Q & A

You may also send us your questions and suggestions via Contact form

Post for Questions 

قارئین سے درخواست ہے کہ سوال لکھتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ سوال دینی مسئلہ پر ہونا چاہیے- وقت قیمتی شی ہے لہذا بے مقصد سوال سے پرہیز کریں – سوالات کے سیکشن کو غور سے دیکھ لیں ہو سکتا ہے وہاں اس کا جواب پہلے سے موجود ہو –

یاد رہے کہ دین میں غیر ضروری سوالات ممنوع ہیں اور انسانی علم محدود ہے

 اپ ان شرائط پر سوال کر سکتے ہیں

اول سوال اپ کا اپنا ہونا چاہیے کسی ویب سائٹ یا کسی اور فورم کا نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا مواد  اپ وہاں سے یہاں کاپی کریں

دوم : جو جواب ملے اس کو اپ کسی اور ویب سائٹ پر پوسٹ کر کے اس پر سوال نہیں کریں گے نہ ہی اس ویب سائٹ کے کسی بلاگ کو پوسٹ کر کے کسی دوسری سائٹ سے جواب طلب کریں گے – یعنی اپ سوال کو اپنے الفاظ میں منتقل کریں اس کو کاپی پیسٹ نہ  کریں اگر اپ کو کسی اور سے یہی بات پوچھنی ہے تو اپنے الفاظ میں پوچھیں

سوم کسی عالم کو ہماری رائے سے “علمی” اختلاف ہو تو اس کو بھی اپنے الفاظ میں منتقل کر کے اپ اس پر ہمارا جواب پوچھ سکتے ہیں

چہارم نہ ہی اپ ہماری ویب سائٹ کے لنک پوسٹ کریں کہ وہاں دوسری سائٹ پر لکھا ہو “اپ یہ کہہ رہے ہیں اور وہ یہ کہہ رہے ہیں ” یہ انداز مناظرہ کی طرف لے جاتا ہے جو راقم کے نزدیک دین کو کھیل تماشہ بنانے کے مترادف ہے

تنبیہشرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں جوابات پر پانبدی لگا دی جائے گی

574 Responses to Q & A

  1. Shahzad Khan says:

    بھائی یہ اسکالر محمد شیخ کا کیا بیک گراؤنڈ اور بایو ڈیٹا ہے ۔۔اس کی ایک تقریر سنی جس میں اس کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ کسی بھی معاہدے یا لین دین میں دو مرد گواہ ہونے چاہئیں اگر دو مرد میسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہ ہوں ۔۔یہ بات انہوں نے اغلبا کتب احادیث کے رد میں کہی کہ کسی بھی کتب احادیث کا مصنف ایک ہی ہے جس کی بنا پر اور قرآن کی اس شرط میں پوری نہیں اترتی۔۔اور ان کا کہنا ہے کہ قرآن فرقان ہے کرائٹ ایریا ہے قرآن کی روشنی میں ہی کسی بات کو پرکھا جائے گا نا کہ احادیث سے قرآن کو سمجھا جائے گا اور حدیث کا مطلب ہے واقعہ جو کہ قرآن میں ہی موجود ہیں ۔۔۔۔

    • Islamic-Belief says:

      اس شخص اسکالر محمد شیخ پر مجھے معلومات نہیں ہیں

      لین دین یا معاہدہ میں تحریر پر گواہ ہوں یہ قرآن کا حکم ہے لیکن اس کا حدیث لکھنے سننے سے کیا تعلق ہے ؟
      دنیا کی بیشتر کتب کے مصنف ایک ہی ہیں وہ سب کیا غیر معتبر ہیں؟

  2. anum shoukat says:

    محرم میں حلیم پکانے میں قباحت تو نہیں ہے سوائے دس محرم کے ؟

    • Islamic-Belief says:

      جب تک اپ اس کو بانٹ نہیں رہیں اور نیاز نہیں کر رہیں اور خود کھا رہی ہیں اس میں قباحت نہیں ہے

  3. wajahat says:

    تحقیق چاہیے

    امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ اپنی مسند میں اور امام طبرانی نے معجم الکبیر میں ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ معاویہ کو کتاب (قرآن) اور حساب کا علم عطا فرما اور اسے عذاب سے بچا.

    》مسند امام احمد بن حنبل، جلد ٢٧، رقم ١٧١٥٢.
    》امام طبرانی، معجم الکبیر، جلد ١٨، رقم ٦٢٨.

    • Islamic-Belief says:

      صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان میں ہے
      حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَعَبْد اللَّه بْنُ هَاشِمٍ، قَالُوا: نَا عَبْد الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ:
      سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّه – صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – يَدْعُو رَجُلا إِلَى السَّحُورِ، فَقَالَ: “هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ”.
      وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ وَعَبْد اللَّه بْنُ هَاشِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّه – صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَهُوَ يَدْعُو إِلَى السَّحُورِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ: “هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ”. وَزَادَا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: “اللَّهمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ، وَقِهِ الْعَذَابَ”.
      وَقَالَ عَبْد اللَّه بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، وَقَالَ: “هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ”.

      میزان میں الذھبی نے لکھا ہے
      الحارث بن زياد [د، س] عن أبي رهم السمعي (2) في فضل معاوية. مجهول، وعنه يوسف بن سيف فقط.
      اس کی سند میں الحارث بن زياد مجہول ہے
      ——-
      مغلطاي نے الإكمال (3/290) میں الذهبي کے الميزان اور المغني میں اس راوی کو مجهول کہنے پر جرح کی ہے اور کہا إن ذلك قولٌ لم يُسبق إليه. ایسا کسی نے اس سے قبل نہیں کہا
      أبوالحسن القطان: حديثه حسن اس کی حدیث حسن ہے
      البانی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے

  4. wajahat says:

    کتاب الامامت والسیاست کی توثیق چاھیئے کیا یہ کتاب واقعی ابن قتیبہ دینوری کی ھے

    http://www.ur.islamic-sources.com/book/%D8%A7%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85%D8%AA-%D9%88-%D8%A7%D9%84%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA

  5. wajahat says:

    کیا یہ حدیث صحیح ہے

    حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ حِينَ اشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ

    عائشہ کہتی ہے کہ رسول اللہ ص جب شدید درد و الم سے دوچار تھے تو آپ نے کالا لباس اوڑھا ہوا تھا۔

    حوالہ: مسند احمد، جلد ٤٣ ص ٢٧٠

    • Islamic-Belief says:

      کالا لباس پہنا جا سکتا ہے
      صحیح بخاری میں ہے

      حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ سَعِيدِ بْنِ فُلَانٍ هُوَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ “أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ صَغِيرَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ تَرَوْنَ أَنْ نَكْسُوَ هَذِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَكَتَ الْقَوْمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأُتِيَ بِهَا تُحْمَلُ فَأَخَذَ الْخَمِيصَةَ بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَلْبَسَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ أَبْلِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَخْلِقِي، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ فِيهَا عَلَمٌ أَخْضَرُ أَوْ أَصْفَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سَنَاهْ وَسَنَاهْ بِالْحَبَشِيَّةِ حَسَنٌ”.
      ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن سعید نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے سعید بن فلاں یعنی عمرو بن سعید بن عاص نے اور ان سے ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کپڑے لائے گئے جس میں ایک چھوٹی کالی کملی بھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے یہ چادر کسے دی جائے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام خالد کو میرے پاس بلا لاؤ۔ انہیں گود میں اٹھا کر لایا گیا (کیونکہ بچی تھیں) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر اپنے ہاتھ میں لی اور انہیں پہنایا اور دعا دی کہ جیتی رہو۔ اس چادر میں ہرے اور زرد نقش و نگار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام خالد! یہ نقش و نگار سناہ ہیں۔ سناہ حبشی زبان میں خوب اچھے کے معنی میں آتا ہے۔

      صحیح ابن خزیمہ میں ہے

      اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ،
      رسول الله نے استسقی کی نماز پڑھی اور ان پر کالی چادر تھی
      —-
      مسند احمد

      حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ حِينَ اشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ

      عائشہ کہتی ہے کہ رسول اللہ ص جب شدید درد و الم سے دوچار تھے تو آپ نے کالا لباس اوڑھا ہوا تھا۔
      یہ ترجمہ صحیح نہیں – ترجمہ ہے
      عائشہ رضی الله عنہا نے کہا رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر ایک کالی چادر تھی جب اپ کے (مرض وفات میں) بیماری میں شدت آئی

      اس کی سند میں ابن اسحاق ہے – حسن کہہ سکتے ہیں

      جہاں تک صحیح روایات میں آیا ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ایک سرخ چادر تھی جس کو اپ نے زیادہ اوڑھا ہے اس کو تدفین کے وقت ان کی قبر مبارک میں بچھا دیا گیا تھا
      ——-
      کالے لباس کا اسلام میں غم سے تعلق نہیں ہے
      بنو عباس نے کالا لباس سیاست کی نذر کیا اور یہ خروج کی علامت بن گیا
      اسی بنا پر اہل تشیع اس کو محرم میں پہناتے ہیں کہ یہ حسین کا خروج ہے

      الذھبی لکھتے ہیں
      عاصم بن بهدلة، عن أبي رزين، قال: خطبنا الحسن بن علي وعليه ثياب سود وعمامة سوداء.
      ابو رزین کہتا ہے ہے کہ امام حسن ع نے ہمارے سامنے خطبہ دیا جب کہ وہ کالا لباس اور کالا عمامہ پہنے ہوئے تھے
      حوالہ:سير أعلام النبلاء جلد ٣ ص ٢٧٢
      البتہ الذھبی نے خود میزان میں اس کو مجہول قرار دیا ہے
      أبو رزين [د، س] . ويقال أبو زرير. عن علي. لا يعرف.

  6. wajahat says:

    ابو شہر یار بھائی آج ہی یہ ابو داوود کی یہ حدیث پڑھی

    http://mohaddis.com/View/Abu-Daud/2049

    سنن أبي داؤد: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَزْوِيجِ مَنْ لَمْ يَلِدْ مِنْ النِّسَاءِ) سنن ابو داؤد: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل (باب: کسی بانجھ خاتون سے شادی کرنا منع ہے)

    2049 .

    قَالَ أَبو دَاود: كَتَبَ إِلَيَّ حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عُمَارَةَ ابْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ؟ قَالَ: غَرِّبْهَا ، قَالَ: أَخَافُ أَنْ تَتْبَعَهَا نَفْسِي؟ قَالَ: فَاسْتَمْتِعْ بِهَا.

    حکم : صحیح 2049 .

    امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حسین بن حریث مروزی نے مجھے لکھ بھیجا کہ ۔ ہمیں فضل بن موسیٰ نے حسین بن واقد سے ، انہوں نے عمارہ بن ابی حفصہ سے ، انہوں نے عکرمہ سے ، انہوں نے ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا : میری بیوی کسی چھونے والے کا ہاتھ رد نہیں کرتی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اسے دور کر دو ( طلاق دے دو ) ۔“ اس نے کہا : مجھے اندیشہ ہے کہ میرا دل اس کے ساتھ لگا رہے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تب اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔ “

    =======

    پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ حدیث صحیح ہے – اس کو البانی نے صحیح کہا ہے

    • Islamic-Belief says:

      یہ روایت صحیح نہیں منکر ہے

      ابن عباس مدینہ فتح مکہ کے بعد پہنچے اور اس وقت تک پردے کے احکام آ چکے تھے ممکن نہیں کہ ایک عورت کو کوئی اس طرح چھو سکے

      مصنف عبد الرزاق میں ہے
      عَبْدُ الرَّزَّاقِ، 12366 – عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ مَوْلًى لِبَنِي هَاشِمٍ، أَنَّ رَجُلًا، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ فَارِقْهَا. قَالَ: إِنَّهَا تُعْجِبُنِي. قَالُ: «فَتَمَتَّعْ بِهَا»
      عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، نے ایک مرد سے روایت کیا اس نے بنی ہاشم کے ایک غلام سے روایت کیا کہ ایک شخص نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری بیوی کسی چھونے والے ہاتھ کو نہیں روکتی

      سنن نسائی میں عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ نے اس روایت کو ابن عباس سے منسوب کیا
      أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَعَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَبْدُ الْكَرِيمِ، يَرْفَعُهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَارُونُ لَمْ يَرْفَعْهُ، قَالَا: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي امْرَأَةً، هِيَ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَهِيَ لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ، قَالَ: “طَلِّقْهَا”، قَالَ: لَا أَصْبِرُ عَنْهَا، قَالَ: “اسْتَمْتِعْ بِهَا” قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: “هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِثَابِتٍ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَهَارُونُ بْنُ رِئَابٍ أَثْبَتُ مِنْهُ وَقَدْ أَرْسَلَ الْحَدِيثَ، وَهَارُونُ ثِقَةٌ، وَحَدِيثُهُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْكَرِيمِ”

      اور سنن نسائی میں ہے
      أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ، فَقَالَ: “غَرِّبْهَا إِنْ شِئْتَ”، قَالَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَتَّبِعَهَا نَفْسِي، قَالَ: “اسْتَمْتِعْ بِهَا” ,
      عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، نے بھی اس کو ابن عباس سے منسوب کیا

      اس طرح اس میں دو کا تفرد ہوا عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، کا اور عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ کا – دونوں کٹر شیعہ ہیں
      اور بعض اوقات اس کو ابن عباس کی حدیث کہتے ہیں اور بعض اوقات اس کو کسی بنی ہاشم کے مجہول غلام کی حدیث کہتے ہیں
      دونوں ایک ہی دور کے ہیں

      منذری نے سنن ابو داود کی تعلیق میں لکھا ہے
      ولم يكن النبي -صلى اللَّه عليه وسلم- يأمره بإمساكها وهي تفجُر
      یہ ممکن نہیں کہ فسق و فجور ہوا ہو اور رسول الله نے اس عورت کو رکھے رہنے کا حکم کیا ہو

      منذری کے بقول دارقطنی نے اس حدیث کو هذا الحديث ليس بثابت قرار دیا ہے

  7. anum shoukat says:

    ایک حدیث جس سے پنجتن پاک کا عقیدہ نکالا جاتا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر کے نیچے فاطمہ حسن حسین علی رضی اللہ عنھما کو لے لیتے ہیں شیعہ کی کس بک میں یہ عقیدہ لکھا ہے وضاحت کر دیجیے جزاک اللہ۔

    کسی کیلئے گمراہ کا لفظ بولا جاتا ہے تو اسکا کیا مطلب ہوتا ہے؟

  8. shahzad khan says:

    بھائی آپ کے بلاگ میں پڑھا کہ امہات المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر نکاح کے وقت 9 سال تھی اور یہ ایک غیبی اشارہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دکھایا گیا ۔۔۔۔۔اس غیبی اشارے کا ذکر کس روایت میں آیا ہے؟

    • Islamic-Belief says:

      صحیح بخاری
      ٣٨٩٥

      حدثنا معلى، ‏‏‏‏‏‏حدثنا وهيب، ‏‏‏‏‏‏عن هشام بن عروة، ‏‏‏‏‏‏عن ابيه، ‏‏‏‏‏‏عن عائشة رضي الله عنها، ‏‏‏‏‏‏ان النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏قال لها:‏‏‏‏ “اريتك في المنام مرتين ارى انك في سرقة من حرير، ‏‏‏‏‏‏ويقول:‏‏‏‏ هذه امراتك فاكشف عنها فإذا هي انت، ‏‏‏‏‏‏فاقول:‏‏‏‏ إن يك هذا من عند الله يمضه”.
      ہم سے معلی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم مجھے دو مرتبہ خواب میں دکھائی گئی ہو۔ میں نے دیکھا کہ تم ایک ریشمی کپڑے میں لپٹی ہوئی ہو اور کہا جا رہا ہے کہ یہ آپ کی بیوی ہیں ان کا چہرہ کھولئے۔ میں نے چہرہ کھول کر دیکھا تو تم تھیں۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ خواب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے تو وہ خود اس کو پورا فرمائے گا۔“

  9. anum shoukat says:

    آپ میرے سوالات کاٹ کیوں دیتے ہیں کیا وہ بنی اسرائیل والے سوال ہوتے ہیں؟؟
    صبرا جمیل واللہ مستعان

  10. irfan says:

    عام الخزن نام کیا رسول اللہ نے خود عکھا کس حدیث میں ہے کیا یہ صحیح ہے

    • Islamic-Belief says:

      یہ نام اغلبا کسی حدیث میں نہیں – یہ نام مورخین نے رکھا ہے

      العيني نے “عمدة القاري” (8/ 180) میں لکھا ہے : ” توفّي أبو طَالب هُوَ وَخَدِيجَة فِي أَيَّام ثَلَاثَة ، قَالَ صاعد فِي (كتاب الفصُوص) : فَكَانَ النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم يُسَمِّي ذَلِك الْعَام عَام الْحزن ” انتهى.
      صاعد بن الحسن بن عيسى الربعي البغدادي اللغوي نے کتاب الفصوص میں لکھا ہے اس سال کا نام رسول الله نے غم کا سال رکھا

      ابن بشكوال نے کتاب “الصلة” (ص233) میں صاعد بن الحسن بن عيسى الربعي البغدادي اللغوي پر لکھا: ” كان صاعد هذا يتهم بالكذب وقلة الصدق فيما يورده عفى الله عنه ” انتهى
      صاعد بن الحسن بن عيسى الربعي البغدادي اللغوي یہ کذب سے متہم ہے

      وہابی عالم المنجد کی ویب سائٹ پر یہ تفصیل ہے
      https://islamqa.info/ar/221486

  11. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی کیا حال ہیں – پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ احادیث صحیح ہیں

    جامع الترمذي: أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ) جامع ترمذی: كتاب: قرآن کریم کی تفسیر کے بیان میں (باب: سورہ نساء کی تفسیر)

    3026

    حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ صَنَعَ لَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ طَعَامًا فَدَعَانَا وَسَقَانَا مِنْ الْخَمْرِ فَأَخَذَتْ الْخَمْرُ مِنَّا وَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَقَدَّمُونِي فَقَرَأْتُ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ وَنَحْنُ نَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ

    حکم : صحیح 3026

    علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں: عبدالرحمن بن عوف رضی الله عنہ نے ہمارے لیے کھانا تیار کیا، پھر ہمیں بلا کر کھلایا اور شراب پلائی۔ شراب نے ہماری عقلیں ماؤف کر دیں، اور اسی دوران صلاۃ کا وقت آ گیا، تو لوگوں نے مجھے (امامت کے لیے) آگے بڑھا دیا، میں نے پڑھا {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ لاَ أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ وَنَحْنُ نَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ} (اے نبی! کہہ دیجئے: کافرو! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، اور ہم اسی کو پوجتے ہیں جنہیں تم پوجتے ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے آیت {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَاتَقُولُونَ} ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

    ==========

    سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ) سنن ابو داؤد: کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل (باب: شراب کی حرمت کا بیان)

    3671

    حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَام, أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، دَعَاهُ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَسَقَاهُمَا قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ، فَأَمَّهُمْ عَلِيٌّ فِي الْمَغْرِبِ، فَقَرَأَ: {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ}[أول سورة الكافرون], فَخَلَطَ فِيهَا، فَنَزَلَتْ: {لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ}[النساء: 43].

    حکم : صحیح 3671

    سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نے ان کی اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف کی دعوت کی اور انہیں شراب پلائی اور یہ واقعہ حرمت شراب سے پہلے کا ہے ۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز مغرب میں امامت کرائی اور سورۃ الکافرون کی قرآت کرنے لگے مگر وہ ان پر غلط ہو گئی ۔ چنانچہ یہ حکم نازل ہوا «لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» ” نشے کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ ‘ حتیٰ کہ جاننے لگو کہ تم کیا کہہ رہے ہو ۔ “

  12. وجاہت says:

    ابن کثیر اپنی کتاب البداية والنهاية میں لکھتے ہیں کہ

    وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ

    أَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ حتى نزلنا غدير خم بعث مُنَادِيًا يُنَادِي، فَلَمَّا اجْتَمَعْنَا قَالَ: «أَلَسْتُ أَوْلَى بِكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ؟ قُلْنَا

    بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: أَلَسْتُ أَوْلَى بِكُمْ مِنْ أُمَّهَاتِكُمْ؟ قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ: قَالَ: أَلَسْتُ أَوْلَى بِكُمْ مِنْ آبَائِكُمْ؟ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: أَلَسْتُ أَلَسْتُ أَلَسْتُ؟ قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهمّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: هنيئا لك يا ابن أَبِي طَالِبٍ أَصْبَحْتَ الْيَوْمَ وَلِيَّ كُلِّ مُؤْمِنٍ.

    آگے لکھتے ہیں کہ

    وَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَأَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ الْبَرَاءِ بِهِ. وَهَكَذَا رَوَاهُ مُوسَى بْنُ عُثْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بِهِ. وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ سَعْدٍ وَطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَلَهُ طُرُقٌ عَنْهُ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَحُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ

    http://shamela.ws/browse.php/book-23708#page-2471

    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

    اس کا ذکر جلال الدين سيوطی نے بھی اپنی کتاب الحاوي للفتاوي میں کیا ہے

    وأخرج أحمد، وابن ماجه عن البراء بن عازب قال: (كنا مع رسول الله صلي الله عليه وسلّم في سفر فنزلنا بغدير خم فنودي فينا الصلاة جامعة فصلي الظهر وأخذ بيد علي فقال… فلقيه عمر بعد ذلك فقال له: (هنيئاً لك يا ابن أبي طالب أصبحت وأمسيت مولي كل مؤمن ومؤمنة)

    اب یہاں بھی یہ الفاظ ہیں

    فلقيه عمر بعد ذلك فقال له
    (هنيئاً لك يا ابن أبي طالب أصبحت وأمسيت مولي كل مؤمن ومؤمنة)

    http://library.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?flag=1&bk_no=130&ID=69

    ———-

    مسند احمد میں یہ حدیث ہے

    حدثنا عفان حدثنا حماد بن سلمة أخبرنا علي بن زيد عن عدي بن ثابت عن البراء بن عازب قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فنزلنا بغدير خم فنودي فينا الصلاة جامعة وكسح لرسول الله صلى الله عليه وسلم تحت شجرتين فصلى الظهر وأخذ بيد علي رضي الله تعالى عنه فقال ألستم تعلمون أني أولى بالمؤمنين من أنفسهم قالوا بلى قال ألستم تعلمون أني أولى بكل مؤمن من نفسه قالوا بلى قال فأخذ بيد علي فقال من كنت مولاه فعلي مولاه اللهم وال من والاه وعاد من عاداه قال فلقيه عمر بعد ذلك فقال هنيئا يا ابن أبي طالب أصبحت وأمسيت مولى كل مؤمن ومؤمنة

    http://library.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?bk_no=6&ID=679&idfrom=17740&idto=17965&bookid=6&startno=11

    اور اس میں یہ الفاظ ہیں – جس کا ابن کثیراور جلال الدين سيوطی نے ذکر کیا ہے

    فلقيه عمر بعد ذلك فقال هنيئا يا ابن أبي طالب أصبحت وأمسيت مولى كل مؤمن ومؤمنة

    یہ بہت ساری کتب میں آئ ہے

    ———

    لیکن جب ہم ابن ماجہ میں اس حدیث کو دیکھتے ہیں تو وہ یہ ہے

    سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابُ فَضْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍؓ) سنن ابن ماجہ: کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت (باب: حضرت علی بن ابی طالب کے فضائل و مناقب)

    116

    حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ قَالَ: أَخْبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ، فَنَزَلَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ، فَأَمَرَ الصَّلَاةَ جَامِعَةً، فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ، فَقَالَ: «أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «أَلَسْتُ أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «فَهَذَا وَلِيُّ مَنْ أَنَا مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، اللَّهُمَّ عَادِ مَنْ عَادَاهُ»

    حکم : صحیح 116

    حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ نے جو حض ادا فرمایا، اس سے واپسی پر سفر میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ نے راستے میں ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا اور نماز میں سب کو جمع ہونے کا حکم دیا۔( نماز کے بعد) آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:’’کیا مومنوں پر میرا خود ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں؟‘‘ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ پھر فرمایا:’’ کیا ہر مومن پر میرا خود اس کی ذات سے زیادہ حق نہیں؟‘‘ صحابہ نے کہا: یقیناً ہے۔ تو آپ نے فرمایا:’’ جس کا میں دوست ہوں، یہ بھی اس کا دوست ہے۔ اے اللہ! جو اس( علی) سے دوستی رکھے تو اسے سے دوستی رکھ۔ اے اللہ! جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ۔‘‘

    لیکن اس میں یہ جملہ نہیں ہے – جس کا ابن کثیراور جلال الدين سيوطی نے ذکر کیا ہے

    فقال عمر بن الخطاب: هنيئا لك يا ابن أبي طالب أصبحت اليوم ولي كل مؤمن

    کیا ابن ماجہ میں تحریف ہے یا غلطی ہے

    • Islamic-Belief says:

      جب یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی تخریج ان ان لوگوں نے کی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے تمام میں الفاظ برابر ایک جیسے ہیں
      الفاظ میں تبدیلی ہو سکتی ہے

      میرے نزدیک یہاں ایسا ہی ہے – ابن ماجہ کے کسی شارح نے ان الفاظ کی شرح نہیں کی – ممکن نہیں کہ یہ الفاظ ہوں لیکن ان پر بات نہ ہو

      • وجاہت says:

        یہ روایت کتاب مصنف عبد الرزاق سے بھی نہیں ملی، البتہ ممکن ہے کہ عبد الرزاق نے اس روایت کو اپنی کسی دوسری ایسی کتاب میں نقل کیا ہو کہ جو کتاب ابن کثیر کے پاس موجود تھی۔

        • Islamic-Belief says:

          عبد الرزاق کی اور کون کون سی کتابیں ہیں ؟

          • وجاہت says:

            ابن کثیر نے ہی کہا ہے اوپر

            وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ

            مصنف عبد الرزاق میں نہیں ہے تو

            میں کیا کہہ سکتا ہوں – یہ تو ابن کثیر نے ہی لکھا ہے

          • Islamic-Belief says:

            ابن کثیر نے کہا ہے کہ اس روایت کی تخریج یہاں یہاں ہے یہ نہیں کہا کہ سب میں متن کے الفاظ ایک ہی ہیں
            متن کے الفاظ جدا ہو سکتے ہیں
            تخریج کی کتابوں میں یہ چیز موجود ہے

        • وجاہت says:

          یہ بات بلکل اسی طرح ہے کہ

          ابن ہجر کی کتاب الصواعق المحرقة على أهل الرفض والضلال والزندقة کے صفحہ ٢١٢ پر یہ عبارت لکھی ہوئی ہے

          لنک

          http://www.hakikatkitabevi.com/arabic/49-muhriqa.pdf

          وجاء من طرق عدیدة یقوی بعضها بعضا ( إنما مثل أهل بیتی فیکم کمثل سفینة نوح من رکبها نجا ) وفی روایة مسلم ( ومن تخلف عنها غرق ) وفی روایة ( هلک وإنما مثل أهل بیتی فیکم مثل باب حطة فی بنی إسرائیل من دخله غفر له ) وفی روایة
          ( غفر له الذنوب )

          یہاں ابن ہجر جس سفینہ نوح والی حدیث کا ذکر کر رہے ہیں کہ یہ صحیح مسلم میں ہے

          لیکن یہ صحیح مسلم میں مجھے نہیں ملی

          اسی طرح

          دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ

          صفحہ ٢٢٧ پر یہ عبارت لکھتے ہیں کہ

          لنک

          ومن ذلک ما أخرجه مسلم وأبو داود والنسائی وابن ماجة والبیهقی وآخرون
          (المهدی من عترتی من ولد فاطمة )

          یہ صحیح مسلم کی کس حدیث کا ذکر کر رہے ہیں جس میں یہ لکھا ہے

          المهدی من عترتی من ولد فاطمة

          لیکن یہ بھی نہیں ملی

          الله ہی جانے

          • Islamic-Belief says:

            نہیں یہ ایسا نہیں ہے – اپ کی سطحی علمیت ہے

            اپ جب کسی کا بھی بات دیکھیں تو اس کو بلا سوچے آگے مت کریں جیسا اپ کا معمول ہے بلکہ لوگوں نے جو کہا اس کو تنقیدی نگاہ سے دیکھیں

            ابن حجر یہ کوئی محدث نہیں ہے یہ الہتھمی ہے اپ بار بار اس کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ کوئی علم حدیث کا عالم ہو
            یہ صوفی ٹائپ شخص ہے اور جو اس نے لکھا کہ حدیث یہاں ہے تو ایسا نہیں ہے
            یہ روایات جن اپ کھوج رہے ہیں یہ صحیح مسلم میں کبھی بھی نہیں تھیں نہ شارحین نے ان کا ذکر کیا ہے

  13. irfan says:

    اسکا جواب چاہیے جتنا جلد ہو سکے؟
    میں(خالد الملیزی) نے ڈاکٹر مسعودالدین عثمانی کی
    تنظیم اور مبالغہ آمیز کتابچو سے یہ حاصل لیا ہے کہ وہ امام احمد بن حنبل کو کافر،مشرک اور سب سے بڑا طاغوت سمجھتاہے حالانکہ وہ اس فتوے پر احمدبن حنبل کے ہم عصرمیں سے اور انکے بعد آنے والے آج تک کے جید علماء میں سے کوئی تائید یا حمایت پیش نہیں کرسکتے-
    یہ مبالغہ تو ایک طرف رکھ دے مگر اس سے زیادہ غلو کی انتہاء یہ ہے کہ مذکورہ تنظیم والے انکو بھی کافر اور مرتد سمجھتے ہیں جو احمد بن حنبل یا انکو مسلم سمجھنے والے کو مسلم سمجھتا ہو یا احمد بن حنبل کو مسلم سمجھنے والے کو “رحمہ اللہ” لکھتا ہو- العیاذ بااللہ
    عرض ہے کہ مسلم صرف مسلم ہی کو دعا دیتا ہے جیسا کہ مذکورہ تنظیم میں بھی یہ بات اٹل ہے اور مذکورہ تنظیم انکو اپنی تنظیم سے نکال کر مرتد کا فتوی دیتے ہیں جو احمد بن حنبل کو مسلم سمجھنے والے کیلئے “رحمہ اللہ” جیسے دعائیہ کلمات اپنی تحریروں میں ارقام کرتے ہیں-
    لھذا ہم ذیل میں چند ان شخصیات کے حوالے درج کرتے ہیں جنہوں نے ڈائرکٹ احمد بن حنبل کو ہی “رحمہ اللہ” جیسے دعائیہ الفاظ سے دعا دے کر انکے مسلم ہونے کی گواہی دی ہے۔جو مذکورہ تنظیم کیلئے انکی انتہائے جہالت پرسوالیہ نشان ہے اور جس سے انکا احمد بن حنبل اور انکے اس تار عنکبوت جیسے دعوے میں پھنسے کچھ نا سمجھ لوگوں کیلئے تحقیق کے دروازے پر دستک کے مترادف ہے-
    1)امام بخاری نے احمد بن حنبل کو الضعفاء الصغیر میں رحمہ اللہ کہاہے 32/1،صحیح بخاری 85/1،رقم:377،
    2)امام بخاری کے استاد علی ابن المدینی بھی احمد بن حنبل کو رحمہ اللہ کہہ کر دعادیتے تھے (مشیخة ابن البخاری ص110)
    3)سنن ابی داود کا مؤلف امام ابوداود السجستانی بھی احمد بن حنبل کو “رحمہ اللہ علیہ” جیسے دعائیہ الفاظ سے یاد کرتے تھے
    دیکھئیے: مسائل الامام احمد لابی داودالسجستانی 214،92/1،السنن الکبری للبیھقی رقم 18333
    4)جامع الترمذی کا مولف امام محمد بن عیسی الترمذی(المتوفی:256ھ) بھی احمد بن حنبل کو رحمہ اللہ جیسے دعائیہ الفاظ سے یاد کرتے تھے دیکھئے:ترمذی ،کتاب الطھارہ-باب فی النھی عن استقبال القبلة یغائط او بول،رقم:8-بیروت
    5)مشہور امام حافظ ثقہ ابوزرعة الرازی (المتوفی:264)جیسے لوگ جسکو رحمہ اللہ کہے اسے کون ٹال سکتا ہے (العلل لابن ابی حاتم ص 506)
    6)الحسن بن ثواب التغلبی(المتوفی:268) بھی مذکورہ الفاظ کیساتھ دعادیتے تھے (جزء فیہ ثلاثة مجالس من امالی ابن البختری ص7)
    7)امام احمد بن محمد البغدادی(المتوفی:275ھ)بھی رحمہ اللہ جیسے کلمات کے ذریعے یاد کرتے تھے (الخامس والعشرون من المشیخة البغدادیہ ص3)
    8)ابوالقاسم العدوی(المتوفی:317ھ) جنکی تاریخ پیدائش 214ھ ہے بھی رحمہ اللہ کہہ کر دعادیتے تھے (مشیخة ابن البخاری ص59)
    9)امام الطوسی(المتوفی:312ھ) بھی رحمہ اللہ الفاظ کیساتھ دعا دیتے تھے مختصرالاحکام المسخرج ص90
    10)تمام بن محمد الرازی(المتوفی:414ھ) بھی رحمہ اللہ الفاظ کے ذریعے دعادیتے تھے (فوائد تمام الرازی ص218)
    11)ابونعیم الصبہانی(المتوفی:430ھ) نے بھی احمد بن حنبل کو رحمہ اللہ جیسے دعائیہ الفاظ کیساتھ یاد کیا ہے دیکھئے:المسندالمستخرج ص21،690
    12)اسحاق الحنظلی بھی رحمہ اللہ کیساتھ یاد کرتے تھے دیکھئے السنن الصغیر للبیھقی تحت رقم 1276
    13)امام بیھقی خود رحمہ اللہ جیسے کلمات کے ذریعے دعادیتے تھے دیکھئے السنن الکبری تحت رقم 5162
    یہ صرف 13 حوالے تھے جو کہ آٹے میں نمک کے برابر ہے تفصیل تو ان شاء اللہ احمد بن حنبل پر زیرقلم تحریر میں ملے گی-
    احمدبن حنبل کے ہم عصر اور انکے بعد اس امت کے جید علماء احمد بن حنبل کو رحمہ اللہ جیسے دعائیہ کلمات سے یاد کرکے انکے مسلم ہونے کی گواہی دیتے تھے جبکہ احمد بن حنبل کے 11 سو سال سے زیادہ عرصے کے بعد پیدا ہونے والہ شخص اور انکی تنظیم یہ باور کرائے کہ نہیں جی وہ کافر،مشرک اور سب سے بڑا طاغوت تھا اور جو اسے مسلم سمجھے گا وہ ہماری تنظیم سے باغی یعنی اسے مرتد سمجھا جائیگا
    تو آپ سنت کیمطابق کس کی گواہی پر عمل کرینگے؟؟؟

    • Islamic-Belief says:

      اس تحریر کا مکمل لنک چاہیے
      خالد الملیزی کون ہے ؟

      یہ شخص لا علم ہے – اس نے لکھا

      میں(خالد الملیزی) نے ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی کی تنظیم اور مبالغہ آمیز کتابچو سے یہ حاصل لیا ہے کہ وہ امام احمد بن حنبل کو کافر، مشرک اور سب سے بڑا طاغوت سمجھتاہے

      یہ تین فتوی ہیں احمد کافر ہے – احمد مشرک ہے -احمد طاغوت ہے

      یہ تین ڈاکٹر عثمانی کی کس کتاب میں موجود ہیں ؟
      میرے علم میں کہیں بھی اس طرح نہیں لکھا
      یہ لکھا ہے کہ عقیدہ عود روح رکھنا کفر ہے

      کتاب عذاب البرزخ میں – اس سے بات نکلی تھی کہ یہ عقیدہ احمد کا کتاب الصلوہ میں لکھا ہے
      اس کو ڈاکٹر عثمانی نے بطور عکس پیش کیا کہ احمد کا یہ عقیدہ تھا

      اس پر زبیر علی ہے اس کے چمچہ دامانوی نے لکھا کہ یہ کتاب ثابت نہیں ہے اور دوسری طرف شور کرتے رہے احمد کو کافر کہہ دیا گیا ہے

      اس پر دلیل دی گئی کہ امام احمد کے دیگر عقائد بھی ہیں جو اہل حدیث کے نزدیک صحیح نہیں
      مثلا انبیاء کا قبروں سے زائر کو پہچاننا امام بیہقی نے بیان کیا ہے
      اس ویب سائٹ پر احمد کا عقیدہ موجود ہے کہ ان کے نزدیک رسول الله کو عرش عظیم پر بیٹھا دیا جائے گا
      اور احمد تعویذ کرتے
      وسیلہ انبیاء لیتے
      تعویذ کلمات دھو دھو کر پیتے

      یہ بدعات و بد عقیدہ باتیں احمد کے بیٹوں اور ابو داود نے بیان کی ہیں
      لہذا گھر کے چراغوں کی خبر کو چھپا کر ادھر ادھر کی بات نہ کریں
      اصل مدعا پر بات کی جائے کہ عقیدہ کی خرابی امام احمد سے آئی ہے جو فرقوں میں پھیلی ہے

      =======

      امام بخاری نے احمد بن حنبل کو الضعفاء الصغیر میں رحمہ اللہ کہاہے 32/1،صحیح بخاری 85/1،رقم:377،
      تبصرہ
      امام بخاری کی کتاب الضعفاء الصغیر ہے جس کے دو ایڈیشن ہیں ایک برصغیر کا نسخہ ہے جو حلب سے بہ چھپا ہے اور دوسرا عرب ملک سے
      صرف بر صغیر کے نسخہ میں تحریف ہے کہ بے شمار ائمہ کے نام ہیں لیکن صرف امام احمد کو کتاب میں حفص بن سليمان الأسدي کے ترجمہ میں رحمہ الله لکھا گیا ہے

      الضعفاء الصغير
      المؤلف: محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة البخاري، أبو عبد الله (المتوفى: 256هـ)
      المحقق: محمود إبراهيم زايد
      الناشر: دار الوعي – حلب
      الطبعة: الأولى، 1396 هـ

      حَفْص بن سُلَيْمَان الْأَسدي أَبُو عمر عَن عَلْقَمَة بن مرقد تَرَكُوهُ وَقَالَ أَحْمد بن حَنْبَل رَحمَه الله تَعَالَى قَالَ يحيى

      كتاب الضعفاء
      المؤلف: محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة البخاري، أبو عبد الله (المتوفى: 256هـ)
      المحقق: أبو عبد الله أحمد بن إبراهيم بن أبي العينين
      الناشر: مكتبة ابن عباس
      الطبعة: الأولى 1426هـ/2005مـ
      عدد الأجزاء: 1

      حفص بن سليمان الأسدي: أبو عمر، عن علقمة بن مرثد، تركوه، قال أحمد بن حنبل وعلي: قال يحيى
      http://al-maktaba.org/book/8632/41#p2

      اصل میں الفاظ تھے قال أحمد بن حنبل وعلي: لیکن کسی کاتب کی غلطی سے برصغیر کے نسخہ میں ہو گیا وَقَالَ أَحْمد بن حَنْبَل رَحمَه الله تَعَالَى اور امام علی المدینی کا نام غائب ہو گیا جس کو بعد میں دار الوعي والوں نے چھاپا
      ================

      2)امام بخاری کے استاد علی ابن المدینی بھی احمد بن حنبل کو رحمہ اللہ کہہ کر دعادیتے تھے (مشیخة ابن البخاری ص110)
      تبصرہ
      اس قول کے متعدد راویوں کی توثیق ممکن نہیں ہے
      أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْمَرٍ الْمُؤَدِّبُ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَضِيَاءُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الْخَرِيفِ إِجَازَةً مِنْ بَغْدَادَ، قَالَا: أَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَنَحْنُ نَسْمَعُ، أَنَا أَبُو الْغَنَائِمِ بْنُ الدَّجَاجِيِّ، أَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ شَاهْ الْمَرْوَرُوذِيُّ قَدِمَ عَلَيْنَا لِلْحَجِّ فِي ربيع الأول سنة ثَمَان وَثَلَاثِينَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ سَعِيدِ ِبْنِ مَعْدَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ شُعَيْبَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا شُعَيْبٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيَّ يَقُولُ: قَالَ لِي سَيِّدِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ – رَحِمَهُ اللَّهُ ” لَا تُحَدِّثْ إِلَّا مِنْ كِتَابٍ
      عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيَّ نے کہا مجھ سے میرے سردار احمد بن حنبل الله رحم کرے نے کہا صرف کتاب سے روایت کرو

      سند میں نہ صرف ابو شعیب مجہول ہے بلکہ سند میں بیشتر افراد کی توثیق بھی نہیں ملی

      =====================

      3)سنن ابی داود کا مؤلف امام ابوداود السجستانی بھی احمد بن حنبل کو “رحمہ اللہ علیہ” جیسے دعائیہ الفاظ سے یاد کرتے تھے
      دیکھئیے: مسائل الامام احمد لابی داودالسجستانی 214،92/1،السنن الکبری للبیھقی رقم 18333

      تبصره:
      الكتاب: مسائل الإمام أحمد رواية أبي داود السجستاني
      المؤلف: أبو داود سليمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشير بن شداد بن عمرو الأزدي السِّجِسْتاني (المتوفى: 275هـ)
      تحقيق: أبي معاذ طارق بن عوض الله بن محمد
      الناشر: مكتبة ابن تيمية، مصر
      الطبعة: الأولى، 1420 هـ – 1999 م

      سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ، قِيلَ لَهُ» لَا يُصَلِّي الْإِمَامُ بَيْنَ التَّرَاوِيحِ، وَلَا النَّاسُ؟ قَالَ: لَا يُصَلِّي الْإِمَامُ وَلَا النَّاسُ
      سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقِيلَ لَهُ» قَمِيصُ الْمَرْأَةِ؟ قَالَ: يُخَيَّطُ، قِيلَ: يُكَفُّ وَيُزَرَّرُ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَا يُزَرَّرُ عَلَيْهَا «.

      اس کتاب میں ابو داود نے امام احمد کے اقوال لا تعداد مرتبہ لکھے ہیں مگر صرف دو مقام پر احمد کے نام کے ساتھ ٍ رَحِمَهُ اللَّهُ کا لاحقہ لگا ہے

      یہ کسی کاتب کا کمال ہے

      یہی الفاظ اور لوگوں نے بھی نقل کیے ہیں کہ ابو داود نے مسائل احمد میں اس کا ذکر کیا لیکن وہ رحمہ الله کے الفاظ نقل نہیں کرتے

      الكتاب: الجامع لعلوم الإمام أحمد – الفقه
      الإمام: أبو عبد الله أحمد بن حنبل
      المؤلف: خالد الرباط، سيد عزت عيد [بمشاركة الباحثين بدار الفلاح]
      الناشر: دار الفلاح للبحث العلمي وتحقيق التراث، الفيوم – جمهورية مصر العربية
      الطبعة: الأولى، 1430 هـ – 2009 م

      قال أبو داود: سمعت أحمد بن حنبل، قيل له: لا يصلي الإمام بين التراويح ولا الناس؟
      قال: لا يصلي الإمام، ولا الناس.
      “مسائل أبي داود” (446)

      خالد الرباط اور سيد عزت عيد کے مطابق اصل الفاظ میں رحمہ الله کا اضافہ مشکوک تھا لہذا انہوں نے ان کو حذف کیا

      اسی طرح یہ دونوں لکھتے ہیں
      قال أبو داود: سمعت أحمد بن حنبل، وقيل له: قميص المرأة؟
      قال: يخيط.
      قيل: يكف ويزرر؟
      قال: نعم، ولا يزرر عليها.
      “مسائل أبي داود” (1003)

      اس میں بھی رحمہ الله کے الفاظ حذف کر دیےہیں – معلوم ہوا رحمہ الله کا اضافہ محفوط نہیں تھا

      کیا یہ لوگ ڈاکٹر عثمانی سے متاثر ہیں؟
      ==========

      4)جامع الترمذی کا مولف امام محمد بن عیسی الترمذی(المتوفی:256ھ) بھی احمد بن حنبل کو رحمہ اللہ جیسے دعائیہ الفاظ سے یاد کرتے تھے دیکھئے:ترمذی ،کتاب الطھارہ-باب فی النھی عن استقبال القبلة یغائط او بول،رقم:8-بیروت

      سنن ترمذی کے الفاظ ہیں
      وهكذا قال إسحق بن إبراهيم وقال أحمد بن حنبل رحمه الله إنما الرخصة من النبي صلى الله عليه وسلم في استدبار القبلة بغائط أو بول وأما استقبال القبلة فلا يستقبلها كأنه لم ير في الصح راء ولا في الكنف أن يستقبل القبلة.
      یہ الفاظ ایک نسخہ میں ہیں

      لیکن محققین مثلا احمد شاکر اور بشار عواد وغیرہ نے رحمہ الله کے الفاظ اپنے اپنے نسخوں میں نقل نہیں کیے

      الكتاب: سنن الترمذي
      المؤلف: محمد بن عيسى بن سَوْرة بن موسى بن الضحاك، الترمذي، أبو عيسى (المتوفى: 279هـ)
      تحقيق وتعليق:
      أحمد محمد شاكر (جـ 1، 2)
      ومحمد فؤاد عبد الباقي (جـ 3)
      وإبراهيم عطوة عوض المدرس في الأزهر الشريف (جـ 4، 5)
      الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر
      الطبعة: الثانية، 1395 هـ – 1975 م
      عدد الأجزاء: 5 أجزاء

      وَهَكَذَا قَالَ إِسْحَاقُ، وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: إِنَّمَا الرُّخْصَةُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اسْتِدْبَارِ الْقِبْلَةِ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، فَأَمَّا اسْتِقْبَالُ الْقِبْلَةِ فَلَا يَسْتَقْبِلُهَا، كَأَنَّهُ لَمْ يَرَ فِي الصَّحْرَاءِ وَلَا فِي الْكُنُفِ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ

      یہاں رحمہ الله کے الفاظ موجود نہیں ہیں

      الكتاب: الجامع الكبير – سنن الترمذي
      المؤلف: محمد بن عيسى بن سَوْرة بن موسى بن الضحاك، الترمذي، أبو عيسى (المتوفى: 279هـ)
      المحقق: بشار عواد معروف
      الناشر: دار الغرب الإسلامي – بيروت
      سنة النشر: 1998 م
      عدد الأجزاء: 6

      وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: إِنَّمَا الرُّخْصَةُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اسْتِدْبَارِ الْقِبْلَةِ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، فَأَمَّا اسْتِقْبَالُ الْقِبْلَةِ فَلاَ يَسْتَقْبِلُهَا، كَأَنَّهُ لَمْ يَرَ فِي الصَّحْرَاءِ وَلاَ فِي الْكُنُفِ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ.

      بشار عواد معروف اور احمد شاکر نے امام احمد کے نام کے ساتھ رحمہ الله کے الفاظ نقل نہیں کیے
      کیا یہ دونوں ڈاکٹر عثمانی سے متاثر ہیں؟
      ========
      5)مشہور امام حافظ ثقہ ابوزرعة الرازی (المتوفی:264)جیسے لوگ جسکو رحمہ اللہ کہے اسے کون ٹال سکتا ہے (العلل لابن ابی حاتم ص 506)

      تبصرہ

      الكتاب: العلل لابن أبي حاتم
      المؤلف: أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدريس بن المنذر التميمي، الحنظلي، الرازي ابن أبي حاتم (المتوفى: 327هـ)
      تحقيق: فريق من الباحثين بإشراف وعناية د/ سعد بن عبد الله الحميد و د/ خالد بن عبد الرحمن الجريسي
      الناشر: مطابع الحميضي
      الطبعة: الأولى، 1427 هـ – 2006 م
      عدد الأجزاء: 7 (6 أجزاء ومجلد فهارس)

      وسمعتُ (7) أَبَا زُرْعَةَ (8) يَقُولُ: سمعتُ أَحْمَدَ بْنَ حنبل ح (1) يَقُولُ: حديثُ أَبِي الأَحْوَص (2) ، عَنْ سِماك (3) ، عن القاسم ابن عبد الرحمن، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَة: خطأٌ؛ الإسنادُ والكلامُ:
      فَأَمَّا الإسنادُ: فإنَّ شَرِيكً (4) وأيُّوبَ ومحمدً (5) ابني جابرٍ رَوَوْهُ (6) عَنْ سِمَاك، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عبد الرحمن، عَنِ ابْنِ بُرَيْدة (7) ، عَنْ أَبِيهِ، عن النبيِّ (ص) كما روى (8) الناسُ: فَانْتَبِذُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ، وَلا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا (9) .
      قَالَ أَبُو زُرْعَةَ: كَذَا أَقُولُ: هَذَا خطأٌ! أمَّا (10) الصَّحيحُ:

      یہاں احمد کے نام کے ساتھ رحمہ الله ایک نسخہ میں تھا محقق نے وضاحت کی
      في (ف) : «رضي الله عنه» بدل: «رحمه الله»
      نسخہ ف میں «رضي الله عنه کی بجائے رحمہ الله لکھا ہے

      کتاب العلل از ابی حاتم میں ساٹھ مرتبہ احمد بن حنبل لکھا ہوا ہے لیکن صرف ایک مقام پر کسی کاتب نے رحمہ الله کر دیا اور کسی دوسرے نے رضی الله عنہ کر دیا

      اہل سنت کے آج بقول رضی الله عنہ صرف اصحاب رسول کے لئے ہے – جبکہ جب یہ کاتب لکھتے تھے تو ائمہ تک کو رضی الله عنہ لکھ دیتے تھے
      عجیب بات یہ ہے کہ اصحاب رسول میں سے کسی پر بھی نہ رحم کی دعا ہوتی ہے نہ ان کو رضی الله عنہ لکھا گیا لیکن امام احمد کو رضی الله عنہ لکھا گیا

      =====

      باقی حوالے بے کار ہیں کیونکہ یہ متاخرین متاثرین ہیں احمد کے ہم عصر لوگ نہیں ہیں

      امام احمد اور امام بخاری میں اختلاف تھا

      ⇓ صحیح بخاری اور امام احمد سے رو گردانی

      ⇓ مسئلہ لفظ احمد اور بخاری
      http://www.islamic-belief.net/history/

      امام ترمذی اور حنبلی ائمہ دشمن تھے
      ⇓ کیا نبی صلی الله علیہ وسلم کو روز محشر عرش عظیم پر بٹھایا جائے گا ؟
      http://www.islamic-belief.net/q-a/عقائد/الأسماء-و-الصفات/

  14. وجاہت says:

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے اور ابو شہر یار بھائی پوچھنا یہ ہے کہ جس طرح خوارج نے حضرت علی رضی الله کے بارے میں بات کی کہ وہ شراب پی کر نماز میں قرآن کی آیات بھول گیۓ – اسی طرح یہی بات حضرت عمر رضی الله کے لئے بھی کی گئی اورباقی اصحاب کے بارے میں بھی اہلسنت نے اس کو اپنی کتابوں میں بھی لکھا – پلیز ایک تھریڈ بنا دیں تا کہ ہم ان باتوں کی وضاحت کر سکیں اور جو بھی اعترض کرے اس کو یہ وضاحت پیش کر سکیں – ابو شہر یار بھائی آپ نے اکثر نوٹ کیا ہو گا کہ اکثر لوگ بجایے بات کی وضاحت کرنے کے بات کو چھپا دیتے ہیں- جس کی کئی مثالیں آپ اور میں یہاں دے چکے ہیں

    لوگ صفحے لکھ لکھ کر کالے کر رہے ہیں اور اصل بات وہیں کی وہیں رہ جاتی ہے – اور لوگ جس مسلک پرستی میں لگے ہیں وہاں ہی لگے رہتے ہیں – الله ان سے قیامت والے دن پوچھے گا

    —–

    وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، أَنَّ أَسْلَمَ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، زَارَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَيَّاشٍ الْمَخْزُومِيَّ فَرَأَى عِنْدَهُ نَبِيذًا وَهُوَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَقَالَ لَهُ أَسْلَمُ إِنَّ هَذَا الشَّرَابَ يُحِبُّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَحَمَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ قَدَحًا عَظِيمًا فَجَاءَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَوَضَعَهُ فِي يَدَيْهِ فَقَرَّبَهُ عُمَرُ إِلَى فِيهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ هَذَا لَشَرَابٌ طَيِّبٌ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ رَجُلاً عَنْ يَمِينِهِ ‏.‏ فَلَمَّا أَدْبَرَ عَبْدُ اللَّهِ نَادَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ أَأَنْتَ الْقَائِلُ لَمَكَّةُ خَيْرٌ مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقُلْتُ هِيَ حَرَمُ اللَّهِ وَأَمْنُهُ وَفِيهَا بَيْتُهُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ لاَ أَقُولُ فِي بَيْتِ اللَّهِ وَلاَ فِي حَرَمِهِ شَيْئًا ‏.‏ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ أَأَنْتَ الْقَائِلُ لَمَكَّةُ خَيْرٌ مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ فَقُلْتُ هِيَ حَرَمُ اللَّهِ وَأَمْنُهُ وَفِيهَا بَيْتُهُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ لاَ أَقُولُ فِي حَرَمِ اللَّهِ وَلاَ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا ثُمَّ انْصَرَفَ ‏.‏

    موطأ مالك

    ———–

    اور اس کو ابن عبد البر نے اپنی کتاب الاستذكار میں بھی لکھا ہے

    1651 –

    مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ أَنَّ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ زَارَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَيَّاشٍ الْمَخْزُومِيَّ فَرَأَى عِنْدَهُ نَبِيذًا وَهُوَ بِطْرِيقِ مَكَّةَ فَقَالَ لَهُ أَسْلَمُ إِنَّ هَذَا الشَّرَابَ يُحِبُّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَحَمَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ قَدَحًا عَظِيمًا فَجَاءَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَوَضَعَهُ فِي يَدَيْهِ فَقَرَّبَهُ عُمَرُ إِلَى فِيهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ هَذَا لَشَرَابٌ طَيِّبٌ فَشَرِبَ مِنْهُ
    ثُمَّ نَاوَلَهُ رَجُلًا عَنْ يَمِينِهِ فَلَمَّا أَدْبَرَ عَبْدُ اللَّهِ نَادَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ أَأَنْتَ الْقَائِلُ لَمَكَّةُ خَيْرٌ مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقُلْتُ هِيَ حَرَمُ اللَّهِ وَأَمْنُهُ وَفِيهَا بَيْتُهُ فَقَالَ عُمَرُ لَا أَقُولُ فِي بَيْتِ اللَّهِ وَلَا فِي حَرَمِهِ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ عُمَرُ أَأَنْتَ الْقَائِلُ لَمَكَّةُ خَيْرٌ مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ فَقُلْتُ هِيَ حَرَمُ اللَّهِ وَأَمْنُهُ وَفِيهَا بَيْتُهُ فَقَالَ عُمَرُ لَا أَقُولُ فِي حَرَمِ اللَّهِ وَلَا فِي بَيْتِهِ شَيْئًا ثُمَّ انْصَرَفَ

    http://shamela.ws/browse.php/book-1722#page-3782

    ———

    حدثنا أبو بكر قال حدثنا ابن مسهر عن الشيباني عن حسان بن مخارق قال : بلغني أن عمر بن الخطاب ساير رجلا في سفر وكان صائما ، فلما أفطر أهوى إلى قربة لعمر معلقة فيها نبيذ قد خضخضها البعير ، فشرب منها فسكر ، فضربه عمر الحد ، فقال له : إنما شربت من قربتك ، فقال له عمر : إنما جلدناك لسكرك

    مصنف ابن أبي شيبة

    http://library.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?idfrom=4002&idto=4002&bk_no=10&ID=3802

    ————–

    ابن عبد ربه الأندلسي بھی اپنی کتاب العقد الفريد میں لکھتےہیں کہ

    وقال الشعبي: شرب أعرابي من إداوة عمر، فانتشى، فحده عمر. وإنما حده للسكر لا للشراب

    http://islamport.com/w/adb/Web/511/1029.htm

    ——————

    حدثنا بن مبشر نا أحمد بن سنان نا عبد الرحمن بن مهدي نا عبد الله بن عمر عن زيد بن أسلم عن أبيه قال : كنت أنبذ النبيذ لعمر بالغداة ويشربه عشية وأنبذ له عشية ويشربه غدوة ولا يجعل فيه عكرا

    سنن الدارقطني

    http://islamport.com/d/1/mtn/1/56/2062.html?zoom_highlightsub=%D8%C7%E6%D3

    ————–

    بيہقی نے اپنی کتاب سنن البيهقي میں لکھا ہے کہ

    وأما الرواية فيه عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه فأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ، ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ، ثنا الحسن بن مكرم ، ثنا أبو النضر ، ثنا أبو خيثمة ، ثنا أبو إسحاق ، عن عمرو بن ميمون قال : قال عمر رضي الله عنه : إنا لنشرب من النبيذ نبيذا يقطع لحوم الإبل في بطوننا من أن تؤذينا

    https://library.islamweb.net/NewLibrary/display_book.php?bk_no=71&ID=3650&idfrom=16796&idto=17141&bookid=71&startno=81

    ——————–

    اور بھی کئی حوالے ہیں – بعد میں اگر آپ نے تھریڈ بنایا تو آپ اور میں اس میں دیتے جائیں گے

    ان سب باتوں کو لکھنے کی وجہ کیا تھی – ان کو لکھ کر کیا ثابت کیا گیا – کیا یہ ہمارے اہلسنت کے علماء نہیں جانتے تھے کہ وہ اپنی کتابوں میں کیا کیا لکھ رہے ہیں

    =======

    انہی باتوں کو بنیاد بنا کر فقہ حنفی نے اپنی کتابوں میں لکھا کہ

    ”انگور کی شراب کے علاوہ دوسری نشہ آور اشیاء کو اتنا کم پینا جس سے نشہ نہ ہو ، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک قوت حاصل کرنے کے لیے جائز ہے۔”

    (تقلید کی شرعی حیثیت از تقی : ١٠٧، ١٠٨)

    اب اس کے رد میں اہلحدیث نے لکھنا شروع کر دیا اور حوالے اوپر پیش کی گئی کتابوں کے ہی دیے

    http://www.urdumajlis.net/threads/%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8-%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81-%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%81%D9%82%DB%81-%D8%AD%D9%86%D9%81%DB%8C.20611/

    http://forum.mohaddis.com/threads/%D8%A7%DA%AF%D8%B1-%D9%81%D9%82%DB%81-%D8%AD%D9%86%D9%81%DB%8C-%D9%86%D8%A7%D9%81%D8%B0-%DB%81%D9%88-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D9%88-%D8%9F.22245/page-3

    ———

    اور احناف اس کا جواب دینے میں بھی پیچھے نہیں رہے

    http://library.ahnafmedia.com/207-books/fiqa-hanfi-quran-o-hadith-ka-nachor/1826-fiqa-hanfi-pr-atirazaat-ka-taqeqi-jahiza

    =====

    محمد بن محمود خوارزمی اپنی کتاب جامع مسانيد أبو حنيفہ، میں لکھتے ہیں کہ

    عن حماد عن إبراهيم عن عمر بن الخطاب ، أتي بأعرابي قد سكر فطلب له عذر فلما أعياه قال : احبسوه فإن صحي فاجلدوه ، ودعا عمر بفضله ودعا بماء فصبه عليه فكسره ثم شرب وسقي أصحابه ، ثم قال : هكذا فاكسروه بالماء إذا غلبكم شيطانه ، قال : وكان يحب الشراب الشديد

    ——

    اور اہلسنت کی انہی باتوں کو بنیاد بنا کر فقہ حنفی کے مشہور فقیہ سرخسی اپنی کتاب المبسوط میں لکھتے ہیں کہ

    وَقَدْ بَيَّنَّا أَنَّ الْمُسْكِرَ مَا يَتَعَقَّبُهُ السُّكْرُ، وَهُوَ الْكَأْسُ الْأَخِيرُ

    وَعَنْ إبْرَاهِيمَ – رَحِمَهُ اللَّهُ – قَالَ أُتِيَ عُمَرُ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – بِأَعْرَابِيٍّ سَكْرَانَ مَعَهُ إدَاوَةٌ مِنْ نَبِيذٍ مُثَلَّثٍ، فَأَرَادَ عُمَرُ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – أَنْ يَجْعَلَ لَهُ مَخْرَجًا، فَمَا أَعْيَاهُ إلَّا ذَهَابُ عَقْلِهِ، فَأَمَرَ بِهِ، فَحُبِسَ حَتَّى صَحَا، ثُمَّ ضَرَبَهُ الْحَدَّ، وَدَعَا بِإِدَاوَتِهِ، وَبِهَا نَبِيذٌ، فَذَاقَهُ، فَقَالَ: أَوَّهْ هَذَا فَعَلَ بِهِ هَذَا الْفِعْلَ، فَصَبَّ مِنْهُ فِي إنَاءٍ، ثُمَّ صَبَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ، فَشَرِبَ، وَسَقَى أَصْحَابَهُ، وَقَالَ إذَا رَابَكُمْ شَرَابُكُمْ، فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ

    http://shamela.ws/browse.php/book-5423#page-4802

    اسی طرح یہ بھی لکھتے ہیں کہ

    وَعَنْ عُمَرَ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – أَنَّهُ أُتِيَ بِنَبِيذِ الزَّبِيبِ، فَدَعَا بِمَاءٍ، وَصَبَّهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ شَرِبَ، وَقَالَ إنَّ لِنَبِيذِ زَبِيبِ الطَّائِفِ غَرَامًا

    http://shamela.ws/browse.php/book-5423#page-4799

    ———-

    اور اس میں ابن سعد اور ابن عساكر بھی پیچھے نہیں رہے دونوں لکھتے ہیں کہ

    عن عبد الله بن عبيد بن عمير أن عمر بن الخطاب لما طعن (2) قال له الناس يا أمير المؤمنين لو شربت شربة فقال اسقوني نبيذا وكان من أحب الشراب إليه قال فخرج النبيذ من جرحه مع صديد الدم فلم

    http://shamela.ws/browse.php/book-71/page-20573

    http://islamport.com/d/1/trj/1/61/997.html

    اور یہ بات البيهقي
    ابن حجر
    ابن أبي شيبة
    ابن عبد البر
    اور دیگر بہت سارے علماء نے اپنی کتابوں میں لکھی ہے

    ابو شہر یار بھائی کیا کیہں گے آپ ان باتوں پر – کیا آپ اس پر ایک تھریڈ بنا سکتے ہیں

    جیسا کہ آپ نے یہاں بنایا ہے

    ⇑ مدہوشی میں اصحاب رسول نے نماز پڑھی؟
    http://www.islamic-belief.net/q-a/تاریخ-٢/

    الله ہمیں حق سمجھنے حق کہنے اور حق لکھنے کی توفیق عطا فرمایے – آمین – ثم آمین

    • Islamic-Belief says:

      یہ بحث فقہی ہے اس میں اختلاف چلا آ رہا ہے کہ شراب کیا ہے نشہ کیا ہے
      کتنا حرام ہے
      نبیذ حرام ہے یا نہیں

      موطأ مالك میں ہے

      وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، أَنَّ أَسْلَمَ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، زَارَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَيَّاشٍ الْمَخْزُومِيَّ فَرَأَى عِنْدَهُ نَبِيذًا وَهُوَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَقَالَ لَهُ أَسْلَمُ إِنَّ هَذَا الشَّرَابَ يُحِبُّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَحَمَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ قَدَحًا عَظِيمًا فَجَاءَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَوَضَعَهُ فِي يَدَيْهِ فَقَرَّبَهُ عُمَرُ إِلَى فِيهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ هَذَا لَشَرَابٌ طَيِّبٌ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ رَجُلاً عَنْ يَمِينِهِ ‏.‏ فَلَمَّا أَدْبَرَ عَبْدُ اللَّهِ نَادَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ أَأَنْتَ الْقَائِلُ لَمَكَّةُ خَيْرٌ مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقُلْتُ هِيَ حَرَمُ اللَّهِ وَأَمْنُهُ وَفِيهَا بَيْتُهُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ لاَ أَقُولُ فِي بَيْتِ اللَّهِ وَلاَ فِي حَرَمِهِ شَيْئًا ‏.‏ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ أَأَنْتَ الْقَائِلُ لَمَكَّةُ خَيْرٌ مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ فَقُلْتُ هِيَ حَرَمُ اللَّهِ وَأَمْنُهُ وَفِيهَا بَيْتُهُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ لاَ أَقُولُ فِي حَرَمِ اللَّهِ وَلاَ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا ثُمَّ انْصَرَفَ ‏.‏

      اسلم جو مولیٰ ہیں عمر بن خطاب کے ان سے روایت ہے کہ ہم مکہ کے راستے میں عبداللہ بن عیاش کی ملاقات کو گئے ، ان کے پاس نیبذ پائی اسلم نے کہا کہ اس شربت کو عمر ؓ بہت چاہتے ہیں عبداللہ بن عیاش ایک بڑا سا پیالہ بھر کر عمر ؓ کے پاس لائے اور ان کے سامنے رکھ دیا انہوں نے اس کو اٹھا کر پینا چاہا پھر سر اٹھا کر کہا یہ شربت بہت اچھا ہے پھر اس کو پیا اس کے بعد ایک شخص ان کے داہنی طرف بیٹھا تھا اس کو دے دیا

      یہ روایت دلیل ہے کہ نبیذ حرام نہیں ہے

      ———-
      نبیذ میں خمیر اٹھ سکتا ہے یہ شراب میں تبدیل ہو سکتی ہے لہذا اس کو تین دن کے بعد پھینک دیا جاتا تھا

      • وجاہت says:

        پلیزان باتوں کا حوالہ دے دیں

        =======
        نبیذ میں خمیر اٹھ سکتا ہے یہ شراب میں تبدیل ہو سکتی ہے لہذا اس کو تین دن کے بعد پھینک دیا جاتا تھا
        =======

        • Islamic-Belief says:

          صحیح مسلم اور مسند احمد کی حدیث ہے
          عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْتَبَذُ لَهُ أَوَّلَ اللَّيْلِ فَيَشْرَبُهُ إِذَا أَصْبَحَ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَاللَّيْلَةَ الَّتِي تَجِيءُ وَالْغَدَ وَاللَّيْلَةَ الْأُخْرَى وَالْغَدَ إِلَى الْعَصْرِ فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخَادِمَ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَصُبَّ
          رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کے آغاز میں نبیذ بنائی جاتی تھی اسے آپ اس دن صبح کو نوش فرماتے اور آئندہ رات کو بھی اور دوسرے دن میں بھی , اور اس سے اگلی رات اور تیسرے دن بھی عصر تک پی لیتے , اسکے بعد اگر وہ بچ جاتی تو وہ خادم کو پلا دیتے یا پھر اسکے بارہ میں حکم دیتے تو اسے پھینک دیا جاتا۔

      • وجاہت says:

        اوپر جو حوالے میں نے پیش کیے ہیں ان میں نبیذ کے علاوہ شراب کے الفاظ بھی ہیں – اسی وجہ سے میں نے پوچھا تھا کہ

        جس طرح خوارج نے حضرت علی رضی الله کے بارے میں بات کی کہ وہ شراب پی کر نماز میں قرآن کی آیات بھول گیۓ – اسی طرح یہی بات حضرت عمر رضی الله کے لئے بھی کی گئی اورباقی اصحاب کے بارے میں بھی اہلسنت نے اس کو اپنی کتابوں میں بھی لکھا

        ابن ہجر نے اپنی کتاب فتح الباري میں بھی لکھا ہے کہ

        قَوْلُهُ كنت أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَة هُوَ بن الْجَرَّاحِ وَأَبَا طَلْحَةَ هُوَ زَيْدُ بْنُ سَهْلٍ زَوْجُ أُمِّ سُلَيْمٍ أُمِّ أَنَسٍ وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ كَذَا اقْتَصَرَ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَلَى هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ فَأَمَّا أَبُو طَلْحَةَ فَلِكَوْنِ الْقِصَّةِ كَانَتْ فِي مَنْزِلِهِ كَمَا مَضَى فِي التَّفْسِيرِ مِنْ طَرِيقِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ وَأَمَّا أَبُو عُبَيْدَةَ فَلِأَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ كَمَا أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ وَأَمَّا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَكَانَ كَبِيرَ الْأَنْصَارِ وَعَالِمَهُمْ وَوَقَعَ فِي رِوَايَةِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ فِي تَفْسِيرِ الْمَائِدَةِ إِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ وَفُلَانًا وَفُلَانًا كَذَا وَقَعَ بِالْإِبْهَامِ وَسَمَّى فِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ مِنْهُمْ أَبَا أَيُّوبَ وَسَيَأْتِي بَعْدَ أَبْوَابٍ مِنْ رِوَايَةِ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ إِنِّي كُنْتُ لَأَسْقِي أَبَا طَلْحَة وَأَبا دُجَانَة وَسُهيْل بن بَيْضَاءَ وَأَبُو دُجَانَةَ بِضَمِّ الدَّالِ الْمُهْمَلَةِ وَتَخْفِيفِ الْجِيمِ وَبَعْدَ الْأَلِفِ نُونٌ اسْمُهُ سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ بِمُعْجَمَتَيْنِ بَيْنَهُمَا رَاءٌ مَفْتُوحَاتٌ وَلِمُسْلِمٍ مِنْ طَرِيقِ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ نَحْوُهُ وَسَمَّى فِيهِمْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ وَلِأَحْمَدَ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَة وَأبي بن كَعْب وَسُهيْل بن بَيْضَاءَ وَنَفَرًا مِنَ الصَّحَابَةِ عِنْدَ أَبِي طَلْحَةَ وَوَقَعَ عِنْدَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ ثَابِتٍ وَقَتَادَةَ وَغَيْرِهِمَا عَنْ أَنَسٍ أَنَّ الْقَوْمَ كَانُوا أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا وَقَدْ حَصَلَ مِنَ الطُّرُقِ الَّتِي أَوْرَدْتُهَا تَسْمِيَةُ سَبْعَةٍ مِنْهُمْ وَأَبْهَمَهُمْ فِي رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسٍ وَهِيَ فِي هَذَا الْبَابِ وَلَفْظُهُ كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ عُمُومَتِي وَقَوْلُهُ عُمُومَتِي فِي مَوْضِعِ خَفَضٍ عَلَى الْبَدَلِ مِنْ قَوْلِهُ الْحَيِّ وَأَطْلَقَ عَلَيْهِمْ عُمُومَتَهُ لِأَنَّهُمْ كَانُوا أَسَنَّ مِنْهُ وَلِأَنَّ أَكْثَرَهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمِنَ الْمُسْتَغْرَبَاتِ مَا أَوْرَدَهُ بن مَرْدَوَيْهِ فِي تَفْسِيرِهِ مِنْ طَرِيقِ عِيسَى بْنِ طَهْمَانَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانَا فِيهِمْ وَهُوَ مُنْكَرٌ مَعَ نَظَافَةِ سَنَدِهِ وَمَا أَظُنُّهُ إِلَّا غَلَطًا وَقَدْ أَخْرَجَ أَبُو نُعَيْمٍ فِي الْحِلْيَةِ فِي تَرْجَمَةِ شُعْبَةَ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ قَالَتْ حَرَّمَ أَبُو بَكْرٍ الْخَمْرَ عَلَى نَفْسِهِ فَلَمْ يَشْرَبْهَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ وَيَحْتَمِلُ إِنْ كَانَ مَحْفُوظًا أَنْ يَكُونَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ زَارَا أَبَا طَلْحَةَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَمْ يَشْرَبَا مَعَهُمْ ثُمَّ وَجَدْتُ عِنْدَ الْبَزَّارُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ وَكَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا شَرِبَ قَالَ تُحَيِّي بِالسَّلَامَةِ أُمَّ بَكْرٍ الْأَبْيَاتَ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ قَدْ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ الْحَدِيثُ وَأَبُو بكر هَذَا يُقَال لَهُ بن شَغُوبٍ فَظَنَّ بَعْضُهُمْ أَنَّهُ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَلَيْسَ كَذَلِكَ لَكِنْ قَرِينَةُ ذِكْرِ عُمَرَ تَدُلُّ عَلَى عَدَمِ الْغَلَطِ فِي وَصْفِ الصِّدِّيقِ فَحَصَّلْنَا تَسْمِيَةَ عَشَرَةٍ

        http://shamela.ws/browse.php/book-1673#page-5675

        اور أبو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان الهيثمي اپنی کتاب مجمع الزوائد ومنبع الفوائد میں بھی یہی لکھتے ہیں

        http://shamela.ws/browse.php/book-61#page-1362

        ============

        الزمخشري اپنی کتاب ربيع الأبرار میں لکھتے ہیں کہ

        أنزل الله تعالى في الخمر ثلاث آيات، أولها يسألونك عن الخمر والميسر، فكان المسلمون بين شارب وتارك، إلى أن شرب رجل ودخل في الصلاة فهجر، فنزلت: يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى، فشربها من شرب من المسلمين، حتى شربها عمر فأخذ لحي بعير فشج رأس عبد الرحمن بن عوف، ثم قعد ينوح على قتلى بدر بشعر الأسود بن عبد يغوث.
        وكائن بالقليب قليب بدر … من الفتيان والشرب الكرام
        وكائن بالقليب قليب بدر … من الشيزى المكلل بالسنام
        أ يوعدنا بن كبشة أن سنحيى … وكيف حياة أصداء وهام
        أيعجز أن يرد الموت عني … وينشرني إذا بليت عظامي
        ألا من مبلغ الرحمن عني … بأني تارك شهر الصيام
        فقل لله يمنعني شرابي … وقل لله يمنعني طعامي
        فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فخرج مغضباً يجر رداءه، فرفع شيئاً كان في يده ليضربه، فقال: أعوذ بالله من غضب الله ورسوله.
        فأنزل الله تعالى: إنما يريد الشيطان، إلى قوله: فهل أنتم منتهون.
        فقال عمر: انتهينا.

        http://islamport.com/w/adb/Web/561/398.htm

        اور تاريخ المدينة لابن شبة میں بھی ہے

        http://shamela.ws/browse.php/book-13086#page-1706

        ===========

        امام غزالی بھی پیچھے نہیں رہے وہ اپنی کتاب مكاشفة القلوب میں لکھتے ہیں

        فكان في المسلمين شارب و تارك ، الي ان شرب رجل فدخل في الصلاة فهجر ، فنزل قوله تعالي : «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَي… » الآيه (النساء / 43) فشربها من شربها من المسلمين ، و تركها من تركها، حتي شربها عمر رضي الله عنه فأخذ بلحي بعير و شج بها رأس عبدالرحمن بن عوف ثم قعد ينوح علي قتلي البدر .
        فبلغ ذلك رسول الله صلي الله عليه و آله و سلم فخرج مغضبا يجر رداءه ، فرفع شيئا كان في يده فضربه به ، فقال : اعوذ بالله من غضبه، و غضب رسوله، فأنزل الله تعالي: ِ«انَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ» (المائده، 91) الآية، فقال عمر رضي الله عنه: انتهينا انتهينا

        کیا یہ حوالے صحیح ہیں

        • Islamic-Belief says:

          ابن حجر نے تو رد کیا ہے کہ شیخین نے شراب پی

          —–
          غزالی نے تبصرہ کیا ہے سند سے کوئی روایت نہیں دی

  15. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَتْ: هَذَا أَخِي، قَالَ: «انْظُرُوا مَنْ تُدْخِلْنَ عَلَيْكُنَّ، فَإِنَّ الرَّضَاعَةَ مِنَ الْمَجَاعَةِ»

    ابن ماجہ

    • Islamic-Belief says:

      صحيح بخارى و مسلم ميں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے مروى ہے وہ بيان كرتى ہيں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ميرے ہاں تشريف لائے تو ميرے پاس ايك شخص بيٹھا ہوا تھا آپ نے فرمايا عائشہ يہ كون ہے ؟ تو ميں نے عرض كيا: يہ ميرا رضاعى بھائى ہے، آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا

      اے عائشہ ديكھو كہ تمہارے بھائى كون ہيں، كيونكہ رضاعت بھوك سے ہوتى ہے

      صحیح ہے

  16. Aysha butt says:

    (امت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور شرک)

    بسم اللہ الرحمٰن الرحمٰن الرحیم
    الصلوٰۃ والسلام علیک یاسیدی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

    (امت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور شرک)

    دورحاضرمیں چند آٹے میں نمک کے برابر،بدمذہب اور بدعقیدہ و باطل پرست لوگ ،شرک و بدعت کا نام لے کر ،اپنے گمراہ کن عقائد باطلہ کو ہمارے بھولے بھالے مسلمانوں میں پھیلاکر ان کے قلوب سے محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زوال کے لئے مصروف عمل ہیں حالانکہ ان کے پیش نظر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کریمہ بھی ہوتی ہے،کہ امت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی شرک کرہی نہیں سکتی
    جیساکہ
    حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں

    صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی قَتْلَی أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِی سِنِینَ کَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْیَاءِ وَالْأَمْوَاتِ ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ إِنِّی بَیْنَ أَیْدِیکُمْ فَرَطٌ وَأَنَا عَلَیْکُمْ شَہِیدٌ وَإِنَّ مَوْعِدَکُمْ الْحَوْضُ وَإِنِّی لَأَنْظُرُ إِلَیْہِ مِنْ مَقَامِی ہَذَا وَإِنِّی لَسْتُ أَخْشَی عَلَیْکُمْ أَنْ تُشْرِکُوا وَلَکِنِّی أَخْشَی عَلَیْکُمْ الدُّنْیَا أَنْ تَنَافَسُوہَا
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ برس کے بعد احد کے شہیدوں پر اس طرح نماز پڑھی ،جیسے کوئی زندوں اور مردوں کو رخصت کرتا ہے پھر واپس آکر منبر پر تشریف لے گئے اور ارشاد فرمایا
    کہ
    میں تمہارا پیش خیمہ ہوں تمہارے اعمال کا گواہ ہوں
    اور
    میری اور تمہاری ملاقات حوض کوثر پر ہوگی
    اور
    میں تو اسی جگہ سے حوض کو ثر کو دیکھ رہا ہوں
    مجھے اس کا ڈر بالکل نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے
    البتہ
    میں اس بات کا اندیشہ کرتا ہوں کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے دنیا کے مزوں میں پڑ کر رشک و حسد نہ کرنے لگو

    بخاری شریف۔ رقم الحدیث3736۔ جلد 12 صفحہ 436۔مکتبۃالشاملۃ)
    حضرت حذیفۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ

    قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : اِنَّ مَا اَتَخَوَّفُ عَلَیْکُمْ رَجُلٌ قَرَۃَ الْقُرْآنَ حَتَّی اِذَا رُءِیَتْ بَھْجَتُہُ عَلَیْہِ وَ کَانَ رِدْءًا لِلْاِسْلَامِ غَیْرَہُ اِلَی مَاشَاءَ اﷲُ فَانْسَلَخَ مِنْہُ وَ نَبَذَہُ وَرَاءَ ظُھْرِہِ وَ سَعَی عَلَی جَارِہِ بِالسَّیْفِ وَرَمَاہُ بِالشِّرْکِ قَالَ : قُلْتُ : یَا نَبِیَّ اﷲِ، اَیُھُمَا اَوْلَی بِالشِّرْکِ الْمَرْمِیُّ اَمِ الرَّامِی قَالَ : بَلِ الرَّامِی

    رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
    کہ
    بیشک مجھے جس چیز کا تم پر خدشہ ہے وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے قرآن پڑھا

    یہاں تک کہ جب اس پر اس قرآن کا جمال دیکھا گیا اور وہ اس وقت تک جب تک اﷲ نے چاہا اسلام کی خاطر دوسروں کی پشت پناہی بھی کرتا تھا
    پس وہ اس قرآن سے دور ہو گیا اور اس کو اپنی پشت پیچھے پھینک دیا
    اور
    اپنے پڑوسی پر تلوار لے کر چڑھ دوڑا
    اور
    اس پر شرک کا الزام لگایا
    راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ،کہ اے اﷲ کے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم)ان دونوں میں سے کون زیادہ شرک کے قریب تھا؟…
    شرک کا الزام لگانے والا…
    یا…
    جس پر شرک کا الزام لگایا گیا ؟…
    تو
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،کہ شرک کا الزام لگانے والا
    ( صحیح ابن حبان ۔رقم الحدیث81۔جزء 1۔صفحہ157۔مکتبۃالشاملۃ)
    Kya 2no hadith sahih hai

    • Islamic-Belief says:

      صحیح ابن حبان میں ہے
      أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، [ص:282] حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَهْرَامَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا جُنْدُبٌ الْبَجَلِيُّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، أَنَّ حُذَيْفَةَ حَدَّثَهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ حَتَّى إِذَا رُئِيَتْ بَهْجَتُهُ عَلَيْهِ، وَكَانَ رِدْئًا لِلْإِسْلَامِ، غَيَّرَهُ إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ، فَانْسَلَخَ مِنْهُ وَنَبَذَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ، وَسَعَى عَلَى جَارِهِ بِالسَّيْفِ، وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ»، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّهُمَا أَوْلَى بِالشِّرْكِ، الْمَرْمِيُّ أَمِ الرَّامِي؟ قَالَ: «بَلِ الرَّامِي»

      ⇑ کیا یہ روایت صحیح ہے ؟
      http://www.islamic-belief.net/q-a/متفرق/

      جُنْدُبٌ الْبَجَلِيُّ اصل ميں ايک صحابي ہيں جن کا نام جندب بن عَبْد الله بن سفيان البجلي العلقي رضي الله عنہ ہے جو حذيفہ رضي الله عنہ سے اس کو نقل کرتے ہيں

      اس ميں الصَّلْتِ بْنِ بَهْرَامَ نام کا راوي ہے امام بخاري نے اس کا ايک دوسرا نام صلت بن مهران بتايا ہے اور تاريخ الکبير ميں اس کو نقل کيا ہے
      قَالَ لَنَا عليٌ: حدَّثنا مُحَمد بن بَكر، حدَّثنا الصَّلت، حدَّثنا الْحَسَنُ، حدَّثني جُندُب، أَنَّ حُذَيفة حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبيَّ صَلى اللَّهُ عَلَيه وسَلم قَالَ: أَخوَفُ مَا أَتَخَوَّفُ رَجُلٌ قَرَأَ القُرآنَ، خَرَجَ عَلى جارِهِ بِالسَّيفِ، ورَماهُ بِالشِّركِ.

      ميزان الآعتدال ميں الذھبي کے مطابق
      الصلت بن مهران.عن شهر بن حوشب، وابن أبي مليكة، والحسن.وعنه محمد بن بكر البرسانى، وسهل بن حماد.مستور.
      قال ابن القطان: مجهول الحال.

      يہ مجھول الحال اور مستور ہےلہذا يہ روايت ضعيف ہے

      يہ روايت مسند البزار ميں بھي ہے
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي كُبَيْشَةَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الصَّلْتُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جُنْدُبٌ، فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْبَصْرَةِ، أَنَّ حُذَيْفَةَ حَدَّثَهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ رَجُلًا قَرَأَ الْقُرْآنَ حَتَّى إِذَا رُئِيَ عَلَيْهِ بَهْجَتُهُ، وَكَانَ رِدْءًا لِلْإِسْلَامِ اعْتَزَلَ إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ، وَخَرَجَ عَلَى جَارِهِ بِسَيْفِهِ، وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ» وَهَذَا الْحَدِيثُ بِهَذَا اللَّفْظِ لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى إِلَّا عَنْ حُذَيْفَةَ [ص:221] بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَالصَّلْتُ هَذَا رَجُلٌ مَشْهُورٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، وَمَا بَعْدَهُ فَقَدِ اسْتَغْنَيْنَا عَنْ تَعْرِيفِهِمْ؛ لِشُهْرَتِهِمْ

      البزار کے مطابق يہ روايت حسن ہے اور الصَّلْتُ تو بصرہ کا مشھور آدمي ہے

      راقم کہتا ہے الصَّلْتُ مجھول ہي ہے اگر يہ مشہور ہے تو اس کے باپ کا نام تک تو البزار نے بتايا نہيں

      اس ميں محمد بن بکر البرساني کے لئے امام نسائي کا قول ہے ليس بالقوي

      ايک دور ميں بصرہ خوارج کا گڑھ تھا اور ان کے مخالفين بھي وہاں ان کے لئے احاديث بيان کرتے تھے اس قسم کي روايات اسي دور کي ہيں

      الباني نے ابن حبان کي اس روايت کو صحيح ابن حبان کي تعليق ميں حسن قرار ديا ہے
      ابن حبان کي سند ہے
      أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَهْرَامَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا جُنْدُبٌ الْبَجَلِيُّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ أَنَّ حُذَيْفَةَ

      محمد بن بكر البرساني جس الصلت سے روايت کرتا ہے وہ الصلت بن مہران ہے امام بخاري اور الذہبي کے نزديک
      لہذا اس روايت کي سند تاريخ الکبير ميں الصلت بن مہران کے ترجمہ ميں امام بخاري نے سند دي ہے

      صلت بْن مهران، قَالَ لَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ نا الصَّلْتُ نا الْحَسَنُ حَدَّثَنِي جُنْدُبٌ أَنَّ حُذَيْفَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَخْوَفُ مَا أَتَخَوَّفُ رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ خَرَجَ عَلَى جَارِهِ بِالسَّيْفِ وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ، وَقَالَ لنا قَيْسٌ نا معتمر سمع أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جُنْدُبٍ بَلَغَهُ عَنْ حُذَيْفَةَ أَوْ سَمِعَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذِكْرُ ناسا يقرؤن الْقُرْآنَ يَنْثُرُونَهُ نَثْرَ الدَّقَلِ يَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ تَأْوِيلِهِ، وَقَالَ مُوسَى نا حماد أنا يونس عَنِ الْحَسَن عَنْ جندب عَنْ حذيفة – قولَهُ بِهِذا، وَقَالَ ابْن أَبِي الأسود نا ابْن علية عَنْ يونس – بِهِذا.

      يہي قول ابن ابي حاتم کا ہے کہ يہ راوي الصلت بن مہران ہے

      يہ شوشہ کہ الصلت بن مہران اور الصلت بن بھرام ایک ہے ابن حجر نے چھوڑا جب انہوں نے صحيح ابن حبان کا ہي حوالہ دے کر يہ ثابت کرنے کي کوشش کي کہ ائمہ امام بخاري، ابن ابي حاتم اور الذہبي سب سے اس راوي کے تعين ميں غلطي ہوئي
      پھر ابن حجر کي بات کو لوگوں نے بيان کرنا شروع کر ديا جن ميں الباني بھي ہيں اور اس طرح راوي مجھول سے ثقہ بن گيا

  17. anum shoukat says:

    ڈاکٹر عثمانی رح کی تنظیم والے کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب دھڑلے سے امام احمد کو کافر کہتے تھے کیا احمد بن حنبل کافر تھے؟

    • Islamic-Belief says:

      ڈاکٹر عثمانی ، امام احمد کے عقائد پر جرح کرتے تھے – احمد کے عقائد صحیح نہیں تھے

      وہابی اور نجدی علماء جو حنبلی مقلد ہیں وہ احمد کے عقائد بتاتے ہیں مثلا

      حنابلہ کا ایک گروہ کہتا آیا ہے کہ احمد عود روح کے قائل تھے
      احمد کے مطابق انبیاء قبروں سے زائر کو پہچانتے ہیں
      احمد کے نزدیک رسول الله کو عرش عظیم پر بیٹھا دیا جائے گا
      احمد تعویذ کرتے تعویذ کلمات دھو دھو کر پیتے
      احمد دعا میں وسیلہ انبیاء لیتے

      ان میں سے بعض بدعات و بد عقیدہ باتیں احمد کے بیٹوں عبد الله اور صالح ، شاگرد المروزی اور امام ابو داود نے بیان کی ہیں


      اپ ان عقائد کو کیا قرآن سے ثابت سمجھتی ہیں ؟ اگر سمجھتی ہیں تو دلیل دیں

      کافر اور طاغوت میں فرق ہے – کفر یہ ہے کہ الله اور کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار کیا جائے
      اس میں کوئی بھی شق کم ہو تو کفر ہوتا ہے مثلا قادیانی اس سب کو مانتے ہیں لیکن کسی دوسرے کو نبی کہتے ہیں جو کفر ہے

      اپ پر طاغوت کا فتوی لگے گا اگر اپ بنیادی عقائد پر ایمان لائیں لیکن اپ وہ عقیدہ پرچار کریں جو قرآن سے ثابت نہیں

      ⇑ قرآن وحدیث کی روشنی میں طاغوت کی وضاحت تفصیل سے چاہیے بہت مہربانی ہو گئی شکریہ
      http://www.islamic-belief.net/q-a/عقائد/اہم-مباحث-٢/

      – طاغوتی کردار اگر ہو تو یہ تو من جانب الله اس پر حکم لگ چکا ہوتا ہے
      ہم کو حکم دیا گیا ہے کہ اگر ہم کو کوئی طاغوت محسوس ہو تو ہم اس کا کفر کریں- الله کے ساتھ اس کو رب نہ بنائیں کہ جو عقیدہ وہ دے اس کو لے لیں اس پر سوچیں نہیں کہ کتنے بڑے امام ہیں

      لہذا امام احمد باوجود علم حدیث میں اہل فن و صنعت ہونے کے ایسے عقائد قبول کر گئے جو صحیح نہیں تھے اور متاخرین نے ان عقائد کو امام احمد کی بنیاد پر لیا – اگر احمد نے ان کو قبول نہیں کیا ہوتا تو یہ عقائد نہیں لئے جاتے
      یہی وجہ ہے کہ جب صحیح عقیدہ کی بات ہوئی تو اماموں میں سے صرف امام احمد کا تذکرہ چھڑ جاتا ہے

      ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا. بات پہنچی تری جوانی تک

      =========
      بطور مثال

      امام احمد اس عرش پر بٹھائے جانے کے بدعتی عقیدے والوں کے امام تھے ابو بکر الخلال کی کتاب السنہ میں ہے کہ محمد بن یونس البصری کہتے ہیں

      فَمَنْ رَدَّ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ، أَوْ طَعَنَ فِيهَا فَلَا يُكَلَّمُ، وَإِنْ مَاتَ لَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِ، وَقَدْ صَحَّ عِنْدَنَا أَنَّ هَذَا التِّرْمِذِيَّ تَكَلَّمَ فِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ الَّتِي يَحْتَجُّ بِهَا أَهْلُ السُّنَّةِ، وَهَذَا رَجُلٌ قَدْ تَبَيَّنَ أَمْرُهُ، فَعَلَيْكُمْ بِالسُّنَّةِ وَالِاتِّبَاعِ، وَمَذْهَبِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهُوَ الْإِمَامُ يُقْتَدَى بِهِ

      پس جو اس حدیث کو رد کرے اور اس طعن کرے اس سے کلام نہ کرو اور اگر مر جائے تو جنازہ نہ پڑھو اور یہ ہمارے نزدیک صحیح ہے کہ یہ ترمذی اس پر کلام کرتا ہے جس سے اہل سنت احتجاج کرتے ہیں اور اس شخص کا معاملہ واضح ہے . پس تمھارے لئے سنت اور اسکا اتباع ہے اور ابو عبدللہ امام احمد بن حنبل کا مذبب ہے جو امام ہیں جن کا اقتدہ کیا جاتا ہے

      اس عقیدہ کے قائل آج تک وہابی علماء ہیں لیکن اہل حدیث اس عقیدہ کا انکار کرتے ہیں -لیکن عوام کو معلوم نہیں اندر کیا ہو رہا ہے

      غور کریں یہ عقیدہ پیش ہو رہا تھا اور دلیل میں کہا جا رہا تھا کہ اس کو قبول کر لو یہ ابو عبدللہ امام احمد بن حنبل کا مذبب ہے جو امام ہیں

      امام احمد ان عقائد کی بنیاد پر کافر نہیں طاغوت قرار دیے گئے ہیں

  18. anum shoukat says:

    کیا طاغوت مسلم ہوتا ہے؟ شیطان کو اللہ نے طاغوت کہا ہے۔

    • Islamic-Belief says:

      طاغوت مسلم مشرک اہل کتاب ہندو میں کہیں بھی ہو سکتا ہے

      کیا مسلمانوں میں علماء نہیں جو شرک کروا رہے ہیں ؟ کیا وہ طاغوت نہیں

  19. Aysha butt says:

    Sir ibn e ziyad wali hadith mn ap ne btaya hai fa jaal yanqut ka meaning ik dictionary se ap uska proper refrence de sakty hai k us dictionary ka pg no kia hai .

    • Aysha butt says:

      Or fath ul bari sharh ibn e hajr k mutabiq charri naak pr marri thi… Or sahi bukhri wali sahih hai k zaef is se related

    • Islamic-Belief says:

      ینکت کہتے ہیں سوچ کے عالم میں تنکے سے لکیر زمین پر بنانا
      لغت مشارق الأنوار على صحاح الآثار از عياض بن موسى بن عياض بن عمرون اليحصبي السبتي، أبو الفضل (المتوفى: 544هـ) ج ٢ ص ١٢ کے مطابق
      قَوْله فَجعل ينكت بهَا بِضَم الْكَاف وَآخره تَاء بِاثْنَتَيْنِ فَوْقهَا أَي يُؤثر بهَا فِي الأَرْض نكت فِي الأَرْض إِذا أثر بهَا بقضيب أَو نَحوه وَمثله قَوْله فِي الحَدِيث الآخر فينكتون بالحصا أَي يضْربُونَ بِهِ كَمَا يفعل المتفكر المهتم

      قول کہ فَجعل ينكت …. یعنی آثار زمین پر بنانے لگا … اور اسی طرح حدیث میں ہے

      النهاية في غريب الحديث والأثر از ابن اثیر ج ٥ ص ١١٣ کے مطابق
      نکت کا مطلب ہے أَيْ يُفَكِّر ويُحدِّث نفسَه. تفکر کرنا اور خود کلامی کرنا

  20. Aysha butt says:

    Sahih bukhri 1830 hadith sahih hai kya jis mn ik khalifa k elawa dosre ki bayt hona wajib ul.qatl.hai

    • Islamic-Belief says:

      صحیح بخاری ٦٨٣٠ میں ہے عمر بن خطاب نے اپنی رائے کا اظہار کیا
      مَنْ بَايَعَ رَجُلًا عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنَ المُسْلِمِينَ فَلاَ يُبَايَعُ هُوَ وَلاَ الَّذِي بَايَعَهُ، تَغِرَّةً أَنْ يُقْتَلاَ
      جو شخص مسلمانوں سے بلا صلاح و مشورہ بیعت کر لے تو دوسرے لوگ بیعت کرنے والے کی پیروی نہ کریں گے اور نہ اس کی پیروی کریں گے جس سے بیعت کی گئی ہے کیونکہ یہ دونوں اپنی جان گنوائیں گے

      ——
      یہ عمر رضی الله عنہ کا اجتہاد ہے

  21. irfan says:

    بہت شکریہ اپکا اچھا مدلل جواب دیا

    • Islamic-Belief says:

      اپ نے یہ حوالہ نہیں دیا

      اس تحریر کا مکمل لنک چاہیے
      خالد الملیزی کون ہے ؟

  22. anum shoukat says:

    جتنے بھی مسالک ہیں وہ سب مسلمان ہیں شرکیہ عقائدکے باوجود؟

    • Islamic-Belief says:

      تمام اہل قبلہ کو مسلمان کہا جاتا ہے – اور ان مسلمانوں میں ہی صحیح عقیدہ اور بد عقیدہ والے لوگ ہیں
      اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے وہ ارکان سب مانتے ہیں لہذا ان سب پر مسلمان کی تعریف لگتی ہے

      انہی مسلمانوں میں لوگ شرک بھی کر رہے ہیں لیکن شرک کرنے سے اپ ان کو غیر مسلم نہیں قرار دے سکتیں

  23. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی آج فیس بک پر کچھ بھائی ابو لولوہ پر بحث کر رہے ہیں – کوئی اس کو مجوسی کہتا ہے کوئی مسلمان کہتا ہے – کوئی کہتا ہے کہ وہ مدینہ میں دفن ہے – کوئی کہتا ہے کہ وہ ایران میں ہے

    تاریخ طبری میں اسے نصرانی کہا گیا جبکہ طبقات ابنِ سعد، الفاروق اور تاریخ ابنِ خلدون میں اسے مجوسی لکھا گیا ہے

    جبکہ صاحبِ عیون الاخبار اپنی کتاب کی جلد ج۲ص۱۴۳ به نقل از کتاب فصل الخطاب فی تاریخ قتل عمر بن خطاب ص ۱۷۸ میں کچھ اس طرح نقل کرتے ہیں۔ “انه قد تشرف بالاسلام بعد سکناه المدینه“ یعنی وہ مدینہ میں سکونت کے بعد مشرف بہ اسلام ہو گئے تھے

    کچھ یہاں معلومات ہیں

    https://www.facebook.com/pg/RealityOfSunniNasibi/photos/?tab=album&album_id=565651666781727

    شیعہ علماء نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ ابو لولوہ مسلمان تھا اور امیر المومنین علی بن ابی طالب کے شیعوں میں سے تھا۔ دیکھیے (سفینۃ البحار، میرزا عبداللہ قمی، ج7،ص559) جبکہ ذہبی نے المختصر فی الرجال میں کہا ہے کہ ابو لولوہ عبداللہ بن ذکوان کا بھائی تھا، عبداللہ ثقہ اور حدیث میں قابل اعتبار اور اہل مدینہ کے بزرگ محدثین اور فقہاء میں سے تھے۔اور پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فرزند عبیداللہ نے اپنے والد کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ابو لولوہ کی بیٹی کو قتل کردیا ، امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ اور مقداد اور دیگر صحابہ نے ابو لولوہ کے قتل کا قصاص لینے کے لیے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا لیکن انہوں نے قصاص لینے سے انکار کردیا (دیکھیے، تاریخ الطبری، ج3،ص302) اگر ابو لولوہ اور اسکی بیٹی مسلمان نہ تھے تو صحابہ کرام اور امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ اس کے قتل کے قصاص کا مطالبہ کیوں کررہے ہیں۔

    اہل سنت کے نزدیک ابو لولوہ اپنے اصلی دین آتش پرستی پر قائم تھا۔ اس کے لیے وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا قول مرسلا نقل کرتے ہیں (روی عن ابن عباس: کان ابو لولوہ مجوسیا) ابن عباس سے روایت ہے کہ ابو لولوہ مجوسی اور آتش پرست تھا۔ شیعہ اس دلیل پر اعتراض کرتے ہیں کہ اگر ابو لولوہ کافر تھا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کو مدینہ میں داخل کیوں ہونے دیا۔مسلمان یا کافر کا فیصلہ نہ بھی ہو لیکن یہ بات عقید ہے کہ وہ ایک منافق اور قاتل تھا۔

    https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D9%88%D9%84%D9%88%D9%84%D9%88_%D9%81%DB%8C%D8%B1%D9%88%D8%B2

    اور آج ہی قاری حنیف دار صاحب نے بھی ایک تہرے فیس بک پر لکھی ہے

    =========================
    یہاں تو باوا آدم ہی نرالا ہے !
    ابوفیروز لؤلوء مجوسی غلام جس نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو مسجد کی محراب میں چھپ کر اندھیرے میں شھید کر دیا تھا اور پکڑے جانے پر خودکشی کر لی تھی ، بابا شجاع اور رضی اللہ عنہ بنا بیٹھا ھے ، دلیل یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکال دو لہذا وہ کافر نہیں ھو سکتا تھا ، اگر کافر ھوتا تو مدینے میں کیسے داخل ھو سکتا تھا ؟
    رسول اللہ ﷺ نے جزیرۃ العرب سے مشرک باشندوں کو نکالنے کا حکم دیا تھا ، جنگوں میں پکڑے جانے والے سیکڑوں ،ھزاروں غلام اور لونڈیاں مدینے لائے جاتے تھے ، مدینہ لانے سے پہلے ان کے ختنے نہیں کیئے جاتے تھے ـ لہذا یہ دلیل عبث ہے ، اللہ پاک نے قتل کے فدیئے میں مسلم غلام آزاد کرنے کی شرط رکھی ھے گویا وھاں غیر مسلم غلام بھی موجود تھے ، مجوسی کو عمر فاروقؓ کو شھید کرنے کی وجہ سے دلیر یعنی شجاع بابا قرار دے کر اس کا مزار بنایا گیا اور اس کو خراجِ تحسین پیش کر کے کلیجہ ٹھنڈا کیا جاتا ھے
    دوسری بات یہ کہ اس کے خودکشی کر لینے کے بعد اس کو مدینہ میں ھی دفنا دیا گیا تھا ، اس زمانے میں برف خانے یا ڈیپ فریزر تو تھے نہیں کہ اس کو ایران کارگو کیا جاتا ،پھر یہ ایران لا کر کیسے دفن کیا گیا ؟ اس کا کوئی جوتا شُوتا ھی دفن کر کے کام چلا لیا گیا ھو گا !
    🤔رحم الله البطل المسلم أبا لؤلؤة فيروز شجاع الدين النهاوندي رضي الله عنه قد كان من أكابر المسلمين والمجاهدين بل من خلّص أتباع أمير المؤمنين علي عليه السّلام وكذبتم بادعاءكم كونه مجوسيا فالنبيّ صلّى الله عليه وآله وسلّم قد أمر بإخراج مطلق الكفّار من مكّة والمدينة فضلاً عن مسجديهما .
    رحمه الله ورحم ابنته التي قعبيد الله بن عمرتلها وأشار عليّ عليه السّلام على عثمان بقتله بهم فأبى. فهدّده الإمام عليّ عليه السّلام بالقتل متى ظفر عليه ، وقد قتله في واقعة الصفين.
    الفاتحة اخواني على روح بطل الاسلام ابو لؤلؤة النهاوندي رضي الله عنه.

    ==============

    لنک

    پلیز اس پر تفصیل دیں کہ وہ کون تھا اور آج کل اس کی قبر کہاں ہے

    • Islamic-Belief says:

      مجوسی کو مشرک کے زمرے میں نہیں لیا گیا ان کو اہل کتاب کے زمرے میں لیا گیا ہے

      مشرک پر مکہ میں داخلہ نہیں ہے لیکن مدینہ کا اس سے کیا تعلق ہے

      مشرک کو عرب سے نکال دینا والی حدیث میرے نزدیک ضعیف ہے کتاب وفات النبی میں اس پر بحث ہے
      ———-

      متاخرین نے اس میں اختلاف کیا ہے
      ابن قیم نے کتاب أحكام أهل الذمة میں لکھا ہے
      لَا فَرْقَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ، وَلَا يَصِحُّ أَنَّهُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ
      مجوس میں اور بت پرستوں میں فرق نہیں ہے اور نہ یہ صحیح ہے کہ یہ اہل کتاب میں سے ہیں

      بغوی کہتے ہیں
      وَاخْتَلَفُوا فِي أَنَّ الْمَجُوسَ: هَلْ هُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أَمْ لَا؟ فَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ لَهُمْ كِتَابٌ يَدْرُسُونَهُ فَأَصْبَحُوا، وَقَدْ أُسْرِيَ عَلَى كِتَابِهِمْ، فَرُفِعَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهُمْ. وَاتَّفَقُوا عَلَى تَحْرِيمِ ذَبَائِحِ الْمَجُوسِ وَمُنَاكَحَتِهِمْ بِخِلَافِ أَهَّلِ الْكِتَابَيْنِ
      مجوس پر اختلاف ہے کہ کیا اہل کتاب ہیں یا نہیں – علی سے روایت ہے کہ ان کی کتاب تھی … اس پر اتفاق ہے کہ ان کا ذبیحہ حرام ہے

      التلخيص الحبير از ابن حجر میں ہے کہ یہ سند حسن ہے کہ
      وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ فِي كِتَابِ النِّكَاحِ بِسَنَدٍ حَسَنٍ قَالَ: نَا إبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، نَا أَبُو رَجَاءٍ جَارٌ لِحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، نَا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: كُنْت عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرَ مَنْ عِنْدَهُ الْمَجُوسَ، فَوَثَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ: أَشْهَدُ بِاَللَّهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – لَسَمِعَهُ يَقُولُ: «إنَّمَا الْمَجُوسُ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَاحْمِلُوهُمْ عَلَى مَا تَحْمِلُونَ عَلَيْهِ أَهْلَ الْكِتَابِ» .
      ابن ابی عاصم نے حسن روایت دی کہ عمر نے کہا مجوس اہل کتاب ہیں

      الخبر في كنز العمال: عن علي قال: كان المجوس أهل كتاب وكانوا متمسكين بكتابهم

      أخرجه الثعلبي في تفسيره (الكشف والبيان:ج10ص171) عن عبدالله بن يوسف قال: حدّثنا عمر بن محمد بن بحير قال: حدّثنا عبدالحميد بن حميد الكشي، عن الحسن بن موسى قال: حدّثنا يعقوب بن عبدالله القمي قال: حدّثنا جعفر بن أبي المغيرة عن ابن (ابري) قال: لما هزم المسلمون أهل أسفندهان انصرفوا فجاءهم يعني عمر فاجتمعوا، فقالوا: أي شيء تجري على المجوس من الأحكام فأنهم ليسوا بأهل كتاب وليسوا من مشركي العرب، فقال: علي بن أبي طالب: بل هم أهل الكتاب وكانوا متمسكين بكتابهم

      عبد الرحمن بن أبزى مختلف في صحبته، وممن جزم بأن له صحبة خليفة بن خياط والترمذي ويعقوب بن سفيان وأبو عروبة والدارقطني والبرقي وبقي بن مخلد وغيرهم وفي صحيح البخاري من حديث ابن أبي المجالد انه سأل عبدالرحمن ابن أبزي وابن أبي أوفى عن السلف فقالا كنا نصيب المغانم مع النبي ، الحديث. ثقة روى له الستة (تهذيب التهذيب:ج6ص121تر277) وجعفر بن أبي المغيرة القمي ثقة (تهذيب التهذيب:ج2ص92تر165) ويعقوب بن عبد اه52 القمي قال عنه النسائي ليس به بأس ووثقه الطبراني وابن حبان وقال عنه الدارقطني ليس بالقوي (تهذيب التهذيب:ج11ص342تر653) والحسن بن موسى الأشيب ثقة روى له الستة (تهذيب التهذيب:ج2ص279تر560)
      یہ روایت حسن ہے

      بہر الحال اہل سنت جب کہتے ہیں کہ ابو لولو مجوسی تھا تو اس سے مراد اس کا چھپا ہونا ہے اگرچہ وہ نماز پڑھتا ہو یا مسلمان بنتا ہو

  24. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی کیا ان باتوں کا کوئی جواب ہے اگر ہے تو دے دیں تا کہ جس نے یہ لکھا ہے اس کو دیا جا سکے

    —————————
    حذف

    • Islamic-Belief says:

      اول سوال اپ کا اپنا ہونا چاہیے کسی ویب سائٹ یا کسی اور فورم کا نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا مواد اپ وہاں سے یہاں کاپی کریں

  25. وجاہت says:

    اسلام و علکیم ابو شہر یار بھائی حريز بن عثمان کو جو صحیح بخاری کے راوی بھی ہیں اور صحاح ستہ کے بھی راوی ہیں ان سے تقریباً محدث احادیث کے سافٹ ویئر کے مطابق ١٢ احادیث ہیں

    http://mohaddis.com/Search/0/1/%D8%AD%D8%B1%D9%8A%D8%B2%20%D8%A8%D9%86%20%D8%B9%D8%AB%D9%85%D8%A7%D9%86

    اس راوی پر جرح ہے اور ابن ہجر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ

    رجال روى لهم البخاري / حريز بن عثمان:
    جاء في كتاب تهذيب التهذيب لابن حجر العسقلاني وهو من أهم كتب الجرح والتعديل:
    حريز بن عثمان بن جبر بن أبي أحمر بن أسعد الرحبي المشرقي أبو عثمان ويقال أبو عون الحمصي:
    ……. وقال الضحاك بن عبد الوهاب وهو متروك متهم حدثنا إسماعيل بن عياش سمعت حريز بن عثمان يقول هذا الذي يرويه الناس عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال لعلي أنت مني بمنزلة هارون من موسى حق ولكن أخطأ السامع قلت فما هو فقال إنما هو أنت مني بمنزلة قارون من موسى قلت عمن ترويه قال سمعت الوليد بن عبد الملك يقوله وهو على المنبر ……….. وحكى الأزدي في الضعفاء أن حريز بن عثمان روى أن النبي صلى الله عليه وسلم لما أراد أن يركب بغلته جاء علي بن أبي طالب فحل حزام البغلة ليقع النبي صلى الله عليه وسلم قال الأزدي من كانت هذه حاله لا يروي عنه قلت لعله سمع هذه القصة أيضا من الوليد وقال بن عدي قال يحيى بن صاح الوحاظي أملى علي حريز بن عثمان عن عبد الرحمن بن ميسرة عن النبي صلى الله عليه وسلم حديثا في تنقيص علي بن أبي طالب لا يصلح ذكره حديث معقل منكر جدا لا يروي مثله من يتقي الله قال الوحاظي فلما حدثني بذلك قمت عنه وتركته وقال غنجار قيل ليحيى بن صالح لم لم تكتب عن حريز فقال كيف اكتب عن رجل صليت معه الفجر سبع سنين فكان لا يخرج من المسجد حتى يلعن عليا سبعين مرة وقال بن حبان كان يلعن عليا بالغداة سبعين مرة وبالعشي سبعين مرة فقيل له في ذلك فقال هو القاطع رؤوس آبائي وأجدادي وكان داعية إلى مذهبه يتنكب حديثه انتهى وإنما أخرج له البخاري لقول أبي اليمان أنه رجع عن النصب كما مضى نقل ذلك عنه والله أعلم
    روى له البخاري حديثين

    المصدر

    اسم الكتاب : تهذيب التهذيب
    المولف : ابن حجر العسقلاني
    حرف الحاء ، من اسمه حريز ، رقم ( 135 ) ،حريز بن عثمان بن جبر بن أبي أحمر بن أسعد الرحبي المشرقي

    ——

    یہ ہر روز حضرت علی رضی الله پر لعنت کرتا تھا

    http://emadfarrag.com/index.php/translations/1631-765

    http://alwareth.com/forum/showthread.php?7315-%CD%D1%ED%D2-%C7%C8%E4-%DA%CB%E3%C7%E4-%ED%DE%E6%E1(%C7%E4-%DA%E1%ED%C7-%C7%D1%C7%CF-%DE%CA%E1-%C7%E1%E4%C8%ED-%D5-)%E1%DA%E4-%C7%E1%E1%E5-%C7%E1%E4%E6%C7%D5%C8

    https://ar.wikisource.org/wiki/%D8%B3%D9%8A%D8%B1_%D8%A3%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%A1/%D8%AD%D8%B1%D9%8A%D8%B2_%D8%A8%D9%86_%D8%B9%D8%AB%D9%85%D8%A7%D9%86

    • Islamic-Belief says:

      حريز بن عثمان ثقہ ہیں
      خبر کی صداقت کا تعلق حافظہ سے اور سچ سے ہے اگر متن میں بدعت نہ ہو تو ثقہ ہی کہا جاتا ہے

      • وجاہت says:

        کیا کسی راوی کے لیے یہ جرح نہیں کہ وہ حضرت علی رضی الله یا حضرت امیر معاویہ رضی الله یا کسی اور صحابی کو گالیاں دے

        کیا یہ راوی واقعی گالیاں دیتے تھے یا نہیں

        • Islamic-Belief says:

          نصب ایک بدعت ہے – لہذا بدعتی والا اصول لگے گا کہ اگر علی کی برائی میں روایت لایا تو رد ہو گی

          ——–

          الذھبی نے لکھا ہے
          حَرِيْزُ بنُ عُثْمَانَ أَبُو عُثْمَانَ الرَّحَبِيُّ * (خَ، 4) الحَافِظُ، العَالِمُ، المُتْقِنُ، أَبُو عُثْمَانَ الرَّحَبِيُّ، المَشْرِقِيُّ، الحِمْصِيُّ. مُحَدِّثُ

          وَرُوِيَ عَنْ: عَلِيِّ بنِ عَيَّاشٍ، عَنْ حَرِيْزٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَأَنَا أَشْتُمُ عَلِيّاً؟! وَاللهِ مَا شَتَمْتُهُ.
          حریز نے کہا میں میں علی کو گالی دیتا ہوں ؟ الله کی قسم ان کو کوئی گالی نہیں دی
          وَقَالَ عَلِيُّ بنُ عَيَّاشٍ: سَمِعْتُ حَرِيْزَ بنَ عُثْمَانَ يَقُوْلُ: وَاللهِ مَا سَبَبْتُ عَلِيّاً قَطُّ.
          میں نے کبھی علی کو گالی نہیں دی

  26. anum shoukat says:

    جتنے بھی مسالک ہیں ان کے پیچھے صلوت پڑھنی چاہیے کیونکہ وہ مسلمان ہیں الگ مسجدیں بنانے کی ضرورت کیا ہے؟

    اللہ کا فرمان ہے شرک کرنے والے پر جنت حرام ہے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے تو جب یہ مسلمان ہیں تو انکو توحید کی دعوت بھی دینے کی ضرورت نہیں؟

    • Islamic-Belief says:

      اہل قبلہ میں سے ہونا اور شرک کرنا یہ دو الگ باتیں ہیں- ظاہر ہے الله اپنا حکم نافذ کرے گا کہ مشرک پر جنت حرام ہے
      لیکن عرف عام میں انہی مسلمانوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا
      حدیث میں ہے کہ رسول الله کہیں گے یہ میرے اصحاب ہیں یا امتی ہیں لیکن ان کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا
      رسول الله کی امت میں شرک ہوا اور امت محمد کو ہی مسلمان کہا جاتا ہے

      الفاظ سے مت کھیلیں جو عموم مفہوم ہے وہی لیا جاتا ہے
      ———-

      کیا اپ بتا سکتی ہیں کہ شیعہ یا رافضی مسلمان راوی نہیں تو امام بخاری و مسلم نے ان سے روایت کیوں لی

      مسلمان کھلوانے میں اور مشرک ہونے میں فرق ہے جو اپ کو سمجھ نہیں آ رہا

  27. anum shoukat says:

    آپکا بہت بہت شکریہ کافی حد تک بات سمجھ آ گی ہے

  28. anum shoukat says:

    ان تمام مسالک کے پیچھے نماز اور نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں ؟
    اور نکاح بھی کر سکتے ہیں؟
    اور جو ڈاکٹر صاحب کے نام سے تنظیمیں بنی ہوئی ہیں جو اپنے علاوہ کسی کو مسلم نہیں سمجھتی انکا یہ عمل قرآن و حدیث کے خلاف ہیں؟

    • Islamic-Belief says:

      اہل کتاب کا ذبیحہ اور ان سے نکاح جائز ہے – اس وجہ سے قیاس کیا گیا ہے کہ مسلمان مشرکوں کی عورتوں سے نکاح کیا جا سکتا ہے ان کا ذبیحہ کھایا جا سکتا ہے
      ——–
      ان کی عبادت میں شامل نہ ہوں اس میں اگر معلوم ہو کہ ان ان کاموں میں شرک کرتے ہیں یا صحیح عقیدہ نہیں رکھتے
      نماز میں خطرہ رہتا ہے کہ عرض عمل کا سوچ کر تو نہیں کی جا رہی کہ نماز کا درود رسول الله پر پیش ہو گا

      جنازہ تو واجبات میں سے ہے – تمام مسلمانوں پر فرض نہیں ہے

      لیکن اپنی اصولی اختلاف کو اس حد تک لے جانا کہ قطع تعلقی ہو جائے یہ قرآن کا حکم نہیں ہے
      مشرک ماں باپ کی بھی خدمت فرض ہے

  29. وجاہت says:

    اسلام و علکیم ابو شہر یار بھائی آج ہے قاری حنیف دار کی ایک تہرے پڑھی کافی لمبی ہے – – یہاں پیسٹ کرتا لیکن آپ نے کہا ہے کہ خود ٹائپ کر کے سوال کروں – یہ صحاح ستہ کے شیعہ راویوں کے بارے میں ہے – جن کے بارے میں ان کا دعوه ہے کہ ھماری صحاح ستہ کا 80٪ بوجھ اٹھایا ھوا ھے- انہوں نے تقریباً ہر راوی پر معلومات پیش کی ہیں اہلسنت کی کتابوں سے – بہت لمبی چوری تفصیل ہے – اگر آپ ازاجات دیں تو یہاں اس کا لنک دے دوں

    فلحال دو حوالے پیش خدمات ہیں

    بخاری شریف کا راوی اور 70 متعے وہ بھی مکہ شریف میں ،،

    عبد الملك بن عبد العزيز بن جريج ابوخالدالمكي، قد تزوج نحوًا من سبعين امرأة نكاح المتعة، كان يرى الرخصة في ذلك. —— قال عبدالله بن احمد بن حَنْبَل : قال ابي: بعض هذه الأحاديث التي كان يرسلها ابن جريج احاديث موضوعة . كان ابن جريج لايبالي من أين ياخذها – يعني قوله: أخبرت ، و حدثت عن فلان .

    ( ميزان الاعتدال الذهبي الجزء الثالث )

    اور اس پور یہ لنک بھی ملا ہے جہاں حوالے ہیں عربی میں ہے

    http://kingoflinks.net/Aqydatona/12Mutaah/24Ibnjoraij.htm

    ———
    دوسرا

    محمد بن مسلم ابن شھاب الزھری ،،

    شیخ عباس قمی اپنی کتاب تتمۃ المنتہی میں لکھتے ھیں ،،

    واختلف کلمات علمائنا فی مدحہ و قدحہ و قد فصل صاحب الروضات فقال انہ کان فی بدء امرہ من جملۃ علماء اھل السنہ و ندمائے حزب الشیطان ، ثمہ علمہ و ادراکہ ادرکاہ و ارشداہ الحق المبین فصیراہ فی اواخر عمرہ من الراجعین الی الامام زین العابدین علیہ السلام وفی زمرۃ المستفیدین من برکات انفاسہ الشریفہ ثم ذکرہ شواھد قولہ ،،

    ابن شھاب الزھری کی مدح و قدح میں ھمارے علماء کے مختلف اقوال ھیں ، صاحب روضات نے تفصیل کرتے ھوئے اپنی کتاب روضات میں لکھا ھے کہ وہ ابتدا میں تو سنی علماء میں سے تھا اور شیطان کی پارٹی کے ھم نشینوں میں سے تھا ، پھر اس کے علم اور فہم نے اسے کھلے ھوئے حق کی طرف راھنمائی کی اور زندگی کے آخری حصوں میں اسے ان لوگوں میں سے بنا دیا جو امام زین العابدین سے رجوع کرنے والے تھے اور آپ کی خدمت شریف سے فیض حاصل کرنے والے تھے،،

    اصول کافی میں اس کی احادیث نو مواقع پر درج ھیں شیعہ اسماء الرجال کی کتاب ” عین الغزال فی اسماء الرجال ” میں ابن شہاب الزھری کے تعارف میں شیعی لکھا ھوا ھے ،،

    ھمارے محدثین کتنی بھی احتیاط کریں مگر جو لوگ خود کو چھپانا چاھیں وہ مہارت بھی حاصل کر لیتے ھیں یہانتک کہ اللہ پاک مدینے کے منافقین کے بارے میں اپنے رسول ﷺ کو فرماتے ھیں کہ مردوا علی النفاق ، لاتعلمھم نحن نعلمھم ،، یہ نفاق میں ماھر ھو چکے ھیں ، آپ ان کو نہیں پہچانتے ھم ان کو جانتے ھیں ،، چنانچہ قاضی نور اللہ شوستری اپنی کتاب مجالس المومنین میں لکھتا ھے کہ ھم لوگ شروع شروع میں سنی ، حنفی ،شافعی ، مالکی ،حنبلی بن کر اھل سنت کے استاذ اور ان کے شاگرد بنے رھے ، ان سے روایتیں لیتے تھے اور ان کو حدیثیں سناتے تھے اور تقیہ سے کام لیتے تھے ،،

    کیا یہ صحیح ہے دو حوالے پیش کیے گیۓ

    • Islamic-Belief says:

      محدثین نے رافضی سے روایت لی ہے یہ معروف ہے
      ——
      ابن جریج کا متعہ کرنا محدثین نے بیان کیا ہے لیکن یہ شیعیت نہیں ہے- مکہ میں ابن عباس اس کا فتوی دیتے تھے اور ابن جریج وہاں ان کے اصحاب میں سے تھے البتہ بعد میں ابن جریج نے اس فعل سے رجوع کیا –
      اس کا ذکر المسنَد الصَّحيح المُخَرّج عَلى صَحِيح مُسلم میں ہے
      حدثنا محمَّد بن إسحاق الصغاني، ويحيى بن أبي طالب (1)، قالا: حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، قال: أخبرنا عبد الملك بن جريج، عن
      [ص:250] عبد العزيز بن عمر أن الربيع بن سَبْرة حدثه، عن أبيه قال: “خرجنا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حتى إذا كنا بعسفان قال: استمتعوا بهذه النساء، قال: فجئت أنا وابن عمي إلى امرأة ببردين، فنظَرَتْ فإذا بُرد ابن عمي خير من بُردي وإذا أنا أشب منه. قالت: برد كبرد، قال: فتزوجتها، فاستمتعت منها على ذلك البرد أيامًا، حتى إذا كان يوم التروية قام النبي -صلى الله عليه وسلم- بين الحجر والركن، فقال: ألا إني كنت أمرتكم بهذه المتعة وإن الله قد حرمها إلى يوم القيامة، فمن كان استمتع من امرأة فلا يرجع إليها، وإن كان بقي من أجله شيء فلا يأخذ منها مما أعطاها شيئًا” (2).
      قال ابن جريج يومئذ: اشهدوا أني قد رجعت عنها بعد ثمانية عشر حديثا أروي فيها, لا بأس بها.
      ابن جریج نے کہا ، گواہ ہو جاؤ ، حرمت کے سلسلے میں مجھے اٹھارہ روایات ملی ہیں جن میں کوئی برائی نہیں ، میں اس بنا پر جواز والی رائے سے رجوع کر چکا ہوں

      ========

      امام الزہری پر عباس قمی نے جو لکھا وہ کوئی تاریخی قول نہیں نہ سند سے بات ہے – کسی مجہول کی کتاب کا حوالہ دیا ہے

      • وجاہت says:

        یہاں تو عبدالوہاب بن عطا بیان کر رہا ہے، اور وہ کیا مدلس نہیں ہے – کیا یہاں اس نے تدلیس نہیں کی

  30. Aysha butt says:

    Sir wuzu mn kaan ir garden ka massa shamil hai kya

    • Islamic-Belief says:

      کان انسان کے سر میں لگے ہیں
      الأذنان من الرأس

      اس روایت کو ابن القطان نے صحیح کہا ہے

      سنن ابو داود میں ہے
      حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حمادٌ. (ح) وحدثنا مسدَّدٌ وقتيبةُ، عن حماد بن زيدٍ، عن سنان بن ربيعة، عن شهر بن حوشب، عن أبي أمامة، وذكر وضوء النبيِّ صلي الله عليه وسلم ، قال: كان رسول الله صلي الله عليه وسلم يمسح المأقين، قال: وقال: “الأذنان من الرأس” قال سليمان بن حرب: يقولها أبو أمامة. قال قتيبةُ: قال حمادٌ: لا أدري هو من قول النبي صلي الله عليه وسلم أو من أبي أمامة، يعني: قصة الأذنين. قال قتيبةُ: عن سنان أبي ربيعة. قال أبو داود: هو ابنُ ربيعة كنيتُهُ: أبو ربيعة” انتهى.

      اس میں راوی کو ابہام ہے کہ یہ صحابی کا قول ہے یا رسول الله کا
      ———

      فقہ کا اصول ہے کہ کسی مسئلہ میں قول نبوی نہیں تو قول صحابی لیا جائے گا – اس بنا پر کان کا مسح ہے

      ——
      سنن نسائی میں کان کے مسح کو رسول الله کا طریقہ کہا گیا ہے
      «بَاطِنِهِمَا بِالسَّبَّاحَتَيْنِ وَظَاهِرِهِمَا بَإِبْهَامَيْهِ
      کان کے سوراخ والے حصہ کا مسح شہادت والی انگلی سے کیا اور سر والی جانب کا مسح اپنے انگوٹھے کے ساتھ فرمایا۔
      سنن النسائي، کتاب الطھارۃ، باب مسح الأذنین مع الرأس وما یستدل بہ علی أنھما من الرأس

      ==========

      گردن کے مسح پر حسن احادیث ہیں
      عن ابن عمرؓ ان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال من توضا ومسح بیدیہ علی عنقہ و فی الغل یوم القیامہ ۔تلخیص الحبیر ج1 ص 288
      ترجمہ :حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا جس شخص نے وضوء کیا اور ہاتھوں کے ساتھ گردن کا مسح کیا تو قیامت کے دن گردن میں طوق کے پہنائے جانے سے اس کی حفاظت کی جائے گی ۔
      ابن حجر نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے تلخیص الحبیر ج1 ص 288 ۔ شوکانی نے بھی اس کی تصحیح کی ہے ۔ نیل الاوطار ج1 ص 123 مکتبہ دارالمعرفہ لبنان۔

      حدیث: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ «رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ حَتَّى بَلَغَ الْقَذَالَ، وَمَا يَلِيهِ مِنْ مُقَدَّمِ الْعُنُقِ بِمَرَّةً» قَالَ الْقَذَالُ: السَّالِفَةُ الْعُنقُ
      مسند احمد ج3 ص 481 حدیث نمبر 15951
      ترجمہ :حضرت طلحہ بروایت اپنے والد ، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ اپنے سر پر مسح کر رہے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اپنے ہاتھ) سر کے آخری حصے اور اس سے متصل گردن کے اوپر کے حصے تک ایک بار لے گئے ۔
      : شعيب نے اس کو ضعیف کہا ہے

      شعیب نے مسند احمد کی تعلیق میں ابن حجر کا قول لکھا ہے کہ حدیث میں الفاظ سے لوگوں نے گردن مراد لی ہے
      وحديث المقدام بن معديكرب، وفيه: فلما بلغ مسح رأسه وضع كفيه على مقدم رأسه، ثم مر بهما حتى بلغ القفا. وحديث المقدام إسناده ضعيف. … قال الحافظ في “التلخيص”: ولعل مستند البغوي في مسح القفا (يعني العنق هنا
      یہ روایات ضعیف ہیں لیکن فقہ میں انہی کو حسن کہا جاتا ہے اور دلیل لی جاتی ہے – لیکن جو مضبوط اسناد ہیں ان میں گردن کا مسح کا ذکر نہیں ہے

      یعنی یہ گردن کا مسح ایک اضافی عمل ہے ضروری نہیں اگر پانی ہے تو کیا جا سکتا ہے – پانی کم ہے تو نہ کیا جائے

      • Aysha butt says:

        Hadith hassan ho ,hassan li zaatihe ho hassan li gairihi. Hassan sahih gareeb.. Is type ki hadith kin sordton mn li ja sakti hai
        Or gareeb hadith qubool hoti hai
        Zaef hadith ko kin sorton ki binah pr uper wali catagory mn laya jata hai

        • Islamic-Belief says:

          حدیث حسن ہو یا حسن لذاتہ ہو یا حسن غریب ہو
          یہ سب حسن کے درجات ہیں

          ⇓ حسن روایت پر کیا حکم ہے ؟ کیا اس سے استدلال ہو سکتا ہے ؟
          http://www.islamic-belief.net/q-a/علم-الحدیث/

          حسن روایت ضعیف کی صنف سے ہے کہ فقہ میں جب صحیح حدیث نہ ملے تو ضعیف سے دلیل لی جائے
          صحیح کی موجوگی میں حسن کی کوئی حیثیت نہیں ہے

  31. anum shoukat says:

    بنیاد کا انکار تو تمام مسلمان کر رہے ہیں لا الہ الاللہ کے ساتھ شرک کر کے پھر اللہ پر ایمان تو نہ ہوا مشرکین مکہ ربوبیت کے قائل تھے لیکن الوہیت میں شریک ٹھہراتے تھے یہی کام آج کے مشرک کر رہے ہیں پھر مسلم کیسے ہو سکتے ہیں؟

    • Islamic-Belief says:

      مرغی کی ایک تانگ

      مسلم کا تعلق اسلام کو دین ماننے سے ہے – اس کے ارکان پر عمل کا دعوی کرنے والے اپنے اپ کو مسلم کہلواتے ہیں
      لہذا تمام فرقے مسلمان کی تعریف میں اتے ہیں- ان کا شرک کرنا ایک الگ بحث ہے

      اپ بد عقیدہ مسلمانوں پر مشرکین مکہ کا حکم لگا رہی ہیں اور میں ان پر اہل کتاب کا قیاس کر رہا ہوں
      کیا یہودی و نصرانی شرک نہیں کر رہے ؟ کر رہے ہیں وہ بھی تو الوہیت میں شریک کرتے ہیں لیکن ان پر مشرکین مکہ کا حکم الله نے نہیں لگایا ہے
      مشرک کے احکام اہل کتاب کے احکام سے الگ کیوں ہیں ؟

      • Aysha butt says:

        Sir surah maida mn haj hai ik jinhon ny kaha esa.a.s illah hai unhon ny kufar kiya or jinhon ny kaha wo teen mn se ik hai unhon ny b kufar kia…. Or unhon ny rehman k lie beta tajweez kia surah bakra mn hai…. To in in ayats se ulluhiyat ka pehlu niklta hai kya . Yani wo unko direct illah khty thy ya qayas krty thy yani jesy muslim wasila lety hai wasy krty thy..
        Shirk or kufr mn kya farq hoa phir… Q k inko toh kafir kha ja rha hai…
        Agr wasella ki wajh se kafir kha to islami firke phir mushrik na biddati hoye q k unhon ny wokiya jo Aap s.a.w ne nahi kha
        Illah or Allah mn koi farq hai k same meaning hai…..
        Bta dein
        Kibdly mere phle sawalon k b jawab dein

        • Islamic-Belief says:

          نصرانی الله کی پناہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ رب ہے – الله اپنے عرش سے آیا ایک عورت کو حمل رکھوا دیا اور پھر اس کا وجود کا حصہ عالم بشری میں پیدا ہوا
          اس طرح عیسیٰ کو رب کہتے ہیں آج کل یہی نصرانی مذھب ہے
          دور نبوی میں یا اس سے پہلے ایک فرقہ تھا جو کہتا تھا کہ عیسیٰ الله کا منہ بولا بیٹا تھا انسان ہی تھا لیکن یہ فرقہ نصاری کے نزدیک بدعتی تھا اور اب معدوم ہے
          ——–

          الله کے تین ٹکڑے کرنا کہ روح القدس اور عیسیٰ اور الله – یہ کفر ہے
          اور اس میں شرک بھی ہے

          اس کو کہا گیا کہ انہوں نے کہا الله تو اب تین میں سے ہے

          اس کی وجہ یہ ہے کہ نصرانیوں کے نزدیک یہ اصل مذھب موسی نے توریت میں نہیں بتایا تھا کہ الله تین کا ایک ہے بلکہ اس میں ایک کی رب کا ذکر ہے لیکن اپنے فلسفہ سے انہوں نے الله کی ذات کے تین حصے کیے اور کہا کہ یہ تین رب نہیں ایک ہی ہیں صرف متشکل تین طرح ہوتے ہیں
          یعنی الله تو ایک ہی ہے لیکن ظہور الگ الگ ہے

          آج کل نصرانییوں کی جانب سے اس کی مثال پانی سے دی جاتی ہے کہ پانی بھاپ ہے – مائع ہے اور برف بھی ہے
          اسی طرح الله کے تین ظہور ہیں

          الله نے اس کو کفر کہا
          —–
          نصرانی اپنے مذھب کا شمار
          Monotheism
          یا توحیدی مذھب میں کرتے ہیں – جو ان کی خود فریبی ہے
          یعنی یہ بھی مانتے ہیں کہ الله کی تین شکیں یا ظہور یا تجلیات ہیں لیکن اس کو ایک ہی رب بھی کہتے ہیں
          ——-

          نصرانی عیسیٰ کا وسیلہ نہیں لیتے ان کو ظہور یا تجلی کی ایک شکل کہتے ہیں – نصرانی پطرس کا اور اپنے اولیاء کا وسیلہ لیتے ہیں

          عام مسلمان عیسیٰ کا یا رسول الله یا دیگر انبیاء کا وسیلہ لیتے ہیں اور وسیلہ لینے کو یہ نہیں مانتے کہ نصرانیوں سے یا مشرکین مکہ سے ان کی مماثلت ہوتی ہے

          ہم اس کو عمل مشرکین سے مماثلت قرار دیتے ہیں

  32. shahzad khan says:

    تحقیق چاہیے ۔۔
    بخاری جلد اول ابواب التقصیر الصلوۃ ۔۔۔
    حسین بن علی رضی سے روایت ہے کہ مجھے علی رضی نے بتایا ایک رات رسولؐ ان کے اور فاطمہؓ کے پاس تشریف لائے اور پوچھا تم دونوں نماز نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کیا ہماری جان اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے جب اٹھانا چاہتا ہے اُٹھ جاتے ہیں ۔جب ہم نے یہ کہا کہ آپ لوٹ گئے اور ہماری طرف بالکل متوجہ نہ ہوئے پھر میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ران پر ہاتھ مار کر فرما رہے تھے ۔انسان سب سے بڑا جھگڑالو ہے

    • Islamic-Belief says:

      صحیح بخاری میں ہے

      دَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،
      ح
      وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي أَخِي عَبْدُ الحَمِيدِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ

      أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَقَالَ لَهُمْ: «أَلاَ تُصَلُّونَ»، قَالَ عَلِيٌّ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَيَقُولُ: {وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا} [الكهف: 54]
      __________
      حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، أَخْبَرَهُ:

      أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ لَيْلَةً، فَقَالَ: «أَلاَ تُصَلِّيَانِ؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْنَا ذَلِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُوَلٍّ يَضْرِبُ فَخِذَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: {وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا} [الكهف: 54]
      __________

      حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ،

      أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ – [ص:107] عَلَيْهَا السَّلاَمُ – بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: «أَلاَ تُصَلُّونَ؟»، فَقَالَ عَلِيٌّ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعَهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ، يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَهُوَ يَقُولُ: {وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا

      صحیح مسلم میں بھی ہے
      وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، حَدَّثَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ، فَقَالَ: «أَلَا تُصَلُّونَ؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ‍ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ، يَضْرِبُ فَخِذَهُ، وَيَقُولُ {وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا} [الكهف: 54]

      =========

      عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ
      مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ
      شُعَيْبٌ بن ابی حمزہ
      صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ
      وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ
      وَإِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ
      عَقِيلُ بْنُ خَالِدٍ
      نے اس کو امام زہری سے روایت کیا ہے
      ————

      یہ روایت امام زہری کی سند سے ہے ان کا اس میں تفرد ہے اور کئی ثقات نے ان سے روایت کیا ہے
      البتہ زہری مدلس بھی ہیں
      البتہ صحیح ابن حبان میں ہے کہ زہری نے کہا ان کو خبر عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ نے دی ہے
      ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ
      لہذا تدلیس کا مسئلہ نہیں رہا
      ——

      اس روایت سے علی اور فاطمہ رضی الله عنھما کا نمازوں میں متساہل ہونا ثابت ہوتا ہے اور ان کا جھگڑالو ہونا بھی ثابت ہوتا ہے کیونکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان پر قرآن کی آیت ثبت کی

      —–
      مجھ کو یہ روایت پسند نہیں میں اس کو ثقہ کی منکر روایت کہہ کر رد کرتا ہوں اور ایسا ہے کہ محدثین نے بہت سے ثقات کی کچھ روایات کو منکر کہا ہے – لیکن انہی ثقات کی دیگر روایات کو لیا ہے –
      اس روایت کی علت اہل بیت کی تنقیص ہے جو صرف امام زہری کی سند سے ہے – ایسا واقعہ خاص حسین بن علی نے خلیفہ عبد الملک کے معاون خاص امام زہری کو ہی کیوں بتایا ؟

  33. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی پوچھنا یہ ہے کہ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ

    جو علوم الحدیث کا طلاب علم ہوتا ہے اسکا کام صرف سند پر حکم لگانا ہوتا ہے متن کا کام فقیہ کا ہوتا ہے

    حوالے یہ دیے جاتے ہیں

    يفة المحدث النظر في الأسانيد ، من حيث الرواة والاتصال والانقطاع ، فأما معارضة هذا المتن ذلك الآخر ، وأشباه هذا ، فليس من نظره ، بل هو من نظر الفقيه .

    محدث کا کام اسانید دیکھنا ہوتا ہے رواہ ، اتصال اور منقطع ہونے کے تناظر میں اور جہاں تک متن کے اختلاف کا تعلق ہے تو یہ اسک کام نہیں بلکہ یہ کام فقیہ کا ہوتا ہے

    بيان الوهم والإيهام لابن القطان

    —-

    فإن قيل : إنما حكم عليه بالوضع ، نظرا إلى لفظ المتن ، وكون ظاهره مخالفا للقواعد . قلنا : ليست هذه وظيفة المحدث

    النكت

    ابن حجر ایک جگہ امام ابن الجوزی کا رد کرتا ہے کیونکہ انہوں نے المسند احمد بن حنبل کی ایک حدیث کو موضوع قرار دیا جسکا متن انکے مطابق قوائد الشریعہ کے خلاف تھا ۔

    اب حدیث کو ایک محدث کس حساب سے دیکھے گا – اور کیا ہر محدث الفقيه بھی ہوتا ہے – – تو کیا امام ذھبی اور امام احمد اور دوسرے محدثین الفقيه بھی تھے

    جیسا کہ آپ بھی کئی دفعہ کہتے ہیں کہ میرے نزدیک یہ صحیح نہیں – کیا اس سے تحقیق میں فرق نہیں آتا – اور اگر آپ کے نزدیک کوئی چیز ٹھیک نہیں اور دوسرے کے نزدیک ٹھیک ہے تو ایک عام بندہ کیا کرے – اور اسی پر آپ کی اور میری بحث ہوئی ہے – اور اگر کوئی بندہ کہتا ہے کہ میں آپ کی نہیں دوسرے کی تحقیق کو مانتا ہوں یا کہے کہ میں اس کی نہیں آپ کی تحقیق مانتا ہوں تو ان دونوں تحقیق کے ماننے والوں پر کیا حکم لگے گا – اور ان میں کس بات صحیح ہو گی

    • Islamic-Belief says:

      فقہ میں ایسا ہوتا ہے کہ دو روایت صحیح سند سے ہوتی ہیں لیکن فقیہ اس کو سمجھتا ہے کہ ایک ناسخ ہے اور ایک منسوخ ہے
      اس تناظر میں ابن القطان کی بات کو لینا ہو گا کیونکہ کتاب ،میں یہ بحث ایک فقہی مسئلہ پر چل رہی ہے

      ——
      محدث سند میں علت کو دیکھتا ہے اس بنا پر اس کی بات قابل غور ہوتی ہے –
      —-
      لہذا دونوں کی اہمیت ہے اور تحقیق میں ترقی ہوتی رہتی ہے – جتنا غور کریں اتنا اور معلوم ہوتا ہے
      مثلا میں صحیح بخاری کی کچھ روایات کو اور ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی بعض کو اسرائیلایات کہتا ہوں
      یہ میری تحقیق ہے

      اسی طرح علی پر سب و شتم پر مجھ کو ابھی تک کوئی صحیح روایت نہیں ملی جس پر اپ بحث کرتے ہیں
      لوگوں نے ان کو صحیح کہا ہے جبکہ اسناد میں علتیں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل محققین ایسا کلام کرتے ہیں کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے
      یعنی البانی صاحب راوی پر جرح بھی کرتے ہیں اور پھر وہ روایت اگر پسند ہو تی اس کا کوئی طرق صندوق سے نکال کر لاتے ہیں جو ضعیف ہی ہوتا ہے
      پھر کہتے ہیں یہ روایت صحیح لغیرہ ہوئی لہذا صحیح ہوئی
      اس طرح الصحیحہ میں بے شمار مرتبہ انہوں نے کیا ہے – جس سے ان کی تحقیق میں خرابیاں آئی ہیں
      اپ نے خود روایت پیش کی کہ عرش پر سانپ لپٹا ہے جس پر پھر بلاگ میں بحث ہوئی اور پھر اس کو اپ نے محدث فورم پر رکھا تو جواب ندارد
      اب اپ ہی کہہ رہے ہیں ایسا کیوں ہے تو میں اب اس کا کیا جواب دوں؟

  34. وجاہت says:

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    حدثنا أحمد بن إسرائيل قال رأيت في كتاب أحمد بن محمد بن حنبل رحمه الله بخط يده نا اسود بن عامر أبو عبد الرحمن ثنا الربيع بن منذر عن أبيه قال كان حسين بن علي يقول من دمعتا عيناه فينا دمعة أو قطرت عيناه فينا قطرة اثواه الله تعالى الجنة

    كتاب فضائل الصحابة للإمام أحمد

    • Islamic-Belief says:

      سند میں الرَّبِيعُ بْنُ مُنْذِرٍ، عَنْ أَبِيهِ ہے دونوں مجہول ہیں

      الربيع بن المنذر الثوري، من أهل الكوفة کو عجلی نے ثقہ کہا ہے اور مجہول کو ثقہ کہتے ہیں- اس کے باپ کا تو سرے سے اتا پتا نہیں کون ہے

      • وجاہت says:

        ابن ہجر اپنی کتاب تقريب التهذيب میں ان کو ثقہ کہا ہے

        6894-

        المنذر ابن يعلى [يعلي] الثوري بالمثلثة أبو يعلى [يعلي] الكوفي ثقة من السادسة ع

        http://shamela.ws/browse.php/book-8609#page-472

        ابن معین نے ثقہ کہا ہے اور انکے والد بھی ثقہ جیسا کہ ابن حجر نے کہا ہے

        • Islamic-Belief says:

          یہ کس نے خبر دی کہ الربيع بن المنذر کے باپ کا نام المنذر ابن يعلى ہے ؟

          • وجاہت says:

            http://muslimscholars.info/manage.php?submit=scholar&ID=11398

            اور یہ معلومات بھی ملی ہیں

            [6187] ع المنذر بن يعلى الثوري أَبُو يعلى الكوفي

            روى عن
            1- الحسن بْن مُحَمَّد بْن علي بْن الحنفية
            2- والربيع بْن خيثم الثوري خ ت س ق
            3- وسعيد بْن جبير
            4- وعاصم بْن ضمرة
            5- ومحمد بْن علي بْن الحنفية خ م د ت س

            روى عنه
            1- جامع بْن أَبِي راشد خ د
            2- وحبيب بْن أَبِي عمرة
            3- والحجاج بْن أرطاة
            4- والحسن بْن عمرو الفقيمي بخ
            5- وابنه الربيع بْن المنذر بْن يعلى الثوري
            6- وسالم بْن أَبِي حفصة بخ
            7- وسعيد بْن مسروق الثوري خ ت س ق
            8- وسليمان الأعمش خ م س
            9- وفطر بْن خليفة بخ د ت س

            علماء الجرح والتعديل10- ومحمد بْن سوقة خ س

            2 ذكره مُحَمَّد بْن سعد فِي الطبقة الثالثة من أهل الكوفة، وقال: كَانَ ثقة، قليل الحديث 2 .

            وقال 1 إسحاق بْن منصور، عَن يحيى بْن معين 1: 2 ثقة 2 . وكذلك قال العجلي، وابن خراش .

            2 وذكره ابْن حبان فِي كتاب الثقات 2 .

            وقال مُحَمَّد بْن سوقة، عَن المنذر بْن يعلى الثوري: لزمت مُحَمَّد بْن الحنفية حتى قال بعض ولده: لقد غلبنا هَذَا النبطي على أبينا .

            روى له الجماعة

            http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=1699

          • Islamic-Belief says:

            ان میں یہ کہاں ہے کہ یہ دونوں باپ بیٹے ہیں ؟

            ———
            اپ نے جو معلومات ہیں ان کے مطابق اپ نے جو روایت دی

            حدثنا أحمد بن إسرائيل قال رأيت في كتاب أحمد بن محمد بن حنبل رحمه الله بخط يده نا اسود بن عامر أبو عبد الرحمن ثنا الربيع بن منذر عن أبيه قال كان حسين بن علي يقول من دمعتا عيناه فينا دمعة أو قطرت عيناه فينا قطرة اثواه الله تعالى الجنة
            كتاب فضائل الصحابة للإمام أحمد

            اس کی سند منقطع ہے کیونکہ اس کے مطابق المنذر بن يعلى الثوري أَبُو يعلى الكوفي نے ابن حنفیہ کے پوتوں سے روایت لی ہے تو ظاہر ہے حسین رضی الله عنہ سے اس کا سماع نہیں ہو سکتا

          • وجاہت says:

            ابو شہر یار بھائی میں یہاں پر جواب دیے ہیں لیکن ایک شیعہ عالم یہ جوابات دے رہا ہے اور اس نے تحقیق کی ہے جب میں نے جواب دیا تو کہتا ہے کہ

            =====
            بھائی مہربانی کرکے اپنی کتب پڑھ لیا کریں :

            شیخ وصی اللہ عباس نے خود اوپر کہا ہے کہ یہاں ربیع ست مراد ربیع بن المنذر الثوری ہے جو ثقہ ہے ۔۔۔ اور تقریب التہذیب میں انکے والد المنذر الثوری ثقہ ہے ۔۔۔ لہذا آپکے جاھلانہ اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں

            اب آپ نے کہا کہ منذر الثوری کا سماع ابن حنفیہ کے بیٹے سے ہے تو عرض ہے ابن حجر کی تہذیب ہی پڑھ لیتے وہاں اسکا سماع محمد بن حنفیہ اور ربیع بن حثیم سے بھی ثابت ہے ۔۔۔

            عقل نہ ہو تو موجائے موجائے

            ===========

            لنک

            https://irafidhi.wordpress.com/2017/10/12/%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%D9%84-%D8%B5%D8%AD%D8%A7%D8%A8%DB%81-%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B5%D8%AD%DB%8C%D8%AD-%D8%A7%D8%AB%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%D9%81%D8%A7%D8%B9/

            پلیز اس تھریڈ کو آپ ایک نظر پورا دیکھیں آخر تک اب اس کو کیا جواب دیا جایے

          • Islamic-Belief says:

            اہل تشیع کی کتاب مشايخ الثقات- غلام رضا عرفانيان میں ہے
            الربيع بن منذر 32 / 4، لم يذكر
            اس کا ذکر نہیں کیا
            ——
            یعنی اس پر نہ جرح ہے نہ تعدیل ہے مجہول ہوا
            =========================
            دوسری بحث اس پر ہے کہ منذر بن یعلی کا سماع حسین رضی الله عنہ سے ہے یا نہیں
            امکان لقاء کی بنیاد پر اہل تشیع کی طرفسے اس کو بیان کیا جارہا ہے جبکہ اس کا سماع حسین سے ثابت نہیں
            دوم ابن حجر نے تہذیب میں یہ لکھا ہے کہ منذر ، محمد بن حنفیہ اور ربیع بن حثیم سے روایت کرتا ہے سماع کا نہیں لکھا
            روایت کرنے میں اور سماع کہنے میں فرق ہے

            المنذر” بن يعلى الثوري1 أبو يعلى الكوفي روى عن محمد بن علي بن أبي طالب والربيع بن خيثم وسعيد بن جبير وعاصم بن ضمرة والحسن بن محمد بن علي بن أبي طالب

            منذر کی روایت ابن حنفیہ اور ان کے پوتوں سے ہوئی حسین سے ثابت نہیں کیونکہ صرف یہ ایک روایت ہے جس میں منذر نے حسین سے روایت کیا ہے سماع کی تصریح نہیں ہے

  35. وجاہت says:

    اسلام و علکیم ابو شہر یار بھائی کیا حال ہیں

    ابن ہجر اپنی کتاب الإصابة في تمييز الصحابة میں لکھتے ہیں کہ

    وقال المدائنيّ: كان زيد بن ثابت يكتب الوحي، وكان معاوية يكتب للنبيّ صلى اللَّه عليه وآله وسلم فيما بينه وبين العرب

    http://shamela.ws/browse.php/book-9767#page-3085

    تحقیق چاہیے

    • Islamic-Belief says:

      مدائنی سے لے کر زید بن ثابت تک سند کا علم نہیں ہوا

      • وجاہت says:

        ابو شہر بھائی سند تو ابن ہجر نے اپنے اور مدائنی کے درمیان بھی نہیں دی – اور یہی حال امام ذھبی کا ہے کہ وہ بھی سند اپنے اور مدائنی کے درمیان نہیں دیتے – اسی طرح مدائنی نے اپنے اور زید بن ثابت کے درمیان سند نہیں دی

        کیا وجہ ہے کہ ہم ابن ہجر اور امام ذھبی کی مدائنی تک کی سند کو صحیح مھتے ہیں لیکن مدائنی اور زید بن ثابت کے درمیان سند کو دیکھتے ہیں

        وضاحت کر دیں پلیز

        • Islamic-Belief says:

          ابن ھجر یا الذھبی مدائنی کی سند اس لئے نہیں دیتے کہ وہ اس کی کتاب سے لکھ رہے ہوتے ہیں
          لیکن مدائنی جب کچھ کہے تو اس کو اصحاب رسول تک سند دینی ہو گی
          یہ بات پتا نہیں اپ کی سمجھ میں کیوں نہیں اتی

          ہم کو بھی آج اگر مدائنی کی کتاب ملے تو ہم اس سے روایت لکھ دیں گے لیکن یہ سوال کہ آیا وہ سند صحیح بھی ہے نہیں یہ تو تبھی معلوم ہو گا جب سند مدائنی نے دی ہو –

          ———
          اپ ایک چیز پر بات کرتے کرتے کہیں اور کیوں جاتے ہیں
          کیا مدائنی جو بھی کہتا ہے اس کو سچ سمجھا جائے – اپ یہ پروپیگنڈا کیوں کرتے رہتے ہیں
          اس خبر کی صداقت کا اپ کو علم کیسے ہوا کہ معاویہ الوحی نہیں لکھتے تھے خطوط لکھتے تھے ؟ جو اپ اس پر مجھ سے الجھ رہے ہیں

          بے کار کاموں میں وقت ضائع نہ کریں معاویہ کاتب خطوط تھے یا کاتب الوحی تھے اس سے ہم کو کیا فائدہ ہے ؟

  36. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی آپ نے اوپر کہا کہ

    ========
    محدثین نے رافضی سے روایت لی ہے یہ معروف ہے
    ——
    ابن جریج کا متعہ کرنا محدثین نے بیان کیا ہے لیکن یہ شیعیت نہیں ہے- مکہ میں ابن عباس اس کا فتوی دیتے تھے اور ابن جریج وہاں ان کے اصحاب میں سے تھے
    ========

    پوچھنا یہ ہے کہ جب ایک چیز حرام ہو گئی حضور صلی الله علیہ وسلم کی زندگی میں تو پھر بھی کچھ صحابہ کیوں اس پر عمل کرتے تھے

    فیس بک پر کسی نے یہ لکھا ہے – کچھ ٹائپ کر رہا ہوں اور کچھ پیسٹ کر رہا ہوں

    امام مسلم نے صحیح مسلم میں ایسی کافی روایات کو جمع کیا ہے جس کو پڑھنے والا بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے کہ بعد از رسول ص بھی اس نکاح کا رواج رہا اختصار کے ساتھ ایک روایت پیش کرتی ہوں

    حدثني محمد بن رافع حدثنا عبد الرزاق أخبرنا ابن جريج أخبرني أبو الزبير قال سمعت جابر بن عبد الله يقول كنا نستمتع بالقبضة من التمر والدقيق الأيام على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر حتى نهى عنه عمر في شأن عمرو بن حريث
    حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ ہم متعہ کرتے تھے عورتوں سے کئی دن کے لیے ایک مٹھی کھجور اور آٹا دے کر رسول اللہ ص اور ابو بکر(رض) کے زمانے میں یہاں تک کہ عمر(رض) نے اس سے عمرو بن حریث کے قصہ میں منع کردیا۔

    (صحيح مسلم بشرح النووي » كتاب النكاح » باب نكاح المتعة وبيان أنه أبيح ثم نسخ ثم أبيح ثم نسخ واستقر تحريمه إلى يوم القيامة)

    اس روایت سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بعد از رسول اصحاب(رض) بھی متعہ کیا کرتے تھے اگر آپ (ص )

    نے واقعی منسوخ کردیا تھا تو نادان مسلمان صحابی رسول ص کے بارے میں کیا فرمائیں گے؟؟؟

    ان احادیث کی شرح کرتے ہوئے امام نووی نے قاضی عیاض مالکی کا قول نقل کیا ہے کہ

    قال القاضي عياض : روى حديث إباحة المتعة جماعة من الصحابة ، فذكره مسلم من رواية ابن مسعود وابن عباس وجابر وسلمة بن الأكوع وسبرة بن معبد الجهني ، وليس في هذه الأحاديث كلها أنها كانت في الحضر ، وإنما كانت في أسفارهم في الغزو عند ضرورتهم وعدم النساء مع أن بلادهم حارة وصبرهم عنهن قليل

    ایک جماعت نے حدیثِ جوازِ متعہ کو صحابہ ِ کرام(رض) کی ایک جماعت سے روایت کیا ہے اور مسلم نے اس میں ذکر کیا ہے۔ ابن مسعود م ابن عباس ،جابر بن عبداللہ ، سلمہ ابن اکوع اور سبرہ بن معبد(رض) کی روایتوں کو اور ان سب روایتوں میں اس کا جواز سفر میں مذجور ہے نہ کہ حضر میں بوقتِ ضرورت نہ کہ بلا ضرورت اور ظاہر ہے کہ عرب کا ملک گرم ہے اور اسفارِ جہاد میں عورتوں کا ساتھ رکھنا ممکن نہیں ہے۔

    صحيح مسلم بشرح النووي كتاب النكاح باب نكاح المتعة وبيان أنه أبيح ثم نسخ ثم أبيح ثم نسخ واستقر تحريمه إلى يوم القيامة

    بقول ائمہِ اہلسنت کہ حرمت کے بعد بھی اصحاب کی ایک جماعت اس نکاح کی قائل رہی،جن میں معاویہ، ابو سعید الخدری ، جابر بن عبداللہ، سلمہ بن الاکوع، ابن عباس، ابن مسعود (رض) وغیرہ شامل ہیں۔

    حافظ ابن حجر عسقلانی نے ابن حزم اندلسی کا قول نقل کیا ہے

    قال ابن حزم : ثبت على إباحتها بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم ابن مسعود ومعاوية وأبو سعيد وابن عباس وسلمة ومعبد ابنا أمية بن خلف وجابر وعمرو بن حريث

    ابن حجر عسقلانی امام ابن حزم کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ صحابہ(رض) کی ایک جماعت نکاحِ متعہ کی اباحت کی قائل رہی جن میں ابن مسعود، معاویہ،ابو سعید، ابن عباس،سلمہ و معبد اور امیہ بن خلف کے بیٹے، جابر بن عبداللہ اور عمرو بن حریث (رض) شامل تھے۔

    فتح الباري شرح صحيح البخاري كتاب النكاح باب نهي رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نكاح المتعة آخرا

    [امام الحدیث محمد زکریا کاندھوی نے شرح موطا میں بھی ابن حزم کے اس قول کو رقم کیا ہے نیز ابن حزم نے اپنی کتاب المحلی میں اس بات کا ذکر کیا ہے۔]

    امام الحدیث محدمد زکریا کاندھوی شرح موطاِ مالک میں معتہ سے متعلق احادیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں

    حضرت ابن عباس(رض) سے منقول ہے کہ نکاحِ متعہ جائز ہے اور اسی کے جواز کے قائل تھے اکثر اصحاب مثل عطاء اور طاوس کے اورامام اہلسنت ابن جریح نے جواز متعہ کا فتوی دیا ہے۔ متعہ کا جواز صحابہِ کرام میں جابر اور ابوسعید سے مروی ہے اور اسی جواز کی جانب شیعہ گئے ہیں۔

    اوجز المسالک شرح موطا امام مالک امام الحدیث محدمد زکریا کاندھوی ج ۱۰ ص ۵۲۱

    حضرت سلمہ بن امیہ(رض) نے زمانہِ ابو بکر (رض)یا عمر(رض) میں متعہ کیا

    امام ابن حزم اندلسی خلف بن امیہ کے تذکرے میں لکھتے ہیں کہ۔۔ حضرت سلمہ بن امیہ کا صرف ایک بیٹا معبد تھا اس کی ماں کا نام ام راکہ تھا جس سے سلمہ نے عہدِ عمر (رض) یا ابو بکر(رض) میں نکاح متعہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں معبد(رض) پیدا ہوئے۔

    -جمھرۃ اسناب العرب ابن حزم ص ۱۵۹

    کیا یہ حوالے صحیح لکھے ہیں جس نے یہ مضمون فیس بک پر لکھا ہے

    • Islamic-Belief says:

      ان حوالوں پر کافی کلام پر پہلے کر چکے ہیں

      اس میں ابن عباس کا باقی اصحاب رسول سے اختلاف ملتا ہے

      ⇓ کیا معاویہ رضی الله عنہ نے متعہ کیا؟

      ⇓ کیا معاویہ رضی الله عنہ نے متعہ کیا دوسرا سوال ہے ؟

      ⇓ ربيعة بن أمية بن خلف الجمحي پر کیا معلومات ہیں؟

      http://www.islamic-belief.net/q-a/تاریخ/

      —-
      ⇓ تقلید کی مخالفت میں ابن مسعود اور ابن عباس رضی الله عنہ کا قول ہے
      http://www.islamic-belief.net/q-a/متفرق/

  37. وجاہت says:

    کیا حضرت عبداللہ ابن زبیر(رض) متعہ کی اولاد تھے

    جیسا کہ امام راغب اصفہانی متعہ کے جواز کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر (رض) نے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کو متعہ کو حلال ماننے کیوجہ سے عار دلایا جس پر حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) نے حضرت عبد اللہ بن زبیر (رض) کو مخاطب کر کے کہا کہ تم ذرا اپنی والدہ سے جاکر پوچھو کہ انکے اور تمہارے والد کے درمیان کیسے قرابت ہوئی چنانچہ حضرت عبد اللہ بن زبیر(رض) نے اپنی والدہ [ اسماء بنت ابو بکر] سے پوچھا تو حضرت اسماء بنت ابو بکر(رض) نے جواب میں ان سے فرمایا کہ میں نے تم کو متعہ سے ہی جنا ھے۔

    محاضرات الادباء، جلد2،صفحہ ۲۳۴ طبعہ دار ارقم بیروت

    http://shamela.ws/browse.php/book-9078#page-1056

    • Islamic-Belief says:

      عيّر عبد الله بن الزبير عبد الله بن عباس بتحليله المتعة فقال له: سل أمك كيف سطعت المجامر بينها وبين أبيك. فسألها فقالت: ما ولدتك إلا في المتعة :
      —–

      مسند احمد میں ہے
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَفْرِدُوا بِالْحَجِّ (1) ، وَدَعُوا قَوْلَ هَذَا، يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ الْعَبَّاسِ: أَلَا تَسْأَلُ أُمَّكَ، عَنْ هَذَا؟ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ: صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ، ” خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا، فَأَمَرَنَا، فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً، فَحَلَّ لَنَا الْحَلَالُ، حَتَّى سَطَعَتْ الْمَجَامِرُ بَيْنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ

      طبرانی میں ہے
      حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: أَفْرِدُوا الْحَجَّ، وَدَعُوا قَوْلَ أَعْمَاكُمْ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ الَّذِي أَعْمَى اللهُ قَلْبَهُ أَنْتَ، أَلَا تَسْأَلُ أُمَّكَ عَنْ هَذَا؟ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَتْ: صَدَقَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً فَحَلَلْنَا الْإِحْلَالَ كُلَّهُ حَتَّى سَطَعَتِ الْمَجَامِرُ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ

      ابن زبیر نے کہا حج افراد کرو اس پر ابن عباس نے کہا وہ جن کے دل الله انے اندھے کیے تم ان میں سے ہو تم نے اپنی ماں سے اس پر پوچھا؟ پس ابن زبیر نے اسماء کے پاس کسی کو بھیجا کہ معلوم کرے اسماء نے کہا ابن عباس نے صحیح کہا ہم رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے ساتھ نکلے حج کے ارادہ سے پھر اس کو عمرہ کیا پس ہم پر حلال ہوا یہاں تک کہ عورتوں مردوں کے درمیان مجاَمر اٹھ گئے

      دونوں کی سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے

      —-
      حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ: إِنَّا لَبِمَكَّةَ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَنَهَى عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ النَّاسُ صَنَعُوا ذَلِكَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: وَمَا عِلْمُ ابْنِ الزُّبَيْرِ بِهَذَا، فَلْيَرْجِعْ إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَلْيَسْأَلْهَا، فَإِنْ لَمْ يَكُنِ الزُّبَيْرُ قَدْ رَجَعَ إِلَيْهَا حَلَالًا وَحَلَّتْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَسْمَاءَ فَقَالَتْ: يَغْفِرُ اللهُ لِابْنِ عَبَّاسٍ، وَاللهِ لَقَدْ أَفْحَشَ، وَاللهِ قَدْ صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ ” لَقَدْ حَلُّوا وَأَحْلَلْنَا وَأَصَابُوا النِّسَاءَ
      اسحاق بن یسار نے کہا میں مکہ میں تھا ابن زبیر وہاں نکلے اور حج میں عمرہ تمتع سے منع کیا اور اس کا بھی انکار کیا کہ دور نبوی میں لوگ ایسا کرتے تھے پس اس کی خبر ابن عباس کو ہوئی انہوں نے کہا ابن زبیر کو اس کا علم نہیں ہے پس ابن زبیر اپنی ماں کے پاس جائیں ان سے اس پر سوال کریں کیونکہ زبیر اسماء کی طرف گئے اور حلال ہوا پس اس کی خبر اسماء کو ہوئی تو انہوں نے کہا الله ابن عباس کو معاف کرے الله کی قسم انہوں نے فحش کہا اور الله کی قسم ابن عباس نے صحیح کہا پس ہم اکیلے ہوئے اور ہم پر حلال ہوا اور عورتین ملیں

      اس کی سند ضعیف ہے – إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ ہے الدارقطني: لا تحتج به.
      دارقطنی کہتے ہیں اس سے دلیل مت لینا
      ——–

      یہ روایتین ضعیف ہیں – کیونکہ صحیح روایات سے معلوم ہے ابن زبیر کی پیدائش ہجرت مدینہ کے چند دن بعد ہوئی اور عمرہ قضاء میں صلح حدیبیہ کے موقعہ پر حج کو عمرہ سے بدلا گیا تو یہ ممکن نہیں کہ اس وقت اگر حمل ٹھرا تو پھر ابن زبیر کی پیدائش صلح حدیبیہ کے بعد بنتی ہے

  38. وجاہت says:

    پلیز ان حوالوں کے لنک اور تحقیق چاہیے – کچھ لنک مجھے ملے ہیں اور کچھ آپ دے دیں تا کہ پہلے یہ کونفرم ہو کہ یہ حوالے ہیں بھی یا نہیں

    امام ذهبی لکھتے ہیں کہ

    خرج الحسين إلي الكوفة، فكتب يزيد إلي واليه بالعراق عبيد الله بن زياد: إن حسينا صائر إلي الكوفة، وقد ابتلي به زمانك من بين الأزمان، وبلدك من بين البلدان، وأنت من بين العمال، وعندها تعتق أو تعود عبدا. فقتله ابن زياد وبعث برأسه إليه.
    امام حسین نے جب کوفے کی طرف حرکت کی تو یزید نے والی عراق عبيد الله بن زياد کو لکھا کہ حسین کوفے کی طرف جا رہا ہے اس نے دوسرے شہروں کی بجائے آنے کے لیے تمہارے شہر کو انتخاب کیا ہے تم میرے قابل اعتماد ہو پس تم خود فیصلہ کرو کہ تم نے آزاد رہ کر زندگی گزارنی ہے یا غلام بن کر۔ اس پر ابن زیاد نے حسین کو قتل کیا اور اس کے سر کو یزید کے لیے بیجھا۔

    شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي الوفاة: 748هـ ، تاريخ الإسلام ج 5 ص 10 دار النشر : دار الكتاب العربي – الطبعة : الأولى ، تحقيق : د. عمر عبد السلام تدمرى محمد بن أحمد بن عثمان بن قايماز الذهبي أبو عبد الله الوفاة: 748 ، سير أعلام النبلاء ج 3 ص 305 دار النشر : مؤسسة الرسالة – بيروت – التاسعة ، تحقيق : شعيب الأرناؤوط , محمد نعيم العرقسوسي

    سير أعلام النبلاء کا حوالہ یہ ہے

    https://books.google.com.sa/books?id=X64gDgAAQBAJ&pg=PT110&lpg=PT110&dq=%D8%AE%D8%B1%D8%AC+%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%B3%D9%8A%D9%86+%D8%A5%D9%84%D9%8A+%D8%A7%D9%84%D9%83%D9%88%D9%81%D8%A9%D8%8C+%D9%81%D9%83%D8%AA%D8%A8+%D9%8A%D8%B2%D9%8A%D8%AF+%D8%A5%D9%84%D9%8A+%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%8A%D9%87+%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D9%82+%D8%B9%D8%A8%D9%8A%D8%AF+%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%87+%D8%A8%D9%86+%D8%B2%D9%8A%D8%A7%D8%AF:+%D8%A5%D9%86+%D8%AD%D8%B3%D9%8A%D9%86%D8%A7+%D8%B5%D8%A7%D8%A6%D8%B1+%D8%A5%D9%84%D9%8A+%D8%A7%D9%84%D9%83%D9%88%D9%81%D8%A9%D8%8C+%D9%88%D9%82%D8%AF+%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D9%84%D9%8A+%D8%A8%D9%87+%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%83+%D9%85%D9%86+%D8%A8%D9%8A%D9%86+%D8%A7%D9%84%D8%A3%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%8C+%D9%88%D8%A8%D9%84%D8%AF%D9%83+%D9%85%D9%86+%D8%A8%D9%8A%D9%86+%D8%A7%D9%84%D8%A8%D9%84%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%8C+%D9%88%D8%A3%D9%86%D8%AA+%D9%85%D9%86+%D8%A8%D9%8A%D9%86+%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%8C+%D9%88%D8%B9%D9%86%D8%AF%D9%87%D8%A7+%D8%AA%D8%B9%D8%AA%D9%82+%D8%A3%D9%88+%D8%AA%D8%B9%D9%88%D8%AF+%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7.+%D9%81%D9%82%D8%AA%D9%84%D9%87+%D8%A7%D8%A8%D9%86+%D8%B2%D9%8A%D8%A7%D8%AF+%D9%88%D8%A8%D8%B9%D8%AB+%D8%A8%D8%B1%D8%A3%D8%B3%D9%87+%D8%A5%D9%84%D9%8A%D9%87&source=bl&ots=1j-HrzstxW&sig=G-H3E08sMj9zjM-pf7azcWC3YXM&hl=ar&sa=X&ved=0ahUKEwiglruHo-zWAhXK1hoKHZ9PAP0Q6AEIKTAA#v=onepage&q=%D8%AE%D8%B1%D8%AC%20%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%B3%D9%8A%D9%86%20%D8%A5%D9%84%D9%8A%20%D8%A7%D9%84%D9%83%D9%88%D9%81%D8%A9%D8%8C%20%D9%81%D9%83%D8%AA%D8%A8%20%D9%8A%D8%B2%D9%8A%D8%AF%20%D8%A5%D9%84%D9%8A%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%8A%D9%87%20%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D9%82%20%D8%B9%D8%A8%D9%8A%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%87%20%D8%A8%D9%86%20%D8%B2%D9%8A%D8%A7%D8%AF%3A%20%D8%A5%D9%86%20%D8%AD%D8%B3%D9%8A%D9%86%D8%A7%20%D8%B5%D8%A7%D8%A6%D8%B1%20%D8%A5%D9%84%D9%8A%20%D8%A7%D9%84%D9%83%D9%88%D9%81%D8%A9%D8%8C%20%D9%88%D9%82%D8%AF%20%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D9%84%D9%8A%20%D8%A8%D9%87%20%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%83%20%D9%85%D9%86%20%D8%A8%D9%8A%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%A3%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%8C%20%D9%88%D8%A8%D9%84%D8%AF%D9%83%20%D9%85%D9%86%20%D8%A8%D9%8A%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%A8%D9%84%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%8C%20%D9%88%D8%A3%D9%86%D8%AA%20%D9%85%D9%86%20%D8%A8%D9%8A%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%8C%20%D9%88%D8%B9%D9%86%D8%AF%D9%87%D8%A7%20%D8%AA%D8%B9%D8%AA%D9%82%20%D8%A3%D9%88%20%D8%AA%D8%B9%D9%88%D8%AF%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7.%20%D9%81%D9%82%D8%AA%D9%84%D9%87%20%D8%A7%D8%A8%D9%86%20%D8%B2%D9%8A%D8%A7%D8%AF%20%D9%88%D8%A8%D8%B9%D8%AB%20%D8%A8%D8%B1%D8%A3%D8%B3%D9%87%20%D8%A5%D9%84%D9%8A%D9%87&f=false

    http://shamela.ws/browse.php/book-10906#page-2913

    تاریخ اسلام میں نہیں ملا


    یہی بات ابن عساکر نے بھی نقل ہے ہے: تاريخ دمشق، ج 14، ص 213 ـ و در حاشيه بغية الطالب، ج 6، رقم 2614.تاريخ دمشق، ج 14، ص 213 ـ و در حاشيه بغية الطالب، ج 6، رقم 2614.

    حوالہ نہیں ملا


    علامہ جلال الدین سيوطی نے بھی لکھا ہے کہ: فكتب يزيد إلي واليه بالعراق، عبيد الله بن زياد بقتاله. يزيد نے عبيد الله بن زياد کہ جو والی عراق تھا اس کو امام حسین(ع) کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا۔

    تاريخ الخلفاء، ص 193، چاپ دار الفكر سال 1394 هـ. بيروت

    مجھے یہ حوالہ نہیں ملا

    ——–

    ابن زياد نے مسافر بن شريح يشكری کو لکھا کہ

    أما قتلي الحسين، فإنه أشار علي يزيد بقتله أو قتلي، فاخترت قتله

    میں نے حسین کو اس لیے قتل کیا ہے کہ مجھے حسین کے قتل کرنے یا خود مجھے قتل ہونے کے درمیان اختیار دیا گیا تھا اور میں نے ان دونوں میں سے حسین کو قتل کرنے کو انتخاب کیا۔

    الكامل في التاريخ، ج 3، ص 324. لابن اثیر ۔

    نہیں ملا

    ابن زياد نے امام حسين(ع) کو خط لکھا کہ
    لوثير، ولا أشبع من الخمير، أو ألحقك باللطيف الخبير، أو تنزل علي حكمي، وحكم يزيد، والسلام

    مجھے خبر ملی ہے کہ تم کربلاء میں پہنچ گئے ہو اور یزید نے مجھے کہا ہے کہ بستر پر آرام سے نہ سوؤں اور پیٹ بھر کر کھانا نہ کھاؤں مگر یہ کہ یا تم کو خدا کے پاس روانہ کر دوں یا تم کو یزید کی بیعت کرنے پر راضی کروں۔

    حوالہ نہیں ملا

    =========

    ابو شہر یار بھائی میں اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ پہلے یہ پتا چلے کہ یہ حوالے ہیں بھی یا نہیں کیوں کہ آج کل غلط حوالوں کا ایک رواج چل پڑا ہے

    اس لئے اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ پہلے حوالوں کو ڈھونڈا جایے اور پھر اس کی تحقیق کی جایے

    • Islamic-Belief says:

      اپ متاخرین کی کتب کیوں دیکھ رہے ہیں- اصل مصدر کو دیکھیں

      الذھبی نے حوالہ دیا ہے
      الزُّبَيْرُ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ الضَّحَّاكِ، عَنْ أَبِيْهِ، قَالَ:
      خَرَجَ الحُسَيْنُ، فَكَتَبَ يَزِيْدُ إِلَى ابْنِ زِيَادٍ نَائِبِهِ (1) : إِنَّ حُسَيْناً صَائِرٌ إِلَى الكُوْفَةِ، وَقَدِ ابْتُلِيَ بِهِ زَمَانُكَ مِنْ بَيْنِ الأَزْمَانِ، وَبَلَدُكَ مِنْ بَيْنِ البُلدَانِ، وَأَنْتَ مِنْ بَيْنِ العُمَّالِ، وَعِنْدَهَا تُعتَقُ، أَوْ تَعُوْدُ عَبْداً. فَقَتَلَهُ ابْنُ زِيَادٍ، وَبَعَثَ بِرَأْسِهِ إِلَيْهِ.

      اس کو زبیر بن بکار کی کسی کتاب سے لیا گیا ہے

      زبیر بن بکار کی ایک کتاب الأخبار الموفقيات للزبير بن بكار موجود ہے – اس میں سند موجود ہے
      حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الضَّحَّاكِ الْحِزَامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي،
      اس سے معلوم ہوا کہ یہ مُحَمَّدُ بْنُ الضَّحَّاكِ الْحِزَامِيُّ ہے

      محمد بن الضَّحَّاك الحزامي پر کوئی معلومات نہیں نہ اس کے باپ کا اتا پتا ہے
      سند ضعیف ہے

      • وجاہت says:

        کچھ معلومات ہیں

        ——-

        2923 – تمييز: الضحاك بن عثمان بن الضحاك بن عثمان الحزامي الأصغر (1) .
        يرَوَى عَن: جده الضحاك بن عثمان الحزامي المذكور، ومالك بن أنس، وموسى بن إبراهيم بن صديق بن موسى.
        ويروي عَنه: إبراهيم بن المنذر الحزامي، وقرة بن حبيب البَصْرِيّ، وابنه محمد بن الضحاك بن عثمان الحزامي.
        قال الزبير بن بكار (2) : أخبرني بعض القرشيين أن أَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن الضحاك جالس الواقدي يأخذ عنه العلم، فقال الواقدي: هذا الفتى خامس خمسة جالستهم وجالسوني على طلب العلم هو كما ترون، وأبوه محمد بن الضحاك، وجده الضحاك بن عثمان، وعثمان بن الضحاك، والضحاك بن عثمان بن عَبد الله بن خالد بن حزام.
        وَقَال أحمد بْن علي الأبار: سألت مصعبا الزبيري عن الضحاك بن عثمان، فقال: الكبير؟ قلت: نعم. قال: ثقة، والصغير الذي أدركناه ثقة.
        وَقَال الحافظ أبو بكر الخطيب: كان علامة قريش بالمدينة بأخبار العرب، وأيامها، وأشعارها، وأحاديث الناس، وكان من كبراء أصحاب مالك بن أنس (3) .
        ولهم شيخ آخر، يقال لَهُ

        http://shamela.ws/browse.php/book-3722/page-6657#page-6657

        محمد بن الضحاك بن عثمان احادیث کا راوی بھی ہے اور اس کو مقبول کہا گیا

        http://hadith.islam-db.com/narrators-hadith/27789/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A8%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%B6%D8%AD%D8%A7%D9%83-%D8%A8%D9%86-%D8%B9%D8%AB%D9%85%D8%A7%D9%86

        ============

        رجال الحاكم في المستدرك میں ہے کہ

        1364 – محمد بن الضحاك بن عثمان:
        * قال الحاكم رحمه الله (ج3 ص460 ح5676):
        حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، ثنا الحسن بن جهم، ثنا الحسين بن فرج، ثنا محمد بن عمر حدثني محمد بن الضحاك بن عثمان الحزامي.
        ترجمه ابن أبي حاتم رحمه الله في «الجرح والتعديل» (ج7 ص290) فقال:
        محمد بن الضحاك بن عثمان الحزامي روى عن أبيه عن يعقوب بن حميد، سمعت أبي يقول ذلك. ا هـ
        وذكره الإمام أبو عبد الله الجعفي رحمه الله في «التاريخ الكبير» وذكره أبو حاتم بن حبان رحمه الله في «الثقات» ووقع فيه محمد بن الضحاك عن عثمان وصوابه ابن.
        وذكر أنه روى عنه إبراهيم بن المنذر الحزامي وأهل المدينة. ا هـ.
        (أبو أحمد مقبول بن علي الوجيه)

        http://shamela.ws/browse.php/book-29742/page-655#page-655

        ======

        یہاں بھی ہیں

        http://www.mezan.net/radalshobohat/4Ynkot.htm

        ========

        ابو شہر یار بھائی اتنے محدثین اور مؤرخ مُحَمَّدُ بْنُ الضَّحَّاكِ کی روایت لکھ رہے ہیں – حیرت کی بات ہے کہ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ

        محمد بن الضَّحَّاك الحزامي پر کوئی معلومات نہیں نہ اس کے باپ کا اتا پتا ہے- پھر ایک ایسے بندے کی روایت لکھنے کا کیا فائدہ جس کی معلومات ہی نہ ہوں

        پلیز وضاحت کر دیں – کچھ سمجھ نہیں آئ یہ بات

        • Islamic-Belief says:

          ایسا بہت ہوتا ہے کہ مجہول سے روایت لکھی جاتی ہے اس کی بے شمار مثالیں ہیں – اور متاخرین میں ابن حبان نے ان کو ثقہ کہا یا ابن حجر نے مقبول
          اپ دیکھ سکتے ہیں ابی حاتم اور امام بخاری نے کوئی تعدیل نہیں جو اس کے مجہول ہونے کی علامت ہے
          اور یہ معروف ہے کہ اگر نہ تعدیل ہو نہ جرح تو یہ شخص مجہول ہے

  39. anum shoukat says:

    کراچی کا عثمانی مذہب میں لکھا ہے عثمانیوں کے نزدیک امام احمد بن حنبل ابو دواد نسائی سب مشرک ہیں کیا خواجہ قاسم نے جھوٹ باندھا ہے؟

    • Islamic-Belief says:

      کسی تحریر و تقریر میں مجھے معلوم نہیں امام ابو داود اور امام نسائی پر اس قسم کا فتوی دیا گیا ہو

      امام احمد پر عود روح کی وجہ سے فتوی لگتا ہے کیونکہ اس کا ذکر احمد نے مسدد بن مسرہد کو خط میں کیا- کتاب الصلاہ میں بیان کیا اور کتاب فیہ الاعتقاد میں امام بیہقی نے لکھا ہے کہ وہ انبیاء کا قبروں سے زائر کو پہچاننے کا ذکر کیا تھا

      خواجہ قاسم کی کتاب میں کوئی علمی بات نہیں ہے – آوٹ پٹانگ بے مہار کلام ہے جس میں اضطراب ہی اضطراب ہے

  40. Aysha butt says:

    ﮔﺴﺘﺎﺧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ….
    ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ….

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﺍﺑﯽ ﺑﻦ ﺧﻠﻒ ”
    ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳
    ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ رسول ﷺ
    ” ﺑﺸﺮ ﻣﻨﺎﻓﻖ ”
    ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ رضی اللہ عنہ
    ﮐﮯﮨﺎﺗﮭﻮﮞ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ﺍﺭﻭﮦ ( ﺍﺑﻮ ﻟﮩﺐ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ )
    ﮐﺎ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﻧﮯ ﮔﻼ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﺩﯾﺎ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﺍﺑﻮ ﺟﮩﻞ ” ﺩﻭ ﻧﻨﮭﮯ ﻣﺠﺎﮨﺪﻭﮞ
    ﻣﻌﺎذ ﻭ ﻣﻌﻮﺫ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
    رضی اللہ عنہ

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﺍﻣﯿﮧ ﺑﻦ ﺧﻠﻒ ”
    ﺣﻀﺮﺕ ﺑﻼﻝ رضی اللہ عنہ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۲ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﻧﺼﺮ ﺑﻦ ﺣﺎﺭﺙ ”
    ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ رضی اللہ عنہ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ۲ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﻋﺼﻤﺎ ( ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻋﻮﺭﺕ )”
    1 ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﯿﺮ ﺑﻦ ﻋﺪﯼ
    رضی اللہ عنہ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۲ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺋﯽ

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﺍﺑﻮ ﻋﻔﮏ ” ﺣﻀﺮﺕ ﺳﺎﻟﻢ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ
    رضی اللہ عنہ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﮐﻌﺐ ﺑﻦ ﺍﺷﺮﻑ ” ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻧﺎﺋﻠﮧ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ
    ” ﺍﺑﻮ ﺭﺍﻓﻊ ” ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ
    رضی اللہ عنہ
    ﮐﮯﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﺍﺑﻮﻋﺰﮦ ﺟﻤﻊ ” ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺻﻢ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ
    رضی اللہ عنہ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﺣﺎﺭﺙ ﺑﻦ ﻃﻼﻝ ”
    ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ رضی اللہ عنہ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۸ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﻋﻘﺒﮧ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻣﻌﯿﻂ ”
    ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ رضی اللہ عنہ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ۲ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﺍﺑﻦ ﺧﻄﻞ ”
    ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﺑﺮﺯﮦ رضی اللہ عنہ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۸ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﺣﻮﯾﺮﺙ ﻧﻘﯿﺪ ”
    ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ رضی اللہ عنہ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۸ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﻗﺮﯾﺒﮧ ( ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺑﺎﻧﺪﯼ )”
    ﻓﺘﺢ ﻣﮑﮧ ﮐﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺋﯽ۔

    1 ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺷﺨﺺ ( ﻧﺎﻡ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ) ﺧﻠﯿﻔﮧﮨﺎﺩﯼ ﻧﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯾﺎ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﺭﯾﺠﯽ ﻓﺎﻟﮉ ( ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﮔﻮﺭﻧﺮ )”
    ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺻﻼﺡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﯾﻮﺑﯽ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    گستاخ رسول ﷺ
    ” ﯾﻮﻟﻮ ﺟﯿﺌﺲ ﭘﺎﺩﺭﯼ ”
    ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻧﺪﻟﺲ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﺭﺍﺟﭙﺎﻝ ”
    ﻏﺎﺯﯼ ﻋﻠﻢ ﺩﯾﻦ ﺷﮩﯿﺪ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﻧﺘﮭﻮﺭﺍﻡ ”
    ﻏﺎﺯﯼ ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﯿﻮﻡ ﺷﮩﯿﺪ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺭﺍﻡ ﮔﻮﭘﺎﻝ ”
    ﻏﺎﺯﯼ ﻣﺮﯾﺪ ﺣﺴﯿﻦ ﺷﮩﯿﺪ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۶ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﭼﺮﻥ ﺩﺍﺱ ”
    ﻣﯿﺎﮞ ﻣﺤﻤﺪ ﺷﮩﯿﺪ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۷ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝؐ
    ” ﺷﺮﺩﮬﺎ ﻧﻨﺪ ”
    ﻏﺎﺯﯼ ﻗﺎﺿﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺷﯿﺪ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۲۶ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﭼﻨﭽﻞ ﺳﻨﮕﮫ ”
    ﺻﻮﻓﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺷﮩﯿﺪ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۸ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﻣﯿﺠﺮ ﮨﺮﺩﯾﺎﻝ ﺳﻨﮕﮫ ”
    ﺑﺎﺑﻮ ﻣﻌﺮﺍﺝ ﺩﯾﻦ ﺷﮩﯿﺪ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۴۲ ﻣﯿﮟﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻖ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ”
    ﺣﺎﺟﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺎﻧﮏ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۶۷ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ –

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﺑﮭﻮﺷﻦ ﻋﺮﻑ ﺑﮭﻮﺷﻮ ”
    ﺑﺎﺑﺎ ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﻨﺎﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۷ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﮐﮭﯿﻢ ﭼﻨﺪ ”
    ﻣﻨﻈﻮﺭ ﺣﺴﯿﻦ ﺷﮩﯿﺪ
    ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۴۱ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﻧﯿﻨﻮ ﻣﮩﺎﺭﺍﺝ ”
    ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺨﺎﻟﻖ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۴۶ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

    ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﻟﯿﮑﮭﺮﺍﻡ ﺁﺭﯾﮧ ﺳﻤﺎﺟﯽ ”
    ﮐﺴﯽ ﻧﺎﻣﻌﻠﻮﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ

    ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ” ﻭﯾﺮ ﺑﮭﺎﻥ ” ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﺎﻣﻌﻠﻮﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۵ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ

    ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﻣﻠﻌﻮﻥ ﮐﻮ ﻏﺎﺯﯼ ﺍﺳﻼﻡ
    ﻋﺎﺷﻖ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
    ﻣﻠﮏ ﻣﻤﺘﺎﺯ ﺣﺴﯿﻦ ﻗﺎﺩﺭﯼ ﻧﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ
    ﻭﺍﺻﻞ ﺟﮭﻨﻢ ﮐﯿﺎ

    گستاخ رسول ﷺ
    ایک قادیانی نے نبوت کا دعوی کیا
    جسے حال ہی میں
    غازی تنویر قادری نے قتل کیا

    ﯾﮧ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﭼﻮﺩﮦ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﺩﻭﺭﺍﺋﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮬﮯ ﮔﯽ.

    Gustakhi.ki saza moat
    Apki kya rae hai

  41. وجاہت says:

    کیا یہ حدیث صحیح ہے

    ثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحي بن حماد، عن أبي عوانة، عن يحيى بن سليم أبي بلج عن عمرو بن ميمون، عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنك لست نبيا وأنت خليفتي في كل مؤمن من بعدي

    السنہ

    امام ابن ابی عاصم

    • Islamic-Belief says:

      البانی نے حسن کہا ہے

      میں اس کو رد کرتا ہوں کیونکہ اس میں يحيى بن سليم، أبو ابن أبي سليم، أبو بلج الفزاري ہے

      يحيى بن سليم، أبو ابن أبي سليم، أبو بلج الفزاري: قال البخاري: فيه نظر، وقال أحمد: روى حديثاً منكراً، وقال الأزدي: غير ثقة
      قال أحمد: روى حديثًا منكرًا. «تهذيب التهذيب» 12/ (184) .

      اس کو ثقہ بھی کہا گیا ہے
      قال إسحاق بن منصور عن ابن معين ومحمد بن سعد والنسائي والدارقطني: ثقة.
      ——
      لہذا اب متن کو دیکھا جائے
      أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلا أَنَّكَ لَسْتَ نَبِيًّا إِنَّهُ لا يَنْبَغِي أَنْ أَذْهَبَ إِلا وَأَنْتَ خَلِيفَتِي فِي كُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ بعدي
      علی تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو موسی اور ہارون میں تھی سوائے اس کے کہ تم نبی نہیں اور یہ ہونا چاہیے کہ تم نہ جاو اور تم تو میرے خلیفہ ہو ہر مومن کے لئے میرے بعد

      یہ روایت حدیث منزلتین ہے – یہ واقعہ ہے کہ جنگ تبوک پر جاتے وقت علی کو مدینہ میں رہنے کا حکم دیا گیا – علی کو یہ پسند نہیں آیا کہ ان کو وہاں عورتوں کی حفاظت کے لے رکھا جائے وہ جنگ میں جانا چاھتے تھے لہذا وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے بات کرنے مدینہ سے نکل گئے اور رسول الله مدینہ چھوڑ چکے تھے – رسول الله نے علی کو سمجایا کہ اب واپس جاو اور جو کہا گیا اس پر عمل کرو تم کو مدینہ میں عورتوں کے ساتھ اس لئے رکھا گیا ہے کہ تم جس طرح موسی طور پر گئے اور ہارون کو چھوڑ گئے اسی طرح تم کو بھی چھوڑا جا رہا ہے
      اس حدیث کو وہاں صرف سعد بن ابی وقاص نے سنا اور انہوں نے ہی اس کو بعد میں روایت کیا – ابن عباس اس وقت وہاں نہیں ہوں گے کیونکہ ابن عباس ایک بچے تھے یہ عورتوں کے ساتھ مدینہ میں ہی تھے
      سیرت ابن ہشام کے مطابق جنگ تبوک میں مدینہ پر محمد بْنَ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّ یا سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ کو امیر مقرر کیا گیا تھا

      ⇓ حدیث منزلت پر ایک نظر
      http://www.islamic-belief.net/masalik/شیعیت/

      رسول الله کے الفاظ کہ میرے بعد خلیفہ ہو سے مراد جنگ تبوک کا وقتی دور ہے اس سے مراد مستقبل میں بعد وفات النبی خلیفہ ہونا نہیں ہے

  42. وجاہت says:

    اور السنہ کتاب میں امام ابن ابی عاصم نے یہ حدیث بھی لکھی ہے

    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ثنا الْحَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ عَنْ سَفِينَةَ قَالَ بَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدًا فَقَالَ: “لأَبِي بَكْرٍ ضَعْ حَجَرًا إِلَى جَنْبِ حَجَرِي ثُمَّ قَالَ لِعُمَرَ ضَعْ حَجَرًا إِلَى جَنْبِ حَجَرِ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ لِعُثْمَانَ ضَعْ حَجَرَكَ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ عُمَرَ ثُمَّ قَالَ هَؤُلاءِ الْخُلَفَاءُ مِنْ بعدي”.

    اس کی بھی تحقیق چاہیے

    • Islamic-Belief says:

      امام بخاری نے اس روایت پر جرح کی ہے اور کہا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کسی کو مقرر نہیں کیا

      البانی نے رد کیا ہے
      حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ثنا الْحَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ عَنْ سَفِينَةَ قَالَ بَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدًا فَقَالَ: “لأَبِي بَكْرٍ ضَعْ حَجَرًا إِلَى جَنْبِ حَجَرِي ثُمَّ قَالَ لِعُمَرَ ضَعْ حَجَرًا إِلَى جَنْبِ حَجَرِ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ لِعُثْمَانَ ضَعْ حَجَرَكَ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ عُمَرَ ثُمَّ قَالَ هَؤُلاءِ الْخُلَفَاءُ مِنْ بعدي”.
      1157- إسناده ضعيف علته الحشرج بن نباتة أورده البخاري في الضعفاء الصغير ص11-12 لهذا الحديث وقال:
      لم يتابع عليه لأن عمر بن الخطاب وعلي بن أبي طالب قالا: لم يستخلف النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

  43. وجاہت says:

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    4533 – حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَوَّلُ حَجَرٍ حَمَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ حَمَلَ أَبُو بَكْرٍ حَجَرًا آخَرَ، ثُمَّ حَمَلَ عُثْمَانُ حَجَرًا آخَرَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَرَى إِلَى هَؤُلَاءِ كَيْفَ يُسَاعِدُونَكَ؟ فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ، هَؤُلَاءِ الْخُلَفَاءُ مِنْ بَعْدِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَإِنَّمَا اشْتُهِرَ بِإِسْنَادِ وَاهٍ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ فَلِذَلِكَ هُجِرَ ”

    [التعليق – من تلخيص الذهبي]

    المستدرك على الصحيحين للحاكم

    http://shamela.ws/browse.php/book-2266#page-4815

    • Islamic-Belief says:

      رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہا ابو بکر اور عمر اور عثمان ان کے بعد خلیفہ ہوں گے

      سند میں يحيى بن أيوب المصري ہے
      بعض نے صدوق کہا ہے لیکن النسائي نے کہا ليس بذاك القوي اور الدارقطني نے کہا في بعض حديثه اضطراب سيء الحفظ
      الساجي نے کہا صدوق يهم صدوق وہمی ہے اور أحمد نے کہا يحيى بن أيوب يخطىء خطأ كثيرُا.
      مستدرک الحاکم کی روایت پر الذھبی نے لکھا ہے
      أحمد بن عبد الرحمن بن وهب منكر الحديث
      ——-
      مسند الحارث میں اس کی سند الگ ہے
      حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ , ثنا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ , حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ: مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” لَمَّا بَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَضَعَ حَجَرًا، ثُمَّ قَالَ: «لَيَضَعْ أَبُو بَكْرٍ حَجَرَهُ إِلَى جَنْبِ حَجَرِي» , ثُمَّ قَالَ: «لَيَضَعْ عُمَرُ حَجَرَهُ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ أَبِي بَكْرٍ» , ثُمَّ قَالَ: «لَيَضَعُ عُثْمَانُ حَجَرَهُ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ عُمَرَ» , ثُمَّ قَالَ: هَؤُلَاءِ الْخُلَفَاءُ مِنْ بَعْدِي ” حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ , ثنا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ قَالَ: وَسَمِعْتُ الْعَوَّامَ بْنَ حَوْشَبٍ قَالَ: فَذَكَرَهُ أَيْضًا
      یہاں سعید بن جمھان ضعیف ہے اور حشرج بھی ضعیف ہے
      اس روایت کو بخاری نے خاص رد کیا ہے
      قال البخاري: لا يتابع في حديثه – يعنى وضعهم الحجارة في أساس مسجده، وقال: هؤلاء الخلفاء بعدى

      ——–

  44. وجاہت says:

    عبد الكريم بن محمد بن منصور التميمي السمعاني المروزي اپنی کتاب الأنساب للسمعاني میں لکھتے ہیں کہ

    وهو الّذي روى عن شريك عن عاصم عن زرّ عن عبد الله رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا رأيتم معاوية على منبري فاقتلوه. قلت روى عنه جماعة من مشاهير الأئمة مثل أبى عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري لأنه لم يكن داعية إلى هواه

    اور آگے لکھتے ہیں کہ

    وروى عنه حديث أبى بكر رضي الله عنه أنه قال
    لا يفعل خالد ما أمر به، سألت الشريف عمر بن إبراهيم الحسيني بالكوفة عن معنى هذا الأثر فقال: كان أمر خالد بن الوليد أن يقتل عليا ثم ندم بعد ذلك فنهى عن ذلك وإبراهيم بن حبيب الرواجني الكوفي، يعرف بابن الميّتة، يروى عن عبد الله بن مسلم الملائى وموسى بن أبى حبيب، روى عنه غير واحد من الكوفيين، وروى عنه أيضا موسى بن هارون بن عبد الله وأحمد بن موسى الحمّار

    http://shamela.ws/browse.php/book-12317/page-2299

    ترجمہ چاہیے کیوں کہ ایک شیعہ نے اس عبارت کو دلیل بنایا اور کہا کہ

    یہ صحیح ہے کہ ابو بکررضی الله نے علی رضی الله کے قتل کا منصوبہ بنایا اور خالد عبد ولید رضی الله کو اس مشن کو تفویض کیا

    اصل میں مجھے عربی اور فارسی نہیں آتی جس وجہ سے میں اصل عبارت نہیں سمجھ پتا اور آپ سے پوچھ لیتا ہوں

    • Islamic-Belief says:

      الأنساب
      المؤلف: عبد الكريم بن محمد بن منصور التميمي السمعاني المروزي، أبو سعد (المتوفى: 562هـ)

      میں مکمل کلام یہ ہے

      قال أبو حاتم بن حبان: عباد بن يعقوب الرواجني من أهل الكوفة، يروى عن شريك، حدثنا عنه شيوخنا، مات سنة خمسين ومائتين في شوال، وكان رافضيا داعية إلى الرفض، ومع ذلك يروى المناكير عن أقوام مشاهير فاستحق الترك، وهو الّذي روى عن شريك عن عاصم عن زرّ عن عبد الله رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا رأيتم معاوية على منبري فاقتلوه. قلت روى عنه جماعة من مشاهير الأئمة مثل أبى عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري لأنه لم يكن داعية إلى هواه، وروى عنه حديث أبى بكر رضي الله عنه أنه قال:
      لا يفعل خالد ما أمر به، سألت الشريف عمر بن إبراهيم الحسيني بالكوفة عن معنى هذا الأثر فقال: كان أمر خالد بن الوليد أن يقتل عليا ثم ندم بعد ذلك فنهى عن ذلك

      ابن حبان نے کہا عباد بن يعقوب ایک بد مذھب کی دعوت دیتا ہے یہی ہے جو روایت کرتا ہے کہ ماویاکو منبر پر دیکھو تو قتل کرو اور ابو بکر نے خالد کو بھیجا کہ علی کو قتل کرے

  45. وجاہت says:

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    12128 – حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ وَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ عَلِيًّا فَبَيْنَا أَبُو بَكْرٍ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ إِذْ سَمِعَ رُغَاءَ نَاقَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَزِعًا، وَظَنَّ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا عَلِيٌّ فَرَفَعَ إِلَيْهِ كِتَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ عَلَى الْمَوْسِمِ، وَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ فَانْطَلَقَا فَحَجَّا، فَقَامَ عَلِيٌّ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ فَنَادَى: «ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ بَرِيئَةٌ مِنْ كُلِّ مُشْرِكٍ، فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، وَلَا يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفَنَّ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ» ، فَكَانَ عَلِيٌّ يُنَادِي بِهَا فَإِذَا بُحَّ قَامَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَنَادَى بِهَا

    المعجم الكبير للطبراني

    http://shamela.ws/browse.php/book-1733#page-14189

    السيوطي نے بھی اس کو اپنی کتاب الحاوي للفتاوي في الفقه وعلوم التفسير والحديث والاصول والنحو والاعراب وسائر الفنون میں لکھا ہے

    وأخرج الترمذي وحسنه عن ابن عباس قال: «بَعَثَ النَّبِيُّ (صلی الله علیه وآله) أَبَا بَكْرٍ وَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ عَلِيًّا، فَانْطَلَقَا فَحَجَّا، فَقَامَ عَلِيٌّ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ، فَنَادَى «ذِمَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ بَرِيئَةٌ مِنْ كُلِّ مُشْرِكٍ، فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَلَا يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفَنَّ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، فَكَانَ عَلِيٌّ يُنَادِي فَإِذَا أعِيا قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَنَادَى بِهَا» فهذه نيابةٌ من أبي بكرٍ عن عليٍ فإنه قَصَد بالبعث علي، وأخرج البخاري عن أبي هريرة قال: «بعثني أبو بكر فيمن يؤذن يوم النحر بمنى لا يحج بعد العام مشرك ولا يطوف بالبيت عريان» فهذه نيابة من أبي هريرة أيضاً، والمقصود بالتبليغ في هذه القصة أن تكون من علي

  46. anum shoukat says:

    اہل کتاب کونسے مسلم ہیں مالک کا فرمان ہے سورت المائدہ میں وہ پکے کافر ہیں بعض نبیوں کو مانتے ہیں اہل کتاب پر قیاس کا فائدہ؟

    • Islamic-Belief says:

      اپ کوئی رب ہیں یا دیوی ہیں کہ اپ طے کریں گی کہ رب العالمین کے احکام کا کیا فائدہ ہے ؟ الله تعالی نے جو سب کا رب ہے اس نے کیا الگ الگ حکم نہیں دہے مشرکین کے لئے الگ اہل کتاب کے لئے الگ
      لہذا بے وقوفی کی باتیں مت کریں

  47. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الفَضْلِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَطَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطًّا فِي الوَسَطِ خَارِجًا مِنْهُ، وَخَطَّ خُطَطًا صِغَارًا إِلَى هَذَا الَّذِي فِي الوَسَطِ مِنْ جَانِبِهِ الَّذِي فِي الوَسَطِ، وَقَالَ: هَذَا الإِنْسَانُ، وَهَذَا أَجَلُهُ مُحِيطٌ بِهِ – أَوْ: قَدْ أَحَاطَ بِهِ – وَهَذَا الَّذِي هُوَ خَارِجٌ أَمَلُهُ، وَهَذِهِ الخُطَطُ الصِّغَارُ الأَعْرَاضُ، فَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَشَهُ هَذَا، وَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَشَهُ هَذَا

    صحیح بخاری

    • Islamic-Belief says:

      روایت صحیح سند سے ہے

      البتہ اس کے متن میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے زمین پر لکیریں کھینچیں
      ——

      اس روایت کو جادو گروں کی جانب سے علم الرمل کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے

      • وجاہت says:

        اس روایت میں مُنْذِرٍ کا ذکر ہے یہ کون ہیں اور کیا یہ مجہول ہیں – جیسا کہ اوپر کی جگہوں پر اس کا ذکر ہورہا ہے ایک شیعہ سے بھی – کیا یہ وہی ہے – اگر یہ حدیث صحیح ہے جیسا آپ نے کہا تو یہ منذر کون ہے اور اس کے باپ کا نام کیا ہے – تفصیل چاہیے

        حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الفَضْلِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَطَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطًّا فِي الوَسَطِ خَارِجًا مِنْهُ، وَخَطَّ خُطَطًا صِغَارًا إِلَى هَذَا الَّذِي فِي الوَسَطِ مِنْ جَانِبِهِ الَّذِي فِي الوَسَطِ، وَقَالَ: هَذَا الإِنْسَانُ، وَهَذَا أَجَلُهُ مُحِيطٌ بِهِ – أَوْ: قَدْ أَحَاطَ بِهِ – وَهَذَا الَّذِي هُوَ خَارِجٌ أَمَلُهُ، وَهَذِهِ الخُطَطُ الصِّغَارُ الأَعْرَاضُ، فَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَشَهُ هَذَا، وَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَشَهُ هَذَا

        صحیح بخاری

        ====

        روایت صحیح سند سے ہے

        البتہ اس کے متن میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے زمین پر لکیریں کھینچیں
        ——

        اس روایت کو جادو گروں کی جانب سے علم الرمل کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے
        ============

        • Islamic-Belief says:

          یہ روایت صحیح ہے

          اس کا اس روایت سے صرف واجبی تعلق ہے کیونکہ ہم بحث اس پر کر رہے ہیں کہ الربیع بن منذر کی توثیق کوئی کرے جو اس روایت کا راوی ہے جو اپ نے اہل بیت کے رونے دھونے پر پیش کی تھی

          بے کار کامون میں وقت ضائع نہ کریں- اس میں الربیع مجہول ہے اپ اسی میں وقت برباد کر رہے ہیں

          • وجاہت says:

            ابو شہر یار بھائی کیا میرا سوال پوچھنے کا مقصد سمجھے ہیں یا نہیں – شیعہ نے جو پوچھا سو پوچھا آپ نے جواب دیا میں نے وہاں اس کو دیا اس نے ڈیلیٹ کر دیا – شیعہ ایسی حرکات کرتے رہتے ہیں لیکن ہم ان کو حق بتاتے رہتے ہیں – ہدایت الله کے ہاتھ میں ہے

            —-

            میرا سوال یہ ہے کہ منذر بن يعلى الثوري ایک ثقہ تابی ہیں

          • Islamic-Belief says:

            منذر بن يعلى الثوري مجہول نہیں اس روایت میں الربیع بن منذر مجہول ہے

  48. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی کیا واقعہ حرا میں صحابہ کرام رضی الله شہید ہوے کیا کوئی بدری صحابی رضی الله شہید ہوا- کوئی معلومات مل سکتی ہیں یا کوئی شہید نہیں ہوا

  49. anum shoukat says:

    شرک کرنے والے مسلمانوں کو نماز روزہ کی دعوت دے سکتے ہیں؟

    اگر قریبی رشتہ دار میں سےکوئی بھی شرک کی حالت میں وفات پا جائے تو، اسکے لیے مغفرت کی دعا کر سکتے ہیں؟
    کسی حدیث میں ہے کہ عورت گھر میں بھی ڈوپٹہ لینا فرض ہے؟

    • Islamic-Belief says:

      نہیں ایمان کی بات کی جائے گی
      ——-
      شرک کی حالت میں وفات پا جائے تو دعا نہیں کر سکتے
      ——–
      گھر میں سر چھپا کر رکھنے کا علم نہیں

  50. anum shoukat says:

    پلیز آپ تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے قرآن وحدیث کی روشنی میں تکفیر پر ایک تفصیلی مضمون لکھ دیجیے تا کہ انسان غلطی سے بچ پائے آج ہر دوسرا مسلمان ایک دوسرے کی تکفیر کرتا ہے مضمون لکھ کر میرے اوپر احسان کر دے اللہ آپکو تمام دنیا اور آ خرت کی بھلائیاں نصیب فرمائے آمین شکریہ

  51. وجاہت says:

    کیا یہ حدیث صحیح ہے

    حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، سَمِعَ جَعْفَرَ بْنَ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو العُمَيْسِ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ، أَنَّ رَجُلًا، مِنَ اليَهُودِ قَالَ لَهُ: يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا، لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ اليَهُودِ نَزَلَتْ، لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ عِيدًا. قَالَ: أَيُّ آيَةٍ؟ قَالَ: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا} [المائدة: 3] قَالَ عُمَرُ: «قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ، وَالمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ»

    صحیح بخاری

    • Islamic-Belief says:

      یہ روایت صحیح ہے – اس کی متابعت سنن ترمذی میں ہے
      قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ – رضي الله عنهما -: {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمْ الْإِسْلَامَ دِينًا} وَعِنْدَهُ يَهُودِيٌّ , فَقَالَ: لَوْ أُنْزِلَتْ هَذِهِ عَلَيْنَا لَاتَّخَذْنَا يَوْمَهَا عِيدًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَإِنَّهَا نَزَلَتْ فِي يَوْمِ عِيدٍ , فِي يَوْمِ جُمْعَةٍ , وَيَوْمِ عَرَفَةَ

      • وجاہت says:

        کیا طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ کا حضرت عمر رضی الله سے سماع ثابت ہے – صحیح بخاری کی حدیث کی سند پر بات کر رہا ہوں

        • Islamic-Belief says:

          اچھا سوال ہے – طارق بن شہاب کا سماع ابی بکر یا عمر سے مجھ کو معلوم نہیں
          امام بخاری کے نزدیک ہے – لہذا جس روایت کی بات ہو رہی ہے وہ منقطع السند ہے لیکن چونکہ اس کی متابعت ملی ہے میں نے اس کو صحیح کہا
          یعنی صحیح لغیرہ ہوئی

          • وجاہت says:

            آپ نے کہا کہ

            ——-
            طارق بن شہاب کا سماع ابی بکر یا عمر سے مجھ کو معلوم نہیں
            —–

            دوسری جگہ آپ کہہ رہے ہیں کہ

            ——–
            اپ نے جو روایت پیش کی یہ ایک سند سے اتی ہے
            قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ
            طارق بن شہاب کی خبر مروان کے دور کی ہے جبکہ جو روایات میں نے نقل کیں یہ عمر کے دور کی بات ہے
            اغلبا اس کی وجہ یہ ہے طارق بن شہاب صحابی نہیں اور اس نے دور عمر نہیں دیکھا
            ————-

          • Islamic-Belief says:

            ان دونوں میں کیا فرق ہے ؟ ایک ہی بات تو کہی ہے

  52. Aysha butt says:

    Kya aisa kehna theak hai chu k hadith mn hai jab koidua krta hai agr uska piyara foat hogya ho to uska darja buland hota hai to kehta hai k yeh kesy hoa to Allah kehta hai k us me ttery lie dua ki… Is tanzur mn koi agr aise kahe k hamre durod ki khbr Allah nabi s.a.w tak punchata hai q k kha jata hai durod b ik dua hai

    Ap kya khte ho

    • Islamic-Belief says:

      درجات کی بلندی کرنا اللہ کا عمل ہے اور الله تعالی پر ہی مخلوق کا عمل پیش ہوتا ہے

      ——-

      رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا درجہ اتنا بلند ہو گیا ہے کہ وہ اب الوسیلہ میں ہیں اس کو پا چکے – جہاں تک مخلوق میں سے کوئی اور نہیں جا سکا
      اور یہی مخلوق کے درجات کی حد تھی

      عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب اذان کی آواز سنو تو وہی کہو جو موذن کہتا ہے پھر مجھ پر درود پڑھو کیونکہ جو مجھ پر ایک بار درود پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے – اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے میرے لئے وسیلہ کی دعا مانگو۔ وسیلہ جنت میں ایک ایسا مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندہ کو ملے گا اور جو کوئی میرے لئے وسیلہ کی دعا کرے گا اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگی۔
      (مسلم ، کتاب الصلوۃ )

  53. anum shoukat says:

    عقیقہ کرنا فرض ہے یا نہیں ہاں یا نہ میں جواب دیجیے گا؟
    لڑکے کیلئے عقیقہ میں دو جان دینا ضروری ہے؟ یا، ایک ہی بکرا کافی یے ۔
    عقیقہ کے احکام قربانی کی طرح ہیں یعنی تین حصے بنانا ایک غریب ایک رشتہ داروں کا ایک اپنا۔
    آج کے سیدوں کیلئے عقیقہ کا گوشت کھانا جائز ہے؟

    • Islamic-Belief says:

      عقیقہ کرنا فرض نہیں منسوخ عمل ہے

      ⇓ نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنا عقیقہ کیا ؟

      ⇓ ?حسن و حسین کی پیدائش پر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیقہ کیا
      http://www.islamic-belief.net/q-a/عبادت/

      إمام محمد کے نزدیک یہ ایام جاہلیت میں عربوں ایک رسم تھی
      قَالَ مُحَمَّدٌ: أَمَّا الْعَقِيقَةُ فَبَلَغَنَا أَنَّهَا كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَقَدْ فُعِلَتْ فِي أَوَّلِ الإِسْلامِ ثُمَّ نَسَخَ الأَضْحَى كُلَّ ذَبْحٍ كَانَ قَبْلَهُ، وَنَسَخَ صَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ كُلَّ صَوْمٍ كَانَ قَبْلَهُ، امام محمد کہتے ہیں جہاں تک عقیقہ کا تعلق ہے تو ہم تک پہنچا ہے کہ یہ جاہلیت میں ہوتا تھا اور پھر اسلام کے شروع میں اس پر عمل تھا پھر قربانی نے اس کو منسوخ کر دیا اور رمضان کے روزوں نے پچھلے تمام روزوں کو منسوخ کیا

      امام مالک موطآ میں کہتے ہیں
      قَالَ مَالِكٌ: ” الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْعَقِيقَةِ أَنَّ: مَنْ عَقَّ فَإِنَّمَا يَعُقُّ عَنْ وَلَدِهِ بِشَاةٍ شَاةٍ الذُّكُورِ وَالْإِنَاثِ، وَلَيْسَتِ الْعَقِيقَةُ بِوَاجِبَةٍ، وَلَكِنَّهَا يُسْتَحَبُّ الْعَمَلُ بِهَا، وَهِيَ مِنَ الْأَمْرِ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ النَّاسُ عِنْدَنَا، فَمَنْ عَقَّ عَنْ وَلَدِهِ، فَإِنَّمَا هِيَ بِمَنْزِلَةِ النُّسُكِ وَالضَّحَايَا لَا يَجُوزُ فِيهَا عَوْرَاءُ وَلَا عَجْفَاءُ، وَلَا مَكْسُورَةٌ وَلَا مَرِيضَةٌ، وَلَا يُبَاعُ مِنْ لَحْمِهَا شَيْءٌ، وَلَا جِلْدُهَا وَيُكْسَرُ عِظَامُهَا، وَيَأْكُلُ أَهْلُهَا مِنْ لَحْمِهَا، وَيَتَصَدَّقُونَ مِنْهَا، وَلَا يُمَسُّ الصَّبِيُّ بِشَيْءٍ مِنْ دَمِهَا ”
      ہمارے نزدیک عقیقہ واجب نہیں ہے بلکہ اس پر عمل ہے اور لوگ اس کو کرتے ہیں

      امام محمد کے نزدیک منسوخ عمل ہے اور اس پر عمل ضروری نہیں اور یہی بات امام مالک نے کہی ہے کہ عمل مستحب ہے ضروری نہیں ہے
      ———-

      آج کے سیدوں کا تعلق اہل بیت النبی سے نہیں ہے

  54. Aysha butt says:

    Sir kya shetan waqiatan fariston ka sardar tha. Or uska name sathon asmanon.pr mukhlif tha bht ibdat guzar or abid tha… Or es sy mutalaka jo stories bayan jati hai kya wo sahih hai

    • Islamic-Belief says:

      شیطان کی بغاوت سے قبل کی زندگی پر صحیح احادیث میں خبر نہیں ملی
      قرآن سوره كهف أية ٥٠ میں ہے یہ جنوں میں سے ہے
      وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلائِكَةِ اسْجُدُوا لآدَمَ فَسَجَدُوا إِلا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ
      ———

      وہ فرشتوں کا سردار نہیں تھا- الله نے مخلوق میں سب سے افضل فرشتوں کو حکم کیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں – لہذا یہ حکم اعلی سے ادنی کی طرف منتقل ہوا
      فرشتوں اور ان سے درجات میں کم مخلوقات سب پر سجدہ اس وقت فرض ہو گیا
      —–
      میری تفسیری رائے میں ابلیس جنات میں سے تھا لیکن اپنے درجات کی بنا پر اس کا گمان ہوا کہ اس کو خلیفہ ارض مقرر کیا جائے گا
      جب اس نے دیکھا یہ درجہ آدم کو دیا گیا تو وہ حسد میں آیا اور اس نے یہ سب کلام کیا جو قرآن میں ہے
      —–

      ابن حجر نے “الفتح الباری ” میں ذکر کیا : ( روى الطبري وابن أبي الدنيا عن ابن عباس قال: كان اسم إبليس حيث كان مع الملائكة عزازيل، ثم إبليس بعد.
      طبری اور ابن ابی الدنیا کی کتب میں نام عزازيل بیان ہوا ہے

      اپ نے جو نام لیا اس کو میں سمجھ نہیں سکا

  55. anum shoukat says:

    امام مالک موطآ میں کہتے ہیں
    قَالَ مَالِكٌ: ” الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْعَقِيقَةِ أَنَّ: مَنْ عَقَّ فَإِنَّمَا يَعُقُّ عَنْ وَلَدِهِ بِشَاةٍ شَاةٍ الذُّكُورِ وَالْإِنَاثِ، وَلَيْسَتِ الْعَقِيقَةُ بِوَاجِبَةٍ، وَلَكِنَّهَا يُسْتَحَبُّ الْعَمَلُ بِهَا، وَهِيَ مِنَ الْأَمْرِ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ النَّاسُ عِنْدَنَا، فَمَنْ عَقَّ عَنْ وَلَدِهِ، فَإِنَّمَا هِيَ بِمَنْزِلَةِ النُّسُكِ وَالضَّحَايَا لَا يَجُوزُ فِيهَا عَوْرَاءُ وَلَا عَجْفَاءُ، وَلَا مَكْسُورَةٌ وَلَا مَرِيضَةٌ، وَلَا يُبَاعُ مِنْ لَحْمِهَا شَيْءٌ، وَلَا جِلْدُهَا وَيُكْسَرُ عِظَامُهَا، وَيَأْكُلُ أَهْلُهَا مِنْ لَحْمِهَا، وَيَتَصَدَّقُونَ مِنْهَا، وَلَا يُمَسُّ الصَّبِيُّ بِشَيْءٍ مِنْ دَمِهَا ”
    ہمارے نزدیک عقیقہ واجب نہیں ہے بلکہ اس پر عمل ہے اور لوگ اس کو کرتے ہیں

    امام محمد کے نزدیک منسوخ عمل ہے اور اس پر عمل ضروری نہیں اور یہی بات امام مالک نے کہی ہے کہ عمل مستحب ہے ضروری نہیں ہے

    اس عبارت سے تو ایسا لگ رہا ہے کہ عقیقہ کرنا مستحب ہے عقیقہ کرنا مستحب یے یا بدعت؟؟

    • Islamic-Belief says:

      امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک یہ عمل منسوخ ہے اگر اس پر عمل کیا تو بدعت ہو گی کیونکہ یہ صحیح حدیث سے ثابت نہیں
      امام مالک کے نزدیک اگرچہ ایام جاہلیت میں اس کو کیا گیا اب مستحب ہے

  56. anum shoukat says:

    بخاری میں عقیقہ کے متعلق حدیث آ ئی ہے

  57. anum shoukat says:

    آپکی کیا رائے ہیں اب عقیقہ کرنا بدعت ہے یا مستحب؟

    • Islamic-Belief says:

      آجکل میری رائے یہ ہے کہ عقیقہ بدعت ہے – اہل جاہلیت کا عمل تھا اس کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نہیں کیا نہ کسی حدیث میں ہے کہ ابراہیم کا عقیقہ کیا ہو

  58. anum shoukat says:

    صحیح بخاری کی کتاب کتاب العقیقہ میں تشریح لکھی ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ کے نزدیک عقیقہ سنت نہیں ہے اور پھر انہوں نے لکھا کہ علماء کے نزدیک اس سے مراد سنت موکدہ نہیں ہے یعنی وہ بدعت نہیں کہتے

    • Islamic-Belief says:

      امام محمد جو امام ابو حنیفہ کے شاگرد ہیں وہ اس کو منسوخ کہہ رہے ہیں تو سنت کیسے ہوئی؟ یہ تو متاخرین احناف کا قول ہو گا جنہوں نے موکدہ اور غیر موکدہ کے الفاظ ایجاد کیے ہیں

  59. anum shoukat says:

    نومولود کے کان میں اذان کی روایت آپ نے لکھا ہے حسن لغیرہ درجے کی ہے اور اس معاملے میں اختلاف ہے اب ہمارے لیے کیا حکم ہے اس پر عمل کرے یا چھوڑ دے؟

    • Islamic-Belief says:

      کوئی کر رہا ہے تو کرنے دیں منع کرنے کی ضرورت نہیں اور اپ چاہیں تو کریں ضروری نہیں

  60. anum shoukat says:

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے علی سورت یس پڑھو اس کی دس برکات ہیں بھوکا پڑھے تو سیر ہو جاتا یے پیاسا پڑھے تو سیراب کر دیا جاتا ہے ۔۔۔۔مسند الحارث میں ہے یہ حدیث تحقیق چاہیے جزاک اللہ۔

    • Islamic-Belief says:

      , يَا عَلِيُّ وَاقْرَأْ سُورَةَ يس فَإِنَّ فِي يس عَشْرَ بَرَكَاتٍ , مَا قَرَأَهَا جَائِعٌ إِلَّا شَبِعَ , وَلَا ظَمْآنُ إِلَّا رُوِيَ , وَلَا عَارٍ إِلَّا كُسِيَ , وَلَا عَزَبٌ إِلَّا تَزَوَّجَ , وَلَا خَائِفٌ إِلَّا أَمِنَ , وَلَا مَسْجُونٌ إِلَّا خَرَجَ , وَلَا مُسَافِرٌ إِلَّا أُعِينَ عَلَى سَفَرِهِ , وَلَا مَنْ ضَلَّتْ لَهُ ضَالَّةٌ إِلَّا وَجَدَهَا , وَلَا مَرِيضٌ إِلَّا بَرِئَ , وَلَا قُرِئَتْ عِنْدَ مَيِّتٍ إِلَّا خُفِّفَ عَنْهُ ”

      سند ہے
      حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ خَالِدِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

      اس کی سند میں مجھول ہے
      میزان از الذھبی میں ہے
      السري بن خالد.
      مدني.
      لا يعرف.
      قال الأزدي: لا يحتج به.

      الذھبی نے کہا میں اس کو نہیں جانتا اور ازدی نے کہا دلیل مت لینا

  61. Aysha butt says:

    Musand ahmed10616 ki tehqeq chahiye

    • Islamic-Belief says:

      حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى أُمِّ بُرْثُنٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْجُمُعَةَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَنَا، فَاخْتَلَفُوا فِيهَا، وَهَدَانَا اللهُ لَهَا، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهَا تَبَعٌ، فَالْيَوْمُ لَنَا، ولِلْيَهُودِ غَدًا (1) ، وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ
      رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے قبل بھی جمعہ فرض تھا پھر اس میں اختلاف ہوا تو … یہود کو اگلا دن ملا اور نصاری کو اگلے کے بعد والا

      شعيب الأرنؤط نے اس کو حسن کہا ہے
      —–

      یہ ابو ہریرہ رضی الله عنہ کا قول معلوم ہوتا ہے میرے نزدیک اس کو موقوف سمجھا جائے کیونکہ اس کا متن صحیح نہیں
      عیسیٰ علیہ السلام نے توریت و انجیل پر ہی عمل کا حکم کیا اس میں یہ نہیں کہ اتوار کو عبادت کرو

  62. anum shoukat says:

    احناف سے مراد امام ابو حنیفہ رحمہ ہیں

    • Islamic-Belief says:

      وہ فقہاء جو امام ابو حنیفہ کی فقہ کو لے رہے ہیں احناف کہلاتے ہیں- امام مالک والے مالکیہ – امام شافعی والے شوافع اور امام احمد والے حنابلہ

  63. shahzad khan says:

    Sahih Bukhari Hadees # 5781

    وَزَادَ اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَسَأَلْتُهُ هَلْ نَتَوَضَّأُ أَوْ نَشْرَبُ أَلْبَانَ الْأُتُنِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مَرَارَةَ السَّبُعِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَبْوَالَ الْإِبِلِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدْ كَانَ الْمُسْلِمُونَ يَتَدَاوَوْنَ بِهَا فَلَا يَرَوْنَ بِذَلِكَ بَأْسًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا أَلْبَانُ الْأُتُنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُحُومِهَا وَلَمْ يَبْلُغْنَا عَنْ أَلْبَانِهَا، ‏‏‏‏‏‏أَمْرٌ وَلَا نَهْيٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا مَرَارَةُ السَّبُعِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ.

    میں نے ابوادریس سے پوچھا کیا ہم ( دوا کے طور پر ) گدھی کے دودھ سے وضو کر سکتے ہیں یا اسے پی سکتے ہیں یا درندہ جانوروں کے پتِے استعمال کر سکتے ہیں یا اونٹ کا پیشاب پی سکتے ہیں۔ ابوادریس نے کہا کہ مسلمان اونٹ کے پیشاب کو دوا کے طور پر استعمال کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ البتہ گدھی کے دودھ کے بارے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گوشت سے منع فرمایا تھا۔ اس کے دودھ کے متعلق ہمیں کوئی حکم یا ممانعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم نہیں ہے۔ البتہ درندوں کے پتِے کے متعلق جو ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے ابوادریس خولانی نے خبر دی اور انہیں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت والے شکاری درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔
    تحقیق چاہئے

    • Islamic-Belief says:

      امام زہری نے أَبِي إِدْرِيسَ الخَوْلاَنِيِّ کے الفاظ نقل کیے
      یہ تبصرہ ہے جو تابعین اپنے دور کے معاشرہ پر کر رہے ہیں ان میں سے بعض دوا کے طور پر اونٹ کا پیشاب پیتے تھے
      اور گدھی کا بھی ان کے نزدیک ممکن ہے کیونکہ اس میں ممانعت نہیں آئی
      ——-

      یہ تبصرہ ہے اور یہ اس دور کی دوا ہے
      اس کے خلاف بھی ملتا ہے کتاب الآثار از امام یوسف نے ہے
      عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: «إِنْ كَانَ يَكْرَهُ أَبْوَالَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ
      ابراہیم النخعی کراہت کرتے کہ اونٹ یا گائے کا پیشاب پیا جائے
      ——–
      مسند احمد میں ابن عباس کا قول ہے
      حَدَّثَنَا حَسَنٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ [ص:416]، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي أَبْوَالِ الْإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا شِفَاءً لِلذَّرِبَةِ بُطُونُهُمْ»
      رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ کے پیشاب اور دودھ میں شفا ہے
      سند میں مصری ابْنُ لَهِيعَةَ ضعیف ہے
      ——
      مکہ میں ابن عباس کے شاگرد طاؤس پیشاب پیتے تھے
      مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے
      حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، أَنَّ أَبَاهُ، «كَانَ يَشْرَبُ أَبْوَالَ الْإِبِلِ وَيَتَدَاوَى بِهَا»
      لیکن محمد ابن سیرین سے جب پوچھا گیا تو بولے مجھے کیا پتا یہ کیا ہے
      حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: كَانَ مُحَمَّدٌ: يُسْأَلُ عَنْ شُرْبِ أَبْوَالِ الْإِبِلِ فَيَقُولُ: «لَا أَدْرِي مَا هَذَا؟»
      ——

      معلوم ہوا کہ امام بخاری اونٹ کا پیشاب پینا صحیح سمجھتے تھے اور اس دور میں مکہ مصر شام میں لوگ اس کو پینا بیان کرتے تھے لیکن فقہائے عراق رد کرتے
      میرے نزدیک احناف نے اس کو رد کیا ہے کیونکہ اس پر صحیح سند سے روایت نہیں ملی
      مزید دیکھیں

      ⇓ احادیث میں ذکر ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا؟
      http://www.islamic-belief.net/q-a/علم-الحدیث/

  64. Aysha butt says:

    Kya jannat mn b 7 darjat hai or kya har darjay waleko ik jesi naimetein mile gi ya naimaton ki takhsees hogi

    • Islamic-Belief says:

      جنتین تو بے شمار ہیں مجھ کو سات درجات کا علم نہیں

      • Aysha butt says:

        Kya abu naim aljali muddlis ravi hai is pr koi daleel ho to de dein

        • Aysha butt says:

          termizu
          i2721.2722.2723 pr tehqiq chahiye

          • Islamic-Belief says:

            عَلَيْكَ السَّلَامُ مت کہو بلکہ السلام علیک کہو
            سنن ابو داود میں بھی ہے شعَيب الأرنؤوط نے صحیح کہا ہے
            ——–
            مصنف ابن ابی شیبه میں ہے
            حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ أَبِي غِفَارٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي جُرَيٍّ الْهُجَيْمِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: ” لَا تَقُلْ: عَلَيْكَ السَّلَامُ، فَإِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى ”
            عَلَيْكَ السَّلَامُ مردوں پر سلام ہے
            ——–

        • Islamic-Belief says:

          كس روایت کی بات ہو رہی ہے ؟

          • Aysha butt says:

            termizi hadith 2721,2722,2723

          • Islamic-Belief says:

            روایات لکھ دیں

          • Aysha butt says:

            3no ik hi matan se hai k jannat mn 100 se b zyda ya 100 darjat hai or har darjay mn 100 saal ki musafat hai is it sahih.. Is mn jo 2722, 23 hai us mn zayd bin aslam ravi hai mn ne prha tha k wo jumhir k nazdeek zaef hai ho saky toh mukml tehqeq bta daye

          • Islamic-Belief says:

            حدیث نمبر: 2532

            حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن دراج ابي السمع، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:‏‏‏‏ ” إن في الجنة مائة درجة لو ان العالمين اجتمعوا في إحداهن لوسعتهم “،‏‏‏‏ قال ابو عيسى:‏‏‏‏ هذا حديث غريب.
            ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں، اگر سارے جہاں کے لوگ ایک ہی درجہ میں اکٹھے ہو جائیں تو یہ ان سب کے لیے کافی ہو گا“۔
            امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔

            سند ضعیف ہے
            ——–

            حدیث نمبر: 2531

            حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا يزيد بن هارون، اخبرنا همام، حدثنا زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن عبادة بن الصامت، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:‏‏‏‏ ” في الجنة مائة درجة ما بين كل درجتين كما بين الارض والسماء، ‏‏‏‏‏‏والفردوس اعلاها درجة ومنها تفجر انهار الجنة الاربعة، ‏‏‏‏‏‏ومن فوقها يكون العرش، ‏‏‏‏‏‏فإذا سالتم الله فسلوه الفردوس “.
            عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں اور ہر دو درجہ کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے، درجہ کے اعتبار سے فردوس اعلیٰ جنت ہے، اسی سے جنت کی چاروں نہریں بہتی ہیں اور اسی کے اوپر عرش ہے، لہٰذا جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس مانگو“۔

            اس کو البانی نے صحیح کہا ہے لیکن اس میں زید بن اسلم ہے جو وہی راوی ہے جو آدم علیہ السلام کی بخشش میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا وسیلہ لینے کی روایت بیان کرتا تھا

            ——-

            حدیث نمبر: 2530

            حدثنا قتيبة، واحمد بن عبدة الضبي البصري،‏‏‏‏ قالا:‏‏‏‏ حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن معاذ بن جبل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:‏‏‏‏ ” من صام رمضان وصلى الصلوات وحج البيت لا ادري اذكر الزكاة ام لا إلا كان حقا على الله ان يغفر له إن هاجر في سبيل الله او مكث بارضه التي ولد بها “، ‏‏‏‏‏‏قال معاذ:‏‏‏‏ الا اخبر بهذا الناس؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ ” ذر الناس يعملون، ‏‏‏‏‏‏فإن في الجنة مائة درجة ما بين كل درجتين كما بين السماء والارض، ‏‏‏‏‏‏والفردوس اعلى الجنة واوسطها، ‏‏‏‏‏‏وفوق ذلك عرش الرحمن، ‏‏‏‏‏‏ومنها تفجر انهار الجنة فإذا سالتم الله فسلوه الفردوس “،‏‏‏‏ قال ابو عيسى:‏‏‏‏ هكذا روي هذا الحديث عن هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن معاذ بن جبل، وهذا عندي اصح من حديث همام، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن عبادة بن الصامت، وعطاء لم يدرك معاذ بن جبل، ‏‏‏‏‏‏ومعاذ قديم الموت مات في خلافة عمر.

            اس کی سند میں انقطاع ہے ترمذی نے خود کہا
            عطاء نے معاذ بن جبل کو نہیں پایا جن کی وفات دور عمر میں ہوئی

          • Aysha butt says:

            2531 n kya ap albani ki rae ko tasleem.nahi krty agr nahi krty to wajah kia hai sirf yeh wajh kafi nai k zaid bin aslam ne ik munkir riwayt ki….. Kya ye rai tadless krta hai kya is hadith mn tadless hai

          • Islamic-Belief says:

            کس کتاب کی بات ہو رہی ہے

          • Aysha butt says:

            2531 termizi ki riwayt jiska oper tarjuma dia us mn ap khte k albani esko sahih khty hai jab k eska ravi zaid bin aslam hazrat adam k waseely wali riwayat ki hai
            To kya albani ki rae apko taslim nahi .ya yeh riwayt zaef hai. Es ravi ki kya hasiyat hai phir…. Wo muddlis hai kazab hai hai kya

          • Islamic-Belief says:

            یہ روایت صحیح ہے – مجھ سے راوی کے تعین میں غلطی ہوئی ہے

            اصل میں ان کا بیٹا مجروح ہے عبد الرحمان بن زید بن اسلم

          • Aysha butt says:

            Ik wesite hai muslimscolar k name se us mn har ravi ki detail.hai us mn zaid bin aslam ko siqqa kha gya hai but in se jo unconfirmed riways hai hadithki kitab mn us mn is riwayt ka zikr hai ap kya khty ho
            http://muslimscholars.info/manage2.php?submit=scholar&ID=11163

            Yeh hai woh site

          • Islamic-Belief says:

            زید بن اسلم کو ثقہ کہا جاتا ہے

            : http://www.islamic-belief.net/q-a/#comment-11026

  65. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی دیوار گریہ کیا ہے اور ہیقل سلیمانی پر بھی کچھ روشنی ڈالیں

    یہودی اس کو کیا سمجھتے ہیں

    https://www.youtube.com/watch?v=nf6vsHf7-Ko

    • Islamic-Belief says:

      یہود کا اس پر اختلاف ہے – آج کل جمہور یہود کا کہنا ہے کہ ہیکل سلیمانی سے مراد موجودہ مسجد الاقصی ہے اور دیوار گریہ اس کی ان کے نزدیک بچ جانے والی دیوار ہے
      ————
      میرے نزدیک اصل مسجد الاقصی معدوم ہے ان کا مقام معلوم نہیں ہے – دیوار گریہ اصل مسجد الاقصی کا حصہ نہیں رومن فوجی قلعہ یا چھاونی کی دیوار ہے – یہود نے اس دیوار پر دیکھا کہ مسلمانوں نے مسجد بنا دی ہے تو انہوں نے بھی اس پر دعوی کر دیا اور وہاں ان کو دیوار پر بائبل کی کتاب یسعیاہ کی آیات لکھی ملی جو کب لکھی گئی کچھ معلوم نہیں
      لیکن آیات بتاتی ہیں کہ یہ پتھر کسی مقبرہ کا تھا جو اس دیوار پر لگا ہے
      یہود کے نزدیک مسجد کا مقام مقبرہ پر نہیں ہو سکتا

      http://www.islamic-belief.net/حشر-دوم-سے-عبد-الملک-تک/

  66. وجاہت says:

    صیہونیت اور یہودیت میں کیا فرق ہے جو یہ ایک یہودی حامد میر کو کہہ رہا ہے

    https://www.youtube.com/watch?v=Cae4tAj4ANo

    • Islamic-Belief says:

      صیہونیت سے مراد ہے کہ ہر طرح کی سیاست کر کے ارض مقدس میں یہودی مملکت کو قائم رکھنا
      یہودیت الگ ہے جو مذھب ہے
      آج بھی یہود میں فرقے ہیں جن کے نزدیک ارض مقدس میں یہودی مملکت کا قیام صحیح نہیں یہ کام ان کے نزدیک خروج مسیح سے قبل نہیں کیا جا سکتا

  67. anum shoukat says:

    ابو منصور ماتریدی کا مذہب کیا تھا تفصیلا وضاحت کر دیجیے؟

    مشرکانہ عقائد کا لفظ استعمال کر کے مشرک کا فتوی لگانا مراد ہوتا ہیں یا نہیں؟؟

    • Islamic-Belief says:

      ابو منصور ماتریدی کے عقیدہ کو تفصیل سے دیکھنے کا موقعہ نہیں ملا
      میں عقیدہ میں صفات میں امام ابو الحسن الاشعري کی بات کو دیکھتا ہوں
      ———-

      مشرکانہ عقیدہ کہنا یعنی شرک کرنے والا کہنا

  68. وجاہت says:

    اوپر جو آپ نے جواب دیا ہے یہاں

    http://www.islamic-belief.net/q-a/#comment-10898

    اس پر شیعہ محقق کا جواب ہے کہ

    ——
    ایسا لگتا ہے کہ مخالف بھائی بھنگ پی کے بحث میں آیا ہے :

    ۱ – بھائی یہاں حدیث اھل سنت کتب سے ہے اور اھل سنت علم جرح و تعدیل سے اس روایت کو صحیح یا ضعئف ثابت کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ، اھل تشیع کا علم الرجال تو بہت الگ ہے وہ انکی کتب احادیث پر لاگو ہوتا ہے

    آپ نے غلام رضا عرفانیان کی حوالہ دیا تو آپکو یہ بھی معلوم ہونا چاھے کہ شیعہ علم الرجال میں متاخرین کے رائے کی کوئی حیثیت نہیں اور غلام رضا عرفیانیان متاخر کے عالم دین ہے

    ۲ – آپ نے دوسری بات کی ہے علامہ البانی نے صاف طور پر کہا ہے کہ امکان لقاء کافی ہوتا ہے سماع کے لے

    ۳ – شاید آپ نے صحیح بخاری نہیں پڑھی ہے اس میں کتاب رقاق میں منذر کا سماع ربیع بن یعلی سے ثابت ہے اسکو دلیل بنا کر ھم سے استدلال کیا تھا ۔

    لہذا اچھے سے جواب تیار کریں ہوائی باتوں سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں
    ———

    اب اس موقف پر کیا جواب دیا جایے – کیا کتاب رقاق میں منذر کا سماع ربیع بن یعلی سے ثابت ہےاور کیا یہ دلیل بن سکتا ہے

    • Islamic-Belief says:

      اس احمق نے لکھا ہے
      منذر کا سماع رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ ( جو 63ھ میں فوت ہوگئے ) سے ثابت ہے [ صحیح بخاری – کتاب الرقاق
      حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الفَضْلِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ
      اب دلیل یہ لی کہ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ اور حسین ایک ہی دور کے ہیں تو سماع بھی ہوا جبکہ یہ نرا دعوی ہے

      اس سے اس أهل بيت کے رونے دھونے کی روایت کا کیا تعلق ہے ؟ دو لوگ ایک دور میں زندہ ہوں تو سماع ضروری نہیں کہ ہو – کم از کم ہمارے نزدیک تو ایسا نہیں ہے
      کوئی سند پیش کی جائے جس میں منذر اور حسین کے سماع کی صراحت ہو
      ——–

      اور منذر کا جو بیٹا نکالا ہے وہ مجہول ہے – اہل تشیع کی کتب میں اس کا کوئی ذکر نہیں صرف
      اہل تشیع کی کتاب مشايخ الثقات- غلام رضا عرفانيان میں ذکر ملتا ہے
      الربيع بن منذر 32 / 4، لم يذكر
      اس کا ذکر نہیں کیا

      شیعہ علم الرجال میں متاخرین کے رائے کی کوئی حیثیت نہیں تو متقدمین میں سے کوئی پیش کریں جو الربيع بن منذر کی توثیق کرے
      اور غلام رضا عرفانيان نے کیا کہا کسی نے ذکر نہیں کیا تو ظاہر ہے یہ کوئی جرح نہیں بلکہ کہا گیا یہ مجہول ہے متقدمین نے بھی ذکر نہیں کیا

  69. anum shoukat says:

    کتاب الفتن از نعیم بن حماد کی روایت کے الفاظ ہیں کہ اگر کوئی دجال کو پائے تو

    أَنْتَ الدَّجَّالُ، ثُمَّ قَرَأَ فَاتِحَةَ سُورَةِ الْكَهْفِ، وَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنَّ يَفْتِنَهُ، وَكَانَتْ لَهُ تِلْكَ الْآيَةُ كَالتَّمِيمَةِ مِنَ الدَّجَّالِ

    تو دجال ہے پھر سوره الکہف کی شروع کی آیات پڑھے تو وہ اس کو فتنہ میں مبتلا نہ کر سکے گا اور یہ آیات التَّمِيمَةِ کے طور پر دجال کے لئے ہو جائیں گی

    کیا عربی کی رو سے یہاں التَّمِيمَةِ کا مطلب تعویذ نہیں؟

    اس پیرا گراف میں آپ کیا سمجھانا چاہتے ہیں پلیز واضح کر دے جزاک اللہ

    • Islamic-Belief says:

      حدیث میں ہے التمائم شرک ہیں

      التمائم کو فرقے کہتے ہیں اس سے مراد غیر قرانی تعویذ ہے –

      یہ الفاظ کعب الاحبار کا قول ہیں
      حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ، قَالَ: ” كَانَ يُقَالُ: ” كَلْبُ السَّاعَةِ الدَّجَّالُ، وَمَنْ صَبَرَ عَلَى فِتْنَةِ الدَّجَّالِ لَمْ يُفْتَنْ، وَلَنَ يُفْتَنَ أَبَدًا حَيًّا وَلَا مَيِّتًا، وَمَنْ أَدْرَكَهُ وَلَمْ يَتْبَعْهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَإِذَا خَلُصَ الرَّجُلُ وَكَذَّبَ الدَّجَّالَ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُ مَنْ أَنْتَ، أَنْتَ الدَّجَّالُ، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ سُورَةِ الْكَهْفِ، لَمْ يَخْشَهُ، وَلَا يَقْدِرُ أَنْ يَفْتِنَهُ، وَكَانَتْ لَهُ تِلْكَ الْآيَةُ كَالتَّمِيمَةِ مِنَ الدَّجَّالِ، فَطُوبَى لِمَنْ نَجَا بِإِيمَانِهِ قَبْلَ فِتَنِ الدَّجَّالِ وَهَوَانِهِ وَصَغَارِهِ، وَلَيُدْرِكَنَّ أَقْوَامًا مِثْلَ خِيَارِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ”

      یہ حدیث نہیں ہے لیکن کتاب الفتن میں جو الفاظ ہیں وہ ظاہر کرتے ہیں کہ قرن اول کی عربی میں اس قسم کی کوئی تخصیص نہیں تھی کہ تمیمہ کو غیر قرانی الفاظ کہا جائے بلکہ تیمیہ کا اطلاق قران پر بھی ہوتا تھا جیسا کعب نے سورہ کہف کو تمیمہ کہا

  70. anum shoukat says:

    مشرکانہ عقائد کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ مشرک یعنی اسلام سے خارج

    • Islamic-Belief says:

      اس میں دو چیزیں ہیں

      ایک ہے عند الله – ہم کو معلوم ہے مشرک پر جنت حرام ہے اور شرک اسلام کی تعلیم نہیں ہے – اس مشرک کا فیصلہ الله کرے گا

      دوسری چیز عند الناس ہے – اگر یہ شخص اسلام کے ظاہری ارکان پر عمل کر رہا ہے تو اس کو مسلمان کہا جائے گا کیونکہ یہ عمل اپنے نزدیک شرک کا نہیں کر رہا مثلا قبروں سے فیض کا قائل ہے وسیلہ لیتا ہے تعویذ کرتا ہے تو یہ عمل اس کے نزدیک خالص مسلمانوں کا ہے – یہ شخص غلطی پر ہے شرک کر رہا ہے اس کو نصحت کی جائے گی – اس کو کہا جائے گا یہ شرک ہے – مشرک اس کو منہ پر نہیں کہا جائے ورنہ یہ کہے گا تم نے مجھ کو مشرک کہا بات ختم ہو جائے گی

      لہذا اس میں حکمت سے کام لینا ہو گا – لیکن اس حکمت کا مطلب یہ نہیں کہ اپ اس کونیک عمل یا زہد کی تعلیمات دیں – اپ اس سے صرف عقیدہ پر ہی کلام کریں

      ========

      روافض اور خوارج امام بخاری و مسلم کے دور میں بھی تھے جو بد عقیدہ تھے لیکن ان کو مسلمان سمجھتے ہوئے ان سے روایت لی گئی ہے ورنہ مشرک یا کافر کی روایت حدیث میں نہیں لی جا سکتی

      علم حدیث کا سیکشن دیکھ سکتی ہیں
      ——

      حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے۔نبی کریم ﷺ قبرستان میں تشریف لے گئے۔ اور قبرستان (میں مدفون افراد) کو سلام کرتے ہوئے فرمایا (السلام و عليكم دار قوم مومنين وانا ان شاء الله تعاليٰ بكم لاحقون) اے مومن لوگوں کی بستی کے رہنے والوں ! تم پر سلامتی ہو۔ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: ہماری خواہش تھی کہ ہم اپنے بھایئوں کو دیکھ سکتے۔ صحابہ کرام رضوا ن اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا:اللہ کے رسولﷺ! کیا ہم آپﷺ کے بھائی نہیں ؟آپ نے فرمایا ؛ تم تو میرے ساتھی اور صحابی ہو۔میرے بھائی تو وہ ہیں جو میرے بعد آیئں گے۔اور میں حوض پر تمھارا پیش رو ہوں گا۔ صحابہ نے کہا :اللہ کے رسول! آپﷺ کی اُمت کے جولوگ ابھی (دنیا میں ) نہیں آئے آپ (قیامت کے دن) انھیں کس طرح پہچانیں گے؟آپﷺنے فرمایا یہ بتائو اگر کسی کے پنچ کلیان گھوڑے(دوسروں کے) مکمل طور پرکالے گھوڑوں میں مل جایئں تو کیا وہ انھیں پہچان لے گا؟ انھوں نے کہا :کیوں نہیں (پہچان لے گا)آپ نے فرمایا : یہ لوگ( رسول اللہ ﷺ کے امتی)قیامت کے دن آیئں گے تو وضو کے اثر سے ان کے چہرے اور ہاتھ پائوں سفید ہوں گے۔ اورفرمایا: میں حوض پر تمھارا پیش رو ہوں گا۔ پھر فرمایا کچھ افراد کو میرے حوض سے دور ہٹایا جائے گا۔جس طرح گم شدہ (پرائے) اونٹ کو دور ہٹایاجاتا ہے۔چنانچہ میں انھیں آواز دوں گا(ادھر آجائو) تو کہا جائے گا:انھوں نے آپ کے بعد (اپنی حالت) تبدیل کرلی تھی۔اور اپنی ایڑیوں پر پھر گئے تھے تب میں کہوں گا دور رہو!دور رہو !۔

      http://maktaba.pk/hadith/ibn-e-maja/4306/

      ———

      الفاظ ہیں
      میں حوض پر تمھارا پیش رو ہوں گا۔ پھر فرمایا کچھ افراد کو میرے حوض سے دور ہٹایا جائے گا۔جس طرح گم شدہ (پرائے) اونٹ کو دور ہٹایاجاتا ہے۔چنانچہ میں انھیں آواز دوں گا(ادھر آجائو) تو کہا جائے گا:انھوں نے آپ کے بعد (اپنی حالت) تبدیل کرلی تھی۔اور اپنی ایڑیوں پر پھر گئے تھے تب میں کہوں گا دور رہو!دور رہو

      یہ لوگ امت محمد کے ہیں اور مشرک اور بدعتی سب ہو سکتے ہیں لیکن ان کو مسلمان ہی سمجھا جائے گا لیکن عند الله یہ صحیح اسلام پر نہیں ہوں گے

      و الله اعلم

  71. anum shoukat says:

    زبر دست دلیل ہے اللہ آپکو جنت میں اعلی مقام دے لیکن
    سورت کہف والی روایت کعب بن احبار کا قول ہے جب وہ صیح. نہیں تو دلیل بھی نہیں لی جا سکتی کہ اس قول میں تمیمہ قرآن کیلئے بھی استعمال ہوتا تھا

    • Islamic-Belief says:

      یہ عربی ادب کی بات ہے لہذا میرے نزدیک الفاظ کی تشریح میں دلیل بن سکتی ہے

  72. Aysha butt says:

    خدا ایسوں کی بھی سنتا ہے:صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ فرعون کے پاس کچھ لوگ آئے اور کہا کہ بارش نہیں ہو رہی ہے اور دریائے نیل بند ہے، آپ جاری کرا دیجئے، اس لیے کہ آپ کو ہم نے معبود بنایا ہے۔ اس نے کہا اچھی بات ہے، دریا کل جاری ہو جائے گا رات کے وقت اٹھاتاج شاہی پہنااور پہنچا ’’نیل‘‘ میں یا ’’قلزم‘‘ میں۔ دریا خشک تھا، تاج زمین پر رکھا اور مٹی لی، سر پر ڈالی ،اس نے کہا اے احکم الحاکمین! اے رب العالمین! میں جانتا ہوں کہ آپ ہی مالک ہیں.
    آپ ہی سب کچھ ہیں، میں نے ایک دعویٰ کیا اور وہ بھی غلط، آج تک آپ نے اس دعوے کو نبھایا اور ظاہر کے اعتبار سے مجھے ویسا ہی رکھا، میں آپ سے دعا کرتا ہوں کہ آج بھی میری بات رہ جائے، خوب گڑگڑا کر دعا کی، وہ خدا ایسوں کی بھی سنتا ہے۔ بہرحال فرعون نے رو کر گڑگڑا کر عاجزی اور انکساری کے ساتھ دعا مانگی۔ دعا کا مانگنا تھا کہ پانی آنا شروع ہوا، سرسراہٹ محسوس ہوئی، فوراً تاج لیا اور چلا آیا اور دریائے نیل جاری ہو گیا۔
    is that true

    • Islamic-Belief says:

      یہ روایت اصل میں تفسیر ابن ابی حاتم کی ہے
      حَدَّثَنَا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ثنا بِشْرٌ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَخَذَ اللَّهُ آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِينَ يَبِسَ كُلُّ شَجَرٍ لَهُمْ وَذَهَبَتْ مَوَاشِيهِمْ حَتَّى يَبِسَ نِيلُ مِصْرَ وَاجْتَمَعُوا إِلَى فِرْعَوْنَ فَقَالُوا لَهُ: إِنْ كُنْتَ تَزْعُمُ كَمَا تَزْعُمُ فَآتِينَا فِي نِيلِ مِصْرَ بِمَاءٍ قَالَ: غُدْوَةً يُصَبِّحُكُمُ الْمَاءُ، فَلَمَّا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ قَالَ: أَيُّ شَيْءٍ صَنَعْتُ، أَنَا أَقْدِرُ عَلَى أَنْ أُجْرِيَ فِي نِيلِ مِصْرَ مَاءً غُدْوَةٌ أُصْبِحُ فَيُكَذِّبُونِي، فَلَمَّا كَانَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ قَامَ وَاغْتَسَلَ وَلَبِسَ مِدْرَعَةَ صُوفٍ، ثُمَّ خَرَجَ مَاشِيًا حَتَّى أَتَى نِيلَ مِصْرَ، فَقَامَ فِي بَطْنِهِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَمْلأَ نِيلَ مِصْرَ مَاءً فَامْلأْهُ مَاءً، فَمَا عَلِمَ إِلا بِجَرِيرِ الْمَاءِ يُقْبِلُ، فَخَرَجَ يَحْفِزُ وَأَقْبَلَ النِّيلُ يَزُخُّ بِالْمَاءِ لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ بِهِمْ مِنَ الْهَلَكَةِ.

      اس کی سند میں الضحاك بن مزاحم الهلالي صاحب التفسير ہے جو ابن عباس سے روایت کر رہا ہے
      كان شعبة ينكر أن يكون لقي بن عباس
      امام شعبہ اس کا انکار کرتے کہ یہ کبھی ابن عباس سے ملا تھا

      وقال أبو زرعة الضحاك … ولم يسمع من بن عمر شيئا ولا من بن عباس
      أبو زرعة کہتے الضحاك نے ابن عباس سے کچھ نہیں سنا
      —-

  73. shahzad khan says:

    ادم کی تخلیق!

    سورة النساء ایت نمبر ایک میں اللہ پاک فرماتا ہے:

    یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا وَ بَثَّ مِنۡہُمَا رِجَالًا کَثِیۡرًا وَّ نِسَآءً ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ وَ الۡاَرۡحَامَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیۡکُمۡ  رَقِیۡبًا ۔

     اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو  ، جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا اور اس ایک نفس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور پھر مرد اور عورت کے ملاپ سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو  بیشک اللہ تعالٰی تم پر نگہبان ہے۔

    اس ایت میں اللہ پاک نے خلقکم کا لفظ استعمال کیا ہے جو جمع ہے اور اس سے مراد ایک ہی اسان ہر گز نہیں ہوسکتی ہے اور اس کے بعد و خلق منھا زوجھا میں منھا سے مراد ادم کے طرف نہیں ہے بلکہ اس سے مراد مٹی کے طرف ہے یعنی اللہ پاک نے ادم کو مٹی سے پیدا کیا اور اس کا جوڑا بھی اس مٹی سے ہی پیدا کیا۔ اگر یہاں سے یہ مراد لی جائے کہ ادم کے وجود سے اس کی بیوی پیدا کی تو پھر سورة روم ایت نمبر 21 کا ترجمہ بھی اسی طرح ہوگا کہ ہمارے بیویاں ہمارے ہی نفسوں سے پیدا ہوئی ہیں:

    وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ  اَنۡ خَلَقَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا لِّتَسۡکُنُوۡۤا اِلَیۡہَا وَ جَعَلَ بَیۡنَکُمۡ  مَّوَدَّۃً  وَّ رَحۡمَۃً ؕ اِنَّ  فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ  لِّقَوۡمٍ  یَّتَفَکَّرُوۡنَ ۔

     اس ایت میں اللہ پاک فرماتا ہے خلق لکم من انفسکم ازواجا تو یہاں سے یہ مراد ہر گز نہیں ہوسکتا کہ ہمارے بیویاں ہمارے نفسوں سے پیدا ہوئی ہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارے بیویوں کو اللہ پاک نے ہمارے ہی جنس سے پیدا کی ہیں۔ مرد اور عورت کا جنس ایک ہی ہوتا ہے تو اوپر والے ایت  کا مطلب بھی یہی ہے کہ اللہ پاک نے ادم کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر اس مٹی سے اس کا جوڑا پیدا کیا۔

    قران کے مختلف جگہوں میں اللہ پاک فرماتا ہے کہ تمام انبیاء کا شریعت ایک ہی تھا اور تمام انبیاء کے شریعت میں قانون اور طریقہ ایک ہی تھا کسی بھی شریعت میں بھائی اور بہن کا نکاح جائیز نہیں تھا۔ سورة الفتح ایت نمبر 23 میں اللہ پاک فرماتا ہے:

    سُنَّۃَ  اللّٰہِ  الَّتِیۡ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلُ   ۚ ۖ وَ لَنۡ  تَجِدَ  لِسُنَّۃِ  اللّٰہِ  تَبۡدِیۡلًا ۔

     اللہ کے اس قاعدے کے مطابق جو پہلے چلا آیا ہے تو کبھی بھی اللہ کے قاعدے کو بدلتا ہوا نہ پائے گا۔

    سورة احزاب ایت نمبر 62 میں اللہ پاک فرماتا ہے:

    سُنَّۃَ اللّٰہِ  فِی الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ۚ وَ لَنۡ  تَجِدَ لِسُنَّۃِ  اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ۔

    ان سے اگلوں میں بھی اللہ کا یہی دستور جاری رہا۔  اور تو اللہ کے دستور میں ہرگز رد و بدل نہ پائے گا۔

    سورة بنی اسرائیل ایت نمبر 77 میں اللہ پاک فرماتا ہے:

    سُنَّۃَ مَنۡ قَدۡ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ مِنۡ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ  لِسُنَّتِنَا تَحۡوِیۡلًا ۔

     ایسا ہی دستور ان کا تھا جو آپ سے پہلے رسول ہم نے بھیجے اور آپ ہمارے دستور میں کبھی ردو بدل نہ پائیں گے۔

    سنة کا مطلب ہوتا ہے دستور، ائین، طریقہ یا قانون۔
    ان تمام ایتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پرانے لوگوں کا شریعت اور ہمارا شریعت ایک ہی تھا اور اخری ایت میں اللہ پاک نے تمام انبیاء کا زکر کیا کہ اے پیغمبر تم سے پہلے تمام انبیاء کو میں نے یہی قانون اور طریقہ دیا تھا جو اپ کو دیا ہے۔ اب اگر ہم یہ کہتے ہے کہ ادم نے اپنے بیٹوں کا نکاح اپنے بیٹیوں سے کرایا تھا تو یہ قران پاک اور اللہ پاک پر بہتان عظیم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ اک صاحب کی تحقیق ہے بھائی جو ثابت کرنا چاہتا ہے کہ انسان کی شروعات آدم سے نہیں ہوئی

    • Islamic-Belief says:

      ان آیات کا سیاق و سباق ہے
      سورة الفتح ایت نمبر 23 میں اللہ پاک فرماتا ہے:

      سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلُ ۚ ۖ وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ۔

      اللہ کے اس قاعدے کے مطابق جو پہلے چلا آیا ہے تو کبھی بھی اللہ کے قاعدے کو بدلتا ہوا نہ پائے گا۔

      سورة احزاب ایت نمبر 62 میں اللہ پاک فرماتا ہے:

      سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ۚ وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ۔

      ان سے اگلوں میں بھی اللہ کا یہی دستور جاری رہا۔ اور تو اللہ کے دستور میں ہرگز رد و بدل نہ پائے گا۔

      سورة بنی اسرائیل ایت نمبر 77 میں اللہ پاک فرماتا ہے:

      سُنَّۃَ مَنۡ قَدۡ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ مِنۡ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحۡوِیۡلًا ۔

      ایسا ہی دستور ان کا تھا جو آپ سے پہلے رسول ہم نے بھیجے اور آپ ہمارے دستور میں کبھی ردو بدل نہ پائیں گے۔

      سنة کا مطلب ہوتا ہے دستور، ائین، طریقہ یا قانون۔

      ان تمام میں الله کا انبیاء کی قوموں کے ساتھ سنت کا ذکر ہے کہ اگر وہ ایمان نہ لائیں تو ان کو ختم کر دیا جاتا ہے
      ———–

      قرآن میں آدم علیہ السلام کا بشر اول کے طور پر ذکر ہے اور یہ بھی ان کو مٹی سے خلق کیا گیا اور ان کو جنت میں رکھا گیا اور وہاں سے ہبوط ہوا

      میں اسی پر ایمان رکھتا ہوں اس سے الگ مجھ کو کچھ اور معلوم نہیں

  74. anum shoukat says:

    کعب بن احبار کا قول سورت کہف کے حوالے سے جو مجہول ہے اس کا لنک ویب سے لگا دے میں نے پڑھا تھا ابھی وہ سوال مل نہیں رہا جذاک اللہ

    • Islamic-Belief says:

      کعب الاحبار ہے اس کے بیچ بن نہیں اتا
      —–

      اس قول کی سند میں مجھول سند سے نہیں ہے – اس کی سند صحیح ہے

  75. anum shoukat says:

    رات کو نہ کھانا کھانے سے انسان جلد بوڑھا ہو جاتا ہے کوئی حدیث ہے ایسی؟

  76. Aysha butt says:

    bukhari 120 hadith k tabahi quresh k larkon sy hogi or
    hadith 7058 marwan k samny Abu hurira ne uper wali hadh btai to us ne unpr lanant ki tu unhin ny kha mn naam b bta sakta hon
    sahih hai yeh hadith inka mutlb bta dein

  77. anum shoukat says:

    ایک صاحب کا کہنا ہے کہ امام بخاری نے روافض سے حدیث لی ہے وہ بھی اعمال میں اور قرونا لی ہے عقائد میں تو نہیں لی؟

  78. anum shoukat says:

    عدی بن ثابت کٹر رافضی ہیں ان سے صحیح بخاری میں ٢٨ روایات لی گئی ہیں حوالہ کے ساتھ پلیز چاہیے. شکریہ

    • Islamic-Belief says:

      صحیح بخاری

      حدیث
      ٥٥
      ٧٦٩
      ٩٦٤
      ٩٨٩
      ١٣٨٢
      ١٦٧٤
      ١٨٨٤
      ٢٣٩٨
      ٢٤٧٤
      ٢٧٢٧
      ٣٢١٣
      ٣٢٥٥
      ٣٢٨٢
      ٣٧٨٣
      ٤٠٥٠
      ٤١٢٣
      ٤٢٢١
      ٤٢٢٣
      ٤٤١٤
      ٥٣٥١
      ٥٣٩٧
      ٥٥١٦
      ٥٨٨١
      ٦٠٤٨
      ٦١١٥
      ٦١٥٣
      ٦١٩٥
      ٧٥٤٦

  79. anum shoukat says:

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے موقع پر یوسف علیہ السلام کو دیکھا اور پھر بتایا کہ انکو آدھا حسن دیا گیا پوری دنیا کا کیا یہ بات ثابت ہے؟

    • Islamic-Belief says:

      مسند احمدکی حدیث ہے
      حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ … فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ، فَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ،
      جب میں یوسف کے پاس تھا تو گویا ان کو حسن کا ایک حصہ ملا
      —–
      سند حسن ہے

      یہ الفاظ کہ دنیا کا آدھا حسن ملا یہ اغلبا کسی حدیث میں نہیں ہیں

  80. وجاہت says:

    کیا یہ حدیث صحیح ہے

    صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ حِفْظِ العِلْمِ) صحیح بخاری: کتاب: علم کے بیان میں

    (باب: علم کو محفوظ رکھنے کے بیان میں)

    120

    حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ: فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ، وَأَمَّا الآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا البُلْعُومُ

    حکم : صحیح 120

    ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ان کے بھائی ( عبدالحمید ) نے ابن ابی ذئب سے نقل کیا۔ وہ سعید المقبری سے روایت کرتے ہیں، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( علم کے ) دو برتن یاد کر لیے ہیں، ایک کو میں نے پھیلا دیا ہے اور دوسرا برتن اگر میں پھیلاؤں تو میرا یہ نرخرا کاٹ دیا جائے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ بلعوم سے مراد وہ نرخرا ہے جس سے کھانا اترتا ہے۔

    ——-

    ابو شہر یار بھائی پوچھنا یہ ہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو حضرت ابو ہریرہ رضی الله نے جو دوسرا برتن نہیں پھیلایا کیا اس سے آدھا علم یہنی احادیث امت سے بیان کرنا رہ گئی ہیں

    • وجاہت says:

      اور دوسری طرف حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے انتقال کے وقت حدیث اس خیال سے بیان فرما دی کہ کہیں حدیث رسول چھپانے کے گناہ پر ان سے آخرت میں مواخذہ نہ ہو۔

      ‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ مَنْ خَصَّ بِالعِلْمِ قَوْمًا دُونَ قَوْمٍ، كَرَاهِيَةَ أَنْ لاَ يَفْهَمُوا) صحیح بخاری: کتاب: علم کے بیان میں

      (باب: مصلحت سے تعلیم دینا اور نہ دینا)

      128

      حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمُعاذٌ رَدِيفُهُ عَلَى الرَّحْلِ، قَالَ: «يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ»، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: «يَا مُعَاذُ»، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ثَلاَثًا، قَالَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ، إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ»، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَفَلاَ أُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا؟ قَالَ: «إِذًا يَتَّكِلُوا» وَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا

      حکم : صحیح 128

      ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، اس نے کہا کہ میرے باپ نے قتادہ کے واسطے سے نقل کیا، وہ انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ ) حضرت معاذ بن جبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دوبارہ ) فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سہ بار ) فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول، تین بار ایسا ہوا۔ ( اس کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ اس کو ( دوزخ کی ) آگ پر حرام کر دیتا ہے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا اس بات سے لوگوں کو باخبر نہ کر دوں تا کہ وہ خوش ہو جائیں؟ آپ نے فرمایا ( اگر تم یہ خبر سناؤ گے ) تو لوگ اس پر بھروسا کر بیٹھیں گے ( اور عمل چھوڑ دیں گے ) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے انتقال کے وقت یہ حدیث اس خیال سے بیان فرما دی کہ کہیں حدیث رسول چھپانے کے گناہ پر ان سے آخرت میں مواخذہ نہ ہو۔

    • Islamic-Belief says:

      یہ روایت ایک ہی سند سے اتی ہے

      عَنْ ابْنِ أبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ, فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ.

      میرے نزدیک صحیح نہیں

      اول اس میں ابْنِ أبِي ذِئْبٍ، ہے جو مدلس ہے اس کا عنعنہ ہے – اس روایت کی تمام اسناد میں
      دوم سعید المقبری ہے جو آخری عمر میں مختلط تھا اور اس دور میں اس کی محدثین کہتے ہیں وہی روایت صحیح ہے جو لیث کے طرق سے ہوں
      میرے نزدیک وہ بھی صحیح نہیں ہیں ان میں بھی گربڑ ہے
      ——-
      لہذا یہ متن مشکوک ہے کہ ابو ہریرہ نے کہا ہو- ابو ہریرہ رضی الله عنہ کو تو روایات سنانے کا اتنا شوق تھا کہ ایک حدیث میں ہے کہ عائشہ رضی الله عنہا نے کہا کہ گویا لسٹ بنا دی روایات کی- اور پھر امام مسلم کہتے ہیں کعب الاحبار کے اقوال ملا دیے –
      تو جس شخص کو روایت سنانے کا شوق اس قدر ہو میرے نزدیک وہ کچھ چھپا نہیں سکتا

  81. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی یہ ایک ویب سائٹ ہے جس میں قرآن کا موازنہ صحیح بخاری اور موتا امام ملک اور سنن ابو داوود سے کیا گیا ہے

    http://quranandbukhari.com/index.html

    پلیز اگر آپ کی نظر سے نہیں گزری تو پلیز ایک نظر دیکھ لیں اور بتا دیں کہ کیا اس میں جو کچھ لکھا ہے وہ صحیح بھی ہے یا تاویل کی غلطی ہے – یہ ایک بھائی نے فیس بک پر لنک ڈال کر اس کے بارے میں پوچھا ہے – پلیز آپ سے رہنمائی چاہیے

    یہ ویب سائٹ

    قرآن ریسرچ فاؤنڈیشن ریاست ہائے متحدہ امریکا

    http://quranandbukhari.com/index.html

    والوں کی ہے

    • Islamic-Belief says:

      اس کا علم نہیں تھا- شکریہ

      اس کو پڑھنے میں وقت لگے اور یہ کام کوئی عربی سے لا علم شخص کا ہے یہ تو سرسری نظر سے معلوم ہوتا ہے

  82. Aysha butt says:

    Made me cry 😢
    وفات سے 3 روز قبل جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا کہ
    “میری بیویوں کو جمع کرو۔”
    تمام ازواج مطہرات جمع ہو گئیں۔
    تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:
    “کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟”
    سب نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کو اجازت ہے۔
    پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھہ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔
    اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے
    رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
    رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
    چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور مسجد شریف میں ایک رش لگ ہوگیا۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کا اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
    اور فرماتی ہیں:
    “میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور اسی کو چہرہ اقدس پر پھیرتی کیونکہ نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اور پاکیزہ تھا۔”
    مزید فرماتی ہیں کہ حبیب خدا علیہ الصلوات والتسلیم
    سے بس یہی ورد سنائی دے رہا تھا کہ
    “لا إله إلا الله، بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔”
    اسی اثناء میں مسجد کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔
    نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
    “یہ کیسی آوازیں ہیں؟
    عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔
    ارشاد فرمایا کہ مجھے ان پاس لے چلو۔
    پھر اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن اٹھہ نہ سکے تو آپ علیہ الصلوة و السلام پر 7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے، تب کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا تو سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔
    یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری خطبہ تھا اور آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔
    فرمایا:
    ” اے لوگو۔۔۔! شاید تمہیں میری موت کا خوف ہے؟”
    سب نے کہا:
    “جی ہاں اے اللہ کے رسول”
    ارشاد فرمایا:
    “اے لوگو۔۔!
    تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں، تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے، خدا کی قسم گویا کہ میں یہیں سے اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،
    اے لوگو۔۔۔!
    مجھے تم پر تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے، کہ تم اس (کے معاملے) میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جاؤ جیسا کہ تم سے پہلے (پچھلی امتوں) والے لگ گئے، اور یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے جیسا کہ انہیں ہلاک کر دیا۔”
    پھر مزید ارشاد فرمایا:
    “اے لوگو۔۔! نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سےڈرو۔ نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔”
    (یعنی عہد کرو کہ نماز کی پابندی کرو گے، اور یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)
    پھر فرمایا:
    “اے لوگو۔۔۔! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میں تمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔”
    مزید فرمایا:
    “اے لوگو۔۔۔! ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ دنیا کو چن لے یا اسے چن لے جو اللہ کے پاس ہے، تو اس نے اسے پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے”
    اس جملے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد کوئی نہ سمجھا حالانکہ انکی اپنی ذات مراد تھی۔
    جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ تنہا شخص تھے جو اس جملے کو سمجھے اور زارو قطار رونے لگے اور بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے اٹھہ کھڑے ہوئے اور نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔
    “ہمارے باپ دادا آپ پر قربان، ہماری مائیں آپ پر قربان، ہمارے بچے آپ پر قربان، ہمارے مال و دولت آپ پر قربان…..”
    روتے جاتے ہیں اور یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔
    صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کردی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان الفاظ میں فرمایا:
    “اے لوگو۔۔۔! ابوبکر کو چھوڑ دو کہ تم میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جس نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو اور ہم نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکر کے کہ اس کا بدلہ میں نہیں دے سکا۔ اس کا بدلہ میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔ مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں، سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ جو کبھی بند نہ ہوگا۔”
    آخر میں اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:
    “اللہ تمہیں ٹھکانہ دے، تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔
    اور آخری بات جو ممبر سے اترنے سے پہلے امت کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی وہ یہ کہ:
    “اے لوگو۔۔۔! قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو میرا سلام پہنچا دینا۔”
    پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ سہارے سے اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔
    اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو دیکھنے لگے لیکن شدت مرض کی وجہ سے طلب نہ کر پائے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اور انہوں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دہن مبارک میں رکھ دی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے استعمال نہ کر پائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسواک لے کر اپنے منہ سے نرم کی اور پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی تاکہ دہن مبارک اس سے تر رہے۔
    فرماتی ہیں:
    ” آخری چیز جو نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے پیٹ میں گئی وہ میرا لعاب تھا، اور یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا کہ اس نے وصال سے قبل میرا اور نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔”
    أم المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید ارشاد فرماتی ہیں:
    “پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں اور آتے ہی رو پڑیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم انکے ماتھے پر بوسہ دیتےتھے۔
    حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے فاطمہ! “قریب آجاؤ۔۔۔”
    پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کان میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ اور زیادہ رونے لگیں، انہیں اس طرح روتا دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے فاطمہ! “قریب آؤ۔۔۔”
    دوبارہ انکے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیں۔
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا کہ وہ کیا بات تھی جس پر روئیں اور پھر خوشی اظہار کیا تھا؟
    سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں کہ
    پہلی بار (جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
    “فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔
    جس پر میں رو دی۔۔۔۔”
    جب انہوں نے مجھے بےتحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے:
    “فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔”
    جس پر میں خوش ہوگئی۔۔۔
    سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
    پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
    “عائشہ! میرے قریب آجاؤ۔۔۔”
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
    مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ (میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)
    صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
    “میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔”
    جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
    “یارسول الله! ملَکُ الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔”
    آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
    “جبریل! اسے آنے دو۔۔۔”
    ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا:
    “السلام علیک یارسول الله! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئےبھیجا ہے کہ آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟”
    فرمایا:
    “مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔”
    ملَکُ الموت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:
    “اے پاکیزہ روح۔۔۔!
    اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
    الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
    راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف جو غضبناک نہیں۔۔۔!”
    سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
    پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا، اور سر مبارک میرے سینے پر بھاری ہونے لگا، میں سمجھ گئی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔ مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔
    “رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔! رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!”
    مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی۔
    ادھر علی کرم الله وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔
    ادھر عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔
    اور سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
    “خبردار! جو کسی نے کہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا۔۔۔! میرے آقا تو الله تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کوگئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔! اب جو وفات کی خبر اڑائے گا، میں اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔”
    اس موقع پر سب زیادہ ضبط، برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔ آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے، رحمت دوعالَم صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔
    کہہ رہے تھے:
    وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه
    (ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔! ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!ہائے میرا محبوب۔۔۔! ہائے میرا نبی۔۔۔!)
    پھر آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:
    “یا رسول الله! آپ پاکیزہ جئے اور پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔”
    سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا:
    “جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے سن رکھے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو الله کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ الله تعالی شانہ کی ذات ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔”
    سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔
    عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
    پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
    سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    “تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟”
    پھر کہنے لگیں:
    “يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه.”
    (ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ ہم جبریل کو ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
    اللھم صل علی محمد کما تحب وترضی
    JazakAllah
    is tehrr k hawala jat agr ap k pas ho to bta dein…

    • Islamic-Belief says:

      اس میں یہ الفاظ تو سراسر کذب ہیں
      ——-

      جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
      “یارسول الله! ملَکُ الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔”
      آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
      “جبریل! اسے آنے دو۔۔۔”
      ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا:
      “السلام علیک یارسول الله! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئےبھیجا ہے کہ آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟”
      فرمایا:
      “مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔”
      ملَکُ الموت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:
      “اے پاکیزہ روح۔۔۔!
      اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
      الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
      ———

      اس کے علاوہ واقعات کی ترتیب غلط ہے

      رسول الله صلی الله علیہ وسلم بصحت بقیع گئے وہاں دعا کی اس کے بعد خطبہ دیا جس میں کہا تم شرک نہ کرو گے
      ——–

      باقی مرض وفات کے واقعات صحیح ہیں

  83. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی ایک بات پوچھنی ہے کہ عبد اللہ بن اُبی کی قبر بقیع الغرقد میں ہے یا کہیں اور ہے اور اس کا صحیحین میں حوالہ کہاں ہے – ایک بھائی نے محدث فورم والوں سے اس پر سوال بھی کیا ہے

    پلیز بتا دیں کہ عبد اللہ بن اُبی کی قبر کا کوئی حوالہ ہے یا نہیں کہ کہاں واقع ہے

    http://forum.mohaddis.com/threads/%D8%B9%D8%A8%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%A8%D9%86-%D8%A7%D9%8F%D8%A8%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D9%82%D8%A8%D8%B1-%D8%A8%D9%82%DB%8C%D8%B9-%D8%A7%D9%84%D8%BA%D8%B1%D9%82%D8%AF-%D9%85%DB%8C%DA%BA.36857/

    http://forum.mohaddis.com/attachments/12-png.19826/

    • Islamic-Belief says:

      عبدالله بن أبي بن سلول المتوفی سن ٩ ہجری کی وفات ہوئی – ظاہر ہے اس میں جو مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھتا اور رہتا اس کو اصحاب محمد کہا جاتا تھا اور ان سب کی تدفین بقیع الغرقد میں ہوتی تھی
      اس کے بعد اس کا بیٹا آیا اور رسول اللہ اس کی قبر پر گئے اس کو نکالا گیا اس کو قمیص پہنائی اور اپنا لعاب دھن اس پر ڈالا اس کی نماز پڑھی
      صحیح بخاری میں ہے
      قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمْ يَمْكُثْ إِلَّا يَسِيرًا، حَتَّى نَزَلَتِ الآيَتَانِ مِنْ بَرَاءَةٌ: {وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا} [التوبة: 84] إِلَى قَوْلِهِ {وَهُمْ فَاسِقُونَ} [التوبة: 84] قَالَ: فَعَجِبْتُ بَعْدُ مِنْ جُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ
      رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عبد الله کی نماز پڑھی پھر وہاں سے چلے تو تھوڑی ہی دیر میں سورہ توبہ کی آیات نازل ہوئیں
      وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا

  84. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی کیا آپ امام بخاری کی صحیح بخاری کی وہ روایات جن میں انہوں نے راوی کو تاریخ صغیر و کبیر میں ضعیف کہا اور پھر صحیح میں اس سے روایت لی بتا سکتے ہیں – یہنی ان احادیث کے نمبر کیا ہیں جن میں وہ راوی ہیں جن کو امام بخاری نے خود ضعیف کہا اور ان سے احادیث لی ہیں – پلیز اس کی تفصیل چاہیے

    الله آپ کو جزایۓ خیر دے – آمین

    • Islamic-Belief says:

      ابو الجوزاء کو بخاری نے فیہ نظر کہا ہے
      لیکن صحیح میں روایت لی ہے
      حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ، حَدَّثَنَا أَبُو الجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ: {اللَّاتَ وَالعُزَّى} [النجم: 19] «كَانَ اللَّاتُ رَجُلًا يَلُتُّ سَوِيقَ الحَاجِّ»

      ابن عباس نے کہا لات مرد تھا ستو پلاتا تھا
      —–
      یہ روایت خلاف قرآن ہے اور تاریخ کے بھی خلاف ہے لات دیوی تھی مرد نہیں
      —-
      محدثین کہتے ہیں فیہ نظر بخاری کی شدید جرح ہے
      یا للعجب

      میرے علم میں یہ واحد راوی ہے جس پر بخاری نے جرح کی اور پھر روایت لی
      ===

      باقی راویوں پر بخاری کی خود جرح نہیں کی – اور کچھ راوی ہیں جن کو بخاری کے ہم عصر دیگر محدثین کی طرف سے منکر الحدیث بھی کہا گیا ہے لیکن صحیح میں ان سے روایت لی گئی ہے مثلا

      أسيد بن زيد بن نجيح الجمال الكوفي متروک ہے
      وذكره أبو عبد الله الحاكم في «باب: من أخرج عنهم البخاري

      صحیح میں ہے
      حدثنا عمران بن ميسرة حدثنا محمد بن فضيل أخبرنا حصين ح
      وحدثني أسيد بن زيد حدثنا هشام عن حصين قال كنت عند سعيد بن جبير فذكر عن بن عباس حديث عرضت على الأمم

      اس سے مقرؤنا روایت لی ہے
      دو سندیں تھیں جن میں سے ایک طرق میں یہ راوی ہے
      سوال ہے جب دو طرق تھے تو صرف ایک کا ہی ذکر کر سکتے تھے اس متروک کو کیوں لکھا
      اغلبا بخاری کے نزدیک یہ متروک نہیں تھا یہی وجہ ہو سکتی ہے اور کوئی نہیں – لوگوں کو دکھانے کے لئے کہ تم اس کو متروک کہتے ہوں میں صحیح

      ——
      امام بخاری کی صوفیوں کی روایت بھی لکھی ہے جن کو اس دور میں زہاد کہا جاتا تھا مثلا ثابت بن محمد الزاهد وغیرہ

      حَدَّثَنِى ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ – رضى الله عنهما – قَالَ كَانَ النَّبِىُّ – صلى الله عليه وسلم – إِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ « اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، أَنْتَ الْحَقُّ ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ ، وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ ، وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَإِلَيْكَ خَاصَمْتُ ، وَبِكَ حَاكَمْتُ ، فَاغْفِرْ لِى مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّى ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ

      ——–

      اس سب کا جواب دیا گیا ہے کہ یہ تخریج اصول میں نہیں شواہد و متابعات میں ہے
      راقم کہتا ہے ٣٠٠٠ روایتین جمع جب ہو گئیں تو ان متابعات کی ضرورت نہیں رہی تھی

  85. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی آپ نے علم حدیث کے سیکشن میں ایک تھریڈ بنایا جس کا نام ہے

    ⇑ محدثین روایات میں علمی خیانت کرتے تھے

    اس میں ایک حدیث امام ابو داوود کی ہے اس کی بات ہو رہی ہے

    نام کو فلاں سے بدلنے کے بارے میں بھی پوچھا گیا ہے – آپ نے دلائل دیے ہیں اور سند ضعیف ٹھہری – لیکن آپ نے آخر میں جو کہا کہ

    ——-
    نام کو فلاں سے بدلنے میں قباحت نہیں ہے کیونکہ نام شروع میں موجود ہے اور واضح ہے کہ مغیرہ رضی الله عنہ پر کلام ہو رہا ہے جو بھی اس حدیث کو پڑھے گا سمجھ جائے گا
    ——–

    بھائی اگر کوئی قاری سنن ابو داوود کی اس حدیث کو پڑھے جس پر بات ہو رہی ہے

    http://mohaddis.com/View/Abu-Daud/4648

    تو وہ کیسے جان پایے گا کہ مغیرہ رضی الله عنہ پر کلام ہو رہا ہے اور شروع میں کہاں نام دیا گیا ہے

    کیا یہاں حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ اور مغیرہ رضی الله عنہ دونوں پر کلام نہیں ہو رہا

    یہ کوئی تنقید نہ سمجھی جایے – اور نہ ہی میں سند پر کلام کر رہاہوں – یہاں آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کا نام نہیں لکھا کہ ان پر بھی کلام ہو رہا ہے

    شاید امام ابو داوود رحم الله نے اسی وجہ سے نام نہیں لکھے اور فلاں فلاں لکھ دیا – یہ میری ذاتی رائے ہے

    امام بخاری کے سلسلے میں بھی آپ نے کہا تھا کہ

    ====
    راقم اس سے اتفاق نہیں کرتا کہ امام بخاری نے نام کو فلاں سے بدل دیا
    ====

    لیکن آپ نے بعد میں اس سے رجوع کر لیا تھا

    ⇑ امام بخاری روایت میں نام غائب کر دیتے ہیں ؟

    ===

    امام بخاری واقعی ایسا کرتے ہیں کہ نام غائب کر دیتے ہیں

    راقم نے یہ بات خود بھی نوٹ کی ہے

    ===

    • Islamic-Belief says:

      ممکن ہے ایسا ابو داود نے جان بوجھ کر کیا ہو – الله کو خبر ہے ہم تو انداز لی لگا سکتے ہیں
      لیکن چونکہ راویوں نے متن میں نام لیا ہے اور سنن الکبری سے یہ معلوم بھی ہے تو اسی لیے معلوم ہوا کہ یہ کمال ابو داود کا ہے کہ نام چھپا دیا
      والله اعلم

  86. Aysha butt says:

    Sir ap ne mehmood ahmed abbasi ki maqtal e hussan kitab btai thi but us mn unki haalat e zindigii nai thi…… Ap ko in k baray mn kuch malom hai to bta dein q k net pr in k.mutalik koi information majood nai hai…. Tora bta dein

  87. وجاہت says:

    پلیز ان دو احادیث کے نمبر بتا دیں

    صحیح بخاری میں ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا یہ حکم ایک علت کی بنا پر تھا
    مشرکوں کی مخالفت کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ مونچھیں کٹاؤ۔

    صحیح مسلم میں ہے
    مونچھیں کٹواؤ، داڑھیاں بڑھاؤ اور مجوسیوں کی مخالفت کرو۔

    ساتھ میں اس کا لنک بھی دیں یا سکین لگا دیں

    کتاب لاوی توریت باب ١٩ آیت ٢٧ میں ہے

    تم اپنے ماتھے اور قلم کے بیچ کے بالوں کو نہیں کاٹو گے اور داڑھی کے کنارے کو نہیں تراشو گے

    —-

    ساتھ میں ان کے حوالے بھی دے دیں صحیح سند سے

    قرون ثلاثہ میں بہت سی مثالیں ملتی ہیں جب لوگوں پر فیصلہ جاری کیا گیا کہ

    وحلق رأسه ولحيته

    اس کا سر و داڑھی مونڈھ دی جائے

    ایسا

    رَبِيْعَةُ الرَّأْيُ بنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَرُّوْخٍ التَّيْمِيُّ

    عَطِيَّةُ بْنُ سَعْدِبْنِ جُنَادَةَ

    سعيد ابن المسيّب

    کے ساتھ کیا گیا

    ———-

    الله آپ کو جزایۓ خیر دے – آمین

    • Islamic-Belief says:

      صحیح بخاری
      ٥٨٩٢
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” خَالِفُوا المُشْرِكِينَ: وَفِّرُوا اللِّحَى، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ ” وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ: «إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ»
      ——
      https://www.biblegateway.com/passage/?search=Leviticus%2019

      Do not cut the hair at the sides of your head or clip off the edges of your beard.
      —–
      أخبار القضاة
      المؤلف: أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفِ بْنِِ حَيَّانَ بْنِِ صَدَقَةََ الضَّبِّيّ البَغْدَادِيّ, المُلَقَّب بِـ”وَكِيع” (المتوفى: 306هـ)
      ثم ضرب خمسين ومائة، وحلق رأسه ولحيته
      ص ١٥٩

  88. وجاہت says:

    ایک انتہائی اہم کوشش حافظ ذھبی کی بلند پایہ تصنیف میزان الاعتدال کا اردو ترجمہ ہے جس میں حافظ صاحب نے کم و بیش 11050 راویوں کے حالات ہیں۔ اس کتاب کو ڈاؤنلوڈ کرنے کے لنک نیچے دئے گئے ہیں۔

    میزان الاعتدال : جلد 1

    https://archive.org/details/MeezanUlAitedalJild1

    میزان الاعتدال : جلد 2

    https://archive.org/details/MeezanUlAitedalJild2

    میزان الاعتدال : جلد 3

    https://archive.org/details/MeezanUlAitedalJild3

    میزان الاعتدال : جلد 4

    https://archive.org/details/MeezanUlAitedalJild4

    میزان الاعتدال : جلد 5

    https://archive.org/details/MeezanUlAitedalJild5

    میزان الاعتدال : جلد 6

    https://archive.org/details/MeezanUlAitedalJild6

    میزان الاعتدال : جلد 7

    https://archive.org/details/MeezanUlAitedalJild7

    میزان الاعتدال : جلد 8

    https://archive.org/details/MeezanUlAitedalJild8

    ابو شہر یار بھائی ایک دیوبندی عالم نے امام ذھبی کی کتاب میزان الاعتدال کا اردو ترجمہ کیا ہے – پلیز آپ اس کو نظر میں رکھیں اور یہ بتا دیں کہ اس کا جو ترجمہ کیا گیا وہ صحیح ہے یا اس میں بھی مسلک پرستی کو سامنے رکھا گیا
    شروع کے کچھ حوالے ہی چیک کر لیں کیا ان کی جو عربی اصل کتاب میں ہے ترجمہ اس کے مطابق ہے یا نہیں – جواب کا منتظر آپ کا بھائی

    الله آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے – آمین

    • Islamic-Belief says:

      بھائی ایک کتاب پر میں کیسے فیصلہ دے سکتا ہوں – یہ تو کئی سالوں تک اس کو پڑھوں اور عربی متن کو دکھوں
      پھر کہیں جا کر کوئی بات کر سکوں گا
      لہذا یہ میرے لئے ممکن نہیں ہے

  89. وجاہت says:

    ایک اشکال ذہن میں آرہاں تھا کی ہم محدثین کی تصحیح و تحسین سے رواة کی توثیق اخذ کرتے اور اسی طرح اتصال سند اخذ کرتے ہے کیا محدثین کی تصحیح و تحسین سے مدلس راوی کا غیر مدلس ہونا بھی ثابت کیا جا سکتاں ہے؟ یا پھر مدلس مان کر راوی کا قلیل التدلیس ہونا اور اسی طرح راوی کے مختلط ہونے کی تردید بھی ائمہ نقاد کی تصحیح و تحسین سے کیا جاسکتاں ہے؟یا پھر مختلط مان کر روایت کرنے والے کو قدیم السماع ثابت کیا جاسکتاں اسی طرح کے اور بھی علتیں جو حدیث کی صحت کے لیئے قادح ہوا کرتی ہے ان کو محدثین کی تصحیح و تحسین سے رفع کرنا کیسا ہے؟

    • Islamic-Belief says:

      اپ نے کہا
      ہم محدثین کی تصحیح و تحسین سے رواة کی توثیق اخذ کرتے
      غلط ہے : ہم محدثین کے اقوال سے راوی کا درجہ لیتے ہیں
      ——–

      مدلس کو کسی نے غیر مدلس ثابت کر دیا ہو ایسی میرے نزدیک علم حدیث میں کوئی مثال نہیں ہے
      جن پر تدلیس کا حکم ہے وہ اکثر لگتا رہتا ہے
      ——

      اختلاط کا تدلیس سے کوئی تعلق نہیں ہے – دو الگ چیزیں ہیں – اختلاط بشری بیماری ہے اور تدلیس عادت ہے

  90. anum shoukat says:

    امام شوکانی اہل حدیث مسلک سے تعلق رکھتےہیں؟

  91. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی

    صحیح مسلم کی سند ہے

    حَدَّثَني أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، مَوْلَى الْحُرَقَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “جُزُّوا الشَّوَارِبَ، وَأَرْخُوا اللِّحَى خَالِفُوا الْمَجُوسَ” ,
    (م) 55 – (260)

    مجوس مخالفت بولنے میں العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب الحُرَقِي کا تفرد ہے ابن معين کہتے ہیں : ليس حديثه بحجة یہ حجت نہیں ہے

    ابن معين کہتے ہیں : ليس حديثه بحجة

    پلیز اس کا حوالہ چاہیے

    باقی ایک اہلحدیث بھائی نے یہ جواب دیا ہے مجھے

    ==========
    مسلم کے راوی پر جرح کا جواب ۔

    العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب الحُرَقِي۔

    قال المزي في تهذيب الكمال : قال عبد الله بن أحمد بن حنبل ، عن أبيه : ثقة لم أسمع أحدا ذكره بسوء .

    وقال الترمذي : هو ثقة عند أهل الحديث .

    عن ابن معين؛ إنما هو توثيق العلاء؛ وليس تضعيفه !. فقد قال -كما في “تاريخ الدارمي” (1/ 173)-: «ليس به بأس۔

    یہ ملاحظہ فرمائیں ابن معین سمیت محدثین کی توثیق

    ========

    وہ لوگ داڑھی کو فرض کہنے پر ہی تلے ہیں – اور عبدالله بن عمر رضی الله کی اس حدیث

    صحيح البخاري: كِتَابُ اللِّبَاسِ (بَابُ تَقْلِيمِ الأَظْفَارِ) صحیح بخاری: کتاب: لباس کے بیان میں

    (باب: ناخن ترشوانے کا بیان)

    5892

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَالِفُوا المُشْرِكِينَ: وَفِّرُوا اللِّحَى، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ: «إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ»

    حکم : صحیح 5892

    ہم سے محمد بن منہال نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے ، انہوں نے کہا ہم سے عمر بن محمد بن زید نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مشرکین کے خلاف کرو ، داڑھی چھوڑدو اور مونچھیں کترواؤ ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی ( ہاتھ سے ) پکڑ لیتے اور ( مٹھی ) سے جو بال زیادہ ہوتے انہیں کتروا دیتے ۔

    کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ

    حدیث حاشیہ: بعض لوگوں نے اس سے داڑھی کٹوانے کی دلیل لی ہے جو صحیح نہیں ہے ۔ اول تو یہ خاص حج سے متعلق ہے۔ دوسرے ایک صحابی کا فعل ہے وہ صحیح حدیث کے مقابلہ پر حجت نہیں ہے لہٰذا صحیح یہی ہو اکہ داڑھی کے بال نہ کٹوائے جائیں ، واللہ اعلم بالصواب ۔

    http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/5892

    ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں

    ——–

    دین کے اصولوں میں تغیر و تبدیلی شارع کا کام ہے میرا یا آپ کا نہیں ۔

    آپ کے نزدیک کیا صرف موجوسی مشرک ہیں جبکہ خالفوا المشرکین کا لفظ عام مطلق ہے اور اس کا اطلاق یہود و نصاری اور جمیع مشرکین کے لئے ہے ۔

    دوسری اہم بات تعدیل کے مقابلہ میں جرح مبہم ویسے ہی مقبول نہیں ۔ اور صریح نص کے مقابلہ میں آثار حجت نہیں ہوتے لگتا ہے آپ اصول حدیث سے ناواقف ہیں ۔ آخری بات ابن معین کے قول کا حوالہ بھی پیش فرمائیں ۔مسئلہ داڑھی کا جن اصولوں پر قائم ہے میں نے اس کی بابت سوال کیا تھا نجانے آپ بھائی جواب کیوں نہیں دینا چاہتے ۔ طویل بحث میں الجھنا مناسب معلوم نہیں ہوتا ۔ کوئی حکم مستحب اور واجب کب ہوتا اس کو واضح کریں نیز دین کی جامع لغوی معنوی تعریف کریں ۔ سوال وہیں موجود ہیں جواب ندارد عجیب
    ———–

    اور انہوں نے جو پوسٹ بنائی ہے اس پر یہ لکھا ہے

    =======
    داڑھی مونڈنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی کو معاف کرنے کا حکم دیا ہے، ویسے بھی داڑھی مونڈوانا مشرکین ، اہل کتاب اور مجوسیوں کیساتھ مشابہت تو ہے ہی، اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ داڑھی مونڈوانے سے خواتین کی مشابہت بھی لازم آتی ہے۔
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مونچھیں خوب کتروایا لیا کرو اورداڑھی کو بڑھاؤ ۔
    ( صحیح بخاری، كتاب اللباس )
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    یہ حدیث پڑھ کر داڑھی ثقافت معلوم ہوتی ہے یا حکم ؟
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    متعدد علمائے کرام نے اہل علم کا اس بات پر اتفاق نقل کیا ہے کہ داڑھی مونڈوانا حرام ہے، چنانچہ ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں: “سب اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ داڑھی مونڈوانا جائز نہیں ہے” انتہی
    “مراتب الإجماع ”

    (ص 157)

    اگر اس بارے میں کچھ اہل علم کی مختلف رائے بھی ہے تو وہ شاذ ہے، ان کی طرف توجہ بھی نہیں دینی چاہیے۔
    =======

    مفصل جواب چاہیے

    الله آپ کو اجر دے – آمین

    • Islamic-Belief says:

      صحیح مسلم کی سند ہے

      حَدَّثَني أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، مَوْلَى الْحُرَقَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “جُزُّوا الشَّوَارِبَ، وَأَرْخُوا اللِّحَى خَالِفُوا الْمَجُوسَ” ,
      (م) 55 – (260)

      مجوس مخالفت بولنے میں العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب الحُرَقِي کا تفرد ہے ابن معين کہتے ہیں : ليس حديثه بحجة یہ حجت نہیں ہے

      ابن معين کہتے ہیں : ليس حديثه بحجة

      وَقَالَ ابْنُ مَعِيْنٍ: لَيْسَ حَدِيْثُهُ بِحُجَّةٍ.
      وَقَالَ مَرَّةً: لَيْسَ بِالقَوِيِّ.
      سير أعلام النبلاء
      المؤلف : شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى : 748هـ)
      ——–
      وَقَال أَبُو بكر بْن أَبي خيثمة (3) ، عَن يحيى بن مَعِين: ليس بذا، لم يزل الناس يتوقون حديثه.
      وَقَال عَباس الدُّورِيُّ (4) ، عَن يحيى بْن مَعِين: ليس حديثه بحجة
      تهذيب الكمال في أسماء الرجال از المزی

      ==========
      مسلم کے راوی پر جرح کا جواب ۔

      العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب الحُرَقِي۔

      قال المزي في تهذيب الكمال : قال عبد الله بن أحمد بن حنبل ، عن أبيه : ثقة لم أسمع أحدا ذكره بسوء .

      وقال الترمذي : هو ثقة عند أهل الحديث .

      عن ابن معين؛ إنما هو توثيق العلاء؛ وليس تضعيفه !. فقد قال -كما في “تاريخ الدارمي” (1/ 173)-: «ليس به بأس۔

      حوالہ مکمل نہیں اسی کتاب میں ہے
      وَقَال الدارمي: وسألته (يعني يحيى بن مَعِين) عَنِ العلاء بْن عَبْد الرَّحْمَنِ، عَن أَبِيهِ، كيف حديثهما؟ فَقَالَ: ليس به بأس. قلت: هُوَ أحب إليك، أو سَعِيد المقبري؟ فقال: سَعِيد أوثق، والعلاء ضعيف. (تاريخه الترجمتان 623، 624)
      العلاء بْن عَبْد الرَّحْمَنِ، لیس نہ باس کے باوجود ضعیف ہے
      وَقَال عَبد اللَّهِ بْن أَحْمَد: سمعت يَحْيَى بْن مَعِين وسئل عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فقال: مضطرب الحديث ليس حديثه بحجة (ضعفاء العقيلي، الورقة 164) .
      ابن معین نے مضطرب الحدیث بھی کہا ہے

      کہا گیا دوسری اہم بات تعدیل کے مقابلہ میں جرح مبہم ویسے ہی مقبول نہیں – یہ اصول متاخرین سخاوی کا ہے متقدمین میں معروف نہیں ہے اس پر کوئی اجماع نہیں
      ========

      صحيح البخاري: كِتَابُ اللِّبَاسِ (بَابُ تَقْلِيمِ الأَظْفَارِ) صحیح بخاری: کتاب: لباس کے بیان میں

      (باب: ناخن ترشوانے کا بیان)

      5892

      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَالِفُوا المُشْرِكِينَ: وَفِّرُوا اللِّحَى، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ: «إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ»

      حکم : صحیح 5892

      ہم سے محمد بن منہال نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے ، انہوں نے کہا ہم سے عمر بن محمد بن زید نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مشرکین کے خلاف کرو ، داڑھی چھوڑدو اور مونچھیں کترواؤ ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی ( ہاتھ سے ) پکڑ لیتے اور ( مٹھی ) سے جو بال زیادہ ہوتے انہیں کتروا دیتے ۔

      کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ

      حدیث حاشیہ: بعض لوگوں نے اس سے داڑھی کٹوانے کی دلیل لی ہے جو صحیح نہیں ہے ۔ اول تو یہ خاص حج سے متعلق ہے۔ دوسرے ایک صحابی کا فعل ہے وہ صحیح حدیث کے مقابلہ پر حجت نہیں ہے لہٰذا صحیح یہی ہو اکہ داڑھی کے بال نہ کٹوائے جائیں ، واللہ اعلم بالصواب ۔

      http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/5892

      صحابی کے عمل سے حدیث کی شرح ہوئی ہے اور عمل صحابہ کیا حجت نہیں رہا؟ رفع الیدین پر تو حجت ہے جبکہ کسی حدیث میں قولی حکم نہیں ملتا کہ رفع الیدین کرو – یہ تضاد کیوں ہے /
      ======

      مجوس سے جزیہ لیا گیا ہے – اس طرح ان کو اہل کتاب میں شمار کیا گیا – قرآن کا حکم جزیہ کا مشرکین کے لئے نہیں ہے
      اہل کتاب تو داڑھیاں رکھتے تھے چاہے یہود ہوں یا نصرانی- کیا ابو ہریرہ کے ایمان لانے کے بعد ان کو داڑھی کا کوئی حکم دیا گیا ؟ یا اسی طرح کسی بھی اہل کتاب صحابی کے لئے ملتا کہ اس کو داڑھی کا حکم دیا گیا ہو کیونکہ سب کی داڑھیاں پہلے سے تھیں

  92. وجاہت says:

    ایک اہلحدیث بھائی کہتے ہیں کہ محدث کبیر مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی رح نے بھی البانی کے رد میں ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے “الالبانی شذوذہ وأخطاوٴہ” یہ کتاب پڑھنے لائق ہوگی

    لنک

    https://ia601705.us.archive.org/7/items/AlAlbaniShuzoozuhuWaAkhtaauhooHabeeburRahmanAlAlazami/00000.pdf

    ہمیں عربی نہیں آتی پلیز یہ رہنمائی کر دیں کہ یہ کتاب کیسی ہے

  93. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی امام بخاری کی آنکھوں کی بینائی کے بارے میں امام ذھبی اپنی کتاب تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام میں لکھتے ہیں کہ

    وعن جبريل بن ميكائيل: سمعت البخاري يقول: لما بلغت خراسان أصبت ببصري، فعلمني رجل أن أحلق رأسي وأغلفه بالخطمي، ففعلت، فرد الله علي بصري. رواها غنجار في تاريخه

    http://islamport.com/w/tkh/Web/3534/9621.htm

    ============

    اور اپنی کتاب سير أعلام النبلاء میں بھی اس کا ذکر کرتے ہیں

    وقال غنجار: حدثنا أحمد بن محمد بن حسين التميمي، حدثنا أبو يعلى التميمي، سمعت جبريل بن ميكائيل بمصر يقول: سمعت البخاري
    يقول: لما بلغت خراسان أصبت ببعض بصري، فعلمني رجل أن أحلق رأسي، وأغلفه بالخطمي.
    ففعلت، فرد الله علي بصري

    http://islamport.com/d/1/trj/1/161/3777.html

    ===

    طبقات الشافعية الكبرى للسبكي میں بھی ہے کہ

    وَعَن جِبْرِيل بن مِيكَائِيل سَمِعت البخارى يَقُول لما بلغت خُرَاسَان أصبت ببصرى فعلمنى رجل أَن أحلق رأسى وأغلفه بالخطمى فَفعلت فَرد الله على بصرى رَوَاهَا غُنْجَار فى تَارِيخه

    http://shamela.ws/browse.php/book-6739#page-549

    ——–

    پلیز یہ بتا دیں کہ ان عبارات کا کیا ترجمہ ہے اور یہاں جِبْرِيل بن مِيكَائِيل کون ہے – جس کا سب ذکر کر رہے ہیں

  94. وجاہت says:

    کیا صحیح مسلم کی یہ حدیث صحیح ہے

    صحيح مسلم: كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِؓ (بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍؓ) صحیح مسلم: کتاب: صحابہ کرامؓ کے فضائل ومناقب (باب: حضرت ابو سفیان صخر بن حرب ؓ کے فضائل)

    6409

    حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ لَا يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ وَلَا يُقَاعِدُونَهُ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا نَبِيَّ اللهِ ثَلَاثٌ أَعْطِنِيهِنَّ، قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: عِنْدِي أَحْسَنُ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُهُ، أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، أُزَوِّجُكَهَا، قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: وَمُعَاوِيَةُ، تَجْعَلُهُ كَاتِبًا بَيْنَ يَدَيْكَ، قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: وَتُؤَمِّرُنِي حَتَّى أُقَاتِلَ الْكُفَّارَ، كَمَا كُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ: وَلَوْلَا أَنَّهُ طَلَبَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَاهُ ذَلِكَ، لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا قَالَ: «نَعَمْ»

    حکم : صحیح 6409

    عکرمہ نے کہا: ہمیں ابو زمیل نے حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: مسلمان نہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بات کرتے تھے نہ ان کے ساتھ بیٹھتے اٹھتے تھے۔اس پر انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ مجھے تین چیزیں عطا فر ما دیجیے ۔(تین چیزوں کے بارے میں میری درخواست قبول فرما لیجیے ۔)آپ نے جواب دیا :” ہاں ۔”کہا میری بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عرب کی سب سے زیادہ حسین و جمیل خاتون ہے میں اسے آپ کی زوجیت میں دیتا ہوں۔آپ نے فر مایا :”ہاں ۔”کہا: اور معاویہ (میرابیٹا ) آپ اسے اپنے پاس حاضر رہنے والا کا تب بنا دیجیے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :” ہاں۔ “پھر کہا: آپ مجھے کسی دستے کا امیر (بھی ) مقرر فرمائیں تا کہ جس طرح میں مسلمانوں کے خلاف لڑتا تھا اسی طرح کافروں کے خلا ف بھی جنگ کروں ۔آپ نے فرمایا :”ہاں۔”ابو زمیل نے کہا: اگر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں کا مطالبہ نہ کیا ہو تا تو آپ (از خود ) انھیں یہ سب کچھ عطا نہ فر ما تے کیونکہ آپ سے کبھی کو ئی چیز نہیں مانگی جا تی تھی مگر آپ (اس کے جواب میں) “ہاں” کہتے تھے۔

    • Islamic-Belief says:

      اس روایت کو اہل سنت کے قدماء علماء عرصہ ہوا رد کر چکے

      اس کو موضوع- منکر قرار دیا گیا ہے
      البانی نے مختصر صحیح مسلم میں لکھا ہے

      هذا من الأحاديث المشهورة بالإشكال، لاتفاقهم أن أبا سفيان إنما أسلم يوم فتح مكة، وأنه صلى الله عليه وسلم دخل على أم حبيبة قبل إسلام أبي سفيان، ولذلك ذهب ابن حزم إلى أن الحديث موضوع، واتهم به عكرمة بن عمار روايه عن أبي زميل، وأنكر ذلك عليه الحافظ عبد الغني المقدسي في “أفراد مسلم” (11 /، 1/ 70) وبالغ في الشناعة عليه، وأجاب عن الشبهة بأن أبا سفيان لما أسلم أراد بقوله “أزوجكها” تجديد النكاح … ! وذكر في الشرح عن ابن الصلاح نحوه، ثم ختم الشارح البحث بقوله: “قلت: وكل هذه الاحتمالات لا تخلو عن بعد، فالإشكال باق، والرواية غير خالية من الغلط والخلط في سياق. والله أعلم”. وأقول: إن عكرمة بن عمار وإن كان غير متهم في نفسه، فإنه ليس بالحافظ فقد اختلفوا فيه، فأورده الذهبي في “الضعفاء” وقال: “وثقه ابن معين، وضعفه أحمد”. وقال الحافظ في “التقريب”: “صدوق يغلط، وفي رواية عن يحيى بن أبي كثير اضطراب، ولم يكن له كتاب”. قلت: فمثله: لا يستحق هذا التكلف من تأويل حديثه للإبقاء عليه. وقد ذكر الذهبي في “الميزان” أنه حديث منكر.
      ———

      بہیقی نے سنن الکبری میں اس روایت پر لکھا ہے اس میں راوی ہے جو امام بخاری کے نزدیک متروک ہے لیکن امام مسلم نے اس سے روایت لکھی ہے
      وَتَرَكَهُ الْبُخَارِيُّ، وَكَانَ لَا يَحْتَجُّ فِي كِتَابِهِ الصَّحِيحِ بِعِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ
      بیہقی نے مزید لکھا ہے
      وَهَذَا الْحَدِيثُ فِي قِصَّةِ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْمَغَازِي عَلَى خِلَافِهِ، فَإِنَّهُمْ لَمْ يَخْتَلِفُوا فِي أَنَّ تَزْوِيجَ أُمَّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَانَ قَبْلَ رُجُوعِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابِهِ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَإِنَّمَا رَجَعُوا زَمَنَ خَيْبَرَ، فَتَزْوِيجُ أُمِّ حَبِيبَةَ كَانَ قَبْلَهُ وَإِسْلَامُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ كَانَ زَمَنَ الْفَتْحِ أَيْ فَتْحِ مَكَّةَ بَعْدَ نِكَاحِهَا بِسَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ، فَكَيْفَ يَصِحُّ أَنْ يَكُونَ تَزْوِيجُهَا بِمَسْأَلَتِهِ، وَإِنْ كَانَتْ مَسْأَلَتُهُ الْأُولَى إِيَّاهُ وَقَعَتْ فِي بَعْضِ خَرَجَاتِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَهُوَ كَافِرٌ حِينَ سَمِعَ نَعْيَ زَوْجِ أُمِّ حَبِيبَةَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَالْمَسْأَلَةُ الثَّانِيَةُ [ص:227] وَالثَّالِثَةُ وَقَعَتَا بَعْدَ إِسْلَامِهِ لَا يَحْتَمِلُ إِنْ كَانَ الْحَدِيثُ مَحْفُوظًا إِلَّا ذَلِكَ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ

      اہل مغازی کا اس حدیث کے خلاف اجماع ہے
      —–

      • وجاہت says:

        کچھ لوگ اس وجہ سے بھی اس حدیث کو منکر کہتے ہیں

        قرآن میں سورہ الاحزاب میں اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید نکاح کرنے سے منع فرمادیا تھا اور سورہ الاحزاب 7 ہجری میں نازل ہوئی تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم 8 ہجری میں ام حبیبہ رض سے نکاح کیسے فرماسکتے ہیں

        حکم قرآنی پرنبی کریم کاعمل بھی رہا۔اوراحزاب کی اس ممانعت کے بعدنکاح کا وقوع کیسے سمجھ آسکتا؟

        سورہ الاحزاب آیت نمبر 52

        لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعۡدُ وَ لَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَکَ حُسۡنُہُنَّ اِلَّا مَا مَلَکَتۡ یَمِیۡنُکَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ رَّقِیۡبًا ﴿٪۵۲﴾

        ترجمہ

        “اس کے بعد دوسری عورتیں تمہارے لیے حلال نہیں ہیں، اور نہ یہ جائز ہے کہ تم ان کے بدلے کوئی دوسری بیویاں لے آؤ، چاہے ان کی خوبی تمہیں پسند آئی ہو۔ (٤٣) البتہ جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں ہوں (وہ تمہارے لیے حلال ہیں) اور اللہ ہر چیز کی پوری نگرانی کرنے والا ہے۔”

        کیا یہ دلیل صحیح ہے

        • Islamic-Belief says:

          یہ دلیل صحیح ہے – مورخین کا کہنا ہے سن ٦ ہجری میں ام حبیبہ رضی الله عنہا سے نکاح ہوا
          اور اس وقت تک یہ آیات نازل ہو چکی تھیں
          اسی بنیاد پر صحیح بخاری کی ایک روایت کو میں نے رد کیا ہے

          ⇓ کیا رسول الله نے أميمة بنت النعمان نام کی کسی عورت سے شادی کی اور طلاق دی ؟
          http://www.islamic-belief.net/q-a/تاریخ-٢/
          ————-

  95. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی کیا یہ صحیح ہے کہ

    اگر امام مسلم نے زهری کے 90کے قریب روایات مین تفرد کی بات کی ھے تو اسپر بھی غور تو هونا چاهیے
    امام بخارى رح نے بعض تبراىء رافضيون سے بھی روایت لے لی اور امام بخارى كو يه علم هى نهين تها كه شيعه کے نزدیک جھوٹ بولنا بھت بڑے ثواب كا كام هے اسلیےء تاریخى جزءيات پر مشتمل روایات آج بھی عمیق تحقيق اور شديد تنقيد كى محتاج هين آج شیعه رجال کی کتب بھی تقیے کے پردے سے باھر آ چکی هین تو کیا رجال کی تحقيق پر نظر ثانى كى گنجایش ھے یا نھین

    • Islamic-Belief says:

      صحیح بات ہے- ہم یہی کہتے ہیں کہ شیعوں نے تقیہ کر کے اپنے عقائد پھیلا دیے مثلا عود روح کی روایت کو شیعہ زاذان اور المنھال بن عمرو نے ہی بیان کیا ہے البراء بن عازب رضی الله عنہ سے منسوب کیا ہے

  96. السلام عليكم :

    آپ حبل الله اس ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں تاہم ھر کسی کی پہنچ میں ھوں؟

  97. وجاہت says:

    بھائی ایک بات پوچھنی ہے کہ صحیح بخاری جو ایک مستند کتاب ہے احادیث کی – اس میں احادیث کی تعداد کتنی ہے کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ – سمجھ نہیں آتا کہ جس کتاب پر اجماع کی بات کی جاتی ہے اس کی احادیث کی تعداد تک کا صحیح علم نہیں – ابو شہر یار یہ سوچنے کا مقام ہے – کس منہ سے اس کے اجماع کی بات کی جاتی ہے

    ١.

    صلاح الدين خليل بن أيبك اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ

    وَقَالَ أخرجت فِي هَذَا الْكتاب من نَحْو سِتّ ماية ألف حَدِيث وصنفته فِي سِتّ عشرَة سنة وَجَعَلته حجَّة فِيمَا بيني وَبَين الله تَعَالَى

    http://shamela.ws/browse.php/book-6677#page-381

    یہاں ٦٠٠٠ احادیث کا ذکر ہے
    ———-

    ٢.

    بدر الدين ابومحمد محمود بن أحمد اپنی کتاب عمدة القاري شرح صحيح البخاري میں لکھتے ہیں کہ

    (الرَّابِعَة) جملَة مَا فِيهِ من الْأَحَادِيث المسندة سَبْعَة آلَاف ومائتان وَخَمْسَة وَسَبْعُونَ حَدِيثا بالأحاديث المكررة وبحذفها نَحْو أَرْبَعَة آلَاف حَدِيث وَقَالَ أَبُو حَفْص عمر بن عبد الْمجِيد الميانشي الَّذِي اشْتَمَل عَلَيْهِ كتاب البُخَارِيّ من الْأَحَادِيث سَبْعَة آلَاف وسِتمِائَة ونيف قَالَ واشتمل كِتَابه وَكتاب مُسلم على ألف حَدِيث ومائتي حَدِيث من الْأَحْكَام فروت عَائِشَة رَضِي الله تَعَالَى عَنْهَا من جملَة الْكتاب مِائَتَيْنِ ونيفا وَسبعين حَدِيثا لم تخرج غير الْأَحْكَام مِنْهَا إِلَّا يَسِيرا قَالَ الْحَاكِم فَحمل عَنْهَا ربع الشَّرِيعَة وَمن الْغَرِيب مَا فِي كتاب الْجَهْر بالبسملة لِابْنِ سعد إِسْمَاعِيل ابْن أبي الْقَاسِم البوشنجي نقل عَن البُخَارِيّ أَنه صنف كتابا أورد فِيهِ مائَة ألف حَدِيث صَحِيح

    http://shamela.ws/browse.php/book-5756#page-5

    —–

    ٣.

    امام نووی لکھتے ہیں کہ

    وقال الإمام النووي: جملةُ ما في صحيحِ البخاريّ من الأحاديثِ المسندةِ سبعةُ آلافٍ ومئتان وخمسة وسبعونَ حديثًا بالأحاديثِ المكرّرةِ، وبحذف المكررة نحوُ أربعةِ آلافٍ

    http://www.bukhari-pedia.net/book/matn_bukhari

    ——-

    ٤.

    ابن حجر عسقلاني اپنی کتاب هدي الساري مقدمة فتح الباري شرح صحيح البخاري میں لکھتے ہیں کہ

    فَجَمِيع مَا فِي صَحِيح البُخَارِيّ من الْمُتُون الموصولة بِلَا تَكْرِير على التَّحْرِير ألفا حَدِيث وسِتمِائَة حَدِيث وحديثان وَمن الْمُتُون الْمُعَلقَة المرفوعة الَّتِي لم يوصلها فِي مَوضِع آخر من الْجَامِع الْمَذْكُور مائَة وَتِسْعَة وَخَمْسُونَ حَدِيثا فَجَمِيع ذَلِك ألفا حَدِيث وَسَبْعمائة وَأحد وَسِتُّونَ حَدِيثا

    http://shamela.ws/browse.php/book-1673#page-475

    ——

    ٥.

    المناوي، محمد عبد الرؤوف بن علي بن زين العابدين اپنی کتاب اليواقيت والدرر في شرح نخبة میں لکھتے ہیں کہ

    عدد أَحَادِيث صَحِيح البُخَارِيّ

    قدم صَحِيح البُخَارِيّ على غَيره من الْكتب المصنفة فِي الحَدِيث.
    وَهُوَ – أَعنِي البُخَارِيّ – أول مُصَنف فِي الحَدِيث الْمُجَرّد، وَجُمْلَة مَا فِيهِ: سَبْعَة آلَاف حَدِيث ومائتان وَخَمْسَة وَسَبْعُونَ بالمكرر، وبحذفه أَرْبَعَة آلَاف. كَذَا قَالَه النَّوَوِيّ كَابْن الصّلاح لَكِن قَالَ الْمُؤلف: عددتها فبلغت بالمكرر – سوى المتابعات والمعلقات – سَبْعَة آلَاف وثلاثمائة وَسَبْعَة وَتسْعُونَ، وَبِدُون المكرر أَلفَيْنِ وَخَمْسمِائة وَثَلَاثَة عشر.

    http://shamela.ws/browse.php/book-5979#page-263

    ===========

    ابو شہر یار بھائی تعداد کے بارے میں وضاحت چاہیے – کس کی بات صحیح ہے اور کس کی غلط

    • Islamic-Belief says:

      آجکل جو شاملہ کا نسخہ ہے اس میں ٧٥٦٣ احادیث ہیں
      —–
      اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ کل تعداد ٧٠٠٠ سے اوپر ہے لیکن مکرارت نکال کر احادیث ٣٠٠٠ بنتی ہیں – انہی کو بار بار لا کر نئے زاویوں سے نتائج نکلے ہیں

      اب اس میں ابواب میں جو معلق ہیں ان کو بعض شامل کرتے ہیں بعض نکال دیتے ہیں – اس طرح لوگوں کے اقوال میں تعداد کا فرق لگتا ہے
      و الله اعلم
      ———

  98. وجاہت says:

    جس طرح صحیح بخاری کی احادیث کی تعداد پر مختلف اقوال ہیں اسی طرح صحیح مسلم پر بھی مختلف اقوال ہیں

    ١.

    امام ذھبی اپنی دو کتابوں سير أعلام النبلاء اور تاريخ الإسلام میں لکھتے ہیں کہ

    قال أحمد بن سلمة كنت مع مسلم في تأليف صحيحه خمس عشرة سنة قال وهو اثنا عشر ألف حديث

    http://shamela.ws/browse.php/book-10906#page-8055
    ——

    ٢.

    القسطنطيني الرومي الحنفي، مصطفي بن عبدالله اپنی کتاب كشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون میں لکھتے ہیں کہ

    وروى عن مسلم أن كتابه أربعة آلاف حديث أصول دون المكررات، وبالمكررات سبعة آلاف ومائتان وخمسة وسبعون

    http://shamela.ws/browse.php/book-2118#page-4118

    توجيه النظر إلى أصول الأثر میں الجزائري الدمشقي، طاهر بن صالح بن أحمد بھی لکھتے ہیں کہ

    http://shamela.ws/browse.php/book-5981#page-194
    ——

    ٣.

    الكردي الشهرزوري، أبو عمرو عثمان بن عبد الرحمن بن عثمان اپنی کتاب صيانة صحيح مسلم من الإخلال والغلط وحمايته من الإسقاط والسقط میں لکھتے ہیں کہ

    روينَا عَن أبي قُرَيْش الْحَافِظ رَحمَه الله وإيانا قَالَ كنت عِنْد أبي زرْعَة الرَّازِيّ فجَاء مُسلم بن
    الْحجَّاج فَسلم عَلَيْهِ وَجلسَ سَاعَة فتذاكرا فَلَمَّا أَن قَامَ قلت لَهُ هَذَا جمع أَرْبَعَة آلَاف حَدِيث فِي الصَّحِيح فَقَالَ أَبُو زرْعَة فَلِمَنْ ترك الْبَاقِي أَرَادَ وَالله أعلم إِن كِتَابه هَذَا أَرْبَعَة آلَاف حَدِيث أصُول دون المكررات

    http://shamela.ws/browse.php/book-6016#page-48

    امام نووی اپنی کتاب شرح النووي على مسلم میں بھی لکھتے ہیں

    http://shamela.ws/browse.php/book-1711#page-21

    • Islamic-Belief says:

      اس میں بھی وہی بات ہے کہ مکرارت شامل کریں تو اتنی ہے ورنہ اتنی تعداد ہے

      • وجاہت says:

        ابو شہر یار بھائی پوچھنا یہ ہے کہ صحیح مسلم کی احادیث کی تعداد کتنی ہے – صحیح قول کون سا ہے

        • Islamic-Belief says:

          ابن الصلاح نے کہا چار ہزار ہیں – آج کل شاملہ والے نسخہ میں ٣٠٣٣ ہیں
          و الله اعلم

  99. Aysha butt says:

    معاویہ رضی الله عنہ کے حوالے سے ایک روایت سنن ابی داود میں ہے کہ

    حدَّثنا عَمرُو بنُ عُثمانَ، حدَّثنا بقيةُ، عن بَحِيْرٍ، عن خالد، قال: وفد المقدام بن مَعدِي كَرِبَ وعمرو بنُ الأسودِ، ورَجُلٌ من بني أسدِ من أهل قِنَّسرِينَ إلى معاويَة بن أبي سفيانَ، فقال معاويةُ لِلمقدام: أعَلِمْتَ أن الحسنَ بنَ علي تُوفِّي؟ فرجَّعَ المِقدَامُ، فقال له رجل: أترَاها مُصِيبَةً؟ قال له: ولم لا أراها مُصيبةً وقد وضعه رسولُ الله – صلَّى الله عليه وسلم – في حَجرِه، فقال: “هذا مِنِّي وحُسينٌ مِنْ علي”؟! فقال الأسَديُّ: جمرةٌ أطفأها اللهُ عزَّ وجلَّ، قال: فقال المقدامُ: أما أنا، فلا أبرحُ اليومَ حتى أُغيِّظَكَ وأُسمِعَكَ ما تَكرَه، ثم قال: يا معاويةُ، إن أنا صدقَتُ فصدِّقني، وإن أنا كذبتُ فكذِّبْني، قال: أفْعَلُ: قال: فأنشُدُكَ بالله، هلْ سمعتَ رسولَ الله – صلَّى الله عليه وسلم – ينهى عن لبسِ الذَّهَبِ؟ قال: نَعَمْ. قال: فأنشُدكَ باللهِ، هل تَعْلَمُ أن رسولَ الله – صلَّى الله عليه وسلم – نهى عن لبسِ الحريرِ؟ قال: نَعَمْ. قال: فأنشُدُكَ بالله، هل تَعْلَمُ أن رسولَ الله – صلَّى الله عليه وسلم – نهى عن لبسِ جلود السَّباع والرُّكوب عليها؟ قال: نَعَمْ. قال: فواللهِ لقد رأيتُ هذا كُلَّه في بيتِك يا معاويةُ، فقال معاويةُ: قد علِمتُ أني لن أنجوَ مِنْكَ يا مقدامُ، قال خالدٌ: فأمر له معاويةُ بما لم يأمُرْ لِصاحبَيه، وفَرَضَ لابنِه في المئتينِ، ففرَّقها المقدامُ على أصحابه قال: ولم يُعطِ الأسديُّ أحداً شيئاً مما أخذَ، فبلغ ذلك معاويةَ، فقال:

    أما المقدامُ فرجلٌ كريمٌ بَسَطَ يدَه، وأما الأسديُّ فرجلٌ حسنُ الأمساكِ لشيئه

    Iska full tarjuma chahiye

    • Islamic-Belief says:

      ⇓ کیا معاویہ رضی الله عنہ نے حسن رضی اللہ کی وفات پر جشن منایا

      ⇓ حسن کی وفات پر جشن بنایا گیا
      http://www.islamic-belief.net/q-a/مشجرات-صحابہ/

      • Aysha butt says:

        Yhn ap ny purA tarjuma nahi diA

        • Islamic-Belief says:

          اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے

          ابوکبشہ سلولی کہتے ہیں ہم سے سہل بن حنظلیہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس آئے، انہوں نے آپ سے مانگا، آپ نے انہیں ان کی مانگی ہوئی چیز دینے کا حکم دیا اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان دونوں کے لیے خط لکھ دیں جو انہوں نے مانگا ہے، اقرع نے یہ خط لے کر اسے اپنے عمامے میں لپیٹ لیا اور چلے گئے لیکن عیینہ خط لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: محمد! کیا آپ چاہتے ہیں کہ اپنی قوم کے پاس ایسا خط لے کر جاؤں جو متلمس ۱؎ کے صحیفہ کی طرح ہو، جس کا مضمون مجھے معلوم نہ ہو؟ معاویہ نے ان کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو سوال کرے اس حال میں کہ اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے سوال سے بے نیاز کر دیتی ہو تو وہ جہنم کی آگ زیادہ کرنا چاہ رہا ہے”۔ (ایک دوسرے مقام پر نفیلی نے “جہنم کی آگ” کے بجائے “جہنم کا انگارہ” کہا ہے) ۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کس قدر مال آدمی کو غنی کر دیتا ہے؟ (نفیلی نے ایک دوسرے مقام پر کہا: غنی کیا ہے، جس کے ہوتے ہوئے سوال نہیں کرنا چاہیئے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اتنی مقدار جسے وہ صبح و شام کھا سکے”۔ ایک دوسری جگہ میں نفیلی نے کہا: اس کے پاس ایک دن اور ایک رات یا ایک رات اور ایک دن کا کھانا ہو، نفیلی نے اسے مختصراً ہم سے انہیں الفاظ کے ساتھ بیان کیا جنہیں میں نے ذکر کیا ہے۔

          • Aysha butt says:

            Ap ny kisi or hadith ka tarjuma de diya hai mn ne ope wale arabic matan ka manga hai jis mn ik shaks ne hassan r.a ko aag ka angara kha tha
            Or mukhtasiran bta dein yeh hadith zaif q hai…. Muje is sawal mn aara prh k samj nai ao

          • Islamic-Belief says:

            جی درست کہا
            ——
            خالد کہتے ہیں مقدام بن معدی کرب، عمرو بن اسود اور بنی اسد کے قنسرین کے رہنے والے ایک شخص معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام سے کہا: کیا آپ کو خبر ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا انتقال ہو گیا؟ مقدام نے یہ سن کر «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھا تو ان سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اسے کوئی مصیبت سمجھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں بٹھایا، اور فرمایا: “یہ میرے مشابہ ہے، اور حسین علی کے”۔ یہ سن کر اسدی نے کہا: ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا تو مقدام نے کہا: آج میں آپ کو ناپسندیدہ بات سنائے، اور ناراض کئے بغیر نہیں رہ سکتا، پھر انہوں نے کہا: معاویہ! اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کریں، اور اگر میں جھوٹ کہوں تو جھٹلا دیں، معاویہ بولے: میں ایسا ہی کروں گا۔ مقدام نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ معاویہ نے کہا: ہاں۔ پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے، پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال پہننے اور اس پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے۔ تو انہوں نے کہا: معاویہ! قسم اللہ کی میں یہ ساری چیزیں آپ کے گھر میں دیکھ رہا ہوں؟ تو معاویہ نے کہا: مقدام! مجھے معلوم تھا کہ میں تمہاری نکتہ چینیوں سے بچ نہ سکوں گا۔ خالد کہتے ہیں: پھر معاویہ نے مقدام کو اتنا مال دینے کا حکم دیا جتنا ان کے اور دونوں ساتھیوں کو نہیں دیا تھا اور ان کے بیٹے کا حصہ دو سو والوں میں مقرر کیا، مقدام نے وہ سارا مال اپنے ساتھیوں میں بانٹ دیا، اسدی نے اپنے مال میں سے کسی کو کچھ نہ دیا، یہ خبر معاویہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: مقدام سخی آدمی ہیں جو اپنا ہاتھ کھلا رکھتے ہیں، اور اسدی اپنی چیزیں اچھی طرح روکنے والے آدمی ہیں۔

            یہ ضعیف ہے
            http://www.islamic-belief.net/q-a/مشجرات-صحابہ/

  100. Aysha butt says:

    ,370359 musna abi shebeh kia sahih hai …. Hussan ko qatal.kia gya…. Or zeher diya gya

    • Islamic-Belief says:

      اس نمبر کی حدیث نہیں ہے
      ———
      37359
      حَدَّثَنَا – أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَرَجُلٌ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ نَعُودُهُ , فَجَعَلَ يَقُولُ لِذَلِكَ الرَّجُلِ: «سَلْنِي قَبْلَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي» , قَالَ: مَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ شَيْئًا , يُعَافِيكَ اللَّهُ , قَالَ: فَقَامَ فَدَخَلَ الْكَنِيفَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا ثُمَّ قَالَ: «مَا خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ حَتَّى لَفَظْتُ طَائِفَةً مِنْ كَبِدِي أُقَلِّبُهَا بِهَذَا الْعُودِ , وَلَقَدْ سُقِيتُ السُّمَّ مِرَارًا مَا شَيْءُ أَشَدُّ مِنْ هَذِهِ الْمَرَّةِ» , قَالَ: فَغَدَوْنَا عَلَيْهِ مِنَ الْغَدِ فَإِذَا هُوَ فِي السُّوقِ , قَالَ: وَجَاءَ الْحُسَيْنُ فَجَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ: يَا أَخِي , مَنْ صَاحِبُكَ؟ قَالَ: «تُرِيدُ قَتْلَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: «لَئِنْ كَانَ الَّذِي أَظُنُّ , لَلَّهُ أَشَدُّ نِقْمَةً , وَإِنْ كَانَ بَرِيئًا فَمَا أُحِبُّ أَنْ يُقْتَلَ بَرِيءٌ»
      ———-
      ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق
      المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ)

      شيخ ابن عون خرج له مسلم وفيه جهالة قال ابن معين لا يساوي شيئا
      سند میں عمير بن إسحاق مجہول ہے

      الکامل از ابن عدی میں ہے
      قَالَ عباس يعني يَحْيى بقوله لا يساوي شيئا أي أنه لا يعرف ولكن بن عون روى عَنْهُ فقلت ليحيى فلا يكتب حديثه قَالَ بلى
      ابن معین نے کہا مجہول ہے مت لکھو

  101. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی کیا یہ حدیث صحیح ہے

    صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ (بَابُ الدُّعَاءِ بِالْجِهَادِ وَالشَّهَادَةِ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ) صحیح بخاری: کتاب: جہاد کا بیان

    (باب : جہاد اور شہادت کے لئے مرد اور عورت دونوں کا دعاکرنا)

    2788

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ – وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ – فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطْعَمَتْهُ وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا البَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ، أَوْ: مِثْلَ المُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ ، شَكَّ إِسْحَاقُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهمْ، فَدَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ» – كَمَا قَالَ فِي الأَوَّلِ – قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ»، فَرَكِبَتِ البَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ البَحْرِ، فَهَلَكَتْ

    حکم : صحیح 2788

    ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا امام مالک سے‘ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا‘ آپ بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے ( یہ انس کی خالہ تھیں جو عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں ) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے جوئیں نکالنے لگیں‘ اس عرصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے‘ جب بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے ۔ ام حرام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے کے لئے دریا کے بیچ میں سوار اس طرح جارہے ہیں جس طرح بادشاہ تخت پرہوتے ہیں یا جیسے بادشاہ تخت رواں پر سوار ہوتے ہیں یہ شک اسحاق راوی کو تھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایئے کہ اللہ مجھے بھی انہیں میں سے کردے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کےلئے دعا فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکھ کر سوگئے‘ اس مرتبہ بھی آپ بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے ۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کی راہ میں غزوہ کے لئے جا رہے ہیں پہلے کی طرح‘ اس مرتبہ بھی فرمایا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے میرے لئے دعا کیجئے کہ مجھے بھی انہیں میں سے کردے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تو سب سے پہلی فوج میں شامل ہوگی ( جو بحری راستے سے جہاد کرے گی ) چنانچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ام حرام رضی اللہ عنہ نے بحری سفر کیا پھر جب سمندر سے باہر آئیں تو ان کی سواری نے انہیں نیچے گرادیا اوراسی حادثہ میں ان کی وفات ہوگئی

    —–

    اور یہ بھی بتا دیں کہ کیا ام حرام رضی اللہ عنہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی محرم تھیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے جوئیں نکالنے لگیں

    اگر محرم نہیں تھیں تو کیا ایک غیر محرم عورت ایسا کر سکتی ہے

    • Islamic-Belief says:

      احمد نے العلل میں کہا ہے

      قال عبد الله بن أحمد: سمعتُ أَبي يقول: أم حرام، روى عنها أنس بن مالك، وهي خالته غزت مع زوجها عبادة بن الصامت، وهي أم حرام بنت ملحان، أخت أم سليم. «العلل
      ام حرام ان سے انس بن مالک روایت کرتے ہیں اور یہ ان کی خالہ ہیں اور یہ عبادہ بن الصامت کی روجہ تھیں اور یہی ام حرام بنت ملحان ہیں جو ام سلیم کی بہن ہیں

      ——–

      صحیح بخاری کی تعلیق میں مصطفى البغا لکھتے ہیں

      یہ روایت محرم کے احکام نازل ہونے سے پہلے کی ہے

      فقد كان ذلك قبل أن يفرض الحجاب وهي خالة خادمه أنس رضي الله عنه وكانت العادة تقتضي المخالطة بين المخدوم وأهل الخادم
      کہا جاتا ہے کہ یہ حجاب کے احکام سے قبل کی بات ہے جب انس رضی الله عنہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے خادم تھے اور یہ چونکہ انس کی خالہ ہیں تو یہ کام خادمہ کے طور پر ہوا

      مسند الموطا الجوهری میں ہے
      قال الجوهري: «قال يونس، قال لنا عبد الله بن وهب: أم حرام إحدى خالات النبي صلى الله عليه وسلم من الرضاعة .. ولذلك استجاز النبي صلى الله عليه وسلم النوم في حجرها، وأن تفلي رأسه».
      عبد الله بن وھب نے کہا ام حرام نبی صلی الله علیہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں اور اس بنا پر نبی صلی الله علیہ وسلم ان کے حجرہ میں سوئے اور انہوں نے سر سے جوئیں نکالیں
      ——–

      روایت صحیح ہے کئی طرق سے ہے اس میں یہ بات کہ جوئیں نکالیں صرف ایک طرق میں ہیں جس میں إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ کا تفرد ہے

      سنن نسائی میں ہے
      أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ عِنْدَنَا، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَأبِي وَأُمِّي مَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ: “رَأَيْتُ قَوْمًا مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ” قُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: “فَإِنَّكِ مِنْهُمْ” ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ – يَعْنِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ -، قُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: “أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ” فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَرَكِبَ الْبَحْرَ وَرَكِبَتْ مَعَهُ، فَلَمَّا خَرَجَتْ قُدِّمَتْ لَهَا بَغْلَةٌ، فَرَكِبَتْهَا، فَصَرَعَتْهَا فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا

      سنن ابو داود میں ہے
      حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُخْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ الرُّمَيْصَاءِ قَالَتْ: نَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَيْقَظَ وَكَانَتْ تَغْسِلُ رَأْسَهَا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَضْحَكُ مِنْ رَأْسِي؟ قَالَ: “لَا” وَسَاقَ هَذَا الْخَبَرَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: “الرُّمَيْصَاءُ أُخْتُ أُمِّ سُلَيْمٍ مِنَ الرَّضَاعَةِ”

      مسند احمد میں ہے
      حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: اتَّكَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ابْنَةِ مِلْحَانَ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَضَحِكَ، فَقَالَتْ: مِمَّ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: «مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ»، قَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ»، فَنَكَحَتْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ: فَرَكِبَتْ فِي الْبَحْرِ مَعَ ابْنَةِ قَرَظَةَ، حَتَّى إِذَا هِيَ قَفَلَتْ، رَكِبَتْ دَابَّةً لَهَا بِالسَّاحِلِ، فَوَقَصَتْ بِهَا، فَسَقَطَتْ، فَمَاتَتْ

      یہ اسناد صحیح ہیں اور ان میں جوئیں نکالنے کا ذکر نہیں ہے

  102. Naim says:

    اذاأضل أحدكم شيأ أراد أحدكم عونا و هو بأرض ليس بها أنيس فليقل يا عبادالله أغيثوني و قد جرب
    المعجم الطبراني ج١٧ص١٧
    پلیز اس روایت کے ضعيف ہونے کے وجہ بیان کیجے
    جزاکم اللہ خيرا

    • Islamic-Belief says:

      مجمع الزوائد ومنبع الفوائد أز أبو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان الهيثمي (المتوفى: 807هـ) میں لکھتے ہیں

      رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ، إِلَّا أَنَّ زَيْدَ بْنَ عَلِيٍّ لَمْ يُدْرِكْ عُتْبَةَ.
      اس کی سند منقطع ہے

  103. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی کیا اس حدیث کا ترجمہ صحیح ہے

    عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى انْطَلَقْنَا إِلَى حَائِطٍ يُقَالُ لَهُ الشَّوْطُ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطَيْنِ فَجَلَسْنَا بَيْنَهُمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ اجْلِسُوا هَا هُنَا ‏”‏‏.‏ وَدَخَلَ وَقَدْ أُتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ، فَأُنْزِلَتْ فِي بَيْتٍ فِي نَخْلٍ فِي بَيْتٍ أُمَيْمَةُ بِنْتُ النُّعْمَانِ بْنِ شَرَاحِيلَ وَمَعَهَا دَايَتُهَا حَاضِنَةٌ لَهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏”‏ هَبِي نَفْسَكِ لِي ‏”‏‏.‏ قَالَتْ وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ‏.‏ قَالَ فَأَهْوَى بِيَدِهِ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهَا لِتَسْكُنَ فَقَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ‏.‏ فَقَالَ ‏”‏ قَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ ‏”‏‏.‏ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ ‏”‏ يَا أَبَا أُسَيْدٍ اكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا‏

    صحیح بخاری

    ان سے حمزہ بن ابی اسید نے اور ان سے ابواسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر نکلے اور ایک باغ میں پہنچے جس کا نام ” شوط “ تھا ۔ جب وہاں جا کر اور باغوں کے درمیان پہنچے تو بیٹھ گئے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ یہیں بیٹھو ، پھر باغ میں گئے ، جو نیہ لائی جا چکی تھیں اور انہیں کھجور کے ایک گھر میں اتارا ۔ اس کا نام امیمہ بنت نعمان بن شراحیل تھا ۔ ان کے ساتھ ایک دایہ بھی ان کی دیکھ بھال کے لیے تھی ۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو فرمایا کہ اپنے آپ کو میرے حوالے کر دے ۔ اس نے کہا کیا کوئی شہزادی کسی عام آدمی کے لیے اپنے آپ کو حوالہ کر سکتی ہے ؟ بیان کیا کہ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا شفقت کا ہاتھ ان کی طرف بڑھا کر اس کے سر پر رکھا تو اس نے کہا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تم نے اسی سے پناہ مانگی جس سے پناہ مانگی جاتی ہے ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باہر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا ، ابواسید ! اسے دو رازقیہ کپڑے پہنا کر اسے اس کے گھر پہنچا آؤ

    یہاں

    جو نیہ لائی جا چکی تھیں اور انہیں کھجور کے ایک گھر میں اتارا ۔ اس کا نام امیمہ بنت نعمان بن شراحیل تھا

    کن عربی الفاظ کا ترجمہ ہے – یہاں بھی ڈنڈی ماری گئی ہے ترجمہ میں

    اب انگلش ترجمہ دیکھیں

    Narrated Abu Usaid:

    We went out with the Prophet (pbuh) to a garden called Ash-Shaut till we reached two walls between which we sat down. The Prophet (pbuh) said, “Sit here,” and went in (the garden). The Jauniyya (a lady from Bani Jaun) had been brought and lodged in a house in a date-palm garden in the home of Umaima bint An- Nu`man bin Sharahil, and her wet nurse was with her. When the Prophet (pbuh) entered upon her, he said to her, “Give me yourself (in marriage) as a gift.” She said, “Can a princess give herself in marriage to an ordinary man?” The Prophet (pbuh) raised his hand to pat her so that she might become tranquil. She said, “I seek refuge with Allah from you.” He said, “You have sought refuge with One Who gives refuge. Then the Prophet (pbuh) came out to us and said, “O Abu Usaid! Give her two white linen dresses to wear and let her go back to her family

    اب یہاں یہ ہے

    The Jauniyya (a lady from Bani Jaun) had been brought and lodged in a house in a date-palm garden in the home of Umaima bint An- Nu`man bin Sharahil, and her wet nurse was with her.

    http://www.hadith-international.com/urd/nodes/view/3507

    جو عورت لائی گئی اس کا نام جونیہ ہے اور اس کو امیمہ بنت نعمان بن شراحیل کے گھر لایا گیا – لیکن اردو ترجمہ میں جونیہ کو ہی امیمہ بنت نعمان بن شراحیل کہنے کی کوشش کی گئی

    اس حدیث میں یہ خاتون میزبان ھے جس کے باغ میں جونیہ عورت اتاری گئ ھے

    لیکن اس سے اگلی حدیث میں یہ امیمہ بنت النعمان خود دلہن تھی ،گویا اب جونیہ ایک مجھول چیز بن گئ ھے اور اس کی میزبان امیمہ خود بیوی بن گئ ھے

    http://www.hadith-international.com/urd/nodes/view/3508

    اس پر ایک اور مسلہ بھی کھڑا ہوتا ہے کہ یہ امیمہ بنت النعمان مدینے کی رھنے والی انصاری خاتون تھی ، حضور صلی الله وسلم کو دس سال ھو گئے تھے مدینے میں اور آپ نے 20 عیدیں پڑھائی تھیں جن میں عورتوں کو بھی جمع کیا جاتا تھا اور رسول اللہ عورتوں سے خصوصی خطاب کیا کرتے تھے ، کیا وہ انصاری عورت نبی صلی الله وسلم کو پہچانتی نہیں تھی کہ اس نے اعوذ باللہ کہہ کر نبی سے اللہ کی پناہ مانگ لی یا اس کو یہ تک نہیں بتایا گیا تھا کہ اس کی شادی کس ھستی سے کی جا رھی ھے ؟ نیز اس کا یہ کہنا کہ کوئی ملکہ ایک عام شخص کے سپرد اپنا آپ کیسے کر سکتی ھے یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ کہیں دور دراز سے بلوائی گئ تھی اور سارے رستے اسے کسی نے یہ تک بتانے کی تکیلف گوارہ نہیں کی کہ اسے کیا سعادت حاصل ھونے والی ھے ؟ ،جیسا کہ کہانی گھڑنے والوں نے معذرت پیش کی ھے کہ وہ حضور کو جانتی نہیں تھی ؟ اور اگر اسی امیمہ بنت النعمان الانصاریہ سے نکاح ھوا تھا تو اس دن تو انصار مین عید کا دن ھونا چاھیئے تھا کہ نبی کے ساتھ ان کو رشتہ داری کا شرف حاصل ھو رھا تھا ،، پھر یہ لاوارثوں کی طرح عورت کو اٹھوا کر کسی باغ مین ملنے کا کیا مطلب ؟ کیا امیمہ کے باپ کے گھر سے ڈولی نہیں اٹھ سکتی تھی ؟

    اس کے نام أَسْمَاءَ بِنْتَ النُّعْمَانِ الْجُونِيَّةَ ہو گیا

    (حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْغَسِيلِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ بَدْرِيًّا ، قَالَ : تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ أَسْمَاءَ بِنْتَ النُّعْمَانِ الْجُونِيَّةَ ، فَأَرْسَلَنِي فَجِئْتُ بِهَا ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ ، أَوْ عَائِشَةُ لِحَفْصَةَ : اخْضِبِيهَا أَنْتِ وَأَنَا أُمَشِّطُهَا ، فَفَعَلْنَ ، ثُمَّ قَالَتْ لَهَا إِحْدَاهُمَا : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ مِنَ الْمَرْأَةِ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ أَنْ تَقُولَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ وَأَغْلَقَ الْبَابَ وَأَرْخَى السِّتْرَ مَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا ، فَقَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، فَتَالَ بِكُمِّهِ عَلَى وَجْهِهِ فَاسْتَتَرَ بِهِ ، وَقَالَ : ” عُذْتِ مُعَاذًا ” ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ . قَالَ أَبُو أُسَيْدٍ : ثُمَّ خَرَجَ عَلَيَّ ، فَقَالَ : ” يَا أَبَا أُسَيْدٍ ، أَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا وَمَتِّعْهَا بِرَازِقِيَّتَيْنِ ، يَعْنِي كِرْبَاسَتَيْنِ ” ، فَكَانَتْ تَقُولُ : دَعُونِي الشَّقِيَّةَ

    ابی ایسد الساعدیؓ فرماتے ھیں کہ حضورﷺ نے اسماء بنت النعمان سے شادی کی تو مجھے لینے بھیجا میں لے کر آیا تو حفصہؓ نے عائشہؓ سے کہا یا عائشہؓ نے حضرت حفصہؓ سے کہا کہ تو اس کو خضاب لگا اور میں اس کو کنگھی کرتی ھوں تو دونوں نے اپنا اپنا کام کیا پھر ان دونوں میں سے ایک نے اس سے کہا کہ اللہ کے نبی جب کسی عورت کی خلوت میں داخل ھوں تو آپ کو یہ بہت اچھا لگتا ھے کہ وہ عورت کہے کہ اعوذ باللہ منک تو جب رسول اللہ ﷺ اس عورت کی خلوت میں گئے اور پردہ کھینچا تو اس نے کہا کہ آپ سے اللہ کی پناہ چاھتی ھوں

    گویا اس مدنی عورت کو عربی تک نہیں آتی تھی کہ وہ یہ سمجھ سکتی کہ جب کسی سے اللہ کی پناہ چاھی جاتی ھے تو اس کا کیا مطلب ھوتا ھے

    http://library.islamweb.net/hadith/display_hbook.php?bk_no=82&hid=10104&pid=44515

    کیا اس حدیث کی روشنی میں

    کیا بیوی اگر شوھر کو اللہ کا واسطہ دے کر حقِ زوجیت سے روکے تو شوھر کو اسے طلاق دے دینی چاھیئے ؟

    کیا شوھر پر لازم ھے کہ وہ اس کو اپنی ذات سے اللہ کی پناہ دیتے ھوئے فارغ کر دے ؟

    کیا نبئ کریم صلی الله وسلم کو سورہ التحریم میں شھد کی حرمت والے واقعے میں نہیں کہا گیا تھا کہ آپ کا عمل چونکہ لوگوں کے لئے ایک قانون کی حیثیت رکھتا ھے لہذا آپ کوئی ایسا عمل مت کریں جسے بعد والے قانون سمجھیں جبکہ اللہ کے نزدیک وہ شریعت کا قانون نہ ھو ؟

    پلیز وضاحت کر دیں

    • Islamic-Belief says:

      وضاحت کیا کریں – پورا واقعہ ہی معمہ ہے

      میں ابھی تک یہ نہیں جان سکا کہ اس قصہ کو گھڑنے کی وجہ کیا ہے ؟ اس روایت کا کوئی سیاسی مقصد تھا جو معلوم نہیں ہوا

  104. anum shoukat says:

    یوسف علیہ السلام مصر کے بادشاہ تھے یا وزیر خزانہ حقیقت کیا ہے؟ کیا مشرکانہ حکومت کا حصہ بن کر عہدہ لینا جائز ہے؟

    • Islamic-Belief says:

      یوسف علیہ السلام مشرک بادشاہ کے وزیر تھے جو وزیر خوراک تھے
      اس سے دلیل ہوئی عہدہ لیا جا سکتا ہے جس میں ایمان پر زد نہ آئے

  105. shahzad khan says:

    Sunnan e Abu Dawood Hadees # 2033

    حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ:‏‏‏‏ مَسْجِدِ الْحَرَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَسْجِدِي هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى .

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کجاوے صرف تین ہی مسجدوں کے لیے کسے جائیں: مسجد الحرام، میری اس مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) اور مسجد اقصی کے لیے ۔
    بھائی تحقیق چاہیے ۔۔اس میں مسجد اقصیٰ کا نام ہے

  106. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی کچھ چیزیں لکھنی اور کہنی بہت مشکل ہوتی ہیں جیسا کہ آپ نے امیمہ بنت نعمان بن شراحیل والی تحقیق میں اوپر کہا

    ——
    وضاحت کیا کریں – پورا واقعہ ہی معمہ ہے

    میں ابھی تک یہ نہیں جان سکا کہ اس قصہ کو گھڑنے کی وجہ کیا ہے ؟ اس روایت کا کوئی سیاسی مقصد تھا جو معلوم نہیں ہوا

    ——

    بلکل اسی طرح کیا ہم ان احادیث کے بارے میں بھی کہہ سکتے ہیں

    سنن أبي داؤد: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ مَنْ حَرَّمَ بِهِ) سنن ابو داؤد: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

    (باب: رضاعت کبیر سے حرمت کے قائلین کا استدلال)

    2061

    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ كَانَ تَبَنَّى سَالِمًا، وَأَنْكَحَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا، وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ, دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَوُرِّثَ مِيرَاثَهُ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى فِي ذَلِكَ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ- إِلَى قَوْلِهِ- فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ}[الأحزاب: 5]، فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ، فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ, كَانَ مَوْلًى وَأَخًا فِي الدِّينِ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ، ثُمَّ الْعَامِرِيِّ -وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ-، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا، وَكَانَ يَأْوِي مَعِي وَمَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ فِي بَيْتٍ وَاحِدٍ، وَيَرَانِي فُضْلًا، وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَكَيْفَ تَرَى فِيهِ؟ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >أَرْضِعِيهِ<. فَأَرْضَعَتْهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ، فَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِي اللَّهم عَنْهَا تَأْمُرُ بَنَاتِ أَخَوَاتِهَا، وَبَنَاتِ إِخْوَتِهَا، أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَةُ أَنْ يَرَاهَا، وَيَدْخُلَ عَلَيْهَا -وَإِنْ كَانَ كَبِيرًا- خَمْسَ رَضَعَاتٍ، ثُمَّ يَدْخُلُ عَلَيْهَا، وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، حَتَّى يَرْضَعَ فِي الْمَهْدِ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ: وَاللَّهِ مَا نَدْرِي, لَعَلَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ دُونَ النَّاسِ!

    حکم : صحیح 2061

    امہات المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس نے سالم کو اپنا متبنی ( منہ بولا بیٹا ) بنایا ہوا تھا اور اس سے اپنی بھتیجی ہند دختر ولید بن عتبہ بن ربیعہ کا نکاح کر دیا تھا ۔ وہ ایک انصاری خاتون کا آزاد کر دو غلام تھا جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ کو اپنا متبنی بنایا تھا اور جاہلیت کا یہ دستور تھا کہ جسے کوئی اپنا متبنی بنا لیتا تو لوگ اس کو اسی کی نسبت سے پکارا کرتے تھے اور وہ ( اپنے منہ بولے باپ کا ) وارث بھی بنتا تھا ، حتیٰ کہ اللہ عزوجل نے اس بارے میں یہ حکم نازل فرمایا کہ «ادعوهم لآبائهم إلى قوله : فإخوانكم في الدين ومواليكم» ” انہیں ان کے حقیقی باپوں کی نسبت سے پکارا کرو ۔ اگر وہ معلوم نہ ہوں تو یہ تمہارے دینی بھائی اور مولیٰ ہیں ۔ “ چنانچہ انہیں ان کے باپوں کی طرف لوٹا دیا گیا اور جس کا باپ معلوم نہ ہوا وہ مولیٰ اور دینی بھائی کہلانے لگا ۔ الغرض ! ( ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی ) سہلہ بنت سہیل بن عمرو قرشی ، عامری ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ) آئی اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! ہم سالم کو اپنا بیٹا ہی سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا رہا ہے اور مجھے ( گھر میں عام حالت میں ) ایک کپڑے میں دیکھتا رہا ہے ۔ ( کبھی سر کھلا ، تو کبھی پنڈلیاں بھی کھل گئیں وغیرہ ) اور اللہ عزوجل نے ایسے لوگوں کے بارے میں جو حکم نازل فرمایا ہے وہ آپ جانتے ہی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس صورت میں کیا فرماتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا ” اس کو ( اپنا ) دودھ پلا دو ۔ “ چنانچہ اس نے اس کو پانچ رضعے ( پانچ بار ) دودھ پلا دیا ۔ اور وہ اس طرح اس کے رضاعی بیٹے کی طرح ہو گیا ۔ سو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس واقعہ کی بنا پر اپنی بھانجیوں اور بھتیجیوں سے کہا کرتی تھیں کہ فلاں کو پانچ رضعے ( پانچ بار ) دودھ پلا دو ۔ جس کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خواہش ہوتی کہ وہ ان کو دیکھ سکے اور ان کے سامنے آ سکے ۔ خواہ وہ بڑی عمر کا بھی ہوتا ۔ چنانچہ وہ اس کے بعد ان کے سامنے آ جایا کرتا تھا ۔ ( اور یہ اس سے پردہ نہ کرتیں ) مگر ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر تمام امہات المؤمنین نے اس کو قبول نہیں کیا کہ ایسی رضاعت کی بنا پر کوئی شخص ان کے سامنے آئے ( اور وہ اس سے پردہ نہ کریں ) الا یہ کہ اس نے پالنے میں ( دو سال کی عمر کے دوران میں ) دودھ پیا ہوتا ۔ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : قسم اللہ کی ! ہمیں نہیں معلوم ، شاید یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سالم کے لیے بمقابلہ دوسرے لوگوں کے خاص رخصت تھی ۔

    http://mohaddis.com/View/Abu-Daud/2061
    ————————-

    صحيح مسلم: كِتَابُ الرِّضَاعِ (بَابُ رِضَاعَةِ الْكَبِيرِ) صحیح مسلم: کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل

    (باب: بڑے کی رضاعت)

    3600

    حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ وَهُوَ حَلِيفُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ»، قَالَتْ: وَكَيْفَ أُرْضِعُهُ؟ وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ»، زَادَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ: وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

    حکم : صحیح 3600

    عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں سالم رضی اللہ عنہ کے گھر آنے کی بنا پر (اپنے شوہر) ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے میں (تبدیلی) دیکھتی ہوں ۔۔ حالانکہ وہ ان کا حلیف بھی ہے ۔۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اسے دودھ پلا دو۔" انہوں نے عرض کی: میں اسے کیسے دودھ پلاؤں؟ جبکہ وہ بڑا (آدمی) ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: "میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ بڑا آدمی ہے۔" عمرو نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: اور وہ (سالم) بدر میں شریک ہوئے تھے۔ اور ابن ابی عمر کی روایت میں ہے: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔" (آپ کا مقصود یہ تھا کہ کسی برتن میں دودھ نکال کر سالم رضی اللہ عنہ کو پلوا دیں۔)

    http://mohaddis.com/View/Muslim/3600
    ————-

    صحيح مسلم: كِتَابُ الرِّضَاعِ (بَابُ رِضَاعَةِ الْكَبِيرِ) صحیح مسلم: کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل

    (باب: بڑے کی رضاعت)

    3601

    وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَالِمًا، مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ كَانَ مَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ وَأَهْلِهِ فِي بَيْتِهِمْ، فَأَتَتْ – تَعْنِي ابْنَةَ سُهَيْلٍ – النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ سَالِمًا قَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ. وَعَقَلَ مَا عَقَلُوا. وَإِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْنَا. وَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّ فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا. فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ، وَيَذْهَبِ الَّذِي فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ» فَرَجَعَتْ فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُهُ. فَذَهَبَ الَّذِي فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ

    حکم : صحیح 3601

    ایوب نے ابن ابی مُلیکہ سے، انہوں نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ سالم رضی اللہ عنہ، ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ کے ساتھے ان کے گھر ہی میں (قیام پذیر) تھے۔ تو (ان کی اہلیہ) یعنی (سہلہ) بنت سہیل رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: سالم مردوں کی (حد) بلوغت کو پہنچ چکا ہے اور وہ (عورتوں کے بارے میں) وہ سب سمجھنے لگا ہے جو وہ سمجھتے ہیں اور وہ ہمارے ہاں (گھر میں) آتا ہے اور میں خیال کرتی ہوں کہ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے دل میں اس سے کچھ (ناگواری) ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "تم اسے دودھ پلا دو، اس پر حرام ہو جاؤ گی اور وہ (ناگواری) دور ہو جائے گی جو ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے دل میں ہے۔" چنانچہ وہ دوبارہ آپ کے پاس آئی اور کہا: میں نے اسے دودھ پلوا دیا ہے تو (اب) وہ ناگواری دور ہو گئی جو ابوحذیفہ کے دل میں تھی۔

    http://mohaddis.com/View/Muslim/3601
    ————–

    صحيح مسلم: كِتَابُ الرِّضَاعِ (بَابُ رِضَاعَةِ الْكَبِيرِ) صحیح مسلم: کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل

    (باب: بڑے کی رضاعت)

    3604

    وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، – وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ -، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ نَافِعٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ لِعَائِشَةَ: وَاللهِ مَا تَطِيبُ نَفْسِي أَنْ يَرَانِي الْغُلَامُ قَدِ اسْتَغْنَى عَنِ الرَّضَاعَةِ، فَقَالَتْ: لِمَ، قَدْ جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ إِنِّي لَأَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ»، فَقَالَتْ: إِنَّهُ ذُو لِحْيَةٍ فَقَالَ: «أَرْضِعِيهِ يَذْهَبْ مَا فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ»، فَقَالَتْ: وَاللهِ مَا عَرَفْتُهُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ

    حکم : صحیح 3604

    بُکَیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حمید بن نافع سے سنا وہ کہہ رہے تھے، میں نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہہ رہی تھیں: اللہ کی قسم! میرے دل کو یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ مجھے کوئی ایسا لڑکا دیکھے جو رضاعت سے مستغنی ہو چکا ہے۔ انہوں نے پوچھا: کیوں؟ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھیں، انہوں نے عرض کی تھی: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں سالم کے (گھر میں) داخلے کی وجہ سے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ناگواری سی محسوس کرتی ہوں، کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اسے دودھ پلا دو۔" اس نے کہا: وہ تو داڑھی والا ہے۔ آپ نے فرمایا:"اسے دودھ پلا دو، اس سے وہ ناگواری ختم ہو جائے گی جو ابوحذیفہ کے چہرے پر ہے۔" (سہلہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اللہ کی قسم! (اس کے بعد) میں نے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر (کبھی) ناگواری محسوس نہیں کی۔

    http://mohaddis.com/View/Muslim/3604
    —–

    • Islamic-Belief says:

      سالم والے واقعہ کو خاص کہا جاتا ہے

      اپ نے کہا
      اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ رخصت صرف سالم رضی اللہ عنہ کے لئے تھی تو اس پر دوسرا کہے گا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کہاں فرمایا کہ یہ رخصت سالم رضی اللہ عنہ کے لئے ہے – اگر ایسا ہے تو اس کا ثبوت کہاں ہے
      جواب
      خاص جب متعین ہوتا ہے تو روایت میں لکھا نہیں ہوتا قرائن سے اندازہ لگا کر فقہاء خاص یا عام کرتے ہیں

      ——- ===========

      لیکن راقم کہتا ہے روایت کے الفاظ
      ——
      سو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس واقعہ کی بنا پر اپنی بھانجیوں اور بھتیجیوں سے کہا کرتی تھیں کہ فلاں کو پانچ رضعے ( پانچ بار ) دودھ پلا دو ۔ جس کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خواہش ہوتی کہ وہ ان کو دیکھ سکے اور ان کے سامنے آ سکے ۔
      —–

      ام المومنین رضی الله عنہا کی ذات اقدس پر افتری ہے

      سنن الکبری البیہقی میں ہے

      كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَأْمُرُ بَنَاتِ أَخِيهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَةُ أَنْ يَرَاهَا وَيَدْخُلُ عَلَيْهَا خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَيَدْخُلُ عَلَيْهَا وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ مِنَ النَّاسِ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ حَتَّى يُرْضِعْنَ فِي الْمَهْدِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَاللهِ مَا نَرَى لَعَلَّهَا رُخْصَةٌ لِسَالِمٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ النَّاسِ

      عائشہ رضی الله عنہا اپنی بھتیجیوں کو حکم کرتیں کہ وہ (کسی شخص کو) پانچ بار دودھ پلا دیں جس کو وہ چاہتییں کہ ان کے پاس آئیں اور حجرہ میں داخل ہوں ، پس وہ داخل ہوتے اور ام سلمہ اور باقی ازواج رسول اس پر کہتیں کہ یہ رضاعت تو پالنے (پنگوڑے) میں ( پیدائش سے دو سال کی مدت) ہی ہو سکتی ہے اور عائشہ سے کہتیں کہ ہم نہیں سمجھتیں کہ یہ رخصت سالم کے سوا رسول الله نے کسی اور کو دی

      یہ الفاظ سنن الکبری از البیہقی، مسند احمد اور سنن ابو داود میں بیان ہوئے ہیں- یہ اضافہ راوی امام الزہری یا عروہ بن زبیر کا جملہ ہے- یہ اضافہ باقی راوی بیان نہیں کرتے

      سنن الکبری از البیہقی کی سند الليث بن سعد عن عقيل بن خالد الأيلي عَنِ ابْنِ شِهَابٍ سے ہے

      کتاب ميزان الاعتدال في نقد الرجال از الذھبی کے مطابق

      وقال أحمد بن حنبل: ذكر عند يحيى القطان إبراهيم بن سعد وعقيل، فجعل كأنه يضعفهما

      احمد کہتے ہیں يحيى القطان سے عقیل اور ابراہیم بن سعد کا ذکر ہوا انہوں نے ایسا کیا کہ گویا دونوں ضعیف ہیں

      ابو داود میں بھی یہ اضافہ بیان ہوا ہے جہاں اسکی سند میں عنبسة بن خالد الأموي ہے امام احمد کہتے

      أي شئ خرج علينا من عنبسة؟ هل روى عنه غير أحمد بن صالح

      کوئی سی ایسی چیز ہے جو عنبسة نے بیان کی اور اس سے احمد بن صالح کے سوا اور کون ہے جو روایت کرے؟

      يحيى بن بكير عنبسة کو مجنون أحمق کہتے ہیں (ميزان الاعتدال في نقد الرجال از الذھبی ) اور تاریخ الاسلام از الذھبی کے مطابق یحیی بن بکیر کہتے ما كَانَ أهلا للأخذ عَنْهُ اس قابل نہیں کہ اس سے اخذ کیا جائے

      یہ اضافہ مسند احمد میں ابن أخي الزهري کی سند سے بھی آیا ہے جس کا نام محمد بن عبد الله بن مسلم ہے جو مختلف فيه ہے ابن معين اس کو ضعیف کہتے ہیں اور المروذي کے مطابق امام احمد ضعیف گردانتے تھے

      یعنی عائشہ رضی الله عنہا سے منسوب یہ عمل صرف امام الزہری کی سند سے ہے جو تین راویوں نے بیان کیا ہے اور تینوں اتنے مظبوط نہیں کہ اس کو قبول کیا جائے – البتہ لوگوں نے اس اضافہ کو شروحات میں بیان کیا ہے اس کی تاویلات کی ہیں لیکن یہ اضافہ اوٹ پٹانگ قسم کی بات ہے –

      • وجاہت says:

        آپ نے کہا کہ

        —–
        خاص جب متعین ہوتا ہے تو روایت میں لکھا نہیں ہوتا قرائن سے اندازہ لگا کر فقہاء خاص یا عام کرتے ہیں
        —–

        بھائی مجھے اس حدیث یاد نہیں حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ایک صحابی نے عید کی نماز سے پہلے قربانی کر دی اور حضور صلی الله علیہ وسلم کو عذر پیش کیا تو آپ نے کہا کہ یہ صرف اس کے لئے ہے

        یہنی اس کو خاص متعین کیا

        اس لئے ابو شہر یار بھائی یہ ممکن نہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم اتنا بڑا حکم دے رہے ہیں جو قرآن کے بھی خلاف ہے اور حضرت عائشہ رضی الله کی اپنی دوسری پیش کردہ حدیث کے بھی خلاف ہے

        دوسری طرف وہ خود حدیث بیان کر رہی ہیں کہ

        صحيح مسلم: كِتَابُ الرِّضَاعِ (بَابُ إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ) صحیح مسلم: کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل

        (باب: رضاعت بھوک ہی سے (معتبر )ہے)

        3606

        حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدِي رَجُلٌ قَاعِدٌ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، قَالَتْ: فَقَالَ: «انْظُرْنَ إِخْوَتَكُنَّ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ

        حکم : صحیح 3606

        ابواحوص نے ہمیں اشعث سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، اور انہوں نے مسروق سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میرے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ یہبات آپ پر گراں گزری، اور میں نے آپ کے چہرے پر غصہ دیکھا، کہا: تو میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! یہ رضاعت (کے رشتے سے) میرا بھائی ہے، کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “(تم خواتین) اپنے رضاعی بھائیوں (کے معاملے) کو دیکھ لیا کرو (اچھی طرح غور کر لیا کرو) کیونکہ رضاعت بھوک ہی سے (معتبر) ہے۔

        یہاں حضور صلی الله علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی الله کو اپنے رضاعی بھائیوں کے معاملے میں مزید تحقیق کا کہہ رہے ہیں

        دوسری طرف ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس جنہوں نے سالم کو اپنا متبنی ( منہ بولا بیٹا ) بنایا ہوا تھا اور اس سے اپنی بھتیجی ہند دختر ولید بن عتبہ بن ربیعہ کا نکاح کر دیا تھا ۔ وہ ایک انصاری خاتون کا آزاد کر دو غلام تھا جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ کو اپنا متبنی بنایا تھا اور جاہلیت کا یہ دستور تھا کہ جسے کوئی اپنا متبنی بنا لیتا تو لوگ اس کو اسی کی نسبت سے پکارا کرتے تھے اور وہ ( اپنے منہ بولے باپ کا ) وارث بھی بنتا تھا ، حتیٰ کہ اللہ عزوجل نے اس بارے میں یہ حکم نازل فرمایا کہ «ادعوهم لآبائهم إلى قوله : فإخوانكم في الدين ومواليكم» ” انہیں ان کے حقیقی باپوں کی نسبت سے پکارا کرو ۔ اگر وہ معلوم نہ ہوں تو یہ تمہارے دینی بھائی اور مولیٰ ہیں ۔ “ چنانچہ انہیں ان کے باپوں کی طرف لوٹا دیا گیا اور جس کا باپ معلوم نہ ہوا وہ مولیٰ اور دینی بھائی کہلانے لگا ۔ الغرض ! ( ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی ) سہلہ بنت سہیل بن عمرو قرشی ، عامری ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ) آئی اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! ہم سالم کو اپنا بیٹا ہی سمجھتے رہے ہیں ۔

        اب اگر جو حکم سالم رضی الله کے لئے دیا جا سکتا تھا – وہ یہی حکم زید رضی اللہ عنہ کے لئے نہیں دے سکتے تھے

        الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم ایسا حکم نہیں دے سکتے جو قرآن کے خلاف ہو ورنہ وہ یہ حکم زید رضی اللہ عنہ کے لئے بھی دیتے

        میرے لئے ان حدیث کو صحیح کہنا مشکل ہے ابو شہر یار بھائی

        ========

        دوسری طرف آپ کہہ رہے ہیں کہ

        ——-
        ام المومنین رضی الله عنہا کی ذات اقدس پر افتری ہے
        ——–

        اسی وجہ سے ان احادیث کا جو اوپر پیش کی گئیں متن منکر لگتا ہے کیوں کہ اگر ان کو منکر نہیں کہیں گے تو یہ ماننا ہو گا کہ حضرت عائشہ رضی الله ایسا حکم دیتی تھیں – اور ان کو دوسری امہات کہتی تھیں

        صحيح مسلم: كِتَابُ الرِّضَاعِ (بَابُ رِضَاعَةِ الْكَبِيرِ) صحیح مسلم: کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل

        (باب: بڑے کی رضاعت)

        3605

        حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتْ تَقُولُ: ” أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ أَحَدًا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ: وَاللهِ مَا نَرَى هَذَا إِلَّا رُخْصَةً أَرْخَصَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ خَاصَّةً، فَمَا هُوَ بِدَاخِلٍ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ، وَلَا رَائِينَا

        حکم : صحیح 3605

        ابوعبیدہ بن عبداللہ بن زمعہ نے مجھے خبر دی کہ ان کی والدہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ ان کی والدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہاکہا کرتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج نے اس بات سے انکار کیا کہ اس (بڑی عمر کی) رضاعت کی وجہ سے کسی کو اپنے گھر میں داخل ہونے دیں، اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ کی قسم! ہم اسے محض رخصت خیال کرتی ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر سالم رضی اللہ عنہ کو دی تھی، لہذا اس (طرح کی) رضاعت کی وجہ سے نہ کوئی ہمارے پاس آنے والا بن سکے گا اور نہ ہمیں دیکھنے والا

        اب اگر اس حدیث کو مانیں گے تو ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ حضرت عائشہ رضی الله کا موقف دوسری امہات سے مختلف تھا

        اس لئے یہ حدیث بھی منکر ہوئی

        =========

        یہ الگ بات ہے کہ البانی نے اس حدیث کو صحيح سنن أبي داود میں لکھا ہے

        https://4.bp.blogspot.com/-7yWmF-pBQKc/V9aKTWUtiQI/AAAAAAAACMo/0rNRMG3iGRsPhSgBtGhdP_Y7mfSg7dSIwCLcB/s1600/1.jpg

        https://2.bp.blogspot.com/-797n6cOiqGs/V9aJmj7GrvI/AAAAAAAACMg/VxIX_45TgnoZ6lLCzDKNgbIzTh7XlNwTACLcB/s1600/3.jpg

        https://2.bp.blogspot.com/-CZ0a1ep-ydo/V9aJ31K7lVI/AAAAAAAACMk/agYj5BkzAhUzNcDi67zT1luBsS2_gzA4wCLcB/s1600/4.jpg

        قلتُ: إسناده صحيح على شرط البخاري، وصححه الحافظ ومن قبله ابن الجارود، وهو عنده عن عائشة وحدها. وكذلك أخرجه البخاري ولكنه لم يسقه إلى آخره، وأخرجه مسلم مختصراً عنها، وفي رواية له: إباء أم سلمة وسائر الأزواج الإدخال المذكور.
        إسناده: حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا عنبسة، حدثني يونس عن ابن شهاب حدثني عروة بن الزبير عن عائشة زوج النبي.
        قلت: وهذا إسناد صحيح رجاله ثقات على شرط البخاري، وصححه الحافظ في الفتح 9/122)

        ———-

        الإمام المفسر القرطبي بھائی اپنی تفسیر میں بھی اس کا ذکر کرتے ہیں

        (الثاني: أن النظر إليهن محرم، لأن تحريم نكاحهن إنما كان حفظاً لحق رسول الله صلى الله عليه وسلم فيهن، وكان من حفظ حقه تحريم النظر إليهن، ولأن عائشة رضي الله عنها كانت إذا أرادت دخول رجل عليها أمرت أختها أسماء أن ترضعه ليصير ابناً لأختها من الرضاعة، فيصير محرماً يستبيح النظر).

        https://2.bp.blogspot.com/-3F2Sr00ltn0/V9aPVRXSSHI/AAAAAAAACM8/44fiu-Cb868FIReeksK26x3ZAYBfF3cgwCLcB/s1600/1.jpg

        https://2.bp.blogspot.com/-Mxit9BssN0k/V9aOTXC7rII/AAAAAAAACM0/bWXqhJbTYu0gBRIsSz7L257Rs4QeXgEfgCLcB/s1600/3.jpg

        • Islamic-Belief says:

          میں اس پر دوبارہ غور کروں گا – ابھی مصروفیت کی وجہ سے دیکھ نہیں پا رہا

          • وجاہت says:

            ساتھ میں یہ بھی حدیث بھی دیکھ لیں

            صحيح مسلم: كِتَابُ الرِّضَاعِ (بَابُ رِضَاعَةِ الْكَبِيرِ) صحیح مسلم: کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل (باب: بڑے کی رضاعت)
            3603 . وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، لِعَائِشَةَ، إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ الْغُلَامُ الْأَيْفَعُ، الَّذِي مَا أُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ، قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَمَا لَكِ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ؟ قَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيَّ وَهُوَ رَجُلٌ، وَفِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ شَيْءٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ حَتَّى يَدْخُلَ عَلَيْكِ»

            حکم : صحیح 3603

            شعبہ نے حُمَید بن نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ کے پاس (گھر میں) ایک قریب البلوغت لڑکا آتا ہے جسے میں پسند نہیں کرتی کہ وہ میرے پاس آئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی زندگی) میں نمونہ نہیں ہے؟ انہوں نے (آگے) کہا: ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے عرض کی تھی: اے اللہ کے رسول! سالم میرے سامنے آتا ہے اور (اب) وہ مرد ہے، اور اس وجہ سے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے دل میں کچھ ناگواری ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اسے دودھ پلا دو تاکہ وہ تمہارے پاس آ سکے۔

            http://mohaddis.com/View/Muslim/3603

            حاشیہ میں دلیل دی گئی

            حدیث حاشیہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی کوئی بھتیجی یا بھانجی برتن سے دودھ پلوا دیتی تھیں۔ اس طرح دودھ پینے والے کے ساتھ دودھ پلانے والی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایسا رضاعت کا رشتہ قائم ہو جاتا تھا کہ وہ آپ کے سامنے آ سکتا تھا۔

          • Islamic-Belief says:

            اس کو حميد بن نافع الأنصاري أبو أفلح، المدنی کی سند سے روایت کیا گیا ہے
            حميد بن نافع کی ثقاہت پر سوائے نسائی کوئی اور نہیں ملا
            اس راوی کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ دو لوگ ہیں یا ایک
            امام بخاری نے تاریخ الکبیر میں اس کا ذکر کیا ہے

            قَالَ أَبو عَبد اللهِ: يُقال، عَنْ شُعبة: إِن هذا هو حُميد صَفيرا، هو الأول.
            وہ جس سے شعبہ نے روایت لی ہے وہ حُميد صَفيرا ہے
            قَالَ علي: هما اثنان
            امام علی کا کہنا ہے یہ دو الگ الگ ہیں

            شعبہ کا خود کہنا ہے
            قَالَ شعبة. وكان عاصم يرى أنه قد مات منذ مائة سنة.
            عاصم الاحوال کا دیکھنا تھا کہ حمید تو سن ١٠٠ میں مر چکا ہے

            یعنی شعبہ نے کسی اور سے سنا اس کو حمید بن نافع سمجھا جبکہ وہ مر چکا تھا اور دیگر محدثین کا کہنا ہے وہ حمید ابن صفيراء تھا

            اس طرح محدثین کا اختلاف ہے کہ یہ کون ہے
            روایت کی سند میں اس ابہام پر اس کو صحیح نہیں کہا جا سکتا
            ====
            متاخرین نے اس سب کو ملا کر واپس ایک راوی کر دیا ہے

  107. وجاہت says:

    پوچھنا یہ ہے کہ جو لونڈیاں جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ آتی تھیں – اور ان کے شوہر زندہ ہوتے تھے یہنی قیدی یا اسی جنگ میں ہلاک ہو جاتے تھے جس میں یہ لونڈیاں ہاتھ آتی تھیں – کیا ان لونڈیوں کی عدت ہوتی تھی یا نہیں – یہنی کیا ان سے فورن تعلقات قائم کر لئے جاتے تھے یا ان کو عدت تک مہلت دی جاتی تھی

    • Islamic-Belief says:

      لونڈی اگر حمل سے ہے تو ولادت تک اس سے کو نہیں چھو سکتے

      صحیح مسلم میں ہے کسی حاملہ لونڈی سے کوئی مرد صحبت کرنا چاہتا تھا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے غصہ کا اظہار فرمایا

      محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، یزید بن خمیر، عبدالرحمن بن جبیر، حضرت ابودرداء (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک عورت خیمہ کے دروازے پر لائی گئی جبکہ اس کا زمانہ ولادت بالکل قریب تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شاید وہ آدمی اس سے صحبت کرنا چاہتا ہے صحابہ نے عرض کیا جی ہاں! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر میں بھی اس کے ساتھ ہی داخل ہو وہ کیسے اس بچہ کا وارث بن سکتا ہے حالانکہ اس کے لئے یہ حلال ہی نہیں ہے اور وہ کیسے اس بچہ کو اپنا خادم بنا سکتا ہے حالانکہ اس کے لئے حلال نہیں۔

  108. وجاہت says:

    ابشاہر یار بھائی آپ سے اس حدیث کی تحقیق مانگی تھی

    http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/2789

    اور ساتھ ساتھ یہ بھی پوچھا تھا کہ ام حرام رضی اللہ عنہ کا حضور صلی الله علیہ وسلم سے کیا رشتہ تھا – شاہد آپ سوال کو دیکھ نہیں سکے یا کثرت سوالات کی وجہ سے جواب نہیں دے سکے

  109. Aysha butt says:

    Bukhri 4108 kis waqt ka waqia hai … Jung e siffin k bad ka ya mavia ki hassan se suleh k bad. Or woh jo musand ahmed ki 621 jis mn hazrat Ali se maviya ki suleh ka tazkra hai yeh suleh kab hoi thi….. Kya 41080wala kutba es k bad ka hai…. Q k is hadith mn b logon k ikhTalf ka zikr b hai
    Talf

    • Islamic-Belief says:

      صحیح بخاری
      ٤١٠٨
      مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم کو ہشام نے خبر دی انہیں معمر بن راشد نے انہیں زہری نے انہیں سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور معمر بن راشد نے بیان کیا کہ مجھے عبداللہ بن طاؤس نے خبر دی ان سے عکرمہ بن خالد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گیا تو ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ تم دیکھتی ہو لوگوں نے کیا کیا اور مجھے تو کچھ بھی حکومت نہیں ملی۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مسلمانوں کے مجمع میں جاؤ لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا موقع پر نہ پہنچنا مزید پھوٹ کا سبب بن جائے۔ آخر حفصہ رضی اللہ عنہا کے اصرار پر عبداللہ رضی اللہ عنہ گئے۔ پھر جب لوگ وہاں سے چلے گئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا کہ خلافت کے مسئلہ پر جسے گفتگو کرنی ہو وہ ذرا اپنا سر تو اٹھائے۔ یقیناً ہم اس سے زیادہ خلافت کے حقدار ہیں اور اس کے باپ سے بھی زیادہ۔ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس پر کہا کہ آپ نے وہیں اس کا جواب کیوں نہیں دیا؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے اسی وقت اپنے لنگی کھولی (جواب دینے کو تیار ہوا) اور ارادہ کر چکا تھا کہ ان سے کہوں کہ تم سے زیادہ خلافت کا حقدار وہ ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام کے لیے جنگ کی تھی۔ لیکن پھر میں ڈرا کہ کہیں میری اس بات سے مسلمانوں میں اختلاف بڑھ نہ جائے اور خونریزی نہ ہو جائے اور میری بات کا مطلب میری منشا کے خلاف نہ لیا جانے لگے۔ اس کے بجائے مجھے جنت کی وہ نعمتیں یاد آ گئیں جو اللہ تعالیٰ نے (صبر کرنے والوں کے لیے) جنت میں تیار کر رکھی ہیں

      ——-

      اس وقت کا ذکر ہے جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں یزید بن معاویہ کے حق میں خطبہ دیا تھا

      • Aysha butt says:

        Ap ny to kha tha k mavia ne yazid ko khalifa bnany k lie elan kia to kisi ny bi ehtajaj na kia…… Toh phir es taqreer ka kya tuk hai….. Or es mn to ibne umr khty k khilafat chahiye … Yeh to phir zabrdasti hui agree krny k lie.. Es mn toh log b rola dal rhy hai mavia r.a k faisly pr??? Ap lya khte ho

        • Islamic-Belief says:

          یہ لوگ انسان تھے اور ابھی خبر آئی ہے کہ یزید کو کیا جائے گا – کچھ اختلاف اگر ہے تو وہ اتنا نہیں کہ اس کو رولا ڈالنا کہا جائے
          خواہش ہے – ابن عمر کو کہ ان کو خلیفہ کیا جائے جا سکتا ہے لیکن لوگوں میں سے کوئی نہیں جو کہے کہ ابن عمر کو خلیفہ کر دیا جائے
          ان کے پاس عصبیت نہیں ہے

          • Aysha butt says:

            Log b toh jagr rahe thy means unko b ikhtilaf tha yazid st

          • Islamic-Belief says:

            لوگ کون جھگڑ رہے ہیں – ابن عمر رضی الله عنہ کو خواہش ہے کہ وہ خلیفہ ہو سکتے ہیں لیکن یہی ابن عمر کہتے ہیں جب حرہ کا بلوہ ہوا کہ میں یزید میں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھتا کہ اس کی بیعت سے نکلوں
            صحیح بخاری میں ہے

  110. shahzad khan says:

    ۔ ۔قرآن میں جو ابابیل لفظ آیا اس کا معنی پرندہ ہوتاہے ثابت نہیں کر سکتے ۔اور نہ ہی کوئی پرندہ کی بات ہو رہی ہے ۔۔

    اور دوسری جگہ

    اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِ بِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ

    اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ : کیا وہ نہیں دیکھتے | اِلَى الْاِبِلِ : اونٹ کی طرف | كَيْفَ : کیسے | خُلِقَتْ : پیدا کئے گئے

    (یہ لوگ نہیں مانتے) تو کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے؟

    [Quran 88:17]
    جبکہ ابل کی جمع ابابیل ہے۔۔۔۔۔بھائی اک صاحب سے سورہ فیل پر بات ہوئی تو ان کا کہنا ہے کہ ابابیل سے مراد پرندے نہیں ہیں

    • Islamic-Belief says:

      ابابیل سے مراد ٹولیاں ہیں چاہے پرندے ہوں یا اونٹ یا خچر یا بادل

      تحفة الأريب بما في القرآن من الغريب از المؤلف: أبو حيان محمد بن يوسف بن علي بن يوسف بن حيان أثير الدين الأندلسي (المتوفى: 745هـ) کے مطابق
      أبل: {أبابيل}: جماعة في تفرقة أي حلقة حلقة. واحدها إبَّالة وإبَّول وإبِّيل.

      ابابیل کا مطلب حلقہ حلقہ میں متفرق ٹولیاں ہیں اس کا واحد إبَّالة اور إبَّول اور إبِّيل ہے

      وَأرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْراً أَبَابِيل
      ان پر (طَيْراً) پرندے ، ( أَبَابِيل) ٹولیوں میں چھوڑے

      یہاں طَيْر کا لفظ صریح اشارہ کر رہا ہے کہ پرندے ٹولیوں میں چھوڑے گئے

      —-
      أَفَلا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ
      کیا یہ بادل کو نہیں دیکھتے کیسا اس کو خلق کیا ہے

      لسان العرب از المؤلف: محمد بن مكرم بن على، أبو الفضل، جمال الدين ابن منظور الأنصاري الرويفعى الإفريقى (المتوفى: 711هـ) میں ہے

      قَالَ الإِبِلُ: السحابُ الَّتِي تَحْمِلُ الْمَاءَ لِلْمَطَرِ
      الابل سے مراد بادل ہے جو پانی لے کر چلتا ہے کہ برسے

      ابْنُ الأَعرابي: الإِبَّوْلُ طَائِرٌ يَنْفَرِدُ مِنَ الرَّفّ وَهُوَ السَّطْرُ مِنَ الطَّيْرِ. ابْنُ سِيدَهْ: والإِبِّيلُ والإِبَّوْل والإِبَّالَة الْقِطْعَةُ مِنَ الطَّيْرِ وَالْخَيْلِ والإِبل
      ابْنُ الأَعرابي نے کہا الإِبَّوْل پرندے ہیں جو ایک سطر میں ہوں – ابن سیدہ نے کہا الإِبِّيلُ اور الإِبَّوْل اور الإِبَّالَة سے مراد پرندے یا خچر یا اونٹ کے ٹولے ہیں

      یعنی ترجمہ کیا جا سکتا ہے
      أَفَلا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ
      کیا یہ پرندوں کی ٹولیوں کو نہیں دیکھتے کیسا خلق کیا
      کیا یہ خچر کی ٹولیوں کو نہیں دیکھتے کیسا خلق کیا
      کیا یہ اونٹ کی ٹولیوں کو نہیں دیکھتے کیسا خلق کیا

      زبان و ادب میں الفاظ میں گنجائش ہوتی ہے کہ مترجم کو جو الفاظ پسند ہوں ان کو لے لے لیکن اہل زبان جانتے ہیں کہ اس میں اور مفہوم بھی چھپے ہیں

  111. Aysha butt says:

    Aap s.a.w ka janaza hoa es sawal ka link yhn de dein

  112. وجاہت says:

    اوپر آپ نے صحیح کہا کہ

    ———
    لیکن راقم کہتا ہے روایت کے الفاظ
    ——
    سو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس واقعہ کی بنا پر اپنی بھانجیوں اور بھتیجیوں سے کہا کرتی تھیں کہ فلاں کو پانچ رضعے ( پانچ بار ) دودھ پلا دو ۔ جس کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خواہش ہوتی کہ وہ ان کو دیکھ سکے اور ان کے سامنے آ سکے ۔
    —–

    ام المومنین رضی الله عنہا کی ذات اقدس پر افتری ہے

    ابو شہر یار بھائی جس طرح یہ ام المومنین رضی الله عنہا کی ذات اقدس پر افتری ہے بلکل اسی طرح یہ احادیث بھی ام المومنین رضی الله عنہا کی ذات اقدس پر افتری ہیں

    مختلف لوگوں کو ام المومنین رضی الله عنہا کا مہمان بنایا گیا – ان کو احتلام ہوا – ان کہانیوں کو گھڑا گیا – کیا یہ ام المومنین رضی الله عنہا کی گستاخی نہیں – کیا ایسا کوئی صحابی نہیں تھا جو ان آنے والے مہمانوں کو اپنے گھر میں رکھ لیتا یا کوئی مسافر خانہ نہیں تھا – اور اوپرسے جتنے بھی مہمان ٹھہرے ان کو احتلام ضرور ہوا – شرم نہیں آئ لکھنے والوں کو – لیکن کیا کریں ابو شہر یار بھائی ان احادیث کے راوی تو ثقہ ہیں نا – ہمارے کچھ اہلحدیث بھایئوں کو سند سے اور راویوں کے ثقہ ہونے سے غرض ہے – متن کا کیا ہے – اس میں بھلے کسی کی گستاخی ہو

    ١.

    صحیح مسلم کی ایک حدیث میں کہا گیا کہ

    عبد اللہ بن شہاب خولانی سےر وایت ہے ، کہا: میں حضرت عائشہ ؓ کا مہمان تھا، مجھے اپنے دونوں کپڑوں میں احتلام ہو گیا

    http://mohaddis.com/View/Muslim/674

    یہنی یہاں عبد اللہ بن شہاب خولانی مہمان تھے اور نہ کو بھی احتلام ہوا

    ========

    ٢.

    سنن ابو داوود کی ایک حدیث میں کہا گیا کہ

    ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ( بطور مہمان ) آئے ہوئے تھے کہ انہیں احتلام ہو گیا

    http://mohaddis.com/View/Abu-Daud/371

    یہنی یہاں مہمان ہمام بن حارث تھے اور ان کو بھی احتلام ہوا

    ======

    ٣.

    مسند احمد ایک حدیث میں کہا گیا کہ

    ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے یہاں قبيله نخع کا ایک مہمان قیام پذیر ہوا- تو انہوں نے اسے (اوڑھنے کے لیے) اسے ایک زرد چادر دینے کا حکم دیا۔ وہ اس میں سویا تو اسے احتلام ہوگیا

    http://www.hadithurdu.com/musnad-ahmad/11-9-4906/?s=%D8%B9%D9%8E%D8%A7%D8%A6%D9%90%D8%B4%D9%8E%D8%A9%D9%8E+%D9%81%D9%8E%D8%A7%D8%AD%D9%92%D8%AA%D9%8E%D9%84%D9%8E%D9%85%D9%8E+%D9%81%D9%8E%D8%A3%D9%8E%D8%A8%D9%92%D8%B5%D9%8E%D8%B1%D9%8E%D8%AA%D9%92%D9%87%D9%8F

    یہنی یہاں مہمان قبيله نخع کا ایک آدمی تھا اور اسے بھی احتلام ہوا

    ======

    ٤.

    پھر صحیح مسلم کی حدیث میں کہا گیا کہ

    ایک آدمی حضرت عائشہ ؓ کے پاس ٹھہرا ، صبح کو وہ اپنا کپڑا دھو رہا تھا اور اسے بھی احتلام ہوا

    http://mohaddis.com/View/Muslim/668

    یہنی یہاں جو مہمان ٹھہرا اسے بھی احتلام ہوا

    ====

    ٥.

    سنن الترمذي کی حدیث میں کہا گیا کہ

    ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک مہمان آیا تو انہوں نے اسے (اوڑھنے کے لیے) اسے ایک زرد چادر دینے کا حکم دیا۔ وہ اس میں سویا تو اسے احتلام ہوگیا

    http://mohaddis.com/View/Tarimdhi/116

    یہنی یہاں بھی جو مہمان ٹھہرا اسے بھی احتلام ہوا

    امام ترمزی اس حدیث کو حسن صحیح کہہ رہے ہیں

    • Islamic-Belief says:

      اس کی سند ہے
      حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ
      حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ
      وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ،
      وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شِهَابٍ الْخَوْلَانِيِّ
      ———
      عَبْدِ اللهِ بْنِ شِهَابٍ الْخَوْلَانِيِّ اور هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ دونوں مہمان بنے دونوں کو احتلام ہوا

      اغلبا یہ ایک شخص ہے لیکن راوی کی غلطی سے دو ہو گئے ہیں

      • وجاہت says:

        حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ

        حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ

        وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ

        مسند احمد کی حدیث میں وہ قبيله نخع کا ایک آدمی اور ترمزی کی احادیث میں وہ ایک گمنام آدمی بن گیا اور پھر صحیح مسلم کی حدیث میں بھی گمنام ہی رہا

        وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شِهَابٍ الْخَوْلَانِيِّ

        پھر ساتھ ساتھ صحیح مسلم میں وہ عَبْدِ اللهِ بْنِ شِهَابٍ الْخَوْلَانِيِّ بن گیۓ

        حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ

        اور سنن ابو داوود میں وہ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ بن گیۓ

        • Islamic-Belief says:

          اپ نے غور نہیں کیا اسناد الگ الگ ہیں اور سب شخص کا نام الگ لیتے ہیں – معلوم ہوتا ہے ایک بار کا واقعہ ہے جس میں لوگ شخص کا نام بھول گئے

  113. Naim says:

    و قال الرسول یرب ان قومی اتخذو هذا القرآن مهجورا
    الفرقان آیت ۳۰
    اس آیت کا کانسا تفسیر صحیح ہے
    ۱/اے آیت خاص ہے رسول الله کے او قوم کا جو مشرک تها کیونکه اے آیت مکی ہے
    ۲/اے آیت عموم ہے اس امت کا جو قرآن پر عمل نهی کرتا ہے قیامت تک،یها قوم کا مطلب امت ہے
    پلیز وضاحت کردے

    • Islamic-Belief says:

      میرے نزدیک یہ تفسیر صحیح ہے
      یہ آیت خاص ہے رسول الله کی قوم کے لئے جو مشرک تھی

      • Aysha butt says:

        Yani yeh gawahi mushrikeen k khilaf hai ap keh rhy hai.. Toh mushrikeen to mannay hi na thy to phir un k quran chorny ka zikr kesy hai yeh ayt

        • Islamic-Belief says:

          مھجورا کا مطلب ترک کرنا ہے اور اس سے مراد یہ ضروری نہیں کہ مان کر ترک کیا جائے مثلا محدثین کہتے ہیں راوی متروک ہے اس کا مطلب یہ نہ کہ پہلے اس کی حدیث قبول کی جاتی تھی بعد میں ترک ہونے لگی
          https://www.almaany.com/ar/dict/ar-ar/مهجورا/
          آیت اس طرح مشرکین مکہ کے لئے خاص ہے کیونکہ وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی قوم تھی

  114. Aysha butt says:

    “.. آنکھوں کی طلب ..”
    کوہِ طور پر تجلیِ الہٰیہ کی زیارت کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چہرہ مبارک پر ایسی قوی چمک رہتی تھی کہ چہرے پر نقاب کے باوجود جو بھی آپ کی طرف آنکھ بھر کر دیکھتا تو اُس کی آنکھوں کی بینائی ختم ہو جاتی۔ آپ علیہ السلام نے حق تعالیٰ سے عرض کیا کہ “مجھے ایسا نقاب عطا فرمائیے جو اِس قوی نُور کا ستر بن جائے اور مخلوق کی آنکھوں کو نقصان نہ پہنچے۔” حکم ہوا کہ “اپنے اُس کمبل کا نقاب بنا لیجئےجو کوہِ طُور پر آپ (علیہ السلام) کے جسم پر تھا۔ جس نے طُور کی تجلی کا تحمل کیا ہُوا ہے۔ اے موسیٰ.! اُس کمبل کے علاوہ اگر کوہ قاف بھی آپ کے چہرے کی تجلی بند کرنے کو آ جائے تو وہ بھی مثلِ کوہِ طُور پھٹ جائے گا۔”
    الغرض موسیٰ علیہ السلام نے بغیر نقاب کے خلائق کو اپنا چہرہ دیکھنے سے منع فرما دیا۔ آپ علیہ السلام کی اہلیہ حضرت صفورا آپ کے حُسنِ نبوت پر عاشق تھیں۔ اب جب نقاب نظروں کے درمیان حائل ہو گیا تو آپ بےچین ہو گئیں۔ جب صبر کے مقام پر عشق نے آگ رکھ دی تو آپ نے اِسی شوق اور بےتابی سے پہلے ایک آنکھ سے موسیٰ علیہ السلام کے چہرے کے نُور کو دیکھا اور اِس سے اُن کی ایک آنکھ کی بینائی سلب ہو گئی۔ اِس کے بعد بھی آپ کو صبر نہ آیا, دل اور آنکھوں کی طلب اور بڑھ گئی۔ پس حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چہرے پر نظارہِ تجلیاتِ طُور دیکھنے کے لئے دوسری آنکھ بھی کھول دی اور اُس کی بھی بینائی سلب ہو گئی۔
    عاشقہِ صادقہ حضرت صفورا سے ایک عورت نے پوچھا “کیا تمہیں اپنی آنکھوں کے بےنُور ہو جانے پر کچھ حسرت و غم ہُوا ہے۔؟” تو آپ نے فرمایا “مجھے تو یہ حسرت ہے کہ ایسی سو ہزار آنکھیں اور بھی عطا ہو جائیں تو میں اُن سب کو محبوب کے چہرہِ تاباں کو دیکھنے میں قربان کر دیتی۔ میری آنکھوں کا نُور تو چلا گیا مگر آنکھوں کے حلقے کے ویرانے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چہرے کا خاص نُور سما گیا ہے۔”
    حق تعالیٰ کو حضرت صفورا کی یہ سچی چاہت, تڑپ, یہ کلام, یہ مقامِ عشق اور دل و نظر کی طلب پسند آ گئی۔ خزانہِ غیب سے پھر اُن کی آنکھوں کو ایسی بینائی کا نُور اور تحمل بخش دیا گیا جس سے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چہرہِ تاباں کو دیکھا کرتیں تھیں۔
    درسِ حیات: “طلب صادق ہو تو خُدا کی مدد شاملِ حال ہو جاتی ہے۔”
    .. حکایت نمبر 8, کتاب: “حکایاتِ
    Kya yeh sahih hai رومی” از حضرت مولانا جلال الدین رومی رح ..

    • Islamic-Belief says:

      یہ یہود کا اپنے دین میں اضافہ ہے
      کتاب خروج میں ہے
      he wore a veil over his face to shroud the glory (verses 33–35).
      موسی جب طور سے اترے تو چہرے پر نقاب لگا لی کہ جلال کو چھپا لیں
      http://biblehub.com/exodus/34-33.htm

      ==========

      یہ یہودی کہانی باطنی شمس تبریز سے ہوتی رومی کو ملی ہو گی

  115. shahzad khan says:

    بھائی ۔۔۔ھشام بن عروہ کی روایت جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورہ واللیل کی آیات بھول گئے تھے اس روایت پر آپکی تحقیق کا لنک چاہیے

  116. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    أخبرنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن شمر بن عطية، عن رجل من مزينة، أو جهينة، قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الفجر فإذا هو بقريب من مائة ذئب قد أقعين وفود الذئاب، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ترضخون لهم شيئا من طعامكم وتأمنون على ما سوى ذلك؟» فشكوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الحاجة قال: «فآذنوهن» قال: فآذنوهن فخرجن ولهن عواء
    سنن الدارمي 22[تعليق المحقق] رجاله ثقات

    شمر بن عطیہ، مزینہ یا جہینہ کے ایک آدمی سے روایت بیان کرتے ہیں: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نمازِ فجر ادا فرمائی۔ اچانک تقریباً ایک سو بھیڑئیے پچھلی ٹانگوں کو زمین پر پھیلا کر اور اگلی ٹانگوں کو اٹھائے ہوئے اپنی سرینوں پر بیٹھے ہوئے (باقی) بھیڑیوں کی طرف سے وفد بن کر بیٹھے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: (اے گروہ صحابہ!) تم اپنے کھانے پینے کی اشیاء میں سے تھوڑا بہت ان کا حصہ بھی نکالا کرو اور باقی ماندہ کھانے کو (ان بھیڑیوں سے) محفوظ کر لیا کرو۔ تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اپنی حاجت کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: انہیں اجازت دو۔ راوی بیان کرتے ہیں انہوں نے ان (بھیڑیوں) کو اجازت دی پھر وہ تھوڑی دیر بعد اپنی مخصوص آواز نکالتے ہوئے چل دیے۔

    أخرجه الدارمي في السنن، 1 /25، الرقم: 22، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 4: 376.والبدایہ والنہایہ

  117. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں :
    خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَصْحَابِهِ فَخَرَجْنَا مَعَهُ، وَأَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ قَالَ: «مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَجْعَلْهَا عَمْرَةً، فَإِنِّي لَوْلَا أَنَّ مَعِي هَدْيًا لَأَحْلَلْتُ» فَقَالُوا: حِينَ لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ إِلَّا كَذَا وَقَدْ أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ، فَكَيْفَ نَجْعَلُهَا عَمْرَةً؟ قَالَ: «انْظُرُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا» قَالَ: فَرَدُّوا عَلَيْهِ الْقَوْلَ فَغَضِبَ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ غَضْبَانًا، فَرَأَتِ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَتْ: مَنْ أَغْضَبَكَ أَغْضَبَهُ اللهُ قَالَ: «وَمَا لِي لَا أَغْضَبُ وَأَنَا آمُرُ بِالْأَمْرِ فَلَا أُتْبَعُ»
    رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ نکلے، ہم بھی ان کے ساتھ تھے، ہم نے حج کا احرام باندھ لیا، مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : جن کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے، وہ اس احرام کو عمرہ کا احرام بنا لے، میرے پاس قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا ، صحابہ نے کہا : ہم نے تو حج کا احرام باندھا ہے یارسول اللہﷺ!فرمایا: جو کہہ رہا ہوں وہ کیجئے !صحابہ نے پھر وہی بات کی تو غصے میں عائشہ کے پاس آگئے،عائشہ نے ان کا غصہ دیکھا تو کہا : آپ کو کس نے غصہ دلایا اللہ اس کو غصہ دلائے ؟فرمایا:کیوں نہ غصے ہوں، میں ایک حکم دیتا ہوں اور صحابہ مان کے نہیں دیتے۔”

    (السنن الکبری للنسائی : 9946)

    • Islamic-Belief says:

      یہ ضعیف ہے – سند میں أبي إسحاق السبيعي ہے جو کوفی شیعہ ہے اس کا سماع البراء سے معلوم نہیں یہ مدلس ہے
      شعیب نے مسند احمد میں اس حدیث پر لکھا ہے سماع کی تصریح نہیں ہے
      إن أبا إسحاق لم يصرح بسماعه من البراء.

  118. shahzad khan says:

    .
    امام ذہبی کا فن رجال میں بہت بڑا مقام رہا ہے…کون نہیں جانتا ان کو …وہ اپنی مشہور ترین کتاب سیر اعلام النبلا میں لکھتے ہیں جو طبع ہوئی ہے دارالمعارف مصر سے ..
    کان اسماء اکبر من عائشہ بعشر
    یعنی حضرت عائشہ حضرت اسماء( جو بڑی بہن تھی)کی ولادت سے دس سال بعد پیدا ہوئی تھیں..
    اس حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے علامہ ابن کثیر دمشقی 1373 م اپنی مشہور کتاب البدایہ والنھایہ میں لکھتے ہیں یہ بھی مصر سے چھپی ہے..کہ عائشہؓ اپنی بہن اسماء سے دس برس چھوٹی تھیں..
    اسی حقیقت کو صحابہ کی سیرت کو بیان کرنے والے سب سے بڑے مصنف حافظ ابن حجر 1449م الاصابہ طبع مصر میں لکھتے ہیں..اسماء ہجرت سے 27 سال پہلےاور عائشہؓ ان سے دس برس بعد پیدا ہوئی تھیں..اور بعثت سے ہجرت کا زمانہ 13 سال کا ہے یعنی اسماء 613ء میں اور عائشہؓ603ء میں پیدا ہوئیں..
    اس طرح اسماؓء بعثت کے وقت 16_17 اور ہجرت کے وقت 29_30 سال کی بنتی ہے ..اس میں سے دس سال کم کردو کیونکہ وہ دس سال چھوٹی تھیں تو عائشہؓ کی بوقت ہجرت عمر 19_20 سال بنتی ہے..
    ایک اور طریقے سے دیکھتے ہیں جس کا بوقت نکاح کا تعین ہوتا ہےکہ آپؓ کا عمر باتفاق 67برس کی تھی..
    اصاحب سیر وانسابِ عرب میں خلیفہ بن خیاط عصفری 854م کا ایک خاص مقام ہے یہ اور امام احمد بن حنبل 856م کہتے ہیں عائشہؓ کا سن وفات پچاس ہجری تھا..اس کی توثیق کرتے ہوئے امام ذہبی 1348م لکھتے ہیں سیر اعلام النبلا میں ..کہ عائشہؓ کا وصال سن پچاس ہجری میں ہوا تھا ..اس حساب سے ان کا عمر نکاح 19 سال بنتا ہے..
    ایک اور حقیقت جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا وہ یہ کہ تمام محدیثین و تمام اہل سِیر باتفاق لکھتے ہیں کہ اسماءؓ سو 100 سال کی عمر میں 73ھ/692ء میں اپنے فرزند عبداللہ بن زبیر کے قتل ہونے کے چند روز بعد فوت ہوگئی تھیں..اس کی توثیق کرتے ہوئے حدیث اور فن رجال بہت بڑے امام حافظ ابن عبد البر 1071م اپنی کتاب الاستعیاب فی معرفة الاصحاب طبع مصر میں لکھتے ہیں کہ اسماءؓ کی وفات عمر99 یا 100 سال کی تھی.. چند ماہ کے فرق کے ساتھ وہ بھی 100 لکھتے ہیں…اب دیکھیئے جب وہ سو سال کی تھی تو 73ھ تھا تو ان کی ولادت ہجرت سے 27 سال پہلے 598م میں ہوئی یعنی ہجرت کے وقت ان کی عمر 27 سال تھی اور عائشہؓ دس سال بعد ہوئیں 608م میں ہوئی تو جب ہجرت کے وقت 27 کی تھی تو ان سے عائشہؓ جو دس سال کی چھوٹی تھیں تو اس وقت ان کی عمر 17 سال بنتی ہے…اس حقیقت کو کیسے جھٹلایا جائے…۔۔اک صاحب نے تحقیقی دلائل پیش کیے ہیں جواب درکار ہے

    • Islamic-Belief says:

      مختلف لوگوں کے اقوال ملا کر اپنی پسند کی بات کی گئی ہے –
      عائشہ رضی الله عنہا کی وفات بعض ٥٣ میں اور بعض ٥٧ میں کہتے ہیں اور اب یہاں میں نے دیکھا ٥٠ بھی لکھا ہے

      اسی طرح یہ اقوال ہیں جو الگ الگ ہیں جن لوگوں کے نام لئے گئے ہیں وہ سب یہی کہتے ہیں کہ عائشہ رضی الله عنہا کی عمر بوقت نکاح ٦ سال تھی
      مثلا الذھبی یا ابن حجر یا ابن عبد البر کسی سے بھی اس کا انکار منقول نہیں ہے بلکہ ابن حجر تو صحیح بخاری کی شرح لکھ کر مرے اس میں اس روایت کا رد نہیں کیا – الذھبی نے بھی رد نہیں کیا

  119. Aysha butt says:

    Sir jung e siffin q hoi or kin k darmiyn hoi i
    Koi malomat hon to bta dein

    • Islamic-Belief says:

      جنگ صفین معاویہ و علی کے درمیان ہوئی – اس کے بعد کوئی جیت نہ سکا اور علی نے معاویہ سے صلح کر لی
      اس صلح پر خوارج نے علی کو الزام دیا کہ قرآن کے حکم کے خلاف عمل کیا

      • Aysha butt says:

        Jung kis wajh se hoi thi … Or jung jaml larai mn kesy badli wo to suleh safai k lie ja rhy thy….

        • Islamic-Belief says:

          جنگ جمل کی وجوہات کا علم نہیں ہے

          • Aysha butt says:

            Or siffin ki q hoi thi

          • Islamic-Belief says:

            معاویہ رضی الله عنہ اور اصحاب جمل یعنی طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم کے نزدیک علی رضی الله عنہ
            legitimate
            خلیفہ نہیں تھے – مسلمانوں سے صلاح مشورہ کے بغیر خلیفہ ہوئے تھے – علی رضی الله عنہ نے قاتلین عثمان کو اپنا دوست کیا ان کو آج اصحاب علی کہا جاتا ہے اور ان کو مصر کا عراق کا گورنر کیا
            علی چاہتے تھے کہ تلوار سے معاویہ کو مطیع کریں جیسا کہ تمام خلفاء کی سنت رہی ہے لیکن ان کو معاویہ کے حوالے سے کامیابی نہیں ہوئی
            اور ان کو صلح مجبورتا کرنی پڑی

            معاویہ کو قتل عثمان پر شدید غم تھا اور وہ علی کے گورنروں سے قصاص کا مطالبہ کر رہے تھے علی کے نزدیک اغلبا یہ قتل حادثاتی تھا وہ ان گورنروں کو قاتل نہیں سمجھتے تھے- ان سوالات میں اپ جتنا جائیں گی اتنی پھنس جائیں گی

  120. Aysha butt says:

    Nabi s.a.w ne kha k kurb e qayamt jab qatal aam hoga aachank ik awaz ae ge or dajjal nikle ga muslim 10 sawaron ko baijy gy mn un k name un k baap k name or un goron ki rangat b janta hon
    Ywh hadith sahih hai kya

    • Islamic-Belief says:

      صحیح مسلم

      فَجَاءَهُمُ الصَّرِيخُ، إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَهُمْ فِي ذَرَارِيِّهِمْ، فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ، وَيُقْبِلُونَ، فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْرِفُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ، وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ، هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ – أَوْ مِنْ خَيْرِ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ -» قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ: عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ،

      سند ہے
      حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ – وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ – حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ،

      اس کی سند میں يسير بن جابر ہے جو مجہول ہے بعض نے نام أسير بن عمرو لیا ہے

  121. Aysha butt says:

    عَن اِبن مَسعُود رَضِی اللہُ عَنہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اللہ اخْتارَلِی اَصْحَابِی فَجَعَلھُم اَصْحَابِی وَاَصْھارِی وَسُیجِّئ مِن بَعدِی قَومُ یَنقُصُونَھُم وَیَسُبُّونَھُم فَاِن اَدْرَکْتُمُوھُم فَلا تُناکِحُوھُم وَلا تُواکِلُوھُم وَلاتُشَارِبُوھُم وَلا تُصَلُّو مَعَھُم وَلا تُصَلُّو عَلَیْھِم (کنزالعمال جلد نمبر 2 صفحہ 133)
    ترجمہ: حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ بلا شبہ اللہ تعالی نے مجھے چن لیا ہے اور میرے لیے میرے اصحاب بھی چن لیے ہیں اور ان کو میرے صحابہ، میرے مددگار اور میرے سسرالی رشتے کے اقربا بنادیا۔
    آخری زمانے میں ایسے لوگ آیئں گے جو ان میں عیب نکالیں گے اور انھیں برا بھلا کہیں گےسو تم نہ ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ،،ان کے ساتھ شادی بیاہ اور کھانے پینے کے تعلق قائم مت کرنا اور نہ تم ان کے ساتھ نماز پڑھنا اور نہ ہی ان کے مردوں پہ نماز پڑھنا نہ ان کے ساتھ سلام لینا اللہ کی ان پر لعنت ہو،،
    نوٹ:
    مَنْ اَحَبَّ لِلّٰہ وَاَبْغَضَ لِلّٰہ
    ہماری محبت بھی اللہ کی رضا کیلیے اور ہمارا بغض بھی اللہ کی رضا کیلیے!!!
    Is that true

    • Islamic-Belief says:

      یہ روایت تاریخ دمشق کی ہے
      رواه ابن عساكر في ترجمة معاوية من حديث وكيع عن فضيل بن مرزوق عن رجل من الأنصار عن أنس
      سند میں رجل مجہول ہے

  122. shahzad khan says:

    بھائی ۔۔۔اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے وقت عمر کے بارے میں جو روایات ہیں کیا ان میں ہشام کا تفرد ہے کیا ہشام بن عروہ رض نے یہ روایات اختلاط کے دور میں بیان کی جس دور میں وہ عراق میں تھے؟ اس روایت کے بارے میں یہ اعتراضات اُٹھائے جا رہے ہیں

    • Islamic-Belief says:

      اس حدیث میں ہشام کا تفرد نہیں ہے
      مسند احمد میں ہے
      حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِ عَشْرَةَ»

      مسند اسحاق میں ہے
      أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَجْلَحُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ وَدَخَلَ بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ

      مسند ابی یعلی میں ہے
      حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ. زَوَّجَهَا إِيَّاهُ أَبُو بَكْرٍ»

      طبرانی میں ہے
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْحَنَّاطُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ»

      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «أُدْخِلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، وَمَكَثْتُ عِنْدَهُ تِسْعَ سِنِينَ»
      یہ روایات صحیح ہیں
      ———–
      ان تمام کی اسناد میں “ملزم” ہشام بن عروه اور ان کی اولاد نہیں ہے

      ⇑ نکاح کے وقت عائشہ رضی الله عنہا کی عمر پر سوالات ہیں
      http://www.islamic-belief.net/q-a/تاریخ-٢/

  123. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی کیا یہ حدیث صحیح ہے

    ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الرِّقَاقِ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ») صحیح بخاری: کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں

    (باب: نبی کریم ﷺکایہ فرمان کہ دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو جیسے تم مسافر ہو یا عار ضی طور پر کسی راستہ پر چلنے والے ہو)

    6416

    حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو المُنْذِرِ الطُّفَاوِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي، فَقَالَ: «كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ» وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَقُولُ: «إِذَا أَمْسَيْتَ فَلاَ تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلاَ تَنْتَظِرِ المَسَاءَ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ، وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ»

    حکم : صحیح 6416

    ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عبد الرحمن ابو منذر طفاوی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے مجاہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا شانہ پکڑکر فرمایا ” دنیا میں اس طرح ہوجاجیسے مسافر یا راستہ چلنے والا ہو “ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمافرمایا کرتے تھے شام ہوجائے تو صبح کے منتظر نہ رہو اورصبح کے وقت شام کے منتظر نہ رہو ۔ اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور زندگی کوموت سے پہلے ۔

    یہ حدیث ترمزی اور سنن ابن ماجہ میں بھی آئ ہے

    http://mohaddis.com/View/Tarimdhi/2333

    http://mohaddis.com/View/ibn-majah/4114

    • Islamic-Belief says:

      روایت صحیح ہے اس کو ابن عمر سے مجاہد کے علاوہ عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، نے بھی روایت کیا ہے

  124. وجاہت says:

    مسند أبي يعلى الموصلي

    (۶ ۱۴۷)

    ۳۴۲۵ ء حَدَّثَنَا أَبُو الْجَهْمِ الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ»
    [حكم حسين سليم أسد]
    : إسناده صحيح

    ترجمہ— رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا ” انبیاء علیہ السّلام اپنی قبور میں حیات ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں

    اعتراض(۱). مذکورہ روایت میں حجاج مجہول ہے

    ———–

    اس کا یہ جواب دیا گیا ایک عالم کی طرف سے

    الجواب— یہ اعتراض مردود ہے، کیوں کی کتب رجّال میں مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ کا ایک ہی استاد ہے جسکا نام حجاج ہے.
    تهذيب الكمال في أسماء الرجال (۲۷ ۴۲۹) المزي (المتوفى: ۷۴۲هـ)
    مستلم بن سَعِيد الثقفي الواسطي ، ابن أخت منصور بْن زاذان.
    رَوَى عَن: حجاج بْن أَبي زياد الأسود.
    حجاج بْن أَبي زياد الأسود جمہور کے نزدیک ثقہ ہیں.
    تهذيب الكمال في أسماء الرجال (۲۷ ۴۳۰)
    قال حرب بْن إِسْمَاعِيل ، عَن أحمد بْن حنبل: شيخ ثقة
    وَقَال إسحاق بْن منصور عَن يحيى بْن مَعِين: صويلح
    وَقَال النَّسَائي: ليس بِهِ بأس
    وذكره ابنُ حِبَّان فِي كتاب “الثقات
    لسان الميزان ت أبي غدة (۲ ۵۵۹)
    وقال ابن معين: ثقة
    وقال أبو حاتم: صالح الحديث

    حافظ ابن حجر رح نے فتح الباري شرح صحيح البخاري میں بهی حجاج بْن أَبي زياد الأسود رح کا تعّین کیا ہے.فتح الباري لابن حجر (۶ ۴۸۷) وَالصَّوَابُ الْحَجَّاجُ الْأَسْوَدُ.

    ———
    دوسرا اعترض یہ کیا گیا

    اعتراض (۲ ). کتب رجّال کے اس تعّین کو ہم نہی مانتے ہیں. کوئی صحيح سند پیش کیجئے جس میں حجاج کا مکمّل نام و نسب ہو مثلاََ حَدَّثَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ (حجاج بْن أَبي زياد الأسود ) ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ سند میں دکها دو ؟؟؟؟؟

    جواب یہ دیا گیا

    الجواب— اگر سفلی وہابیوں کا یہ خود ساختہ خانہ ساز اصول تسلیم کیا جائے تو “بخاری و مسلم” کی کئی روایات سے ہا تهه دهونا پڑے گا. مثلاََ
    صحيح البخاري

    (۱ ۱۶)

    ۳۴ ء حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ” تَابَعَهُ شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ.
    چیلنج

    مذکورہ سند میں “مَسْرُوقٍ” کون ہیں ؟؟؟ صحیح سند سے نام و کنّیت ثابت کرو ؟؟؟ کتب رجّال کا سہارہ نہ لینا کیوں کی جماعت غیر مقلدین وہابیہ کتب رجّال کے تعّین کو تسلیم نہی کر تے ہیں

    ======

    اب اس عالم کو کیسے جواب دیا جایے – اہلحدیث تو اپنے اصولوں کے پابند ہیں اور بریلوی عالم نے یہی جوابی حربہ استعمال کیا

    پلیز اس سے وضاحت مطلوب ہے پلیز

    • Islamic-Belief says:

      مسند أبي يعلى الموصلي

      (۶ ۱۴۷)

      ۳۴۲۵ ء حَدَّثَنَا أَبُو الْجَهْمِ الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ»
      [حكم حسين سليم أسد]
      : إسناده صحيح

      ترجمہ— رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا ” انبیاء علیہ السّلام اپنی قبور میں حیات ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں

      اس کا یہ جواب دیا گیا ایک عالم کی طرف سے

      الجواب— یہ اعتراض مردود ہے، کیوں کی کتب رجّال میں مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ کا ایک ہی استاد ہے جسکا نام حجاج ہے.
      تهذيب الكمال في أسماء الرجال (۲۷ ۴۲۹) المزي (المتوفى: ۷۴۲هـ)
      مستلم بن سَعِيد الثقفي الواسطي ، ابن أخت منصور بْن زاذان.
      رَوَى عَن: حجاج بْن أَبي زياد الأسود.
      حجاج بْن أَبي زياد الأسود جمہور کے نزدیک ثقہ ہیں.
      تهذيب الكمال في أسماء الرجال (۲۷ ۴۳۰)
      قال حرب بْن إِسْمَاعِيل ، عَن أحمد بْن حنبل: شيخ ثقة
      وَقَال إسحاق بْن منصور عَن يحيى بْن مَعِين: صويلح
      وَقَال النَّسَائي: ليس بِهِ بأس
      وذكره ابنُ حِبَّان فِي كتاب “الثقات
      لسان الميزان ت أبي غدة (۲ ۵۵۹)
      وقال ابن معين: ثقة
      وقال أبو حاتم: صالح الحديث

      حافظ ابن حجر رح نے فتح الباري شرح صحيح البخاري میں بهی حجاج بْن أَبي زياد الأسود رح کا تعّین کیا ہے.فتح الباري لابن حجر (۶ ۴۸۷) وَالصَّوَابُ الْحَجَّاجُ الْأَسْوَدُ.
      —————-
      جواب در جواب
      چیلنج : کوئی ایک سند دکھا دیں جس میں اس راوی کا مکلمل نام حجاج بْن أَبي زياد الأسود درج ہو
      تمام مقام پر حجاج الاسود لکھا ہے
      اور اس کی ولدیت معلوم نہیں ہے
      صرف متاخرین کا اندازہ ہے
      مسند البزار میں حجاج الصواف ہے
      حَدَّثنا رزق الله بن موسى، حَدَّثنا الحسن بن قتيبة، حَدَّثنا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَن الحَجَّاج، يَعْنِي: الصَّوَّافَ، عَنْ ثابتٍ، عَن أَنَس؛ أَن رَسولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم قَالَ: الأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ.
      الذھبی نے میزان میں اس کو منکر کہا ہے
      نكرة ما روى عنه فيما أعلم سوى مستلم بن سعيد فأتى بخبر منكر عن ثابت عن أنس في أنّ الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون
      بعض اسناد میں اس کو الْحجَّاج بن الْأسود لکھا گیا ہے اور بعض میں الاسود کو حجاج کا ہی نام کہا گیا ہے
      یہ سب اضطراب ہے
      ———
      الجواب— اگر سفلی وہابیوں کا یہ خود ساختہ خانہ ساز اصول تسلیم کیا جائے تو “بخاری و مسلم” کی کئی روایات سے ہا تهه دهونا پڑے گا. مثلاََ
      صحيح البخاري

      (۱ ۱۶)

      ۳۴ ء حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ” تَابَعَهُ شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ.
      چیلنج

      مذکورہ سند میں “مَسْرُوقٍ” کون ہیں ؟؟؟ صحیح سند سے نام و کنّیت ثابت کرو ؟؟؟
      ———-
      جواب در جواب
      مسروق تو معروف ہیں اور الاعمش جس مسروق سے روایت کرتے ہیں وہ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ ہے اس کا ذکر کتاب ایمان از ابن مندہ میں ہے
      أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، أَنْبَأَ أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، ح، وَأَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْهَرَوِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَأَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، قَالَ: سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا [ص:401] بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ} [آل عمران: 169] ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: ” أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ فَاطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً، فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا؟، فَقَالُوا: أَيُّ شَيْءٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا؟ فَفَعَلَ بِهِمْ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا رَأَوْا أَنْ لَنْ يُتْرَكُوا مِنْ أَنْ يَشَاءُوا شَيْئًا، قَالُوا: يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى فَلَمَّا رَأَى أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِكُوا رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَجَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ

      اس کی سند صحیح ہے

  125. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی ایک بھائی کہتا ہے کہ

    احادیث کی تخریج اور تشریح کا کام جو تقریباً ہر صدی میں جاری رہا ہے اس میں ان احادیث کی نشاندہی ضرور کردی جاتی مثلاً صحیح بخاری کی اب تک بہت سی شرحیں لکھی جا چکی ہیں جن میں حافظ ابن حجر عسقلانی کی شرح فتح الباری ، علامہ عینی کی شرح عمدہ القاری ، شرح صحیح بخاری للقسطلانی اور شرح صحیح بخاری للکرمانی خاص طورپر قابل ذکرہیں لیکن ان شارحین میں سے کسی نے بھی کبھی نہیں کہا کہ صحیح بخاری کی فلاں حدیث قرآن کے خلاف ہے یا شان رسالت کے خلاف ہے

    کیا یہ صحیح ہے

    اور دوسری بات کہ تمام روایات قول رسول ﷺ نہیں کیا اس کا کوئی ثبوت دیا جا سکتا ہے

  126. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا

    ایک شخص ایک مکھی کی وجہ سے جنت میں گیا اور ایک شخص ایک مکھی ہی کی وجہ سے جہنم میں جا پہنچا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ (ﷺ)! وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: “دوآدمیوں کا ایک قوم پر گزر ہوا ۔ جس کا ایک بت تھا وہ کسی کو وہاں سے چڑھاوا چڑھائے بغیر گزرنے کی اجازت نہ دیتے تھے۔ ان لوگوں نے ان میں سے ایک سے کہا : چڑھاوا چڑھاؤ۔ اس نے کہا : میرے پاس چڑھاوے کے لیے کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا: تمہیں یہ کام ضرور کرنا ہو گا۔ خواہ ایک مکھی ہی چڑھاؤ۔ اس نے ایک مکھی کا چڑھاوا چڑھادیا۔ ان لوگوں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا اور اسے آگے جانے کی اجازت دے دی۔ وہ اس مکھی کے سبب جہنم میں جا پہنچا۔ انہوں نے دوسرے سے کہا: تم بھی کوئی چڑھاوا چڑھاؤ تو اس نے کہا: میں تو اللہ تعالی کے سوا کسی کے واسطے کوئی چڑھاوا نہیں چڑھا سکتا۔ انہوں نے اسے قتل کردیا۔ اور وہ سیدھا جنت میں جا پہنچا۔

    (اخرجہ احمد فی کتاب الزھد و ابونعیم فی الحلیۃ :1 / 203 کلاھما موقوفا علی سلمان الفارسی)

    —-
    یہ ابن أبی شیبۃ میں بھی آئ ہے

    حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُخَارِقِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: «دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّةَ فِي ذُبَابٍ وَدَخَلَ رَجُلٌ النَّارَ، مَرَّ رَجُلَانِ عَلَى قَوْمٍ قَدْ عَكَفُوا عَلَى صَنَمٍ لَهُمْ» وَقَالُوا: لَا يَمُرُّ عَلَيْنَا الْيَوْمَ أَحَدٌ إِلَّا قَدَّمَ شَيْئًا، فَقَالُوا لِأَحَدِهِمَا: قَدِّمْ شَيْئًا، فَأَبَى فَقُتِلَ، وَقَالُوا لِلْآخَرِ: قَدِّمْ شَيْئًا، فَقَالُوا: قَدِّمْ وَلَوْ ذُبَابًا، فَقَالَ: وَأَيْشٍ ذُبَابٌ، فَقَدَّمَ ذُبَابًا فَدَخَلَ النَّارَ، فَقَالَ سَلْمَانُ: «فَهَذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ فِي ذُبَابٍ، وَدَخَلَ هَذَا النَّارَ فِي ذُبَابٍ»

    یہ شعب الإیمان میں بھی آئ ہے

    أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا مُحَاضِرُ بْنُ الْوَزَعِ، نا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ شِبْلٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: قَالَ سَلْمَانُ: ” دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّةَ فِي ذُبَابٍ، وَدَخَلَ رَجُلٌ النَّارَ فِي ذُبَابٍ “، قَالُوا: وَمَا الذُّبَابُ؟، فَرَأَى ذُبَابًا عَلَى ثَوْبِ إِنْسَانٍ، فَقَالَ: ” هَذَا الذُّبَابُ “، قَالُوا: وَكَيْفَ ذَاكَ؟، قَالَ: ” مَرَّ رَجُلَانِ مُسْلِمَانِ عَلَى قَوْمٍ يَعْكِفُونَ عَلَى صَنَمٍ لَهُمْ، فَقَالُوا لَهُمَا: قَرِّبَا لِصَنَمِنَا قُرْبَانًا قَالَا: لَا نُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا، قَالُوا: قَرِّبَا مَا شِئْتُمَا وَلَوْ ذُبَابًا، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: مَا تَرَى؟، قَالَ أَحَدُهُمَا: لَا نُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا، فَقُتِلَ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ، فَقَالَ الْآخَرُ: بِيَدِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَأَخَذَ ذُبَابًا فَأَلْقَاهُ عَلَى الصَّنَمِ فَدَخَلَ النَّارَ “

  127. shahzad khan says:

    صحيح مسلم ميں ع­ائشہ رضى اللہ تعالى ع­نہا سے مروى ہے كہ رسو­ل كريم صلى اللہ عليہ ­وسلم نے فرمايا:
    ” جب وہ چار شاخوں كے ­درميان بيٹھے اور ختنہ­ ختنہ سے چھو جائے تو ­غسل واجب ہو جاتا ہے ”
    صحيح مسلم حديث نمبر (­ 349 ).
    اور ترمذى وغيرہ كى رو­ايت ميں ہے كہ:
    ” جب دونوں ختنے مل جا­ئيں .. ”
    سنن ترمذى حديث نمبر (­ 109 ).
    اس حديث پر امام بخارى­ رحمہ اللہ نے صحيح بخ­ارى ميں باب باندھا ہے­، حافظ ابن حجر رحمہ ا­للہ كہتے ہيں:
    ” اس تثنيہ سے مراد مر­د اور عورت كا ختنہ ہے­.
    اور عورت كا ختنہ اس ط­رح ہو گا كہ پيشاب خار­ج ہونے والى جگہ پر مر­غ كى كلغى جيسى چمڑى ك­ا كچھ حصہ كاٹا جائے، ­سنت يہ ہے كہ وہ سارى ­كلغى نہ كاٹى جائے بلك­ہ اس كا كچھ حصہ كاٹا ­جائے “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحقیق درکار ہے

    • Islamic-Belief says:

      سنن ابو داود میں ہے
      حدَّثنا سليمانُ بنُ عبدِ الرحمن الدمشقيُّ وعَندُ الوهاب بنُ عبدِ الرحيم الأشجعيُّ، قالا: حدَّثنا مروانُ، حدَّثنا محمدُ بنُ حسّانَ -قال عبدُ الوهَّاب: الكوفيُّ- عن عبدِ الملك بنِ عُمْيبر عن أمِّ عطيةَ الأنصارية: أن امرأةَ كانَت تَخْتُنُ بالمدينةِ، فقال لها النبي-صلى الله عليه وسلم-:”لا تَنْهَكِي, فإنَّ ذلكَ أحْظَى لِلمرأةِ، وأحَبُّ إلى البَعْلِ
      قال أبو داود: رُوِيَ، عن عُبيد الله بنِ عَمرو، عن عَبدِ الملك، بمعناه وإسناده. وليس هو بالقوي وقد رُوي مرسلاً.
      قال أبو داود: ومحمد بن حسان مجهولٌ، وهذا الحديثُ ضعيفٌ
      ام عطيہ رضى اللہ تعالى عنہا سے روايت كيا ہے كہ:

      مدينہ ميں ايك عورت ختنہ كيا كرتى تھى تو رسول صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے فرمايا كہ تم بالكل ہى كاٹ كر ختم نہ كردو، كيونكہ يہ عورت كے ليے زيادہ فائدہ اور نفع مند ہے، اور خاوند كے ليے محبوب ترين اور پسنديدہ ہے

      ابو داود نے خود اشارہ کیا ہے کہ یہ سند ضعیف ہے
      لیکن البانی نے اس کو صحیح قرار دے دیا ہے
      شعَيب الأرنؤوط نے واپس ضعیف قرار دیا ہے
      —-
      مسند احمد
      “الختان سنة للرجال مكرمة للنساء
      من حديث حجاج بن أرطأة وهو مدلس وأخرجه الطبراني والبيهقي من حديث ابن عباس مرفوعًا وضعفه.
      ختنہ عورتوں کے لئے تکریم ہے
      یہ بھی ضعیف ہے

      جنبلیؤن میں “المغني” لابن قدامة کا کہنا ہے وليس بواجب عليهن، عورتوں پر یہ واجب نہیں ہے
      مالکیوں کے نزدیک ختنہ کرانا مرد و عورت پر واجب نہیں ہے
      المعونة على مذهب عالم المدينة «الإمام مالك بن أنس»
      المؤلف: أبو محمد عبد الوهاب بن علي بن نصر الثعلبي البغدادي المالكي (المتوفى: 422هـ)

      احناف میں عظیم آبادی صاحب عون المعبود ۴/۵۴۳نے عورت کے ختنہ پر احادیث کو جمع کیا ہے آخر میں لکھا ہے :
      «وَحَدِيْثُ خِتَانِ الْمَرْأَةِ رُوِیَ مِنْ أَوْجُهٍ کَثِيْرَةٍ ، وَکُلُّهَا ضَعِيْفَةٌ مَعْلُوْلُةٌ مَخْدُوْشَةٌ لاَ يَصِحُّ الْاِحْتِجَاجُ بِهَا کَمَآ عَرَفْتَ، وَقَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ : لَيْسَ فِی الْخَتَانِ خَبْرٌ يُرْجَعُ إِلَيْهِ وَلاَ سُنَّةٌ يُتَّبَعُ ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ فِی التَّمْهِيْدِ: وَالَّذِیْ أَجْمَعَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُوْنَ أَنَّ الْخَتَانَ لِلرِّجَالِ»
      اور عورت کے ختنہ کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے جو سب ضعیف معلول اور مخدوش ہیں ان سے حجت پکڑنا صحیح نہیں جس طرح آپ پہچان گئے اور ابن منذر نے کہا ختان میں کوئی حدیث نہیں جس کی طرف رجوع کیا جائے اور نہ کوئی سنت ہے جس کی پیروی کی جائے اور ابن عبدالبر نے تمہید میں کہا وہ چیز جس پر مسلمانوں کا اجماع ہے کہ ختنہ مردوں کے لیے ہے۔ انتہی

      ===
      صحیح مسلم میں ہے
      إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ
      موطا میں ہے
      إذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل

      احادیث میں بعض الفاظ بطور کنایہ استعمال ہوتے ہیں ان کا اصل مطلب نہیں ہوتا مثلا یہاں ایسا ہی ہے – کسی صحیح حدیث سے معلوم نہیں کہ عورتوں کو ختنہ کا حکم کیا گیا ہو نہ کسی صحابیہ نے ذکر کیا – ختن ختن مل جائیں یعنی جماع کیا یہ مراد ہے – البتہ فقہاء کا اس پر اختلاف ہوا بعض نے کہا لمس (چھونا ) ہوا تو بھی واجب ہے اور بعض نے کہا دخول مراد ہے

  128. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی ایک بات پوچھنی ہے کہ مشہور اھل حدہث علامہ ثناء اللہ امرتسری نے تفسیر القرآن بکلام الرحمان لکھی ھے. جس میں انہوں نے بڑی مشہور اور متفق علیہ حدیثوں کو بھی قرآن پر پیش کر کے اٹھا کر دیوار پہ دے مارا ھے

    کیا تفسیر القرآن بکلام الرحمان اور تفسیر ثنائی ایک ہے تفسیر ہے یا نہیں

    اور تفسیر القرآن بکلام الرحمان کیا انٹرنیٹ پر دستیاب ہے اور اس کا اردو ترجمہ اہلحدیث حضرات نے کیوں نہیں کیا

    کیا یہ بات صحیح ہے کہ

    تفسیر ثنائی اور ھے جو اردو میں ھے ، تفسیر القرآن بکلام الرحمان عربی میں ھے جس کا مسودہ تک پاکستانی اھل حدیث کے پاس نہیں

  129. Aysha butt says:

    Ik waquia hai k jab Aap s.a .w chote thy too ik bar abdul mutlib ne qeht k waqt Aap s.a .w ko bahir laye or kga es haseen chehre k wastese barish ata kr . Or barish hoi…. Yeh waqia kya drust hai

  130. وجاہت says:

    کیا ان دونوں احادیث میں تضاد نہیں

    http://mohaddis.com/View/Muslim/3448

    اور دوسری

    http://mohaddis.com/View/Muslim/3452

    ان دونو ں میں سے کون سی حدیث ضعیف ہے

    • Islamic-Belief says:

      ان دونوں کو صحیح کہا گیا ہے
      عقیلی نے کتاب الضعفاء الكبير میں لکھا ہے
      وَالرِّوَايَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي تَزْوِيجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ثَابِتَةٌ صَحِيحَةٌ
      رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا جبکہ آپ حالتِ احرام میں تھے۔ صحیح ہے ثابت ہے

      یہ عمل رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لئے خاص ہے

      ——-
      عام حکم امت کے لئے ہے

      مطر اور یعلیٰ بن حکیم نے نافع سے، انہوں نے نبیہ بن وہب سے، انہوں نے ابان بن عثمان سے، انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو شخص حالت احرام میں ہو، وہ نہ نکاح کرے نہ نکاح کرائے اور نہ نکاح کا پیغام بھیجے۔‘‘

      • وجاہت says:

        آپ نے کہا کہ

        ——-
        عقیلی نے کتاب الضعفاء الكبير میں لکھا ہے
        وَالرِّوَايَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي تَزْوِيجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ثَابِتَةٌ صَحِيحَةٌ
        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا جبکہ آپ حالتِ احرام میں تھے۔ صحیح ہے ثابت ہے

        یہ عمل رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لئے خاص ہے
        —–

        لیکن دوسری طرف حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی اپنی بیان کردہ حدیث ہے کہ

        صحيح مسلم: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ) صحیح مسلم: کتاب نکاح کے احکام و مسائل

        (باب: جو حالتِ احرام میں ہو اس کے لیے نکاح کرنا حرام اور نکاح کا پیغام بھیجنا مکروہ ہے)

        3453

        حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو فَزَارَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلَالٌ»، قَالَ: «وَكَانَتْ خَالَتِي، وَخَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ

        حکم : صحیح 3453

        یزید بن اصم سے روایت ہے، کہا: مجھے حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس حالت میں نکاح کیا کہ آپ احرام کے بغیر تھے۔ (یزید بن اصم نے) کہا: وہ میری بھی خالہ تھیں اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بھی خالہ تھیں۔

        http://mohaddis.com/View/Muslim/3453

        اس کے حاشیہ میں یہ بھی لکھا ہے

        حدیث حاشیہ: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا اپنا قول ہی اصل ہے۔ یہ نکاح اصل میں عمرہ قضاء سے فراغت کے بعد ہوا تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو غلط فہمی ہوئی کیونکہ موقع عمرہ ہی کا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرے کے بعد مکہ سے واپس آئے تو میمونہ رضی اللہ عنہا بیوی کے طور پر آپ کے ساتھ تھیں۔

        ——-

        دوسری طرف یہ حدیث بھی ہے

        صحيح مسلم: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ) صحیح مسلم: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

        (باب: جو حالتِ احرام میں ہو اس کے لیے نکاح کرنا حرام اور نکاح کا پیغام بھیجنا مکروہ ہے)

        3451

        وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، وَإِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ»، ” زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ، فَحَدَّثْتُ بِهِ الزُّهْرِيَّ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، أَنَّهُ نَكَحَهَا وَهُوَ حَلَالٌ

        حکم : صحیح 3451

        ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر اور اسحاق حنظلی سب نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے ابوشعثاء سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ احرام میں تھے۔ ابن نمیر نے یہ اضافہ کیا: میں نے یہ حدیث زہری کو سنائی تو انہوں نے کہا: مجھے یزید بن اصم نے خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا) سے اس حالت میں نکاح کیا جبکہ آپ احرام کے بغیر تھے۔

        http://mohaddis.com/View/Muslim/3451

        اب اگر آپ کا پیش کردہ حوالہ صحیح مانیں تو ہمیں ان دونوں احادیث کو ضعیف کہنا ہو گا – پلیز بتا دیں کہ کون سی حدیث ضعیف ہے اور کون سی صحیح

        • Islamic-Belief says:

          امام بخاری نے محرم والی کو صحیح کہا ہے
          عَن ابن عَباسٍ رضي الله عَنهُما أن النبي – صلى الله عليه وسلم – تَزَوَّجَ مَيمونَةَ وهو مُحْرِمٌ
          اور عقیلی نے بھی محرم والی کو
          ———-
          يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ کی ولادت بعد وفات النبی ہے اور یہ میمونہ رضی الله عنہا کے بھانجے ہیں اغلبا بخاری کے نزدیک ان کا سماع نہیں ہے
          —–
          ابن حبان نے صحیح میں تطبیق دی ہے

          ومعنى خبر بن عَبَّاسٍ عِنْدِي حَيْثُ قَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ يُرِيدُ بِهِ: وَهُوَ دَاخِلَ الْحَرَمِ، لَا أَنَّهُ كَانَ مُحْرِمًا،
          ابن عباس کی خبر کا مطلب ہے کہ رسول الله نے ان سے نکاح کیا اور وہ حالت احرام میں یعنی حرم میں داخل ہونا چاہتی تھیں نہ کہ وہ احرام میں تھیں

          میرے نزدیک اگر ایسا ہوا تو خاص واقعہ ہے

  131. وجاہت says:

    کیا یہ حدیث صحیح ہے اور اسرائیلی روایات میں سے ہے

    ‌صحيح البخاري: كِتَابُ بَدْءِ الخَلْقِ (بَابٌ خَيْرُ مَالِ المُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الجِبَالِ) صحیح بخاری: کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیوں کر شروع ہوئی (باب : مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہیں جن کو چرانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھرتا رہے)

    3305

    حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لاَ يُدْرَى مَا فَعَلَتْ، وَإِنِّي لاَ أُرَاهَا إِلَّا الفَارَ، إِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الإِبِلِ لَمْ تَشْرَبْ، وَإِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الشَّاءِ شَرِبَتْ» فَحَدَّثْتُ كَعْبًا فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ لِي مِرَارًا، فَقُلْتُ: أَفَأَقْرَأُ التَّوْرَاةَ؟

    حکم : صحیح 3305 . سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب نے ، ان سے خالد نے ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بنی اسرائیل میں کچھ لوگ غائب ہوگئے ۔ ( ان کی صورتیں مسخ ہوگئیں ) میرا تو یہ خیال ہے کہ انہیں چوہے کی صورت میں مسخ کردیاگیا ۔ کیوں کہ چوہوں کے سامنے جب اونٹ کا دودھ رکھا جاتا ہے تو وہ اسے نہیں پیتے ( کیوں کہ بنی اسرائیل کے دین میں اونٹ کا گوشت حرام تھا ) اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو پی جاتے ہیں ۔ پھر میں نے یہ حدیث کعب احبار سے بیان کی تو انہوں نے ( حیرت سے ) پوچھا ، کیا واقعی آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث سنی ہے ؟ کئی مرتبہ انہوںنے یہ سوال کیا ۔ اس پر میں نے کہا ( کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی تو پھر کس سے ) کیا میں توراۃ پڑھاکرتا ہوں

    http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/3305

  132. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی آپ سیا پہلے بھی پوچھا تھا ممکن ہے کے آپ کثرت سوالات کی وجہ سے جواب نہیں دے سکے

    کیا یہ حدیث ہے – کچھ ملحدوں نے اس کو پیش کر کے مذاق کیا ہے – الله ان کو ہدایت دے – آمین

    حدثنا يعقوب قال حدثنا أبي عن ابن إسحاق قال وحدثني حسين بن عبد الله بن عباس عن عكرمة مولى عبد الله بن عباس عن عبد الله بن عباس عن أم الفضل بنت الحارث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى أم حبيبة بنت عباس وهي فوق الفطيم قالت فقال لئن بلغت بنية العباس هذه وأنا حي لأتزوجنها

    ترجمہ: عبداللہ بن عباس اپنی والدہ ام فضل سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ام حبیبہ بنت عباس کو دیکھا، جو اس وقت دودھ چھڑانے کی عمر کی تھیں، تو رسول اللہ نے کہا اگر عباس کی یہ چھوٹی بیٹی میرے زندہ ہوتے ہوئے بالغ ہوگئی تو میں ضرور اس سے شادی کروں گا

    حوالہ: مسند احمد حدیث نمبر : 26329

    http://library.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?flag=1&bk_no=6&ID=25638

    • Islamic-Belief says:

      اس کی سند میں حسين بن عبد الله بن عبيد الله بن العباس ہے جس کو ضعیف کہا گیا ہے

      اور امام احمد نے خود اس کو منکر الحدیث قرار دیا ہے

      وقال أبو داود: سمعت أحمد، وقيل له: حسين بن عبيد الله، صاحب عكرمة، منكر الحديث؟ فقال برأسه، أي نعم

  133. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی اس حدیث کو صحیح کہا گیا لیکن یہ صحیح کیسے ہوئی

    سنن النسائي: كِتَابُ الْمِيَاهِ (بَابُ ذِكْرِ بِئْرِ بُضَاعَةَ) سنن نسائی: کتاب: پانی کی مختلف اقسام سے متعلق احکام و مسائل (باب: بضاعہ کے کنویں کا ذکر)

    327

    أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا لُحُومُ الْكِلَابِ وَالْحِيَضُ وَالنَّتَنُ فَقَالَ الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ

    حکم : صحیح 327

    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ پوچھا گیا: اے اللہ کےرسول! کیا آپ بضاعہ کے کنویں سے وضو کرتے ہیں جب کہ اس کنویں میں کتوں کا گوشت، حیض والے کپڑے اور گندگی گر پڑتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’پانی پاک اور پاک کرنے والا ہوتا ہے۔ کوئی چیز اس کو پلید نہیں کرتی۔‘‘

    http://mohaddis.com/View/Sunan-nasai/327

    • Islamic-Belief says:

      اس روایت
      إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ
      کے کئی طرق ہیں – تمام پر کلام ہے

      لیکن لوگوں نے اس کو شواہد کی بنا پر صحیح کہا ہے – میرے نزدیک صحیح سند سے یہ متن نہیں ہے

      سند میں عبيد الله بن عبد الرحمن بن رافع الأنصاري ہے جو مجہول ہے

  134. shahzad khan says:

    [30/10 2:16 pm] “”شہزاد خان””: مریم کو اس بچے کاحمل رہ گیا اور وہ اس حمل کو لیے ہوئے ایک دُور کے مقام پر چلی گئی۔ 16 پھر زچگی کی تکلیف نے اُسے ایک کھجُور کے درخت کے نیچے پہنچا دیا۔ وہ کہنے لگی ” کاش میں اس سے پہلے ہی مر جاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا۔“ 17 فرشتے نے پائنتی سے اُس کو پکار کر کہا ”غم نہ کر، تیرے ربّ نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کر دیا ہے۔ اور تُو ذرا اِس درخت کے تنے کو ہلا، تیرے اوپر تروتازہ کھجُوریں ٹپک پڑیں گی۔ پس تُو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔ پھر اگر کوئی تجھے نظر آئے تو اس سے کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لیے روزے کی نذر مانی ہے، اس لیے آج میں کسی سے نہ بولوں گی۔“18 پھر وہ اس بچے کو لیے ہوئے اپنی قوم میں آئی۔ لوگ کہنے لگے ”اے مریم! یہ تو تُو نے بڑا پاپ کر ڈالا۔ اے ہارون کی بہن، 19 نہ تیرا باپ کوئی آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی۔“ 19الف
    مریم نے بچے کی طرف اشارہ کر دیا۔
    لوگوں نے کہا ”ہم اِس سے کیا بات کریں گے جو گہوارے میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے؟“ 20
    بچہ بول اُٹھا ”میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اُس نےمجھے کتاب دی، اور نبی بنایا، اور بابرکت کیا جہاں بھی میں رہوں، اور نماز اور زکٰوة کی پابندی کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں، اور اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، 20الف اور مجھ کو جبّار اور شقی نہیں بنایا۔ سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مروں اور جبکہ زندہ کر کےاُٹھایا جاوٴں۔“
    [30/10 3:37 pm] “”شہزاد خان””: اور اس کے پیچھے جو اعتراض ہے وہ چار ہیں ۔1۔کسی دودھ پیتے بچے کو نبوت نہیں مل سکتی اور نہ ملی ہے ۔2 ۔کسی دودھ پیتے بچے کو کتاب نہیں مل سکتی ہے اور نہ ملی ہے۔ 3 ۔کسی دودھ پیتے بچے پر صلوة قائم کرنے کی ذمہ داری نہیں مل سکتی ہے اور نہ ملی ہے۔ 4 ۔کسی دودھ پیتے بچے کو زکوة دینے کا حکم نہیں مل سکتی ہے اور نہ ملا ہے۔۔۔۔۔۔بھائی سورہ مریم کے اس ترجمے پر یہ اعتراض کیے جاتے ہیں ۔جواب درکار ہے

    • Islamic-Belief says:

      اور اس کے پیچھے جو اعتراض ہے وہ چار ہیں
      ۔1۔کسی دودھ پیتے بچے کو نبوت نہیں مل سکتی اور نہ ملی ہے
      ۔2 ۔کسی دودھ پیتے بچے کو کتاب نہیں مل سکتی ہے اور نہ ملی ہے۔ 3
      ۔کسی دودھ پیتے بچے پر صلوة قائم کرنے کی ذمہ داری نہیں مل سکتی ہے اور نہ ملی ہے۔
      4 ۔کسی دودھ پیتے بچے کو زکوة دینے کا حکم نہیں مل سکتی ہے اور نہ ملا ہے۔

      ===========
      عیسیٰ علیہ السلام سے بچپنے میں یہ سب بلوایا گیا جبکہ انجیل نازل نہیں ہوئی تھی – اس روز ایسا نہیں کیا جاتا تو مریم علیہ السلام کو کوڑے کی سزا ملتی ان پر تہمت لگ جاتی – الله نے اس سب سے ان کی حفاظت کی اور قرآن میں جو بیان ہوا ہے اس کا مفہوم یہی ہے کہ ایک بچہ پیدا ہوا وہ بولا اور یہ سب بولا –
      یہ سب معمول سے ہٹ کر ہے – معجزہ ہے

      اب میں اس کا کیا جواب دوں اگر کسی کی موٹی عقل میں نہیں آ رہا

  135. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی كِتَابُ الْكُسُوفِ کی صحیح حدیث کون ہے اور اس کی کتبی رکعات ہیں

    صحيح مسلم: كِتَابُ الْكُسُوفِ (بَابُ ذِكْرِ مَنْ قَالَ: إِنَّهُ رَكَعَ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ) صحیح مسلم: کتاب: سورج اور چاند گرہن کے احکام (باب: اس کا ذکر جس نے کہا آپ نےچار سجدوں کے ساتھ آٹھ رکوع کیے)

    2111

    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ وَعَنْ عَلِيٍّ مِثْلُ ذَلِكَ
    حکم : صحیح 2111 . اسماعیل ابن علیہ نے سفیان سے،انھوں نے حبیب بن ابی ثابت سے،انھوں نے طاوس سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،انھوں نے کہا:جب سورج کو گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سجدوں کے ساتھ آٹھ رکوع کیے۔اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اسی کے مانند روایت کی گئی ہے۔

    http://mohaddis.com/View/Muslim/2111
    ——

    صحيح مسلم: كِتَابُ الْكُسُوفِ (بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ) صحیح مسلم: کتاب: سورج اور چاند گرہن کے احکام (باب: سورج یا چاند گرہن کی نماز)

    2097

    و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ

    حکم : صحیح 2097

    قتادہ نے عطاء بن ابی رباح سے،انھوں نے عبید بن عمیر سے اور انھوں نے حضر ت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (کسوف میں) چھ رکوعوں اور چار سجدوں پر مشتمل نماز پڑھی۔

    http://mohaddis.com/View/Muslim/2097
    ———

    • Islamic-Belief says:

      کسوف کے حوالے سے متضاد روایات امام مسلم نے جمع کر دی ہیں
      صحیح بخاری کو دیکھ لیں میرے نزدیک اس میں صحیح ہے

  136. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے – کیا یہ حدیث صحیح ہے

    وحدثنا يحيى بن يحيى ، اخبرنا جعفر بن سليمان ، عن ثابت البناني ، عن انس، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قال انس : ” اصابنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم مطر، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فحسر رسول الله صلى الله عليه وسلم ثوبه حتى اصابه من المطر، ‏‏‏‏‏‏فقلنا:‏‏‏‏ يا رسول الله لم صنعت هذا؟ قال:‏‏‏‏ ” لانه حديث عهد بربه تعالى ”

    سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم پر برسات ہوئی اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے سو کھول دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا یہاں تک کہ پہنچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مینہ اور ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس لئے کہ یہ ابھی اپنے پروردگار کے پاس سے آیا ہے۔“

    http://islamicurdubooks.com/Sahih-Muslim/Sahih-Muslim-fawad-.php?hadith_number_fawad=898

    http://mohaddis.com/View/Muslim/2083

    • Islamic-Belief says:

      جعفر بن سليمان الضبعي (م على) : عن ثابت وخلق شيعي صدوق صعفه القطان ووثقه ابن معين وغيره وقال ابن سعد ثقة فيه ضعف

  137. anum shoukat says:

    کیا ابراھیم علیہ السلام کی شریعت میں چور کی سزا ایک سال کی غلامی تھی؟

    • Islamic-Belief says:

      اس کا علم نہیں
      —-

      یہ تو مصر کا قانون تھا جیسا سورہ یوسف میں ہے کہ چور کو غلام بنا دیا جاتا تھا

  138. وجاہت says:

    کیا یہ حدیث صحیح ہے – تحقیق چاہیے

    حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَسَقَطَ مِنْ ظَهْرِهِ كُلُّ نَسَمَةٍ هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرِّيَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَجَعَلَ بَيْنَ عَيْنَيْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبِيصًا مِنْ نُورٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ رَبِّ مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ هَؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَعْجَبَهُ وَبِيصُ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ رَبِّ مَنْ هَذَا ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا رَجُلٌ مِنْ آخِرِ الْأُمَمِ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ دَاوُدُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ رَبِّ كَمْ جَعَلْتَ عُمْرَهُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سِتِّينَ سَنَةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَيْ رَبِّ زِدْهُ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قُضِيَ عُمْرُ آدَمَ جَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَوَلَمْ يَبْقَ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَوَلَمْ تُعْطِهَا ابْنَكَ دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَحَدَ آدَمُ، ‏‏‏‏‏‏فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَنُسِّيَ آدَمُ فَنُسِّيَتْ ذُرِّيَّتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَخَطِئَ آدَمُ فَخَطِئَتْ ذُرِّيَّتُهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

    ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے آدم کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے ان کی اولاد کی وہ ساری روحیں باہر آ گئیں جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے والا ہے۔ پھر ان میں سے ہر انسان کی آنکھوں کی بیچ میں نور کی ایک ایک چمک رکھ دی، پھر انہیں آدم کے سامنے پیش کیا، تو آدم نے کہا: میرے رب! کون ہیں یہ لوگ؟ اللہ نے کہا: یہ تمہاری ذریت ( اولاد ) ہیں، پھر انہوں نے ان میں ایک ایسا شخص دیکھا جس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک انہیں بہت اچھی لگی، انہوں نے کہا: اے میرے رب! یہ کون ہے؟ اللہ نے فرمایا: تمہاری اولاد کی آخری امتوں میں سے ایک فرد ہے۔ اسے داود کہتے ہیں: انہوں نے کہا: میرے رب! اس کی عمر کتنی رکھی ہے؟ اللہ نے کہا: ساٹھ سال، انہوں نے کہا: میرے رب! میری عمر میں سے چالیس سال لے کر اس کی عمر میں اضافہ فرما دے، پھر جب آدم کی عمر پوری ہو گئی، ملک الموت ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: کیا میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی نہیں ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تو نے اپنے بیٹے داود کو دے نہیں دیئے تھے؟ آپ نے فرمایا: تو آدم نے انکار کیا، چنانچہ ان کی اولاد بھی انکاری بن گئی۔ آدم بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھول گئی۔ آدم نے غلطی کی تو ان کی اولاد بھی خطاکار بن گئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔

    ترمزی

    http://mohaddis.com/View/Tarimdhi/3076