حدیث سمرہ (رض) پر نگارشات

ڈاکٹر عثمانی رحمہ اللہ علیہ نے صحیح بخاری کی حدیث سمرہ بن جندب کو الوحی تسلیم کیا ہے کیونکہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب ہے اور انبیاء کا خواب الوحی کی قسم میں سے ہے – اس کے بر عکس  فرقوں  نے اس  خواب کو  الوحی ماننے سے انکار کیا اور اس حدیث کو عذاب قبر کی کتب میں نکال دیا ہے – اگرچہ سن ٨٠ کی دہائی سے قبل وہ بھی اس  حدیث کو عذاب جہنم  یا عذاب البرزخ کے طور پر اپنے فتووں میں لکھتے رہے ہیں

حدیث سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ    جو صحیح البخاری میں موجود ہے وہ یہ  ہے

اس  کے شروع میں برزخی اجسام پر عذاب کا ذکر ہے جو جہنم میں ہو رہا ہے اور اس کو ارض مقدس کہا گیا ہے پھر اسی ارض مقدس میں انبیاء و شہداء کا ذکر ہے ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ہے اور اسی ارض مقدس میں بادل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے  برزخی مقام کا ذکر ہے

لیکن اس حدیث  کے شروع کے حصے کا سب اہل حدیث انکار کرتے ہیں کہ

ارض مقدس ملک  شام ہے آسمان نہیں

ارض مقدس میں عذاب ممکن نہیں

ارض مقدس میں عذاب خواب میں دیکھا یہ خواب تمثیلی تھا وغیرہ وغیرہ

لیکن جب اس کے آخری حصے پر اتے ہیں تو بعض  اسی ارض مقدس کو آسمان میں نبی کا گھر قرار دیتے ہیں مثلا زبیر علی زئی نے توضح الاحکام میں لکھا ہے

یعنی سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں  انبیاء و شہداء کے حوالے سے ارض مقدس سے مراد عالم برزخ و عالم الارواح ہے  یعنی جنت  کا دور

جنت فرقوں کے نزدیک بھی آسمان میں ہے  جس سے ثابت ہوا کہ ارض مقدس  سے مراد عالم بالا ہے لیکن اہل حدیث مولوی  دامانوی   کتاب عذاب القبر میں لکھتے ہیں

مگر اس حدیث میں بھی وضاحت ہے کہ آپ کو الارض المقدس میں لے جایا گیا جہاں مختلف مناظر کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشاہدہ فرمایا اور یہ تمام واقعات آپ نے زمین ہی ملاحظہ فرماتے اور یہی کچھ ہم کہنا چاہتے ہیں کہ قبر کا عذاب اسی ارضی قبر میں ہوتا ہے

اہل حدیث مولوی    رفیق طاہر تقریر  اعادہ روح اور عذاب قبر وبرزخ میں کہتے  ہیں

یہ واقعہ خواب کا ہے اور کیا ہے کہ دو بندے آپ کے پاس آئے۔ ”فاخرجاني الی الارض المقدسة“ وہ مجھے لے کر ارض مقدسہ کی طرف گئے۔ اب کوئی پوچھے کہ ارض کا معنی آسمانوں والا گھر کرنا ، یہ دین کی خدمت ہے؟ یہ کون سی فقاہت ہے؟ نبی فرمارہے ہیں کہ وہ مجھے لے کر ارض مقدسہ کی طرف گئے۔ واقعہ بھی خواب کا ہے ، اور لے کر کہاں جارہے ہیں؟ ”الى الارض المقدسة“ ارض مقدسہ کی طرف۔ اور وہاں پر نبی نے اوپر اپنا گھر دیکھا اور کہا گیا کہ یہ آپ کا گھر ہے۔ اور یہ کہہ رہے ہیں کہ آسمانوں والے گھر میں ہیں۔ یا للعجب! بڑی عجیب اور حیرانی کی بات ہے۔یہ اعتراض بھی ان کا حدیث کے شروع والے الفاظ پڑھتے ہی ٹوٹ جاتا ہے۔ اور ان کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے۔

راقم کہتا ہے کہ ایک اہل حدیث اسی حدیث کو عالم بالا پر  لگا رہا ہے تو دوسرا  اسی کا مذاق اڑا رہا ہے کہ یہ کون سی دینی خدمت ہے

 رفیق طاہر صاحب، اعادہ روح اور عذاب قبر وبرزخ میں لکھتے ہیں

اور پھر رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو یہ نہیں کہا جا رہا ہے کہ آپ فرما رہے ہیں کہ انہوں نے کہا “إِنَّهُ بَقِيَ لَكَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ فَلَوْ اسْتَكْمَلْتَ أَتَيْتَ مَنْزِلَكَ” یقینا آپکی کچھ عمر باقی ہے اگرآپ وہ پوری کر لیں گے تو آپ اپنے گھر میں آ جائیں گے۔ مرنے کے بعد ہی اخروی گھر جنت یا جہنم میں انسان جاتا ہے ۔ لیکن فورا بعد یا کچھ دیر بعد ‘ اسکا کوئی تذکرہ اس حدیث میں موجود ہی نہیں ہے ۔

اس کے برعکس ابو جابر دامانوی کتاب عذاب القبر میں لکھتے ہیں

جناب سمرہ بن ـجذب رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا خواب بیان فرماتے ہیں اس حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت میں اپنا گھر دکھایا جاتا ہے آگے کے الفاظ یہ ہیں (جناب جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں کہ :۔

 ذرا اپنا سر اوپر اٹھائیے ۔میں نے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے) اپنا سر اٹھایا تو میں نے اپنے سر کے اوپر ایک بادل سا دیکھا ۔ان دونوں نے کہا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر ہے ۔میں نے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے) کہا کہ مجھے چھوڑ دو کہ میں اپنے گھر میں داخل ہو جائوں ۔ان دونوں نے کہا کہ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کا کچھ حصہ باقی ہے جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا نہیں کیا ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پورا کر لین تو اپنے اس گھر میں آ جائیں گے ۔ (صحیح و بخاری ‘عذاب قبر ص

 ان احادیث سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی روحوں کا جنت میں ہونا معلوم ہوتا ہے۔

معلوم ہوا کہ اہل حدیث میں سے بعض  اس حدیث کے شروع  کے  متن کا انکار کر کے اس کے آخری کلمات کو قبول کر رہے ہیں اور ان  میں سے بعض سرے سے ہی اس خواب کو الوحی ماننے کے لئے تیار ہی نہیں

نوٹ

اس حدیث سے متعلق آشکالات کا کافی و شافی جواب یہاں موجود ہے

⇑  سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کی روایت کی فرقہ پرستوں کی طرف سے تاویلیں کی جاتی ہیں ان کا کیسے رد کیا جائے

حیات بعد الموت

Leave a Reply

Your email address will not be published.

thirteen − 4 =