معاویہ رضی اللہ عنہ پر کتاب

مکمل کتاب لٹریچر/ کتب ابو شہریار میں ملاحظہ کریں

پیش لفظ 5
ابو سفیان سے رشتہ داری 7
اللہ معاویہ کا پیٹ نہ بھرے 9
اللہ معاویہ کو علم دے 13
جنگ صفین کا حادثہ 15
شام اور قصاص عثمان 40
عائشہ رضی اللہ عنہا کی معاویہ پر رائے 47
معاویہ نے خلیفہ بن کر قصاص کیوں نہ لیا ؟ 49
کعب احبار کو خبر کہ معاویہ خلیفہ ہوں گے 50
معاویہ پہلا بادشاہ ہے 52
معاویہ ١٢ خلفاء میں سے ہیں 68
معاویہ ملک عضوض کے حاکم تھے 69
معاویہ متعہ کے فاعل تھے ؟ 75
نماز وتر کا ایک قصہ 79
معاویہ اور منبر النبی کی منتقلی کا قصہ 83
معاویہ کو منبر پر ہی قتل کر دو 86
معاویہ نے حسن کو زہر دلوایا؟ 87
معاویہ کا جشن منانا 94
معاویہ اور حجر کا قتل 102
معاویہ کی مشہور بدعات 107
عید کے خطبات نماز سے پہلے کیے جانے لگے ؟ 107
نمازیں لیٹ پڑھائی جانے لگیں ؟ 118
حج میں تلبیہ پڑھنے سے روکا جانے لگا ؟ 121
علی پر جمعہ اور عید کے خطبوں میں لعن کیا جانے لگا ؟ 123
زكاة کا بے جا مصرف کیا جانے لگا ؟ 148
ظلم وجبر سے امت کو خاموش کروایا گیا ؟ 154
معاویہ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے ؟ 157
مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا ؟ 158
معاویہ کے خلاف خفیہ پروپیگنڈا 167
معاویہ رضی الله عنہ کی وفات 174
محدثین کا معاویہ پر تنقید کرنا 175
شارحین حدیث کا معاویہ پر تنقید کرنا 180
مورخین کا معاویہ پر لعنت کرنا 184
مودودی کا نظریہ ملوکیت معاویہ 187
مودودی کا اظہار رائے پر تصور 188
مودودی کا دولت ثروت پر پابندی کا غیر اسلامی تصور 189
مودودی کا تقرر امراء کا فرضی تصور 190
خلافت کا حصول وہبی ہے یا عصبیت سے ممکن ہے ؟ 192
خلیفہ پر اولاد کی تقرری کی پابندی 196
مودودی اور معاویہ کی سیاست 196
دور معاویہ اور قانون کی بالا دستی پر شک 199
معاویہ اور بیت المال میں تصرف 201
زیاد ابن سمیہ کا ذکر 204

============

پیش لفظ

امیر المومنین معاویہ    رضی اللہ عنہ   ،  صحابی  رسول   مسلمانوں  کے چھٹے    خلیفہ ہیں –   رشتہ  میں   معاویہ   ،   رسول اللہ    صلی اللہ علیہ وسلم کے برادر نسبتی  ہیں  کیونکہ یہ   ام  المومنین  ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں – معاویہ   کو   کاتب النبی  ہونے کا شرف ملا[1]    اور    قریش  کی  ایک نمایاں  شخصیت  تھے   –      معاویہ   اہل سنت کے امام ہیں   اور بقول ابن عباس  رضی اللہ عنہ   معاویہ  فقیہ  ہیں –

اس  امت  میں  اگر کسی پر تنقید ہوئی ہے  تو ان میں سب سے  بڑھ  کر  معاویہ رضی اللہ عنہ  پر ہوئی ہے  لیکن  افسوس ناقدین  ان  کے قدم کی خاک  تک نہیں –     معاویہ  بہت مدبر  و زیرک  انسان تھے   اور   اتنے ہی بردبار بھی –    شیعی  و رافضی  منہج  والے راوة   نے   معاویہ کو  ساری زندگی تختہ مشق بنائے رکھا – طرح طرح کی  روایات    معاویہ   رضی اللہ عنہ    کے حوالے سے گھڑی  گئیں – افسوس  محدثین میں سے   بعض  نے ان   روایات کو  صحیح بھی مان  لیا  –   رہی سہی   کسر  شارحین   نے  پوری کی جن   میں سے کچھ  نے     خوف  اللہ سے عاری ہو کر   منہ کھولا  اور جہنمی سمیٹ لی –

 راقم کی حتی المقدور کوشش ہوتی ہے کہ  روایت  و راوی   پر  جرح   کو ظاہر    کیا جائے کہ  متقدمین محدثین نے کیا کہا تھا    جس کو چھپا کر       لوگوں نے   بغض  معاویہ سے متعلق روایات کو صحیح قرار دیا ہے –  کتاب  میں صرف  اہل سنت کے مصادر کو  دیکھا گیا ہے   –

و  ما علینا  الا  لبلاغ

ابو شہر یار

٢٠٢٠

[1]

الذھبی سیر میں لکھتے ہیں

ونقل المفضل الغلابي عن أبي الحسن الکوفي قال کان زيد بن ثابت کاتب الوحي وکان معاوية کاتبا فيما بين النبي وبين العرب ۔عمرو بن مرة عن عبد الله بن الحارث عن زهير بن الأقمر عن عبد الله بن عمرو قال کان معاوية يکتب لرسول الله۔

ابن عبد البر نے الاستیعاب میں،ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں، ابن قیم نے زاد المعاد میں،ابن الاثیر نے اسد الغابہ میں،سيوطی نے تاریخ الخلفاء میں،ابن کثیر نے الفصول اور البدایہ والنھایہ میں یہ بات بيان کی ہے کہ  امیر معاویہ کاتبين وحی میں سے تھے۔

1 thought on “معاویہ رضی اللہ عنہ پر کتاب”

  1. Amjad Khan says:

    ماشاءاللہ موجودہ حالات میں ایسی کتاب کی اشد ضرورت ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر بعض عناصر نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف ایک محاذ کھڑا کیا ہوا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

1 × 1 =