فقہ میں امام ابو حنیفہ کا مقام

[wpdm_package id=’8866′]

امام ابو حنیفہ    رحمہ اللہ   تعالی    کا اسلامی  فقہ میں ایک عظیم نام ہے- آنجناب  کی اس حوالے سے کاوش و فہم کا ایک عالم معترف ہے – یہ انسانی  کمزوریوں میں سے ہے کہ جب اللہ  تعالی کسی کو عزت دیتا  ہے تو   آزمائش کے لئے   بعض   انسانوں   کے  دلوں میں حسد  پیدا کرتا ہے – اس حسد کی  آگ میں  حاسد  جھوٹ بولتا ہے ، فریب گھڑتا ہے یہاں تک کہ جادو   بھی کرنے پر  آمادہ   ہو  جاتا ہے-  اسی لئے     حاسد  کے شر سے پناہ مانگی جاتی ہے  –  افسوس       حاسدوں  کا     وقت     پھر کسی تعمیری و تحقیقی سرگرمی میں کم اور جدل کی نذر ہو جاتا ہے-

  ابو حنیفہ سے  بعض     اہل روایت    کا بہت خنس تھی کیونکہ وہ اہل رائے و اجتہاد تھے اور اس امت میں ان کے مقام کے لوگ پیدا نہیں ہوئے –  روایت پسندوں نے ان کے خلاف محاذ بنائے رکھا اور ان کو حدیث کا مخالف بنا پر پیش کیا جبکہ   امام صاحب مشکل حدیث کی صنف میں اور ناسخ و منسوخ فی الحدیث کا   بہت  علم رکھتے تھے-  ابو حنیفہ   کہتے تھے کہ   ایک عمل  دور نبوی میں اگر    مجمع میں  کیا گیا ہو تو وہ حدیث مشہور ہونی چاہیے   کہ ایک گروہ اس کو بیان کرے – اس کے برعکس  محدثین  کا ایک گروہ  ایسا پیدا ہو گیا تھا  جس کو اگر      ایک ہی روایت مل جاتی     جو   خود ان کے اصولوں پر ضعیف ہی کیوں نہ ہوتی   تو    وہ اس پر عمل کرنے لگ جاتے تھے –   اس طرح ایک طرف ضعیف  روایات پر عمل پیرا   محدثین تھے  اور دوسری طرف  اہل ورع  و احتیاط والے  اہل رائے تھے –   یہاں تک کہ  امام  بخاری و مسلم  آئے  اور انہوں نے  صحیحین کو  مرتب کر کے  اس  رجحان کو ختم کرنے کی کوشش کی کہ ضعیف یا حسن کو  عمل میں بھی نہ  لیا جائے ،  اگرچہ یہ  کاوش  کامیاب نہ ہو سکی اور  امت میں صحاح الستہ   کی غلط  اصطلاح  کو جاری  کر دیا گیا –  واضح رہے کہ مولفین  سنن  اربع   امام نسائی  ، ابو داود ، ترمذی ، ابن ماجہ نے یہ دعوی کہیں نہیں کیا کہ ہماری کتب صحیح  روایات  کا مجموعہ ہیں –  یہ رجحان  بھی  کافی صدیوں  تک چلتا رہا  یہاں تک کہ عصر  قریب میں  البانی نے    چار کو  اٹھ  کتب میں بدل دیا یعنی  ضعیف و صحیح   ابو داود  وغیرہ

امام ابن ابی شیبہ نے امام ابو حنیفہ کے رد میں ایک رسالہ تصنیف کیا جس میں بلا سند اقوال کو جمع کر کے خود ابن ابی شیبہ نے  اپنے اوپر تنقید کی راہ پیدا کی –    دوسری طرف    امام ابو حنیفہ پر بہت سے جھوٹ بولے گئے ہیں اور اس قدر بولے گئے ہیں کہ ان میں آپس میں تضادات   ہر   صاحب عقل پر آشکار ہو جاتے ہیں –  راقم  کا      مقصد   انہی ظلمات  کے پردوں  کو چاک   کر کے    حقیقت تک جانا ہے-

 یہ کتاب   ویب سائٹ   پر موجود  سوالات  و تحقیق   کو یکجا   کر کے مرتب کی  گئی  ہے  جس کے لئے    احباب  کا مشکور ہے –  اللہ تعالی ہم سب کو   مسلک پرستی  اور تقلید  شخصی  سے آزاد  کرے  اور     جو سچ ہے اس کو بیان کرنے کی توفیق دے

ابو شہر یار

٢٠١٩

Leave a Reply

Your email address will not be published.

12 − four =