مادہ کی حالتیں ، انسانی جسم ،مسلمان متکلمین

قصہ مختصر
غیر مقلدوں کے ایک نئے شیخ ڈاکٹر محمد زبیر نے ڈاکٹر عثمانی کی کتب کو پڑھے بغیر تبصرہ کیا – جس میں انہوں نے ایک بیان یو ٹیوب پر جاری کیا اور کمینٹ میں بار بار ذکر کیا کہ مادہ کی حالت ٹھوس ہے ٹھوس ہے اور عذاب قبر مٹی کو ہوتا ہے – اس تکرار سے ظاہر ہوا کہ بعض علماء یہ بھول گئے کہ مادہ یعنی میٹر کی تین حالتیں ہیں
ٹھوس ، مائع ، گیس
انسانی جسم جب جلے گا تو سائنس کہتی ہے کہ ان تین میں بدلے گا مٹی نہیں بنے گا بلکہ پانی اور کاربن ڈائی اکسائیڈ میں بھی بدلے گا

انسانی جسم جب جل جاتا ہے تو ہندو یا بدھمت والے اس کی راکھ کو اٹھا لیتے ہیں جس میں لکٹری بھی ہوتی ہے – اس طرح ہاتھ میں تو راکھ آتی ہے لیکن سائنس سے معلوم ہے کہ یہ مکمل انسان کی باقیات نہیں ہیں – اس کے جسم کا ایک بھت بڑا حصہ اس وقت آسمان و زمیں میں گیس کی صورت معلق ہو چکا ہوتا ہے

سائنس میں کیمسٹری کے مطابق انسانی جسم ایلیمنٹس پر مشتمل ہے – ان میں ہڈیو ں میں کیلشیم ہوتا ہے اور بالوں اور ناخن میں کیوراطن ہوتا ہے جو نائٹروجن، آکسیجن ، سلفور ہائیڈروجن پر مشتمل ہے – کھال میں نائٹروجن، آکسیجن ، کاربن ، سلفور ، ہائیڈروجن وغیرہ ہوتا ہے   – انسانی پٹھوں میں نائٹروجن، آکسیجن ، کاربن ، ہائیڈروجن، پروٹیین ہوتا ہے

اب جب انسانی جسم کو جلایا جاتا ہے تو صرف راکھ یا بھسم ہی نہیں ملتا بلکہ انسانی جسم گیس کی صورت میں بھی بدل کر آسمان و زمین کے درمیان چلا جاتا ہے
سائنس کا علم اللہ نے ہی انسان کو دیا ہے  افسوس روایت پسند علماء نےسائنس  ایک مغربی علم سمجھ لیا ہے –  گمراہ فرقے جو جسم پر عذاب کے قائل ہے ان کی عقل کی محدودیت واضح ہو جاتی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مادہ صرف ٹھوس یا   سولڈ ہے جبکہ سائنس میں مادہ کی تین حالتوں کی بات کی جاتی ہے جن میں گیس بھی ہے

انسان  میں موجود ایلیمنٹس یا گیس کے اجزاء

Oxygen 65%
Carbon 18%
Hydrogen 9.5%
Nitrogen 3.2%
Calcium 1.5%
Phosphorus 1.2%
Potassium 0.4%
Sulphur 0.2%
Chlorine 0.2%
Magnesium 0.1%
Other >1%

آٹھویں صدی کے مسلمان متکلمین مثلا ابن تیمیہ و ابن قیم اس سب سے نابلد تھے اور انہوں نے سمجھا ہے جسم جلنے کے بعد محض راکھ بن جاتا ہے اور چونکہ راکھ اسی زمین پر رہتی ہے یا ہوا میں اڑتی بھی ہے تو واپس زمین پر آتی ہے لہذا انہوں نے عقیدہ دیا کہ اللہ تعالی اس راکھ پر عذاب کرتا ہے اور یہ عذاب قبر کی صورت ہے

ہندؤں میں ایک فرقہ  اگوری سادھوں کا  ہے جو شمشان گھاٹ میں جاتا ہے اور جلتی چتا میں سے راکھ  نکال کر اس  کو لیتا ہے جب وہ ٹھنڈی ہو جاتی ہے تو گنگا میں نہانے کے بعد اسی راکھ کو جسم پر ملتا ہے

اگر اس طرح عذاب قبر راکھ کو ہوتا تو سادھو اس چتا کے  بھسم کو جسم پر کبھی بھی نہ ملتے

آج ہم کو معلوم ہے کہ آٹھویں صدی کے متکلمین علماء کی معلومات ناقص تھیں،  انہوں نے اپنے زمانے کی سائنس سے سمجھا کہ جسم جلنے پر راکھ بن جاتا ہے جبکہ اس کا کثیر حصہ پانی پر مشتمل ہے اور ان اجزاء پر مشتمل ہے جن کو گیس کہا جاتا ہے لہذا یہ پھر عذاب زمینی قبر   نہیں ہے کہ زمین سے اس کا تعلق رہے بلکہ یہ اصل میں عذاب برزخ ہے – اس کو عذاب قبر صرف اس وجہ سے کہا گیا کہ اکثر مردوں کو دفن کیا جاتا ہے یا آسمان  میں روح کا مقام قبر کہا گیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

17 − sixteen =