موت و نیند پر اضطراب


فرقہ پرستوں کا عقیدہ   جمہور صحیح عقیدہ
نیند میں روح کو جسم سے نکال لیا جاتا ہے –   زندہ کی روح  عالم بالا جاتی ہے  جہاں روح کی  ملاقات  مردوں کو روح سے ہوتی ہے (ابن قیم    فی کتاب الروح ،  ابن تیمیہ فی الفتاوی)

اس  قول  سے خواب کی تعبیر کا عقیدہ    ان فرقوں نے گھڑا   ہے

روح یا نفس جسد میں ہی  قید رہتا ہے  اس کو توفی یا قبض   کرنا کہا   گیا ہے  یعنی پکڑنا یا قبضہ میں لینا   اور نفس کے  ارسال سے مراد نفس کو ( واپس جسد میں ہی ) چھوڑنا ہے

نیند میں روح  نہ تو عالم بالا میں جاتی ہے نہ ہی  زندہ  کی روح کی مردوں کی روح سے ملا قات ہوتی ہے      – اس سے متعلق تمام روایات  ضعیف ہیں

نیند
سلفی  و غیر مقلد علماء:

بد کاروں کی روحیں  برھوت  یمن میں ہیں   (وہابی  علماء، ابن تیمیہ )   نیکوکاروں  کی  روحیں  شام میں جابیہ میں ہیں   (عبد الوہاب النجدی) – روح  کا جسم سے  شعاع جیسا تعلق رہتا ہے اور جسد میں آتی جاتی رہتی ہے   – (ابن قیم    فی کتاب الروح ،  ابن تیمیہ فی الفتاوی   اور وہابی و اہل حدیث علماء   قبل تقسیم ہند)

روح جسد میں   ایک دفعہ سوال جواب کے وقت آتی ہے اس کے بعد   جنت و جہنم میں جاتی ہے  (اہل حدیث پاکستان کا عقیدہ جدید    سن ٢٠٠٠  ع کے بعد سے)

عود روح ہونے پر مردہ زندہ  ہو جاتا ہے

(قاضی ابو یعلی،    شیخ الکل  نذیر  حسین، بدیع الدین  راشدی )

عود  روح ہونے پر مردہ ، مردہ ہی ہے  (ابن عبد الھادی،   اہل حدیث  فرقہ پاکستان)-

اس    خود ساختہ قول    سے حیات برزخی  کا   تصور  نکالا گیا ہے

 

تقلیدی  علماء:

روح جسم میں عجب الذنب میں سمٹ جاتی ہے   (  ملا علی القاری   فی مرقاة    شرح مشكاة )

عام  لوگوں کی روحیں  زمیں و آسمان کے درمیان ہیں  (النسفی     فی  شرح العقائد)

ارواح  قبرستا نوں میں (یعنی جسد  میں)  ہی رہتی ہیں (التمہید از ابن عبد البر   اور   بیشتر دیو بندی و بریلوی   علماء )

ان     فرقوں کے نزدیک   عود  روح ہوتا ہے  اور  مردہ   دفنانے والوں کے قدموں کی چاپ سنتا ہے سوائے معدودے چند کے یہ ان کا متفقہ  جمہور کا عقیدہ ہے

روح      کا  توفی یا  قبض  ( یعنی پکڑا اور قبضہ میں ) کیا جاتا ہے  لیکن روح یا نفس  کو جسم سے نکال  بھی  لیا جاتا ہے-  قرآن میں   توفی کے ساتھ ساتھ اخراج بھی کہا گیا ہے –  روح  جسم سے مکمل الگ ہو جاتی ہے    –  قرآن میں امساک روح کا ذکر ہے کہ جس پر  موت حکم لگتا ہے وہ مر جاتا ہے اور اس کی روح کو   روک  لیا جاتا ہے  یعنی  اخراج کے بعد  واپس جسد میں نہیں ڈالا جاتا

 

روح   دنیا میں واپس  کسی صورت نہیں آتیں الا یہ کہ الله کا کوئی معجزہ ہو جن کا صدور    ہو چکا   اور قرآن میں اسکی خبر  دے دی گئی

 

روح اب روز محشر ہی اس دنیا میں یا زمین میں جسد میں ڈالی جائے گی

 

موت

نوٹ:  فرقوں کا دعوی ہے کہ یہ امت گمرآہی ور جمع نہ ہو گی لہذا     ان کا عقیدہ کا اضطراب  صواب ہے – واضح رہے کہ یہ قول کہ امت گمراہی پر جمع نہ ہو گی کسی صحیح سند سے نہیں بلکہ ضعیف و متروک راویوں کا بیان کردہ ہے

9 thoughts on “موت و نیند پر اضطراب”

  1. رضوان says:

    بھائی اس ٹیبل کا پی ڈی ایف بنا دیں

  2. وجاہت says:

    ماشاءاللہ بہت اچھی تحریر ہے – جزاک الله خیر

  3. Aslaam-o-alikum,

    Sura Zumer , ayt 42 k baray mein kya kahengay? Kya insan har roz jeeta or marta hay? Allah rooho ko qabz ker k, jin ka waqt nahi aya hota unko, phir bhej deta hay? Kya tafseer hogi iski or is tafseer ko konsi hadees support kerti hay?

    1. Islamic-Belief says:

      و علیکم السلام

      اس پر بحث اس کتاب میں شروع میں ہی ہے
      https://www.islamic-belief.net/wp-content/uploads/2015/10/عذاب-قبرکی-حقیقت-کتاب.pdf

      مختصرا اللہ روحوں کو قبض یعنی
      sieze
      کرتا ہے
      پھر ارسال کرتا ہے
      ارسال کا مطلب عربی میں چھوڑنا بھی ہے
      ———-
      نیند میں جسم میں ہی اور موت کے وقت ان کو جسم سے فرشتوں سے نکلواتا ہے
      نیند پر امساک روح یا روکنے کا ذکر نہیں ہے صرف موت کے ساتھ ہے یعنی اسکو نکال لیا گیا اسی لئے روکا جا رہا ہے

      1. Bohat shukerya ap k jawaab ka.

        Apka link mene parha hay. Ap ne jin alfaaz ki wazahat di wo bhi parhi hay. Ap se 2 sawaal hen mere.

        1- Ap ne page 7 per kaha k ager Allah marne walay ki rooh pakar leta hy tu oud-e-rooh kesay ho sakta hay?

        Phir safa 9 per kaha k beshal Allah roohon ko qabz kerta hay jab chahta hay or lota’ta hay jab chahta hay. (Bukhari shareef)

        Ab ye dono baten aik dosre se mutazaad hen. Phir yahan ap ne is wapsi ko “kefeyat” ka naam de deya, jo wazahat mein kahin nahi. Apka Qeyaas ho sakta hay.

        2- Aik or hadees pesh kerta hun Tirmizi shareef ki # 3401.

        بی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے اپنے بستر پر سے اٹھ جائے پھر لوٹ کر اس پر ( لیٹنے، بیٹھنے ) آئے تو اسے چاہیئے کہ اپنے ازار ( تہبند، لنگی ) کے ( پلو ) کو نے اور کنارے سے تین بار بستر کو جھاڑ دے، اس لیے کہ اسے کچھ پتہ نہیں کہ اس کے اٹھ کر جانے کے بعد وہاں کون سی چیز آ کر بیٹھی یا چھپی ہے، پھر جب لیٹے تو کہے: «باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» ”اے میرے رب! میں تیرا نام لے کر ( اپنے بستر پر ) اپنے پہلو کو ڈال رہا ہوں یعنی سونے جا رہا ہوں، اور تیرا ہی نام لے کر میں اسے اٹھاؤں گا بھی، پھر اگر تو میری جان کو ( سونے ہی کی حالت میں ) روک لیتا ہے ( یعنی مجھے موت دے دیتا ہے ) تو میری جان پر رحم فرما، اور اگر تو سونے دیتا ہے تو اس کی ویسی ہی حفاظت فرما جیسی کہ تو اپنے نیک و صالح بندوں کی حفاظت کرتا ہے“، پھر نیند سے بیدار ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ کہے: «الحمد لله الذي عافاني في جسدي ورد علي روحي وأذن لي بذكره» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میرے بدن کو صحت مند رکھا، اور میری روح مجھ پر لوٹا دی اور مجھے اپنی یاد کی اجازت ( اور توفیق ) دی“۔
        امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حدیث حسن ہے، ۲- بعض دوسرے راویوں نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے، اور اس روایت میں انہوں نے «فلينفضه بداخلة إزاره» کا لفظ استعمال کیا ہے «بداخلة إزاره» سے مراد تہبند کا اندر والا حصہ ہے، ۳- اس باب میں جعفر اور عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔

        Bukhari shareef mein jo qeyaas ki uski wazahat Tirmizi shareef mein mojood hay. Is k ander bhi yehi alfaaz hen k meri jaan ko rok leta hay. (Jis cheez ko roka jaye tu wo wapis nahi ati).

        agay ye alfaaz hen k “Meri rooh mujh per lota di”. Rooh tab hi lotai jayegi, jab wo nikali jayegi.

        1. Islamic-Belief says:

          سوال
          1- Ap ne page 7 per kaha k ager Allah marne walay ki rooh pakar leta hy tu oud-e-rooh kesay ho sakta hay?

          Phir safa 9 per kaha k beshal Allah roohon ko qabz kerta hay jab chahta hay or lota’ta hay jab chahta hay. (Bukhari shareef)

          Ab ye dono baten aik dosre se mutazaad hen.

          جواب
          حدیث کے متن میں راوی اپنی طرف سے الفاظ کم زیادہ کر دیتے ہیں
          صحیح بخاری کی یہ حدیث ابو داود میں بھی ہے

          أَبِي قَتَادَةَ رضی الله عنہ سے مروی ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
          إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ، وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ
          بے شک الله تمہاری روحوں کو قبض کرتا ہے جب چاہتا ہے اور لوٹاتا ہے جب چاہتا ہے
          (صحیح البخاری بَابُ الأَذَانِ بَعْدَ ذَهَابِ الوَقْتِ)
          حدیث میں اشارہ اس کیفیت پر ہے جو نیند سے پہلے تھی

          ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں
          ولکن ارواحنا کانت بید اللّٰہ عزوجل فارسلھا انی شاء
          (سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب فی من نام عن صلاۃ او نسیھا:۴۳۸)
          اور لیکن ہماری روحیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تھیں اور اس نے جب چاہا انہیں چھوڑ دیا۔

          فرقہ پرست ترجمہ میں فارسلھا کو بھیجنا کرتے ہیں تاکہ پڑھنے والا سمجھے کہ ارواح کو نیند میں جسم سے نکال لیا گیا- حالانکہ عربی میں ارسال کا مطلب چھوڑنا بھی ہے- یہاں رسل کا لفظ ہے جس کا مفہوم ہے بھیجنا یا چھوڑنا –

          یہ ایک ہی سند ہے لیکن متن میں ایک لفظ پر بحث ہے کہ ارسال صحیح ہے یا رد

          میرے نزدیک صحیح بخاری اور سنن ابو داود کو ملا کر دیکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے جھ یہاں رد کے لفظ کی شرح لفظ ارسال سے ہو رہی ہے

          ————

          سوال
          ترمذی کی حدیث
          حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ عَنْ فِرَاشِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَلْيَنْفُضْهُ بِصَنِفَةِ [ص:473] إِزَارِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ بَعْدُ، فَإِذَا اضْطَجَعَ فَلْيَقُلْ: بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَلْيَقُلْ: الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي فِي جَسَدِي، وَرَدَّ عَلَيَّ رُوحِي وَأَذِنَ لِي بِذِكْرِهِ ” وَفِي البَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَعَائِشَةَ،: ” وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الحَدِيثَ وَقَالَ: فَلْيَنْفُضْهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ ”

          جواب
          اس متن کو بہت سے راویوں نے روایت کیا ہے لیکن الفاظ فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَلْيَقُلْ: الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي فِي جَسَدِي، وَرَدَّ عَلَيَّ رُوحِي صرف اس سند سے معلوم ہیں- سندا یہ صرف ابْنِ عَجْلَانَ نے بولا ہے – امام مالک کا کہنا ہے ابْنِ عَجْلَانَ تو حکومت کا بیرو کریٹ تھا اس کو حدیث کا اتا پتا نہیں ہے

          1. Ja’zak’Allah k ap ne waqt nikaal ker jawabaat dye. Ap k jawab se mutalik kuch mazeed ashkaal hen, jinhe mein ap k samnay rakhta hun.

            Rooh ko wapis lotanay per ap ne “bin ajlaan” k bare mein Imam Malik ki raye pesh ki k “Bin ajlaan” ko hadees ka ata pata nahi tha. Yani ager “bin ajlaan” ko sahi maan leya jaye tu phir ye bhi man’na prega k rooh lotai jati hay jism mein or sahi hadees khelayegi.

            1- Ahl-e-ilm mein se “Bin ajlaan” k bare mein kya imam Malik k ilawa kisi ne koi baat nahi kahi?

            2- Sheikh albani ne tu “Bin Ajlaan” ki ahadees/rawayt ko sahi mana hay. Mumkin hay k Ap k nazdeek Albani ki baat itni strong na ho lekin Sheikh Albani bhi ahl-e-ilm mein aik bara naam hay. unki baat ki bhi ahmeyat hay.

            3- Ap ne Bukahri ki hadees per kaha k
            حدیث میں اشارہ اس کیفیت پر ہے جو نیند سے پہلے تھی

            Kya koi or hadees apki is baat ki wazahat kerti hay k hadees mein ishara us “kefeyat” per hay jo neend se phelay thi?

            kyu k Ap jis cheez ki wapsi ko “kefeyat” ka naam de rahay hen, awaam ki aksaryat usay rooh ka naam deti hay. Isi hadees k bohat se turk neend mein rooh ki wapsi per yaqeen rakhtay hen or jab “lotanay” ki baat ati hay tu baki ahadees/rawayat ko dekh ker rooh hi mana jata hay, mager koi bhi aesi baat nahi, koi or rawayt nahi jo “kefeyaat” ki taraf ishara bhi kerti ho.

            Shukerya

          2. Islamic-Belief says:

            اول
            محمد بن عجلان ایک مختلف فیہ راوی ہے- – جرح بھی ملے گی اور تعدیل بھی
            اس کی روایات امام بخاری نے نہیں لی ہیں ذكره البخاري في الضعفاء بلکہ اس کا شمار اپنی کتاب الضعفاء میں کیا ہے
            یعنی ضعیف قرار دیا ہے

            امام مالک : لم يكن ابن عجلان يعرف هذه الأشياء، ولم يكن عالما – ابن عجلان عالم نہیں ہے
            قال يحيى القطان: كان مضطربا في حديث نافع اس کی حدیث جو نافع سے ہوں ان میں اضطراب ہے
            وغیرہ

            دوم
            البانی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے جبکہ اس کی سند میں تدلیس کا امکان ہے
            محمد بن عجلان مدلس بھی ہے
            جس متن کی ہم بات کر رہے ہیں وہ اس نے عن سے روایت کیا ہے اور مدلس کی عن سے روایت صحیح نہیں ہے
            محمد بن عجلان المدني تابعي صغير مشهور من شيوخ مالك وصفه بن حبان بالتدليس

            الفاظ وَرَدَّ عَلَيَّ رُوحِي صرف مدلس ابن عجلان کی سند سے معلوم ہیں
            لہذا اس تفرد کو قبول نہیں کیا جا سکتا

            سوم
            بخاری کی حدیث کی شرح ابو داود کی حدیث سے ہو گئی ہے

            ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں
            ولکن ارواحنا کانت بید اللّٰہ عزوجل فارسلھا انی شاء
            (سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب فی من نام عن صلاۃ او نسیھا:۴۳۸)
            اور لیکن ہماری روحیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تھیں اور اس نے جب چاہا انہیں چھوڑ دیا۔

            عوام کی اکثریت کو یہ بتایا جاتا ہے کہ نیند ہو یا موت ہو دونوں میں روح جسم سے نکال لی جاتی ہے – روح نیند میں عالم بالا میں جاتی ہے پھر غیب خواب میں نظر اتا ہے – لہذا جب میں نے ان آیات کے تراجم کو دیکھا جائے تو اس میں غلطییاں ہیں
            قبض روح کو کہا جاتا ہے کہ اللہ روحوں کو کھینچ لینا ہے
            جبکہ عربی میں قبض کا مطلب کھینچنا نہیں ہے

            اس آیت کے فہم کے پیچھے خوابوں والی احادیث ہیں – فرقوں کے علماء کے نزدیک وہ صحیح ہیں لہذا وہ ترجمہ بدل رہے ہیں
            اور عوام کو بھی یہی بتاتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

five − 1 =