حدیث قرع النعال پر ایک اور نظر

حدیث قرع النعال جو راقم کے نزدیک صحیح سند سے نہیں ہے اور اپنے متن میں عربی کی غلطی کی وجہ سے معلول ہے اس کے شواہد کے طور پر کچھ روایات پیش کی جاتی ہیں

موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان  کی روایت

أخبرنا أحمد بن يحيى بن زهير بتستر، حدثنا محمد بن عبد الله المُخرَّمِيّ، حدثنا وكيع، عن سفيان الثوري، عن السدي، عن أبيه عَنْ أبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم-: “إِنَّ الْمَيِّتَ لَيَسْمَعُ خفق نِعَالِهِمْ إذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ

عبد الرحمن بن أبي كريمة نے ابو ہریرہ سے روایت کیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا بے شک میت ان کے جوتوں کی چاپ سنتی ہے جب یہ پلٹتے ہیں

میزان الاعتدال میں الذھبی عبد الرحمن بن أبي كريمة کے لئے  کہتے ہیں

ذكره  العقيلي في كتابه متعلقا بقول إبراهيم النخعي فيه: كان صاحب أمراء.وبمثل هذا لا يلين الثقة.

اس کا ذکر عقیلی نے اپنی کتاب میں کیا ہے اور اس کے متعلق إبراهيم النخعي کا قول بیان کیا کہ یہ امراء کا مصاحب تھا اور اس طرح سے ثقہ سے نہیں ملایا

موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان کے محققین  حسين سليم أسد الدّاراني – عبده علي الكوشك  نے  اس کو إسناده جيد قرار دیا ہے  جبکہ سند میں إسماعيل بن عبد الرحمن بن أبى كريمة السدى مختلف فیہ ہے اس کو  ضعیف اور ثقہ دونوں کہا گیا  ہے- اکمال از مغلطاي  کے مطابق المعتمر بن سليمان نے اس کو کذاب قرار دیا ہے

مسند احمد کی تعلیق میں شعيب الأرنؤوط  نے اس کو اگرچہ صحیح لغیرہ قرار دیا ہے لیکن لکھا ہے

وهذا إسناد ضعيف، والد السدي -وهو عبد الرحمن بن أبي كريمة- لم يرو عنه غير ابنه إسماعيل، ولم يوثقه سوى ابن حبان، فهو مجهول الحال كما قال الحافظ في “التقريب

یہ سند ضعیف ہے – والد السدي عبد الرحمن بن أبي كريمة ہے جس سے کوئی روایت نہیں کرتا سوائے عبد الرحمن بن أبي كريمة کا بیٹا اسمعیل – اس کی توثیق صرف ابن حبان نے کی ہے یہ مجہول الحال ہے جیسا ابن حجر نے تقریب میں کہا ہے

صحیح ابن حبان کی تعلیق میں شعيب الأرنؤوط نے اسی سند کو ضعیف کہا ہے

إسناده ضعيف. والد إسماعيل السدي- وهو عبد الرحمن بن أبي كريمة- لم يرو عنه غير ابنه، ولم يوثقه غير المؤلف، فهو مجهول الحال كما قال الحافظ في “التقريب”، وباقي رجال ثقات، وله طرق يتقوى بها الحديث.

مسند البزار میں ہے

حَدَّثَنا مُحَمَّد بن عبد الله المخرمي حَدَّثَنا وكيع بن الجراح , حَدَّثَنا سفيان الثوري , عن السدي , عن أبيه , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إن الميت ليسمع خفق نعالهم إذا ولوا عنه يعني مدبر

اس کی سند وہی صحیح  ابن حبان جیسی ہے اور اس کو شعیب نے ضعیف قرار دیا ہے

شرح السنہ از بغوی کی روایت

امام البغوی  الشافعي (المتوفى: 516هـ) کتاب شرح السنہ میں حدیث پیش کرتے ہیں

أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَرَجِ الْمُظَفَّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ حَمْزَةُ بْنُ يُوسُفَ السَّهْمِيُّ، أَنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، نَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، نَا عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الْمَيِّتَ يَسْمَعُ حِسَّ النِّعَالِ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ النَّاسُ مُدْبِرِينَ، ثُمَّ يُجْلَسُ وَيُوضَعُ كَفَنُهُ فِي عُنُقِهِ، ثُمَّ يُسْأَلُ»

كَثِيرٌ جَدُّ عَنْبَسَةَ: هُوَ كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ رَضِيعُ عَائِشَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ.

قَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ: قَوْلُهُ «إِنَّ الْمَيِّتَ يَسْمَعُ حِسَّ النِّعَالِ» فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى جَوَازِ الْمَشْيِ فِي النِّعَالِ بِحَضْرَةِ الْقُبُورِ، وَبَيْنَ ظَهْرَانَيْهَا.

عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں وہ ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا بے شک میت چاپ محسوس کرتی ہے جب لوگ پلٹتے ہیں پھر وہ بیٹھتی ہے اور کفن اس کی گردن تک رکھا جاتا ہے پھر سوال ہوتا ہے

کثیر یہ عنسبہ کے دادا ہیں اور یہ کثیر بن عبید ہیں

بغوی کہتے ہیں کہ قول بے شک میت چاپ محسوس کرتی ہے اس میں دلیل ہے چپل پہن کر قبروں کے پاس چلنے کے جواز کی اور ان کے درمیان

بغوی نے چاپ محسوس کرنے کی روایت کو استثنا نہیں کہا بلکہ قبرستان میں کبھی بھی قبروں پر چلنے کی اس سے دلیل لی – یاد رہے کہ صحیح عقیدہ ہے کہ المیت  لا یحس و لا یسمع میت نہ سنتی ہے نہ محسوس کرتی ہے

راقم کہتا ہے کثیر بن عبید  مجہول الحال ہے اس پر نہ جرح ہے نہ تعدیل ہے – اس کا ترجمہ  كثير ابن عبيد رضيع عائشة کے نام سے امام  البخاري نے تاریخ الكبير    میں قائم کیا ہے   ابن أبي حاتم  نے الجرح والتعديل” 7/ 155  میں اس کا ذکر کیا ہے لیکن کوئی تعدیل نہیں کی ہے – ابن حبان نے حسب روایت اس مجہول کو ثقہ قرار دے دیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

20 − one =