اہم مباحث ٢

جواب

⇓ الطاغوت کیا ہے اس کے کفر کا کیا مطلب ہے ؟
http://www.islamic-belief.net/q-a/عقائد/اہم-مباحث/

⇑ طاغوت کی نشاندہی نام لیکر کرنی چاہیے؟
http://www.islamic-belief.net/q-a/مذھب-تکفیر/

وہابی علماء الدرر السنية في الأجوبة النجدية میں طاغوت کی تعریف کرتے ہیں

والطاغوت: عام في كل ما عُبد من دون الله، فكل ما عبد من دون الله، ورضي بالعبادة، من معبود، أو متبوع، أو مطاع في غير طاعة الله ورسوله، فهو طاغوت، والطواغيت كثيرة، ورؤوسهم خمسة
طاغوت : ہر ایک کے لئے عام ہے جس کی الله کے سوا عبادت ہو – جو اس عبادت پر راضی ہو اس پر بھی جس کو معبود کیا جائے یا اتباع کی جائے یا آطاعت کی جائے الله اور رسول کے سوا تو وہ طاغوت ہے اور طاغوتوں کی تو کثرت ہے اور پانچ ان کے سردار ہیں

الأول: الشيطان، الداعي إلى عبادة غير الله، والدليل قوله تعالى: {أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَنْ لا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ} [يّس: 60] .
الثاني: الحاكم الجائر، المغير لأحكام الله تعالى، والدليل قوله تعالى: {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالاً بَعِيداً} [النّساء:60] .
الثالث: الذي يحكم بغير ما أنزل الله، والدليل قوله تعالى: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [سورة المائدة آية: 44] .
الرابع: الذي يدعي علم الغيب من دون الله، والدليل قوله تعالى: {عَالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَداً إِلاَّ مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَداً} [الجن: 26-27] . وقال تعالى: {وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لا يَعْلَمُهَا إِلاَّ هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الأَرْضِ وَلا رَطْبٍ وَلا يَابِسٍ إِلاَّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ} [الأنعام: 59] .
الخامس: الذي يُعبد من دون الله، وهو راض بالعبادة، والدليل قوله تعالى: {وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ} [سورة الأنبياء آية: 29] .
ایک شیطان
دوم حاکم جو الله کے احکام کو بدلے
سوم جو الله نے نازل کیا ہو اس کے علاوہ حکم کرے
چہارم علم غیب کا مدعی
پنجم : جس کی عبادت الله کے سوا ہو اور وہ اس پر راضی ہو

جواب

صوفیاء شروع میں زہاد تھے
ان میں جو نام لئے جاتے ہیں ان میں بعض مجہول لوگ ہیں مثلا ابراہیم بن ادھم
http://www.islamic-belief.net/ابراہیم-بن-ادھم/

یا اویس قرنی
http://www.islamic-belief.net/innovations-in-islam/mysticism-in-muslims-belief/اویس-قرنی-ایک-پراسرار-شخصیت/

یا اصف بن برخیاہ
http://www.islamic-belief.net/اصف-بن-بر-خیا-کا-راز/

جو مشہور ہیں ان کے کلام میں ایسی کوئی بات نہیں مثلا دنیا فانی ہے اس سے بے رغبتی کی روایات کا ذکر ہے

لیکن ان میں جب یہ صوفیاء بغداد میں مر رہے تھے ان کی  قبروں پر لوگ جمع ہونے لگے اور شروع میں کہا گیا کہ ان کی قبر پر جا کر دعا قبول ہو جاتی ہے
پھر کہا گیا یہ سنتے ہیں اور ان سے دعا الله تک پہنچوائی جا سکتی ہے یا وسیلہ لیا جا سکتا ہے
محدثین میں ان کے حوالے سے اختلاف نظر اتا ہے مثلا امام مسلم کہتے اہل خیر جو صوفیاء کا اس دور کا نام تھا بہت جھوٹے ہیں
جبکہ امام احمد کہتے معروف کرخی کی قبر تریاق مجرب ہے
http://www.islamic-belief.net/محدثين-أور-صوفیاء-کا-اتحاد/

اور چوتھی صدی کے ابن حبان اہل بیت کی قبروں پر جا کر الله سے دعا کرتے

اس طرح زمین کے  وہ مقامات روحانیت کے مراکز بن گئے جہاں اولیاء الله کی قبور تھیں

اہل کتاب میں سوچ ہم سے پہلے سے تھی کہ اولیاء الله قبروں میں سو رہے ہیں
The belief that Martyrs are alive in their very graves was a Christian belief. One Christian scholar Robert G. Hoyland writes in this book Seeing Islam as other saw it as:

One of the most significant development in late antique Christianity was the breaking down of barrier between heaven and earth, between the divine and corporeal. And the best evidence for this conjunction was to be found at the spot where rested the body of a martyr. As the inscription stated on the grave of Saint Martin at Tours: “He is fully here, present and made plain in miracles of every kind”. The belief in the intercessionary power of a saint’s relic gave rise to an architecture of the dead, for Christians “filled the whole earth with tombs and sepulchers,” and also to a literature of dead, as stories circulating about posthumous wonders worked at the shrine of its holy occupant were gathered and set down.

قدیم نصرانیت کی ایک اہم بات تھی کہ ان میں آسمان و زمیں کی، الوہی و جسمانی برزخ ٹوٹ چکی تھی اور اس کا سب سے بہتر ثبوت تھا کہ وہ مقام جہاں کسی شہید  کا جسم ہو وہاں یہ (الوہیت و جسم) مل جاتے تھے  – لہذا ٹورس کے ولی کے کتبہ پر لکھا ہے وہ یہاں پورے موجود ہیں ہر طرح کے معجزات کے ساتھ – یہ  اولیاء الله کی باقیات سے  وسیلہ کا عقیدہ نے نصرانیت میں مردوں سے متعلق پوری ایک عمارت کھڑی کر دی جس سے زمین کی  قبرین اور مقابر بھر گئے اور الموتی پر تحاریر اور حکایات پھیل گئیں اور جمع کی گئیں  کہ کس طرح   اس صاحب قبر کے مزار  سے  بعد الموت کرامتیں ظاہر ہوئیں

جواب

جواب

جواب

جواب

جواب

جواب

جواب

جواب

جواب

جواب

جواب

جواب

جواب

Comments are closed.