کتاب الرویا

مکمل کتاب لٹریچر/ کتب ابو شہریار میں ملاحظہ کریں

اس مختصر  کتاب میں  خواب   سے متعلقہ  مباحث    کا ذکر ہے-  جن     میں    ان  روایات  پر تحقیق کی گئی ہے  جو  تعبیر  خواب کے  نام   پر دھندہ  کرنے والے  پیش کر  کے عوام   کا  مال بتوڑتے  ہیں –  کتاب  میں  خواب میں الله تعالی  کو دیکھنے  اور  نبی صلی الله علیہ وسلم کا دیدار  کرنے سے متعلق  بھی روایات  پیش کی گئی ہیں   اور  ان کی اسناد  پر تحقیق کی گئی ہے- آخری ابواب میں  فرقوں کے متضاد  خواب    جمع  کیے   گئے ہیں   اور  ان کی تلبسات  باطلہ کا  رد  کیا گیا ہے –   اس کتاب میں انبیاء کے وہ خواب جو انہوں نے نبی بننے سے قبل  دیکھے ان پر  نظر ڈالی گئی ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ یہ خواب محض سچے خواب تھے نہ کہ الوحی-

2 thoughts on “کتاب الرویا”

  1. Islamic-Belief says:

    وَمَآ اَنْسَانِيْهُ اِلَّا الشَّيْطَانُ
    اور مجھے شیطان ہی نے بھلایا ہے

    درست فرمایا اور تصحیح کا شکریہ
    اس کتاب کے صفحہ ٩٣ پر لکھا تھا کہ یوسف نے تمثیلی خواب دیکھا اور ہیڈنگ میں انبیاء لکھا تھا
    اس غلطی کو صحیح کر دیا ہے کیونکہ اس تمثیلی خواب کو دیکھنے کے وقت وہ نبی نہیں تھے

    آپ نے لکھا ہے کہ پوسٹ بعنوان ((غلط عقائد کی ترویج)) میں قول بلیغ کے بالکل اسی موقف کو رد کیا ہے
    قول بلیغ کا موقف یوسف کی نبوت کا نہیں ہے اس کا قول
    process
    کا ہے جس سے اس کا مقصد نبوت کو ارتقاء کی تھیوری بنانا ہے

    نبوت یک دم ملتی ہے یہ کوئی
    process
    نہیں ہے – لہذا آپ خود قول بلیغ کی بات سمجھ نہیں سکے ہیں

  2. Islamic-Belief says:

    ایک شخص کا مدعا تھا کہ انبیاء کو ان کے خواب یاد نہیں رہے کیونکہ ان کی روحوں نے ان کے جسم کو چھوڑا اور
    ////
    جب روح دوبارہ طبعی حیوانی جسم میں لوٹی تو یہ ممکن ہی نہ ہو سکتا تھا کہ انہیں اصل مشاہدے کی یاد جوں کی توں رہ پاتی
    ///

    اس پر جوابا میں نے کہا
    ///
    راقم کا تبصرہ
    یہاں اس شخص نے پھر کفر بکا ہے اور اس کو معلوم بھی نہیں کیا بک رہا ہے – انبیاء کے خواب تمام کے تمام کا انکار کر دیا ہے کہ ان کو یاد ہی نہیں رہتا کیا دیکھتے تھے
    ///
    یہاں اس شخص نے یوسف علیہ السلام کے خواب کا ذکر کیا ہے میں نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے – اس شخص نے اس کا ذکر کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ خواب کے وقت انبیاء کی روحیں ان کے جسم سے نکل گئیں جب واپس ان کے جسم میں عود روح ہوا تو ان کو یاد نہیں رہا کہ خواب میں کیا دیکھا تھا – میں نے اس فلسفہ کو رد کیا ہے
    یہاں میرا مدعا یہ نہیں ہے کہ یوسف کے خواب پر بحث کروں کہ وہ اس وقت نبی تھے یا نہیں کیونکہ جو اس کا اصل مدعا تھا اس کو رد کرنا ضروری تھا کہ خواب میں روح جسم سے نکل جاتی ہے
    ورنہ میرا موقف اس وقت بھی وہی تھا کہ یوسف نے تمثیلی خواب بطور نبی نہیں دیکھا تھا

    آپ شاید یہ بھول گئے کہ اقتباس میں جو شخص ہے وہ اس کا قائل ہے کہ یوسف خواب دیکھنے کے وقت نبی تھے اسی لئے اس نے اس پر فلسفہ بھگارا ہے -میرا مقصد اس فلسفہ کا رد ہے
    یوسف کے خواب کو اگر ہم وحی مان لیں تو ثابت ہو جائے گا کہ انبیاء نے جو تمثیلی خواب دیکھے ان کو اس کا مطلب نہیں پتا تھا اور یہی اس شخص کا مدعا ہے جس کو میں نے رد کیا ہے
    اگر کسی کا مدعا بن رہا ہے کہ ایک نبی کو اس کے اپنے تمثیلی خواب سے لا علم قرار دیا جائے تو یہ قول و فہم باطل ہے
    لہذا ثابت یہی ہوتا ہے کہ یوسف کا تمثیلی خواب الوحی نہیں تھا صرف سچا خواب تھا کیونکہ اس وقت وہ نبی نہیں عام بشر تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

two × 2 =