متفرق ٣

جواب

سوره النساء ٨٦ ہے
وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا (86)
اور جب تمہیں کوئی دعا دے تو تم اس سے بہتر دعا دو یا الٹ کر ویسی ہی کہو بے شک الله ہر چیز کا حساب لینے والا ہے
اور جب تمہیں کوئی دعا دے تو تم اس سے بہتر دعا دو یا اس جیسی ہی کہو، بے شک اللہ ہر چیز کا حساب کرنے والا ہے۔

بعض مفسرین مثلا قتادہ و ابن عباس کا قول ہے کہ اس میں مجوس اور اہل کتاب بھی شامل ہیں
حدثنا بشر بن معاذ قال، حدثنا يزيد قال، حدثنا سعيد، عن قتادة في قوله: ” وإذا حييتم بتحية فحيوا بأحسن منها “، للمسلمين=” أو ردوها “، على أهل الكتاب.

حدثني إسحاق بن إبراهيم بن حبيب بن الشهيد قال، حدثنا حميد بن عبد الرحمن، عن الحسن بن صالح، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: من سلَّم عليك من خلق الله، فاردُدْ عليه وإن كان مجوسيًّا، فإن الله يقول: ” وإذا حييتم بتحية فحيوا بأحسن منها أو ردوها

لیکن جو بات عام ہے کہ اس سے مراد مسلمان ہیں
——

نبی صلی الله علیہ وسلم کا حکم مدینہ کے یہود پر خاص تھا کیونکہ وہ السام علیکم کہتے تھے یعنی تم پر موت ہو یعنی زبان کو اس طرح پلٹتے کہ سننے والے کو کچھ لگے
إن اليهود يقولون: السام عليكم فإذا سلموا عليكم فقولوا: وعليكم
حکم ہوا : یہود کہتے ہیں السام علیکم- پس جب یہ سلام کریں تو کہو و علیکم

یہ حکم عام نہیں ہے یہود مدینہ کے لئے خاص ہے
———-

نبی صلی الله علیہ وسلم نے جو خط لکھے ان میں سلامتی لکھی
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ. السَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
سلام ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے

تفسیر یحیی بن سلام میں ہے
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَتَبَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ كَتَبَ: «السَّلامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى

صحیح بخاری میں ہے
بسم الله الرحمن الرحيم ، من محمد عبد الله ورسوله ، إلى هرقل عظيم الروم ، السلام على من اتبع الهدى

موسی و ہارون علیھما السلام نے فرعون کو کہا سوره طہ
إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَاكَ بِآيَةٍ مِنْ رَبِّكَ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
سلامتی ہو جو ہدایت کی اتباع کرے

لہذا جس کو دعوت دی جا رہی ہے اس کو سلام کہہ سکتے ہیں
———–

سوره النساء میں ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا
اے مومنوں جب زمین پر نکلو الله کی راہ میں تو واضح کرو اور جو سلام کہے اس کو نہ کہو کہ تو تو مومن ہی نہیں

یہ ادب میں سے ہے جو اپ کو سلام کہے اس کو سلام کہیں خاص کر جو اجنبی ہوں ورنہ اپ کی دعوت کوئی نہیں سنے گا لوگوں میں مشہور ہو گا کہ اپ تو سلام تک نہیں کرتے
——

البتہ جو کفر و شرک میں عناد رکھتے ہیں ان کو سلام نہ کریں کیونکہ ان پر اپ کی توحید کی دعوت واضح ہو چکی
———

اسلام کی دعوت کا مقصد کیا ہے ؟ اس کا اصل سلامتی ہے لہذا مشرک ہو یا اہل کتاب یا گمراہ اہل قبلہ ان سب کو سلام کہا جا سکتا ہے الا یہ کہ یہ اس کا جواب جہالت سے دیں

جواب

ابن عمر رضی الله عنہ نے کہا عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے بارہ سال مجھ کو سوره بقرہ کی تعلیم دی جب مکمل ہوئی تو اونٹ ذبح (صدقه) کیا
اس سند میں بِشْرُ بْنُ مُوسَى أَبُو بِلالٍ الأَشْعَرِيُّ کا معلوم نہیں ہو سکا کون ہے
مسند الفاروق میں ابن کثیر کا قول ہے
أبو بلال هذا: ضعَّفه الدارقطني.
اس ابو بلال کی تضعیف دارقطنی نے کی ہے
———
موطا میں یہ امام مالک کے بلاغات میں سے ہے کہ آٹھ سال سیکھی
مالك بن أنس – رحمه الله – قال: «بلغني: أن ابن عمر مكث على سورة البقرة ثمانيَ سِنين يتعلَّمُها» . أخرجه الموطأ
اس میں انقطاع ہے
———
طبقات ابن سعد میں ہے چار سال لگے
قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ عَنْ مَيْمُونٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ تعلم سورة البقرة في أربع سنين
اس کی سند صحیح ہے

جواب

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا عمل سنت سے معلوم ہے کہ اپ صلی الله علیہ وسلم نے قربانی کی ہے اور ان کے اصحاب نے بھی کی ہے جبکہ حج رسول الله نے صرف ایک ہی کیا ہے

حج سے متعلق احکام میں ہے کہ اس کے مہینوں میں جنگ نہ کی جائے تو کیا یہ حکم حاجیوں کے لئے ہے عام مسلمانوں کے لئے نہیں ہے ؟
اسی طرح سوره حج میں جب قربانی کا ذکر ہے تو ہے
ولتكبروا الله على ما هداكم ولعلكم تشكرون
أور الله كي تكبير كرو إس هدايت پر جو اس نے دی اور شکر کرو

سوره حج میں تکبیر کا حکم ہے اور ہدایت ہم سب کو ملی چاہے حاجی ہو یا غیر حاجی اس لئے قربانی پر تکبیر کہے جائے گی الله کا شکر ادا کرنے کے لئے
——-

مزید دیکھ لیں
⇑ قربانی کیا سنت ابراہیمی ہے ؟
http://www.islamic-belief.net/q-a/عبادت/

جواب

خدا کو الله کا نام نہیں کہہ سکتے لیکن اس کو رب یا الہ یا گوڈ یا بھگوان کے مفہوم میں استعمال کر سکتے ہیں
بعض الفاظ دعوت میں آسانی کے لئے لکھے جاتے ہیں مثلا الہ کا ترجمہ
God
کیا جاتا ہے – انگریزی ترجمے جو قرآن کے ہیں ان میں ایسا ہی ہے

===========
عبرانی میں ایل یا الوھم کا لفظ الہ کے لئے استعمال ہوتا ہے – فرشتوں کے ناموں میں ایل اتا ہے جبریل میکائل وغیرہ
لیکن الله کے اصل نام کو یہود ادا نہیں کرتے لہذا ان کے نزدیک وہ اس کا تلفظ نہیں جانتے

اس کو توریت میں
YHWH
لکھا جاتا ہے –

اس کو اب یہوھ کہا جاتا ہے اور نصرانی لوگ اس کو الله کا اصل نام کہتے ہیں

بابل کی غلامی کے دور میں بنی اسرائیل نے عبرانی کے علاوہ آرامی بولنا شروع کر دیا تھا جیسے ہم انگریز کے بعد سے انگلش بول رہے ہیں
آرامی میں خدا کو الہ کہتے تھے یہ لفظ عربوں کو جب ملا انہوں
نے اس کو اسم بنایا اور ال لگا دیا
ال+ الہ سے بولتے بولتے الله ہو گیا

وقت کے ساتھ آرامی کی شکل بدلی اور وہ سریانی ہو گئی جو عیسیٰ علیہ السلام بولتے تھے – الله کا لفظ سریانی میں بھی ہے یہ لفظ اہل کتاب اور مشرک بولتے تھے – اور عربوں میں مستعمل تھا
قرآن عربی میں نازل ہوا تو اسی لفظ الله سے مالک کائنات کا ذکر ہوا
آج بھی عربی اناجیل میں الله لکھا جا رہا ہے جیسا ورقه بن نوفل بھی الله کہتے تھے – ایسا آرامی اناجیل میں ہے کہ الله کو
Alaha
لکھا گیا ہے یعنی رب

اس تفصیل کا مقصد ہے کہ ابراہیمی ادیان میں الله کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے اور اس پر کسی روایت میں نہیں آیا کہ الله کو ایل یا الوھم یا یحوھ نہیں کہا جائے کیونکہ یہ بحث بے فائدہ تھی – اس تناظر میں خدا سے منع کرنا اور الله لکھنے کہنے پر اصرار کرنا غیر ضروری ہے
البتہ میں خدا کو نام نہیں کہتا نہ خدا حافظ کہتا ہوں

——–

راقم کی لکھی تفسیر سوره بقرہ و ال عمران
Two Illuminated Clouds of Qur’an
میں صفحہ
iii پر
فٹ نوٹ ہے
Allah or Elah ( Aramaic word for God used in book of Ezra and Daniel, also see Deuteronomy 32:15;
2Chr 23:15; Neh 9:17, Ez 5:1, 11; 6:14, 7:12, 19,21,23; Daniel 2:18,23,28,37,47; 3:15,6:8,13) is worshipped at the temple at Makkah in Arabia but with the passage of time people associated different minor deities working under Allah, like Arabs started believing that Angels are Allah’s daughters similar to Christian belief that Elah or El has a son. In Aramaic Book of Acts the verses contains word Alaha for God (See The Aramaic-English Interlinear New Testament By David Bausche, Lulu Publishing, November 11, 2008, Bausche explained that verse (17:18) pg 74 address god as Alaha, also at pg 160, Khawbad ’Alaha means love of God pg 541, ikhidya Alaha means only begotten god pg 214.

جواب

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ،عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ ” قَالَ: لَا إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: ” الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ”
ثُمَّ قَالَ: ” أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ؟ ” قَالَ: وَثَمَّ غُلَامٌ فَقَالَ: ” إِنْ يَعِشْ هَذَا فَلَنْ يَبْلُغَ الْهَرَمَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ”

مسند أحمد

کہا تو اگر زندہ رہا تو بوڑھا نہ ہو گا کہ قیامت آ جائے گی
——–
دوسری صحیح حدیث میں ہے آج جو زمین پر زندہ ہے اگلے سو سال میں زندہ نہ ہو گا
غور کریں دونوں متن میں الگ بات ہے

جواب

حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قُلْتُ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ: ” لَا أَدْرِي، رَحْمَةُ اللهِ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، لَوْ عَاشَ

مسند احمد

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ السُّدِّيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: ” لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا ”

مسند احمد

 ضعیف ہے السُّدِّيِّ پر جرح ہے

مسند ابو یعلی میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ»، قَالَ: وَالَاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا: التَّزْوِيجُ، قَالَ: فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَى النِّسَاءِ فَأَبَيْنَ إِلَّا أَنْ يَضْرِبْنَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «افْعَلُوا»، فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدَةٌ، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِامْرَأَةٍ فَأَعْجَبَهَا شَبَابِي وَبُرْدَةَ ابْنِ عَمِّيَ فَقَالَتْ: بُرْدٌ كَبُرْدٍ، فَتَزَوَّجْتُهَا، فَنِمْتُ مَعَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ غَدَوْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْبَابِ وَالرُّكْنِ يَقُولُ: «إِنِّي كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الْمُتْعَةِ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُفَارِقْهُ، فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ نے اپنے باپ سبرہ سے روایت کیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حجه الوداع کے دن کہا ان عورتوں سے اسْتِمْتَاعُ کر لو – کہا اسْتِمْتَاعُ ہمارے نزدیک تھا کہ نکاح کر لو- پس ہم نے اس حکم نبوی کو عورتوں پر پیش کیا تو انہوں نے انکار کیا سوائے اس کے ہمارے اور ان کے درمیان جھگڑا ہوا پس ہم نے اس کا ذکر رسول الله سے کیا اپ نے فرمایا – تم یہ کرو – پس میں اور میرے چچا زاد نکلے اور ہم میں سے ہر ایک کے پاس تھا کپڑا تھا – کہا پس ہم ایک عورت کے پاس پہنچے وہ ہماری جوانی اور کپڑے سے خوش ہوئی اوربولی یہ کپڑا تو میرے کپڑے جیسا ہے (یعنی کپڑا میرا ہوا) پس اس سے زوجیت کی پس کے ساتھ رات گزاری پھر واپس رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے تو باب کعبه اور رکن کے درمیان تھے کہہ رہے تھے میں نے تم کو متعہ کی اجازت دی تھی پس جس کے پاس اس میں سے کوئی عورت ہو تو اس سے الگ ہو جائے کیونکہ الله نے وہ قیامت تک کے لئے حرام کر دیا ہے

جواب

یہ متن مبہم و منکر ہے اور کئی کتابوں میں ہے

مسند ابو یعلی میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ»، قَالَ: وَالَاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا: التَّزْوِيجُ، قَالَ: فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَى النِّسَاءِ فَأَبَيْنَ إِلَّا أَنْ يَضْرِبْنَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «افْعَلُوا»، فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدَةٌ، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِامْرَأَةٍ فَأَعْجَبَهَا شَبَابِي وَبُرْدَةَ ابْنِ عَمِّيَ فَقَالَتْ: بُرْدٌ كَبُرْدٍ، فَتَزَوَّجْتُهَا، فَنِمْتُ مَعَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ غَدَوْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْبَابِ وَالرُّكْنِ يَقُولُ: «إِنِّي كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الْمُتْعَةِ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُفَارِقْهُ، فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ نے اپنے باپ سبرہ سے روایت کیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حجه الوداع کے دن کہا ان عورتوں سے اسْتِمْتَاعُ کر لو – کہا اسْتِمْتَاعُ ہمارے نزدیک تھا کہ نکاح کر لو- پس ہم نے اس حکم نبوی کو عورتوں پر پیش کیا تو انہوں نے انکار کیا سوائے اس کے ہمارے اور ان کے درمیان جھگڑا ہوا پس ہم نے اس کا ذکر رسول الله سے کیا اپ نے فرمایا – تم یہ کرو – پس میں اور میرے چچا زاد نکلے اور ہم میں سے ہر ایک کے پاس تھا کپڑا تھا – کہا پس ہم ایک عورت کے پاس پہنچے وہ ہماری جوانی اور کپڑے سے خوش ہوئی اوربولی یہ کپڑا تو میرے کپڑے جیسا ہے (یعنی کپڑا میرا ہوا) پس اس سے زوجیت کی پس کے ساتھ رات گزاری پھر واپس رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے تو باب کعبه اور رکن کے درمیان تھے کہہ رہے تھے میں نے تم کو متعہ کی اجازت دی تھی پس جس کے پاس اس میں سے کوئی عورت ہو تو اس سے الگ ہو جائے کیونکہ الله نے وہ قیامت تک کے لئے حرام کر دیا ہے

سند میں عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز ابن مروان بن الحكم بن أبي العاص بن أمية ہے
اس کو ضعیف بھی کہا گیا ہے

یہ صحیح مسلم میں اور مسند ابو عوانہ میں بھی ہے
حدثنا أبو بكر الصغاني، قال: حدثنا أبو نعيم (1)، قال: حدثنا عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز، عن الربيع بن سَبْرة الجهني أنّ أباه أخبره “أنهم خرجوا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حجة الوداع حتى نزلوا عسفان، وأنّه قام إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- رجل من بني مدلج يقال له: سراقة بن مالك بن جُعشم أو مالك بن سراقة فقال: يا رسول الله اقض لنا قضاء قوم، وذكر الحديث. فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: استمتعوا من هذه النساء. -والاستمتاع عندنا: التزويج-. فعرضنا ذلك على النساء فأبين إلا أن يضربن (2) بيننا وبينهن أجلًا، فذكرنا ذلك للنبي -صلى الله عليه وسلم-، فقال: افعلوا، فخرجت أنا وابن عم لي، معي برد، ومعه برد أجود من بردي، وأنا أشبّ منه، فأتينا امرأة فأعجبها برده وأعجبها شبابي، وصار شأنها
[ص:249] إلى أن قالت: برد كبرد، وكان الأجل بيني وبينها عشرا، فبت عندها ليلة ثم أصبحت فخرجت فإذا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قائم بين الركن والباب وهو يقول: أيها الناس إني كنت أذنت لكم في الاستمتاع من هذه النساء، ألا وإن الله قد حرّم ذلك إلى يوم القيامة، فمن كان عنده منهن شيءٌ فليخل سبيلها, ولا تأخذوا مما آتيتموهن شيئًا

یہ روایت مسند احمد میں بھی ہے شعیب کہتے ہیں
أن هذا وهم، وأن الصحيح والمشهور أن التحريم كان عام الفتح.
اس روایت میں وہم ہے صحیح و مشہور ہے کہ متعہ فتح کے سال حرام ہوا

أن عبد العزيز هذا قد اضطرب عليه فيه … فبعضهم ذكر فيه المتعتين، وبعضهم لم يذكر فيه إلا متعة الحج. ولا ذكروا أنها كانت في حجة الوداع، فهذا كله يدل على أنه لم يضبط حديثه، وذلك مما لا يستبعد منه … فمثله لا يحتج به فيما خالف فيه الثقات … ” اهـ. مختصرًا من الإرواء 6/ 314 – 315.
البانی نے کہا اس متن میں عبد العزیز نے اضطراب کر دیا ہے

———

متن ایک دوسری روایت سے متصادم ہے

سعید بن المنصور کی روایت ہے سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ  کہتے ہیں

حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ

بے شک رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس سے فتح مکہ کے سال منع فرمایا

فتح مکہ تو حجه الوداع سے پہلے ہوئی

بیہقی سنن الکبری میں کہتے ہیں
رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَكَابِرِ كَابْنِ جُرَيْجٍ، وَالثَّوْرِيِّ، وَغَيْرِهِمَا , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ وَهْمٌ مِنْهُ , فَرِوَايَةُ الْجُمْهُورِ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ زَمَنَ الْفَتْحِ
اکابرین میں ابن جریج اور ثوری اور دیگر نے عبد العزیز سے روایت کیا ہے جو اس کا وہم ہے پس جہمور کی ربیع بن سبرہ رضی الله عنہ سے روایت میں ہے کہ متعہ فتح مکہ پر حرام ہوا

جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب

Comments are closed.