حیات بعد الموت

عمر رضی الله تعالی عنہ کی شہادت کے بعد ایک شخص بنام عبدللہ بن سبا اسلام میں ظاہر ہوا اس نے دین میں شیعہ عقیدے کی بنیاد ڈالی اور نئی تشریحات کو فروغ دیا

الشھرستانی  اپنی کتاب الملل و النحل ص ٥٠ پر لکھتے ہیں

 السبائية أصحاب عبد الله بن سبأ؛ الذي قال لعلي كرم الله وجهه: أنت أنت يعني: أنت الإله؛ فنفاه إلى المدائن. زعموا: أنه كان يهودياً فأسلم؛ وكان في اليهودية يقول في يوشع بن نون وصي موسى عليهما السلام مثل ما قال في علي رضي الله عنه. وهو أول من أظهر القول بالنص بإمامة علي رضي الله عنه. ومنه انشعبت أصناف الغلاة. زعم ان علياً حي لم يمت؛ ففيه الجزء الإلهي؛ ولا يجوز أن يستولي عليه، وهو الذي يجيء في السحاب، والرعد صوته، والبرق تبسمه: وأنه سينزل إلى الأرض بعد ذلك؛ فيملأ الرض عدلاً كما ملئت جوراً. وإنما أظهر ابن سبا هذه المقالة بعد انتقال علي رضي الله عنه، واجتمعت عليع جماعة، وهو أول فرقة قالت بالتوقف، والغيبة، والرجعة؛ وقالت بتناسخ الجزء الإلهي في الأئمة بعد علي رضي الله عنه.

السبائية : عبداللہ بن سبا کے ماننے والے ۔ جس نے علی كرم الله وجهه سے کہا کہ:  تو، تو ہے یعنی تو خدا ہے پس علی نے اس کو  مدائن کی طرف ملک بدر کر دیا ۔ ان لوگوں کا دعوی ہے کہ وہ (ابن سبا) یہودی تھا پھر اسلام قبول کر لیا ۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ کا جانشین یوشع بن نون تھا اور اسی طرح علی ( اللہ ان سے راضی ہو) ۔ اور وہ (ابن سبا)  ہی ہے جس نے سب سے پہلے علی  کی امامت کے لئے بات پھیلآئی ۔ اور اس سے غالیوں کے بہت سے فرقے وابستہ ہیں ۔ ان کا خیال تھا کہ علی زندہ ہے اور انتقال نہیں کر گئے ۔ اور علی میں الوہی حصے تھے اور الله نے ان کو لوگوں پر ظاہر کرنے کے لئے اجازت نہیں دی ۔ اور وہ (علی) بادلوں کے ساتھ موجود ہیں اور آسمانی بجلی ان کی آواز ہے اور کوند انکی مسکراہٹ ہے اور وہ اس کے بعد زمین پر اتریں گے اور اس کو عدل سے بھر دیں گے جس طرح یہ  زمین ظلم سے بھری ہے۔ اور علی کی وفات کے بعد ابن سبا نے اس کو پھیلایا۔ اور اس کے ساتھ (ابن سبا) کے ایک گروپ جمع ہوا اور یہ پہلا فرقہ جس نے توقف (حکومت کے خلاف خروج میں تاخر)، غیبت (امام کا کسی غار میں چھپنا) اور رجعت (شیعوں کا امام کے ظہور کے وقت زندہ ہونا) پر یقین رکھا ہے ۔ اور وہ علی کے بعد انپے اماموں میں الوہی اجزاء کا تناسخ کا عقید ہ رکھتے ہیں

ابن اثیر الکامل فی التاریخ ج ٢ ص ٨ پر لکھتے ہیں

أن عبد الله بن سبأ كان يهودياً من أهل صنعاء أمه سوداء، وأسلم أيام عثمان، ثم تنقل في الحجاز ثم بالبصرة ثم بالكوفة ثم بالشام يريد إضلال الناس فلم يقدر منهم على ذلك، فأخرجه أهل الشام، فأتى مصر فأقام فيهم وقال لهم: العجب ممن يصدق أن عيسى يرجع، ويكذب أن محمداً يرجع، فوضع لهم الرجعة، فقبلت منه، ثم قال لهم بعد ذلك: إنه كان لكل نبي وصي، وعلي وصي محمد، فمن أظلم ممن لم يجز وصية رسول الله، صلى الله عليه وسلم، ووثب على وصيه، وإن عثمان أخذها بغير حق، فانهضوا في هذا الأمر وابدأوا بالطعن على أمرائكم…

 عبداللہ بن سبا صنعاء، یمن کا یہودی تھا اس کی ماں کالی تھی اور اس نے عثمان کے دور میں اسلام قبول کیا. اس کے بعد یہ حجاز منتقل ہوا  پھربصرة پھر کوفہ پھر شام، یہ لوگوں کو گمراہ کرنا چاہتا تھا لیکن اس میں کامیاب نہ ھو سکا.  اس کو اہل شام نے ملک بدر کیا اور یہ مصر پہنچا اور وہاں رہا اور ان سے کہا: عجیب بات ہے کہ تم لوگ کہتے ہو کہ عیسیٰ واپس ائے گا اور انکار کرتے ھو کہ نبی محمّد صلی الله علیہ وسلم واپس نہ آیئں گے. اس نے ان کے لئے رجعت کا عقیدہ بنایا اور انہوں نے اس کو قبول کیا. پھر اس نے کہا : ہر نبی کےلئے ایک وصی تھا اور علی محمّد کے وصی ہیں لہذا سب سے ظالم وہ ہیں جنہوں نے آپ کی وصیت پر عمل نہ کیا. اس نے یہ بھی کہا کہ عثمان نے بلا حق، خلافت پر قبضہ کیا ہوا ہے  لہذا اٹھو اور اپنے حکمرانوں پر طعن کرو

رجعت کا عقیدہ شیعہ مذھب کی جڑ ہے اور اس کے بنا ساری خدائی بےکار ہے. ابن سبا کو اسلام میں موت و حیات کے عقیدے کا پتا تھا  جس کے مطابق زندگی دو دفعہ ہے اور موت بھی دو دفعہ. اس کی بنیاد  قرآن کی آیات ہیں

سورہ غافر میں ہے

قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلْ إِلَىٰ خُرُوجٍ مِّن سَبِي

وہ (کافر) کہیں  گےاے رب تو نے دو زندگیاں دیں اور دو موتیں دیں ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں پس یہاں (جہنم ) سے نکلنے کا کوئی رستہ ہے

ابن سبا نے اس عقیدے پر حملہ کیا اور ان آیات کو رجعت کی طرف موڑ دیا کہ مستقبل میں جب خلفاء کے خلاف خروج ہو گا تو ہم مر بھی گئے تو دوبارہ زندہ ہوں گے اور ہمارے دشمن دوبارہ زندہ ہو کر ہمارے ہاتھوں ذلیل ہونگے. اس آیت کا شیعہ تفاسیر میں یہی مفھوم لکھا ہے اور اہل سنت جو مفھوم بیان کرتے ہیں وہ شیعہ کے نزدیک اہل سنت کی  عربی کی  غلط سمجھ بوجھ ہے

رجعت کے عقیدہ کو اہل سنت میں استوار کرنے کے لئے دو زندگیوں اور دو موتوں والی آیات کو ذھن سے نکالنا ضروری تھا. اس کے لئے عود روح کی روایت بنائی گئیں کہ ایک دفعہ مردے میں موت کا مفھوم ختم ہو جائے تو پھر میدان صاف ہے. آہستہ آہستہ اہل سنت مردے کے سننے اور مستقبل میں کسی مبارزت طلبی پر قبر سے باہر نکلنے کا عقیدہ اختیار کر ہی لیں گے

 لہذا عود روح  کی روایات شیعہ راویوں  زاذان، المنھال بن عمرو، عدی بن ثابت، عمرو بن ثابت نے اصحاب رسول کی طرف منسوب کیں اور بالاخر یہ راوی کم از کم اس بات میں کامیاب ہوئے کہ دو موتوں اور دو  زندگیوں کا اصول ذہن سے محو ہو گیا

جب بھی دو موتوں اور دو  زندگیوں  والی آیات پر بات کی جاتی ہے تو خود سنی ہونے کے دعویدار کہتے ہیں  کیا کیجئے گا قرآن میں  تو خود تین زندگیوں والی آیات موجود ہیں  کہ الله نے قوم موسی کو زندہ کیا عیسی نے زندہ کیا وغیرہ ، گویا با الفاظ دیگر روایات نے ان آیات کو منسوخ کر دیا یا نعوذ باللہ، قرآن غیر ذی عوج میں صاف بات نہیں کہی گئی

 کبھی کہتے ہیں کہ موت نیند ہے انسان زندگی میں سینکڑوں دفعہ سوتا ہے  اور لا تعداد موتوں سے ہمکنار ہوتا ہے یعنی وہی سبائی سوچ کے تسلط میں قرآن میں تضاد کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے. افسوس تمہاری سوچ پر اور افسوس تمہاری عقل پر

الغرض سبائی سوچ کامیاب ہوئی اور امام احمد اپنی ضخیم مسند میں موجود بدعتی روایات ضعیفہ  پر ایمان لائے اور فتوی دینے لگے کہ ایمانیات میں سے ہے کہ

والإيمان بمنكر ونكير وعذاب القبر والإيمان بملك الموت يقبض الأرواح ثم ترد في الأجساد في القبور فيسألون عن الإيمان والتوحيد

 ایمان  لاو منکر نکیر اور عذاب قبر پر اور موت کے فرشتے پر کہ وہ روحوں کو قبض کرتا ہے پھر جسموں میں لوٹاتا ہے قبروں میں  پس سوال کیا جاتا ہے ایمان اور توحید پر

بحوالہ طبقات الحنابلة كاملاً  لابي يعلى الحنبلي

وہ یہ بھی کہنے لگے

كان يقول إن الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون وأن الميت يعلم بزائره يوم الجمعة بعد طلوع الفجر وقبل طلوع الشمس

بے شک انبیاء قبروں میں زندہ ہیں نماز پڑھتے ہیں اور میت زائر کو پہچانتی ہے جمعہ کے دن، فجر کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے

بحوالہ كتاب فيه اعتقاد الإمام أبي عبدالله احمد بن حنبل – المؤلف : عبد الواحد بن عبد العزيز بن الحارث التميمي الناشر : دار المعرفة – بيروت

 امام احمد  جمعہ کی اس مخصوص ساعت میں یہ مانتے تھے کہ مردہ قبر سے باہر والے کو پہچانتا ہے

عود روح کے امام احمد کے عقیدے کو  بظاہر شیعہ مخالف دمشقی عالم ابن تیمیہ بھی  یہ مان گئے  اور فتوی میں کہا کہ امام احمد کے یہ الفاظ  امت کے نزدیک تلقاها بالقبول کے درجے میں ہیں یعنی قبولیت کے درجے پر ہیں

ابن تیمیہ نے لکھا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم قبر میں زندہ ہیں اور حسین و یزید کے معرکے میں خالی مسجد  النبی میں قبر سے  اذان دیتے رہے

وہ اپنی کتاب اقتضاء الصراط المستقيم مخالفة أصحاب الجحيم میں لکھتے ہیں

وكان سعيد ين المسيب في أيام الحرة يسمع الأذان من قبر رسول الله صلى الله عليه و سلم في أوقات الصلوات وكان المسجد قد خلا فلم يبقى غيره

اور  سعيد ين المسيب ایام الحرہ میں اوقات نماز  قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم سے اذان کی آواز سن کر معلوم کرتے تھے اور مسجد (النبی) میں کوئی نہ تھا  اور وہ با لکل خالی تھی

!بس کسر ہی رہ گی ، نبی  صلی الله علیہ وسلم قبر سے نہ  نکلے .شاید  رجعت کا وقت نہیں آیا تھا

اب تو عقیدے کا بگاڑ سر چڑھ کر بولا. ارواح کا قبروں میں اترنا اور چڑھنا شروع ہوا . روحوں نے اپنی تدفین کا مشاہدہ کیا. زندوں کے اعمال مرودں کو دکھائے جانے لگے نبی کی قبر پر بنے گنبد پر لب سی لئے گئے اور کسی نے اس پر کلام کیا تو ان کی آواز کو فتووں کی گھن گرج سے پست کر دیا گیا

لغوی طور پر برزخ سے مراد آڑ ہے جیسا قرآن میں ہے کہ دو سمندر اپس میں نہیں ملتے کیونکہ ان کے درمیان برزخ ہے سوره الرحمان میں ہے

مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ  بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لا يَبْغِيَانِ

البرزخ سے مراد عالم ارواح ہے

اصطلاحا البرزخ سے مراد عالم ارواح ہے

قرآن کی سوره المومنون کی ٩٩ اور ١٠٠ آیات ہیں

حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ (99) لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ

یہاں تک کہ ان میں جب کسی کو موت اتی ہے تو کہتا ہے اے رب مجھے لوٹا دے تاکہ صالح اعمال کروں ہرگز نہیں یہ تو صرف ایک قول ہے جو کہہ رہا ہے اور اب ان کے درمیان (برزخ ) آڑ حائل ہے  یہاں تک کہ ان کو دوبارہ اٹھایا جائے

قرآن کی آیت ہے کہ جس ذی روح پر موت کا فیصلہ ہوتا ہے اس کی روح روک لی جاتی  ہے جس کو امساک روح کہا جاتا ہے

وہ مقام جہاں روح کو رکھا جاتا ہے اس کو  آڑ کی نسبت سے البرزخ کہا  گیا ہے

البرزخ کی اصطلاح  بہت قدیم ہے ، ابن قتیبہ المتوفی ٢٧٦،  ابن جریر الطبری ٣١٠ ھ،  ابن حزم المتوفی ٤٥٧ ھ، ابن الجوزی  المتوفی ٥٩٧ ھ   نے اس کو استعمال کیا ہے . اس کو اردو میں ہم عالم ارواح کہتے ہیں. اسی مفھوم میں ڈاکٹر عثمانی نے بھی اس کو استعمال کیا ہے.

ابن قتیبہ المتوفی ٢٧٦ ھ کتاب تأويل مختلف الحديث میں لکھتے ہیں

وَنَحْنُ نَقُولُ: إِنَّهُ إِذَا جَازَ فِي الْمَعْقُولِ، وَصَحَّ فِي النَّظَرِ، وَبِالْكِتَابِ وَالْخَبَرِ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ، بَعْدَ أَنْ تَكُونَ الْأَجْسَادُ قَدْ بَلِيَتْ، وَالْعِظَامُ قَدْ رَمَّتْ1، جَازَ أَيْضًا فِي الْمَعْقُولِ، وَصَحَّ فِي النَّظَرِ، وَبِالْكِتَابِ وَالْخَبَرِ، أَنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ بَعْدَ الْمَمَاتِ فِي الْبَرْزَخِ.

ابو محمّد ابن قتیبہ نے کہا  اور ہم کہتے ہیں   بے شک  عقلی لحاظ سے اور صحیح النظر اور کتاب الله اور خبر (حدیث رسول ) سے پتا چلا ہے کہ بے شک الله تعالیٰ ان جسموں کو جو قبروں میں ہیں گلنے سڑنے اور ہڈیاں بننے کے بعد ان کو اٹھائے گا جب وہ مٹی ہو جائیں گے اور صحیح النظر اور کتاب الله اور خبر (حدیث رسول ) سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ ان کو البرزخ میں عذاب دیا جائے گا

 ابن جریر الطبری المتوفی ٣١٠ ھ  سورہ بقرہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں اگر کوئی سوال کرے

وإذا كانت الأخبار بذلك متظاهرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، فما الذي خُصَّ به القتيل في سبيل الله، مما لم يعم به سائر البشر غيره من الحياة، وسائرُ الكفار والمؤمنين غيرُه أحياءٌ في البرزخ، أما الكفار فمعذبون فيه بالمعيشة الضنك، وأما المؤمنون فمنعَّمون بالروح والريحان ونَسيم الجنان؟

اور  رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی حدیثوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ان کے لئے خاص  ہے جو الله کی راہ میں قتل ہوئے  تو کیا  سارے انسان  بشمول کفار اور مومنین  سب البرزخ میں زندہ ہیں

یعنی  سوال یہ ہے کہ شہداء برزخ میں ہیں  تو دیگر انسان وہاں کیسے  ہو سکتے ہیں

اس سوال کا جواب الطبری دیتے ہیں

أَنَّهُمْ مَرْزُوقُونَ مِنْ مَآكِلِ الْجَنَّةِ وَمَطَاعِمِهَا فِي بَرْزَخِهِمْ قَبْلَ بَعْثِهِمْ، وَمُنَعَّمُونَ بِالَّذِي يَنْعَمُ بِهِ دَاخِلُوها بَعْدِ الْبَعْثِ مِنْ سَائِرِ الْبَشَرِ مِنْ لَذِيذِ مَطَاعِمِهَا الَّذِي لَمْ يُطْعِمْهَا اللَّهُ أَحَدًا غَيْرَهُمْ فِي بَرْزَخِهِ قَبْلَ بَعْثِهِ

شہداء کو جنت کے کھانے  انکی برزخ ہی میں ملیں گے زندہ ہونے سے پہلے،  اور وہ نعمتوں سے مستفیض ہونگے دوسرے لوگوں سے پہلے اور لذیذ کھانوں سے،  جن کوالله  کسی بھی بشر کو نہ  چکھائے  گا برزخ میں ،  زندہ ہونے سے پہلے

الطبری کی تفصیل سے واضح ہے کہ ان کے نزدیک سب ارواح البرزخ میں ہیں اگزچہ شہداء ان سے بہتر حالت اور نعمت پا رہے ہیں

 ابن حزم المتوفی ٤٥٦ ھ  قبر میں عود روح کے انکاری ہیں اور البرزخ کی اصطلاح عالم ارواح کے لئے استمعال کرتے ہیں.   اور عذاب کو صرف روح پر مانتے ہیں. ڈاکٹر عثمانی اس  بات میں ان سے متفق ہیں

 کتاب الفصل في الملل والأهواء والنحل  میں لکھتے ہیں

ثمَّ ينقلنا بِالْمَوْتِ الثَّانِي الَّذِي هُوَ فِرَاق الْأَنْفس للأجساد ثَانِيَة إِلَى البرزخ الَّذِي تقيم فِيهِ الْأَنْفس إِلَى يَوْم الْقِيَامَة وتعود أجسامنا تُرَابا

پس الله ہم کو دوسری موت کے بعد جو نفس کی جسم سے علیحدگی ہے ہم کو برزخ میں منتقل کر دے گا اور ہمارے جسم مٹی میں لوٹائے گا

 فيبلوهم الله عز وَجل فِي الدُّنْيَا كَمَا شَاءَ ثمَّ يتوفاها فترجع إِلَى البرزخ الَّذِي رَآهَا فِيهِ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم لَيْلَة أسرى بِهِ عِنْد سَمَاء الدُّنْيَا أَرْوَاح أهل السَّعَادَة عَن يَمِين آدم عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام وأرواح أهل الشقاوة وَعَن يسَاره عَلَيْهِ السَّلَام

پس الله ہم کو آزمائے گا دینا میں جیسا چاہے گا پھر موت دے گا اور برزخ میں لوٹائے گا جس کو اس نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دکھایا تھا معراج کی رات کہ نیک لوگوں کی ارواح آدم علیہ السلام کی دائیں طرف اور بد بختوں کی بائیں طرف تھیں

ابن حزم صاف لفظوں میں البرزخ کو ایک عالم کہتے ہیں

ابن کثیر  المتوفی ٧٧٤ ھ تفسیر ج ١ ص ١٤٢ میں لکھتے ہیں

وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ} يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّ الشُّهَدَاءَ فِي بَرْزَخِهِمْ أَحْيَاءٌ يُرْزَقُونَ كَمَا جَاءَ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ: ” إِنَّ أَرْوَاحَ الشُّهَدَاءِ فِي حَوَاصِلِ طيور خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مُعَلَّقَةٍ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَاطَّلَعَ عليهم ربك اطلاعة فقال: ماذا تبغون؟ قالوا: يَا رَبَّنَا وَأَيُّ شَيْءٍ نَبْغِي وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ؟ ثُمَّ عاد عليهم بِمِثْلِ هَذَا فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَا يُتْرَكُونَ من أن يسألوا، قالو: نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّنَا إِلَى الدَّارِ الدُّنْيَا فَنُقَاتِلَ فِي سَبِيلِكَ حَتَّى نُقْتَلَ فِيكَ مَرَّةً أُخرى – لما يرون من ثواب الشاهدة – فَيَقُولُ الرَّبُّ جَلَّ جَلَالُهُ: إِنِّي كَتَبْتُ أَنَّهُمْ إليها لا يرجعون” وَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ تَعْلَقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يُرْجِعَهُ الله إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ» فَفِيهِ دَلَالَةٌ لِعُمُومِ الْمُؤْمِنِينَ أَيْضًا وَإِنْ كَانَ الشُّهَدَاءُ قَدْ خُصِّصُوا بِالذِّكْرِ فِي الْقُرْآنِ تَشْرِيفًا لَهُمْ وَتَكْرِيمًا وَتَعْظِيمًا.

 اور الله تعالی کا قول  (وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ) پس الله نے خبر دی کہ بے شک شہداء اپنی برزخ میں ہیں زندہ ہیں اور رزق کھاتے ہیں جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں آیا ہے بے شک شہداء کی روحیں سبز پرندوں میں ہیں جس میں وہ جنت کی سیر کرتے ہیں جہاں چاہتے ہیں جاتے ہیں پھر واپس قندیل میں جو عرش سے لٹک رہے ہیں ان میں اتے ہیں

ابن کثیر البرزخ کو شہداء کی جنت کہتے ہیں

ابن کثیر تفسیر سوره بنی اسرائیل یا الاسراء آیت ١٥ تا ١٧ میں سمرہ بن جندب رضی الله تعالی عنہ کی روایت کے حوالے سے لکھتے ہیں جو لوگ اس کے قائل ہیں کہ  مشرکین کے کم عمری میں انتقال کرنے والے بچے جنت میں ہیں

وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ سَمُرَةَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَأَى مع إبراهيم عليه السلام أَوْلَادَ الْمُسْلِمِينَ وَأَوْلَادَ الْمُشْرِكِينَ، وَبِمَا تَقَدَّمَ فِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ عَنْ حَسْنَاءَ عَنْ عَمِّهَا أَنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:«وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ» وَهَذَا اسْتِدْلَالٌ صَحِيحٌ، وَلَكِنْ أَحَادِيثُ الِامْتِحَانِ أَخَصُّ مِنْهُ. فَمَنْ عَلِمَ الله مِنْهُ أَنَّهُ يُطِيعُ جَعَلَ رُوحَهُ فِي الْبَرْزَخِ مَعَ إِبْرَاهِيمَ وَأَوْلَادِ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ مَاتُوا عَلَى الْفِطْرَةِ

اور انہوں نے احتجاج کیا ہے حدیث سَمُرَةَ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے دیکھا  مسلمانوں اور مشرکین کی اولادوں کو إبراهيم عليه السلام کے ساتھ اور …. پس الله نے علم دیا کہ ان کی روحوں کو برزخ میں ابرهیم اور مسلمانوں کی اولاد کے ساتھ کیا، جن کی موت فطرت پر ہوئی

الذھبی کتاب سير أعلام النبلاء ج ٧ ص ٥٧٠ میں لکھتے ہیں

وَمِنْ ذَلِكَ اجْتِمَاعُ آدَمَ وَمُوْسَى لَمَّا احْتَجَّ عَلَيْهِ مُوْسَى، وَحَجَّهُ آدَمُ بِالعِلْمِ السَّابِقِ، كَانَ اجْتِمَاعُهُمَا حَقّاً، وَهُمَا فِي عَالِمِ البَرْزَخِ، وَكَذَلِكَ نَبِيُّنَا -صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَخبَرَ أَنَّهُ رَأَى فِي السَّمَاوَاتِ آدَمَ، وَمُوْسَى،وَإِبْرَاهِيْمَ، وَإِدْرِيْسَ، وَعِيْسَى، وَسَلَّمَ عَلَيْهِم، وَطَالَتْ مُحَاوَرَتُهُ مع مُوْسَى، هَذَا كُلُّه حَقٌّ، وَالَّذِي مِنْهُم لَمْ يَذُقِ المَوْتَ بَعْدُ، هُوَ عِيْسَى -عَلَيْهِ السَّلاَمُ- فَقَدْ تَبَرْهَنَ لَكَ أَنَّ نَبِيَّنَا -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اور اس میں آدم و موسی کا اجتماع ہوا جب موسی نے اس سے بحث کی لیکن آدم علم سابق کی وجہ سے کامیاب رہے اور ان کا یہ اجتماع حق ہے اور وہ عالم البرزخ میں تھے اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہوں نے خبر دی کہ انہوں نے آسمانوں پر آدم موسی ابراہیم ادریس عیسی وسلم علیھم کو دیکھا اور موسی کے ساتھ دور گزارا یہ سب حق ہے اور ان میں عیسی علیہ السلام بھی تھے جنہوں نے ابھی موت نہیں چکھی پس اس سب کو نبی صلی الله علیہ وسلم نے واضح کیا

اس سب وضاحت سے الذہبی نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ البرزخ ایک عالم ہے

الذہبی شہداء کے لئے کہتے ہیں

وَهَؤُلاَءِ حَيَاتُهُم الآنَ الَّتِي فِي عَالِمِ البَرْزَخِ حَقٌّ

ان کی زندگی اس وقت عالم البرزخ میں حق ہے

نبی  صلی الله علیہ وسلم کے لئے کہتے ہیں

وَهُوَ حَيٌّ فِي لَحْدِهِ، حَيَاةَ مِثْلِهِ فِي البَرزَخِ

وہ اپنی قبر میں زندہ ہیں، زندگی جو البرزخ کی مثل ہے

الذھبی قبر میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی زندگی کے قائل ہیں   ان کے نزدیک سب انبیاء اور شہداء البرزخ میں ہیں اور نبی صلی الله علیہ وسلم اسی نوعیت کی زندگی کے ساتھ قبر میں جو ایک غلط عقیدہ ہے البتہ ان کے نزدیک البرزخ ایک مقام ہے جو دنیا سے الگ ہے

ابن قیم  المتوفی ٧٥١ ھ کتاب تفسير القرآن الكريم   میں ال فرعون پر عذاب پر  لکھتے ہیں

النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْها غُدُوًّا وَعَشِيًّا فهذا في البرزخ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذابِ فهذا في القيامة الكبرى.

النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْها غُدُوًّا وَعَشِيًّا پس یہ  البرزخ میں ہے  وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذابِ پس یہ قیامت میں ہوگا.

ابن قیّم اپنی کتاب  روضة المحبين ونزهة المشتاقين میں  سمرہ بن جندب رضی الله تعالی عنہ کی روایت پر لکھتے ہیں کہ

  فأما سبيل الزنى فأسوأ سبيل ومقيل أهلها في الجحيم شر مقيل ومستقر أرواحهم في البرزخ في تنور من نار يأتيهم لهبها من تحتهم فإذا أتاهم اللهب ضجوا وارتفعوا ثم يعودون إلى موضعهم فهم هكذا إلى يوم القيامة كما رآهم النبي صلى الله عليه وسلم في منامه ورؤيا الأنبياء وحي لا شك فيها

پس زنا کا راستہ بہت برا راستہ ہے اور اس کے کرنے والے جہنم میں ہیں برا مقام ہے اور ان کی روحیں البرزخ میں تنور میں آگ میں ہیں جس کی لپٹیں ان کو نیچے سے آتی ہیں پھر وہ واپس اپنی جگہ آتے ہیں اور اسی طرح قیامت کے دن تک ہو گا جیسا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو نیند میں خواب میں دکھایا گیا جو وحی تھی جس میں کوئی شک نہیں

ابن قیم البرزخ میں عذاب اجتماعی بتاتے ہیں جو حدیث کے مطابق ہے

ابن قیم کتاب الروح میں الْمُعْتَزلَة کا موقف لکھتے ہیں

من يَقُول إِن البرزخ لَيْسَ فِيهِ نعيم وَلَا عَذَاب بل لَا يكون ذَلِك حَتَّى تَقول السَّاعَة الْكُبْرَى كَمَا يَقُول ذَلِك من يَقُوله من الْمُعْتَزلَة وَنَحْوهم مِمَّن يُنكر عَذَاب الْقَبْر ونعيمه بِنَاء على أَن الرّوح لَا تبقى بعد فِرَاق الْبدن

جو یہ کہے کہ البرزخ میں نہ راحت ہے نہ عذاب بلکہ یہ قیامت قائم ہونے تک نہیں ہو گا  ایسا جیسا الْمُعْتَزلَة اور انکے جیسے  کہتے ہیں جو عذاب القبر کا انکار کرتے ہیں اور روح کے جسم سے نکلنے کے بعد اسکی بقا کے انکاری ہیں

معلوم ہوا کہ اصل عذاب البرزخ کا ہے جو ایک علیحدہ مقام ہے

ابن تیمیہ فتوی میں کہتے ہیں

فِي سُورَة الْمُؤمن وَهُوَ قَوْله {وحاق بآل فِرْعَوْن سوء الْعَذَاب النَّار يعرضون عَلَيْهَا غدوا وعشيا وَيَوْم تقوم السَّاعَة أدخلُوا آل فِرْعَوْن أَشد الْعَذَاب} وَهَذَا إِخْبَار عَن فِرْعَوْن وَقَومه أَنه حاق بهم سوء الْعَذَاب فِي البرزخ وَأَنَّهُمْ فِي الْقِيَامَة يدْخلُونَ أَشد ا/bلْعَذَاب وَهَذِه الْآيَة أحد مَا اسْتدلَّ بِهِ الْعلمَاء على عَذَاب البرزخ

سوره المومن اور الله کا قول {وحاق بآل فِرْعَوْن سوء الْعَذَاب النَّار يعرضون عَلَيْهَا غدوا وعشيا وَيَوْم تقوم السَّاعَة أدخلُوا آل فِرْعَوْن أَشد الْعَذَاب}  اور فرعون اور اس کی قوم کے بارے میں خبر ہے کہ ان کو بد ترین عذاب البرزخ میں دیا جا رہا ہے اور قیامت کے دن شدید عذاب میں داخل کیا جائے گا اور اس آیت سے علماء نے استدلال کیا ہے عذاب البرزخ پر

ابن أبي العز الحنفي، الأذرعي الصالحي الدمشقي (المتوفى: 792هـ) شرح العقيدة الطحاوية میں لکھتے ہیں

فَإِنَّهُمْ لَمَّا بَذَلُوا أَبْدَانَهَمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى أَتْلَفَهَا أَعْدَاؤُهُ فِيهِ، أَعَاضَهُمْ مِنْهَا فِي الْبَرْزَخِ أَبْدَانًا خَيْرًا مِنْهَا، تَكُونُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَيَكُونُ تَنَعُّمُهَا بِوَاسِطَةِ تِلْكَ الْأَبْدَانِ، أَكْمَلَ مِنْ تَنَعُّمِ الْأَرْوَاحِ الْمُجَرَّدَةِ عَنْهَا

پس جب انہوں (شہداء) نے اپنے جسم الله کے لئے لگا دیے حتیٰ کہ ان کے دشمنوں نے ان پر زخم لگانے، ان کو البرزخ میں اس سے بہتر جسم دیے گئے جو قیامت تک ہونگے، اور وہ نعمتیں ان بدنوں  کے واسطے سے حاصل کریں گے، جو مجرد ارواح سے حاصل کرنے سے زیادہ کامل شکل ہے

ڈاکٹر عثمانی کے علاوہ یہ سب عالم ارواح کوالبرزخ کہتے ہیں جیسا کہ حوالے اوپر دیے گئے ہیں

 ابن أبي العز الحنفي کہہ رہے ہیں کہ شہداء کے نئے اجسام ہیں جن سے وہ نعمت حاصل کرتے ہیں جو صرف روحوں کے رزق حاصل کرنے سے بہتر ہے یہ فرقہ اہل سنت و اہل حدیث کے موجودہ عقیدے کے خلاف ہے دونوں فرقے کہتے ہیں کہ شہداء کے سبز پرندے ان کے ہوائی جہاز ہیں جن میں وہ جنت کی سیر کرتے ہیں دیکھئے تسکین الصدور از سرفراز صفدر اور ابو جابر دامانوی کی کتب

خیال رہے کہ ابن تیمیہ ابن قیم اور ابن کثیر کا عقیدہ فرقہ اہل حدیث کے موجودہ عقیدے سے الگ ہے

ابن تیمیہ  المتوفی ٧٢٨ ھ ،ابن قیم  المتوفی ٧٥١ ھ، ابن کثیر المتوفی ٧٧٤ ھ اور ابن حجرالمتوفی ٨٥٢ ھ (سب ابن حزم کے بعد کے ہیں)، روح کا اصل مقام البرزخ مانتے ہیں جو عالم ارواح ہے . یہ سب روح پر عذاب، البرزخ میں مانتے ہیں اور اس کا اثر قبر میں بھی مانتے ہیں اس تمام عذاب کو جو البرزخ میں ہو یا روح کے تعلق و اتصال  سے  قبر میں ہو ، اس کو وہ عذاب القبر یا عذاب البرزخ کہتے ہیں .  روح کا جسد سے مسلسل تعلق مانتے ہیں جس میں آنا فانا روح قبر میں اتی ہے اور جاتی ہے اس کی مثال وہ سورج اور اسکی شعاوں سے دیتے ہیں. ان کے نزدیک عود روح استثنائی نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے دیکھئے کتاب الروح از ابن قیم المتوفی ٧٥١ ھ

یہ لوگ جب  البرزخ بولتے ہیں تو اس سے مراد عالم ارواح ہوتا ہے

تفسيرابن كثيرسوره غافر میں ابن کثیر لکھتے ہیں

أنَّ الْآيَةَ دَلَّتْ عَلَى عَرْضِ الْأَرْوَاحِ إِلَى النَّارِ غُدُوًّا وَعَشِيًّا فِي الْبَرْزَخِ، وَلَيْسَ فِيهَا دَلَالَةٌ عَلَى اتِّصَالِ تَأَلُّمِهَا بِأَجْسَادِهَا فِي الْقُبُورِ، إِذْ قَدْ يَكُونُ ذَلِكَ مُخْتَصًّا بِالرُّوحِ، فَأَمَّا حُصُولُ ذَلِكَ لِلْجَسَدِ وَتَأَلُّمُهُ بِسَبَبِهِ، فَلَمْ يَدُلَّ عَلَيْهِ إِلَّا السُّنَّةُ فِي الْأَحَادِيثِ

بے شک یہ آیت دلالت کرتی ہے ارواح کی آگ پر پیشی پر صبح و شام کو البرزخ میں،  اور اس میں یہ دلیل نہیں کہ یہ عذاب ان کے اجساد سے جو قبروں میں ہیں متصل ھو جاتا ہے، پس اس (عذاب) کا جسد کو پہنچنا اور اس کے عذاب میں ہونے پر احادیث دلالت کرتی  ہیں 

ابن کثیر واضح کر رہے ہیں کہ قرآن میں عذاب البرزخ کا ذکر ہے اور اس کا تعلق قبر سے نہیں بتایا گیا البتہ یہ احادیث میں ہے ہمارے نزدیک یہ اس وجہ ہے کہ احادیث کا صحیح مدعا نہیں سمجھا گیا اور ان کا رخ دنیاوی قبر کی طرف موڑ دیا گیا. قرآن میں  کفار پر عذاب النار یا عذاب جہنم کا ذکر ہے جس کو عذاب البرزخ یا عذاب قبر کہا جاتا ہے.

مومنوں پر عذاب  کا علم ١٠ ہجری میں سورج گرہن میں  دیا گیا   جس روز ام المومنین مارية القبطية  رضی الله تعالی عنہ اور  نبی صلی الله علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم انتقال کر گئے(١٦ ربیع الاول ١٠ ہجری بحوالہ اہل بیت کا مختصر تعارف از ابو ریحان علامہ ضیاء الرحمان فاروقی ).  لہذا مومنوں پر عذاب قبر کی تمام روایات اس سے بعد کی ہیں جو ایک نہایت مختصر مدت  تقریبا ایک سال ہے  (نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات ١٢ ربیع الاول 11 ہجری کی ہے ) اس کے برعکس اگر اس مسئلہ پر تمام صحیح (و ضعیف) روایات اکٹھی کی جائیں جیسا کہ ارشد کمال نے المسند فی عذاب القبر میں کیا ہے تو اس سے گمان ہوتا ہے کہ ساری مدنی زندگی میں صرف اسی مسئلہ پر نبی صلی الله علیہ وسلم نے گفتگو  کی

برزخ کی  زندگی  سے مراد قبر ہے

 البرزخ کے مفہوم میں تبدیلی ابن عبد الهادي الحنبلي (المتوفى: 744هـ)  نے کی. ان سے پہلے اس کو عالم ارواح کے لئے استعمال کیا جاتا تھا. انہوں نے البرزخ کے مفھوم میں  عالم ارواح اور دیناوی قبر دونوں کو شامل کر دیا گیا . ابن عبد الھادی  اپنی کتاب الصَّارِمُ المُنْكِي في الرَّدِّ عَلَى السُّبْكِي میں ایک نئی اصطلاح متعارف کراتے ہیں

وليعلم أن رد الروح (إلى البدن)  وعودها إلى الجسد بعد الموت لا يقتضي استمرارها فيه، ولا يستلزم حياة أخرى قبل يوم النشور نظير الحياة المعهودة، بل إعادة الروح إلى الجسد في البرزخ إعادة برزخية، لا تزيل عن الميت اسم الموت

اور جان لو کہ جسم میں موت کے بعد عود روح  ہونے سے ضروری نہیں کہ تسلسل ہو – اور اس سے دوسری زندگی بھی لازم نہیں آتی …بلکہ یہ ایک برزخی زندگی ہے  جس سے میت پر موت کا نام زائل نہیں ہوتا

 یہ مفہوم نص قرآنی سے متصادم ہے

اس کے بعد اسلامی کتب میں قبر میں  حیات برزخی کی اصطلاح انبیاء اور شہداء سے لے کر عام مردوں تک کے لئے استعمال ہونے  لگی لہذا یہ ایک لچک دار  آصطلاح بنا دی گئی جس میں عالم ارواح اور قبر دونوں کا مفھوم تھا

 اہل حدیث فرقہ اور پرویز اور اب کرامیہ 

علامہ پرویز کی ایک صفت تھی کہ قرآن کی کسی بھی بات کو وہ اصطلاح نہیں مانتے تھے بلکہ ہر بات لغت سے دیکھتے تھے چاہے نماز ہو یا روزہ ، جن ہوں یا فرشتے ایک سے بڑھ کر ایک تاویل انہوں نے کی . کچھ اسی طرز پر آج کل اہل حدیث فرقہ کی جانب سے تحقیق ہو رہی ہے اور انہوں نے بھی لغت پڑھ کر البرزخ کو صرف ایک کیفیت ماننا شروع کر دیا ہے نہ کہ ایک مقام

ابو جابر دامانوی  کتاب عذاب قبرکی حقیقت  میں  لکھتے ہیں

برزخ کسی مقام کا نام نہیں ہے۔ بلکہ یہ دنیا اور آخرت کے درمیان ایک آڑ یا پردہ ہے۔ پردہ سے مراد یہاں دنیاوی پردہ نہیں ہے جیسا کہ بعض کوتاہ فہموں کو غلط فہمی ہوئی ہے بلکہ یہ ایک ایسا مضبوط پردہ اور آڑ ہے کہ جسے کراس کرنا انسانی بس سے باہر ہے البتہ یہ پردہ قیامت کے دن دور ہو جائے گا

مقام حیرت ہے کہ ابو جابر کے مدح سرا  اور ان کی عذاب قبر سے متعلق کتابوں پر پیش لفظ لکھنے والے زبیر علی زئی  حدیث  ہر چیز تقدیر سے ہے حتیٰ کہ عاجزی اور دانائی بھی تقدیر سے ہے  کی شرح میں  لکھتے ہیں

وعن أبي ھریرۃ، قال : قال رسول اللہ ﷺ
((احتج آدم و موسیٰ عند ربھما ، فحج آدم موسیٰ؛ قال موسیٰ: أنت آدم الذي خلقک اللہ بیدہ، ونفخ فیک من روحہ، و أسجد لک ملائکتہ، وأسکنک في جنتہ، ثم أھبطت الناس بخطیئتک إلی الأرض؟ قال آدم أنت موسی الذي اصطفاک اللہ برسالتہ و بکلامہ، و أعطاک الألواح فیھا تبیانُ کل شئ، وقربک نجیاً، فبکم و جدت اللہ کتب التوراۃ قبل أن أخلق؟ قال موسیٰ: بأربعین عاماً. قال آدم: فھل و جدت فیھا “وَعَصٰی آدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی”؟ قال: نعم، قال : أفتلو مُني علیٰ أن علمتُ عملاً کتبہ اللہ عليَّ أن أعملہ قبل أن یخلقني بأربعین سنۃ؟ قال رسول اللہ ﷺ فحجَّ آدمُ موسیٰ.)) رواہ مسلم
(سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آدم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے پاس (آسمانوں پر عالم ارواح میں) بحث و مباحثہ کیا تو آدم (علیہ السلام) موسیٰ(علیہ السلام)پر غالب ہوئے ۔ موسیٰ(علیہ السلام) نے (آدم علیہ السلام سے ) کہا : آپ وہ آدم ہیں جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی (پیدا کردہ) روح پھونکی اور آپ کو اپنے فرشتوں سے سجدہ کروایا اور آپ کو اپنی جنت میں بسایا پھر آپ نے اپنی غلطی کی وجہ سے لوگوں کو (جنت سے ) زمین پر اتار دیا ؟
آدم(علیہ السلام) نے فرمایا: تم وہ موسیٰ ہو جسے اللہ نے اپنی رسالت اور کلام کے ساتھ چُنا اور تختیاں دیں جن میں ہر چیز کا بیان ہے اور تمہیں سر گوشی کے لئے (اللہ نے) اپنے قریب کیا، پس تمہارے نزدیک میری پیدائش سے کتنا عرصہ پہلے اللہ نے تورات لکھی؟
موسیٰ(علیہ السلام) نے جواب دیا: چالیس سال پہلے۔
آدم(علیہ السلام) نے فرمایا : کیا تم نے اس میں یہ لکھا ہوا پایا ہے کہ “اور آدم نے اپنے رب کے حکم کو ٹالا تو وہ پھسل گئے “؟
موسیٰ(علیہ السلام) نے جواب دیا : جی ہاں ، (آدم علیہ السلام نے )کہا : کیا تم مجھے اس عمل پر ملامت کرتے ہو جو میری پیدائش سے چالیس سال پہلے اللہ نے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پس آدم(علیہ السلام) موسیٰ(علیہ السلام) پر غالب ہوئے۔ (صحیح مسلم: ۲۶۵۲/۱۵ ۶۷۴۴)

فقہ الحدیث:
آدم(علیہ السلام) اور موسیٰ(علیہ السلام) کے درمیان یہ بحث و مباحثہ اور مناظرہ عالم برزخ میں آسمانوں پر ہواتھا۔ ایک دفعہ محدث ابومعاویہ محمد بن خازم الضریر (متوفی ۱۹۵؁ھ) نے اس مناظرے والی ایک حدیث بیان کی تو ایک آدمی نے پوچھا: آدم او رموسیٰ علیہما السلام کی ملاقات کہاں ہوئی تھی ؟ یہ سن کر عباسی خلیفہ ہارون الرشیدؒ سخت ناراض ہوئے اور اس شخص کو قید کردیا۔ وہ اس شخص کے کلام کو ملحدین اور زنادقہ کا کلام سمجھتے تھے۔ (دیکھئے کتاب المعرفۃ و التاریخ للامام یعقوب بن سفیان الفارسی ۱۸۱/۲ ، ۱۸۲ و سندہ صحیح ، تاریخ بغداد ۲۴۳/۵ و سندہ صحیح)

قارئیں خط کشیدہ الفاظ کو دیکھیں عالم البرزخ اب آسمان میں واپس آ گیا ہے

ابو جابر دامانوی کتاب عذاب قبر کی حقیقت میں لکھتے ہیں

برزخ کسی مقام یا جگہ کا نام ہے یا برزخ صرف آڑ (پردہ) کو کہتے ہیں؟ اگر برزخ آڑ کے علاوہ کسی جگہ یا مقام کا نام ہے تو اس کے دلائل پیش کئے جائیں۔ اور اگر برزخی عثمانی اپنے اس دعویٰ پر کوئی دلیل پیش نہ کر سکیں تو سمجھ لیں کہ وہ جھوٹے ہیں۔

لیکن ہم سے پہلے اپنے ممدوح زبیر علی سے پوچھ لیتے تو اچھا ہوتا ورنہ اوپر دلائل دے دینے گئے ہیں

رفیق طاہر صاحب، اعادہ روح اور عذاب قبر وبرزخ میں لکھتے ہیں

انہیں آیا ت سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ مرنے کے بعد جہاں انسان کا جسد وروح رہتے ہیں اسی کا نام برزخ ہے ۔ اور روح چونکہ نظر نہیں آتی جبکہ جسم نظر آتا ہے , تو ہم مرنے والے کے جسم کو دیکھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ جس جگہ وہ موجود ہے وہی اسکے لیے برزخ ہے ۔ یعنی برزخ کوئی آسمان میں مقام نہیں بلکہ مرنے کے بعد انسان کا جسم جس جگہ بھی ہوتا ہے وہ اپنی روح سمیت ہوتا ہے اور وہی مقام اسکے لیے برزخ ہے ۔

ارشد کمال کتاب عذاب القبر میں لکھتے ہیں

arshad-57

ایک اہل حدیث عالم کہتا ہے برزخ مقام نہیں. دوسرا کہتا ہے  مقام ہے. تیسرا کہتا ہے کیفیت ہے یہاں تک کہ تدفین سے پہلے بھی وہ برزخ میں ہے

ارشد کمال  السيوطي کا حوالہ دے رہے ہیں دیکھئے  السيوطي کیا کہتے ہیں اس مسئلہ میں

 السيوطي کتاب  الديباج على صحيح مسلم بن الحجاج میں ابن رجب کے حوالے سے لکھتے ہیں

وَقَالَ الْحَافِظ زين الدّين بن رَجَب فِي كتاب أهوال الْقُبُور الْفرق بَين حَيَاة الشُّهَدَاء وَغَيرهم من الْمُؤمنِينَ من وَجْهَيْن أَحدهمَا أَن أَرْوَاح الشُّهَدَاء يخلق لهاأجساد وَهِي الطير الَّتِي تكون فِي حواصلها ليكمل بذلك نعيمها وَيكون أكمل من نعيم الْأَرْوَاح الْمُجَرَّدَة عَن الأجساد فَإِن الشُّهَدَاء بذلوا أَجْسَادهم للْقَتْل فِي سَبِيل الله فعوضوا عَنْهَا بِهَذِهِ الأجساد فِي البرزخ

اور الْحَافِظ زين الدّين بن رَجَب كتاب أهوال الْقُبُور میں کہتے ہیں اور حیات شہداء اور عام مومنین کی زندگی میں فرق دو وجہ سے ہے کہ اول ارواح شہداء کے لئے جسم بنائے گئے ہیں اور وہ پرندے ہیں  جن کے پیٹوں میں وہ ہیں کہ وہ ان نعمتوں کی تکمیل  کرتے ہیں اور یہ مجرد ارواح کی نعمتوں سے اکمل ہے  کیونکہ شہداء نے اپنے جسموں پر زخم سہے الله کی راہ میں قتل ہوئے پس ان کو یہ جسم برزخ میں دے گئے

   البرزخ بطور مقام ہونے کا فرقہ اہل حدیث  آج کل انکاری بنا ہوا  ہے. روح پر عذاب کو عذاب الجھنم کہتا ہے اوربے روح لاش پر عذاب کو عذاب قبر کہتا ہے.لاش بلا روح پر عذاب کو متقدمین گمراہی کہتے ہیں دیکھئے شرح مسلم النووی المتوفی ٦٧٦ ھ

شاید انہوں نے سوچا ہے کہ

نہ ہو گا بانس نہ بجے گی بانسری

لہذا البرزخ کی ایسی تاویل کرو کہ سارے مسئلے سلجھ جائیں اس طرز پر انہوں نے جو عقیدہ اختیار کیا ہے وہ ایک بدعتی عقیدہ ہے جس کو سلف میں فرقہ کرامیہ نے اختیار کیا ہوا تھا

دیکھئے اپنے اپ کو سلف کے عقیدے پر کہنے والے کہاں تک سلفی ہیں بلکہ دین میں بدعتی عقیدے پھیلا رہے ہیں

 رفیق طاہر صاحب تحقیقی مقالہ بنام اعادہ روح اور عذاب قبر وبرزخ  میں لکھتے ہیں

اشکال :
روحیں قیامت کے دن ہی اپنے جسموں سے ملیں گی , کیونکہ اللہ تعالى نے قیامت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے ” وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ(التکویر: 7) ” اور جب روحیں (اپنے جسموں سے) ملا دی جائیں گی ۔
جواب :
مذکورہ بالا آیت میں بھی خاص تلبیس سے کام لیا گیا ہے ۔ کیونکہ آیت میں مذکور نفوس سے مراد روحیں نہیں بلکہ روح وجسد کے مجموعہ انسان ہیں , یعنی آیت کا معنى ہے جس دن انسانوں کو جمع کیا جائے گا ۔اور لفظ “نفس” کا حقیقی معنى “روح وجسد کا مجموعہ ” ہی ہے , اور صرف روح اسکا مجازی معنى ہے ۔ اور علم اصول میں یہ بات مسلم ہے کہ جب تک حقیقی معنى مراد لیا جا سکتا ہو اس وقت تک مجازی معنى مراد نہیں لیا جاسکتا ہے , یا دوسرے لفظوں میں ہر کلمہ کو اسکے حقیقی معنى پر ہی محمول کیا جائے گا الا کہ کوئی قرینہ ایسا موجود ہو جو اسے حقیقت سے مجاز کی طرف لے جائے ۔ اور یہاں کوئی ایسا قرینہ نہیں ہے جو اسکے مجازی معنى پر دلالت کرے ۔
ثانیا : اگر یہاں لفظ “نفوس” کا معنى “روح” کر لیا جائے تو پھر ترجمہ یہ بنے گا ” اور جب روحیں اکٹھی کی جائیں گی ” ۔ جبکہ یہ معنى اہل اسلام کے متفقہ عقائد کے خلاف ہے

پتا چلا کہ نفوس کا مطلب روح اہل اسلام کے متفقہ عقیدے کے خلاف ہے

موصوف کا ترجمہ کہ روحیں بھی غلط ہے  زوج کا مطلب جوڑنا ہے ہے یعنی روحیں جوڑی جائیں گی کوئی عام عرب کا بدو  بھی اس کو سنے گا تو سمجھ جائے گا کہ روحیں جسموں سے جوڑی جائیں گی

آج سے کچھ سال پہلے ١٩٧٦،  تک فرقہ اہل حدیث کا  متفقہ عقیدہ تھا

فتاوی علمائے حدیث ج ٩ میں ہے

موت کا مطلب

فتاویٰ علمائے حدیث جو  مسلک اہل حدیث کے کئی بڑے  علماء کے  فتوی کا مجموعہ ہے  اس میں نفوس کا مطلب روح ہے جو اہل اسلام کے متفقہ عقیدے کے خلاف  ہے رفیق طاہر ان دونوں باتوں کے انکاری ہیں بدن سے جان نکالنے کو وہ موت نہیں مانتے

 اب قارئین اپ کے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ اگر اپ تعبیر یا اصطلاحات کا مطلب اس طرح بدل دیں تو سلف کی عبارات سے اپ جو نتائج نکالیں گے وہ صحیح کیسے ہو سکتے ہیں البرزخ کی اصطلاح ابن حزم بھی استعمال کرتے ہیں اور عقیدہ عود روح کے  دشمن ہیں

البرزخ کی کمزور آڑ

کہا جاتا ہے

برزخ ایسی آڑ ہے جس کو کراس کرنا نا ممکن ہے

 لیکن اس آڑ کو جراثیم، کیڑے  اور دیگر جانور پار کرتے ہیں میت کو کھا جاتے ہیں میت مٹی میں تبدیل ہو جاتی ہے یہ کوئی عقلی اعتراض نہیں بلکہ عام مشاہدہ ہے

صحیح عقیدہ

 البرزخ ،عالم ارواح ہے جس میں روحیں رکھی جاتی ہیں اور بدن جو دنیاوی  قبروں میں ہیں گل سڑ جاتے ہیں

امام احمد مسند میں روایت بیان کرتے ہیں

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا حماد بن أسامة قال أنا هشام عن أبيه عن عائشة قالت : كنت أدخل بيتي الذي دفن فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبي فاضع ثوبي فأقول إنما هو زوجي وأبي فلما دفن عمر معهم فوالله ما دخلت إلا وأنا مشدودة على ثيابي حياء من عمر

حماد بن أسامة (ابو أسامة المتوفی ٢٠١ ھ ) بیان کرتے ہیں کہ ان سے هشام بن عروہ بیان کرتے ہیں ، وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی الله تعالی عنہآ نے فرمایا میں گھر میں داخل ہوتی تھی جس میں  نبی صلی الله علیہ وسلم اور میرے باپ  مدفون ہیں، پس میں (اپنے اپ سے) کہتی یہ تو میرے شوہر اور باپ ہیں پس کپڑا لیتی (بطور حجاب) لیکن جب سے عمرکی انکے ساتھ تدفین ہوئی ہے ،الله کی قسم! میں داخل نہیں ہوتی لیکن اپنے کپڑے سے چمٹی رہتی ہوں ،عمر سے شرم کی وجہ سے

امام احمد کے علاوہ اس کو حاکم المستدرک ٣ ص٦٣، ابن سعد، الطبقات ج٢ ص٢٩٤ ، ابن شبة، تاريخ المدينة ج٣ص ١٦٢ ، الخلال ، السنة ص 297 میں روایت کرتے ہیں  حماد بن أسامة کے تفرد کے ساتھ

اس روایت کا مفہوم ہے کہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا ، عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی حجرے میں تدفین کے بعد ہر وقت اپنا حجاب لیتیں  کیونکہ انکو عمر سے شرم اتی تھی

اس روایت میں عمررضی الله تعالی عنہ کے تصرف کا ذکر ہے کہ وہ بعد وفات،  قبر کی مٹی کی  دبیزتہہ سے باہر بھی دیکھ لیتے تھے اس روایت کا مطلب ہے  کہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا ، نعوذباللہ، مردے کے قبر سے باہر دیکھنے کی قائل تھیں

اس روایت میں حماد بن اسامہ کا تفرد ہے

کتاب إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال  کے مطابق

قال أبو داود: قال وكيع: نهيت أبا أسامة أن يستعير الكتب وكان دفن كتبه.

ابو داود کہتے ہیں وكيع نے کہا میں نے أبا أسامة کو (دوسروں کی حدیث کی) کتابیں مستعار لینے سے منع کیا اور اس نے  اپنی کتابیں دفن کر دیں تھیں

عموما راوی اپنی کتابیں دفن کرتے یا جلاتے کیونکہ ان کو یہ یاد نہیں رہتا تھا کہ انہوں نے کیا کیا غلط روایت کر دیا ہے پھر پشیمانی ہوتی تو ایسا کام کرتے مثلا ابو اسامہ اور ابن لھیعة وغیرہ

اسکی وجہ شاید تدلیس کا مرض ہو

کتاب   المدلسین از ابن العراقي (المتوفى: 826هـ)  کے مطابق

حماد بن أسامة أبو أسامة الكوفي الحافظ قال الأزدي: قال المعيطي: كان كثير التدليس ثم بعد تركه

حماد بن أسامة أبو أسامة الكوفي الحافظ ہیں الأزدي کہتے ہیں کہ  المعيطي کہتے ہیں یہ بہت تدلیس کرتے پھر اس کو ترک کر دیا

 کتاب تعريف اهل التقديس بمراتب الموصوفين بالتدليس از ابن حجر کے مطابق

كان كثير التدليس ثم رجع عنه

بہت تدلیس کرتے پھر اس کو کرنا چھوڑ دیا

صحیحین میں  حماد بن أسامة  موجود ہیں  جن کے بارے میں ظاہر ہے کہ امام مسلم اور امام بخاری نے تحقیق کی ہے لیکن زیر بحث روایت صحیحین میں نہیں

محدثین کے مطابق روایت کے سارے راوی ثقہ بھی ہوں تو روایت شاذ ہو سکتی ہے

کہا جاتا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے

 امام حاکم اس کو مستدرک میں روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں

هذا حديث صحيح على شرط الشيخين

یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے

امام الذھبی نے اس پر سکوت کیا ہے

محدثین کے نزدیک ابو اسامہ کی ساری روایات صحیح نہیں ہیں

يعقوب بن سفيان بن جوان الفارسي الفسوي، أبو يوسف (المتوفى: 277هـ) کتاب المعرفة والتاريخ  میں لکھتے ہیں

قَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: كَانَ أَبُو أُسَامَةَ  ِذَا رَأَى عَائِشَةَ فِي الْكِتَابِ حَكَّهَا فَلَيْتَهُ لَا يَكُونُ إِفْرَاطٌ فِي الْوَجْهِ الْآخَرِ.

سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ يُوهِنُ أَبَا أُسَامَةَ، ثُمَّ قَالَ يُعْجَبُ لِأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَمَعْرِفَتِهِ بِأَبِي أُسَامَةَ ثُمَّ هُوَ يُحَدِّثُ عَنْهُ

عمر بن حفص بن غیاث المتوفی ٢٢٢ ھ  کہتے ہیں میں نے اپنے باپ کو کہتے سنا  ابو اسامہ جب کتاب میں عائشہ لکھا دیکھتا تو اس کو مسخ کر دیتا یہاں تک کہ اس ( روایت) میں پھر کسی  دوسری جانب سے اتنا افراط نہیں آ پآتا  

يعقوب بن سفيان کہتے ہیں میں نے مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ کو سنا وہ ابو اسامہ کو کمزور قرار دیتے تھے  پھر کہا مجھے (مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ کو) ابی بکر بن ابی شیبہ پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ اس ابو اسامہ کو جانتے ہیں لیکن پھر بھی اس سے روایت لیتے ہیں

عمر بن حفص بن غياث المتوفی ٢٢٢ ھ ، ابو اسامہ کے ہم عصر ہیں. زیر بحث روایت  بھی اپنے  متن میں غیر واضح  اور افراط کے ساتھ ہے .  محدثین ایسی روایات کے لئے منکر المتن کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں

ابن القيسراني (المتوفى: 507هـ) کتاب ذخيرة الحفاظ (من الكامل لابن عدي)  میں ایک روایت پر لکھتے ہیں

وَهَذَا الحَدِيث وَإِن كَانَ مُسْتَقِيم الْإِسْنَاد؛ فَإِنَّهُ مُنكر الْمَتْن، لَا أعلم رَوَاهُ عَن ابْن عَيَّاش غير سُلَيْمَان بن أَيُّوب الْحِمصِي.

اور یہ حدیث اگر اس کی اسناد مستقیم بھی ہوں تو یہ منکر المتن ہے اس کو  ابْن عَيَّاش  سے سوائے سُلَيْمَان بن أَيُّوب الْحِمصِي کے کوئی روایت نہیں کرتا

ہمارے نزدیک عائشہ رضی الله تعالی عنہا کی حجرے میں  مسلسل حالت حجاب میں رہنے والی روایت منکر المتن ہے جس کو حماد بن اسامہ کے سوا کوئی اور روایت نہیں کرتا

پہلی شرح

اس روایت کا مطلب، روایت پرست اس طرح سمجھاتے ہیں  کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی پنڈلی پر سے کپڑا ہٹا ہوا تھا ابو بکر اور عمر آئے لیکن اپ نے نہیں چھپایا لیکن جب عثمان آئے تو اپ نے چھپا لیا اور کہا میں اس سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں. یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب نبی صلی الله علیہ وسلم ، ابو بکر، عمر، عثمان رضی الله عنہم سب زندہ تھے. اس روایت کو عثمان رضی الله تعالی عنہ کی

منقبت میں تو پیش کیا جا سکتا ہے لیکن زیر بحث روایت سے اسکا کوئی تعلق نہیں

دوسری شرح

ایک دوسری روایت بھی تفہیم میں  پیش کی جاتی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے امہات المومینن  رضی اللہ تعالی عنہا کو نابینا صحابی ابن مکتوم رضی الله تعالی عنہ  سے پردے کا حکم دیا احْتَجِبَا مِنْهُ ان سے حجاب کرو اس کو نسائی ابو داود نے روایت کیا ہے

نسائی کی سند ہے

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ نَبْهَانَ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ

نسائی کہتے ہیں

قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: مَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى عَنْ نَبْهَانَ غَيْرَ الزُّهْرِيِّ

ہم نہیں جانتے کہ نَبْهَانَ سے سوائے الزُّهْرِيِّ کے کسی نے روایت کیا ہو

کتاب ذيل ديوان الضعفاء والمتروكين از الذھبی   کے مطابق

نبهان، كاتب أم سلمة: قال ابن حزم: مجهول: روى عنه الزهري.

نبهان، ام سلمہ رضی الله تعالی عنہا کے کاتب تھے ابن حزم کہتے ہیں مجھول ہے الزهري ان  سے روایت کرتے ہیں

ابن عبد البر  کہتے ہیں نبهان مجهول لا يُعرف إلا برواية الزهري عنه هذا الحديث، نبهان مجھول ہے اور صرف اسی روایت سے جانا جاتا ہے

کتاب المغني لابن قدامة  کے مطابق

فَأَمَّا حَدِيثُ نَبْهَانَ فَقَالَ أَحْمَدُ: نَبْهَانُ رَوَى حَدِيثَيْنِ عَجِيبَيْنِ. يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ، وَحَدِيثَ: «إذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ، فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ» وَكَأَنَّهُ أَشَارَ إلَى ضَعْفِ حَدِيثِهِ

پس جہاں تک نَبْهَانَ کی حدیث کا تعلق ہے تو احمد کہتے ہیں کہ نَبْهَانَ نے دو عجیب حدیثیں روایت کی ہیں یہ (ابن مکتوم سے پردہ) والی اور…پس انہوں نے اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا

البانی اور شعيب الأرناؤوط  اس کو ضعیف قرار دیتے ہیں

لہذا یہ دونوں روایت اس زیر بحث روایت کی شرح میں پیش نہیں کی جا سکتیں

اس روایت پر حکم

یہ روایت منکر المتن ہے

اول زیر بحث روایت میں عائشہ رضی الله تعالی عنہ کا ایک مدفون میت سے حیا کرنے کا ذکر ہے. عائشہ رضی الله تعالی عنہا  ایک فقیہہ تھیں اور ان کے مطابق میت نہیں سنتی تو وہ میت کے دیکھنے کی قائل کیسے ہو سکتی ہیں وہ بھی قبر میں مدفون میت

دوم یہ  انسانی بساط سے باہر ہے کہ مسلسل حجاب میں رہا جائے. یہ نا ممکنات میں سے ہے. خیال رہے کہ امہات المومنین چہرے کو بھی پردے میں رکھتی تھیں

 اہل شعور اس روایت کو اپنے اوپر منطبق کر کے سوچیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک چھوٹے سے حجرہ میں مسلسل چہرے کے پردے میں رہا جائے

سوم عائشہ رضی الله تعالی عنہآ کی وفات ٥٧ ھ میں ہوئی. عمر رضی الله تعالی عنہ کی شہادت ٢٣ ھ میں ہوئی. اس پردے والی ابو اسامہ کی روایت کو درست مآنا جائے تو اسکا مطلب ہے کہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا  ٣٤ سال حجرے میں پردے میں  رہیں یعنی ٣٤ سال تک گھر کے اندر اور باہر پردہ میں رہیں

چہارم عائشہ رضی الله تعالی عنہا کو اس تکلیف میں دیکھ کر کسی نے ان کو دوسرے حجرے میں منتقل ہونے کا مشورہ بھی نہیں دیا. انسانی ضروریات کے تحت لباس تبدیل کرنا کیسے ہوتا ہو گا ؟ کسی حدیث میں نہیں اتا کہ وہ اس وجہ سے دوسری امہات المومنین کے حجرے میں جاتی ہوں کیونکہ تدفین تو حجرہ عائشہ میں تھی

بحر الحال یہ روایت غیر منطقی ہے اورایک ایسے عمل کا بتارہی ہے جو مسلسل دن و رات ٣٤ سال کیا گیا اور یہ انسانی بساط سے باہر کا اقدام ہے

کتاب المسند فی عذاب القبر از ارشد کمال میں سماع الموتی پر خاور بٹ صاحب لکھتے ہیں

عجیب بات ہے کہ اہل حدیث حضرات کے نزدیک مردہ سن نہیں سکتا لیکن دیکھ سکتا ہے اور عائشہ رضی الله تعالی عنہ کے حوالے سے اس زیر بحث  ضعیف روایت کو صحیح کہنے والے بہت سے اہل حدیث علماء ہیں

الله ہم سب کو ہدایت دے

روایت کے مسلکی دفاع کا  ایک اور انداز

 مسلک پرست روایت کو صحیح ثابت کرنے کے لئے سنن ابو داود کی روایت پیش کرتے ہیں

 حدَّثنا أحمدُ بن صالح، حدَّثنا ابنُ أبي فُدَيك، أخبرني عَمرو بن عثمانَ بن هانىء عن القاسمِ، قال: دخلتُ على عائشةَ، فقلتُ: يا أُمَّهْ، اكشفِي لي عن قبرِ رسول الله -صلَّى الله عليه وسلم- وصاحبَيه، فكشفتْ لي عن ثلاثةِ قُبورٍ، لا مُشْرِفةِ ولا لاطِئةٍ، مَبْطوحةٍ بِبَطحاءِ العَرْصة الحمراء

قاسم کہتے ہیں میں عائشہ رضی الله عنہا کے پاس داخل ہوا ان سے کہا

اماں جان مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور انکے دو صاحبوں کی قبریں دکھائیں، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے میرے لئے تین قبروں پر سے  پردہ ہٹایا

اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے کہ

 ان تین قبروں (کے حجرہ ) کا دروازہ کھولا

حالانکہ اس روایت میں کہیں نہیں کہ کوئی دروازہ بھی تھا. دوم البانی اس کو ضعیف کہتے ہیں کیونکہ اس کا راوی عَمرو بن عثمانَ بن هانىء مستور ہے

ایک ضعیف روایت کو بچانے کے لئے ایک دوسری ضعیف روایت سے استدلال باطل ہے کہتے ہیں

 مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

مسلک پرست عائشہ رضی الله عنہا کی مسلسل پردہ والی روایت کو صحیح ثابت کرنے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ مکان جس میں وہ رہتیں تھیں اور جس میں نماز پڑھتیں تھیں الگ الگ تھے اس سلسلے میں ان کی دلیل، الطبقات ابن سعد کی یہ روایت ہے

أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ: قُسِمَ بَيْتُ عَائِشَةَ بِاثْنَيْنِ: قِسْمٌ كَانَ فِيهِ الْقَبْرُ. وَقِسْمٌ كَانَ تَكُونُ فِيهِ عَائِشَةُ. وَبَيْنَهُمَا حَائِطٌ. فَكَانَتْ عَائِشَةُ رُبَّمَا دَخَلَتْ حَيْثُ الْقَبْرُ فُضُلا. فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ لَمْ تَدْخُلْهُ إلا وهي جامعة عليها ثيابها

موسی بن داود کہتے ہیں امام مالک کہتے ہیں ام المومنین رضی اللہ عنہا کا گھر دو حصوں پر مشتمل تھا ایک میں قبر تھی اور ایک میں عائشہ رضی الله عنہ خود  (رہتیں) تھیں… پس جب عمر اس میں دفن ہوئے تو وہ دوسرے حصے میں نہیں جاتیں الا یہ کہ کپڑا لے کر

اس کی سند میں  مُوسى  بن داود الضَّبيُّ، أبو عبد الله الطَّرَسُوسيُّ المتوفی ٢١٧ ھ ہے جس کو کتاب ميزان الاعتدال في نقد الرجال از الذھبی کے مطابق  أبو حاتم کہتے ہیں   في حديثه اضطراب. اس کی حدیث میں اضطراب ہوتا ہے. مسلم نے اس کی روایت کتاب الصلاه میں ایک جگہ لی ہے . اس سے عقیدے میں روایت نہیں لی گئی.

میزان الاعتدال کے مطابق  الكوفي ثم البغدادي یہ کوفی تھے پھر بغدادی اور کتاب تاریخ بغداد کے مطابق كوفي الأصل سكن بَغْدَاد  یہ اصلا کوفی تھے پھر بغداد منتقل ہوئے

الطبقات الکبری از ابن سعد کے مطابق

وَكَانَ قَدْ نَزَلَ بَغْدَادَ، ثُمَّ وَلِيَ قَضَاءَ طَرَسُوسَ، فَخَرَج إِلَى مَا هُنَاكَ، فَلَمْ يَزَلْ قَاضِيًا بِهَا إِلَى  أَنْ مَاتَ بِهَا

یہ بغداد پھنچے پھر طَرَسُوسَ کے قاضی ہوئے  پھر …..وہاں کے قاضی رہے اور وہیں وفات ہوئی

امام مالک  المتوفی ١٧٩ ھ سے مدینہ جا کر کب روایت سنی لہذا یہ روایت منقطع ہے

یہ امام مالک کا قول نقل کرتے ہیں  جو ان کی موطا تک میں موجود نہیں ہے اور یہ کسی صحابی کا قول بھی نہیں لہذا دلیل کیسے ہو گیا؟

مسلک پرستوں کی طرف سے مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت بھی پیش کی جاتی ہے

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْنَا صَوْتَ الْمَسَاحِي مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ

محمد بن اسحاق ، فاطمه بنت محمد سے وہ عمرہ سے وہ عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ ہمیں رسول اللہ کے دفن کر دئے جانے کا علم بدھ کی رات کے آخر میں کھدائی کے آوزاروں کی آواز سے ہوا

اس سے دلیل لی جاتی ہے کہ عائشہ  رضی اللہ عنہا اس کمرہ میں نہیں تھیں جس میں  نبی صلی الله علیہ وسلم کو دفن کیا گیا گویا ایک چھوٹے سے حجرے میں اب دو حجرے بنا دے گئے وہ بھی ایسے  کہ ایک  حجرے میں جو کچھ ہو رہا ہو وہ  دوسرے حجرے والے کو  علم نہ ہو سکے حتی کہ کھدال کی آواز آئے اگر اس روایت کو دلیل سمجھا جائے تو اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ  وفات النبی کے روز ہی دو حجرے  تھے جبکہ  دوسری روایت کے مطابق دو حجرے عمر رضی الله عنہ کی تدفین کے بعد ہوئے

افسوس اس کی سند بھی ضعیف ہے محمد بن اسحاق مدلس ہے عن سے روایت کر رہا ہے فاطمہ بنت محمّد ہے جواصل میں فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ عِمَارَةَ  ہے. کہا جاتا ہے کہ اس نام کی عبد الله بن ابی بکر کی بیوی تھی لیکن جو بھی ہو ان کا حال مجھول ہے

الطبقات الکبری از ابن سعد کی ایک روایت پیش کرتے ہیں

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ الْمَدَنِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَغَيْرِهِمَا عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيَّةِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا زِلْتُ أَضَعُ خِمَارِي وَأَتَفَضَّلُ فِي ثِيَابِي فِي بَيْتِي حَتَّى دُفِنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِيهِ. فَلَمْ أَزَلْ مُتَحَفِّظَةً فِي ثِيَابِي حَتَّى بَنَيْتُ بَيْنِي وَبَيْنِ الْقُبُورِ جِدَارًا فَتَفَضَّلْتُ بَعْدُ

اس کی سند میں عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ الْمَدَنِيُّ ہے جس کو احمد ضعیف الحدیث  (موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله) کہتے ہیں اس روایت کے مطابق عمر رضی الله عنہ کی وفات کے بعد حجرہ میں دیوار بنائی گئی

الطبقات الکبری کی ایک اور سند بھی پیش کرتے ہیں

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ. أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ تَكْشِفُ قِنَاعَهَا حَيْثُ دفن أبوها مع رسول الله فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ تَقَنَّعَتْ فَلَمْ تَطْرَحِ الْقِنَاعَ

عثمان بن ابراہیم کہتے ہیں کہ عائشہ رضی الله عنہ عمر کی تدفین کے بعد شدت کرتیں اور نقاب نہ ہٹاتیں

اس کی سند میں عبد الرحمن بن عُثْمَانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبِ الحاطبيُّ المدنيُّ  ہے جس کے لئے ابو حاتم کہتے ہیں

قال أبو حاتم: ضعيف الحديث يهولني كثرة ما يُسْند

ابو حاتم کہتے ہیں ضعیف الحدیث ہے

بحوالہ تاریخ الاسلام از الذہبی

 ایک اشکال پیدا کرتے ہیں کہ عائشہ رضی الله عنہا اس حجرے میں کیسے رہ سکتی ہیں جس میں قبریں ہوں

 اور وہ نماز کہاں  پڑھتیں تھیں تو اس کا جواب ہے کہ صحیح بخاری کی احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک وقت تھا جب  حجرہ بہت چھوٹا تھا کہ  جب رات کو نبی صلی الله علیہ وسلم نماز پڑھتے اور  سجدہ کرنے لگتے تو عائشہ رضی الله عنہا اپنے پیر سمیٹ لیتیں  لیکن مرض وفات کی روایات  قرطاس اور دوا پلانے والی سے ظاہر ہوتا ہے کہ حجرہ کو وسیع کیا گیا تھا جس میں کافی  افراد آ سکتے تھے قبروں کو باقی حجرے سے الگ کرنے کے لئے یقینا کوئی دبیز پردہ یا چق یا  لکڑی کی دیوار  ہو گی

وہابی عالم  صالح بن عبد العزيز بن محمد بن إبراهيم آل الشيخ  درس میں کہتے ہیں بحوالہ التمهيد لشرح كتاب التوحيد

ولما دفن عمر – رضي الله عنه – تركت الحجرة رضي الله عنها، ثم أغلقت الحجرة، فلم يكن ثم باب فيها يدخل منه إليها وإنما كانت فيها نافذة صغيرة، ولم تكن الغرفة كما هو معلوم مبنية من حجر، ولا من بناء مجصص، وإنما كانت من البناء الذي كان في عهده عليه الصلاة والسلام؛ من خشب ونحو ذلك

پس جب عمر رضی الله عنہ دفن ہوئے تو اپ (عائشہ) رضی الله عنہا نے حجرہ چھوڑ دیا پھر اس حجرے کو بند کر دیا پس اس میں کوئی دروازہ نہیں تھا جس سے داخل ہوں بلکہ ایک چھوٹی سی کھڑکی (یا دریچہ) تھا. اور یہ حجرہ نہ پتھر کا تھا نہ چونے کا بلکہ یہ لکٹری کا تھا جیسا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے دور میں ہوتا تھا

صالح بن عبد العزيز کے مطابق تو دو حجرے عمر رضی الله عنہ کی تدفین پر ہوئے اور ان کے درمیان دروازہ ہی نہیں تھا بلکہ کھڑکی تھی  لہذاوہ اس  سے دوسرے حجرے میں میں داخل کیسے ہوتیں ؟

 حجرہ اور قبر مطہرہ کے درمیان لکڑی کی دیوار تھی جس میں صرف ایک دریچہ تھا لہذا عائشہ رضی الله عنہا یا

کسی اور کا قبروں پر داخل ہونا ثابت نہیں ہوتا

عائشہ  رضی الله عنہا کے مسلسل پردہ والی روایت کے مطابق انہوں نے حجرہ نہیں چھوڑا تھا بلکہ جب

عمر رضی الله عنہ کی تدفین ہوئی تو  اس کو گھر ہی کہتیں ہیں اور وہ داخل پردہ میں ہوتیں  جبکہ اس کا دفاع کرنے والوں کے مطابق اب دو حجرے ہو چکے ہیں.  اگر دو حجرے تھے تو وہ تو داخل ہی اس حجرے میں ہوتی ہوں گی جس میں قبر سرے سے ہے ہی نہیں تو پردے کی ضرروت؟ یہ روایت کسی بھی زاویے سے  صحیح نہیں

اب یہ بھی دیکھئے

عائشہ رضی الله عنہا کے مسلسل پردہ والی روایت  سے دلیل لیتے ہوئے تھذیب الکال کے مولف  امام المزی کہا کرتے تھے

قال شيخنا الحافظ عماد الدين بن كثير ووجه هذا ما قاله شيخنا الإمام أبو الحجاج المزي أن الشهداء كالأحياء في قبورهم و هذه أرفع درجة فيهم

حافظ ابن کثیر کہتے ہیں اسی وجہ  سے ہمارے شیخ المزی کہتے ہیں کہ شہداء  اپنی قبروں میں زندوں کی طرح ہیں اور یہ ان کا بلند درجہ ہے

الإجابة فيما استدركته عائشة على الصحابة للإمام الزركشي 

منصور بن يونس بن صلاح الدين ابن حسن بن إدريس البهوتى الحنبلى (المتوفى: 1051هـ)  اپنی کتاب كشاف القناع عن متن الإقناع  میں لکھتے ہیں

قَالَ الشَّيْخُ تَقِيُّ الدِّينِ: وَاسْتَفَاضَتْ الْآثَارُ بِمَعْرِفَةِ الْمَيِّتِ بِأَحْوَالِ أَهْلِهِ وَأَصْحَابِهِ فِي الدُّنْيَا وَأَنَّ ذَلِكَ يُعْرَضُ عَلَيْهِ وَجَاءَتْ الْآثَارُ بِأَنَّهُ يَرَى أَيْضًا وَبِأَنَّهُ يَدْرِي بِمَا فُعِلَ عِنْدَهُ وَيُسَرُّ بِمَا كَانَ حَسَنًا وَيَتَأَلَّمُ بِمَا كَانَ قَبِيحًا وَكَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُولُ ” اللَّهُمَّ إنِّي أَعُوذُ بِك أَنْ أَعْمَلَ عَمَلًا أُجْزَى بِهِ عِنْدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَوَاحَةَ وَكَانَ ابْنَ عَمِّهِ وَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ عِنْدَ عَائِشَةَ كَانَتْ تَسْتَتِرُ مِنْهُ، وَتَقُولُ ” إنَّمَا كَانَ أَبِي وَزَوْجِي فَأَمَّا عُمَرُ فَأَجْنَبِيٌّ ” وَيَعْرِفُ الْمَيِّتُ زَائِرَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ قَالَهُ أَحْمَدُ.

ابن تیمیہ کہتے ہیں اور جو اثار ہیں ان سے معلوم ہوتا ہےکہ میت اپنے احوال سے اور دنیا میں اصحاب سے با خبر ہوتی ہے اور اس پر (زندوں کا عمل) پیش ہوتا ہے اور وہ دیکھتی اور جانتی ہے جو کام اس کے پاس ہو اور اس میں سے جو اچھا ہے اس پر خوش ہوتی اور اس میں سے جو برا ہو اس پر الم محسوس کرتی ہے اور ابو الدرداء کہتے تھے اے الله میں پناہ مانگتا ہوں اس عمل سے جس سے میں عبد الرحمان بن رَوَاحَةَ  کے آگے شرمندہ ہوں اور وہ ان کے چچا زاد تھے اور جب عمر دفن ہوئے تو عائشہ ان سے پردہ کرتیں اور کہتیں کہ یہ تو میرے باپ اور شوہر تھے لیکن عمر تو اجنبی ہیں اور امام احمد کہتے ہیں کہ میت زائر کو جمعہ کے دن طلوع سورج سے پہلے پہچانتی ہے

البهوتى حنابلہ کے مشھور امام ہیں

افسوس اس روایت سے قبر پرستی ہی پھیلی ہے

ضعیف روایات کو محدثین نے  اپنی کتابوں میں صحیح سمجھ کر نہیں لکھا بلکہ انہوں نے ایسا کہیں دعوی نہیں کیا جو بھی وہ روایت کریں سب صحیح سمجھا جائے اگر کسی کو پتا ہو تو پیش کرے

بہتر یہی ہے کہ محدثین جو کہہ گئے ہیں اس کو تسلیم کر لیا جائے

يعقوب بن سفيان بن جوان الفارسی الفسوی ، ابو يوسف (المتوفى: 277هـ) کتاب المعرفة والتاريخ میں لکھتے ہیں کہ:

قَالَ : عُمَرُ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : كَانَ أَبُو أُسَامَةَ إِذَا رَأَى عَائِشَةَ فِي الْكِتَابِ حَكَّهَا فَلَيْتَهُ لَا يَكُونُ إِفْرَاطٌ فِي الْوَجْهِ الْآخَرِ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ يُوهِنُ أَبَا أُسَامَةَ ، ثُمَّ قَالَ : يُعْجَبُ لِأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَمَعْرِفَتِهِ بِأَبِي أُسَامَةَ ، ثُمَّ هُوَ يُحَدِّثُ عَنْهُ

عمر بن حفص بن غیاث (المتوفی: ٢٢٢ ھ) کہتے ہیں میں نے اپنے باپ کو کہتے سنا ابو اسامہ جب کتاب میں عائشہ لکھا دیکھتا تو اس کو مسخ کر دیتا یہاں تک کہ اس (روایت) میں پھر کسی دوسری جانب سے اتنا افراط نہیں آ پاتا يعقوب بن سفيان کہتے ہیں میں نے محمد بن عبد الله بن نمير کو سنا وہ ابو اسامہ کو کمزور قرار دیتے تھے پھر کہا مجھے (محمد بن عبد اللهِ بن نمير کو) ابی بکر بن ابی شیبہ پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ اس ابو اسامہ کو جانتے ہیں لیکن پھر بھی اس سے روایت لیتے ہیں –

 (المعرفة والتاريخ ليعقوب بن سفيان: مَا جَاءَ فِي الْكُوفَةِ)

جس کو یہ روایت پسند ہو وہ سن لے کہ ہماری ماں عائشہ رضی الله عنہا ایک مجتہد تھیں وہ صحابہ تک کے اقوال قرآن پر پرکھ کر رد و قبول کرتی تھیں لہذا وہ مردہ میت سے شرم کیسے کر سکتیں ہیں؟

بخاری و مسلم میں روایات سے پتا چلتا ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو ابراہیم کی وفات والے دن ١٠ ہجری میں سورج گرہن کی نماز کے دوران، عذاب قبر سے مطلع کیا گیا. اس کی جو روایات بخاری اور مسلم میں ہیں ان میں ایک مشکل بھی ہے کہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا سے مروی ان روایات میں یہ آیا ہے کہ  نبی صلی الله علیہ وسلم کے گھر دو یہودی عورتیں آئیں، انہوں نے عذاب قبر کا تذکرہ کیا، نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس سے پناہ مانگی اور مسلم کی روایت کے مطابق کہا یہ  یہود کے لئے ہے پھر فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ کچھ راتوں بعد اپ نے فرمایا أَمَا شَعَرْتِ أَنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ کیا تمہیں شعور ہوا مجھے وحی کی گئی ہے کہ تم کو قبروں میں ارمایا جائے گا

اس کے برعکس ایک دوسری روایت جو مسروق سے مروی ہے اس میں ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے یہودی عورتوں کی فورا تصدیق کی اور اس میں اضافہ بھی ہے کہ تمام چوپائے عذاب سنتے ہیں

مسروق کی حدیث ہے

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے ابووائل نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مدینہ کے یہودیوں کی دو بوڑھی عورتیں میرے پاس آئیں اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ قبر والوں کو ان کی قبر میں عذاب ہو گا ۔ لیکن میں نے انہیں جھٹلایا اور ان کی ( بات کی ) تصدیق نہیں کر سکی ۔ پھر وہ دونوں عورتیں چلی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! دو بوڑھی عورتیں تھیں ، پھر میں آپ سے واقعہ کا ذکر کیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے صحیح کہا ، قبر والوں کو عذاب ہو گا اور ان کے عذاب کو تمام چوپائے سنیں گے ۔ پھر میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز میں قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگنے لگے تھے ۔

اس کے بر خلاف صحیحین کی دیگر روایات میں ہے

عمرۃ’ بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودیہ  عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سوال کرتے ہوئے آئی اور کہنے لگی کہ اللہ تعالیٰ تجھے قبر کے عذاب سے بچائے۔ اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا لوگ اپنی قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں؟ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: عائذا باللّٰہ من ذٰلک ۔ میں اس سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ پھر ایک دن آپ  صبح کے وقت اپنی سواری پر سوار ہوئے پھر (اس دن) سورج کو گرہن لگ گیا۔ (آپ صلی الله علیہ وسلم نے نماز کسوف ادا فرمائی یہاں تک کہ) سورج روشن ہو گیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا
انی قد رایتکم تفتنون فی القبور کفتنۃ الدجال … اسمع رسول اللّٰہ صلی الله علیہ وسلم بعد ذالک یتعوذ من عذاب النار و عذاب القبر
بے شک میں نے دیکھا کہ تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے دجال کے فتنے کی طرح۔ … میں نے اس دن کے بعد سے رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کو عذاب جہنم اور عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ۔ اور صحیح بخاری میں یہ الفاظ بھی ہیں:
فقال ما شاء اللّٰہ ان یقول ثم امرھم ان یتعوذوا من عذاب القبر
پھر آپ نے (خطبہ میں) جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا فرمایا۔ پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ  رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ قبرکے عذاب سے پناہ مانگیں۔

صحیح بخاری کتاب الکسوف باب التعوذ من عذاب القبر فی الکسوف جلد۱صفحہ ۱۴۳عربی ح:۱۰۴۹۔ صحیح مسلم کتاب الکسوف ج۱صفحہ۲۹۷عربی ح:۲۰۹۸

یہ دونوں متضاد روایات ہیں .مسروق کی روایت  میں نبی صلی الله علیہ وسلم عذاب کی قورا تصدیق کرتے ہیں جبکہ دوسری میں کچھ دنوں بعد

 وہ روایات جو صحیح میں ہوں چاہے بخاری کی ہوں یا مسلم کی اور باہم متصادم ہوں ان پر متقدمین  محدثین حدیث مشکل کا حکم لگا کر بحث کر چکے ہیں .کتاب  شرح مشكل الآثار از أبو جعفر أحمد بن محمد الطحاوي (المتوفى: 321هـ)  بَابُ بَيَانِ مُشْكِلِ مَا رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَفْعِهِ: أَنَّ النَّاسَ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ لَمَّا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ بَعْدَ قَوْلِ الْيَهُودِيَّةِ لِعَائِشَةَ: ” أَعَاذَكِ اللهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ میں  الطحاوی لکھتے ہیں

وَكَمَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَنْصُورٍ الْبَالِسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ عَجُوزَانِ مِنْ عَجَائِزِ يَهُودَ الْمَدِينَةِ،  فَقَالَتَا لِي: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، فَكَذَّبْتُهُمَا، وَلَمْ أُصَدِّقْهُمَا، فَخَرَجَتَا، وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ عَجُوزَيْنِ دَخَلَتَا عَلَيَّ، فَزَعَمَتَا أَنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ، فَقَالَ: ” صَدَقَتَا، إِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ كُلُّهَا ” فَقَالَتْ عَائِشَةُ: ” فَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي صَلَاةٍ، إِلَّا يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ

جیسا کہ روایت کیا ہے حسن بن عبدللہ بن منصور … عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ کہ انہوں نے فرمایا میرے پاس مدینہ کی دو بوڑھی یہودن آئیں  انہوں نے کہا بے شک اہل قبور کو قبروں میں عذاب ہوتا ہے اس پر میں نے نہ ان کی تکذیب کی نہ تصدیق پس جب وہ دونوں نکلیں نبی صلی الله علیہ وسلم داخل ہوئے میں نے کہا اے رسول الله ان بوڑھی عورتوں نے جو آئیں تھیں نے  دعوی کیا ہے کہ  اہل قبور کو قبروں میں عذاب ہوتا ہے پس اپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا  سچ کہا بے شک انکو عذاب ہوتا ہے جس کو چوپائے سنتے ہیں پس عائشہ رضی الله تعالی عنہا نے کہا اس کے بعد میں نے ہر نماز میں عذاب قبر سے پناہ مانگتے سنا 

اس کے بعد الطحاوي نے بخاری اور مسلم کی دوسری روایات پیش کی ہیں جن میں نبی صلی الله علیہ وسلم نے فورا یہودی عورتوں کی تصدیق نہیں کی. مسلم کی روایت میں تو باقاعدہ کچھ راتیں گزرنے کے بعد کے الفاظ ہیں

الطحاوي کہتے ہیں

أَنَّا قَدُ تَأَمَّلْنَا حَدِيثَ عَمْرَةَ الَّذِي بَدَأْنَا بِذِكْرِهِ فِي هَذَا الْبَابِ، عَنْ عَائِشَةَ، فَوَجَدْنَا غَيْرَ وَاحِدٍ مِنَ الرُّوَاةِ عَنْ عَائِشَةَ، قَدْ خَالَفُوهَا عَنْهَا، فَمِنْهُمْ مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ

جب ہم  عمرہ کی عائشہ رضی الله تعالی عنہا  حدیث جس سے ہم نے اس باب میں  بات شروع کی تھی اس پر تامل کرتے ہیں تو ہم یہ پاتے ہیں کہ ایک سے زائد راویوں نے اس کو عائشہ رضی الله تعالی عنہا سے روایت کیا ہے جن کی مخالفت مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ  نے کی ہے

آخر میں الطحاوي  فیصلہ دیتے ہیں

قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: فَكَانَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَا قَدْ دَلَّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ دَفَعَ ذَلِكَ فِي الْبَدْءِ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ، ثُمَّ أُوحِيَ إِلَيْهِ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ، فَرَجَعَ إِلَى التَّصْدِيقِ بِذَلِكَ، وَالِاسْتِعَاذَةِ مِنْهُ، وَفِي هَذَا مَا قَدْ دَلَّ عَلَى مُوَافَقَةِ عُرْوَةَ عَمْرَةَ عَلَى مَا رَوَتْ مِنْ ذَلِكَ عَنْ عَائِشَةَ، وَكَانَ هَذَا عِنْدَنَا وَاللهُ أَعْلَمُ أَوْلَى بِمَا رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ مِمَّا رَوَاهُ مَسْرُوقٌ، وَذَكْوَانُ عَنْهَا، لِأَنَّ فِي هَذَا تَقَدُّمَ دَفْعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِثْبَاتَهُ إِيَّاهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَكَانَ الَّذِي كَانَ عِنْدَ مَسْرُوقٍ، وَذَكْوَانَ فِي ذَلِكَ، هُوَ الْأَمْرُ الثَّانِي، وَكَانَ الَّذِي كَانَ عِنْدَ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، الْأَمْرَ الْأَوَّلَ وَالْأَمْرَ الثَّانِي، فَكَانَا بِذَلِكَ أَوْلَى، وَكَانَا بِمَا حَفِظَا مِنْ ذَلِكَ، قَدْ حَفِظَا مَا قَصَّرَ مَسْرُوقٌ، وَذَكْوَانُ عَنْ حِفْظِهِ، وَاللهَ نَسْأَلُهُ التَّوْفِيقَ

ابو جعفر نے کہا پس اس حدیث میں دلیل ہے کہ بے شک رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وحی انے سے پہلے  اس کا رد کیا کہ ان کو قبروں میں فتنہ میں مبتلا کیا جائے گا. پھر جب وحی  آئی کہ بے شک ان کو قبروں میں فتنہ میں مبتلا کیا جائے گا تو اپ نے اس کی تصدیق کی اور اس سے پناہ مانگی اور اس میں دلیل ہے کہ عروہ اور عمرہ نے عائشہ رضی الله عنہا سے جو پایا ( سنا) اس (بیان) میں اپس میں  موافقت ہے . یہ  ہمارے لئے زیادہ اولی بات ہے وَاللهُ أَعْلَمُ،  اس سے جو مسروق اور وَذَكْوَانُ  نے  ان سے روایت کیا ہے …. پس دیگر رآویوں نے یاد رکھا جو  مسروق نے مختصر کر دیا جو انہوں نے یاد کیا

اس تمام بحث سے معلوم ہوا مسروق نے اس کو غلط روایت کر دیا ہے .   الفاظ  إِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ كُلُّهَا  ان کو عذاب ہوتا ہے جس کو تمام چوپائے سنتے ہیں صرف مسروق  ہی بیان کرتے ہیں

 الطحاوي  کے مطابق مسروق اس روایت کو صحیح یاد نہ رکھ سکے  چونکہ ان کی روایت میں اور علتیں بھی ہیں لہذا عقیدے میں وہ کارگر نہیں اس بنیاد پر  چوپائے کے عذاب کے سنے کوایک عموم نہیں مانا جا سکتا

آجکل اس حوالے سے کافی الجھاؤ اہل حدیث حضرات نے پیدا کر دیا ہے جب ان سے اس مسئلہ میں بات ہوتی ہے وہ یہ باور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ عذاب ایک غیب کا معاملہ ہے لیکن پھر اس کو چوپایوں کو بھی سنواتے ہیں

ابو جابر دامانوی کتاب عذاب قبر کی حقیقت میں لکھتے ہیں

بلی کی بصارت انسان کی نسبت بہت زیادہ ہے اور وہ اندھیرے میں دیکھ سکتی ہے۔ چوپایوں کے سونگھنے، سننے اور محسوس کرنے کی حس انسان سے کہیں زیادہ ہے۔ لہٰذا وہ عذاب قبر سن سکتے ہیں جیسا کہ آجکل موبائل فون کی ٹرانسمیشن انتہائی زیادہ ہے جو کہ انسانی سماعت سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ ٹرانسمیشن انسانی کان تو نہیں سن سکتا لیکن موبائل فون اُس کو سن لیتا ہے اور پھر اُسی ٹرانسمیشن کو انسانی سماعت کے مطابق ڈھال کر ہمیں سنا دیتا ہے۔

موصوف سائنسی چوپائے پیش کر رہے ہیں اور غیب میں نقب لگا رہے ہیں

الله تعالی قرآن میں کہتا ہے غیب تو اسکو تو زمیں و آسمان میں کوئی نہیں جانتا سوائے الله کے

قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا الله 

قرآن میں ہے کہ پہاڑ الله کی تسبیح کرتے ہیں اس تسبیح کو کرنے والا پہاڑ جانتا ہے یا الله.  اسی طرح درخت و پہاڑ وغیرہ سجدہ کرتے ہیں اس کی کیفیت کو کرنے والا پہاڑ جانتا ہے یا الله، لیکن اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا. عذاب قبر کے لئے  عود روح کے قائلین کہتے ہیں عذاب و چیخ کو معذب مردہ  جانتا ہے ، چوپائے بھی سنتے  ہیں، تو یہ غیب کیسے رہا ! لہذا یہ دلیل نہیں بنتی

ابو جابر دامانوی  کتاب عذاب قبر میں مفتی محمد شفیع صاحب  کے حوالے سے غیب کی تعریف کرتے ہیں

لفظ غیب لغت میں ایسی چیزوں کے لئے بولا جاتا ہے جو نہ بدیہی طور پر انسان کو معلوم ہوں اور نہ انسان کے حواس خمسہ اس کا پتہ لگا سکیں۔یعنی نہ وہ آنکھ سے نظر آئیں نہ کان سے سنائی دیں نہ ناک سے سونگھ کر یا زبان سے چکھ کر ان کا علم ہو سکے اور نہ ہاتھ پھیر کر ان کو معلوم کیا جا سکے۔قرآن میں لفظ غیب سے وہ تمام چیزیں مراد ہیں جن کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے اور ان کا علم بداہت عقل اور حواس خمسہ کے ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات بھی آ جاتی ہیں۔تقدیری امور‘ جنت ودوزخ کے حالات ‘قیامت اور اس میں پیش آنے والے واقعات بھی‘ فرشتے ‘ تمام آسمانی کتابیں اور تمام انبیاء سابقین بھی جس کی تفصیل اسی سورہ بقرہ کے ختم پر امن الرسول میں بیان کی گئی ہے گویا یہاں ایمان مجمل کا بیان ہو ا ہے۔اور آخری آیت میں ایمان مفصل کا۔ تو اب ایمان بالغیب کے معنی یہ ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہدایات و تعلیمات لے کر آئے ہیں ان سب کو یقینی طور پر دل سے ماننا‘ شرط یہ ہے کہ اس تعلیم کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہونا قطعی طور پر ثابت ہو۔جمہور اہل اسلام کے نزدیک ایمان کی یہی تعریف ہے (عقیدہ طحاوی ‘ عقائد نسفی وغیرہ

سوال ہے کہ کیا غیب صرف انسانوں کے لئے ہے چرند پرند ،چوپائیوں، درندوں کے لئے نہیں

اگر یہ معاملہ صرف الله اور تکوینی امور پر اس کی طرف سے مقرر کردہ فرشتوں تک محدود ہوتا تو یہ بات قبل غور ہوتی لیکن جب اس میں چوپائے بھی شامل ہو جائیں تو یہ اب عموم ہو گیا کیونکہ سب چوپائے سنیں گے اور یہ غیب نہیں رہا

 مشرکین پر عذاب کی خبر نبی صلی الله علیہ وسلم کو مکہ میں ہی دی گئی کیونکہ قرآن کی عذاب البزرخ کی آیت مکی ہیں لہذا نبی صلی الله علیہ وسلم کو اس کی خبر تھی. مسلم کی ایک روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم  بنو نجار کے ایک باغ میں قبروں کے پاس سے گزرے جہاں اپ کا خچر بدکا اور اپ صلی الله علیہ وسلم نے ان قبروں کے بارے میں پوچھا ، اپ کو بتایا گیا کہ یہ مشرک تھے. اپ صلی الله علیہ وسلم  نے خبر دی کہ  ان قبر والوں کو عذاب ہو رہا ہے. خچر بدکنے کا واقعہ عموم سے الگ ہے کیونکہ خچر قبرستان میں چرتے رہتے ہیں لیکن نہیں بدکتے .  بخاری میں ایک دوسری  روایت ہے کہ بنو نجارہی کے ایک مقام پر اپ نے مشرکین کی قبریں اکھڑ وا دیں اور وہاں اب مسجد النبی ہے اس تاریخی پس منظر میں یہ واضح ہے کہ عذاب اگر ارضی قبر میں ہوتا تو اس مقام پر نہ ہی مسجد النبی ہوتی نہ نبی صلی الله علیہ وسلم ان کو کھدواتے اور کسی اور مقام پر جا کر مسجد النبی کی تعمیر کرتے.خوب یاد رکھیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو مشرکین پر عذاب قبر کی خبر  مکّہ میں ہو چکی ہے لیکن پھر بھی قبرین کھدواتے ہیں

جہاں تک خچر بدکنے کا تعلق ہے تو وہ ایک خاص واقعہ ہے جو پھر کبھی پیش نہیں آیا . اپ صلی الله علیہ وسلم کو عذاب سنوایا گیا نہ کہ دکھایا گیا یہ ایسے ہی ہے ہم قاہرہ کے عجائب گھر جائیں اور کہیں کہ ان فرعونیوں پر  عذاب ہو رہا ہے  جس سے ظاہر ہے کوئی یہ نہیں سمجھے گا کہ یہیں عجائب گھر میں ہو رہا ہے

الطحآوی کی تحقیق اس سلسے میں صحیح ہے کہ  مسروق نے جو حدیث بیان کی ہے اس کو انہوں نے صحیح یاد نہیں رکھا

اس سلسلے میں قرع نعال یعنی جوتیوں کی چاپ والی روایت بھی پیش کی جاتی ہے کہ جب فرشتے مارتے ہیں تو

( فَیَصِیْحُ صَیْحَۃً یَّسْمَعُھَا مَنْ یَّلِیْہِ غَیْرُ الثَّقَلَیْنِ (بخاری مسلم

پس وہ (کافر اس مار سے) چیختا ہے اور اس کے چیخنے چلانے کی آواز انسانوں اور جنوں کےعلاوہ پاس والے  سنتے ہیں۔

بخاری کے شارح ابن بطال کہتے ہیں کہ الفاظ یَّسْمَعُھَا مَنْ یَّلِیْہِ غَیْرُ الثَّقَلَیْنِ سے مراد

هم الملائكة الذين يلون فتنته

فرشتے ہیں جو فتنہ (سوال) قبر کے لئے ہوتے ہیں وہی اس چیچ کو سنتے ہیں

دوم اگر یہ مان لیا جائے کہ چیخ کو جن و انس کے علاوہ سب سنتے ہیں تو اس میں چرند پرند حشرات ارض بلی کتے سب شامل ہو جائیں گے اور اس کو صرف چوپایوں تک محدود کرنے کی کوئی تخصیص نہیں رہے گی سوم یہ علم غیب کی بات بھی نہیں ہو گی

اگر عذاب اسی دنیا کی قبر میں ہوتا تو پرندے اپنے گھونسلے قبرستان میں نہیں بناتے ہوں گے کیونکہ وہ بہت حساس مخلوق ہے جبکہ عام مشاہدہ اس کا رد کرتا ہے

آجکل ایک نیا شوشہ قبر پرستوں کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے کہ دو طرح کے چوپائے ہوتے ہیں ایک شہری جو ہارن کی آواز سے بھی نہیں ڈرتے، دوسرے دیہاتی جو فورا چونک جاتے ہیں لیکن کیا عذاب قبر جس کے لئے کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی سن لے تو مردہ ہی نہ دفنائے اسقدر بے ضرر ہے کہ شہری چوپائے قبرستان میں چرتے ہیں اور عذاب الہی سے لا علم رہتے ہیں پرسکوں انداز میں گھانس چرتے رہتے  ہیں

کہا جاتا ہے کہ عذاب فرشتے دنیا کی قبر میں میت پر کرتے ہیں  جس کو چوپائے  سنتے ہیں لیکن قرآن کہتا ہے

َامْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ ۚ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ ۖ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا

کیا آپ اسی خیال میں ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں۔ وه تو نرے چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیاده بھٹکے ہوئے

اللہ ہم سب کو ہدایت دے

ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بھی اپنے کسی جاننے والے  کی قبر پر گذرتا ہے اور اس کو سلام کرتا ہے وہ ( میت) کو پہچان لیتی ہے اور اس کو سلام کا جواب دیتی ہے

 اس روایت کی تمام اسناد جمع کی گئی ہیں تاکہ قارئین دیکھ سکھیں کہ امت پر کیا ستم ڈھایا گیا ہے

أبي هريرة رضي الله عنه سے منسوب  روایت

اس روایت کو ابن حبان نے المجروحين (2/ 58) میں ،الرازی نے تمام الفوائد (1/ 63)، خطیب البغدادي نے  تاريخ بغداد (6/ 137) میں، ابن عساكر نے  تاريخ دمشق (10/ 380) ، (27/ 65) میں ، اور ابن الجوزي نے “العلل المتناهية” (2/ 911) میں بیان کیا ہے اور یہ سب اس کو ایک ہی  طريق الربيع بن سليمان المرادي، عن بشر بن بكر، عن عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن عطاء بن يسار، عن أبي هريرة  سے روایت کرتے ہیں

الذهبی کتاب سير أعلام النبلاء  ج ١٢ ص ٥٩٠ میں لکھتے ہیں

حَدَّثَنَا الرَّبِيْعُ بنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بنُ زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ -صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: (مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُرُّ عَلَى قَبْرِ رَجُلٍ كَانَ يَعْرِفُهُ فِي الدُّنْيَا فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ، إِلاَّ عَرَفَهُ، وَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ) .

غَرِيْبٌ وَمَعَ ضَعْفِهِ فَفِيْهِ انقطَاعٌ، مَا عَلِمْنَا زَيْداً سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ

 ابی هُرَيْرَةَ رضی الله تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بھی اپنے کسی جاننے والے  کی قبر پر گذرتا ہے اور اس کو سلام کرتا ہے وہ ( میت) کو پہچان لیتی ہے اور اس کو سلام کا جواب دیتی ہے  غریب روایت ہے اور ضعیف ہے کیونکہ اس میں انقطاع ہے ہم نہیں جانتے کہ زید نے أَبِي هُرَيْرَةَ سے سنا ھو

ابن جوزی  اپنی کتاب العلل المتناهية في الأحاديث الواهية   میں  جو انہوں نے واہیات احادیث پر لکھی ہے کہتے ہیں حديث لا يصلح وقد أجمعوا على تضعيف عَبْد الرحمن

حدیث صحیح نہیں ہے اور بے شک عَبْدُ الرَّحْمَنِ بنُ زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے

 ابن القیم کتاب الروح کے مطابق  ابن ابی الدنیا کتاب القبور كتاب الْقُبُور بَاب معرفَة الْمَوْتَى بزيارة الْأَحْيَاء  میں اس کو ابی هُرَيْرَةَ کا قول کہتے ہیں

حدثنا محمد بن قدامة الجوهري، حدثنا معن بن عيسى القزاز، حدثنا هشام بن سعد، حدثنا زيد بن أسلم، عن أبي هريرة – رضي الله عنه – قال: “إذا مر الرجل بقبر أخيه يعرفه فسلم عليه ردَّ عليه السلام وعرفه، وإذا مرَّ بقبر لا يعرفه فسلم عليه رد عليه السلام

اس کی سند میں هشام بن سعد ، ضعیف راوی ہے ابن عدي کہتے ہیں  مع ضعفه يكتب حديثه

ابن عدی کہتے ہیں ان کے  ضعف کے ساتھ روایت لکھ لی جائے  جبکہ ابن معين کہتے ہیں  كان يحيى القطان لا يحدث عنه  یحییٰ القطان اس سے حدیث روایت نہیں کرتے

عائشہ رضي الله عنها سے منسوب روایت

ابن القیم کتاب الروح کے مطابق  ابن ابی الدنیا کتاب القبور كتاب الْقُبُور بَاب معرفَة الْمَوْتَى بزيارة الْأَحْيَاء  میں عَائِشَة رضى الله تَعَالَى عَنْهَا سے مروی روایت پیش کرتے ہیں

حَدثنَا مُحَمَّد بن عون حَدثنَا يحيى بن يمَان عَن عبد الله بن سمْعَان عَن زيد بن أسلم عَن عَائِشَة رضى الله تَعَالَى عَنْهَا قَالَت قَالَ رَسُول الله مَا من رجل يزور قبر أَخِيه وَيجْلس عِنْده إِلَّا استأنس بِهِ ورد عَلَيْهِ حَتَّى يقوم

اس کی سند میں عبد الله بن سمعان راوی ہے

العراقی  المغني عن حمل الأسفار في الأسفار، في تخريج ما في الإحياء من الأخبار  میں اس روایت کو بیان کرنے کے بعد  اس راوی کے لئے  لکھتے ہیں  وَلم أَقف عَلَى حَاله میں اس کے حال سے واقف نہ ہو سکا

ابن حجر لسان المیزان میں عبد الله بن سمعان [احتمال أن يكون عبد الله بن زياد بن سمعان] کے ترجمے میں  لکھتے ہیں

كره شيخي العراقي في تخريج الإحياء في حديث عائشة: ما من رجل يزور قبر أخيه ويجلس عنده إلا استأنس به ورد عليه حتى يقوم.

أخرجه ابن أبي الدنيا في كتاب القبور وفي سنده عبد الله بن سمعان لا أعرف حاله.

قلت: يحرر لاحتمال أن يكون هو المخرج له في بعض الكتب وهو عبد الله بن زياد بن سمعان ينسب إلى جده كثيرا وهو أحد الضعفاء.

شیخ العراقی نے الإحياء کی تخریج میں عائشہ رضی الله تعالی عنہا سے روایت کر کے اس روایت سے کراہت کی ہے اس کو ابن  أبي الدنيا نے كتاب القبور میں عبد الله بن سمعان کی سند سے روایت کیا ہے جس کا حال پتا نہیں

میں کہتا ہوں  اس کا احتمال ہے کہ  ان (ابن ابی الدنیا) کی بعض کتابوں میں یہ عبد اللہ بن زیاد بن سمان  اپنے دادا کی طرف منسوب ہے اور کمزورراویوں میں سے ہے ۔

ابن عبّاس رضي الله عنه  سے منسوب روایت

 ابن عبد البر اس کو کتاب  الاستذكار میں روایت کرتے ہیں

قال حدثنا بشر بن بكير عن الأوزاعي عن عطاء عن عبيد بن عمير عن بن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما من أحد مر بقبر أخيه المؤمن كان يعرفه في الدنيا فسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام

ابن حجر تہذیب التہذیب میں سند کے ایک  راوی عبيد بن عمير مولى بن عباس  کو مجهول کہتے ہیں . علامہ الوسی روح المعانی میں لکھتے ہیں

 إلا أن الحافظ إبن رجب تعقبه وقال : إنه ضعيف بل منكر

بے شک حافظ ابن رجب نے اس کا تعقب کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ نہ صرف ضعیف بلکہ منکر روایت ہے

سب سے افسوس ناک ابن تیمیہ المتوفی ٧٢٨ھ  کا عمل ہے جنہوں نے اس کو کتاب  اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم میں  ابن عبد البر کی بنیاد پر صحیح قرار دیا ہے

عصر حاضر کے وہابی عالم محمد صالح المنجد القسم العربي من موقع (الإسلام، سؤال وجواب) میں فتویٰ میں کہتے ہیں

مَا مِن مُسلِمٍ يَمُرُّ عَلَى قَبرِ أَخِيهِ كَانَ يَعرِفُهُ فِي الدُّنيَا، فَيُسَلِّمُ عَلَيهِ، إِلا رَدَّ اللَّهُ عَلَيهِ رُوحَهُ حَتَّى يَرُدَّ عَلَيهِ السَّلامَ

فقد بحث أهل العلم عن هذا الحديث المعلق فلم يجدوه مسندا في كتاب ، وكل من يذكره ينقله عن تعليق الحافظ ابن عبد البر ، فهو في الأصل حديث ضعيف

پس بے شک بعض اہل علم اس معلق حدیث پر بحث کی ہے اور یہ سندا کسی کتاب میں نہ مل سکی اور جس کسی نے بھی اس کا تذکرہ کیا ہے اس نے الحافظ ابن عبد البر کی  تعليق کا حوالہ دیا ہے جبکہ اصل میں حدیث ضعیف ہے

الغرض اس روایت کے تمام طرق ضعیف ہیں اور آج ہم ان کو ضعیف قرار نہیں دے رہے بلکہ یہ سب کتابوں میں ہزار سال پہلے سے موجود ہے لیکن اس روایت کو درست قرار دیا گیا اور بد عقیدگی کو پھیلایا گیا

امام احمد اور گمراہی

امام احمد کہتے تھے

كان يقول إن الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون وأن الميت يعلم بزائره يوم الجمعة بعد طلوع الفجر وقبل طلوع الشمس

بے شک انبیاء قبروں میں زندہ ہیں نماز پڑھتے ہیں اور میت زائر کو پہچانتی ہے جمعہ کے دن، فجر کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے

بحوالہ كتاب فيه اعتقاد الإمام أبي عبدالله احمد بن حنبل – المؤلف : عبد الواحد بن عبد العزيز بن الحارث التميمي الناشر : دار المعرفة – بيروت

کہا جاتا ہے کہ  ابن تیمیہ کہتے ہیں یہ کتاب فيه اعتقاد الإمام أبي عبدالله احمد بن حنبل ، المؤلفہ  عبد الواحد بن عبد العزيز بن الحارث التميمي نے اپنے فہم پر لکھی ہے

ابن تیمیہ کتاب درء تعارض العقل والنقل میں بتاتے ہیں کہ امام البیہقی کتاب اعتقاد أحمد جو أبو الفضل عبد الواحد بن أبي الحسن التميمي کو درس میں استمعال کرتے تھے

ولما صنف أبو بكر البيهقي كتابه في مناقب الإمام أحمد – وأبو بكر البيهقي موافق لابن البقلاني في أصوله – ذكر أبو بكر اعتقاد أحمد الذي صفنه أبو الفضل عبد الواحد بن أبي الحسن التميمي، وهو مشابه لأصول القاضي أبي بكر، وقد حكى عنه: أنه كان إذا درس مسألة الكلام على أصول ابن كلاب والأشعري يقول: (هذا الذي ذكره أبوالحسن أشرحه لكم وأنا لم تتبين لي هذه المسألة) فكان يحكى عنه الوقف فيها، إذ له في عدة من المسائل

اور جب ابو بکر البیہقی نے کتاب مناقب امام احمد لکھی اور ابو بکر البیہقی اصول میں  ابن الباقلاني سے موافقت کرتے ہیں اسکا ذکر ابو بکر البیہقی نے ذکر کیا کتاب اعتقاد أحمد کا جو أبو الفضل عبد الواحد بن أبي الحسن التميمي کی تصنیف ہے اور اصولوں میں قاضی ابو بکر کے مشابہ ہے اور ان سے بات بیان کی  جاتی ہے کہ جب وہ مسئلہ کلام میں ابن کلاب اور الأشعري کے اصول پر درس دیتے، کہتے ایسا ذکر کیا ابو الحسن نے جس کی شرح میں نے تمہارے لئے کی

ابن تیمیہ فتوی ج ٤ ص ١٦٧  میں لکھتے ہیں

وَكَانَ مِنْ أَعْظَمِ الْمَائِلِينَ إلَيْهِمْ التَّمِيمِيُّونَ: أَبُو الْحَسَنِ التَّمِيمِيُّ وَابْنُهُ وَابْنُ ابْنِهِ وَنَحْوُهُمْ؛ وَكَانَ بَيْنَ أَبِي الْحَسَنِ التَّمِيمِيِّ وَبَيْنَ الْقَاضِي أَبِي بَكْرٍ بْنِ الْبَاقِلَانِي مِنْ الْمَوَدَّةِ وَالصُّحْبَةِ مَا هُوَ مَعْرُوفٌ مَشْهُورٌ. وَلِهَذَا اعْتَمَدَ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ البيهقي فِي كِتَابِهِ الَّذِي صَنَّفَهُ فِي مَنَاقِبِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ – لَمَّا ذَكَرَ اعْتِقَادَهُ – اعْتَمَدَ عَلَى مَا نَقَلَهُ مِنْ كَلَامِ أَبِي الْفَضْلِ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ التَّمِيمِيِّ. وَلَهُ فِي هَذَا الْبَابِ مُصَنَّفٌ ذَكَرَ فِيهِ مِنْ اعْتِقَادِ أَحْمَدَ مَا فَهِمَهُ؛ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَلْفَاظَهُ وَإِنَّمَا ذَكَرَ جُمَلَ الِاعْتِقَادِ بِلَفْظِ نَفْسِهِ وَجَعَلَ يَقُولُ: ” وَكَانَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ “. وَهُوَ بِمَنْزِلَةِ مَنْ يُصَنِّفُ

كِتَابًا فِي الْفِقْهِ عَلَى رَأْيِ بَعْضِ الْأَئِمَّةِ وَيَذْكُرُ مَذْهَبَهُ بِحَسَبِ مَا فَهِمَهُ وَرَآهُ وَإِنْ كَانَ غَيْرُهُ بِمَذْهَبِ ذَلِكَ الْإِمَامِ أَعْلَمَ مِنْهُ بِأَلْفَاظِهِ وَأَفْهَمَ لِمَقَاصِدِهِ

امام أَبُو الْحَسَنِ الْأَشْعَرِيُّ کے عقائد کی طرف سب سے زیادہ تَّمِيمِيُّونَ میں سے أَبُو الْحَسَنِ التَّمِيمِيُّ اور ان کے بیٹے اور پوتے اور اسی طرح کے دیگر  ہوئے اور أَبِي الْحَسَنِ التَّمِيمِيِّ  اور َ الْقَاضِي أَبِي بَكْرٍ بْنِ الْبَاقِلَانِي میں بہت مودت اور اٹھنا بیٹھنا تھا اور اس کے لئے مشھور تھے اور اسی لئے امام البیہقی نے کتاب  جو مَنَاقِبِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ میں  لکھی تو انہوں نے أَبِي الْفَضْلِ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ التَّمِيمِيِّ کی کتاب  پر اعتماد کیا ہے  جو انہوں نے امام احمد کے اعْتِقَادِ پر لکھی تھی  اور اس میں مصنف نے وہ اعْتِقَادِ ذکر کیے ہیں جو ان کے فہم کے مطابق امام احمد کے ہیں اور اس میں الفاظ نقل نہیں ہیں اور انہوں نے اجمالا الِاعْتِقَادِ لکھے ہیں اپنے الفاظ میں اور کہا ہے اور ابو عبداللہ .. اس کا مقام فقہ میں اماموں کی رائے نقل کرنے جیسا ہے اور مذبب  کا ذکر فہم پر مبنی ہے  اور اگر امام کا مذھب ہوتا تو الفاظ کے ساتھ لوگوں نے نقل کیا ہوتا اور اس کا مقصد سمجھا ہوتا

عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ التَّمِيمِيِّ المتوفی ٤١٠ ھ  اورابن الباقلانی  المتوفی ٤٠٢ ھ اشعری عقائد رکھتے تھے اور انکو امام احمد کا عقیدہ بھی بتاتے تھے ابن تیمیہ کو اعتراض اس پر ہے کہ اشعری عقائد امام احمد سے منسوب کیوں کیے جا رہے ہیں وہ صرف  اس کا رد کر رہے ہیں .  بیہقی  بھی ابن البا قلانی سے متاثر تھے . بیہقی نے امام احمد کے مناقب میں عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ التَّمِيمِيِّ کی کتاب الاعتقاد استمعال کی کیونکہ  وہ ابن الباقلانی سے متاثر  تھے

ابن تیمیہ کے مطابق عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ التَّمِيمِيِّ  نے اپنے فہم پر اس کتاب کو مرتب کیا ہے. ابن تیمیہ نے مطلقا اس کتاب کو رد نہیں کیا  دوئم یہ صرف ابن تیمیہ غیر مقلد کی رائے ہے جبکہ حنبلی مسلک میں کتاب معروف ہے لہذا ابن تیمیہ کی بات ناقابل قبول ہے

  جہاں تک مردہ کا زائر کو پہچاننے کا تعلق ہے اس کو ابن تیمیہ  بھی مانتے ہیں

امام ابن تیمیہ اور گمراہی

ابن تیمیہ فتوی الفتاوى الكبرى لابن تيمية ج ٣ ص ٤٢  میں لکھتے ہیں

وَأَمَّا عِلْمُ الْمَيِّتِ بِالْحَيِّ إذَا زَارَهُ، وَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله – صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُرُّ بِقَبْرِ أَخِيهِ الْمُؤْمِنِ كَانَ يَعْرِفُهُ فِي الدُّنْيَا فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ، إلَّا عَرَفَهُ، وَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ» . قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: ثَبَتَ ذَلِكَ عَنْ النَّبِيِّ – صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَصَحَّحَهُ عَبْدُ الْحَقِّ صَاحِبُ الْأَحْكَامِ

اور جہاں تک اس کا تعلق ہے کہ میت زندہ کی زیارت سے کو جانتی ہے اور سلام کرتی ہے تو اس پر ابن عبّاس کی حدیث ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

 جو شخص بھی اپنے کسی جاننے والے  کی قبر پر گذرتا ہے اور اس کو سلام کرتا ہے وہ ( میت) کو پہچان لیتی ہے اور اس کو سلام کا جواب دیتی ہے

 ابن مبارک کہتے ہیں یہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے ثابت ہے اور اس کو صحیح کہا ہے عبد الحق صاحب الاحکام نے

کتاب المسند فی عذاب القبر از ارشد کمال میں مسئلہ سماع الموتی پر خاور بٹ صاحب لکھتے ہیں

افسوس اہل حدیث  شیخ ابن تیمیہ کی بد عقیدگی کا ذکر بھول جاتے ہیں اور غریب دیوبندیوں اور بریلویوں کا نام لے لے کر بد عقیدہ بتاتے ہیں .الله اس دو رخی سے بچاۓ

امام ابن قیم اور گمراہی

 ابن قیم کہتے ہیں اس پر اجماع ہے.  ابن قیّم کتاب الروح میں لکھتے ہیں

 وَالسَّلَف مجمعون على هَذَا وَقد تَوَاتَرَتْ الْآثَار عَنْهُم بِأَن الْمَيِّت يعرف زِيَارَة الْحَيّ لَهُ ويستبشر بِهِ

 اور سلف کا اس پر اجماع ہے اور متواتر آثار سے پتا چلتا ہے کہ میّت قبر پر زیارت کے لئے آنے والے کو پہچانتی ہے اور خوش ہوتی ہے

ابن حجر عسقلانی اور گمراہی 

ابن حجر کتاب  الإمتاع بالأربعين المتباينة السماع / ويليه أسئلة من خط الشيخ العسقلاني میں لکھتے ہیں

 إِن الْمَيِّت يعرف من يزوره وَيسمع من يقْرَأ عِنْده إِذْ لَا مَانع من ذَلِك

بے شک میت زیارت کرنے والے کو جانتی ہے اور قرات سنتی ہے اس میں کوئی بات مانع نہیں ہے

قارئیں فیصلہ کیجئے کہ کیا اس دجل کا شکار ہوتے رہیں گے کہ نام نہاد اہل علم گمراہ نہیں تھے

جواب یہ بات ان نام نہاد سند یافتہ جہلا کی ہے جنہوں نے اس دین کو ایک پیشہ بنا دیا ہے

ایک اہل حدیث عالم لکھتے ہیں کہ حدیث میں اتا ہے کہ

صحیح مسلم۔ جلد:۳/ تیسرا پارہ/ حدیث نمبر:۶۳۰۷/ حدیث مرفوع
۶۳۰۷۔ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ أَبِي حَيَّانَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهٗ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي بِأَرْجٰی عَمَلٍ عَمِلْتَهٗ عِنْدَکَ فِي الْإِسْلَامِ مَنْفَعَةً فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْکَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ قَالَ بِلَالٌ مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِي الْإِسْلَامِ أَرْجٰی عِنْدِي مَنْفَعَةً مِنْ أَنِّي لَا أَتَطَهَّرُ طُهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذٰلِکَ الطُّهُورِ مَا کَتَبَ اللہُ لِي أَنْ أُصَلِّيَ۔

 عبید بن یعیش، محمد بن علاء ہمدانی، ابواسامہ، ابو حیان۔ محمد بن عبد اللہ بن نمیر بواسطہ اپنے والد، ابوحیان تیمی، یحیی بن سعید، ابو زرعہ،  ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  بلال رضی اللہ عنہ سے صبح کی نماز کے وقت فرمایا: اے بلال !تو مجھ سے وہ عمل بیان کر جو تو نے اسلام میں کیا ہو اور جس کے نفع کی تجھے زیادہ امید ہو؟ کیونکہ آج رات میں نے جنت میں اپنے سامنے تیرے قدموں کی آواز سنی ہے،  بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے اسلام میں کوئی ایسا عمل نہیں کیا کہ جس کے نفع کی مجھے زیادہ امید ہو ،سوائے اس کے کہ جب بھی میں رات یا دن کے وقت کامل طریقے سے وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے جس قدر اللہ نے میرے مقدر میں لکھا ہوتا ہے نماز پڑھ لیتا ہوں۔”

 اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ  بلال رضی اللہ عنہ کہ قدم کی آواز آپ نے جنت میں سنی، اس عبارت سے یہ دلیل پکڑنا صحیح نہیں کہ اس وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو ایک نیا جسم عطا کر کہ جنت میں پہنچا دیا گیا تھا،
ایسے ہی اللہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا ہے کہ
میں نے دیکھا کہ عمرو (ابن لحی الخزاعی) اپنی آنتوں کو کھینچ رہا تھا۔ وہ پہلا شخص (عرب) ہے جس نےبتوں کے نام پر جانوروں کو چھوڑنے کی رسم ایجاد کی تھی

لیکن یہ بات صحیح نہیں کیونکہ یہ دو علیحدہ روایات ہیں ایک خواب ہے اور ایک جہنم کا فی الحقیقت نظارہ ہے

  نبی صلی الله  علیہ وسلم نے خواب دیکھا اور اسمیں بلال رضی الله تعالی  عنہ کو دیکھا اور پھر صبح اس بارے میں انکو بتایا یہ بات ظاہر ہے کہ مستقبل کی بات ہے کیونکہ بلال زندہ تھے . اس کے بر عکس  عمرو  ابن لحی الخزاعی  جو مر چکا تھا اس کو نبی صلی الله علیہ وسلم نے گرہن کی نماز پڑھاتے ہوئے  بیداری میں دیکھا جو دس ہجری کا واقعہ ہے نہ صرف عمرو (ابن لحی الخزاعی) کو دیکھا بلکہ اپ جہنم کی تپش کی وجہ سے پیچھے ہٹے اور ایک موقعہ پر جنت میں سے انگور کا خوشہ لینے کے لئے آگے بھی بڑھے  ایک اور روایت میں ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایک عورت کو بھی دیکھا جس نے بلی کو باندھ دیا تھا اور بھوک پیاس کی وجہ سے وہ بلی مر گئی.   اس کی تفصیل بخاری و مسلم میں کسوف کی روایات میں دیکھی جا سکتی ہیں

لہذا ایک خواب  ہے جس میں مستقبل کی خبر ہے اور دوسرا فی الحقیقت جہنم کا براہ راست منظر ہے اوردونوں میں فرق ہے

اب اگر یہ براہ راست منظر  تھا تو پھر ظاہر ہے کہ حدیث میں عمرو (ابن لحی الخزاعی) کا جسم بتایا گیا جس کی آنتیں تھیں اور روح کی آنتیں نہیں ہوتیں

اس حدیث سے جان چھڑانا مشکل ہے لہذا گول مول جواب دینا اب ایک عام بات ہے

توضیح الاحکام میں زبیر علی زئی کہتے ہیں

tozeh-547

اہل حدیث کا آجکل ٢٠١٤ میں موقف ہے کہ برزخ قبر میں ہی ہوتی ہے واضح رہے کہ یہ موقف پہلے نہیں تھا

عمرو بن لحی دنیا کی قبر میں نبی صلی الله علیہ وسلم نے نہیں دیکھا . سائل نے سوال کچھ کیا جواب گول مول آیا

اہل حدیث حضرات حدیث کا واضح متن رد کرکے کہتے ہیں کہ برزخی جسم قیاسی ہیں

دامانوی کتاب عذاب قبر میں لکھتے ہیں

موصوف کا خیال ہے کہ اس قبر میں کس طرح جنت اور جہنم پیش کی جا سکتی ہے چونکہ یہ بات ان کے ذہن سے ٹکراتی ہے اس لئے وہ اس کا انکار کر دیتے ہیں حالانکہ ہم نے بخاری و مسلم کے حوالے سے عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایت بھی پیش کی ہے کہ میت پر صبح و شام جنت اور جہنم کو پیش کیا جاتا ہے۔ اس روایت کو موصوف نے بھی توحید خالص دوسری قسط ص۳۳ پر پیش کیا ہے جیسا کہ صحیح احادیث اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ بلاشبہ میت پر اس کا ٹھکانہ جنت یا جہنم پیش کیا جاتا ہے۔ ہم اس کی وضاحت ایک اور طرح سے کرتے ہیں۔ چنانچہ جناب عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ :۔
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہو گیا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں طویل قیام فرمایا۔ (اس حدیث میں یہ بھی ہے )صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کی حالت میں ) ہم نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ کھڑے ہوئے کسی چیز کو پکڑنے کا ارادہ کررہے تھے پھر ہم نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ پیچھے کی جانب ہٹ رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک میں نے جنت کو دیکھا اور اس کے ایک درخت سے انگور کا خوشہ توڑنے کا ارادہ کیا تھا۔ اگر میں اس خوشہ کو توڑ لیتا تو بلاشبہ تم جب تک دنیا میں رہتے اس میں سے کھاتے پھر میں نے دوزخ کو دیکھا اور آج کے دن کے برابر کوئی منظر ایسا خوفناک میری نظر سے نہیں گزرا اس (جہنم)میں میں نے عورتوں کو زیادہ پایا…‘‘۔
بخاری و مسلم کی اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جنت اور جہنم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نماز کی حالت میں پیش کیا گیا اور جنت تو اسقدر قریب آ گئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسمیں سے انگور کا خوشہ توڑنے کا ارادہ بھی کر لیا تھا۔ جب جنت و جہنم مصلے پر پیش ہو سکتی ہیں (حالانکہ صحابہ کرام ؓ نے انہیں نہیں دیکھا تھا) تو قبر میں کیوں پیش نہیں ہو سکتی۔اصل بات ایمان کی ہے جو شخص غیب پر ایمان رکھے گا تو وہ لازماً ان حقیقتوں کو تسلیم کرے گا اور جو شخص بن دیکھے ایمان کا قائل ہی نہ ہو تو بہرحال آج نہیں تو کل وہ ضرور ان تمام حقائق پر ایمان لے آئے گا مگر اس وقت وہ ایمان اسے فائدہ نہیں دے گا۔مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں عُرِضَتْ عَلَی النَّارُ۔ یعنی مجھ پر جہنم پیش کی گئی (مشکوٰۃ ص۴۵۶) اس واقعہ کو عائشہ ؓ اور اسماء بنت ابی بکر بھی بیان کرتی ہیں اور جسمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد پہلی مرتبہ عذاب قبر کا تذکرہ فرمایا جس کی تفصیل گزر چکی ہے۔

جنت و جہنم اگر روز پیش کی جائے تو اس واقعہ کی کیا اہمیت ہاں دینا میں یہ ایک دفعہ ہوا جس دن ابراہیم کی وفات ہوئی اسی لئے اس کی اہمیت ہے. دوسرے اس دن پہلی دفعہ عذاب قبر کا بتایا گیا تو ظاہر ہے اسی کا منظر البرزخ سے دکھایا گیا نہ کہ دنیا کی کی کسی قبرکا

دامانوی عذاب القبر کی حقیقت میں لکھتے ہیں

موصوف نے پانچویں دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی پیش کی ہے کہ ان کے لئے جنت میں ایک دودھ پلانے والی ہے لیکن جیسا کہ واضح کیا گیا ہے کہ قیاس سے کوئی چیز ثابت نہیں کی جا سکتی بلکہ ایسا قیاس، قیاس مع الفارق ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔

معلوم ہوا برزخ مقام نہیں زمانہ ہے اور برزخی جسم قیاس ہے جس کا ذکر صرف ڈاکٹر صاحب نے کیا ہے

دیکھتے ہیں سچ کیا ہے

اہل حدیث عالم اسمعیل سلفی المتوفی ١٩٦٨ ع نے بھی برزخی جسد کا کتاب  مسئلہ حیات النبی میں ذکر کیا

ismael-36

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت یونس علیہ السلام کو احرام باندھے شتر سوار تلبیہ کہتے سنا دجال کوبحالت احرام کے لیے جاتے دیکھا عمروبن لحئ کو جہنم میں دیکھا یہ برزخی اجسام ہیں اور کشفی رویت ہیں

یہ بھی لکھا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے معراج پر انبیاء کی امامت کی اور انبیاء برزخی جسموں کے ساتھ تھے

دوسرا مسلک یہ ہے کہ برزخ سے ان ارواح کو مماثل اجسام دیے گئے اور ان اجسام نے بیت المقدس میں شب اسراء میں ملاقات فرمائی

hayat-nabi-slafi

مولانا اسمعیل سلفی  کتاب مسئلہ حیات النبی میں علامہ الوسی کا مسلک لکھتے ہیں

barzakh-tibri

دیکھئے  مسلک ہے کہ شہدا کا برزخ میں جسم ہے جو دنیا سے ملتا جلتا ہو گا

الوسی باقاعدہ برزخی جسم کا لفظ استمعال کرتے ہیں مولانا سلفی ترجمہ کرتے ہیں

alosi-2

ارواح کا تعلق برزخی جسم سے ہے جو بدن کثیف (یعنی مردہ جسد جو قبر میں ہے) سے الگ ہے

 ابن حجر فتح الباری ج ٧ ص ٢٠٩ میں واقعہ معراج پر لکھتے ہیں

وَأَمَّا الَّذِينَ صَلَّوْا مَعَهُ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَيَحْتَمِلُ الْأَرْوَاحَ خَاصَّةً وَيَحْتَمِلُ الْأَجْسَادَ بِأَرْوَاحِهَا

اور بیت المقدس میں وہ انبیاء جنہوں نے نماز ادا کی ان کے بارے میں احتمال ہے وہ ارواح تھیں اور احتمال ہے کہ جسم تھے انکی روحوں کے ساتھ

یہ کون سے علماء تھے جو ابن حجر سے پہلے گزرے ہیں اور ان کے مطابق انبیاء جنت سے اپنے برزخی اجسام کے ساتھ زمین پر اترے تھے کیا یہ علماء ڈاکٹر عثمانی کی تحریک سے تعلق رکھتے تھے

یا ہو سکتا ہے یہ قادیانی ہوں جیسا کہ اپ کا خیال ہے. ابن حجر نے بھی اس  کو رد نہیں کیا .کیا وہ بھی قادیانی تھے ؟

ابن رجب الحنبلی الجامع لتفسير الإمام ابن رجب الحنبلي میں لکھتے ہیں کہ

وممن رجَّح هذا القولَ – أعني السؤالَ والنعيمَ والعذابَ للروح خاصةً – من أصحابِنا ابنُ عقيلٍ وأبو الفرج ابن الجوزيِّ. في بعضِ تصانيفِهما. واستدلَّ ابنُ عقيلٍ بأنَّ أرواحَ المؤمنينَ تنعمُ في حواصلِ طيرٍ خضرٍ، وأرواح الكافرينَ تعذَّب في حواصلِ طيرٍ سودٍ، وهذه الأجسادُ تبْلَى فدلَّ ذلك على أنَّ الأرواحَ تعذبُ وتنعمُ في أجسادٍ أخرَ

اور جو اس قول کی طرف گئے ہیں یعنی کہ سوال و جواب راحت و عذاب صرف روح سے ہوتا ہے ان میں ہمارے اصحاب ابن عقیل اور أبو الفرج ابن الجوزيِّ. ہیں اپنی بعض تصنیف میں اور ابن عقیل نے استدلال کیا ہے کہ مومنین کی ارواح سبز پرندوں میں نعمتیں پاتی ہیں اور کافروں کی ارواح کو کالے پرندوں میں عذاب ہوتا ہے اور یہ اجساد (جو دنیاوی قبر میں ہیں ) تو گل سڑ جاتے ہیں پس یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ ارواح کو عذاب و راحت دوسرے جسموں میں ملتی ہے

ابن أبي العز الحنفي، الأذرعي الصالحي الدمشقي (المتوفى: 792هـ) شرح العقيدة الطحاوية میں لکھتے ہیں

فَإِنَّهُمْ لَمَّا بَذَلُوا أَبْدَانَهَمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى أَتْلَفَهَا أَعْدَاؤُهُ فِيهِ، أَعَاضَهُمْ مِنْهَا فِي الْبَرْزَخِ أَبْدَانًا خَيْرًا مِنْهَا، تَكُونُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَيَكُونُ تَنَعُّمُهَا بِوَاسِطَةِ تِلْكَ الْأَبْدَانِ، أَكْمَلَ مِنْ تَنَعُّمِ الْأَرْوَاحِ الْمُجَرَّدَةِ عَنْهَا

پس جب انہوں (شہداء) نے اپنے جسم الله کے لئے لگا دیے حتیٰ کہ ان کے دشمنوں نے ان پر زخم لگانے، ان کو البرزخ میں اس سے بہتر جسم دیے گئے جو قیامت تک ہونگے، اور وہ نعمتیں ان بدنوں سے حاصل کریں گے، جو مجرد ارواح سے حاصل کرنے سے زیادہ کامل شکل ہے

کیا یہ تناسخ ہے

دامانوی صاحب اس کو تناسخ کہہ کر مذاق اڑاتے ہیں کتاب عذاب قبر کی حقیقت میں لکھتے ہیں کہ برزخی جسم آواگون ہے

سید قاسم محمود صاحب تناسخ کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: آواگون! جون بدلنا بقول مولانا اشرف علی تھانوی ایک بدن سے دوسرے بدن کی طرف نفس ناطقہ کا انتقال۔

ہندوستان میں اس اعتقاد کے لوگ عام ہیں۔ بقول البیرونی ’’جس طرح شہادت بہ کلمہ اخلاص مسلمانوں کے ایمان کا شعار ہے، تثلیث علامت نصرانیت ہے اور سبت منانا علامت یہودیت اسی طرح تناسخ ہندو مذہب کی نمایاں علامت ہے‘‘۔ موصوف مزید لکھتے ہیں: ’’عقیدہ تناسخ روح کے ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے کے معنی میں متعدد شیعی فرقوں میں بھی پایا جاتا ہے‘‘۔ موصوف آخر میں لکھتے ہیں: ’’تناسخ کا عقیدہ ہندومت اور مسلمانوں کے علاوہ بدھ مت، قدیم یونانیوں اور دنیا کے دیگر مذاہب و اقوام کے ہاں بھی پایا جاتاہے۔ اسلام کی صحیح تعلیمات اس عقیدے کی مخالف ہیں اور واضح طور پر اس کی تردید کرتی ہیں‘‘۔ (شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا ص۵۳۴)

برزخی قبر کی طرح تناسخ کا عقیدہ بھی ہندوؤں کے علاوہ متصوفین یا مسلمانوں کے بعض فرقوں شیعہ وغیرہ میں پایا جاتا ہے اور وہاں سے ڈاکٹر موصوف نے اس عقیدہ کو بھی ہاتھوں ہاتھ لیا
فاعتبروا یا اولی الابصار

۔

تناسخ  کا تعلق اسی دنیا میں ایک جسم چھوڑ کر دوسرے میں جانا ہے جب کہ احادیث میں یہ معاملہ عالم ارواح یا برزخ کا ہے لہذا  اس کا اس سے کیا تعلق. تناسخ دیگر ادیان میں اسی دنیا میں ہوتا ہے  دوئم ڈاکٹر عثمانی ١٤٠٠ سال میں پہلی شخصیت نہیں جو یہ کہہ رہی ہے ابن عقیل  او ابن جوزی کا بھی یہی نظریہ  ہے اوپر دے گئے حوالہ جات دیکھے جا سکتے ہیں.  ہماری طرح ، ابن جوزی بھی اسی دنیا میں تناسخ  ارواح کے سخت خلاف ہیں. اس کے لئے کتاب تلبیس ابلیس دیکھی جا سکتی ہے. لیکن جب ارواح کے لئے عالم البرزخ  میں نئے جسموں کی بات اتی ہے تو صيد الخاطر میں لکھتے ہیں

 وقوله: “فِي حَوَاصِلِ طَيْرٍ خُضْرٍ” دليل على أن النفوس لا تنال لذة إلا بواسطة، إن كانت تلك اللذة لذة مطعم أو مشرب، فأما لذات المعارف والعلوم، فيجوز أن تنالها بذاتها مع عدم الوسائط

اور قول کہ (شہداء کی ارواح) سبز پرندوں کے پیٹوں میں (ہیں) تو یہ دلیل ہے کہ بے شک ارواح لذّت نہیں لیتیں الا یہ کہ کوئی واسطہ ہو اگر یہ لذّت کھانے پینے کی ہو، لیکن اگر یہ معارف و معرفت کی لذتیں ہوں تو جائز ہے کہ یہ لذّتیں واسطے کے بغیر لی جائیں

نعمان الوسی المتوفی ١٢٧٠ ھ تفسیر روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني میں لکھتے ہیں

 وعندي أن الحياة في البرزخ ثابتة لكل من يموت من شهيد وغيره، وأن الأرواح- وإن كانت جواهر قائمة بأنفسها- مغايرة لما يحس به من البدن لكن لا مانع من تعلقها ببدن برزخي مغاير لهذا البدن الكثيف، وليس ذلك من التناسخ الذي ذهب إليه أهل الضلال

اور میرے نزدیک البرزخ میں زندگی ثابت ہے ہر ایک شہید کے لئے اور دوسروں کے لئے بھی اور اگرچہ روح ایک جوہر قائم ہے  جو اس محسوس دنیاوی بدن سے الگ ہے لیکن روح  کا ایک دوسرے برزخی بدن سے تعلق ہونے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے جو بدن کثیف (مردہ لاش جو قبر میں ہے) سے الگ ہے اور یہ تناسخ نہیں جس کی طرف گمراہ لوگوں کا مذھب ہے 

ابن أبي العز الحنفي، الأذرعي الصالحي الدمشقي (المتوفى: 792هـ) شرح العقيدة الطحاوية میں لکھتے ہیں

فَإِنَّهُمْ لَمَّا بَذَلُوا أَبْدَانَهَمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى أَتْلَفَهَا أَعْدَاؤُهُ فِيهِ، أَعَاضَهُمْ مِنْهَا فِي الْبَرْزَخِ أَبْدَانًا خَيْرًا مِنْهَا، تَكُونُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَيَكُونُ تَنَعُّمُهَا بِوَاسِطَةِ تِلْكَ الْأَبْدَانِ، أَكْمَلَ مِنْ تَنَعُّمِ الْأَرْوَاحِ الْمُجَرَّدَةِ عَنْهَا

پس جب انہوں (شہداء) نے اپنے جسم الله کے لئے لگا دیے حتیٰ کہ ان کے دشمنوں نے ان پر زخم لگانے، ان کو البرزخ میں اس سے بہتر جسم دیے گئے جو قیامت تک ہونگے، اور وہ نعمتیں ان بدنوں سے حاصل کریں گے، جو مجرد ارواح سے حاصل کرنے سے زیادہ کامل شکل ہے

 اصل میں ارواح کے نئے اجسام  ابن تیمیہ اینڈ کمپنی کا نظریہ نہیں اسی وجہ سے دل کو نہیں بھا رہا کیونکہ  اب انہی کی کہی ہوئی باتوں کو صحیح ثابت کیا جاتا ہے . ابن جوزی المتوفی ٥٩٧ ھ ، ابن عقیل المتوفی ٥١٣ ھ    ابن تیمیہ سے پہلے گزرے ہیں

قابل غور ہے کہ ابن عقیل اور ابن جوزی حنبلی ہیں اور آج کل کے وہابی اور انکے خوشہ چین اہل حدیث برزخی جسم کے متقدمین کے عقیدے  کو چھپاتے  ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ گویا یہ چند سال پہلے گزرنے والے ڈاکٹر عثمانی کی ایجاد ہے . یہ پروپیگنڈا بھی کرتے ہیں کہ یہ قادیانی دجال کا عقیدہ  تھا لیکن اسی پنجاب میں عالم اسمعیل سلفی بھی گزرے ہیں ان کا عقیدہ بیان نہیں کرتے

مولانا ثناء الله امرتسری فتاوی اہل حدیث  ج اول  میں جواب دیتے ہیں

ثناء جسم

روح جب اپنے مقام میں جاتی ہے تو اسکو اس کے لائق جسم مل جاتا ہے اس جسم کے ساتھ عذاب یا راحت بھوگتی ہے یہ کون کہہ رہا ہے ڈاکٹر عثمانی یا  مشھور اہل حدیث عالم

دامانوی صاحب ان اجسام کو قیاس کی بنیاد پر تمثیلی کہتے ہیں اور دین الخالص قسط دوم میں لکھتے ہیں

تمثیلی جسم دامانوی

یہ کیسے پتا چلا کہ یہ اجسام تمثیلی تھے اس قیاس کی دلیل کیا ہے ؟

ابو جابر دامانوی کتاب عذاب قبر کی حقیقت میں لکھتے ہیں

برزخی اجسام کا ثبوت؟ حدیث میں یہ وضاحت موجود ہو کہ قبض روح کے بعد ارواح کو برزخی اجسام میں داخل کر دیا جاتا ہے۔ جس طرح کہ روح کے قبض ہونے کا ذکر واضح طور پر قرآن و حدیث میں موجود ہے، اسی طرح ارواح کے دوبارہ نئے برزخی اجسام میں ڈالے جانے کا ذکر بھی کسی حدیث سے واضح کیا جائے۔ اور اگر وہ ایسا ثبوت پیش نہ کر سکیں تو سمجھ لیں کہ وہ جھوٹے ہیں

اسی جسم کو بعض لوگ مثالی جسم بولتے ہیں مثلا مولانا ثناء الله فتوی میں کہتے ہیں

ثناء عالم مثال

اب یہ نہیں کہیے گا کہ مولانا ثناء الله امرتسری قادیانی تھے کیونکہ یہ سن ١٩٣٤ اور ١٩٣٢  میں جواب دے  گئے ہیں

 سن ١٩٧٢ میں اس فتوی کو احسنالہی ظہیر کی نگرانی میں شائع کیا گیا اس وقت تک ڈاکٹر عثمانی تحقیق کر رہے تھے اور ہماری طرف سے برزخی جسم کا عقیدہ پیش  نہیں کیا گیا تھا

غیر مقلدین کے شمارہ محدث سن ١٩٨٤ میں مضمون روح عذاب قبر اور سماع الموتی مضمون میں عبد الرحمان کیلانی لکھتے ہیں

موت کے بعد شہداء اور عام انسانوں میں دوسرا فرق یہ ہے کہ شہداء کو جنت میں سبز پرندوں کا جسم عطا ہوتا ہے اور یہ جسم حقیقی اور مستقل ہوتا ہے 

ارشد کمال کتاب المسند فی عذاب القبر میں اوپر دے گئے تمام علماء پر بہ جنبش قلم کفر کا فتوی لگاتے ہیں

arshd-Baryakh

افسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر عثمانی رحمہ الله علیہ سے بغض نے ان کو کس مقام پر لا کھڑا کیا ہے

ہمارا مشورہ ہے کہ حضرت پہلے اپنی کتابیں تو ٹھیک طرح پڑھ لیں اس کے بعد مبارزت طلبی کیجئے گا

ابو جابر اپنے مضمون  دو زندگیاں اور دو موتیں میں لکھتے ہیں

موصوف کی وضاحت سے معلوم ہوا کہ مرنے کے بعد ہر انسان کو ایک نیا جسم دیا جاتا ہے جسے موصوف برزخی جسم قرار دیتے ہیں اور روح کو اس جسم میں ڈال دیا جاتا ہے اور پھر اس مکمل انسان کو قیامت تک راحت یا عذاب کے مراحل سے گزارا جاتا ہے ۔ عذاب کے نتیجے میں یہ جسم ریزہ ریزہ بھی ہوجاتا ہے اور پھر جب یہ جسم دوبارہ درست ہوجاتا ہے تو اس جسم میں دوبارہ روح کو ڈال دیاجاتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ بار بار اعادۂ روح ہوتا رہتا ہے اور ثواب و عذاب کا یہ سلسلہ قیامت تک رہتا ہے ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جسم چاہے نیا ہو یا پرانا ، برزخی ہو یا عنصری ، اگر روح اس میں ڈال دی جائے تو یہ ایک زندہ انسان ہوجائے گا اور مرنے والے کو ایک کامل و مکمل زندگی حاصل ہوجائے گی اور جب قیامت آئے گی تو پھر نیا جسم فوت ہوجائے گا اور پرانا جسم دوبارہ زندہ ہوجائے گا ۔ موصوف کی اس وضاحت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ موصوف میت (مردہ) کے عذاب کے قائل ہی نہیں ہیں بلکہ وہ زندہ کے عذاب کے قائل ہیں اور مرنے کے بعد ان کے بقول روح کو ایک نئے جسم کے ساتھ زندگی دی جاتی ہے ۔

قارئیں اپ نے دیکھا کہ کس طرح تلبیس کی گئی موصوف لکھتے ہیں جسم چاہے نیا ہو یا پرانا برزخی ہو یا عنصری اگر اس میں روح آئے تو ایک زندہ انسان ہے یہ سراسر دھوکہ و فریب ہے اور حق میں تلبیس ہے مولانا ثنا اللہ امرتسری کہہ رہے ہیں روح کو نیا جسم ملتا ہے  اسمعیل سلفی کہہ رہے ہیں روح کو نیا جسم ملتا ہے نعمان الوسی کہہ رہے ہیں نیا جسم ملتا ہے یہی ڈاکٹر عثمانی کہہ رہے ہیں اور یہ نیا جسم جسد عنصری نہیں جو گل سڑ جاتا ہے لہذا دو زندگی اور دو موتوں والا جسم الگ ہے اور برزخی جسم الگ ایک عالم ارواح میں ہے اور ایک عالم ارضی میں

ڈاکٹر عثمانی تو صاف لکھ رہے ہیں

ثابت ہوا کہ ان کو کوئی دوسرا قیامت تک باقی رہنے والا عذاب برداشت کرنے والا جسم دیا گیا ہے ۔ جسدِ عنصری وہ بہرحال نہیں ہے

ابو جابر اسی مضمون میں دوسرا اعتراض  لکھتے ہیں

 پھر حیرت اس بات پر ہے کہ جرائم جسم عنصری کرے اور عذاب نئے برزخی جسم کو دیا جائے !!! یہ کیا بوالعجبی ہے اور کیا جہالت ہے ؟؟

یہ بھی غلط اعتراض ہے  مسلم کی حدیث میں اتا ہے کہ روز محشر انسان کا جسم مختلف ہو گا

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا۔ آپ کے قد کی لمبائی  ساٹھ ہاتھ تھی۔ آدم کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے فرمایا، اس (فرشتوں کی) جماعت کو سلام کرو‘ اور سنو کیا جواب ملتا ہے ۔ جو جواب ملے وہی تمہارا اور تمہاری ذریت کا جواب ہوگا۔ وہاں فرشتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی۔آدم علیہ السلام اس جماعت کے پاس گئے اور انھیں مخاطب کر کے ” السلام علیکم “کہا ۔ فرشتوں نے جواب میں ”السلام علیک و رحمتہ اللہ“کہا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انھوں نے ”ورحمة اللہ “ کا اضافہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید کہا کہ جو شخص بھی جنت میں داخل ہوگا وہ آدم علیہ السلام کی شکل پر ہوگا اور اس کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا ہوگا لیکن آدم علیہ السلام کے بعد انسانی قد میں مسلسل کمی ہوتی رہی

ہمارا یا اپ کا قد ساٹھ ہاتھ نہیں لیکن اس دنیا کے نیک لوگ جنت میں ساٹھ ہاتھ قد کے ساتھ داخل ہونگے

اب کافر کا جہنمی جسم دیکھئے

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کافر کا دانت یا اس کی کچلی احد پہاڑ کے برابر ہو گی اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن کی مسافت ہو گی ( یعنی تین دن تک چلنے کی مسافت پر اس کی کھال کی بدبو پہنچے یا اس کی موٹائی اتنی ہو گی جتنا تین دن میں سفر کیا جائے)۔

 سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کافر کے دونوں کندھوں کے بیچ میں تیز رو سوار کے تین دن کی مسافت ہو گی۔

ان احادیث سے پتا چلا کہ جنتی اور جہنمیوں کے اجسام اس دنیا جیسے نہیں بلکہ بہت بڑے ہونگے

دوسری طرف یہ جہنمی اجسام مسلسل تبدیل ہونگے اور ان پر نئی کھال آئے گی

قرآن ہی میں ہے کہ جہنمیوں کو آگ کا عذاب ہو گا اور جب ان کی کھالیں جلیں گی تو نئی کھالیں آ جائیں گی – اس طرح تو ان نئی کھالوں نے کون سے گناہ کے جو ان کو جلایا جائے گا – جس طرح یہ نئی کھالیں عذاب چکھانے میں استعمال ہونگی اسی طرح برزخی جسم بھی البرزخ میں عذاب کے لئے استعمال ہو رہے ہیں

لہذا ابو جابر دامانوی کا یہ اعتراض کہ گناہ کسی جسم نے کیے اور عذاب دوسرے جسم کو ہو غلط ہے بالکل احمقانہ اور خلاف قرآن و حدیث ہے ان کو چاہیے حدیث جیسی آئی ہیں ویسی ہی مانیں نہ کہ ان پر نا عقلی والے اعتراضات کریں

ابو جابر دامانوی اسی مضمون میں لکھتے ہیں

اور قبر میں سوال و جوا ب کے وقت اعادۂ روح بھی ہوتا ہے (ابوداود : ۴۷۵۳، مسند احمد: ۱۸۵۳۴، وھو حدیث صحیح ) کیونکہ یہ انتہائی اہم سوالات ہوتے ہیں کہ جن پر میت کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہوتا ہے ، اس لئے اس اہم موقع پر روح کو بھی حاضر  کیاجا تا ہے لیکن روح کے اعادہ کے باوجود مرنے والا میت ہی ہوتا ہے ، اس لئے کہ دو زندگیاں یعنی دنیاوی زندگی اس کی ختم ہوچکی ہے او ر قیامت کے دن کی زندگی ابھی شروع نہیں ہوئی اور انسان اس وقت حالتِ موت میں ہوتا ہے یعنی میت ہوتاہے

یہ بھی دجل ہے کیونکہ سلف میں ابن تیمیہ ابن قیم ابن حجر عسقلانی سب یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ روح جسد میں اتی جاتی رہتی ہے بلکہ ابن قیم کے بقول پرندے کی طرح جہاں جانا چاہتی ہے جاتی ہے کتاب الروح میں کہتے ہیں کہ اگر کوئی مردہ کو سلام کرے تو

وَلها اتِّصَال بِالْبدنِ بِحَيْثُ إِذا سلم الْمُسلم على الْمَيِّت رد الله عَلَيْهِ روحه فَيرد عَلَيْهِ السَّلَام

اور اس (روح) کا بدن سے اتصال بے اس طور سے کہ جب کوئی مسلم میت کو سلام کرے تو الله تعالی اس روح کو واپس (جسد میں) پلٹاتا ہے تاکہ سلام کا جواب دے

دامانوی صاحب اس عقیدے کو چھپاتے ہیں.  ان کے محبوب سلف کا عقیدہ ان کے موجودہ عقیدے سے الگ تھا

روح کا میت میں آنا استثنائی نہیں جو صرف ایک دفعہ ہو

باقی رہا کہ روح کو اہم سوالوں کی وجہ سے حاضر کیا جاتا ہے تو یہ بھی صحیح نہیں عود روح کی روایت میں جسد سے روح نکالنے کی کوئی بات  نہیں یہی وجہ ہے کہ

ابن عبد البر  التمھید ج ١٤ ص ١٠٩ میں کہتے ہیں کہ البراء بن عازب کی روایت سے

وَقَدِ اسْتَدَلَّ بِهِ مَنْ ذَهَبَ إِلَى أَنَّ الْأَرْوَاحَ عَلَى أَفْنِيَةِ الْقُبُورِ

اور بے شک اس (زاذان والی روایت ) سے انہوں نے استدلال کیا ہے جو اس کے قائل ہیں کہ ارواح قبروں کے میدانوں  (یعنی قبرستان) میں ہیں

ابن عبد البر  الاستذکار ج ٣ ص ٨٩ میں کہتے ہیں کہ

أَنَّهَا قَدْ تَكُونُ عَلَى أَفَنِيَّةِ قُبُورِهَا لَا عَلَى أَنَّهَا لَا تَرِيمُ وَلَا تُفَارِقُ أَفَنِيَّةَ الْقُبُورِ

بے شک ارواح قبرستانوں میں ہیں  اور یہ ان کو نہیں چھوڑتیں

تقسیم ہند سے پہلے اہل حدیث کا مذھب تھا کہ عود روح مسلسل ہوتا ہے ان کے نزدیک زاذان کی روایت میں ہے

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح کے  مطابق پہلا گرز مارنے پر جسم مٹی ہو جاتا ہے جس کو پھر بنایا جاتا ہے مبارکبوری لکھتے ہیں

فَيَصِيرُ تُرَابًا، ثُمَّ يُعَادُ فِيهِ الرُّوحُ كَرَّرَ إِعَادَةَ الرُّوحِ فِي الْكَافِرِ بَيَانًا لِشِدَّةِ الْعَذَابِ

جسد مٹی ھو جاتا ہے پھر اعادہ روح ہوتا ہے تاکہ کافر پر عذاب کی شدت ھو

 اہل حدیث کے شیخ الکل قرع نعآل پر لکھتے ہیں

nazeer-murda-murda-nahi

لہذا یہ عقیدہ کہ عود روح کے بعد بھی مردہ مردہ ہوتا ہے اہل حدیث علماء کا نہیں  تھا بلکہ نو ایجاد ہے

موصوف کو چاہیے کہ ڈاکٹر عثمانی پر تنقید کی بجائے پہلے اپنے سلف کا عقیدہ تو عوام پر واضح کریں جن کے دفاع میں خم ٹھوک کر باہر نکلے ہیں

ہمارے نزدیک قرآن و صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ عود روح نہیں ہوتا اور مردہ مردہ ہوتا ہے اس کا جسم گل سڑ جاتا ہے اصل عذاب روح کو دوسرے عالم میں ہوتا ہے اسی کو عذاب قبر کہا جاتا ہے جیسا کہ قرآن میں ال فرعون کے لئے آیا ہے

 

جواب

برزخی جسم کا مقصد ختم ہو جائے گا تو ممکن ہے ان کو معدوم کر دیا جائے اس کا کیا ہو گا کسی حدیث میں نہیں ہے لیکن اس کا موجود ہونا احادیث میں ہے
مسند احمد کی روایت ہے جس کو شعیب صحیح کہتے ہیں
وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، فَجَعَلْتُ أَنْفُخُ خَشْيَةَ أَنْ يَغْشَاكُمْ (2) حَرُّهَا، وَرَأَيْتُ فِيهَا سَارِقَ بَدَنَتَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَأَيْتُ فِيهَا أَخَا بَنِي دَعْدَعٍ، سَارِقَ (3) الْحَجِيجِ، فَإِذَا فُطِنَ لَهُ قَالَ: هَذَا عَمَلُ الْمِحْجَنِ، وَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً طَوِيلَةً سَوْدَاءَ حِمْيَرِيَّةً، تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا (4) وَلَمْ تَسْقِهَا، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، حَتَّى مَاتَتْ
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر جہنم کو پیش کیا گیا … اس میں میں بَنِي دَعْدَعٍ کے بھائی کو دیکھا حاجیوں کا سامان چوری کرنے والا .. اور ایک لمبی عورت کو دیکھا جس نے بلی کو باندھ رکھا یہاں تک مر گئی
صحیح ابن خزیمہ میں ہے کہ یہ چوری کرنے والا کہتا ہے
وَيَقُولُ: إِنِّي لَا أَسْرِقُ، إِنَّمَا يَسْرِقُ الْمِحْجَنُ، فَرَأَيْتُهُ فِي النَّارِ مُتَّكِئًا عَلَى مِحْجَنِهِ”.
میں نے چوری نہیں کی … لیکن یہ اس لاٹھی سے ٹیک لگائے ہوئے ہے جس سے یہ چوری کرتا تھا

یہ شخص لاٹھی سامان میں اٹکا کر چوری کرتا تھا لہذا اسی لاٹھی سے جہنم میں اب بھی ٹیک لگائے ہوئے ہے

ظاہر ہے یہ جسم کی علامت ہے کہ اس کو لاٹھی پر روکا ہوا ہے

اسی طرح بلی ہے جو عورت پر جھنپٹی ہے اس کو نوچتی ہے
فَهيَ إذَا أقْبَلَتْ تَنْهَشُهَا، وَإذَا أدْبَرَتْ تَنْهَشُهَا
صحیح ابن حبان
یہ بھی برزخی جسم کی خبر ہے

اب یہ سوچنے کا مقام ہے بلی بے چاری مری تو مری جہنم میں بھی چلی گئی
مولوی کہتے ہیں برزخی جسم نہیں ہو سکتا ورنہ کرے کوئی بھرے کوئی ہو جائے گا
تو بھلا بتاو یہ بلی جہنم میں کیوں ہے ؟

http://jamiatsindh.org/ur/1514/ek-hadees-ki-tashreeh-azab-e-qabr/

دامانوی صاحب  خاکستر شدہ انسان کا معاملہ کے تحت لکھتے ہیں

 جناب ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص نے گناہوں کی وجہ سے اپنے نفس پر بڑی زیادتی کی تھی جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا۔

اِذَا اَنَا مِتُّ فَاحْرِقُوْنِیْ ثُمَّ اَطْحَنُوْنِیْ ثُمَّ ذَرُّوْنِیْ فِی الرِّیْحِ فَوَاﷲِ لَئِنْ قَدَرَ اﷲُ عَلَیَّ لَیُعَذِّبُنِیْ عَذَابًا مَّا عَذَّبَہٗ اَحَدًا۔

یعنی جب میں مر جائوں تو تم مجھے جلا کر میری راکھ کو پیس کر ہوا میں اڑا دینا۔ واللہ۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر تنگی کی تو مجھے وہ ایسی سزا دے گا جو اور کسی کو اس نے نہیں دی۔ جب اس کی وفات ہوئی تو اس کے ساتھ یہی کاروائی کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ اس کے تمام ذرات کو جمع کر دے سو اس نے ایسا ہی کیا۔جب وہ جمع کر دیا گیا تو وہ آدمی تھا جو کھڑا کر دیا گیا۔اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا تو نے یہ سب کاروائی کیوں کی؟ اس نے جواب دیا اے میرے رب تیرے ڈر کی وجہ سے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔

(رواہ البخاری جلد ۱ ص۴۹۵ واللفظہ لہ ‘ مسلم ج۲ ص۳۵۶)

ایک روایت میں آتا ہے کہ اس نے کہا کہ میری راکھ کا آدھا حصہ خشکی میں اور آدھا دریا میں بکھیر دینا۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔

(بخاری جلد ۲ ص۱۱۱۷‘مسلم جلد ۲ ص۳۵۶)

 اس حدیث سے ثابت ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ راکھ شدہ انسان کو دوبارہ بدن عنصری عطا فرماتا ہے اور پھر اس پر انعام یا عذاب کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور یہی معاملہ اس شخص کے ساتھ ہوتا ہے جسے مچھلی یا جانوروں نے کھا کر فضلہ بنا دیا ہو اس شخص کا خیال تھا کہ مرنے کے بعد عذاب (قبر) اس کی میت (جسد عنصری) کو دیا جائے گا لہذا اگر اس کا جسم راکھ میں تبدیل ہو گیا اور ہوا اور پانی نے اس کے ذرات کو منتشر کر دیا تو شاید وہ عذاب سے بچ جائے گا مگر اس کا یہ خیال (کہ جسم کے راکھ میں تبدیل ہو کر منتشر ہو جانے پر وہ عذابِ قبر سے بچ جائے گا) غلط نکلا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کی تمام راکھ کو اکٹھا کر کے اسے دوبارہ انسان بنا دیا۔

 اس سے ثابت ہوا کہ جسم کے ساتھ دنیا میں کچھ ہو جائے مگرمرنے کے بعد اس کے جسم کو دوبارہ تخلیق کر کے اسے ثواب و عذاب سے دوچار کیا جاتا ہے البتہ یہ سب کچھ کیسے ہوتا ہے ہماری عقلیں اسے سمجھنے سے قاصر ہیں ہم تو صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی باتوں پر ایمان لاتے ہیں۔

 جواب

یہ بات  انتہائی سطحی ہے – اول ال فرعون کو جہنم میں عذاب دیا جا رہا ہے یہ قرآن سے ثابت ہے جو ارواح پر ہے –  پورا ال فرعون کا لشکر ڈوبا لیکن بچایا صرف فرعون کے جسد کو کیونکہ وہ ایک نشانی ہے – الله تعالی چاہتا تو اس شخص کی روح سے ہی کلام کر لیتا اس میں کیا قباحت ہے ؟ کیا معراج میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی انبیاء سے ملاقات نہیں ہوئی انہوں نے کلام بھی کیا – لہذا ارواح تو واپس عالم البرزخ میں جاتی  ہیں-

موصوف لکھتے ہیں

 یہ کوئی مخصوص واقعہ نہیں کہ اسے صرف اس شخص کے ساتھ خاص مانا جائے کیونکہ اس واقعہ کے خاص ہونے کی کوئی دلیل موجود نہیں اور نہ ہی ہم اسے اس شخص کی کرامت تسلیم کر سکتے ہیں کیونکہ وہ نیک انسان بھی نہیں تھا۔

خاص اور عموم کے لئے روایت میں لکھا نہیں ہوتا کہ یہ خاص واقعہ ہے اور  یہ عموم ہے یہ قرائن سے اندازہ لگایا جاتا

ہے

یہ مخصوص واقعہ ہی ہے الله کو تو ہر چیز کا علم ہے لیکن یہ اس کی رحمت ہے کہ مخلوق سے موت کے بعد کلام کرتا ہے ایک دوسری حدیث میں بھی ایک موحد کا ذکر ہے جس کی موت کے وقت عذاب اور راحت والے فرشتوں میں تکرار ہوتی ہے اور زمین کی پیمائش کرنے کا حکم دیا جاتا ہے – یہ گناہ کبیرہ کے مرتکب موحدین پر الله کی خاص رحمت کا ذکر ہے

کتاب  مجموع فتاوى ورسائل فضيلة الشيخ محمد بن صالح العثيمين میں ہے کہ ابن  العثيمين اس روایت پر کہتے ہیں

فهذا رجل شك في قدرة الله وفي إعادته إذا ذرى، بل اعتقد أنه لا يعاد وهذا كفر باتفاق المسلمين، لكن كان جاهلا لا يعلم ذلك، وكان مؤمنا يخاف الله أن يعاقبه فغفر له بذلك.

والمتأول من أهل الاجتهاد الحريص على متابعة الرسول، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أولى بالمغفرة من مثل هذا. ا. هـ.

وبهذا علم الفرق بين القول والقائل، وبين الفعل والفاعل، فليس كل قول أو فعل يكون فسقا أو كفرا يحكم على قائله أو فاعله بذلك، قال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله ص165ج ـ35 من مجموع الفتاوى:وأصل ذلك أن المقالة التي هي كفر بالكتاب والسنة والإجماع

 پس اس شخص نے الله کی قدرت پر شک کیا اور… بلکہ اعتقاد کیا کہ اس کا معاد نہ ہو گا اور یہ مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ کفر ہے لیکن یہ جاہل تھا اور اس کو اس کا پتا نہ تھا اور مومن تھا اللہ سے ڈرتا تھا  کہ اس کو پکڑ نہ لے پس اس پر اس کی مغفرت ہوئی … ابن تیمیہ  کہتے ہیں  ص165ج 35 من مجموع الفتاوى  یہ اس کا کہنا کتاب الله اور سنت اور اجماع کے مطابق کفر ہے

آپ کی اپنی ممدوح شخصیات اس کو ایک مخصوص واقعہ کہہ رہی ہیں کہ ایک  کفریہ عقیدہ رکھنے والے کو اللہ نے بخش دیا – کیا یہ عموم ہے ؟ آپ کی بات اگر درست مانی جائے تو اس طرح تو  سارے معاد کے انکاریوں کی بخشش ماننا پڑے گی-  لہذا یہ ایک مخصوص واقعہ ہی ہے اس سے زیادہ نہیں-

اب چونکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ خصوص ہے تو دلیل نہیں بن سکتا اور اس سے یہ ثابت تو کہیں بھی نہیں ہوتا کہ تمام مرنے والوں کو واپس جسد عنصری  مرتے ہی دے دیا جاتا ہے

جواب

ابن شماسہ المہری بیان کرتے ہیں کہ ہم جناب عمرو بن العاص کے پاس اس وقت گئے جب کہ ان کی وفات کا وقت قریب تھا انہوں نے کہا……اور جب مجھے دفن کرنا تو اچھی طرح مٹی ڈال دینا پھر میری قبر کے چاروں طرف اتنی دیر کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کیا جائے اور اس کا گوشت تقسیم کیا جائے تا کہ میں تم سے انس حاصل کر سکوں اور دیکھوں کہ اپنے رب کے فرشتوں کو کیا جواب دیتا ہوں۔( صحیح مسلم جلد ۱ص۷۶ مسند احمد جلد ۴ ص۱۹۹)

ڈاکٹر عثمانی رحمہ الله علیہ نے اس روایت پر کتاب عذاب البرزخ میں لکھا تھا

 مسلم کی اس حدیث سے جس میں یہ ہے کہ عمرو بن العاص رضی الله عنہ پر جب سکرات موت کا عالم طاری تھا۔’’وَھُوَ فِیْ سِیَاقِ الْمُوْتِ‘‘ تو انہوں نے اپنے بیٹے عبد اللہ بن عمرو رضی الله عنہ کو وصیت کی کہ مجھ پر مٹی دالنے اور دفنانے کے بعد کچھ دیر میری قبر کے پاس ٹھہرے رہنا تا کہ میں تمہاری موجودگی کی وجہ سے مانوس رہوں اور مجھے معلوم رہے کہ اپنے رب کے رسول (فرشتوں ) کو کیا جواب دوں۔الفاظ یہ ہیں۔’’ثُمَّ اَقِیْمُوْ احَوْلَ قَبْرِیْ قَدْرَ مَا یُنْحَرُ جُزُوْرٌ وَّیُقْسَمُ لَحْمُھَا حَتّٰی اَسْتَاْنِسَ بِکُمْ اَعْلَمُ مَاذَا اُرَاجِعُ بِہٖ رُسُلَ رَبِّیْ‘‘۔یہ سکرات الموت کے وقت کی بات ہے جیسا کہ اس حدیث کے الفاظ ہیں۔’’ وھوفی سیاق الموت‘‘ ایسے وقت کی بات جب آدمی اپنے آپے میں نہ ہو قرآن و حدیث کے نصوص کو کیسے جھٹلا سکتی ہے.. اور اس کے راوی ابو عاصم (النبیل ‘ضحاک بن مخلد) کو عقیلی اپنی کتاب الضغفاء میں لائے ہیں اور ثبوت میں یحیٰی بن سعید القطان کا قول پیش کیا ہے۔(الضعفاء للعقیلی ص۱۷۱ )میزان الاعتدال الجز الثانی ص۳۲۵۔ ۔

ڈاکٹرابوجابرعبداللہ دامانوی صاحب  اپنی تألیف  عذاب قبر میں عمرو بن العاص کی سیاق الموت والی روایت کے راوی  الضحاك بن مخلد کے لئے لکھتے ہیں

موصوف نے اپنے رسالہ حبل اللہ میں ابو عاصم النبیل کے متعلق ایک نئی تحقیق پیش کی اور میزان الاعتدال سے نقل کیا۔احد الاثبات تنا کر العضلی وذکر فی کتابہ … ابو عاصم اثبات ہی سے ایک ہے کہ عقیلی نے اسے منکر بتایا ہے اور اس کا ذکرکیا ہے اپنی کتاب (الضعفائ) میں…(حبل اللہ ص۱۰۹خاص نمبر مجلہ نمبر ۳) احد الاثبات یعنی ثبت راویوں میں سے ایک ہی اور ثبت کا مطلب یہ ہے کہ وہ اعلی درجہ ثقہ راوی ہیں۔ تنا کر العقیلی کا ترجمہ موصوف نے کیا کہ عقیلی نے اسے منکر بتایا ہے ۔یہ ان کی جہالت ہے اور اصول حدیث سے نا واقفی کی دلیل ہے۔ تناکرکا مطلب لم یعرف یعنی علامہ ذھبی رحمتہ اللہ علیہ بتارہے ہیں کہا ابو عاصم النبیل تو اعلی درجہ کے ثقہ ہیں لیکن امام عقیلی رحمتہ اللہ علیہ ‘انہیں نہیں پہچان سکے اور غلطی سے ان کا ذکر اپنی کتاب الضعفاء میں کر دیا ہے

اس سے قطع نظر کہ  الضحاك بن مخلد ثقہ ہے یا مجروح ہم موصوف پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ الذھبی کا تناكر العقيلي کہنے کا مقصد وہ نہیں جو دامانوی صاحب نے سمجھا ہے

الذھبی اپنی کتاب ميزان الاعتدال في نقد الرجال ج ٢ ص٣٢٥ پر الضحاك بن مخلد کے لئے لکھتے ہیں

الضحاك بن مخلد ، أبو عاصم النبيل، أحد الاثبات تناكر العقيلي، وذكره في كتابه، ….

الضحاك بن مخلد ، أبو عاصم النبيل، اثبات میں سے ایک ہیں عقیلی نے انکار کیا اور انکا ذکر اپنی کتاب میں کیا

الذھبی کہنا چاہتے ہیں کہ الضحاك بن مخلد ثقہ ہیں لیکن عقیلی نے اسکا انکار کیا ہے

کچھ یہی انداز الذھبی نے  اپنی کتاب ميزان الاعتدال في نقد الرجال ج ١ ص١٧٢ میں  أزهر بن سعد السمان کے ترجمے  میں اختیار کیا ہے وہاں راوی کے لئے لکھتے ہیں

ثقة مشهور.

 ثقه مشھور ہیں …

تناكر العقيلي بإيراده في كتاب الضعفاء

عقیلی نے (ثقاہت کا) انکار کیا ہے اپنی کتاب الضعفاء میں انکو شامل کر کے

دامانوی صاحب کے حساب سے ترجمہ ہونا چاہیے : عقیلی پہچان نہ سکے اپنی کتاب الضعفاء میں انکو شامل کر کے، بالکل لا یعنی جملہ ھو جاتا ہے. کتاب میں شامل کرنے کی وجہ سے پہچان نہ سکے آوٹ پٹانگ مفھوم بنتا ہے

اگر عقیلی پہچان نہ پاتے تو اس راوی کے ترجمے میں کسی اور راوی کا ذکر کرتے لیکن ایسا نہیں ہے جو باتیں عقیلی نے ان کے بارے میں لکھی ہیں وہی اور لوگوں نے بھی لکھی ہیں

لہذا درست بات یہی ہے کہ عقیلی نے انکی ثقاہت کا انکار کیا ہے جس کی طرف ڈاکٹر عثمانی نے اشارہ کیا تھا.

مزید براں تناکر کا لفظ امام شافعی نے بھی استعمال کیا ہے

معرفة السنن والآثار میں البیہقی نے امام الشافعی کا قول نقل کیا ہے کہ

وَلَا فِي الطَّلَاقِ، وَلَا الرَّجْعَةِ إِذَا تَنَاكَرَ الزَّوْجَانِ. میاں بیوی میں پہچانے کا مسئلہ تو ھو گا نہیں یہاں بھی تناکر کا مطلب پہچانا نہیں

بخاری کی حدیث میں آتا ہے

الأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ

ارواح مجتمع لشکروں کی صورت میں رہتی ہیں پس جس سے التفات کرتی ہیں ان کو جانتی ہیں اور جس اختلاف کرتی ہیں اس سے متنفر ہوتی ہیں

اس کی شرح لکھنے والے مصطفى ديب البغا أستاذ الحديث وعلومه في كلية الشريعة – جامعة دمشق لکھتے ہیں

(تناكر) تنافرت في طبائعه

(تناكر) طبعا متنفر ہونا

تناکر کا مطلب یہاں بھی پہچنانا نہیں

عربی لغت معجم اللغة العربية المعاصرة میں تناکر  کا مفھوم لکھا ہے

  تناكر الزُّملاءُ: تعادَوا وتجاهل بعضُهم بعضًا

تناکر رفقائے کار:  ایک دوسرے سے دشمنی رکھنا اور ایک دوسرے کو نظر اندز کرنا

 اسی مفہوم پر تناکر علقیلی ہے کہ عقیلی نے ثقاہت کی بات کو نظر اندز کیا ہے

ثقہ ، غلطی نہیں کرتا؟

دامانوی صاحب کا ایک خود ساختہ اصول ہے کہ ثقه غلطی نہیں کرتا

حسين بن ذكوان العوذي البصري  کے لئے الذھبی سيرالاعلام میں لکھتے ہیں : وقد ذكره العقيلي في كتاب الضعفاء له بلا مستند وقال : مضطرب الحديث … قلت ( الذهبي ) : فكان ماذا؟ فليس من شرط الثقة أن لا يغلط أبدا

 عقیلی نے انکو الضعفاء میں بلاوجہ ذکر کیا ہے اور کہا ہے : مضطرب الحديث میں (الذھبی) کہتا ہوں یہ کیا ہے؟ ثقہ

ہونے کی یہ شرط کہاں ہے کہ وہ کبھی غلط نہیں ھو سکتا …..

دامانوی صاحب کو تو الذھبی کی یہ بات سن کر چراغ پا ہونا چاہیے کہ یہ کیسے ھو سکتا ہے کہ راوی ثقہ ھو اور غلطی کرے. دامانوی کے خود ساختہ جرح و تعدیل کے اصول (کہ ثقہ ہر عیب  سے پاک ہے)  سے امام الذھبی نا واقف ہیں

 إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال میں الضحاك بن مخلد کے لئے لکھا ہے

وقال أبو زيد الأنصاري: كان أبو عاصم في حداثته ضعيف العقل

اور ابو زید انصاری کہتے ہیں ابو عاصم اپنی روایتوں میں ضعيف العقل ہیں

 یحییٰ بن سعید القطان بھی ان سے نا خوش تھے

دامانوی صاحب لکھتے ہیں

اگر عمرو بن العاصؓ نے سکرات موت میں غلط وصیت کی تھی تو ان کے صاحبزادے جناب عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ (جو خود ایک جلیل القدر اور عابد و زاہد صحابی ؓ ہیں ) کو ضرور اس غلط بات کی تردید کرنا چاہئے تھی مگر ایسا نہیں کیا گیا معلوم ہوا کہ ان کی وصیت کا ایک ایک لفظ بالکل صحیح اور درست تھا۔ اور یہ مشہور و معروف اصول ہے کہ ’’خاموشی رضامندی کی علامت ہوتی ہے‘‘ اور حدیث کی قسموں میں سے تقریری حدیث کا بھی یہی اصول ہے جبکہ موصوف کی جہالت ملاحظہ فرمائیں کہ وہ کہتے ہیں ہاں اگر کوئی یہ ثابت کر دے کہ ان کے بیٹے اور دوسرے حضرات نے اس وصیت پر عمل بھی کیا۔ موصوف اس مشہور و معروف اصول سے ناواقف ہیں یا تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہیں۔

قاری خلیل الرحمان جاوید اپنی کتاب پہلا زینہ میں لکھتے ہیں

pehzee-190

یہ بات کس حدیث میں نبی صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی گئی ہے یہ خلیل صاحب پر قرض ہے اور اس کا سوال روز محشر ان سے ہونا چاہیے

عصر حاضر کے ایک مشھور و معروف  وہابی عالم شیخ   محمد بن صالح العثيمين اپنے فتوی میں کہتے ہیں جو  مجموعة أسئلة تهم الأسرة المسلمة  ج ٢١٩ ص ٣٥ میں چھپا ہے کہ

هذا أوصى به عمرو بن العاص ـ رضي الله عنه ـ فقال: «أقيموا حول قبري قدر ما تنحر جزور ويقسم لحمها»، لكن النبي صلى الله عليه وسلم لم يرشد إليه الأمة، ولم يفعله الصحابة ـ رضي الله عنهم ـ فيما نعلم

 یہ عمرو بن العاص ـ رضي الله عنه نے وصیت کی پس کہا میری قبر کے اطراف اتنی دیر کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کیا جائے اور اس کا گوشت تقسیم کیا جائے .. لیکن نبی صلی الله علیہ وسلم نے نہ ہی اسکی نصیحت امت کو کی، نہ صحابہ رضی الله تعالی عنہم نے ایسا کیا  جیسا ہمیں پتا ہے

دامانوی صاحب نے لکھا تھا کہ

موصوف کی عادت ہے کہ وہ اپنے نظریات ثابت کرنے کے لئے قرآن و حدیث کا سہارا لیتے ہیں اور قرآن و حدیث سے اپنا مطلب کشید کرتے ہیں حالانکہ یہ طرز استدلال باطل پرستوں کا ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں وَلَقَدْ قَالَ وَکِیْعٌ مَنْ طَلَبَ الْحَدِیْثَ کَمَا جَآئَ فَھُوَ صَاحِبُ سُنَّۃٍ وَمَنْ طَلَبَ الْحَدِیْثَ لِیُقَوِّیَ ھَوَاہُ فَھُوَ صَاحِبُ بِدْعَۃٍ امام وکیع فرماتے ہیں جو شخص حدیث کا مفہوم ایسا ہی لے جیسی کہ وہ ہے تو وہ اہل سنت میں سے ہے اور جو شخص اپنی خواہش نفسانی کی تقویت کے لئے حدیث کو طلب کرے (اور اپنی رائے کے مطابق اس حدیث کا مفہوم بیان کرے) تو وہ بدعتی ہے۔ (جز رفع الیدین لامام البخاری مع جلاء العینین للشیخ السید ابی محمد بدیع الدین الراشدی السندی (ص ۱۲۰)

   اب بتائے کون قرآن و حدیث سے غلط مطلب کشید کر رہا ہے؟ ان کے سلفی مسلک وہابی عالم محمد بن صالح العثيمين بھی وہی بات کہہ رہے ہیں جو ڈاکٹر عثمانی رحمہ الله تعالی علیہ کہہ چکے ہیں

عبد الرحمان کیلانی کتاب روح عذاب قبر اور سماع الموتی میں ص ١٣٩ اور ١٤٠ پر لکھتے ہیں

kelani-139

خواجہ محمّد قاسم کتاب تعویذ اور دم کتاب و سنت کی روشنی میں  عبدللہ بن عمرو رضی الله تعالی عنہ کے لئےلکھتے ہیں

qasim-10

خواجہ صاحب اپنی دوسری کتاب کراچی کا عثمانی مذھب میں کہتے ہیں

qaasim-umro2

خواجہ صاحب کا اس روایت پر عقیدہ نہیں تھا لیکن بعض اہل حدیث کو صحیح عقیدہ کہتے ہیں اس دو رنگی نے  عوام کو تو چھوڑئیے خود اہل حدیث علماء کے عقیدہ کو مضطرب کر دیا ہے

ایک نام نہاد اہل حدیث ارشد کمال کتاب عذاب قبر میں لکھتے ہیں

جب دفنانے والے کھڑے ہوں اس وقت میت نہیں سنتی

امت پر ظلم کی انتہاء ہے کہ بدعقیدگی کو پھیلایا جا رہا ہے لیکن کسی کی بھوں پر جو نہیں رینگ رہی کتنا کتمان حق ہے

مرض کی شدت میں عقل کا زوال ممکن ہے جو بشریت کا تقاضہ ہے

بخاری  باب صب النبي صلى الله عليه وسلم وضوءه على المغمى عليه کی روایت ہے

حدثنا أبو الوليد، قال: حدثنا شعبة، عن محمد بن المنكدر، قال: سمعت جابرا يقول جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني، وأنا مريض لا أعقل

 محمد بن المنكدر کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی الله تعالی عنہ کو سنا  رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم میری  عیادت کے لئے آئے اور میں مریض تھا عقل کے بغیر

جابر رضی الله تعالی عنہ خود کہہ رہے ہیں کہ وہ کوئی بات سمجھ نہیں سکتے تھے

 ڈاکٹر عثمانی کی جابر رضی الله تعالی عنہ یا عمرو بن العاص رضی الله تعالی عنہ کے سامنے کیا حثیت ہے  انسان کمزور پیدا کیا گیا  ہے لہذا یہ کہنا کہ شدت مرض میں مریض ایسی بات کہتا ہے جو صحیح نہیں ہوتی اس میں مقصد ان صحابی کی تنقیص نہیں بلکہ بشریت ہے

اس وصیت کے حوالے سے یہ حدیث پیش کی جاتی ہے

فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «إن العبد ليعمل، فيما يرى الناس، عمل أهل الجنة وإنه لمن أهل النار، ويعمل فيما يرى الناس، عمل أهل النار وهو من أهل الجنة، وإنما الأعمال بخواتيمها

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ لوگوں کی نظر میں اہل جنت کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جہنم میں سے ہوتا ہے۔ ایک دوسرا بندہ لوگوں کی نظر میں اہل جہنم کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور اعمال کا اعتبار تو خاتمہ پر موقوف ہے

اس کے علاوہ قرآن میں ہے

فلا تموتن إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ

  تمہیں موت نہ آئے مگر تم مسلم ہو 

اگر عمرو بن العاص رضی الله تعالی عنہ کی موت ان الفاظ پر ہوئی تو گویا بدعت پر ہوئی  تو یہ خلاف قرآن ہو جاتا ہے .حالانکہ یہ آعتراض سطحی   ہے

حدیث میں الفاظ اعمال کا اعتبار تو خاتمہ پر موقوف ہے اتے ہیں  اس خاتمہ کی شرح نبی صلی الله علیہ وسلم نے خود کی ہے

   بخاری کی حدیث میں اتا ہے کہ

عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه، ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه. فقلت: يا نبي الله أكراهية الموت؟ فكلنا نكره الموت. فقال: ليس كذلك، ولكن المؤمن إذا بشر برحمة الله ورضوانه وجنته أحب لقاء الله فأحب الله لقاءه، وإن الكافر إذا بشر بعذاب الله وسخطه كره لقاء الله وكره الله لقاءه.

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جو الله سے ملاقات کو پسند کرتا ہے الله بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو الله سے ملنے سے کراہت کرتا ہے الله بھی اس سے ملاقات سے کراہت کرتا ہے پس عائشہ رضی الله تعالی  عنہا نے پوچھا اے رسول الله موت سے کراہت ہم سب موت سے کراہت کرتے ہیں پس کہا ایسا نہیں ہے لیکن جب مومن کو الله کی رحمت اس کی خوشنودی اور جنت  کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ الله سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس کو پسند کرتا ہے اور بے شک کافر کو جب  الله کی ناراضگی اور عذاب کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ الله سے ملاقات پر کراہت کرتا ہے اور الله بھی کراہت کرتا ہے

   جن کے ایمان کی گواہی قرآن دیتا ہے ان کے بارے میں ہمارا ایمان  ہے کہ وہ جنتی ہیں . جہاں تک  حدیث النبی اعمال کا اعتبار تو خاتمہ پر موقوف ہے کا تعلق ہے تو وہ تو ہم جیسوں کے لئے ہے نہ کہ صحابہ رضوان الله علیھم کے لئے

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ عمرو بن العاص رضی الله تعالی عنہ کا اجتہاد تھا کیونکہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

عن عثمان بن عفان قال:‏‏‏‏ كان النبي صلى الله عليه وسلم ” إذا فرغ من دفن الميت وقف عليه فقال:‏‏‏‏ استغفروا لاخيكم وسلوا له بالتثبيت فإنه الآن يسال ” .
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو وہاں کچھ دیر رکتے اور فرماتے: ”اپنے بھائی کی مغفرت کی دعا مانگو، اور اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو، کیونکہ ابھی اس سے سوال کیا جائے گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بحیر سے بحیر بن ریسان مراد ہیں۔۔قال الشيخ الألباني: صحيح (تحفة الأشراف: ۸۹۴۰

یہ روایت صحیح نہیں منکر ہے سنن ابو داود میں اسکی سند ہے

حدَّثنا إبراهيمُ بن موسى الرازيُّ، حدَّثنا هشامٌ -يعني: ابن يوسف-، عن عبدِ الله بن بَحِير، عن هانىء مولى عثمانَ
عن عثمان بن عفان،

عثمان رضی الله تعالی عنہ کی روایت کے اس راوی عبد الله بن بحیر  أبو وائل القاص  اليمانى الصنعانى کے لئے الذھبی میزان میں لکھتے ہیں

وقال ابن حبان: يروى العجائب التي كأنها معمولة، لا يحتج به

اور ابن حبان کہتے ہیں یہ عجائب روایت کرتا ہے  جو ان کا معمول تھا ، اس سے احتجاج نہ کیا جائے

الذھبی تاریخ الاسلام میں کہتے ہیں

فِيهِ ضَعْفٌ

ان میں کمزوریہے

یہ بھی کہتے ہیں

وله غرائب

غریب روایات بیان کرتے ہیں

الذھبی اپنی دوسری کتاب ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين میں ان کو منکر الحدیث بھی کہتے ہیں

الذھبی تاریخ الاسلام میں یہ رائے   رکھتے ہیں کہ یہ

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ، الصَّنعائيّ، الْقَاصُّ -د. ت. ق- وَهِمَ مَنْ قَالَ: هُوَ ابْنُ بَحِيرِ بْنِ رَيْسَانَ

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ، الصَّنعائيّ، الْقَاصُّ ہے  (جس سے ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت لی ہے ) اور وہم ہے جس   نے کہا کہ یہ  ابْنُ بَحِيرِ بْنِ رَيْسَان ہے

الذہبی یہ بھی کہتے  ہیں کہ ہمارے شیخ (کو وہم ہوآ) کہتے ہیں

قَالَ شَيْخُنَا فِي تَهْذِيبِهِ: وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرِ بْنِ رَيْسَانَ الْمُرَادِيُّ، أَبُو وَائِلٍ الصَّنعانيّ.

ہمارے شیخ  (المزی ) نے تہذیب  (الکمال) میں (ایسا)  کہا

ابن ماکولا کہتے ہیں

ابْنُ مَاكُولا  الکمال میں کہتے ہیں  : عبد اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ نُسِبَ إِلَى جَدِّهِ

عبد الله بن (عِيسَى بن ) بحير بن ريسان ہے ،اس کی نسبت  دادا  کی طرف ہے

یعنی وہ دادا کے نام سے مشھور ہے

الذھبی کے نزدیک محدثین (ابن حبان، المزی وغیرہ ) کو وہم ہوا اور انہوں نے اس کو دو الگ راوی سمجھ لیا

الذھبی اس کی وجہ کتاب المغني في الضعفاء میں ترجمہ عبد الله بن بحير الصَّنْعَانِيّ الْقَاص  میں لکھتے ہیں

وَلَيْسَ هُوَ ابْن بحير بن ريسان فان بحير بن ريسان غزا الْمغرب زمن مُعَاوِيَة وَسكن مصر وروى عَن عبَادَة بن الصَّامِت وَعمر دهرا حَتَّى لقِيه ابْن لَهِيعَة وَبكر بن مُضر وَقَالَ ابْن مَا كولا فِي شيخ عبد الرَّزَّاق أَنا أَحْسبهُ عبد الله بن عِيسَى بن بحير نسب إِلَى جده وكنيته أَبُو وَائِل قلت لَهُ مَنَاكِير

اور یہ ابن بحیر بن ريسان نہیں کیونکہ عبد الله  ابن بحیر بن ريسان نے مغرب میں جہاد کیا مُعَاوِيَة کے زمانے میں اور  عبَادَة بن الصَّامِت سے روایت کیا اور عمر کا ایک حصہ گزارا حتی کہ ابن لَهِيعَة سے ملاقات ہوئی اور بکر بن مُضر سے اور ….. (عبد الله بن بحير الصَّنْعَانِيّ الْقَاص) شيخ عبد الرَّزَّاق کے لئے میں  سمجھتا ہوں کہ یہ عبد الله بن عِيسَى بن بحير ہے جس کی نسبت دادا کی طرف ہے اور کنیت أَبُو وَائِل ہے میں کہتا ہوں ان کے پاس  منکر روایات ہیں

اس روایت کے دفاع میں کہا جاتا ہے  کہ  البانی صاحب نے کتاب احکام الجنائز میں  اس کو صحیح کہا ہے اور امام الحاکم اور الذھبی  نے بھی

albani-abdullah-bin-buhair

حالانکہ امام الحاکم کی تصحیح کون مانتا ہے ان پر محدثین کی شدید جرح ہے .وہ تو اس روایت تک کو صحیح کہتے ہیں جس میں آدم  علیہ السلام پر وسیلہ کے شرک کی تہمت لگائی گئی ہے

الذھبی نے اس روایت پر تلخیص مستدرک میں سکوت کیا ہے نہ کہ تصحیح اور الذھبی کی اس راوی کے بارے میں رائے اوپر دیکھ سکتے ہیں

البانی صاحب صرف یہ دیکھتے ہیں اس کو ابن حجر یآ کوئی اور، صحیح کہتا ہے یا نہیں ، پھر وہ اپنی کتابوں میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ  الذھبی  غلط تھے یہاں تفصیل میں جانے کا موقع نہیں

عمرو بن العاص رضی الله تعالی عنہ کی روایت کے الفاظ کا ترجمہ کیا جاتا ہے

حتى أستأنس بكم، وأنظر ماذا أراجع به رسل ربي ))یعنی میری قبر پر اتنی دیر کھڑے رہنا تاکہ تمہاری دعا ء واستغفار سے مجھے قبر میں وحشت نہ ہو اور میں فرشتوں کو صحیح جواب دے سکوں ۔۔

حالانکہ أستأنس  کا یہ ترجمہ صحیح نہیں أستأنس کا مطلب مانوس ہونا ہی  ہے  أستأنس کا ترجمہ تمہاری دعا ء واستغفار سے مجھے قبر میں وحشت نہ ہو کرنا غلط ہے

بخاری کی عبدللہ بن سلام سے متعلق حدیث ہے

 قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فِي نَاسٍ، فِيهِمْ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فِي وَجْهِهِ أَثَرٌ مِنْ خُشُوعٍ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزُ فِيهِمَا، ثُمَّ خَرَجَ فَاتَّبَعْتُهُ، فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ، وَدَخَلْتُ، فَتَحَدَّثْنَا، فَلَمَّا اسْتَأْنَسَ قُلْتُ لَهُ

قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ کہتے ہیں کہ میں مدینہ میں لوگوں کے ساتھ تھا بعض ان میں اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم بھی تھے پس ایک شخص آیا جس کے چہرے پر خشوع تھا لوگوں نے کہا یہ اہل جنت میں سے ہے …. (اس کے بعد قیس عبدللہ بن سلام سے ملے) حتی کہ وہ (أستأنس)  مانوس ہوئے

الله ہم کو ہدایت دے

 

جواب

 ارشد کمال اپنی کتاب المسند فی عذاب القبر میں لکھتے ہیں

arshad-182

ذوالجبادین رضی اللہ عنہ ، نبی صلی الله علیہ وسلم کے صحابی ہیں جو غزوہ تبوک میں شریک ہوئے لیکن جب  تبوک پہنچے تو بخار میں مبتلا ہو گئے اور اسی بخار میں ان کی وفات ہو گئی۔ . تبوک کا واقعہ ٨ ہجری میں ہوا تھا. مسند البزاز کے مطابق،  ذوالبجادین کی تدفین کے بعد نبی صلی الله علیہ وسلم نے دعا کی

فَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَمْسَيْتُ عَنْهُ رَاضِيًا فَارْضَ عَنْهُ

یا اللہ! میں ذوالجبادین سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا۔

دامانوی صاحب نے دین الخالص قسط اول میں اس روایت کو پیش کرتے تھے کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبد اللہ ذو البجا دینؓ کی قبر پر دیکھا  جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دفن سے

فارغ ہوئے تو قبلہ روہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا کی

اس کے بعد اپنی دوسری کتاب عذاب القبر میں اسکو پھر دہرایا

رَأیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ قَبْرِ عَبْدِاﷲِ ذِی الْبِجَادَیْنِ …… فَلَمَّا فَرَغَ عَنْ دَفْنِہٖ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ رَافِعًا یَّدَیْہِ (صحیح ابی عوانہ، فتح الباری ج ۱۱ ص ۱۲۲ بحوالہ الکلام الموزون ص ۱۳۳ مصنفہ سید لعل شاہ بخاری منہاج المسلمین ص ۴۵۷ مصنفہ مسعود احمد)

 ’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبد اللہ ذو البجا دینؓ کی قبر پر دیکھا (اس طویل حدیث میں یہ بھی ہے کہ ) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دفن سے فارغ ہوئے تو قبلہ روہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا کی‘‘۔

 جناب عبد اللہ ذوالبجادین المزنی رضی اللہ عنہ غزوہ تبوک کے دوران فوت ہوئے تھے اور ان کے دفن کا مفصل واقعہ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ج ۳ ص ۱۲۵ رقم ۱۷۱۰) لابن عبدالبر اور البدایۃ والنھایۃ (ج ۵ ص ۱۸) لابن کثیر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہی سے موجود ہے۔

دامانوی صاحب ایک زمانے تک اس کو دلیل کے طور پر پیش کرتے رہے کہ ارضی قبر ہی میں راحت و عذاب ہوتا ہے پھر  کئی سال گزرے دامانوی صاحب کی تحقیق  نے ایک نیا رخ لیا. انکشاف ھوا کہ ١٠ ہجری میں ابراہیم رضی الله تعالی عنہ کی وفات والے دن   نبی صلی الله علیہ وسلم کو مومن کے لئے  عذاب قبر کا علم دیا گیا

دامانوی صاحب لکھتے ہیں

ایک دوسری حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور دعا بھی اس سلسلہ میں آئی ہے ۔

 ام سلمہ رضی اللہ عنہ کہتیں کہ جب ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں (موت کے وقت )پتھرا گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے ان کی آنکھیں بند کیں اور پھر فرمایا جب روح قبض کی جاتی ہے تو اس کی بینائی بھی روح کے ساتھ چلی جاتی ہے ۔ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے گھر والے یہ سن کر سمجھ گئے کہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا اور وہ رونے چلانے لگے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے نفسوں پر بھلائی کے سوا اور کوئی دعا نہ کرو اس لئے کہ اس وقت جو کچھ تمہاری زبان سے نکلتا ہے فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

 ’’ اے اللہ ! ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو بخش دے اور ان کا مرتبہ بلند فرما کر ان لوگوں میں ان کو شامل فرما دے جن کو راہ مستقیم دکھائی گئی ہے اور ان کے پسماندگان کی کارسازی فرما اور اے تمام جہانوں کے پروردگار ہم کو اور ان کو بخش دے اور ان کی قبر میں کشادگی فرما اور اس کو (انور سے) منورکر دے۔

 اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے لئے قبر کو کشادہ کرنے اور قبر کونور سے منور کر دینے کی دعا فرمائی ۔ثابت ہوا کہ مومن کی قبر کو اللہ تعالیٰ نور سے منور فرما دیتا ہے اور کافر یا مافق کی قبر ظلمت سے بھر دی جاتی ہے اور اسے تنگ کر دیا جاتا ہے مگر موصوف کو یہ بات تسلیم نہیں چنانچہ لکھتے ہیں۔

 ’’ اسی طرح ’’ قرع نعال‘‘ کی بخاری کی حدیث میں قتادہ کا یہ اضافہ کہ : وذکرلنا انہ یفسح لہ فی قبرہ۔(ہم سے ذکر کیا گیا کہ اس کی (مومن کی)قبر کو کشادہ کر دیا جاتا ہے ‘سے یہی دنیاوی قبر مراد لینا صحیح نہیں ہے اس زمین کے حدود اربعہ میں تغیر کی گنجائش کہاں‘‘۔(عذاب قبر ص۱۸

ڈاکٹر عثمانی رحمہ الله علیہ نے درست کہا تھا.

ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات ٤ ہجری میں ہوئی. اس وقت تک مومن کے لئے کسی عذاب و راحت قبر کا کوئی تصور نہ تھا.  لہذا جس وسعت و تنگی قبر کا آپ حوالہ دے رہے ہیں اس وقت تک نبی صلی الله علیہ وسلم کو اس کے بارے میں بتایا نہیں گیا تھا

چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں. قبر کی وسعت اسی وقت اہم ہے جب اس کی تنگی کا تصور پہلے سے موجود ھو.

اب یہ کون سی قبر ہے جو وسیع ھو گی ؟ یہ کوئی دنیاوی قبر تو نہیں

دامانوی صاحب کتاب عذاب القبر میں لکھتے ہیں

قبر کی وسعت اور تنگی کے متعلق بے شمار صحیح احادیث موجود ہیں یہ اور بات ہے کہ موصوف ان سب کو نہ ماننے کا ادھار کھائے بیٹھے ہیں ۔موصوف چاہتے ہیں کہ قبر میں راحت یا عذاب کے جو مناظر پیش آتے ہیں وہ سب ان کو نظر آنے چاہئیں ورنہ وہ ان پر ایمان لانے کے ئے تیار نہیں۔تو ہم ان کو ضمانت دیتے ہیں کہ جب وہ قبر میں اتارے جائیں گے تو ان شاء اللہ تمام مراحل اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور انہیں عین الیقین حاصل ہو جائے گا ۔البتہ جہاں تک دلائل کا تعلق ہے وہ ہم ابھی عرض کرتے ہیں مگر پہلے جناب سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے واقعے کے متعلق کچھ عرض کریں گے۔موصوف نے جو مسنداحمد کی روایت کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ منکر ہے تو بلاشبہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں ایک راوی محمود بن محمد بن عبد الرحمن بن عمرو بن الجموع ضعیف ہیں۔(مرعاۃ جلد ۱ ص۲۳۱) مگر جناب اس سلسلہ میں صحیح احادیث بھی موجود ہیں اور مسند احمد پر نکارت کا الزام لگا کہ دوسری صحیح احادیث سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی ہے چنانچہ جناب عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:۔

 ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ (سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ) وہ شخص ہے جس کے لئے عرض نے حرکت کی اور ان کے لئے آسمان کے دروازے کھولے گئے اور ستر ہزار فرشتے (ان کے جنازے میں) حاضر ہوئے ۔ان کی قبر ان پر تنگ کی گئی اور پھر کشادہ ہو گئی‘‘۔

 یہ حدیث صحیح ہے اور قبر کی وسعت اور تنگی سے متعلق نص صریح ہے ۔

’یہ بھی لکھا

جناب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے دفن کے دن ان کی قبر پر بیٹھے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے کہ اگر کوئی شخص فتنہ قبر یا قبر کے معاملے سے نجات پا سکتا تو البتہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ضرور نجات پاتے اور ان کی قبر ان پر تنگ کی گئی پھر ان پر کشادہ کر دی گئی‘‘۔(طبرانی ۔اس حدیث کے تام راوی ثقہ ہیں)(مجمع الزوائد ص۴۷)۔

غزوہ خندق ٥ ہجری میں ہوئی. اس وقت تک عذاب القبر کا بتایا نہیں گیا تھا. لہذا یہ فاش غلطی ہوئی. کون سی قبر دبوچ رہی ہے جبکہ عذاب کی خبر نہیں

ارشد کمال ، المسند فی عذاب القبر میں لکھتے ہیں

arshad-190-saadbinmuad

دامانوی صاحب جس واقعہ کی تصحیح پر جان نثار کر رہے ہیں. ہونہار شاگرد اسی کو سراسر جھوٹی من گھڑت بات قرار دے رہا ہے.  ان قلابازیوں کے باوجود کوئی غیر مقلد پوچھنے والا نہیں کہ یہ سب کیا ہے

جواب

لغوی طور پر برزخ سے مراد آڑ ہے جیسا قرآن میں ہے کہ دو سمندر اپس میں نہیں ملتے کیونکہ ان کے درمیان برزخ ہے سوره الرحمان میں ہے

مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ  بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لا يَبْغِيَانِ

البرزخ سے مراد عالم ارواح ہے

قرآن کی سوره المومنون کی ٩٩ اور ١٠٠ آیات ہیں

حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ (99) لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ

یہاں تک کہ ان میں جب کسی کو موت اتی ہے تو کہتا ہے اے رب مجھے لوٹا دے تاکہ صالح اعمال کروں ہرگز نہیں یہ تو صرف ایک قول ہے جو کہہ رہا ہے اور اب ان کے درمیان برزخ حائل ہے  یہاں تک کہ ان کو دوبارہ اٹھایا جائے

اصطلاحا اس سے مراد عالم ارواح ہے.  البرزخ کی اصطلاح  بہت قدیم ہے ، ابن قتیبہ المتوفی ٢٧٦،  ابن جریر الطبری ٣١٠ ھ،  ابن حزم المتوفی ٤٥٧ ھ، ابن الجوزی  المتوفی ٥٩٧ ھ ، ابن رجب الحنبلي المتوفی ٧٩٥ ھ ھ  نے اس کو استعمال کیا ہے . اس کو اردو میں ہم عالم ارواح کہتے ہیں. اسی مفھوم میں ڈاکٹر عثمانی نے بھی اس کو استعمال کیا ہے.

ابن قتیبہ المتوفی ٢٧٦ ھ کتاب تأويل مختلف الحديث میں لکھتے ہیں

وَنَحْنُ نَقُولُ: إِنَّهُ إِذَا جَازَ فِي الْمَعْقُولِ، وَصَحَّ فِي النَّظَرِ، وَبِالْكِتَابِ وَالْخَبَرِ أَنَّ الله تَعَالَى يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ، بَعْدَ أَنْ تَكُونَ الْأَجْسَادُ قَدْ بَلِيَتْ، وَالْعِظَامُ قَدْ رَمَّتْ1، جَازَ أَيْضًا فِي الْمَعْقُولِ، وَصَحَّ فِي النَّظَرِ، وَبِالْكِتَابِ وَالْخَبَرِ، أَنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ بَعْدَ الْمَمَاتِ فِي الْبَرْزَخِ.

ابو محمّد ابن قتیبہ نے کہا  اور ہم کہتے ہیں   بے شک  عقلی لحاظ سے اور صحیح النظر اور کتاب الله اور خبر (حدیث رسول ) سے پتا چلا ہے کہ بے شک الله تعالیٰ ان جسموں کو جو قبروں میں ہیں گلنے سڑنے اور ہڈیاں بننے کے بعد ان کو اٹھائے گا جب وہ مٹی ہو جائیں گے اور صحیح النظر اور کتاب الله اور خبر (حدیث رسول ) سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ ان کو البرزخ میں عذاب دیا جائے گا

ابن جریر الطبری المتوفی ٣١٠ ھ  سورہ بقرہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں اگر کوئی سوال کرے کہ

وإذا كانت الأخبار بذلك متظاهرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، فما الذي خُصَّ به القتيل في سبيل الله، مما لم يعم به سائر البشر غيره من الحياة، وسائرُ الكفار والمؤمنين غيرُه أحياءٌ في البرزخ، أما الكفار فمعذبون فيه بالمعيشة الضنك، وأما المؤمنون فمنعَّمون بالروح والريحان ونَسيم الجنان؟

اور  رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی حدیثوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ان کے لئے خاص  ہے جو الله کی راہ میں قتل ہوئے  ان کو سارے انسانوں  بشمول کفار اور مومنوں پر کہنا کہ وہ سب البرزخ میں زندہ ہیں مناسب  نہیں ہے

اس سوال کا جواب الطبری دیتے ہیں

أَنَّهُمْ مَرْزُوقُونَ مِنْ مَآكِلِ الْجَنَّةِ وَمَطَاعِمِهَا فِي بَرْزَخِهِمْ قَبْلَ بَعْثِهِمْ، وَمُنَعَّمُونَ بِالَّذِي يَنْعَمُ بِهِ دَاخِلُوها بَعْدِ الْبَعْثِ مِنْ سَائِرِ الْبَشَرِ مِنْ لَذِيذِ مَطَاعِمِهَا الَّذِي لَمْ يُطْعِمْهَا اللَّهُ أَحَدًا غَيْرَهُمْ فِي بَرْزَخِهِ قَبْلَ بَعْثِهِ

شہداء کو جنت کے کھانے  انکی برزخ ہی میں ملیں گے زندہ ہونے سے پہلے،  اور وہ نعمتوں سے مستفیض ہونگے دوسرے لوگوں سے پہلے اور لذیذ کھانوں سے،  جن کو کسی بھی بشر نے  چکھا نہ ہو گا برزخ میں ،  زندہ ہونے سے پہلے

ابن حزم المتوفی ٤٥٦ ھ  قبر میں عذاب کے انکاری ہیں اور البرزخ کی اصطلاح عالم ارواح کے لئے استمعال کرتے ہیں.   اور عذاب کو صرف روح پر مانتے ہیں. ڈاکٹر عثمانی اس  بات میں ان سے متفق ہیں

کتاب الفصل في الملل والأهواء والنحل  میں لکھتے ہیں

ثمَّ ينقلنا بِالْمَوْتِ الثَّانِي الَّذِي هُوَ فِرَاق الْأَنْفس للأجساد ثَانِيَة إِلَى البرزخ الَّذِي تقيم فِيهِ الْأَنْفس إِلَى يَوْم الْقِيَامَة وتعود أجسامنا تُرَابا

پس الله ہم کو دوسری موت کے بعد جو نفس کی جسم سے علیحدگی ہے ہم کو برزخ میں منتقل کر دے گا اور ہمارے جسم مٹی میں لوٹائے گا

فيبلوهم الله عز وَجل فِي الدُّنْيَا كَمَا شَاءَ ثمَّ يتوفاها فترجع إِلَى البرزخ الَّذِي رَآهَا فِيهِ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم لَيْلَة أسرى بِهِ عِنْد سَمَاء الدُّنْيَا أَرْوَاح أهل السَّعَادَة عَن يَمِين آدم عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام وأرواح أهل الشقاوة وَعَن يسَاره عَلَيْهِ السَّلَام

پس الله ہم کو آزمائے گا دینا میں جیسا چاہے گا پھر موت دے گا اور برزخ میں لوٹائے گا جس کو اس نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دکھایا تھا معراج کی رات کہ نیک لوگوں کی ارواح آدم علیہ السلام کی دائیں طرف اور بد بختوں کی بائیں طرف تھیں

ابن کثیر  المتوفی ٧٧٤ ھ تفسیر ج ١ ص ١٤٢ میں لکھتے ہیں

وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبيلِ الله أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ} يُخْبِرُ تَعَالَى أَنَّ الشُّهَدَاءَ فِي بَرْزَخِهِمْ أَحْيَاءٌ يُرْزَقُونَ كَمَا جَاءَ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ: ” إِنَّ أَرْوَاحَ الشُّهَدَاءِ فِي حَوَاصِلِ طيور خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مُعَلَّقَةٍ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَاطَّلَعَ عليهم ربك اطلاعة فقال: ماذا تبغون؟ قالوا: يَا رَبَّنَا وَأَيُّ شَيْءٍ نَبْغِي وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ؟ ثُمَّ عاد عليهم بِمِثْلِ هَذَا فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَا يُتْرَكُونَ من أن يسألوا، قالو: نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّنَا إِلَى الدَّارِ الدُّنْيَا فَنُقَاتِلَ فِي سَبِيلِكَ حَتَّى نُقْتَلَ فِيكَ مَرَّةً أُخرى – لما يرون من ثواب الشاهدة – فَيَقُولُ الرَّبُّ جَلَّ جَلَالُهُ: إِنِّي كَتَبْتُ أَنَّهُمْ إليها لا يرجعون” وَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ تَعْلَقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يُرْجِعَهُ اللَّهُ إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ» فَفِيهِ دَلَالَةٌ لِعُمُومِ الْمُؤْمِنِينَ أَيْضًا وَإِنْ كَانَ الشُّهَدَاءُ قَدْ خُصِّصُوا بِالذِّكْرِ فِي الْقُرْآنِ تَشْرِيفًا لَهُمْ وَتَكْرِيمًا وَتَعْظِيمًا.

 اور الله تعالی کا قول  پس الله نے خبر دی کہ بے شک شہداء اپنی برزخ میں ہیں زندہ ہیں اور رزق کھاتے ہیں جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں آیا ہے بے شک شہداء کی روحیں سبز پرندوں میں ہیں جس میں وہ جنت کی سیر کرتے ہیں جہاں چاہتے ہیں جاتے ہیں پھر واپس قندیل میں جو عرش سے لٹک رہے ہیں ان میں اتے ہیں

محمد بن علي الصابوني زمانہ حال کے ایک عالم ہیں مکہ میں عالم تھے قرآن کی تفسیر  صفوة التفاسير میں لکھتے ہیں

الجمع للتعظيم {لعلي أَعْمَلُ صَالِحاً فِيمَا تَرَكْتُ} أي لكي أعمل صالحاً فيما ضيَّعت من عمري {كَلاَّ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا} {كَلاَّ} كلمةُ ردع وزجر أي لا رجوع إِلى الدنيافليرتدع عن ذلك فإِن طلبه للرعة كلام لا فائدة فيه ولا جدوى منه وهو ذاهبٌ أدراج الرياح {وَمِن وَرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ إلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ} أي وأمامهم حاجزٌ يمنعهم عن الرجوع إِلى الدنيا – هو عالم البرزخ – الذي يحول بينهم وبين الرجعة يلبثون فيه إِلى يوم القيامة

سوره المومنون کی آیت میں بزرخ سے مراد عالم البرزخ ہے

ایک دوسرے وہابی  عالم فيصل بن عبد العزيز بن فيصل ابن حمد المبارك الحريملي النجدي (المتوفى: 1376هـ)  کتاب  توفيق الرحمن في دروس القرآن  میں  لکھتے ہیں

وقوله تعالى: {أَوْ مِن وَرَاء حِجَابٍ} كما كلم موسى عليه الصلاة والسلام فإنه سأل الرؤية بعد التكليم فحجب عنها؛ وفي الصحيح أن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – قال جابر بن عبد الله رضي الله عنهما: «ما كلم الله أحدًا إلا من وراء حجاب، وإنه كلم أباك كفاحًا» . كذا جاء في الحديث؛ وكان قد قتل يوم أحد، ولكن هذا في عالم البرزخ؛

الله تعالی کا قول کہ جس طرح موسی سے کلام کیا کہ انہوں نے دیکھنے کی خواہش کی کلام کے بعد پس اللہ حجاب میں رہے اور صحیح میں ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جابر رضی الله تعالی عنہ سے الله نے کلام کیا حجاب کے بغیر اور  ایسا حدیث میں ہے وہ احد کے دن قتل ہوئے لیکن یہ عالم البرزخ میں ہوا

ابن قیم  المتوفی ٧٥١ ھ کتاب تفسير القرآن الكريم   میں ال فرعون پر عذاب پر  لکھتے ہیں

النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْها غُدُوًّا وَعَشِيًّا فهذا في البرزخ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذابِ فهذا في القيامة الكبرى.

النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْها غُدُوًّا وَعَشِيًّا پس یہ  البرزخ میں ہے  وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذابِ پس یہ قیامت میں ہوگا.

ابن قیّم اپنی کتاب  روضة المحبين ونزهة المشتاقين میں  سمرہ بن جندب رضی الله تعالی عنہ کی روایت پر لکھتے ہیں کہ

 فأما سبيل الزنى فأسوأ سبيل ومقيل أهلها في الجحيم شر مقيل ومستقر أرواحهم في البرزخ في تنور من نار يأتيهم لهبها من تحتهم فإذا أتاهم اللهب ضجوا وارتفعوا ثم يعودون إلى موضعهم فهم هكذا إلى يوم القيامة كما رآهم النبي صلى الله عليه وسلم في منامه ورؤيا الأنبياء وحي لا شك فيها

پس زنا کا راستہ بہت برا راستہ ہے اور اس کے کرنے والے جہنم میں ہیں برا مقام ہے اور ان کی روحیں البرزخ میں تنور میں آگ میں ہیں جس کی لپٹیں ان کو نیچے سے آتی ہیں پھر وہ واپس اپنی جگہ آتے ہیں اور اسی طرح قیامت کے دن تک ہو گا جیسا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو نیند میں خواب میں دکھایا گیا جو وحی تھی جس میں کوئی شک نہیں

ڈاکٹر عثمانی کے علاوہ ابن حزم ، ابن قیم، ابن کثیر، ابن حجر سب عالم ارواح کو البرزخ کہتے ہیں جیسا کہ حوالے اوپر دیے گئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن تیمیہ ابن قیم اور ابن کثیر کا عقیدہ فرقہ اہل حدیث کے موجودہ عقیدے سے الگ ہے

ابن تیمیہ  المتوفی ٧٢٨ ھ ،ابن قیم  المتوفی ٧٥١ ھ، ابن کثیر المتوفی ٧٧٤ ھ اور ابن حجرالمتوفی ٨٥٢ ھ (سب ابن حزم کے بعد کے ہیں)، روح کا اصل مقام البرزخ مانتے ہیں جو عالم ارواح ہے . یہ سب روح پر عذاب البرزخ میں مانتے ہیں اور اس کا اثر قبر میں بھی مانتے ہیں اس تمام عذاب کو جو البرزخ میں ہو یا روح کے تعلق سے  قبر میں ہو ، اس کو وہ عذاب القبر کہتے ہیں .  روح کا جسد سے مسلسل تعلق مانتے ہیں جس میں آنا فانا روح قبر میں اتی ہے اور جاتی ہے اس کی مثال وہ سورج اور اسکی شعاوں سے دیتے ہیں دیکھئے کتاب الروح از ابن قیم المتوفی ٧٥١ ھ

برزخ کی  زندگی  سے مراد قبر ہے

البرزخ کے مفہوم میں تبدیلی ابن تیمیہ کے معاصریں نے کی. ابن عبد الهادي الحنبلي (المتوفى: 744هـ)  نے کی ان سے پہلے اس کو عالم ارواح کے لئے استعمال کیا جاتا تھا. انہوں نے البرزخ کے مفھوم میں  عالم ارواح اور دیناوی قبر دونوں کو شامل کر دیا گیا . ابن عبد الھادی  اپنی کتاب الصَّارِمُ المُنْكِي في الرَّدِّ عَلَى السُّبْكِي میں ایک نئی اصطلاح متعارف کراتے ہیں

وليعلم أن رد الروح (إلى البدن)  وعودها إلى الجسد بعد الموت لا يقتضي استمرارها فيه، ولا يستلزم حياة أخرى قبل يوم النشور نظير الحياة المعهودة، بل إعادة الروح إلى الجسد في البرزخ إعادة برزخية، لا تزيل عن الميت اسم الموت

اور جان لو کہ جسم میں موت کے بعد عود روح  ہونے سے ضروری نہیں کہ تسلسل ہو – اور اس سے دوسری زندگی بھی لازم نہیں آتی …بلکہ یہ ایک برزخی زندگی ہے  جس سے میت پر موت کا نام زائل نہیں ہوتا

 یہ مفہوم نص قرآنی سے متصادم ہے

اہل حدیث فرقہ اور پرویز

علامہ پرویز کی ایک صفت تھی کہ قرآن کی کسی بھی بات کو وہ اصطلاح نہیں مانتے تھے بلکہ ہر بات لغت سے دیکھتے تھے چاہے نماز ہو یا روزہ ، جن ہوں یا فرشتے ایک سے بڑھ کر ایک تاویل انہوں نے کی . کچھ اسی طرز پر آج کل اہل حدیث فرقہ کی جانب سے تحقیق ہو رہی ہے اور انہوں نے بھی لغت پڑھ کر البرزخ کو صرف ایک کیفیت ماننا شروع کر دیا ہے نہ کہ ایک مقام

موجودہ فرقہ اہل حدیث البرزخ کو بطور مقام ہونے   کا انکار کرتا ہے . برزخ کو قبر میں  ایک کیفیت بتاتا ہے اور عام مردوں کی بلا روح لاشوں پر عذاب بتاتا ہے. البرزخ بطور مقام ہونے کا فرقہ اہل حدیث  آج کل انکاری بنا ہوا  ہے. روح پر عذاب کو عذاب الجھنم کہتا ہے اوربے روح لاش پر عذاب کو عذاب قبر کہتا ہے.لاش بلا روح پر عذاب کو متقدمین گمراہی کہتے ہیں دیکھئے شرح مسلم النووی المتوفی ٦٧٦ ھ

شاید انہوں نے سوچا ہے کہ نہ ہو گا بانس نہ بجے گی بانسری لہذا البرزخ کی ایسی تاویل کرو کہ سارے مسئلے سلجھ جائیں اس طرز پر انہوں نے جو عقیدہ اختیار کیا ہے وہ ایک بدعتی عقیدہ ہے جس کو سلف میں فرقہ کرامیہ نے اختیار کیا ہوا تھا

جواب

samrah

اس روایت  کے واضح الفاظ کی باطل تاویلات کی جاتی ہیں

 اعتراض: ابو جابر دامانوی ، عذاب قبرکی حقیقت  میں لکھتے ہیں کہ ارض مقدس سے مراد بیت المقدس ہے . لکھتے ہیں

تیسری دلیل موصوف نے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی روایت کی پیش کی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں ارض مقدس کی طرف لے جایا گیا۔ موصوف نے لکھا ہے: ’’اور مجھے باہر نکال کر ایک ارض مقدس کی طرف لے گئے‘‘۔ ارض مقدس سے مراد بیت المقدس ہے۔ قرآن کریم میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کا یہ قول نقل کیا ہے:

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ الله لَــکُمْ (المائدۃ:۲۱

 ’اے میری قوم تم ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے‘‘۔

 صحیح بخاری میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی موت کے واقعہ میں ان کی دعا کے یہ الفاظ ہیں

 فسأل الله ان یدنیہ من الارض المقدسۃ رمیۃ بحجر

پس موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ اسے ارض مقدسہ کے قریب کر دے ایک پتھر پھینکنے کے فاصلہ  تک (بخاری کتاب الجنائز باب(۶۸) حدیث:۱۳۳۹

 امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر باب قائم کیا ہے

باب من احب الدفن فی الارض المقدسۃ او نحوھا

جو شخص ارض مقدسہ میں یا اس جیسی جگہ میں دفن ہونا پسند کرے۔

 قرآن و حدیث کی تصریحات سے ثابت ہوا کہ ارض مقدسہ سے مراد بیت المقدس کا علاقہ ہے لیکن موصوف نے حدیث کا ترجمہ کرتے ہوئے ارض مقدس کو نکرہ بنا دیا اور ارض مقدس کا ترجمہ ’’ایک ارض مقدس‘‘ کیا۔ گویا موصوف کے نزدیک ارض مقدس اور بھی ہیں۔اور ممکن ہے کہ موصوف کے نزدیک ارض مقدس سے برزخی ارض مقدس مراد ہو۔

دامانوی صاحب کتاب عذاب القبر میں لکھتے ہیں

مگر اس حدیث میں بھی وضاحت ہے کہ آپ کو الارض المقدس میں لے جایا گیا جہاں مختلف مناظر کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشاہدہ فرمایا اور یہ تمام واقعات آپ نے زمین ہی ملاحظہ فرماتے اور یہی کچھ ہم کہنا چاہتے ہیں کہ قبر کا عذاب اسی ارضی قبر میں ہوتا ہے

رفیق طاہر، اعادہ روح اور عذاب قبر وبرزخ میں لکھتے ہیں

یہ واقعہ خواب کا ہے اور کیا ہے کہ دو بندے آپ کے پاس آئے۔ ”فاخرجاني الی الارض المقدسة“ وہ مجھے لے کر ارض مقدسہ کی طرف گئے۔ اب کوئی پوچھے کہ ارض کا معنی آسمانوں والا گھر کرنا ، یہ دین کی خدمت ہے؟ یہ کون سی فقاہت ہے؟ نبی فرمارہے ہیں کہ وہ مجھے لے کر ارض مقدسہ کی طرف گئے۔ واقعہ بھی خواب کا ہے ، اور لے کر کہاں جارہے ہیں؟ ”الى الارض المقدسة“ ارض مقدسہ کی طرف۔ اور وہاں پر نبی نے اوپر اپنا گھر دیکھا اور کہا گیا کہ یہ آپ کا گھر ہے۔ اور یہ کہہ رہے ہیں کہ آسمانوں والے گھر میں ہیں۔ یا للعجب! بڑی عجیب اور حیرانی کی بات ہے۔یہ اعتراض بھی ان کا حدیث کے شروع والے الفاظ پڑھتے ہی ٹوٹ جاتا ہے۔ اور ان کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے۔

جواب: قرآن ہی میں جنت کے لئے ارض کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے

{وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْض نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّة حَيْثُ نَشَاءُ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ} [الزمر: 74].کہ جنّتی کہیں گے کہ الله کا شکر جس نے ارض کا وارث بنایا جنّت میں جہاں جانا چاہیں جا سکتے ہیں

یہ بھی ہے

وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ

اور بے شک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد  لکھ دیا کہ بے شک ارض کے وارث صالح بندے ہونگے

معلوم ہوا کہ جنّت کو بھی ارض کہا گیا ہے اور جنّت سے زیادہ مقدس کیا ہے 

کتاب مشكاة المصابيح كتاب الرُّؤْيَا فصل الاول میں بھی سمرہ کی روایت موجود ہے اس میں الفاظ الارض المقدسہ ہیں اور عذاب کے لئے کہا گیا ہے

 فَيُصْنَعُ بِهِ مَا تَرَى إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

ایسا روز قیامت تک ہو گا

فتاوی اہل  حدیث  ج ٥ ص ٤٢٩ جو مارچ ١٩٧٦ میں شائع ہوا تھا اس میں یہی حوالہ موجود ہے اور  ارض مقدس سے مراد  عالم بالا لیا گیا  ہے

سمرہ اہل حدیث فتوی

اعتراض: رفیق طاہر صاحب، اعادہ روح اور عذاب قبر وبرزخ میں لکھتے ہیں

اور پھر رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو یہ نہیں کہا جا رہا ہے کہ آپ فرما رہے ہیں کہ انہوں نے کہا “إِنَّهُ بَقِيَ لَكَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ فَلَوْ اسْتَكْمَلْتَ أَتَيْتَ مَنْزِلَكَ” یقینا آپکی کچھ عمر باقی ہے اگرآپ وہ پوری کر لیں گے تو آپ اپنے گھر میں آ جائیں گے۔ مرنے کے بعد ہی اخروی گھر جنت یا جہنم میں انسان جاتا ہے ۔ لیکن فورا بعد یا کچھ دیر بعد ‘ اسکا کوئی تذکرہ اس حدیث میں موجود ہی نہیں ہے ۔

اس کے برعکس ابو جابر دامانوی کتاب عذاب القبر میں لکھتے ہیں

جناب سمرہ بن ـجذب رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا خواب بیان فرماتے ہیں اس حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت میں اپنا گھر دکھایا جاتا ہے آگے کے الفاظ یہ ہیں (جناب جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں کہ :۔

 ذرا اپنا سر اوپر اٹھائیے ۔میں نے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے) اپنا سر اٹھایا تو میں نے اپنے سر کے اوپر ایک بادل سا دیکھا ۔ان دونوں نے کہا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر ہے ۔میں نے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے) کہا کہ مجھے چھوڑ دو کہ میں اپنے گھر میں داخل ہو جائوں ۔ان دونوں نے کہا کہ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کا کچھ حصہ باقی ہے جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا نہیں کیا ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پورا کر لین تو اپنے اس گھر میں آ جائیں گے ۔ (صحیح و بخاری ‘عذاب قبر ص

 ان احادیث سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی روحوں کا جنت میں ہونا معلوم ہوتا ہے۔

 جواب: ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء سے تو کوئی سوال جواب قبر میں نہیں ہوتا لہذا کچھ دیر یا فورا بعد کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا.

نبی صلی الله علیہ وسلم کو اسی ارض مقدس میں بادل جیسا ان کا اخروی مقام دکھایا گیا. کیا نبی صلی الله علیہ وسلم اس دنیا میں بادل میں ہیں ؟ اگر ارض مقدس سے مراد بیت المقدس ہے تو پھر اس بادل کو بھی اس دنیا میں مانیں

ہمارا عقیدہ ہے کہ اس دنیا میں کسی بھی نبی کی روح نہیں بلکہ وہ سب جنّت میں ہیں

اہل حدیث کا مغالطہ دیکھیں کہ ایک ہی روایت ہے اور ایک ہی ارض مقدس ہے لیکن اس کو پلٹ پلٹ کر کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی کچھ. کبھی یہی مقام زمین پر ہوتا ہے اور کبھی یہی جنت بنتا ہے

زبیر علی زئی کتاب توضیح الاحکام میں لکھتا ہے

zubair-tozeeh-167

اعتراض: رفیق طاہر صاحب، اعادہ روح اور عذاب قبر وبرزخ میں لکھتے ہیں

اسی طرح وہ ایک روایت پیش کرتے ہیں کہ جی دنیا کے سارے زانی مرد اور عورتیں نبیﷺ نے ان کو ایک تنور میں دیکھا کہ ان کو عذاب ہورہا تھا معراج کی رات ۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ حدیث میں یہ لفظ ہیں ہی نہیں کہ پوری دنیا کے زانی اور زانیات ایک ہی تنور میں موجود تھے۔یہ الفاظ حدیث میں کہیں پر بھی نہیں آتے۔ وہ اشکال بنا کر پیش کرتے ہیں، اشکال کے الفاظ پر غور کریں۔ اشکال یہ پیش کرتے ہیں کہ پوری دنیا کے زناۃ اور زانیات ایک ہی تنور کے اند ر تھے اور ان کو عذاب ہورہا تھا تو یہ الفاظ حدیث کے اندر موجود نہیں ہیں۔ یہ بہتان ہےاللہ کےر سولﷺ پر۔

جواب: یہ کس نے کہہ دیا کہ یہ سب معراج کی رات ھو رہا تھا.  یہ بھی سمرہ بن جندب کی روایت کا ہی حصہ ہے جس میں خواب میں یہ سب دکھایا گیا. انبیا کا خواب وحی ہے

 ابن قیّم اپنی کتاب  روضة المحبين ونزهة المشتاقين میں لکھتے ہیں کہ

 فأما سبيل الزنى فأسوأ سبيل ومقيل أهلها في الجحيم شر مقيل ومستقر أرواحهم في البرزخ في تنور من نار يأتيهم لهبها من تحتهم فإذا أتاهم اللهب ضجوا وارتفعوا ثم يعودون إلى موضعهم فهم هكذا إلى يوم القيامة كما رآهم النبي صلى الله عليه وسلم في منامه ورؤيا الأنبياء وحي لا شك فيها

پس زنا کا راستہ بہت برا راستہ ہے اور اس کے کرنے والے جہنم میں ہیں برا مقام ہے اور ان کی روحیں البرزخ میں تنور میں آگ میں ہیں جس کی لپٹیں ان کو نیچے سے آتی ہیں پھر وہ واپس اپنی جگہ آتے ہیں اور اسی طرح قیامت کے دن تک ہو گا جیسا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو نیند میں خواب میں دکھایا گیا جو وحی تھی جس میں کوئی شک نہیں

سمرہ بن جندب رضی الله تعالی عنہ کی روایت کے لئے کتاب شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور میں السيوطي لکھتے ہیں

قَالَ الْعلمَاء هَذَا نَص صَرِيح فِي عَذَاب البرزخ فَإِن رُؤْيا الْأَنْبِيَاء وَحي مُطَابق فِي نفس الْأَمر وَقد قَالَ يفعل بِهِ إِلَى يَوْم الْقِيَامَة

علماء کہتے ہیں یہ نص صریح ہے عذاب البرزخ پر کیونکہ انبیاء کا خواب وحی ہے جو نفس امر کےمطابق ہے اور بے شک کہا کہ ایسا قیامت تک ھو گا

اعتراض: دامانوی صاحب ، عذاب قبرکی حقیقت  میں لکھتے ہیں

قرآن و حدیث کی تصریحات سے ثابت ہوا کہ ارض مقدسہ سے مراد بیت المقدس کا علاقہ ہے لیکن موصوف نے حدیث کا ترجمہ کرتے ہوئے ارض مقدس کو نکرہ بنا دیا اور ارض مقدس کا ترجمہ ’’ایک ارض مقدس‘‘ کیا۔ گویا موصوف کے نزدیک ارض مقدس اور بھی ہیں۔اور ممکن ہے کہ موصوف کے نزدیک ارض مقدس سے برزخی ارض مقدس مراد ہو۔

 اس تفصیلی حدیث میں کچھ لوگوں کو عذاب میں مبتلا ہوتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا گیا اور عذاب کا یہ سلسلہ زمین سے شروع ہوا اور یہ ارواح کے عذاب کے مختلف مناظر تھے جس کے بیان کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ لوگ ان جرائم کا ارتکاب کرنے سے پرہیز کریں۔

دامانوی صاحب عذاب قبر کی حقیقت  میں یہ بھی لکھتے ہیں

اس حدیث میں دینی احکامات پر عمل نہ کرنے والے کے متعلق بتایا گیا ہے کہ یہ سزائیں انہیں قیامت تک ملتی رہیں گی۔ اس حدیث سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ان اشخاص کی ارواح کو جہنم میں عذاب دیا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک قائم رہے گا

دامانوی صاحب  عذاب قبر کی حقیقت میں یہ بھی لکھتے ہیں

ان واقعات کا تعلق عام عذاب سے ہے خاص عذاب القبر سے نہیں عام عذاب کا مطلب یہ ہے کہ یہ ارواح کے عذاب کے مشاہدات تھے اور روح کے جہنم میں مبتلائے عذاب ہونے کے مشاہدات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرائے گئے اور صلوٰۃ الکسوف کے دوران یہ مشاہدہ بھی کرایا گیا۔

دامانوی صاحب کتاب عذاب القبر میں لکھتے ہیں

مگر اس حدیث میں بھی وضاحت ہے کہ آپ کو الارض المقدس میں لے جایا گیا جہاں مختلف مناظر کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشاہدہ فرمایا اور یہ تمام واقعات آپ نے زمین ہی ملاحظہ فرماتے اور یہی کچھ ہم کہنا چاہتے ہیں کہ قبر کا عذاب اسی ارضی قبر میں ہوتا ہے

 جواب: دامانوی صاحب کتنے کنفیوژن کا شکار ہیں قارئین آپ دیکھ سکتے ہیں. ان کا عقیدہ ہے کہ عذاب القبر جسد کو ہوتا ہے اور عذاب جہنم روح کو. لیکن سمرہ بن جندب کی روایت میں ارض کو بیت المقدس کہتے ہیں اور عذاب کو روح پر کہ رہے ہیں

پہلے کہا کہ سمرہ کی روایت عذاب قبر کی دلیل ہے پھر کچھ سال بعد دوسری کتاب لکھی اس میں کہا یہ عذاب الارواح کی دلیل ہے

جس زمانے میں دامانوی صاحب نے دین الخالص لکھی تھی اس وقت یہی روایت ان کے خیال میں غیر واضح تھی وہ کہتے تھے کہ حامل قرآن تو پیدا ہی نہیں ہوا اور یہ کہنا چاہتے تھے کہ روایت اپنے متن میں واضح نہیں

رفیق طاہر یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ روح پر عذاب ہو سکتا ہے یا اس روایت کی کوئی عملی شکل بھی ہے کیونکہ وہ اس کو خواب کہہ کر جان چھڑانا چاہتے ہیں

اعتراض: ابو جابر دامانوی عذاب قبر کی حقیقت میں لکھتے ہیں

اس حدیث میں کسی مقام پر بھی برزخی اجسام اور برزخی قبروں کے الفاظ ذکر نہیں کئے گئے ہیں

جواب: اس روایت میں بیان ہونے والے عذابات کو عالم برزخ میں مانا گیا ہے

ابن حجر فتح الباری جد ٢٠ ص ٥٢ پر سمرہ بن جندب کی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں

. وَفِيهِ أَنَّ بَعْض الْعُصَاة يُعَذَّبُونَ فِي الْبَرْزَخ

اور اس (روایت) میں بعض گناہ گاروں کا ذکر ہے جنھیں  البرزخ میں عذاب دیا جا رہا تھا

 السيوطي کتاب  الديباج على صحيح مسلم بن الحجاج میں لکھتے ہیں

عَن سَمُرَة بن جُنْدُب قَالَ كَانَ النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم إِذا صلى الصُّبْح أقبل عَلَيْهِم بِوَجْهِهِ فَقَالَ هَل رأى أحد مِنْك البارحة رُؤْيا هَذَا مُخْتَصر من حَدِيث طَوِيل وَبعده وَأَنه قَالَ لنا ذَات غَدَاة إِنَّه أَتَانِي اللَّيْلَة آتيان فَقَالَا لي انْطلق فَذكر حَدِيثا طَويلا فِيهِ جمل من أَحْوَال الْمَوْتَى فِي البرزخ وَقد أخرج البُخَارِيّ بِتَمَامِهِ

سَمُرَة بن جُنْدُب سے مروی ہے کہ النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم جب صبح کی نماز پڑھتے تو ہماری طرف رخ کرتے  اور پوچھتے کہ کیا تم میں سے کل کسی نے خواب دیکھا ہے  یہ  ایک طویل حدیث کا اختصار ہے …جس میں احوال الموتی کا اجمال ہے البرزخ میں اور اس کو بخاری نے مکمل بیان کیا ہے

اعتراض: ابو جابر دامانوی صاحب  عذاب قبر کی حقیقت میں لکھتے ہیں کہ امام بخاری نے

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث بیان فرمائی جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک باغ میں ایک بڑے درخت کے نیچے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا اور ان کے ساتھ اولاد الناس (لوگوں کی اولاد) بھی دیکھی۔ اور اس کی مزید وضاحت امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب التعبیر باب ۴۸ میں کی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ جو بچے تھے ان میں اولاد المشرکین بھی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! اُن کے ساتھ اولاد مشرکین بھی تھی۔ اس طرح امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان فرما کر اولادِ مشرکین کا مسئلہ بھی حل فرما دیا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے جو اس حدیث پر باب نہیں باندھا تو ممکن ہے کہ ان کا اِرادہ ہو کہ وہ اس پر کوئی باب قائم کریں گے مگر اس کا اُنہیں موقع نہ مل سکا۔ اب موصوف کو چاہیئے کہ وہ صحیح بخاری کی شرح کا کام شروع کر دیں اور اس حدیث پر ایک باب القبور فی البرزخ کا اضافہ کر دیں، کیونکہ فتح الباری تو موصوف کے نزدیک ایسی شرح ہے جسے اگر نہ لکھا جاتا تو مناسب تھا۔

جواب: مشرکین کی اولادیں اور ابراہیم علیہ السلام کیا بیت المقدس میں تھے؟ ظاہر ہے کہ یہ جنّت کا کوئی حصہ تھا جس طرح نبی صلی الله علیہ وسلم نے ان کو معراج کی رات جنت میں دیکھا تھا. اس عالم ارواح کو متقدمین نے البرزخ کا نام دیا

ابن کثیر تفسیر سوره بنی اسرائیل یا الاسراء آیت ١٥ تا ١٧ میں لکھتے ہیں

وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ سَمُرَةَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَأَى مع إبراهيم عليه السلام أَوْلَادَ الْمُسْلِمِينَ وَأَوْلَادَ الْمُشْرِكِينَ، وَبِمَا تَقَدَّمَ فِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ عَنْ حَسْنَاءَ عَنْ عَمِّهَا أَنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:«وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ» وَهَذَا اسْتِدْلَالٌ صَحِيحٌ، وَلَكِنْ أَحَادِيثُ الِامْتِحَانِ أَخَصُّ مِنْهُ. فَمَنْ عَلِمَ الله مِنْهُ أَنَّهُ يُطِيعُ جَعَلَ رُوحَهُ فِي الْبَرْزَخِ مَعَ إِبْرَاهِيمَ وَأَوْلَادِ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ مَاتُوا عَلَى الْفِطْرَةِ

اور انہوں نے احتجاج کیا ہے حدیث سَمُرَةَ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے دیکھا  مسلمانوں اور مشرکین کی اولادوں کو إبراهيم عليه السلام کے ساتھ اور …. پس الله نے علم دیا کہ ان کی روحوں کو برزخ میں ابرهیم اور مسلمانوں کی اولاد کے ساتھ کیا، جن کی موت فطرت پر ہوئی

اعتراض: عموما اہل حدیث حضرات، سمرہ بن جندب کی روایت اور واقعہ معراج کو ایک ساتھ بیان کرتے ہیں حالانکہ یہ دو الگ واقعات ہیں.  اور جابر دامانوی عذاب قبر کی حقیقت میں لکھتے ہیں

معراج کا واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی میں پیش آچکا تھا اور معراج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نافرمان انسانوں کو عذاب دیئے جانے کے کچھ مشاہدات بھی کرائے گئے تھے جیسا کہ خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نافرمانوں کو مبتلائے عذاب دیکھا تھا

جواب: معراج ، مکہ میں ہوئی جبکہ سمرہ بن جندب والی روایت میں جو خواب بیان ہوا ہے وہ آخری دور کا ہے لہذا ان دونوں کو ملا کر کیوں بیان کیا جا رہا ہے؟ معراج جسمانی تھی نہ کہ خواب.

 کتاب تهذيب الأسماء واللغات از النووی کے مطابق سمرہ چھوٹے تھے کہ والد کا انتقال ہوا اور ان کی والدہ مدینہ لے آئیں. مزید یہ کہ مومنین پر عذاب کا علم دس ہجری میں دیا گیا لہذا یہ روایت دس ہجری کے بعد کی ہے

اعتراض اس روایت میں کہیں بھی البرزخ کا ذکر نہیں جس کو ڈاکٹر عثمانی نے بیان کیا ہے

جواب   البرزخ کی اصطلاح  بہت قدیم ہے ابن قتیبہ المتوفی ٢٧٦ ھ،  ابن حزم المتوفی ٤٥٧ ھ، ابن الجوزی  المتوفی ٥٩٧ ھ ، ابن رجب الحنبلي المتوفی ٧٩٥ ھ،   نے اس کو استعمال کیا ہے . اس کو اردو میں ہم عالم ارواح کہتے ہیں

اسی مفھوم میں ڈاکٹر عثمانی نے بھی اس کو استعمال کیا ہے.

ڈاکٹر عثمانی کے علاوہ ابن حزم ، ابن قیم، ابن کثیر، ابن حجر سب عالم ارواح کو البرزخ کہتے ہیں جیسا کہ حوالے اوپر دیے گئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن تیمیہ ابن قیم اور ابن کثیر کا عقیدہ فرقہ اہل حدیث کے موجودہ عقیدے سے الگ ہے

نئے قارئین کے لئے ہم وضاحت کر دیں کہ

ابن حزم المتوفی ٤٥٦ ھ  قبر میں عود روح کے انکاری ہیں اور البرزخ  اور قبر کی اصطلاح عالم ارواح کے لئے استمعال کرتے ہیں اور وہیں عذاب قبر مانتے ہیں . ڈاکٹر عثمانی اس  بات میں ان سے متفق ہیں

 ابن تیمیہ  المتوفی ٧٢٨ ھ ،ابن قیم  المتوفی ٧٥١ ھ، ابن کثیر المتوفی ٧٧٤ھ اور ابن حجرالمتوفی ٨٥٢ ھ (سب ابن حزم کے بعد کے ہیں)، روح کا اصل مقام البرزخ مانتے ہیں جو عالم ارواح ہے . یہ سب روح پر عذاب البرزخ میں مانتے ہیں اور اس کا اثر قبر میں بھی مانتے ہیں اس تمام عذاب کو جو البرزخ میں ہو یا روح کے تعلق سے  قبر میں ہو ، اس کو وہ عذاب القبر کہتے ہیں .  روح کا جسد سے مسلسل تعلق مانتے ہیں جس میں آنا فانا روح قبر میں اتی ہے اور جاتی ہے اس کی مثال وہ سورج اور اسکی شعاوں سے دیتے ہیں دیکھئے کتاب الروح از ابن قیم المتوفی ٧٥١ ھ

موجودہ فرقہ اہل حدیث البرزخ کو بطور مقام ہونے   کا انکار کرتا ہے . برزخ کو قبر میں  ایک کیفیت بتاتا ہے اور عام مردوں کی بلا روح لاشوں پر عذاب بتاتا ہے. البرزخ بطور مقام ہونے کا فرقہ اہل حدیث  آج کل انکاری بنا ہوا  ہے. روح پر عذاب کو عذاب الجھنم کہتا ہے اوربے روح لاش پر عذاب کو عذاب قبر کہتا ہے.لاش بلا روح پر عذاب کو متقدمین گمراہی کہتے ہیں دیکھئے شرح مسلم النووی المتوفی ٦٧٦ ھ

باقی اہل سنت کے فرقے عذاب قبر میں زندہ بدن  پر مانتے ہیں جس میں روح مسلسل رہتی ہے دیکھئے الاستذکار از  ابن عبد البر المتوفی ٤٦٣ ھ

ابن حجر عسقلانی اپنے خط میں کہتے ہیں جو  کتاب الإمتاع بالأربعين المتباينة السماع  کے ساتھ چھپا ہے  خط الشيخ العسقلاني میں لکھتے ہیں

ما معرفَة الْمَيِّت بِمن يزروه وسماعه كَلَامه فَهُوَ مُفَرع عَن مَسْأَلَة مَشْهُورَة وَهِي أَيْن مُسْتَقر الْأَرْوَاح بعد الْمَوْت فجمهور أهل الحَدِيث عل أَن الْأَرْوَاح على أقنية قبورها نَقله ابْن عبد الْبر وَغَيره

جمہور اہل حدیث کا مذھب ہے کہ ارواح قبرستان میں ہیں جس کو ابن عبد البر اور دوسروں نے نقل کیا ہے

ابن حجر اپنی رائے دیتے ہیں

وَالَّذِي تَقْتَضِيه ظواهر الْأَحَادِيث الصَّحِيحَة أَن أَرْوَاح الْمُؤمنِينَ فِي عليين وأرواح الْكفَّار فِي سِجِّين وَلَكِن لكل مِنْهُمَا اتِّصَال بجسدها 

لیکن احادیث صحیحہ کا ظاہر جو تقاضہ کرتا ہے اس کے حساب سے مومنوں کی روحیں  عليين میں اور کافروں کی روحیں  سِجِّين میں ہیں لیکن ان سب کا جسد سے اتصال (کنکشن ) ہے

جواب

حال ہی میں عذاب القبر کے مسئلے پر ایک کتاب بنام المسند فی عذاب القبر از ارشد کمال شائع ہوئی ہے. کتاب کے پہلے صفحے پر عرض المولف میں مولف لکھتے ہیں

عالم آخرت کے دو مرحلے ہیں ایک عالم برزخ یعنی موت سے لے کے حساب و کتاب کے لیے دوبارہ اٹھائے جانے تک اور دوسرا مرحلہ دوبارہ اٹھائے جانے یعنی عالم حشر سے شروع ھو گا. عالم برزخ میں ملنے والی سزا کو عذاب القبر کہا جاتا ہے اس لئے کہ ایک تو مردوں کا قبروں میں دفن ہونا  اغلب و اکثر ہے جیسا علامہ جلال الدین السیوطی فرماتے ہیں. علماء نے فرمایا کہ عذاب قبر عذاب برزخ ہی (کا نام) ہے اسے قبر کی طرف منسوب اس لئے کیا گیا ہے کہ وہ (مردوں کا قبروں میں دفن ہونا) اغلب و اکثر ہے

ارشد کمال صاحب البرزخ سے کیا مراد لیتے ہیں یہ وہ اپنی کتاب عذاب القبر میں بیان کر چکے ہیں کہ

 

ارشد کمال صاحب نےالسيوطي  کی عذاب القبر کی تعریف ، شرح صدور کے حوالے سے لکھی ہے. لیکن مطلب براری کے لئے عالم برزخ کو ایک دورکی طرح پیش کیا ہے جبکہ السيوطي اس کو ایک مقام کے طور پر لیتے ہیں

السيوطي (المتوفى:٩١١ ھ) کتاب شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور میں لکھتے ہیں کہ معتزلہ نے مرنے کے بعد روح کے باقی رہنے کا انکار کیا لیکن اہل علم نے اس کا رد کیا. السيوطي لکھتے ہیں

قَالَ سَحْنُون بن سعيد وَغَيره هَذَا قَول أهل الْبدع والنصوص الْكَثِيرَة الدَّالَّة على بَقَاء الْأَرْوَاح بعد مفارقتها للأبدان ترد ذَلِك وتبطله وَالْفرق بَين حَيَاة الشُّهَدَاء وَغَيرهم من الْمُؤمنِينَ الَّذين أَرْوَاحهم فِي الْجنَّة من وَجْهَيْن أَحدهمَا أَن أَرْوَاح الشُّهَدَاء تخلق لَهَا أجساد وَهِي الطير الَّتِي تكون فِي حواصلها ليكمل بذلك نعيمها وَيكون أكمل من نعيم الْأَرْوَاح الْمُجَرَّدَة عَن الأجساد فَإِن الشُّهَدَاء بذلوا أَجْسَادهم للْقَتْل فِي سَبِيل الله فعوضعوا عَنْهَا بِهَذِهِ الأجساد فِي البرزخ وَالثَّانِي أَنهم يرْزقُونَ من الْجنَّة وَغَيرهم لم يثبت فِي حَقه مثل ذَلِك

سَحْنُون بن سعيد اور دیگر کہتے ہیں کہ یہ اہل بدعت کا قول ہے اور بدن سے جدائی کے بعد، روح کی بقاء پر کثیر نصوص دلالت کرتے ہیں ، جو اس قول کو رد کرتے ہیں اور حیات شہداء اور عام مومنین کی زندگی میں جن کی روحیں جنت میں ہیں فرق دو وجہ سے ہے کہ اول ارواح شہداء کے لئے جسم بنائے گئے ہیں اور وہ پرندے ہیں  جن کے پیٹوں میں وہ ہیں کہ وہ ان نعمتوں کی تکمیل  کرتے ہیں اور یہ مجرد ارواح کی نعمتوں سے اکمل ہے  کیونکہ شہداء نے اپنے جسموں پر زخم سہے الله کی راہ میں قتل ہوئے پس ان کو یہ جسم برزخ میں دے گئے اور دوئم ان کو جنّت میں کھانا بھی ملتا ہے اور دوسروں پر یہ ثابت نہیں

 السيوطي کتاب  الديباج على صحيح مسلم بن الحجاج میں ابن رجب کے حوالے سے لکھتے ہیں

وَقَالَ الْحَافِظ زين الدّين بن رَجَب فِي كتاب أهوال الْقُبُور الْفرق بَين حَيَاة الشُّهَدَاء وَغَيرهم من الْمُؤمنِينَ من وَجْهَيْن أَحدهمَا أَن أَرْوَاح الشُّهَدَاء يخلق لهاأجساد وَهِي الطير الَّتِي تكون فِي حواصلها ليكمل بذلك نعيمها وَيكون أكمل من نعيم الْأَرْوَاح الْمُجَرَّدَة عَن الأجساد فَإِن الشُّهَدَاء بذلوا أَجْسَادهم للْقَتْل فِي سَبِيل الله فعوضوا عَنْهَا بِهَذِهِ الأجساد فِي البرزخ

اور الْحَافِظ زين الدّين بن رَجَب كتاب أهوال الْقُبُور میں کہتے ہیں اور حیات شہداء اور عام مومنین کی زندگی میں فرق دو وجہ سے ہے کہ اول ارواح شہداء کے لئے جسم بنائے گئے ہیں اور وہ پرندے ہیں  جن کے پیٹوں میں وہ ہیں کہ وہ ان نعمتوں کی تکمیل  کرتے ہیں اور یہ مجرد ارواح کی نعمتوں سے اکمل ہے  کیونکہ شہداء نے اپنے جسموں پر زخم سہے الله کی راہ میں قتل ہوئے پس ان کو یہ جسم برزخ میں دے گئے

 شہداء کے لئے برزخی جسم پر واضح نصوص کو السيوطي بھی مانتے ہیں. ارشد کمال ان کا اس انداز میں مذاق اڑاتے ہیں

almasnad-96

دامانوی دین الخالص میں لکھتے ہیں

برزخی جسم دامانوی

احادیث کے واضح متن کو رد کرنے کے لئے قادیانی دجال کا حوالہ انہی کو مبارک ھو. ہمارا ایمان تواحادیث صحیحہ پر ہے

قادیانی دجال سن ١٩٠٨ ع میں جہنم رسید ہوا اس کے بعد اہل حدیث عالم اسمعیل سلفی  المتوفی ١٩٦٨ ع نے بھی برزخی جسد کا  کتاب حیات النبی میں ذکر کیا

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت یونس علیہ السلام کو احرام باندھے شتر سوار تلبیہ کہتے سنا دجال کوبحالت احرام کے لیے جاتے دیکھا عمروبن لحئ کو جہنم میں دیکھا یہ برزخی اجسام ہیں اور کشفی رویت ہیں

یہ بھی لکھا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے معراج پر انبیاء کی امامت کی اور انبیاء برزخی جسموں کے ساتھ تھے

دوسرا مسلک یہ ہے کہ برزخ سے ان ارواح کو مماثل اجسام دیے گئے اور ان اجسام نے بیت المقدس میں شب اسراء میں ملاقات فرمائی

 ان سے بھی پہلے ابن حجر فتح الباری ج ٧ ص ٢٠٩ میں  واقعہ معراج پر لکھتے ہیں

وَأَمَّا الَّذِينَ صَلَّوْا مَعَهُ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَيَحْتَمِلُ الْأَرْوَاحَ خَاصَّةً وَيَحْتَمِلُ الْأَجْسَادَ بِأَرْوَاحِهَا

اور بیت المقدس میں وہ انبیاء جنہوں نے نماز ادا کی ان کے بارے  میں احتمال ہے وہ ارواح تھیں اور احتمال ہے کہ جسم تھے انکی روحوں کے ساتھ

اگر کسی دجال نے کوئی صحیح حدیث نقل کی یا اس کی شرح کی تو کیا وہ بات غلط ہو جائے گی جوش  مخالفت میں آدمی کو اپنے آپے میں رہنا چاہئے

عجیب بات یہ ہے کہ موصوف خود روایت پیش کرتے ہیں کہ یہ پرندے جنت میں کھاتے بھی ہیں اور آیت وہ بتاتے ہیں جس میں شہید کے رزق کا ذکر ہے نہ کہ انکے ہوائی جہازوں کا. المسند فی عذاب القبر میں لکھتے ہیں

بخاری میں سمرہ بن جندب رضی الله تعالی عنہ کی روایت  میں تفصیل سے ارواح پر برزخی اجساد میں عذاب کا ذکر آیا ہے

سمرہ بن جندب رضی الله تعالی عنہ کی روایت کے لئے کتاب شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور میں السيوطي لکھتے ہیں

قَالَ الْعلمَاء هَذَا نَص صَرِيح فِي عَذَاب البرزخ فَإِن رُؤْيا الْأَنْبِيَاء وَحي مُطَابق فِي نفس الْأَمر وَقد قَالَ يفعل بِهِ إِلَى يَوْم الْقِيَامَة

علماء کہتے ہیں یہ نص صریح ہے عذاب البرزخ پر کیونکہ انبیاء کا خواب وحی ہے جو نفس امر کے مطابق ہے اور بے شک کہا کہ ایسا قیامت تک ھو گا

 السيوطي کتاب  الديباج على صحيح مسلم بن الحجاج میں لکھتے ہیں

عَن سَمُرَة بن جُنْدُب قَالَ كَانَ النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم إِذا صلى الصُّبْح أقبل عَلَيْهِم بِوَجْهِهِ فَقَالَ هَل رأى أحد مِنْك البارحة رُؤْيا هَذَا مُخْتَصر من حَدِيث طَوِيل وَبعده وَأَنه قَالَ لنا ذَات غَدَاة إِنَّه أَتَانِي اللَّيْلَة آتيان فَقَالَا لي انْطلق فَذكر حَدِيثا طَويلا فِيهِ جمل من أَحْوَال الْمَوْتَى فِي البرزخ وَقد أخرج البُخَارِيّ بِتَمَامِهِ

سَمُرَة بن جُنْدُب سے مروی ہے کہ النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم جب صبح کی نماز پڑھتے تو ہماری طرف رخ کرتے  اور پوچھتے کہ کیا تم میں سے کل کسی نے خواب دیکھا ہے  یہ  ایک طویل حدیث کا اختصار ہے …جس میں احوال الموتی کا اجمال ہے البرزخ میں اور اس کو بخاری نے مکمل بیان کیا ہے

 البرزخ پر سَمُرَة بن جُنْدُب رضی الله تعالی عنہ کی روایت کو ارشد کمال نے اپنی تالیف بنام المسند فی عذاب القبر میں سرے سے پیش ہی نہیں کیا

اب ہم واپس السيوطي کے اس قول کی طرف آتے ہیں جس کا حوالہ ارشد کمال نے دیا ہے

السيوطي کتاب شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور میں لکھتے ہیں

قَالَ الْعلمَاء عَذَاب الْقَبْر هُوَ عَذَاب البرزخ أضيف إِلَى الْقَبْر لِأَنَّهُ الْغَالِب وَإِلَّا فَكل ميت وَإِذا أَرَادَ الله تَعَالَى تعذيبه ناله مَا أَرَادَ بِهِ قبر أَو لم يقبر وَلَو صلب أَو غرق فِي الْبَحْر أَو أَكلته الدَّوَابّ أَو حرق حَتَّى صَار رَمَادا أَو ذري فِي الرّيح وَمحله الرّوح وَالْبدن جَمِيعًا بِاتِّفَاق أهل السّنة وَكَذَا القَوْل فِي النَّعيم

علماء نے فرمایا کہ عذاب قبر عذاب برزخ ہی (کا نام) ہے اسے قبر کی طرف منسوب اس لئے کیا گیا ہے کہ وہ (مردوں کا قبروں میں دفن ہونا) اغلب و اکثر ہے اور اگر الله ان کو عذاب دینا چاہے  تو اس کے لئے قبر نہیں چاہیے  اگر قبر نہ دی جائے ، اگر صلیب دی جائے یا سمندر میں غرق ھو یا جانور کھا جائیں یا آگ میں جلایا جائے حتیٰ کہ راکھ بن جائے یا  ہوا اڑا دے  تو بھی عذاب بدن و روح کو ھو گا یہ قول بِاتِّفَاق أهل السّنة ہے  اسی طرح راحت بھی

السيوطي کے اقوال سے واضح ہے کہ ان کے نزدیک بھی برزخ مقام ہے نہ کہ صرف ایک کیفیت. افسوس کہ اس طرح کے خلط مبحث سے ارشد کمال کی کتابیں پر ہیں

ابن رجب اور السیوطی دونوں جسد اور روح پر عذاب کے قائلین میں سے ہیں لیکن البرزخ کو مقام مانتے ہیں اس وجہ سے ہم نے ان کو پیش کیا ہے ورنہ ہمارا عقیدہ ہے کہ عود روح کا عقیدہ باطل ہے اور جسد عذاب محسوس نہیں کرتا

ارشد کمال کتاب عذاب القبر کے صفحہ ١٠٦ اور ١٠٧ پر لکھتے ہیں

arshd-Baryakh

اگر شہداء کی ارواح سبز پرندوں میں ہوائی جہاز کی طرح سیر کرتی ہیں تو بھلا بتائے ال فرعون کیا جھنم کی سیر کرتے ہیں؟ واضح ہے کہ یہ نئے اجساد البرزخ میں ہیں نہ کہ قبر میں

سوال یہ ہے کہ جب ال فرعون کو ان کالے پرندوں  میں بیٹھا کر جہنم کی سیر کرائی جاتی ہے تو پھر کرے کوئی بھرے کوئی کا سوال کیوں پیدا نہیں ہوتا؟

أن الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ  رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : انبیاءاپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں

البانی اپنی کتاب سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها  میں لکھتے ہیں

فقد أورده الذهبي في ” الميزان ” وقال: ” نكرة، ما روى عنه – فيما أعلم – سوى مستلم بن سعيد فأتى بخبر منكر عنه عن أنس في أن الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون. رواه البيهقي “. لكن تعقبه الحافظ في ” اللسان “، فقال عقبه: ” وإنما هو حجاج بن أبي زياد الأسود يعرف بزق العسل ” وهو بصري كان ينزل القسامل

پس بے شک  اس کو الذهبي  میزان میں لے کر آئے ہیں اور کہا ہے منکرہے جو روایت کیا ہے -یہ علم ہوا ہے کہ سوائے مستلم بن سعيد کے کوئی اور اس کو روایت نہیں کرتا ،پس ایک منکر خبر انس سے روایت کرتا ہے کہ بے شک انبیاء قبروں میں زندہ ہیں نماز پڑھتے ہیں- اسکو البيهقي نے (بھی ) روایت کیا ہے، لیکن حافظ ابن حجر نے لسان المیزان میں اس کا تعاقب کیا ہے پس اس روایت کے بعد کہا ہے بے شک یہ  حجاج بن أبي زياد الأسود ہے جوزق العسل سے معروف ہے اور بصری ہے

 البزاز المتوفى: ھ٢٩٢ کہتے ہیں

حَدَّثنا رزق الله بن موسى، حَدَّثنا الحسن بن قتيبة، حَدَّثنا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَن الحَجَّاج، يَعْنِي: الصَّوَّافَ، عَنْ ثابتٍ، عَن أَنَس؛ أَن رَسولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم قَالَ: الأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ.

وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ، عَنْ ثابتٍ، عَن أَنَس إلاَّ الْحَجَّاجُ، ولاَ عَن الْحَجَّاجِ إلاَّ الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، ولاَ نعلمُ رَوَى الْحَجَّاجُ، عَنْ ثابتٍ، إلاَّ هذا الحديث.

اور یہ حدیث اس کو ہم نہیں جانتے کہ روایت کیا ہو سوائے  الْحَجَّاجُ نے اور اس سے الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ نے

 معلوم ہوا کہ یہ راوی الحَجَّاج الصَّوَّافَ ہے نہ کہ حجاج بن أبي زياد الأسود

ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں

وَأَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ لَكِنْ وَقَعَ عِنْدَهُ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ وَهُوَ وَهْمٌ وَالصَّوَابُ الْحَجَّاجُ الْأَسْوَدُ

اس کی تخریج الْبَزَّارُ نے کی ہے لیکن اس میں حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ہے جو وہم ہے اور مناسب ہے کہ یہ الْحَجَّاجُ الْأَسْوَدُ ہے

اگرچہ ابن حجر کے بعد لوگوں نے اس روایت کو حسن ، صحیح کہا ہے لیکن انہوں نے راوی کی وضاحت نہیں کی کہ کون سا ہے کبھی یہی راوی الْحجَّاج بن الْأسود  بن جاتا ہے جیسے طبقات الشافعية الكبرى ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والأثار الواقعة في الشرح الكبيراور لسان الميزان میں

اس روایت کے دفاع میں بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس کی سند میں راوی ججاج بن الاسود کو حماد بن سلمہ حجاج الاسود بولتے تھے

ابن حبان المتوفی ٣٥٤ ھ کتاب الثقات میں لکھتے ہیں

 حجاج بن أبي زِيَاد الْأسود من أهل الْبَصْرَة كَانَ ينزل القسامل بهَا يروي عَن أبي نَضرة وَجَابِر بن زيد روى عَنهُ عِيسَى بْن يُونُس وَجَرِير بن حَازِم وَهُوَ الَّذِي يحدث عَنهُ حَمَّاد بن سَلمَة وَيَقُول حَدثنَا حجاج الْأسود

حجاج بن أبي زِيَاد الْأسود أهل الْبَصْرَة میں سے ہیں .. ان سے حَمَّاد بن سَلمَة نے روایت کیا ہے اور کہا ہے حَدثنَا حجاج الْأسود

 ایک اور راوی حجاج بن أبي عُثْمَان الصَّواف کے لئے ابن حبان لکھتے ہیں

حجاج بن أبي عُثْمَان الصَّواف كنيته أَبُو الصَّلْت مولى التَّوْأَمَة بنت أُميَّة بن خلف وَاسم أبي عُثْمَان ميسرَة وَقد قيل إِن اسْم أبي عُثْمَان سَالم يروي عَن أبي الزبير وَيحيى بن أَبى كثير روى عَنهُ حَمَّاد بْن سَلمَة والبصريون مَاتَ سَنَةَ ثَلاثٍ وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةٍ وَكَانَ متقنا

حجاج بن أبي عُثْمَان الصَّواف ان کی کنیت أَبُو الصَّلْت ہے . ان سے حَمَّاد بْن سَلمَة اور بصریوں نے روایت کیا ہے ، سن ١٤٣ ھ میں وفات ہوئی

اول روایت أن الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون حَمَّاد بن سَلمَة کی سند سے نقل نہیں ہوئی بلکہ الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ نے حجاج سے سنی ہے

دوئم اس کی سند میں ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ہیں اور حَمَّاد بن سَلمَة کی ان سے بہت سی روایات مروی ہیں لیکن یہ والی نہیں

سوم ذھبی اس روایت کو منکر کہتے ہیں یعنی اس روایت کا متن کا صحیح حدیث کے خلاف ہے

اس بحث کا لب لباب ہے کہ ابن حجر کی تصحیح نہ صرف مشکوک ہے بلکہ راوی کی نامکمل تحقیق پر مبنی ہے ابن حجر نے بیہقی کی اس روایت کی تصحیح کا حوالہ بھی دیا ہے  لیکن بیہقی نے جس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اس کی سند میں الْحجَّاج بن الْأسود   ہے نہ کہ حجاج بن أبي زياد الأسود. دوم ابن حجر باربار اس موقف تبدیل کرتے ہیں لسان المیزان میں اس روایت کو منکر کہتے ہیں اور فتح الباری میں صحیح ! جو عجیب بات ہے

اس روایت کی تصحیح کرنے والے  حضرات راوی کو ایک دوسرے  کی تصحیح کی بنیاد پر صحیح قرار دیتے رہے لیکن افسوس راوی کے بارے میں کوئی ایک رائے نہیں. پہلے یہ تو ثابت ہو کہ یہ کون راوی ہے پھر اس کی صحت و سقم کا سوال ہو گا – لیکن چونکہ یہ واضح نہیں لہذا یہ روایت مجھول راوی کی وجہ سے ضعیف ہے – کیا ایسی عجوبہ سند والی روایت، جس کا راوی مبہم ہو اس سے عقیدے کا اثبات کیا جائے گا

محب راشدی فتاوی راشدیہ میں لکھتے ہیں

rashdi-anbiya-qabor

دوسری سند

بیہقی نے کتاب حياة الأنبياء في قبورهم میں اس کو ایک دوسری سند سے بھی پیش کیا ہے

أخبرناه أبو عثمان الإمام ، رحمه الله أنبأ زاهر بن أحمد ، ثنا أبو جعفر محمد بن معاذ الماليني ، ثنا الحسين بن الحسن ، ثنا مؤمل ، ثنا عبيد الله بن أبي حميد الهذلي ، عن أبي المليح ، عن أنس بن مالك، قال : « الأنبياء في قبورهم أحياء يصلون

 اس کے ایک راوی کے لئے عقیلی کہتے ہیں

عبيد الله بن أبي حميد الهذلي أبو الخطاب عن أبي المليح قال يحيى هو كوفي ضعيف الحديث

عبيد الله بن أبي حميد الهذلي أبو الخطاب ، أبي المليح سے  يحيى کہتے ہیں كوفي ہے ضعيف الحديث ہے

بخاری اس کو منکر الحدیث کہتے ہیں

ابو نعیم اصبہانی کتاب ضعفاء میں کہتے ہیں

عبيد الله بن أبي حميد الهذلي يحدث عنه مكي بن إبراهيم يروي عن أبي المليح وعطاء بالمناكير لا شئ

عبيد الله بن أبي حميد الهذلي اس ہے  مكي بن إبراهيم روایت کرتا ہے جو  أبي المليح  اورعطاء سے منکر روایات نقل کرتا ہے کوئی چیز نہیں

بیہقی کی سند میں یہی ضعیف راوی ہیں. ایسے منکر الحدیث راویوں سے اس اہم عقیدہ کا اثبات شرم انگیز ہے

افسوس بیہقی نے امت پر بہت ستم ڈھایا ہے

اہل حدیث علماء کا سابقہ  موقف

اسمعیل سلفی کتاب مسئلہ حیات النبی میں لکھتے ہیں

anbiya-qabor-ismaelsalafi

فتاوی اہل حدیث ج ٥ میں ہے

sanaiyah-murda

افسوس آجکل کے اہل حدیث فرقہ کے علماء اس سے سارے انبیاء کی دنیا کی قبر میں زندگی ثابت کرتے ہیں اسمعیل سلفی تو اس کو اس قابل بھی نہیں سمجھتے کہ کسی عقیدہ کی بنیاد اس پر رکھی جائے

معلوم ہوا کہ آجکل کے فرقہ اہل حدیث اور دیوبندیوں کے عقائد ایک  ہو گئے ہیں

فتاوی اہل حدیث ج  ٥ ص ٤٢٧  کے مطابق تمام مومن کی روحیں جنت میں ہیں

موسی قبر میں فتویٰ اہل حدیث

یہ کیا انصاف ہے انبیاء کو تو  دنیا کی قبروں میں  رکھا جائے اور ان کے متبعین جنت میں لطف اٹھائیں

موسی علیہ السلام کا قبر میں نماز پڑھنا

طرفہ تماشہ ہے کہ بات یہاں ختم نہیں ہوتی انبیاء کو قبروں میں زندہ کرنے لےلئے ایک روایت یہ بھی پیش کی جاتی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں معراج کی رات نماز پڑھتے دیکھا. حالانکہ معراج کی رات الله کی نشانی ہے ایک معجزہ ہے جو ایک عام واقعہ نہیں. اصول یہ ہے کہ معجزہ دلیل نہیں بن سکتا تو اس کو پیش کرنا چہ معنی

بخاری کی حدیث ہے کہ جب ملک الموت موسی علیہ السلام کی روح قبض کرنے آیا تو انہوں نے اس کو تھپڑ مار دیا اگر ان کو پتا ہوتا کہ میں اسی دینا کی قبر میں نماز پڑھتا رہوں گا تو وہ ایسا نہ کرتے

بخاری کی حدیث میں ہے کہ موسی اور آدم علیھما السلام کا تقدیر کے بارے میں کلام ہوا متقدمین شآرحیں نے اس کو عالم البرزخ میں بتایا ہے اگر موسی قبر میں ہیں تو آدم کی ان سے کیسے ملاقات ہو گئی

اس روایت میں بیان ہو رہا ہے کہ انبیاء قبروں میں نماز پڑھتے ہیں اس کے برعکس صحیح بخاری میں نبی صلی الله علیہ وسلم کا حکم ہے کہ

  اجعلوا في بيوتكم من صلاتكم ولا تتخذوها قبورا

اپنے گھروں میں نماز پڑھو اور ان کو قبریں نہ بناؤ

اگر قبر میں نماز پڑھی جاتی ہے تو صحیح بخاری کی حدیث کا کیا مفہوم رہ جائے گا نبی صلی الله علیہ وسلم کے قول میں تضاد ممکن نہیں لہذا الذهبي کی بات درست ہے کہ روایت  انبیاءاپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں ایک منکر روایت ہے

الانبيأ احياء في قبورهم یصلون
سلسله احادیث الصحیحه ج۲ص۱۸۷شماره۶۲۱

جواب

البانی اس پر وہی فلسفہ بھگارتے ہیں جو چلا ا رہا ہے جس کی کوئی دلیل نہیں اور بندہ ایجاد ہے
الصحیحہ (2/ 190،178) میں اس پر کہتے ہیں
اعلم أن الحياة التي أثبتها هذا الحديث للأنبياء عليهم الصلاة والسلام، إنما هي حياة برزخية، ليست من حياة الدنيا في شيء،
جان لو اس روایت میں انبیاء کی جس زندگی کا اثبات کیا گیا ہے یہ برزخی زندگی ہے جس میں دنیا کی زندگی کی کوئی چیز نہیں

الصحیحہ میں امام الذھبی کی اس روایت پر جرح پیش کرنے کے بعد البانی کہتے ہیں
قلت: ويتلخص منه أن حجاجا هذا ثقة بلا خلاف وأن الذهبي توهم أنه غيره فلم يعرفه ولذلك استنكر حديثه، ،
میں کہتا ہوں خلاصہ ہے کہ یہ حجاج ثقہ ہے اس میں اختلاف نہیں اور بے شک الذھبی کو وہم ہوا کہ یہ کوئی اور ہے پس اس کو نہ پہچانا اور اس وجہ سے اس روایت کو منکر قرار دیا

————

راقم کہتا ہے اس روایت کی تمام اسناد میں ایک راوی حجاج بلا ولدیت کے آیا ہے جس کے باپ کا نام یہ لوگ بدلتے رہتے ہیں ابن حجر اس کا نام فتح الباری میں الگ لیتے ہیں الذھبی میزان میں الگ اور سبکی شفاء السقام میں الگ- اس طرح کی روایت جس میں راوی مبہم ہو اس پر عقیدہ بنانا اندھیرے میں تیر چلانا ہے
حیات فی القبر کی بہت سی روایات بصریوں کی ایجاد ہیں جن میں یہ والی بھی ہے مثلا موسی کا قبر میں نماز پڑھنا بھی صرف بصری بیان کرتے ہیں اور اصحاب رسول میں سے انبیاء کا قبروں میں نماز پڑھنا اور موسی علیہ السلام کا قبر میں نماز پڑھنا صرف انس رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں جو بصرہ میں کچھ عرصہ رہے ان سے بصریوں نے سنا اور ان سے بہت سے ضعیف روایات منسوب کی گئیں

جب عقیدہ پر روایت میں خاص شہر کا تفرد ا جائے تو وہ مشکوک ہے کیونکہ عقیدہ کی بات سب کو بیان کرنی چاہیے
قال أبو حنيفة اترك قولي بقول الصحابة الّا بقول ثلثة منهم أبو هريرة وانس بن مالك وسمرة بن جندب رضی الله عنهم
روضة العلماء ونزهة الفضلاء (المخطوطة) – علي بن يحيى بن محمد، أبو الحسن الزندويستي الحنفي (المتوفى: 382هـ)
امام ابو حنیفہ نے کہا میرا قول صحابہ کے قول کے مقابل ہو تو اس کو ترک کر دو سوائے تین اصحاب کے ایک ابو ہریرہ دوسرے انس بن مالک اور تیسرے سمرہ بن جندب

اس کی وجہ ابو حنیفہ بتاتے ہیں
فقيل له في ذلك، فقال:
أما انس: فقد بلغني أنه اختلط عقله في آخر عمره، فكان يستفی من علقمة، وأنا لا أقلد علقمة، فكيف اقلد من يستفی من علقمة.
واما أبو هريرة فكان يروي كل ما بلغه وسمعه من غير أن يتأمل في المعنی ومن غير أن يعرف الناسخ والمنسوخ.
واما سمرة بن جندب، فقد بلغني عنه أمر ساءني، والذي بلغه عنه أنه كان يتوسع في الاشربة المسكرة سوی الخمر فلم يقلدهم في فتواهم.
اما في ما رووا عن رسول الله صلی الله عليه وسلم، فياخذ برواتهم؛ لأن كل واحد منهم موثوق به في ما يروي.
https://archive.org/stream/hanafi_04_201507/01#page/n181/mode/2up
صفحه 183 – 186 جلد 01 شرح أدب القاضي للخصاف الحنفي (المتوفى: 261هـ) عمر بن عبد العزيز ابن مازة الحنفي المعروف بالصدر الشهيد (المتوفى: 536هـ)- وزارة الأوقاف العراقية – مطبعة الإرشاد، بغداد

ان سے اس پر پوچھا گیا تو ابو حنیفہ نے کہا : جہاں تک انس ہیں تو مجھ تک پہنچا ہے کہ آخری عمر میں وہ اختلاط کا شکار تھے پس علقمہ سے پوچھتے اور میں علقمہ کی تقلید نہیں کرتا تو پھر اس کی کیوں کروں جو علقمہ سے پوچھے اور جہاں تک ابو ہریرہ ہیں تو یہ ہر چیز بیان کر دیتے ہیں جو پہنچی اور سنی ہو اس کے معنی پر غور کیے بغیر اور نہ ناسخ و منسوخ کو سمجھتے ہوئے
——-
اور اسی طرح کا قول ہے
قال: أقلد جميع الصحابة إلا ثلاثة منهم أنس بن مالك، وأبو هريرة، وسمرة بن جندب رضى الله عنهم. أما أنس فقد بلغني أنه اختلط عقله في آخر عمره، وكان يستفتي من علقمة، وإنما لا أقلد علقمة فكيف أقلد من يستفتي علقمة، وأما أبو هريرة فإنه لم يكن من أئمة الفتوى، بل كان من الرواة فيما كان يروى لا يتأمل في المعنى، وكان لا يعرف الناسخ والمنسوخ، ولأجل ذلك حجر عليه عمر رضي الله عنه، عن الفتوى في آخر عمره، وأما سمرة بن جندب فقد بلغني عنه أمر يتأبى، والذي بلغ عنه، إنه كان يتوسع في الأشربة المسكرة سوى الخمر، وكان يتدلك في الحمام بالخمر، فلم نقلدهم في فتواهم لهذا، أما فيما روي عن النبي عليه السلام أنه كان يأخذ بروايتهم، لأن كل واحد موثوق به فيما يروي.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني فقه الإمام أبي حنيفة رضي الله عنه
المؤلف: أبو المعالي برهان الدين محمود بن أحمد بن عبد العزيز بن عمر بن مَازَةَ البخاري الحنفي (المتوفى: 616هـ)

ابو حنیفہ نے کہا .. اصحاب رسول کی تقلید ہو گی سوائے انس اور ابو ہریرہ اور سمرہ کے کہ … انس آخری عمر میں مختلط تھے اور علقمہ سے پوچھتے تھے

مزید
https://archive.org/stream/fqh12/113#page/n199/mode/2up

———————

یہ احناف کی فقہ کی کتابیں ہیں جب عمل میں ان اصحاب کی منفرد روایت نہیں لی جا رہی تو عقیدہ میں منفرد روایت قبول کیسے کر لی جائے
لہذا انس رضی الله عنہ سے منسوب روایت جو صرف بصری روایت کریں مشکوک ہے
یہ جملہ معترضہ ہے

روایت کو انس رضی الله عنہ سے ثابت بن أسلم البنانى ، أبو محمد البصرى المتوفی ١٠٠ ہجری نے روایت کیا ہے راقم کہتا ہے اس میں انس رضی الله عنہ سے منکر روایت کرنے میں ثابت البنانی البصری کی غلطی کے علاوہ ان راویوں کی غلطی بھی ہے جنہوں نے مجھول سے روایت کیا ہے
اس قسم کی روایات عراق میں پھیلنے کی وجہ زہد تھا ان پر خوارج کے حملہ ہوتے تھے اور وہ دنیا سے بے زار ہو کر روحانیت کی تلاش میں قبروں کی طرف متوجہ ہو رہے تھے دیگر شہروں میں اس قنوطیت کا اثر نہ تھا

اب سند دیکھیں مسند ابو یعلی میں ہے
حَدَّثَنَا أَبُو الْجَهْمِ الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ

اس میں الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ہے جو مجھول حجاج سے روایت کرتا ہے البزار (المتوفى: 292هـ) کہتے ہیں اس میں اس کا تفرد ہے
وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ، عَنْ ثابتٍ، عَن أَنَس إلاَّ الْحَجَّاجُ، ولاَ عَن الْحَجَّاجِ إلاَّ الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، ولاَ نعلمُ رَوَى الْحَجَّاجُ، عَنْ ثابتٍ، إلاَّ هذا الحديث.
الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ واسط کا ہے یہ جوگی بن چکا تھا

کتاب إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال
المؤلف: مغلطاي بن قليج بن عبد الله البكجري المصري الحكري الحنفي، أبو عبد الله، علاء الدين (المتوفى: 762هـ)
کے مطابق

وعن يزيد بن هارون ذكروا أنه لم يضع جنبه منذ أربعين عاما، فظننت أنه يعني بالليل، فقيل لي: ولا بالنهار. وعن أصبغ بن يزيد قال: قال لي مستلم: لي اليوم سبعون يوما لم أشرب ماء
یزید بن ہارون سے روایت ہے کہ مستلم نے چالیس سال تک پہلو نہیں لگایا پس گمان کیا کہ رات میں لیکن مجھ سے کہا گیا دن میں بھی اور اصبع سے روایت ہے کہ مجھ سے مستلم نے کہا ستر دن سے پانی نہیں پیا

—-
اب اپ فیصلہ کریں جو بدعتی شخص ستر دن پانی نہ پئے اس کی دماغی حالت ایسی ہو گی کہ اس کی بیان کردہ منفرد روایت پر عقیدہ رکھا جائے؟

جواب

عبد الله بن بحیر روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ہانی مولی عثمان رضی الله تعالی عنہ سے سنا کہ بیان کرتے ہیں کہ

كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ، فَيُقَالُ لَهُ قَدْ تَذْكُرُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ فَلَا تَبْكِي، وَتَبْكِي مِنْ هَذَا فَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ، فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ» وَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا إِلَّا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْهُ»

عثمان رضی الله تعالی عنہ جب قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ داڑھی تر ھوجاتی … اور کہتے کہ بے شک الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے …

یہ روایت مسند احمد، مستدرک الحاکم میں بیان ہوئی ہے اس کے ایک راوی عبد الله بن بحیر کے لئے الذھبی میزان میں لکھتے ہیں

وقال ابن حبان: يروى العجائب التي كأنها معمولة، لا يحتج به،     اور ابن حبان کہتے ہیں یہ عجائب روایت کرتا ہے اس سے احتجاج نہ کیا جائے

الذھبی تاریخ الاسلام میں کہتے ہیں  فِيهِ ضَعْفٌ،  ان میں کمزوری ہے

یہ بھی کہتے ہیں  وله غرائب  غریب روایات بیان کرتے ہیں

الذھبی اپنی دوسری کتاب ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين میں ان کو منکر الحدیث بھی

کہتے ہیں

سندا تو روایت ہے ہی کمزور اس کا متن بھی درایت کے مطابق درست نہیں

عائشہ رضی الله تعالی عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات سے پہلے  انہوں نے مسواک چبا کر نبی صلی الله علیہوسلم کو دی .آپ کہتی ہیں کہ اس کے بعد آپ کی وفات ہوئی اور الله نے آخرت کے دن میرا اور نبی صلی الله علیہ وسلم کا لعاب ایک جگہ جمع کر دیا

موطا کی روایت ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی

تُوُفِّيَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ، وَدُفِنَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ

وفات پیر کے دن ہوئی اور تدفین منگل کو ہوئی

معلوم ہوا کہ آخرت کا پہلا دن خروج نفس کا ہے نہ کہ تدفین کا

لہذا قبر آخرت کی پہلی منزل کیسے ہوئی؟

جواب

ارشد کمال کتاب المسند فی عذاب القبر صفحہ  ٥٦ سے ٥٨ پر محمد بن عمرو عن ابی سلمہ عن ابو ہریرہ کی سند سے آئی ہوئی ایک روایت پیش کرتے  ہیں

arshad-56

arshad-57

جوزجانی احوال الرجل میں کہتے ہیں

محمد بن عمرو بن علقمة ليس بقوي الحديث ويشتهى حديثه

محمد بن عمرو بن علقمة حدیث میں  قوی نہیں اور ان کی حدیث پسند کی جاتی ہے

ابن ابی  خیثمہ کتاب تاریخ الکبیر میں لکھتے ہیں کہ يَحْيَى بن معین کہتے ہیں

لم يزل الناس يتقون حديث مُحَمَّد بن عَمْرو [ق/142/ب] قيل له: وما علة ذلك؟ قَالَ: كان مُحَمَّد بن عَمْرو يحدث مرة عن أبي سلمة بالشيء رأيه، ثم يحدِّث به مرة أخرى عن أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

لوگ مسلسل مُحَمَّد بن عَمْرو کی روایت سے بچتے رہے  .. پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے کہا مُحَمَّد بن عَمْرو کبھی روایت ابی سلمہ سے بیان کرتے اور کبھی ابی سلمہ عن ابی ھریرہ سے

علي بن الْمَدِيْنِيّ کہتے ہیں

سألت يَحْيَى بن سعيد، عن مُحَمَّد بن عمرو، وكيف هو؟ قَالَ: تريد العفو أو تشدد؟ قلت: بل أشدد، قَالَ: ليس هو ممن تُريد

يَحْيَى بن سعيد سے مُحَمَّد بن عمرو کے بارے میں سوال ہوا  کہ کیسا ہے بولے نرمی والی بات ہے یا سختی والی بولے نہیں سختی والی یہ وہ نہیں جو تم کو چاہیے

 ذھبی اپنی کتاب تاریخ الاسلام میں لکھتے ہیں

قُلْتُ: صَدَقَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ لَيْسَ هو مثل يحيى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، وَحَدِيثُهُ صَالِحٌ.

ذھبی کہتے ہیں: يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ سچ کہتے ہیں اور یہ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الانصاری جیسا نہیں اس کی حدیث صالح ہے

ابن الجوزی کتاب الضعفاء والمتروكون میں لکھتے ہیں

وَقَالَ السَّعْدِيّ لَيْسَ بِقَوي

السَّعْدِيّ  کہتے ہیں لَيْسَ بِقَوي قوی نہیں

بخاری نے اصول میں کوئی بھی روایت محمد بن عمرو عن ابی سلمہ عن ابو ھریرہ کی سند سے بیان نہیں کیں بلکہ شاہد کے طور پر  صرف دو جگہ بَابُ جَهْرِ المَأْمُومِ بِالتَّأْمِينِ اور  بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا} [النساء: 125] میں صرف  سند دی ہے. امام مسلم نے بھی شاہد کے طور پر بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْسِينِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ میں ان کی سند پیش کی ہے نہ کہ مکمل روایت.  لہذا بخاری و مسلم کا اصول ہے کہ ان کی روایت شاہد کے طور پر غیر عقیدہ میں پیش کی جا سکتی ہے

اس کے باوجود کہ ائمہ حدیث نے اس راوی کے حوالے سے اتنی احتیاط برتی ہے لوگوں نے ان کی روایات کو عقیدے میں بھی لے لیا ہے جو کہ صریحا  ائمہ حدیث کے موقف کے خلاف ہے

ہیثمی اور البانی نے بھی روایت کو حسن قرار دیا ہے . کیا حسن روایت پر عقیدہ استوار کیا جا سکتا ہے؟

حضرت کعب بن مالکؓ کی روایت ھے ک رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (انما نسمۃ المومین من طائر یعلق فی شجر الجنۃ حتی یرجعہ اللہ فی جسدہ یوم یبعثہ)۔(رواہ مالک و نسائی بسند صحیح)

مومن کی روح ایک پرندے کی شکل میں جنت کے درختوں میں معلق رھے گی، یھاں تک کہ قیامت کے روز اپنے جسم میں پھر لوٹ آئے گی۔

عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَائٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَائَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَی تِلْکَ الْقَنَادِيلِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ اطِّلَاعَةً فَقَالَ هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا قَالُوا أَيَّ شَيْئٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا فَفَعَلَ ذَلِکَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَکُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا قَالُوا يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّی نُقْتَلَ فِي سَبِيلِکَ مَرَّةً أُخْرَی فَلَمَّا رَأَی أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِکُوا

حضرت مسروق سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت عبداللہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا جنہیں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے انہیں مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس سے رزق دیے جاتے ہیں تو انہوں نے کہا ہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی روحیں سر سبز پرندوں کے جوف میں ہوتی ہیں ان کے لئے ایسی قندیلیں ہیں جو عرض کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں اور وہ روحیں جنت میں پھرتی رہتی ہیں جہاں چاہیں پھر انہیں قندیلوں میں واپس آ جاتی ہیں ان کا رب ان کی طرف مطلع ہو کر فرماتا ہے کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے وہ عرض کرتے ہیں ہم کس چیز کی خواہش کریں حالانکہ ہم جہاں چاہتے ہیں جنت میں پھرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے اس طرح تین مرتبہ فرماتا ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ انہیں کوئی چیز مانگے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا تو وہ عرض کرتے ہیں اے رب ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری روحیں ہمارے جسموں میں لوٹا دیں یہاں تک کہ ہم تیرے راستہ میں دوسری مرتبہ قتل کئے جائیں جب اللہ دیکھتا ہے کہ انہیں اب کوئی ضرورت نہیں تو انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 388

جواب

ابن مسعود رضی الله عنہ سے مروی حدیث اور کعب رضی الله عنہ کا قول جو آپ نے پیش کیا وہ اس کی دلیل ہے کہ چاہے عام آدمی ہو یا خاص شخص ، اسکی روح واپس جسد میں نہیں اتی- ابن مسعودجلیل القدر اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم ہیں جن کے لئے ایک دوسری حدیث میں ہے کہ اگر کسی کو قرآن سیکھنا ہے تو ان سے سیکھیے -تمام صحابہ کا نام نہیں لیا گیا جبکہ تمام رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سیکھتے تھے مثلا ایک استاد کہتا ہے کہ فلاں مضمون میں میرا وہ شاگرد اچھا ہے
اسی طرح جب ہم دیکھتے ہیں کہ ان کا عقیدہ ہے کہ عود روح نہیں ہوتا تو پھر اس کو قبول کیا جانا چاہیے

قرآن میں عود روح کا ذکر نہیں ہے جو اس کے قائل ہیں وہ کتاب الله کے خلاف کہتے ہیں
جیسا آپ نے مانا ہے

عود روح کی حدیث جن لوگوں سے مروی ہے ان میں ہر سند میں شیعہ ہیں مثلازاذان ، المنھال بن عمرو عدی بن ثابت اور یونس بن خباب ان چار میں سے دو تو ضرور کسی ایک سند میں ہیں

الذھبی کہتے ہیں اس میں غرابت و نکارت ہے سیر الاعلام النبلاء
ابن حبان صحیح میں باقاعدہ اس کا ذکر کر کے کہتے ہیں کہ یہ روایت اس قابل نہیں کہ لکھی جائے
امام شعبہ اس کے راوی المنھال کو متروک سمجھتے تھے
ابن حزم اس کو ضعیف کہتے ہیں

لیکن ان علماء کے مخالف علماء اس کو صحیح قرار دے کر ایمان کا حصہ بناتے ہیں آپ خود اس کے متن کا قرآن سے تقابل کریں اور فیصلہ کریں یہ سب کس طرح صحیح ہے قرآن مخالف رجعت کے عقیدے کی روایت ہے جس کو شیعوں نے پھیلایا ہے
سب سے پہلی تصحیح اس کی امام الحاکم نے کی ہے جو ابن حزم کے ہم عصر ہیں یعنی ایک نیشاپور ایران میں اس کو صحیح کہتا تھا اور دوسرا اندلس میں اس کو پرلے درجے کی ضعیف روایت

ان علماء سے قبل ضعیف ہی کہا جاتا تھا مثلا چوتھی صدی کے ابن حبان- ان سے قبل اس کی تصحیح کسی سے پاس نہ ملی
آٹھویں صدی تک جا کر یہ عقیدے کی ایک اہم روایت بنی اور علماء نے اس کو تقریبا ہر عذاب قبر کی کتاب میں لکھا اور مردہ میں روح کو ڈالا کیونکہ ان کے نزدیک بے روح، بے جان، لا شعور تھا مثلا ساتویں صدی کے امام النووی تو کہتے تھے جو یہ مانے کہ بلا روح جسد پر عذاب ہوا وہ اہل سنت نہیں
دیکھئے شرح المسلم

وہ شخص جس نے بلا روح جسد کا عقیدہ پھیلایا وہ ایک بدعتی ابو عبدالله محمد بن کرام سجستانی نیشابوری تھا
اس کی کوکھ سے کرامیہ فرقہ نکلا اور آج عذاب قبر میں اہل حدیث اسی کے مقلد ہیں اس کی رائے میں بلا روح جسد کو عذاب ہوتا تھا اس سے قبل کسی کی یہ رائے نہیں
اب ان نام نہاد اہل حدیثوں کو روایت میں المیت کا لفظ مل گیا کہ میت کو عذاب ہوتا ہے یعنی وہی ابو عبدالله محمد بن کرام سجستانی نیشابوری کا عقیدہ انہوں نے پھیلایا اور اس کی تبلیغ شروع کی تقسیم ہند سے قبل ان کے علماء اس کے قائل نہ تھے دیکھئے فتاوی اہل حدیث

المیت جب بولا جاتا ہے تو اس سے مراد ایک ذات ہوتی ہے کیونکہ موت انے پر انسان تقسیم ہو چکا ایک جسد دوسری روح
روح ہم نہیں دیکھتے لہذا زبان و ادب میں اس کا حوالہ نہیں دیا جاتا بلکہ جسد جو ٹھوس ہوتا ہے اسی کو میت کہا جاتا
لیکن اس یہ مطلب نہیں کہ اگر اس کی روح کے لئے کچھ کہنا ہو تو خاص روح کا لفظ بولا جائے گا

ہم اردو میں کہتے ہیں جب کوئی مرتا ہے :

وہ ہم کو چھوڑ کر چلے گئے

جبکہ میت سامنے ہوتی ہے تو سننے والا جانتا ہے کہ اس وقت روح کی بات ہو رہی ہے نہ کہ جسد کی

حدیث میں اتا ہے العبد کو عذاب ہوتا ہے اس کو کہا جاتا ہے تو نے نہ جانا نہ سنا
تو اس سے بھی مراد روح ہی ہے

کیا یہ قول زبان کے لہذا سے درست نہیں ؟ زبان و ادب میں جو گنجائش ہے اس کو سمجھتے ہوئے حدیث کی تطبیق قرآن سے ہو جاتی ہے

عود روح کے قائلین  مبہم بحثین کر کے ثابت کرتے ہیں کہ میت یعنی مردہ جسم کو عذاب ہوتا ہے
جو قرآن سے ثابت نہیں

پھر مردہ جو سنتا نہیں وہ چیخیں مارتا ہے وہ جو چیخ مارتا ہے کیا وہ خود اس کو سنتا ہے ؟
کہتے ہیں (صحیح بخاری کی ایک معلول حدیث دیکھئے مشکل الاثآر از امام الطحآوی) چیخ چوپائے سنتے ہیں یعنی چوپائے ہر وقت اس عذاب کو سن رہے ہیں کھانس کھا رہے ہیں فضا سے محظوظ ہو رہے ہیں بچے جن رہے ہیں دودھ دے رہے ہیں گویا یہ عذاب اور درد ناک چیخیں ان کو کوئی ضرر اور نفسیاتی اثر نہیں کرتیں-
ہر لحظہ اس زمین سے جس میں اربوں کھربوں جہنمی دفن ہیں ان کی چیخیں بلند ہو رہی ہیں اور چوپایوں پر کوئی اثر نہیں؟
عذاب الہی ہے یا کیا ہے ؟

خود غور کریں کیا اصل ایمان ہے …. کیا دھرم ہے ؟

الله ہم کو اور ان کو ہدایت دے

جواب

مودودی صاحب سماع کے انکاری نہیں اس کے لئے رسائل و مسائل دیکھئے- ان کے نزدیک مردہ کی روح ہو سکتا ہے قبر میں نہ ہو اور اس کو پکارا جا رہا ہو – لیکن یہ کہنے کا مقصد یہ نہی ہے کہ مردہ نہیں سن سکتا
http://www.rasailomasail.net/5128.html

محمد بن عبدالوہاب کے نزدیک مردے سنتے ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ امام ابن تیمیہ کا ہے اور دونوں علماء سماع الموتی کے قائل ہیں
https://books.google.com.bn/books?id=RNJLCwAAQBAJ&pg=PT363&lpg=PT363&dq=سماع+الموتى+عبدالوهاب&source=bl&ots=clZK71oZ-h&sig=jVy1sXU60XEJvdZIIxdw0UnUHbU&hl=en&sa=X&ved=0ahUKEwidvq-Ws4_LAhUDsJQKHVfyDyUQ6AEIGjAA#v=onepage&q=%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%B9%20%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%88%D8%AA%D9%89%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%88%D9%87%D8%A7%D8%A8&f=false

صفحه ٣٦٤ پر النجدی کہتے ہیں کہ مردے کا سننا صورت حال پر مبنی ہے
مقید بحال دون حال لا فی جمیع حالاتہ

كتاب الآيات البينات في عدم سماع الأموات على مذهب الحنفية السادات أز الوسی كي مطابق
وَتبين أَيْضا مِنْهُ مُوَافقَة ابْن جرير الطَّبَرِيّ الْمُجْتَهد وَغَيره للحنفية فِي عدم السماع لِأَنَّهُ لما نفى الْحَيَاة فَمن الأولى أَن يَنْفِي السماع أَيْضا كَمَا لَا يخفى على كل ذِي فهم غير متصعب فَلَا تغفل

أور إس بحث سے واضح ہو جاتا ہے کہ ابن جریر الطبری اور احناف کا عدم سماع کا موقف سے مراد ہے کہ جب انہوں نے زندگی کی نفی کی تو سماع الموتی کی نفی بھی ہوئی جو مخفی نہیں کسی بھی ذی فہم اور تعصب سے عاری شخص پر

ابن جریر الطبری کس دور کے ہیں ؟ کیا یہ متاخرین میں سے ہیں – سارا مقدمہ یہیں فوت ہو جاتا ہے نعمان الوسی بھی مفسر قرآن ہیں یہ بھی سماع الموتی کے انکاری ہیں
ابن حزم بھی انکاری ہیں
حنابلہ میں القَاضِي أَبُو يعلى بھی انکاری ہیں
ابن الجوزی بھی انکاری ہیں
متعدد احناف متقدمین انکاری ہیں
سماع الموتی کی انکاری تو عائشہ رضی الله عنہا بھی ہیں امت کی سب سے بڑی فقیہ
جس کے قائل سماع الموتی کے قائل بھی ہیں
ابن تیمیہ فتوی ج ١ ص ٣٤٩ میں لکھتے ہیں

وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَغَيْرِهِمَا أَنَّ الْمَيِّتَ يَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ فَهَذَا مُوَافِقٌ لِهَذَا فَكَيْفَ يَدْفَعُ ذَلِكَ ؟ وَمِنْ الْعُلَمَاءِ مَنْ قَالَ : إنَّ الْمَيِّتَ فِي قَبْرِهِ لَا يَسْمَعُ مَا دَامَ مَيِّتًا كَمَا قَالَتْ عَائِشَةُ

اور بے شک صحیحین سے یہ ثابت ہے اور دیگر کتب سے بے شک میت جوتوں کی چاپ سنتی ہے جب دفنانے والے پلٹتے ہیں پس یہ موافق ہے اس (سننے ) سے لہذا اس کو کیسے رد کریں؟ اور ایسے علماء بھی ہیں جو کہتے ہیں : بے شک میت قبر میں نہیں سنتی جب تک کہ وہ مردہ ہے جیسے کہ عائشہ (رضی اللہ تعالی عنہا) نے کہا

ابن رجب الحنبلی کتاب میں لکھتے ہیں
قال الحافظ ابن رجب: وقد وافق عائشة على نفي سماع الموتى كلام الأحياء طائفة من العلماء
اور عائشہ رضی الله عنہآ سے انکار سماع میں موافقت بہت سے علماء نے کی ہے

عربی کی شد بد، عائشہ رضی الله عنہآ سے زیادہ کس کو ہو سکتی ہے؟ لہذا یہ بحث بھی بے وزن ہے

بلفرض یہ مان لیا جائے کہ مردے سنتے ہیں، تو اب اس کا فائدہ کیا ہے؟ لوگ اگر جا کر قبر پر مردوں کو بول بھی دیں تو آگے اس کا فائدہ
اس کی دلیل کہاں ہے کہ یہ مردے الله سے بھی کلام کرتے رہتے ہیں؟ لہذا یہ بحث اس طرح ختم نہیں ہوتی اس کے لئے ایک مصنوعی نظم کا عقیدہ اپنانا ہوتا ہے جس پر ١٠ سے ١٥ ضعیف روایات پر عقیدہ بنایا ہوتا ہے کہ

مردہ میں عود روح ہوا ،
مردہ نے سنا
مردہ کی روح واپس آسمان میں گئی
وہاں رب سے ہم کلام ہوئی
واپس آ کر جسد میں بھی گئی تاکہ یہ سلسلہ چلے
جبکہ یہ تمام روایات ضعیف ہیں

جواب

بعض جھل مرکب علماء نے یہ قول اختیار کیا ہے جو اصل میں ہمارے اعتراض کا جواب نہ بن پڑنے پر انہوں نے زمانہ حال میں اختیار کیا ہے کہ عود روح کے بعد بھی مردہ مردہ ہے زندہ نہیں اس میں ابو جابر دامانوی وغیرہم ہیں

لیکن حقیقت میں اہل حدیث غیر مقلد ہیں اور دین میں ان کا ارتقاء جاری ہے نہ صرف عمل میں بلکہ عقائد میں بھی

البانی کتاب آیات البینات از نعمآن الوسی پر تقریظ میں لکھتے ہیں

albani-qra-naal

مولوی نزیر حسین لکھتے ہیں

nazeer-murda-murda-nahi

سن ٢٠٠٠ کے لگ بھگ کافی سوچ بچار کر کے اہل حدیث علماء نے ایک نیا عقیدہ اختیار کیا اور اس کی تبلیغ شروع کی

اس میں ان کے سر خیل ابو جابر دامانوی ہیں انہوں نے بتایا کہ عود روح ہونے پر مردہ کو مردہ ہی کہو

گویا اپنے سلف سے کٹ کر انہوں نے ایک نیا موقف گھڑا اور آج کل اس کو ایسے پیش کرتے ہیں جیسے وہ متقدمین سے چلا آ رہا ہو

جواب

صحیح مسلم کی روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے موسی علیہ السلام کو معراج کی رات ایک سرخ ٹیلے کے پاس قبر میں دیکھا اور اس میں ہے وہ نماز پڑھ رہے تھے

جواب

صحیح بخاری میں  أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بتایا کہ موسی علیہ السلام کی قبر ارض مقدس کے رخ پر سرخ ٹیلے کے پاس ہے

صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے  رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے موسی علیہ السلام کو معراج کی رات ایک الكثيبِ الأَحمر  سرخ ٹیلے کے پاس قبر میں دیکھا اور اس میں ہے وہ نماز پڑھ رہے تھے

یہ روایت حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ البصری ، وَسُلَيْمَانَ سليمان بن طرخان التَّيْمِيِّ البصری ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ کی  سند سے آئی ہے- یعنی سليمان بن طرخان التيمى البصری اور ثابت البنانی البصری دونوں سے یہ منقول ہے

کتاب  المعجم الأوسط  از الطبراني  میں اس کی  ایک سند ابو سعید الخدری سے بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، نا صِلَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مَرَرْتُ بِمُوسَى وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ»

لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَوْفٍ إِلَّا صِلَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، تَفَرَّدَ بِهِ: مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ

صِلَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ نے بیان کیا کہ عَوْفٌ الأَعْرَابِيُّ البصری نے عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ کی سند سے بیان کیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے موسی علیہ السلام کو معراج کی رات ایک الكثيبِ الأَحمر  سرخ ٹیلے کے پاس قبر میں دیکھا اور اس میں ہے وہ نماز پڑھ رہے تھے

امام بخاری تاریخ الکبیر میں لکھتے ہیں

صِلَة بْن سُليمان.  لَيْسَ بذلك القوي.

قَالَ أَبو الأَسود: حدَّثنا صِلَة بْن سُليمان، أَبو زَيد الواسِطِيّ، سَمِعَ عَوفًا، مُرسلٌ.

صِلَة بْن سُليمان قوی نہیں ابو الاسود نے کہا عوف سے سنا (پر) مرسل ہے

اس سلسلے کی صحیح سمجھے جانے والی روایت سليمان بن طرخان التيمى المتوفی ١٤٣ ھ اور  ثابت بن أسلم البنانى المتوفي ١٢٣ ھ یا ١٢٧ھ  کی سند سے ہے یہ دونوں بصرہ کے ہیں اور ایک طرح اس میں بصریوں  کا تفرد بنتا ہے کیونکہ اس کی کوئی اور صحیح سند نہیں ہے بلکہ ضعیف والی بھی  ایک بصری عوف الأَعْرَابِيُّ  سے ہے  یعنی یہ موسی علیہ السلام کا قبر میں نماز پڑھنا صرف بصریوں نے روایت کیا ہے انس رضی الله عنہ کے دیگر شاگرد اور اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم اس کو بیان نہیں کرتے- کسی ایک ہی علاقہ میں روایت کا پروان چڑھنا عجیب بات ہے جبکہ یہ عقیدہ کی بات ہے

بحر الحال چونکہ یہ روایت ایک خاص معجزاتی رات کے حوالے سے ہے– امام مسلم نے اس کو فضائل موسی علیہ السلام میں سے سمجھا ہے اور فضائل کسی ذات پر مخصوص ہوتے ہیں اگر تمام پر مانا جائے تو خصوصیت ختم ہو جائے گی لہذا قرین قیاس ہے کہ امام مسلم اس کو صرف موسی علیہ السلام کا ایک خاص واقعہ کہنا چاہتے ہیں ورنہ اس کو فضائل انبیاء میں سب کے باب میں لکھا جانا چاہیے تھا- اب جب یہ خاص ہے تو دلیل نہ رہا کیونکہ یہ کوئی عموم نہیں

ابن حبان اس کے قائل تھے کہ یہ خاص ہے لیکن ان کے نزدیک موسی علیہ السلام کو زندہ کیا گیا  چناچہ ابن حبان صحیح میں تبصرہ میں  کہتے ہیں

قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا قَادِرٌ عَلَى مَا يَشَاءُ، رُبَّمَا يَعِدُ الشَّيْءَ لِوَقْتٍ مَعْلُومٍ، ثُمَّ يَقْضِي كَوْنَ بَعْضِ ذَلِكَ الشَّيْءِ قَبْلَ مَجِيءِ ذَلِكَ الْوَقْتِ، كَوَعْدِهِ إِحْيَاءَ الْمَوْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجَعْلِهِ مَحْدُودًا، ثُمَّ قَضَى كَوْنَ مِثْلِهِ فِي بَعْضِ الْأَحْوَالِ، مِثْلَ مَنْ ذَكَرَهُ اللَّهُ وَجَعَلَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا فِي كِتَابِهِ، حَيْثُ يَقُولُ: {أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَكَإِحْيَاءِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا لِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ بَعْضَ الْأَمْوَاتِ، فَلَمَّا صَحَّ وجودُ كَوْنِ هَذِهِ الْحَالَةِ فِي الْبَشَرِ، إِذَا أَرَادَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَمْ يُنْكَرْ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا أَحْيَا مُوسَى فِي قَبْرِهِ حَتَّى مَرَّ عَلَيْهِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ، وَذَاكَ أَنَّ قَبْرَ مُوسَى بِمُدَّيْنِ بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَبَيْنَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَرَآهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو فِي قَبْرِهِ إِذِ الصَّلَاةُ دُعَاءٌ، فَلَمَّا دَخَلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ وَأُسْرِيَ بِهِ، أُسْرِيَ بِمُوسَى حَتَّى رَآهُ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ

ابو حاتم ابن حبان کہتے ہیں الله جل و علا جو چاہے کرنے پر قادر ہے ، کبھی وہ چیز کو گنتا ہے ایک مقررہ وقت کے لئے اور حکم کرتا ہے کسی چیز پر قبل از وقت جسے مردوں کو زندہ کرنے کا وعدہ قیامت کے دن اور اس کو محدود کرتا ہے پھر اسی طرح کا حکم کرتا ہے جیسا اس نے کتاب میں ذکر کیا ہے {أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ} اور اسی طرح الله کا عیسیٰ کے لئے مردوں کو زندہ کرنا پس جب بشر کی اس حالت کی خبر صحیح ہے اور الله نے اس کا ارادہ قیامت سے پہلے کیا تو اس کا انکار نہیں کریں گے کہ الله نے موسی کو قبر میں زندہ کیا معراج کی رات پر جب رسول الله ان پر گزرے اور یہ موسی کی قبر مدینہ اور بیت المقدس کے درمیان ہے پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انہوں قبر میں دعائیں کرتے دیکھا پس جب بیت المقدس میں داخل ہوئے تو معراج ہوئی تو موسی کو بھی ہوئی اور ان کو چھٹے آسمان پر دیکھا

لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا  سوال پیدا ہوا کہ موسی علیہ السلام کس طرح قبر میں، بیت المقدس میں اور چھٹے آسمان پر تھے – بہت سے لوگوں نے مثلا السبکی اور  ابن تیمیہ نے اس سے یہ نکالا کہ روح سریع الحرکت ہوتی ہے لہذا موسی علیہ السلام،  براق کے بغیر یکایک ایک مقام سے دوسرے مقام تک چلے گئے-

امام بخاری اس کے برعکس اس موسی علیہ السلام کا قبر میں نماز پڑھنے والی روایت کو صحیح میں نہیں لکھتے اور روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا گھر کو قبریں نہ بناو ان میں نماز پڑھو یعنی قبر میں نماز نہیں ہے –

یہ روایت  حماد بن سلمہ کے علاوہ دیگر رآویوں سے اس طرح بھی آئی ہے

مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى وَهُوَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ

میں موسی پر گزرا اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے

 قبر میں یعنی برزخ میں  ان کو ان کے مقام میں دیکھا

یہ رائے  ابن حزم کی ہے ابن حزم الملل و النحل میں  لکھتے ہیں

رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے شب معراج میں موسی علیہ السلام کو انکی قبر میں کھڑے نماز پڑھتے دیکھا آپ نے یہ بھی خبر دی کہ آپ نے انھیں چھٹے یا ساتویں آسمان میں دیکھا کوئی شک نہیں کہ آپ نے محض انکی روح دیکھی ان کا جسم بلا شبہ خاک میں پوشیدہ ہے لہذا اس بنا پر روح کا مقام قبر کہلاتا ہے وہیں اس پر عذاب ہوتا ہے اور وہیں  اس سے سوال ہوتا ہے جہاں وہ ہوتی ہے

موسی علیہ السلام صاحب شریعت و کتاب نبی تھے آج کی رات نماز کے بارے میں ان سے گفتگو بھی ہونی ہے لہذا ان کی نماز کا طریقہ دکھایا گیا جو برزخ میں دیکھا گیا

  الفاظ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ یا سرخ ٹیلہ صرف حماد بن سلمہ بن دينار کی سند سے آئے ہیں اور یہ الفاظ اشارہ کرتے ہیں کہ قبر زمین میں تھی اب یہ بات ہے تو ممکن ہے یہ حماد بن سلمہ البصری کی غلطی ہو کیونکہ آخری عمر میں حماد بن سلمہ  اختلاط کا شکار تھے- امام بخاری کو ان سے خطرہ تھا لہذا ان سے کوئی روایت نہیں لی –  ابن سعد کہتے ہیں ثقة كثير الحديث وربما حدث بالحديث المنكر، حماد ثقہ ہیں لیکن کبھی منکر روایت بھی بیان کرتے ہیں

الغرض روایت ایک خاص واقعہ کے بارے میں ہے- لہذا دلیل نہیں

دوم اس میں سرخ ٹیلے کے الفاظ میں حماد بن سلمہ البصری کا تفرد ہے جو اختلاط کا شکار تھے

سوم حماد بن سلمہ کی کوئی بھی روایت امام بخاری نے نہیں لکھی

طبقات ابن سعد کے مطابق اس روایت کے راوی ثابت البنانی دعا کرتے تھے

أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ: إِنْ كُنْتَ أَعْطَيْتَ أَحَدًا الصَّلاةَ فِي قَبْرِهِ فَأَعْطِنِي الصَّلاةَ فِي قَبْرِي

کہ اے الله اگر تو نے کسی کو قبر میں نماز کی اجازت دی تو مجھے بھی یہ دے

اگر موسی علیہ السلام قبر میں نماز پڑھتے ہوتے تو ثابت کہتے جس طرح موسی کو دی اسی طرح مجھے بھی دے لیکن وہ کہتے ہیں اگر کسی کو یہ چیز ملی

جواب

یہ ایک معلول روایت میں بیان ہوا ہے

کتاب المسند فی عذاب القبر ص ١٨٩ پر ارشد کمال روایت پیش کرتے ہیں کہ

arshad-189

بیہقی کی اثبات عذاب القبر کی روایت ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، نَا مُحَمَّدٌ، نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «إِنَّ الْكَافِرَ يُسَلَّطُ عَلَيْهِ فِي قَبْرِهِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ، فَيَأْكُلُ لَحْمَهُ مِنْ رَأْسِهِ إِلَى رِجْلِهِ ثُمَّ يُكْسَى اللَّحْمُ فَيَأْكُلُ مِنْ رِجْلِهِ إِلَى رَأْسِهِ، فَهَذَا مَكْرٌ لَكَ

سیدہ عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں یقیناً کافر پر قبر میں ایک خطرناک اژدھا مسلط کر دیا جاتا ہے جو سر سے پاؤں تک اس کا گوشت کھاتا رہتا ہے – پھر اس پر دوبارہ گوشت چڑھا دیا جاتا ہے جسے وہ دوبارہ پاؤں سے سر تک کھاتا چلا جاتا ہے اور یہ سلسلہ اسی طرح (قیامت تک) جاری رہے گا

یہ روایت  مصنف ابن ابی شیبہ اور عبدللہ بن احمد کی کتاب السنہ میں بھی  روایت کی گئی ہے

اس کی سند میں  جَرِيْرُ بنُ حَازِمِ بنِ زَيْدِ بنِ عَبْدِ اللهِ بنِ شُجَاعٍ الأَزْدِيُّ ہیں جو ثقہ ہیں لیکن اختلاط کا شکار ہو گئے تھے

یہ  عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ سے سنی ہوئی جَرِيْرُ بنُ حَازِمِ کی واحد روایت ہے

کتاب الاغتباط بمن رمي من الرواة بالاختلاط کے مطابق

 فحجبه أولاده فلم يسمع منه أحد في حال اختلاطه وقال أبو حاتم تغير قبل موته بسنة.

جب اختلاط ہوا تو انکی اولاد نے چھپا دیا پس کسی نے ان سے نہیں سنا اور ابو حاتم کہتے ہیں موت سے ایک سال پہلے تغیر ہو گیا

اس کے باوجود کتاب ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق   کے مطابق

ابن معین کہتے ہیں ابن معين وهو في قتادة ضعيف ، قتادہ سے روایت کرنے میں ضعیف ہیں

سوالات المروذي  کے مطابق

وقال المروذي: سألته (يعني أبا عبد الله) عن جرير بن حازم. فقال: في بعض حديثه شيء وليس به بأس

میں نے امام احمد سے جرير بن حازم کے بارے میں پوچھا ، کہا اس کی احادیث میں کوئی چیز ہے اور ان میں بذات خود برائی نہیں

تهذيب التهذيب از ابن حجر کے مطابق

مهنى بن يحيى، عن أحمد: جرير، كثير الغلط

مهنى بن يحيى، احمد سے نقل کرتے ہیں کہ جریر کافی غلطیاں کرتے تھے

کتاب ميزان الاعتدال في نقد الرجال  کے مطابق  بخاری کہتے ہیں

وقال البخاري: ربما يهم في الشئ.

ان کو کبھی کبھی وہم ہو جاتا

وقال الأثرم: قال أحمد: جرير بن حازم، حدث بالوهم بمصر ولم يكن يحفظ

الأثرم کہتے ہیں احمد کہتے ہیں کہ جریر کو مصر میں روایات میں وہم ہوا ہے  اور یہ یاد نہ رکھ سکے

الغرض جریر ثقه ہیں اور ان کی روایات جو بخاری و مسلم میں ہیں صحیح ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دیگر کتب کی روایات بھی صحیح سمجھی جائیں

جریر کا عبدللہ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ سے سماع بھی مشکوک ہے کیونکہ

ابو داوود کی سند ہے

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ،

الجامع أبو محمد عبد الله بن وهب بن مسلم المصري القرشي (المتوفى: 197هـ) کی سند ہے

جرير بن حازم والحارث ابن نبهان، عن أيوب السختياني، عن ابن أبي مليكة، عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم؛

سنن دارقطنی کی سند ہے

نا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ

جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ اور عبدللہ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ کے درمیان أيوب ابن أبي تميمة السختياتي ہیں جو اس زیر بحث اژدھا والی روایت میں مفقود ہے

اغلبا جریر نے اختلاط کی حالت میں اس کو بیان کیا ہو گا کیونکہ انہوں نے عبدللہ بن ملیکہ سے براہ راست نہیں سنا لیکن یہ واحد رویت ہے جو وہ عبدللہ ابن ملیکہ سے نقل کر رہے ہیں

اس کی مثال بھی ہے کتاب العلل ومعرفة الرجال میں  احمد کے بیٹے کہتے ہیں

حَدثنِي أبي قَالَ سَمِعت عَفَّان يَقُول اجْتمع جرير بن حَازِم وَحَمَّاد بن زيد فَجعل جرير بن حَازِم يَقُول سَمِعت مُحَمَّدًا سَمِعت شريحا فَجعل حَمَّاد يَقُول يَا أَبَا النَّضر عَن مُحَمَّد عَن شُرَيْح عَن مُحَمَّد عَن شُرَيْح

 میرے باپ نے بیان کیا کہ میں نے عفان کو سنا کہ جریر بن حازم اور حَمَّاد بن زيد جمع ہوئے تو  جرير بن حَازِم نے کہا سَمِعت مُحَمَّدًا سَمِعت شريحا  اس پر  حَمَّاد بن زيد نے کہا  اے أَبَا النَّضر عَن مُحَمَّد عَن شُرَيْح عَن مُحَمَّد عَن شُرَيْح 

یعنی جریر نے  تحدث کے الفاظ کا لحاظ نہ رکھا  انہوں نے سمعت بول دیا جس کی تصحیح حماد بن زید نےکی

اس روایت میں بھی جریر نے کہا ہے جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ

جو اوپر دے گئے حوالوں سے واضح ہے کہ غلطی ہے کیونکہ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے نہیں سنا

بخاری و مسلم کے راوی خطاء سے پاک ہیں

غیر مقلدین کا ایک خود ساختہ اصول ہے کہ ثقه غلطی نہیں کرتا جس کی بنا پر علم حدیث میں انہوں نے ضعیف روایات تک کو حسن و  صحیح قرار دے دیا ہے

یہ لوگ اپنی سادگی میں پوچھتے ہیں کہ

آپ کے بقول بخاری کے راوی ضعیف وغیرہ بھی ہوتے ہیں تو آپ پھر بھی اس کی روایات نقل کیوں کرتے ہیں ؟

اس کا جواب ابن حجر النکت میں دیتے ہیں

قلت : ولا يلزم في كون رجال الإسناد من رجال الصحيح أن يكون الحديث الوارد به صحيحاً ، لاحتمال أن يكون فيه شذوذ أو علة

میں کہتا ہوں اور کسی روایت کی اسناد میں اگر صحیح کا راوی ہو تو اس سے وہ حدیث صحیح نہیں ہو جاتی کیونکہ اس کا احتمال ہے کہ اس میں شذوذ یا علت ہو

حسين بن ذكوان العوذي البصري  کے لئے الذھبی ، سيرالاعلام میں لکھتے ہیں

 وقد ذكره العقيلي في كتاب الضعفاء له بلا مستند وقال : مضطرب الحديث … قلت ( الذهبي ) : فكان ماذا؟ فليس من شرط الثقة أن لا يغلط أبدا

 عقیلی نے انکو الضعفاء میں بلاوجہ ذکر کیا ہے اور کہا ہے : مضطرب الحديث میں (الذھبی) کہتا ہوں یہ کیا ہے؟ ثقہ ہونے کی یہ شرط کہاں ہے کہ وہ کبھی غلط نہیں ھو سکتا

الذھبی کتاب الموقظة في علم مصطلح الحديث میں لکھتے ہیں

وليس مِن حَدِّ الثقةِ أنَّهُ لا يَغلَطُ ولا يُخطِئ

اور ثقه کی حد میں یہ نہیں کہ غلطی نہ کرے اور خطاء نہ کرے

الذھبی میزان میں لکھتے ہیں

ليس من شرط الثقة أن يكون معصوما من الخطايا والخطأ “الميزان 2/ 231

یہ روایت شاذ ہے

امام بخاری  کی صحیح کی اس روایت سے اسمیں شذوز کا اندازہ ہو جاتا ہے

صحیح  بخاری ، کتاب التفسیر ، باب : سورۃ عم یتسالون(نبأ) کی تفسیر کا بیان

بَاب : يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا زُمَرًا

 باب : اس دن جب صور پھونکا جائے گا تو تم فوج در فوج چلے آؤ گے

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ قَالَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا قَالَ أَبَيْتُ قَالَ أَرْبَعُونَ شَهْرًا قَالَ أَبَيْتُ قَالَ أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالَ أَبَيْتُ قَالَ ثُمَّ يُنْزِلُ اللہُ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَيَنْبُتُونَ کَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ لَيْسَ مِنْ الْإِنْسَانِ شَيْئٌ إِلَّا يَبْلَی إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْهُ يُرَکَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

 ترجمہ : ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو صور پھونکے جانے کے درمیان (کی مدت) چالیس ہے ، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ساتھیوں نے پوچھا کیا اس سے چالیس دن مراد ہیں؟ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انکار کیا ، لوگوں نے پوچھا کیا چالیس مہینے مراد ہے؟ انہوں نے انکار کیا ، پھر پوچھا کیا چالیس سال؟ انہوں نے انکار کیا ، پھر کہا کہ اللہ آسمان سے بارش برسائے گا تو اس سے مردے جی اٹھیں گے جس طرح سبزہ (بارش) سے اگتا ہے ، انسانی جسم کے تمام حصے سڑجاتے ہیں مگر عجب الذنب کی ہڈی (باقی رہتی ہے) اور اسی سے قیامت کے دن اس (انسان) کی ترکیب ہوگی

 الله تعالی  سوره ق میں کہتا ہے  کہ

قد علمنا ما تنقص الأرض منهم وعندنا كتاب حفيظ

بے شک ہم جانتے ہیں جو زمین ان  (کے جسموں) میں سے کھاتی ہے اور ہمارے پاس کتاب حفیظ ہے

اب بتائیں کیا کریں اس واضح نصوص کو جھٹلا دیں کہ کسی راوی کی چند روایات امام بخاری اور امام مسلم نے لکھ لی ہیں جب کہ انہوں نے یہ کہیں بھی نہیں کہا کہ یہ راوی معصوم عن الخطاء ہیں اوران بیان کردہ ہر

 روایت صحیح ہے

ایک طرف تو صحیح بخاری کی ابو ھریرہ رضی الله تعالی عنہ سے مروی اوپر والی روایت ہے دوسری طرف ان سے منسوب یہ روایت بھی پیش کی جاتی ہے

 ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

وإن کان من أھل الشک قال: لا أدري سمعت الناس یقولون شیئا فقلتہ فیقال لہ: علی الشک حییتَ وعلیہ متَّ وعلیہ تُبعث۔ ثم یفتح لہ باب إلی النار وتسلط علیہ عقارب وتنانین لو نفخ أحدھم علی الدنیا ما أنبتت شیئا تنھشہ وتؤمر الأرض فتنضم علیہ حتی تختلف أضلاعہ

اور مردہ  شک کرنے والوں میں سے ہو تو وہ (فرشتوں کے سوالوں کے جواب میں ) کہتا ہے: میں نہیں جانتا۔ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تھا اور میں نے بھی وہی بات کہی۔ اسے کہا جاتا ہے کہ شک پرتوزندہ رہا، شک پر ہی تیری موت ہوئی اور شک پر ہی تو دوبارہ اُٹھایا جائے گا۔پھر اس کی قبر کے لئے جہنم کی طرف سے ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور اس پر اس قدر زہریلے بچھو اور اژدہا مسلط کردیے جاتے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک زمین پرپھونک مار دے تو کوئی چیز پیدا نہ ہو۔ چنانچہ وہ بچھو اور اژدہے اسے کاٹتے رہتے ہیں ۔ زمین کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس پر تنگ ہوجا، چنانچہ (زمین اس پراس قدر تنگ ہوجاتی ہے کہ) اسکی ایک طرف کی پسلیاں دوسری پسلیوں میں دھنس جاتی ہیں

المعجم الأوسط از طبرانی  کی اس روایت  کی سند میں  ابْنُ لَهِيعَةَ  ہے جو سخت ضعیف راوی ہے اور دوسرے اس میں موسى بن جبير الأنصارى ، المدنى ، الحذاء ہے جس کو ابن حجر مستور کہتے ہیں . ایسی مبہم روایت کہ اژدہا پھونک مار دے اور کچھ  نہ اگے نہ پنپ سکے  اس دنیا کا معاملہ تو نہیں ہو سکتا  یہاں  اس دنیا میں مغرب میں سینکڑوں قبرستان باغ  و چمن معلوم ہوتے ہیں . آپ کا عقیدہ اگر ایسی روایت پر ہے تو اس سے تو یہود و نصاری کا عذاب سے محفوظ ہونا ثابت ہوتا ہے

ابو جابر دامانوی کتاب عذاب قبر میں لکھتے ہیں

ان صحیح احادیث سے ثابت ہوا کہ جناب سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ (جو بہت ہی بلند پایہ صحابی ہیں)پر دفن کے وقت قبر تنگ ہو گئی تھی مگر پھر ہمیشہ کے لئے کشادہ کر دی گئی اور ان پر قبر کی تنگی کی وجہ یہ تھی کہ پیشاب کی چھینٹوں سے احتیاط کے سلسلہ میں ان سے کوتاہی سرزدہو جایا کرتی تھی۔امام البہیقی رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ امیہ بن عبد اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے گھرانے کے بعض افراد سے دریافت کیا کہ اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد موجود ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے اس سلسلہ میں دریافت کیا توا نہوں نے ارشاد فرمایا کہ وہ پیشاب سے پاکیزگی کے سلسلہ میں کچھ کمی کیا کرتے تھے ۔ابن سعد رحمتہ اللہ علیہ طبقات الکبریٰ میں بسند (اخبر شبابۃ بن سواداخبرنی ابو معتر عن سعید المقبری) روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دفن کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی قبر کی تنگی اور دبانے سے بچتا تو سعد رضی اللہ عنہ ضرور بچ جاتے۔حالانکہ انہیں پیشاب کے اثر کی وجہ سے (یعنی جو بے احتیاطی سے پیشاب کرنے میں چھینٹیں پڑ جاتی ہیں ان کی وجہ سے) اس طرح دبایا کہ ان کی ادھر کی پسلیاں ادھر ہو گئیں۔(مرعاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ج۱ص۲۳۲۔اس واقعہ کی پوری تفصیل طبقات ابن سعد‘ مرعاۃ المفاتیح ‘کتاب الروح اور سنن البہیقی وغیرہ میں موجود ہے۔

روایات کے مطابق سعد رضی الله عنہ کو قبر کے دبوچنے کا واقعہ عین تدفین کے قورا بعد پیش آیا

مسند احمد کی جابر بن عبد الله رضی الله عنہ کی روایت ہے

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ الله الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ حِينَ تُوُفِّيَ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَسُوِّيَ عَلَيْهِ، سَبَّحَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَبَّحْنَا طَوِيلًا، ثُمَّ كَبَّرَ فَكَبَّرْنَا، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ الله، لِمَ سَبَّحْتَ؟ ثُمَّ كَبَّرْتَ؟ قَالَ: «لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هَذَا الْعَبْدِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ حَتَّى فَرَّجَهُ الله عَنْهُ

جابر کہتے ہیں ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نکلے جس دن سعد کی وفات ہوئی پس جب نبی نے ان کی نماز جنازہ پڑھ لی ان کو قبر میں رکھا اور اس کو ہموار کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے الله کی پاکی بیان کی بہت دیر تک پھر تکبیر کہی پس پوچھا گیا اے رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپ نے تسبیح کیوں کی تھی کہا کہا بے شک تنگی ہوئی اس صالح بندے پر اس کی قبر میں پھر  الله نے اس کو فراخ کیا

معجم طبرانی کی ابن عباس رضی الله عنہ کی روایت ہے کہ سعد رضی الله عنہ پر یہ عذاب تدفین پر ہوا

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُما، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ دُفِنَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى قَبْرِهِ قَالَ: «لَوْ نَجَا أَحَدٌ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ لَنَجَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، وَلَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً ثُمَّ رُخِّيَ عَنْهُ

سعد رضی الله عنہ پر عذاب کی یہ خبر سنن النسائی میں بھی ہے جس کو البانی صحیح کہتے ہیں اور الصحیحہ میں اس کے طرق نقل کر کے اس عذاب کی خبر کو صحیح کہتے ہیں

سعد بن معاذ رضی الله عنہ کی شہادت غزوہ خندق ٥ ہجری میں ہوئی. اس وقت تک مومن پر  عذاب القبر کا بتایا نہیں گیا. مومن پر عذاب قبر کی خبر سن ١٠ ہجری میں دی گئی جیسا کہ بخاری کتاب الکسوف میں بیان ہوا ہے لہذا یہ روایت صحیح نہیں بلکہ ضعیف ہے

سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے لئے نبی صلی الله علیہ وسلم نے بتایا کہ وہ اہل جنت میں ہیں.  شہید تو الله کی بارگاہ میں سب سے مقرب ہوتے ہیں ان کے گناہ تو خوں کا پہلا قطرہ گرنے پر ہی معاف ہو جاتے ہیں

نبی صلی الله علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ ایک  رومال نبی صلی الله علیہ وسلم کو تحفتا پیش کیا گیا . صحابہ کو حیرانگی ہوئی کہ کتنا اچھا رومال ہے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

والذي نفسي بيده لمناديل سعد بن معاذ في الجنة خير منها

اور وہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے سعد بن معاذ کا رومال جنت میں اس سے بہتر ہے

معلوم ہوا سعد بن معاذ رضی الله عنہ تو جنت میں ہیں اور ان پر نعوذ باللہ عذاب قبر کیوں ہو گا

ابن حجر کتاب فتح الباری ج ١ ص ٣٢٠ میں لکھتے ہیں

وَمَا حَكَاهُ الْقُرْطُبِيُّ فِي التَّذْكِرَةِ وَضَعَّفَهُ عَنْ بَعْضِهِمْ أَنَّ أَحَدَهُمَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَهُوَ قَوْلٌ بَاطِلٌ لَا يَنْبَغِي ذِكْرُهُ إِلَّا مَقْرُونًا بِبَيَانِهِ وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى بُطْلَانِ الْحِكَايَةِ الْمَذْكُورَةِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَضَرَ دَفْنَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ كَمَا ثَبَتَ فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ وَأَمَّا قِصَّةُ الْمَقْبُورَيْنِ فَفِي حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ عِنْدَ أَحْمَدَ أَنَّهُ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ مَنْ دَفَنْتُمُ الْيَوْم هَا هُنَا فَدَلَّ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَحْضُرْهُمَا وَإِنَّمَا ذَكَرْتُ هَذَا ذَبًّا عَنْ هَذَا السَّيِّدِ الَّذِي سَمَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيِّدًا وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ وَقَالَ إِنَّ حُكْمَهُ قد وَافق حُكْمَ الله وَقَالَ إِنَّ عَرْشَ الرَّحْمَنِ اهْتَزَّ لِمَوْتِهِ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنْ مَنَاقِبِهِ الْجَلِيلَةِ خَشْيَةَ أَنْ يَغْتَرَّ نَاقِصُ الْعِلْمِ بِمَا ذَكَرَهُ الْقُرْطُبِيُّ فَيَعْتَقِدَ صِحَّةَ ذَلِكَ وَهُوَ بَاطِلٌ

اور القرطبی نے کتاب التذکرہ میں جو حکایت کیا ہے اور اس میں سے بعض کو ضعیف کہا ہے جن میں سے ایک  سعد بن معاذ رضی للہ عنہ (کے بارے میں ہے) پس وہ سب باطل ہے اس کا ذکر نہیں کیا جانا چاہئے سوائے مقرؤنا اور جو چیز اس حکایت مذکورہ کے بطلان  پر بالکل واضح ہے وہ یہ ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس کو سعد بن معاد کے دفن پر کہا جبکہ الْمَقْبُورَيْنِ والا قصہ جو  حدیث  ابو امامہ جو (مسند) احمد میں اس میں ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا کہ  آج تم نے ادھر کس کو دفن کیا؟ پس یہ دلیل ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم ان کے ساتھ (سعد کی) تدفین پر نہیں تھے اور بے شک ان لوگوں (قرطبی وغیرہ) نے اس کو اس سید (سعد رضی اللہ عنہ) کی تنقیص میں ذکر کیا ہے جس کو نبی صلی الله علیہ وسلم نے  سردار کہا اور اپنے صحابہ کو کہا کہ سردار کے لئے کھڑے ہو جاؤ اورکہا کہ انکا حکم الله کےحکم کے مطابق ہے اور کہا کہ بےشک رحمان کا عرش ان کی موت پر ہلا اور اسی طرح کے دیگر مناقب جلیلہ  ذکر کے پس ڈر ہے کہ کوئی ناقص علم غلطی پر ا جائے اور ان کو صحیح کہے اور یہ (روایت) باطل ہے 

سعد بن معاذ رضی الله عنہ کو قبر نے دبوچا دو وجہ سے صحیح نہیں

اول یہ واقعہ سن ٥ ہجری میں پیش آیا جبکہ مومن پر عذاب قبر کا سن ١٠ ہجری میں بتایا گیا

دوم ابن حجر کے مطابق اس تدفین کے موقعہ پر اپ صلی الله علیہ وسلم موجود نہیں تھے جبکہ سعد پر عذاب کی روایت کے مطابق اپ صلی الله عالیہ وسلم نے ہی نماز جنازہ پڑھائی اور اسی تدفین کے موقعہ پر عذاب ہوا

الله کا شکر ہے کہ حال ہی میں ارشد کمال کتاب المسند فی عذاب القبر میں اس کو بالاخر رد کرتے ہیں

اللہ ہم سب کو ہدایت دے

صحیح مسلم کی روایت ہے

حدثنا حماد بن زيد، عن هشام بن عروة، عن أبيه، قال: ذكر عند عائشة قول ابن عمر: الميت يعذب ببكاء أهله عليه، فقالت: رحم الله أبا عبد الرحمن، سمع شيئا فلم يحفظه، إنما مرت على رسول الله صلى الله عليه وسلم جنازة يهودي، وهم يبكون عليه، فقال: «أنتم تبكون، وإنه ليعذب»

حماد بن زيد کہتے ہیں ہم سے هشام بن عروة نے بیان کیا ان سے انکے باپ نے کہا عائشہ رضی الله تعالی عنہا کے سامنے ابن عمر رضی الله تعالی عنہ کی بات کا ذکر ہوا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے، پس اس پر آپ رضی الله تعالی عنہا نے فرمایا الله رحم کرے ابو عبد الرحمان پر انہوں نے سنا لیکن یاد نہ رکھ سکے. بے شک الله کے نبی صلی الله علیہ  وسلم ایک یہودی کے جنازہ پر  گزرے جس پر اس کے گھر والے رو رہے تھے اپ نے فرمایا یہ اس پر روتے ہیں اور اس کو عذاب دیا جا رہا ہے

یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے اور بالکل واضح ہے کہ میت پر عذاب ہو رہا تھا  تدفین سے پہلے

صحیح مسلم کی اس روایت کو اہل حدیث حضرات سنن ابی داود، مسند احمد وغیرہ کی روایات سے رد کرتے ہیں.

ایک اہل حدیث عالم  ابو جابر دامانوی کتاب عذاب قبر کی حقیقت میں لکھتے ہیں

 ڈاکٹر موصوف ….لکھتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک یہودی (عورت) پر گذرے۔ بریکٹ میں لکھتے ہیں (قبر پر نہیں) یعنی حدیث لکھنے میں بھی جھوٹ بول رہے ہیں اور دھوکا دینا چاہتے ہیں اور شروع شروع میں موصوف نے اس حدیث پر اسٹیکر بھی شائع کیا تھا کہ عذاب ارضی قبر میں نہیں بلکہ برزخی قبر میں ہوتا ہے اور جب ان کی گرفت کی گئی تو سارے اسٹیکر غائب ہو گئے۔ اس حدیث کا سیاق کیا ہے اور ڈاکٹر موصوف اس سے کیا مسئلہ ثابت کرنے کے درپے ہے اور پھر یہ اصول ہے کہ ایک حدیث کی وضاحت دوسری حدیث کرتی ہے۔ اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا نے جس پس منظر میں یہ بات بیان کی ہے اسے محدثین نے مختلف سندوں سے ذکر کیا ہے۔ اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کے جواب میں بیان کی تھی:

ان المیت لیعذب فی قبرہ ببکائِ اھلہ (علیہ) (بخاری کتاب المغازی باب قتل ابی جھل:۳۹۷۸۔ مسلم ۹۳۲

’بیشک البتہ میت کو اس کی قبر میں عذاب دیا جاتا ہے اس کے اہل کے اس پر رونے کے سبب سے۔

 اس حدیث میں میت اور قبر دونوں الفاظ موجود ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ میت کو اسکی قبر میں عذاب دیا جاتا ہے اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا انکار نہیں کیا بلکہ انکا موقف یہ تھا کہ نوحہ کی وجہ سے مومن کو عذاب نہیں ہوتا بلکہ کافر کے عذاب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

اِنَّ اللّٰہَ لَیَزِیْدُ الْکَافِرَ عَذَابًا بِبُکَائِ اَھْلِہٖ عَلَیْہِ

 اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب میں زیادتی کر دیتا ہے، اس کے گھر والوں کے اُس پر نوحہ کرنے کی وجہ سے۔ (دیکھئے بخاری:۱۲۸۸) ۔

 اور دوسری روایت میں انہوں نے ذکر کیا کہ دراصل یہ بات نبی ﷺ نے یہودیہ کے متعلق فرمائی تھی۔ ایک اور روایت میں اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ الفاظ مروی ہیں:

انما مر النبی ﷺ علی قبر فقال ان صاحب ھذا لیعذب و اھلہ یبکون علیہ (مسند احمد ۲/۳۸، ابوداود مع عون المعبود ۳/۱۶۳، النسائی ۱/۲۶۲)

 ’’رسول اللہ ﷺ ایک قبر پر سے گذرے پس فرمایا کہ بے شک اس صاحب (قبر) کو عذاب دیا جارہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں‘‘۔

 

ایک دوسرے اہل حدیث عالم لکھتے ہیں

سنن ابی داود میں یہی حدیث مکمل تفصیل کے ساتھ بسند صحیح موجود ہے

حدثنا هناد بن السري، ‏‏‏‏عن عبدة، ‏‏‏‏وأبي، ‏‏‏‏معاوية – المعنى – عن هشام بن عروة، ‏‏‏‏عن أبيه، ‏‏‏‏عن ابن عمر، ‏‏‏‏قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم “‏إن الميت ليعذب ببكاء أهله عليه “‏‏.‏ فذكر ذلك لعائشة فقالت وهل – تعني ابن عمر – إنما مر النبي صلى الله عليه وسلم على قبر فقال “‏إن صاحب هذا ليعذب وأهله يبكون عليه “‏‏.‏ ثم قرأت ‏‏‏‏{ولا تزر وازرة وزر أخرى ‏}‏ قال عن أبي معاوية على قبر يهودي ‏‏

 سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلاشبہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔“ یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے بیان کی گئی، تو انہوں نے کہا: (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھول گئے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تھے، تو فرمایا تھا ”بیشک یہ قبر والا عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں۔“ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت پڑھی «ولا تزر وازرة وزر أخرى»”کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔“ ہناد نے ابومعاویہ سے روایت کرتے ہوئے وضاحت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کی قبر کےپس سے گزرے تھے۔)

 لھذا یہ ایک ہی واقعہ ہے جسے راویوں کے اختصار نے آپ کےلئے معمہ بنادیا ،اور آپ اس اختصار پر خوابوں کامحل بنانے لگے

جواب

افسوس صحیحین کی روایات بھی اہل حدیث کے نزدیک مکمل نہیں

هشام بن عروة سے اس روایت کو سننے والے آٹھ راوی ہیں

١. عبدة بن سليمان  نسائي، مسند أحمد، أبي داود میں روایت ہے اور  قبر پر گزرنے کے الفاظ  ہیں

٢. أبو معاويه أبي داود میں روایت ہے  قبر پر گزرے کے الفاظ ہیں

٣. حماد بن سلمة   سے مسند أحمد میں روایت ہے  قبر پر گزرے  کے الفاظ ہیں

٤. حماد بن زيد صحيح مسلم ،  سنن الکبریٰ بیہقی ، مسند أبي یعلی میں روایت ہے   جنازے پر گزرنے کے الفاظ ہیں

٥. همام الأزدي يحيي بن دينار   مسند احمد میں روایت ہے ، قبر میں عذاب کے الفاظ ہیں

٦. وكيع بن جراح سے  صحيح مسلم میں روایت ہے الفاظ ہیں إنه ليعذب بذنبه و إن أهله ليبكون عليه الآن ، قبر یا جنازہ کے الفاظ نہیں

٧. أبو اسامة صحيح بخاري میں روایت ہے الفاظ ہیں  إنه ليعذب بذنبه و إن أهله ليبكون عليه الآن ، قبر یا جنازہ کے الفاظ نہیں

٨. عبدالله بن نمير مسند أحمد میں روایت ہے الفاظ ہیں قبر یا جنازہ کے الفاظ نہیں

تین راویوں عبدالله بن نمير، أبو اسامة، وكيع بن جراح  نے نہ قبر کا ذکر کیا، نہ جنازہ کا لہذا معاملہ بقیہ راویوں پر آ گیا

عبدة بن سليمان، أبو معاويه، حماد بن سلمة   نے قبر پر گزرنے کا ذکر کیا ہے اور ان کی مخالفت کی ہے حماد بن زيد نے

اب محدثین اس بارے میں کیا کہتے ہیں دیکھتے ہیں

أبي زرعة الرازي کے الفاظ کتاب أبو زرعة الرازي وجهوده في السنة النبوية  نقل ہوئے ہیں

حماد بن زيد أثبت من حماد بن سلمة بكثير، أصح حديثاً وأتقن

حماد بن زيد ،حماد بن سلمة سے بہت زیادہ مظبوط راوی ہیں انکی حدیث زیادہ صحیح اور أتقان (قابل یقین) والی ہیں

سوالات الجنید میں ہے کہ یحییٰ ابن معین سے سوال ہوا

حماد بن سلمة أحب إليك أو حماد بن زيد؟ فقال يحيى: حماد بن زيد أحفظ

حماد بن سلمة  اپ کو پسند ہے یا حماد بن زيد پس یحییٰ نے کہا حماد بن زيد یاد رکھنے والے ہیں

 کتاب تہذیب التہذیب کے مطابق

وقال محمد بن المنهال الضرير سمعت يزيد بن زريع وسئل ما تقول في حماد بن زيد وحماد بن سلمة أيهما أثبت قال حماد بن زيد

محمد بن المنهال الضرير کہتے ہیں میں نے سنا يزيد بن زريع سے سوال ہوا کہ اپ کیا کہتے ہیں کون زیادہ ثبت ہے حماد بن زيد یا حماد بن سلمة کہا حماد بن زيد

 عبدة بن سليمان أبو محمد الكلابي الكوفي اور محمد بن خازم أبو معاوية الضرير  بھی ثقه ہیں لیکن حماد بن زيد بن درهم الأزدي  ان دونوں سے زیادہ ثقه  ہیں

وقال الخليلي ثقة متفق عليه رضيه الأئمة قال والمعتمد في حديث يرويه حماد ويخالفه غيره

الخليلي کہتے ہیں حماد بن زيد  بالاتفاق ثقه ہیں ائمہ ان سے راضی ہیں اور حدیث جس کو یہ روایت کریں اور دوسرے انکی مخالفت کریں تو اس  میں  حماد بن زيد قابل اعتماد ہیں

بخاری میں یہ روایت ایک دوسری سند سے بھی ہے

حَدَّثَنا عَبْدُ الله بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الله بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا: سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ الله عَنْهَا، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يَبْكِي عَلَيْهَا أَهْلُهَا، فَقَالَ: «إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا»

اس روایت کے مطابق نبی صلی الله علیہ وسلم یہودیہ پر سے گزرے تھے (تدفین سے پہلے) جس پر اس کے گھر والے رو رہے تھے

لہذا مسلم کی روایت نسائی اور ابی داود کی روایت سے  زیادہ قابل اعتبار ہے   جس میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے جنازہ پر گزرنے کے الفاظ ہیں  اور اس کی تائید صحیح بخاری کی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ میت کی تدفین نہیں ہوتی تھی لیکن عذاب قبر ہو رہا تھا . عذاب کا شروع ہونا تدفین کے لئے ضروری نہیں  کیونکہ روح فرشتے لے کر جا چکے

مسند ابی یعلی  اور ابی داود کی سند میں عبدہ بن سلیمان ہیں وہ روایت کرتے ہیں

حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ». فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ: وَهَلْ تَعْنِي ابْنَ عُمَرَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ: «إِنَّ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ لَيُعَذَّبُ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ» ثُمَّ قَرَأَتْ هَذِهِ الْآيَةَ {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: 164]

نبی صلی الله علیہ وسلم قبر پر گزرے اور کہا إِنَّ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ لَيُعَذَّبُ  اس قبر کے صاحب کو عذاب ہو رہا ہے

نبی صلی الله علیہ وسلم نے یہ نہیں کہا کہ اسی قبر میں عذاب ہو رہا ہے

ابن جوزی کتاب تلبیس ابلیس میں عذاب قبر کی اصطلاح کی وضاحت کرتے ہیں

فإنه لما ورد النعيم والعذاب للميت علم أن الإضافة حصلت إلى الأجساد والقبور تعريفا كأنه يقول صاحب هذا القبر الروح التي كانت في هذا الجسد منعمة بنعيم الجنة معذبة بعذاب النار

پس یہ جو آیا ہے میت پر نعمت اور عذاب کا تو جان لو کہ (القبر کا ) اضافہ  سے تعريفا   قبروں اور اجساد کی طرف  (اشارہ ) ملتا ہے جیسے کہا جائے کہ صاحب القبر کی روح کو جو اس جسد میں تھی جنت کی نعمتوں سے عیش  میں (یا ) آگ کے عذاب سے تکلیف  میں

 صاحب قبر کے الفاظ واضح کر رہے ہیں کہ عذاب دنیاوی قبر میں نہیں ہو رہا تھا

اللہ تعالی اس بات کا پابند نہیں کہ وہ اس وقت تک عذاب شروع نہ کرے جب تک ہم میت کی تدفین نہیں کرتے

صحیح مسلم  کی روایت ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّی الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَی مَلَإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَائُوا مُتَقَلِّدِينَ بِسُيُوفِهِمْ قَالَ فَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ الله صَلَّی الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَکْرٍ رِدْفُهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّی أَلْقَی بِفِنَائِ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ فَکَانَ رَسُولُ الله صَلَّی الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَکَتْهُ الصَّلَاةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَی مَلَإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَائُوا فَقَالَ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِکُمْ هَذَا قَالُوا لَا وَالله لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَی الله قَالَ أَنَسٌ فَکَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ کَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِکِينَ وَخِرَبٌ فَأَمَرَ رَسُولُ الله صَلَّی الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ وَبِقُبُورِ الْمُشْرِکِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ قَالَ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةً وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً قَالَ فَکَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْفَانْصُرْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ

یحیی بن یحیی، شیبان بن فروخ، عبدالوارث، یحیی، عبدالوارث ابن سعید، ابی تیاح، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ پہنچے اور شہر کے بالائی علاقہ کے ایک محلہ میں تشریف لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں چودہ راتیں قیام فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ بنو نجار کو بلوایا وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے حاضر ہوئے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں یہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹنی پر سوار تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اور بنو نجار آپ کے ارد گرد تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوایوب کے گھر کے صحن میں اترے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاں نماز کا وقت پاتے وہیں نماز پڑھ لیتے تھے یہاں تک کہ بکریوں کے باڑہ میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد بنانے کا ارادہ کیا اور بنو نجار کو بلوایا جب وہ آئے تو فرمایا تم اپنا باغ مجھے فروخت کر دو انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہم تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس باغ کی قیمت نہیں لیں گے ہم اس کا معاوضہ صرف اللہ تعالی سے چاہتے ہیں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ اس باغ میں جو چیزیں تھیں انہیں میں بتاتا ہوں اس میں کچھ کھجوروں کے درخت، مشرکین کی قبریں اور کھنڈرات تھے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کے درختوں کے کاٹنے کا حکم دیا وہ کاٹ دئے گئے مشرکین کی قبریں اکھاڑ کر پھینک دی گئیں اور کھنڈرات ہموار کر دئیے گئے اور کہجور کی لکڑیاں قبلہ کی طرف گاڑھ دی گئیں اور اس کے دونوں طرف پتھر لگا دئیے گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رجزیہ کلمات پڑھ رہے تھے۔ اے اللہ! بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے پس تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں کی قبریں اکھاڑ دیں اس پر کہا جاتا ہے کہ اس روایت میں یہ نہیں کہ

قبریں اکھاڑ کر پھینکنے کا مطلب یہ نہیں کہ 6 فٹ کھود کر مردہ نکال کر باہر پھینک دیا، بلکہ اس کا مقصد ان پر بنے قبے اکھاڑ کر ہموار کرنا ہے، تاکہ نماز ادا کی جا  سکے

کیا علمی نکتہ سنجی ہے گویا ابھی تک مسجد النبی میں مشرکوں کے جسم دفن ہیں. نبی صلی الله علیہ وسلم انکے اصحاب سب ان قبروں پر نماز پڑھتے رہے ؟  ایسی مسجد میں تو نماز ہی نہیں ہو سکتی جہاں قبر ہو

بخاری کی روایت میں الفاظ فأمر النبي صلى الله عليه و سلم بقبور المشركين فنشبت   ہیں

نبش کھود کر کسی چیز کو نکالنا ہی ہے نہ کہ پس اوپر سے سطح ہموار کرنا

ایک دوسری روایت  میں ہے کہ عروہ کہتے تھے کہ وہ بقیع میں دفن ہونا نہیں چاہتے  تھے کہ ان کی وجہ سے کسی اور کی قبر کھودی جائے کہتے تھے کہ

وَإِمَّا صَالِحٌ فَلَا أُحِبُّ أَنْ تُنْبَشَ لِي عِظَامُهُ

اور اگر وہ صالح ہے تو میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ میرے لئے اس کی ہڈیاں کھودی جائیں

یہاں بھی نبش کا لفظ ہے

الله سمجھنے کی توفیق دے

ڈاکٹر عثمانی نے لکھا ہے کہ بخاری کی حدیث میں ہے

’اَلْعَبْدُ اِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہٖ وَ تُوُلِّیَ وَ ذَھَبَ اَصْحَابُہٗ حَتّٰی اِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ اَتَاہُ مَلَکَانِ فَاَقْعَدَاہُ‘‘جب بندہ قبر میں رکھ دیا گیا اور اس کا معاملہ اختتام کو پہنچ گیا اور اس کے ساتھی چلے گئے یہاں تک کہ وہ یقینی طور پر اُن کی (فرشتوں کی) جوتیوں کی آواز سنتا ہے کہ دو فرشتے آجاتے ہیں اور اس کو بٹھاتے ہیں

جبکہ مسلم کی حدیث میں آتا ہے

 إِنَّ الْمَيِّتَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا انْصَرَفُوا

بے شک میت کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو وہ جوتیوں کی چاپ سنتی ہے جب وہ پلٹتے ہیں

اس کی تطبیق کس طرح ممکن ہے؟

جواب

محدثين جب روايات بیان کرتے ہیں تو بعض دفعہ روایت میں الفاظ کم بھی کر دیتے ہیں اور بعض بڑھا بھی دیتے ہیں

اس کی بہت کی مثالیں ہیں مثلا کسوف کا واقعہ کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے  گرہن کی نماز پڑھانی-  اس میں رکعات کا اختلاف ہے کہ کتنی تھیں-  جمہور علماء کی رائے میں ایک ہی دفعہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے گرہن کی نماز پڑھی ہے لیکن بخاری مسلم میں ہی اس کی مختلف روایات ہیں جن میں رکعات کی تعداد میں اختلاف ہے

ان مسائل میں تمام طرق اکھٹے کر کے دیکھا جاتا ہے کہ کس نے کیا کہا اور کس نے مکمل بیان کیا اور کس نے مختصر کیا- اصول یہ ہے کہ صحیح السند روایت جو مطول ہو اس سے استنباط کیا جاتا ہے

یہی اس قرع النعال والی روایت کا معاملہ ہے اس کے تمام طرق اکھٹے کیے جائیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ

مسلم کے استاد  مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ نے اس قرع النعال والی روایت کو کو مختصر کر دیا ہے کیونکہ انہوں نے اس کو يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ سے سنا ہے – امام بخاری نے يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ کی سند سے اس کو مکمل بیان کیا ہے- اسی طرح نسائی نے بھی اس   کو يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ کی سند سے مختصرا بیان کیا ہے

عجلي  الثقات میں کہتے ہیں

قَالَ أَحْمَد العِجْلِيّ: بصْريٌّ ثقة، لَم يكن لَهُ كتاب. قلتُ لَهُ: لك كتاب؟ قَالَ: كتابي صدري

مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِير بصری ثقہ ہیں لیکن ان کے پاس کتاب نہ تھی (یعنی لکھتے نہ تھے) میں نے ان سے کہا کیا کتاب ہے ؟ بولے کتاب میرا سینہ ہے

ظاہر ہے یہ اختصار اسی وجہ سے ہوا کہ انہوں نے اس کو اپنے حافظہ کی بنیاد پر روایت کیا نہ کہ کتاب سے

یہی روایت سنن ابی داود میں عَبْدُ الْوَهَّابِ ابْنَ عَطَاءٍ نے مختصر کر دی ہے جنہوں نے اس کو سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے – امام بخاری،  امام  ابی داود کے استاد عَبْدُ الْوَهَّابِ ابْنَ عَطَاءٍ  کو  لَيْسَ بِالقَوِيِّ کہتے ہیں سیر الاعلا م النبلاء از الذھبی – امام مسلم اور امام احمد نے اس روایت  کو سعید بن ابی عروبہ کی سند سے ہی  مطول روایت کیا ہے جس میں فرشتوں کی چاپ کا ذکر ہے

لہذا مطول کو چھوڑ کر مختصر سے دلیل لینا صحیح نہیں – لیکن مطلب براری کے لئے لوگوں کو صحیح بات بتانے کے بجائے ان کو گمراہ کیا جاتا ہے

قرع النعال والی روایت میں ایک میں قبر کی وسعت کا بھی ذکر ہے

البانی،   المنذری کی مختصر صحيح مسلم پر تعلیق میں کہتے ہیں

قلت: الحديث دون الفسح في القبر من رواية قتادة عن أنس رضي الله عنه، وأما الفسح فهو من روايته مرسلا، وكذلك وقع في “البخاري” وأحمد (3/ 126) وعندهما زيادة بلفظ

میں کہتا ہوں حدیث میں قبر کو وسیع کرنا قتادہ کی انس رضی الله عنہ کی روایت میں ہے اور جہاں تک اس کا تعلق ہے یہ مرسل روایت کیا گیا ہے اور ایسا بخاری اور احمد میں ہے اور ان میں ان الفاظ کی زیادت ہے

اسی کتاب میں البانی نے متن میں کہا ہے کہ   زاد في رواية: إذا انصرفوا اس نے روایت میں ذیادت کی کہ جب وہ جاتے ہیں

معلوم ہوا کہ البانی اس کو جانتے ہیں کہ  الفاظ إذا انصرفوا  اور اسناد میں نہیں اور زیادت ہیں

اس کو اور رخ سے بھی دیکھیں امام احمد باوجود  یہ کہ قر ع النعال والی روایت کو مسند میں روایت کرتے ہیں لیکن جوتیوں کی چاپ سننے والی روایت پر  عمل نہیں کرتے اور قبرستان میں داخل ہونے سے پہلے جوتیاں اتارنے کا حکم کرتے تھے ظاہر ہے نہ جوتیاں ہوں گی نہ ان کی چاپ کا سوال اٹھے گا

کتاب مسائل أحمد بن حنبل رواية ابنه عبد الله  کے مطابق

وَقَالَ أبي يخلع نَعْلَيْه فِي الْمَقَابِر

میرے باپ (احمد ) کہتے ہیں قبرستان میں نعل اتار دو

 وَكَانَ يَأْمر بخلع النِّعَال فِي الْمَقَابِر

امام احمد حکم دیتےتھے کہ قبرستان میں  نعل اتار دو

رَأَيْت ابي اذا اراد ان يدْخل الْمَقَابِر خلع نَعْلَيْه وَرُبمَا رَأَيْته يُرِيد ان يذهب الى الْجِنَازَة وَرُبمَا لبس خفيه اكثر ذَلِك وَينْزع نَعْلَيْه

میں نے اپنے باپ کو دیکھا کہ جب قبرستان میں داخل ہوتے تو جوتے اتار دیتے

امام احمد کے بیٹے کتاب العلل ومعرفة الرجال میں لکھتے ہیں

رَأَيْت أبي إِذا دخل الْمَقَابِر يخلع نَعْلَيْه فَقلت لَهُ إِلَى أَي شَيْء تذْهب فَقَالَ إِلَى حَدِيث بشير بن الخصاصية

میں نے اپنے باپ کو دیکھا کہ قبرستان میں اتے تو جوتے اتارتے پس میں نے کہا کس بنا پر اس کو کیا؟ انہوں نے کہا حدیث بشیر بن الخصاصية  سے لیا

 ابی داود کتاب میں لکھتے ہیں

رَأَيْتُ أَحْمَدَ إِذَا تَبِعَ جِنَازَةً فَقَرِبَ مِنَ الْمَقَابِرِ خَلَعَ نَعْلَيْهِ

میں نے احمد کو دیکھا جب وہ جنازہ کے پیچھے قبرستان کے پاس پہنچتے تو جوتے اتار دیتے

کتاب  مسائل الإمام أحمد بن حنبل وإسحاق بن راهويه کے مطابق امام احمد

فلما سلم خلع نعليه ودخل المقابر في طريق [عامية] 2 مشياً على القبور حتى بلغ القبر

پس جب (نماز جنازہ سے)  سلام پھرنے کے بعد جوتے اتارتے اور قبرستان میں داخل ہوتے  حتی کہ قبر تک پہنچتے

امام احمد کا عمل قرع النعال والی روایت پر نہیں بلکہ  بشیر بن الخصاصية   کی روایت پر تھا جو ابو داود نے بَابُ الْمَشْيِ فِي النَّعْلِ بَيْنَ الْقُبُورِ میں  روایت کی ہے جس سے واضح ہے کہ ان کے نزدیک یہ قرع النعال سے زیادہ صحیح روایت تھی ورنہ اعلی کو چھوڑ کر ادنی پر عمل کیوں تھا

  ابن قدامة  المغني  ج 2 ص ٤٢١ میں کہتے ہیں
قال الإمام أحمد رحمه الله  إسناد حديث بشير بن الخصاصية جيد أَذْهَبُ إلَيْهِ، إلَّا مِنْ عِلَّةٍ

امام احمد کہتے ہیں بشير بن الخصاصية والی حدیث کی اسناد جید ہیں اسی پر مذھب ہے سوائے اس کے کہ کوئی علت ہو

 

جواب

عربی زبان میں جملة الشرط کی ابتداء إنْ – إذا – لَو کے الفاظ سے ہوتی ہے.  لو کا لفظ جملہ الشرط میں استمعال ہوتا ہے جسے  کہ

لو كُنتُ غَنياً لساعَدتُ الكَثيرَ من الفُقَراء

اگر میں غنی ہوتا ، تو بہت سے غریبوں کی مدد کرتا

قرآن میں یونس علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ

فلولا أنه كان من المسبحين للبث في بطنه إلي يوم يُبْعَثُونَ

پس اگر بے شک یہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، تو اس (مچھلی) کے پیٹ میں ہی تا قیامت رہتے

حدیث میں اتا ہے

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ حَادَتْ بِهِ فَكَادَتْ تُلْقِيهِ وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَوْ خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ قَالَ كَذَا كَانَ يَقُولُ الْجُرَيْرِيُّ فَقَالَ مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الْأَقْبُرِ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا قَالَ فَمَتَى مَاتَ هَؤُلَائِ قَالَ مَاتُوا فِي الْإِشْرَاكِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ  

صحیح مسلم کتاب الجنۃباب عرض مقعد المیت من الجنۃ والنار علیہ واثبات عذاب القبر والتعوذ منہ(حدیث نمبر ۷۲۱۳)مشکوۃ ص ۲۵
زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ (ایک بار) جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی نجار کے باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ اچانک خچر بد کا اور قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرا دے ناگہاں پانچ، چھ یا چار قبریں معلوم ہوئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان قبروں کے اندر جو لوگ ہیں کوئی ان کو جانتا ہے؟ ایک شخص نے کہا میں جانتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کس حال میں مرے ہیں؟ اس شخص نے عرض کیا شرک کی حالت میں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ امت اپنی قبروں میں آزمائی جاتی ہے
پس اگر ایسا نہ ہوتا کہ تم دفن نہ کرو گے، میں الله سے دعا کرتا کہ تم کو عذاب القبر سنوا دے جو  میں اس میں سے سنتا ہوں

صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں

فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ

پس اگر ایسا (گمان )نہ ہوتا کہ تم دفن  کرنا چھوڑ دو  گے، میں الله سے دعا کرتا کہ تم کو عذاب القبر سنوا دے جو  میں اس میں سے سنتا ہوں

اس کا مفہوم  یہ ہے کہ اگر تم  اپنے مردوں کو دفن نہ کرو گے (اور ان کو جلانا وغیرہ شروع کر دو گے  )  تو میں الله سے دعا کرتا  کہ تم کو عذاب سنوا دے

ایک مفہوم  یہ بھی لیا جا سکتا ہے اگر میت  کی روح کو البرزخ میں ہونے والا عذاب سن لو   تو تم اتنے دہشت زدہ ھو جاؤ کہ میت کے جسد کے پاس بھی نہ پھٹکو یہاں تک کہ اس کو دفن بھی نہ کرو

 قائلین عود روح  اس کا ترجمہ اپنے مفہوم  پر کرتے ہیں

اگر مجھ کو یہ خوف نہ ہوتا کہ تم (مردوں کو) دفن کرنا ہی چھوڑ دو گے تو میں ضرور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تم کو بھی عذاب قبر سنا دے جسطرح کہ میں سنتا ہوں۔ 

مسلم  کی روایت کا مفہوم   قائلین عود روح کے نزدیک یہ ہے اگر عذاب اس ارضی قبر میں نہیں ہوتا تو ایسا نہیں کہا جاتا حالانکہ اس کا مطلب یہ بھی ھو جاتا ہے کہ اگر کوئی میت کو دفن نہ کرے تو میت عذاب سے بچ  جائے گی؟ چونکہ یہ مہمل بات ھو جاتی ہے لہذا یہ اس کا مفہوم  نہیں ھو سکتا-    عذاب اسی ارضی قبر میں ہوتا تو عذاب سنوانے کی بات نہ کی جاتی  بلکہ عذاب دکھانے کی بات کی جاتی کیونکہ قبریں سامنے تھیں

منافقین کے حوالے سے  مسند ابی یعلی کی روایت  کے الفاظ ہیں

 عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَزَالُ هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ آمِنَيْنِ حَتَّى تَرُدُّوهُمْ، عَنْ دِينِهِمْ كِفَاءَ رَحِمِنَا» قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي الْجَنَّةِ أَنَا أَمْ فِي النَّارِ؟ قَالَ: «فِي الْجَنَّةِ» ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ آخَرُ فَقَالَ: أَفِي الْجَنَّةِ أَمْ فِي النَّارِ؟ قَالَ: «فِي النَّارِ» ثُمَّ قَالَ: «اسْكُتُوا عَنِّي مَا سَكَتُّ عَنْكُمْ  فلولا أن لا تدافنوا  لأخبرتكم بملئكم من أهل النار حتى تفرقوهم  عند الموت

ابن عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کہتے سنا … پس اگر ایسا نہ ہوتا کہ تم دفن نہ کرو گے، تو میں تم کو خبر دیتا تم میں سے اہل النار کے بارے میں حتیٰ کہ تم ان سے موت پر  علیحدہ ھو

مسلم کی طرح اس روایت میں  بھی یہی ہے کہ تم دفن نہ کرو گے ، یعنی تم کو ان منافق لوگوں سے اتنی نفرت ھو گی کہ تم ان کو قبر ہی نہ دو گے

ان  دونوں روایتوں کے الفاظ پر غور کریں کہ عذاب کا تعلق تدفین سے نہیں  –  یعنی منافقین کا علم ہونے پر اصحاب رسول ان کو دفن ہی نہ کرتے- کیا اس  سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عذاب اس دنیا کی قبر میں نہیں ہوتا

اگر نبی صلی الله علیہ وسلم نے اصحاب رسول کو بتایا تھا کہ عذاب اسی ارضی قبر میں ہے اور پھر وہ منافق کا بھی بتا دیتے تو ان کو ڈر تھا کہ اصحاب رسول ان منافقوں کو دفن ہی نہ کرتے

اگر عذاب اسی ارضی قبر میں ہے تو اصحاب رسول ضرور منافق کو دفن کرتے اور کوئی خدشہ نہ رہتا کہ یہ دفن نہ کریں گے
اس پر غور کریں

چونکہ مسند ابی یعلی کی روایت سے قائلین عود روح کے عقیدے پر زک پڑتی ہے انہوں نے اسکو ضعیف کہا ہے

اسکی سند ہے

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ

ضعیف  ہونے   کی دلیل میں  کہا جاتا ہے اس کی سند  میں  لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ہے  –  مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ کی لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ سے روایت کو البانی نے صحیح قرار دیا ہے مثلا سنن ابن ماجہ ح ٢٣٠  –

کتاب الجرح و التعدیل از ابن أبي حاتم (المتوفى: 327هـ)  (4/48 رقم 207 کے مطابق سعید بن عامر میں بھی کوئی برائی نہیں ہے

سعيد بن عامر روى عن ابن عمر روى عنه ليث بن أبي سليم سمعت أبي يقول ذلك حدثنا عبد الرحمن قال سألت أبي عنه فقال: لا يعرف.
حدثنا عبد الرحمن أنا يعقوب بن إسحاق [الهروي – 1] فيما كتب إلى نا عثمان بن سعيد قال: سألت يحيى بن معين قلت: سعيد ابن عامر الذي روى عن ابن عمر من هو؟ قال: ليس به باس.

سعید بن عامر جس نے ابن عمر سے روایت کیا ہے اور سعید سے لیث نے …… میں نے اپنے باپ سے سنا کہ میں اسکو نہیں جانتا  ……اور یحیی ابن معین سے اس پر سوال کا تو انہوں نے کہا اس میں کوئی برائی نہیں

یعنی اگرچہ میرے باپ سعید  بن عامرکو پہچان نہ سکے لیکن  ابن معین کے نزدیک وہ مجھول نہ تھے بلکہ انکی روایت میں کوئی برائی نہیں

یعنی مسند ابی یعلی کی یہ روایت صحیح ہے اور اس پر جو اعتراض تھا وہ یحیی ابن معین کا قول پیش کر کے ابن ابی

 حاتم نے دور کر دیا

 پتا نہیں کس دل گردے کے مالک ہیں وہ لوگ جو عذاب اسی ارضی قبر میں مانتے ہیں اور پھر انہی قبروں  کے پاس گزرتے ہیں . قبرستان میں جہاں یہ پتا بھی  نہ ھو کہ کس قبر میں ابھی اس وقت عذاب کا دور گزر رہا ہے وہاں لوگ پاس جا کر کھڑے ھو جاتے ہیں –

جواب

عذاب کی خبر قرآن کی مکی سورتوں میں دی گئی مثلا قوم نوح یا قوم فرعون اس وقت تک قبر میں کسی بھی عذاب کی روایت نہیں ملتی بلکہ مدینہ پہنچنے پر مسجد النبی کی جگہ پر موجود مشرکین کی قبریں کھود دی گئیں
اس کا تعلق عالم بالا سے لیا جاتا رہا اور قرآن میں بھی اس کو النار یعنی جہنم کی اگ پر پیش ہونا کہا گیا ہے جو ظاہر ہے اس دنیا کا حصہ نہیں ہے

جن قوموں کو تباہ کیا گیا ان کی قبریں نہیں ہیں سوائے ایک شخص ابو رغال کے جو عذاب کے وقت حدود حرم میں تھا لہذا بچ گیا لیکن جیسے ہی حرم کی حدود سے نکلا ایک آسمان سے پتھر گرا اور اس کو ہلاک کر دیا گیا – ایک حدیث کے مطابق رسول الله صلی الله علیہ وسلم سفر میں تھے تو کہا یہاں ابو رغآل کی قبر ہے کھود کر سونا نکال لو! سو صحابہ نے کھودا اور عذاب قبر وہاں نہیں تھا بلکہ سونا تھا اس کو لیا

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ بُجَيْرِ بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: “أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَمَرُّوا عَلَى قَبْرِ أَبِي رِغَالٍ وَهُوَ أَبُو ثَقِيفٍ وَهُوَ امْرُؤٌ مِنْ ثَمُودَ، مَنْزِلُهُ بِحَرَّاءَ، فَلَمَّا أَهْلَكَ اللَّهُ قَوْمَهُ بِمَا أَهْلَكَهُمْ بِهِ مَنَعَهُ لِمَكَانِهِ مِنَ الْحَرَمِ، وَأَنَّهُ خَرَجَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ هَاهُنَا مَاتَ، فَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَابْتَدَرْنَا، فَاسْتَخْرَجْنَاهُ”

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے قوم ثمود کے شخص ابو رغال کی قبر کھودنے کا حکم دیا اور اس ثمودی کی قبر سے سونا نکلا
امام المزی اس کو حديث حسن عزيز کہتے ہیں- البانی ضعیف کہتے ہیں ان کی بنیاد بُجَيْرِ بْنِ أَبي بُجَيْرٍ پر ہے کہ یہ مہجول ہے
ابن حبان بھی اسکو صحیح کہتے ہیں اور صحیح میں ذکر کرتے ہیں

طحاوی مشکل الاثار میں اس کو صحیح مانتے ہوئے اس پر تبصرہ کرتے ہیں اور امام النسانی کا قول پیش کرتے ہیں پھر کہتے ہیں
فَكَانَ جَوَابُنَا لَهُ فِي ذَلِكَ بِتَوْفِيقِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَوْنِهِ: أَنَّهُ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مَسْكَنُهُ فِي الْحَرَمِ , وَكَانَ مَعَ ثَمُودَ فِي الْمَوَاضِعِ الَّتِي كَانَتْ فِيهِ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ مِنْ مَعَاصِي اللهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَالْخُرُوجِ عَنْ أَمْرِهِ , فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْوَعِيدُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَخَافَ أَنْ يَلْحَقَهُ ذَلِكَ بِالْمَكَانِ الَّذِي هُوَ بِهِ , لَجَأَ إِلَى مَسْكَنِهِ فِي الْحَرَمِ , فَدَخَلَ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَرَمَ فَمَنَعَهُ , وَقَدْ رُوِيَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ , عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ [ص:374] أَبِي رِغَالٍ أَيْضًا مَا يُوَافِقُ مَا فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي دَاوُدَ مِمَّا ذَكَرْنَا.
یعنی طحاوی اس کو صحیح مانتے ہیں ورنہ کہتے ضعیف ہے اور رد کرتے

چونکہ اس سے مسلک پرستوں کے عقیدہ کا رد ہوتا ہے انکی کوشش رہی کہ اس روایت کو رد کریں ابن کثیر میدان میں کودے اور تفسیر میں لکھا
قال ابنُ كثير في “تفسيره” 3/ 440، وقال: وعلى هذا يُخشى أن يكون وهم في رفع هذا الحديث، وإنما يكونُ من كلام عبد الله بن عمرو، مما أخذه من الزاملتين، ثم قال: قال شيخنا أبر الحجاج [يعني المزي]، بعد أن عرضتُ عليه ذلك: وهذا محتمل، والله أعلم.
اور خطرہ ہے کہ یہ حدیث رفع کی گئی ہے اور ہو سکتا ہے یہ عبد الله بن عمرو کا کلام ہو جس کو انہوں نے اونٹنیوں پی سے لیا پھر کہا ہمارے شیخ المزی پر یہ بات پیش کی گئی انہوں نے کہا ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو

افسوس ایک صحابی پر اہل کتاب کی کتب چوری کرنے کا الزام ابن کثیر نے متعدد بار لگایا
اور المزی جو خود تہذیب الکمال میں اس روایت کو ضعیف نہیں کہتے وہ کیسے اس رائے سے متفق ہو سکتے ہیں
لہذا یہ روایت ضعیف نہیں ہے

خود بخاری کی حدیث میں مشرکین کی قبریں کھودنے کا ذکر ہے جس میں عذاب نہیں نکلا
لہذا زمینی گھڑا تو میت کی ستر پوشی کے لئے ہے کہ اس کو گلتا سڑتا دیکھ کر انسان کو گھن ائے گی اور کوئی اس کا مقصد نہیں ہے

اہل حدیث اور بریلوی ایک ہی جیسی روایات مانتے ہیں صرف نتائج کا فرق ہے-دونوں فرقے

عود روح کے قائل ہیں
میت کو قدموں کی چاپ سنواتے ہیں
انبیاء کی قبروں کی حیات کے قائل ہیں

اس لئے ان کے نتائج میں فرق ممکن نہیں اصل مسئلہ یہ روایات خود ہیں جو ہیں ہی ضعیف

جواب

مفتی بن باز سے سوال ہوا کہ قبض روح کے بعد روح کہاں جاتی ہے ؟ بن باز کہتے ہیں

http://www.binbaz.org.sa/noor/1495

روح المؤمن ترفع إلى الجنة، ثم ترد إلى الله -سبحانه وتعالى-، ثم ترد إلى جسدها للسؤال، ثم بعد ذلك جاء الحديث أنها تكون في الجنة، طائر يعلق بشجر الجنة، روح المؤمن ويردها الله إلى جسدها إذا شاء -سبحانه وتعالى-، أما روح الكافر تغلق عنها أبواب السماء، وتطرح طرحاً إلى الأرض وترجع إلى جسدها للسؤال، وتعذب في قبرها مع الجسد، نسأل الله العافية، أما روح المؤمن فإنها تنعم في الجنة، وترجع إلى جسدها إذا شاء الله، وترجع إليه أول ما يوضع في القبر حتى يسأل، كما جاء في ذلك الأحاديث الصحيحة عن رسول الله -عليه الصلاة والسلام-: (والمؤمن إذا خرجت الروح منه يخرج منها كأطيب ريح، يحسه الملائكة ويقولون ما هذه الروح الطيبة؟، ثم تفتح لها أبواب السماء حتى تصل إلى الله، فيقول الله لها: ردوها إلى عبدي فإني منها خلقتهم، وفيها أعيدهم، فتعاد روحه إلى الجسد ويسأل)، ثم جاءت الأحاديث بأن هذه الروح تكون في الجنة بشبه طائر بشكل طائر تعلق في أسفل الجنة، وأرواح الشهداء في أجواف طير خضر؟ أما روح المؤمنين فهي نفسها تكون طائر، كما روى ذلك أحمد وغيره بإسناد صحيح عن كعب بن مالك -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم-. جزاكم الله خيراً

مومن کی روح بلند ہوتی ہے جنت کی طرف پھر اس کو الله تعالی کی طرف لے جاتے ہیں پھر اس کو جسم میں سوال کے لئے لوٹاتے ہیں پھر اس کے بعد حدیث میں اتا ہے یہ جنت میں جاتی ہے ایک پرندے کی طرح جنت کے درخت پر لٹکتی ہے  الله ،مومن کی روح کو جسم میں لوٹاتا ہے جب وہ چاہتا ہے اور جہاں تک کافر کی روح کا تعلق ہے اس پر آسمان کے دروازے بند ہو  جاتے ہیں اور اس کو پھینکا جاتا ہے زمین کی طرف اور جسم کو لوٹایا جاتا ہے سوال کے لئے اور قبر میں عذاب کے لئے جیسا کہ حدیث  صحیحہ میں آیا ہے  اور مومن کی روح جب نکلتی ہے اس میں سے ایک خوشبو نکلتی ہے اس کو فرشتے محسوس کرتے ہیں اور کہتے ہیں کیسی عمدہ خوشبو ہے پھر آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں یہاں تک کہ الله سے ملتی ہے اس سے اللہ کہتا ہے لوٹا دو میرے بندے کو اس سے میں نے ان کو تخلیق کیا ہے اور اس میں ہی لوٹا دوں گا پس روح جسد میں لوٹا دی جاتی ہے پھر سوال ہوتا ہے پھر احادیث میں آیا ہے یہ روح جنت میں ایک پرندے کی شکل میں جنت کے نیچے لٹکتی ہے اور شہیدوں کی ارواح سبز پرندوں کے پیٹوں میں ہیں؟ اور مومنین کی ارواح تو یہ فی نفس ایک پرندہ ہی ہے جیسا کہ احمد نے صحیح اسناد کے ساتھ کعب رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے الله بہترین جزا دے

بن باز کہہ رہے ہیں کہ مومن کی روح تو جب جب الله چاہتا ہے جنت سے قبر میں لوٹا دیتا ہے  جبکہ اہل حدیث اس کو ایک استثنا کہہ کر صرف ایک ہی بار کے لئے محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں

یہی عقیدہ وہابیوں کا رسول الله کے حوالے سے ہے کہ جسد نبوی میں ایک مرتبہ نہیں  بلکہ ان پچھلی  ١٤ صدیوں میں ہر روز دن میں کئی مرتبہ روح ڈالی اور نکالی جاتی ہے

وہابیوں کے مطابق نہ صرف رسول الله صلی الله علیہ وسلم بلکہ عام شخص بھی عود روح کے بعد قبر میں سنتے ہیں جبکہ اس عقیدہ پر اہل حدیث دیوبندیوں اور بریلویوں پر گمراہ ہونے کا فتوی دیتے ہیں

(۱)یہ ٹھیک ہے کہ ان احادیث میں روح کا جسم سے علیحدہ اور جنت میں ہونا ثابت ہوتا ہے۔مگر کیا جنت کے اس مقام کو نبی ﷺ نے قبر قرار دیا ہے؟
(۲)قرآن وحدیث میں جہاں بھی ’’میت‘‘کے الفاظ ہیں(اور میت ہم سب جانتے ہیں کہ مردے کو کہا جاتا ہے جس کی روح پرواز کر جاتی ہے،مگر جسم ہمارے سامنے ہی ہوتا ہے جسے ہم دفناتے یا کفناتے ہیں) ان میں سے اکثر کے ساتھ ’’قبر‘‘کے الفاظ بھی ہیں یا ’’قبر کے احکام‘‘بھی مووجود ہیں مثلا دفنانا ،ان پر بیٹھنے کی ممانعت،انکی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا،انہیں پکا نہ بنانا۔وغیرہ وغیرہ۔۔اب اگر آپ جنت کے اس روح والے مقام کو’’قبر ‘‘قرار دے لیں گے توپھر اس کے احکام بھی بتانے پڑیں گے!؟
(۳)بعض ارواح کا مسکن عرش کے نیچے قندیل اور بعض کا جنت کے درخت ہیں تو کیا آپ ’’درخت‘‘ اور ’’قندیل‘‘کو ’’قبر ‘‘سمجھتے ہیں؟
(۴)کیا آپ ایک بھی آیت یا حدیث دکھا سکتے ہیں جس میں اس مقام کو نبی ﷺ نے’’قبر‘‘کہا ہو یا تشبیہ دی ہو قبر سے؟
(۵)جو احادیث آپ نے پیسٹ کی ہیں ان میں ’’قبر ‘‘کے الفاظ کہاں ہیں؟

جواب

اصل میں یہ بحث دو باتوں پر ہے

اول زمینی قبر کا کیا مقصد ہے؟
دوم عذاب قبر کہاں ہوتا ہے؟

زمینی قبر جس کو عرف عام میں قبر کہا جاتا ہے یہ میت یا جسد کا مقام ہے جہاں اس کو رکھا جاتا ہے تاکہ جسد مٹی میں تبدیل ہو جائے
اس جسد میں سے جان کی رمق نہیں ہوتی اور ہڈی میں بھی جان نہیں ہوتی
الله تعالی قرآن میں کہتے ہیں کہ وہ ہڈیوں کو زندہ کرے گا

رسول الله صلي الله عليہ وسلم کے قول کہ جو مرا  فقد قَامَت قِيَامَته اس پر اسکي قيامت قائم ہوئي پر بحث کرتے ہوئے ابن حزم  (المتوفى: 456هـ) کتاب  الفصل في الملل والأهواء والنحل  ميں لکھتے ہيں

قَالَ أَبُو مُحَمَّد وَإِنَّمَا عَنى رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم بِهَذَا الْقيام الْمَوْت فَقَط بعد ذَلِك إِلَى يَوْم الْبَعْث كَمَا قَالَ عز وَجل {ثمَّ إِنَّكُم يَوْم الْقِيَامَة تبعثون} فنص تَعَالَى على أَن الْبَعْث يَوْم الْقِيَامَة بعد الْمَوْت بِلَفْظَة ثمَّ الَّتِي هِيَ للمهلة وَهَكَذَا أخبر عز وَجل عَن قَوْلهم يَوْم الْقِيَامَة {يا ويلنا من بعثنَا من مرقدنا هَذَا} وَأَنه يَوْم مِقْدَاره خَمْسُونَ ألف سنة وَأَنه يحيي الْعِظَام وَيبْعَث من فِي الْقُبُور فِي مَوَاضِع كَثِيرَة من الْقُرْآن وبرهان ضَرُورِيّ وَهُوَ أَن الْجنَّة وَالنَّار موضعان ومكانان وكل مَوضِع وَمَكَان ومساحة متناهية بِحُدُودِهِ وبالبرهان الَّذِي قدمْنَاهُ على وجوب تناهي الإجسام وتناهى كل مَا لَهُ عدد وَيَقُول الله تَعَالَى {وجنة عرضهَا السَّمَاوَات وَالْأَرْض} فَلَو لم يكن لتولد الْخلق نِهَايَة لكانوا أبدا يحدثُونَ بِلَا آخر وَقد علمنَا أَن مصيرهم الْجنَّة أَو النَّار ومحال مُمْتَنع غير مُمكن أَن يسع مَا لَا نِهَايَة لَهُ فيماله نِهَايَة من الماكن فَوَجَبَ ضَرُورَة أَن لِلْخلقِ نِهَايَة فَإِذا ذَلِك وَاجِب فقد وَجب تناهى عَالم الذَّر والتناسل ضَرُورَة وَإِنَّمَا كلامنا هَذَا مَعَ من يُؤمن بِالْقُرْآنِ وبنبوة مُحَمَّد صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَادّعى الْإِسْلَام وَأما من أنكر الْإِسْلَام فكلامنا مَعَه على مَا رتبناه فِي ديواننا هَذَا من النَّقْض على أهل الْإِلْحَاد حَتَّى تثبت نبوة مُحَمَّد صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَصِحَّة مَا جَاءَ بِهِ فنرجع إِلَيْهِ بعد التَّنَازُع وَبِاللَّهِ تَعَالَى التَّوْفِيق وَقد نَص الله تَعَالَى على أَن الْعِظَام يُعِيدهَا ويحيها كَمَا كَانَت أول مرّة وَأما اللَّحْم فَإِنَّمَا هُوَ كسْوَة كَمَا قَالَ {وَلَقَد خلقنَا الْإِنْسَان من سلالة من طين ثمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَة فِي قَرَار مكين}

امام ابن حزم نے کہا کہ بے شک رسول الله صلي الله عليہ وسلم نے خبر دي قيام سے مراد فقط موت ہے کيونکہ اب اس کو يوم بعث پر اٹھايا جائے گا جيسا الله تعالي نے کہا {ثمَّ إِنَّكُم يَوْم الْقِيَامَة تبعثون}  پھر تم کو قيامت کے دن اٹھايا جائے گا پس نص کي الله تعالي نے ان الفاظ سے کہ زندہ ہونا ہو گا قيامت کے دن موت کے بعد يعني يہ ايک ڈيڈ لائن ہے اور اسي طرح الله نے خبر دي قيامت پر اپنے قول سے  {يَا ويلنا من بعثنَا من مرقدنا هَذَا}  ہائے بربادي کس نے ہميں اس نيند کي جگہ سے اٹھايا  اور اس دن کي مقدار پچاس ہزار سال کي ہے اور بے شک اس نے خبر دي قرآن ميں اور برہان ضروري سے کثير مقامات پر کہ وہ ہڈيوں کو زندہ کرے گا اور جو قبروں ميں ہيں انکو جي بخشے گا  –  جنت و جہنم دو جگہيں ہيں اور مکان ہيں اور ہر مکان کي ايک حدود اور انتھي ہوتي ہے اور وہ برہان جس کا ہم نے ذکر کيا واجب کرتا ہے کہ اس ميں اجسام لا متناہي نہ ہوں اور گنے جا سکتے ہوں اور الله کا قول ہے {وجنة عرضهَا السَّمَاوَات وَالْأَرْض}   وہ جنت جس کي چوڑائي آسمانوں اور زمين کے برابر ہے اور ….  پس ضروري ہے کہ مخلوق کي انتھي ہو  … اور بے شک اللہ تعالي نے نص دي کہ ہڈيوں کو واپس شروع کيا جائے گا اور انکو زندہ کيا جائے گا جيسا پہلي دفعہ تھا اور جو گوشت ہے تو وہ تو اس ہڈي پر غلاف ہے جيسا الله نے کہا   {وَلَقَد خلقنَا الْإِنْسَان من سلالة من طين ثمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَة فِي قَرَار مكين} اور بے شک ہم نے انسان کو خلق کيا مٹي سے پھر اس کا نطفہ ايک ٹہرنے والي جگہ کيا

ابن حزم بار بار الله تعالي کے قول کي ياد دہاني کرا رہے ہيں کہ موت کے بعد اجسام ہڈيوں ميں بدل جائيں گے اور زندہ بھي ہڈي کو کيا جائے گا پھر اس پر گوشت کا غلاف آئے گا لہذا يہ ظاہر ہے کان يا آلات سماعت تو گوشت کے ھوتے ہيں جب وہ ہي معدوم ہو جائيں تو انسان کيسے سنے گا

اس لئے قبر کا مقصد صرف یہی ہے کہ جسم کو مٹی مٹی کیا جائے اور ستر پوشی ہو ورنہ اس جسم کو جانور کھا جائیں گے

دوم دوسرا سوال ہے کہ عذاب قبر کہاں ہوتا ہے تو اس پر اہل سنت شروع سے دو رائے رہے ہیں ایک یہ کہ یہ البرزخ میں ہوتا ہے جو عالم بالا میں ہے دوسرا گروہ کہتا ہے یہ اسی ارضی قبر میں ہوتا ہے
ہمارا تعلق اس گروہ سے ہےجو یہ کہتا ہے کہ یہ اس دنیا میں نہیں ہوتا – اس پر علماء کہتے ہیں

ابن الجوزی اپنی کتاب تلبیس ابلیس میں لکھتے ہیں کہ
فإنه لما ورد النعيم والعذاب للميت علم أن الإضافة حصلت إلى الأجساد والقبور تعريفا كأنه يقول صاحب هذا القبر الروح التي كانت في هذا الجسد منعمة بنعيم الجنة معذبة بعذاب النار
پس یہ جو آیا ہے میت پر نعمت اور عذاب کا تو جان لو کہ (القبر کا ) اضافہ سے تعريفا (نہ کہ حقیقا ) قبروں اور اجساد کی طرف (اشارہ ) ملتا ہے جیسے کہا جائے کہ صاحب القبر کی روح کو جو اس جسد میں تھی جنت کی نعمتوں سے عیش میں (یا ) آگ کے عذاب سے تکلیف میں
امام الأشعري (المتوفى: 324هـ) اپنی کتاب مقالات الإسلاميين واختلاف المصلين میں مسلمانوں کے اختلاف کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
واختلفوا في عذاب القبر: فمنهم من نفاه وهم المعتزلة والخوارج، ومنهم من أثبته وهم أكثر أهل الإسلام، ومنهم من زعم أن الله ينعم الأرواح ويؤلمها فأما الأجساد التي في قبورهم فلا يصل ذلك إليها وهي في القبور
اور عذاب القبر میں انہوں نے اختلاف کیا : پس ان میں سے بعض نے نفی کی اور یہ المعتزلة اور الخوارج ہیں – اور ان میں سے کچھ نے اثبات کیا ہے اور یہ اکثر اہل اسلام ہیں اور ان میں سے بعض نے دعوی کیا ہے کہ یہ صرف روح کو ہوتا ہے اور جسموں کو جو قبروں میں ہیں ان تک نہیں پہنچتا
ابن حزم الأندلسي القرطبي الظاهري (المتوفى: 456هـ) اپنی کتاب المحلى بالآثار میں لکھتے ہیں کہ
وَلَمْ يَرْوِ أَحَدٌ أَنَّ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ رَدَّ الرُّوحِ إلَى الْجَسَدِ إلَّا الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ
اور کسی نے یہ روایت نہیں کیا کہ عذاب القبر میں روح جسم کی طرف لوٹائی جاتی ہے سوائے الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو کے اور وہ قوی نہیں
اپنی دوسری کتاب الفصل في الملل والأهواء والنحل میں لکھتے ہیں کہ
لِأَن فتْنَة الْقَبْر وعذابه وَالْمَسْأَلَة إِنَّمَا هِيَ للروح فَقَط بعد فِرَاقه للجسد إِثْر ذَلِك قبر أَو لم يقبر
بے شک فتنہ قبر اور عذاب اور سوال فقط روح سے ہوتا ہے جسم سے علیحدہ ہونے کے بعد چاہے اس کو قبر ملے یا نہ ملے
ابن الخراط (المتوفى: 581هـ) کتاب العاقبة في ذكر الموت میں لکھتے ہیں
وَقد ضرب بعض الْعلمَاء لتعذيب الرّوح مثلا بالنائم فَإِن روحه تتنعم أَو تتعذب والجسد لَا يحس بِشَيْء من ذَلِك
اور بعض علماء کہتے ہیں کہ روح کو عذاب ہوتا ہے مثلا سونے والے کی طرح پس اس کی روح منعم یامعذب ہوتی ہے اور جسد کوئی شے محسوس نہیں کرتا اس میں سے

محمد أنور شاه بن معظم شاه الكشميري الهندي (المتوفى: 1353هـ) کتاب العرف الشذي شرح سنن الترمذي میں لکھتے ہیں
ثم لأهل السنة قولان؛ قيل: إن العذاب للروح فقط، وقيل: للروح والجسد والمشهور الثاني
پھر اہل السنہ ہے دو قول ہیں: کہتے ہیں کہ عذاب صرف روح کو ہے اور کہتے ہیں روح و جسد کو ہے اور دوسرا قول مشھور ہے

(۱)یہ ٹھیک ہے کہ ان احادیث میں روح کا جسم سے علیحدہ اور جنت میں ہونا ثابت ہوتا ہے۔مگر کیا جنت کے اس مقام کو نبی ﷺ نے قبر قرار دیا ہے؟

حدیث میں یہ لفظ اس طرح نہیں آیا لیکن قرآن میں سوره عبس میں انسان پر گزرنے والے ادوار کا ذکر ہے اس میں تمام انسانوں کے لئے قبر کا ذکر ہے

(۲)قرآن وحدیث میں جہاں بھی ’’میت‘‘کے الفاظ ہیں(اور میت ہم سب جانتے ہیں کہ مردے کو کہا جاتا ہے جس کی روح پرواز کر جاتی ہے،مگر جسم ہمارے سامنے ہی ہوتا ہے جسے ہم دفناتے یا کفناتے ہیں) ان میں سے اکثر کے ساتھ ’’قبر‘‘کے الفاظ بھی ہیں یا ’’قبر کے احکام‘‘بھی مووجود ہیں مثلا دفنانا ،ان پر بیٹھنے کی ممانعت،انکی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا،انہیں پکا نہ بنانا۔وغیرہ وغیرہ۔۔اب اگر آپ جنت کے اس روح والے مقام کو’’قبر ‘‘قرار دے لیں گے توپھر اس کے احکام بھی بتانے پڑیں گے!؟
جواب
قبر سے مراد زمین کا مقام ہے اگر جسد کی بات ہو اور اس سے مراد روح کا مقام ہے
احکام صرف اس دنیا پر لاگو ہوتے ہیں عالم بالا تک انسان جا ہی نہیں سکتے تو اس کے احکام کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا لہذا حدیث میں جب احکام المیت کا ذکر ہے تو ص سے مراد دنیا کا مقام ہی ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں لہذا یہ نزآع کا مقام نہیں

(۳)بعض ارواح کا مسکن عرش کے نیچے قندیل اور بعض کا جنت کے درخت ہیں تو کیا آپ ’’درخت‘‘ اور ’’قندیل‘‘کو ’’قبر ‘‘سمجھتے ہیں؟
جواب یہ تمام مقامات روح کے لئے اس کی قبر ہی ہیں

(۴)کیا آپ ایک بھی آیت یا حدیث دکھا سکتے ہیں جس میں اس مقام کو نبی ﷺ نے’’قبر‘‘کہا ہو یا تشبیہ دی ہو قبر سے؟
(۵)جو احادیث آپ نے پیسٹ کی ہیں ان میں ’’قبر ‘‘کے الفاظ کہاں ہیں؟
ہم اس کے لئے روایت پیش کرتے ہیں

صحیح مسلم کی روایت ہے

حدثنا حماد بن زيد، عن هشام بن عروة، عن أبيه، قال: ذكر عند عائشة قول ابن عمر: الميت يعذب ببكاء أهله عليه، فقالت: رحم الله أبا عبد الرحمن، سمع شيئا فلم يحفظه، إنما مرت على رسول الله صلى الله عليه وسلم جنازة يهودي، وهم يبكون عليه، فقال: «أنتم تبكون، وإنه ليعذب»

حماد بن زيد کہتے ہیں ہم سے هشام بن عروة نے بیان کیا ان سے انکے باپ نے کہا عائشہ رضی الله تعالی عنہا کے سامنے ابن عمر رضی الله تعالی عنہ کی بات کا ذکر ہوا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے، پس اس پر آپ رضی الله تعالی عنہا نے فرمایا الله رحم کرے ابو عبد الرحمان پر انہوں نے سنا لیکن یاد نہ رکھ سکے. بے شک الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم ایک یہودی کے جنازہ پر گزرے جس پر اس کے گھر والے رو رہے تھے اپ نے فرمایا یہ اس پر روتے ہیں اور اس کو عذاب دیا جا رہا ہے

بخاری میں یہ روایت ایک دوسری سند سے بھی ہے

حَدَّثَنا عَبْدُ الله بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الله بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا: سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ الله عَنْهَا، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يَبْكِي عَلَيْهَا أَهْلُهَا، فَقَالَ: «إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا»

اس روایت کے مطابق نبی صلی الله علیہ وسلم یہودیہ پر سے گزرے تھے (تدفین سے پہلے) جس پر اس کے گھر والے رو رہے تھے اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اسکو اسکی قبر میں عذاب ہو رہا ہے جبکہ وہ میت ابھی دفن بھی نہیں ہوئی تھی

جواب

ارشد کمال کتاب المسند فی عذاب القبر میں روایت پیش کرتے ہیں

ارشد-بول

یہ روایت کتب حدیث میں  الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کی سند سے ہے

کتاب العلل از الترمذی کے مطابق

سَأَلْتُ مُحَمَّدًا ….. قُلْتُ لَهُ فَحَدِيثُ أَبِي عَوَانَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا، كَيْفَ هُوَ؟ قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ , وَهَذَا غَيْرُ ذَاكَ الْحَدِيثِ

امام بخاری سے سوال کیا کہ پیشاب کے بارے میں حدِيثُ أَبِي عَوَانَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کیسی ہے ؟ انہوں نے  کہا صحیح ہے

لیکن کتاب العلل از الترمذی  کی سند نہیں ہے اور یہ  کتاب ثابت نہیں ہے

اس کے برعکس  کتاب العلل از ابن ابی حاتم کے مطابق

قال ابن أبي حاتم: سالت أبي عن حديث رواه عفان، عن أبي عوانة، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وعلى آله وَسَلَّمَ قال: ((أكثر عذاب القبر في البول)) . قال أبي: هذا حديث باطل يعني رفعه

ابن ابی حاتم کہتے ہیں میں نے اپنے باپ سے حدیث جو عفان، عن أبي عوانة، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وعلى آله وَسَلَّمَ کی سند سے ہے کہ اکثر عذاب قبر پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کھا یہ حدیث باطل ہے یعنی رفع کی گئی ہے

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی وفات سے متعلق ایک روایت کی تحقیق مطلوب ہے

کیا ان روایات کی سند صحیح ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فوت ہوئے تو ان کے کفن میں ایک سفید رنگ کا پرندہ گھس گیا اور پہر واپس نہیں آیا اور ان کی قبر میں سے ان آیات کی تلاوت کی آواز بھی سنی گئی { يا أيتها النفس المطمئنة } { ارجعي إلى ربك راضية مرضية } { فادخلي في عبادي } { و ادخلي جنتي }؟

جیسا کہ مندرجہ ذیل روایات میں ذکر ہے:
و أخبرني محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق ثنا الفضل بن إسحاق الدوري ثنا مروان بن شجاع عن سالم بن عجلان عن سعيد بن جبير قال : مات ابن عباس بالطائف فشهدت جنازته فجاء طير لم ير على خلقته و دخل في نعشه فنظرنا و تأملنا هل يخرج فلم ير أنه خرج من نعشه فلما دفن تليت هذه الآية على شفير القبر و لا يدري من تلاها { يا أيتها النفس المطمئنة } { ارجعي إلى ربك راضية مرضية } { فادخلي في عبادي } { و ادخلي جنتي } قال : و ذكر إسماعيل بن علي و عيسى بن علي أنه طير أبيض
حدثنا إسماعيل بن محمد الفضل ثنا جدي ثنا سنيد بن داود ثنا محمد بن فضيل حدثني أجلح بن عبد الله عن أبي الزبير قال شهدت جنازة عبد الله بن عباس رضى الله تعالى عنهما بالطائف فرأيت طيرا أبيض جاء حتى دخل تحت الثوب فلم يزحزح بعد

سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا:ابن عباس رضی اللہ عنہما طائف میں فوت ہوئے اور میں آپ کے جنازے میں موجود تھا،پھر ایک بے مثال اور اجنبی قسم کا پرندہ آکر آپ کی چارپائی یا تابوت میں داخل ہوکر غائب ہوگیا اور اسے کسی نے باہر نکلتے ہوئے نہیں دیکھا۔پھر جب آپ کو دفن کیا گیا تو قبر کے ایک کنارے پر یہ غیبی آواز سنی گئی:اے مطمئن روح!اپنے رب کی طرف راضی مرضی حالت میں واپس جاو،پھر میرے بندوں میں شامل ہوجاو اور جنت میں داخل ہوجاو۔/سورۃ الفجر٢٨-٢٩

(فضائل صحابہ للامام احمد:١٨٧٩،وسندہ حسن،المعجم الکبیر للطبرانی ٢٩٠/١٠ح١٠٥٨١،المستدرک للحاکم

٥٤٣/٣-٥٤٤ح٦٣١٢،دلائل النبوۃ للمستغفری ٦٣٤/٢ح٤٤٥)

کتاب الاربعین للشیخ الاسلام ابن تیمیہ بتحقیق حافظ زبیر علی زئی،صفحہ ١٢٥-١٢٦

جواب

اسکی سند میں مَرْوَانُ بنُ شُجَاعٍ الأُمَوِيُّ ہے جن کی حیثیت مختلف فیہ ہے
أَبُو حَاتِمٍ: کہتے ہیں حجت نہیں ہے
قال ابن حبان: يروي المقلوبات عن الثقات.
ابن حبان کہتے ہیں مقلوبات ثقات کے حوالے سے بیان کرتے ہیں

دوسری کی ایک سند میں فرات بن سائب ہے جس پر بھی جرح ہے
مصنف ابن ابی شیبہ کی سند میں شعيب بن يَسَار، مولى ابن عباس. ہے جس کا حال معلوم نہیں ہے

musnad ahmed ki riwayat rooh ko lotana

مسند احمد:جلد ہشتم:حدیث نمبر 479

براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصاری کے جنازے میں نکلے ہم قبر کے قریب پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے پھر سر اٹھا کر فرمایا اللہ سے عذاب قبر سے بچنے کے لئے پناہ مانگو، دو تین مرتبہ فرمایا۔ پھر فرمایا کہ بندہ مؤمن جب دنیا سے رخصتی اور سفر آخرت پر جانے کے قریب ہوتا ہے تو اس کے آس پاس سے روشن چہروں والے ہوتے ہیں آتے ہیں ان کے پاس جنت کا کفن اور جنت کی حنوط ہوتی ہے تاحد نگاہ وہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں اے نفس مطمئنہ ! اللہ کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف نکل چل چنانچہ اس کی روح اس بہہ کر نکل جاتی ہے جیسے مشکیزے کے منہ سے پانی کا قطرہ بہہ جاتا ہے ملک الموت اسے پکڑ لیتے ہیں اور دوسرے فرشتے پلک جھپکنے کی مقدار بھی اس کی روح کو ملک الموت کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے بلکہ ان سے لے کر اسے اس کفن لپیٹ کر اس پر اپنی لائی ہوئی حنوط مل دیتے ہیں اور اس کے جسم سے ایسی خوشبو آتی ہے جیسے مشک کا ایک خوشگوار جھونکا جو زمین پر محسوس ہوسکے ۔ پھر فرشتے اس روح کو لے کر اوپر چڑھ جاتے ہیں اور فرشتوں کے جس گروہ پر بھی ان کا گذر ہوتا ہے وہ گروہ پوچھتا ہے کہ یہ پاکیزہ روح کون ہے؟ وہ جواب میں اس کا وہ بہترین نام بتاتے ہیں جس سے دنیا میں لوگ اسے پکارتے تھے حتی کہ وہ اسے لے کر آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں اور دروازے کھلواتے ہیں جب دروازہ کھلتا ہے تو ہر آسمان کے فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں اگلے آسمان تک اسے چھوڑ کر آتے ہیں اور اس طرح وہ ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے کانامہ اعمال ” علیین ” میں لکھ دو اور اسے واپس زمین کی طرف لے جاؤ کیونکہ میں نے اپنے بندوں کو زمین کی مٹی ہی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا۔چنانچہ اس کی روح جسم میں واپس لوٹادی جاتی ہے پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں وہ اسے بٹھاکر پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے میرا رب اللہ ہے وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میرا دین اسلام ہے وہ پوچھتے ہیں کہ یہ کون شخص ہے جو تمہاری طرف بھیجا گیا تھا؟ وہ جواب دیتا ہے کہ وہ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہیں وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا علم کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی ، اس پر آسمان سے ایک منادی پکارتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا اس کے لئے جنت کا بستر بچھادو اسے جنت کا لباس پہنادو اور اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دو چنانچہ اسے جنت کی ہوائیں اور خوشبوئیں آتی رہتیں ہیں اور تاحدنگاہ اس کی قبر وسیع کردی جاتی ہے اور اس کے پاس ایک خوبصورت لباس اور انتہائی عمدہ خوشبو والا ایک آدمی آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تمہیں خوشخبری مبارک ہو یہ وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا وہ اس سے پوچھتاے کہ تم کون ہو؟ کہ تمہارا چہرہ ہی خیر کا پتہ دیتا ہے وہ جواب دیتا ہے کہ میں تمہارا نیک عمل ہوں اس پر وہ کہتا ہے کہ پروردگار! قیامت ابھی قائم کردے تاکہ میں اپنے اہل خانہ اور مال میں واپس لوٹ جاؤں ۔ اور جب کوئی کافر شخص دنیا سے رخصتی اور سفر آخرت پر جانے کے قریب ہوتا ہے تو اس کے پاس آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے اتر کر آتے ہیں جن کے پاس ٹاٹ ہوتے ہیں وہ تاحد نگاہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت يآکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ اے نفس خبیثہ ! اللہ کی ناراضگی اور غصے کی طرف چل یہ سن کر اس کی روح جسم میں دوڑنے لگتی ہے اور ملک الموت اسے جسم سے اس طرح کھینچتے ہیں جیسے گیلی اون سے سیخ کھینچی جاتی ہے اور اسے پکڑ لیتے ہیں فرشتے ایک پلک جھپکنے کی مقدار بھی اسے ان کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے اور اس ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں اور اس سے مردار کی بدبوجیسا ایک ناخوشگوار اور بدبودار جھونکا آتا ہے۔ پھر وہ اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے ان کا گذر ہوتا ہے وہی گروہ کہتا ہے کہ یہ کیسی خبیث روح ہے؟ وہ اس کا دنیا میں لیا جانے والا بدترین نام بتاتے ہیں یہاں تک کہ اسے لے کر آسمان دنیا میں پہنچ جاتے ہیں ۔ در کھلواتے ہیں لیکن دروازہ نہیں کھولاجاتا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ” ان کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ ہی وہ جنت میں داخل ہوں گے تاوقتیکہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے ” اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کانامہ اعمال ” سجین ” میں سے نچلی زمین میں لکھ دو چنانچہ اس کی روح کو پھینک دیا جاتا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ ایسے ہے جیسے آسمان سے گرپڑا پھر اسے پرندے اچک لیں یا ہوا اسے دوردراز کی جگہ میں لے جاڈالے ۔ ” پھر اس کی روح جسم میں لوٹادی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آکر اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے ہائے افسوس ! مجھے کچھ پتہ نہیں ، وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے ؟ وہ پھر وہی جواب دیتا ہے وہ پوچھتے ہیں کہ وہ کون شخص تھا جو تمہاری طرف بھیجا گیا تھا؟ وہ پھر وہی جواب دیتا ہے اور آسمان سے ایک منادی پکارتا ہے کہ یہ جھوٹ بولتا ہے ، اس کے لئے آگ کا بستر بچھادو اور جہنم کا ایک دروازہ اس کے لئے کھول دو چنانچہ وہاں کی گرمی اور لو اسے پہنچنے لگتی ہے اور اس پر قبر تنگ ہوجاتی ہے حتیٰ کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں پھر اس کے پاس ایک بدصورت آدمی گندے کپڑے پہن کر آتا ہے جس سے بدبو آرہی ہوتی ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تجھے خوشخبری مبارک ہویہ وہی دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ پوچھتا ہے کہ تو کون ہے ؟ کہ تیرے چہرے ہی سے شر کی خبر معلوم ہوتی ہے وہ جواب دیتا ہے کہ میں تیراگندہ عمل ہوں تو اللہ کی اطاعت کے کاموں میں سست اور اس کی نافرمانی کے کاموں میں چست تھا لہٰذا اللہ نے تجھے برا بدلہ دیاہے پھر اس پرا ایک ایسے فرشتے کو مسلط کردیا جاتا ہے جواندھا، گونگا اور بہرا ہو اس کے ہاتھ میں اتنا بڑا گرز ہوتا ہے کہ اگر کسی پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہوجائے اور وہ اس گرز سے اسے ایک ضرب لگاتا ہے اور وہ ریزہ ریزہ جاتا ہے پھر اللہ اسے پہلے والی حالت پر لوٹادیتا ہے پھر وہ اسے ایک اور ضرب لگاتا ہے جس سے وہ اتنی زور سے چیخ مارتا ہے کہ جن و انس کے علاوہ ساری مخلوق اسے سنتی ہے پھر اس کے لئے جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور آگ کا فرش بچھادیا جاتاہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے –

اس کی سند میں المنھال بن عمرو کا تفرد ہے

qurbani-sanabli-2

غیر مقلدین : عقیدے میں بد احتیاطی اور عمل میں اتنی محنت!  المنھال کی روایت پر قربانی نہیں کر رہے لیکن اپنے ایمان کو قربان کر رہے ہیں

نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے بے شک وہ سنتی ہے ان کی جوتیوں کی چاپ جب وہ پلٹتے ہیں اس سے پس اگر مومن ہو تو نماز اس کے سر ہوتی ہے اور روزہ ہو تو دائیں اور زکات اس کے بائیں اور نیک کام جیسے صدقه صلہرحمی معروف اور احسان لوگوں پر اس کے پیروں پر ہوتے ہیں
پھر سر کی طرف سے نماز بولتی ہے مجھ سے (نامہ اعمال میں) کیا داخل کیا …(اسی طرح تمام اعمال بولتے ہیں)

اس کی سند ہے
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ

ابن حبان کی اس روایت پر شعيب الأرنؤوط اور حسين سليم أسد الدّاراني حکم لگاتے ہیں
إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو
مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ کی وجہ سے اسناد حسن ہیں

حسن روایت پر عقیدہ نہیں بنایا جاتا ان کو فضائل میں پیش کیا جاتا ہے

قبر میں فتنہ سے متعلق بعض راویوں نے ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے بہت سی متضاد روایات منسوب کی ہیں
ان میں ہیں

⇑ ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے منسوب روایت
http://www.islamic-belief.net/masalik/غیر-مقلدین/
اس کی سند ہے مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
اس راوی کے مطابق الله تعالی کسی آسمان پر ہے نعوذ باللہ جہاں روح کو پہنچا دیا جاتا ہے

سنن نسائی میں قتادہ مدلس کے عنعنہ کے ساتھ دوسری روایت ہے
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” إِذَا حُضِرَ الْمُؤْمِنُ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي رَاضِيَةً مَرْضِيًّا عَنْكِ إِلَى رَوْحِ اللَّهِ، وَرَيْحَانٍ، وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ الْمِسْكِ، حَتَّى أَنَّهُ لَيُنَاوِلُهُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ بَابَ السَّمَاءِ فَيَقُولُونَ: مَا أَطْيَبَ هَذِهِ الرِّيحَ الَّتِي جَاءَتْكُمْ مِنَ الْأَرْضِ، فَيَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَهُمْ أَشَدُّ فَرَحًا بِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِغَائِبِهِ يَقْدَمُ عَلَيْهِ، فَيَسْأَلُونَهُ: مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ فَيَقُولُونَ: دَعُوهُ فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمِّ الدُّنْيَا، فَإِذَا قَالَ: أَمَا أَتَاكُمْ؟ قَالُوا: ذُهِبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا احْتُضِرَ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ بِمِسْحٍ فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي سَاخِطَةً مَسْخُوطًا عَلَيْكِ إِلَى عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَتَخْرُجُ كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ، حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ بَابَ الْأَرْضِ، فَيَقُولُونَ: مَا أَنْتَنَ هَذِهِ الرِّيحَ حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْكُفَّارِ

اس میں ہے روح کو باب ارض پر لے کر جاتے ہیں جہاں کفار ہیں

اوپر والی تمام ضعیف روایات ہیں
———————
اس کے بر عکس صحیح مسلم کی روایت ہے جو ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَكَانِ يُصْعِدَانِهَا» – قَالَ حَمَّادٌ: فَذَكَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا وَذَكَرَ الْمِسْكَ – قَالَ: ” وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ: رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ، صَلَّى الله عَلَيْكِ وَعَلَى جَسَدٍ كُنْتِ تَعْمُرِينَهُ، فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَقُولُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ “، قَالَ: ” وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ – قَالَ حَمَّادٌ وَذَكَرَ مِنْ نَتْنِهَا، وَذَكَرَ لَعْنًا – وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ رُوحٌ: خَبِيثَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ. قَالَ فَيُقَالُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ “، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَرَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَيْطَةً كَانَتْ عَلَيْهِ، عَلَى أَنْفِهِ، هَكَذَا
: عبیداللہ بن عمر قواریری حماد بن زید بدیل عبداللہ بن شقیق ، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جب کسی مومن کی روح نکلتی ہے تو دو فرشتے اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں تو آسمان والے کہتے ہیں کہ پاکیزہ روح زمین کی طرف سے آئی ہے اللہ تعالیٰ تجھ پر اور اس جسم پر کہ جسے تو آباد رکھتی تھی رحمت نازل فرمائے پھر اس روح کو اللہ عزوجل کی طرف لے جایا جاتا ہے پھر اللہ فرماتا ہے کہ تم اسے آخری وقت کے لئے لے چلو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کافر کی روح جب نکلتی ہے تو آسمان والے کہتے ہیں کہ خبیث روح زمین کی طرف سے آئی ہے پھر اسے کہا جاتا ہے کہ تم اسے آخری وقت کے لئے لے چلو – ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی چادر اپنی ناک مبارک پر اس طرح لگالی تھی

اس کے مطابق روح کو واپس قبر میں نہیں ڈالا جا رہا جیسا کہ بعض راوی ابو ہریرہ سے منسوب کرتے ہیں اور یہ صحیح روایت ہے

صحیح مسلم کی اس روایت کا ترجمہ بھی تبدیل کیا جاتا ہے اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے
آخری وقت کے لئے سجین کی طرف لے چلو
جبکہ سجیین کا لفظ عربی متن میں نہیں ہے

مسند الحمیدی میں ہے کہ کعب بن مالک أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، کہ جب ان کی وفات کا وقت تھا اور مسند احمد میں ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ مُبَشِّرٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَهُوَ شَاكٍ: اقْرَأْ عَلَى ابْنِي السَّلَامَ، تَعْنِي مُبَشِّرًا، فَقَالَ: يَغْفِرُ اللهُ لَكِ يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ، أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُسْلِمِ طَيْرٌ تَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يُرْجِعَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ” قَالَتْ: صَدَقْتَ، فَأَسْتَغْفِرُ اللهَ
أم بشر بنت البراء بن معرور آئیں اور کعب سے کہا میرے (فوت شدہ) بیٹے کو سلام کہیے گا (یعنی جنت جب ملاقات ہو) اس پر کعب نے کہا الله تمہاری مغفرت کرے کیا تم نے سنا نہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلم کی روح ، پرندہ ہے جنت کے درخت پر لٹکتی ہے یہاں تک کہ روز محشر الله اسکو اس کے جسد میں لوٹا دے ام مبشر نے کہا سچ کہا میں الله سے مغفرت طلب کرتی ہوں

اس کی سند صحیح ہے

صحیح بخاری
كتاب الجنائز
باب: باب قول الميت وهو على الجنازة قدموني:
باب: نیک میت چارپائی پر کہتا ہے کہ مجھے آگے بڑھائے چلو (جلد دفناؤ)
حدیث نمبر: 1316
حدثنا عبد الله بن يوسف حدثنا الليث حدثنا سعيد عن ابيه انه سمع ابا سعيد الخدري رضي الله عنه ، قال:‏‏‏‏ كان النبي صلى الله عليه وسلم ، يقول:‏‏‏‏ ” إذا وضعت الجنازة فاحتملها الرجال على اعناقهم فإن كانت صالحة قالت:‏‏‏‏ قدموني وإن كانت غير صالحة قالت لاهلها:‏‏‏‏ يا ويلها اين يذهبون بها ، يسمع صوتها كل شيء إلا الإنسان ولو سمع الإنسان لصعق “.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا۔ ان سے ان کے والد (کیسان) نے اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جب میت چارپائی پر رکھی جاتی ہے اور لوگ اسے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں اس وقت اگر وہ مرنے والا نیک ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ مجھے جلد آگے بڑھائے چلو۔ لیکن اگر نیک نہیں ہوتا تو کہتا ہے کہ ہائے بربادی! مجھے کہاں لیے جا رہے ہو۔ اس کی یہ آواز انسان کے سوا ہر اللہ کہ مخلوق سنتی ہے۔ کہیں اگر انسان سن پائے تو بیہوش ہو جائے۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر: 1316)

جواب

روایت جس پر اپ نے سوال کیا ہے یہ قدمونی قدمونی والی روایت ہے

یہ روایت سعيد بن أبي سعيد المَقْبُرِي المدني کی سند سے ہے اور بخاری میں نامکمل ہے
قال شعبة: ساء بعد ما كبر.
شعبہ کہتے ہیں بوڑھے ہوئے تو خراب ہوئے
وقال محمد بن سعد: ثقة إلا أنه اختلط قبل موته بأربع سنين.
ابن سعد کہتے ہیں موت سے چار سال قبل اختلاط کا شکار تھے

سعید بن ابی سعید کے والد کا نام ابو سعید كيسان المقبری المتوفی ١٠٠ ھ ہے

إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال کے مطابق
وفي كتاب الباجي عن ابن المديني: قال ابن عجلان: كانت عنده أحاديث سندها عن رجال عن أبي هريرة فاختلطت عليه فجعلها كلها عن أبي هريرة.
الباجی کی کتاب میں ابن المدینی سے ہے کہ ابن عجلان نے کہا ان کے پاس احادیث تھیں جو رجال عن ابو ہریرہ سے تھیں پس جب اختلاط ہوا تو انہوں نے تمام کو عن ابوہریرہ کر دیا

قال يحيى القطان: “سمعتُ محمد بن عجلان يقولُ: كان سعيدٌ المقبري يُحَدِّث عن أبيه عن أبي هريرة، وعن رجل عن أبي هريرة، فاختلط عليَّ فجعلتها كلها عن أبي هريرة الميزان: (3/645)
یحیی القطان کہتے ہیں میں نے ابن عجلان کو سنا کہ سعید المقبری اپنے باپ سے اور وہ ابو ہریرہ سے روایت کرتے اور سعید ایک آدمی سے اور وہ ابو ہریرہ سے روایت کرتا لیکن جب سعید کو اختلاط ہوا تو سعید المقبری نے ان تمام روایات کو ابو ہریرہ سے روایت کر دیا

ان سے دو سندوں سے یہ روایت آئی ہے
ایک ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ مُحَمَّدُ بنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ العَامِرِيُّ کی سند سے اور الليث بن سعد کی سند سے

العلل لابن أبي حاتم از محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدريس بن المنذر التميمي، الحنظلي، الرازي ابن أبي حاتم (المتوفى: 327هـ) کے مطابق ایک روایت ابْنِ أَبِي ذئبٍ روایت کرتے سعید المقبری سے وہ اپنے باپ سے وہ ابو ہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کو کوئی حدیث پہنچے جو اچھی لگے کہ میں نے کہی ہو تو اس کو میں نے ہی کہا ہے اور اگر تم کو حدیث پہنچے جو اچھی نہ لگے کہ میں نے کہی ہو تو وہ مجھ سے نہیں نہ میں نے اس کو کہا ہے
اس کو انہوں نے اپنے باپ ابی حاتم پر پیش کیا اور سوال کیا کہ ابْنِ أَبِي ذئبٍ روایت کرتے ہیں
عَنِ ابْنِ أَبِي ذئبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قال: قال رسولُ الله (ص) : إِذَا بَلغَكُمْ عَنِّي حَدِيثًا يَحْسُنُ بِي أَنْ أَقُولَهُ ، فَأَنَا قُلْتُهُ، وَإِذَا بَلغَكُمْ عَنِّي حَدِيثًا لاَ يَحْسُنُ بِي أَنْ أَقُولَهُ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَمْ أَقُلْهُ.
قَالَ أَبِي: هَذَا حديثٌ مُنكَرٌ؛ الثقاتُ لا يَرْفَعُونَهُ
ابی حاتم نے کہا یہ حدیث منکر ہے – ثقات اس کو نہیں پہچانتے

یعنی سعید المقبری کی باپ سے ان کی ابو ہریرہ سے روایت منکر بھی کہی گئی ہے

الطبقات الكبرى از محمد بن سعد (المتوفى: 230هـ) میں اس کا متن ہے

قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، وَمَعْنُ بْنُ عِيسَى قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ: لَا تَضْرِبُوا عَلَيَّ فُسْطَاطًا وَلَا تَتَّبِعُونِي بِنَارٍ، وَأَسْرِعُوا بِي إِسْرَاعًا , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم يَقُولُ: ” إِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَوِ الْمُؤْمِنُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ: قَدِّمُونِي. وَإِذَا وُضِعَ الْكَافِرُ أَوِ الْفَاجِرُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ: يَا وَيْلَتِي أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي ”

ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، نے المقبری سے روایت کیا انہوں نے عبد الرحمان مولی ابو ہریرہ سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے کہ بے شک ابو ہریرہ جب ان کی وفات کا وقت آیا کہا نہ میرے اوپر خیمہ لگانا نہ اگ ساتھ لے کر چلنا اور میرا جنازہ تیزی سے لے جانا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے انہوں نے کہا جب صالح بندے کو بستر پر رکھا جاتا ہے یا مومن بندے کو تو کہتا ہے مجھے لے چلو اور کافر کو بستر پر رکھا جاتا ہے تو کہتا ہے بربادی کہاں جا رہے ہو

یعنی یہ روایت ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی وفات کی ہے جس میں انہوں نے اپنے اوپر اس قول نبی کو ثبت کیا
اس کو روایت کرنے میں سعيد بن أبي سعيد المَقْبُرِي کا تفرد ہے جو اختلاط کا شکار ہوئے
کبھی یہ اس کو مولی عبد الرحمان سے روایت کرتے ہیں کبھی اپنے باپ سے اور اس کی طرف محدثین نے اشارہ کیا کہ انہوں نے اختلاط میں بھول کر تمام کو اپنے باپ سے منسوب کر دیا
لہذا اس روایت میں اشتباہ آ گیا کہ کیا یہ واقعی ابو ہریرہ نے کہا بھی یا نہیں

لہذا راقم کو نہیں معلوم یہ واقعی قول نبی ہے یا نہیں کیونکہ محدثین میں سے بعض نے ان کی روایات کو رد کر دیا ہے جس کی مثال اوپر دی گئی ہے

ڈاکٹر عثمانی نے نزدیک اس کی یہ تاویل ممکن ہے کہ میت کو جنازے پر رکھا گیا اور میت ابھی دفن بھی نہیں ہوئی جبکہ حیات فی القبر کے لئے عود روح ضروری ہے جس کی منکر روایت میں قبر میں عود روح کا ذکر ہے لہذا یہ روایت نہ تو ہماری دلیل ہے نہ حیات فی القبر والوں کی

جواب

اپ کا سوال بہت اہم ہے

الله تعالی نے قرآن میں حکم دیا ہے کہ اس کی کتاب کی اتباع کی جائے اور اس کے رسول کا حکم چلے گا کسی عثمانی کی اتباع کی قرآن میں کوئی سند نہیں ہے
لہذا ہر مسلم پر فرض ہے کہ کتاب الله پر اپنا عقیدہ جانچ لے یہ قرآن کا حکم ہے

فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى الله والرسول إِن كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بالله واليوم الآخر ذلك خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً
پس کسی بات میں تمہارا تنازع ہو جائے تو اس کو الله اور اس کے رسول کی طرف پلٹ دو اگر تم الله روز آخرت پر ایمان والے ہو یہ خیر ہے اور اچھی تاویل ہے
سورة النساء آية [59

اور کہا
وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فحكمه إلى الله
اور جس چیز میں بھی اختلاف کرو تو حکم الله ہی کا ہے

اور کہا
بَلْ كَذَّبُواْ بِمَا لَمْ يُحِيطُواْ بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ
بلکہ انہوں نے انکار کیا اس کا احاطہ ان کا علم نہ کر سکا اور اس کی تاویل ان تک نہ پہنچی

اور کہا
مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ
ہم سے کتاب میں (وضاحت پر) کوئی چیز نہیں رہ گئی

اور کہا
تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ
ہر چیز کی اس میں وضاحت ہے

اپ نے حیات فی قبر کے مسئلہ پر سوال کیا ہے جو عقیدہ کا ایک اہم مسئلہ ہے لہذا اس کو کتاب الله پر پیش کریں کہیں بھی حیات فی القبر کی دلیل نہیں ملتی
لوگ کہتے ہیں کہ قرآن میں شہداء کی حیات کا ذکر ہے کہ ان کو مردہ مت کہو لیکن وہ ان آیات کا سیاق و سباق نہیں دیکھتے صرف ایک آیت لی اور اس کو اپنی مرضی کامعنی پہنا دیا
یہ آیت منافقین کے اس قول کے رد میں نازل ہوئی تھی کہ بے چارے مسلمان اپنے نبی کے چکر میں جنگوں میں ہلاک ہو گئے ہمارے ساتھ مدینہ میں ہی رهتے تو بچ گئے ہوتے
یہ بات قرآن کہتا ہے انہوں نے بولی اور الله نے کہا نہیں اگر ان
کی موت کا وقت ہوتا تو کہیں بھی ہوتے ہلاک ہوتے اور جو میدان میں شہید ہوئے وہ معدوم نہیں ہوے وہ زندہ ہیں الله کے پاس رزق پا رہے ہیں
مسلمانوں کا تو پہلے سے یہ عقیدہ تھا کہ مریں گے تو جنت میں جائیں گے یہ منافقین کی حماقت تھی جو ایسا کہہ رہے تھے کیونکہ وہ الله کے رسول اور آخرت کے انکاری تھے
ان پر حجت تمام کی گئی کہ جو مرے ہیں وہ الله کے پاس رزق پا رہے ہیں

صحیح مسلم کی مسروق کی حدیث میں اسکی وضاحت ا گئی کہ یہ شہداء اپنی قبروں میں نہیں انکی ارواح الله کے عرش کے نیچے ہیں

اس کے علاوہ ایک عام مومن کے لئے بھی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خبر ہے کہ اس کی روح جنت کے درخت پر معلق ہے
لہذا قرآن میں مکمل وضاحت ہے کہ یہ ارواح جنت میں ہیں اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے مخالف جہنم میں ہیں

إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ (13) وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ الدِّينِ
سورة الانفطار
بے شک نیک لوگ نعمتوں میں ہیں اور فاجر جہنم میں قیامت کے روز اس میں جلیں گے

اسی طرح موسی علیہ السلام کے مخالف جہنم میں ہیں پورا ال فرعون کا لشکر جہنم میں اگ پر پیش ہو رہا ہے جو ڈوب کر مرا

الله تعالی نے خبر دی کہ نوح علیہ السلام نے پوری دنیا کو بد دعا دے دی کہ ایک کافر بچ نہ پائے

الله کا غضب بھڑک گیا اس نے پوری زمین کو پھاڑ ڈالا اور آسمان سے پانی گرنا شروع ہوا
فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ

هم نے آسمان کے دروازے کھول دیے نہروں جیسے پانی کے ساتھ

آسمان کے دروازے کھلے ہیں کفار مر رہے ہیں اور روحیں جلدی جلدی جہنم میں ڈالی جا رہی ہیں

زمین پر اس وقت پانی ہی پانی ہے

وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا

اور ہم نے زمیں کو پھآڑ کر چشموں میں بدل دیا

یعنی قبریں ختم کسی کی بھی قبر نہ رہی نہ آدم علیہ السلام نہ ود کی نہ سواع کی نہ یغوث کی نہ نسر کی جو صالح تھے اور نہ کفار کی سب کی لاشیں پانی میں زندہ بھی مر رہے ہیں اور مردہ بھی تیر رہے ہیں

آدم کیا قبر میں نماز پڑھ رہے تھے ؟ نہیں وہ تو جنت میں تھے ان کا جسم مٹی ہو چکا ہو گا یا اگر جسد تھا بھی تو وہ بھی اسی پانی میں تھا جس سے پوری زمین کو بھرا جا رہا تھا

ان صاف ظاہر بصیرت کے بعد مردے میں عود روح کا عقیدہ رکھنا ایک باطل عقیدہ ہے اس کی دلیل نہ قرآن میں ہے نہ صحیح احادیث میں

صاف کھلے الفاظ میں عود روح کا ذکر ہونا چاہیے کیونکہ یہی زندگی ہے یہ راویوں کو بھی پتا ہے اور حدیث لکھنے والوں کو بھی تبھی تو وہ عود روح کی بات کر رہے ہیں

یہ قبر کی زندگی ایک نئی زندگی ہے اس کو انسان محسوس نہی کر سکتا یہ سب فلسفہ ٤٠٠ ہجری کا ہے اس سے قبل کوئی اس قسم کی وہمی باتیں نہیں کرتا لیکن علماء نے اپنا عقیدہ لیا کن کتابوں سے ہم بتاتے ہیں
أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ) کتاب الإمتاع بالأربعين المتباينة السماع / ويليه أسئلة من خط الشيخ العسقلاني میں لکھتے ہیں
أما روح الْمَيِّت ففارقت جسده فراقا كليا لَكِن يبْقى لَهَا بِهِ اتِّصَال مَا بِهِ يَقع إِدْرَاك لبدن الْمُؤمن التَّنْعِيم وَإِدْرَاك الْكَافِر التعذيب لِأَن النَّعيم يَقع لروح هَذَا وَالْعَذَاب يَقع لروح هَذَا وَيدْرك ذَلِك الْبدن على مَا هُوَ الْمَذْهَب الْمُرَجح عِنْد أهل السّنة فَهُوَ أَن النَّعيم وَالْعَذَاب فِي البرزخ يَقع على الرّوح والجسد وَذهب فريق مِنْهُم على أَنه يَقع على الرّوح فَقَط فقد وَردت آثَار كتبت فِي منامات عديدة تبلغ التَّوَاتُر الْمَعْنَوِيّ فِي تَقْوِيَة الْمَذْهَب الرَّاجِح أورد مِنْهَا الْكثير أَبُو بكر بن أبي الدُّنْيَا فِي كتاب الْقُبُور وَأَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَنْدَه فِي كتاب الرّوح وَذكر الْكثير مِنْهَا ابْن عبد الْبر فِي الاستذكار وَعبد الْحق فِي الْعَاقِبَة وَغَيرهم وَهِي إِن كَانَت لَا تنهض للحجة لَكِنَّهَا مِمَّا تصلح أَن يرجح بِهِ وَإِذا تقرر ذَلِك فَمن قَالَ إِن النَّعيم أَو الْعَذَاب يَقع على الرّوح وَالْبدن مَعًا يَقُول إِن الْمَيِّت يعرف من يزوره وَيسمع من يقْرَأ عِنْده إِذْ لَا مَانع من ذَلِك وَمن قَالَ إِن النَّعيم أَو الْعَذَاب يَقع على الرّوح فَقَط وَلَا يمْنَع ذَلِك أَيْضا إِلَّا من زعم مِنْهُم أَن الْأَرْوَاح المعذبة مَشْغُولَة بِمَا فِيهِ والأرواح المنعمة مَشْغُولَة بِمَا فِيهِ فقد ذهب إِلَى ذَلِك طوائف من النَّاس وَالْمَشْهُور خِلَافه وَسَنذكر فِي السُّؤَال الرَّابِع أَشْيَاء تقَوِّي الْمَذْهَب الرَّاجِح وَالله الْمُوفق
پس جہاں تک میت کی روح کا تعلق ہے تو وہ کلی طور پر جسم سے الگ ہو جاتی ہے لیکن اس کا جسم سے کنکشن باقی رہ جاتا ہے جس سے اگر مومن ہو تو راحت کا احساس ہوتا ہے اور کافر کو عذاب کا ادرک ہوتا ہے کیونکہ بے شک راحت روح کو ہوتی ہے اور عذاب بھی روح کو ہوتا ہے اور بدن اس کا ادرک کرتا ہے جو مذھب راجح ہے اہل سنت کے ہاں کہ عذاب و راحت البرزخ میں روح کو اور جسد کو ہوتا ہے اور ایک فریق کا مذھب ہے کہ صرف روح کو ہوتا ہے لیکن مذھب راجح کو تقویت ملتی ہے ان اثار سے جو نیند کے حوالے سے تواتر کو پہنچے ہوئے ہیں اور کچھ روایات جن کو ابن ابی دنیا نے کتاب القبور میں اور ابو عبداللہ ابن مندہ نے کتاب الروح میں اور ان میں سے بہت سوں کو ابن عبد البر نے الاستذكار میں اور عبد الحق نے کتاب الْعَاقِبَة میں ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہیں کہ … بے شک عذاب و راحت روح اور اس کے ساتھ بدن کو ہوتا ہے کہا ہے کہ بے شک میت اپنے زائر کو جانتی ہے اور اپنے پاس قرات سنتی ہے اور اسمیں کچھ مانع نہیں ہے اور جس نے کہا یہ کہ صرف روح کو عذاب و راحت ہوتی ہے تو اس کو ماننے میں بھی کچھ مانع نہیں سوائے اس کے کہ ارواح عذاب میں ہیں اور یا راحت میں مشغول ہیں اور اس طرف ایک خلقت کا مذھب ہے اور مشھور اس کے خلاف ہے
راجح مذھب کس طرح کی کمزور روایات کے بل پر کھڑا کیا گیا ہے اپ دیکھ سکتے ہیں ابن ابی الدنیا اور کتاب الْعَاقِبَة الاستذکار وغیرہ . راجح مذھب اصل میں کمزور روایات کے بل پر گھڑا گیا ہے اور اسی عینک سے صحیح روایات کی غلط تعبیر کی گئی ہے

ابن ابی دنیا کی کتب یا الْعَاقِبَة یا الاستذکار میں ضعیف روایات ہیں اس پر عقیدہ بنا کر صحیح روایت کی قرآن سے تطبیق دینے کی بجائے اس کو ضعیف روایات سے سمجھا گیا

صحیح بخاری و مسلم کی کسی روایت میں عود روح کا ذکر نہیں ہے میت سے سوال و جواب کا ذکر ہے جو ڈاکٹر عثمانی کی رائے میں حدیث کا صحیح منشا نہ سمجھنے کی بنا پر ہے اس میں جس مقام پر سوال جواب ہو رہا ہے وہ دنیا کی قبر نہیں البرزخ ہے

یہ قول قرآن کے مطابق ہے

کیا صحیح بخاری کی یہ روایت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا قول ہے ؟ علماء کہتے ہیں کہ احادیث ظن غالب ہیں قرآن کی طرح قطعی نہیں ہیں کیونکہ ہم کو معلوم ہے کہ راوی کا حافظہ خراب ہوتا ہے اس کو اختلاط ہو سکتا ہے اس کو وہم ہو سکتا ہے اس کی یادداشت پر فرق پڑ سکتا ہے
ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایسا کوئی حکم نہیں کر سکتے جو قرآن کے خلاف ہو
لہذا اپ صلی الله علیہ وسلم جو کہا اس کو سمجھنا ضروری ہے – اس میں یاد رکھنا چاہیے عقیدے میں روایت وہی صحیح ہے جو قرآن کی آیات کے موافق ہو نہ کہ ان کو رد کرنے والی
ہاں عمل میں قرآن مکمل وضاحت نہیں کرتا صرف حکم کرتا ہے جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم عمل کر کے سکھاتے تھے

——— جوتوں کی چاپ والی روایت—————–
ہمارے پاس شواہد آ چکے ہیں کہ قرع النعال تمام محدثین کی نگاہ میں صحیح روایت نہیں ہے مثلا امام احمد اس پر عمل نہیں کرتے اگرچہ وہ اس کو مسند میں بیان کرتے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کرتے اس روایت کے مطابق دفنانے والے قبر کے پاس جوتیاں پہن کر چل رہے ہیں جن پر دعوی کیا گیا ہے کہ وہ مردہ سنتا ہے جبکہ امام احمد کا حکم تھا کہ جوتیاں اتار دو
یعنی امام احمد باوجود یہ کہ قرع النعال والی روایت کو جانتے ہیں وہ ابوداود کی بشیر بن خصاصہ والی روایت پر عمل کرتے تھے

اب اگر یہ روایت بعض کے نزدیک صحیح تھی تو وہ کیا اس سے واقعی مردے کا سننا لیتے تھے ؟ اس کا جواب نہیں ہے کیونکہ روایت کی تاویل کی جاتی رہی ہے

تیسری صدی کے امام احمد اس روایت پر عمل نہیں کرتے

پانچویں صدی کے لوگ کہتے تھے کہ اس میں مردہ زندہ ہو کر سننے لگتا ہے
طبقات حنابلہ از قاضی ابی یعلی

پانچویں صدی کے حنبلی ابن جوزی کہتے ہیں میت نہ سنتی ہے نہ محسوس کرتی ہے

چھٹی صدی میں امام البغوی (المتوفى: 516هـ) کتاب شرح السنہ میں لکھتے ہیں کہ میت چاپ کو محسوس کرتی ہے
إِنَّ الْمَيِّتَ يَسْمَعُ حِسَّ النِّعَالِ» فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى جَوَازِ الْمَشْيِ فِي النِّعَالِ بِحَضْرَةِ الْقُبُورِ، وَبَيْنَ ظَهْرَانَيْهَا
بغوی کہتے ہیں کہ قول بے شک میت چاپ محسوس کرتی ہے اس میں دلیل ہے چپل پہن کر قبروں کے پاس چلنے کے جواز کی اور ان کے درمیان

١٩٨٠ تک غیر مقلدین کہتے تھے کہ مردہ روح لوٹانے پر زندہ ہو جاتا ہے

آج لوگ کہنے لگے ہیں کہ اس میں مردہ زندہ نہیں ہوتا
غیر مقلدین

یعنی اس روایت میں ابہام ہے تبھی تو اس کی تاویل میں بحث چل رہی ہے

ہم وہی کہتے ہیں امام ابن جوزی اور ابن حزم نے کہا میت نہ سنتی نہ محسوس کرتی ہے
اور امام ابو حنیفہ نے کہا میت فہم نہیں رکھتی جو فقہ میں طلاق کا معروف مسئلہ ہے کہ کوئی کسی سے قسم کھائے کہ تجھ سے کلام کروں تو میری بیوی کو طلاق اور اس سے مرنے کے بعد کلام کر بیٹھا تو طلاق واقع نہیں ہو گی کیونکہ میت نہ سنتی ہے نہ سمجھتی ہے

——–اس میں تفرد ہے —–
قرع النعال والی روایت میں بصریوں کا تفرد ہے
أبو معاوية شيبان بن عبد الرحمن النحوى ، البصرى المتوفی 164 هـ نے اس کو روایت کیا ہے
قال أبو حاتم وحده يكتب حديثه ولا يحتج به
ابو حاتم کہتے ہیں اس کی حدیث لکھ لی جائے دلیل نہ لی جائے
امام مسلم اس کو اس سند سے لکھتے ہیں

اس کو سعيد بن أبي عروبة المتوفی ١٥٦ ھ نے بھی روایت کیا ہے اور اس سند سے امام بخاری لکھتے ہیں
قال يحيى بن معين: اختلط سعيد بعد هزيمة إبراهيم بن عبد الله سنة اثنين وأربعين ومائة ومات هو سنة ست وخمسين
ابن معین کہتے ہیں سعید بن ابی عروبہ ، ابراہیم بن عبد الله کی ہزیمت میں سن ١٤٢ میں مختلط ہو گئے اوروہ ٥٦ سال کی عمر میں فوت ہوئے

یعنی سعید ١٤ سال اختلاط کا شکار رہے لیکن یہ غلطی ہے خروج ١٤٥ میں ہوا لہذا ١١ سال اختلاط کا شکار رہے
ایک دوسرے قول کے مطابق سليمان بن طرخان التيمي المتوفی 143 ه کی تدفین میں ابن ابی عروبہ نے کہا یہ سليمان بن طرخان کون ہے؟ جس پر محدثین نے کہا سعید بن ابی عروبہ کا دماغ چل گیا ہے لہذا یہ ١٣ سال اختلاط کا شکار رہے

اس دوران ان سے بعض محدثین نے سنا جن میں وہ راوی ہیں جو قرع النعال والی روایت بھی بیان کرتے ہیں
یہ ایک فنی بات ہے جس پر شارحین بحث نہیں کرتے کیونکہ وہ بخاری کی حدیث پر جرح کرنا نہیں چاھتے

سوال ہے کہ عقیدہ کی اتنی اہم روایت میں بصریوں کا تفرد کیوں ہے؟ انس رضی اللہ عنہ سے اس کو صرف بصریوں نے کیوں سنا ؟ حالانکہ وہ مدینہ میں رہے شام میں اور عراق کے دوسرے شہروں میں بھی گئے؟

——–

ان شواہد کی روشی میں راقم اپنے اپ کو کوئی ایسی بات عقیدہ میں قبول کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا جس میں راویوں نے گربڑ کی ہو یا اس میں کسی خاص شہر کا تفرد ہو یا جو قرآن کے خلاف ہو

یہ راقم کی رائے ہے ڈاکٹر عثمانی کی اس پر الگ ہے ان کے نزدیک روایت صحیح ہے اور اس کی تاویل کی ہے جو اپ کتاب عذاب البرزخ میں دیکھ سکتے ہیں

لہذا الله کے بندوں کتاب الله پر عقیدہ بنا لو قیامت میں صحیح بخاری یا صحیح مسلم کا سوال نہیں ہو گا کتاب الله کا سوال ہو گا
راویوں کی غلطیاں ان کی غلطیاں ہیں ان کو اپنے سر مت لیں الله ان کو معاف کر دے گا کیونکہ جو بیماری میں بھول گیا اس کی خطا نہیں لیکن جو پورے ہوش میں جان کر کتاب الله کو چھوڑ گیا اس کے پاس کیا جواب ہو گا؟

إس وقت جب هم جان لیں گے کہ
لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إلا من رحم
آج اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں سوائے اس کے جس پر وہ رحم کرے

الله برے حساب سے ہم سب کو بچا لے

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو مختلف انداز میں عذاب قبر سے متعارف کرایا گیا
قرآن میں کفار پر عذاب قبر کی خبر دی گئی جو مکی دور کی سورتیں ہیں مثلا سوره یونس سوره الفصلت وغیرہ

عَنِ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ: «يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا» وَقَالَ النَّضْرُ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَوْنٌ، سَمِعْتُ أَبِي، سَمِعْتُ البَرَاءَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
نبي صلی الله علیہ وسلم نکلے اور سورج غروب ہو چکا تھا پس اپ نے ایک آواز سنی اپ نے کہا یہود کو قبروں میں عذاب ہو رہا ہے

اس روایت کے مطابق کوئی قبرستان نہیں ہے صرف اپ گھر سے نکلے ہیں کہ آواز سنا دی گئی
قبر پرست اس روایت میں اضافہ کرتے ہیں کہ اپ صلی الله علیہ وسلم مدینہ سے نکلے حالانکہ جب بھی حدیث میں خرج النبی آئے اور مقام کا تعین نہ ہو تو اس سے مراد گھر ہی ہوتا ہے

الكواكب الدراري في شرح صحيح البخاري میں کرمانی کہتے ہیں
أن صوت الميت من العذاب يسمعها غير الثقلين فكيف سمع ذلك؟ قلت هو في الضجة المخصوصة وهذا غيرها أو سماع رسول الله صلى الله عليه وسلّم على سبيل المعجزة.
میت کی چیخ عذاب سے اس کا غیر ثقلین کیسے سن لیتے ہیں ؟ میں کرمانی کہتا ہوں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا اور دیگر کا سننا معجزہ ہے

اس مخصوص روایت میں یہ ہے ہی نہیں کہ آواز دیگر نے بھی سنی اس میں صرف رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا سننا بیان ہوا ہے

طبرانی میں اس روایت پر ہے
خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَمَعِي كُوزٌ مِنْ مَاءٍ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ
کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم رفع حاجت کے لئے گھر سے نکلے تھے

————-

مدینہ میں وفات سے چار ماہ قبل مومن پر عذاب قبر کی خبر دی گئی ہے جس میں بہت سی روایات اس سے متعلق کتب میں ہیں
مثلا صحیح بخاری میں ہے

ایک موقعہ پر اپ صحابہ کے ساتھ تھے تو دو قبر والوں پر عذاب ہو رہا تھا اپ نے ان پر ایک ایک ٹہنی لگا دی
ظاہر ہے عالم بالا جا کر عذاب کم نہیں کرا سکتے تھے ٹہنی لگانا بھی بطور وعظ و نصیحت تھا
اپ کے بعد اکابر صحابہ میں سے کسی نے ایسا نہیں کیا کہ قبرستان گیا ہو اور ٹہنی لگائی ہو
البتہ بریلوی فرقہ نے اسی روایت سے قبر پر پھولوں کی چادر کی دلیل لے لی ہے
——

عبد الله بن ابی کی قبر ہو یا کسی اور کی یہ تمام اسی عالم ارضی میں ہیں جس میں ان کی لاشیں گل سڑ رہی ہیں مٹی مٹی ہو رہی ہیں لیکن عالم بالا میں ان کی روحیں عذاب سے گزر رہی ہیں جو روح کا مقام ہے

ابن الجوزی اپنی کتاب تلبیس ابلیس میں لکھتے ہیں کہ
فإنه لما ورد النعيم والعذاب للميت علم أن الإضافة حصلت إلى الأجساد والقبور تعريفا كأنه يقول صاحب هذا القبر الروح التي كانت في هذا الجسد منعمة بنعيم الجنة معذبة بعذاب النار
پس یہ جو آیا ہے میت پر نعمت اور عذاب کا تو جان لو کہ (القبر کا ) اضافہ سے تعريفا (نہ کہ حقیقا ) قبروں اور اجساد کی طرف (اشارہ ) ملتا ہے جیسے کہا جائے کہ صاحب القبر کی روح کو جو اس جسد میں تھی جنت کی نعمتوں سے عیش میں (یا ) آگ کے عذاب سے تکلیف میں ہے

یعنی عذاب قبر تو ایک تعریفی مرکب ہے جس میں قبر کی اضافت ہے یہ ابن جوزی کی رائے ہے

ہمارے لئے شہداء احد کی مثال ہے انہوں نے واپس جسموں میں عود کرنا اور جہاد کرنے کی دعا کی لیکن الله نے اس کو قبول نہیں کیا
ان کے اجسام ان کی قبروں میں ہیں لیکن روحیں عرش سے لٹکتی قندیلوں میں ہیں جہاں وہ راحت پاتے ہیں

کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی روح ایک پرندے کی طرح جنت کے درخت سے لٹکتی رہے گی یہاں تک کہ الله اس کو اس کے جسد میں لوٹا دے

ابن حزم کہتے ہیں روح جس مقام پر ہے وہی اس کی قبر ہے – اسی رائے سے برزخی قبر کی ترکیب نکلتی ہے
اب اپ چاہیں تو ابن جوزی کی طرح عذاب قبر کو مرکب اضافی کہیں یا ابن حزم کی طرح ایک عالم بالا میں ہونے والا عذاب
راقم کے نزدیک دونوں قول صحیح ہیں اور یہ مذھب مختار ہے

غیر مقلدین اور دیوبندیوں بریلویوں کے ہاں عذاب قبر میں خود اپس میں بہت اختلافات ہیں وہ عذاب قبر کی دلیل قرآن سے لیتے ہیں لیکن قرآن میں جو وہ دلائل دیتے ہیں ان سے عذاب قبر ثابت نہیں ہوتا مثلا ال فرعون پر عذاب النار ہے جو جہنم میں ہے اس پر ارشد کمال المسند میں کالے پرندوں کی روایت دیتے ہیں لیکن کتاب عذاب قبر میں اس عذاب کو عذاب قبر ماننے سے انکار کرتے ہیں
ابن کثیر تفسیر میں ال فرعون پر عذاب کو میت سے اتصال ماننے سے انکار کرتے ہیں

تفسيرابن كثيرسوره غافر میں ابن کثیر لکھتے ہیں
أنَّ الْآيَةَ دَلَّتْ عَلَى عَرْضِ الْأَرْوَاحِ إِلَى النَّارِ غُدُوًّا وَعَشِيًّا فِي الْبَرْزَخِ، وَلَيْسَ فِيهَا دَلَالَةٌ عَلَى اتِّصَالِ تَأَلُّمِهَا بِأَجْسَادِهَا فِي الْقُبُورِ، إِذْ قَدْ يَكُونُ ذَلِكَ مُخْتَصًّا بِالرُّوحِ، فَأَمَّا حُصُولُ ذَلِكَ لِلْجَسَدِ وَتَأَلُّمُهُ بِسَبَبِهِ، فَلَمْ يَدُلَّ عَلَيْهِ إِلَّا السُّنَّةُ فِي الْأَحَادِيثِ
بے شک یہ آیت دلالت کرتی ہے ارواح کی آگ پر پیشی پر صبح و شام کو البرزخ میں، اور اس میں یہ دلیل نہیں کہ یہ عذاب ان کے اجساد سے جو قبروں میں ہیں متصل ھو جاتا ہے، پس اس (عذاب) کا جسد کو پہنچنا اور اس کے عذاب میں ہونے پر احادیث دلالت کرتی ہیں

یعنی عذاب قبر میت کو ہوتا ہے قرآن میں کہیں بیان ہی نہیں ہوا
اپ اس کو غور سے پڑھیں یہ ایک نہایت اہم اقرار ہے جس کی پردہ پوشی کی جاتی ہے

:اس بار ے میں شئر کرنا چاہوں گا۔۔انسان کی پیدائش جس سپرم سے ہوتی ہے اس میں جسم بننے سے پہلے زندگی موجود ہوتی ہے ،لیکن رو ح انسان کے مکمل ہو جانے کے بعد اس میں ڈالی جاتی ہے۔اس لئےرو ح انسانی زندگی اور موت کا حصّہ نہیں ہے۔
۔اسی طر ح جب موت آتی ہے تو جسم سے رو ح کے الگ ہونے کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔جہاں کہیں نفس کو موت آنے کا ذکر آتا ہے،علماء کرام اُس کا معنٰے رو ح قبض کرنا یا ہونا کر دیتے ہیں۔حالانکہ رو ح الگ چیز ہے اور نفس الگ

کیا یہ صحیح ہے

جواب

اس سوال میں سائنس کو ملا دیا گیا ہے

مثال ایک جسم میں دو روحیں
ایک حاملہ عورت میں دو روحیں ہوتی ہے ایک اس کی جو اس کے پورے جسم میں سرایت کیے ہوئے ہوتی ہے
اور دوسری وہ روح جو اس کے رحم میں بچے میں ہوتی ہے
یہ دونوں روحیں ایک کے اندر ایک کی طرح ہوتی ہیں ان کو جدا نہیں کر سکتے لیکن اگر عورت مر جائے تو بچہ پھر بھی زندہ ہوتا ہے اور پیٹ کاٹ کر نکالا جا سکتا ہے

مثال دوم
مرد کا جسم یا عورت کا جسم یا کسی بھی جاندار کا جسم کئی قسم کے جراثیم اور لئے ہوئے ہوتا ہے جو انسان کے مرنے کے بعد بھی اس میں ہوتے ہیں اور جسم کو گھلا دیتے ہیں انسان جسم معدوم ہو جاتا ہے اور یہ جراثیم مٹی میں کھاد میں چلے جاتے ہیں

مثال سوم
مرد کے جسم میں اسپرم ہوتا ہے جب وہ اس کے نطفہ کی صورت مرد سے علحدہ ہوا تو وہ مرد کی روح کے دائرۂ سے نکل کر عورت کی روح کے دائرۂ میں داخل ہو جاتا ہے
اسپرم خود ایک زندہ جرثومہ ہے اس کو بقا کے لئے غذا چاہیے جو اس کو مرد یا عورت کے جسم سے ملتی ہے
اگر یہ اسپرم جسم میں داخل نہ ہو اور باہر گر جائے تو یہ کسی روح کے دائرۂ کار میں نہیں رہتا لیکن پھر بھی ١٢ گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے
اس کو لیب میں اسٹور بھی کر لیا جاتا ہے

=============

اس تمام کا روح نفس سے کوئی تعلق نہیں ہے
عربی میں روح اور نفس متبادل الفاظ ہیں ہر متنفس میں روح ہے جو نفخت روحی کے وقت آدم میں آئی اور آدم کا جسد سانس لینے لگا اسی پر اس کو نفس کہا جاتا ہے
اصلا روح یا نفس عبرانی الفاظ ہیں اور ان کے ہاں بھی یہ متبادل الفاظ ہیں ان کا الگ کوئی مفھوم نہیں ہے

اپ نے لکھا سوره الانعام ٩٣ آیت

اسی طر ح جب موت آتی ہے تو جسم سے رو ح کے الگ ہونے کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں
جبکہ قرآن میں ہے
ولو ترى إذ الظالمون في غمرات الموت والملائكة باسطوا أيديهم أخرجوا أنفسكم اليوم تجزون عذاب الهون

فرشتے کہتے ہیں اپنا نفس نکالو

حدیث صحیح مسلم میں ہے

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَكَانِ يُصْعِدَانِهَا» – قَالَ حَمَّادٌ: فَذَكَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا وَذَكَرَ الْمِسْكَ – قَالَ: ” وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ: رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ، صَلَّى الله عَلَيْكِ وَعَلَى جَسَدٍ كُنْتِ تَعْمُرِينَهُ، فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَقُولُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ “، قَالَ: ” وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ – قَالَ حَمَّادٌ وَذَكَرَ مِنْ نَتْنِهَا، وَذَكَرَ لَعْنًا – وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ رُوحٌ: خَبِيثَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ. قَالَ فَيُقَالُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ “، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَرَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَيْطَةً كَانَتْ عَلَيْهِ، عَلَى أَنْفِهِ، هَكَذَا
: عبیداللہ بن عمر قواریری حماد بن زید بدیل عبداللہ بن شقیق ، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جب کسی مومن کی روح نکلتی ہے تو دو فرشتے اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں تو آسمان والے کہتے ہیں کہ پاکیزہ روح زمین کی طرف سے آئی ہے اللہ تعالیٰ تجھ پر اور اس جسم پر کہ جسے تو آباد رکھتی تھی رحمت نازل فرمائے پھر اس روح کو اللہ عزوجل کی طرف لے جایا جاتا ہے پھر اللہ فرماتا ہے کہ تم اسے آخری وقت کے لئے لے چلو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کافر کی روح جب نکلتی ہے تو آسمان والے کہتے ہیں کہ خبیث روح زمین کی طرف سے آئی ہے پھر اسے کہا جاتا ہے کہ تم اسے آخری وقت کے لئے لے چلو – ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی چادر اپنی ناک مبارک پر اس طرح لگالی تھی

======

موت اصلا روح کی جسد سے علیحدگی ہے

روایت میں آتا ہے کہ ابن عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے اسما رضی الله تعالیٰ عنہا سے کہا جب وہ مسجد الحرام کے صحن میں تھیں اور ابن زبیر رضی الله تعالیٰ عنہ کی لاش سولی پر تھی
إن هذه الجثث ليست بشيء وإنما الأرواح عند الله فاتقي الله وعليك بالصبر
بے شک یہ لاشہ کوئی شے نہیں اور بے شک ارواح الله کے پاس ہیں پس الله سے ڈریں اور اس پر صبر کریں

فتاوی علمائے حدیث ج ٩ میں سوره تکویر کی آیت کا ترجمہ ہے
جب جانیں بدنوں سے ملائی جائیں گی

یہی قول راغب الاصفہانی کا مفردات القرآن میں ہے

راغب الأصفهانى (المتوفى: 502ھ) اپنی کتاب المفردات في غريب القرآن میں لکھتے ہیں کہ
وقوله: كُلُّ نَفْسٍ ذائِقَةُ الْمَوْتِ [آل عمران/ 185] فعبارة عن زوال القوّة الحيوانيَّة وإبانة الرُّوح عن الجسد
اور (الله تعالیٰ کا ) قول : كُلُّ نَفْسٍ ذائِقَةُ الْمَوْتِ [آل عمران/ 185] پس یہ عبارت ہے قوت حیوانی کے زوال اور روح کی جسد سے علیحدگی سے

جواب

و علیکم السلام
العبد کا لفظ قرآن میں فرشتوں کے لئے استمعال ہوا ہے اور انسانوں کے لئے بھی
العبد کا مطلب غلامی کرنے والا
انسان روح سے پہلے بشر ہے اس میں روح اتی ہے اس کے بعد یا تو عبد کافر ہے یا عبد شکور ہے

قرآن میں الله تعالی کہتے ہیں
وَقَلِیلٌ مِنْ عِبَادِی الشَّکورُ
اور بہت کم میرے غلام (عبد) شکر کرنے والے ہیں

یعنی انسان جو ناشکرے ہیں وہ بھی عبد ہیں

بعض قبر پرست دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ قرآن میں جب معراج کا ذکر اتا ہے تو آیت ہے
سبحان الذي أسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام إلى المسجد الأقصى
پاک ہے وہ ہستی جو لے گئی اپنے عبد کو مسجد الحرام سے مسجد الاقصی

چونکہ معراج جسمانی تھی لہذا ان کے مطابق عبد کا لفظ کا مطلب ہے روح و جسم کا مجموعہ ہے یہ ان کی دلیل ہے لیکن یہ دلیل بودی ہے
یقینا معراج جسمانی تھی لیکن عبد کا مطلب صرف غلام ہے

أنبياء جن سے معراج کی رات ملاقات ہوئی ان سب کے چہرے نقش تک سے پتا چل رہا تھا کہ کس علاقے کے ہیں

صحیح بخاری کی روایت ہے
وَذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ، فَقَالَ: ” مُوسَى آدَمُ، طُوَالٌ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَقَالَ: عِيسَى جَعْدٌ مَرْبُوعٌ ”
نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میں نے معراج کی رات موسی کو دیکھا لمبے قد کے تھے جیسے شَنُوءَةَ کے مرد ہوتے ہیں اور عیسیٰ متوسط (قد) گھنگھریالے (بالوں والے) تھے

ہم جانتے ہیں کہ انبیاء جنت میں اپنے حقیقی جسموں کے ساتھ نہیں ان کے اجسام قبرووں میں ہیں – انبیاء وہاں اپنے برزخی اجسام کے ساتھ تھے
روح کی شکل کا قرآن میں ذکر نہیں اس کو نفخ کیا جاتا ہے پھونکا جاتا ہے
الله نے آدم کے لئے کہا
نفخت فيه من روحي
پس جب میں اس میں اپنی روح پھونک دوں

روح کے لئے نسمہ کا لفظ بھی عربی میں بولا جاتا ہے جو احادیث میں بھی ہے اصلا نسمہ یا روح کے الفاظ عبرانی ہیں

احادیث میں جو صورت بتائی گئی ہے ان کے مطابق روح کو ایک دوسرے جسم میں ڈالا جاتا ہے جو انسانی جسم کے مماثل ہے لیکن یہ عذاب کو صورت میں تباہ نہیں ہوتا مسلسل بنتا بگڑتا رہتا ہے
عذاب قبر و جہنم سے الله کی پناہ

جواب

یہ لفظ اہل تشیع کی کتب میں ملتا ہے جس میں اصبغ بن بناتہ نام کا ایک یمنی جو کوفہ میں اصحاب علی میں سے تھا وہ بیان کرتا ہے کہ علی نے کہا کہ کفار کی روحیں برھوت میں ہیں

برھوت عربوں میں ایک معروف مقام تھا اور ہے یہ ایک سوراخ ہے جو یمن میں ہے دیکھنے میں کنواں نما ہے اغلبا یہ کسی شہاب ثاقب کی وجہ سے وہاں پیدا ہوا ہے کسی دور میں حضر الموت اور یمن میں شہاب ثاقب گرے جن سے وہاں اس قسم کے گھڑے موجود ہیں لیکن برھوت بہت بڑا اور گھیرا ہے

علی سے منسوب قول ہے

شر بئر في الأرض برهوت

برھوت سب سے شری کنواں زمین پر ہے

کتاب  المفصل فى تاريخ العرب قبل الإسلام از  الدكتور جواد علي (المتوفى: 1408هـ) کے مطابق

“بئر برهوت”التي تقع في الوادي الرئيسي للسبعة الأودية

برھوت کا کنواں جو سات وادیوں میں سے سب سے بڑی  میں واقع ہے

کتاب غريب الحديث في بحار الانوار از    حسين الحسني البيرجندي کے مطابق علی نے کہا کفار کی روحیں

وادٍ باليمن يقال له : بَرَهُوت ، وهو من أودية جهنّم

ایک یمن میں ایک وادی میں ہیں جس کو برھوت کہا جاتا ہے جو جہنم کی وادیوں میں سے ہے

یہود کے مطابق جہنم زمین میں ہے اور اغلبا یہ یہود کی رائے ہو گی کہ برھوت جہنم کا منہ ہے یہ مقام سمندر کے پاس ہے اور تلمود کے مطابق جہنم کا ایک منہ سمندر میں گھلتا ہے  یمن سے یہ رائے کوفہ پہنچی اور علی سے اس کو منسوب کیا گیا

برھوت کا اثر عبد الوہاب النجدی پر بھی تھا اپنی کتاب احکام تمنی الموت میں روایات  پیش کرتے ہیں

وأخرج سعيد في سننه وابن جرير عن المغيرة بن عبد الرحمن قال: “لقي سلمان الفارسي عبد الله بن سلام، فقال: إن أنت مت قبلي فأخبرني بما تلقى، وإن أنا مت قبلك أخبرتك، قال: وكيف وقد مت؟ قال: إن أرواح الخلق إذا خرجت من الجسد كانت بين السماء والأرض حتى ترجع إلى الجسد. فقضي أن سلمان مات، فرآه عبد الله بن سلام في منامه، فقال: أخبرني أي شيء وجدته أفضل؟ قال: رأيت التوكل شيئا عجيبا”.
ولابن أبي الدنيا عن علي قال: “أرواح المؤمنين في بئر زمزم”.
ولابن منده وغيره عن عبد الله بن عمرو: “أرواح الكفار تجمع ببرهوت، سبخة بحضرموت، وأرواح المؤمنين تجمع بالجابية”. وللحاكم في المستدرك عنه: “أما أرواح المؤمنين فتجمع بأريحاء، وأما أروح أهل الشرك فتجمع بصنعاء”

اور سنن سعید بن منصور میں ہے اور ابن جریر طبری میں مغیرہ بن عبد الرحمان سے روایت ہے کہ سلمان فارسی کی ملاقات عبد الله بن سلام سے ہوئی پس کہا اگر اپ مجھ سے پہلے مر جائیں تو خبر دیجئے گا کہ کس سے ملاقات ہوئی عبد اللہ بن سلام نے کہا کیسے میں خبر دوں گا جبکہ میں مر چکا ہوں گا؟ سلمان نے کہا  مخلوق کی روحیں جب  جسد سے نکلتی ہیں تو وہ جب آسمان و زمین کے بیچ پہنچتی ہیں ان کو جسد میں لوٹا دیا جاتا ہے پس لکھا تھا کہ سلمان مریں گے پس عبد الله بن سلام نے ان کو نیند میں دیکھا پوچھا مجھ کو خبر دو کس چیز  کو افضل پایا ؟ سلمان نے کہا میں نے توکل کو ایک عجیب چیز پایا اور ابن ابی دنیا نے علی سے روایت کیا ہے کہ مومنوں کی روحیں زمزم کے کنواں میں ہیں اور ابن مندہ اور دوسروں نے عبد الله بن عمرو سے روایت کیا ہے کفار کی روحیں  برھوت میں جمع ہوتی ہیں جو حضر الموت میں دلدل ہے اور مومنوں کی روحیں جابیہ میں جمع ہوتی ہیں اور مستدرک حاکم میں ہے جہاں تک مومنوں کی روحیں ہیں وہ اریحا میں جمع ہوتی ہیں اور مشرکوں کی صنعاء  میں

یہ کس قدر بے سر و پا روایات ہیں شاید ہی کوئی سلیم طبع شخص ان کو بلا جرح نقل کرے

جابیہ شام میں ہے

اریحا  (جیریکو )  فلسطین میں

صنعاء یمن میں

کتاب   حلية الأولياء وطبقات الأصفياء میں اس کی سند ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمَنْعِيِّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، ثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: لَقِيَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَّامٍ قَالَ: «إِنْ مُتَّ قَبْلِي فَأَخْبِرْنِي مَا تَلْقَى، وَإِنْ مُتُّ قَبْلَكَ أُخْبِرْكَ»، قَالَ: فَمَاتَ سَلْمَانُ فَرَآهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَّامٍ فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتَ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ؟ قَالَ: «بِخَيْرٍ»، قَالَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ وَجَدْتَ أَفْضَلَ؟ قَالَ: «وَجَدْتُ التَّوَكُّلَ شَيْئًا عَجِيبًا

اس میں أَبُو مَعْشَرٍ ضعیف ہے

راقم کہتا ہے وہابیوں اور شیعوں کے ڈانڈے برھوت پر مل جاتے ہیں

معلوم ہوا کہ نجدیوں کا عقیدہ ہے کہ روحیں کوئی قید نہیں ہیں بلکہ دنیا میں اتی جاتی رہتی ہیں اگر نہیں آتیں تو برصغیر میں بریلویوں کے گھر

“روح” اللہ کو دیکھ چکی ہے۔ ہماری روح ازل میں اللہ کی آواز سن چکی ہے۔ ہماری روح نے فیصلہ کر کے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ جی ہاں ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ آپ ہمارے رب ہیں۔ اب جب ہم انسان کی تخلیق کا تذکرہ کرتے ہیں یا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمارے پیش نظر دو باتیں ہوتی ہیں۔

۱۔ مادی جسم
۲۔ روحانی جسم

روح ازل میں اللہ کو دیکھ چکی ہے اللہ کی آواز سن چکی ہے۔ اگر ہم مادی جسم سے آزاد ہو کر یا جسمانی پردے کے اندر داخل ہو کر روح کا تعارف حاصل کر لیں تو ازل میں داخل ہو سکتے ہیں۔
رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔۔۔۔۔۔

جس نے اپنے نفس(روح) کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔

جواب

اول جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے رب کو پہچانا کوئی حدیث نبوی نہیں ہے یہ قول مشھور ہے
http://www.islamic-belief.net/innovations-in-islam/mysticism-in-muslims-belief/gnothi-seauton/

دوم روح کا جسم ہوتا ہے کی کوئی دلیل نہیں ہے قرآن اس کو نفخ پھونک کہتا ہے گویا یہ مانند ہوا ہے حدیث میں بھی اس کو جب فرشتہ لاتا ہے تو نفخ کرتا ہے

==========

روح کو جسم کہا گیا اور اس کو عربی میں عرض کہا جاتا تھا کہ اس کی
width
ہے یعنی یہ کوئی ٹھوس جسم ہے
اس رائے کو بعض متکلمین نے پیش کیا جبکہ اس کا ذکر نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں اس کے بعد اس کو ان علماء نے بیان کیا جو عذاب قبر میں جسم اور روح پر الگ الگ عذاب کے قائل تھے اور برزخی جسم کے انکاری تھے – یہ تھیوری بہت پھیلی اور علماء نے اس کو پسند کیا

راقم کہتا ہے یہ علماء خطاء کا شکار ہوئے کیونکہ اس کی دلیل نہیں ہے
==========

دلیل میں میثاق ازل کی مثال دی گئی کہ الله تعالی نے مخلوق کو چیونٹویوں کی مانند پھیلایا اور پھر میثاق لیا اس کی دلیل مسند احمد کی روایت ہے
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ – وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ – قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” خَلَقَ اللهُ آدَمَ حِينَ خَلَقَهُ، فَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُمْنَى، فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً بَيْضَاءَ، كَأَنَّهُمُ الذَّرُّ، وَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُسْرَى، فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً سَوْدَاءَ كَأَنَّهُمُ الْحُمَمُ، فَقَالَ لِلَّذِي فِي يَمِينِهِ: إِلَى الْجَنَّةِ، وَلَا أُبَالِي وَقَالَ: لِلَّذِي فِي كَفِّهِ (2) الْيُسْرَى: إِلَى النَّارِ وَلَا أُبَالِي ”

جبکہ شعيب الأرنؤوط اس کو ضعیف کہتے ہیں

میثاق ازل کی کیفیت پر راقم کے علم میں کوئی صحیح روایت نہیں ہے
============

کتاب الروح میں ابن قیم نے اس فلسفہ کو پھیلایا کہ روح عرض ہے یعنی جسم کی طرح چوڑائی رکھتی ہے
اس کی دلیل میں ضعیف روایات سے استنباط کیا گیا

ابن قیم کتاب الروح میں لکھتے ہیں
قَالَ شَيخنَا وَلَيْسَ هَذَا مثلا مطابقا فَإِن نفس الشَّمْس لَا تنزل من السَّمَاء والشعاع الَّذِي على الأَرْض لَيْسَ هُوَ الشَّمْس وَلَا صفتهَا بل هُوَ عرض حصل بِسَبَب الشَّمْس والجرم الْمُقَابل لَهَا وَالروح نَفسهَا تصعد
ہمارے شیخ (ابن تیمیہ) کہتے ہیں …. بلکہ روح عرض ہے …. اور روح خود چڑھتی ہے

اسی کتاب میں اعتراف کرتے ہیں کہ روح کو عرض کہنا متکمین کا قول ہے
عرض من أَعْرَاض الْبدن وَهُوَ الْحَيَاة وَهَذَا قَول ابْن الباقلانى وَمن تبعه وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو الْهُذيْل العلاف النَّفس عرض من الْأَعْرَاض
روح عرضوں میں سے ایک عرض ہے -یہ قول ابن الباقلانی اور ان کی اتباع کرنے والوں کا ہے اور ایسا ہی ابو الھذیل العلاف المتوفی ٢٣٥ ھ (امام المعتزلہ) کا کہنا ہے

یعنی روح کو عرض کہنا سب سے پہلے معتزلہ نے شروع کیا -ایک دفعہ روح کو عرض مان لیا گیا تو پھر اس کو ایک جسم بھی کہا جانے لگا

ابن أبي العز کتاب شرح العقيدة الطحاوية میں کہتے ہیں
إِنَّ النَّفْسَ عَرَضٌ مِنْ أَعْرَاضِ الْبَدَنِ، كَحَيَاتِهِ وَإِدْرَاكِهِ! وَقَوْلُهُمْ مُخَالِفٌ لِلْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ
نفس بدن کے عرضوں میں سے ایک عرض ہے اسی حیات و ادرک جیسا ! یہ قول کتاب و سنت کے مخالف ہے

حافظ بن أحمد بن علي الحكمي (المتوفى : 1377هـ) کتاب معارج القبول بشرح سلم الوصول إلى علم الأصول میں لکھتے ہیں
أَنَّ مَذْهَبَ الْجَهْمِ فِي الرُّوحِ هُوَ مَذْهَبُ الْفَلَاسِفَةِ الْحَائِرِينَ, أَنَّ الرُّوحَ لَيْسَتْ شَيْئًا يَقُومُ بِنَفْسِهِ بَلْ عَرَضٌ وَالْعَرَضُ فِي اصْطِلَاحِهِمْ هُوَ مَا لَا يَسْتَقِلُّ وَلَا يَسْتَقِرُّ, فَمَنْزِلَةُ الرُّوحِ عِنْدَهُمْ مِنَ الْجَسَدِ
جھم کا مذھب روح میں پریشان خیال الْفَلَاسِفَةِ کا ہے کہ روح اپنے اپ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ عرض ہے اور عرض ان کی اصطلاح میں وہ ہے جو رکا نہ رہے پس روح کا مقام ان کے نزدیک جسد جیسا ہے

روح کو عرض کیوں کہا اس کا جواب السفاريني الحنبلي (المتوفى: 1188هـ) کتاب لوامع الأنوار البهية میں کہتے ہیں
قَالَ الرُّوحُ عَرَضٌ كَسَائِرِ أَعْرَاضِ الْجِسْمِ، وَهَؤُلَاءِ عِنْدَهُمْ أَنَّ الْجِسْمَ إِذَا مَاتَ عُدِمَتْ رُوحُهُ فَلَا تُعَذَّبُ وَلَا تُنَعَّمُ وَإِنَّمَا يُعَذَّبُ وَيُنَعَّمُ الْجَسَدُ إِذَا شَاءَ اللَّهُ تَعْذِيبَهُ وَتَنْعِيمَهُ رَدَّ إِلَيْهِ الْحَيَاةَ فِي وَقْتٍ يُرِيدُ تَنْعِيمَهُ وَتَعْذِيبَهُ
کہا روح دوسرے جسموں کی طرح عرض ہے اور ان سب کے نزدیک جسم اگر مر جائے روح معدوم ہوتی ہے پس اس کو عذاب نہیں ہوتا نہ نعمت ملتی ہے بلکہ یہ سب جسد کو ہوتا ہے جب الله چاہتا ہے اس کو عذاب اور نعمت دیتا ہے اس کو زندگی لوٹا دیتا ہے جب اس کو عذاب و نعمت ہوتی ہے

لہذا السفاريني الحنبلي (المتوفى: 1188هـ) نے اس قول کا رد کیا کہ روح معدوم ہو جاتی ہے لیکن اصلا روح کو عرض کہنا معتزلہ کا کہنا تھا جو عذاب قبر میں اختلاف کر رہے تھے کہ یہ روح کو ہوتا ہے یا نہیں لہذا انہوں نے اس کو جسم کہا جس کا عرض ہے لیکن یہ کہہ کر انہوں نے اس کو معدوم کر دیا جس کا رد ابن حزم نے کیا لیکن اس بحث میں روح عرض ہے کا فلسفہ ابن تیمیہ اور ابن قیم اور السفاريني الحنبلي ( نے قبول کر لیا جو آج تک چلا ا رہا ہے

جواب

اصل میں قرآن میں اور (ضعیف) روایات میں تفاوت ہے جس کی بنا پر موت کی تعریف میں ہی جھگڑا ہے

موت روح کی جسم سے مکمل علیحدگی ہے
یہ تعریف عام ہے اور قرآن کے مطابق ہے
ابانة ألروح عن الجسد
مفردات القرآن از راغب الاصفہانی

لیکن جب لوگوں نے روایات کو دیکھا تو وہ ان کی تطبیق قرآن سے نہ کر سکے اور انہوں نے بنیادی تعریف کہ موت روح کی جسد سے علیحدگی ہے کو رد کیا
بعض نے یہ رائے لی کہ روح جسد میں لوٹا دی گئی اور قیامت تک قبرستان میں رہتی ہے جیسے امام ابن عبد البر
بعض نے کہا روح قیامت تک جسد سے الگ ہو گئی جیسے امام ابن حزم اور وہ علماء جو روح کے لئے جسد کے قائل تھے
بعض نے کہا روح کا جسم سے تعلق ہو جاتا ہے مثلا امام ابن تیمیہ اور ابن حجر

متکلمین میں بھی اختلاف ہوا مثلا قاضی الباقلانی کا قول ہے – المسالِك في شرح مُوَطَّأ مالك از القاضي محمد المعافري الاشبيلي المالكي (المتوفى: 543هـ) کہتے ہیں

وبهذه المسألة تعلّق القاضي أبو بكر بن الطّيّب بأنّ الرُّوح عرض، فقال: والدّليل عليه أنّه لا ينفصل عن البَدَنِ إلَّا بجُزْءٍ منه يقول به، وهذا الجزء المذكور في حديث أبي هريرة: “كُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْكلُهُ الأَرْضُ، إلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ” الحديث، فدلّ بهذا أنّه ليس بمُعْدَمٍ، ولا في الوجود شيء يَفْنَى ؛ لأنّه إنّ كان فَنِيَ في حقِّنا فهو في حقِّه موجودٌ مرئيٌّ معلومٌ حقيقةً، وعلى هذا الحال يقع السُّؤال في القبر والجواب، ويعرض عليه المقعد بالغَدَاةِ والعشيِّ، ويعلّق من شَجَرِ الجنّة
اور اس مسئلہ میں قاضی ابو بکر بن الطیب الباقلانی نے تعلق کیا ہے کہ روح عرض ہے پس کہا اس کی دلیل ہے کہ یہ بدن سے (مکمل) الگ نہیں ہوتی سوائے اس کے ایک جز کے جس سے یہ بولتا ہے اور یہ جز حدیث ابو ہریرہ میں مذکور ہے ہر بنی آدم کو زمین کھا جائے گی سوائے عجب الذنب کے پس یہ دلیل ہے کہ کہ روح معدوم نہیں ہے اورنہ اس کے وجود میں کوئی چیز فنا ہوئی کیونکہ …. اسی حالت پر سوال قبر اور جواب ہوتا ہے ہے صبح شام ٹھکانہ پیش ہوتا ہے اور یہ جنت کے درخت سے معلق ہے

اسی طرح مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح از ملا علي القاري (المتوفى: 1014هـ) لکھتے ہیں
وَلَا شَكَّ أَنَّ الْجُزْءَ الَّذِي يَتَعَلَّقُ بِهِ الرُّوحُ لَا يَبْلَى، لَا سِيَّمَا عَجَبُ الذَّنَبِ،
اور اس میں شک نہیں کہ ایک جز جس سے روح کا تعلق باقی رہتا ہے وہ ختم نہیں ہوتا خاص طور پر عجب الذنب سے

الكوراني نے وضاحت کی – الكوثر الجاري إلى رياض أحاديث البخاري از أحمد بن إسماعيل بن عثمان بن محمد الكوراني الشافعي ثم الحنفي المتوفى 893 هـ کہتے ہیں
وقد يقال: إنه يتعلق بالجزء الأصلي الذي بقي معه من أول العمر إلى آخره، وهو الذي يركب منه الجسم في النشاة الأولى. ومنه يركب في النشأة الأخرى. وفي رواية البخاري ومسلم: أن ذلك عجب الذنب.
کہا جاتا ہے کہ روح ایک اصلی جز سے تعلق کرتی ہے جو باقی ہے اس کے ساتھ اول عمر سے آخری تک اور یہ وہ ہے جس پر جسم چلتا ہے پہلی تخلیق سے اور اسی پر بعد میں اٹھے گا اور بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ بے شک یہ عجب الذنب ہے

الکورانی یہ بھی کہتے ہیں کہ دوسری رائے ہے کہ
فإن النفس الناطقة مجردة ليست بحاتة في البدن. وهذا مختار الغزالي والراغب والقاضي أبي زيد.
بے شک اکیلا نفس ناطقہ (روح) بدن کا عنصر (و جز) نہیں ہے اور یہ (مذھب) مختار (مناسب و قابل قبول) ہے غزالی اور راغب اور قاضی ابوزید کے مطابق

یعنی روح کا تعلق بدن سے نہیں بن سکتا دونوں الگ ہیں

اپ نے جو اقتباس پیش کیا ہے یہ متکلمین کے ایک گروہ کی رائے تھی کہ روح جسم میں عجب الذنب سے تعلق کرتی ہے
یہ گروہ اب معدوم ہے اس اقتباس میں پوری تشریح اسی رائے کی بنیاد پر کی گئی ہے

لگتا ہے لوگ اس مسئلہ میں ہاتھ پیر مارتے انہی بوسیدہ نظریات میں روح پھونک رہے ہیں جو ایک عرصہ ہوا تاریخ میں کھو چکے تھے

روح جسم سے مکمل الگ ہو جاتی ہے یہی نفس ہے جو حیات جدید اور خلق جدید پر واپس ڈالا جائے گا
قرآن کہتا ہے توفی ہوا روح قبض ہوئی اور اخراج نفس ہوا لیکن یہ لوگ کہہ رہے ہیں  اخراج ہوا ہی نہیں روح عجب الذنب میں سمٹ گئی
گویا فرشتے خالی ہاتھ لوٹ گئے

اصلا یہ قول ان لوگوں کا تراشیدہ ہے جو حیات فی القبر کے شیدائی ہیں جو اولیاء الله اور انبیاء کی وفات کو تسلیم نہیں کر سکے ہیں اور حیات فی القبر کو ماننے والے گمراہ لوگ ہیں

وفات النبی کے روز کسی صحابی کو یہ باطل فلسفہ نہیں سوجھا کہ عمر سے کہتا کہ اے عمر کیوں مسجد میں شور کرتے ہو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی روح تو انکی عجب الذنب میں ہی رہ گئی فرشتے خالی ہاتھ لوٹ چکے ہیں لیکن ہم تک علم آ چکا کہ جو محمد کا پجاری تھا وہ جان لے کہ محمد کو موت آ چکی اور الله الحی القیوم ہے

سلیمان علیہ السلام کو موت آئی ان لوگوں کے قول کی روشنی میں ان کی روح بھی عجب الذنب میں پھنس گئی فرشتے خالی ہاتھ لوٹ گئے جنات لیکن صحیح عقیدہ رکھتے تھے کہ سلیمان کی روح اب جسد میں نہیں اور قرآن نے بھی انکی تائید کی کہ ہاں تم اگر غیب کو جانتے تو سمجھ لیتے کہ سلیمان وفات پا چکے

قرآن نص قطعی ہے اور حجت ہے اس کے مقابلے پر اخبار احاد کی غلط تاویل کر کے اپنے گمراہ نظریات کو تراشنا ایک غلط بات ہے

ایک وقت تھا جب غیر مقلدین سلفی عقیدہ کو ایسے پیش کرتے تھے کہ گویا وہ حرف آخر ہوں اور ان پر آسمان سے کوئی سند آئی ہو
لیکن اب چند سالوں میں ہم دیکھ رہے ہیں وہ کتابیں پڑھ کر نئے فلسفے بھگار رہے ہیں کوئی کرامیہ کے عقیدہ کو صحیح کہتا ہے تو کوئی خوراج والی رائے رکھتا ہے اور تو اور کوئی قاضی الباقلانی کی رائے تک ا گیا ہے جن پر ابن تیمیہ جرح کرتے رہے ہیں
یعنی اب واپس اشاعرہ کے علماء کی کتاب سے نظریہ سرقه کر کے اس کو خالص رائے پر کھڑا کرنے کے بعد یہ مطالبہ کرنا کہ اس کو تسلیم کیا جائے عجب بات ہے

ہم نے اس مسئلہ جو رائے اختیار کی ہے اس سے قرآن و احادیث میں تطبیق ہو جاتی ہے جبکہ دوسری آراء میں یہ ممکن نہیں ہے
جو چاہے قرآن و حدیث کا تقابل کر کے جان لے

قرآن کہتا ہے
قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِنْدَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ
بلا شبہ ہم جانتے ہیں جو زمین ان کے جسموں میں سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس محفوظ کتاب ہے

حدیث میں ہے کہ انسان کا جسم زمین کھا جاتی ہے سوائے عجب الذنب کے-
اس میں کوئی دلیل نہیں کہ یہ عجب الذنب زندہ ہوتی ہے بلکہ اللہ تعالی قرآن میں خاص طور پر ذکر کرتے ہیں کہ وہ ہڈی کو زندہ کریں گے

یہ لوگ کہتے ہیں  میت جس و عقل رکھتی ہے جبکہ یہ بات بھی خلاف قرآن ہے
قرآن کہتا ہے زندہ و مردہ برابر نہیں اور اپ مردوں کو نہیں سنا سکتے الله جس کو چاہتا ہے سنوا دیتا ہے

اس میں بھی ہے جس کو چاہتا ہے سنواتا ہے لیکن اقتباس میں اس خصوص کو ختم کر کے عموم کا دعوی کیا گیا ہے

رسول الله صلي الله عليہ وسلم کے قول کہ جو مرا فقد قَامَت قِيَامَته اس پر اسکي قيامت قائم ہوئي پر بحث کرتے ہوئے ابن حزم (المتوفى: 456هـ) کتاب الفصل في الملل والأهواء والنحل ميں لکھتے ہيں

قَالَ أَبُو مُحَمَّد وَإِنَّمَا عَنى رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم بِهَذَا الْقيام الْمَوْت فَقَط بعد ذَلِك إِلَى يَوْم الْبَعْث كَمَا قَالَ عز وَجل {ثمَّ إِنَّكُم يَوْم الْقِيَامَة تبعثون} فنص تَعَالَى على أَن الْبَعْث يَوْم الْقِيَامَة بعد الْمَوْت بِلَفْظَة ثمَّ الَّتِي هِيَ للمهلة وَهَكَذَا أخبر عز وَجل عَن قَوْلهم يَوْم الْقِيَامَة {يا ويلنا من بعثنَا من مرقدنا هَذَا} وَأَنه يَوْم مِقْدَاره خَمْسُونَ ألف سنة وَأَنه يحيي الْعِظَام وَيبْعَث من فِي الْقُبُور فِي مَوَاضِع كَثِيرَة من الْقُرْآن وبرهان ضَرُورِيّ وَهُوَ أَن الْجنَّة وَالنَّار موضعان ومكانان وكل مَوضِع وَمَكَان ومساحة متناهية بِحُدُودِهِ وبالبرهان الَّذِي قدمْنَاهُ على وجوب تناهي الإجسام وتناهى كل مَا لَهُ عدد وَيَقُول الله تَعَالَى {وجنة عرضهَا السَّمَاوَات وَالْأَرْض} فَلَو لم يكن لتولد الْخلق نِهَايَة لكانوا أبدا يحدثُونَ بِلَا آخر وَقد علمنَا أَن مصيرهم الْجنَّة أَو النَّار ومحال مُمْتَنع غير مُمكن أَن يسع مَا لَا نِهَايَة لَهُ فيماله نِهَايَة من الماكن فَوَجَبَ ضَرُورَة أَن لِلْخلقِ نِهَايَة فَإِذا ذَلِك وَاجِب فقد وَجب تناهى عَالم الذَّر والتناسل ضَرُورَة وَإِنَّمَا كلامنا هَذَا مَعَ من يُؤمن بِالْقُرْآنِ وبنبوة مُحَمَّد صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَادّعى الْإِسْلَام وَأما من أنكر الْإِسْلَام فكلامنا مَعَه على مَا رتبناه فِي ديواننا هَذَا من النَّقْض على أهل الْإِلْحَاد حَتَّى تثبت نبوة مُحَمَّد صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَصِحَّة مَا جَاءَ بِهِ فنرجع إِلَيْهِ بعد التَّنَازُع وَبِاللَّهِ تَعَالَى التَّوْفِيق وَقد نَص الله تَعَالَى على أَن الْعِظَام يُعِيدهَا ويحيها كَمَا كَانَت أول مرّة وَأما اللَّحْم فَإِنَّمَا هُوَ كسْوَة كَمَا قَالَ {وَلَقَد خلقنَا الْإِنْسَان من سلالة من طين ثمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَة فِي قَرَار مكين}

امام ابن حزم نے کہا کہ بے شک رسول الله صلي الله عليہ وسلم نے خبر دي قيام سے مراد فقط موت ہے کيونکہ اب اس کو يوم بعث پر اٹھايا جائے گا جيسا الله تعالي نے کہا {ثمَّ إِنَّكُم يَوْم الْقِيَامَة تبعثون} پھر تم کو قيامت کے دن اٹھايا جائے گا پس نص کي الله تعالي نے ان الفاظ سے کہ زندہ ہونا ہو گا قيامت کے دن موت کے بعد يعني يہ ايک ڈيڈ لائن ہے اور اسي طرح الله نے خبر دي قيامت پر اپنے قول سے {يَا ويلنا من بعثنَا من مرقدنا هَذَا} ہائے بربادي کس نے ہميں اس نيند کي جگہ سے اٹھايا اور اس دن کي مقدار پچاس ہزار سال کي ہے اور بے شک اس نے خبر دي قرآن ميں اور برہان ضروري سے کثير مقامات پر کہ وہ ہڈيوں کو زندہ کرے گا اور جو قبروں ميں ہيں انکو جي بخشے گا – جنت و جہنم دو جگہيں ہيں اور مکان ہيں اور ہر مکان کي ايک حدود اور انتھي ہوتي ہے اور وہ برہان جس کا ہم نے ذکر کيا واجب کرتا ہے کہ اس ميں اجسام لا متناہي نہ ہوں اور گنے جا سکتے ہوں اور الله کا قول ہے {وجنة عرضهَا السَّمَاوَات وَالْأَرْض} وہ جنت جس کي چوڑائي آسمانوں اور زمين کے برابر ہے اور …. پس ضروري ہے کہ مخلوق کي انتھي ہو … اور بے شک اللہ تعالي نے نص دي کہ ہڈيوں کو واپس شروع کيا جائے گا اور انکو زندہ کيا جائے گا جيسا پہلي دفعہ تھا اور جو گوشت ہے تو وہ تو اس ہڈي پر غلاف ہے جيسا الله نے کہا {وَلَقَد خلقنَا الْإِنْسَان من سلالة من طين ثمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَة فِي قَرَار مكين} اور بے شک ہم نے انسان کو خلق کيا مٹي سے پھر اس کا نطفہ ايک ٹہرنے والي جگہ کيا

ابن حزم بار بار الله تعالي کے قول کي ياد دہاني کرا رہے ہيں کہ موت کے بعد اجسام ہڈيوں ميں بدل جائيں گے اور زندہ بھي ہڈي کو کيا جائے گا پھر اس پر گوشت کا غلاف آئے گا لہذا يہ ظاہر ہے کان يا آلات سماعت تو گوشت کے ھوتے ہيں جب وہ ہي معدوم ہو جائيں تو انسان کيسے سنے گا

عجب الذنب ایک ہڈی ہے جو باقی رہے گی لیکن بے جان و بے روح رہے گی جس طرح ایک بیج بے جان ہوتا ہے
یہ الله کا فعل ہے جو بے جان میں سے زندہ کو نکآلتا ہے

روح عالم بالا میں رہے گی جیسا صحیح مسلم کی حدیث میں ہے

 

Comments are closed.