متفرق ٣

جواب

سوره النساء ٨٦ ہے
وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا (86)
اور جب تمہیں کوئی دعا دے تو تم اس سے بہتر دعا دو یا الٹ کر ویسی ہی کہو بے شک الله ہر چیز کا حساب لینے والا ہے
اور جب تمہیں کوئی دعا دے تو تم اس سے بہتر دعا دو یا اس جیسی ہی کہو، بے شک اللہ ہر چیز کا حساب کرنے والا ہے۔

بعض مفسرین مثلا قتادہ و ابن عباس کا قول ہے کہ اس میں مجوس اور اہل کتاب بھی شامل ہیں
حدثنا بشر بن معاذ قال، حدثنا يزيد قال، حدثنا سعيد، عن قتادة في قوله: ” وإذا حييتم بتحية فحيوا بأحسن منها “، للمسلمين=” أو ردوها “، على أهل الكتاب.

حدثني إسحاق بن إبراهيم بن حبيب بن الشهيد قال، حدثنا حميد بن عبد الرحمن، عن الحسن بن صالح، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: من سلَّم عليك من خلق الله، فاردُدْ عليه وإن كان مجوسيًّا، فإن الله يقول: ” وإذا حييتم بتحية فحيوا بأحسن منها أو ردوها

لیکن جو بات عام ہے کہ اس سے مراد مسلمان ہیں
——

نبی صلی الله علیہ وسلم کا حکم مدینہ کے یہود پر خاص تھا کیونکہ وہ السام علیکم کہتے تھے یعنی تم پر موت ہو یعنی زبان کو اس طرح پلٹتے کہ سننے والے کو کچھ لگے
إن اليهود يقولون: السام عليكم فإذا سلموا عليكم فقولوا: وعليكم
حکم ہوا : یہود کہتے ہیں السام علیکم- پس جب یہ سلام کریں تو کہو و علیکم

یہ حکم عام نہیں ہے یہود مدینہ کے لئے خاص ہے
———-

نبی صلی الله علیہ وسلم نے جو خط لکھے ان میں سلامتی لکھی
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ. السَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
سلام ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے

تفسیر یحیی بن سلام میں ہے
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَتَبَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ كَتَبَ: «السَّلامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى

صحیح بخاری میں ہے
بسم الله الرحمن الرحيم ، من محمد عبد الله ورسوله ، إلى هرقل عظيم الروم ، السلام على من اتبع الهدى

موسی و ہارون علیھما السلام نے فرعون کو کہا سوره طہ
إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَاكَ بِآيَةٍ مِنْ رَبِّكَ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
سلامتی ہو جو ہدایت کی اتباع کرے

لہذا جس کو دعوت دی جا رہی ہے اس کو سلام کہہ سکتے ہیں
———–

سوره النساء میں ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا
اے مومنوں جب زمین پر نکلو الله کی راہ میں تو واضح کرو اور جو سلام کہے اس کو نہ کہو کہ تو تو مومن ہی نہیں

یہ ادب میں سے ہے جو اپ کو سلام کہے اس کو سلام کہیں خاص کر جو اجنبی ہوں ورنہ اپ کی دعوت کوئی نہیں سنے گا لوگوں میں مشہور ہو گا کہ اپ تو سلام تک نہیں کرتے
——

البتہ جو کفر و شرک میں عناد رکھتے ہیں ان کو سلام نہ کریں کیونکہ ان پر اپ کی توحید کی دعوت واضح ہو چکی
———

اسلام کی دعوت کا مقصد کیا ہے ؟ اس کا اصل سلامتی ہے لہذا مشرک ہو یا اہل کتاب یا گمراہ اہل قبلہ ان سب کو سلام کہا جا سکتا ہے الا یہ کہ یہ اس کا جواب جہالت سے دیں

جواب

ابن عمر رضی الله عنہ نے کہا عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے بارہ سال مجھ کو سوره بقرہ کی تعلیم دی جب مکمل ہوئی تو اونٹ ذبح (صدقه) کیا
اس سند میں بِشْرُ بْنُ مُوسَى أَبُو بِلالٍ الأَشْعَرِيُّ کا معلوم نہیں ہو سکا کون ہے
مسند الفاروق میں ابن کثیر کا قول ہے
أبو بلال هذا: ضعَّفه الدارقطني.
اس ابو بلال کی تضعیف دارقطنی نے کی ہے
———
موطا میں یہ امام مالک کے بلاغات میں سے ہے کہ آٹھ سال سیکھی
مالك بن أنس – رحمه الله – قال: «بلغني: أن ابن عمر مكث على سورة البقرة ثمانيَ سِنين يتعلَّمُها» . أخرجه الموطأ
اس میں انقطاع ہے
———
طبقات ابن سعد میں ہے چار سال لگے
قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ عَنْ مَيْمُونٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ تعلم سورة البقرة في أربع سنين
اس کی سند صحیح ہے

جواب

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا عمل سنت سے معلوم ہے کہ اپ صلی الله علیہ وسلم نے قربانی کی ہے اور ان کے اصحاب نے بھی کی ہے جبکہ حج رسول الله نے صرف ایک ہی کیا ہے

حج سے متعلق احکام میں ہے کہ اس کے مہینوں میں جنگ نہ کی جائے تو کیا یہ حکم حاجیوں کے لئے ہے عام مسلمانوں کے لئے نہیں ہے ؟
اسی طرح سوره حج میں جب قربانی کا ذکر ہے تو ہے
ولتكبروا الله على ما هداكم ولعلكم تشكرون
أور الله كي تكبير كرو إس هدايت پر جو اس نے دی اور شکر کرو

سوره حج میں تکبیر کا حکم ہے اور ہدایت ہم سب کو ملی چاہے حاجی ہو یا غیر حاجی اس لئے قربانی پر تکبیر کہے جائے گی الله کا شکر ادا کرنے کے لئے
——-

مزید دیکھ لیں
⇑ قربانی کیا سنت ابراہیمی ہے ؟
http://www.islamic-belief.net/q-a/عبادت/

جواب

خدا کو الله کا نام نہیں کہہ سکتے لیکن اس کو رب یا الہ یا گوڈ یا بھگوان کے مفہوم میں استعمال کر سکتے ہیں
بعض الفاظ دعوت میں آسانی کے لئے لکھے جاتے ہیں مثلا الہ کا ترجمہ
God
کیا جاتا ہے – انگریزی ترجمے جو قرآن کے ہیں ان میں ایسا ہی ہے

===========
عبرانی میں ایل یا الوھم کا لفظ الہ کے لئے استعمال ہوتا ہے – فرشتوں کے ناموں میں ایل اتا ہے جبریل میکائل وغیرہ
لیکن الله کے اصل نام کو یہود ادا نہیں کرتے لہذا ان کے نزدیک وہ اس کا تلفظ نہیں جانتے

اس کو توریت میں
YHWH
لکھا جاتا ہے –

اس کو اب یہوھ کہا جاتا ہے اور نصرانی لوگ اس کو الله کا اصل نام کہتے ہیں

بابل کی غلامی کے دور میں بنی اسرائیل نے عبرانی کے علاوہ آرامی بولنا شروع کر دیا تھا جیسے ہم انگریز کے بعد سے انگلش بول رہے ہیں
آرامی میں خدا کو الہ کہتے تھے یہ لفظ عربوں کو جب ملا انہوں
نے اس کو اسم بنایا اور ال لگا دیا
ال+ الہ سے بولتے بولتے الله ہو گیا

وقت کے ساتھ آرامی کی شکل بدلی اور وہ سریانی ہو گئی جو عیسیٰ علیہ السلام بولتے تھے – الله کا لفظ سریانی میں بھی ہے یہ لفظ اہل کتاب اور مشرک بولتے تھے – اور عربوں میں مستعمل تھا
قرآن عربی میں نازل ہوا تو اسی لفظ الله سے مالک کائنات کا ذکر ہوا
آج بھی عربی اناجیل میں الله لکھا جا رہا ہے جیسا ورقه بن نوفل بھی الله کہتے تھے – ایسا آرامی اناجیل میں ہے کہ الله کو
Alaha
لکھا گیا ہے یعنی رب

اس تفصیل کا مقصد ہے کہ ابراہیمی ادیان میں الله کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے اور اس پر کسی روایت میں نہیں آیا کہ الله کو ایل یا الوھم یا یحوھ نہیں کہا جائے کیونکہ یہ بحث بے فائدہ تھی – اس تناظر میں خدا سے منع کرنا اور الله لکھنے کہنے پر اصرار کرنا غیر ضروری ہے
البتہ میں خدا کو نام نہیں کہتا نہ خدا حافظ کہتا ہوں

——–

راقم کی لکھی تفسیر سوره بقرہ و ال عمران
Two Illuminated Clouds of Qur’an
میں صفحہ
iii پر
فٹ نوٹ ہے
Allah or Elah ( Aramaic word for God used in book of Ezra and Daniel, also see Deuteronomy 32:15;
2Chr 23:15; Neh 9:17, Ez 5:1, 11; 6:14, 7:12, 19,21,23; Daniel 2:18,23,28,37,47; 3:15,6:8,13) is worshipped at the temple at Makkah in Arabia but with the passage of time people associated different minor deities working under Allah, like Arabs started believing that Angels are Allah’s daughters similar to Christian belief that Elah or El has a son. In Aramaic Book of Acts the verses contains word Alaha for God (See The Aramaic-English Interlinear New Testament By David Bausche, Lulu Publishing, November 11, 2008, Bausche explained that verse (17:18) pg 74 address god as Alaha, also at pg 160, Khawbad ’Alaha means love of God pg 541, ikhidya Alaha means only begotten god pg 214.

جواب

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ،عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ ” قَالَ: لَا إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: ” الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ”
ثُمَّ قَالَ: ” أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ؟ ” قَالَ: وَثَمَّ غُلَامٌ فَقَالَ: ” إِنْ يَعِشْ هَذَا فَلَنْ يَبْلُغَ الْهَرَمَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ”

مسند أحمد

کہا تو اگر زندہ رہا تو بوڑھا نہ ہو گا کہ قیامت آ جائے گی
——–
دوسری صحیح حدیث میں ہے آج جو زمین پر زندہ ہے اگلے سو سال میں زندہ نہ ہو گا
غور کریں دونوں متن میں الگ بات ہے

جواب

حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قُلْتُ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ: ” لَا أَدْرِي، رَحْمَةُ اللهِ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، لَوْ عَاشَ

مسند احمد

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ السُّدِّيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: ” لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا ”

مسند احمد

 ضعیف ہے السُّدِّيِّ پر جرح ہے

مسند ابو یعلی میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ»، قَالَ: وَالَاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا: التَّزْوِيجُ، قَالَ: فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَى النِّسَاءِ فَأَبَيْنَ إِلَّا أَنْ يَضْرِبْنَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «افْعَلُوا»، فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدَةٌ، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِامْرَأَةٍ فَأَعْجَبَهَا شَبَابِي وَبُرْدَةَ ابْنِ عَمِّيَ فَقَالَتْ: بُرْدٌ كَبُرْدٍ، فَتَزَوَّجْتُهَا، فَنِمْتُ مَعَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ غَدَوْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْبَابِ وَالرُّكْنِ يَقُولُ: «إِنِّي كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الْمُتْعَةِ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُفَارِقْهُ، فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ نے اپنے باپ سبرہ سے روایت کیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حجه الوداع کے دن کہا ان عورتوں سے اسْتِمْتَاعُ کر لو – کہا اسْتِمْتَاعُ ہمارے نزدیک تھا کہ نکاح کر لو- پس ہم نے اس حکم نبوی کو عورتوں پر پیش کیا تو انہوں نے انکار کیا سوائے اس کے ہمارے اور ان کے درمیان جھگڑا ہوا پس ہم نے اس کا ذکر رسول الله سے کیا اپ نے فرمایا – تم یہ کرو – پس میں اور میرے چچا زاد نکلے اور ہم میں سے ہر ایک کے پاس تھا کپڑا تھا – کہا پس ہم ایک عورت کے پاس پہنچے وہ ہماری جوانی اور کپڑے سے خوش ہوئی اوربولی یہ کپڑا تو میرے کپڑے جیسا ہے (یعنی کپڑا میرا ہوا) پس اس سے زوجیت کی پس کے ساتھ رات گزاری پھر واپس رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے تو باب کعبه اور رکن کے درمیان تھے کہہ رہے تھے میں نے تم کو متعہ کی اجازت دی تھی پس جس کے پاس اس میں سے کوئی عورت ہو تو اس سے الگ ہو جائے کیونکہ الله نے وہ قیامت تک کے لئے حرام کر دیا ہے

جواب

یہ متن مبہم و منکر ہے اور کئی کتابوں میں ہے

مسند ابو یعلی میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ»، قَالَ: وَالَاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا: التَّزْوِيجُ، قَالَ: فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَى النِّسَاءِ فَأَبَيْنَ إِلَّا أَنْ يَضْرِبْنَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «افْعَلُوا»، فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدَةٌ، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِامْرَأَةٍ فَأَعْجَبَهَا شَبَابِي وَبُرْدَةَ ابْنِ عَمِّيَ فَقَالَتْ: بُرْدٌ كَبُرْدٍ، فَتَزَوَّجْتُهَا، فَنِمْتُ مَعَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ غَدَوْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْبَابِ وَالرُّكْنِ يَقُولُ: «إِنِّي كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الْمُتْعَةِ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُفَارِقْهُ، فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ نے اپنے باپ سبرہ سے روایت کیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حجه الوداع کے دن کہا ان عورتوں سے اسْتِمْتَاعُ کر لو – کہا اسْتِمْتَاعُ ہمارے نزدیک تھا کہ نکاح کر لو- پس ہم نے اس حکم نبوی کو عورتوں پر پیش کیا تو انہوں نے انکار کیا سوائے اس کے ہمارے اور ان کے درمیان جھگڑا ہوا پس ہم نے اس کا ذکر رسول الله سے کیا اپ نے فرمایا – تم یہ کرو – پس میں اور میرے چچا زاد نکلے اور ہم میں سے ہر ایک کے پاس تھا کپڑا تھا – کہا پس ہم ایک عورت کے پاس پہنچے وہ ہماری جوانی اور کپڑے سے خوش ہوئی اوربولی یہ کپڑا تو میرے کپڑے جیسا ہے (یعنی کپڑا میرا ہوا) پس اس سے زوجیت کی پس کے ساتھ رات گزاری پھر واپس رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے تو باب کعبه اور رکن کے درمیان تھے کہہ رہے تھے میں نے تم کو متعہ کی اجازت دی تھی پس جس کے پاس اس میں سے کوئی عورت ہو تو اس سے الگ ہو جائے کیونکہ الله نے وہ قیامت تک کے لئے حرام کر دیا ہے

سند میں عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز ابن مروان بن الحكم بن أبي العاص بن أمية ہے
اس کو ضعیف بھی کہا گیا ہے

یہ صحیح مسلم میں اور مسند ابو عوانہ میں بھی ہے
حدثنا أبو بكر الصغاني، قال: حدثنا أبو نعيم (1)، قال: حدثنا عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز، عن الربيع بن سَبْرة الجهني أنّ أباه أخبره “أنهم خرجوا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حجة الوداع حتى نزلوا عسفان، وأنّه قام إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- رجل من بني مدلج يقال له: سراقة بن مالك بن جُعشم أو مالك بن سراقة فقال: يا رسول الله اقض لنا قضاء قوم، وذكر الحديث. فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: استمتعوا من هذه النساء. -والاستمتاع عندنا: التزويج-. فعرضنا ذلك على النساء فأبين إلا أن يضربن (2) بيننا وبينهن أجلًا، فذكرنا ذلك للنبي -صلى الله عليه وسلم-، فقال: افعلوا، فخرجت أنا وابن عم لي، معي برد، ومعه برد أجود من بردي، وأنا أشبّ منه، فأتينا امرأة فأعجبها برده وأعجبها شبابي، وصار شأنها
[ص:249] إلى أن قالت: برد كبرد، وكان الأجل بيني وبينها عشرا، فبت عندها ليلة ثم أصبحت فخرجت فإذا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قائم بين الركن والباب وهو يقول: أيها الناس إني كنت أذنت لكم في الاستمتاع من هذه النساء، ألا وإن الله قد حرّم ذلك إلى يوم القيامة، فمن كان عنده منهن شيءٌ فليخل سبيلها, ولا تأخذوا مما آتيتموهن شيئًا

یہ روایت مسند احمد میں بھی ہے شعیب کہتے ہیں
أن هذا وهم، وأن الصحيح والمشهور أن التحريم كان عام الفتح.
اس روایت میں وہم ہے صحیح و مشہور ہے کہ متعہ فتح کے سال حرام ہوا

أن عبد العزيز هذا قد اضطرب عليه فيه … فبعضهم ذكر فيه المتعتين، وبعضهم لم يذكر فيه إلا متعة الحج. ولا ذكروا أنها كانت في حجة الوداع، فهذا كله يدل على أنه لم يضبط حديثه، وذلك مما لا يستبعد منه … فمثله لا يحتج به فيما خالف فيه الثقات … ” اهـ. مختصرًا من الإرواء 6/ 314 – 315.
البانی نے کہا اس متن میں عبد العزیز نے اضطراب کر دیا ہے

———

متن ایک دوسری روایت سے متصادم ہے

سعید بن المنصور کی روایت ہے سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ  کہتے ہیں

حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ

بے شک رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس سے فتح مکہ کے سال منع فرمایا

فتح مکہ تو حجه الوداع سے پہلے ہوئی

بیہقی سنن الکبری میں کہتے ہیں
رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَكَابِرِ كَابْنِ جُرَيْجٍ، وَالثَّوْرِيِّ، وَغَيْرِهِمَا , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ وَهْمٌ مِنْهُ , فَرِوَايَةُ الْجُمْهُورِ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ زَمَنَ الْفَتْحِ
اکابرین میں ابن جریج اور ثوری اور دیگر نے عبد العزیز سے روایت کیا ہے جو اس کا وہم ہے پس جہمور کی ربیع بن سبرہ رضی الله عنہ سے روایت میں ہے کہ متعہ فتح مکہ پر حرام ہوا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
عورت ،عورت کا نکاح نہ کرائے، اور نہ کوئی عورت خود اپنا نکاح کرے
( صحيح الجامع : 7298)​
اس کا کیا مطلب ہے – کیا ایک عورت نکاح پڑھا سکتی ہے – اس حدیث کی وضاحت کر دیں
جواب
ابن ماجہ کی روایت ہےحَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “لَا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ، وَلَا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا، فَإِنَّ الزَّانِيَةَ هِيَ الَّتِي تُزَوِّجُ نَفْسَهَا”کوئی عورت کسی اور عورت کا نکاح نہیں کرا سکتی، نہ خود کر سکتی ہے اگر کرے تو زانیہ ہےالبانی اس کو صحیح کہتے ہیںاس کی سند میں مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ ہے جو ضعیف ہے اور ہشام مدلس ہے ضعیف ہے
إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل1841میں البانی نے لکھا ہےقلت: وهذا إسناد حسن رجاله كلهم ثقات غير محمد بن مروان العقيلى قال الحافظ فى ” التقريب “: ” صدوق له أوهام “.قلت: ولكنه قد توبع , فرواه مسلم بن عبد الرحمن الجرمى حدثنا مخلد ابن حسين عن هشام بن حسان به , أخرجه الدارقطنى والبيهقىالبانی میں کہتا ہوں اس کی اسناد حسن ہیں تمام راوی ثقہ ہیں سوائے محمد بن مروان کے اس پر ابن حجر کہتے ہیں صدوق ہے وہمی ہےمیں البانی کہتا ہوں اس کی متابعت ہے پس مسلم بن عبد الرحمن الجرمى حدثنا مخلد ابن حسين عن هشام بن حسان نے اس کو روایت کیا ہے بیہقی اور دارقطنی میںپھر البانی نے کہاقلت: وهذا سند رجاله ثقات غير الجرمى هذا , وهو شيخمیں کہتا ہوں اس کی سند میں تم ثقہ ہیں سوائے الجرمی کے جو شیخ ہے
اس کے بعد اس الجرمی پر کلام یہ کیا کہ انہوں نے سو رومییووں کو جہاد میں قتل کیا———راقم کہتا ہے یہ راوی کی ثقاہت کیسے ہے کیونکہ حدیث کا تعلق صدق و حفظ ہے تلوار چلانے سے نہیں ہے

——
پھر البانی نے کہا یہ ابو ہریرہ سے موقوف بھی آئی ہےوروى عبد الرحمن بن محمد المحاربى حدثنا عبد السلام بن حرب عن هشام به إلا أنه قال: قال أبو هريرة: ” كنا نعد التى تنكح نفسها هى الزانية “.فجعل القسم الأخير منه موقوفا , أخرجه الدارقطنى والبيهقى.
اس کے بعد البانی نے دوسری کتاب لکھی صحیح و ضعیف سنن ابن ماجہ اس میں لکھاصحيح دون جملة الزانيةیہ روایت زانیہ کے لفظ کے علاوہ صحیح ہے——-راقم کہتا ہے کہ بھی عجیب ہے کیونکہ اس کی دلیل کیا ہے روایت یا تو پوری صحیح ہے یا پوری غلط ہے –صالح بن عبد العزيز نے إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل پر تعلق میں لکھامبالغة لا تخفى بل هو ظاهر الكذبیہ مبالغة مخفی نہیں ہے بلکہ یہ کذب ہے
یعنی یہ لوگ اس اضافہ کو نہیں مان رہے کہ ایسی عورت زانیہ ہے

———–

راقم کہتا ہے اس کی وجہ سے قفہ کا مسئلہ جنم لے گا اس وجہ سے یہ لوگ اس کا انکار کر رہے ہیںلیکن جب روایت کی سند ان کے نزدیک صحیح ہے تو پوری روایت صحیح ہو گی

——–
صحیح بات یہ ہے کہ مُسْلِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْمِيُّ مجہول ہے اچھی تلوار چلنے سے حدیث میں ثقہ نہیں ہو جائے گا
شعیب کہتے ہیں جملہ “فإن الزانية هي الي تزوج نفسها یہ زانیہ ہےوالصحيح أن هذه الجملة من قول أبي هريرةصحیح یہ ہے کہ یہ قول ابو ہریرہ ہے

———
سنن الکبری بیہقی میں ہےقَالَ الْحَسَنُ: وَسَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، عَنْ رِوَايَةِ مَخْلَدِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، فَقَالَ: ثِقَةٌ، فَذَكَرْتُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ: نَعَمْ، قَدْ كَانَ شَيْخٌ عِنْدَنَا يَرْفَعُهُ عَنْ مَخْلَدٍ قَالَ الشَّيْخُ: تَابَعَهُ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ، عَنْ هِشَامٍالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ نے کہا میں نے ابن معین سے … اس روایت کا پوچھا کہاقَدْ كَانَ شَيْخٌ عِنْدَنَا يَرْفَعُهُ عَنْ مَخْلَدٍایک بوڑھا (مُسْلِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْمِيُّ) تھا جو اس کو رفع کر کے مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ تک لے جاتا تھا
اس پر بیہقی نے کہااس کی متابعت کی ہے عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ نے اور مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ نے
راقم کہتا ہے یہ متابعت بے کار ہےعبد السلام بن حرب پر ابن سعد کہتے ہیں ضعيف في الحديثعجلی کہتے ہیںوهو عند الكوفيين ثقة ثبت، والبغداديون يستنكرون بعض حديثهکوفیوں کے نزدیک ثقہ ہیں اور بغدادیوں کے نزدیک وہ ان کی احادیث کا انکار کرتے ہیں
الغرض روایت ابو ہریرہ پر ضعیف سند سے موقوف ہے مرفوع نہیں سمجھی جا سکتی اس میں شک ہے

بھائی معجزے کا کے بارے میں ایک طبقہ کا ماننا ہے کہ معجزات بھی سبب در عمل کے تحت ہوتے تھے اور اللہ تعالیٰ نیچر کے خلاف نہیں کرتا ۔بھائی اس مسئلے پر رہنمائی فرما دیں جزاک اللہ
جواب

نیچری لوگ کہتے ہیں کہ قرآن میں ہے کہ تم سنت الله میں تبدیلی نہیں پاؤ گے یا دروبدل نہیں دیکھو گے
اب یہ سنت الله سے نیچر یا قدرت مراد لیتے ہیں
یہ ان کے خود ساختہ مفہوم ہیں

سوره فتح میں ہے
وَلَوْ قَاتَلَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوَلَّوُا الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا (22) سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلُ ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا

کہا گیا اگر مشرک اب تم سے لڑے تو یہ بھاگ جائیں گے اور تم سنت الله میں تبدیلی نہیں دیکھو گے

سوره بنی اسرائیل میں ہے
وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا (76) سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا
اور وہ تو تجھے اس زمین سے دھکیل دینے کو تھے تاکہ تجھے اس سے نکال دیں، پھر وہ بھی تیرے بعد بہت ہی کم ٹھہرتے۔
تم سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے ہیں ان کا یہی دستور رہا ہے، اور ہمارے دستور میں تم تبدیلی نہیں پاؤ گے۔

سوره فاطر
اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ ۚ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ ۚ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ ۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا

ملک میں سرکشی اور بری تدبیریں کرنے لگ گئے، اور بری تدبیر تو تدبیرکرنے والے ہی پر الٹ پڑتی ہے، پھر کیا وہ اسی برتاؤ کے منتظر ہیں جو پہلے لوگوں سے برتا گیا، پس تو اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا، اور تو اللہ کے قانوں میں کوئی تغیر نہیں پائے گا۔

لَّئِنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنَافِقُوْنَ وَالَّـذِيْنَ فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ مَّرَضٌ وَّّالْمُرْجِفُوْنَ فِى الْمَدِيْنَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِـهِـمْ ثُـمَّ لَا يُجَاوِرُوْنَكَ فِـيْهَآ اِلَّا قَلِيْلًا (60) مَّلْعُوْنِيْنَ ۖ اَيْنَمَا ثُقِفُوٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِيْلًا (61) سُنَّـةَ اللّـٰهِ فِى الَّـذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ۚ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّـةِ اللّـٰهِ تَبْدِيْلًا (62)

اگر منافق اور وہ جن کے دلوں میں مرض ہے اور مدینہ میں غلط خبریں اڑانے والے باز نہ آئیں گے تو آپ کو ہم ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہ اس شہر میں تیرے پاس نہ ٹھہریں گے۔
مگر بہت کم لعنت کیے گئے ہیں، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور قتل کیے جائیں گے
یہی اللہ کا قانون ہے ان لوگوں میں جو اس سے پہلے ہو گزر چکے ہیں، اور آپ اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی ہرگز نہ پائیں گے۔

سنت الله کا مطلب ہے کہ الله کا فیصلہ ہو گیا اس کے نبی کو غلبہ ملے گا اب چاہے منافق ہوں یا کافر وہ پست ہوں گے
اگر ایسا حکم آ جائے تو پھر یہ وعدہ پورا ہوتا ہے اس سنت الله میں تبدیلی نہیں ہوتی
بہت سے انبیاء کا اس وعدہ سے پہلے قتل ہوا یا شہادت ہوئی لیکن اگر وہ زندہ ہوں اور یہ حکم آ جائے تو پھر الله اپنے وعدہ کو پورا کرتا ہے

یہ سنت الله کا مطلب ہے – اب فطرت جو الله نے خلق کی وہ اسی قوانین کے تحت چل رہی ہے جو الله نے روز خلق اس پر لگا دیے
اس میں تبدیلی نہیں ہوتی مثلا ہم ان کو قوانین فطرت کہتے ہیں
لیکن کیا الله ان قوانین کا محتاج ہے ؟ نہیں ہے اسی لئے
وہ سمندر کو پھاڑ دینا ہے کہ بنی اسرائیل اس میں سے گزرین اور فرعون ڈوب جائے
وہ پہاڑ کو اپنی تجلی سے تباہ کرتا ہے جب موسی دیکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں
وہ الواح پر توریت دیتا ہے جبکہ اس دور میں قلم و دوات بھی ہے
وہ ہوا کو مسخر کرتا ہے جو سلیمان کے لئے ایک ماہ چلتی ہے
وہ ملکہ بلقیس کا تخت یروشلم لاتا ہے

اب یہ اس قدر کثرت سے الله کی قدرت کے نمونے ہیں کہ ہم ان کو معجزہ نہ کہیں تو کتاب الله کا انکار ہے جو کفر ہے

جواب سورہ النازعات آیت نمبر 20 میں ہے فَأَرَاهُ الْآيَةَ الْكُبْرَىٰ۔اور موسٰی نے اسے (فرعون) کو بہت بڑی نشانی دکھائی
تفسیر طبری میں ہےالحسن يقول في هذه الآية: ( فَأَرَاهُ الآيَةَ الْكُبْرَى ) قال: يده وعصاه .حسن بصری نے کہا یہ ید بیضاء اور عصا ہے
عن ابن أبي نجيح، عن مجاهد ( فَأَرَاهُ الآيَةَ الْكُبْرَى ) قال: عصاه ويده .یہی مجاہد کا قول ہے
ثنا سعيد، عن قتادة، قوله: ( فَأَرَاهُ الآيَةَ الْكُبْرَى ) قال: رأى يد موسى وعصاه، وهما آيتان .یہی قتادہ کا قول ہے
ابن زيد، في قوله: ( فَأَرَاهُ الآيَةَ الْكُبْرَى ) قال: العصا والحية.ابن زید کا قول ہے یہ عصا اورسانپ ہے
اس آیت کے بعد ہے کہ فرعون نے لوگوں کو جمع کیا منادی کی اور کہا میں سب سے بڑا رب ہوں
یہ جادوگروں والا واقعہ ہے کہ اس کی منادی کی گئی تھیاور اس سے قبل دربار میں ید بیضاء اور عصا دکھایا گیا تھا
فرعون کو پہلی چیز عصا کا سانپ بننا دکھایا گیا – یہ کیوں کیا گیا اس کے پیچھے مصر کا فرعونی مذھب ہے جس میں سانپ کی اہمیت تھیلہذا سانپ ان کے مندروں میں مقّبرؤن میں اور تاج میں موجود تھاhttps://en.wikipedia.org/wiki/Isfet_(Egyptian_mythology)کہا جاتا ہے سانپ کائنات میں عناصر کی کشمکش تھا کہ یہ شر ہے جو کائنات کو غیر منظم کرنا چاہتا ہےیعنی جس طرح مجوسی اہرمن و یزداں کا عقیدہ رکھتے تھے اسی طرح فرعویوں کا بھی عقیدہ تھا جس میں سانپ شر کی علامت تھاوالله اعلم
ہم کو اس کی حقیقت کا علم نہیں ہے لیکن یہ دیکھ کر فرعون کو سمجھ میں آ گیا تھا کہ یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہےشروع میں اس نے اس کو جادو قرار دیا اور مقابلہ بھی جادوگروں سے کرایا پھر جب جادو گر ہار گئے تو اس کو سازش کہااس کی سیاست چلتی رہی اور پھر نو نشانیاں دیکھ کر مرا

قرآن میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو بھیلَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰبڑی نشانیاں دکھائی گئیں
یہ سب معراج پر ہوا
معراج پر بہت سے واقعات ہوئے یہ سب الله کی نشانییاں ہیں ان کا ذکر حدیث میں ہے
آيَاتِ کے الفاظ معجزات کے لئے استمعال کیے جاتے ہیں

جواب
بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَجِيدٌ (21) فِي لَوْحٍ مَحْفُوظٍ
بلکہ یہ قرآن مجید ہے جو لوح محفوظ میں ہے
سورة البروج

لوح عربی میں تختی کو کہتے ہیں چاہے لکڑی کی ہو یا پتھر کی سل ہو

إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ
سورة الواقعة

بے شک یہ قرآن کریم ہے جو محفوط کردہ کتاب ہے

مشرک کہتے تھے یہ تو شاعری ہے اس پر کہا گیا کہ یہ شیطان کا القا نہیں ہے اس کی حفاظت ہو رہی ہے
یہ عالم بالا میں ہے کیونکہ قرآن محفوط کردہ کتاب ہے چونکہ یہ آخری کلام ہے لہذا اس کو حفاظت کی گئی ہے محشر تک

اس بات کو بعض دفعہ قرآن میں أمّ الكتاب کہا گیا ہے کہ سب ایک اہم کتاب سے آ رہا ہے

موسی علیہ السلام کو توریت الواح پر دی جو سل تھیں
و کتبنا له فی الالواح من کل شی ء موعظه و تفصیلا لکل شی ءفخذها بقوه
اور ہم نے موسی کے لئے الواح پر ہر چیز لکھ دی نصحت اور ہر چیز کی تفصیل اس کو قوت سے پکڑنا

لیکن اس کو انہوں نے طور سے اتر کر پھینک دیا تھا (یعنی کلام الله کو پھینک دیا) جب دیکھا کہ قوم بت پرستی کر رہی ہے
وألقى الألواح وأخذ برأس أخيه يجره إليه
أور إس نے الواح پھینک دیں اور اپنے بھائی کو سر سے پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹا

یہ پتھر کا کتبہ پر تھیں یہود کہتے ہیں قدیم عبرانی کے معدوم رسم الخط میں تھیں اور کتبہ کے دونوں جانب لکھا ہوا تھا اور الفاظ چمک رہے تھے

خیال رہے کہ تمام کلام الله چاہے توریت ہو یا انجیل یا زبور یا قرآن تمام ام الکتاب کا حصہ ہے
حدیث میں زبور کو بھی قرآن کہا گیا ہے
داود علیہ السلام پر قرآن کی تلاوت اس قدر آسان ہوئی کہ زین کسنے کا حکم کرتے اور قرآن مکمل کر لیتے

يَمْحُوا اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ
الله جو چاہتا ہے مٹا دینا ہے اور اثبات کرتا ہے اور اس کے پاس ام الکتاب ہے

وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا
اور ہم نے کتاب میں فیصلہ دے دیا تھا کہ نبی اسرائیل کبیر سرکشی کریں گے اور دو بار فساد کریں گے

وَلَوْلا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ
اور تمہارے رب کی طرف سے پہلے کلمہ اگر نہیں ادا ہوا ہوتا

ام الکتاب یا لوح محفوظ الله کی طرف سے زمین کا پلان ہے جو اس نے تقدیر میں لکھا اور پھر اسی کے تحت ہوا جو ہوا -چاہے مختلف کتب الله کا نزول ہو یا قوموں کی سرکشی ہو یا کوئی حکم ہو مثلا الله نے اپنے پاس عرش کے قریب اس کتاب کو رکھا ہوا ہے جس میں لکھ دیا ہے کہ اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب آئے گی

یہ تمام منصوبہ الہی ہے کوئی معمولی کتاب نہیں ہے اسی کو لوح محفوظ کہا گیا کہ فی لوح یہ اس لوح میں سے ہے یہ نہیں کہا ھو لوح محفوظ کہ صرف قرآن ہی لوح محفوظ ہے

قَالَ إِسْمَاعِيْلُ بنُ عَيَّاشٍ: حَدَّثَنَا شُرَحْبِيْلُ بنُ مُسْلِمٍ قَالَ: أَتَى أَبُو مُسْلِمٍ الخَوْلاَنِيُّ المَدِيْنَةَ وَقَدْ قُبِضَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، واستُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ.
فحدَّثنا شُرَحْبِيْلُ أنَّ الأَسْوَدَ تنبَّأ بِاليَمَنِ، فَبَعَثَ إِلَى أَبِي مُسْلِمٍ، فَأَتَاهُ بِنَارٍ عَظِيْمَةٍ، ثُمَّ إِنَّهُ أَلْقَى أَبَا مُسْلِمٍ، فِيْهَا فَلَمْ تَضَرَّهُ، فَقِيْلَ لِلأَسْوَدِ: إِنْ لَمْ تَنْفِ هَذَا عَنْكَ أَفْسَدَ عَلَيْكَ مَنِ اتَّبَعَكَ، فَأَمَرَهُ بِالرَّحِيْلِ، فَقَدِمَ المَدِيْنَةَ، فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، وَدَخَلَ المَسْجِدَ يُصَلِّي، فَبَصُرَ بِهِ عُمَرُ -رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فقام إِلَيْهِ فَقَالَ: مِمَّن الرَّجُلُ؟ قَالَ: مِنَ اليَمَنِ, قَالَ: مَا فَعَلَ الَّذِي حَرَّقَهُ الكَذَّابُ بِالنَّارِ؟ قَالَ: ذَاكَ عَبْدُ اللهِ بنُ ثُوَبٍ, قَالَ: نَشَدْتُكَ بِاللهِ, أَنْتَ هُوَ؟ قَالَ: اللهمَّ نَعَمْ، فَاعْتَنَقَهُ عُمَرُ وَبَكَى، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ حَتَّى أَجْلَسَهُ فِيْمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصِّدِّيْقِ، فَقَالَ: الحَمْدُ للهِ الَّذِي لَمْ يُمِتْنِي حَتَّى أَرَانِي فِي أُمَّةِ مُحَمَّدٍ مَنْ صُنِعَ بِهِ كَمَا صُنِعَ بإبراهيم الخليل. رواه عبد الوهاب بن نجد، وَهُوَ ثِقَةٌ، عَنْ إِسْمَاعِيْلَ, لَكِنَّ شُرَحْبِيْلَ أَرْسَلَ الحِكَايَةَ.​

سير أعلام النبلاء

علامہ ناصر الدین البانیؒ سے اس قصہ کے متعلق سوال ہوا ، تو فرمایا کہ یہ صحیح ہے ،
شیخ البانی کا یہ جواب ان کی آڈیو کیسٹ میں ہے ان آڈیو کیسیٹس کو مکتبہ شاملہ کیلئے (E book ) کتابی شکل دی گئی ہے ۔
دیکھئے (تفريغ «فتاوى جدة» للشيخ الألباني – الإصدار الرابع ۔ کیسٹ 29 )

جواب

قَالَ إِسْمَاعِيْلُ بنُ عَيَّاشٍ: حَدَّثَنَا شُرَحْبِيْلُ بنُ مُسْلِمٍ قَالَ: أَتَى أَبُو مُسْلِمٍ الخَوْلاَنِيُّ المَدِيْنَةَ وَقَدْ قُبِضَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، واستُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ.
فحدَّثنا شُرَحْبِيْلُ أنَّ الأَسْوَدَ تنبَّأ بِاليَمَنِ، فَبَعَثَ إِلَى أَبِي مُسْلِمٍ، فَأَتَاهُ بِنَارٍ عَظِيْمَةٍ، ثُمَّ إِنَّهُ أَلْقَى أَبَا مُسْلِمٍ، فِيْهَا فَلَمْ تَضَرَّهُ، فَقِيْلَ لِلأَسْوَدِ: إِنْ لَمْ تَنْفِ هَذَا عَنْكَ أَفْسَدَ عَلَيْكَ مَنِ اتَّبَعَكَ، فَأَمَرَهُ بِالرَّحِيْلِ، فَقَدِمَ المَدِيْنَةَ، فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، وَدَخَلَ المَسْجِدَ يُصَلِّي، فَبَصُرَ بِهِ عُمَرُ -رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فقام إِلَيْهِ فَقَالَ: مِمَّن الرَّجُلُ؟ قَالَ: مِنَ اليَمَنِ, قَالَ: مَا فَعَلَ الَّذِي حَرَّقَهُ الكَذَّابُ بِالنَّارِ؟ قَالَ: ذَاكَ عَبْدُ اللهِ بنُ ثُوَبٍ, قَالَ: نَشَدْتُكَ بِاللهِ, أَنْتَ هُوَ؟ قَالَ: اللهمَّ نَعَمْ، فَاعْتَنَقَهُ عُمَرُ وَبَكَى، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ حَتَّى أَجْلَسَهُ فِيْمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصِّدِّيْقِ، فَقَالَ: الحَمْدُ للهِ الَّذِي لَمْ يُمِتْنِي حَتَّى أَرَانِي فِي أُمَّةِ مُحَمَّدٍ مَنْ صُنِعَ بِهِ كَمَا صُنِعَ بإبراهيم الخليل.
شُرَحْبِيْلُ بنُ مُسْلِمٍ نے کہا ابو مسلم خولانی مدینہ پہنچے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی روح قبض ہوئی اور ابو بکر خلیفہ ہوئے پس شُرَحْبِيْلُ بنُ مُسْلِمٍ نے بتایا کہ الاسود کو یمن بھیجا گیا اس نےوہاں ایک عظیم اگ جلائی اور اس میں ابو مسلم کو جھونک دیا لیکن ان کو کوئی نقصان نہ ہوا اس پر الاسود نے کہا اگر تم انکار نہ کرو گے تو تمہارے متبعین فساد کریں گے پس ابو مسلم کو لادھ کر مدینہ لائے اور مسجد میں داخل ہوئے جب نماز ہو رہی تھی اور عمر نے دیکھا ان کے سامنے کھڑے ہوئے پوچھا کہاں سے آئے؟ کہا یمن سے پوچھا اس کذاب کا کیا ہوا جس کو اگ میں جلایا؟ کہا یہ عبد الله بن ثوب ہے کہا الله کی قسم کیا تم ہی ہو ؟ کہا ہاں پس عمر نے اس کو آزاد کر دیا اور روئے اور پھر وہ ابو بکر صدیق کے پاس گئے بیٹھے کہا الله کی تعریف ہے جس نے مجھے موت نہیں دی یہاں تک کہ امت میں دکھایا اس کو جس کے ساتھ وہی سب کیا جو ابراہیم کے لئے کیا تھا

الذھبی نے شرحبيل بن مسلم کا ترجمہ میزان میں قائم کیا ہے وہاں یہ پوری روایت نقل کی ہے اور ابن معین کا قول بھی نقل کیا ہے کہ یہ شرحبيل بن مسلم ضعیف ہے
——-

ابن کثیر کی روایت کی سند میں جعفر بن أبي وحشية إياس، أبو بشر اليشكري الواسطي ہے اس پر بھی جرح ہے
شعبة اس کو ضعیف کہتے

جمال الدين أبو الحجاج يوسف المزي اپنی کتاب تهذيب الكمال في أسماء الرجال اور امام ذھبی اپنی کتاب سیر اعلام النبلاء میں لکھتے ہیں کہ
وقال سلمة بن شبیب سمعت أبا عبد الرحمن المقرئ یقول کانت بنو أمیة إذا سمعوا بمولود اسمه علی قتلوه فبلغ ذلک رباحا فقال هو علی وکان یغضب من علی ویجرح على من سماه به

ابن ہجر بھی اپنی کتاب لسان المیزان میں لکھتے ہیں کہ
علی بن الجهم السلمی: … مشهوراً بالنصب کثیراً الحط على علی وأهل البیت وقیل أنه کان یلعن أباه لم سماه علیاً
جواب عباسی  امیروں کے ناموں میں علی نام  موجود ہے
ایک راوی کے نام میں والد کا نام علی ہے لیکن اس میں ع پر پیش ہےمُوسَى بْنُ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيُّ
اس کی بحث میں ہے کہ اسکا نام عُلَيِّ اس لئے ہوا کہ بنو امیہ اس کو نا پسند کرتے کہ علی نام رکھا جائے لہذا ع پر زبر کی بجائے پیش کر دیاوَيُقَالُ إِنَّ أَهْلَ الْعِرَاقِ كَانُوا يَضُمُّونَ الْعَيْنَ مِنِ اسْمِ أَبِيهِ، وَأَهْلَ مِصْرَ يَفْتَحُونَهَااہل عراق ان کا نام موسی بن علی میں پیش کرتے اور مصر والے زبر سے
اب غور طلب ہے کہ بنو امیہ تو مصر اور شام اور حجاز اور عراق سب پر قابض تھے تو ایسا تو پورے عالم میں ہونا چاہیے کہ علی کو پیش سے ہی پڑھا جاتا
لیکن عراق جو شیعوں کا گڑھ رہا وہاں ان کے ناموں میں بھی اس قسم کی کوئی پانبدی نہیں ملتی کہ علی کو پیش سے پڑھتے ہوں
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَتُّوثِيُّ، ثَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الرَّازِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ شَيْبٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، يَقُولُ: إِنَّمَا سُمِّيَ مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ لأَنَّهُ كَانَ فِي زَمَنِ بَنِي أُمَيَّةَ إِذَا سُمِّيَ الْمَوْلُودُ عَلِيًّا قَتَلُوهُ
اس قول کو أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، سے منسوب کیا گیا ہے جنہوں نے اس قول کا مصدر نہیں بتایا
تلخيص المتشابه في الرسمالمؤلف: أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت بن أحمد بن مهدي الخطيب البغدادي (المتوفى: 463هـ) کے مطابق
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ الْبَصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذَّهَبِيُّ، قَالا: ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّكَّرِيُّ، ثَنَا أَبُو يَعْلَى الْمِنْقَرِيُّ، ثَنا الأَصْمَعِيُّ، قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ أَهْلَ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ يَكْرَهُونَ أَنْ يَقُولُوا: عُلَيٌّ، وَيَقُولُونَ: هُوَ عَلِيٌّ
اہل موسی بن علی اس سے کراہت کرتے کہ علی کو پیش کیا جائے اور کہتے علی زبر سے بولو

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر فرمارہے تھے کہ ہشام بن مغیرہ جو ابو جہل کا باپ تھا اس کی اولاد ( حارث بن ہشام اورسلم بن ہشام ) نے اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کرنے کی مجھ سے اجازت مانگی ہے لیکن میں انہیں ہر گز اجازت نہیں دوں گا یقینا میں اس کی اجازت نہیں دوں گا ہر گز میں اس کی اجازت نہیں دوں گا ۔ البتہ اگر علی بن ابی طالب میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہیں ( تو میں اس میں رکاوٹ نہیں بنوں گا ) کیونکہ وہ ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ) میرے جگر کا ایک ٹکڑا ہے جو اس کو برا لگے وہ مجھ کو بھی برا لگتا ہے اور جس چیز سے اسے تکلیف پہنچتی ہے اس سے مجھے بھی تکلیف پہنچتی ہے

صحیح مسلم کی حدیث ہے جس میں الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ کو ننگے چلنے سے حضور صلی الله علیہ وسلم نے روکا

صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَيْضِ (بَابُ الَاعْتِنَاءِ بِحِفْظِ الْعَوْرَةِ) صحیح مسلم: کتاب: حیض کا معنی و مفہوم (باب: ستر کی حفاظت پر توجہ دینا)

773

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: أَقْبَلْتُ بِحَجَرٍ أَحْمِلُهُ ثَقِيلٍ وَعَلَيَّ إِزَارٌ خَفِيفٌ، قَالَ: فَانْحَلَّ إِزَارِي وَمَعِيَ الْحَجَرُ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَضَعَهُ حَتَّى بَلَغْتُ بِهِ إِلَى مَوْضِعِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْجِعْ إِلَى ثَوْبِكَ فَخُذْهُ، وَلَا تَمْشُوا عُرَاةً .
حکم : صحیح 773 . حضرت مسور بن مخرمہ ﷜ سے روایت ہے ، کہا: میں ایک بھاری پتھر اٹھانے ہوئے آیا اور میں نے ایک ہلکا سے تہبند باندھا ہوا تھا ، کہا: تو میرا تہبند کھل گیا اور پتھر میرے پاس تھا۔ میں اس (پتھر) کے نیچے نہ رکھ سکا حتی کہ اسے اس کی جگہ پہنچا دیا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’واپس جا کر اپنا کپڑا پہنو اور ننگے نہ چلا کرو ۔‘‘

اس وقت ان بنیادی چیزوں کا علم ان کو نہیں تھا- لیکن پوری حدیث بیان کر دی

کیا یہ حدیث قرآن کے خلاف نہیں فَانْكِحُوا ما طابَ لَكُمْ مِنَ النِّساءِ مَثْني وَ ثُلاثَ وَ رُباع النساء

عثمان نے بھی رملہ سے شادی کی تھی
رملة بنت شيبة بن ربيعة بن عبد شمس العبشمية قتل أبوها يوم بدر كافرا

العسقلاني، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل الشافعي، الإصابة في تمييز الصحابة، ج 7، ص 654، 11186، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل – بيروت، الطبعة: الأولي، 1412 – 1992.

جواب

میرے نزدیک سند صحیح ہے
الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ صحابی ہیں ان کی ثقاہت مسلمہ ہے کیونکہ یہ عدول میں سے ہیں

اس روایت کو عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طالب، زين العابدين نے بھی روایت کیا ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَلِيًّا خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ فَاطِمَةَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحٌ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَشَهِدْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَشَهَّدَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: “أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ ابْنَتِي فَحَدَّثَنِي، فَصَدَقَنِي، وَإِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي وَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ عِنْدَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ” فَأَمْسَكَ عَلِيٌّ عَنِ الْخِطْبَةِ
ابو داود میں ہے

اور صحیح مسلم میں ہے
حَدَّثَنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَهُ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحًا ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ: “أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ، فَحَدَّثَنِي، فَصَدَقَنِي وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ مُضْغَةٌ مِنِّي، وَإِنَّمَا أَكْرَهُ أَنْ يَفْتِنُوهَا، وَإِنَّهَا، وَاللهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا” قَالَ: فَتَرَكَ عَلِيٌّ الْخِطْبَة.

اگر یہ جھوٹ ہوتا تو دادا کے حوالے سے عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طالب، زين العابدين اس کو روایت کیوں کرتے تھے؟

کتاب بغية الباحث عن زوائد مسند الحارث از أبو محمد الحارث بن محمد بن داهر التميمي البغدادي الخصيب المعروف بابن أبي أسامة (المتوفى: 282هـ) میں علی بن حسین نے اپنی سند سے اس کو روایت کیا ہے المسور کا نام لئے بغیر

حَدَّثَنَا عَفَّانُ , ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ , أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ , عَلَيْهِ السَّلَامُ أَرَادَ أَنْ يَخْطُبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ , فَقَالَ النَّاسُ: أَتَرَوْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِدُ مِنْ ذَلِكَ , فَقَالَ نَاسٌ: وَمَا ذَاكَ إِنَّمَا هِيَ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسَاءِ , وَقَالَ نَاسٌ: لَيَجِدَنَّ مِنْ هَذَا يَتَزَوَّجُ ابْنَةَ عَدُوِّ اللَّهِ عَلَى ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَزْعُمُونَ أَنِّي لَا أَجِدُ لِفَاطِمَةَ , وَإِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي , إِنَّهُ لَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتَزَوَّجَ ابْنَةَ عَدُوِّ اللَّهِ عَلَى ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

صحیح بخاری میں ہے مسور نے کہا میں نے جب یہ سنا مجھ کو احتلام ہوتا تھا
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الجَرْمِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، أَنَّ الوَلِيدَ بْنَ كَثِيرٍ، حَدَّثَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيِّ، حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ، حَدَّثَهُ: أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا المَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ، لَقِيَهُ المِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا؟ فَقُلْتُ لَهُ: لاَ، فَقَالَ لَهُ: فَهَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ القَوْمُ عَلَيْهِ، وَايْمُ اللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ، لاَ يُخْلَصُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا حَتَّى تُبْلَغَ نَفْسِي، إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ، فَقَالَ: «إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي، وَأَنَا أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا»، ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ، قَالَ: «حَدَّثَنِي، فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَى لِي، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلاَلًا، وَلاَ أُحِلُّ حَرَامًا، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ أَبَدًا»

البتہ طبقات ابن سعد میں واقدی کا قول ہے
قال محمد بن عمر: قبض رسول الله ص. والمسور بن مخرمة ابن ثماني سنين
رسول الله کی روح قبض ہوئی اس وقت مسور بن مخرمہ آٹھ سال کے تھے اور چند احادیث یاد کیں

آٹھ سال کی عمر میں احتلام نہیں ہوتا یعنی محدثین کے نزدیک مسور بڑے تھے کم از کم ١٣ یا ١٤ سال کے ہو چکے تھے جبکہ واقدی کے نزدیک وہ ٨ سال کے بچے تھے

دوسرا قول ہے
التوضيح لشرح الجامع الصحيح میں ابن ملقن کا کہنا ہے
قَالَ صاحب “الأفعال”: حلم حلمًا إذا عقل
“الأفعال” لابن القطاع 1/ 234.
حلم سے مراد یہاں عقل آنا ہے

صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَيْضِ (بَابُ الَاعْتِنَاءِ بِحِفْظِ الْعَوْرَةِ) صحیح مسلم: کتاب: حیض کا معنی و مفہوم (باب: ستر کی حفاظت پر توجہ دینا) 773 میں ہے

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: أَقْبَلْتُ بِحَجَرٍ أَحْمِلُهُ ثَقِيلٍ وَعَلَيَّ إِزَارٌ خَفِيفٌ، قَالَ: فَانْحَلَّ إِزَارِي وَمَعِيَ الْحَجَرُ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَضَعَهُ حَتَّى بَلَغْتُ بِهِ إِلَى مَوْضِعِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْجِعْ إِلَى ثَوْبِكَ فَخُذْهُ، وَلَا تَمْشُوا عُرَاةً .
حکم : صحیح 773 . حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت ہے ، کہا: میں ایک بھاری پتھر اٹھانے ہوئے آیا اور میں نے ایک ہلکا سے تہبند باندھا ہوا تھا ، کہا: تو میرا تہبند کھل گیا اور پتھر میرے پاس تھا۔ میں اس (پتھر) کے نیچے نہ رکھ سکا حتی کہ اسے اس کی جگہ پہنچا دیا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: واپس جا کر اپنا کپڑا پہنو اور ننگے نہ چلا کرو ۔

اس روایت سے مطلقا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ المسور لا شعور بچے تھے

المسور کا اس روایت کو بیان کرنے میں تفرد نہیں ہے – اس کو عبدالله بن زبیر نے بھی بیان کیا ہے

أَنَّ بن الزُّبَيْرِ وُلِدَ فِي السَّنَةِ الْأُولَى فَيَكُونُ عُمُرُهُ عِنْدَ الْوَفَاةِ النَّبَوِيَّةِ تِسْعَ سِنِينَ
اور ابن زبیر وفات النبی کے وقت نو سال کے تھے

ترمذی میں ہے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا، ذَكَرَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: “إِنَّمَا فَاطِمَةُ بِضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا وَيُنْصِبُنِي مَا أَنْصَبَهَا”: ” هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ هَكَذَا قَالَ أَيُّوبُ: عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ المِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، رَوَى عَنْهُمَا جَمِيعًا
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ نے کہا علی نے بنت ابی جھل کا ذکر کیا جس کو خبر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ہوئی پس کہا فاطمہ میرا حصہ ہے جس نے اس کو اذیت دی اس نے مجھے دی

مسند احمد میں ہے
دَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا ذَكَرَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّهَا فَاطِمَةُ بِضْعَةٌ مِنِّي، يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا، وَيُنْصِبُنِي مَا أَنْصَبَهَا

اس کو ابن عباس نے بھی بیان کیا ہے
المعجم الصغير اور المعجم الكبير از طبرانی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ مِهْرَانَ النَّاقِدُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُرُزِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَامٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبِ، خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتَ تَزَوَّجُهَا , فَرُدَّ عَلَيْنَا ابْنَتَنَا» إِلَى هَا هُنَا انْتَهَى حَدِيثُ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ وَفِي غَيْرِ هَذَا زِيَادَةٌ قَالَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ , لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ تَحْتَ رَجُلٍ
البتہ یہ سند ضعیف ہے

امام حاکم نے مستدرک میں آدھی روایت دی ہے
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثَنَا أَبِي، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيلِيُّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ بَعْدَ مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا، لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَقَالَ: «سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِهِ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ»

عثمان رضی الله عنہ نے رقیہ یا ام کلثوم رضی الله عنہما کی موجودگی میں رملة بنت شيبة بن ربيعة رضی الله عنہا سے نکاح نہیں کیا تھا
کتاب الإصابة في تمييز الصحابة از ابن حجر میں ہے
فكأنه تزوجها بعد رقية أو بعد أم كلثوم.
عثمان نے رملہ سے شادی رقیہ کے بعد کی یا ام کلثوم کے بعد کی
ام کلثوم رضی الله عنہا کی وفات سن ٩ ہجری کی ہے –

سوال

کیا یہ حدیث قرآن کے خلاف نہیں
فَانْكِحُوا ما طابَ لَكُمْ مِنَ النِّساءِ مَثْني وَ ثُلاثَ وَ رُباع
النساء

جواب
قرآن میں اجازت ہے کہ مرد ایسا کر سکتے ہیں- اسی بنا پر علی کو بھی خواہش ہوئی لیکن داماد النبی ہونے کی وجہ سے ان پر پابندی خود رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے لگا دی کہ وہ فاطمہ کی زندگی میں شادی نہیں کر سکتے
جہاں تک میں نے غور کیا ہے علی کو لونڈی بھی نہیں دی گئی
اپ کو اس پر کوئی روایت ملے تو خبر کریں کہ دور نبوی میں علی کو کوئی لونڈی دی گئی ہو

مجھ کو کوئی حدیث نہیں ملی کہ جنگوں کے بعد کوئی لونڈی علی رضی الله عنہ کو دی گئی ہو
علی رضی الله عنہ کا مال فدک یا مال فے میں خمس کا حصہ تھا لیکن اس میں ان کو لونڈی نہیں دی گئی

شیعہ کتاب من لا يحضره الفقيه از الصدوق میں ہے
لو أتيت أباك فسألته خادما يكفيك حر ما أنت فيه من هذا العمل، قال: أفلا أعلمكما ما هو خير لكما من الخادم؟ إذا أخذتما منامكما(5) فكبرا أربعا وثلاثين تكبيرة، وسبحا ثلاثا وثلاثين تسبيحة، واحمدا ثلاثا وثلاثين تحميدة، فأخرجت فاطمة عليها السلام رأسها وقالت: ” رضيت عن الله وعن رسوله رضيت عن الله وعن رسوله
فاطمہ رضی الله عنہا نے روزمرہ کے کام کاج تھک جانے کی بنا پر اپنے والد ماجد سے گھر کے لئے ایک خادم مقرر کرنے کی درخواست کرنا چاہتی تھیں، لیکن آپ(ص) نے سیدہ(س) کی درخواست کے جواب میں یہ تسبیح آپ(س) کو سکھا دی اور اس کو ہر خادم سے افضل قرار دیا

اہل سنت میں یہ روایت سنن ابو داود میں ہے
حدَّثنا حفصُ بنُ عُمر، حدَّثنا شعبةُ. وحدَّثنا مُسَدَّدٌ، حدَّثنا يحيى، عن شُعبة -المعنى- عن الحكمِ، عن ابنِ أبي ليلى، -قال مُسَدَّدٌ: قال:-
حدَّثنا عليٌّ، قال: شَكَت فاطمةُ إلى النبيَّ -صلَّى الله عليه وسلم- ما تلقَى في يَدِها مِن الرَّحَى، فاُتِي بسَبْي، فأتتْهُ تسألُهُ، فلم تَرَه، فأخبرَت بذلك عائشةَ، فلما جاء النبيَّ -صلَّى الله عليه وسلم- أخبرته، فأتانا وقد أخذْنا مضاجِعَنَا، فذهبنا لِنقومَ، فقال: “على مكانِكُما” فجاء فقعَدَ بينَنَا، حتى وجدتُ بردَ قدَميهِ على صدري، فقال: “ألا أدلُّكُما على خيرٍ مِمَّا سألتما؟ إذا أخذتُما
مضاجِعَكُما فسبِّحَا ثلاثاً وثلاثين، واحْمَدَا ثلاثاً وثلاثين، وكبِّرا أربعاً وثلاثينَ، فهو خيرٌ لكما مِنْ خادمٍ

ایک مرتبہ حضور اکرمﷺ کی خدمت میں کچھ غلام اور باندیاں آئیں تو حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہؓ کو مشورہ دیا کہ اس موقع پر تم حضور ﷺ کی خدمت میں جاکر ایک خادمہ کا مطالبہ کرو۔جو تمہاری گھریلو ضروریات میں تمہارے ساتھ تعاون کرسکے۔چنانچہ حضرت فاطمہؓ اسی غرض سے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔اس وقت کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر تھے۔اس لئے حضرت فاطمہؓ واپس آگئیں۔پھر جب دوسرے وقت حضورﷺ حضرت فاطمہؓ کے گھر تشریف لائے تو اس وقت حضرت علیؓ بھی موجود تھے۔حضورﷺ نے دریافت فرمایا کہ فاطمہؓ تم اس وقت مجھ سے کیا کہنا چاہتی تھیں۔حضرت فاطمہؓ تو حیا کی بنا پر خاموش رہیں۔لیکن حضرت علیؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ! فاطمہؓ کے چکی پیسنے کی وجہ سے ہاتھوں میں چھالے اور مشکیزہ اٹھانے کی وجہ سے جسم پر نشان پڑگئے ہیں۔اس وقت آپﷺ کے پاس کچھ خادم ہیں تو میں نے ان کو مشورہ دیا تھا کہ یہ آپﷺ سے ایک خادم طلب کرلیں۔تاکہ اس مشقت سے بچ سکیں۔حضورﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ اے فاطمہؓ! کیا تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتا دوں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے۔جب تم رات کو سونے لگو تو ۳۳ بار سبحان اللہ، ۳۳ بار الحمدللہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر پڑھ لیا کرو۔(ابو داؤد ج ۲ ص ۶۴)

یعنی علی رضی الله عنہ کو لونڈی نہیں دی گئی ورنہ کام فاطمہ رضی الله عنہا کو نہ کرنا پڑتا

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب کسی لونڈی سے منع کیا تو یہ بھی مومنوں کو قبول کرنا ہو گا
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا
أور رسول جو دے اس کو لو اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ

یمن میں جو لونڈی علی رضی الله عنہ نے خود لی وہ امیر سریہ کے تحت لی چونکہ شرعا وہ یہ کر سکتے تھے اس پر علی پر جرح نہیں کی گئی ورنہ عموم یہی تھا کہ مال مدینہ پہنچ کر بٹتا تھا جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کرتے تھے – اسی بنا پر اصحاب رسول کا یمن میں علی سے اختلاف ہوا کہ ان کو انتظار کرنا چاہیے تھا لیکن جب رسول الله کو خبر دی گئی تو اپ نے اس کی اجازت دے دی

اس طرح کی اور مثالین بھی ہیں مثلا اصحاب رسول نے کافر سے دم کرنے پر بکریاں لیں لیکن تردد ہوا کہ صحیح کیا یا نہیں مدینہ وہ بکریاں بھی پہنچا دی گئیں اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی کہ ایسا کرنا اس وقت پر صحیح تھا
اس روایت کو اہل تشیع بیان کرتے رہے ہیں- اس پر جرح عصر حاضر میں ہی کی گئی ہے
مثلا مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول از محمد باقر المجلسي میں ہے

و مما يدل على عصمتها صلوات الله عليها الأخبار الدالة على أن إيذاءها إيذاء الرسول، و أن الله تعالى يغضب لغضبها و يرضى لرضاها، كما روى البخاري و مسلم و غيرهما عن المسور بن مخرمة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه و آله يقول، و هو على المنبر إنه قال في سياق حديث فاطمة: فإنما هي بضعة مني يربيني ما رابها، و يؤذيني من آذاها.
و قد روى البخاري و مسلم و غيرهما أنه صلى الله عليه و آله قال: فاطمة بضعة مني يؤذيني
ما آذاها.
و في صحيح الترمذي عن ابن الزبير قال صلى الله عليه و آله و سلم: إنما فاطمة بضعة مني يؤذيني ما آذاها و ينصبني ما أنصبها.
و روي في المشكاة عن المسور بن مخرمة أنه قال صلى الله عليه و آله: فاطمة بضعة مني فمن أغضبها فقد أغضبني.
و روى ابن شهرآشوب عن مستدرك الحاكم بإسناده أن النبي صلى الله عليه و آله قال:
فاطمة شجنة مني يقبضني ما يقبضها، و يبسطني ما يبسطها، و عن أبي سعيد الواعظ في شرف النبي صلى الله عليه و آله و سلم و أبي عبد الله العكبري في الإبانة، و محمود الإسفرائيني في الديانة رووا جميعا أن النبي صلى الله عليه و آله قال: يا فاطمة إن الله يغضب لغضبك و يرضى لرضاك.

محمد باقر المجلسي المتوفی ١١١١ ھ نے اس روایت کو رد نہیں کیا ہے

اس روایت پر جرح محمد حسين الطباطبائي المتوفی ١٤٠٢ھ نے تفسیر میں کی ہے اور ان کے بعد شیعوں نے اس جرح کو لکھا شروع کر دیا ہے – محمد حسين الطباطبائي کی تحقیق شاذ اقوال پر مبنی ہے مثلا ابن زبیر کی سند سے روایت کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ علی رضی الله عنہ کے دشمن تھے

ان سے قبل اہل تشیع کے متعدد علماء نے بلا تحقیق اس روایت کو ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث قرار دیا اور ان پر جرح کی اور حیرت اس پر ہے کہ ایک نہیں بہت سے لوگ تھے جو اس کو ابو ہریرہ کی حدیث کہہ گئے جبکہ یہ ابن زبیر اور المسور رضی الله عنہم کی سند سے ہے

جواب
عقیدے کی نجاست مراد ہے
سوره التوبه سن ٩ هجري مين نازل ہوئی جس میں مشرکین مکہ کو نجس کہا گیا ہے
يا أيها الذين آمنوا إنما المشركون نجس فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا
اے ایمان والوں مشرک ناپاک ہیں پس اس سال کے بعد یہ مسجد الحرام کے قریب نہ جانے پائیں

مشرکین مکہ بہت سے عمل کرتے جو اللہ کو نا پسند تھے مثلا کعبہ کا برہنہ طواف کرنا اور اسلام کے سیاسی کنٹرول کے لئے ضروری تھا کہ مشرکین کعبہ سے دور رھیں اور ان کا مذھب عرب میں معدوم ہو جائے لہذا جب الله نے یہ حکم دیا کہ مشرک نجس ہیں کعبہ سے دور رہیں تو گویا مشرکین کا دھرم ختم ہو گیا

سوره التوبہ کا حکم خاص مسجد الحرام کے لئے ہے مسجد النبی پر اس کا اطلاق نہیں ہو گا
مسجد النبی میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یمن کے نصرانییوں کو عبادت کی اجازت دی تھی جب وہ ان سے ملنے وفد لے کر آئے تھے اور آیات مباہلہ کا نزول ہوا تھا – آیات مباہلہ کا نزول سن ٩ ہجری میں ہے اور السمهودي (خلاصة الوفا بأخبار دار المصطفى) کے مطابق یہ سن ١٠ ہجری کا واقعہ ہے

معلوم ہوا کہ اہل کتاب میقات کی حدود میں بھی داخل ہو سکتے ہیں مسجد النبی میں بھی داخل ہو سکتے ہیں

ذِكْرُ إِرَادَةِ مُعَاوِيَةَ نَقْلَ الْمِنْبَرِ مِنَ الْمَدِينَةِوَفِي هَذِهِ السَّنَةِ أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بِمِنْبَرِ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – أَنْ يُحْمَلَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الشَّامِ، وَقَالَ: لَا يُتْرَكُ هُوَ وَعَصَا النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، بِالْمَدِينَةِ وَهُمْ قَتَلَةُ عُثْمَانَ، وَطَلَبَ الْعَصَا، وَهُوَ عِنْدُ سَعْدٍ الْقَرَظِ، فَحُرِّكَ الْمِنْبَرُ فَكُسِفَتِ الشَّمْسُ حَتَّى رُؤَيَتِ النُّجُومُ بَادِيَةً، فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ، فَتَرَكَهُ. وَقِيلَ أَتَاهُ جَابِرٌ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَقَالَا لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا يَصْلُحُ أَنْ تُخْرِجَ مِنْبَرَ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – مِنْ مَوْضِعٍ وَضَعَهُ، وَلَا تَنْقُلْ عَصَاهُ إِلَى الشَّامِ، فَانْقُلِ الْمَسْجِدَ، فَتَرَكَهُ، وَزَادَ فِيهِ سِتَّ دَرَجَاتٍ وَاعْتَذَرَ مِمَّا صَنَعَ.فَلَمَّا وَلِيَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ هَمَّ بِالْمِنْبَرِ، فَقَالَ لَهُ قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ: أُذَكِّرُكَ اللَّهَ أَنْ تَفْعَلَ! إِنَّ مُعَاوِيَةَ حَرَّكَهُ فَكُسِفَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ حَلَفَ عَلَى مِنْبَرِي [آثِمًا] فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» ، فَتُخْرِجُهُ مِنَ الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُقَطَّعُ الْحُقُوقِ عِنْدَهُمْ بِالْمَدِينَةِ

جواب یہ سب طبقات ابن سعد میں ہے

ہا گیا معاویہ نے ارادہ کیا کہ منبر شام منتقل کریں تو منبر ہلا ، سورج کو گرہن لگ گیا اور آسمان پر تارے نظر آئے
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَحَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْد اللَّيْثِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عبد الرحمن ابن خاطب، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أنا أنظر إِلَى عثمان يخطب على عصا النبي ص الَّتِي كَانَ يخطب عَلَيْهَا وأبو بكر وعمر رضي اللَّه عنهما، فَقَالَ لَهُ جَهْجَاه: قم يَا نعثل، فانزل عن هَذَا الْمِنْبَر، وأخذ العصا فكسرها عَلَى ركبته اليمنى، فدخلت شظية منها فِيهَا، فبقي الجرح حَتَّى أصابته الأكلة،فرأيتها تدود، فنزل عُثْمَان وحملوه وأمر بالعصا فشدوها، فكانت مضببة، فما خرج بعد ذَلِكَ الْيَوْم إلا خرجة أو خرجتين حَتَّى حصر فقتل.

واقدی نے کہا اسَامَةُ بْنُ زَيْد اللَّيْثِيُّ نے بیان کیا انہوں نے يَحْيَى بْنِ عبد الرحمن ابن خاطب، سے روایت کیا انہوں نے اپنے باپ سے کہ عثمان منبر پر خطاب کر رہے تھے جس پر ابو بکر اور عمر نے خطاب کیا ، عصا النبی کو لئے اور میں دیکھ رہا تھا کہ جَهْجَاه نے کہا اٹھ اے نعثل اس منبر سے اتر اور عثمان کے ہاتھ سے عصا چھین لیا اور اس کا سیدھا حصہ توڑ ڈالا
واقدی کے بقول یہ سب عصا النبی کے ساتھ شیعوں نے کیا اس وجہ سے معاویہ نے کہا مدینہ والوں نے عثمان کا قتل کیا اور انہوں نے ارادہ کیا کہ منبر اور عصا شام منتقل کریں لیکن آسمان کو گرہن لگ گیا

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بن سعيد بن دينار، عن أبيه، قال:قَالَ مُعَاوِيَة: إني رأيت أن منبر رَسُول الله ص وعصاه لا يتركان بِالْمَدِينَةِ، وهم قتلة أَمِير الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَان وأعداؤه، فلما قدم طلب العصا وَهِيَ عِنْدَ سعد القرظ، فجاءه أَبُو هُرَيْرَةَ وجابر بن عَبْدِ اللَّهِ، فقالا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، نذكرك اللَّه عَزَّ وَجَلَّ أن تفعل هَذَا، فإن هَذَا لا يصلح، تخرج منبر رسول الله ص من موضع وضعه، وتخرج عصاه إِلَى الشام، فانقل المسجد، فأقصر وزاد فِيهِ ست درجات، فهو اليوم ثماني درجات، واعتذر إِلَى النَّاسِ مما صنع.معاویہ نے کہا عصا النبی اور منبر مدینہ میں نہیں رہنا چاہیے
سند میں يحيى بن سعيد بن دينار المديني مجہول ہے دوسرا قول ہے کہ سورج کو گرہن لگا

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ: وَحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبَانِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، قَالَ:كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ قَدْ هَمَّ بِالْمِنْبَرِ، فَقَالَ لَهُ قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ: أُذَكِّرُكَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَفْعَلَ هَذَا، وَأَنْ تُحَوِّلَهُ! إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مُعَاوِيَةَ حَرَّكَهُ فَكَسَفَتِ الشمس، [وقال رسول الله ص: مَنْ حَلَفَ عَلَى مِنْبَرِي آثِمًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ،] فَتَخَرَّجَهُ مِنَ الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُقَطِّعُ الْحُقُوقِ بَيْنَهُمْ بِالْمَدِينَةِ! فَأَقْصَرَ عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ ذَلِكَ، وَكَفَّ عَنْ أَنْ يَذْكُرَهُ فَلَمَّا كَانَ الْوَلِيدُ وَحَجَّ هَمَّ بِذَلِكَ

سند میں إسحاق بن عبد الله بن أبى فروة متروک ہے

ابن ھجر  اپنی کتاب تلخيص الحبير میں لکھتے ہیں کہ
قَوْلُهُ: ثَبَتَ أَنَّ أَهْلَ الْجَمَلِ وَصِفِّينَ وَالنَّهْرَوَانِ بُغَاةٌ. هُوَ كَمَا قَالَ، وَيَدُلُّ عَلَيْهِ حَدِيثُ عَلِيٍّ: ” أُمِرْت بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ وَالْقَاسِطِينَ وَالْمَارِقِينَ “. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ فِي الْخَصَائِصِ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالنَّاكِثِينَ: أَهْلُ الْجَمَلِ؛ لِأَنَّهُمْ نَكَثُوا بَيْعَتَهُ، وَالْقَاسِطِينَ: أَهْلُ الشَّامِ؛ لِأَنَّهُمْ جَارُوا عَنْ الْحَقِّ فِي عَدَمِ مُبَايَعَتِهِ، وَالْمَارِقِينَ: أَهْلُ النَّهْرَوَانِ لِثُبُوتِ الْخَبَرِ الصَّحِيحِ فِيهِمْ: «أَنَّهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ»
اس کا کیا مطلب ہے
جواب
روایت أُمِرْت بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ وَالْقَاسِطِينَ وَالْمَارِقِينَ “. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ فِي الْخَصَائِصِ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالنَّاكِثِينَ:علی نے کہا مجھے حکم ہے کہ میں (بیعت نہ کرنے اور) جانے والوں اور (حق سے) تجاوز کرنے والوں اور (بیعت کر کے ) نکل جانے والوں سے قتال کروں
یہ روایت ضعیف ہے – اس کا ذکر امام الذھبی نے کتاب ميزان الاعتدال في نقد الرجال میں حكيم بن جبير (بقول دارقطنی متروک) کے ترجمہ میں کیا ہےاس روایت کو بیان کیا ہےعبيد الله بن موسى، عن فطر، عن حكيم بن جبير، عن إبراهيم، عن علقمة، عن علي: أمرت بقتال الناكثين، والقاسطين، والمارقين
اسی روایت کا ذکر أصبغ بن نباتة (بقول النسائي وابن حبان متروک) کے ترجمہ میں بھی کیا ہےوعن علي بن الحزور، عن الأصبغ بن نباته، عن أبي أيوب، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه أمرنا بقتال الناكثين والقاسطين والمارقين

ابن حجر نے التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير میں ایک روایت کو بحث میں اوپر والی روایت کا ذکر کیا کہا

میں ابن حجر کہتا ہوں الإمام أبو القاسم القزويني الرافعي صاحب “الشرح الكبير” نے جو کہا ثَبَتَ أَنَّ أَهْلَ الْجَمَلِ وَصِفِّينَ وَالنَّهْرَوَانِ بُغَاةٌ. کہ ثابت ہے کہ اہل جمل و صفین اور نہروان باغی تھے تو یہ ایسا ہی ہے جیسا کہا

ابن حجر نے لسان المیزان میں جب میزان الاعتدال از الذھبی کی تہذیب کی تو اس روایت کو الأصبغ بن نباته اور حكيم بن جبير کے ترجموں سے حذف بھی کر دیاابن حجر کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے

لیکن کتاب المطَالبُ العَاليَةُ بِزَوَائِدِ المسَانيد الثّمَانِيَةِ از ابن حجر میں جامعة الإمام محمد بن سعود کے محقق سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشثري لکھتے ہیںإن الحديث روي من حديث جملة مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وله طرق متعددة من حديث علي رضي الله عنه، وأبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه، ولكن لا يخلو طريق منها عن ضعف، بل أكثرها ضعيفة جدًا، وسبب ضعفه في الغالب أن أحد رواة الإِسناد شيعي والحديث في فضل علي رضي الله عنه، لذا لا يقبل حديثه في بدعته عند علماء هذا الشأن، وقد أطلق بعض العلماء القول بوضعه مثل شيخ الإِسلام ابن تيمية كما سيأتي قريبًا، ولكن يستثنى من ذلك الجزء الأخير وهو قوله: (المارقين) لأنه ورد من طرق أخرى قتال علي رضي الله عنه الخوارج كما سيأتي بعد قليل.أقوال العلماء في الحديث:أطلق مجموعة من العلماء القول بعدم صحته، ومنهم من حكم عليه بالضعف وآخرون قالوا بأنه موضوع.
1 – أبو جعفر العقيلي رحمه الله:أخرج الحديث في الضعفاء (2/ 51)، من طريق الربيع بن سهل، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الوالبي، عن علي رضي الله عنه، به، ثم قال: “الأسانيد في هذا الحديث عن علي ليّنة الطرق، والرواية عنه في الحرورية صحيحة”.وأخرجه أيضًا (3/ 480) من طريق الْقَاسِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قال: سمعت عمار بن ياسر يقول، فذكره بنحوه، ثم قال: “ولا يثبت في هذا الباب شيء”.2 – ابن حبّان رحمه الله:ذكر الحديث في كتابه المجروحين (1/ 174)، وقد تقدم الكلام عليه آنفًا.3 – ابن الجوزي رحمه الله:أما ابن الجوزي رحمه الله فقد حكم عليه بالوضع، وذكره في الموضوعات (2/ 12 – 13)، وقال: هذا حديث موضوع بلا شك … وقال أيضًا: هذا حديث لا يصح.4 – الذهبي رحمه الله:قال في تلخيص المستدرك (3/ 140) عن هذا الحديث كما سبق: “لم يصح، وساقه الحاكم بإسنادين مختلفين إلى أبي أيوب ضعيفين”.5 – الحافظ ابن كثير رحمه الله:قال في البداية والنهاية (7/ 316) بعد أن أورد الحديث: فإنه حديث غريب ومنكر، على أنه قد روي من طرق عن علي، وعن غيره، ولا تخلو واحدة منها عن ضعف”.6 – أبو العباس أحمد بن تيمية رحمه الله:لم يرو علي رضي الله عنه في قتال الجمل وصفين شيئًا، كما رواه في قتال الخوارج، بل روى الأحاديث الصحيحة، هو وغيره من الصحابة في قتال الخوارج المارقين، وأما قتال الجمل وصفين، فلم يرو أحد منهم إلَّا القاعدون، فإنهم رووا الأحاديث في ترك القتال في الفتنة، وأما الحديث الذي يروي أنه أمر بقتل الناكثين والقاسطين، والمارقين، فهو حديث موضوع على النبي -صلى الله عليه وسلم-“.وقال أيضًا في المنهاج (5/ 50) ردًا على حديث عامر بن واثلة وفيه: قال علي: فأنشدكم بالله هل فيكم أحد قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم-: تقاتل الناكثين والفاسقين والمارقين، على لسان النبي -صلى الله عليه وسلم- غيري؟ قالوا: لا … الحديث.قال شيخ الإِسلام: “هذا كذب باتفاق أهل المعرفة بالحديث”.الأحاديث التي وردت في قتال المارقين، وهم الخوارج:
ان اقوال کو لا کر سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشثري نے اس روایت کو رد کیا
البانی نے اس روایت کا ذکر سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة میں ح ٤٩٠٧ میں کیا ہے اور اس گھڑی ہوئی قرار دیا ہے – حسين سليم أسد نے مسند ابو یعلی میں إسناده ضعيف قرار دیا ہے – الذھبی نے تلخیص مستدرک میں اس کو لم يصح یعنی صحیح نہیں قرار دیا ہے – ابن الجوزي نے اس کا “الموضوعات میں ذکر کیا ہے
کتاب التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِیر میں محمد بن إسماعيل بن صلاح بن محمد الحسني، الكحلاني ثم الصنعاني، أبو إبراهيم، عز الدين، المعروف كأسلافه بالأمير (المتوفى: 1182هـ) لکھتے ہیںوقال الشوكاني رحمه الله تعالى: “والواجب علينا الإيمان بأنه -أي عليا- عليه السلام وصي رسول الله – صلى الله عليه وسلم – ولا يلزمنا التعرض للتفاصيل الموصى بها، فقد ثبت -أنه أمره بقتال الناكثين والقاسطين والمارقين وعين له علاماتهم وأودعه جملاً من العلوم وأمره بأمور خاصة كما سلف، فجعل الموصى بها فرداً منها ليس من دأب المنصفين”

.امام شوکانی نے کہا ہم پر واجب ہے کہ ہم ایمان رکھیں کہ علی علیہ السلام وصی رسول الله صلی الله علیہ وسلم تھے اور ہم پر لازم نہیں ہے کہ ہمجس کی وصیت کی گئی (یعنی علی) اس کی فضیلت سے تعرض کریں کہ ان کو تو حکم ہوا تھا کہ قتال کریں الناكثين والقاسطين والمارقين اور یہ ان کے لئے علامت ہوئی
یعنی شوکانی کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے – ابن حجر نے میزان از الذھبی کی تہذیب کرتے وقت اس روایت کو حكيم بن جبير اور أصبغ بن نباتة کے ترجموں سے بھی حذف کر دیا
اہل سنت اس روایت کو رد کرتے رہے یہاں تک کہ شوکانی نے اس کو علی کی فضیلت میں لیا اور شوکانی کے بقول اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ علی وصی النبی تھے یعنی ان کی خلافت کی وصیت کی گئی تھی
راقم کہتا ہے روایت صحیح سند سے نہیں ہے راویوں پر سخت جرح ہے متروک تک کہا گیا ہے

جواب

عورتوں کا وگ پہننا حرام ہے مثلا بنی اسرائیل کی عورتوں کے لئے اتا ہے کہ انہوں نے اس کو کیا اور اس پر ان پر لعنت کی گئی تاکہ اپنے حسن کی طرف مائل کریں جبکہ یہ بال ان کے نہ تھے
یہودی عورتوں کو سر ڈھکنے کا حکم ہے لہذا آج بھی ان میں سے بعض گنجی ہو جاتی ہیں اور وگ سر پر رکھتی ہیں اس طرح ان کے بقول سر ڈھک جاتا ہے
اس تصنع اور بناوٹ سے حدیث میں منع کیا گیا ہے

آج کل جو بالوں کا ٹرانسلپلانٹ ہوتا ہے اس کا اس روایت میں ذکر نہیں ہے کیونکہ وہ ایک علاج ہے جس میں بال واپس جسم کی کھال میں اگنے لگتے ہیں

اسی طرح دانت لگوانا بھی علاج ہے

جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب

Comments are closed.