اللہ کے نبی صلی الله علیہ و سلم نور یا بشر

 تحریر : ابو عفان

قرآن و حدیث اور بریلوی مذهب کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ھوگا یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے بلکل اجنبی ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں قرآن و حدیث کے اسلام کی بنیاد توحید ہے دین اسلام میں صرف اور صرف ایک الہ کا تصور اور تیقن ہے الله اکیلا الہ ہے اسکا کوئی ساجھی کوئی شریک نہیں،نہ اسکی ذات میں نہ اسکی صفات میں نہ اسکی مثل کوئی ہے نہ اسکی مانند ہر لحاظ سے یکتا و یگانہ ہے تمام تر عبادات اور مراسم عبودیت اس ہی کے لئے ہیں نماز،روزہ،زکواة،حج جس طرح اس کے لیے ہیں دعا،پکار اسی سے اور نذر و نیاز اسی کے لئے ہیں وہی دینے والا ہے اسی سے مانگنا چاہیے قرآن و حدیث کے دین اسلام کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ مصیبت،پریشانی،تکلیف اور ہر قسم کی حاجت میں مدد صرف الله سے مانگنی چاہیے جبکہ بریلویت میں اس کے برعکس غیرالله سے مدد مانگنا غیراللہ سے استمداد چاہنا ہی اصل دین ہے انبیا،اولیا،صلحا،شہدا ہر ایک سے استمداد اور استعانت اس مذہب بریلویت کا خاصہ اور لازمہ ہے ہر وقت غیرالله کی پکاریں لگانا ہر دم ان کی دہائیاں دینا ان کا محبوب مشغلہ ہے ان کے ہاں ان کا ہر پیشوا مرنے کے بعد پنہچا ہوا بزرگ سمجھا جاتا ہے اس کا مزار اور مقبرہ بنا کر اس کے ساتھ وہ معاملات شروع کردیے جاتے ہیں جو صرف الله کے گھر خانہ کعبہ کے ساتھ ہی جائز ہیں اس طرح ان کے معبودوں کا سلسلہ روز بہ روز بڑھتا جاتا ہے یہ اور بات ہے تمام تر مراسم عبودیت بجا لانے کے باوجود انہیں وہ معبود نہیں کہتے پہنچے ہوے بزرگ اور مقربان بارگاہ الہی قرار دیتے ہیں اپنے جیسے انسانوں کو جب اس درجہ پر مامور کرا جاتا ہے تو لا محالہ ان میں بے شمار انہونی صفات تصور کی جاتی اور انہیں قدرت و اختیار کا حامل گردانا جاتا ہے ان کے متعلق بے سروپا افسانے تراشے جاتے ہیں اور من گھڑت قصّوں سے ان کی شان و توقیر بڑھائی جاتی ہے عوام – عوام کلانعام کے مصداق ان من گھڑت قصّوں کہانیوں کی بدولت ان سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں اس طرح یہ دین مسلسل پھلتا پھولتا نظر آتا ہے انسانوں میں یہ انہونی صفات، ما فوق الفطری قوت و اختیار ماننے کا رجحان اتنا زود ہضم،اتنا پاپولر کیسے ہو گیا ہے جبکہ قرآن و حدیث کا دین اسلام اس کے بلکل برعکس ہونے کے ساتھ ساتھ اس طرح کی تمام تر ہفوات کو بڑی شدّت سے رد کرتا ہے ان کو کفر و شرک قرار دیتا ہے اسلام کا اقرار قرآن و سنّت کو ماننے کے دعوے کے باوجود کفر و شرک سے والہانہ وابستگی غیر جانبدار مطالعہ کرنے والے کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے مگر مسلک اور تعصب کی عینک لگے عقل و خرد سے بے نیاز لوگوں کو اس کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا اس کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں ایک وجہ یہ بھی ہے، بے شمار الہ تراش لینے میں سب سے زیادہ آسانی انہیں اس وجہ سے ہوئی ہے کہ انھوں نے سب سے پہلے الله کے رسول اسکے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے متعلق بہت سے عجیب و غریب گمراہ کن عقائد گھڑ کر عام کر دیے ہیں الله کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت کے نام سے ان کو عوام میں خوب پزیرائی ملی ساتھ ساتھ اس میں صحابہ کرام رضی الله عنھم کو بھی اس سلسلے میں شامل کیا گیا اس طرح اولیا ، صلحا ،شہدا سے ہوتا ہوا یہ سلسلہ ایسا چلا کہ اب ان کا ہر بزرگ کسی نہ کسی درجہ کا معبود بن جاتا ہے

الله کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے متعلق اس گروہ کثیر نے جو من گھڑت گمراہ کن عقائد عام کیے ہیں ان تمام کا احاطہ کرنا ممکن نہیں مگر ان میں چند نمایاں یہ ہیں

١) الله کے نبی بشر نہیں بلکہ مجسّمہ نور تھے ایسا نور جو الله کے نور سے جدا ہوا

٢) الله کے نبی عالم الغیب تھے

٣ ) الله کے نبی حاضر و ناظر ہیں

٤) الله کے نبی ہر پکارنے والے کی پکار سنتے ہیں اور اجابت فرماتے ہیں

یہ سلسلہ دراز ہے ، مختصراً یہ کہ الله کی صفات میں شاید ہی کوئی صفت ہو جس میں انھوں نے الله کے نبی کو اس کا شریک نہ ٹھرایا ہو

اللہ کے نبی صلی الله علیہ و سلم نور یا بشر

الله کے نبی صلی الله علیہ و سلم کو نور قرار دینا تو ظلم ہے ہی اس سے بڑھ کر ظلم بلکہ ظلم عظیم یہ ہے کہ آپ کو اللہ کے نور سے جدا ہونے والا نور قرار دیا جاتا ہے یہود و نصاریٰ نے علی الترتیب عزیر اور عیسی علیہ السلام کو الله کا بیٹا قرار دیا (العیاذ باللہ ) یہ ایسا ظلم ہے آسمان پھٹ پڑے ، زمین شق ہو جائے ، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں کم ہے اس ظلم عظیم کیلئے وہ نطفے کا واسطہ لائے مگر انھوں نے الله کے نبی کو براہ راست الله کا شریک ٹھہرایا ہے الله کے نبی کو الله کی ذات کا حصہ قرار دے دیا ہے

                     قُلۡ ہُوَ  اللّٰہُ  اَحَدٌ  ۚ﴿۱﴾اَللّٰہُ  الصَّمَدُ ۚ﴿۲﴾ لَمۡ  یَلِدۡ   وَ  لَمۡ  یُوۡلَدۡ ۙ﴿۳﴾ وَ  لَمۡ  یَکُنۡ  لَّہٗ   کُفُوًا  اَحَدٌ﴿۴

آپ کہہ دو کہ وہ الله اکیلا ہے ، اللہ بے نیاز ہے نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کا ہمسر و ہم ذات ہے

مگر ذات کا شرک اس میں سب سے زیادہ ھولناک اور بھیانک ہے الله کے نبی کو الله کے نور سے ٹھرانا یہی ذات کا شرک ہے الله تو وہ ہے جس کی کوئی مثل نہیں لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ ( شوریٰ ١١ ) الله کے نبی کو الله کے نور سے جدا ہونے والا نور ماننے والے محض ذات کا شرک ہی نہیں کرتے بلکہ الله کو بھی نور سمجھتے ہیں حالانکہ الله تو نور کا خالق ہے یعنی نور اس کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے

سوره الانعام کی پہلی آیت ہے

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوۡرَ

تمام تر تعریف الله کیلئے ہے جس نے زمین اور آسمان بنائے ، نور اور تاریکیاں پیدا کیں

  کیسی ستم ظریفی ہے جس نے نور کو پیدا فرمایا اس خالق کو ہی نور کا قرار دے دیا جائے نور اور تاریکی اس کی ادنی مخلوق ہے یہ بڑی جسارت ہے کہ خالق کائنات کو کسی ادنی مخلوق سے ملایا جائے یا تشبیہ دی جائے ایک طرف اسلام کا دم بھرنا قرآن و سنّت کو ماننے کا دعویٰ کرنا اور دوسری طرف اسلام کی بنیاد ہی کو بیخ و بن سے اکھاڑ ڈالنا یہ بریلویت کا خاصہ ہے الله کو نور کا بتانا نبی کو اس نور کا حصہ یا ٹکڑا کہنا محض بریلویت کا شاخسانہ نہیں دیوبند مکتب فکر نے بھی اس میں اپنا پورا حصہ ڈالا ہے ایسا کیوں نہ ہو ان دونوں کے مشترکہ پیشوا امام ربانی مجدد الف ثانی کہہ گئے ہیں

زمین و آسمان کو انہی ( نبی آخرالزمان صلی الله علیہ وسلم ) کی طفیل پیدا فرمایا ہے کما وردہ ،جاننا چاہیے کہ پیدائش محمدی تمام افراد و انسان کی پیدائش کی طرح نہیں  بلکہ افراد عالم میں سے کسی فرد کی پیدائش کے ساتھ نسبت نہیں رکھتی کیوں کہ آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ  وسلم باوجود عنصری پیدائش کے حق تعالی کے نور سے پیدا ہوے ہیں جیسے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے خلقت من نور الله ( میں الله تعالی کے نور سے پیدا ہوا ہوں ) اور دوسروں کو یہ دولت میسر نہیں ہوئی      ترجمہ مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی صفحہ ٢٦٦

بڑے جب فرما دیں ان کے معتقدین کی کیا مجال ہے اس سے انحراف کریں مگر بریلویوں کی طرف سے اس کا بہت پرچار کیا جاتا ہے

الله کی بے شمار مخلوقات ہیں موضوع کے اعتبار سے فرشتے ، اور جن و انس ہی وہ عاقل مخلوق ہیں جن کی اگر قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت کر دی جائے تو نور و بشر کے خود ساختہ موضوع کی قلعی کھل جاتی ہے

الله تعالی خالق ہے باقی سب مخلوق ہیں

قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ   الرعد ١٦  کہہ دو الله ہر چیز کا خالق ہے

اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ    الزمر ٦٢    اللہ ہر چیز کا خالق ہے

وہ اکیلا خالق ہے باقی سب مخلوق ہیں انبیا ، اولیا ، صلحا ، شہدا ،صددقین ، فرشتے اور جن و انس   غرض برگزیدہ شخصیات ہوں یا عام انسان سب اس کی مخلوق ہیں اس کی مخلوق میں جن و انس مکلف ہیں ان کی تخلیق کا ذکر قرآن میں خصوصیت سے کیا گیا ہے اور انسان کی تخلیق کو تو بڑی ہی شرح و بسط سے بیان کیا گیا ہے فرشتے بھی عباد الرحمن ہیں مگر وہ مکلف نہیں وہ تو جو حکم ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے

فرشتے

 قرآن سے معلوم ہوتا ہے فرشتوں کو الله تعالی نے انسان سے پہلے پیدا فرمایا

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً   البقرہ ٣٠

اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں

اور حدیث میں ہے

عن عائشة قالت   قال رسول الله صلى الله عليه و سلم خلقت الملائكة من نور وخلق الجان من مارج من نار وخلق آدم مما وصف لكم      مسلم    كتاب الزهد والرقائق      یعنی رسول الله صلى الله عليه و سلم نے فرمایا   فرشتے نور سے پیدا کے گئے ، اور جنات آگ کی لپٹ سے اور آدم علیہ السلام اس سے جس کا قرآن میں بیان کردیا گیا ہے

جنات

 جنات کو اللہ تعالی انسان سے قبل آگ سے پیدا فرمایا

وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ           الحجر ٢٧  اور اس (انسان ) سے پہلے جنات کو ہم نے لو والی آگ سے پیدا کیا

وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ          الرحمن ١٥  اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا

انسان

قرآن کریم میں انسان کی نہ صرف اولین تخلیق اور پیدائش کو تفصیل سے بیان کیا گیا بلکہ اس کی بھی تفصیل کی ہے کہ اولین تخلیق کے بعد کس طرح نسل انسانی آگے بڑھی کن کن مراحل سے گزر کر جیتا جاگتا انسان وجود میں آتا ہے

الله تعالی نے انسان کی اولین تخلیق مٹی سے کی

وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ              سجدہ ٧

اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا مٹی سے کی

وَمِنْ آَيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ         الروم ٢٠

الله کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب انسان بن کر (چلتے پھرتے ) پھیل رہے ہو

سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا مٹی سے انکا پتلا بنا کر اس میں روح پھونکی گئی  حجر ٢٦ تا ٣٣ اور البقرہ ٣٠ تا ٣٤

انسان کے جد امجد آدم علیہ السلام سے ہی ان کی زوجہ، اماں حوا کو پیدا کیا گیا آدم و حوا کی اس جوڑی سے نسل انسانی آگے بڑھی

 يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا         نسا ١

اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا       الحجرات ١٣

لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو

نسل انسانی کے اس پھیلاؤ کی عادت جاریہ کے تحت ہی جزیرہ نما عرب میں قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو ہاشم میں منصوبہ الہی کی تکمیل میں عبدالله کے گھر آمنہ کے بطن سے الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی دوسرے انسانوں کی طرح آپ کے ماں باپ کے علاوہ رشتے ناطے تھے عزیز و اقارب تھے آپ نے نکاح بھی کیے اور آپ کے ہاں اولادیں بھی ہویں آپ کھاتے پیتے بھی تھے سوتے بھی تھے کبھی بیمار بھی ہوتے  غرض جتنے انسانی معاملات ہوتے ہیں سب آپ میں موجود تھے اعلان نبوت سے قبل آپ وہاں کی ایک پروقار اور با وصف شخصیت تھے امین و صادق کے لقب سے معروف تھے  اعلان نبوت کے سلسلہ میں فرمایا گیا

جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ       التوبہ ١٢٨

دیکھو! تو لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو تم ہی میں سے ہے

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ        الجمعه ٢

وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا

اور ایسا اس دفعہ ہی نہیں ہوا کہ انسانوں میں سے ہی ایک انسان کو نبی بنایا گیا ہو بلکہ اس سے پہلے بھی جتنے انبیا و رسل انسانوں میں مبعوث ہوے وہ سب کے سب انسان اور مرد ہی تھے نوح علیہ السلام وہ پہلے نبی ہیں جو کسی قوم کی طرف بھیجے گئے

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ        المومنون ٢٣ اور بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا

معلوم ہوا نوح علیہ السلام اپنی قوم کی طرف بھیجے گۓ یعنی وہ اس قوم کے ہی ایک فرد تھے اور جب الله کا عذاب اس قوم کے اوپر آیا تو الله تعالی نے دوسری قوم کو اٹھایا اور اس میں سے بھی ان ہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا

ثُمَّ أَنْشَأْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْنًا آَخَرِينَ (31) فَأَرْسَلْنَا فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ      المومنون ٣١،٣٢

ان کے بعد ہم نے ایک دوسرے دور کی قوم اٹھائی   پھر ان میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا

           وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ       الانبیا ٧

اور (اے نبی)تم سے پہلے بھی ہم نے مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے

گزشتہ اقوام میں سے انبیا و رسل کے انکاری اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کا جواز ہی یہ پیش کرتے تھے یہ کیسا نبی ہے جو ہماری طرح کا انسان ، ہماری طرح کا بشر ہے بازاروں میں چلتا ہے ، کھاتا پیتا ہے،ہمارے اوپر کوئی فرشتہ کیوں نازل نہیں کیا گیا وغیرہ

گزشتہ قوموں نے نبی کو نبی نہ ماننے کے لئے بشریت کو جواز بنایا اور آج اس امّت میں نبی کو نبی ماننے کے لئے اس کی بشریت کا انکار کردیا اور انہیں نور یا مجسّمہ نور قرار دے ڈالا   دونوں میں کس قدر مماثلت ہے  اور حیرت انگیز ہے دونوں ہی بشریت کو نبوت میں مانع قرار دیتے ہیں

الله کی کتاب قرآن مجید نے اس باطل عقیدہ اور خود ساختہ نظریے کی پوری طرح تردید کرکے تشکیک کے تمام دروازے بند کردیے ہیں اور زبان نبوت  سے بڑے واشگاف الفاظ میں اعلان کروا دیا گیا

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ         کہف ١١٠

اے نبی کہہ دو کہ میں تو تمہی جیسا ایک انسان ہوں(ہاں )  میری طرف وحی کی جاتی ہے

                                           قرآن کے بعد احادیث پر بھی نظر ڈال لی جاۓ

 قال   النبي صلى الله عليه و سلم   لا أدري   زاد أو نقص فلما سلم قيل له يا رسول الله أحدث في الصلاة شيء ؟ قال ( وما ذاك )   قالوا صليت كذا وكذا فثنى رجليه واستقبل القبلة وسجد سجدتين ثم سلم   فلما أقبل علينا بوجهه قال ( إنه لو حدث في الصلاة شيء لنبأتكم به ولكن إنما أنا بشر مثلكم أنسى كما تنسون فإذا نسيت فذكروني وإذا شك أحدكم في صلاته فليتحر الصواب فليتم عليه ثم ليسلم ثم يسجد سجدتين )     بخاری کتاب الصلاة

عبدالله نے فرمایا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے نماز پڑھی ابراہیم نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ نماز میں زیاتی ہوئی یا کمی پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ سے کہا گیا یا رسول اللہ کیا نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے آپ نے فرمایا آخر بات کیا ہے لوگو نے کہا آپ نے اس طرح نماز پڑھی ہے پس آپ نے اپنے دونو پاؤں سمیٹ لئے اور قبلہ کی طرف رخ کر لیا اس کے بعد دو سجدے کئے اور سلام پھیرا ، جب (نماز سے فارغ ہوکر)ہماری طرف متوجہ ہوے تو آپ نے فرمایا کہ اگر نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہوتا تو میں آپ کو پہلے ہی بتا چکا ہوتا لیکن میں تو تمہارے ہی جیسا انسان ہوں جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھولتا ہوں اس لیے جب میں بھول جایا کروں تو تم مجھے یاد دلا دیا کرو

أم سلمة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه و سلم أخبرتها: عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه سمع خصومة بباب حجرته فخرج إليهم فقال ( إنما أنا بشر وإنه يأتيني الخصم فلعل بعضكم أن يكون أبلغ من بعض فأحسب أنه صدق فأقضي له بذلك فمن قضيت له بحق مسلم فإنما هي قطعة من النار فليأخذها أو فليتركها ) – بخاری کتاب المظالم

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی زوجہ ام سلمہ رضی الله عنہا نے خبر دی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے حجرے کے دروازے کے سامنے جھگڑے کی آواز سنی اور جھگڑا کرنے والوں کے پاس تشریف لائے. آپ نے ان سے فرمایا کہ میں بھی ایک انسان ہوں اس لیے جب میرے یہاں کوئی جگھڑا لے کر آتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ (فریقین میں سے) ایک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ فصیح و بلیغ ہو اور میں (اس کی زور تقریر اور مقدمہ کو پیش کرنے کے سلسلے میں موزوں ترتیب کی وجہ سے )یہ سمجھ لوں کہ سچ وہی کہہ رہا ہے اور اس طرح اس کے حق میں فیصلہ کردوں.اس لیے میں جس شخص کے لئے بھی کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کردوں(غلطی سے)تو دوزخ کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے ،چاہے تو وہ اسے لے لے ورنہ چھوڑ دے

اس کے علاوہ بھی مختلف مواقع پر الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنے بشر ہونے کا ذکر فرمایا جیسے رافع بن خديج فرماتے ہیں کہ

قال قدم نبي الله صلى الله عليه و سلم المدينة وهم يأبرون النخل يقولون يلقحون النخل فقال ما تصنعون ؟ قالوا كنا نصنعه قال لعلكم لو لم تفعلوا كان خيرا فتركوه فنفضت أو فنقصت قال فذكروا ذلك له فقال إنما أنا بشر إذا أمرتكم بشيء من دينكم فخذوا به وإذا أمرتكم بشيء من رأي فإنما أن بشر قال عكرمة أو نحو هذا قال المعقري فنفضت ولم يشك — مسلم

رافع بن خدیج رضی الله تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے .اور لوگ کھجوروں کا قلم لگارہے تھے یعنی گابہ کررہے تھے آپ نے فرمایا تم کیا کرتے ہو. انھوں نے کہا ہم ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں، آپ نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو شاید اچھا ہو گا. لوگو نے پیوند کاری کرنا ترک کردیا.تو کھجوریں گھٹ گئیں.تو صحابہ کرم نے آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا.آپ نے فرمایا میں تو بشر ہوں جب میں تمہیں دین کی بات بتاؤں تو اس پر کاربند ہو جاؤ.اور جب کوئی بات میں اپنی رائے سے بتاؤں تو میں بھی تو انسان ہوں.عکرمہ بیان کرتے ہیں، یا اس کے مثل اور کچھ فرمایا اور معقری نے فنفضت بغیر شک کے کہا ہے

عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم اللهم إنما أنا بشر فأيما رجل من المسلمين سببته أو لعنته أو جلدته فاجعلها له زكاة ورحمة . -مسلم کتاب البر والصلة

ابوھریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه و سلم نے فرمایا اے الله میں انسان ہوں تو جس مسلمان کو میں برا کہوں یا لعنت کروں یا اسے سزا دوں تو یہ اس کے لیے باعث پاکی اور رحمت بنا دے

یہ زبان نبوت سے نکلے ہوے الفاظ ہیں جس میں آپ نے اپنی بشریت کو لوگوں کے سامنے بیان کر دیا ہے اس سلسلہ میں احادیث اور بھی پیش کی جا سکتی ہیں مگر ماننے والے کے لیے تو قرآن کی ایک آیت بھی کافی ہے اور نہ ماننے والے کیلئے پورا قرآن پورا سرمایہ حدیث بھی نہ کافی ہے الله تعالی  فرماتا ہے    اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ   الحج ٧٥ الله تعالی فرشتوں میں سے بھی پیغام رساں منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی وہ سمیع و بصیر ہے

الله تعالی فرشتوں کو ان کے کام کے لحاظ سے منتخب فرماتا ہے جیسے جبرائیل علیہ السلام کو وحی یعنی پیغام رسانی کیلئے منتخب کیا گیا اسی طرح دیگر فرشتوں کو اور انسانوں میں سے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کیلئے چونکہ زمین پر انسان بستہ ہے اسکی ہدایت و رہنمائی کے انسان ہی نبی و رسول ہوسکتا ہے

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَى إِلَّا أَنْ قَالُوا أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَسُولًا     قُلْ لَوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَسُولًا   بنی اسرئیل ٩٤،٩٥

اور لوگوں کے سامنے جب کبھی ہدایت آئی تو اس پر ایمان لانے سے ان کو  کسی چیز نے نہیں روکا مگر ان کے اسی قول نے کہ ” کیا الله نے بشر کو پیغمبر بنا کر بھیج دیا ؟ ان سے اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو ان کے لئے پیغمبر بناکر بھیجتے

فرشتے نوری مخلوق ہیں الله نے انہیں نور سے تخلیق فرمایا ہے انسان خاکی مخلوق ہے الله نے اسکو مٹی سے پیدا کیا ہے انسان افضل المخلوقات ہے

    وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آَدَمَ    بنی اسرئیل ٧٠  یعنی  یقینا ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی

  انسان کے جد امجد آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد انسان کے شرف اور فضیلت کیلئے نوری مخلوق فرشتوں کو آدم کے آگے سجدے کا حکم دیا گیا نوری مخلوق کا خاکی مخلوق کے آگے جھکنا خاکی مخلوق کی فضیلت اور برتری ہی تو ہے چناچہ یہ لوگ نبی علیہ السلام کو نوری قرار دے کر آپ صلی الله علیہ وسلم کی کوئی قدر و منزلت نہیں بڑھارہے بلکہ الٹا تنقیص کا سبب بن رہے ہیں العیاذ باللہ

نبی صلی الله علیہ وسلم کو نوری قرار دینے والوں کے پاس اپنے اس خود ساختہ نظریے کے حق میں قرآن و حدیث سے کوئی ایک بھی دلیل موجود نہیں ہے دلیل آئے بھی تو کہاں سے آئے قرآن و حدیث نے تو آپ صلی الله علیہ وسلم کی بشریت کو نہ صرف پیش کیا ہے بلکہ اس کو ہر ہر پہلو سے واضع کردیا ہے شاید ہی کوئی گوشہ ہو جو روشن نہ کردیا گیا ہو اس صورت حال میں نبی صلی الله علیہ وسلم کو نور یا مجسم نور قرار دینا ، بشر تسلیم نہ کرنا قرآن و حدیث کا کھلا انکار ہے اس انکار کو چھپانے کیلئے قرآن کے مقابلہ میں سمجھ میں نہ آنے والا فلسفہ پیش کرتے ہیں کبھی کہتے ہیں انبیا کی ارواح و بواطن بشریت سے بالا اور ملاء اعلی سے متعلق ہیں کبھی کہتے ہیں آپ کی بشریت کا وجود اصلا نہ رہے اور غلبہ انوار حق آپ پرعلی الدوام حاصل ہو وغیرہ بھلا قرآن کی محکم اور صریح آیات کے سامنے اس بے تکے فلسفے کی کیا حثیت ہے اس کے قائلین کو اس پر غور کرنا چاہیے کہ قرآن کی آیات پر ایمان لانا بہتر ہے یا اس فلسفے پر ؟

ان کی طرف سے اپنے نوری نظریے کے حق میں مسلہ زیر بحث سے غیر متعلق  قرآن کی بعض آیات بھی پیش کی جاتی ہیں مثلا

 قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ     المائدہ ١٥ تمہارے پاس الله کی طرف سے نور اور واضع کتاب آچکی ہے

ان کا اس آیت سے استدلال یہ ہے کہ اس آیت  میں نور سے اللہ کے نبی صلی الله علیہ وسلم مراد ہیں

اس آیت کا مطالعہ کرنے والا دیکھ سکتا ہے کہ اس میں اللہ کے نبی کے نور ہونے کی کوئی صراحت نہیں ہے جس طرح آیت قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ میں الله کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق صاف و صریح بیان ہوا ہے اس آیت کے مقابلہ میں اپنے خیالی استدلال کو لانا حد درجہ کی جہالت یا ہٹ دھرمی ہے قرآن کا یہ اعجاز ہے کہ اس سے جب کوئی غلط یا باطل استدلال کرتا ہے تو قرآن کی دیگر آیات اس کا راستہ مسدود کردیتی ہیں بریلویت کے اس استدلال کا دیگر آیات سے محاسبہ سے قبل اس آیت کو سیاق و سباق کے ساتھ زیر مطالعہ لائیں تو بھی اس کا غلط ہونا ظاہر ہوجاتا ہے

  يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِمَّا كُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ     المائدہ ١٥ ، ١٦

اے اہل کتاب یقینا تمہارے پاس ہمارا رسول آچکا جو تمہارے سامنے کتاب الله کی بکثرت ایسی باتیں ظاہر کررہا ہے جنھیں تم چھپارہے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے،تمہارے پاس الله تعالی کی طرف سے نور واضح کتاب آچکی ہے جس کے ذریعه سے الله تعالی ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے حکم سے ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے اور سیدھی راہ کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے

ذرا غور سے پڑھیے نور یعنی روشنی آجانے کے ذکر سے پہلے رسول کے آجانے کا باقاعد ذکر کردیا گیا ہے  رسول جو کچھ لاتا ہے اسے روشنی سے تعبیر کیا گیا ہے روشنی اور واضح کتاب کے آجانے کے بعد کہا گیا ہے  يَهْدِي بِهِ اللَّهُ اس کے ذریعہ سے الله تمہیں ھدایت کی راہ دکھاتا ہے اسکے    ذریعہ میں ضمیر واحد آئی ہے جس سے از خود واضح ہوتا ہے کہ نور و کتاب دونوں ایک ہیں اگر یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہوتیں تو ضمیر تثنیہ کی آتی جبکہ ایسا نہیں یعنی نور و کتاب کے درمیان آنے والا واو تفسیری ہے

اب ذرا قرآن کی دیگر آیات کو سامنے رکھیے معلوم ہوگا نور سے مراد وہ ہدایت وہ روشنی ہے جو لوگوں کیلئے الله کی طرف سے نازل کی جاتی رہی ہے سورہ نسا میں آتا ہے    يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُبِينًا       نسا ١٧٤    اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سند اور دلیل آپہنچی اور ہم نے تمہاری جانب واضح اور صاف نور اتارا دیا ہے

یہاں پر بھی واضح نور نازل کرنے کی بات کی گئی ہے نازل کرنے کے الفاظ بتارہے ہیں کہ الله کا دین اسکی ہدایت ہے جوالله نے وحی کے ذریعہ لوگوں کی رہنمائی کیلئے کمال شفقت سے نازل فرمائی ہے اور سورہ تغابن میں ارشاد ہوتا ہے

 فَآَمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنْزَلْنَا وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ      تغابن ٨    سو تم الله پر اور اسکے رسول پر اور اس نور پر جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان لاؤ اور الله تعالی تمہارے ہر عمل پر باخبر ہے

اس آیت میں بھی الله اور اسکے رسول کے علاوہ اس نور پر بھی ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے جو الله نے نازل فرمایا ہے معلوم ہوا کہ الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کی بشریت کا انکار کرنے والوں کا

استدلال قرآن کی دیگر آیات سے مطابقت رکھنا تو درکنار الٹا ان سے براہ راست متصادم ہے

انکی دوسری دلیل یہ کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو قرآن میں  سِرَاجًا مُنِيرًا  کہا گیا ہے  سِرَاجًا مُنِيرًا کے معنی ہیں روشن چراغ یا چمکتا آفتاب  الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کو روشن چراغ کہا گیا اس میں کوئی شک نہیں مگر اس سے آپ کی بشریت کا انکار کیونکر ممکن ہے؟ اور اس سے آپ صلی الله علیہ وسلم وجودی اعتبار سے نور کس طرح ثابت ہوتے ہیں ؟ یہ سمجھ سے بالا تر ہے کفر و شرک ، گمراہی و ضلالت کے اندھیروں میں آپ کی بعثت یقینا روشن چراغ ،چمکتا آفتاب ہے جس سے کفر و شرک کا گھٹاٹوپ اندھیرا چھٹا ، گمراہی و ضلالت کی تاریکی دور ہوئی رشد و ہدایت کی راہیں روشن ہوئیں ،حق واضح ہوا،آپ کا روشن چراغ ہونا ان معنوں میں ہے اور بریلویت کے ترجمان کنزالایمان میں بھی یہی معنی و مفہوم لئے گئے ہیں مگر اپنی روایتی لفاظی کے ساتھ جو چاہے رجوع کرکے دیکھ سکتا ہے

قرآن کی آیات کے علاوہ بعض روایات بھی انکی طرف سے پیش کی جاتی ہیں مگر انکی اکثریت کی حثیت محض قصّوں کہانیوں کی ہے قرآن و حدیث کے مقابلے میں ان کی کیا حثیت ہوسکتی ہے ظاہر ہے البتہ ایک دو روایات ایسی بھی ہیں جو صحیح تو ہیں مگر ان سے غلط مفہوم کشید کیا کرتے ہیں

یہ حدیث مثلا

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال   نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الوصال قالوا إنك تواصل قال ( إني لست مثلكم إني أطعم وأسقى    بخاری کتاب الصوم

عبدالله ابن عمر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا تو صحابہ نے عرض کیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں ؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے

اس حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں اس سے آپ کے بشر نہ ہونے اور نور ہونے کا استدلال کرتے ہیں اس حدیث کو ایک دفعہ  بغور پڑھیے آپ نے صوم وصال سے لوگوں کو منع فرمایا تو لوگوں کو حیرانی ہوئی کہ آپ تو ایسا کرتے ہیں اور ہمیں اس سے منع فرما رہے ہیں اس کا جواب آپ نے دیا کہ مجھے تو میرا رب کہلاتا اور پلاتا ہے اس وجہ سے میرا معاملہ تمہاری طرح کا نہیں ہے  اس سے اگلی روایت اور بھی واضح ہے  إني لست كهيئتكم إني أبيت لي مطعم يطعمني وساق يسقين   یعنی میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو رات اس طرح گزارتا ہوں کہ ایک کھلانے والا کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا سیراب کرتا ہے

معلوم ہوا یہ نبی کی خصوصیت تھی اور آپ کی یہی ایک خصوصیت نہ تھی اور بہت سی خصوصیات آپ کو حاصل تھیں، آپ الله کے نبی اور اسکے رسول تھے لوگوں کو چار سے زیادہ شادیوں کی اجازت نہیں مگر آپ کیلئے ایسا نہیں تھا آپ کو جب بخار ہوتا تو اس کی شدت دو انسانوں کو ہونے والے بخار کی طرح ہوتی یعنی عام انسانوں کے مقابلے میں دوگنی تکلیف ہوتی اور اس تکلیف اٹھانے کا اجر بھی دوگنا تھا


حدیث نور پر تفصیلی بحث یہاں ہے

https://www.islamic-belief.net/storage/2018/06/لَا-تَغْلُوا-فِي-دِينِكُمْ.pdf

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.

17 − nine =