العموم و الخصوص ٢

یوسف کو سجدہ کیا یا اللہ کو ؟

قرآن  میں آئی آیات بعض صرف اور صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہیں- ان کو عام کر نے کے نتیجے میں جو موقف اتا ہے وہ خالصتا گمراہی کی طرف لے جاتا ہے

سورہ الحجرات میں ہے

بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَىِ اللّـٰهِ وَرَسُوْلِـهٖ ۖ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ سَـمِيْعٌ عَلِـيْمٌ (1)
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پہل نہ کرو، اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَـرْفَعُـوٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَـهٝ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْـتُـمْ لَا تَشْعُرُوْنَ (2)
اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کیا کرو اور نہ بلند آواز سے رسول سے بات کیا کرو جیسا کہ تم ایک دوسرے سے کیا کرتے ہو کہیں تمہارے اعمال برباد نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔

اللہ اللہ – وہ منحوس گھڑی بھی آئی جب جاہلوں نے ان آیات کو امیر تنظیم پر لگایا اور ناصحین کو چپ کرنے کی کوشش کی
اللہ کا شکر ہے جس نے مجھ کو اس ظلم سے بچا لیا اور مصیبت کو جان کر راقم نے گوشہ نشینی کو پسند کیا

اس کی پاداش میں اس روز کتنے ہی جہنمی ہو گئے ا ن کا عمل حبط ہو گیا

آیات جو خاص تھیں ان کو عام کرنے کا مرض تنظیم کی جڑوں میں اتر چکا ہے – سوره النساء کی آیت ١١٥ پیش کی جاتی ہے

ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيرا

اور جو کوئی رسول کی مخالفت کرے، بعد اس کے کہ اس پر سیدھی راہ کھل چکی ہو اور مسلمانوں کے راستہ کے خلاف چلے، تو ہم اسے اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا ہے اور اسے جهنم میں ڈالیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

یہ آیت اپنے سیاق و سباق میں صرف اور صرف اصحاب رسول کے لئے ہے – لیکن اس کو اپنی تنظیموں پر لگا کر اس کو بلا سند ان آیات کا مصداق قرار دینے سے وہی رعونت جنم لیتی ہے جو یہودیوں میں موجود تھی کہ صرف ہم جنتی ہیں، باقی سب جہنمی ہیں – یہ کام جہلاء کی جہالت کو بڑھا رہا ہے کہ وہ اصحاب رسول سے متعلق آیات کو اس تنظیم پر لگا دیتے ہیں

اللہ کے بندو – اپ پر گر اللہ کا احسان ہوا کہ اپ کو اللہ نے ایمان تک پہنچایا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ایمان کسی اور تک اللہ نہیں پہنچا سکتا
اللہ آپ کو گمراہ بھی کر سکتا ہے کیونکہ وہ انسان کو آزماتا ہے

بہت سے عقائد پر اجماع کا دعوی کیا گیا ہے لیکن  تحقیق میں وہ ثابت نہیں ہیں – ایک عرصۂ سے مولوی اس آیت کو اپنے عقائد پر لگا رہے ہیں کہ عرض عمل ، عود روح ، حیات النبی کا عقیدہ امت میں چلا آ رہا ہے اس پر سبیل المومنین ہے لہذا یہ عقائد اللہ کے منظور کردہ ہیں- عثمانی صاحب نے اسی سوچ کا رد کیا کہ امت اگر گمراہی پر جمع ہو جائے تو اس کی گمراہی حق نہیں بن جاتی – افسوس عثمانی صاحب کی وفات کے چند سالوں میں ہی یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ سبیل المومنین کے نام پر ایک تفسیری رائے کو اس طرح پیش کیا جا رہا ہے کہ گویا وہ من جانب الله ملی ہے اور اگر عثمانی کے نام پر چلتے فرقے سب مل کر ایک غلط موقف اختیار کر لیں تو وہ ہی سبیل المومنین ہے

سورہ یوسف میں ہے کہ یوسف علیہ السلام کا خواب پورا ہوا

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّـٰهُ اٰمِنِيْنَ (99)
پھر جب یوسف کے پاس آئے تو اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں داخل ہو جاؤ اگر اللہ نے چاہا تو امن سے رہو گے۔
وَرَفَـعَ اَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَـهٝ سُجَّدًا ۖ وَقَالَ يَـآ اَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُؤْيَاىَ مِنْ قَبْلُ ؕ قَدْ جَعَلَـهَا رَبِّىْ حَقًّا ؕ وَقَدْ اَحْسَنَ بِىٓ اِذْ اَخْرَجَنِىْ مِنَ السِّجْنِ وَجَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِىْ وَبَيْنَ اِخْوَتِىْ ۚ اِنَّ رَبِّىْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَآءُ ۚ اِنَّهٝ هُوَ الْعَلِيْـمُ الْحَكِـيْـمُ (100)
اور اپنے ماں باپ کو تخت پر اونچا بٹھایا اور اس کے آگے سب سجدہ میں جھک گئے ، اور کہا اے باپ میرے اس پہلے خواب کی یہ تعبیر ہے، اسے میرے رب نے سچ کر دکھایا، اور اس نے مجھ پر احسان کیا جب مجھے قید خانے سے نکالا اور تمہیں گاؤں سے لے آیا اس کے بعد کہ شیطان مجھ میں اور میرے بھائیوں میں جھگڑا ڈال چکا، بے شک میرا رب جس کے لیے چاہتا ہے مہربانی فرماتا ہے، بے شک وہی جاننے والا حکمت والا ہے۔

الفاظ وَخَرُّوْا لَـهٝ سُجَّدًا پر عثمانی صاحب کی تفسیری رائے یہ آتی ہے کہ یہاں سجدہ اللہ تعالی کو کیا گیا – یہ تفسیری رائے چلی آ رہی ہے – البتہ اس کو حتمی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ متن قرآن سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ محض ایک قول کی حیثیت رکھتی ہے – متن قرآن میں له کی ضمیر یوسف علیہ السلام کی طرف جا رہی ہے – اور راقم کہتا ہے ایسا مطلب جو  اہل زبان کو یعنی ایک عام بکری چرانے والے  عرب    کو قرآن سے ملے وہی اصل ہے کیونکہ قرآن قریش کی عربی میں ہے – آسان عربی میں ہے- واضح عربی میں ہے –  اس کے مطلب کو تفسیر و تاویل کر کے صرف آیات متشابھات جو ذات باری تعالی پر ہیں ان  میں سمجھا  جاتا ہے – اس کے سوا یہ کرنا صحیح نہیں ہے – مثلا
اللہ نے کہا
و ھو معکم این ما کنتم
وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو

یہاں مطلب اللہ تعالی کا بذات انسانوں کے ساتھ موجود ہونا اگر لیں تو ہم سب ذات الہی میں حلول کر جائیں گے اور لا فانی ہو جائیں گے – اس بنا پر ان آیات کی تاویل کی جاتی ہے اور ان پر ایمان لایا جاتا ہے کیفیت کی کھوج نہیں کی جاتی

سجدہ کا مطلب عربی میں صرف جھکنا ہے – اس کو نماز کا اصطلاحی سجدہ نہیں سمجھا جاتا – مثلا الصلوہ کا مطلب قرآن میں اکثر اوقات نماز ہے لیکن صلی کا لفظ آیا ہے جس کا مطلب درود بھی ہے –   یہاں یوسف علیہ السلام والے واقعہ میں بھائیوں نے نماز جیسا اصطلاحی سجدہ نہیں کیا بلکہ انحنا کیا یعنی تھوڑا سے جھک کر ان کو مصر کا وزیر تسلیم کیا

حاکم سے ملاقات پر آپ اس کے سامنے تھوڑا جھکیں یہ طریقه کار معروف تھا کہ آپ اگر اسی ملک کے باسی ہوں – اگر اگر آپ کسی دوسرے علاقے کے ہوں اور آپ دوسرے ملک کا سفر کریں تو طریقہ کار یہ تھا کہ اجنبی ملک کے  حاکم سے ملاقات پر آپ کچھ نہیں کریں گے، وہ جان لے گا کہ آپ اس ملک کے نہیں ہیں ، سفیر ہیں یا مسافر ہیں

اس حوالے سے معلوم ہے کہ بعض بادشاہ جو ظالم تھے وہ نماز جیسے سجدہ کا مسافر  کو حکم کرتے  لیکن یہ   منفرد تھے اور اس کو پسند نہیں کیا جاتا تھا

اس میں جب یعقوب علیہ السلام اپنے خاندان کے ساتھ نقل مکانی کر کے مصر میں داخل ہوئے تو انہوں نے وہاں کے مصری  حاکم کی عمل داری کو قبول کیا  اور رسم کے طور پر مصری حاکم کے وزیر یوسف کے سامنے تھوڑا جھکے
قرآن میں اس عمل کو سجدہ کہا گیا ہے لیکن یہاں  سجدہ کا مطلب زمین پر پیشانی لگانا   نہیں ہے – زمین کی جانب تھوڑا سر جھکانے کو بھی سجدہ عربی میں کہا جاتا ہے- نماز نے رکوع، سجدہ وغیرہ کو ایک اصطلاح ضرور بنا دیا ہے لیکن اس سے ان الفاظ کا اصل  لغوی مطلب تبدیل نہیں ہوتا جو مشرکین مکہ کی زبان میں تھا

عربی لغت تاج العروس من جواهر القاموس از الزَّبيدي کے مطابق سجد کا ایک مطلب إِذا انْحَنى وتَطَامَنَ إِلى الأَرضِ زمیں کی طرف جھکنا بھی ہے – لغت مجمل اللغة لابن فارس کے مطابق وكل ما ذل فقد سجد ہر کوئی جو نیچے آئےاس نے سجد کیا
یہ اس کا لغوی مطلب ہے

یوسف کے خواب اور عملی شکل میں آیات میں سجدہ سے مراد لغوی مطلب ہے جو قریش بولتے تھے یہاں سجدہ کا اصطلاحی مطلب مراد نہیں ہے

یوسف کو سجدہ تعظیمی نہیں کیا گیا – یوسف نے جو خواب دیکھا وہ اپنے ظاہر میں مشرکانہ غیر شرعی تھا – لیکن خواب وہ نہیں تھا جو حقیقیت میں ہونا تھا – سجدا کا مطلب سجدہ نماز نہیں ہے یہ عربی کا لفظ ہے قرآن کے نزول سے پہلے سے معلوم ہے اور اس کا مطلب زمین کی طرف لپکنا یا جھکنا ہے – ممکن ہے یہ کیفیت پیدا ہوئی جب بھائییوں نے یوسف کو تخت مصر پر والدین کے ساتھ دیکھا تو نفسیاتی کیفیت ایسی ہوئی کہ شرم سے زمین پر گر گئے یا جیسا کہ کہا ممکن ہے کہ یہ حاکم و وزیر کے سامنے پیش ہونے پر حکومت کی عمل داری تسلیم کرنے کا انداز ہے

سجدہ یوسف علیہ السلام کو کیا گیا یہ متن قرآن میں له کی ضمیر سے معلوم ہے
سجدہ اللہ تعالی کو کیا یہ تفسیر تاویل پر مبنی ہے کہ اصل مفہوم سے ہٹا کر آیت کو الگ طرح سمجھا جائے- ایسا صرف ان آیات پر کیا جاتا ہے جن میں اللہ کا ذکر ہو مثلا
وجاء ربك والملك صفا صفا
أور اللہ آئے گا اور اس کے فرشتے صف در صف

اللہ آئے گا یہ نزول کرے گا ہم تفسیر نہیں کرتے – ہم اس کو بدل کر کہتے ہیں کہ اللہ تجلی کرے گا – وہ نہ مخلوق کے ساتھ اترتا ہے، نہ چڑھتا ہے، نہ ان کے ساتھ چلتا ہے – وہ عرش پر مستوی ہے – اسی عرش کے ساتھ محشر میں ظاہر ہو گا
اللہ فرشتوں کے ساتھ چلتا ہوا نہیں آئے آئے گا-  یہاں اس کی شان کے مطابق ہم مفہوم لیتے ہیں کہ مقصد ظاہری الفاظ نہیں ہیں-  لیکن یہ تاویل کا عمل مخلوق کے ساتھ نہیں کیا جاتا کہ انبیاء کے عمل کو بھی تاویل کر کے تبدیل کیا جائے

عثمانی صاحب کی تفسیری رائے  : خواب والی شکل بنی، یوسف تخت پر تھے 

عثمانی صاحب نے ایک سوال کے جواب میں اس سجدہ پر کہا

دوسری بار کہا

جناب یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں اور والدین نے سجدہ کیا ؟
جواب
نہیں حضرت

وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا ۖ

کہ اللہ نے یہ رحمت فرمائی- اس خاندان پر خَرُّوا لَهُ – له کی ضمیر اللہ کے لئے ہے کہ اللہ کے لئے سجدہ میں گر پڑے
اور جن کا ایمان صحیح نہیں ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم کو بھی ہمارے یہ شاگرد سجدہ کریں
اس لئے یہ تفسیر نہ کر دیں کہ حضرت یوسف کو سجدہ ہے

ڈاکٹر عثمانی رحمہ اللہ علیہ  نے  صوفیوں کے سجدہ تعظیمی کو رد کرنے کے لئے  اس تشریح کو پسند کیا کہ اس سجدہ کو اللہ  کی طرف قرار دیا جائے – اہل طریقت کی باطل تشریحات کا ہم رد کرتے ہیں – لیکن  یہاں عثمانی صاحب کی تفسیر کہ له کی ضمیر اللہ کی طرف ہے اس کا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے  –  عثمانی صاحب نے اس کو نماز جیسا سجدہ سمجھا ہے کیونکہ ان کے ذھن میں صوفیوں  کا عمل ہے کہ کہیں اس آیت  کو سجدہ تعظیمی کی دلیل نہ سمجھ لیا جائے – ان کی فکر اپنی جگہ صحیح ہے کہ صوفیوں  کا سجدہ تعظیمی   نماز کی ہیت کا سجدہ  ہوتا ہے اور اس کو ہر مومن رد کرتا ہے – لیکن قرآن میں یہاں له کی ضمیر  یوسف علیہ السلام ہی کی طرف ہے اور یہ سب خواب کی منظر کشی ہو رہی ہے جو تمثیل کے جامے سے نکل کر حقیقت کا روپ لے رہی ہے – خواب میں دیکھا تھا کہ سورج، چاند، ستارے سب یوسف کو سجدہ کر رہے ہیں – اب یہ حقیقت بنا کہ  یعقوب  علیہ السلام  کے بیٹوں  نے بدوی زندگی کو خیر باد کہا  اور  مصری وزیر (یوسف) کے ساتھ  تحت رہنا قبول کیا  

عثمانی صاحب نے جو منظر کشی کی ہے اس کے تحت یوسف اور ان کے والدین تخت پر ہیں- سامنے ان کے بھائی ہیں – اب سوائے یوسف کے سب اللہ کو سجدہ کرتے ہیں ، جو جہاں ہے وہیں سجدے میں گر جاتا ہے – سجدہ اللہ کو ہو رہا ہوتا ہے لیکن دیکھنے والی آنکھ میں منظر یہ ہے کہ  یوسف  بیچ میں تخت پر ہیں – وہی خواب والی شکل بن جاتی ہے

عثمانی صاحب کا مدعا ہے کہ سجدہ کے وقت وہی خواب والی شکل بنی – جس طرح کعبہ ایک عمارت ہے الله نہیں ہے لیکن اللہ کا حکم ہے کہ اس کو اگر سجدہ کرنا ہے تو کعبه کی طرف رخ کیا جائے – اسی طرح معاملہ نیت کا ہے کہ سجدہ کرتے وقت نیت اللہ کو سجدہ کرنے کی تھی لیکن یوسف بیچ میں کرسی پر بیٹھے تھے وہی خواب والی شکل بن گئی

اگر ہم یہ مان لیں کہ یہ سجدہ نماز جیسا تھا اور الگ سے صف بندی کر کے اللہ کو سجدہ کیا گیا تو خواب والی صورت کبھی بھی نہیں بنتی – راقم کہتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے دور میں قبلہ کا کوئی تصور نہیں تھا – نہ مصر میں موسی علیہ السلام کا کوئی ایک قبلہ تھا بلکہ ہر شہر میں الگ الگ قبلہ مقرر کیا گیا تھا –

وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى وَأَخِيهِ أَنْ تَبَوَّآ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوتًا وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ
اور ہم نے موسی اور اس کے بھائی کو الوحی کی کہ اپنی قوم کے لئے مصر میں گھر کرو اور ان گھروں کو قبلہ بنا لو اور نماز قائم کرو اور مومنوں کو بشارت دو ( سورہ یونس)

یعقوب علیہ السلام یا ان کے بیٹے اللہ کو سجدہ کسی بھی رخ پر کر سکتے تھے – اس طرح عثمانی صاحب کی تشریح ایک اچھی تشریح ہے لیکن راقم کے نزدیک یہ سجدہ نماز جیسا سرے سے ہی نہیں ہے  اور نہ یہان له کی ضمیر اللہ تعالی کی طرف لینے کا کوئی قرینہ ہے

تفسیروں میں خر کے کلمہ پر لکھا گیا ہے

الخرّ: السقوط بلا نظام وبلا ترتيب

بغیر نظم و ترتیب کے نیچے آنا

 بعض لوگ جو اس آیت میں  سجدے کو اللہ کی طرف مانتے ہیں وہ اس کے قائل ہیں کہ سجدہ باقاعدہ صف بنا کر کیا گیا  یہ بات متن قرآن میں نہیں ہے

اسی طرح جو لوگ اس سجدے کو اللہ کی طرف مانتے ہیں وہ اس کے قائل ہیں کہ یوسف علیہ السلام نے بھی سجدہ کیا اور جب وہ سجدے سے اٹھے انہوں نے فرمایا یہ میرے خواب کی تاویل ہے – دوسری طرف عثمانی صاحب کہتے ہیں یوسف تخت پر تھے  اور خواب والی شکل بنی – خواب والی شکل اس صورت میں بالکل نہیں بنتی اگر یوسف علیہ السلام بھی سجدہ کرتے

سجدہ یوسف کو کیا گیا اللہ کے لئے 

یہ تشریح یہ بھی بیان کی جاتی ہے

الأخبار الموفقيات للزبير بن بكار میں ہے کہ ابو بکررضی اللہ عنہ  کی خلافت کا سن کر أَبِي لَهَبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ کی اولاد میں سے کسی نے یہ شعر علی رضی اللہ عنہ کے لیے کہا

أَلَيْسَ أَوَّلَ مَنْ صَلَّى لِقِبْلَتِكُمْ … وَأَعْلَمَ النَّاسِ بِالْقُرْآنِ وَالسُّنَنِ
کیا وہ پہلے نہیں تھے جنہوں نے تمہارے قبلے کے لئے نماز پڑھی؟
اور انسانوں میں قرآن و سنت کے سب سے زیادہ خبر رکھنے والے ہیں

اس شعر میں ہے کہ قبلہ کے لئے نماز پڑھی جبکہ نماز اللہ کے لئے ہوتی ہے – اس سے بعض مفسرین نے دلیل لی ہے کہ وَخَرُّوْا لَـهٝ سُجَّدًا میں له کی ضمیر اللہ کی طرف ہے کہ اللہ کے لئے یوسف کو سجدہ کیا گویا کہ یوسف کو قبلہ مانتے ہوئے ایسا کیا گیا – قرآن میں سورہ بنی اسرائیل میں ہے

أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ ۖ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا
نماز قائم کرو سورج کے غروب کے لئے، سے لے کر رات کے چھا جانے تک اور فجر کا قرآن ! بے شک قرآن فجر کو دیکھا جاتا ہے

یہاں لِدُلُوكِ ہے یعنی ل + دلوک – دلوک کا مطلب غروب ہے اور ل اس میں اضافی ہے کہ سورج کے غروب کے لئے

یہ عربی کا محاوراتی انداز ہے اس کا اردو میں صاف ترجمہ ممکن نہیں ہے – مدعا یہ ہے کہ سورج کے  غروب ہونے کا ہماری نماز سے کوئی براہ راست تعلق نہیں – سورج تو ہر صورت غروب ہو گا لیکن یہاں ل لگنے سے اس وقت کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے –  غور کریں کہ  نماز قائم تو اللہ کے لئے کی جاتی ہے نہ کہ سورج کے غروب کے لئے لیکن کوئی عرب اس کا یہ مطلب نہیں لیتا کہ نماز سورج کے غروب کے لئے پڑھو  – اسی طرح  بعض نے تشریح کی کہ سورہ یوسف میں خروا له سجدا میں ہے کہ یوسف کے لئے سجدہ میں گئے لیکن اللہ کو سجدہ کرنے کی غرض سے – قابل غور ہے کہ ان مفسرین کے نزدیک بھی ضمیر یوسف کی طرف ہے  بس سجدہ اللہ کو ہے کینکہ یہ نیت کا معاملہ ہے – – یوسف کو قبلہ سمجھا گیا

اسی سجدہ کی تعبیر یہ بھی کی جاتی ہے کہ یوسف کو قبلہ سمجھتے ہوئے سجدہ کیا گیا – جس طرح کعبہ مخلوق ہے اور یوسف کو قبلہ سمجھ کر سجدہ کیا گیا – اسی بنا پر اردو میں بر صغیر میں بزرگ کو قبلہ و کعبه کہہ کر مخاطب کیا جاتا تھا   مثلا کسی کو خط لکھا تو شروع میں لکھا :  حضرت قبلہ و کعبه جناب فلاں صاحب  ….. وغیرہ – البتہ یہ ذہن قبول نہیں کرتا کیونکہ انسان کو قبلہ کرنے کا تصور ہم کو مذھب میں معلوم نہیں ہے اور صرف اس آیت سے اس کا استخراج کیا گیا ہے –

متن قرآن کو اردو محاوراتی انداز میں سمجھنا 

سوره یوسف میں بیان ہوا ہے کہ یوسف علیہ السلام نے ایک خواب دیکھا

قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ

اے میرے والد! میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے، میں نے دیکھا وہ مجھے سجدہ کررہے ہیں

ایک بھائی کہتے ہیں اس کا ترجمہ یہ درست ہے

سورة يوسف 4

اِذۡ قَالَ یُوۡسُفُ لِاَبِیۡہِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیۡ رَاَیۡتُ اَحَدَعَشَرَ کَوۡکَبًا وَّ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ رَاَیۡتُہُمۡ لِیۡ سٰجِدِیۡنَ ﴿۴﴾

جب کہ یوسف نے اپنے باپ سے ذکر کیا کہ ابا جان میں نے گیارہ ستاروں کو اور سورج چاند کو دیکھا کہ وہ سب میرے ہاں سجدہ کر رہے ہیں ۔

یعنی یوسف کے گھر میں سجدہ کر رہے ہیں
مثلا
سورة آل عمران 40

قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّ قَدۡ بَلَغَنِیَ الۡکِبَرُ وَ امۡرَاَتِیۡ عَاقِرٌ ؕ قَالَ کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَفۡعَلُ مَا یَشَآءُ ﴿۴۰﴾

کہنے لگے اے میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا؟ میں بالکل بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ، فرمایا اسی طرح اللہ تعالٰی جو چاہے کرتا ہے ۔

راقم کہتا ہے یہ اردو بولنے والوں نے عربی قرآن کو اپنی زبان پر ڈھال کر اس کو بدلا ہے

ہر زبان میں بول چال کا الگ الگ طریقہ ہے – جو محاروے ہم بولتے ہیں وہ عربی میں نہیں ہیں اور جو عربی میں ادب و زبان ہے وہ اردو کا نہیں ہے –  یہاں ایسا ہی ہے – لی کا مطلب عربی میں مجھ کو یا مجھ سے ہے – میرے ہاں اس کا مطلب نہیں ہے – ہمارے ہاں بولنا یہ اردو ہے عربی نہیں ہے مثلا اردو میں ہم کہیں ہمارے ہاں آنا یعنی ہمارے گھر آنا – اس انداز میں عربی میں نہیں بولا جاتا

عربی میں ہے دخل علی
وہ ان پر داخل ہوا
یعنی ان کے حجرے میں یا گھر گیا

صحیح ترجمہ ہے

قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّ قَدۡ بَلَغَنِیَ الۡکِبَرُ وَ امۡرَاَتِیۡ عَاقِرٌ ؕ قَالَ کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَفۡعَلُ مَا یَشَآءُ ﴿۴۰﴾
کہنے لگے اے میرے رب! میرے لئے لڑکا کیسے ہوگا؟ میں بالکل بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ، فرمایا اسی طرح اللہ تعالٰی جو چاہے کرتا ہے ۔

سورہ کہف میں ہے کہ اصحاب کہف نے کہا
وَمَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَعُودَ فِيهَا
اور ہمارے لئے نہیں ہے کہ ہم اب واپس جائیں

اگر لنا کا ترجمہ ہمارے ہاں کر دیں تو ہو گا
وَمَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَعُودَ فِيهَا
اور ہمارے ہاں نہیں ہے کہ ہم واپس جائیں

جبکہ اصحاب کہف کے گھر والے مشرک تھے

محشر میں عیسیٰ علیہ السلام رب العالمین سے دعا کریں گے
قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ
آپ پاک ہیں میرے لئے نہیں ہے کہ سوائے حق کے کچھ کہوں

اگر لی کا ترجمہ “میرے ہاں” کر دیں تو یہ گستاخی کا انداز بن جاتا ہے

لہذا صحیح ترجمہ یہی ہے

قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ

اے میرے والد! میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے، میں نے دیکھا وہ مجھے سجدہ کررہے ہیں

راقم کو حیرت ہوئی کہ ایک گروہ نے اس آیت کو اپنے جدل  کے لئے  تختہ مشق بنایا ہوا ہے لیکن اس پر  اپنے متعدد مضامین میں سے کسی  ایک میں  بھی انہوں نو اس آیت کا مکمل  ترجمہ کرنے کی جرات نہیں   بلکہ تقاریر میں پہلے اس  سجدے کو میرے ہاں   کیا (یعنی میرے گھر پر) پھر جب غلطی واضح کی گئی تو اب وہ اس کا زبانی ترجمہ کر رہے ہیں میرے لئے سجدہ کیا کہ یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے دیکھا وہ میرے لئے سجدہ کر رہے ہیں

یہ  ترجمہ بھی غلط سلط ہے کیونکہ خواب  میں سورج چاند اور گیارہ ستاروں کو دیکھا کہ وہ سجدہ  کر رہے ہیں یوسف نے سورج چاند اور گیارہ ستاروں کے نفس کا حال نہیں جانا تھا اور یہ ترجمہ کہ وہ میرے لئے سجدہ کر رہے ہیں اسی وقت ممکن ہے جب سورج چاند اور گیارہ ستارے یوسف سے کلام کرتے اپنے سجدہ کی نوعیت واضح کرتے – قرآن میں ان اجرام فلکی کے کلام کا ذکر نہیں ہے بلکہ صرف عمل دیکھنے کا ذکر ہے

چند سال قبل چھپنے والے مضمون میں اس آیت  کی تفہیم  درست تھی کہ   یوسف علیہ السلام نے  دیکھا سورج چاند اور ستارے ان کو سجدہ کر رہے ہیں  لیکن اب اسی گروہ  کی جانب سے نت نئے ترجمے آ رہے ہیں

یعقوب علیہ السلام نے تعبیر کی یا نہیں ؟

یعقوب علیہ السلام نے خواب کی کوئی تعبیر نہیں کی – صرف اس کو چھپانے کا ذکر کیا- یعقوب علیہ السلام نے خواب پر تبصرہ کیا کہ اللہ تم پر مستقبل میں اپنی نعمت تمام کرے گا

وَكَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ وَيُتِـمُّ نِعْمَتَهٝ عَلَيْكَ وَعَلٰٓى اٰلِ يَعْقُوْبَ كَمَآ اَتَمَّهَا عَلٰٓى اَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْـرَاهِيْـمَ وَاِسْحَاقَ ۚ اِنَّ رَبَّكَ عَلِيْـمٌ حَكِـيْـمٌ (6)

اور اسی طرح تیرا رب تجھے برگزیدہ کرے گا اور تجھے خواب کی تعبیر سکھائے گا اور اپنی نعمتیں تجھ پر اور یعقوب کے گھرانے پر پوری کرے گا جس طرح کہ اس سے پہلے تیرے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کر چکا ہے، بے شک تیرا رب جاننے والا حکمت والا ہے۔

یعقوب علیہ السلام اصل میں اس وعدہ الہی کی بنیاد پر تبصرہ کر رہے ہیں جو اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام سے کیا تھا
وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ
سورہ بقرہ ١٢٤
جب تمھارے رب نے ابراھیم کی آزمائش کلمات (احکام) سے کی، تو اس نے ان کو پورا کیا – کہا میں نے تجھ کو انسانوں پر امام کیا بولا اور میری اولاد ؟ کہا میرا وعدہ ظالموں کے لئے نہیں

یعقوب علیہ السلام نے اس خواب کو چھپانے کا حکم کیا

قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوٌّ مُبِينٌ

کہا اے بیٹے اس خواب کا تذکرہ اپنے بھائیوں سے نہ کرنا ورنہ وہ تمھارے خلاف سازش کریں گے بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

یوسف (علیہ السلام ) غیر نبی  کو یعقوب علیہ السلام نبوت کو بشارت  دے رہے ہیں کہ عنقریب  مستقبل میں ہو گا کہ تم کو نبی بنا دیا جائے گا   – معلوم ہوا کہ یوسف کا خواب الوحی نہیں تھا کیونکہ بشارت  خواب کے بعد دی کہ ایسا ہوا گا یہ نہیں فرمایا کہ تم نبی بن چکے ہو

یہ خواب الوحی نہیں  تھا  لیکن ایک سچی خبر ضرور تھا جس طرح ایک مومن بندہ خواب دیکھتا ہے جو سچا ہو جاتا ہے  – اس کے الوحی نہ ہونے کی متعدد وجوہات ہیں

اول : یہ ممکن نہیں کہ ایک نبی خواب دیکھے اور اس کی تعبیر خود نہ کر سکے

غور کریں کہ انبیاء کا  خواب اللہ کا  براہراست حکم ہوتا ہے  لیکن خواب دیکھنے والا اگر  نبی نے تو وہ   اس کو سمجھ ہی    نہ سکے کیسے ممکن ہے-    اس خواب کو سمجھنے کے لئے  اس کو کسی دوسرے نبی کو تلاش کرنا پڑے

دوم : الوحی  کو اخفاء رکھنا ظلم ہے 

 انبیاء پر تو لازم ہے کہ جو بھی  الوحی ہو اس کو ببانگ دھل بیان کریں

و اللہ یعصمک من الناس
اللہ ان کو لوگوں سے بچائے گا

سورہ المائدہ ٦٧ میں
يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ
اے رسول پھیلا دو جو تمہارے رب نے تم پر نازل کیا اگر تم نے ایسا نہ کیا تو رسالت کو نہیں ادا کیا اور بے شک اللہ لوگوں سے بچائے گا

فرمان مصطفی ہے
جس کو علم کی بات معلوم ہو اوروہ  اس کو چھپا دے تو  اس کو اگ کا طوق ڈالا جائے گا حدیث

ان فرمودات کی روشنی میں واضح ہے کہ یعقوب نے اس کو اپنے غیر نبی بیٹے یوسف کا سچا خواب سمجھا جس کو ابھی نبوت نہیں ملی لیکن عنقریب اس پر نعمت تمام ہو گی اور وہ نبی بن جائے گا- یوسف علیہ السلام کا یہ خواب اسی طرح سچی خبر تھا جس طرح ایک عام مومن بندے کو سچا خواب اتا ہے جو پورا ہوتا ہے- یعقوب اس وقت نبی تھے انہوں نے جو کہا اس میں اس کا کہیں اثبات نہیں ہے کہ تم اے یوسف،  نبی بن چکے ہو ،  بلکہ ان کے نزدیک ابھی یوسف پر اتمام نعمت نہیں ہوا تھا – نبی بننا ہی سب سے بڑی نعمت ہے جو یوسف کو اس وقت نہیں ملی تھی

سوم : یعقوب علیہ السلام نے خواب  سمجھایا کہ چونکہ اس میں تم نے اے یوسف  دیکھا کہ اجرام فلکی تم کو سجدہ کر رہے ہیں تو اس کا مطلب تم کو عزت  ملنا ہے اور اس کی اصل تاویل اللہ تم کو ضرور دے گا کہ تم کو تاویل کا علم دے گا – سوال ہے کہ کیا تمام انبیاء   کو خواب کی تعبیر کا علم دیا گیا تھا ؟ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے – اللہ نے بعض رسولوں کو بعض پر فضیلت دی ہے – اس میں جو معجزات ایک نبی کو ملے وہ دوسرے کو نہیں – مثلا عیسیٰ مردوں کو زندہ کرتے تھے لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مردہ زندہ نہ کیا- یعقوب علیہ السلام نے کوئی تعبیر نہ کی بلکہ تبصرہ فرمایا

یعقوب علیہ السلام کا یہ کہنا کہ تم کو تاویل کا علم دیا جائے گا یہ اسی خواب کے تناظر میں نبی کی  پیشنگوئی ہے کہ اس خواب کی حقیقت اللہ تم پر واضح کرے گا

یہاں پر تاویل الاحادیث سے مراد خواب کی تعبیر کا علم ہے  انسانوں کی باتوں کی تشریح نہیں ہے – انبیا کو انسانی باتوں کا شارح نہیں بلکہ شریعت کا شارح مقرر کیا گیا ہے  لیکن ایک مقام پر اس آیت میں   خواب  کی تعبیر کا ذکر کرنے کی بجائے ترجمہ میں کیا گیا ہے

یہ ترجمہ نذر احمد سے مستعار لیا گیا ہے لیکن خواب کی تعبیر  کا مفہوم اس سے نکال دیا گیا ہے

ترجمہ و تفسیر قرآن،حصہ۶: یوسف تا حجر۔۔۔ ترجمہ: حافظ نذر احمد

تاریخ مطول از مسعود بی ایس سی جماعت المسلمین میں  ترجمہ کیا  ہے

غیر اللہ کو سجدہ نہ کرو

ایک سوال کیا جاتا ہے کہ غیر اللہ کو سجدہ نہ کرو یہ قرآن میں کہاں لکھا ہے ؟

الله تعالی نے فرمایا

ومِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ

اور رات اور دن اور سورج اور چاند اُس کی نشانیوں میں سے ہیں، نہ سورج کو سجدہ کیا کرو اور نہ ہی چاند کو، اور سجدہ صرف اﷲ کے لئے کیا کرو جس نے اِن (سب) کوخلق کیا ہے اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو

اور الله تعالی نے سوره الحج میں فرمایا

الَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ

کیا تم دیکھتے نہیں الله کو سجدہ کر رہے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے ایسے جن پر عذاب ثبت ہو چکا …

قرآن میں اصول بیان ہوا ہے کہ غیر الله کو سجدہ حرام ہے اور یہ اس وقت بھی حرام تھا جب انسان نہ تھا

ضمیر  کیسے پتا کیا جائے کس کی طرف ہے ؟

ایک مضمون میں  ایک صاحب نے لکھا

راقم کہتا ہے یہ قاعدہ کہتا ہے کہ اسم بعد میں آئے گا ضمیر پہلے-  اس  کو عود الضمير على متأخر کہا جاتا ہے –   سورہ یوسف میں سجدے والی بات کے بعد باپ   کا اسم آیا ہے نہ کہ  اللہ تعالی کا ذکر  ہے

وَرَفَـعَ اَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَـهٝ سُجَّدًا ۖ وَقَالَ يَـآ اَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُؤْيَاىَ مِنْ قَبْلُ ؕ قَدْ جَعَلَـهَا رَبِّىْ حَقًّا

اور اپنے ماں باپ کو تخت پر اونچا بٹھایا اور اس کے آگے سب سجدہ میں جھک گئے، اور کہا اے باپ میرے اس پہلے خواب کی یہ تاویل ہے، میرے رب نے اس خواب کو سچ کر دکھایا،

یہاں رویا کا لفظ ہے جو عربی میں مونث ہے اور لفظ تاویل مذکر ہے – اردو میں الٹا ہے خواب مذکر ہوتا ہے اور اس کی تاویل کو مونث بولا جاتا ہے – عربی میں ایسا نہیں ہے – یوسف نے خواب سچا ہونے کی بات کی ہے اور خواب میں سجدہ یوسف کو کیا جا رہا تھا اللہ تعالی کو نہیں – وَخَرُّوْا لَـهٝ  کے بعد اسم  کہاں ہے جس کی طرح یہ ضمیر جا رہی ہے ؟ بلکہ ایک اورمونث  ضمیر آ جاتی ہے جو  جَعَلَـهَا میں ہے اور اس کی نسبت ربی سے ہے کہ اللہ نے اس  رویا ( مونث) خواب  کو سچا کیا

عربی میں اس کا کوئی قرینہ نہیں ہے کہ جب عود الضمير على متأخر والا جملہ ہو تو   ضمیر اور اسم کے درمیان ایک  دوسرا مکمل  جملہ وارد ہو جائے – جیسا یہاں ہے اور کہا اے باپ میرے اس پہلے خواب کی یہ تاویل ہے…. کیونکہ یہ ایک مسلسل جملہ نہیں رہتا اگر ضمیر اور اسم میں دوری ہو

حدیث قرع النعال میں ہے کہ مردہ سنتا ہے ان کے جوتوں کی چاپ کہ دو فرشتے آتے ہیں

اس میں ابہام نہیں ہے کیونکہ یہاں نعالھما اور فرشتوں الملکین میں کوئی دوری نہیں ہے
اوپر آیات میں بھی ایسا ہی ہے فورا فورا اسم اور ضمیر ساتھ ہیں
لہذا سورہ یوسف کی اس آیت کی مثال عود الضمير على متأخر نہیں بنتی

مثأل دی جاتی ہے کہ عربی میں بعض اوقات ضمیر اور اسم میں فاصلہ ہوتا ہے مثلا
فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا
پھر ہم نے کہا اس مردہ پر اس گائے کا ایک ٹکڑا مارو

یہاں بحث ضمیر کے بعد اسم آنے پر ہو رہی ہے نہ کہ اسم کے بعد ضمیر پر لہذا یہ سورہ بقرہ کی آیت کی مثال نہیں لی جا سکتی – جب اسم پہلے آ چکا ہو تو ضمیر کس کی طرف ہے اس میں اشکال بالکل نہیں ہوتا – اشکال اس وقت ہوتا ہے جب ضمیر پہلے ہو اور اسم بعد میں آئے- سورہ بقرہ کی اس آیت سے پہلے تفصیل سے گائے پر بات ہو چکی ہے

ضمیر کے حوالے سے کہا گیا کہ قرآن میں بعض ضمیروں کو ان کی اصل سے ہٹا کر لینا ہو گا مثلا

راقم کہتا ہے یہ فیصلہ قرات سے ہو جاتا ہے – اس آیت کی قرات دو  طرح منقول ہے- كُذِبُوا کے لفظ سے اور كُذِّبُوا کے لفظ سے

حَتّــٰٓى اِذَا اسْتَيْاَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّـوٓا اَنَّـهُـمْ قَدْ كُذِبُـوْا جَآءَهُـمْ نَصْرُنَاۙ فَنُجِّىَ مَنْ نَّشَآءُ ۖ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ (110)

اور کذبوا تشدید کے ساتھ بھی ہے یعنی


یہاں تک کہ جب رسول نا امید ہونے لگے اورگمان کیا کہ (ماننے والوں کی جانب سے بھی ) ان کا انکار کر دیا جائے گا  تب انہیں ہماری مدد پہنچی، پھر جنہیں ہم نے چاہا بچا لیا، اور ہمارے عذاب کو نافرمانوں سے کوئی بھی روک نہیں سکتا۔

https://www.nquran.com/ar/ayacompare?sora=12&aya=110

اس طرح اپنی  طرف سے ضمیریں فٹ نہیں کی جاتیں بلکہ ان کو اختلاف قرات سے  احادیث سے سمجھا جاتا ہے

صحیح بخاری میں اس پر وضاحت موجود  ہے

حدیث نمبر: 3389 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَرَأَيْتِ قَوْلَهُ حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا سورة يوسف آية 110 أَوْ كُذِبُوا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ بَلْ كَذَّبَهُمْ قَوْمُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَيْقَنُوا أَنَّ قَوْمَهُمْ كَذَّبُوهُمْ وَمَا هُوَ بِالظَّنِّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا عُرَيَّةُ لَقَدِ اسْتَيْقَنُوا بِذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَلَعَلَّهَا أَوْ كُذِبُوا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ مَعَاذَ اللَّهِ لَمْ تَكُنِ الرُّسُلُ تَظُنُّ ذَلِكَ بِرَبِّهَا وَأَمَّا هَذِهِ الْآيَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ هُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ الَّذِينَ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَصَدَّقُوهُمْ وَطَالَ عَلَيْهِمُ الْبَلَاءُ وَاسْتَأْخَرَ عَنْهُمُ النَّصْرُ حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَتْ مِمَّنْ كَذَّبَهُمْ مِنْ قَوْمِهِمْ وَظَنُّوا أَنَّ أَتْبَاعَهُمْ كَذَّبُوهُمْ جَاءَهُمْ نَصْرُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ اسْتَيْأَسُوا سورة يوسف آية 80 افْتَعَلُوا مِنْ يَئِسْتُ مِنْهُ سورة يوسف آية 80مِنْ يُوسُفَ وَلا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ سورة يوسف آية 87 مَعْنَاهُ الرَّجَاءُ.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیت کے متعلق پوچھا « (حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِّبُوا) أَوْ كُذِبُوا؟» (تشدید کے ساتھ) ہے یا «كذبوا‏» (بغیر تشدید کے) یعنی یہاں تک کہ جب انبیاء ناامید ہو گئے اور انہیں خیال گزرنے لگا کہ انہیں جھٹلا دیا گیا تو اللہ کی مدد پہنچی تو انہوں نے کہا کہ (یہ تشدید کے ساتھ ہے اور مطلب یہ ہے کہ) ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا تھا۔ میں نے عرض کیا کہ پھر معنی کیسے بنیں گے ‘ پیغمبروں کو یقین تھا ہی کہ ان کی قوم انہیں جھٹلا رہی ہے۔ پھر قرآن میں لفظ «ظن‏.‏» گمان اور خیال کے معنی میں استعمال کیوں کیا گیا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے چھوٹے سے عروہ! بیشک ان کو تو یقین تھا میں نے کہا تو شاید اس آیت میں بغیر تشدید کے «كذبوا‏» ہو گا یعنی پیغمبر یہ سمجھے کہ اللہ نے جو ان کی مدد کا وعدہ کیا تھا وہ غلط تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: معاذاللہ! انبیاء اپنے رب کے ساتھ بھلا ایسا گمان کر سکتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا مراد یہ ہے کہ پیغمبروں کے تابعدار لوگ جو اپنے مالک پر ایمان لائے تھے اور پیغمبروں کی تصدیق کی تھی ان پر جب مدت تک اللہ کی آزمائش رہی اور مدد آنے میں دیر ہوئی اور پیغمبر لوگ اپنی قوم کے جھٹلانے والوں سے ناامید ہو گئے (سمجھے کہ اب وہ ایمان نہیں لائیں گے) اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ جو لوگ ان کے تابعدار بنے ہیں وہ بھی ان کو جھوٹا سمجھنے لگیں گے ‘ اس وقت اللہ کی مدد آن پہنچی

اس سے واضح ہوا کہ مضمون نگار کو نہ اختلاف قرات کا علم تھا نہ  اس حدیث کا علم   تھا ورنہ اس قسم کی غلطی نہیں کرتا

سورہ مریم  میں آیت ١٩ میں ہے کہ جبریل علیہ السلام ، محترمہ مریم  علیہ السلام کے سامنے ظاہر ہوئے ان کو کہا

قرات ابی عاصم  میں ہے

 لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا

کہ میں تم کو ایک پاک لڑکا دوں

قرات أبو عمرو بن العلاء میں ہے

ليهب لك غلاما زكيا وہ (الرحمان ) تم کو ایک پاک لڑکا دے 

اس طرح  اختلاف قرات سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ لڑکا  فرشتہ نے اپنی قوت سے نہیں دیا بلکہ اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ہوا

قرأ قالون بخلف عنه، وورش، وأبو عمرو، ويعقوب: (ليهب لك غلاما زكيّا) بالياء، وقرأ الباقون: لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا بالهمزة (1).
وقد أخبر الآلوسي أن الزهري، وابن مناذر، واليزيدي، والحسن، وشيبة قرءوها بالياء أيضا 

قالون ، ورش ، ابو عمرو ، یعقوب نے قرات کی (ليهب لك غلاما زكيّا)  … اور الوسی نے خبر دی کہ الزهري، وابن مناذر، واليزيدي، والحسن، وشيبة  نے بھی ياء سے قرات کی 

http://shamela.ws/browse.php/book-38020/page-143

تفسیری اقوال کی بحث

ایک مضمون نگار لکھتے ہیں

تفسیر رازی میں فخر الدين الرازي خطيب الري (المتوفى: 606هـ) قول ہے
وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي رِوَايَةِ عَطَاءٍ أَنَّ الْمُرَادَ بِهَذِهِ الْآيَةِ أَنَّهُمْ خَرُّوا لَهُ أَيْ لِأَجْلِ وِجْدَانِهِ سَجَدَا للَّه تَعَالَى
عَطَاءٍ کی روایت ہے ابن عباس سے کہ مراد ہے سجدہ اللہ تعالی کو کیا گیا یوسف مل جانے کی وجہ سے 

راقم کہتا ہے  ابن عبّاس سے منسوب اس قول  کی سند نہیں ہے- نہ قدیم  تفسیروں میں اس  قول کی کوئی سند دی گئی ہے – یوسف علیہ السلام مل گئے یہ خبر کنعان میں ہی مل گئی تھی جب یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس آئی اور انبیاء کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ سجدہ شکر فورا ہی بجا لاتے ہیں ان کو مصر جا کر سجدہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی

تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا مُحَمَّدٌ سَعِيدٌ الْعَطَّارُ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرْفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا قَالَ: كَانَتْ تَحِيَّةُ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَأَعْطَاكُمُ اللَّهُ السَّلامَ مَكَانَهَا.
عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ نے وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا پر کہا یہ سلام تھا اس سے قبل پس اللہ نے سلام اس مکان پر عطا کیا

اس کی سند ضعیف ہے – سند میں عبيدة بن حميد الكوفي الحذاء النحوي ہے – کتاب ميزان الاعتدال في نقد الرجال
از الذھبی کے مطابق

وقال زكريا الساجي: ليس بالقوى في الحديث
الساجی نے کہا یہ حدیث میں قوی نہیں ہے

قال ابن المديني: أحاديثه صحاح، وما رويت عنه شيئا، وضعفه
امام علی المدینی نے کہا اس کی احادیث صحاح ہیں – اس سے روایت نہیں لیتا اور انہوں نے اس کی تضعیف کی

قتادہ بصری جو قلیب بدر کو معجزہ کہتے تھے ان کا قول ہے کہ سجدہ یوسف کو ہوا اس دور کا سلام تھا
تفسیر طبری میں ہے

حدثنا بشر، قال: حدثنا يزيد، قال: حدثنا سعيد، عن قتادة: (وخروا له سجّدًا) وكانت تحية من قبلكم، كان بها يحيِّي بعضهم بعضًا، فأعطى الله هذه الأمة السلام، تحية أهل الجنة، كرامةً من الله تبارك وتعالى عجّلها لهم، ونعمة منه.

حدثنا محمد بن عبد الأعلى، قال: حدثنا محمد بن ثور، عن معمر، عن قتادة: (وخروا له سجدًا) ، قال: وكانت تحية الناس يومئذ أن يسجد بعضهم لبعض.

الضحاك نے کہا یہ اس دور کا سلام تھا

حدثنا ابن وكيع، قال: حدثنا المحاربي، عن جويبر، عن الضحاك: (وخروا له سجدًا) قال: تحيةٌ بينهم.

اسی قول کو ابن کثیر نے قبول کیا ہے البتہ راقم ان اقوال کو رد کرتا ہے کیونکہ الضحاك حدیث میں ضعیف ہے اور قتادہ مدلس ہے معلوم نہیں کس سے یہ اقوال لیے

لہذا مضمون نگار کا سند کی غیر موجودگی میں ضحاك  اور عطا سے منسوب  اقوال پر اعتماد کرنا عجیب بات ہے

ایک صاحب نے تحقیق عمیق کر کے بندر کی بلا طویلے کے سر اس طرح باندھی کہ قتادہ  پر جرح کرنے کی بجائے ابن کثیر پر بھڑاس نکالی اور شروع میں ابن عباس کا قول بھی بلا معرفت سند لکھ ڈالا

بھائی بھول گئے کہ ابن کثیر سے صدیوں پہلے طبری یہ اقوال تفسیر میں قتادہ کی سند سے اور الضحاک کی سندوں سے لکھ چکے ہیں لہذا یہ بات جہاں سے شروع ہوئی وہاں جانا چاہیے

فرشتوں کا سجدہ انسان جیسا نہیں ہو سکتا ؟ 

مقابلے پر کہا جاتا ہے کہ آدم علیہ السلام کو فرشتوں نے سجدہ کیا تو وہ کیا تھا – راقم کہتا ہے وہ سجدہ اللہ کا حکم تھا اور اللہ کے حکم پر عمل عبادت الہی ہے – آدم کو سجدہ فرشتوں نے کیا ہے –  بعض نواقض العقول لوگوں کا کہنا ہے کہ آدم علیہ السلام کو بھی سجدہ نہیں ہوا – عجیب بات یہ ہے کہ ان لوگوں کا سار زور اس پر ہے کہ سورہ یوسف والی آیت میں سجدے کو نماز جیسا ثابت کریں لیکن جب آدم علیہ السلام کو سجدے والی آیت کا ذکر آئے تو اس کو نماز جیسا سجدہ قرار دینے سے احتراز کیا جائے – راقم کہتا ہے یہ کام الٹا ہے کیونکہ سجدہ آدم براہ راست اللہ کا حکم ہے – سورہ یوسف میں جس سجدے کا ذکر ہے ان لوگوں کو چاہیے کہ اس کو اصطلاحی سجدے سے الگ کر کے سمجھیں

جب لوگوں نے یہ مان لیا کہ یوسف علیہ السلام کو نماز جیسا سجدہ ہوا تو مزید اشکال پیدا ہوئے – ایک یہ کہ  قرآن میں آ گیا ہے کہ آدم علیہ السلام کو فرشتوں سے سجدہ کروایا گیا – اس سجدے کو بدلنا ضروری سمجھا گیا کیونکہ اس سے ثابت ہوا کہ اللہ نے ہی مخلوق کو سجدہ کا حکم دیا – اس پر دو  تحریفات کی گئیں

اول اس وقت شریعت نہیں تھی

دوم فرشتوں کے سجدے کا ہم کو علم نہیں ہے 

اس کا جواب یہ دیا گیا کہ  توحید تو ہر وقت تھی کہ نہیں ؟ اللہ تعالی نے ہی مخلوق  آدم کو سجدہ کا حکم کیا تو اللہ کچھ بھی حکم کر سکتا ہے – شریعت تو منہج کا نام ہے جو کیا عالم بالا میں الگ ہے اور زمین پر الگ ؟

بعض لوگوں  کا کہنا ہے کہ فرشتوں کے سجدے کا ہم کو علم نہیں وہ انسان کی طرح نہیں ہیں- ان کی جانب سے ایک صاحب کا کہنا ہے

یہ لکھتے ہوئے مضمون نگار نے یہ نہیں سوچا کہ اس کی ضرب کہاں تک جائے گی

ڈاکٹر عثمانی اس کے قائل تھے کہ  فرشتے لباس پہنتے ہیں، جوتیاں پہنتے ہیں، برزخ میں چل کر اتے ہیں  – عثمانی صاحب نے فرشتوں کو ایک مرد کی صورت دی ہے – لیکن آج ان کی اس رائے کو بدلا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ فرشتوں کے سجدے کا ہم کو علم ہی نہیں ہے جبکہ اس پر احادیث موجود ہیں

یعنی فرشتوں کے رکوع و سجود کا انکار کر کے کہ وہ انسانوں سے الگ ہیں یہ جان چھڑانا ہے جبکہ خود  ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کہ وہ الگ شکل و نوعیت کے ہیں

برزخ میں سوال و جواب کے وقت فرشتے  انسان کی طرف چلنے لگیں لیکن سجدہ کے وقت انسان سے الگ کریں اس کی کیا دلیل ہے ؟

صحیح بخاری میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز جبریل نے سیکھائی

کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیوں کر شروع ہوئی – باب : فرشتوں کا بیان۔

ترجمہ : ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ان سے ابن شہاب نے   عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دن عصر کی نماز کچھ دیر کر کے پڑھائی ۔ اس پر عروہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے کہا ۔ لیکن جبرئیل علیہ السلام ( نماز کا طریقہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھانے کے لیے ) نازل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ہو کر آپ کو نماز پڑھائی ۔ حضرت عمرو بن عبدالعزیز نے کہا ، عروہ ! آپ کو معلوم بھی ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ عروہ نے کہا کہ ( اور سن لو ) میں نے بشیر بن ابی مسعود سے سنا اور انہوں نے ابومسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے کہ   جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور انہوں نے مجھے نماز پڑھائی ۔ میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر ( دوسرے وقت کی ) ان کے ساتھ میں نے نماز پڑھی ، پھر ان کے ساتھ میں نے نماز پڑھی ، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ، اپنی انگلیوں پرآپ نے پانچوں نمازوں کو گن کر بتایا ۔

صحیح مسلم  میں ہے

عن ابن عباس قال قال رسول اللّٰہ امنی جبریل علیہ السلام عند البیت مرتین

ابن عباس کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ بیت اللہ کے پاس جبریل نے میری دو دفعہ امامت کی

ظاہر  ہے جیسا سجدہ جبریل علیہ السلام نے کیا ویسا ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور امت کو  سکھایا

ان لوگوں نے اپنے موقف کو اب بدل دیا ہے اور کہنا شروع کر دیا ہے کہ آدم علیہ السلام کو فرشتوں نے سجدہ نہیں کیا بلکہ اللہ تعالی کو سجدہ کیا – قرآن میں باطل داخل نہیں ہو سکتا – قرآن میں سورہ ص میں موجود ہے کہ اللہ تعالی نے ابلیس سے پوچھا

قال يا إبليس ما منعك أن تسجد لما خلقت بيدي أستكبرت أم كنت من العالين قال أنا خير منه خلقتني من نار وخلقته من طين
کہا : اے ابلیس تجھ کو کس نے اس کو سجدہ کرنے سے روکا جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے بنایا- کیا تو متکبر ہے کوئی بلند بالا ہے ؟ ابلیس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں اگ سے بنایا گیا ہوں اور یہ تو مٹی سے بنا ہے

کیا عربی میں رکوع کو بھی سجدہ کہا جا سکتا ہے ؟

سورہ یوسف میں بیان ہوا کہ یوسف نے  دیکھا ان کو سجدہ ہو رہا ہے پھر آیت ١٠٠ میں بتایا گیا کہ گھر والوں نے  سجدہ کیا – راقم نے کہا یہ صرف انحناء تھا یعنی رکوع جیسی کوئی رسم تھی  -سوال اتا ہے کہ کیا عربی میں رکوع کو بھی سجدہ کہا جا سکتا ہے ؟

ایک مضمون نگار کا دعوی کہ حدیث میں جب بھی سجدہ کا لفظ آیا ہےوہ نماز والا ہی سجدہ ہے لکھتے ہیں

اس کا جواب حدیث سے مل جاتا ہے

عربی میں رکوع کی حالت کو بھی سجدہ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ زمین کی طرف جھکنا  ہے اور پیشانی زمین پر لگانا اس کی انتہی ہے – سنن ابن ماجہ میں ہے
حدیث نمبر: 1258 ح
بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْخَوْفِ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ أَنْ يَكُونَ الْإِمَامُ يُصَلِّي بِطَائِفَةٍ مَعَهُ، فَيَسْجُدُونَ سَجْدَةً وَاحِدَةً، وَتَكُونُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ الَّذِينَ سَجَدُوا السَّجْدَةَ مَعَ أَمِيرِهِمْ، ثُمَّ يَكُونُونَ مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا، وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُصَلُّوا مَعَ أَمِيرِهِمْ سَجْدَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ يَنْصَرِفُ أَمِيرُهُمْ وَقَدْ صَلَّى صَلَاتَهُ، وَيُصَلِّي كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ بِصَلَاتِهِ سَجْدَةً لِنَفْسِهِ، فَإِنْ كَانَ خَوْفٌ أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ، فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا» قَالَ: يَعْنِي بِالسَّجْدَةِ الرَّكْعَةَ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف کی (کیفیت) کے بارے میں فرمایا:  امام اپنے ساتھ مجاہدین کی ایک جماعت کو نماز پڑھائے، وہ ایک سجدہ کریں اور ایک گروہ ان کے اور دشمن کے درمیان حائل رہے- پھر یہ صف لوٹ جائے جس نے امیر کے ساتھ سجدہ کیا اور وہاں ان کے پاس (دشمن سے لڑنے ) جائیں جنہوں نے نماز ابھی نہیں  پڑھی – اب وہ لوگ جنہوں نے نماز نہیں پڑھی وہ آگے آئیں وہ امیر کے ساتھ ایک  سجدہ کریں اور لوٹ جائیں –  اب امام تو اپنی نماز سے فارغ ہو جائے گا، اور دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک (اپنے مقام پر)  ایک سجدہ  اور  کر لیں –  اگر خوف و دہشت اس سے بھی زیادہ ہو، (صف بندی نہ کر سکتے ہوں) تو ہر شخص پیدل یا سواری پر نماز پڑھ لےابن عمر نے کہا سجدہ یہ رکوع ہے

یہ حالت جنگ میں نماز خوف کا ذکر ہے اور یہاں سجدے نہیں صرف رکوع کرنا ہے

کتاب الاقتضاب في شرح أدب از أبو محمد عبد الله بن محمد بن السِّيد البَطَلْيَوسي (المتوفى: 521 هـ) ، الناشر: مطبعة دار الكتب المصرية بالقاهرة میں ہے

(قال المفسر): قد قيل سجد بمعنى انحنى، ويدل على ذلك قوله تعالى (وادخلوا الباب سجداً). ولم يؤمروا بالدخول على جباههم، وإنما أمروا بالانحناء. وقد يمكن من قال القول الذي حكاه ابن قتيبة،
أن يجعل سجداً حالاً مقدرة، كما حكى سيبويه من قولهم: مررت برجل معه صقر صائداً به غداً، أي مقدراً للصيد عازماً عليه، ومثله قوله تعالى: (قل هي للذين آمنوا في الحياة الدنيا خالصة يوم القيامة)، ولكن قد جاء في غير القرآن مايدل على صحة ما ذكرناه. قال أبو عمرو الشيباني الساجد في لغة طيء: المنتصب، وفي لغة سائر العرب: المنحنى، وأنشد:
لولا الزمام اقتحم الأجاردا … بالغرب أو دق النعام الساجدا
ويدل على ذلك أيضاً قول ميد بن ثور الهلالي:
فلما لوين على معصم … وكف خضيب وأسوارها
فضول أزمتها أسجدت … سجود النصارى لأحبارها

مفسر نے کہا کہا جاتا ہے کہ سجدہ انحنا ہے اور اس پر دلیل اللہ کا قول ہے (وادخلوا الباب سجداً). دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہو اور یہ حکم نہیں ہے کہ داخل ہوتے وقت اپنی پیشانی زمین پر رکھو بلکہ یہ انحناء کا حکم ہے

پھر اس بات کو عربی اشعار سے بھی ثابت کیا گیا

كنز الكتاب ومنتخب الآداب (السفر الأول من النسخة الكبرى) از مؤلف: أبو إسحاق إبراهيم بن أبي الحسن الفهري المعروف بالبونسي (651هـ) الناشر: المجمع الثقافي، أبو ظبي میں ہے

ومِمَّا جاء من السجود كناية عن الرُّكوع حديث عبد الله بن عمر فيما روى عن عبد الرحمان بن أبي
الزناد عن موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر انه كان يقول في صلاةِ الخوفِ: “يَقُومُ الإمام وتقوم
معه طائفةٌ، وتكون طائفةٌ بينهم وبين العدو، فيسجد سجدةً واحدةً بمن معه، ثم ينصرف الذين سجدوا
سجدة، فيكونون مكان أصحابهم الذين كانوا بينهم وبين العدو، وتقوم الطائفة الأخرى الذين لم يصلوا،
فيصلون مع الإمام سجدة ثم ينصرف الإمام، وتُصلي كلُّ واحدة من الطائفتين لأنفسهم سجدة سجدة،
فإن كان الخوف أكثر من ذلك فليصلوا قياما على أقدامهم، أو ركباناً علي ظهور الدوائب”.
قال موسى بن هارون الطُّوسي: كُلُّ سَجْدَةِ في هذا الحديث فمعناها ركعة. سمعت أبا خيثمة يقول:أهلُ الحجاز يسمون الركعة سَجْدة.

اور سجدہ کو رکوع پر کنایہ کے طور پر لیا جائے یہ حدیث ابن عمر میں آیا ہے …. موسی بن ھارون طوسی نے کہا اس حدیث میں سارے سجدے اصل میں رکوع  کے معنی پر ہیں -أبا خيثمة کو کہتے سنا کہ اہل حجاز رکوع کو سجدہ بھی کہہ دیتے ہیں 

صحیح مسلم میں ہے

وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَالسِّيَاقُ لِحَرْمَلَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ سَجْدَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، أَوْ مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا»، وَالسَّجْدَةُ إِنَّمَا هِيَ الرَّكْعَةُ

عَائِشَةَ، رضی اللہ عنہا نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو عصر میں ایک سجدہ ملا قبل اس کے کہ سورج غروب ہو یا صبح کی نماز میں قبل اس کے کہ سورج طلوع ہو اس نے نماز پا لی  عائشہ رضی اللہ عنہا  نے کہا یہ سجدہ بے شک رکوع ہے 

معلوم ہوا کہ فقہ صحابہ کے تحت سجدہ کا لفظ حدیث میں بعض اوقات رکوع پر کنایہ کے طور بولا گیا  ہے اور محققین کہتے کہ یہ اہل حجاز کا طریقہ ہے جن کی زبان میں سورہ یوسف نازل ہوئی ہے – اس علم کے بعد اس پر  اصرار کرنا کہ سجدہ کا لفظ ہمیشہ پیشانی زمین پر لگانا ہے بے جا ہے

تفسیر ابن عطیہ از أبو محمد عبد الحق بن غالب بن عبد الرحمن بن تمام بن عطية الأندلسي المحاربي (المتوفى: 542هـ) میں ہے

واختلف في هذا السجود، فقيل: كان كالمعهود عندنا من وضع الوجه بالأرض، وقيل: بل دون ذلك كالركوع البالغ ونحوه مما كان سيرة تحياتهم للملوك في ذلك الزمان

اس سجدے پر اختلاف ہے کہا جاتا ہے کہ یہ سجدہ زمین پر چہرہ رکھنے کا تھا اور کہا جاتا ہے بلکہ یہ رکوع یا اسی جیسا تھا 

ابن حجر نے فتح الباری ج ١٢ ص ٣٧٦ میں ایک قول لکھا ہے

وَلَمْ يَقَعْ مِنْهُمُ السُّجُودُ حَقِيقَةً وَإِنَّمَا هُوَ كِنَايَةٌ عَنِ الْخُضُوعِ
اور یہ سجدے میں حقیقی نہیں گئے اور بے شک یہ کنایہ ہے الْخُضُوعِ پر

کتاب  حاشيتا قليوبي وعميرة میں ج١ ص ١٨٠     از أحمد سلامة القليوبي وأحمد البرلسي عميرة ، دار الفكر – بيروت الطبعة: بدون طبعة، 1415هـ-1995م کے مطابق

قَوْلُهُ: (السُّجُودُ) وَهُوَ لُغَةً التَّطَامُنُ وَالذِّلَّةُ وَالْخُضُوعُ وَشَرْعًا مَا سَيَأْتِي، وَقَدْ يُطْلَقُ عَلَى الرُّكُوعِ، وَمِنْهُ {وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا} [يوسف: 100] كَمَا مَرَّ

اور الله کا قول السُّجُودُ تو یہ لغت میں کم ہونا یہ ذلت ہے اور ْخُضُوعُ ہے … اور اس کا اطلاق رکوع پر بھی ہے اور الله تعالی کا قول  {وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا} [يوسف: 100]  میں 

اب جب ہم اس کو تسلیم کریں کہ سجدہ کو رکوع یا انحنا لیا جا سکتا ہے تو پھر   سورہ یوسف میں ذکر کردہ  سجدے پر کوئی اشکال نہیں رہتا  کیونکہ  اس کا تعلق عبادت سے سرے سے ہی نہیں ہے

ایک مضمون نگار لکھتے ہیں کہ سورہ یوسف میں  خر کا لفظ ظاہر کرتا  ہے کہ سب سجدے میں گرے نہ کہ جھکے  لہذا انہوں نے  چند  حوالے دیے   یعنی تفسیر شیرازی ، تفسیر روح المعانی اور تفسیر ابی السعود وغیرہ

واضح رہے کہ خر کا مطلب مطلق گرنا نہیں ہے جیسا کہ ان مفسرین نے لکھا ہے بلکہ  نیچے جھکنا  یا  آنا  ہے  جیسا قرآن سورہ ص میں ہے

وخر راكعاً وأناب

داود رکوع میں جھکا اور توبہ کی 

رکوع میں کوئی زمین پر  گرتا نہیں ہے – سورہ یوسف میں ہے  کہ

وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا ۖ  اس کے لئے زمین کی طرف جھک گئے

یہاں سجدا کو اس کے اصل مطلب پر لیا گیا ہے جو زمین کی طرف جھکنا ہے نہ کہ نماز والا اصطلاحی سجدہ

سورہ حج میں ہے

وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْـرُ اَوْ تَهْوِىْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (31)
اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے نیچے آئے تو اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔

جو آسمان سے نیچے آیا ابھی زمیں تک بھی نہیں پہنچا کہ پرندے اس کو اچک لیتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

11 + 9 =