تاریخ ٣

جواب

عبد الله بن سبأ ایک تاریخی شخصیت ہے اور اس کی روایات سیف بن عمر المتوفی ٢٠٠ ھ کی سند سے ہیں جس کو عمدہ فی التاریخ کہا جاتا ہے
لیکن ابن سبا کے وجود پر سیف کا تفرد نہیں ہے – دیگر اسناد سے معلوم ہے

ابن سبا سے ظاہر ہے بہت لوگوں کی ملاقات نہیں ہوئی کیونکہ یہ گردش میں رہا اور پھر معلوم نہیں اس کا انجام کیا ہوا
لیکن اس کا فلسفہ اہل تشیع نے قبول کر لیا جو خالص یہودی تصوف ہے
اس کی تفصیل کتاب میں ہے
Ali in Biblical Clouds

ابن حجر نے لسان المیزان میں لکھا
أخرج من طريق سيف بن عمر التميمي في الفتوح له قصة طويلة لا يصح إسنادها.
الفتوح میں سیف بن عمر کی سند سے اس پر ایک طویل قصہ ہے اس کی اسناد صحیح نہیں
پھر ابن حجر نے وہ اسناد دیں جن میں سیف بن عمر نہیں ہے اور ابن سبا کے وجود کی خبر ہے جو مندرجہ ذیل ہیں
ومن طريق ابن أبي خيثمة: حدثنا محمد بن عباد , حَدَّثَنا سُفيان، عَن عمار الدهني سمعت أبا الطفيل يقول: رأيت المُسَيَّب بن نجبة أتي به بلببه وعلي على المنبر فقال: ما شأنه؟ فقال: يكذب على الله وعلى رسوله.
ابو طفیل نے کہا میں نے المسيب بن نجبة بن ربيعة بن رياح بن عوف بن هلال بن شمخ بن فرارة الفزارى کو دیکھا جو علی کے پاس آیا اور علی منبر پر تھے کہا اس (ابن سبا) کا کیا حال ہے ؟ یہ تو الله اور اس کے رسول پر جھوٹ کہتا ہے

حدثنا عَمْرو بن مروزق حدثنا شُعبة، عَن سلمة بن كهيل عن زيد بن وهب قال: قال علي بن أبي طالب رضي الله عنه: ما لي ولهذا الخبيث الأسود، يعني عبد الله بن سبأ – كان يقع في أبي بكر وعمر.
زيد بن وهب نے کہا علی نے کہا میرے اور اس کالے خبیث کے بیچ کیا ہے یعنی عبد الله بن سبا

ومن طريق محمد بن عثمان بن أبي شيبة: حَدَّثَنا محمد بن العلاء , حَدَّثَنا أبو بكر بن عَيَّاش، عَن مجالد عن الشعبي قال: أول من كذب عبد الله بن سبأ.
الشعبي (المتوفی ١٠٠ ھ) نے کہا سب سے پہلا جھوٹا عبد الله بن سبا ہے

وقال أبو يَعلَى الموصلي في مسنده: حَدَّثَنا أبو كريب , حَدَّثَنا محمد بن الحسن الأسدي , حَدَّثَنا هارون بن صالح عن الحارث بن عبد الرحمن، عَن أبي الجلاس سمعت عَلِيًّا يقول لعبد الله بن سبأ: والله ما أفضى إلي بشيء كتمه أحدا من الناس ولقد سمعته يقول: إن بين يدي الساعة ثلاثين كذابا وإنك لأحدهم.
أبي الجلاس نے کہا علی کو سنا انہوں نے عبد الله بن سبا کا ذکر کیا کہا الله کی قسم مجھے کون سی چیز اس طرف لے گئی کہ میں لوگوں سے کچھ چھپاؤں؟ اور میں نے سنا کہ قیامت سے قبل تیس جھوٹے ہیں جن میں سے وہ ایک ہے

وقال أبو إسحاق الفزاري: عن شُعبة، عَن سلمة بن كهيل، عَن أبي الزعراء [ص:485] أو عن زيد بن وهب أن سويد بن غفلة دخل على علي في إمارته فقال: إني مررت بنفر يذكرون أبا بكر وعمر يرون أنك تضمر لهما مثل ذلك منهم عبد الله بن سبأ – وكان عبد الله أول من أظهر ذلك – فقال علي: ما لي ولهذا الخبيث الأسود. ثم قال: معاذ الله أن أضمر لهما إلا الحسن الجميل.
سويد بن غفلة ، علی کے پاس آئے ان کی خلافت میں کہا میں ایک گروہ پر گذرا جو ابو بکر اور عمر کا ذکر کرتے ہیں کہتے ہیں اپ ان دونوں سے (حق) چھپاتے تھے ہیں ایسا ہی کہا جیسا ابن سبا کہتا تھا – علی نے کہا مجھے اس کالے خبیث سے کیا سروکار – اللہ کی پناہ کی میں دونوں سے کچھ چھپاؤں سوائے وہ جو جسن وجمال (والی ازواج) ہوں

ان روایات کو ابن حجر نے صحیح اسناد سے نقل کیا ہے جن میں سیف بن عمر نہیں ہے اور عبد الله بن سبا کا ترجمہ قائم کیا ہے- اس طرح اس کے وجود کا اثبات کیا ہے

قال ابن حبان: كان سبئيا من أصحاب عبد الله بن سبأ، كان يقول: إن عليا يرجع إلى الدنيا
ابن حبان نے کہا سبئيا وہ ہیں جو اصحاب ابن سبا ہیں اور کہا کرتے کہ علی دنیا میں پلٹیں گے

تفسیر عبد الرزاق میں ہے
قَالَ مَعْمَرٌ: وَكَانَ قَتَادَةُ إِذَا قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ} [آل عمران: 7] قَالَ: إِنْ لَمْ تَكُنِ الْحَرُورِيَّةُ أَوِ السَّبَئِيَّةُ , فَلَا أَدْرِي مَنْ هُمْ
معمر نے کہا قتادہ (المتوفي ١١٨ ھ) تلاوت کرتے وہ {فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ} [آل عمران: 7] (جن کے دل ٹیڑھے ہیں ال عمران) – کہتے اگر یہ خوارج اور سبائی نہیں تو معلوم نہیں اور کون ہیں

تفسیر طبری میں بھی قتادہ کا قول ہے
حدثنا الحسن بن يحيى قال، أخبرنا عبد الرزاق قال، أخبرنا معمر، عن قتادة في قوله:”فأما الذين في قُلوبهم زَيغٌ فيتبعون ما تشابه منه ابتغاءَ الفتنة”، وكان قتادة إذا قرأ هذه الآية:”فأما الذين في قلوبهم زيغ” قال: إن لم يكونوا الحرُوريّة والسبائية

تفسیر ابن المنذر میں ہے
وتتأول السبئية إذ يقولون فِيهِ بغير الحق إِنَّمَا يقولون قول الله عَزَّ وَجَلَّ: وَأَقْسَمُوا بِاللهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لا يَبْعَثُ اللهُ مَنْ يَمُوتُ، فيجعلونها فيمن يخاصمهم من أمة محمد صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بعث الموتى قبل يَوْم الْقِيَامَةِ
السبئية نے بلا حق اس آیت کی تاویل کی کہ الله کا قول ہے وَأَقْسَمُوا بِاللهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لا يَبْعَثُ اللهُ مَنْ يَمُوتُ، پس اس سے انہوں نے امت محمد کو لڑوایا کہ قیامت سے قبل مردوں کو زندہ کیا جائے گا

طبری تفسیر میں کہتے ہیں
وَاللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ لَبِدْعَةٌ، وَإِنَّ النَّصْرَانِيَّةَ لَبِدْعةٌ، وَإِنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَبِدْعَةٌ، وَإِنَّ السَّبَئِيَّةَ لَبِدْعَةٌ،
یہود (دین حق میں) بدعت ہیں نصرانی بدعت ہیں خوارج بدعت ہیں اور السَّبَئِيَّةَ بدعت ہیں

امام بخاری تاريخ الكبير 5 / 187 کہتے ہیں
قَالَ البُخَارِيُّ ، قَالَ عَلِيٌّ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا الزُهْرِيُّ، قَالَ: كَانَ الحَسَنُ أَوْثَقَهُمَا، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ يَتْبَعِ السَّبَائِيَّةَ
امام زہری نے کہا … عَبْدُ اللهِ بنُ مُحَمَّدِ ابْنِ الحَنَفِيَّةِ الهَاشِمِيُّ السَّبَائِيَّةَ کے پیچھے چلتا تھا

الکامل از ابن عدی میں ہے
حَدَّثَنَا السَّاجِيُّ، حَدَّثَنا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنا أَبُو معاوية، قَال: قَال الأَعْمَش اتق هذه السبئية فإني أدركت الناس وإنما يسمونهم الكذابين
أَبُو معاوية نے کہا الأَعْمَش نے کہا السبئية سے بچو کیونکہ میں لوگوں سے ملا وہ ان کو کذاب نام دیتے ہیں

اسی کتاب میں ابن عباس رضی الله عنہ کا قول ہے
حَدَّثَنا السَّاجِيُّ، حَدَّثَنا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنا عثمان بن الهيثم، حَدَّثَنا عَبد الْوَهَّابِ بْنُ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَال: إذا كثرت القدرية بالبصرة استكفت أهلها، وَإذا كثرت السبئية بالكوفة استكفت أهلها.
کوفہ میں السبئية کی کثرت ہوئی یہاں تک کہ انہوں نے وہاں کے رہنے والوں کو گھیر لیا

تاریخ ابن ابی خیثمہ میں ہے
حَدَّثَنَا هَارُون بْنُ مَعْرُوف، قَالَ: حَدَّثَنا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَسَنُ وعَبْدُ اللَّهِ ابْنَا مُحَمَّدٍ وكانَ حَسَنٌ أَرْضَاهُمَا وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَتَّبِعُ حَدِيثَ السَّبَئِيَّةِ.
امام زہری نے کہا … عَبْدُ اللهِ بنُ مُحَمَّدِ ابْنِ الحَنَفِيَّةِ الهَاشِمِيُّ السَّبَائِيَّةَ کے پیچھے چلتا تھا

تہذیب الکمال از المزی میں عبد الله بن محمد بن عقیل کے ترجمہ میں اسی قول میں ہے
قال: وكَانَ عَبد اللَّهِ يتبع – وفي رواية: يجمع – أحاديث السبئية وهم صنف من الروافض.
یہ (عَبْدُ اللهِ بنُ مُحَمَّدِ ابْنِ الحَنَفِيَّةِ ) السبئية کی احادیث جمع کرتا جو روافض میں سے ایک صنف ہے

امام احمد نے ابن سبا کا ذکر کیا
وقال صالح بن أحمد: حدثني أبي. قال: حدثنا معاذ، قال: حدثنا ابن عون، قال: ذكرت لإبراهيم رجلين من السبئية، يعني المغيرة بن سعيد، وأبا عبد الرحيم، قد عرفهما، قال: إحذروهما، فإنهما كذأبان. «سؤالاته» (325)
ابن عون، نے کہا میں نے ابراہیم سے السبئية میں سے دو کا ذکر کیا یعنی المغيرة بن سعيد، وأبا عبد الرحيم … پس کہا یہ کذاب ہیں

یہ حوالے ثابت کرتے ہیں سیف بن عمر سے پہلے سے لوگ ابن سبا کا ذکر کر رہے تھے یہاں کہ ائمہ محدثین نے بھی ابن سبا اور اس کے فرقے کے وجود کا اقرار کیا ہے مثلا قتادہ، الشعبي ، امام زہری، اعمش وغیرہ جو سیف بن عمر سے پہلے کے ہیں
یہ تو صرف اہل سنت کی کتب ہیں اہل تشیع کی کتابوں میں بھی اس کے حوالے بھرے پڑے ہیں

صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَابُ عُمْرَةِ القَضَاءِ) صحیح بخاری: کتاب: غزوات کے بیان میں

(باب: عمرہ قضا کا بیان)

4251

. حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا كَتَبُوا الْكِتَابَ كَتَبُوا هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ قَالُوا لَا نُقِرُّ لَكَ بِهَذَا لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا مَنَعْنَاكَ شَيْئًا وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ امْحُ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَلِيٌّ لَا وَاللَّهِ لَا أَمْحُوكَ أَبَدًا فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَكْتُبُ فَكَتَبَ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَا يُدْخِلُ مَكَّةَ السِّلَاحَ إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ وَأَنْ لَا يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهَا بِأَحَدٍ إِنْ أَرَادَ أَنْ يَتْبَعَهُ وَأَنْ لَا يَمْنَعَ مِنْ أَصْحَابِهِ أَحَدًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوا قُلْ لِصَاحِبِكَ اخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَى الْأَجَلُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبِعَتْهُ ابْنَةُ حَمْزَةَ تُنَادِي يَا عَمِّ يَا عَمِّ فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِيَدِهَا وَقَالَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ حَمَلَتْهَا فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَزَيْدٌ وَجَعْفَرٌ قَالَ عَلِيٌّ أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ بِنْتُ عَمِّي وَقَالَ جَعْفَرٌ ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي وَقَالَ زَيْدٌ ابْنَةُ أَخِي فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا وَقَالَ الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ وَقَالَ لِعَلِيٍّ أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ وَقَالَ لِجَعْفَرٍ أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَقَالَ لِزَيْدٍ أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا وَقَالَ عَلِيٌّ أَلَا تَتَزَوَّجُ بِنْتَ حَمْزَةَ قَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ

جواب

ترجمہ ہے
وَلَيْسَ يُحْسِنُ أَنْ يَكْتُبَ، فَكَتَبَ مَكَانَ رَسُولُ اللهِ
اپ صلی الله علیہ وسلم لکھنے میں اچھے نہیں تھے پس رَسُولُ اللهِ کے مقام پر لکھا

کتاب شرح الطيبي على مشكاة المصابيح از الطيبي (743هـ) میں ہے
قال القاضي عياض: احتج بهذا أناس علي أن النبي صلى الله عليه وسلم كتب ذلك بيده, وقالوا: إن الله تعالي أجرى ذلك علي يده, إما بأن كتب القلم بيده وهو غير عالم بما كتب, أو بأن الله تعالي علمه ذلك حينئذ, زيادة في معجزته كما علمه ما لم يعلم, وجعله تاليا بعدما لم يكن يتلو بعد النبوة, وهو لا يقدح في وصفه بالأمي.
قاضی عیاض نے کہا لوگوں نے دلیل لی ہے نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے لکھا اور کہا الله تعالی نے ان کے ہاتھ پر اس تحریر کو جاری کر دیا – جہاں تک قلم سے لکھنے کا تعلق ہے اور وہ اس سے لا علم تھے کیا لکھ رہے ہیں یا الله نے اس وقت ان کو علم دے دیا اس وقت اور یہ رسول الله کے معجزات میں ہے جو الله نے علم دیا

\فتح الباری میں ہے اس وقت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا لکھنا معجزہ تھا
. وقول الباجي أنه -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- كتب بعد أن لم يكتب وأن ذلك معجزة أخرى

عمدة القاري شرح صحيح البخاري از عینی میں ہے
وَقَالَ السُّهيْلي: وَالْحق أَن قَوْله: فَكتب، أَي: أَمر عليا أَن يكْتب. قلت: هُوَ بِعَيْنِه الْجَواب الثَّانِي. (الثَّالِث) : أَنه كتب بِنَفسِهِ خرقاً للْعَادَة على سَبِيل المعجزة،
السُّهيْلي نے کہا حق یہ ہے کہ قول انہوں نے لکھا تو یہ انہوں نے علی کو حکم کیا کہ لکھیں اور میں عینی کہتا ہوں … ان کا لکھنا خرق عادت میں سے معجزہ تھا

یعنی اگر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خود لکھا تو وہ اس وقت کا معجزہ تھا
—————-
صحیح مسلم میں ہے
فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – أَرِنِي مَكَانَهَا فَأَرَاهُ مَكَانَهَا فَمَحَاهَا وَكَتَبَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہا مجھے دکھاو وہ جگہ – پس اپ کو دکھایا گیا تو اپ نے اس کو مٹا دیا اور لکھا ابن عبد الله

یعنی رسول الله نے
محمد رسول الله کے الفاظ مٹا کر کر دیا
محمد بن عبد الله

یعنی امام مسلم کے نزدیک یہ کوئی معجزہ نہیں تھا صرف اتنا ہی اپ صلی الله علیہ وسلم نے کیا کہ رسول الله ہٹا کر ابن عبد الله کر دیا
رسول الله کے ہاتھ میں انگوٹھی تھی جس پر اپ نے محمد رسول الله کندہ کروا رکھا تھا ممکن ہے اس مہر والی انگوٹھی کو دیکھ کر اس وقت لکھا ہو
================
مجموعہ احادیث میں روایت میں یہ الفاظ
وَلَيْسَ يُحْسِنُ أَنْ يَكْتُبَ، فَكَتَبَ مَكَانَ رَسُولُ اللهِ
صرف ابی اسحاق الکوفی نے روایت کیے ہیں جو کوفہ کے شیعہ ہیں اور شیعہ کے نزدیک رسول الله صلی الله علیہ وسلم لکھنا جانتے تھے – اہل سنت اس کے انکاری ہیں جو قرآن کے مطابق ہے
میرے نزدیک رسول الله صلی الله علیہ وسلم لکھنا نہیں جانتے تھے

امام ذھبی اپنی کتاب تذکرہ الحفاظ میں لکھتے ہیں کہ

أن عُمَرَ حَبَسَ ثَلَاثَهَ: إبْنَ مَسْعُوْدٍ وَأبَا الدَرْدَاءِ وَأبَا مَسْعُوْدَ الأنْصَارِی فَقَالَ: قَدْ أکْثَرْتُمُ الْحَدِیْثَ عَنْ رَسُوْلِ اللّهِ صلى الله علیه وسلم

جواب

اس کی سند میں سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ہے جس پر میں نے کئی بار جرح پیش کی ہے

یہ قول إبراهيم بن عبدالرحمن نے بیان کیا ہے
الهيثمي نے مجمع الزوائد ج:1 ص:149 میں لکھا ہے
رواه الطبراني في الأوسط – قلت : هذا أثر منقطع وإبراهيم ولد سنة عشرين ولم يدرك من حياة عمر إلا ثلاث سنين وابن مسعود كان بالكوفة ولا يصح هذا عن عمر (قلت : ويأتي باب التثبت عن بعض الحديث)انتهى.
طبرانی نے اس کو اوسط میں روایت کیا ہے میں کہتا ہوں یہ اثر منقطع ہے إبراهيم بن عبدالرحمن سن ٢٠ میں پیدا ہوا اور ان نے عمر کو نہیں پایا سوائے زندگی کے تین سال اور ابن مسعود تو کوفہ میں تھے اور یہ إبراهيم بن عبدالرحمن کا قول صحیح نہیں ہے

جواب

صحیح بخاری میں ہے
باب أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ

وَفَتَرَ الوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:30]، فِيمَا بَلَغَنَا، حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الجِبَالِ، فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ مِنْهُ نَفْسَهُ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا،
الوحی رک گئی تو رسول الله غم کا شکار ہوئے جیسا ہم تک پہنچا – حزن ہوا پہاڑ کی چوٹی پر جاتے باربار کہ گرا دیں – جب اوپر پہنچتے جبریل ظاہر ہوتے کہتے اپ رسول الله ہیں اے محمد

روایت صحیح ہے امام زہری کی سند سے ہے
شعیب مسند احمد میں کہتے ہیں
إسناده صحيح على شرط الشيخين دون قوله: حتى حزن رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فيما بلغنا- حزناً … فهو بلاغات الزهري، وهي واهية.
اسناد تو امام بخاری و مسلم کی شرط پر ہیں لیکن یہ اس قول کے سوا صحیح ہے کہ یہاں تک کہ رسول الله کو غم ہوتا جیسا ہم تک آیا تو یہ امام الزہری کی بلاغات میں سے ہے اور یہ واہی ہے

البانی نے بھی اس روایت کا انکار کیا ہے اپنے عجیب انداز میں کہ صحیح بھی کہہ دیا اور ان الفاظ کو رد بھی کر دیا کتاب التعليقات الحسان على صحيح ابن حبان وتمييز سقيمه من صحيحه، وشاذه من محفوظه میں اس روایت کو پیش کیا اور
الفاظ نقل کیے
وَفَتَرَ الْوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ـ فِيمَا بَلَغَنَا ـ حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا لِكَيْ يتردى من رؤوس شَوَاهِقِ الْجِبَالِ
اس کے بعد کہا
تعليق الشيخ الألباني] صحيح دون جملة التردي ـ ((مختصر البخاري))
صحیح ہے اس التردي (گرا دیں) کے جملہ کے بغیر

کتاب صحيح موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان میں البانی نے کہا
فهي زيادة منقطعة، فهي لا تصح، كما كنت نبهت على ذلك في تعليقي على كتابي “مختصر صحيح البخاري
یہ اضافہ منقطع ہے صحیح نہیں ہے جیساکہ میں نے اپنی تعلیق میں متنبہ کیا ہے میری کتاب مختصر صحیح البخاری میں

کتاب الْمُخْتَصَرُ النَّصِيحُ فِي تَهْذِيبِ الْكِتَابِ الْجَامِعِ الْصَّحِيحِ المؤلف: المُهَلَّبُ بنُ أَحْمَدَ بنِ أَبِي صُفْرَةَ أَسِيْدِ بنِ عَبْدِ اللهِ الأَسَدِيُّ الأَنْدَلُسِيُّ، المَرِيِيُّ (المتوفى: 435هـ) میں ہے کہ یہ اضافہ امام زہری سے معمر نے لیا ہے
زَادَ مَعْمَرٌ: حَتَّى حَزِنَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنَا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ

شرح الحديث المقتفى في مبعث النبي المصطفى المؤلف: أبو القاسم شهاب الدين عبد الرحمن بن إسماعيل بن إبراهيم المقدسي الدمشقي المعروف بأبي شامة (المتوفى: 665هـ) میں ہے
قَوْله: ” وفتر الْوَحْي فَتْرَة حَتَّى حزن النَّبِي – صلى الله عليه وسلم – فِيمَا بلغنَا حزنا غَدا مِنْهُ مرَارًا كي يتردى من رُؤُوس شَوَاهِق الْجبَال “:
هَذَا من كَلَام الزُّهْرِيّ أَو غَيره غير عَائِشَة وَالله أعلم لقَوْله: ” فِيمَا بلغنَا “، (وَلم تقل عَائِشَة فِي شَيْء من هَذَا الحَدِيث ذَلِك وَأَن كَانَت لم
تدْرك وقته، وحديثها هَذَا من جملَة الْأَحَادِيث الَّتِي يعبر عَنْهَا بمراسيل الصَّحَابَة) .
یہ امام زہری کا کلام ہے یا کسی اور کا عائشہ کا و الله اعلم اس قول ہم تک پہنچا اور … یہ حدیث مراسیل صحابہ میں سے ہے

یعنی پہلے لوگ کہتے تھے کہ یہ الفاظ عائشہ رضی الله عنہا کے بھی ہو سکتے ہیں

===================

یہ عصر حاضر میں ہی لوگوں نے اس میں یہ علت نکالی ہے متقدمین میں سے کسی نے اس روایت کا انکار نہیں کیا ہے
سوال ہے کہ امام بخاری نے اس پر کوئی تبصرہ کیوں نہیں کیا اگر یہ مدرج جملہ تھا؟

میرے نزدیک روایت صحیح ہے البتہ اس میں ہے کہ جبریل اتے اور کہتے اپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہیں یہ کئی بار نہیں ایک بار ہوا
رسول الله نے جبریل کو اصلی صورت دو بار دیکھا ایک بار فترت الوحی کے دور میں اور دوسری بار سدرہ المنتہی پر

لہذا یہ پہاڑ پر چڑھنے والی بات ایک بار کی ہے

==========
انجیل میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی ہیکل کی دیوار پر چڑھ گئے اور شیطان نے وہاں سے اپنے اپ گرا دینے کو کہا
Mathew 4:5
Then the devil took Him to the holy city and set Him on the pinnacle of the temple. 6“If You are the Son of God,” he said, “throw Yourself down.

انبیاء بشر تھے لہذا ان کو وقت لگا کہ وہ اس نئی حقیقت کو قبول کر سکیں
رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر کہا جاتا ہے دو سال تک الوحی نہیں آئی
————-

صحیح مسلم میں ہے
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، يَسْمَعُ الصَّوْتَ وَيَرَى الضَّوْءَ سَبْعَ سِنِينَ، وَلَا يَرَى شَيْئًا وَثَمَانَ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا»

ابن عباس نے کہا رسول الله مکہ میں پندرہ سال رہے وہاں سات سال تک صرف آوازیں سنتے اور روشنی دیکھتے رہے اور کوئی اور چیز (یعنی فرشتہ) نہ دیکھا پھر آٹھویں سال سے الوحی شروع ہوئی اور مدینہ میں دس سال رہے

راقم کہتا ہے یہ روایت صحیح نہیں ہے لیکن اس کو چھپا دیا جاتا ہے جبکہ یہ صحیح مسلم کی ہے
کہاں ہیں وہ جو کہتے ہیں صحیحین کی تمام روایات صحیح ہیں؟

 عمار کی روایت بے کار ہے

وقال البخاري: أكثر من روى عنه أهل البصرة وفي ” الأوسط ” من تواريخه، وقال عمار بن أبي عمار عن ابن عباس: ” توفي النبي – صلى الله عليه وسلم – وهو ابن خمس وستين ” ولا يتابع عليه، وكان شعبة يتكلم في عمار
امام بخاری نے تاریخ الاوسط کہا اس سے اکثر اہل بصرہ نے روایت کیا ہے اور کہا عمار بن ابی عمار نے ابن عباس سے روایت کیا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو وہ ٦٥ سال کے تھے – اس کی کوئی متابعت نہیں کرتا اور شعبہ ، عمار پر کلام کرتے تھے

جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب


جواب

Comments are closed.