روایت عود روح کی نکارت

قرآن کی آیت

 ربنا أمتنا اثنتين وأحييتنا اثنتين

وہ کہیں گے اے رب ہم کو دو بار زندہ کیا گیا اور دو بار موت دی گئی

 پر بھی اہل سنت اور اہل تشیع کا اختلاف ہے – اہل سنت اس کو عموم کہتے ہیں جبکہ اہل تشیع اس کو خاص – اہل سنت کے مطابق تمام انسانوں  کو دو زندگیاں اور دو موتیں ملیں ہیں – اہل تشیع کے مطابق یہ آیت خاص ہے  اس میں ان  دشمنان اہل بیت  کا ذکر ہے  جن کے گناہوں کا عذاب ان کو دنیا میں نہیں ملا اور مر گئے لہذا ان کو زندہ  کیا جائے گا اسی طرح اہل بیت کو بھی قیامت سے قبل زندہ کیا جائے گا

تفسیر نور ثقلین  از عبد على بن جمعة العروسى الحويزى  المتوفی ١١١٢ ھ کے مطابق

وقال على بن ابراهيم رحمه الله في قوله عزوجل : ربنا أمتنا اثنتين و أحييتنا اثنتين إلى قوله من سبيل قال الصادق عليه السلام : ذلك في الرجعة

علی بن ابراہیم نے کہا الله کا قول ربنا أمتنا اثنتين و أحييتنا اثنتين تو اس پر امام جعفر نے کہا یہ رجعت سے متعلق ہے

اہل تشیع میں یہ عقیدہ اصلا ابن سبا سے آیا- یہود بھی رجعت کا عقیدہ رکھتے ہیں اور ان کے مطابق مسیح آ کر مردوں کے لشکر کے لشکر زندہ کرے گا-  قرن اول میں  کوفہ میں ابن سبا رجعت کا عقیدہ بھی پھیلا رہا ہے اور وہاں   شیعہ  زاذان  بھی تھا جو فارسی النسل تھا (اغلبا  فارس کا یہودی) اور اصحاب علی  میں سے تھا   وہ روایت کرتا ہے کہ مردہ میں عود روح ہوتا ہے – اس بات کو زاذان  سے پہلے،  نہ بعد میں ، کوئی روایت نہیں کرتا – عود روح کی یہ واحد روایت ہے جس میں صریحا جسد میں روح کے لوٹنے کا ذکر ہے

عقیدہ رجعت کا اصل مقصد اصل میں عدل کا قیام ہے کیونکہ دشمنان اہل بیت جو ظلم کرتے رہے وہ بغیر سزا پائے مر گئے ضروری ہے کہ وہ اس دنیا سے فرار نہ ہوں اور ان کی روحوں کو ان کے جسموں میں قیدکر دیا جائے لہذا زاذان نے روایت میں متن ڈالا کہ جب   خبیث روح آسمان کی طرف جاتی ہے اس کو زمین کی طرف پھنبک دیا جاتا ہے

مسند احمد کی روایت کے متن میں ہے

قَالَ: ” وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ، نَزَلَ إِلَيْهِ مِنَ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ سُودُ الْوُجُوهِ، مَعَهُمُ الْمُسُوحُ، فَيَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ، حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ، اخْرُجِي إِلَى سَخَطٍ مِنَ اللهِ وَغَضَبٍ “. قَالَ: ” فَتُفَرَّقُ فِي جَسَدِهِ، فَيَنْتَزِعُهَا كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُّودُ مِنَ الصُّوفِ الْمَبْلُولِ، فَيَأْخُذُهَا، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَجْعَلُوهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ، وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، فَيَصْعَدُونَ بِهَا، فَلَا يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرُّوحُ الْخَبِيثُ؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا، حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيُسْتَفْتَحُ لَهُ، فَلَا يُفْتَحُ لَهُ “، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ} [الأعراف: 40] فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: ” اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى، فَتُطْرَحُ رُوحُهُ طَرْحًا “. ثُمَّ قَرَأَ: {وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللهِ، فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ} [الحج: 31] ” فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ،

 اور جب کوئی کافر شخص دنیا سے رخصتی اور سفر آخرت پر جانے کے قریب ہوتا ہے تو اس کے پاس آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے اتر کر آتے ہیں جن کے پاس ٹاٹ ہوتے ہیں وہ تاحد نگاہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آ کر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ اے نفس خبیثہ ! اللہ کی ناراضگی اور غصے کی طرف چل یہ سن کر اس کی روح جسم میں دوڑنے لگتی ہے اور ملک الموت اسے جسم سے اس طرح کھینچتے ہیں جیسے گیلی اون سے سیخ کھینچی جاتی ہے اور اسے پکڑ لیتے ہیں فرشتے ایک پلک جھپکنے کی مقدار بھی اسے ان کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے اور اس ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں اور اس سے مردار کی بدبوجیسا ایک ناخوشگوار اور بدبودار جھونکا آتا ہے۔ پھر وہ اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے ان کا گذر ہوتا ہے وہی گروہ کہتا ہے کہ یہ کیسی خبیث روح ہے؟ وہ اس کا دنیا میں لیا جانے والا بدترین نام بتاتے ہیں یہاں تک کہ اسے لے کر آسمان دنیا میں پہنچ جاتے ہیں ۔ در کھلواتے ہیں لیکن دروازہ نہیں کھولاجاتا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ” ان کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ ہی وہ جنت میں داخل ہوں گے تاوقتیکہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے ” اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کانامہ اعمال ” سجین ” میں سے نچلی زمین میں لکھ دو چنانچہ اس کی روح کو پھینک دیا جاتا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ ایسے ہے جیسے آسمان سے گرپڑا پھر اسے پرندے اچک لیں یا ہوا اسے دوردراز کی جگہ میں لے جاڈالے ۔   پھر اس کی روح جسم میں لوٹادی جاتی ہے

یہ بات اس طرح بیان کی گئی ہے کہ گویا یہ غلطی بار بار ملک الموت  ہر خبیث روح کے ساتھ کرتے ہیں کہ  اس کو آسمان کی طرف لاتے ہیں تو پہلے آسمان کے فرشتے روح خبیثہ کو   زمین کی طرف پھینک دیتے ہیں- کیا  ملک الموت یہ غلطی روز کرتے ہیں؟  روایت میں ملک الموت کا اس غلطی سے رجوع درج نہیں ہے لہذا اگر زاذان کی روایت کا  متن   قبول کریں تو معلوم ہوا کہ ملک الموت غلطی بھی کرتا ہے-  غور کریں یہ روایت آخری نبی و رسول سے منسوب ہے جبکہ خبیث روحیں تو اولاد آدم میں سب سے پہلی قابیل کی ہوئی –تب سے لے کر آج تک ملک الموت یہ غلطی کرتا ہے کہ خبیث روح کو آسمان کی طرف لے کر جاتا ہے اور وہاں سے واپس اس کو زمین کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے-

روایت کے مطابق اب خبیث روح جسد میں ہی رہے گی – لہذا فرقوں میں اس روح کے نکلنے یا نہ نکلنے پر اختلاف ہے

  ابن عبد البر کا قول ہے کہ روح  قبرستانوں میں رہتی ہے

اہل حدیث رفیق طاہر مدرس جامعہ دار الحدیث محمدیہ ملتان​  کا موقف ہے کہ  قیامت تک  روح قبر میں ہی رہتی ہے بحوالہ مناظرہ موضوع (اعادہ روح, عذاب قبر)  ملتان  کیونکہ زاذان کی روایت میں اس کو جسم سے نکالنے کا ذکر نہیں ہے

دوسری طرف اہل حدیث میں ابو جابر دامانوی اور ارشد کمال اس عقیدے کے پرچارک ہیں کہ روح کو جسم سے نکال لیا جاتا ہے جس کی دلیل دونوں نے کبھی بھی نہیں دی –   ان کے بقول یہ روح زاذان کی روایت کے بر خلاف جہنم میں پہنچا دی جاتی ہے- اس طرح یہ دونوں اس روایت کے مکمل متن کو بیان  نہیں کرتے نہ اس پر غور کرتے ہیں

زبیر علی زئی  اس سوال سے بھاگتا تھا اور اس کا جواب نہیں دیتا تھا

 

اب ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ خبیث  روح اگر جسم سے نکال لی گئی اور اس کو جہنم   میں   داخل کر دیا گیا تو کہاں یہ سب ہوا ؟ کیونکہ زاذان کی روایت  میں وہ کہتا ہے کہ روح کو پہلے آسمان سے اوپر ہی نہیں جانے دیا جائے گا – اب ایک ہی بات رہ جاتی ہے کہ زاذان کے نزدیک جہنم بھی زمین میں ہے – یہ بات یمنی یہود کے قول کے عین مطابق ہے کہ یمن میں موجود برہوت کا سوراخ اصل میں جہنم تک جانے کا رستہ ہے

اس طرح بعض  لوگوں نے بغیر غور کرے یہ عقیدہ اپنا لیا ہے کہ جہنم اسی زمین کے اندر ہے

سمندر ہی جہنم ہے؟

رفیق طاہر ایک سوال کے  جواب میں کہتے ہیں

عثمانیوں کے اس اعتراض کی بنیاد جہنم کا آسمان پر ہونا ہے۔ جبکہ یہ بنیاد ہی باطل ہے! انہیں کہیں کہ پہلے جہنم کا آسمان پر ہونا ثابت کریں, پھر آگے بات کریں! جنت آسمانوں میں ہے اس لیے جنت میں داخلہ کے لیے آسمانوں کے دروازوں کا کھلنا اور جنت کے دروازوں کا کھولنا ضروری ہے ۔ جبکہ جہنم زمین میں ہے۔

اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ · دروازہ آسمان دنیا کا نہیں کھولا جاتا اور یہی آیت سے مراد ہے۔ · اور یہ بھی ثابت ہوا کہ کافر کا اندراج سجین میں کیا جاتا ہے کہ اسے نچلی زمین میں رکھا جائے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم آسمانوں پر نہیں بلکہ نچلی زمین میں ہے۔ · اور اللہ تعالى کے فرمان “انکے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے” سے بھی جہنم کا آسمانوں پر نہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : إِنَّ الْجَنَّةَ فِي السَّمَاءِ ، وَإِنَّ النَّارَ فِي الْأَرْضِ بلا شبہ جنت آسمان میں ہے اور جہنم زمین میں ہے ۔

 مستدرک حاکم : 8698 اوریہ روایت حکما مرفوع ہے۔

مصدر

 http://www.rafiqtahir.com/ur/play-swal-731.html

راقم کہتا ہے یہ فتوی ان احادیث سے متصادم ہے جن میں جہنم کی وسعت کا ذکر ہے

صحیح مسلم  ٢٨٤٤ میں ہے

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ اچانک دھماکے کی آواز آئ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ تمہیں معلوم ہے یہ کیسی آواز ہے ؟
صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہے بہتر جانتے ہیں تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !
یہ ایک پتھر تھا جو آج سے ستر سال پہلے جہنم مین پھینکا گیا تھا اور آگ میں گرتا چلا جا رہا تھا اور اب وہ جہنم کی تہ تک پہنچا ہے –

زمین اتنی گہری نہیں کہ اس میں ستر سال تک  چیز گرتی رہے

– جہاں تک عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے قول کا تعلق ہے تو وہ کسی بھی سند سے صحیح نہیں ملا – اس کی تفصیل راقم کی کتاب اثبات عذاب قبر میں دیکھی جا سکتی ہے اور بلاگ

https://www.islamic-belief.net/وَمَا-أَدْرَاكَ-مَا-عِلِّيُّونَ/

میں ان روایات  کا ذکر ہے

وہابی عالم ابن عثيمين سے سوال ہوا کہ : أين توجد الجنة والنار؟  جنت و جہنم  کہاں ہیں ؟

جواب دیا

مكان النار في الأرض ، ولكن قال بعضُ أهل العِلْم : إنَّها البحار ، وقال آخرون: بل هي في باطن الأرض ، والذي يظهر: أنَّها في الأرض ، ولكن لا ندري أين هي مِن الأرض على وَجْهِ التعيين.

جہنم کا مکان  زمین میں ہے  لیکن بعض علماء کہتے ہیں سمندروں میں کہیں ہے اور دوسرے کہتے ہیں یہ زمین میں چھپی ہے لیکن ہم تعيين  کے ساتھ نہیں جانتے کہ زمین میں کہاں

https://islamqa.info/ar/answers/215011/اين-توجد-الجنة-واين-توجد-النار

اس کا رد قرآن میں موجود ہے –  قرآن میں سوره الذاریات میں ہے

وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا توعَدُونَ

اور آسمان ہی میں ہے تمہارا رزق اور وہ جس کا وعدہ کیا گیا ہے

الله تعالی نے انسانوں سے جنت و جہنم کا وعدہ کیا ہے کہ اہل ایمان کو جنت اور کفار کو جہنم میں ڈالے گا

 اس قول کو علی رضی اللہ عنہ سے   منسوب کیا گیا  ہے کہ جہنم زمین میں ہے  – تفسیر طبری میں ہے

حدثني يعقوب، قال: ثنا ابن علية، عن داود، عن سعيد بن المسيب، قال: قال عليّ رضي الله عنه لرجل من اليهود: أين جهنم؟ فقال: البحر، فقال: ما أراه إلا صادقا، (وَالْبَحْرِ الْمَسْجُورِ) (وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ) مخففة.

سعید بن مسیب نے کہا علی نے ایک یہودی سے پوچھا جہنم کہاں ہے ؟ بولا سمندر میں – علی نے کہا میں اس کو سچا سمجھتا ہوں اور آیات پڑھیں   وَالْبَحْرِ الْمَسْجُورِ   اور بھڑکتا سمندر اور (وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ) اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے

راقم کہتا ہے  علی سے منسوب یہ قول شاذ ہے کیونکہ خود علی رضی اللہ عنہ نے سمندری غذا کو کھایا ہے

تفسیروں میں ایک قول عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بھی منسوب کیا گیا ہے کہ

لا يتوضأ بماءِ البحر لأنه طبقُ جهنَّمَ

سمندر کے پانی سے وضو مت کرو کینوکہ یہ جہنم کا طبق ہے

سنن ترمذی میں حدیث کے تحت ترمذی نے لکھا ہے

وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الوُضُوءَ بِمَاءِ البَحْرِ، مِنْهُمْ: ابْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: هُوَ نَارٌ “

اور بعض اصحاب رسول نے سمندری پانی سے وضو پر کراہت کی ہے جن میں ابن عمر اور عبد اللہ بن عمرو ہیں اور ابن عمرو کا کہنا ہے وہ اگ ہے

سنن ابو داود میں ہے

حدَّثنا سعيدُ بن منصور، حدَّثنا إسماعيلُ بن زكريا، عن مُطرِّفٍ، عن بشرٍ أبي عبد الله، عن بَشيرِ بن مُسلم عن عبد الله بن عَمرو قال: قال رسول الله -صلَّى الله عليه وسلم-: “لا يركبُ البحرَ إلا حاجٌّ أو معتمرٌ أو غازٍ في سبيل الله، فإن تحتَ البحرِ ناراً، وتحت النارِ بحراً

عبد الله بن عَمرو نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سمندر کا سفر نہ کرے سوائے اس کے جو حاجی ہو یا عمرہ کرنے والا یا جہاد کرنے والا کیونکہ  سمندر کے نیچے اگ ہے اور اگ کے نیچے سمندر

شعَيب الأرنؤوط کہتے ہیں اس میں سند میں مجہول راوی ہے اور متن شدید منکر ہے

دوسری طرف قرآن میں ہے کہ سمندر کی غذا حلال ہے اور حدیث میں سمندر کے پانی کو پاک قرار دیا گیا ہے اور حدیث ابو ہریرہ میں سمندر کے پانی کو پاک قرار دیا گیا ہے اور اس سے وضو کی اجازت دی گئی ہے

مستدرک حاکم میں ہے

أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ، ثَنَا أَبُو قِلَابَةَ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى، أَنَّ يَعْلَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْبَحْرَ هُوَ جَهَنَّمَ» فَقَالُوا لِيَعْلَى: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا} [الكهف: 29] فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَدْخُلُهَا أَبَدًا حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ وَلَا تُصِيبُنِي مِنْهَا قَطْرَةٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ  

رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا سمندر  ہی جہنم   ہے

حاکم نے اس کو صحیح الاسناد قرار دیا ہے  اور الذھبی بھی موافقت کر بیٹھے ہیں جبکہ سند  میں مجہول راوی ہے اور اس کا ذکر بیہقی نے کتاب  البعث والنشور للبيهقي میں کیا ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أَنْبَأَ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أَنْبَأَ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَحْرُ هُوَ جَهَنَّمُ»

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ نے کہا ایک شخص نے بیان کیا اس نے ْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى سے روایت کیا

معلوم ہوا کہ اس حدیث کی سند میں مجہول راوی ہے

الغرض سمندر ہی جہنم ہے یا جہنم سمندر میں ہے اقوال و احادیث ثابت نہیں ہیں

معلوم ہوا کہ فرقہ پرستوں کا کائنات کا  جغرافیہ ہی درست نہیں- ان کے نزدیک جہنم زمین کے اندر ہے

اللہ ان فرقوں کی  گمراہیوں سے بچائے جو سمندر  ہی کی طرح گہری ہیں

اَوْ كَظُلُمَاتٍ فِىْ بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَّغْشَاهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ۚ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ ۖ اِذَآ اَخْرَجَ يَدَهٝ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا ۗ وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّـٰهُ لَـهٝ نُـوْرًا فَمَا لَـهٝ مِنْ نُّوْرٍ (40)

یا جیسے گہرے سمندر  میں اندھیرے ہوں اس پر ایک لہر چڑھ آتی ہے اس پر ایک اور لہر ہے اس کے اوپر بادل ہے، اوپر تلے بہت سے اندھیرے ہیں، جب اپنا ہاتھ نکالے تو اسے کچھ بھی دیکھ نہ سکے، اور جسے اللہ ہی نے نور نہ دیا ہو اس کے لیے کہیں نور نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

fourteen + seventeen =