مری تعمیر میں مُضمر ہے اک صورت خرابی کی

امام مسلم صحيح المسلم بَابُ الْأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ  میں روایت بیان کرتے ہیں کہ

عن أبي الهياج الأسدي قال

قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ «أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ»

أبي الهياج الأسدي کہتے ہیں کہ مجھ سے عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ  نے کہا: کیا میں تم کو اس کام کے لئے نہ بھیجوں جس کے لئے    رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  نے مجھے  بھیجا؟ کوئی تصویر نہ چھوڑوں جس کو مٹا دوں اور کوئی قبر جس کو برابر نہ کر دوں

امت میں اسی شرک کے خوف کی وجہ سے عائشہ رضی  الله تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی تدفین حجرہ میں کی گئی (صحیح البخاری

شیعوں کی کتاب   کی روایت ہے کہ صفحہ 528 الكافي از الكليني – ج 6

عدة من أصحابنا ، عن سهل بن زياد ، عن جعفر بن محمد الأشعري ، عن ابن القداح

عن أبي عبد الله عليه السلام قال : قال أمير المؤمنين عليه السلام بعثني رسول الله صلى الله عليه وآله في هدم القبور وكسر الصور

أبي عبد الله عليه السلام بیان کرتے ہیں کہ  أمير المؤمنين (علی) عليه السلام  کہتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وآله نے مجھے بھیجا کہ قبروں کو منہدم کر دوں اور تصویریں توڑ دوں

یہی بات وسائل الشيعة (الإسلامية) از الحر العاملي ج ٢ میں اور جامع أحاديث الشيعة لسيد البروجردي ج ٣  بیان ہوئی ہے

گنبد الخضراء کو ایک اسلامی سمبل سمجھا جانے لگا ہے حالانکہ اس کا دین میں کوئی مقام نہیں

ڈاکٹر عثمانی نے مزار یا میلے میں لکھا تھا

مکمل اقتباس وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفى از علي بن عبد الله بن أحمد الحسني الشافعي، نور الدين أبو الحسن السمهودي (المتوفى: 911هـ) میں ہے
القبة الزرقاء
أما القبة المذكورة فاعلم أنه لم يكن قبل حريق المسجد الشريف الأول وما بعده على الحجرة الشريفة قبة، بل كان حول ما يوازي حجرة النبي صلّى الله عليه وسلّم في سطح المسجد حظير مقدار نصف قامة مبنيا بالآجر تمييزا للحجرة الشريفة عن بقية سطح المسجد، كما ذكره ابن النجار وغيره، واتمر ذلك إلى سنة ثمان وسبعين وستمائة في أيام الملك المنصور قلاوون الصالحى، فعملت تلك القبة، وهي مربعة من أسفلها مثمنة من أعلاها بأخشاب أقيمت على رؤوس
السواري، وسمر عليها ألواح من خشب، ومن فوقها ألواح الرصاص، وفيها طاقة إذا أبصر الشخص منها رأى سقف المسجد الأسفل الذي فيه الطابق، وعليه المشمع المتقدم ذكره، وحول هذه القبة على سقف المسجد ألواح رصاص مفروشة فيما قرب منها، ويحيط به وبالقبة درابزين من الخشب جعل مكان الحظير الآجر، وتحته أيضا بين السقفين شباك خشب يحكيه محيط بالسقف الذي فيه الطابق، وعليه المشمع المتقدم ذكره، ولم أر في كلام مؤرخي المدينة تعرض لمن تولى عمل هذه القبة.
ورأيت في «الطالع السعيد الجامع أسماء الفضلاء والرواة بأعلى الصعيد» في ترجمة الكمال أحمد بن البرهان عبد القوي الربعي ناظر قوص أنه بنى على الضريح النبوي هذه القبة المذكورة، قال: وقصد خيرا وتحصيل ثواب، وقال بعضهم: أساء الأدب بعلو النجارين ودق الحطب، قال: وفي تلك السنة وقع بينه وبين بعض الولاة كلام، فوصل مرسوم بضرب الكمال، فضرب، فكان من يقول إنه أساء الأدب [يقول:] إن هذا مجازاة له، وصادره الأمير علم الدين الشجاعي، وخرب داره، وأخذ رخامها وخزائنها، ويقال: إنهم بالمدرسة المنصورية اه.
قبه الزرقاء نیلا گنبد – جہاں تک اس گنبد کا تعلق ہے تو جان لو کہ مسجد شریف میں آگ لگنے سے پہلے یہ نہ تھا اور اس کے بعد بھی حجرہ شریفہ پر کوئی گنبد نہ تھا ، بلکہ حجرہ النبی کو باقی مسجد سے علیحدہ کرنے کے لئے ادھے قد کی مقدار ایک منڈھیر بنی ہوئی تھی سطح مسجد پر جیسا ابن النجار اور دیگر نے ذکر کیا ہے اور یہ منڈھیر الملك المنصور قلاوون الصالحى کے ایام سن ٦٧٨ ھ تک باقی رہی -پس الملك المنصور قلاوون الصالحى نے اس گنبد کو بنایا اور یہ نیچے سے چوکور تھا اوپر سے آٹھ پرتوں میں تھا، اصلا لکڑی کا تھا اور اس پر لیڈ کی دھات کی پرتین لگی ہوئی تھیں اور اس میں (کھڑکی یا ) طاق تھا اس میں سے کوئی جھانکتا تو نیچے مسجد کی چھت پر نظر پڑتی اور اس گنبد کے گرد مسجد کی چھت پر بھی لیڈ کی پرت تھی اور یہ پرتین اس پر پھیلی ہوئی تھی
اور گنبد کے گرد اس مقام پر جہاں مٹی کی انٹین تھیں، لکڑی کا ہتھا (ہنڈریل) بھی تھا اور ان سب کے نیچے دو چھتوں کے درمیان (یعنی مسجد النبی کی چھت اور حجرہ مطہرہ کی چھت) ایک کھڑکی ہے لکڑی کی … اور مجھ کو مدینہ کے کسی مورخ کے کلام میں نہیں ملا کہ اس نے متولییوں کے تعمیر کردہ اس گنبد پر کسی اور کے تعرض کا ذکر کیا ہو – میں نے الطالع السعيد الجامع أسماء الفضلاء والرواة بأعلى الصعيد میں الكمال أحمد بن البرهان عبد القوي الربعي ناظر قوص کے ترجمہ میں دیکھا کہ اس نے الضريح (یعنی حجرہ کے گرد جالی ) پر اس قبہ کو بنایا اور کہا کہ یہ بھلائی کا قصد و ارادہ ہے اور ثواب حاصل کرنا ہے – اس پر بعض نے کہا اس تعمیر میں بے ادبی ہے کہ بڑھئی کا کام کرنے والوں کو حجرہ سے اوپر کیا جائے اور ان کے ہتھوڑے کی آواز بے ادبی ہے -کہا اسی سال الكمال أحمد بن البرهان اور لوگوں کا اس پر کلام (بحث و مباحثہ) ہوا اور پھر (مملوک امراء کی طرف سے ) حکم ملا کہ الكمال أحمد بن البرهان عبد القوي کو کوڑے لگائے جائیں – الكمال أحمد بن البرهان عبد القوي کو کوڑے لگے- پس اس پر بعض کہتے یہ اس بے ادبی کی وجہ سے سب ہوا یا کہتے یہ اس کے عمل کی جزا ہے اور یہ حکم الأمير علم الدين الشجاعي نے صادر کیا اور انہوں نے الكمال أحمد بن البرهان عبد القوي کا گھر برباد کیا اورگھر پر لگے سنگ مرمر کو اکھاڑ دیا اور اس کے خزانے کو لیا اور کہتے ہیں اب یہ سب مدرسہ المنصوریہ میں ہے

لوگوں نے اعتراض کیا کہ اس قبہ کی تعمیر سے مسجد النبی میں شور ہو گا اور بڑھئی حجرہ کے اوپر چلے جائیں گے  یہ بے ادبی ہے ، لیکن الکمال احمد نے نہیں سنا اور پھر بھی تعمیر کی- بعد میں عوامی بحث کو ختم کرنے مملوک حاکم نے اس امیر کو معزول کر دیا اور سزا الگ دی جبکہ یہ سارا عمل ان کے علم  میں تھا اور انہوں نے ہونے دیا –  افسوس  آج  لوگ اس گنبد کو سبز رنگ  کرنے اس پر چڑھتے  ہیں پھر کئی سال تک  سال سعودی توسیعی پلان و  تعمیرات کی وجہ سے مسجد النبی کی زمین   لرزتی رہی ہے

فصول من تاريخ المدينة المنورة  جو علي حافظ کی کتاب ہے

اور  شركة المدينة للطباعة والنشر نے اس کو سن  ١٤١٧ ھ  میں چھاپا ہے اسکے مطابق

لم تكن على الحجرة المطهرة قبة، وكان في سطح المسجد على ما يوازي الحجرة حظير من الآجر بمقدار نصف قامة تمييزاً للحجرة عن بقية سطح المسجد.  والسلطان قلاوون الصالحي هو أول من أحدث على الحجرة الشريفة قبة، فقد عملها سنَة 678 هـ، مربَّعة من أسفلها، مثمنة من أعلاها بأخشاب، أقيمت على رؤوس السواري المحيطة بالحجرة، وسمَّر عليها ألواحاً من الخشب، وصفَّحها بألواح الرصاص، وجعل محل حظير الآجر حظيراً من خشب.  وجددت القبة زمن الناصر حسن بن محمد قلاوون، ثم اختلت ألواح الرصاص عن موضعها، وجددت، وأحكمت أيام الأشرف شعبان بن حسين بن محمد سنة 765 هـ، وحصل بها خلل، وأصلحت زمن السلطان قايتباي سنة 881هـ.  وقد احترقت المقصورة والقبة في حريق المسجد النبوي الثاني سنة 886 هـ، وفي عهد السلطان قايتباي سنة 887هـ جددت القبة، وأسست لها دعائم عظيمة في أرض المسجد النبوي، وبنيت بالآجر بارتفاع متناه،….بعد ما تم بناء القبة بالصورة الموضحة: تشققت من أعاليها، ولما لم يُجدِ الترميم فيها: أمر السلطان قايتباي بهدم أعاليها، وأعيدت محكمة البناء بالجبس الأبيض، فتمت محكمةً، متقنةً سنة 892 هـ.  وفي سنة 1253هـ صدر أمر السلطان عبد الحميد العثماني بصبغ القبة المذكورة باللون الأخضر، وهو أول من صبغ القبة بالأخضر، ثم لم يزل يجدد صبغها بالأخضر كلما احتاجت لذلك إلى يومنا هذا.  وسميت بالقبة الخضراء بعد صبغها بالأخضر، وكانت تعرف بالبيضاء، والفيحاء، والزرقاء” انتهى.

حجرہ مطهرہ پر کوئی گنبد نہ تھا، اور حجرہ مطهرہ  کو باقی مسجد سے علیحدہ کرنے کے لئے سطح مسجد سے آدھے قد کی مقدار تک ایک منڈھیر بنی ہوئی تھی. اور سلطان قلاوون الصالحي وہ پہلا شخص ہے جس نے حجرہ مطهرہ پر  سن 678 هـ (بمطابق 1279ء میں آج سے ٧٣٤ سال پہلے)،  میں گنبد بنایا، جو نیچے سے چکور تھا ، اوپر سے آٹھ حصوں میں تھا جو لکڑی کےتھے. … پھر اس کی الناصر حسن بن محمد قلاوون کے زمانے میں تجدید ہوئی. .. پھر سن 765 هـ،  میں الأشرف شعبان بن حسين بن محمد کے زمانے میں  پھر اس میں خرابی ہوئی اور السلطان قايتباي  کے دور میں سن  881هـ میں اس کی اصلاح ہوئی.   پھر سن 886 هـ میں اور السلطان قايتباي  کے دور میں مسجد النبی میں آگ میں گنبد جل گیا. اور سن 887هـ  میں اور السلطان قايتباي ہی  کے دور میں اس کو دوبارہ بنایا گیا…. سن 892 ھ میں اس کو سفید رنگ کیا گیا …  سن 1253هـ  میں  السلطان عبد الحميد العثماني نے حکم دیا اور اس کو موجودہ شکل میں  سبز رنگ دیا گیا. … اور یہ گنبد البيضاء (سفید)، الفيحاء ، والزرقاء (نیلا) کے ناموں سے بھی مشھور رہا

سعودی عرب کے مفتی عبد العزيز بن عبد الله بن باز (المتوفى: 1420هـ) اپنے  فتویٰ میں  کہتے ہیں جو کتاب فتاوى اللجنة الدائمة – المجموعة الأولى میں چھپاہے  اور اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء نے چھاپا ہے

لأن بناء أولئك الناس القبة على قبره صلى الله عليه وسلم حرام يأثم فاعله

ان لوگوں کا قبر نبی صلى الله عليه وسلم پر گنبد بنانا حرام کام تھا اس کا گناہ اس کے بنانے والوں کے سرہے

محمد صالح المنجد  کتاب   القسم العربي من موقع (الإسلام، سؤال وجواب) میں کہتے ہیں کہ

وقد أنكر أهل العلم المحققين – قديماً وحديثاً – بناء تلك القبة، وتلوينها، وكل ذلك لما يعلمونه من سد الشريعة لأبواب كثيرة خشية الوقوع في الشرك.

قدیم محققین اہل علم نے شرک کے دروازون کو روکنے کے لیے اس گنبد  کے بنانے کا رد کیا ہے

بيان الحكم في القبة الخضراء على قبره عليه الصلاة والسلام : نبی صلی الله علیہ وسلم  کی قبر پر گنبد الخضراء کا حکم میں  سعودی عرب کے مفتی  عبد العزيز بن عبد الله بن باز (المتوفى: 1420هـ)   اپنے فتویٰ جو کتاب فتاوى نور على الدرب ج ٢ ص ٣٣٢  میں چھپا ہے  میں کہتے ہیں کہ

لا شك أنه غلط منه، وجهل منه، ولم يكن هذا في عهد النبي – صلى الله عليه وسلم – ولا في عهد أصحابه ولا في عهد القرون المفضلة، وإنما حدث في القرون المتأخرة التي كثر فيها الجهل، وقل فيها العلم وكثرت فيها البدع، فلا ينبغي أن يغتر بذلك

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ غلطی ہے اور جھل ہے، اور یہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے دور میں نہ تھا، نہ ہی صحابہ کے دور میں تھا ، نہ ہی قرون اولی میں تھا، اور بے شک اس کو بعد میں آنے والے زمانے میں بنایا گیا جس میں جھل کی کثرت تھی اور علم کی کمی تھی اور بدعت کی کثرت تھی پس یہ جائز نہیں کہ اس سے دھوکہ کھایا جائے

ج٢ ص ٣٣٩ مزید کہتے ہیں

وأما هذه القبة فهي موضوعة متأخرة من جهل بعض الأمراء، فإذا أزيلت فلا بأس بذلك، بل هذا حق لكن قد لا يتحمل هذا بعض الجهلة، وقد يظنون بمن أزالها بأنه يس على حق، وأنه مبغض للنبي عليه الصلاة والسلام،

اور یہ جو گنبد ہے تو یہ بعد میں انے والوں بعض امراء کے جھل کی وجہ سے بنا، اگر اس کو گرایا جائے تو کوئی برائی نہیں، بلکہ یہی حق ہے لیکن  کچھ جاہل لوگ ایسا نہیں لیتے، اور گمان کرتے ہیں کہ اس کے ہٹانے کو حق نہیں سمجھتے  اور اس کو النبي عليه الصلاة والسلام سے نفرت کا اظھار سمجھتے ہیں

مزید کہتے ہیں

وإنما تركت من أجل خوف القالة والفتنة

اور بےشک اس کو (جھلاء کی) بکواس اور فتنہ کے خوف سے چھوڑ دیا گیاہے

سوال یہ ہے کہ  اس گنبد کو رنگ کیوں کیا جاتا ہے

FullSizeRender

ان پر تو یہ صادق آتا ہے

لَوْلَا يَنْهَاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَصْنَعُونَ (63

آخر ان کے احبار اور ربی کیوں ان کو گناہ کی بات سے نہیں روکتے اور حرام کھاتے ہیں بہت برا ہے جو یہ کرتے ہیں

غیر مقلدین کی محبوب شخصیت ابن تیمیہ (المتوفى: 728هـ)  کی ، سلطان قلاوون الصالحي کے دور کے بعد وفات ہوئی لیکن جہاں موصوف نے اور قبوں (گںبدوں) کے خلاف مہم کا آغاز کیا اور قبر رسول کی زیارت کے غرض سے کیے جانے والے سفر کو بدعت کہا وہاں اس گنبد پر ایک لفظ نہ کہا

ان کے ہونہار شاگرد  ابن قیّم  (المتوفى: 751هـ ) نے بھی کچھ نہ کہا اور یہی پالیسی اب تک چلی آ رہی ہے

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے

یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے

کہا جاتا ہے شروع میں وہابی علماء  اس گنبد کو گرانا چاہیتے تھے کہ برصغیر کے علماء کا ایک وفد عرب گیا وہاں بحث میں اس حدیث کو دلیل بنایا گیا

صحيح البخاري: كِتَابُ الحَجِّ (بَابُ فَضْلِ مَكَّةَ وَبُنْيَانِهَا)
صحيح بخاري: کتاب: حج کے مسائل کا بيان (باب: فضائل مکہ اور کعبہ کي بناءکا بيان)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ لَمَّا بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَفَعَلْتُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبي نے بيان کيا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بيان کيا، ان سے ابن شہاب نے بيان کيا، ان سے سالم بن عبداللہ نے کہ عبداللہ بن محمد بن ابي بکر نے انہيں خبردي، انہيں عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنہما نے خبردي اور انہيں نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم کي پاک بيوي حضرت عائشہ صديقہ رضي اللہ عنہا نے کہ آنحضور صلي اللہ نے ان سے فرمايا کہ تجھے معلوم ہے جب تيري قوم نے کعبہ کي تعمير کي تو بنياد ابراہيم کو چھوڑ ديا تھا ميں نے عرض کيا يارسول اللہ ! پھر آپ بنياد ابراہيم پر اس کو کيوں نہيں بنا ديتے؟ آپ نے فرمايا کہ اگر تمہاري قوم کا زمانہ کفر سے بالکل نزديک نہ ہوتا تو ميں بے شک ايسا کرديتا عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنہما نے کہا کہ اگر عائشہ صديقہ رضي اللہ عنہا نے يہ بات رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم سے سني ہے ( اور يقينا حضرت عائشہ رضي اللہ عنہ سچي ہيں ) تو ميں سمجھتا ہو ں يہي وجہ تھي جو نبي صلي اللہ عليہ وسلم حطيم سے متصل جو ديواروں کے کونے ہيں ان کو نہيں چومتے تھے کيونکہ خانہ کعبہ ابراہيمي بنيادوں پر پورا نہ ہواتھا

صحیح مسلم کی حدیث ہے
حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مَخْرَمَةَ ح وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِى بَكْرِ بْنِ أَبِى قُحَافَةَ يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لَوْلاَ أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ – أَوْ قَالَ بِكُفْرٍ – لأَنْفَقْتُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَلَجَعَلْتُ بَابَهَا بِالأَرْضِ وَلأَدْخَلْتُ فِيهَا مِنَ الْحِجْرِ
عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا کہ اگر تمہاری قوم عہد جاہلیت کے قریب نہ ہوتی یا کہا کفر کے تو میں کعبہ کا خزانہ الله کی راہ میں صدقه کر دیتا اور اس کا دروازہ زمین کے پاس کرتا کہ اس میں جانے کے لئے کوئی پتھر (بطور سیڑھی کے) استعمال نہیں کرتا

سند ميں عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ( المتوفی ٦٣ ھ واقعہ حرہ) مجہول ہے- صحيح بخاري کي ايک روايت ميں سند ميں عبد الله بن محمد بن أبي بكر الصديق ہے جن کي متقدمين ميں کوئي توثيق نہيں کرتا صرف ابن حبان نے ثقہ قرار ديا ہے – راقم کے علم ميں ان کي صرف تعمير کعبہ پر ايک روايت ذخيرہ کتب ميں ہے- اس راوي کو مجہول الحال کے درجہ پر رکھنا چاہيے

يہ کيسے ممکن ہے کہ رسول الله نے دين ميں کچھ عام اصحاب مہاجرین و انصار سے چھپا ديا ہو – پھر خود عائشہ رضي الله عنہا کا قول ہے کہ جس نے يہ کہا کہ اپ صلي الله عليہ وسلم نے دين کي کوئي بات چھپا دي اس نے جھوٹ باندھا

وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَتَمَ شَيئاً مِمَا أنْزِلَ إِليهِ مِنَ الوَحْي فَقَدْ كَذَبَ
اور جس نے يہ کہا کہ جو اپ صلي الله عليہ وسلم پر نازل ہوا الوحي ميں سے اس کو چھپا ديا اس نے کذب کہا 

راقم تعمیر کعبہ والی  روايت کومبہم قرار دیتا ہے کہ يہ روايت سننے سمجھنے ميں راويوں کو کوئي غلطي ہوئي ہے خود عائشہ رضي الله عنہا کا قول اس کے خلاف کہ نبي صلي الله عليہ وسلم نے کچھ نہيں چھپايا جبکہ روايت کہہ رہي ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس تعمیر کی بات امت پر چھپا دی

وہابی علماء کا موقف گنبد پربدلتا رہتا ہے اب وہ اس گنبد کو بچانا چاہتے ہیں

فرحت ہاشمی وہابی عالمہ کا کہنا ہے کہ گنبد خضراء  مسجد النبی کا حصہ ہے جبکہ یہ دعوی غلط  ہے  – گنبد خضراء قبر النبی کا گنبد ہے نہ کہ مسجد النبی کا اور قبر النبی حجرہ عائشہ میں ہے جو کبھی بھی مسجد النبی کا حصہ نہیں رہی

تاریخ سے معلوم ہے کہ مسجد النبی میں اگ لگی اور اس کی چھت جل گئی یعنی رسول الله صلی الله علیہ وسلم جن کے جسد اطہر میں فرقوں کے مطابق ہر وقت روح مطہر موجود ہوتی ہے ان کے اوپر موجود چھت جل رہی تھی  لیکن انہوں نے روکا نہیں- کیا یہ ان فرقوں کے عقائد کا تضاد نہیں  !راقم کہتا ہے  اس  اگ کو الله کی جانب سے بھیجا گیا لیکن امت اس اشارہ غیبی کو نہ سمجھ سکی

وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفى از السمهودي (المتوفى: 911هـ) میں ہے

قال المؤرخون: احترق المسجد النبوي ليلة الجمعة أول شهر رمضان من سنة أربع وخمسين وستمائة في أول الليل،

مورخ کہتے ہیں کہ مسجد النبی میں جمعہ کی رات رمضان کی پہلی رات اگ لگی سن ٦٥٤ ھ میں

قال المؤرخون: ثم دبت النار في السقف بسرعة آخذة قبله، وأعجلت الناس عن إطفائها بعد أن نزل أمير المدينة فاجتمع معه غالب أهل المدينة فلم يقدروا على قطعها، وما كان إلا أقل من القليل حتى استولى الحريق على جميع سقف المسجد الشريف واحترق جميعه حتى لم تبق خشبة واحدة.

،مورخین کہتے ہیں اگ مسجد کی چھت پر پھیل گئی اور اس نے قبلہ کو بھی پکڑ لیا اور لوگوں نے اس کو بجھانے کی جلدی کی …. لیکن اس پر قادر نہ  ہوئے سوائے تھوڑے کے اور تمام مسجد کی چھت اس اگ کی لپیٹ میں آ گئی – سب جل گیا حتی کہ ایک لکڑی بھی نہ بچی

غور کریں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے حوالے سے جھوٹوں نے خبر دی کہ وہ اپنے  جسد کو بچانے کے لئے – بادشاہ کے خواب میں آئے لیکن اس لگنے والی اگ کی خبر اب انہوں نے کسی کو پیشگی نہ دی-  یہ واقعہ سن ٥٥٧ ھ کا ہے یہ اصلا نور الدین زنگی المتوفي ٥٦٩ ھ کا خود ساختہ خوف تھا کہ عیسائی جسد اطہر کو چرا لیں گے جبکہ جب وہ سرنگ سے وہاں پہنچتے تو تین اجسام پاتے اس میں سے کون سا نبی کا ہے اور کون سا عمر و ابو بکر کا ہے وہ معلوم نہیں کر سکتے تھے- نور الدین کو سیاسی محاذ پر سلطان ایوبی سے خطرہ تھا – نور الدین اور صلاح الدین میں اختلافات ہو گئے تھے اور ایوبی نے صلیبی جنگوں میں شرکت بھی چھوڑ دی تھی یہاں تک کہ نور الدین کی وفات کے بعد صلاح الدین نے اس کی بیوہ سے شادی کر لی اور نورالدین کے بیٹے کا صلاح الدین نے تختہ الٹ دیا

علی حافظ نے ذکر کیا کہ مسجد میں دوسری بار بھی اگ لگی

 وقد احترقت المقصورة والقبة في حريق المسجد النبوي الثاني سنة 886 هـ،

جس میں مقصورہ اور گنبد بھی جل گیا

مسجد النبی میں اگ ٦٥٤  اور ھ٨٨٦  میں لگی یعنی نور الدین والے واقعہ کے سالوں بعد

 پہلی اگ میں صرف چھت جلی لیکن دوسری میں گنبد تک جل گیا افسوس اس کو پھر بھی نہ سمجھا گیا اور اس پر ایک نیا گنبد بنا دیا گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published.

nineteen − 1 =