پھر قبر ميں دفن کرايا

سورہ عبس
قُتِلَ الْإِنسَانُ مَا أَكْفَرَهُ ( 17 ) عبس – الآية 17
انسان ہلاک ہو جائے کيسا ناشکرا ہے
مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ( 18 ) عبس – الآية 18
اُسے (اللہ نے) کس چيز سے بنايا؟
مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ ( 19 ) عبس – الآية 19
نطفے سے بنايا پھر اس کا اندازہ مقرر کيا
ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ ( 20 ) عبس – الآية 20
پھر اس کے ليے رستہ آسان کر ديا
ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ ( 21 ) عبس – الآية 21
پھر اس کو موت دي پھر قبر ميں دفن کرايا
ثُمَّ إِذَا شَاءَ أَنشَرَهُ ( 22 ) عبس – الآية 22
پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا

 

ان آيات کا مطلب ہے کہ انسان کو ہدايت الله نے دي اور موت دي، قبر دي، پھر زندہ کرے گا

قبر دينا الله کا عمل کہا گيا ہے- اس آیت کي عربي کا يہي مطلب ہے – لہذا عربي لغات و قواعد کي کتب ميں اس آیت  کا ذکر ہے کہ الله نے  قبر دي

إصلاح المنطق المؤلف: ابن السكيت، أبو يوسف يعقوب بن إسحاق (المتوفى: 244هـ) ميں ہے

قال الله جل ثناؤه: {ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُِ} [عبس: الآية:21] , قال أبو عبيدة:.. وقد أَقْبَرْتُهُ، إذا دفنته
أبو عبيدة: نے کہا اس کو قبر دي جب اس کو دفن کيا

كتاب العين المؤلف: أبو عبد الرحمن الخليل الفراهيدي البصري (المتوفى: 170هـ)ميں ہے
قال الله تعالى: ثُمَّ أَماتَهُ فَأَقْبَرَهُ أي جعله بحال يقبر
يعني اس کو اس حال ميں کيا کہ قبر ميں ہے

لسان العرب المؤلف: ابن منظور الأنصاري الرويفعى الإفريقى (المتوفى: 711هـ) ميں ہے

الْفَرَّاءُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ثُمَّ أَماتَهُ فَأَقْبَرَهُ
، أَي جَعَلَهُ مَقْبُورًا مِمَّنْ يُقْبَرُ وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِمَّنْ يُلْقَى لِلطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ وَلَا مِمَّنْ يُلْقَى فِي النَّوَاوِيسِ
الْفَرَّاءُ نے کہا الله نے اس کو قبر ميں کيا اور اس کو ايسا نہيں کيا کہ پرندوں يا درندوں کے آگے پھينکا گيا ہو

ليکن ہم کو معلوم ہے کہ الله نے سب  انسانوں کو قبر نہيں دي – دنيا ميں مسلمان آج کل مشرکوں سے کم ہيں اور مشرک اپنے مردوں کو تمام دفناتے بھي نہيں يہاں تک کہ بعض نصراني اہل کتاب کے فرقے بھي اپنے مردے جلا ديتے ہيں تو الله نے تو سب کو قبر نہيں دي

ڈاکٹر عثماني کا موقف ہے کہ فرشتوں کے ذريعہ قبر عالم البرزخ ميں دي جو روح کا مقام ہے اور يہ قول ابن حزم کا بھي ہے کہ عالم البزرخ ميں روح کا مقام قبر ہے – ياد رہے کہ ابن حزم ايک عرب تھے اندلس ميں عالم تھے

الفواتح الإلهية والمفاتح الغيبية الموضحة للكلم القرآنية والحكم الفرقانية از نعمة الله بن محمود النخجواني، ويعرف بالشيخ علوان (المتوفى: 920هـ) کي تفسير ميں ہے

ثُمَّ أَماتَهُ عن نشأة الابتلاء والاختبار تخليصا وتقريبا الى ربه فَأَقْبَرَهُ في البرزخ
الله نے اس کو البرزخ ميں قبر دي

سورہ قمر کي تفسير ميں انہوں نے لکھا
يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْداثِ اى قبورهم التي هم مدفونون فيها في عالم البرزخ ويتحركون على الأرض كَأَنَّهُمْ جَرادٌ مُنْتَشِرٌ
يہ اپني الْأَجْداثِ سے نکليں گے يعني وہ قبور جن ميں يہ عالم برزخ ميں دفن ہيں اور پھر يہ ٹدديوں کي طرح زمين پر منتشر ہوں گے

قرآن کي آيت النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا کي شرح ميں شيخ علوان (المتوفى: 920هـ) نے اسي تفسير ميں لکھا
النَّارُ المعدة لتعذيب اصحاب الشقاوة الازلية الابدية ولهذا يُعْرَضُونَ عَلَيْها يعنى فرعون وآله على النار حال كونهم في برزخ القبر ايضا
النار مدت عذاب ہے اصحاب شقي کے لئے ازلي و ابدي ہے اور اس لئے ان کو اس پر پيش کيا جاتا ہے يعني فرعون اور اس کي آل کو اس حال ميں کہ ان کے لئے برزخ ميں بھي قبر ہے

ڈاکٹر عثماني سے قريب 500 سال پہلے لکھي جانے والي تفسير ميں يہ سب موجود ہے کہ برزخ ميں قبر ہے جو الله نے دي اسي ميں ال فرعون کو عذاب ہو رہا ہے

آج لوگ کہتے ہیں کہ  برزخ تو کیفیت ہے نہ کہ مقام جبکہ بعض مفسرین کا ٥٠٠ سال پہلے سے یہ کہنا تھا کہ قبر عالم برزخ میں بھی ہے  اور اسی کی مناسبت سے حدیث میں عذاب قبر کا لفظ ہے

بعض کا کہنا تھا کہ قبر تو صرف نسبت ہے کہ وہ عذاب جو مرنے کے بعد دیا  جائے چاہے دفن ہو یا نہ ہو

عذاب قبرکی حقیقت کتاب

 اثبات عذاب قبر A5

Leave a Reply

Your email address will not be published.

nineteen − 12 =