اہل کتاب سے متعلق

جواب رفع عیسیٰ کے بعد بعثت نبوی کے دوران لوگ تھے جو اہل کتاب کے موحدین تھے وہ آیات الله پڑھتے تھے اور نبی کے منتظر تھے اس نبی کے انتظار میں وفات بھی ہوئیاسی طرح صابی بھی اہل کتاب کے لوگ ہیں جو زبور کو مانتے ہیں اور یحیی علیہ السلام کو نبی کہتے ہیں
ان تمام کا فیصلہ الله تعالی کریں گے کہ جو ان پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو
[ ( إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا إِنَّ اللَّهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ) الحج/17] سورہ آل عمران میں اھل کتاب کے بارے میں ارشاد فرمایا ؎
لَيْسُوا سَوَاءً ۗ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ (113) يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَأُولَٰئِكَ مِنَ الصَّالِحِينَ (114) وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَن يُكْفَرُوهُ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ (115)

یہ سب اھل کتاب ایک جیسے نہیں ہیں ان میں وہ گروہ بھی ھے جو ساری رات قیام میں اللہ کی آیات( تورات و انجیل ) پڑھتے رھتے ہیں اور سجدہ ریز رھتے ہیں ،ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور آخرت کے دن پر ، نیکی کے لئے کہتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور خیرات( ویلفئیر) کے کاموں میں بھاگم بھاگ شرکت کرتے ہیں اور یہ صالح لوگ ہیں ، اور جو کچھ انہوں نے بھلائی کی ھو گی اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اللہ متقی لوگوں سے بخوبی واقف ہے
رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے انے کے بعد اہل کتاب جو سچے تھے وہ ان پر ایمان لے آئے اور جو طاغوت کے پجاری تھے اسی کفر میں رہ گئے
لہذا آخری دور نبوی کے سالوں ٩ ہجری میں میں سوره المائدہ میں سب کا ذکر کیا
قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ حَتَّىٰ تُقِيمُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم مَّا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا ۖ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (68) إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئُونَ وَالنَّصَارَىٰ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (69) المائدہ ـ

کہہ دیجئے کہ اے اھل کتاب تب تک تمہارے پلے کچھ نہیں جب تک کہ تم قائم نہ کرو تورات کو اور انجیل کو اورجو نازل کیا گیا ھے تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اور یقینا جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا جاتا ھے اس سے ان کی سرکشی اور کفر مزید بڑھ جاتا ھے ، پس آپ کافر قوم پر افسوس مت کھائیں ، بےشک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہود ہیں اور صابی اور عیسائی ہیں جو بھی ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور صالح اعمال کیئے انہیں نہ کوئی خوف ھے نہ ہی کوئی غم لاحق ھو گا ـ
یعنی توریت و انجیل پر اگر اہل کتاب کا عمل نہیں تو سب کو تم کچھ بھی نہیں کہہ کر ان سب کو جہنمی قرار دیا گیا ہے
سوره بقرہ اور سوره حج کی آیات سن ٢ کی ہیں اور المائدہ سن ٩ ہجری کی ہے اس میں  فیصلہ سنا دیا گیا لہذا اسی سیاق سے پچھلی سورتوں کو سمجھنا ہو گا

Comments are closed.