حواب کے کتے اور آج کی تاریخ

شکر ہے کہ  اہل حدیث حضرات کو اپنی  فاش غلطی  کا احساس ہو رہا ہے  اور چند سال پہلے ہی  اہل حدیث  اس روایت باطلہ پر جان قربان کر رہے تھے  جب راقم  نے اس کا رد اپنی  کتاب  اکابر پرستی   میں پیش کیا تھا   – راقم کے مضمون کو  ایک قاری نے   غیر مقلدوں کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا تھا  اور پھر اس روایت کو غیر مقلدوں کے مولویوں کی ٹیم نے بیس توپوں کی سلامی پیش کی تھی

لنک 

لنک 

لنک 

راقم نے اس وقت اہ  بھر لی تھی اور سوچا تھا کہ ستبدي لك الأيام ماكنت جاهلا  – الحمد  اللہ،    اللہ نے سن لی اس کی جس نے اس کی حمد کی

اب اہل حدیث حضرات درخت کا پھل کھا رہے ہیں- حواب کے کتے پلٹ کر غیر مقلدوں  کو ہی  بھبھوڑ رہے ہیں –   ان کے ہونہار  رافضی بن رہے ہیں- جس سے ان میں اضطراب پایا جاتا ہے لہذا اس  منحوس روایت  کو رد کرنا آج  ضروری ہوا

نور پوری نے صرف ایک روایت پر کلام کیا ہے اس کی اور سندیں بھی ہیں

حواب کے کتوں  والی روایت پر تفصیلی  کلام   ام المومنین عائشہ  رضی اللہ عنہا  پر راقم کی  کتاب  میں موجود  ہے

 

3 thoughts on “حواب کے کتے اور آج کی تاریخ”

  1. السلام و علیکم و رحمت الله

    جزاک الله

    اہل حدیث حضرات کو اپنی فاش غلطی کا احساس ہو رہا ہے” بات صحیح ہے – لیکن یہ صرف آٹے میں نمک کے برابر ہیں -اکثریت تو اب بھی ان بے سروپا روایات پر جان قربان کرتی نظر آتی ہے

    صرف آپ کےعلم کے لئے بتا رہا ہوں کہ اوپر جو لنک آپ نے دیے ہیں (محدث فورم کی وب سائٹ سے) جو اس حواب کی روایت کے حوالے سے ہیں – اس میں اکثر مراسلے جو غیر مقلدین کے ساتھ بحث و مباحثے کی شکل میں موجود ہیں اور جو عنوان حَوْأَبِ کے کتے اور ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (ایک تحقیقی جائزہ) شروع کیا گیا – وہ مجھ نا چیز (محمد علی جواد ) کی کاوش تھی – جو پانچ چھ سال پہلے کی ہے- اس میں میں نے آپ کی ویب سائٹ سے بھی مواد لیا گیا اور دیگر تاریخی کتب کے ذریے (جیسے مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت از حبیب الرحمان کاندھلوی) وغیرہ سے بھی اس معطون روایت کو رد کرنے کی بھرپور کوشش کی- لیکن جواب میں روایات پرست اہل حدیثوں کی طرف سے بھرپور تعن و تشنیع کا مسلسل سامنا رہا- بلکہ مجھ نا چیز کو
    کچھ مہینوں کے لئے مذکورہ فورم پر بین بھی کردیا گیا- شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ممدوح البانی صاحب اس مردود روایت کو “صحیح” قرار دے چکے تھے- اور ان کی تصیح کو رد کرنا اکثراہل حدیثوں کے لئے جوے شیر لانے کے مترادف ہے

    بہرحال شکریہ لنک دوبارہ پوسٹ کرنے کا

    1. Islamic-Belief says:

      و علیکم السلام

      شکریہ جواد بھائی

      مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ رفض متاثر غیر مقلد کافی دن سے اندر ہی اندر اہل حدیث کی جڑ کاٹ رہے تہے
      محدث رسالہ کے مدیر تک اس میں شامل تھے اور یہ سن ٩٠ کی دھانی کا دور ہے
      ان کی محنت رنگ لائی ہے اور رہی سہی کسر رجحان نے ختم کر دی ہے
      نئی نسل قرآن و حدیث یا سیرت پر کتاب پڑھنے کی بجائے “یو ٹیوب” سے علم حاصل کر رہی ہے

      اس سے بگاڑ کی رفتار میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور خاص کر جہلم اور شمالی پنجاب کا علاقہ متاثر ہوا ہے لگتا یہی ہے کہ مستقبل میں وہاں کے شہروں میں رفض ترقی کرے گا
      کہتے ہیں ایک دور میں نیشا پور اہل سنت کے محدثین کا گڑھ تھا لیکن آج معلوم ہے کہ وہاں کیا حال ہے
      اسی طرح شہر کے شہر رفض کو اختیار کر کے اپنی عاقبت بر برباد کرتے ہیں

      مذکورہ فورم بنام محدث فورم بہت سے تضادات کا مرکز ہے وہاں کے مولوی آخر میں سب ہی معجزہ بنا دیتے ہیں مثلا
      حواب کے کتے معجزہ ہے
      عود روح معجزہ ہے
      ———–
      میرے نزدیک یہ علماء سنجدہ تحقیق کم اور سلف کے علماء کو صحیح زہادہ ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں جبکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں

      1. درست فرمایا آپ نے

        ویسے بھی دو حاضر کے اہل حدیث جب سے “غیر مقلد” کے لیبل کے پیچھے اپنے اکابرین کی تقیلد میں لگے ہوے ہیں تو یہ دن تو آنے ہی تھے – پاکستان میں اہل تشیع کے بعد بریلوی فرقہ عقائد میں سب سے زیادہ گمراہ ہے – لیکن ان میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ انکی اکثریت معاویہ رضی الله عنہ کو احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے – اہل حدیث عقائد میں مظبوط تھے – لیکن البانی اور ابن باز کی تحقیقاقات پر اندھا اعتقاد کرکے اپنے عقائد کو گمراہی کی بھینٹ چڑھا دیا- اب کوئی روایت بھی ہو- چاہے وہ حواب کے کتوں سے متعلق ہو یا معاویہ کی ظلم و ستم والی بادشاہت سے متعلق ہو یا پھرعود روح سے متعلق کوئی روایت ہو – ان کی اندھی تقلید نے روافض کو بھی مات دے دی – اور اب یہ شر یوٹیوب پر مرزا جہلمی, زبیر علی زئی, اسحاق جھالوی وغیرہ کی وڈیو کے ذریے عوام الناس میں عام ہوتا جا رہا ہے

        محدث فورم والے بھی انہی کی تعلیمات پرسردھن رہے ہیں – اگر ان کو جواب دو تو ناصبی یا منکرین حدیث کا سرٹیفیکٹ ملتا ہے – جو مجھ نا چیز کو بھی کئی بار مل چکا ہے فورم کی طرف سے

        الله ان کو ہدایات دے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

eighteen + eighteen =