مشاجرات صحابہ و اولادہ

جنگ جمل

‌صحيح البخاري: کِتَابُ تَقْصِيرِ الصَّلاَةِ (بَابُ يَقْصُرُ إِذَا خَرَجَ مِنْ مَوْضِعِهِ وَخَرَجَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: فَقَصَرَ وَهُوَ يَرَى البُيُوتَ، فَلَمَّا رَجَعَ قِيلَ لَهُ هَذِهِ الكُوفَةُ قَالَ: «لاَ حَتَّى نَدْخُلَهَا») صحیح بخاری: کتاب: نماز میں قصر کرنے کا بیان (باب: جب آدمی سفر کی نیت سے اپنی بستی)

1090 . حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ الصَّلَاةُ أَوَّلُ مَا فُرِضَتْ رَكْعَتَيْنِ فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَأُتِمَّتْ صَلَاةُ الْحَضَرِ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ مَا بَالُ عَائِشَةَ تُتِمُّ قَالَ تَأَوَّلَتْ مَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ
حکم : صحیح

. ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پہلے نماز دو رکعت فرض ہوئی تھی بعد میں سفر کی نماز تواپنی اسی حالت پر رہ گئی البتہ حضر کی نماز پوری ( چار رکعت ) کردی گئی۔ زہری نے بیان کیا کہ میں نے عروہ سے پوچھا کہ پھر خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیوں نماز پوری پڑھی تھی انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی جو تاویل کی تھی وہی انہوں نے بھی کی۔

صحیح بخاری کی شرح تیسیر الباری، ج 2، ص 138 پر علامہ وحید الزمان لکھتے ہیں

یہ حضرت عثمان کی رائے تھی جو سنت صریحہ کے خلاف قابل قبول نہیں ہو سکتی

جواب

مستخرج أبو عَوانة کے مطابق

وإنَّمَا أتَمَّها عُثْمانُ أربعًا لأنه تأهَّل بِمَكَّة ونَوَى الإِقامَة
عثمان نے منی میں ان کو رکعات کو چار پڑھا کیونکہ انہوں نے مکہ میں سکونت کی اور اس میں اقامت کی

طحاوی کتاب شرح معاني الآثار میں کہتے ہیں
. وَقَدْ ذَكَرْنَا مَا تَأَوَّلَ فِي إِتْمَامِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الصَّلَاةَ بِمِنًى فَكَانَ مَا صَحَّ مِنْ ذَلِكَ هُوَ أَنَّهُ كَانَ مِنْ أَجْلِ نِيَّتِهِ لِلْإِقَامَةِ. فَإِنْ كَانَ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ
اور ہم نے ذکر کیا جو عثمان رضی الله عنہ نے منی میں نماز میں جو چار رکعات پڑھیں تو پس اس میں صحیح ہے کہ یہ ان کی نیت اقامت کی وجہ ہے

اصلا اپ کا ارادہ اگر کسی شہر میں رکنے کا ہو تو اپ پر مقیم کا حکم لگتا ہے عثمان رضی الله عنہ کا ارادہ رکنے کا تھا لہذا انہوں نے قصر نہیں کیا- رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے قصر کیا کیونکہ اپ کا ارادہ رکنے کا نہیں تھا

تلوار ‘ پیالہ اورانگوٹھی کا بیان

3111 . حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنِ ابْنِ الحَنَفِيَّةِ، قَالَ: لَوْ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ذَاكِرًا عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ذَكَرَهُ يَوْمَ جَاءَهُ نَاسٌ فَشَكَوْا سُعَاةَ عُثْمَانَ، فَقَالَ لِي عَلِيٌّ: اذْهَبْ إِلَى عُثْمَانَ فَأَخْبِرْهُ: أَنَّهَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُرْ سُعَاتَكَ يَعْمَلُونَ فِيهَا، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: أَغْنِهَا عَنَّا، فَأَتَيْتُ بِهَا عَلِيًّا، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: «ضَعْهَا حَيْثُ أَخَذْتَهَا»

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن سوقہ نے ‘ ان سے منذر بن یعلیٰ نے اور ان سے محمد بن حنفیہ نے ‘ انہوں نے کہا کہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو برا کہنے والے ہوتے تو اس دن ہوتے جب کچھ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عاملوں کی ( جو ذکوٰۃ وصول کرتے تھے ) شکایت کرنے ان کے پاس آئے ۔ انہوں نے مجھ سے کہا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا اور یہ زکوٰۃ کا پروانہ لے جا ۔ ان سے کہنا کہ یہ پروانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لکھوایا ہوا ہے ۔ تم اپنے عاملوں کو حکم دو کہ وہ اسی کے مطابق عمل کریں ۔ چنانچہ میں اسے لے کرحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں پیغام پہنچا دیا ‘ لیکن انہوں نے فرمایا کہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ( کیونکہ ہمارے پاس اس کی نقل موجود ہے ) میں نے جا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ واقعہ بیان کیا ‘ تو انہوں نے فرمایا کہ اچھا ‘ پھر اس پروانے کو جہاں سے اٹھایا ہے وہیں رکھ دو ۔

اس حدیث میں جو بریکٹ میں یہ الفاظ لکھے گیۓ ہیں – یہ کن عربی الفاظ کا ترجمہ ہے

جواب

. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنِ ابْنِ الحَنَفِيَّةِ، قَالَ: لَوْ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ذَاكِرًا عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ذَكَرَهُ يَوْمَ جَاءَهُ نَاسٌ فَشَكَوْا سُعَاةَ عُثْمَانَ،
فَقَالَ لِي عَلِيٌّ: اذْهَبْ إِلَى عُثْمَانَ فَأَخْبِرْهُ: أَنَّهَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُرْ سُعَاتَكَ يَعْمَلُونَ فِيهَا، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: أَغْنِهَا عَنَّا، فَأَتَيْتُ بِهَا عَلِيًّا، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: «ضَعْهَا حَيْثُ أَخَذْتَهَا»

ابْنِ الحَنَفِيَّةِ نے کہا : اگر علی ، عثمان کا ذکر کرتے، تو اس روز ذکر کرتے جب لوگ عثمان کے منصب داروں کے حوالے سے شکوہ کرتے آئے تو علی نے مجھ سے کہا جاؤ عثمان کو اس کی خبر دو – کہ یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا صدقه تھا پس وہ منصب داروں کو اس پر عمل کا حکم کریں – میں لہذا گیا اور عثمان نے کہا ہم یہی خرچ کرتے ہیں پس میں واپس آیا علی کے پاس اور خبر دی انہوں نے کہا جہاں سے لیا وہاں رکھ دو

الفاظ أغْنِها عنَّا کا ترجمہ مسند احمد کی تعلیق میں شعيب الأرنؤوط – عادل مرشد نے اصرفها عنا کیا ہے کہ ہم ایسا خرچ کرتے ہیں
یہی مطلب البانی نے مُخْتَصَر صَحِيحُ الإِمَامِ البُخَارِي میں تعلیق میں لکھا ہے
وقوله: “أغنها”؛ أي: اصرفها عنا.

ابن بطال شرح صحیح بخاری میں کہتے ہیں
(أغنها عنا) يقول: اصرفها عنا، يقال: أغنيت عنك كذا: صرفته عنك
کہا ہم ایسا ہی خرچ کرتے ہیں کہا جاتا ہے أغنيت عنك كذا میں نے تجھ کو اس طرح غنی کیا یعنی تجھ پر خرچ کیا

ابن قرقول (المتوفى: 569هـ) کتاب مطالع الأنوار على صحاح الآثار میں کہتے ہیں
“أَغْنِهَا عَنَّا” بقطع الألف، أي: اصرفها وسيرها عنا
أَغْنِهَا عَنَّا” … یعنی خرچ کیا

کتاب كشف المشكل من حديث الصحيحين از ابن جوزی کے مطابق
وَقَوله: أغنها عَنَّا: أَي اصرفها عَنَّا.
اور ان کا قول یعنی ہم نے ایسا خرچ کیا

مصنف عبد الرزاق میں الفاظ ہیں
عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى مِنْذِرٌ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ إِلَى أَبِي فَشَكَوْا سُعَاةَ عُثْمَانَ فَقَالَ أَبِي: ” خُذْ هَذَا الْكِتَابَ فَاذْهَبْ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقُلْ لَهُ: قَالَ أَبِي: أَنَّ نَاسًا مِنَ النَّاسِ قَدْ جَاءُوا شَكَوْا سُعَاتَكَ وَهَذَا أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفَرَائِضِ فَلْيَأْخُذُوا بِهِ “، فَانْطَلَقْتُ بِالْكِتَابِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَنَّ أَبِي أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ، وَذَكَرَ أَنَّ نَاسًا مِنَ النَّاسِ شَكَوْا سُعَاتَكَ، وَهَذَا أَمْرُ [ص:7] رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفَرَائِضِ فَمُرْهُمْ فَلْيَأْخُذُوا بِهِ، فَقَالَ: لَا حَاجَةَ لَنَا فِي كِتَابِكَ قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى أَبِي فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ أَبِي: «لَا عَلَيْكَ ارْدُدِ الْكِتَابَ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ» قَالَ: «فَلَوْ كَانَ ذَاكِرًا عُثْمَانَ بِشَيْءٍ لَذَكَرَهُ – يَعْنِي بِسُوءٍ -» قَالَ: «وَإِنَّمَا كَانَ فِي الْكِتَابِ مَا فِي حَدِيثِ عَلِيٍّ

اس مقام پر الفاظ ہیں لَا حَاجَةَ لَنَا فِي كِتَابِكَ ہمیں تمہاری تحریر کی ضرورت نہیں ہے

یعنی عثمان رضی الله عنہ نے کہا ہمیں اس کی ضرورت نہیں انہی احکام کے تحت عمل ہو رہا ہے اور جو لوگ علی رضی الله عنہ کے پاس پہنچے وہ عثمان رضی الله عنہ کے نزدیک جھوٹے تھے – علی رضی الله عنہ چونکہ حکومت کا حصہ نہ تھے ان کو نظم انٹیلی جنس کی خبریں نہیں تھیں کہ یہ لوگ اصلا پرو پیگنڈا کرتے پھر رہے ہیں اور ان کی باتوں سے متاثر ہو کر انہوں نے اپنی کتاب عثمان کے پاس بھیج دی –

علی رضی الله عنہ کو لگا کہ منصب دار عثمان تک صحیح خبریں نہیں پہنچا رہے اور لوگوں میں اشتعال پیدا ہو رہا لہذا انہوں نے ایسا کیا

یہ ظاہر کرتا ہے کہ لوگ نیک ہوں اور مقصد اچھا ہو تو بھی نتیجہ صحیح نہیں نکلتا کیونکہ دونوں میں کمیونیکشن گیپ ہے

اپ نے جو ترجمہ پیش کیا ہے
ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں یہ ترجمہ نہیں ترجمانی ہے

ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ( کیونکہ ہمارے پاس اس کی نقل موجود ہے ) کے الفاظ صحیح بخاری میں نہیں یہ مصنف عبد الرزاق سے لئے گئے ہیں

راقم کے نزدیک صحیح ترجمہ ہے ہم نے ایسا ہی خرچ کیا

صحيح مسلم: كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ (بَابُ عُقُوبَةِ مَنْ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا يَفْعَلُهُ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَيَفْعَلُهُ)

صحیح مسلم: کتاب: زہد اور رقت انگیز باتیں

(باب: اس شخص کی سزا جو دوسروں کو اچھے کام کا حکم دیتا ہے اور خود اسے نہیں کرتا اور دوسروں کو برے کام سے روکتاہے اور خود اسے کرتا ہے)

7483 . حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى وَإِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قِيلَ لَهُ أَلَا تَدْخُلُ عَلَى عُثْمَانَ فَتُكَلِّمَهُ فَقَالَ أَتَرَوْنَ أَنِّي لَا أُكَلِّمُهُ إِلَّا أُسْمِعُكُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ كَلَّمْتُهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ مَا دُونَ أَنْ أَفْتَتِحَ أَمْرًا لَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ فَتَحَهُ وَلَا أَقُولُ لِأَحَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ أَمِيرًا إِنَّهُ خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُ بَطْنِهِ فَيَدُورُ بِهَا كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِالرَّحَى فَيَجْتَمِعُ إِلَيْهِ أَهْلُ النَّارِ فَيَقُولُونَ يَا فُلَانُ مَا لَكَ أَلَمْ تَكُنْ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنْ الْمُنْكَرِ فَيَقُولُ بَلَى قَدْ كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ وَأَنْهَى عَنْ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ

ابو معاویہ نے کہا:ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی، انھوں نے حضرت اسامہ بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا:کہ ان سے کہاگیا :تم کیوں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جاکر بات نہیں کرتے ؟(کہ وہ لوگوں کی مخالفت کا ازالہ کریں)تو انھوں نے کہا:کیا تم سمجھتے ہو کہ میں تمھیں نہیں سنواتا تو میں ان سے بات نہیں کرتا؟اللہ کی قسم!میں نے ان سے بات کی جو میرے اور ان کے درمیان تھی اس کے بغیرکہ میں کسی ایسی بات کا آغاز کروں جس میں سب سے پہلے دروازہ کھولنے والا میں بنوں ۔میں کسی سے جو مجھ پر امیر ہویہ نہیں کہتا کہ وہ سب انسانوں میں سے بہتر ہے۔ اس بات کے بعد جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ،آپ فرما رہے تھے۔”قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور آگ میں پھینک دیا جا ئے گا ،اس کے پیٹ کی انتڑیاں باہر نکل پڑیں گی۔وہ ان کے گرد اس طرح چکر لگائے گا جس طرح گدھا چکی کے گرد لگاتا ہے۔ اہل جہنم اس کے پاس جمع ہو جا ئیں گے اور اس سے کہیں گے فلاں!تمھاراے ساتھ کیاہوا؟کیا تو نیکیوں کی تلقین اور برائیوں سے منع نہیں کیا کرتا تھا؟ وہ کہے گا ایسا ہی تھا،میں نیکیوں کا حکم دیتا تھا خود (نیکی کے کام) نہیں کرتا تھا اور برائیوں سے روکتا تھا اور خود ان کا ارتکاب کرتاتھا۔”

============

صحيح مسلم: كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ (بَابُ عُقُوبَةِ مَنْ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا يَفْعَلُهُ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَيَفْعَلُهُ)
صحیح مسلم: کتاب: زہد اور رقت انگیز باتیں

(باب: اس شخص کی سزا جو دوسروں کو اچھے کام کا حکم دیتا ہے اور خود اسے نہیں کرتا اور دوسروں کو برے کام سے روکتاہے اور خود اسے کرتا ہے)

7484 . حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَقَالَ رَجُلٌ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَدْخُلَ عَلَى عُثْمَانَ فَتُكَلِّمَهُ فِيمَا يَصْنَعُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ

جریر نے اعمش سے اور انھوں نے ابو وائل سے روایت کی کہا:ہم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے کہ ایک آدمی نے کہا:آپ کو کیا چیز اس سے مانع ہے کہ آپ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جائیں اور جووہ کررہے ہیں اس کے بارے میں ان سے بات کریں؟اس کے بعد اسی (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی۔

=======

‌صحيح البخاري: كِتَابُ بَدْءِ الخَلْقِ (بَابُ صِفَةِ النَّارِ، وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ) صحیح بخاری: کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیوں کر شروع ہوئی

(باب : دوزخ کا بیان اور یہ بیان کہ دوزخ بن چکی ہے، وہ موجود ہے۔)

3267 . حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قِيلَ لِأُسَامَةَ لَوْ أَتَيْتَ فُلاَنًا فَكَلَّمْتَهُ، قَالَ: إِنَّكُمْ لَتُرَوْنَ أَنِّي لاَ أُكَلِّمُهُ إِلَّا أُسْمِعُكُمْ، إِنِّي أُكَلِّمُهُ فِي السِّرِّ دُونَ أَنْ أَفْتَحَ بَابًا لاَ أَكُونُ أَوَّلَ مَنْ فَتَحَهُ، وَلاَ أَقُولُ لِرَجُلٍ أَنْ كَانَ عَلَيَّ أَمِيرًا إِنَّهُ خَيْرُ النَّاسِ، بَعْدَ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: وَمَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ: قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: يُجَاءُ بِالرَّجُلِ يَوْمَ القِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ، فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُهُ فِي النَّارِ، فَيَدُورُ كَمَا يَدُورُ الحِمَارُ بِرَحَاهُ، فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ عَلَيْهِ فَيَقُولُونَ: أَيْ فُلاَنُ مَا شَأْنُكَ؟ أَلَيْسَ كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَانَا عَنِ المُنْكَرِ؟ قَالَ: كُنْتُ آمُرُكُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلاَ آتِيهِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ المُنْكَرِ وَآتِيهِ رَوَاهُ غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کسی نے کہا کہ اگر آپ فلاں صاحب ( عثمان رضی اللہ عنہ ) کے یہاں جاکر ان سے گفتگو کرو تو اچھا ہے ( تاکہ وہ یہ فساد دبانے کی تدبیر کریں ) انہوں نے کہا کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میں ان سے تم کو سناکر ( تمہارے سامنے ہی ) بات کرتا ہوں ، میں تنہائی میں ان سے گفتگو کرتا ہوں اس طرح پر کہ فساد کا دروازہ نہیں کھولتا ، میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ سب سے پہلے میں فساد کا دروازہ کھولوں اورمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سننے کے بعد یہ بھی نہیں کہتا کہ جوشخص میرے اوپر سردار ہو وہ سب لوگوں میں بہتر ہے ۔ لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث سنی ہے وہ کیا ہے ؟ حضرت اسامہ نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے یہ فرماتے سنا تھا کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ آگ میں اس کی آنتیں باہر نکل آئیں گی اور وہ شخص اس طرح چکر لگانے لگے گا جیسے گدھا اپنی چکی پر گردش کیا کرتا ہے ۔ جہنم میں ڈالے جانے والے اس کے قریب آ کر جمع ہو جائیں گے اور اس سے کہیں گے ، اے فلاں ! آج یہ تمہاری کیا حالت ہے ؟ کیا تم ہمیں اچھے کام کرنے کے لیے نہیں کہتے تھے ، اور کیا تم برے کاموں سے ہمیں منع نہیں کیا کرتے تھے ؟ وہ شخص کہے گا جی ہاں ، میں تمہیں تو اچھے کاموں کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا ۔ برے کاموں سے تمہیں منع بھی کرتا تھا ، لیکن میں اسے خود کیا کرتا تھا ۔ اس حدیث کو غندر نے بھی شعبہ سے ، انہوں نے اعمش سے روایت کیا ہے ۔

جواب

اس روایت کو صحیح سمجھنا غلط ہے یہ منقطع ہے اس کی تمام اسناد میں شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل الكوفي ہیں جن کا صحابہ میں سے بعض سے سماع نہیں ہے

ان کا أبي الدرداء رضی الله عنہ سے عائشہ رضی الله عنہا سے علی رضی الله عنہ سے ابو بکر رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے یہ مدلس بھی ہیں
جامع التحصيل في أحكام المراسيل

أسامة بن زيد بن حارثة بن شراحيل رضی الله عنہ کی وفات سن ٥٤ ہجری میں مدینہ میں ہوئی
قَالَ ابْنُ سَعْدٍ: مَاتَ فِي آخِرِ خِلاَفَةِ مُعَاوِيَةَ ان کی وفات معاویہ رضی الله عنہ کی خلافت کے آخری میں ہوئی

اسامہ رضی الله عنہ عراق نہیں گئے کتاب التذكرة: 3540، التقريب: 316 کے مطابق
وقدم دمشق، وسكن المزة، ثم انتقل إلى المدينة، فمات بها، ويقال: مات بوادى القرى، سنة أربع وخمسين
اسامہ بن زید دمشق گئے مزہ میں رکے پھر مدینہ لوٹے اور وہیں فوت ہوئے

شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل الكوفي نے ان اصحاب رسول سے سنا ہے جو کوفہ گئے جیسے ابن مسعود رضی الله عنہ وغیرہ
اور ابو نعیم کتاب معرفة الصحابة میں کہتے ہیں شقیق کی وفات تُوُفِّيَ سَنَةَ تِسْعٍ وَسَبْعِينَ ٧٩ ہجری میں ہوئی
قَالَ ابْن سعد توفّي زمن الْحجَّاج بعد الجماجم
ابن سعد کہتے ہیں حجاج بن یوسف کے دور میں ہوئی جماجم کے بعد

الجماجم سن ٨٣ ہجری کا واقعہ ہے
اور معركة بزاخة جو ابو بکر رضی الله عنہ کی طرف سے مرتد قبائل کے خلاف تھا نجد میں ہوا اس وقت شقیق کی عمر ١١ سال تھی
ذكر ابْن أبي شيبَة أَن أَبَا وَائِل قَالَ كنت يَوْم بزاخة ابْن إِحْدَى عشرَة سنة

شقیق نے مدینہ کا سفر کیا ہو کسی نے بیان نہیں کیا لہذا یہ روایت منقطع ہے

جواب

مسند احمد کی روایت 24566  ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَيْنَا رَسُولَ اللهِ (1) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَقْبَلَتْ إِحْدَانَا عَلَى الْأُخْرَى، فَكَانَ مِنْ آخِرِ كَلَامٍ كَلَّمَهُ، أَنْ ضَرَبَ مَنْكِبَهُ (2) ، وَقَالَ: ” يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عَسَى أَنْ يُلْبِسَكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ، فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي، يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللهَ عَسَى أَنْ يُلْبِسَكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ، فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي ” ثَلَاثًا، فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَيْنَ كَانَ هَذَا عَنْكِ؟ قَالَتْ: نَسِيتُهُ، وَاللهِ فَمَا ذَكَرْتُهُ. قَالَ: فَأَخْبَرْتُهُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، فَلَمْ يَرْضَ بِالَّذِي أَخْبَرْتُهُ حَتَّى كَتَبَ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ اكْتُبِي إِلَيَّ بِهِ، فَكَتَبَتْ إِلَيْهِ بِهِ كِتَابًا

عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے عثمان رضی الله عنہ سے کہا اے عثمان بے شک ہو سکتا ہے کہ الله تم کو ایک قمیص پہنا دے پس جب منافق چاہیں تو تم اس کو نہ اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے ملو – تین بار کہا

مستدرک الحاکم کی روایت ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ حِينَ رُمِيَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يَوْمَئِذٍ فَوَقَعَ فِي رُكْبَتِهِ فَمَا زَالَ يُسَبِّحُ إِلَى أَنْ مَاتَ
قیس بن ابی حازم نے کہا میں نے مروان بن الحکم کو دیکھا جب اس نے طلحہ بن عبید الله پر تیر پھینکا اس روز جو ان کے گھٹنے میں لگا پس انہوں نے تسبیح کرنا نہ چھوڑا یہاں تک کہ موت ہوئی
امام حاکم اور الذہبی نے اس کو صحیح سمجھا ہے

جواب

یہ بات قیس بن ابی حازم بیان کرتا ہے کہ مروان بن الحکم نے طلحہ رضی الله عنہ کو قتل کیا حدیث کی کتابوں میں مستدرک الحاکم اور طبرانی میں اس کی روایت  ہے. لیکن اس کی سند میں  إسماعيل بن أبي خالد الكوفي ہیں جو کوفہ کے ثقة راوی ہیں اور صغار التابعين میں سے ہیں جن کو  النسائي ، مدلس کہتے ہیں. مدلس کی روایت عن سے اگر ہو تو اس کی تحقیق کرنی چاہیے. مروان کے قاتل ہونے کی روایت عن سے آئی ہے.

قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ کو عثمانیا کہا جاتا ہے یعنی یہ عثمان رضی الله عنہ کو علی رضی الله عنہ سے افضل سمجھتے تھے. یہ راوی الحواب والی روایت بھی بیان کرتا ہے جس پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ واقعہ جمل میں عائشہ رضی الله عنہا کے لشکر میں تھا. بعد میں یہ پارٹی بدل کر علی رضی الله عنہ کے ساتھ شامل ہو گیا اور خوارج سے لڑا . ایسا کسی صحابی نے نہیں کیا جو قصاص عثمان کا مطالبہ لے کر نکلے وہ اپنے موقف پر رہے اور جو علی رضی الله کے ساتھ تھے وہ ان کے ساتھ ہی رہے. لیکن قیس پارٹیاں بدلتے رہے اور ادھر کی ادھر کرتے رہے.

کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل از العلائي (المتوفى: 761هـ)   کے مطابق إسماعيل بن أبي خالد  مدلس ہیں اور العلائي کے مطابق ابن معین  نے  إسماعيل کی  قیس سے ایک روایت کو راوی کی غلطی کہا ہے لہذا إسماعيل کا قیس سے سماع مشکوک ہے

 مستدرک الحاکم  کی روایت صحیح نہیں ہے. اسی سند سے طبرانی کی المعجم الكبير میں بھی نقل ہوئی ہے لہذا حدیث کی کتب میں اس واقعہ کی صحیح سند نہیں

اب تاریخ کی کتب دیکھئے اس میں ہم بہت ابتدائی کتب کو دیکھتے ہیں مثلا  تاریخ خلیفہ بن الخیاط وغیرہ –  تاریخ خلیفہ بن الخیاط  میں ایک سند ہے جس کا الذھبی نے تاریخ الاسلام میں ذکر کیا ہے

فروى قَتَادة، عن الجارود بن أبي سَبْرَة الهُذَليّ قَالَ: نظر مروان بن الحَكَم إلى طلحة يوم الجمل، فَقَالَ: لَا أطلب ثأري بعد اليوم، فرَمى طلحة بسهم فقتله

اس کی سند میں قتادہ مدلس عن سے روایت کر رہے ہیں  لہذا یہ بھی صحیح نہیں

الذھبی نے کتاب سیر الاعلام النبلاء میں اس کی اور سندیں بھی دیں ہیں

وعن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن عمه، أن مروان رمى طلحة، والتفت إلى أبان بن عثمان وقال: قد كفيناك بعض قتلة أبيك. وروى زيد بن أبي أنيسة، عن رجل، أن عليا قال: بشروا قاتل طلحة بالنار.

لیکن ان دونوں میں مجھول راوی ہیں لہذا یہ بھی صحیح نہیں

تاریخ خلیفہ بن الخیاط میں ایک اور سند ہے

فَحَدثني أَبُو عَبْد الرَّحْمَن الْقرشِي عَن حَمَّاد بْن زيد عَن قُرَّة بْن خَالِد عَن ابْن سِيرِين قَالَ رمي طَلْحَة بِسَهْم فَأصَاب ثغرة نَحره قَالَ فَأقر مَرْوَان أَنه رَمَاه

 اس روایت میں ہے کہ طلحہ رضی الله عنہ کو تیر لگا اور مروان نے اقرار کیا کہ یہ انہوں نے پھینکا تھا

اس روایت میں وہ شر انگیزی نہیں جو دوسری روایات ہیں ہے  جس میں مروان کا جان بوجھ کر قتل کرنا بتایا گیا ہے. تیر لگنا  غلطی سے بھی ہو سکتا ہے حالت جنگ میں کوئی تیر پھینکتا ہے کوئی تلوار چلاتا ہے اور اپنے ہی کسی ساتھی کو بھی زخمی کر سکتا ہے اگر وہ شخص اتفاقا یکدم تیر کے راستے میں آ جائے .اس صورت میں اس کو قتل عمد نہیں کہا جا سکتا

ابن کثیر نے  البداية والنهاية  ج ٧ ص ٢٤٧ میں اس کو جزم سے نہیں لکھا بلکہ کہا

وَيُقَالُ إِنَّ الَّذِي رَمَاهُ بِهَذَا السَّهْمِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ

اور کہا جاتا ہے مروان بن الحکم نے ان کو تیر مارا

ابن  الأثير (المتوفى: 630هـ)  کتاب الكامل في التاريخ میں کہتے ہیں

وَكَانَ الَّذِي رَمَى طَلْحَةَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، وَقِيلَ غَيْرُهُ

اور طَلْحَةَ کو مروان نے تیر مارا اور کہا جاتا ہے کسی اور نے

ہمارا سوال ہے کہ جب مورخین کو اس بات میں شک ہے تو اس  بات کی تحقیق کیوں نہیں کی. اصل میں بنو امیہ کو برا کہنا مورخین کی کتب بکنے کا سبب تھا اگر وہ ان کتابوں میں ان کو برا نہیں لکھتے تو کوئی خریدتا نہیں لہذا پر سچی جھوٹی بات نقل کرتے چلے گئے اور کہا کہ ہم نے سند پیش کر دی ہے. جبکہ یہ واضح ہے عوام اس سند کو کیسے چیک کرتے جبکہ علم جرح و تعدیل کی کوئی ایک کتاب تو ہے نہیں

مروان بن الحکم تو خود قصاص کا مطالبہ لے کر نکلے تھے اور طلحہ رضی الله عنہ کے ساتھ تھے تو پھر وہ طلحہ کو کیوں قتل کریں گے دوم اگر یہ ثابت ہوتا تو کوئی نہ کوئی اس وجہ سے مروان کو بھی قتل کر دیتا. معاویہ بن خدیج رضی  الله انہ نے تو قتل عثمان پر ٨٠ افراد کو قتل کیا تو طلحہ رضی الله عنہ کے قتل پر مروان کو کیسے چھوڑ دیتے

جواب

یہ لسٹ   الإصابة في معرفة الصحابة از ابن حجرسے مرتب کی گئی ہے اس میں وہ  نام شامل کیے گئے ہیں جن کو محدثین و مورخین نے بیان کیا ہے بعض پر ابن حجر اختلاف کرتے ہیں لیکن اس کو یھاں بیان نہیں کیا گیا ہے کیونکہ اس تحقیق کا حجم ایک کتاب کی صورت بدل جاتا

الإصابة في معرفة الصحابة از ابن حجر کے مطابق  جنگ جمل میں شرکت کرنے والے اصحاب رسول اور قاتلین عثمان میں شریک اصحاب رسول تھے

عائشہ  رضی الله عنہا کے لشکر میں اصحاب رسول

( اہل مکہ اور خاص کر قریش  کے لوگوں کی اکثریت ہے)

 

علي  رضی الله عنہ کے لشکر میں اصحاب رسول

(یمنی قبائل ، بنو اسد  اور دیگر  کی اکثریت ہے)

الزبير بن العوام

طلحة بن عبيد اللَّه القرشيّ التيميّ

عبد الرحمن بن عبد اللَّه بن عثمان

محمد بن طلحة  بن عبيد اللَّه القرشيّ التيميّ

أشرف بن حميري

جون بن قتادة

ربيعة بن أبيّ الضبي

شييم بن عبد العزّى بن خطل

شيمان ابن عكيف بن كيّوم بن عبد

عبد اللَّه بن حكيم بن حزام القرشي الأسدي

عبد اللَّه بن خلف بن أسعد بن عامر

عبد اللَّه بن مسافع بن طلحة بن أبي طلحة القرشي العبدري

عبد الرحمن بن عبد اللَّه القرشي التيمي

عكراش ابن ذؤيب بن حرقوص

عبد اللَّه بن عامر بن كريز القرشي

عبد اللَّه بن معبد بن الحارث   الأسدي القرشي

عبد الرحمن بن حميد  العامري القرشي

الوليد بن يزيد بن ربيعة بن عبد شمس القرشيّ

يعلى بن أمية التميميّ الحنظليّ، حليف قريش

أبو سفيان بن حويطب  بن عبد العزى القرشي العامري

عبد الرحمن بن عتّاب  الأموي (یہ جويرية بنت أبي جهل کے بیٹے ہیں جن سے علی شادی کرنا چاہتے تھے کہا جاتا ہے ان کا قتل علی کے سامنے کیا گیا اور وہ دیکھ رہے تھے)

عتبة بن أبي سفيان بن حرب بن أمية الأموي

علي بن عديّ  بن ربيعة

عقيم بن زياد بن ذهل

عمرو بن الأشرف  العتكيّ

كعب بن سور

أبو الجعد الضمريّ

 

محدثین و مورخین کے مطابق  اصحاب رسول میں سے  قاتلین عثمان رضی الله عنہ سے یہ اصحاب رسول تھے

نوٹ  قاتلین میں جو اصحاب رسول ہیں وہ امیر المومنین علی رضی الله عنہ کے خاص اصحاب ہیں ان میں کوئی سبائی نہیں ہے تاریخ ابن خلدون کے مطابق یہ تمام اصحاب رسول حاجی بن کر شوّال  میں نکلے

محمد بن أبي حذيفة 

ابن حجر العسقلاني في الإصابة في معرفة الصحابة – (ج 3 / ص 59 کے مطابق

عثمان رضی الله عنہ کا لے پالک فلسطین میں قتل ہوا
اصحاب شجرہ میں سے عبد الرحمن بن عديس البلوي

ابن عبد البر ، الإستيعاب في معرفة الأصحاب – (ج 1 / ص 254) کے مطابق

ان کا فلسطین میں قتل ہوا

كنانة بن بشر الليثي

ابن حجر ، الإصابة في معرفة الصحابة – (ج 3 / ص 19)کے مطابق

ان کا فِلِسْطِينَ میں معاویہ بن خدیج نے قتل کیا

زيد بن صوحان (جنگ جمل میں قتل ہوا)ہ

الإصابة از ابن حجر کے مطابق

زید اہل کوفہ کے لیڈر تھے

زياد بن النضر الحارثي

الإصابة از ابن حجر کے مطابق

کوفی ہیں صفین میں بھی شرکت کی

حكيم بن جبلة

ابن عبد البر في الإستيعاب (ج 1 / ص 108) کے مطابق

یہ صحابی فاتح مکران ہیں اور عثمان نے ان کو عامل مقرر کیا لیکن بعد میں باغی ہوئے اور أهل البصرة کے لیڈر تھے

حرقوص بن زهير السعدي

مصری ٹولے کے سرغنہ

ابن الأثير ، أسد الغابة – (ج 1 / ص 251)کے مطابق

یہ صحابی خارجی ہوئے یعنی علی کو خلیفہ ماننے سے انکار کیا

بقیہ اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم

حسن بن علی

حسین بن علی

عبد الله بن عباس

عَمَّارٍ

البراء بن عازب

سهل بن حنيف

عثمان بن حنيف

عمر بن أبي سلمة

عمرو بن فروة بن عوف الأنصاري

شريح بن هانئ

عائذ بن سعيد

مالك بن الحارث

جندب بن زهير

حجر  ابن عدي بن معاوية

حجر بن يزيد بن سلمة

حسان بن خوط

الحارث بن زهير

الخرّيت بن راشد الناجي

خالد بن المعمّر

سيحان بن صوحان  (جنگ جمل میں قتل ہوا)ہ

عبد الرحمن بن حنبل الجمحيّ

عمرو بن المرجوم

فروة بن عمرو بن ودقة

محمد بن إياس بن البكير الليثيّ المدنيّ.

المنذر بن الجارود

معقل بن قيس الرّياحي

هند بن عمرو

القعقاع بن عمرو التمیمی

حنظل یا حنظلة  بن ضرار (یہ چیخ و پکار کر کے ام المومننیں کے اونٹ کو مضطرب کرتے رہے)

الحتات ابن زيد بن علقمة

عائشہ کے لشکر کو چھوڑ کر علی سے مل گئے

حنظلة بن الربيع بن صيفي

علی کو جنگ  کے بیچ میں چھوڑ دیا

عبد اللَّه بن المعتمّ

علی کو جنگ  کے بیچ میں چھوڑ دیا

 

 ذو الخويصرة حرقوص بن زهير التميمي پر اہل سنت مشتبہ ہیں

کہا جاتا ہے یہ ہی  ذو الخويصرة حرقوص بن زهير التميمي ہے جس کا ذکر حدیث میں ہے

البدء والتاريخ از المقدسی

کہا جاتا ہے یہ اصحاب شجرہ میں سے ہے

وذكر بعض من جمع المعجزات أنّ النبي صلّى اللَّه عليه وسلّم قال: «لا يدخل النّار أحد شهد الحديبيّة إلّا واحد»  فكان هو حرقوص بن زهير

ابن حجر اصابہ اور  فتح الباري 7/ 443  میں کہتے ہیں کہ یہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے معجزہ میں سے ہے کہ اپ نے فرمایا کہ جو حدیبیہ میں موجود تھے ان میں سے کوئی جہنم میں نہ جائے گا سوائے ایک کے اور یہ حرقؤص ان میں سے ہے

جنگ جمل اصلا غیر قریشی اصحاب رسول کی قریشی اصحاب رسول کے خلاف بغاوت ہے  جن میں ان کو اہل بیت کی تائید ملی

غیر قریشی قبائل میں یمن سے منسلک قبائل کی کثرت ہے یعنی بنو اسد ان کو ١٧ ہجری میں عمر نے ان کے علاقے سے کوفہ منتقل ہونے کا حکم کیا  قحطان سے منسلک قبائل جن میں راسب اور المرادی ہیں  یہ مدینہ کے جنوب کے ہیں بنو تمیم کے لوگ یہ مدینہ کے مشرق کے ہیں

کیا یہ احادیث صحیح ہیں

مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 299

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِهِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ قَالَ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ لَا وَلَكِنْ خَاصِفُ النَّعْلِ وَعَلِيٌّ يَخْصِفُ نَعْلَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بعض لوگ قرآن کی تفسیر و تاویل پر اس طرح قتال کریں گے جیسے میں اس کی تنزیل پر قتال کرتا ہوں ، اس پر حضراتِ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، اس سے مراد جوتی گانٹھنے والا ہے اور اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی جوتی گانٹھ رہے تھے۔

===========

جامع ترمذی ۔ جلد دوم ۔ مناقب کا بیان ۔ حدیث 1681

مناقب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آپ کی کنیت ابوتراب اور ابوالحسن ہے

راوی: سفیان بن وکیع , وکیع , شریک , منصور , ربعی بن حراش , علی بن ابی طالب

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ شَرِيکٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِالرَّحَبِيَّةِ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ خَرَجَ إِلَيْنَا نَاسٌ مِنْ الْمُشْرِکِينَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَأُنَاسٌ مِنْ رُؤَسَائِ الْمُشْرِکِينَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجَ إِلَيْکَ نَاسٌ مِنْ أَبْنَائِنَا وَإِخْوَانِنَا وَأَرِقَّائِنَا وَلَيْسَ لَهُمْ فِقْهٌ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا خَرَجُوا فِرَارًا مِنْ أَمْوَالِنَا وَضِيَاعِنَا فَارْدُدْهُمْ إِلَيْنَا قَالَ فَإِنْ لَمْ يَکُنْ لَهُمْ فِقْهٌ فِي الدِّينِ سَنُفَقِّهُهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لَتَنْتَهُنَّ أَوْ لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ عَلَيْکُمْ مَنْ يَضْرِبُ رِقَابَکُمْ بِالسَّيْفِ عَلَی الدِّينِ قَدْ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ عَلَی الْإِيمَانِ قَالُوا مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَکْرٍ مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَالَ عُمَرُ مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هُوَ خَاصِفُ النَّعْلِ وَکَانَ أَعْطَی عَلِيًّا نَعْلَهُ يَخْصِفُهَا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا عَلِيٌّ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ رِبْعِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ و سَمِعْت الْجَارُودَ يَقُولُ سَمِعْتُ وَکِيعًا يَقُولُ لَمْ يَکْذِبْ رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ فِي الْإِسْلَامِ کَذْبَةً و أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ قَال سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ أَثْبَتُ أَهْلِ الْکُوفَةِ

سفیان بن وکیع، وکیع، شریک، منصور، ربعی بن حراش، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رحبہ مقام پر فرمایا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر کئی مشرک ہماری طرف آئے جن میں سہیل بن عمرو اور کئی مشرک سردار تھے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمارے اولاد، بھائیوں اور غلاموں میں سے بہت سے ایسے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے جنہیں دین کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں۔ یہ لوگ ہمارے اموال اور جائیدادوں سے فرار ہوئے ہیں۔ لہذا آپ یہ لوگ ہمیں واپس کر دیں اگر انہیں دین کی سمجھ نہیں تو ہم انہیں سمجھا دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اہل قریش ! تم لوگ اپنی حرکتوں سے باز آ جاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تم پر ایسے لوگ مسلط کریں گے جو تمہیں قتل کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کے ایمان کو آزما لیا ہے۔ ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور لوگوں نے پوچھا کہ وہ کون ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جوتیوں میں پیوند لگانے والا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی نعلین مبارک مرمت کے لئے دی تھیں۔ حضرت ربعی بن حراش فرماتے ہیں کہ پھر علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے گا۔ وہ اپنی جگہ جہنم میں تلاش کر لے۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو اس سند سے صرف ربعی کی روایت سے جانتے ہیں وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔

ایک بھائی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے یا نہیں – مجھے اس کا علم نہیں – اس لئے آپ سے پوچھ رہا ہوں – ان کا لنک ووہی ہے جو اوپر پیش کی ہیں تحقیق کے لئے

مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 788

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا مِنْ بَعْضِ بُيُوتِ نِسَائِهِ قَالَ فَقُمْنَا مَعَهُ فَانْقَطَعَتْ نَعْلُهُ فَتَخَلَّفَ عَلَيْهَا عَلِيٌّ يَخْصِفُهَا فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَضَيْنَا مَعَهُ ثُمَّ قَامَ يَنْتَظِرُهُ وَقُمْنَا مَعَهُ فَقَالَ إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ هَذَا الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ فَاسْتَشْرَفْنَا وَفِينَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ لَا وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ قَالَ فَجِئْنَا نُبَشِّرُهُ قَالَ وَكَأَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی اہلیہ محترمہ کے گھر سے تشریف لے آئے، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑے، راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی ٹوٹ گئی، حضرت علی رضی اللہ عنہ رک کر جوتی سینے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے چل پڑے، ہم بھی چلتے رہے، ایک جگہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتظار کرنے لگے، ہم بھی کھڑے ہوگئے اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جو قرآن کریم کی تاویل و تفسیر پر اسی طرح قتال کرے گا جیسے میں نے اس کی تنزیل پر قتال کیا ہے، یہ سن کر ہم جھانک جھانک کر دیکھنے لگے، اس وقت ہمارے درمیان حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جوتی سینے والا ہے، اس پر ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ خوشخبری سنانے کے لئے گیئے تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے انہوں نے بھی یہ بات سن لی ہے۔

اس حدیث کی تشریح کیا ہے

جواب

شعیب اس کو حسن کہتے ہیں سند میں فطر بن خلیفہ ہے جو شیعہ ہے
البانی اس کو الصَّحِيحَة: 2487 میں بیان کیا ہے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: “إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ”، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: “لَا”، قَالَ عُمَرُ: أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: “لَا، وَلَكِنْ خَاصِفُ النَّعْلِ”، قَالَ: وَكَانَ أَعْطَى عَلِيًّا نَعْلَهُ يَخْصِفُهُ (رقم طبعة با وزير: 6898) , (حب) 6937 [قال الألباني]: صحيح – “الصحيحة” (2487).

یہ بات کہ علی جنگ کریں گے  اس کا مقصد خوراج اور علی کے مابین تصادم ہے کیونکہ خوارج تاویل قرآن پر اختلاف کر رہے تھے کہ امیر کے خلاف بغاوت کو کچل دیا جائے اور سوره المائدہ کی آیات ثبت کر رہے تھے جبکہ علی خود سوره حجرات اور سوره نساء کی آیات استمعال کر رہے تھے
راقم کے نزدیک اس میں فطر نے اپنی شیعیت کا اظہار کیا ہے اس کی بدعت کی وجہ سے قابل رد ہے فطر کو دارقطنی اور جوزجانی نے زائغ  قرار دیا ہے  دوسرے راوی إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، کو  أبو الفتح الأزدي نے منكر الحديث کہا ہے

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بعض لوگ قرآن کی تفسیر و تاویل پر اس طرح قتال کریں گے جیسے میں اس کی تنزیل پر قتال کرتا ہوں ، اس پر حضراتِ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، اس سے مراد جوتی گانٹھنے والا ہے اور اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی جوتی گانٹھ رہے تھے۔

تاویل قرآن پر ابو بکر رضی الله عنہ نے بھی جنگ کی جب زکوہ کے انکاری اہل قبلہ سے قتال کیا لہذا یہ بات کیسے صحیح سمجھی جاۓ؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کچھ قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا، باقی اسلام پر وہ عمل کر رہے تھے۔لیکن اس کے باوجود خلیفہ رسول  ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کرنے کے عزم کا اظہار فرمایا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے اعتراض کیا اور کہا آپ ان سے قتال کریں گے جو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتے ہیں؟ جبکہ ایسے لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم میں ان سے قتال ضرور کروں گاجو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کر رہے ہیں۔اس لیے کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے – اللہ کی قسم! اگر وہ ایک بکری کا بچہ بھی مجھے دینے سے انکار کریں گے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (زکوٰۃ میں)ادا کرتے تھے تو میں اس کے بھی روک لینے پران سے لڑوں گا۔  عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:  اللہ کی قسم!(جب میں نے ابوبکر کے موقف پر غور کیا تو) میں نے یہی دیکھا کہ اللہ نے ان لوگوں سے قتال کے لیے ابوبکر کا سینہ کھول دیا ہے اور میں نے بھی جان لیا کہ یہی بات حق ہے- صحیح بخاری

یعنی اسلام میں تاویل قرآن پر پہلی جنگ ابو بکر رضی الله عنہ نے کی ہے

‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَابٌ) صحیح بخاری: کتاب: غزوات کے بیان میں (باب)

4024 . وَعَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ لَوْ كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لَتَرَكْتُهُمْ لَهُ وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَقَعَتْ الْفِتْنَةُ الْأُولَى يَعْنِي مَقْتَلَ عُثْمَانَ فَلَمْ تُبْقِ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ أَحَدًا ثُمَّ وَقَعَتْ الْفِتْنَةُ الثَّانِيَةُ يَعْنِي الْحَرَّةَ فَلَمْ تُبْقِ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ أَحَدًا ثُمَّ وَقَعَتْ الثَّالِثَةُ فَلَمْ تَرْتَفِعْ وَلِلنَّاسِ طَبَاخٌ

اور اسی سند سے مروی ہے ، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد ( جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ ) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے متعلق فرمایا تھا ، اگر مطعم بن عدی رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے اور ان پلید قیدیوں کے لیے سفارش کرتے تو میں انہیں ان کے کہنے سے چھوڑ دیتا ۔ اور لیث نے یحییٰ بن سعید انصاری سے بیان کیا ، ا نہوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ پہلا فساد جب برپا ہوا یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا تو اس نے اصحاب بدر میں سے کسی کو باقی نہیں چھوڑا ، پھر جب دو سرا فساد برپا ہوا یعنی حرہ کا ، تو اس نے اصحاب حدیبیہ میں سے کسی کو باقی نہیں چھوڑا ، پھر تیسرا فساد برپا ہوا تو وہ اس وقت تک نہیں گیا جب تک لوگوں میں کچھ بھی خوبی یا عقل باقی تھی

کیا یہ صحیح قول ہے؟

جواب

یہ روایت جس میں ہے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا تو اس نے اصحاب بدر میں سے کسی کو باقی نہیں چھوڑا صحیح نہیں تاریخا غلط ہے
بہت سے اصحاب رسول جو بدری ہیں معاویہ رضی الله عنہ کے دور میں فوت ہوئے
سعد بن ابی وقاص ، زید بن ارقم اور ابو ایوب انصاری اور بہت سے انصاری اصحاب رسول وغیرہ

ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں

قَوْلُهُ وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ الْأُولَى يَعْنِي مَقْتَلَ عُثْمَانَ فَلَمْ تُبْقِ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ أَحَدًا أَيْ أَنَّهُمْ مَاتُوا مُنْذُ قَامَتِ الْفِتْنَةُ بِمَقْتَلِ عُثْمَانَ إِلَى أَنْ قَامَتِ الْفِتْنَةُ الْأُخْرَى بِوَقْعَةِ الْحَرَّةِ وَكَانَ آخِرَ مَنْ مَاتَ مِنَ الْبَدْرِيِّينَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَمَاتَ قَبْلَ وَقْعَةِ الْحَرَّةِ بِبِضْعِ سِنِينَ

اور ان کا قول کہ فتنہ اول نے مقتل عثمان نے کوئی بدری نہیں چھوڑا یعنی یہ اصحاب مرے اس مدت میں جو مقتل عثمان سے اگلے  حرہ کے فتنہ تک ہے اور بدریوں میں آخر میں سعد بن ابی وقاص کی موت ہوئی اور وہ چند سال قبل واقعہ حرہ سے ہوئی

راقم کہتا ہے ابن مسیب سے منسوب قول میں یہ نہیں کہا گیا جو ابن حجر نے بیان کیا ہے

شرح البخاری  کتاب إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري  میں القسطلاني  کہتے ہیں

واستشكل قوله: فلم تبق من أصحاب بدر أحدًا بأن عليًّا والزبير وطلحة وسعدًا وسعيدًا وغيرهم عاشوا بعد ذلك زمانًا. فقال الداودي: إنه وهم بلا شك

اور اس قول پر اشکال ہے کہ اصحاب بدر میں کوئی نہ چھوڑا کیونکہ علی اور زبیر اور طلحہ اور سعد اور سعید اور دیگر ایک زمانے تک اس کے بعد زندہ رہے ہیں پس الداودي نے کہا یہ وہم ہے اس میں کوئی شک نہیں

شرح البخاری کتاب الكوثر الجاري إلى رياض أحاديث البخاري میں الكوراني  کہتے ہیں

 وقال شيخنا: ليس هذا وهم، بل المراد أن بين مقتل عثمان وبين وقعة الحرة مات كل بدري. قلت: هذا لا يساعده اللفظ فإن فاعل: لم يبق من أصحاب بدر أحد، الضمير العائد إلى الفتنة المفسرة بمقتل عثمان لا لقولهم مقتل حسين

ہمارے شیخ کہتے ہیں یہ وہم نہیں ہے بلکہ مراد ہے کہ مقتل عثمان اور واقعہ حرہ م کے درمیان تمام بدری فوت ہوئے میں کورانی کہتا ہوں یہ لفظ ان کی مدد نہیں کرتا کیونکہ فاعل کوئی بدری نہیں چھوڑا میں ضمیر پلٹتی ہے فتنہ مقتل عثمان پر نہ کہ مقتل حسین پر

راقم کہتا ہے ابن مسیب کا قول یحیی بن سعید بن قیس انصاری   مدلس کا ہے جو عن سے ہے اور مضبوط نہیں ہے

‌صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ (باب: 46سُورَةُ حم الأَحْقَافِ بَابُ {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ) صحیح بخاری: کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں (باب: 46سورۃ احقاف کی تفسیر آیت (( والذی قال لوالدیہ الایۃ )) کی تفسیر)

4827 . حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ قَالَ كَانَ مَرْوَانُ عَلَى الْحِجَازِ اسْتَعْمَلَهُ مُعَاوِيَةُ فَخَطَبَ فَجَعَلَ يَذْكُرُ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ لِكَيْ يُبَايَعَ لَهُ بَعْدَ أَبِيهِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ شَيْئًا فَقَالَ خُذُوهُ فَدَخَلَ بَيْتَ عَائِشَةَ فَلَمْ يَقْدِرُوا فَقَالَ مَرْوَانُ إِنَّ هَذَا الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي فَقَالَتْ عَائِشَةُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِينَا شَيْئًا مِنْ الْقُرْآنِ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ عُذْرِي

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ، ان سے ابو بشر نے ، ان سے یوسف بن ماہک نے بیان کیا کہ مروان کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حجاز کا امیر ( گورنر ) بنایا تھا ۔ اس نے ایک موقع پر خطبہ دیا اور خطبہ میں یزید بن معاویہ کا بار بار ذکر کیا ، تاکہ اس کے والد ( حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ) کے بعد اس سے لوگ بیعت کریں ۔ اس پر عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے اعتراضاً کچھ فرمایا ۔ مروان نے کہا اسے پکڑ لو ۔ عبدالرحمن اپنی بہن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں چلے گئے تو وہ لوگ پکڑ نہیںسکے ۔ اس پر مروان بولا کہ اسی شخص کے بارے میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ ” اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تف ہے تم پر کیا تم مجھے خبر دیتے ہو “ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہانے کہا کہ ہمارے ( آل ابی بکر کے ) بارے میں اللہ تعالیٰ نے کوئی آیت نازل نہیں کی بلکہ ” تہمت سے میری برات ضرور نازل کی تھی “ ۔

آپ نے اس حدیث کو صحیح کہا تھا – امید ہے آپ کو یاد ہو گا

اس حدیث کے اور طرق آیے ہیں

جس میں حضرت عائشہ صدیقہ راضی الله نے کہا کہ میں نے خود سنا کہ رسول الله صلی الله وسلم نے ماروں اور اس کے باپ پر لعنت کی تھی جب ماروں اپنے باپ کی پشت میں تھا – مروان الله کی طرف سے اسی لعنت کا ٹکڑا ہے

اس کا حوالہ سنن نسائی الکبریٰ کی حدیث نمبر ١١٤٩١ اور مستدرک الحکیم حدیث نمبر ٨٤٨٣ میں آیا ہے

کیا آپ یہ پیش کریں گے – اور اس پر اپنی رائے دیں گے

جواب

سنن الکبری نسائی کی روایت 11427 ہے
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: لَمَّا بَايَعَ مُعَاوِيَةُ لِابْنِهِ، قَالَ مَرْوَانُ: سُنَّةُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: سُنَّةُ هِرَقْلَ وَقَيْصَرَ، فَقَالَ مَرْوَانُ: هَذَا الَّذِي أَنْزَلَ اللهُ فِيهِ {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا} [الأحقاف: 17] الْآيَةَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: «كَذَبَ وَاللهِ، مَا هُوَ بِهِ، وَإِنْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ لَسَمَّيْتُهُ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ أَبَا مَرْوَانَ، وَمَرْوَانُ فِي صُلْبِهِ، فَمَرْوَانُ فضَضٌ مِنْ لَعْنَةِ اللهِ»

اسی سند سے مستدرک الحاکم میں ہے
– حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ الْحَافِظُ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، ثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: لَمَّا بَايَعَ مُعَاوِيَةُ لِابْنِهِ يَزِيدَ، قَالَ مَرْوَانُ: سُنَّةُ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: سُنَّةُ هِرَقْلَ، وَقَيْصَرَ، فَقَالَ: أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكَ: {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا} [الأحقاف: 17] الْآيَةَ، قَالَ: فَبَلَغَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: كَذَبَ وَاللَّهِ مَا هُوَ بِهِ، وَلَكِنْ «رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ أَبَا مَرْوَانَ وَمَرْوَانُ فِي صُلْبِهِ» فَمَرْوَانُ قَصَصٌ مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»
[التعليق – من تلخيص الذهبي] 8483 – فيه انقطاع

الذھبی نے تلخیص میں کہا ہے کہ یہ منقطع سند ہے

یعنی وہ روایات جن میں لعنت کا ذکر ہے ان کی سند منقطع ہے

جواب

اس سلسلے میں بعض روایات پیش کی جاتی ہیں

اول حواب کے کتوں والی روایت
⇓ الْحَوْأَبِ کے کتے بھونکیں گے
http://www.islamic-belief.net/masalik/شیعیت/

دوم خوارج سے متعلق روایات
http://www.islamic-belief.net/خوارج-سے-متعلق-روایات/

سوم مسند احمد کی بہت سی ضعیف روایات
http://www.islamic-belief.net/مسند-احمد-اور-صحیح-البخاری-کا-موازنہ/

چہارم تیس سال والی خلافت
⇓ خلافت تیس سال رہے گی
http://www.islamic-belief.net/history/

راقم نے کھل کر ان روایات کا تجزیہ پیش کر دیا ہے کہ یہ نصوص ثابت نہیں ہیں

یاد رہے کہ سچا آدمی ہر سنی سنائی بات کو قبول نہیں کرتا

و الله اعلم

کیا اس حدیث کی سند صحیح ہے

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الفِتَنِ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «هَلاَكُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ أُغَيْلِمَةٍ سُفَهَاءَ») صحیح بخاری: کتاب: فتنوں کے بیان میں (باب : نبی کریم ﷺ کا یہ فرمایا کہ میری امت کی تباہی چند بے وقوف لڑکوں کی حکومت سے ہوگی)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِّي قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَمَعَنَا مَرْوَانُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ يَقُولُ هَلَكَةُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ مَرْوَانُ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ غِلْمَةً فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ بَنِي فُلَانٍ وَبَنِي فُلَانٍ لَفَعَلْتُ فَكُنْتُ أَخْرُجُ مَعَ جَدِّي إِلَى بَنِي مَرْوَانَ حِينَ مُلِّكُوا بِالشَّأْمِ فَإِذَا رَآهُمْ غِلْمَانًا أَحْدَاثًا قَالَ لَنَا عَسَى هَؤُلَاءِ أَنْ يَكُونُوا مِنْهُمْ قُلْنَا أَنْتَ أَعْلَمُ

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے دادا سعید نے خبردی، کہا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں بیٹھا تھا اور ہمارے ساتھ مروان بھی تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے صادق و مصدوق سے سنا ہے آپ نے فرمایا کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند چھوکروں کے ہاتھ سے ہوگی۔ مروان نے اس پر کہا ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں ان کے خاندان کے نام لے کر بتلانا چاہوں تو بتلاسکتا ہوں۔ پھر جب بنی مروان شام کی حکومت پر قابض ہوگئے تو میں اپنے دادا کے ساتھ ان کی طرف جاتا تھا۔ جب وہاں انہوں نے نوجوان لڑکوں کو دیکھا تو کہا کہ شاید یہ انہی میں سے ہوں۔ ہم نے کہا کہ آپ کو زیادہ علم ہے۔

جواب

یہ روایت صحیح ہے

اس میں دو آراء موجود ہیں

اول: ابو ہریرہ رضی الله عنہ ان لوگوں کو جانتے تھے جن کے ہاتھوں امت تباہ ہوئی

دوم : دوسری رائے راوی کی ہے : اس کی سند میں عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الأَشْدَقِ، وَاسْمُهُ عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، أَبُو أُمَيَّةَ الأُمَوِيُّ السَّعِيدِيُّ الْمَكِّيُّ. [الوفاة: 171 – 180 ه] ہیں یہ اپنے دادا کے ساتھ دمشق جاتے تھے تو اس کا مطلب ہے کہ سن 120 ہجری کا دور ہو گا جب بنو امیہ کا اپس میں اختلاف تھا اور وہ اس کا آخری دور تھا

———

راقم کے نزدیک ابوہریرہ رضی الله عنہ اپنے دور میں یعنی سن ٥٩ ہجری سے پہلے کے چھوکروں کا ذکر کر رہے ہیں
راقم کے نزدیک یہ دو ہیں
ایک محمد بن ابی بکر اور دوسرا محمد بن أبي حذيفة بن عتبة بن ربيعة ہے جو اصحاب رسول کی اولاد ہیں قریشی ہیں اور ان کی وجہ سے عثمان رضی الله عنہ کا قتل ہوتا ہے

یہاں تک کہ حسن بصری ، محمد بن ابی بکر کو الفاسق کہا کرتے
المعجم الكبير کی روایت ہے
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: «أُخِذَ الْفَاسِقُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي شِعْبٍ مِنْ شِعَابِ مِصْرَ فَأُدْخِلَ فِي جَوْفِ حِمَارٍ فَأُحْرِقَ
ہیثمی کہتے ہیں رواه الطبراني ورجاله ثقات
حسن نے کہا : الفاسق محمد بن ابی بکر مصر کی وادیوں میں سے ایک میں سے پکڑا گیا اور اس کو گدھے کے پیٹ میں ڈال کر جلایا گیا
اس کو طبرانی نے ثقات سے روایت کیا ہے

ابن سعد کے مطابق
قال أبو الأشهب : وكان الحسن لا يسميه باسمه إنما كان يسميه الفاسق
أبو الأشهب نے کہا : حسن اس کا (محمّد بن ابی بکر کا) نام تک نہیں لیتے تھے اس کا نام الفاسق رکھ دیا تھا

و الله اعلم

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1331 حدیث موقوف مکررات 0 متفق علیہ 0

وَعَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَوْصَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَا تَدْفِنِّي مَعَهُمْ وَادْفِنِّي مَعَ صَوَاحِبِي بِالْبَقِيعِ لَا أُزَکَّی بِهِ أَبَدًا

ہشام بواسطہ اپنے والد، عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زبیر کو وصیت کی کہ مجھے ان لوگوں کے ساتھ دفن نہ کرو بلکہ میری سوکنوں کے ساتھ بقیع میں دفن کرنا میں آپ کے ساتھ دفن کئے جانے کے سبب پاک نہ ہوجاؤں گی۔

اور دوسری حدیث ہے کہ

صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2229 حدیث موقوف مکررات 7 متفق علیہ 7

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ادْفِنِّي مَعَ صَوَاحِبِي وَلَا تَدْفِنِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ فَإِنِّي أَکْرَهُ أَنْ أُزَکَّی

عبید بن اسماعیل، ابواسامہ، ہشام، عروہ، حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے عبداللہ بن زبیر کو وصیت کی کہ مجھے میری سوکنوں کے پاس دفن کرنا، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ حجرے میں دفن نہ کرنا، اس لئے کہ میں ناپسند کرتی ہوں کہ میری تعریف کی جائے،

اب دونوں احادیث کا مفہوم کیا ہے

پوری احادیث یہ آئ ہیں

کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی قبروں کا بیان
حدیث نمبر
1306
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ لَمَّا سَقَطَ عَلَيْهِمْ الْحَائِطُ فِي زَمَانِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ أَخَذُوا فِي بِنَائِهِ فَبَدَتْ لَهُمْ قَدَمٌ فَفَزِعُوا وَظَنُّوا أَنَّهَا قَدَمُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا يَعْلَمُ ذَلِکَ حَتَّی قَالَ لَهُمْ عُرْوَةُ لَا وَاللَّهِ مَا هِيَ قَدَمُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هِيَ إِلَّا قَدَمُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَوْصَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَا تَدْفِنِّي مَعَهُمْ وَادْفِنِّي مَعَ صَوَاحِبِي بِالْبَقِيعِ لَا أُزَکَّی بِهِ أَبَدًا
فروہ، علی بن مسہر، ہشام بن عروہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں جب ولید بن عبدالملک کے زمانے میں دیوار گر گئی تو لوگ اس کے بنانے میں مشغول ہوگئے تو ایک پاؤں دکھائی دیا تو لوگ ڈرے اور سمجھے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کا قدم مبارک ہے کوئی ایسا شخص نہ ملا جو اس کو جانتا ہو، یہاں تک ان لوگوں سے عروہ نے کہا کہ بخدا نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کا قدم مبارک نہیں ہے بلکہ یہ عمر رضی ﷲ عنہ کا پاؤں ہے اور ہشام بواسطہ اپنے والد، عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عبدﷲ بن زبیر کو وصیت کی کہ مجھے ان لوگوں کے ساتھ دفن نہ کرو بلکہ میری سوکنوں کیساتھ بقیع میں دفن کرنا میں آپ کے ساتھ دفن کئے جانے کے سبب پاک نہ ہوجاؤں گی-

جواب

عائشہ رضی الله عنہا سے منسوب اس قول کو کوفیوں نے بیان کیا ہے ہشام بن عروہ آخری عمر میں عراق گئے وہاں انہوں نے بعض روایات میں متن میں بھی غلطی کی اور بعض میں وہ اضافہ کر دیا جو مدینہ میں انہوں نے بیان نہیں کیا تھا اس بنا پر امام مالک ان کی روایت سے خبر دار کیا کہ یہ جو عراق میں بیان کریں اس کو نہ لیا جائے
البتہ محدثین میں اس پر اختلاف ہوا کہ یہ کیفیت کتنی بری تھی بعض نے اس کو اختلاط سے تعبیر کیا اور بعض نے اس کا مطلق انکار کیا ہے
امام بخاری نے یہ روایت علی بن مسہر اور ابو اسامہ کی سند سے لکھی ہے اس میں علی ثقہ ہیں اور ابو اسامہ پر جرح کا کلام ہے

عائشہ رضی الله عنہا کا قول مشھور ہے کہ عمر رضی الله عنہ نے ان سے حجرہ میں تدفین پر اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا کہ یہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی تھی
اس سے محسوس ہوتا ہے کہ عمر رضی الله عنہ کی تدفین کے بعد ان کی رائے میں تبدیلی آئی ہو اور انہوں نے بقیع میں دفن ہونا پسند کیا

واضح رہے کہ چوتھی قبر ہونے کی صورت میں باقی تین قبروں تک جانے کا رستہ بھی نہیں رہتا کیونکہ اصل حجرہ عائشہ رضی الله عنہا مختصر سا تھا

مفہوما اور لغوی طور پر عائشہ رضی الله عنہا کے  یہ الفاظ تواضع و انکساری کے ہیں

لغت : مشارق الأنوار على صحاح الآثار از عياض بن موسى بن عياض بن عمرون اليحصبي السبتي، أبو الفضل (المتوفى: 544هـ) کے مطابق
وَقَول عَائِشَة رَضِي الله عَنْهَا ادفنوني مَعَ صواحبي بِالبَقِيعِ لَا أزكى بهَا أبدا أَي بالدفن فِي الْموضع الَّذِي دفن بِهِ النَّبِي (صلى الله عَلَيْهِ وَسلم) وصاحباه تواضعا مِنْهَا رَضِي الله عَنْهَا وإعظاما لِأَن يفعل غَيرهَا ذَلِك أَو لِأَن يكون سَبَب ذقتها مَعَهم كشف قُبُورهم إِذْ كَانَ الْمَكَان قد أَخذ حَاجته بالقبور الثَّلَاثَة أَلا ترى قَوْلهَا لعمر حِين طلب دَفنه إِنَّمَا كنت أريده لنَفْسي
یہ ان کی تواضع ہے اور بڑاآئی ہے کہ یہ کسی اور کے لئے نہ ہو یا اس سبب سے ہے کہ باقی قبور کشف نہ ہوں کیونکہ اس میں جگہ تین کی تھی کیا نہیں دیکھتے کہ جب عمر کی تدفین کا موقعہ تھا تو انہوں نے کہا کہ یہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی تھی

عربی لغت کتاب مجمع بحار الأنوار في غرائب التنزيل ولطائف الأخبار از جمال الدين، محمد طاهر بن علي الصديقي الهندي الفَتَّنِي الكجراتي (المتوفى: 986هـ) کے مطابق
وادفني مع صواحبي بالبقيع لا “أزكي” أبدا – بضم همزة وفتح زاي وكاف، أي لا يثني علي بسبب الدفن معهم
کا مطلب ہے کہ ان کے ساتھ تدفین پر میری تعریف نہ ہو

قرطبی کتاب التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة  میں کہتے ہیں

و كذلك فعل معاوية حين تمت له الخلافة و ملك مصر و غيرها بعد أن قتل علي رضي الله عنه لم يحكم على واحد من المتهمين بقتل عثمان بإقامة قصاص و أكثر المتهمين من أهل مصر و الكوفة و البصرة و كلهم تحت حكمه و أمره و نهيه و غلبته و قهره و كان يدعي المطالبة بذلك قبل ملكه و يقول : لا نبايع من يؤوي قتلة عثمان و لا يقتص منهم

اور اسی طرح معاویہ رضي الله عنه  نے کیا جب ان کو خلافت اور بادشاہت حاصل ہوگئی مصر وغیرہ کی،  علی رضي الله عنه کے قتل کے بعد ،تو معاویہ رضي الله عنه نے کسی ایک بھی قتل عثمان کے مجرموں پر اقامت قصاص نہیں کیا، اور اکثر قتل عثمان کے مجرم  وہ مصر، کوفہ اور بصرہ سے تھے، اور سارے کے سارے معاویہ رضي الله عنه کے حکم اور رعایت، نہی اور غلبے اور قہر کے ماتحت تھے،جب کہ معاویہ رضي الله عنه اپنی حکومت سے پہلے قصاص کا مطالبہ کرتے رہے اور کہا کرتے تھے ہم اس کی بیعت نہیں کرینگے جو قاتلان عثمان کو پناہ دے اور نہ ان سے قصاص لے۔

جواب

معاویہ رضی الله عنہ اور ان کے لشکر نے ان تمام لیڈروں کو قتل کیا  جو اس جرم میں شامل تھے

اس میں وہ تمام لوگ ہیں

محمد بن أبي حذيفة

ابن حجر العسقلاني في الإصابة في معرفة الصحابة – (ج 3 / ص 59 کے مطابق

عثمان رضی الله عنہ کا لے پالک فلسطین میں قتل ہوا
اصحاب شجرہ میں سے عبد الرحمن بن عديس البلوي

ابن عبد البر ، الإستيعاب في معرفة الأصحاب – (ج 1 / ص 254) کے مطابق

ان کا فلسطین میں قتل ہوا

كنانة بن بشر الليثي

ابن حجر ، الإصابة في معرفة الصحابة – (ج 3 / ص 19)کے مطابق

ان کا فِلِسْطِينَ میں معاویہ بن خدیج نے قتل کیا

زيد بن صوحان (جنگ جمل میں قتل ہوا)ہ

الإصابة از ابن حجر کے مطابق

زید اہل کوفہ کے لیڈر تھے

زياد بن النضر الحارثي

الإصابة از ابن حجر کے مطابق

کوفی ہیں صفین میں بھی شرکت کی

حكيم بن جبلة
جمل مين قتل هوا

اس طرح یہ تمام لیڈر قتل ہو گئے ظاہر ہے بلوائیوں  کی تصویر نہیں تھی جو مشھور تھے ان کا ہی قتل ہو سکتا تھا

جنگ صفین

یہ روایت بعض محدثین مثلا کرابیسی اور امام احمد کے نزدیک صحیح نہیں امام احمد کہتے تھے اس کو چھوڑنے میں بھلائی ہے اور امام دحیم کہتے تھے کہ جو اس میں قاتلین سے مراد اہل شام لے وہ فاحشہ کی اولاد ہے

ابن تیمیہ الفتاوى: میں کہتے ہیں

مجموع الفتاوى از ابن تیمیہ ج ٣٥ ص ٧٤ پر
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي فِيهِ {إنَّ عَمَّارًا تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ} فَهَذَا الْحَدِيثُ قَدْ طَعَنَ فِيهِ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ؛
اس حدیث پر اہل علم کا ایک گروہ طعن کرتا ہے

مختصر منهاج السنة از ابن تیمیہ
فيقال: الذي في الصحيح: ((تقتل عمّار الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ)) وَطَائِفَةٌ مِنَ الْعُلَمَاءِ ضَعَّفُوا هَذَا الْحَدِيثَ، مِنْهُمُ الْحُسَيْنُ الْكَرَابِيسِيُّ وَغَيْرُهُ، وَنُقِلَ ذَلِكَ عَنْ أَحْمَدَ أَيْضًا.
صحیح میں ہے عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا – اور اہل علم کا ایک گروہ اس کی تضعیف کرتا ہے جس میں حسین کرابیسی ہیں اور دیگر ہیں ہے ایسا ہی امام احمد کے حوالے سے نقل کیا جاتا ہے

اسی طرح کہتے ہیں
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – أَنَّهُ قَالَ لِعَمَّارٍ: ” «تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» ” فَبَعْضُهُمْ ضَعَّفَهُ، وَبَعْضُهُمْ تَأَوَّلَهُ.
بعض اس کو ضعیف کہتے ہیں بعض تاویل کرتے ہیں

امام کرابیسی امام بخاری کے ہم عصر ہیں یعنی صحیح بخاری کی یہ روایت ان کے نزدیک صحیح نہیں ہے
اہل سنت کے شیعیت سے متاثر بعض علماء اس روایت سے یہ نکالتے ہیں کہ معاویہ رضی الله عنہ نے بغاوت کی اور وہ وہی باغی گروہ کے لیڈر تھے جس نے عمار کا قتل کیا لہذا کتاب سبل السلام میں محمد بن إسماعيل بن صلاح بن محمد الحسني، الكحلاني ثم الصنعاني، أبو إبراهيم، عز الدين، المعروف كأسلافه بالأمير (المتوفى: 1182هـ) ابن جوزی کا اس روایت کو رد کرنے پر لکھتے ہیں

وَلَا يَخْفَى أَنَّ ابْنَ الْجَوْزِيِّ نَقَلَ عَنْ أَحْمَدَ عَدَمَ صِحَّتِهِ وَلَيْسَ لَهُ هُوَ قَدْحٌ فِي صِحَّتِهِ حَتَّى يُقَالَ إنَّهُ أَحْقَرُ مِنْ أَنْ يَنْتَهِضَ لِمُعَارَضَةِ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ وَفُرْسَانِهِ وَحُفَّاظِهِ فَالْأَوْلَى فِي الْجَوَابِ عَنْ نَقْلِ ابْنُ الْجَوْزِيِّ مَا قَالَهُ السَّيِّدُ مُحَمَّدٌ أَيْضًا إنَّهُ قَدْ رَوَى يَعْقُوبُ بْنُ شَيْبَةَ الْإِمَامُ الثِّقَةُ الْحَافِظُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ أَنَّهُ قَالَ فِيهِ إنَّهُ حَدِيثٌ صَحِيحٌ سَمِعَهُ عَنْهُ يَعْقُوبُ، وَقَدْ سُئِلَ عَنْهُ. ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي تَرْجَمَةِ عَمَّارٍ فِي النُّبَلَاءِ وَيُؤَيِّدُهُ أَنَّهُ رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ جَمَاعَةٍ كَثِيرَةٍ مِنْ الصَّحَابَةِ وَكَانَ يَرَى الضَّرْبَ عَلَى رِوَايَاتِ الضِّعَافِ وَالْمُنْكَرَاتِ. وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى بُطْلَانِ مَا حَكَاهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ وَإِلَّا فَغَايَتُهُ أَنَّهُ قَدْ تَعَارَضَ عَنْ أَحْمَدَ الْقَوْلَانِ فَيُطْرَحُ. وَفِي تَصْحِيحِ غَيْرِهِ مَا يُغْنِي عَنْهُ كَمَا لَا يَخْفَى. وَأَمَّا الْحِكَايَةُ عَنْ ابْنِ مَعِينٍ وَابْنِ أَبِي خَيْثَمَةَ، فَإِنَّهُ رَوَاهَا الْمُصَنِّفُ بِصِيغَةِ التَّمْرِيضِ وَلَمْ يَنْسُبْهَا إلَى رَاوٍ فَيَتَكَلَّمْ عَلَيْهَا.
وَالْحَدِيثُ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْفِئَةَ الْبَاغِيَةَ مُعَاوِيَةُ وَمَنْ فِي حِزْبِهِ وَالْفِئَةَ الْمُحِقَّةَ عَلِيٌّ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – وَمَنْ فِي صُحْبَتِهِ

اور یہ مخفی نہیں ہے ابن جوزی نے امام احمد کے حوالے سے اس روایت کی عدم صحت پر نقل کیا ہے اور اس میں کوئی قدح نہیں ہے … اور اس کا جواب وہ ہے جو سید محمد نے دیا کہ انہوں نے یعقوب بن شیبہ سے نقل کیا امام احمد سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا حدیث صحیح ہے اس کو یعقوب نے سنا ہے اور اس پر سوال کیا اور الذھبی نے سیر الاعلام النبلاء میں عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے ترجمہ میں اس کو نقل کیا ہے اور اس کی تائید ہوتی ہے کہ اصحاب رسول کی ایک جماعت اس کو نقل کرتی ہے … اور یہ دلالت کرتا ہے اس پر جو حکایت کیا ابن جوزی نے اس کے بطلان پر اور اگر نہیں تو اس میں تعارض ہے جو امام احمد سے دو قول اتے ہیں پس اس کو رد کیا جائے گا اور دوسروں کی جانب سے اس کی تصحیح مخفی نہیں ہے اور جہاں تک ابن معین اور ابن ابی خیثمہ کی حکایت ہے تو وہ صغیہ تمریض سے ہے اور اس میں راوی متکلم کی نسبت نہیں ہے اور یہ حدیث دلیل ہے کہ معاویہ اور اس کا حزب باغی گروہ تھا اور حق کا گروہ علی کا تھا اور وہ جو انکی صحبت میں تھا

راقم کہتا ہے کہ یہ بات بے سروپا ہے

سب سے پہلے تو یعقوب بن شیبہ کی تصحیح کی سند پیش کی جائے جو شاید ہی کسی کے پاس ہو

سیر الاعلام النبلاء کے مطابق خود امام احمد اس شخص یعقوب بن شیبہ کے لئے کہتے

مُتَبَدِّعٌ، صَاحِبُ هوَى

بدعتی ہے  صاحب گمراہ ہے

الذھبی  سير أعلام النبلاء میں ان کے ترجمہ میں کہتے ہیں کہ ان کی مسند  الکبیر کا ایک جز مسند عمار میرے پاس تھا

مَاتَ يَعْقُوْبُ الحَافِظُ: فِي شَهْرِ رَبِيْعٍ الأَوَّلِ، سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَسِتِّيْنَ وَمائَتَيْنِ، وَقَعَ لِي جُزْءٌ وَاحِدٌ مِنْ مُسنَدِ عَمَّارٍ لَهُ.

پھر روایت پیش کرتے ہیں

قَالَ يَعْقُوْبُ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ (2) : مَا نَسِيْنَا الغبارَ عَلَى شَعْرِ صَدْرِ رَسُوْلِ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَهُوَ يَقُوْلُ: (اللَّهُمَّ إِنَّ الخَيْرَ خَيْرُ الآخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلأَنصَارِ وَالمُهَاجِرَةِ) إِذْ جَاءَ عَمَّارٌ فَقَالَ: (وَيْحَكَ، أَوْ وَيْلَكَ يَا ابْنَ سُمَيَّةَ، تقتلُكَ الفِئَةُ البَاغِيَةُ)

پر لطف بات  ہے کہ مسند احمد میں جگہ جگہ اسی سند پر امام احمد جرح کرتے ہیں

 مسند احمد میں ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: مَا نَسِيتُ قَوْلَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُعَاطِيهِمُ اللَّبَنَ، وَقَدْ اغْبَرَّ شَعْرُ صَدْرِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ» قَالَ: فَرَأَى عَمَّارًا، فَقَالَ: «وَيْحَهُ ابْنُ سُمَيَّةَ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ فَقَالَ: عَنْ أُمِّهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، أَمَا إِنَّهَا كَانَتْ تُخَالِطُهَا، تَلِجُ عَلَيْهَا

محمّد ابن سِيرِينَ نے پوچھا کہ حسن نے اپنی ماں سے روایت کیا کہا جی یا تو یہ اختلاط ہے یا اس میں کچھ اور بات مل گئی  ہے

 کتاب العلل ومعرفة الرجال از عبدللہ  کے مطابق

حَدثنِي أبي قَالَ حَدثنَا مُحَمَّد بن أبي عدي عَن بن عون قَالَ فَذَكرته لمُحَمد فَقَالَ عَن أمه قلت نعم قَالَ أما أَنَّهَا قد كَانَت تخالطها تلج عَلَيْهَا يَعْنِي  حَدِيث الْحسن عَن أمه عَن أم سَلمَة فِي عمار تقتله الفئة الباغية

احمد کہتے ہیں میں نے محمّد بن سیرین سے ذکر کیا محمّد ابن سِيرِينَ نے پوچھا کہ حسن نے اپنی ماں سے روایت کیا کہا جی یا تو یہ اختلاط ہے یا اس میں کچھ اور بات مل گئی  ہے

مسند احمد میں امام احمد یہ الفاظ بھی نقل کرتے ہیں

قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ مُحَمَّدًا، فَقَالَ: «عَنْ أُمِّهِ؟ أَمَا إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ تَلِجُ عَلَى أَمِّ الْمُؤْمِنِينَ»

احمد کہتے ہیں میں نے اس کا ابن سیرین سے ذکر کیا انہوں نے کہا (حسن) اپنی ماں سے روایت کیا ؟ بے شک انہوں نے (حسن کی والدہ) نے ام المومنین کی بات گڈمڈ کر دی

ابن تیمیہ کتاب منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية میں کہتے ہیں کہ یعقوب نے دعوی کیا

 سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ سُئِلَ عَنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فِي عَمَّارٍ: ” «تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» ” فَقَالَ أَحْمَدُ: قَتَلَتْهُ

لہذا جو سند خود امام احمد کے نزدیک صحیح نہ ہو اس کی بنیاد پر کہنا  انہوں نے ہی قتل کیا کیسے صحیح ہو سکتا ہے ؟

دوم یعقوب خود امام احمد کے نزدیک بدعتی ہے

میں نے محمّد بن عبد الله بن ابراہیم سے سنا کہا میں نے اپنے باپ سے سنا کہتے تھے میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا
عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا کو ٢٨ طرقوں سے روایت کیا ایک بھی صحیح نہیں

اس میں اس میں محمد بن عبد اللہ بن ابراہیم کی سند کیسی ہے کیا یہ ثقہ ہے

===============

أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَيَّةَ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يَقُولُ: سَمِعْتُ فِي حَلْقَةٍ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنَ مَعِينٍ وَأَبَا خَيْثَمَةَ وَالْمُعَيْطِيَّ ذَكَرُوا: «يَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» فَقَالُوا: مَا فِيهِ حَدِيثٌ صَحِيحٌ

کیا اس میں اس میں اسماعیل بن الفضل نا معلوم ہے

===============

امام احمد بھی اسی طرق کو مسند میں نقل کرتے ہیں

حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ وَلِابْنِهِ عَلِيٍّ: انْطَلِقَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ قَالَ: فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ [ص:368] لَهُ، فَلَمَّا رَآنَا أَخَذَ رِدَاءَهُ فَجَاءَنَا فَقَعَدَ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا، حَتَّى أَتَى عَلَى ذِكْرِ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: كُنَّا نَحْمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً وَعَمَّارُ بْنُ يَاسرٍ يَحْمِلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، قَالَ: فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ، وَيَقُولُ: «يَا عَمَّارُ أَلَا تَحْمِلُ لَبِنَةً كَمَا يَحْمِلُ أَصْحَابُكَ؟» ، قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ الْأَجْرَ مِنَ اللَّهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ، وَيَقُولُ: «وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ، وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ» قَالَ: فَجَعَلَ عَمَّارٌ يَقُولُ أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنَ الْفِتَنِ

اگر امام احمد اس سلسلے میں روایت نقل کرنا درست نہ سمجھتے ہوتے ، تو کیوں مسند میں نقل کرتے ؟؟

جواب

محمد بن عبداللہ بن ابراہیم حنابلہ کے عالم أبو بكر أحمد بن محمد بن هارون بن يزيد الخَلَّال البغدادي الحنبلي (المتوفى: 311 هـ) کے شیخ ہیں ان سے روایات کتاب السنة میں تین مقامات پر لی گئی ہیں

محمد بن عبد الله بن إبراهيم کی باپ سے روایت کئی کتابوں میں ہے مثلا

أحكام النساء للإمام أحمد
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)

الوقوف والترجل من الجامع لمسائل الإمام أحمد بن حنبل
المؤلف: أبو بكر أحمد بن محمد بن هارون بن يزيد الخَلَّال البغدادي الحنبلي (المتوفى: 311هـ)

یہ اقوال صحیح ہیں کیونکہ ان کو رجال کے ماہر ابن جوزی نے بھی اپنی کتب میں بیان کیا ہے لہذا جب یہ ماہرین ان اقوال کو قبول کرتے ہیں تو ہم کیوں نہ کریں

کتاب العلل المتناهية في الأحاديث الواهية ج ٢ ص ٣٦٥ میں ابن جوزی لکھتے ہیں
إلا أن أَبَا بَكْر الخلال ذكر أن أَحْمَد بْن حنبل ويحيى بْن معين وأبا خيثمة والمعيطي ذكروا هَذَا الحديث تقتل عمارًا الفيئة الباغية فقال فِيهِ ما فِيهِ حديث صحيح وأن أَحْمَد قال قد روى فِي عمار تقتله الفيئة الباغية ثمانية وعشرون حديثًا ليس فيها حديث صحيح”.

بلاشبہ ابو بکر الخلال نے ذکر کیا ہے کہ أَحْمَد بْن حنبل ويحيى بْن معين وأبا خيثمة والمعيطي نے اس حدیث عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے اس میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے اور بے شک امام احمد نے روایت کیا ہے ٢٨ احادیث سے کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا اس میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے

ابن جوزی رجال کے معاملے میں متشدد ہیں اور اس بنا پر ان کو معلومات ہوں گی کہ یہ لوگ ثقہ ہیں تبھی اتنے وثوق سے ان اقوال سے دلیل لے رہے ہیں

امام احمد نے کتاب میں صحیح و ضعیف سب طرح کی روایت جمع کی ہیں اور ان کے نزدیک یہ روایت ضعیف ہے تبھی اس پر تبصرہ کرتے ہیں جو ہم نے اس ویب سائٹ پر پیش کر دیا ہے

⇑ عمار کا قتل
http://www.islamic-belief.net/masalik/شیعیت/

مسند کے تو لا تعداد راوی ہیں جن میں کثیر پر ضعیف کا حکم شعیب نے لگایا ہے اور دیگر محدثین نے بھی یہ حکم لگآیا ہے اس میں بہت سے مقام پر شعیب کہتے ہیں کہ یہ راوی امام احمد کے نزدیک ضعیف ہے

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ (بَابُ مَسْحِ الغُبَارِ عَنِ الرَّأْسِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ) صحیح بخاری: کتاب: جہاد کا بیان

(باب : اللہ کے راستے میں جن لوگوں پر گرد پڑی ہو ان کی گرد پونچھنا)

2812 . حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ لَهُ وَلِعَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ائْتِيَا أَبَا سَعِيدٍ فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ، فَأَتَيْنَاهُ وَهُوَ وَأَخُوهُ فِي حَائِطٍ لَهُمَا يَسْقِيَانِهِ، فَلَمَّا رَآنَا جَاءَ، فَاحْتَبَى وَجَلَسَ، فَقَالَ: كُنَّا نَنْقُلُ لَبِنَ المَسْجِدِ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَسَحَ عَنْ رَأْسِهِ الغُبَارَ، وَقَالَ: «وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الفِئَةُ البَاغِيَةُ، عَمَّارٌ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ، وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ»

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا‘ کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی‘ کہاہم سے خالد نے بیان کیا عکرمہ سے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے اور ( اپنے صاحبزادے ) علی بن عبداللہ سے فرمایا تم دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان سے احادیث نبوی سنو ۔ چنانچہ ہم حاضر ہوئے‘ اس وقت ابو سعید رضی اللہ عنہ اپنے ( رضاعی ) بھائی کے ساتھ باغ میں تھے اور باغ کو پانی دے رہے تھے‘ جب آپ نے ہمیں دیکھا تو ( ہمارے پاس ) تشریف لائے اور ( چادراوڑھ کر ) گوٹ مارکر بیٹھ گئے‘ اسکے بعد بیان فرمایا ہم مسجد نبوی کی اینٹیں ( ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کیلئے ) ایک ایک کرکے ڈھورہے تھے لیکن عمار رضی اللہ عنہ دودو اینٹیں لارہے تھے‘ اتنے میں نبی کریمم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس ! عمار کو ایک باغی جماعت مارے گی‘ یہ تو انہیں اللہ کی ( اطاعت کی ) طرف دعوت دے رہا گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے ۔

کیا یہ حدیث صحیح ہے اور اس میں کس باغی جماعت کا ذکر ہے اور یہ باغی جماعت کن کو جہنم کی طرف بلائے گی

جواب

خالد بن مهران الحذاء نے کہا کہ عکرمہ مولی ابن عباس نے کہا کہ
عِكْرِمَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ لَهُ وَلِعَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ائْتِيَا أَبَا سَعِيدٍ
ابن عباس نے عکرمہ اور علی بن عبد الله بن عباس کو کہا کہ ابو سعید کے پاس جاؤ

خالد بن مهران الحذاء بصری مدلس ہے اور آخری عمر میں اختلاط کا شکار تھے
یہ مختلف فیہ ہے میزان الاعتدال کے مطابق
قال أحمد: ثبت.
وقال ابن معين والنسائي: ثقة.
وأما أبو حاتم فقال: لا يحتج به.
احمداور ابن معین اور نسائی نے ثقہ کہا ہے جبکہ ابی حاتم کہتے کہ یہ نہ قابل دلیل ہے
یعنی بغداد والوں نے ثقہ کہا ہے

اس کے شہر کے لوگ یعنی بصریوں میںحماد بن زید ،  ابن علية اور شعبہ نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے اسی طرح نیشاپور والوں نے بھی اس کو ضعیف قرار دیا ہے

وقال يحيى بن آدم: قُلْتُ لِحَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ: مَا لِخَالِدٍ الْحَذَّاءِ فِي حَدِيثِهِ؟ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا قَدْمَةً مِنَ الشَّامِ، فَكَأَنَّا أَنْكَرْنَا حِفْظَهُ.
بصرہ کے حماد بن زید کہتے کہ خالد جب شام سے آیا تو ہم نے اس کے حافظہ کا انکار کیا

کتاب إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال از مغلطاي کے مطابق
قال شعبة: خالد يشك في حديث عكرمة عن ابن عباس
شعبہ نے کہا کہ خالد کو عکرمہ کی ان کی ابن عباس سے حدیث پر شک رہتا تھا

واضح رہے کہ صحیح بخاری کی یہ روایت اسی سند سے ہے

یعنی خالد کے ہم عصر محدثین اس کی روایات کو رد کر رہے تھے لیکن ١٠٠ سال بعد میں بغداد والوں نے اس کو ثقہ قرار دیا

جواب

مسند احمد کی ایک  روایت ہے

حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ، وَكُلْثُومُ بْنُ جَبْرٍ، عَنْ أَبِي غَادِيَةَ، قَالَ: قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأُخْبِرَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ قَاتِلَهُ، وَسَالِبَهُ فِي النَّارِ»، فَقِيلَ لِعَمْرٍو: فَإِنَّكَ هُوَ ذَا تُقَاتِلُهُ، قَالَ: إِنَّمَا قَالَ: قَاتِلَهُ، وَسَالِبَه.

كُلْثُومُ بْنُ جَبْرٍ کہتا ہے کہ  أَبِي غَادِيَةَ (رضی الله عنہ)، عمرو بن العاص (رضی الله عنہ) کے پاس پہنچے اور ان کو بتایا کہ عمار (رضی الله عنہ) شہید ہو گئے

ایک  روایت میں ہے کہ  ابو الغادیہ  رضی الله عنہ  نے عمار رضی الله عنہ  کو عثمان رضی الله عنہ پر سب و شتم کرتے سنا اس لئے قتل کیا

وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ: ثَنَا كُلْثُومُ بن جبر، عن أبي الغادية قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَشْتِمُ عُثْمَانَ، فَتَوَعَّدْتُهُ بِالْقَتْلِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ طَعَنْتُهُ، فوقع، فقتلته

ان دونوں  کی سند میں َكُلْثُومُ بْنُ جَبْر المتوفی ١٣٠ ھ ہے . احمد  اس کو ثقہ جبکہ النسائي ليس بالقوى ، قوی نہیں کہتے ہیں

  ابن حجر ان کو  صدوق يخطىء  غلطیاں کرتا ہے کہتے ہیں

مسلم نے  كتاب القَدَر میں ایک روایت نقل کی ہے

امام مسلم نے  کلثوم بن جبر سے صرف ایک روایت نقل کی ہے کہ الله نے رحم پر فرشتہ مقرر کیا ہے جو امام مسلم نے شاہد کے طور پر پیش کی ہے

ابن حجر نے لسان المیزان ج ٣ ص ٤٠ میں ایک روایت الحسن بن دينار کے واسطے سے نقل کی ہے کہ عمار کو ابو الغادیہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا ، لیکن کہا ہے  کہ یہ  متروک راوی ہے

طبقات ابن سعد میں بھی ایک روایت ہے کہ ابو الغادیہ نے عمار کا قتل کیا لیکن اس کی سند میں واقدی ہے لہذا روایت ضعیف ہے

أَبِي غَادِيَةَ يَاسِرُ بْنُ سَبْعٍ، مَدَنِيٌّ صحابی رسول ہیں ان کے اس قتل میں شامل ہونے کی ایک روایت بھی صحیح نہیں لیکن پھر بھی بعض محقیقن (الذھبی وغیرہ) نے ان پر یہ الزام لگایا ہے جو ہمارے نزدیک محتاج دلیل ہے

ایک مفرط اہل حدیث عالم زبیر علی زئی ، ایک سوال کے جواب میں  لکھتا ہے

 ابو الغادیہؓ کا سیدنا عمار بن یاسرؓ کو جنگِ صفین میں شہید کرنا ان کی اجتہادی خطا ہے جس کی طرف حافظ ابن حجر العسقلانی  نے اشارہ کیا ہے ۔ دیکھئے الاصابۃ (۱۵۱/۴ ت ۸۸۱، ابو الغادیۃ الجہنی) وما علینا إلا البلاغ    (۵ رمضان ۱۴۲۷؁ھ

معاویہ اور عمرو بن العاص رضی الله عنہما کے تبصرے

مسند احمد کی  روایت ہے

حدثنا يزيد أَخبرنا العوَّام حدثني أسْوَد بن مسعود عن حنظَلة بن خُويلد العَنَزِي قال: بينما أَنا عند معاوية، إذْ جاءَه رجلان يختصمانِ في رأس عَمّار، يقول كل واحد منهما: أنا قتلتُه، فقال عبد الله ابن عمرو: ليَطبْ به أحدكما نَفْساً لصاحبه، فإني سمعت رسول الله -صلي الله عليه وسلم – يقول: “تقتلَه اَلفئة الباغية”، قال معاوية: فما بالُك معنا؟!، قال: إن أبي شكاني إلى رسول الله -صلي الله عليه وسلم -، فقال: “أطِعْ أباك ما دام حياً ولا تَعْصه”، فأنا معكم، ولستَ أقاتل.

 حنظَلة بن خُويلد کہتا ہے  . معاوية کے سامنے جھگڑا ہوا کہ عمار کو کس نے قتل کیا .. معاوية نے عبد الله بن عمرو سے کہا تم ہمارے ساتھ کیوں ہو ؟

 اس کے راوی أسود بن مسعود کے لئے الذھبی میزان میں لکھتے ہیں حنظلة سے  روایت کی ہے، لا يدري من هو، میں نہیں جانتا کون ہے . لہذا  ضعیف روایت ہے

ایسے مجھول راوی کی روایت کو آج لوگ صحیح کہہ رہے  مثلا اہل حدیث محقق زبیر علی زئی جن پر شیعیت  کا اثر تھا اور شیعہ راویوں کے دفاع کے لئے مشھور تھے دوسرے اہل حدیث عالم مولانا اسحاق ہیں جو منہ بھر صحابہ پر سب و شتم کرتے  تھے

 مسند احمد کی ایک اور روایت ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ دَخَلَ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» ، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَزِعًا يُرَجِّعُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ قُتِلَ عَمَّارٌ، فَمَاذَا؟ قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: دُحِضْتَ فِي بَوْلِكَ، أَوَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ؟ إِنَّمَا قَتَلَهُ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ، جَاءُوا بِهِ حَتَّى [ص:317] أَلْقَوْهُ بَيْنَ رِمَاحِنَا، – أَوْ قَالَ: بَيْنَ سُيُوفِنَا

ابو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ جب عمار شہید ہوگئے تو عمرو بن حزم عمرو بن العاص کے پاس گئے اور کہا عمار قتل ہوگئے اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا تھا عمار تمہیں باغی اور نابکار جماعت قتل کرے گی ۔ عمرو بن العاص غمناک ہوکر اٹھے اور کہا «لا حول ولا قوة الا بالله» معاویہ کےپاس پہنچے تو معاویہ نے سوال کیا کہ کیا ہوا؟ کہا عمار قتل ہوگئے ہیں معاویہ نے کہا قتل ہوگئے تو ہوگئے اب کیا کریں؟ عمرو  نے کہا میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ سے سنا تھا کہ عمار کو ایک باغی اور ظالم لوگ قتل کرینگے معاویہ نے جواب دیا ہم نے  عمار کو قتل نہیں کیا عمار کو علی اور اسکے ساتھیوں نے قتل کیا ہے جو اسے اپنے ساتھ لائے اور انھوں نے   ان کو ہماری  تلواروں اور نیزوں کے سامنے کیا

عمرو بن حزم ، عمار بن یاسر کے قتل پر عمرو بن العاص کے پاس آئے اور انکو نبی کا قول سنایا…  مُعَاوِيَةُ نے کہا ان کو ہماری تلواروں کے آگے جس نے کیا اسی نے قتل کیا

 محمّد بن عمرو بن حزم  کہتے ہیں عمرو بن العاص کے پاس عمرو بن حزم داخل ہوئے اور بتایا کہ عمار قتل ہوئے

جبکہ کتاب الإصابة في تمييز الصحابة  کے مطابق

قال أبو نعيم: مات في خلافة عمر، كذا قال إبراهيم بن المنذر في الطبقات

أبو نعيم کہتے ہیں ان  (عمرو بن حزم) کا عمر رضی الله عنہ کی خلافت میں انتقال ہوا اور ایسا ہی إبراهيم بن المنذر نے  الطبقات میں کہا ہے

 اگرچہ امام احمد نے اس کو عبد الرزاق سے سنا ہے لیکن مصنف عبد الرزاق میں یہ موجود نہیں شاید اس کی وجہ سند کا انقطاع ہے یہ روایت بھی ضعیف ہے

مسند احمد کی ایک اور روایت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: إِنِّي لَأَسِيرُ مَعَ مُعَاوِيَةَ فِي مُنْصَرَفِهِ مِنْ صِفِّينَ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: يَا أَبَتِ، مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَمَّارٍ: «وَيْحَكَ يَا ابْنَ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» ؟ قَالَ: فَقَالَ عَمْرٌو لِمُعَاوِيَةَ:أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ هَذَا؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا تَزَالُ تَأْتِينَا بِهَنَةٍ أَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ؟ إِنَّمَا قَتَلَهُ الَّذِينَ جَاءُوا بِهِ

اس روایت میں ہے کہ معاویہ رضی الله عنہ اور عمرو بن العاص رضی الله عنہ میں عمار رضی الله عنہ کے قتل کے بعد بحث ہوئی معاویہ نے  عمرو کو ڈانٹا کہ جو سنتے ہو بولنے لگتے ہو نعوذ باللہ

 اس کی سند میں عبد الرحمن بن زياد بن أنعم الإفريقي ہیں ان کو  قال ابن حبان كان يدلس کہ یہ تدلیس کرتے ہیں.  امام احمد ليس بشيء کوئی چیز نہیں  اور لا تكتب   اس کی حدیث نہ لکھو کہتے ہیں

لہذا یہ روایت بھی ضعیف ہے

جواب
اس پر روایات ہیں

مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 2419

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ حَدَّثَنِي أَسْوَدُ بْنُ مَسْعُودٍ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنْبَرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي رَأْسِ عَمَّارٍ يَقُولُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِيَطِبْ بِهِ أَحَدُكُمَا نَفْسًا لِصَاحِبِهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد كَذَا قَالَ أَبِي يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ أَلَا تُغْنِي عَنَّا مَجْنُونَكَ يَا عَمْرُو فَمَا بَالُكَ مَعَنَا قَالَ إِنَّ أَبِي شَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطِعْ أَبَاكَ مَا دَامَ حَيًّا وَلَا تَعْصِهِ فَأَنَا مَعَكُمْ وَلَسْتُ أُقَاتِلُ

خنظلہ بن خویلد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا دو آدمی ان کے پاس جھگڑا لے کر آئے ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ تھا کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو اس نے شہید کیا ہے حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ تمہیں چاہئے ایک دوسرے کو مبارکباد دو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے پھر آپ ہمارے ساتھ کیا کر رہے ہواے عمرو! اپنے اس دیوانے سے ہمیں مستغنی کیوں نہیں کر دیتے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میرے والد صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میری شکایت کی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا زندگی بھر اپنے باپ کی اطاعت کرنا اس کی نافرمانی نہ کرنا اس لئے میں آپ کے ساتھ تو ہوں لیکن لڑائی میں شریک نہیں ہوتا۔

راقم کہتا ہے
اس کے راوی أسود بن مسعود کے لئے الذھبی میزان میں لکھتے ہیں حنظلة سے روایت کی ہے، لا يدري من هو، میں نہیں جانتا کون ہے . لہذا ضعیف روایت ہے

——-
دوسری روایت ہے

مسند احمد ۔ جلد ہفتم ۔ حدیث 891

حضرت عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُحَدِّثُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ أَهْدَى إِلَى نَاسٍ هَدَايَا فَفَضَّلَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کچھ لوگوں کو ہدایا اور تحائف بھیجے، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو سب سے زیادہ بڑھا کر پیش کیا، کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عمار کو ایک باغی گروہ قتل کر دے گا۔

راقم کہتا ہے یہ مجھول شخص رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ کی روایت کردہ ہے ضعیف ہے

———

تیسری روایت ہے

مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1996

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ إِنِّي لَأَسِيرُ مَعَ مُعَاوِيَةَ فِي مُنْصَرَفِهِ مِنْ صِفِّينَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَا أَبَتِ مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَمَّارٍ وَيْحَكَ يَا ابْنَ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ قَالَ فَقَالَ عَمْرٌو لِمُعَاوِيَةَ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ هَذَا فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَا تَزَالُ تَأْتِينَا بِهَنَةٍ أَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ إِنَّمَا قَتَلَهُ الَّذِينَ جَاءُوا بِهِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ

حضرت بن حارث کہتے ہیں کہ جب حضرت امیر معاویہ و رضی اللہ عنہ جنگ صفین سے فارغ ہو کر آ رہے تھے تو میں ان کے اور حضرت عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کے درمیان چل رہا تھا حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنے والد سے کہنے لگے اباجان کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ کہتے ہوئے سناکہ افسوس! اے سمیہ کے بیٹے تجھے ایک باغی گروہ قتل کردے گا؟ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا آپ اس کی بات سن رہے ہیں ؟ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے تم ہمیشہ ایسی ہی پریشان کن خبریں لے آنا کیا ہم نے انہیں شہید کیاہے ؟ انہوں تو ان لوگوں نے ہی شہید کیا ہے جو انہیں لے کر آئے تھے۔

راقم کہتا ہے

اس کی سند میں عبد الرحمن بن زياد بن أنعم الإفريقي ہیں ان کو قال ابن حبان كان يدلس کہ یہ تدلیس کرتے ہیں. امام احمد ليس بشيء کوئی چیز نہیں اور لا تكتب اس کی حدیث نہ لکھو کہتے ہیں

لہذا یہ روایت بھی ضعیف ہے

—–

چوتھی روایت ہے

مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 1942

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ مَا زَالَ جَدِّي كَافًّا سِلَاحَهُ يَوْمَ الْجَمَلِ حَتَّى قُتِلَ عَمَّارٌ بِصِفِّينَ فَسَلَّ سَيْفَهُ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ

محمد بن عمارہ کہتے ہیں کہ میرے دادا حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل کے دن اپنی تلوار کو نیام میں روکے رکھا لیکن جس جنگ صفین میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے تو انہوں نے اپنی تلوار نیام سے کھینچ لی اور اتنا لڑے کہ بالآخر شہید ہوگئے وہ کہتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔

راقم کہتا ہے

حدیث کی سند میں أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ہے
سند میں أبو معشر نَجِيح بن عبد الرحمن السندي المدني- ضعيف ہے

پانچویں روایت ہے

مسند احمد ۔ جلد ہفتم ۔ حدیث 903

حضرت عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ دَخَلَ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ قُتِلَ عَمَّارٌ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَزِعًا يُرَجِّعُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ مَا شَأْنُكَ قَالَ قُتِلَ عَمَّارٌ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ قَدْ قُتِلَ عَمَّارٌ فَمَاذَا قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ دُحِضْتَ فِي بَوْلِكَ أَوَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ إِنَّمَا قَتَلَهُ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ جَاءُوا بِهِ حَتَّى أَلْقَوْهُ بَيْنَ رِمَاحِنَا أَوْ قَالَ بَيْنَ سُيُوفِنَا
محمد بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ، حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کر دے گا؟ یہ سن کر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اناللہ پڑھتے ہوئے گھبرا کر اٹھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ہیں ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ تو شہید ہوگئے، لیکن تمہاری یہ حالت؟ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم اپنے پیشاب میں گرتے، کیا ہم نے انہیں قتل کیا ہے؟ انہیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے خود قتل کیا ہے، وہی انہیں لے کر آئے اور ہمارے نیزوں کے درمیان لا ڈالا ۔
راقم کہتا ہے

دوسری روایت میں ہے کہ محمّد بن عمرو بن حزم کہتے ہیں عمرو بن العاص کے پاس عمرو بن حزم داخل ہوئے اور بتایا کہ عمار قتل ہوئے

جبکہ کتاب الإصابة في تمييز الصحابة کے مطابق

قال أبو نعيم: مات في خلافة عمر، كذا قال إبراهيم بن المنذر في الطبقات

أبو نعيم کہتے ہیں ان (عمرو بن حزم) کا عمر رضی الله عنہ کی خلافت میں انتقال ہوا اور ایسا ہی إبراهيم بن المنذر نے الطبقات میں کہا ہے

—-

چھٹی روایت ہے

مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 6572

حضرت ام سلمہ کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ مَا نَسِيتُهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَقَدْ اغْبَرَّ صَدْرُهُ وَهُوَ يُعَاطِيهِمُ اللَّبَنَ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ قَالَ فَأَقْبَلَ عَمَّارٌ فَلَمَّا رَآهُ قَالَ وَيْحَكَ ابْنَ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ قَالَ فَحَدَّثْتُهُ مُحَمَّدًا فَقَالَ عَنْ أُمِّهِ أَمَا إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ تَلِجُ عَلَى أَمِّ الْمُؤْمِنِينَ

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی علیہ السلام کی وہ بات نہیں بھولتی جو غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ نبی علیہ السلام سینہ مبارک پر موجود بال غبارآلود ہوگئے تھے نبی علیہ السلام لوگوں کو اینٹیں پکڑاتے ہوئے کہتے جارہے تھے کہ اے اللہ اصل خیر تو آخرت کی خیر ہے پس تو انصار اور مہاجرین کو معاف فرمادے پھر نبی علیہ السلام نے حضرت عمار کو دیکھا تو فرمایا ابن سمیہ افسوس تمہیں ایک باغی گروہ قتل کردے گا۔

راقم کہتا ہے

خَيْرَةُ مَوْلاةُ أم سَلَمَةَ، حسن بصری کی والدہ ہیں

امام احمد کے نزدیک اسکی سند معلول ہے اس کا ذکر وہ مسند احمد میں ہی کرتے ہیں پھر ابن سیرین کی بات نقل کرتے ہیں

مسند احمد میں ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: مَا نَسِيتُ قَوْلَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُعَاطِيهِمُ اللَّبَنَ، وَقَدْ اغْبَرَّ شَعْرُ صَدْرِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ» قَالَ: فَرَأَى عَمَّارًا، فَقَالَ: «وَيْحَهُ ابْنُ سُمَيَّةَ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ فَقَالَ: عَنْ أُمِّهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، أَمَا إِنَّهَا كَانَتْ تُخَالِطُهَا، تَلِجُ عَلَيْهَا

محمّد ابن سِيرِينَ نے پوچھا کہ حسن نے اپنی ماں سے روایت کیا کہا جی یا تو یہ اختلاط ہے یا اس میں کچھ اور بات مل گئی ہے

کتاب العلل ومعرفة الرجال از عبدللہ کے مطابق

حَدثنِي أبي قَالَ حَدثنَا مُحَمَّد بن أبي عدي عَن بن عون قَالَ فَذَكرته لمُحَمد فَقَالَ عَن أمه قلت نعم قَالَ أما أَنَّهَا قد كَانَت تخالطها تلج عَلَيْهَا يَعْنِي حَدِيث الْحسن عَن أمه عَن أم سَلمَة فِي عمار تقتله الفئة الباغية

احمد کہتے ہیں میں نے محمّد بن سیرین سے ذکر کیا محمّد ابن سِيرِينَ نے پوچھا کہ حسن نے اپنی ماں سے روایت کیا کہا جی یا تو یہ اختلاط ہے یا اس میں کچھ اور بات مل گئی ہے

مسند احمد میں امام احمد یہ الفاظ بھی نقل کرتے ہیں

قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ مُحَمَّدًا، فَقَالَ: «عَنْ أُمِّهِ؟ أَمَا إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ تَلِجُ عَلَى أَمِّ الْمُؤْمِنِينَ»

احمد کہتے ہیں میں نے اس کا ابن سیرین سے ذکر کیا انہوں نے کہا (حسن) اپنی ماں سے روایت کیا ؟ بے شک انہوں نے (حسن کی والدہ) نے ام المومنین کی بات گڈمڈ کر دی
—–

ساتویں روایت ہے

مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 2505

حضرت ابوغادیہ رضی اللہ عنہ کی روایت

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الْعَنَزِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ كُنَّا بِوَاسِطِ الْقَصَبِ عِنْدَ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ فَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو الْغَادِيَةِ اسْتَسْقَى مَاءً فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ مُفَضَّضٍ فَأَبَى أَنْ يَشْرَبَ وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا أَوْ ضُلَّالًا شَكَّ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ فَإِذَا رَجُلٌ يَسُبُّ فُلَانًا فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَئِنْ أَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْكَ فِي كَتِيبَةٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ إِذَا أَنَا بِهِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ قَالَ فَفَطِنْتُ إِلَى الْفُرْجَةِ فِي جُرُبَّانِ الدِّرْعِ فَطَعَنْتُهُ فَقَتَلْتُهُ فَإِذَا هُوَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ قَالَ قُلْتُ وَأَيَّ يَدٍ كَفَتَاهُ يَكْرَهُ أَنْ يَشْرَبَ فِي إِنَاءٍ مُفَضَّضٍ وَقَدْ قَتَلَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ

کلثوم بن حبر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ شہر واسط میں عبدالاعلی بن عامر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران وہاں موجود ایک شخص جس کا نام ابوغادیہ تھا نے پانی منگوایا، چنانچہ چاندی کے ایک برتن میں پانی لایا گیا لیکن انہوں نے وہ پانی پینے سے انکار کردیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے یہ حدیث ذکر کی کہ میرے پیچھے کافر یا گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ اچانک ایک آدمی فلاں (یعنی عثمان رضی الله عنہ کو) کو گالیاں دینے لگا، میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! اگر اللہ نے لشکر میں مجھے تیرے اوپر قدرت عطاء فرمائی (تو تجھ سے حساب لوں گا) جنگ صفین کے موقع پر اتفاقا میرا اس سے آمنا سامنا ہوگیا، اس نے زرہ پہن رکھی تھی، لیکن میں نے زرہ کی خالی جگہوں سے اسے شناخت کرلیا، چنانچہ میں نے اسے نیزہ مار کر قتل کردیا، بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو حضرت عمار بن یاسر تھے، تو میں نے افسوس سے کہا کہ یہ کون سے ہاتھ ہیں جو چاندی کے برتن میں پانی پینے پر ناگواری کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ انہی ہاتھوں نے حضرت عمار کو شہید کردیا تھا

راقم کہتا ہے

مسند احمد کی اس روایت کا ذکر کتاب أطراف الغرائب والأفراد من حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم للإمام الدارقطنی میں ابن القيسراني (المتوفى: 507هـ) نے کیا ہے
حَدِيث: كُنَّا بواسط / الْقصب … الحَدِيث.وَفِيه لَا ترجعوا بعدِي كفَّارًا … الحَدِيث.
غَرِيب من حَدِيث ابْن عون عَن كُلْثُوم بن جبر، تفرد بِهِ ابْن أبي عدي عَنهُ.
ابن القيسراني (المتوفى: 507هـ) کہتے ہیں یہ حدیث غریب ہے اس میں ابن ابی عدی کا تفرد ہے

یہ بھی مختلف فیہ ہے میزان الاعتدال کے مطابق
قال أبو حاتم – مرة: لا يحتج به.
ابو حاتم نے کہا اس سے دلیل مت لینا

اس روایت کے مطابق عمار بن یاسر رضی الله عنہ فلاں کو گالیاں دے رہے تھے

یہاں فلاں سے مراد عثمان رضی الله عنہ ہیں جبکہ  راقم کہتا ہے یہ ممکن نہیں کہ عمار رضی الله عنہ ایسی حرکت کرتے

آٹھویں روایت ہے

ابن القيسراني (المتوفى: 507هـ) کی کتاب ذخيرة الحفاظ (من الكامل لابن عدي) کے مطابق اس کی ایک اور سند ہے
حَدِيث: قَاتل عمار فِي النَّار. رَوَاهُ الْحسن بن دِينَار: عَن كُلْثُوم بن جبر الْمرَادِي، عَن أبي الغادية قَالَ: سَمِعت رَسُول الله – صلى الله عَلَيْهِ وَسلم – وَهُوَ الَّذِي قتل عمارا. وَهَذَا لَا يعرف إِلَّا بالْحسنِ بن دِينَار هَذَا من هَذَا الطَّرِيق، وَالْحسن مَتْرُوك الحَدِيث، وَأَبُو الغادية اسْمه يسَار.

راقم کہتا ہے

اس میں حسن بن دینار متروک ہے —

نویں روایت

مسند احمد ۔ جلد ہفتم ۔ حدیث 901

حضرت عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ وَكُلْثُومُ بْنُ جَبْرٍ عَنْ أَبِي غَادِيَةَ قَالَ قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأُخْبِرَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ قَاتِلَهُ وَسَالِبَهُ فِي النَّارِ فَقِيلَ لِعَمْرٍو فَإِنَّكَ هُوَ ذَا تُقَاتِلُهُ قَالَ إِنَّمَا قَالَ قَاتِلَهُ وَسَالِبَهُ

ابو غادیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع دی گئی، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو قتل کرنے والا اور اس کا سامان چھیننے والا جہنم میں جائے گا، کسی نے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ بھی تو ان سے جنگ ہی کر رہے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل اور سامان چھیننے والے کے بارے فرمایا تھا (جنگ کرنے والے کے بارے نہیں فرمایا تھا) ۔

ان دونوں روایات میں کلثوم بن جبر ہے

مسند احمد کی دوسری روایت جو اپ نے پیش کی ہے اس پر سير أعلام النبلاء میں الذھبی کہتے ہیں
رَوَى: حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ، عَنْ كُلْثُوْمِ بنِ جَبْرٍ، عَنْ أَبِي غَادِيَةَ، قَالَ:
سَمِعْتُ عَمَّاراً يَشْتُمُ عُثْمَانَ، فَتَوَعَّدْتُهُ بِالقَتْلِ، فَرَأَيْتُهُ يَوْمَ صِفِّيْنَ يَحْمِلُ عَلَى النَّاسِ، فَطَعَنْتُهُ، فَقَتَلْتُهُ.
وَأُخْبِرَ عَمْرُو بنُ العَاصِ، فَقَالَ:
سَمِعتُ رَسُوْلَ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُوْلُ: (قَاتِلُ عَمَّارٍ وَسَالِبُهُ فِي النَّارِ (2)) .
إِسْنَادُهُ فِيْهِ انْقِطَاعٌ.

اس کی اسناد میں انقطاع ہے

راقم کہتا ہے

ان روایات کی اسناد میں كلثوم بن جبر ہے
میزان الاعتدال کے مطابق
قال النسائي: ليس بالقوى.
ووثقه أحمد وابن معين.
یعنی یہ مختلف فیہ ہے
یہ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَأَبِي الطُّفَيْلِ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ سے روایت کرتا ہے
یہ لوگ بصرہ میں رہے ہیں لہذا سماع ممکن ہے لیکن ابوغادیہ کا بصرہ منتقل ہونا کسی نے بیان نہیں کیا – اس راوی کلثوم کا شام جانا بھی نظر میں ہے کہ کب ہوا ؟ اس کے بقول ابو غادیہ واسط آئے جو عراق اور شام کے درمیان کا علاقہ ہے جس کو الجزیرہ کہا جاتا تھا اور اس کا یہ شہر واسط تھا
یعنی کلثوم کہنا چاہتا ہے کہ وہ شام نہیں گیا نہ ہی ابو غادیہ بصرہ پہنچے بلکہ دونوں کی ملاقات واسط میں ہو گئی
کلثوم المرادی ہے یعنی اسی قبیلہ کا ہے جہاں سے علی رضی الله عنہ کے قاتل نکلے

أَبُو الغَادِيَةِ الصَّحَابِيُّ ہیں جو صلح الحُدَيْبِيَةَ میں موجود تھے اور ایسا ممکن نہیں کہ عمار بن یاسر رضی الله عنہ کو پہچانتے ہی نہ ہوں کیونکہ الحُدَيْبِيَةَ میں صرف  ١٤٠٠ اصحاب رسول تھے

جواب

عقیل بن ابی طالب رضی الله عنہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں یہ علی اور جعفر رضی الله عنہم سے بڑے ہیں اور انساب اور قریش کی تاریخ کے ایک ماہر مشھور تھے یہ ابو طالب کی موت کے وقت کفر کی حالت میں تھے لہذا ابو طالب کے وارث ہوئے لیکن  حدیبیہ سے قبل ایمان لائے اور جنگ موتہ میں بھی شرکت کی

​صحیح مسلم: کتاب: حج کے احکام ومسائل

(باب: حج کرنے والے کا مکہ میں قیام کرنا اور اس (مکہ)کے گھرو ں کا وراثت میں منتقل ہونا)

3294 . حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَخْبَرَهُ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتَنْزِلُ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ؟ فَقَالَ «وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ، أَوْ دُورٍ»، «وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ، وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ، وَلَا عَلِيٌّ شَيْئًا لِأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ»
یو نس بن یزید نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہ علی بن حسین نے انھیں خبر دی کہ عمرو بن عثمان بن عفان نے انھیں اسامہ بن یزید بن حا رثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے پو چھا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مکہ میں اپنے (آبائی) گھر میں قیام فر ما ئیں گے؟آپ نے فر ما یا :” کیا عقیل نے ہمارے لیے احا طوں یا گھروں میں سے کو ئی چیز چھوڑی ہے۔ اور طالب ابو طا لب کے وارث بنے تھے اور جعفر اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کو ئی چیز وراثت میں حا صل نہ کی ،کیونکہ وہ دونوں مسلمان تھے ،جبکہ عقیل اور طالب کا فر تھے۔

کتاب الاستيعاب في معرفة الأصحاب  از ابن عبد البر کے مطابق

. وَقَالَ العدوي: كَانَ عُقَيْل قد أخرج  إِلَى بدر مكرها، ففداه عمه الْعَبَّاس رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ أتى مسلما قبل الحديبية، وشهد غزوة مؤتة، وَكَانَ أكبر من أخيه جَعْفَر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بعشر سنين، وَكَانَ جَعْفَر أسن من علي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بعشر سنين، وَكَانَ عُقَيْل أنسب قريش وأعلمهم بأيامها

العدوي نے کہا عقیل کراہتا بدر کے لئے نکلے پس ان کا فدیہ عباس رضی الله عنہ نے دیا پھر یہ مسلمان ہو کر حدیبیہ سے قبل لوٹے اور غزوہ موتہ میں شرکت کی اور یہ جعفر رضی الله عنہ سے دس سال بڑے تھے اور جعفر علی سے دس سال بڑے تھے اور عقیل قریش کے نسب اور ان کی تاریخ کے عالم تھے

سیر  میں الذھبی لکھتے ہیں

قَالَ ابْنُ سَعْدٍ: خَرَجَ عَقِيْلٌ مُهَاجِراً فِي أَوَّلِ سَنَةِ ثَمَانٍ، وَشَهِدَ مُؤْتَةَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَتَمَرَّضَ مُدَّةً، فَلَمْ يُسْمَعْ لَهُ بِذِكْرٍ فِي فَتْحِ مَكَّةَ، وَلاَ حُنَيْنٍ، وَلاَ الطَّائِفِ

ابن سعد نے کہا عقیل نے سن ٨ ہجری میں ہجرت کی اور موتہ کی جنگ دیکھی پھر مدینہ لوٹے اور بیمار ہو گئے پس ان کا ذکر نہیں سنا گیا فتح مکہ اور حنین اور طائف کے لئے

امام بخاری کی تاریخ کے مطابق انہوں نے پورا دور معاویہ رضی الله عنہ دیکھا

عقیل رضی الله عنہ کا گھر بقيع کے ساتھ تھا

کتاب معجم الصحابة  از بغوی  کے مطابق رسول الله صلی الله علیہ وسلم عقیل سے کہا کرتے

 يا أبا يزيد إني أحبك حبين لقرابتك مني وحبا لما كانت أعلم من حب عمي إياك

اے ابو یزید میں اپ سے دو محبتیں کرتا ہوں ،  قرابت کی وجہ سے محبت کرتا ہوں اور محبت کرتا ہوں کہ میں جب یہ جانتا ہوں کہ میرے چچا اپ سے محبت کرتے تھے

اسد الغابہ اور تاریخ دمشق کے مطابق عقیل رضی الله عنہ نے معاویہ رضی الله عنہ کا ساتھ دیا اور علی رضی الله عنہ سے ان کے اختلافات ہو گئے تھے

حدثنا حدثنا هشيم ، قال : أخبرنا حصين ، قال : حدثنا عبد الرحمن بن معقل ، قال : ” صليت مع علي صلاة الغداة ، قال : فقنت ، فقال في قنوته : ” اللهم عليك بمعاوية وأشياعه ، وعمرو بن العاص ، وأشياعه ، وأبي السلمي ، وعبد الله بن قيس وأشياعه ”
میں نے علی کے ساتھ نماز فجر پڑھی اس میں قنوت کیا اور کہا اے الله معاویہ اور اس کا گروہ اور عمرو اور اس کا گروہ اور ابی السلمی اور عبد الله بن قیس کا گروہ اب (ان سے نپٹنا) تیرے اوپر ہے

جواب

هشيم بن بشير الواسطي کی حصين بن عبد الرحمن السلمي سے روایت أخبرنا سے ہے اور هشيم بن بشير الواسطي ایک سخت مدلس آدمی ہیں لہذا اس میں تدلیس کا مسئلہ نہیں ہے – مسئلہ خود حصين بن عبد الرحمن السلمي ہیں جو آخری عمر میں مختلط ہوئے – ایک رائے یہ ہے کہ یہ اختلاط کی روایت ہے کیونکہ اس متن میں اصحاب رسول پر قنوت کا ذکر ہے جو اور سندوں میں نہیں ہے

مشکل الاثار از طحاوی کی روایت ہے

حَدَّثَنَا فَهْدٌ، قَالَ: ثنا مُحْرِزُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ «إِنَّمَا كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْنُتُ فِيهَا هَاهُنَا لِأَنَّهُ كَانَ مُحَارِبًا , فَكَانَ يَدْعُو عَلَى أَعْدَائِهِ فِي الْقُنُوتِ فِي الْفَجْرِ وَالْمَغْرِبِ» فَثَبَتَ بِمَا ذَكَرْنَا أَنَّ مَذْهَبَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْقُنُوتِ , هُوَ مَذْهَبُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الَّذِي وَصَفْنَا. وَلَمْ يَكُنْ عَلِيٌّ يَقْصِدُ بِذَلِكَ إِلَى الْفَجْرِ خَاصَّةً لِأَنَّهُ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الْمَغْرِبِ فِيمَا ذَكَرَ إِبْرَاهِيمُ

ابراہیم النخعی نے کہا علی نے فجر میں قبوت کیا کیونکہ وہ جنگ لڑ رہے تھے لہذا اپنے دشمنوں کے لئے دعا کرتے فجر میں ان پر قنوت پڑھتے اور مغرب میں – طحاوی نے کہا پس ثابت ہوا جس کا ہم نے ذکر کیا تھا کہ علی اور عمر کا مذھب قنوت میں ایک تھا- اور علی نے اس کو فجر پر خاص نہیں کر رکھا تھا بلکہ اس کو مغرب میں بھی کرتے جیسا ابراہیم نے ذکر کیا

راقم کہتا ہے حالت جنگ میں قنوت پڑھا جاتا تھا اور یہ امکان ہے کہ دونوں جانب پڑھا جا رہا تھا
شیعہ کتاب مقاتل الطالبيين کے مطابق حسن و معاویہ میں عھد کے وقت صلح کی ایک شرط تھی

أن يترك سب أمير المؤمنين والقنوت عليه بالصلاة
علی پر نماز میں قنوت پڑھنا بند ہو گا اور ان کو گالی دینا بند ہو گا

البتہ اس سے ثابت ہوا ہے کہ الله تعالی نے علی رضی الله عنہ کی دعا قبول نہیں کی کیونکہ اللہ نے معاویہ رضی الله عنہ اور ان کے گروہ کو باقی رکھا اور خود حسن بن علی رضی الله عنہ نے ان کو امام تسلیم کیا یعنی معاویہ رضی الله عنہ کا قنوت قبول ہوا اور حسن سے صلح پر اس کی ضرورت ختم ہوئی

جنگ النھروان

صحيح مسلم: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ ذِكْرِ الْخَوَارِجِ وَصِفَاتِهِمْ) صحیح مسلم: کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل (باب: خوارج اور ان کی صفات)

2459 . حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكُونُ فِي أُمَّتِي فِرْقَتَانِ فَتَخْرُجُ مِنْ بَيْنِهِمَا مَارِقَةٌ يَلِي قَتْلَهُمْ أَوْلَاهُمْ بِالْحَقِّ

قتادہ نے ابو نضر ہ سے اور انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میری امت کے دو گروہ ہوں گے ان دونوں کےدرمیان سے،دین میں سے تیزی سے باہر ہوجانے والے نکلیں گے،انھیں وہ گروہ قتل کرے گا جو دونوں گروہوں میں سے زیادہ حق کے لائق ہوگا۔”

——-

اس حدیث میں جو یہ کہا گیا کہ

انھیں وہ گروہ قتل کرے گا جو دونوں گروہوں میں سے زیادہ حق کے لائق ہوگا۔”

وہ گروہ کون سا ہے

جواب

یہ روایت قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ کی سند سے کتابوں میں ہے اور یہ سند بہت اچھی نہیں ہے

قتادہ مدلس کا عنعنہ ہے اور اس کی سند میں أَبُو نَضْرَةَ العَبْدِيُّ المُنْذِرُ بنُ مَالِكِ بنِ قُطَعَةَ ہیں

الذھبی سیر الاعلام میں لکھتے ہیں

وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ فِي (الثِّقَاتِ) : كَانَ مِمَّنْ يُخْطِئُ،

ابن حبان ثقات میں لکھتے ہیں یہ وہ ہیں جو غلطی کرتے ہیں

وَقَالَ ابْنُ سَعْدٍ : ثِقَةٌ، كَثِيْرُ الحَدِيْثِ، وَلَيْسَ كُلُّ أَحَدٍ يُحْتَجُّ بِهِ.

ابن سعد کہتے ہیں ثقہ ہیں کثیر الحدیث ہیں اور ہر ایک سے دلیل نہیں لی جا سکتی

اس کے علاوہ یہ عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ کی سند سے بھی ہے
یہ بھی اسی قسم کی کمزور ہے

اور اس کے علاوہ یہ
عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،
کی سند سے بھی ہے
یہ بھی اتنی ہی کمزور ہے

عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، اور عوف کٹر شیعہ بھی ہیں

روایت میں بصریوں کا تفرد ہے

ایک دور میں بصرہ میں خوارج کھات لگا کر قتل کرتے تھے ابو نضرہ، قتادہ ، اور عوف اور علی بن زید اسی دور کے ہیں

مسند البزار میں ہے
حدثنا محمد بن المثنى، قالَ: حَدَّثَنا أبو الوليد، قالَ: حَدَّثَنا أبو عوانة , عن قتادة , عن أبي نضرة , عن أبي سعيد أحسبه رفعه قال: تكون أمتي فرقتين يخرج بينهما مارقة يلي قتلهم أولاهما بالحق.

أبي نضرة نے أبي سعيد رضی الله عنہ سے روایت کیا أحسبه رفعه گمان ہے انہوں نے اس کو رفع کیا یعنی رسول الله کا قول قرار دیا

راقم کے خیال میں یہ روایت رفع کی گئی ہے یہ ابو سعید رضی الله عنہ کا قول لگتا ہے

ابوسعید رضی الله عنہ کی ایک دوسری روایت ہے

صحیح بخاری کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّهُمَا أَتَيَا أَبَا سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ، فَسَأَلاَهُ عَنْ الحَرُورِيَّةِ: أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لاَ أَدْرِي مَا الحَرُورِيَّةُ؟ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَخْرُجُ فِي هَذِهِ الأُمَّةِ – وَلَمْ يَقُلْ مِنْهَا – قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلاَتَكُمْ مَعَ صَلاَتِهِمْ، يَقْرَءُونَ القُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ، – أَوْ حَنَاجِرَهُمْ – يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَيَنْظُرُ [ص:17] الرَّامِي إِلَى سَهْمِهِ، إِلَى نَصْلِهِ، إِلَى رِصَافِهِ، فَيَتَمَارَى فِي الفُوقَةِ، هَلْ عَلِقَ بِهَا مِنَ الدَّمِ شَيْءٌ

ابی سلمہ اور عطا بن یسار کہتے ہیں وہ ابی سعید الخدری کے پاس پہنچے اور ان سے حروریہ پر سوال کیا کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے حروریہ کے متعلق کچھ سنا تھا ؟ ابو سعید رضی الله عنہ نے کہا ان کو نہیں پتا کہ حروریہ کیا ہے- میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا کہ اس امت میں اور انہوں نے نہیں کہا اس میں سے ایک قوم نکلے گی جو اپنی نماز کو تمہاری نماز سے حقیر سمجھیں گے قرآن پڑھیں گے جو حلق سے نیچے نہیں جائے گا ۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر جانور میں سے پار نکل جاتا ہے اور پھر تیر پھینکنے والا اپنے تیر کو دیکھتا ہے اس کے بعد جڑ میں (جو کمان سے لگی رہتی ہے) اس کو شک ہوتا ہے شاید اس میں خون لگا ہو مگر وہ بھی صاف

ابو سعید الخدری رضی الله عنہ نے حروریہ پر براہ راست اس روایت کو ثبت نہیں کیا بلکہ کہا اس امت میں ایک قوم نکلے گی – اوپر دی گئی دونوں روایات ایک ہی صحابی سے ہیں ایک میں وہ حروریہ سے لا علم ہیں دوسری میں وہ کہتے ہیں قتال پر یہ گروہ واپس آ جائے گا یہ قابل غور ہے حروریہ مشرق میں نہیں شمال میں سے نکلے اور شاید اسی وجہ سے ابو سعید رضی الله عنہ نے جو سنا تھا اس کے مطابق کہا

یعنی ابو سعید رضی الله عنہ نے اس میں دور کا تعین نہیں کیا اور یقینا وہ اس کو اپنے دور میں نہیں سمجھتے تھے ورنہ کہتے یہ فلاں گروہ ہے

جواب

عصر حاضر میں بہت سے علماء افراط کا شکار ہیں ان کو تاریخ کا صحیح علم بھی نہیں ہے لہذا تراجم کرتے وقت روایات کا ترجمہ بدل دیتے ہیں یا استنباط کرتے وقت تمام حدود لانگ جاتے ہیں

کتاب الشرح الممتع على زاد المستقنع  از محمد بن صالح بن محمد العثيمين کے مطابق

قال شيخ الإسلام ـ رحمه الله ـ: إن الأئمة ـ رحمهم الله ـ ومنهم الإمام أحمد، وغيره لم يكفروا أهل البدع إلا الجهمية، فإنهم كفروهم مطلقاً؛ لأن بدعتهم ظاهر فيها الكفر، وأما الخوارج والقدرية ومن أشبههم فإن الإمام أحمد نصوصه صريحة بأنهم ليسوا بكفار.

ابن تیمیہ نے کہا ائمہ….. جن میں امام احمد ہیں  نے سوائے جھمیہ فرقہ کے کسی کی تکفیر نہیں کی کیونکہ وہ مطلق کفر کرتے ہیں کیونکہ ان کی بدعت ظاہر ہی کفر ہے اور جہاں تک خوارج اور قدریہ کا تعلق ہے اور ان کے جیسے تو امام احمد سے صریح نصوص سے ہے کہ یہ کفار نہیں ہیں

المغنی میں ابن قدامہ کہتے ہیں

وَقَدْ عُرِفَ مِنْ مَذْهَبِ الْخَوَارِجِ تَكْفِيرُ كَثِيرٍ مِنْ الصَّحَابَةِ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ، وَاسْتِحْلَالُ دِمَائِهِمْ، وَأَمْوَالِهِمْ، وَاعْتِقَادُهُمْ التَّقَرُّبَ بِقَتْلِهِمْ إلَى رَبِّهِمْ، وَمَعَ هَذَا لَمْ يَحْكُمْ الْفُقَهَاءُ بِكُفْرِهِمْ؛ لِتَأْوِيلِهِمْ.

اور خوارج کا صحابہ کی تکفیر کا مذھب معلوم ہے اور ان کے بعد والوں کا بھی کہ خون اور مال کو حلال کرتے ہیں اور اس پر اپنے رب سے تقرب کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اس سب کے ساتھ (اہل سنت کے) فقہاء نے ان کی اس تاویل پر ان  کے کفر کا حکم نہیں کیا ہے

راقم اس رائے سے اتفاق کرتا ہے

اس کے برعکس اہل سنت علی اور خوارج کے حوالے سے کہتے ہیں کہ روایات میں ہے کہ ایک گروہ ہو گا

یمرقون من الدین مروق السھم من الرمیة “” یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکارکے جسم سے نکل جاتاہے ” ۔

یقرءون القرآن لایجاوزحناجرھم “ “یہ قرآن کریم کی تلاوت تو کریں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترےگا”

یہاں تک کہ روایت میں ان کو عاد و ثمود بھی قرار دیا گیا ہے

راقم کہتا ہے ان روایات کو خوارج پر ثبت کرنا اہل سنت میں سے بعض کا فکری تضاد ہے

کیونکہ کوئی فرقہ دین سے تیر کی طرح نکل گیا تو اس کا شمار پھر اسلام میں کیسے ہو سکتا ہے؟ اس روایت کو خوارج پر علی رضی الله عنہ کے بعض مفرط شیعوں نے لگایا ہے جبکہ علی رضی الله عنہ کا عمل اس روایت کی تغلیظ کرتا ہے وہ خوارج کا قتل عام نہیں کرتے نہ وہ ان کو عاد و ثمود قرار دیتے ہیں نہ وہ گھات لگا کر ان کا قتل کرتے ہیں جبکہ آج علماء  نے لفظ خوارج کو تکفیر کا متبادل بنا دیا ہے

خروج حسین رضی الله عنہ

‌صحيح البخاري: کِتَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ (بَابُ مَنَاقِبِ الحَسَنِ وَالحُسَيْنِ ؓ) صحیح بخاری: کتاب: نبی کریمﷺ کے اصحاب کی فضیلت (باب: حضرت حسن اور حسین ؓ کے فضائل)

3748 . حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَام فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ فَجَعَلَ يَنْكُتُ وَقَالَ فِي حُسْنِهِ شَيْئًا فَقَالَ أَنَسٌ كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالْوَسْمَةِ

مجھ سے محمد بن حسین بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے حسین بن محمد نے بیان کیا ، کہاہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے محمد نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سرمبارک عبید اللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا اور ایک طشت میں رکھ دیا گیا تو وہ بدبخت اس پر لکڑی سے مارنے لگا اور آ پ کے حسن اور خوبصورتی کے بارے میں بھی کچھ کہا ( کہ میں نے اس سے زیادہ خوبصورت چہرہ نہیں دیکھا ) اس پر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا حضرت حسین رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے ۔ انہوں نے وسمہ کا خضاب استعمال کررکھا تھا ۔

=============
یہی حرکت کرنے والے کے ساتھ خود کیا ہوا
=============

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَنَاقِبِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخِي عَلِيٍّؓ) جامع ترمذی: كتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں (باب: َجعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبؓ کے مناقب)

3780 . حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ لَمَّا جِيءَ بِرَأْسِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ وَأَصْحَابِهِ نُضِّدَتْ فِي الْمَسْجِدِ فِي الرَّحَبَةِ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَقُولُونَ قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ فَإِذَا حَيَّةٌ قَدْ جَاءَتْ تَخَلَّلُ الرُّءُوسَ حَتَّى دَخَلَتْ فِي مَنْخَرَيْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَمَكَثَتْ هُنَيْهَةً ثُمَّ خَرَجَتْ فَذَهَبَتْ حَتَّى تَغَيَّبَتْ ثُمَّ قَالُوا قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ فَفَعَلَتْ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

عمارہ بن عمیر کہتے ہیں کہ جب عبیداللہ بن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سر لائے گئے ۱؎ اورکوفہ کی ایک مسجد میں انہیں ترتیب سے رکھ دیاگیا اور میں وہاں پہنچا تو لوگ یہ کہہ رہے تھے: آیا آیا، تو کیا دیکھتاہوں کہ ایک سانپ سروں کے بیچ سے ہوکر آیا اور عبید اللہ بن زیاد کے دونوں نتھنوں میں داخل ہوگیا اور تھوڑی دیر اس میں رہا پھر نکل کر چلاگیا، یہاں تک کہ غائب ہوگیا، پھر لوگ کہنے لگے: آیا آیا اس طرح دو یا تین بار ہوا ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب میں ا س حدیث کو لاکر امام ترمذی نواسہ رسول کے اس دشمن کا حشر بتانا چاہتے ہیں جس نے حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ گستاخی کرتے ہوئے اپنی چھڑی سے آپ کی ناک ،آنکھ اور منہ پر ماراتھا کہ اللہ نے نواسہ رسول کے اس دشمن کے ساتھ کیسا سلوک کیا اسے اہل دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔(عبداللہ بن زیادکو مختارثقفی کے فرستادہ ابراہیم بن اشترنے سن چھیاسٹھ میں مقام جازر میں جوموصل سے پانچ فرسخ پرہے قتل کیا تھا)۔

جواب

یہ سوال کافی مرتبہ کیا گیا ہے

ابن زیاد چھڑی سے فَجَعَلَ يَنْكُتُ کر رہا تھا

ینکت کہتے ہیں سوچ کے عالم میں تنکے سے لکیر زمین پر بنانا
لغت مشارق الأنوار على صحاح الآثار از عياض بن موسى بن عياض بن عمرون اليحصبي السبتي، أبو الفضل (المتوفى: 544هـ) کے مطابق
قَوْله فَجعل ينكت بهَا بِضَم الْكَاف وَآخره تَاء بِاثْنَتَيْنِ فَوْقهَا أَي يُؤثر بهَا فِي الأَرْض نكت فِي الأَرْض إِذا أثر بهَا بقضيب أَو نَحوه وَمثله قَوْله فِي الحَدِيث الآخر فينكتون بالحصا أَي يضْربُونَ بِهِ كَمَا يفعل المتفكر المهتم

قول کہ فَجعل ينكت …. یعنی آثار زمین پر بنانے لگا … اور اسی طرح حدیث میں ہے

النهاية في غريب الحديث والأثر از ابن اثیر کے مطابق
نکت کا مطلب ہے أَيْ يُفَكِّر ويُحدِّث نفسَه. تفکر کرنا اور خود کلامی کرنا

یعنی ابن زیاد سوچ میں پڑ گیا کہ اب امت میں کیا ہو گا
———–

ابن زیاد مظلوم مارا گیا اس کا قتل حسین سے کوئی تعلق نہیں تھا اس کا قاتل مختار ثقفی کذاب تھا-
کسی کی لاش میں سے سانپ گزرے یا اس کا مثلہ ہو جائے کون سی چیز زیادہ بری ہے / ظاہر ہے مثلہ ہونا سب سے برا ہے جو اصحاب رسول کا ہوا
لہذا اس سے کچھ ثابت نہیں ہوا

جواب

اس کی سند صحیح ہے متن میں ابہام ہے

اول اصحاب رسول کے مطابق حسن رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے مشابہ تھے
مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: «الْحَسَنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ، وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ»
علی نے کہا حسن سر سے لے کر سینہ تک رسول الله صلی الله علیہ وسلم جیسا ہے اور حسین اس سے نیچے یعنی صرف پیر ہوئے
اس روایت کو ابن حبان ، احمد شاکر اور شعیب نے صحیح کہا ہے
اور یہاں سر لایا گیا ہے جو حسین کا ہے اور یہ مشابہت نہیں رکھتا تھا

مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَخْبَرَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ صَلاةِ الْعَصْرِ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَيَالٍ، وَعَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلامُ يَمْشِي إِلَى جَنْبِهِ، فَمَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَلْعَبُ مَعَ غِلْمَانٍ، فَاحْتَمَلَهُ عَلَى رَقَبَتِهِ وَهُوَ يَقُولُ: “وَا بِأَبِي شَبَهُ النَّبِيِّ لَيْسَ شَبِيهًا بِعَلِيِّ”، قَالَ: وَعَلِيٌّ يَضْحَك.
ابو بکر نے حسن کے لئے کہا کہ اس میں النبی کی مشابہت ہے یہ علی پر نہیں گیا

اور یہ صحیح بخاری ہی میں ہے
حَدَّثَنا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الحَارِثِ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَحَمَلَ الحَسَنَ وَهُوَ يَقُولُ: «بِأَبِي شَبِيهٌ بِالنَّبِيِّ، لَيْسَ شَبِيهٌ بِعَلِيٍّ» وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ

دوم رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کبھی بھی خضاب کا استعمال نہیں کیا تو پھر ایک خضاب لگانے والے کی شکل رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے کیسے مل سکتی ہے؟

جواب

الذھبی کتاب میں سند دیتے ہیں
وَرَوَى: مُحَمَّدُ بنُ أَبِي السَّرِيِّ العَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ عَبْدِ المَلِكِ بنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ، قَالَ:
كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بنِ عَبْدِ العَزِيْزِ، فَقَالَ رَجُلٌ: قَالَ أَمِيْرُ المُؤْمِنِيْنَ يَزِيْدُ.
فَأَمَرَ بِهِ، فَضُرِبَ عِشْرِيْنَ سَوْطاً (2) .
نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ نے کہا کہ کسی نے عمر بن عبد العزیز کے سامنے کہا امیر المومنین یزید – اس پر عمر بن عبد العزیز نے اس کو ٢٠ کوڑے لگانے کا حکم دیا

یعنی الذہبی نے آخر میں یزید کی برائی پر ترجمہ ختم کیا ہے لیکن یہ حوالہ کہ وہ سب سے بڑا ناصبی تھا نہیں ملا
—-

راقم کہتا ہے الذھبی کی پیش کردہ روایت مضبوط نہیں ہے اس میں يَحْيَى بنُ عَبْدِ المَلِكِ بنِ أَبِي غَنِيَّةَ ہے جو بہت مضبوط نہیں ہے ( الكامل في ضعفاء الرجال از ابن عدی)- ان کوڑوں کی زد میں اصحاب رسول بھی ا جاتے ہیں جو بیعت کے قائل تھے اور بیعت توڑنے والوں کو برا کہتے مثلا ابن عمر رضی الله عنہ
ان کوڑوں میں لیث بن سعد بھی اتے ہیں
خلیفہ بن خیاط نے یزید کو امیر المومنین لکھتے ہیں
خليفة بن خياط (المتوفى: 240)نے کہا:قرئَ عَلَى ابْن بكير وَأَنا أسمع عَن اللَّيْث قَالَ توفّي أَمِير الْمُؤمنِينَ يَزِيد فِي سنة أَربع وَسِتِّينَ[تاريخ خليفة بن خياط ص: 2
عَلَى ابْن بكير نے بیان کیا اور میں سن رہا تھا کہ لیث نے کہا أَمِير الْمُؤمنِينَ يَزِيد کی وفات ٦٤ ھ البدر ( مکمل چاند ) کی رات ہوئی ربيع الأول کے مہینے میں

یہ افراط چلا ا رہا ہے- یزید کے حوالے سے ہر قسم کا مواد ہے

ابن زبیر رضی الله عنہ کی خلافت

حدیث کی تحقیق درکار ہے

============

صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَجِّ (بَابُ نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا) صحیح مسلم: کتاب: حج کے احکام ومسائل (باب: کعبہ (کی عمارت )کو گرا کر (نئی )تعمیر کرنا)

3245 . حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: لَمَّا احْتَرَقَ الْبَيْتُ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، حِينَ غَزَاهَا أَهْلُ الشَّامِ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ، تَرَكَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّى قَدِمَ النَّاسُ الْمَوْسِمَ يُرِيدُ أَنْ يُجَرِّئَهُمْ – أَوْ يُحَرِّبَهُمْ – عَلَى أَهْلِ الشَّامِ، فَلَمَّا صَدَرَ النَّاسُ، قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي الْكَعْبَةِ، أَنْقُضُهَا ثُمَّ أَبْنِي بِنَاءَهَا؟ أَوْ أُصْلِحُ مَا وَهَى مِنْهَا؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَإِنِّي قَدْ فُرِقَ لِي رَأْيٌ فِيهَا، أَرَى أَنْ تُصْلِحَ مَا وَهَى مِنْهَا، وَتَدَعَ بَيْتًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ، وَأَحْجَارًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهَا، وَبُعِثَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: ” لَوْ كَانَ أَحَدُكُمُ احْتَرَقَ بَيْتُهُ، مَا رَضِيَ حَتَّى يُجِدَّهُ، فَكَيْفَ بَيْتُ رَبِّكُمْ؟ إِنِّي مُسْتَخِيرٌ رَبِّي ثَلَاثًا، ثُمَّ عَازِمٌ عَلَى أَمْرِي، فَلَمَّا مَضَى الثَّلَاثُ أَجْمَعَ رَأْيَهُ عَلَى أَنْ يَنْقُضَهَا، فَتَحَامَاهُ النَّاسُ أَنْ يَنْزِلَ بِأَوَّلِ النَّاسِ يَصْعَدُ فِيهِ أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ، حَتَّى صَعِدَهُ رَجُلٌ، فَأَلْقَى مِنْهُ حِجَارَةً، فَلَمَّا لَمْ يَرَهُ النَّاسُ أَصَابَهُ شَيْءٌ تَتَابَعُوا فَنَقَضُوهُ حَتَّى بَلَغُوا بِهِ الْأَرْضَ، فَجَعَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَعْمِدَةً، فَسَتَّرَ عَلَيْهَا السُّتُورَ حَتَّى ارْتَفَعَ بِنَاؤُهُ، وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: إِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْلَا أَنَّ النَّاسَ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِكُفْرٍ، وَلَيْسَ عِنْدِي مِنَ النَّفَقَةِ مَا يُقَوِّي عَلَى بِنَائِهِ، لَكُنْتُ أَدْخَلْتُ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ خَمْسَ أَذْرُعٍ، وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابًا يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ، وَبَابًا يَخْرُجُونَ مِنْهُ»، قَالَ: «فَأَنَا الْيَوْمَ أَجِدُ مَا أُنْفِقُ، وَلَسْتُ أَخَافُ النَّاسَ»، قَالَ: ” فَزَادَ فِيهِ خَمْسَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ حَتَّى أَبْدَى أُسًّا نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَبَنَى عَلَيْهِ الْبِنَاءَ وَكَانَ طُولُ الْكَعْبَةِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا زَادَ فِيهِ اسْتَقْصَرَهُ، فَزَادَ فِي طُولِهِ عَشْرَ أَذْرُعٍ، وَجَعَلَ لَهُ بَابَيْنِ: أَحَدُهُمَا يُدْخَلُ مِنْهُ، وَالْآخَرُ يُخْرَجُ مِنْهُ “. فَلَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ كَتَبَ الْحَجَّاجُ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ يُخْبِرُهُ بِذَلِكَ وَيُخْبِرُهُ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ قَدْ وَضَعَ الْبِنَاءَ عَلَى أُسٍّ نَظَرَ إِلَيْهِ الْعُدُولُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ: إِنَّا لَسْنَا مِنْ تَلْطِيخِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي شَيْءٍ، أَمَّا مَا زَادَ فِي طُولِهِ فَأَقِرَّهُ، وَأَمَّا مَا زَادَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ فَرُدَّهُ إِلَى بِنَائِهِ، وَسُدَّ الْبَابَ الَّذِي فَتَحَهُ، فَنَقَضَهُ وَأَعَادَهُ إِلَى بِنَائِهِ

عطا ء سے روایت ہے انھوں نے کہا یزید بن معاویہ کے دور میں جب اہل شام نے (مکہ پر ) حملہ کیا اور کعبہ جل گیا تو اس کی جو حالت تھی سو تھی ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے (اسی حالت پر) رہنے دیا حتیٰ کہ حج کے مو سم میں لو گ (مکہ) آنے لگے وہ چا ہتے تھے کہ انھیں ہمت دلا ئیں ۔۔یا اہل شام کے خلاف جنگ پر ابھا ریں ۔۔۔جب لو گ آئے تو انھوں نے کہا اے لوگو! مجھے کعبہ کے بارے میں مشورہ دو میں اسے گرا کر (از سر نو ) اس کی عمارت بنا دوں یا اس کا جو حصہ بو سیدہ ہو چکا ہے صرف اس کی مرمت کرا دوں ؟ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میرے سامنے ایک رائے واضح ہو ئی ہے میری را ئے یہ ہے کہ اس کا بڑا حصہ کمزور ہو گیا ہے آپ اس می مرمت کرا دیں اور بیت اللہ کو (اسی طرح باقی ) رہنے دیں جس پر لو گ اسلا م لا ئے اور ان پتھروں کو (باقی چھوڑ دیں) جن پر لوگ اسلام لائے اور جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہو ئی ،اس پر ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اگر تم میں سے کسی کا اپنا گھر جل جا ئے تو وہ اس وقت تک راضی نہیں ہو تا جب تک کہ اسے نیا (نہ ) بنا لے تو تمھا رے رب کے گھر کا کیا ہو؟ میں تین دن اپنے رب سے استخارہ کروں گا پھر اپنے کام کا پختہ عزم کروں گا ۔ جب تین دن گزر گئے تو انھوں نے اپنی را ئے پختہ کر لی کہ اسے گرا دیں تو لو گ (اس ڈرسے) اس سے بچنے لگے کہ جو شخص اس (عمارت ) پر سب سے پہلے چڑھے گا اس پر آسمان سے کو ئی آفت نازل ہو جا ئے گی یہاں تک کہ ایک آدمی اس پر چڑھا اور اس سے ایک پتھر گرادیا جب لوگوں نے دیکھا کہ اسے کچھ نہیں ہوا تو لوگ ایک دوسرے کے پیچھے (گرا نے لگے )حتیٰ کہ اسے زمین تک پہنچا دیا ۔ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چند (عارضی) ستون بنا ئے اور پردے ان پر لٹکا دیے یہاں تک کہ اس کی عمارت بلند ہو گئی ۔ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ کہتے سنا بلا شبہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :” اگر لوگوں کے کفر کا زمانہ قریب کا نہ ہوتا اور میرے پاس اتنا مال بھی نہیں جو اس کی تعمیر (مکمل کرنے ) میں میرا معاون ہو تو میں حطیم سے پانچ ہاتھ (زمین ) اس میں ضرور شامل کرتا اور اس کا ایک (ایسا ) دروازہ بنا تا جس سے لوگ اندر داخل ہو تے اور ایک دروازہ (ایسا بنا تا ) جس سے باہر نکلتے ۔ (ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) کہا آج میرے پاس اتنا مال ہے جو خرچ کرسکتا ہوں اور مجھے لوگوں کا خوف بھی نہیں (عطاء نے) کہا تو انھوں نے حطیم سے پانچ ہاتھ اس میں شامل کیے (کھدا ئی کی) حتیٰ کہ انھوں نے ابرا ہیمی) بنیا د کو ظاہر کر دیا لوگوں نے بھی اسے دیکھا اس کے بعد انھوں نے اس پر عمارت بنا ئی کعبہ کا طول (اونچا ئی ) اٹھا رہ ہاتھ تھی (یہ اس طرح ہو ئی کہ ) جب انھوں نے (حطیم کی طرف سے) اس میں اضافہ کر دیا تو (پھر )انھیں (پہلی اونچا ئی ) کم محسوس ہو ئی چنانچہ انھوں نے اس کی اونچا ئی میں دس ہاتھ کا اضافہ کر دیا اور اس کے دروازے بنائے ایک میں سے اندر دا خلہ ہو تا تھا اور دوسرے سے باہر نکلا جا تا تھا جب ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قتل کر دیے گئے تو حجاج نے عبد الملک بن مروان کو اطلا ع دیتے ہو ئے خط لکھا اور اسے خبر دی کہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی تعمیر اس (ابرا ہیمی) بنیا دوں پر استورکی جسے اہل مکہ کے معتبر (عدول) لوگوں نے (خود) دیکھا عبد الملک نے اسے لکھا ۔ہمارا ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ردو بدل سے کو ئی تعلق نہیں البتہ انھوں نے اس کی اونچائی میں جو اضافہ کیا ہے اسے بر قرار رہنے دو اور جو انھوں نے حطیم کی طرف سے اس میں اضافہ کیا ہے اسے (ختم کر کے ) اس کی سابقہ بنیا د پر لوٹا دو اور اس دروازے کو بند کر دو جو انھوں نے کھو لا ہے چنانچہ اس نے اسے گرادیا اس کی (پچھلی ) بنیاد پر لو ٹا دیا ۔

——–

اس حدیث میں جن لوگوں نے کعبہ کو جلایا وہ کون سا موقعہ تھا – اور وہ کون سے لوگ تھے – کیا وہ لوگ کافر تھے یا مومن

جواب

یہ روایت تاریخا کچھ صحیح کچھ غلط ہے

غلط اس روایت کا شروع کا حصہ ہے صحیح  یہ ہے کہ کعبه ابن زبیر کی موت پر جلا جب اس میں اگ لے کر لوگ داخل ہوئے اور شامی لشکر نے اس پر حملہ کیا

سند ہے
حَدَّثَنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ،
اس کو صرف اس سند سے امام مسلم نے بیان کیا ہے کوئی اور نقل نہیں کرتا

حیرت ہے کہ شارحین میں کسی نے اس جملہ کی شرح نہیں کی

باقی حصہ صحیح ہے کہ ابن زبیر نے اس کو تعمیر کیا لیکن اور روایات سے معلوم ہے کہ ابن عباس نے اس سے منع کیا تھا
http://www.islamic-belief.net/ذُو-السُّوَيْقَتَيْنِ-کعبہ-کو-خراب-کر/

جنگ کے بعد 

جواب معاویہ رضی الله عنہ کے حوالے سے ایک روایت سنن ابی داود میں ہے کہ

حدَّثنا عَمرُو بنُ عُثمانَ، حدَّثنا بقيةُ، عن بَحِيْرٍ، عن خالد، قال: وفد المقدام بن مَعدِي كَرِبَ وعمرو بنُ الأسودِ، ورَجُلٌ من بني أسدِ من أهل قِنَّسرِينَ إلى معاويَة بن أبي سفيانَ، فقال معاويةُ لِلمقدام: أعَلِمْتَ أن الحسنَ بنَ علي تُوفِّي؟ فرجَّعَ المِقدَامُ، فقال له رجل: أترَاها مُصِيبَةً؟ قال له: ولم لا أراها مُصيبةً وقد وضعه رسولُ الله – صلَّى الله عليه وسلم – في حَجرِه، فقال: “هذا مِنِّي وحُسينٌ مِنْ علي”؟! فقال الأسَديُّ: جمرةٌ أطفأها اللهُ عزَّ وجلَّ، قال: فقال المقدامُ: أما أنا، فلا أبرحُ اليومَ حتى أُغيِّظَكَ وأُسمِعَكَ ما تَكرَه، ثم قال: يا معاويةُ، إن أنا صدقَتُ فصدِّقني، وإن أنا كذبتُ فكذِّبْني، قال: أفْعَلُ: قال: فأنشُدُكَ بالله، هلْ سمعتَ رسولَ الله – صلَّى الله عليه وسلم – ينهى عن لبسِ الذَّهَبِ؟ قال: نَعَمْ. قال: فأنشُدكَ باللهِ، هل تَعْلَمُ أن رسولَ الله – صلَّى الله عليه وسلم – نهى عن لبسِ الحريرِ؟ قال: نَعَمْ. قال: فأنشُدُكَ بالله، هل تَعْلَمُ أن رسولَ الله – صلَّى الله عليه وسلم – نهى عن لبسِ جلود السَّباع والرُّكوب عليها؟ قال: نَعَمْ. قال: فواللهِ لقد رأيتُ هذا كُلَّه في بيتِك يا معاويةُ، فقال معاويةُ: قد علِمتُ أني لن أنجوَ مِنْكَ يا مقدامُ، قال خالدٌ: فأمر له معاويةُ بما لم يأمُرْ لِصاحبَيه، وفَرَضَ لابنِه في المئتينِ، ففرَّقها المقدامُ على أصحابه قال: ولم يُعطِ الأسديُّ أحداً شيئاً مما أخذَ، فبلغ ذلك معاويةَ، فقال:

أما المقدامُ فرجلٌ كريمٌ بَسَطَ يدَه، وأما الأسديُّ فرجلٌ حسنُ الأمساكِ لشيئه

 بقية ابن الوليد الحمصي کہتے ہیں ہم سے  بَحِيْرٍ  بن سعد نے بیان کیا وہ کہتے ہیں ہم سے خالد ابن مَعدان نے بیان کیا کہا ایک وفد جس میں المقدام بن مَعدِي كَرِبَ اور عمرو بنُ الأسودِ اور ایک شخص  بني أسدِ  کا قِنَّسرِينَ والوں میں سے تھے معاويَة بن أبي سفيانَ کے پاس گئے پس معاويَة بن أبي سفيانَ نے المقدام سے کہا آپ کو پتا چلا حسن بن علی کی وفات ہو گئی؟ پس مقدام نے انا للہ و انا الیہ راجعون کہا اس پر ایک شخص نے کہا تو کیا تم اس[الحسن ابن علی]کے مرنے کو ایک مصیبت تصور کرتے ہیں ؟ اس پر مقدام نے جواب دیا: میں اسے مصیبت کیسے نہ سمجھوں جبکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ، حسن کو اپنی گود میں لیتے تھے اور کہتے تھے کہ حسن مجھ سے ہے اور حسین علی سے ہیں-

اس ہر بنی اسد کے شخص نے کہا: وہ [حسن] ایک جلتا ہوا انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا۔

اس کی سند میں بقية ابن الوليد الحمصي المتوفی ١١٠ ھ ہے ان سے بخاری نے تعلیق میں روایت لی ہے اور صحیح روایت نہیں لی مسلم نے بھی شواہد میں حدیث لکھی ہے

نسائی کہتے ہیں  قال النسائى : إذا قال : حدثنا و أخبرنا فهو ثقة

اگر یہ اخبرنا یا حدثنا کہے تو ثقہ ہے

 لیکن اس کی سند میں نہ اس نے اخبرنا کہا ہے نہ حدثنا لہذا یہ روایت  تدلیس کی وجہ سے قابل رد  ہے

سیر الاعلام از الذھبی کے مطابق

ابْنِ عُيَيْنَةَ: لاَ تَسْمَعُوا مِنْ بَقِيَّةَ مَا كَانَ فِي سُنَّةٍ، وَاسْمَعُوا مِنْهُ مَا كَانَ فِي ثَوَابٍ وَغَيْرِه.

سفیان ابْنِ عُيَيْنَةَ کہتے ہیں بَقِيَّةَ سے سنت پر کچھ نہ سنو البتہ ثواب کی روایت سنو

تدلیس پر لکھی جانے والی کتابوں کے حساب سے ان کی تدلیس مجہولین اور ضعیف راویوں سے ہوتی ہے

کتاب ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق از الذھبی کے مطابق
مختلف في الحتجاج به
ان سے دلیل لینا مختلف فیہ مسئلہ رہا ہے

اپ نے جو روایت پیش کی ہے امام احمد کے اصول پر قابل قبول ہے
وقال عبد الله: قال أبي: بقية إذا حدث عن المعروفين مثل بحير بن سعد وغيره (قُبل) . «العلل» (3141) .
جب بقیہ معروفین مثلا بحیر بن سعد سے روایت کرے تو قبول کر لو

لیکن یہ بھی کہا
وقال أحمد بن الحسن الترمذي: سمعت أحمد بن حنبل، رحمه الله، يقول: توهمت أن بقية لا يحدث المناكر إلا عن المجاهيل فإذا هو يحدث المناكير عن المشاهير، فعلمت من أين أتي. «المجروحون لابن حبان» 1/191.
احمد بن حسن نے کہا میں نے احمد کو کہتے سنا مجھ کو وہم ہوا کہ بقیہ صرف مجھول راویوں سے مناکیر روایت کرتا ہے پس جب یہ ثقات سے بھی منکر روایت کرے تو جان لو کہ کہاں سے یہ آئی ہے

یعنی بقیہ نے ثقات سے بھی منکر روایت بیان کی ہیں اور ایسا ہی اس روایت میں ہے کہ اس نے ایک منکر بات پیش کی ہے اس کا تفرد بھی ہے

یہ روایت امام ابن ابی حاتم کے نزدیک بھی قابل قبول نہیں ہو سکتی
کتاب الكامل في ضعفاء الرجال از ابن عدی کے مطابق
حَدَّثني عَبد المؤمن بن أحمد بن حوثرة، حَدَّثَنا أَبُو حاتم الرازي، قالَ: سَألتُ أبا مسهر عَن حديث لبقية فَقَالَ احذر أحاديث بَقِيَّة وكن منها عَلَى تقية فإنها غير نقية.
أَبُو حاتم الرازي نے کہا میں نے أبا مسهر سے بقیہ کی روایات کے بارے میں پوچھا کہا ان سے دور رہو ہو سکتا ہے اس میں تقیہ ہو کیونکہ یہ صاف (دل) نہ تھا

ابن ابی حاتم نے علل الحدیث میں بقیہ بن الولید کی بحیر بن سعد سے ایک روایت کو منکر بھی قرار دیا ہے
وسألتُ (2) أَبِي عَنْ حديثٍ رَوَاهُ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِير (3) بْنِ سَعْدٍ (4) ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِير بْنِ مُرَّة، عن
عائِشَة، عن النبيِّ (ص) أنه قال لها النبيُّ (ص) : أَطْعِمِينَا يَا عَائِشَةُ. قَالَتْ: مَا عِنْدَنَا شيءٌ، فَقَالَ أَبُو بكرٍ: إنَّ المرأةَ المؤمنةَ لا تَحلِفُ (1) أَنَّهُ لَيْسَ عِنْدَهَا شيءٌ وَهِيَ عندها، فقال النبيُّ (ص) : وَمَا يُدْرِيكَ أَمُؤْمِنَةٌ هِيَ أَمْ لاَ؛ إِنَّ (2) المَرْأَةَ المُؤْمِنَةَ فِي النِّسَاءِ كَالْغُرَابِ الأَبْقَعِ (3) فِي الغِرْبَان ِ؟
قَالَ أَبِي: لَيْسَ هَذَا بشيءٍ
اس روایت پر ابی حاتم نے کہا کوئی چیز نہیں

اپ نے حدیث پیش کی جس میں بقیہ نے حدثنا کہا ہے
کتاب الكامل في ضعفاء الرجال از ابن عدی کے مطابق
أَبَا التَّقِيِّ هِشَامُ بْنُ عَبد الْمَلِكِ يقُول: مَن، قَال: إِنَّ بَقِيَّةَ، قَال: حَدَّثَنا فَقَدْ كَذَبَ مَا قَالَ بَقِيَّةُ قَطُّ إِلا، حَدَّثني فلان
أَبَا التَّقِيِّ هِشَامُ بْنُ عَبد الْمَلِكِ کہتے جو یہ کہے کہ بقیہ نے کہا حدثنا وہ جھوٹ ہے بقیہ نے کبھی بھی یہ نہیں بولا بلکہ کہتا حدثنی فلاں

یعنی بقیہ اپنے اپ کو محدث کا خاص شاگرد باور کراتا کہ اس نے مجمع میں نہیں بلکہ خاص شیخ نے اس کو سنائی

بقیہ کو ثقہ بھی کہا گیا اور بے کار شخص بھی کہا گیا ہے
عقیلی کہتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں
بیہقی کہتے ہیں وقد أجمعوا على أن بقية ليس بحجة وفيه نظر اس پر اجماع ہے کہ اس کی روایت حجت نہیں اور اس پر نظر ہے
ابن حزم: ضعيف کہا ہے

بحرالحال اس راوی کی عدالت میں نقص ہے اور راقم اس پر مطمئن نہیں ہے کہ اس کو صحیح قرار دے

أحمد بن محمد بن أبي بكر بن خلكان اپنی کتاب وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان جلد ٢ صفحہ ٦٦ اور ٦٧ پر لکھتے ہیں کہ

ولما بلغه موته سمع تكبيراً من الحضر، فكبر أهل الشام لذلك التكبير فقالت فاختة زوجة معاوية: أقر الله عينك يا أمير المؤمنين، ما الذي كبرت له قال: مات الحسن، قالت: أعلى موت ابن فاطمة تكبر قال: والله ما كبرت شماتة بموته ولكن استراح قلبي. وكان ابن عباس بالشام، فدخل عليه فقال: يا ابن عباس، هل تدري ما حدث في أهل بيتك قال: لا أدري ما حدثإلا أني أراك مستبشراً وقد بلغني تكبيرك وسجودك، قال: مات الحسن، قال: إنا لله، يرحم الله أبا محمد، ثلاثاً؛ ثم قال: والله يا معاوية لا تسد حفرته حفرتك ولا يزيد نقص عمره في يومك، وإن كنا أصبنا بالحسن لقد أصبنا بإمام المتقين وخاتم النبيين، فسكن الله تلك العبرة وجبر تلك المصيبة وكان الله الخلف علينا من بعده.

لنک

http://shamela.ws/browse.php/book-1000#page-538

اس کا ترجمہ اور تحقیق کیا ہے – یہ بات اور کن کن کتابوں میں آئ ہے

یہ بات أحمد بن محمد بن عبد ربه الأندلسي بھی اپنی کتاب العقد الفريد جلد ٥ صفحہ ١١٠ پر لکھتے ہیں

ولما بلغ معاوية موت الحسن بن عليّ خرّ ساجدا لله، ثم أرسل إلى ابن عباس وكان معه في الشام، فعزاه وهو مستبشر، وقال له. ابن كم سنة مات أبو محمد؟ فقال له:
سنه كان يسمع في قريش، فالعجب من أن يجهله مثلك.
قال: بلغني أنه ترك أطفالا صغارا.
قال: كل ما كان صغيرا يكبر، وإن طفلنا لكهل، وإنّ صغيرنا لكبير! ثم قال:
ما لي أراك يا معاوية مستبشرا بموت الحسن بن علي؟ فو الله لا ينسأ في أجلك، ولا يسدّ حفرتك؛ وما أقلّ بقاءنا بعده

لنک

http://shamela.ws/browse.php/book-23789#page-1535

جواب

جب حسن کی موت کی خبر پہنچی تو معاویہ نے تکبیر کہی پس اہل شام نے تکبیر کہی پس فاختہ نے کہا الله اپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرے اے امیر المومنین کس بنا پر اپ نے تکبیر بولی
معاویہ نے کہا حسن کی موت ہوئی
بیوی بولی ابن فاطمہ کی موت پر تکبیر کہہ کر اپ نے اس کو اونچا کر دیا
معاویہ نے کہا الله کی قسم میں ایک گالی دینے والے کی موت پر تکبیر نہیں کہی بلکہ قلبی سکون کی بنا پر کہی ہے
اور ابن عباس شام میں تھے وہ معاویہ کے پاس گئے پس معاویہ نے کہا ابن عباس کیا تم کو پتا ہے اہل بیت کیا کہتے ہیں ؟
ابن عباس نے کہا مجھے نہیں پتا کیا کہتے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں اپ بہت خوش ہیں اور مجھ تک اپ کی تکبیروں اور سجدوں کی خبر پہنچی ہے
معاویہ نے کہا حسن مر گیا
ابن عباس نے کہا بے شک ہم الله کے لئے ہیں – الله ابو محمد پر رحم کرے تین بار کہا پھر کہا ….

========

اہل سنت کی حدیث یا تاریخ کی کسی کتاب میں یہ روایت سندا نہیں ملی

کیا یہ روایت صحیح ہے
2694 – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ أَنَّ سَعْدًا وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَاتَا فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَيَرَوْنَ أَنَّهُ سَمَّهُ ”
المعجم الكبير للطبراني
جواب

یہ نرا گمان ہےأبو بكر بن حفص بن عمر بن سعد بن أبي وقاص عن جده الأعلى سعد قال أبو زرعة مرسلأبو بكر بن حفص بن عمر بن سعد بن أبي وقاص کا اپنے پڑ دادا سے روایت کرنا أبو زرعة نے کہا مرسل ہے——أبو بكر بن حفص بن عمر بن سعد بن أبي وقاص سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص اور حسن بن علی کی وفات معاویہ کے دور میں ہوئی تو وہ دیکھتے تھے ان دونوں کو زہر دیا گیابلا ثبوت یہ بات احمقانہ ہے ایسا ہے کہ ١٠٠ سال پہلے کے واقعہ پر کہا جائے کہ پڑ دادا کو ہو سکتا ہے زہر دیا گیا ہوکوئی سنے کا تو ہنسے گا

معاویہ اور ان کے گورنروں کا علی پر سب و شتم کا افسانہ

معاویہ رضی الله عنہ کے گورنر  کے لئے ابن کثیر نے البدایہ و النہایہ میں لکھا ہے

وَكَانَ إِذْ كَانَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ عَلَى الْكُوفَةِ إِذَا ذَكَرَ عَلِيًّا فِي خُطْبَتِهِ يَتَنَقَّصُهُ بَعْدَ مَدْحِ عُثْمَانَ

اور الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رضی الله عنہ کوفہ میں خطبہ میں عثمان رضی الله عنہ کی تعریف کے بعد علی رضی الله عنہ کی تنقیص کرتے تھے

اس روایت میں گالیاں دینے کا ذکر نہیں دوم اس کی سند ابن کثیر دیتے ہیں

وَقَدْ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ. قَالَ قَالَ سَلْمَانُ لِحُجْرٍ

اس کی سند کمزور ہے أَبِي إِسْحَاقَ السبيعي ایک کوفی شیعہ مدلس راوی ہے جس  نے اس کو پھیلایا ہے

اسی کی ایک دوسری روایت ہے جو ابو عبداللہ الْجَدَلِيّ سے سنی ہے

مسند احمد میں ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي  إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الله الْجَدَلِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ لِي: أَيُسَبُّ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ؟ قُلْتُ: مَعَاذَ الله، أَوْ سُبْحَانَ الله، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَبَّ عَلِيًّا، فَقَدْ سَبَّنِي

ابو عبداللہ الْجَدَلِيِّ نے ہم سے بیان کیا کہ میں ام سلمہ کے پاس گیا تو آپ نے مجھے فرمایا، کیا تم میں رسول اللہ  کو سب و شتم کیا جاتا ہے؟ میں نے کہا معاذاللہ یا سبحان اللہ یا اسی قسم کا کوئی کلمہ کہا “آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ  کو فرماتے سنا ہے جس نے علی کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی۔

ابن حجر کہتے ہیں ابو عبداللہ الْجَدَلِيّ  ثقة رمى بالتشيع ثقہ ہیں لیکن شیعیت سے متصف ہیں

طبقات ابن سعد کے مطابق

كان شديد التشيع. ويزعمون أنه كان على شرطة المختار

یہ شدید شیعہ تھے اور دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ مختار ثقفی کے پہرے دار تھے

قال الجوزجاني: كان صاحب راية المختار

الجوزجاني کہتے ہیں یہ  المختار کا جھنڈا اٹھانے والوں میں سے ہیں

کذاب مختار کے ان صاحب کی بات اصحاب رسول کے لئے کس طرح قبول کی جا سکتی ہے

مسند احمد کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ مَوْلَى بَنِي ثَعْلَبَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، عَمِّ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: نَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ مِنْ عَلِيٍّ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ: قَدْ عَلِمْتَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى» ، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ؟

زید بن علاقہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں: مغیرہ بن شُعْبَةَ نے علی ابن ابی طالب کو گالیاں دی، تو اس پر زید بن ارقم کھڑے ہو گئے اور کہا: “تمہیں علم ہے کہ رسول ص نے مردہ لوگوں کو گالیاں دینے سے منع کیا ہے، تو پھر تم علی ابن ابی طالب پر کیوں سب کر رہے ہو جب کہ وہ وفات پا چکے ہیں؟

اس کی سند میں حجاج ابن أيوب مولى بني ثعلبة ہے جس کا حال مجھول ہے

مستدرک الحاکم میں اس کی دوسری سند ہے جس کو حاکم صحیح کہتے ہیں

عمرو بن محمد بن أبي رزين الخزاعي، عن شعبة، عن مسعر، عن زياد بن علاقة، عن عمه قطبة بن مالك

لیکن اس کی مخالف حدیث مسند احمد میں موجود ہے

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: ” نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ سَبِّ الْأَمْوَاتِ

الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے مردوں کو برا کہنے سے منع کیا ہے

ایک طرف تو وہ خود یہ حدیث بیان کریں اور پھر اس پر عمل نہ کریں ہمارے نزدیک ممکن نہیں ہے

سنن ابو داود کی روایت ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ حُصَيْنٌ: أَخْبَرَنَا عَنْ هِلالِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَ مُعَاوِيَةُ مِنَ الْكُوفَةِ، اسْتَعْمَلَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ: فَأَقَامَ خُطَبَاءَ يَقَعُونَ فِي عَلِيٍّ، قَالَ: وَأَنَا إِلَى جَنْبِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، قَالَ: فَغَضِبَ فَقَامَ فَأَخَذَ بِيَدِي، فَتَبِعْتُهُ فَقَالَ: أَلا تَرَى إِلَى هَذَا الرَّجُلِ الظَّالِمِ لِنَفْسِهِ الَّذِي يَأْمُرُ بِلَعْنِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّة (مسند احمد رقم 1644 سنن ابوداؤد رقم 4650)
جب معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ آئے تو مغیرہ بن شعبۃ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور علی رضی اللہ عنہ کا ذکر برائی کے ساتھ کیا اس پر سعید بن زید رضی اللہ عنہ غصہ میں اپنا ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا اور کہا کیا اس ظالم شخص کو نہیں دیکھا جو کسی کے لیے ایک جنتی شخص کو لعنت دے رہا ہے۔

اس کی سند منقطع ہے النسائي  فضائل الصحابہ میں اس روایت کو پیش کرتے اور کہتے ہیں

هِلَال بن يسَاف لم يسمعهُ من عبد الله بن ظَالِم

هِلَال بن يسَاف نے عبد الله بن ظَالِم سے نہیں سنا

محدثین کے مطابق ان دونوں کے درمیان ابن حيان ہے جس کو میزان الاعتدال میں الذھبی نے مجھول قرار دیا ہے

ابن حيان [س] .عن عبد الله بن ظالم – لا يعرف.

عقیلی کتاب الضعفاء الكبير میں کہتے ہیں

حَدَّثَنِي آدَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ الْبُخَارِيَّ قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ظَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يَصِحُّ

آدَمُ بْنُ مُوسَى نے کہا میں نے امام بخاری کو کہتے سنا کہ عبد الله بن ظالم کی سعید بن زید سے ان کی نبی صلی الله علیہ وسلم سے روایت صحیح نہیں ہے

الکامل میں یہی قول نقل ہوا ہے

کتاب المغني في الضعفاء از الذھبی میں ہے

عبد الله بن ظَالِم عَن سعيد بن زيد الْعشْرَة فِي الْجنَّة قَالَ البُخَارِيّ لم يَصح

مسلم کی بھی ایک روایت ہے

عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتُ ثَلاَثًا قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم فَلَنْ أَسُبَّهُ لأَنْ تَكُونَ لِي ۔۔۔

سعد بن ابی وقاص کے بیٹے عامر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ معاویہ نے سعد کو (ایک ) حکم دیا پس معاویہ نے  کہا کہ آپ کو کس چیز نے روکا ہے کہ آپ ابو تراب [علی] پر سب و شتم نہ کریں؟ انہوں نے جواب دیا کہ جب میں اُن تین ارشادات نبوی کو یاد کرتا ہوں جو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے علی کے متعلق فرمائے تھے تو میں ہرگز ان پر سب و شتم نہیں کر سکتا۔ ان تین مناقب میں سے اگر ایک منقبت بھی میرے حق میں ہوتی تو مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی

اس کی سند میں بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ہے  جن کے لئے امام بخاری کہتے ہیں

في حديثه بعض النظر

اس کی بعض حدیثیں نظر میں ہیں

بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ہی وہ راوی ہے جو روایت کرتا ہے کہ

وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ} [آل عمران: 61] دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي»

جب آیت نازل ہوئی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے علی فاطمہ حسن حسین کو بلایا اور کہا اے الله یہ میرے اہل بیت ہیں

امام بخاری اس روایت کے راوی پر جرح کرتے ہیں لیکن امام مسلم اس کو صحیح میں لکھتے ہیں

فيہ نظر بخاری کی جرح کا انداز ہے-  ابن حجر کی رائے میں اس نام کے دو لوگ ہیں ایک ثقہ اور ایک ضعیف لیکن بخاری کے نزدیک دونوں ایک ہی ہیں اور انہوں نے اس سے صحیح میں کچھ نہیں لکھا-  مسلم نے بھی تین روایات لکھی ہیں جن میں سے دو میں علی پر سب و شتم کا ذکر ہے اور یہی سند دی ہے

ابن کثیر لکھتے ہیں

وقال أبو زرعة الدمشقي‏:‏ ثنا أحمد بن خالد الذهبي أبو سعيد، ثنا محمد بن إسحاق، عن عبد الله بن أبي نجيح، عن أبيه قال‏:‏ لما حج معاوية أخذ بيد سعد بن أبي وقاص‏.‏فقال‏:‏ يا أبا إسحاق إنا قوم قد أجفانا هذا الغزو عن الحج حتى كدنا أن ننسى بعض سننه فطف نطف بطوافك‏.‏قال‏:‏ فلما فرغ أدخله دار الندوة فأجلسه معه على سريره، ثم ذكر علي بن أبي طالب فوقع فيه‏.‏فقال‏:‏ أدخلتني دارك وأجلستني على سريرك،ثم وقعت في علي تشتمه ‏؟‏والله لأن يكون في إحدى خلاله الثلاث أحب إلي من أن يكون لي ما طلعت عليه الشمس، ولأن يكون لي ما قال حين غزا تبوكاً ‏(‏‏(‏إلا ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي ‏؟‏‏)‏‏)‏أحب إلي مما طلعت عليه الشمس، ولأن يكون لي ما قال له يوم خيبر‏:‏ ‏(‏‏(‏لأعطين الراية رجلاً يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله يفتح الله على يديه، ليس بفرار‏)‏‏)‏ ‏(‏ج/ص‏:‏ 7/377‏)‏أحب إليّ مما طلعت عليه الشمس، ولأن أكون صهره على ابنته ولي منها الولد ماله أحب إليّ من أن يكون لي ما طلعت عليه الشمس، لا أدخل عليك داراً بعد هذا اليوم، ثم نفض رداءه ثم خرج‏.‏

ابو زرعہ الدمشقی عبداللہ بن ابی نجیح کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب معاویہ نے حج کیا تو وہ سعد بن ابی وقاص کا ہاتھ پکڑ کر دارالندوہ میں لے گیا اور اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا۔ پھر علی ابن ابی طالب کا ذکر کرتے ہوئے انکی عیب جوئی کی۔ اس پر سعد بن ابی وقاص نے جواب دیا: “آپ نے مجھے اپنے گھر میں داخل کیا، اپنے تخت پر بٹھایا،پھر آپ نے علی ابن ابی طالب کے حق میں بدگوئی اور سب و شتم شروع کر دیا۔خدا کی قسم، اگر مجھے علی کے تین خصائص و فضائل میں سے ایک بھی ہو تو وہ مجھے اس کائنات سے زیادہ عزیز ہو جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ کاش کہ رسول الله نے میرے حق میں یہ فرمایا ہوتا جب آپ  غزوہ تبوک پر تشریف لے جا رہے تھے تو آپ نے علی کے حق میں فرمایا:”کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو کہ ہارون کو موسی سے تھی سوائے ایک چیز کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ یہ ارشاد میرے نزدیک دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب تر ہے۔ پھر کاش کہ میرے حق میں وہ بات ہوتی جو اپ نے  خیبر کے روز علی کے حق میں فرمائی تھی کہ “میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اسکے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اسکا رسول ص اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اللہ اسکے ہاتھ پر فتح دے گا اور یہ بھاگنے والا نہیں  یہ ارشاد بھی مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ عزیز تر ہے۔ اور کاش کہ مجھے رسول الله  کی دامادی کا شرف نصیب ہوتا اور اپ کی صاحبزادی سے میرے ہاں اولاد ہوتی جو علی کو حاصل ہے، تو یہ چیز بھی میرے لیے دنیا و مافیہا سے عزیز تر ہوتی۔ آج کے بعد میں تمہارے گھر کبھی داخل نہ ہوں گا۔ پھر سعد بن ابی وقاص نے اپنی چادر جھٹکی اور وہاں سے نکل گئے۔

یہ روایت تاریخ کے مطابق غلط ہے اول تاریخ ابو زرعہ الدمشقی میں یہ موجود نہیں دوم سعد آخری وقت تک معاویہ کے ساتھ رہے سوم اس کی سند میں مدلس محمد بن اسحاق ہے جو عن سے روایت کرتا ہے چہارم معاویہ نے حج کے خطبہ میں علی پر سب و شتم کیوں نہیں کیا یہ موقعہ ہاتھ سے کیوں جانے دیا؟

 ابن ماجہ کی بھی ایک روایت ہے

حدثنا علي بن محمد حدثنا أبو معاوية حدثنا موسى بن مسلم عن ابن سابط وهو عبد الرحمن عن سعد بن أبي وقاص قال قدم معاوية في بعض حجاته فدخل عليه سعد فذكروا عليا فنال منه فغضب سعدوقال تقول هذا لرجل سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من كنت مولاه فعلي مولاه وسمعته يقول أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي وسمعته يقول لأعطين الراية اليوم رجلا يحب الله ورسوله

حج پر جاتے ہوئے سعد بن ابی وقاص کی ملاقات معاویہ سے ہوئی اور جب کچھ لوگوں نے علی کا ذکر کیا تو اس پر معاویہ نے علی کی بدگوئی کی۔ اس پر سعد بن ابی وقاص غضبناک ہو گئے اور کہا کہ تم علی کے متعلق ایسی بات کیوں کہتے ہو۔ میں نے رسول اللہ ص کو کہتے سنا ہے کہ جس جس کا میں مولا، اُس اُس کا یہ علی مولا، اور یہ کہ اے علی آپکو مجھ سے وہی نسبت ہے جو کہ ہارون ع کو موسی ع سے تھی سوائے ایک چیز کہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، اور میں نے [رسول اللہ ] سے یہ بھی سنا ہے کہ کل میں علم ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اور اسکے رسول سے محبت کرتا ہے۔

اس کی سند میں عبد الرحمن بن سابط و قيل ابن عبد الله بن سابط  المتوفی ١١٨ ھ ہیں جن کو ا بن حجر کہتے ہیں  ثقة كثير الإرسال –  کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل کے مطابق

  وقال يحيى بن معين لم يسمع من سعد بن أبي وقاص

یحیی بن معین کہتے ہیں انہوں نے  سعد بن أبي وقاص  سے نہیں سنا

ابن ماجہ کی اس روایت کو البانی صحیح کہتے ہیں جبکہ اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے

الغرض معاویہ یا مغیرہ رضی الله عنہ کا علی رضی الله عنہ پر سب و شتم ثابت نہیں ہے

مورخین ابن اثیر ابن کثیر نے انہی روایات کو اپس میں ملا کر جرح و تعدیل پر غور کیے بغیر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ باقاعدہ معاویہ رضی الله عنہ اس کو کرواتے تھے جو صحیح نہیں ہے

سنن أبي داؤد: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابٌ فِي الْخُلَفَاءِ) سنن ابو داؤد: کتاب: سنتوں کا بیان

(باب: خلفاء کا بیان)

4648 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ وَسُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ ذَكَرَ سُفْيَانُ رَجُلًا فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ فُلَانٌ إِلَى الْكُوفَةِ، أَقَامَ فُلَانٌ خَطِيبًا، فَأَخَذَ بِيَدِي سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ: أَلَا تَرَى إِلَى هَذَا الظَّالِمِ، فَأَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ إِنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ، وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَمْ إِيثَمْ!-. قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ, وَالْعَرَبُ: تَقُولُ: آثَمُ-، قُلْتُ: وَمَنِ التِّسْعَةُ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَهُوَ عَلَى حِرَاءٍ: >اثْبُتْ حِرَاءُ! إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ<، قُلْتُ: وَمَنِ التِّسْعَةُ؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، َأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ. قُلْتُ: وَمَنِ الْعَاشِرُ؟ فَتَلَكَّأَ هُنَيَّةً، ثُمَّ قَالَ: أَنَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنِ ابْنِ حَيَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.

حکم : صحیح

جناب عبداللہ بن ظالم مازنی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : جب فلاں کوفے میں آیا اور اس نے فلاں کو خطبے میں کھڑا کیا ( عبداللہ نے کہا ) تو سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے میرے ہاتھ دبائے اور کہا : کیا تم اس ظالم ( خطیب ) کو نہیں دیکھتے ہو ، ( غالباً وہ خطیب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ کہہ رہا تھا ۔ ) میں نو افراد کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنتی ہیں ، اگر دسویں کے بارے میں کہوں تو گناہ گار نہیں ہوں گا ۔ ابن ادریس نے کہا عرب لوگ «آثم» کا لفظ بولتے ہیں ( جبکہ سیدنا سعید نے «لم إيثم» ) ۔ عبداللہ کہتے ہیں ، میں نے پوچھا : وہ نو افراد کون سے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حراء پر کھڑے ہوئے تھے : ” اے حراء ٹھر جا ! تجھ پر سوائے نبی کے یا صدیق کے یا شہید کے اور کوئی نہیں ہے ۔ “ میں نے کہا اور وہ نو کون کون ہیں ؟ کہا : رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، طلحہ ، زبیر ، سعد بن ابی وقاص ، ( مالک ) اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم ۔ میں نے پوچھا اور دسواں کون ہے ؟ تو وہ لمحے بھر کے لیے ٹھٹھکے پھر کہا میں ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو اشجعی نے سفیان سے ، انہوں نے منصور سے ، انہوں نے ہلال بن یساف سے ، انہوں نے ابن حیان سے ، انہوں نے عبداللہ بن ظالم سے اسی کی سند سے مذکورہ بالا کی مانند روایت کیا ہے ۔

جواب

مسند احمد میں ہے
حدثنا وكيع حدثنا شعبة عن الحرّ بن الصيَّاح عن عبد الرحمن بن الأخنس قال: خَطبَنا المغيرُة بن شعبة، فنال من عليّ، فقام سعيد بن زيد فقال: سمعتُ رسول الله – صلى الله عليه وسلم – يقول: “النبي في الجنة، وأبو بكر في الجنة، وعمر في الجنة، وعثمان في الجنة، وعلي في الجنة، وطلحة في الجنة، والزبير في الجنة، وعبد الرحمن بن عوف في الجنة، وسعد في الجنة”، ولو شئت أن أسمي العاشر.

دوسری مسند احمد کی روایت ہے
حدثنا محمد بن جعفرحدثنا شعبة عن حُصين عن هلال بن يِسَاف عن عبد الله بن ظالم قال: خطب المغيرةُ بن شعبة فنال من عليّ، فخرج سعيد بن زيد فقال: ألا تَعجب من هذا، يَسبُّ عليَّا!! أشهد على رسول الله – صلى الله عليه وسلم – أنا كنَّا على حرَاء أو أُحُدِ، فقال النبيُّ – صلى الله عليه وسلم -: “اثبُتْ حراءُ أو أُحُدُ، فإنما عليك صِدِّيق أو شهَيد”، فسَمَّى النبي – صلى الله عليه وسلم – العشرةَ، فسمَّى أبا بكر، وعمر، وعثمان، وعلياً، وطلحة، والزبير، وسعداً، وعبد الرحمن بن
عوف، وسمَّى نفسَه سعيدا

عبد الرحمن بن الأخنس نے کہا کہ مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے خطبہ دیا اس میں علی پر کلام کیا
دوسری میں ہے عبد الله بن ظالم نے یہی بات کہی ہے

سعید بن زید المتوفی ٥١ ہجری ہیں المغيرة بن شعبة المتوفی ٥٠ ہجری ہیں
کتاب السنہ از ابن ابی عاصم کے مطابق اس روایت میں ہے
لَمَّا بُويِعَ لِمُعَاوِيَةَ بِالْكُوفَةِ أَقَامَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ خُطَبَاءَ يَلْعَنُونَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
جب معاویہ کی بیعت کوفہ میں ہوئی تو مغیرہ بن شعبہ کھڑے ہوئے جنہوں نے خطبہ میں علی پر لعنت کی

معاویہ رضی الله عنہ کی بیعت سن ٤١ ہجری میں ہوئی جب حسن و حسین بھی وہاں تھے اور اس بیعت کی شرط تھی

تاريخ الخلفاء للسيوطي ص 194 والاصابة 2 / 12 – 13 کے مطابق یہ عہد ہوا کہ خلافت واپس حسن کو ملے گی معاویہ کی وفات کے بعد
أن لا يشتم عليا وهو يسمع
ابن اثیر کے مطابق حسن کے سامنے علی پر شتم نہ ہو گا کہ وہ سن رہے ہوں
لہذا یہ ممکن نہیں کہ اس وقت اس شرط کو توڑ دیا گیا ہو

اس کے علاوہ سعید بن زید رضی الله عنہ نے اس روایت کے مطابق خود کو بھی جنتی قرار دیا یہ اس روایت کی علت ہے اسنادا اس کو بعض محققین نے حسن کہا ہے صحیح عصر حاضر میں بعض نے کہہ دیا ہے
المغيرة بن شعبة رضی الله عنہ پر الزام ہے کہ وہ علی رضی الله عنہ پر ہاتھ صاف کرتے تھے

سیر الاعلام النبلاء کے مطابق علی اور مغیرہ میں مخاصمت ہوئی کہ مغیرہ نے علی سے قتل عثمان کے بعد کہا کہ تم گھر میں رہو اور اپنی طرف دعوت مت دو اگر تم مکہ سے قریب ہوتے تو تمہاری کوئی بیعت نہ کرتا
أَنَّ المُغِيْرَةَ بنَ شُعْبَةَ، قَالَ لِعَلِيٍّ حِيْنَ قُتِلَ عُثْمَانُ: اقْعُدْ فِي بَيْتِكَ، وَلاَ تَدْعُ إِلَى نَفْسِكَ، فَإِنَّكَ لَوْ كُنْتَ فِي جُحْرٍ بِمكَّةَ لَمْ يُبَايِعُوا غَيْرَكَ.
وَقَالَ لِعَلِيٍّ: إِنْ لَمْ تُطِعْنِي فِي هَذِهِ الرَّابِعَةِ، لأَعْتَزِلَنَّكَ، ابْعَثْ إِلَى مُعَاوِيَةَ عَهْدَهُ، ثُمَّ اخْلَعْهُ بَعْدُ.
فَلَمْ يَفْعَلْ، فَاعْتَزَلَهُ المُغِيْرَةُ بِاليَمَنِ.
فَلَمَّا شُغِلَ عَلِيٌّ وَمُعَاوِيَةُ، فَلَمْ يَبْعَثُوا إِلَى المَوْسِمِ أَحَداً؛ جَاءَ المُغِيْرَةُ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، وَدَعَا لِمُعَاوِيَةَ (1) .

اس کے بعد مغیرہ ، معاویہ رضی الله عنہ سے مل گئے

ہو سکتا ہے اس نصیحت کا ذکر مغیرہ خطبہ میں کرتے ہوں جو انہوں نے علی کو کی

لیکن راویوں نے نمک مرچ چھڑک کر اس کو جنت کی بشارت میں تبدیل کر دیا

سندا عبد الرحمن بن الاخنس. جو الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ کا خطبہ اور کلام نقل کر رہا ہے مجھول ہے مستور ہے لا یعرف ہے
اس کا جوڑی دار عَبد الله بن ظالم ضعیف ہے اتفاق سے الکامل از ابن عدی میں اس روایت کا ذکر کر کے نقل کیا گیا ہے کہ یہی روایت امام بخاری کے نزدیک ضعیف ہے

سمعتُ ابن حماد يقول: قال البُخارِيّ عَبد الله بن ظالم عن سَعِيد بن زيد عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسلَّمَ ولم يصح.
حَدَّثَنَا مُحَمد بْنُ صَالِحِ بْنِ ذريح، حَدَّثَنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شيبة، حَدَّثَنا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ هِلالِ بْنِ يَِسَاف عَنْ عَبد الله بن ظالم عن سَعِيد بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى تِسْعَةٍ أَنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ، وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَصَدَقْتُ قُلْتُ وَمَا ذَاكَ، قَال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِرَاءٍ، وأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وعثمان، وَعلي وطلحة والزبير
وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْبُتْ حِرَاءً فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ، قالَ: قُلتُ فَمَنِ الْعَاشِرُ قَالَ أَنَا.
وهذا الحديث هو الذي أراده البُخارِيّ ولعل ليس لعبد الله بن ظالم غيره.

راقم کہتا ہے یہ روایت ضعیف ہے

———–

سنن ابو داود میں دوسری روایت 4650 ہے
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ فُلَانٍ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ وَعِنْدَهُ أَهْلُ الْكُوفَةِ، فَجَاءَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ فَرَحَّبَ بِهِ وَحَيَّاهُ وَأَقْعَدَهُ عِنْدَ رِجْلِهِ عَلَى السَّرِيرِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، يُقَالُ لَهُ قَيْسُ بْنُ عَلْقَمَةَ فَاسْتَقْبَلَهُ فَسَبَّ وَسَبَّ، فَقَالَ سَعِيدٌ: مَنْ يَسُبُّ هَذَا الرَّجُلُ؟ قَالَ: يَسُبُّ عَلِيًّا، قَالَ أَلَا أَرَى أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبُّونَ عِنْدَكَ ثُمَّ لَا تُنْكِرُ، وَلَا تُغَيِّرُ، أَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَإِنِّي لَغَنِيٌّ أَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ فَيَسْأَلَنِي عَنْهُ غَدًا إِذَا لَقِيتُهُ: “أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ” وَسَاقَ مَعْنَاهُ ثُمَّ قَالَ: “لَمَشْهَدُ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْبَرُّ فِيهِ وَجْهُهُ، خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ، وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ” , (د) 4650 [قال الألباني]: صحیح

اس میں رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ ہے جو مستور ہے اور مجھول الحال کے درجہ پر ہے اس کو ثقہ ابن حبان نے کہا ہے

راقم کہتا ہے یہ بھی ضعیف ہے

مسند احمد

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ الْأَكْبَرِ وَعِنْدَهُ أَهْلُ الْكُوفَةِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ يُدْعَى سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ فَحَيَّاهُ الْمُغِيرَةُ وَأَجْلَسَهُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ عَلَى السَّرِيرِ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فَاسْتَقْبَلَ الْمُغِيرَةَ فَسَبَّ وَسَبَّ فَقَالَ مَنْ يَسُبُّ هَذَا يَا مُغِيرَةُ قَالَ يَسُبُّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ يَا مُغِيرَ بْنَ شُعْبَ يَا مُغِيرَ بْنَ شُعْبَ ثَلَاثًا أَلَا أَسْمَعُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبُّونَ عِنْدَكَ لَا تُنْكِرُ وَلَا تُغَيِّرُ فَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَرْوِي عَنْهُ كَذِبًا يَسْأَلُنِي عَنْهُ إِذَا لَقِيتُهُ أَنَّهُ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فِي الْجَنَّةِ وَتَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْجَنَّةِ لَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَهُ لَسَمَّيْتُهُ قَالَ فَضَجَّ أَهْلُ الْمَسْجِدِ يُنَاشِدُونَهُ يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ مَنْ التَّاسِعُ قَالَ نَاشَدْتُمُونِي بِاللَّهِ وَاللَّهِ الْعَظِيمِ أَنَا تَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَاشِرُ ثُمَّ أَتْبَعَ ذَلِكَ يَمِينًا قَالَ وَاللَّهِ لَمَشْهَدٌ شَهِدَهُ رَجُلٌ يُغَبِّرُ فِيهِ وَجْهَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَام

ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کوفہ کی جامع مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، ان کے دائیں بائیں اہل کوفہ بیٹھے ہوئے تھے، اتنی دیر میں حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ آگئے، حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خوش آمدید کہا اور چارپائی کی پائنتی کے پاس انہیں بٹھا لیا، کچھ دیر کے بعد ایک کوفی حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر کھڑا ہوا اور کسی کو گالیاں دینے لگا، انہوں نے پوچھا مغیرہ! یہ کسے برا بھلا کہہ رہا ہے؟ انہوں نے کہا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو، انہوں نے تین مرتبہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو ان کا نام لے کر پکارا اور فرمایا آپ کی موجودگی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو برا بھلا کہا جارہا ہے اور آپ لوگوں کو منع نہیں کر رہے اور نہ اپنی مجلس کو تبدیل کر رہے ہیں؟ میں اس بات کا گواہ ہوں کہ میرے کانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے اور میرے دل نے اسے محفوظ کیا ہے اور میں ان سے کوئی جھوٹی بات روایت نہیں کرتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو بکر جنت میں ہوں گے، عمر، علی، عثمان، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن مالک رضی اللہ عنہم اور ایک نواں مسلمان بھی جنت میں ہوگا، جس کا نام اگر میں بتانا چاہتا تو بتا سکتا ہوں ۔ اہل مسجد نے بآواز بلند انہیں قسم دے کر پوچھا کہ اے صحابی رسول! وہ نواں آدمی کون ہے؟ فرمایا تم مجھے اللہ کی قسم دے رہے ہو، اللہ کا نام بہت بڑا ہے، وہ نواں آدمی میں ہی ہوں اور دسویں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے، اس کے بعد وہ دائیں طرف چلے گئے اور فرمایا کہ بخدا! وہ ایک غزوہ جس میں کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا اور اس میں اس کا چہرہ غبار آلود ہوا، وہ تمہارے ہر عمل سے افضل ہے اگرچہ تمہیں عمر نوح ہی مل جائے۔

کیا یہ حدیث صحیح ہے اس کا ایک طرق سنن ابو داوود میں بھی آیا ہے

سنن أبي داؤد: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابٌ فِي الْخُلَفَاءِ) سنن ابو داؤد: کتاب: سنتوں کا بیان (باب: خلفاء کا بیان)
4650 . حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ فُلَانٍ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ، وَعِنْدَهُ أَهْلُ الْكُوفَةِ، فَجَاءَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، فَرَحَّبَ بِهِ وَحَيَّاهُ، وَأَقْعَدَهُ عِنْدَ رِجْلِهِ عَلَى السَّرِيرِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ يُقَالُ لَهُ: قَيْسُ بْنُ عَلْقَمَةَ-، فَاسْتَقْبَلَهُ فَسَبَّ وَسَبَّ، فَقَالَ سَعِيدٌ: مَنْ يَسُبُّ هَذَا الرَّجُلُ؟ قَالَ: يَسُبُّ عَلِيًّا، قَالَ: أَلَا أَرَى أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبُّونَ عِنْدَكَ! ثُمَّ لَا تُنْكِرُ وَلَا تُغَيِّرُ! أَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ- وَإِنِّي لَغَنِيٌّ أَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ، فَيَسْأَلَنِي عَنْهُ غَدًا إِذَا لَقِيتُهُ-:- >أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ<… وَسَاقَ مَعْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ: لَمَشْهَدُ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَغْبَرُّ فِيهِ وَجْهُهُ, خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ، وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ.

ریاح بن حارث کا بیان ہے کہ میں کوفہ کی مسجد میں فلاں کے پاس بیٹھا ہوا تھا ۔ ( اشارہ ہے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف ) اور ان کے پاس اہل کوفہ کے کچھ لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے ۔ تو سیدنا سعید بن زبیر بن عمرہ بن نفیل رضی اللہ عنہ تشریف لائے ۔ پس انہوں ( مغیرہ ) نے انکو مرحبا کہا اور خوش آمدید کہا اور پھر انہیں اپنی چارپائی کی پائنتی کی طرف بٹھا لیا ۔ پھر اہل کوفہ میں سے ایک شخص آیا جس کا نام قیس بن علقمہ تھا ۔ انہوں نے اس کا بھی استقبال کیا ۔ پھر اس نے بدگوئی کی اور بدگوئی کی ۔ سعید نے پوچھا یہ کسے گالیاں دے رہا ہے ؟ کہا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ۔ تو سعید نے کہا : ( تعجب ہے ) میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے سامنے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے اور آپ ہیں کہ اسے ٹوکتے ہی نہیں اور نہ سمجھاتے ہیں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ، اور مجھے کوئی ایسی نہیں پڑی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسی بات کہہ دوں جو آپ نے نہ کہی ہو پھر کل جب آپ سے میری ملاقات ہو اور وہ مجھ سے پوچھ لیں ” ابوبکر جنت میں ہے ، عمر جنت میں ہے ۔ “ اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا ۔ پھر کہا ان میں سے کسی ایک کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( جہاد میں ) حاضر رہنا اور اس کے چہرے کا غبار آلود ہو جانا تمہاری ساری زندگی کے اعمال سے کہیں بہتر ہے خواہ تمہیں سیدنا نوح علیہ السلام کی زندگی ہی کیوں نہ مل جائے ۔

جواب

اس میں رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ ہے جو مستور ہے اور مجھول الحال کے درجہ پر ہے اس کو ثقہ عجلی اور ابن حبان نے کہا ہے جو متساہل ہیں کوئی اور ان کی تعدیل نہیں کرتا

راقم کہتا ہے یہ ضعیف ہے

تحقیق درکار ہے

صحيح مسلم: كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِؓ (بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍؓ) صحیح مسلم: کتاب: صحابہ کرامؓ کے فضائل ومناقب
(باب: حضرت علی ؓ کے فضائل)

6229 . حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: اسْتُعْمِلَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ قَالَ: فَدَعَا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتِمَ عَلِيًّا قَالَ: فَأَبَى سَهْلٌ فَقَالَ لَهُ: أَمَّا إِذْ أَبَيْتَ فَقُلْ: لَعَنَ اللهُ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ سَهْلٌ: مَا كَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي التُّرَابِ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ إِذَا دُعِيَ بِهَا، فَقَالَ لَهُ: أَخْبِرْنَا عَنْ قِصَّتِهِ، لِمَ سُمِّيَ أَبَا تُرَابٍ؟ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ، فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ «أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟» فَقَالَتْ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ، فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ «انْظُرْ، أَيْنَ هُوَ؟» فَجَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ، قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ، فَأَصَابَهُ تُرَابٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ وَيَقُولُ «قُمْ أَبَا التُّرَابِ قُمْ أَبَا التُّرَابِ»

ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا: کہ مدینہ میں مروان کی اولاد میں سے ایک شخص حاکم ہوا تو اس نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کو بلایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالی دینے کا حکم دیا۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے انکار کیا تو وہ شخص بولا کہ اگر تو گالی دینے سے انکار کرتا ہے تو کہہ کہ ابوتراب پر اللہ کی لعنت ہو۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ابوتراب سے زیادہ کوئی نام پسند نہ تھا اور وہ اس نام کے ساتھ پکارنے والے شخص سے خوش ہوتے تھے۔ وہ شخص بولا کہ اس کا قصہ بیان کرو کہ ان کا نام ابوتراب کیوں ہوا؟ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گھر میں نہ پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تیرے چچا کا بیٹا کہاں ہے؟ وہ بولیں کہ مجھ میں اور ان میں کچھ باتیں ہوئیں اور وہ غصہ ہو کر چلے گئے اور یہاں نہیں سوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا کہ دیکھو وہ کہاں ہیں؟ وہ آیا اور بولا کہ یا رسول اللہ! علی مسجد میں سو رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے، وہ لیٹے ہوئے تھے اور چادر ان کے پہلو سے الگ ہو گئی تھی اور (ان کے بدن سے) مٹی لگ گئی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی پونچھنا شروع کی اور فرمانے لگے کہ اے ابوتراب! اٹھ۔ اے ابوتراب! اٹھ۔

کیا یہ حدیث صحیح ہے

 جواب

یہ روایت صحیح بخاری میں بھی ہے لیکن اس میں لعنت کا ذکر نہیں ہے
حَدَّثَنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: مَا كَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي تُرَابٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ بِهِ إِذَا دُعِيَ بِهَا، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ، فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي البَيْتِ، فَقَالَ: «أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ» فَقَالَتْ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ: «انْظُرْ أَيْنَ هُوَ» فَجَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ فِي المَسْجِدِ رَاقِدٌ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ، قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ فَأَصَابَهُ تُرَابٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ: «قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ» , (خ) 6280

ادب المفرد از امام بخاری میں بھی ہے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ، فَقَالَ: هَذَا فُلَانٌ – أَمِيرٌ مِنْ أُمَرَاءِ الْمَدِينَةِ – يَدْعُوكَ لتَسُبَّ عَلِيًّا عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ: أَقُولُ مَاذَا؟ قَالَ: تَقُولُ لَهُ: أَبُو تُرَابٍ، فَضَحِكَ سَهْلٌ فَقَالَ: وَاللَّهِ، مَا سَمَّاهُ إِيَّاهُ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْهُ، دَخَلَ عَلِيٌّ عَلَى فَاطِمَةَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ، فَقَالَ: “أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟ “، قَالَتْ: هُوَ ذَا مُضْطَجِعٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ رِدَاءَهُ قَدْ سَقَطَ عَنْ ظَهْرِهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ التُّرَابَ عَنْ ظَهْرِهِ، وَيَقُولُ: “اجْلِسْ أَبَا تُرَابٍ” وَاللَّهِ مَا كَانَ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْهُ مَا سَمَّاهُ إِيَّاهُ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اس کے مطابق ایک شخص امیر کی طرف سے آیا اور اس نے خاص سھل بن سعد کو حکم دیا کہ منبر پر علی پر سب و شتم کریں

محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک یہ روایت صحیح نہیں ہے اس میں عبد العزیزبن ابی حازم اپنے باپ سے روایت کر رہا ہے جس پر اس کو ضعیف کہا جاتا ہے
سیر الاعلام النبلاء از الزبھی کے مطابق

وَقَالَ أَحْمَدُ بنُ زُهَيْرٍ: سَمِعْتُ يَحْيَى بنَ مَعِيْنٍ يَقُوْلُ: ابْنُ أَبِي حَازِمٍ لَيْسَ بِثِقَةٍ فِي حَدِيْثِ أَبِيْهِ، كَذَا جَاءَ هَذَا
ابن معین نے کہا یہ اپنے باپ سے روایت کرنے میں ثقہ نہیں ہے

یہی احمد بن زھیر کا قول ہے
قَالَ أَحْمَدُ بنُ زُهَيْرٍ: قِيْلَ لمُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيِّ: ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ضَعِيْفٌ فِي حَدِيْثِ أَبِيْهِ.

میزان الاعتدال کے مطابق
وقال الفلاس: ما رأيت ابن مهدي حدث عن ابن أبي حازم بحديث.
امام ابن المہدی اس سے کوئی روایت نہیں کرتے تھے

ابن المديني: كان حاتم بن إسماعيل يطعن عليه في أحاديث رواها عن أبيه
علی المدینی کہتے ہیں اس کی باپ سے روایات پر طعن ہے

لہذا یہ مظبوط روایت نہیں ہے اگرچہ امام بخاری و  مسلم نے اس کو صحیح سمجھا ہے لیکن ان کے استادوں کے نزدیک یہ ضعیف روایت ہے

طبقات ابن سعد میں ہے

حضرت سعید بن عاص گورنر بنے تو وہ علی پر سب نہیں کرتے تھے۔ پھر مروان کو دوبارہ گورنر بنایا گیا تو اس نے پھر سب و شتم شروع کر دیا۔ حضرت حسن کو اس بات کا علم تھا لیکن آپ خاموش رہتے تھے اور مسجد نبوی میں عین اقامت کے وقت ہی داخل ہوتے تھے لیکن مروان اس پر بھی راضی نہ ہوا یہاں تک کہ اس نے حضرت حسن کے گھر میں ایلچی کے ذریعے ان کو اور حضرت علی کو گالیاں دلوا بھیجیں۔ ان لفویات میں سے ایک یہ بات بھی تھی کہ ‘تیری مثال میرے نزدیک خچر کی سی ہے کہ جب اس سے پوچھا جائے کہ تیر باپ کون ہے تو وہ کہے کہ میری ماں گھوڑی ہے۔’ حضرت حسن نے یہ سن کر قاصد سے کہا کہ تو اسکے پاس جا اور اُس سے کہہ دے کہ خدا کی قسم میں تجھے گالی دے کر تیرا گناہ کم نہیں کرنا چاہتا۔ میری اور تیری ملاقات اللہ کے یہاں ہو گی۔ اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔ اللہ نے میرے نانا جان (ص) کو جو شرف بخشا ہے وہ اس سے بلند و برتر ہے کہ میری مثال خچر کی سی ہو۔ ایلچی نکلا تو جناب ِحسین سے اسکی ملاقات ہو گئی اور انہیں بھی اس نے گالیوں کے متعلق بتایا۔ حضرت حسین نے اسے پہلے تو دھمکی دی کہ خبردار جو تم نے میری بات بھی مروان تک نہ پہنچائی اور پھر فرمایا کہ: ‘اے مروان تو ذرا اپنے باپ اور اسکی قوم کی حیثیت پر بھی غور کر۔ تیرا مجھ سے کیا سروکار، تو اپنے کندھوں پر اپنے اس لڑکے کو اٹھاتا ہے جس پر رسول اللہ (ص) نے لعنت کی ہے’۔۔۔۔۔۔ اور عمدہ سند کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ مروان نے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تو وہ ہے جس کے بارے میں قرآن میں یہ آیت اتری: ‘جس نے کہا اپنے والدین سے کہ تم پر اُف ہے۔’۔۔۔۔ عبدالرحمن کہنے لگے: ‘تو نے جھوٹ کہا، بلکہ رسول اللہ (ص) نے تیرے والد پر لعنت کی تھی’۔

جواب

   طبقات ابن سعد کی روایت  ہے

قال: أخبرنا إسماعيل بن إبراهيم الأسدي. عن ابن عون. عن عمير بن إسحاق قال: كان مروان أميرا علينا ست سنين «1» . فكان يسب عليا كل جمعه على المنبر. ثم عزل فاستعمل سعيد بن العاص سنين «2» فكان لا يسبه. ثم عزل. وأعيد مروان. فكان يسبه. فقيل يا حسن ألا تسمع ما يقول هذا؟ فجعل لا يرد شيئا. قال: وكان حسن يجيء يوم الجمعة فيدخل في حجرة النبي ص فيقعد فيها. فإذا قضيت الخطبة خرج فصلى.
ثم رجع إلى اهله. قال: فلم يرض بذلك «3» حتى أهداه له في بيته. قال:
فأنا لعنده إذ قيل فلان بالباب. قال: أذن له فو الله إني لأظنه قد جاء بشر.
فأذن له فدخل. فقال: يا حسن إني قد جئتك من عند سلطان وجئتك
بعزمه. قال: تكلم. قال: أرسل مروان بعلي وبعلي وبعلي وبك وبك وبك وما وجدت مثلك إلا مثل البغلة يقال لها: من أبوك؟ فتقول: أبي الفرس.
[قال: ارجع إليه فقل له: إني والله لا أمحو عنك شيئا مما قلت بأن أسبك.
ولكن موعدي وموعدك الله. فإن كنت صادقا فجزاك «1» الله بصدقك.
وإن كنت كاذبا فالله أشد نقمة. وقد كرم «2» الله جدي أن يكون مثله أو قال: مثلي مثل البغلة. فخرج الرجل.] [فلما كان في الحجرة لقي الحسين فقال له: يا فلان ما جئت به. قال: جئت برسالة وقد أبلغتها. فقال: والله لتخبرني ما جئت به «3» أو لآمرن بك فلتضربن حتى لا تدري متى رفع عنك. فقال: ارجع فرجع. فلما رآه الحسن قال: أرسله. قال: إني لا أستطيع. قال: لم. قال: إني قد حلفت. قال: قد لج فأخبره. فقال:
أكل فلان بظر «4» أمه إن لم يبلغه عني ما أقول. فقال: يا حسين. إنه سلطان. قال: آكله إن لم يبلغه عني ما أقول «5» . قل له: بك وبك «6» وبأبيك وبقومك وآية بيني وبينك أن تمسك/ منكبيك من لعنه رسول الله ص. قال: فقال وزاد] .

سند میں عمير بن إسحاق القرشي ہے
امام مالک کہتے ہیں میں اس کو نہیں جانتا
طبقات میں خود اس کے لئے لکھا ہے
عُمَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَتَحَوَّلَ إِلَى الْبَصْرَةِ فَنَزَلَهَا، فَرَوَى عَنْهُ الْبَصْرِيُّونَ، ابْنُ عَوْنٍ وَغَيْرُهُ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ شَيْئًا، وَقَدْ رَوَى عُمَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَغَيْرِهِ
یہ مدینہ کا تھا پھر بصرہ آیا جہاں بصریوں نے اس سے روایت کیا جن میں ابن عون ہیں اور دیگر
اور اہل مدینہ نے اس سے کچھ روایت نہیں کیا اور یہ ابو ہریرہ سے بھی روایت کرتا ہے

یعنی مدینہ میں یہ شخص ایک مجہول تھا عراق میں صرف ابن عون نے روایت کیا ہے
سن ٢٠٠ ہجری کے بعد ابن معین نے کہا
لا يساوي شيئاً.
کوئی قابل ذکر چیز نہیں ہے
کتاب ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق میں الذہبی نے اس کے لئے کہا ہے
وفيه جهالة
اس میں مجہولیت ہے

طبقات ابن سعد کے محقق محمد بن صامل السلمي کہتے ہیں
إسناده ضعيف

کتاب من تكلم فيه وهو موثوق أو صالح الحديث کے محقق عبد الله بن ضيف الله الرحيلي اس عمير بن إسحاق پر کہتے ہیں
الحاصل أن المجهول عند المحدثين، هو “كل من لم يشتهر بطلب العلم في نفسه ولا عرفه العلماء به، ومن لم يعرف حديثه إلا من جهة راوٍ واحد … “، الكفاية 149، للخطيب، وقد ذكر الخطيب عمير بن إسحاق هذا فيمن مثل به من المجهولين، انظر الكفاية: 150، فعمير بن إسحاق مجهول العين، لأنه لم يرو عنه غير راوٍ واحد

حاصل کلام یہ ہے کہ … عمير بن إسحاق مجہولین میں سے ہے اور یہ مجهول العين ہے کیونکہ اس سے صرف ابن عون نے روایت کیا ہے

روایت نقل کرتے ہیں

بزاز کی روایت میں ہے کہ اللہ نے حکم [والد ِمروان] اور اسکے بیٹے پر لعنت کی لسان نبوی کے ذریعے سے۔ اور ثقہ راویوں کی سند کے ساتھ مروی ہے کہ جب مروان کو مدینے کا گورنر بنایا گیا تو وہ منبر پر ہر جمعے میں علی ابن ابی طالب پر سب و شتم کرتا تھا۔ پھر اسکے بعد حضرت سعید بن عاص گورنر بنے تو وہ علی پر سب نہیں کرتے تھے۔ پھر مروان کو دوبارہ گورنر بنایا گیا تو اس نے پھر سب و شتم شروع کر دیا۔ حضرت حسن کو اس بات کا علم تھا لیکن آپ خاموش رہتے تھے اور مسجد نبوی میں عین اقامت کے وقت ہی داخل ہوتے تھے لیکن مروان اس پر بھی راضی نہ ہوا یہاں تک کہ اس نے حضرت حسن کے گھر میں ایلچی کے ذریعے ان کو اور حضرت علی کو گالیاں دلوا بھیجیں۔ ان لفویات میں سے ایک یہ بات بھی تھی کہ ‘تیری مثال میرے نزدیک خچر کی سی ہے کہ جب اس سے پوچھا جائے کہ تیر باپ کون ہے تو وہ کہے کہ میری ماں گھوڑی ہے۔’ حضرت حسن نے یہ سن کر قاصد سے کہا کہ تو اسکے پاس جا اور اُس سے کہہ دے کہ خدا کی قسم میں تجھے گالی دے کر تیرا گناہ کم نہیں کرنا چاہتا۔ میری اور تیری ملاقات اللہ کے یہاں ہو گی۔ اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔ اللہ نے میرے نانا جان (ص) کو جو شرف بخشا ہے وہ اس سے بلند و برتر ہے کہ میری مثال خچر کی سی ہو۔ ایلچی نکلا تو جناب ِحسین سے اسکی ملاقات ہو گئی اور انہیں بھی اس نے گالیوں کے متعلق بتایا۔ حضرت حسین نے اسے پہلے تو دھمکی دی کہ خبردار جو تم نے میری بات بھی مروان تک نہ پہنچائی اور پھر فرمایا کہ: ‘اے مروان تو ذرا اپنے باپ اور اسکی قوم کی حیثیت پر بھی غور کر۔ تیرا مجھ سے کیا سروکار، تو اپنے کندھوں پر اپنے اس لڑکے کو اٹھاتا ہے جس پر رسول اللہ (ص) نے لعنت کی ہے’۔۔۔۔۔۔ اور عمدہ سند کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ مروان نے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تو وہ ہے جس کے بارے میں قرآن میں یہ آیت اتری: ‘جس نے کہا اپنے والدین سے کہ تم پر اُف ہے۔’۔۔۔۔ عبدالرحمن کہنے لگے: ‘تو نے جھوٹ کہا، بلکہ رسول اللہ (ص) نے تیرے والد پر لعنت کی تھی’۔

الصواعق المحرقہ از ابن حجر

جواب

یہ روایت مل گئی ہے یہ طبقات ابن سعد کی ہے

قال: أخبرنا إسماعيل بن إبراهيم الأسدي. عن ابن عون. عن عمير بن إسحاق قال: كان مروان أميرا علينا ست سنين «1» . فكان يسب عليا كل جمعه على المنبر. ثم عزل فاستعمل سعيد بن العاص سنين «2» فكان لا يسبه. ثم عزل. وأعيد مروان. فكان يسبه. فقيل يا حسن ألا تسمع ما يقول هذا؟ فجعل لا يرد شيئا. قال: وكان حسن يجيء يوم الجمعة فيدخل في حجرة النبي ص فيقعد فيها. فإذا قضيت الخطبة خرج فصلى.
ثم رجع إلى اهله. قال: فلم يرض بذلك «3» حتى أهداه له في بيته. قال:
فأنا لعنده إذ قيل فلان بالباب. قال: أذن له فو الله إني لأظنه قد جاء بشر.
فأذن له فدخل. فقال: يا حسن إني قد جئتك من عند سلطان وجئتك
بعزمه. قال: تكلم. قال: أرسل مروان بعلي وبعلي وبعلي وبك وبك وبك وما وجدت مثلك إلا مثل البغلة يقال لها: من أبوك؟ فتقول: أبي الفرس.
[قال: ارجع إليه فقل له: إني والله لا أمحو عنك شيئا مما قلت بأن أسبك.
ولكن موعدي وموعدك الله. فإن كنت صادقا فجزاك «1» الله بصدقك.
وإن كنت كاذبا فالله أشد نقمة. وقد كرم «2» الله جدي أن يكون مثله أو قال: مثلي مثل البغلة. فخرج الرجل.] [فلما كان في الحجرة لقي الحسين فقال له: يا فلان ما جئت به. قال: جئت برسالة وقد أبلغتها. فقال: والله لتخبرني ما جئت به «3» أو لآمرن بك فلتضربن حتى لا تدري متى رفع عنك. فقال: ارجع فرجع. فلما رآه الحسن قال: أرسله. قال: إني لا أستطيع. قال: لم. قال: إني قد حلفت. قال: قد لج فأخبره. فقال:
أكل فلان بظر «4» أمه إن لم يبلغه عني ما أقول. فقال: يا حسين. إنه سلطان. قال: آكله إن لم يبلغه عني ما أقول «5» . قل له: بك وبك «6» وبأبيك وبقومك وآية بيني وبينك أن تمسك/ منكبيك من لعنه رسول الله ص. قال: فقال وزاد] .

سند میں عمير بن إسحاق القرشي ہے
امام مالک کہتے ہیں میں اس کو نہیں جانتا
طبقات میں خود اس کے لئے لکھا ہے
عُمَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَتَحَوَّلَ إِلَى الْبَصْرَةِ فَنَزَلَهَا، فَرَوَى عَنْهُ الْبَصْرِيُّونَ، ابْنُ عَوْنٍ وَغَيْرُهُ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ شَيْئًا، وَقَدْ رَوَى عُمَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَغَيْرِهِ
یہ مدینہ کا تھا پھر بصرہ آیا جہاں بصریوں نے اس سے روایت کیا جن میں ابن عون ہیں اور دیگر
اور اہل مدینہ نے اس سے کچھ روایت نہیں کیا اور یہ ابو ہریرہ سے بھی روایت کرتا ہے

یعنی مدینہ میں یہ شخص ایک مجہول تھا عراق میں صرف ابن عون نے روایت کیا ہے
سن ٢٠٠ ہجری کے بعد ابن معین نے کہا
لا يساوي شيئاً.
کوئی قابل ذکر چیز نہیں ہے
کتاب ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق میں الذہبی نے اس کے لئے کہا ہے
وفيه جهالة
اس میں مجہولیت ہے

طبقات ابن سعد کے محقق محمد بن صامل السلمي کہتے ہیں
إسناده ضعيف

کتاب من تكلم فيه وهو موثوق أو صالح الحديث کے محقق عبد الله بن ضيف الله الرحيلي اس عمير بن إسحاق پر کہتے ہیں
الحاصل أن المجهول عند المحدثين، هو “كل من لم يشتهر بطلب العلم في نفسه ولا عرفه العلماء به، ومن لم يعرف حديثه إلا من جهة راوٍ واحد … “، الكفاية 149، للخطيب، وقد ذكر الخطيب عمير بن إسحاق هذا فيمن مثل به من المجهولين، انظر الكفاية: 150، فعمير بن إسحاق مجهول العين، لأنه لم يرو عنه غير راوٍ واحد

حاصل کلام یہ ہے کہ … عمير بن إسحاق مجہولین میں سے ہے اور یہ مجهول العين ہے کیونکہ اس سے صرف ابن عون نے روایت کیا ہے

عمير بن إسحاق رجال صحیح میں سے نہیں ہے

جامع ترمذی ۔ جلد اول ۔ جمعہ کا بیان ۔ حدیث 496

امام کے خطبہ دیتے ہوئے آنے والا شخص دو رکعت پڑھے

راوی: محمد بن ابی عمر , سفیان بن عیینہ , محمد بن عجلان , عیاض بن عبداللہ بن ابوسرح , ابوسعید خدری

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ دَخَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَرْوَانُ يَخْطُبُ فَقَامَ يُصَلِّي فَجَائَ الْحَرَسُ لِيُجْلِسُوهُ فَأَبَی حَتَّی صَلَّی فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا رَحِمَکَ اللَّهُ إِنْ کَادُوا لَيَقَعُوا بِکَ فَقَالَ مَا کُنْتُ لِأَتْرُکَهُمَا بَعْدَ شَيْئٍ رَأَيْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَکَرَ أَنَّ رَجُلًا جَائَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي هَيْئَةٍ بَذَّةٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَمَرَهُ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ کَانَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ يُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ إِذَا جَائَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ وَکَانَ يَأْمُرُ بِهِ وَکَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ يَرَاهُ قَالَ أَبُو عِيسَی و سَمِعْت ابْنَ أَبِي عُمَرَ يَقُولُ قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ کَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ثِقَةً مَأْمُونًا فِي الْحَدِيثِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ و قَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا دَخَلَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَإِنَّهُ يَجْلِسُ وَلَا يُصَلِّي وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْکُوفَةِ وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ

محمد بن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، محمد بن عجلان، عیاض بن عبداللہ بن ابوسرح سے مروی ہے کہ ابوسعید خدری جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوئے تو مروان خطبہ دے رہا تھا انہوں نے نماز پڑھنی شروع کر دی اس پر محافظ انہیں بٹھانے کے لئے آئے لیکن آپ نہ مانے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہوگئے پھر جب جمعہ کی نماز سے فارغ ہوگئے تو ہم ان کے پاس آئے اور کہا اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے یہ لوگ تو آپ پر ٹوٹ پڑے تھے انہوں نے فرمایا میں انہیں(دو رکعتیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دیکھ لینے کے بعد کبھی نہ چھوڑتا پھر واقع بیان کیا کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن ایک آدمی آیا میلی کچیلی صورت میں اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا اس نے دو رکعتیں پڑھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دیتے رہے حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ ابن عیینہ اگر امام کے خطبہ کے دوران آتے تو دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور اسی کا حکم دیتے تھے ابوعبدالرحمن مقری انہیں دیکھ رہے ہوتے امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے ابن ابی عمر سے سنا کہ ابن عیینہ محمد بن عجلان ثقہ اور مامون فی الحدیث ہیں اس باب میں جابر ابوہریرہ اور سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی روایت ہے امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ابوسعید خدری کی حدیث حسن صحیح ہے اور اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے امام شافعی احمد اسحاق کا بھی یہی قول ہے بعض اہل علم کہتے ہیں جب امام کے خطبہ دیتے ہوئے داخل ہو تو بیٹھ جائے اور نماز نہ پڑھے یہ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے

جواب

اس روایت کی سند میں محمد بن عجلان المدني کا تفرد ہے جو مدلس ہے اور عن سے روایت کرتا ہے
اس متن کی دیگر اسناد میں بھی ایسا ہی ہے
لہذا یہ روایت مضبوط نہیں

لوگوں نے اس کو حسن کہا ہے جو ضعیف کی صنف ہی ہے یعنی وہ ضعیف جس سے فقہ میں دلیل لی گئی ہو

محمد بن عجلان المدني کو ابن حبان نے مدلس کہا ہے
الذھبی کہتے ہیں مسلم نے
وخرج له مسلم في الشواهد
شواہد میں لیا ہے
قَالَ الْحَاكِمُ: أَخْرَجَ لَهُ مُسْلِمٌ فِي كِتَابِهِ ثَلاثَةَ عَشَرَ حَدِيثًا كُلُّهَا فِي الشَّوَاهِدِ
حاکم نے کہا امام مسلم نے١٣ مقام پر شواہد میں حدیث لی ہے

ابن ابی حاتم نے بھی تدلیس کی وجہ سے اس پر جرح کی ہے
امام مالک کا کہنا تھا کہ اس کو حدیث کا اتا پتا نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی عالم ہے
قال عبد الرحمن بن القاسم: قيل لمالك: إن ناسا من أهل العلم يحدثون.
قال: من هم؟ فقيل له: ابن عجلان.
فقال: لم يكن ابن عجلان يعرف هذه الأشياء، ولم يكن عالما

الذھبی کا میزان میں کہنا ہے کہ امام بخاری نے اس کا ذکر الضعفاء میں کیا ہے
كذا في نسختي بالضعفاء للبخاري.

لیکن آجکل جو کتاب ضعفاء للبخاري چھپ رہی ہے اس میں یہ نہیں ملا

موطا امام مالک ۔ جلد اول ۔ کتاب الصیام ۔ حدیث 523

جو شخص جنب ہو اور صبح ہو جائے اسکے روزہ کا بیان

عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ يَقُولُ كُنْتُ أَنَا وَأَبِي عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فَذُكِرَ لَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ فَقَالَ مَرْوَانُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَتَذْهَبَنَّ إِلَى أُمَّيْ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ فَلْتَسْأَلَنَّهُمَا عَنْ ذَلِكَ فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَسَلَّمَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّا كُنَّا عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَذُكِرَ لَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَيْسَ كَمَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَتَرْغَبُ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَا وَاللَّهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ قَالَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فَذَكَرَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا قَالَتَا فَقَالَ مَرْوَانُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ لَتَرْكَبَنَّ دَابَّتِي فَإِنَّهَا بِالْبَابِ فَلْتَذْهَبَنَّ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَإِنَّهُ بِأَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ فَلْتُخْبِرَنَّهُ ذَلِكَ فَرَكِبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَرَكِبْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَتَحَدَّثَ مَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَاعَةً ثُمَّ ذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ لَا عِلْمَ لِي بِذَاكَ إِنَّمَا أَخْبَرَنِيهِ مُخْبِرٌ

ابوبکر بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ میں اور میرے باپ عبدالرحمن دونوں بیٹھے مروان بن حکم کے پاس اور مروان ان دنوں میں حاکم تھے مدینہ کے تو ان سے ذکر کیا گیا کہ ابوہریرہ کہتے ہیں جو شخص جنبی ہو اور صبح ہو جائے تو اس کا روزہ نہ ہوگا مروان نے کہا قسم دیتا ہوں تم اے عبدالرحمن تم جاؤ ام المومنین حضرت عائشہ اور ام المومنین ام سلمہ کے پاس اور پوچھو ان سے یہ مسئلہ تو گئے عبدالرحمن اور گیا میں ساتھ ان کے یہاں تک کہ پہنچے ہم ام المومنین عائشہ کے پاس تو سلام کیا ان کو عبدالرحمن نے پھر کہا اے ام المومنین ہم بیٹھے تھے مروان بن حکم کے پاس ان سے ذکر ہوا کہ ابوہریرہ کہتے ہیں جس شخص کو صبح ہو جائے اور وہ جنبی ہو تو اس کا روزہ نہ ہوگا فرمایا حضرت عائشہ نے ایسا نہیں ہے جیسا کہا ابوہریرہ نے اے عبدالرحمن کیا تو منہ پھیرتا ہے اس کام سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے کہا عبدالرحمن نے نہیں قسم اللہ کی فرمایا حضرت عائشہ نے میں گواہی دیتی ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ ان کو صبح ہو جاتی تھی اور وہ جنبی ہوتے تھے جماع سے نہ کہ احتلام سے پھر روزہ رکھتے اس دن کا ۔ کہا ابوبکر نے پھر نکلے ہم یہاں تک کہ پہنچے ام المومنین سلمہ کے پاس اور پوچھا ہم نے ان سے اس مسئلہ کو انہوں نے بھی یہ کہا جو حضرت عائشہ نے کہا کہا ابوبکر نے پھر نکلے ہم اور آئے مروان بن حکم کے پاس ان سے عبدالرحمن نے بیان کیا قول حضرت عائشہ اور ام سلمہ کا تو کہا مروان نے قسم دیتا ہوں میں تم کو اے ابومحمد تم سوار ہو کر جاؤ میرے جانور پر جو دروازہ پر ہے ابوہریرہ کے پاس کیونکہ وہ اپنی زمین میں ہے عقیق میں اور اطلاع کرو ان کو اس مسئلہ سے تو سوار ہوئے عبدالرحمن اور میں بھی ان کے ساتھ سوار ہوا یہاں تک کہ آئے ہم ابوہریرہ کے پاس تو ایک ساعت تک باتیں کیں ان سے عبدالرحمن نے پھر بیان کیا ان سے اس مسئلہ کو تو ابوہریرہ نے کہا مجھے علم نہیں تھا اس مسئلہ کا بلکہ ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا تھا ۔

جواب

روایت صحیح ہے

ابو ہریرہ کو یہ الفضل بن عباس نے مشورہ دیا تھا
وقال عبد الله: حدثني أبي. قال: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم -يعني ابن عليةقال: أخبرنا أيوب، عن عكرمة بن خالد، عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث. قال: إني لأعلم الناس بهذا الحديث. قال: بلغ مروان أن أبا هريرة يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: من أدركه الصبح وهو جنب، فلا يصومن يومئذ، فأرسل إلى عائشة يسألها عن ذلك، فانطلقت معه، فسألها فقالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصبح جنبًا من غير احتلام، ثم يصوم، فرجع إلى مروان، فحدثه. فقال: الق أبا هريرة فحدثه، فقال: إنه لجاري وإني لأكره أن أستقبله بما يكره. فقال: أعزم عليك لتلقينه. قال: فلقيه. فقال: يا أبا هريرة، والله إن كنت لاكره أن أسقبلك بما تكره، ولكن الأمير عزم علي. قال: فحدثه. فقال: حدثنيه الفضل. «العلل» (2720) .

صحيح البخاري: كِتَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ (بَابُ تَضْيِيعِ الصَّلاَةِ عَنْ وَقْتِهَا) صحیح بخاری: کتاب: اوقات نماز کے بیان میں باب: نماز کو بے وقت پڑھنا نماز کو ضائع

529 .

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ غَيْلاَنَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: الصَّلاَةُ؟ قَالَ: أَلَيْسَ ضَيَّعْتُمْ مَا ضَيَّعْتُمْ فِيهَا

حکم : صحیح 529

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے غیلان بن جریر کے واسطہ سے، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، آپ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کی کوئی بات اس زمانہ میں نہیں پاتا۔ لوگوں نے کہا، نماز تو ہے۔ فرمایا اس کے اندر بھی تم نے کر رکھا ہے جو کر رکھا ہے۔

——–

صحيح البخاري: كِتَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ (بَابُ تَضْيِيعِ الصَّلاَةِ عَنْ وَقْتِهَا) صحیح بخاری: کتاب: اوقات نماز کے بیان میں (باب: نماز کو بے وقت پڑھنا نماز کو ضائع)

530

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ أَبُو عُبَيْدَةَ الحَدَّادُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، أَخِي عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِدِمَشْقَ وَهُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكَ؟ فَقَالَ: «لاَ أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا أَدْرَكْتُ إِلَّا هَذِهِ الصَّلاَةَ وَهَذِهِ الصَّلاَةُ قَدْ ضُيِّعَتْ» وَقَالَ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ البُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ نَحْوَهُ

حکم : صحیح 530

ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہمیں عبدالواحد بن واصل ابوعبیدہ حداد نے خبر دی، انھوں نے عبدالعزیز کے بھائی عثمان بن ابی رواد کے واسطہ سے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ میں نے زہری سے سنا کہ میں دمشق میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا۔ آپ اس وقت رو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انھوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کی کوئی چیز اس نماز کے علاوہ اب میں نہیں پاتا اور اب اس کو بھی ضائع کر دیا گیا ہے۔ اور بکر بن خلف نے کہا کہ ہم سے محمد بن بکر برسانی نے بیان کیا کہ ہم سے عثمان بن ابی رواد نے یہی حدیث بیان کی۔

جواب

انس رضی الله عنہ کی وفات میں اختلاف ہے
سن توفي سنة 90 هـ، وقيل 91 هـ، وقيل 92 هـ، وقيل 93 هـ کہا گیا ہے
اسد الغابہ- سیر الاعلام النبلاء – طبقات الکبری – تہذیب الکمال

ان کی وفات بصرہ میں ہوئی
———

زہری دمشق میں ملے جہاں یہ کلام ہوا تو ظاہر ہے یہ وفات سے پہلے کا دور ہے

تاريخ دمشق 11/ ق66 پر ابن عساکر کہتے ہیں
أخبرنا أبو القاسم السمرقندي أنا أبو بكر محمد بن هبة الله أنامحمد بن الحسين أنا عبد الله نا يعقوب نا ابن بكير قال قال الليث: وفي سنة اثنتين وثمانين قدم ابن شهاب على عبد الملك
امام الزہری سن ٨٢ ھ میں عبد الملک کے پاس دمشق پہنچے اور ابن زبیر کی شہادت ٧٢ ھ میں ہوئی

وبالإسناد السابق نا يعقوب قال سمعت ابن بكير يقول: مولد ابن شهاب سنة ست وخمسين
امام الزہری سن ٥٦ ھ میں پیدا ہوئے

ابن زبیر کے دور سے انس بصرہ میں ہی رہے یعنی سن ٦٤ سے ٩٠ تک اور اس دوران انس کا دمشق یا مدینہ جانا معلوم نہیں ہے
امام زہری سن 72 کے بعد دمشق پہنچے
الزہری کا بصرہ جانا معلوم نہیں ہے

محمد بن مسلم بن عبيد الله الزهري مدلس بھی ہیں اور اس میں مشہور ہیں
انہوں نے انس سے بھی تدلیس کی ہے
اغلبا یہاں تدلیس ہے
واللہ اعلم
=——–

غَيْلاَنُ بنُ جَرِيْرٍ أَبُو يَزِيْدَ الأَزْدِيُّ المِعْوَلِيُّ کی سند میں یہ مسئلہ نہیں ہے
یہ انہوں نے بصرہ میں سنی ہے
لیکن نماز کے ساتھ کیا ہوا یہ اس میں واضح نہیں ہو رہا

صحيح مسلم: كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِؓ (بَابُ فَضَائِلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ النَّبِيِّ ﷺ) صحیح مسلم: کتاب: صحابہ کرامؓ کے فضائل ومناقب (باب: نبی کریم ﷺ کی دختر حضرت فاطمہؓ کے فضائل)

6309 . حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيُّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، مَقْتَلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا؟ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ: لَا، قَالَ لَهُ: هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ، وَايْمُ اللهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ لَا يُخْلَصُ إِلَيْهِ أَبَدًا، حَتَّى تَبْلُغَ نَفْسِي، إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ، عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ فَقَالَ: «إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي، وَإِنِّي أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا» قَالَ ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ فَأَحْسَنَ، قَالَ «حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَوَعَدَنِي فَأَوْفَى لِي، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا، وَلَكِنْ وَاللهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا»

محمد بن عمرو بن حلحلہ دؤلی نے کہا: ابن شہاب نے انھیں حدیث بیان کی،انھیں علی بن حسین (زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ )نے حدیث بیان کی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد جب وہ یزید بن معاویہ کے ہاں سے مدینہ منورہ آئے تو مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے ملے اور کہا: آپ کو مجھ سے کو ئی بھی کا م ہو تو مجھے حکم کیجیے ۔(حضرت علی بن حسین نے) کہا: میں نے ان سے کہا: نہیں ( کو ئی کا م نہیں ) حضرت مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار (حفاظت کے لیے) مجھے عطا کریں گے ،کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ یہ لو گ اس (تلوار ) کے معاملے میں آپ پرغالب آنے کی کو شش کریں گے اور اللہ کی قسم !اگر آپ نے یہ تلوار مجھے دے دی تو کو ئی اس تک نہیں پہنچ سکے گا یہاں تک کہ میری جا ن اپنی منزل پر پہنچ جا ئے۔(مجھے یا د ہے کہ )جب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہو تے ہو ئے ابوجہل کی بیٹی کو نکا ح کا پیغام دیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منبرپر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور میں ان دنوں بلوغت کو پہنچ چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا :”فاطمہ مجھ سے ہے(میرے جسم کا ٹکڑا ہے) اور مجھے اندیشہ ہے کہ اسے دین کے معاملے میں آزمائش میں ڈالا جا ئے گا ۔کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس میں سے اپنے داماد (حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کا ذکر فر ما یا اور اس کی اپنے ساتھ اس قرابت داری کی تعریف فرمائی اور اچھی طرح تعریف فر ما ئی۔آپ نے فر ما یا :” اس نے میرے ساتھ بات کی تو سچ کہا۔ میرے ساتھ وعدہ کیا تو پورا کیااور میں کسی حلال کا م کو حرام قرار نہیں دیتا اور کسی حرام کو حلال نہیں کرتا اور لیکن اللہ کی قسم!اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ (ایک خاوندکے نکا ح میں) اکٹھی نہیں ہو ں گی۔”

محمد بن عمرو بن حلحلہ دؤلی نے کہا: ابن شہاب نے انھیں حدیث بیان کی،انھیں علی بن حسین (زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ )نے حدیث بیان کی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد جب وہ یزید بن معاویہ کے ہاں سے مدینہ منورہ آئے تو مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے ملے اور کہا: آپ کو مجھ سے کو ئی بھی کا م ہو تو مجھے حکم کیجیے ۔(حضرت علی بن حسین نے) کہا: میں نے ان سے کہا: نہیں ( کو ئی کا م نہیں ) حضرت مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار (حفاظت کے لیے) مجھے عطا کریں گے ،کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ یہ لو گ اس (تلوار ) کے معاملے میں آپ پرغالب آنے کی کو شش کریں گے اور اللہ کی قسم !اگر آپ نے یہ تلوار مجھے دے دی تو کو ئی اس تک نہیں پہنچ سکے گا یہاں تک کہ میری جا ن اپنی منزل پر پہنچ جا ئے۔(مجھے یا د ہے کہ )جب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہو تے ہو ئے ابوجہل کی بیٹی کو نکا ح کا پیغام دیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منبرپر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور میں ان دنوں بلوغت کو پہنچ چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا :”فاطمہ مجھ سے ہے(میرے جسم کا ٹکڑا ہے) اور مجھے اندیشہ ہے کہ اسے دین کے معاملے میں آزمائش میں ڈالا جا ئے گا ۔کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس میں سے اپنے داماد (حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کا ذکر فر ما یا اور اس کی اپنے ساتھ اس قرابت داری کی تعریف فرمائی اور اچھی طرح تعریف فر ما ئی۔آپ نے فر ما یا :” اس نے میرے ساتھ بات کی تو سچ کہا۔ میرے ساتھ وعدہ کیا تو پورا کیااور میں کسی حلال کا م کو حرام قرار نہیں دیتا اور کسی حرام کو حلال نہیں کرتا اور لیکن اللہ کی قسم!اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ (ایک خاوندکے نکا ح میں) اکٹھی نہیں ہو ں گی۔”

===============

یہاں اس جملے سے کیا مرا د ہے

حضرت مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار (حفاظت کے لیے) مجھے عطا کریں گے ،کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ یہ لو گ اس (تلوار ) کے معاملے میں آپ پرغالب آنے کی کو شش کریں گے اور اللہ کی قسم !اگر آپ نے یہ تلوار مجھے دے دی تو کو ئی اس تک نہیں پہنچ سکے گا یہاں تک کہ میری جا ن اپنی منزل پر پہنچ جا ئے۔

یہ کون لوگ ہیں جن کا ذکر ہے یہ لو گ اس (تلوار ) کے معاملے میں آپ پرغالب آنے کی کو شش کریں گے

جواب

حسین رضی الله عنہ کا اقدام بہت الگ تھا کیونکہ اصحاب رسول اور بعض اہل بیت نے بھی ان کا ساتھ نہ دیا جس میں عبد اللہ بن عباس رضی الله عنہ شامل ہیں
علی بن حسین ایک باغی کے بیٹے تھے اور پوری دنیا کا اصول ہے کہ باغی اور اس کے ہمدرد کے پاس اسلحہ نہیں ہونا چاہیے
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ کو یہ خدشہ تھا کہ کہیں کوئی اس تلوار کو چھین کر معدوم نہ کر دے لہذا انہوں نے اس کو چھپا دینا چاہا یہ علی بن حسین نے ہاتھ میں کوئی اس کو نہ دیکھ سکے
یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ علی بن حسین نے اس افر کو قبول کیا یا نہیں اور نہ یہ معلوم ہے کہ یہ تلوار کہاں ہے
علی بن حسین ایک نابالغ تھے لہذا ایک لڑکے کو بہلا پھسلا کے یہ تلوار حاصل کرنا مشکل نہ ہوتا اسی کا خدشہ مسور کو تھا
اہل سنت کو اب پتا نہیں تلوار کہاں گئی
اہل تشیع کہتے ہیں امام مہدی کے پاس سر من الری قدیم سامَرّاء‎‎
Samarra
میں غار میں ہے

 

Comments are closed.