متفرق ٤

جواب

کالا لباس پہنا جا سکتا ہے
صحیح بخاری میں ہے

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ سَعِيدِ بْنِ فُلَانٍ هُوَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ “أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ صَغِيرَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ تَرَوْنَ أَنْ نَكْسُوَ هَذِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَكَتَ الْقَوْمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأُتِيَ بِهَا تُحْمَلُ فَأَخَذَ الْخَمِيصَةَ بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَلْبَسَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ أَبْلِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَخْلِقِي، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ فِيهَا عَلَمٌ أَخْضَرُ أَوْ أَصْفَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سَنَاهْ وَسَنَاهْ بِالْحَبَشِيَّةِ حَسَنٌ”.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن سعید نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے سعید بن فلاں یعنی عمرو بن سعید بن عاص نے اور ان سے ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کپڑے لائے گئے جس میں ایک چھوٹی کالی کملی بھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے یہ چادر کسے دی جائے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام خالد کو میرے پاس بلا لاؤ۔ انہیں گود میں اٹھا کر لایا گیا (کیونکہ بچی تھیں) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر اپنے ہاتھ میں لی اور انہیں پہنایا اور دعا دی کہ جیتی رہو۔ اس چادر میں ہرے اور زرد نقش و نگار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام خالد! یہ نقش و نگار سناہ ہیں۔ سناہ حبشی زبان میں خوب اچھے کے معنی میں آتا ہے۔

صحیح ابن خزیمہ میں ہے

اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ،
رسول الله نے استسقی کی نماز پڑھی اور ان پر کالی چادر تھی
—-
مسند احمد

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ حِينَ اشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ

عائشہ کہتی ہے کہ رسول اللہ ص جب شدید درد و الم سے دوچار تھے تو آپ نے کالا لباس اوڑھا ہوا تھا۔
یہ ترجمہ صحیح نہیں – ترجمہ ہے
عائشہ رضی الله عنہا نے کہا رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر ایک کالی چادر تھی جب اپ کے (مرض وفات میں) بیماری میں شدت آئی

اس کی سند میں ابن اسحاق ہے – حسن کہہ سکتے ہیں

جہاں تک صحیح روایات میں آیا ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ایک سرخ چادر تھی جس کو اپ نے زیادہ اوڑھا ہے اس کو تدفین کے وقت ان کی قبر مبارک میں بچھا دیا گیا تھا
——-
کالے لباس کا اسلام میں غم سے تعلق نہیں ہے
بنو عباس نے کالا لباس سیاست کی نذر کیا اور یہ خروج کی علامت بن گیا
اسی بنا پر اہل تشیع اس کو محرم میں پہناتے ہیں کہ یہ حسین کا خروج ہے

الذھبی لکھتے ہیں
عاصم بن بهدلة، عن أبي رزين، قال: خطبنا الحسن بن علي وعليه ثياب سود وعمامة سوداء.
ابو رزین کہتا ہے ہے کہ امام حسن ع نے ہمارے سامنے خطبہ دیا جب کہ وہ کالا لباس اور کالا عمامہ پہنے ہوئے تھے
حوالہ:سير أعلام النبلاء جلد ٣ ص ٢٧٢
البتہ الذھبی نے خود میزان میں اس کو مجہول قرار دیا ہے
أبو رزين [د، س] . ويقال أبو زرير. عن علي. لا يعرف.

http://mohaddis.com/View/Abu-Daud/2049

سنن أبي داؤد: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَزْوِيجِ مَنْ لَمْ يَلِدْ مِنْ النِّسَاءِ) سنن ابو داؤد: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل (باب: کسی بانجھ خاتون سے شادی کرنا منع ہے)

2049 .

قَالَ أَبو دَاود: كَتَبَ إِلَيَّ حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عُمَارَةَ ابْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ؟ قَالَ: غَرِّبْهَا ، قَالَ: أَخَافُ أَنْ تَتْبَعَهَا نَفْسِي؟ قَالَ: فَاسْتَمْتِعْ بِهَا.

حکم : صحیح 2049 .

امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حسین بن حریث مروزی نے مجھے لکھ بھیجا کہ ۔ ہمیں فضل بن موسیٰ نے حسین بن واقد سے ، انہوں نے عمارہ بن ابی حفصہ سے ، انہوں نے عکرمہ سے ، انہوں نے ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا : میری بیوی کسی چھونے والے کا ہاتھ رد نہیں کرتی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اسے دور کر دو ( طلاق دے دو ) ۔“ اس نے کہا : مجھے اندیشہ ہے کہ میرا دل اس کے ساتھ لگا رہے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تب اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔ “

پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ حدیث صحیح ہے – اس کو البانی نے صحیح کہا ہے
جواب

یہ روایت صحیح نہیں منکر ہے

ابن عباس مدینہ فتح مکہ کے بعد پہنچے اور اس وقت تک پردے کے احکام آ چکے تھے ممکن نہیں کہ ایک عورت کو کوئی اس طرح چھو سکے

مصنف عبد الرزاق میں ہے
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، 12366 – عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ مَوْلًى لِبَنِي هَاشِمٍ، أَنَّ رَجُلًا، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ فَارِقْهَا. قَالَ: إِنَّهَا تُعْجِبُنِي. قَالُ: «فَتَمَتَّعْ بِهَا»
عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، نے ایک مرد سے روایت کیا اس نے بنی ہاشم کے ایک غلام سے روایت کیا کہ ایک شخص نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری بیوی کسی چھونے والے ہاتھ کو نہیں روکتی

سنن نسائی میں عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ نے اس روایت کو ابن عباس سے منسوب کیا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَعَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَبْدُ الْكَرِيمِ، يَرْفَعُهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَارُونُ لَمْ يَرْفَعْهُ، قَالَا: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي امْرَأَةً، هِيَ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَهِيَ لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ، قَالَ: “طَلِّقْهَا”، قَالَ: لَا أَصْبِرُ عَنْهَا، قَالَ: “اسْتَمْتِعْ بِهَا” قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: “هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِثَابِتٍ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَهَارُونُ بْنُ رِئَابٍ أَثْبَتُ مِنْهُ وَقَدْ أَرْسَلَ الْحَدِيثَ، وَهَارُونُ ثِقَةٌ، وَحَدِيثُهُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْكَرِيمِ”

اور سنن نسائی میں ہے
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ، فَقَالَ: “غَرِّبْهَا إِنْ شِئْتَ”، قَالَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَتَّبِعَهَا نَفْسِي، قَالَ: “اسْتَمْتِعْ بِهَا” ,
عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، نے بھی اس کو ابن عباس سے منسوب کیا

اس طرح اس میں دو کا تفرد ہوا عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، کا اور عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ کا – دونوں کٹر شیعہ ہیں
اور بعض اوقات اس کو ابن عباس کی حدیث کہتے ہیں اور بعض اوقات اس کو کسی بنی ہاشم کے مجہول غلام کی حدیث کہتے ہیں
دونوں ایک ہی دور کے ہیں

منذری نے سنن ابو داود کی تعلیق میں لکھا ہے
ولم يكن النبي -صلى اللَّه عليه وسلم- يأمره بإمساكها وهي تفجُر
یہ ممکن نہیں کہ فسق و فجور ہوا ہو اور رسول الله نے اس عورت کو رکھے رہنے کا حکم کیا ہو

منذری کے بقول دارقطنی نے اس حدیث کو هذا الحديث ليس بثابت قرار دیا ہے

عبد الملك بن عبد العزيز بن جريج ابوخالدالمكي، قد تزوج نحوًا من سبعين امرأة نكاح المتعة، كان يرى الرخصة في ذلك. —— قال عبدالله بن احمد بن حَنْبَل : قال ابي: بعض هذه الأحاديث التي كان يرسلها ابن جريج احاديث موضوعة . كان ابن جريج لايبالي من أين ياخذها – يعني قوله: أخبرت ، و حدثت عن فلان .

( ميزان الاعتدال الذهبي الجزء الثالث )

اور اس پور یہ لنک بھی ملا ہے جہاں حوالے ہیں عربی میں ہے

http://kingoflinks.net/Aqydatona/12Mutaah/24Ibnjoraij.htm

جواب

ابن جریج کا متعہ کرنا محدثین نے بیان کیا ہے لیکن یہ شیعیت نہیں ہے- مکہ میں ابن عباس اس کا فتوی دیتے تھے اور ابن جریج وہاں ان کے اصحاب میں سے تھے البتہ بعد میں ابن جریج نے اس فعل سے رجوع کیا –
اس کا ذکر المسنَد الصَّحيح المُخَرّج عَلى صَحِيح مُسلم میں ہے
حدثنا محمَّد بن إسحاق الصغاني، ويحيى بن أبي طالب (1)، قالا: حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، قال: أخبرنا عبد الملك بن جريج، عن
[ص:250] عبد العزيز بن عمر أن الربيع بن سَبْرة حدثه، عن أبيه قال: “خرجنا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حتى إذا كنا بعسفان قال: استمتعوا بهذه النساء، قال: فجئت أنا وابن عمي إلى امرأة ببردين، فنظَرَتْ فإذا بُرد ابن عمي خير من بُردي وإذا أنا أشب منه. قالت: برد كبرد، قال: فتزوجتها، فاستمتعت منها على ذلك البرد أيامًا، حتى إذا كان يوم التروية قام النبي -صلى الله عليه وسلم- بين الحجر والركن، فقال: ألا إني كنت أمرتكم بهذه المتعة وإن الله قد حرمها إلى يوم القيامة، فمن كان استمتع من امرأة فلا يرجع إليها، وإن كان بقي من أجله شيء فلا يأخذ منها مما أعطاها شيئًا” (2).
قال ابن جريج يومئذ: اشهدوا أني قد رجعت عنها بعد ثمانية عشر حديثا أروي فيها, لا بأس بها.
ابن جریج نے کہا ، گواہ ہو جاؤ ، حرمت کے سلسلے میں مجھے اٹھارہ روایات ملی ہیں جن میں کوئی برائی نہیں ، میں اس بنا پر جواز والی رائے سے رجوع کر چکا ہوں

جواب

نصرانی الله کی پناہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ رب ہے – الله اپنے عرش سے آیا ایک عورت کو حمل رکھوا دیا اور پھر اس کا وجود کا حصہ عالم بشری میں پیدا ہوا
اس طرح عیسیٰ کو رب کہتے ہیں آج کل یہی نصرانی مذھب ہے
دور نبوی میں یا اس سے پہلے ایک فرقہ تھا جو کہتا تھا کہ عیسیٰ الله کا منہ بولا بیٹا تھا انسان ہی تھا لیکن یہ فرقہ نصاری کے نزدیک بدعتی تھا اور اب معدوم ہے
——–

الله کے تین ٹکڑے کرنا کہ روح القدس اور عیسیٰ اور الله – یہ کفر ہے
اور اس میں شرک بھی ہے

اس کو کہا گیا کہ انہوں نے کہا الله تو اب تین میں سے ہے

اس کی وجہ یہ ہے کہ نصرانیوں کے نزدیک یہ اصل مذھب موسی نے توریت میں نہیں بتایا تھا کہ الله تین کا ایک ہے بلکہ اس میں ایک کی رب کا ذکر ہے لیکن اپنے فلسفہ سے انہوں نے الله کی ذات کے تین حصے کیے اور کہا کہ یہ تین رب نہیں ایک ہی ہیں صرف متشکل تین طرح ہوتے ہیں
یعنی الله تو ایک ہی ہے لیکن ظہور الگ الگ ہے

آج کل نصرانییوں کی جانب سے اس کی مثال پانی سے دی جاتی ہے کہ پانی بھاپ ہے – مائع ہے اور برف بھی ہے
اسی طرح الله کے تین ظہور ہیں

الله نے اس کو کفر کہا
—–
نصرانی اپنے مذھب کا شمار
Monotheism
یا توحیدی مذھب میں کرتے ہیں – جو ان کی خود فریبی ہے
یعنی یہ بھی مانتے ہیں کہ الله کی تین شکیں یا ظہور یا تجلیات ہیں لیکن اس کو ایک ہی رب بھی کہتے ہیں
——-

نصرانی عیسیٰ کا وسیلہ نہیں لیتے ان کو ظہور یا تجلی کی ایک شکل کہتے ہیں – نصرانی پطرس کا اور اپنے اولیاء کا وسیلہ لیتے ہیں

عام مسلمان عیسیٰ کا یا رسول الله یا دیگر انبیاء کا وسیلہ لیتے ہیں اور وسیلہ لینے کو یہ نہیں مانتے کہ نصرانیوں سے یا مشرکین مکہ سے ان کی مماثلت ہوتی ہے

ہم اس کو عمل مشرکین سے مماثلت قرار دیتے ہیں


تحقیق چاہیے ۔۔
بخاری جلد اول ابواب التقصیر الصلوۃ ۔۔۔
حسین بن علی رضی سے روایت ہے کہ مجھے علی رضی نے بتایا ایک رات رسولؐ ان کے اور فاطمہؓ کے پاس تشریف لائے اور پوچھا تم دونوں نماز نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کیا ہماری جان اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے جب اٹھانا چاہتا ہے اُٹھ جاتے ہیں ۔جب ہم نے یہ کہا کہ آپ لوٹ گئے اور ہماری طرف بالکل متوجہ نہ ہوئے پھر میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ران پر ہاتھ مار کر فرما رہے تھے ۔انسان سب سے بڑا جھگڑالو ہے

جواب

صحیح بخاری میں ہے

دَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،
ح
وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي أَخِي عَبْدُ الحَمِيدِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ

أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَقَالَ لَهُمْ: «أَلاَ تُصَلُّونَ»، قَالَ عَلِيٌّ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَيَقُولُ: {وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا} [الكهف: 54] __________
حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، أَخْبَرَهُ:

أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ لَيْلَةً، فَقَالَ: «أَلاَ تُصَلِّيَانِ؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْنَا ذَلِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُوَلٍّ يَضْرِبُ فَخِذَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: {وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا} [الكهف: 54] __________

حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ،

أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ – [ص:107] عَلَيْهَا السَّلاَمُ – بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: «أَلاَ تُصَلُّونَ؟»، فَقَالَ عَلِيٌّ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعَهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ، يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَهُوَ يَقُولُ: {وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا

صحیح مسلم میں بھی ہے
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، حَدَّثَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ، فَقَالَ: «أَلَا تُصَلُّونَ؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ‍ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ، يَضْرِبُ فَخِذَهُ، وَيَقُولُ {وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا} [الكهف: 54]

=========

عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ
مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ
شُعَيْبٌ بن ابی حمزہ
صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ
وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ
وَإِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ
عَقِيلُ بْنُ خَالِدٍ
نے اس کو امام زہری سے روایت کیا ہے
————

یہ روایت امام زہری کی سند سے ہے ان کا اس میں تفرد ہے اور کئی ثقات نے ان سے روایت کیا ہے
البتہ زہری مدلس بھی ہیں
البتہ صحیح ابن حبان میں ہے کہ زہری نے کہا ان کو خبر عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ نے دی ہے
ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ
لہذا تدلیس کا مسئلہ نہیں رہا
——

اس روایت سے علی اور فاطمہ رضی الله عنھما کا نمازوں میں متساہل ہونا ثابت ہوتا ہے اور ان کا جھگڑالو ہونا بھی ثابت ہوتا ہے کیونکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان پر قرآن کی آیت ثبت کی

—–
مجھ کو یہ روایت پسند نہیں میں اس کو ثقہ کی منکر روایت کہہ کر رد کرتا ہوں اور ایسا ہے کہ محدثین نے بہت سے ثقات کی کچھ روایات کو منکر کہا ہے – لیکن انہی ثقات کی دیگر روایات کو لیا ہے –
اس روایت کی علت اہل بیت کی تنقیص ہے جو صرف امام زہری کی سند سے ہے – ایسا واقعہ خاص حسین بن علی نے خلیفہ عبد الملک کے معاون خاص امام زہری کو ہی کیوں بتایا ؟


يفة المحدث النظر في الأسانيد ، من حيث الرواة والاتصال والانقطاع ، فأما معارضة هذا المتن ذلك الآخر ، وأشباه هذا ، فليس من نظره ، بل هو من نظر الفقيه .

محدث کا کام اسانید دیکھنا ہوتا ہے رواہ ، اتصال اور منقطع ہونے کے تناظر میں اور جہاں تک متن کے اختلاف کا تعلق ہے تو یہ اسک کام نہیں بلکہ یہ کام فقیہ کا ہوتا ہے

بيان الوهم والإيهام لابن القطان

جواب

فقہ میں ایسا ہوتا ہے کہ دو روایت صحیح سند سے ہوتی ہیں لیکن فقیہ اس کو سمجھتا ہے کہ ایک ناسخ ہے اور ایک منسوخ ہے
اس تناظر میں ابن القطان کی بات کو لینا ہو گا کیونکہ کتاب ،میں یہ بحث ایک فقہی مسئلہ پر چل رہی ہے

 


ترجمہ اور تحقیق چاہیے

حدثنا أحمد بن إسرائيل قال رأيت في كتاب أحمد بن محمد بن حنبل رحمه الله بخط يده نا اسود بن عامر أبو عبد الرحمن ثنا الربيع بن منذر عن أبيه قال كان حسين بن علي يقول من دمعتا عيناه فينا دمعة أو قطرت عيناه فينا قطرة اثواه الله تعالى الجنة

حسين بن علی  نے فرمایا  کہ: جس کی آنکھیں ہمارے غم و مصیبت میں اشک سے نم ہو جائیں یا ایک اشک کا قطرہ ہمارے لیے بہائے خداوند اس کو جنت عطا کرے گا

كتاب فضائل الصحابة للإمام أحمد

معلومات بھی ملی ہیں

[6187] ع المنذر بن يعلى الثوري أَبُو يعلى الكوفي

روى عن
1- الحسن بْن مُحَمَّد بْن علي بْن الحنفية
2- والربيع بْن خيثم الثوري خ ت س ق

جواب

اہل تشیع کی کتاب مشايخ الثقات- غلام رضا عرفانيان میں ہے
الربيع بن منذر 32 / 4، لم يذكر
اس کا ذکر نہیں کیا
——
یعنی اس پر نہ جرح ہے نہ تعدیل ہے مجہول ہوا

دوسری بحث اس پر ہے کہ منذر بن یعلی کا سماع حسین رضی الله عنہ سے ہے یا نہیں
امکان لقاء کی بنیاد پر اہل تشیع کی طرف سے اس کو بیان کیا جارہا ہے جبکہ اس کا سماع حسین سے ثابت نہیں
دوم ابن حجر نے تہذیب میں یہ لکھا ہے کہ منذر ، محمد بن حنفیہ اور ربیع بن حثیم سے روایت کرتا ہے سماع کا نہیں لکھا
روایت کرنے میں اور سماع کہنے میں فرق ہے

المنذر” بن يعلى الثوري  أبو يعلى الكوفي روى عن محمد بن علي بن أبي طالب والربيع بن خيثم وسعيد بن جبير وعاصم بن ضمرة والحسن بن محمد بن علي بن أبي طالب

منذر کی روایت ابن حنفیہ اور ان کے پوتوں سے ہوئی حسین سے ثابت نہیں کیونکہ صرف یہ ایک روایت ہے جس میں منذر نے حسین سے روایت کیا ہے سماع کی تصریح نہیں ہے


جیسا کہ امام راغب اصفہانی متعہ کے جواز کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر (رض) نے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کو متعہ کو حلال ماننے کیوجہ سے عار دلایا جس پر حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) نے حضرت عبد اللہ بن زبیر (رض) کو مخاطب کر کے کہا کہ تم ذرا اپنی والدہ سے جاکر پوچھو کہ انکے اور تمہارے والد کے درمیان کیسے قرابت ہوئی چنانچہ حضرت عبد اللہ بن زبیر(رض) نے اپنی والدہ [ اسماء بنت ابو بکر] سے پوچھا تو حضرت اسماء بنت ابو بکر(رض) نے جواب میں ان سے فرمایا کہ میں نے تم کو متعہ سے ہی جنا ھے۔

محاضرات الادباء، جلد2،صفحہ ۲۳۴ طبعہ دار ارقم بیروت

http://shamela.ws/browse.php/book-9078#page-1056

جواب

مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَفْرِدُوا بِالْحَجِّ (1) ، وَدَعُوا قَوْلَ هَذَا، يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ الْعَبَّاسِ: أَلَا تَسْأَلُ أُمَّكَ، عَنْ هَذَا؟ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ: صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ، ” خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا، فَأَمَرَنَا، فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً، فَحَلَّ لَنَا الْحَلَالُ، حَتَّى سَطَعَتْ الْمَجَامِرُ بَيْنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ

طبرانی میں ہے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: أَفْرِدُوا الْحَجَّ، وَدَعُوا قَوْلَ أَعْمَاكُمْ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ الَّذِي أَعْمَى اللهُ قَلْبَهُ أَنْتَ، أَلَا تَسْأَلُ أُمَّكَ عَنْ هَذَا؟ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَتْ: صَدَقَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً فَحَلَلْنَا الْإِحْلَالَ كُلَّهُ حَتَّى سَطَعَتِ الْمَجَامِرُ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ

ابن زبیر نے کہا حج افراد کرو اس پر ابن عباس نے کہا وہ جن کے دل الله انے اندھے کیے تم ان میں سے ہو تم نے اپنی ماں سے اس پر پوچھا؟ پس ابن زبیر نے اسماء کے پاس کسی کو بھیجا کہ معلوم کرے اسماء نے کہا ابن عباس نے صحیح کہا ہم رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے ساتھ نکلے حج کے ارادہ سے پھر اس کو عمرہ کیا پس ہم پر حلال ہوا یہاں تک کہ عورتوں مردوں کے درمیان مجاَمر اٹھ گئے

دونوں کی سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے

—-
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ: إِنَّا لَبِمَكَّةَ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَنَهَى عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ النَّاسُ صَنَعُوا ذَلِكَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: وَمَا عِلْمُ ابْنِ الزُّبَيْرِ بِهَذَا، فَلْيَرْجِعْ إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَلْيَسْأَلْهَا، فَإِنْ لَمْ يَكُنِ الزُّبَيْرُ قَدْ رَجَعَ إِلَيْهَا حَلَالًا وَحَلَّتْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَسْمَاءَ فَقَالَتْ: يَغْفِرُ اللهُ لِابْنِ عَبَّاسٍ، وَاللهِ لَقَدْ أَفْحَشَ، وَاللهِ قَدْ صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ ” لَقَدْ حَلُّوا وَأَحْلَلْنَا وَأَصَابُوا النِّسَاءَ
اسحاق بن یسار نے کہا میں مکہ میں تھا ابن زبیر وہاں نکلے اور حج میں عمرہ تمتع سے منع کیا اور اس کا بھی انکار کیا کہ دور نبوی میں لوگ ایسا کرتے تھے پس اس کی خبر ابن عباس کو ہوئی انہوں نے کہا ابن زبیر کو اس کا علم نہیں ہے پس ابن زبیر اپنی ماں کے پاس جائیں ان سے اس پر سوال کریں کیونکہ زبیر اسماء کی طرف گئے اور حلال ہوا پس اس کی خبر اسماء کو ہوئی تو انہوں نے کہا الله ابن عباس کو معاف کرے الله کی قسم انہوں نے فحش کہا اور الله کی قسم ابن عباس نے صحیح کہا پس ہم اکیلے ہوئے اور ہم پر حلال ہوا اور عورتین ملیں

اس کی سند ضعیف ہے – إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ ہے الدارقطني: لا تحتج به.
دارقطنی کہتے ہیں اس سے دلیل مت لینا
——–

یہ روایتین ضعیف ہیں – کیونکہ صحیح روایات سے معلوم ہے ابن زبیر کی پیدائش ہجرت مدینہ کے چند دن بعد ہوئی اور عمرہ قضاء میں صلح حدیبیہ کے موقعہ پر حج کو عمرہ سے بدلا گیا تو یہ ممکن نہیں کہ اس وقت اگر حمل ٹھرا تو پھر ابن زبیر کی پیدائش صلح حدیبیہ کے بعد بنتی ہے

کیا یہ حدیث صحیح ہے

ثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحي بن حماد، عن أبي عوانة، عن يحيى بن سليم أبي بلج عن عمرو بن ميمون، عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنك لست نبيا وأنت خليفتي في كل مؤمن من بعدي

السنہ

امام ابن ابی عاصم

جواب

البانی نے حسن کہا ہے

میں اس کو رد کرتا ہوں کیونکہ اس میں يحيى بن سليم، أبو ابن أبي سليم، أبو بلج الفزاري ہے

يحيى بن سليم، أبو ابن أبي سليم، أبو بلج الفزاري: قال البخاري: فيه نظر، وقال أحمد: روى حديثاً منكراً، وقال الأزدي: غير ثقة
قال أحمد: روى حديثًا منكرًا. «تهذيب التهذيب» 12/ (184) .

اس کو ثقہ بھی کہا گیا ہے
قال إسحاق بن منصور عن ابن معين ومحمد بن سعد والنسائي والدارقطني: ثقة.
——
لہذا اب متن کو دیکھا جائے
أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلا أَنَّكَ لَسْتَ نَبِيًّا إِنَّهُ لا يَنْبَغِي أَنْ أَذْهَبَ إِلا وَأَنْتَ خَلِيفَتِي فِي كُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ بعدي
علی تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو موسی اور ہارون میں تھی سوائے اس کے کہ تم نبی نہیں اور یہ ہونا چاہیے کہ تم نہ جاو اور تم تو میرے خلیفہ ہو ہر مومن کے لئے میرے بعد

یہ روایت حدیث منزلتین ہے – یہ واقعہ ہے کہ جنگ تبوک پر جاتے وقت علی کو مدینہ میں رہنے کا حکم دیا گیا – علی کو یہ پسند نہیں آیا کہ ان کو وہاں عورتوں کی حفاظت کے لے رکھا جائے وہ جنگ میں جانا چاھتے تھے لہذا وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے بات کرنے مدینہ سے نکل گئے اور رسول الله مدینہ چھوڑ چکے تھے – رسول الله نے علی کو سمجایا کہ اب واپس جاو اور جو کہا گیا اس پر عمل کرو تم کو مدینہ میں عورتوں کے ساتھ اس لئے رکھا گیا ہے کہ تم جس طرح موسی طور پر گئے اور ہارون کو چھوڑ گئے اسی طرح تم کو بھی چھوڑا جا رہا ہے
اس حدیث کو وہاں صرف سعد بن ابی وقاص نے سنا اور انہوں نے ہی اس کو بعد میں روایت کیا – ابن عباس اس وقت وہاں نہیں ہوں گے کیونکہ ابن عباس ایک بچے تھے یہ عورتوں کے ساتھ مدینہ میں ہی تھے
سیرت ابن ہشام کے مطابق جنگ تبوک میں مدینہ پر محمد بْنَ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّ یا سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ کو امیر مقرر کیا گیا تھا

⇓ حدیث منزلت پر ایک نظر
http://www.islamic-belief.net/masalik/شیعیت/

رسول الله کے الفاظ کہ میرے بعد خلیفہ ہو سے مراد جنگ تبوک کا وقتی دور ہے اس سے مراد مستقبل میں بعد وفات النبی خلیفہ ہونا نہیں ہے

اور السنہ کتاب میں امام ابن ابی عاصم نے یہ حدیث بھی لکھی ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ثنا الْحَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ عَنْ سَفِينَةَ قَالَ بَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدًا فَقَالَ: “لأَبِي بَكْرٍ ضَعْ حَجَرًا إِلَى جَنْبِ حَجَرِي ثُمَّ قَالَ لِعُمَرَ ضَعْ حَجَرًا إِلَى جَنْبِ حَجَرِ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ لِعُثْمَانَ ضَعْ حَجَرَكَ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ عُمَرَ ثُمَّ قَالَ هَؤُلاءِ الْخُلَفَاءُ مِنْ بعدي”.

اس کی بھی تحقیق چاہیے

4533 – حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَوَّلُ حَجَرٍ حَمَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ حَمَلَ أَبُو بَكْرٍ حَجَرًا آخَرَ، ثُمَّ حَمَلَ عُثْمَانُ حَجَرًا آخَرَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَرَى إِلَى هَؤُلَاءِ كَيْفَ يُسَاعِدُونَكَ؟ فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ، هَؤُلَاءِ الْخُلَفَاءُ مِنْ بَعْدِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَإِنَّمَا اشْتُهِرَ بِإِسْنَادِ وَاهٍ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ فَلِذَلِكَ هُجِرَ ”

[التعليق – من تلخيص الذهبي]

المستدرك على الصحيحين للحاكم

جواب

امام بخاری نے اس روایت پر جرح کی ہے اور کہا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کسی کو مقرر نہیں کیا

البانی نے رد کیا ہے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ثنا الْحَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ عَنْ سَفِينَةَ قَالَ بَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدًا فَقَالَ: “لأَبِي بَكْرٍ ضَعْ حَجَرًا إِلَى جَنْبِ حَجَرِي ثُمَّ قَالَ لِعُمَرَ ضَعْ حَجَرًا إِلَى جَنْبِ حَجَرِ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ لِعُثْمَانَ ضَعْ حَجَرَكَ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ عُمَرَ ثُمَّ قَالَ هَؤُلاءِ الْخُلَفَاءُ مِنْ بعدي”.
1157- إسناده ضعيف علته الحشرج بن نباتة أورده البخاري في الضعفاء الصغير ص11-12 لهذا الحديث وقال:
لم يتابع عليه لأن عمر بن الخطاب وعلي بن أبي طالب قالا: لم يستخلف النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہا ابو بکر اور عمر اور عثمان ان کے بعد خلیفہ ہوں گے

سند میں يحيى بن أيوب المصري ہے
بعض نے صدوق کہا ہے لیکن النسائي نے کہا ليس بذاك القوي اور الدارقطني نے کہا في بعض حديثه اضطراب سيء الحفظ
الساجي نے کہا صدوق يهم صدوق وہمی ہے اور أحمد نے کہا يحيى بن أيوب يخطىء خطأ كثيرُا.
مستدرک الحاکم کی روایت پر الذھبی نے لکھا ہے
أحمد بن عبد الرحمن بن وهب منكر الحديث
——-
مسند الحارث میں اس کی سند الگ ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ , ثنا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ , حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ: مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” لَمَّا بَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَضَعَ حَجَرًا، ثُمَّ قَالَ: «لَيَضَعْ أَبُو بَكْرٍ حَجَرَهُ إِلَى جَنْبِ حَجَرِي» , ثُمَّ قَالَ: «لَيَضَعْ عُمَرُ حَجَرَهُ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ أَبِي بَكْرٍ» , ثُمَّ قَالَ: «لَيَضَعُ عُثْمَانُ حَجَرَهُ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ عُمَرَ» , ثُمَّ قَالَ: هَؤُلَاءِ الْخُلَفَاءُ مِنْ بَعْدِي ” حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ , ثنا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ قَالَ: وَسَمِعْتُ الْعَوَّامَ بْنَ حَوْشَبٍ قَالَ: فَذَكَرَهُ أَيْضًا
یہاں سعید بن جمھان ضعیف ہے اور حشرج بھی ضعیف ہے
اس روایت کو بخاری نے خاص رد کیا ہے
قال البخاري: لا يتابع في حديثه – يعنى وضعهم الحجارة في أساس مسجده، وقال: هؤلاء الخلفاء بعدى

عبد الكريم بن محمد بن منصور التميمي السمعاني المروزي اپنی کتاب الأنساب للسمعاني میں لکھتے ہیں کہ

وهو الّذي روى عن شريك عن عاصم عن زرّ عن عبد الله رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا رأيتم معاوية على منبري فاقتلوه.
جواب

الأنساب
المؤلف: عبد الكريم بن محمد بن منصور التميمي السمعاني المروزي، أبو سعد (المتوفى: 562هـ)

میں مکمل کلام یہ ہے

قال أبو حاتم بن حبان: عباد بن يعقوب الرواجني من أهل الكوفة، يروى عن شريك، حدثنا عنه شيوخنا، مات سنة خمسين ومائتين في شوال، وكان رافضيا داعية إلى الرفض، ومع ذلك يروى المناكير عن أقوام مشاهير فاستحق الترك، وهو الّذي روى عن شريك عن عاصم عن زرّ عن عبد الله رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا رأيتم معاوية على منبري فاقتلوه. قلت روى عنه جماعة من مشاهير الأئمة مثل أبى عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري لأنه لم يكن داعية إلى هواه، وروى عنه حديث أبى بكر رضي الله عنه أنه قال:
لا يفعل خالد ما أمر به، سألت الشريف عمر بن إبراهيم الحسيني بالكوفة عن معنى هذا الأثر فقال: كان أمر خالد بن الوليد أن يقتل عليا ثم ندم بعد ذلك فنهى عن ذلك

ابن حبان نے کہا عباد بن يعقوب ایک بد مذھب کی دعوت دیتا ہے یہی ہے جو روایت کرتا ہے کہ ماویاکو منبر پر دیکھو تو قتل کرو اور ابو بکر نے خالد کو بھیجا کہ علی کو قتل کرے

صحیح بخاری کی کتاب کتاب العقیقہ میں تشریح لکھی ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ کے نزدیک عقیقہ سنت نہیں ہے اور پھر انہوں نے لکھا کہ علماء کے نزدیک اس سے مراد سنت موکدہ نہیں ہے یعنی

وہ بدعت نہیں کہتے

جواب

عقیقہ کرنا فرض نہیں- احناف کے نزدیک منسوخ عمل ہے

⇓ نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنا عقیقہ کیا ؟

⇓ ?حسن و حسین کی پیدائش پر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیقہ کیا
http://www.islamic-belief.net/q-a/عبادت/

إمام محمد کے نزدیک یہ ایام جاہلیت میں عربوں ایک رسم تھی
قَالَ مُحَمَّدٌ: أَمَّا الْعَقِيقَةُ فَبَلَغَنَا أَنَّهَا كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَقَدْ فُعِلَتْ فِي أَوَّلِ الإِسْلامِ ثُمَّ نَسَخَ الأَضْحَى كُلَّ ذَبْحٍ كَانَ قَبْلَهُ، وَنَسَخَ صَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ كُلَّ صَوْمٍ كَانَ قَبْلَهُ، امام محمد کہتے ہیں جہاں تک عقیقہ کا تعلق ہے

تو ہم تک پہنچا ہے کہ یہ جاہلیت میں ہوتا تھا اور پھر اسلام کے شروع میں اس پر عمل تھا پھر قربانی نے اس کو منسوخ کر دیا اور رمضان کے روزوں نے پچھلے تمام روزوں کو منسوخ کیا

امام مالک موطآ میں کہتے ہیں
قَالَ مَالِكٌ: ” الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْعَقِيقَةِ أَنَّ: مَنْ عَقَّ فَإِنَّمَا يَعُقُّ عَنْ وَلَدِهِ بِشَاةٍ شَاةٍ الذُّكُورِ وَالْإِنَاثِ، وَلَيْسَتِ الْعَقِيقَةُ بِوَاجِبَةٍ، وَلَكِنَّهَا يُسْتَحَبُّ الْعَمَلُ بِهَا، وَهِيَ مِنَ الْأَمْرِ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ النَّاسُ عِنْدَنَا، فَمَنْ عَقَّ عَنْ وَلَدِهِ،

فَإِنَّمَا هِيَ بِمَنْزِلَةِ النُّسُكِ وَالضَّحَايَا لَا يَجُوزُ فِيهَا عَوْرَاءُ وَلَا عَجْفَاءُ، وَلَا مَكْسُورَةٌ وَلَا مَرِيضَةٌ، وَلَا يُبَاعُ مِنْ لَحْمِهَا شَيْءٌ، وَلَا جِلْدُهَا وَيُكْسَرُ عِظَامُهَا، وَيَأْكُلُ أَهْلُهَا مِنْ لَحْمِهَا، وَيَتَصَدَّقُونَ مِنْهَا، وَلَا يُمَسُّ الصَّبِيُّ بِشَيْءٍ

مِنْ دَمِهَا ”
ہمارے نزدیک عقیقہ واجب نہیں ہے بلکہ اس پر عمل ہے اور لوگ اس کو کرتے ہیں

امام محمد کے نزدیک منسوخ عمل ہے اور اس پر عمل ضروری نہیں اور یہی بات امام مالک نے کہی ہے کہ عمل مستحب ہے ضروری نہیں ہے

امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک یہ عمل منسوخ ہے اگر اس پر عمل کیا تو بدعت ہو گی کیونکہ یہ صحیح حدیث سے ثابت نہیں
امام مالک کے نزدیک اگرچہ ایام جاہلیت میں اس کو کیا گیا اب مستحب ہے

امام محمد جو امام ابو حنیفہ کے شاگرد ہیں وہ اس کو منسوخ کہہ رہے ہیں تو سنت کیسے ہوئی؟ یہ تو متاخرین احناف کا قول ہو گا جنہوں نے موکدہ اور غیر موکدہ کے الفاظ ایجاد کیے ہیں

⇑ عقيقة سے متعلق صحیح بخاری کی روایت ضعیف ہے
http://www.islamic-belief.net/q-a/بدعات/

میری رائے یہ ہے کہ عقیقہ بدعت ہے – اہل جاہلیت کا عمل تھا اس کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نہیں کیا نہ کسی حدیث میں ہے کہ اپنے بیٹے ابراہیم بن محمد کا عقیقہ کیا ہو

جواب

شیطان کی بغاوت سے قبل کی زندگی پر صحیح احادیث میں خبر نہیں ملی
قرآن سوره كهف أية ٥٠ میں ہے یہ جنوں میں سے ہے
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلائِكَةِ اسْجُدُوا لآدَمَ فَسَجَدُوا إِلا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ

وہ فرشتوں کا سردار نہیں تھا- الله نے مخلوق میں سب سے افضل فرشتوں کو حکم کیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں – لہذا یہ حکم اعلی سے ادنی کی طرف منتقل ہوا
فرشتوں اور ان سے درجات میں کم مخلوقات سب پر سجدہ اس وقت فرض ہو گیا

میری تفسیری رائے میں ابلیس جنات میں سے تھا لیکن اپنے درجات کی بنا پر اس کا گمان ہوا کہ اس کو خلیفہ ارض مقرر کیا جائے گا
جب اس نے دیکھا یہ درجہ آدم کو دیا گیا تو وہ حسد میں آیا اور اس نے یہ سب کلام کیا جو قرآن میں ہے

ابن حجر نے “الفتح الباری ” میں ذکر کیا : ( روى الطبري وابن أبي الدنيا عن ابن عباس قال: كان اسم إبليس حيث كان مع الملائكة عزازيل، ثم إبليس بعد.
طبری اور ابن ابی الدنیا کی کتب میں نام عزازيل بیان ہوا ہے

Sahih Bukhari Hadees # 5781

وَزَادَ اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَسَأَلْتُهُ هَلْ نَتَوَضَّأُ أَوْ نَشْرَبُ أَلْبَانَ الْأُتُنِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مَرَارَةَ السَّبُعِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَبْوَالَ الْإِبِلِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدْ كَانَ الْمُسْلِمُونَ يَتَدَاوَوْنَ بِهَا فَلَا يَرَوْنَ بِذَلِكَ بَأْسًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا أَلْبَانُ الْأُتُنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ بَلَغَنَا

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُحُومِهَا وَلَمْ يَبْلُغْنَا عَنْ أَلْبَانِهَا، ‏‏‏‏‏‏أَمْرٌ وَلَا نَهْيٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا مَرَارَةُ السَّبُعِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ

وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ.

میں نے ابوادریس سے پوچھا کیا ہم ( دوا کے طور پر ) گدھی کے دودھ سے وضو کر سکتے ہیں یا اسے پی سکتے ہیں یا درندہ جانوروں کے پتِے استعمال کر سکتے ہیں یا اونٹ کا پیشاب پی سکتے

ہیں۔ ابوادریس نے کہا کہ مسلمان اونٹ کے پیشاب کو دوا کے طور پر استعمال کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ البتہ گدھی کے دودھ کے بارے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گوشت سے منع فرمایا تھا۔ اس کے دودھ کے متعلق ہمیں کوئی حکم یا ممانعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم

نہیں ہے۔ البتہ درندوں کے پتِے کے متعلق جو ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے ابوادریس خولانی نے خبر دی اور انہیں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے ہر دانت والے شکاری درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔
تحقیق چاہئے

جواب

امام زہری نے أَبِي إِدْرِيسَ الخَوْلاَنِيِّ کے الفاظ نقل کیے
یہ تبصرہ ہے جو تابعین اپنے دور کے معاشرہ پر کر رہے ہیں ان میں سے بعض دوا کے طور پر اونٹ کا پیشاب پیتے تھے
اور گدھی کا بھی ان کے نزدیک ممکن ہے کیونکہ اس میں ممانعت نہیں آئی
——-

یہ تبصرہ ہے اور یہ اس دور کی دوا ہے
اس کے خلاف بھی ملتا ہے کتاب الآثار از امام یوسف نے ہے
عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: «إِنْ كَانَ يَكْرَهُ أَبْوَالَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ
ابراہیم النخعی کراہت کرتے کہ اونٹ یا گائے کا پیشاب پیا جائے
——–
مسند احمد میں ابن عباس کا قول ہے
حَدَّثَنَا حَسَنٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ [ص:416]، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي أَبْوَالِ الْإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا شِفَاءً لِلذَّرِبَةِ بُطُونُهُمْ»
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ کے پیشاب اور دودھ میں شفا ہے
سند میں مصری ابْنُ لَهِيعَةَ ضعیف ہے
——
مکہ میں ابن عباس کے شاگرد طاؤس پیشاب پیتے تھے
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، أَنَّ أَبَاهُ، «كَانَ يَشْرَبُ أَبْوَالَ الْإِبِلِ وَيَتَدَاوَى بِهَا»
لیکن محمد ابن سیرین سے جب پوچھا گیا تو بولے مجھے کیا پتا یہ کیا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: كَانَ مُحَمَّدٌ: يُسْأَلُ عَنْ شُرْبِ أَبْوَالِ الْإِبِلِ فَيَقُولُ: «لَا أَدْرِي مَا هَذَا؟»
——

معلوم ہوا کہ امام بخاری اونٹ کا پیشاب پینا صحیح سمجھتے تھے اور اس دور میں مکہ مصر شام میں لوگ اس کو پینا بیان کرتے تھے لیکن فقہائے عراق رد کرتے
میرے نزدیک احناف نے اس کو رد کیا ہے کیونکہ اس پر صحیح سند سے روایت نہیں ملی
مزید دیکھیں

⇓ احادیث میں ذکر ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا؟
http://www.islamic-belief.net/q-a/علم-الحدیث/

جواب

یہود کا اس پر اختلاف ہے – آج کل جمہور یہود کا کہنا ہے کہ ہیکل سلیمانی سے مراد موجودہ مسجد الاقصی ہے اور دیوار گریہ اس کی ان کے نزدیک بچ جانے والی دیوار ہے

میرے نزدیک اصل مسجد الاقصی معدوم ہے ان کا مقام معلوم نہیں ہے – دیوار گریہ اصل مسجد الاقصی کا حصہ نہیں رومن فوجی قلعہ یا چھاونی کی دیوار ہے – یہود نے اس دیوار پر دیکھا کہ

مسلمانوں نے مسجد بنا دی ہے تو انہوں نے بھی اس پر دعوی کر دیا اور وہاں ان کو دیوار پر بائبل کی کتاب یسعیاہ کی آیات لکھی ملی جو کب لکھی گئی کچھ معلوم نہیں
لیکن آیات بتاتی ہیں کہ یہ پتھر کسی مقبرہ کا تھا جو اس دیوار پر لگا ہے
یہود کے نزدیک مسجد کا مقام مقبرہ پر نہیں ہو سکتا

http://www.islamic-belief.net/حشر-دوم-سے-عبد-الملک-تک/

خدا ایسوں کی بھی سنتا ہے:صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ فرعون کے پاس کچھ لوگ آئے اور کہا کہ بارش نہیں ہو رہی ہے اور دریائے نیل بند ہے، آپ جاری کرا دیجئے، اس لیے کہ آپ کو ہم

نے معبود بنایا ہے۔ اس نے کہا اچھی بات ہے، دریا کل جاری ہو جائے گا رات کے وقت اٹھاتاج شاہی پہنااور پہنچا ’’نیل‘‘ میں یا ’’قلزم‘‘ میں۔ دریا خشک تھا، تاج زمین پر رکھا اور مٹی لی، سر

پر ڈالی ،اس نے کہا اے احکم الحاکمین! اے رب العالمین! میں جانتا ہوں کہ آپ ہی مالک ہیں.
آپ ہی سب کچھ ہیں، میں نے ایک دعویٰ کیا اور وہ بھی غلط، آج تک آپ نے اس دعوے کو نبھایا اور ظاہر کے اعتبار سے مجھے ویسا ہی رکھا، میں آپ سے دعا کرتا ہوں کہ آج بھی میری بات رہ

جائے، خوب گڑگڑا کر دعا کی، وہ خدا ایسوں کی بھی سنتا ہے۔ بہرحال فرعون نے رو کر گڑگڑا کر عاجزی اور انکساری کے ساتھ دعا مانگی۔ دعا کا مانگنا تھا کہ پانی آنا شروع ہوا، سرسراہٹ

محسوس ہوئی، فوراً تاج لیا اور چلا آیا اور دریائے نیل جاری ہو گیا۔

جواب

یہ روایت اصل میں تفسیر ابن ابی حاتم کی ہے
حَدَّثَنَا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ثنا بِشْرٌ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَخَذَ اللَّهُ آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِينَ يَبِسَ كُلُّ شَجَرٍ لَهُمْ وَذَهَبَتْ مَوَاشِيهِمْ حَتَّى يَبِسَ نِيلُ مِصْرَ وَاجْتَمَعُوا إِلَى

فِرْعَوْنَ فَقَالُوا لَهُ: إِنْ كُنْتَ تَزْعُمُ كَمَا تَزْعُمُ فَآتِينَا فِي نِيلِ مِصْرَ بِمَاءٍ قَالَ: غُدْوَةً يُصَبِّحُكُمُ الْمَاءُ، فَلَمَّا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ قَالَ: أَيُّ شَيْءٍ صَنَعْتُ، أَنَا أَقْدِرُ عَلَى أَنْ أُجْرِيَ فِي نِيلِ مِصْرَ مَاءً غُدْوَةٌ أُصْبِحُ فَيُكَذِّبُونِي، فَلَمَّا كَانَ

فِي جَوْفِ اللَّيْلِ قَامَ وَاغْتَسَلَ وَلَبِسَ مِدْرَعَةَ صُوفٍ، ثُمَّ خَرَجَ مَاشِيًا حَتَّى أَتَى نِيلَ مِصْرَ، فَقَامَ فِي بَطْنِهِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَمْلأَ نِيلَ مِصْرَ مَاءً فَامْلأْهُ مَاءً، فَمَا عَلِمَ إِلا بِجَرِيرِ الْمَاءِ يُقْبِلُ،

فَخَرَجَ يَحْفِزُ وَأَقْبَلَ النِّيلُ يَزُخُّ بِالْمَاءِ لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ بِهِمْ مِنَ الْهَلَكَةِ.

اس کی سند میں الضحاك بن مزاحم الهلالي صاحب التفسير ہے جو ابن عباس سے روایت کر رہا ہے
كان شعبة ينكر أن يكون لقي بن عباس
امام شعبہ اس کا انکار کرتے کہ یہ کبھی ابن عباس سے ملا تھا

وقال أبو زرعة الضحاك … ولم يسمع من بن عمر شيئا ولا من بن عباس
أبو زرعة کہتے الضحاك نے ابن عباس سے کچھ نہیں سنا

قران کے مختلف جگہوں میں اللہ پاک فرماتا ہے کہ تمام انبیاء کا شریعت ایک ہی تھا اور تمام انبیاء کے شریعت میں قانون اور طریقہ ایک ہی تھا کسی بھی شریعت میں بھائی اور بہن کا نکاح جائیز نہیں

تھا۔ سورة الفتح ایت نمبر 23 میں اللہ پاک فرماتا ہے:

سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلُ ۚ ۖ وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ۔

اللہ کے اس قاعدے کے مطابق جو پہلے چلا آیا ہے تو کبھی بھی اللہ کے قاعدے کو بدلتا ہوا نہ پائے گا۔

سورة احزاب ایت نمبر 62 میں اللہ پاک فرماتا ہے:

سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ۚ وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ۔

ان سے اگلوں میں بھی اللہ کا یہی دستور جاری رہا۔ اور تو اللہ کے دستور میں ہرگز رد و بدل نہ پائے گا۔

سورة بنی اسرائیل ایت نمبر 77 میں اللہ پاک فرماتا ہے:

سُنَّۃَ مَنۡ قَدۡ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ مِنۡ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحۡوِیۡلًا ۔

ایسا ہی دستور ان کا تھا جو آپ سے پہلے رسول ہم نے بھیجے اور آپ ہمارے دستور میں کبھی ردو بدل نہ پائیں گے۔

سنة کا مطلب ہوتا ہے دستور، ائین، طریقہ یا قانون۔
ان تمام ایتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پرانے لوگوں کا شریعت اور ہمارا شریعت ایک ہی تھا اور اخری ایت میں اللہ پاک نے تمام انبیاء کا زکر کیا کہ اے پیغمبر تم سے پہلے تمام انبیاء کو میں نے یہی

قانون اور طریقہ دیا تھا جو اپ کو دیا ہے۔ اب اگر ہم یہ کہتے ہے کہ ادم نے اپنے بیٹوں کا نکاح اپنے بیٹیوں سے کرایا تھا تو یہ قران پاک اور اللہ پاک پر بہتان عظیم ہے

جواب

ان آیات کا سیاق و سباق ہے
سورة الفتح ایت نمبر 23 میں اللہ پاک فرماتا ہے:

سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلُ ۚ ۖ وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ۔

اللہ کے اس قاعدے کے مطابق جو پہلے چلا آیا ہے تو کبھی بھی اللہ کے قاعدے کو بدلتا ہوا نہ پائے گا۔

سورة احزاب ایت نمبر 62 میں اللہ پاک فرماتا ہے:

سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ۚ وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ۔

ان سے اگلوں میں بھی اللہ کا یہی دستور جاری رہا۔ اور تو اللہ کے دستور میں ہرگز رد و بدل نہ پائے گا۔

سورة بنی اسرائیل ایت نمبر 77 میں اللہ پاک فرماتا ہے:

سُنَّۃَ مَنۡ قَدۡ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ مِنۡ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحۡوِیۡلًا ۔

ایسا ہی دستور ان کا تھا جو آپ سے پہلے رسول ہم نے بھیجے اور آپ ہمارے دستور میں کبھی ردو بدل نہ پائیں گے۔

سنة کا مطلب ہوتا ہے دستور، ائین، طریقہ یا قانون۔

ان تمام میں الله کا انبیاء کی قوموں کے ساتھ سنت کا ذکر ہے کہ اگر وہ ایمان نہ لائیں تو ان کو ختم کر دیا جاتا ہے
———–

قرآن میں آدم علیہ السلام کا بشر اول کے طور پر ذکر ہے اور یہ بھی ان کو مٹی سے خلق کیا گیا اور ان کو جنت میں رکھا گیا اور وہاں سے ہبوط ہوا

میں اسی پر ایمان رکھتا ہوں اس سے الگ مجھ کو کچھ اور معلوم نہیں

جواب

صحیح بخاری

حدیث
٥٥
٧٦٩
٩٦٤
٩٨٩
١٣٨٢
١٦٧٤
١٨٨٤
٢٣٩٨
٢٤٧٤
٢٧٢٧
٣٢١٣
٣٢٥٥
٣٢٨٢
٣٧٨٣
٤٠٥٠
٤١٢٣
٤٢٢١
٤٢٢٣
٤٤١٤
٥٣٥١
٥٣٩٧
٥٥١٦
٥٨٨١
٦٠٤٨
٦١١٥
٦١٥٣
٦١٩٥
٧٥٤٦


کیا یہ حدیث صحیح ہے

صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ حِفْظِ العِلْمِ) صحیح بخاری: کتاب: علم کے بیان میں

(باب: علم کو محفوظ رکھنے کے بیان میں)

120

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ: فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ، وَأَمَّا الآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا البُلْعُومُ

حکم : صحیح 120

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ان کے بھائی ( عبدالحمید ) نے ابن ابی ذئب سے نقل کیا۔ وہ سعید المقبری سے روایت کرتے ہیں، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ فرماتے ہیں کہ میں

نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( علم کے ) دو برتن یاد کر لیے ہیں، ایک کو میں نے پھیلا دیا ہے اور دوسرا برتن اگر میں پھیلاؤں تو میرا یہ نرخرا کاٹ دیا جائے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے

فرمایا کہ بلعوم سے مراد وہ نرخرا ہے جس سے کھانا اترتا ہے۔

جواب
یہ روایت ایک ہی سند سے اتی ہے

عَنْ ابْنِ أبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ, فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ.

میرے نزدیک صحیح نہیں

اول اس میں ابْنِ أبِي ذِئْبٍ، ہے جو مدلس ہے اس کا عنعنہ ہے – اس روایت کی تمام اسناد میں
دوم سعید المقبری ہے جو آخری عمر میں مختلط تھا اور اس دور میں اس کی محدثین کہتے ہیں وہی روایت صحیح ہے جو لیث کے طرق سے ہوں
میرے نزدیک وہ بھی صحیح نہیں ہیں ان میں بھی گربڑ ہے
——-
لہذا یہ متن مشکوک ہے کہ ابو ہریرہ نے کہا ہو- ابو ہریرہ رضی الله عنہ کو تو روایات سنانے کا اتنا شوق تھا کہ ایک حدیث میں ہے کہ عائشہ رضی الله عنہا نے کہا کہ گویا لسٹ بنا دی روایات کی-

اور پھر امام مسلم کہتے ہیں کعب الاحبار کے اقوال ملا دیے –
تو جس شخص کو روایت سنانے کا شوق اس قدر ہو میرے نزدیک وہ کچھ چھپا نہیں سکتا

جواب

عبدالله بن أبي بن سلول المتوفی سن ٩ ہجری کی وفات ہوئی – ظاہر ہے اس میں جو مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھتا اور رہتا اس کو اصحاب محمد کہا جاتا تھا اور ان سب کی تدفین بقیع الغرقد میں ہوتی

تھی
اس کے بعد اس کا بیٹا آیا اور رسول اللہ اس کی قبر پر گئے اس کو نکالا گیا اس کو قمیص پہنائی اور اپنا لعاب دھن اس پر ڈالا اس کی نماز پڑھی
صحیح بخاری میں ہے
قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمْ يَمْكُثْ إِلَّا يَسِيرًا، حَتَّى نَزَلَتِ الآيَتَانِ مِنْ بَرَاءَةٌ: {وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا} [التوبة: 84] إِلَى قَوْلِهِ {وَهُمْ فَاسِقُونَ} [التوبة: 84] قَالَ: فَعَجِبْتُ

بَعْدُ مِنْ جُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عبد الله کی نماز پڑھی پھر وہاں سے چلے تو تھوڑی ہی دیر میں سورہ توبہ کی آیات نازل ہوئیں
وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا

1

https://archive.org/details/MeezanUlAitedalJild1

میزان الاعتدال : جلد 2

https://archive.org/details/MeezanUlAitedalJild2

میزان الاعتدال : جلد 3

https://archive.org/details/MeezanUlAitedalJild3

میزان الاعتدال : جلد 4

https://archive.org/details/MeezanUlAitedalJild4

میزان الاعتدال : جلد 5

https://archive.org/details/MeezanUlAitedalJild5

میزان الاعتدال : جلد 6

https://archive.org/details/MeezanUlAitedalJild6

میزان الاعتدال : جلد 7

https://archive.org/details/MeezanUlAitedalJild7

میزان الاعتدال : جلد 8

https://archive.org/details/MeezanUlAitedalJild8
ایک دیوبندی عالم نے امام ذھبی کی کتاب میزان الاعتدال کا اردو ترجمہ کیا ہے – پلیز آپ اس کو نظر میں رکھیں اور یہ بتا دیں کہ اس کا جو ترجمہ کیا گیا وہ صحیح ہے
جواب

بھائی ایک کتاب پر میں کیسے فیصلہ دے سکتا ہوں – یہ تو کئی سالوں تک اس کو پڑھوں اور عربی متن کو دکھوں
پھر کہیں جا کر کوئی بات کر سکوں گا
لہذا یہ میرے لئے ممکن نہیں ہے

صحیح مسلم کی سند ہے

حَدَّثَني أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، مَوْلَى الْحُرَقَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “جُزُّوا

الشَّوَارِبَ، وَأَرْخُوا اللِّحَى خَالِفُوا الْمَجُوسَ” ,
(م) 55 – (260)

العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب الحُرَقِي۔عن ابن معين؛ إنما هو توثيق العلاء؛ وليس تضعيفه !. فقد قال -كما في “تاريخ الدارمي” (1/ 173)-: «ليس به بأس۔
دوسری اہم بات تعدیل کے مقابلہ میں جرح مبہم ویسے ہی مقبول نہیں
ابن عمر کا عمل خاص حج سے متعلق ہے۔ دوسرے ایک صحابی کا فعل ہے وہ صحیح حدیث کے مقابلہ پر حجت نہیں ہے

جواب

مجوس مخالفت بولنے میں العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب الحُرَقِي کا تفرد ہے ابن معين کہتے ہیں : ليس حديثه بحجة یہ حجت نہیں ہے

ابن معين کہتے ہیں : ليس حديثه بحجة

وَقَالَ ابْنُ مَعِيْنٍ: لَيْسَ حَدِيْثُهُ بِحُجَّةٍ.
وَقَالَ مَرَّةً: لَيْسَ بِالقَوِيِّ.
سير أعلام النبلاء
المؤلف : شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى : 748هـ)

وَقَال أَبُو بكر بْن أَبي خيثمة (3) ، عَن يحيى بن مَعِين: ليس بذا، لم يزل الناس يتوقون حديثه.
وَقَال عَباس الدُّورِيُّ (4) ، عَن يحيى بْن مَعِين: ليس حديثه بحجة
تهذيب الكمال في أسماء الرجال از المزی
تاريخ الدارمي” (1/ 173)-: «ليس به بأس۔

تاریخ الدارمی میں ہے
وَقَال الدارمي: وسألته (يعني يحيى بن مَعِين) عَنِ العلاء بْن عَبْد الرَّحْمَنِ، عَن أَبِيهِ، كيف حديثهما؟ فَقَالَ: ليس به بأس. قلت: هُوَ أحب إليك، أو سَعِيد المقبري؟ فقال: سَعِيد أوثق، والعلاء ضعيف. (تاريخه

الترجمتان 623، 624)
العلاء بْن عَبْد الرَّحْمَنِ، لیس نہ باس کے باوجود ضعیف ہے
وَقَال عَبد اللَّهِ بْن أَحْمَد: سمعت يَحْيَى بْن مَعِين وسئل عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فقال: مضطرب الحديث ليس حديثه بحجة (ضعفاء العقيلي، الورقة 164) .
ابن معین نے مضطرب الحدیث بھی کہا ہے

کہا گیا دوسری اہم بات تعدیل کے مقابلہ میں جرح مبہم ویسے ہی مقبول نہیں – یہ اصول متاخرین سخاوی کا ہے متقدمین میں معروف نہیں ہے اس پر کوئی اجماع نہیں

صحيح البخاري: كِتَابُ اللِّبَاسِ (بَابُ تَقْلِيمِ الأَظْفَارِ) صحیح بخاری: کتاب: لباس کے بیان میں

(باب: ناخن ترشوانے کا بیان)

5892

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَالِفُوا المُشْرِكِينَ: وَفِّرُوا اللِّحَى، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ: «إِذَا حَجَّ

أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ»

ہم سے محمد بن منہال نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے ، انہوں نے کہا ہم سے عمر بن محمد بن زید نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ

عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مشرکین کے خلاف کرو ، داڑھی چھوڑدو اور مونچھیں کترواؤ ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی (

ہاتھ سے ) پکڑ لیتے اور ( مٹھی ) سے جو بال زیادہ ہوتے انہیں کتروا دیتے ۔

کہا گیا
۔ اول تو یہ خاص حج سے متعلق ہے۔ دوسرے ایک صحابی کا فعل ہے وہ صحیح حدیث کے مقابلہ پر حجت نہیں ہے لہٰذا صحیح یہی ہو اکہ داڑھی کے بال نہ کٹوائے جائیں ۔

راقم کہتا ہے صحابی کے عمل سے حدیث کی شرح ہوئی ہے اور عمل صحابہ کیا حجت نہیں رہا؟ رفع الیدین پر تو حجت ہے جبکہ کسی حدیث میں قولی حکم نہیں ملتا کہ رفع الیدین کرو – یہ تضاد

کیوں ہے

مجوس سے جزیہ لیا گیا ہے – اس طرح ان کو اہل کتاب میں شمار کیا گیا – قرآن کا حکم جزیہ کا مشرکین کے لئے نہیں ہے
اہل کتاب تو داڑھیاں رکھتے تھے چاہے یہود ہوں یا نصرانی- کیا ابو ہریرہ کے ایمان لانے کے بعد ان کو داڑھی کا کوئی حکم دیا گیا ؟ یا اسی طرح کسی بھی اہل کتاب صحابی کے لئے ملتا کہ اس کو

داڑھی کا حکم دیا گیا ہو کیونکہ سب کی داڑھیاں پہلے سے تھیں

صحيح مسلم: كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِؓ (بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍؓ) صحیح مسلم: کتاب: صحابہ کرامؓ کے فضائل ومناقب (باب: حضرت ابو سفیان صخر بن حرب ؓ کے فضائل)

6409

حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ لَا يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ وَلَا

يُقَاعِدُونَهُ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا نَبِيَّ اللهِ ثَلَاثٌ أَعْطِنِيهِنَّ، قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: عِنْدِي أَحْسَنُ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُهُ، أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، أُزَوِّجُكَهَا، قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: وَمُعَاوِيَةُ، تَجْعَلُهُ كَاتِبًا بَيْنَ يَدَيْكَ، قَالَ:

«نَعَمْ» قَالَ: وَتُؤَمِّرُنِي حَتَّى أُقَاتِلَ الْكُفَّارَ، كَمَا كُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ: وَلَوْلَا أَنَّهُ طَلَبَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَاهُ ذَلِكَ، لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا قَالَ: «نَعَمْ»

حکم : صحیح 6409

عکرمہ نے کہا: ہمیں ابو زمیل نے حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: مسلمان نہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بات

کرتے تھے نہ ان کے ساتھ بیٹھتے اٹھتے تھے۔اس پر انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ مجھے تین چیزیں عطا فر ما دیجیے ۔(تین چیزوں کے

بارے میں میری درخواست قبول فرما لیجیے ۔)آپ نے جواب دیا :” ہاں ۔”کہا میری بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عرب کی سب سے زیادہ حسین و جمیل خاتون ہے میں اسے آپ کی زوجیت میں

دیتا ہوں۔آپ نے فر مایا :”ہاں ۔”کہا: اور معاویہ (میرابیٹا ) آپ اسے اپنے پاس حاضر رہنے والا کا تب بنا دیجیے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :” ہاں۔ “پھر کہا: آپ مجھے کسی دستے کا

امیر (بھی ) مقرر فرمائیں تا کہ جس طرح میں مسلمانوں کے خلاف لڑتا تھا اسی طرح کافروں کے خلا ف بھی جنگ کروں ۔آپ نے فرمایا :”ہاں۔”ابو زمیل نے کہا: اگر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ

علیہ وسلم سے ان باتوں کا مطالبہ نہ کیا ہو تا تو آپ (از خود ) انھیں یہ سب کچھ عطا نہ فر ما تے کیونکہ آپ سے کبھی کو ئی چیز نہیں مانگی جا تی تھی مگر آپ (اس کے جواب میں) “ہاں” کہتے

تھے۔

جواب

اس روایت کو اہل سنت کے قدماء علماء عرصہ ہوا رد کر چکے

اس کو موضوع- منکر قرار دیا گیا ہے
البانی نے مختصر صحیح مسلم میں لکھا ہے

هذا من الأحاديث المشهورة بالإشكال، لاتفاقهم أن أبا سفيان إنما أسلم يوم فتح مكة، وأنه صلى الله عليه وسلم دخل على أم حبيبة قبل إسلام أبي سفيان، ولذلك ذهب ابن حزم إلى أن الحديث موضوع، واتهم به

عكرمة بن عمار روايه عن أبي زميل، وأنكر ذلك عليه الحافظ عبد الغني المقدسي في “أفراد مسلم” (11 /، 1/ 70) وبالغ في الشناعة عليه، وأجاب عن الشبهة بأن أبا سفيان لما أسلم أراد بقوله “أزوجكها”

تجديد النكاح … ! وذكر في الشرح عن ابن الصلاح نحوه، ثم ختم الشارح البحث بقوله: “قلت: وكل هذه الاحتمالات لا تخلو عن بعد، فالإشكال باق، والرواية غير خالية من الغلط والخلط في سياق. والله أعلم”.

وأقول: إن عكرمة بن عمار وإن كان غير متهم في نفسه، فإنه ليس بالحافظ فقد اختلفوا فيه، فأورده الذهبي في “الضعفاء” وقال: “وثقه ابن معين، وضعفه أحمد”. وقال الحافظ في “التقريب”: “صدوق يغلط،

وفي رواية عن يحيى بن أبي كثير اضطراب، ولم يكن له كتاب”. قلت: فمثله: لا يستحق هذا التكلف من تأويل حديثه للإبقاء عليه. وقد ذكر الذهبي في “الميزان” أنه حديث منكر.
———

بہیقی نے سنن الکبری میں اس روایت پر لکھا ہے اس میں راوی ہے جو امام بخاری کے نزدیک متروک ہے لیکن امام مسلم نے اس سے روایت لکھی ہے
وَتَرَكَهُ الْبُخَارِيُّ، وَكَانَ لَا يَحْتَجُّ فِي كِتَابِهِ الصَّحِيحِ بِعِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ
بیہقی نے مزید لکھا ہے
وَهَذَا الْحَدِيثُ فِي قِصَّةِ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْمَغَازِي عَلَى خِلَافِهِ، فَإِنَّهُمْ لَمْ يَخْتَلِفُوا فِي أَنَّ تَزْوِيجَ أُمَّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَانَ قَبْلَ رُجُوعِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابِهِ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَإِنَّمَا

رَجَعُوا زَمَنَ خَيْبَرَ، فَتَزْوِيجُ أُمِّ حَبِيبَةَ كَانَ قَبْلَهُ وَإِسْلَامُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ كَانَ زَمَنَ الْفَتْحِ أَيْ فَتْحِ مَكَّةَ بَعْدَ نِكَاحِهَا بِسَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ، فَكَيْفَ يَصِحُّ أَنْ يَكُونَ تَزْوِيجُهَا بِمَسْأَلَتِهِ، وَإِنْ كَانَتْ مَسْأَلَتُهُ الْأُولَى إِيَّاهُ وَقَعَتْ فِي

بَعْضِ خَرَجَاتِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَهُوَ كَافِرٌ حِينَ سَمِعَ نَعْيَ زَوْجِ أُمِّ حَبِيبَةَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَالْمَسْأَلَةُ الثَّانِيَةُ [ص:227] وَالثَّالِثَةُ وَقَعَتَا بَعْدَ إِسْلَامِهِ لَا يَحْتَمِلُ إِنْ كَانَ الْحَدِيثُ مَحْفُوظًا إِلَّا ذَلِكَ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ

اہل مغازی کا اس حدیث کے خلاف اجماع ہے – قرآن میں سورہ الاحزاب میں اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید نکاح کرنے سے منع فرمادیا تھا اور سورہ الاحزاب 7 ہجری میں نازل ہوئی تو پھر

نبی صلی اللہ علیہ وسلم 8 ہجری میں ام حبیبہ رض سے نکاح کیسے فرماسکتے ہیں – حکم قرآنی پرنبی کریم کاعمل بھی رہا۔اوراحزاب کی اس ممانعت کے بعدنکاح کا وقوع کیسے سمجھ آسکتا؟

سورہ الاحزاب آیت نمبر 52

لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعۡدُ وَ لَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَکَ حُسۡنُہُنَّ اِلَّا مَا مَلَکَتۡ یَمِیۡنُکَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ رَّقِیۡبًا ﴿٪۵۲﴾

ترجمہ

اس کے بعد دوسری عورتیں تمہارے لیے حلال نہیں ہیں، اور نہ یہ جائز ہے کہ تم ان کے بدلے کوئی دوسری بیویاں لے آؤ، چاہے ان کی خوبی تمہیں پسند آئی ہو۔ (٤٣) البتہ جو کنیزیں تمہاری

ملکیت میں ہوں (وہ تمہارے لیے حلال ہیں) اور اللہ ہر چیز کی پوری نگرانی کرنے والا ہے۔”

مورخین کا کہنا ہے سن ٦ ہجری میں ام حبیبہ رضی الله عنہا سے نکاح ہوا اور اس وقت تک یہ آیات نازل ہو چکی تھیں
اسی بنیاد پر صحیح بخاری کی ایک روایت کو میں نے رد کیا ہے

⇓ کیا رسول الله نے أميمة بنت النعمان نام کی کسی عورت سے شادی کی اور طلاق دی ؟
http://www.islamic-belief.net/q-a/تاریخ-٢/

صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ (بَابُ الدُّعَاءِ بِالْجِهَادِ وَالشَّهَادَةِ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ) صحیح بخاری: کتاب: جہاد کا بیان

(باب : جہاد اور شہادت کے لئے مرد اور عورت دونوں کا دعاکرنا)

2788

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ –

وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ – فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطْعَمَتْهُ وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَمَا يُضْحِكُكَ يَا

رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا البَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ، أَوْ: مِثْلَ المُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ ، شَكَّ إِسْحَاقُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهمْ، فَدَعَا

لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ» – كَمَا قَالَ فِي الأَوَّلِ – قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا

رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ»، فَرَكِبَتِ البَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ البَحْرِ، فَهَلَكَتْ

حکم : صحیح 2788

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا امام مالک سے‘ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا‘ آپ بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم ام حرام رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے ( یہ انس کی خالہ تھیں جو عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں ) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو انہوں نے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے جوئیں نکالنے لگیں‘ اس عرصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے‘ جب بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ

علیہ وسلم مسکرا رہے تھے ۔ ام حرام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے

کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے کے لئے دریا کے بیچ میں سوار اس طرح جارہے ہیں جس طرح بادشاہ تخت پرہوتے ہیں یا جیسے بادشاہ تخت

رواں پر سوار ہوتے ہیں یہ شک اسحاق راوی کو تھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایئے کہ اللہ مجھے بھی انہیں میں سے کردے‘ رسول

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کےلئے دعا فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکھ کر سوگئے‘ اس مرتبہ بھی آپ بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے ۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کس بات پر

آپ ہنس رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کی راہ میں غزوہ کے لئے جا رہے ہیں پہلے کی طرح‘ اس مرتبہ

بھی فرمایا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے میرے لئے دعا کیجئے کہ مجھے بھی انہیں میں سے کردے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر

فرمایا کہ تو سب سے پہلی فوج میں شامل ہوگی ( جو بحری راستے سے جہاد کرے گی ) چنانچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ام حرام رضی اللہ عنہ نے بحری سفر کیا پھر جب

سمندر سے باہر آئیں تو ان کی سواری نے انہیں نیچے گرادیا اوراسی حادثہ میں ان کی وفات ہوگئی

اور یہ بھی بتا دیں کہ کیا ام حرام رضی اللہ عنہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی محرم تھیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے جوئیں نکالنے لگیں
جواب

احمد نے العلل میں کہا ہے

قال عبد الله بن أحمد: سمعتُ أَبي يقول: أم حرام، روى عنها أنس بن مالك، وهي خالته غزت مع زوجها عبادة بن الصامت، وهي أم حرام بنت ملحان، أخت أم سليم. «العلل
ام حرام ان سے انس بن مالک روایت کرتے ہیں اور یہ ان کی خالہ ہیں اور یہ عبادہ بن الصامت کی روجہ تھیں اور یہی ام حرام بنت ملحان ہیں جو ام سلیم کی بہن ہیں

صحیح بخاری کی تعلیق میں مصطفى البغا لکھتے ہیں

یہ روایت محرم کے احکام نازل ہونے سے پہلے کی ہے

فقد كان ذلك قبل أن يفرض الحجاب وهي خالة خادمه أنس رضي الله عنه وكانت العادة تقتضي المخالطة بين المخدوم وأهل الخادم
کہا جاتا ہے کہ یہ حجاب کے احکام سے قبل کی بات ہے جب انس رضی الله عنہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے خادم تھے اور یہ چونکہ انس کی خالہ ہیں تو یہ کام خادمہ کے طور پر ہوا

مسند الموطا الجوهری میں ہے
قال الجوهري: «قال يونس، قال لنا عبد الله بن وهب: أم حرام إحدى خالات النبي صلى الله عليه وسلم من الرضاعة .. ولذلك استجاز النبي صلى الله عليه وسلم النوم في حجرها، وأن تفلي رأسه».
عبد الله بن وھب نے کہا ام حرام نبی صلی الله علیہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں اور اس بنا پر نبی صلی الله علیہ وسلم ان کے حجرہ میں سوئے اور انہوں نے سر سے جوئیں نکالیں

روایت صحیح ہے کئی طرق سے ہے اس میں یہ بات کہ جوئیں نکالیں صرف ایک طرق میں ہیں جس میں إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ کا تفرد ہے

سنن نسائی میں ہے
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ عِنْدَنَا، فَاسْتَيْقَظَ

وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَأبِي وَأُمِّي مَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ: “رَأَيْتُ قَوْمًا مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ” قُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: “فَإِنَّكِ مِنْهُمْ” ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ،

فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ – يَعْنِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ -، قُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: “أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ” فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَرَكِبَ الْبَحْرَ وَرَكِبَتْ مَعَهُ، فَلَمَّا خَرَجَتْ قُدِّمَتْ لَهَا بَغْلَةٌ، فَرَكِبَتْهَا، فَصَرَعَتْهَا فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا

سنن ابو داود میں ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُخْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ الرُّمَيْصَاءِ قَالَتْ: نَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَيْقَظَ وَكَانَتْ تَغْسِلُ رَأْسَهَا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ،

فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَضْحَكُ مِنْ رَأْسِي؟ قَالَ: “لَا” وَسَاقَ هَذَا الْخَبَرَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: “الرُّمَيْصَاءُ أُخْتُ أُمِّ سُلَيْمٍ مِنَ الرَّضَاعَةِ”

مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: اتَّكَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ابْنَةِ مِلْحَانَ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَضَحِكَ، فَقَالَتْ: مِمَّ

ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: «مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ»، قَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ»،

فَنَكَحَتْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ: فَرَكِبَتْ فِي الْبَحْرِ مَعَ ابْنَةِ قَرَظَةَ، حَتَّى إِذَا هِيَ قَفَلَتْ، رَكِبَتْ دَابَّةً لَهَا بِالسَّاحِلِ، فَوَقَصَتْ بِهَا، فَسَقَطَتْ، فَمَاتَتْ

یہ اسناد صحیح ہیں اور ان میں جوئیں نکالنے کا ذکر نہیں ہے

عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى انْطَلَقْنَا إِلَى حَائِطٍ يُقَالُ لَهُ الشَّوْطُ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطَيْنِ فَجَلَسْنَا بَيْنَهُمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ اجْلِسُوا هَا هُنَا ‏”‏‏.‏ وَدَخَلَ

وَقَدْ أُتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ، فَأُنْزِلَتْ فِي بَيْتٍ فِي نَخْلٍ فِي بَيْتٍ أُمَيْمَةُ بِنْتُ النُّعْمَانِ بْنِ شَرَاحِيلَ وَمَعَهَا دَايَتُهَا حَاضِنَةٌ لَهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏”‏ هَبِي نَفْسَكِ لِي ‏”‏‏.‏ قَالَتْ وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا

لِلسُّوقَةِ‏.‏ قَالَ فَأَهْوَى بِيَدِهِ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهَا لِتَسْكُنَ فَقَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ‏.‏ فَقَالَ ‏”‏ قَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ ‏”‏‏.‏ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ ‏”‏ يَا أَبَا أُسَيْدٍ اكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا‏

صحیح بخاری

ان سے حمزہ بن ابی اسید نے اور ان سے ابواسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر نکلے اور ایک باغ میں پہنچے جس کا نام ” شوط “ تھا ۔ جب وہاں جا کر

اور باغوں کے درمیان پہنچے تو بیٹھ گئے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ یہیں بیٹھو ، پھر باغ میں گئے ، جو نیہ لائی جا چکی تھیں اور انہیں کھجور کے ایک گھر میں اتارا ۔ اس

کا نام امیمہ بنت نعمان بن شراحیل تھا ۔ ان کے ساتھ ایک دایہ بھی ان کی دیکھ بھال کے لیے تھی ۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو فرمایا کہ اپنے آپ کو میرے حوالے کر دے

۔ اس نے کہا کیا کوئی شہزادی کسی عام آدمی کے لیے اپنے آپ کو حوالہ کر سکتی ہے ؟ بیان کیا کہ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا شفقت کا ہاتھ ان کی طرف بڑھا کر اس کے سر پر

رکھا تو اس نے کہا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تم نے اسی سے پناہ مانگی جس سے پناہ مانگی جاتی ہے ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ

وسلم باہر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا ، ابواسید ! اسے دو رازقیہ کپڑے پہنا کر اسے اس کے گھر پہنچا آؤ

یہاں

جو نیہ لائی جا چکی تھیں اور انہیں کھجور کے ایک گھر میں اتارا ۔ اس کا نام امیمہ بنت نعمان بن شراحیل تھا

کن عربی الفاظ کا ترجمہ ہے – یہاں بھی ڈنڈی ماری گئی ہے ترجمہ میں

کیا وہ انصاری عورت نبی صلی الله وسلم کو پہچانتی نہیں تھی کہ اس نے اعوذ باللہ کہہ کر نبی سے اللہ کی پناہ مانگ لی یا اس کو یہ تک نہیں بتایا گیا تھا کہ اس کی شادی کس ھستی سے کی جا

رھی ھے ؟

کیا اس حدیث کی روشنی میں

کیا بیوی اگر شوھر کو اللہ کا واسطہ دے کر حقِ زوجیت سے روکے تو شوھر کو اسے طلاق دے دینی چاھیئے ؟

کیا شوھر پر لازم ھے کہ وہ اس کو اپنی ذات سے اللہ کی پناہ دیتے ھوئے فارغ کر دے ؟
جواب
پورا واقعہ ہی معمہ ہے

میں ابھی تک یہ نہیں جان سکا کہ اس قصہ کو گھڑنے کی وجہ کیا ہے ؟ اس روایت کا کوئی سیاسی مقصد تھا جو معلوم نہیں ہوا

سنن أبي داؤد: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ مَنْ حَرَّمَ بِهِ) سنن ابو داؤد: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

(باب: رضاعت کبیر سے حرمت کے قائلین کا استدلال)

2061

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ كَانَ تَبَنَّى سَالِمًا،

وَأَنْكَحَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا، وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ, دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَوُرِّثَ مِيرَاثَهُ، حَتَّى أَنْزَلَ

اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى فِي ذَلِكَ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ- إِلَى قَوْلِهِ- فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ}[الأحزاب: 5]، فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ، فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ, كَانَ مَوْلًى وَأَخًا فِي الدِّينِ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ، ثُمَّ

الْعَامِرِيِّ -وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ-، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا، وَكَانَ يَأْوِي مَعِي وَمَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ فِي بَيْتٍ وَاحِدٍ، وَيَرَانِي فُضْلًا، وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَكَيْفَ تَرَى فِيهِ؟ فَقَالَ لَهَا

النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >أَرْضِعِيهِ<. فَأَرْضَعَتْهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ، فَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِي اللَّهم عَنْهَا تَأْمُرُ بَنَاتِ أَخَوَاتِهَا، وَبَنَاتِ إِخْوَتِهَا، أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَةُ أَنْ

يَرَاهَا، وَيَدْخُلَ عَلَيْهَا -وَإِنْ كَانَ كَبِيرًا- خَمْسَ رَضَعَاتٍ، ثُمَّ يَدْخُلُ عَلَيْهَا، وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، حَتَّى يَرْضَعَ فِي الْمَهْدِ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ:

وَاللَّهِ مَا نَدْرِي, لَعَلَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ دُونَ النَّاسِ!

حکم : صحیح 2061

امہات المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس نے سالم کو اپنا متبنی ( منہ بولا بیٹا ) بنایا ہوا تھا اور اس سے اپنی

بھتیجی ہند دختر ولید بن عتبہ بن ربیعہ کا نکاح کر دیا تھا ۔ وہ ایک انصاری خاتون کا آزاد کر دو غلام تھا جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ کو اپنا متبنی بنایا تھا اور

جاہلیت کا یہ دستور تھا کہ جسے کوئی اپنا متبنی بنا لیتا تو لوگ اس کو اسی کی نسبت سے پکارا کرتے تھے اور وہ ( اپنے منہ بولے باپ کا ) وارث بھی بنتا تھا ، حتیٰ کہ اللہ عزوجل نے اس بارے میں

یہ حکم نازل فرمایا کہ «ادعوهم لآبائهم إلى قوله : فإخوانكم في الدين ومواليكم» ” انہیں ان کے حقیقی باپوں کی نسبت سے پکارا کرو ۔ اگر وہ معلوم نہ ہوں تو یہ تمہارے دینی بھائی اور مولیٰ ہیں ۔ “

چنانچہ انہیں ان کے باپوں کی طرف لوٹا دیا گیا اور جس کا باپ معلوم نہ ہوا وہ مولیٰ اور دینی بھائی کہلانے لگا ۔ الغرض ! ( ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی ) سہلہ بنت سہیل بن عمرو قرشی ،

عامری ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ) آئی اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! ہم سالم کو اپنا بیٹا ہی سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا رہا

ہے اور مجھے ( گھر میں عام حالت میں ) ایک کپڑے میں دیکھتا رہا ہے ۔ ( کبھی سر کھلا ، تو کبھی پنڈلیاں بھی کھل گئیں وغیرہ ) اور اللہ عزوجل نے ایسے لوگوں کے بارے میں جو حکم نازل فرمایا

ہے وہ آپ جانتے ہی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس صورت میں کیا فرماتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا ” اس کو ( اپنا ) دودھ پلا دو ۔ “ چنانچہ اس نے اس کو پانچ

رضعے ( پانچ بار ) دودھ پلا دیا ۔ اور وہ اس طرح اس کے رضاعی بیٹے کی طرح ہو گیا ۔ سو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس واقعہ کی بنا پر اپنی بھانجیوں اور بھتیجیوں سے کہا کرتی تھیں کہ فلاں

کو پانچ رضعے ( پانچ بار ) دودھ پلا دو ۔ جس کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خواہش ہوتی کہ وہ ان کو دیکھ سکے اور ان کے سامنے آ سکے ۔ خواہ وہ بڑی عمر کا بھی ہوتا ۔ چنانچہ

وہ اس کے بعد ان کے سامنے آ جایا کرتا تھا ۔ ( اور یہ اس سے پردہ نہ کرتیں ) مگر ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر تمام امہات المؤمنین نے اس کو قبول نہیں کیا کہ ایسی رضاعت کی بنا پر کوئی

شخص ان کے سامنے آئے ( اور وہ اس سے پردہ نہ کریں ) الا یہ کہ اس نے پالنے میں ( دو سال کی عمر کے دوران میں ) دودھ پیا ہوتا ۔ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : قسم اللہ کی !

ہمیں نہیں معلوم ، شاید یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سالم کے لیے بمقابلہ دوسرے لوگوں کے خاص رخصت تھی ۔

http://mohaddis.com/View/Abu-Daud/2061

صحيح مسلم: كِتَابُ الرِّضَاعِ (بَابُ رِضَاعَةِ الْكَبِيرِ) صحیح مسلم: کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل (باب: بڑے کی رضاعت)
3603 . وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، لِعَائِشَةَ، إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ الْغُلَامُ الْأَيْفَعُ، الَّذِي مَا أُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ، قَالَ:

فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَمَا لَكِ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ؟ قَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيَّ وَهُوَ رَجُلٌ، وَفِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ شَيْءٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ

وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ حَتَّى يَدْخُلَ عَلَيْكِ»

حکم : صحیح 3603

شعبہ نے حُمَید بن نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا:

آپ کے پاس (گھر میں) ایک قریب البلوغت لڑکا آتا ہے جسے میں پسند نہیں کرتی کہ وہ میرے پاس آئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

(کی زندگی) میں نمونہ نہیں ہے؟ انہوں نے (آگے) کہا: ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے عرض کی تھی: اے اللہ کے رسول! سالم میرے سامنے آتا ہے اور (اب) وہ مرد ہے، اور اس وجہ سے

ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے دل میں کچھ ناگواری ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اسے دودھ پلا دو تاکہ وہ تمہارے پاس آ سکے۔

http://mohaddis.com/View/Muslim/3603
جواب

سالم والے واقعہ کو خاص کہا جاتا ہے

اپ نے کہا
اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ رخصت صرف سالم رضی اللہ عنہ کے لئے تھی تو اس پر دوسرا کہے گا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کہاں فرمایا کہ یہ رخصت سالم رضی اللہ عنہ کے لئے

ہے – اگر ایسا ہے تو اس کا ثبوت کہاں ہے
جواب
خاص جب متعین ہوتا ہے تو روایت میں لکھا نہیں ہوتا قرائن سے اندازہ لگا کر فقہاء خاص یا عام کرتے ہیں

لیکن راقم کہتا ہے روایت کے الفاظ

سو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس واقعہ کی بنا پر اپنی بھانجیوں اور بھتیجیوں سے کہا کرتی تھیں کہ فلاں کو پانچ رضعے ( پانچ بار ) دودھ پلا دو ۔ جس کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا

کی خواہش ہوتی کہ وہ ان کو دیکھ سکے اور ان کے سامنے آ سکے ۔

ام المومنین رضی الله عنہا کی ذات اقدس پر افتری ہے

سنن الکبری البیہقی میں ہے

كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَأْمُرُ بَنَاتِ أَخِيهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَةُ أَنْ يَرَاهَا وَيَدْخُلُ عَلَيْهَا خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَيَدْخُلُ عَلَيْهَا وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ مِنَ النَّاسِ

بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ حَتَّى يُرْضِعْنَ فِي الْمَهْدِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَاللهِ مَا نَرَى لَعَلَّهَا رُخْصَةٌ لِسَالِمٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ النَّاسِ

عائشہ رضی الله عنہا اپنی بھتیجیوں کو حکم کرتیں کہ وہ (کسی شخص کو) پانچ بار دودھ پلا دیں جس کو وہ چاہتییں کہ ان کے پاس آئیں اور حجرہ میں داخل ہوں ، پس وہ داخل ہوتے اور ام سلمہ اور

باقی ازواج رسول اس پر کہتیں کہ یہ رضاعت تو پالنے (پنگوڑے) میں ( پیدائش سے دو سال کی مدت) ہی ہو سکتی ہے اور عائشہ سے کہتیں کہ ہم نہیں سمجھتیں کہ یہ رخصت سالم کے سوا رسول

الله نے کسی اور کو دی

یہ الفاظ سنن الکبری از البیہقی، مسند احمد اور سنن ابو داود میں بیان ہوئے ہیں- یہ اضافہ راوی امام الزہری یا عروہ بن زبیر کا جملہ ہے- یہ اضافہ باقی راوی بیان نہیں کرتے

سنن الکبری از البیہقی کی سند الليث بن سعد عن عقيل بن خالد الأيلي عَنِ ابْنِ شِهَابٍ سے ہے

کتاب ميزان الاعتدال في نقد الرجال از الذھبی کے مطابق

وقال أحمد بن حنبل: ذكر عند يحيى القطان إبراهيم بن سعد وعقيل، فجعل كأنه يضعفهما

احمد کہتے ہیں يحيى القطان سے عقیل اور ابراہیم بن سعد کا ذکر ہوا انہوں نے ایسا کیا کہ گویا دونوں ضعیف ہیں

ابو داود میں بھی یہ اضافہ بیان ہوا ہے جہاں اسکی سند میں عنبسة بن خالد الأموي ہے امام احمد کہتے

أي شئ خرج علينا من عنبسة؟ هل روى عنه غير أحمد بن صالح

کوئی سی ایسی چیز ہے جو عنبسة نے بیان کی اور اس سے احمد بن صالح کے سوا اور کون ہے جو روایت کرے؟

يحيى بن بكير عنبسة کو مجنون أحمق کہتے ہیں (ميزان الاعتدال في نقد الرجال از الذھبی ) اور تاریخ الاسلام از الذھبی کے مطابق یحیی بن بکیر کہتے ما كَانَ أهلا للأخذ عَنْهُ اس قابل نہیں کہ اس سے

اخذ کیا جائے

یہ اضافہ مسند احمد میں ابن أخي الزهري کی سند سے بھی آیا ہے جس کا نام محمد بن عبد الله بن مسلم ہے جو مختلف فيه ہے ابن معين اس کو ضعیف کہتے ہیں اور المروذي کے مطابق امام احمد

ضعیف گردانتے تھے

یعنی عائشہ رضی الله عنہا سے منسوب یہ عمل صرف امام الزہری کی سند سے ہے جو تین راویوں نے بیان کیا ہے اور تینوں اتنے مظبوط نہیں کہ اس کو قبول کیا جائے – البتہ لوگوں نے اس

اضافہ کو شروحات میں بیان کیا ہے اس کی تاویلات کی ہیں لیکن یہ اضافہ اوٹ پٹانگ قسم کی بات ہے –

صحيح مسلم: كِتَابُ الرِّضَاعِ (بَابُ رِضَاعَةِ الْكَبِيرِ) صحیح مسلم: کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل (باب: بڑے کی رضاعت)
3603 . وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، لِعَائِشَةَ، إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ الْغُلَامُ الْأَيْفَعُ، الَّذِي مَا أُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ، قَالَ:

فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَمَا لَكِ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ؟ قَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيَّ وَهُوَ رَجُلٌ، وَفِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ شَيْءٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ

وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ حَتَّى يَدْخُلَ عَلَيْكِ»

اس کو حميد بن نافع الأنصاري أبو أفلح، المدنی کی سند سے روایت کیا گیا ہے
حميد بن نافع کی ثقاہت پر سوائے نسائی کوئی اور نہیں ملا
اس راوی کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ دو لوگ ہیں یا ایک
امام بخاری نے تاریخ الکبیر میں اس کا ذکر کیا ہے

قَالَ أَبو عَبد اللهِ: يُقال، عَنْ شُعبة: إِن هذا هو حُميد صَفيرا، هو الأول.
وہ جس سے شعبہ نے روایت لی ہے وہ حُميد صَفيرا ہے
قَالَ علي: هما اثنان
امام علی کا کہنا ہے یہ دو الگ الگ ہیں

شعبہ کا خود کہنا ہے
قَالَ شعبة. وكان عاصم يرى أنه قد مات منذ مائة سنة.
عاصم الاحوال کا دیکھنا تھا کہ حمید تو سن ١٠٠ میں مر چکا ہے

یعنی شعبہ نے کسی اور سے سنا اس کو حمید بن نافع سمجھا جبکہ وہ مر چکا تھا اور دیگر محدثین کا کہنا ہے وہ حمید ابن صفيراء تھا

اس طرح محدثین کا اختلاف ہے کہ یہ کون ہے
روایت کی سند میں اس ابہام پر اس کو صحیح نہیں کہا جا سکتا

متاخرین نے اس سب کو ملا کر واپس ایک راوی کر دیا ہے

یہ روایت موطا میں ٦٢٧ ہے

أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، وَسُئِلَ عَنْ رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ؟ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهِدَ بَدْرًا، وَكَانَ تَبَنَّى سَالِمًا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، كَمَا كَانَ تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، فَأَنْكَحَ أَبُو حُذَيْفَةَ سَالِمًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ ابْنُهُ أَنْكَحَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَهِيَ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَفْضَلِ أَيَامَى قُرَيْشٍ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي زَيْدٍ مَا أَنْزَلَ: {ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [الأحزاب: 5] رُدَّ كُلُّ [ص:212] أَحَدٍ تُبُنِّيَ إِلَى أَبِيهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ يُعْلَمُ أَبُوهُ رُدَّ إِلَى مَوَالِيهِ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ وَهِيَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا، فَقَالَتْ: كُنَّا نُرَى سَالِمًا وَلَدًا، وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا فُضْلٌ وَلَيْسَ لَنَا إِلا بَيْتٌ وَاحِدٌ، فَمَا تَرَى فِي شَأْنِهِ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا: «أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ، فَيَحْرُمَ بِلَبَنِكَ، أَوْ بِلَبَنِهَا» ، وَكَانَتْ تَرَاهُ ابْنًا مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَأَخَذَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةُ فِيمَنْ تُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنَ الرِّجَالِ، فَكَانَتْ تَأْمُرُ أُمَّ كُلْثُومٍ، وَبَنَاتِ أَخِيهَا يُرْضِعْنَ مَنْ أَحْبَبْنَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا، وَأَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِمْ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ: وَاللَّهِ مَا نَرَى الَّذِي أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ إِلا رُخْصَةً لَهَا فِي رَضَاعَةِ سَالِمٍ وَحْدَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لا يَدْخُلُ عَلَيْنَا بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ، فَعَلَى هَذَا كَانَ رَأْيُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ

یہ حدیث اس متن سے صحاح ستہ میں ہے البتہ اس میں آگے کا متن جو امام الزہری نے بیان کیا کہ عائشہ رضی الله عنہا اس کا حکم عام لیتی تھیں وہ میرے نزدیک منکر ہے

۔ ۔قرآن میں جو ابابیل لفظ آیا اس کا معنی پرندہ ہوتاہے ثابت نہیں کر سکتے ۔اور نہ ہی کوئی پرندہ کی بات ہو رہی ہے ۔۔

اور دوسری جگہ

اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِ بِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ

اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ : کیا وہ نہیں دیکھتے | اِلَى الْاِبِلِ : اونٹ کی طرف | كَيْفَ : کیسے | خُلِقَتْ : پیدا کئے گئے

(یہ لوگ نہیں مانتے) تو کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے؟

[Quran 88:17] جبکہ ابل کی جمع ابابیل ہے۔۔۔۔۔بھائی اک صاحب سے سورہ فیل پر بات ہوئی تو ان کا کہنا ہے کہ ابابیل سے مراد پرندے نہیں ہیں

جواب

ابابیل سے مراد ٹولیاں ہیں چاہے پرندے ہوں یا اونٹ یا خچر یا بادل

تحفة الأريب بما في القرآن من الغريب از المؤلف: أبو حيان محمد بن يوسف بن علي بن يوسف بن حيان أثير الدين الأندلسي (المتوفى: 745هـ) کے مطابق
أبل: {أبابيل}: جماعة في تفرقة أي حلقة حلقة. واحدها إبَّالة وإبَّول وإبِّيل.

ابابیل کا مطلب حلقہ حلقہ میں متفرق ٹولیاں ہیں اس کا واحد إبَّالة اور إبَّول اور إبِّيل ہے

وَأرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْراً أَبَابِيل
ان پر (طَيْراً) پرندے ، ( أَبَابِيل) ٹولیوں میں چھوڑے

یہاں طَيْر کا لفظ صریح اشارہ کر رہا ہے کہ پرندے ٹولیوں میں چھوڑے گئے

—-
أَفَلا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ
کیا یہ بادل کو نہیں دیکھتے کیسا اس کو خلق کیا ہے

لسان العرب از المؤلف: محمد بن مكرم بن على، أبو الفضل، جمال الدين ابن منظور الأنصاري الرويفعى الإفريقى (المتوفى: 711هـ) میں ہے

قَالَ الإِبِلُ: السحابُ الَّتِي تَحْمِلُ الْمَاءَ لِلْمَطَرِ
الابل سے مراد بادل ہے جو پانی لے کر چلتا ہے کہ برسے

ابْنُ الأَعرابي: الإِبَّوْلُ طَائِرٌ يَنْفَرِدُ مِنَ الرَّفّ وَهُوَ السَّطْرُ مِنَ الطَّيْرِ. ابْنُ سِيدَهْ: والإِبِّيلُ والإِبَّوْل والإِبَّالَة الْقِطْعَةُ مِنَ الطَّيْرِ وَالْخَيْلِ والإِبل
ابْنُ الأَعرابي نے کہا الإِبَّوْل پرندے ہیں جو ایک سطر میں ہوں – ابن سیدہ نے کہا الإِبِّيلُ اور الإِبَّوْل اور الإِبَّالَة سے مراد پرندے یا خچر یا اونٹ کے ٹولے ہیں

یعنی ترجمہ کیا جا سکتا ہے
أَفَلا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ
کیا یہ پرندوں کی ٹولیوں کو نہیں دیکھتے کیسا خلق کیا
کیا یہ خچر کی ٹولیوں کو نہیں دیکھتے کیسا خلق کیا
کیا یہ اونٹ کی ٹولیوں کو نہیں دیکھتے کیسا خلق کیا

زبان و ادب میں الفاظ میں گنجائش ہوتی ہے کہ مترجم کو جو الفاظ پسند ہوں ان کو لے لے لیکن اہل زبان جانتے ہیں کہ اس میں اور مفہوم بھی چھپے ہیں

و قال الرسول یرب ان قومی اتخذو هذا القرآن مهجورا
الفرقان آیت ۳۰
اس آیت کا کانسا تفسیر صحیح ہے
۱/اے آیت خاص ہے رسول الله کے او قوم کا جو مشرک تها کیونکه اے آیت مکی ہے
۲/اے آیت عموم ہے اس امت کا جو قرآن پر عمل نهی کرتا ہے قیامت تک،یها قوم کا مطلب امت ہے
پلیز وضاحت کردے

جواب

مھجورا کا مطلب ترک کرنا ہے اور اس سے مراد یہ ضروری نہیں کہ مان کر ترک کیا جائے
https://www.almaany.com/ar/dict/ar-ar/مهجورا/
آیت اس طرح مشرکین مکہ کے لئے خاص ہے کیونکہ وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی قوم تھی

تحقیق چاہیے

براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں :
خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَصْحَابِهِ فَخَرَجْنَا مَعَهُ، وَأَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ قَالَ: «مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَجْعَلْهَا عَمْرَةً، فَإِنِّي لَوْلَا أَنَّ مَعِي هَدْيًا لَأَحْلَلْتُ» فَقَالُوا: حِينَ لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ إِلَّا

كَذَا وَقَدْ أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ، فَكَيْفَ نَجْعَلُهَا عَمْرَةً؟ قَالَ: «انْظُرُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا» قَالَ: فَرَدُّوا عَلَيْهِ الْقَوْلَ فَغَضِبَ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ غَضْبَانًا، فَرَأَتِ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَتْ: مَنْ أَغْضَبَكَ أَغْضَبَهُ اللهُ

قَالَ: «وَمَا لِي لَا أَغْضَبُ وَأَنَا آمُرُ بِالْأَمْرِ فَلَا أُتْبَعُ»
رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ نکلے، ہم بھی ان کے ساتھ تھے، ہم نے حج کا احرام باندھ لیا، مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : جن کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے، وہ اس

احرام کو عمرہ کا احرام بنا لے، میرے پاس قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا ، صحابہ نے کہا : ہم نے تو حج کا احرام باندھا ہے یارسول اللہﷺ!فرمایا: جو کہہ رہا ہوں وہ کیجئے

!صحابہ نے پھر وہی بات کی تو غصے میں عائشہ کے پاس آگئے،عائشہ نے ان کا غصہ دیکھا تو کہا : آپ کو کس نے غصہ دلایا اللہ اس کو غصہ دلائے ؟فرمایا:کیوں نہ غصے ہوں، میں ایک حکم

دیتا ہوں اور صحابہ مان کے نہیں دیتے۔”

(السنن الکبری للنسائی : 9946)
جواب

یہ ضعیف ہے – سند میں أبي إسحاق السبيعي ہے جو کوفی شیعہ ہے اس کا سماع البراء سے معلوم نہیں یہ مدلس ہے
شعیب نے مسند احمد میں اس حدیث پر لکھا ہے سماع کی تصریح نہیں ہے
إن أبا إسحاق لم يصرح بسماعه من البراء.

صحیح مسلم

فَجَاءَهُمُ الصَّرِيخُ، إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَهُمْ فِي ذَرَارِيِّهِمْ، فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ، وَيُقْبِلُونَ، فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْرِفُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ، وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ، هُمْ

خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ – أَوْ مِنْ خَيْرِ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ -» قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ: عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ،

جواب
سند ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ – وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ – حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ،

اس کی سند میں يسير بن جابر ہے جو مجہول ہے بعض نے نام أسير بن عمرو لیا ہے

عَن اِبن مَسعُود رَضِی اللہُ عَنہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اللہ اخْتارَلِی اَصْحَابِی فَجَعَلھُم اَصْحَابِی وَاَصْھارِی وَسُیجِّئ مِن بَعدِی قَومُ یَنقُصُونَھُم وَیَسُبُّونَھُم فَاِن اَدْرَکْتُمُوھُم فَلا تُناکِحُوھُم وَلا

تُواکِلُوھُم وَلاتُشَارِبُوھُم وَلا تُصَلُّو مَعَھُم وَلا تُصَلُّو عَلَیْھِم (کنزالعمال جلد نمبر 2 صفحہ 133)
ترجمہ: حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ بلا شبہ اللہ تعالی نے مجھے چن لیا ہے اور میرے لیے میرے اصحاب بھی چن لیے ہیں اور ان کو

میرے صحابہ، میرے مددگار اور میرے سسرالی رشتے کے اقربا بنادیا۔
آخری زمانے میں ایسے لوگ آیئں گے جو ان میں عیب نکالیں گے اور انھیں برا بھلا کہیں گےسو تم نہ ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ،،ان کے ساتھ شادی بیاہ اور کھانے پینے کے تعلق قائم مت کرنا اور نہ تم

ان کے ساتھ نماز پڑھنا اور نہ ہی ان کے مردوں پہ نماز پڑھنا نہ ان کے ساتھ سلام لینا اللہ کی ان پر لعنت ہو،،
نوٹ:
مَنْ اَحَبَّ لِلّٰہ وَاَبْغَضَ لِلّٰہ
ہماری محبت بھی اللہ کی رضا کیلیے اور ہمارا بغض بھی اللہ کی رضا کیلیے!!!

جواب

یہ روایت تاریخ دمشق کی ہے
رواه ابن عساكر في ترجمة معاوية من حديث وكيع عن فضيل بن مرزوق عن رجل من الأنصار عن أنس
سند میں رجل مجہول ہے

جواب

اس حدیث میں ہشام کا تفرد نہیں ہے
مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِ عَشْرَةَ»

مسند اسحاق میں ہے
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَجْلَحُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ وَدَخَلَ بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ

مسند ابی یعلی میں ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ. زَوَّجَهَا إِيَّاهُ أَبُو بَكْرٍ»

طبرانی میں ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْحَنَّاطُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ»

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «أُدْخِلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، وَمَكَثْتُ عِنْدَهُ تِسْعَ سِنِينَ»
یہ روایات صحیح ہیں
———–
ان تمام کی اسناد میں “ملزم” ہشام بن عروه اور ان کی اولاد نہیں ہے

⇑ نکاح کے وقت عائشہ رضی الله عنہا کی عمر پر سوالات ہیں

تاریخ ٢


صحيح البخاري

۳۴ ء حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ” تَابَعَهُ شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ.

جواب

مسروق تو معروف ہیں اور الاعمش جس مسروق سے روایت کرتے ہیں وہ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ ہے اس کا ذکر کتاب ایمان از ابن مندہ میں ہے
أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، أَنْبَأَ أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، ح، وَأَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْهَرَوِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَأَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، قَالَ: سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا [ص:401] بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ} [آل عمران: 169] ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: ” أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ فَاطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً، فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا؟، فَقَالُوا: أَيُّ شَيْءٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا؟ فَفَعَلَ بِهِمْ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا رَأَوْا أَنْ لَنْ يُتْرَكُوا مِنْ أَنْ يَشَاءُوا شَيْئًا، قَالُوا: يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى فَلَمَّا رَأَى أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِكُوا رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَجَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ

اس کی سند صحیح ہے

صحيح مسلم ميں ع­ائشہ رضى اللہ تعالى ع­نہا سے مروى ہے كہ رسو­ل كريم صلى اللہ عليہ ­وسلم نے فرمايا:
” جب وہ چار شاخوں كے ­درميان بيٹھے اور ختنہ­ ختنہ سے چھو جائے تو ­غسل واجب ہو جاتا ہے ”
صحيح مسلم حديث نمبر (­ 349 ).
اور ترمذى وغيرہ كى رو­ايت ميں ہے كہ:
” جب دونوں ختنے مل جا­ئيں .. ”
سنن ترمذى حديث نمبر (­ 109 ).
اس حديث پر امام بخارى­ رحمہ اللہ نے صحيح بخ­ارى ميں باب باندھا ہے­، حافظ ابن حجر رحمہ ا­للہ كہتے ہيں:
” اس تثنيہ سے مراد مر­د اور عورت كا ختنہ ہے­.
اور عورت كا ختنہ اس ط­رح ہو گا كہ پيشاب خار­ج ہونے والى جگہ پر مر­غ كى كلغى جيسى چمڑى ك­ا كچھ حصہ كاٹا جائے، ­سنت يہ ہے كہ وہ سارى ­كلغى نہ كاٹى جائے بلك­ہ اس كا كچھ حصہ كاٹا ­جائے “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحقیق درکار ہے

جواب

سنن ابو داود میں ہے
حدَّثنا سليمانُ بنُ عبدِ الرحمن الدمشقيُّ وعَندُ الوهاب بنُ عبدِ الرحيم الأشجعيُّ، قالا: حدَّثنا مروانُ، حدَّثنا محمدُ بنُ حسّانَ -قال عبدُ الوهَّاب: الكوفيُّ- عن عبدِ الملك بنِ عُمْيبر عن أمِّ عطيةَ الأنصارية: أن امرأةَ كانَت تَخْتُنُ بالمدينةِ، فقال لها النبي-صلى الله عليه وسلم-:”لا تَنْهَكِي, فإنَّ ذلكَ أحْظَى لِلمرأةِ، وأحَبُّ إلى البَعْلِ
قال أبو داود: رُوِيَ، عن عُبيد الله بنِ عَمرو، عن عَبدِ الملك، بمعناه وإسناده. وليس هو بالقوي وقد رُوي مرسلاً.
قال أبو داود: ومحمد بن حسان مجهولٌ، وهذا الحديثُ ضعيفٌ
ام عطيہ رضى اللہ تعالى عنہا سے روايت كيا ہے كہ:

مدينہ ميں ايك عورت ختنہ كيا كرتى تھى تو رسول صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے فرمايا كہ تم بالكل ہى كاٹ كر ختم نہ كردو، كيونكہ يہ عورت كے ليے زيادہ فائدہ اور نفع مند ہے، اور خاوند كے ليے محبوب ترين اور پسنديدہ ہے

ابو داود نے خود اشارہ کیا ہے کہ یہ سند ضعیف ہے
لیکن البانی نے اس کو صحیح قرار دے دیا ہے
شعَيب الأرنؤوط نے واپس ضعیف قرار دیا ہے
—-
مسند احمد
“الختان سنة للرجال مكرمة للنساء
من حديث حجاج بن أرطأة وهو مدلس وأخرجه الطبراني والبيهقي من حديث ابن عباس مرفوعًا وضعفه.
ختنہ عورتوں کے لئے تکریم ہے
یہ بھی ضعیف ہے

جنبلیؤن میں “المغني” لابن قدامة کا کہنا ہے وليس بواجب عليهن، عورتوں پر یہ واجب نہیں ہے
مالکیوں کے نزدیک ختنہ کرانا مرد و عورت پر واجب نہیں ہے
المعونة على مذهب عالم المدينة «الإمام مالك بن أنس»
المؤلف: أبو محمد عبد الوهاب بن علي بن نصر الثعلبي البغدادي المالكي (المتوفى: 422هـ)

احناف میں عظیم آبادی صاحب عون المعبود ۴/۵۴۳نے عورت کے ختنہ پر احادیث کو جمع کیا ہے آخر میں لکھا ہے :
«وَحَدِيْثُ خِتَانِ الْمَرْأَةِ رُوِیَ مِنْ أَوْجُهٍ کَثِيْرَةٍ ، وَکُلُّهَا ضَعِيْفَةٌ مَعْلُوْلُةٌ مَخْدُوْشَةٌ لاَ يَصِحُّ الْاِحْتِجَاجُ بِهَا کَمَآ عَرَفْتَ، وَقَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ : لَيْسَ فِی الْخَتَانِ خَبْرٌ يُرْجَعُ إِلَيْهِ وَلاَ سُنَّةٌ يُتَّبَعُ ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ فِی التَّمْهِيْدِ: وَالَّذِیْ أَجْمَعَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُوْنَ أَنَّ الْخَتَانَ لِلرِّجَالِ»
اور عورت کے ختنہ کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے جو سب ضعیف معلول اور مخدوش ہیں ان سے حجت پکڑنا صحیح نہیں جس طرح آپ پہچان گئے اور ابن منذر نے کہا ختان میں کوئی حدیث نہیں جس کی طرف رجوع کیا جائے اور نہ کوئی سنت ہے جس کی پیروی کی جائے اور ابن عبدالبر نے تمہید میں کہا وہ چیز جس پر مسلمانوں کا اجماع ہے کہ ختنہ مردوں کے لیے ہے۔ انتہی

===
صحیح مسلم میں ہے
إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ
موطا میں ہے
إذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل

احادیث میں بعض الفاظ بطور کنایہ استعمال ہوتے ہیں ان کا اصل مطلب نہیں ہوتا مثلا یہاں ایسا ہی ہے – کسی صحیح حدیث سے معلوم نہیں کہ عورتوں کو ختنہ کا حکم کیا گیا ہو نہ کسی صحابیہ نے ذکر کیا – ختن ختن مل جائیں یعنی جماع کیا یہ مراد ہے – البتہ فقہاء کا اس پر اختلاف ہوا بعض نے کہا لمس (چھونا ) ہوا تو بھی واجب ہے اور بعض نے کہا دخول مراد ہے

کیا ان دونوں احادیث میں تضاد نہیں

http://mohaddis.com/View/Muslim/3448

اور دوسری

http://mohaddis.com/View/Muslim/3452

ان دونو ں میں سے کون سی حدیث ضعیف ہے

لیکن دوسری طرف حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی اپنی بیان کردہ حدیث ہے کہ

صحيح مسلم: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ) صحیح مسلم: کتاب نکاح کے احکام و مسائل

(باب: جو حالتِ احرام میں ہو اس کے لیے نکاح کرنا حرام اور نکاح کا پیغام بھیجنا مکروہ ہے)

3453

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو فَزَارَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلَالٌ»، قَالَ: «وَكَانَتْ خَالَتِي، وَخَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ

حکم : صحیح 3453

یزید بن اصم سے روایت ہے، کہا: مجھے حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس حالت میں نکاح کیا کہ آپ احرام کے بغیر تھے۔ (یزید بن اصم نے) کہا: وہ میری بھی خالہ تھیں اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بھی خالہ تھیں۔
جواب

ان دونوں کو صحیح کہا گیا ہے
عقیلی نے کتاب الضعفاء الكبير میں لکھا ہے
وَالرِّوَايَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي تَزْوِيجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ثَابِتَةٌ صَحِيحَةٌ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا جبکہ آپ حالتِ احرام میں تھے۔ صحیح ہے ثابت ہے

یہ عمل رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لئے خاص ہے

عام حکم امت کے لئے ہے

مطر اور یعلیٰ بن حکیم نے نافع سے، انہوں نے نبیہ بن وہب سے، انہوں نے ابان بن عثمان سے، انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو شخص حالت احرام میں ہو، وہ نہ نکاح کرے نہ نکاح کرائے اور نہ نکاح کا پیغام بھیجے۔‘‘

امام بخاری نے محرم والی کو صحیح کہا ہے
عَن ابن عَباسٍ رضي الله عَنهُما أن النبي – صلى الله عليه وسلم – تَزَوَّجَ مَيمونَةَ وهو مُحْرِمٌ
اور عقیلی نے بھی محرم والی کو

يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ کی ولادت بعد وفات النبی ہے اور یہ میمونہ رضی الله عنہا کے بھانجے ہیں اغلبا بخاری کے نزدیک ان کا سماع نہیں ہے

ابن حبان نے صحیح میں تطبیق دی ہے

ومعنى خبر بن عَبَّاسٍ عِنْدِي حَيْثُ قَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ يُرِيدُ بِهِ: وَهُوَ دَاخِلَ الْحَرَمِ، لَا أَنَّهُ كَانَ مُحْرِمًا،
ابن عباس کی خبر کا مطلب ہے کہ رسول الله نے ان سے نکاح کیا اور وہ حالت احرام میں یعنی حرم میں داخل ہونا چاہتی تھیں نہ کہ وہ احرام میں تھیں

میرے نزدیک اگر احرام میں نکاح ہوا تو خاص واقعہ ہے

حدثنا يعقوب قال حدثنا أبي عن ابن إسحاق قال وحدثني حسين بن عبد الله بن عباس عن عكرمة مولى عبد الله بن عباس عن عبد الله بن عباس عن أم الفضل بنت الحارث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى أم حبيبة بنت عباس وهي فوق الفطيم قالت فقال لئن بلغت بنية العباس هذه وأنا حي لأتزوجنها

ترجمہ: عبداللہ بن عباس اپنی والدہ ام فضل سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ام حبیبہ بنت عباس کو دیکھا، جو اس وقت دودھ چھڑانے کی عمر کی تھیں، تو رسول اللہ نے کہا اگر عباس کی یہ چھوٹی بیٹی میرے زندہ ہوتے ہوئے بالغ ہوگئی تو میں ضرور اس سے شادی کروں گا

حوالہ: مسند احمد حدیث نمبر : 26329
جواب

اس کی سند میں حسين بن عبد الله بن عبيد الله بن العباس ہے جس کو ضعیف کہا گیا ہے

اور امام احمد نے خود اس کو منکر الحدیث قرار دیا ہے

وقال أبو داود: سمعت أحمد، وقيل له: حسين بن عبيد الله، صاحب عكرمة، منكر الحديث؟ فقال برأسه، أي نعم

سنن النسائي: كِتَابُ الْمِيَاهِ (بَابُ ذِكْرِ بِئْرِ بُضَاعَةَ) سنن نسائی: کتاب: پانی کی مختلف اقسام سے متعلق احکام و مسائل (باب: بضاعہ کے کنویں کا ذکر)

327

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا لُحُومُ الْكِلَابِ وَالْحِيَضُ وَالنَّتَنُ فَقَالَ الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ

حکم : صحیح 327

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ پوچھا گیا: اے اللہ کےرسول! کیا آپ بضاعہ کے کنویں سے وضو کرتے ہیں جب کہ اس کنویں میں کتوں کا گوشت، حیض والے کپڑے اور گندگی گر پڑتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’پانی پاک اور پاک کرنے والا ہوتا ہے۔ کوئی چیز اس کو پلید نہیں کرتی۔‘‘

http://mohaddis.com/View/Sunan-nasai/327

جواب

اس روایت
إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ
کے کئی طرق ہیں – تمام پر کلام ہے

لیکن لوگوں نے اس کو شواہد کی بنا پر صحیح کہا ہے – میرے نزدیک صحیح سند سے یہ متن نہیں ہے

سند میں عبيد الله بن عبد الرحمن بن رافع الأنصاري ہے جو مجہول ہے

وحدثنا يحيى بن يحيى ، اخبرنا جعفر بن سليمان ، عن ثابت البناني ، عن انس، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قال انس : ” اصابنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم مطر، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فحسر رسول الله صلى الله عليه وسلم ثوبه حتى اصابه من المطر، ‏‏‏‏‏‏فقلنا:‏‏‏‏ يا رسول الله لم صنعت هذا؟ قال:‏‏‏‏ ” لانه حديث عهد بربه تعالى ”

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم پر برسات ہوئی اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے سو کھول دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا یہاں تک کہ پہنچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مینہ اور ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس لئے کہ یہ ابھی اپنے پروردگار کے پاس سے آیا ہے۔“

http://islamicurdubooks.com/Sahih-Muslim/Sahih-Muslim-fawad-.php?hadith_number_fawad=898

http://mohaddis.com/View/Muslim/2083
جواب

جعفر بن سليمان الضبعي (م على) : عن ثابت وخلق شيعي صدوق صعفه القطان ووثقه ابن معين وغيره وقال ابن سعد ثقة فيه ضعف

کیا یہ حدیث صحیح ہے – تحقیق چاہیے

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَسَقَطَ مِنْ ظَهْرِهِ كُلُّ نَسَمَةٍ هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرِّيَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَجَعَلَ بَيْنَ عَيْنَيْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبِيصًا مِنْ نُورٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ رَبِّ مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ هَؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَعْجَبَهُ وَبِيصُ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ رَبِّ مَنْ هَذَا ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا رَجُلٌ مِنْ آخِرِ الْأُمَمِ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ دَاوُدُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ رَبِّ كَمْ جَعَلْتَ عُمْرَهُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سِتِّينَ سَنَةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَيْ رَبِّ زِدْهُ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قُضِيَ عُمْرُ آدَمَ جَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَوَلَمْ يَبْقَ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَوَلَمْ تُعْطِهَا ابْنَكَ دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَحَدَ آدَمُ، ‏‏‏‏‏‏فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَنُسِّيَ آدَمُ فَنُسِّيَتْ ذُرِّيَّتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَخَطِئَ آدَمُ فَخَطِئَتْ ذُرِّيَّتُهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے آدم کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے ان کی اولاد کی وہ ساری روحیں باہر آ گئیں جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے والا ہے۔ پھر ان میں سے ہر انسان کی آنکھوں کی بیچ میں نور کی ایک ایک چمک رکھ دی، پھر انہیں آدم کے سامنے پیش کیا، تو آدم نے کہا: میرے رب! کون ہیں یہ لوگ؟ اللہ نے کہا: یہ تمہاری ذریت ( اولاد ) ہیں، پھر انہوں نے ان میں ایک ایسا شخص دیکھا جس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک انہیں بہت اچھی لگی، انہوں نے کہا: اے میرے رب! یہ کون ہے؟ اللہ نے فرمایا: تمہاری اولاد کی آخری امتوں میں سے ایک فرد ہے۔ اسے داود کہتے ہیں: انہوں نے کہا: میرے رب! اس کی عمر کتنی رکھی ہے؟ اللہ نے کہا: ساٹھ سال، انہوں نے کہا: میرے رب! میری عمر میں سے چالیس سال لے کر اس کی عمر میں اضافہ فرما دے، پھر جب آدم کی عمر پوری ہو گئی، ملک الموت ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: کیا میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی نہیں ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تو نے اپنے بیٹے داود کو دے نہیں دیئے تھے؟ آپ نے فرمایا: تو آدم نے انکار کیا، چنانچہ ان کی اولاد بھی انکاری بن گئی۔ آدم بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھول گئی۔ آدم نے غلطی کی تو ان کی اولاد بھی خطاکار بن گئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔

ترمزی

http://mohaddis.com/View/Tarimdhi/3076

جواب

یہ روایت اسرائیلایات میں سے معلوم ہوتی ہے

هِشَامُ بْنُ سَعْد، عَن زَيد بْنِ أَسْلَمَ، عَن أبي صالح، عَن أبي هُرَيرة
اور
هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
اور
الحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
اور
عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
اور
رَوَاهُ مُبشر بن عبيد عَن الزُّهْرِيّ، عَن سعيد بن الْمسيب، عَن أبي هُرَيْرَة.
کی سند سے ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کی گئی ہے

ابو ہریرہ رضی الله عنہ نے اس کو روایت کیا ہے لیکن ممکن ہے یہ کعب الاحبار کا قول ہو
لہذا دلیل نہیں لی جا سکتی
———

یہی متن ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی اتا ہے

عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” أَوَّلُ مَنْ جَحَدَ آدَمُ – قَالَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ – إِنَّ اللَّهَ لَمَّا خَلَقَهُ مَسَحَ ظَهْرَهُ، فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّتَهُ، فَعَرَضَهُمْ عَلَيْهِ فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ: ابْنُكَ دَاوُدُ. قَالَ: كَمْ عُمُرُهُ؟ قَالَ: سِتُّونَ. قَالَ: أَيْ رَبِّ، زِدْ فِي عُمُرِهِ. قَالَ: لَا، إِلا أَنْ تَزِيدَهُ أَنْتَ مِنْ عُمُرِكَ. فَزَادَهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً مِنْ عُمُرِهِ، فَكَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ كِتَابًا، وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلائِكَةَ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَقْبِضَ رُوحَهُ، قَالَ: بَقِيَ مِنْ أَجَلِي أَرْبَعُونَ. فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ جَعَلْتَهُ لِابْنِكَ دَاوُدَ. قَالَ: فَجَحَدَ، قَالَ: فَأَخْرَجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْكِتَابَ، وَأَقَامَ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ، فَأَتَمَّهَا لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلامُ مِائَةَ سَنَةٍ، وَأَتَمَّهَا لِآدَمَ عَلَيْهِ السَّلامُ عُمْرَهُ أَلْفَ سَنَةٍ

شعیب نے اس طرق کو ضعیف کہا ہے
علي بن زيد -وهو ابن جدعان- ضعيف، وكذا يوسف بن مهران
—–
الفاظ
هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ يَكُونُ فِي آخِرِ الْأُمَمِ
یہ تمہارا بیٹا داود ہے جو آخری امتوں میں سے ہے

یہ الفاظ کس طرح صحیح ہیں؟ داود علیہ السلام تو امت موسی میں سے ہیں جو عیسیٰ سے پہلے نبی صلی الله علیہ وسلم سے بھی پہلے سے ہیں

Rabbinical Literature: The Traditions Of The Jews Volume 1
میں یہ روایت موجود ہے جو حکایات تلمود کا مجموعہ ہے

He (God) opened to him the gate of Paradise and conducted him into the seventy apartments of Holy Places … And when he Adam beheld King David, he saw that he is without life. Then said he, O Thou Lord of the World, who is he in whom I feel no life? And the Holy and Blessed God replied, It is King David. And the first Man beheld how the matter was, he gave out of the Years assigned for his own life, seventy years to David

رب العزت نے آدم کا لئے جنت کے ابواب کھول دیے اور ان کو ستر مقامات دکھائے اور آدم نے شاہ داود کو دیکھا کہ وہ بے جان ہے – پوچھا اے رب یہ کون ہے ؟ ارشاد باری ہوا یہ شاہ داود ہے اور پہلے انسان یعنی آدم نے اپنی عمر کے سالوں میں سے ستر سال داود کو عطا کر دیے

جواب

ابو زید پر مختلف اقوال ہیں

الطبراني: قال أبو بكر بن صدقة: أبو زيد سعد بن عبيد القارئ الذي كان على القادسية، وهو أبو عمير بن سعد

صحیح بخاری کے ایک نسخہ میں ہے
قلتُ لأنسٍ: مَن أبو زيدٍ؟ قالَ: أحدُ عُمومَتي، [ماتَ ولم يتركْ عَقِباً، وكانَ بدريًّا 5
یہ میرے ایک چچا تھے مر گئے کوئی اولاد نہ ہوئی بدری تھے

مُخْتَصَر صَحِيحُ الإِمَامِ البُخَارِي از البانی

کہ
اس میں عروہ بن زبیر ہے اس نے روایت گھڑی ہے
دوم عائشہ رضی الله عنہا نے خبر نہیں دی کس سے سنا
تیسرا الفاظ میں پرھنا نہیں جانتا – توہین ہے
چھوتھا کہ جبریل کون ھوتے ہیں دبوچنے والے

جواب

یہ روایت اہل سنت میں نزول الوحی پر معروف و مشھور ہے – اہل تشیع کا اس پر یہ اعتراض نیا ہے
الطباطبائي نے حدیث صحیح بخاری پر لغو اعترضات کیے ہیں
و القصة لا تخلو من شيء و أهون ما فيها من الإشكال شك النبي (صلى الله عليه وآله وسلم) في كون ما شاهده وحيا إلهيا من ملك سماوي ألقى إليه كلام الله و تردده بل ظنه أنه من مس الشياطين بالجنون، و أشكل منه سكون نفسه في كونه نبوة إلى قول رجل نصراني مترهب
یہ قصہ اشکال و وہم سے خالی نہیں ہے … رسول الله متردد تھے … یھاں کہ کہ ایک راہب کی بات سے سکوں میں آئے

—–
تفسیر قمی جو شروع کی تفسیر ہے
في تفسير على بن ابراهيم وفى رواية أبى الجارود عن ابى جعفر عليه السلام في
قوله : ما ودعك ربك وما قلى وذلك ان جبرئيل عليه السلام أبطأ على رسول الله صلى الله عليه وآله
وانه كانت اول سورة نزلت ” اقرأ باسم ربك الذى خلق ” ثم ابطأ عليه فقالت خديجة
رضى الله عنها : لعل ربك قد تركك فلا يرسل اليك ، فأنزل الله تبارك وتعالى
” ما ودعك وما قلى ” .
اس میں یہی ہے اقرا ہی پہلی سورت ہے جو نازل ہوئی اور خدیجہ نے کہا لگتا ہے اپ کے رب نے اپ کو چھوڑ دیا اب نازل نہ کرے گا
——-
في عيون الاخبار باسناده إلى الحسين بن خالد قال : قال الرضا عليه السلام :
سمعت ابى يحدث عن ابيه عليه السلام ان اول سورة نزلت بسم الله الرحمن الرحيم اقرأ باسم
ربك وآخر سورة نزلت ” اذا جاء نصر الله ”

في اصول الكافى عدة من أصحابنا عن أحمد بن سهل بن زياد عن منصور بن العباس
عن محمد بن العباس بن السرى عن عمه على بن السرى عن أبى عبدالله عليه السلام قال : أول
ما نزل على رسول الله صلى الله عليه وآله بسم الله الرحمن الرحيم اقرأ بسم ربك وآخره ” اذا
جاء نصر الله ” .

یہ سب تفسير نور الثقلين میں موجود ہے
یعنی ٣٠٠ ہجری تک شیعہ یہی کہتے تھے کہ سورہ الاقراء ہی پہلی سورت ہے
=================
ورقة بن نوفل کا قصہ عروه بن زبیر نے نہیں گھڑا اہل تشیع نے بھی ورقه کے وجود کا ذکر کیا ہے

مثلا
تفسير مجمع البيان از أبي على الفضل بن الحسن الطبرسي

إن الذين آمنوا » اختلف في هؤلاء المؤمنين من هم فقال قوم هم الذين آمنوا بعيسى ثم لم يتهودوا و لم ينتصروا و لم يصباوا و انتظروا خروج محمد (صلى الله عليهوآلهوسلّم) و قيل هم طلاب الدين منهم حبيب النجار و قس بن ساعدة و زيد بن عمرو بن نفيل و ورقة بن نوفل و البراء الشني و أبو ذر الغفاري و سلمان الفارسي و بحير الراهب و وفد النجاشي آمنوا بالنبي

میں ورقه کا ذکر ہے
——
اسی تفسیر میں یہی صحیح بخاری کی حدیث جیسا متن ہے کہ ورقه کے پاس خدیجہ لے کر گئیں جب پہلی الوحی آئی
قالت خديجة : فانطلقنا إلى ورقة بن نوفل بن أسد بن عبد العزى هو ابن عم خديجة فأخبره رسول الله (صلى الله عليهوآلهوسلّم) بما رأى فقال له ورقة : إذا أتاك فاثبت له حتى تسمع ما يقول ثم أتيني فأخبرني فلما خلا ناداه يا محمد قل له ذلك فقال له أبشر ثم أبشر فأنا أشهد أنك الذي بشر به ابن مريم و أنك على مثل ناموس موسى و أنك نبي مرسل و أنك سوف تؤمر بالجهاد بعد يومك هذا و لئن أدركني ذلك لأجاهدن معك فلما توفي ورقة قال رسول الله (صلى الله عليهوآله وسلّم) : لقد رأيت القس في الجنة عليه ثياب الحرير لأنه آمن بي و صدقني يعني ورقة و روي أن ورقة قال في ذلك :
فإن يك حقا يا خديجة فأعلمي
حديثك إيانا فأحمد مرسل
و جبريل يأتيه و ميكال معهما
من الله وحي يشرح الصدر منزل
يفوز به من فاز عزا لدينه
و يشقى به الغاوي الشقي المضلل
فريقان منهم فرقة في جنانه
============

ثابت ہوا یہی ورقه بن نوفل کا قصہ الگ سند سے اور مختلف متن سے اہل تشیع میں بھی مروج رہا ہے اور تفسیروں میں ان کی احادیث کی کتب میں ہے تو پھر عروه بن زبیر کا اس میں تفرد کیسے ہوا ؟

باقی رہے یہ اعتراض کہ عائشہ رضی الله عنہا نے ذکر نہیں کیا کس سے سنا تو یہ بات معلوم ہے کہ امہات المومنین میں سے تمام کو علم النبی سے ہی ملا ہے

قرآن میں ذکر ہے کہ موسی جب الله سے کلام کر رہے تھے جیسے ہی ان کا عصا سانپ میں بدلا وہ بھاگے

وَأَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَا مُوسَىٰ لَا تَخَفْ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ
http://quran.ksu.edu.sa/tafseer/tabary/sura27-aya10.html

خوف تو بشري چیز ہے

جبریل کا رسول الله کو دبوچنا بھی خوف کو ختم کرنے کے لئے تھا کہ معلوم ہو کہ یہ ایک حقیقیت ہے نظر کا دھوکہ نہیں ہے

اور قرآن میں موجود ہے کہ رسول الله پڑھنا نہیں جانتے تھے


باب: آزاد شدہ غلام کو قاضی یا حاکم بنانا۔

حدیث نمبر: 7175

حدثنا عثمان بن صالح ، حدثنا عبد الله بن وهب ، اخبرني ابن جريج ، ان نافعا اخبره ، ان ابن عمر رضي الله عنهما ، اخبره قال : “كان سالم مولى ابي حذيفة يؤم المهاجرين الاولين ، واصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في مسجد قباء ، فيهم ابو بكر ، وعمر ، وابو سلمة ، وزيد ،وعامر بن ربيعة ”

´ہم سے عثمان بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں نافع نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہا کہ` ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے (آزاد کردہ غلام) سالم، مہاجر اولین کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے۔ ان اصحاب میں ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔

حدیث نمبر: 692

حدثنا إبراهيم بن المنذر ، قال : حدثنا انس بن عياض ، عن عبيد الله ، عن نافع ، عن بن عمر ، قال : ” لما قدم المهاجرون الاولون العصبة موضع بقباء قبل مقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم ، كان يؤمهم سالم مولى ابي حذيفة ، وكان اكثرهم قرآنا ”

´ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا انہوں نے عبیداللہ عمری سے، انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ` جب پہلے مہاجرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے بھی پہلے قباء کے مقام عصبہ میں پہنچے تو ان کی امامت ابوحذیفہ کے غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے۔ آپ کو قرآن مجید سب سے زیادہ یاد تھا۔

اگر حضرت ابو بکر رضی الله المهاجرين الاولين میں سے تھے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت وقت کیسے موجود تھے جیسا کہ صحیح بخاری کی اس حدیث میں ہے

مسند احمد کی حدیث میں بھی تنہا حضور صلی الله علیہ وسلم کا ذکر ہے

ا ب ج جلد دوم مسند احمد

مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 1341

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ وَأَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ أَنَّ مِقْسَمًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ قَالَ تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ لَيْلَةً بِمَكَّةَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا أَصْبَحَ فَأَثْبِتُوهُ بِالْوَثَاقِ يُرِيدُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ اقْتُلُوهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ أَخْرِجُوهُ فَأَطْلَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ فَبَاتَ عَلِيٌّ عَلَى فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَحِقَ بِالْغَارِ وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا يَحْسَبُونَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا رَدَّ اللَّهُ مَكْرَهُمْ فَقَالُوا أَيْنَ صَاحِبُكَ هَذَا قَالَ لَا أَدْرِي فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ خُلِّطَ عَلَيْهِمْ فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ فَمَرُّوا بِالْغَارِ فَرَأَوْا عَلَى بَابِهِ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ فَقَالُوا لَوْ دَخَلَ هَاهُنَا لَمْ يَكُنْ نَسْجُ الْعَنْكَبُوتِ عَلَى بَابِهِ فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آیت قرآنی ” و اذ یمکر بک الذین کفرو ” کی تفسیر میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت قریش نے مکہ مکرمہ میں باہم مشورہ کیا، بعض نے کہا کہ صبح ہوتے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بیڑیوں میں جکڑ دو، بعض نے کہا کہ قتل کر دو اور بعض نے انہیں نکال دینے کامشورہ دیا، اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی اس مشاورت کی اطلاع دے دی۔ چنانچہ اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نکل کر نماز میں چلے گئے، مشرکین ساری رات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے ہوئے پہرہ داری کرتے رہے اور صبح ہوتے ہی انہوں نے ہلہ بول دیا، لیکن دیکھا تو وہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے، اس طرح اللہ نے ان کے مکر کو ان پر لوٹا دیا، وہ کہنے لگے کہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے نہیں پتہ، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات قدم تلاش کرتے ہوئے نکلے، جب وہ اس پہاڑ پر پہنچے تو انہیں التباس ہوگیا، وہ پہاڑ پر بھی چڑھے اور اسی غار کے پاس سے بھی گذرے (جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پناہ گزین تھے) لیکن انہیں غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا دیکھائی دیا، جسے دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ اگر وہ یہاں ہوتے تو اس غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا نہ ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس غار میں تین دن ٹھہرے رہے۔
جواب

مسند احمد کی روایت کی سند مضبوط نہیں ہے – خود امام احمد نے مقسم بن بجرة کو ابن عباس کے ثقہ شاگروں میں شمار نہیں کیا
العلل میں ہے

قال مهنى بن يحيى: سألت أحمد، قلت: من أصحاب ابن عباس؟ قال: ستة، قلت: من هم؟ قال: مجاهد، وطاووس، وعطاء بن أبي رباح، وجابر بن زيد، وعكرمه، وسعيد بن جبير، قلت: مقسم؟ قال: مقسم دون هؤلاء. «تهذيب الكمال» 28/ (6166) .

ابن حزم نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے
ابن سعد نے کہا وكان كثير الحديث ضعيفا.
لہذا مسند احمد والی روایت صحیح نہیں
———-

حدثنا عثمان بن صالح ، حدثنا عبد الله بن وهب ، اخبرني ابن جريج ، ان نافعا اخبره ، ان ابن عمر رضي الله عنهما ، اخبره قال : “كان سالم مولى ابي حذيفة يؤم المهاجرين الاولين ، واصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في مسجد قباء ، فيهم ابو بكر ، وعمر ، وابو سلمة ، وزيد ،وعامر بن ربيعة ”

´ہم سے عثمان بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں نافع نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہا کہ` ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے (آزاد کردہ غلام) سالم، مہاجر اولین کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے۔ ان اصحاب میں ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔

مسجد قبا تو مسجد النبی سے پہلے سے ہے اور یہ پہلی مسجد ہے جو اسلام میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بنائی – اس کے بعد اس میں سالم امام ہوتے اور ابو بکر جب وہاں ہجرت کے بعد جاتے تو سالم کی اقتداء میں نماز پڑھتے

یہ بات کہ قبا سے قبل کسی مقام پر مسلمانوں نے مسجد بنا لی تھی یہ ممکن نہیں کیونکہ اجتماعی عبادت رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پہلے کوئی نہیں کر سکتا – مکہ میں بھی رسول الله نے کوئی اجتماعی عبادت نہیں کی

التوضيح لشرح الجامع الصحيح از ابن مقلن میں ہے
، وكتب الأصيلي عليه: العصبة مهملًا غير مضبوط
الأصيلي نے کہا العصبة اس میں مہمل ہے مضبوط نہیں ہے

ابن رجب کا فتح الباری میں کہنا ہے
والمراد بهذا: أَنَّهُ كَانَ يؤمهم بعد مقدم النَّبِيّ – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اس حدیث سے مراد ہے کہ یہ امامت کرتے جب رسول الله مدینہ آ گئے

صحیح بخاری کی یہ حدیث کیسی ہے

صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ (بَابُ قَوْلِهِ {لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ) صحیح بخاری: کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

(باب: آيت لا تد خلوا بيوت النبي كي تفسير)

4795

حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَمَا ضُرِبَ الْحِجَابُ لِحَاجَتِهَا وَكَانَتْ امْرَأَةً جَسِيمَةً لَا تَخْفَى عَلَى مَنْ يَعْرِفُهَا فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا سَوْدَةُ أَمَا وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ قَالَتْ فَانْكَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى وَفِي يَدِهِ عَرْقٌ فَدَخَلَتْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي خَرَجْتُ لِبَعْضِ حَاجَتِي فَقَالَ لِي عُمَرُ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ وَإِنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ

حکم : صحیح 4795

ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد قضاءحاجت کے لئے نکلیں وہ بہت بھاری بھرکم تھیںجو انہیں جانتا تھا اس سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں ۔ راستے میں عمر بن خطاب نے انہیں دیکھ لیا اور کہا کہ اے سودہ ! ہاں خدا کی قسم آپ ہم سے اپنے آپ کو نہیں چھپا سکتیں دیکھئے تو آپ کس طرح باہر نکلی ہیں ۔ بیان کیا کہ سودہ رضی اللہ عنہا الٹے پاؤں وہاں سے واپس آگئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے حجرہ میں تشریف رکھتے تھے اور رات کا کھانا کھا رہے تھے ، آنحضرت کے ہاتھ میں اس وقت گوشت کی ایک ہڈی تھی ۔ سودہ رضی اللہ عنہا نے داخل ہوتے ہی کہا ، یا رسول اللہ ! میں قضاءحاجت کے لئے نکلی تھی تو عمر ( رضی اللہ عنہ ) نے مجھ سے باتیں کیں ، بیان کیا کہ آپ پر وحی کا نزول شروع ہو گیا اور تھوڑی دیر بعد یہ کیفیت ختم ہوئی ، ہڈی اب بھی آپ کے ہاتھ میں تھی ۔ آپ نے اسے رکھا نہیں تھا ۔ پھر آنحضرت نے فرمایا کہ تمہیں ( اللہ کی طرف سے ) قضاءحاجت کے لئے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے ۔

جواب

یہ روایت هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ کی سند سے ہے – سند صحیح ہے

——
روایت کا متن صحیح نہیں لگتا – سودہ رضی الله عنہا رات میں نکلیں اور عمر رضی الله عنہ کے لئے وہ ام المومنین تھیں لہذا ان کا تبصرہ کرنا مناسب نہیں تھا -سورہ الاحزاب میں امہات المومنین کے حوالے سے احکام نازل ہو چکے تھے

میرے نزدیک متن منکر ہے


جواب

الاستیعاب فی معرفة الأصحاب
عائشة بنت أبی بکر الصديق زوج النبیﷺ تزوجها رسول اللهﷺ بمکة قبل الهجرة بسنتين هذا قول أبی عبيدة وقال غيره بثلاث سنين وهي بنت ست سنين وقيل سبع سنين وابتنی بها بالمدينة وهي ابنة تسع لاأعلمهم اختلفوا فی ذلک
عائشہ (آپ ) ابوبکر کی بیٹی ہیں۔ آپ کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں ہواتھا۔ ابوعبیدہ کا بیان ہے کہ ہجرت کے دو سال قبل یہ نکاح ہوا تھا اور بعض لوگوں کا بیان ہے کہ تین سال قبل ہوا تھا۔ اس وقت آپ کی عمر چھ برس کی تھی اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سات برس کی تھی۔ اور جس وقت آپ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر رخصتی ہوئی ہے، اس وقت آپ کی عمر کل نو برس کی تھی۔ مجھے اس بارے میں کسی کا اختلاف معلوم نہیں

کتاب اصابہ از ابن حجر
عائشة بنت أبی بکر الصديق ولدت بعد المبعث بأربع سنين أو خمس فقد ثبت فی الصحيح أن النبیﷺ تزوجها وهي بنت ست وقيل سبع و يجمع بأنها کانت أکملت السادسة ودخلت فی السابعة ودخل بها وهي بنت تسع
ابوبکر کی لڑکی ہیں۔ نبوت کے چوتھے یا پانچویں سال آپ کی ولادت ہوئی ہے کیونکہ صحیح حدیث سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے ساتھ نکاح کیا تھا تو اس وقت آ پ کی عمر چھ برس یا بقول بعض سات برس کی تھی۔ اور ان دونوں اَقوال میں کچھ اختلاف نہیں۔اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ چھ برس کی عمر پوری کرکے ساتویں برس میں داخل ہوچکی تھیں۔ اور آپ کی رخصتی ہوئی جبکہ آپ کی عمر ۹ برس کی تھی۔

طبرانی میں ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْحَنَّاطُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ»
رسول الله نے مجھ سے نکاح کیا تو میں ٦ سال کی تھی اور رخصتی ہوئی تو میں نو سال کی تھی

دوسری روایت میں ہے میں نو سال رسول الله کے ساتھ رہی اور معلوم ہے رسول الله نے مدینے میں تقریبا دس سال گزارے اس طرح پہلی ہجری میں رخصتی ہوئی

پہلی ہجری میں اس طرح عمر ٩ سال ہوئی – یعنی ہجرت سے نو سال قبل ولادت ہوئی

یہ معاملہ عموم و خصوص ہے – اس میں کسی راوی کا تفرد نہیں ملتا کہ کہا جا سکے یہ صرف ہشام بن عروه نے ہی نہیں بیان کیا اور نے بھی بیان کیا ہے
نبی صلی الله علیہ وسلم نے یہ نکاح کیا جب ان کو خواب میں عائشہ رضی الله عنہ دکھائی گئیں
——-
پھر بلوغت کی عمر اسلام میں مرد کے لئے ١٤ سال ہے – اسی عمر کی بنیاد پر بنو قریظہ کے لڑکوں کو قتل کیا گیا
لڑکیوں کی عمر اس سے بھی کم ہے
اہل کتاب میں لڑکی کی 12 سال ہے
Judaism: 13 years of age for males (Bar Mitzvah) and 12 years of age for females (Bat Mitzvah);
لیکن توریت میں ہے کہ دس سال کی عمر میں اسحاق علیہ السلام نے رابریکا علیہ السلام سے شادی کی تھی
Rebecca wife of Prophet Ishaq was given to him at age of ten (Genesis 24:55)

علمائے یہود کے مطابق ٣ سال کی لڑکی بالغ ہے
According to Talmud, Rabbis
inferred the age of marriage form Moses’ order (Book of Numbers 31:17−18). According to them Moses
ordered Israelites to kill all \women older than three years and a day”, because they were suitable for
having sexual relations.

مسلمانوں نے بنو قریظہ میں مردوں کو قتل کیا جبکہ ان کی عمر ١٣ یا ١٤ سال تھی
لہذا بلوغت کا تعلق عمر سے نہیں نشانی ظاہر ہونے سے ہے
مرد کے ناف کے نیچے بال ہیں اور لڑکی کو حیض ہے
یہ کس عمر میں ہو گا اس کا تعلق اب و ہوا سے ہے
—-
الوحی کی کیفیت کی روایت عائشہ رضی الله عنہا نے بیان کی اس سے کیسے دلیل ہوئی کہ وہ ان کا چشم دید واقعہ تھا کیونکہ اگر نکاح کے وقت عمر ١٦ سال بھی لیں تو اس وقت وہ پیدا ہی نہیں تھیں – یہ ایسا ہی ہے کہ معراج کی حدیث انس نے بیان کی ہیں جبکہ وہ مدینہ میں تھے معراج مکہ میں ہوئی

تهذيب الأسماء واللغات از أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي (المتوفى: 676هـ) میں ہے

وفى تاريخ دمشق: قال ابن أبى الزناد: كانت أسماء أكبر من عائشة بعشر سنين. وعن الحافظ أبى نعيم، قال: ولدت أسماء قبل هجرة رسول الله – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – بسبع وعشرين سنة، وكان لأبيها أبى بكر حين ولدت له إحدى وعشرون سنة.
اور تاریخ دمشق میں ہے ابن أبى الزناد نے کہا اسماء دس سال عائشہ سے بڑی تھیں اور ابو نعیم اصبہانی نے کہا نبی صلی الله علیہ وسلم نے ہجرت کی تو اسماء ٢٧ سال کی تھیں

اس حوالے کو بیان کیا جاتا ہے کہ عائشہ اس طرح ہجرت کے وقت ١٧ سال کی تھیں

اصل حوالہ تاریخ دمشق کا ہے
أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد المالكي أنا أحمد بن عبد الواحد السلمي أنا جدي أبو بكر أنا أبو محمد بن زبر نا أحمد بن سعد بن إبراهيم الزهري نا محمد بن أبي صفوان نا الأصمعي عن ابن أبي الزناد قال كانت أسماء بنت أبي بكر أكبر من عائشة بعشر سنين

یہ قول عبد الرحمن بن أبي الزناد عبد الله بن ذكوان المدني مولى قريش پیدائش ١٠٠ ہجری کا ہے
اس کی بنیاد پر یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ اسماء دس سال بڑی تھیں
جو سن ١٠٠ میں پیدا ہو اس سے لے کر عائشہ رضی الله عنہا تک سند ہی نہیں ہے
محمد بن أبي صفوان پر مجھے معلومات نہیں ملیں

—–

دوسرا حوالہ طبقات ابن سعد کا بیان کیا جاتا ہے

محمد إبن سعد – الطبقات الكبرى – الجزء : ( 8 ) – رقم الصفحة : ( 59 ) 9584 – أخبرنا : عبد الله بن نمير ، عن الأجلح ، عن عبد الله بن أبي ملكية قال : خطب رسول الله (ص) عائشة بنت أبي بكر الصديق ، فقال : إني كنت أعطيتها مطعماً لإبنه جبير فدعني حتى أسلها منهم ، فإستسلها منهم فطلقها فتزوجها رسول الله (ص)

ترجمہ —-رسول اکرم ﷺ نے ابوبکر سے عائشہ سے شادی کرنے کا پوچھا تو ابوبکر نے کہا میں اسے پہلے ھی معطم بن جبیر کو دے چکا ھوں مجھے اس سے پوچھنے دیں اور اس سے پوچھا تو جبیر نے اسے طلاق دے دی اور عائشہ کی شادی رسول اللہ ﷺ سے کروا دی

اس کی سند ہی ضعیف ہے سند میں الأجلح بْن عَبد اللَّهِ بْن معاوية أَبُو حجية الكندي ہے جو کٹر شیعہ ہے

عائشہ رضی الله عنہا کی اس ابن الدغنہ والی روایت بیان کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ سب انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
إس كي مثال دی تھی کہ انس رضی الله عنہا معراج کی روایات کے راوی ہیں تو کیا یہ کہا جائے گا کہ معراج مدینہ میں ہوئی نہ کہ مکہ میں ؟ شق القمر کے واقعہ کا صحیح علم نہیں کب ہوا سورہ قمر کی آیات عائشہ رضی الله عنہا تلاوت کرتیں جو اس اس کی آخری آیات ہیں

بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ شق قمر دو دفعہ ہوا
حدّثنى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ؛ أَنَّ أَهْلَ مَكَّةُ سَأَلُوا رَسُولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً، فَأَراهُمُ انْشِقَاقَ القَمَرِ، مَرَّتيْنِ.

فتح الباری میں ابن حجر نے لکھا ہے
وَقَدْ وَرَدَ انْشِقَاقُ الْقَمَرِ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ وَحُذَيْفَةَ وَجُبَيْرِ بْنِ مطعم وبن عمر وَغَيرهم فَأَما أنس وبن عَبَّاسٍ فَلَمْ يَحْضُرَا ذَلِكَ لِأَنَّهُ كَانَ بِمَكَّةَ قبل الْهِجْرَة بِنَحْوِ خمس سِنِين وَكَانَ بن عَبَّاسٍ إِذْ ذَاكَ لَمْ يُولَدْ وَأَمَّا أَنَسٌ فَكَانَ بن أَرْبَعٍ أَوْ خَمْسٍ بِالْمَدِينَةِ وَأَمَّا غَيْرُهُمَا فَيُمْكِنُ أَنْ يَكُونَ شَاهَدَ ذَلِكَ
شق قمر کی روایات عَلِيٍّ وَحُذَيْفَةَ وَجُبَيْرِ بْنِ مطعم وبن عمر سے بھی ہیں اور جہاں تک انس و ابن عباس ہیں تو وہ وہاں حاضر نہیں تھے کیونکہ یہ مکہ میں ہوا ہجرت سے پانچ سال قبل اس وقت ابن عباس پیدا نہیں ہوئے تھے اور انس مدینہ میں تھے جو چار پانچ سال کے تھے اور جو اور بیان کرتے ہیں ممکن ہے انہوں نے دیکھا ہو

یعنی چار سال کے انس شق قمر کا واقعہ بیان کرتے ہیں تو بات تو وہی بن جائے گی جو اپ کہہ رہے ہیں کہ چار سال کے بچے کی روایت لی جائے یا نہیں

ظاہر ہے کہ بڑے ہونے پر یہ تفصیل کسی نے بیان کی اور عائشہ یا انس یا ابن عباس نے بیان کیں
——-
نوٹ
محدثین نے حسن و حسین کو صحابی تسلیم کیا ہے جبکہ ان کی عمر بھی دس یا گیارہ سال ہو گی
محمود بن الربیع کو صحابی مانا ہے جو چار سال کے تھے رسول الله نے وضو کرتے وقت ان کے منہ پر کلی کی تھی

==========

شق قمر کب ہوا اس پر کوئی ایک قول نہیں ہے
شیعہ علي النمازي کتاب مستدرك سفينة البحار میں کہتے ہیں
أقول: رواية إنشقاق القمر بنصفتين بدعائه متواترة بين العامّة والخاصّة، فراجع تفاسيرهم(2). وكان قبل الهجرة بثلاث سنين.
شق قمر ہجرت سے تین سال قبل ہوا
اس قول کے حساب سے عائشہ رضی الله عنہا کی عمر شق قمر کے وقت چھ سال ہوئی اور اسی دور میں شادی کی خبر اہل سنت دیتے ہیں

سنی کتاب التحرير والتنوير « از ابن عاشور میں ہے
كَانَتْ عُقِدَ عَلَيْهَا فِي شَوَّالٍ قَبْلَ الْهِجْرَةِ بِثَلَاثِ سِنِينَ، أَيْ فِي أَوَاخِرِ سَنَةِ أَرْبَعٍ قَبْلَ الْهِجْرَةِ بِمَكَّةَ، وَعَائِشَةُ يَوْمَئِذٍ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ،
عائشہ رضی الله عنہا سے عقد ہجرت سے تین سال قبل ہوا یا ہجرت سے چار سال کے اواخر میں اور ان دنوں وہ چھ سال کی تھیں

جواب

اس میں بہت اختلاف ہے

بعض نے کہا ٥٠ ہجری
بعض نے ٥٣ ہجری
بعض نے ٥٧ ہجری


صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمْ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ) صحیح بخاری: کتاب: غزوات کے بیان میں

(باب: جنگ حنین کا بیان۔۔۔۔)

4322

وقال الليث حدثني يحيى بن سعيد، عن عمر بن كثير بن أفلح، عن أبي محمد، مولى أبي قتادة أن أبا قتادة، قال لما كان يوم حنين نظرت إلى رجل من المسلمين يقاتل رجلا من المشركين، وآخر من المشركين يختله من ورائه ليقتله، فأسرعت إلى الذي يختله فرفع يده ليضربني، وأضرب يده، فقطعتها، ثم أخذني، فضمني ضما شديدا حتى تخوفت، ثم ترك فتحلل، ودفعته ثم قتلته، وانهزم المسلمون، وانهزمت معهم، فإذا بعمر بن الخطاب في الناس، فقلت له ما شأن الناس قال أمر الله، ثم تراجع الناس إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏ ‏ من أقام بينة على قتيل قتله فله سلبه ‏ ‏‏.‏ فقمت لألتمس بينة على قتيلي، فلم أر أحدا يشهد لي فجلست، ثم بدا لي، فذكرت أمره لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رجل من جلسائه سلاح هذا القتيل الذي يذكر عندي فأرضه منه‏.‏ فقال أبو بكر كلا لا يعطه أصيبغ من قريش، ويدع أسدا من أسد الله يقاتل عن الله ورسوله صلى الله عليه وسلم قال فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فأداه إلى، فاشتريت منه خرافا فكان أول مال تأثلته في الإسلام‏.‏

حکم : صحیح 4322

اور لیث بن سعدنے بیان کیا ، مجھ سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیاتھا کہ ان سے عمر بن کثیر بن افلح نے ، ان سے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابو محمد نے کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، غزوئہ حنین کے دن میں نے ایک مسلمان کو دیکھاکہ ایک مشرک سے لڑرہا تھا اور ایک دوسرا مشرک پیچھے سے مسلمان کو قتل کرنے کی گھات میں تھا ، پہلے تو میں اسی کی طرف پڑھا ، اس نے اپنا ہاتھ مجھے مارنے کے لیے اٹھایاتو میں نے اس کے ہاتھ پر وار کرکے کاٹ دیا ۔ اس کے بعد وہ مجھ سے چمٹ گیا اور اتنی زور سے مجھے بھینچاکہ میں ڈرگیا ۔ آخر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور ڈھیلا پڑگیا ۔ میں نے اسے دھکا دے کر قتل کر دیااور مسلمان بھاگ نکلے اور میں بھی ان کے ساتھ بھاگ پڑا ۔ لوگوں میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نظر آئے تومیں نے ان سے پوچھا ، کہ لوگ بھاگ کیوں رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے ، پھر لوگ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر جمع ہوگئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس پر گواہ قائم کر دے گاکہ کسی مقتول کو اسی نے قتل کیا ہے تو اس کا سارا سامان اسے ملے گا ۔ میں اپنے مقتول پر گواہ کے لیے اٹھا لیکن مجھے کوئی گواہ دکھائی نہیں دیا ۔ آخر میں بیٹھ گیا پھر میرے سامنے ایک صورت آئی ۔ میں نے اپنے معاملے کی اطلاع حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ۔ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے ایک صاحب ( اسود بن خزاعی اسلمی رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ ان کے مقتول کا ہتھیا رمیرے پاس ہے ، آپ میرے حق میں انہیں راضی کردیں ۔ اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا ہرگز نہیں ، اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کوچھوڑ کر جو اللہ اور اس کے رسول کے لیے جنگ کرتا ہے ، اس کا حق قریش کے ایک بزدل کوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں دے سکتے ۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور مجھے وہ سامان عطافرمایا ۔ میں نے اس سے ایک باغ خریدا اور یہ سب سے پہلامال تھا جسے میں نے اسلام لانے کے بعد حاصل کیا تھا ۔

ث میں جو یہ الفاظ ہیں کہ

فإذا بعمر بن الخطاب في الناس، فقلت له ما شأن الناس قال أمر الله

قال أمر الله یہنی یہ الله کا حکم ہے – یہ حضرت عمر رضی الله کو کیسے پتا چلا کہ الله کا حکم ہے

اگر یہ الله کا حکم ہے تو ان آیات کا کیا مطلب ہوا

يَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ زَحْفًا فَلا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَار
جواب

ان آیات کا مقصد ہے کہ بزدلی میں فرار مت کرو
لیکن جنگی حکمت کے طور پر پلٹ جانا الگ چیز ہے یعنی پلٹنا اور پھر واپس حملہ کرنا
اس کو عمر رضی الله عنہ نے حکم الہی کہا یعنی یہ من جانب الله رسول الله کو حکم ہوا ایسا کرو
اس کی خبر صف میں ان لوگوں کو ہوئی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے قریب تھے

ابو قتادہ دور کہیں باہر لڑ کر آ رہے تھے ان کو خبر نہیں تھی کہ ابھی حکم الگ ہے

ابو بکر رضی الله عنہ نے ابو قتادہ کو بزدل قرار دیا کیونکہ جو انہوں نے کہا اس پر کوئی گواہ نہ تھا کہ واقعی یہ قتل انہوں نے کیا تھا
البتہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان کی بات کو قبول کیا


تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے

أخبرنا يونس بن عبد الأعلى قراءة، أنبأ ابن وهب، أخبرني عبد الله بن لهيعة عن أبي الأسود قال: اختصم رجلان إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقضى بينهما، فقال الذي قضى عليه: ردنا إلى عمر بن الخطاب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نعم، انطلقا إلى عمر، فلما أتيا عمر قال الرجل: يا ابن الخطاب قضى لي رسول الله صلى الله عليه وسلم على هذا، فقال: ردنا إلى عمر حتى أخرج إليكما فأقضي بينكما، فخرج إليهما، مشتملا على سيفه فضرب الذي قال: ردنا إلى عمر فقتله، وأدبر الآخر فارا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، قتل عمر والله صاحبي ولو ما أني أعجزته لقتلني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما كنت أظن أن يجترئ عمر على قتل مؤمنين، فأنزل الله تعالى فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما فهدر دم ذلك الرجل وبرئ عمر من قتله، فكره الله أن يسن ذلك بعد، فقال: «ولو أنا كتبنا عليهم أن اقتلوا أنفسكم أو اخرجوا من دياركم ما فعلوه إلا قليل منهم» إلى قوله: وأشد تثبيتا

یونس بن عبد الاعلیٰ عبدللہ بن وھب سے روایت کرتے ہیں کہ ابن الہیعہ نے انہیں ابو الاسود سے نقل کرتے ہوئے خبر دی: دو آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا لے گئے آپ نے ان کے درمیان فیصلہ فرمایا جس کے خلاف فیصلہ ہوا اس نے کہا ہم کو حضرت عمر ؓ کے پاس بھیج دو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے؟ دونوں عمر ؓکے پاس چلے جب عمر ؓ کے پاس آئے تو ایک آدمی نے کہا اے ابن خطاب میرے لئے رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرما دیا ہے اس معاملہ میں اس نے کہا ہم عمر ؓ کے پاس جائیں گے تو ہم آپ کے پاس آگئے عمر ؓ نے پوچھا (اس آدمی سے) کہا ایسے ہی ہے؟ اس نے کہا ہاں عمر ؓ نے فرمایا اپنی جگہ پر رہو یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آؤں تمہارے درمیان فیصلہ کروں حضرت عمر اپنی تلوار لے کر آئے اس پر تلوار سے وار کیا جس نے کہا تھا کہ ہم عمر کے پاس جائیں گے اور اس کو قتل کردیا اور دوسرا پیٹھ پھیر کر بھاگا اور رسول اللہ ﷺ سے آکر کہا یا رسول اللہ اللہ کی قسم عمر ؓ نے میرے ساتھی کو قتل کردیا اگر میں بھی وہاں رکا رہتا تو وہ مجھے بھی قتل کردیتے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرا گمان یہ نہیں تھا۔ کہ عمر ؓ ایمان والوں کو قتل کی جرات کریں گے تو اس پر یہ آیت اتری لفظ آیت ’’ فلا وربک لا یؤمنون‘‘ تو اس آدمی کا خون باطل ہوگیا اور عمر ؓ اس کے قتل سے بری ہوگئے اللہ تعالیٰ نے بعد میں اس طریقہ کو ناپسند کیا تو بعد والی آیات نازل فرمائیں اور فرمایا لفظ آیت ’’ ولو انا کتبنا علیہم ان اقتلوا انفسکم‘‘ سے لے کر ’’واشد تثبیتا‘‘ تک

وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ أَوِ اخْرُجُوا مِنْ دِيَارِكُمْ مَا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌ مِنْهُمْ وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا (66)
جواب

یہ روایت منکر ہے

تعزیری احکام صرف حاکم کا حق ہے اور دور نبوی میں قتل کا حکم صرف نبی صلی الله علیہ وسلم کر سکتے ہیں – کوئی اور نہیں

محمد الأمين بن عبد الله الأرمي العلوي الهرري الشافعی کتاب تفسير حدائق الروح والريحان في روابي علوم القرآن میں کہتے ہیں
وهذا مرسل غريب في إسناده ابن لهيعة.
یہ روایت مرسل ہے عجیب و منفرد ہے اس کی سند میں ابن لهيعة ہے

ابن کثیر تفسیر میں اس قصے کو نقل کر کے کہتے ہیں
وَهُوَ أثر غريب مُرْسَلٌ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ضَعِيفٌ
یہ اثر عجیب ہے مرسل ہے اور ابْنُ لَهِيعَةَ ضعیف ہے

محاسن التأويل میں المؤلف: محمد جمال الدين بن محمد سعيد بن قاسم الحلاق القاسمي (المتوفى: 1332هـ) کہتے ہیں
وهو أثر غريب مرسل. وابن لهيعة ضعيف

اس راوی پر محدثین کا اختلاف رہا ہے – بعض نے مطلقا ضعیف کہا ہے بعض نے کہا کہ اگر ابن المبارك وابن وهب والمقري اس سے روایت کریں تو لکھ لو
اس طرح اس قصے کو قبول کرنے والے کہتے ہیں ابن وھب نے روایت کیا ہے لہذا قبول کیا جائے گا
لیکن یہ قول اس وقت لیا جاتا ہے جب اختلاط کا خطرہ ہو کیونکہ عبد الله بن لهيعة آخری عمر میں مختلط تھا اور اس نے اپنی کتابیں بھی جلا دیں تھیں
——
موصوف مدلس بھی ہیں اور یہ جرح اس سند پر بھی ہے اس کو کوئی رد نہیں کر سکتا
ابن سعد نے طبقات میں بحث کو سمیٹا ہے کہ
إنه كان ضعيفاً
یہ ضعیف ہی ہے

ابن ابی حاتم جن کی تفسیر میں یہ قصہ ہے ان کے باپ کا کہنا تھا
وأبو حاتم: أمره مضطرب،
عبد الله بن لهيعة کا کام مضطرب ہے

روایت میں شیعیت ہے

اس کو رافضی الکلبی نے بھی روایت کیا ہے
قال الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس: نزلت في رجل من المنافقين يقال له بشر كان بينه وبين يهودي خصومة، فقال اليهودي: انطلق بنا إلى محمد، وقال المنافق: بل نأتي كعب بن الأشرف -وهو الذي سماه الله تعالى الطاغوت- فأبى اليهودي إلا أن يخاصمه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما رأى المنافق ذلك “أتى معه” النبي صلى الله عليه وسلم واختصما إليه فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم لليهودي فلما خرجا من عنده لزمه المنافق وقال: ننطلق إلى عمر بن الخطاب فأقبلا إلى عمر، فقال اليهودي: اختصمت أنا وهذا إلى محمد فقضى لي عليه فلم يرض بقضائه وزعم أنه مخاصم إليك وتعلق بي فجئت معه، فقال عمر للمنافق: أكذلك؟ فقال: نعم فقال لهما: رويدكما حتى أخرج إليكما فدخل عمر البيت وأخذ السيف فاشتمل عليه ثم خرج إليهما فضرب به المنافق حتى برد وقال: هكذا أقضي بين من لم يرض بقضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم وهرب اليهودي، ونزلت هذه الآية وقال جبريل عليه السلام: إن عمر فرق بين الحق والباطل فسمي الفاروق.
الکلبی ابو صالح سے اور ابو صالح ابن عبّاسؓ سے روایت کرتے ہیں: یہ آیت بشر نامی ایک منافق کے بارے میں نازل ہوئی۔ بشر اور ایک یہودی کے مابین جھگڑا ہوا۔ یہودی نے کہا چلو آؤ محمد کے پاس فیصلہ کے لئے چلیں۔ منافق نے کہا نہیں بلکہ ہم کعب بن اشرف یہودی – جسے اللہ تعالی نے طاغوت کا نام دیا – کے پاس چلیں۔ یہودی نے فیصلہ کروانے سے ہی انکار کیا مگر یہ کہ جھگڑے کا فیصلہ رسول اللہ سے کروایا جائے۔ جب منافق نے یہ دیکھا تو وہ اس کے ساتھ نبی ﷺ کے کی طرف چل دیا اور دونوں نے اپنا اپنا مؤقف پیش کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ وہ دونوں جب آپ کے پاس سے نکلے تو منافق نے عمر بن خطابؓ کے پاس چلنے پر اصرار کیا اور وہ دونوں عمر ؓکے پاس پہنچے۔ یہودی نے کہا، میں اور یہ شخص اپنا جھگڑا محمد کے پاس لے کر گئے اور محمد نے میرے حق میں اور اس کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ چنانچہ یہ ان کے فیصلہ پر راضی نہ ہوا اور آپ کے پاس آنے کا کہا تو میں آپ اس کے ساتھ آپ کی طرف آیا۔ عمر ؓنے منافق سے پوچھا، ‘کیا یہی معاملہ ہے؟’ اس نے کہا، ‘جی ہاں۔’ عمرؓ نے ان دونوں سے کہا تم دونوں میری واپسی کا انتظار کرو۔ عمر ؓ اپنے گھر گئے، اپنی تلوار اٹھائی اور واپس ان دونوں کے پاس لوٹے اور منافق پر وار کیا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: “جو رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کو نہیں مانتا اس کے لئے میرا یہی فیصلہ ہے۔” یہ دیکھ کر یہودی بھاگ گیا۔ اس پر یہ آیت (النساء ٦٥) نازل ہوئی اور جبریل علیہ السلام نے کہا: بے شک عمر ؓنے حق اور باطل کے درمیان فرق کر دیا اور انہوں نے آپ کا نام “الفاروق” رکھا

اور ابن الہیعہ نے اغلبا تدلیس کی ہے کیونکہ ابی الاسود سے لے کر عمر رضی الله عنہ یا کسی صحابی تک سند نہیں ہے

الكَلْبِيُّ مُحَمَّدُ بنُ السَّائِبِ بنِ بِشْرٍ المتوفي ١٤٦ اور ابن الہیعہ المتوفی ١٧٤ کے ہیں دونوں پر شیعت کا اثر تھا – روایت کو عمر رضی الله عنہ کی تنقیص میں بیان کیا گیا کہ وہ حکم نبوی انے سے قبل ہی اپنی چلاتے تھے

جواب

امام مالک کے نزدیک مکہ والے بھی تنعیم سے احرام باندھیں گے
دوبارہ عمرہ کرنے پر امام مالک موطآ میں کہتے ہیں
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ «أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ مِنَ التَّنْعِيمِ» ، قَالَ: «ثُمَّ رَأَيْتُهُ يَسْعَى حَوْلَ الْبَيْتِ حَتَّى طَافَ الأَشْوَاطَ الثَّلاثَةَ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، الرَّمْلُ وَاجِبٌ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَغَيْرِهِمْ فِي الْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عروه نے دیکھا عبد الله بن زبیر (جو رہتے ہی مکہ میں تھے) نے تنعیم سے احرام باندھا اور دیکھا جلدی جلدی (سات میں سے) کعبہ کے تین چکر لگائے

اور صحیح میں آیا کہ عائشہ جو مکی آئیں تھیں مدینہ میں مقیم تھیں انہوں نے بھی تنعیم سے احرام باندھا

لہذا یہی رائے ہوئی کہ چاہے مکی ہو یا غیر مکی تمام تنعیم سے احرام باندہیں گے

قال الطحاوى : ذهب قوم إلى انه لاميقات للعمرة لمن كان بمكة إلا التنعيم ؛ ولا ينبغى مجاوزته كما لاينبغى مجاوزة ميقات الحج . وقال آخرون : بل ميقات العمرة الحل ؛ وإنما أمر النبى عائشة بالإحرام من التنعيم لانه كان أقرب الحل من مكة .
امام طحاوی نے کہا ایک قوم کا مذھب ہے کہ عمرہ کے لئے میقات التنعيم تک ہے اور اس سے آگے نہیں ہے جو حج کی میقات ہے اور دوسروں نے کہا بلکہ نبی نے عائشہ کو جو احرام کا التنعيم سے کہا تو یہ اس لئے کہ یہ مکہ سے قریب ہے

ابن زبیر نے بھی مکہ میں رہتے ایسا ہی کیا موطا امام مالک کی روایت ہے اور یہی کام غیر مقیم بھی کرے گا


جواب
بعض مورخین مثلا ابن کثیر کا کہنا ہے نبوت کے پانچویں سال میں ہوئی

ابو بکر نے ہجرت حبشہ کی نیت کی اور نکلے لیکن رستے میں ایک مشرک ابن الدغنہ ملا وہ واپس مکہ لے آیا اور قریش پر تقریر کی کہ اس کو کچھ اذیت مت دینا
قریش کے سرداروں کو جمع کر کے اس نے اعلان کیا میں نے ابو قحافہ کے بیٹے کو پناہ دی ہے ،

جواب

قرآن میں صاف لکھا ہے کہ جب فرشتے اتے ہیں وہ چوکتے نہیں اور قبض نفس کر لیتے ہیں
اسی وجہ سے اس حدیث پر سوال جنم لیتا ہے کہ مردہ اب جنازہ پر کیسے بول رہا ہے روح نکل جانے کے بھی بعد
اس سے بعض لوگوں نے دلیل لی کہ مردہ میں روح نکلی نہیں سمٹ گئی اور یہ خلاف قرآن عقیدہ ہے

اس روایت کی کوئی بھی تاویل میری نظر میں ممکن نہیں اغلبا یہ کعب الاحبار کا قول ہے جو ابو ہریرہ رضی الله عنہ نے بیان کیا اور وہ حدیث بن گیا
امام مسلم نے اس کا ذکر کتاب التمیز میں کیا ہے

کتاب التمييز( ص /175 ) کے مطابق امام مسلم نے بسر بن سعيد کا قول بیان کیا
حَدثنَا عبد الله بن عبد الرَّحْمَن الدَّارمِيّ ثَنَا مَرْوَان الدِّمَشْقِي عَن اللَّيْث بن سعد حَدثنِي بكير بن الاشج قَالَ قَالَ لنا بسر بن سعيد اتَّقوا الله وتحفظوا من الحَدِيث فوَاللَّه لقد رَأَيْتنَا نجالس أَبَا هُرَيْرَة فَيحدث عَن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَن كَعْب وَحَدِيث كَعْب عَن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم
بكير بن الاشج نے کہا ہم سے بسر بن سعيد نے کہا : الله سے ڈرو اور حدیث میں حفاظت کرو – الله کی قسم ! ہم دیکھتے ابو ہریرہ کی مجالس میں کہ وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتے اور وہ (باتیں) کعب ( کی ہوتیں) اور ہم سے کعب الاحبار ( کے اقوال) کو روایت کرتے جو حدیثیں رسول الله سے ہوتیں

راوی کو اشتباہ ہوا اور وہ ابو ہریرہ کے کلام کو نہ سمجھ سکا یا اختلاط کا شکار تھا
—-
نوٹ
امام مسلم نے اس قدمونی والی روایت کو صحیح نہیں سمجھا اس کا ذکر نہیں کیا جبکہ ان کا کہنا تھا کہ میں صحیح مسلم میں نہ صرف وہ روایات لکھ رہا ہوں جو میرے نزدیک صحیح ہیں بلکہ وہ بھی جو دوسروں کے نزدیک صحیح ہیں
امام مالک نے بھی اس کو موطا میں نہیں لکھا جبکہ راوی سعید بن ابی سعید المقبری ان کا ہم عصر ہے
اپ نام پر غور کریں اس کے نام میں مقبری ہے یہ گورکن تھا اور قبرستان کے پاس ہی رہتا تھا اور یہ واحد راوی ہے جو یہ متن نقل کرتا ہے

پہلا اشکال توریت موسی پر نازل نہیں ہوئی ؟
دوسرا موسی کو الواح دی گئی نہ کہ توریت
تیسرا تمام انبیاء بنی اسرائیلی کہلائیں گے جن کے پاس بھی کتاب ہو
چوتھا ایک ہی کتاب سب کو دی گئی نہ کہ چار کتابیں

بھائی کراچی کے ایک عالم ہیں شیخ محمّد جنہوں نے ایک ادارہ بنا رکھا ہے جس کا نام ہے

INTERNATIONAL ISLAMIC PROPAGATION CENTER

جو کہ مسجد رحمانیہ روڈ کراچی میں ہے

Complete Discussion Muhammad Shaikh to Mufti Abdul Baqi

آج ان کی ایک گفتگو جو انہوں نے ایک دیوبند کے مفتی عبدالباقی سے کی سنی – انہوں نے قرآن کے متعلق بہت ساری باتیں کیں – اگر آپ کے پاس وقت ہو تو پلیز تھوڑا سا وقت نکل کر تھوڑا بہت سن لیں اور ہمیں بتایں کہ کیا ان کو سنا جا سکتا ہے – تا کہ لوگوں کو حقیقت معلوم ہو سکے

https://www.youtube.com/user/iipcpakistan

الله آپ کو جزایۓ خیر دے – آمین
جواب

پہلا اشکال توریت موسی پر نازل نہیں ہوئی ؟
جواب قرآن میں ہے توریت کے تحت انبیاء حکم کرتے تھے اس سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایک ہی کتاب تھی وہی تمام انبیاء کے پاس تھی
یہ بات صحیح ہے اور فہم کا فرق ہے
میرے نزدیک جب الله کہتا ہے کہ انبیاء سے کتاب پر میثاق لیا تو اس سے مراد ام الکتاب ہے جو لوح محفوظ میں تھی اسی کا متن قرآن میں توریت میں انجیل میں زبور میں ہے
لیکن جہاں تک احکام کا تعلق ہے تو وہ انجیل میں یا زبور میں نہیں تھے
زبور کے لئے قرآن میں ہے کہ اس میں اللہ کی تسبیح تھی ذکر تھا اور جنت کی خبر تھی اور انجیل میں احکام نہیں تھے صرف درس و تلقین تھی
احکام وہی توریت والے تھے جو تمام بنی اسرائیل پر لگ رہے تھے عیسیٰ علیہ السلام بھی اسی توریت پر عمل کا حکم کرتے تھے الگ سے انجیل میں کوئی حکم نہیں ملتا بلکہ واپس توریت پر حکم کا حکم تھا
——
قرآن میں ہے
وَلَمَّا جَآءَهُمْ كِتَابٌ مِّنْ عِندِ الله مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ
اور جب وہ لایا جو تصدیق کرتا ہے اس کی جو ان کے پاس الله کی کتاب میں موجود ہے

اہل کتاب کے پاس کتاب اللہ کی طرف سے ہے – اس کتاب کا نام ان موصوف کے نزدیک توریت نہیں ہے
یہ عجیب بات ہے

خیال رہے توریت کے معنی قانون ہیں یہ علمائے یہود کا قول ہے – قرآن میں اس کو قانون نہیں کہا گیا
یہود کے پاس توریت ہے قرآن میں ہے
مَثَلُ الذين حُمِّلُواْ التوراة ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الحمار يَحْمِلُ أَسْفَاراً

قرآن میں ہے

الذين يَتَّبِعُونَ الرسول النبي الأمي الذي يَجِدُونَهُ مَكْتُوباً عِندَهُمْ فِي التوراة والإنجيل
توریت و انجیل میں نبی الامی کا ذکر ہے

موصوف کا مدعا ہے کہ انبیاء جو دیا گیا ہے وہ کتاب کہا جائے اس کو توریت یا انجیل نہ کہا جائے – توریت اگر قانون ہے تو آمد النبی کا ذکر کون سا قانون ہے ؟

قرآن میں اہل کتاب سے بات ہوتی ہے تو ظاہر ہے انہی کی اصطلاحات کی سطح پر بات ہو گی
——–
موصوف کہتے ہیں موسی کو الواح دی گئی نہ کہ توریت – اس کو کتاب بھی کہا صحائف بھی کہا گیا
قرآن میں ہے
وَمُصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التوراة
تمہارے سامنے جو توریت ہے اس میں اس کی تصدیق ہے

اب ظاہر ہے یہ بحث بے کار ہے
===========

موصوف کہتے ہیں تمام انبیاء بنی اسرائیلی کہلائیں گے جن کے پاس بھی کتاب ہو
منٹ ٤٤

جواب یہ عجیب بات ہے ابراھیم علیہ السلام بنی اسرائیل میں سے نہیں بلکہ ان کے باپ ہیں
قرآن میں ہے ابراھیم کو صحف دیے

یہ پھر مغالطہ ہے

=============

موصوف کہتے ہیں
ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی کہ بنی اسمعیل میں کتاب نازل کر
اس سے موصوف نے استخراج کیا کہ اس میں الکتاب ہےاس کو قرآن نہیں کہا جائے

یہ وہی مغالطہ ہے کہ جو بار بار اعادہ کر رہے ہیں کیونکہ یہ الکتاب جو آسمان میں ہے اس سے ہی توریت یا انجیل یا قرآن کو لیا گیا یعنی اصل الکتاب آسمان میں ہے اس کا متن زمین پر نازل ہوتا گیا
اصل کو الله نے بیان کیا جب قرآن میں ذکر کیا تو ١١٤ سورتیں بن گیا اسی اصل کتاب کی بات تھی لیکن ماحول و زمیں الگ تھی لہذا قرآن ہوا اور جب طور میں اسی اصل کتاب کی الله نے بات و شرح کی تو یہ توریت بنی -لیکن موصوف نے اس کو ملا دیا ہے کہ کتاب ایک ہی ہے جو نازل ہوئی گویا کہ قرآن حرفا حرفا وہی تھا جو توریت تھی
لیکن یہ عجیب بات ہے کیونکہ قرآن میں منافق مدینہ کا ذکر ہے جنگوں کا ذکر ہے یہ مضامین الگ ہیں موسی یا عیسیٰ کا سابقہ ان سے نہیں تھا

یہ کم فہمی ہے
الله فہم دے
–=====================

موصوف نے الکتاب سے نکالا کہ ایک ہی کتاب سب کو دی گئی نہ کہ چار کتابیں
پھر اس سے اہل کتاب کا مفہوم یہ نکلا کہ تمام انبیاء اہل کتاب ہیں جن کے پاس کتاب آئی اور یہود و نصرانی اہل کتاب نہیں وہ تو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے تھے

یہ بھی مغالطہ ہے- اہل کتاب کے لئے قرآن میں ہے
قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْرَاةَ وَالإِنْجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ

اے اہل کتاب تم کچھ نہیں یہاں تک کہ توریت و انجیل کو قائم کرو
==========

صحيح البخاري: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ مَنْ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ) صحیح بخاری: کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان
باب: مرد اپنی سب بیویوں سے صحبت کر کے۔۔۔

5215

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي اللَّيْلَةِ الْوَاحِدَةِ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ

حکم : صحیح 5215

ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے ۔ اس وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں نو بیویاں تھیں ۔
جواب

رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنی تمام ازوآج کے پاس گئے ایک ہی رات میں اور ایک غسل کیا
اس وقت ان کی نو ازواج تھیں
دوسری میں ہے ١١ تھیں
یہ الفاظ بھی صحیح بخاری میں ہیں ہیں کہ انس (جو بچے ہوں گے وہ) کہتے کہ رسول الله کو تیس مردوں کی قوت حاصل ہے
——-

یہ روایت سندا صحیح ہے متنا غریب و شاذ ہے

قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ عن انس
ہشام بن زید عن انس
ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ
الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ
حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ

کی سند سے ہے

سنن الکبری بیہقی میں ہے
قَالَ مَعْمَرٌ: وَلَكِنْ لَا نَشُكُّ أَنَّهُ كَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَتَوَضَّأُ بَيْنَ ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
معمر نے کہا ہم محدثین کو اس میں شک نہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس کے بیچ وضو کیا ہو گا

اس سے قبل اس کے ایک طرق پر میں نے جرح کی تھی
⇑ نبی صلی الله علیہ وسلم کا ایک رات میں ازواج کے پاس جانے والی روایت پر سوال ہے
http://www.islamic-belief.net/q-a/علم-حدیث-٢/

لیکن اس میں معاذ بن هشام الدستوائي کا تفرد نہیں ہے لہذا یہ سند صحیح ہے

البتہ انس رضی الله عنہ جو رسول الله کے خادم تھے ان کو یہ سب کیسے معلوم ہوا؟ وہ یقینا حجرات النبی سے باہر تھے ان کو کیا معلوم کہ رسول الله نے اندر اپنی ازواج سے صحبت کی یا نہیں – اس روایت کے متن میں ابہام بہت ہے متن صحیح معلوم نہیں ہوتا اگرچہ سند صحیح ہے

قابل غور ہے کہ احناف میں فقہ کی کتابوں میں اقوال موجود ہیں کہ امام ابو حنیفہ کا حکم تھا کہ انس بن مالک رضی الله عنہ کی روایت نہ لی جائے کیونکہ یہ آخری عمر میں مختلط تھے
میرا شک اس روایت کے متن پر بر قرار ہے

قرآن کی ان آیات میں ہے کہ سنگسار کرنے کا جب بھی کہا گیا – تقریباً کافروں کی طرف سے ہی کہا گیا

سورۃ الشعراء

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ يَا نُـوْحُ لَتَكُـوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِيْنَ

(116)

کہنے لگے اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو ضرور سنگسار کیا جائے گا۔

———–

سورۃ ھود

قَالُوْا يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيْـرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَاِنَّا لَنَرَاكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا ۖ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَـمْنَاكَ ۖ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيْزٍ

(91)

انہوں نے کہا اے شعیب! ہم بہت سی باتیں نہیں سمجھتے جو تم کہتے ہو اور بے شک ہم البتہ تمہیں اپنے میں کمزور پاتے ہیں، اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو تجھے ہم سنگسار کر دیتے، اور ہماری نظر میں تیری کوئی عزت نہیں ہے۔

———–

سورۃ مریم

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِـهَتِىْ يَآ اِبْـرَاهِيْـمُ ۖ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُـمَنَّكَ ۖ وَاهْجُرْنِىْ مَلِيًّا

(46)
کہا اے ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے پھرا ہوا ہے، البتہ اگر تو باز نہ آیا میں تجھے سنگسار کردوں گا، اور مجھ سے ایک مدت تک دور ہو جا۔

سورۃ یس

قَالُـوٓا اِنَّا تَطَيَّـرْنَا بِكُمْ ۖ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَـهُوْا لَنَرْجُـمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِـيْـمٌ

(18)

انہوں نے کہا کہ ہم نے تو تمہیں منحوس سمجھا ہے، اگر تم باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے اور تمہیں ہمارے ہاتھ سے ضرور دردناک عذاب پہنچے گا۔

—-

سورۃ الدخان

وَاِنِّىْ عُذْتُ بِرَبِّىْ وَرَبِّكُمْ اَنْ تَـرْجُـمُوْنِ

(20)

اور بے شک میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لی ہے اس واسطے کہ تم مجھے سنگسار کرو۔

—-

سورۃ الکھف

اِنَّـهُـمْ اِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ يَرْجُـمُوْكُمْ اَوْ يُعِيْدُوْكُمْ فِىْ مِلَّتِـهِـمْ وَلَنْ تُفْلِحُـوٓا اِذًا اَبَدًا

(20)

بے شک وہ لوگ اگر تمہاری اطلاع پائیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے یا اپنے دین میں لوٹالیں گے پھر تم کبھی فلاح نہیں پا سکو گے۔

—–

لیکن حیرت کی بات ہے کہ شادی شدہ زانی مرد اورشادی شدہ زانی عورت کے بارے میں سنگسار کی سزا کی آیات نازل ہو کر منسوخ ہو گیں لیکن حکم باقی رہا – اورقرآن سنگسارکا ذکر ایسی سزا کے طور پر کر رہا ہے جو ایمان نہ رکھنے والے ایمان والوں کو دیتے یا اس کی دھمکی دیتے

جواب

سنکسار کرنا سزا ہے جیسے سولی دینا
قرآن میں ہے کہ سولی فرعون دیتا تھا جب اس نے جادوگروں کو موسی علیہ السلام سے شکست کے بعد سولی دی

لیکن قرآن کا بھی یہی حکم ہے سولی دی جائے جب کوئی فساد کرے
سورہ المائدہ میں ہے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دو اور سولی دو

تو بھائی یہ سزائیں ١٤٠٠ سال پہلے سب دیتے تھے چاہے مسلمان ہو یا کافر

لیکن آج کل کے دور میں یہ سزائیں مغرب میں اور دیگر معاشروں میں ختم کی جا چکی ہیں – ہم چونکہ مذھب کی بات کرتے ہیں تو الله کے قانون کی بات ہو گی
اس میں ایسا ہی ہے

خیال رہے کہ رجم کا حکم کتاب الله توریت سے لیا گیا

سورۃ النساء کی آیت ١٥ اور ١٦ یہ ہیں

وَاللَّاتِىْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَيْـهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ ۖ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُـوْهُنَّ فِى الْبُيُوْتِ حَتّـٰى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ يَجْعَلَ اللّـٰهُ لَـهُنَّ سَبِيْلًا

(15)

اور تمہاری عورتوں میں سے جو کوئی بدکاری کرے ان پر اپنوں میں سے چار مرد گواہ لاؤ، پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا پھر اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے۔

وَاللَّـذَانِ يَاْتِيَانِـهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا ۖ فَاِنْ تَابَا وَاَصْلَحَا فَاَعْـرِضُوْا عَنْـهُمَا ۗ اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا

(16)

اور تم میں سے جو دو اشخاص بدکاری کریں، تو ان کو تکلیف دو پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں تو انہیں چھوڑ دو بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

سورۃ النور

اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِىْ فَاجْلِـدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْـدَةٍ ۖ وَّلَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَـةٌ فِىْ دِيْنِ اللّـٰهِ اِنْ كُنْتُـمْ تُؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَـآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ

(2)

بدکار عورت اور بدکار مرد پس دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو دُرّے مارو، اور تمہیں اللہ کے معاملہ میں ان پر ذرا رحم نہ آنا چاہیے اگر تم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو، اور ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو حاضر رہنا چاہیے۔

جواب

ان آیات کے مفہوم پر اختلاف ہے – بعض کا کہنا ہے کہ سورہ النساء ٣ یا ٤ ہجری کی ہے اور سورہ النور اس کے بعد آئی ہے لہذا اس بنا پر پچھلی آیات کو منسوخ قرار دیا گیا ہے

وَاللَّاتِىْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَيْـهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ ۖ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُـوْهُنَّ فِى الْبُيُوْتِ حَتّـٰى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ يَجْعَلَ اللّـٰهُ لَـهُنَّ سَبِيْلًا (15)
اور تمہاری عورتوں میں سے جو کوئی بدکاری کرے ان پر اپنوں میں سے چار مرد گواہ لاؤ، پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا پھر اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے۔

وَاللَّـذَانِ يَاْتِيَانِـهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا ۖ فَاِنْ تَابَا وَاَصْلَحَا فَاَعْـرِضُوْا عَنْـهُمَا ۗ اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا (16)
اور تم میں سے جو دو اشخاص بدکاری کریں، تو ان کو تکلیف دو پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں تو انہیں چھوڑ دو بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

دوسرا قول ہے تفسیر بغوی میں ہے
قيل : الآية الأولى في النساء وهذه في الرجال ، وهو قول مجاهد
پہلی آیت عورتوں کے بارے میں ہے اور دوسری مردوں کے بارے میں یہ قول مجاہد کا ہے

یعنی عورت عورت سے لذت لے یا مرد مرد سے تو اس پر سزا ہے تفسیر بغوی میں ہے
ابن عباس نے کہا
قال ابن عباس رضي الله عنهما : سبوهما واشتموهما ، قال ابن عباس : هو باللسان واليد يؤذى بالتعيير وضرب النعال .
ان کو گالی دو – مارو اور جوتے لگاو
—–

بعض مفسرین کے نزدیک پہلی آیت جس میں قید کا ذکر ہے اس سے مراد مرد و عورت کا زنا ہے اور یہ سورہ النور کی آیات سے منسوخ ہے
طبری کا کہنا ہے
والرجل والمرأة اللذان يأتيانها
یہ مرد و عورت کے لئے ہے

اختلف أهل التأويل في المعنِّي بقوله: ” واللذان يأتيانها منكم فآذوهما “. فقال بعضهم: هما البكران اللذان لم يُحْصنا، وهما غير اللاتي عُنين بالآية قبلها. وقالوا: قوله: وَاللاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ ، معنيٌّ به الثيِّبات المحصنات بالأزواج – وقوله: ” واللذان يأتيانها منكم “، يعني به البكران غير المحصنين.
اہل علم کا اختلاف ہے کہ اس آیت کا مطلب کیا ہے بعض نے کہا دو کنواریاں مراد ہیں جن کی شادی نہ ہوئی ہو … بعض نے کہا عورتیں شادی شدہ ہوں

مجاہد کا قول ہے الرجلان الفاعلان بد فعلی والے مرد مراد ہیں
عطا بن ابی رباح کا کہنا ہے الرجل والمرأة مرد و عورت مراد ہیں
طبری کا کہنا ہے کہ مرد و عورت کا زنا مراد ہے
=======

مفسرین کا اس آیت پر اختلاف ہے کہ یہ لواطت سے متعلق ہے یا نہیں
سوال اتا ہے کہ ایک حدیث میں ہم جنس پرستی کی سزا بیان کی جاتی ہے

مثلا مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ

نبی اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو قوم لوط جیسا عمل کرتے پائو تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو

شعيب الأرنؤوط کہتے ہیں اس کی سند ضعیف ہے اور شعیب کا کہنا ہے کہ تلخیص الحبیر از ابن حجر میں ہے کہ
النسائي أنه استنكر هذا الحديث
نسائی نے اس حدیث کو منکر قرار دیا ہے

البانی نے اسی سند کو سنن ابن ماجہ میں صحیح قرار دیا ہے

وقال يحيى بن معين: عمرو مولى الطلب: ثقة، ينكر عليه حديث عكرمة عن ابن عباس: أن النبي -صلى اللَّه عليه وسلم- قال: “اقتلوا الفاعل والمفعول به”.
امام ابن معین نے اس حدیث کو منکر قرار دیا ہے
ذخيرة الحفاظ (من الكامل لابن عدي) از ابن القيسراني (المتوفى: 507هـ) میں ہے

حَدِيث: اقْتُلُوا الْفَاعِل، وَالْمَفْعُول بِهِ. رَوَاهُ عَمْرو بن أبي عمرو مولى الْمطلب: عَن عِكْرِمَة، عَن ابْن عَبَّاس. وَعَمْرو ضَعِيف، وَكَانَ ابْن معِين يُنكر عَلَيْهِ هَذَا الحَدِيث. رَوَاهُ إِبْرَاهِيم بن أبي يحيى: عَن دَاوُد بن حُصَيْن، عَن عِكْرِمَة، عَن ابْن عَبَّاس. وابراهيم هَذَا كَذَّاب.
عَمْرو بن أبي عمرو مولى الْمطلب ضعیف ہے ابن معین نے اس حدیث کا انکار کیا ہے اور اس کو إِبْرَاهِيم بن أبي يحيى نے بھی روایت کیا ہے جو کذاب ہے

أنِيسُ السَّاري في تخريج وَتحقيق الأحاديث التي ذكرها الحَافظ ابن حَجر العسقلاني في فَتح البَاري از أبو حذيفة، نبيل بن منصور بن يعقوب بن سلطان البصارة الكويتي کے مطابق

داود بن الحصين عن عكرمة عن ابن عباس مرفوعا “اقتلوا الفاعل والمفعول به في عمل لوط، والبهيمة والواقع على البهيمة، ومن وقع على ذات محرم فاقتلوه”
قال ابن حبان: هذا باطل لا أصل له”
ابن حبان نے اس حدیث کو باطل قرار دیا ہے

—-
الطبراني في “الكبير” (11527) عن علي بن سعيد الرازي ثنا عبد العزيز بن يحيى المديني ثنا سليمان بن بلال عن حسين بن عبد الله عن عكرمة عن ابن عباس مرفوعا “من وجدتموه يعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول به”.
وحسين بن عبد الله قال البخاري: ذاهب الحديث.

——
أخرجه البيهقي في “الشعب” (5003) من طريق أبي القاسم إسحاق بن إبراهيم بن سُنَيْن الختلي ثنا يزيد بن خالد بن مَوْهَب ثنا مفضل بن فضالة عن ابن جريج به.
والختلي قال الدارقطني: ليس بالقوي، وابن جريج مدلس ولم يذكر سماعا من عكرمة.

——
سنن الکبری بیہقی میں ہے کہ اگر جانور کے ساتھ ہو تو جانور قتل کر دو
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو حَفْصٍ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، وَفِي الَّذِي يُؤْتَى فِي نَفْسِهِ، وَفِي الَّذِي يَقَعُ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ، وَفِي الَّذِي يَأْتِي الْبَهِيمَةَ، قَالَ: ” يُقْتَلُ

اس کی سند بھی عباد بن منصور الناجى کی وجہ سے ضعیف ہے

ذخيرة الحفاظ (من الكامل لابن عدي) از ابن القيسراني (المتوفى: 507هـ) میں ہے
رَوَاهُ عباد بن مَنْصُور النَّاجِي: عَن عِكْرِمَة، عَن ابْن عَبَّاس. وَعباد ضَعِيف.
عباد بن مَنْصُور النَّاجِي ضعیف ہے

مختصر خلافيات البيهقي از أحمد بن فَرح (بسكون الراء) بن أحمد بن محمد بن فرح اللَّخمى الإشبيلى، نزيل دمشق، أبو العباس، شهاب الدين الشافعي (المتوفى: 699هـ) کے مطابق

دوسرا قول ابن عباس سے مروی ہے کہ جانور سے کرے تو حد نہیں ہے
استدلوا بِمَا روى أَبُو حنيفَة رَحمَه الله عَن عَاصِم عَن أبي رزين عَن ابْن عَبَّاس رَضِي الله عَنْهُمَا قَالَ: ” لَيْسَ على من أَتَى بَهِيمَة حد
امام ابو حنیفہ نے اس قول سے استدلال کیا ہے کہ ابن عباس سے مروی ہے کہ جو جانور سے کرے تو حد نہیں ہے

محدث ابن شاھین المتوفی ٣٨٥ ھ نے اس حدیث کو حدیث عثمان سے منسوخ قرار دیا ہے
بَابٌ فِيمَنْ أَتَى بَهِيمَةً ، حَدِيثٌ آخَرُ فِي الْقَتْلِ مَنْسُوخٌ بِحَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي: ابْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ وَجَدْتُمُوهُ وَقَعَ عَلَى بِهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ»
یعنی چوتھی صدی میں ابن عباس کی اس روایت کو منسوخ کہا جاتا تھا

حدیث عثمان سے مراد ہے کہ مسلمان کا خون تین باتوں میں حلال ہے
لَا يحل دم امْرِئ مُسلم إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاث
رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ
مرتد ہونے پر
شادی کے بعد زنا کرنے پر
قتل نفس پر

معلوم ہوا کہ ابن شاھین کے نزدیک جانور سے یہ عمل ہو تو زنا نہیں ہے
——

أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: إِذَا أَتَى الرَّجُل الرَّجُل فَهُمَا زَانِيَانِ
ابو موسی سے مروی ہے کہ قول نبوی ہے کہ مرد مرد سے کرے تو دونوں زانی ہیں

ابن حجر في التلخيص (4 / 55) أن في إسناده راويا متهما بالكذب
ابن حجر نے کہا اس کی سند میں مجہول ہیں
وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ وَهُوَ مَجْهُولٌ
دوسری سند میں
وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُشَيْرِيُّ، كَذَّبَهُ أَبُو حَاتِمٍ،
کذاب ہے
—–

سنن ابو داود میں ہے
حدَّثنا إسحاقُ بنُ إبراهيم بنِ راهويه، حدَّثنا عبدُ الرزاق، أخبرنا ابنُ جُريج، أخبرني ابنُ خُثَيْمٍ، قال: سمعتُ سعيدَ بن جُبيرٍ ومجاهداً يحدثان عن ابنِ عباس: في البِكْرِ يُوجَدُ على اللوطِيَّةِ قال: يُرجَمُ
عبد الله بن عثمان بن خثيم المكي نے سعید اور مجاہد سے روایت کیا کہ ان دونوں نے ابن عباس سے روایت کیا کہ کنواری کو لواطت میں رجم کیا جائے گا

سند میں عبد الله بن عثمان بن خثيم المكي ہے
أبو حاتم: لا يحتج به.
ابو حاتم نے کہا دلیل مت لینا
إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال از مغلطاي کے مطابق
نسائی نے منكر الحديث قرار دیا ہے

البانی نے اس کو صحيح الإسناد قرار دیا ہے
———
سنن ابن ماجہ میں ہے
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ قَالَ: «ارْجُمُوا الْأَعْلَى وَالْأَسْفَلَ، ارْجُمُوهُمَا جَمِيعًا
ابی ہریرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا عمل قوم لوط پر کہ اوپر والے کو اور نیچے والے دونوں کو رجم کرو

شعيب الأرنؤوط نے اس کو عاصم بن عمر بن حفص بن عاصم بن عمر ابن الخطاب کی وجہ سے إسناده ضعيف قرار دیا ہے – البانی نے حسن لغيره کہا ہے – مسند ابو یعلی کے محقق حسين سليم أسد نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے
تلخیص الحبیر میں ابن حجر نے ابو ہریرہ کی حدیث کو وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا يَصِحُّ قرار دیا ہے
—–
سنن الکبری بیہقی میں ہے

وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، كَتَبَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي خِلَافَتِهِ يَذْكُرُ لَهُ أَنَّهُ وَجَدَ رَجُلًا فِي بَعْضِ نَوَاحِي الْعَرَبِ يُنْكَحُ كَمَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَمَعَ النَّاسَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُمْ عَنْ ذَلِكَ، فَكَانَ مِنْ أَشَدِّهِمْ يَوْمَئِذٍ قَوْلًا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ هَذَا ذَنْبٌ لَمْ تَعْصِ بِهِ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ إِلَّا أُمَّةٌ وَاحِدَةٌ، صَنَعَ اللهُ بِهَا مَا قَدْ عَلِمْتُمْ، نَرَى أَنْ نُحَرِّقَهُ بِالنَّارِ، فَاجْتَمَعَ رَأْيُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ يُحَرِّقَهُ بِالنَّارِ، فَكَتَبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ يَأْمُرُهُ أَنْ يُحَرِّقَهُ بِالنَّارِ هَذَا مُرْسَلٌ وَرُوِي مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي غَيْرِ هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: يُرْجَمُ وَيُحَرَّقُ بِالنَّارِ وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ رَجُلٍ مِنْ هَمْدَانَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجَمَ رَجُلًا مُحْصَنًا فِي عَمَلِ قَوْمِ لُوطٍ، هَكَذَا ذَكَرَهُ الثَّوْرِيُّ عَنْهُ مُقَيَّدًا بِالْإِحْصَانِ، وَهُشَيْمٌ رَوَاهُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى مُطْلَقًا
مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ نے صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ سے روایت کیا انھوں نے خالد بن الولید کا بیان کیا کہ خالد نے ابو بکر کو لکھا کہ انہوں نے ایک مرد پایا جو ویسا ہی کرتا ہے جیسا مرد بیوی کے ساتھ کرتا ہے – ابو بکر نے اصحاب رسول کو جمع کر کے رائے طلب کی اس میں اس روز شدید قول علی کا تھا کہ یہ گناہ ہے جو صرف ایک امت نے کیا ہے اور اللہ نے اس کے ساتھ جو کیا معلوم ہے پس ہم جلا دیں گٹ پس تمام کی رائے ہوئی کہ جلا دو – ابو بکر نے خالد کو لکھ بھیجا کہ اگ سے جلا دو

راقم کہتا ہے یہ روایت بے کار ہے اس میں متن میں کئی علتین ہیں
اول- اصحاب رسول نے رائے دی ان کے پاس کوئی صحیح حدیث نبوی نہیں تھی ؟ جبکہ اتنی احادیث قول منسوب کر رہے ہیں
دوم اسلام میں جلا کر قتل نہ کرنے کا حکم ہے
یہ کام علی کا کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ابن سبا کو جلا کر قتل کیا ان کو معلوم نہ تھا کہ ممنوع ہے

—–
الغرض صحیح بات یہ ہے کہ لواطت کی سزا سے متعلق کوئی صحیح حدیث نہیں ہے

فقہاء کا لواطت کی سزا پر اختلاف ہے کتاب الفقه على المذاهب الأربعة از عبد الرحمن بن محمد عوض الجزيري (المتوفى: 1360) کے مطابق
فقد اختلفت فيه آراء الأئمة: فمنهم من قال: إنه يعاقب عقوبة الزاني وهي الإعدام. إن كان محصناً، أما الموطوء فعقوبته الجلد كالبكر، لأنه لا يتصور فيه إحصان. ومنهم من يقول: إن عقاب اللائط من باب التعزير، لا من باب الحد، فعلى القاضي أن يحبسه، أو يجلده، بما يراه رادعاً له عن الجريمة، فإذا تكررت منه، ولم يزدجر عزر بالإعدام
بعض فقہاء کے نزدیک اس کی سزا التعزير ہے حد نہیں ہے
اس کتاب کے محقق کہتے ہیں

الحنفية – قالوا: لا حد في اللواط، ولكن يجب التعزير حسب ما يراه الإمام، رادعاً للمجرم، فإذا تكرر منه الفعل، ولم يرتدع، أعدم بالسيف تعزيراً، لا حداً، حيث لم يرد فيه نص صريح
احناف کے نزدیک لواطت پر حد نہیں ہے بلکہ تعزیر ہے جو قاضی چاہے مجرم کو دیکھتے ہوئے … کیونکہ اس پر کوئی نص صریح نہیں ہے

مالکیہ اور حنابلہ اور شوافع میں بھی اپس میں اس کی سزا پر اختلاف ہے بعض رجم کا حکم کرتے ہیں

امام مالک کا قول ہے
وَعَنْ مَالِكِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الَّذِي يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ , فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: عَلَيْهِ الرَّجْمُ , أَحْصَنَ أَوْ لَمْ يُحْصِنْ
مالک نے امام زہری سے پوچھا کہ عمل قوم لوط پر امام زہری نے کہا رجم ہے کنوارا ہو یا شادی شدہ

الموسوعة الفقهية الكويتية کے مطابق
لأَِبِي حَنِيفَةَ وَحَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ وَالْحَكَمِ، وَهُوَ أَنَّهُ لاَ حَدَّ عَلَيْهِ، وَلَكِنَّهُ يُعَزَّرُ وَيُودَعُ فِي السِّجْنِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يَتُوبَ
امام ابو حنیفہ اور حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ اور الحکم کے نزدیک اس پر کوئی حد نہیں ہے قید کیا جائے یہاں تک کہ توبہ کرے

الشَّافِعِيُّ وَالْحَنَابِلَةُ عَلَى أَنَّ غَيْرَ الْمُحْصَنِ يُجْلَدُ وَيُغَرَّبُ كَالزِّنَا
امام شافعی اور حنابلہ کے نزدیک اگر غیر شادی شدہ ہے تو کوڑے ہیں

اسی کے مطابق امام أَبِي يُوسُفَ اور امام مُحَمَّدٍ کے نزدیک شادی شدہ رجم ہو گا اور غیر شادی شدہ کو کوڑے مارے جائیں گے

دیو بندیوں کا کہنا ہے

لا الہ الا اللہ شبلی رسول اللہ
لا الہ الااللہ۔۔۔۔چشتی رسول اللہ
اور تھانوی رسول اللہ
سے مراد پیغام پہنچانے والا ہے ؟؟؟

جواب

رسول كا مطلب عربي مين بات لانے والا ہوتا ہے اس بنا پر سفیر کو بھی رسول کہا جاتا ہے فرشتوں کو بھی اور انبیاء کو بھی
مشكاة المصابيح المؤلف: محمد بن عبد الله الخطيب العمري، أبو عبد الله، ولي الدين، التبريزي (المتوفى: 741هـ) میں ہے

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ خَالٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ يَزِيدُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ: كُنَّا فِي مَوْقِفٍ لَنَا بِعَرَفَةَ يُبَاعِدُهُ عَمْرٌو مِنْ مَوْقِفِ الْإِمَامِ جِدًّا فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ لَكُمْ: «قِفُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثِ من إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ نے کہا میں رسول الله کا رسول ہوں
الفاظ صحیح ہیں یعنی میں ان کا سفیر ہوں

نعيم بن مسعود الأشجعي رضی الله عنہ سے مروی ہے
وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلَيْنِ جَاءَا مِنْ عِنْدِ مُسَيْلِمَةَ: «أَمَّا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد

جب مسیلمہ کذاب نے اپنے دو قاصد نبی صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجے , آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے اسکا خط پڑھا تو ان سے پوچھا تم دونوں کیا کہتے ہو؟ تو انہوں نے کہا ہم بھی وہی کہتے ہیں جو وہ کہتا ہے ۔ تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا»
اللہ کی قسم اگر یہ اصول نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا , تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا ۔
اسی جیسے الفاظ سے صحیح بخاری میں بھی ہے

عربی میں ہے الرسل کا قتل نہیں کیا جاتا یعنی سفیروں کا

جب تصوف میں یہ کہلوایا جاتا تھا تو اس کا مقصد ہوتا تھا کہ مرید اپنے پیر کی تمام بات کو مانے – اگر اس کو تردد ہوا تو مرشد کامل نہیں ہو سکتا
اس طرح کفریہ کلمات کہلوا کر چیک کیا جاتا تھا کہ کیا یہ مرید اپنے پیر کی بات مانتا ہے
میرے نزدیک اس قسم کے الفاظ کفر ہیں کیونکہ یہ رسول کسی اور کے نہیں الله کے بن رہے ہیں

مسلم کی حدیث میں نے پڑھی تھی کہ سات لوگ قیامت کے روز اللہ کے سائے میں ہونگے اب یہاں سائے سے کیا مراد ہے؟؟

جواب

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن السلطان ظل اللّٰہ فی الأرض یأوی إلیہ کل مظلوم من عبادہ فإذا عدل کان لہ الأجر وعلی الرعیۃ الشکر وإذا جار کان علیہ الإصر وعلی الرعیۃ الصبر.(مشکوٰۃ،رقم ۳۷۱۸)
بے شک، حکمران زمین پر اللہ کا سایہ ہے۔ اللہ کے مظلوم بندے اسی کی پناہ لیتے ہیں۔ چنانچہ اگر وہ عدل کرے تو اسے اس کا اجر ملے گا اور اس کی رعیت پر لازم ہے کہ وہ شکر گزار ہو۔ اور اگر وہ ظلم کرے تو اسی کو اس کا بوجھ اٹھانا ہو گا اور اس کی رعیت پر لازم ہے کہ وہ صبر کرے۔

یہ روایت مل گئی ہے اس سے ظل سبحانی کا تصور نکلا

بیہقی شعب الإيمان میں ابن عمر سے مروی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ [ص:476] قُتَيْبَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ رَوَّادٌ، نا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، نا سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” إِنَّ السُّلْطَانَ ظِلُّ اللهِ فِي الْأَرْضِ، يَأْوِي إِلَيْهِ كُلُّ مَظْلُومٍ مِنْ عِبَادِهِ، فَإِذَا عَدَلَ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ وَعَلَى الرَّعِيَّةِ الشُّكْرُ، وَإِذَا جَارَ كَانَ عَلَيْهِ الْإِصْرُ وَعَلَى الرَّعِيَّةِ الصَّبْرُ، وَإِذَا جَارَتِ الْوُلَاةُ قَحِطَتِ السَّمَاءُ، وَإِذَا مُنِعَتِ الزَّكَاةُ هَلَكَتِ الْمَوَاشِي، وَإِذَا ظَهَرَ الزِّنَا ظَهَرَ الْفَقْرُ وَالْمَسْكَنَةُ، وَإِذَا خُفِرَتِ الذِّمَّةُ أُدِيلَ الْكُفَّارُ ” رَوَاهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ بِشْرِ بْنِ بَكْرٍ، وَأَبُو الْمَهْدِيِّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ

یہ طرق ضعیف ہے سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ کی وجہ سے
—-
یہ عمر بن الخطاب رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے
کتاب فضيلة العادلين من الولاة لأبي نعيم میں دوسرا طرق ہے
حُدِّثْتُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَأْمُونٍ الْمَرْوَزِيِّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيِّ، قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ بَحْرٍ الْكُوفِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ، عَنِ [ص:156] الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَعْبَدٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي طُوَالَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنْ هَذَا السُّلْطَانِ الَّذِي، ذَلَّتْ لَهُ الرِّقَابُ وَخَضَعَتْ لَهُ الْأَجْسَادُ، مَا هُوَ؟ قَالَ: «هُوَ ظِلُّ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، فَإِنْ أَحْسَنُوا فَلَهُمُ الْأَجْرُ وَعَلَيْكُمُ الشُّكْرُ، وَإِنْ أَسَاءُوا فَعَلَيْكُمُ الصَّبْرُ وَعَلَيْهِمُ الْإِصْرُ، لَا تَحْمِلَنَّكُمْ إِسَاءَتُهُ عَلَى أَنْ تَخْرُجُوا مِنْ طَاعَتِهِ، فَإِنَّ الذُّلَّ فِي طَاعَةِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ خُلُودٍ فِي النَّارِ، لَوْلَاهُمْ مَا صَلَحَ النَّاسُ»
سند میں عمرو بن عبد الغفار الفقيمى ہے جو متروک الحدیث ہے

بیہقی نے دوسری سند دی
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو بَكْرٍ [ص:481] أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الْقَطِيعِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْقُرَشِيُّ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، نا عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرِّفَاعِيُّ، نا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: ” السُّلْطَانُ ظِلُّ اللهِ فِي الْأَرْضِ، فَمَنْ غَشَّهُ ضَلَّ وَمَنْ نَصَحَهُ اهْتَدَى ” هَكَذَا جَاءَ مَوْقُوفًا عَلَى أَنَسٍ، وَقَدْ قِيلَ عَنْ قَتَادَةَ

انس سے بھی مروی ہے انس رضی الله عنہ پر موقوف ہے قتادہ مدلس کا عنعنہ بھی ہے

سنن الکبری بیہقی میں مرفوع بھی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” إِذَا مَرَرْتَ بِبَلْدَةٍ لَيْسَ فِيهَا سُلْطَانٌ فَلَا تَدْخُلْهَا , إِنَّمَا السُّلْطَانُ ظِلُّ اللهِ فِي الْأَرْضِ , وَرُمْحُهُ فِي الْأَرْضِ ”

اس کی سند منقطع ہے راوی الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ کی کسی صحابی سے ملاقات نہیں ہے

——-
یہ ابو بکرہ رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے
السنہ از ابن ابی عاصم میں ہے
حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ثنا مُسْلِمُ بْنُ سَعِيدٍ الْخَوْلانِيُّ ثنا حُمَيْدُ بْنُ مهران عن سعيد بْنِ أَوْسٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:
“السُّلْطَانُ ظِلُّ اللَّهِ فِي الأَرْضِ فَمَنْ أَكْرَمَهُ أَكْرَمَ اللَّهَ وَمَنْ أَهَانَهُ أَهَانَهُ الله”.
کتاب السنہ از ابن ابی عاصم میں البانی نے اس کو حديث حسن قرار دیا ہے اور ظلال الجنة: 1024 میں صحیح قرار دیا ہے
میرے نزدیک سند میں زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ مجہول ہے
—-
یہ ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے – فضيلة العادلين من الولاة لأبي نعيم میں ہے
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الصُّوفِيُّ الْحَافِظُ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السُّلْطَانُ ظِلُّ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ مَنْ نَصَحَهُ هُدِيَ، وَمَنْ غَشَّهُ ضَلَّ»
سند میں يحيى بن ميمون بن عطاء بصري ہے جو متروک ہے
——
بیہقی نے تیسری سند دی کہ یہ کعب الاحبار کا قول ہے
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، نا الْأَشْعَثُ بْنُ نِزَارِ الْجُهَنِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنائِيِّ، عَنْ كَعْبٍ الْحَبْرِ، قَالَ: سُئِلَ عَنِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ قَالَ: ” حَجَرٌ مِنْ أَحْجَارِ الْجَنَّةِ “، وَسُئِلَ عَنِ السُّلْطَانِ فَقَالَ: ” ظِلُّ اللهِ فِي الْأَرْضِ، فَمَنْ نَاصَحَهُ فَقَدِ اهْتَدَى، وَمَنْ غَشَّهُ فَقَدْ ضَلَّ ”

میرے نزدیک اس روایت کی اسناد صحیح نہیں ہیں

اس روایت کو بچانے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ اس کو متواتر قرار دیا جائے لہذا بعض علماء نے اس کو متواتر بنا دیا ہے

===================

یہ صحیح بخاری و مسلم میں ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ، يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: الإِمَامُ العَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي المَسَاجِدِ، وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ، أَخْفَى حَتَّى لاَ تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ”

الله کے سایہ سے مراد رب کا سایہ نہیں بلکہ اس کا تخلیق کردہ سایہ ہے بعض نے کہا عرش کا سایہ ہے

قرآن میں ہے محشر میں
واشرقت الارض بنور ربها
زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہو گی

زمین کا سورج نور کھو چکا ہو گا اور الله نور خلق کرے گا جس سے انسان دیکھے گا
بعض نے دلیل لی کہ خود رب العالمین کا نور ہو گا
یہ قول قرآن کی دوسری آیات سے متصادم ہے جس میں ہے کہ نور مخلوق ہے

متکلم ابن فورک نے تفسیر کی
{وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا} [69] قيل: معناه: بعدل ربها، وحكمه بالعدل فيها
یعنی الله کا عدل پھیلے گا
یہ معنی حسن بصری نے بھی کیا ہے تفسیر بغوی کے مطابق

اور بغوی کی رائے ہے
قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ، أَضَاءَتْ، بِنُورِ رَبِّها بِنُورِ خَالِقِهَا،
یہ نور الله خلق کرے گا

جهم بن صفوان کا قول بریلوی علماء نے لیا ہے کہ الله نور ہے جو ہر جگہ ہے
امام احمد کی کتاب الرد على الجهمية والزنادقة میں ہے
وقلنا للجهم: فالله نور؟ فقال: هو نور كله، فقلنا: فالله قال: {وَأَشْرَقَتِ الأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا} [الزمر: 69] .
فقد أخبر الله -جل ثناؤه- أن له نورًا.
فقلنا: أخبرونا حين زعمتم أن الله في كل مكان وهو نور، فلِمَ لا يضيء البيت المظلم من النور الذي هو فيه إن زعمتم أن الله في كل مكان؟
ہم نے جھم سے کہا تو کیا الله نور ہے ؟ جھم نے کہا وہ پورا نور ہی ہے – ہم نے کہا الله کی پناہ الله نے تو کہا زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہو گی پس الله نے خبر دی -جل ثناؤه- کہ اس کے لئے نور ہے ہم نے یہ بھی کہا ہم کو بتاو اگر تمہارا دعوی ہے کو وہ ہر جگہ ہے تو اندھیرے والا گھر روشن کیوں نہیں اگر الله ہر مقام میں ہے

جھم کے عقیدے سے ہی وحدت الوجود نکلتا ہے یعنی الله نور ہے جو تمام کائنات و ماوراء میں ہے
یہ پورا عقیدہ آج بریلویوں کا ہے

جواب

دور نبوی میں احادیث کے کوئی مجموعے نہیں تھے کچھ احکام تھے جو اصحاب رسول نے لکھے
مثلا حجه الوداع پر ابی شاہ رضی الله عنہ نے لکھوایا
علی نے نیام میں صدقات کی تقسیم کے احکام اڑس کے رکھے ہوئے تھے
کوئی کتاب نہیں تھی چند کلمات و تحریریں تھیں
——–

صحیح مسلم کے مقدمے میں ہے
لم يكونوا يسألون عن الإسناد فلما وقعت الفتنة قالوا : سموا لنا رجالكم ، فيُنْظَرُ إلى أهل السنة فيُؤْخذ حديثُهم ، ويُنْظَر إلى أهل البدعة فلا يؤخذ حديثهم ”

ابن سیرین نے کہا ہم اسناد نہیں پوچھتے تھے یہاں تک کہ فتنہ ہوا تو کہا اپنے رجال کے نام لو پس دیکھو اہل السنہ کو ان کی حدیث لو اور دیکھو اہل بدعت کو ان کی حدیث مت لو

بحث
ابن سیرین المتوفی ١١٠ ہجری ہیں یعنی ان سے پہلے سند نہیں لکھی جاتی تھی
بعض نے ابن سیرین کے قول کا مطلب لیا کہ ابن سیرین نے کہا ہم اسناد نہیں پوچھتے تھے تو اس سے مراد یہاں اصحاب رسول ہیں جبکہ یہ نرا دعوی ہے
ابن سیرین کی مراد اگر اصحاب رسول ہوتے تو وہ ذکر کرتے

صحیح مسلم کے مقدمہ میں ہی لکھا ہے کہ اصحاب رسول منع کرتے کہ غیر معروف اصحاب رسول سے حدیث مت لو

وحدثني أبو أيوب سليمان بن عبيد الله الغيلاني، حدثنا أبو عامر يعني العقدي، حدثنا رباح، عن قيس بن سعد، عن مجاهد، قال: جاء بشير العدوي إلى ابن عباس، فجعل يحدث، ويقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجعل ابن عباس لا يأذن لحديثه، ولا ينظر إليه، فقال: يا ابن عباس، مالي لا أراك تسمع لحديثي، أحدثك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا تسمع، فقال ابن عباس: ” إنا كنا مرة إذا سمعنا رجلا يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، ابتدرته أبصارنا، وأصغينا إليه بآذاننا، فلما ركب الناس الصعب، والذلول، لم نأخذ من الناس إلا ما نعرف

بشیر العدوی، ابن عباس کے پاس آیا اور روایت کرنے لگا اور بولا رسول الله نے کہا ،رسول الله نے کہا ،پس ابن عباس نے اس کی حدیث کی اجازت نہیں دی اور نہ اس کی طرف دیکھا. اس پر وہ ابن عبّاس سے مخاطب ہوا کیا وجہ ہے کہ اپ میری حدیث نہیں سنتے جبکہ میں رسول الله کی حدیث سنا رہاہوں؟ پس ابن عباس نے کہا ایک وقت تھا جب ہم سنتے کسی نے کہا قال رسول الله ہم نگاہ رکھتے اور اپنے کان اس (حدیث) پر لگاتے . لیکن جب سے لوگوں نے الصعب اور الذلول کی سواری کی تو ہم روایات نہیں لیتے مگر صرف اس سے جس کو جانتے ہوں
یعنی لوگ احادیث بیان کر رہے تھے جو صحابی نہیں تھے لیکن صحابی بنتے اور اصحاب رسول نے ان لوگوں کو چھوڑ دیا کہ جھوٹ بولیں جہنم سمیٹن نہ ان کی پٹائی کی نہ قتل

بعض لوگوں نے صحائف لکھے جن میں ابو ہریرہ کے شاگرد ہمام بن منبہ مشہور ہیں- محدثین نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا ہے لیکن جب ان پر معلومات دیکھیں تو عجیب معلوم ہوتا ہے
ہمام بن منبہ یمن سے مدینہ پہنچے اور ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے ١٤٠ روایات لیں ان میں اپنی باتیں بھی شامل کر دیں اور ان کا نسخہ بقول امام احمد اسی وجہ سے معدوم ہوا کہ لوگ یہ تمیز ہی نہیں کر پائے کیا قول نبی اور کیا ان کا اپنا قول ہے – ہمام سوڈان گئے وہاں معمر بن راشد ملے اور ان کو روایت سنائیں اس کے بعد حجاز میں ابن زبیر رضی الله عنہ کی فوج نے ہمام کو پکڑا اور یہ عباسیوں کے خروج تک زندہ تھے سن ١٣٢ هجري میں فوت ہوئے – الذھبی کے مطابق ممکن ہے سو سال انکی زندگی ہو لیکن اس دوران انہوں نے بہت کم لوگوں کو روایات سنائی ہیں ان سے صرف ان کے بھائی وھب بن منبہ صَاحِبُ القَصَصِ ، ان کے بھتیجے عَقِيْلُ بنُ مَعْقِلٍ اور معمر بن راشد اور ایک یمنی عَلِيُّ بنُ الحَسَنِ بنِ أَنَسٍ الصَّنْعَانِيُّ روایت کرتے ہیں – الذھبی سیر الآعلام النبلاء میں کہتے ہیں وَمَا رَأَينَا مَنْ رَوَى الصَّحِيْفَةَ عَنْ هَمَّامٍ إِلاَّ مَعْمَرٌ اور ہم نہیں دیکھتے کہ اس الصَّحِيْفَةَ کو ہمام سے کوئی روایت کرتا ہو سوائے معمر کے- امام احمد کے مطابق معمر نے یہ صحیفہ سوڈان میں سنا- معمر خود کوفی ہیں وہاں سے یمن گئے اور پھر سوڈان – سوڈان علم حدیث کے لئے کوئی مشھور مقام نہ تھا

کتاب التَّكْميل في الجَرْح والتَّعْدِيل ومَعْرِفة الثِّقَات والضُّعفاء والمجَاهِيل از ابن کثیر کے مطابق

قال أحمد أيضاً: روى عنه أخوه وَهْب، وكان رجلاً يغزو، وكان يشتري الكتب لأخيه وهب، فجالس أبا هريرة بالمدينة فسمع منه أحاديث، وكان قد أدرك المُسَوِّدة وسقط حاجباه، وهي نحو أربعين ومائة حديث بإسناد واحدٍ، ولكنَّها مُقَطَّعة في الكُتُب ففيها أشياء ليست في الأحاديث.

اور احمد نے یہ بھی کہا : ان (ہمام) سے انکے بھائی وھب بن منبہ نے روایت لی اور یہ جہاد کرتے تھے اور یہ کتابیں خریدتے اپنے بھائی وھب کے لئے پس مدینہ میں ابو ہریرہ کے پاس بیٹھے ان سے احادیث سنیں اور انہوں نے المسودہ (بنو ہاشم کے ہمددر جنہوں نے بنو امیہ کا تختہ الٹا) کو پایا اور ان ( کی آنکھ پر) حجاب آیا (بینائی جاتی رہی) اور یہ ١٤٠ احادیث ایک سی سند سے روایت کرتے لیکن ان کی کتب کٹ گئیں (معدوم ہوئیں) کیونکہ ان میں ایسی چیزیں تھیں جو احادیث نہیں تھیں

ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی وفات معاویہ رضی الله عنہ کے دور میں ہوئی ہمام نہ صرف اتنے بڑے تھے کہ یمن سے سفر کر کے مدینہ پہنچے بلکہ ابو ہریرہ المتوفي ٥٧ هجري سے ١٤٠ حدیثیں سنیں اور لکھیں پھر سوڈان گئے وہاں معمر بن راشد کو روایات سنائیں پھر زندہ رہے اور ابن زبیر کا دور بھی دیکھا یہاں تک کہ بنو امیہ کا دور دیکھا عباسیوں کا خروج دیکھا اتنے طویل عرصے تک یہ زندہ رہے جو خود کسی معجزے سے کم نہیں إمام بخاري کہتے ہیں علی المدینی کہتے کہ ہمام ١٣٢ ہجری میں فوت ہوئے یعنی ابو ہریرہ کی بھی وفات کے بعد ٧٥ سال زندہ رہے لیکن ہمام کی کتابیں باقی نہیں رہیں کیونکہ انہوں نے ان میں احادیث کے ساتھ اور باتیں بھی شامل کر دیں

یاد رہے کہ عصر حاضر میں انڈیا کے ڈاکٹر حمید الله کی تحقیق کے بعد دعوی کیا گیا ہے کہ صحیفہ ہمام بن منبہ مل گیا ہے جو مسند احمد میں ہے
ہمام بن منبہ یمنی کی روایات کا ذکر نہ ہی کریں تو اچھا ہے کیونکہ امام احمد کا کہنا ہے یہ صحیفہ معدوم ہوا کیونکہ ہمام نے اس میں اپنی باتیں شامل کیں

امام بخاری و مسلم نے ان صحائف سے نقل نہیں کیا انہوں نے لوگوں سے ملاقات کی اور ان سے سماع حدیث کیا اپنے استادوں کی سند سے لکھا یعنی زبانی سن کر لکھا

الغرض سند سے مورخین نے بھی لکھا جس میں ابن اسحٰق وغیرہ ہیں انہی کے ہم عصر امام مالک ہیں جن کی موطا ہے اور ابن سیرین بھی ان کے ہم عصر ہیں
یعنی سند سے روایت لکھنے کا دور سن ١٠٠ کے اس پاس کا ہے آخری صحابی جابر بن عبد الله سن ٧٤ میں فوت ہوئے

اصحاب نے احکام نبوی درج کیے نہ کہ تمام اقوال النبی

عبد الله بن عمرو کا صحیفہ
اس کی خبر طبقات ابن سعد میں ہے
قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فِي كِتَابَةِ مَا سَمِعْتُهُ مِنْهُ. قَالَ فَأَذِنَ لِي فَكَتَبْتُهُ. فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُسَمِّي صَحِيفَتَهُ تِلْكَ الصَّادِقَةَ.
واقدی نے کہا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ نے خبر دی اس نے سلیمان بن بلال سے اس نے صفوان سے اس نے روایت کیا
عبد الله بن عمرو سے کہ انہوں نے کہا میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے اجازت لی کہ جو ان سے سنا اس کو لکھوں کہا پس اپ نے اجازت دی تو میں نے لکھ لیا پس عبد الله اس صحیفہ کو نام دیتے الصَّادِقَةَ
سند مين أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ مجہول ہے – اصل میں یہ واقدی کا قول ہے جو ابن سعد نے لکھا

اس طرح کا قول مجاہد سے بھی ہے
قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ:
رَأَيْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو صَحِيفَةً فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ: هَذِهِ الصَّادِقَةُ. فِيهَا مَا سَمِعْتُ مِنَ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فِيهَا أُحُدٌ.
لیکن مجاہد کا سماع عبد الله سے قابل بحث ہے بعض نے اس کا انکار کیا ہے

دوسری طرف محدثین متاخرین کا یہ بھی کہنا ہے
⇑ ابن کثیر کہتے ہیں عبد الله بن عمرو بن العآص رضی الله عنہ إسرائيليات کی روایات بیان کرتے تھے؟

الوحی


———
علی کا صحیفہ
تو یہ چند احکام تھے جو نیام میں رکھے تھے

مصنف عبد الرزاق میں الفاظ ہیں
عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى مِنْذِرٌ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ إِلَى أَبِي فَشَكَوْا سُعَاةَ عُثْمَانَ فَقَالَ أَبِي: ” خُذْ هَذَا الْكِتَابَ فَاذْهَبْ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقُلْ لَهُ: قَالَ أَبِي: أَنَّ نَاسًا مِنَ النَّاسِ قَدْ جَاءُوا شَكَوْا سُعَاتَكَ وَهَذَا أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفَرَائِضِ فَلْيَأْخُذُوا بِهِ “، فَانْطَلَقْتُ بِالْكِتَابِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَنَّ أَبِي أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ، وَذَكَرَ أَنَّ نَاسًا مِنَ النَّاسِ شَكَوْا سُعَاتَكَ، وَهَذَا أَمْرُ [ص:7] رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفَرَائِضِ فَمُرْهُمْ فَلْيَأْخُذُوا بِهِ، فَقَالَ: لَا حَاجَةَ لَنَا فِي كِتَابِكَ قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى أَبِي فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ أَبِي: «لَا عَلَيْكَ ارْدُدِ الْكِتَابَ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ» قَالَ: «فَلَوْ كَانَ ذَاكِرًا عُثْمَانَ بِشَيْءٍ لَذَكَرَهُ – يَعْنِي بِسُوءٍ -» قَالَ: «وَإِنَّمَا كَانَ فِي الْكِتَابِ مَا فِي حَدِيثِ عَلِيٍّ

اور صحیح بخاری میں بھی ہے

ابو جحیفہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ :
کیا تمہارے پاس کوئی (اور بھی) کتاب ہے؟
انہوں (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ : نہیں ! مگر اللہ کی کتاب قرآن ہے یا پھر فہم ہے جو وہ ایک مسلمان کو عطا کرتا ہے یا پھر جو کچھ اس صحیفے میں ہے۔
میں نے پوچھا : اس صحیفے میں کیا ہے؟
انہوں (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : دیت اور قیدیوں کی رہائی کا بیان ہے اور یہ حکم کہ مسلمان ، کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔
صحیح بخاری ، كتاب العلم ، باب : کتابۃ العلم ، حدیث : 111
——-

باقی اصحاب رسول نے احادیث تحریر کیں جن میں اکثر میں احکام درج تھے مثلا مناسک حج یا صدقات و دیت اور قیدیوں کی رہائی کے احکام لکھے – اصحاب رسول نے ایک ایک قول النبی کو نہیں لکھا تھا اگرچہ یہ اصحاب رسول نے بیان کیے لوگوں نے سن کر ان سے لکھا


کیا قرآن میں جہاں بھی شہداء کا لفظ آیا ہے – اس کا ترجمہ گواہ ہو گا یا کچھ اور بھی ہو گا

اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُـهٝ ۚ وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُـهَا بَيْنَ النَّاسِۚ وَلِيَعْلَمَ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ ۗ وَاللّـٰهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِيْنَ

(140)

اگر تمہیں زخم پہنچا ہے تو انہیں بھی ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے، اور ہم یہ دن لوگوں میں باری باری بدلتے رہتے ہیں، اور تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے بعضوں کو شہید کرے، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔

سورۃ آل عمران

یہاں شُهَدَآءَ کا ترجمہ شہید کیا گیا
جواب
وَوُضِعَ الْكِتَابُ کا مطلب کتاب رکھنا ہی ہے یعنی نامہ اعمال رکھا جائے گا
انہی الفاظ سے سورہ کہف میں ذکر ہے
وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَاوَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا (49)
کتاب رکھی جائے گی تو مجرم اس کو ڈرتے ڈرتے دیکھیں گے کہیں گے ہائے بربادی یہ کیسی کتاب ہے جو کسی بھی بات کو نہیں چھوڑتی چاہے چھوٹی ہو یا بڑی بلکہ اس کا ذکر کرتی ہے

ان الفاظ سے معلوم ہوا کہ کتاب رکھنے سے مراد نامہ اعمال ہے
—–
شہداء کا مطلب عربی میں گواہ ہے – میرے نزدیک ترجمہ ہے

وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُـوْرِ رَبِّهَا وَوُضِـعَ الْكِتَابُ وَجِيٓءَ بِالنَّبِيِّيْنَ وَالشُّهَدَآءِ وَقُضِىَ بَيْنَـهُـمْ بِالْحَقِّ وَهُـمْ لَا يُظْلَمُوْنَ
(69)
اور زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہو گی اور کتاب رکھ دی جائے گی اور انبیاء اور گواہ آئیں گے اور ان میں انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔
سورۃ الزمر

شہید کا مطلب گواہ ہے – جو جہاد میں قتل ہوا وہ اصل میں حق کا گواہ تھا اس نے اپنے قتل سے اس کا اظہار کیا اس وجہ سے مسلمان مقتول کو شہید کہا جاتا ہے

سورتوں کی موجودہ ترتیب توقیفی نہیں بلکہ اجتہادِ صحابہ ہے۔ اس کی دلیل سیدنا حذیفہ کی یہ حدیث ہے

صحيح مسلم: كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا (بَابُ اسْتِحْبَابِ تَطْوِيلِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ) صحیح مسلم: کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان

(باب: رات کی نماز میں طویل قراءت کا استحباب)

1814

و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ كُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ فَقُلْتُ يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ ثُمَّ مَضَى فَقُلْتُ يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ فَمَضَى فَقُلْتُ يَرْكَعُ بِهَا ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ ثُمَّ رَكَعَ فَجَعَلَ يَقُولُ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَامَ طَوِيلًا قَرِيبًا مِمَّا رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ قِيَامِهِ قَالَ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ مِنْ الزِّيَادَةِ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ

حکم : صحیح 1814

عبداللہ بن نمیر،ابو معاویہ اور جریر سب نے اعمش سے،انھوں نے سعد بن عبیدہ سے،انھوں نے مستورد بن احنف سے،انھوں نے صلہ بن زفر سے اور انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،۔انھوں نے کہا:ایک رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی،آپ نے سورہ بقرہ کا آغاز فرمایا،میں نے(دل میں ) کہا:آپ سو آیات پڑھ کر رکوع فرمائیں گے مگر آپ آگے بڑھ گئے میں نے کہا:آپ اسے(پوری) رکعت میں پڑھیں گے،آپ آگے پڑھتے گئے،میں نے سوچا،اسے پڑھ کر رکوع کریں گے مگر آپ نے سورہ نساءشروع کردی،آپ نے وہ پوری پڑھی،پھر آپ نے آل عمران شروع کردی،اس کو پورا پڑھا،آپ ٹھر ٹھر کر قرائت فرماتے رہے جب ایسی آیت سے گزرتے جس میں تسبیح ہے توسبحان اللہ کہتے اور جب سوال (کرنے والی آیت ) سے گزرتے(پڑھتے) تو سوا ل کرتے اور جب پناہ مانگنے والی آیت سے گزرتے تو۔( اللہ سے) پناہ مانگتے،پھر آپ نے ر کوع فرمایا اور سبحان ربي العظيم کہنے لگے،آپ کا رکوع(تقریباً) آپ کے قیام جتنا تھا۔پھر آپ نے “سمع الله لمن حمده”کہا:پھر آپ لمبی دیر کھڑے رہے،تقریباً اتنی دیر جتنی دیر رکوع کیا تھا ،پھر سجدہ کیا اور “سبحان ربي الاعلي” کہنے لگے اور آپ کا سجدہ (بھی) آپ کے قیام کے قریب تھا۔ جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہےکہ آپ نے کہا:( سمع الله لمن حمده ربنا لك الحمد”)یعنی ربنا لك الحمدکا اضافہ ہے۔)

http://mohaddis.com/View/Muslim/1814

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موجودہ ترتیب کے خلاف تلاوت کر کے اُمت کے لیے وسعت پیدا کر دی ہے کہ یہ ترتیب توقیفی نہیں ہے۔اگر سورتوں کی ترتیب توقیفی ہوتی تو صحابہ کرام ضرور اس حدیث کے مطابق قرآنِ مجید کی ترتیب دیتے۔نیز سیدنا عبد اللہ بن مسعود کے مصحف کی ترتیب موجودہ ترتیب سے مختلف تھی

اگر قران نبی صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں اسی ترتیب میں مکمل لکھا ہوا موجود
تھا تو پھر حضرت ابوبکررضی الله نے اسے دوبارہ کیوں جمع کیا، کیوں
زید بن ثابت رضی الله کی نگرانی میں ایک کمیٹی بنائ جس نے اس قران کو دوبارہ جمع کیا؟

صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ (بَابُ قَوْلِهِ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا}) صحیح بخاری: کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں (باب: آیت ((والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا ) کی تفسیر)

4536

حدثني عبد الله بن أبي الأسود، حدثنا حميد بن الأسود، ويزيد بن زريع، قالا حدثنا حبيب بن الشهيد، عن ابن أبي مليكة، قال قال ابن الزبير قلت لعثمان هذه الآية التي في البقرة ‏{‏والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا‏}‏ إلى قوله ‏{‏غير إخراج‏}‏ قد نسختها الأخرى، فلم تكتبها قال تدعها‏.‏ يا ابن أخي لا أغير شيئا منه من مكانه‏.‏ قال حميد أو نحو هذا‏.‏

حکم : صحیح 4536

مجھ سے عبداللہ بن ابی اسود نے بیان کیا ، کہا ہم سے حمید بن اسود اور یزید بن زریع نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حبیب بن شہید نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سورۃ بقرہ کی آیت یعنی ” جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں “ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” غیر اخراج “ تک کو دوسری آیت نے منسوخ کردیا ہے ۔ اس کو آپ نے مصحف میں کیوں لکھوایا ، چھوڑ کیوں نہیں دیا ؟ انہوں نے کہا ، میرے بھتیجے ! میں کسی آیت کو اس کے ٹھکانے سے بدلنے والا نہیں ۔ یہ حمید نے کہا یا کچھ ایسا ہی جواب دیا ۔

http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/4536

اس حدیث میں جس آیت کوحضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے منسوخ کہا – کیا واقعی وہ منسوخ ہے

جواب

قرآن کی ترتیب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مقرر کی- اس کا قرات سے کیا تعلق ہے ؟ کیونکہ نماز میں سورتیں ترتیب میں پڑھنے کا کوئی حکم نہیں
اس حدیث سے دلیل ملتی ہے کہ سورتوں کو نماز میں ترتیب میں پڑھنا ضروری نہیں

——-
قرآن کی ترتیب معلوم تھی لیکن اس ترتیب سے تمام مصحف میں لکھا نہیں تھا – ابو بکر رضی الله عنہ نے اس کو اس ترتیب سے ایک جگہ جمع کرنے کا حکم دیا
اصحاب رسول تمام پڑھے لکھے نہیں تھے لہذا انہوں نے قرآن کو زبانی یاد کیا- اس کی ترتیب ان کو معلوم تھی -ان میں بیشتر نے قرآن کو دیکھ کر نہیں پڑھا بلکہ حافظہ پر پڑھتے تھے – ابو بکر رضی الله عنہ نے اس کو ایک جگہ تحریری جمع کیا لیکن یہ ترتیب وہی تھی جو سب کو معلوم تھی
اگر ایسا نہ ہوتا تو اختلاف رہتا جبکہ قرآن کی اس ترتیب کو سب نے قبول کیا ہے

زرکشی نے کتاب البرهان في علوم القرآن میں لکھا ہے
وَهَذَا التَّرْتِيبُ بَيْنَ هَذِهِ السُّوَرِ الأربع المدنيات: البقرة وآل عمران والنساء والمائدة مِنْ أَحْسَنِ التَّرْتِيبِ وَهُوَ تَرْتِيبُ الْمُصْحَفِ الْعُثْمَانِيِّ وَإِنْ كَانَ مُصْحَفُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قُدِّمَتْ فِيهِ سُورَةُ النِّسَاءِ عَلَى آلِ عِمْرَانَ وَتَرْتِيبُ بَعْضِهَا بَعْدَ بَعْضٍ لَيْسَ هُوَ أَمْرًا أَوْجَبَهُ اللَّهُ بَلْ أَمْرٌ رَاجِعٌ إِلَى اجْتِهَادِهِمْ وَاخْتِيَارِهِمْ
چار مدنی سورتوں کی یہ ترتیب تھی بقرہ پھر ال عمران پھر النساء پھر المائدہ اچھی ترتیب میں اور یہ ترتیب مصحف عثمانی میں تھی اور ابن مسعود کا جو مصحف تھا اس میں سورہ النساء سورہ ال عمران سے پہلے تھی اور اسی طرح ترتیب دینا یہ الله تعالی کی طرف سے امر واجب نہیں تھا بلکہ یہ اجتہاد و اختیار کی بات تھی

ابن مسعود اور عثمانی مصحف میں یہ فرق صرف دو مدنی سورتوں کی ترتیب میں ہے لہذا اس بنا پر اس کو معمولی اختلاف کہا جائے گا اور اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ باقی تمام کی تمام ترتیب الگ تھی – زرکشی کا یہ کہنا کہ قرآن کی موجودہ ترتیب یہ صحابہ کا اجتہاد تھا صرف رائے زنی ہے

ابن مسعود سے منسوب اس ترتیب کے قول کی سند بھی معلوم نہیں

صحیح بخاری حدیث ٤٥٣١ میں ہے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} [البقرة: 234] قَالَ: كَانَتْ هَذِهِ العِدَّةُ، تَعْتَدُّ عِنْدَ أَهْلِ زَوْجِهَا وَاجِبٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ [ص:30] فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ} قَالَ: جَعَلَ اللَّهُ لَهَا تَمَامَ السَّنَةِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَصِيَّةً، إِنْ شَاءَتْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ، وَهْوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ} [البقرة: 240] فَالعِدَّةُ كَمَا هِيَ وَاجِبٌ عَلَيْهَا زَعَمَ ذَلِكَ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَقَالَ عَطَاءٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ” نَسَخَتْ هَذِهِ الآيَةُ عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَهْوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} [البقرة: 240] قَالَ عَطَاءٌ: ” إِنْ شَاءَتْ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهِ وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ، لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ} [البقرة: 234] ” قَالَ عَطَاءٌ: «ثُمَّ جَاءَ المِيرَاثُ، فَنَسَخَ السُّكْنَى، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَلاَ سُكْنَى لَهَا» وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ بِهَذَا، وَعَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ” نَسَخَتْ هَذِهِ الآيَةُ عِدَّتَهَا فِي أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، لِقَوْلِ اللَّهِ {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} [البقرة: 240] ” نَحْوَهُ

ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شبل بن عباد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے اور انہوں نے مجاہد سے آیت «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا‏» اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں۔ کے بارے میں (زمانہ جاہلیت کی طرح) کہا کہ عدت (یعنی چار مہینے دس دن کی) تھی جو شوہر کے گھر عورت کو گزارنی ضروری تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن في أنفسهن من معروف‏» اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں ان کو چاہیے کہ اپنی بیویوں کے حق میں نفع اٹھانے کی وصیت (کر جائیں) کہ وہ ایک سال تک گھر سے نہ نکالی جائیں، لیکن اگر وہ (خود) نکل جائیں تو کوئی گناہ تم پر نہیں۔ اگر وہ دستور کے موافق اپنے لیے کوئی کام کریں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کے لیے سات مہینے اور بیس دن وصیت کے قرار دیئے کہ اگر وہ اس مدت میں چاہے تو اپنے لیے وصیت کے مطابق (شوہر کے گھر میں ہی)ٹھہرے اور اگر چاہے تو کہیں اور چلی جائے کہ اگر ایسی عورت کہیں اور چلی جائے تو تمہارے حق میں کوئی گناہ نہیں۔ پس عدت کے ایام تو وہی ہیں جنہیں گزارنا اس پر ضروری ہے (یعنی چار مہینے دس دن)۔ شبل نے کہا ابن ابی نجیح نے مجاہد سے ایسا ہی نقل کیا ہے اور عطا بن ابی رباح نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، اس آیت نے اس رسم کو منسوخ کر دیا کہ عورت اپنے خاوند کے گھر والوں کے پاس عدت گزارے۔ اس آیت کی رو سے عورت کو اختیار ملا جہاں چاہے وہاں عدت گزارے اور اللہ پاک کے قول «غير إخراج‏» کا یہی مطلب ہے۔ عطا نے کہا، عورت اگر چاہے تو اپنے خاوند کے گھر والوں میں عدت گزارے اور خاوند کی وصیت کے موافق اسی کے گھر میں رہے اور اگر چاہے تو وہاں سے نکل جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فلا جناح عليكم فيما فعلن‏» اگر وہ نکل جائیں تو دستور کے موافق اپنے حق میں جو بات کریں اس میں کوئی گناہ تم پر نہ ہو گا۔ عطاء نے کہا کہ پھر میراث کا حکم نازل ہوا جو سورۃ نساء میں ہے اور اس نے (عورت کے لیے) گھر میں رکھنے کے حکم کو منسوخ قرار دیا۔ اب
عورت جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔ اسے مکان کا خرچہ دینا ضروری نہیں اور محمد بن یوسف نے روایت کیا، ان سے ورقاء بن عمرو نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے اور ان سے مجاہد نے، یہی قول بیان کیا اور فرزندان ابن ابی نجیح سے نقل کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس آیت نے صرف شوہر کے گھر میں عدت کے حکم کو منسوخ قرار دیا ہے۔ اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «غير إخراج‏» وغیرہ سے ثابت ہے۔

———–
بقرہ ٢٣٤ کا مطلب یہ لیا جاتا تھا کہ عورت شوہر کے مرنے کے بعد اسی گھر میں عدت گزارے گی اس کو بقرہ ٢٤٠ نے منسوخ کیا کہ عورت اب کہیں بھی عدت گزار سکتی ہے البتہ اس کی مدت وہی چار ماہ دس دن رہے گی- ابن زبیر نے جو کہا اس کا مطلب بقرہ ٢٣٤ منسوخ ہے بقرہ ٢٤٠ سے

تحقیق چاہیے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بن عبد الله الأويسي ثنا إبراهيم بن سَعْدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي عَوْنٍ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ [3] قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخَذَ الْمُصْحَفَ [فَوَضَعَهُ] عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى لَأَرَى وَرَقَهُ يَتَقَعْقَعُ ثُمَّ قَالَ: اللَّهمّ إِنَّهُمْ مَنَعُونِي [أَنْ أَقُومَ فِي الْأُمَّةِ] بِمَا فِيهِ فَأَعْطِنِي [ثَوَابَ] مَا فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهمّ إِنِّي قَدْ مَلَلْتُهُمْ وَمَلُّونِي، وَأَبْغَضْتُهُمْ وَأَبْغَضُونِي، وَحَمَلُونِي عَلَى غَيْرِ طَبِيعَتِي وَخُلُقِي وَأَخْلَاقٍ لَمْ تَكُنْ تُعْرَفْ لِي، فَأَبْدِلْنِي بِهِمْ خَيْرًا مِنْهُمْ وَأَبْدِلْهُمْ بِي شَرًّا مِنِّي، اللَّهمّ أَمِتْ قُلُوبَهُمْ مَيْتَ الْمِلْحِ فِي الْمَاءِ- قَالَ إِبْرَاهِيمُ: يَعْنِي أَهْلَ الْكُوفَةِ-»

المعرفة والتاريخ

جواب

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بن عبد الله الأويسي ثنا إبراهيم بن سَعْدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي عَوْنٍ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيّ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخَذَ الْمُصْحَفَ [فَوَضَعَهُ] عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى لَأَرَى

وَرَقَهُ يَتَقَعْقَعُ ثُمَّ قَالَ: اللَّهمّ إِنَّهُمْ مَنَعُونِي [أَنْ أَقُومَ فِي الْأُمَّةِ] بِمَا فِيهِ فَأَعْطِنِي [ثَوَابَ] مَا فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهمّ إِنِّي قَدْ مَلَلْتُهُمْ وَمَلُّونِي، وَأَبْغَضْتُهُمْ وَأَبْغَضُونِي، وَحَمَلُونِي عَلَى غَيْرِ طَبِيعَتِي وَخُلُقِي وَأَخْلَاقٍ لَمْ تَكُنْ تُعْرَفْ لِي،

فَأَبْدِلْنِي بِهِمْ خَيْرًا مِنْهُمْ وَأَبْدِلْهُمْ بِي شَرًّا مِنِّي، اللَّهمّ أَمِتْ قُلُوبَهُمْ مَيْتَ الْمِلْحِ فِي الْمَاءِ- قَالَ إِبْرَاهِيمُ: يَعْنِي أَهْلَ الْكُوفَةِ-»

عبد الرحمن بن قيس ، أبو صالح الحنفى الكوفى نے کہا میں نے علی بن ابی طالب کو دیکھا انہوں نے مصحف اٹھایا ہوا تھا اس کو سر پر رکھا یھاں تک کہ میں اس کا ورقه نہ دیکھ سکا پھر کہا اے الله

یہ مجھے منع کرتے ہیں کہ امت میں اس کو اٹھاؤں جو اپ نے اس میں سے حصہ عطا کیا پھر کہا میں ان سے بیزار ہوں میں نفرت کرتا ہوں یہ مجھ سے نفرت کرتے ہیں اور یہ مجھ پر میرے مزاج

و خلق و اخلاق کے خلاف ڈال رہے ہیں جو میں نہیں جانتا- اے الله ان کو خیر سے بدل دے اور ان کے لئے مجھ سے بھی شری سے بدل دے اے الله ان کے دلوں کو پگھلا دے جیسے نمک پانی میں حل ہوتا ہے

اسی سند سے البدایہ و النہایہ میں دوسرے متن میں ہے ان کے دلون کو مار دے

اس کی سند میں عبد الرحمن بن قيس ، أبو صالح الحنفى الكوفى اور محمد بن عبيد الله الثقفي ہیں جو ثقہ ہیں

یہ روایت البدایہ و النہایہ میں ابن کثیر نے نقل کی ہے خوارج کے حوالے سے کہ انہوں نے علی سے تاویل قرآن کے حوالے سے جدل کیا

جواب

مکہ میں کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی جاتی تھی
لیکن مدینہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ یروشلم کی طرف رخ کریں اس کو قبلہ کریں-
یہود پر اتمام حجت کے لئے الله تعالی نے یہ حکم دیا کہ وہ کہتے تھے ہم اسی کی اتباع کریں گے جو ہمارے قبلہ کی طرف منہ کر کے عبادت کرے
پھر انہوں نے کہا جو سوختنی قربانی لائے یہ سب سورہ بقرہ میں ہے
اصحاب رسول مدینہ میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی آمد سے قبل کعبه کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ١٧ ماہ یروشلم کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے – اس وقت تک مسجد النبی اور مسجد قبا دونوں موجود تھیں
مسجد قبلتین بئر رومہ کے قریب واقع ہے – ممکن ہے کہ رسول اللہ کسی کام سے اس مقام پر ہوں جب تحویل قبلہ کا حکم آیا
روایات میں ہے کہ صحابی بشر بن برا ؓ بن معرور کے پاس دعوت میں تشریف لے گئے تھے، ظہر کا وقت آیا تو محلہ بنو سلمہ کی مسجد میں نماز پڑھانے کھڑے ہوئے ، ایک روایت کے مطابق دو رکعتیں پڑھا چکے تھے اور دوسری روایت کے مطابق دوسری رکعت کے رکوع میں تھے کہ تحویل قبلہ کا حکم سورۂ بقرہ کی آیت ۱۴۴ کے ذریعہ نازل ہوا

مورخین کہتے ہیں شعبان یا رجب ٢ ہجری میں یہ حکم آیا تھا یعنی جنگ بدر سے پہلے یہ واقعہ ہوا

جواب

نصب کا مطلب
sculpture, painting, image

یعنی تصویر یا مجسمہ یا کوئی شبیہ ہے
https://www.almaany.com/en/dict/ar-en/home.php?lang_name=ar-en&servicategoryces=All&service=dict&word=نصب
——

مشرک بت یا مجسموں پر چڑھاوے چڑھاتے تھے اس بنا پر نصب کا مطلب میں آستانہ یا قبر کا مفہوم نہیں ہے
یہ اس کا استخراجی مفہوم ہے
مشرکین مکہ میں قبر پرستی میرے علم میں نہیں تھی – وہ روح کی پرندوں میں منتقلی کے قائل تھے جس کو ہامہ کہتے ہیں اس کے علاوہ مشرک موت کو معدوم ہونا کہتے تھے کہ دوبارہ زندگی نہیں ہے
لیکن آجکل چونکہ مسلمانوں میں قبر پرستی ہو رہی ہے لہذا قبر پرستی کے خلاف علماء نصب کا یہ ترجمہ کر دیتے ہیں

– بَابُ : مَسْحِ الْمَرْأَةِ رَأْسَهَا

باب: عورت اپنے سر کا مسح کیسے کرے۔

حدیث نمبر: 100

اخبرنا الحسين بن حريث ، قال : حدثنا الفضل بن موسى ، عن جعيد بن عبد الرحمن ، قال : اخبرني عبد الملك بن مروان بن الحارث بن ابي ذناب ، قال : اخبرني ابو عبد الله سالم سبلان ، قال : وكانت عائشة تستعجب بامانته وتستاجره ، فارتني كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا ” فتمضمضت واستنثرت ثلاثا ، وغسلت وجهها ثلاثا ، ثم غسلت يدها اليمنى ثلاثا واليسرى ثلاثا ، ووضعت يدها في مقدم راسها ثم مسحت راسها مسحة واحدة إلى مؤخره ، ثم امرت يديها باذنيها ، ثم مرت على الخدين ” . قال سالم : كنت آتيها مكاتبا ما تختفي مني فتجلس بين يدي وتتحدث معي حتى جئتها ذات يوم ، فقلت : ادعي لي بالبركة يا ام المؤمنين ، قالت : وما ذاك ؟ قلت : اعتقني الله ، قالت : بارك الله لك ، وارخت الحجاب دوني فلم ارها بعد ذلك اليوم

´ابوعبداللہ سالم سبلان کہتے ہیں کہ` ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی امانت پر تعجب کرتی تھیں، اور ان سے اجرت پر کام لیتی تھیں، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے مجھے دکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے تین بار کلی کی، اور ناک جھاڑی اور تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر تین بار اپنا دایاں ہاتھ دھویا، اور تین بار بایاں، پھر اپنا ہاتھ اپنے سر کے اگلے حصہ پر رکھا، اور اپنے سر کا اس کے پچھلے حصہ تک ایک بار مسح کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں پر پھیرا، پھر دونوں رخساروں پر پھیرا، سالم کہتے ہیں: میں بطور مکاتب کے ان کے پاس آتا تھا اور آپ مجھ سے پردہ نہیں کرتی تھیں، میرے سامنے بیٹھتیں اور مجھ سے گفتگو کرتی تھیں، یہاں تک کہ ایک دن میں ان کے پاس آیا، اور ان سے کہا: ام المؤمنین! میرے لیے برکت کی دعا کر دیجئیے، وہ بولیں: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ نے مجھے آزادی دے دی ہے، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت سے نوازے، اور پھر

آپ نے میرے سامنے پردہ لٹکا دیا، اس دن کے بعد سے میں نے انہیں نہیں دیکھا۔

ا بو شہر یار بھائی متن کے لحاظ سے یہ دونوں احادیث صحیح معلوم نہیں ہوتیں

جواب

ابو عبد الله سالم سبلان ایک غلام تھا اور لونڈی غلام سے کوئی پردہ نہیں کیا جاتا تھا لہذا اس میں قباحت نہیں ہے

جواب

غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہے
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے

————

تو یہی حال بعض اوقات جرح و تعدیل میں بھی ہوتا ہے کوئی تعدیل کرتا ہے تو کوئی جرح کرنا ہے
اس میں دیکھنا پڑتا ہے ثقہ کون کہتا ہے اگر ابن حبان ثقہ کہے یا عجلی تو ایسی ثقاہت معتبر نہیں ہے

جرح و تعدیل کو مفسر یا غیر مفسر کہنے کا شوشہ سب سے پہلے ابن حجر کے شاگرد سخاوی کا ہے
اس سے قبل یہ نہیں تھا لہذا متقدمین محدثین اگر کسی پر جرح کریں تو اس کو دیکھنا چاہیے

بہر حال ان تمام جھگڑوں کا وجہ صرف جرح و تعدیل کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ عصبیت بھی ہے – اہل حدیث کہتے ہیں صحیحین کے راوی پر تمام جرح کلعدم ہیں – یہ ان کا خانہ ساز اصول ہے ورنہ اس قول کو ابن حجر نے النکت میں رد کیا ہے

النكت على كتاب ابن الصلاح میں ابن حجر کہتے ہیں
قلت: “ولا يلزم من كون رجال الإسناد من رجال الصحيح أن يكون الحديث الوارد به صحيحا، لاحتمال أن يكون فيه شذوذ أو علة،
میں ابن حجر کہتا ہوں اس سے لازم نہیں اتا کہ رجال صحیح کے ہیں کہ حدیث جو وارد ہوئی وہ بھی صحیح ہے کیونکہ احتمال رہتا ہے کہ اس میں شاذ ہو یا علت ہو

تقسیم سے قبل اہل حدیث مبارک پوری کتاب تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي میں کہتے تھے
وَأَمَّا قَوْلُ الْهَيْثَمِيِّ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ فَلَا يَدُلُّ عَلَى صِحَّتِهِ لِاحْتِمَالِ أَنْ يَكُونَ فِيهِمْ مُدَلِّسٌ وَرَوَاهُ بِالْعَنْعَنَةِ أَوْ يَكُونَ فِيهِمْ مُخْتَلِطٌ وَرَوَاهُ عَنْهُ صَاحِبُهُ بَعْدَ اخْتِلَاطِهِ أَوْ يَكُونَ فِيهِمْ مَنْ لَمْ يُدْرِكْ مَنْ رَوَاهُ عَنْهُ أَوْ يَكُونَ فِيهِ عِلَّةٌ أَوْ شُذُوذٌ
اور الْهَيْثَمِيِّ کا کہنا کہ رجال ثقہ ہیں اس سے کوئی دلیل نہیں ہوئی کہ حدیث کی صحت پر کیونکہ احمتمال ہے کہ اس میں مدلس ہو سکتا ہے جو عن سے روایت کرے یا اس میں علت ہو یا یہ شاذ ہو

احناف میں الزَّيْلَعِيُّ کتاب نَصْبِ الرَّايَةِ کہتے تھے
لَا يَلْزَمُ مِنْ ثِقَةِ الرِّجَالِ صِحَّةُ الْحَدِيثِ حَتَّى يَنْتَفِيَ منه الشذوذ والعلة

========

میں نے خود صحیحین کی روایات پر جرح کی ہے کیونکہ یہ امام بخاری و مسلم کا اجتہاد ضروری نہیں صحیح سمجھا جائے ورنہ یہ تقلید ہے

مثلا
عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا صحیح بخاری میں ہے امام احمد کے نزدیک منکر روایت ہے
صحیح مسلم کی روایت کہ علی و فاطمہ و حسن و حسین کو چادر میں کیا حدیث کساء – امام احمد کے نزدیک منکر ہے

لیکن بخاری و مسلم نے انہی شیعیت سے بھری روایات کو صحیح کہہ کر اہل سنت میں پھیلا دیا

جواب

کتاب الله کے دیے گئے کسی بھی عقیدے کا انکار کفر ہے

اس بنا پر عود روح کا عقیدہ کفر ہے کیونکہ یہ خلاف آیات الله ہے اور احادیث صحیحیہ سے ثابت نہیں ہوتا

ہمارا معاملہ عقیدے میں سختی کا ہے اور اس پر کوئی اور رائے ہم قبول نہیں کرتے- باقی فرقے اس میں متساہل ہیں مثلا اہل حدیث تصوف کو بدعت کہتے ہیں لیکن وحدت الوجود کے قائل صوفیوں کے مداح ہیں لیکن یہی عقیدہ قرن ثلاثہ میں جھمیت کہلاتا تھا اس دور میں سب اس کو کفر کہتے تھے

مخالفین ظاہر ہے ایسا کوئی حربہ رکھتے ہیں کہ بات سننے والے کا ذھن الجھے اور مدعے سے ہٹ جائے لہذا جب عود روح عقیدہ کا رد ہوتا ہے تو احمد کا نام اتا ہے
کہتے ہیں
ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا
بات پہنچی تری جوانی تک

تو یہی حال ہوتا ہے سب کا نام اتا ہے – یہی حال عقیدہ عرض اعمال کا بھی ہے یہاں تو لسٹ اس سے بھی طویل ہے امام الذھبی ہوں یا ابن حجر یا خطابی یا ابن کثیر یا دارقطنی سب اس عرض اعمال کو صحیح قرار دیتے ہیں

ہمارے تساہل کا نتجیہ یہ ہو گا کہ یہ بات امت میں پھر دبا دی جائے گی کہ عقیدہ عود روح غلط ہے
جیسا پہلے بھی ہوتا رہا ہے مثلا الرفع والتكميل في الجرح والتعديل أز محمد بن عبد الحي اللكنوي (1264 – 1304 هـ) كي کتاب ہے – جو حنفی مسلک لکھنو انڈیا کے تھے – یعنی ڈیڑھ سو سال پہلے کی کتاب ہو گی
اس میں زاذان اور المنھال بن عمرو کا دفاع کیا گیا ہے – ظاہر ہے اتنے سارے رویوں میں سے دو کا خاص تذکرہ کرنا نشان دھی کر رہا ہے کہ یہ عود روح کا عقیدہ اس دور میں کوئی رد کر رہا تھا لیکن اس بات کو دبا دیا گیا اور اس کتاب میں خاص عود روح کی روایت کے راویوں کا دفاع کیا جانا معنی خیز ہے

جب میں نے ٢٠ سال پہلے اس کتاب کو حرفا حرفا پڑھا تھا تو میں حیران رہ گیا کہ الله تعالی نے سو سال پہلے کے دور میں بھی لوگوں کو سمجھ دی کہ اس عقیدہ کا رد کرو لیکن بات چھپا دی گئی
اسی لکھنو سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عثمانی تھے جن کو الله نے ١٩٧٠ میں سمجھ دی عقیدہ عود روح غلط ہے
و للہ لحمد

لہذا ہم کو اس کو چھپانا یا دبانا نہیں ہے – ہمارے پاس ان ائمہ یعنی امام احمد کے جنتی ہونے کی کوئی سند نہیں ہے
ہم تک کتاب الله سے جو علم آیا ہم اسی کا پرچار کریں گے

جواب

اس کا بنیادی ماخذ اصل میں أبو علي حنبل بن إسحاق بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني کی کتاب ہے جو امام احمد کے شاگرد اور رشتہ دار تھے بھتیجے تھے

اس کتاب کو كتاب ذكر محنة الإمام أحمد کہا جاتا ہے

http://waqfeya.com/book.php?bid=6156

اردو میں
http://kitabosunnat.com.gridhosted.co.uk/musannifeen/abu-abdullah-hanbal-bin-ishaq-bin-hanbal

میرے نزدیک اس میں قصہ گوئی زیادہ ہے – حقیقت کم ہے – لیکن چونکہ کوئی اور مصدر نہیں لہذا اس پر کچھ کہا نہیں جا سکتا
میرے اس خیال کی وجوہات یہ ہیں کہ امام احمد نے مسند احمد میں اپنی بیماری میں بیٹے کو حکم دیا کہ حکمرانوں کو تکفیر مت کرنا

حدثنا محمَّد بن جعفر، حدثنا شُعبة، عن أبي التَّيَّاح، قال: سمعت أبا زُرعة، يحدث عن أبي هريرة، عن النبي – صلى الله عليه وسلم -، قال: “يُهلكُ أمتي هذا الحيُّ من قريبٌ”، قالوا: في تأمُرُنا يا رسول الله؟، قال: “لو أن الناس اعتزلوهم”. [قال عبد الله بن أحمد]: وقال أبي- في مرضه الذي مات فيه: اضرب على هذا الحديث، فإنه خلافُ الأحاديث عن النبي – صلى الله عليه وسلم -، يعني قوله: “اسمعوا وأطيعوا واصبروا”.

ابو ہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو یہ محلہ جلد ہی ہلاک کرے گا ہم نے پوچھا آپ ہم کو کیا حکم کرتے ہیں اے رسول الله ! فرمایا کاش کہ لوگ ان سے الگ رہتے عبد الله بن احمد کہتے ہیں میں نے اپنے باپ سے اس حالت مرض میں (اس روایت کے بارے میں) پوچھا جس میں ان کی وفات ہوئی احمد نے کہا اس حدیث کو مارو کیونکہ یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی احادیث کے خلاف ہے یعنی سمع و اطاعت کرو اور صبر کرو

اب سارا جھگڑا ہی یہی ہے کہ حکمران خلق قرآن کے قائل تھے – اسی کو احمد رد کرتے جھمیت کہتے تھے

احمد کے بیٹوں کی کتب حنبل بن اسحاق کی کتاب سے بہتر ہیں جن میں گھر کے فتوے ہیں – احمد نے گھر میں یہ فتوے دیے ہیں سرے عام نہیں- حنبل بن اسحاق تو بہت کم عمر تھے لہذا ان کا اس آزمائش کی تفصیل کو بیان کرنا جو بیٹوں نے نہیں کی عجیب بات ہے – پھر کتاب محنة میں احمد جب مامون کو مخاطب کرتے ہیں تو امیر المومنین کہتے ہیں! جس کا عقیدہ ہی جھمی ہو وہ مومن ہوا؟ میرے نزدیک یہ سب قصہ گوئی ہے کہ احمد کو کوڑے لگے
و اللہ اعلم


جواب

کہا جاتا ہے کہ سن ١٤٥ میں جب محمد بن عبد الله نے بغاوت کی تو امام مالک نے اس کی طرف داری کی لوگوں نے کہا تم نے تو عباسی خلیفہ ابو جعفر کی بیعت کی ہے تو امام مالک نے کہا اس نے جبری بیعت لی تھی – کہا جاتا ہے امام مالک کہتے تھے جبری طلاق نہیں ہوتی تو عباسیوں نے اس فتوی سے منع کیا کہ اس طرح تو جبری بیعت بھی نہیں قبول ہو گی- یعنی امام مالک جبری بیعت اور جبری طلاق دونوں کو رد کرتے تھے عباسی منواتے تھے
امام مالک نہ مانے تو ان کو ٧٠ کوڑے لگے

راقم کو یہ تمام کوئی کہانی لگتی ہے – کسی نے کہیں کی انیٹ کہیں کا روڑا لے کر بان متی کا کنبہ بنا دیا ہے

یہ تمام قصہ واقدی کا بیان کردہ ہے
قال الواقدي: «لما دعي مالك، وشوور، وسمع منه وقُبل قوله حُسد وبغوه بكل شيء، فلما ولي جعفر بن سليمان المدينة سعوا به إليه وكثروا عليه عنده، وقالوا: لا يرى أيمان بيعتكم هذه بشيء، وهو يأخذ بحديث رواه عن ثابت بن الأحنف في طلاق المكره: أنه لا يجوز عنده.
قال: فغضب جعفر، فدعا بمالك، فاحتج عليه بما رُفع إليه عنه، فأمر بتجريده، وضربه بالسياط، وجبذت يده حتى انخلعت من كتفه، وارتكب منه أمر عظيم، فوالله ما زال مالك بعد في رفعة وعلو».
جس کو بعد میں طبری نے بیان کیا

——
موطا امام مالک میں ہے کہ جبری طلاق نہیں ہو گی

وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْأَحْنَفِ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ أُمَّ وَلَدٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: فَدَعَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ فَجِئْتُهُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَإِذَا سِيَاطٌ مَوْضُوعَةٌ، وَإِذَا قَيْدَانِ مِنْ حَدِيدٍ، وَعَبْدَانِ لَهُ قَدْ أَجْلَسَهُمَا، فَقَالَ: طَلِّقْهَا وَإِلَّا وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ فَعَلْتُ بِكَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَقُلْتُ: هِيَ الطَّلَاقُ أَلْفًا، قَالَ: فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ، فَأَدْرَكْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِي، فَتَغَيَّظَ عَبْدُ اللَّهِ، وَقَالَ: ” لَيْسَ ذَلِكَ بِطَلَاقٍ، وَإِنَّهَا لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْكَ، فَارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ، قَالَ: فَلَمْ تُقْرِرْنِي نَفْسِي، حَتَّى أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ أَمِيرٌ عَلَيْهَا، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِي، وَبِالَّذِي قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْكَ فَارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ، وَكَتَبَ إِلَى جَابِرِ بْنِ الْأَسْوَدِ الزُّهْرِيِّ، وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ يَأْمُرُهُ أَنْ يُعَاقِبَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَنْ يُخَلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَهْلِي، قَالَ: فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَجَهَّزَتْ صَفِيَّةُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ امْرَأَتِي حَتَّى أَدْخَلَتْهَا عَلَيَّ بِعِلْمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ثُمَّ دَعَوْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَوْمَ عُرْسِي لِوَلِيمَتِي فَجَاءَنِي ”

مالک نے ثابت بن الاحنف سے روایت کیا کہ میں نے عبدالرحمن بن زید بن الخطاب کی ام ولد لونڈی سے نکاح کیا۔ میں اس کے پاس آیا اور اس پر داخل ہوا تو کوڑے لٹکے ہوئے تھے ۔ لوہے کی دو بیڑیاں تھیں اور دو غلام بٹھائے ہوئے تھے۔ عبد الرحمن بن زید بن الخطاب رضی الله عنہ نے مجھے کہا : اپنی بیوی کو طلاق دے دے ورنہ اللہ کی قسم تجھے ایسا ایسا کردوں گا۔ میں نے کہا: اسے ایک ہزار طلاق ۔ میں اس کے پاس سے نکلا تو مکہ کے راستے میں عبداللہ بن عمر ملاقات ہوئی ۔میں نے ان کو اپنا سارا واقعہ سنایا تو وہ غصے ہوگئے اورفرمایا یہ کوئی طلاق نہیں ۔ وہ عورت تجھ پرحرام نہیں ہوئی۔ تواپنی بیوی کی طرف لوٹ جا۔ مجھے اطمینان نہ ہوایہاں تک کہ میں عبداللہ بن زبیر کے پاس آگیا اور ان سے اپنا واقعہ کی بات کا ذکر کیا ۔ انہوں نے بھی کہا کہ تیری بیوی تجھ پرحرام نہیں ہوئی۔ تو اپنی بیوی کی طرف لوٹ جا۔

عبد الرحمن بن زید بن الخطاب رضی الله عنہ صحابی ہیں وفات النبی کے وقت عمر ٦ سال تھی سنن نسائی کے راوی ہیں
ابو نعیم نے صحابہ میں سے قرار دیا ہے
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ رِجَالٍ مِنَ الصَّحَابَةِ

ثَابِتِ بْنِ عِيَاضٍ الْأَحْنَفِ الْأَعْرَجِ الْعَدَوِيِّ تَابِعِيٌّ مولى عبد الرحمن بن زيد ہے اس نے صحابی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ اور لُبَابَةُ بِنْتُ لُبَابَةَ الْأَنْصَارِيَّةُ کی ام الولد سے شادی کی

یعنی ثابت اصل میں عبد الرحمن بن زيد کا آزاد کردہ غلام تھا اس نے ایک لونڈی کی بیٹی سے شادی کی عبد الرحمن بن زيد نے جبری طلاق کرا دی

فقال حدثنا أحمد قال : نا يونس بن بكير عن أبي خلدة بن دينار قال : نا أبو العالية قال لما فتخنا تستر وجدنا في بيت مال الهرمزان سريراً عليه رجل ميت عند رأسه مصحف له فأخذنا المصحف فحملنا إلى عمر بن الخطاب فدعا له كعباً فنسخه بالعربية فأنا أول رل من العرب قرأته مثلما أقرأ القرآن هذا فقلت لأبي العالية: ما كان فيه ؟ فقال سيرتكم وأموركن ولحون كلامكم وما هو كائن بعد قلت : فما صنعتم بالرجل ؟. قال حفرنا بالنهار ثلاثة عشر قبراً متفرقة فلما كان الليل دفناه وسوينا القبور كلها لتعمية على الناس لا ينبشونه ، قلت وما يرجون منه ؟ = =قال: كانت السماء إذا جست عليهم برزوا بسريره فيمطرون قلت من كنتم تظنون الرجل ؟ قال رجل يقال له دنيال فقلت ، منذ كم وجدتموه مات ؟ قال : منذ ثلاثمائة سنة قلت : ما كان تغير بشيء ؟ قال : لا إلا شعيرات من قفاه ، إن لحوم الأنبياء لاتبليها الأرض ولا تأكلها السباع .

دلائل النبوة الإمام البيهقي

جواب

أبو العالية بصری کی کعب الاحبار سے ملاقات ہوئی اور بات نقل ہوئی کہ یہ دانیال کا جسد ہو گا جو تستر سے ملا اور اس کتاب کو کعب الاحبار نے پڑھ بھی لیا

یہ سب بکواس بات ہے جو أبو العالية نے بیان کی

کعب ایک سابقہ یہودی تھا – یہود کے نزدیک دانیال نبی نہیں ہے صوفی کشفی تھا
نصرانی اس کو نبی کہتے ہیں اور مسلمانوں نے یہ قول نصرانییوں سے لیا ہے کہ دانیال نبی ہے
دانیال کی زبان آرامی تھی جو ایک قدیم معدوم زبان ہے – کعب الاحبار اس کو پڑھ سکتا تھا میرے نزدیک مشکوک ہے

عراق میں چار مقام- ترکی میں ایک – ازبکستان میں ایک مقام پر دانیال کی قبر کہی جاتی ہے

میری کتاب وفات النبی ص ١٣٦ سے ١٤١ پر اسی پر بحث ہے کہ یہ دانیال کا اول تو جسد نہیں تھا دوم دانیال ایک نبی ہے اس کے انکاری خود یہودی ہیں
http://www.islamic-belief.net/wp-content/uploads/2017/08/وفات-النبی.pdf
——-

مزید کہ اس لاش کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ تین سو سال پرانی ہے جبکہ ہم کو معلوم ہے کہ عیسیٰ اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے درمیان کوئی نبی فوت نہیں ہوا
لہذا ابن کثیر نے البداية والنهاية میں کہا ہے کہ یہ لاش کسی نبی کی نہیں ہو گی
وَلَكِنْ إِنْ كَانَ تَارِيخُ وَفَاتِهِ مَحْفُوظًا مِنْ ثَلَاثِمِائَةِ سَنَةٍ فَلَيْسَ بِنَبِيٍّ، بَلْ هو رجل صالح ، لأن عيسى بن مَرْيَمَ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ بِنَصِّ الْحَدِيثِ الَّذِي فِي الْبُخَارِيِّ
——–

ابو عالیہ ایک نمبر کے چھوڑو انسان تھے – انہوں نے دعوی کیا کہ یہ اس کتاب دانیال کا ترجمہ عمر رضی الله عنہ کے حکم پر کعب الاحبار نے کیا جو انہوں نے سب سے پہلے پڑھا اور جانا کہ اس امت محمد میں کیا کیا فتنے ہوں گے – میں کہتا ہوں یہ کونسپریسی ہے کہ اھل کتاب کے قرب قیامت کو اسلام کے قرب قیامت سے ملا دیا جائے
ابو عالیہ یاد رہے یہ واقعہ غرانیق کے بھی راوی ہیں یعنی رسول الله الصادق و الامین پر قرانی آیات میں شیطانی القا کی روایت بھی کرتے تھے- یہ ان کے علم کے مصادر ہیں

فأخذنا المصحف فحملنا إلى عمر بن الخطاب فدعا له كعباً فنسخه بالعربية فأنا أول رل من العرب قرأته مثلما أقرأ القرآن هذا فقلت لأبي العالية: ما كان فيه ؟ فقال سيرتكم وأموركن ولحون كلامكم وما هو كائن بعد
ہم نے وہ مصحف اٹھا کر امیرالمومنین عمر کے پاس پہنچا دیا۔ عمر نے کعب الاحبار کو طلب کیا اور کعب نے اس کو عربی میں لکھ دیا۔ ابوالعالیہ نے کہا میں پہلا شخص تھا جس نے وہ صحیفہ پڑھا۔- أبي خلدة بن دينار نے ابوالعالیہ سے پوچھا کہ اس صحیفے میں کیا لکھا تھا؟ کہا: تمہاری سب سیرت تمہارے تمام امور اور تمہارے کلام کے لہجے تک اور جو کچھ آئندہ پیش آنے والا ہے

دلائل النبوه از بیہقی

اب اپ تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں- مصنف عبد الرزاق ميں ہے

عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ قَالَ: كَانَ يَقُولُ بِالْكُوفَةِ رَجُلٌ يَطْلُبُ كُتُبَ دَانْيَالَ، وَذَاكَ الضِّرْبَ، فَجَاءَ فِيهِ كِتَابٌ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنْ يُرْفَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا أَدْرِي فِيمَا رُفِعْتُ؟ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ عَلَاهُ بِالدِّرَّةِ، ثُمَّ جَعَلَ يَقْرَأُ عَلَيْهِ {الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ} [يوسف: 1]، حَتَّى بَلَغَ {الْغَافِلِينَ} [يوسف: 3] قَالَ: «فَعَرَفْتُ مَا يُرِيدُ»، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، دَعْنِي، فَوَاللَّهِ مَا أَدَعُ عِنْدِي شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الْكُتُبِ إِلَّا حَرَقْتُهُ قَالَ: ثُمَّ تَرَكَهُ

إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ نے کہا کوفہ ميں ايک رجل ہوتا تھا جو دانيال کي کتابيں مانگتا تھا … پس عمر رضي الله عنہ کا خط آيا کہ اس( کے پاس) سے اٹھ جاؤ – پس اس شخص نے کہا کيا معلوم کيا اٹھا؟ پس جب عمر کے پاس گيا اس کو عمر نے درے لگائے پھر {الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ} [يوسف: 1]، حَتَّى بَلَغَ {الْغَافِلِينَ} [يوسف: 3] قرات کي اور کہا پس تو جان گيا ميں کيا چاہ رہا تھا- اس نے کہا امير المومنين مجھے جانے ديں الله کو قسم ميں اس کتاب کو جلا دوں گا کہا پس انہوں نے اس کو چھوڑ ا

عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الرَّبَابِ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ: ” كُنْتُ فِي الْخَيْلِ الَّذِينَ افْتَتَحُوا تُسْتَرَ، وَكُنْتُ عَلَى الْقَبْضِ فِي نَفَرٍ مَعَيْ، فَجَاءَنَا رَجُلٌ بِجَوْنَةٍ، فَقَالَ: تَبِيعُونِي مَا فِي هَذِهِ؟ فَقُلْنَا: نَعَمْ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ ذَهَبًا، أَوْ فِضَّةَ، أَوْ كِتَابَ اللَّهِ قَالَ: فَإِنَّهُ بَعْضُ مَا تَقُولُونَ، فِيهَا كِتَابٌ مِنْ كُتُبِ اللَّهِ قَالَ: فَفَتَحُوا الْجَوْنَةَ فَإِذَا فِيهَا كِتَابُ دَانِيَالَ فَوَهَبُوهُ لِلرَّجُلِ، وَبَاعُوا الْجَوْنَةَ بِدِرْهَمَيْنِ قَالَ: فَذَكَرُوا أَنَّ ذَلِكَ الرَّجُلَ أَسْلَمَ حِينَ قَرَأَ الْكِتَابَ ”

أَبِي الرَّبَابِ الْقُشَيْرِيِّ نے کہا ميں گھوڑے پر تھا جب تستر فتح ہوا اور ميں ايک نفر پر قابض تھا پس ايک آدمي آيا اور کہا ميرے ساتھ آؤ يہ تحرير کيا ہے ہم نے کہا ہاں خبر دار يہ تو سونا (کتاب پر لگا) ہے يا چاندي ہے يا کوئي کتاب الله ہے کہا پس انہوں نے کہا يہ کتاب الله ميں سے کوئي ايک ہے پس تحرير کو کھولا تو ديکھا دانيال کي کتاب ہے پس وہ شخص ڈر گيا اور اس تحرير کو دو درہم ميں فروخت کر ديا اور کہا وہ شخص مسلمان ہو گيا
—–

دانیال سے منسوب وہ کتاب بازار میں کوڑی کے دام بیچ دی گئی اور بعد میں جو بھی اس قسم کا کوئی مصحف پڑھتا اس کو درے لگتے اور ان کو جلا دینے کا حکم تھا- دوسری طرف لوگ بیان کرتے رہے کہ عمر رضی الله عنہ نے اس کے ترجمہ کا کعب کو کہا اور ابو عالیہ نے اس کو پڑھا – ابو عالیہ کے نزدیک اس میں مسلمانوں کے اختلاف کا ذکر تھا ؟ یا للعجب

سب فراڈ ہے سب دھوکہ ہے

نوٹ آج کل کے اہل کتاب کے علماء کا یہ موقف بھی ہے کہ دانیال ایک فرضی کردار تھا – جس شخص نے اس کتاب کو گھڑا اس نے بادشاہوں کے نام تک غلط لکھے ہیں ان کے ادوار بھی غلط بیان کیے ہیں
مزید تفصیل میری کتاب میں ہے اگر اپ انگریزی سے واقف ہوں تو پڑھ سکتے ہیں
http://www.islamic-belief.net/wp-content/uploads/2015/06/POB.pdf

ایک فٹ نوٹ میں میں نے لکھا ہے
2 The book of Daniel addresses the question of period of captivity with numerological dimensions. The book is replete with historical anomalies. The author has no idea of Chronology of Babylonian empire. Belshazzar was neither king nor son of Nebuchadnazzar. The last ruler was Nebonidus, defeated by Cyrus not by Darius (the Mede?) as Daniel presumed There has never been a king by name Darius the Mede
===================

انبیاء کے اجسام باقی رہنے کی مجھ کو کوئی دلیل معلوم نہیں- قرآن میں ہے کہ ہر چیز فنا ہو گی
تو ان اجسام کو باقی رکھنے کا فائدہ کیا ہے یہ صرف زہاد کی خبریں ہیں کہ انبیاء قبروں میں نماز پڑھتے ہیں

جواب

حدیث ١٩
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْحَنَفِيِّ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ وَضَعَ خَاتَمَهُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ وَإِنَّمَا يُعْرَفُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، ثُمَّ أَلْقَاهُ» وَالْوَهْمُ فِيهِ مِنْ هَمَّامٍ، وَلَمْ يَرْوِهِ إِلَّا هَمَّامٌ ”

حدیث ٢٠٢
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْجُدُ وَيَنَامُ وَيَنْفُخُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: صَلَّيْتَ وَلَمْ تَتَوَضَّأْ وَقَدْ نِمْتَ، فَقَالَ: «إِنَّمَا الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا»، زَادَ عُثْمَانُ، وَهَنَّادٌ: فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَوْلُهُ: «الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا» هُوَ حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَمْ يَرْوِهِ إِلَّا يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ وَرَوَى أَوَّلَهُ جَمَاعَةٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا شَيْئًا مِنْ هَذَا، وَقَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَحْفُوظًا

حدیث ٢٤٨
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةً فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ، وَأَنْقُوا الْبَشَرَ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ حَدِيثُهُ مُنْكَرٌ، وَهُوَ ضَعِيفٌ

حدیث ١٧٩٠
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ هَدْيٌ فَلْيُحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ وَقَدْ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا مُنْكَرٌ إِنَّمَا هُوَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ

حدیث ٢٣٧٧
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ هَوْذَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ بِالْإِثْمِدِ الْمُرَوَّحِ عِنْدَ النَّوْمِ “، وَقَالَ: «لِيَتَّقِهِ الصَّائِمُ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ لِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ هُوَ حَدِيثٌ مُنْكَرٌ يَعْنِي حَدِيثَ الْكُحْلِ ”

حدیث ٣٠٤٠
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هَانِئٍ أَبُو نُعَيمٍ النَّخَعِيُّ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: لَئِنْ بَقِيتُ لِنَصَارَى بَنِي تَغْلِبَ، لَأَقْتُلَنَّ الْمُقَاتِلَةَ وَلَأَسْبِيَنَّ الذُّرِّيَّةَ، فَإِنِّي كَتَبْتُ الْكِتَابَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى «أَنْ لَا يُنَصِّرُوا أَبْنَاءَهُمْ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ بَلَغَنِي عَنْ أَحْمَدَ أَنَّه كَانَ يُنْكِرُ هَذَا الْحَدِيثَ إِنْكَارًا شَدِيدًا»، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: «وَلَمْ يَقْرَأْهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْعَرْضَةِ الثَّانِيَةِ»

حدیث ٣٧٧٤
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ” نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَطْعَمَيْنِ: عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ، وَأَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُنْبَطِحٌ عَلَى بَطْنِهِ “، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَسْمَعْهُ جَعْفَرٌ، مِنَ الزُّهْرِيِّ، وَهُوَ مُنْكَرٌ

حدیث ٣٨١٨
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي خُبْزَةً بَيْضَاءَ مِنْ بُرَّةٍ سَمْرَاءَ مُلَبَّقَةً بِسَمْنٍ وَلَبَنٍ» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّخَذَهُ، فَجَاءَ بِهِ، فَقَالَ: «فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا؟» قَالَ: فِي عُكَّةِ ضَبٍّ، قَالَ: «ارْفَعْهُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَأَيُّوبُ لَيْسَ هُوَ السَّخْتِيَانِيُّ»

حدیث ٤٨٤٦
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ احْتَبَى بِيَدِهِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ شَيْخٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ

حدیث ٤٩٢٤
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ، مِزْمَارًا قَالَ: فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ، وَنَأَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَقَالَ لِي: يَا نَافِعُ هَلْ تَسْمَعُ شَيْئًا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: فَرَفَعَ إِصْبَعَيْهِ مِنْ أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:282] فَسَمِعَ مِثْلَ هَذَا فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا»، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْلُؤْلُؤِيُّ: سَمِعْت أَبَا دَاوُد يَقُولُ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ

جواب

یہ واقعہ کتاب دلائل النبوه از بیہقی میں ہے

وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْعُرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بِمَعْنَاهُ زَادَ: قَالَ: فَمَرَّ عَلَيْهِ الدَّهْرُ فَانْهَدَمَ، فَبَنَتْهُ الْعَمَالِقَةُ قَالَ: فَمَرَّ عَلَيْهِ الدَّهْرُ، فَانْهَدَمَ، فَبَنَتْهُ جُرْهُمُ، فَمَرَّ عَلَيْهِ الدَّهْرُ، فَبَنَتْهُ قُرَيْشٌ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ شَابٌّ، فَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَرْفَعُوا الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ اخْتَصَمُوا فِيهِ، فَقَالُوا: نُحَكِّمُ بَيْنَنَا أَوَّلَ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ هَذِهِ السِّكَّةِ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ مَنْ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فَقَضَى بَيْنَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهُ فِي مِرْطٍ، ثُمَّ تَرْفَعُهُ جَمِيعُ الْقَبَائِلِ كُلُّهُمْ

خَالِدِ بْنِ عُرْعُرَةَ نے عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سے روایت کیا کعبہ پر ایک مدت گزری پھر یہ منہدم ہو گیا پھر عمالقہ نے اس کی تعمیر کی پھر ایک مدت گزری منہدم ہوا پھر جرہم نے اس کی تعمیر کی پھر مدت گزری منہدم ہوا اس کو قریش نے تعمیر کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان دنوں جوان تھے پس جب عربوں نے حجر اسود کو اٹھایا تو ان میں جھگڑا ہوا پس فیصلہ انہوں نے کیا کہ جو پہلا شخص (تنگ راستہ یا) گلی سے نکلے گا وہ کرے پس وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم تھے جو نکلے تھے- رسول الله نے حکم کیا کہ چادر لاو پھر تمام قبائل نے اس کو مل کر اٹھایا

———
اسی سند سے دوسرے متن میں ہے
فَاتَّفَقُوا أَنْ يَضَعَهُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ مِنْ هَذَا الْبَابِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَابِ بَنِي شَيْبَةَ، فَأَمَرَ بِثَوْبٍ فَوُضِعَ الْحَجَرُ فِي وَسَطِهِ، وَأَمَرَ كُلَّ فَخِذٍ أَنْ يَأْخُذُوا بِطَائِفَةٍ مِنَ الثَّوْبِ فَيَرْفَعُوهُ، وَأَخَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعَهُ
ان کا اتفاق ہوا کہ جو اس دروازے سے داخل ہوا وہ کرے گا پس رسول اللہ باب بنی شیبہ سے داخل ہوئے

یعنی مقابلہ ہوا کہ کون کسی تنگ گلی یا دروازے سے گزر سکتا ہے یا ڈور کا مقابلہ ہوا – اس میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم جیتے اغلبا تیز دوڑ کا مقابلہ ہوا ہو گا
———–

اس کی سند مضبوط نہیں ہے – سند میں سماک بن حرب ہے جو میرے نزدیک تاریخ میں قابل قبول ہے حدیث میں مضبوط نہیں
چونکہ یہ واقعہ تاریخ کا ہے اس کو لیا جا سکتا ہے

میں نے حجر اسود سے متعلق ایک واقعہ نقل کیا ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَروَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَيَّانَ بْنِ مُلَاعِبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ قَالَ: حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خَالِدِ بنِ عُرْعُرَةَ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ أَوَّلِ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا، هُوَ أَوَّلُ بَيْتٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: لَا وَلَكِنَّهُ أَوَّلُ بَيْتِ وُضِعَ فِيهِ الْبَرَكَةُ وَالْهُدَى، وَمَقَامُ إِبْرَاهِيمَ، وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمَنَّا وَإِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُكَ كَيْفَ بِنَاؤُهُ: إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَوْحَى إِلَى إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنِ ابْنِ لِي بَيْتًا فِي الْأَرْضِ، فَضَاقَ بِهِ ذَرْعًا، فَأَرْسَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَيْهِ السَّكِينَةَ، وَهِيَ رِيحٌ خَجُوجٌ لَهَا رَأْسٌ، فَاتَّبَعَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ حَتَّى انْتَهَتْ , ثُمَّ تَطَوَّقَتْ إِلَى مَوْضِعِ الْبَيْتِ تَطَوُّقَ الْحَيَّةِ، فَبَنَى إِبْرَاهِيمُ، فَكَانَ [ص:56] يَبْنِي هُوَ سَاقًا كُلَّ يَوْمٍ حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَكَانَ الْحَجَرِ قَالَ لِابْنِهِ: ابْغِنِي حَجَرًا، فَالْتَمَسَ ثَمَّ حَجَرًا حَتَّى أَتَاهُ بِهِ، فَوَجَدَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ قَدْ رُكِّبَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ: مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا؟ قَالَ: جَاءَ بِهِ مَنْ لَمْ يَتَّكِلْ عَلَى بِنَائِكَ، جَاءَ بِهِ جِبْرِيلُ، عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ السَّمَاءِ فَأَتَمَّهُ ”

کیا یہ زمین پر بننے والا پہلا گھر ہے ؟ علی نے کہا نہیں لیکن پہلے گھر میں برکت اور ہدایت ہے اور وہ مقام ابراہیم ہے جو اس میں داخل ہو امن میں ہے اور اگر چاہو تو میں تمہیں خبر دوں کہ الله نے یہ کیسے بنوایا بے شک الله نے ابراہیم پر الہام کیا کہ زمین پر میرے لئے گھر بناو پس ان کا دل تنگ ہوا پس الله نے سکینہ کو بھیجا جو ایک تند و تیز ہوا تھی جس کا سر بھی تھا پس اس کے پیچھے ابراہیم کا ایک ساتھی لگا یہاں تک کہ وہ رک گئی اور بیت الله کا ایک زندہ کی طرح طواف کرنے لگی پس ابراہیم اس مقام پر روز بیت الله بناتے یہاں تک کہ (بنیاد کھودتے ہوئے) کہ ایک (بڑے) پتھر تک پہنچ گئے پس انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا یہ پتھر دو اور انہوں نے اس کو اٹھایا تو اس کے نیچے حجر الاسود تھا جس پر ابراہیم بیٹھ گئے تو ان کے بیٹے نے کہا یہ آپ کو کہاں سے ملا؟ یہ ان سے ملا جن تک تمہاری نگاہ نہیں جاتی – جبریل آسمان سے لائے اور یہ پورا کیا

اس کا باقی حصہ یہ حجر اسود کو کعبہ میں نصب کرنے والا واقعہ ہے

یہ تمام علی سے مروی ہے ان سے خالد بن عُرْعُرَةَ نے لیا ہے ان سے سماک نے

خالد جو عجلی نے كوفي تابعي ثقة کہا ہے اور ابن حبان نے بھی ثقہ کہا ہے – ابن سعد نے کوئی تبصرہ نہیں کیا – اس قسم کی توثیق مجہولین کی ہوتی ہے جب ابن حبان اور عجلی ثقہ کہتے ہیں کوئی اور نہ جرح کر رہا ہوتا ہے نہ تعدیل

بہر حال یہ روایات ابن کثیر نے البداية والنهاية میں بھی نقل کی ہیں اور مستدرک میں حاکم نے صحیح کہا ہے

ابن کثیر نے کہا یہ امام الزہری کی بلاغات میں سے ہے سند حسن ہے
قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ أَخْبَرَنِي أَصْبُغُ بْنُ فَرَجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ لَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلُمَ جَمَّرَتِ امْرَأَةٌ الْكَعْبَةَ فَطَارَتْ شَرَارَةٌ مِنْ مَجْمَرِهَا فِي ثِيَابِ الْكَعْبَةِ فَاحْتَرَقَتْ فَهَدَمُوهَا حَتَّى إِذَا بَنَوْهَا فَبَلَغُوا مَوْضِعَ الرُّكْنِ اخْتَصَمَتْ قُرَيْشٌ فِي الرُّكْنِ أَيُّ الْقَبَائِلِ تَلِي رفعه. فقالوا: تعالوا تحكم أَوَّلَ مَنْ يَطْلُعُ عَلَيْنَا، فَطَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ غُلَامٌ عَلَيْهِ وِشَاحُ نَمِرَةٍ فَحَكَّمُوهُ فَأَمَرَ بِالرُّكْنِ فَوُضِعَ فِي ثَوْبٍ ثُمَّ أَخْرَجَ سَيِّدَ كُلِّ قَبِيلَةٍ فَأَعْطَاهُ نَاحِيَةً مِنَ الثَّوْبِ ثُمَّ ارْتَقَى هُوَ فَرَفَعُوا إِلَيْهِ الرُّكْنَ فَكَانَ هُوَ يَضَعُهُ فَكَانَ لا يزداد على السن الأرضي حَتَّى دَعَوْهُ الْأَمِينَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، فَطَفِقُوا لَا يَنْحَرُونَ جَزُورًا إِلَّا الْتَمَسُوهُ فَيَدْعُو لَهُمْ فِيهَا، وَهَذَا سِيَاقٌ حَسُنٌ، وَهُوَ مِنْ سِيَرِ الزُّهْرِيِّ، وَفِيهِ مِنَ الْغَرَابَةِ قَوْلُهُ: فَلَمَّا بَلَغَ الْحُلُمَ. وَالْمَشْهُورُ أَنَّ هَذَا كَانَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمُرُهُ خَمْسٌ وَثَلَاثُونَ سَنَةً، وَهُوَ الَّذِي نَصَّ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ رَحِمَهُ اللَّهُ.
——–

تاریخ الاسلام از الذھبی میں بھی اس کا ذکر ہے
وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بن أبي هند، عن سماك بن حرب، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- قَالَ: لَمَّا تَشَاجَرُوا فِي الْحَجَرِ أَنْ يَضَعَهُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ مِنْ هَذَا الْبَابِ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالُوا: قَدْ جَاءَ الْأَمِينُ

عرس کے لغوی معنی ہیں شادی۔ اسی لۓ دولہا اور دلہن کو عروس کہتے ہیں بزرگان دین کی تاریخ وفات کو اس لۓ عرس کہتے ہیں کہ مشکوۃ باب اثبات عذاب القبر میں ہے کہ جب منکرین میت کا امتحان لیتے ہیں اور وہ کامیاب ہوتا ہے تو کہتے ہیں.
…………
“تو اس دلہن کی طرح سوجا جس کو سواۓ اس کے پیارے کے کوئی نہیں اٹھا سکتا”

جواب

صحیح بخاری میں ہے
نَمْ صَالِحًا۔
اچھی (گہری) نیند سو جا

———–
دلہن کی طرح سو جا یہ الفاظ سنن ترمذی میں ہے
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،
اس میں الفاظ ہیں
فَيَقُولاَنِ: نَمْ كَنَوْمَةِ العَرُوسِ الَّذِي لاَ يُوقِظُهُ إِلاَّ أَحَبُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ،

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب میت کو یا تم میں سے کسی ایک کو (مرنے کے بعد) قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اس کے پاس سیاہ رنگ کے نیلگوں آنکھوں والے دو فرشتے آتے ہیں۔ ایک کا نام منکر اور دوسرے کا نام نکیر ہے۔ وہ دونوں اس میت سے پوچھتے ہیں تو اس عظیم ہستی (رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں (دنیا میں) کیا کہتا تھا؟ وہ شخص وہی بات کہتا ہے جو دنیا میں کہا کرتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بیشک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے (خاص) بندے اور (سچے) رسول ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی کہے گا پھر اس کی قبر کو لمبائی وچوڑائی میں ستر ستر ہاتھ کشادہ کر دیا جاتا ہے اور نور سے بھر دیا جاتا ہے پھر اسے کہا جاتا ہے : (سکون واطمینان سے) سو جا، وہ کہتا ہے میں واپس جا کر گھر والوں کو بتا آؤں۔ وہ کہتے ہیں نہیں (نئی نویلی) دلہن کی طرح سو جاؤ۔ جسے گھر والوں میں سے جو اسے محبوب ترین ہوتا ہے وہی اٹھاتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (روز محشر) اُسے اس کی خواب گاہ سے (اسی حال میں) اٹھائے گا اور اگر وہ شخص منافق ہو تو (ان سوالات کے جواب میں) کہے گا : میں نے ایسا ہی کہا جیسا میں لوگوں کو کہتے ہوئے سنا، میں نہیں جانتا (وہ صحیح تھا یا غلط)۔ پس وہ دونوں فرشتے کہیں گے کہ ہم جانتے تھے کہ تم ایسا ہی کہو گے۔ پس زمین سے کہا جائے گا کہ اس پر مِل جا بس وہ اس پر اکٹھی ہو جائے گی (یعنی اسے دبائے گی) یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں داخل ہو جائیں گی وہ مسلسل عذاب میں مبتلا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اسی حالت (عذاب) میں
اس جگہ سے اٹھائے گا۔

یہ سند ضعیف ہے
الذھبی، کتاب سیر الاعلام النبلاء ج ٣ ص ١٤١ میں مُحَمَّدُ بنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ کی سند سے ایک روایت نقل کرتے ہیں اور لکھتے ہیں
فِي إِسْنَادِهِ مُحَمَّدٌ لاَ يُحْتَجُّ بِهِ وَفِي بَعْضِهِ نَكَارَةٌ بَيِّنَةٌ
اس کی سند میں محمد ہے جو نہ قابل احتجاج اور اس میں بعض جگہ واضح نکارت ہے

کتاب عذاب قبر ص ٢١٦ پر اس روایت پر تبصرہ ہے
جوزجانی أحوال الرجال میں کہتے ہیں
محمد بن عمرو بن علقمة ليس بقوي الحديث ويشتهى حديثه
محمد بن عمرو بن علقمة حدیث میں قوی نہیں اور ان کی حدیث پسند کی جاتی ہے
ابن ابی خیثمہ کتاب تاریخ الکبیر میں لکھتے ہیں کہ يَحْيَى بن معین کہتے ہیں
لم يزل الناس يتقون حديث مُحَمَّد بن عَمْرو [ق/142/ب] قيل له: وما علة ذلك؟ قَالَ: كان مُحَمَّد بن عَمْرو يحدث مرة عن أبي سلمة بالشيء رأيه، ثم يحدِّث به مرة أخرى عن أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
لوگ مسلسل مُحَمَّد بن عَمْرو کی روایت سے بچتے رہے .. پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے کہا مُحَمَّد بن عَمْرو کبھی روایت ابی سلمہ سے بیان کرتے اور کبھی ابی سلمہ عن ابی ھریرہ سے
علي بن الْمَدِيْنِيّ کہتے ہیں
سألت يَحْيَى بن سعيد، عن مُحَمَّد بن عمرو، وكيف هو؟ قَالَ: تريد العفو أو تشدد؟ قلت: بل أشدد، قَالَ: ليس هو ممن تُريد
يَحْيَى بن سعيد سے مُحَمَّد بن عمرو کے بارے میں سوال ہوا کہ کیسا ہے بولے نرمی والی بات ہے یا سختی والی بولے نہیں سختی والی یہ وہ نہیں جو تم کو چاہیے
ذھبی اپنی کتاب تاریخ الاسلام میں لکھتے ہیں
قُلْتُ: صَدَقَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ لَيْسَ هو مثل يحيى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، وَحَدِيثُهُ صَالِحٌ.
ذھبی کہتے ہیں: يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ سچ کہتے ہیں اور یہ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الانصاری جیسا نہیں اس کی حدیث صالح ہے

کتاب السنہ از ابن ابی عاصم میں اس کی سند ہے
ثنا الْمُقَدَّمِيُّ ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ

یہاں عبد الرحمن بن إسحاق المدني عباد ضعیف ہے

دارقطنی نے ضعیف کہا ہے
احمد نے العلل میں ذکر کیا کہ امام یحیی بن سعید نے خبر دی کہ مدنیہ والے اس سے خوش نہیں
وقال عبد الله: سألته (يعني أباه) عن عبد الرحمن بن إسحاق المديني. فقال: ليس به بأس. فقلت: له: إن يحيى بن سعيد يقول: سألت عنه بالمدينه، فلم يحمدوه، فسكت.

ابن معین نے اس کو ثقہ کہا ہے
الکامل از ابن عدی میں ہے
حَدَّثَنَا ابن أَبِي عصمة، حَدَّثَنا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ حميد سألت أَحْمَد بْن حنبل عَنْ عَبد الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ فقال عَبد الرحمن الذي يروي عنه الزُّهْريّ هو مدني يقال عَبد الرحمن بن إسحاق ويقال عباد بن إسحاق وإسماعيل يقول عَبد الرحمن بن إسحاق وعباد بن إسحاق كذا كان يدعي لم يعرف بالمدينة تلك المعرفة وروى، عَن أبي الزناد أحاديث منكرة وكان يَحْيى لا يعجبه قلت كيف هو قال صالح الحديث
یہ راوی مدینہ میں غیر معروف تھا اور یحیی بن سعید اس سے خوش نہ تھے – ابن عدی نے کہا میں کہتا ہوں پھر کیسے یہ صالح الحدیث ہے ؟
العجلي: يكتب حديثه، وليس بالقوى، وكذا قال أبو حاتم.
عجلی اور ابی حاتم نے کہا حدیث لکھ لو دلیل مت لینا
———-

صوفیاء کا دین کہتا ہے صاحب قبر تو سوتا نہیں جاگتا عبادت کرتا رہتا ہے – باقی رسول الله کو دولہا کہنا اور تمام مومنوں کو دلہن لفاظی ہے

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تدفین کے دن سوال جواب ہوتا ہے – جبکہ یہ لوگ تو عرس روز وفات کو مناتے ہیں جبکہ بعض اوقات وفات ہونے اور تدفین ہوتے دن گزر جاتا ہے
موطا میں ہے کہ رسول الله کی وفات پیر کو اور تدفین منگل کوئی ہوئی
تو جس روز عرس کہا وہ دن تدفین کا ہوا نہ کہ وفات کا

زیارت قبور کے حوالے سے احناف متاخرین نے جو احادیث نقل کی ہیں ان کو میں رد کر چکا ہوں
⇑ قبروں سے فیض پر دیوبندیوں کی پیش کردہ روایات پر سوال ہے
http://www.islamic-belief.net/q-a/عقائد/عرض-اعمال/

جواب

بعض اقوال ازراہ تفنن بھی ہوتے ہیں

اغلبا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یہ مذاق میں کہا تھا جس کو لوگوں نے حقیقت مان لیا

مسند ابو یعلی، جلد ۷، صفحہ ۴۴۹؛ میں ایک روایت آتی ہے کہ

عائشہ نے کہا کہ ایک بار نبی پاک آئے اور میں نے کھانا بنا کر پیش کیا۔ نبی پاک میرے اور سودہ کے درمیان تھے۔ میں نے سودہ سے کہا کہ کھا لو۔ اس نے انکار کیا۔ میں نے کہا کہ کھا لو، ورنہ میں یہ تمہارے چہرے پر مل دوں گی۔اس نے انکار کیا- میں نے ہاتھ سالن میں ڈالا، اور اس کے چہرے پر مل دیا۔ نبی پاک ہنسے۔ انہوں نے ان پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ اس کے چہرے پر لگا دو- نبی پاک ہنسے، انتے میں عمر آیا، اور کہا کہ اے عبداللہ! اے عبداللہ! نبی پاک نے سوچا کہ وہ اندر آئے گا، سو ہمیں کہا کہ جا کر منہ دھو آو۔ عائشہ نے کہا: پس میں عمر سے ایسی ہی ڈرتی ہوں جیسے کہ نبی پاک ڈرتے تھے

جواب

اس کا مرکزی راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے
يحيى القطان، وأبو حاتم نے اس کو کمزور کہا ہے
وقال الجوزجاني ليس بقوي
جوزجانی نے قوی نہیں قرار دیا ہے
ابْنَ مَعِيْنٍ نے اس کی حدیث کو غیر حجت قرار دیا ہے

جواب

بحث ہو رہی ہے انبیاء کے جسد کے حوالے سے کہ وہ باقی رہتے ہیں یا نہیں؟ عمر ایک غیر نبی ہیں ان کا قدم ملا جیسا کہ روایت میں ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ التَّمَّارِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏”أَنَّهُ رَأَى قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَنَّمًا”. حَدَّثَنَا فَرْوَةُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ “لَمَّا سَقَطَ عَلَيْهِمُ الْحَائِطُ فِي زَمَانِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخَذُوا فِي بِنَائِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَبَدَتْ لَهُمْ قَدَمٌ فَفَزِعُوا،‏‏‏‏ وَظَنُّوا أَنَّهَا قَدَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا يَعْلَمُ ذَلِكَ،‏‏‏‏ حَتَّى قَالَ لَهُمْ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ مَا هِيَ قَدَمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مَا هِيَ إِلَّا قَدَمُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ”.
ہم سے محمد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ نے خبر دی ‘ کہا کہ ہمیں ابوبکر بن عیاش نے خبر دی اور ان سے سفیان تمار نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک دیکھی ہے جو کوہان نما ہے۔ ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے کہ ولید بن عبدالملک بن مروان کے عہد حکومت میں (جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک کی) دیوار گری اور لوگ اسے (زیادہ اونچی) اٹھانے لگے تو وہاں ایک قدم ظاہر ہوا۔ لوگ یہ سمجھ کر گھبرا گئے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم مبارک ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں تھا جو قدم کو پہچان سکتا۔ آخر عروہ بن زبیر نے بتایا کہ نہیں اللہ گواہ ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم نہیں ہے بلکہ یہ تو عمر رضی اللہ عنہ کا قدم ہے۔

اس سے تو یہ بھی ثابت ہوا کہ بعض اب و ہوا کے زیر اثر غیر نبی کا جسد بھی باقی رہ سکتا ہے تو پھر انبیاء کی یہ خصوصیت نہیں رہی کہ ان کا جسم ہی باقی رہتا ہے کسی کا بھی رہ سکتا ہے
———-

بعض چیزیں من جانب اللہ نشانی تھیں ان سے عموم نہیں لیا جا سکتا مثلا شہدائے بدر احد کا رتبہ سب سے بلند ہے اب کوئی شہید بھی ہو تو بھی ان کے رتبے تک نہیں جا سکتا
اس کو بطور نشانی الله تعالی نے باقی رکھا کہ ان شہداء کے جسم لوگون نے دیکھے کوئی تغیر نہیں آیا تھا

المخلصيات وأجزاء أخرى لأبي طاهر المخلص از المؤلف: محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا البغدادي المخَلِّص (المتوفى: 393هـ) میں ہے

حدثنا عبدُاللهِ قالَ: حدثنا أبويحيى / عبدُالأعلى بنُ حمادٍ قالَ: حدثنا عبدُالجبارِ بنُ الوردِ قالَ: سمعتُ أبا الزبيرِ محمدَ بنَ مسلمٍ يقولُ: سمعتُ جابرَ بنَ عبدِاللهِ يقولُ: كتبَ معاويةُ إلى عامِلِه بالمدينةِ أَن يُجريَ عَيناً إلى

أُحُدٍ، فكتبَ إليه عامِلُه أنَّها لا تَجري إلا عَلى قبورِ الشهداءِ، قالَ: فكتبَ
إِليه أَن أَنفِذْها، قالَ: فسمعتُ جابراً يقولُ: فرأيتُهم يُخْرَجُون على رقابِ الرجالِ كأنَّهم رجالٌ نُوَّمٌ، حتى أَصابتْ المِسْحاةُ قدمَ حمزةَ عليه السلامُ فانبعثَتْ دماً

أبا الزبيرِ محمدَ بنَ مسلمٍ نے کہا میں نے جابر بن عبد الله سے سنا بولے معاویہ نے اپنے گورنر مدینہ کو لکھا کہ احد میں سے (سیلاب کی) نہر گذارو تو اس نے جواب دیا کہ ایسا نہیں کیا جا سکتا

کیونکہ احد میں شہداء کی قبور ہیں – معاویہ نے کہا ان کو نکال لو پس میں نے جابر سے سنا کہ میں نے دیکھا وہ شہداء کی گردنوں تک آ گئے اور ایسا تھا کہ گویا سو رہے ہوں یہاں تک کہ کھدال

حمزہ علیہ السلام کے قدم کو لگی تو اس میں سے خون جاری ہو گیا

تاریخ مدینہ ابن شبہ میں ہے

حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، وَقَالَ: لَيْسَ هَذَا مِمَّا فِي الْكِتَابِ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ” صُرِخَ بِنَا إِلَى قَتْلَانَا يَوْمَ أُحُدٍ حِينَ أَجْرَى مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

الْعَيْنَ، فَأَتَيْنَاهُمْ فَأَخْرَجْنَاهُمْ رِطَابًا تَتَثَنَّى أَجْسَادُهُمْ. قَالَ سَعِيدٌ: وَبَيْنَ الْوَقْتَيْنِ أَرْبَعُونَ سَنَةً

ابو الزبیر نے جابر سے روایت کیا کہ اہل احد کے مقتولین کو نکالا جب معاویہ نے چشمہ جاری کرنا چاہا ہم احد میں گئے ان کے جسموں کو تازہ نکالا گیا
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ نے کہا اس وقت تک ٤٠ سال گزر چکے تھے

اسی کتاب میں ہے

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، وَأَبُو غَسَّانَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ [ص:128] عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْجَمُوحِ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ الْأَنْصَارِيَّيْنِ، ثُمَّ السُّلَمِيَّيْنِ،

كَانَا فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ، وَكَانَا مِمَّنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَكَانَ قَبْرُهُمَا مِمَّا يَلِي السَّيْلَ، فَحُفِرَ عَنْهُمَا لِيُغَيَّرَا مِنْ مَكَانِهِمَا، فَوُجِدَا لَمْ يَتَغَيَّرَا كَأَنَّمَا مَاتَا بِالْأَمْسِ، وَكَانَ أَحَدُهُمَا قَدْ جُرِحَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جُرْحِهِ، فَدُفِنَ وَهُوَ كَذَلِكَ،

فَأُمِيطَتْ يَدُهُ عَنْ جُرْحِهِ ثُمَّ أُرْسِلَتْ، فَرَجَعَتْ كَمَا كَانَتْ. وَكَانَ بَيْنَ يَوْمِ أُحُدٍ وَيَوْمَ حُفِرَ عَنْهُمَا سِتٌّ وَأَرْبَعُونَ سَنَةً ”

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ نے کہا کہ ان تک پہنچا کہ عَمْرَو بْنَ الْجَمُوحِ اور عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ انصاریوں میں سے تھے پھر ساتھ مسلمان ہوئے اور ان کی قبر ایک

ہے اور ان دونوں نے احد کا دن دیکھا اور ان کی قبروں میں سیلاب کا پانی آیا تو ان کو الگ مقام پر دفنانے کے لئے نکالا گیا تو ان کے جسموں میں کوئی تغیر نہیں آیا تھا جیسے کہ کل مرے ہوں اور

ایک کے ہاتھ پر رخم ہوا پس اسی حال میں دفن کیا گیا اور وہ اسی طرح رہے کہ رخم سے خون رستا رہا پھر (اس نئے مقام سے ) نکال کر واپس وہیں دفن کیا جہاں تھے تو خون پھر جاری ہو گیا جیسا

پہلے بہہ رہا تھا اور یوں احد سے اس دن تک جب نکالا ٤٦ برس بیت چکے تھے

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے

حَدَّثَنَا 36758 – عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ رِجَالٍ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ قَالُوا: «لَمَّا صَرَفَ مُعَاوِيَةُ عَيْنَهُ الَّتِي تَمُرُّ عَلَى قُبُورِ الشُّهَدَاءِ جَرَتْ عَلَيْهِمَا فَبَرَزَ قَبْرُهُمَا , فَاسْتُصْرِخَ عَلَيْهِمَا

فَأَخْرَجْنَاهُمَا يَتَثَنَّيَانِ تَثَنِّيًا كَأَنَّمَا مَاتَا بِالْأَمْسِ , عَلَيْهِمَا بُرْدَتَانِ قَدْ غُطُّوا بِهِمَا عَلَى وُجُوهِهِمَا وَعَلَى أَرْجُلِهِمَا مِنْ نَبَاتِ الْإِذْخِرِ»

بنی سلمہ کے مردوں نے خبر دی کہ جب معاویہ نے وہ نہر جاری کی جو شہدائے احد کی قبروں پر سے گزری تو ان کی قبریں کھودی گئیں … پس کھودا تو .. ایسے تھے کہ کل شہید ہوئے ہوں ان پر برد (ایک قسم کی ) چادریں تھیں جس سے ان کے چہروں کو ڈھنپا ہوا تھا اور قدموں پر الْإِذْخِرِ کھانس تھی
===========

یہ الله کی آیت و نشانی تھی – کہ تابعین اور اصحاب رسول میں سے چند نے ٤٦ سال بعد بھی ان جسموں کو اصلی صورت میں دیکھا لیکن اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ غیر نبی کا جسد بھی باقی رہتا ہے

دوم کلی اصول ہے کہ ہر چیز کو فنا ہے لہذا یہ اصول سب پر لگے گا کیونکہ حشر میں پہاڑ چلیں گے کیا انبیاء کے جسم اس وقت ختم ہوں گے ؟ میرے نزدیک بعض اجسام اللہ تعالی نے ایک مدت باقی رکھے ان کو ظاہر کیا تاکہ لوگوں کا ایمان تازہ ہو

شہداء بدر و احد زندہ نہیں مردہ تھے ان کے جسموں سے ان کی روحوں کا کوئی تعلق نہیں تھا صرف ان کے جسد سالم نکلے
اس کو میں نے خصوص کہا ہے
———
دوسروں نے اس کو عموم لیا کہ تمام مسلمان قبروں میں اسی حال میں ہوتے ہیں ان کی روحوں کا جسد سے تعلق ہوتا ہے
عالم البرزخ میں جو ہوا اس کا اثر جسد پر ظاہر ہوا؟ اپ نے بھی ایسا ہی سمجھا جبکہ ایسا میرے نزدیک نہیں ہے
میرے نزدیک یہ شہداء احد کی خصوصیت تھی جو ممکن ہے کچھ عرصہ رہی ہو
و الله اعلم

اس کا جواب رفیق طاہر صاحب نے یہ دیا ہے

انبیاء کے خواب یقینا وحی ہوتے ہیں ۔
اور اس حدیث میں یہ نہیں ہے کہ دجال کعبہ کا طواف کرے گا !
بلکہ
اس حدیث میں صرف اتنی بات ہے کہ اسکی شکل وصورت کس قسم کی ہوگی ۔
اگر خواب میں یہ ہوتا کہ وہ طواف کرے گا تو پھر تضاد پیدا ہوتا تھا ۔ جبکہ یہاں ایسا ہے نہیں !
یاد رہے کہ اس خواب سے مسیح عیسی بن مریم علیہ ا لسلام کا طواف کرنا بھی ثابت نہیں ہوتا ‘ گوکہ وہ دیگر روایات سے ثابت شدہ ہے ۔
اور خواب من وعن لفظ بہ لفظ اور حرف بہ حرف پورا ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ بلکہ بسا اوقات خواب کی تعبیر خواب کے مخالف ہوتی ہے اور بسا اوقات موافق !
نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کے اور بھی بہت سے خواب ہیں جن میں مقصود حل ہوا ہے ‘ مگر حرف بہ حرف حقیقت میں ویسا ہوا نہیں !
مثلا
ایک خواب میں آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ خواب میں دو آنے والے آئے اور وہ مجھے لے کر فلاں جگہ گئے … الخ
تو اس خواب میں جو علم دینا مقصود تھا وہ تو حاصل ہوا … مگر خارج میں دو آنے والے آپکے پاس نہیں آئے

جواب

خواب دو طرح کے ہوتے ہیں تمثیلی یا غیر تمثیلی- لیکن جب تمثیلی ہوتا ہے تو اسی حدیث میں اس کی وضاحت بھی ہوتی ہے کہ یہ تمثیلی تھا

مثلا عمر کا لمبی قمیص پہننا – ڈول بھر کنواں سے پانی نکالنا
یہ غیر انبیاء کے لئے ہے

انبیاء کا خواب اگر تمثیلی بھی ہو تو حقیقت بنتا ہے قرآن میں بھی اس کی مثال ہے کہ یوسف علیہ السلام نے سورج چاند کو سجدہ کرتے دیکھا – پھر اسی سورت میں اس کی وضاحت ہے کہ اس کا مطلب کیا تھا
قرآن میں ہے ابراہیم کو کہا گیا بیٹے کو قتل کرو – ابراہیم علیہ السلام نے اس کو تمثیلی نہیں سمجھا بلکہ اسی پر عمل کیا یہاں تک کہ اس کی اصل ظاہر ہوئی
لہذا اگر خواب تمثیلی بھی ہو تو اس پر عمل انبیاء نے کیا ہے – اس کو الله کا حکم سمجھا جائے گا
رسول الله نے خواب دیکھا کہ مسجد الحرام میں داخل ہو رہے ہیں اپ نے اس کو اصل لیا اور عمرہ کرنے گئے حدیبیہ پر روکا گیا پھر خبر دی گئی کہ خواب سچا تھا جلد پورا ہو گا
یعنی رسول الله خواب بیان کرتے ہیں تو اس کی وضاحت بھی کرتے ہیں کہ اس کا مطلب اصل میں الگ ہے یا یہ ہے یہ نہیں

ایسا ہی اس خواب میں ہے کہ دجال کو اور عیسیٰ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا – اور اس میں اس کو تمثیل قرار نہیں دیا گیا تو ظاہر ہے یہ مستقبل کی خبر ہے
ایسا ہو گا یہ تمثیل نہیں ہے

رفیق طاہر صاحب نے مثال دی
ایک خواب میں آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ خواب میں دو آنے والے آئے اور وہ مجھے لے کر فلاں جگہ گئے
پھر کہا ایسا نہیں ہوا

یہ مثال ہی غلط ہے- یہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی عذاب برزخ والی حدیث ہے – جب کہا جا رہا ہے کہ خواب میں لے گئے تو ظاہر ہے اس مقام پر خواب میں ہی لے کر گئے لیکن اس میں جو جو عذاب دیکھا اس کو رسول الله نے کہا ایسا قیامت تک ہوتا رہے گا
یعنی ایسا مسلسل ہو رہا ہے تو اس خواب کو تمثیل نہیں کہا

جواب

صحیح بخاری میں ہے کہ مرض وفات سے پہلے گئے – یہ وہی روایت ہے جس میں ہے کہ خطبہ دیا اور کہا مجھے یقین ہے تم شرک نہ کرو گے

مصنف عَبْدُ الرَّزَّاقِ،6716 – عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي قُبُورَ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ، فَيَقُولُ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ». قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ

نبی ؐ شہداء احد کی قبور کی زیارت کو رَأْسِ الْحَوْلِ پر تشریف لے جاتے تھے – فرماتے:
سلام علیک بما صبر تم فنعم عقبی الدار
یہی عمل ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کا رہا ہے

سند میں عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مجہول ہے

الفاظ رَأْسِ الْحَوْلِ سے لوگوں نے نیا سال لیا ہے حدیث ضعیف ہے

——–
زیارت قبور کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں – موت کو یاد کرنے کبھی بھی کیا جا سکتا ہے


۔ طبرانی کی کتاب العشرہ میں ہے حضرت سعد بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گذار تھا ۔ جب مجھے اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگی بچے یہ نیا دین تو کہاں سے نکال لایا ۔ سنو میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دستبردار ہو جاؤ ورنہ میں نہ کھاؤنگی نہ پیوگی اور یونہی بھوکی مرجاؤنگی ۔ میں نے اسلام کو چھوڑا نہیں اور میری ماں نے کھانا پینا ترک کردیا اور ہر طرف سے مجھ پر آوارہ کشی ہونے لگی کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے ۔ میں بہت ہی دل میں تنگ ہوا اپنی والدہ کی خدمت میں باربار عرض کیا خوشامدیں کیں سمجھایا کہ اللہ کے لئے اپنی ضد سے باز آجاؤ ۔ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اس سچے دین کو چھوڑ دوں ۔ اسی ضد میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گذرگیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہوگئی تو میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا میری اچھی اماں جان سنو تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں ۔ واللہ ایک نہیں تمہاری ایک سوجانیں بھی ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کرکے سب نکل جائیں تو بھی میں اخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑونگا پر نہ چھوڑونگا ۔ اب میری ماں مایوس ہوگئیں اور کھانا پینا شرع کردیا ۔
یہ روایت صحیح ہے؟ اور اس سے ملتی جلتی روایت ہے آپکی نظر میں جسمیں سعد رضی اللہ عنہ کی والدہ نے تپتی دھوپ کا ذکر ہو؟؟

جواب

مفسرین میں سے بعض مثلا بغوی نے سورہ عنکبوت اور سورہ لقمان اور سورہ الأحزاب کی بعض آیات کے لئے قصہ ذکر کیا ہے ان کی والدہ حمنة بنت أبي سفيان بن أمية نے کہا اس نئے دین میں کوئی نیکی نہیں ہے میں بھوکی رہوں گی جب تک تم اس کو چھوڑ نہ دو – یہ ام المومنین أم حبيبة رضی الله عنہا کی بہن تھیں

نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالَّتِي فِي سورة لقمان [14] والأحزاب [72] في سعد بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ [أَبُو] إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ وَأُمُّهُ حَمْنَةُ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ لَمَّا أَسْلَمَ، وَكَانَ مِنَ السَّابِقِينَ الْأَوَّلِينَ وَكَانَ بَارًّا بِأُمِّهِ قَالَتْ لَهُ أُمُّهُ: مَا هَذَا الدِّينُ الَّذِي أَحْدَثْتَ وَاللَّهِ لَا آكُلُ وَلَا أَشْرَبُ حَتَّى تَرْجِعَ إِلَى مَا كُنْتَ عَلَيْهِ أَوْ أَمُوتَ فَتُعَيَّرَ بِذَلِكَ أبد الدهر، فيقال: يَا قَاتِلَ أُمِّهِ، ثُمَّ إِنَّهَا مَكَثَتْ يَوْمًا وَلَيْلَةً لَمْ تَأْكُلْ وَلَمْ تَشْرَبْ وَلَمْ تَسْتَظِلَّ فَأَصْبَحَتْ وقد جَهَدَتْ ثُمَّ مَكَثَتْ يَوْمًا آخَرَ وَلَيْلَةً لَمْ تَأْكُلْ وَلَمْ تَشْرَبْ، فَجَاءَ سَعْدٌ إِلَيْهَا وَقَالَ: يَا أُمَّاهُ لَوْ كَانَتْ لَكِ مِائَةُ نَفْسٍ فَخَرَجَتْ نَفْسًا نَفْسًا مَا تركت ديني فلي وَإِنْ شِئْتِ فَلَا تَأْكُلِي، فَلَمَّا أَيِسَتْ مِنْهُ أَكَلَتْ وَشَرِبَتْ، فَأَنْزَلَ الّه تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ، وَأَمَرَهُ بِالْبِرِّ بِوَالِدَيْهِ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِمَا وَأَنْ لَا تعطهما فِي الشِّرْكِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنْ جاهَداكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلا تُطِعْهُما.

یہ اصل میں سعد بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ہیں جن کا نام سعد بن مالک تھا

صحیح مسلم میں بھی ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ نَزَلَتْ فِيهِ آيَاتٌ مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ: حَلَفَتْ أُمُّ سَعْدٍ أَنْ لَا تُكَلِّمَهُ أَبَدًا حَتَّى يَكْفُرَ بِدِينِهِ، وَلَا تَأْكُلَ وَلَا تَشْرَبَ، قَالَتْ: زَعَمْتَ أَنَّ اللهَ وَصَّاكَ بِوَالِدَيْكَ، وَأَنَا أُمُّكَ، وَأَنَا آمُرُكَ بِهَذَا. قَالَ: مَكَثَتْ ثَلَاثًا حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهَا مِنَ الْجَهْدِ، فَقَامَ ابْنٌ لَهَا يُقَالُ لَهُ عُمَارَةُ، فَسَقَاهَا، فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى سَعْدٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي} وَفِيهَا {وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا} [لقمان: 15] قَالَ: وَأَصَابَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنِيمَةً عَظِيمَةً، فَإِذَا فِيهَا سَيْفٌ فَأَخَذْتُهُ، فَأَتَيْتُ بِهِ الرَّسُولَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: نَفِّلْنِي هَذَا السَّيْفَ، فَأَنَا مَنْ قَدْ عَلِمْتَ حَالَهُ، فَقَالَ: «رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ» فَانْطَلَقْتُ، حَتَّى إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أُلْقِيَهُ فِي الْقَبَضِ لَامَتْنِي نَفْسِي، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: أَعْطِنِيهِ، قَالَ فَشَدَّ لِي صَوْتَهُ «رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ» قَالَ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ} [الأنفال: 1] قَالَ: وَمَرِضْتُ فَأَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانِي، فَقُلْتُ: دَعْنِي أَقْسِمْ مَالِي حَيْثُ شِئْتُ، قَالَ فَأَبَى، قُلْتُ: فَالنِّصْفَ، قَالَ فَأَبَى، قُلْتُ: فَالثُّلُثَ، قَالَ فَسَكَتَ، فَكَانَ، بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا. قَالَ: وَأَتَيْتُ عَلَى نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرِينَ، فَقَالُوا: تَعَالَ نُطْعِمْكَ وَنَسْقِكَ خَمْرًا، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ، قَالَ فَأَتَيْتُهُمْ فِي حَشٍّ – وَالْحَشُّ الْبُسْتَانُ – فَإِذَا رَأْسُ جَزُورٍ مَشْوِيٌّ عِنْدَهُمْ، وَزِقٌّ مِنْ خَمْرٍ. قَالَ فَأَكَلْتُ وَشَرِبْتُ مَعَهُمْ، قَالَ فَذَكَرْتُ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرِينَ عِنْدَهُمْ. فَقُلْتُ: الْمُهَاجِرُونَ خَيْرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ. قَالَ فَأَخَذَ رَجُلٌ أَحَدَ لَحْيَيِ الرَّأْسِ فَضَرَبَنِي، بِهِ فَجَرَحَ بِأَنْفِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ – يَعْنِي نَفْسَهُ – شَأْنَ الْخَمْرِ: {إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ} [المائدة: 90]

میرے علم میں تپتی دھوپ والی روایت کا علم نہیں ہے


جواب

نبی کو جب اختیار یعنی
option
دیا جاتا ہے کہ زندگی زیادہ چاہتا ہے یا موت تو یہ
choice
ہے
————
جب سلیمان علیہ السلام کو ہوا پر اختیار دیا تو اس سے مراد
control
ہے
یہ چیز ان کے لئے خاص تھی کسی اور نبی کو اس قسم کا کنٹرول نہیں ملا اس کی وجہ ان کی دعا تھی کہ ان کو عظیم بادشاہت ملے جو کسی کو نہ ملی ہو
ایسی بادشاہت ہم کو معلوم ہے ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم کو نہیں ملی
یہ عظیم بادشاہت معجزہ نہیں تھا – دعا کی عملی شکل تھا اس کا مقصد جنات پر بھی پرندوں پر بھی کنٹرول تھا
اس کا مقصد بنی اسرائیل کو مومن کرنا بھی نہیں تھا کیونکہ اس دور میں ان میں عقیدے کی کوئی خرابی بیان نہیں کی گئی بلکہ سلیمان کا دربار صالحین سے بھرا تھا جس میں ایک صالح مرد کی دعا سے ملکہ بلقیس کا تخت یمن سے یروشلم آ جاتا ہے
——–
معجزہ کا مقصد کفار کو مومن کرنا ہوتا ہے اس کو نشانی یا آیات کہا جاتا ہے
لہذا معجزہ اختیار نہیں

جواب

جس نے یہ کہا اس کو نذر و نیار کے عقیدے کا صحیح علم نہیں یا بات چھپا رہا ہے
بچہ کے نام پر قربانی ہوتی ہے تو صرف یہ اظہار ہوتا ہے کہ الله کی عبادت کے لئے اس بچے کی پیدائش پر قربانی کی جا رہی ہے

نذر کا مطلب ہوتا ہے کہ اس برزگ سے اس رزق کو منسوب کیا جائے وہاں برزخ میں یا عالم ارواح میں ان برزگ کی روح کو بھی یہ رزق ملے گا وہ کھا کر خوش ہوں گے اور ان کی روح الله کے حضور ان افراد کے لئے سفارش کرے گی
اس کے پیچھے ایک پورا تصور ہے کہ روح کے علم میں اتا ہے کہ کس نے نیاز دی پھر وہ روح سفارش کرتی ہے
سروس چارجز لینے کے بعد
اس سے وسیلہ کا عقیدہ جڑا ہے
ہمارے نزدیک وسیلہ حرام ہے اور اس سے منسلک اس نذر و نیاز کا عقیدہ بھی غلط ہے
اسی عقیدے کے تحت مشرکین مکہ بھی قربانی کرتے تھے کہ
تین دیویاں لات عزی اور منات پر اور پھر کہتے یہ بگلے بن کر آسمان پر جاتی ہیں سفارش کرنے
قریب قریب یہی تصور اہل بدعت کا بھی ہے
مزید اس کو دیکھیں
http://www.islamic-belief.net/تصوف-کی-جڑ-حیات-فی-القبر/

نذر و نیار کا مقام بزرگ کی قبر کے پاس ہوتا ہے اس کی وجہ ہے کہ صاحب قبر کو معلوم ہوتا ہے باہر کیا ہو رہا ہے کون لنگر تقسیم کر رہا ہے – اگر قبر دور ہو تو بھی روح کے علم میں اتا ہے کس نے نیاز دی مثلا

شاہ ولی اﷲ دہلوی اپنے والد شاہ عبد الرحیم کا واقعہ بیان کیا : میرے والد نے مجھے خبر دی کہ میں عید میلاد النبیﷺ کے روز کھانا پکوایا کرتا تھا۔ ایک سال تنگدست تھا کہ میرے پاس کچھ نہ تھا مگر صرف بھنے ہوئے چنے تھے۔ میں نے وہی چنے تقسیم کردیئے۔ رات کو رسول الله کی زیارت سے مشرف ہوا اور کیا دیکھتا ہوں کہ رسول الله کے سامنے وہی چنے رکھے ہیں اور آپ خوش ہیں (درثمین ص 8)

یعنی چنوں پر نیاز دی ان کو بانٹا رسول الله کے علم میں آیا کہ دہلی کا ایک شخص ایسا کرتا ہے
رسول الله نے صرف وہ چنے کھائے جبکہ ان کے سآمنے بے شمار کھانے تھے
یہ بھی اس کتاب میں موجود ہے


جواب

اسی طرح کی ایک روایت پیش کی جاتی ہے جو واقدی کی کتاب فتوح الشام میں ہے

ابو عبیدہ بن جراح نے کعب بن ضمرہ رضی اللّٰہ عنہما کو ایک ہزار کا لشکر دے کر حلب کی طرف روانہ کیا. جب وہ حلب پہنچے تو یوقنا پانچ ہزار افراد کے ساتھ حملہ آور ہوا. مسلمان جم کر لڑے اتنے میں پانچ ہزار اورں نےحملہ کر دیا. اس خطرناک صورتحال میں کعب بن جمرہ نے جھنڈا تھامے ہوئے بلند آواز سے نعرہ لگایا یا محمد! یا محمد یا نصراللہ انزل. یا محمد یا محمد اے اللہ کی مدد نزول فرما. مسلمان ان کے گرد جمع ہو گئے اور کمال ثابت قدمی سے لڑے اور فتح پائی. (فتوح الشام, جلد 1 ص 96)

اس کی سند ہے
قال مسعود بن عون العجي شهدت الخيل التي بعثها أبو عبيدة طلائع مع كعب بن ضمرة وكنت فيها يوم التقى الجمعان وقد خرج علينا الكمين ونحن في القتال ونحن لا نظن أن لهم كمينا يطلع من ورائنا وإذا بأصوات حوافر الخيل أكبت علينا وأيقنا بالهلكة بعدما كنا موقنين بالغلبة وصرنا في وسط عسكر الكفار فلم يكن لنا بد من القتال فافترقت المسلمون ثلاث فرق فرقة منهم منهزمة وفرقة قصدت قتال الكمين وفرقة مع كعب بن ضمرة قصدت قتال يوقنا ومن معه قال مسعود بن عون فلله در كندة يؤمئذ لقد قاتلوا قتالا شديدا وأبلوا بلاء حسنا ووهبوا أنفسهم لله تعالى حتى قتل منهم ذلك اليوم مائة رجل في مقام واحد وعمل أهل الكمين عملا عظيما وكعب بن ضمرة قلق على المسلمين فجاهد عنهم وهو يجول بالراية وينادي يا محمد يا محمد يا نصر الله انزل معاشر المسلمين اثبتوا انما هي ساعة ويأتي النصر وأنتم الأعلون

اس سند میں مسعود بن عون العجي مجہول الحال ہے

———-
مسعود بن عون بن المنذر بن النعمان أبي قابوس المتوفی ٤٥ ھ مسلمانوں کے ایک امیر عسکر گزرے ہیں جو دور اصحاب رسول میں تھے لیکن واقدی نے ان کا نام نہیں لیا – اگر یہی مراد ہیں تو واقدی سے لے کر ان تک سند درکار ہے


جواب

حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ»

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا، اور سب سے پہلا شخص میں ہی ہوں گا جس سے قبر شق ہو گی۔‘‘ اِسے امام مسلم، ابو داود، احمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

تبصرہ
سند ضعیف ہے
سند میں عبد الله بن فروخ الافريقى ہے
قال البخاري: يعرف وينكر.
وقال ابن عدي: أحاديثه غير محفوظة
اس کی احادیث غیر محفوظ ہیں

——–
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَأَبُو إِسْحَاقَ الْهَرَوِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ، وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ الْأَرْضُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ، وَلَا فَخْرَ، وَلِوَاءُ الْحَمْدِ بِيَدِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا فَخْرَ»

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: میں ساری اولادِ آدم کا سردار ہوں اور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا، قیامت کے دن سب سے پہلے مجھ سے زمین شق ہو گی اور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا

تبصرہ
سند عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ کی وجہ سے ضعیف ہے
——
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ:
سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم يَقُوْلُ: إِنِّي لَأَوَّلُ النَّاسِ تُشَقُّ الْأَرْضُ عَنْ جُمْجُمَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ.

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَنْدَهَ وَالْبَيْهَقِيُّ،
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: میں وہ پہلا شخص ہوں کہ روزِ قیامت سب سے پہلے جس کے سر سے قبر شق ہو گی اور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا۔

تبصرہ
سند عَمْرو بْن أبي عَمْرو مولى المطلب بْنِ عَبد اللَّهِ بْنِ حَنْطَبَ کی وجہ سے ضعیف ہے
قال يَحْيى بن مَعِين عَمْرو بْن أبي عَمْرو ليس بالقوي
حَدَّثَنَا ابن حماد، قَال: حَدَّثَنا عباس، عَن يَحْيى، قَالَ عَمْرو بْن أبي عَمْرو ليس بحجة
——-
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلا لَهُ دَعْوَةٌ قَدْ تَنَجَّزَهَا فِي الدُّنْيَا، وَإِنِّي قَدْ اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي، وَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، وَلا فَخْرَ، وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ، وَلا فَخْرَ

ابو نضرہ بیان کرتے ہیں کہ عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بصرہ کے منبر پر ہم سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کوئی نبی ایسا نہیں کہ جس کی کوئی نہ کوئی ایسی دعا نہ ہو جو اِس دنیا میں ہی اُس نے پوری نہ کر دی ہو لیکن میں نے اپنی دعا (قیامت کے دن) اپنی اُمت کی شفاعت کے لیے بچا کر رکھی ہے۔ اور میں روزِ قیامت اولادِ آدم کا سردار ہوں اور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا، میں ہی وہ پہلا شخص ہوں جس سے زمین شق ہوگی اور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا، حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا اور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا، (روزِ قیامت) آدم اور اُن کے علاوہ تمام پیغمبر میرے جھنڈے تلے جمع ہوں گے اور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا۔

تبصرہ
سند عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ کی وجہ سے ضعیف ہے
————–

صحیح بخاری میں ہے
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ جَاءَ يَهُودِيٌّ، فَقَالَ: يَا أَبَا القَاسِمِ ضَرَبَ وَجْهِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِكَ، فَقَالَ: مَنْ؟ “، قَالَ: رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، قَالَ: «ادْعُوهُ»، فَقَالَ: «أَضَرَبْتَهُ؟»، قَالَ: سَمِعْتُهُ بِالسُّوقِ يَحْلِفُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى البَشَرِ، قُلْتُ: أَيْ خَبِيثُ، عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ ضَرَبْتُ وَجْهَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تُخَيِّرُوا بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ القِيَامَةِ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ العَرْشِ، فَلاَ أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ، أَمْ حُوسِبَ بِصَعْقَةِ الأُولَى»

رسول الله نے خبر دی کہ جب ان کی قبر کھلے گی وہ دیکھیں کہ موسی عرش کے پایوں کو پکڑے ہوں گے

تبصرہ
اس سند سے صحیح نہیں ابن معین کہتے ہیں راوی عَمْرو بْن يَحْيى المازني قوی نہیں
حَدَّثَنَا مُحَمد بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنا عثمان بن سَعِيد، قالَ: سَألتُ يَحْيى عَنْ عَمْرو بْن يَحْيى المازني قَالَ صويلح وليس بقوي
بعض میں ابو ہریرہ سے یہ متن آیا ہے لیکن سند میں محمد بن عمرو بن علقمة ہے جو مضبوط نہیں ہے
——–
صحیح ابن حبان میں ہے
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي شَدَّادُ أَبُو عَمَّارٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى بَنِي هَاشِمٍ مِنْ قُرَيْشٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ»

اس کی سند کا علم نہیں کہ متصل ہے یا نہیں کیونکہ راوی شَدَّادُ أَبُو عَمَّارٍ ارسال کرتا ہے
———-

صحیح ابن حبان
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ، وَمُشَفَّعٍ، بِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ، تَحْتِي آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ
سند میں عمرو بن عثمان الكلابي متروک ہے
———-
طبرانی میں ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، قَالَا: ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ عَاصِمٍ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ يَأْتِي أَهْلُ الْبَقِيعِ فَيُحْشَرُونَ مَعِي، ثُمَّ أَنْتَظِرُ أَهْلَ مَكَّةَ فَيُحْشَرُونَ مَعِي»

سند میں عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ ضعیف ہے

——–
السنہ از ابن ابی عاصم میں ہے
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ، ثنا أَبُو هُنَيْدَةَ الْبَرَاءُ بْنُ نَوْفَلٍ، عَنْ وَالَانَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “. . . فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، جَعَلْتَنِي سَيِّدَ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ أَكْثَرُ مِمَّا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَأَيْلَةَ ”

وقال الدَّارَقُطْنِيّ: ووالان غير مشهور إلا في هذا الحديث، والحديث غير ثابت، (يعني حديثه عن حذيفة، عن أبي بكر، عن النبي – صلى الله عليه وسلم -، حديث الشفاعة) . «العلل»
191.
دارقطنی کے نزدیک ضعیف ہے
———-
السنہ از ابن ابی عاصم میں ہے

ثنا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلامٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
“أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلا فَخْرَ وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ”
عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: میں ساری اولادِ آدم کا سردار ہوں اور میں یہ بطور فخر نہیں کہتا، اور میں وہ پہلا شخص ہوں جس سے زمین شق ہو گی۔
وَقَالَ الْأَلْبَانِيُّ فِي ’الظِّـلَالِ‘: إِسْنَادُه صَحِيْحٌ، رِجَالُـه کُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
سند کو البانی نے صحیح کہہ دیا ہے جبکہ اس میں مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ مجہول ہے – اسی نام کے ایک امام بخاری کے استاد ہیں اور ان دونوں کا ادوار الگ ہے کیونکہ معمر ، امام بخاری سے بہت پہلے کے ہیں لہذا یہ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، امام بخاری کے استاد نہیں بلکہ یہ مجہول ہے


جواب

حدثنا أبو داود سليمان بن سلم المصاحفي البلخي أخبرنا النضر بن شميل عن أبي قرة الأسدي عن سعيد بن المسيب عن عمر بن الخطاب قال إن الدعاء موقوف بين السماء والأرض لا يصعد منه شيء حتى تصلي على نبيك صلى الله عليه وسلم.

(ترمذی کتاب الوتر باب ماجاء فی فضل الصلاۃ علی النبیؐ)

عمر بن خطابؓ فرماتے ہیں کہ دعا آسمان اور زمین کے درمیان ٹھہر جاتی ہے اورجب تک تو اپنے نبی ﷺ پر درود نہ بھیجے، اس میں سے کوئی حصہ بھی اوپر نہیں جاتا۔

سند میں أبو قرة الأسدى مجہول ہے
————

مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى دَخَلَ نَخْلًا فَسَجَدَ، فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى خِفْتُ – أَوْ خَشِيتُ – أَنْ يَكُونَ اللهُ قَدْ تَوَفَّاهُ – أَوْ قَبَضَهُ – قَالَ: فَجِئْتُ أَنْظُرُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: ” مَا لَكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ” قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قال: فَقَالَ: ” إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ قَالَ لِي: أَلا أُبَشِّرُكَ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لَكَ: مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ، وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ ”

عبدالرحمن ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم (مسجد سے یا مکان سے) نکل کر کھجوروں کے ایک باغ میں داخل ہو گئے اور وہاں(بارگاہ خداوندی) میں) سجدہ ریز ہو گئے اور سجدے میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اتنا طول کیا کہ میں ڈراکہ (خدانخواستہ) کہیں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو وفات تو نہیں دے دی، چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھنے کے لیے آیا کہ آیا آپ صلی اللہ علیہ و سلم زندہ ہیں یا واصل بحق ہو چکے ہیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے (میری آہٹ پاکر) (اپنا سر مبارک (زمین سے) اٹھایا اور فرمایا کہ کیا ہوا؟ (یعنی ایسی کیا بات پیش آ گئی ہے جو تم پر اس قدر (گھبراہٹ اور غم کی علامت طاری ہے) تب میں نے صورت حال ذکر کی (کہ نصیب دشمناں میں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے ڈر ہی گیا تھا) راوی فرماتے ہیں کہ (اس کے بعد)رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے کہا ہے کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ خوشی خبری نہ سنا دوں کہ اللہ بزرگ و برتر فرماتا ہے کہ جو آدمی آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت بھیجوں گا اور جو آدمی آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلام بھیجوں گ

اس کی سند منقطع ہے
محمد بن جبير بن مطعم لا يصح سماعه من عبد الرحمن بن عوف

17 : سورة بنی اسراءیل 11

وَ یَدۡعُ الۡاِنۡسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَہٗ بِالۡخَیۡرِ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ عَجُوۡلًا ﴿۱۱﴾

اورانسان شرکے لیے بھی ویسے ہی دُعاکرتا ہے جیسے اس کی بھلائی کی دُعا ہوتی ہے اورانسان ہمیشہ سے بڑاہی جلدبازہے ۔

حضرت سلمان فارسی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس موقعہ پر حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ ذکر کیا ہے کہ ابھی پیروں تلے روح نہیں پہنچتی تھی کہ آپ نے کھڑے ہونے کا ارادہ کیا روح سر کی طرف سے آ رہی تھی ناک تک پہنچی تو چھینک آئی آپ نے کہا الحمد للہ ۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یرحمک ربک یا ادم اے آدم تجھ پر تیرا رب رحم کرے جب آنکھوں تک پہنچی تو آنکھیں کھول کر دیکھنے لگے ۔ جب اور نیچے کے اعضا میں پہنچی تو خوشی سے اپنے آپ کو دیکھنے لگے ۔ جب اور نیچے کے اعضا میں پہنچی تو خوشی سے اپنے آپ کو دیکھنے لگے ابھی پیروں تک نہیں پہنچی تو چلنے کا ارادہ کیا لیکن نہ چل سکے تو دعا کرنے لگے کہ اے اللہ رات سے پہلے روح آ جائے ۔

کیا یہ ابن حبان کی روایت صحیح ہے اور قرآن کی یہ اس آیت کی روشنی میں پیش کی گی ہے ۔جلد بازی کرنا بری چیز ہے جبکہ اللہ نے انسان کے اندر رکھ دے ہے؟؟؟

جواب

تفسیر طبری میں ہے
حدثنا محمد بن المثنى، قال: ثنا محمد بن جعفر، قال: ثنا شُعبة، عن الحكم، عن إبراهيم، أن سلمان الفارسيّ، قال: أوّل ما خلق الله من آدم رأسه، فجعل ينظر وهو يُخلق، قال: وبقيت رجلاه؛ فلما كان بعد العصر قال: يا ربّ عَجِّل قبل الليل، فذلك قوله (وَكَانَ الإنْسَانُ عَجُولا)
سلمان فارسی نے کہا الله نے سب سے پہلے آدم کا سر خلق کیا اور اس طرح کہ آدم دیکھ رہے تھے ان کی تخلیق ہو رہی ہے اور ان کے پیر نہیں بنے تھے پس عصر کے بعد انہوں نے کہا اے رب جلدی کر رات سے پہلے مکمل کر دے
یہ روایت سلمان پر موقوف ہے
سند منقطع ہے ابراہیم النخعی کا کسی صحابی سے سماع نہیں ہے
————-
حدثنا أبو كريب، قال: ثنا عثمان بن سعيد، قال: ثنا بشر بن عمارة، عن أبي رَوْق، عن الضحاك عن ابن عباس، قال: لما نفخ الله في آدم من روحه أتت النفخة من قبَل رأسه، فجعل لا يجرى شيء منها في جسده، إلا صار لحما ودما؛ فلما انتهت النفخة إلى سرّته، نظر إلى جسده، فأعجبه ما رأى من جسده فذهب لينهض فلم يقدر، فهو قول الله تبارك وتعالى (وَكَانَ الإنْسَانُ عَجُولا) قال: ضَجِرا لا صبر له على سرّاء، ولا ضرّاء.
اس کی سند بھی ضعیف ہے سند میں بشر بن عمارة الخثعمي، صاحب أبي روق ہے امام أبو جعفر العقيلي کہتے ہیں: له حديث لا يتابع عليه
اس کی حدیث کی متابعت نہیں ہوتی
دارقطنی کہتے ہیں متروک ہے
————–

یہ دو روایات ہیں ان کو ملا کر ابن کثیر نے لکھا ہے
وَقَدْ ذكر سلمان الفارسي وابن عباس هَاهُنَا قِصَّةَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِينَ هَمَّ بِالنُّهُوضِ قَائِمًا قَبْلَ أَنْ تَصِلَ الرُّوحُ إِلَى رِجْلَيْهِ، وَذَلِكَ أَنَّهُ جَاءَتْهُ النَّفْخَةُ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ، فَلَمَّا وَصَلَتْ إِلَى دِمَاغِهِ عَطَسَ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، فَقَالَ اللَّهُ: يَرْحَمُكَ رَبُّكَ يَا آدَمُ. فَلَمَّا وَصَلَتْ إِلَى عَيْنَيْهِ فَتَحَهُمَا، فَلَمَّا سَرَتْ إِلَى أَعْضَائِهِ وَجَسَدِهِ، جَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَيُعْجِبُهُ، فَهَمَّ بِالنُّهُوضِ قَبْلَ أَنْ تَصِلَ إِلَى رِجْلَيْهِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ، وَقَالَ: يَا رَبِّ عَجِّلْ قبل الليل

Sir brelvi surah bakra k ayat 258 quote krte hai hazir nazir k lie…… Kya tum ne na dekha k numrod ibrahim k 7 rabb k bary mn larta hai
Iski wazahat kr dein
جواب

یہ تو جھل ہے
حدیث میں ہے نبی صلی الله علیہ وسلم نے عائشہ رضی الله عنہا سے کہا
ألم تري أن قومك لما بنوا الكعبة اقتصروا على قواعد إبراهيم؟
کیا تم نے دیکھا کہ تمہاری قوم نے جب کعبہ بنایا تو اس کو ابراھیم کی بنیادوں پر کم کر دیا

اس سے ثابت ہوا کہ کعبہ جو پیدائش ام المومنین سے پہلے بنا اس کو ام المومنین نے بنتے دیکھا؟ ظاہر ہے یہ مطلب نہیں ہے
——–

دوسری میں ہے
أَيْ عَائِشَةَ أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِزًا الْمُدْلَجِيَّ رَأَى زيدا وأسامة قد غطيا رؤوسهما بِقَطِيفَةٍ وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ
اے عائشہ تم نے دیکھا کہ مُجَزِزًا الْمُدْلَجِيَّ نے اسامہ اور زید کے قدموں کو دیکھا ان کے سر ڈھانپے تھے کہ یہ پیر ایک جیسے ہیں

عائشہ وہاں نہیں تھیں جب یہ بات ہوئی
———-
الإبانة في اللغة العربية
المؤلف: سَلَمة بن مُسْلِم العَوْتبي الصُحاري

والعَرَبُ تقول: ألم تر إني ما فَعَل فلان. أي: اعلَمْهُ. قال الله تعالى: {أَلَمْ تَرَى كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ}. أي تَعْلَم من رؤية القلب
اور عرب کہتے ہیں کیا تم نے دیکھا میں نے فلاں کے ساتھ کیا کیا؟ یعنی علم ہوا – الله تعالی کا قول ہے
کیا تم نے دیکھا کہ تمہارے رب نے اصحاب ہاتھی کے ساتھ کیا کیا؟
یعنی قلبی رویت سے جانا

اسی کتاب میں لکھا ہے کہ
والنبي صلى الله عليه [وسلم] لم ير ذلك لأنه كان قبل مولده بثلاثٍ وعشرين سنة، وقبلَ مبعثهِ بثلاثٍ وستين سنة،
نبی نے اصحاب فیل کا واقعہ نہ دیکھا کیونکہ وہ ان کی پیدائش کے ١٣ یا ١٠ سال پہلے ہوا

یہ دور نبوی کی عربی میں عام تھا کہ کیا تم نے دیکھا کہا جاتا جبکہ مطلب یہ ہوتا کہ کیا تم کو پتا چلا


جواب

ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نےعرض کیا۔

یارسول اللہ ماحق الولادین علی ولدھما؟ قال ھما جنتک ونارک (ابن ماجہ)
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ماں باپ کا اولاد پر کیا حق ہے؟۔ فرمایا تیری جنت ودوزخ وہی دونوں ہیں۔۔۔
سند ضعیف ہے
——–
عَنْ أَبِی الدَّرْدَاء ِ أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ لِیَ امْرَأَةً وَإِنَّ أُمِّی تَأْمُرُنِی بِطَلَاقِهَا قَالَ أَبُو الدَّرْدَاء ِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَإِنْ شِئْتَ فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ أَوْ احْفَظْهُ۔ (ترمذی، رقم ١٩٠٠)
”ابو دردا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: باپ جنت کا وسطی دروازہ ہے، خواہ تو اسے ضائع کر دے یا اس کی حفاظت کرے۔”
سند حسن ہے


جواب

قال : حدثنا صالح بن عبد الله الترمذي ، حدثنا الفرج بن فضالة ، أبو فضالة الشامي ، عن يحيى بن سعيد ، عن محمد بن عمرو بن علي
عن علي بن أبي طالب ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
لاتقوم الساعة حتى يلعن آخر هذه الامة أولها
ترمذی
سند میں الفرج بن فضاله ہے ضعیف ہے
محمد بن عمرو بن على بن ابى طالب بھی ہے جس کا سماع دادا سے نہیں
——–
ابن ماجہ میں ہے
حدثنا الحسين بن أبي السري العسقلاني حدثنا خلف بن تميم عن عبد الله بن السري عن محمد بن المنكدر عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم * إذا لعن آخر هذه الأمة أولها فمن كتم حديثا فقد كتم ما أنزل الله
اس کی سند کو بخاری نے رد کیا ہے
التاريخ الكبير (3/197) از امام بخاری میں ہے
قال الحسن بن صباح حدثنا خلف بن تميم أبو عبد الرحمن الكوفي قال حدثنا عبد الله بن السري عن محمد بن المنكدر عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم إذا لعن آخر هذه الأمة أولها قال أبو عبد الله لا أعرف عبد الله ولا له سماعا من بن المنكدر

بخاری نے کہا سند میں سماع ثابت نہیں
——–

ترمذی
حدثنا علي بن حجر ، قال : حدثنا محمد ابن يزيد الواسطي ، عن المستلم بن سعيد ، عن رميح الجذامي عن أبي هريرة , قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
ولعن آخر هذه الأمة أولها ،
سند میں رميح الجذامي مجہول ہے
——–
الطبراني في الأوسط
حدثنا محمد بن الفضل السقطي ، قال : حدثنا يوسف بن يعقوب الصفار ، قال : حدثنا عبيد بن سعيد القرشي ، عن إسماعيل بن إبراهيم بن مهاجر ، عن عبد الملك بن عمير ، عن مسروق ، عن عائشة قالت : أمرتم بالاستغفار لسلفكم فشتمتموهم ، أما إني سمعت نبيكم صلى الله عليه وسلم ، يقول : لا تفنى هذه الأمة حتى يلعن آخرها أولها .
سند میں اسماعيل بن ابراهيم بن مهاجر ضعیف ہے


جواب

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي – فِي الصَّلَاةِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ صَلَّى عَلَيْهِ فِي صَلَاتِهِ – مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الْأَنْصَارِيِّ، أَخِي بَلْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَمَّا السَّلَامُ عَلَيْكَ، فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا فِي صَلَاتِنَا صَلَّى الله عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَصَمَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ يَسْأَلْهُ. فَقَالَ: ” إِذَا أَنْتُمْ صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ فَقُولُوا: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

یہ مسند احمد اور صحیح ابن خزیمہ کی حدیث ہے اس میں نماز میں درود پڑھنے کا ذکر ہے
سند میں محمد بن اسحاق ہے لیکن اس نے سماع کی تصریح کی ہے
دارقطنی نے اس کو إِسْنَادٌ حَسَنٌ مُتَّصِلٌ قرار دیا ہے

روایت قابل عمل ہے – البتہ نماز میں درود پڑھنا ضروری نہیں -تشہد پر نماز ختم ہو جاتی ہے

سنن دارمی مسند احمد میں ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ حُرٍّ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُخَيْمِرَةَ، قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَةُ، بِيَدِي، فَحَدَّثَنِي: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، أَخَذَ بِيَدِهِ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِ، فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ، وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ» قَالَ زُهَيْرٌ: أُرَاهُ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، – أَيْضًا شَكَّ فِي هَاتَيْنِ الْكَلِمَتَيْنِ – إِذَا فَعَلْتَ هَذَا أَوْ قَضَيْتَ، فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ، [ص:847] إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ، فَقُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ، فَاقْعُدْ
قاسم نے کہا علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑا اوربیان کیا کہ ابن مسعود رضی الله عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور بیان کیا کہ تشہد سکھایا نماز والا
التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ، وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ» قَالَ زُهَيْرٌ: أُرَاهُ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، … پس جب یہ کیا تو نماز پوری ہوئی – چاہو تو بیٹھ رہو یا اٹھ جاو
حسين سليم أسد الداراني اور شعيب الأرنؤوط – عادل مرشد اس کو صحیح کہتے ہیں
البانی نے اس کے الفاظ جب یہ کہہ دیا کو شاذ قرار دیا ہے

صحیح ابن حبان میں ابن حبان نے باب باندہا ہے
ذِكْرُ الْبَيَانِ بِأَنَّ قَوْلَهُ فَإِذَا قُلْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ إِنَّمَا هُوَ قَوْلُ بن مَسْعُودٍ لَيْسَ مِنْ كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَجَهُ زُهَيْرٌ فِي الْخَبَرِ
اس بیان کا ذکر جس میں ہے “جب یہ کہہ دیا” تو یہ قول ابن مسعود ہے قول نبوی نہیں اور اس کا ادراج زُهَيْرٌ کی خبر میں ہے
البانی کہتے ہیں
والصواب أنَّه من قول ابن مسعود – «صحيح أبي داود
ٹھیک یہ ہے کہ یہ قول ابن مسعود ہے

راقم کہتا ہے یہ مسلک پرستی ہے – یہاں کوئی دلیل نہیں کہ اس کو قول ابن مسعود قرار دیا جائے- ایسا اسی صورت ممکن ہے کہ کسی دوسری صحیح حدیث میں صریحا آ رہا ہو کہ یہ قول نبوی نہیں بلکہ قول ابن مسعود ہے

اگر یہ قول ابن مسعود رضی الله عنہ بھی ہے تو ثابت ہوا کہ کوفہ میں یہ مذھب تھا کہ سلام نماز میں فرض نہیں ہے اس کے بغیر نماز ہو جاتی ہے جس کو فقہائے کوفہ نے لیا
اصحاب رسول میں ابن مسعود کی نماز اس طرح مشکوک ہو جاتی ہے کہ وہ سلام پھرنے کے قائل ہی نہیں تھے
راقم اس لئے سمجھتا ہے کہ یہ قول نبوی ہی ہے

اس کی مثال ہے
کوئی روایت اگر موقوف بھی ہو تو یہی محدثین اس کو مرفوع قرار دے دیتے ہیں کہ ان صحابی نے اس کو نبی صلی الله علیہ وسلم سے ہی سنا ہو گا
مثلا ابن عمر کی روایت کہ دو مردار حلال ہیں ایک مچھلی اور ایک ٹڈی اور دو خون حلال ہیں … جبکہ یہ مرفوع ہے ہی نہیں

⇑ نماز کب مکمل ہو گی تشہد پڑھنے پر یا سلام پھیرنے پر؟
http://www.islamic-belief.net/q-a/عبادت/


جواب

موطأ مالك برواية محمد بن الحسن الشيباني کی سند ہے

أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ، فَقَالَ: ” أَنَا لَعَمْرِ اللَّهِ أُخْبِرُكَ، أَتْبَعُهَا مِنْ أَهْلِهَا، فَإِذَا وُضِعَتْ كَبَّرْتُ، فَحَمِدْتُ اللَّهَ وَصَلَّيْتُ عَلَى نَبِيِّهِ، ثُمَّ قُلْتُ: اللَّهُمَّ، عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُكَ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ، إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، اللَّهُمَّ لا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ “، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا قِرَاءَةَ عَلَى الْجِنَازَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ

امام مالک نے سعید المقبری سے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا انہوں نے ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے کہ جنازہ پر نماز کیسے پڑھیں؟ ابو ہریرہ نے کہا لعمر الله میں اس کی خبر دیتا ہوں میت کے اہل کے ساتھ ہوں گے پس جب رکھیں تو الله کی تکبیر و حمد کہیں اور نبی پر درود پھر کہیں

اللَّهُمَّ، عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُكَ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ، إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، اللَّهُمَّ لا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ

امام محمد نے کہا یہ قول ہم لیتے ہیں کہ جنازہ پر قرات نہیں ہے اور یہی قول ابو حنیفہ رَحِمَهُ اللَّهُ کا ہے
—-

طبرانی کبیر کی روایت ہے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الطُّفَيْلِ النَّخَعِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «لَمْ يُوَقَّتْ لَنَا فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ قِرَاءَةٌ، وَلَا قَوْلٌ، كَبِّرْ مَا كَبَّرَ الْإِمَامُ، وَأَكْثِرْ مِنْ طَيِّبِ الْقَوْلِ»
مسروق نے کہا ابن مسعود رضی الله عنہ نے کہا ہمارے لئے میت پر نماز میں قرات یا قول نہیں کی گئی ہے بس امام کی تکبیر پر تکبیر کریں گے اور اکثر اچھا قول کہیں گے
اسی کتاب کی دوسری روایت ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَوْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَمْ يُوَقَّتْ لَنَا عَلَى الْجَنَازَةِ قَوْلٌ وَلَا قِرَاءَةٌ، كَبِّرْ مَا كَبَّرَ الْإِمَامُ، أَكْثِرْ مِنْ أَطْيَبِ الْكَلَامِ»
مسروق یا علقمہ نے کہا ابن مسعود رضی الله عنہ نے کہا ہمارے لئے جنازہ میں نہ قول ہے نہ قرات ہے – امام کی تکبیر پر تکبیر کرو اور اکثر اچھا کلام کرو
=========
احناف جس طرح جنازہ پڑھتے ہیں میرے نزدیک وہ صحیح ہے
جنازہ کی نماز میں قرآن کی قرات نہیں ہے یہ قول امام مالک اور امام ابو حنیفہ کا ہے
اس کے مخالف امام بخاری ہیں جنہوں نے ضعیف روایت کو صحیح میں نقل کیا ہے
تفصیل یہاں ہے
http://www.islamic-belief.net/%d9%82%d8%af%d9%85%d9%88%d9%86%db%8c-%d9%82%d8%af%d9%85%d9%88%d9%86%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%86%d8%b8%d8%b1/#comment-8597

اور مشکوۃ کی حدیث پیش کرتے ہیں
صحابہ کرامؓ نے نبی کریم صلی الله عليه وسلم سے سوال کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اپنے فوت شدگان کیلئے صدقہ کرتے ہیں اور ان کے لیے حج بھی کرتے ہیں تو کیا انہیں ثواب پہنچتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں بیشک ضرور پہنچتا ہے اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں جیسا کہ تم میں سے کسی کے پاس کوئی ایک طبق (یعنی ٹرے جسمیں کھانے وغیرہ ہوں) ہدیہ کیا جاتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے۔(مشکوۃ شریف)

اس حدیث کی تحقیق چاہیے کہ یہ صحیح یا موضوع یا ضعیف وغیرہ
جواب

یہ روایت مشکوۃ میں نہیں ملی البتہ اس کا ذکر عینی نے عمدۃ القاری،ج6، ص305 میں کیا ہے جس کے مطابق اس کو ابن ماکولا نے اپنی حدیث کی کتاب میں اس سند سے لکھا تھا

وَعند ابْن مَاكُولَا، من حَدِيث إِبْرَاهِيم بن حبَان عَن أَبِيه عَن جده (عَن أنس، رَضِي الله تَعَالَى عَنهُ، أَنه قَالَ: سَأَلت رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَقلت: إِنَّا لندعو لموتانا ونتصدق عَنْهُم ونحج، فَهَل يصل ذَلِك إِلَيْهِم؟ فَقَالَ: إِنَّه ليصل إِلَيْهِم ويفرحون بِهِ كَمَا يفرح أحدكُم بالهدية) .
انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا:ہم اپنے مُردوں کے لئے دُعا کرتے اور اُن کی طرف سے صَدَقہ اور حج کرتے ہیں،کیا اُنہیں (اِس کا ثَواب) پہنچتا ہے؟ رسول الله صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اُنہیں (اِس کا ثَواب) پہنچتا ہے اور وہ اِس سے ایسے ہی خوش ہوتے ہیں جیسے تم میں سے کوئی شخص تحفے سے خوش ہوتا ہے۔

سند میں إبراهيم بن حِبَّان مجہول ہے

جواب

اس مسئلہ کو اس سطح پر آ کر دیکھیں جہاں سے یہ شروع ہوتا ہے

مسلمان جب شام پہنچے تو وہاں ان کی ان نصرانی علماء سے بحث ہوئی جو علم و منطق یونان میں طاق تھے
فلسفہ کا بھی بنو امیہ نے ترجمہ کرایا اور خاص اس کام کے لئے نصرانی راہبون کو رکھا گیا
اس میں پہلا مسئلہ یہ آیا کہ اشیاء کو کیسے بیان کیا جائے – جواب دیا گیا صفات سے – یہ فلسفہ یونان کی شق ہے
دوسری شق ہے اپنی ضد سے پیچانی جائیں گی
——
اب ان شقوں کو رب العالمین پر لگایا گیا- پہلا سوال اٹھا کہ کیا الله کوئی شی ہے ؟ حکماء یونان کا قول تھا ہاں شی ہے
لہذا کلام یا لوگوس صفت ہے جو الله ہی ہے
لوگوس انجیل یوحنا کے الفاظ ہیں
λόγος
LOGOS
الکلام

یوحنا کے بقول الله نے کلمہ الله مریم پر القا کیا جو الله کا کلام یا کلمہ تھا وہ روح میں متشکل ہوا اور ایک جسم بنا اس طرح عیسیٰ شروع سے ہی الوہی تھا
الله کی پناہ اس کلام سے

مسلمان یہ سن کر پھنس گئے- اگر الله کا کلام مان لیں تو فلسفہ کی رو سے عیسیٰ کو الوہی ماننا پڑے گا لہذا یہ بات زور پکڑ گئی کہ اللہ کلام نہیں کرتا دوسری طرف محدثین نے سنی سنائی کو لیا اور فلسفہ کی شقوں کو مان بھی لیا مثلا محدثین نے بھی مان لیا کہ ہاں الله شی ہے
میرے نزدیک یہ محدثین کی غلطی تھی – اللہ تعالی تو تمام اشیاء سے بلند ہے
دوسری غلطی یہ کی کہ محدثین یہ مان گئے کہ صفت کوئی اسلامی اصطلاح ہے
وہ الله کو نام نہاد صفات سے سمجھنے لگے

یہی کام معتزلہ نے بھی کیا – انہوں نے بھی فلسفہ سے الله کو سمجھا اور یہ کہنے لگے کہ کلام الله کو الله کی صفت نہ کہا جائے –

یعنی میرے نزدیک یہ دونوں گروہ غلطی پر تھے – الله کو فلسفہ یونان سے سمجھنے اور اس کی شقوں کو اس پر لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی
کیونکہ یہ تمام شقیں عام اشیاء پر ہیں – اصول عام کو دیکھ کر بنتا ہے خاص پر نہیں لگتا
اور جو خالق ہو وہ ان تمام اصولوں سے بلند ہے

=============
اس طرح محدثین میں دو گروہ اور ہوئے امام احمد کہتے الله نے کلام کیا اور قرآن کلام الله ہے یہاں تک کہ جو سیاہی سے لکھا گیا یا قرات کیا گیا وہ بھی الله کا کلام ہے مخلوق کا عمل اس کو نہ کہا جائے- جو ایسا کہتا ان کے نزدیک وہ جھمی تھا – امام بخاری کہتے جو مخلوق نے قرات کی وہ ان کا عمل ہے
امام احمد کہتے کیسے الله نے تو کہا
حَتَّى يَسْمَعَ كَلامَ اللَّهِ
============

ميرأ موقف یہ ہے کہ
الله تمام اشیاء سے بلند ہے اس کے لئے صفات الہی کے الفاظ بولنا بدعت ہیں
اللہ تعالی کلام کرتے ہیں -اس کی ندا کی بقا اس کے حکم سے جب تک ہوتی ہے رہتی ہے الله نے موسی سے طور پر کلام کیا
الله عرش پر تھے موسی طور پر درخت کے سامنے تھے کلام الله کی آواز وادی طوی میں گونج رہی تھی لیکن وہ اس وقت تک باقی رہی جب تک الله کا حکم ہوا
قرآن یا توریت یا انجیل یا زبور ان زبانوں میں ہیں جو الله نے خلق کی ہیں مخلوق کی آسانی کے لئے
قرآن کی قرات مخلوق کا عمل ہے اور اس کو تحریر کرنا بھی مخلوق کا عمل ہے
قرآن کے الفاظ کی ترتیب الله کا کلام ہے جو الله کی طرف سے ہے اس بنا پر قرآن کے ملفوظ الفاظ کی خاص ترتیب الله کا کلام ہے غیر مخلوق ہے
لیکن ان کی قرات کرنا جس کو لفظی بالقرآن کہا جاتا ہے مخلوق کا عمل ہے
یہی موقف امام کرابیسی کا تھا جو امام بخاری نے لیا اور اس کا پرچار کیا
———
محدثین میں امام احمد کے موقف میں بہت جھول ہے – وہ اس بات کا کوئی جواب نہیں دیتے کہ الله کا کلام اگر الله ہی ہے تو اس کو بقا کیوں نہیں ؟ مثلا الله نے اس دنیا میں موسی سے کلام کیا اس کو آواز کو بقا ہوئی چاہیے تھی یا نہیں ؟
وہ اس پر کوئی بات نہیں کرتے – جھمی کہتے اس نے سرے سے کوئی کلام کیا ہی نہیں
میرے نزدیک جمہی تو جاہل تھے اور محدثین نے بے کار بحث کی ان شقوں پر جو یونانی بنا دنیا کو دے گئے تھے


صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے

صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ) صحیح بخاری: کتاب: غزوات کے بیان میں

(باب: غزوئہ خیبر کا بیان)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ح و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْنَا خَيْبَرَ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَكَانَتْ عَرُوسًا فَاصْطَفَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ فَبَنَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ ثُمَّ قَالَ لِي آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَتَهُ عَلَى صَفِيَّةَ ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ وَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ حَتَّى تَرْكَبَ

حکم : صحیح 4211

ہم سے عبد الغفار بن داؤد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن عبد الرحمن نے بیان کیا ( دوسری سند ) اور مجھ سے احمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے یعقوب بن عبد الرحمن زہری نے خبر دی ‘ انہیں مطلب کے مولیٰ عمرو نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر آئے پھر جب اللہ تعالیٰ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر کی فتح عنایت فرمائی تو آپ کے سامنے صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کی خوبصورتی کا کسی نے ذکر کیا ‘ ان کے شوہر قتل ہوگئے تھے اور ان کی شادی ابھی نئی ہوئی تھی ۔ اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے لے لیا اور انہیں ساتھ لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے ۔ آخر جب ہم مقام سد الصہباءمیں پہنچے تو ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہوئیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت فرمائی پھرآپ نے حیس بنایا ۔ ( جو کھجور کے ساتھ گھی اور پنیر وغیرہ ملا کر بنایا جاتا ہے ) اور اسے چھوٹے سے ایک دستر خوان پر رکھ کرمجھ کو حکم فرمایا کہ جو لوگ تمہارے قریب ہیں انہیں بلا لو ۔ ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہی ولیمہ تھا ۔ پھر ہم مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے عبا اونٹ کی کوہان میں باندھ دی تاکہ پیچھے سے وہ اسے پکڑے رہیں اور اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ کر اپنا گھٹنا اس پر رکھا اور صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہوئیں ۔

جواب

یہ رسول الله کے لئے خاص ہے – عموم سے ہٹ کر ہے- صفیہ رضی الله عنہا کا نکاح دو یہودیوں سے ہوا – ایک كنانة بن الربيع بن أبي الحقيق سے ہوا تھا اور دوسرا سلام بن مشْكم سے ہوا تھا
یہ واقعہ سن ٦ ہجری غَزْوَة خَيْبَر کا ہے


جواب

آدم علیہ السلام کے مہر کے حوالے سے روایت کا ذکر کتاب المواهب اللدنية بالمنح المحمدية
المؤلف القسطلاني القتيبي المصري، أبو العباس، شهاب الدين (المتوفى: 923هـ) میں ہے

ثم خلق الله تعالى له حواء زوجته من ضلع من أضلاعه اليسرى، وهو نائم، وسميت حواء لأنها خلقت من حى، فلما استيقظ ورآها سكن إليها، فقالت الملائكة مه يا آدم، قال: ولم وقد خلقها الله لى؟ فقالوا: حتى تؤدى مهرها، قال: وما مهرها؟ قالوا: تصلى على محمد- صلى الله عليه وسلم- ثلاث مرات

لیکن القسطلاني نے اس کا مصدر بیان نہیں کیا اور نہ ہی یہ اہل سنت کی کتب میں ہے
یہ اصل میں شیعہ کتاب بحار الأنوار / جزء 15 / صفحة[ 26 ] المؤلف محمد باقر المجلسيى کی کتاب روایت ہے

قال الشيخ أبو الحسن البكري استاد الشهيد الثاني (1) قدس الله روحهما في
كتابه المسمى بكتاب الانوار: حدثنا أشياخنا وأسلافنا الرواة لهذا الحديث عن أبي عمر
الانصاري سألت عن كعب الاحبار (2) ووهب بن منبه وابن عباس قالوا جميعا “: لما أراد
الله أن يخلق محمدا ” صلى الله عليه وآله قال لملائكته: إني اريد أن أخلق خلقا ….. فلما وصلت إلى الخياشيم عطس آدم عليه السلام، فأنطقه الله تعالى بالحمد،
فقال: الحمد لله، وهي أول كلمة قالها آدم عليه السلام، فقال الحق تعالى: رحمك الله
يا آدم، لهذا (1) خلقتك، وهذا لك ولولدك أن قالوا مثل ما قلت، فلذلك صار تسميت
العاطس (2) سنة، ولم يكن على إبليس أشد من تسميت العاطس، ثم إن آدم عليه السلام فتح
عينيه فرأى مكتوبا ” على العرش: (لا إله إلا الله، محمد رسول الله) فلما وصلت الروح
إلى ساقه قام قبل أن تصل إلى قدميه فلم يطق فلذلك قال تعالى: (خلق الانسان من عجل).
قال الصادق عليه السلام: كانت الروح في رأس آدم عليه السلام مائة عام، وفي صدره
مائة عام، وفي ظهره مائة عام، وفي فخذيه مائة عام، وفي ساقيه وقدميه مائة عام (3)،
فلما استوى آدم عليه السلام قائما ” أمر الله الملائكة بالسجود، وكان ذلك بعد الظهر
يوم الجمعة، فلم تزل في سجودها إلى العصر، فسمع آدم عليه السلام من ظهره نشيشا ”
كنشيش الطير، وتسبيحا ” و تقديسا “، فقال آدم: يا رب وما هذا ؟ قال: يا آدم هذا
تسبيح محمد العربي سيد الاولين و الاخرين، ثم إن الله تبارك وتعالى خلق من ضلعه
الاعوج (4) حواء وقد أنامه الله تعالى، فلما انتبه رآها عند رأسه، فقال: من أنت ؟
قالت: أنا حواء، خلقني الله لك، قال: ما أحسن خلقتك ! فأوحى الله إليه: هذه أمتي
حواء وأنت عبدي آدم، خلقتكما لدار اسمها جنتي، فسبحاني واحمداني، يا آدم اخطب حواء
مني وادفع مهرها إلي، فقال آدم: وما مهرها يا رب ؟ قال: تصلي على حبيبي محمد صلى
الله عليه وآله عشر مرات، فقال آدم: جزاؤك يا رب على ذلك الحمد والشكر ما بقيت،
فتزوجها على ذلك، وكان القاضي الحق، و العاقد جبرئيل، والزوجة حواء، والشهود
الملائكة، فواصلها، وكانت الملائكة يقفون من وراء آدم عليه السلام، قال آدم عليه
السلام: لاي شئ يا رب تقف الملائكة من ورائي ؟ فقال:
(1) أي للرحمة بك. (2) تسميت العاطس: الدعاء له بقوله: يرحمك الله أو نحوه

جامعہ الأزهر والوں سے اس روایت پر سوال کیا گیا کہ قسطلانی نے اس کو کہاں سے لیا تو انہوں نے گول مول جواب دیا
فتاوى الأزهر
المصدر : موقع وزارة الأوقاف المصرية
http://www.islamic-council.com
ولم يذكر الكتاب سند هذا الكلام ولا درجته من القبول وعدمه ، فنحن فى حل أن نصدقه أو لا نصدقه . ولا يضرنا الجهل به
اس کتاب میں اس کلام کی سند نہیں ہے اور نہ ہی درجہ قبول کا ذکر ہے تو ہمارے لئے حل ہے کہ اس کو مان لیں یا انکار کریں اس سے کوئی نقصان نہیں ہے

یہ حال ہے علماء کا ! یہ تو اہل تشیع کی روایت تھی – اہل سنت کی کتب میں تو موجود ہی نہیں


سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تین آدمیوں کا معاملہ لایا گیا جبکہ وہ یمن میں عامل تھے ، وہ تینوں ایک عورت پر ایک طہر میں واقع ہوئے تھے ۔ انہوں نے دو سے پوچھا کیا تم اس تیسرے کے لیے بچے کا اقرار کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں ! حتیٰ کہ انہوں نے سب سے پوچھا ۔ جب بھی دو سے پوچھتے ، وہ نفی میں جواب دیتے تو انہوں نے ان میں قرعہ ڈالا اور بچہ اس کو دے دیا جس کے نام کا قرعہ نکلا اور اس پر دو تہائی دیت بھی لازم کر دی ۔ چنانچہ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا گیا تو آپ اس پر ہنسے حتیٰ کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں ۔

ایک طرف تو ان روایات کو صحیح کہا جارہا ہے اور دوسری طرف زنا کی سزا کا کوئی ذکر نہیں جبکہ یقیناً چاروں ہی زنا کار تھے

جواب

اس روایت کو البانی نے صحیح کہا ہے لیکن اس کے متن میں اضطراب ہے اور شعیب نے مسند احمد میں اس کو
إسناده ضعيف لاضطرابه
قرار دیا ہے

سنن الکبری نسائی میں ہے
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ وَاسْمُهُ يَحْيَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيٌّ يَوْمَئِذٍ بِالْيَمَنِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا أُتِيَ فِي ثَلَاثَةٍ ادَّعَوْا وَلَدَ امْرَأَةٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَحَدِهِمْ: تَدَعُهُ لِهَذَا؟ فَأَبَى وَقَالَ لِهَذَا: تَدَعُهُ لِهَذَا فَأَبَى وَقَالَ لِهَذَا: تَدَعُهُ لِهَذَا فَأَبَى قَالَ عَلِيٌّ: أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ، وَسَأُقْرِعُ بَيْنَكُمْ فَأَيُّكُمْ أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ، فَهُوَ لَهُ وَعَلَيْهِ ثُلُثَا الدِّيَةِ، «فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ» قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: هَذِهِ الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا مُضْطَرِبَةُ الْأَسَانِيدِ
نسانی نے بھی آخر میں لکھا ہے
هَذِهِ الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا مُضْطَرِبَةُ الْأَسَانِيدِ
ان احادیث کی تمام اسناد میں اضطراب ہے

لہذا نسائی کی بات صحیح اور البانی کا حکم بکواس ہے


تفسیر ابن عباس اصل میں الکلبی کے اقوال ہیں
إس كي سند ہے
أخبرنَا عبد الله الثِّقَة بن الْمَأْمُون الْهَرَوِيّ قَالَ أخبرنَا أبي قَالَ أخبرنَا أَبُو عبد الله قَالَ أخبرنَا ابو عبيد الله مَحْمُود بن مُحَمَّد الرَّازِيّ قَالَ أخبرنَا عمار بن عبد الْمجِيد الْهَرَوِيّ قَالَ أخبرنَا عَليّ بن إِسْحَق السَّمرقَنْدِي عَن مُحَمَّد بن مَرْوَان عَن الْكَلْبِيّ عَن ابي صَالح عَن ابْن عَبَّاس

یہ تمام محمد بن مروان الکلبی سے منسوب ہے جو متروک ہے


kiya yeh hadees sahih hai

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّ امْرَأَةً هَلَکَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَاعْتَدَّتْ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تَزَوَّجَتْ حِينَ حَلَّتْ فَمَکَثَتْ عِنْدَ زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَنِصْفَ شَهْرٍ ثُمَّ وَلَدَتْ وَلَدًا تَامًّا فَجَائَ زَوْجُهَا إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَدَعَا عُمَرُ نِسْوَةً مِنْ نِسَائِ الْجَاهِلِيَّةِ قُدَمَائَ فَسَأَلَهُنَّ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ أَنَا أُخْبِرُکَ عَنْ هَذِهِ الْمَرْأَةِ هَلَکَ عَنْهَا زَوْجُهَا حِينَ حَمَلَتْ مِنْهُ فَأُهْرِيقَتْ عَلَيْهِ الدِّمَائُ فَحَشَّ وَلَدُهَا فِي بَطْنِهَا فَلَمَّا أَصَابَهَا زَوْجُهَا الَّذِي نَکَحَهَا وَأَصَابَ الْوَلَدَ الْمَائُ تَحَرَّکَ الْوَلَدُ فِي بَطْنِهَا وَکَبِرَ فَصَدَّقَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ عُمَرُ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَبْلُغْنِي عَنْکُمَا إِلَّا خَيْرٌ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْأَوَّلِ

موطا امام مالک
جواب

سند ضعیف ہے
اس کی روایت میں عَبد اللَّهِ بْنُ عَبد اللَّهِ بن أبي أمية المخزومي. ہے امام بخاری کے نزدیک اس کی سند پر
إسناده نظر
کا حکم ہے جو وہ ضعیف گرداننے کے لئے لگاتے ہیں


جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ اٹھا لیا گیا اور وہ آسمان پر ہیں کیا اسی طرح حضرت ادریس علیہ السلام کو بھی کیا زندہ اٹھایا گیا
جواب

وَرَفَعْناهُ مَكاناً عَلِيًّا

حدیث معراج میں ہے ادریس کو ٤ آسمان پر دیکھا

ابن عباس سے قول منسوب ہے
رفعه الله إلى السماء، وهناك مات
الله نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا اور وہیں وفات ہوئی

اسی طرح قول ہے کہ مکانا علیا سے مراد رفعة النبوءة ہے یعنی ان کا مرتبہ بلند کیا

ادریس علیہ السلام کو میرے نزدیک اٹھا لیا گیا لیکن اغلبا ان کی وفات واپس زمین پر ہی ہوئی – ان کو معراج دی گئی
ادریس علیہ السلام کے نزول ثانی پر کوئی صحیح حدیث نہیں ہے جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے متعلق احادیث موجود ہیں

طبری میں ہے

حدثني يونس بن عبد الأعلى ، أنبأنا ابن وهب ، أخبرني جرير بن حازم ، عن سليمان الأعمش ، عن شَمِر بن عطية ، عن هلال بن يساف قال : سأل ابن عباس كعبًا، وأنا حاضر ، فقال له : ما قول الله عز وجل لإدريس : (وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا) ؟ فقال كعب : أما إدريس فإن الله أوحى إليه أني أرفع لك كل يوم مثل عمل جميع بني آدم ، فأحَبّ أن يَزداد عملا ، فأتاه خليل له من الملائكة فقال : إن الله أوحى إليّ كذا وكذا ، فَكَلِّم لي ملك الموت ، فَلْيؤخرني حتى أزداد عملا ، فحمله بين جناحيه ، حتى صعد به إلى السماء ، فلما كان في السماء الرابعة تلقاهم مَلَك الموت منحدرًا ، فَكَلَّم ملك الموت في الذي كلمه فيه إدريس ، فقال : وأين إدريس ؟ فقال : هو ذا على ظهري . قال ملك الموت: فالعجب! بُعثت وقيل لي : اقبض روح إدريس في السماء الرابعة . فَجَعَلْتُ أقول : كيف أقبض روحه في السماء الرابعة ، وهو في الأرض ؟ فَقَبَضَ روحه هناك ، فذلك قول الله : (وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا) .
ثم قال ابن كثير : هذا من أخبار كعب الأحبار الإسرائيليات ، وفي بعضه نكارة ، والله أعلم .
هلال بن يساف نے کہا ابن عباس نے کعب سے ادریس کے بارے میں پوچھا – کعب نے کہا ملک الموت نے ادریس کی روح چوتھے آسمان پر قبض کی
ابن کثیر نے کہا یہ کعب کی خبر ہے الإسرائيليات میں سے اس میں نکارت ہے

راقم کہتا ہے ابن عباس تو اہل کتاب سے روایت لینے کے سخت مخالف تھے
اس کی سند منقطع ہے
في كتاب «سؤالات حرب الكرماني» قال أبو عبد الله: الأعمش لم يسمع منه شمر بن عطية
الأعمش کا سماع شمر بن عطية سے نہیں ہے

دوسری طرف کتاب الفتن کی روایت ہے
قَالَ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ: وَحَدَّثَنِي جَرَّاحٌ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: ” الدَّجَّالُ بَشَرٌ وَلَدَتْهُ امْرَأَةٌ، وَلَمْ يَنْزِلْ شَأْنِهِ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ، وَلَكِنْ ذُكِرَ فِي كُتُبِ الْأَنْبِيَاءِ، يُولَدُ فِي قَرْيَةٍ بِمِصْرَ يُقَالُ لَهَا قُوصُ، يَكُونُ بَيْنَ مَوْلِدِهِ وَمَخْرَجِهِ ثَلَاثُونَ سَنَةً، فَإِذَا ظَهَرَ خَرَجَ إِدْرِيسُ وَخُنُوكُ يَصْرُخَانِ فِي الْمَدَائِنِ
جراح نے کہا وہ جس نے کعب سے روایت کیا بتایا کہ کعب نے کہا جب دجال قوص مصر سے نکلے گا تو ادریس و خُنُوكُ ظاہر ہوں گے
اس کی سند میں مجہول ہے

==========
الکافی از کلینی اہل تشیع کی روایت ہے
علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن عمرو بن عثمان، عن مفضل بن صالح، عن جابر، عن أبي جعفر (عليه السلام) قال: قال رسول الله (صلى الله عليه وآله): أخبرني جبرئيل (عليه السلام) أن ملكا من ملائكة الله كانت له عند الله عزوجل منزلة عظيمة فتعتب عليه (2) فأهبط من السماء إلى الارض فأتى إدريس (عليه السلام) فقال: إن لك من الله منزلة فاشفع لي عند ربك، فصلى ثلاث ليال لا يفتر وصام أيامها لا يفطر ثم طلب إلى الله تعالى في السحر في الملك فقال الملك: إنك قد اعطيت سؤلك وقد اطلق لي جناحي وأنا أحب أن اكافيك فاطلب إلي حاجة، فقال: تريني ملك الموت لعلي آنس به فإنه ليس يهنئني مع ذكره شئ فبسط جناحه ثم قال: اركب فصعد به يطلب ملك الموت في السماء الدنيا، فقيل له: اصعد فاستقبله بين السماء الرابعة والخامسة فقال الملك: ياملك الموت ما لي أراك قاطبا؟ (3)
قال: العجب أني تحت ظل العرش حيث امرت أن اقبض روح آدمي بين السماء الرابعة والخامسة فسمع إدريس (عليه السلام) فامتعض (4) فخر من جناح الملك فقبض روحه مكانه وقال الله عزوجل: ” ورفعناه مكانا عليا
امام جعفر نے کہا ملک الموت نے ادریس کی روح چوتھے اور پانچوے آسمان کے درمیان قبض کی

سند میں المفضل بن صالح الاسدي ہے – معجم رجال الحديث از ابوالقاسم الموسوى الخوئي کے مطابق

النجاشي في ترجمة جابر بن يزيد ، قوله : ” روى عنه جماعة غمز فيهم ، وضعفوا ، منهم عمرو بن شمر ، والمفضل بن صالح . . ” إلى آخر ما ذكره ،
نجاشی نے کہا المفضل بن صالح الاسدي وہ ہے جس کی تضعیف کی گئی ہے

وقال ابن الغضائري : ” المفضل بن صالح أبوجميلة الاسدي النخاس ، مولاهم ، ضعيف ، كذاب ، يضع الحديث
ابن الغضائري نے کہا المفضل بن صالح ضعیف ہے کذاب ہے حدیث گھڑنے والا ہے

الغرض کتب اہل سنت اور اہل تشیع میں ادریس علیہ السلام پر کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے

Comments are closed.