وہ رجعت پر ایمان رکھتے تھے

مفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام از دکتور جواد علی  میں ہے
الرجعة: واعتقد قوم من العرب في الجاهلية بالرجعة: أي الرجوع إلى الدنيا بعد الموت فيقولون أن الميت يرجع إلى الدنيا كرة أخرى ويكون فيها حيًّا كما كان
جاہلی عربوں کی ایک قوم رجعت کا عقیدہ رکھتی تھی کہ مرنے والا واپس دنیا میں موت کے بعد آ جاتا ہے اور اسی طرح زندہ ہو جاتا ہے جیسے پہلے تھا

وفات النبی کے وقت اس قسم کا قول عمر رضی اللہ عنہ نے بھی بولا
طبری میں ہے
فَحَدَّثَنَا ابْنُ حميد، قال: حدثنا سلمة، عن ابن إسحاق، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، …. لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم، قام عمر بن الخطاب، فقال: إن رجالًا من المنافقين يزعمون أن رسول الله توفي، وأن رسول الله والله ما مات،
ولكنه ذهب إلى ربه كما ذهب موسى بن عمران، فغاب عن قومه أربعين ليلة، ثم رجع بعد أن قيل قد مات، والله ليرجعن رسول الله فليقطعن أيدي رجال وأرجلهم يزعمون أن رسول الله مات
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو عمر بن الخطاب نے کہا منافقوں میں بعض مرد کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ کی وفات ہو گئی ہے اور بے شک آپ کی وفات نہیں ہوئی لیکن آپ اپنے رب کے پاس گئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام
اپنے رب کے پاس گئے اور چالیس رات اپنی قوم پر غائب رہے پھر رجع کیا بعد اس کے کہا گیا کہ وہ مر گئے ہیں – اللہ کی قسم رسول اللہ واپس آئیں گے وہ ان منافقوں کے ہاتھ پیر کاٹ ڈالیں گے کہ ان کا دعوی ہے کہ رسول اللہ وفات پا گئے ہیں

عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سختی سے رد کیا – بلا شبہ اس وقت جو غم کی کیفیت تھی اس کی وجہ سے عمر ایسا کہہ گئے

عقیدہ رجعت لیکن ایک عقیدے کے طور پر یہود میں موجود ہے اور آج بھی یہود اس کے قائل ہیں کہ اصلی مسیح کے ظہور پر بنی اسرائیلی زندہ ہوں گے – اس عقیدے کا پرچار ابن سبا نے سب سے پہلے کیا

ابن سبأ أول من قال بالرجعة

ابن سبا نے سب سے پہلے رجعت کا قول کہا

اس کے بعد رجعت کا قول شیعہ رویوں میں قرن اول سے ہی چل رہا ہے جن میں بعض بہت مشہور ہیں مثلا

أبو الطفيل عامر بن واثلة المتوفی 110 ہجری پر ابن قتیبہ کا المعارف میں قول ہے
وكان مع «المختار» صاحب رايته، وكان يؤمن بالرّجعة
یہ مختار ثقفی کے جھنڈے تلے تھے اور رجعت پر ایمان رکھتے تھے

جابر الجعفي المتوفی ١٣٠ ھ کے لئے ابن قتیبہ المعارف میں لکھتے ہیں
جابر بن يزيد. وكان ضعيفا في حديثه. وهو من الرّافضة الغالية، الذين يؤمنون بالرّجعة
یہ حدیث میں ضعیف ہے رافضی غالی ہے رجعت پر ایمان رکھتا تھا

کتاب از الفسوی میں ہے
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَحْمِلُونَ عَلَى جَابِرٍ قَبْلَ أَنْ يُظْهِرَ مَا أَظْهَرَ، فَلَمَّا أَظْهَرَ مَا أَظْهَرَ اتَّهَمَهُ النَّاسُ فِي حَدِيثِهِ، وَتَرَكَهُ بَعْضُ النَّاسِ، فَقِيلَ لَهُ: وما أظهر؟ قال: الايمان بالرجعة.

جب جابر کا عقیدہ ظاہر نہیں تھا لوگ اس کی روایت لیتے تھے

تاریخ طبری جلد ١١ میں لکھا ہے
قال العباس: وحدثنا يحيى بن يعلى المحاربى عن زائده قال: كان جابر الجعفى كذابا يؤمن بالرجعة

تاریخ المنتظم في تاريخ الأمم والملوك از ابن جوزی میں إسماعيل بن محمد بن يزيد بن ربيعة، أبو هاشم الحمْيَرِي
پر لکھا ہے
وكان الحميري يشرب الخمر، ويقول بالرجعة

عبداللہ بن محمد بن حنفیہ ( علی رضی اللہ عنہ کا پوتا ) امام زہری کے مطابق یہ السبییہ میں سے تھا

اصبغ بن نباتہ المتوفی ١١٠ ہجری – یہ علی کی پولیس میں تھا اور یہ رجعت پر ایمان رکھتا تھا
قَالَ الْعُقَيْلِيُّ : كَانَ يَقُولُ بِالرَّجْعَةِ.
امام عقیلی کہتے ہیں یہ رجعت کا کہتا تھا

تاریخ اسلام از الذھبی میں ہے
عُثْمَانُ بْنُ عمير أبو اليقظان البجلي الكوفي الأعمى١٥٠ ھ رجعت پر ایمان رکھتا تھا
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ: كَانَ يُؤْمِنُ بِالرَّجْعَةِ.

قرن اول کا مشہور شاعر کثیر بھی اسی عقیدے پر تھا – تاریخ اسلام از الذھبی میں ہے
كثيّر عزّة الشاعرة المشهور هو كثير بن عبد الرحمن بن الأسود الخزاعي
تاریخ طبری میں سن ١٥٠ ہجری میں مرنے والوں پر لکھا ہے
وكثير شيعى يؤمن بالرجعة.
كثير عزه الشاعر رجعت پر ایمان رکھتا تھا
قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ: قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: إِنِّي لأَعْرِفُ صَلاحَ بَنِي هَاشِمٍ وَفَسَادَهُمْ بِحُبِّ كُثَيِّرٍ، فَمَنْ أَحَبَّهُ مِنْهُمْ فَهُوَ فَاسِدٌ، وَمَنْ أَبْغَضَهُ فَهُوَ صَالِحٌ، لِأَنَّهُ كَانَ خَشَبِيًّا يُؤْمِنُ بِالرَّجْعَةِ

مزید لوگ یہ ہیں جو رجعت کا عقیدہ رکھتے ہیں اور یہ لسٹ تو صرف اہل سنت کے مصادر کو دیکھ کر مرتب کی گئی ہے
راشد الہجری یہ علی کے ساتھ تھا رجعت پر ایمان رکھتا تھا
یونس بن خبیب رجعت پر ایمان رکھتا تھا
داود بن یزید رجعت پر ایمان رکھتا تھا
المغیرہ بن سعید رجعت پر ایمان رکھتا تھا
بیان بن سمعان رجعت پر ایمان رکھتا تھا
حارث بن حصیرہ المتوفی ١٥٠ ھ رجعت پر ایمان رکھتا تھا
محمد بن سائب الکلبی رجعت پر ایمان رکھتا تھا
اسمعیل بن خلیفہ رجعت پر ایمان رکھتا تھا
عمرو بن جابر الحضرمی رجعت پر ایمان رکھتا تھا
ثابت بن ابی صفیہ المتوفی ١٥٠ ھ رجعت پر ایمان رکھتا تھا
فرات بن الاحنف رجعت پر ایمان رکھتا تھا
تلید بن سلیمان رجعت پر ایمان رکھتا تھا
نصر بن الصباح رجعت پر ایمان رکھتا تھا
محمد بن القاسم بن زكريا أبو عبد الله المحاربي الكوفي السوداني رجعت پر ایمان رکھتا تھا
مسلم بن نضیر یا یزید رجعت پر ایمان رکھتا تھا
عبد اللہ بن الحسین المتوفی ١٤٠ ہجری رجعت پر ایمان رکھتا تھا
داود بن یزید رجعت پر ایمان رکھتا تھا

شیعہ امامیہ کا رفض کا عقیدہ قرن چہارم یا پنجم کا نہیں ہے بلکہ یہ تو قرن اول بلکہ قبل اسلام سے معروف ہے

بعض افسانہ نگاروں کا یہ دعوی کہ تشیع کا لفظ سیاسی معاملات میں علی رضی اللہ عنہ کا طرفدار ہونے سے متعلق کہا جاتا تھا  نہ  کہ ان عقائد کی بابت جو کہ چوتھی صدی ہجری میں جاکر رافضیت و امامیت کے نام پر مروّج ہوئے۔
راقم کہتا ہے رفض کا لفظ امام زید بن علی نے امام جعفر کے اصحاب  کو بولا تھا جب انہوں  نے سیاسی خروج میں امام زید بن علی کا ساتھ نہ دیا تو انہوں نے کہا
رفضونی
تم نے مجھے چھوڑ دیا

اس سے رفض کا لفظ نکلا اور یہی بات تاریخ  میں بیان کی گئی ہے

اس سے قبل راوی اگر رجعت کا عقیدہ بھی رکھتا ہو تو اس کو شیعہ ہی کہا جاتا تھا – لہذا یہ دعوی کہ قرن اول میں صرف شیعہ تھے رافضی و سبائی نہ تھے جاہلانا بات ہے

سبائی رویوں کو شیعہ کہہ کر ان کو بچانے والے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ

اول زاذان پر شیعہ ہونے کی جرح تھی رافضی کی نہیں -شیعہ تو سیاسی معاملات میں علی کا طرف دار ہونا تھا
دوم الکافی تو زاذان کے کئی سال بعد مرتب ہوئی تو اس کا عقیدہ زاذان کیسے لے سکتا ہے
سوم رافضیت چوتھی صدی میں جا کر مروج ہوئی

ان دعوی جات کے خلاف اہل سنت پہلے سے ہی جواب دے چکے ہیں – اول اہل سنت کہتے ہیں کہ لشکر علی میں ابن سبا موجود تھا اور اپنے شیعی نظریات و افکار پھیلا رہا تھا اور اس دور میں شیعیت علی کا ساتھ دینا ضرور تھی لیکن متاخرین مثلا ابن حجر کے دور تک شیعہ کا لفظ رافضی کے متبادل کے طور پر بھی استعمال ہو رہا تھا اور آج بھی ایسا ہی ہے
زاذان کو شیعہ متاخرین میں ابن حجر نے کہا ہے
خود امام بخاری کے دور تک میں شیعہ = رافضی خبیث ایک ہی معنوں میں استعمال ہوتے تھے

سبائی اس کے قائل تھے کہ علی کی شہادت نہ ہوئی بلکہ آسمان میں بادل پر زمین میں ہی موجود ہیں – دلیل یہ ہے کہ اس دور میں علی کی قبر تک نہیں تھی – اہل سنت کے بقول علی کی قبر چھپا دی گئی تھی لیکن سبائی کہتے یہی دلیل ہے کہ ان کی موت نہیں ہو بادل میں ہیں

ابن عباس زندہ تھے کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے
وحدثني أبو أيوب سليمان بن عبيد الله الغيلاني، حدثنا أبو عامر يعني العقدي، حدثنا رباح، عن قيس بن سعد، عن مجاهد، قال: جاء بشير العدوي إلى ابن عباس، فجعل يحدث، ويقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجعل ابن عباس لا يأذن لحديثه، ولا ينظر إليه، فقال: يا ابن عباس، مالي لا أراك تسمع لحديثي، أحدثك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا تسمع، فقال ابن عباس: ” إنا كنا مرة إذا سمعنا رجلا يقول: قال
رسول الله صلى الله عليه وسلم، ابتدرته أبصارنا، وأصغينا إليه بآذاننا، فلما ركب الناس الصعب، والذلول، لم نأخذ من الناس إلا ما نعرف

بشیر العدوی، ابن عباس کے پاس آیا اور روایت کرنے لگا اور بولا رسول الله نے کہا ،رسول الله نے کہا ،پس ابن عباس نے اس کی حدیث کی اجازت نہیں دی اور نہ اس کی طرف دیکھا. اس پر وہ ابن عبّاس سے مخاطب ہوا کیا وجہ ہے کہ اپ میری حدیث نہیں سنتے جبکہ میں رسول الله کی حدیث سنا رہاہوں؟ پس ابن عباس نے کہا ایک وقت تھا جب ہم سنتے کسی نے کہا قال رسول الله ہم نگاہ رکھتے اور اپنے کان اس (حدیث) پر لگاتے . لیکن جب سے لوگوں نے الصعب اور الذلول کی سواری کی تو ہم روایات نہیں لیتے مگر صرف اس سے جس کو جانتے ہوں

الصعب اور الذلول اہل تشیع بتاتے ہیں کہ بادل ہیں جن پر علی سواری کرتے اور زمین کے معاملات کا جائزہ لیتے تھے

یہ دعوی کہ رافضیت دور اصحاب رسول میں نہیں تھی چوتھی صدی میں جا کر مروج ہوئی صحیح مسلم کی اس روایت سے رد ہوتی ہے – اس میں خالصتا سبائی ایجنڈا پیش کیا گیا ہے جو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا

الکافی میں عود روح کا عقیدہ امام جعفر کی زبانی درج ہے اور امام جعفر شیعہ امام ہیں لہذا شیعوں میں امام جعفر سند سے نہیں بولتے ان کی تو نظر لوح محفوظ پر بیان کی جاتی ہے – – عود روح کا عقیدہ – عقیدہ رجعت کا ہی پرتو ہے
قبر میں روح واپس لائی جاتی ہے اس سے نکالی نہیں جاتی صرف اب انتظار ہے علی کی آواز بادل میں سے کب آئے جس کو سن کر خروج کیا جائے
لہذا قرآن کی آیت کہ اے رب تو نے دو زندگیاں دی اور دو موتیں دیں اس کا مطلب اہل تشیع کے ہاں رجعت کا اثبات ہے
عقیدہ رجعت کا ذکر متعدد قرن اول و دوم کے راویوں کے لئے محدثین نے کیا ہے مثلا جابر الجعفی وغیرہ

لہذا یہ اشکال بھی دور ہوا کہ رافضی عقائد قرن اول میں موجود نہیں تھے اور اب زاذان کی بات کرتے ہیں
زاذان اہل تشیع کے مصادر میں علی کے ان خاص لوگوں میں تھے جن پر اسم اعظم پڑھا گیا ہے اور یہ فارسی النسل تھا – زاذان کی موت کے بعد اس کینسل سے جو قبیلہ بنا اس سے بہت سے شیوخ قم نکلے – یعنی شیعوں میں زاذان اور ان کی نسل خاص کٹر شیعہ ہی رہے

محدثین ، قرن اول و دوم کے  بہت سے راویوں کو شیعہ کہتے ہیں لیکن مراد کٹر رافضی ہونا ہوتا ہے  اس پر لا تعداد امثال جرح و تعدیل لٹریچر میں موجود ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

nineteen − 9 =