غلو ٢

اول  وہ حدیث صحیح ہے کہ الله تعالی ہاتھ پیر آنکھ بن جاتے ہیں؟

دوم وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى کا مطلب ہے نبی کا ہاتھ الله کا ہاتھ تھا؟

سوم بیعت رضوان میں ید الله فوق ہے کا مطلب ہے الله کا ہاتھ تھا؟

جواب

یہ سب جاہلوں کا کلام ہے

نبی صلی الله علیہ وسلم نے جنگ میں مٹی کفار پر پھینکی اس پر تبصرہ ہوا
وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى
اور تم نے نہیں پھینکا جو پھینکا لیکن الله نے پھینکا

يد الله فوق أيديهم
ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ تھا

يه ادبی انداز ہے کہ الله کی مدد شامل حال ہے
اس کو ظاہر پر لینا اور کہنا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ہاتھ الله کا ہاتھ تھا غلو کی بدترین مثال ہے
یہ عبد اور الہ کے درمیان اتحاد کی بات ہے جو پس پردہ ان صوفیوں کے عقیدہ ہیں یعنی
حلول
وحدت الوجود اور الشہود

اس کی تفصیل اپ کو ڈاکٹر عثمانی کی کتاب ایمان خالص حصہ اول میں ملے گی
تصوف کے حوالے سے کتاب ایمان الخالص پہلی قسط
http://www.islamic-belief.net/literature/urdu-booklets/

نبی صلی الله علیہ وسلم کو ان آیات سے بتایا گیا کہ اس جنگ میں جو بھی ہوا وہ سب الله کی مرضی سے ہوا اور جو بیعت لی وہ بھی اسی کی مرضی سے ہوئی
بظاہر تو مسلمان اور مشرک لڑ رہے تھے لیکن پوری جنگ الله کے کنٹرول میں تھی وہی اس کو الٹ پلٹ کر رہا تھا مسلمان اسی کے حکم پر شہید ہو رہے تھے اور کفار مر رہے تھے

نبی نے دعا کی
لاإله إلا الله وحده لا شريك له , له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لا إله إلا الله وحده، أنجز وعده، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده،
نہیں کوئی الہ سوائے الله کے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں – اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لئے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
نہیں کوئی الہ سوائے الله اکیلے کے اس نے وعدہ پورا کیا اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے تمام لشکروں کو شکست دی
===========

مجھ سے محمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن مخلد نے، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے، ان سے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے، ان سے عطاء نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے اور کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے (یعنی فرائض مجھ کو بہت پسند ہیں جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ) اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا نزدیک ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اگر وہ کسی دشمن یا شیطان سے میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے محفوظ رکھتا ہوں اور میں جو کام کرنا چاہتا ہوں اس میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کہ مجھے اپنے مومن بندے کی جان نکالنے میں ہوتا ہے۔ وہ تو موت کو بوجہ تکلیف جسمانی کے پسند نہیں کرتا اور مجھ کو بھی اسے تکلیف دینا برا لگتا ہے۔
الذھبی خالد بن مخلد کے ترجمہ میں میزان میں کہتے ہیں

هذا حديث غريب جداً لولا هيبة الجامع الصحيح لعدوه في منكرات خالد بن مخلد وذلك لغرابة لفظه، ولأنه مما ينفرد به شريك، وليس بالحافظ، ولم يرو هذا المتن إلا بهذا الإسناد

یہ حدیث بہت غریب ہے اور اگر جامع الصحیح کی ہیبت نہ ہوتی تو اس روایت کو خالد بن مخلد کی منکرات میں شمار کیا جاتا اور اس روایت میں الفاظ کی غرابت ہے اور یہ کہ اس میں شریک کا تفرد ہے اور وہ حافظ نہیں ہے اور اس متن کو اس سند سے کوئی اور روایت نہیں کرتا

⇑ روایت پر عَادَى لِي وَلِيًّا سوال ہے کہ کیا یہ کسی محدث کے نزدیک ضعیف ہے ؟
http://www.islamic-belief.net/q-a/عقائد/الأسماء-و-الصفات/

راقم اس روایت کو منکر ہی سمجھتا ہے

جواب

موطا امام مالک ۔ جلد اول ۔ کتاب الجنائز ۔ حدیث 468
مردے کو کفن پہنانے کا بیان
راوی:
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ قَالَ لِعَائِشَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ فِي كَمْ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ خُذُوا هَذَا الثَّوْبَ لِثَوْبٍ عَلَيْهِ قَدْ أَصَابَهُ مِشْقٌ أَوْ زَعْفَرَانٌ فَاغْسِلُوهُ ثُمَّ كَفِّنُونِي فِيهِ مَعَ ثَوْبَيْنِ آخَرَيْنِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ وَمَا هَذَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحَيُّ أَحْوَجُ إِلَى الْجَدِيدِ مِنْ الْمَيِّتِ وَإِنَّمَا هَذَا لِلْمُهْلَةِ
یحیی بن سعید نے کہا مجھے پہنچا کہ ابوبکر صدیق نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا اپنی بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتنے کپڑوں میں کفن دیئے گئے تھے – عائشہ نے کہا سفید تین کپڑوں میں سحول کے، تب ابوبکر نے کہا کہ یہ کپڑا جو میں پہنے ہوں اس میں گیرو یا زعفران لگا ہوا ہے اس کو دھو کر اور دو کپڑے لے کر مجھے کفن دے دینا – عائشہ بولیں یہ کیا بات ہے ابوبکر بولے کہ مردے سے زیادہ زندے کو کپڑے کی حاجت ہے کفن تو پیپ اور خون کے لئے ہے ۔

صحیح بخاری میں ہے وفات سے پہلے ابو بکر رضی الله عنہ نے
فَنَظَرَ إِلَى ثَوْبٍ عَلَيْهِ، كَانَ يُمَرَّضُ فِيهِ بِهِ رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ: اغْسِلُوا ثَوْبِي هَذَا وَزِيدُوا عَلَيْهِ ثَوْبَيْنِ، فَكَفِّنُونِي فِيهَا، قُلْتُ: إِنَّ هَذَا خَلَقٌ، قَالَ: إِنَّ الحَيَّ أَحَقُّ بِالْجَدِيدِ مِنَ المَيِّتِ، إِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ فَلَمْ يُتَوَفَّ حَتَّى أَمْسَى مِنْ لَيْلَةِ الثُّلاَثَاءِ، وَدُفِنَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ
کپڑوں کو دیکھا جس میں وہ مریض تھے اس پر زعفران کے نشان تھے کہا ان کپڑوں کو دھونا اور ان میں دو کا اضافہ کرنا پھر کفن دینا عائشہ رضی الله عنہا نے کہا میں نے پوچھا یہ اپ نے کیا؟ ابو بکر نے کہا زندہ حق دار ہے میت سے زیادہ نئے کا یہ تو پیپ اور خون کے لئے ہے

نوٹ : ابو بکر کے مطابق اولیاء الله پیپ اور خون میں تبدیل ہو جاتے ہیں
=================
اب یہ روایت ہے جس میں ہے کہ علی نے نیا کفن دیا – ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں اس کا ذکر کیا ہے
ابن عساكر رحمه الله (المتوفى571)نے کہا:
أنبأنا أبو علي محمد بن محمد بن عبد العزيز بن المهدي وأخبرنا عنه أبو طاهر إبراهيم بن الحسن بن طاهر الحموي عنه أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن أحمد العتيقي سنة سبع وثلاثين وأربع مائة نا عمر بن محمد الزيات نا عبد الله بن الصقر نا الحسن بن موسى نا محمد بن عبد الله الطحان حدثني أبو طاهر المقدسي عن عبد الجليل المزني عن حبة العرني عن علي بن أبي طالب قال لما حضرت أبا بكر الوفاة أقعدني عند رأسه وقال لي يا علي إذا أنا مت فغسلني بالكف الذي غسلت به رسول الله صلى الله عليه وسلم وحنطوني واذهبوا بي إلى البيت الذي فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستأذنوا فإن رأيتم الباب قد يفتح فادخلوا بي وإلا فردوني إلى مقابر المسلمين حتى يحكم الله بين عباده قال فغسل وكفن وكنت أول من يأذن إلى الباب فقلت يا رسول الله هذا أبو بكر مستأذن فرأيت الباب قد تفتح وسمعت قائلا يقول ادخلوا الحبيب إلى حبيبه فإن الحبيب إلى الحبيب مشتاق
حبة العرني نے علی سے روایت کیا کہ جب ابو بکر کا انتقال ہوا میں ان کے سرہانے تھا انہوں نے کہا اے علی جب میں مر جاؤں تم اس برتن سے غسل دینا جس سے نبی صلی الله علیہ وسلم کو دیا تھا اور خوشبو لگانا اور اس گھر جانا جس میں رسول الله ہیں ان سے اجازت لینا اگر دیکھو دروازہ کھل گیا تم مجھ کو اس میں داخل کرنا ورنہ مسلمانوں کے قبرستان میں لانا یہاں تک کہ الله اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے (یعنی قیامت) پس علی نے کہا : میں نے غسل دیا اور کفن دیا اور میں پہلا تھا جس نے دروازہ پر اجازت لی پس میں نے کہا اے رسول الله یہ ابو بکر ہے اجازت مانگتا ہے میں نے دیکھا دروازہ کھلا اور سنا ایک کہنے والے کو کہ حبیب کو جبیب کے پاس داخل کرو کیونکہ جبیب حبیب کا مشتاق ہے

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد خود ابن عساکر نے اس پر جرح کرتے ہوئے کہا:
هذا منكر وراويه أبو الطاهر موسى بن محمد بن عطاء المقدسي وعبد الجليل مجهول والمحفوظ أن الذي غسل أبا بكر امرأته أسماء بنت عميس [تاريخ دمشق لابن عساكر: 30/ 437]۔
یہ منکر ہے اس میں أبو الطاهر موسى بن محمد بن عطاء المقدسي [الوفاة: 221 – 230 ه] اور عبد الجليل مجہول ہیں
اور محفوظ ہے کہ ابو بکر کو ان کی بیوی اسماء بنت عمیس نے غسل دیا
بعض محدثین نے موسى بن محمد بن عطاء بن طاهر البَلْقاويّ المقدسيّ کو کذاب بھی کہا ہے
ورماه بالكذب أبو زرعة وأبو حاتم.
وقال الدَّارَقُطْنيّ: متروك.
قال العُقَيْلي: يُحَدِّث عن الثقات بالبواطيل والموضوعات.
وقال ابن حبان: كان يضع الحديث على الثقات، لا تحل الرواية عنه.
وقال ابن عدي: منكر الحديث، يسرق الحديث.

===========

اس منکر روایت کا ذکر سب سے پہلے أبو بكر محمد بن الحسين بن عبد الله الآجُرِّيُّ البغدادي (المتوفى: 360هـ) نے کتاب الشريعة میں کیا ہے لیکن
سند نہیں دی
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ , قَالَ لَهُمْ: إِذَا مِتُّ وَفَرَغْتُمْ مِنْ جَهَازِي فَاحْمِلُونِي حَتَّى تَقِفُوا بِبَابِ الْبَيْتِ الَّذِي فِيهِ قَبْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقِفُوا بِالْبَابِ وَقُولُوا: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ فَإِنْ أُذِنَ لَكُمْ وَفُتِحَ الْبَابُ , وَكَانَ الْبَابُ مُغْلَقًا , فَأَدْخِلُونِي فَادْفِنُونِي , وَإِنْ لَمْ يُؤْذَنْ لَكُمْ فَأَخْرِجُونِي إِلَى الْبَقِيعِ وَادْفِنُونِي. فَفَعَلُوا فَلَمَّا وَقَفُوا بِالْبَابِ وَقَالُوا هَذَا: سَقَطَ الْقُفْلُ وَانْفَتَحَ الْبَابُ , وَسُمِعَ هَاتِفٌ مِنْ دَاخِلِ الْبَيْتِ: أَدْخِلُوا الْحَبِيبَ إِلَى الْحَبِيبِ فَإِنَّ الْحَبِيبَ إِلَى الْحَبِيبِ مُشْتَاقٌ

تفسیر مفاتیح الغیب المعروف تفسیر کبیر ج٢١ ص433 میں سوره کہف کی آیت فَضَرَبْنَا عَلَى آذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَدًا میں فخر الدين الرازي خطيب الري (المتوفى: 606هـ) نے کرامت اولیاء کی مثال کے طور پر اس کا ذکر کیا

أَمَّا الْآثَارُ» فَلْنَبْدَأْ بِمَا نُقِلَ أَنَّهُ ظَهَرَ عَنِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ مِنَ الْكَرَامَاتِ ثُمَّ بِمَا ظَهَرَ عَنْ سَائِرِ الصَّحَابَةِ، أَمَّا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمِنْ كَرَامَاتِهِ أَنَّهُ لَمَّا حُمِلَتْ جِنَازَتُهُ إِلَى بَابِ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنُودِيَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَكْرٍ بِالْبَابِ فَإِذَا الْبَابُ قَدِ انْفَتَحَ وَإِذَا بِهَاتِفٍ يَهْتِفُ مِنَ الْقَبْرِ أَدْخِلُوا الْحَبِيبَ إِلَى الْحَبِيبِ

تفسیر نیشاپوری یا غرائب القرآن ورغائب الفرقان از نظام الدين الحسن بن محمد بن حسين القمي النيسابوري (المتوفى: 850هـ) میں اس کا ذکر ہے
وأما الآثار فمن كرامات أبي بكر الصديق أنه لما حملت جنازته إلى باب قبر النبي صلى الله عليه وسلم ونودي السلام عليك يا رسول الله هذا أبو بكر بالباب فإذا الباب قد فتح فإذا هاتف يهتف من القبر أدخلوا الحبيب إلى الحبيب

السراج المنير في الإعانة على معرفة بعض معاني كلام ربنا الحكيم الخبير از شمس الدين، محمد بن أحمد الخطيب الشربيني الشافعي (المتوفى: 977هـ) نے اس کا ذکر کیا

اس طرح اہل کشف نے اس کو دلیل کے طور پر پیش کیا اور بریلوی فرقہ کو پسند آیا
=====
روایت کا شیعی نکتہ

راقم سمجھتا ہے اس میں شیعیت کا پرچار ہے
اول ابو بکر نے اپنی اولاد کی بجائے علی کو احکام دیے
دوم یہ علی کی خلافت کی طرف اشارہ ہوا
سوم ابو بکر کی تدفین حجرہ نبی میں علی کے طفیل ہوئی

الخلافة المغتصبة از إدريس الحسيني کہتے ہیں
فكيف يكون حبيبا للنبي (ص) من أغضب واغتصب مال فاطمة بضعته التي قال عنها: يغضبني ما أغضبها، إن هذه المفارقات لم تكن سوى من اختراع المؤرخ المأجور، وأنصار الخلافة المغتصبة.
کیسے یہ نبی کا حبیب ہوا جس نے قبضہ کیا اور مال فاطمہ غصب کیا .. پس یہ اختراع مورخ کی ہے اور ان مددگاروں کی جنہوں نے غصب خلافت میں مدد کی

مأساة الزهراء عليها السلام از السيد جعفر مرتضى العاملي کے مطابق
وقد رووا عن علي ( ع ) : أنه لما مات أبو بكر ، قال علي :
” قلت : يا رسول الله ، هذا أبو بكر يستأذن ، فرأيت الباب قد فتح ،
وسمعت قائلا يقول : أدخلوا الحبيب إلى حبيبه الخ . . ” .
رواه ابن عساكر ، وقال : ” منكر ، وأبو طاهر كذاب ، وعبد
الجليل مجهول الخ . . ( 1 ) ” .

وقد قلنا : إن الخبر وإن كان غير صحيح ، ولكنه يشير إلى أن ما يتحدث عنه قد كان مما يستعمله الناس آنئذ .
اور ہم شیعہ کہتے ہیں اگر یہ خبر صحیح نہ بھی ہو تو لیکن پھر بھی یہ اشارہ کرتی ہے کہ ان (علی) کے لئے جو بیان کیا گیا کہ لوگ (ابو بکر) ان کو (احکام کے سلسلے میں ) استعمال کرتے تھے

اہل تشیع کا کہنا کہ وہ مقام جہاں نبی صلی الله علیہ وسلم دفن ہیں وہ حجرہ فاطمہ ہے
روى الصدوق في أماليه رواية مطوّلة ، عن ابن عباس ، جاء فيها :
« . . فخرج رسول الله « صلى الله عليه وآله » ، وصلّى بالناس ، وخفف الصلاة ، ثم قال : ادعوا لي علي بن أبي طالب ، وأسامة بن زيد ، فجاءا ، فوضع « صلى الله عليه وآله » يده على عاتق علي ، والأخرى على أسامة ، ثم قال : انطلقا بي إلى فاطمة .
فجاءا به ، حتى وضع رأسه في حجرها ، فإذا الحسن والحسين . . » ثم ذكر قضية وفاته هنا
امالی میں صدوق کا کہنا ہے کہ نبی آخری ایام میں بیت فاطمہ گئے اور وہیں انتقال ہوا

شیعہ کہتے ہیں حجرہ عائشہ رضی الله عنہا منبر کے مشرق میں نہیں اس کے پیچھے تھا یعنی مسجد النبی کے جنوب میں لیکن ہم تک جو روایات پہنچی ہیں اس میں ہے کہ حجرہ عائشہ منبر کے مشرق کی سمت میں تھا
تفصیل یہاں ہے
⇑ نبی صلی الله علیہ وسلم نے جو اشیا وفات پر چھوڑیں ان کی کیا تفصیل ہے؟
http://www.islamic-belief.net/q-a/متفرق/

شیعہ کہتے ہیں آخری وقت نبی صلی الله علیہ وسلم علی کی گود میں تھے ان کے گھر میں اور وہیں دفن ہوئے
شیعوں کے موقف پر یہ اعتراض اٹھتا ہے کہ پھر ابو بکر کیسے بیت فاطمہ میں دفن ہوئے اغلبا اس کا جواب دینے کے لئے یہ روایت گھڑی گئی
لیکن سوال پھر اٹھتا ہے کہ عمر کی تدفین حجرہ فاطمہ میں کیسے ہوئی ؟ کیوں ہوئی؟

جواب

صحیح مسلم میں ہے
(203) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيْنَ أَبِي؟ قَالَ: «فِي النَّارِ»، فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ، فَقَالَ: «إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ» (صحیح مسلم)
نبی نے فرمایا میرا باپ جہنم میں ہے

——

عن عائشة رضي الله عنها قالت: «حج بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حجة الوداع فمر بي على عقبة الحجون وهو باك حزين، مغتم فبكيت لبكائه صلى الله عليه وسلم ثم إنه طفر أي وثب فنزل فقال: يا حميراء استمسكي فاستندت إلى جنب البعير.
فمكث عني طويلا ثم عاد إلي وهو فرح مبتسم فقلت له: بأبي أنت وأمي يا رسول الله.
نزلت من عندي وأنت باك حزين مغتم فبكيت لبكائك يا رسول الله، ثم إنك عدت إلي وأنت فرح مبتسم فعن ماذا يا رسول الله؟ فقال: مررت بقبر أمي آمنة فسألت الله ربي أن يحييها فأحياها فآمنت بي ـ أو قال ـ فآمنت وردها الله عز وجل» لفظ الخطيب.
ﻋﺎﺋﺸﮧ ‏ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ نبي صلی الله علیہ وسلم ﺟﺐ حجة الوداع ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﻠﮯ۔ ﺍﻭﺭ الحجون ﮐﯽ ﮔﮭﺎﭨﯽ ﭘﺮ ﮔﺰﺭﮮ ﺗﻮ ﺭﻧﺞ ﻭ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ان ﮐﻮ ﺭﻭﺗﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﭘﮭﺮ رسول الله ﺍﭘﻨﯽ اونٹنی ﺳﮯ ﺍﺗﺮﮮ ﺍﻭﺭکچھ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻭﺍﭘﺲ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﺵ ﺧﻮﺵ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺁﭖ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮨﻮﮞ، ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ؟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺭﻧﺞ ﻭ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﺳﮯ ﺍﺗﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭨﮯ ﺗﻮ ﺷﺎﺩ ﻭ ﻓﺮﺣﺎﮞ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻓﺮﻣﺎ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ نبی ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺁﻣﻨﮧ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ ﺗﻮ الله ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺋﯿﮟ۔

شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية میں سند ہے
حدثنا محمد بن الحسين بن زياد مولى الأنصار، حدثنا أحمد بن يحيى الحضرمي بمكة، حدثنا أبو غزية محمد بن يحيى الزهري، حدثنا عبد الوهاب بن موسى الزهري عن عبد الرحمن بن أبي الزناد، عن هشام بن عروة عن أبيه، عن عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم نزل إلى الحجون كئيبًا حزينًا، فأقام به ما شاء الله عز وجل، ثم رجع مسرورًا، فقلت: يا رسول الله! نزلت إلى الحجون كئيبًا حزينًا فأقمت به ما شاء الله ثم رجعت مسرورًا، قال: “سألت الله ربي فأحيا لي أمي فآمنت بي، ثم ردها”. هذا لفظ ابن شاهين، كما في كتب السيوطي وغيرها.

سند میں محمد بن يحيى [بن محمد بن عبد العزيز بن عمر بن عبد الرحمن بن عوف أبو عبد الله ولقبه] أبو غزية المدني [الزهري] ہے جو متروک ہے – لسان الميزان از ابن حجر میں ہے
قال الدارقطني: متروك.
وقال الأزدي: ضعيف.
محمد بن يحيى الزهري، أبو غزية الصغير، المَدَنِيّ، كان بمصر.
• قال الدَّارَقُطْنِيّ: مدني عن عبد الوهاب بن موسى، يضع. «الضعفاء والمتروكون» (482) .
دارقطنی کے مطابق یہ حدیثین گھڑتا ہے

نبی صلی الله علیہ وسلم کو منع کر دیا گیا کہ وہ اپنی والدہ کے لئے دعا نہیں کر سکتے یہ نسائی کی روایت ہے

http://www.islamicurdubooks.com/Sunan-Nisai/Sunan-Nisaee.php?vfhadith_id=2041
ہم تک کوئی تاریخی روایت نہیں پہنچی کہ نبی کے والدین مسلم ہوں
اس تمام فلسفہ کی کوئی دلیل نہیں صرف جذباتی تقریر ہے

٣٠٠ ہجری تک اہل تشیع بھی یہی کہتے تھے کہ ابو طالب کافر تھے
——-

مجمع البیان میں طبرسی المتوفی ٤٦٨ ھ کہتے ہیں
أن أهل البيت (عليهم السلام) قد أجمعوا على أن أبا طالب مات مسلما
اہل بیت کا اجماع ہے کہ ابو طالب مسلمان مرے

———

ابي الحسن علي بن ابراهيم القمي المتوفی ٣٢٩ ھ کی تفسیر میں ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے لئے ہے
واما قوله: (انك لا تهدي من أحببت) قال نزلت في ابي طالب عليه السلام فان رسول الله صلى الله عليه وآله كان يقول يا عم قل لا إله إلا الله بالجهر نفعك بها يوم القيامة فيقول: يا بن اخي أنا أعلم بنفسى، (وأقول بنفسى ط) فلما مات شهد العباس بن عبدالمطلب عند رسول الله صلى الله عليه وآله انه تكلم بها عند الموت بأعلى صوته، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله: اما انا فلم اسمعها منه وأرجو ان تنفعه يوم القيامة، وقال صلى الله عليه وآله: لو قمت المقام المحمود لشفعت في ابي وامي وعمي وأخ كان لي مواخيا في الجاهلية

اغلبا سن ٣٢٠ ہجری تک اہل تشیع یہ ہی مانتے تھے کہ ابو طالب کافر مرے

———
ظاہر ہے ایک گھر میں بعض کافر ہوں اور بعض مومن تو یہ خاص بات ہو جاتی
رسول اللہ کے والدین کا ذکر ضرور ہوتا کہ وہ مومن تھے

⇑ نبی صلی الله علیہ وسلم کے مشرک رشتہ داروں کے حوالے سے سوال ہے
http://www.islamic-belief.net/q-a/تاریخ-٢/

رسول اللہ کے معجزات کے حوالے سے ایک روایت پیش کی جاتی ہے جس میں مردہ گوہ کو زندہ کیا جاتا ہے کیا یہ واقعہ صحیح ہے

جواب

http://shamela.ws/browse.php/book-28925
اس کو محدثین نے صحیح نہیں سمجھا ہے

بیہقی نے اس کا ذکر دلائل نبوہ میں بَابُ مَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ الضَّبِّ لِنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرِّسَالَةِ، وَمَا ظَهْرَ فِي ذَلِكَ مِنْ دَلَالَاتِ النُّبُوَّةِ میں کیا ہے
سند میں مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْوَلِيدِ السُّلَمِيُّ منكر الحديث ہے
ذھبی نے میزان میں اس کو رد کیا ہے باطل کہا ہے
روى أبو بكر البيهقى حديث الضب من طريقه بإسناد نظيف، ثم قال البيهقى: الحمل فيه على السلمي هذا.
قلت: صدق والله البيهقى، فإنه خبر باطل.

جواب

مسند ابی یعلی کی روایت ہے
حدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي صَخْر ، أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ، يَقُولُ : وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ ، لَيَنْزِلَنَّ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ إِمَامًا مُقْسِطًا وَحَكَمًا عَدْلا ، فَلَيَكْسِرَنَّ الصَّلِيبَ ، وَلَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ ، وَلَيُصْلِحَنَّ ذَاتَ الْبَيْنِ ، وَلَيُذْهِبَنَّ الشَّحْنَاءَ ، وَلَيُعْرَضَنَّ عَلَيْهِ الْمَالُ فَلا يَقْبَلُهُ ، ثُمَّ لَئِنْ قَامَ عَلَى قَبْرِي ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ لأُجِيبَنَّهُ
أَبَا هُرَيْرَةَ ، کہتے ہیں کہ انہوں نے رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم کو سنا کہ وہ جس کے ہاتھ میں ابو قاسم کی جان ہے بے شک عیسی ابن مریم نازل ہونگے …. پس جب میری قبر پر آئیں گے اور کہیں گے اے محمّد تو میں جواب دوں گا
اس کی سند میں ابی صخر ہے
أَبِى صَخْرٍ حُمَيْدِ بْنِ زِيَادٍ ابن عدی ابن شاہین ابن معین کے نزدیک ضعیف ہیں

یہ وہی راوی ہے جو سلام پر روح لوٹائے جانے والی روایت بیان کرتا ہے

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِی سَلَمَةَ، وَیَحْیَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ حَارِثَةَ، قَالَ: کَانَ صَنَمٌ مِنْ نُحَاسٍ، یُقَالُ لَهُ: إِسَافٌ، أَوْ نَائِلَةُ، یَتَمَسَّحُ بِهِ الْمُشْرِکُونَ إِذَا طَافُوا، فطَافَ رَسُولُ اللَّهِ وَطُفْتُ مَعَه، فَلَمَّا مَرَرْتُ مَسَحْتُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : ” لا تَمَسَّهُ “، قَالَ زَیْدٌ فَطُفْتُ، فَقُلْتُ فِی نَفْسِی: لأَمَسَّنَّهُ حَتَّى أَنْظُرَ مَا یَکُونُ، فَمَسَحْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : ” أَلَمْ تُنْهَ؟ ”

دلائل النبوه بیهقی

مستدرک حاکم با تعلیقات ذهبی

جواب

زَیْدِ بْنِ حَارِثَةَ نے کہا ایک بت تانبہ کا تھا جس کو اساف کہا جاتا تھا یا نائلہ اس کو مشرک چھوتے جب طواف کرتے- پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے طواف کیا اور میں بھی (بچپن میں ) ساتھ تھا پس جب اس کے پاس گزرا تو میں نے اس کو مسح کیا – رسول الله نے کہا اس کو مسح مت کر- زید نے کہا میں نے دل میں سوچا میں اس کو مسح کرتا ہوں دیکھتا ہوں کیا ہوتا ہے پس میں نے اس کو مسح کیا- رسول الله نے کہا میں نے کیا منع نہیں کیا تھا؟

سند میں أبا سلمة بن عبد الرحمن بن عوف ہے جس سے محمَّد بن عمرو بن علقمة بن وقاص نے روایت کو لیا ہے
محمَّد بن عمرو بن علقمة بن وقاص پر محدثین کی جرح ہے اس سے شواہد میں روایت لی گئی ہے
الذہبی نے کتاب ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين میں کہا
حسن الحديث، متهم من صحح حديثه
قابل الزام ہے وہ جو اس کی حدیث کو صحیح کرے

لہذا جب تلخیص میں کہا على شرط مسلم تو اس کو صحیح قرار دینا نہیں تھا صرف کہا یہ مسلم کی شرط پر ہے
و الله اعلم

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ (بَابُ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَالأَصْنَامِ) صحیح بخاری: کتاب: ذبیح اور شکار کے بیان میں

(باب: وہ جانور جن کو تھانوں اور بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہوان کا کھانا حرام ہے)

5499 .

حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ المُخْتَارِ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ، يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحٍ، وَذَاكَ قَبْلَ أَنْ يُنْزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الوَحْيُ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لاَ آكُلُ مِمَّا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ، وَلاَ آكُلُ إِلَّا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ»

حکم : صحیح 5499

ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز یعنی ابن المختار نے بیان کیا ، انہیں موسیٰ بن عقبہ نے خبردی ، کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زید بن عمرو بن نوفل سے مقام بلد کے نشیبی حصہ میں ملاقات ہوئی ۔ یہ آپ پر وحی نازل ہونے سے پہلے کا زمانہ ہے ۔ آپ نے وہ دستر خوان جس میں گوشت تھا جسے ان لوگوں نے آپ کی ضیافت کے لیے پیش کیا تھا مگر ان پر ذبح کے وقت بتوں کا نام لیا گیا تھا ، آپ نے اسے زید بن عمرو کے سامنے واپس فرمادیا اور آپ نے فرمایا کہ تم جو جانور اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہو میں انہیں نہیں کھاتا ، میں صرف اسی جانور کا گوشت کھاتا ہوں جس پر ( ذبح کرتے وقت ) اللہ کا نام لیا گیا ہو ۔

————-

دوسری جگہ اس حدیث کا یہ ترجمہ کیا گیا

لنک

http://www.hadithurdu.com/01/1-3-477/?s=%D8%A8%D9%84%D8%AF%D8%AD

صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ ذبیحوں اور شکار کا بیان ۔ حدیث 477

اس چیز کا بیان جواصنام اور بتوں پر ذبح کی جائے

راوی: معلی بن اسد , عبدالعزیزبن مختار , موسیٰ بن عقبہ , سالم , عبد اللہ

حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحٍ وَذَاکَ قَبْلَ أَنْ يُنْزَلَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ فَأَبَی أَنْ يَأْکُلَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَا آکُلُ مِمَّا تَذْبَحُونَ عَلَی أَنْصَابِکُمْ وَلَا آکُلُ إِلَّا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ

معلی بن اسد، عبدالعزیزبن مختار، موسیٰ بن عقبہ، سالم، عبداللہ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے زید بن عمرو بن نفیل سے مقام اسفل بلدح میں ملاقات کی اور یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے سے پہلے کا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے دسترخوان پیش کیا، جس پر گوشت تھا، انہوں نے اس کے کھانے سے انکار کیا، پھر فرمایا میں اس سے نہیں کھاتا ہوں، جس کو تم نے اپنے بتوں پر ذبح کرتے ہو اور میں صرف اسی کو کھاتا ہوں، جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، یعنی بسم اللہ پڑھی گئی ہو۔

یہ حدیث بھی صحیح معلوم نہیں ہوتی کیوں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کیسے وہ دستر خوان پیش کر سکتے ہیں جس پر بتوں کے نام پر ذبح کویا گیا گوشت ہو اور ویسے بھی اس سے زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ کی فضیلت حضور صلی الله علیہ وسلم سے زیادہ ثابت ہو رہی ہے

اور دوسری طرف مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے – پلیز یہ بھی بتا دیں کہ یہ حدیث مسند احمد میں کہاں ہے

احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں نوفل بن ھشام بن سعد بن زید سے نقل کیا ھے

ایک مرتبہ رسول خدا صلی الله علیہ وسلم ابو سفیان رضی الله کے ساتھ ایسے حیوان کے گوشت کو تناول فرمارھے تھے جو بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا تھا، جب زید کو کھانے کے لئے بلایا گیا تو زید نے انکار کر دیا، اور اس کے بعدرسول اسلام(ص) بھی زید کی پیروی کرتے هوئے اٹھ کھڑے هوئے، اور اس کے بعد سے رسول اکرم(ص) نے اعلان ِ بعثت تک اس گوشت کو نھیں کھایا جو اصنام و ازلام کے نام پر ذبح کیا جاتا

مسند احمد بن حنبل،ص۱۸۹

ابن عبد البر نے اپنی کتاب استیعاب میں مسند احمد بن حنبل سے اور ابو الفرج اصفھانی نے اپنی کتاب ”الاغانی “میں صحیح بخاری سے نقل کیا ھے

اسد الغابہ کے نقل کے مطابق ج،۴ ص۷۸۔و استعاب جو اصابہ کے حاشیہ میں چھپی ھے جلد ۲،ص۴

یہ ایک شیعہ نے اعترض کیا ہے

جواب

صحیح بخاری میں ہے

فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَ
رسول الله نے دستر خوان پیش کیا جس میں گوشت تھا تو زید نے کھانے سے انکار کیا

شعیب کہتے ہیں
والصواب ما في رواية وهيب بن خالد وغيره عن موسى بن عقبة من أن رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هو الذي قدم إلى زيد بن عمرو بن نفيل سفرة فيها لحم، فأبى الأخير أن يأكل منها
اور ٹھیک وہ روایت ہے جو وھیب کی اور دوسروں کی موسی سے ہے جس میں ہے کہ رسول الله نے زید بن عمرو پر پیش کیا دستر خوان جس میں گوشت تھا اور انہوں نے انکار کیا کھانے سے

قال الخطابي في “أعلام الحديث” 3/1657: امتناع زيد بن عمرو من كل ما في السفرة إنما كان من أجل خوفه أن يكون اللحم الذي فيها مما ذُبح على الأنصاب فتنزه من أكْلِه، وقد كان رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يأكل من ذبائحِهم التي كانوا يذبحونها لأصنامهم
خطابی نے کہا زید کا انکار کرنا تھا ہر اس دستر خوان سے جس میں گوشت ہو اس خوف سے کہیں یہ بت پر ذبح کردہ نہ ہو پس اس سے دور رہتے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم بھی ان ذبح کردہ کو نہیں کھاتے تھے

———–

یعنی یہ ایسا ہے کہ اپ کے دفتر میں ایک ہندو اپ کو مٹھائی دے تو اپ فورا نہیں کھا لیں گے کیونکہ امکان ہو گا کہ کہیں یہ پرساد نہ ہو
اسی طرح زید ہر گوشت والی چیز سے دور رہتے جب نبی نے ان کو کھانا دیا تو انہوں نے صاف انکار دیا
اس روایت میں یہ کہیں نہیں ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم بت پر ذبح کردہ گوشت لے کر گئے تھے نبی صلی الله علیہ وسلم نے خبر دی کہ زید بھی ایسا ہی کرتے تھے

اب اس کی مخالف روایت مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ نُفَيْلِ بْنِ هِشَامِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ هُوَ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَمَرَّ بِهِمَا زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، فَدَعَوَاهُ إِلَى سُفْرَةٍ لَهُمَا، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنِّي لَا آكُلُ مِمَّا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ، قَالَ: فَمَا رُئِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَ ذَلِكَ أَكَلَ شَيْئًا مِمَّا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ. (حم) 1648
مورخ الْمَسْعُودِيُّ نے نُفَيْلِ بْنِ هِشَامِ سے انہوں نے باپ سے انہوں نے دادا سے روایت کیا ہے کہ رسول الله مکہ میں تھے اور زید بن حارثہ بھی پس یہ زید بن عمرو کے پاس گئے ان کو دستر خوان پر بلایا تو زید بن عمرو نے کہا اے بھائی میں وہ نہیں کھاتا جو بت پر ذبح کیا گیا ہو- پس کہا : میں نے نبی کو نہیں دیکھا کہ اس کے بعد بتوں پر ذبح کیا ہوا کچھ کھایا ہو

یہ روایت عبد الرحمن بن عبد الله المسعودی نے روایت کی ہے لیکن یہ ان کے دور اختلاط کی ہے صحیح نہیں ہے

پس معلوم ہوا کہ نہ نبی صلی الله علیہ وسلم نہ زید بن عمرو دونوں بتوں پر ذبح کردہ جانور نہیں کھاتے تھے
جو شیعوں نے کہا ہے وہ ان کی اپنی ذہن سازی ہے متن میں
Extrapolation
ہے

دور اختلاط کی ہے صحیح نہیں ہے

شیعوں نے صحیح بخاری کی روایت مسند احمد سے ملا دی اور دونوں کا صحیح سمجھتے ہوئے اس پر تبصرہ کر کے یہ ثابت کیا کہ نعوذ باللہ نبی صلی الله علیہ وسلم بھی بتوں پر ذبح کردہ جانور کا گوشت کھاتے تھے ایسا اہل سنت کہتے ہیں جبکہ یہ مسند احمد والی روایت اگر اپ کے سامنے نہ ہو تو صحیح بخاری کی حدیث سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا
مخالف کو زچ کرنے کا شیعوں کا یہ انداز ہے جو قابل افسوس ہے
کیا ان کے پاس اہل سنت کی جرح تعدیل کی کتب نہیں جن میں المسعودی کے اختلاط کا ذکر ہے ؟ لہذا مسند احمد کی سند صحیح نہیں ہے
لیکن یہ اپنے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں

جواب

عربی کا ایک لفظ حضر ہے یعنی حاضر ہوا یا پہنچا اس کا ایک مطلب شاہد بھی ہے
http://www.almaany.com/en/dict/ar-en/حضر/
attend ; go to ; see watch ; view ; witness

نبی صلی الله علیہ وسلم کو قرآن کہتا ہے کہ ہم نے تم کو شاہد بنا کر بھیجا یعنی حق کا گواہ بنا کر بھیجا
اس سے باطل فرقوں نے جو تصوف سے متاثر تھے یہ مفہوم لیا کہ اپ صلی الله علیہ وسلم ان تمام اہم موقعوں کو دیکھ چکے ہیں جن کا ذکر حق کے حوالے سے ہے مثلا انبیاء سابقہ کے احوال بھی اس میں شامل ہیں – اس سے نتیجہ نکلا کہ اپ صلی الله علیہ وسلم حضرت ہوئے یعنی وہاں پہنچے یا گئے یا اپنے مقام سے دیکھ رہے تھے جیسے آج ہم کرکٹ کا میچ گھر میں ہی دیکھ لیتے ہیں

حضور بھی عربی کا لفظ ہے یعنی حاضر ہونے کی کیفیت
لسان العرب ابن منظور میں ہے
وكلمته بحضرة فلان وبمحضر منه أي بمشهد منه
اور کلمہ حضرت فلاں اور محضر منه کا مطلب ہے اس کو دیکھنے والا

اپ کو شاید علم ہو کہ تصوف کی کتب میں کہا جاتا ہے کہ معراج پر نبی صلی الله علیہ وسلم اور موسی علیہ السلام کا جب نماز سے متعلق مکالمہ ہوا تو امام غزالی وہاں کشفی طور موجود تھے (جسمانی نہیں روحانی طور سے) یہاں تک کہ ایک موقعہ پر رسول الله نے غزالی کو روکا کہا ادب یا غزالی
آج کل جو سائنس فکشن میں دکھاتے ہیں کہ بندہ
Energize
ہو جاتا ہے اور انرجی کی صورت منتقل بھی ہوتا ہے یہ تصوف و اہل عرفان پہلے سے کہہ چکے ہیں اگرچہ مذھب مختار میں اس کی دلیل نہیں ہے
———
بریلوی فرقہ والے حضور کی شرح کرتے ہیں

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے کا مفہوم
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حاضر و ناظر ہونا جب قرآن و سنت سے ثابت ہو گیا تو اب اس کی نوعیت بھی سمجھ لیں۔ یہ حاضر و ناظر ہونا جسمانی نہیں۔ علمی، نظری اور روحانی ہے کہ ساری کائنات پر آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر ہے۔ سب کچھ اس طرح دیکھ رہا ہے جیسے ہتھیلی پر رائی کا دانہ اور یہ سب کچھ عطائے خداوندی سے ہے اور ساری کائنات پر گواہی کی یہی شان ہو سکتی ہے۔
http://www.thefatwa.com/urdu/questionID/1474/حضور-ص-کے-حاضر-و-ناظر-ہونے-سے-کیا-مراد-ہے/
انتھی
——-
راقم کہتا ہے فقہ کی کتب میں دلیل لی جاتی ہے کہ یہ کام “بحضرة النبي” ہوا یعنی نبی صلی الله علیہ وسلم کے سامنے ہوا لہذا اس مسئلہ میں یہ فلاں رائے صحیح ہے لیکن وفات کے بعد یہ ممکن نہیں کہ ہم نبی صلی الله علیہ وسلم کے لئے یہ کہہ سکیں -خیال رہے کہ یہ لفظ بطور ٹائٹل نبی صلی الله علیہ وسلم کے لئے استعمال فقہ کی عربی کتب میں نہیں ہوا

حضرت کا لفظ بطور ٹائٹل نبی صلی الله علیہ وسلم کے لئے ترکوں نے استعمال کیا یعنی خلافت عثمانیہ میں اور وہاں سے مغلوں کو ملا اور اردو میں بھی آ گیا لیکن یہ اصلا اہل تصوف کی اصطلاح ہے – ترکوں کی خلافت کی وجہ سے یہ عربی میں بھی رواج پا گیا اور عربی لغت میں حضرت کا لفظ بطور ٹائٹل استعمال ہونے لگا

یہ الفاظ ترک اپنے زعماء کے لئے بھی بطور ٹائٹل استعمال کرتے تھے لہذا یہ عربی میں بھی آ گیا (جیسے بیگم کا لفظ اردو میں استعمال ہو رہا ہے جو ترک معاشرہ کی اہم عورتوں کے لئے بولتے تھے) – القاموس الوحید ، تاج العروس ، المنجد ، مصباح اللغات یہ جدید عربی لغات ہیں ان کے مطابق لفظ حضرت کا اطلاق ایسے بڑے آدمی پر ہوتا ہے جس کے پاس لوگ جمع ہوتے ہیں لیکن یہ ٹائٹل قرون ثلاثہ یا سلف کی عربی میں استعمال نہیں ہوتا تھا

حضرة محمد (یا حضرت محمد) کا لفظ حدیث کی عربی شروحات میں بھی نہیں ہے کیونکہ اس کا استعمال ترکوں نے کیا اور اہل نقل و حدیث میں اس کو استعمال نہیں کیا جاتا تھا

کہنے کا مقصد ہے کہ حضرت عربی کا لفظ تھا لیکن اس کو شہود کے صوفی مفہوم پر لیتے ہوئے ترکوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کے لئے بولا اور اپنے رؤسا کو بھی بطور خطاب بھی دیا وہاں سے برصغیر آیا اور اردو اور عربی لغات میں اس مفہوم پر آ گیا

کتاب نهاية الإيجاز في سيرة ساكن الحجاز المؤلف: رفاعة رافع بن بدوي بن علي الطهطاوي (المتوفى: 1290هـ) کے مطابق
ويحكى بمناسبة ذلك أن السلطان محمود الأوّل «3» الغازى ذهب إلى قطب الأقطاب أبى الحسن الخرقاني «4» ليزوره، فقال: حدّثنا حديثا عن أبى يزيد (5) لنسمعه منك، فقال الشيخ: كان أبو يزيد رجلا من أبصره نجا، ومن نظر إليه اهتدي، فقال السلطان محمود: أهو أعظم من حضرة محمد صلّى الله عليه وسلّم؟
اور مناسب ہے کہ اس حکایت کا ذکر ہو کہ سلطان محمود الاول (المتوفی 1168 ھ) الغازی قطب الاقطاب ابو حسن خرقانی کی زیارت کو گئے اور کہا ہم سے روایت کیا ابو یزید نے کہا شیخ نے کہا ابو یزید وہ شخص ہے کہ جو اس کو دیکھے نجات پائے اور جو نظر ڈالے ہدایت پائے- اس پر سلطان محمود نے کہا کیا وہ حضرت محمد سے بھی بڑا ہے؟

یعنی بارہویں صدی میں “حضرة محمد” کے الفاظ ترک عثمانی خلافت والے بول رہے تھے ان سے قبل عربی میں اس کا استعمال نہیں ملتا

لیکن بر صغیر میں یہ رواج پا گیا تمام فرقے بولتے ہیں -اب یہ انبیاء اور اصحاب رسول سب پر بولا جاتا ہے – ہم نہیں بولیں گے کیونکہ ہم کو اس کے پیچھے اصل صوفی فکر کا علم ہو گیا ہے

جواب

صحيح مسلم، كتاب الجمعة، باب تخيف الصلاة والخطبة : 870۔ نسائي، كتاب النكاح، باب ما يكره من الخطبة : 3281۔ ابوداؤد، كتاب الصلاة، باب الرجل يخطب على قوس : 1099۔ كتاب الادب : 4981۔ مسند احمد : 4/ 256۔ بيهقي : 1/ 86، 3/ 216۔ مستدرك حاكم : 1/ 289]

حَدَّثَنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ رَجُلًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَقَدْ غَوَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ، قُلْ: وَمَنْ يَعْصِ اللهَ وَرَسُولَهُ “. قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: فَقَدْ غَوِي

اس میں ہے کہ ایک ضمیر میں جمع کرنے سے منع کیا
——–
اس کی مخالف حدیث ابو داود میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سکھایا اس میں مذکور ہے :
حدَّثنا محمدُ بنُ بشارٍ، حدَّثنا أبو عاصم، حدَّثنا عِمران، عن قتادةَ، عن عبدِ ربه، عن أبي عياض
عن ابنِ مسعود: أن رسولَ الله – صلَّى الله عليه وسلم – كان إذا تشهدَ، ذكر نحوه، قال بعد قوله: “ورسوله”: “أرسله بالحق بشيراً ونذيراً بين يدي الساعة، من يطع الله ورسوله فقد رَشَدَ، ومن يعصهما فإنه لا يَضُرُّ إلا نفسَه، ولا يَضُرُّ الله شيئاً

اس کی سند میں أبي عياض مجھول ہے – البانی نے اس کو ضعیف کہا ہے

بدر الدین عینی اپنی کتاب عمدة القاري شرح صحيح البخاري جلد ٢٤ صفحہ ١٣٥ پر لکھتے ہیں کہ

وَقد أخبر كثير من الْأَوْلِيَاء عَن أُمُور مغيبة فَكَانَت كَمَا أخبروا

لنک

http://shamela.ws/browse.php/book-5756#page-7253

 

جواب

فتح الباری باب المبشرات حدیث ٦٩٨٦ کی شرح میں ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «رُؤْيَا المُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ»

نیند میں سچا خواب اتا ہے اس پر کہا گیا
وَقَدْ أَخْبَرَ كَثِيرٌ مِنَ الْأَوْلِيَاءِ عَنْ أُمُورٍ مُغَيَّبَةٍ فَكَانَتْ كَمَا أَخْبَرُوا
خواب میں بہت سے اولیاء کو امور غیبی کی خبر ہوئی اور ایسا ہی ہوا جیسا کہ خبر دی گئی

نیند میں سچا خواب مشرک کو بھی آ سکتا ہے مثلا سورہ یوسف میں بادشاہ کے خواب کا ذکر ہے جو سچا تھا اسی طرح حدیث میں ہرقل کے خواب کا ذکر ہے کہ اس کی سلطنت کو مختون لوگ تباہ کر دیں گے
وغیرہ لہذا اس میں اولیاء کا کوئی خصوص کسی نص سے معلوم نہیں

جواب


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِي، فَشَكَوْتُ إِلَيْهِ مَا لَقِيتُ مِنْ أُمَّتِهِ مِنَ الْأَوْدِ وَاللَّدَدِ فَبَكَيْتُ، فَقَالَ لِي: «لَا تَبْكِ يَا عَلِيُّ»، وَالْتَفَتَ فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا رَجُلَانِ يَتَصَعَدَانِ وَإِذَا جَلَامِيدُ تُرْضَخُ بِهَا رُءُوسُهُمَا حَتَّى تُفْضَخَ ثُمَّ يَرْجِعُ، أَوْ قَالَ: يَعُودُ، قَالَ: فَغَدَوْتُ إِلَى عَلِيٍّ كَمَا كُنْتُ أَغْدُو عَلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْخَرَّازِينَ لَقِيتُ النَّاسَ، فَقَالُوا: قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ

ابُو صَالِحٍ الحَنَفِيُّ الكُوْفی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بنُ قَيْسٍ. نے علی رضی الله عنہ سے روایت کیا کہ علی نے کہا نبی صلی الله علیہ وسلم کو نیند میں دیکھا ان سے امت کی اولادوں سے جو ملا اس کی شکایات کی پس میں رو دیا اور مجھ سے رسول الله نے کہا مت رو علی اور .. دو مرد آئیں گے اپنے سر جھکا کر پلٹ جائیں گے یا کہا لوٹ جائیں گے- کہا پس صبح ہوئی جیسے ہوتی تھی اور میں الخرازين تک آیا تو لوگوں سے ملا کہا امیر المومینین کا قتل ہوا

سند ضعیف ہے شريك ابن عبد الله النخعي ہے اس پر جرح ہے یہ مختلط ہو گیا تھا
دوسرا عمار بن معاوية الدهنى ہے یہ شیعہ ہے
اور نبی صلی الله علیہ وسلم سے علم غیب بعد الوفات منسوب کر رہا ہے کہ رسول الله نے علی کو موت کی خبر دی
متن منکر ہے
——-
دوسری روایت میں ہے
فَشَكَوْتُ إِلَيْهِ مَا لَقِيتُ مِنْ أُمَّتِهِ مِنَ التَّكْذِيبِ وَالأَذَى
شکایات کی جو امت سے تکذیب و تکلیف ملی
——-

ایک اور میں ہے
وَعَنِ الْحَسَنِ- أَوِ الْحُسَيْنِ- أَنَّ عَلِيًّا- رَضِيَ الله عنه- قَالَ: لَقِيَنِي حَبِيبِي- يَعْنِي فِي الْمَنَامِ- نَبِيَّ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ: فَشَكَوْتُ إِلَيْهِ مَا لَقِيتُ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ بَعْدَهُ فوعدني الراحة منهم إلا قَرِيبٍ فَمَا لَبِثَ إِلَّا ثَلَاثًا ”
شکایات کی جو اہل عراق سے رسول الله کے بعد ملا پس وعدہ کیا کہ راحت قریب ہے تین دن سے بھی قریب
اس کی سند میں مجہول ہے

———

“الخرازين نام کا عراق میں کوئی شہر نہیں ہے کتب البدان میں اس کا ذکر نہیں ملا
یہ قول کتاب المطَالبُ العَاليَةُ بِزَوَائِدِ المسَانيد الثّمَانِيَةِ کے محقق سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري کا ہے
ولم أجد لأي منها ذكرًا في كتب البلدان.

جواب

جواب

جواب

جواب

Comments are closed.