قیصر روم کے بعد

ایک روایت بیان کی جاتی ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ قیصر روم کے بعد کوئی اور قیصر نہ ہو گا –  اس کو تین اصحاب رسول سے منسوب کیا گیا ہے جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اور ابو سعید الخدری رضی الله عنہ سے

کسری شاہ فارس  تھا اور قیصر بازنیطی رومی سلطنت کا حاکم  کا ٹائٹل تھا

Heraclius (Herakleios) was emperor of the Byzantine Empire from 610 to 641 CE.

مسئلہ : اس روایت کا متن شاذ و منکر ہے – قیصر روم  ہرقل کے بعد بھی متعدد قیصر آئے ہیں البتہ كسرى بن هرمز دور نبوی میں مر گیا پھر کوئی کسری نہ ہوا بلکہ اس کی بیٹی ملکہ بنی پھر وہاں بغاوت ہوئی اور ایک جنرل  ان کا حاکم بنا- دور عمر میں اصحاب رسول نے فارس فتح کیا اور ان کے خزانے مسلمانوں نے لئے – قیصر روم ہرقل کا خزانہ مسلمانوں کو نہ ملا قیصر زندہ رہا اور طبعی موت مرا اس کے بعد بھی متعدد قیصر حاکم ہوئے

جابر بن سمرہ رضی الله کی سند

صحيح بخاري اور مسند احمد ہے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، سَمِعَ جَرِيرًا، عَنْ عَبْدِ المَلِكِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلاَ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ  لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
عبد الملک بن عمير کہتا ہے جابر رضي الله عنہ نے کہا نبي صلي الله عليہ وسلم نے فرمايا : جب کسري ہلاک ہو گا تو اس کے بعد کوئي کسري نہيں ہو گا اور جب قيصر ہلاک ہو گا تو اس کے بعد کوئي قيصر نہ ہو گا – اور وہ جس کے ہاتھ ميں ميري جان ہے تم ان کے خزانے نکالو گے

اس طرق میں عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ کا تفرد ہے اور یہ مختلط ہو گئے تھے لہذا اس میں احتمال ہے کہ یہ دور اختلاط کا ذکر ہے

ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی سند
صحيح بخاري ميں ابو ہريرہ رضي الله عنہ کي سند سے ہے
حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلاَ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي  نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ»

مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا هَلَكَ كِسْرَى، فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ، فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ  بِيَدِهِ، لَتُنْفِقُنَّ كُنُوزَهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ»

مسند إسحاق بن راهويه میں ہے
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ زِيَادٍ، مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَهَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَيُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ»

ابو داود طیالسی میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَلْقَمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ»

مسند البزار میں ہے
وحَدَّثَنا إبراهيم بن نصر حَدَّثَنا عمرو أَخْبَرنا شعبة , عن يعلى بن عطاء , عن أبي علقمة , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , عَنِ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا هلك كسرى فلا كسرى , وإذا هلك قيصر فلا  قيصر بعده.

ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے اس روایت کو ان راویوں نے نقل کیا ہے
الأَعْرَجِ
سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ
زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ
أبي علقمة

ابو ہریرہ رضی الله عنہ بعض اوقات کعب الاحبار کی خبر کو بھی اس طرح بیان کرتے تھے کہ سننے والا سمجھ بیٹھتا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی دی گئی خبر ہے

کتاب التمييز( ص /175 ) کے مطابق امام مسلم نے بسر بن سعيد کا قول بیان کیا
حَدثنَا عبد الله بن عبد الرَّحْمَن الدَّارمِيّ ثَنَا مَرْوَان الدِّمَشْقِي عَن اللَّيْث بن سعد حَدثنِي بكير بن الاشج قَالَ قَالَ لنا بسر بن سعيد اتَّقوا الله وتحفظوا من الحَدِيث فوَاللَّه لقد رَأَيْتنَا نجالس أَبَا هُرَيْرَة فَيحدث عَن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَن كَعْب وَحَدِيث كَعْب عَن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم
بكير بن الاشج نے کہا ہم سے بسر بن سعيد نے کہا : الله سے ڈرو اور حدیث میں حفاظت کرو – الله کی قسم ! ہم دیکھتے ابو ہریرہ کی مجالس میں کہ وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتے اور وہ (باتیں) کعب ( کی ہوتیں) اور ہم سے کعب الاحبار ( کے اقوال) کو روایت کرتے جو حدیثیں رسول الله سے ہوتیں

احمد العلل میں کہتے ہیں

وقال عبد الله: حدثني أبي. قال: حدثنا أبو أسامة، عن الأعمش. قال: كان إبراهيم صيرفيا في الحديث، أجيئه بالحديث. قال: فكتب مما أخذته عن أبي صالح، عن أبي هريرة. قال: كانوا يتركون أشياء من أحاديث  أبي هريرة. «العلل» (946) .

احمد نے کہا ابو اسامہ نے کہا اعمش نے کہا کہ ابراھیم النخعي حدیث کے بدلے حدیث لیتے – وہ حدیث لاتے – اعمش نے کہا : پس انہوں نے لکھا جو میں نے ابو صالح عن ابو ہریرہ سے
روایت کیا – اعمش نے کہا : ابراھیم النخعي، ابوہریرہ کی احادیث میں چیزوں کو ترک کر دیتے

ابن عساکر نے تاریخ الدمشق میں روایت دی کہ

الثوري، عن منصور، عن إبراهيم، قال: ما كانوا يأخذون من حديث أبي هريرة إلا ما كان حديث جنة أو نار

ابراھیم النخعي نے کہا ہم ابو ہریرہ کی احادیث کو نہیں لیتے سوائے اس کے جس میں جنت جہنم کا ذکر ہو

ابو سعید الخدری کی سند
المعجم الصغير از طبرانی میں ہے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ كَثِيرٍ التَّمَّارُ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى , وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ , وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِي، لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبَانَ إِلَّا ابْنُ الْأَجْلَحِ تَفَرَّدَ بِهِ مِنْجَابٌ

اس کی سند عطیہ العوفی کی وجہ سے ضعیف ہے

راقم کا گمان ہے کہ روایت ابو ہریرہ نے سب سے پہلے بیان کی جو کعب الاحبار کا قول تھا لوگ اس کو حدیث نبوی سمجھ بیٹھے اور پھر عبد الملک بن عمیر نے اختلاط کے عالم میں اس کو جابر بن سمرہ سے منسوب کر دیا

کعب الاحبار ایک سابقہ یہودی تھے اور کعب کی زندگی میں  ہرقل کے خلاف یہود نے بغاوت کر دی تھی اس تناظر میں یہ معمہ حل ہو جاتا ہے کہ اس بغاوت پر کلام  ہوا ہو گا اور اس کو حدیث رسول سمجھا جانے لگا –

نحمیاہ  اور بن یامین نام کا دو  یہودی جنرل فارسی لشکر کو لے کر ہرقل سے لڑ  رہے تھے

Nehemiah ben Hushiel

Benjamin of Tiberias

روایت کی تاویل

نووي نے شرح صحيح مسلم ميں لکھا ہے
قَالَ الشَّافِعِيُّ وَسَائِرُ الْعُلَمَاء: مَعْنَاهُ لَا يَكُونُ كِسْرَى بِالْعِرَاقِ، وَلَا قَيْصَرُ بِالشَّامِ كَمَا كَانَ فِي زَمَنِهِ – صلى الله عليه وسلم – فَعَلَّمَنَا – صلى الله عليه وسلم – بِانْقِطَاعِ مُلْكِهِمَا فِي هَذَيْنِ الْإِقْلِيمَيْنِ
امام الشافعي اور تمام علماء کہتے ہيں کہ رسول الله صلي الله عليہ وسلم کا مطلب تھا کہ کسري عراق پر نہ ہو گا اور قيصر شام پر نہ ہو گا وہ جو رسول الله کے دور ميں تھے – پس ہم کو علم ديا  کہ ان دونوں کي آقاليم کا انقطاع ہو جائے گا

ابن حبان صحيح ميں کہتے ہيں
قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا هَلَكَ كِسْرَى، فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ» أَرَادَ بِهِ بِأَرْضِهِ، وَهِيَ الْعِرَاقُ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرُ بَعْدَهُ» يُرِيدُ بِهِ بِأَرْضِهِ وَهِيَ الشَّامُ، لَا أَنَّهُ لَا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَلَا قَيْصَرُ

رسول اللہ صلي الله عليہ وسلم کے قول کہ جب کسري ہلاگ ہو گا تو کوئي کسري بعد ميں نہ ہو گا ان کا مقصد عراق کي زمين تھا اور رسول الله کا قول کہ جب قيصر ہلاک ہو گا تو کوئي اور نہ ہو گا تو اس سے مراد ارض شام تھي نہ کہ يہ کہ کسري يا قيصر ہي نہ ہوں گے

مشکل الاثار ميں امام طحاوي کہتے ہيں
قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: وَسَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ تَأْوِيلِ هَذَا الْحَدِيثِ فَأَجَابَنِي بِخِلَافِ هَذَا الْقَوْلِ وَذَكَرَ أَنَّ مَعْنَى قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ” إذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ “، قَالَ فَهَلَكَ كِسْرَى كَمَا أَعْلَمَنَا أَنَّهُ سَيَهْلِكُ فَلَمْ يَكُنْ  بَعْدَهُ كِسْرَى، وَلَا يَكُونُ بَعْدَهُ كِسْرَى إلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَكَانَ مَعْنَى قَوْلِهِ: ” إذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ ” إعْلَامًا مِنْهُ إيَّاهُمْ أَنَّهُ سَيَهْلِكُ وَلَمْ يَهْلِكْ إلَى الْآنَ , وَلَكِنَّهُ هَالِكٌ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَخُولِفَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ كِسْرَى فِي تَعْجِيلِ هَلَاكِ كِسْرَى وَتَأْخِيرِ هَلَاكِ قَيْصَرَ لِاخْتِلَافِ مَا كَانَ مِنْهُمَا عِنْدَ وُرُودِ كِتَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا. قَالَ لَنَا ابْنُ أَبِي عِمْرَانَ وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ميں نے احمد بن ابي عمران سے اس حديث کي تاويل پوچھي تو جواب ديا … ہميں معلوم ہے کہ کسري ہلاک ہوا تو اس کے بعد کوئي کسري نہ ہوا اور نہ قيامت تک ہو گا اور ہو سکتا ہے کہ اس قول کہ  جب قيصر ہلاک ہو گا تو کوئي قيصر نہ ہو گا کا مطلب ہے کہ يہ علامت ہے کہ يہ ہلاک ہو گا اور يہ ابھي تک نہيں مرا ہے ليکن يہ ہلاک ہو گا قيامت سے پہلے اور اس کے اور کسري کے درميان  خلاف کيا کہ کسري پہلے ہلاک ہو گا اور قيصر کي ہلاکت دير سے ہو گي

قال الخطابي: معناه: فلا قيصر بعده يملك مثل ما يملك
خطابی نے کہا کہ قیصر ایسی حکومت نہ کر پائے گا جیسی کرتا تھا

امام ابو حنیفہ کی آراء
قال أبو حنيفة اترك قولي بقول الصحابة الّا بقول ثلثة منهم أبو هريرة وانس بن مالك وسمرة بن جندب رضی الله عنهم
روضة العلماء ونزهة الفضلاء (المخطوطة) – علي بن يحيى بن محمد، أبو الحسن الزندويستي الحنفي (المتوفى: 382هـ) میں
امام ابو حنیفہ نے کہا میرا قول صحابہ کے قول کے مقابل ہو تو اس کو ترک کر دو سوائے تین اصحاب کے ایک ابو ہریرہ دوسرے انس بن مالک اور تیسرے سمرہ بن جندب
اس کی وجہ ابو حنیفہ بتاتے ہیں
فقيل له في ذلك، فقال: أما انس: فقد بلغني أنه اختلط عقله في آخر عمره، فكان يستفی من علقمة، وأنا لا أقلد علقمة، فكيف اقلد من يستفی من علقمة. واما أبو هريرة فكان يروي كل ما بلغه وسمعه من غير أن يتأمل في المعنی ومن غير أن يعرف الناسخ والمنسوخ. واما سمرة بن جندب، فقد بلغني عنه أمر ساءني، والذي بلغه عنه أنه كان يتوسع في الاشربة المسكرة سوی الخمر فلم يقلدهم في فتواهم. اما في ما رووا عن رسول الله صلی الله عليه وسلم، فياخذ برواتهم؛ لأن كل واحد منهم موثوق به في ما يروي.
https://archive.org/stream/hanafi_04_201507/01#page/n181/mode/2up
صفحه 183 – 186 جلد 01 شرح أدب القاضي للخصاف الحنفي (المتوفى: 261هـ) عمر بن عبد العزيز ابن مازة الحنفي المعروف بالصدر الشهيد (المتوفى: 536هـ)- وزارة الأوقاف العراقية – مطبعة الإرشاد، بغداد
ان سے اس پر پوچھا گیا تو ابو حنیفہ نے کہا : جہاں تک انس ہیں تو مجھ تک پہنچا ہے کہ آخری عمر میں وہ اختلاط کا شکار تھے پس علقمہ سے پوچھتے اور میں علقمہ کی تقلید نہیں کرتا تو پھر اس  کی کیوں کروں جو علقمہ سے پوچھے اور جہاں تک ابو ہریرہ ہیں تو یہ ہر چیز بیان کر دیتے ہیں جو پہنچی اور سنی ہو اس کے معنی پر غور کیے بغیر اور نہ ناسخ و منسوخ کو سمجھتے ہوئے

المحيط البرهاني في الفقه النعماني فقه الإمام أبي حنيفة رضي الله عنه از أبو المعالي برهان الدين محمود بن أحمد بن عبد العزيز بن عمر بن مَازَةَ البخاري الحنفي (المتوفى: 616هـ) میں ہے
ابو حنیفہ نے کہا .. اصحاب رسول کی تقلید ہو گی سوائے انس اور ابو ہریرہ اور سمرہ کے کہ … انس آخری عمر میں مختلط تھے اور علقمہ سے پوچھتے تھے

اس بحث سے معلوم ہوا کہ روایت متنا صحیح نہیں

لوگوں نے اس روایت کی تاویل کی ناکام کوشش کی ہے اور قیصر کی حکومت کو شام تک محدود کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ اس کی حکومت  بابل شام اور قسطنطنیہ ترکی سے لے کر یورپ تک تھی – صرف دور نبوی میں فارسیوں کو ایلیا  یا بیت المقدس یا یروشلم پر مختصر مدت کے لئے غلبہ ملا جس کا ذکر سورہ روم میں ہے  لیکن رومی چند  سال میں  غالب ہوئے اور ایلیا بیت المقدس میں قیصر روم ہرقل جنگی معاملات کو دیکھنے آیا اور اسی دور میں ابو سفیان رضی الله عنہ سے اس نے نبی صلی الله علیہ وسلم کے حوالے سے سوالات کیے – مسلمانوں نے شام میں اس  کی مملکت کو کم کیا لیکن ترکی اور یورپ تک قیصر ہرقل کی حکومت بر قرار رہی  اور اس کے خزانے مسلمانوں کو نہ ملے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

10 + five =