کسوف کی خبر

امریکی خلائی ادارہ ناسا کی تحقیق  کے مطابق وہ گرہن جو دور نبوی میں ہوا  اور مدینہ میں دس ہجری میں دیکھا گیا وہ سن ٦٣٢ ع میں ٢٧ جنوری کو ہوا تھا

https://eclipse.gsfc.nasa.gov/SEcat5/SE0601-0700.html

اس گرہن کو 06270 کا نمبر دیا گیا ہے

یہ گرہن زمین سے عرب میں مکمل دیکھا گیا اور اسی روز روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کی وفات ہوئی اور لوگوں نے کہا کہ ان کی وفات کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے

 

٢٧ جنوری ٦٣٢ عیسوی کو جب ہجری کنلڈر میں تبدیل کریں تو تاریخ ٢٨ شوال سن ١٠ ہجری  بنتی ہے

https://www.islamicity.org/Hijri-Gregorian-Converter/?AspxAutoDetectCookieSupport=1#

امام ابن حزم  کا قول ہے کہ ابراہیم  پسر نبی کی وفات  ، وفات النبی (سن ١١ ہجری ربیع الاول ) سے چار ماہ قبل ہوئی – اس طرح ابن حزم کی تحقیق کے مطابق ابراہیم کی  وفات ذیقعدہ میں ہوئی  اور جدید  حساب فلکیات قمر کے مطابق یہ  ٢٨ شوال کو وفات  ہوئی  اور دونوں تواریخ  بہت قریب ہیں

اس سے معلوم ہوا کہ  کسوف میں جو مومن پر عذاب قبر کی خبر دی گئی وہ صرف وفات النبی سے چار ماہ قبل کی تھی اور دوسری طرف عذاب قبر کی روایات  کا انبار ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ان روایات کو گھڑا گیا – مثلا  سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جن کی شہادت جنگ خندق کے فورا بعد ہوئی ان تک پر عذاب قبر کی خبر راویوں نے دے دی ہے

 

2 thoughts on “کسوف کی خبر”

  1. ماشاءاللہ بہت خوب اللہ آپکے علم میں اضافہ فرمائیں حضرت آپسے مؤدبانہ درخواست ہے کہ بخاری یا مسلم کی روایت ہے جسمیں بتایا گیا ہے کہ میت پر صبح و شام اسکا ٹھکانہ یعنی جنت یا جہنم پیش کیا جاتا ہے تو اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سزا و جزا قبر میں ہی ہوتا ہے ۔ اس روایت پر آپکا کوئی تفصیلی مقالہ مل جائے تو بہت مہربانی ہوگی ۔ اور دوسری بات یہ معلوم کرنا تھا اللہ کے نبی نے عزاب قبر سے پناہ مانگی ہے اس سلسلے میں بہت سی روایات منقول ہیں اس بارے میں آپکی کیا رائے ہے اس پر بھی روشنی ڈالدیں

    1. Islamic-Belief says:

      شکریہ

      اس پر مفصل کتاب ہے

      اثبات عذاب قبر و رد عقیدہ عود روح
      https://www.islamic-belief.net/download/اثبات-عذاب-قبر-a5/
      ==============

      میت پر صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش ہوتا ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح ال فرعون کو اگ پر پیش کیا جاتا ہے
      یعنی ان کی ارواح کو جہنم کی تپش محسوس کروائی جاتی ہے اس میں جھونکا نہیں جاتا
      اسی کو عذاب قبر کہا جاتا ہے کیونکہ یہ معروف میں سے تھا عرب مردوں کو دفن کرتے تھے ہر چند کہ عذاب کا مقام ارضی قبر نہیں ہے
      ———-
      عذاب قبر سے پناہ مانگنے کی روایات درست ہیں -امت کو سکھانے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دعائیہ کلمات کا حکم دیا

      میرا خیال ہے کہ آپ پہلے کتاب کا مطالعہ کر لیں پھر جو سوال ہوں ان کو دیکھتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

five + thirteen =