سرگزشت تصوف و سرية

سرگزشت تصوف و سرية

تصوف و سرية  داؤن لوڈ  کریں

تصوف ایک   وقت   تھا    جب اسکے    لٹریچر       میں   صرف زہد ہوتا   تھا – دنیا سے غیر ضروری بے زاری کا ذکر ہوتا     اور بس الله تک پہنچنے کا ذکر ہوتا –    پھر  اس میں  ارتقاء   ہوا    کہ  جو الله تک پہنچ گئے یعنی مدفون یا مقبور ان سے   لوگوں  کا  غیر معمولی لگاؤ ہوا – اس کے پیچھے بد نیتی نہیں تھی بس زہد تھا جس کی بنا پر ایسا کیا گیا –      قبروں پر جانا شریعت  میں ممنوع  عمل نہیں   بلکہ دنیا کی  بے ثباتی  یاد رکھنے کے لئے وہاں جانے کا حکم ہے-  زہاد نے     وقت     گزرنے   کے ساتھ ساتھ عباسی  دور خلافت   کے شروع میں     یہ تصور قائم کیا کہ مدفون  اولیاء   اللہ ان قبروں میں  ہی  زندہ ہیں ،  شہداء زندہ ہیں ، انبیاء زندہ ہیں  اور وہ  رزق  بھی  پا رہے ہیں-  اس کو ثابت  کرنے کے لئے قرانی آیات سے  استنباط کیا گیا    اور  احادیث  و روایتوں کو بھی بیان کیا گیا –   تصوف   اس صنف میں جو کتب    تالیف ہو رہی تھیں وہ نہایت غلط سلط روایات کا مجموعہ تھیں- لوگوں نے ان    روایات کو قبول کر لیا اور پھر صحیح    احادیث کے مفہوم  کو بھی اسی سانچے میں ڈھال   کر تشریح  کی گئی –   اس عمل میں زہد  تصوف میں بدل گیا –   متصوفین   چونکہ  علم  حدیث کے عالم نہیں تھے  افسوس وہ انہی ضعیف روایات کی عینک سے  قرآن و  صحیح   احادیث  کی تشریح کرنے لگے      جس سے وہ مفہوم نکلتا  جو قرانی عقائد کے خلاف ہوتا   –    لیکن چونکہ  سن   ٥٠٠ ہجری   تک   امت کی اکثریت  میں   پاپولر   مذھب   قبروں سے متصف ہونا ہی ہو گیا تھا تو اس کو جمہور کی سند پر  اللہ کی مرضی مان لیا گیا –

اعتقادی  مسائل   میں  متصوفین    نے  بہت سے مراحل    و  مدارج طے  کیے     ہیں –  ان میں انڈر  گراونڈ  تحریکوں  کی طرح    جہم بن  صفوان  کے  خیالات،  وحدت الوجود    کی شکل  میں ظاہر ہوئے –  ساتھ  ہی  فلسفہ   یونان بھی شامل  ہو ا –     نصرانی و یونانی    ہومواوسس   یا  ہمہ  اوست   بھی  آ یا  – مصری    غناسطیت   بھی اس میں نظر اتی ہے  –    ہمالیہ   یا سینٹرل  ایشیا   کے   راہب   بھی عرب   ، عراق و شام  پہنچ رہے تھے-  یمنی  ابن سبا   اور   شیعی       زہاد   بھی  اس مجمع    میں     حصہ  رسدی   کا کام کر رہے تھے –   دوسری طرف  روایت پسند محدثین   زہد پر کتب لکھ رہے تھے جس میں ہر قسم کا رطب و یابس  نقل ہو رہا تھا –    ان  تمام  افکار    کا تصوف پر اثر ہوا اور آج      تصوف میں بیک وقت  وحدت الوجود ، ہمہ  اوست ،   فنا و  بقا، حلول ،  چلہ کشی ،   سب موحود   ہے   اور   قبول کر لی  گئی ہے  –

اسلامی تصوف کی      تمام  شکلوں    و   جہتوں   پر بات  کرنا  ایک ہی نشست و کتاب   میں  ممکن نہیں  ہے   –     راقم   کی   کتاب مجمع  البحرین (مجمع البحرین)    ویب سائٹ   پر  پہلے سے  موجود ہے –     کتاب هذا   میں     ویب  سائٹ  اسلامک بلیف   پر      تصوف و سریت  سے متعلق  پیش کردہ   چند     مضامین کو   یکجا کیا گیا  ہے   اور      قارئین کی دلچسپی   کے لئے   کچھ چنیدہ  مباحث   کو  اکٹھا     کیا گیا ہے –

ابو شہر یار

 

2 thoughts on “سرگزشت تصوف و سرية”

  1. السلام و علیکم و رحمت اللہ

    کہا جاتا ہے کہ ابو حامد الغزالی (المعروف امام غزالی) اپنے آخری وقت میں مذہب “تصوف” سے تائب ہوگئے تھے کیا یہ بات صحیح ہے؟؟

    ان کے ایک دوست نے یہ بتلایا کہ ابو حامد غزالی رحمہ اللہ کی کتاب : ” الجام العوام عن علم الکلام ” پر ایک نظر ڈالنے سے ہمیں انکی زندگی میں تبدیلی کے حقائق بھی معلوم ہوتے ہیں، جس کی متعدد شکلیں اس کتاب میں موجود ہیں- انہوں نے اس کتاب میں عقیدۂِ سلف کی خوب حمایت کی ہے، اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ حق بات سلف صالحین کا عقیدہ ہی ہے، اور جو بھی انکی مخالفت کرے، وہ بدعتی شخص ہے- صفاتِ الہی ثابت کرنے کیلئے ٹھوس الفاظ میں دعوت دی اور انہوں نے تاویل کرنے سے سختی کیساتھ منع کیا، اور ایسی کسی بھی تاویل سے روکا ہے جس کی وجہ سے صفات الہی کو معطل کرنا لازم آئے۔

    1. Islamic-Belief says:

      اس دور میں جب کوئی آدمی مشہور ہو جاتا اور پھر وہ مر جاتا تو اس کے حوالے سے فرقے یہ دعوی کر دیتے تھے کہ یہ ہمارے مذھب کے ہو گئے تھے
      مثلا عبد القآدر جیلانی ، غزالی ، امام اشعری وغیرہم
      باقاعدہ کتب گھڑی جاتیں اور منسوب کی جاتی تھیں
      اللہ کو انسانی جسم جیسا قرار دینے والے سلف کا ایک ہی مقصد تھا کہ ان کا سا عقیدہ سب کا اگر نکل آئے تو ان پر تنقید ختم ہو جائے گی
      لہذا ان کتب کا مدعا صرف یہ ہوتا تھا کہ اللہ ایک جسم رکھتا ہے

      ———–
      الجام العوام عن علم الکلام میں نے نہیں پڑھی نہ اس پر معلومات ہیں اس لئے جواب دینے سے قاصر ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

twelve − 11 =