لفظ الأية کا عموم و خصوص

قرآن اللہ تعالی نے قریش کی عربی میں نازل کیا ہے یعنی جو مشرکین عرب  کو بھی  سمجھ آئے – عربی کا ایک لفظ آیت ہے جس سے مراد لغوی طور پر علامت ہے  اور اسی مفہوم میں یہ قرآن و حدیث میں بیان ہوا ہے

اللہ تعالی نے فرمایا

وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَاخْتِلاَفُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ   (الرّوم -22 

اور اس کی نشانیوں( آیات) میں سے ہے آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور زبانوں اور رنگوں کا اختلاف

معلوم ہوا کہ ہر فرد ہر انسان اللہ کی آیت و نشانی ہے کہ وہ الگ الگ رنگ کے ہیں الگ الگ زبان بولتے ہیں – یہ زبان و رنگ  بدلنا صرف قدرت الہی کا کرشمہ ہے –   اس مقام پر لفظ     آيَاتِهِ   استعمال ہوا ہے اور اس کا مطلب یہاں معجزہ نہیں ہے  بلکہ علامت  توحید   مراد   ہے

وَمِنْ آيَاتِهِ مَنَامُكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ   (الرّوم – 23

اور  اس کی آیات میں   سے  تمہارا سونا  دن و رات میں

یہاں ہر روز انسان جو سوتا ہے اس کو نشانی یا آیت کہا گیا  ہے –      یہ  عموم ہے

وَمِنْ آيَاتِهِ الْجَوَارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ   (الشورى – 32

اور  اس کی نشانیوں میں سے ہے سمندر میں   کشتی    جیسے  ہو  عظیم پہاڑ

یہاں    انسان کی  خود ساختہ،   تخلیق کردہ کشتی   کو  آیت  کہا گیا  ہے   یعنی یہ علم من جانب اللہ آیا ہے

حدیث میں ہے

إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ

سورج اور چاند کا گرہن اللہ کی آیات میں سے ایک ہے  

زمین پر سورج و چاند گرہن ہوتا رہتا ہے – اس کا سب کو علم ہے

حدیث میں ہے

آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ

منافق کی تین آیات (نشانیاں ) ہیں بات کرے تو جھوٹ بولے وعدہ کرے تو خلافی کرے اور امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے

حدیث میں ہے

آيَةُ الإِيمَانِ حُبُّ الأَنْصَارِ، وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الأَنْصَارِ

ایمان کی آیت انصار سے محبت کرنا ہے اور منافق کی آیت انصار سے بغض کرنا ہے

ان تمام مقامات پر عموم  کو   آیات   کہا گیا ہے – دوسری طرف  بعض اوقات آیت یا  آیات  کا لفظ اپنے اصطلاحی معنوں میں بھی اتا ہے جس سے مراد وہ  نشانیاں ہیں  جو صرف انبیاء کو ملتی ہیں جن کو معجزات کہا   جاتا ہے اور    ان کا شمار خصوص  میں ہوتا ہے

علامات قیامت جن کو اردو میں قیامت کی نشانی کہا جاتا ہے وہ تمام علامتین ہیں – ان میں دو عظیم ہیں ایک سورج کا مغرب سے نکلنا اور دوسرا زمین سے جانور کا نکل کر کلام کرنا – باقی تمام انسان  کو معلوم ہیں مثلا زمین کا دھنسنا انسان دیکھتا ہے ، یاجوج ماجوج سے انسان مل چکے ہیں تبھی ان پر دیوار بنائی گئی اور دجالوں کا بھی علم ہے، دھواں بھی انسان دیکھتا ہے – فرق صرف امر کی وسعت کا ہے –  لہذا علامات قیامت میں تمام کی تمام خرق عادت نہیں ہیں اور ان کی شرح بھی معجزہ کے ذیل میں نہیں کی جانی چاہیے

4 thoughts on “لفظ الأية کا عموم و خصوص”

  1. جناب میرا سوال یہ ہے کہ اگر حدیث میں مذکور تمام نشانیاں خرق عادت نہیں ہیں تو آج کثیر دھواں دیکھ کر یا شدید زلزلہ دیکھ کر یا بڑی آگ دیکھ کر یا کسی جھوٹی نبوت کے دعویدار دجال کو دیکھ کر کہا جاسکتا یے کہ یہ قرب قیامت کی وہی نشانی ہے جس کی رسول اللہ نے خبر دی ہے؟

  2. جی ہاں بالکل آندھی یا زلزلے سے خوفزدہ ہونا فطری امر ہے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرنے کی نبی صلی اللہ علیہ السلام نے امت کو تعلیم بھی دی ہے جس کا اوپر آپ نے حوالہ دیا ہے لیکن کیا اسے قرب قیامت کی نشانی قرار دیا جاسکتا ہے؟

    1. Islamic-Belief says:

      بالکل کیوں نہیں
      آپ کو اگر امر کی وسعت کا علم نہ ہو تو دیا جا سکتا ہے
      مثلا تین خسف ہیں مشرق میں کہیں مغرب میں کہیں اور عرب میں کہیں
      اب ان کی کیا حدود ہیں ہم کو علم نہیں صرف یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑے ہیں

      نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آندھی سے خوف کیوں ہوا جبکہ اندھی تو بچپن سے دیکھ رہے ہوں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

four + 20 =