نور محمدی کا ذکر ٢

نو دریافت مصنف عبد الرزاق کے جز مفقود کی حدیث جابر ہے

یہ مکمل روایت نہیں ہے البتہ اس کا ترجمہ ہے

عبد الرزاق نے معمر سے انہوں نے ابن منکدر سے انہوں نے جابر سے روایت کیا کہ جابر نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا
چیز سب سے اول خلق ہوئی؟ رسول الله نے فرمایا اے جابر الله نے اشیاء خلق کرنے سے قبل تمہارے نبی کا نور خلق کیا
اور اس کے بعد ہر چیز کو خلق کیا اور جب اس کو خلق کر رہا تھا تو یہ نور مقام قرب میں ١٢ ہزار سال کھڑا رہا
پھر اس نور کی چار قسمیں کیں- پس عرش خلق ہوا اور کرسی اس کی ایک تقسیم سے
اور عرش کو اٹھانے والے اور کرسی کے رکھوالے اس کی ایک قسم سے

اور چوتھا جز مقام محبت میں ١٢ ہزار سال کھڑا رہا- پھر چار جز اور کیے اس میں ایک سے قلم دوسرے سے لوح تسرے سے جنت اور چوتھا جز
مقام خوف میں ١٢ ہزار سال رہا – اس سے فرشتے اور دوسرے جز سے سورج اور تسرے سے چاند اور چوتھے سے تارے بنے
اور چوتھا جز مقام امید میں ١٢ ہزار سال کھڑا رہا

پھر چار جز اور کیے اس میں ایک سے عقل دوسرے سے علم و حکمت تسرے سے عصمت اور توفیق بنے
اور چوتھا جز مقام شرم میں ١٢ ہزار سال کھڑا رہا
پھر الله نے اس کو دیکھا تو اس نور میں سے پسینہ نکلا جو ایک لاکھ اور چار (اور ٢٠ لاکھ اور ٤ ہزار) قطرے نور کے تھے – ہر قطرہ سے ایک نبی بنا یا رسول کی روح پھر اس روح نے سانس لیا
اور اس سانس سے اولیاء کے نفوس بنے اور شہداء کے اور سعادت مندوں کے اور اطاعت کرنے والوں کے جوقیامت تک ہوں گے-
پس عرش و کرسی میرے نور سے ہیں
اور کروبیوں میرے نور سے ہیں
اور روحانییوں اور فرشتے میرے نور سے ہیں
اور سات آسمانوں کے فرشتے میرے نور سے ہیں
اورسورج چاند تارے میرے نور سے ہیں
اور عقل اور توفیق میرے نور سے ہیں
اور انبیاء و رسل کی ارواح میرے نور سے ہیں
اور سعادت مندوں کے اور اطاعت کرنے والوں اور صالحین کی ارواح میرے نور سے ہیں

پھر الله نے ١٢ ہزار پردے خلق کیے پس میرے نور کو اللہ نے کھڑا کیا اور وہ چوتھا جز تھا
ہر حجاب کے درمیان ایک ہزار سال فاصلہ ہے اور یہ مقام عبدیت ہے اور سکینہ ہے اور صبر ہے اور صدق ہے اور یقین ہے

===============================================

قارئین کی آسانی کے لئے اس کو درخت کی صورت بنایا گیا ہے

متن پر تبصرہ

یہ روایت منکر ہے

اس میں فرشتوں  کی تخلیق کا کئی بار ذکر ہے اور عرش کے فرشتوں کو حملة العرش کہا گیا ہے اور بعد میں کروبین کہا گیا ہے

کروبین یا کروبیون کا لفظ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نہیں بولتے تھے

کروبیں کا لفظ اصل میں توریت کی کتاب الخروج کے باب ٢٥   کی آیت ١٨ میں موجود  ہے اس کو عبرانی میں  כְּ֝רוּבִ֗ים  لکھا جاتا ہے اور انگریزی میں   شروبیم (٢) کہا جاتا ہے

(٢) cherubim

جدید لغت تكملة المعاجم العربية  از رينهارت بيتر آن دُوزِي (المتوفى: 1300هـ)   جو ایک مستشرق کی مرتب کی ہوئی ہے اس کے مطابق

كروب وكروبيّ والجمع كروبيون: ملاك مقرَّب

 كروب وكروبيّ  اس کا  جمع كروبيون  ہے :   مقرَّب فرشتے

کسی  صحیح حدیث میں اس  لفظ سے فرشتوں کا تدکرہ  نہیں ملا  البتہ یہ لفظ اہل کتاب میں مستعمل ہے

بلکہ عربی میں کرب کا لفظ غم و حزن کے مفہوم میں مستعمل ہے یہی مسلمانوں کی  لغات میں لکھا ہے


روایت میں بار بار ١٢٠٠٠ سال کا ذکر ہے جو مختلف مقام قرار دیے گئے ہیں

مقام قرب

مقام خوف

مقام رجا یا امید

مقام حیا

یعنی ٤٨٠٠٠ سال کے وقفوں کے بعد تخلیق ہوئی

جہنم اس میں خلق نہیں کی گئی

روایت میں دکھایا گیا ہے کہ ہر چیز اس نور سے خلق ہوئی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا تھا

یہی سب انجیل یوحنا میں عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بیان ہوا ہے

آیت ٢ میں کہا گیا کہ مخلوقات کی کوئی بھی چیز اس نور کے بغیر پیدا نہیں ہوئی

روایت میں اگرچہ الله تعالی ہی خلق کر رہا ہے لیکن نور کو پسینہ بہت بعد میں جا کر آیا اس سے روح بنی اور روحوں نے سانس لیا یا للعجب

اس روایت کا متن رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی کسی حدیث جیسا نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

4 × two =