متفرق

ڈاکٹر عثمانی رحمہ الله علیہ کے جوابات

سوال: جماعت اسلامی بھی کیا دین کا کام کر رھی ہے ؟

جواب: ایک زمانہ تھآ کہ جب ہندوستان میں مسلم لیگ کا دور دورہ تھا اور یہ کہا جا رہا تھا کہ بادشاہی طرز حکومت سے نجات حاصل کرو حکومت کا طرز جمہوری ہونا چاہیَے.کیونکہ اس انداز حکومت میں ہی کامیابی ہے . تو اس دور میں انھوں(جماعت اسلامی والوں)نے اپنی کتابوں میں لکھا کہ ہم مسلمانوں کے لِئے اگر دنیا میں کہیں بھی بادشاہت ہے تو یہ لات (بت)ہے. اور جمہوریت ہے تو منات (بت)ہے لہذا اگراب لات چلا جاےَ اور اس کی جگہ منات لے آوَ تو اس سے آخر دین میں کیا فرق پڑا.مسلم لیگ کے اس دور میں جماعت والوں کا یہ کہنا تھا اورانھوں نے یہی اپنی تحریروں میں بھی لکھا تھا مگر یہی کہنے والے یہاں پاکستان آکر جمہوریت کے چیمپین بنے ہیں. اس کے بعد تو جمہوریت کی پوجا شروع ہو گیَ. یہ منات الہ بن گیا ہے. ان تمام چیزوں کو جو شروع کے دور میں ان کے پیش نظر تھیں ان کو اور سارے دین کو اس منات(جمہوریت)کے لےَ قربان کر ڈالا گیا. جو دین کے اصول تھے بدل ڈالے گےَ اور اسلامی عقا ئد و نظریات میں شرک کی آمیزش ہوئی . ایمان کی دعوت کا جو انداز انھوں نےاختیار کیا تھا اس سے بھی انھوں نے انحراف کیا ہے. یہاں تک کہ جمہوریت کو اسلامی بنایا گیا اور پھر اس کی آبیاری کے لےَ جمہور کے مشرکانہ طرز عمل کو اختیار کیا گیا.جیسے آستانوں پر حاضری قبروں پر چادر چڑھانا . غرض ہر وہ انداز اختیار کیا گیا جس سے جمہور کی خوشنودی حاصل ہو سکے

سوال : جماعت اسلامی سے آپ علیحدہ کیوں ہوئے ؟

جواب : امام بخاری نے زید بن عمر بن نفیل کا واقعہ بیان کیا ہے.وہ بیان کرتے ہیں کہ زید بن عمرو بن نفیل اپنی قوم کے کفر شرک سے بیزار ہو کر حق کی تلاش میں ملک شام گئے کہ شاید یہود اور نصاری میں ایمان اور اسلام مل جائے .انھوں نے وہاں پہنچ کر یہودی عالم سے ملاقات کی اور کہا کہ میں تمہارے دین میں شامل ہونا چاہتا ہوں.یہودی عالم نے جواب دیا کہ اگر تم ہمارے دین میں شامل هوئے تو الله کی لعنت کا ایک حصّہ تمہیں بھی ملے گا اور جہنم کی آگ سے نہ بچ سکو گے.زید بن عمرو بن نفیل نے جواب دیا کہ میں جہنّم کی آگ سے ہی تو بچنا چاہتا ہوں.ملک شام اسی لئے آیا ہوں کہ نجات کا کوئی راستہ تلاش کروں.آپ مجھے کوئی راستہ بتلائے یہودی عالم نے کھا کہ مجھے کوئی راستہ معلوم نہیں سوائے ملت ابراہیم کے جو کہ حنیف تھے لہذا تم اسے تلاش کرو.پھر زید نے ایک عیسائی عالم سے ملاقات کرکے وہی بات کہی کہ میں تمھارے دین میں شامل ہونا چاہتا ہوں .تو اس عیسائی عالم نے جواب دیا کہ ہم اپنی اس عیسائیت ہی کی وجہ سے الله کی لعنت کا شکار ہوئے ہیں.تم اس کفروشرک میں ملوث ہوکر اللہ کی لعنت کے مستحق ٹہرو گے.زید نے جواب دیا کہ میں اسی سے تو بھاگا ہوں کہ جہمنم کی آگ اور الله کی لعنت سے بچ سکوں.عیسائی عالم نے کھا کہ اگر تمہیں راہ راست کی تلاش ہے تو ملت ابراہیم کو تلاش کرو.یہ سننے کے بعد وہ مایوس ہو کر واپس آرہے تھےکہ راستے میں انکے وفات ھوگئی.دنیا کی حالت دیکھنے کے بعد اس وقت میں نے جماعت اسلامی کا لٹریچر پڑھا تھااور اپنی اس وقت کی جو معلومات تھیں اس لحاظ سےمیں نے سمجھا کہ جماعت اسلامی کی دعوت وہی ہے جو نبی علیہ سلام نے دی تھی.جسے صحابہ کرم نے قبول کرکے اس راستے میں اپنی جانیں لگائی تھیں.لیکن اس کے بعد آگے چلنے پر معلوم ہوا کہ ہر جگہ وہی چیز ہے.سلطانی بھی عیاری ہے درویشی بھی عیاری.اس کے بعد میرے لیے ایک ہی راستہ تھا کہ یہاں سے نکل جاؤں اور یہی بات میں نے اپنے خط میں بھی لکھی تھی کہ میں تو یہ سوچ کر اپنی کشتیاں جلا آیا تھا کہ یہاں الله کے دین کا کام ہو رہا ہے لیکن میں نے دیکھا کہ اس کے بجائے یہاں بھی وہی فریب کاری والا معاملہ ہو رہا ہے.اسلئے میں نے بلآخر استعفی دیا تو واضح طور پر بتا دیا کہ اب میں نے دیکھ لیا اور میرا دل ٹھک گیا کہ یہ سب کچھہ اللہ کے لیے اس کے دین کی سرفرازی کے لئے اور اس کی رضا کے حصول کے لئے نہیں بلکہ اپنی سرفرازی اور اپنی دنیا کے لئے ہو رہا ہے.اس لئے اب میرے لئے اور کوئی راست راستہ نہیں الا یہ کہ میں الله کا فضل کہیں اور تلاش کروں.تب ہی استعفیٰ دے کر ماچھی گوٹھہ کے اجتماع کے بعد اس جماعت سے نکل گیا ہوں .اور میں الله کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مالک نے مجھے راہ دکھائی اور پھر میں اس چکر میں نہیں پڑا

Questions answered by Abu Shahiryar

جواب اس کی سند میں راوی صهيب، أبو الصهباء البكري ہیں الذھبی میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں

عن علي، وابن عباس. وعنه طاوس، وسعيد بن جبير، وأبو نضرة. وثقه أبو زرعة، وقال النسائي: بصري ضعيف

صهيب، أبو الصهباء البكري. علی سے اور ابن عبّاس سے روایت کرتے ہیں اور ان سے طاوس، سعيد بن جبير، اور أبو نضرة روایت کرتے ہیں – أبو زرعة ان کو ثقه کہتے ہیں اور نسائی ضعیف

اسی بات کو طَاوُسٍ بھی ابن عباس سے نقل کرتے ہیں اور امام مسلم نے اس کی دو سندیں دی ہیں لہذا ان کے نزدیک یہ ابن عباس کا قول ثابت ہے لیکن اس میں کچھ مسائل ہیں

اول تین کو ایک کرنے پر امت کا عمل نہیں رہا کیونکہ تین کو ایک کر دینا ایک اہم مسئلہ ہے جو اگر واقعی ہوتا تو کسی اور صحابی نے بھی بیان کیا ہوتا اس اہم مسئلہ پر کسی اور صحابی کی حدیث بھی نہیں ہے –

دوم ابن عباس بعض مسائل میں الگ موقف رکھتے ہیں جو باقی اصحاب رسول نقل نہیں کرتے مثلا رویت باری تعالی اور متعہ کی ممانعت وغیرہ لہٰذا اس کو صرف ابن عبّاس کے قول پر قبول نہیں کیا جا سکتا جبکہ اس کے خلاف احادیث موجود ہیں

سوم طاووس بن كيسان کے لئے الكرابيسي کہتے ہیں اس نے عکرمہ سے لیا ہے اور ابن عباس سے ارسال کیا ہے
طاووس بن كيسان کا سماع ابن عباس سے نہیں جبکہ یہ مکہ کے ہیں

ابن قيم كتاب إغاثة اللھفان میں روایت لکھتے ہیں کہ عمر اپنے اس حکم پر بعد میں نادم تھے

قال الحافظ أبوبکر الإسماعیلي في مسند عمر أخبرنا أبو یعلی حدثنا صالح بن مالك حدثنا خالد بن یزید بن أبي مالك عن أبیه قال قال عمر بن الخطاب: ما ندمت علی شيء ندامتي علی ثلاث أن لا أکون حرمت الطلاق وعلی أن لا أکون أنکحت الموالي وعلی أن لا أکون قتلت النوائح” (.إغاثة اللھفان: ج1؍ ص336

عمرؓ نے فرمایا جو ندامت مجھے تین کاموں پر ہوئی ہے وہ کسی او رکام پر نہیں ہوئی: ایک یہ کہ میں تین طلاقوں کو طلاقِ تحریم نہ بناتا، دوسرا یہ کہ غلاموں کو نکاح کرنے کا حکم صادر نہ کرتا، اور تیسرا یہ کہ نوحہ کرنے والیوں کو قتل کرنے کا حکم نہ دیتا۔

کتاب إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال از مغلطاي کے مطابق

قال الآجري: كان بدمشق رجل يقال له خالد بن يزيد متروك الحديث.

وقال أبو محمد بن الجارود: ليس بشيء ضعيف، وخرج الحاكم حديثه في «مستدركه».

وذكره الساجي والعقيلي وأبو العرب والمنتجالي في «جملة الضعفاء»

وقال يعقوب: ثنا عنه سليمان وهو ضعيف، ويزيد بن أبي مالك وابنه خالد بن يزيد في حديثهما لين

الآجري کہتے ہیں دمشق میں خالد بن يزيد نام کا شخص تھا جو متروک الحدیث ہے – أبو محمد بن الجارود کہتے ہیں کوئی چیز نہیں ضعیف ہے اور حاکم نے مستدرک میں اس کی روایت لکھی ہے اور الساجي اور والعقيلي اور أبو العرب اور المنتجالي سب نے اس کا ذکر الضعفاء میں کیا ہے

اور يعقوب کہتے ہیں اس سے سلیمان نے روایت کیا ہے جو ضعیف ہے اور يزيد بن أبي مالك اور ان کا بیٹا خالد دونوں حدیث میں کمزور ہیں

کہا جاتا ہے کہ عمر رضی الله عنہ نے جو تین طلاقوں کے تین ہونے کا حکم دیا تھا، وہ شرعی حکم نہ تھا بلکہ تعزیری اور وقتی تھا، جو یک بار تین طلاقیں دینے والوں کے لئے سزا کے طور پر نافذ کیا گیا تھا – اس کے بر عکس عمر رضی الله عنہ کے حوالے یہ قول ہی ثابت نہیں ہے کہ تین طلاق کو انہوں نے سزا کے طور پر طلاقِ تحریم بنایا – اس پر اہل حدیث علماء نے ایک عمارت کھڑی کر دی گئی ہے

بیک وقت تین طلاق پر عمر رضی الله عنہ ناراض ہوتے اور دینے والے کی پیٹھ پر مارتے یہ سنن

سعید بن منصور کی روایت ہے

حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فِي مَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ: «لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ وَكَانَ عُمَرُ «إِذَا أُتِيَ بِرَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا أَوْجَعَ ظَهْرَهُ

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ نے اس سے کہا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی دخول سے پہلے کہا تیرے لئے حلال نہیں حتی کہ دوسری بیوی کر لے اور عمر اس کی پیٹھ پر مارتے جو بیوی کو تین طلاق دے

لیکن اس سے نفس مسئلہ پر کوئی اثرنہیں پڑتا تین طلاق تین ہی رہتی ہیں ایک نہیں ہو جاتیں اور اس کو نا پسند کیا گیا ہے

سنن دارقطنی کی روایت ہے عبد الرحمان بن عوف رضی الله عنہ نے اپنی بیوی کو دور نبوی میں ایک کلمہ سے تین طلاق دیں اور ان کو کسی نے عیب نہیں دیا

ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُرْجَانِيُّ , نا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ , نا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ , نا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ «طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تُمَاضِرَ بِنْتَ الْأَصْبَغِ الْكَلْبِيَّةَ وَهِيَ أُمُّ أَبِي سَلَمَةَ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ فَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ عَابَ ذَلِكَ» قَالَ: وَنا سَلَمَةُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِيهِ , «أَنَّ حَفْصَ بْنَ الْمُغِيرَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ , فَأَبَانَهَا مِنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِ»

اس کی سند میں سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ہے جس کو محدثین کہتے ہیں

ابن عبد البر: لاَ يُحْتَجُّ به. اس سے دلیل نہ لی جائے

ابن حبان کہتے ہیں وكان يغرب بہت غریب روایات بیان کرتا تھا

العجلی ثقة کہتے ہیں

اسکی سند میں مُحَمَّدِ بنِ رَاشِدٍ ہے جس کے لئے امام شُعْبَةَ کہتے تھے لاَ تَكتُبْ عَنْ مُحَمَّدِ بنِ رَاشِدٍ، فَإِنَّهُ مُعْتَزِلِيٌّ رَافِضِيٌّ

محمد بن راشد سے نہ لکھو کیونکہ یہ معتزلی رافضی ہے

جواب

بسم الله الرحمان الرحیم کو ٧٨٦ سے بدلنا صحیح نہیں ایک طرح کا جادو ہے

علم اعداد یا ابجد کی مدد سے ان حروف کو نمبروں میں تبدیل کیا جاتا ہے جو بابل کا جادو تھا اور عبرانی میں اس کی اصل ہے
اس ویب سائٹ پر جدول کی مدد سے اپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ کیسے کیا جاتا ہے
http://www.islamic-belief.net/innovations-in-islam/mysticism-in-muslims-belief/

ب س م
٢+ ٦٠+٤٠ = ١٠٢

ا ل ل ہ
١+٣٠+٣٠+٥ = ٦٦

ا ل ر ح م ا ن
١+٣٠+٢٠٠+٨+٤٠+١+٥٠= ٣٣٠

ا ل ر ح ی م
ا+٣٠+٢٠٠+٨+١٠+٤٠ = ٢٨٩

اس کا ٹوٹل ٧٨٧ بنتا ہے یعنی اس میں ایک عدد کم کیا گیا ہے جبکہ علم اعداد سے ایک عدد زائد اتا ہے عرف عام میں ٧٨٦ کو بسم الله کے مقابل لکھ دیا جاتا ہے جو لا علم ہیں وہ سمجھتے ہیں اس کا مقصد بے ادبی سے بچانا ہے لیکن اصل مقصد یہ نہیں

٧٨٧ کو ٧٨٦ میں بدلنے میں لطیف نکته پوشیدہ ہے اور وہ ہے مہر سلیمانی سے اسکو ملانا
مہر سلیمان یعنی داود کا تارا

اس کو اپ یہاں سمجھ سکتے ہیں
⇑ مساجد کی تطہیر
http://www.islamic-belief.net/masalik/وھابیت/

لہذا یہ اس طرح بنتا ہے کہ
عدد ٧ تارا کا نچلا حصہ ہے
عدد ٨ تارا کا اوپری حصہ ہے
اس کے بعد کونوں کو ٢ سطروں سے ملایا جاتا ہےجو ایک کے اوپر ایک رکھے ٧ اور ٨ کو کامل کرتی ہیں
اس طرح کل ٦ لکیریں بنتی ہیں

تارا کی نوک کا یعنی عدد ٧ کا زمین کی طرف آنا الوحی ہے یعنی علم آسمان سے زمین تک اتا ہے تارا کی نوک یعنی عدد ٨ کا آسمان کی طرف جانا مکاشفہ ہے یعنی انسان الله تک اس کے عرش تک جا سکتا ہے اور اس سب پر زائچہ کا گرڈ لوک لگتا ہے چھ مزید لکیروں سے

٧٨٦ کیا وہی عدد ہے جو دجال کی آنکھوں کے بیچ لکھا ہو گا؟ جس کو پڑھ کر ہر مومن اس کو جان جائے گا لیکن بہت سے اس کو کعبہ کا طواف کرائیں گے اور بہت سے اس کو کانا رب مان جائیں گے

الله فتنوں سے تمام مسلمانوں کو بچائے

جواب چھ کلمے برصغیر میں معروف ہیں اور یہ الله کا ذکر ہیں اس کو یاد کرنے کے لئے ایک جگہ کیا گیا ہے

مثلا کلمہ طیب

لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ

اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول

یہ ألفاظ کسی صحیح سند روایت سے نہیں آئے لیکن حدیث میں ہے لوگوں سے قتال کرو حتی کہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ کا اقرار کریں اور میں جو لایا ہوں اس پر ایمان لائیں

لہذا امت میں ان الفاظ کو کلمہ کہا جاتا ہے یعنی وہ جو ایمان ہے

صحیح بخاری ميں ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الله بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو رَوْحٍ الْحَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّی الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ الله وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّکَاةَ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِکَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَائَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ وَحِسَابُهُمْ عَلَی الله

عبد اللہ بن محمد مسندی، ابوروح حرمی بن عمارہ، شعبہ، واقد بن محمد، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ اس بات کی گواہی نہ دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز پڑھنے لگیں اور زکوۃ دیں، پس جب یہ کام کرنے لگیں تو مجھ سے ان کے جان ومال محفوظ ہوجائیں گے، علاوہ اس سزا کے جو اسلام نے کسی جرم میں ان پر مقرر کردی ہے، اور ان کا حساب و کتاب اللہ کے ذمے ہے۔

صحیح مسلم میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِیُّ مَالِکُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ الله بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الله بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّی الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ الله وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّکَاةَ فَإِذَا فَعَلُوا عَصَمُوا مِنِّي دِمَائَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَی الله

ابوغسان مسمعی، مالک بن عبدالواحد، عبدالملک بن الصباح، شعبہ، واقد بن محمد بن زید بن عبد اللہ، ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے جب تک کہ وہ اس بات کی گواہی نہ دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنے لگیں اور زکوۃ ادا کرنے لگیں اگر وہ ایسا کریں گے تو مجھ سے اپنی جان اور اپنا مال بچالیں گے ہاں حق پر جان ومال سے تعرض کیا جائے گا باقی ان کے دل کی حالت کا حساب اللہ تعالی کے ذمہ ہے۔

بیہقی روایت کرتے ہیں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله عَنْهُ ، أَخْبَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَنْزَلَ الله تَعَالَى فِي كِتَابِهِ ، فَذَكَرَ قَوْمًا اسْتَكْبَرُوا فَقَالَ : إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لا إِلَهَ إِلاَّ الله يَسْتَكْبِرُونَ ، وَقَالَ تَعَالَى : إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنْزَلَ الله سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا ، وَهِيَ لا إِلَهَ إِلاَّ الله مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ اسْتَكْبَرَ عَنْهَا الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ يَوْمَ كَاتَبَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَضِيَّةِ الْمُدَّةِ
کتاب الاسماء والصفات للبیہقی:ـ جلد نمبر 1صفحہ نمبر263حدیث نمبر195۔ ناشر:مکتبة السوادی، جدة ،الطبعة الأولی

ہمیں ابوعبداللہ الحافظ نے خبردی(کہا):ہمیں ابوالعباس محمدبن یعقوب نے حدیث بیان کی (کہا):ہمیں محمد بن اسحاق نے حدیث بیان کی (کہا):ہمیں یحیی بن صالح الوحاظی نے حدیث بیان کی (کہا):ہمیں اسحاق بن یحیی الکلبی نے حدیث بیان کی (کہا): ہمیں الزہری نے حدیث بیان کی (کہا): مجھے سعید بن المسیب نے حدیث بیان کی،بے شک انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایاتوتکبرکرنے والی ایک قوم کاذکرکیا: یقیناجب انہیں لاالہ الااللہ کہا جاتاہے توتکبرکرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب کفرکرنے والوں نے اپنے دلوں میں جاہلیت والی ضد رکھی تواللہ نے اپنا سکون واطمینان اپنے رسول اورمومنوں پراتارااوران کے لئے کلمة التقوی کولازم قراردیا اوراس کے زیادہ مستحق اوراہل تھے اوروہ (کلمة التقوی) ’’لا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ‘‘ہے۔حدیبیہ والے دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت (مقرر کر نے) و الے فیصلے میں مشرکین سے معاہدہ کیاتھاتومشرکین نے اس کلمہ سے تکبرکیاتھا”۔[کتاب الاسماء والصفات للبیہقی:ـ جلد نمبر 1صفحہ نمبر263حدیث نمبر195۔ ناشر:مکتبة السوادی، جدة ،الطبعة الأولی

اس کی سند حسن ہے کیونکہ اس میں إسحاق بن يحيى بن علقمة الكلبي الحمصي جو امام الزہری سے روایت کرتا ہے ہے جس کے لئے الذھبی میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں

قال محمد بن يحيى الذهلي: مجهول.

جبکہ امام بخاری نے شواہد کے طور پر ان کی روایت صحیح میں نقل کی ہے لہذا ان کی بات شاہد کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے

دوسرا کلمہ شہادت کہا جاتا ہے جو ایمان کا لفظی اقرار ہے

اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ.

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔

یہ احادیث سے ثابت ہے

تیسرا کلمہ الله کی تعریف ہے

سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْد ﷲِ وَلَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرُ ط وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِيِ الْعَظِيْمِ.

’’اللہ پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کی توفیق نہیں مگر اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے جو بہت بلند عظمت والا ہے۔

یہ الفاظ مختلف احادیث سے ثابت ہیں- پڑھنے میں کوئی حرج نہیں

یہ الفاظ الگ الگ دو مختلف احادیث میں آئے ہیں

مسند احمد کی حدیث ہے

حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا إسرائيل، عن أبي سِنَان، عن أبي صالح الحنفي، عن أبي سعيد الخدري، وأبي هريرة، أن رسول الله -صلي الله عليه وسلم – قال: “إن الله اصطفى من الكلام أربعاً: “سبحان الله” و “الحمد لله” و”لا إله إلا الله” و”الله أكبر”، فمن قال: “سبحان الله” كتب الله له عشرين حسنة أو حط عنه عشرين سيئة، ومن قال: “الله أكبر” فمثل ذلك، ومن قال: “لا إله إلا الله” فمثل ذلك، ومن قال: “الحمد لله رب العالمين” من قِبَل نفسه كُتبت له ثلاثون حسنة وحُط عنه ثلاثون سيئة”.

چوتھا کلمہ جس کو توحید کہا جاتا ہے وہ الله کا ذکر ہے

لَآ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَحْدَهُ لَاشَرِيْکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْی وَيُمِيْتُ وَهُوَ حَيٌّ لَّا يَمُوْتُ اَبَدًا اَبَدًا ط ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ ط بِيَدِهِ الْخَيْرُ ط وَهُوَعَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيْر.

’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لئے تعریف ہے، وہی زندہ کرتا اور مارتاہے اور وہ ہمیشہ زندہ ہے، اسے کبھی موت نہیں آئے گی، بڑے جلال اور بزرگی والا ہے۔ اس کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

یہ قرآن کے الفاظ سے الله کے تعریفی کلمات ہیں پڑھنے میں اور یاد رکھنے کوئی حرج نہیں

پانچواں کلمہ اِستغفار

اَسْتَغْفِرُ اﷲَ رَبِّيْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتُهُ عَمَدًا اَوْ خَطَاً سِرًّا اَوْ عَلَانِيَةً وَّاَتُوْبُ اِلَيْهِ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِيْ اَعْلَمُ وَمِنَ الذَّنْبِ الَّذِيْ لَآ اَعْلَمُ ط اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ وَسَتَّارُ الْعُيُوْبِ وَغَفَّارُ الذُّنُوْبِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ.

’’میں اپنے پروردگار اللہ سے معافی مانگتا ہوں ہر اس گناہ کی جو میں نے جان بوجھ کر کیا یا بھول کر، چھپ کر

کیا یا ظاہر ہوکر۔اور میں اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اس گناہ کی جسے میں جانتا ہوں اور اس گناہ کی بھی جسے میں نہیں جانتا۔(اے اللہ!) بیشک تو غیبوں کا جاننے والا، عیبوں کا چھپانے والا اور گناہوں کا بخشنے والا ہے۔ اور گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں مگرا للہ کی مدد سے جو بہت بلند عظمت والا ہے۔

یہ توبہ کے الفاظ ہیں اس میں الله کی تعریف ہے – البتہ الستار، الله کا نام قرآن و حدیث میں نہیں لہذا عبد الستار نام مناسب نہیں الستار یعنی چھپانے والا

چھٹا کلمہ ردِّ کفر

اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ شَيْئًا وَّاَنَا اَعْلَمُ بِهِ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَآ اَعْلَمُ بِهِ تُبْتُ عَنْهُ وَتَبَرَّاْتُ مِنَ الْکُفْرِ وَالشِّرْکِ وَالْکِذْبِ وَالْغِيْبَةِ وَالْبِدْعَةِ وَالنَّمِيْمَةِ وَالْفَوَاحِشِ وَالْبُهْتَانِ وَالْمَعَاصِيْ کُلِّهَا وَاَسْلَمْتُ وَاَقُوْلُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ.

اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں کسی شے کو جان بوجھ کر تیرا شریک بناؤں اور بخشش مانگتا ہوں تجھ سے اس (شرک) کی جسے میں نہیں جانتا اور میں نے اس سے (یعنی ہر طرح کے کفر و شرک سے) توبہ کی اور بیزار ہوا کفر، شرک، جھوٹ، غیبت، بدعت اور چغلی سے اور بے حیائی کے کاموں سے اور بہتان باندھنے سے اور تمام گناہوں سے۔ اور میں اسلام لایا۔ اور میں کہتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں

یہ بھی تعریفی کلمات ہیں جن کا مصدر معلوم نہیں

یہ صرف عربی میں قرانی الفاظ پر مشتمل الله کی تعریف پر منبی کلمات ہیں ایسا عرب لوگ کرتے ہی رہتے ہیں کہ وہ اپنے الفاظ میں الله سے مغفرت طلب کرتے ہیں- چھ کلموں کو بر صغیر میں علماء نے مشھور کیا کیونکہ عوام عربی سے ناواقف تھے لہذا ان کو مختصر الفاظ میں دعائیں سکھا دیں

ان کو جو یاد نہ کرے اس پر کوئی عیب نہیں اور جو حدیث میں دیکھ کر نبی صلی الله علیہ وسلم کی دعائیں یاد کرے تو وہ بہتر ہے راقم کو خود ان مروجہ کلمات میں چوتھے کلمہ تک ہی یاد ہے کیونکہ اس کے آگے کی دعائیں حدیث میں موجود ہیں جو نبی سے ثابت ہیں لہذا ان کویاد کرنا چاہیے

طبرانی کتاب الکبیر میں حدیث نقل کرتے ہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ح وَحَدَّثَنَا خَيْرُ بْنُ عَرَفَةَ، ثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ عَبْدِ الله بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، حَدَّثَنِي لُقْمَانُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَدِيٍّ الْبَهْرَانِيُّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي أَحْرَزَهُمَا الله مِنَ النَّارِ: عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ، وَعِصَابَةٌ تَكُونُ مَعَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ثوبان رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے دو گروہ ہیں جن کو الله اگ سے بچائے گا ایک وہ جو ہند سے لڑے گا اور دوسرا وہ جو عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ ہو گا

ثوبان المتوفی ٥٤ ھ نبی صلی الله علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے ، ان کو ثوبان النَّبَوِيُّ رضی الله عنہ کہا جاتا ہے- یہ شام میں رملہ میں مقیم رہے کتاب سیر الاعلام النبلاء کے مطابق

وَقَالَ مُصْعَبٌ الزُّبَيْرِيُّ: سَكَنَ الرَّمْلَةَ، وَلَهُ بِهَا دَارٌ، وَلَمْ يُعْقِبْ، وَكَانَ مِنْ نَاحِيَةِ اليَمَنِ.

اور مُصْعَبٌ الزُّبَيْرِيُّ کہتے ہیں یہ الرَّمْلَةَ میں رہے جہاں ان کا گھر تھا اور واپس نہیں گئے اور یہ یمنی تھے

تاریخ الکبیر از امام بخاری کے مطابق ثوبان رضی الله عنہ سے سننے کا دعوی کرنے والے عَبد الأَعلى بْنُ عَدِي، البَهرانِيّ، قَاضِي حِمص ہیں جو ١٠٤ ھ میں فوت ہوئے ہیں – ان کی توثیق متقدمین میں سے صرف ابن حبان نے کی ہے ان سے سننے والے لقمان بن عامر الوصابى یا الأوصابى المتوفی ١٢٠ ھ ہیں ان کا درجہ صدوق کا جو ثقاہت کا ادنی درجہ ہے- ہے اور أبو حاتم کہتے ہیں يكتب حديثه ان کی حدیث لکھ لی جائے – عموما یہ الفاظ اس وقت بولے جاتے ہیں جب راوی کی توثیق اور ضیف ہونے پر کوئی رائے نہ ہو اور ان کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہے – ان سے سنے والے مُحَمَّد بْن الوليد الزُّبَيْدِيُّ المتوفی ١٤٩ ھ ہیں جو ثقہ ہیں- لب لباب یہ ہے کہ اس کی سند بہت مظبوط نہیں اور ایسی حدیث پر دلیل نہیں لی جاتی ان کو لکھا جاتا ہے حتی کہ اس کا کوئی شواہد مل جائے

کتاب الفتن از نعیم بن حماد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ صَفْوَانَ، عَنْ بَعْضِ الْمَشْيَخَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ الْهِنْدَ، فَقَالَ: «لَيَغْزُوَنَّ الْهِنْدَ لَكُمْ جَيْشٌ، يَفْتَحُ الله عَلَيْهِمْ حَتَّى يَأْتُوا بِمُلُوكِهِمْ مُغَلَّلِينَ بِالسَّلَاسِلِ، يَغْفِرُ الله ذُنُوبَهُمْ، فَيَنْصَرِفُونَ حِينَ يَنْصَرِفُونَ فَيَجِدُونَ ابْنَ مَرْيَمَ بِالشَّامِ» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنْ أَنَا أَدْرَكْتُ تِلْكَ الْغَزْوَةَ بِعْتُ كُلَّ طَارِفٍ لِي وَتَالِدٍ وَغَزَوْتُهَا، فَإِذَا فَتْحَ الله عَلَيْنَا وَانْصَرَفْنَا فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرِّرُ، يَقْدَمُ الشَّامَ فَيَجِدُ فِيهَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَلَأَحْرِصَنَّ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَأُخْبِرُهُ أَنِّي قَدْ صَحِبْتُكَ يَا رَسُولَ الله، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَحِكَ، ثُمَّ قَالَ: «هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ»

بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيد ، صَفْوَانَ سے وہ اپنے بعض مشائخ سے وہ ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ

ضرور تمہارا ایک لشکر ہندوستان سے جنگ کرے گا الله ان مجاہدین کو فتح عطا کرے گا حتی کہ وہ ان ہندووں کے بادشاہوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے اور الله ان کی مغفرت کرے گا پھر جب مسلمان واپس جائیں گے تو عیسیٰ ابن مریم کو شام میں پائیں گے- ابو بریرہ نے کہا اگر میں نے اس جنگ کو پایا تو نیا، پرانا مال سب بیچ کر اس میں شامل ہوں گا پس جب الله فتح دے گا اور ہم واپس ہوں گے تو میں عیسیٰ کو شام میں پاؤں گا اس پر میں با شوق ان کو بتاؤں گا کہ میں اے رسول الله آپ کے ساتھ تھا- اس پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم مسکرائے اور ہنسے اور کہا بہت مشکل مشکل

بقية بن الوليد بن صائد مدلس ہیں جو ضعیف اور مجھول راویوں سے روایت کرنے پر بدنام ہیں اس میں بھی عن سے روایت کرتے ہیں اور کتاب المدلسن کے مطابق تدليس التسوية تک کرتے ہیں یعنی استاد کے استاد تک کو ہڑپ کر جاتے ہیں صَفْوَانَ کا اتا پتا نہیں جس سے یہ سن کر بتا رہے ہیں اور وہ اپنے مشائخ کا نام تک نہیں لیتے

ایسی روایت پر اعتماد کیسے کیا جا سکتا ہے

مسند احمد کی روایت ہے

حدثنا هُشيم عن سَيَّار عن جَبْر بن عَبِيدَة عن أبي هريرة، قال: وعدَناِ رسول الله – صلى الله عليه وسلم – في غزوة الهند، فإن اسْتُشْهِدْتُ كنتُ من خير الشهداء، وإن رجعت فأنا أبو هريرة المُحَرَّرَةُ.

جَبْر بن عَبِيدَة ، أبي هريرة سے روایت کرتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے غزوہ ہند کا وعدہ کیا پس اگر اس کو پاؤ تو میں سب سے بہتر شہداء میں سے ہوں گا

الذھبی کتاب ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين میں کہتے ہیں

جبر بن عبيدة، أو جبير: عن أبي هريرة، مجهول

احمد شاکر نے اس روایت کو صحیح کہا ہے لیکن انہوں نے اس کی کوئی بھی مظبوط دلیل نہیں دی بلکہ یہ راوی مجھول ہے اس کی نہ توثیق ہے نہ جرح اور ایسے راویوں کو مجھول ہی کہا جاتا ہے اس کی مثالیں اتنی زیادہ ہیں کہ بے حساب – لہذا یہ روایت صحیح نہیں – البانی اور شعيب الأرناؤوط بھی اس کو ضعيف الإسناد کہتے ہیں اسی راوی کی سند سے سنن الکبری نسائی ، مستدرک حاکم، سنن الکبری البیہقی بَابُ مَا جَاءَ فِي قِتَالِ الْهِنْدِ میں روایت ہوئی ہے

عصمت الله کتاب غزوہ ہند میں اس کو پیش کرتے ہیں لیکن اس مجھول راوی کا اتا پتا ان کو بھی نہیں

عصمت الله صاحب کتاب میں لکھتے ہیں کہ اس روایت کو امام بخاری نے تاریخ الکبیر میں لکھا ہے

جرح و تعدیل کی کتابوں میں اس روایت کو لکھا گیا ہے کیونکہ اس مخصوص روایت کو صرف جبر بن عبيدة ہی نقل کرتا ہے نہ کہ یہ کوئی خوبی کی بات ہے

مسند احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا الْبَرَاءُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَلِيلِي الصَّادِقُ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْثٌ إِلَى السِّنْدِ وَالْهِنْدِ، فَإِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُ فَاسْتُشْهِدْتُ فَذَاكَ، وَإِنْ أَنَا فَذَكَرَ كَلِمَةً رَجَعْتُ وَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ قَدْ أَعْتَقَنِي مِنَ النَّارِ

ابو ھریرہ کہتے ہیں

میرے دوست رسول الله نے مجھے بتایا کہ اس امت میں سند اور ہند کی طرف روانگی ہو گی اگر کوئی اس کو پائے تو ٹھیک اور اگر واپس پلٹ آئے تو میں ابو بریرہ ایک محرر ہو گا جس کو الله جہنم سے آزاد کر دے گا

شعيب الأرناؤوط اس کو إسناده ضعيف کہتے ہیں – عصمت الله کتاب غزوہ ہند میں اس کو بڑے طمطراق کے ساتھ پیش کرتے ہیں جبکہ اسنادہ ضعیف

الحسن البصري کے لئے کہا جاتا ہے – لم يسمع من أبي هريرة انہوں نے ابو ھریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا

نعیم بن حماد کی چوتھے درجے کی کتاب الفتن کی روایات بھی عصمت الله صاحب نے پیش کی ہیں مثلا کعب الاحبار کا قول جس کو حدیث کہا ہے اور اس کے ساتھ رضی الله عنہ بھی لگا دیا ہے کہ گویا وہ کوئی صحابی ہو- قول ہے

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: «يَبْعَثُ مَلِكٌ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ جَيْشًا إِلَى الْهِنْدِ فَيَفْتَحُهَا، فَيَطَئُوا أَرْضَ الْهِنْدِ، وَيَأْخُذُوا كُنُوزَهَا، فَيُصَيِّرُهُ ذَلِكَ الْمَلِكُ حِلْيَةً لَبَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَيُقْدِمُ عَلَيْهِ ذَلِكَ الْجَيْشُ بِمُلُوكِ الْهِنْدِ مُغَلَّلِينَ، وَيُفْتَحُ لَهُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، وَيَكُونُ مَقَامُهُمْ فِي الْهِنْدِ إِلَى خُرُوجِ الدَّجَّالِ»

کعب نے کہا کہ بیت المقدس کے بادشاہ کی جانب سے ہندوستان کی جانب لشکر روانہ کیا جائے گا پس ہند کو پامال کیا جائے گا اور اس کے خزانوں پر قبضہ کریں گے اور اس سے بیت المقدس کو سجائیں گے وہ لشکر ہند کے بادشاہوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائے گا اور مشرق و مغرب فتح کرے گا اور دجال کا خروج ہو گا

اس کی سند میں الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ اور کعب کے درمیان مجھول راوی ہے جس کا نام تک نہیں لیا گیا- عصمت الله صاحب بھی اس کو منقطع کہتے ہیں تو پھر دلیل کیسے ہو گئی

ضعیف احادیث کی بنیاد پر لوگوں کو گمراہ کرنا مجھول راویوں پر یقین کرنا کہاں کا انصاف ہے

جنگ ہند کی روایت نہایت کمزور ہیں اور اگر یہ صحیح بھی ہوں تو یہ جنگ محمد بن قاسم رحمہ الله علیہ کی سربراہی میں ہو چکی ہے

اسی طرح کا مغالطہ ترکوں کو بھی ہوا اور کئی سو سال تک ترک بخاری کی قیصر کے شہر پر حملہ والی روایت کو اپنے خلفاء پر ثبت کرتے رہے جبکہ وہ لشکر جس نے سب سے پہلے قیصر کے شہر پر حملہ کیا وہ یزید بن معاویہ رحمہ الله علیہ کا لشکر تھا نہ کہ کوئی اور

یونانی لوگوں نے اندر سے منسوب اندر ندی کو انڈس ندی کہا اور وقت کے ساتھ عربوں میں یہی مقام ہند کہلایا

جواب

بخاری کی عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث ہے کہ چند جو تھے جو گھر میں تھے اور ایک زرہ تھی جو یہودی کے پاس گروی تھی -اس کے علاوہ کچھ استعمال کی اشیا تھیں مثلا چادر نعل تلوار قدح وغیرہ تو وہ خاندان میں بٹا جیسے چادر عائشہ رضی الله عنہا نے لی- تلوار علی رضی الله عنہ نے کیونکہ نبی صلی الله علیہ وسلم کا حکم تھا کہ اہل بیت اپنے ضرورت کے تحت لے سکتے ہیں – ایک نعل کے لئے اتا ہے کہ وہ صحابی رسول انس بن مالک کے پاس تھے لیکن اس میں یہ ثابت نہیں کہ یہ ان کو وفات کے بعد ملے بلکہ زندگی ہی میں بہت سی اشیاء آپ صلی الله علیہ وسلم خود بھی تحفتا دیتے تھے ظاہر ہے یہ اشیاء ترکہ میں شمار نہیں ہوتیں جس پر شریعت کے قواعد کے مطابق تقسیم کی جاتی ہے ایسا صرف جائیداد کے لئے ہو سکتا ہے اس کے علاوہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی انگوٹھی یا مہر خلفاء نے لی کیونکہ خلیفہ کی حثیت سے آفیشل مہر ان کا ہی حق تھا حتی کہ عثمان رضی الله عنہ سے وہ کنواں میں گر گئی اس میں بھی الله کی مصلحت تھی ورنہ پتا نہیں رسول الله کے نام سے کتنے ہی فرمان بعد میں جھوٹے لوگ منسوب کرتے

نبی صلی الله علیہ وسلم کی بیویوں کے حجرات امہات المومنین کی ملکیت تھے جو ان کو بطور تحفہ ملے تھے

عمر رضی الله عنہ نے بطور خلیفہ یہ ارادہ کیا کہ مسجد النبی کی توسیع کریں اور ان میں حجرات بھی داخل کر دیے جائیں لہذا اس پر ابن عباس سے مشورہ کیا

واقدی کا قول طبقات ابن سعد میں ہے

وَهَدَمَ عُمَرُ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَزَادَ فِيهِ وَأَدْخَلَ دَارَ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِيمَا زَادَ. وَوَسَّعَهُ وَبَنَاهُ لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ بِالْمَدِينَةِ. وَهُوَ أَخْرَجَ الْيَهُودَ مِنَ الْحِجَازِ وَأَجْلاهُمْ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ إِلَى الشَّامِ.

عمر نے مسجدالنبی کو منہدم کیا اور اس میں عباس رضی اللہ عنہ کا گھر داخل کیا اور اس کو وسعت دی اور تعمیر کی جب لوگوں کی کثرت ہو گئی اور انہوں نے حجاز سے یہود کو نکال دیا اور جزیرہ العرب سے شام منتقل کیا

عمر رضی الله عنہ کا ارادہ تھا کہ امہات المومنین کے گھر مسجد میں شامل ہوں لیکن عباس رضی الله عنہ نے منع کیا اور کافی بحث کے بعد عباس نے کہا

أَمَّا إِذْ فَعَلْتَ هَذَا فَإِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ أُوَسِّعُ بِهَا عَلَيْهِمْ فِي مَسْجِدِهِمْ فَأَمَّا وَأَنْتَ تُخَاصِمُنِي فَلا. قَالَ فَخَطَّ عمر لهم دارهم التي هي لهم الْيَوْمُ وَبَنَاهَا مِنْ بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ.

اگر اپ ایسا کرنا ہی چاہتے ہیں تو میں اپنا گھر صدقه کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے لئے ان کی مسجد وسیع ہو اور آپ اس پر مجھ سے جھگڑا نہیں کریے گا پس عمر نے ان کو گھر دیا اور بیت المال سے اس کو بنوایا

امہات المومنین کے حجرات کوئی حسین عمارتیں نہیں تھیں

نعمان الوسي سوره الحجرات كي تفسير میں لکھتے ہیں

والمراد حجرات نسائه عليه الصلاة والسلام وكانت تسعة لكل منهن حجرة، وكانت كما أخرج ابن سعد عن عطاء الخراساني من جريد النخل على أبوابها المسوح من شعر أسود. وأخرج البخاري في الأدب. وابن أبي الدنيا والبيهقي عن داود بن قيس قال: رأيت الحجرات من جريد النخل مغشى من خارج بمسوح الشعر، وأظن عرض البيت من باب الحجرة إلى باب البيت ست أو سبع أذرع، وأحزر البيت الداخل عشرة أذرع، وأظن السمك بين الثمان والسبع.

اور حجرات سے مراد نبی صلی الله علیہ وسلم کی بیویاں ہیں جو نو تھیں اور ان میں ہر ایک کے لئے الگ حجرہ تھا

الوسی راویات کا حوالہ دیتے ہیں کہ ان کے دروازے کھجور کی چھال والے تھے جن پر باہر سے کالا روا لگا ہوا تھا

ادب المفرد کی روایت ہے

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هِلَالٍ: أَنَّهُ رَأَى حُجَرَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَرِيدٍ مَسْتُورَةً بِمُسُوحِ الشَّعْرِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ بَيْتِ عَائِشَةَ؟ فَقَالَ: كَانَ بَابُهُ مِنْ وِجْهَةِ الشَّامِ

محمّد بن ہلال کہتے ہیں انہوں نے ازواج نبی کے حجرات دیکھے جو ٹہنی سے بنے تھے جس پر بال تھے پس ان سے عائشہ رضی الله عنہا کے حجرہ کا پوچھا تو کہا اس کا دروازہ شام کی طرف تھا

صحیح بخاری کے مطابق حجرہ عائشہ مسجد کے مشرق میں تھا کیونکہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور کہا فتنہ وہاں ہے دوسری روایت میں ہے حجرہ عائشہ کی طرف اشارہ کیا آج تک یہی مقام حجرہ عائشہ کے طور پر معروف ہے جس میں قبر نبی ہے

عصر حاضر کے بعض غالی شیعوں نے یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ حجرہ عائشہ مسجد کے قبلہ کی طرف تھا یہ بات ثابت نہیں اس صورت میں جو بھی منبر پر ہو حجرہ اس کی پشت پر آ جائے گا

بنیادی طور سے مسجد انگریزی زبان کے ایک کے حرف

L

کے نشان کی تھی

جب نبی صلی الله علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہوتے تو سر مبارک حجرے کے اندر کر دیتے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بالوں کے اندر کنگھا کر دیتیں۔ کبھی مسجد میں بیٹھے بیٹھے حجرہ کے اندر ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز مانگ لیتے۔

رافضیوں کی طرف سے یہ کاوش اس لئے کی جاتی ہے کہ کسی طرح قبر نبی کو علی رضی الله عنہ کے گھر میں ثابت کیا جائے لیکن اس کے نتائج دور رس ہیں – اس صورت میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ علی نے ابو بکر اور عمر کی تدفین اپنے گھر میں کی

لوگوں نے مخالفت کی لیکن پھر بھی ان کو ڈھا دیا گیا صرف حجرہ عائشہ رضی الله عنہا کو رکھا کیونکہ اس میں نبی صلی الله علیہ وسلم اور شیخین مدفون ہیں اس کے گرد ایک منڈیر بنا دی گئی

سعید بن المسیب کہا کرتے تھے کہ کاش ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا کہ لوگ دیکھتے کہ یہ کسقدر سادہ تھے

جواب

کچھ ضعیف احادیث میں یہ اتا ہے البانی نے الضعیفہ میں ان کا ذکر کیا ہے
(لا تنكحوا القرابة القريبة؛ فإن الولد يخلق ضاوياً) .
لا أصل له مرفوعاً
اس کا کوئی اصل نہیں

اسی طرح کا ایک قول عمر رضی الله عنہ سے منسو ب ہے
البانی کہتے ہیں کہ یہ تمام اقوال ضعیف ہیں جو غزالی نے الا حیا علوم الدین میں ذکر کیے ہیں
لیکن ان میں کوئی بھی حدیث ثابت نہیں

البانی کہتے ہیں یہ عمر کے قول کے طور پر مشھور ہے
قلت: إنما يعرف من قول عمر أنه قال لآل السائب: قد أضويتم؛ فانكحوا في النوابغ.

عمر نے ال السائب سے کہا تم نقصان اٹھاتے ہو پس اجنبی سے نکاح کرو

کتاب المجالسة وجواهر العلم از الدينوري کے مطابق
يَا بَنِي السَّائِبِ! إِنَّكُمْ قَدْ أَضْوَيْتُمْ؛ فَانْكِحُوا فِي النَّزَائِعِ

لیکن یہ عمر رضی الله عنہ کا مبہم قول ہے نقصان اٹھانے سے کیا مراد ہے؟

اسی طرح کا قول رسول الله سے منسوب ہے جس کے لئے العراقی کہتے ہیں
قلت: وفي الصحاح للجوهري في الحديث اغتربوا لا تضووا أي تزوّجوا في الأجنبيات ولا تتزوجوا في العمومة وذلك أن العرب تزعم أن ولد الرجل من قرابته يجيء ضاوياً نحيفاً غير أنه يجيء كريماً على طبع قومه قال الشاعر: ذاك عبيد قد أصاب ميا * يا ليته ألحقها صبيا * فحملت فولدت ضاويا اهـ. وما رواه إبراهيم الحربي رواه أبو نعيم في فضل النفقة على البنات كذا بخط الحافظ ابن حجر.
قال ابن السبكي: (6/ 310) لم أجد له إسناداً.

یہ بھی ثابت نہیں

قرآن و حدیث میں اس پر کوئی پابندی نہیں

یہ نو ایجاد بدعتی نکاح ہے
اس میں عورت اپنے حقوق سے نکاح سے پہلے دست بردار ہو جاتی ہے اور مرد جب چاہتا ہے اس سے ملتا ہے
تو گویا مرد حالت سفر میں یا سیر میں ہوتا ہے اور اسی مبالغہ پر اس کو مسیار کہا جاتا ہے یعنی جو گھومتا پھرے

یہ نکاح خفیہ بھی رکھا جاتا ہے

لہذا نکاح کیسے ہوا متعہ کی قبیل کی شی ہے یا اس کی اعلی شکل ہے لہذا حرام ہے

جواب

ترمذی میں عائشہ رضی الله عنہا کا قول ہے
وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ وَقَدْ قَالَتْ عَائِشَةُ: ” إِذَا بَلَغَتِ الجَارِيَةُ تِسْعَ سِنِينَ فَهِيَ امْرَأَةٌ
الألباني في إرواء الغليل: 1/199 إنه موقوف على عائشة.

جب لڑکی نو سال کی ہو تو وہ بالغ ہے

بنو قریظہ کے فیصلے کے وقت ١٤ سال تک کے لڑکے کو قتل کر دیا گیا
لیکن یہ فیصلہ بلوغت کی وجہ سے شرم گاہ کے بال دیکھ کر کیا

یہودیوں میں ١٣ سال کا لڑکا بالغ ہوتا ہے
لہذا بنو قریظہ کے مردوں ١٤ سال تک کے لڑکوں کو قتل کر دیا گیا

لڑکی کی بلوغت اس عمر سے کم ہو گی

لڑکیاں لڑکوں سے پہلے بالغ ہو جاتی ہیں لہذا بلوغت کی عمر ٩ سے ١٤ کے درمیان ہوئی
٩ سال کم از کم عمر ہے

امام احمد اور اسحاق سے پوچھا گیا کہ لڑکی کو کب محرم کی ضرورت ہے
: مسائل الإمام أحمد بن حنبل وإسحاق بن راهويه
المؤلف: إسحاق بن منصور بن بهرام، أبو يعقوب المروزي، المعروف بالكوسج (المتوفى: 251هـ)

قلت: الجارية متى تحتاج إلى محرم؟
قال: إذا كان مثلها تُشتَهى، بنت تسعٍ امرأة
کہا نو سال کی جب ہو

امام احمد یہ بھی کہتے ہیں
ولا أرى للرجل أن يدخل بها إذا زوجت وهي صغيرة دون تسع سنين
اور میں نہیں دیکھتا کہ کوئی شخص شادی کے بعد تعلق قائم کرے اور وہ نو سال سے چھوٹی ہو
——
كشاف القناع عن متن الإقناع
المؤلف: منصور بن يونس بن صلاح الدين ابن حسن بن إدريس البهوتى الحنبلى (المتوفى: 1051هـ)

ابن عقیل کہتے ہیں
وَذَكَرَ ابْنُ عَقِيلٍ أَنَّ نِسَاءَ تِهَامَةَ يَحِضْنَ لِتِسْعِ سِنِينَ
تہامہ کی عورتوں کو نو سال میں ہی حیض آ جاتا ہے

اب اس کا تعلق آب و ہوا اور غذا سے ہوا کہ کوئی لڑکی پہلے بالغ ہو گی اور کوئی ہو سکتا ہے ١٤ سال کے بھی بعد ہو لہذا نو سال کا تعین نہیں کرنا چاہیے کہ نو سال کی ہوئی اور اس کو بالغ سمجھا جانے لگا
یہ غلط ہو گا

عائشہ رضی الله عنہا کی شادی کی نو سال میں ہوئی اس کی وجہ ایک غیبی اشارہ تھا جو خواب کی صورت نبی صلی الله علیہ وسلم نے دیکھا یہ ایک خاص واقعہ تھا ورنہ رسول الله کو کپڑے میں لپٹی ایک بچی نہ دکھائی جاتی

دوم اگر ان کی عمر ١٩ سال ہوتی تو کوئی تردد بھی نہیں ہوتا اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو غیبی اشارہ بھی نہیں دیا جاتا

جواب

یہ روایت سنن ابو داود اور ابن’ ماجہ میں ہے اس کی سند میں داود بن جمیل بعض کے نزدیک مجھول ہے اور بعض اس کو ضعیف کہتے ہیں
الذھبی میزان میں کہتے ہیں
عن أبي الدرداء بخبر من سلك طريقا يطلب علما.
وعنه عاصم بن رجاء ابن حيوة.
حديثه مضطرب.
وضعفه الأزدي.
وأما ابن حبان فذكره في الثقات.
وداود لا يعرف كشيخه.
وقال الدارقطني في العلل: عاصم ومن فوقه ضعفاء.
ولا يصح.

الغرض یہ روایت اس سند سے ضعیف ہے

البتہ ترمزی میں اس کی ایک دوسری سند ہے اور اس پر امام ترمذی کہتے ہیں کہ امام بخاری کے نزدیک یہ اصح ہے
«وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ خِدَاشٍ، وَرَأْيُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ هَذَا أَصَحُّ»

اس روایت کو حسن کہا جا سکتا ہے

شیعہ حضرات اس کو رد کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ امامت کا عقیدہ رکھتے ہیں جس تی تقرری من جانب الله ہوتی ہے
لیکن اس کی کوئی دلیل قرآن میں نہیں ہے اور یہ عقیدہ بندہ ایجاد ہے

انصاف یہ ہے یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ یہ صحیح سند سے نہیں آئی اور دو طرق ہونے پر حسن ہوئی

کہا جاتا ہے کہ یہ صحیح بخاری میں بھی ہے اور باب پیش کیا جاتا ہے

بسم اللَّه الرحمن الرحيم
بَاب الْعِلْمُ قَبْلَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَبَدَأَ بِالْعِلْمِ وَأَنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَرَّثُوا الْعِلْمَ مَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ بِهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ ” – ص 38 -” وَقَالَ جَلَّ ذِكْرُهُ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ وَقَالَ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ وَقَالَ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ وَقَالَ أَبُو ذَرٍّ لَوْ وَضَعْتُمْ الصَّمْصَامَةَ عَلَى هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ ظَنَنْتُ أَنِّي أُنْفِذُ كَلِمَةً سَمِعْتُهَا مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تُجِيزُوا عَلَيَّ لَأَنْفَذْتُهَا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ حُلَمَاءَ فُقَهَاءَ وَيُقَالُ الرَّبَّانِيُّ الَّذِي يُرَبِّي النَّاسَ بِصِغَارِ الْعِلْمِ قَبْلَ كِبَارِهِ—————————————————————————–
علم (کا درجہ ) کا قول و عمل سے پہلے ہے اس لئے کہ :
اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے ” فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ” ( آپ جان لیجئے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے تو (گویا) اللہ تعالٰی نے علم سے ابتداء فرمائی اور(حدیث میں ہے ) کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں (اور پیغمبروں نے علم (ہی) کا ورثہ چھوڑا ہے ۔ پھر جس نے علم حاصل کیا اس نے (دولت کی ) بہت بڑی مقدار حاصل کر لی اور جو شخص کسی راستے پر حصول علم کے لئے چلے ، اللہ تعالٰی اس کے لئے جنت کی راہ آسان کر دیتا ہے ۔ اور اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں‌جو علم والے ہیں‌۔ اور (دوسری جگہ ) فرمایا اور اس کو عالموں کے سوا کوئی نہیں سمجھتا ۔ اور فرمایا ، اور ان لوگوں (کافروں ) نے کہا اگر ہم سنتے یا عقل رکھتے تو جہنمی نہ ہوتے ۔ اور فرمایا ، کیا علم والے اور جاہل برابر ہیں ؟ اور رسول اللہ نے فرمایا ، جس شخص کے ساتھ اللہ بھلائی کرنا چاہتا ہے تواسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے ۔ اور علم تو سیکھنے ہی سے آتا ہے ۔ اور حضرت ابوذر کا ارشاد ہے کہ اگر تم اس پر تلوار رکھ دو ، اور اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا ، اور مجھے گمان ہو کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو ایک کلمہ سنا ہے ، گردن کٹنے سے پہلے بیان کرسکوں‌گا تو یقننا میں اسے بیان کرہی دوں گا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ حاضرکو چاہے کہ (میری بات) غائب کو پہنچا دے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آیت ” کونو ربانین ” سے مراد حکماء فقہا، علماء ہیں اورربانی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو بڑے مسائل سے پہلے چھوٹے مسائل سمجھا کرلوگوں‌کی (علمی ) تربیت کرے ۔

اس کا جواب ہے کہ

یہ باب کی معلق روایات ہیں یعنی یہ اس صحیح سند سے نہیں ہیں جو امام بخاری کی شرط ہے ابواب میں اس قسم کی روایات ہیں جن کی اسناد مظبوط نہیں ہیں لیکن چونکہ یہ اس دور میں بہت چل رہی تھیں اس لئے ان کو بیان کیا گیا

عائشہ رضی اللّہ عنہا کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ کو رسول الله کی دیگر بیویوں کے ساتھ دفن کرنا کیونکہ مجھ سے نیا کام ہوا

جواب

ابن ابی شیبه کی روایت کہ جب عائشہ رضی اللّہ عنہا کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ کو رسول الله کی دیگر بیویوں کے ساتھ دفن کرنا کیونکہ مجھ سے نیا کام ہوا
أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ لَمَّا حَضَرَتْهَا الْوَفَاةُ: ادْفِنُونِي مَعَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِنِّي كُنْتُ أَحْدَثْتُ بَعْدَهُ حَدَثًا ”
اس کی سند میں وہی قیس بن ابی حازم ہے جو کہتا ہے میں عائشہ رضی الله کے لشکر میں تھا اور پھر حواب کی روایت بیان کرتا ہے اور علی کے ساتھ صفین میں لڑا
اب یہ کوفہ سے واپس ام المومنین کے پاس پہچ گیا ہے اور ان کی وفات کے وقت ساتھ ہے

كتاب المختلطين أز العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق یہ اختلاط کا شکار ہوا
قال يحيى بن سعيد: منكر الحديث.
وقال إسماعيل بن أبي خالد: كبر قيس بن أبي حازم حتى جاوز المائة بسنين كثيرة حتى خرف وذهب عقله.

یحییٰ بن سعید کہتے ہیں منکر الحدیث ہے
اور کوفہ کے اسمٰعیل بن ابی خالد کہتے ہیں اس کی سو سال سے اوپر عمر ہوئی حتی کہ عقل چلی گئی

مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت کو بھی اسماعیل بن ابی خالد نے اس سے سنا ہے جو اختلاط کا عالم لگتا ہے کیونکہ ام المومنین اگر حجرہ عائشہ میں دفن ہوتیں تو کسی اور کے لئے جگہ نہ رہتی یہ حجرہ پر عبد الله ابن زبیر کو ملا

دوم دیگر احادیث میں ان کی وفات کے وقت الفاظ موجود ہیں جن میں یہ والے نہیں

ایک صاحب کہتے ہیں

جیسا کہ ہم نے پڑھا کہ جادو حرام ہے اور اس کی وجہ ا س میں شرک کی علت کا ہونا ہے۔ ظاہر ہے اللہ تعالی اپنے فرشتوں کے ذریعے اس قسم کا کوئی علم کیسے اتار سکتے ہیں جس میں شرک کی آلائش ہو۔ میری رائے کے تحت ہاروت و ماروت پر اتارا گیا علم پیراسائکلوجی کے جائز علوم میں سے ایک تھا ۔ البتہ اس کا استعمال منفی و مثبت دونوں طریقوں سے کیا جاسکتا تھا۔ جیسا کہ اسی آیت میں ہے:
غرض لوگ ان سے (ایسا) سحر سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (سحر) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔(البقرہ ۱۰۲:۲)
اس آیت میں ہے کہ اس علم سے فائدہ بھی پہنچ سکتا تھا اور نقصان بھی ۔ لیکن انہوں نے صرف نقصان پہنچایا جس میں سرفہرست میاں بیوی میں جدائی تھی۔ اس کی وجہ بھی کچھ علما کے نزدیک یہ تھی کہ بنی اسرائل کو اس دور میں غیر یہودی عورت سے شادی کرنا ممنوع تھا۔ اس وقت خواتین کی کمی تھی اس لَئے لوگ جدائی ڈلواکر اس کی عورت کو اپنی بیوی بنانا چاہتے تھے۔ تو بہر حال وہ علم کسی طور شرکیہ یا ممنوع علم نہ تھا بلکہ اپنی اصل میں جائز تھا۔ اس کے منفی استعمال کی مذمت کی گئی ہے۔ یعنی وہ علم اپنی ذات میں حرام نہیں بلکہ آزمائش تھا ۔ البتہ اس کا منفی استعمال اسے حرام بنا رہا تھا

جواب

ہر علم من جانب الله ہے اور اس کی تاثر بھی من جانب الله ہے سحر الله نے اتارا جو ایک عمل ہے جو راقم کے علم کے مطابق اسماء الحسنی سے شروع ہوتا ہے اور شرک پر منتج ہوتا ہے اس پر یہود کی قدیم کتب سحر دیکھی جا سکتی ہیں یہاں ان کی تفصیل نہیں دی جا سکتی کہ یہ کیا ہے کیونکہ یہ پھر سحر سکھانے کے مترادف ہو سکتا ہے
لیکن یہ علم شرکیہ عمل پر لے کر جاتا ہے اور علم نجوم اس کی قبیل سے ہے اسی لئے حدیث میں علم نجوم سے دور رہنے کے لئے کہا گیا ہے

جادو سحر آج تک یہودی کرتے ہیں مسلمان کرتے ہیں اور اس کا مخزن اگر کوئی اور ہوتا تو قرآن میں صاف آتا اس کو مبہم نہ رکھا جاتا
دوم ساحر کو علم ہوتا ہے کہ وہ شرک کر رہا ہے اور ایک ممنوع عمل ہے اسی لئے جب موسی کا عصا ساحروں کا جادو توڑتا ہے تو وہ کہتے ہیں

إِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا وَمَا أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ وَاللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَى
هم اپنے رب پر ایمان لائے کہ وہ ہمارے گناہوں کی مغفرت کر دے اور ہم کو (اے فرعون) تم نے جادو پر مجبور کیا

جواب

عام طور پر لوگ کہتے ہیں کہ غزوہ سے مراد وہ لڑائی ہے جس میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم شریک ہوں لیکن یہ بات عربیت سے لا علمی کی ہے
عربی لغت کے مطابق تلوار سے لڑنا غزوہ کہلاتا ہے لہذا جس بھی جنگ میں ہاتھ سے قتال ہو وہ غزوہ ہے
چاہے یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پہلے ہو یا بعد میں

محمد بن اسحاق نے المغازی کے نام سے کتاب لکھی جس میں رسول الله کی غزوات کی تفصیل تھی اس کے بعد کسی حد تک یہ لفظ رسول الله کی جنگوں کے لئے مخصوص ہو گیا لیکن یہ عربی کے مطابق کسی بھی جنگ کے لئے استعمال ہو سکتا ہے

ابن قتیبہ نے غریب الحدیث میں اس کو دیگر معرکوں کے لئے بھی استعمال کیا ہے جو رسول الله کے بعد ہوئے مثلا غَزْوَة نهاوند وغیرہ
اسی طرح عرب مورخین نے عثمان رضی الله عنہ کے دور میں رومن سے جنگوں کو غَزْوَة الرّوم کہا ہے
مثلا شیعہ مورخ الاثیر نے الکامل فی تاریخ میں لکھا ہے
ذِكْرُ غَزْوَةِ الرُّومِ وَفَتْحِ جَزِيرَةِ أَرْوَادَ

لہذا عربی میں لفظ غزوہ رسول الله کی جنگ کے لئے خاص نہیں

جواب ایک روایت ابو داود اور سنن ابن ماجہ میں بیان ہوئی ہے

ابن ماجہ کی سند ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ سَفِينَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وعلى آله وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى مَا يَفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ

قتادہ روایت کرتے ہیں صالح ابی الخلیل سے وہ سفینہ سے وہ ام سلمہ رضی الله عنہا سے کہ بے شک رسول الله صلی الله علیہ وسلم وہ مرض جس میں ان کی وفات ہوئی اس میں نماز (کی پابندی) کا اور لونڈی غلاموں (سے حسن سلوک) کا کہتے رہے یہاں تک کہ وفات ہوئی

البانی اس روایت کو صحیح کہتے ہیں لیکن أبي عبدالرحمن مقبل بن هادي الوادعي نے باقاعدہ ان راویات کو بیان کیا ہے جو صحیح سمجھی گئی ہیں اور معلول ہیں لہذا کتاب أحاديث معلة ظاهرها الصحة میں لکھتے ہیں

قال البوصيري في”مصباح الزجاجة” (ج2ص51) : هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجا بجميع رواته ثم ذكر مخرجيه.
قال أبو عبد الرحمن: الحديث منقطع، ففي “تهذيب التهذيب” في ترجمة صالح بن أبي مريم أبي خليل انه أرسل عن سفينة.

البوصيري نے مصباح الزجاجة میں کہا ہے اس کی اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہیں کیونکہ ان دونوں نے ان سے دلیل لی ہے پھر اس کی تخریج نقل کی

ابو عبد الرحمن نے کہا یہ حدیث منقطع ہے پس تہذیب التہذیب میں صالح بن أبي مريم أبي خليل کے ترجمہ میں ہے کہ وہ سفینہ سے ارسال کرتے تھے

لہذا یہ بات ثابت نہیں ہے

المقدام بن معدي كرب سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا خبردار ہو سکتا ہے کہ ایک شخص ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور میری حدیث سنے تو کہے الله کی کتاب ہمارے تمھارے درمیان ہے اس میں ہم حلال کو حلال مانیں گے اور جو اس میں حرام ہو گا اس کو حرام مانیں گے اور جو چیز رسول الله نے حرام کی وہ ایسی ہی ہے جسے الله نے حرام کی

کیا یہ صحیح روایت ہے

جواب

اس روایت کو، حاکم ، ابن ماجہ اور ترمذی نے اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے – ان سب کی اسناد میں ان راویوں کا تفرد ہے

معاوية بن صالح عن الحسن بن جابر اللخمي عن المقدام بن معدي كرب

اس کی سند میں راوی الْحَسَن بْن جَابِر أَبُو عَبْد الرَّحْمَن الكندي الشامي ہے جو مجھول ہے ابن حبان نے حسب روایت ثقات میں ذکر کیا ہے لیکن ان پر نہ جرح ہے نہ متقدمین کی تعدیل ہے ایسے راوی کو مجھول کہا جاتآ ہے

تہذیب الکمال کے محقق دکتور بشار عواد معروف اس راوی پر تعلیق میں لکھتے ہیں

وَقَال الذهبي في “المجرد”: حمصي مستور

الذہبی نے المجرد في أسماء رجال سنن ابن ماجه میں کہا ہے یہ حمص کا مستور ہے

یعنی مجھول راوی ہے

اس کی سند میں مُعَاوِيَةَ بنِ صَالِحٍ بھی ہیں سیر الآعلام النبلاء از الذھبی ج ٧ ص ١٦٠ کے مطابق امام علی المدینی کہتے ہیں

قَالَ عَلِيُّ بنُ المَدِيْنِيِّ: سَأَلْتُ يَحْيَى بنَ سَعِيْدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بنِ صَالِحٍ، فَقَالَ: مَا كُنَّا نَأخُذُ عَنْهُ ذَلِكَ الزَّمَانَ وَلاَ حَرفاً.

میں نے يَحْيَى بنَ سَعِيْدٍ سے مُعَاوِيَةَ بنِ صَالِحٍ پر سوال کیا انہوں نے کہا ہم اس سے روایت نہیں لیتے اس دور میں ایک حرف بھی نہیں

میزان الآعتدال از الذھبی کے مطابق

قال الليث بن عبدة، قال يحيى بن معين: كان ابن مهدي إذا حدث بحديث معاوية بن صالح زجره يحيى بن سعيد.

الليث بن عبدة کہتے ہیں يحيى بن معين کہتے ہیں جیسے ہی ابن مہدی، معاوية بن صالح کی حدیث روایت کرتے ، يحيى بن سعيد ان کو ڈانٹتے

تاریخ الاسلام از الذھبی میں ہے قَالَ ابْن أَبِي حاتم: قَالَ أَبُو زرعة: ثقة محدّث.
وقال لِي أَبِي: حسن الحديث غير حُجّة

ابن ابی حاتم نے کہا أَبُو زرعة نے اس کو ثقہ محدث کہا لیکن میرے باپ نے کہا حسن الحدیث ہے حجت نہیں ہے

یعنی دلیل نہیں لی جا سکتی

ان علتوں کی بنا پر روایت اس طرق سے ضعیف ہے اور متقدمین محدثین ان راویوں کی روایت نا قابل استدلال سمجھتے تھے

عصر حاضر میں البانی، بن باز اور اہل حدیث علماء نے اس طرق کو بہت پسند کیا ہے

اس روایت کا ایک دوسرا طرق ہے جس کی سند مناسب ہے اور مسند احمد میں بیان ہوئی ہے

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَرِيزٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْقُرْآنَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ يَنْثَنِي شَبْعَانًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ، أَلَا لَا يَحِلُّ لَكُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ، وَلَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، أَلَا وَلَا لُقَطَةٌ مِنْ مَالِ مُعَاهَدٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا صَاحِبُهَا، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ، فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُمْ ، فَإِنْ لَمْ يَقْرُوهُمْ، فَلَهُمْ أَنْ يُعْقِبُوهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُمْ

الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

خبردار مجھ کو کتاب اور اس کے مثل دیا گیا ہے خبردار مجھ کو کتاب اور اس کے مثل دیا گیا ہے

ممکن ہے کہ کوئی مال و دولت کے نشہ سے سرشار اپنے تخت پر بیٹھ کر یہ کہے کہ تمہارے پاس قرآن ہے اس میں تم جو چیز حلال پاؤ اسے حلال سمجھو اور جو حرام پاؤ اسے حرام قرار دو۔ سُن لو! پالتو گدھے تمہارے لئے حلال نہیں (اسی طرح) درندوں میں سے کچلی والے بھی (حلال نہیں) اور معاہد (ذمی) کی گری پڑی چیز بھی حلال نہیں الا یہ کہ اس کا یہ مالک اس سے بے نیاز ہوجائے اور جو شخص کسی قوم کے ہاں مہمان ٹھہرے تو اس کی ضیافت و اکرام ان پر فرض ہے اگر وہ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو وہ اپنی مہمان نوازی کے بقدر ان سے لے سکتا ہے۔

اس پر دکتور شعيب الأرنؤوط اس روایت کے تحت کہتے ہیں

قلت: كأنه أراد به العرض لقصد رد الحديث بمجرد أنه ذُكر فيه ما ليس في الكتاب، وإلا فالعرض لقصد الفهم والجمع والتثبت لازم

میں کہتا ہوں کہ گویا اس ( حدیث) کو (قرآن پر) پیش کرنے کا مقصد مجرد حدیث کو رد کرنا ہے کہ اس میں اس چیز کا ذکر ہے جو کتاب الله میں نہیں (تو یہ صحیح نہیں) لیکن اگر پیش کرنا فہم اور جمع اور اثبات کے لئے ہو تو یہ لازم ہے

-حدیث رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا قول و فعل ہے- اس میں احکام نبوی، وحی کی نوع کے ہیں کیونکہ قرآن کی تعبیر و تشریح کرنا الله کا کام ہے- رسول شریعت نہیں بناتے وہ الله کی جانب سے انے والے احکام کی تشریح کرتے ہیں جو الله کی طرف سے رسول الله کو سمجھائی گئی

لہذا جب ایک بات رسول الله کی ہو تو اس کا انکار بھی کفر ہے

گمراہ فرقوں کی جانب سے اعتراض کیا جاتا ہے کہ عود روح حدیث میں آیا ہے لہذا اس کی روایت کو قرآن پر پیش نہیں کرنا چاہیئے اور قبول کرنا چاہیے لیکن یہ بات درست نہیں قرآن میں واضح طور پر امسک روح کا ذکر ہے کہ روح کو روک لیا جاتا ہے لہذا اس کو واپس جسد میں ڈالنے والی روایت صحیح نہیں

ابن حبان کے مطابق عود روح والی روایت کی سند میں ہی گھپلا ہے ذھبی اس کو نکارت و غرابت سے بھر پور قرار دیتے ہیں

مثل معہ والی روایت میں قابل اثر لوگوں کا حلال و حرام میں دخل بتایا گیا ہے جو قابل اعتراض ہے

أبو بسطام شعبة بن الحجاج بن الورد المتوفي ١٦٠ هجري کے نزدیک المنھال بن عمرو متروک تھا لہذا یہ عود روح کا عقیدہ اس دور میں محدثین رد کر چکے تھے

محدث خراسان محمد بن محمد بن أحمد بن إسحاق النيسابوري الكرابيسي ، الحاكم الكبير المتوفی ٣٧٨ھ ، مؤلف كتاب الكنى کہتے تھے کہ زاذآن کی روایت اہل علم کے نزدیک مظبوط نہیں ہے

کیا یہ اہل علم ، حدیث رسول کے مخالف تھے جو انہوں نے عود روح کی روایت کے راویوں کو ہی رد کر دیا؟

جواب

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا مُحَاضِرُ بْنُ الْوَزَعِ، نا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ شِبْلٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: قَالَ سَلْمَانُ: ” دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّةَ فِي ذُبَابٍ، وَدَخَلَ رَجُلٌ النَّارَ فِي ذُبَابٍ “، قَالُوا: وَمَا الذُّبَابُ؟، فَرَأَى ذُبَابًا عَلَى ثَوْبِ إِنْسَانٍ، فَقَالَ: ” هَذَا الذُّبَابُ “، قَالُوا: وَكَيْفَ ذَاكَ؟، قَالَ: ” مَرَّ رَجُلَانِ مُسْلِمَانِ عَلَى قَوْمٍ يَعْكِفُونَ عَلَى صَنَمٍ لَهُمْ، فَقَالُوا لَهُمَا: قَرِّبَا لِصَنَمِنَا قُرْبَانًا قَالَا: لَا نُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا، قَالُوا: قَرِّبَا مَا شِئْتُمَا وَلَوْ ذُبَابًا، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: مَا تَرَى؟، قَالَ أَحَدُهُمَا: لَا نُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا، فَقُتِلَ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ، فَقَالَ الْآخَرُ: بِيَدِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَأَخَذَ ذُبَابًا فَأَلْقَاهُ عَلَى الصَّنَمِ فَدَخَلَ النَّارَ

طارق بن شہاب کہتے ہیں سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی جنت میں ایک مکھی کی وجہ سے داخل ہوا اور ایک آدمی ایک مکھی کی وجہ سے جہنم میں – کہا گیا کیسی مکھی ؟ کون سی مکھی ؟ پس ایک کپڑے پر مکھی کو دیکھ کر کہا یہ مکھی – پوچھا کیسے ؟ سلمان نے کہا دو مسلمان آدمی ایک قوم پر سے گزرے جو اپنے بتوں پر مجاور تھی انہوں نے ان دو مسلمانوں سے کہا کہ ہمارے بت پر بھینٹ چڑھاو – مسلمان بولے ہم الله کے ساتھ شرک نہ کریں گے بت پرستوں نے کہا بھینٹ چڑھاو چاہے ایک مکھی ہی ہو – پس ایک مسلمان نے دوسرے سے کہا کیا خیال ہے ؟ دوسرے نے کہا ہم الله کے ساتھ شرک نہ کریں گے پس وہ جنت میں داخل ہوا دوسرے نے اپنے منہ پر ہاتھ مار کر مکھی پکڑی اور اس کا بھینٹ دیا وہ جہنم گیا

بیہقی شعب ایمان کی روایت کی سند میں طارق بن شہاب ہے جس کا رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سماع نہیں

کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل از صلاح الدين أبو سعيد خليل بن كيكلدي بن عبد الله الدمشقي العلائي (المتوفى: 761هـ)

قال أبو زرعة وأبو داود وغيرهما طارق بن شهاب له رؤية وليست له صحبة

ابو زرعہ اور ابو داود اور دوسروں نے کہا طارق بن شہاب نے رسول الله کو صرف دیکھا ، صحابی نہیں ہے

طارق کی یہ روایت سلمان رضی الله عنہ سے ہے لیکن سند میں آعمش مدلس ہے جو عن سے روایت کر رہا ہے

اوپر سند میں الْحَارِثِ، عَنْ شِبْلٍ، ہے جو غلطی ہے اصل میں الْحَارِثِ بن ْ شِبْل ہے جو دیگر اسناد کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے – الحارث بن شبل کے لئے کتاب إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال از مغلطاي (المتوفى: 762هـ) کے مطابق يعقوب بن سفيان کہتے

قال يعقوب بن سفيان: الحارث بن شبل مجهول، لا يعرف.

يعقوب بن سفيان کہتے ہیں الحارث بن شبل مجھول ہے ، نہیں جانا جاتا

اس روایت کی ایک دوسری سند ہے جو کتاب الزہد از امام احمد میں ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ: «دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّةَ فِي ذُبَابٍ، وَدَخَلَ النَّارَ رَجُلٌ فِي ذُبَابٍ» قَالُوا: وَكَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ: ” مَرَّ رَجُلَانِ عَلَى قَوْمٍ لَهُمْ صَنَمٌ لَا يَجُوزُهُ أَحَدٌ حَتَّى يُقَرِّبَ لَهُ شَيْئًا، فَقَالُوا لِأَحَدِهِمَا: قَرِّبْ قَالَ: لَيْسَ عِنْدِي شَيْءٌ فَقَالُوا لَهُ: قَرِّبْ وَلَوْ ذُبَابًا فَقَرَّبَ ذُبَابًا، فَخَلَّوْا سَبِيلَهُ ” قَالَ: ” فَدَخَلَ النَّارَ، وَقَالُوا لِلْآخَرِ: قَرِّبْ وَلَوْ ذُبَابًا قَالَ: مَا كُنْتُ لِأُقَرِّبَ لِأَحَدٍ شَيْئًا دُونَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ” قَالَ: «فَضَرَبُوا عُنُقَهُ» قَالَ: «فَدَخَلَ الْجَنَّةَ»

اسی طرح حلية الأولياء وطبقات الأصفياء از أبو نعيم الأصبهاني (المتوفى: 430هـ) کی سند ہے

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَلْمَانَ، رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: «دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّةَ فِي ذُبَابٍ، وَدَخَلَ آخَرُ النَّارَ فِي ذُبَابٍ»، قَالُوا: وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: ” مَرَّ رَجُلَانِ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ عَلَى نَاسٍ مَعَهُمْ صَنَمٌ لَا يَمُرُّ بِهِمْ أَحَدٌ إِلَّا قَرَّبَ لِصَنَمِهِمْ، فَقَالُوا لِأَحَدِهِمْ: قَرِّبْ شَيْئًا، قَالَ: مَا مَعِي شَيْءٌ، قَالُوا: قَرِّبْ وَلَوْ ذُبَابًا، فَقَرَّبَ ذُبَابًا وَمَضَى فَدَخَلَ النَّارَ، وَقَالُوا لِلْآخَرِ: قَرِّبْ شَيْئًا، قَالَ: مَا كُنْتُ لِأُقَرِّبَ لِأَحَدٍ دُونَ اللهِ فَقَتَلُوهُ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ “

دونوں میں الْأَعْمَشِ ہے جو مدلس ہے عن سے روایت کر رہا ہے لہذا دونوں ضعیف ہیں

تیسری سند مصنف ابن ابی شیبه کی ہے

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُخَارِقِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: «دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّةَ فِي ذُبَابٍ وَدَخَلَ رَجُلٌ النَّارَ، مَرَّ رَجُلَانِ عَلَى قَوْمٍ قَدْ عَكَفُوا عَلَى صَنَمٍ لَهُمْ» وَقَالُوا: لَا يَمُرُّ عَلَيْنَا الْيَوْمَ أَحَدٌ إِلَّا قَدَّمَ شَيْئًا، فَقَالُوا لِأَحَدِهِمَا: قَدِّمْ شَيْئًا، فَأَبَى فَقُتِلَ، وَقَالُوا لِلْآخَرِ: قَدِّمْ شَيْئًا، فَقَالُوا: قَدِّمْ وَلَوْ ذُبَابًا، فَقَالَ: وَأَيْشٍ ذُبَابٌ، فَقَدَّمَ ذُبَابًا فَدَخَلَ النَّارَ، فَقَالَ سَلْمَانُ: «فَهَذَا دَخَلَ

الْجَنَّةَ فِي ذُبَابٍ، وَدَخَلَ هَذَا النَّارَ فِي ذُبَابٍ»

سند میں سُفْيَان الثَّوْريّ مدلس کا عنعنہ ہے لہذا یہ بھی ضعیف ہے

چوتھی اور پانچویں سند کا ذکر کتاب حلية الأولياء وطبقات الأصفياء از أبو نعيم الأصبهاني (المتوفى: 430هـ) میں اسطرح ہے

رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقٍ مِثْلَهُ

وَرَوَاهُ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ حَيَّانَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَلْمَانَ نَحْوَهُ

حَيَّانَ بْنِ مَرْثَدٍ مجھول ہے اور قَيْسِ بْنِ مُسْلِم خود امام شعبہ کے نزدیک متروک ہے دیکھئے موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله جس میں قیس کے ترجمہ میں شعبہ ایک دوسری روایت پر کہتے ہیں

قال شعبة: فإني فرقت منه حين سألته عن هذا الحديث، وكان يرى رأي المرجئة، فحدثنيه. «العلل» (1816

شعبہ نے کہا میں نے قیس کو اس حدیث کی وجہ سے چھوڑ دیا اور یہ مرجیہ کی رائے رکھتا تھا

طارق بن شہاب سے سننے والے راوی مدلس ہیں یا ضعیف ہیں یا مجھول ہیں اس بنا پر اس روایت کو صحیح نہیں کہا جا سکتا ہے

جواب

الْمُرْجِئَةِ ، اہل سنت اور اہل تشیع میں بعض لوگوں میں ایک رجحان تھا – یہ باقاعدہ کوئی فرقہ نہیں تھا – خوارج کے نزدیک عثمان اور علی رضی الله عنہما گناہ کبیرہ کے مرتکب تھے- لہذا خوارج کے مطابق ان صحابہ میں ایمان ختم تھا اور واجب القتل تھے – ان کے ردعمل میں اہل سنت اور( اہل تشیع میں بھی ) الْمُرْجِئَةِ پیدا ہوئے – بہت سے ائمہ حدیث الْمُرْجِئَةِ میں سے تھے مثلا امام احمد نے الْمُرْجِئَةِ میں قيس بن مُسلم المتوفی ١٢٠ ھ ،علقمة بن مرْثَد الکوفی المتوفی ١٢٠ ھ ،عَمْرو بن مرّة المتوفی 116 ھ اور مسعربن کدام الکوفی ١٥٥ ھ کو شمار کیا – عراق میں اہل حران میں سے عبد الكريم الجزري، خصيف بن عبد الرحمن الجزري المتوفی ١٤٠ ھ ، سالم بن عجلان الأفطس المتوفی 132 ھ ، علي بن بذيمة المتوفی ١٣٦ ھ (ان میں شیعیت تھی) کو امام احمد نے الْمُرْجِئَةِ میں شمار کیا – اس کے علاوہ کوفہ کے محمد بن أبان الجعفي المتوفی ١٧٠ ھ کو ان میں شمار کیا – بعض راویوں پر جرح میں اس رجحان کو تنقیدی انداز میں بیان کیا گیا – امام عقیلی ضعفا میں لکھتے ہیں

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ قَالَ: كَانَ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ رَأْسًا فِي الْمُرْجِئَةِ. جریر کہتے ہیں کہ حماد بن ابی سلیمان ، الْمُرْجِئَةِ کے سردار تھے

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ قَالَ: كَانَ خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ الْفَأْفَاءُ رَأْسًا فِي الْمُرْجِئَةِ – جریر کہتے ہیں خالد بن سلمہ الْمُرْجِئَةِ کے سردار تھے

مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ بْنِ صَالِحِ بْنِ عُمَيْرٍ الْقُرَشِيُّ … فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: كَيْفَ وَهُوَ مِنْ دُعَاةِ الْمُرْجِئَةِ؟ – امام احمد کہتے ہیں یہ تو الْمُرْجِئَةِ کا داعی تھا

اندازا اس رجحان کا آغاز ١٠٠ ہجری کے بعد ہوا – اس کی وجوہات کا علم نہیں ہو سکا کیونکہ جن لوگوں کو الْمُرْجِئَةِ کہا گیا وہ سب اس دور کے ہیں – اغلبا یہ بحث معتزلہ نے چھیڑی کہ گناہ کبیرہ والے کہاں ہیں ؟ اس پر انہوں نے منزلہ بین المنزلتین یعنی دو منزلوں کے درمیان کا موقف اختیار کیا کہ ایسا شخص بیچ میں معلق ہے اس کا فیصلہ مشکل ہے- الْمُرْجِئَةِ کا لفظ ارجآ سے ہے یعنی امید ہے ایسے لوگوں کو جنت ملے گی جس میں اس پر ایمانی حد تک امید قائم ہوئی-

بعض الْمُرْجِئَةِ میں علی مخالف جذبات

الْمُرْجِئَةِ جو اہل سنت میں سے تھے وہ عثمان رضی الله عنہ کے جنتی ہونے کے قائل تھے ان میں نصب یا علی مخالف جذبات بھی پیدا ہوئے – روافض کے مطابق الْمُرْجِئَةِ ، علی سے چڑتے اور ان کی منقبت چھپاتے تھے – امام عقیلی لکھتے ہیں

يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ كَانَ مِمَّنْ يَغْلُو فِي الرَّفْضِ .. ثُمَّ قَالَ: إِنَّ فِيهِ شَيْئًا قَدْ كَتَمَتْهُ الْمُرْجِئَةُ الْفَسَقَةُ , قُلْتُ: مَا هُوَ؟ قَالَ: يُسْأَلُ مَنْ أُولَئِكَ؟ فَيَقُولُ: وَلِيَ عَلِيٌّ

یونس بن خباب رفض میں غلو کرتے تھے … یونس بن خباب نے کہا کہ عود روح والی روایت میں ایک چیز ہے جسے الْمُرْجِئَةِ فاسق چھپاتے ہیں ؟ میں (ناقل عباد بن عباد اور علي بن عبد العزيز ) نے پوچھا کون سی بات ؟ ….. بولے( اس میں یہ بھی تھا کہ فرشتے ) ان کے بارے میں سوال کرتے ہیں؟ پھر کہا (کہ کیا ) علی ولی ہیں؟

کتاب تعليقة على العلل لابن أبي حاتم از شمس الدين محمد بن أحمد بن عبد الهادي بن يوسف الدمشقي الحنبلي (المتوفى: 744هـ) کے مطابق

وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ عَنْ جَرِيرٍ: كَانَ خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ الفَأْفَاءُ رَأْسًا فِي الْمُرْجِئَةِ، وَكَانَ يَبْغِضُ عَلِيًّا.

محمد بن حمید الرازی ، جریر سے روایت کرتے ہیں کہ امام الفَأْفَاءُ خالد بن سلمہ المتوفی ١٣٢ ھ کوفہ کے الْمُرْجِئَةِ کے سردار تھے ناصبی تھے اور علی سے بغض رکھتے تھے- بقول الذھبی عَجَائِبِ الزَّمَانِ تھے کہ ایک ایسی جگہ جو تشیع کے لئے (یعنی کوفہ) مشھور ہو وہاں رہتے تھے

بعض الْمُرْجِئَةِ نے حدیثیں گھڑیں

کتاب العلل ومعرفة الرجال کے مطابق امام احمد کے بیٹے کہتے ہیں

حَدثنِي أبي قَالَ حَدثنَا حجاج قَالَ سَمِعت شَرِيكا وَذكر المرجئة قَالَ هُمْ أَخبث قوم وحسبك بالرافضة خبثًا وَلَكِن المرجئة يكذبُون الله

میرے باپ نے بیان کیا کہ حجاج نے بیان کیا کہا میں نے شریک کو کہتے سنا انہوں نے الْمُرْجِئَةِ کا ذکر کیا اور کہا وہ بہت خبیث لوگ ہیں اور تم سمجھتے ہو رافضی خبیث ہیں لیکن الْمُرْجِئَةِ الله پر جھوٹ بولتے ہیں

امام احمد نے کہا کہ احتملوا المرجئة فِي الحَدِيث الْمُرْجِئَةِ نے حدیث بنائیں

کتاب تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة از نور الدين، علي بن محمد بن علي بن عبد الرحمن ابن عراق الكناني (المتوفى: 963هـ) کے مطابق

وَقَالَ الْحَاكِم أَبُو عبد الله: كَانَ مُحَمَّد بن الْقَاسِم الطَّالقَانِي من رُؤَسَاء المرجئة يضع الحَدِيث على مَذْهَبهم

ابو عبد الله الحاکم کہتے ہیں محمد بن القاسم الْمُرْجِئَةِ کے سرداروں میں سے تھا جو اپنے مذھب پر حدیث گھڑتے

الْمُرْجِئَةِ کے مخالفین نے بھی حدیثیں گھڑیں

کتاب تلخيص كتاب الموضوعات لابن الجوزي از الذهبي (المتوفى: 748هـ) کے مطابق

حَدِيث: ” لعن الله المرجئة “. وَضعه مُحَمَّد بن سعيد.

حدیث الله کی لعنت ہو الْمُرْجِئَةِ پر اسکو محمد بن سعید نے گھڑا

حَدِيث: ” المرجئة، والقدرية، والخوارج، وَالرَّوَافِض يلقون الله كفَّارًا مخلدين فِي النَّار “. وَضعه ابْن يحيى بن رزين.

حدیث الْمُرْجِئَةِ اور قدریہ اور خوارج اور روافض الله سے کفار بن کر ملاقات کریں گے جہنم میں سدا رہیں گے اس کو ابن یحیی نے گھڑا

کتاب الموضوعات از ابن الجوزي (المتوفى: 597هـ) کے مطابق

قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الْمُرْجِئَةُ؟ قَالَ: الَّذِينَ يَقُولُونَ الإِيمَانُ قَوْلٌ بِلا عَمَلٍ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الرَّوَافِضُ؟ قَالَ: الَّذِينَ يَشْتِمُونَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، أَلا فَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ “.

هَذَا حَدِيث لَا شكّ فِي وَضعه.

وَمُحَمّد بن عِيسَى وَالْحَرْبِيّ مَجْهُولَانِ.

صحابہ کہتے ہیں ہم نے کہا اے رسول الله یہ الْمُرْجِئَةِ کون ہیں ؟ فرمایا یہ وہ ہیں جو کہتے ہیں ایمان قول ہے بغیر عمل

ہم نے کہا یا رسول الله یہ روافض کون ہیں ؟ فرمایا : یہ وہ ہیں جو ابو بکر اور عمر کو گالیاں دیتے ہیں خبردار جس نے ان (شیخین) سے بغض کیا اس پر لعنت ہو

اس میں شک نہیں کہ یہ حدیث گھڑی ہوئی ہے اور محمد بن عیسیٰ اور الحربی اس میں مجھول ہیں

الغرض الْمُرْجِئَةِ شروع میں کوئی علیحدہ فرقہ نہ تھے بلکہ ایک رائے تھی جس کے حاملین اہل سنت میں زیادہ تھے – یہ خوارج کی اس رائے کے خلاف تھے کہ صحابہ کو مرتکب گناہ قرار دے کر جہنمی کہہ دیا جائے، معتدل شیعہ بھی ان سے موافقت رکھتے تھے کیونکہ خوارج علی رضی الله عنہ کے بھی خلاف تھے – الْمُرْجِئَةِ اہل سنت سے روافض چڑتے تھے- بعد میں الْمُرْجِئَةِ میں مزید شدت آئی اور ان لوگوں میں حدیثیں گھڑنے والے بھی پیدا ہوئے اور ان کے مخالفین نے بھی حدیثیں گھڑیں

الْمُرْجِئَةِ کا رجحان اور موقف معتزلہ طرح معدوم ہو گیا – آجکل الْمُرْجِئَةِ کی اصطلاح کو شیعہ کی جانب ان دھڑوں کے لئے استمال کیا جاتا ہے جو جہاد کے نام پر معصوم شیعہ مسلمانوں کا قتل کر رہے ہیں اسی طرح جہادی تنظیمیں اس اصطلاح کو ان علماء کے لئے استمعال کرتی ہیں جو حکمرانوں کو گناہ کبیره کے ساتھ واجب القتل قرار نہیں دیتے

حقیقت میں یہ آصطلاح خالصتا صحابہ اور خوارج کے اختلاف میں پیدا شدہ ایک بحث ہے اور بہت سے فقہاء کو مرجیہ کہا گیا ہے

جواب

بعض علماء کے نزدیک مولانا کہنا جائز ہے اور ہمار نزدیک ناجائز ہے

ہماری زبان یا کلچر میں مولانا کا مطلب ہوتا ہے مولوی صاحب جوقرآن و حدیث کے مطابق فتوی دیں – لیکن یہی علماء اور مولانا ایک دوسرے کو خلاف حدیث اور قرآن فتوی دینے پر تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں یعنی ایک مولانا دوسرے مولانا سے لڑتے ہیں -آج جب ہم کسی کو مولانا کہتے ہیں تو نہ تو اس کا مطلب مدد گار ہوتا ہے، نہ آزاد کرنے والا آقا ، کیونکہ لونڈی غلامی ختم ہو چکی ہے- مولانا کے مفھوم میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ لفظ مولانا کے ساتھ تقدس کا مفھوم جڑ چکا ہے-

بہت سے الفاظ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے دور میں بولے جاتے تھے جن میں سے بعض پر عبدت کے اظہار کی وجہ سے رسول الله نے پابندی لگا دی گئی

قرآن میں سوره کہف میں ہے وَإِذْ قالَ مُوسى لِفَتاهُ اور جب موسی نے اپنے فتی کو کہا

لسان العرب از ابن منظور میں ہے

والفَتَى والفَتَاةُ: الْعَبْدُ والأَمة. وَفِي حَدِيثِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنه قَالَ: لَا يَقولَنَّ أَحدُكم عَبْدِي وأَمتي وَلَكِنْ ليَقل فَتَايَ وفَتَاتِي أَي غُلَامِي وَجَارِيَتِي، كأَنه كَرِهَ ذِكْرَ العُبودية لِغَيْرِ اللَّهِ

اور الفَتَى اور الفَتَاةُ : بندہ یا بندی اور حدیث میں ہے کہ رسول الله نے فرمایا نہ تم میں سے کوئی دوسرے کو بندہ یا بندی بولے بلکہ کہے فَتَايَ وفَتَاتِي یعنی غلام یا کنیز پس انہوں نے کراہت کی کہ غیر الله کے لئے عبد کا ذکر ہو

سوره یوسف میں ہے کہ یوسف علیہ السلام نے وَقَالَ لِفِتْيَانِهِ اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ فِي رِحَالِهِمْ اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ ان کے سامان میں سانچہ رکھا جائے

قرآن میں ہے عزیز مصر کی بیوی سے یوسف علیہ السلام کے کلام کا ذکر ہے

وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الأَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ قَالَ مَعَاذَ اللّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ

اور وہ جو اس کے گھر میں تھی اس نے ان (یوسف) کو اپنی طرف ورغلایا اور دروازہ بند کر کے بولی آ جا –

یوسف نے کہا اللہ کی پناہ وہ میرا رب ہے اور اس نے مجھے اچھی طرح رکہا ہے اور ظلم کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔

مُجَاهِدٌ، ابْنُ إِسْحَاقَ اور َالسُّدِّيُّ کے مطابق یہاں رب سے مراد عزیز مصر ہے اور الزَّجَّاجُ کے مطابق الله تعالی ہے

اسی طرح سوره یوسف میں رب کا لفظ بادشاہ کے لئے بھی استمعال ہوا ہے یوسف علیہ السلام نے اس قیدی سے جس کے بچ جانے اور مقرب بادشاہ ہونے کا گمان تھا اس سے کہا

وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُ نَاجٍ مِنْهُمَا اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ میرا ذکر اپنے رب سے کرنا

یوسف علیہ السلام نے عربی میں کلام نہیں کیا انھوں نے جو بولا اس کا عربی میں ترجمہ دیا گیا ہے کیونکہ یوسف اور موسی علیہمآ السلام دونوں عربی نہیں بولتے تھے- نہ عربی مصر کی زبان تھی – یوسف علیہ السلام اور مصریوں کی اس زبان میں بادشاہ اور آقا دونوں کے لئے ایک ہی لفظ مستعمل ہو گا اور کوئی اور لفظ نہ ہو گا لہذا سیاق و سباق سے لفظ کا مفھوم متعین کیا جاتا ہو گا

صحیح بخاری میں ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ: أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ، اسْقِ رَبَّكَ، وَلْيَقُلْ: سَيِّدِي مَوْلاَيَ، وَلاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي أَمَتِي، وَلْيَقُلْ: فَتَايَ وَفَتَاتِي وَغُلاَمِي

تم میں سے کو ئی یوں نہ کہے : اپنے رب کو کھا نا دو، اپنے رب کو وضو کرا ؤ، اپنے رب کو پانی پلاؤ بلکہ اپنے آقا کے لئے سید (سردار یا آقا) اور مولیٰ (دوست) کہا جائے- اور میرا بندہ اور بندی نہ کہا جائے بلکہ فَتَايَ وَفَتَاتِي میرا غلام کہا جائے

صحیح مسلم میں ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي، فَكُلُّكُمْ عَبِيدُ اللهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: فَتَايَ، وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ: رَبِّي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: سَيِّدِي

تم میں کو ئی (اپنے غلا م کو) عبدی (میرا بندہ) نہ کہے کیو نکہ سب اللہ کے بندے ہو اور یہ کہے میرا فَتَايَ اور نہ غلام اپنے آقا کو رب کہے بلکہ اسے سیدی (آقا یا سردار) کہنا چا ہیے

موسی نے اپنے فتی کو یعنی اپنے غلام کو پکارا ، یہی لفظ قرآن میں یوسف اور موسی کے لئے ہے کہ انہوں نے اپنے فتی کو حکم کیا – اس لفظ کو رسول الله نے جائز رکھا لیکن رب کا لفظ آقا کے لئے بولنا نا جائز قرار دیا کیونکہ عربوں میں رب کا مفھوم بدل رہا تھا اور رب العآلمین کے لئے خاص ہو رہا تھا – یہ قوم کی تربیت تھی کہ وہ الفاظ جو الله نے اپنے لئے سیکڑوں دفعہ قرآن میں بولا ہے اب وہ صرف اسی کے لئے خاص سمجھا جائے

بعض لوگوں نے ایک غیر ضرروی بحث بھی کی ہے کہ الله اور اس کے رسول کے نام ایک ہیں – الله تعالی کے ناموں اور رسول الله یا جبریل کی صفت کو ملا کر بحث کرنا لا یعنی ہے- اللہ کے نام کے ساتھ ال ہوتا ہے اور وہ اس کا نام ہے الله ، العلی ہے – جبکہ علی ایک صحابی کا نام ہے الله کا نام نہیں ہے – الله الکریم ہے اس کے سوا کوئی نہیں – جبکہ کریم کا لفظ جبریل کے لئے قرآن میں ہے – لہذا الله کے نام میں الحآد سے بچیں- جب بھی ال لگے گا وہ اس لفظ کو خاص کرے گا یہ بنیادی بات ہے

مولی کا لفظ دوست اور آزاد کرنے والے آقا کے لئے عربی میں استمعال ہوتا ہے مثلا عکرمہ مولی ابن عباس- عکرمہ جو ابن عباس کے آزاد کردہ غلام تھے اور اس کو محدثین استمعال کرتے رہے ہیں – قرآن میں ولی کا لفظ مومنوں ، فرشتوں اور الله کے لئے آیا ہے کہ یہ سب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے مدد گار ہیں- اسی مفھوم پر حدیث میں علی کے لئے ہے

عن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه, قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: من كنت مولاه فعلي مولاه, وسمعته يقول: أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي, وسمعته يقول: لأعطين الراية اليوم رجلا يحب الله ورسوله.
ترجمہ: سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جس کا میں مولا، اُس کا یہ علی مولا۔ (سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ میں نے رسول (ص) کو یہ بھی کہتے سنا) اے علی تمہیں مجھ سے وہی منزلت حاصل ہے جو کہ ہارون کو موسیٰ سے تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی اور نبی نہ ہو گا۔ اور میں (سعد) نے رسول کو (غزوہ خیبر میں) یہ بھی فرماتے سنا کہ آج میں جھنڈا اُس شخص کو دوں گا جو کہ اللہ اور اُس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔

ہماری زبان کے بہت سے ایسے الفاظ ہیں جن کا مفھوم ” ہمارے لئے ” بدل چکا ہے مثلا

کالا – یہ لفظ ہندووں کی دیوی سے متعلق ہے جس کو کالی کہا جاتا ہے جو موت و زمانے کی دیوی ہے – کالی کے لفظ سے کال ہے یعنی موت ، زمانہ یا دور – ہم اس کو رنگ کے لیے بولتے ہیں

پرانا – اس لفظ کا اصلا مطلب ہے جو ہندووں کی کتاب پران سے لیا گیا – ہم بولیں گے تو اس کا مطلب ہو گا قدیم

قرآن میں بھی اسکی مثال ہے کہ اہل کتاب نے بعل کی پوجآ کی لیکن عربی میں بعل کا لفظ شوہر کے لئے استمعال ہونے لگا – بعولتھن – یعنی ان کے شوہر

یعنی الفاظ وقت کے ساتھ مفھوم میں بدل جاتے ہیں – مولانا کا لفظ اب ہمارے علاقے کے مولویوں کے لئے خاص ہے دور نبوی میں مولی کا لفظ ایک الگ مطلب رکھتا تھا –

یہ بات یہاں ختم نہیں ہوتی اس سے آگے جاتی ہے – سوال یہ ہے کہ مولویوں کو اپنے لئے لفظ مولانا پر اصرار کیوں ہے کہ وہ اس کو جائز کہنے کے فتوے دیتے ہیں ؟ ان کو پتا ہے کہ یہ لفظ بولتے ہی آدمی کا ذہن ہمارا مقلد ہو جاتا ہے- اب چاہیے یہ غیر مقلد مولانا ہوں یا مقلد، دونوں اس لفظ کو اپنے لئے خاص کرنا چاہتے ہیں- اگر مولوی حضرات اپنے دعوے میں اتنے ہی سچے ہیں کہ مولانا کا لفظ صرف مدد گار یا دوست ہے تو یہ کیوں نہیں کہتے کہ مولانا کا لفظ سادہ ہے کسی کے لئے بھی استمعال کیا جا سکتا ہے اور پھر خود اس کو مسجد میں عام لوگوں کے لئے استمعال کر کے اس لفظ سے منسلک معنی و مفھوم کو ذہن سے نکال دیتے

صحیح مسلم میں الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کی سند سے روایت ہے وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ مَوْلَايَ … فإن مولاكم الله

اور تم میں سے کوئی غلام اپنے آقا کو میرے مولا نہ کہے،…… کیونکہ تمہارآ مولا الله ہے

کتاب شرح السنة از البغوي الشافعي (المتوفى: 516هـ) اس کے لئے لکھتے ہیں کہ مولانا کہتے سے منع کیا

لِأَن مرجع السِّيَادَة إِلَى معنى الرياسة عَلَى مِن تَحت يَده، والسياسة لَهُ، وَحسن التَّدْبِير لأَمره

کیونکہ سیاست و معاملات کا مرجع اسی الله کے ہاتھ میں ہے اور حسن تدبیر بھی

اس روایت کو فتح الباری میں ابن حجر نے شاذ کہا ہے- لیکن البانی نے مشكاة المصابيح میں اور الصحیحہ میں اس روایت کو واپس صحیح قرار دیا ہے اور اس اضافہ کو زیادت ثقہ کہا ہے- برصغیر کے مولویوں کو البانی کی بات نا گوار گزری اور انہوں نے ابن حجر پر تکیہ کیا ہے اور واپس مولانا کے لفظ کو اپنے لئے جائز قرار دیا

قرآن کہتا ہے اہل کتاب نے اپنے احبار و رہبان کو رب بنا لیا لہذا آج مولانا لفظ سے بچنا چاہیے کیونکہ اس کا مفھوم بدل چکا ہے – الفاظ کی اس بازی گری میں بہتر ہے کہ لفظ مولانا کو علماء کے لئے بولنا متروک سمجھا جائے – اس کو علماء کے لئے بولنا غلو کے زمرے میں آتا ہے

جواب

قرآن میں سوره النور میں لونڈیوں سے متعلق خاص حکم دیا گیا کہ انکا خیال رکھا جائے

24۔ سورة النور

وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚإِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ ۗ وَاللَّـهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
تم میں سے جو مرد عورت بےنکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک غلام اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وه مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے
(32)

وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ ۗ وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا ۖ وَآتُوهُم مِّن مَّالِ اللَّـهِ الَّذِي آتَاكُمْ ۚ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَمَن يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّـهَ مِن بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اور ان لوگوں کو پاک دامن رہنا چاہیئے جو اپنا نکاح کرنے کا مقدور نہیں رکھتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے مالدار بنا دے، تمہارے غلاموں میں جو کوئی کچھ تمہیں دے کر آزادی کی تحریر کرانی چاہے تو تم ایسی تحریر انہیں کردیا کرو اگر تم کو ان میں کوئی بھلائی نظر آتی ہو۔ اور اللہ نے جو مال تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے انہیں بھی دو، تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو اور جو انہیں مجبور کر دے تو اللہ تعالیٰ ان پر جبر کے بعد بخشش دینے واﻻ اور مہربانی کرنے واﻻ ہے

ظاہر ہے جو کتاب الله لونڈی خریدنے کے بعد اتنی پابندی لگا رہی ہے اسکی شریعت میں اس کو حاصل کرتے وقت تو اس سے زیادہ احتیاط ہو گی-

لونڈی خریدتے وقت کیا کوئی پابندی لگے گی یا نہیں اور کیا اس کو ٹٹول کر دیکھا جائے گا اس پر روایات کہتی ہیں

ابن عمر رضی الله عنہ سے منسوب روایات

مصنف عبد الرزاق کی روایات کے مطابق

عبد الله ابن عمر سے متعلق لوگ بیان کرتے ہیں کہ انھیں جب کوئی لونڈی خریدنا ہوتی تو اس کی پیٹھ، پیٹ اور پنڈلیاں ننگی کر کے دیکھتے تھے۔ اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر کر دیکھتے تھے اور سینے پر پستانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر دیکھتے تھے۔

ایک میں ہے
عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو – أَوْ أَبُو الزُّبَيْرِ -، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: ” أَنَّهُ وَجَدَ تُجَّارًا مُجْتَمِعِينَ عَلَى أَمَةٍ، فَكَشَفَ عَنْ بَعْضِ سَاقِهَا، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى بَطْنِهَا

وہ پنڈلیوں کو کھلواتے یعنی کپڑا ہٹواتے اور پیٹ پر ہاتھ رکھتے
اس میں ابن جریج مدلس ہے عن سے روایت کر رہا ہے روایت ضعیف ہے

دوسری روایت

عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَ جَارِيَةً، فَرَاضَاهُمْ عَلَى ثَمَنٍ، وَضَعَ يَدَهُ عَلَى عَجُزِهَا، وَيَنْظُرُ إِلَى سَاقَيْهَا وَقُبُلِهَا – يَعْنِي بَطْنَهَا –
سند مين أيوب بن أبي تميمة السختياني مدلس عن سے روایت کر رہا ہے لہذا روایت ضعیف ہے

آگے عبد الرزاق لکھتے ہیں عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ
اس میں معمر مدلس ہے عن سے روایت کر رہا ہے

مصنف عبد الرزاق میں ایک اور سند ہے

عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: «وَضَعَ ابْنُ عُمَرَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهَا، ثُمَّ هَزَّهَا»

مجاہد کا بیان ہے کہ ابن عمر نے پستانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر اس کو جھنجھوڑا

اسکی سند میں ابن ابی نجیح کا سماع مجاہد سے ثابت نہیں ہے

اوپر والی تمام روایات میں سماع کا مسئلہ ہے

مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ہے

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ أَمْشِي فِي السُّوقِ فَإِذَا نَحْنُ بِنَاسٍ مِنَ النَّخَّاسِينَ قَدِ اجْتَمَعُوا عَلَى جَارِيَةٍ يُقَلِّبُونَهَا، فَلَمَّا رَأَوَا ابْنَ عُمَرَ تَنَحَّوْا وَقَالُوا: ابْنُ عُمَرَ قَدْ جَاءَ، فَدَنَا مِنْهَا ابْنُ عُمَرَ فَلَمَسَ شَيْئًا مِنْ جَسَدِهَا، وَقَالَ: «أَيْنَ أَصْحَابُ هَذِهِ الْجَارِيَةِ، إِنَّمَا هِيَ سِلْعَةٌ»

مجاہد کہتے ہیں کہ میں ابن عمر کے ساتھ بازار میں چل رہا تھا کہ ہم غلاموں بچنے والوں کے پاس پہنچے جو ایک لونڈی سےالٹ پلٹ کرنے کی کوشش رہے تھے اور بولے ابن عمر آ گئے – ابن عمر ان تک آئے اور انہوں نے لونڈی کو چھوا اور کہا اس کے مالک لوگ کون ہیں یہ تو عمدہ بچنے کی (چیز) ہے

مجاہد آخری عمر میں اختلاط کا شکر تھے منصور ابن المعتمر اس روایت کو مجاہد سے نقل کرتے ہیں

سنن الکبری البیہقی کی روایت ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ , بِبَغْدَادَ , أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ , ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ , ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , ” أَنَّهُ كَانَ إِذَا اشْتَرَى جَارِيَةً كَشَفَ عَنْ سَاقِهَا وَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهَا , وَعَلَى عَجُزِهَا ” وَكَأَنَّهُ كَانَ يَضَعُهَا عَلَيْهَا مِنْ وَرَاءِ الثَّوْبِ

نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی الله عنہ جب بھی کنیز عورت خریدتے تو وہ جاریہ کی پنڈلیوں کو عریاں کرتے، اپنے ہاتھ جاریہ کے پستانوں کے درمیان ہاتھ رکھتے اور کولہوں پر ہاتھ رکھتے۔ گویا کہ وہ ہاتھ کپڑے کے پیچھے سے رکھتے

البانی ارواء الغلیل فی التخریج الاحادیث ح ١٧٩٢ میں اسکو السند صحيح کہتے ہیں

مصنف ابن ابی شیبه کی روایت ہے

نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَ الْجَارِيَةَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى أَلْيَتَيْهَا، وَبَيْنَ فَخِذِهَا، وَرُبَّمَا كَشَفَ عَنْ سَاقَيْهَا»

ابن عمر جب لونڈی خریدتے تو اس کے کولہوں پر ہاتھ رکھتے اور اس کی رانوں پر اور بعض اوقات اس کی پنڈلیوں کو عریاں کرتے

قاضي الموصل عليُّ بْنُ مُسْهِرٍ إس روایت کو عبيد الله بن عمر سے نقل کرتے ہیں

روایات متنا معلول ہیں کیونکہ اس میں ہے کہ ابن عمر رضی الله عنہ کپڑے ہٹا کر معآینہ کرتے جبکہ اس طرح سر عام بازار میں لونڈیوں کو دیکھنا بھیڑ بکری دیکھنے برابر ہے اور یہ منظر مکہ و مدینہ کا ہے یا الف لیلہ کا ہے

اس طرح بازار میں جہاں با پردہ اور حیا و عفت والی مسلم خواتین بھی ہوں وہاں کا یہ منظر سراسر غلط ہے اور صحابہ پر بعض محدثین کا اتہام ہے

روایات میں عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ کا تفرد ہے جو ثقہ ہیں لیکن ہم قبول نہیں کریں گے اس کو ان کا وہم اور شبہ کہیں گے

ابن مسعود رضی الله عنہ سے منسوب

ابن مسعود والی بات کی سند ہے
عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ الْمَكْتَبِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَمَةِ: «تُبَاعُ مَا أُبَالِي إِيَّاهَا مَسَسْتُ، أَوِ الْحَائِطَ»
اس روایت میں ہے بعض سے روایت کرتے یہ کون تھے کچھ پتا نہیں لہذا ضعیف روایت ہے

علی رضی الله عنہ سے منسوب روایات

علی رضی الله عنہ سے لونڈی کی پنڈلی، پیٹ اور پیٹھ وغیرہ دیکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ کوئی مضائقہ نہیں۔ لونڈی کی کوئی حرمت نہیں۔ وہ (بازار میں) اسی لیے تو کھڑی ہے کہ ہم (دیکھ بھال کر) اس کا بھاو لگا سکیں۔
اس کی سند ہے
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ أُصَدِّقُ عَمَّنْ، سَمِعَ عَلِيًّا، يَسْأَلُ عَنِ الْأَمَةِ تُبَاعُ أَيَنْظُرُ إِلَى سَاقِهَا، وَعَجُزِهَا، وَإِلَى بَطْنِهَا؟. قَالَ: «لَا بَأَسَ بِذَلِكَ، لَا حُرْمَةَ لَهَا، إِنَّمَا وَقَفَتْ لِنُسَاوِمَهَا»
اس میں مجھول راوی ہے

ابن عباس رضی الله عنہ سے منسوب روایت

بیہقی سنن الکبری میں ابن عباس رضی الله عنہ کی حدیث ہے

عَنْ عِيسَى بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَنْ أَرَادَ شِرَاءَ جَارِيَةٍ أَوِ اشْتَرَاهَا فَلْيَنْظُرْ إِلَى جَسَدِهَا كُلِّهِ إِلَّا عَوْرَتَهَا، وَعَوْرَتُهَا مَا بَيْنَ مَعْقِدِ إِزَارِهَا إِلَى رُكْبَتِهَا ” …… قَالَ أَبُو أَحْمَدَ رَحِمَهُ اللهُ: هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ قَالَ الشَّيْخُ: فَهَذَا إِسْنَادٌ لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ حُجَّةٌ وَعِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ ضَعِيفٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، وَهُوَ أَيْضًا ضَعِيفٌ

عِيسَى بْنِ مَيْمُونٍ، مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ سے وہ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ روایت کرتا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

جو کوئی لونڈی خریدنے یا بیچنے کا ارادہ رکھتا ہو،اسے چاہیئے کہ وہ لونڈی کا سارا جسم دیکھے،سوائے ستر کے۔ اور اس کا ستر اس کے ازار باندھنے کی جگہ سے لیکر گھٹنوں تک ہے۔

بیہقی کہتے ہیں عیسیٰ بن میمون ضعیف ہے اور محمد بن کعب بھی ضعیف ہے

ابو موسی الاشعری رضی الله عنہ کی روایت

مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ہے
حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن حكيم الأثرم عن أبي تميمة عن أبي موسى أنه خطبهم فقال لا أعلم رجلا اشترى جارية فنظر إلى ما دون الجارية وإلى ما فوق الركبة إلا عاقبته

أبي تميمة الهجيمي کہتے ہیں میں نے ابو موسی کو کہتے سنا اگر مجھے پتا چلا کہ لونڈی خریدتے وقت خریدار نے اس کی ناف کے نیچے اور گھٹنوں سے اوپر والے حصے کو دیکھا ہے، تو میں اسے سزا دوں گا۔

اس کی سند میں حكيم الاثرم ہے جس کی ایک دوسری روایت کو بخاری نے تاریخ الکبیر میں لکھا ہے (جس میں کاہن کی تصدیق سے منع کیا گیا ہے اور بیوی کی دبر سے جمآع سے ) اور اس کے لئے کہا ہے اس روایت کی متابعت نہیں ہے اور کہا وَلا يُعرفُ لأَبِي تَمِيمة سماعٌ مِنْ أَبِي هُرَيرةَ. ابی تمیمہ کا سماع ابو ہریرہ سے نہیں ہے

لوگوں نے بخاری کی اس بات کو حكيم الاثرم پر جرح سمجھا ہے جبکہ یہ جرح نہیں عدم سماع کی بات ہے

شعَيب الأرنؤوط نے سنن ابو داود پر تحقیق میں واضح کیا ہے کہ ابو تمیمہ طريف بن مجالد الهُجيمي ہے ( کتاب جامع التحصیل از العلائي (المتوفى: 761هـ) یہی رائے دارقطنی کی ہے ) اور ان کا سماع ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے ہے دوم شعَيب الأرنؤوط نے حکیم کی روایت کو سنن ابو داود کی تحقیق میں صحیح کہا ہے احمد شاکر ، البانی ، حسين سليم أسد الداراني بھی حکیم کی اس روایت کو صحیح کہتے ہیں

البزاز کہتے ہیں حكيم منكر الحديث ہے

النسائي کہتے ہیں حكيم الاثرم میں : ليس به بأس کوئی برائی نہیں ہے

ابن خلفؤن اور ابن حجر کہتے ہیں حکیم کے لئے علي ابن المديني نے کہا یہ ثقہ ہے

ابن حبان اس کو ثقہ کہتے ہیں اور اپنی صحیح میں اسکی روایت بھی لکھی ہے

ابو عبید الآجري (جمہور محدثین کے نزدیک غیر مجھول) کے مطابق ابو داود اسکو ثقہ کہتے ہیں

ابن قطلوبغا کے مطابق حکیم ثقہ ہے اور الذھبی کے مطابق یہ صدوق ہے

ان دلائل کی موجودگی میں ابو موسی رضی الله عنہ کے قول کو مطلقا رد بھی نہیں کیا جا سکتا واضح رہے اس روایت سے ستر متعین نہیں ہوتا بلکہ اس میں اس مقام کو دیکھنے پر سخت سزا ہے – جب دیکھنا منع ہے تو ظاہر ہے چھونا تو پھر بھی منع ہو گا جو ابن عمر رضی الله عنہ کا عمل بتایا جاتا ہے اس سے ظاہر ہے یہ ابن عمر کا عمل نہیں ہو سکتا

سعید ابن مسیب سے منسوب روایت

اس طرح کا قول تابعی سعید ابن مسیب سے بھی منسوب کیا گیا ہے
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: «يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى كُلِّ شَيْءٍ فِيهَا، مَا عَدَا فَرْجَهَا»
اس میں مجھول راوی ہے

عطا سے منسوب قول

مصنف عبد الرزاق میں ہے

عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: الرَّجُلُ يَشْتَرِي الْأَمَةَ، أَيَنْظُرُ إِلَى سَاقَيْهَا، وَقَدْ حَاضَتْ، أَوْ إِلَى بَطْنِهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ عَطَاءٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ «يَضَعُ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهَا، وَيَنْظُرُ إِلَى بَطْنِهَا، وَيَنْظُرُ إِلَى سَاقَيْهَا، أَوْ يَأْمُرُ بِهِ»
اسکی سند میں ابْنِ جُرَيْجٍ مدلس عن سے روایت کر رہا ہے لہذا روایت ضعیف ہے

ان روایات کو ایک ہی دور کے لوگوں نے بیان کیا ہے مثلا عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، ابن جریج، ایوب اور ابن الزبیر، مجاہد نے بیان کیا ہے اور یہ سب اس کو چند اصحاب رسول مثلا ابن عمر رضی الله عنہ ، ابن مسعود رضی الله عنہ ، علی رضی الله عنہ سے منسوب کرتے ہیں

فقہاء کی متضاد آراء

ابن حزم کتاب المحلى بالآثار میں لکھتے ہیں

وَأَمَّا النَّظَرُ إلَى الْجَارِيَةِ يُرِيدُ ابْتِيَاعَهَا فَلَا نَصَّ فِي ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَلَا حُجَّةَ فِيمَا جَاءَ عَنْ سِوَاهُ.
وَقَدْ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ -: فَصَحَّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ إبَاحَةُ النَّظَرِ إلَى سَاقِهَا وَبَطْنِهَا وَظَهْرِهَا، وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى عَجُزِهَا وَصَدْرِهَا – وَنَحْوِ ذَلِكَ عَنْ عَلِيٍّ، وَلَمْ يَصِحَّ عَنْهُ.
اور لونڈی خریدتے وقت اس کو دیکھنے کے متعلق رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے کوئی نص مروی نہیں ، اور اس کے علاوہ جو منقول ہے وہ قابل حجت نہیں

اور اس میں لوگوں کا اختلاف ہوا اور انہوں نے ابن عمر (کی روایات کو) صحیح کر دیا کہ لونڈی کی پنڈلی ، پیٹ اور پشت کو دیکھنا مباح ہے یہاں تک کہ (کہا) اس کی پشت اور سینے پر ہاتھ رکھا کرتے تھے اور اسی طرح علی سے بیان کیا – اور یہ صحیح نہیں

فقہ مالکی کی کتاب مواهب الجليل في شرح مختصر خليل از شمس الدين الحطاب الرُّعيني المالكي (المتوفى: 954هـ) کے مطابق

وَأَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ مَا يَفْعَلُونَ فِي هَذَا الزَّمَانِ أَنَّهُ يَحْبِسُ صَدْرَهَا وَثَدْيَهَا وَهُوَ أَشَدُّ مِنْ النَّظَرِ كَمَا تَقَدَّمَ فِي الصِّيَامِ وَلَا يَجُوزُ بِاتِّفَاقٍ فِيمَا أَعْلَمُ لَا سِيَّمَا مِنْ بَعْضِ مَنْ لَا يَتَّقِي اللَّهَ – تَعَالَى – انْتَهَى. فَظَاهِرُهُ أَنَّ النَّظَرَ إلَى الصَّدْرِ وَالثَّدْي لَا يَجُوزُ

اور بہت برا ہے جو آجکل کے زمانے میں کیا جاتا ہے کہ وہ لونڈی کا سینہ اور پستان چیک کرتے ہیں اور یہ … باتفاق جائز نہیں ہے جیسا ہمیں علم ہے خاص طور پر بعض لوگ اسکو کرتے ہیں جو الله سے نہیں ڈرتے انتہی پس ظاہر ہے اس پر نظر ڈالنا سینہ اور پستان پر جائز نہیں

احکام القرآن میں ابو بکر جصاص سوره النور کی آیت پر بحث میں لکھتے ہیں کہ
وهذا الذي ذكر من تحريم النظر في هذه الآية إلا ما خص منه إنما هو مقصور على الحرائر دون الإماء ؛ وذلك لأن الإماء لسائر الأجنبيين بمنزلة الحرائر لذوي محارمهن فيما يحل النظر إليه , فيجوز للأجنبي النظر إلى شعر الأمة وذراعها وساقها وصدرها وثديها كما يجوز لذوي المحرم النظر إلى ذات محرمه ; لأنه لا خلاف أن للأجنبي النظر إلى شعر الأمة.

وروي أن عمر كان يضرب الإماء ويقول : ” اكشفن رءوسكن ولا تتشبهن بالحرائر ” فدل على أنهن بمنزلة ذوات المحارم.

اس آیت میں نظر کی جو حرمت ہے تو یہ خاص آزاد عورتوں کے لئے ہے لونڈیوں کے لئے نہیں ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ لونڈیاں تمام اجنبییوں کے لئے …. ان پر نظر حلال ہے پس اجنبی کے لئے جائز ہے کہ وہ لونڈی کے بال دیکھے اور اس کے بازو اور پنڈلیاں اور سینہ اور پستان

البانی کتاب جلباب المرأة المسلمة میں اس پر ابو بکر جصاص پر برستے ہیں اور لونڈی کے کیے بھی پردہ تھا پر کہتے ہیں

وقالوا: “فيجوز للأجنبي النظر إلى شعر الأمة وذراعها وساقها وصدرها وثديها”1.

وهذا -مع أنه لا دليل عليه من كتاب أو سنة- مخالف لعموم قوله تعالى: {وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ} [الأحزاب: 59] فإنه من حيث العموم كقوله تعالى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا} الآية [النساء: 43] ولهذا قال أبو حيان الأندلسي في تفسيره: “البحر المحيط” “7/ 250”:

“والظاهر أن قوله: {وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ} يشمل الحرائر والإماء، والفتنة بالإماء أكثر؛

اور (مخالف) کہتے ہیں – “پس اجنبی کے لئے جائز ہے کہ لونڈی کے بال پر بازو پر پنڈلی پر سینہ پر اور پستان پر نظر ڈالے ” اور یہ ہے انکی دلیل جس پر ان کے پاس کتاب و سنت سے کوئی دلیل نہیں ہے اور عمومی طور پر الله تعالی کے قول کی مخالفت ہے کہ {وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ} [الأحزاب: 59] پس میں عمومی بات ہے قوله تعالى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا} الآية [النساء: 43] اور اسی وجہ سے أبو حيان الأندلسي اپنی تفسیر آلبحر المحيط 7/ 250 میں کہتے ہیں:

والظاهر أن قوله: {وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ} يشمل الحرائر والإماء، والفتنة بالإماء أكثر؛

اور ظاہر ہے کہ قول وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ میں آزاد عورتوں کے ساتھ لونڈیاں بھی شامل ہیں اور اکثر فتنہ انہی کی وجہ سے ہوتا ہے

البانی صاحب بھی ایک متناقض شخصیت تھے ابھی اوپر انکی پچھلی کتاب میں اس پرابن عمر سے روایت کو صحیح کہا جس میں لونڈی کو سر عام ٹٹولا جا رہا تھا انکو اس کو سند صحیح لگی اور اب اس کتاب میں جا کر کہا کہ لونڈیاں پردہ کرتی تھیں یہ کیسا پردہ تھا کہ ہر نا محرم ہاتھ ڈال کر سب کچھ چیک کر لیتا تھا؟

البانی الضیفہ ج ٢ ص ٣٧٣ ،تحت الحدیث ٩٥٦ میں جا کر لکھتے ہیں

بل هذا ما صرح به بعضهم ، فقالوا : فيجوز للأجنبي النظر إلى شعر الأمة وذراعها وساقها وصدرها وثديها ” ذكره الجصاص في ” أحكام القرآن ” ( 3 / 390 ) ، ولا يخفى ما في ذلك من فتح باب الفساد ، مع مخالفة عمومات النصوص التي توجب على النساء إطلاقا التستر ، وعلى الرجال غض البصر

بعض حضرات نے بالصراحت اجنبی کیلئے لونڈی کے بالوں، بازوؤں، پنڈلیوں، سینہ اور پستان کو دیکھنے کے جواز قائم کر لیئے۔ جیسا کہ ابو بکر الجصاص حنفی نے احکام القرآن میں ذکر کیا ہے۔ اور اس سے فساد کا جو دروازہ کھل سکتا ہے،وہ کسی سے مخفی نہیں۔ پھر یہ عورتوں پر پردے کے وجوب اور مردوں پر نگاہ نیچی رکھنے والی نصوص کی بھی مخالفت ہے۔

البانی الضعیفۃ 410/6، تحت الحدیث 424 ہی میں لکھتے ہیں

و اعلم أنه لم يثبت في السنة التفريق بين عورة الحرة , و عورة الأمة, وقدذكرت ذلك مع شيء من التفصيل في كتابي ” حجاب المرأة المسلمة ” فليرجع إليه من شاء
اور جان لو کہ سنت میں آزاد عورت اور لونڈی کے ستر میں کوئی فرق ثابت نہین ہے۔ اس پر میں نے کچھ تفصیل اپنی کتاب “حجاب المرآۃ المسلمہ” میں ذکر کی ہے۔ جو کوئی چاہے،اس کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔

اگر آزاد عورت اور لونڈی کا ستر ایک جیسا ہے تو اوپر والی روایت کو صحیح کیوں کہا

البانی کی اس رائے سے راقم متفق نہیں کہ لونڈیاں پردہ کرتی تھیں اس کےدلائل الگ موقعہ پر پیش کیے جائیں گے لیکن جو چیز واضح ہے کہ البانی نے اپنی ارواء الغلیل فی التخریج الاحادیث میں تصحیح کردہ ابن عمر رضی الله عنہ والی روایت سے رجوع کیا کیونکہ وہ الضعیفہ سے پہلے کی تالیف ہے

واضح رہے کہ خریدنے کے بعد چھونا جائز تھا لیکن یہ تمام بحث خریدنے سے پہلے پر ہے جیسا کہ دیکھا اس بات پر فقہاء مختلف رائے ہیں ایک اس کام کو الله کے خوف سے عاری لوگوں کا عمل کہتا ہے تو دوسرا اس کو عین آیات قرانی کے مطابق استنباط- بعض فقہاء کا اس کے تناظر میں آیات حجاب سے استدلال کرنا سراسر غلط ہے کیونکہ یہ لا تعلق چیزیں ہیں -خود روایات اتنی مظبوط نہیں کہ ان کو قبول کر لیا جائے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا تو حکم تھا لا تنظر المرأة إلي عورة المرأة ایک عورت دوسری عورت کا ستر نہ دیکھے اس میں المرأة کا لفظ ہے جو آزاد اور لونڈی دونوں کے لئے بولا جاتا ہے – لونڈی اور آزاد عورت کے ستر میں کوئی فرق نہیں اور اس کا پردے کی آیات سے بھی کوئی تعلق نہیں کیونکہ حجاب لباس پر لیا جاتا ہے اور لباس ستر کو ڈھانپتا ہے – دوم آیات حجاب کے نزول سے قبل بھی لونڈی کا ستر وہی تھا جو ایک آزاد عورت کا ہوتا ہے کیونکہ شرم و حیا اصول ہے جس میں ناسخ و منسوخ نہیں ہوتا لہذا لونڈی کا ستر دیکھنے کی روایات غیر معتبر ہیں

جواب

ایسا کپڑا گھسٹنا کہ اس میں تکبر کا عنصر ہو حرام ہے

حدیث ہے
لا ینظر اللہ الی من جر ثوبہ خیلاء
اللہ تعالی اس شخص کی طرف نہیں دیکھیں گےجس نے اپنا کپڑا تکبر کے ساتھ کھینچا

عورتوں کی چادر تو ٹخنوں تک ہو گی لہذا یہ اصلا نیت کی بات ہے

تکبر کے ساتھ پہنا گیا نیکر بھی حرام ہے جو ظاہر ہے ٹخنوں سے اوپر ہو گا

الْإِزَارِ عربوں کا لباس تھا جو اسلام سے قبل اور بعد میں پہنا جاتا رہا ہے اور اس میں تمام لوگ امیر نہ تھے یہاں تک کہ کپڑے کی قلت تھی حدیث میں ہے کہ نبی بننے سے پہلے رسول الله اپنے چچا عباس کی تعمیر کعبہ میں مدد کرا رہے تھے کہ انہوں نے کہا کہ اپنا آزار کھول دو تاکہ اس میں پتھر باندھن

يا ابن أخي لو حللت إزارك فجعلته على منكبيك دون الحجارة. قال: فحله، فجعله على منكبيه فسقط مغشيا عليه، فما رئي بعد ذلك عريانا صلى الله عليه وسلم.
أحمد في «المسند» (3/ 310 و 333) . ولفظ الحديث في البخاري
یعنی کپڑا عام نہ تھا ورنہ اپنے بھتیجے سے عباس اس قسم کا مطالبہ نہ کرتے

جب کپڑا نایاب ہو تو ہر ایک کے ٹخنے تک تو نہیں جا سکتا لیکن جو امیر تھے وہ تصنع بناوٹ میں ایسا کرتے اور

کپڑا زمین پر لگ کر ختم ہو جاتا تھا رگڑ کی وجہ سے لہذا جب یہ صورت ہو تو ظاہر ہے یہ ممنوع ہے

سنن ابو داود میں ہے
“ولا تحقِرنَّ شيئاً من المعروفِ، وأن تُكلِّم أخَاك وأنتَ مُنْبَسطٌ إليه وجهُكَ، إنَّ ذلك من المعروفِ، وارفَعْ إزاركَ إلى نصفِ السَّاق،
اور معروف میں سے کسی چیز کی تحقیر نہ کرو….. اور اپنا آزار ادھی پنڈلی تک اٹھاؤ

حدیث میں ہے رسول الله نے ایک اعرابی کو نصحت کی
وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهُ مِنَ الْمَخِيلَةِ
اور تم آزار لٹکانے سے بچو کیونکہ یہ بناوٹ ہے

آج کے دور میں یہ عمل اب بناوٹ نہیں رہآ لہذا اس کو دور نبوی کے معاشرہ سے ملانا صحیح نہیں

آج کے دور میں اگر تکبر مقصد نہ ہو توٹخنے تک لباس رکھنا ممنوع نہیں رسول الله کے دور میں کپڑا عام نہ تھا یہاں تک کہ جنگوں میں مردوں کو مشرکین برہنہ کرتے اور ان کا لباس مال غنیمت بنتا تھا

روایت کیا گیا ہے کہ اگر کپڑا لباس کے نیچے جائے تو وضو نہیں ہوتا ابو داود کی روایت ہے

حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبان، حدثنا يحيى، عن أبي جعفر، عن عطاء بن يسار، عن أبي هريرة، قال: بينما رجل يصلي مسبلا إزاره إذ قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اذهب فتوضأ»، فذهب فتوضأ، ثم جاء، ثم قال: «اذهب فتوضأ»، فذهب فتوضأ، ثم جاء، فقال له رجل: يا رسول الله ما لك أمرته أن يتوضأ، ثم سكت عنه، فقال: «إنه كان يصلي وهو مسبل إزاره وإن الله تعالى لا يقبل صلاة رجل مسبل إزاره»

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”جا کر دوبارہ وضو کرو“، چنانچہ وہ گیا اور اس نے (دوبارہ) وضو کیا، پھر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: ”جا کر پھر سے وضو کرو“، چنانچہ وہ پھر گیا اور تیسری بار وضو کیا، پھر آیا تو ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بات ہے! آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم دیا پھر آپ خاموش رہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنا تہہ بند ٹخنے سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا، اور اللہ تعالیٰ ٹخنے سے نیچے تہبند لٹکا کر نماز پڑھنے والے کی نماز قبول نہیں فرماتا

اسی سند سے مسند احمد میں بھی ہے شعيب الأرنؤوط کہتے ہیں

إسناده ضعيف لجهالة أبي جعفر- وهو الأنصاري المدني- كما صرح البيهقي في “السنن” 2/242، وفي “التهذيب” أنه روى عن أبي هريرة، ولم يرو عنه سوى يحيى بن أبي كثير، قال الحافظ: قال الدارمي: أبو جعفر هذا رجل من الأنصار، وبهذا جزم ابن القطان، وقال: إنه مجهول. ثم رد الحافظ على ابن حبان أن جعله محمد بن علي بن الحسين، ثم قال: وعند أبي داود في الصلاة عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي جعفر غير منسوب، عن عطاء بن يسار، عن أبي هريرة.

اسکی اسناد ضعیف ہیں ابی جعفر کی مجہولیت کی بنا پر جیسا بیہقی نے سنن میں صراحت کی ہے اور … ابن القطان نے کہا یہ مجھول ہے

البانی بھی اس کو ضعیف روایت کہتے ہیں

جواب

صحیح مسلم کی حدیث ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرُ الرَّأْسِ، نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ، وَلَا نَفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ، وَاللَّيْلَةِ» فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ قَالَ: «لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ»، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ فَقَالَ: «لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ»، وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: «لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ»، قَالَ: فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللهِ، لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ»
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْلَحَ، وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ

طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ، کہتے ہیں کہ ایک بدو آیا اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا کروں کہ جنت میں جاؤں
آپ نے اس کو نصیحت کی کہ نماز پڑھو روزہ رکھو اس بدو نے کہا اس کے علاوہ کچھ آپ نے فرمایا اور کچھ نہیں اس پر اس نے کہا الله کی قسم میں اس پر عمل کروں گا آپ نے فرمایا
کامیاب ہو گیا باپ کی قسم اگر سچا ہے

اس روایت کی تاویل علماء کرتے ہیں کہ یہ غیر الله کی قسم کھانے کی ممانعت سے پہلے کا واقعہ ہے بعض نے کہا ہے یہ بے ساختہ زبان مبارک سے ادا ہوئے
طحاوی نے کتاب مشکل الآثار میں غیر الله کی قسم کھانے کو منسوخ عمل کہا ہے

لیکن کیا شرک میں کچھ منسوخ ہو سکتا ہے ایمان میں نہ تو نسخ ہوتا ہے نہ کچھ منسوخ ہوتا ہے لہذا یہ بات صحیح نہیں

التمہید میں ابن عبد البر کہتے ہیں
قال ابن عبد البر: “أفلح وأبيه إن صدق” هذه اللفظة غير محفوظة في هذا الحديث من حديث مَن يُحتجُّ به، وقد روى هذا الحديث مالكٌ وغيره عن أبي سهيل، لم يقولوا ذلك فيه، وقد روي عن إسماعيل بن جعفر هذا الحديث وفيه: “أفلح والله إن صدق” [ص:48] = أو “دخل الجنة والله إن صدق”، وهذا أولى من رواية من روى “وأبيه” لأنها لفظة منكرة تردها الآثار الصحاح”

رسول الله کے الفاظ کہ کامیاب ہو گیا باپ کی قسم اگر سچا ہے تو یہ الفاظ غیر محفوظ ہیں اس حدیث میں جس نے اس سے دلیل لی اور بے شک روایت کیا گیا ہے اس حدیث کو مالک اور دیگر سے ابی سہیل کی سند سے جس میں یہ الفاظ نہیں ہیں اور اسماعیل بن جعفر نے اس حدیث میں کہا ہے کامیاب ہو گیا الله کی قسم اگر سچا ہے یا کہا جنت میں گیا الله کی قسم اگر سچا ہے اور یہ اولی ہے اس روایت سے جس میں ہے کہ باپ کی قسم کیونکہ یہ الفاظ منکر ہیں جو دیگر صحیح آثار سے رد ہوتے ہیں

لہذا صحیح مسلم کی یہ روایت ضعیف ہے اور اس متن کی وہ روایات بھی جن میں باپ کی قسم ہے

صحیح مسلم ہی کی روایت ہے کہ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ فَقَالَ: ” أَمَا وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّهُ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَخْشَى الْفَقْرَ، وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ، وَلَا تُمْهِلَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ، قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا، وَلِفُلَانٍ كَذَا، وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ
ایک شخص نبی اکرم ۖ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کو نسا صدقہ زیادہ اجر رکھتا ہے ؟ رسول الله نے فرمایا: تمہارے باپ کی قسم یقینا تمہیں معلوم ہوجائے گا
یہ الفاظ ابْنُ فُضَيْلٍ کی سند میں ہیں دیگر اسناد جو ا جَرِيرٌ سے ہیں ان میں نہیں ہیں

صحیح بخاری میں بھی یہ حدیث ہے جہاں باپ کی قسم نہیں ہے
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ القَعْقَاعِ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ: «أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الفَقْرَ، وَتَأْمُلُ الغِنَى، وَلاَ تُمْهِلُ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الحُلْقُومَ، قُلْتَ لِفُلاَنٍ كَذَا، وَلِفُلاَنٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلاَنٍ

لہذا صحیح مسلم کی اس روایت میں بھی راوی کی غلطی ہے

بعض روایات میں فَلَعَمْرِي کا لفظ اتا ہے جس سے بعض نے دلیل لی ہے کہ رسول الله کی قسم کھائی جا سکتی ہے مثلا

مسند احمد کی روایت ہے

لَا تَصُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا فِي أَيَّامٍ هُوَ أَحَدُهَا، أَوْ فِي شَهْرٍ، وَأَمَّا أَنْ لَا تُكَلِّمَ أَحَدًا، فَلَعَمْرِي لَأَنْ تَكَلَّمَ بِمَعْرُوفٍ، وَتَنْهَى عَنْ مُنْكَرٍ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَسْكُتَ
میری عمر یا زندگی تمہارے خاموش رہنے سے کہیں بہتر یہ ہے کہ تم امر بمعروف اور نھی عن منکر کرو.

لعمري ما نفعناك لننزلك عنه

سنن ابو داود میں ہے
فَلَعَمْرِي لَمَن أكلَ برقيَةِ باطلِ لقد أكلتَ برُقْيَةِ حَقٍّ

صحیح ابن خزیمہ میں ہے
فَلَعَمْرِي مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ

صحیح بخاری میں عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث ہے
قَالَتْ: أَجَلْ لَعَمْرِى لَقَدِ اسْتَيْقَنُوا بِذَلِكَ
عائشہ رضی الله عنہا نے کہا بالکل میری میری زندگی

صحیح بخاری میں ہے کہ ایک تابعی سے سوال ہوا کہ کیا عورتیں حجاب کی آیات کے بعد بھی مردوں کے ساتھ طواف کرتی تھیں؟ تو کہا
إيْ لعَمْري لقد أَدركتُه بعدَ الحِجابِ
ایسے ہی میری زندی، میں نے ان کو حجاب کے بعد دیکھا

اگر لعمری صرف قسم کھانا ہے تو کیا لعمری کہہ کر عائشہ رضی الله عنہا اور تابعی نے کیا اپنی قسم لی؟
ظاہر ہے یہ ممکن نہیں یہ انداز کلام ہے

فَلَعَمْرِي کے الفاظ کا مطلب ہے کہ اس پر زور دیا جا رہا ہے اس کو عرب عام بولتے ہیں اور لَعَمرِي شاعری میں بہت استعمال ہوتا ہے
کتاب الإبانة في اللغة العربية از سَلَمة بن مُسْلِم العَوْتبي الصُحاري کے مطابق
لَعَمْري معناه: وحياتي، والعمرُ عند العرب: الحياة والبقاء
لَعَمْري کا مطلب ہے میری زندگی ، اور (مدت) عمر عربوں کے نزدیک ہے زندگی اور بقا

لہذا لَعَمْري کہنے کا مطلب ہے جب تک میں باقی ہوں
قرآن میں ہے
لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ
آپ کی زندگی ، وہ اس وقت نشے میں مدہوش تھے
یعنی یہاں زور دے کر بات کو مجاز کر دیا گیا کہ قوم لوط اس وقت ایسی حالت میں تھی کہ کوئی نصیحت کارگر نہیں تھی

جواب

إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا
اس روایت کو البانی حسن صحيح اور صحيح لغيره کہتے ہیں اور شعيب الأرنؤوط شواہد کی بنا پر صحيح لغيره کہتے ہیں
روایت چار طرق سے آئی ہے

پہلا طرق
المعجم الأوسط از الطبراني (المتوفى: 360هـ)، سنن ابن ماجہ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا، وَإِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي، فَقَالَ: «أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، نَا يُوسُفُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا وولدًا، وَإِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي؟ فَقَالَ: «أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ»
ان کتب میں اس کو یوسف بن اسحاق نے روایت کیا ہے – طبرانی کہتے ہیں لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يُوسُفَ إِلَّا عِيسَى بْنُ يُونُسَ – اس کو یوسف سے صرف عیسیٰ نے روایت کیا ہے

العلل ابن ابی حاتم میں ہے
وسألتُ أَبِي عَنْ حديثٍ رَوَاهُ عَمْرُو بنُ أَبِي قَيْس ، ويوسفُ بنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الهَمْداني ، عَنِ ابن المُنْكَدِر ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النبيِّ (ص) : أَنْتَ ومَالُكَ لأَبِيكَ؟ قِيلَ لأَبِي: وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ابن عبد الكريم الأَزْدي ، عن عبد الله بْنِ دَاوُدَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَة، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِر، عن جابر بن عبد الله؟
قَالَ أَبِي: هَذَا خطأٌ، وَلَيْسَ هذا محفوظً عن جابر؛ رواه الثَّوْريُّ وابنُ عُيَينة ، عَنِ ابْنِ المُنْكَدِر : أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ النبيِّ (ص) أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ. قَالَ أَبِي: وَهَذَا أشبهُ.
میں نے اپنے باپ سے پوچھا : حدیث جو روایت کیا ہے عَمْرُو بنُ أَبِي قَيْس ، ويوسفُ بنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الهَمْداني ، عَنِ ابن المُنْكَدِر ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النبيِّ (ص) سے کہ تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے اور … عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَة، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِر، عن جابر بن عبد الله سے روایت کیا ہے
میرے باپ نے کہا : یہ غلطی ہے اور یہ محفوظ نہیں ہے جابر کی سند سے اس کو الثَّوْريُّ وابنُ عُيَينة نے ابْنِ المُنْكَدِر سے روایت کیا ہے کہ کو پہنچا کہ رسول الله نے ایسا کہا میرے باپ نے کہا یہ اس کے جیسا ہی ہے

یعنی ْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ کی سند محفوظ نہیں ہے بلکہ یہ بات صرف ایک قول کی طرح مشھور ہے

دوسرا طرق
سنن الکبری البیہقی، سنن ابو داود
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا، وَإِنَّ وَالِدِي يَحْتَاجُ مَالِي؟ قَالَ: «أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ، إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ، فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ»

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا وَإِنَّ وَالِدِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي , فَقَالَ: ” أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ ”
یہاں اسکو حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ نے روایت کیا ہے حَبِيْبٌ المُعَلِّمُ بنُ أَبِي قَرِيْبَةَ دِيْنَارٍ البَصْرِيُّ کو نسائی لَيْسَ بِالقَوِيِّ کہتے ہیں اور امام احمد کہتے ہیں اس کی حدیث صحیح نہیں ہے امام المحدثین يحيى القطان لا يحدث عنه اس سے روایت نہیں کرتے – متاخرین مثلا ابن حجر نے صدوق کہا ہے اور الذھبی نے ثقہ کہا ہے لہذا یہ روایت متقدمین کے نزدیک صحیح نہیں ہے

تیسرا طرق
سنن سعید بن منصور کا ہے
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا، وَلِأَبِي مَالٌ وَوَلَدٌ، يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِمَالِي إِلَى مَالِهِ وَوَلَدِهِ، فَقَالَ: «أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ»

الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ کا سماع رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے نہیں ہے روایت منقطع ہے

چوتھا طرق
صحیح ابن حبان میں ہے
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّاجِرُ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عَطَاءٍ عن عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَاصِمُ أَبَاهُ فِي دَيْنٍ عَلَيْهِ فقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ “أنت ومالك لأبيك

اس کی سند میں عبد الله بن كيسان المروزى جس کو ابو حاتم کہتے ہیں ضعیف ہے اور ابن حجر کہتے ہیں غلطیاں کرتا ہے – بخاری اس کو منکر الحدیث کہتے ہیں اور ادب المفرد میں روایت لی ہے صحیح میں نہیں لی

ابن حبان اور طحاوی کے نزدیک صحیح ہے لہذا دونوں نے اس روایت پر تبصرے کیے ہیں

جواب

صحیح بخاری کی حدیث ہے

عَنْ أبي هُرَيْرَةَ عنِ النَّبىِّ – صلى الله عليه وسلم – قالَ:
مَنْ كانَ يُؤْمِنُ باللهِ واليَوْمِ الآخِرِ؛ فَلا يُؤذي جارَهُ، وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا؛ فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ، وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِى الضِّلَعِ أَعْلاَهُ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ؛ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ (وفي طريقٍ: المَرْأَةُ كَالضِّلَعِ: إِنْ أقَمْتَها كَسَرْتَها،
وإِنِ استَمْتَعْتَ بها استَمْتَعْتَ بها وَفيها عِوجٌ)، فَاسْتَوْصُوا بِالنِّساءِ خَيْراً”.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو اذیت نہ پہنچائے اور تم کو عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں ۔ انہیں پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اور پسلی میں سب سے ٹیڑھا حصہ سب سے اوپر والا حصہ ہوتا ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو تم اسے توڑ دو گے اور اگر اس کے حال پر رہنے دو گے تو وہ ٹیڑھی رہے گی عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں

امام بخاری کی سند

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

امام بخاری کے نزدیک اغلبا یہ مَيسَرَة بْن عَمّار، الأَشجَعِيُّ. ہیں اور ان کا ذکر تاریخ الکبیر میں کیا ہے

اس کے برعکس امام البزار کے نزدیک یہ الگ ہیں

امام البزار کی سند

حَدَّثَنا بشر بن خالد العسكري , حَدَّثَنا الحُسَين بن علي , عن زائدة يعني ابن قدامة , عن ميسرة النهدي , عن أبي حازم , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ

امام البزار کہتے ہیں یہ ميسرة النهدي ہیں یعنی ميسرة بن حبيب النهدى ، أبو حازم الكوفى ہیں

ميسرة بن حبيب النهدى مدلس ہیں اور یہاں ان کا عنعنہ ہے لہذا یہ روایت مظبوط نہیں ہے

اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ البزار کے نزدیک زائدة ابن قدامة نے ميسرة النهدي سے سنا ہے نہ کہ الاشجعی سے

مسند احمد، مستخرج أبي عوانة میں اس کی ایک دوسری سند ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” إِنَّ النِّسَاءَ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ، لَا يَسْتَقِمْنَ عَلَى خَلِيقَةٍ، إِنْ تُقِمْهَا تَكْسِرْهَا، وَإِنْ تَتْرُكْهَا تَسْتَمْتِعْ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ

اس کی تمام اسناد میں سفیان ثوری کا عنعنہ ہے لیکن شعيب الأرنؤوط اس کو حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، عبد الملك بن عبد الرحمن صدوق لا بأس به، روى له أبو داود والنسائي، وباقي رجال الإسناد ثقات رجال الشيخين. کہتے ہیں

قرآن میں ہے

خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا﴾(الزمر:۶) ‘‘اس نے تم (سب) کو ایک نفس سے پیدا کیا پھر اس نفس کا جوڑا بنایا

اسی طرح

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

اور اسکی نشانیوں میں سے ہے کہ بے شک اس نے تمہارے نفوس میں سے جوڑے بنا دیے کہ تم سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت ڈالی اس میں غوروفکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

قرآن میں ہے

خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا

تم کو ایک نفس سے خلق کیا پھر نفس کا جوڑا بنایا

سوره النساء میں ہے

ياأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا

اے لوگوں اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک نفس سے خلق کیا اور خلق کیا نفس کا جوڑا

سوره الاعراف کی آیت ہے

هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ فَلَمَّا أَثْقَلَتْ دَعَوَا اللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ (189) فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا فَتَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ (190)

وہی ہے جس نے تم کو ایک نفس سے خلق کیا اور نفس کا جوڑا بنایا کہ سکون حاصل کرے پس جب اس نے اس کو ڈھانپ لیا اور ہلکا سا حمل رہ گیا کہ وہ اس کے ساتھ چلی پس جب بوجھل ہوئی تو ان دونوں نے الله کو پکارا کہ ہم کو صالح دے تاکہ تم شکر گزار ہوں -پس جب ان کو صالح اولاد عطا کی انہوں نے اس کے ساتھ شریک بنا دیے اس پر جو ان کو ملا پس الله اس شرک سے بلند ہے جو یہ کرتے ہیں

بعض لوگوں نے ان آیات سے یہ استخراج کیا کہ آدم و حوا علیھما السلام نے شرک کیا کیونکہ نفس واحدہ (ایک نفس) آ رہا ہے- لیکن یہ صحیح نہیں ہے – انبیاء شرک نہیں کرتے اور خاص کر جب آدم علیہ السلام کا ذکر ہو جو غیب و بہشت دیکھ چکے تھے

یہاں نفس واحد سے مراد آدم علیہ السلام ہیں خلقکم تمام بنی آدم سے خطاب ہے – لیکن زوج سے مراد حوا علیہ السلام خاص نہیں بلکہ تمام انسانیت میں سے ان کا زوج یا جوڑا ہے

لہذا اگر ترتیب دیکھیں تو پہلے آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا اس کے بعد حوا علیہ السلام کو کیا گیا – قرآن میں کہیں نہیں ہے کہ حوا علیہ السلام کو پسلی سے خلق کیا گیا- بلی و ھو خلاق علیم – اس کو آدم کی پسلی کی ضرورت نہیں – جو روایت پیش کی جاتی ہے ان کی اسناد میں راوی کا اختلاف ہے

توریت کی کتاب پیدائش میں ہے

Gen. 2:21 So the LORD God caused a deep sleep to fall upon the man, and while he slept took one of his ribs and closed up its place with flesh.
Gen. 2:22 And the rib that the LORD God had taken from the man he made into a woman and brought her to the man.

لہذا رب نے آدمی پر نیند طاری کی اور جب وہ سویا اس کی ایک پسلی نکال لی اور اس کی جگہ گوشت بھر دیا

اور جو پسلی نکالی تھی اسکو رب نے عورت بنا دیا اور اس کو آدمی کے پاس لایا

الله نے آپریشن کر کے آدم کی (צֵלָע ) پسلی لی جبکہ وہ تمام تخلیق سے واقف ہے اور وہ کیا آدم کی پسلی واپس نہ بنا سکا کہ اس کو وہاں گوشت بھرنا پڑا – نہ صرف یہ بلکہ پہلی انسانی تخلیق میں عیب آ گیا لیکن یہ اسکی نسل میں نہیں آیا آج تک مردوں کی پسلیاں ساری ہی ہوتی ہیں اگر نہیں تھیں تو ابو البشر میں نہیں لہذا یہ سب ایک مہمل بات ہے جو خالق کی صفت نہیں ہے

عبد الملك بن حسين بن عبد الملك العصامي المكي (المتوفى: 1111هـ) کتاب سمط النجوم العوالي في أنباء الأوائل والتوالي میں اس کی وجہ علم اعداد میں بتاتے ہیں- شاید یہود سے یہ قول ملا ہو کیونکہ انہوں نے ہی علم اعداد پر بہت کام کیا اور انہی سے ہم تک آیا ہے

وَقيل إِن معنى كَونهَا أخذت من ضلع آدم أَن المُرَاد الضلع الحسابي فَإِنَّهَا ضلع من أضلاع آدم كَمَا هُوَ مُقَرر فِي علم الأوفاق قَالَ بعض المغاربة فِي كَلَامه على وفْق زحل هَذَا فَإِن جملَة أعداد حُرُوف الوفق خَمْسَة وَأَرْبَعُونَ هِيَ مَجْمُوع قَوْلك آدم لِأَن كل ضلع مِنْهُ وكل ب ط د ز وَج وَا ح شطر من أشطاره جملَته خَمْسَة عشر وَهُوَ جملَة اسْم حَوَّاء قَالَ وَله مُنَاسبَة ظَاهِرَة من حَيْثُ إِن حَوَّاء خلقت من ضلع آدم وَقد ظهر مَعَ هَذَا اسْم حَوَّاء فِي الوفق فِي السطر الثَّالِث وَهُوَ واح بِتَقْدِيم وَتَأْخِير

اور کہا جاتا ہے کہ آدم کی پسلی سے مراد حساب کی پسلی ہے کیونکہ یہ ان کی پسلیوں میں سے ایک ہے جیسا کہ علم الاوفاق میں مقرر ہے بعض مغاربہ کہتے ہیں کہ کہ یہ زحل کا وقف ہے کیونکہ اس میں حروف کے اعداد ٤٥ ہیں اور یہ جمع ہے آدم کے کہنے (نام) کا ہر پسلی اس میں ب ط د ز وَ ج وَ ا ح جو شطر میں اتا ہے جو ٤٥ بنتا ہے اور یہ عدد ہے اسم حَوَّاء کا اور کہا یہ مناسبت ہے ظاہری اس طرح کہ حَوَّاء کی تخلیق آدم کی پسلی سے ہوئی اور اس سے ان کا نام حَوَّاء ظاہر ہوا

اس کو اپ راقم کی کتاب مجمع البحرین سے سمجھ سکتے ہیں

Mysticism تصوف


مثال : آدم کا لفظ عبرانی میں אָדָם ہے

אָדָם = آدم = 40+4+1=45

اگر اپ پہلے کولم کو جمع کریں تو ٤٥ ملے گا عبد الملك بن حسين بن عبد الملك العصامي المكي کے نزدیک آدم کی ٩ حسابی پسلیاں ہیں (عام ابن آدم میں مرد و عورت میں حقیقی ١٢ ہوتی ہیں) اپ دیکھ سکتے ہیں کہ ان اعداد میں بلکل بیچ میں عبرانی لفظ ה (ھ) ہے جو عبرانی میں חַוָּה حوا علیہ السلام کے نام میں اتا ہے اور یہ لفظ احبار کے مطابق بہت پر اسرار ہے کیونکہ یہ تخلیق کا سب سے اہم لفظ ہے اس پر تفصیل کتاب

Ali in Biblical Clouds

میں ہے

کتاب سمط النجوم میں ٤٥ کو زحل سے بھی ملایا گیا ہے کیونکہ یہ زحل کا

magic square

ہے جس کی ہر سطر کا جمع ٤٥ ہے اور بیچ میں عدد ٥ اتا ہے

اس تمام تفصیل کو سمھجنے کے بعد یہ جاننا مشکل نہیں ہے کہ اصلا یہ جادو کی روایت ہے جو یہود نے گھڑی تاکہ ان اعداد کی اہمیت اپنے متبعین پر جتا سکیں

بخاری کی ایک اور روایت ہے

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلاَ بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ، وَلَوْلاَ حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا اور اگر حَوَّاءُ نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے خاوند کے ساتھ خیانت نہ کرتی

کون سی خیانت تھی جو بنی آدم کی ماں نے کی؟ روایت نہایت مبہم ہے

اسکی سند میں ہمام بن منبہ ہیں کتاب التَّكْميل في الجَرْح والتَّعْدِيل ومَعْرِفة الثِّقَات والضُّعفاء والمجَاهِيل از ابن کثیر کے مطابق

قال أحمد أيضاً: روى عنه أخوه وَهْب، وكان رجلاً يغزو، وكان يشتري الكتب لأخيه وهب، فجالس أبا هريرة بالمدينة فسمع منه أحاديث، وكان قد أدرك المُسَوِّدة وسقط حاجباه، وهي نحو أربعين ومائة حديث بإسناد واحدٍ، ولكنَّها مُقَطَّعة في الكُتُب ففيها أشياء ليست في الأحاديث.

اور احمد نے یہ بھی کہا : ان (ہمام) سے انکے بھائی وھب بن منبہ نے روایت لی اور یہ جہاد کرتے تھے اور یہ کتابیں خریدتے اپنے بھائی وھب کے لئے پس مدینہ میں ابو ہریرہ کے پاس بیٹھے ان سے احادیث سنیں اور انہوں نے المسودہ (بنو ہاشم کے ہمددر جنہوں نے بنو امیہ کا تختہ الٹا) کو پایا اور ان ( کی آنکھ پر) حجاب آیا (بینائی جاتی رہی) اور یہ ١٤٠ احادیث ایک سی سند سے روایت کرتے لیکن ان کی کتب کٹ گئیں (معدوم ہوئیں) کیونکہ ان میں ایسی چیزیں تھیں جو احادیث نہیں تھیں

ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی وفات معاویہ رضی الله عنہ کے دور میں ہوئی ہمام نہ صرف اتنے بڑے تھے کہ یمن سے سفر کر کے مدینہ پہنچے بلکہ ابو ہریرہ المتوفي ٥٧ هجري سے ١٤٠ حدیثیں سنیں اور لکھیں پھر سوڈان گئے وہاں معمر بن راشد کو روایات سنائیں پھر زندہ رہے اور ابن زبیر کا دور بھی دیکھا یہاں تک کہ بنو امیہ کا دور دیکھا عباسیوں کا خروج دیکھا اتنے طویل عرصے تک یہ زندہ رہے جو خود کسی معجزے سے کم نہیں إمام بخاري کہتے ہیں علی المدینی کہتے کہ ہمام ١٣٢ ہجری میں فوت ہوئے یعنی ابو ہریرہ کی بھی وفات کے بعد ٧٥ سال زندہ رہے لیکن ہمام کی کتابیں باقی نہیں رہیں کیونکہ انہوں نے ان میں احادیث کے ساتھ اور باتیں بھی شامل کر دیں

روایت منکر ہے اماں حوا اپنے شوہر سے خیانت کر ہی نہیں سکتیں کیونکہ اس وقت ان کا کوئی اور شوہر نہیں تھا تمام ان کے بچے تھے اور ایک ماں اگر اپنی اولاد کو کچھ دے تو وہ شوہر سے خیانت نہیں

کتاب الفوائد المعللة میں امام أبي زرعة الدمشقي کہتے ہیں

وَسَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ الْحَدِيثُ الَّذِي حَدَّثَهُمْ عَبْدُ الرَّزَّاقِ النَّارُ جبار يَعْنِي حَدِيثَهُ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ همام عن أبي هريرة وتلكما الأَحَادِيثُ لَيْسَ لَهَا أَصْلٌ

اور میں نے امام احمد کو سنا کہا وہ حدیث جو عبد الرزاق روایت کرتا ہے النار جبار یعنی حدیث جو معمر عن ہمام بن منبہ عن ابو ہریرہ کی سند سے ہے اور ایسی احادیث ان کا اصل نہیں ہے

ابن عدی الکامل میں کہتے ہیں

وقال ابن حنبل ليس هذا الحديث فِي كتب عَبد الرَّزَّاق قوله النار جبار يعني عن معمر عن همام، عَن أَبِي هريرة.

اور ابن حنبل نے کہا یہ حدیث عبد الرزاق کی کتب میں نہیں تھی ان کا قول النار جبار یعنی جو عن معمر عن همام، عَن أَبِي هريرة کی سند ہے

اگرچہ متاخرین محدثین کے نزدیک مثلا امام حاکم اور ابن حجر کے مطابق ہمام بن منبہ عن ابو ہریرہ کی سند سلسلہ الذھب ہے لیکن اس کے بر خلاف محدثین ان پر تنقید بھی کرتے تھے

صحیح مسلم میں یہ سليم بن جبير ابو یونس مولی ابوہریرہ کی سند سے ہے

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْلَا حَوَّاءُ، لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ»

کتاب سیر الآعلام النبلاء از الذھبی کے مطابق

وَقَالَ أَبُو زُرْعَةَ: لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

ابو زرعہ کہتے ہیں انہوں نے ابو ہریرہ سے نہیں سنا

یعنی یہ منقطع سند ہے

مسند احمد میں اسکی سند ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو الْهَجَرِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ، لَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ، وَلَمْ يَخْبُثِ الطَّعَامُ، وَلَوْلَا حَوَّاءُ، لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا

کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل از العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق خلاس بن عمرو الهجري کے ترجمہ میں ہے

وقال أبو داود لم يسمع من علي رضي الله عنه وسمعت أحمد يقول لم يسمع من أبي هريرة شيئا

اور ابو داود کہتے ہیں انہوں نے علی سے کچھ نہ سنا اور میں نے احمد کو کہتے سنا کہ انہوں نے ابو ہریرہ سے کچھ نہ سنا

دارقطنی کے مطابق فما كان من حديثه عن أبي رافع، عن أبي هريرة احتمل انکی حدیث ابی رافع سے ہے

شوکانی اور ابن جوزی ان کو ليس بشيء کہتے ہیں اگرچہ دیگر ثقہ کہتے ہیں لیکن یہ روایت منقطع ہے

اس روایت کی تشریح کی جاتی ہے

یہاں ” خیانت” کے وہ معنی مراد نہیں ہیں جو امانت و دیانت کی ضد ہے بلکہ ” خیانت’ ‘سے ناراستی یعنی کجی مراد ہے لہٰذا حضرت حوا کی کجی یہ تھی کہ انہوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت کا وہ درخت کھانے کی ترغیب دی جس سے اللہ تعالیٰ نے روک رکھا تھا ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو کجی حضرت حوا سے سرزد ہو گئی تھی وہ ہر ایک عورت کی سرشت کا جزو بن گئی ہے اگر حضرت حوا سے یہ کجی سرزد نہ ہوتی تو کسی بھی عورت میں کجی کا خمیر نہ ہوتا اور وہ اپنے خاوند کے ساتھ کجروی کا کوئی بھی برتاؤ نہ کرتی ۔

کجی کہتے ہیں ٹیڑھے پن کو کہ عورت مرد کی ہر بات میں مخالفت کرے اور خیانت کہتے ہیں کسی سے چھپ کر کوئی عمل کرنا لہذا یہ شرح بیہودہ بات ہے- ہمارے لئے اس طرح کے جملے ادا کرنا نہایت غیر مناسب ہے

حوا علیہ السلام کا آدم علیہ السلام کو شجر ممنوعہ سے کھانے کی ترغیب دینے کا قرآن میں ذکر ہی نہیں بلکہ آدم علیہ السلام کا یہ ذاتی عمل تھا یہی وجہ ہے کہ قرآن کہتا ہے

ولقد عهدنا إلى آدم من قبل فنسي ولم نجد له عزما

أور بے شک ہم نے آدم سے عہد لیا اس سے قبل اور ان میں ہم نے (قوت) ارادہ نہیں پائی

صحیح بات یہ ہے کہ یہ روایت اسرئیلایات میں سے ہے جس کو مستند مان لیا گیا ہے جبکہ یہ ثابت نہیں ہے

گوشت سڑنے کی روایت میں جو دلیل پیش کی گئی ہے وہ بھی نا قابل فہم ہے نظم کائنات میں تغیر ہے جو بنی اسرائیل کی وجہ سے ہو ممکن نہیں ہے- انسان اور جانور کا گوشت سڑ جاتا ہے اور جسم پنجر میں تبدیل ہو جاتا ہے روایات میں ہے کہ خود یوسف علیہ السلام کی ہڈیاں قبر سے نکلیں جب خروج مصر کے وقت بنی اسرائیل نے انکی قبر وصیت کے مطابق کھودی

حضرت حزيفہ فرماتے ہيں کہ آپ صل اللہ عليہ وسلم نے فرمايا “مجھے تم پر اس فتنے کا ڈر ہے جب ايک آدمي قرآن پڑھے گا يہاں تک کہ اس کي تازگي کے اثرات اس کے چہرے پر نماياں ہونے لگيں گے اور وہ اسلام کا دفاع کرے گا، ليکن ايک موقع ايسا آئے گا جب وہ ان تمام کاموں کو پس پشت ڈال دے گا اور اپنےپڑوسي پر تلوار سونت لے گا اور اسے مشرک قرار دينے لگے گا? حزيفہ فرماتے ہيں کہ ميں نے آپ سے پوچھاکہ ان دونوں ميں شرک کا صيح مصادق کون ہو گا،آپ صل اللہ عليہ وسلم نے فرمايا جو شرک کا دوسرے پر حکم لگائے گا (صيح ابن حبان،کتاب العلم،باب ذکر ماکان يتخوف صل اللہ عليہ وسلم علي امتہ جدال المنافق حديث 81)

جواب

يہ صحيح ابن حبان کي روايت ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَهْرَامَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا جُنْدُبٌ الْبَجَلِيُّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ أَنَّ حُذَيْفَةَ حَدَّثَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: “إن مَا أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ حَتَّى إِذَا رُئِيَتْ بَهْجَتُهُ عَلَيْهِ وَكَانَ رِدْئًا لِلْإِسْلَامِ غَيَّرَهُ إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ فَانْسَلَخَ مِنْهُ وَنَبَذَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ وَسَعَى عَلَى جَارِهِ بِالسَّيْفِ وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّهُمَا أَوْلَى بِالشِّرْكِ الْمَرْمِيُّ أَمِ الرَّامِي قَالَ بل الرامي

جُنْدُبٌ الْبَجَلِيُّ اصل ميں ايک صحابي ہيں جن کا نام جندب بن عَبْد الله بن سفيان البجلي العلقي رضي الله عنہ ہے جو حذيفہ رضي الله عنہ سے اس کو نقل کرتے ہيں

اس ميں الصَّلْتِ بْنِ بَهْرَامَ نام کا راوي ہے امام بخاري نے اس کا ايک دوسرا نام صلت بن مهران بتايا ہے اور تاريخ الکبير ميں اس کو نقل کيا ہے
قَالَ لَنَا عليٌ: حدَّثنا مُحَمد بن بَكر، حدَّثنا الصَّلت، حدَّثنا الْحَسَنُ، حدَّثني جُندُب، أَنَّ حُذَيفة حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبيَّ صَلى اللَّهُ عَلَيه وسَلم قَالَ: أَخوَفُ مَا أَتَخَوَّفُ رَجُلٌ قَرَأَ القُرآنَ، خَرَجَ عَلى جارِهِ بِالسَّيفِ، ورَماهُ بِالشِّركِ.

ميزان الآعتدال ميں الذھبي کے مطابق
الصلت بن مهران.عن شهر بن حوشب، وابن أبي مليكة، والحسن.وعنه محمد بن بكر البرسانى، وسهل بن حماد.مستور.
قال ابن القطان: مجهول الحال.

يہ مجھول الحال اور مستور ہےلہذا يہ روايت ضعيف ہے

يہ روايت مسند البزار ميں بھي ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي كُبَيْشَةَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الصَّلْتُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جُنْدُبٌ، فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْبَصْرَةِ، أَنَّ حُذَيْفَةَ حَدَّثَهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ رَجُلًا قَرَأَ الْقُرْآنَ حَتَّى إِذَا رُئِيَ عَلَيْهِ بَهْجَتُهُ، وَكَانَ رِدْءًا لِلْإِسْلَامِ اعْتَزَلَ إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ، وَخَرَجَ عَلَى جَارِهِ بِسَيْفِهِ، وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ» وَهَذَا الْحَدِيثُ بِهَذَا اللَّفْظِ لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى إِلَّا عَنْ حُذَيْفَةَ [ص:221] بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَالصَّلْتُ هَذَا رَجُلٌ مَشْهُورٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، وَمَا بَعْدَهُ فَقَدِ اسْتَغْنَيْنَا عَنْ تَعْرِيفِهِمْ؛ لِشُهْرَتِهِمْ

البزار کے مطابق يہ روايت حسن ہے اور الصَّلْتُ تو بصرہ کا مشھور آدمي ہے

راقم کہتا ہے الصَّلْتُ مجھول ہي ہے اگر يہ مشہور ہے تو اس کے باپ کا نام تک تو البزار نے بتايا نہيں

اس ميں محمد بن بکر البرساني کے لئے امام نسائي کا قول ہے ليس بالقوي

ايک دور ميں بصرہ خوارج کا گڑھ تھا اور ان کے مخالفين بھي وہاں ان کے لئے احاديث بيان کرتے تھے اس قسم کي روايات اسي دور کي ہيں

الباني نے ابن حبان کي اس روايت کو صحيح ابن حبان کي تعليق ميں حسن قرار ديا ہے
ابن حبان کي سند ہے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَهْرَامَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا جُنْدُبٌ الْبَجَلِيُّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ أَنَّ حُذَيْفَةَ

محمد بن بكر البرساني جس الصلت سے روايت کرتا ہے وہ الصلت بن مہران ہے امام بخاري اور الذہبي کے نزديک
لہذا اس روايت کي سند تاريخ الکبير ميں الصلت بن مہران کے ترجمہ ميں امام بخاري نے سند دي ہے

صلت بْن مهران، قَالَ لَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ نا الصَّلْتُ نا الْحَسَنُ حَدَّثَنِي جُنْدُبٌ أَنَّ حُذَيْفَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَخْوَفُ مَا أَتَخَوَّفُ رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ خَرَجَ عَلَى جَارِهِ بِالسَّيْفِ وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ، وَقَالَ لنا قَيْسٌ نا معتمر سمع أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جُنْدُبٍ بَلَغَهُ عَنْ حُذَيْفَةَ أَوْ سَمِعَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذِكْرُ ناسا يقرؤن الْقُرْآنَ يَنْثُرُونَهُ نَثْرَ الدَّقَلِ يَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ تَأْوِيلِهِ، وَقَالَ مُوسَى نا حماد أنا يونس عَنِ الْحَسَن عَنْ جندب عَنْ حذيفة – قولَهُ بِهِذا، وَقَالَ ابْن أَبِي الأسود نا ابْن علية عَنْ يونس – بِهِذا.

يہي قول ابن ابي حاتم کا ہے کہ يہ راوي الصلت بن مہران ہے

يہ شوشہ کہ الصلت بن مہران اور الصلت بن بھرام ایک ہے ابن حجر نے چھوڑا جب انہوں نے صحيح ابن حبان کا ہي حوالہ دے کر يہ ثابت کرنے کي کوشش کي کہ ائمہ امام بخاري، ابن ابي حاتم اور الذہبي سب سے اس راوي کے تعين ميں غلطي ہوئي
پھر ابن حجر کي بات کو لوگوں نے بيان کرنا شروع کر ديا جن ميں الباني بھي ہيں اور اس طرح راوي مجھول سے ثقہ بن گيا

جواب

اس پر کوئی صحیح حدیث نہیں ہے

سنن أبي داود
حدَّثنا هنادُ بن السَّرِي، حدَّثنا أبو مُعاويةَ، عن إسماعيلَ، عن قيس عن جريرِ بن عبد الله، قال: بعثَ رسولُ الله -صلَّى الله عليه وسلم- سريةً إلى خَثْعَمٍ، فاعتصم ناسٌ منهم بالسجود، فأَسرع فيهم القتل، قال: فبلغَ ذلك النبي -صلَّى الله عليه وسلم- فأمر لهم بنصفِ العقلِ. وقال: “أنا بريء من كل مُسلم يقيم بين أظْهُرِ المشركين” قالوا: يا رسول الله، لم؟ قال: ” لا تَرَاءَى نارَاهما”

قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «رَوَاهُ هُشَيْمٌ، وَمَعْمَرٌ، وَخَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ، وَجَمَاعَةٌ لَمْ يَذْكُرُوا جَرِيرًا»

جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ خثعم کی جانب ایک سریہ بھیجا تو ان کے کچھ لوگوں نے سجدہ کر کے بچنا چاہا پھر بھی لوگوں نے انہیں قتل کرنے میں جلد بازی کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے ان کے لیے نصف دیت کا حکم دیا اور فرمایا: “میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے”، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “دونوں کی (یعنی اسلام اور کفر کی) آگ ایک ساتھ نہیں رہ سکتی”

۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہشیم، معمر، خالد واسطی اور ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے جریر کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

ترمذی کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ جَرِيرٍ وَهَذَا أَصَحُّ. وَفِي البَاب عَنْ سَمُرَةَ.: وَأَكْثَرُ أَصْحَابِ إِسْمَاعِيلَ قَالُوا: عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ جَرِيرٍ. وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ الحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ. وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ: الصَّحِيحُ حَدِيثُ قَيْسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَل , (ت) 1605

المعجم الكبير از الطبراني کی روایت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى نَاسٍ مِنْ خَثْعَمٍ فَاعْتَصَمُوا بِالسُّجُودِ، فَقَتَلَهُمْ فَوَدَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ الدِّيَةِ، ثُمَّ قَالَ: «أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ أَقَامَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ، لَا تَرَاءَى نَارَاهُمَا

سنن نسائی کی سند ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ إِسْمَعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً إِلَى قَوْمٍ مِنْ خَثْعَمَ، فَاسْتَعْصَمُوا بِالسُّجُودِ، فَقُتِلُوا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ: «إِنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا لَا تَرَاءَى نَارَاهُمَا»

یعنی اس کو قیس بن ابی حازم جو مختلط ہو گیا تھا اس نے کبھی مرسل روایت کیا ہے کبھی اس کو جریر بن عبد الله کی حدیث اور کبھی خالد بن الولید کی حدیث کہتا ہے اس روایت کو ابن علیہ نے قیس بن ابی حازم سے سنا ہے اور یہی شخص ام المومننیں پر حواب کے کتے والی روایت لگاتا ہے اور کہتا ہے ، مروان نے زبیر کا قتل کیا اس کی دماغی حالت صحیح نہیں تھی

روایت کے الفاظ مبہم ہیں کہ وہ لوگ سجدہ کر کے بچ رہے تھے لیکن پھر بھی خالد نے قتل کر دیا دوم رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بھی دیت نصف کر دی

یہ منکر روایت ہے

بخاری کی روایت ہے

حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وحَدَّثَنِي نُعَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الإِسْلاَمِ، فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا: أَسْلَمْنَا، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: صَبَأْنَا صَبَأْنَا، فَجَعَلَ خَالِدٌ يَقْتُلُ مِنْهُمْ وَيَأْسِرُ، وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمٌ أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ [ص:161]، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لاَ أَقْتُلُ أَسِيرِي، وَلاَ يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَاهُ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ مَرَّتَيْنِ»

یہاں خالد نے پھر جلد بازی میں قتل کرر دیا رسول الله نے الٹا خالد کے عمل سے برات کا اظہار کیا

عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مکۃ مناخٌ لا تُبَاع ربا عھا و لا تؤ اجر بیوتھا، ”مکّہ مسافروں کے اُترنے کی جگہ ہے، نہ اس کی زمینیں بیچی جائیں اور نہ اس کے مکان کرائے پر چڑھائے جائیں“۔

ابراہیم نَخعی کی مُرسَل روایت ہے:

حضور ؐ نے فرمایا: مکۃ حرمھا اللہ لا یحل بیع رباعھا ولا اجارۃ بیوتھا،
”مکّہ کو اللہ نے حرم قرار دیا ہے ، اس کی زمین کو بیچنا اور اس کے مکانوں کا کرایہ وصول کرنا حلال نہیں ہے“۔
(واضح رہے کہ ابراہیم نخعی کی مُرسَلات حدیث مرفوع کے حکم میں ہیں، کیونکہ اُن کا یہ قاعدہ مشہور و معروف ہے کہ جب وہ مرسَل روایت کرتے ہیں تو دراصل عبد اللہ بن مسعُود ؓ کے واسطے سے روایت کرتے ہیں)۔ مجاہد نے بھی تقریبًا انہی الفاظ میں ایک روایت نقل کی ہے۔

عَلْقَمہ بن نَضْلَہ کی روایت کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانے میں مکّے کی زمینیں سوائب (افتادہ زمینیں یا شاملات) سمجھی جاتی تھیں، جس کو ضرورت ہوتی وہ رہتا تھا اور جب ضرورت نہ رہتی دوسرے کو ٹھیرا دیتا تھا“۔

عبداللہ بن عمر کی روایت کہ حضرت عمر نے حکم دے دیا تھا کہ حج کے زمانے میں مکّے کا کوئی شخص اپنا دروازہ بند نہ کرے۔ بلکہ مجاہد کی روایت تو یہ ہے کہ حضرت عمر نے اہلِ مکّہ کو اپنے مکانات کے صحن کھلے چھوڑ دینے کا حکم دے رکھا تھا اور وہ ان پر دروازے لگانے سے منعے کرتے تھے تاکہ آنے والا جہاں چاہے ٹھیرے۔ یہی روایت عطا کی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ صرف سُہیل بن عَمْرو کو فاروق اعظم نے صحن پر دروازے لگانے کی اجازت دی تھی کیونکہ ان کو تجارتی کاروبار کے سلسلے میں اپنے اونٹ وہاں بند کرنے ہوتے تھے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کا قول کہ جو شخص مکّہ کے مکانات کا کرایہ وصول کرتا ہے وہ اپنا پیٹ آگ سے بھرتا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کا قول کہ اللہ نے پورے حرم مکّہ کو مسجد بنا دیا ہے جہاں سب کے حقوق برابر ہیں۔ مکّہ والوں کو باہر والوں سے کرایہ وصول کرنے کا حق نہیں ہے۔

عمر بن عبد العزیز کا فرمان امیر مکّہ کے نام کہ مکّے کے مکانات پر کرایہ نہ لیا جائے کیونکہ یہ حرام ہے۔

جواب

عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مکۃ مناخٌ لا تُبَاع ربا عھا و لا تؤ اجر بیوتھا، ”مکّہ مسافروں کے اُترنے کی جگہ ہے، نہ اس کی زمینیں بیچی جائیں اور نہ اس کے مکان کرائے پر چڑھائے جائیں“۔

حاکم اور بیہقی اس کو روایت کرتے ہیں

بیہقی اور امام الذھبی دونوں اس میں راوی إسماعيل بن إبراهيم بن مهاجر کو ضعیف کہتے ہیں

بیہقی کہتے ہیں اس کا باپ إبراهيم بن مهاجر بھی ضعیف ہے
————
ابراہیم نَخعی کی مُرسَل روایت ہے:

حضور ؐ نے فرمایا: مکۃ حرمھا اللہ لا یحل بیع رباعھا ولا اجارۃ بیوتھا،
”مکّہ کو اللہ نے حرم قرار دیا ہے ، اس کی زمین کو بیچنا اور اس کے مکانوں کا کرایہ وصول کرنا حلال نہیں ہے“۔
(واضح رہے کہ ابراہیم نخعی کی مُرسَلات حدیث مرفوع کے حکم میں ہیں، کیونکہ اُن کا یہ قاعدہ مشہور و معروف ہے کہ جب وہ مرسَل روایت کرتے ہیں تو دراصل عبد اللہ بن مسعُود ؓ کے واسطے سے روایت کرتے ہیں)۔ مجاہد نے بھی تقریبًا انہی الفاظ میں ایک روایت نقل کی ہے۔

جواب
شرح معانی الآثار میں اسکی سند ہے جو مجاہد کا قول ہے
حدثنا فهد قال ثنا بن الأصبهاني قال أخبرنا شريك عن إبراهيم بن مهاجر عن مجاهد أنه قال : مكة مباح لا يحل بيع رباعها ولا إجارة بيوتها وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا بأس ببيع أرضها وإجاراتها وجعلوها في ذلك كسائر البلدان وممن ذهب إلى هذا القول أبو يوسف واحتجوا في ذلك بما

یہاں بھی إبراهيم بن مهاجر ہے جو ضعیف ہے

مصنف ابن ابی شیبہ میں اس کی سند ہے
حدثنا أبو بكر قال حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة حرم حرمها الله لا يحل بيع رباعها ولا اجارة بيوتها
لیکن یھاں اعمش ہے جو مدلس ہے عن سے روایت کر رہا ہے

————–

عَلْقَمہ بن نَضْلَہ کی روایت کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانے میں مکّے کی زمینیں سوائب (افتادہ زمینیں یا شاملات) سمجھی جاتی تھیں، جس کو ضرورت ہوتی وہ رہتا تھا اور جب ضرورت نہ رہتی دوسرے کو ٹھیرا دیتا تھا“۔
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے
حدثنا أبو بكر قال حدثنا عيسى بن يونس عن عمر بن سعيد بن أبي حسين عن عثمان بن أبي سليمان عن علقمة بن نضلة قال كانت رباع مكة في زمان رسول الله صلى الله عليه و سلم وزمان أبي بكر وعمر تسمى السوائب من احتاج سكن ومن استغنى اسكن

ابن حجر کے مطابق علقمہ صحابی نہیں ہیں

———–
عبداللہ بن عمر کی روایت کہ حضرت عمر نے حکم دے دیا تھا کہ حج کے زمانے میں مکّے کا کوئی شخص اپنا دروازہ بند نہ کرے۔ بلکہ مجاہد کی روایت تو یہ ہے کہ حضرت عمر نے اہلِ مکّہ کو اپنے مکانات کے صحن کھلے چھوڑ دینے کا حکم دے رکھا تھا اور وہ ان پر دروازے لگانے سے منعے کرتے تھے تاکہ آنے والا جہاں چاہے ٹھیرے۔ یہی روایت عطا کی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ صرف سُہیل بن عَمْرو کو فاروق اعظم نے صحن پر دروازے لگانے کی اجازت دی تھی کیونکہ ان کو تجارتی کاروبار کے سلسلے میں اپنے اونٹ وہاں بند کرنے ہوتے تھے۔

————
عبداللہ بن عمر ؓ کا قول کہ جو شخص مکّہ کے مکانات کا کرایہ وصول کرتا ہے وہ اپنا پیٹ آگ سے بھرتا ہے۔

جواب
سنن الکبری بیہقی کی سند ہے
(وأخبرنا) أبو عبد الله الحافظ ثنا على بن حمشاذ وأبو جعفر بن عبيد الحافظ قالا ثنا محمد بن المغيرة السكرى ثنا القاسم بن الحكم العرنى ثنا أبو حنيفة عن عبيدالله بن أبى زياد عن أبى بخيج عن عبد الله بن عمرو قال قال النبي (2) صلى الله عليه وسلم مكة حرام وحرام بيع رباعها وحرام اجر بيوتها – كذا روى مرفوعا ورفعه وهم والصحيح انه موقوف

اس قول کو صحابی کا قول کہا گیا ہے

یہی سند مستدرک میں ہے جہاں الذھبی کہتے ہیں
عبيدالله بن أبي زياد لين کمزور ہے
———–
عبداللہ بن عباس ؓ کا قول کہ اللہ نے پورے حرم مکّہ کو مسجد بنا دیا ہے جہاں سب کے حقوق برابر ہیں۔ مکّہ والوں کو باہر والوں سے کرایہ وصول کرنے کا حق نہیں ہے۔

———-
عمر بن عبد العزیز کا فرمان امیر مکّہ کے نام کہ مکّے کے مکانات پر کرایہ نہ لیا جائے کیونکہ یہ حرام ہے۔
مصنف ابن ابی شیبہ میں سند ہے
حدثنا أبو بكر قال حدثنا إسماعيل بن عياش عن بن جريج قال أنا قرأت كتاب عمر بن عبد العزيز على الناس بمكة ينهاهم عن كراء بيوت مكة ودورها
یہاں ابن جریج مدلس ہیں اور عن سے روایت ہے

———–

مصنف ابن ابی شیبہ میں عطا کا قول ہے
حدثنا أبو بكر قال حدثنا حفص عن حجاج عن عطاء أنه كان يكره أجور بيوت مكة
کہ وہ اس سے کراہت کرتے کہ مکہ کے گھروں کا کرایہ لیا جائے

طحاوی کہتے ہیں
وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا بأس ببيع أرضها وإجاراتها وجعلوها في ذلك كسائر البلدان وممن ذهب إلى هذا القول أبو يوسف واحتجوا في ذلك بما
ان روایات کی دوسروں نے مخالفت کی ہے کہ مکہ کی زمین بیچنے میں اور کرایہ میں کوئی برائی نہیں ہے اور اس کو دوسرے شہروں کی طرح کیا اور جو اس قول کی طرف گئے ہیں ان میں امام ابو یوسف ہیں

اسی طرح وہ کہتے ہیں
قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذه الآثار فقالوا لا يجوز بيع أرض مكة ولا إجاراتها وممن قال بهذا القول أبو حنيفة ومحمد وسفيان الثوري رحمه الله وقد روى ذلك أيضا عن عطاء ومجاهد
مکہ کی زمین بیچنا جائز نہیں ہے نہ اس کا کرایہ جائز ہے اور جو اس قول پر گئے ہیں ان میں امام ابو حنیفہ امام محمد امام سفیان اور یہی عطا اور مجاہد کا قول ہے

———-

بیشتر فقہا بشمول امام مالک اور امام احمد کے نزدیک مکہ کی زمین نہ بیچی جائے گی نہ اس کا کرایہ لیا جائے گا البتہ کہا جاتا ھےامام شافعی کے نزدیک بیچا اور کرایہ لیا جا سکتا ہے
كتاب البيع من الشرح الممتع على زاد المستقنع للشيخ العثيمين

———-

قرآن میں ہے
إن الذين كفروا ويصدون عن سبيل الله والمسجد الحرام الذي جعلناه للناس سواء العاكف فيه والباد ومن يرد فيه بإلحاد بظلم نذقه من عذاب أليم ( 25

جواب

جی یہ صحیح نہیں ہے
ابلیس نے اللہ کو کہا تھا
وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ
میں انکو حکم دوں گا اور یہ الله کی خلقت کو بدل ڈالیں گے
سوره النساء ١١٩

ٹیٹو راقم کے علم کے مطابق جنات سے پناہ کے لئے جسم پر بنائے جاتے ہیں کہ جیسے ہی وہ پاس آئیں ان مذکورہ نشانات کو دیکھ کر سمجھ جائیں یہ ان کے لئے نشان ہوتے ہیں

راقم کے علم میں آیا ہے کہ
یہود میں ایسا جسم جس پر ٹیٹو ہو اس کو یہودی قبرستان میں دفن نہیں کیا جاتا
اس کا مطلب ہے کہ ابراہیمی ادیان میں ٹیٹو کا مطلب صحیح نہیں ہے

ٹیٹو (عربي مين الوشم) ایک تصویری تعویذ ہے جو جسم پر بنایا جاتا ہے مشرک اقوام میں خاص طور پر افریقہ، جنوبی امریکہ کے علاقوں میں- عربوں میں اس کا استمعال خوبصورتی کے لئے ہوتا تھا جو عورتیں کرتی تھیں
نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الكَلْبِ وَثَمَنِ الدَّمِ، وَنَهَى عَنِ الوَاشِمَةِ وَالمَوْشُومَةِ
صحیح البخاری
اس وجہ سے حدیث میں گودنے اور گدوانے والیوں پر لعنت کی گئی ہے
یہ تخلیق کو بدلنا ہے

مصنف عبد الرزاق كي رواية ہے
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، 5102 – عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الْوَشْمِ؟ فَقَالَ: «مِنْ زِيِّ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ»
معمر نے الزہری نے پوچھا یہ ٹیٹو کیا ہے ؟ بولے جاہلیت کا فیشن

غریب الحدیث قاسم بن سلام کے مطابق
الوشم فِي الْيَد
ٹیٹو ہاتھ پر بنایا جاتا تھا

النہایہ ابن اثیر کے مطابق
قَالَ نافِع: «الوَشْم فِي اللِّثَة
نافع کا قول ہے کہ ٹیٹو مسوڑوں پر ہوتا

جواب

اس پر ایک واقعہ ہے کہ فتح مکہ دن ابو قحافہ رضی اللہ عنہ والد ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو ان کا سر ثغامہ کی طرح سفید تھا تو رسول اللہ نے حکم دیا کہ انہیں عورتوں میں سے کسی کے پاس لے جاؤ جو ان بالوں کو کسی چیز سے رنگ دے – کالے رنگ سے اجتناب کرنا

اس روایت کو بصریوں ، مصريون نے انس اور جابر رضی الله عنہم سے روایت کیا ہے

اہل بصرہ أور مصري والے کہتے ہیں کہ حدیث میں تھا کالے رنگ سے بچنا لیکن بصرہ کے زھیر بن مُعَاوِيَةَ کہتے ہیں میں نے ابو زبیر سے خاص کالے خضاب کا پوچھا تو ابو زبیر کہتے ہیں اس میں یہ الفاظ نہیں بولے گئے

: المسنَد الصَّحيح المُخَرّج عَلى صَحِيح مُسلم از أبو عَوانة يَعقُوب بن إسحَاق الإسفرَايينيّ (المتوفى 316 هـ) کے مطابق
حدثنا إسحاق بن سيّار، قال: حدثنا أبو غَسّان (1)، قال: حدثنا زهير (2)، قال: ثنا أبو الزبير، عن جابر بمثله، فأمر به إلى نسائه وقال: “غيروا هذا بشيء” (3).
قال زهير: وقلت له: وجنبوه السواد؟ قال: لا
زُهَيْر بنُ مُعَاوِيَةَ بنِ حُدَيْجِ کہتے ہیں میں نے ابو زبیر سے پوچھا کہ کیا جابر نے یہ کہا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یہ بھی حکم دیا کہ کالے رنگ سے بچنا تو ابو زبیر نے کہا نہیں

محدثین کے مطابق زھیر بن معاویہ اتنے حافظہ میں اچھے ہیں کہ ٢٠ امام شعبہ کے برابر ہیں لہذا اس روایت سے دلیل نہیں لی جا سکتی
یہی روایت انس رضی الله عنہ سے مسند احمد میں ہے اس کی سند ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ انس

یہاں اس میں ہشام بن حسان مدلس ہے لہذا یہ روایت اس سند سے ضعیف ہے
ایک تیسری روایت ہے جس کی سند صحیح ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ
سب سے احسن چیز جس سے تم سفید بالوں کو رنگتے ہو ، وہ منہدی اور وسمہ ہے

احسن کہنا اور مطلقا منع کرنا دو الگ چیزیں ہیں
ممانعت والی میں راوی خود کہتا ہے اس میں کالے خضاب کے الفاظ نہیں ہیں

طبقات ابن سعد اور سیر الاعلام النبلاء از الذھبی کے مطابق سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ
كَانَ أَبِي رَجُلاً قَصِيْراً، دَحْدَاحاً، غَلِيْظاً، ذَا هَامَةٍ، شَثْنَ الأَصَابِعِ، أَشْعَرَ، يَخْضِبُ بِالسَّوَادِ
لگاتے تھے

عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کے لئے مورخ ابن یونس نے لکھا
قَالَ ابْنُ يُوْنُسَ: شَهِدَ فَتحَ مِصْرَ، وَاخْتَطَّ بِهَا، وَوَلِيَ الجُنْدَ بِمِصْرَ لِمُعَاويَةَ، ثُمَّ عَزَلَهُ بَعْدَ ثَلاَثِ سِنِيْنَ، وَأَغْزَاهُ البَحْرَ، وَكَانَ يَخْضِبُ بِالسَّوَادِ، وَقَبْرُهُ بِالمُقَطَّمِ
یہ کالا خضاب لگاتے تھے

عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے لئے الذہبی کی سیر میں لکھا
قَالَ أَبُو بَكْرٍ بنُ البَرْقِيِّ: كَانَ عَمْرٌو قَصِيْراً، يَخْضِبُ بِالسَّوَادِ
ابو بکر البرقی نے کہا عمرو رضی الله عنہ کالا خضاب لگاتے تھے

امام بخاری نے اپنی تاریخ میں قيس مولى خباب ترجمه البخاري في ” تاريخه ” 7 / 151، کے تر جمہ میں لکھا حسن رضی الله عنہ کالا خضاب لگاتے تھے
الثَّوْرِيُّ: عَنْ عَبْدِ العَزِيْزِ بنِ رُفَيْعٍ، عَنْ قَيْسٍ مَوْلَى خَبَّابٍ: رَأَيْتُ الحَسَنَ يَخْضِبُ بِالسَّوَادِ

طبقات ابن سعد کے مطابق عبد الرحمان بن عوف رضی الله عنہ بھی کالا خضاب لگاتے تھے
سَعْدُ بنُ إِبْرَاهِيْمَ: كَانَ أَبُو سَلَمَةَ يَخْضِبُ بِالسَّوَادِ

سیر الاعلام النبلاء از الذھبی میں بہت سے تابعین اور تبع تابعین کا ذکر ہے جو کالا خضاب لگاتے تھے مثلا
طلحہ رضی الله عنہ کے بیٹے مُوْسَى بنُ طَلْحَةَ بنِ عُبَيْدِ اللهِ التَّيْمِيُّ المَدَنِيُّ
بکر بن عبد الله بن عمرو
ابن ابی لیلی
ابن جریج
محمد بن اسحاق
خلیفہ ابو جعفر منصور

یعنی ابو جابر مدلس کی روایت صحیح نہیں ہے اور ان ثقہ لوگوں کا کالا خضاب لگانا اس کی دلیل ہے کہ اس روایت کو کسی نے قبول نہیں کیا خود راوی نے ہی اس کا انکار کر دیا

جواب

اس میں کوئی قباحت نہیں ہے

عورتوں کے بال موندھنا منع ہیں حدیث ہے
نهى أن تحلق المرأة رأسها

سنن نسائی میں روایت ہے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا»
البانی اسکو ضعیف کہتے ہیں

سنن ابو داود کی روایت ہے ابن عباس سے مروی ہے
لَيسَ على النساء الحلقُ، إنما على النِّساء التقصيرُ
عورت کے لئے حلق نہیں بال کم کرنا ہے

شعَيب الأرنؤوط کہتے ہیں روایت صحیح ہے لہذا حج پر بال کاٹنے میں تو کوئی برائی نہیں رہی

ترمذی حج کے حوالے سے کہتے ہیں
وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ لَا يَرَوْنَ عَلَى المَرْأَةِ حَلْقًا، وَيَرَوْنَ أَنَّ عَلَيْهَا التَّقْصِيرَ
اس پر اہل علم کا عمل ہے کہ عورت کے بال نہیں مونڈھے جائیں گے اس کے بال کم کیے جائیں گے

اور اسی بنیاد پر عام دنوں میں بھی کوئی برائی نہیں ہے

مسلم کی روایت ہے
وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ العَنْبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمنِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَا وَأَخُوهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ. فَسَأَلَهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ «فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ قَدْرِ الصَّاعِ فَاغْتَسَلَتْ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا سِتْرٌ وَأَفْرَغَتْ عَلَى رَأْسِهَا ثلَاثًا» قَالَ: «وَكَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذْنَ مِنْ رُءُوسِهِنَّ حَتَّى تَكُونَ كَالْوَفْرَةِ»

وكان أزواج النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يأخذن من رؤوسهن حتى تكون كالوفرة.
ازواج النبی اپنے سروں پر وفرہ کر لیتیں
محمد فؤاد عبد الباقي کہتے ہیں
حتى تكون كالوفرة وهي من الشعر ما كان إلى الأذنين ولا يجاوزهما] وفرہ یہ بال ہیں جو کانوں تک ہوتے ہیں اس سے متجاوز نہیں ہوتے

الألباني مختصر صحیح مسلم المنذری میں وفرہ کی یہی شرح کرتے ہیں
وهي من الشعر ما كان إلى الأذنين، ولا يجاوزهما، ولعلهن فعلن ذلك بعد وفاته صلى الله عليه وسلم لتركهن التزين،

لیکن البانی نے قیاس کیا ہے کہ ایسا امہات المومنین رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی زندگی میں نہیں کرتی تھیں
اس پر کوئی دلیل نہیں ہے

امہات المومنین اپنے بالوں کا وفرہ بناتی تھیں
قال النووي: قال القاضي عياض رحمه الله: المعروف أَن نساء العرب إِنما كن يتخذن القرون والذوائب ولعل أَزواج النبي صلى الله عليه وسلم فعلن هذا بعد وفاته صلى الله عليه وسلم لتركهن التزين واستغنائهن عن تطويل الشعر وتخفيفًا لمؤونة رؤوسهن
نووی کہتے ہیں کہ قاضی عیاض کہتے ہیں وہ بناتی تھیں کیونکہ وہ رسول الله کی وفات کے بعد زیب و زینت چھوڑ چکی تھیں

یہ بھی دعوی ہے جو محتاج دلیل ہے

لہذا عورتوں کا بال کاٹنا مباح ہے لیکن ان کو بالکل مونڈھنا غلط ہے

جواب

نبی صلی الله علیہ وسلم اعلی اخلاق کا نمونہ تھے اور متواتر روایات سے معلوم ہے کہ اپ نے کسی کو نسل کا طعنہ نہیں دیا

صحیح ابن خزیمہ، مسند احمد کی روایت

نا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، نا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُهَيْلٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ يَهُودِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّأمُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَعَلَيْكَ» ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فَعَلِمْتُ كَرَاهِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِذَلِكَ فَسَكَتُّ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ، فَقَالَ: السَّأمُ عَلَيْكَ، فَقَالَ: «عَلَيْكَ» ، فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فَعَلِمْتُ كَرَاهِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِذَلِكَ، ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثُ، فَقَالَ: السَّأمُ عَلَيْكَ، فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قُلْتُ: وَعَلَيْكَ السَّأمُ وَغَضَبُ اللَّهِ وَلَعْنَتُهُ إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، أَتُحَيُّونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا لَمْ يُحَيِّهِ اللَّهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ قَالُوا قَوْلًا فَرَدَدْنَا عَلَيْهِمْ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ حُسَّدٌ، وَهُمْ لَا يَحْسُدُونَا عَلَى شَيْءٍ كَمَا يَحْسُدُونَا عَلَى السَّلَامِ، وَعَلَى آمِينَ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي كِتَابِ «الْكَبِيرِ

عَائِشَةَ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا تم پر موت ہو اے محمد پس رسول الله نے جواب دیا تم پر بھی …. عَائِشَةَ رضی الله عنہا نے یہود کو خطاب کر کے کہا تم پر موت ہو اور الله کا غضب اور اسکی لعنت اے بندروں اور سوروں کے بھائیوں … پس رسول الله نے اس پر عَائِشَةَ سے کہا کہ الله فحش کو پسند نہیں کرتا

مسند احمد میں یہ روایت دو سندوں سے ہے جن میں ایک کمزور ہے لیکن دوسری صحیح ہے – شعيب الأرنؤوط بھی اس روایت کو صحیح کہتے ہیں – البانی الصحیحہ 691 میں اس کو صحیح کہتے ہیں

مسند اسحٰق کی روایت میں اضافہ ہے اس واقعہ کے وقت

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ الْيَهُودَ دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ. فَقَالَ: وَعَلَيْكُمْ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ: عَلَيْكُمُ السَّامُ وَغَضِبُ اللَّهِ وَلَعْنَتُهُ يَا إِخْوَةَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ، عَلَيْكِ بِالْحِلْمِ وَإِيَّاكِ وَالْجَهْلَ. فَقَالَتْ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ. فَقَالَ: أَولَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ؟ إِنَّهُ يُسْتَجَابُ لَنَا فِيهِمْ وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِينَا

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عائشہ رضی الله عنہا کو نصیحت کی کہ اے عائشہ تمہارے لئے بردباری ہے اور ان کے لئے جھل ہے

اب ان کے مخالف مستدرک حاکم کی روایت ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْمُسَيَّبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا

سول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے یہود کے قبیلے بنوقریظہ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا:
یا إخوۃ القردۃ والخنازیر

بندراور خنزیروں کے بھائیوں
المستدرک علی الصحیحین للحاکم، ج۱۰،ص۱۱۷،رقم الحدیث:۴۳۰۱ میں ہے
اس کی سند میں عبد اللہ بن عمر العمری ہے

قال أحمد صالح الحديث

قال ابن معين صويلح يكتب حديثه صويلح ہے اس کی حدیث لکھ لی جائے

قال ابن عدي لا بأس به اس میں برائی نہیں

قال النسائي ليس بالقوي قوی نہیں ہے

لہذا اس سے دلیل نہیں لی جا سکتی جبکہ دوسری روایات اس کے مخالف موجود ہیں

البدایہ و النہایہ ج ٤ ص ١٣٥ میں ابن کثیر نے بنو قریظہ کے سلسلے میں لکھا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یہود کو کہا

فَنَادَاهُمْ يَا إِخْوَةَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ.

پس ان کو پکارا اے بندروں اور سوروں کے بھائیوں

اس کی سند بیان کی گئی ہے

ثُمَّ رَوَى الْبَيْهَقِيُّ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيِّ، عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ

یعنی یہ وہی مستدرک حاکم کی سند ہے جس سے ان لوگوں نے روایت کیا ہے

تفسیر ابن کثیر سوره بقرہ آیت ٧٨ میں اس کو مجاہد کا قول بتایا گیا ہے- اسی طرح عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَابْنُ جَرِيرٍ وَابْنُ الْمُنْذِرِ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ میں اس کو مُجَاهِدٍ کا قول کہا گیا ہے – أحمد محمد شاكر تفسیر طبری میں کہتے ہیں یہ رسول الله کا قول تھا

وقوله”فقال: يا إخوة القردة والخنازير” من كلام رسول الله صلى الله عليهم وسلم، لا كلام علي رضي الله عنه.

جبکہ جن سندوں پر یہ تعلیق ہے اس میں یہ مجاہد کا قول ہے لہذا اس مرسل روایت کو مرفوع مخالف کی موجودگی میں قبول نہیں کیا جا سکتا

جواب

اس میں اختلاف ہے

قنروں کی زیارت موت یاد دلاتی ہے اس میں مردوں کی تخصیص نہیں

امام بخاری نے ایک حدیث پیش کی ہے کہ ایک عورت کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے قبر پر دیکھا تو اس کو کہا صبر کرو

امام مسلم روایت کرتے ہیں
نُهِيْنَا عَن زيارة القبور، ولم يعزم علينا
أم عطية کہتی ہیں ہم کو قبر کی زیارت سے منع کیا گیا لیکن اس میں عزم نہیں رکھا گیا
یعنی کوئی جاتا تو اس کو جھڑکا نہیں جاتا ہو گا جیسا صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ عورت کو قبر پر دیکھا

ترمذی کی روایت ہے
: لَعَنَ اللَّهُ زَوَّارَاتِ الْقُبُور
الله کی لعنت ہو قبروں کی زیارت کرنے والوں پر
یہ حسن حدیث ہے صحیح سے کم درجہ کی ہے

احناف کے نزدیک مباح ہے
حنابلہ کے نزدیک مکروہ ہے- بن باز کہتے ہیں لأن صبرهن قليل ان میں صبر کم ہے اس لئے مکروہ ہے
ابْنُ سِيرِينَ وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ وَالشَّعْبِيُّ کے لئے بیان کیا جاتا ہے وہ اس سے کراہت کرتے
المالكية والشافعية والحنابلة میں عورتوں کا جنازہ کے ساتھ جانا مکروہ ہے
البانی کے نزدیک عورتوں کا قبر کی زیارت کرنا جائز ہے : أحكام النساء – مستخلصا من كتب الألباني

عورتیں دور نبوی میں مقابر میں عموما نہیں جاتی تھیں لیکن عائشہ رضی الله عنہا کے لئے جید اور حسن روایت میں ہے کہ انھوں نے اپنے بھائی کی قبر کی زیارت کی
عائشہ رضی الله عنہا روز قبر نبوی کی بھی زیارت کرتی ہوں گی کیونکہ قبر نبوی یہ گھر میں تھی

اس کا تعلق عورتوں کے عمل سے تھا کہ وہ روتی تھیں – آج تو مرد بھی قبروں پر جا کر شرک کر رہے ہیں لہذا یہ بات زیارت قبور سے نکل کر کہیں سے کہیں جا چکی ہے

جواب

ابو رغال سے متعلق دو روایات ہیں ایک میں ہے کہ طائف کے غیلان ثقفی کی دس بیویاں تھیں اپ صلی الله علیہ وسلم پر جب یہ ایمان لائے تو حکم ہوا چار رکھو اس سے زائد نہیں
اور اس میں ہے کہ ورنہ ابو رغال کی قبر کی طرح رجم کیا جائے گا

دوسری والی میں ہے کہ رسول الله نے ابو رغال کی قبر کھودنے کا حکم دیا

محدثین کے نزدیک دونوں صحیح ہیں سوائے چند مخصوص سندووں کے -دونوں کا متن ثابت ہے قابل دلیل ہے
پہلی روایت مصنف عبد الرزاق ح 12216 میں بیان ہوئی ہے
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ کی سند سے
—-
مسند احمد ، 4631 ، 14160 میں بیان ہوئی ہے

الأموال لابن زنجويه 1553 میں بیان ہوئی ہے
—-
الجامع معمر بن أبي عمرو راشد 20989 میں بیان ہوئی ہے

سنن ابو داود 3088 میں ہے

صحیح ابن خزیمہ 2272 میں ہے

مسند ابو یعلی 5437 میں ہے

البانی الإرواء تحت حديث: 1883 میں اس کو صحیح کہا ہے

صحیح ابن حبان 1067 – 1277 – 1279 میں ہے

اس روایت میں ایک علت بیان کی جاتی ہے کہ معمر نے اس روایت کو بصرہ میں بیان کیا ہے اور اس دور میں ان کا حافظہ اچھا نہیں تھا اس علت کو امام بخاری اور امام احمد سے نقل کیا گیا ہے

بعض محدثین ابن حبان، والحاكم، والبيهقي نے اس بات کر رد کے لئے اس کوأهل الكوفة، وأهل خراسان، وأهل اليمامة سے بھی نقل کیا ہے جو بصرہ کے نہیں ہیں اور معمر سے اس کو روایت کرتے ہیں

ابن حجر ، التلخيص الحبير میں کہتے ہیں کہ ان کی رائے میں ان راویوں نے اس روایت کو معمر سے بصرہ آ کر سنا اور روایت معلول ہے

المجموع شرح المهذب میں نووی کہتے ہیں امام البزار کہتے ہیں
جوده معمر بالبصرة وأفسده باليمن.
معمر کی حالت بصرہ میں ٹھیک تھی یمن میں اس میں فساد ہوا

یعنی البزار دیگر کی رائے سے متفق نہیں ہیں

أبي حاتم، أبي زرعة کہتے ہیں المرسل أصح ہے

شعيب الأرنؤوط صحیح ابن حبان پر اس تمام بحث کو سمیٹے ہوئے کہتے ہیں
قلت: لكن للحديث طريق آخر موصول يقويه ويشد منه، أخرجه النسائي فيما ذكره الحافظ في التلخيص 3/169، والدارقطني 3/271، والبيهقي 7/183 من طريق سيف بن عبد الله الجرمي، حدثنا سرار بن مجشر أبو عبيدة العنزي، عن أيوب، عن نافع وسالم، عن ابن عمر أن غيلان بن سلمة الثقفي أسلم وعنده عشر نسوة … الحديث، وفيه: فأسلم وأسلمن معه، وفيه: فلما كان زمن عمر طلقهن، فقال له عمر: راجعهن … ورجال إسناده ثقات كما قال الحافظ وغيره.
وأخرجه ابن أبي شيبة 4/317، والشافعي 2/16، وأحمد 2/14 و 44 و 83، والترمذي 1128 في النكاح: باب ما جاء في الرجل يسلم وعنده عشر نسوة، وابن ماجه 1953 في النكاح: باب الرجل يسلم وعنده أكثر من أربع نسوة، والدارقطني 3/270، والحاكم 2/192-193، والبيهقي 7/149 و 181، والبغوي 2288 من طرق عن معمر، بهذا الإسناد.
وأخرجه الدارقطني 3/269 من طريقين عن الحسن بن عرفة، حدثنا مروان بن معاوية الفزاري، عن الزهري، عن سالم، عن أبيه، قال: أسلم غيلان بن سلمة الثقفي وعنده عشر نسوة فقال النبي صلى الله عليه وسلم: “خذ منهن أربعاً”.
وأخرجه الطبراني 13221 من طريق النعمان بن المنذر، عن سالم، عن أبيه…..
وأخرجه مالك في الموطأ 2/582 عن ابن شهاب أنه قال: بلغني….
وأخرجه عبد الرزاق في المصنف 12621 عن معمر، عن الزهري، أن غيلان…..
وغيلان بن سلمة هذا يعدّ من أشراف ثقيف ووجهائهم، أسلم بعد فتح الطائف هو وأولاده، قال المرزباني في “معجم الشعراء”: شريف شاعر، أحد حكام قيس في الجاهلية، وله ترجمة في طبقات ابن سعد 5/371، وأخرى في الإصابة وافية برقم 6918.

میں کہتا ہوں اس کا ایک اور طرق ہے جس کو نسائی نے روایت کیا ہے جو اس روایت کو قوی کرتا ہے اور اس کو مظبوط کر دیتا ہے
یعنی شعیب کے نزدیک متن ایک اور صحیح سند سے ہے جو نسائی میں ہے

مستدرک حاکم میں 3248 ہے جہاں اس کو حاکم اور الذھبی صحیح کہتے ہیں

احمد شاکر اس کو مسند احمد 4631 میں صحیح کہتے ہیں

صحیح بخاری کی ایک معلق روایت باب بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يَسْتَحِلُّ الخَمْرَ وَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ میں ہے
وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ الكِلاَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ الأَشْعَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ أَوْ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَاللَّهِ مَا كَذَبَنِي: سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ، يَسْتَحِلُّونَ الحِرَ وَالحَرِيرَ، وَالخَمْرَ وَالمَعَازِفَ، وَلَيَنْزِلَنَّ أَقْوَامٌ إِلَى جَنْبِ عَلَمٍ، يَرُوحُ عَلَيْهِمْ بِسَارِحَةٍ لَهُمْ، يَأْتِيهِمْ – يَعْنِي الفَقِيرَ – لِحَاجَةٍ فَيَقُولُونَ: ارْجِعْ إِلَيْنَا غَدًا، فَيُبَيِّتُهُمُ اللَّهُ، وَيَضَعُ العَلَمَ، وَيَمْسَخُ آخَرِينَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ ”
أَبُو عَامِرٍ یا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ، روایت کرتے ہیں کہ الله کی قسم میں جھوٹ نہیں کہتا میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو سنا کہتے میری امت میں اقوام ہوں گی جو ریشم کو شراب کو المَعَازِفَ کو حلال کریں گے …. ان کو مسخ کر کے سور و بندر بنا دیا جائے گا
صحیح بخاری کی مسند روایت نہیں ہے اس کو بخاری نے معلق پیش کیا ہے یعنی بلا سند
لیکن جو موسیقی پر جرح کرتے ہیں وہ اس کو ایسے پیش کرتے ہیں گویا یہ غیر معلق ہے

صحیح ابن حبان میں بھی ہے
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، قَالَ:
حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، وَأَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّانَ سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: “لَيَكُونَنَّ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ والمعازف”

ان تین میں ہشام بن عمار ہے جو مظبوط راوی نہیں ہے ان کا حافظہ خراب ہو گیا تھا
ان روایات میں علت ہے کہ بعض دفعہ راوی کہتا ہے يَسْتَحِلُّونَ الْخَزَّ اور بعض دفعہ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ کہتا ہے
ایک کا مطلب ہے زنا کرنا اور بعد والے کا مطلب ہے خز پہنا جو کپڑے کی قسم ہے
شوکانی کہتے ہیں خز کا لفظ غیر محفوظ ہے
(الخَزّ) ثُمَّ تَعَقَّبَهُ بِأَنَّهُ لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ، لِأَنَّ كَثِيرًا مِنْ الصَّحَابَةِ لَبِسُوهُ. نيل الأوطار – (ج 12 / ص 423)
اور ابو داود کہتے ہیں صحابہ نے خز پہنا ہے
قَالَ أَبُو دَاوُد (ح4039): وَعِشْرُونَ نَفْسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ – صلى الله عليه وسلم – أَوْ أَكْثَرُ لَبِسُوا الْخَزَّ , مِنْهُمْ أَنَسٌ , وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ.
امام بخاری نے اس کو يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ کے الفاظ سے روایت کیا ہے لیکن سند مظبوط نہ ہونے کی وجہ سے معلق نقل کیا ہے

سنن ابو داود میں ہے
حدَّثنا عبدُ الوهَّابِ بنُ نجدةَ، حدَّثنا بِشرُ بنُ بكْرٍ، عن عبدِ الرحمن ابن يزيدَ بنِ جابرٍ، حدَّثنا عطيةُ بنُ قيسٍ، سمعتُ عبدَ الرحمن بنَ غَنمٍ الأشعريَّ
حدَّثني أبو عامِرٍ، أو أبو مالِكِ، واللهِ يمينٌ أُخرى ما كذبني، أنه سَمعَ رسولَ الله – صلَّى الله عليه وسلم – يقول: “ليكونَنَ من أُمَّتي أقوامٌ يستحلُّونَ الخزَّ والحَرِيرَ -وذكرَ كلاماَ، قال:- يَمسَخُ منهم آخرين قِرَدَةً وخنازيرَ إلى يومِ القِيَامَةِ”
إس مين المَعَازِفَ کا ذکر نہیں ہے
اس کی سند میں شامیوں کا تفرد ہے روایت کے مطابق ان ممنوعہ چیزوں کو حلال کرنے والے مسخ ہوں گے
اس کی سند صحیح ہے لیکن اس کا متن ابھی تک واقع نہیں ہوا امت میں ریشم پہننے والے مردوں میں سے پچھلے ١٣٠٠ سو سال میں کوئی مسخ نہیں ہوا

بنو امیہ کے آخری دور اور عباسی خلافت سے عرب موسیقی سن رہے ہیں لیکن ان میں ابھی تک ان میں کوئی بندر سور نہیں بنا

اس روایت کا مکمل متن امام بخاری نے پیش نہیں کیا کتاب المنتقى من مسند المقلين از أبو محمد دَعْلَج بن أحمد بن دَعْلَج بن عبد الرحمن السجستاني (المتوفى: 351هـ) میں اس کا مکمل متن ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ الْإِسْمَاعِيلَيُّ، وَمُوسَى الْجَوْنِيُّ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ أَوْ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ وَاللَّهِ مَا كَذَبَنِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” لَيَكُونَنَّ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ وَلَيَنْزِلَنَّ أَقْوَامٌ إِلَى جَنْبِ عَلَمٍ لَهُمْ يَرُوحُ عَلَيْهِمْ بِسَارِحَةٍ فَيَأْتِيهِمْ رَجُلٌ بِحَاجَتِهِ فَيَقُولُونَ لَهُ: ارْجِعْ إِلَيْنَا غدًا فَيُبَيِّتُهُمُ اللَّهُ فَيَضَعُ بِالْعَلَمِ عَلَيْهِمْ وَيَمْسَخُ آخَرِينَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ “

أَبُو عَامِرٍ یا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ رضی الله عنہ نے کہا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں اقوام ہونگی جو ریشم کو شراب کو آلات موسیقی کو حلال کریں گی اور ان کے پاس اقوام آئیں گی جو ان کے جھنڈے تلے آوارہ گردی کریں گی اور پھر ایک شخص ان کے پاس آئے گا اپنی حاجت لے کر تو یہ اس کو کہیں گے کل آنا تو الله ان کو چھپا دے گا ان کا علم ختم ہو گا اور باقی کو مسخ کر کے بندر سور بنا دیا جائے گا قیامت تک کے لئے

یعنی یہ اقوام کوئی نہ جان پائے گا کہ کہاں گئیں اور ان میں بچنے والے مسخ ہو جائیں گے

جبکہ اس قسم کا انہونا واقعہ ١٣٠٠ سال میں اس امت میں آج تک نہیں ہوا کہ کوئی قوم معدوم ہوئی ہو اور اس کی خبر نہ ہو

راقم کے نزدیک اس روایت میں متن منکر ہے
—-
لغات کے مطابق المعازف میں تمام آلات موسیقی شامل نہیں ہیں صرف وہ ہیں جن پر ضرب لگتی ہے جیسے دف وغیرہ
تاج العروس میں ہے
. والمَعازِفُ: المَلاهِي الَّتِي يُضْرَبُ بهَا، كالعُودِ والطُّنْبُورِ والدُّفِّ، وغَيْرِها
سرور کے آلات جن پر ضرب لگائی جاتی ہے جس میں عود طنبور دف اور دیگر آلات ہیں

تهذيب اللغة از محمد بن أحمد بن الأزهري الهروي، أبو منصور (المتوفى: 370هـ) کے مطابق
والمَعَازِف: قَالَ اللَّيْث: هِيَ الملاعب الَّتِي يُضرب بهَا، يَقُولُونَ للْوَاحِد: عَزْفٌ وللجميع مَعَازف رِوَايَة عَن الْعَرَب، فَإِذا أُفرد المِعْزَف فَهُوَ ضَرْبٌ من الطنابير يتَّخذه أهل الْيمن وَغَيره يَجْعَل العُود مِعْزَفاً.
اللیث نے کہا یہ کھیلنے کی چیزیں ہیں جن پر ضرب لگاتے ہیں اور اگر یہ مفرد ہو المزف تو یہ طنبور ہے جو اہل یمن نے لئے ہیں

سنن الکبری بیہقی میں ایک روایت میں بیہقی لکھتے ہیں
وَأَمَّا الضَّرْبُ بِالْعُودِ وَالطَّبْلِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْمَعَازِفِ
اور ضرب میں ہے عود اور طبل اور دیگر جو معازف ہیں

المَعَازِف سے مراد اگر آلات موسیقی ہیں تو ان میں دف شامل ہے جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے سامنے بچائی گئی اپ نے اس پر منع نہ کیا بلکہ منع کرنے والے ابو بکر کو روکا

مسند احمد کی روایت ہے
حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَنْبَأَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ الْحِمْصِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” إِنَّ اللهَ بَعَثَنِي رَحْمَةً وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَمْحَقَ الْمَزَامِيرَ وَالْكَّنَارَاتِ (1) ، يَعْنِي الْبَرَابِطَ وَالْمَعَازِفَ، وَالْأَوْثَانَ الَّتِي كَانَتْ تُعْبَدُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَأَقْسَمَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِعِزَّتِهِ: لَا يَشْرَبُ عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي جَرْعَةً مِنْ خَمْرٍ إِلَّا سَقَيْتُهُ مَكَانَهَا مِنْ حَمِيمِ جَهَنَّمَ مُعَذَّبًا أَوْ مَغْفُورًا لَهُ، وَلَا يَسْقِيهَا صَبِيًّا صَغِيرًا إِلَّا سَقَيْتُهُ مَكَانَهَا مِنْ حَمِيمِ جَهَنَّمَ مُعَذَّبًا أَوْ مَغْفُورًا لَهُ، وَلَا يَدَعُهَا عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي مِنْ مَخَافَتِي إِلَّا سَقَيْتُهَا إِيَّاهُ مِنْ حَظِيرَةِ الْقُدُسِ، وَلَا يَحِلُّ بَيْعُهُنَّ وَلَا شِرَاؤُهُنَّ، وَلَا تَعْلِيمُهُنَّ، وَلَا تِجَارَةٌ فِيهِنَّ، وَأَثْمَانُهُنَّ حَرَامٌ ” لِلْمُغَنِّيَاتِ
رسول الله نے فرمآیا مجھے آلات موسیقی مٹا نے کے لئے بھیجا گیا ہے

شعيب الأرنؤوط اس کو ضعیف کہتے ہیں
—-
ترمذی کی حدیث ہے
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ القُدُّوسِ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فِي هَذِهِ الأُمَّةِ خَسْفٌ وَمَسْخٌ [ص:496] وَقَذْفٌ»، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ المُسْلِمِينَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَتَى ذَاكَ؟ قَالَ: «إِذَا ظَهَرَتِ القَيْنَاتُ وَالمَعَازِفُ وَشُرِبَتِ الخُمُورُ»: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الحَدِيثُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، کہتے ہیں رسول الله نے فرمایا کہ جب اس امت میں شراب اور آلات موسیقی ظاہر ہوں گے تو لوگ مسخ ہوں گے اور زمین دھنسے گی
البانی اس کو صحیح کہتے ہیں
اس میں الأَعْمَشِ مدلس عن سے روایت کر رہا ہے جو مدلس ہے لہذا ضعیف ہے
يَحْيى بن مَعِين اس کے راوی عَبد الله بن عَبد القدوس کو ليس بشَيْءٍ رافضي خبيث کوئی چیز نہیں رافضی خبیث کہتے ہیں
—-
مسند الحارث کی روایت ہے کہ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ , ثنا الْحَجَّاجُ الْأَعْوَرُ , عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ , عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي الْبَصْرِيَّ – قَالَ: وَيَتَزَوَّجُ فِيكُمُ الْمُتَزَوِّجُ فَتَحْمِلُ نِسَاءُكُمْ مَعَهُنَّ هَذِهِ الصُّنُوجَ وَالْمَعَازِفَ , وَيَقُولُ الرَّجُلُ مِنْكُمْ لِامْرَأَتِهِ تَجَمَّلِي تَجَمَّلِي , فَيَحْمِلُهَا عَلَى حِصَانٍ وَيَسِيرُ مَعَها عِلْجَانِ , مَعَهُمَا مَزَامِيرُ شَيْطَانٍ وَمَعَهُمَا مَنْ لَعَنَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” لَعَنَ اللَّهُ مُخَنَّثِي الرِّجَالِ وَمُذَكَّرَاتِ النِّسَاءِ , وَقَالَ: أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ , وَلَا يَتَشَبَّهُ الرَّجُلُ بِالْمَرْأَةِ وَلَا الْمَرْأَةُ بِالرَّجُلِ , وَأَنْتُمْ تُخْرِجُونَ النِّسَاءَ فِي ثِيَابِ الرِّجَالِ , وَالرِّجَالَ فِي ثِيَابِ النِّسَاءِ , يُمَرُّ بِهَا عَلَى الْمَسَاجِدِ وَالْمَجَالِسِ
الحجاج بن محمد الأعور کی سند سے روایت ہے کہ حسن نے بصریوں پر تنقید کی کہ تم لوگ اپنی شادیوں میں ان آلات کو ساتھ کرتے ہو
الحجاج بن محمد الأعور ضعیف اور مختلط تھے


مسند الشامییں طبرانی میں ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَةَ الْمِصِّيصِيُّ، ثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ أَرْطَاةَ، أَنَّ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، خَرَجَ مِنْ دِمَشْقَ إِلَى بَعْضِ قَرْيَاتِ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى صَدِيقٍ كَانَ لَهُ فِيهَا، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَفَرٌ، فَجَعَلُوا يَتَحَدَّثُونَ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ يَذْكُرُونَ مِنْ أَصْحَابِ الدَّجَّالِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ؟ فَقَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ: ” قَوْمٌ يَسْتَحِلُّونَ الْخَمْرَ وَالْحَرِيرَ وَالْمَعَازِفَ حَتَّى يُقَاتِلُونَ مَعَكُمْ، فَيُنْصَرُونَ كَمَا تُنْصَرُونَ، وَيُرْزَقُونَ، حَتَّى يُوشِكَ قَاتِلُهُمْ أَنْ تَقُولَ: فَعَلَ اللَّهُ بِأَوَّلِنَا كَذَا وَكَذَا، لَوْ كَانَ حَرَامًا مَا نُصِرْنَا وَلَا رُزِقْنَا، حَتَّى إِذَا خَرَجَ الدَّجَّالُ لَحِقُوا بِهِ، لَا يَتَمَالَكُونَ عَنْهُ، يُخْرِجُهُمْ إِلَيْهِ أَعْمَالُهُمْ ”
عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ نے کہا دجال کے ساتھ وہ ہیں جو ریشم پہنیں گے آلات کو حلال کرین گے حتی کہ قتال کریں گے اور فتح پائیں گے جس پر لوگ شک کریں گے کہ اگر یہ ایسے ہیں تو الله ان کی مدد کیوں کر رہا ہے اگر یہ حرام ہے تو ہم نہ فتح پاتے نہ رزق اس پر جب دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ شامل ہو جائیں گے

اس کی سند میں عَدِيُّ بْنُ أَرْطَأَةَ الْفَزَارِيُّ الدِّمَشْقِيُّ ہے جس کو عمر بن عبد العزیز نے بصرہ کا عامل مقرر کیا پھر جرح کی اس کے مطابق دمشقی بھی آلات موسیقی سے محظوظ ہوتے تھے

یعنی ایک طرف وہروایت ہے کہ موسیقی والے مسخ ہو جائیں گے دوسری طرف یہ ہے کہ الله ان کو جہاد میں فتح دے گا اور وہ کامیاب بھی ہوں گے یہاں تک کہ دجال سے ملیں گے

بنو امیہ کے بعض اور عباسی خلفاء مسخ ہو کر بندر سور نہیں بنے اور الله ان کے ہاتھ پر مسلمانوں کو فتح بھی دیتا رہا لہذا روایت بنائی گئی کہ یہ اب دجال سے مل جائیں گے
—-

چار فقہاء کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ موسیقی کی حرمت کے قائل ہیں اور علماء ظاہر مثلا ابن حزم اس کے حرام ہونے کے انکاری ہیں
اس کی وجہ ہے کہ عربوں کو ایسی لونڈیاں پسند تھیں جو ساز و گانا کر سکتی ہوں اس سے منع کیا گیا ورنہ ہر وقت اس دور میں یہی ماحول ہوتا جس طرح آج تی وی پر سارا دن موسیقی سنتے رہتے ہیں

قرآن میں بے جا لھو سے منع کیا گیا ہے موسیقی اس میں شامل سمجھی جائے گی اگر اپ کو دین سے ہٹا دے لہو میں ہر وہ چیز ہے جو اصل دین سے دور کرے صرف موسیقی نہیں ہے مشرکانہ درس و تعلیم بھی اسی میں سے ہے

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دف بجانے کو عید پر جائز کیا ہے – اس بنیاد پر خوشی کے موقعہ پر اعتدال میں اس کو کرنا ممنوع نہیں ہے لیکن اس میں عموم کا نہیں اتا
یہ راقم کی رائے ہے
کتاب المنتخب من مسند عبد بن حميد کی صحیح سند سے روایت ہے
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ أَبِي الْحُسَيْنِ قَالَ: كَانَتِ النِّسَاءُ يَضْرِبْنَ بِالدُّفُوفِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ للرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ؟ فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَوْمَ عُرْسِي، فقعد عند موضغ فِرَاشِي هَذَا وَعِنْدَنَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بالدف وتندبان آبائي الذي قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَتَا: فِيمَا تَقُولَانِ: فِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا يَكُونُ فِي غَدٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “أَمَّا هذا فلا تقولاه”.
اس کی سند صحیح ہے
خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ أَبِي الْحُسَيْنِ کی روایت ہے کہ ایک شادی کے موقعہ پر لونڈیاں دف بجا رہی تھیں کہ رسول الله ، رُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ کے پاس تشریف لائے

اور مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حُسَيْنٍ، قَالَ: كَانَ يَوْمٌ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ يَلْعَبُونَ فِيهِ، فَدَخَلْتُ عَلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَعَدَ عَلَى مَوْضِعَ فِرَاشِي هَذَا، وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تَنْدُبَانِ آبَائِي الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، تَضْرِبَانِ بِالدُّفُوفِ، وَقَالَ عَفَّانُ، مَرَّةً بِالدُّفِّ، فَقَالَتَا فِيمَا تَقُولَانِ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا يَكُونُ فِي غَدٍ. فَقَالَ: ” أَمَّا هَذَا فَلَا تَقُولَاهُ ”
الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، کہتی ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے سامنے دو لونڈیاں دف بجا کر گا رہی تھیں
شعيب الأرنؤوط اس کو صحیح علی شرط مسلم کہتے ہیں

مسند احمد کی روایت ہے
عَنْ أَبِي بَلْجٍ قَالَ: (قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيِّ رضي الله عنه: إِنِّي قَدْ تَزَوَّجْتُ امْرَأَتَيْنِ , لَمْ يُضْرَبْ عَلَيَّ بِدُفٍّ , قَالَ: بِئْسَمَا صَنَعْتَ) (1) (قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: ” فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ) (2) (فِي النِّكَاحِ) (3) (الصَّوْتُ (4) وَضَرْبُ الدُّفِّ
ابی بلج نے محمد بن حاطب سے کہا میں نے دو شادییاں دیکھیں ان میں دف نہیں بجائی گئی انہوں نے کہا برا ہوا رسول الله نے فرمایا حلال و حرام میں فاصلہ رکھو نکاح میں آواز میں اور دف میں

علماء نے اس سے نکاح میں دف بجانے کا جواز لیا ہے

قَالَ الْجَزَرِيُّ فِي النِّهَايَةِ: يُرِيدُ إِعْلَانَ النِّكَاحِ , وَذَلِكَ بِالصَّوْتِ وَالذِّكْرِ بِهِ فِي النَّاسِ
الْجَزَرِيُّ کہتے ہیں آواز سے مراد نکاح کا اعلان ہے
مبارک پوری اہل حدیث کہتے ہیں
قُلْت: الظَّاهِرُ عِنْدِي وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ أَنَّ الْمُرَادَ بِالصَّوْتِ هَاهُنَا: الْغِنَاءُ الْمُبَاحُ، فَإِنَّ الْغِنَاءَ الْمُبَاحَ بِالدُّفِّ جَائِزٌ فِي الْعُرْسِ. تحفة الأحوذي – (ج 3 / ص 154)
میں کہتا ہوں جو میرے نزدیک ظاہر ہے الله کو پتا ہے کہ آواز سے مراد یہاں مباح گانا ہے کیونکہ غنا مباح دف کے ساتھ شادی پر جائز ہے

بخاری کے شارع الْمُهَلَّبُ کہتے ہیں
فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِعْلَانُ النِّكَاحِ بِالدُّفِّ وَالْغِنَاءِ الْمُبَاحِ
اس حدیث کے مطابق نکاح کا اعلان دف اور غنا کے ساتھ مباح ہے

مباح یعنی حلال ہے

وَرَوَى الْبُخَارِيُّ فِي صَحِيحِهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا زَفَّتِ امْرَأَةً إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ مَا كَانَ مَعَكُمْ لَهْوٌ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ يُعْجِبُهُمْ اللَّهْوُ
صحیح بخاری کی روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عائشہ رضی الله عنہا’ سے کہا جب انصار کی ایک عورت کی شادی ہوئی اے عائشہ انہوں نے لھو ساتھ کیوں نہیں کیا اس کو انصار تو پسند کرتے ہیں

یعنی یہ مباح تھا تبھی تو رسول الله کو حیرت ہوئی

نسائی کی روایت ہے
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ , وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ – رضي الله عنهما – فِي عُرْسٍ , وَإِذَا جَوَارٍ يُغَنِّينَ (1) فَقُلْتُ: أَنْتُمَا صَاحِبَا رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَمِنْ أَهْلِ بَدْرٍ , يُفْعَلُ هَذَا عِنْدَكُمْ؟ , فَقَالَا: اجْلِسْ إِنْ شِئْتَ فَاسْمَعْ مَعَنَا, وَإِنْ شِئْتَ فَاذْهَبْ , ” قَدْ رُخِّصَ لَنَا فِي اللهِوِ عِنْدَ الْعُرْسِ ”

اسی سند سے ہے
وجواري يضربن بالدف ويغنين
ان کے اقرباء دف بجا کر گا رہے تھے

عامر بن سعد البجلى کہتے ہیں میں قَرَظَةَ اور ابی مسعود کے پاس آیا شادی میں پس جب گانا ہوا میں نے کہا اپ صحابی ہیں اہل بدر میں سے ہیں ایسا کرتے ہیں انہوں نے کہا بیٹھ جاؤ چاھو تو سنو ہمارے ساتھ ورنہ چلتے بنو ہم کو شادی پر اس کی رخصت ہے
آداب الزفاف میں البانی نے اس کو حسن کہا ہے
البانی کہتے ہیں
ويجوز له أن يسمح للنساء في العرس بإعلان النكاح بالضرب على الدف فقط وبالغناء المباح
اور جائز ہے عورتوں کا شادی کا اعلان نکاح صرف دف بجا کر گانا مباح کے ساتھ

معلوم ہوا کہ حجاز میں شادی پر لھو (غنا ہوتا) اور دف بجائی جاتی تھی ایسا مدینہ میں آمد رسول پر بھی بیان ہوتا ہے لیکن شام و عراق میں اس کو ایک ایسا کام سمجھا جاتا تھا جس پر انسان مسخ ہو کر بندر سور بن جائیں اور حجاز کے بنو امیہ کے اور بنو عباس کے خلفاء کے لئے یہ مشھور ہے کہ ان کے دربار میں گانے والی لونڈیاں تھیں جس پر بصرہ اور دمشق کے بعض راویوں کو سخت کوفت ہوتی تھی

اب تک یہ ثابت ہوا ہے کہ دف بجانا اہل حجاز میں مباح تھا لیکن جب کوئی اور ساز اتا تو اس کو بدعت کہا جاتا

سنن نسائی کی روایت ہے
حدیث نمبر: 4140
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاق وَهُوَ الْفَزَارِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ،‏‏‏‏ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ كِتَابًا فِيهِ:‏‏‏‏ “وَقَسْمُ أَبِيكَ لَكَ الْخُمُسُ كُلُّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا سَهْمُ أَبِيكَ كَسَهْمِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِيهِ حَقُّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَقُّ الرَّسُولِ، ‏‏‏‏‏‏وَذِي الْقُرْبَى،‏‏‏‏ وَالْيَتَامَى،‏‏‏‏ وَالْمَسَاكِينِ،‏‏‏‏ وَابْنِ السَّبِيلِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا أَكْثَرَ خُصَمَاءَ أَبِيكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَيْفَ يَنْجُو مَنْ كَثُرَتْ خُصَمَاؤُهُ،‏‏‏‏ وَإِظْهَارُكَ الْمَعَازِفَ وَالْمِزْمَارَ بِدْعَةٌ فِي الْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَ إِلَيْكَ مَنْ يَجُزُّ جُمَّتَكَ جُمَّةَ السُّوءِ”.
اوزاعی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے عمر بن ولید کو ایک خط لکھا: تمہارے باپ نے تقسیم کر کے پورا خمس (پانچواں حصہ) تمہیں دے دیا، حالانکہ تمہارے باپ کا حصہ ایک عام مسلمان کے حصے کی طرح ہے، اس میں اللہ کا حق ہے اور رسول، ذی القربی، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے۔ تو قیامت کے دن تمہارے باپ سے جھگڑنے والے اور دعوے دار کس قدر زیادہ ہوں گے، اور جس شخص پر دعوے دار اتنی کثرت سے ہوں گے وہ کیسے نجات پائے گا؟ اور جو تم نے معازف اور بانسری کو رواج دیا ہے تو یہ سب اسلام میں بدعت ہیں، میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں تمہارے پاس ایسے شخص کو بھیجوں جو تمہارے بڑے بڑے اور برے لٹکتے بالوں کو کاٹ ڈالے

یہ روایت مقطوع ہے الْأَوْزَاعِيِّ نے عمر بن عبد العزیز کا دور نہیں دیکھا
اس میں مزمار کا لفظ ہے جس کا ترجمہ بانسری کیا جاتا ہے لیکن جب یہی لفظ ابو موسی رضی الله عنہ کے لئے اتا ہے اس کا ترجمہ بدل دیا جاتا ہے

ترمذی کی حدیث ہے

حدیث نمبر: 3855
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ ” يَا أَبَا مُوسَى لَقَدْ أُعْطِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ “. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ابوموسیٰ تمہیں آل داود کی خوش الحانیوں (اچھی آوازوں) میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے” ۱؎۔

لہذا مترجم کہتے ہیں
آپ نے ان کی بابت یہ فرمایا ، «مزمار» (بانسری) گرچہ ایک آلہ ہے جس کے ذریعہ اچھی آواز نکالی جاتی ہے ، مگر یہاں صرف اچھی آواز مراد ہے

سنن ابو داود کی روایت ہے
حدَّثنا أحمدُ بنُ عُبيد الله الغُدَانيُّ، حدَّثنا الوليدُ بن مسلم، حدَّثنا سعيد بن عبد العزيز، عن سليمان بن موسى
عن نافع، قال: سمع ابن عُمرَ مِزْماراً، قال: فوَضَع إصْبَعيه على أُذُنَيْه، ونأى عن الطريق، وقال لي: يا نافعُ هَلْ تَسمعُ شيئاً؟ قال: فقلت: لا، قال: فرَفعَ إصبَعيْه من أُذُنَيه، وقال: كنتُ مع النبي -صلى الله عليه وسلم- فسَمِعَ مثلَ هذا، فصنع مثل هذا
قال أبو علي اللؤلؤىُّ: سمعتٌ أبا داود يقول: هذا حديث منكر
نافع مولیٰ ابن عمر فرماتے ہیں کہ
عبداللہ بن عمر نے ساز بانسری کی آواز سنی تو انہوں نے اپنے کانوں میں اُنگلیاں دے دیں اور راستہ بدل لیا، دور جاکر پوچھا: نافع کیا آواز آرہی ہے؟ تو میں نے کہا: نہیں، تب انہوں نے انگلیاں نکال کر فرمایا کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ کے ساتھ تھا، آپ نے ایسی ہی آواز سنی تھی اور آواز سن کر میری طرح آپ نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں تھیں”
أبو علي اللؤلؤىُّ نے کہا میں نے ابو داود کو کہتے سنا یہ حديث منكر ہے

افسوس ہے کہ اس منکر روایت کو بھی پیش کیا جاتا ہے جبکہ ابو داود اس کو منکر کہہ رہے ہیں لہذا علماء جو اس کو عرصہ سے پیش کر رہے ہیں جھنپ کر لکھتے ہیں  شمس الحق عظیم آبادی کتاب عون المعبود میں کہتے ہیں

قال أبو داود وهذا الحديث (أنكرها) أي أنكر الرواية
قلت ولا يعلم وجه النكارة بل إسناده قوي وليس بمخالف لرواية الثقاة

امام ابوداود اس کو منکر کہتے ہیں میں کہتا ہوں :  منکر کہنے کا سبب اور وجہ نامعلوم ہے ، حبکہ اس روایت کی سند بھی قوی ہے ، اور ثقہ رواۃ کی روایت کے خلاف بھی نہیں

راقم کہتا ہے اس کی سند میں  سليمان بن موسى الأشدق  ہے کتاب  ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين میں الذھبی نے اس کا ترجمہ قائم کیا ہے

قال النسائي ليس بالقوي وقال البخاري عنده مناكير

اور کتاب ضعفاء العقيلي میں امام علی المدینی کا قول ہے  سليمان بن موسى مطعون عليه اس پر طعن کیا جاتا ہے

ابو داود اس کی ایک اور سند دیتے ہیں
حدَّثنا أحمدُ بنُ إبراهيم، قال: حدَّثنا عبدُ الله بنُ جعفر الرَّقِّىّ، قال: حدَّثني أبو المَليح، عن ميمونٍ، عن نافعِ، قال:
كنا مع ابن عمر، فسَمعَ صوتَ مزمارِ رَاعٍ، فذكرَ نحوَه (1).
قال أبو داود: هذا أنكَرُها.
پھر کہتے ہیں اس کا انکار کیا ہے یعنی یہ بھی منکر ہے

عظیم آبادی کا قول صحیح نہیں کیونکہ اس حدیث کی مخفی علت سے متقدمین محدثین لا علم نہیں تھے جس سے متاخرین لا علم ہیں

عربوں میں آلات موسیقی دور نبوی میں محدود تھے صرف دف اس میں اتی تھی جو بجائی بھی جاتی تھی -عربوں میں بتوں کے آگے بھجن کا کوئی رواج نہیں تھا نہ آلات موسیقی اس عبادت میں استمعال ہوتے تھے بلکہ ان وہ طواف کرتے ہوئے تالیاں بجاتے تھے –

صور یا بگل کو یہودی اپنی عبادت پر بجاتے ہیں اس کو آج ساز سمجھا جاتا ہے
جرس یا ناقؤس یا گھنٹی کو عیسآئی عبادت پر بجاتے ہیں اس کو ساز نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن آج اس کو ساز سمجھا جاتا ہے
عربی لغت لسان العرب کے مطابق
طنبر: الطُّنْبُور: الطِّنْبَارَ مَعْرُوفٌ، فَارِسِيٌّ مُعَرَّبٌ دَخِيلٌ، أَصله دُنْبَهِ بَرَهْ أَي يُشْبِه أَلْيةَ الحَمَل، فَقِيلَ: طُنْبور. اللَّيْثُ: الطُّنْبُورُ الَّذِي يُلْعب بِهِ، مُعَرَّبٌ وَقَدِ اسْتُعْمِلَ في لفظ العربية.
الطُّنْبُور کا لفظ فارسی اصل ہے اس کو معرب کیا گیا ہے
راقم کا خیال ہے یہ ساز فارس سے آیا ہے اور عباسی دور میں اس کا رواج عربوں میں ہوا کیونکہ عباسیوں پر مجوس کا اثر تھا اور وہ ان کا سا لباس اور ٹوپیاں پہنتے تھے اور برمکہ خاندان ان کی کابینہ کا حصہ تھا اسی دور میں اس ساز کو ذکر ملتا ہے اس سے قبل نہیں ملتا
الطُّنْبُور تار والا ساز ہے اور اس میں سات سر کا خیال رکھا جاتا ہے جس سے عرب لا علم تھے کیونکہ سات سروں کا علم ہندووں، مجوسیوں اور یونانیوں کو تھا

اصلا الہ موسیقی بنانا ایک سائنسی فن ہے اس کا علم عربوں کو یونانی حکماء کی کتب سے ہوا جن کا ترجمہ عباسی دور میں ہوا اور اس کے بعد ہی ہم تک اس دور کے راویوں کی روایات پہنچی ہیں کہ بانسری بدعت ہے اور جو معازف سنے وہ مسخ ہو جائے گا
معازف میں دف بھی ہے لیکن اس کو نبی صلی الله علیہ وسلم نے جائز کیا ہے لہذا ہر وہ روایت جس میں معازف پر بغیر استثنی حرمت کا بیان ہے وہ منکر ہے
بانسری دور نبوی میں نہیں تھی لہذا اس کا ذکر حدیث میں نہیں ہے اور گھنٹی کوئی ساز نہیں ہے
ہر وہ روایت جس میں موسیقی سننے پر مسخ کا ذکر ہو وہ ١٣٠٠ سو سال میں پوری نہ ہونے پر منکر ہے

موسیقی کی حرمت حدیث سے ثابت نہیں ہوتی جب اس میں شادی بیاہ پر دف اور غنا کا حکم مل گیا لہذا دف کا ساز جائز ہوا کسی اور ساز کی اجازت حدیث میں ملے گی نہیں کیونکہ عربوں کو صرف دف بجانا اتا تھا وہ ساز و آلات والے لوگ نہیں تھے

موسیقی آجکل جنگوں میں طبل کے طور پر ملکوں کے ترانوں میں بھی استمعال ہوتی ہے

گانا سننے کی ممانعت اب صرف قرآن میں لھو سے ہے جو ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے جو تفریح ہو یا وقت بربادی ہو (چاہے کرکٹ کا میچ ہو) یا شرکیہ درس و وعظ ، جو اصل دین سے ہٹا دے

بحر الحال بہت سے علماء موسیقی کو مسخ والی احادیث کی بنا پر حرام کہتے اور یہ معاملہ اسی انداز میں چلا ا رہا ہے
اگر اپ اس کو امر مشتبہ لیں تو اس کو چھوڑ دیں اور اگر اپ اس کو کریں تو صرف دف بجائیں

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنھا کے حوالے سے المعجم الکبیر میں نقل ہوئی ہے۔ وہ بیان فرماتی ہیں

دخلت علینا جاریۃ لحسان بن ثابت یوم فطر ناشرۃ شعرھا معھا دف تغنی فزجرتھا ام سلمۃ فقال النبی دعیھا یا ام سلمۃ فان لکل قوم عیدا وھذا یوم عیدنا.

( رقم ۵۵۸)

’’عید الفطر کے دن حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی ہمارے پاس آئی۔ اس کےبال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کے پاس دف تھا اور وہ گیت گا رہی تھی۔ سیدہ ام سلمہ نے اسےڈانٹا۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام سلمہ اسے چھوڑ دو۔ بے شک ہرقوم کی عید ہوتی ہے اور آج کے دن ہماری عید ہے۔‘‘

اس کی سند ضعیف ہے سند میں الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ الْعُقَيْلِيُّ الْجَزَرِيُّ [الوفاة: 141 – 150 ه] عَنْ: أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ جس کو منکر الحدیث کہا گیا ہے
قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: لَيْسَ بِثِقَةٍ.
وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
وَقَالَ النَّسَائِيُّ، وَغَيْرُهُ: مَتْرُوكٌ.

=============

عن ابن عائشۃ لما قدم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم المدینہ جعل النساء و الصبیان یقلن

طلع البدر علینا
من ثنیات الوداع
وجب الشکر علینا
ما دعا للّٰہ داع
ایھا المبعوث فینا
جئت بالامر المطاع

(السیرۃ الحلبیۃ۲/۲۳۵)

’’ابن عائشہ سے روایت ہے :جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو عورتوں اور بچوں نے یہ گیت گایا
آج ہمارے گھرمیں وداع کے ٹیلوں سے چاند طلوع ہوا ہے ۔
ہم پر شکر اس وقت تک واجب ہے، جب تک اللہ کو پکارنے والے اسے پکاریں۔
اے نبی ، آپ ہمارے پاس ایسا دین لائے ہیں جو لائق اطاعت ہے ۔ ‘

کتاب موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان میں تعلیق میں البانی کہتے ہیں
وقد اشتهر على الأَلسنة: أَن النبي – صلى الله عليه وسلم – استقبل بها من جواري المدينة حين هاجر إليها، وليس لذلك أَصل في السيرة.
اور زبان زد عام ہے کہ جب نبی صلی الله علیہ وسلم نے ہجرت کی تو مدینہ میں ان کا استقبال جواری (گانا والوں ) نے کیا … اور اس کا اصل سیرت میں نہیں
البتہ یہ اشعار صحیح ابن حبان میں ہیں جو کسی اور موقعہ پر پڑھے گئے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ حَدَّثَنَا زِيَاد بن أَيُّوب حَدثنَا أَبُو تُمَيْلة يحيى بن وَاضح حَدثنِي الْحُسَيْن بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِِنِّي نَذَرْتُ إِِنْ رَدَّكَ اللَّهُ سَالِمًا أَنْ أَضْرِبَ عَلَى رَأْسِكَ بِالدُّفِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “إِِنْ نَذَرْتِ فَافْعَلِي وَإِِلا فَلا” قَالَتْ إِِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ فَقَعَدَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضربت بالدف1 وَقَالَت:
أشرق الْبَدْر علينا … من ثنيات الْوَدَاع
وَجب الشُّكْر علينا … مَا دَعَا لله دَاع

اس کے مطابق ایک جنگ سے واپسی پر ایک لونڈی نے دف پر گائے جو اس کی منت تھی
——–

عن انس بن مالک ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم مرببعض المدینۃ فاذا ھو بجوار یضربن بدفھن و یتغنین و یقلن

نحن جوار من بني النجار
یا حبذا محمد من جار
فقال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم:اللّٰہ یعلم انی لأ حبکن.

(ابن ماجہ ، رقم ۱۸۹۹)

’’انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :(شہر میں داخل ہونے کے بعد جب )نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی ایک گلی سے گزرے توکچھ باندیاں دف بجا کر یہ گیت گارہی تھیں
ہم بنی نجار کی باندیاں ہیں۔۶؂
خوشا نصیب کہ آج محمد ہمارے ہمسائے بنے ہیں۔
( یہ سن کر)نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جانتا ہے کہ میں تم لوگوں سےمحبت رکھتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – مَرَّ بِبَعْضِ الْمَدِينَةِ، فَإِذَا هُوَ بِجَوَارٍ يَضْرِبْنَ بِدُفِّهِنَّ وَيَتَغَنَّيْنَ وَيَقُلْنَ:
نَحْنُ جَوَارٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ … يَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِنْ جَارِ
فَقَالَ النَّبِيُّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: “اللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي لَأُحِبُّكُنَّ”

عصر حاضر کے محققین شعيب الأرنؤوط – عادل مرشد – محمَّد كامل قره بللي – عَبد اللّطيف حرز الله، محمد فؤاد عبد الباقي اور البانی سب اس کو صحیح کہتے ہیں
———-

عرب عبادت میں موسیقی استمعال نہیں کرتے تھے البتہ باقی مقامات پر اس کا استمعال تھا جن کا ذکر اپ نے کیا ہے
کتاب الکبائر امام الذہبی کی کتاب ثابت نہیں ہے البتہ راقم کو اس سے اتفاق ہے کہ موسیقی گناہ نہیں کیونکہ دف رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے سامنے بجائی گئی ہے اس پر متعدد روایات ہیں
——-

قرآن کے علاوہ بھی جو حرام ہوا ہے وہ الوحی غیر متلو سے ہوا ہے یعنی یہ ضروری نہیں کہ اس پر قرآن میں حکم ہو رسول الله شارع نہیں ہیں اللہ کا حکم چلتا ہے جو قرآن کے علاوہ الوحی بھی ہو سکتا ہے

——–
قرآن میں موسیقی کا ذکر نہیں ہے

———-

سنن الکبری بیہقی کی روایت ہے

وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي شِمْرُ بْنُ نُمَيْرٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِبَنِي زُرَيْقٍ فَسَمِعُوا غِنَاءً وَلَعِبًا فَقَالَ: ” مَا هَذَا؟ ” قَالُوا: نِكَاحُ فُلَانٍ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: ” كَمَّلَ دِينَهُ هَذَا النِّكَاحُ لَا السِّفَاحُ، وَلَا نِكَاحُ السِّرِّ حَتَّى يُسْمَعَ دُفٌّ أَوْ يُرَى دُخَانٌ ” قَالَ حُسَيْنٌ: وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ نِكَاحَ السِّرِّ حَتَّى يُضْرَبَ بِالدُّفِّ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ضَعِيفٌ

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہکے ہمراہ بنی زریق کے پاس سے گزرے ۔ اس موقع پر آپ نے ان کے گانے بجانے کی آوازسنی ۔ آپ نے پوچھا :یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا :یا رسول اللہ ، فلاں شخص کانکاح ہو رہا ہے ۔ آپ نے فرمایا : اس کا دین مکمل ہو گیا۔ نکاح کا صحیح طریقہ یہی ہے ۔ نہ بدکاری جائز ہے اور نہ پوشیدہ نکاح ۔ یہاں تک کہ دف کی آواز سنائی دے یادھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے۔ حسین نے کہا ہے اور مجھ سے عمرو بن یحییٰ المازنی نےبیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ نکاح کو ناپسند کرتے تھے یہاں تک کہ اسمیں دف بجایا جائے ـ۔ ‘‘

اسکی سند میں حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ کو بیہقی نے ضَعِيفٌ قرار دیا ہے
———

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُوسَى الْعَسْكَرِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصِّيصِيُّ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ , فَإِذَا جَوَارِي يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ , وَيَقُلْنَ: نَحْنُ قَيْنَاتُ بَنِي النَّجَّارِ , فَحَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِنْ جَارٍ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ قَلْبِيَ يُحِبُّكُمْ» ، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَوْفٍ إِلَّا عِيسَى تَفَرَّدَ بِهِ مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ

(المعجم الصغیر، رقم۷۸)

’’انس بن مالک سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنی نجار کے ایک قبیلے کے پاس سے گزرے تو آپ نے دیکھا کہ کچھ لونڈیاں دف بجا رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ ہم بنی نجار کی گانے والیاں ہیں۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آج محمد ہمارے ہمسائے بنے ہیں ۔آپ نے فرمایا: اللہ جانتا ہے کہ میرے دل میں تمھارے لیے محبت ہے

اس کی میں مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصِّيصِيُّ مختلف فیہ ہے لہذا مضبوط روایت نہیں ہے

مسند احمد کی روایت ہے

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْجَرِّ الْأَبْيَضِ، وَالْجَرِّ الْأَخْضَرِ، وَالْجَرِّ الْأَحْمَرِ؟ فَقَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ، فَقَالُوا: إِنَّا نُصِيبُ مِنَ الثُّفْلِ، فَأَيُّ الْأَسْقِيَةِ؟ فَقَالَ: «لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيَّ، أَوْ [ص:280] حَرَّمَ الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْكُوبَةَ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ» [ص:281]، قَالَ سُفْيَانُ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ: مَا الْكُوبَةُ؟ قَالَ: «الطَّبْلُ»

ابن عباس کا قول ہے کہ الله نے حرام کیا ہے شراب اور جوا اور کوبہ اور ہر پینے کی نشہ اور چیز حرام کی ہے – سفیان نے  کہا میں نے عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ سے سوال کیا یہ کوبہ کیا ہے بولے طبل

علماء کہتے ہیں طبل بجانا اور ڈھولکی اس روایت سے حرام ہے؟

جواب

اس روایت میں کوبہ کی وضاحت عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ نے کی ہے
بحر الحال بعض نے اس سے طبل مراد لیا بعض نے شطرنج لیا بعض نے النرد صدوق اور پتھر کا کھیل قرار دیا ہے

شعیب مسند احمد  میں تعلیق میں اس کو النرد کہتے ہیں

کتاب الكتاب: القاموس الفقهي لغة واصطلاحا المؤلف: الدكتور سعدي أبو حبيب کے مطابق

النرد: لعبة ذات صندوق، وحجارة

کتاب المعجم الوسيط المؤلف: مجمع اللغة العربية بالقاهرة (إبراهيم مصطفى / أحمد الزيات / حامد عبد القادر / محمد النجار) کے مطابق

النَّرْد لعبة ذَات صندوق وحجارة

کتاب التقفية في اللغة المؤلف: أبو بشر، اليمان بن أبي اليمان البَندنيجي، (المتوفى: 284 هـ) کے مطابق

والْكُوبُ: جمع كُوبَة، وهو الطَّبل.

کتاب العين از أبو عبد الرحمن الخليل بن أحمد بن عمرو بن تميم الفراهيدي البصري (المتوفى: 170هـ)
کے مطابق

والكُوبةُ: الشطرنجة.
کتاب النَّظْمُ المُسْتَعْذَبُ فِي تفْسِير غريبِ ألْفَاظِ المهَذّبِ از بطال (المتوفى: 633هـ) کے مطابق

وَقالَ الْجَوْهَرِىُّ : الْكوبَةُ. الطَّبْلُ الصَّغيرُ الْمُخَصَّرُ

کتاب جمهرة اللغة المؤلف: أبو بكر محمد بن الحسن بن دريد الأزدي (المتوفى: 321هـ) از کے مطابق
والكوبة: الطبل هَكَذَا يُقَال وَالله أعلم

الغرض لغت والوں کا اس پر اختلاف ہے کہ کوبہ کیا چیز ہے اس میں تین آراء ہیں

اس پر آراء ہیں

کتاب المطلع على ألفاظ المقنع از البعلي کے مطابق
، وسمي عرفات؛ لأن جبريل عليه السلام كان يري إبراهيم عليه السلام، المناسك، فيقول: عَرَفْتَ عَرَفْتُ
عرفات کہا جاتا ہے کیونکہ جبریل نے ابراہیم کو مناسک بتائے اور ابراہیم نے کہا جان گیا جان گیا
اس کی سند ہی نہیں

دوسرا قول ہے
الواحدي عن عطاء ، وقيل: لأن آدم عليه السلام، تعارف هو وحواء عليها السلام بها. وكان آدم أهبط بالهند، وحواء بجدة،
الواحدی نے عطاء بن دينار الهذلي سے نقل کیا کہ کہا جاتا ہے یہان آدم و حوا نے ایک دوسرے کو پہچانا کیونکہ آدم ہند میں تھے اور حوا جدہ میں
یہ قول ضعیف ہے

عرفات اغلبا ابراہیم علیہ السلام کی زبان کا لفظ ہے یہ لفظ عربی نہیں ہے کیونکہ اسم پر الف لام ہونا چاہیے دوم وہ الفاظ جو ت پر ختم ہوتے ہیں وہ عربی نہیں ہوتے مثلا طاغوت یا جالوت یا تابوت یہ سریانی کے الفاظ ہیں
—————–
كتاب العين از الفراهيدي البصري (المتوفى: 170هـ) کے مطابق
إِلالٌ: جبل بمكة هو جبل عرفات

جبل رحمت دور جدید کا لفظ ہے اس کو جبل عرفات یا جبل الال کہا جاتا تھا
کتاب المحبر از ابو جعفر البغدادی کے مطابق ایام جاہلیت کا شاعر العامري کہتا ہے
فاُقسم بالذي حجتْ قريشْ … وموقف ذي الحجيج إلى إلال
اور حاجیوں کا وقوف الال پر ہے

الال عبرانی کا لفظ ہے اس کا ذکر کتاب المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام میں الدكتور جواد علي کرتے ہیں
وذكر العلماء أن لفظة “الآل” بمعنى الربوبية، واسم الله تعالى. وأن كل اسم آخره “أل” أو “إيل” فمضاف إلى الله تعالى
اور علماء نے ذکر کیا کہ لفظ الال کا مطلب ربوبیت ہے اور یہ الله کا اسم ہے ہر وہ اسم جس کا آخر ال ہو یا ایل ہو وہ الله کی طرف مضاف ہے

پھر اس کی مثال ہے
ومنه “جبرائيل” و”ميكائيل
اس میں جبریل ہے اور میکائل ہے

اسی کتاب میں جواد علی کہتے ہیں
في الأسماء الأعجمية إيل، مثل إسرافيل، وجبريل، وميكائيل، وإسرائيل، وإسماعيل”. وقيل: الإلّ: الربوبية
اور عجیب اسماء میں سے ہے ایل مثلا اسرافیل اور جبریل اور میکائیل اور اسرائیل اور اسمعیل اور کہا جاتا ہے الال یعنی ربوبیت

یہ بات قرین قیاس ہے کیونکہ جبل الال عرفات کے بیچ میں ہے اور اس کی خبر ابراہیم نے دی جو لفظ ایل بولتے تھے
الله کا لفظ عربی میں سریانی سے آیا ہے جو ابراہیم کے بعد کی زبان ہے
لہذا اس پہاڑ کا اصل نام جبل الال ہے نہ کہ جبل الرحمہ

سورہ توبہ کی آیت ٨ کی تفسیر میں مفسرین لکھتے ہیں
كَيْفَ وَإِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً يُرْضُونَكُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبَى قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ
قال قتادة ” الإلُّ “: الله، و ” الذِّمَّةِ “: العهد.
وقال مجاهد ” الإلُّ “: الله، و ” الذِّمَّةُ “: العهد.

ابو عبید البغدادي (المتوفى: 224هـ) نے غریب الحدیث میں اس آیت کا ذکر کر کے آراء نقل کیں پھر کہا [قَالَ أَبُو عُبَيْد -] : فالإل ثَلَاثَة أَشْيَاء: اللَّه تَعَالَى والقرابة والعهد.
پس الال تین چزیں ہیں الله تعالی اور قرابت اور عہد

کتاب معجم مقاييس اللغة از أحمد بن فارس بن زكرياء القزويني الرازي، أبو الحسين (المتوفى: 395هـ) کے مطابق
قَالَ الْمُفَسِّرُونَ: الْإِلُّ: اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ

لیکن ابن حجر فتح الباری ج ٦ ص ٢٦٧ میں کہتے ہیں (علماء میں سے بعض اب) ایک سے زائد اس کا انکار کرتے ہیں کہ یہ الال سے مراد الله ہے
وَعَنْ مُجَاهِدٍ الْإِلُّ اللَّهُ وَأَنْكَرَهُ عَلَيْهِ غَيْرُ وَاحِدٍ

یعنی آہستہ آہستہ جب لوگوں کو احساس ہوا کہ الال عربی کا لفظ ہی نہیں تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا کہ یہ الله کا نام ہے اور اسی طرح جبل الال کا نام بھی بدل دیا گیا جو عھد قدیم سے چلا آ رہا تھا

راقم کہتا ہے یہ غلط ہوا ابراہیم و اسمعیل کو عرب نہ کہا جائے نہ عربوں کا باپ کہا جا سکتا ہے عرب نسل ابراہیم سے پہلے سے ہے اور عربی زبان بھی ان انبیاء سے قدیم ہے لہذا جو ان انبیاء سے ملا ہے اس کو چھپانے کے بجائے ان کی عبرانییت کو قبول کیا جانا چاہیے
—————
عوام میں مشھور قول ہے
الله نے ارواح سے میثاق ازل میدان عرفات میں لیا
الله نے جو پہلی دو روحیں زمین پر ہبوط کیں وہ آدم و حوا علیھم السلام تھے ان سے قبل کوئی روح زمیں پر نہیں آئی
میثاق ازل عالم بالا میں ہوا میدان عرفات میں نہیں لہذا اس مسجد کا نام لوگوں نے رکھ دیا ہے اس کی کوئی منطقی و شرعی دلیل نہیں

صحیح بات ہے
نمرة هي في الأصل قرية كانت تقع خارج عرفات
نمرہ ایک قریہ کا نام ہے جو عرفات سے خارج ہے

ابن تیمیہ مجموع الفتاوى (26/ 129): “ونمرة كانت قرية خارجة عن عرفات من جهة اليمين
نمرہ عرفات سے خارج ایک قریہ ہے

کتاب فتح العزيز بشرح الوجيز از القزويني (المتوفى: 623هـ) کے مطابق
نمرة موضع من عرفات لكن الاكثرين نفوا كونها من عرفات (ومنهم) أبو القاسم الكرخي والقاضي الرويانى وصاحب التهذيب وقالوا انها موضع قريب من عرفة
نمرہ ایک جگہ ہے عرفات میں لیکن اکثر نے نفی کی کہ یہ عرفات میں ہے اور اس نفی میں ہیں ابو قاسم کرخی اور قاضی رویانی اور صاحب التہذیب اور کہا کہ یہ اس کے قریب ایک مقام ہے

کتاب الام میں امام الشافعی کہتے ہیں
الحج عرفة وليس منها: مسجد إبراهيم عليه السلام ولا نمرة.
حج (کا وقوف) عرفہ پر ہے اور اس میں مسجد ابراہیم اور نمرہ نہیں ہے

چھٹی صدی الروياني (ت 502 هـ) کے کتاب بحر المذهب (في فروع المذهب الشافعي) میں لکھتے ہیں
وقال بعض أصحابنا بخراسان: صدر هذا المسجد من عرنة لا يجوز الوقوف فيه ومؤخرة من عرفات
اور ہمارے خراسان کے اصحاب نے کہا مسجد نمرہ کا آگے کا حصہ میں وقوف جائز نہیں اس کا پچھلا حصہ عرفات میں ہے

مسجد نمره عرفات کے میدان کی مغربی حد پر ہے یہاں آ کر مشعر کی حدود میں اختلاف ہے لہذا بعض علماء کی رائے میں یہ مسجد عرفات میں نہیں اور حاجی کو اس میں جانا منع ہے کیونکہ اس مسجد کا ایک حصہ مشعر کی حدود سے باہر وادي عُرَنة میں ہے
جبل الال کی جڑ پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی اور وہاں ہی جمع ہونا صحیح ہے
نووی مجموع میں لکھتے ہیں
==========
وقال جماعة من الخراسانيين منهم الشيخ أبو محمد الجويني والقاضي حسين في تعليقه وإمام الحرمين والرافعي: مقدم المسجد من طرف وادي عرفة لا في عرفات وآخره في عرفات. قالوا: فمن وقف في مقدمه لم يصح وقوفه، ومن وقف في آخره صح وقوفه. اهـ
اور خراسان کے علماء کی جماعت جن میں امام جوینی اور قاضی حسین ہیں اور امام حرمین اور رافعی ہیں کہتے ہیں میدان عرفات کے شروع میں اور آخر میں مسجد ہے جو شروع والی میں وقوف کرتا ہے وہ صحیح ہے اور جو آخری والی میں تو اس کا وقوف صحیح نہیں
============
لیکن جب حاجی اس مسجد میں جائے گا تو اس کو معلوم کیسے ہو گا یہ وہ عرفات کی حد سے نکل چکا ہے

نووی کتاب المجموع میں لکھتے ہیں
===========
الْمُسَمَّى مَسْجِدَ إبْرَاهِيمَ وَيُقَالُ لَهُ أَيْضًا مَسْجِدُ عُرَنَةَ بَلْ هَذِهِ الْمَوَاضِعُ خَارِجَةٌ عَنْ عَرَفَاتٍ عَلَى طَرَفِهَا الْغَرْبِيِّ مِمَّا يَلِي مُزْدَلِفَةَ وَمِنًى وَمَكَّةَ
* هَذَا الَّذِي ذَكَرْتُهُ مِنْ كَوْنِ وَادِي عُرَنَةَ لَيْسَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَا خِلَافَ فِيهِ نَصَّ عَلَيْهِ الشَّافِعِيُّ وَاتَّفَقَ عَلَيْهِ الْأَصْحَابُ (وَأَمَّا) نَمِرَةُ فَلَيْسَتْ أَيْضًا مِنْ عَرَفَاتٍ بَلْ بِقُرْبِهَا هَذَا هُوَ الصَّوَابُ الَّذِي نَصَّ عَلَيْهِ الشَّافِعِيُّ فِي مُخْتَصَرِ الْحَجِّ الْأَوْسَطِ وَفِي غَيْرِهِ وَصَرَّحَ بِهِ أَبُو عَلِيٍّ الْبَنْدَنِيجِيُّ وَالْأَصْحَابُ وَنَقَلَهُ الرَّافِعِيُّ عَنْ الْأَكْثَرِينَ قَالَ وَقَالَ صَاحِبُ الشَّامِلِ وَطَائِفَةٌ هِيَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَهَذَا الَّذِي نَقَلَهُ غَرِيبٌ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ وَلَا هُوَ فِي الشَّامِلِ وَلَا هُوَ صَحِيحٌ بَلْ إنْكَارٌ لِلْحِسِّ وَلِمَا تَطَابَقَتْ عَلَيْهِ كُتُبُ الْعُلَمَاءِ (وَأَمَّا) مَسْجِدُ إبْرَاهِيمَ فَقَدْ نَصَّ الشَّافِعِيُّ عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَأَنَّ مَنْ وَقَفَ
مسجد ابراہیم جس کو مسجد عرنہ بھی کہتے ہیں وہ مغربی جانب عرفات سے باہر ہے … وادی عرنہ عرفات میں نہیں ہے اس پر کوئی اختلاف نہیں امام الشافعی کی نص ہے اور اصحاب کا اتفاق ہے اور جہاں تک مسجد نمرہ کا تعلق ہے تو وہ بھی عرفات میں نہیں ہے … اور صَاحِبُ الشَّامِلِ وَطَائِفَةٌ کہتے ہیں یہ عرفات میں ہے اور یہ غریب بات ہے معروف نہیں ہے اور الشامل میں بھی نہیں ہے
============

بعض حنابلہ کا دعوی ہے کہ مسجد ابراھیم کو آج مسجد نمرہ کہا جاتا ہے جبکہ امام نووی سے لے کر آج تک لوگ کہہ رہے ہیں کہ مسجد ابراہیم بھی عرفات میں نہیں تھی

مزید دیکھیں عرب خود اقرار کر رہے ہیں کہ مسجد نمرہ مکمل عرفات میں نہیں
http://www.alarabiya.net/articles/2012/10/25/245773.html

نمرہ کو عرفات کی مسجد کیوں مشھور کیا گیا؟ اغلبا میدان میں زیادہ سے زیادہ حاجیوں کو بھرنے کے لئے اس میں دجل کیا گیا کہ وہ مسجد نمرہ کی طرف مشعر کی حد تک آ جائیں اس طرح مشعر کا ایک بڑا حصہ خالی رہے گا اور لوگوں میں مشھور رہے گا کہ عرفات میں مسجد نمرہ ہے جبکہ وہ مکمل اس میں نہیں اس طرح زیادہ سے زیادہ حاجی میدان میں جمع کیے جا سکیں گے

زیادہ حاجیوں کو بھرنے کے لئے المزدلفہ کی حدود بھی تبدیل کی گئی ہیں
عبد العزیز بن احمد حمیدی نے تحقیق پیش کی کہ مجھ پر افشا ہوا کہ مزدلفہ تو ان حدود سے بہت بڑا ہے جو آج اس کی ہیں
http://www.kingbio.org.sa/news.aspx?bioid=637420

الله رحم کرے
و الله اعلم

(لا تمنعو نساءكم المساجد وبيوتهن خير لهن)
ابوداود،ابن خزيمه

جواب

یہ روایت مسند احمد ابو داود صحیح ابن خزیمہ میں ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ أَنْ يَخْرُجْنَ إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ»
اس کی سند میں عوام بن حوشب ہے جو ضعیف ہے
حبیب بن ابی ثابت مدلس ہے جو عن سے روایت کرتا ہے

روایت ضعیف ہے

شعَيب الأرنؤوط ، ابن دقيق العيد، حاکم اور ابن خزيمة کے نزدیک روایت صحیح ہے

البانی صحيح ابن خزيمة پر تعلیق میں کہتے ہیں
إسناده صحيح. لولا عنعنة حبيب بن أبي ثابت، لكن الحديث صحيح بشواهده، وهو مخرج في “صحيح أبي داود
اس کی اسناد صحیح ہیں اگر حبیب بن ابی ثابت کا عنعنہ نہ ہوتا لیکن حدیث شواہد کی بنا پر صحیح ہے

حاکم مستدرک میں کہتے ہیں وَقَدْ صَحَّ سَمَاعُ حَبِيبٍ مِنِ ابْنِ عُمَرَ اور حبیب کا سماع ابن عمر سے صحیح ہے الذہبی کہتے ہیں شیخین کی شرط پر ہے

راقم کہتا ہے حبیب کا سماع ابن عمر سے نہیں ہے
امام علی المدینی کہتے ہیں اس نے عائشہ کے علاوہ کسی صحابی سے نہیں سنا
قال علي بن المديني حبيب بن أبي ثابت لقي بن عباس وسمع من عائشة ولم يسمع من غيرهما من الصحابة رضي الله عنهم
جامع التحصيل في أحكام المراسيل


اب اس کے شواہد کیا ہیں یہ بھی دیکھ لیں
مسجد انے ميں عورتوں پر پابندي والي روايات ضعيف ہيں
سنن ابوداود کي روايت ہے
حدَّثنا ابن المُثنَّى، أن عمرو بن عاصم حدَّثهم، حدَّثنا همام، عن قتادة، عن مُورّق، عن أبي الأحوص
عن عبد الله، عن النبيّ – صلى الله عليه وسلم – قال: “صلاةُ المرأةِ في بيتها أفضلُ من صلاتها في حُجْرَتِها، وصلاتُها في مخدَعِها أفضلُ من صلاتها في بيتها
نبي اکرم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا کہ عورت کي نماز اپني کوٹھڑي ميں افضل ہے اس کے گھر سے اور اندر کي چور کوٹھري ميں پڑھني بہتر ہے، اس کے گھر سے

يہ منکر روايت ہے صحيح بخاري کے مطابق رسول الله صلي الله عليہ وسلم کا حکم ہے کہ عورتوں کو مسجد جانے سے مت روکو
سنن ابو داود اور مسند احمد کي اس روايت ميں ہے جو ضعيف ہے
اس کو بصرہ کے قتادہ اور مورق عجلي بيان کرتے ہيں دونوں مدلس ہيں
ابن خزيمه صحيح ميں کہتے ہيں
وَلَا أَقِفُ ….. وَلَا هَلْ سَمِعَ قَتَادَةُ خَبَرَهُ مِنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ أَمْ لَا. بَلْ كَأَنِّي لَا أَشُكُّ أَنَّ قَتَادَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، لِأَنَّهُ أَدْخَلَ فِي
بَعْضِ أَخْبَارِ أَبِي الْأَحْوَصِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَبِي الْأَحْوَصِ مُوَرِّقًا، وَهَذَا الْخَبَرُ نَفْسُهُ أَدْخَلَ هَمَّامٌ وَسَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ بَيْنَهُمَا مُوَرِّقًا
ميں نہيں جانتا کہ کيا قتادہ نے مورق سے سنا بھي اور اس نے ابي الاحوص سے ؟ بلکہ شک ہے کہ قتادہ نے نہيں سنا

اسي سند سے دوسري روايت صحيح ابن خزيمہ ميں ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى، نَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، ثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ: إِنَّ الْمَرْأَةَ عَوْرَةٌ، فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ، وَأَقْرَبُ مَا تَكُونُ مِنْ وَجْهِ رَبِّهَا وَهِيَ فِي قَعْرِ بَيْتِهَا”.

رسول الله صلي الله عليہ وسلم نے فرمايا عورت ايک چھپانے والي ہے پس جب نکلتي ہے شيطان اس کو تاڑتا ہے
يہ بھي بصرہ کے مدلسن کي بيان کردہ روايت ہے

اسي طرح کي عجيب و غريب روايات ابن خزيمه صحيح ميں پيش کر کے اقرار کرتے ہيں
وَإِنَّمَا شَكَكْتُ أَيْضًا فِي صِحَّتِهِ، لِأَنِّي لَا أَقِفُ عَلَى سَمَاعِ قَتَادَةَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ مُوَرِّقٍ.
ميں بے شک خود شک ميں مبتلا ہوں کي صحت پر کيونکہ ميں نہيں جان سکا کہ آيا قتادہ نے اس کو مورق سے سنا تھا ؟

مسند احمد کي روايت ہے
حدثنا خلف قال حدثنا أبو معشر عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلي الله عليه وسلم -: “لولا ما في البيوت من النساء والذرية، لأقمت صلاة العشاء، وأمرت فتياني يحرقون ما في البيوت بالنار”.
ابوہريرہ رضي اللہ عنہ سے روايت ہے رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا کہ اگر گھروں ميں عورتيں اور بچے نہ ہوتے، تو ميں نماز عشاء قائم کرتا، اور اپنے جوانوں کو حکم ديتا کہ گھروں ميں آگ لگاديں

يہ بھي ضعيف ہے
العلل ومعرفة الرجال از احمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ) کے مطابق
سَأَلت يحيى بن معِين عَن أبي معشر الْمَدِينِيّ الَّذِي يحدث عَن سعيد المَقْبُري وَمُحَمّد بن كَعْب فَقَالَ لَيْسَ بِقَوي فِي الحَدِيث
يحيي بن معين سے ابي معشر کي سعيد المقبري سے روايت کا پوچھا تو انہوں نے کہا حديث ميں قوي نہيں
اس روايت کو منبر پر بيٹھے خطيب سناتے رہتے ہيں ليکن کسي کو توفيق نہيں کہ اس کي سند ديکھ ليں

ابن عمر کی روایت ہے
ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْفُوا اللِّحَى، وَحُفُّوا الشَّوَارِبَ»
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا داڑھی کو معاف کرو اور موچھوں کو تراشو

أَعْفُوا کا لفظ معاف کرنے کے لئے استمعال ہوتا ہے یعنی داڑھی کو بڑھا لو اس کی تہذیب نہ کرنے کی اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے

لوگوں نے اس روایت میں شدت پسندی کا مظاہرہ کیا ہے کہ جو داڑھی کو ٹراشے وہ غلط ہے جبکہ یہی صحابی اس کی تراش خراش کرتے ہیں
عن نافع کان ابن عمر رضی اللہ عنہما اذا حج او اعتمر قبض علی لحتیہ فما فضل اخذہ۔ (صحیح بخاری: ج 2 ص 875)

ترجمہ: حضرت ابن عمررضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرلیتے تو اپنی داڑھی کو مٹھی سے پکڑتے اور زائد بالوں کو کاٹ دیتے۔

صحیح بخاری میں ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا یہ حکم ایک علت کی بنا پر تھا
مشرکوں کی مخالفت کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ مونچھیں کٹاؤ۔
صحیح مسلم میں ہے
مونچھیں کٹواؤ، داڑھیاں بڑھاؤ اور مجوسیوں کی مخالفت کرو۔

جب عرب میں مشرکین کا مذھب معدوم ہوا اور ان کا دین مقبولیت کھو بیٹھا اور لوگ اسلام میں داخل ہو گئے تو خود بخود یہ حکم وقتی حکم میں بدل گیا – اب مجوس بھی اتنی تعداد میں نہیں کہ کسی کو اشتباہ ہو کہ یہ شخص مجوسی ہے یا مشرک ہے

تاریخ طبری کی روایت ہے

حَدَّثَنَا ابن حميد، قال: حَدَّثَنَا سلمة، عن محمد بن إسحاق، عن عبد الله بن أَبِي بَكْرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، [أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ قَدِمَ بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ ص عَلَى كِسْرَى

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ رسول الله کا مکتوب لے کر کسری کے پاس گئے … جب کسری کے ایلچی آئے تو

ودخلا على رسول الله ص وَقَدْ حَلَقَا لِحَاهُمَا، وَأَعْفَيَا شَوَارِبَهُمَا، فَكَرِهَ النَّظَرَ إليهما، ثم أَقْبَلَ عَلَيْهِمَا فَقَالَ: وَيْلَكُمَا! مَنْ أَمَرَكُمَا بِهَذَا؟ قَالا: أَمَرَنَا بِهَذَا رَبُّنَا- يَعْنِيَانِ كِسْرَى- فَقَالَ رسول الله: لَكِنَّ رَبِّي قَدْ أَمَرَنِي بِإِعْفَاءِ لِحْيَتِي وَقَصِّ شَارِبِي

رسول الله کے پاس اس صورت میں آئے کہ ان کی داڑھیاں مونڈی ہوئی تھیں اور مونچھیں بڑھائی ہوئی تھیں۔ آپ نے ان دونوں کی طرف دیکھنا پسند نہ فرمایا ۔ پھر فرمایا : تم دونوں کے لیےبربادی ہو۔ تمھیں کس نے اس کا حکم دیا ہے ؟ دونوں نے جواب دیا کہ ہمارے رب یعنی کسریٰ نے اس کا حکم دیا ہے ۔ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم )نے فرمایا لیکن میرے رب نے تو مجھے اپنی داڑھی کو چھوڑنے کا (معاف کرنے کا) اور مونچھوں کو کاٹنے کا حکم دیا ہے۔

اس کی سند میں محمد بن اسحٰق مدلس ہے جو عن سے روایت کر رہا ہے مجوس میں کسری بادشاہ تھا رب نہ تھا لہذا اس میں تاریخی غلطی ہے دوم عرب میں تمام مشرک بھی داڑھی مونچھ والے نہیں تھے لہذا اس روایت میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا منہ موڑنے کا ذکر ایک عجیب قول ہے

مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ہے

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمَجُوسِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَحَلَقَ لِحْيَتَهُ، وَأَطَالَ شَارِبَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذَا؟» قَالَ: هَذَا فِي دِينِنَا، قَالَ: «فِي دِينِنَا أَنْ نَجُزَّ الشَّارِبَ، وَأَنْ نُعْفِيَ اللِّحْيَةَ»

مجوس کا ایک شخص رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس آیا اس کی داڑھی مونڈھی ہوئی تھی اور مونچھیں بڑھائی ہوئی تھیں آپ نے اس سے پوچھا یہ کیا ہے۔ اس نے کہا یہی ہمارا دین ہے ، آپ(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا لیکن ہمارے دین میں یہ حکم ہے کہ ہم اپنی مونچھیں کم کریں اور داڑھی بڑھائیں

اس کی سند منقطع ہے عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ صحابی نہیں ہے

قابل غور ہے کہ عرب کے یہودی احبار کا بھی یہی عمل ہو گا کہ داڑھی کو چھوڑ دو کیونکہ یہود میں بھی داڑھی کو چھوڑنے کا حکم ہے
اس تناظر میں اس کو عرب میں ابراہیمی ادیان کی ایک سنت کہا جا سکتا ہے جس میں یہود و مسلم برابر ہیں دونوں داڑھی نہیں کاٹتے تھے

دین میں بعض احکام کی نوعیت سمبل کی تھی یعنی ایک نشانی جس سے لوگوں کو معلوم ہو کہ مومن و مسلم ہے مشرک یا مجوسی نہیں
آج اپ کریں تو ثواب الله نے چاہا تو ملے گا لیکن اگر کوئی نہیں کرتا تو اس کو برا نہیں کہہ سکتے
یہ راقم کی رائے ہے بہت سے علماء اس سے الگ رائے رکھتے ہیں اپ بھی ہم سے اختلاف کر سکتے ہیں

———–

کتاب لاوی توریت باب ١٩ آیت ٢٧ میں ہے

تم اپنے ماتھے اور قلم کے بیچ کے بالوں کو نہیں کاٹو گے اور داڑھی کے کنارے کو نہیں تراشو گے

عرب میں مجوس بہت زیادہ نہیں تھے اغلبا صحیح مسلم کی روایت میں راوی کی غلطی ہے ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے جو اور سندیں ہیں ان میں مجوس کا لفظ نہیں مشرکین کا ہے
صحیح مسلم کی سند ہے
حَدَّثَني أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، مَوْلَى الْحُرَقَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “جُزُّوا الشَّوَارِبَ، وَأَرْخُوا اللِّحَى خَالِفُوا الْمَجُوسَ” , (م) 55 – (260)

مجوس مخالفت بولنے میں العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب الحُرَقِي کا تفرد ہے ابن معين کہتے ہیں : ليس حديثه بحجة یہ حجت نہیں ہے

قرون ثلاثہ میں بہت سی مثالیں ملتی ہیں جب لوگوں پر فیصلہ جاری کیا گیا کہ

وحلق رأسه ولحيته

اس کا سر و داڑھی مونڈھ دی جائے

ایسا

 رَبِيْعَةُ الرَّأْيُ بنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَرُّوْخٍ التَّيْمِيُّ

عَطِيَّةُ بْنُ سَعْدِبْنِ جُنَادَةَ

 سعيد ابن المسيّب

کے ساتھ کیا گیا

عجوہ کھجور کی یہ روایت دو سے مروی ہے

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے
عائشہ رضی الله عنہا سے

مشکل الآثار میں طحاوی باب باندھتے ہیں
بَابُ بَيَانِ مُشْكِلِ مَا رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْآثَارِ فِي الْعَجْوَةِ، هَلْ هُوَ عَلَى الْعَجْوَةِ مِنْ سَائِرِ النَّخْلِ الَّذِي فِي الْبُلْدَانِ، أَوْ مِنْ خَاصٍّ مِنْهَا؟
بیان مشکل کا جو روایت کیا گیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے کہ عجوہ کے بارے میں ، تو کیا عجوہ تمام کھجور کے باغوں کی یا خاص کسی باغ کی ہے ؟

اس کے بعد بحث کرتے ہیں اور ان کا نتیجہ ہے کہ اس سے مراد العالیہ کی کھجور ہے لہذا یہ خاص ہے
——–
التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِيرِ از أسلافه بالأمير (المتوفى: 1182هـ) کے مطابق
العجوة تمر معروف والعالية الحوائط والقرى التي في الجهة العليا للمدينة
عجوہ کھجور معروف ہے جو العالیہ کے باغ کی ہے ایک قریہ جو مدینہ سے اوپر ہے

شَرْحُ صَحِيح مُسْلِمِ لِلقَاضِى عِيَاض کے مطابق
والعالية: ما كان من الحوائط والقرى والعمائر فى جهة المدينة العليا مما يلى نجد
العالية ایک مقام ہے مدینہ سے اوپر نجد سے ملا ہوا
——
شعيب الأرنؤوط مسند احمد پر تعلیق میں لکھتے ہیں
وقال ابن التين: يحتمل أن يكون المراد نخلاً خاصاً بالمدينة لا يُعرف الآن. .
ابن التین کہتے ہیں احتمال ہے کہ یہ مدینہ کا کوئی خاص باغ ہے جو اب جانا نہیں جاتا
———-

الْعَجْوَةِ لگتا ہے عربوں کو بہت پسند تھی ضعیف روایات میں یہ بھی ہے کہ
مسند احمد و دارمی میں ہے یہ جنت کا پھل ہے
مصنف بن ابی شیبہ میں ہے سوره الحشر میں جن درختوں کے کاٹنے کا ذکر ہے ان میں الْعَجْوَةِ کا درخت نہیں تھا
یہی امام النووی کا قول کہا گیا ہے اللينة المذكورة في القرآن: هي أنواع التمر كله إلا العجوة،
یعنی لوگ کہنا چاہ رہے ہیں کہ عجوہ کھجور خیبر میں تھی جن کے درخت نہیں کاٹے گئے
اس کے برعکس امام اسحٰق بن راهويه کہتے ہیں یہ حدیث جس میں عجوہ کی خوبی بیان کی گئی ہے یہ خیبر والی نہیں
مسند اسحٰق کے مطابق
قَالَ إِسْحَاقُ: الْعَالِيَةُ مَوْضِعٌ مَا لَهُ بِالْعَالِيَةِ خَيْبَرٌ
إسحاق بن راهويه کہتے ہیں الْعَالِيَةُ مقام ہے وہ نہیں جو خیبر میں ہے
——

ابن حجر فتح الباری میں اپنی نقص بھری تحقیق پیش کرتے ہیں کہتے ہیں

وَهَذَا يُبْعِدُهُ وَصْفُ عَائِشَةَ لِذَلِكَ بَعْدَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْضُ شُرَّاحِ الْمَشَارِقِ أَمَّا تَخْصِيصُ تَمْرِ الْمَدِينَةِ بِذَلِكَ فَوَاضِحٌ مِنْ أَلْفَاظِ الْمَتْنِ وَأَمَّا تَخْصِيصُ زَمَانِهِ بِذَلِكَ فَبَعِيدٌ وَأَمَّا خُصُوصِيَّةُ السَّبْعِ فَالظَّاهِرُ أَنَّهُ لِسِرٍّ فِيهَا وَإِلَّا فَيُسْتَحَبُّ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ وِتْرًا
اور یہ بات بعید ہے عائشہ نے عجوہ کی صفت بیان کی ہے کہ یہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے بعد بھی ہے اور بعض شارحین المشارق کہتے ہیں مدینہ کی کھجور کی یہ خصوصیت واضح ہے روایت کے متن کے الفاظ سے اور اس کو زمانے کی تخصیص کہنا دور کی بات ہے اور جو خصوصیت ہے وہ راز ہے لہٰذا یہ نہیں کہ ایک میں ہی ہوں

لیکن یہ بات یہ خصوصیت ہے قول بلا دلیل نہیں یہ مختلف متن اور اسناد کا تقابل کر کے ہی کہی گئی ہے لہذا ابن حجر اور دیگر کا قول محض ایک رائے ہے جن روایات میں اس کا ذکر ہے ان میں خاص العالیہ کا ذکر ہے

فيض القدير شرح الجامع الصغير میں ابن عابدین کہتے ہیں
قال الخطابي: كون العجوة ينفع من السحر والسم إنما هو ببركة دعوة المصطفى صلى الله عليه وسلم لتمر المدينة لا لخاصية في التمر وقال ابن التين: يحتمل أن المراد نخل خاص لا يعرف الآن أو هو خاص بزمنه
الخطابي کہتے ہیں العجوة فائدہ کرتی تھی جادو اور زہر سے نبی صلی الله علیہ وسلم کی برکت کی دعا کی وجہ سے مدینہ کی کھجور کے لئے نہ کہ یہ اس کھجور کی خاصیت ہے اور ابن التین کہتے ہیں یہ احتمال ہے کہ یہ کسی خاص باغ کی تھیں جو اب نہیں جانا جاتا اور یا یہ دور بنوی کے لئے خاص تھا

———
لہذا اس روایت کا پیش کیا جانا اب عبث ہے کیونکہ نہ تو خیبر کے باغ رہے نہ یہ پتا ہے کہ العالیہ کہاں تھا کس باغ کی کھجور کی بات ہوئی
ہم کو اس سے کیا فائدہ ہو گا جبکہ وہ باغ ہی نہیں رہا جس کی یہ خاص کھجور تھی
———
حدیث میں اتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ والوں کے لئے دعا کی جس کی بنا پر گوشت کھانا ان کو موافق اتا ہے
ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے لیے دعا کی، اے اللہ ان کے گوشت اور پانی میں برکت نازل فرما۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دنوں انہیں اناج میسر نہیں تھا۔ اگر اناج بھی ان کے کھانے میں شامل ہوتا تو ضرور آپ اس میں بھی برکت کی دعا کرتے۔ صرف گوشت اور پانی کی خوراک میں ہمیشہ گزارہ کرنا مکہ کے سوا اور کسی زمین پر بھی موافق نہیں پڑتا۔
———-
لیکن اگر کوئی باہر سے مکہ آئے تو اس کو اس کا فائدہ مل سکنے کی دلیل نہیں ہے اسی طرح مدینہ کی یہ کھجور اہل مدینہ کے لئے فائدہ مند تھی جب تک یہ باغات رہے

یہ الفاظ سنت میں نہیں ملے لیکن کہا جاتا ہے کہ تابعین ایسا کہتے تھے

کتاب جزء تحفة عيد الفطر از زاهر بن طاهر بْنُ مُحَمَّدِ الشحّامي، أبو القاسم (المتوفى: 533هـ) کے مطابق
وقول: ” تقَبْلَ الله مِنَّا وَمِنْكُمْ “،في العيد، جائز مباح لاشيئ فيه، قَالَ صفوان بن عمرو السكسكيُّ:” رأيتُ عبد الله بن بسر المازنيِّ، وخَالِد ابن معدان، وراشد بن سَعْد، وعبد الرَّحمن بن جُبير بن نفير، وعبد الرَّحمن ابن عائذ، وغيرهم من الأشياخ، يقولُ بعضهم لبعض في العيد: “تقَبَّلَ الله منَّا وَمِنْكُمْ …. “، انظر: تأريخ دمشق (24/ 154).

وقَالَ حَرْبٌ: ” وسُئِلَ أَحْمَد عَنْ قَوْلِ النَّاسِ في الْعِيدَيْنِ: “تقَبَّلَ اللهُ منَّا وَمِنْكُمْ”: قَالَ: لابَأَسَ به، يَرْوِيه أهْلُ الشَّامِ عَنْ أبي أُمَامَةَ، قِيل: وواثِلَةَ بن الأَسْقَع؟ قال: نعم، قِيل: فلاتَكْرَهُ أَن يُقالَ هذا يَوْمَ العِيدِ، قال: لا”، انظر: المغني (2/ 294).
حربؒ کہتے ہیں : “امام احمدؒ سے عیدین میں لوگوں کا “تقبل الله منا ومنكم” کہنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ۔” اہل شام ابو امامہؓ سے اسے روایت کرتے ہیں۔ پوچھا گیا : اور واثلہ بن اسقع ؟ فرمایا : “ہاں” کہا گیا کہ عید کے دن اگر یہ کہا جائے تو آپ اسے مکروہ نہیں سمجھتے تو انہوں نے کہا “نہیں”۔

وقَالَ شيخُ الإسلام ابن تيمية، وسُئل عَنْه، فقَالَ:” أما التَّهنئة يَوْم العِيد يقول بعضهم لبعض إذا لقيه بعد صلاة العيد: تقَبْلَ الله منَّا وَمِنْكُمْ، وأحاله الله عليك، أونحو ذلك، فهذا قد روي عَنْ طائفة من الصَّحابة، أنَّهم كانوا يفعلونه، ورخَّصَ فيه الأئمةُ، أَحْمَدُ وغيره … “، انظر: مجموع الفتاوى

ابن تیمیہ کے مطابق ایسا اصحاب رسول کہتے تھے البتہ راقم کو اس کی دلیل نہیں ملی
المغنی کے مطابق امام احمد اس کو جائز سمجھتے تھے

بنو امیہ کے ایک گورنر خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَسْرِيُّ اپنے عید کی نماز کے خطبہ میں اس کو استمعال کرتے ہیں
یہ ہشام بن عبد الملک کا دور ہے

لہذا اس کو کرنا سلف کی سنت پر عمل ہے کیونکہ سنت نبوی میں اس کی دلیل نہیں اس کو جائز کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ دعا کے کلمات ہیں
اسی طرح عید مبارک بھی دعا کے کلمات ہیں
راقم کے نزدیک اگر کوئی اس کو ضرروی نہ سمجھتے ہوئے کہتا ہے تو کوئی برائی نہیں یہ مباح کے زمرے میں ہے

جس چیز کی دلیل سنت میں نہ ہو اس کی دلیل سلف کے عمل سے لی جا سکتی ہے
یہ امام الشافعی کا فتوی کتاب الام میں ہے

مسند احمد اور سنن الترمذی کی روایت ہے

حدثنا يحيى بن زكريا حدثنا حَجَّاج عن نافع عن ابن عمر قال: أَقام رسول الله -صلي الله عليه وسلم – بالمدينة عشر سنين يُضَحَّي.
نبی صلی الله علیہ وسلم نے مدینہ میں دس سال قربانی کی ہے
سند میں حجاج بن ارطاة ہے جو ضعیف ہے
————

صحیح مسلم کی ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے
و اراد احدکم ان یضحی فلیمسک عن شعرہ و اظفارہ
اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ کرے تو اسے بال اور ناخن تراشنے سے رک جانا چاہیے۔

اس سے بعض لوگوں نے دلیل لی ہے کہ ارادہ کر لے یعنی کچھ لوگ ارادہ کریں گے سب نہیں لیکن یہ دلیل کمزور ہے
———-
شوافع میں ابن کثیر اور البیہقی اپنی دلیل میں روایت پیش کرتے ہیں

مسند الفاروق میں ابن کثیر روایت پیش کرتے ہیں
رواه الحافظ أبو بكر البيهقي فقال أخبرنا أبو عبد الله الحافظ اخبرني محمد بن أحمد بن بالويه حدثنا محمد بن غالب حدثنا مسلم بن إبراهيم حدثنا شعبة عن سعيد بن مسروق عن الشعبي عن أبي سريحة قال أدركت ابا بكر وعمر وكانا لى جارين فكانا لايضحيان وهذا إسناد صحيح
ابو سریحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنھما دونوں میرے پڑوسی تھے دونوں اور قربانی نہیں کرتے تھے

سنن الكبرى كي روايت ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ فِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ , أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ [ص:445] الْبِزَارِيُّ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْغَازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: إِنَّ مُعْتَمِرًا حَدَّثَنَا قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: أَدْرَكْتُ أَبَا بَكْرٍ أَوْ رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا لَا يُضَحِّيَانِ فِي بَعْضِ حَدِيثِهِمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُقْتَدَى بِهِمَا
ابی سریحہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں قربانی نہیں کرتے تھے کہ کہیں لوگ ان کی اقتدا نہ کریں

بیہقی : السنن الصغير للبيهقي کہتے ہیں کہ امام الشافعی نے اس سے دلیل لی ہے
قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي فَيَظُنُّ مَنْ رَآهُمَا أَنَّهَا وَاجِبَةٌ
یعنی جو ان دونوں کو دیکھے وہ گمان کر لے گا کہ یہ واجب ہے

گویا شوافع کے ہاں یہ سنت ہے واجب نہیں ہے یہ قول نہایت کمزور ہے کیونکہ یہ ایسا قول ہے جو بہت لوگوں کو بیان کرنا چاہیے تھا کہ خلفاء قربانی کو ترک کرنے والے تھے جبکہ یہ صرف شعبی کے تفرد کے ساتھ آیا ہے
طحاوی مشکل الآثار میں کہتے ہیں
فَالنَّظَرُ عَلَى ذَلِكَ أَنْ يَكُونَ الْإِمَامُ , وَسَائِرُ النَّاسِ أَيْضًا , سَوَاءً فِي الذَّبْحِ بَعْدَ الصَّلَاةِ.
اس میں نظر والی بات یہ ہے کہ جب امام ہو اور تمام لوگ نماز عید میں ہوں تو وہ ذبح کرنے میں برابر ہو جاتے ہیں

یعنی جب ذبح ہو گا تو لوگوں کو کیسے پتا چلے گا کہ خلفاء نے اس سال قربانی ہی نہیں کی
یہ شوافع اور غیر مقلدین کے دلائل ہیں جو بودے ہیں
امام شعبی مرسل روایت بہت کرتے ہیں اور صرف امکان لقاء کی بنیاد پر ایک منفرد روایت کو نہیں لیا جا سکتا

==================
الشافعي ، امام مالك (سے منسوب ایک قول میں) اور امام أحمد (سے منسوب ایک قول میں) کا کہنا ہے یہ سنة مؤكدة ہے

امام ابو حنیفہ ، امام مالك (سے منسوب ایک قول میں) اور امام أحمد (سے منسوب ایک قول میں)، ابن تیمیہ ، ابن عثيمين، البانی کی رائے میں یہ واجب ہے یعنی جو استطاعت رکھے وہ کرے
———
راقم کی رائے میں واجب ہے اس کا ذکر حج کے حوالے سے لہذا حاجی پر قرآن کی قطعی دلیل کی بنا پر فرض اور یہ احرام کھولنے کے لئے بھی ضروری ہے – مقیم پر ظنی دلیل کی بنا پر واجب ہے قرآن میں اس پر صریح حکم مقیم کے لئے نہیں آیا

اور مقیم میں ایک خاندان پر قربانی ہے ہر فرد پر نہیں کسی حدیث میں نہیں اتا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اور اپنی نو ازواج کی طرف سے الگ الگ قربانی کی ہو

صحیح بخاری میں أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ کی روایت ہے
وَكَانَ يُضَحِّي بِالشَّاةِ الوَاحِدَةِ عَنْ جَمِيعِ أَهْلِهِ
اور وہ قربانی کرتے ایک بکری کی تمام اہل کی طرف سے

صحیح مسلم کی روایت ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَصِيرَةٌ تَمْشِي مَعَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ، وَخَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ مُغْلَقٌ مُطْبَقٌ، ثُمَّ حَشَتْهُ مِسْكًا، وَهُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ، فَمَرَّتْ بَيْنَ الْمَرْأَتَيْنِ، فَلَمْ يَعْرِفُوهَا، فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا» وَنَفَضَ شُعْبَةُ يَدَهُ

: ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ شعبہ، خلید بن جعفر ابی نضرہ ابوسعید خدری (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک عورت چھوٹے قد والی تھی وہ دو لمبے قد والی عورتوں کے ساتھ چلی تھی اس نے اپنے دونوں پاؤں لکڑی کے بنوائے ہوئے تھے اور ایک انگوٹھی سونے کی بنوائی جو بند ہوتی تھی پھر اس میں مشک کی خوشبو بھری ہوئی تھی اور سب سے عمدہ خوشبو ہے وہ ایک روز ان دونوں عورتوں کے درمیان سے ہو کر گزری تو لوگ اسے پہچان نہ سکے اس نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے بتایا اور شعبہ نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کرکے بتایا۔

جواب

امام مسلم نے یہ روایت تنقید کی غرض سے بیان نہیں کی بلکہ دلیل کے طور پر بیان کی ہے النووی نے اس پر باب باندھا ہے
بَابُ اسْتِعْمَالِ الْمِسْكِ وَأَنَّهُ أَطْيَبُ الطِّيبِ وَكَرَاهَةِ رَدِّ الرَّيْحَانِ وَالطِّيبِ
باب مشک کا استمعال اور یہ خوشبو میں بہترین ہے اور پھول اور خوشبو کو واپس کردینے کی کراہت کے بیان میں

لہذا اس میں سے عورتوں پر جرح کی دلیل نہیں لی جا سکتی ایسا کرنا افراط ہے اس کا مظاہرہ ابن خزیمہ کرتے ہیں وہ یہی حدیث صحیح ابن خزیمه میں لکھتے ہیں باب باندھتے ہیں
بَابُ ذِكْرِ بَعْضِ أَحْدَاثِ نِسَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ الَّذِي مِنْ أَجْلِهِ مُنِعْنَ الْمَسَاجِدَ
باب ذکر بنی اسرئیل کی عورتوں کی بدعت کا جس کی بنا پر ان پر مسجد میں آنا منع ہوا

بنی اسرائیل کی عورتوں پر مسجد میں آنا منع تھا؟ جبکہ قرآن میں خود مریم علیہ السلام نے مسجد میں اعتکاف کیا ہے اپنی والدہ کی منت پوری کرنے

ابن حبان اس کو صحیح ابن حبان میں پیش کرتے ہیں باب باندھتے ہیں
من فتنة النساء التزين لغير المحارم
عورتوں کا فتنہ غیر محرم کے سامنے تزین و آرائش کرنا

افسوس اس علماء کی عقل پر بنی اسرائیل میں پردے کا کوئی حکم نہیں تھا محرم کی شرعی حدود نکاح کی ہیں جو شریعت موسوی میں بھی ہے لیکن ان میں پردہ کا کوئی شرعی حکم نہیں تھا

اپ دیکھ سکتے ہیں امام مسلم یا نووی اس روایت سے عورتوں کا مشک کا استمعال کرنا جائز کر رہے ہیں لیکن چوتھی صدی کے محدثین اس کو عورتوں پر تنقید کے لئے پیش کر رہے ہیں
اونچی ایڑی والے جوتے کم از کم اس سے حرام نہیں ہوتے

براہیم بن زیاد عباد بن عبداللہ بن عمرو، عبد اللہ، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے ناموں میں سے اللہ کے ہاں پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔
Sahee Muslim 5486

جواب

صحیح مسلم کی روایت ہے
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ وَهُوَ الْمُلَقَّبُ بِسَبَلَانَ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخِيهِ عَبْدِ اللهِ، سَمِعَهُ مِنْهُمَا سَنَةَ أَرْبَعٍ وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةٍ، يُحَدِّثَانِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَى اللهِ عَبْدُ اللهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ»
بے شک الله کے نزدیک سب سے محبوب ناموں میں ہیں عبد الله اور عبد الرحمان

ابن مَنْجُويَه (المتوفى: 428هـ) کتاب رجال صحیح مسلم میں لکھتے ہیں

وَهُوَ غَرِيب من حَدِيث بن عمر تفرد بِهِ عباد بن عباد وَقد روى عَن الْمُعْتَمِر بن سُلَيْمَان من وَجه لَا يعْتَمد عَن عبيد الله كَذَلِك
یہ حدیث غریب ہے ابن عمر سے اس میں عباد بن عباد کا تفرد ہے جو روایت کرتا ہے الْمُعْتَمِر بن سُلَيْمَان ایک طرق سے جس میں عبید الله پر اعتماد نہیں کیا

البانی نے اس کو إرواء الغليل میں صحیح کہا ہے
البانی نے کتاب صحيح الجامع الصغير وزياداته میں ایک اور حدیث کو بھی صحیح کہا ہے
خير أسمائكم عبد الله وعبد الرحمن، والحارث
اس میں ہے سب سے اچھے ناموں میں حارث بھی ہے
سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها
حدیث ٩٠٤ میں بھی اس کا ذکر ہے
——-
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے کسی بیٹے کے نام عبد الله یا عبد الرحمان نہیں رکھے نہ اپنی بیٹیوں کو یہ حکم دیا سب کے لڑکوں کے نام نہ عبد الله ہیں نہ عبد الرحمان
اگر یہ الله کے سب سے محبوب نام ہیں تو خود اس پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عمل نہیں کیا
لہذا راقم کے نزدیک روایت منکر ہے

اُحد کے دن ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اگر میں شہید کر دیا گیا تو میرا ٹھکانہ کہاں ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جنت میں”۔ (یہ سن کر) اس نے وہ کھجوریں پھینکیں جو اس کے ہاتھ میں تھیں، پھر وہ لڑتا رہا حتیٰ کہ شہید ہو گیا۔
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ احد، حدیث 4046)
عوف بن حارث (ابن عفراء) کہنے لگے: “اللہ کے رسول! ربِ کریم اپنے بندے کے کس کام سے ہنستا ہے؟” آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “وہ آدمی جو بغیر زرہ اور خود کے دشمن پر جھپٹ پڑے۔” انہوں نے فوراً زرہ اتار پھینکی، پھر تلوار پکڑی اور دشمن پر ٹوٹ پڑے حتیٰ کہ شہید ہو گئے۔”
(سیرۃ ابن ہشام ج2 ص322)
یہ سیرت نبوی کا ایک رُخ ہے جس میں جب دوسروں کے بچے مروانے ہوتے تھے تو ان کو جنت کہ کہانیاں سُنا سُنا کر دشمنوں کے نرغے میں بھیج دیا جاتا۔ حتیٰ کہ لوہے کے حفاظتی لباس زرہ تک اتروا کر انہیں دشمنوں میں جھونکا گیا کہ جاؤ ہمارے دشمنو کو بھی مارو اور خود بھی مرو اور اس کے بدلے اللہ خوش بھی ہو گا اور جنت بھی دے گا۔ ان مسلمانوں کو جنت اور شہید ہو کر نام نہاد اللہ کی رضا کے لئے اس قدر برانگیختہ کیا جاتا کہ ان میں سے ہر ایک کی خواہش ہوتی کہ وہ شہید ہو جائے اور وہ اس کے لئے حفاظتی زرہ تک نہ پہنتے۔ چنانچہ اُحد کے واقعات میں ہے کہ
جنگ کے لئے جاتے ہوئے حضرت عمر نے اپنے بھائی حضرت زید سے کہا: “تم میری زرہ لے لو۔” زید کہنے لگے: “جس طرح آپ کی خواہش ہے شہید ہونے کی اُسی طرح میں بھی شہادت کا آرزو مند ہوں۔” آخرکار دونوں میں سے کسی نے بھی زرہ نہیں پہنی۔”

(مجمع الزوائد ج5 ص298)

تصویر کا دوسرا رُخ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اُحد کے دن اوپر تلے دو زرہیں پہنی ہوئی تھیں۔

(سنن ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی لبس الدروع، حدیث 2590)

جواب

ایک مسلمان کو حکم ہے کہ خود کشی حرام ہے اور اسباب کی موجودگی میں ان کو ترک کرنا ممنوع ہے ایسی حالت میں جب مسلمان غریب تھے اور جنگی سامان بھی نہیں تھا اس میں ایک زرہ گھر میں ہی چھوڑ دی گئی ہو صحیح نہیں ہو سکتا
مجمع الزوائد کی روایت ہے
——–
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ لِأَخِيهِ: خُذْ دِرْعِي يَا أَخِي قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ مِنَ الشَّهَادَةِ مِثْلَ الَّذِي تُرِيدُ فَتَرَكَاهَا جَمِيعًا.
عمر نے اپنے بھائی (زید) سے کہا: “تم میری زرہ لے لو۔” زید کہنے لگے: “جس طرح آپ کی خواہش ہے شہید ہونے کی اُسی طرح میں بھی شہادت کا آرزو مند ہوں۔” پس دونوں نے اس کو چھوڑ دیا
———–

اس کی سند المعجم الأوسط میں ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الصَّائِغُ قَالَ: نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ لِأَخِيهِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ يَوْمَ أُحُدٍ: «خُذْ دِرْعِي هَذِهِ يَا أَخِي» ، فَقَالَ لَهُ: إِنِّي أُرِيدُ مِنَ الشَّهَادَةِ مِثْلَ الَّذِي تُرِيدُ، فَتَرَكَاهَا جَمِيعًا «
لَمْ يَرْوِ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ»
طبرانی کہتے ہیں اس کو صرف عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ روایت کرتا ہے
احمد کہتے ہیں ليس هو بشئ. کوئی چیز نہیں اور جاء ببواطيل باطل روایات لاتا ہے
أبو حاتم: لا يحتج به. اس سے دلیل نہ لی جائے

طبقات ابن سعد کے مطابق
وشهد زيد بدرًا وأحدًا والخندق والمشاهد كلها مَعَ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ –
زید نے بدر، احد، خندق سب کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا

معلوم ہوا زید بن الخطاب تو خندق میں بھی زندہ تھے

بغوی معجم الصحابة میں لکھتے ہیں
قتل يوم اليمامة.
جنگ یمامہ میں زید کا قتل ہوا

یہی بات امام بخاری تاریخ الکبیر میں لکھتے ہیں
قُتِلَ يوم اليَمامة.

یعنی اسباب کو چھوڑنے کے باوجود نہ عمر کا قتل ہوا نہ زید کا جبکہ انسانی جسم میں اس کی طاقت نہیں کہ زرہ کے بغیر بچ جائے

جواب

خواب میں ایک انسان کیا نہیں دیکھتا ؟ کیا خواب دلیل بن جاتا ہے؟

رسول الله صلی الله علیہ وسلم آسمان پر گئے وہاں سے واپس آئے اور اسکی خبر مشرکین کو دی انہوں نے انکار کیا کہ ایسا ممکن نہیں اس پر سوره الاسراء یا بنی اسرائیل نازل ہوئی اس کی آیت ہے کہ مشرک کہتے ہیں کہ
وَقَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعًا (90) أَوْ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْأَنْهَارَ خِلَالَهَا تَفْجِيرًا (91) أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا (92)
أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا (93)

ہم ایمان نہیں لائیں گے جب تک تم زمین پھاڑ کر نہریں نہ بنا دو، انگور و کھجور کے باغ نہ لگا دو ، آسمان کا ٹکڑا نہ گرا دو یا الله اور کے فرشتے آ جائیں یا تمہارا گھر سونے کا ہو جائے یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور وہاں سے کتاب لاؤ جو ہم پڑھیں! کہو: سبحان الله! کیا میں ایک انسانی رسول کے علاوہ کچھ ہوں؟

آسمان پر چڑھنے کا مطلب ہے کہ یہ عمل مشرکین کے سامنے ہونا چاہیے کہ وہ دیکھ لیں جیسا شق قمر میں ہوا لیکن انہوں نے اس کو جادو کہا
اگر وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو آسمان پر جاتا دیکھ لیتے تو کیا ایمان لے اتے؟ وہ اس کو بھی جادو کہتے

معراج کا کوئی چشم دید شاہد نہیں یہ رسول الله کو جسمانی ہوئی ان کو عین الیقین کرانے کے لئے اور ایمان والے ایمان لائے
اس کا ذکر سوره النجم میں بھی ہے

خواب کے لئے لفظ حَلَم ہے اسی سے احتلام نکلا ہے جو سوتے میں ہوتا ہے
رویا کا مطلب دیکھنا ہے صرف الرویا کا مطلب منظر ہے جو نیند اور جاگنے میں دونوں پر استمعال ہوتا ہے

کتاب معجم الصواب اللغوي دليل المثقف العربي از الدكتور أحمد مختار عمر بمساعدة فريق عمل کے مطابق
أن العرب قد استعملت الرؤيا في اليقظة كثيرًا على سبيل المجاز
بے شک عرب الرویا کو مجازا جاگنے (کی حالت) کے لئے بہت استمعال کرتے ہیں

جواب

ہر وہ روایت جس میں قدری یا الْمُرْجِئَةُ کا ذکر ہو وہ موضوع یا ضعیف ہے کیونکہ یہ فرقے دور نبوی میں نہیں تھے

المعجم الأوسط از الطبراني (المتوفى: 360هـ) کی روایت ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْفَرْغَانِيُّ قَالَ: نا هَارُونُ بْنُ مُوسَى الْفَرْوِيُّ قَالَ: نا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَا يَرِدَانِ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَلَا يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ: الْقَدَرِيَّةُ، وَالْمُرْجِئَةُ»
انس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا دو صنف اس امت میں حوض پر نہیں لائیں جائیں گی نہ جنت میں داخل ہوں گی ایک قدریہ دوسرے مرجیہ

طبرانی اس کو روایت کرنے کے بعد لکھتے ہیں
لَمْ يَرْوِ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ إِلَّا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، تَفَرَّدَ بِهِمَا: هَارُونُ بْنُ مُوسَى الْفَرْوِيُّ “

اس کو روایت کرنے میں ہارون بن موسی کا تفرد ہے

اس کی سند میں راوی هارون بن موسى بن أبي علقمة الفروي أبو موسى المدني ہے جس کے لئے المعلمي کتاب النكت الجياد میں کہتے ہیں
“الفوائد” (ص 503): “شيخ لا يقبل منه ما يتفرد به ولا سيما مثل هذا
شیخ ہے اس کو قبول نہیں کیا جاتا جب اس کا تفرد ہو اور اسی طرح اس کے جیسے

لہذا یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس میں اس راوی کا تفرد ہے

الذھبی بھی میزان میں اس کی ایک روایت کا ذکر کر کے اس کو منکر قرار دیتے ہیں

جواب
کسی جاندار کی تصویر بنانا حرام ہے نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایک پردہ دیکھا جس پر گھوڑا بنا تھا جس کے پر تھے آپ نے اس قسم کے تخیلاتی غیر فطری تخلیق سے منع کیا

حدیث میں ہے کہ عائشہ رضی الله عنہا کے پاس گڑیاں تھیں جن سے وہ کھیلتی تھیں اور ان پر قدغن نہیں کی گئی

لہذا یہ حرمت ممکن ہے غیر فطری چیزوں پر تھی وہ اشیاء جو الله نے پیدا کیں اور اس کی تخلیق ہیں ان کو کوئی بھی یہ سوچ کر نہیں بناتا کہ یہ میری تخلیق ہے
لیکن ایسی چیز بنانا جو تخیلاتی ہو وہ ممنوع ہے جسے اڑتے گھوڑے وغیرہ

حدیث میں آیا ہے کہ روز قیامت کہا جائے گا کہ اب اس میں روح ڈالو لہذا تمام ذی روح جسموں کی تصویر منع کی جاتی ہے جو احتیاط ہے

-فوٹو گرافی تصویر سازی نہیں عکس ہے لہذا اس میں قباحت نہیں ورنہ آئنیہ دیکھنا بھی حرام ہوتا

اگر تصویر جیب میں ہے تو اس پر کوئی قباحت نہیں ہے
واللہ اعلم
======

ابو داود کی حدیث ہے
حدیث نمبر: 4153
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ “لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تِمْثَالٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ نَسْأَلْهَا عَنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا وَكَذَا فَهَلْ سَمِعْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ ذَلِكَ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ بِمَا رَأَيْتُهُ فَعَلَ، ‏‏‏‏‏‏خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ وَكُنْتُ أَتَحَيَّنُ قُفُولَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذْتُ نَمَطًا كَانَ لَنَا فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْعَرَضِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا جَاءَ اسْتَقْبَلْتُهُ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعَزَّكَ وَأَكْرَمَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَنَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ فَرَأَى النَّمَطَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا وَرَأَيْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ فَأَتَى النَّمَطَ حَتَّى هَتَكَهُ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا فِيمَا رَزَقَنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَاللَّبِنَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَقَطَعْتُهُ وَجَعَلْتُهُ وِسَادَتَيْنِ وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ”.
ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: “فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا مجسمہ ہو”۔ زید بن خالد نے جو اس حدیث کے راوی ہیں سعید بن یسار سے کہا: میرے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلو ہم ان سے اس بارے میں پوچھیں گے چنانچہ ہم گئے اور جا کر پوچھا: ام المؤمنین! ابوطلحہ نے ہم سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایسا ایسا فرمایا ہے تو کیا آپ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ آپ نے کہا: نہیں، لیکن میں نے جو کچھ آپ کو کرتے دیکھا ہے وہ میں تم سے بیان کرتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں نکلے، میں آپ کی واپسی کی منتظر تھی، میں نے ایک پردہ لیا جو میرے پاس تھا اور اسے دروازے کی پڑی لکڑی پر لٹکا دیا، پھر جب آئے تو میں نے آپ کا استقبال کیا اور کہا: سلامتی ہو آپ پر اے اللہ کے رسول! اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، شکر ہے اس اللہ کا جس نے آپ کو عزت بخشی اور اپنے فضل و کرم سے نوازا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر پر نظر ڈالی، تو آپ کی نگاہ پردے پر گئی تو آپ نے میرے سلام کا کوئی جواب نہیں دیا، میں نے آپ کے چہرہ پر ناگواری دیکھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردے کے پاس آئے اور اسے اتار دیا اور فرمایا: “اللہ نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا ہے کہ ہم اس کی عطا کی ہوئی چیزوں میں سے پتھر اور اینٹ کو کپڑے پہنائیں” پھر میں نے کاٹ کر اس کے دو تکیے بنا لیے، اور ان میں کھجور کی چھال کا بھراؤ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس کام پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/بدء الخلق ۷ (۳۲۲۵)، ۱۷ (۳۳۲۲)، المغازي ۱۲ (۴۰۰۲)، اللباس ۸۸ (۵۹۴۹)، ۹۲ (۵۹۵۸)، صحیح مسلم/اللباس ۲۶ (۲۱۰۶)، سنن الترمذی/الأدب ۴۴ (۲۸۰۴)، سنن النسائی/الصید والذبائح ۱۱ (۴۲۸۷)، الزینة من المجتبی ۵۷ (۵۳۴۹)، سنن ابن ماجہ/اللباس ۴۴ (۳۶۴۹)، (تحفة الأشراف: ۱۶۰۸۹، ۳۷۷۹)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان ۳ (۶)، مسند احمد (۴/۲۸، ۲۹، ۳۰) (صحیح)
=====

صحیح مسلم میں ہے
حضرت زید بن خالد (رض) جہنی فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں آیا اور میں نے عرض کیا کہ حضرت ابوطلحہ (رض) مجھے یہ خبر دیتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے کہ جس میں کتے اور تصویریں ہوں تو کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس طرح یہ حدیث سنی ہے تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا نہیں! لیکن میں تم سے وہ واقعہ بیان کروں گی جو میں نے دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مرتبہ جہاد میں تشریف لے گئے میں نے ایک نقش ونگار والا کپڑا لکڑی کے دروازے پر لٹکا دیا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس تشریف لائے اور پردہ کو دیکھا تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ اقدس میں ناپسندیدگی کے اثرات پہچان لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ ہمیں یہ حکم نہیں دیتا کہ پتھروں اور مٹی کو کپڑا پہنائیں حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ پھر ہم نے اس پردے کو کاٹ کر دو تکیے بنا لئے اور ان میں کھجوروں کی چھال بھر لی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے اس طرح کرنے پر کوئی عیب نہیں لگایا۔
===
صحیح مسلم کی ایک دوسری روایت میں ہے

زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، داؤود، عروہ، حمید بن عبدالرحمن، سعد بن ہشام، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر پرندوں کی تصویر بنی ہوئی تھی اور جب کوئی اندر داخل ہوتا تو یہ تصویریں اس کے سامنے ہوتیں (یعنی سب سے پہلے اس کی نظر تصویروں پر پڑتی) تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا اس پردے کو نکال دو کیونکہ جب گھر میں داخل ہوتا ہوں اور ان تصویروں کو دیکھتا ہوں تو مجھے دنیا یاد آجاتی ہے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک چادر تھی جس پر نقش ونگار کو ہم ریشمی کہا کرتے تھے اور ہم اسے پہنا کرتے تھے۔
========

صحیح مسلم میں ہے
: ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، زہیر، سفیان بن عیینہ، عبدالرحمن بن قاسم، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے اپنے دروازے پر ایک پردہ ڈالا ہوا تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں تو جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پردہ کو دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے پھاڑ دیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ اقدس کا رنگ بدل گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عائشہ! قیامت کے دن سب سے سخت ترین عذاب اللہ کی طرف سے ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کی مخلوق کی تصویریں بناتے ہیں حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ پھر ہم نے اس پردے کو کاٹ کر ایک تکیہ یا دو تکیے بنا لئے۔
====

اسی طرح جیب کا نوٹ ہے

الْعُرْيِ عربی میں ننگے پن یا برہنگی کو کہتے ہیں
حدیث کا ترجمہ ہے
اسْتَعِينُوا عَلَى النِّسَاءِ بِالْعُرْيِ
عورتوں پر برہنگی سے مدد لو

مفھوم بنتا ہے ان کے کپڑے کم کر دو
الفاظ نہایت بازاری ہیں جو سنتے ہی ایک سلیم الفطرت انسان قبول نہیں کر سکتا چہ جائیکہ اس کو حدیث رسول کہا جائے

الموضوعات میں ابن جوزی اس کی اسناد جمع کرتے ہیں
لَيْسَ فِي هَذهِ الْأَحَادِيث مَا يَصح
ان تمام احادیث میں کوئی صحیح نہیں ہے

ان کی اسناد اور جرح ابن جوزی پیش کرتے ہیں

عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” اعْرُوا النِّسَاءَ يَلْزَمْنَ الْحِجَالَ “.
عورتوں کو برہنہ کر دو کہ ان کو حجل (چادر) لینا پڑے

إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبَّادٍ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” اسْتَعِينُوا عَلَى النِّسَاءِ بِالْعُرْيِ
ابن جوزی اس روایت پر کہتے ہیں
أما حَدِيث مَسْلَمَةَ فَقَالَ أَبُو حَاتِم الرَّازِيّ: شُعَيْب بْن يَحْيَى لَيْسَ بِمَعْرُوف، وَقَالَ إِبْرَاهِيم الْحَرْبِيّ: لَيْسَ لهَذَا الحَدِيث أصل.
ابو حاتم نے کہا اس میں شعیب معروف نہیں ہے اور ابراہیم الحربی نے کہا اس حدیث کا اصل نہیں ہے

انس سے دو طرق سے مروی ہے

سَعْدَانُ بْنُ عَبْدَةَ أَنْبَأَنَا عبيد الله بن عبد الله الْعَتَكِيُّ أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” أَجِيعُوا النِّسَاءَ جوعا غير مُضر وأعروهن عربا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، لأَنَّهُنَّ إِذَا سَمِنَّ واكتسين فَلَيْسَ شئ أحب إلَيْهِنَّ من الْخُرُوج وَلَيْسَ شئ شَرٌّ لَهُنَّ مِنَ الْخُرُوجِ، وَإِنَّهُنَّ إِذَا أَصَابَهُنَّ طَرَفٌ مِنَ الْعُرْيِ والجوع فَلَيْسَ شئ أَحَبَّ إِلَيْهِنَّ مِنَ الْبُيُوتِ، وَلَيْسَ شئ خير لَهُنَّ مِنَ الْبُيُوتِ
عورتوں کو بھوکا رکھو جس میں ان کو نقصان نہ ہو اور ان کو برہنہ رکھو جس میں ان کو تکلیف نہ ہو کیونکہ اگر موٹی ہوئیں جسم بھرا تو ان کو باہر نکلنا پسند ہو گا
وَأما حَدِيث أَنَس فَفِي الطَّرِيق الأَوَّل إِسْمَاعِيل بن عباد.
قَالَ الدَّارقطني: مَتْرُوكٌ، وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ: لَا يجوز الِاحْتِجَاج بِهِ، وزَكَرِيَّا بْن يحيى لَيْسَ بشئ.
وفى الطَّرِيق الثَّانِي عبيد الله الْعَتكِي.
قَالَ الْبُخَارِيّ: عِنْده مَنَاكِير، وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ: يتفرد عَن الثقاة بالمقلوبات، وَقَالَ ابْن عَدِيّ: سَعْدَان مَجْهُول وَشَيخنَا مُحَمَّد بْن دَاوُدَ يكذب

اس میں کذاب راوی ہے
========

مسند الفاروق از ابن کثیر کے مطابق یہ عمر کا قول ہے
قال أبو القاسم البغوي: ثنا أبو رَوْح البَلَدي، ثنا أبو الأَحوص سلاَّم بن سُليم، عن أبي إسحاق، عن حارثة بن مُضَرِّب قال: قال عمرُ رضي الله عنه: استَعينوا على النساءِ بالعُري، فإنَّ إحداهنَّ إذا كَثُرَت ثيابُها وحَسُنَت زينتُها أَعجَبَها الخروجُ (1).
إسناد صحيح.
ابن کثیر اس کو صحیح کہتے ہیں

کتاب : ذخيرة الحفاظ از ابن القيسراني (المتوفى: 507هـ) کے مطابق
حَدِيث: اسْتَعِينُوا على النِّسَاء بالعري. رَوَاهُ إِسْمَاعِيل: عَن عباد الْمُزنِيّ السَّعْدِيّ، عَن سعيد بن أبي عرُوبَة، عَن قَتَادَة، عَن أنس. وَهَذَا بِهَذَا الْإِسْنَاد مُنكر، لايرويه عَنهُ غير إِسْمَاعِيل هَذَا، وَلَيْسَ بذلك الْمَعْرُوف. قَالَ الْمَقْدِسِي: وَالصَّحِيح أَنه من كَلَام عمر رَضِي الله عَنهُ.
روایت اسْتَعِينُوا على النِّسَاء بالعري. منکر الاسناد ہے … المقدسی کہتے ہیں عمر بن خطاب کا قول ہے

راقم کہتا ہے یہ بھی صحیح نہیں ہے اس کی سند مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: «اسْتَعِينُوا عَلَى النِّسَاءِ بِالْعُرْيِ، إِنَّ إِحْدَاهُنَّ إِذَا كَثُرَتْ ثِيَابُهَا، وَحَسُنَتْ زِينَتُهَا أَعْجَبَهَا الْخُرُوجُ»

حارثة بن مضرب امام علی المدینی کے نزدیک متروک ہے اور أبي إسحاق، مدلس عن سے روایت کر رہا ہے

(ايما امراة نكحت بغير اذن وليها فنكاحها با طل ،فنكاحها باطل،فنكاحها باطل فان دخل بها فلهاالمهر بما استحل من فرجها فان اشتجروا فاالسلطان ولي من لاولى له.)احمد،ابوداود،ابن ماجه ترمذى
حاكم كا قول ہے کے اس بارے میں روایت ہے.بخارى میں تفسیر آيه232 سورہ بقرہ کی آیت ہے ابن حجر کا قول ہے کے اس بات کا دلیل ہے کے ولی بغير نکاح نہیں ھوسکتے ہے.[فقه السنه دكتر سيد سابق]كيا روايت صحيح
. ہےاور امام ابو حنيفه رحمت الله عليه اسکے خلاف ہے . جزاكم الله خيرا

جواب

اس روایت کی صحت پر محدثین کا اختلاف ہے امام ابن علیہ کے مطابق معلول ہے اس کی خبر امام احمد نے دی

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قالَ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا نُكِحَتِ الْمَرْأَةُ بِغَيْرِ أَمْرِ مَوْلَاهَا، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ أَصَابَهَا، فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنْ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ» قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَلَقِيتُ الزُّهْرِيَّ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ، قَالَ: «وَكَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، وَكَانَ فَأَثْنَى عَلَيْهِ» ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ أَبِي «السُّلْطَانُ الْقَاضِي، لِأَنَّ إِلَيْهِ أَمْرَ الْفُرُوجِ وَالْأَحْكَامِ»
سلیمان بن موسی امام الزہری سے روایت کرتے ہیں وہ عروه سے وہ عائشہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی عورت ولی کے حکم کے بغیر نکاح کرے تو ایسا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے … ابن جریج کہتے ہیں میں الزہری سے ملا اس روایت کا پوچھا تو کہا نہیں جانتا

ابن جریج نے اس کو سلیمان سے لیا جس کی سند سنن ابوداود میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ وَلِيٍّ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ بَاطِلٌ بَاطِلٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلِيُّ فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ»

لیکن مسند احمد کے مطابق امام زہری نے اس روایت کو نہیں پہچانا

اس بات کے لئے ابن معین نے کہا کہ اس کو إسماعيلُ بنُ إبراهيم نے صرف ابن جریج سے نقل کیا ہے کہ امام الزہری نے نہیں پہچانا
دارقطنی نے العلل میں کہا لم يُتابَع ابنُ عُلية اس میں ابن علیہ پر کسی نے متابعت نہیں کی

لہذا اس کو ابن معين وأبو عوانة وابن خزيمة وابن حبان والحاكم والبيهقي نے صحیح کہا اور کوفہ کے ثقہ محدث ابن علیہ کی بات کو ایک طرح شاذ قرار دیا

ابن حجر نے “التلخيص” 3/157: میں کہا:
وأعل ابنُ حبان وابن عدي وابن عبد البر والحاكم وغيرهم الحكاية عن ابن جريج، وأجابوا عنها على تقدير الصحة بأنه لا يلزم من نسيان الزُّهري له أن يكون سليمان بن موسى وهم فيه
اس ابن جریح کی حکایت کو ابن حبان وابن عدي وابن عبد البر والحاكم نے معلول کہا ہے اور جواب دیا اس روایت کی صحت کے حوالے سے کہ اس قصے میں لازم نہیں کہ الزہری بھول گئے ہوں بلکہ یہ سلیمان بن موسی کا وہم بھی ہو سکتا ہے

امام حاکم کے نزدیک یہ امام زہری کی بھول ہے کہا
فقد ينسى الثقةُ الحافظ الحديثَ بعد أن حدث به
پس ثقہ حافظ اس کو بھول گئے خود روایت کرنے کے بعد

اب تین آراء هوئیں

اول امام زہری بھول گئے
دوم سلیمان بھول گئے
تین ابن علیہ کی بات شاذ ہے

امام طحاوی کے مطابق احناف میں أَبُو يُوسُفَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ کا فتوی ہے کہ عورت بغیر ولی نکاح نہیں کر سکتی اور
وَخَالَفَهُمْ فِي ذَلِكَ آخَرُونَ , فَقَالُوا: لِلْمَرْأَةِ أَنْ تُزَوِّجَ نَفْسَهَا مِمَّنْ شَاءَتْ , وَلَيْسَ لِوَلِيِّهَا أَنْ يَعْتَرِضَ عَلَيْهَا فِي ذَلِكَ إِذَا وَضَعَتْ نَفْسَهَا حَيْثُ كَانَ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَضَعَهَا.
دوسروں نے مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ عورت نکاح کر سکتی ہے جس سے چاہے اس میں ولی کا اعتراض نہیں ہو سکتا

امام بخاری نے صحیح میں باب باندھا ہے لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ لیکن اس پر کوئی روایت نہیں ہے جس میں مرفوع قولی حکم ہو بلکہ یہ ہے کہ عمر نے کہا إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ میں اپنی لڑکی اپ سے بیاہ دیتا ہوں
گویا یہ معروف میں سے تھا کہ ولی نکاح کرے

———-
روایت لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ پر ایک قولی حکم ہے جو صحیح سے باہر کی کتب میں ہے

عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ»
أَبِي إِسْحَاقَ مدلس ہے روایت اس سند سے ضعیف ہے
عصر حاضر کے محققین کے نزدیک یہ صحیح ہے لیکن راقم کو اس کی کسی بھی سند میں تحدیث نہیں ملی

حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ أَوْ سُلْطَانٍ، فَإِنْ أَنْكَحَهَا سَفِيهٌ مَسْخُوطٌ عَلَيْهِ فَلَا نِكَاحَ عَلَيْهِ»
عبد الله بن عثمان بن خثيم ضعیف ہے

مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ يَعْنِي الرَّقِّيَّ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ، وَالسُّلْطَانُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ»
الْحَجَّاجِ کا سماع عِكْرِمَةَ سے نہیں ہے روایت منقطع ہے

مصنف عبد الرزاق میں ہے
عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ»
إمام حسن مدلس ہیں اور قتادہ بھی

اور
عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زَرٍّ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ يَأْذَنُ
اس میں عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ضعیف ہیں

ابن ماجہ کی روایت ہے
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “لَا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ، وَلَا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا، فَإِنَّ الزَّانِيَةَ هِيَ الَّتِي تُزَوِّجُ نَفْسَهَا”
کوئی عورت کسی اور عورت کا نکاح نہیں کرا سکتی اگر کرے تو زانیہ ہے
البانی اس کو صحیح کہتے ہیں
اس کی سند میں مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ ہے جو ضعیف ہے اور ہشام مدلس ہے

یہ تمام روایات ضعیف ہیں اور ان میں اہل عراق کا تفرد ہے
امام مالک اس کو عمر رضی الله عنہ کا قول کہتے ہیں لیکن ان کی سند میں مجھول ہے

فقہاء نے ان تمام سے دلیل لی ہے کیونکہ اس مسئلہ پر یہی روایات تھیں

———-
نوٹ
فقہاء نے رائے اختیار کی کہ
ایک مشرک عورت اگر اپنے علاقے سے بھاگ کر مسلمان ہو جائے اور کسی مسلم سے شادی کرنا چاہے تو اس میں ولی اب سلطان ہو گا جو اس کا نکاح کرا سکتا ہے
لیکن ایک مسلمان عورت گھر سے بھاگ کر خود نکاح نہیں کر سکتی کیونکہ ولی چاہیے لیکن نکاح کے فورا بعد خلع لے سکتی ہے

جواب

نکاح الشغار کی ایک تعریف ہے
والشغار: أن ينكح الرجل الرجل ابنته أو أخته، عَلَى أن يزوجه الآخر ابنته أو أخته
ایک آدمی دوسرے آدمی سے اپنی بہن یا بیٹی کا نکاح (شرط پر) کرے کہ وہ دوسرا اس کی بیٹی یا بہن سے نکاح کر دے
الإقناع لابن المنذر از أبو بكر محمد بن إبراهيم بن المنذر النيسابوري (المتوفى: 319هـ)

یہ نکاح آجکل وٹہ سٹہ کہلاتا ہے اور بعض فقہاء کے نزدیک حرام ہے

حدیث میں ہے
نَهَى عَنْ الشِّغَارِ
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے الشغار سے منع کیا ہے

اس کے حرام کا فتوی امام مالک اور ابن منذر، ابن حزم اور دیگر کا ہے

امام بخاری کے نزدیک شغار کی تعریف الگ ہے صحیح کی حدیث میں امام بخاری یا نافع کا قول ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ”نَهَى عَنْ الشِّغَارِ”، ‏‏‏‏‏‏وَالشِّغَارُ:‏‏‏‏ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے۔ شغار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی لڑکی یا بہن کا نکاح اس شرط کے ساتھ کرے کہ وہ دوسرا شخص اپنی (بیٹی یا بہن) اس کو بیاہ دے اور کچھ مہر نہ ٹھہرے۔

یعنی بعض کے نزدیک بغیر مہر نکاح کرنا شغار ہے

یہی امام الشافعی کا قول ہے ابن حزم المحلی میں اس پر کہتے ہیں
وَدَعْوَى الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ إنَّمَا نَهَى عَنْ الشِّغَارِ لِفَسَادِ الصَّدَاقِ فِي كِلَيْهِمَا دَعْوَى كَاذِبَةٌ
اور امام الشافعی کا دعوی کہ الشغار سے منع کیا گیا کہ اس میں مہر کا فساد ہے تو یہ دعوی کذب ہے

الشَّافِعِيِّ وَمَالِك وَأَحْمَد وإِسْحَاق کے ہاں اس کو الشغار کہا جاتا ہے کہ بلا مہر نکاح ہو اور یہ ان سب کے نزدیک صحیح نہیں ہے

الزُّهْرِيّ والثَّوْرِيّ وعَطَاء بن أبي رباح وأَبِي حَنِيفَةَ کے نزدیک یہ نکاح صحیح ہے

بحوالہ المعاني البديعة في معرفة اختلاف أهل الشريعة

جو صحیح کہتے ہیں وہ یہ شرط رکھتے ہیں کہ دونوں جانب ایک ہی جیسا مہر ہو

یعنی بعض کے نزدیک اس میں مہر کی کوئی شرط نہیں حرام ہے
بعض کہتے ہیں اگر مہر نہ ہو تو حرام ہے
بعض کہتے ہیں مہر ایک جیسا ہو تو صحیح ہے

راقم کے خیال میں یھاں عورتوں سے تو کوئی پوچھ ہی نہیں رہا کہ ان کو نکاح کرنا بھی یا نہیں مرد حضرات خود ہی فیصلہ کر رہے ہیں
عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ نکاح کے بعد خلع کا مطالبہ کر دے اس سے اس کو کون روک سکتا ہے؟
نکاح ولی کا عمل ہے یہ معروف میں سے ہے لیکن اس پر کوئی قولی حکم کی روایت صحیح سند سے روایت نہیں
لہذا یہ عربوں کا رواج تھا لیکن دین میں اس کو صرف وقتی اہمیت حاصل ہے جب معروف تبدیل ہو جائے تو نئے معروف پر عمل ہو گا
مثلا لونڈیاں رکھنا اب معروف میں سے نہیں یہ عمل اب دنیا میں معدوم ہے لہذا جنگ میں مفتوحہ علاقوں کی عورتوں کو نہیں بانٹا جاتا

بعض کہتے ہیں کہ قرآن البقرہ ٢٣٢ میں ہے کہ مطلقہ عورت کو نکاح سے
فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ
تم انہیں اپنے (نئے) شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو

یعنی ولی روک سکتا ہے جبکہ قرآن کہہ رہا ہے مت روکو ان کو نکاح کرنے دو یعنی جس آیت سے ولی کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے اس سے ہی ولی کی شرط لگا دی گئی ہے آیت واضح ہے کہ عورت نکاح میں آزاد ہے اگرچہ ولی منع کرے

دوسرے مقام پر ہے
وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا
اور مشرکوں سے نکاح مت کرو جب تک ایمان نہ لے آئیں

یہ آیت بھی ولی کی شرط پر بطور دلیل پیش کی جاتی ہے جبکہ اس میں اس کا دور دور کوئی ذکر نہیں ہے صرف زبردستی کشید کردہ مفھوم ہے

اسی طرح الشغار عربوں کا رواج تھا اس سے منع کیا گیا اور اس کو اب مہر یا غیر مہر کی شرط سے باندھنا صحیح نہیں
لہذا راقم ابن منذر اور ابن حزم کی رائے کو پسند کرتا ہے

لن يفلح قوم ولواأمرهم إمرأة
كيااے روایت عورت کو صدر مملکت بنانے سے منع ہے یا دیگر امور کو بہے شامل ہے? جزاكم الله خيرا

جواب

سن ٢٠٠ ہجری کے بعد اس روایت سے محدثین نے دلیل لی کہ عورت کو حاکم یا والی مقرر نہ کیا جائے

اس روایت سے دلیل لیتے ہوئے عورتوں پر پابندی لگا دی گئی کہ وہ قاضی بھی نہیں بن سکتی ہیں اگرچہ امام مالک اور طبری کہتے ہیں قاضی بن سکتی ہیں

عورتوں میں حیض کی وجہ سے ان کا نماز میں خود امام بننا ممکن نہیں اور چونکہ اسلام میں حاکم ہی امام ہوتا ہے اس لئے عورت حاکم نہیں بن سکتی کہ وہ اس دوران نماز روزہ نہیں کر سکتی اور قرآن نہیں پڑھ سکتی – لیکن اگر وہ کسی مرد کو امام مقرر کر دیں تو یہ کوئی مسئلہ نہیں رہتا لہذا عورت جنگ میں جنرل بن سکتی ہے اس کا حکم چلے گا اور قبول کیا جائے گا

—-
نسائی سنن الکبری میں اس روایت پر باب قائم کرتے ہیں
تَرْكُ اسْتِعْمَالِ النِّسَاءِ عَلَى الْحُكْمِ
عورتوں کو حکم میں (حکومت میں) استمعال کرنے پر ترک کرنا

بیہقی سنن الکبری میں باب قائم کرتے ہیں
بَابُ: لَا يُوَلِّي الْوَالِي امْرَأَةً , وَلَا فَاسِقًا , وَلَا جَاهِلًا أَمْرَ الْقَضَاءِ
باب کہ عورت کو والی نہ کیا جائے نہ فاسق کو نہ جاہل کو قاضی کیا جائے

راقم کی رائے میں عورت قاضی بن سکتی ہے ، نماز میں امام نہیں بن سکتی اور اس بنا پر حاکم نہیں بن سکتی

امام بخاری صحیح میں روایت کرتے ہیں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنِ الحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: لَقَدْ نَفَعَنِي اللَّهُ بِكَلِمَةٍ أَيَّامَ الجَمَلِ، لَمَّا بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ فَارِسًا مَلَّكُوا ابْنَةَ كِسْرَى قَالَ: «لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً»
حسن نے ابی بکرہ سے روایت کیا کہ الله نے مجھے جمل کے دنوں میں ان الفاظ سے مدد کی کہ جب نبی صلی الله علیہ وسلم تک پہنچا کہ فارس والوں نے ایک عورت کو حاکم کر دیا ہے تو کہا قوم فلاح نہیں پاتیں اگر ان پر حاکم عورت ہو

یہ روایت اس سند سے منقطع ہے

کتاب موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان کے محقق حسين سليم أسد الدّاراني ایک روایت جو حسن کی ابی بکرہ سے ہے اس پر کہتے ہیں
والحسن لا يروي إلا عن الأحنف، عن أبي بكرة”. أي: فيكون ما رواه البخاري منقطعاً
أور حسن روايت نہیں کرتے مگر احنف سے وہ ابی بکرہ سے یعنی جو امام بخاری نے روایت کیا ہے وہ منقطع ہے

کتاب الفتن از أبو عبد الله نعيم بن حماد بن معاوية بن الحارث الخزاعي المروزي (المتوفى: 228هـ) کی روایت اس پر دال ہے
حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: بَايَعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فَرَآنِي أَبُو بَكْرَةَ وَأَنَا مُتَقَلِّدٌ، سَيْفًا فَقَالَ: مَا هَذَا يَا ابْنَ أَخِي؟ قُلْتُ: بَايَعْتُ عَلِيًّا، قَالَ: لَا تَفْعَلْ يَا ابْنَ أَخِي، فَإِنَّ الْقَوْمَ يَقْتَتِلُونَ عَلَى الدُّنْيَا، وَإِنَّمَا أَخَذُوهَا بِغَيْرِ مَشُورَةٍ، قُلْتُ: فَأُمُّ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: امْرَأَةٌ ضَعِيفَةٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يُفْلِحُ قَوْمٌ يَلِي أَمْرَهُمُ امْرَأَةٌ»
حسن نے احنف بن قیس سے روایت کیا کہ احنف نے کہا: میں نے علی کی بیعت کی پھر اس کے بعد ابی بکرہ کو دیکھا اور میں تلوار لٹکائے ہوئے تھا انہوں نے کہا یہ کیا ہے اے بھتیجے؟ میں نے کہا میں نے علی کی بیعت کی ہے انہوں نے کہا ایسا نہ کرو اے بھتیجے کیونکہ ایک قوم (علی اور ان کے شیعہ) دنیا کے لئے لڑ رہی ہے اور انہوں نے اس (امر خلافت) کو لیے لیا ہے بغیر شوری کے میں نے کہا اور ام المومنین ؟ ابی بکرہ نے کہا وہ تو بوڑھی عورت ہیں میں نے رسول الله سے سنا کہ وہ قوم فلاح نہ پائے گی جس کی حاکم عورت ہو

روایت اس سند سے صحیح ہے حسن نے اس کو براہ راست ابی بکرہ سے نہیں سنا

راقم کے خیال میں اس روایت کا تعلق اخروی فلاح سے ہے اور یہ قول نبی فارس پر خاص تھا
سن ٩ ہجری میں اہل فارس نے خسرو کی بیٹی آزارمیدختی کو حاکم کیا
Azarmidokhty, daughter of Khosrau II (Chosroes II)
اس کی خبر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ہوئی اور اپ نے اس کے باپ کو خط لکھا تھا کہ اسلام قبول کر لو اس کی بیٹی کے انے سے یہ امید کہ یہ اسلام قبول کر لیں گے ختم ہوئی اور ان کی اخروی فلاح کی امید نہ رہی یہ قول نبوی اہل فارس پر خاص ہے
اس کی دلیل اہل سبا و یمن پر عورت کی حاکمیت ہے جو سلیمان علیہ السلام پر ایمان لائیں اور ان کی قوم نے اسلام کی صورت اخروی فلاح پائی
نبی صلی الله علیہ وسلم کا قول ان کے خط کے تناظر میں ہے

ابی بکرہ رضی الله عنہ کا اجتہاد صحیح نہیں ہے عائشہ رضی الله عنہا بطور حاکم نہیں تھیں وہ جنگ میں ایک جنرل تھیں جس کی اسلام میں کوئی ممانعت نہیں ہے صرف عربوں میں یہ بات خلاف رواج تھی کہ ایک عورت جنرل بن گئی ہے لیکن یہ دور فتن تھا اور ال ابی بکر پر سے قتل عثمان کی تہمت ہٹانے کے لئے یہ کرنا ضروری تھا کیونکہ دوسری طرف علی کا لے پالک محمد بن ابی بکر قاتلین میں شامل تھا جس کی پشت پناہی علی رضی الله عنہ کر رہے تھے – ابی بکرہ کے نزدیک علی کی خلافت برحق نہیں تھی وہ بغیر شوری کیے خلیفہ ہوئے لیکن محدثین نے پوری روایت نقل نہ کرنے علمی خیانت کی

ابو بکرہ سے بڑھ کر طلحہ اور زبیر بن عوام رضی الله عنہما اس فارس والی روایت کا وہ مطلب نہیں لیتے جو ابی بکرہ نے لیا دونوں امام المومننین کو ایک جنرل اور اولو امر مانتے ہوئے ان کے احکامات پر عمل کرتے رہے

——–
تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر
Two Illuminated Clouds of Quran
pg 143-144

نوٹ
ابی بکرہ پر عمر رضی الله عنہ نے حد قذف جاری کی اور ان کی شہادت ساقط کر دی
وَأَبَى أَبُو بَكْرَةَ، فَلَمْ يَقْبَلْ شَهَادَتَهُ
سیر الاعلام النبلاء از الذھبی
شعیب کہتے ہیں رجاله ثقات، وهو في ” تفسير ابن كثير “: 18 / 76، وسعيد: هو ابن المسيب. ہے
جس پر حد قذف جاری ہو اور اس کی شہادت قبول نہ کی جاتی ہو اس کی بات اب عدالت میں قبول نہیں کی جائے گی اور کیا حدیث لے لی جائے گی ؟
محدثین نے حدیث لے لی ہے

اسلام علیکم (لا یردالقضاءالا الدعاءولايزيدفى العمر الا البر( ترمذی) ایسے معنے مے صحیح بخاری کا بہے روایات موجود ہے؛پلیز اس روایات کا کچھ وضاحت کردے کیا اے روایات قران کے خلاف نہے ہے؟ جزاكم الله خيرا

جواب

اس روایت کو ابن حبان نے صحیح کہا ہے ترمذی نے حسن کہا ہے امام حاکم نے صحیح کہا ہے
اس روایت کو البانی نے , صَحِيح الْجَامِع: 7687 , الصَّحِيحَة: 154 , صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب: میں حسن قرار دیا ہے

اس کی سند کتب میں ہیں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

طحاوی مشکل الآثار میں کہتے ہیں
حَدَّثَنَا أَبُو مَوْدُودٍ. قَالَ: أَبُو جَعْفَرٍ: وَهُوَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ مَوْلَى هُذَيْلٍ، وَهُوَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ثِقَةٌ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، وَهُوَ خِلَافُ أَبِي مَوْدُودٍ الْمَدِينِيِّ

ترمذی کہتے ہیں
وَأَبُو مَوْدُودٍ اثْنَانِ، أَحَدُهُمَا: يُقَالُ لَهُ: فِضَّةُ، وَالْآخَرُ: عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَحَدُهُمَا بَصْرِيٌّ وَالْآخَرُ مَدَنِيٌّ، وَكَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ، وَأَبُو مَوْدُودٍ الَّذِي رَوَى الْحَدِيثَ اسْمُهُ فِضَّةُ بَصْرِيٌّ

طحاوی اور ترمذی کا ناموں پر اختلاف ہے لیکن دونوں کے نزدیک ابو مودود بصری ہے

تهذيب الكمال في أسماء الرجال کے مطابق عبد العزيز بن أَبي سُلَيْمان الهذلي مولاهم، أبو مودود المدني، كان قاصا لاهل المدينة. یہ اہل مدینہ کے قصہ گو تھے
أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ: ثِقَةٌ. مدینہ والے کو کہا ہے اسی طرح ابی حاتم نے کہا مدینہ والا ابومودود دوسرے سے بہتر ہے
معلوم ہوا کہ امام ترمذی سے راوی کا تعین صحیح طرح نہ ہو سکا متاخرین نے اس کا نام الگ لیا ہے اور پھر اس کو صحیح کہا

دوسری بات ہے کہ ترمذی ہی صحیح تھے اور راوی فضه تھا جو مظبوط نہیں تھا اسی لئے یہ ضعیف ہونے اور ایک دوسرے طرق (ثوبان کی سند ) کی وجہ سے حسن لغیرہ تھی

بہر الحال راوی مبہم ہے لہذا اس پر بحث کی ضرورت نہیں ہے
جو بھی ہم عمل کر رہے ہیں وہ تقدیر کے تحت ہیں ان میں دعا بھی ہے اور عمر لکھ دی گئی ہے جیسا کہ صحیح احادیث میں ہے

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 443 حدیث مرفوع مکررات 12 متفق علیہ 8
حسن بن ربیع ابوالاحوص اعمش زید بن وہب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور وہ صادق و مصدوق تھے کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش ماں کے پیٹ میں پوری کی جاتی ہے چالیس دن تک (نطفہ رہتا ہے) پھر اتنے ہی دنوں تک مضغہ گوشت رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل اس کا رزق اور اس کی عمر لکھ دے اور یہ (بھی لکھ دے) کہ وہ بد بخت (جہنمی) ہے یا نیک بخت (جنتی) پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے بیشک تم میں سے ایک آدمی ایسے عمل کرتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان (صرف) ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس کا نوشتہ (تقدیر) غالب آجاتا ہے اور وہ دوزخیوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور (ایک آدمی) ایسے عمل کرتا ہے کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان (صرف) ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اتنے میں تقدیر (الٰہی) اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے۔

جب قضا لکھ دی گئی تو یہ الله کا علم تھا اور اس میں نقص نہیں ہے لہذا اب اس کو دعا سے کیوں بدلا جائے گا؟

اسلام علیکم
(فراش للرجل و فراش لامرأتة وثالث للضیف و الرابع للشیطان)
پلیز اس روایت کا کہچ وضاحت کردے
جزاکم الله خیرا

جواب
یہ روایت صحیح مسلم صحیح ابن حبان مسند احمد میں ہے اس کے راوی صالح یا ثقہ ہیں اور عصر حاضر کے محققین مثلا البانی وغیرہ اس کو صحیح کہتے ہیں

اس کے مفھوم میں مختلف اقوال ہیں

روایت کے مطابق ایک بستر مرد کا ایک عورت کا ایک ضعیف کا اور ایک شیطان کا ہے

اس سے بعض علماء دلیل لیتے ہیں کہ مرد و عورت کے بستر الگ ہوں

محمد بن إسماعيل بن صلاح بن محمد الحسني، الكحلاني ثم الصنعاني، أبو إبراهيم، عز الدين، المعروف كأسلافه بالأمير (المتوفى: 1182هـ) کتاب التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِيرِ میں کہتے ہیں

وفيه أنه لا يلزم الرجل النوم مع زوجته
اور اس میں دلیل ہے کہ مرد کے لئے لازم نہیں کہ عورت کے ساتھ سوئے

اسی طرح چوتھے بستر کے لئے یہ صاحب کہتے ہیں کہ یہ حرام نہیں ہے ایسے ہی ہے کہ کوئی بسم الله پڑھے بغیر کھائے تو کھانا حرام نہیں ہوتا

قاضی عیاض صحیح مسلم کی شرح میں کہتے ہیں
چوتھا بستر شیطان کا ہے کا مفھوم ہے کہ یہ دنیا کی غیر ضروری زینت ہے
وما لبس للتزين لا من ضرورة الحياة الدنيا فهو من المكروه المذموم

کتاب معالم السنن، وهو شرح سنن أبي داود میں الخطابي (المتوفى: 388هـ) کہتے ہیں
: فيه دليل على أن المستحب في أدب السنة أن يبيت الرجل وحده على فراش وزوجته على فراش آخر
اس حدیث میں دلیل ہے کہ مستحب یہ ہے کہ مرد و عورت الگ الگ بستر پر ہوں

ابن الجوزي (المتوفى: 597هـ) کتاب كشف المشكل من حديث الصحيحين میں کہتے ہیں مرد عورت سے الگ سوئے اور جب اس کو عورت کی حاجت ہو تو اس کو بلائے
وعَلى هَذَا جُمْهُور الْمُلُوك والحكماء
اور یہ جمھور حکماء اور بادشاہوں کا عمل ہے

ابن جوزی کہتے ہیں
وَأما قَوْله: ” فالرابع للشَّيْطَان ” فَإِن اتِّخَاذه إِسْرَاف؛ إِذْ لَا حَاجَة إِلَيْهِ وَرُبمَا قصد بِهِ مَا لَا يحسن.
چوتھا بستر شیطان کا ہے تو یہ اسراف کا اختیار کرنا ہے جس کی حاجت نہ ہو

———
نوٹ
اس روایت میں مصریوں کا تفرد ہے اس کو جابر رضی الله عنہ سے صرف ایک شخص عبد الله بن يزيد المعافرى ، أبو عبد الرحمن الحبلى المصرى
نے روایت کیا ہے جبکہ جابر مدنی ہیں – عبد الله بن يزيد المعافرى ، أبو عبد الرحمن الحبلى المصرى سے اس کو صرف أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ مصری المتوفی ١٤٢ ھ روایت کرتے ہیں

جواب

اسلام میں شراب حرام ہے ایک دور تک مسلمان اس کی کیمیائی ترکیب نہیں جانتے تھے پس یہ جانتے تھے کہ یہ ممنوع ہے اصلا شراب بننے میں وہی کیمیائی عمل ہوتا ہے جو خمیر اٹھنے میں ہوتا ہے خمیری روٹی حلال ہے لہذا یہ کیمیائی عمل حرام نہیں ہے یعنی
Fermentation
کا عمل حرام نہیں ہے

اسی طرح الکحل
Alochol
کی بھی بہت سی اقسام ہیں ان میں تمام حرام نہیں ہیں صرف ایک خاص الکوحل حرام ہے جس کو پیا جاتا ہے اور وہ
ایتھنول
Ethanol
ہے

اس میں بھی ایتھنول کو اصلی صورت میں پیا نہیں جا سکتا کیونکہ اس سے زبان جلس جائے گی اس بنا پر اس کو تحلیل کر دیا جاتا ہے
اس تمہید کے بعد
————-

الکحل کی قسموں میں سے صرف ایک ایتھنول کی ایک مخصوص مقدار (چالیس فی صد تک) شراب ہے جو پی جاتی ہے یہ حرام ہے

الکحل جو ہسپتال میں استمعال ہوتی ہے جس کو
surgical spirit
کہا جاتا ہے وہ ستر فی صد یا اس سے زیادہ خالص ہوتی ہے یہ پی نہیں جا سکتی اور یہ راقم کے نزدیک حرام نہیں ہے لہذا کپڑے پر لگ جائے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے
بہت سی دوائیں مریض میں عقل کا زوال لاتی ہیں وہ بڑبڑ انے لگتا ہے لیکن ان بیماریوں میں یہ ضروری ہو جاتا ہے مثلا نفسیاتی بیماریوں کی تمام دوائیں اس قسم کی ہیں
راقم کے نزدیک علاج پر کوئی قدغن نہیں ہوتی چاہیے

ایک حدیث پیش کی جاتی ہے
حدَّثنا محمدُ بنُ عَبَادةَ الواسطيُّ، حدَّثنا يزيدُ بنُ هارون، أخبرنا إسماعيلُ بنُ عَيَّاشٍ، عن ثعلبةَ بنِ مُسلم، عن أبي عِمْرَانَ الأنصاريِّ، عن أُمِّ الدرداء
عن أبي الدرداء قال: قالَ رسولُ الله – صلَّى الله عليه وسلم -: “إنَّ الله عزّ وجلّ أنْزَلَ الدَّاءَ والدَّواء، وجَعَلَ لِكُل داءٍ دَوَاءً، فَتَداووا، ولا تَدَاووا بحرَام”

اللہ تعالی نے بیماری نازل کی ہے تو اس نے اس کی دواء بھی نازل فرمائی ہے اور ہر بیماری کی دواء بنائی ہے لھذا دواء دارو کر لیا کرو لیکن کسی حرام کردہ چیز سے دواء و علاج نہ کرو “۔ ( سنن ابی داود ) ۔

یہ روایت منقطع ہے البانی اس کو ضعیف کہتے ہیں

مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ» يَعْنِي السُّمَّ
نبی صلی الله علیہ وسلم نے خبیث چیز سے دوا کرنے سے منع کیا یعنی زہر سے

الآثار میں امام ابو یوسف کہتے ہیں کہ ابن مسعود کا قول ہے
حَدَّثَنَا يُوسُفُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: «لَا تَسْقُوا صِبْيَانَكُمُ الْخَمْرَ، وَلَا تُغَذُّوهُمْ بِهَا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِيمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ، إِنَّمَا إِثْمُهُمْ عَلَى مَنْ سَقَاهُمْ»
ابن مسعود رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ اپنے بچوں کو شراب نہ پلاؤ نہ اس کی غذا دو کیونکہ الله نے حرام میں شفا نہیں رکھی ہے
امام بخاری نے صحیح میں اس کو تعلیقا نقل کیا ہے
یہ صحابی کا قول ہے

یعنی زہر سے علاج منع ہے اور اصحاب رسول کے نزدیک شراب سے علاج نہ کیا جائے

مسلمانوں کا نبیذ پینا

ببیذ (انگور کی بجائے کھجور سے تیار کردہ) میں بھی وہی کیمیائی عمل ہے جو
Fermentation
میں ہوتا ہے

اس کو دین نے جائز رکھا ہے صحیح مسلم کی حدیث ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أِبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَنْتَبِذُوا الزَّهْوَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا، وَلَا تَنْتَبِذُوا الرُّطَبَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا، وَلَكِنِ انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَتِهِ
ابوقتادہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک کھجور اور کچی کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے ، خشک کھجور اور خشک کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے کہ کچی کھجور اور تر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بناؤ

سائنس کے مطابق ١٢ سے ٣٦ گھنٹے میں الکوحل بننا شروع ہو جاتی ہے اس لئے تین دن بعد الکوحل کی مقدار اس قدر ہے کہ یہ شراب ہے لہذا فقہ میں تین دن سے پہلے پہلے نبیذ کو شراب نہیں کہا گیا

لہذا اس بنا پر دوا میں الکوحل کی (معمولی مقدار کی) موجودگی شراب نہیں اس سے عقل کا زوال نہیں ہوتا اور یہ جائز ہے ایسا عموما کھانسی کی ادوات میں ہے جس کو ہم پیتے ہیں تو نبیذ والی کیفیت ہوتی ہے نیند اتی ہے اور عقل کا زوال نہیں ہوتا

اصل میں علماء سائنس سے نابلد ہیں ان کو علم کیمیا کا علم نہیں نبیذ کی حدیث لکھتے ہیں اور جب دوا کا ذکر ہوتا ہے حرام حرام کرنے لگتے ہیں

صحیح مسلم اور مسند احمد کی حدیث ہے
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْتَبَذُ لَهُ أَوَّلَ اللَّيْلِ فَيَشْرَبُهُ إِذَا أَصْبَحَ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَاللَّيْلَةَ الَّتِي تَجِيءُ وَالْغَدَ وَاللَّيْلَةَ الْأُخْرَى وَالْغَدَ إِلَى الْعَصْرِ فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخَادِمَ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَصُبَّ
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کے آغاز میں نبیذ بنائی جاتی تھی اسے آپ اس دن صبح کو نوش فرماتے اور آئندہ رات کو بھی اور دوسرے دن میں بھی , اور اس سے اگلی رات اور تیسرے دن بھی عصر تک پی لیتے , اسکے بعد اگر وہ بچ جاتی تو وہ خادم کو پلا دیتے یا پھر اسکے بارہ میں حکم دیتے تو اسے پھینک دیا جاتا۔

حالت نشہ کب ہے؟

فقہاء نے نشہ کی حالت مقرر کی ہوئی ہے کتاب التوضيح لشرح الجامع الصحيح از ابن الملقن کے مطابق ابن حزم کہتے ہیں
قال ابن حزم: سئل أحمد بن صالح عن السكران؟
فقال: أنا آخذ بما رواه ابن جريج عن عمرو بن دينار، عن يعلي بن منبه، عن أبيه قال: سألت عمر بن الخطاب عن حد السكران؟ فقال: هو الذي إذا استُقْرِئَ سورةً لم يقرَأْها، وإذا خلط ثوبه في ثياب لم يخرجه. قال ابن حزم: وهو نحو قولنا: لا يدري ما يقول
میں نے احمد بن صالح سے نشہ کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا ہم وہ لیتے ہیں جی ابن جریج نے عمرو سے انہوں نے یعلی سے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ عمر رضی الله عنہ سے پوچھا کہ نشہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا جب اس کو سورت پڑھنے کو کہیں اور نہ پڑھ پائے یا لباس الٹا سیدھا پہنے ابن حزم نے کہا یہی ہمارا قول ہے کہ وہ نہ جانے کیا کہہ رہا ہے

امام ابو حنیفہ کہتے ہیں
وقال أبو حنيفة: لا يكون سكرانًا حتى لا يميز الأرض من السماء
وہ نشہ میں نہیں ہے حتی کہ آسمان و زمین کی تمیز نہ کر پائے

امام الشافعی کہتے ہیں
أقل السكر أن يغلب على عقله في بعض ما لم يكن عليه قبل (الشراب)
کم از کم نشہ ہے کہ اس کی عقل ویسی نہ رہے جیسی پینے سے پہلے تھی

چونکہ موجودہ ادوات کو پینے کے بعد عقل کا ایسا زوال نہیں ہوتا لہذا وہ نشہ نہیں ہیں اور ان کو پیا جا سکتا ہے اگر ان میں الکوحل موجود ہو

تقلید کے بارے میں صحابہ کرام کی کیا رائے تھی۔

وعن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال لا یقلد احدکم دینہ رجلا ان آمن آمن وإن کفر کفر۔ (ارشاد الفحول ج ۲ص ۳۵۷ اعلام الموقعین ج۲ ص۱۶۸)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی اپنے دین کے بارے میں کسی آدمی کی تقلید نہ کرے کہ جب وہ کسی بات پر ایمان لاتا ہے تو وہ بھی ایمان لاتا ہے جب وہ کسی بات کا انکار کرتا ہے تو وہ بھی انکار کرتا ہے۔

وقال ابن عباس رضی اﷲ عنہ یوشک ان تنزل علیکم حجارۃ من السماء أقول! قال رسول اللہ ﷺ وتقولون قال ابو بکر و عمر (زادالمعاد ج ۲، ص۱۹۵)
ترجمہ: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے قریب ہے کہ تم لوگوں پر آسمان سے پتھر برسیں میں تم سے کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور تم مجھے کہتے ہو ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایاہے۔

جواب

ابن قیم نے علمی خیانت کی اور اصل روایات بیان نہیں کیں

ابن مسعود رضی الله عنہ سے منسوب قول ہے
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: “لَا يُقَلِّدَنَّ أَحَدُكُمْ دِينَهُ رَجُلًا إِنْ آمَنَ آمَنَ، وَإِنْ كَفَرَ كَفَرَ، فَإِنَّهُ لَا أُسْوَةَ فِي الشَّرِّ
إرشاد الفحول إلي تحقيق الحق من علم الأصول از شوکانی

الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «لَا يُقَلِّدَنَّ أَحَدُكُمْ دِينَهُ رَجُلًا، فَإِنْ آمَنَ آمَنَ وَإِنْ كَفَرَ كَفَرَ، وَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ مُقْتَدِينَ فَاقْتَدُوا بِالْمَيِّتِ، فَإِنَّ الْحَيَّ لَا يُؤْمَنُ عَلَيْهِ الْفِتْنَةُ»
سند میں الْأَعْمَشِ مدلس ہے جو عن سے روایت کر رہا ہے لہذا ضعیف ہے

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِمَنْ كَانَ يُعَارِضُهُ فِيهَا بأبي بكر وعمر: يُوشِكُ أَنْ تَنْزِلَ عَلَيْكُمْ حِجَارَةٌ مِنَ السَّمَاءِ، أَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ – وَتَقُولُونَ قَالَ أبو بكر وعمر
) مسند أحمد (1/ 337)، و «الفقيه والمتفقه» (1/ 145)، و «جامع بيان العلم» (2/ 239).
اصل روایت مسند احمد کی ہے
ثنا حجاج ثنا شريك عن الأعمش عن الفضيل بن عمرو قال أراه عن سعيد بن جبير عن بن عباس قال : تمتع النبي صلى الله عليه وسلم فقال عروة بن الزبير نهى أبو بكر وعمر عن المتعة فقال بن عباس ما يقول عرية قال يقول نهى أبو بكر وعمر عن المتعة فقال بن عباس :
أراهم سيهلكون أقول قال النبي صلى الله عليه وسلم ويقول نهى أبو بكر وعمر .
عروة بن الزبير نے ابن عباس سے کہا کہ ابو بکر اور عمر نے متعہ سے منع کیا اس پر ابن عباس نے کہا میں دیکھتا ہوں تم ہلاک ہو گے کہ میں قول نبی کہتا ہوں اور تم ابو بکر اور عمر کی نہی پیش کرتے ہو

روایات کے مطابق ابن عباس متعہ کے قائل تھے اس تناظر میں یہ ان کا قول ہے

ابن عبد البر کی روایت ہے
قال : وَذَكَرَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: ” أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ تُرَجِعَنَّ فِي الْمُتْعَةِ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سَلْ أُمُّكَ يَا عُرَيَّةُ، فَقَالَ عُرْوَةُ: أَمَّا أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ فَلَمْ يَفْعَلَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:
وَاللَّهِ مَا أَرَاكُمْ مُنْتَهِينَ حَتَّى يُعَذَّبَكُمُ اللَّهُ، نُحَدِّثُكُمْ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُحَدِّثُونَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ” .
عُرْوَةُ نے کہا ابن عباس سے الله سے ڈرتے نہیں کہ متعہ پر پلٹ گئے ابن عباس نے کہا اپنی ماں سے سوال کرنا اے عُرَيَّةُ یعنی ننگے
عروہ نے کہا لیکن ابو بکر اور عمر نے ایسا حکم نہیں کیا ابن عباس نے کہا الله کی قسم میں نہیں دیکھتا کہ تم پر الله کاعذاب نہ آئے میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی حدیث بتاتا ہوں اور تو ابو بکر اور عمر کی حدیث
————–
یعنی ابن عباس رضی الله عنہ نے عُرَيَّةُ کہہ کر عروہ کا نام بگاڑ دیا اور ماں کی گالی دی

ورواه ابن حزم في حجة الوداع (ص: 353) بسنده إلى سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب هو السختياني، عن ابن أبي مليكة، أن عروة بن الزبير، قال لرجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: تأمرنا بالعمرة في هؤلاء العشر وليس فيها عمرة؟ قال: أفلا تسأل أمك عن ذلك؟ قال عروة: فإن أبا بكر، وعمر لم يفعلا ذلك، قال الرجل:
من ها هنا هلكتم، ما أرى الله عز وجل إلا سيعذبكم، إني أحدثكم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وتخبرونني بأبي بكر، وعمر،

الخطيب في الفقيه والمتفقه (1/ 377) : أنا أبو الحسن , علي بن يحيى بن جعفر الأصبهاني , أنا عبد الله بن الحسن بن بندار المديني , نا أحمد بن مهدي , نا أبو الربيع الزهراني , نا حماد يعني ابن زيد – نا أيوب , عن ابن أبي مليكة , أن عروة بن الزبير , قال لابن عباس: أضللت الناس قال: «وما ذاك يا عرية؟» قال: تأمر بالعمرة في هؤلاء العشر , وليست فيهن عمرة , فقال: «أولا تسأل أمك عن ذلك؟» فقال عروة: فإن أبا بكر وعمر لم يفعلا ذلك , فقال ابن عباس:
«هذا الذي أهلككم – والله – ما أرى إلا سيعذبكم , إني أحدثكم عن النبي صلى الله عليه وسلم , وتجيئوني بأبي بكر وعمر»

رواه الطبراني في المعجم الأوسط رقم (21) قال حدثنا أحمد بن عبد الوهاب قال: نا أبي قال: نا محمد بن حمير، عن إبراهيم بن أبي عبلة، عن ابن أبي مليكة الأعمى، عن عروة بن الزبير، أنه أتى ابن عباس، فقال: يا ابن عباس، طالما أضللت الناس. قال: «وما ذاك يا عرية؟» قال: الرجل يخرج محرما بحج أو عمرة، فإذا طاف، زعمت أنه قد حل، فقد كان أبو بكر وعمر ينهيان عن ذلك. فقال:
«أهما، ويحك، آثر عندك أم ما في كتاب الله، وما سن رسول الله صلى الله عليه وسلم في أصحابه وفي أمته؟» .

گویا اس قول کی کئی سندیں ہیں

اسلام علیکم
(لا یمس القران الا طاهر)
موطا ۴۶۹/۱//۱۹۹/دارمی۲۱۸۳. کیا اے روایت صحیح ہے؟
اور طاہر کا معنی اس روایت میے کیا ہے ؟
جزاکم الله خیرا

جواب

اس روایت کو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ نے اپنے باپ یا دادا سے روایت کیا ہے اور کہتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اہل یمن کو خط لکھا اس میں یہ حکم تھا کہ قرآن کو صرف طاہر چھوئے

مراسیل ابو داود کے مطابق لوگوں نے اس کو مسند روایت کر دیا ہے جبکہ یہ صحیح نہیں ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَرَأْتُ صَحِيفَةً عِنْدَ آلِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَهَا لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، حِينَ أَمَّرَهُ عَلَى نَجْرَانَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ فِيهِ: «الْحَجُّ الْأَصْغَرُ الْعُمْرَةُ، وَلَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ» قَالَ: أَبُو دَاوُدَ: رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثِ، مُسْنَدًا وَلَا يَصِحُّ

کتاب معرفة السنن والآثار از البیہقی میں ہے کہ اسی سند سے امام الشافعی نے روایت کیا ہے
رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
اور امام شافعی نے امام مالک سے روایت کیا ہے جو منقطع ہے

بیہقی کہتے ہیں کہ اس کو موصولا سنن الکبری میں روایت کیا ہے
وَقَدْ رَوَيْنَاهُ فِي كِتَابِ السُّنَنِ مَوْصُولًا مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

یہ بیہقی کی تحقیق کا نقص ہے کیونکہ اس سند کو ابن معین رد کر چکے ہیں صحیح ابن حبان کی تحقیق میں حسين سليم أسد الدّاراني – عبده علي الكوشك
کہتے ہیں
إسناده ضعيف، قال ابن معين- رواية ابن طهمان برقم (41 – 42 – 43) -: “وسليمان بن داود الشامي روى عن الزهري حديث عمرو بن حزم ليس هو بشيء. وسليمان بن داود اليمامي ليس هو بشيء، ولم يتابع سليمان بن داود في حديث عمرو ابن حزم أحد

اس کا مفھوم لوگوں نے لیا ہے کہ اس میں طاہر سے مراد مومن ہے یعنی کافر قرآن کو نہ چھوئے یہ قول البانی کا ہے
أن المراد بالطاهر في هذا الحديث هو المؤمن , سواء أكان مُحْدثا حدثا أكبر أو أصغر أو حائضا أو على بدنه نجاسة , لقوله – صلى اللهُ عليه وسلَّم -: ” المؤمن لَا يَنْجُس ” وهو متفق على صحته , والمراد عدم تمكين المشرك من مسه , فهو كحديث: ” نهى رَسُولُ اللهِ – صلى اللهُ عليه وسلَّم – عن السفر بالقرآن إلى أرض العدو ” متفق عليه. أ. هـ

فقہاء مثلا امام شافعی وغیرہ نے اس منقطع روایت سے نتائج کا استخراج کیا ہے جبکہ یہ روایت منقطع ہے اور جس میں مسند ہے اس میں راوی ضعیف ہے

الغرض روایت صحیح نہیں ہے اس میں یا تو انقطاع ہے یا سندا ضعیف ہے

———–

صحیح حدیث کے مطابق حائضہ اور جنبی قرآن نہیں پڑھے گا- راقم کے نزدیک اگر لا یمس الا طاہر کو قبول کیا جائے تو یہی اس کا مفھوم ہے کہ اس حالت میں کتاب الله کو نہ چھونا اس کو نا پڑھنے کی طرف حکم تھا
اب چونکہ یہ حکم صحیح سند سے معلوم ہے اس منقطع روایت کی ضرروت ختم ہوئی

اسلام علیکم
کل مسکر حرام وما اسکرالفرق منه فملء الكف منه حرام
(ما اسکر کثیره فقلیه حرام)
نسایی ابوداد ترمذی
کیا اے دو روایت صحیح ہے؟
جزاکم الله خیرا

جواب

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: “ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو چیز فرق بھر نشہ لاتی ہے اس کا ایک چلو بھی حرام ہے

الهيثمي کتاب موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان میں کہتے ہیں
قلت: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ ذِكْرِ الْفَرَقِ
میں کہتا ہوں یہ صحیح ہے لفظ فرق کے ذکر کے بغیر

اس روایت کو البانی ہے شعیب الارنوط دونوں نے صحیح کہا گیا ہے البتہ اس میں ابو عثمان انصاری یا أَبِي عُثْمَانَ الْمَدَنِيِّ عَمْرِو بْنِ سَالِمٍ کا تفرد ہے جس کی توثیق متقدمین میں صرف ابو داود اور ابن حبان نے کی ہے
أَبُو عُبَيد الآجري کہتے ہیں میں نے ابو داود سے پوچھا کہ یہ ابو عثمان کون ہے انہوں نے اس کو ثقہ کہا
قال أَبُو عُبَيد الآجري: سألت أبا داود عَن أَبِي عثمان الأَنْصارِيّ صاحب حديث القاسم (د ت) عن عائشة: ما أسكر الفرق مِنْهُ” قال: هَذَا قاضي مرو ثقة اسمه عَمْرو بْن سالم. قلت: اسمه عُمَر بْن سالم؟ قال: عَمْرو.

راقم کہتا ہے اس کی توثیق کوئی اور کیوں نہیں کرتا؟ احناف متقدمین کے نزدیک ابو عثمان مجھول ہے اس کی تفصیل آگے ائے گی
———
دور نبوی میں شراب کی مختلف قسمیں تھیں بعض انگور سے بعض شہد سے اور بعض جو سے بنتی تھیں

لہذا یمن کے لوگوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے علاقے میں شہید سے ایک چیز بنتی ہے جس کو الْبِتْعُ کہتے ہیں اور ایک جو سے بنتی ہے اس کو الْمِزْرُ کہتے ہیں
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا
لَا أَدْرِي مَا ذَلِكَ؟ حُرِّمَ عَلَيْكُمَا كُلُّ مُسْكِرٍ
مجھ کو نہیں پتا یہ کیا ہیں ؟ البتہ تم پر ہر نشہ آور حرام ہے
مصنف عبد الرزاق اور سنن ابو داود

کتاب شرح معاني الآثار طحاوي میں اسی پر ایک دوسرا قول ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ , قَالَ: ثنا يُونُسُ قَالَ: ثنا شَرِيكٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَمُعَاذًا , إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنَّ بِهَا شَرَابَيْنِ يُصْنَعَانِ مِنَ الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ , أَحَدُهُمَا يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ , وَالْآخَرُ يُقَالُ لَهُ الْبِتْعُ , فَمَا نَشْرَبُ؟ . فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اشْرَبَا , وَلَا تَسْكَرَا»
نبی صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کو پی لو اگر نشہ نہ ہو

اسی کتاب میں ہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرَةَ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ , قَالَ: أنا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ. فَقُلْتُ: إِنَّكَ بَعَثْتَنَا إِلَى أَرْضٍ كَثِيرٌ شَرَابُ أَهْلِهَا , فَقَالَ «اشْرَبَا , وَلَا تَشْرَبَا مُسْكِرًا
رسول الله کا حکم تھا ان کو پی لو لیکن نشہ والی مت پینا

طحاوی کہتے ہیں اس سے پتا چلا
كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ إِنَّمَا هُوَ عَلَى الْمِقْدَارِ الَّذِي يُسْكِرُ , لَا عَلَى الْعَيْنِ الَّتِي كَثِيرُهَا يُسْكِرُ
ہر شراب جو نشہ والی ہو حرام ہے تو بے شک یہ مقدار ہے جو نشہ کرے

یعنی ان اشیاء کو پیا جا سکتا تھا یہاں تک کہ ان میں الکوحل پیدا ہو گئی ہو جو نشہ لائے

اس میں ہمارے ہاں فقہاء کے دو گروہ ہوئے ایک کہتا تھا کہ نبیذ بھی نشہ ہے حرام ہے البتہ کوفہ میں ابن مسعود رضی الله عنہ سے مروی جو مذھب تھا اس میں یہ قول معروف تھا کہ جب تک کسی چیز میں نشہ نہ ہو وہ حرام نہیں ہے اس کو احناف نے لیا لیکن محدثین کا ایک گروہ اختلاف کرتا رہا اور وہ اس طرح کی سندیں جمع کرتے تھے جس میں ان کی رائے والا متن ہو
لہذا ابو داود اور عبد الرزاق نے جو روایت کیا اپ دیکھ سکتے ہیں اس کا مفھوم اس سے الگ ہے جو دسروں نے روایت کیا

محدث امام وکیع نے محدثین سے اختلاف کیا اور الذھبی کتاب تذکرہ الحفاظ ج ١ ص ٢٢٤ میں لکھتے ہیں

مَا فِيهِ إِلَّا شُرْبُهُ لِنَبِيذِ الْكُوفِيِّينَ وَمُلَازَمَتُهُ لَهُ جَاءَ ذَلِكَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْهُ انتهى

یعنی امام وکیع نے ابو حنیفہ کے ایک قول پر فتوی دیا اور وہ کوفییوں کی نبیذ پینے کے جواز میں ہے

وکیع مجتہد تھے اور ان کی رائے امام ابو حنیفہ کی رائے سے منطبق ہوتی تھی

یعنی یہ اختلاف اس پر ہے کہ نبیذ پی جا سکتی ہے یا نہیں
===========================

روایت ما أسكر كثيرة فقليلُه حرام جس چیز کی کثیر نشہ آور ہو اس کی قلیل حرام ہے

مسند احمد میں ہے جہاں یہ ضعیف ہے جو عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، کی سند ہے
محدثین کہتے ہیں حلال و حرام میں یہ سند قابل قبول نہیں البتہ متاخرین نے اس سند کو صحیح سمجھا ہے
البانی اور شعیب اس کو صحیح کہتے
راقم کہتا ہے ضعیف ہے عمرو بن شعیب کی سند سے روایت حلال و حرام میں نہیں لی جاتی

اس کی بعض اسناد میں مثلا ترمذی میں داودَ بن بكرِ بن أبي الفُرات ہے جو مختلف فیہ ہے بعض محدثین نے نزدیک مظبوط نہیں ہے
وقال أبو حاتم: لا بأس به، ليس بالمتين اس میں برائی نہیں لیکن مظبوط نہیں ہے
ترمذی اس کو حَسَنٌ غَرِيبٌ کہتے ہیں
احناف متقدمین کے نزدیک داود بن بکر مجھول ہے

اسی راوی سے سنن ابو داود میں ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ، فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ»
البانی اس کو حسن صحيح کہتے ہیں

ابن ماجہ میں اس کی سند میں زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ ہے جو ضعیف ہے البتہ شعیب الأرنؤوط اس کو حسن کہتے ہیں

راقم کہتا ہے حسن روایت سے عقائد اور حلال و حرام کا فیصلہ نہیں کیا جاتا

أبو بكر أحمد بن جعفر بن حمدان بن مالك بن شبيب البغدادي المعروف بالقطيعي (المتوفى: 368هـ) کتاب جزء الألف دينار میں کہتے ہیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ،: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: «مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ» مِنْ كَلَامِ ابْنِ عُمَرَ لَمْ يَرْفَعْهُ، فَمَنْ رَوَاهُ مَرْفُوعًا فَقَدْ أَخْطَأَ عَلَى ابْنِ مَالِكٍ

یہ روایت ابن عمر کا قول ہے جس نے بھی اس کو مرفوع سمجھا غلطی کی

==================

کتاب : الناسخ والمنسوخ میں أبو جعفر النَّحَّاس أحمد بن محمد بن إسماعيل بن يونس المرادي النحوي (المتوفى: 338هـ) کہتے ہیں

قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: فَمِنْ عَجِيبِ مَا عَارَضُوا بِهِ أَنْ قَالُوا: أَبُو عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيُّ مَجْهُولٌ وَالْمَجْهُولُ لَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ فَقِيلَ لَهُمْ: لَيْسَ بِمَجْهُولٍ وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ أَنَّهُ قَدْ رَوَى عَنْهُ الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ، ولَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، ومَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، وَمَنْ رَوَى عَنْهُ اثْنَانِ فَلَيْسَ بِمَجْهُولٍ وَقَالُوا: الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ مَجْهُولٌ قِيلَ لَهُمْ: قَدْ رَوَى عَنْهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ وَقَالُوا: دَاوُدُ بْنُ بَكْرٍ مَجْهُولٌ قِيلَ لَهُمْ: قَدْ رَوَى عَنْهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَأَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ وَإِنَّمَا تَعْجَبُ مِنْ مُعَارَضَتِهِمْ بِهَذَا

أبو جعفر النَّحَّاس أحمد بن محمد بن إسماعيل بن يونس المرادي النحوي (المتوفى: 338هـ) کہتے ہیں مخالف عجیب بات کہتے ہیں کہ ابو عثمان انصاری مجھول ہے اور مجہول سے دلیل قائم نہیں ہوتی ان سے اس پر کہا جاتا ہے یہ مجھول نہیں ہے اور اس پر دلیل ہے کہ اس سے الربیع اور لیث اور مہدی نے روایت کیا ہے اور جو ان سے روایت کرتے ہیں وہ دو ہیں تو یہ مجھول کیسے ہوا؟ اور اسی طرح مخالف کہتے ہیں الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ مجھول ہے تو کہا جاتا ہے اس سے عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ روایت کرتے ہیں اور مخالف کہتے ہیں کہ داود بن بکر (بن ابی فرات) مجھول ہے اس پر کہا جاتا ہے اس سے إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَأَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ روایت کرتے ہیں اور مجھ کو ان کے ان اعتراضات پر تعجب ہے
—-

اپ نے دیکھا یہ جھگڑا اتنا قدیم ہے مخالف کون ہے نام نہیں لیا گیا لیکن جن روایات کو اوپر بیان کیا گیا ہے ان کے راوی درحقیقت مجھول ہی ہیں کسی مجھول سے بہت سے لوگ روایت کریں لیکن اس کی کوئی توثیق نہ کرے تو اس کو مجھول ہی کہا جاتا ہے
الموقظة في علم مصطلح الحديث مين الذھبی کہتے ہیں
وقولُهم: “مجهول”، لا يلزمُ منه جهالةُ عينِه. فإن جُهِلَ عينُه وحالُه، فأَولَى أن لا يَحتجُّوا به
محدثین کا قول مجھول کہنا اس سے یہ لازم نہیں اتا ہے کہ اس کو دیکھا نہیں گیا کیونکہ جھل عین ہو یا حال ہو اس میں بہتر ہے اس سے دلیل نہ لی جائے
مَجْهُولَ عَيْنٍ وہ ہے جس سے ایک شخص روایت کرے اور مجہول حال وہ ہے جس کی توثیق نہیں ہو
ابن حجر نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر میں کہتے ہیں
ولم يُوَثَّقْ فهو مَجْهولُ الحالِ، وهُو المَسْتورُ
مجھول الحال وہ ہے جس کی توثیق نہ ہو اور یہ مستور ہے

لہذا یہ راوی مجھول الحال کے درجے پر تھے یہاں تک کہ لوگوں نے ٢٠٠ ہجری کے بعد ان کی توثیق کی
یہ اختلاف ابو داود اور امام احمد سے بھی پہلے کا ہے اس مسئلہ میں یہ ائمہ خود متاخر ہیں کیونکہ ان میں اور امام ابو حنیفہ میں سو سال کا فرق ہے

لہذا یہ مخالف جن کا نام نہیں لیا گیا یہ احناف تھے جو ان رآویوں کو مجھول کہتے تھے لیکن سو سال بعد امام ابو داود اور امام احمد نے ان کو ایسے پیش کیا کہ گویا یہ مجھول نہ ہوں

============

واضح رہے کہ یہ وہ وقت ہے جب لوگوں کو الکوحل کا علم نہیں ہے وہ صرف مشروب کا نام سن کر اس کو حرام کہہ دیتے تھے لہذا نبیذ یا دیگر مشروبات شراب نہیں تھے ان کو پیا جا سکتا ہے الا یہ کہہ تین دن کے بعد ان میں شراب کی کیفیت پیدا ہو
اس وقت یہ مسکر ہوں گے اور حرام متصور ہوں گے
یہ ہے جھگڑا جس میں احناف کا باقی فقہاء سے اختلاف تھا

آج سائنس سے یہ پتا چل چکا ہے کہ امام ابو حنیفہ کی بات میں وزن ہے کیونکہ تین دن بعد نبیذ میں الکوحل اتنی ہو گی کہ بو آئے اور نشہ ہو اس سے پہلے اس کو شراب اس لئے نہیں کہا جا سکتا

السلام علیکم
دیوث کے لئے جنت حرام ہے
آج کا کے معاشرے میں عورت و مرد ایک ساتھ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور کام بھی کر رہے ہیں البتہ عورتیں بے حجاب ہیں اور مرد حضرات بھی شرعی حدود کا خیال نہیں رکھتے
ہمیں پتا ہے کہ اس میں شرعی حدود کا خیال رکھنا چاہیے
سوال ہے کہ

مولوی حضرات ایسے شوہروں کو والد کو بھائیوں کو دیوث کہہ رہے ہیں کیا اس طرح کہنا صحیح ہے ؟ کیونکہ جن عورتوں کی وجہ سے کہا جا رہا ہے وہ عورتیں تو پاک دامن ہیں ؟ ایک طرف تو یہ لوگ دوسروں کو دیوث کہتے ہیں لیکن جیسے ہی یہی دیوث مسجد کا چندہ دیتے ہیں ان کا پیسہ حلال ہو جاتا ہے اور مولوی اس کا مال لے لیتے ہیں

جواب

ہمارے دین میں بے انصافی نہیں ہے عورت کا گناہ عورت کے سر ہے مرد کا گناہ مرد کے سر ہے

نوح اور لوط علیھم السلام کی بیویوں کا گناہ ان کے ہی سر رہے گا

دیوث سے متعلق کوئی صحیح حدیث نہیں ہے

اسماء و الصفات البیہقی کی روایت ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَاشِمِيِّ، مِنْ بَنِي نَوْفَلٍ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ ثَلَاثَةَ أَشْيَاءَ بِيَدِهِ: خَلَقَ آدَمَ بِيَدِهِ، وَكَتَبَ التَّوْرَاةَ بِيَدِهِ، وَغَرَسَ الْفِرْدَوْسَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: وَعِزَّتِي لَا يَسْكُنُهَا مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا دَيُّوثٌ “. فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَرَفْنَا مُدْمِنَ الْخَمْرِ، فَمَا الدَّيُّوثُ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الَّذِي يُيَسِّرُ لِأَهْلِهِ السُّوءَ» . هَذَا مُرْسَلٌ

بیہقی کہتے ہیں یہ مرسل ہے – راقم کہتا ہے سند میں إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ہے جو ضعیف ہے
یہ روایت مسند ابو داود طیالسی میں ہے اور جامع معمر بن راشد میں بھی مختصرا ہے لیکن ان دونوں میں اس کی سند میں مجھول راوی ہیں

بعض کتابوں میں اس کو زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ روایت کرتا ہے جو صحابی نہیں ہے

مسند الفاروق میں اس کی سند ہے
قال الهيثم بن كُلَيب (2): ثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، ثنا إسماعيل بن أبي أويس، حدثني أخي، عن سليمان -يعني: ابن بلال-، عن عبد الله بن يَسَار الأعرج، أنَّه سَمِعَ سالم بن عبد الله يحدِّث عن أبيه، عن عمرَ بن الخطاب: أنَّه كان يقول: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: «ثلاثة لا يَدخلون الجَنَّة: العاقُّ لوالديه، والدَّيوثُ (1)، ورَجُلةُ النساءِ».
هذا حديث حسن.

ابن کثیر نے اس کو حسن کہا ہے لیکن یہ بھی صحیح نہیں ہے
اس کی سند میں إسماعيل بن أبي أويس ضعیف ہے

گناہ کبیرہ والوں کی شفاعت کی حدیث مشھور ہے اس کی مخالف یہ روایات ہیں جن میں ہے کہ کسی اور کا گناہ کسی کے سر کیا جا رہا ہے لہذا راقم کہتا ہے روایت منکر ہے
——

غریب الحدیث میں خطابی کہتے ہیں
قَوْلُهُ: «دَيُّوثٌ» : هُوَ نَعْتٌ قَبِيحٌ فِي الرَّجُلِ قَوْلُهُ: «أُتِيَ بِسَوْطٍ قَدْ دُيِّثَ» التَّدْيِيثُ: التَّلْيِينُ وَأَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ، عَنِ الْأَصْمَعِيِّ: الدَّثُّ: مَا ضَعُفَ مِنَ الْمَطَرِ، دَثَّ يَدِثُّ دَثًّا، وَدُيِّثَ: لِينَ وَدَقَّ
دیوث مرد کی برائی ہے جیسے کہا جائے کہ چابک ڈھیلا ہو گیا …. یا اصمعی نے کہا جب بارش ہلکی ہو جائے

یعنی دیوث مطلب ڈھیلا مرد ہے جو عورتوں پر نگاہ نہیں رکھتا ہے

کتاب الإبانة في اللغة العربية از الصُحاري کےمطابق
الذي يُدْخِلُ الرجالَ إلى امرأته، وأصلُه بالسريانية.
دیوث وہ ہے جس کی بیوی کے پاس مرد آئیں اور اس کی اصل سریانی میں ہے

یعنی یہ سریانی زبان کا لفظ ہے یہ اس صورت میں ہے جب عورتیں گھر میں ہوں اور ان کے پاس غیر مرد اتے رہیں
دور نبوی میں عورتیں جنگوں میں شرکت کرتی تھیں اور زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں دور نبوی میں ایسا ماحول نہیں ملتا کہ غیر مرد دوسرے اصحاب رسول کے گھر ان کی غیر موجودگی میں جاتے ہوں

کتاب الدلائل في غريب الحديث از قاسم بن ثابت بن حزم العوفي السرقسطي، أبو محمد (المتوفى: 302هـ) کے مطابق
قِيلَ لِلرَّجُلِ دَيُّوثٌ، لِأَنَّهُ أَقَرَّ لِامْرَأَتِهِ بِالسُّوءِ
آدمی کو دیوث کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی برائی پر ٹھرا رہے

یعنی وہ مرد جن کی بیویاں آوارہ ہوں اور وہ نہ ان کو طلاق دیں نہ کوئی اور ایکشن لیں وہ دیوث ہیں

لہذا اول تو یہ روایت دیوث پر جنت حرام ہے کسی صحیح سند سے نہیں دوم دیوث کی تعریف میں ہی اضطراب ہے
——-
مولوی کا نام نہاد “دیوث” سے مال لینا
ظاہر ہے یہ ہمارا معاشرتی تضاد ہے جس کی طرف اپ نے اشارہ کیا ہے

جواب

امام شافعی کا قول ہے کہ لے سکتا ہے یہی امام ابو حنیفہ کا طریقہ ہے اور امام مالک کا بھی اس کے بعد ان ائمہ میں رائے ہے

کتاب الأم میں امام الشافعي (المتوفى: 204هـ) لکھتے ہیں

وَالْعِلْمُ مِنْ وَجْهَيْنِ اتِّبَاعٌ، أَوْ اسْتِنْبَاطٌ وَالِاتِّبَاعُ اتِّبَاعُ كِتَابٍ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَسُنَّةٍ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ فَقَوْلِ عَامَّةٍ مِنْ سَلَفِنَا لَا نَعْلَمُ لَهُ مُخَالِفًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَقِيَاسٍ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَقِيَاسٍ عَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَقِيَاسٍ عَلَى قَوْلِ عَامَّةٍ مِنْ سَلَفٍ لَا مُخَالِفَ لَهُ وَلَا يَجُوزُ الْقَوْلُ إلَّا بِالْقِيَاسِ وَإِذَا قَاسَ مَنْ لَهُ الْقِيَاسُ فَاخْتَلَفُوا وَسِعَ كُلًّا أَنْ يَقُولَ بِمَبْلَغِ اجْتِهَادِهِ وَلَمْ يَسَعْهُ اتِّبَاعُ غَيْرِهِ فِيمَا أَدَّى إلَيْهِ اجْتِهَادُهُ بِخِلَافِهِ، وَاَللَّهُ أَعْلَمُ

اور علم کے دو رخ ہیں اتباع ہے یا استنباط ہے- اتباع ، کتاب الله کی اتباع ہے اور اگر اس میں نہ ہو تو پھر سنت اور اگر اس میں نہ ہو تو ہم وہ کہیں گے جو ہم سے پہلے گزرنے والوں نے کہا اس میں ہم انکی مخالفت نہیں جانتے، پس اگر اس میں بھی نہ تو ہم پھر کتاب الله پر قیاس کریں گے ، اگر کتاب الله پر نہیں تو سنت رسول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پر قیاس کریں گے – اوراگر سنت رسول پر نہیں تو بیشتر سلف نے جو کہا ہو اس پر قیاس کریں گے اس میں انکی مخالفت نہیں کریں گے اور قول جائز نہیں ہے سوائے اس کے کہ قیاس ہو اور جب قیاس ہو تو (اپس میں مسلمان) اختلاف بھی کریں گے اس سب میں وسعت ہے کہ ہم ان کے اجتہاد کی پہنچ اور اتباع کی کوشش پر بات کریں کہ یہ پیروی نہ کر سکے جو لے جاتا ہے اس کے خلاف اجتہاد پر والله اعلم

——–
امام احمد کہتے تھے کہ دلیل صحیح حدیث میں نہ ہو تو اس کے بعد رائے کی بجائے ضعیف حدیث لی جائے

مثلآ: ابوبکر رضی الله عنه کو سب اصحاب رسول پر فضیلت دینا – کیا اس میں ایمان رکهنا ضروری ہے یا ایک فروعی مسئلہ ہے؟

جواب

ابو بکر رضی الله عنہ تمام اصحاب رسول سے افضل ہیں یہ قول اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم کا ہے

صحیح بخاری کی حدیث ٣٦٥٥ ہے أور ٣٦٩٧ ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كُنَّا نُخَيِّرُ بَيْنَ النَّاسِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُخَيِّرُ أَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ، ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ»

. عبد اللہ بن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں ابوبکر رضی الله عنہ کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے تھے پھر عمر رضی الله عنہ پھر عثمان رضی الله عنہ کو، اس کے بعد ہم اصحاب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو چھوڑ دیتے اور ان میں باہم کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیتے تھے

یعنی ابو بکر رضی الله عنہ کی افضلیت پر اجماع صحابہ تھا

اس کو ایک اعتقادی امر نہیں سمجھا گیا -اس پر اختلاف سے انسان مسلمان ہی رہتا ہے اس کو بدعتی کہا گیا مثلا شیعہ یا روافض جن کے نزدیک علی تمام اصحاب پر افضل ہیں ان کو اس امر پر بدعتی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اس اجماع صحابہ کی مخالفت کی ان کو اس بنا پر کافر نہیں قرار دیا گیا – خوارج کے نزدیک بھی ابو بکر تمام اصحاب میں افضل ہیں البتہ عثمان رضی الله عنہ کے لئے ان کی رائے مرتکب گناہ کبیرہ کی تھی

اصحاب رسول اور محدثین کے نزدیک نہ روافض کافر تھے نہ خوارج ان سب کو اہل قبلہ اور مسلمان ہی سمجھا جاتا تھا بس یہ اس منہج پر نہیں تھے جو اصحاب رسول سے چلا ا رہا تھا جس کو سنت خلفاء کا نام دیا گیا اور متاخرین متکلمین امام الاشعری نے اسی سے اہل سنت کا لقب نکالا

جواب

اس روایت کی تمام اسناد ضعیف ہیں صرف ایک سند صحیح سمجھی گئی ہے

أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ (يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ الرَّبَابُ) اور سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ

المنتخب من مسند عبد بن حميد
مسند ابن أبي شيبة
سنن الدارمي
مسند البزار
صحیح ابن خزیمہ
صحیح مسلم
السنن الكبرى از نسائی

وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ، وَمَنِ اسْتَمْسَكَ بِهِ وَأَخَذَ بِهِ كَانَ عَلَى الْهُدَى، وَمَنْ أَخْطَأَهُ وَتَرَكَهُ كَانَ عَلَى الضَّلَالَةِ، وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِرَكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي ” ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں ایک کتاب الله ہے جس میں ہدایت و نور ہے جو اس کو پکڑے گا اور اس کو لے گا وہ ہدایت پر ہو گا اور جو اس میں غلطی کرے اور اس کو چھوڑ دے وہ گمراہ ہے اور میرے اہل بیت میں الله کا ذکر کرتا ہوں اپنے اہل بیت کے لئے

یہ قول نبوی سن ١٠ ہجری میں حجه الوداع سے واپس انے پر غَدِيرَ خُمٍّ پر اپ نے فرمایا اس میں لوگوں نے علی رضی الله عنہ کی شکایت کی کہ انہوں نے یمن میں مال میں سے خود لونڈی لے کر اس سے جماع کر لیا اس کو اپ صلی الله علیہ وسلم نے ناپسند کیا کیونکہ جو علی رضی الله عنہ نے کیا اس پر ان کا حق تھا لہذا لوگوں کو تنبہہ کی کہ کتاب الله کے مطابق خمس میں سے مال لینا علی کا حق ہے اور یہ حق اہل بیت النبی کو حاصل ہے لہذا کہا میرے اہل بیت کا الله نے جو حق مقرر کیا ہے وہ ان کو دیتے رہنا

مزید تفصیل اپ یہاں دیکھ سکتے ہیں
⇑ اہل بیت، حقوق اور ان کی ذمہ داریاں
http://www.islamic-belief.net/masalik/شیعیت/

یعنی ثقلین سے مراد دو بھاری ذمہ داریاں اپ نے امت کو دیں کہ کتاب الله پر عمل کریں اور اہل بیت النبی کا ان کے بعد خیال رکھیں

کچھ طرق ایسے ہے جن میں لفظ ” ثقلین – دو باری چیزین ” کے بدلے ” خلیفتین -دو خلیفہ ” کا لفظ آیا ہے. روایت یوں ہے

حدثنا عبد الله قال : حدثني أبي ، حدثنا أسود بن عامر ، نا شريك ، عن الركين ، عن القاسم بن حسان ، عن زيد بن ثابت قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إني تارك فيكم خليفتين : كتاب الله ، حبل ممدود ما بين السماء والأرض ، أو ما بين السماء إلى الأرض ، وعترتي أهل بيتي ، وإنهما لن يتفرقا حتى يردا علي الحوض

ترجمہ : زید بن ارقم فرماتے ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ و آلہ نے فرمایا : میں تم لوگوں میں دو خلیفے چھوڈ رہا ہوں , ایک اللہ کی کتاب ہے جو ایک رسی ہے آسمانوں اور زمین کے درمیان یا زمین سے آسمانوں کے درمیان اور دوسرے میرے اھل بیت علیھم السلام میری عترت , یہ دونوں آپس میں جدا نہیں ہونگے حتٰی کہ حوض کوثر پر مجھ سے نہ ملیں گے

جواب

فضائل صحابہ از امام احمد اور مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الرُّكَيْنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ خَلِيفَتَيْنِ: كِتَابُ اللهِ، حَبْلٌ مَمْدُودٌ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَوْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ
اس میں خلیفیتن کا لفظ ہے
لیکن یہ سند ضعیف ہے ان الفاظ کے ساتھ اس روایت کی تمام اسناد میں شريك ابن عبد الله النخعي کا تفرد ہے جس کا حافظہ خراب تھا

صحیح متن میں الثَّقَلَيْنِ (دو بوجھ) ہے

جواب

صحیح مسلم ، مسند البزار المنشور باسم البحر الزخار میں ہے
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ، أَخْبَرَنِي أَبُو غَطَفَانَ الْمُرِّيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَشْرَبَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَائِمًا، فَمَنْ نَسِيَ فَلْيَسْتَقِئْ»
عبدالجبار بن علاء، مروان فزاری، عمرو بن حمزہ، ابوغطفان، حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی کھڑے ہو کر (پانی وغیرہ) نہ پیے اور جو آدمی بھول کر پی لے تو وہ اسے قے کر ڈالے۔
———
یہ روایت ضعیف ہے اس کی سند میں عمر بن حمزة بن عبد الله بن عمر العدوي [العمري
الذھبی میزان میں کہتے ہیں
ضعفه يحيى بن معين، والنسائي. وقال أحمد: أحاديثه مناكير.
اس کی تضعیف ابن معین اور نسائی نے کی ہے اور احمد کہتے ہیں اس کی احادیث منکر ہیں

امام مسلم نے اس کی سند سے اس کو روایت کیا ہے جبکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا کھڑے ہو کر پانی پینا روایات سے معلوم ہے
امام مسلم نے عمر کی سند سے ٦ روایات لی ہیں جو تمام ضعیف ہیں
ابن حجر نے بھی اس کو ضعیف قرار دیا ہے
—–

مسند احمد میں بھی ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” لَوْ يَعْلَمُ الَّذِي يَشْرَبُ وَهُوَ قَائِمٌ مَا فِي بَطْنِهِ، لَاسْتَقَاءَهُ ”
یہاں امام الزہری نے رجل کا نام نہیں لیا

——–

صحیح ابن حبان میں ہے
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا نَأْكُلُ وَنَحْنُ نَمْشِي, وَنَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابن عمر نے کہا ہم عھد نبوی میں کھاتے تھے اور چلتے تھے اور پیتے تھے اور ہم کھڑے ہوئے ہوتے تھے

یعنی کھڑے ہو کر کھانے پینے کی کوئی ممانعت نہیں ہے

اسلام علیکم
فتعلمنا الایمان قبل أن نتعلمنا القران ثم تعلمنا القران فازددنا به ايمانا
ابن ماجه رقم ٦١

جواب

پہلی روایت ابن ماجہ کی ہے اور یہ طبرانی میں اور شعب الایمان البیہقی میں بھی ہے جہاں اس کا متن ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَيْهَقِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْبَيْهَقِيُّ، حدثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، حدثنا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، حدثنا الْحَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، حدثنا حَمَّادُ بْنُ نَجِيحٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا الْبَجَلِيَّ قَالَ: ” كُنَّا فِتْيَانًا حَزَاوِرَةً مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَعَلَّمْنَا الْإِيمَانَ قَبْلَ أَنْ نَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ، ثُمَّ تَعَلَّمْنَا الْقُرْآنَ فَازْدَدْنَا بِهِ إِيمَانًا، وَإِنَّكُمُ الْيَوْمَ تَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ قَبْلَ الْإِيمَانِ
ابی عمران نے کہا ہم نے جندب رضی الله عنہ سے سنا کہ ہم کڑیل جوان تھے اپنے نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ پس اپ ہم کو ایمان کی تعلیم دیتے اس سے قبل کہ قرآن کی تعلیم دی ہو پھر قرآن کی تعلیم دی جس نے ایمان بڑھا دیا اور تم لوگ آجکل قرآن کی تعلیم ایمان سے قبل دے دیتے ہو

یہ مکمل متن ہے جو باقی کتب میں پورا نہیں ہے

روایت صحیح سمجھی گئی ہے البانی اور شعيب الأرنؤوط نے اس کو صحیح کہا ہے

دور نبوی میں قرآن نازل ہو رہا تھا اور رسول الله کی دعوت تھی کہو الله کے سوا کوئی الہ نہیں کامیاب ہو جاؤ گے اس وقت تک قرآن کی چند سورتیں ہی تھیں لہذا جو ان کو سنتا وہ اس وقت قرآن کے علاوہ ان کی دعوت بھی سنتا اور ایمان لاتا پھر جب قرآن سنتا جو نازل ہو رہا تھا تو ایمان بڑھتا

علم میں تدریجی مراحل ضروری ہیں ایک بچہ کو سوره بقرہ کا مطلب کیا سمجھ آئے گا جبکہ یہ قرآن کی دوسری سورہ ہے لیکن اس کے مضامین دقیق ہیں لہذا پہلے بنیادی ایمانیات کا علم دینا قرآن پڑھانے سے پہلے ضروری ہے

جواب

داود علیہ السلام موسیقی کا استمعال نہیں کرتے تھے جب وہ زبور کی قرات کرتے تو پرندے ان کی آواز میں آواز ملاتے اور پہاڑوں میں سے اس کو گونج اٹھتی تھی
اہل کتاب کی دو کتابیں ہیں
Book of Kings
aur
Book of Chronicles
ان دونوں میں اختلاف ہے ایک کے مطابق موسیقی ہیکل میں استمعال ہوتی تھی دوسری میں اس کا ذکر ہی نہیں لہذا عصر حاضر کے اہل کتاب علماء کی رائے میں یہ بات درست نہیں کہ موسیقی ہیکل میں استمعال ہوتی ہو گی
یہ تحقیق اس کتاب میں موجود ہے
https://www.amazon.com/Passion-Vitality-Foment-Dynamics-Judaism/dp/B007K54LHQ

موسیقی کا استمعال دوسرے ہیکل کے دور میں ہوا کیونکہ یہ فارس کا عمل تھا انہوں نے ہیکل واپس بنوایا اور اس میں موسیقی کو رواج دیا سند جواز کے لئے زبور میں موسیقی کا ذکر کیا گیا
عربوں کو بھی سازوں کا فارسیون سے علم ہوا

عبادت میں موسیقی کا استمعال نہیں ہوتا ہاں شادی بیاہ پر ہو سکتا ہے جیسا کہ روایات سے ہم کو معلوم ہے
و اللہ اعلم

ایک شیعہ کے مطابق آیہ درود
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴿56﴾
اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔
(33-الأحزاب:56)
میں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین پر دورد کا ذکر نہیں تو ہم سنی ان کو درود میں کیوں شامل کرتے ہیں ۔ اور قران کے خلاف کرتے ہیں۔(سنیوں کے اس درود پر اعتراض ہے” صلی اللہ تعالیٰ محمد علی خیر خلقہ اہلہ واصحابہ وازواجہ و ذریاتہ

فرض نماز کے بعد امام صاحب ایک درود اس طرح پڑھتے ہیں “صلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ و اہلہ و اصحابہ اجمعین “کیا یہ درود احادیث سے ثابت ہے ۔

جواب

درود ابراہیمی میں ہے کہ الله کی طرف سے سلامتی ہو ال ابراہیم پر اور ال محمد ہے اس میں ال ابراہیم کے وہ افراد ہیں جو صحیح العقیدہ تھے اسی طرح ال محمد سے مراد صحیح العقیدہ لوگ ہیں
دوسری رائے ہے کہ ال محمد سے مراد رسول الله کے اہل بیت ہیں

قرآن اور عربی میں دونوں ممکن ہیں کیونکہ قرآن میں فرعون کو اور اس کے لشکر کو ال فرعون کہا گیا ہے یعنی اس کی اتباع کرنے والے اور اسی طرح عربی میں یہ خاندان کے لئے بھی استمعال ہوتا ہے

———

اصحاب رسول میں سے وہ لوگ جو اہل بیت ہیں وہ ظاہر ہے اس میں شامل ہیں اس کے علاوہ چونکہ اصحاب رسول نبی صلی الله علیہ وسلم کی اتباع کرنے والے تھے وہ بھی اس میں شامل ہیں
و اللہ اعلم

اپ نے جو درود بھیجا ہے اس میں ال محمد کی ایک طرح شرح کی گئی ہے کہ ان میں امہات المومنین ہیں اصحاب رسول ہیں جو غلط نہیں لیکن اس میں اہل بیت کیوں نہیں ہیں اصلا شیعوں کو چڑانے کے لئے کیا اس میں سے اہل بیت النبی کو نکال دیا گیا ہے علماء معصوم نہیں ہیں شرارت بھی کرتے ہیں لہذا اس میں نہ جھگڑیں اپ صرف وہ کہیں جو صحیح سند سے آیا ہے ال محمد ان میں کس کس کو اس کا فائدہ ہو گا یہ الله پر چھوڑ دیں

کیا یہ روایت صحیح ہے ؟
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
علامات قیامت میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ اصاغر (اہل بدعت) سے علم حاصل کیا جائے گا
.
*****السلسلہ الصحیحہ # ٦٩٥ ، صحیح الجامع الصغیر #٢٢٠٧ *****

جواب

یہ روایت عبد اللہ بن مبارک کی کتاب الزهد والرقائق، جامع معمر بن أبي عمرو راشد، المدخل إلى السنن الكبرى
از البیہقی ، المعجم الكبير طبرانی میں بیان ہوئی ہے

اس کی تمام اسناد میں عمرو بن عبد الله أبو إسحاق السَّبيعي ہے جو مدلس ہیں اور اس روایت کی ہر سند میں عن سے روایت کرتے ہیں اس کے علاوہ یہ آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہوئے
کتاب المختلطين از العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق

قال يعقوب الفسوي: قال بعض أهل العلم: كان قد اختلط.
وقال يحيى بن معين: سمعت حميد الرؤاسي يقول: إنما سمع ابن عيينة من أبي إسحاق بعد ما اختلط.
وكذلك قال أبو زرعة في أبي خيثمة زهير بن معاوية: إنه سمع من أبي إسحاق بعد الاختلاط.

———–

کبھی ابی اسحاق السَّبِيعِيُّ کہتا ہے اس کو سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ الهَمْدَانِيُّ الخَيْوَانِيُّ الكُوْفِيُّ سے لیا کبھی کہتا ہے اس روایت کو زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ سے لیا

امام الفسوي ، زيد بن وهب کی روایات کو في حديثه خلل كثير خلل زدہ کہتے تھے

یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس روایت میں ابو اسحٰق کا تفرد ہے جو مختلط ہوئے اور مدلس تھے پھر راوی بدلتے رہے کہ کس سے روایت کر رہے ہیں کبھی کسی ہمدانی سے اس کو منسوب کرتے کبھی جھنیہ کے کسی شخص سے منسوب کرتے جن میں دونوں کی ولدیت میں نام ایک ہے یعنی ان کا حافظہ درست نہیں تھا
الغرض روایت ضعیف ہے

-============

ایک اور روایت ہے

وَعَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْجُمَحِيِّ – رضي الله عنه – قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ – صلى الله عليه وسلم -: ” إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُلْتَمَسَ الْعِلْمُ عِنْدَ الْأَصَاغِرِ
علامات قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اصاغر سے علم حاصل کیا جائے گا

اصاغر سے کون مراد ہے اس پر کتاب غریب الحدیث میں ہے
والذي أرى أنا في الأصاغر , أن يؤخذَ العِلمُ عمَّن كان بعد أصحاب النبي – صلى الله عليه وسلم – ويُقَدَّمَ ذلك على رأي الصحابة وَعِلْمِهِم، فهذا هو أَخْذُ العلمِ من الأصاغر , قال أبو عبيد: ولا أرى عبدَ الله بن المبارك أرادَ إِلَّا هذا.
غريب الحديث لأبي عبيد (ج3ص369)
أبي عبيد نے کہا: اور میں جو دیکھتا ہوں اصاغر سے مراد ہے کہ یہ وہ ہیں جو اصحاب النبی کے بعد آئے ہیں کہ علم ان سے لیا جائے اور پھر اس کو اصحاب رسول کی رائے پر فوقیت دی جائے تو یہ ہے اصاغر سے علم لینا اور میں نہیں سمجھتا کہ عبد الله ابن مبارک کا اس کے علاوہ کوئی مقصد ہو

ابو عبید نے اس میں تابعین مراد لئے ہیں جن کی آراء کو اصحاب رسول کے فتووں پر فوقیت دی جائے

کتاب جامع بيان العلم وفضله از ابن عبد البر کے مطابق
قَالَ نُعَيْمٌ: قِيلَ لِابْنِ الْمُبَارَكِ: مَنِ الْأَصَاغِرُ؟ قَالَ: «الَّذِينَ يَقُولُونَ بِرَأْيِهِمْ
نعیم نے کہا میں نے ابن مبارک سے پوچھا اصاغر کون ہیں ؟ کہا یہ وہ ہیں جو رائے کا کہتے ہیں

یہ قول نعیم ابنِ حماد کا ہے جو اہل رائے کے مخالف تھے

المعجم الأوسط از طبرانی کے مطابق
قَالَ مُوسَى: «يُقَالُ: إِنَّ الْأَصَاغِرَ مِنَ أَهْلِ الْبِدَعِ
مُوسَى بْنُ هَارُونَ نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ اس روایت میں اصاغر سے مراد اہل بدعت ہیں

اس میں ہے کہا جاتا ہے یعنی یہ بات جزم سے نہیں کہی گئی دوم ابن مبارک خود آخری عمر تک اہل رائے میں سے تھے

عبداللہ کتاب السنہ میں روایت کرتے ہیں

حَدَّثَنِي أَبُو الْفَضْلِ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ شَمَّاسِ السَّمَرْقَنْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الله بْنُ الْمُبَارَكِ، بِالثَّغْرِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُكْنَى أَبَا خِدَاشٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَا تَرْوِ لَنَا عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، فَإِنَّهُ كَانَ مُرْجِئًا فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيْهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَكَانَ بَعْدُ إِذَا جَاءَ الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَرَأْيهِ ضَرَبَ عَلَيْهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ مِنْ كُتُبِهِ وَتَرَكَ الرِّوَايَةَ عَنْهُ، وَذَلِكَ آخِرُ مَا قَرَأَ عَلَى النَّاسِ بِالثَّغْرِ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَمَاتَ

إِبْرَاهِيمُ بْنُ شَمَّاسِ السَّمَرْقَنْدِيُّ کہتے ہیں ہم سے الثَّغْرِ میں ابن مبارک نے ابو حنیفہ کے بارے بیان کیا پس ایک شخص کھڑا ہوا جسکی کنیت ابو خداش تھی اور بولا اے ابا عبد الرحمان ہم سے ابو حنیفہ کی روایت نہ کریں کیونکہ وہ مرجئہ تھے ابن مبارک نے اسکا انکار نہیں کیا پس اس کے بعد جب ابو حنیفہ کی روایت اوررائے اتی تو ابن مبارک نے اس کو ترک کیا اور یہ الثَّغْرِ میں آخر میں ہوا اس کے بعد ابن مبارک چلے گئے اور مر گئے

یعنی آخری عمر تک ابن مبارک اہل رائے میں سے تھے اور ابو حنیفہ کے قول پر فتوی دیتے تھے

جواب

خلافت میں ایک ہیڈ آف اسٹیٹ ہوتا ہے وہ جو چاہے کر سکتا ہے اس کی شوری یا کابینہ ہوتی ہے جس کے مشوروں پر ضروری نہیں کہ حاکم عمل بھی کرے اس طرح یہ حاکم ہے جس کو بہت اختیار حاصل ہے – ان اختیارات کی بنا پر حاکم یا خلیفہ وہی اچھا ہو سکتا ہے جس کو خوف الہی ہو- اس حاکم یا خلیفہ کو معزول کرنے کا اسلام میں کوئی طریقہ نہیں ہے – ایسا کرنے کی صورت میں فساد ہوتا ہے جس میں مزید کشت و خون ہوتا رہا ہے اس عمل کو خروج کہا جاتا ہے

عملا خلیفہ اور بادشاہ میں کوئی فرق نہیں ہے صرف لفظی فرق ہے – قران کہتا ہے طالوت کو بادشاہ کیا – داود کو خلیفہ کہتا ہے اور سلیمان کی حکومت کو بھی بادشاہت کہتا ہے معلوم ہوا کہ اسلامی خلیفہ ایک بادشاہ ہی ہے جو کابینہ یا شوری سے مشورہ کر سکتا ہے لیکن اس پر لازم نہیں کہ اس پر عمل بھی کرے مثلا ابو بکر رضی الله عنہ نے جمع القرآن میں عمر رضی الله عنہ کی رائے کو رد کر دیا

مسلمانوں کے پاس انتخاب خلیفہ پر کوئی منہج نہیں ہے – عباسی خلافت کے بعد سے قریشی خلفاء نہیں رہے اور امام ابن خلدون کے مطابق اس امت میں وہی خلیفہ ہوتا ہے جس کو عصبیت حاصل ہو اور لوگ اس پر جمع ہوں لہذا اس میں غیر عرب سلجوقی اور ترکی خلفاء رہے ہیں جو یکایک وقت کی گردش کی بنا پر خلیفہ بن گئے
اس بنا پر یہ نظام ایک بادشاہت جیسا ہی ہے اس کو ہم چاہیں تو خلیفہ بول سکتے ہیں

اپس میں اختلاف کی بنا پر مسلمانوں میں ایک وقت میں دو تین خلیفہ بھی رہے ہیں مثلا

حجاز میں ابن زبیر رضی الله عنہ کی خلافت اور شام میں عبد الملک بن مروان کی خلافت

عباسی خلافت کے ساتھ ساتھ اندلس میں اموی خلافت
اسی طرح اسمعیلی خلافت مصر میں اور عراق میں عباسی خلافت
عباسی خلافت عراق میں اور اس کے پڑوس میں خوارزم کی امارت جو ایک دوسرے کو خلیفہ تسلیم نہیں کرتے تھے
مصر اور شام میں سلجوقی خلافت لیکن دوسرے اسلامی ممالک میں اس کو تسلیم نہیں کیا جاتا تھا
ترکوں کی خلافت اور ایران میں بادشاہت اور ہندوستان میں مغل بادشاہت

الغرض بنو امیہ کے بعد سن ١٢٥ ہجری کے بعد سے تمام سنی مسلمان بھی کبھی بھی ایک خلیفہ پر جمع نہیں ہوئے

بعض احکام صرف الانبیاء کے لئے ہوتے ہیں عام لوگوں کے لئے نہیں

نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اب کوئی ہجرت نہیں ہے صحیح بخاری

الله تعالی نے فرمایا سوره النور

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (55)

الله کا وعدہ ہے کہ جو ایمان لائے اور نیک عمل کے ان کو زمین میں استخلاف دے گا جیسا پہلوں کو دیا ان کے دین کو تمکنت دے گا جو اس نے پسند کیا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا کہ وہ میری عبادت کریں اور شرک نہ کریں کسی چیز کا بھی اور جس نے کفر کیا وہ فاسق ہیں

یہ آیات خاص ہیں صرف رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لئے ہیں عموم نہیں ہیں

إس کی جیسی اور آیات بھی ہیں
كتب الله لأغلبن أنا ورسلي
الله نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہوں گے

– مسلمانوں کی غلطی ہے کہ خاص کو عام کر دیتے ہیں اور عام کو خاص

کیا عبد الله ابن زبیر کی خلافت کو الله نے برباد نہیں کیا ؟ ان کے استخلاف کو ختم کیا ؟ کڑوی بات ہے لیکن سچ ہے ہم تعبیر کی غلطی کا شکار نہیں ہوں گے اس سے ظاہر ہے کہ یہ وعدہ خاص صرف رسول الله کے لئے ہے

عبد الله ابن زبیر رضی الله عنہ صحیح عقیدہ صحابی رسول ہیں خلیفہ ہیں ان کے مخالف ظاہر ہے ان سے بہتر نہیں ہیں لیکن پھر بھی ان کی خلآفت چند سال کی ہے اور اس کا انجام بہت برا ہوتا ہے ہمارے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟ کیا ہم آیات کو اپنا معنی پہنا کر الله سے معجزات کی امید تو نہیں لگا رہے ؟

—–

جمہوریت یونانی حکماء کا بیان کردہ طرز حکومت ہے اس میں حاکم وہ کر سکتا ہے جس کی طرف عوام کا میلان ہو- – اہل مغرب نے اس طرز حکومت میں مزید ضابطوں کو شامل کر کے اس کو ایک جدید طرز حکومت بنا دیا ہے جو آجکل بہت سے ممالک میں چل رہا ہے – حاکم کو معزول بھی کیا جا سکتا ہے
چونکہ اس میں عوام کی طرف سے انتخاب ہوتا ہے اس بنا پر عوام میں سیاسی فہم کی موجودگی بہت اہمیت رکھتی ہے اور یہ طرز حکومت انہی ممالک میں کامیاب ہوا ہے جہاں عوام ٨٠ فی صد پڑھے لکھے ہوں
—-

اسلام اور شریعت پر منبی قوانین دونوں نظاموں میں بنائے جا سکتے ہیں

راقم نہ جموریت کے حق میں ہے نہ خلافت کے حق میں ہے – ابھی عقیدہ کو درست کرنا سب سے اہم ہے- ایک بد عقیدہ شخص کے خلیفہ بننے سے تو بہتر یہی ہے کہ خلافت نہ ہو

جواب

سانپ کو درندہ سمجھتے ہوئے احرام کی حالت میں بھی مارا جا سکتا ہے
سانپ چاہے گھر میں ہو یا باہر مار دیا جائے گا اہل علم کے نزدیک مدینہ کے سانپ کو چھوڑنا یا تو صرف مدینہ کے لئے خاص تھا یا منسوخ عمل ہے

قال أبو لبابة الأنصاري إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن قتل الجنان التي تكون في البيوت إلا الأبتر وذا الطفيتين فإنهما اللذان يخطفان البصر ويتتبعان ما في بطون النساء

بو لبابہ رضی الله عنہ نے کہا میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو کہتے سنا کہ اپ نے منع کیا سانپوں کے قتل سے جو گھروں میں ہوں سوائے دو نقطوں والے سانپ کے کیونکہ یہ بینائی کو زائل کرتے ہیں اور حمل گرا دینے کا سبب ہیں

لا يدع المومن من جحر واحد مرتين
بخاري ،مسلم
بہت سے مومن ہے جو ایک جگہ سے کہے بار اس پر ضرر پہنچتا ہے,
پلیز وضاحت کردے

جواب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُلْدَغُ مُؤْمِنٌ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ»

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مومن ایک ہی سوراخ سے دو بار ڈسا نہیں جائے گا

طحاوی مشکل الآثار کہتے ہیں
فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِذَلِكَ: ” إنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُلْدَغُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ ” أَيْ لَا يُذْنِبُ ذَنْبًا يَخَافُ عُقُوبَتَهُ ثُمَّ يَعُودُ فِيهِ بَعْدَ ذَلِكَ
یعنی مومن گناہ نہیں کرتا عقوبت کے خوف ہے اس کو کرنے کے بعد

طحاوی کے نزدیک اس کا مفہوم توبہ کرنا ہے
——-

اس کے برعکس امام الزہری نے اس کو خلیفہ ہشام بن عبد الملک پر برجستہ چسپاں کیا کہ ہشام نے سات ہزار دینار امام زہری سے قرض لیا جب واپس کیا تو کہا اگر میں دوبار مانگو تو پھر دینا اس پر امام زہری نے کہا کیسے اور یہ حدیث سنا دی

بغوی شرح السنہ میں لکھتے ہیں
وَمعنى الحَدِيث: أَن الْمُؤمن الممدوح هُوَ الْكيس الحازم الَّذِي لَا يُؤْتى من نَاحيَة الْغَفْلَة مرّة بعد أُخْرَى، وَهُوَ لَا يشْعر، وَقيل: أَرَادَ بِهِ الخداع فِي أَمر الْآخِرَة دون أَمر الدُّنْيَا، وَهُوَ بِالرَّفْع على معنى الْخَبَر.

حدیث کا معنی نے کہ مومن ممدوح ہے وہ چالاک ہے غفلت سے اس طرف نہیں جاتا کہ وہ جانتا ہو اور کہا جاتا ہے مراد ہے امر آخرت میں امر دینا سے دھوکہ کھا جائے

الغرض اس میں یہ تین اقوال ہیں
و الله اعلم

حدیث رسول صلى الله عليه وسلم میں وارد هے که جب عورت بالغ هوجاتی هے، تو اسکے لئے سوائے چہرے اور هتھیلیوں کے اپنے بدن کا کوئی بھی حصه ظاهر کرنا جائز نهیں هے

جواب

یہ الفاظ ایک روایت سے لئے جاتے ہیں

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْطَاكِيُّ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: يَعْقُوبُ ابْنُ دُرَيْكٍ: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهَا ثِيَابٌ رِقَاقٌ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «يَا أَسْمَاءُ، إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَمْ تَصْلُحْ أَنْ يُرَى مِنْهَا إِلَّا هَذَا وَهَذَا» وَأَشَارَ إِلَى وَجْهِهِ وَكَفَّيْهِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «هَذَا مُرْسَلٌ، خَالِدُ بْنُ دُرَيْكٍ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا»

عائشہ سے روا یت ہے کہ ان کی بہن حضرت اسماءنبی اکرم کے سامنے آئیں اور وہ باریک کپڑے پہنے ہوئے تھیں۔ نبی اکرم نے منہ پھیر لیا اور فرمایا اے اسماءجب عورت بالغ ہو جا ئے تو جائز نہیں ہے کہ منہ اور ہاتھ کے سو ا اس کے جسم کا کوئی حصّہ نظرآئے۔ ( ابوداود) ابو داود نے کہا یہ مرسل ہے خالد نے عائشہ رضی الله عنہا’ کو نہیں پایا

سندا یہ ضعیف ہے – ابو داود نے خود اس روایت کو مرسل کر دیا کیونکہ راوی خَالِدُ بْنُ دُرَيْك کا عائشہ رضی الله عنہ سے سماع ثابت نہیں

———–
موطا امام مالک کی روایت ہے

وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا قَالَتْ: «دَخَلَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَى حَفْصَةَ خِمَارٌ رَقِيقٌ، فَشَقَّتْهُ عَائِشَةُ وَكَسَتْهَا خِمَارًا كَثِيفًا»

حفصہ بنتِ عبد الرحمن بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عائشہ رضی الله عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور وہ ایک باریک دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھیں۔ عائشہ نے اس کو پھاڑدیا اور ایک موٹی اوڑھنی ان پر ڈال دی

یہ صحیح ہے

جواب

حدَّثنا محمد بن عثمان التَّنُوخِيُّ أبو الجُماهِر، حدَّثنا الهيثمُ بن حُميدٍ، أخبرني العلاءُ بن الحارث، عن القاسم أبي عبد الرحمن
عن أبي أُمامة: أن رجلاً قال: يا رسول الله، ائذن لي بالسِّياحة، قال النبيُّ -صلَّى الله عليه وسلم-: “إن سياحةَ أُمتي الجهادُ في سبيل الله
ابو مامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول مجھے سیاحت کی اجازت عنایت فرمائیں
۔اپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
میری امت کی سیاحت اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے
سنن ابی داوُد، جلد دوم، کتاب الجہاد (2486

البانی اس کو حسن کہتے ہیں اور الذھبی صحیح کہتے ہیں اس کی سند میں الهيثم بن حميد کا تفرد ہے جس کو ضعیف اور ثقہ کہا گیا ہے
کتاب التَّكْميل في الجَرْح والتَّعْدِيل ومَعْرِفة الثِّقَات والضُّعفاء والمجَاهِيل از ابن کثیر کے مطابق
قال أبو مسهر أيضاً: لم يكن من الأثبات ولا من أهل الحفظ، وقد كنت أمسكتُ عن الحديث عنه استضعفته.
ابو مسهر نے کہا نہ یہ اثبات میں ہے نہ اہل حفظ میں سے اور میں بے شک اس کی حدیث سے رک گیا ہوں جس کی تضعیف کی جاتی ہے

==========
الغرض اس روایت کو پیش کیا جاتا ہے کیونکہ جہاد کی فضیلت معلوم ہے لیکن یہ روایت خود اتنی مظبوط نہیں کہ اس کو بلا سمجھ قبول کیا جائے
اصحاب رسول اور تابعین نے قیصر و کسری سے جہاد کیا اور اس کی وجہ حدیث تھی کہ یہ امت کسری کے خزانے نکلالے گی اور اپ صلی الله علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ قیصر کے شہر قسطنطنیہ پر مسلمان حملہ کریں گے
لہذا اس دور کے متمدن ممالک میں جب مسلمانوں کا قبضہ ہوا تو کسی اور جگہ میں دلچسی نہ تھی
اس کی مثال ہے کہ افریقہ باوجود عرب کے قریب ہونے کے مسلمانوں کو افریقہ میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اس میں صرف شمالی افریقہ متمدن تھا اس پر قبضہ ہوا اس کے بعد پورا بر اعظم افریقہ چھوڑ دیا گیا – جہاد و سیاحت کی بنیاد پر اس پر قبضہ نہیں کیا گیا
ایسا اسی وقت کیا گیا جب یہ حدیث کوئی نہیں جانتا تھا کیونکہ اس وقت الهيثم بن حميد پیدا نہیں ہوا تھا

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ (بَابٌ فِي أَكْلِ الضَّبُعِ) سنن ابو داؤد: کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل (باب: لگڑ بگڑ کھانا کیسا ہے ؟)

3801 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الضَّبُعِ فَقَالَ هُوَ صَيْدٌ وَيُجْعَلُ فِيهِ كَبْشٌ إِذَا صَادَهُ الْمُحْرِمُ

حکم : صحیح

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لگڑ بگڑ کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” وہ شکار ہے اگر اسے محرم شکار کرے تو اس کو ایک مینڈھا فدیہ دینا ہو گا ۔ “

کیا لگڑ بگڑ کھانا صحیح ہے –

جواب

لگڑبھگا
یا
Hyena

یہ نوکیلے دانتوں والا جانور ہے جو حرام ہے

————–
https://www.reference.com/geography/kind-food-hyenas-eat-854aef3ad0a057e4
Most hyenas are carnivores and eat any animal they can catch or scavenge, even insects.
لگڑبھگا درندہ ہے اور ہر اس جانور کو کھا جاتا ہے جس کو پکڑے زندہ یا مردہ یہاں تک کہ حشرات کو بھی
————–
قال أبو حنيفة الضبع حرام وهو قول سعيد بن المسيب والثوري
امام ابو حنیفہ اور سعید بن المسیب اور امام ثوری اس کو حرام کہتے ہیں

امام مالک مکروہ کہتے ہیں

الإمام أحمد وإسحاق وأبو ثور اس کو حلال کہتے ہیں کہ یہ اپنے شکار کو کھائے بغیر بھی زندہ رہتا ہے

امام شافعی کے نزدیک حلال ہے

بغوی شرح السنہ میں کہتے ہیں
اختلف أهل العلم في إباحة لحم الضبع، فروي عن سعد بن أبي وقاص أنه كان يأكل الضبع وروي عن ابن عباس إباحة لحم الضبع، وهو قول عطاء، وإليه ذهب الشافعي وأحمد إسحاق وأبو ثور، وكرهه (أي حرمه) جماعة يُروى ذلك عن سعيد بن المسيب، وبه قال ابن المبارك ومالك والثوري وأصحاب الرأي، واحتجوا بأن النبي – صلَّى الله عليه وسلم – نهى عن أكل كل ذي ناب من السباع وهذا عند الآخرين عام خصه حديث جابر
اہل علم کا اس میں اختلاف ہے پس سعد بن ابی وقاص کے لئے روایت کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اس کو کھایا اور ابن عباس اس کو مباح کہتے اور قول عطا بن ابی رباح کا ہے اور اس کی طرف امام شافعی کا مذھب ہے اور احمد کا اور اسحاق اور ابو ثور کا اور کراہت یعنی حرام قرار دیا ہے ایک جماعت نے اور ایسا روایت کیا ابن المسیب سے اور ابن مبارک ، امام مالک امام ثوری اور اصحاب رائے سے

عصر حاضر کے علماء البانی اور شعیب نے اس روایت کو صحیح کہہ دیا ہے جبکہ امام الجورقاني (المتوفى: 543هـ) نے الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير میں اس کو حسن قرار دیا تھا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَالِدِي أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَصَمُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكِيمِ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ” آكُلُ الضَّبُعَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَصَيْدٌ هِيَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: أَسَمِعْتَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ “.
هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ،

حسن روایت پر حلال و حرام کا فیصلہ نہیں ہوتا

کیا اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم شرک کرنے لگ گئے تھے ؟
جزاکم الله خیرا

جواب

مسند احمد کی روآیت ہے

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ثُمَّ الْجُنْدَعِيِّ، (1) عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ: أَنَّهُمْ خَرَجُوا عَنْ مَكَّةَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ، قَالَ: وَكَانَ لِلْكُفَّارِ سِدْرَةٌ يَعْكُفُونَ عِنْدَهَا، وَيُعَلِّقُونَ بِهَا أَسْلِحَتَهُمْ، يُقَالُ لَهَا: ذَاتُ أَنْوَاطٍ، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِسِدْرَةٍ خَضْرَاءَ عَظِيمَةٍ، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” قُلْتُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى: {اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةً قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ} [الأعراف: 138] إِنَّهَا السُّنَنُ، (1) لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ سُنَّةً سُنَّةً
أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ نے کہا کہ ہم حنین کے لئے مکہ سے نکلے اور کفار کا ایک بیری کا درخت تھا جس پر اعتکاف کرتے اور اسلحہ لٹکاتے تھے جس کو ذات النواط کہا جاتا تھا پس کہا یا رسول الله ہمارے لئے بھی ایسا کر دیں پس رسول الله نے فرمایا تم نے وہ کہا جو قوم موسی نے کہا تھا کہ ہمارے لئے بھی ایسا الہ بنا دو انہوں نے کہا تم جاہل قوم ہو

اس روایت کو شعيب الأرنؤوط صحیح کہتے ہیں
——

صحیح ابن حبان میں بھی ہے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سِنَانَ بْنَ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيَّ – وهم حلفاء بني الديل – أخبر
أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ يَقُولُ – وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ مَكَّةَ، خَرَجَ بِنَا مَعَهُ قِبَلَ هَوَازِنَ، حَتَّى مَرَرْنَا عَلَى سِدْرَةِ الْكُفَّارِ: سِدْرَةٌ يَعْكِفُونَ حَوْلَهَا، وَيَدْعُونَهَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “اللَّهُ أَكْبَرُ، إِنَّهَا السُّنَنُ، هَذَا كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى: اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلهة، قال: إنكم قوم تجهلون” ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “إنكم لتركبن”2″ سنن من قبلكم” “3”. [3: 69]

———

اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم نے صرف خواہش کا اظہار کیا کہ ایسا کیا جائے اس کا ارتکاب نہیں ہوا

بُعثتُ بينَ يدَي الساعةِ بالسيفِ حتى يُعبدَ اللهُ وحدَه لا شريكَ له وجُعِل رزقى تحتَ ظلِّ رمحى وجُعِل الذُّلُّ والصغارُ على مَن خالف أمرى ومن تشبَّهَ بقومٍفهو منهم

الراوي:عبدالله بن عمرالمحدث:أحمد شاكر المصدر:مسند أحمد الجزء أو الصفحة:8/44 حكم المحدث:إسناده صحيح

بُعِثتُ بالسَّيفِ حتَّى يُعبَدَ اللَّهُ لا شريكَ لَهُ وجُعِلَ رِزقي تحتَ ظلِّ رُمحي وجُعِلَ الذِّلَّةُ والصَّغارُ على من خالفَ أمري ومن تشبَّهَ بقَومٍ فَهوَ منهُم

الراوي:عبدالله بن عمرالمحدث:أحمد شاكر المصدر:مسند أحمد الجزء أو الصفحة:7/121 حكم المحدث:إسناده صحيح

بُعثتُ بين يديْ الساعةِ بالسيفِ حتى يُعبدَ اللهُ وحدَه لا شريكً له وجعلَ رِزقي تحتَ ظلِ رُمْحي وجعلَ الذلةَ والصغارَ على من خالفَ أمري ومن تشبه بقومٍفهو منهمْ

الراوي:عبدالله بن عمرالمحدث:أحمد شاكر المصدر:مسند أحمد الجزء أو الصفحة:7/122 حكم المحدث:إسناده صحيح

بُعِثتُ بين يديِ السَّاعةِ بالسَّيفِ حتَّى يُعبَدَ اللهُ وحدَه ، لا شريكَ له ، وجُعِل رزقي تحت ظلِّ رُمحي ، وجُعِل الذُّلُّ والصَّغارُ على من خالف أمري ، ومنتشبَّه بقومٍ فهو منهم

الراوي:عبدالله بن عمرالمحدث:الذهبي المصدر:سير أعلام النبلاء الجزء أو الصفحة:15/509حكم المحدث:إسناده صحيح

بُعِثتُ بين يديِ الساعةِ بالسَّيفِ حتى يُعبدَ اللهُ وحدَه لا شريك له وجُعِلَ رِزْقي تحت ظلِّ رُمحي وجُعِلَ الذُّلُّ والصَّغارُ على مَنْ خالف أمري ومن تشبَّه بقومٍفهو منهم

الراوي:عبدالله بن عمرالمحدث:الألباني المصدر:إرواء الغليل الجزء أو الصفحة:5/109حكم المحدث:إسناده حسن

بُعِثْتُ بين يَدَيِ الساعةِ بالسيفِ ، حتى يُعْبَدَ اللهُ وحدَه لا شريكَ له ، وجُعِلَ رِزْقِي تحتَ ظِلِّ رُمْحِي ، وجُعِلَ الذِّلَّةُ والصَّغارُ على مَن خالف أَمْرِي ، ومَنتَشَبَّهَ بقومٍ فهو منهم .

الراوي:عبدالله بن عمرالمحدث:الألباني المصدر:جلباب المرأة الجزء أو الصفحة:204 حكم المحدث:إسناده حسن

جواب

اس کی سند صحیح نہیں ہے احمد شاکر متساھل ہیں شعيب الأرنؤوط نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے
البانی نے بھی اس کو صحیح نہیں حسن کہا ہے جبکہ اس روایت کو بنیاد پر چیزوں کو حرام کہا جاتا ہے حسن روایت پر عقائد اور حلال و حرام کا فیصلہ نہیں ہوتا

جس امر کے  بارے میں ہمارا امر نہ ہو میں امر سے مراد دینی حکم ہے

اسی طرح وَمَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ؛ فَهُوَ مِنْهُمْ جس نے کسی قوم کی مشابہت لی وہ انہی میں سے ہے
یہ روایت صحیح بخاری و مسلم میں نہیں اور اس کی ایک بھی سند صحیح نہیں ہے

شعيب الأرناؤوط: إسناده ضعيف. کہتے ہیں
امام احمد کے استاد امام دحیم کہتے ہیں هَذَا الحديثُ ليسَ بشيء یہ حدیث کوئی چیز نہیں
اس میں محدثین عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ پر جرح کرتے ہیں
اس کی ایک منفرد سند مسند البزار میں ہے جس میں على بن غراب ہے جو ضعیف ہے اس کے علاوہ ہشام بن حسان بصری ہے جو ضعیف ہے اور ابن سیرین سے روایت کرتا ہے
لہذا اس روایت کی ایک بھی سند مناسب نہیں

جواب

مسئلہ یہ ہے کہ فلسفییانہ اصطلاحات کو لوگوں نے قرآن و حدیث میں ڈھونڈا اور ان کو خلط ملط کر دیا مثلا محدث کا لفظ قرآن میں ہے یعنی نیا یہ عربی لفظ ہے- سن ٢٠٠ ہجری کے بعد اس لفظ کا فلسفہ یونان کی کتب کا عربی میں ترجمہ کرتے ہوئے استمعال ہوا- یہ دو الگ چیزیں ہیں ایک سادہ عربی لفظ ہے، ایک فلسفیانہ اصطلاح ہے

اس بحث میں الله کی مخلوق کو محدث کہا گیا کہ الله نے نیا کام کیا – یونانی فلسفہ والے الله کے وجود کے قائل تھے لیکن ان کے نزدیک الله نے خلق نہیں کیا تھا اس سے کائنات کا صدور ہوا یعنی اس سے کائنات نکلی- مسلمانوں فلاسفہ نے اس کو تبدیل کیا اور کہا نہیں الله نے خلق کیا اور اس میں محدث بھی ہے اب فلسفی اور باقی لوگوں کا اختلاف ہوا کہ محدث کب آیا اس کا اول تھا یا نہیں
فلسفہ یونان میں قیامت کا کوئی تصور نہیں تھا لہذا کوئی چیز فانی نہیں ایک چیز اگر ہے تو کسی دوسری قوت سے ختم ہو گی لیکن معدوم نہیں ہو سکتی
مسلمان فلاسفہ کے لئے یہ بحث بہت اہم تھی کہ قیامت کو فلسفہ سے کیسے ثابت کریں مخلوق فانی ہے تو کس طرح ؟ اور فنا کیا ہے ؟
عدم کیا ہے ؟
مسلمانوں کا اختلاف ہوا کہ سب سے پہلے کیا محدث/خلق ہوا

صوفیاء کہتے ہیں اور اہل تشیع کہتے ہیں نور محمدی خلق ہوا
امام ابن تیمیہ کہتے تھے عرش خلق ہوا اس کا ذکر البانی نے صحیحہ رقم ١٣٣ میں کیا ہے
اور بعض محدثین کہتے تھے قلم خلق ہوا

لہذا البانی نے مخلوق اول قلم کو قرار دیا اور لکھا

وفيه رد على من يقول بأن العرش هو أول مخلوق، ولا نص في ذلك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وإنما يقول به من قاله كابن تيمية وغيره
اور قلم والی حدیث میں رد ہے جس نے کہا کہ عرش اول مخلوق ہے اس پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے کوئی نص نہیں ہے لیکن یہ کہنے والوں نے کہا ہے جیسا کہ ابن تیمیہ اور دوسرے

البانی کہتے ہیں
وتأويله بأن القلم مخلوق بعد العرش باطل
اور یہ تاویل کرنا کہ قلم عرش کے بعد کی مخلوق ہے باطل ہے

اور البانی کہتے ہیں
وفيه رد أيضا على من يقول بحوادث لا أول لها، وأنه ما من مخلوق
اور اس حدیث میں اس کا بھی رد ہے جو یہ کہے کہ حوادث کی کوئی ابتداء نہیں اور ان میں مخلوق نہیں

اسلام علیکم
ایک روایت ہے کہ: اگر ایک عورت اپنے شوہر سے بغیر کسے دلیل طلاق مانگے تو جنت کا خوشبو تک اس پر حرام ہے
ابوداود،ترمذی،ابن ماجه،صحیح البانی
دوسرے طرف روایات سے پتہ چلتاہے کہ خود رسول الله صلی الله وسلم ایک عورت کے در خواست پر بغیر دلیل خلع کروادیا ہے
پلیز وضاحت کردے
جزاکم الله خیرا

جواب

ترمذی کی سند ہے

حَدَّثَنَا بِذَلِكَ بُنْدَارٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الجَنَّةِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

یہ روایت حسن درجے کی ہے صحیح نہیں ہے

سنن ابو داود میں ہے
حدَّثنا سليمانُ بنُ حرب، حدَّثنا حماد، عن أيوبَ، عن أبي قِلابةَ، عن أبي أسماءَ
عن ثوبانَ قال: قالَ رسولُ الله – صلَّى الله عليه وسلم -: “أيما امرأةٍ سألتْ زوجَها طلاقاً في غيرِ ما بأسٍ، فحرامٌ عليها رائحةُ الجنةِ”

شعَيب الأرنؤوط اور البانی اس کو صحیح کہتے ہیں جبکہ اس کی سند میں أَبِي قِلَابَةَ مدلس ہیں اور ہر سند میں عنعنہ ہے
یعنی معلوم نہیں کہ انہوں نے سنا بھی یا نہیں دوم اس میں ابو قلابہ اور ان کے شیخ دونوں شامی ہیں
اور اس متن کو کوئی اور بیان نہیں کرتا

فقہ کے مطابق شوہر بلا وجہ طلاق دے سکتا ہے تو سوال ہے کہ پھر بیوی بھی بلا وجہ خلع کیوں نہیں لے سکتی ؟

6992 – حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عوف بن سفيان الطائي بحمص ثنا عبد القدوس بن الحجاج ثنا الأوزاعي ثنا أسيد بن عبد الرحمن حدثني صالح بن محمد عن أبي جمعة قال : تغدينا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم و معنا أبو عبيدة بن الجراح قال : فقلنا يا رسول الله أحد خير منا أسلمنا معك و جاهدنا معك ؟ قال : نعم قوم يكونون بعدكم يؤمنون بي ولم يروني
هذا حديث صحيح الإسناد و لم يخرجاه
تعليق الذهبي قي التلخيص : صحيح

ابو جمعہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے، ساتھ میں ابو عبیدہ بھی تھے۔ ابو عبیدہ نے نبی اکرم سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! کیا کوئی ہم سے بھی افضل ہے جبکہ ہم آپ کے ساتھ اسلام لائے، اور جہاد کیا؟ آپ نے جواب دیا: ہاں، ایک قوم تمہارے بعد آئے گی جو مجھ پر ایمان لائے گی، اور انہوں نے مجھے نہیں دیکھا ہو گا
امام حاکم کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، علامہ الذھبی کہتے ہیں کہ صحیح ہے

جواب

یہ روایت شاذ ہے اس کی اسناد میں مضبوطی نہیں ہے کوئی نہ کوئی راوی ایسا ہے جس کو ضعیف کہا گیا ہے

ایک سند میں صالح بن جبير ہے
وليس بالمعروف. قال أبو حاتم: مجهول
اس سند کو شعيب الأرنؤوط نے مسند احمد میں صحیح کہا ہے جبکہ حسين سليم أسد نے مسند ابو یعلی پر تعلیق میں اس کو ضعیف کہا ہے جو درست ہے

دوسرے طرق میں خالد بن دريك ہے جن کا اصحاب رسول سے سماع نہیں ہے سند منقطع ہے
ميزان الاعتدال في نقد الرجال از الذھبی کے مطابق
لكن روايته عن الصحابة مرسلة

مستدرک الحاکم میں تحریف ہے اصلا یہ روایت أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي جُمُعَةَ کی سند سے ہے لیکن مستدرک میں اس کی سند میں أُسَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي جُمُعَةَ ہے
راقم کو معلوم نہ ہو سکا کہ یہ راوی صالح بن محمد کون ہے یہ مجھول شخص ہے اور اس سند کو امام حاکم و الذھبی نے کس طرح صحیح کہہ دیا

کتاب فضائل خلفاء از ابو نعیم کی روایت ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، إِمْلَاءً ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَةَ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَعَنْهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْتَنِي لَقِيتُ إِخْوَانِي فَإِنِّي أُحِبُّهُمْ» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَيْسَ نَحْنُ إِخْوَانُكَ؟ قَالَ: «لَا، أَنْتُمُ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانِي الَّذِينَ لَمْ يَرَوْنِي وَآمَنُوا بِي وَصَدَّقُونِي وَأَحَبُّونِي، حَتَّى أَنَّى أَحَبُّ إِلَى أَحَدِهِمْ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ، أَلَا تُحِبُّ يَا أَبَا بَكْرٍ قَوْمًا أَحْبُوكَ بِحُبِّي إِيَّاكَ؟» قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «فَأَحِبُّهُمْ مَا أَحْبُوكَ بِحُبِّي إِيَّاكَ» وَهَذَا الْحَدِيثُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لَا يُحِبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَنْ أَحَبَّ أَبَا بَكْرٍ

اس کی سند میں نافع بن هرمز، أبو هرمز ہے جس کو کذاب اور متروک کہا گیا ہے

مسند ابویعلی میں ہے

حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَقَالَ: «أَنْبِئُونِي بِأَفْضَلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ إِيمَانًا»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْمَلَائِكَةُ. قَالَ: «هُمْ كَذَلِكَ، وَيَحِقُّ لَهُمْ ذَلِكَ، وَمَا يَمْنَعُهُمْ وَقَدْ أَنْزَلَهُمُ اللَّهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي أَنْزَلَهُمْ بِهَا؟ بَلْ غَيْرُهُمْ؟». قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْأَنْبِيَاءُ الَّذِينَ أَكْرَمَهُمُ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَالنُّبُوَّةِ، قَالَ: «هُمْ كَذَلِكَ، وَيَحِقُّ لَهُمْ، وَمَا يَمْنَعُهُمْ، وَقَدْ أَنْزَلَهُمُ اللَّهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي أَنْزَلَهُمْ بِهَا؟ بَلْ غَيْرُهُمْ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الشُّهَدَاءُ الَّذِينَ اسْتُشْهِدُوا مَعَ الْأَعْدَاءِ. قَالَ: «هُمْ كَذَلِكَ وَيَحِقُّ لَهُمْ، وَمَا يَمْنَعُهُمْ، وَقَدْ أَكْرَمَهُمُ اللَّهُ بِالشَّهَادَةِ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ؟ بَلْ غَيْرُهُمْ». قَالُوا: فَمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَقْوَامٌ فِي أَصْلَابِ الرِّجَالِ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي، يُؤْمِنُونَ بِي، وَلَمْ يَرَوْنِي، وَيُصَدِّقُونَ بِي، وَلَمْ يَرَوْنِي، يَجِدُونَ الْوَرَقَ الْمُعَلَّقَ فَيَعْمَلُونَ بِمَا فِيهِ، فَهَؤُلَاءِ أَفْضَلُ أَهْلِ الْإِيمَانِ إِيمَانًا»

اسکی سند کو حسين سليم أسد نے ضعیف کہا ہے

صحیح مسلم میں ہے کہ اب کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی صدقه کر دے تو اصحاب رسول کے برابر نہیں ہو سکتا
لا تسبُّوا أصحابي، فإن أحَدَكم لو أنفق مثل أُحُدٍ ذهباً ما بلغ مُدَّ أحدهم ولا نصيفه

جواب

نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

لا هجرة بعد الفتح،ولکن جهاد و نیة و إذا استفزتم فانفروا
بخاری

اب کوئی ہجرت نہیں

کیونکہ ہجرت کا حکم ایک نبی ہی دے سکتا ہے یہ حکم من جانب الله اتا ہے اور نبی صلی الله علیہ وسلم کو مکی دور میں سوره یونس کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی کہ اپنے اجتہاد پر وہ ہجرت نہیں کر سکتے – اس کے علاوہ فتح مکہ پر مسلمانوں کا مکہ سے ہجرت کرنے کا حکم ختم ہوا کیونکہ اس پر مشرکین کا غلبہ ختم ہوا تھا
اس سے قبل سوره الممتحنہ میں حکم تھا کہ ہجرت جاری رکھی جائے اور انے والوں سے سوال کیے جائیں
لہذا اب قیامت تک کسی مسلمان کا ایک ملک سے دوسرے ملک جانا ہجرت نہیں ہے-

دار السلام اور دار الکفر متاخرین کی اصطلاحات ہیں- دار السلام یعنی مسلمانوں کی خلافت اور دار الکفر سے مراد ان کے مخالف

کتب حدیث میں دار الکفر کی اصطلاح موجود نہیں ہے- یہ اصطلاح بھی حربی ممالک (جن سے اعلانیہ جنگ کی جا رہی ہی) کے لئے استعمال ہوتی تھی – ان سے معاہدوں کے بعد اس کو استعمال نہیں کیا گیا
صحیح مسلم اور صحیح ابن حبان کے ابواب میں ہے یعنی یہ اصطلاح بہت بعد کی ہے یہاں تک کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ صحیح مسلم کے ابواب امام النووی نے قائم کیے ہیں

Comments are closed.