانِي: ” مَلِكٌ لَا يُرَامُ ” وَالسَّطْرِ الثَّالِثِ: ” أصباوت ” وَهُوَ اسْمُ اللهِ الْأَعْظَمِ، وَبِهِ تُسْتَجَابُ الدَّعَوَاتُ ” قَالَ لِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ الْفَرَائِضِيُّ وَفِي تَفْسِيرِ سُنَيْدٍ قَالَ: ” لَمَّا خَلَقَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى آدَمَ أَقْعَدَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: ” مَنْ أَنَا يَا آدَمُ؟، فَقَالَ: أَنْتَ أصباوت أَدْنَانِي. قَالَ لَهُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ” صَدَقْتَ يَا آدَمُ ” يَعْنِي أَنْتَ اللهُ الصَّمَدُ يَقُولُ أَصباوت اللهُ الصَّمَدُ، قَالَ لِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ: وَزَعَمَ أَنَّ هَذَا الْكِتَابَ الَّذِي فِي الْمَقَامِ بِالْحِمْيَرِيَّةِ

 أَبُو زَكَرِيَّا الْمَغْرِبِيُّ نے مصر میں ان خطوط اور تحریر کو دیکھا اور کہا میں اس کی تفسیر جانتا ہوں میں مصری تحریر پڑھ سکتا ہوں جس پر میں تیس سال سے تحقیق کر رہا ہوں … پہلی سطر میں لکھا ہے

بے شک میں ہی الله ہوں کوئی اور الہ نہیں

دوسری سطر میں لکھا ہے 

میری بادشاہی کو دوام ہے

تیسری سطر میں ہے

أصباوت

 

جو الله کا اسم الْأَعْظَمِ ہے جس سے دعائیں قبول ہوتی ہیں

أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ الْفَرَائِضِيُّ نے مجھ سے کہا

جب الله نےآدم سے پوچھا میں کون ہوں تو انہوں نے کہا   أصباوت أَدْنَانِي  

رب تعالی نے کہا سچ کہا اے آدم

آپ الله ہیں الصمد، پس کہا أَصباوت اللهُ الصَّمَدُ

أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ الْفَرَائِضِيُّ نے مجھ سے کہا کہ میں سمجھتا ہوں یہ حمیری زبان میں لکھا ہے

خط حمیری  ہو سکتا ہے کہ قبیلہ جرہم سے آیا ہو کیونکہ ان کا تعلق بھی یمن سے تھا

Himyaritic language  

اس تحریر کو خط المسند کہا جاتا ہے

 

http://ar.wikipedia.org/wiki/خط_المسند#.D8.AE.D8.B5.D8.A7.D8.A6.D8.B5_.D8.A7.D9.84.D8.AE.D8.B7_.D8.A7.D9.84.D9.85.D8.B3.D9.86.D8.AF

 ابراہیم علیہ السلام نے بیت الله کی تعمیر کی تو وہ اس شکل پر نہیں تھی جو اب ہے بلکہ وہ ایک مستطیل عمارت تھی  قبل نبوت عربوں نے اس کو ایک کیوب کی شکل دیا اور اس کو کعبہ  کہا گیا اور اس کے باقی حصہ کو حطیم  (٢) کہا

الغرض کعبہ  اور مقام ابراہیم کی اہمیت قدیم دور سے مسلمہ ہے- حدیث میں ہے کہ یونس علیہ السلام اور  موسی علیہ السلام نے بھی حج کیا ہے- یہی وجہ ہے اس کو قبلہ کے طور پر سب جانتے تھے ایسے کہ کوئی اپنے بیٹے کو جانتا ہو

حواشی

(١)

شام و عراق میں الله کا نام ایل لیا جاتا تھا لہذا تمام فرشتوں کے ناموں میں ایل اتا ہے جسے جبریل،   میکایل، اسرافیل وغیرہ-   آرامی میں یہ لفظ الہ بن گیا اور عرب میں معرب ہو کر الالہ یا الله   ہو گیا

یہ لفظ جمع ادب میں الوھم ہو گیا اور بعض مقام پر تورات میں یھوھ کا لفظ بھی ہے لیکن اس کو ادا کرنا ممنوع ہے اور تحریر میں توڑ کر لکھا جاتا ہے

(٢)

الله نے بیت الله کو الْكَعْبَةَ کہا ہے جس کا مطلب چوکور مکعب عمارت ہے البتہ اس کے ساتھ ایک گولائی نما حصہ بھی ہے جس کو حطیم کہا جاتا ہے  لغت کے مطابق

حَطَمَهُ … قال بن عباس رضي الله عنهما الحَطِيمُ الجدر يعني جدار حجر الكعبة

حَطَمَهُ .. ابن عباس کہتے ہیں دیوار کو کم کرنا یعنی کعبہ کی پتھر کی  دیوار کو

مجموع فتاوى ورسائل فضيلة الشيخ محمد بن صالح العثيمين  میں العثيمين   کہتے ہیں

وهذا الحجر إنما كان من فعل قريش حين أرادوا بناء الكعبة فلم يجدوا أموالاً تكفي لبنائها على أساسها الأول على قواعد إبراهيم- عليه الصلاة والسلام- فاحتجر منها هذه الجهة، ولهذا سُمِّي الحجر، وتسمى الحطيم أيضاً، لأنه حطّم من الكعبة، وأكثر هذا الحجر من الكعبة

اور یہ پتھر لگانا قریش کا عمل تھا کہ جب انہوں نے کعبہ کی تعمیر کا ارادہ کیا تو اتنا مال کافی نہ تھا کہ اس کو انہی بنیادوں پر اٹھاتے جن پر ابراہیم نے بنایا پس انہوں نے اس کا نشان پتھر سے چھوڑا اور اس کو حطیم کہا گیا کیونکہ انہوں نے کعبہ کو کم کیا اور اس کے پتھر کعبہ کے تھے

لہذا حطیم کعبہ کا ہی حصہ ہے – نبی صلی الله علیہ وسلم نے بھی اس کو اسی حال پر رہنے دیا-  ابن زبیر نے اس کو واپس تعمیر کیا لیکن بنو امیہ نے اس کو واپس ویسا ہی کیا جیسا نبی صلی الله علیہ وسلم نے چھوڑا تھا

قرآن کہتا ہے

أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الأُخْرَى أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الأُنْثَى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى إِنْ هِيَ إِلا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بهَا من سُلْطَان

کیا تم نے اللَّاتَ، َالْعُزَّى اور ایک اور  تیسری  مَنَاةَ کو دیکھا؟ کیا تمہارے لئے تو ہوں لڑکے اور اس کے لئے لڑکیاں؟ یہ تو بڑی غیر منصفانہ تقسیم ہوئی! یہ تو صرف چند نام ہیں، جو تم نے اور تمہارے اباؤ اجداد نے رکھ دیے ہیں، الله کی طرف سے ان پر  کوئی سند نہیں اتری

اللات  طائف میں، العُزَّى مکہ میں اور مَنَاة مدینہ میں عربوں کی خاص دیویاں تھیں

الكلبي (المتوفى: 204هـ) کی کتاب الاصنام میں ہے

عرب طواف میں پکارتے

 وَاللاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةِ الأُخْرَى … فَإِنَّهُنَّ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شفاعتهن لَتُرْتَجَى

اور اللاتِ اور الْعُزَّى اور ایک اور تیسری مَنَاةَ

یہ تو بلند  پرند نما حسین (دیویاں) ہیں اور بے شک ان کی شفاعت قبول کی جاتی ہے

کتاب غریب الحدیث از ابن الجوزی کے مطابق

تِلْكَ الغرانيق الْعلَا قَالَ ابْن الْأَعرَابِي الغرانيق الذُّكُور من الطير
وَاحِدهَا غرنوق وغرنيق وَكَانُوا يدعونَ أَن الْأَصْنَام تشفع لَهُم فشبهت بالطيور الَّتِي ترْتَفع إِلَى السَّمَاء وَيجوز أَن تكون الغرانيق جمع الغرانق وَهُوَ الْحسن

یہ تو بلند غرانیق ہیں – ابن الاعرابی کہتے ہیں غرانیق سے مراد نر پرندے ہیں جن کا واحد  غرنوق ہے اور غرنيق  ہے یہ مشرکین ان ( دیویوں) کو اس نام سے اس لئے پکارتے تھے کیونکہ یہ بت ان کے لئے شفاعت کرتے اور(نر) پرندے بن کر جاتے جو آسمان میں بلند ہوتے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد حسن ہو

تاج العروس اور غریب الحدیث از ابن قتیبہ  میں  کہا گیا ہے  کہ غرانیق سے مراد

طيور الماء طويلة العنق

پانی کے پرندے ہیں جن کی طویل گردن ہوتی ہے

 اردو میں ان کو بگلا کہتے ہیں مشرکین نے فرشتوں کو بگلے بنا دیا اور پھر ان کو دیوی کہا

الكلبي (المتوفى: 204هـ) کی کتاب الاصنام میں ہے

وَاللاتُ بِالطَّائِفِ وَهِيَ أَحْدَثُ من مَنَاة  وَكَانَت صَخْرَةً مُرَبَّعَةً  وَكَانَ يَهُودِيٌّ يَلُتُّ عِنْدَهَا السَّوِيقَ  وَكَانَ سَدَنَتَهَا مِنْ ثَقِيفٍ بَنُو عَتَّابِ بْنِ مالكٍ  وَكَانُوا قَدْ بَنَوْا عَلَيْهَا بِنَاءً وَكَانَتْ قُرَيْش وَجَمِيع الْعَرَب تعظمها

اور اللاتُ طائف میں تھی اور یہ (دیوی) مَنَاة  سے پرانی ہے  اور یہ ایک چکور چٹان تھی اور یہودی یہاں اس کے پاس ستو پستے (پلاتے) تھے  اور اس کے پروہت  ثَقِيفٍ بَنُو عَتَّابِ بْنِ مالكٍ سے تھے اور انہوں نے ہی اس کے مندر کی تعمیر کی تھی اور قریش اور سارا عرب اس کی تعظیم کرتا تھا

قَالَ أَبُو الْمُنْذِرِ وَلَمْ تَكُنْ قُرَيْشٌ بِمَكَّةَ وَمَنْ أَقَامَ بِهَا مِنَ الْعَرَبِ يُعَظِّمُونَ شَيْئًا مِنَ الأَصْنَامِ إِعْظَامَهُمُ الْعُزَّى ثُمَّ اللاتَ ثُمَّ مَنَاةَ

فَأَمَّا الْعُزَّى فَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَخُصُّهَا دُونَ غَيْرِهَا بِالزِّيَارَةِ وَالْهَدِيَّةِ  وَذَلِكَ فِيمَا أَظُنُّ لقربها كَانَ مِنْهَا وَكَانَتْ ثَقِيفٌ تَخُصُّ اللاتَ كَخَاصَّةِ قريشٍ الْعُزَّى

 أَبُو الْمُنْذِرِ کہتے ہیں کہ الْعُزَّى کی قریش مکہ اور عرب سب سے زیادہ تعظیم کرتے پھر اللاتَ کی اور پھر مَنَاةَ کی

اور الْعُزَّى کو قریش نے اپنے لئے خاص کر رکھا تھا اور … اللاتَ کو ثَقِيفٌ نے ایسے ہی خاص کر رکھا تھا جیسے  الْعُزَّى کو قریش نے

یہودی یہاں ستو کیوں پلاتے تھے اگر اتنے موحد تھے؟

احد والے دن ابو سفیان رضی الله عنہ نے حالت شرک میں پکارا تھا

إِنَّ لَنَا العُزَّى وَلاَ عُزَّى لَكُمْ

ہمارے لئے َ العُزَّى ہے اور تمہارے لئے قوت نہیں

اس پر نبی صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا کہ پکارو

قُولُوا الله مَوْلاَنَا، وَلاَ مَوْلَى لَكُمْ

کہو الله ہمارا مددگار ہے تمہارا کوئی بھی نہیں

صحیح ابن خریمہ کی روایت ہے

طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ فِي سُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، وَهُوَ يَقُولُ: ” يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا “، وَرَجُلٌ يَتْبَعُهُ يَرْمِيَهُ بِالْحِجَارَةِ قَدْ أَدْمَى كَعْبَيْهِ وَعُرْقُوبَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تُطِيعُوهُ فَإِنَّهُ كَذَّابٌ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: غُلَامُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا الَّذِي يَتْبَعُهُ يَرْمِيهِ بِالْحِجَارَةِ؟ قَالُوا: هَذَا عَبْدُ الْعُزَّى أَبُو لَهَبٍ

طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ کہتے ہیں : میں نے رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کو دیکھا وہ ذِي الْمَجَاز کے بازار میں سے جا رہے تھے اور ان پرسرخ چادر تھی اور کہہ رہے تھے: اے لوگوں ! کہو لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ  کامیاب ہو جاؤ اور ایک آدمی ان کے پیچھے تھا جو پتھر پھینک رہا تھا … جو کہہ رہا تھا اے لوگوں اس کی نہ سنو یہ کذاب ہے،  پس میں نے کسی سے پوچھا یہ کون ہے؟  کہا یہ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ کا لڑکا ہے-  پھر پوچھا جو پیچھے ہے، یہ کون ہے، جو پتھر پھینک رہا ہے  ؟  کہا یہ َعبْدُ الْعُزَّى أَبُو لَهَبٍ  ہے

نبی صلی الله علیہ وسلم کے چچا ابو لھب کا اصلی نام ہی َعبْدُ الْعُزَّى تھا

عربوں کے مطابق عُزَّى  ایک فرشتہ تھی اور وہ الله کی بیٹی تھی- عُزَّى کے فرشتہ ہونے کا ذکر یہود کی کتاب میں ملتا ہے کتاب انوخ تین میں ہے-  شیاطین پر ایک انسائیکلوپیڈیا میں ہے

uzza

عُزَّى ہبوط شدہ فرشتوں میں سے ہے عُزَّى کا مطلب قوت ہے کتاب انوخ تین میں اس کا ذکر تین فرشتوں میں ہے مع عزازیل اورعذہ جو ساتویں آسمان پر رہتے تھے

The Encyclopedia of Demons and Demonology  By Rosemary Guiley

کتاب انوخ تین ایک قدیم کتاب ہے اس کے اجزا بحر مردار کے طومار میں بھی ہیں

قرآن کی آیت إِنَّ الصَّفَا وَالمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ کہ الصَّفَا وَالمَرْوَةَ بے شک اللہ کی نشانیاں ہیں کے لئے عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں

إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي الأَنْصَارِ كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ

یہ آیت انصار کے لئے اتری ہے وہ مَنَاةُ پر چڑھاوے کرتے تھے

 کتاب أخبار مكة في قديم الدهر وحديثه  از أبو عبد الله محمد بن إسحاق بن العباس المكي الفاكهي (المتوفى: 272هـ) کے مطابق

نصب عَمْرو بن لحي مَنَاة على سَاحل الْبَحْر مِمَّا يَلِي قديد فَكَانَت الأزد وغسان يحجونها ويعظمونها إِذا طافوا بِالْبَيْتِ وأفاضوا من عَرَفَات وفرغوا من منى أَتَوا مَنَاة فأهلوا لَهَا فَمن أهل لَهَا لم يطف بَين الصَّفَا والمروة قَالَ وَكَانَت مَنَاة لِلْأَوْسِ والخزرج والأزد من غَسَّان وَمن دَان دينهم من أهل يثرب

عَمْرو بن لحي نے مَنَاة کو ساحل سمندر پر نصب کیا جو قديد کے پاس ہے پس قبیلہ الأزد اور غسان اس کا حج کرتے اور اس کی تعظیم کرتے اور طواف کعبہ اور عَرَفَات اور منی سے فارغ   ہونے کے بعد مَنَاة پر آ کر چڑھاتے.. اور مَنَاة ْأَوْسِ والخزرج کی دیوی تھی اور الأزد کی غسان میں اور جو اس دین پر أهل يثرب  میں سے آئے

مَنَاة  اصل میں انَاة ہے جو ایل کی بیٹی اور بعل کی بہن تھی اس کو بتول سمجھا جاتا تھا اور یہ شام میں ایک اہم دیوی تھی- مسلم تاریخ دانوں کے مطابق عَمْرو بن لحي، شام سے کچھ اصنام لایا تھا یہ بھی انہی میں سے تھی

انَاة اگر ایل کی بیٹی تھی تو وہ فرشتہ ہوئی کیونکہ عربوں میں فرشتوں کو ایل یا الله کی بیٹی کہا جاتا تھا

ایلیفینٹین  موجودہ أسوان ،  مصر میں ایک یہودی بستی تھی جو پہلے ہیکل کی تباہی پر آباد ہوئی تھی اس کا  ذکر البرديات الفنتين (١) میں موجود ہے جو حال میں  دریافت ہوئے

(١)Elephantine papyri

یہاں پر یہودی انَاة یہوی کی پوجا کرتے تھے

رابرٹ کارل اس  کا اقتباس پیش کرتے ہیں

Elephantine-anat

Gnuse Robert Karl (1997). No Other Gods: Emergent Monotheism in Israel. T&T Clark. p. 185. ISBN 978-1850756576

اس کے بجائے ہم وہ سب کریں گے جس کی ہم نے قسم لی ہے، ہم آسمان کی ملکہ پر چڑھاوے چڑھائیں گے اور اس (کے بت ) کو دھوئیں گے ایسے ہی جیسے ہمارے اسلاف ہمارے سلاطین اور اہل کار یہودا کے شہروں اور یروشلم کی گلیوں میں کرتے تھے ہمارے پاس بہت کچھ تھا اور ہم پھل پھول گئے اور ہم پر کوئی آفت نہ آئی ١٨ لیکن اس وقت سے جب ہم نے اس سب کو چھوڑا  کہ آسمان کی ملکہ پر چڑھاوے  نہیں چڑھاے اور  اس  کو دھویا  نہیں کہ  ہم ہر چیز کھو بیٹھے اور تلوار سے مجروح ہوئے اور قحط سے بے حال! ١٩ اور عورت نے کہا بے شک ہم ملکہ سما پر چڑھاوے چڑھائیں گے اور اس  کو دھوئیں   گے

 مزید لکھتے ہیں

anatyahweh

یروشلم سے بے دخلی  کے باوجود اس کے بعد بھی ایک دیوی کا تصور باقی رہا- ایلیفینٹین   مصر میں پانچویں صدی میں بھی مخطوطات پر یہودی بستیوں میں یہودی آسمان کی ملکہ کو انَاة-یحوی کے نام سے پوج رہے  تھے، ایک کنعانی دیوی اور یہوی کا مرکب

یہوی یہود میں الله کا نام ہے اور اس کو ایل بھی کہا جاتا ہے- انَاة  نام کی دیوی ایل یا الله کی بیٹی تھی جس کی پرستیش کی جاتی تھی اور یہی دیوی عربوں میں منَاة بن گئی

اللات  ، العُزَّى اور مَنَاة  کے ڈانڈے کہیں نہ کہیں جا کر فرشتوں اور ایل  کی بیٹی کے طور پر یہودی گمراہ فرقوں سے مل جاتے ہیں جن سے عرب متاثر ہوئے اور ان کو لا کر بیت الله میں رکھا گیا اور دین ابراہیمی کو حنفیت سے شرک بنا دیا گیا

کیا یہ بلند پرنما حسین دیویاں ہیں؟

ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے نبی صلی الله علیہ وسلم نے سورہ نجم  قریش کے لئے پڑھی اور اس میں ان تین دیویوں کی تعریف کی کہ ان کی شفاعت قبول ہوتی ہے-نعوذ باللہ-  جس پر قریش نے کہا ہمارا جھگڑا ختم ہوا اور بعد میں اس کی تصحیح کی گئی

طبری میں اس واقعہ کی سند ہے

حدثنا القاسم، قال: ثنا الحسين، قال: ثنا حجاج، عن أبي معشر، عن محمد بن كعب القرظي ومحمد بن قيس

کتاب  جامع التحصيل في أحكام المراسيل  از  صلاح الدين أبو سعيد خليل بن كيكلدي بن عبد الله الدمشقي العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق

محمد بن قيس بن مخرمة تابعي أرسل عن النبي صلى الله عليه وسلم

محمد بن قیس ہیں مرسل روایت کرتے ہیں

اس کی سند  میں محمد بن كعب القرظي بھی  ہیں  ان کے لئے  ہے کہ ان  کا سماع خود صحابہ سے ثابت نہیں ہے

محمد بن كعب القرظي روى عن علي والعباس وابن مسعود وأبي الدرداء رضي الله عنهم وذلك مرسل لم يلقهم

دوسری سند ہے

حدثنا ابن عبد الأعلى، قال: ثنا المعتمر، قال: سمعت داود، عن أبي العالية، قال:

اس میں رفيع أبو العالية الرياحي ہے جو صحابہ سے مرسل روایت کرتے ہیں

اس کو الزہری اور سعید بن جبیر کی سند سے بھی نقل کیا گیا ہے لیکن تمام اسناد مرسل ہیں اور ایک بھی مظبوط روایت نہیں

ابن حجر المصري نے اس  روایت کو قبول کیا ہے ابن کثیر نے رد کیا ہے

البانی نے اس پر  کتاب نصب المجانيق لنسف قصة الغرانيق  میں اچھی بحث کی ہے اور اس کے دس طرق جمع کئے ہیں اور ثابت کیا ہے یہ تمام  روایات معلول ہے

البانی لکھتے ہیں

تلك هي روايات القصة، وهي كلها كما رأيت مُعَلَّة بالإرسال والضّعف والجَهالة، فليس فيها ما يصلُح للاحتجاج به

یہ ہیں وہ روایات جو اس قصے سے متعلق ہیں اور یہ سب جیسا کہ دکھایا ہے معلول ہیں ارسال کرنے  اور  کمزور اور مجھول راویوں کی وجہ سے- پس ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس سے دلیل لی جائے

بحر الحال ان روایات  کا اصل مقصد  واضح نہیں کیا گیا کہ   ان کو کیوں بیان کیا گیا

قوم نوح کے دیوتا اور فرشتے

نوح علیہ السلام نے الله سے کہا کہ میری قوم کہتی ہے

وَلا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلا سُوَاعًا وَلا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيرًا

اور نہ ود کو چھوڑو نہ  سواع کو نہ يغوث کو نہ يعوق اور نہ  نسر کو اور انہوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا

کہا جاتا ہے کہ قوم نوح کے بعد عمرو بن لحی شام گیا اوروہاں سے ان بتوں کو لایا – یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک جن نے اس کو خبر دی اور جدہ کے ساحل پر سے ان  بتوں کو نکالا- لیکن اس قصہ کا سر پیر واضح نہیں- اگر ہم دیکھیں کہ ان بتوں کو کون پوجتا تھا اور یہ عرب میں کہاں تھے اور کس شکل کے تھے تو یہ نقشہ بنتا ہے

wad-swa-1
Wad-Swa-Yagoth2

حزقی ایل کی کتاب کے باب اول   کی آیت ١٠ کے مطابق حزقی ایل نے بابل میں عرش یا مرکبہ کو دیکھا- مرکبہ کو چار فرشتوں نے اٹھایا ہوا تھا جن کے چار چہرے تھے ایک انسان جیسا ایک شیر جیسا ایک بیل جیسا اور ایک عقاب جیسا تھا- اگر اپ دیکھیں تو سواع انسان جیسا تھا ، يغوث شیر جیسا ، ود بیل جیسا اور نسر عقاب جیسا

 معلوم ہوتا ہے کہ یہودی تصوف کا اثر یمن سے ان بتوں کی شکل میں نکلا اور عربوں میں پھیلا-  ہر بت کی شکل میں ایک مختلف جانور ہے-  سواع ایک عورت کی شکل کا بت تھا – اور عربوں میں فرشتوں کو پوجنے کا تصور تھا لہذا بہت ممکن ہے کہ ان سب کو فرشتے سمجھ کر پوجا جاتا ہو-حدیث کے مطابق یہ سب اولیاء الله تھے جن کی قبریں پوجی گئیں تھیں
اور عربوں نے ان کے بت بنا کر پوجا

 بزرگوں کی روحیں فرشتے بن جانے کا تصور اسلامی تصوف میں بھی موجود ہے-  شاہ ولی الله نے اس کو حجه الله البالغہ میں ذکر کیا  ہے –  تصوف میں ایسے کمالات ہوتے رہتے ہیں چاہے یہودی تصوف ہو یا اسلامی

قبر پرستی کی لعنت میں یہودی مبتلا  رہے ہیں اور عرب ان کے بت بنا کر پوجتے تھے اور یہودی فرشتوں کے نام پر جادو کیا کرتے تھے یہ سب عرب کا عام کلچر تھا اس مشرکانہ ماحول میں جانوروں کی شکل والے قوم نوح کے اولیاء کی پوجا پاٹ کے پیچھے یقینا کوئی داستان ہو گی جو ہم تک نہیں پہنچی لیکن اس کے شواہد یہود یمن سے جا کر ضرور ملتے ہیں نہ کہ شام سے

ھبل کا بت؟

قرآن میں ھبل کا سرے سے کوئی ذکر نہیں-  کعبہ کے بیچ میں ھبل کا بت تھا جو کتاب الاصنام از الکلبی کے مطابق  خُزَيْمَةَ بْنَ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ  نے رکھا تھا اور اس کو هُبَلُ خُزَيْمَةَ بھی کہا جاتا تھا- خُزَيْمَةَ بْنَ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ، نبی صلی الله علیہ وسلم کا ١٤ یوں پر دادا تھا-   یہ بت  ایک انسان کی صورت تھا ، جس کا دایاں باتھ سونے کا تھا اور جسم سرخ یاقوت کا- اس کے آگے سات پانسے ہوتے تھے جن میں ایک پر صریح اور آخری پر مبہم لکھا ہوتا تھا- بني كنانة وقريش اس کے پجاری تھے

کتاب أخبار مكة وما جاء فيها من الأثار از الفاکھی کے مطابق

ھبل کے ساتھ ایک کنواں تھا جس کو الأخسف یا الأخشف  کہا جاتا تھا

محمّد بن اسحاق کا قول اسی کتاب میں ہے جس میں وہ کہتا ہے

إِنَّ الْبِئْرَ الَّتِي كَانَتْ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ، كَانَتْ عَلَى يَمِينِ مَنْ دَخَلَهَا، وَكَانَ عُمْقُهَا ثَلَاثَةَ أَذْرُعٍ يُقَالُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ حَفَرَاهَا لِيَكُونَ فِيهَا مَا يُهْدَى لِلْكَعْبَةِ فَلَمْ تَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَ عَمْرُو بْنُ لُحَيٍّ، فَقَدِمَ بِصَنَمٍ يُقَالُ لَهُ هُبَلُ مِنْ هِيتَ مِنْ أَرْضِ الْجَزِيرَةِ

کعبہ کے وسط میں کنواں تھا جو اس میں داخل ہونے کے بعد سیدھے ہاتھ پر تھا اور اس کی گہرائی تین بازو برابر تھی کہا جاتا ہے اس کو ابراہیم اور اسمعیل نے کھودا تھا تاکہ اس میں کعبہ کو ملنے والے تحفہ رکھے جائیں اور یہ اسی حالت میں رہا حتی کہ عمرو بْنُ لُحَيٍّ ، الْجَزِيرَةِ (موجودہ کردستان) سے ھبل کا بت لایا

عَمْرو بن لحي بن قمعة بن خندف کا تعلق قبیلہ خُزَاعَة سے تھا –  بخاری کی حدیث میں کہا گیا ہے کہ اس نے بتوں کے نام پر جانور چھوڑنے کی رسم نکالی تھی

صحابی رسول عمرو بن الجموح رضی الله عنہ  اسی عَمْرو بن لحي کی نسل میں سے تھے جو آٹھ پشت پہلے کا دور ہے جبکہ خُزَيْمَةَ بْنَ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ اس سے بھی پہلے کا ہے جو کلبی کا کتاب الاصنام میں  قول ہے جو زیادہ قرین قیاس ہے

مسند احمد اور صحیح بخاری  میں ہے کہ جنگ احد  میں جب مسلمانوں کو ہزیمت اٹھانا پڑی تو ابو سفیان رضی الله عنہ نے حالت شرک میں پکارا

اعْلُ هُبَلُ

ھبل بلند ہو

 نبی صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا کہو

الله أَعْلَى وَأَجَلُّ

الله ہی اعلی اور جلیل ہے

بیہقی،  شعب الإيمان کے مطابق نبی صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش پر

فَأَخَذَهُ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ فَأَدْخَلَهُ على هُبَلَ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ

عَبْدُ الْمُطَّلِبِ نے ان کو گود میں لیا اور کعبہ کے وسط میں ھبل کے آگے پیش کیا

وَذَكَرَ ابْنُ إِسْحَاقَ دُعَاءَهُ وَأَبْيَاتَهُ الَّتِي قَالَهَا فِي شُكْرِ اللهِ تَعَالَى عَلَى مَا وَهَبَهُ

اور ابن اسحاق نے دعا اور اشعار ذکر کیے جو انہوں (عَبْدُ الْمُطَّلِبِ) نے الله نے جو عطا کیا اس کا  شکر کرنے کے لئے کہے

ایک زمانے میں  قبیلہ خُزَاعَة کے پاس کعبہ کی متولیت تھی- کتاب معجم قبائل العرب القديمة والحديثة از عمر بن رضا بن محمد راغب بن عبد الغني كحالة الدمشق (المتوفى: 1408هـ) کے مطابق

كانت لهم ولاية البيت (الكعبة) قبل قريش

ان کے پاس قریش سے پہلے کعبہ کی متولیت تھی

یہ کعبہ کے پاس پہاڑوں میں رہتے تھے- خزاعة میں اور  بني كنانة میں ایک دوسرے کی جنگوں میں مدد کا معاہدہ بھی تھا – لہذا بني كنانة کا اثر و رسوخ بڑھا ہو گا اور انہوں نے اپنا بت کعبہ میں رکھوا دیا ہو گا کیونکہ کہا جاتا ہے کہ خُزَاعَة نہیں بلکہ بني كنانة اور قریش ھبل کے پجاری تھے

بنی کنانہ کا تعلق كنانة بن خزيمة بن مدركة سے ہے اور خُزَيْمَةَ بْنَ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ کے لئے کہا جاتا ہے کہ اس نے ھبل کا بت کعبہ میں رکھا تھا-  لہذا عمرو بْنُ لُحَيٍّ  کا  الْجَزِيرَةِ (موجودہ کردستان) سے ھبل کا بت لایا جانا اور اس کو کعبہ میں رکھا جانا تاریخ سے ثابت نہیں- مسلمان  مورخین نے ہر بت عمرو بْنُ لُحَيٍّ سے منسوب کر دیا ہے حالانکہ اس نے بتوں پر جانور چھوڑنے کی رسم نکالی تھی جو ظاہر ہے بتوں کی معاشرہ میں مقبولیت کے بعد ہی ممکن ہے

بنی کنانہ یمن اور مکہ کے درمیان آباد تھے لہذا ھبل کوئی شامی یا کردستانی یا نبطی  بت نہیں تھا اس کا تعلق بھی یمن سے تھا-  کنانہ والوں کے دو دیوتا تھے کتاب  الأعلام از خير الدين بن محمود بن محمد بن علي بن فارس، الزركلي الدمشقي (المتوفى: 1396هـ) کے مطابق

وكان من أصنامهم في الجاهلية ” سواع ” في وادي نعمان، قرب مكة، و ” هبل ” في جوف الكعبة

اور جاہلیت میں  ان کے اصنام میں سواع تھا وادي نعمان مکہ کے پاس اور ھبل کعبہ کے وسط میں

سواع عورت کی شکل  تھی اور ھبل مرد کی شکل کا تھا-

مغربی مستشرقین کا دعوی ہے کہ ھبل اصل میں بعل ہے لیکن اس پر ان کی کوئی دلیل نہیں – پھر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ھبل، ود تھا اور یہ بھی وہ الله تھا وغیرہ-  لیکن عجیب بات ہے کہ خود اپنے نام ھبل رکھتے ہیں اور ایک ٹیلی اسکوپ کو بھی ھبل ٹیلی اسکوپ کہا جاتا ہے جو ایک سائنس دان کے نام پر ہے-  جس کے لئے کہا جاتا ہے کہ یہ لفظ ڈچ یا جرمن سے انگریزی میں آیا ہے –

 یہ لفظ راقم کے خیال میں ہابیل ہے جو عبرانی میں ہوول  ہے – عبرانی میں ب اور و تبدیل ہو جاتے ہیں مثلا  عبرانی میں  تل اویو بولا جاتا ہے اور  عربی میں تل ابیب بولا جاتا ہے- اسی طرح آدم کے بیٹے کا نام عبرانی میں ہیو-ول سے عربی میں ھبل ہوا –

http://www.forvo.com/word/hevel/

یہی عبرانی  نام، معرب   ہو کراس بت کے لئے مشھور ہو گیا اور اس کی پوجا ہونے لگی – یہ بت بنی کنانہ سے آیا جو مکہ اور یمن کے درمیان سکونت پذیر تھا – یمن پر یہودی اثر قدیم دور سے آج تک ہے اور ان کی بعض قبائل ابھی بھی وہاں موجود ہیں-

عرب نبوت پر یقین نہیں رکھتے تھے لیکن کعبہ میں نیک لوگوں کے بت و تصویر بھی تھیں-  کعبہ میں بتوں کے علاوہ تصویریں تھیں – الذہبی تاريخ الإسلام وَوَفيات المشاهير وَالأعلام   میں لکھتے ہیں کہ کعبہ میں

وَصَوَّرُوا فِيهَا الْأَنْبِيَاءَ وَالْمَلَائِكَةَ وَالشَّجَرَ، وَصَوَّرُوا إِبْرَاهِيمَ يَسْتَقْسِمُ بِالْأَزْلَامِ، وَصَوَّرُوا عِيسَى وَأُمَّهُ

انبیاء کی، فرشتوں کی درختوں کی  تصویریں تھیں اور ابراہیم کی پانسوں کے ساتھ اور عیسیٰ اور ان کی ماں کی بھی

عیسیٰ اور مریم کی تصویر یا دوسرے انبیاء کی تصویریں عقیدہ نبوت پر ایمان کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے نیک مشھور ہونے کی وجہسے تھیں- لہذا ھبل کوئی غیر معروف مرد نما بت نہ تھا بلکہ بہت ممکن ہے کہ یہ ہابیل کا عبرانی نام والا بت ہو و اللہ اعلم

قریش مکہ کہتے تھے کہ ھم ان کی عبادت اس لئے کرتے ھیں کہ تاکہ یہ ھم کو اللہ کے قریب کر دیں سورہ الزمر

لہذا یہ نہیں جو سکتا کہ وہ تخیلاتی معبودوں کے پجاری ھوں

عرب مشرکین کے یمن کے یہودیوں سے اچھے تعلقات تھے اور یثرب کے یہود سے بھی- اسی لئے ان کو الله والا سمجھ کر ان سے نیک لوگ اور فرشتوں پر معلومات لیتے اور ان کے بت بنا کر پوجتے – آپ دیکھ سکتے ہیں کہ فرشتے ہوں یا اولیاء قوم نوح یا ھبل یہ سب یہود نے ان کو بتائے یہی وجہ ہے کہ مندروں پر یہودی ستو پلاتے تھے شاید یہ ایک بزنس تھا کہ عربوں کو فرشتوں کے مندر دیے جائیں اور وہاں انے والے لوگوں سے یہود بزنس کرتے تھے

 نبی صلی الله علیہ وسلم پر جادو کروانے  کے لئے بھی مشرکین، یہود کے کے پاس گئے-  لہذا وہ عرب مشرکین کی نگاہ میں قابل قدر تھے

مملکت حمیر (١)  قدیم   یمن میں ایک حکومت  رہی جس نے ایک وقت میں تمام یمن اور حضر الموت پر حکومت کی

Ḥimyarite Kingdom or Ḥimyar

مملکت حمیر کا آغاز ١١٠ قبل مسیح سے ہوا-

مملکت سبا پر ٢٥ بعد مسیح میں اس نے قبضہ کیا، مملکت قتبان پر ٢٠٠ بعد  مسیح میں اور  قریب ٣٠٠ بعد  مسیح میں حضر الموت پر انہوں نے قبضہ کیا  – یہ تمام علاقے قدیم یمن میں تھے-  تیسری صدی بعد مسیح میں اس میں مملکت السبئيون بھی شامل ہو گئی-  یہ ابتداء میں مشرک قبائلی مملکت تھی  جو حجاز تک اثر و رسوخ رکھتی تھی-  اسی کے آس پاس دور میں سمندر پار افریقہ میں ایک ممکت اکثوم نے عیسائی مذھب اختیار کیا-

himyar

مملکت حمیر کے ایک بادشاہ أبو كرب أسعد یا أسعد أبو كُرَيْب بن مَلْكيكرب  یا اسعد الكامل یا التبع نے حمیر پر ٣٩٠   سے ٤٢٠ ع تک حکومت کی-  کہتے ہیں اس نے یثرب پر حملہ کیا تاکہ وہاں بڑھتے ہوئے عیسائی بازنیطی  اثر کو ختم کرے- اس جنگ میں یہودیوں نے بھی مملکت حمیر کا  ساتھ دیا –  لیکن التبع وہاں بیمار ہو گیا حتی کہ کسی چیز سے شفا یاب نہ ہو سکا- یہ ایک مشرک تھا لیکن یثرب کے یہودیوں احبار نے اس کو جھاڑا اور یہ ٹھیک ہو گیا- اس سے متاثر ہو کر اس نے یہودی مذھب قبول کیا – اس طرح مملکت حمیر ایک یہودی ریاست بن گئی- اس کی قوم کا قرآن میں  ذکر ہے

الله تعالى کہتا ہے  : أَهُمْ خَيْرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ أَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ   الدخان ٣٧ میں

کیا یہ (مشرکین مکہ) بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور جو ان سے قبل گزرے جن کو ہم نے ہلاک کیا یہ سب مجرم تھے

اور

 كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَابُ الرَّسِّ وَثَمُودُ . وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ وَإِخْوَانُ لُوطٍ . وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ  سوره ق ١٢  سے ١٤ میں

ان  (مشرکین مکہ) سے قبل قوم نوح اور اصحاب الرس اور ثمود اور عاد اور فرعون اور قوم لوط اور َأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ اور َقَوْمُ تُبَّعٍ کو ہلاک کیا سب نے رسولوں کا انکار کیا پس ان پر وَعِيدِ   ثبت ہوئی

ابو داود کی حدیث ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

لا أدري تبع لعينًا كان أم لا

میں نہیں جانتا کہ تبع، مردود ہے یا نہیں

یعنی تبع  کے اس تبدیلی ایمان میں وہ صحیح تھا یا نہیں اس کی خبر نہیں دی گئی لیکن اس کی قوم کو برا کہا گیا ہے- کعب الاحبار کا قول ہے ذم الله تعالى قومه ولم يذمه الله نے اس کو برا نہیں کہا اس کی قوم کو کہا ہے

بحر الحال قوم تبع الحمیر یہودی ہوئی اور حبشہ واکثوم  کے عیسائیوں سے اس کی ٹھن گئی حتی کہ اکثوم نے حمیر پر حملہ کیا اور اس کے شاہ ذو نواس کو معذول کر دیا –  عرب میں عیسائی اور یہودی مذھب کی تبلیغ کی وجہ سے یمن کے کچھ قبائل نے عیسائی مذھب  کو قبول کیا اور یمن کا نجران کا علاقہ بھی عیسائی مذھب کا حامل ہوا-  مملکت حمیر کے یہودی بادشاہ ذونواس جس کا نام یوسف تھا اس  نے واپس اپنا علاقہ بزور بازو حاصل کیا اور اپنے علاقے کے لوگوں کو جبرا یہودی مذھب اختیار کرنے کا حکم دیا –  بظاہر حمیر یہودیت کے قائل تھے لیکن ان کے عقائد مشرکانہ ہو چکے تھے-   اس زبر دستی میں ذونواس نے ایک بڑا قدم اٹھایا – اس نے اگ جلانے کا حکم دیا اور اس میں ٢٠ ہزار مردوں، عورتوں اور بچوں کو پھینکا گیا جنہوں نے شرکیہ عقیدہ اختیار نہیں کیا تھا – اس کا ذکر قرآن میں ہے

وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ وَالْيَوْمِ الْمَوْعُودِ وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُود النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ

إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌ  وَهُمْ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌ  وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ

الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ   إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ  إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ

آسمان کی قسم جس میں برج ہیں،  اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے،  اور حاضر ہونے والے کی اور جو اس کے پاس حاضر کیا جائے اسکی-  کہ خندقوں (کے کھودنے) والے ہلاک کر دیئے گئے-   یعنی) آگ (کی خندقیں) جس میں ایندھن (جھونک رکھا) تھا-  جب کہ وہ ان (کے کناروں) پر بیٹھے ہوئے تھے-  اور جو (سختیاں) اہل ایمان پر کر رہے تھے ان کو سامنے دیکھ رہے تھے-  ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ الله پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب (اور) قابل ستائش ہے-  وہی جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے۔ اور الله ہر چیز سے واقف ہے-  جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا (اور) عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا –  (اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہ ہی بڑی کامیابی ہے

اس کا ذکر عیسائی  یونانی کتاب میں بھی ہے اور مارٹم سنکٹی ارتھاۓ کے نام سے مشھور ہے

 Martyrium Sancti Arthae

یہ واقعہ  نجران میں ٥٢٣ ع یا ١٠٣ قبل ہجری میں  ہوا-

صهيب الرومي المتوفی ٣٩ ھ سے عبد الرحمن بن أبي ليلى (ولادت ٢١ ہجری اور وفات ٨٣ ھ  ) نے  ایک روایت صحیح مسلم اور مصنف عبد الرزاق  بیان کی ہے جس کے مطابق اصحاب الخدود کا واقعہ ماضی میں پیش آیا  –  عبد الرحمن بن أبي ليلى مدلس ہیں اور اس کی ہر سند کو عن سے روایت کرتے ہیں- البتہ اس میں صَوْمَعَةٍ اور راہبوں کا ذکر کرتے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ اس میں مسلمان لوگوں سے مراد اہل  کتاب تھے جو عیسیٰ پر ایمان لائے تھے  لیکن موحد تھے- مصنف میں محدث عبد الرزاق کہتے ہیں

 قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: «وَالْأُخْدُودُ بِنَجْرَانَ» اور عَبْدُ الرَّزَّاقِ کہتے ہیں  خندقوں والے نجران میں تھے

عبد الرزاق کا تعلق بھی یمن سے ہے

اس واقعہ کو سن کر اکثوم کے بادشاہ کلیب نے ایک لشکر بھیجا اور سن ١٠١ قبل ہجری بمطابق سن ٢٢٥ ع میں مملکت اکثوم کی بازنیطی عیسائی ریاست کے ہاتھوں مملکت حمیر تباہ ہوئی اور آخری یہودی بادشاہ ذو نواس نے خود کشی کر لی

کہا جاتا ہے کہ اکثوم کے شاہ  کلیب کے دوسرے لشکر نے جس نے یمن پر حملہ کیا اس کا جنرل أبرهة تھا ایک لڑائی میں اس کے چہرے پر زخم آیا اور اس کا نام  الأشرم پڑ گیا-  اس کے لشکر کے  پاس ایک لاکھ افریقی ہاتھی تھے –  أبرهة الأشرم ، یمن کے  علاقے پر اکثوم کا وائس رائے بن کر حکومت کرتا رہا حتی کہ اس نے خود کو یمن کا آزاد حاکم قرار دے دیا اور اکثوم کا باغی ہوا- یہ عیسائیت کو پسند کرتا تھا اور چاہتا تھا کہ تمام عرب کعبہ اللہ  کو چھوڑ کر یمن میں اس کے تعمیر کردہ کلیسا (جس کو کعبہ النجران کہا جاتا تھا ) کا حج کریں- سن ٥٧٠ بمطابق ٥٣ قبل ہجری میں اس بد بخت نے کعبہ اللہ کو منہدم کرنے کا ایک منصوبہ بنایا اور اپنا ہاتھیوں کا لشکر لے کر مکہ پہنچ گیا-  کہا جاتا ہے کہ مشرکین میں سے کسی شخص نے اس کے بنائے نقلی کعبہ میں جا کر پاخانہ کر دیا جس پر یہ باولا ہوا اور یہ قدم اٹھایا لیکن یہ  واقعہ خود أبرهة کی ایک چال بھی ہو سکتا ہے کیونکہ الله تعالی  کہتا ہے کہ الله نے أبرهة کی چال کو ناکام کر دیا

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ

 أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ

 وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ

 تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ

 فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ

کیا تم نے دیکھا؟  کیا  کام کیا تمھارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ!  کیا ان کی چال کو ناکام نہ  کر دیا  ؟ اور ان پر پرندوں کے جھنڈ در جھنڈ اتارے،  جو ان پر مٹی  کے پتھر پھینک رہے تھے،  پس ان کو چبے ہوئے بھوسے جیسا کر دیا

 اس واقعہ سے بیت الله کی ہیبت سارے عرب میں پھیل گئی اور یہی وجہ ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ اہل کتاب اس گھر کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو

النجاشی

 النجاشی اصحمہ (١) بن ابجر رضی الله عنہ المتوفی ٦٣٠ ع بمطابق ٩ ہجری  اکثوم کے بادشاہ تھے اور عرب اکثوم کو الحبشہ کہتے تھے

 اصل نام Sahama (١)

النجاشی نام نہیں بلکہ ٹائٹل ہے جس کا مطلب شاہ ہے جو اکثوم کے تمام بادشاہوں کے لئے بولا جاتا تھا

مکہ میں جب مشرکین نے مسلمانوں پر تشدد سخت کیا  تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا اور ایک خط بھی ان کی طرف بھیجا مشرکین نے بھی اپنے ایلچی بھیجے کہ ان  لوگوں کو ہمارے حوالے کر دیں لیکن النجاشی نے انکار کر دیا

نبی صلی الله علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ بھی پڑھائی اور آپ کو ان کی وفات کی خبر وحی کی گئی

محدثین اور تاریخی حقائق

امام ابو حنیفہ قلیل  حدیث ہیں یعنی انہوں نے بہت کم حدیثیں بیان کی ہیں لیکن یہ کوئی عیب نہیں کیونکہ بعض محدثین حدیث یاد رکھتے تھے لیکن اس کا مفہوم نہیں سمجھتے تھے مثلا محمّد بن اسحاق یہ تاریخ و حدیث کے امام ہیں ان کو امیر المومنین فی الحدیث کہا جاتا ہے لیکن یہ روایت کرتے ہیں کہ عائشہ رضی الله عنہا کہتیں تھیں کہ قرآن کی کچھ آیات ایسی بھی ہیں جو مصحف میں نہیں اور ان کو بکری کھا گئی. ظاہر ہے کہ حدیث یاد رکھنے کے علاوہ دین کا علم بھی ضروری ہے

محدثین کے دو گروہ تھے ایک وہ تھے جو اگر کسی مسئلہ میں حدیث نہ ہو تو رائے کو پسند کرتا تھا اور ایک  دوسرا گروہ تھا جو مسئلہ میں ضعیف روایت کو لینے کا قائل تھا مثلا امام احمد اور ابتداء میں امام بخاری

 پہلے گروہ میں جلیل القدر امام المحدیثین يَحْيى بْن سَعِيد القطان  ہیں یہ  اہل رائے میں سے تھے

ابن عدی  کتاب   الكامل في ضعفاء الرجال میں لکھتے ہیں

سمعتُ ابْن حماد، حَدَّثَنا أَحْمَد بْن مَنْصُور الرمادي سَمِعت يَحْيى بن مَعِين يقول: سَمعتُ يَحْيى بْن سَعِيد القطان لا نكذب اللَّه ربما سمعنا الشيء من

رأي أبي حنيفة فاستحسناه فأخذنا بِهِ.

میں نے ابن حماد کو سنا … یحیی بن معین کو سنا انہوں نے یحیی بن سعید کو سنا ہم اللہ پر جھوٹ نہیں بولتے بعض اوقات ہم ابو حنیفہ کی کوئی رائے سنتے ہیں پس اس کو پسند کرتے ہیں اور اپنا لیتے ہیں

 قال يَحْيى بْن مَعِين وكان يَحْيى بْن سَعِيد يذهب فِي الفتوى إِلَى مذهب الكوفيين.

یحیی بن معین کہتے ہیں کہ یحیی بن سعید کوفہ کے مذھب (اہل رائے) پر فتوی دیتے تھے

امام شعبہ بن حجاج جن کو امیر المومنین فی الحدیث کہا جاتا ہے بھی امام ابو حنیفہ کے مدح تھے. ابن عدی لکھتے ہیں

حَدَّثَنَا ابن حماد قَالَ وحدثني أَبُو بَكْر الأعين، حَدَّثني يَعْقُوب بْن شيبة عن الحسن الحلواني سَمِعْتُ شَبَابَةَ يَقُولُ كَانَ شُعْبَة حسن الرأي فِي أَبِي حنيفة فكان يستنشد فِي هَذِهِ الأبيات

شعبہ امام ابو حنیفہ کے لئے حسن رائے رکھتے تھے اور ان کی تعریف میں اشعار بھی کہتے تھے

امام ابو حنیفہ مطلقا قیاس کے حامی نہیں تھے ابن عدی لکھتے ہیں

سمعت أَبَا عَرُوبة يَقُول: سَمعتُ سُفْيَان بْن وكيع يَقُولُ: سَمعتُ أَبِي يَقُولُ: سَمعتُ أَبَا حنيفة يَقُول البول فِي المسجد أحسن من بعض القياس.

ابو عَرُوبة کہتے ہیں انہوں نے  سُفْيَان بْن وكيع کو سنا انہوں نے اپنے باپ وكيع کو کہ ابو حنیفہ کو سنا انہوں نے کہا کہ بعض قیاس سے بہتر ہے کہ  مسجد میں پشاب کرے

امام احمد، سُفْيَان بْن وكيع  کے لئے کہتے ہیں ما أعلم إلا خيراً میں ان میں سوائے خیر کے کچھ نہیں جانتا

عبداللہ بن احمد کتاب السنہ میں اپنے باپ احمد سے نقل کرتے ہیں

سَمِعْتُ أَبِيَ يَقُولُ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ: «مِنْ حُسْنِ عِلْمِ الرَّجُلِ أَنْ يَنْظُرَ فِي رَأْي أَبِي حَنِيفَةَ

میں نے اپنے باپ احمد سے سنا کہ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ نے کہا کہ آدمی کے علم کا حسن یہ ہے کہ وہ ابو حنیفہ کی رائے جانتا ہو

امام ابو حنیفہ کی رائے مذموم ہوتی تو اس کو اہل علم ، علم کا حسن کیوں کہتے

دوسرا گروہ

بعض محدثین عمل میں ضعیف حدیث کو لینے کے قائل تھے اور اسی طرح رائے کے مقابلہ میں حدیث ضعیف کو ترجیح دیتے تھے امام بخاری کا شروع میں یہی منہج تھا جیسا کہ کتاب ادب المفرد اور کتاب الفاتحہ خلف الامام سے ہوتا ہے لیکن صحیح میں انہوں نے اس کو چھوڑ دیا

عبد اللہ بن احمد اپنے باپ  احمد سے  کتاب السننہ میں  نقل کرتے  ہیں

سَأَلْتُ أَبِي رَحِمَهُ الله عَنِ الرَّجُلِ، يُرِيدُ أَنْ يَسْأَلَ، عَنِ الشَّيْءِ، مِنْ أَمْرِ دِينِهِ مَا يُبْتَلَى بِهِ مِنَ الْأَيْمَانِ فِي الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ فِي حَضْرَةِ قَوْمٍ مِنْ أَصْحَابِ الرَّأْي وَمِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ لَا يَحْفَظُونَ وَلَا يَعْرِفُونَ الْحَدِيثَ الضَّعِيفَ الْإِسْنَادِ وَالْقَوِيَّ الْإِسْنَادِ فَلِمَنْ يَسْأَلُ، أَصْحَابَ الرَّأْي أَوْ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ عَلَى مَا كَانَ مِنْ قِلَّةَ مَعْرِفَتِهِمْ؟ [ص:181] قَالَ: يَسْأَلُ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ وَلَا يَسْأَلُ أَصْحَابَ الرَّأْي، الضَّعِيفُ الْحَدِيثِ خَيْرٌ مِنْ رَأْي أَبِي حَنِيفَةَ

میں نے اپنے باپ سے اس آدمی کے بارے میں  پوچھا جو دین کے کسی کام پر جس سے ایمان برباد نہ ہو جسے طلاق یا دیگر پر اصحاب رائے کے پاس جائے یا ان اصحاب حدیث کے پاس جائے جو حدیث کو صحیح طرح یاد نہیں رکھتے اور قوی الاسناد کو ضعیف الاسناد سے جدا نہیں کر پاتے  تو ان دونوں میں سے کس سے سوال کرے اصحاب رائے سے یا قلت معرفت والے اصحاب حدیث سے   امام احمد نے کہا  اصحاب حدیث سے سوال کرے اور اصحاب رائے سے نہیں ایک ضعیف حدیث ابو حنیفہ کی رائے سے بہتر ہے

افسوس کہ ضعیف  راوی کو امام ابو حنیفہ سے بھی  بلند کر دیا گیا اور اسی تعصب  کی وجہ  سے  محدثین میں تفریق پیدا ہوئی

 اسی تعصب کی وجہ سے امام ابو حنیفہ کی تنقیص کرنا عبادت تصور ہونے لگا اور جھوٹ کا ایک انبار ان کے حوالے سے بیان کیا گیا  مثلا جرح و تعدیل کے امام احمد کتاب السنہ از عبدللہ میں کہتے ہیں

حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَلْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا يُوسُفَ وَهُوَ بِجُرْجَانَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، فَقَالَ: «وَمَا تَصْنَعُ بِهِ مَاتَ جَهْمِيًّا»

محمّد بن سعید بن سلم اپنے باپ سے نقل کرتا ہے کہ انہوں نے ابو یوسف سے جرجان میں ابو حنیفہ کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا میں اس سے کچھ نہیں لیتا جہمی مرا

 مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَلْمٍ  مجھول ہے  لیکن  پھر بھی اسکی بات کو صحیح مانتے ہوئے کتاب میں نقل کرتے  ہیں

تاریخ الجرجاں از أبو القاسم حمزة بن يوسف بن إبراهيم السهمي القرشي الجرجاني (المتوفى: 427هـ)  میں اس راوی کی تعریف لکھی ہے رجل من ولد قتيبة ایک آدمی جو قتيبة میں پیدا ہوا اس کے علاوہ اس کا احوال نہیں ملتا

امام بخاری کا اصحاب رائے سے فاتحہ خلف الامام پر اختلاف تھا اسی وجہ سے انہوں نے امام ابو حنیفہ کی کوئی رائے صحیح میں نقل نہیں کی اور تاریخ الکبیر میں کہا ہے کہ میں نے  ان کی رائے پر خاموشی  اختیار کی ہے

لیکن انہوں نے امام احمد کی طرح امام ابو حنیفہ کو جہمی نہیں کہا بلکہ مرجیہ کہا ہے اور دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے جہمی ہونا کفر ہے اور مرجیہ ہونا کوئی برائی نہیں

الجہمیہ کا مذھب

جھم بن صفوان کے لئے کتاب العَلو للعلي الغفار از  اِمام شمس الدین الذہبی  میں ہے  کہ

فرقہ جھمیہ والے یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے اور اللہ تعالیٰ اُن کے اِس باطل قول سے پاک ہے بلکہ اُس کا عِلم ہر وقت ہمارے ساتھ ہے

الذھبی مزید بتاتے ہیں کہ أبو معاذ خالد بن سلیمان کہتے ہیں

جھم (بن صفوان) ترمذ کی گزر گاہ پر تھا اور فصیح تھا  لیکن صاحبِ عِلم نہ تھا اور نہ ہی عِلم والوں کے ساتھ اُسکا اُٹھنا بیٹھنا تھا ، لہذا وہ لوگوں کے ساتھ  باتیں کیا کرتا ، لوگوں نے اُسے کہا جِس الله کی تم عِبادت کرتے ہو ہمیں اُسکی صفات بتاو  تو وہ (جھم بن صفوان) اپنے گھر میں داخل ہوا  اور کئی دِن کے بعد باہر نکلا اور لوگوں کو جواب دِیا کہ  وہ جیسے کہ یہ ہوا ہر چیز کے ساتھ ہے ، اور ہر چیز میں ہے اور کوئی چیز اُس سے خالی نہیں  تو أبو معاذ نے کہا  اللہ کا دشمن جھوٹ بولتا ہے ، اللہ تو اپنے عرش پر ہے جیسا کہ خود اللہ نے اپنے بارے میں بتایا ہے

امام ابو حنیفہ کا اس سے کیا تعلق ؟

ابن قُطْلُوْبَغَا کتاب الثقات ممن لم يقع في الكتب الستة میں لکھتے ہیں

قلت: التجهم: الكلام في الصفات، وهي مسألة معروفة لا تقتضي عدم

الثقة، وإن صدق القائل عنه أنه قال: القرآن مخلوق؛ فإنما عني الصوت به شَبَه المكتوب، فقد ثبت عنهم أن الصفة قديمة، ومن يوصف بما تقدم من العلم لا يُقَوَّل بما يتوهم من هذا

میں کہتا ہوں جھمیہ ہونا  صفات الله میں کلام ہے اور یہ ایک معروف مسئلہ ہے اس سے عدم ثقاہت نہیں ہوتی …  اور اس پر وہم نہیں ہونا چاہیے

عبد اللہ بن احمد کتاب السنہ میں روایت کرتے ہیں

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قَرِيبٍ الْأَصْمَعِيِّ، عَنْ حَازِمٍ الطُّفَاوِيِّ قَالَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ: «أَبُو حَنِيفَةَ إِنَّمَا كَانَ يَعْمَلُ بِكُتُبِ جَهْمٍ تَأْتِيهِ مِنْ خُرَاسَانَ

عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قَرِيبٍ الْأَصْمَعِيِّ روایت کرتے ہیں کہ …. ابو حنیفہ  جھم کی  کتابوں پر عمل کرتے تھے جو خراسان سے آئی تھیں

اسکی سند میں  عبد الملك بن قريب الأصمعي ہیں. الذھبی میزان الاعتدال میں ان  کو ابو داود صدوق کہتے ہیں .الأزدي ، ضعيف الحديث کہتے ہیں اور أبو زيد الأنصاري کذاب کہتے ہیں

عبد اللہ کتاب السنہ میں روایت کرتے ہیں جس میں ابو حنیفہ کو کافر کہا گیا ہے سند ہے

حَدَّثَنِي عَبْدُ الله بْنُ عَوْنِ بْنِ الْخَرَّازِ أَبُو مُحَمَّدٍ، وَكَانَ، ثِقَةً، ثنا شَيْخٌ، مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ: قِيلَ لِعَبْدِ الله بْنِ عَوْنٍ: هُو أَبُو الْجَهْمِ فَكَأَنَّهُ أَقَرَّ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يَقُولُ: قَالَ لِي حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ” اذْهَبْ إِلَى الْكَافِرِ يَعْنِي أَبَا حَنِيفَةَ فَقُلْ لَهُ: إِنْ كُنْتَ تَقُولُ: إِنَّ الْقُرْآنَ مَخْلُوقٌ فَلَا تَقْرَبْنَا “

 اس کی سند میں شیخ اہل کوفہ مجھول ہے لیکن کتاب کا حجم بڑھانے کے لئے اس مجھول شخص کی بات نقل کر ڈالی

عبد اللہ کتاب السنہ میں روایت لکھتے ہیں

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ  يُونُسَ، عَنْ سُلَيْمٍ الْمُقْرِئِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمَّادًا، يَقُولُ: ” أَلَا تَعْجَبُ مِنْ أَبِي حَنِيفَةَ يَقُولُ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ، قُلْ لَهُ يَا كَافِرُ يَا زِنْدِيقُ

سفیان کہتے ہیں میں نے حماد کو سنا کہ تم کو ابو حنیفہ کے قول پر تعجب نہیں ہوتا کہتا ہے قرآن مخلوق ہے میں نے اس کو کہا اے کافر اے زندیق

اس کی سند میں إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الطُّوسِيُّ  ہے جس کا حال کتابوں میں موجود نہیں  دوسرا راوی سليم المقرئ ہے جس کی توثیق نہیں ملی

اگر یہ سلیم بن عيسى المقرئ ہے امام عقیلی  کتاب الضعفاء الكبير میںکہتے ہیں

سُلَيْمُ بْنُ عِيسَى مَجْهُولٌ فِي النَّقْلِ، حَدِيثُهُ مُنْكَرٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ

عبدللہ کتاب السنہ میں یہ  بھی نقل کرتے ہیں

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنُ عَمِّ، أَحْمَدَ بْنِ مَنِيعٍ أَخْبَرَنِي غَيْرُ، وَاحِدٍ،: مِنْهُمْ أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ صُبَيْحٍ أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: ” لَمَّا وَلِيَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ أَبِي حَنِيفَةَ الْقَضَاءَ قَالَ: مَضَيْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ: الْقُرْآنُ كَلَامُ الله وَهُوَ مَخْلُوقٌ، فَقَالَ: هَذَا دِينِي وَدِينُ آبَائِي، فَقِيلَ لَهُ: مَتَى تَكَلَّمَ بِهَذَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَهُ أَوْ بَعْدَمَا خَلَقَهُ أَوْ حِينَ خَلَقَهُ، قَالَ: فَمَا رَدَّ عَلَيَّ حَرْفًا، فَقُلْتُ: يَا هَذَا اتَّقِ الله وَانْظُرْ مَا تَقُولُ وَرَكِبْتُ حِمَارِي وَرَجَعْتُ

 إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ أَبِي حَنِيفَةَ کہتے ہیں کہ قرآن مخلوق ہے اور یہی میرے باپ اور دادا کا مذھب ہے

سند میں سَعِيدُ بْنُ صُبَيْحٍ ہے جو مجھول ہے

عبد الله کتاب السنہ میں روایت لکھتے ہیں

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَسَنِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِي يُوسُفَ، قَالَ ” أَوَّلُ مَنْ قَالَ: الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ أَبُو حَنِيفَةَ

اسحٰق بن عبد الرحمان کہتے ہیں حسن بن ابی مالک سی وہ ابو یوسف سے جس نے سب سے پہلے کہا قرآن مخلوق ہے وہ ابو حنیفہ ہے

اس کی سند میں اسحاق بن عبد الرحمان مجھول ہے

المرجئہ الفقہاء

ابن تیمیہ  کی رائے کتاب مجموعة الرسائل والمسائل  میں ہے

دخل في ((إرجاء الفقهاء)) جماعة هم عند الأمة أهل علم ودين، ولهذا لم يكفر أحد من السلف أحداً من ((مرجئة الفقهاء)) ، بل جعلوا هذا من بدع الأقوال والأفعال لا من بدع العقائد؛ فإن كثيراً من النزاع فيها لفظي، لكن اللفظ المطابق للكتاب والسنة هو الصواب؛ فليس لأحد أن يقول بخلاف قول الله ورسوله

إرجاء کی رائے فقہاء کی ایک جماعت میں آئی اور ائمہ دین کے نزدیک وہ اہل دین ہیں اور اہل علم ہیں اور سلف نے اس پر تکفیر نہیں کی بلکہ یہ اقوال و افعال کی بدعت ہے نہ کہ عقائد کی اور اس میں بیشتر لفظی نزاع ہے لیکن یہ سب کتاب الله اور سنت کے موافق ہے اور اس میں کچھ بھی الله اور اس کے رسول کے قول کے خلاف نہیں ہے

معلوم ہوا کہ  وہ اہل علم جو مرجئہ فقہاء میں سے ہیں ان کے نزدیک ایمان دل کی تصدیق اور زبان کے اقرار کو کہتے ہیں۔  انہی مرجئہ فقہاء میں سے ایک گروہ کوفہ کے فقہاءِ اور عابد لوگوں میں سے سے  تھا جن میں امام ابو حنیفہ شامل ہیں ان کا قول جہم بن صفوان کے قول کی طرح نہ تھا،وہ جانتے تھے کہ اگر قدرت رکھنے کے باوجودانسان زبان سے ایمان کا اقرارنہیں کرتا۔تو وہ مومن نہیں ہوسکتا اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ابلیس اور فرعون دل سے تصدیق کرنے باوجود کافرتھے . ان فقہاء کے نزدیک ایمان کا بڑھنا شریعت کے مکمل ہونے سے پہلے تھا اس کا مطلب (ان کے ہاں) یہ  تھا  کہ اﷲ نے جب بھی کوئی آیت نازل کی اس کی تصدیق واجب ہو گئی تویہ تصدیق اس تصدیق میں ضم ہوگئی،جو پہلے سے تھی

ابن تیمیہ اپنے فتوی، مجموع الفتاوى ج ٧ ص ٥٤٧ میں کے الْمُرْجِئَةِ  کے دس گروہ بتاتے ہیں ان میں سے ایک کے لئے کہتے ہیں

مِنْ الْمُرْجِئَةِ الْمُنْتَسِبِينَ إلَى أَبِي حَنِيفَةَ وَأَصْحَابِهِ يَزْعُمُونَ أَنَّ الْإِيمَانَ الْمَعْرِفَةُ بِاَللَّهِ وَبِالرَّسُولِ وَالْإِقْرَارُ بِمَا جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فِي الْجُمْلَةِ

اور وہ الْمُرْجِئَةِ جو امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب  کی طرف منسوب ہیں ان کا دعوی ہے کہ ایمان الله  کی معرفت اور رسول کا اقرار ہے جو الله کی طرف سے ہے

ابن تیمیہ فتوی میں کہتے ہیں

إذْ كَانَ الْفُقَهَاءُ الَّذِينَ يُضَافُ إلَيْهِمْ هَذَا الْقَوْلُ مِثْلَ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ وَأَبِي حَنِيفَةَ وَغَيْرِهِمَا هُمْ مَعَ سَائِرِ أَهْلِ السُّنَّةِ مُتَّفِقِينَ عَلَى أَنَّ الله يُعَذِّبُ مَنْ يُعَذِّبُهُ مِنْ أَهْلِ الْكَبَائِرِ بِالنَّارِ ثُمَّ يُخْرِجُهُمْ بِالشَّفَاعَةِ كَمَا جَاءَتْ الْأَحَادِيثُ الصَّحِيحَةُ

جب الْمُرْجِئَةِ کا لفظ فقہاء کی طرف مضاف کیا جاتا ہے مثلا حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ یا ابو حنیفہ کے قول کی طرف اور دوسروں کی طرف تو وہ سب اہل سنت کے ساتھ متفق ہیں کہ الله گناہ گاروں کو عذاب دے گا پھر شفاعت پر اگ سے نکالے گا جیسا کہ صحیح احادیث میں آیا ہے

معلوم ہوا مرجئہ فقہاء کوئی برائی نہیں تھی

امام ابو حنیفہ کو بعض محدثین نا پسند کرتے تھے لہذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان پر جرح نہیں کی گئی لیکن وہ بیشتر جرح تعصب یا عدم تحقیق پر مبنی ہے مثلا

کتاب الجرح والتعديل از ابن ابی حاتم کے مطابق

نا عبد الرحمن أنا إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني فيما كتب إلى [قال] حدثنى اسحاق بن راهويه قال سمعت جريرا يقول قال محمد بن جابر اليمامى: سرق ابو حنيفة كتب حماد منى

اسحاق بن راهويه کہتے ہیں میں نے جریر کو سنا کہ محمد بن جابر اليمامى نے کہا کہ ابو حنیفہ نے مجھ سے حماد کی کتابیں چوری کیں

الذھبی کتاب میں مُحَمَّدُ بنُ جَابِرِ بنِ سَيَّارٍ السُّحَيْمِيُّ اليَمَامِيُّ پر لکھتے ہیں.  ضَعَّفَهُ: يَحْيَى، وَالنَّسَائِيُّ. اس کی تضعیف یحیی اور نسائی نے کی ہے وَقَالَ البُخَارِيُّ: لَيْسَ بِالقَوِيِّ. بخاری نے کہا ہے قوی نہیں  وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: سَاءَ حِفْظُهُ، وَذَهَبتْ كُتُبُهُ  ابو حاتم کہتے ہیں اس کا برا حافظہ تھا  قُلْتُ: مَا هُوَ بِحُجَّةٍ، وَلَهُ مَنَاكِيْرُ عِدَّةٌ كَابْنِ لَهِيْعَةَ

 میں الذھبی کہتا ہوں یہ حجت نہیں اس کی منکر روایات ہیں جیسا ابْنِ لَهِيْعَةَ ہے

عبد اللہ بن احمد کتاب السنہ میں اسی راوی کی ایک اور روایت لکھتے ہیں

حَدَّثَنِي أَبُو الْفَضْلِ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: «سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، يَشْتِمُ أَبَا حَنِيفَةَ

 حَمَّادَ بْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ امام ابو حنیفہ کو گالیاں دیتا تھا

بعض مخالفین نے اسی طرح کے اقوال امام ابو حنیفہ کے خلاف پیش کے ہیں لیکن ان کی مدح میں جو باتیں اتی ہیں ان گول کر جائے ہیں

بہت سے ثقہ راوی اور حدیث کے امام ، امام ابو حنیفہ کے مسلک پر تھے

تاریخ بغداد از الخطيب البغدادي (المتوفى: 463هـ)  ج ١٥ ص   ٦٤٧ کے  مطابق

يحيى بن معين، قال: ما رأيت أفضل من وكيع بن الجراح، قيل له: ولا ابن المبارك؟ قال: قد كان لابن المبارك فضل، ولكن ما رأيت أفضل من وكيع، كان يستقبل القبلة، ويحفظ حديثه، ويقوم الليل، ويسرد الصوم، ويفتي بقول أبي حنيفة، وكان قد سمع منه شيئا كثيرا، قال يحيى بن معين: وكان يحيى بن سعيد القطان يفتي بقوله أيضا.

يحيى بن معين کہتے ہیں میں نے وكيع بن الجراح سے افضل کسی کو نہیں پایا ان سے پوچھا گیا اور ابن مبارک کھا ابن مبارک افضل ہیں لیکن وكيع بن الجراح جیسا میں  نے  نہیں دیکھا حدیث کو یاد رکھتے .. اور ابو حنیفہ کے قول پر فتوی دیتے ان سے بہت کچھ سنا اور يحيى بن معين کہتے ہیں کہ يحيى بن سعيد القطان بھی ابو حنیفہ کے قول پر فتوی دیتے

اگر اتنے بڑے امام الحدثین، امام ابو حنیفہ کو پسند کرتے تھے تو اس کا مطلب ہے ان کی رائے بھی پسند کی جاتی تھی اورضعیف حدیث کے مقابلے میں وہ قابل قدر تھی

الذھبی کتاب تذکرہ الحفاظ ج ١ ص ٢٢٤ میں لکھتے ہیں

مَا فِيهِ إِلَّا شُرْبُهُ لِنَبِيذِ الْكُوفِيِّينَ وَمُلَازَمَتُهُ لَهُ جَاءَ ذَلِكَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْهُ انتهى

یعنی امام وکیع نے ابو حنیفہ کے صرف ایک  قول پر فتوی دیا اور وہ ہے کوفییوں کی نبیذ پینے کے جواز میں۔۔۔

وکیع مجتہد تھے اور ان کی رائے امام ابو حنیفہ کی رائے سے منطبق ہوتی تھی جس کی گواہی امام ابن معین دے رہے ہیں

امام ابن معین کی بات سے لگتا ہے صرف ایک حکم ہی نہیں بلکہ اور ابھی موقعہ پر وکیع  نے امام ابو حنیفہ کی رائے پسند کی ہو گی اگر ہم تک اس کی تفصیل نہیں پہنچی تو اس  کو اس بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا

تاریخ بغداد میں ہے کہ امام وکیع نے کہا

وجدنا أبا حنيفة خالف مائتي حديث

لیکن یہ قول مشکوک ہے کیونکہ ایک طرف تو کہا جاتا ہے کہ ابو حنیفہ حدیث کی روایات میں یتیم تھے قلیل الحدیث تھے اور دوسری طرف کہا جا رہا کہ وہ سو سو روایات میں مخالفت کرتے تھے

الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم  کے مطابق وکیع نے کہا

نا أبو حنيفة أنه سمع عطاء إن كان سمعه
ابو حنیفہ نے ہم سے روایت کیا، انہوں نے عطاء سے سنا، اگر  انہوں نے سنا ہے

لیکن یہ بھی جرح نہیں بلکہ صرف غیر جزم سے بیان کردہ بات ہے اگر وکیع کو یقین ہوتا تو اس کو سرے سے ہی بیان کرتے اور بلا جھجک کہتے کہ ابو حنیفہ نے نہیں سنا

الذھبی کتاب سیر الاعلام میں لکھتے ہیں

قَالَ مُحَمَّدُ بنُ سَعْدٍ العَوْفِيُّ: سَمِعْتُ يَحْيَى بنَ مَعِيْنٍ يَقُوْلُ:
كَانَ أَبُو حَنِيْفَةَ ثِقَةً، لاَ يُحَدِّثُ بِالحَدِيْثِ إِلاَّ بِمَا يَحْفَظُه، وَلاَ يُحَدِّثُ بِمَا لاَ يَحْفَظُ.
وَقَالَ صَالِحُ بنُ مُحَمَّدٍ: سَمِعْتُ يَحْيَى بنَ مَعِيْنٍ يَقُوْلُ: كَانَ أَبُو حَنِيْفَةَ ثِقَةً فِي الحَدِيْثِ

یحیی بن  معین کہتے ہیں ابو حنیفہ ثقه تھے.

ایک مفرط اہل حدیث زبیر علی زئی نے اعتراض کیا ہے کہ اس کی سند ثابت نہیں لیکن اگر اس طرح جرح و تعدیل کی چھان بین کی جائے تو شاید ہی کوئی مجروح رہے اور کوئی ثقه. دوسرے اس طریقہ کار  کو صرف چند شخصیات تک محدود کرنا صریح تعصب ہے

عبد اللہ کتاب السنہ میں لکھتے ہیں

حَدَّثَنِي أَبُو الْفَضْلِ ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ «كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ مُرْجِئًا وَكَانَ مِنَ الدُّعَاةِ وَلَمْ يَكُنْ فِي الْحَدِيثِ بِشَيْءٍ وَصَاحِبُهُ أَبُو يُوسُفَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ

ابن معین کہتے ہیں کہ ابو حنیفہ ، مُرْجِئًہ تھے اور اس کی دعوت دیتے تھے اور ان کی حدیث میں کوئی چیز نہیں ہے اور ان کے صاحب ابو یوسف میں کوئی برائی نہیں

واضح رہے کہ ابن معین نے ابو حنیفہ کو لیس بشی نہیں کہا( جو جرح کے الفاظ ہیں ) بلکہ کہا ہے ان کی حدیث میں کوئی(قابل اعتراض) چیز نہیں یعنی کوئی برائی نہیں

تاریخ بغداد میں بھی یہ روایات نقل ہوئی ہے

أَخْبَرَنَا العتيقي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْد الرَّحْمَن بن عُمَر بن نصر بن مُحَمَّد الدمشقي بها، قَالَ: حَدَّثَنِي أبي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَد بن علي بن سعيد الْقَاضِي، قال: سمعت يحيى بن معين، يقول: سمعت يحيى بن سعيد القطان، يقول: لا نكذب الله، ما سمعنا أحسن من رأي أبي حنيفة، وقد أخذنا بأكثر أقواله. قال يحيى بن معين: وكان يحيى بن سعيد يذهب في الفتوى إلى قول الكوفيين، ويختار قوله من أقوالهم
خطیب بغدادی کہتے ہیں کہ عتیقی نے ہمیں خبر دی کہا عبد الرحمن بن عمر بن نصر بن محمد الدمشقی نے ہمیں بیان کیا کہا کہ میں میرے والد (عمر بن نصر الدمشقی) نے بیان کیا، کہا احمد بن علی بن سعید القاضی نے ہمیں بیان کیا کہ میں نے یحیی بن معین کو کہتے سنا کہ میں نے یحیی بن سعید القطان کو کہتے سنا: “ہم اللہ کی تکذیب نہیں کرتے، ہم نے ابو حنیفہ کی رائے سے اچھی کوئی چیز نہیں سنی اور ہم ان کے اکثر اقوال لیتے ہیں۔” یحیی بن معین نے فرمایا: یحیی بن سعید کوفیوں کے قول پر فتوی دیتے تھے اور اپنے قول کو ان کے اقوال سے اختیار کرتے تھے۔

(تاریخ بغداد ج 15 ص 473)​

یہ روایت  ضعیف ہے اگرچہ اس طرح کی دوسری روایات ابن معین سے ثابت ہیں  مثلا  یہ اقوال

کتاب  سؤالات ابن الجنيد لأبي زكريا يحيى بن معين میں جنید کہتے ہیں

 قلت ليحيى بن معين: ترى أن ينظر الرجل في شيء من الرأي؟ فقال: «أي رأي؟» ، قلت: رأي الشافعي وأبي حنيفة، فقال: «ما أرى لمسلم أن ينظر في رأي الشافعي، ينظر في رأي أبي حنيفة أحب إلي من أن ينظر في رأي الشافعي

میں نے ابن معین سے کہا اپ کیا کہتے ہیں اس شخص کے بارے میں جو رائے کے کو دیکھے؟ انہوں نے پوچھا کس کی رائے؟ کہا شافعی یا ابو حنیفہ! ابن معین نے کہا میرے مطابق مسلمان  کے لئے  شافعی کی رائے میں کچھ (برائی) نہیں اور ابو حنیفہ کی رائے جاننا میرے لئے شافعی کی رائے سے زیادہ محبوب ہے

اسی کتاب میں ابن معین یحیی بن سعید کی بات نقل کرتے ہیں

وسمعت يحيى يقول: «سمعت يحيى بن سعيد يقول: (أنا لا أكذب الله، ربما بلغنا الشيء من قول أبي حنيفة، فنستحسنه فنأخذ به

یحیی کہتے ہیں بے شک میں جھوٹ نہیں کہتا بعض اوقات ہم کو ابو حنیفہ کی بات ملتی ہے اس کو پسند کرتے ہیں اور لیتے ہیں

معلوم ہوا کہ ابو حنیفہ کے حوالے سے  بعض محدثین ان کی رائے کو ناپسند کرتے جن کی مخالفت ابن معین اور  یحیی بن سعید القطان  کرتے تھے اور امام احمد اور ان کے بیٹے قبول کرتے تھے

امام عقیلی کتاب الضعفآ میں روایت لکھتے ہیں امام علی المدینی نے یحیی بن سعید سے سوال کیا : كيف كان حديثه ؟ قال : لم يكن بصاحب الحديث.

علی المدینی کہتے ہیں میں نے  یحیی سے پوچھا ان (ابو حنیفہ) کی حدیث کیسی ہے ؟ کہا وہ صاحب حدیث نہیں

لیکن یہ جرح ہے ہی نہیں یہ بات صحیح ہے ابو حنیفہ نے بہت کم حدیثیں روایت کی ہیں امام یحیی بن سعید ایک مجتہد تھے اور بسا اوقات ان کو امام ابو حنیفہ کی رائے پسند آ جاتی تھی ایک صاحب حدیث تھے اور ایک  صاحب رائے! بعض محدثین  اعتدال کا نقطۂ نظر رکھتے  تھے جبکہ بعض محدثین مطلقا امام ابو حنیفہ کی رائے کے خلاف تھے

امام عقیلی اپنی کتاب ضعفا میں امام ابو حنیفہ کی راوی پر جرح بھی نقل کرتے ہیں اگر ان کے نزدیک امام صاحب خود ضعیف ہوتے تو ان کی جرح نقل کرنے کی کیا ضرورت تھی دیکھئے جابر الجعفی ،  نَصْرُ بْنُ بَابٍ  کا ترجمہ

امام ابو حنیفہ تابعی ہیں

امام ابو حنیفہ تابعی ہیں یا نہیں اس میں اختلاف ہے

کتاب العلل المتناهية في الأحاديث الواهية از ابن الجوزی کے مطابق

  قال الدارقطني: وَأَبُو حَنِيفَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ إِنَّمَا رَأَى أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِعَيْنِهِ

دارقطنی کہتے ہیں ابو حنیفہ نے کسی صحابی سے نہیں سنا انہوں نے انس بن مالک رضی الله عنہ کو آنکھ سے دیکھا

سوالات حمزہ میں دارقطنی کہتے ہیں

ولم يلحق أبو حنيفة أحدا من الصحابة

ابو حنیفہ کی کسی صحابی سے ملاقات نہیں ہوئی

السلمی  سوالات میں کہتے ہیں کہ دارقطنی کہتے ہیں کہ ابو حنیفہ

ولا تصحُّ له رؤيةُ أنسٍ ولا رؤيةُ أحدٍ من الصحابةِ

ان کا انس کو دیکھنا صحیح نہیں اور انہوں نے کسی صحابی کو نہیں دیکھا

جبکہ

 أبو بكر الخطيب کہتے ہیں  رأى أنس بن مالك

أبو بكر الخطيب کہتے ہیں انہوں نے  أنس بن مالك کو دیکھا

کتاب أخبار أبي حنيفة وأصحابہ از الحسين بن علي بن محمد بن جعفر، أبو عبد الله الصَّيْمَري الحنفي (المتوفى: ٤٣٦ ھ) کے مطابق

امام ابو حنیفہ نے انس کو عبد الله بن أبي أوفى کو اور أَبا الطُّفَيْل عَامر بن وثلة کو دیکھا

کتاب الوافي بالوفيات از الصفدی کے مطابق

وَرَأى أنس بن مَالك غير مرّة بِالْكُوفَةِ قَالَه بن سعد 

ابو حنیفہ نے کوفہ میں کئی مرتبہ انس بن مالک رضی الله عنہ کو دیکھا ایسا ابن سعد نے کہا

لیکن الطبقات ابن سعد میں یہ قول نہیں ملا

اہل قبلہ پر تلوار دراز کرنا

کتاب جزء فيه مسائل أبي جعفر محمد بن عثمان بن أبي شيبة عن شيوخه في مسائل في الجرح والتعدي از محمّد بن عثمان بن ابی شبہ کے مطابق عثمان بن ابی شیبہ کہتے ہیں امام ابو حنیفہ اہل قبلہ پر تلوار دراز کرنے کا کہتے تھے پھر کہا کہ

 ابو نعيم حدثني عمار بن رزيق قال كان ابو حنيفة يكتب الى ابراهيم بن عبد الله بالبصرة يساله القدوم الى الكوفة ويوعده نصره

ابو نعیم کہتے ہیں نے کہا کہ ابو حنیفہ نے ابراہیم بن عبدللہ کو بصرہ  سے کوفہ انے کے لئے لکھا اور اس سے مدد کا وعدہ کیا

لیکن ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں کیونکہ محمّد اور ابراہیم کا یہ خروج عباسی خلیفہ المہدی کے دور میں ہوا جبکہ امام ابو حنیفہ اس فتنہ سے دور رہے اگر وہ اس طرح کا کوئی اقدام کرتے تو بچ نہیں پاتے

ممکن نے ابو حنیفہ محمّد بن عبد اللہ اور ابراہیم کے اس خروج کے خلاف ہوں اور ان کے خلاف فتوی دیا ہو

عبد اللہ کتاب السنہ میں لکھتے ہیں

حَدَّثَنِي أَبُو الْفَضْلِ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا يُوسُفَ، يَقُولُ: «كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ يَرَى السَّيْفَ» قُلْتُ: فَأَنْتَ؟ قَالَ: «مَعَاذَ الله

 الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ نے ابو یوسف کو سنا کہ ابو حنیفہ تلوار دراز کرنے کا کہتے تھے میں نے پوچھا اور اپ انہوں نے کہا الله کی پناہ

الذھبی کتاب سیر الاعلام میں لکھتے کہ الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ  کو حمص کا قاضی مقرر کیا گیا پھر طبرستان اور موصل کا ہیں

وَلِيَ قَضَاءَ حِمْصَ، وَقَضَاءَ طَبَرِسْتَانَ، ثُمَّ وَلِيَ قَضَاءَ المَوْصِلِ، وَكَانَ مِنْ أَوْعِيَةِ العِلْمِ، لاَ يُقَلِّدُ أَحَداً.
قَالَ مُحَمَّدُ بنُ عَبْدِ اللهِ بنِ عَمَّارٍ الحَافِظُ: كَانَ بِالمَوْصِلِ بَيْعَةٌ قَدْ خَرِبَتْ، فَاجْتَمَعَ النَّصَارَى إِلَى الحَسَنِ الأَشَيْبِ، وَجَمَعُوا مائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ، عَلَى أَنْ يَحْكُمَ لَهُم بِهَا حَتَّى تُبْنَى، فَقَالَ: ادْفَعُوا المَالَ إِلَى بَعْضِ الشُّهُودِ.
فَلَمَّا حَضَرُوا بِالجَامِعِ، قَالَ: اشْهَدُوا عَلَيَّ بِأَنِّي قَدْ حَكَمْتُ بِأَنْ لاَ تُبْنَى.
فَنَفَرَ النَّصَارَى، وَرَدَّ عَلَيْهِمُ المَالَ

حسن الْأَشْيَبُ  پر موصل کے نصاری جمع ہوئے اور ان کو نصاری نے ایک لاکھ درہم دے  لیکن انہوں نے وہ مال واپس کر دیا

یہ جرح یا مدح واضح نہیں

حسن الاشیب امام ابو حنیفہ کی رائے نقل کر رہے ہیں بعض اوقات امت میں فتنہ پرداز لوگ فساد مچاتے تھے لہذا ان کے خلاف خلفاء تلوار دراز کرتے ہی رہے ہیں

کتاب السنة ازعبد اللہ بن احمد کی ضعیف روایات

عبد اللہ کتاب السنہ میں روایت لکھتے ہیں

حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، مِنْ أَهْلِ مَرْوَ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ نَعُودُهُ أَنَا وَأَحْمَدُ بْنُ شَبُّوَيْهِ وَعَلِيُّ بْنُ يُونُسَ فَقَالَ لِي عَبْدُ الْعَزِيزِ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، عِنْدِي سِرٌّ كُنْتُ أَطْوِيهِ عَنْكُمْ فَأُخْبِرُكُمْ، وَأَخْرَجَ بِيَدِهِ عَنْ فِرَاشِهِ فَقَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: «احْتَمَلْنَا عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ كَذَا وَعَقَدَ بِأُصْبُعِهِ، وَاحْتَمَلْنَا عَنْهُ كَذَا وَعَقَدَ بِأُصْبُعِهِ الثَّانِيَةِ، وَاحْتَمَلْنَا عَنْهُ كَذَا وَعَقَدَ بِأُصْبُعِهِ الثَّالِثَةِ الْعُيُوبَ حَتَّى جَاءَ السَّيْفُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا جَاءَ السَّيْفُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ نَقْدِرْ أَنْ نَحْتِمَلَهُ

ابن مبارک کہتے ہیں کہا أَوْزَاعِيَّ  کہتے ہیں کہ ہم ابو حنیفہ سے بات لیتے تھے  یہاں تک کہ امت محمّد پر تلوار کی بات آئی سو ہم نے ان سے لینا چھوڑ دیا

اس کی سند میں عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ہیں جن کے لئے الذھبی میزان میں کہتے ہیں کہ  ابو داود کہتے ہیں

قال أبو داود: لا أحدث عنه اس سے روایت نہ کرو

الذھبی اس راوی کا ذکر کتاب  ديوان الضعفاء میں بھی کرتے ہیں

ایسے ضعیف راویوں کی بات کی تصدیق کون کر سکتا ہے جبکہ مسلکی تعصب کی فضا ہو اگر یہ بات صحیح ہے تو معلوم ہوا کہ ابو حنیفہ کی رائے سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں تھا حتی کہ ان کا قتل کا ایک فتوی آیا وہ کیا تھا یہ بھی  نقل نہیں ہوا

یہی راوی روایت کرتا ہے عبد اللہ بن احمد کی کتاب السنہ میں ہے

حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ خَالِدِ بْنِ شَقِيقٍ ابْنَ عَمِّ، عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ يَقُولُ: قَدِمْتُ مِنَ الْحَجِّ فَأَدْرَكْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ بِالْعِرَاقِ فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَضَلَ مَعِي مِنْ نَفَقَةِ الْحَجِّ شَيْءٌ تَرَى إِلَى أَنْ أَكْتُبَ بِرَأْي أَبِي حَنِيفَةَ؟ فَقَالَ: «لَا»، فَقُلْتُ: لِمَ؟ قَالَ: «لِأَنَّهُ عَقْلُ رَجُلٍ لَيْسَ بِذَاكَ»

عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ کہتے ہیں میں حج پر گیا اور عراق کے ابن مبارک سے ملا  ان سے ابو حنیفہ کی رائے پوچھی تو ابن مبارک نے انکار کیا اور کہا کہ یہ آدمی ایسا (مناسب) نہیں

عبد اللہ کتاب السنہ میں یہ بھی نقل کرتے ہیں کہ ابن مبارک اور ابو حنیفہ نے ساتھ نماز پڑھی ابو حنیفہ نے ابن مبارک سے کہا

ترفع یدیک فی کل تکبیرۃ کانک ترید ان تطیر

تم نماز کی ہر تکبیر  میں رفع الیدین کرتے ہو جیسے کہ  اڑنا اور پرواز کرنا چاہتے ہو

ابن المبارک نے  ابوحنیفہ  کی بات پر کہا

ان کنت انت تطیر فی الاولیٰ فانی اطیر فیما سواھا

اگر آپ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع الیدین کرتے ہوئے ارادہ پرواز و اڑان رکھتے ہوں تو میں آپ ہی کی طرح باقی مواقع میں نماز میں پرواز کرنا چاہتا ہوں 

دونوں بزرگوں نے ایک دوسرے کا گریبان نہیں پکڑا بلکہ اس کوبزرگوں کا تفنن سمجھنا چاہئے. دونوں نے  اپنے مسلک کا مسئلہ ہی سمجھا اس واقعہ سے سلف کا منہج سمجھا جا سکتا ہے دونوں کو پتا ہے کہ ایک رفع الیدین کرتا ہے ایک نہیں لیکن ساتھ نمازبھی پڑھتے ہیں اہل حدیث کو اس سے سبق لینا چاہیے

عبد اللہ کی کتاب  السنة میں روایت ہے

حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، سَمِعْتُ أَبَا الْوَزِيرِ مُحَمَّدُ بْنُ أَعْيَنَ رَضِيَ الله عَنْهُ وَصِيَّ ابْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَلَى ابْنِ الْمُبَارَكِ وَالدَّارُ غَاصَّةٌ بِأَصْحَابِ الْحَدِيثِ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَسْأَلَةُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَرَوَى ابْنُ الْمُبَارَكِ فِيهِ أَحَادِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ خِلَافَ هَذَا فَغَضِبَ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَقَالَ: أَرْوِي لَكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ تَأْتِينِي بِرَجُلٍ كَانَ يَرَى السَّيْفَ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اس میں ہے کہ ابن مبارک ایک شخص پر ناراض ہوئے اس کو انہوں نے حدیث نبی صلی الله علیہ وسلم سنائی اور اس نےابو حنیفہ کی رائے بیان کی

اس کی سند میں بھی عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ  ہے

عبداللہ کتاب السنہ میں روایت کرتے ہیں

حَدَّثَنِي أَبُو الْفَضْلِ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ شَمَّاسِ السَّمَرْقَنْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الله بْنُ الْمُبَارَكِ، بِالثَّغْرِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُكْنَى أَبَا خِدَاشٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَا تَرْوِ لَنَا عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، فَإِنَّهُ كَانَ مُرْجِئًا فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيْهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَكَانَ بَعْدُ إِذَا جَاءَ الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَرَأْيهِ ضَرَبَ عَلَيْهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ مِنْ كُتُبِهِ وَتَرَكَ الرِّوَايَةَ عَنْهُ، وَذَلِكَ آخِرُ مَا قَرَأَ عَلَى النَّاسِ بِالثَّغْرِ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَمَاتَ

إِبْرَاهِيمُ بْنُ شَمَّاسِ السَّمَرْقَنْدِيُّ کہتے ہیں ہم سے الثَّغْرِ میں ابن مبارک نے ابو حنیفہ کے بارے بیان کیا پس ایک شخص کھڑا ہوا جسکی کنیت ابو خداش تھی اور بولا اے ابا عبد الرحمان  ہم سے ابو حنیفہ کی روایت نہ کریں کیونکہ وہ مرجئہ تھے ابن مبارک نے اسکا انکار نہیں کیا پس اس کے بعد جب ابو حنیفہ کی روایت  اوررائے اتی تو ابن مبارک نے اس کو ترک کیا اور یہ  الثَّغْرِ میں آخر میں ہوا اس کے بعد ابن مبارک چلے گئے اور مر گئے

یہ واقعہ بھی مسلکی تعصب پر مبنی ہے ابن مبارک آخری وقت تک ابو حنیفہ کی روایت کرتے رہے الثَّغْرِ کے ایک مجھول شخص کے کہنے پر شرمندہ ہوئے اور ابو حنیفہ کی رائے چھوڑ دی، بہت عجیب بات ہے

اگر ابن مبارک ابو حنیفہ کو نا پسند کرتے تھے تو ساتھ نماز کیوں پڑھتے تھے پھر آخری عمر تک ان کی حدیث اور رائے بیان کرتے رہے اس قسم کے متضاد قصے بیان کر کے عبدللہ بن احمد پتا نہیں کس کا قد بڑھاتے رہے

عبد اللہ کتاب السنہ میں روایت کرتے ہیں

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيُّ، ثنا أَبُو حَفْصٍ التِّنِّيسِيُّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: «مَا وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ مَوْلِدٌ أَشَرُّ مِنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي مُسْلِمٍ وَمَا أُحِبُّ أَنَّهُ وَقَعَ فِي نَفْسِي أَنِّي خَيْرٌ مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمَا وَأَنَّ لِيَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

الاوزَاعِيِّ کہتے ہیں اسلام میں ابو حنیفہ سے برا شخص پیدا نہیں ہوا

اس کی سند میں عمرو بن أبى سلمة التنيسى ، أبو حفص الدمشقى ہیں ان کو میزان اعتدال از الذھبی کے مطابق ابن معین اور الساجی ضعیف کہتے ہیں ابن حاتم کہتے ہیں نا قابل احتجاج ہیں

عبد اللہ کتاب السنہ میں لکھتے ہیں

حَدَّثَنِي أَبُو الْفَضْلِ الْخُرَاسَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُنَيْدُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرِ الْمِصِّيصِيُّ، قَالَ ذَكَرَ الْأَوْزَاعِيُّ أَبَا حَنِيفَةَ فَقَالَ: ” هُوَ يَنْقُضُ عُرَى الْإِسْلَامِ عُرْوَةً عُرْوَةً

اس کی سند میں مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرِ الْمِصِّيصِيُّ  ہے

الذھبی سير أعلام النبلاء میں  کہتے ہیں ان کو آخری عمر میں اختلاط ہو گیا تھا

النَّسَائِيُّ ان کو لَيْسَ بِالقَوِيِّ ، قوی نہیں کہتے ہیں. عبدللہ کو امام احمد کی بات سنا چاہیے تھی کتاب العلل میں وہ کہتے ہیں  قال عبد الله بن أحمد: ذكر أبي محمد بن كثير المصيصي فضعفه جدًا  بہت ضعیف ہے .

عبد اللہ کتاب السنہ میں لکھتے ہیں

حَدَّثَنِي أَبُو الْفَضْلِ الْخُرَاسَانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ: «مَا وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ مَوْلُودٌ أَضَرُّ عَلَى الْإِسْلَامِ مِنْ أَبِي حَنِيفَةَ»

سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ کہتے ہیں ابو حنیفہ سے زیادہ مضررساں اسلام میں پیدا نہیں ہوا

اس کی سند میں  مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ہے جو مجھول ہے

عبد اللہ امام مالک کی بات نقل کرتے ہیں

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنِي الْحُنَيْنِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: «مَا وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ مَوْلُودٌ أَضَرَّ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ مِنْ أَبِي حَنِيفَةَ»، وَكَانَ يَعِيبُ الرَّأْيَ

اس کی سند میں إسحاق بن إبراهيم الحنينى  ہے جس پر شدید جرح ہے اور سخت ضعیف ہے. ابن أبي حاتم عن أبي زرعة: صالح، يعني في دينه لا في حديثه یہ دین میں صالح ہے لیکن اپنی روایت میں نہیں

عبد الله کی کتاب السنہ میں ہے

حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، سَمِعْتُ مُعَرَّفًا، يَقُولُ: دَخَلَ أَبُو حَنِيفَةَ عَلَى الْأَعْمَشِ يَعُودُهُ فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ لَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ، عَلَيْكَ مَجِيئِي لَعُدْتُكَ فِي كُلِّ يَوْمٍ، فَقَالَ الْأَعْمَشُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: أَبُو حَنِيفَةَ، فَقَالَ: «يَا ابْنَ النُّعْمَانِ أَنْتَ وَاللَّهِ ثَقِيلٌ فِي مَنْزِلِكَ فَكَيْفَ إِذَا جِئْتَنِي»[السنة لعبد الله بن أحمد 1/ 190

یعنی  اعمش  کے شاگرد معرف بن واصل  کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابوحنیفہ ،اعمش کی عیادت کرنے کے لئے آئے اور کہا : ’’اے اعمش ! اگر میرا آپ کے پاس آنا آپ کو بوجھ نہ لگتا تو میں تو روزآنہ آپ کی عیادت کرتا ‘‘ ۔  اعمش نے کہا: یہ کون آگیا ؟ لوگوں نے کہا یہ ابوحنیفہ صاحب ہیں ۔ یہ سن کر اعمش نے کہا: اے نعمان کے بیٹے! اللہ کی قسم تو تو اپنے گھر میں بھی بوجھ بنا ہواہے پھرمیرے پاس آئے گا تو بوجھ کیوں نہیں بنے گا۔

سند میں عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ہیں جن کے لئے الذھبی میزان میں کہتے ہیں کہ ابو داود کہتے ہیں

قال أبو داود: لا أحدث عنه اس سے روایت نہ کرو

الذھبی اس راوی کا ذکر کتاب ديوان الضعفاء میں بھی کرتے ہیں

دوسری طرف  الکامل فی ضعفاء الرجال میں سند صحیح سے مروی ہے۔ دیکھئے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمد بن عبيدة، حَدَّثَنا المزني إسماعيل بن يَحْيى، حَدَّثَنا علي بْن معبد عن عُبَيد اللَّه بْن عَمْرو الجزري، قَال: قَال الأَعْمَش يَا نعمان يعني أَبَا حنيفة ما تقول فِي كذا قَالَ كذا قَال: مَا تقول فِي كذا قَالَ كذا قَالَ من أين قلت قَالَ أنت حدثتني عن فلان عَنْهُ فَقَالَ الأَعْمَش يَا مَعْشَر الفقهاء أنتم الأطباء ونحن الصيادلة.
الکامل فی ضعفاء الرجال8/238
عبیداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ  اعمش نے کہااے نعمان (ابوحنیفہ)آپ فلاں فلاں مسئلہ میں کیاکہتے ہیں یعنی اپ کی رائے کیاہے توانہوں نے جواب دیا۔ اس پر  اعمش نے سوال کیاآپ کی ان باتوں کی دلیل کیاہے توفرمایا وہی حدیث جوآپ نے فلاں کی سند سے بیان کی تھی اس پر  اعمش نے کہا۔اے گروہ فقہاء تم طبیب ہو اورہم پنساری ہیں۔

عبد اللہ کتاب السنہ میں روایت کرتے ہیں

حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا مُؤَمَّلٌ، قَالَ: ثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، شَرِيكُ الرَّبِيعِ بْنِ صُبَيْحٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَوْنٍ، يَقُولُ: «مَا وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ مَوْلُودٌ أَشْأَمَ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ مِنْ أَبِي حَنِيفَةَ

ابن عون کہتے ہیں کہ اسلام میں ابو حنیفہ سے زیادہ منحوس پیدا نہیں ہوا

اس کی سند میں الرَّبِيعِ بْنِ صُبَيْحٍ  ہے . الذھبی کی میزان الاعتدال میں ہے کہ  ابن معين اور النَّسَائِيَّ  کےمطابق یہ راوی  خود ضعیف  ہے

عجیب بات ہے کہ امام ابو حنیفہ کے حوالے سے یہ الفاظ بھی ہیں اور ریکارڈ میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ ابو حنیفہ کے مسلک  کے مطابق عمل کرتے  تھے

البغوي الشافعي (المتوفى: 516هـ) شرح السنہ میں لکھتے ہیں

وَذَهَبَ قَوْمٌ إِلَى أَنَّهُ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلا عِنْدَ الافْتِتَاحِ، يُرْوَى ذَلِكَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَالنَّخَعِيِّ، وَبِهِ قَالَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَأَصْحَابُ الرَّأْيِ، وَاحْتَجُّوا بِمَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الله بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «أَلا أُصَلِّي بِكُمْ صَلاةَ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى، وَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلا أَوَّلَ مَرَّةٍ».

اور ایک قوم نے اس مذھب کو اختیار کیا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے نماز شروع کرنے پر ہی ہاتھ اٹھائے اس کی روایت کی ہے شَّعْبِيِّ اور ابراہیم نَّخَعِيِّ نے اور یہ قول ہے ابن ابی لیلی کا سفیان ثوری کا اصحاب رائے کا اور انہوں نے دلیل لی ہے جو عبدللہ ابن مسعود نے روایت کیا ہے کہ میں تم کو نبی صلی الله علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ نہ بتاؤں پس اپ نے نماز پڑھی اور سوائے پہلی بار کے باتھ نہیں اٹھائے

فقہ مالکی کی کتاب المدونة میں ہے

قَالَ مَالِكٌ: لَا أَعْرِفُ رَفْعَ الْيَدَيْنِ فِي شَيْءٍ مِنْ تَكْبِيرِ الصَّلَاةِ لَا فِي خَفْضٍ وَلَا فِي رَفْعٍ إلَّا فِي افْتِتَاحِ

امام مالک کہتے ہیں میں نہیں جانتا کہ رفع یدین ہو نماز میں کسی چیز پر نہ جھکنے پر نہ اٹھنے پر سوائے نماز شروع کرنے کے

عقیقہ کے لئے امام مالک  الموطا میں کہتے ہیں

قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْعَقِيقَةِ، أَنَّ مَنْ عَقَّ، فَإِنَّمَا يَعُقُّ عَنْ وَلَدِهِ بِشَاةٍ شَاةٍ. الذُّكُورِ، وَالْإِنَاثِ. وَلَيْسَتِ الْعَقِيقَةُ بِوَاجِبَةٍ. وَلَكِنَّهَا  يُسْتَحَبُّ الْعَمَلُ بِها

مالک کہتے ہیں عقیقہ واجب نہیں اس پر عمل مستحب ہے

کچھ ایسی ہی بات امام محمّد امام ابو حنیفہ سے نقل کرتے ہیں

الغرض امام ابو حنیفہ رحمہ الله تعالی علیہ پر جرح کی گئی اور ان کی مدح بھی خوب ہوئی  اگرچہ وہ روایت کے امام نہیں تھے لیکن فقہ حدیث میں بہت علم رکھتے  تھے بہت سے مسائل میں امام مالک اور امام ابو حنیفہ یک خیال ہیں مثلا عقیقہ کا غیر واجب ہونا ، نماز میں پہلی تکبیر کے بعد رفع الیدین نہ کرنا . امام مالک تو شوال کے چھ روزوں کو بدعت کہتے تھے  لہذا چند فروعات میں اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرا شخص جاہل تھا یا حدیث کا مخالف تھا

اصحاب امام

کتاب  سؤالات البرقاني للدارقطني رواية الكرجي عنه میں دارقطنی کہتے ہیں

سألته عن محمد بن الحسن صاحب أبي حنيفة رحمه الله, فقال: قال يحي بن معين كذاب, وقال فيه أحمد يعني بن حنبل نحو هذا, قال أبو الحسن: وعندي لا يستحق الترك

دارقطنی کہتے ہیں ہمارے نزدیک محمّد بن الحسن  اس کے مستحق نہیں کہ انکو ترک کیا جائے

اسی کتاب میں دارقطنی کہتے ہیں

سألته عن أبي يوسف صاحب أبي حنيفة فقال: هو أقوى من محمد بن الحسن

ابو یوسف،  محمّد بن الحسن سے قوی ہیں

کتاب  سؤالات البرقاني للدارقطني رواية الكرجي عنه میں دارقطنی کہتے ہیں

وعن زفر بن الهذيل صاحب أبي حنيفة, فقال ثقة

 زفر بن الهذيل صاحب أبي حنيفة  ثقة ہیں

کتاب الجرح والتعديل  از ابن ابی حاتم کے مطابق

يحيى بن معين کہتے ہیں  كان أبو يوسف القاضى يميل إلى اصحاب الحديث كثيرا وكتبنا عنه

امام ابو یوسف قاضی کا میلان اصحاب حدیث کی طرف تھا اور ان سے لکھتے تھے

امام ابو حنیفہ کے اصحاب رائے تھے لیکن محدثین میں سے ہیں

مغرب میں  اسلامی تاریخ پر تحقیق اس وقت شروع ہوئی جب  مشرق وسطی کے کتب خانوں تک ان کی رسائی ہوئی آج بہت سی کتب پیرس ، لندن اور برلن میں موجود ہیں اور ان کی تفصیل التراث العربی میں دیکھی جا سکتی ہے

انہی مستشرقین میں ایک  جوزف ہوروفٹس (١) ہیں جن کا نام معرب ہو کر  جوزف هوروفتس  ہو گیا ہے اور مسلم دنیا میں اسی نام سے مشھور ہیں

 (١)JOSEPH  HOROVITZ

جوزف هوروفتس  نے مغازی پر تحقیق کی اور اس کو مقالہ کی صورت میں شائع کیا جو اسلامک کلچر میں  ١٩٢٥ میں چھپا

The Earliest Biographies of the Prophet and Their Authors”, Islamic Culture, vol 1: 1927, vol 2: 1925

  دوسری طرف المغازي از محمد بن عمر  الواقدي (المتوفى: 207هـ) ١٩٨٩ میں مارسدن جونس کی تحقیق کے ساتھ دار الأعلمي – بيروت سے شائع ہوئی ہے جو اس کی تیسری طباعت ہے

تاریخ بغداد  کے  مطابق واقدی نے کافی کتابیں لکھی تھیں

محمد بن أحمد بن يعقوب بن شيبة، قَالَ: سمِعْتُ أبي يَقُولُ: لما انتقل الواقدي من جانب الغربي إلى ههنا يُقَالُ: إنه حَمَلَ كُتُبَهُ على عشرينَ ومائةَ وِقْر.

احمد بن یعقوب کہتے ہیں جب واقدی بغداد کے غربی جانب منتقل ہوا تو کہا جاتا ہے اس کی کتابیں ١٢٠ سواریوں پر تھیں

هوروفتس   نے یہ دعوی کیا کہ مسند امام احمد اور واقدی کی مغازی ایک مواد رکھتی ہے اس کا رد ابھی تک کسی مسلمان  نے نہیں کیا. اس  کی وجہ الذھبی بتاتے ہیں

الذھبی سیر الاعلام النبلاء میں لکھتے ہیں

الحَرْبِيُّ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ يَقُوْلُ: الوَاقِدِيُّ ثِقَةٌ

  ابراہیم الحربی کہتے ہیں میں نے ابو عبد الله امام احمد سے سنا کہا واقدی ثقه ہے

جرح و تعدیل کی کتب میں احمد کا واقدی کے لئے  یہ قول بھی ملتا ہے جس کو الذھبی سیر الاعلام میں لکھتے ہیں

الدُّوْلاَبِيُّ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بنُ صَالِحٍ، قَالَ لِي أَحْمَدُ بنُ حَنْبَلٍ: الوَاقِدِيُّ كَذَّابٌ.

امام دولابی (المتوفی ٣٢٠ ھ) کہتے ہیں کہ معاویہ بن صالح  (بن أبي عبيد الله المتوفی ٢٦٣ ھ) کہتے ہیں مجھ سے امام احمد نے کہا  واقدی کذاب ہے

  لیکن ابو بشر دولابی  اہل رائے میں سے تھے جن سے  امام احمد  کو چڑ تھی. کیا  ان کی بات، امام احمد کے حوالے سے دلیل  بن سکتی ہے ؟  اسی حوالے کو بعد میں لوگوں نے جرح و تعدیل کی کتابوں میں لکھا ہے.

کتاب الکنی و الاسماء از الدولابی میں خود واقدی کے اقوال  نقل ہوئے ہیں جس سے لگتا ہے کہ امام دولابی بھی خود واقدی کو مطلقا کذاب نہیں سمجھتے تھے اور  احمد  کے اس قول کو ثابت نہیں مانتے  تھے

ابو داود  المتوفی ٢٧٥ ھ کہتے ہیں

وكان أحمد لا يذكر عنه كلمة

احمد، واقدی کی کسی بات کا ذکر نہ کرتے

کسی متنازع شخصیت کا ذکر نہ کرنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ خود بھی ان کے نزدیک ثقه نہیں. سوال ہے کہ کیا

إبراهيم بن إسحاق بن إبراهيم بن بشير البغدادي ، الحربي  المتوفی ٢٨٥  جھوٹ بولتے تھے کیونکہ وہ مسلسل واقدی کے بارے میں امام احمد کے حسن خیال والے حوالے دیتے تھے حتی کہ ان کے مطابق امام احمد، واقدی کو ثقہ جانتے تھے

تاریخ بغداد ج ٤ ص ٢٠ میں ہے

أَخْبَرَنِي إبراهيم بن عمر البرمكي، قَالَ: حَدَّثَنَا عبيد الله بن محمد بن محمد بن حمدان العكبري، قَالَ: حَدَّثَنَا محمد بن أيوب بن المعافى، قَالَ: قَالَ إبراهيم الحربي: سمعت أحمد، وذكر الواقدي، فقال ليس أنكر عليه شيئا، إلا جمعه الأسانيد، ومجيئة بمتن واحد على سياقة واحدة عن جماعة ربما اختلفوا، قَالَ إبراهيم: ولم؟ وقد فعل هذا ابن إسحاق، كان يقول: [ص:25] حَدَّثَنَا عاصم بن عمر وعبد الله بن أبي بكر وفلان وفلان، والزهري أيضا قد فعل هذا قَالَ وسمعت إبراهيم، يقول: قَالَ لي فوران: رآني الواقدي أمشي مع أحمد بن حنبل، قَالَ: ثم لقيني بعد، فقال لي: رأيتك تمشي مع إنسان ربما تكلم في الناس، قيل لإبراهيم: لعله بلغه عنه شيء قَالَ: نعم، بلغني أن أحمد أنكر عليه جمعه الرجال والأسانيد في متن واحد.
قَالَ إبراهيم: وهذا قد كان يفعله حماد بن سلمة، وابن إسحاق، ومحمد بن شهاب الزهري.

ابراہیم الحربی کہتے ہیں میں نے امام احمد کو سنا انہوں نے واقدی کا ذکر کیا  پس کہا میں اس کی کسی چیز کا انکار نہیں کرتا سوائے اس کے کہ یہ اسناد کو جمع کر دیتا ہے اور پھر ایک ہی متن بیان کر دیتا ہے ایک جماعت سے جو کبھی کبھی اختلاف کرتی ہیں. ابراہیم نے کہا اور ایسا کیوں جبکہ ایسا محمد بن اسحاق بھی کرتا ہے؟ ابراہیم نے کہا کہ ہم سے عاصم بن عمر اور عبد الله بن ابی بکر اور فلاں فلاں نے روایت کیا کہ امام زہری بھی ایسا ہی کرتے تھے.  محمّد بن ایوب کہتے ہیں ابراہیم الحربی کو سنا کہا مجھ سے فوران (عَبْد اللَّه بْن محمد بْن المهاجر، أَبُو محمد البَغْداديُّ  المتوفی ٢٦٠ ھ) نے کہا کہ میں نے واقدی کو دیکھا امام احمد بن حنبل کے ساتھ چلتے ہوئے اس کے بعد احمد سے ملا تو کہا میں نے اپ کو ایک ایسے انسان کے ساتھ چلتے دیکھا جس پر کبھی کبھی لوگ کلام کرتے ہیں؟ ابراہیم   سے کہا ہو سکتا ہے اس (واقدی)  سے کوئی چیز  پھنچے! کہا ہاں!  مجھ تک پہنچا کہ احمد اس کا انکار رجال اور اسناد ایک متن کے ساتھ بیان کرنے پر کرتے تھے. ابراہیم کہتے ہیں اور ایسا حماد بن سلمہ اور ابن اسحاق اور امام زہری بھی کرتے تھے  

امام احمد کو اسناد ایک جگہ جمع کرنے پر اعتراض تھا. واقدی کی کتب ابن سعد کے ہاں پر جمعہ کو جا کر دیکھتے اس کے ساتھ چل قدمی کرتے لہذا اس صحبت کا اثر ان پر ہوا اور شیعیت کے حق میں انہوں نے مسند میں ایک انبار اکھٹا کیا

سیر الاعلام النبلاء  ج ١٠ ص ٦٦٥ میں الذھبی لکھتے ہیں

سُلَيْمَانُ بنُ إِسْحَاقَ بنِ الخَلِيْلِ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيْمَ الحَرْبِيَّ يَقُوْلُ:

كَانَ أَحْمَدُ بنُ حَنْبَلٍ يُوَجِّهُ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ بِحَنْبَلٍ إِلَى ابْنِ سَعْدٍ يَأْخُذُ مِنْهُ جُزْأَيْنِ مِنْ حَدِيْثِ الوَاقِدِيِّ يَنْظُرُ فِيْهِمَا.

ابراہیم الحربی کہتے ہیں امام احمد بن حنبل ، حنبل بن اسحاق کے ساتھ ہر جمعہ، ابن سعد  کی طرف رخ کرتے  اور ان سے واقدی کی حدیثوں کی دو جلدیں لے کر دیکھتے

واقدی ٢٠٧ ہجری میں فوت ہوئے اور امام احمد ٢٤١ ہجری میں فوت ہوئے  امام احمد واقدی کی وفات کے بعد ہی ابن سعد کے ہاں جاتے ہوں گے کیونکہ واقدی اور امام احمد دونوں بغداد کے رہائشی تھے. جب تک زندہ رہے واقدی کے ساتھ چل قدمی کرتے وفات کے بعد اس گم گشتہ صحبت  کی یاد تازہ کرنے ہر جمعہ کو جاتے.  اس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈھلتی عمر کے ساتھ  امام احمد کی واقدی کے بارے میں دلچسپی بڑھ رہی تھی

ابراہیم الحربی سن ١٩٨ ہجری میں پیدا ہوئے  لہذا واقدی کے حوالے سے امام احمد کے اقوال، امام احمد  سے آخری  عمر میں سنے ہوں گے کیونکہ واقدی کی وفات کے وقت ابراہیم الحربی ١١ سال کے تھے

الذھبی سیر الاعلام النبلاء ج ٩ ص ٤٥٥ میں لکھتے ہیں

الأَثْرَمُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بنَ حَنْبَلٍ يَقُوْلُ:

لَمْ نَزَلْ نُدَافِعُ أَمرَ الوَاقِدِيِّ حَتَّى رَوَى عَنْ: مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ:

عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا؟

أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بنُ مُحَمَّدِ بنِ هَانِئ الإِسْكَافيُّ الأَثْرَم  المتوفی ٢٦١ ھ کہتے ہیں میں نے امام احمد کو سنا کہتے تھے ہم نے واقدی کے کام کا دفاع کرنا  نہیں چھوڑا حتی کہ اس نے مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی کہ کیا تم   دونوں اندھیاں ہو

 امام احمد کو  اعتراض کسی مغازی والی روایت پر نہیں بلکہ ایک حدیث پر تھا

تاریخ بغداد ج ٤ ص ٢٠ میں ہے

إبراهيم بن جابر، قَالَ: حَدَّثَنِي عبد الله بن أحمد بن حنبل، قَالَ: كتب أبي عن أبي يوسف، ومحمد، ثلاثة قماطر، فقلت له: كان ينظر فيها؟ قَالَ: كان ربما نظر فيها، وكان أكثر نظره في كتب الواقدي

ابراہیم بن جابر کہتے ہیں مجھ سے عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے کہا کہ میرے باپ…. اکثر واقدی کی کتب دیکھتے

   معلوم ہوتا ہے واقدی امام احمد کی نگاہ میں باوجود متروک ہونے کے پسندیدہ رہے ہیں

 سوال ہے کہ  ایک مورخ کی کتب جس کی عدالت پر باقی سب جرح کرتے ہوں امام احمد کو کیا استفادہ دے سکتیں تھیں؟ کسی کذاب کی کتاب میں ایسی کیا چیز تھی جس کی وجہ سے وہ اکثر کتاب دیکھتے اور باقاعدہ ہر جمعہ کو جاتے.   واقدی کے کام میں امام احمد کی دلچسپی کی نوعیت یہ سمجھ میں اتی ہے کہ انہوں نے وہ واقعات جو واقدی نقل کرتا ہے ان کو اپنی سند سے مسند میں بیان کیا کیونکہ مسند میں انہوں نے واقدی سے کچھ روایت نہیں کیا ہے

واضح رہے کہ  هوروفتس نے یہ دعوی نہیں کیا کہ امام احمد نے باوجود واقدی کو کذاب کہنے کے مسند میں اس سے روایت کیا ہے بلکہ یہ کہا ہے واقدی کی بیان کردہ روایات اور مسند احمد میں مماثلت ہے جو غلط بھی نہیں کیونکہ واقدی پر شیعیت کا الزاام ہے اور امام احمد نے شیعیت کے حق میں کافی روایات مسند میں جمع کی ہیں دیکھئے بلاگ

هوروفتس تو چلیں ٹہرا مشتشرق اس کی تحقیق تعصب پر منبی ہو سکتی ہے لیکن ابراہیم الحربی کا کیا کیا جائے جو یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں کہ امام احمد کو واقدی سے شغف نہ تھا بلکہ ان کے نزدیک ثقہ  تھا ابراہیم الحربی کے اقوال ھوروفتس کی بات کی تائید کرتے ہیں

سن  ٢٠٠٤میں دکتور عبد العزیز بن سلیمان بن ناصر السلومی کی تحقیق بنام الواقدی و کتابہ المغازی منہجہ و مصادرہ  شایع ہوئی. جو ان کا ڈاکٹریٹ کا مقالہ تھا اور سعودی عرب کی جامعہ الاسلامیہ با لمدینہ المنورہ میں پیش ہوا.  اس میں محقق نے  کئی مقامات پر جرمن مشتشرق ھورو فتس کے حوالے اپنی تائید میں دئے ہیں. کیا یہ  کام غلط ہے؟ اگر کوئی بات مستشرق کہہ رہا ہے اور وہ صحیح ہے تو اس کو قبول کرنے میں کیا حرج  ہے ایک قول ہے

یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے

اس کتاب میں دکتور عبد العزیز بن سلیمان بن ناصر السلومی  لکھتے ہیں

waqdiبے شک امام احمد ہر جمعہ کو حنبل بن اسحاق  کے ساتھ  ابن سعد، کاتب الواقدی  کی طرف رخ کرتے اور واقدی کی دو کتابیں لاتے ان کو دیکھتے پھر لوٹاتے اور دوسری لیتے

اور اسی وجہ سے عبد الله بن احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ میرے باپ اکثر واقدی کی کتابیں دیکھتے

اور امام احمد نے واقدی کی کتب  دیکھنے  کا سبب واضح کیا، پس کہا  … تاکہ  میں ان ( کتابوں) کو جان سکوں  اوران  پر اعتبار کر سکوں

یہی تو ہم کہہ رہے ہیں کہ امام احمد واقدی پر اعتبار کرنے لگے تھے اور واقدی میں ان کا شغف بڑھ گیا تھا رونہ ایک ایک کر کے کتابیں دیکھنے کا شوق کیوں ہوا.  یہ بات احمد کی عمر کے آخری حصے میں ہو گی کیونکہ اس بات کو ابراہیم الحربی بتاتے ہیں جو واقدی کی وفات کے وقت ١١ سال کے ہونگے ظاہر ہے کہ ١١ سال کی عمر میں ابراہیم علم تاریخ اور جرح و تعدیل پر عبور نہیں رکھ سکتے

امام احمد کا واقدی کے بارے میں نظریہ ارتقاء کا شکار رہا ان کے اس حوالے سے تمام اقوال میں تطبیق اس طرح ممکن ہے کہ ایک وقت تھا جب اس کو کذاب کہا  اور اس سے کچھ روایت نہیں کیا امام جوزجانی کے مطابق  واقدی کی وفات کے روز کہا مدت ہوئی اس کی کتابوں سے میں نے اپنی کتابوں کی جلدیں بنا لیں لیکن اگلے چند سالوں میں اس میں دلچسپی پیدا ہوئی اور پھر اس کی کتابیں دیکھنا شروع کر دیں اور ان میں قابل اعتبارمواد تلاش کرنا شروع   کیا

 یہ بھی غور طلب ہے کہ

حنبل بن اسحاق واقدی سے روایت کرتے تھے کتاب  مسند القاروق از ابن کثیر کے مطابق

قال حنبل (بن اسحاق) وحدثنى ابى اسحاق حدثنا محمد بن عمر حدثنا ابن ابى سبرة عن عثمان بن عبد الله بن رافع عن ابن المسيب قال اول من كتب التاريخ عمر لسنتين ونصف من خلافته فكتب لست عشرة من الهجرة بمشورة من على بن ابى طالب قال محمد بن عمر هو الواقدى

عبداللہ بن احمد بھی روایت کرتے تھے طبرانی کی کتاب الدعا میں روایت ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا شَبَابٌ الْعُصْفُرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، ثنا هَارُونُ الْأَهْوَازِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَعَذَابِالْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ» 

اگر واقدی متروک تھا تو حنبل بن اسحاق اور عبد الله نے روایت کیوں کی؟ اس کی وجہ کیا تھی ؟ یہ نقطہ نظر میں تبدیلی کب واقعہ ہوئی؟

واقدی شاید وہ واحد راوی ہوں جن کو امام احمد  نےکذاب کہا ہو اور پھر اس کی کتابیں بھی کھنگالی ہوں

الغرض

مشتشرق کی بات کو اہل علم اپنے حق میں پیش کرتے رہے ہیں لہذا اس کو مطلقا یہودی مشتشرق کہہ کر رد نہیں کر سکتے

امام احمد کی آخری عمر میں واقدی کی کتب میں دلچسپی بڑھ گئی تھی اور وہ جاننے اور اعتبار کرنے کے لئے ان کو پڑھتے تھے

ڈاکٹر عثمانی رحمہ الله علیہ نے   جوزف هوروفتس کی  بات کو جبل الله کی ایک اشاعت میں نقل کیا اور صحیح بخاری اور مسند احمد کا موازنہ پیش کیا . ان کا مقصد صحیح امام بخاری اورمسند امام احمد کا اپس کا اختلاف اجاگر کرنا تھا تاکہ احادیث و تاریخ کے حوالے سے دونوں کے منہج کو سمجھا جا سکے. یہ ایک تحقیقی کام تھا جس پر مسلک پرستوں نے بودے اعتراضات کیے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ امام بخاری، امام احمد کو استاد مانتے تھے جو سراسر جھوٹ ہے

مزید تفصیل کے لئے پڑھئے بلاگ 

مشتسرقین  کسی ایسی کتاب کی تلاش میں رہے جس سے وہ اسلام کی سنہری تاریخ کو داغدار کر سکیں چناچہ انہوں نے واقدی، ابن سعد اور  ابن اسحاق کی کتب  کو استمعال کیا اور آخر میں ان کی نگاہ انتخاب مسند امام احمد پر رکی . سید سلیمان الندوی اپنے ایک جواب کے ابتدائیہ میں لکھتے ہیں جو کتاب اسلام اور مستشرقین جلد پنجم میں چھپا

MSNDAHMED

آخر مسند میں  مستشرقین کے لئے کیا پر کشش مواد ہے جو ان کو اور کتابوں سے اس کی طرف کھینچ لایا؟

یہ ہمارے عالم سید سلیمان ندوی کہہ رہے ہیں جو معروف شخصیت ہیں

اپ کے لئے سوچنے کا مقام ہے!

 ابن خلفون کتا ب شیوخ البخاری و المسلم میں لکھتے ہیں

و روی البخاری فی الجامع الصحیح عن احمد بن الحسن الترمذی عنہ عن معتمر بن سلیمان التیمی فی آخر المغازی بعد ذکر وفاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم

 قال ابو نصر الکلاباذی و لم یحدث عنہ البخاری نفسہ فی الجامع بشیء و لا اورد من حدیث فیہ شیئا غیر ھذا الواحد الا ما لعلہ استشھد بہ فی بعض المواضع

 قال محمد قال البخاری فی کتاب النکاح و قال لنا احمد بن حنبل ثنا 

اور بخاری نے الجامع الصحیح میں ان  (امام احمد) سے روایت نقل کی ہے  احمد بن الحسن الترمذی سے معتمر بن سلیمان التیمی کے واسطے سے کتاب المغازی کے آخر میں

ابو نصر الکلاباذی کہتے ہیں ان سے بخاری نے فی نفسہ کچھ بھی الجامع صحیح میں روایت نہیں کیا سوائے اسکے اور بعض جگہ استشہاد کیا ہے، ابن خلفون کہتے ہیں  بخاری کتاب النکاح میں کہتے ہیں قال لنا احمد بن حنبل

ابن خلفون یہ بھی کہتے ہیں

و قد روی عنہ فی غیر الجامع غیر شیء

اور امام احمد سے صحیح بخاری کے علاوہ دوسری  کتابوں میں بھی کوئی روایت نہیں لی

معلوم ہوا کہ بخاری نے امام احمد سے براہ راست روایت نقل نہیں کی اور بخاری نے کہیں بھی حدثنی یا حدثنا کہہ کر روایت نہیں لی جو تحدیث کے خاص لفظ ہیں

پہلا حوالہ

بخاری باب كم غزا النبي صلى الله عليه و سلم میں روایت لکھتے ہیں

حدثني أحمد بن الحسن حدثنا أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال حدثنا معتمر بن سليمان عن كهمس عن ابن بريدة عن أبيه قال  : غزا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ست عشرة غزوة

یہاں امام احمداور امام بخاری کے درمیان احمد بن حسن ہیں جو ایک عجیب بات ہے اتنے مشھور امام سے صحیح میں صرف یہ ایک  روایت سندا نقل کی اور اس میں بھی واسطہ رکھا

دوسرا حوالہ

باب مَا يَحِلُّ مِنَ النِّسَاءِ وَمَا يَحْرُمُ

وَقَالَ لَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِى حَبِيبٌ عَنْ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ حَرُمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ ، وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ . ثُمَّ قَرَأَ ( حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ ) الآيَةَ .

 ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا .. امام بخاری نے یہاں بھی قال لنا کے الفاظ سے ظاہر کیا ہے امام احمد نے یہ ایک مجمع میں سنائی نہ کہ خاص ان کو لہذا امام بخاری نے اپنے اپ کو امام احمد کے خاص شاگرد کی خصوصیت سے پاک رکھا

 تیسرا حوالہ

حدثني محمد بن عبد الله الأنصاري قال حدثني أبي عن ثمامة عن أنس  : أن أبا بكر رضي الله عنه لما استخلف كتب له وكان نقش الخاتم ثلاثة أسطر محمد سطر ورسول سطر والله سطر

 قال أبو عبد الله وزادني أحمد حدثنا الأنصاري قال حدثني أبي عن ثمامة عن أنس قال كان خاتم النبي صلى الله عليه و سلم في يده وفي يد أبي بكر بعده وفي يد عمر بعد أبي بكر فلما كان عثمان جلس على

بئر أريس قال فأخرج الخاتم فجعل يعبث به فسقط قال فاختلفنا ثلاثة أيام مع عثمان فننزح البئر فلم نجده

اس میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی انگوٹھی کا  ذکر ہے کہ امام بخاری کہتے ہیں  روایت پر وزادني أحمد کہ  احمد نے اضافہ کیا

لیکن یہ امام احمد بن حنبل ہی ہیں واضح نہیں کیا

چوتھا حوالہ

قال أبو عبد الله قال علي بن عبد الله سألني أحمد بن حنبل عن هذا الحديث قال فإنما أردت أن النبي صلى الله عليه و سلم كان أعلى من الناس فلا بأس أن يكون الإمام أعلى من الناس بهذا الحديث . قال فقلت إن سفيان بن عيينة كان يسأل عن هذا كثيرا فلم تسمعه منه ؟ قال لا

صحیح میں  امام بخاری نے روایت بیان کی کہ امام نماز میں کہاں کھڑا ہو گا

اس کے بعد امام علی المدینی اور امام احمد کی گفتگو نقل کی اور امام علی نے امام احمد سے کہا کہ اس روایت کو سفیان نے کئی دفعہ بیان کیا تم نے سنا نہیں امام احمد نے کہا نہیں

  ان چار مقامات  پر امام بخاری نے امام احمد بن حنبل کا ذکر کیا ہے تو ظاہر ہے امام بخاری ان کو اپنا استاد ماننے کے لئے تیار نہیں

امام احمد کی مدح سرائی میں زبیر علی زئی کتاب  تحقیق اصلاحی میں مضمون  امام احمد کا مقام محدثین کی نگاہ میں ، میں لکھتے ہیں

tahqeeqislahi-337

امام احمد صدوق تھے؟ شاید موصوف کو پتا نہیں صدوق تو ثقاہت کا ادنی درجہ ہے. نہیں! موصوف کو پتا ہے کہ امامبخاری نے صحیح میں صرف ایک جگہ سندا روایت لکھی ہے وہ بھی ایک راوی کو بیچ میں ڈالنے کے بعد

احمد-٢ احمد-١

مکتبہ الکوثر سے مندرجہ بالا کتاب شائع ہوئی اس میں مولف ابن مندہ  المتوفی ٣٩٥ ھ کہتے ہیں کہ احمد سے صرف ایک جگہ ہی روایت لی ہے اس پر تعلق میں محقق  ابن حجر کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ بخاری احمد کو چھوڑ کر امام علی  المدینی سے روایت لیتے اور انہوں نے احمد سے تحدیث کرنا منقطع کر دیا تھا

دامانوی صاحب نے دین الخالص قسط دوم میں لکھا تھا کہ امام بخاری ، امام احمد کو رحمہ الله علیہ لکھتے تھے اور پھر كتاب تاریخ الصغیر  کا ایک نسخہ بھی دکھایا

damnvi-imamahmed-rehma

دامانوی صاحب نے جو حوالہ دیا ہے وہ تاریخ الصغیر کا ہے جبکہ یہ الفاظ  بخاری کی کتاب الضعفاء  میں ہیں نہ کہ تاریخ الصغیر ہیں

 افسوس كتاب الضعفاء   جو  حال ہی میں ٢٠٠٥ میں أبو عبد الله أحمد بن إبراهيم بن أبي العينين کی تحقیق کے ساتھ  مكتبة ابن عباس  سے چھپی ہے اس میں سے یہ الفاظ حذف کر دے گئے

 حفص بن سليمان الأسدي: أبو عمر، عن علقمة بن مرثد، تركوه، قال أحمد بن حنبل وعلي: قال يحيى: أخبرني شعبة، قال: أخذ مني حفص بن سليمان كتابا، فلم يرده، قال: وكان يأخذ كتب الناس، فينسخها.

امام بخاری نے امام احمد کے ساتھ یہ رویہ کیوں اختیار کیا واضح  نہیں لیکن شاید یہ امام احمد کا امام بخاری کے خلاف فتوی ہو

 فائدہ : ہم ہی نہیں ہمارے سلف بھی فتوی بازی کرتے تھے ملاحظہ ہو

امام احمد کے اپنے بیٹے عبدللہ بن احمد اپنی کتاب السنة  میں لکھتے ہیں

سألت أبي رحمه الله قلت : ما تقول في رجل قال : التلاوة مخلوقة وألفاظنا بالقرآن مخلوقة والقرآن كلام الله عز وجل وليس بمخلوق ؟ وما ترى في مجانبته ؟ وهل يسمى مبتدعا ؟ فقال : » هذا يجانب وهو قول المبتدع ، وهذا كلام الجهمية ليس القرآن بمخلوق

میں نے اپنے باپ احمد سے پوچھا : آپ کیا کہتے ہیں اس شخص کے بارے میں جو کہتا ہے کہ قرآن کی تلاوت اور ہمارے الفاظ مخلوق ہیں اور قرآن الله عز وجل کا کلام غیر مخلوق ہے – اس کے قریب جانے پر آپ کیا کہتے ہیں اور کیا اس کو بدعتی کہا جائے گا ؟ امام احمد نے جواب میں کہا اس سے دور رہا جائے اور یہ بد عت والوں کا قول ہے اور الجهمية کا قول ہے- قرآن مخلوق نہیں

یہاں شخص سے مراد امام بخاری میں کیونکہ یہ ان ہی کا موقف تھا کا الفاظ قرآن مخلوق ہیں تلاوت مخلوق ہے  لیکن قرآن الله کا کلام غیر مخلوق ہے

ساکن بغداد ہونے کی وجہ سے مسئلہ خلق قرآن پر عباسی خلفاء کی خاص توجہ امام احمد پر مذکور رہی – امام احمد اپنے موقف پر ڈٹے رہے – اس بنا پر اپنے زمانے میں بہت  مشہور ہوۓ اور  پھر  اسی شہرت کے  سحر کے زیر اثر امام بخاری کو بد عقیده تک قرار دیا

امّت کو امام احمد کی شحصیت پرستی سے نکلنے  کے لئے امام بخاری نے کتاب  خلق أفعال العباد لکھی جس میں  نہ  صرف  معتزلہ  بلکہ  امام  احمد  کے  موقف  سے  ہٹ  کر  وضاحت  کی گئی

بندوں کی تلاوت مخلوق ہے

امام بخاری ، تلاوت جو ہم کرتے ہیں اس کو مخلوق کا فعل کہتے تھے. کتاب کا نام ہی خلق افعال العبآد یعنی بندوں کے افعال کی تخلیق رکھا امام بخاری کتاب میں کہتے ہیں

خلق١

اور نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ایک قوم نکلے گی جو تمہارے عمل کو اپنے اعمال سے حقیر جانیں گے پس اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کیا کہ قرآن کی قرات ایک عمل ہے

امام بخاری اور امام احمد دونوں قرآن کو کلام الله غیر مخلوق کہتے تھے لیکن بخاری کہتے  ہیں قرآن اللہ کا کلام ہے اور قرات بندے کا فعل  ہے

عربی زبان مخلوق ہے

بخاری باب باندھتے ہیں

باب قول االله تعالى { فأتوا بالتوراة فاتلوها إن كنتم صادقين } قال ومـن آياتـه خلـق السماوات و الأرض واختلاف ألسنتكم و ألوانكم فمنها العربي ومنها العجمي فـذكراختلاف الألسنة والألوان وهو كلام العباد

باب الله تعالی کا قول  پس جاؤ تورات لے آو اس کی قرات کرو اگر سچے ہو. الله نے کہا اور اس کی نشانیوں میں سے ہے زبانوں کا اختلاف اور رنگوں کا پس کوئی عربی ہے کوئی عجمی ہے پس الله نے زبان اور رنگوں کے اختلاف کا ذکر کیا اور وہ بندوں کا کلام ہے

بخاری کہنا چاہ رہے ہیں کہ قرآن کے علاوہ تورات بھی الله کا کلام ہے جو عربی میں نہیں اور یہ زبانوں کا اختلاف الله نے پیدا یا خلق کیا ہے .عربی زبان  مخلوق ہے

قرآن الله کا علم ہے وہ غیر مخلوق ہے لیکن  عربی زبان مخلوق ہے

یاد رہے کہ حدیث کے مطابق قرآن قریش (مکہ) کی زبان میں نازل ہوا  ہے اور اختلاف قرات کے مسئلہ پر،  جمع قرآن  کے وقت قریش کی زبان کو ترجیح دی گئی تھی

کتاب کے آخر میں بخاری نے نہ صرف قرآن بلکہ تورات اور انجیل کا بھی ذکر کیا جو عربی میں نازل نہیں ہوئیں لیکن  تورات و انجیل بھی الله کا کلام ہیں غیر مخلوق ہیں

اب دوبارہ امام احمد کا نقطہ نظر دیکھئے

امام احمد کے اپنے بیٹے عبدللہ بن احمد اپنی کتاب السنة  میں لکھتے ہیں

سألت أبي رحمه الله قلت : ما تقول في رجل قال : التلاوة مخلوقة وألفاظنا بالقرآن مخلوقة والقرآن كلام الله عز وجل وليس بمخلوق ؟ وما ترى في مجانبته ؟ وهل يسمى مبتدعا ؟ فقال : » هذا يجانب وهو قول المبتدع ، وهذا كلام الجهمية ليس القرآن بمخلوق

میں نے اپنے باپ احمد سے پوچھا : آپ کیا کہتے ہیں اس شخص کے بارے میں جو کہتا ہے کہ قرآن کی تلاوت اور ہمارے الفاظ مخلوق ہیں اور قرآن الله عز وجل کا کلام غیر مخلوق ہے؟ – اس کے قریب جانے پر آپ کیا کہتے ہیں اور کیا اس کو بدعتی کہا جائے گا ؟ امام احمد نے جواب میں کہا اس سے دور رہا جائے اور یہ بد عت والوں کا قول ہے اور الجهمية کا قول ہے- قرآن مخلوق نہیں

ابن تیمیہ فتوی ج ٧ ص ٦٦٠ مجموع الفتاوى مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، المدينة النبوية، المملكة العربية السعودية  میں دعوی کرتے  ہیں سلف میں کس نے نہیں کہا کہ قرآن کے الفاظ مخلوق ہیں

وَلَا قَالَ أَحْمَد بْنُ حَنْبَلٍ وَلَا أَحَدٌ مِنْ السَّلَفِ أَنَّ شَيْئًا مِنْ صِفَاتِ الْعَبْدِ وَأَفْعَالِهِ غَيْرُ مَخْلُوقَةٍ وَلَا صَوْتِهِ بِالْقُرْآنِ وَلَا لَفْظِهِ بِالْقُرْآنِ

اور امام احمد اور سلف میں کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ بندے کی صفات اور افعال غیر مخلوق ہیں اور نہ قرآن کی آواز(قرات) اور اس کے لفظ

امام الْأَشْعَرِيِّ کہتے تھے کہ امام احمد قرآن کے الفاظ کو مخلوق کہنےسے کراہت کرتے تھے. ابن تیمیہ فتوی  ج ٧ ص ٦٥٩ میں لکھتے ہیں

وَصَارَ بَعْضُ النَّاسِ يَظُنُّ أَنَّ الْبُخَارِيَّ وَهَؤُلَاءِ خَالَفُوا أَحْمَد بْنَ حَنْبَلٍ وَغَيْرَهُ مِنْ أَئِمَّةِ السُّنَّةِ وَجَرَتْ لِلْبُخَارِيِّ مِحْنَةٌ بِسَبَبِ ذَلِكَ حَتَّى زَعَمَ بَعْضُ الْكَذَّابِينَ أَنَّ الْبُخَارِيَّ لَمَّا مَاتَ أَمَرَ أَحْمَد بْنُ حَنْبَلٍ أَلَّا يُصَلَّى عَلَيْهِ وَهَذَا كَذِبٌ ظَاهِرٌ فَإِنَّ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْبُخَارِيَّ – رَحِمَهُ اللَّهُ – مَاتَ بَعْدَ أَحْمَد بْنِ حَنْبَلٍ بِنَحْوِ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَإِنَّ أَحْمَد بْنَ حَنْبَلٍ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – تُوُفِّيَ سَنَةَ إحْدَى وَأَرْبَعِينَ وَمِائَتَيْنِ وَتُوُفِّيَ الْبُخَارِيُّ سَنَةَ سِتٍّ وَخَمْسِينَ وَمِائَتَيْنِ وَكَانَ أَحْمَد بْنُ حَنْبَلٍ يُحِبُّ الْبُخَارِيَّ وَيُجِلُّهُ وَيُعَظِّمُهُ وَأَمَّا تَعْظِيمُ الْبُخَارِيِّ وَأَمْثَالِهِ لِلْإِمَامِ أَحْمَد فَهُوَ أَمْرٌ مَشْهُورٌ وَلَمَّا صَنَّفَ الْبُخَارِيُّ كِتَابَهُ فِي خَلْقِ أَفْعَالِ الْعِبَادِ وَذَكَرَ فِي آخِرِ الْكِتَابِ أَبْوَابًا فِي هَذَا الْمَعْنَى؛ ذَكَرَ أَنَّ كُلًّا مِنْ الطَّائِفَتَيْنِ الْقَائِلِينَ: بِأَنَّ لَفْظَنَا بِالْقُرْآنِ مَخْلُوقٌ وَالْقَائِلِينَ بِأَنَّهُ غَيْرُ مَخْلُوقٍ يُنْسَبُونَ إلَى الْإِمَامِ أَحْمَد بْنِ حَنْبَلٍ

وَيَدَّعُونَ أَنَّهُمْ عَلَى قَوْلِهِ وَكِلَا الطَّائِفَتَيْنِ لَمْ تَفْهَمْ دِقَّةَ كَلَامِ أَحْمَد – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -. وَطَائِفَةٌ أُخْرَى: كَأَبِي الْحَسَنِ الْأَشْعَرِيِّ وَالْقَاضِي أَبِي بَكْرِ بْنِ الطَّيِّبِ وَالْقَاضِي أَبِي يَعْلَى وَغَيْرِهِمْ مِمَّنْ يَقُولُونَ إنَّهُمْ عَلَى اعْتِقَادِ أَحْمَد بْنِ حَنْبَلٍ وَأَئِمَّةِ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْحَدِيثِ قَالُوا: أَحْمَد وَغَيْرُهُ كَرِهُوا أَنْ يُقَالَ: لَفْظِي بِالْقُرْآنِ؛ فَإِنَّ اللَّفْظَ هُوَ الطَّرْحُ وَالنَّبْذُ وَطَائِفَةٌ أُخْرَى كَأَبِي مُحَمَّدِ بْنِ حَزْمٍ وَغَيْرِهِ مِمَّنْ يَقُولُ أَيْضًا: إنَّهُ مُتَّبِعٌ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَغَيْرِهِ مِنْ أَئِمَّةِ السُّنَّةِ إلَى غَيْرِ هَؤُلَاءِ مِمَّنْ يَنْتَسِبُ إلَى السُّنَّةِ وَمَذْهَبُ الْحَدِيثِ يَقُولُونَ إنَّهُمْ عَلَى اعْتِقَادِ أَحْمَد بْنِ حَنْبَلٍ وَنَحْوِهِ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ وَهُمْ لَمْ يَعْرِفُوا حَقِيقَةَ مَا كَانَ يَقُولُهُ أَئِمَّةُ السُّنَّةِ؛ كَأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَأَمْثَالِهِ وَقَدْ بَسَطْنَا أَقْوَالَ السَّلَفِ وَالْأَئِمَّةِ: أَحْمَد بْنِ حَنْبَلٍ وَغَيْرِهِ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ. وَأَمَّا الْبُخَارِيُّ وَأَمْثَالُهُ فَإِنَّ هَؤُلَاءِ مِنْ أَعْرَفِ النَّاسِ بِقَوْلِ أَحْمَد بْنِ حَنْبَلٍ وَغَيْرِهِ مِنْ أَئِمَّةِ السُّنَّةِ

بعض لوگوں نے گمان کیا کہ امام بخاری اور انھوں نے آئمہ السنہ احمد بن حنبل وغیرہ کی مخالفت کی – اسکی وجہ سے امام بخاری آزمائش میں مبتلا ہوۓ – یہاں تک کہ بعض جھوٹے لوگوں نے دعویٰ کیا کہ امام بخاری کی جب وفات ہوئی تو احمد بن حنبل نے انکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا حکم دیا – ظاہر ہے کہ یہ جھوٹ ہے کیوں کہ ابو عبدالله بخاری رحم الله نے احمد بن حنبل کے ١٥ سال بعد وفات پائی – احمد بن حنبل رضی الله عنہ کی ٢٤١ ھ میں اور امام بخاری کی ٢٥٧ میں وفات ہوئی ہے – احمد بن حنبل امام بخاری سے محبت کرتے اور انکی تعظیم اور تکریم کرتے تھے جبکہ امام بخاری اور انکی طرح دوسرے لوگوں کی امام احمد کی تعظیم کرنا مشہور معاملہ ہے – جب امام بخاری نے اپنی کتاب خلق افعال العباد تصنیف کی تو کتاب کے آخری ابواب میں اس معاملہ کا ذکر کیا – اس میں انھوں نے دونوں گروہوں کا موقف پیش کیا ہے جو اس کے قائل ہیں کہ ہمارے وہ الفاظ جو ہم قرآن کی قرات کرتے ہیں وہ مخلوق ہیں اور انکا بھی جو ان کے غیر مخلوق ہونے کے قائل ہیں – اسکی نسبت امام احمد بن حنبل کی طرف کیا کرتے ہیں – اور اس گروہ کا دعویٰ ہے کہ وہ احمد بن حنبل کے قول پر ہیں – دونوں گروہ احمد رضی الله عنہ کی بات کی گہرائی کو نہ سمجھ سکے – ایک اور دوسرا گروہ ہے جس میں ابو الحسن اشعری ، قاضی ابو بکر الطیب اور قاضی ابو یعلی وغیرہ شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ احمد بن حنبل اور آئمہ السنہ و الحدیث کے عقیدے پر ہیں انکا کہنا ہے کہ احمد وغیرہ لفظی بالقران کہے جانے سے کراہت کرتے تھے کیونکہ لفظ تو منہ سے نکال پھینکنے والی چیز ہے – ایک اور دوسرا گروہ جیسا کہ ابو محمد بن حزم وغیرہ ہیں جن کا کہنا بھی یہ ہے کہ وہ آئمہ السنہ احمد بن حنبل وغیرہ کے پیروکار ہیں اور وہ بھی جو اہل سنت اور مذھب اہل حدیث کی طرف نسبت نہیں کرتے – اس گروہ کا کہنا ہے وہ احمد بن حنبل اور اسی طرح دوسرے اہل سنت کے اعتقاد پر ہیں وہ لوگ آئمہ السنہ جیسے احمد بن حنبل اور ان کی طرح دوسرے اہل سنت کی بات کی حقیقت نہ جان سکے –
اور ہم نے تفصیل سے سلف اور آئمہ ، احمد بن حنبل وغیرہ کے اقوال دوسری جگہ پیش کیے ہیں اور رہے امام بخاری اور انکی طرح دوسرے لوگ تو بےشک وہ اہل سنت میں سے احمد بن حنبل وغیرہ کے قول کو لوگوں میں سے زیادہ جاننے والے تھے

ابن تیمیہ کی نقص بھری تحقیق دیکھئے ایک طرف تو اتنے سارے لوگ  کہہ رہے ہیں کہ امام احمد قرآن کے الفاظ کو بھی غیر مخلوق کہتے تھے اور پھر بخاری کی کتاب خلق افعال سب شاہد ہیں ان کے عقائد پر لیکن

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

بخاری تو واضح طور پر قرآن کی تلاوت کو مخلوق کہتے ہیں  لیکن احمد تلاوت کو مخلوق کہنے والے کو جہمیہ کے مذھب پر بتاتے ہیں

امام بخاری اور امام احمد کے اس مناقشہ کو چھپانا علماء کا طریقہ نہیں . لیکن بعض کے نزدیک یہی خطا ڈاکٹر عثمانی سے ہوئی اور پھر فتوی کی توپیں داغی گئیں

مسئلہ لفظ میں امام احمد کوئی رائے نہیں رکھتے تھے بلکہ اس مسئلہ میں رائے کے سخت خلاف تھے – امام بخاری اس کے برعکس رائے رکھتے تھے اور اس کی تبلیغ کرتے تھے  ان کے نزدیک منہ سے تلاوت کے دوران ادا ہونے والے قرآن کے الفاظ اور اس کی آواز مخلوق تھے – امام احمد اس پر کوئی بھی رائے رکھنے والے کو جہمی کہتے تھے

یہ مسئلہ بعد  والوں نے چھپانے کی کوشش کی مثلا کتاب شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة  از أبو القاسم هبة الله بن الحسن بن منصور الطبري الرازي اللالكائي (المتوفى: 418هـ) کی روایت ہے

وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصٍ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: ثنا أَبُو صَالِحٍ خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو أَحْمَدَ بْنِ نَصْرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ النَّيْسَابُورِيَّ الْمَعْرُوفَ بِالْخَفَّافِ بِبُخَارَى يَقُولُ: كُنَّا يَوْمًا عِنْدَ أَبِي إِسْحَاقَ الْقُرَشِيِّ وَمَعَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ , فَجَرَى ذِكْرُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ , فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَنْ زَعَمَ أَنِّي قُلْتُ: لَفْظِي بِالْقُرْآنِ مَخْلُوقٌ , فَهُوَ كَذَّابٌ , فَإِنَّى لَمْ أَقُلْهُ. فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ فَقَدْ خَاضَ النَّاسُ فِي هَذَا وَأَكْثَرُوا فِيهِ. فَقَالَ: لَيْسَ إِلَّا مَا أَقُولُ وَأَحْكِي لَكَ عَنْهُ. قَالَ أَبُو عَمْرٍو الْخَفَّافُ: فَأَتَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ فَنَاظَرْتُهُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْحَدِيثِ حَتَّى طَابَتْ نَفْسُهُ فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ هَاهُنَا رَجُلٌ يَحْكِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ هَذِهِ الْمَقَالَةِ. فَقَالَ لِي: يَا أَبَا عَمْرٍو احْفَظْ مَا أَقُولُ: مَنْ زَعَمَ مِنْ أَهْلِ نَيْسَابُورَ وَقُومَسَ وَالرَّيِّ وَهَمَذَانَ وَحُلْوَانَ وَبَغْدَادَ وَالْكُوفَةِ وَالْمَدِينَةِ وَمَكَّةَ وَالْبَصْرَةِ أَنِّي قُلْتُ: لَفْظِي بِالْقُرْآنِ مَخْلُوقٌ , فَهُوَ كَذَّابٌ , فَإِنَّى لَمْ أَقُلْ هَذِهِ   الْمَقَالَةَ , إِلَّا أَنِّي قُلْتُ: أَفْعَالُ الْعِبَادِ مَخْلُوقَةٌ

ہم کو أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصٍ  نے خبر دی کہا ہم سے بیان کیا  مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَلَمَةَ نے کہا ہم سے بیان کیا  أَبُو صَالِحٍ  خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ انہوں نے أحمد بن نصر بن إبراهيم، أبو عمرو النَّيْسَابوريُّ الخفّاف المتوفی ٣٠٠ ھ  سے سنا کہتے ہیں ایک دن ہم  أَبِي إِسْحَاقَ الْقُرَشِيِّ کے پاس تھے اور ہمارے ساتھ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ  بھی تھے کہ امام بخاری کا ذکر ہوا پس مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ نے کہا میں نے سنا یہ کہتے تھے کہ جو یہ دعوی کرے کہ میں کہتا ہوں کہ قرآن کے الفاظ مخلوق ہیں وہ جھوٹا ہے کیونکہ میں ایسا نہیں کہتا . پس میں نے ان سے کہا اے ابو عبد الله امام بخاری اس پر تو لوگ بہت لڑتے ہیں پس کہا جو میں نے کہا اس کے سوا کچھ اور نہیں ہے- أَبُو عَمْرٍو الْخَفَّافُ کہتے ہیں پس میں امام بخاری سے ملا اور ان سے ایک حدیث پر کلام کیا یہاں تک کہ دل بھر گیا میں نے ان سے کہا اے ابو عبد الله وہاں ایک شخص ہے جو حکایت کرتا ہے آپ کے لئے کہ آپ اس میں یہ اور  یہ کہتے ہیں – امام بخاری نے مجھ سے کہا اے ابو عمرو یاد رکھو جو میں کہوں جو یہ دعوی کرے نیشاپور یا قومس یا رے یا ہمدان یا حلوان یا بغداد یا کوفہ یا مدینہ یا مکہ یا بصرہ میں سے کہ میں کہتا ہوں قرآن کے الفاظ مخلوق ہیں وہ کذاب ہے پس میں ایسا نہیں کہتا ہوں  بلاشبہ میں کہتا ہوں کہ بندوں کے افعال مخلوق ہیں

اس کی سند میں أَبُو صَالِحٍ خَلَفُ بنُ مُحَمَّدِ بنِ إِسْمَاعِيْلَ ہیں جن کے لئے الذھبی سیر الاعلام النبلاء میں لکھتے ہیں

قَالَ الخَلِيلِيُّ: كَانَ لَهُ حفظٌ وَمَعْرِفَةٌ، وَهُوَ ضَعِيْفٌ جِدّاً، رَوَى مُتوناً لاَ تُعرفُ

خلیلی کہتے ہیں ان کے لئے حافظہ و معرفت ہے اور یہ بہت ضعیف ہیں اور وہ متن روایت کرتے ہیں جو کوئی نہیں جنتا

کتاب الرّوض الباسم في تراجم شيوخ الحاكم میں  أبو الطيب نايف بن صلاح بن علي المنصوري  راوی   أَبُو صَالِحٍ خَلَفُ بنُ مُحَمَّدِ بنِ إِسْمَاعِيْلَ کے لئے کہتے ہیں

ضعيف جدًا مع كثرة حديثه

بہت ضعیف ہیں کثرت حدیث کے ساتھ

ایک طرف تو سندا کمزور دوسری طرف اس کے راوی

أَبُو عَمْرٍو الْخَفَّافُ  کے امام الذھبی کتاب تاریخ الاسلام میں لکھتے ہیں

سَمِعَ بنَيْسابور: إسحاق بن راهَوَيْه، وعَمْرو بن زُرَارة، والحسين بن حُرَيْث، ومحمد بن عبد العزيز بن أبي رزمة، وأقرانهم.

وببغداد: إبراهيم بن المستمرّ، وأحمد بن منيع، وأبا همّام السكوني، وأقرانهم. وبالكوفة: أبا كُرَيْب، وعَبّاد بن يعقوب، وجماعة.

 وبالحجاز: أبا مُصْعَب، ويعقوب بن حُمَيْد بن كاسب، وعبد الله بن عمران العابديّ، وغيرهم.

 سوال کے  ان کا سماع بخاری سے کب ہوا؟

ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں

أَخْرَجَ ذَلِكَ غُنْجَارٌ فِي تَرْجَمَةِ الْبُخَارِيِّ من تَارِيخ بخارا بِسَنَدٍ صَحِيحٍ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيِّ الْإِمَامِ الْمَشْهُورِ أَنَّهُ سَمِعَ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ ذَلِكَ وَمِنْ طَرِيقِ أَبِي عُمَرَ وَأَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ النَّيْسَابُورِيِّ الْخَفَّافِ أَنَّهُ سَمِعَ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ ذَلِكَ

اس (اوپر والی روایت) کو غنجار نے بخاری کے ترجمہ میں تاریخ بخاری میں صحیح سند کے ساتھ محمّد بن نثر المروزی امام مشھور سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے امام بخاری سے سنا کہ انہوں نے ایسا کہا جو ابی عمر اور احمدبن نصر کے طرق سے ہے کہ انہوں نے بخاری سے سنا

اسی قول کو ابن حجر نے تهذيب التهذيب میں بھی نقل کیا ہے

عجیب بات ہے انہی   خَلَفُ بنُ مُحَمَّدِ بنِ إِسْمَاعِيْلَ کی لسان المیزان میں ابن حجر عزت افزائی کرتے ہیں

وسمعت الحاكم، وَابن أبي زرعة   وإنما كتبنا عنه للاعتبار وقد ضعفه أبو سعيد الإدريسي

حاکم اور  ابن أبي زرعة کہتے ہیں ان کا قول اعتبار کے لئے لکھا جاتا ہے اور  ابو سعید نے ان کو ضعیف کہا ہے

اس روایت کا سارا دار و مدار جس شخص پر ہے وہ توضعیف نکلا لہذا دلیل کیسے ہیں

امام بخاری کی کتاب خلق افعال العباد  کے آخری ابواب کو دیکھا جائے تو یہ مسئلہ واضح ہو جاتا ہے

اہل دانش دیکھ سکتے ہیں کہ اہل علم کیا گل کھلا رہے ہیں

Comments are closed.