Q & A

You may also send us your questions and suggestions via Contact form

Post for Questions 

قارئین سے درخواست ہے کہ سوال لکھتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ سوال دینی مسئلہ پر ہونا چاہیے- وقت قیمتی شی ہے لہذا بے مقصد سوال سے پرہیز کریں – سوالات کے سیکشن کو غور سے دیکھ لیں ہو سکتا ہے وہاں اس کا جواب پہلے سے موجود ہو –

یاد رہے کہ دین میں غیر ضروری سوالات ممنوع ہیں اور انسانی علم محدود ہے

 اپ ان شرائط پر سوال کر سکتے ہیں

اول سوال اپ کا اپنا ہونا چاہیے کسی ویب سائٹ یا کسی اور فورم کا نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا مواد  اپ وہاں سے یہاں کاپی کریں

دوم : جو جواب ملے اس کو اپ کسی اور ویب سائٹ پر پوسٹ کر کے اس پر سوال نہیں کریں گے نہ ہی اس ویب سائٹ کے کسی بلاگ کو پوسٹ کر کے کسی دوسری سائٹ سے جواب طلب کریں گے – یعنی اپ سوال کو اپنے الفاظ میں منتقل کریں اس کو کاپی پیسٹ نہ  کریں اگر اپ کو کسی اور سے یہی بات پوچھنی ہے تو اپنے الفاظ میں پوچھیں

سوم کسی عالم کو ہماری رائے سے “علمی” اختلاف ہو تو اس کو بھی اپنے الفاظ میں منتقل کر کے اپ اس پر ہمارا جواب پوچھ سکتے ہیں

چہارم نہ ہی اپ ہماری ویب سائٹ کے لنک پوسٹ کریں کہ وہاں دوسری سائٹ پر لکھا ہو “اپ یہ کہہ رہے ہیں اور وہ یہ کہہ رہے ہیں ” یہ انداز مناظرہ کی طرف لے جاتا ہے جو راقم کے نزدیک دین کو کھیل تماشہ بنانے کے مترادف ہے

تنبیہشرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں جوابات پر پانبدی لگا دی جائے گی

387 Responses to Q & A

  1. wajahat says:

    ابو شہر یار بھائی کچھ سوالات ہیں جن کا جواب درکار ہے

    ١.

    کیا قربانی ایک فوت شدہ انسان کی طرف سے بھی کی جا سکتی ہے – قربانی سے مراد یہ جو بقر عید پر کی جاتی ہے
    اور کیا قربانی ایک زندہ انسان کی طرف سے بھی کی جا سکتی ہے یا نہیں – یہنی اس انسان کی طرف سے جس پر قربانی واجب نہیں – یا قربانی کے برابر قیمت کسی انسان کو دے کر اس کی مدد کی جا سکتی ہے – کیا اس سے قربانی جتنا ثواب ہو گا

    ============

    کیا کسی فوت شدہ آدمی کی طرف سے حج بدل کیا جا سکتا ہے – یا ایک ایسے آدمی کی طرف سے جس پر حج فرض نہیں اور وہ ابھی تک زندہ ہے اس کی تین سورتیں ہو سکتی ہیں

    ١.
    وہ آدمی زندہ ہو صحت مند ہو لیکن اس کے پاس وسائل نہ ہوں

    ٢.

    وہ آدمی جو ابھی تک زندہ ہو لیکن اس کی صحت اچھی نہ ہو یا بوڑھا ہو

    وغیرہ

    ==============

    ٣.

    زکاه کس کس مال پر فرض ہے – جو ضرویات سے زیادہ ہو یا جو اپنے ذاتی استعمال میں ہو

    عشر بارانی اور زرھی زمین پر کتنا ہے

    جانوروں پر زکاه کس حساب سے ہے

    • Islamic-Belief says:

      فوت شدہ کا عمل ختم ہوا- اب ورثاء جو نیک عمل کریں گے اس کا ثواب اس کو ہو گا اگر زندگی میں نیکی کی تلقین کی تھی
      سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کی والدہ والا واقعہ مخصوص ہے

      ————
      جس پر قربانی واجب نہیں اس کے لئے اپ کو قربانی کرنے کی ضرورت ہے ؟
      اس کو اپ اپنی قربانی کا گوشت صدقه کر دیں
      ——–

      ایک آدمی بیمار ہو لیکن مال دار ہو وہ کسی کو پیسے دے کر حج پر بھیج سکتا ہے

      ————-
      جس کے پاس مال نہیں اس پر حج فرض نہیں

      ————

      زکواه ضرورت سے زائد پر ہے – زمین اور جانوروں پر زکوه پر مجھے معلومات نہیں ہیں کسی عالم سے پتا کریں

  2. wajahat says:

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    عورت ،عورت کا نکاح نہ کرائے، اور نہ کوئی عورت خود اپنا نکاح کرے

    ( صحيح الجامع : 7298)​

    اس کا کیا مطلب ہے – کیا ایک عورت نکاح پڑھا سکتی ہے – اس حدیث کی وضاحت کر دیں

    • Islamic-Belief says:

      ابن ماجہ کی روایت ہے
      حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “لَا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ، وَلَا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا، فَإِنَّ الزَّانِيَةَ هِيَ الَّتِي تُزَوِّجُ نَفْسَهَا”
      کوئی عورت کسی اور عورت کا نکاح نہیں کرا سکتی، نہ خود کر سکتی ہے اگر کرے تو زانیہ ہے
      البانی اس کو صحیح کہتے ہیں
      اس کی سند میں مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ ہے جو ضعیف ہے اور ہشام مدلس ہے ضعیف ہے

      إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل
      1841
      میں البانی نے لکھا ہے
      قلت: وهذا إسناد حسن رجاله كلهم ثقات غير محمد بن مروان العقيلى قال الحافظ فى ” التقريب “: ” صدوق له أوهام “.
      قلت: ولكنه قد توبع , فرواه مسلم بن عبد الرحمن الجرمى حدثنا مخلد ابن حسين عن هشام بن حسان به , أخرجه الدارقطنى والبيهقى
      البانی میں کہتا ہوں اس کی اسناد حسن ہیں تمام راوی ثقہ ہیں سوائے محمد بن مروان کے اس پر ابن حجر کہتے ہیں صدوق ہے وہمی ہے
      میں البانی کہتا ہوں اس کی متابعت ہے پس مسلم بن عبد الرحمن الجرمى حدثنا مخلد ابن حسين عن هشام بن حسان نے اس کو روایت کیا ہے بیہقی اور دارقطنی میں
      پھر البانی نے کہا
      قلت: وهذا سند رجاله ثقات غير الجرمى هذا , وهو شيخ
      میں کہتا ہوں اس کی سند میں تم ثقہ ہیں سوائے الجرمی کے جو شیخ ہے

      اس کے بعد اس الجرمی پر کلام یہ کیا کہ انہوں نے سو رومییووں کو جہاد میں قتل کیا
      ———
      راقم کہتا ہے یہ راوی کی ثقاہت کیسے ہے کیونکہ حدیث کا تعلق صدق و حفظ ہے تلوار چلانے سے نہیں ہے
      ——

      پھر البانی نے کہا یہ ابو ہریرہ سے موقوف بھی آئی ہے
      وروى عبد الرحمن بن محمد المحاربى حدثنا عبد السلام بن حرب عن هشام به إلا أنه قال: قال أبو هريرة: ” كنا نعد التى تنكح نفسها هى الزانية “.
      فجعل القسم الأخير منه موقوفا , أخرجه الدارقطنى والبيهقى.

      اس کے بعد البانی نے دوسری کتاب لکھی صحیح و ضعیف سنن ابن ماجہ اس میں لکھا
      صحيح دون جملة الزانية
      یہ روایت زانیہ کے لفظ کے علاوہ صحیح ہے
      ——-
      راقم کہتا ہے کہ بھی عجیب ہے کیونکہ اس کی دلیل کیا ہے روایت یا تو پوری صحیح ہے یا پوری غلط ہے –
      صالح بن عبد العزيز نے إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل پر تعلق میں لکھا
      مبالغة لا تخفى بل هو ظاهر الكذب
      یہ مبالغة مخفی نہیں ہے بلکہ یہ کذب ہے

      یعنی یہ لوگ اس اضافہ کو نہیں مان رہے کہ ایسی عورت زانیہ ہے
      ———–
      راقم کہتا ہے اس کی وجہ سے قفہ کا مسئلہ جنم لے گا اس وجہ سے یہ لوگ اس کا انکار کر رہے ہیں
      لیکن جب روایت کی سند ان کے نزدیک صحیح ہے تو پوری روایت صحیح ہو گی
      ——–

      صحیح بات یہ ہے کہ مُسْلِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْمِيُّ مجہول ہے اچھی تلوار چلنے سے حدیث میں ثقہ نہیں ہو جائے گا

      شعیب کہتے ہیں جملہ “فإن الزانية هي الي تزوج نفسها یہ زانیہ ہے
      والصحيح أن هذه الجملة من قول أبي هريرة
      صحیح یہ ہے کہ یہ قول ابو ہریرہ ہے
      ———

      سنن الکبری بیہقی میں ہے
      قَالَ الْحَسَنُ: وَسَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، عَنْ رِوَايَةِ مَخْلَدِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، فَقَالَ: ثِقَةٌ، فَذَكَرْتُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ: نَعَمْ، قَدْ كَانَ شَيْخٌ عِنْدَنَا يَرْفَعُهُ عَنْ مَخْلَدٍ قَالَ الشَّيْخُ: تَابَعَهُ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ، عَنْ هِشَامٍ
      الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ نے کہا میں نے ابن معین سے … اس روایت کا پوچھا کہا
      قَدْ كَانَ شَيْخٌ عِنْدَنَا يَرْفَعُهُ عَنْ مَخْلَدٍ
      ایک بوڑھا (مُسْلِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْمِيُّ) تھا جو اس کو رفع کر کے مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ تک لے جاتا تھا

      اس پر بیہقی نے کہا
      اس کی متابعت کی ہے عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ نے اور مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ نے

      راقم کہتا ہے یہ متابعت بے کار ہے
      عبد السلام بن حرب پر ابن سعد کہتے ہیں ضعيف في الحديث
      عجلی کہتے ہیں
      وهو عند الكوفيين ثقة ثبت، والبغداديون يستنكرون بعض حديثه
      کوفیوں کے نزدیک ثقہ ہیں اور بغدادیوں کے نزدیک وہ ان کی احادیث کا انکار کرتے ہیں

      الغرض روایت ابو ہریرہ پر ضعیف سند سے موقوف ہے مرفوع نہیں سمجھی جا سکتی اس میں شک ہے

  3. wajahat says:

    اس حدیث کے دو راویوں کے بارے میں معلومات درکار ہیں

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنِي بِلالُ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلاَلَ قَالَ: “اللَّهُمَّ أَهْلِلْهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالإِيمَانِ وَالسَّلاَمَةِ وَالإِسْلاَمِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ

    1-سلیمان بن سفیان المدینی المشہور سلیمان بن سفیان القرشیی۔
    2-بلال بن یحی۔

  4. Aysha butt says:

    Sir hadith k mutabiq zawal k 3 time hai … Fajr dhur se phle or asr k bad .. Fajr k waqt zawal ka time roshni phelne k kitni dair bad shuru hota hai or kab tak rehta hai
    Or asr k waqt kya zawal ka waqt hujre se dhoop hatne se shru hota hai ya magrib ki azan se phle 20 mints zawal mn shamil hai
    Bta dein
    Kya play store mn mujood salah timing app sunrise or sunset ka sahi time btati hai

    • Islamic-Belief says:

      زوال کا وقت تو ایک ہی ہے – تین اوقات میں نماز کی ممانعت کہی جاتی ہے
      سورج غروب ہوتے وقت
      زوال کے وقت
      سورج طلوع ہوتے وقت

      وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ، أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: «حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ»
      عقبہ رضی الله عنہ نے کہا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تین اوقات میں نماز پڑھنے اور تدفین سے منع کیا
      عین طلوع آفتاب کے وقت۔
      زوال شمس کے وقت۔
      سورج کے غروب کے وقت۔
      =======

      طلوع و غروب میں پانچ منٹ لگتے ہیں احیتاطا اس میں پانچ اور شامل کریں تو دس منٹ ہوئے
      لہذا آج کل جو
      Apps
      ہیں ان میں جو وقت پتایا گیا ہو اس سے چار منٹ قبل اور چار منٹ بعد کا اندازہ رکھیں
      کیونکہ
      sunrise
      کا مطلب مکمل طلوع نہیں ہے

      طلوع کا مطلب موسم کی ایپلی کیشنز میں نمودار ہونا ہے اور غروب کا مکمل غائب ہونا ہے لہذا موسم کی اپپ کا نماز کی اپپ سے تقابل کریں کہ اس میں کیا ٹائم لکھا ہے

      • Aysha butt says:

        Sir ik hafith mn asr ka waqt suraj zard hony tak btya gya hai or dosri mn hai agr guroob e aftab se phle ik rakat b paa li to namz hogi…. Asr ka akri waqt kiya hai.. Kya dono ahadith sahi hai

        • Islamic-Belief says:

          حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، وَعَنِ الأَعْرَجِ يُحَدِّثُونَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ العَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ العَصْرَ

          جس نے طلوع آفتاب سے پہلے نماز فجر کی ایک رکعت کو پا لیا اس نے گویا نماز فجر کو پا لیا اور جس نے غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لی وہ نماز عصر پانے میں کامیاب ہو گیا۔
          (صحیح بخاری ،مواقیت :۵۷۹)
          ———–
          حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، وَاسْمُهُ يَحْيَى بْنُ مَالِكٍ الْأَزْدِيُّ وَيُقَالُ الْمَرَاغِيُّ، وَالْمَرَاغُ حَيٌّ مِنَ الْأَزْدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «وَقْتُ الظُّهْرِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُطْ ثَوْرُ الشَّفَقِ، وَوَقْتُ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، وَوَقْتُ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ

          ظہر كا وقت زوال سے ليكر آدمى كے سائے كے برابر ہونے ( يعنى ) عصر كا وقت شروع ہونے تك رہتا ہے، اور عصر كا وقت سورج كے زرد ہونے تك ہے، اور مغرب كا وقت سرخى غائب ہونے تك ہے، اور عشاء كا وقت درميانى نصف رات تك ہے، اور صبح كى نماز كا وقت طلوع فجر سے ليكر سورج طلوع ہونے تك ہے، جب سورج طلوع ہو جائے تو نماز پڑھنے سے رك جاؤ كيونكہ وہ شيطان كے سينگوں كے درميان طلوع ہوتا ہے”

          صحيح مسلم حديث نمبر 612
          —————-

          وہابی صالح المنجد کے نزدیک اس سے دو وقت نکلتے ہیں
          https://islamqa.info/ur/9940
          ” اور عصر كا وقت اس وقت تك ہے جب تك سورج زرد نہ ہو ”

          عصر كى ابتدائى وقت ہم معلوم كر چكے ہيں كہ ظہر كا وقت ختم ہونے ( يعنى ہر چيز كا سايہ اس كے برابر ہونے كے وقت ) سے شروع ہوتا ہے، اور عصر كى انتہاء كے دو وقت ہيں:

          ( 1 ) اختيارى وقت:

          يہ عصر كے ابتدائى وقت سے ليكر سورج زرد ہونے تك ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

          ” عصر كا وقت جب تك سورج زرد نہ ہو جائے ”

          يعنى جب تك سورج پيلا نہ ہو جائے، اس كا گھڑى كے حساب سے موسم مختلف ہونے كى بنا پر وقت بھى مختلف ہو گا.

          ( 2 ) اضطرارى وقت:

          يہ سورج زرد ہونے سے ليكر غروب آفتاب تك ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

          ” جس نے سورج غروب ہونے سے قبل عصر كى ايك ركعت پا لى اس نے عصر كى نماز پالى ”
          ———-
          صحیح مسلم کی روایت پر محدثین کہتے ہیں یہ مرفوع ہے یا نہیں اس میں کلام ہے مسند البزار میں ہے
          وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ فَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَشُعْبَةُ رَفَعَهُ عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ عَنْهُ غَيْرُهُ، وَرَفَعَهُ هِشَامٌ، وَهَمَّامٌ، وَاسْمُ أَبِي أَيُّوبَ يَحْيَى بْنُ مَالِكٍ
          سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ نے اس کو مرفوع کیا ہے- شعبہ سے اس کو مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، نے مرفوع روایت کیا ہے لیکن اوروں نے ، هِشَامٌ، وَهَمَّامٌ نے اس کو مرفوع کیا ہے

          یعنی یہ عبد الله بن عمرو کا قول ہے حدیث نبوی ہے یا نہیں اس می راوی اختلاف کرتے ہیں
          ========

          صحیح بخاری کی روایت میں یہ مسائل نہیں جو صحیح مسلم کی سند میں ہیں

  5. Aysha butt says:

    Sir jo Nabi s.a.w se madad mangty hai wo surah hijr ki ayat 88 quote krty hai is ayat ka tarjuma or mafhoom bta dein

      • Aysha butt says:

        Kya yeh ayat khusos mn se hai…. Yani us waqt k lie thi… Yeh ayat kis tanzur mn utri thi ..pta ho to bta dein

        • Islamic-Belief says:

          اور تو اپنی آنکھ اٹھا کر بھی ان چیزوں کو نہ دیکھ جو ہم نے مختلف قسم کے کافروں کو استعمال کے لیے دے رکھی ہیں اور ان پر غم نہ کر اور اپنے بازو ایمان والوں کے لیے جھکا دے۔
          ======

          اس کا صحیح علم الله نے اپنے نبی کو دے دیا ہے کہ اس میں کیا مراد ہے
          مجھے اس کے خصوص کا یا عموم کا علم نہیں ہے

  6. Aysha butt says:

    Quran mn 4 trah se mutulb niklty hai
    Ayat makhsoos ho or hukm b makhsoos ho
    Ayt makhsoos ho or hukm aam ho
    Ayat aam or hukm makhsoos ho
    Ayat aam ho or hukm b aam ho
    Am i right
    In ki misalon se wazaht ker dy

  7. raneem says:

    عائشہ رضی اللہ عنہا مردوں کو تبلیغ کرتی تھی کسی حدیث میں ہیں تحقیق چاہیے

    دوسرا سوال بعض کا کہنا ہے کہ قرآن میں مردوں سے بات کرنا منع یے مجبوری کے علاوہ اور انکا کہنا ہے کہ مردوں کو تبلیغ کرنی نہیں چاہیے چاہے فیس بک ہی ہو۔

    ایسا ہی سوال آپ سے پہلے پوچھا تھا مردوں کو تبلیغ کا فیس بک پر آپ نے کہا تھا کر سکتے ہیں آپ نے وجہ یہ بتائی تھی کہ عورتیں مردوں سے بات کرتی ہے میرا سوال یہ ہے کہ یہ مجبوری ہے اگر مردوں سے بات کرنی پڑ رہی ہے سودا سلف لانے کیلئے یا شوپنگ کیلئے یہ تو بھائی مجبوری یے دین کا کام تو مجبوری نہیں ہے نہ پلیز اس بات کی اچھی طرح وضاحت کر دے کیونکہ میں فیس بک پر دعوت دیتی ہوں اور میرا عمل کہیں شریعت کے خلاف نہ ہوجزاک اللہ خیر۔

    • Islamic-Belief says:

      دین سے متعلق علمی کلام غیر مردوں سے کیا جا سکتا ہے
      اس پر کسی پابندی کا مجھے علم نہیں
      انٹرنیٹ پر جب اپ کا وجود نہیں دیکھ سکتے تو پھر قباحت کا علم نہیں ہے

      امہات المومنین سے لوگ سوال کرتے تھے یہ تو سب کو معلوم ہے ہر دوسری روایت میں ذکر ہے
      حدیث کو راوی عورتوں نے بھی بیان کیا ہے
      اگر ایسی پابندی ہوتی تو کوئی عورت امہات المومنین کے سوا حدیث روایت نہیں کرتی

  8. raneem says:

    جب بچے کی پیدائش ہونے والی ہو اس وقت ماں جو بھی دعا کرتی ہے کیا وہ پوری ہوتی ہے؟

  9. Aysha butt says:

    Sir ik waqia btaya gya hai k ik admi Nabi s.a.w k aagy paon pela k betha thA tu ik sihabi ne kaha k agr Nabi s.a.w ka khyl na hota tu mn tuje saxza deta
    Apki Nzr se kbi guzra yeh waqia

  10. irfan says:

    یا ارحم الراحمین کی فضیلت میں ایک واقعہ بیان کیا جاتا جس میں فرشتہ مدد کے لیے آتا ہے اسمان سے حدیث درکار ہے

    • Islamic-Belief says:

      مستدرک الحاکم میں دو روایات ہیں

      حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَانِيُّ، ثنا مَسْعُودُ بْنُ زَكَرِيَّا التُّسْتَرِيُّ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ثنا فَضَالُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِنَّ لِلَّهِ مَلَكًا مُوَكَّلًا بِمَنْ يَقُولُ: يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، فَمَنْ قَالَهَا ثَلَاثًا قَالَ الْمَلَكُ: إِنَّ أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ قَدْ أَقْبَلَ عَلَيْكَ فَاسْأَلْ ”
      أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، نے کہا کہ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا الله کا ایک موکل فرشتہ ہے جو بھی يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ کہتا ہے تو یہ فرشتہ اس پر کہتا ہے أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ نے تجھ کو قبول کیا اب سوال کر

      أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَلْ فَقَدْ نَظَرَ اللَّهُ إِلَيْكَ» الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى هُوَ الرَّقَاشِيُّ، وَأَخْشَى أَنْ يَكُونَ عَمُّهُ يَزِيدَ بْنَ أَبَانَ إِلَّا أَنِّي قَدْ وَجَدْتُ لَهُ شَاهِدًا مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ”

      حاکم نے کہا خدشہ ہے اس میں يزيد بن أبان الرقاشي ہے لیکن یہ انس رضی الله عنہ کی روایت أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رضی الله عنہ کی روایت پر شاہد ہے

      ========

      الذھبی نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے
      لیکن میزان میں فضال بن جبير کا ذکر کر کے اس کو ضعیف قرار دیا ہے

      المعلمي نے النكت الجياد میں کہا
      فضّال بن جبير أبو المهند الغداني:
      “الفوائد” (ص 302): “تالف زعم أنه سمع أبا أمامة وروى عنه ما ليس من حديثه”.
      فضّال بن جبير بے کار ہے اس کا دعوی ہے اس نے ابو امامہ سے سنا جبکہ وہ ان کی احادیث نہیں ہیں

      شاہد حدیث میں يزيد بن أبان الرقاشي جو ضعیف ہے

  11. وجاہت says:

    مسند احمد کی ایک حدیث ہے

    http://www.hadithurdu.com/musnad-ahmad/11-1-14/

    مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 14

    حضرت صدیق اکبر کی مرویات

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْتَ وَرِثْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ أَهْلُهُ قَالَ فَقَالَ لَا بَلْ أَهْلُهُ قَالَتْ فَأَيْنَ سَهْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَطْعَمَ نَبِيًّا طُعْمَةً ثُمَّ قَبَضَهُ جَعَلَهُ لِلَّذِي يَقُومُ مِنْ بَعْدِهِ فَرَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَقَالَتْ فَأَنْتَ وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ

    ابوالطفیل کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوگیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک قاصد کے ذریعے یہ پیغام بھجوایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث آپ ہیں یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ؟ انہوں نے جواباً فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ ہی ان کے وارث ہیں، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ کہاں ہے؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کوئی چیز کھلاتا ہے، پھر انہیں اپنے پاس بلالیتا ہے تو اس کا نظم ونسق اس شخص کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو خلیفہ وقت ہو، اس لئے میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ اس مال کو مسلمانوں میں تقسیم کردوں، یہ تمام تفصیل سن کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے جو سناہے، آپ اسے زیادہ جانتے ہیں، چنانچہ اس کے بعد انہوں نے اس کا مطالبہ کرنا چھوڑ دیا۔


    پہلی بات تو یہ کہ اس حدیث میں جو یہ ترجمہ کیا گیا وہ کن عربی الفاظ کا ہے

    چنانچہ اس کے بعد انہوں نے اس کا مطالبہ کرنا چھوڑ دیا۔

    کیا یہ ترجمہ میں تحریف نہیں

    اس حدیث کے راوی کیسے ہیں

    یہ حدیث یہاں یہاں آئ ہے

    http://shamela.ws/browse.php/book-12520#page-33

    http://shamela.ws/browse.php/book-25794#page-167

    http://shamela.ws/browse.php/book-12981#page-64

    • Islamic-Belief says:

      متن میں الفاظ
      چنانچہ اس کے بعد انہوں نے اس کا مطالبہ کرنا چھوڑ دیا۔
      موجود نہیں ہیں مترجم کی کذب بیانی ہے کون ہے یہ جھوٹا ؟

      احمد شاکر کہتے ہیں
      إسناده صحيح، الوليد بن جميع هو الوليد بن عبد الله بن جميع، نسب إلى جده، وهو ثقة. أبو الطفيل هو عامر بن واثلة، من صغار الصحابة،
      اس کی اسناد صحیح ہیں الوليد بن عبد الله بن جميع، ثقہ ہے اور أبو الطفيل عامر بن واثلة، چھوٹے اصحاب رسول میں سے ہے

      شعيب الأرنؤوط کہتے ہیں اسناد حسن ہیں

      ابن کثیر نے البدایہ و النہایہ میں ذکر کیا ہے اور کہا
      ابن كثير في ” البداية ” 5 / 289 بعد أن أورد هذا الحديث عن ” المسند “: ففي لفظ هذا الحديث غرابة ونكارة، ولعله روي بمعنى ما فهمه بعض الرواة، وفيهم من فيه تشيُّع
      اس حدیث میں الفاظ کی غرابت و نکارت ہے اور لگتا ہے بعض راویوں نے اس کو اپنے فہم پر روایت کیا ہے اور ان میں شیعیت ہے

      ==========
      صحیح بخاری حدیث 6726 میں ہے
      فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ
      فاطمہ نے ابو بکر کو چھوڑ دیا اور ان سے بات نہ کرتیں یہاں تک کہ موت ہوئی
      ============

      اس کے برعکس احمد شاکر اور شعيب الأرنؤوط دونوں مسند احمد کی اس روایت کی تعلیق میں لکھتے ہیں
      وقد روينا عن أبي بكر رضى الله عنه أنه ترضى فاطمة وتلاينها قبل موتها، فرضيت، رضى الله عنها
      اور ہم سے روایت کیا گیا ہے کہ ابو بکر رضی الله عنہ کی سند سے کہ وہ فاطمہ سے راضی تھے اور ان کو اپنے موقف پر لائے پس وہ راضی ہوئیں رضی الله عنہا

      اس طرح ان دونوں نے صحیح بخاری کی حدیث کا انکار کیا

      ================

      راقم کہتا ہے مسند احمد کی روایت ضعیف ہے
      نہ الولید ثقہ ہے نہ ابو طفیل صحابی ہے

      الکامل از ابن عدی میں ہے
      حَدَّثَنَا ابْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثني صَالِحُ بْنُ أَحْمَد بْن حنبل، قَال: حَدَّثَنا علي، قَالَ: سَمِعْتُ جرير بْن عَبد الحميد، وقِيلَ لَهُ: كَانَ مغيرة ينكر الرواية، عَن أبي الطفيل؟ قَال: نَعم.
      مغيرة ، ابی طفیل کی روایات کا انکار کرتے تھے

      ابو طفیل آخری عمر میں المختار الثقفي کذاب کے ساتھ تھے جس کا قتل ابن زبیر رضی الله عنہ نے کرایا

  12. raneem says:

    مسند احمد کی روایت ہے کہ عرفہ کے دن نعمان جگہ میں اللہ تعالی نے آدم کی اولاد سے عہد لیا آدم کی پشت سے تمام اولاد آدم کی روحوں کو پیدا کیا اور پوچھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو سب نے جوب دیا کہ کیوں نہیں آپ ہی ہمارے رب ہیں
    ترمذی کی روایت کے مطابق آدم علیہ السلام کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور تمام لوگوں کو پیدا کیا جتنی بھی قیامت تک پیدا ہو نگی انکو وہی شکل میں پیدا کیا جو دنیا میں شکلیں ہونگی
    ایک اور روایت چیونٹیوں کی شکل میں ارواح کو پیدا کر کے عہد لیا اللہ نے ان روایات کی تحقیق چاہیے عہد الست کے بارے میں تمام روایات صحیح ہے یا نہیں؟
    -جمعہ والے دن کا، حج کیا، حج اکبر کہلاتا ہے
    -کیا دنیا میں چار اوقات میں وقت رکا تھا یہ بات صحیح ہے؟ اور یہ کس وجہ سے رکا، تھا

    ہمارے ہاں عرفہ کا دن ہماری تاریخ کے مطابق نو ذالحجہ کو ہو گا یا جس دن سعودی عرب والوں کا نو عرفہ ہا گا تو تب ہو گا؟

    • Islamic-Belief says:

      عرفہ کا دن سعودی عرب کا یعنی حج کا ہو گا
      ———

      یہ روایت صحیح نہیں- عہد الست پر کوئی صحیح روایت نہیں ہے

  13. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    صحيح مسلم: كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ (كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ) صحیح مسلم: کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام (باب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام)

    7037

    حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ قَالَ كَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ وَبَيْنَ حُذَيْفَةَ بَعْضُ مَا يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ كَمْ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ أَخْبِرْهُ إِذْ سَأَلَكَ قَالَ كُنَّا نُخْبَرُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ فَإِنْ كُنْتَ مِنْهُمْ فَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَأَشْهَدُ بِاللَّهِ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ وَعَذَرَ ثَلَاثَةً قَالُوا مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا عَلِمْنَا بِمَا أَرَادَ الْقَوْمُ وَقَدْ كَانَ فِي حَرَّةٍ فَمَشَى فَقَالَ إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ فَلَا يَسْبِقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبَقُوهُ فَلَعَنَهُمْ يَوْمَئِذٍ

    حکم : صحیح 7037

    ولید بن جمیع نے کہا: ہمیں ابوطفیل رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: عقبہ والوں میں سے ایک شخص اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان (اس طرح کا) جھگڑا ہو گیا جس طرح لوگوں کے درمیان ہو جاتا ہے۔ (گفتگو کے دوران میں) انہوں نے (اس شخص سے) کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ عقبہ والوں کی تعداد کتنی تھی؟ (حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ نے) کہا: لوگوں نے اس سے کہا: جب وہ آپ سے پوچھ رہے ہیں تو انہیں بتاؤ۔ (پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے خود ہی جواب دیتے ہوئے) کہا: ہمیں بتایا جاتا تھا کہ وہ چودہ لوگ تھے اور اگر تم بھی ان میں شامل تھے تو وہ کل پندرہ لوگ تھے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ان میں سے بارہ دنیا کی زندگی میں بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ میں تھے اور (آخرت میں بھی) جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین لوگوں کا عذر قبول فرما لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان کرنے والے کا اعلان نہیں سنا تھا اور اس بات سے بھی بے خبر تھے کہ ان لوگوں کا ارادہ کیا ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حرہ میں تھے، آپ چل پڑے اور فرمایا: “پانی کم ہے، اس لیے مجھ سے پہلے وہاں کوئی نہ پہنچے۔” چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (وہاں پہنچ کر) دیکھا کہ کچھ لوگ آپ سے پہلے وہاں پہنچ گئے ہیں تو آپ نے اس روز ان پر لعنت کی

  14. Naim says:

    ما کنت أبالی لو ضحیت بدیک ….بلال رضی الله عنه
    عبدالرزاق ۸۱۵۶
    المحلی۳۸۵
    پلیز وضاحت کردے

    • Islamic-Belief says:

      مصنف عَبْدُ الرَّزَّاقِ، 8156 ہے

      – عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: سَمِعْتُ بِلَالًا يَقُولُ: «مَا أُبَالِي لَوْ ضَحَّيْتُ بِدِيكٍ، وَلَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِثَمَنِهَا عَلَى يَتِيمٍ أَوْ مُغَبَّرٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُضَحِّيَ بِهَا» قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَسُوَيْدٌ قَالَهُ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ أَوْ هُوَ مِنْ قَوْلِ بِلَالٍ

      عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ نے کہا سوید بن غفله نے کہا بلال نے کہا مجھے کوئی پرواہ نہیں اگر میں مرغا ذبح کروں … عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ الْجُعَفِيُّ الْكُوفِيُّ الضَّرِيرُ نے کہا نا معلوم یہ سوید نے خود اپنی طرف سے کہا یا یہ قول بلال رضی الله عنہ ہے

      ————–
      اس میں سند صحیح ہے البتہ ابہام ہے کہ یہ قول کس کا ہے سوید صحابی نہیں ہے

  15. raneem says:

    ذالحجہ دس دن کے روزوں کی فضیلت کے بارے میں روایات صحیح ہیں اور ان دس دنوں میں کونسی دعائیں صحیح احادیث میں ہیں وہ چاہیے پلیز

  16. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    صحيح مسلم: كِتَابُ الْفَضَائِلِ (بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ) صحیح مسلم: کتاب: أنبیاء کرامؑ کے فضائل کا بیان (باب: حضرت ابرا ہیم خلیل کے فضائل)

    6141

    حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالْقَدُومِ»

    حکم : صحیح 6141

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : حضرت ابرا ہیم علیہ السلام نبی علیہ السلام نے اَسی سا ل کی عمر میں قدوم (مقام پر تیشے یا بسولے کے ذریعے )سے ختنہ کیا۔”

    • Islamic-Belief says:

      یہ روایت ادب المفرد میں بھی ہے
      أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَمَانِينَ سَنَةً، وَاخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: يَعْنِي مَوْضِعًا

      امام بخاری کہتے ہیں یہ مقام ہے
      ترجمہ ہو گا
      ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حضرت ابراہیم علیہ السلام نبی علیہ السلام نے اَسی سا ل کی عمر میں قدوم میں ختنہ کیا

      قدووم آج کل اسرائیل میں ہے
      https://en.wikipedia.org/wiki/Kafr_Qaddum
      ———–

      قدوم عربی میں تیشہ کو بھی کہتے ہیں
      http://www.almaany.com/en/dict/ar-en/home.php?lang_name=ar-en&servicategoryces=All&service=dict&word=قدوم
      لہذا مترجم نے دونوں کو ملا دیا ہے
      ——-
      بائبل کے مطابق ٩٩ سال کی عمر میں ختنہ کرایا

      http://biblehub.com/genesis/17-24.htm

      ————-

      یہ قول ابو ہریرہ سے کئی سندوں سے آیا ہے
      حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ القُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالقَدُّومِ»، حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، وَقَالَ «بِالقَدُومِ مُخَفَّفَةً»،
      تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ،
      تَابَعَهُ عَجْلاَنُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،
      وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ
      ———

      یہ روایت اسرائیلایات میں سے ہے اس کو چھوڑ دیا جائے
      انبیاء کا ختنہ کرانا ایک بنی اسرائیلی گھڑنت ہے
      کیونکہ ختنہ فطرت میں سے ہے جس پر انبیاء کا قدرتی عمل ہے ایسا نہیں کہ ٨٠ سال کی عمر میں خیال آئے
      ابراہیم کا خاص ذکر کرتے ہیں کیونکہ وہ بابل سے تھے اور بنی اسرائیل والوں نے یہ کہانی گھڑی کہ دنیا میں ان کے سوا کوئی ختنہ نہیں کراتا تھا جبکہ انبیاء قدیم عربوں میں بھی آئے ہیں مثلا ھود اور صالح علیھما السلام

  17. وجاہت says:

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: صَلَّى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى جِنَازَةٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: «إِنِّيٍ وَجَدْتُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رِيحَ شَرَابٍ، وَإِنِّي سَأَلْتُهُ عَنْهُ فَزَعَمَ أَنَّهُ خَلٌّ، وَإِنِّي سَائِلٌ عَنْهُ، فَإِنْ كَانَ مُسْكِرًا جَلَدْتُهُ» ، قَالَ السَّائِبُ: فَأَنَا شَهِدْتُهُ جَلَدَهُ الْحَدَّ

    لنک

    http://shamela.ws/browse.php/book-13086/page-1670

  18. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی ایک بات پوچھنی ہے کہ کیا آج کل کے اہل کتاب جنّت میں جا سکتے ہیں بغیر حضور صلی الله وسلم پر ایمان لانے کے – پلیز یہ تحریر ایک دفعہ پڑھ کر جواب دیں تا کہ قاری حنیف دار صاحب کو جواب دیا جا سکے

    لنک

    https://hanifdarblog.wordpress.com/2017/08/

    • Islamic-Belief says:

      رفع عیسیٰ کے بعد بعثت نبوی کے دوران لوگ تھے جو اہل کتاب کے موحدین تھے وہ آیات الله پڑھتے تھے اور نبی کے منتظر تھے اس نبی کے انتظار میں وفات بھی ہوئی
      اسی طرح صابی بھی اہل کتاب کے لوگ ہیں جو زبور کو مانتے ہیں اور یحیی علیہ السلام کو نبی کہتے ہیں

      ان تمام کا فیصلہ الله تعالی کریں گے کہ جو ان پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو

      [ ( إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا إِنَّ اللَّهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ) الحج/17]

      سورہ آل عمران میں اھل کتاب کے بارے میں ارشاد فرمایا ؎

      لَيْسُوا سَوَاءً ۗ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ (113) يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَأُولَٰئِكَ مِنَ الصَّالِحِينَ (114) وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَن يُكْفَرُوهُ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ (115)
      یہ سب اھل کتاب ایک جیسے نہیں ہیں ان میں وہ گروہ بھی ھے جو ساری رات قیام میں اللہ کی آیات( تورات و انجیل )پڑھتے رھتے ہیں اور سجدہ ریز رھتے ہیں ،ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور آخرت کے دن پر ، نیکی کے لئے کہتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور خیرات( ویلفئیر) کے کاموں میں بھاگم بھاگ شرکت کرتے ہیں اور یہ صالح لوگ ہیں ، اور جو کچھ انہوں نے بھلائی کی ھو گی اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اللہ متقی لوگوں سے بخوبی واقف ہے

      رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے انے کے بعد اہل کتاب جو سچے تھے وہ ان پر ایمان لے آئے اور جو طاغوت کے پجاری تھے اسی کفر میں رہ گئے

      لہذا آخری دور نبوی کے سالوں ٩ ہجری میں میں سوره المائدہ میں سب کا ذکر کیا

      قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ حَتَّىٰ تُقِيمُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم مَّا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا ۖ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (68) إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئُونَ وَالنَّصَارَىٰ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (69) المائدہ ـ
      کہہ دیجئے کہ اے اھل کتاب تب تک تمہارے پلے کچھ نہیں جبتک کہ تم قائم نہ کرو تورات کو اور انجیل کو اورجو نازل کیا گیا ھے تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اور یقینا جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا جاتا ھے اس سے ان کی سرکشی اور کفر مزید بڑھ جاتا ھے ، پس آپ کافر قوم پر افسوس مت کھائیں ، بےشک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہود ہیں اور صابی اور عیسائی ہیں جو بھی ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور صالح اعمال کیئے انہیں نہ کوئی خوف ھے نہ ہی کوئی غم لاحق ھو گا ـ
      ————–
      یعنی توریت و انجیل پر اگر اہل کتاب کا عمل نہیں تو سب کو تم کچھ بھی نہیں کہہ کر ان سب کو جہنمی قرار دیا گیا ہے

      سوره بقرہ اور سوره حج کی آیات سن ٢ کی ہیں اور المائدہ سن ٩ ہجری کی ہے اس فیصلہ سنا دیا گیا لہذا اسی سیاق سے پچھلی سورتوں کو سمجھنا ہو گا

  19. Aysha butt says:

    Sir surah maida ayah33 k zail mn kha jata k gustakhi ki saza qatal hai… .
    Murtad or gustakh mn kya fark hai

    • Islamic-Belief says:

      یہ جنگ کے قوانین ہیں ان کا اطلاق خاص صورت میں ہوتا ہے
      کیا رسول الله نے تمام مکہ والوں کو معاف نہیں کر دیا جبکہ گالی تو وہاں کفار دیتے ہی تھے ؟

  20. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    صحيح مسلم: كِتَابُ الطَّهَارَةِ (بَابٌ تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ) صحیح مسلم: کتاب: پاکی کا بیان (زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچے گا)

    586

    حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُوَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ فَكَانَ يَمُدُّ يَدَهُ حَتَّى تَبْلُغَ إِبْطَهُ فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا هَذَا الْوُضُوءُ؟ فَقَالَ: يَا بَنِي فَرُّوخَ أَنْتُمْ هَاهُنَا؟ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ هَاهُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوءَ، سَمِعْتُ خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمِنِ، حَيْثُ يَبْلُغُ الْوَضُوءُ»

    حکم : صحیح 586

    ابو حازم سے روایت ہے ، انہوں نےکہا: میں ابو ہریرہ﷜ کے پیچھے کھڑا تھا اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے ، وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ،یہاں تک کہ بغل تک پہنچ جاتا، میں نے ان سے پوچھا: اے ابو ہریرہ ﷜ ! یہ کس طرح کا وضو ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اے فروخ کی اولاد (اے بنی فارس)! تم یہاں ہو ؟ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم لوگ یہاں کھڑے ہو تو میں اس طرح وضو نہ کرتا ۔ میں نے ا پنے خلیل ﷺ کو فرماتے ہوئے سناتھا:’’ مومن کازیور وہاں پہنچے گا جہاں اس کے وضو کا پانی پہنچے گا۔‘‘

    کیا آج کل بھی ہم اپنے بازوؤں کو بغلوں تک دھو سکتے ہیں – اور اسی طرح ہم اگر پورا نہا لیں تو

    ابوشہر یار بھائی ذرا حدیث کے متن کے بارے میں بھی بتا دیں

    • Islamic-Belief says:

      اس کی سند صحیح ہے لیکن اس میں وضو میں اضافہ ہے جو ابو ہریرہ رضی الله عنہ کا اجتہاد ہے
      ابو ہریرہ یہ وضو دوسروں سے چھپاتے بھی تھے کیونکہ یہ معروف میں سے نہیں تھا

  21. وجاہت says:

    کیا آج کل کوئی تنظیم اس حدیث کی بنیاد پر عورتوں اور بچوں کا قتل کر سکتی ہے

    صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ (بَابُ أَهْلِ الدَّارِ يُبَيَّتُونَ، فَيُصَابُ الوِلْدَانُ وَالذَّرَارِيُّ) صحیح بخاری: کتاب: جہاد کا بیان (باب : اگر ( لڑنے والے ) کافروں پر رات کو چھاپہ ماریں)

    3012

    حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ، وَسُئِلَ عَنْ أَهْلِ الدَّارِ يُبَيَّتُونَ مِنَ المُشْرِكِينَ، فَيُصَابُ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ قَالَ: «هُمْ مِنْهُمْ»، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «لاَ حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

    حکم : صحیح 3012

    ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا‘ کہا ہم سے زہری نے بیان کیا‘ ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے‘ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اوران سے صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابواء یا ودان میں میرے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مشرکین کے جس قبیلے پر شب خون مارا جائے گا کیا ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کرنا درست ہوگا ؟ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی انہیں میں سے ہیں اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی کی چراگاہ نہیں ہے ۔

    • Islamic-Belief says:

      فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ حدیث غلطی سے قتل ہو جانے والوں سے متعلق ہے
      جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا جائے گا
      جنگ کرنا اور اس کا فیصلہ حکومت کا ہے

  22. وجاہت says:

    صحيح البخاري: كِتَابُ الفِتَنِ (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «الفِتْنَةُ مِنْ قِبَلِ المَشْرِقِ») صحیح بخاری: کتاب: فتنوں کے بیان میں (باب : نبی کریم ﷺ کا فرمانا کہ فتنہ مشرق کی طرف سے اٹھے گا)

    7095

    حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ بَيَانٍ عَنْ وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَرَجَوْنَا أَنْ يُحَدِّثَنَا حَدِيثًا حَسَنًا قَالَ فَبَادَرَنَا إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِّثْنَا عَنْ الْقِتَالِ فِي الْفِتْنَةِ وَاللَّهُ يَقُولُ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ فَقَالَ هَلْ تَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ إِنَّمَا كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَ الدُّخُولُ فِي دِينِهِمْ فِتْنَةً وَلَيْسَ كَقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ

    حکم : صحیح 7095

    ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خلف بن عبداللہ طحان نے بیان کیا، ان سے بیان ابن بصیر نے ، ان سے وبرہ بن عبدالرحمن نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس برآمد ہوئے تو ہم نے امید کی کہ وہ ہم سے کوئی اچھی بات کریں گے۔ اتنے میں ایک صاحب حکیم نامی ہم سے پہلے ان کے پاس پہنچ گئے اور پوچھا اے ابوعبدالرحمن! ہم سے زمانہ فتنہ میں قتال کے متعلق حدیث بیان کیجئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تمہیں معلوم بھی ہے کہ فتنہ کیا ہے؟ تمہاری ماں تمہیں روئے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فتنہ رفع کرنے کے لیے مشرکین سے جنگ کرتے تھے، شرک میں پڑنا یہ فتنہ ہے۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائی تم لوگوں کی طرح بادشاہت حاصل کرنے کے لیے ہوتی تھی؟

    ====

    اس حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ فرمانا کہ

    کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائی تم لوگوں کی طرح بادشاہت حاصل کرنے کے لیے ہوتی تھی؟

    کس طرف اشارہ ہے

    • Islamic-Belief says:

      ترجمہ میں یہ الفاظ
      اتنے میں ایک صاحب حکیم نامی ہم سے پہلے ان کے پاس پہنچ گئے ا
      ہیں جو عربی متن میں نہیں ہیں
      ——————–

      ابن عمر کا حرہ کے بلوائیوں سے اختلاف تھا ممکن ہے یہ دور ہو

  23. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    رقم الحديث: 1523

    (حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، وَأَبُو مُوسَى إِسْحَاقُ الْفَرْوِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، وَالأَعْمَشُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” إِذَا رَأَيْتُمْ مُعَاوِيَةَ عَلَى مِنْبَرِي فَاقْتُلُوهُ ” . فَتَرَكُوا أَمْرَهُ فَلَمْ يُفْلِحُوا وَلَمْ يَنْجَحُوا .

    انساب الاشراف بلاذری

    http://library.islamweb.net/hadith/display_hbook.php?bk_no=196&hid=1523&pid=125101

    • Islamic-Belief says:

      حسن نے کہا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب معاویہ کو میرے منبر پر دیکھو اس کو قتل کر دو

      دوسرے نسخہ میں ہے
      فاضربوا عنقه
      اس کی گردن مار دو
      ———-
      سند منقطع ہے
      اعمش نے الحسن بن عمارة سے روایت کیا ہے جو سخت مجروح ہے صحابی نہیں ہے

      ابن جوزی کے نزدیک گھڑی ہوئی ہے
      هَذَا حَدِيث مَوْضُوع لَا يَصح عَنْ رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

  24. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنِی عُثْمَانُ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِیُّ عَنْ أَبِی مُوسَى رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ
    کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فِی حَائِطٍ مِنْ حِیطَانِ الْمَدِینَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَفَتَحْتُ لَهُ فَإِذَا أَبُو بَکْرٍ فَبَشَّرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَفَتَحْتُ لَهُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ فَقَالَ لِی افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِیبُهُ فَإِذَا عُثْمَانُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ

    صحیح بخاری

    • Islamic-Belief says:

      اس متن کو کئی لوگوں نے روایت کیا ہے

      مسند البزار اور مسند الروياني میں ہے
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّكَنِ الْأُبُلِّيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَسَارٍ الْمَدِينِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا مِنْ حَوَائِطِ الْأَنْصَارِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ جَاءَ حَتَّى قَعَدَ عَلَى قُفِّ الْبِئْرِ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا مُوسَى، احْفَظْ عَلَيَّ الْبَابَ» ، فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ، فَقَالَ: «ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» ، فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَدَخَلَ فَحَمِدَ اللَّهَ، فَأَقْعَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: «ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» ، فَدَخَلَ فَأَقْعَدَهُ عَنْ يَسَارِهِ، وَامْتَلَأَ الْقُفُّ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: «ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ» ، فَدَخَلَ وَقَدِ امْتَلَأَ الْقُفُّ، فَقَعَدَ قُبَالَتَهُمْ [ص:60]، وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي مُوسَى إِلَّا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَقَدْ رَوَى سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي مُوسَى بِنَحْوِ هَذِهِ الْقِصَّةِ

      لیکن سند میں يَعْقُوبَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَسَارٍ الْمَدِينِيِّ مجہول ہے
      ———-

      صحیح مسلم و صحیح بخاری میں ہے
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي حَائِطٍ مِنْ حَائِطِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ يَرْكُزُ بِعُودٍ مَعَهُ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ، إِذَا اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ، فَقَالَ: «افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» قَالَ: فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: «افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» قَالَ: فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ، قَالَ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تَكُونُ» قَالَ: فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، قَالَ: فَفَتَحْتُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ وَقُلْتُ الَّذِي قَالَ، فَقَالَ: اللهُمَّ صَبْرًا، أَوِ اللهُ الْمُسْتَعَانُ

      اس کی سند صحیح ہے
      ———-

      لیکن بالکل ایسا ہی متن عبد الله بن عمرو سے بھی منسوب ہے – السنہ از ابن ابی عاصم میں ہے

      حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَنْفِيِّ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِشٍّ مِنْ حِشَّانِ الْمَدِينَةِ، فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» ، فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ، فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَقَرُبَ يَحْمَدُ اللَّهَ حَتَّى جَاءَ فَجَلَسَ، فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ رَفِيعُ الصَّوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» ، فَإِذَا عُمَرُ، فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَقَرُبَ يَحْمَدُ اللَّهَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ خَفِيضُ الصَّوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ» ، فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى، فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَقَرُبَ يَحْمَدُ اللَّهَ حَتَّى جَلَسَ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ أَنَا؟ قَالَ: «أَنْتَ مَعَ أَبِيكَ» .

      ابو موسی سے منسوب روایت میں ایسا لگتا ہے وہ اور نبی صلی الله علیہ وسلم اکیلے ہیں پھر ایک ایک کر کے ابو بکر پھر عمر پھر عثمان حاضر ہونے کی اجازت طلب کرتے ہیں

      ایسا ہی عبد الله بن عمرو کی روایت میں ہے متن بھی وہی ہے

      روایت میں اصحاب رسول کے علاوہ بصریوں کا تفرد ہے البتہ سندا اس میں علت نہیں کہ اس کو رد کیا جائے لیکن ایک متن دو طرح الگ الگ اصحاب رسول سے کس طرح منسوب ہوا معلوم نہیں

  25. وجاہت says:

    یہ الفاظ صحیح بخاری کی کس حدیث میں آیے ہیں – حدیث کا نمبر چاہیے

    عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ کُنْتُ فِی غَزَاةٍ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَیٍّ یَقُولُ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى یَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ وَلَئِنْ رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِهِ لَیُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعَمِّی أَوْ لِعُمَرَ فَذَکَرَهُ لِلنَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِی فَحَدَّثْتُهُ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَیٍّ وَأَصْحَابِهِ فَحَلَفُوا مَا قَالُوا فَکَذَّبَنِی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ

    • Islamic-Belief says:

      حدیث ٤٩٠٠
      حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنْتُ فِي غَزَاةٍ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ، يَقُولُ: لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ، وَلَئِنْ رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِهِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي أَوْ لِعُمَرَ، فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَانِي فَحَدَّثْتُهُ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَأَصْحَابِهِ، فَحَلَفُوا مَا قَالُوا، فَكَذَّبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَدَّقَهُ، فَأَصَابَنِي هَمٌّ لَمْ يُصِبْنِي مِثْلُهُ قَطُّ، فَجَلَسْتُ فِي البَيْتِ، فَقَالَ لِي عَمِّي: مَا أَرَدْتَ إِلَى أَنْ كَذَّبَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَقَتَكَ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِذَا جَاءَكَ المُنَافِقُونَ} [المنافقون: 1] فَبَعَثَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ يَا زَيْدُ»
      __________

  26. shahzad khan says:

    بھائی اک صاحب کا کہنا ہے کہ قرآن میں صلوۃ کا حکم پہلے ہے اور وضو کا حکم بعد میں ہے ۔۔؟

    • Islamic-Belief says:

      صحیح کہنا ہے

      نماز مکہ میں فرض ہوئی قائم مدینہ میں ہوئی
      وضو کا حکم مدینہ میں آیا

  27. وجاہت says:

    نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر، ثمرات النظر في علم الأثر، قصب میں أحمد بن علي بن حجر العسقلاني – محمد بن إسماعيل الأمير الصنعاني لکھتے ہیں کہ

    السَّادِسَة من الْبعد عَن الْإِنْصَاف قَول ابْن الْقطَّان إِن فِی رجال الصَّحِیحَیْنِ من لَا یعلم إِسْلَامه فضلا عَن عَدَالَته وَکم بَین هَذَا وَبَین قَول الْحَافِظ السَّابِق آنِفا وَکَلَام ابْن الْقطَّان وَإِن تَلقاهُ بعض محققی الْمُتَأَخِّرین بِالْقبُولِ فَلَیْسَ بمقبول

    اور کتاب کے محقق عبد الحميد بن صالح بن قاسم آل أعوج سبر حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ

    یرید بقوله : “بعض محققی المتاخرین” الشیخ صالح بن مهدی المقبلی المولود سنة
    (1047هـــ)

    اس عبارت اور حاشیہ کا کیا مطلب ہے – ابن القطان فاسی اور صالح بن مهدی المقبلی کون تھے – اور اس عبارت میں ان کے بارے میں کیا کہا گیا

    https://ia800209.us.archive.org/BookReader/BookReaderImages.php?zip=/5/items/waq70120/70120_jp2.zip&file=70120_jp2/70120_0000.jp2&scale=3&rotate=0

    https://ia800209.us.archive.org/BookReader/BookReaderImages.php?zip=/5/items/waq70120/70120_jp2.zip&file=70120_jp2/70120_0144.jp2&scale=3&rotate=0

    https://ia800209.us.archive.org/BookReader/BookReaderImages.php?zip=/5/items/waq70120/70120_jp2.zip&file=70120_jp2/70120_0145.jp2&scale=3&rotate=0

    پوری کتاب یہاں سے دیکھ لیں

    https://archive.org/stream/waq70120/70120#page/n145/mode/1up

    • Islamic-Belief says:

      ابن القطان نے کہا صحیحین میں رجال ہیں جن کے اسلام (کی قسم) کا علم نہیں ہے لیکن عدالت میں فاضل ہیں

      یہ الفاظ ابن القطان کی کتاب میں نہیں ملے

      البتہ اس سے مراد شیعہ ، رافضی ، خوارج ہیں جن سے حدیث لی گئی ہے

      اہل سنت کے نزدیک وہ صحیح مسلمان ہیں باقی گمراہ فرقے ہیں – ابن القطان کی بات کو اس تناظر میں دیکھا جائے

  28. shahzad khan says:

    بخاری کتاب الحیض جلد 1 صفحہ 44 ۔۔عائشہ رضی فرماتی ہیں کہ حیض کی حالت ميں آپ صلی الله علیہ وسلم مجھے تہ پوش پہننے کا حکم دیتے ۔اور اس کے بعد مجھ سے مباشرت کرتے ۔۔۔
    صفحہ نمبر 662… آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھ کر اپنی ازواج کے بوسے لیتے اور ان سے مباشرت فرمایا کرتے ۔۔۔۔۔
    تحقیق چاہیے

  29. انعم شوکت says:

    بھائی اب کیا عرفہ کا روزہ بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ؟چاہے غیر حاجی ہو۔

  30. انعم شوکت says:

    بھائی یہ میں نے پڑھ لیا ہے جو لنک آپ نے لگایا ہے مجھے آپکی ورڈنگ میں جواب چاہیے ہلیز بہت مہربانی یو گی عرفہ کا روزہ رکھنا بدعت میں شمار ہوگا نہ پھر؟ میری سمجھ سے باہر ہے
    یہ علماء لوگوں کو صدیوں سے تحقیق کیے بغیر ہی شوال کےاور عرفہ کے روزے رکھواتے رہے رونا آتا ہے ان علماءپر۔

    • Islamic-Belief says:

      عرفہ کا روزہ رکھنے پر گناہ معاف ہونے والی جس حدیث کو امام مسلم نے بیان کیا ہے امام بخاری کے نزدیک اس کی سند میں انقطاع ہے

      مَيْمُونَةَ رضی الله عنہا کی صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے روزہ نہیں رکھا
      امام بخاری اس سلسلے میں صرف ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے روزہ نہیں رکھا

      عقبة بن عامر الجهني عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: “إن أيام الأضحى وأيام التشريق ويوم عرفة عيدنا أهل الإسلام أيام أكل وشرب
      نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا یوم عرفہ اوریوم النحر اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید کےدن ہیں اوریہ سب کھانے پینے کے دن ہیں ۔

      البناية شرح الهداية از المؤلف: أبو محمد محمود بن أحمد بن موسى بن أحمد بن حسين الغيتابى الحنفى بدر الدين العينى (المتوفى: 855هـ) میں ہے
      وكره صوم يوم عرفة عند الشافعي – رَحِمَهُ اللَّهُ
      امام شافعی یوم عرفہ کے دن روزہ سے کراہت کرتے

      قولی حدیث میں اس دن کو کھانے پینے کا دن کہا گیا ہے

      ===========

      موطأ میں ہے کہ عائشہ رضی الله عنہا عرفہ کا روزہ رکھتی تھیں –
      وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَانَتْ «تَصُومُ يَوْمَ عَرَفَةَ»، [ص:376] قَالَ الْقَاسِمُ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهَا عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، يَدْفَعُ الْإِمَامُ ثُمَّ تَقِفُ حَتَّى يَبْيَضَّ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ مِنَ الْأَرْضِ، ثُمَّ تَدْعُو بِشَرَابٍ فَتُفْطِرُ
      اس کی سند میں یحیی بن سعید انصاری مدلس ہے

  31. انعم شوکت says:

    بھائی ہمیں عرفہ کے دن روزہ رکھنا چاہیے یا نہیں ہاں اور نہ میں جواب چاہیے پلیز آپکی تحریر سے یہی سمجھ آئی ہے کہ روزہ نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ عرفہ کے حوالے سے احادیث صحیح نہیں ہیں

    • Islamic-Belief says:

      عرفہ پر روزہ رکھننے پر مجھے کوئی صحیح حدیث نہیں ملی

      • وجاہت says:

        تحقیق چاہیے

        سنن أبي داؤد: كِتَابُ الصَّیامِ (بَابٌ فِي صَوْمِ الْعَشْرِ) سنن ابو داؤد: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل (باب: عشرہ ذی الحجہ میں روزوں کا بیان)

        2437

        حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنِ امْرَأَتِهِ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ، وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَالْخَمِيسَ.

        حکم : صحیح 2437

        امہات المؤمنین میں سے ایک کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کے ( پہلے ) نو دن ، عاشورہ محرم ، ہر مہینے میں تین دن اور ہر مہینے کے پہلے سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے ۔

        • Islamic-Belief says:

          شعیب نے مسند احمد میں اس کو ضعيف لاضطرابه قرار دیا ہے

          قال الدكتور أحمد الغامدي، مدير عام هيئة الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر بمنطقة مكة سابقًا، إن حديث فضل صيام يوم عاشوراء وتكفير الصيام لسنة ماضية هو حديث “ضعيف” بعكس ما هو مشتهر.

          الدكتور أحمد الغامدي، مدير عام هيئة الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر بمنطقة مكة نے کہا صحیح مسلم کی ابو قتادہ والی حدیث ضعیف ہے
          http://www.ajel.sa/local/1798686
          وقال نصًّا، إن الحديث “رواه عبدالله بن معبد الزماني عن أبي قتادة، وعبدالله بن معبد لا يعرف له سماع عن أبي قتادة، قاله البخاري في الكبير، وأخرج ابن عدي الحديث في الكامل وقال: (وهذا الحديث هو الحديث الذي أراد البخاري أن عبدالله بن معبد لا يعرف له سماع من أبي قتادة)، وهذا يعني أن البخاري يضعف إسناده بالانقطاع، وإقرار من نقل ذلك يعد موافقة له” حسب قوله.

          ———
          عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ‘یوم عرفہ ۱؎ ، یوم نحر ۲؎ اور ایام تشریق ۳؎ ہماری یعنی اہل اسلام کی عیدکے دن ہیں، اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں’۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے
          http://mohaddis.com/View/Tarimdhi/773

  32. shahzad khan says:

    اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ حیض کی حالت میں مباشرت ۔۔۔اور روزہ کے دوران بھائی ان روایات کا خلاصہ چاہیے بخاری کی

  33. shahzad khan says:

    سورہ منافقون۔۔اور ہمارے دیے میں سے خرچ کرو ۔قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے اے میرے رب تو مجھے کچھ مدت تک مہلت کیوں نہ دی ۔۔
    سورہ بقرہ۔۔تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو تو والدین اور رشتے داروں کے لئے معروف طریقے سے وصیت کرے ۔۔
    سورہ المومنون۔۔یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آ جائے تو کہنا شروع کریگا کہ اے میرے رب مجھے اس دنیا میں واپس بھیج جسے میں چھوڑ آیا ہوں امید ہے اب میں نیک عمل کرونگا ۔ہرگز نہیں یہ تو اک بات ہے جو وہ بک رہا ہے اب ان سب کے پیچھے اک برزخ حائل ہے ۔۔

    بھائی سوال یہ ہے کہ ان تینوں آیات کا مفہوم سیم ہے؟؟ موت سے پہلے کے پچھتاوے کی منظر کشی کی جا رہی ہے تینوں آیات میں ۔۔کیونکہ سورہ مومنون سے تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ موت کے بعد روح اس دنیا میں واپس نہیں آتی دنیاوی جسم آ

  34. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی آپ سے ایک بار پہلے اس پر بات ہوئی تھی – کیا حنبلی ان باتوں کو مانتے ہیں جو ان کے بزرگ اپنی کتابوں میں لکھتے آیے ہیں جیسا کہ

    ابن رجب الحنبلي اپنی کتاب فتح الباري في شرح البخاري میں لکھتے ہیں کہ

    فقد تبين بهذا السياق أن الصحابة والتابعين كانوا كلهم خائفين من ولاة السوء الظالمين، وأنهم غير قادرين على الإنكار عليهم، وأنه غير نافع بالكلية؛ فإنهم يقتلون من أنكر، ولا يرجعون عن تأخير الصلاة على عوائدهم الفاسدة.
    —-

    وقد كان الصحابة والتابعون مع أولئك الظلمة في جهدٍ جهيدٍ، لا سيما في تأخير الصلاة عن ميقاتها، وكانوا يصلون الجمعة في أخر وقت العصر، فكان أكثر من يجيء إلى الجمعة يصلي الظهر والعصر في بيته، ثم يجيء إلى المسجد تقية لهم، ومنهم من كان إذا ضاق وقت الصلاة وهو في المسجد أومأ بالصلاة خشية القتل. وكانوا يُحَلِّفُونَ من دخل المسجد أنه ما صلى في بيته قبل أن يجيء

    https://1.bp.blogspot.com/-OK1qne1MopE/WYxvUiyeVZI/AAAAAAAAClA/IU7jTK34O5Mj0B-ODxpz6kk9SKxlUrOCgCLcBGAs/s1600/2.jpg

    https://3.bp.blogspot.com/-eXQJTvWKq9E/WYxvZkTeltI/AAAAAAAAClE/HtQkcizUd8UAwYxe8o-UqQm0ds6jhpBRACLcBGAs/s1600/3.jpg

    https://1.bp.blogspot.com/-gh138LSkiq4/WYxvjWiSf0I/AAAAAAAAClM/qMDz0x3IzeY3ct6LCxoR8t1anqf-wNKmQCLcBGAs/s1600/4.jpg

    https://2.bp.blogspot.com/-ce96_cOBnag/WYxvlCMr5NI/AAAAAAAAClQ/n3DbsoqiipchTLVwraa421D1jAaRokr0QCLcBGAs/s1600/5.jpg

    • Islamic-Belief says:

      آج کل کے حنابلہ اس کا انکار کر رہے ہیں

      ———–
      البتہ میں بھی اس کا انکار کرتا ہوں کہبنو امیہ نماز خواہ ما خواہ دیر کرتے ہوں گے

      اقتباس میں لکھا ہے
      وكانوا يصلون الجمعة في أخر وقت العصر
      وہ جمعہ کی نماز عصر کے آخری وقت پڑھتے

      اس کی دلیل ؟

      یہ سب لوگوں کی بکواس ہے – اگر ایسا ہوتا تو ایک نہیں ساری امت کہتی کہ یہ یہ غلط ہوتا تھا لیکن چند تفرد والی مبہم روایات میں ہی ذکر ملتا ہے

  35. shahzad khan says:

    اک صاحب سے بحث ہوئی جو روح کے وجود کے انکاری ہیں ان سے سورہ مومنون کی آیت نمبر 99-100پر سوال کیا تو انہوں نے باقی دو آیات بھیجی کہ یہ قرآن کا ادبی انداز ہے اس سے روح اور اللہ تعالیٰ کے کلام کرنا معنی نہیں لیا جا سکتا ۔۔۔براہ کرم اس کا تفصیلی جواب دیں۔۔۔ اور بخاری کی احادیث پر بھی اعتراض کا تفصیلی جواب درکار ہے جو اوپر سوال کیا گیا ہے ۔۔۔جزاک اللہ خیرا

    • Islamic-Belief says:

      حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ

      إس آیت پر علماء کا تفسیری قول چلا آ رہا ہے کہ یہ موت کی کیفیت میں کلام ہے یا تو انسان بول رہا ہے یا روح اس کو ادبی انداز چودہ سو سال سے اوپر ہویے کسی نے نہیں کہا

      جس کو علم نہ ہو اس کو اپنے لا علم یا جاہل ہونے کا بھی علم ہونا چاہیے اس لئے اس کا کلام باطل ہے

      ہم کہتے ہیں یہ روح کا کلام ہے روح اب جسد میں نہیں آئے گی ہمارے مخالف کہتے ہیں جو عود روح کے قائل ہیں کہ جسد کا کلام ہے وہ دنیا میں قبر سے اوپر آنا چاہتا ہے
      لیکن وہ بھی اس کو ادبی نہیں کہتے – یہ بات اور خبر مالک الملک نے دی ہے جس سے مردہ ہو یا جماد ہو یا شجر ہو یا سیارے ہوں یا ان کے افلاک سورج ہو یا چاند یا آسمان کا دخان سب کلام کرتے ہیں لہذا اس کو ادبی انداز کہنے والا گمراہ ہے

      قرآن میں فرشتوں کا روح کو قبض کرنا متعدد مقام پر ہے کیا وہ سب ادبی انداز ہے ؟ اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ یہ آیت عربی ادب ہے اور یہ آیت غیر ادبی انداز ہے ؟ اس سورہ المومنون کی مخصوص آیت کو ادب قرار دینے پر نص درکار ہے جو کسی کے پاس نہیں- جب تک نص نہ ہو ایسا دعوی باطل ہے

      خیال رہے قرآن میں آیت پر نہیں کہا جاتا کہ یہ عربی ادب ہے یہ احادیث میں کیا جاتا ہے
      اگر ادب یا عربی محاورہ یا گرامر کی کوئی بات ہو تو اس پر کلام شروع سے کیا جا رہا ہے ہم کو معلوم ہے مثلا تفسیر طبری وغیرہ

      اپ نے بتایا یہ صاحب روح کے وجود کے انکاری ہیں تو یہ مسلمانوں کے اجماع کے خلاف ہیں یہاں تک کہ معتزلہ بھی روح کے قائل تھے
      روح کا ذکر تو قرآن و حدیث دونوں میں ہے

  36. وجاہت says:

    الثقات لابن حبان کیسی کتاب ہے

    • Islamic-Belief says:

      ابن حبان متساہل ہیں – ضعیف اور مجہول کو بھی ثقہ کہہ دیتے ہیں
      لہذا علماء کہتے ہیں ابن حبان مجروح کہیں تو سمجھ لو بہت ضعیف ہے

  37. انعم شوکت says:

    مجبورا دئیے گے پیسوں سے حاصل کردہ جوب کی کمائی جائز ہے یا نہیں؟ اس جوب میں انسان کی سکلز اپنی ہے لیکن مجبورا دینے پڑے تاکہ جوب مل جائے۔اس بارے میں رہنمائی فرم دیجیے جزاک اللہ

    • Islamic-Belief says:

      مجبورا دئیے گے پیسوں سے حاصل کردہ جوب سے حاصل کردہ جوب اب معاشرہ میں عام صورت اختیار کر چکی ہے

      اس میں اگر اپ حق دار ہیں تو صحیح ہے اگر نہیں تو صحیح نہیں ہے
      یعنی اگر اپ پیسے نہیں دیتی – اپ حق دار تھیں اور اپ کی بجائے اپ سے کم حق دار آ جاتا ہے اور وہ اس جوب کو حاصل کرتا ہے تو اضطراری صورت ہے ایسا کرنا مجبوری ہے

  38. وجاہت says:

    ابو شہریار بھائی آپ سے ایک بار پہلے بھی یہ سوال پوچھا تھا لیکن آپ نے جواب نہیں دیا تھا – مختصر طور پر پھر پوچھ رہا ہوں کہ

    باب التَّغْلِيظُ عَلَى مَنْ كَتَبَ الْأَحَادِيثَ الَّتِي فِيهَا طَعْنٌ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

    818 – أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ حَمْدُونَ، قَالَ: ثَنَا حَنْبَلٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: كَانَ سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ أَخَذَ كِتَابَ أَبِي عَوَانَةَ الَّذِي فِيهِ ذِكْرُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْرَقَ أَحَادِيثَ الْأَعْمَشِ تِلْكَ

    http://shamela.ws/browse.php/book-1077#page-859

    ——

    819 – وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: ثَنَا مُهَنَّى، قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ، قُلْتُ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، قَالَ: قَالَ سَلَّامٌ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ خِدَاشٍ، قَالَ: جَاءَ سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ إِلَى أَبِي عَوَانَةَ، فَقَالَ: هَاتِ هَذِهِ الْبِدَعَ الَّتِي قَدْ جِئْتَنَا بِهَا مِنَ الْكُوفَةِ، قَالَ: فَأَخْرَجَ إِلَيْهِ أَبُو عَوَانَةَ كُتَبَهُ، فَأَلْقَاهَا فِي التَّنَّورِ، فَسَأَلْتُ خَالِدًا مَا كَانَ فِيهَا؟ قَالَ: حَدِيثُ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَقِيمُوا لِقُرَيْشٍ» ، وَأَشْبَاهِهِ، قُلْتُ لِخَالِدٍ: وَأَيْشِ؟ قَالَ: حَدِيثُ عَلِيٍّ: «أَنَا قَسِيمُ النَّارِ» ، قُلْتُ لِخَالِدٍ: حَدَّثَكُمْ بِهِ أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ؟ قَالَ: نَعَمْ.

    820 – وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ مِنَ الثِّقَاتِ مِنْ أَصْحَابِ أَيُّوبَ، وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا، حَدَّثَنَا عَنْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثُمَّ قَالَ أَبِي: كَانَ أَبُو عَوَانَةَ وَضَعَ كِتَابًا فِيهِ مَعَايِبُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِ بَلَايَا، فَجَاءَ إِلَيْهِ سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَوَانَةَ، أَعْطِنِي ذَلِكَ الْكِتَابَ، فَأَعْطَاهُ، فَأَخَذَهُ سَلَّامٌ فَأَحْرَقَهُ

    http://shamela.ws/browse.php/book-1077#page-860

    ——–

    821 – أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْمَرُّوذِيُّ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ: اسْتَعرْتُ مِنْ صَاحِبِ حَدِيثٍ كِتَابًا، يَعْنِي فِيهِ الْأَحَادِيثَ الرَّدِيئَةَ، تَرَى أَنْ أُحَرِّقَهُ، أَوْ أُخَرِّقُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، لَقَدِ اسْتَعَارَ سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ مِنْ أَبِي عَوَانَةَ كِتَابًا، فِيهِ هَذِهِ الْأَحَادِيثُ، فَأَحْرَقَ سَلَّامٌ الْكِتَابَ، قُلْتُ: ” فَأَحْرِقُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ

    822 – أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَدَفَعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ كِتَابًا فِيهِ أَحَادِيثُ مُجْتَمِعَةٌ، مَا يُنْكَرُ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْوَهُ، فَنَظَرَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: «مَا يَجْمَعُ هَذِهِ إِلَّا رَجُلُ سُوءٍ» ، وَسَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: بَلَغَنِي عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى أَبِي عَوَانَةَ، فَاسْتَعَارَ مِنْهُ كِتَابًا كَانَ عِنْدَهُ فِيهِ بَلَايَا، مِمَّا رَوَاهُ الْأَعْمَشُ، فَدَفَعَهُ إِلَى أَبِي عَوَانَةَ، فَذَهَبَ سَلَّامٌ بِهِ فَأَحْرَقَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ: أَرْجُو أَنْ لَا يَضُرَّهُ ذَلِكَ شَيْئًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ؟ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: يَضُرُّهُ؟ بَلْ يُؤْجَرُ عَلَيْهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ

    823 – أَخْبَرَنِي حَرْبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْكَرْمَانِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ إِسْحَاقَ يَعْنِي ابْنَ رَاهَوَيْهِ، قُلْتُ: رَجُلٌ سَرَقَ كِتَابًا مِنْ رَجُلٍ فِيهِ رَأْيُ جَهْمٍ أَوْ رَأْيُ الْقَدَرِ؟ قَالَ: ” يَرْمِي بِهِ، قُلْتُ: إِنَّهُ أُخِذَ قَبْلَ أَنْ يُحَرِّقَهُ أَوْ يَرْمِيَ بِهِ، هَلْ عَلَيْهِ قَطْعٌ؟ قَالَ: لَا قَطْعَ عَلَيْهِ، قُلْتُ لِإِسْحَاقَ: رَجُلٌ عِنْدَهُ كِتَابٌ فِيهِ رَأْيُ الْإِرْجَاءِ أَوِ الْقَدَرِ أَوْ بِدْعَةٌ، فَاسْتَعَرْتُهُ مِنْهُ، فَلَمَّا صَارَ فِي يَدِي أَحْرَقْتُهُ أَوْ مَزَّقْتُهُ؟ قَالَ: لَيْسَ عَلَيْكَ شَيْءٌ

    824 – أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْمَرُّوذِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: «لَا نَقُولُ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْحُسْنَى»

    827 – أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَاضِرَ، وَرَأَيْتُ، فِي كُتُبِهِ أَحَادِيثَ مَضْرُوبٌ عَلَيْهَا، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الْمَضْرُوبُ عَلَيْهَا؟ فَقَالَ: هَذِهِ الْعَقَارِبُ، نَهَانِي ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ أَنْ أُحَدِّثَ بِهَا

    http://shamela.ws/browse.php/book-1077#page-861

    http://s4.picofile.com/file/8176126700/001.png
    http://s4.picofile.com/file/8176126768/002.png
    http://s6.picofile.com/file/8176126792/003.png
    http://s4.picofile.com/file/8176126868/004.png
    http://s4.picofile.com/file/8176126884/005.png

    ==========

    سوال یہ ہے کہ یہ أَبِی عَوَانَةَ کی کس کتاب کا ذکر ہے جس کا مواد جلایا گیا

    اور موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله میں یہ کیوں لکھا ہے کہ

    وقال عبد الله: سمعت أحمد بن الدورقي. قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي. قال: نظرت في كتاب أبي عوانة وأنا أستغفر الله. «العلل» (4329)

    http://shamela.ws/browse.php/book-12765#page-3828

    http://s4.picofile.com/file/8176126168/001.png

    http://s6.picofile.com/file/8176126192/002.png

    آپ کے جواب کا انتظار رہے گا – پلیز جواب ضرور دیں تا کہ اس کا جواب لکھا جا سکے

    • Islamic-Belief says:

      کوفہ میں اعمش بعض روایات بیان کرتا تھا جن کو محدثین رد کر چکے تھے ان میں سے ایک تھی
      حَدِيثُ عَلِيٍّ: «أَنَا قَسِيمُ النَّارِ
      علی نے کہا میں جہنم کی اگ کی تقسیم کرنے والا ہوں

      ان روایات کو ابو عوانہ نے ایک جگہ جمع کیا – اس پر محدثین نے اعتراض کیا کہ اس قسم کی بے سروپا روایات کیوں اکٹھی کی ہیں
      لہذا اس کتاب میں اعمش کی یہ روایات ایک محدث کی طرف سے جلا دی گئیں اور بعض نے اس کتاب کو دیکھ کر صرف أستغفر الله کہا

  39. وجاہت says:

    کیا غیر مسلم ممالک کی شہریت لینا جائز ہے یا نہیں – – وہاں جو حلف لیا جاتا ہے اس کی کیا حثیت ہے – جیسے ملکہ برطانیہ یا امریکا یا کینیڈا وغیرہ کا حلف اٹھانا

    ایک بھائی نے کہا ہے کہ وہاں کی شہریت اٹھانے میں یہ شق بھی ہے کہ قرآن و سنّت کی واضح دلیل کے باوجود ہم اس ملک کی وفاداری کریں گے

    ابو شہر یار بھائی پلیز آپ کی رہنمائی چاہیے – اگر ہو سکے تو کوئی لنک بہ دے دیں کسی غیر مسلم ملک کے حلف کا جس میں کوئی ایسی بات ہو

    ان دو لنک پر بھی فتویٰ ہیں

    http://www.islamweb.net/emainpage/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=87140

    http://www.islamweb.net/emainpage/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=202420

    • Islamic-Belief says:

      جب تک اپ کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے یا ان کے خلاف مدد کرنے کے لئے حکومت نہ کہے اس عہد کو لیا جا سکتا ہے
      ہجرت حبشہ ہمارے لئے دلیل ہے
      —–

      آج کل ملک شام کے حالات کیوجہ سے وہاں کے ہزاروں لوگ نقل مکانی کر کے مغربی ممالک میں چلے گئے ہیں ظاہر ہے وہاں حلف لیں گے
      اس وقت جب مسلمان خود ان کو نہیں لینا چاہتے تو لوگ چاہ رہے ہیں یہ کہیں اور بھی نہ جائیں

      • وجاہت says:

        ابو شہر یار بھائی میرا پوچھنے کا اصل سوال یہ تھا کہ کیا جو حلف اٹھایا جاتا ہے غیر مسلم ممالک میں اس میں کوئی ایسی شق جو اسلام کے قوانین کے مخالف ہو اس کا کیا حکم ہے – ہجرت جبشہ میں تو کوئی ایسی شق نہیں رکھی گئی اور نہ کوئی ایسا ہلاگ اٹھوایا کہ آپ کو ہر حال میں ہماری وفاداری کرنی ہے – میرا سوال ہجرت کرنے پر نہیں – میرا سوال وہاں کے حلف کا ہے – جیسے کوئی کہے کہ میں ملکہ برطانیہ کا وفادار رہوں گا – اسلام تو ہمیں الله اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفاداری کا حکم دیتا ہے میں ہجرت کرنے کا مخالف نہیں – ہجرت حالات کیوجہ سے کی جا سکتی ہے – لکن شہریت لینا اور وہاں کا حلف اٹھانا ایک الگ بات ہے اور اسی پر آپ سے جواب چاہیے

        مثال یہ ہے کہ برطانیہ نے ایک قانون پاس کیا ہے کہ مرد مرد سے شادی کر سکتا ہے – پچھلے دنوں میں یہ خبر ٹی وی پر بھی آئ تھی – اب اگر ایک مسلمان نے یہ حلف اٹھایا ہوا ہے کہ میں یہاں کے قانون کی پاسداری کروں گا تو وہ اس قانون کی مخالفت بھی نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس سے روک سکتا ہے – اور بھی کئی مسائل ہیں جو پیش آتے ہیں – آپ ان سے واقف ہی ہوں گے

        • Islamic-Belief says:

          جب اپ دار الاسلام سے نکل کر دوسرے ملک میں ہوں تو ظاہر ہے اپ وہاں کے قوانین کے تحت آ جائیں گے – اس میں جب تک اپ فتنہ کا شکار نہ ہوں کہ اپ کو کوئی ایسا کام کرنے کو کہا جائے جو شریعت کی مخالفت ہو اس حلف کو لیا جا سکتا ہے
          یہ میری رائے ہے

  40. انعم شوکت says:

    آٹھ ذالحجہ اور نو کو فرض چھوڑے ہوئے روزے شرعی عذر کی بنا پر ان دن میں رکھنے میں کوئی گناہ تو نہیں
    شرعی عذر کی بنا پر قرآن کو پڑھ بھی نہیں سکتے کیا؟ ہاتھ لگانا تو منع ہے لیکن پڑھنا بھی منع ہے؟

    • Islamic-Belief says:

      حائضہ اور جنبی قرآن کو نہیں پڑھ سکتے نہ تلاوت کر سکتے ہیں
      ——–

      حائضہ خواتین روزہ نہیں رکھ سکتیں کیونکہ روزہ اور نماز پاکی کی حالت میں ہے

  41. irfan says:

    پاکستان میں یومہ عرفہ سعودیہ کے مطابق ہو گا یا ہمارے ۹ کو وضاحت کریں

    • Islamic-Belief says:

      یہ حج سے منسلک ہے – لہذا سعودی عرب کا ٩ ذو الحجه کا دن ہی یوم عرفہ ہے
      البتہ اس سوال کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

  42. انعم شوکت says:

    آپ نے کہا تھا کہ عرفہ کا روزہ ثابت نہیں اب اگر کوئی ان دنوں میں روزے رکھ لے عرفہ کی نیت سے نہیں بلکہ فرض چھوٹے ہوئے روزے ان دنوں میں رکھ لینے سے کوئی قبا حت تو نہیں ؟
    جیسے لوگ پندرہ شعبان کو روزہ رکھتے ہیں حالانکہ ثابت نہیں تو اس دن نہ رکھا جائے تو بہتر ہے تا کہ بدعت کو ختم کیا جا سکے اسی طرح عرفہ کا دن روزے نہ رکھا جائے چاہے فرض روزوں کی نیت ہی کیوں نہ ہو؟؟؟

    • Islamic-Belief says:

      اعمال کا دارومدار نیت پر ہے

      اپ روزہ رکھ سکتی ہیں لیکن اپ لوگوں کو اس کی صحیح خبر دیں تو قباحت نہیں ہے

      مثلا ١٥ شعبان کا روزہ بدعت ہے لیکن ہم کو معلوم ہوا کہ عائشہ رضی الله عنہا اپنے روزے شعبان میں مکمل کرتی تھیں ظاہر ہے اس دور میں ١٥ شعبان کا وجود نہ تھا

      کہنے کا مقصد ہے دن الله کے ہیں کسی بھی دن نیکی کا عمل کیا جا سکتا ہے لیکن اگر دن کسی بدعت سے متصف ہو تو اس دن اپ تبلیغ بھی کریں کہ ایسا ایسا کرنا بدعت ہے

  43. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی آپ سے پہلے بھی یہ سوال پوچھا تھا شاہد کثرت سوالات کی وجہ سے آپ جواب نہیں دے سکے – دوبارہ پوچھ رہا ہوں

    کیا آج کل کوئی تنظیم یا حکومت اس حدیث کو دلیل بنا سکتی ہے

    صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ (بَابُ أَهْلِ الدَّارِ يُبَيَّتُونَ، فَيُصَابُ الوِلْدَانُ وَالذَّرَارِيُّ) صحیح بخاری: کتاب: جہاد کا بیان (باب : اگر ( لڑنے والے ) کافروں پر رات کو چھاپہ ماریں)

    http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/3012

    حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ، وَسُئِلَ عَنْ أَهْلِ الدَّارِ يُبَيَّتُونَ مِنَ المُشْرِكِينَ، فَيُصَابُ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ قَالَ: «هُمْ مِنْهُمْ»، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «لاَ حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

    حکم : صحیح 3012

    ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا‘ کہا ہم سے زہری نے بیان کیا‘ ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے‘ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اوران سے صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابواء یا ودان میں میرے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مشرکین کے جس قبیلے پر شب خون مارا جائے گا کیا ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کرنا درست ہوگا ؟ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی انہیں میں سے ہیں اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی کی چراگاہ نہیں ہے ۔

  44. وجاہت says:

    تحقیق اور ترجمہ چاہیے

    5009

    حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه ، ثنا الحسن بن [ ص: 228 ] علي بن عفان ، ثنا أبو أسامة ، ثنا محمد بن عمرو ، عن أبي سلمة ، ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب ، عن أسامة بن زيد ، عن زيد بن حارثة رضي الله عنهما قال : خرج رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وهو مردفي إلى نصب من الأنصاب ، فذبحنا له شاة ووضعناها في التنور ، حتى إذا نضجت استخرجناها فجعلناها في سفرتنا ، ثم أقبل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يسير وهو مردفي في أيام الحر من أيام مكة ، حتى إذا كنا بأعلى الوادي لقي فيه زيد بن عمرو بن نفيل ، فحيا أحدهما الآخر بتحية الجاهلية ، فقال له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : ” ما لي أرى قومك قد شنفوك ؟ ” قال : أما والله إن ذلك لتغير ثائرة كانت مني إليهم ، ولكني أراهم على ضلالة ، قال : فخرجت أبتغي هذا الدين حتى قدمت على أحبار يثرب فوجدتهم يعبدون الله ويشركون به ، فقلت : ما هذا بالدين الذي أبتغي ، فخرجت حتى أقدم على أحبار أيلة فوجدتهم يعبدون الله ويشركون به ، فقلت : ما هذا بالدين الذي أبتغي ، فقال لي حبر من أحبار الشام : إنك تسأل عن دين ما نعلم أحدا يعبد الله به إلا شيخا بالجزيرة ، فخرجت حتى قدمت إليه ، فأخبرته الذي خرجت له ، فقال : إن كل من رأيته في ضلالة إنك تسأل عن دين هو دين الله ، ودين ملائكته ، وقد خرج في أرضك نبي أو هو خارج ، يدعو إليه ، ارجع إليه وصدقه واتبعه ، وآمن بما جاء به ، فرجعت فلم أحسن شيئا بعد ، فأناخ رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم البعير الذي كان تحته ، ثم قدمنا إليه السفرة التي كان فيها الشواء ، فقال : ما هذه ؟ فقلنا : ” هذه شاة ذبحناها لنصب كذا وكذا ” ، فقال : ” إني لا آكل ما ذبح لغير الله ” ، وكان صنما من نحاس يقال له : إساف ونائلة يتمسح به المشركون إذا طافوا ، فطاف رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وطفت معه ، فلما مررت مسحت به ، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : ” لا تمسه ” ، قالزيد : فطفنا ، فقلت في نفسي : لأمسنه حتى أنظر ما يقول ، فمسحته ، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : ” ألم تنه ؟ ” قال زيد : فوالذي أكرمه وأنزل عليه الكتاب ما استلمت صنما حتى أكرمه الله بالذي أكرمه ، وأنزل عليه الكتاب ، ومات زيد بن عمرو بن نفيل قبل أن يبعث ، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : ” يأتي يوم القيامة أمة وحده ”

    http://library.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?flag=1&bk_no=74&bookhad=4828

    http://shamela.ws/browse.php/book-2266#page-5284

    http://s9.picofile.com/file/8291678942/photo_2017_04_06_14_43_07.jpg

    =============

    دلائل النبوه بیهقی میں بھی ہے کہ

    393)- [2 : 34] حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِی سَلَمَةَ، وَیَحْیَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ حَارِثَةَ، قَالَ: کَانَ صَنَمٌ مِنْ نُحَاسٍ، یُقَالُ لَهُ: إِسَافٌ، أَوْ نَائِلَةُ، یَتَمَسَّحُ بِهِ الْمُشْرِکُونَ إِذَا طَافُوا، فطَافَ رَسُولُ اللَّهِ وَطُفْتُ مَعَه، فَلَمَّا مَرَرْتُ مَسَحْتُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : ” لا تَمَسَّهُ “، قَالَ زَیْدٌ فَطُفْتُ، فَقُلْتُ فِی نَفْسِی: لأَمَسَّنَّهُ حَتَّى أَنْظُرَ مَا یَکُونُ، فَمَسَحْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : ” أَلَمْ تُنْهَ؟ “

  45. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی ایک بات پوچھنی ہے کہ الكبائر للذهبي جو امام ذھبی کی کتاب ہے اس کے مختلف باب ہیں

    اس کا باب ٦٣ ہے
    http://shamela.ws/browse.php/book-6848#page-221

    الْكَبِيرَة الثَّالِثَة وَالسِّتُّونَ الْأَمْن من مكر الله

    اب آگے باب ٦٤ ہونا چاہیے لیکن مکتبہ شاملہ میں اس کے بجایے آگے ٦٥ نمبر باب لکھ دیا گیا

    الْكَبِيرَة الْخَامِسَة وَالسِّتُّونَ تَارِك الْجَمَاعَة فَيصَلي وَحده من غير عذر

    http://shamela.ws/browse.php/book-6848#page-224

    بیچ میں سے ٦٤ نمبر باب کو غائب کر دیا گیا – کل الله کے آگے کیا جواب دیں گے یہ لوگ جو ایسا کرتے ہیں

    اب اس کتاب کا ایک قدیم نسخے کا لنک یہ ہے جس میں ٦٤ نمبر بابا ہے جس کا نام ہے

    اذیه اولیاءالله

    http://s3.picofile.com/file/7707585913/191077524.jpg

    اور ایک جدید نسخے میں باب کا نام ہی تبدیل کر دیا گیا

    http://s1.picofile.com/file/7707586234/%DA%A9%D8%A8%D8%A7%D8%A6%D8%B1.png

    http://s1.picofile.com/file/7707586662/%D8%AC%D8%AF%DB%8C%D8%AF.png

    ====

    حقیقت کیا ہے – واضح کریں

  46. irfan says:

    صوم سے متعلق دو اہم أصول ہیں :
    پہلا : رویت ہلال کا ہے
    یعنی صوم رکھنے میں چاند دیکھنے کا اعتبار ہوگا۔ بخاری میں ہے :
    صوموا لرؤيَتِهِ وأفطِروا لرؤيتِهِ ، فإنْ غبِّيَ عليكم فأكملوا عدةَ شعبانَ ثلاثينَ(صحيح البخاري:1909)
    ترجمہ: چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند کو دیکھ کر روزوں کا اختتام کرو اور اگر تم پر چاند مخفی ہو جائے تو پھر تم شعبان کے تیس دن پورے کر لو۔
    یہ حدیث صوم سے متعلق عام ہے خواہ کوئی بھی صوم ہو اس میں یہی حکم لگے گا یعنی صوم میں اپنے اپنے ملک کی رویت کا اعتبار ہوگا۔ اسی وجہ سے دیکھتے ہیں کہ رمضان كا صوم رکھنے کے لئے چاند دیکھا جاتا ہے نہ کہ سعودی عرب کواوراسی طرح جب افطارکیاجاتاہے تو اس وقت بھی چاند ہی ڈوبنے کا انتظار کیاجاتا ہے ۔
    دوسرا: اختلاف مطالع کا ہے ۔
    ایک شہر کی رویت قریبی ان تمام شہر والوں کے لئے کافی ہوگی جن کا مطلع ایک ہو۔ مطلع کے اختلاف سے ایک شہر کی رویت دوسرے شہر کے لئے نہیں مانی جائے گی ۔ یہ ایک الگ تفصیل طلب بحث ہے ۔
    اگر ان دونوں اصولوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو صوم ، صلوٰۃ ، قربانی ، عیدین اور دیگر عبادات کی انجام دہی مشکل ہو جائے گی ۔

    عرفہ کے روزہ سے متعلق اشکالات کا جواب
    پہلا اشکال :
    حدیث میں تاریخ کا ذکر نہیں ہے بلکہ عرفہ کا لفظ آیا ہے اور عرفہ کا تعلق عرفات میں وقوف کرنے سے ہے اس لئے حاجی کے وقوف عرفہ کے دن ہی سارے مسلمان عرفہ کا روزہ رکھیں ۔
    یہ استدلال کئی وجوہ سے صحیح نہیں ہے ۔
    پہلی وجہ : قاعدے کی رو سے روزہ میں رویت ہلال اور اختلاف مطالع کا اعتبار ہوگا ۔ عرفہ کے روزہ کو اس قاعدے سے نکالنے کے لئے واضح نص چاہئے جوکہ موجود نہیں ۔
    دوسری وجہ : مناسک حج میں حج کی نسبت سے بہت سارے نام رکھے گئے ہیں ان سب پر عمومی قاعدہ ہی لگے گا الا یہ کہ خاص وجہ ہو۔ مثلا ایام تشریق حج کی قربانی کی وجہ سے نام رکھا گیا ہے اور اسے حاجیوں کے لئے کھانے پینے اور قربانی کرنے کا دن بتلایا گیا ہے اور ہم سب کو معلوم ہے حاجیوں کے ایام تشریق اور دنیا کے دوسرے ملک والوں کے ایام تشریق الگ الگ ہیں۔ جب سعودی میں قربانی کا چوتھا دن ختم ہوجاتا ہے تو دیگر بہت سارے ممالک میں ایک دن ابھی باقی ہوتا ہے ۔
    قربانی کی نسبت بھی ابراہیم علیہ السلام سے ہے اور آپ ﷺ نے اس نسبت سے یوم النحر /عیدالاضحی کو قربانی کرنے کا حکم دیاہے ۔ یہ قربانی ہرملک والا اپنے یہاں کے قمری مہینے کے حساب سے دس ذی الحجہ کو کرے گا۔ گویا عرفہ ایک نسبت ہے جہاں تک اس دن روزہ رکھنے کا معاملہ ہے تو روزے میں عمومی قاعدہ ہی لاگو ہوگا۔
    تیسری وجہ: اگر عرفہ کے روزہ سے متعلق بعض حدیث میں تاریخ نہیں آئی تو کوئی حرج نہیں ، دوسری حدیث میں نبی ﷺ سے تاریخ کے ساتھ 9/ذی الحجہ تک روزہ رکھنا ثابت ہے ۔ بعض ازواج مطہرات کا بیان ہے :
    أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ كانَ يَصومُ تِسعًا مِن ذي الحجَّةِ ، ويومَ عاشوراءَ ، وثلاثةَ أيَّامٍ من كلِّ شَهْرٍ ، أوَّلَ اثنينِ منَ الشَّهرِ وخَميس(صحيح أبي داود:2437)
    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کے ( پہلے ) نو دن ، عاشورہ محرم ، ہر مہینے میں تین دن اور ہر مہینے کے پہلے سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے ۔
    اس حدیث میں عرفہ کا روزہ بھی داخل ہے جوکہ تاریخ کے ساتھ ثابت ہے۔
    چوتھی وجہ : اگر عرفات میں وقوف سے متعلق روزہ ہوتا تو عرفہ نہیں عرفات کا ذکر ہوتا۔
    چھٹی وجہ : اگر یہ وقوف عرفہ کی وجہ سے ہوتا تو حاجیوں کے لئے بھی یہ روزہ مشروع ہوتا مگر یہ حاجیوں کے لئے مشروع نہیں ہے ۔
    ساتویں وجہ : وقوف عرفہ کا ایک وقت متعین ہے جو کہ تقریبا زوال کے بعد سے مغرب کے وقت تک ہے ۔یہ وقت روزہ کے واسطےسعودی والوں کے لئے بھی کافی نہیں ہے کیونکہ روزے میں صبح صادق کے وقت سحری اور نیت کرنا پھر غروب شمس پہ افطار کرنا ہے۔گویا روزے میں وقوف کا اعتبار ہوا ہی نہیں اس میں تو نظام شمسی وقمری کا اعتبار ہوا۔ اس بناپر بھی نسبت کا ہی اندازہ لگاسکتے ہیں وقوف کا نہیں۔
    آٹھویں وجہ : سعودی والوں کے لئے بھی عرفہ نو ذی الحجہ ہی ہے ، وہ روزہ رکھتے ہوئے عرفہ کے وقوف کو مدنظر نہیں رکھتے بلکہ قمری تاریخ کے حساب سے نوذی الحجہ کو رکھتے ہیں ۔ اس کی دلیل حجاج کرام سے ہی ملتی ہے ، وہ لوگ قمری تاریخ کے حساب سے آٹھ ذی الحجہ (یوم الترویہ )سے حج شروع کرتے ہیں ، ایسا کبھی نہیں ہوسکتا ہے کہ ذی الحجہ کی سات تاریخ ہو اور حاجی منی جائے یا آٹھ تاریخ ہو اور حاجی عرفات چلاجائے ۔ مناسک حج میں بھی یوم الترویہ اور یوم عرفہ تاریخ کے طور پر ہی ہے کیونکہ اسلامی عبادات میں رویت ہلال کا بڑا دخل ہے ۔ اسی چیز کی طرف قرآن میں رہنمائی کی گئی ہے ۔
    اللہ کا فرمان ہے : يَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الأَهِلَّةِ قُلْ هِىَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ. (سورة البقرة: 189)
    ترجمہ: لوگ آپ سے ہلال کے

  47. وجاہت says:

    امام ذھبی اپنی کتاب سير أعلام النبلاء ط الرسالة میں لکھتے ہیں کہ

    http://shamela.ws/browse.php/book-10906#page-2737

    وَخَلَفَ مُعَاوِيَةَ خَلْقٌ كَثِيْرٌ يُحِبُّوْنَهُ وَيَتَغَالُوْنَ فِيْهِ، وَيُفَضِّلُوْنَهُ، إِمَّا قَدْ مَلَكَهُم بِالكَرَمِ وَالحِلْمِ وَالعَطَاءِ، وَإِمَّا قَدْ وُلِدُوا فِي الشَّامِ عَلَى حُبِّهِ، وَتَرَبَّى أَوْلاَدُهُمْ عَلَى ذَلِكَ.
    وَفِيْهِمْ جَمَاعَةٌ يَسِيْرَةٌ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَعَدَدٌ كَثِيْرٌ مِنَ التَّابِعِيْنَ وَالفُضَلاَءِ، وَحَارَبُوا مَعَهُ أَهْلَ العِرَاقِ، وَنَشَؤُوا عَلَى النَّصْبِ – نَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الهَوَى

    کیا یہ امام ذھبی کا اپنا قول ہے – اور کیا اس کو ان کا موقف کہا جا سکتا ہے

    • Islamic-Belief says:

      وَخَلَفَ مُعَاوِيَةَ خَلْقٌ كَثِيْرٌ يُحِبُّوْنَهُ وَيَتَغَالُوْنَ فِيْهِ، وَيُفَضِّلُوْنَهُ، إِمَّا قَدْ مَلَكَهُم بِالكَرَمِ وَالحِلْمِ وَالعَطَاءِ، وَإِمَّا قَدْ وُلِدُوا فِي الشَّامِ عَلَى حُبِّهِ، وَتَرَبَّى أَوْلاَدُهُمْ عَلَى ذَلِكَ.
      وَفِيْهِمْ جَمَاعَةٌ يَسِيْرَةٌ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَعَدَدٌ كَثِيْرٌ مِنَ التَّابِعِيْنَ وَالفُضَلاَءِ، وَحَارَبُوا مَعَهُ أَهْلَ العِرَاقِ، وَنَشَؤُوا عَلَى النَّصْبِ – نَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الهَوَى -.
      كمَا قَدْ نَشَأَ جَيْشُ عَلِيٍّ -رَضِيَ اللهُ عَنْهُ – وَرَعِيَّتُهُ – إِلاَّ الخَوَارِجَ مِنْهُم – عَلَى حُبِّهِ، وَالقِيَامِ مَعَهُ، وَبُغْضِ مَنْ بَغَى عَلَيْهِ، وَالتَّبَرِّي مِنْهُم، وَغَلاَ خَلْقٌ مِنْهُم فِي التَّشَيُّعِ.

      أور معاویہ نے اپنے پیچھے ایک خلق کثیر کو چھوڑا جو ان سے محبت کرتے تھے اور ان کے حوالے سے غلو کرتے اور ان کی فضیلت کرتے اور ان کا دور حکومت کرم و حلم اور جود و عطا کا تھا اور شام میں ان سے محبت پیدا ہوئی اور ان کی اولادوں میں یہ پروان چڑھی جس میں اصحاب رسول کی ایک چھوٹی جماعت تھی اور التَّابِعِيْنَ وَالفُضَلاَءِ کی کثیر تعداد تھی اور ان سے اہل عراق نے جنگ کی اور نصب بڑھا – اس گمراہی سے اللہ کی پناہ – یہ اسی طرح پروان چڑھا جس طرح علی کے لشکر میں ہوا اور ان کی رعیت میں سوائے خوارج کے کہ علی کے ساتھ محبت ان کے لئے کھڑا ہونا اور ان سے بغض کرنا جس سے وہ بغض کریں اور ان پر تبرہ کرنا اور ان کے ساتھ ایک خلق نے شیعیت میں غلو کیا

      ٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
      یہ الذھبی کا قول ہے اور ان کا موقف ہے بطور مورخ ان کا تجزیہ ہے

  48. وجاہت says:

    امام نووی اپنی کتاب شرح النووي على مسلم میں صحیح مسلم کی ایک حدیث کی تاویل کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ

    قَوْلُهُ (إِنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا تُرَابٍ) قَالَ الْعُلَمَاءُ الْأَحَادِيثُ الْوَارِدَةُ الَّتِي فِي ظَاهِرِهَا دَخَلٌ عَلَى صَحَابِيٍّ يَجِبُ تَأْوِيلُهَا قَالُوا وَلَا يَقَعُ فِي رِوَايَاتِ الثِّقَاتِ إِلَّا مَا يُمْكِنُ تَأْوِيلُهُ فَقَوْلُ مُعَاوِيَةَ هَذَا لَيْسَ فِيهِ تَصْرِيحٌ بِأَنَّهُ أَمَرَ سَعْدًا بِسَبِّهِ وَإِنَّمَا سَأَلَهُ عَنِ السَّبَبِ الْمَانِعِ لَهُ مِنَ السَّبِّ كَأَنَّهُ يَقُولُ هَلِ امْتَنَعْتَ تَوَرُّعًا أَوْ خَوْفًا أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ فَإِنْ كَانَ تَوَرُّعًا وَإِجْلَالًا لَهُ عَنِ السَّبِ فَأَنْتَ مُصِيبٌ مُحْسِنٌ وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ فَلَهُ جَوَابٌ آخَرُ ولَعَلَّ سَعْدًا قَدْ كَانَ فِي طَائِفَةٍ يَسُبُّونَ فَلَمْ يَسُبَّ مَعَهُمْ وَعَجَزَ عَنِ الْإِنْكَارِ وَأَنْكَرَ عَلَيْهِمْ فَسَأَلَهُ هَذَا السُّؤَالَ قَالُوا وَيَحْتَمِلُ تَأْوِيلًا آخَرَ أَنَّ مَعْنَاهُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُخَطِّئَهُ فِي رَأْيِهِ وَاجْتِهَادِهِ وَتُظْهِرَ لِلنَّاسِ حُسْنَ رَأْيِنَا وَاجْتِهَادِنَا وَأَنَّهُ أَخْطَأَ قَوْلُهُ

    امام نووی جس قول کا ذکر کر رہے ہیں وہ صحیح مسلم اور ترمزی میں ہے

    http://mohaddis.com/View/Muslim/6220

    http://mohaddis.com/View/Tarimdhi/3724

    اور اس حدیث میں الفاظ ہیں کہ

    أَمَرَ مُعَاوِیَةُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ سَعْدًا فَقَالَ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ

    جب کہ امام نووی لکھ رہے ہیں کہ

    قَوْلُهُ
    (إِنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا تُرَابٍ)

    امام نووی اگر سند پر بات کرتے تو ان کو اتنی مشکل پیش نہ آتی اور الفاظ تبدیل نہیں کرنے پڑتے – ابو شہر یار بھائی آپ کیا کہیں گے امام نووی کے بارے میں – ان کو الفاظ کی تبدیلی کی ضرورت کیوں پڑی – کیا یہ مسلک پرستی نہیں

    • Islamic-Belief says:

      نووی صحیح مسلم کے شارح ہیں اور ابن حجر صحیح بخاری کے
      دونوں نے اپنے اوپر لازم رکھا تھا کہ ان کتابوں کی کسی بھی روایت کو ضعیف نہ کہا جائے لہذا اسنادی علتوں کی بجائے ان کا محور اسناد کی تخریج پر رہا ہے

  49. انعم شوکت says:

    بھائی آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا
    لوگوں کو انکے عقائد میں خرابی بتانا کیا انکے خداؤں کو برا کہنا ہے بعض لوگ آیت کوٹ کر دیتے ہیں کہ کسی کو برا نہیں کہنا چاہیے یعنی انکے عقائد کو چھیڑنا نہیں چاہیے اور انکے عقائد کو چھیڑنا گویا کے معبودوں کو برا کہنا یے اور اللہ نے منع کیا ہے کہ کسی کے معبود کو برا مت کہو کہ وہ اللہ کو برا کہے وضاحت چاہیے۔

    • Islamic-Belief says:

      لوگوں کو انکے عقائد میں خرابی بتانا کیا انکے خداؤں کو برا کہنا نہیں ہے اگر یہ لوگ یہ آیت پیش کرتے ہیں تو ایک طرح یہ ان طاغوتوں کو رب کے مقام پر لا رہے ہیں
      لہذا ان کا یہ قول صحیح نہیں ہے

  50. وجاہت says:

    کیا غسل کعبہ بدعت نہیں ہے

    • Islamic-Belief says:

      غسل کعبہ بدعت ہے – اس کے غلاف پر آیات اور امراء کے نام لکھنا بھی بدعت ہے – إس کو ایام حج میں بدلنا بھی بدعت ہے

  51. وجاہت says:

    پلیز ان احادیث کا نمبر دے دیں تا کہ کوئی اعترض باقی نہ رہے

    مَيْمُونَةَ رضی الله عنہا کی صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے روزہ نہیں رکھا

    امام بخاری اس سلسلے میں صرف ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے روزہ نہیں رکھا

    مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ؛ أَنَّ نَاساً تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ، فِي صِيَامِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم. فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ. فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ، وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرٍ (1)، بِعَرَفَةَ، فَشَرِبَ

    أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ کہتی ہیں ہم نے یوم عرفہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس دودھ بھیجا یہ دیکھنے کہ روزہ ہے یا نہیں تو اپ نے وہ دودھ پی لیا

    • Islamic-Belief says:

      صحیح بخاری کی روایت 1658 ہے
      حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى أُمِّ الفَضْلِ، عَنْ أُمِّ الفَضْلِ، شَكَّ النَّاسُ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «فَبَعَثْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَهُ»
      —-
      موطا امام مالک کی روایت ١٣٨٩ یا ٣٨٨ ہے
      ———-

      • وجاہت says:

        پلیز یہ احادیث بھی دیکھ لیں – آپ جس حدیث کا حوالہ دے رہے ہیں وہ میدان عرفات کی ہے

        http://mohaddis.com/Takhreej/Sahi-Bukhari/1658

        اب کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے یہ روزہ حاجیوں پر نہیں ہے لیکن دوسرے لوگوں کے لئے ہے جو حج پر نہیں ہیں

        • Islamic-Belief says:

          عبادت
          ایام حج میں بعض کام حاجی کریں گے لیکن مقیم بھی ان کو کرے گا مثلا قربانی
          اسی طرح حاجی روزہ نہیں رکھے گا اور مقیم بھی روزہ نہیں رکھے گا

          قیود بھی ہیں
          بعض کام حاجی نہیں کرے گا حاجی شکار نہیں کرے گا لیکن مقیم کرے گا

  52. وجاہت says:

    تشریق کے دن کھانے اور پینے کے دن ہیں

    اس سلسلے میں تقریباً دس احادیث آئ ہیں محدث احادیث کے سافٹ ویئر کے مطابق

    http://mohaddis.com/Search/0/1/%D8%A3%D9%8A%D8%A7%D9%85%20%D8%A3%D9%83%D9%84%20%D9%88%D8%B4%D8%B1%D8%A8

  53. وجاہت says:

    عمرو بن حریث کون ہیں – کیا یہ کوئی صحابی ہیں یا نہیں

    http://shamela.ws/browse.php/book-9767/page-2253

    • Islamic-Belief says:

      الذھبی کے نزدیک عَمْرُو بنُ حُرَيْثِ بنِ عَمْرِو بنِ عُثْمَانَ المَخْزُوْمِيُّ المتوفی ٨٥ ھ صحابی ہیں
      كَانَ عَمْرٌو مِنْ بَقَايَا أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – الَّذِيْنَ كَانُوا نَزَلُوا الكُوْفَةَ

      صلاح الدين أبو سعيد خليل بن كيكلدي بن عبد الله الدمشقي العلائي (المتوفى: 761هـ) کہتے ہیں صحابی نہیں ہے
      هو غير الصحابي المشهور

      ابن جوزی کہتے ہیں رأى عليا رضي الله عنه رؤية ولم يسمع منه
      اس نے علی کو صرف دیکھا سنا تک نہیں

      امام بخاری کہتے ہیں
      عَنِ النَّبيِّ صَلى اللَّهُ عَلَيه وسَلم، مُرسَلٌ.
      اس کی روایت نبی سے مرسل ہے
      یعنی ان کے نزدیک بھی صحابی نہیں ہے

  54. انعم شوکت says:

    عرفہ کے دن دعا قبول ہوتی یے اس بارے میں حدیث صحیح ہے سلف صالحین اس دن کیلئے دعا جمع کر کے رکھتے تھے کہ اس دن عرفہ کے دن آنے پر دعا کرتے تھے ۔

  55. ابراہیم says:

    کعبہ پر کسوۃ ( غلاف ) کا رواج بہت قدیم ایام سے ہے ۔ جہاں تک تاریخ میں پتہ لگتا ہے تبع بادشاہ یمن پہلا شخص ہے ، جس نے بیت اللہ پر مکمل کسوہ ( غلاف ) چڑھایا تھا
    http://forum.mohaddis.com/threads/غسل-کعبہ-و-غلاف-کعبہ-کی-شرعی-حیثیت.3958/
    —————–
    تبع بادشاہ یمن کون تھا؟

    • Islamic-Belief says:

      تبع یمن کا یہودی تھا- مملکت حمیر کے ایک بادشاہ أبو كرب أسعد یا أسعد أبو كُرَيْب بن مَلْكيكرب یا اسعد الكامل یا التبع نے حمیر پر ٣٩٠ سے ٤٢٠ ع تک حکومت کی- کہتے ہیں اس نے یثرب پر حملہ کیا تاکہ وہاں بڑھتے ہوئے عیسائی بازنیطی اثر کو ختم کرے- اس جنگ میں یہودیوں نے بھی مملکت حمیر کا ساتھ دیا – لیکن التبع وہاں بیمار ہو گیا حتی کہ کسی چیز سے شفا یاب نہ ہو سکا- یہ ایک مشرک تھا لیکن یثرب کے یہودیوں احبار نے اس کو جھاڑا اور یہ ٹھیک ہو گیا- اس سے متاثر ہو کر اس نے یہودی مذھب قبول کیا – اس طرح مملکت حمیر ایک یہودی ریاست بن گئی- اس کی قوم کا قرآن میں ذکر ہے

      الله تعالى کہتا ہے : أَهُمْ خَيْرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ أَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ الدخان ٣٧ میں
      کیا یہ (مشرکین مکہ) بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور جو ان سے قبل گزرے جن کو ہم نے ہلاک کیا یہ سب مجرم تھے

      اور

      كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَابُ الرَّسِّ وَثَمُودُ . وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ وَإِخْوَانُ لُوطٍ . وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ سوره ق ١٢ سے ١٤ میں
      ان (مشرکین مکہ) سے قبل قوم نوح اور اصحاب الرس اور ثمود اور عاد اور فرعون اور قوم لوط اور َأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ اور َقَوْمُ تُبَّعٍ کو ہلاک کیا سب نے رسولوں کا انکار کیا پس ان پر وَعِيدِ ثبت ہوئی

      ابو داود کی حدیث ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

      لا أدري تبع لعينًا كان أم لا
      میں نہیں جانتا کہ تبع، مردود ہے یا نہیں

      یعنی تبع کے اس تبدیلی ایمان میں وہ صحیح تھا یا نہیں اس کی خبر نہیں دی گئی لیکن اس کی قوم کو برا کہا گیا ہے- کعب الاحبار کا قول ہے ذم الله تعالى قومه ولم يذمه الله نے اس کو برا نہیں کہا اس کی قوم کو کہا ہے

      ——
      ⇑ یمن کی مملکتیں اور قرآن
      http://www.islamic-belief.net/history/

      تبع نے کعبہ کو غلاف دیا کیونکہ مسجد اقصی میں ہیکل سلیمانی میں قدس الاقدس پر بھی غلاف تھا
      اس کا ذکر انجیل میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی مزموعہ صلیب کے وقت مقدس کا غلاف یا کسوہ پھٹ گیا

      At that moment the curtain of the temple was torn in two from top to bottom. The earth shook, the rocks split
      http://biblehub.com/matthew/27-51.htm

      ———-

      مسلمان مورخین کے اس بیان پر کہ تبع نے سب سے پہلے غلاف کعبہ دیا – مستشرقین کا کہنا ہے کہ کعبه اصل میں ایک یہودی پروجیکٹ تھا جس کا مقصد عربوں کو عبادت گاہ دینا تھا راقم کہتا ہے یہ بات باطل ہے یہ محض مفروضہ ہے

  56. انعم شوکت says:

    میرا سوال اصل میں یہ تھا کہ عرفہ کے دن دعا قبول ہوتی یے یا نہیں. ؟مطلب اس دن کی کوئی خاصیت حدیث سے ثابت ہےیا نہیں؟

    اللہ ہر روز آسمان دنیا. پر نزول کرتا ہے والی بخاری کی حدیث کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے کیونکہ اللہ تو عرش
    پر مستوی ہے لیکن بخاری کی اس حدیث کے بارے میں وضاحت چاہیے جزاک اللہ

  57. shahzad khan says:

    إِنَّ أَوَّلَ بَيۡتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِى بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلۡعَـٰلَمِينَ

    بیشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما

    بھائی اک صاحب کا اعتراض ہے کہ ال عمران نمبر 96 میں جو لفظ بکہ آیا ہے وہ کوئی اور مقام ہے اور مکہ کوئی اور مقام ہے؟؟ آیت میں لفظ بکہ آنے کی وجہ کیا ہے؟؟

    وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَىٰ عَذَابِ النَّارِ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ (2:126)

    جب ابراہیم نے کہا، اے پروردگار! تو اس جگہ کو امن واﻻ شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں، پھلوں کی روزیاں دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں کافروں کو بھی تھوڑا فائده دوں گا، پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف بےبس کردوں گا، یہ پہنچنے کی جگہ بری ہے (2:۔۔۔۔اور دوسرا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے ک اگلی آیت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس مقام پر پھلوں کے باغات ہیں جبکہ مکہ میں 2000 سال پہلے تک بھی اس ایریا میں کوئی پھلوں وغیرہ کے باغات نہیں تھے ۔۔۔۔ ؟؟

    • Islamic-Belief says:

      ایک شہر کا ایک قدیم نام ہے اور ایک جدید
      بکّہ قدیم نام ہے اور مکہ جدید نام ہے

      اہل کتاب سے اس سورت میں کلام ہو رہا ہے – بکہ کا نام ان کی کتب میں ہے
      آج کل کے اہل کتاب کہتے ہیں بکہ اصل میں یروشلم ہے یا گلیل میں ہے یا کوہ طورکے پاس ہے لیکن اغلبا دور نبوی میں
      وہ اس کے قائل نہیں ہوں گے بلکہ مکہ کو ہی بکہ کہتے ہوں گے

      میں نے تفسیر میں اس پر بات کی ہے
      ⇓ Two Illuminated Clouds of Quran
      http://www.islamic-belief.net/literature/english-booklets/

      [Exegesis V. 95−97] Bakkah was the old name of Makkah. In Psalm∗ it is said:
      Blessed is the man whose strength is in thee; in whose heart are the ways of
      them.Who passing through the valley of Baca make it a well; the rain also filleth
      the pools
      Bacca should be a bone dry land otherwise the verses of Psalm does not make sense. It is claimed
      that Bacca is Jerusalem or in Sinai district or may be in Galilee. Also the translators some times
      translate it as valley of weeping or valley of balsam trees. However in no way such play with the
      word can be accepted. In times of David Jerusalem was not city of weeping. Also Jericho was
      famous for Balsam trees not Jerusalem. An Ishamelite caravan taken Joseph out of well when
      it was going to Egypt with Myrrah. Genesis (37:25) says: As they sat down to eat their meal,
      they looked up and saw a caravan of Ishmaelites coming from Gilead. Their camels were loaded
      with spices, balm and myrrh, and they were on their way to take them down to Egypt. Myrrah is
      also produced through Balsam trees in Arabia so converting the Bacca into valley of balsam
      would not change the issue.

      ——–

      ۔۔۔۔اور دوسرا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے دوسری آیت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس مقام پر پھلوں کے باغات ہیں جبکہ مکہ میں 2000 سال پہلے تک بھی اس ایریا میں کوئی پھلوں وغیرہ کے باغات نہیں تھے ۔۔۔۔ ؟؟

      وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَىٰ عَذَابِ النَّارِ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ (2:126)

      جب ابراہیم نے کہا، اے پروردگار! تو اس جگہ کو امن واﻻ شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں، پھلوں کی روزیاں دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں کافروں کو بھی تھوڑا فائده دوں گا، پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف بےبس کردوں گا، یہ پہنچنے کی جگہ بری ہے
      جواب
      ابراہیم نے دعا کی ہے کہ ان کو پھل ملیں کیونکہ مکہ ( بوادٍ غير ذي زرع) بے آب وادی تھی-
      ابراہیم کی دعا مکہ کے لئے ہے جو بکہ ہی ہے
      یا ان صاحب کے نزدیک یہ دعا بکہ کے لئے ہے ؟
      مکہ میں جب ابراہیم پہنچے تو وہاں قبیلہ جرہم آباد ہوا تھا اور ساتھ ہاجرہ اور اسمعیل علیھما السلام بھی تھے
      یہ لوگ زمزم کا پانی پیتے اور تیروں سے شکار کرتے اغلبا ان پرندوں کا جو پانی پر اتے تھے
      مکہ میں پھل آگے نہیں وہاں تجارت سے اور قافلوں سے پہنچے
      مثلا مکہ کے قریب طائف ہے جو سرسبز ہے وہاں کا موسم بھی الگ ہے کیونکہ طائف پہاڑ کے اوپر ہے
      کعبہ کی تعمیر سے وہاں مکہ یا بکہ میں لوگوں کا آنا جانا حج وغیرہ شروع ہوا
      اور اس طرح وہ نظم بن گیا کہ دنیا کی نعمت اہل مکہ کو مل گئی
      قرآن میں ہے
      أَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ} [القصص: 57
      کیا ہم نے ان کو ایک حرم میں نہیں ٹھرایا جہاں ہر چیز کا پھل پہنچتا ہے

      ظاہر ہے یہ حرم مکی ہے

      سوره ابراہیم آیت ٣٧ میں ہے
      رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ

      سوره قریش
      الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ

      ———
      سیوطی نے تفسیر الدر المنثور میں کچھ روایات دی ہیں کہ ابراہیم کی دعا پر الله نے جبریل کو حکم کیا اور انہوں نے ملک اردن یا فلسطین کے ایک قطعہ کو عرب میں منتقل کیا جس کو طائف کہا جاتا ہے

      أما قَوْله تَعَالَى: {وارزق أَهله من الثمرات} أخرج الأرزرقي عَن مُحَمَّد بن الْمُنْكَدر عَن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم لما وضع الله الْحرم نقل لَهُ الطَّائِف من فلسطين
      وَأخرج ابْن جرير وَابْن أبي حَاتِم عَن مُحَمَّد بن مُسلم الطَّائِفِي قَالَ: بَلغنِي أَنه لما دَعَا إِبْرَاهِيم للحرم {وارزق أَهله من الثمرات} نقل الله الطَّائِف من فلسطين
      وَأخرج الن أبي حَاتِم والأزرقي عَن الزُّهْرِيّ قَالَ: إِن الله نقل قَرْيَة من قرى الشَّام فوضعها بِالطَّائِف لدَعْوَة إِبْرَاهِيم عَلَيْهِ السَّلَام
      وَأخرج الْأَزْرَقِيّ عَن سعيد بن الْمسيب بن يسَار قَالَ: سَمِعت بعض ولد نَافِع بن جُبَير بن مطعم وَغَيره
      يذكرُونَ أَنهم سمعُوا: أَنه لما دَعَا إِبْرَاهِيم بِمَكَّة أَن يرْزق أَهله من الثمرات نقل الله أَرض الطَّائِف من الشَّام فوضعها هُنَالك رزقا للحرم

      نکتہ
      ابراہیم علیہ السلام نے تو دعا کی کہ پھل مومنوں کو ملیں لیکن الله نے دعا قبول کر کے مومن ہو یا کافر سب کو پھل دیے

      مکہ کو حرم الله تعالی نے قرار دیا ہے
      اس کی وجہ سے سال کے چار ماہ حرمت والے ہیں اس دن سے جس دن زمیں و آسمان بنے

      قرآن میں سوره توبه أية ٣٦ ہے
      إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ
      الله کے نزدیک مہینے ١٢ ہیں جو کتاب الله میں ہیں اس روز سے جب زمیں و آسمان خلق ہوئے ان میں سے چار حرمت والے ہیں

      صحیح مسلم میں ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
      إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ
      اس شہر مکہ کو الله نے حرم قرار دیا اس روز جب آسمان و زمین خلق ہوئے

  58. raneem says:

    تکبیرات نو ذالحجہ سے لیکر تیرہ ذالحجہ تک پڑھنا واجب ہے اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر اللہ لحمد؟؟
    ایک انسان عقیدہ کی خرابی میں مبتلا ہے اگر وہ صلات یا روزہ یا کسی بھی رکن میں غلطی کر رہا ہے تو کیا اسکو سمجھانا چاہیے کہ نماز ایسے نہیں ایسے پڑھو؟؟؟؟

    قربانی کرتے وقت صرف بسم اللہ اللہ اکبرپڑھنا چاہیے یا ایک دعا اور ہے وہ بھی پڑھنی ہو گی وہ دعا بھی بتا دیجیے پلیز۔

    اگر قربانی عورت کر رہی ہے تو اسکا ہاتھ لگانا ضروری ہے؟ انکا نام لینا کافی نہ ہو گا؟

    زمین گول ہے قرآن کی کونسی آیت سے معلوم ہوا؟

    • Islamic-Belief says:

      تکبیرات کی تعداد بتاتی ہے کہ تشریق کے ایام اکابر صحابہ کے نزدیک ١٠، ١١، اور ١٢ ذو الحجہ تھے
      امام محمّد کتاب الأَصْلُ میں کہتے ہیں

      باب التكبير في أيام التشريق

      قلت: أرأيت التكبير في أيام التشريق متى هو، وكيف هو، ومتى يبدأ ، ومتى يقطع؟ قال: كان عبد الله بن مسعود يبتدئ به من صلاة الغداة يوم عرفة إلى صلاة العصر من يوم النحر ، وكان علي بن أبي طالب يكبر من صلاة الغداة يوم عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق ، فأي ذلك ما فعلت فهو حسن ، وأما أبو حنيفة فإنه كان يأخذ بقول ابن مسعود، وكان يكبر من صلاة الغداة يوم عرفة إلى صلاة العصر من يوم النحر، ولا يكبر بعدها، وأما أبو يوسف ومحمد فإنهما يأخذان بقول علي بن أبي طالب.

      تشریق کے ایام میں تکبیر کہنا …. کہا تکبیر، عبد الله ابن مسعود صلاة الغداة (نماز فجر) یوم عرفہ کے دن سے یوم نحر میں عصر کی نماز تک کرتے اور علی بن ابی طالب صلاة الغداة (نماز فجر) میں تکبیر کہتے ایام تشریق نماز عصر کے آخر تک اور اسی طرح حسن کرتے اور جہاں تک ابو حنیفہ کا تعلق ہے تو وہ ابن مسعود کا عمل کرتے اور … اور امام ابو یوسف اور محمد علی بن ابی طالب کا قول لیتے

      قال الإمام محمد: أخبرنا سلام بن سليم الحنفي عن أبي إسحاق السبيعي عن الأسود بن يزيد قال كان عبد الله بن مسعود – رضي الله عنه – يكبر من صلاة الفجر يوم عرفة إلى صلاة العصر من يوم النحر: الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله والله أكبر الله أكبر ولله الحمد. انظر: الحجة على أهل المدينة، 1/ 310؛ ورواه من وجه آخر. انظر: الحجة على أهل المدينة، 1/ 308. وانظر: الآثار لأبي يوسف، 60؛ والمصنف لابن أبي شيبة، 1/ 488؛ ونصب الراية للزيلعي، 2/ 222.

      یعنی علی رضی الله عنہ ١٣ نمازوں میں تکبیر کہتے اور ابن مسعود ٨ نمازوں میں تکبیر کہتے

      —————

      جو شخص عقائد کی خرابی میں مبتلا ہے اس سے نماز اور روزہ وغیرہ مسائل پر بات نہیں ہو گی
      ——–
      قربانی کی دعا ہے
      إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، حَنِيفًا مُسْلِمًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ، وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، بِسْمِ اللهِ، واللهُ أَكْبَرُ

      شعیب کہتے ہیں سند حسن ہے البانی اس کو سنن ابو داود ٢٧٩٥ میں ضعیف کہا ہے
      ضعيف //، المشكاة (1461) ، ضعيف سنن ابن ماجة (669 / 3121) //

      بسم الله – الله اکبر پڑھنا کافی ہے
      ———

      عورت کا ہاتھ لگنا ضروری نہیں

      ———

      والأرض بعد ذلك دحاها
      سورة النازعات

      پہلے زمانے میں اس کا مطلب کہا جاتا رہا ہے

      اور اس کے بعد اس نے زمین کو پھیلایا
      اور اس کے بعد اس نے زمین میں گھڑہا کیا

      پھر بعض نے کہا
      وَيُقَال لِعُشِّ النَّعَامَة أَدْحَى
      کہا جاتا ہے شتر مرغ اپنے انڈا کے لئے گڑھا کرتا ہے

      اور دَحَاهَا کا نیا مفہوم بیان ہوا کہ یہ زمین کو گول کیا گیا جبکہ اصل میں بات گڑھا کرنے کی ہو رہی ہے

      ابن عباس سے مروی ہے کہ
      دَحَاهَا ” وَدَحْيهَا أَنْ أَخْرَجَ مِنْهَا الْمَاء
      دَحَاهَا ” وَدَحْيهَا گڑھا کرنا کہ پانی نکلے
      ———-

      كروية الأرض يا گول زمین پر کہا جاتا ہے اجماع ہے
      https://islamqa.info/ar/118698

      ابن حزم کہتے ہیں زمین گول ہے اس کی دلیل ہے
      خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ ) الزمر/5 .

      یہاں یکور کا لفظ ہے جو لپٹنے کے معنی میں ہے اور اس کو گول چیزوں پر کیا جاتا ہے

      بہر حال اب خلا سے زمیں کو دیکھا جا چکا ہے عین الیقین مل چکا ہے کہ زمین گول ہے

  59. raneem says:

    کیا عاشورا کا روزہ دس محرم کو نہیں رکھنا چاہیے؟ میں نے یہ سوال عبادت والے ٹوپک پڑھ کر ہی کیا ہے

    • Islamic-Belief says:

      عَاشُورَاءَ کا روزہ ایام جاہلیت کی رسم ہے اس کو اسلام میں نا پسند نہیں کیا گیا اور رمضان کے بعد اب یہ نفلی عبادت ہے جو چاہے کرے اور نہ چاہے تو نہ کرے
      یہ دس محرم کا ہی دن ہے

  60. anum shoukat says:

    ایک آدمی کے تین بیٹے ہیں وہ تینوں کماتے ہیں لیکن وہ رہتے اکٹھے ہیں تو کیا تینوں بیٹوں پر قربانی کرنا لازم ہو جائے گایا صرف ابا کر لیں تو پوری فیملی کی طرف سے قربانی اد ا ہو جائے گی؟
    بال اور ناخن نہ کاٹنا صرف قربانی کرنے والے کیلے ہیں یا تمام گجر کے افراد کیلئے یہ حکم ہو گا؟

    • Islamic-Belief says:

      اگر تینوں بیٹے ایک گھر میں ہیں اور کھانا بھی مل کر کھاتے ہیں تو ایک قربانی کافی ہے
      لیکن اگر یہ مرد شادی شدہ ہیں ان کی ہنڈیا الگ الگ پکتی ہے تو ان سب کو الگ الگ قربانی کرنی ہے

      ————
      رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی نو ازواج ایک وقت میں تھیں لیکن کسی حدیث میں نہیں کہ ہر ایک کے لئے قربانی الگ الگ ہوتی ہو
      ترمذی میں ہے

      بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الشَّاةَ الوَاحِدَةَ تُجْزِي عَنْ أَهْلِ البَيْتِ (ایک بکری کی قربانی ایک گھر کے تمام افراد کی طرف سے کافی ہو جاتی ہے )
      عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ: كَيْفَ كَانَتِ الضَّحَايَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ حَتَّى تَبَاهَى النَّاسُ، فَصَارَتْ كَمَا تَرَى.
      هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَعُمَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ مَدِينِيٌّ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ضَحَّى بِكَبْشٍ
      ترجمہ :عطا بن یسار کہتے ہیں ،میں نے ابو ایوب انصاری سے پوچھا ،کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں قربانیاں کس طرح کرتے تھے ،انہوں نے بتایا کہ :ہر آدمی ایک بکری اپنی اور اپنے سارے گھر والوں کی طرف قربان کرتا تھا ،اور سب اسی کو خود بھی کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے ؛لیکن بعد میں لوگوں نے فخر ونمود کا مظارہ کیا ،اور اب جو صورت ہے وہ تم دیکھ رہے ہو امام ترمذی کہتے ہیں :یہ حدیث حسن صحیح ہے ،اور امام احمد بن حنبل اور اسحاق بن راھویہ اور دیگر کئی اہل علم کا یہی قول ہے ؛

      صحیح بخاری میں ہے
      حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ زَيْنَبُ بِنْتُ حُمَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ صَغِيرٌ» فَمَسَحَ رَأْسَهُ، وَدَعَا لَهُ، وَكَانَ يُضَحِّي بِالشَّاةِ الوَاحِدَةِ عَنْ جَمِيعِ أَهْلِهِ

      رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سارے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرتے تھے

      ———-

      ناخن اور بال کاٹنا اس کے لئے ہے جو قربانی کر رہا ہو

      ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم ماہ ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو روکے رکھے۔

  61. shahzad khan says:

    بھائی معجزے کا کے بارے میں ایک طبقہ کا ماننا ہے کہ معجزات بھی سبب در عمل کے تحت ہوتے تھے اور اللہ تعالیٰ نیچر کے خلاف نہیں کرتا ۔بھائی اس مسئلے پر رہنمائی فرما دیں جزاک اللہ میرا

    • Islamic-Belief says:

      نیچری لوگ کہتے ہیں کہ قرآن میں ہے کہ تم سنت الله میں تبدیلی نہیں پاؤ گے یا دروبدل نہیں دیکھو گے
      اب یہ سنت الله سے نیچر یا قدرت مراد لیتے ہیں
      یہ ان کے خود ساختہ مفہوم ہیں

      سوره فتح میں ہے
      وَلَوْ قَاتَلَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوَلَّوُا الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا (22) سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلُ ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا

      کہا گیا اگر مشرک اب تم سے لڑے تو یہ بھاگ جائیں گے اور تم سنت الله میں تبدیلی نہیں دیکھو گے
      ——–

      سوره بنی اسرائیل میں ہے
      وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا (76) سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا
      اور وہ تو تجھے اس زمین سے دھکیل دینے کو تھے تاکہ تجھے اس سے نکال دیں، پھر وہ بھی تیرے بعد بہت ہی کم ٹھہرتے۔
      تم سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے ہیں ان کا یہی دستور رہا ہے، اور ہمارے دستور میں تم تبدیلی نہیں پاؤ گے۔
      —–

      سوره فاطر
      اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ ۚ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ ۚ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ ۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا

      ملک میں سرکشی اور بری تدبیریں کرنے لگ گئے، اور بری تدبیر تو تدبیرکرنے والے ہی پر الٹ پڑتی ہے، پھر کیا وہ اسی برتاؤ کے منتظر ہیں جو پہلے لوگوں سے برتا گیا، پس تو اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا، اور تو اللہ کے قانوں میں کوئی تغیر نہیں پائے گا۔
      ——–

      لَّئِنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنَافِقُوْنَ وَالَّـذِيْنَ فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ مَّرَضٌ وَّّالْمُرْجِفُوْنَ فِى الْمَدِيْنَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِـهِـمْ ثُـمَّ لَا يُجَاوِرُوْنَكَ فِـيْهَآ اِلَّا قَلِيْلًا (60) مَّلْعُوْنِيْنَ ۖ اَيْنَمَا ثُقِفُوٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِيْلًا (61) سُنَّـةَ اللّـٰهِ فِى الَّـذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ۚ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّـةِ اللّـٰهِ تَبْدِيْلًا (62)

      اگر منافق اور وہ جن کے دلوں میں مرض ہے اور مدینہ میں غلط خبریں اڑانے والے باز نہ آئیں گے تو آپ کو ہم ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہ اس شہر میں تیرے پاس نہ ٹھہریں گے۔
      مگر بہت کم لعنت کیے گئے ہیں، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور قتل کیے جائیں گے
      یہی اللہ کا قانون ہے ان لوگوں میں جو اس سے پہلے ہو گزر چکے ہیں، اور آپ اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی ہرگز نہ پائیں گے۔
      ———

      سنت الله کا مطلب ہے کہ الله کا فیصلہ ہو گیا اس کے نبی کو غلبہ ملے گا اب چاہے منافق ہوں یا کافر وہ پست ہوں گے
      اگر ایسا حکم آ جائے تو پھر یہ وعدہ پورا ہوتا ہے اس سنت الله میں تبدیلی نہیں ہوتی
      بہت سے انبیاء کا اس وعدہ سے پہلے قتل ہوا یا شہادت ہوئی لیکن اگر وہ زندہ ہوں اور یہ حکم آ جائے تو پھر الله اپنے وعدہ کو پورا کرتا ہے

      ============

      یہ سنت الله کا مطلب ہے – اب فطرت جو الله نے خلق کی وہ اسی قوانین کے تحت چل رہی ہے جو الله نے روز خلق اس پر لگا دیے
      اس میں تبدیلی نہیں ہوتی مثلا ہم ان کو قوانین فطرت کہتے ہیں
      لیکن کیا الله ان قوانین کا محتاج ہے ؟ نہیں ہے اسی لئے
      وہ سمندر کو پھاڑ دینا ہے کہ بنی اسرائیل اس میں سے گزرین اور فرعون ڈوب جائے
      وہ پہاڑ کو اپنی تجلی سے تباہ کرتا ہے جب موسی دیکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں
      وہ الواح پر توریت دیتا ہے جبکہ اس دور میں قلم و دوات بھی ہے
      وہ ہوا کو مسخر کرتا ہے جو سلیمان کے لئے ایک ماہ چلتی ہے
      وہ ملکہ بلقیس کا تخت یروشلم لاتا ہے

      اب یہ اس قدر کثرت سے الله کی قدرت کے نمونے ہیں کہ ہم ان کو معجزہ نہ کہیں تو کتاب الله کا انکار ہے جو کفر ہے

  62. anum shoukat says:

    عورت پر عید کی نماز مسجد میں جانے پر فرض ہوتی ہے گھر میں اکیلی نہیں پڑھ سکتی؟

    • Islamic-Belief says:

      سوال سمجھ نہیں سکا
      عورت پر دن میں پانچ نماز فرض ہیں
      عید کی نماز فرض نہیں ہے واجب میں سے ہے چاہے مرد و یا عورت

      یہ واجب گھر میں ادا نہیں کیا جا سکتا – یہ چیز میدان میں ہو گی
      عید کی نماز بھی صحیح میدان میں ہے مسجد میں دور نبوی میں اس کو نہیں کیا گیا

  63. irfan says:

    قربانی کے تین حصے کیے جائیں اسکی دلیل کس حدیث سے ملتی ہہ عموما دو حصوں کی دلیل ملتی ہے وضاحت کر دیں

    • Islamic-Belief says:

      موطا میں ہے
      أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلاثٍ» ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ: «كُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا بَأْسَ بِالادِّخَارِ بَعْدَ ثَلاثٍ وَالتَّزَوُّدِ، وَقَدْ رَخَّصَ فِي ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ كَانَ نَهَى عَنْهُ، فَقَوْلُهُ الآخَرُ نَاسِخٌ لِلأَوَّلِ، فَلا بَأْسَ بِالادِّخَارِ وَالتَّزَوُّدِ مِنْ ذَلِكَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
      جابر بن عبد الله نے خبر دی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا پھر اس کے بعد کہا اس کو کھا کو یا اور ذخیرہ کر لو – امام محمد نے کہا ہم اسی کو لیتے ہیں اور ذخیرہ کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے تین دن یا اس سے زائد میں اور اس کی رخصت رسول الله نے دی ہے ممانعت کے بعد لہذا پہلا قول منسوخ ہوا اور یہی قول ابو حنیفہ اور دیگر ائمہ کا ہے

      ———
      قربانی کے حصہ دار بنانا مستحب ہے
      جیسا صدقات میں ہے
      وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ * لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ [المعارج:24-25]
      أور إن کے اموال میں معلوم حق ہے سائل کا اور محروم کا

      اس طرح تین حصے ہوئے اپ خود – سائل و محروم جس میں رشتہ دار و غرباء ہو سکتے ہیں – اگر رشتہ دار متمول ہیں تو ان کو دینا ضروری نہیں ہے

  64. shahzad khan says:

    بھائی سورہ النازعات آیت نمبر 20 میں ہے ۔۔۔۔اور موسٰی نے اسے(فرعون) کو بہت بڑی نشانی دکھائی ۔۔۔۔ اس نشانی سے مراد کیا ہے ۔۔۔قرآن میں بہت سارے مقامات پر بڑی نشانی کا ذکر آیا ہے اس سے مراد کیا ہے؟

    • Islamic-Belief says:

      سورہ النازعات آیت نمبر 20 میں ہے ۔۔۔
      فَأَرَاهُ الْآيَةَ الْكُبْرَىٰ
      ۔اور موسٰی نے اسے (فرعون) کو بہت بڑی نشانی دکھائی

      تفسیر طبری میں ہے
      الحسن يقول في هذه الآية: ( فَأَرَاهُ الآيَةَ الْكُبْرَى ) قال: يده وعصاه .
      حسن بصری نے کہا یہ ید بیضاء اور عصا ہے

      عن ابن أبي نجيح، عن مجاهد ( فَأَرَاهُ الآيَةَ الْكُبْرَى ) قال: عصاه ويده .
      یہی مجاہد کا قول ہے

      ثنا سعيد، عن قتادة، قوله: ( فَأَرَاهُ الآيَةَ الْكُبْرَى ) قال: رأى يد موسى وعصاه، وهما آيتان .
      یہی قتادہ کا قول ہے

      ابن زيد، في قوله: ( فَأَرَاهُ الآيَةَ الْكُبْرَى ) قال: العصا والحية.
      ابن زید کا قول ہے یہ عصا اورسانپ ہے

      اس آیت کے بعد ہے کہ فرعون نے لوگوں کو جمع کیا منادی کی اور کہا میں سب سے بڑا رب ہوں

      یہ جادوگروں والا واقعہ ہے کہ اس کی منادی کی گئی تھی
      اور اس سے قبل دربار میں ید بیضاء اور عصا دکھایا گیا تھا

      ———-

      فرعون کو پہلی چیز عصا کا سانپ بننا دکھایا گیا – یہ کیوں کیا گیا اس کے پیچھے مصر کا فرعونی مذھب ہے جس میں سانپ کی اہمیت تھی
      لہذا سانپ ان کے مندروں میں مقّبرؤن میں اور تاج میں موجود تھا
      https://en.wikipedia.org/wiki/Isfet_(Egyptian_mythology)
      کہا جاتا ہے سانپ کائنات میں عناصر کی کشمکش تھا کہ یہ شر ہے جو کائنات کو غیر منظم کرنا چاہتا ہے
      یعنی جس طرح مجوسی اہرمن و یزداں کا عقیدہ رکھتے تھے اسی طرح فرعویوں کا بھی عقیدہ تھا جس میں سانپ شر کی علامت تھا
      والله اعلم
      =———-

      ہم کو اس کی حقیقت کا علم نہیں ہے لیکن یہ دیکھ کر فرعون کو سمجھ میں آ گیا تھا کہ یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے
      شروع میں اس نے اس کو جادو قرار دیا اور مقابلہ بھی جادوگروں سے کرایا پھر جب جادو گر ہار گئے تو اس کو سازش کہا
      اس کی سیاست چلتی رہی اور پھر نو نشانیاں دیکھ کر مرا

      ============================

      قرآن میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو بھی
      لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ
      بڑی نشانیاں دکھائی گئیں

      یہ سب معراج پر ہوا

      ————-
      معراج پر بہت سے واقعات ہوئے یہ سب الله کی نشانییاں ہیں ان کا ذکر حدیث میں ہے

      آيَاتِ کے الفاظ معجزات کے لئے استمعال کیے جاتے ہیں

  65. anum shoukat says:

    سوال یہ تھا کہ عورت عید کی نماز میدان میں پڑھے گی مردوں کے پیچھے؟

  66. وجاہت says:

    سلام علکیم ابو شہر یار بھائی کیا حال ہیں – آپ کو بہت بہت عید مبارک ہو

  67. وجاہت says:

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    قَالَ: أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلَابِیُّ، وَیَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِیُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَةِ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِی بُرْدَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى: کَتَبَ إِلَیَّ مُعَاوِیَةُ سَلَامٌ عَلَیْکَ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ قَدْ بَایَعَنِی عَلَى الَّذِی قَدْ بَایَعَنِی عَلَیْهِ، وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ: لَئِنْ بَایَعْتَنِی عَلَى مَا بَایَعَنِی عَلَیْهِ لَأَبْعَثَنَّ ابْنَیْکَ أَحَدَهُمَا عَلَى الْبَصْرَةِ وَالْآخَرُ عَلَى الْکُوفَةِ، وَلَا یُغْلَقُ دُونَکَ بَابٌ، وَلَا تُقْضَى دُونَکَ حَاجَةٌ، وَإِنِّی کُتَبْتَ إِلَیْکَ بِخَطِّ یَدِی، فَاکْتُبْ إِلَیَّ بِخَطِّ یَدِکَ، فَقَالَ: یَا بُنَیَّ إِنَّمَا تَعَلَّمْتُ الْمُعْجَمَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلّى الله علیه وسلم، قَالَ: وَکَتَبَ إِلَیْهِ مِثْلَ الْعَقَارِبِ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّکَ کَتَبْتَ إِلَیَّ فِی جَسِیمِ أَمْرِ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صلّى الله علیه وسلم، لَا حَاجَةَ لِی فِیمَا عَرَضَّتَ عَلَیَّ، قَالَ: فَلَمَّا وَلِیَ أَتَیْتُهُ، فَلَمْ یُغْلَقْ دُونِی بَابٌ، وَلَمْ تَکُنْ لِی حَاجَةٌ إِلَّا قُضِیَتْ

    الطبقات الکبرى
    http://s9.picofile.com/file/8305227842/1.png
    http://s9.picofile.com/file/8305227868/2.png
    http://s9.picofile.com/file/8305227876/3.png

    سیر أعلام النبلاء
    http://s9.picofile.com/file/8305228026/1.png
    http://s9.picofile.com/file/8305228042/2.png

    • Islamic-Belief says:

      أبي بردة بن أبي موسى الاشعري نے روایت کیا: ابو موسی (المتوفي ٤٤ ھ) نے کہا معاویہ نے مجھے لکھ بھیجا سلام علیک-(لکھا) عمرو بن العاص (المتوفی ٤٣ ھ ) نے بھی انہی باتوں پر بیعت کی ہے جن پر تم نے کی ہے اور الله کی قسم لی کہ اگر ان باتوں پر بیعت ہوئی تو تمہارے بیٹوں کی بھی ہوئی جو بصرہ میں اور کوفہ میں ہیں کہ اب نہ تو میں ان دونوں پر دروازہ بند کروں گا نہ ان کی حاجت پوری کروں گا- پھر معاویہ نے لکھا پس تم کو میں نے ہاتھ سے خط لکھا ہے لہذا تم بھی ہاتھ سے (ان کو خط) لکھو- پس (ابوموسی نے) کہا اے بیٹے تم نے لغت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیکھی ہے اور تم نے مثل بچھو لکھا ہے کہ تم نے ایک بہت بڑے امت محمد کے کام پر لکھا ہے جس کی حاجت نہیں کہ مجھ پر اس کو پیش کرو- کہا جب میں (أبي بردة بن أبي موسى الاشعري ) والی ہوا (معاویہ) آئے پس ہم نے دروازہ بند نہیں کیا اور (معاویہ نے ) کہا مجھ کو تیری حاجت نہیں سوائے اس کے کہ قاضی کا کام کرو
      —–
      سير أعلام النبلاء میں الفاظ ہیں
      قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: قَالَ: إِنِّي تَعَلَّمْتُ المُعْجَمَ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَكَانَتْ كِتَابَتِي مِثْلَ العَقَارِبِ
      أَبُو بُرْدَةَ: نے کہا ابو موسی نے کہا میں نے تم کو معجم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد سکھائی ہے – پس میری (یعنی أبي بردة بن أبي موسى الاشعري) تحریر (یا خط) مثل بچھو ہے

      تاریخ دمشق میں بھی یہی الفاظ ہیں
      أخبرنا أبو الحسن (5) علي بن احمد بن الحسن أنا محمد بن احمد بن محمد (6) بن علي أنا عيسى بن علي أنا عبد الله بن محمد نا شيبان (7) بن أبي شيبة نا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال عن أبي بردة بن أبي موسى الاشعري قال قال أبي تعلمت المعجم بعد وفاة رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فكان كتابي مثل العقارب

      تاریخ دمشق کی دوسری روایت ہے
      حدثني زيد بن الحباب نا سليمان (8) بن المغيرة البكري عن أبي بردة بن أبي موسى الأشعري عن أبيه عن معاوية كتب إليه سلام عليك أما بعد فإن عمرو بن العاص قد بايعني (9) على ما أريد واقسم بالله إن بايعتني (10) على الذي بايعني عليه لأسمتعملن ابنيك أحدهما على الكوفة والآخر على البصرة ولا يغلق دونك باب ولا تقضى دونك حاجة وقد كتبت إليك بخط يدي فاكبت الي بخط يدك قال فقال لي أبي (11) ابني إنما تعلمت المعجم بعد وفاة رسول الله (صلى الله عليه وسلم) قال فكتب إليه كتابا مثل العقارب فكتب إليه سلام عليك أما بعد فإنك كتبت الي في جسيم أمر أمة محمد (صلى الله عليه وسلم) فماذا أقول لربي عز وجل إذا قدمت عليه ليس لي فيما عرضت من حاجة والسلام عليك

      ابو بردہ نے کہا میرے باپ نے کہا کہ میں نے لغت تم کو بعد وفات النبی سکھائی ہے کہا پس میں نے ان کو ایک بچھو جیسا لکھ بھیجا انہوں نے خط لکھا اور کہا سلام علیک تم نے امت محمد کے ایک جسیم امر پر لکھا ہے تو اب میں اپنے رب کو کیا کہوں گا
      ——–

      معاویہ اور ابو موسی رضی الله عنہما میں بات ہوئی کہ ابو موسی کے بیٹے نے کوئی بات کی جو معاویہ کو پسند نہیں آئی اس کی بنا پر ابو موسی نے اپنے بیٹے کو اس تحریر پر جھاڑا جوابا أبي بردة بن أبي موسى الاشعري نے کچھ لکھا جس پر ابو موسی نے کہا کہ تمہاری تحریر بچھو جیسی ہے
      معاویہ نے بعد میں أبي بردة بن أبي موسى الاشعري کو قاضی مقرر کر دیا

      ——–
      سند صحیح معلوم ہوتی ہے

  68. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی ابن عساکر نے اپنی کتاب تبيين كذب المفتري فيما نسب إلى الأشعري میں لکھا ہے کہ

    http://shamela.ws/browse.php/book-6549#page-288

    سکین پیجز

    http://s6.picofile.com/file/8224116850/001.png
    http://s6.picofile.com/file/8224116900/002.png
    http://s3.picofile.com/file/8224116950/003.png

    إِن جمَاعَة من الحشوية والأوباش الرعاع المتوسمين بالحنبلية أظهرُوا بِبَغْدَادَ من الْبدع الفظيعة والمخازي الشنيعة مالم يتسمح بِهِ ملحد فضلا عَن موحد وَلَا تجوز بِهِ قَادِح فِي أصل الشَّرِيعَة وَلَا معطل ونسبوا كل من ينزه الْبَارِي تَعَالَى وَجل عَن النقائص والآفات وينفى عَنهُ الْحُدُوث والتشبيهات ويقدسه عَن الْحُلُول والزوال ويعظمه عَن التَّغَيُّر من حَال إِلَى حَال وَعَن حُلُولهفِي الْحَوَادِث وحدوث الْحَوَادِث فِيهِ إِلَى الْكفْر والطغيان ومنَافاة أهل الْحق وَالْإِيمَان وتنَاهوا فِي قذف الْأَئِمَّة الماضين وثلب أهل الْحق وعصابة الدّين ولعنهم فِي الْجَوَامِع والمشاهد والمحافل والمساجد والأسواق والطرقات وَالْخلْوَة وَالْجَمَاعَات ثمَّ غرهم الطمع والإهمال ومدهم فِي طغيانهم الغي والضلال إِلَى الطعْن فِيمَن يعتضد بِهِ أَئِمَّة الْهدى وَهُوَ للشريعة العروة الوثقى وَجعلُوا أَفعاله الدِّينِيَّة معاصي دنية وترقوا من ذَلِك إِلَى الْقدح فِي الشَّافِعِي رَحْمَة الله عَلَيْهِ وَأَصْحَابه

    آگے یہ بھی لکھا ہے

    وتمادت الحشوية فِي ضلالتها والإصرار على جهالتها وَأَبُو إِلَّا التَّصْرِيح بِأَن المعبود ذُو قدم وأضراس ولهوات وأنَامل وَأَنه ينزل بِذَاتِهِ ويتردد على حمَار فِي صُورَة شَاب أَمْرَد بِشعر قطط وَعَلِيهِ تَاج يلمع وَفِي رجلَيْهِ نَعْلَانِ من ذهب وَحفظ ذَلِك عَنْهُم وعللوه ودونوه فِي كتبهمْ وَإِلَى الْعَوام ألقوه

    کیا واقعی حنابلہ کا یہ عقیدہ تھا – جو آج کل چھپایا جاتا ہے

    • Islamic-Belief says:

      یہ حنابلہ کا عقیدہ آج بھی ہے
      ——

      إِن جمَاعَة من الحشوية والأوباش الرعاع المتوسمين بالحنبلية أظهرُوا بِبَغْدَادَ من الْبدع الفظيعة والمخازي الشنيعة مالم يتسمح بِهِ ملحد فضلا عَن موحد وَلَا تجوز بِهِ قَادِح فِي أصل الشَّرِيعَة وَلَا معطل ونسبوا كل من ينزه الْبَارِي تَعَالَى وَجل عَن النقائص والآفات وينفى عَنهُ الْحُدُوث والتشبيهات ويقدسه عَن الْحُلُول والزوال ويعظمه عَن التَّغَيُّر من حَال إِلَى حَال وَعَن حُلُولهفِي الْحَوَادِث وحدوث الْحَوَادِث فِيهِ إِلَى الْكفْر والطغيان ومنَافاة أهل الْحق وَالْإِيمَان وتنَاهوا فِي قذف الْأَئِمَّة الماضين وثلب أهل الْحق وعصابة الدّين ولعنهم فِي الْجَوَامِع والمشاهد والمحافل والمساجد والأسواق والطرقات وَالْخلْوَة وَالْجَمَاعَات ثمَّ غرهم الطمع والإهمال ومدهم فِي طغيانهم الغي والضلال إِلَى الطعْن فِيمَن يعتضد بِهِ أَئِمَّة الْهدى وَهُوَ للشريعة العروة الوثقى وَجعلُوا أَفعاله الدِّينِيَّة معاصي دنية وترقوا من ذَلِك إِلَى الْقدح فِي الشَّافِعِي رَحْمَة الله عَلَيْهِ وَأَصْحَابه

      اور الحشوية کی ایک جماعت اوباشوں کے ایک ہجوم جس کو بغداد میں حنابلہ کہا جاتا ہے ان کا ظہور ہوا ہے اور بے ہودہ باتیں اور بدعتی بکواس جاری ہوئی … ان لوگوں نے الله تعالی کی ذات باری سے وہ سب منسوب کیا جن سے وہ بلند ہے …. اور ائمہ ماضی پر انہوں نے الزام لگایا ہے … پھر اس کو مسجدوں میں بازاروں میں راستوں میں اور خلوت گاہوں میں اور اجتماعات میں بیان کیا … یہاں تک کہ امام الشافعی کی اور ان کے اصحاب کی قدح کی

      آگے یہ بھی لکھا ہے

      وتمادت الحشوية فِي ضلالتها والإصرار على جهالتها وَأَبُو إِلَّا التَّصْرِيح بِأَن المعبود ذُو قدم وأضراس ولهوات وأنَامل وَأَنه ينزل بِذَاتِهِ ويتردد على حمَار فِي صُورَة شَاب أَمْرَد بِشعر قطط وَعَلِيهِ تَاج يلمع وَفِي رجلَيْهِ نَعْلَانِ من ذهب وَحفظ ذَلِك عَنْهُم وعللوه ودونوه فِي كتبهمْ وَإِلَى الْعَوام ألقوه

      الحشوية گمراہی میں اور اپنی جہالت پر اصرار میں بہت گے تک چلے گئے اور انہوں نے انکار کیا اور کچھ نہیں کیا سوائے اس کے کہ تصریح کی کہ ان کا معبود قدم والا ہے جس کے دانت ہیں، کاگ ہے اس میں رگیں ہیں اور وہ اپنی ذات کے ساتھ نازل ہوتا ہے … اس کی شکل ایک جوان مرد جیسی ہے جس کے گھنگھریالے بال ہیں سر پر تاج ہے اور پیروں میں چپل ہے سونے کی اور اس کو لوگوں نے ان سے یاد کیا اس کو بلند کیا اور کتب میں لکھا عوام نے لیا

  69. anum shoukat says:

    25 : سورة الفرقان 52

    فَلَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ جَاہِدۡہُمۡ بِہٖ جِہَادًا کَبِیۡرًا ﴿۵۲﴾

    پس آپ کافروں کا کہنا نہ مانیں اور قرآن کے ذریعہ ان سے پوری طاقت سے بڑا جہاد کریں ۔
    بھائی یہاں بہ کی ضمیر قرآن کی طرف ہے یاتطع الکفرین کی طرف؟

    • Islamic-Belief says:

      الھا کی ضمیر قرآن کی طرف ہے کیونکہ یہ سورہ مکی ہے اور جنگ کا حکم مدینہ میں نازل ہوا

  70. shahzad khan says:

    السلام و علیکم بھائی مسجد اقصیٰ جسے غالباً بیت المقدس بھی کہا جاتا ہے اس کی کیا حقیقت ہے اکثر سننے میں آتا ہے کہ اس کو اسرائیل کے قبضے سے آزاد کرانا ہے ۔۔۔اصل ماجرا کیا ہے ۔۔رہنمائی فرما دیں جزاک اللہ خیرا

  71. anum shoukat says:

    25 : سورة الفرقان 52

    فَلَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ جَاہِدۡہُمۡ بِہٖ جِہَادًا کَبِیۡرًا ﴿

    اس آیت کی روشنی میں قرآن سے جہاد کرنا مطلب قرآن کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا ہی سب سے بڑا جہاد یے یا پھر تلوار سے جہاد کرنا سب اے بڑا جہاد ہے۔؟

  72. anum shoukat says:

    بھائی میرا سوال یہ ہے کہ قرآن سے جہاد کرنا بڑا جہاد ہے یا تلوار سے؟

    • Islamic-Belief says:

      اس طرح کی کسی تقسیم کا علم نہیں ہے
      لیکن ظاہر ہے دعوت الگ چیز ہے اور جنگ میں قتال الگ چیز ہے

  73. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    مسند احمد ۔ جلد ہفتم ۔ حدیث 46

    حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مرویات

    حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ حَاجًّا قَدِمْنَا مَعَهُ مَكَّةَ قَالَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى دَارِ النَّدْوَةِ قَالَ وَكَانَ عُثْمَانُ حِينَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ صَلَّى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ أَرْبَعًا أَرْبَعًا فَإِذَا خَرَجَ إِلَى مِنًى وَعَرَفَاتٍ قَصَرَ الصَّلَاةَ فَإِذَا فَرَغَ مِنْ الْحَجِّ وَأَقَامَ بِمِنًى أَتَمَّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ مَكَّةَ فَلَمَّا صَلَّى بِنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ نَهَضَ إِلَيْهِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَقَالَا لَهُ مَا عَابَ أَحَدٌ ابْنَ عَمِّكَ بِأَقْبَحِ مَا عِبْتَهُ بِهِ فَقَالَ لَهُمَا وَمَا ذَاكَ قَالَ فَقَالَا لَهُ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمَكَّةَ قَالَ فَقَالَ لَهُمَا وَيْحَكُمَا وَهَلْ كَانَ غَيْرُ مَا صَنَعْتُ قَدْ صَلَّيْتُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَالَا فَإِنَّ ابْنَ عَمِّكَ قَدْ كَانَ أَتَمَّهَا وَإِنَّ خِلَافَكَ إِيَّاهُ لَهُ عَيْبٌ قَالَ فَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْعَصْرِ فَصَلَّاهَا بِنَا أَرْبَعًا

    عباد کہتے ہیں کہ جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں حج کے لئے آئے تو ہم بھی ان کے ساتھ مکہ مکرمہ آگئے، انہوں نے ہمیں ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں اور دارالندوہ میں چلے گئے، جبکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جس وقت سے نماز میں اتمام شروع کیا تھا، وہ جب بھی مکہ مکرمہ آتے تو ظہر، عصر اور عشاء کی چار چار رکعتیں ہی پڑھتے تھے، منی اور عرفات میں قصر پڑھتے اور جب حج سے فارغ ہو کر منی میں گھر جاتے تو مکہ سے روانگی تک پوری نماز پرھتے تھے۔ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کے برعکس ہمیں ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں تو مروان بن حکم اور عمرو بن عثمان کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ آپ نے اپنے ابن عم پر جیسا عیب لگایا، کسی نے اس سے بدترین عیب نہیں لگایا، انہوں نے پوچھا وہ کیسے؟ تو دونوں نے کہا کیا آپ کے علم میں نہیں ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں مکمل نماز پڑھتے تھے؟ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا افسوس! میں سمجھا کہ پتہ نہیں میں نے ایسا کون سا کام کر دیا ہے؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین کے ساتھ دو رکعتیں ہی پڑھی ہیں ، ان دونوں نے کہا کہ آپ کے ابن عم نے تو مکمل چار رکعتیں پڑھی ہیں ، آپ کا ان کی خلاف ورزی کرنا معیوب بات ہے چنانچہ جب وہ عصر کی نماز پڑھانے کے لئے آئے تو چار رکعتیں ہی پڑھائیں ۔

  74. وجاہت says:

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ النَّخَعِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: {اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ} [الطلاق: 12] قَالَ: سَبْعَ أَرَضِينَ فِي كُلِّ أَرْضٍ نَبِيٌّ كَنَبِيِّكُمْ وَآدَمُ كآدمَ، وَنُوحٌ كَنُوحٍ، وَإِبْرَاهِيمُ كَإِبْرَاهِيمَ، وَعِيسَى كَعِيسَى «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
    [التعليق – من تلخيص الذهبي] 3822 – صحيح

    مستدرک الحاکم

    ——

    832 – وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ} [الطلاق: 12] قَالَ: فِي كُلِّ أَرْضٍ نَحْوَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ. إِسْنَادُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا صَحِيحٌ، وَهُوَ شَاذُّ بِمُرَّةَ، لَا أَعْلَمُ لِأَبِي الضُّحَى عَلَيْهِ مُتَابِعًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ

    اسما صفات

    ———–

    حدثنا عمرو بن عليّ، قال: ثنا وكيع، قال: ثنا الأعمش، عن إبراهيم بن مهاجر، عن مجاهد، عن ابن عباس، في قوله: (اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الأرْضِ مِثْلَهُنَّ) قال: لو حدثتكم بتفسيرها لكفرتم وكفركم تكذيبكم بها.

    تفسیر طبری

    ———–

    وَهَكَذَا مَا يَذْكُرُهُ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَتَلَقَّاهُ عَنْهُمْ طَائِفَةٌ مِنْ عُلَمَائِنَا مِنْ أَنَّ هَذِهِ الْأَرْضَ مِنْ تُرَابٍ وَالَّتِي تَحْتَهَا مِنْ حَدِيدٍ وَالْأُخْرَى مِنْ حِجَارَةٍ مِنْ كِبْرِيتٍ وَالْأُخْرَى مِنْ كَذَا فَكُلُّ هَذَا إِذَا لَمْ يُخْبَرْ بِهِ وَيَصِحَّ سَنَدُهُ إِلَى مَعْصُومٍ فَهُوَ مَرْدُودٌ عَلَى قَائِلِهِ. وَهَكَذَا الْأَثَرُ الْمَرْوِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ فِي كُلِّ أَرْضٍ مِنَ الْخَلْقِ مِثْلُ مَا فِي هذه حَتَّى آدَمَ كَآدَمِكُمْ وَإِبْرَاهِيمَ كَإِبْرَاهِيمِكُمْ فَهَذَا ذَكَرَهُ ابْنُ جَرِيرٍ مُخْتَصَرًا وَاسْتَقْصَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ وَهُوَ مَحْمُولٌ إِنْ صَحَّ نَقْلُهُ عَنْهُ على أنه أخذه ابن عباس رضى الله عنه عَنِ الْإِسْرَائِيلِيَّاتِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ

    بدیہ نہایا

  75. وجاہت says:

    آپ سے پوچھنا ہے کہ

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله سفر میں پوری نمازکیوں پڑھتی تھیں

    یہ احادیث پیش خدمت ہیں

    مسبند حمید

    أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فُرِضَتِ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيَّ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِمَكَّةَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ فُرِضَتْ أَرْبَعًا، وَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ.

    قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَقُلْتُ لعُرْوَةَ: فَمَا كَانَ يَحْمِلُ عَائِشَةَ عَلَى أَنْ تُتِمَّ فِي السَّفَرِ، وَقَدْ عَلِمَتْ أَنَّ اللہ -عَزَّ وَجَلَّ- إِنَّمَا فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ؟! فَقَالَ: تَأَوَّلَتْ مِنْ ذَلِكَ مَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ مِنْ إِتْمَامِ الصَّلَاةِ بِمِنًى.

    —-

    صحيح مسلم: كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا (بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا) صحیح مسلم: کتاب: مسافرو ں کی نماز قصر کا بیان (باب: مسافروں کی نماز اور اس کی قصر)

    1572

    و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الصَّلَاةَ أَوَّلَ مَا فُرِضَتْ رَكْعَتَيْنِ فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَأُتِمَّتْ صَلَاةُ الْحَضَرِ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ مَا بَالُ عَائِشَةَ تُتِمُّ فِي السَّفَرِ قَالَ إِنَّهَا تَأَوَّلَتْ كَمَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ

    حکم : صحیح 1572

    ابن عینیہ نے زہری سے انھوں نے عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ ابتدا میں نماز دو رکعت فرض کی گئی،پھر سفر کی نماز،(اسی حالت میں) برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز مکمل کردی گئی۔ امام زہری نے کہا: میں نے عروہ سے پوچھا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا موقف کیا ہے۔وہ سفر میں پوری نماز(کیوں ) پڑھتی تھیں؟انھوں نے کہا:انھوں نے اس کا ایک مفہوم لے لیا ہے جس طرح عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لیا۔

    ———

    صحيح بخاري

    كتاب تقصير الصلاة

    کتاب: نماز میں قصر کرنے کا بیان

    بَابُ يَقْصُرُ إِذَا خَرَجَ مِنْ مَوْضِعِهِ

    باب: جب آدمی سفر کی نیت سے اپنی بستی سے نکل جائے تو قصر کرے۔
    باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں

    حدیث نمبر: 1090

    حدثنا عبد الله بن محمد ، قال : حدثنا سفيان ، عن الزهري ، عن عروة ، عن عائشة رضي الله عنها ، قالت : ” الصلاة اول ما فرضت ركعتين ، فاقرت صلاة السفر واتمت صلاة الحضر ” ، قال الزهري : فقلت لعروة : ما بال عائشة تتم ، قال : تاولت ما تاول عثمان

    ´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ` پہلے نماز دو رکعت فرض ہوئی تھی بعد میں سفر کی نماز تو اپنی اسی حالت پر رہ گئی البتہ حضر کی نماز پوری (چار رکعت) کر دی گئی۔ زہری نے بیان کیا کہ میں نے عروہ سے پوچھا کہ پھر خود عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیوں نماز پوری پڑھی تھی انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی جو تاویل کی تھی وہی انہوں نے بھی کی۔

    مولانا وحید زمان نے صحیح بخاری کی اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ

    یہ حضرت عثمان کی رائے تھی جو سنت صریحہ کے خلاف قابل قبول نہیں ہو سکتی

    ======

    پلیز وضاحت کر دیں

  76. وجاہت says:

    مسند احمد کی ایک حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی الله بیت اللہ کے رب کی قسم کھا کر کہہ رہے ہیں کہ

    مسند احمد ۔ جلد چہارم ۔ حدیث 262

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مرویات

    حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ لَا وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ مَا أَنَا قُلْتُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا يَصُومُ مُحَمَّدٌ وَرَبِّ الْبَيْتِ قَالَهُ مَا أَنَا نَهَيْتُ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مُحَمَّدٌ نَهَى عَنْهُ وَرَبِّ الْبَيْتِ

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات میں نے نہیں کہی کہ جو آدمی حالت جنابت میں صبح کرے وہ روزہ نہ رکھے بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمائی ہے اور جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے میں نے منع نہیں کیا بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔

    مسند احمد ۔ جلد چہارم ۔ حدیث 682

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مرویات

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ مَا أَنَا نَهَيْتُ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَلَكِنْ مُحَمَّدٌ نَهَى عَنْهُ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ مَا أَنَا قُلْتُ مَنْ أَدْرَكَهُ الصُّبْحُ جُنُبًا فَلْيُفْطِرْ وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي حَدِيثِهِ إِنَّ يَحْيَى بْنَ جَعْدَةَ أَخْبَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْقَارِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے میں نے منع نہیں کیا بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے اس بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات میں نے نہیں کہی کہ جو آدمی حالت جنابت میں صبح کرے وہ روزہ نہ رکھے بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم! یہ بات محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمائی ہے۔

    ایک اور جگہ بھی کہ رہے ہیں کہ

    مسند احمد ۔ جلد چہارم ۔ حدیث 977

    صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

    وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَأَحَدُكُمْ جُنُبٌ فَلَا يَصُمْ يَوْمَئِذٍ

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب فجر کی نماز کے لئے اذان ہوجائے اور تم میں سے کوئی شخص جنبی ہو تو وہ اس دن کا روزہ نہ رکھے۔

    =========

    جب یہی بات مروان بن حکم نے ایک آدمی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ام سلمہ کے پاس بھیج کر بتا کروائی تو اس وقت حضرت ابو ہریرہ رضی الله نے کہا کہ

    مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 5448

    ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات

    حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَتَّابٍ قَالَ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا صَوْمَ لَهُ قَالَ فَأَرْسَلَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ أَنَا وَرَجُلًا آخَرَ إِلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ نَسْأَلُهُمَا عَنْ الْجُنُبِ يُصْبِحُ فِي رَمَضَانَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ قَالَ فَقَالَتْ إِحْدَاهُمَا قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيُتِمُّ صِيَامَ يَوْمِهِ قَالَ وَقَالَتْ الْأُخْرَى كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَحْتَلِمَ ثُمَّ يُتِمُّ صَوْمَهُ قَالَ فَرَجَعَا فَأَخْبَرَا مَرْوَانَ بِذَلِكَ فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبِرْ أَبَا هُرَيْرَةَ بِمَا قَالَتَا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ كَذَا كُنْتُ أَحْسَبُ وَكَذَا كُنْتُ أَظُنُّ قَالَ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بِأَظُنُّ وَبِأَحْسَبُ تُفْتِي النَّاسَ

    عبدالرحمن بن عتاب کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، ایک مرتبہ مروان بن حکم نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت حالت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے، ہم دونوں نے واپس آکر مروان کو یہ بات بتائی ، مروان نے مجھ سے کہا یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتا دو، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میر اخیال یہ تھا، یا میں یہ سمجھتا تھا، مروان نے کہا کہ آپ لوگوں کو اپنے خیال اور گمان پر فتویٰ دیتے ہیں۔

    اور اس کے آگے تو حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی الله نے ایک اور ہی بات کہی

    مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 6526

    حضرت ام سلمہ کی مرویات

    حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَدْرَكَهُ الصُّبْحُ جُنُبًا فَلَا صَوْمَ لَهُ قَالَ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبِي فَدَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ فَسَأَلْنَاهُمَا عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَتَانَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُومُ فَلَقِينَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَحَدَّثَهُ أَبِي فَتَلَوَّنَ وَجْهُ أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَهُنَّ أَعْلَمُ

    ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہے جس شخص کی صبح وجوب غسل کی حالت میں ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، کچھ عرصہ بعد میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے بتایا کہ نبی علیہ لسلام اختیاری طور پر وجوب غسل کی حالت میں صبح کر لیتے اور روزہ رکھ لیتے پھر ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے تو میرے والد صاحب نے ان سے یہ حدیث بیان کی ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور وہ کہنے لگے کہ مجھے یہ حدیث فضل بن عباس نے بتائی تھی، البتہ ازواج مطہرات اسے زیادہ جانتی ہیں۔

    ================

    ابو شہر یار بھائی آپ سے رہنمائی چاہیے اوپر بیان کردہ احادیث میں اتنا تضاد کیوں

    حضرت ابو ہریرہ رضی الله تین باتیں کہہ رہے ہیں

    ١.

    بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات میں نے نہیں کہی کہ جو آدمی حالت جنابت میں صبح کرے وہ روزہ نہ رکھے بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمائی ہے

    ٢.

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میر اخیال یہ تھا، یا میں یہ سمجھتا تھا

    ٣.

    مجھے یہ حدیث فضل بن عباس نے بتائی تھی

    • Islamic-Belief says:

      يَحْيَى بْنُ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ بْنُ أَبِي وَهْبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ نے کہا ابو ہریرہ نے کہا رسول الله نے جمعہ کے روزہ سے منع کیا
      اور جنبی روزہ نہ رکھے اس پر قسم لی

      ہمام بن منبہ نے کہا ابو ہریرہ نے ایسا کہا قسم کا ذکر نہیں ہے

      ابو ہریرہ نے کہا ایسا الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ نے کہا تھا
      ———————
      راقم کہتا ہے عَبد اللَّهِ بن عَمْرو بن عبد القاري جس نے ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے یہ مجہول ہے اس سے صرف یحیی بن جعدہ نے روایت کیا ہے
      اور اسی میں قسم کا قول ہے
      ابو ہریرہ نے اغلبا یہ کہا کہ رسول الله ایسا کہتے تھے جو انہوں نے فضل بن عباس سے سنا لیکن قسم کھانے والی روایت کی سند میں مجہول راوی ہے

  77. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی مسند احمد کی ایک حدیث ہے

    حدثنا : ‏ ‏عبد الله بن محمد ‏ ‏وسمعته ‏ ‏أنا من ‏ ‏عبد الله بن محمد بن أبي شيبة ‏ ، حدثنا : ‏ ‏محمد بن فضيل ‏ ‏، عن ‏ ‏يزيد بن أبي زياد ‏ ‏، عن ‏ ‏سليمان بن عمرو بن الأحوص ‏، ‏قال : أخبرني ‏رب هذه الدار ‏ ‏أبو هلال ‏، ‏قال : أسمعت ‏ ‏أبا برزة ‏، ‏قال : ‏ ‏كنا مع رسول الله ‏ (ص) ‏ ‏في سفر فسمع ‏ ‏رجلين ‏ ‏يتغنيان وأحدهما يجيب الآخر وهو يقول : ‏

    لا يزال ‏ ‏حواري ‏ ‏تلوح عظامه ‏ * ‏زوى ‏ ‏الحرب ‏ ‏عنه أن يجن فيقبرا ‏

    ‏فقال النبي ‏ (ص) ‏: ‏إنظروا من هما قال : فقالوا : فلان وفلان ، قال : فقال النبي ‏(ص) :‏ ‏اللهم ‏ ‏إركسهما ‏ركسا ‏ ‏ودعهما إلى النار دعا.

    ============

    میں نے نیٹ پر ڈھونڈی لیکن مجھے اس کا لنک نہیں ملا – نہ ہی یہ اردو والے لنک میں ملی کیا اس کو غائب کر دیا گیا – پلیز اس کا لنک دے دیں اور یہ بھی بتا دیں یہاں فلان وفلان سے کون مراد ہے

    • Islamic-Belief says:

      مسند الإمام أحمد بن حنبل
      المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)
      المحقق: شعيب الأرنؤوط – عادل مرشد، وآخرون
      إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي
      الناشر: مؤسسة الرسالة
      الطبعة: الأولى، 1421 هـ – 2001 م

      – حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ [ص:24] سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَبُّ هَذِهِ الدَّارِ أَبُو هِلَالٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَسَمِعَ رَجُلَيْنِ يَتَغَنَّيَانِ وَأَحَدُهُمَا يُجِيبُ الْآخَرَ وَهُوَ يَقُولُ:
      [البحر الطويل]
      لَا يَزَالُ حَوَارِيٌّ تَلُوحُ عِظَامُهُ … زَوَى الْحَرْبَ عَنْهُ أَنْ يُجَنَّ فَيُقْبَرَا
      فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْظُرُوا مَنْ هُمَا؟» قَالَ: فَقَالُوا: فُلَانٌ وَفُلَانٌ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ ارْكُسْهُمَا رَكْسًا، وَدُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ دَعًّا»

      سند میں سُلَيْمان بن عَمْرو بن الأَحوص مجہول ہے جو خود ایک دوسرے مجہول أَبُو هِلَالٍ سے روایت کر رہا ہے

      • وجاہت says:

        ابو شہر یار بھائی ان دو لنک پر اک نظر دیکھ کر جواب دیں تا کہ حق بات واضح ہو

        یہ حدیث اور بھی کئی اسناد سے آئ ہے – اور اسی کو بنیاد بنایا گیا ہے شیعہ کی طرف سے

        http://www.mezan.net/radalshobohat/4-3.htm

        http://www.dd-sunnah.net/forum/showthread.php?t=94246

        یہ حدیث اور بھی کئی اسناد سے آئ ہے

        • Islamic-Belief says:

          ابن جوزی نے اس کا ذکر موضوعات میں کیا ہے

          الحَدِيث الثَّالِث فِي ذمه وذم عمر بْن الْعَاصِ: أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورِ بْنُ خَيْرُونٍ أَنْبَأَنَا الْجَوْهَرِيُّ عَنِ الدَّارَقُطْنِيِّ عَنْ أَبِي حَاتِمٍ الْبُسْتِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا عَلِيُّ ابْن الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرو بْن الأَحْوَصِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: ” كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ صَوْتَ غِنَاءٍ فَقَالَ انْظُرُوا مَا هَذَا؟ فَصَعِدْتُ فَنَظَرْتُ فَإِذا مُعَاوِيَة وعمروبن الْعَاصِ يَتَغَنَّيَانِ فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ نَبِيَّ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَرْكِسْهُمَا فِي الْفِتْنَةِ رَكْسًا، اللَّهُمَّ دُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ دَعًّا “.
          هَذَا حَدِيث لَا يَصح.
          وَيزِيد بْن أَبِي زِيَاد كَانَ يلقن فِي آخر عمره فيلقن.
          قَالَ على: وَيَحْيَى لَا يحْتَج بحَديثه.
          وَقَالَ ابْن الْمُبَارَكِ: أرم بِهِ.
          وَقَالَ ابْن عَدِيّ: كُلّ رواياته لَا يُتَابع عَلَيْهَا.

          اس کو غیر صحیح قرار دیا ہے
          ——–

          طبرانی میں سند الگ ہے
          حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ سَوَادَةَ النَّخَعِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ رَجُلَيْنِ وَهُمَا يَقُولَانِ:
          [البحر الطويل]

          ولَا يَزَالُ حَوَارِيٌّ تَلُوحُ عِظَامُهُ … زَوَى الْحَرْبُ عَنْهُ أَنْ يُجَنَّ فَيُقْبَرَا
          فَسَأَلَ عَنْهُمَا، فَقِيلَ: مُعَاوِيَةُ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَقَالَ: «اللهُمَّ أرْكِسْهُمَا فِي الْفِتْنَةِ رِكْسًا وَدُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ دَعًّا»
          لیکن اس میں عيسى بن سوادة النخعي ہے جس کو ابن معین نے کذاب کہا ہے
          ———-
          الکامل از ابن عدی میں ہے
          حَدَّثَنَا مُحَمد بْنُ هَارُونَ بْنِ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنا عَبد اللَّهِ بْنُ عُمَر، حَدَّثَنا شُعَيب بن إبراهيم، حَدَّثَنا سَيْفٌ، حَدَّثني أَبُو عُمَر مَوْلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمد بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيد اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ شَقْرَانَ قَال: كُنا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسلَّمَ فَسَمِعَ قَائِلا يَقُولُ.
          لا يَزَالُ حَوَارِيَّ تَلُوحُ عِظَامُهُ زَوَى الْحَرْبَ عَنْهُ ان يخن فَيُقْبَرَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسلَّمَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ هَذَا مُعَاوِيَةُ بْنُ التَّابُوتِ وَرِفَاعَةُ بْنُ عَمْرو بْنِ التَّابُوتِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسلَّمَ اللَّهُمَّ ارْكُسْهُمَا فِي الْفِتْنَةِ رَكْسًا وَدُعَّهُمَا إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا

          اس میں شُعَيب بن إبراهيم کو ضعیف کہا گیا ہے
          ————-
          بنیادی طور پر اسکی تین سندیں ہیں ایک میں عِيسَى بْنُ سَوَادَةَ النَّخَعِيُّ ہے دوسری میں يزيد بن أبي زياد ہے تیسری میں شُعَيب بن إبراهيم كوفي ہے

          شیعوں کا پائنٹ یہ ہے کہ يزيد بن أبي زياد سے صحاح خمسہ میں ١٧٦ روایات موجود ہیں جن میں صحیح مسلم میں اس کی ایک شاہد روایت ہے
          بات صحیح ہے لیکن اپ کو معلوم ہے صحیح مسلم میں ضعیف راوی کی شاہد روایت بیان کی جاتی ہے یہ ایسا ہی ہے کہ رافضی کہے الله ایک ہے تو ہم یہ نہیں کہیں گے تو تو ہے ہی جھوٹا کیونکہ رافضی کی بات صحیح ہے اللہ ایک ہے لیکن جب وہ اپنے عقیدے کی بات کرے گا تو اس کو جھٹلا دیں گے

          اس روایت کو الذہبی نے بھی سير أعلام النبلاء میں رد کیا ہے لکھا ہے
          هَذَا مِمَّا أُنْكِرَ عَلَى يَزِيْدَ.
          اس کی بنا پر يزيد بن أبي زياد کا انکار کیا جاتا ہے

          دوسرے مقام پر اسی کتاب میں اس روایت کا ذکر کیا کہا
          وَهَذَا أَيْضاً مُنْكَرٌ.
          یہ منکر ہے

          میزان الاعتدال میں بھی ذکر کیا اور کہا
          غريب منكر.
          یہ روایت غریب منکر ہے

          المجروحين من المحدثين والضعفاء والمتروكين از ابن حبان میں بھی اس روایت کا ذکر کر کے یزید پر جرح کی گئی ہے

  78. وجاہت says:

    کیا یہ حدیث صحیح ہے

    صحيح البخاري: كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالكِتَابِ وَالسُّنَّةِ (بَابُ مَنْ رَأَى تَرْكَ النَّكِيرِ مِنَ النَّبِيِّ ﷺحُجَّةً، لاَ مِنْ غَيْرِ الرَّسُولِ) صحیح بخاری: کتاب: اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کو مضبوطی سے تھامے رکھنا (باب : آنحضرت ﷺ سے ایک بات کہی جائے اور آپ اس پر انکار نہ کریں جسے تقریر کہتے ہیں تو یہ حجت ہے ۔ آنحضرت ﷺ کے سوا اور کسی کی تقریر پر حجت نہیں ۔)

    7355

    حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ الصَّائِدِ الدَّجَّالُ قُلْتُ تَحْلِفُ بِاللَّهِ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْكِرْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

    حکم : صحیح 7355

    ہم سے حماد بن حمید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے ‘ کہا ہم سے ہمارے والد حضرت معاذ بن حسان نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے ‘ ان سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے ‘ ان سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ابن الصیاد کے واقعہ پر اللہ کی قسم کھا تے تھے ۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ اللہ کی قسم کھا تے ہیں َ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کی قسم کھا تے دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی انکار نہیں فرمایا ۔

    • Islamic-Belief says:

      حدیث میں ہے قیامت سے قبل تیس دجال ہوں گے

      صحیح بخاری میں جابر بن عبد الله کا قول ہے کہ ابن صیاد دجال ہے کیونکہ عمر نے بھی ایسا نبی صلی الله علیہ وسلم کے سامنے کہا لیکن انہوں نے انکار نہیں کیا
      جابر بن عبد الله رضی الله عنہ کے قول کی یہی تاویل ہے کہ ابن صیاد کو تیس دجالوں میں سے ایک دجال سمجھا گیا نہ کہ مسیح الدجال

      أبو بكر ابن العربي في “عارضة الأحوذي” 9/ 106: میں کہتے ہیں
      الصحيح أن الدَّجَّال ليس بابن صياد، فإن ابن صياد كان بالمدينة صبياً،
      صحیح یہ ہے کہ ابن صیاد دجال (اکبر) نہیں ہے اور یہ مدینہ میں لڑکا تھا

      فتح الباري لابن حجر (13 / 326 – 327) . کے مطابق
      بیہقی اور ابن کثیر النهاية في الفتن والملاحم میں کہتے ہیں
      الصحيح أن الدجال غير ابن صياد، وأن ابن صياد كان دجالًا من الدجاجلة
      صحیح یہ ہے کہ دجال (اکبر) ابن صیاد نہیں ہے اور ابن صیاد دجالوں میں سے ایک دجال تھا

      ابن تیمیہ الفرقان بين أولياء الرحمن وأولياء الشيطان میں کہتے ہیں
      وتوقف النبي صلى الله عليه وسلم في أمره حتى تبين له فيما بعد أنه ليس هو الدجال، لكنه من جنس الكهان
      اور نبی صلی الله علیہ وسلم نے اسکے امر پر توقف کیا یہاں تک کہ اس کا امر واضح ہوا کہ یہ الدجال (اکبر) نہیں ہے لیکن کاہنوں کی جنس میں سے ہے

      روایت صحیح ہے لیکن اس کی صحیح تاویل یہ ہے جو بیان کی

  79. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی مصنف ابن أبي شيبة کی روایت ہے

    32092 – حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْأَوْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ الْمَسْجِدَ فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ , فَقَامَ إِلَيْهِ شَابٌّ فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ , أَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ , اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» , فَقَالَ: نَعَمْ , فَقَالَ الشَّابُّ: أَنَا مِنْكَ بَرِيءٌ , أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ عَادَيْتُ مَنْ وَالَاهُ وَوَالَيْتُ مَنْ عَادَاهُ , قَالَ: فَحَصَبَهُ النَّاسُ بِالْحَصَى

    http://shamela.ws/browse.php/book-9944#page-36413

    ========

    اب دوسری طرف اسی حدیث کو أبو يعلى أحمد بن علي بن المثُنى بن يحيى بن عيسى بن هلال التميمي، الموصلي نے اپنی کتاب مسند أبي يعلى الموصلي میں ابو بکرابن ابی شیبہ سے روایت کرتے ہیں

    6423 – حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ الْمَسْجِدَ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ، فَقَامَ إِلَيْهِ شَابٌّ فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ؟»، قَالَ: فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ»

    http://shamela.ws/browse.php/book-12520#page-6450

    لیکن اس حدیث میں أبو يعلى نے ان الفاظ ہو حذف کیا

    فَقَالَ: نَعَمْ , فَقَالَ الشَّابُّ: أَنَا مِنْكَ بَرِيءٌ , أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ عَادَيْتُ مَنْ وَالَاهُ وَوَالَيْتُ مَنْ عَادَاهُ , قَالَ: فَحَصَبَهُ النَّاسُ بِالْحَصَى

    یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ابو بکرابن ابی شیبہ اپنی کتاب میں پوری بات بیان کر رہے ہیں اور دوسروں کو آدھی بات بتا رہے ہیں – کیا یہ تحریف کرنے والا الله کے آگے جواب دہ نہیں ہو گا

    ابو شہر یار بھائی ایسا کیوں کیا جاتا ہے کہ بات کو چھپا دیا جاتا ہے – اس سے اچھا نہیں کہ بات کو پورا بیان کیا جایے اور اسناد پر بات کی جایے

    • Islamic-Belief says:

      اس قسم کی مثالین بہت ہیں کہ محدث مکمل متن نقل نہیں کرتا اس کو ابو یعلی کی جانب سے جان بوجھ کر کیا گیا کام نہیں کیا جا سکتا

  80. وجاہت says:

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    3668 – وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَكَانَ عُثْمَانُ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ وَلَا يَنْظُرُ فِي حَاجَتِهِ فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ ثُمَّ ائْتِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّي فَيَقْضِي لِي حَاجَتِي، وَتَذْكُرُ حَاجَتَكَ، وَرُحْ إِلَيَّ حِينَ أَرُوحُ مَعَكَ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَصَنَعَ مَا قَالَ لَهُ ثُمَّ أَتَى بَابَ عُثْمَانَ فَجَاءَ الْبَوَّابُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى الطِّنْفِسَةِ وَقَالَ: حَاجَتُكَ؟ فَذَكَرَ حَاجَتَهُ فَقَضَاهَا لَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ: مَا ذَكَرْتَ حَاجَتَكَ حَتَّى كَانَتْ هَذِهِ السَّاعَةُ، وَقَالَ: مَا كَانَتْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ فَائْتِنَا، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ فَقَالَ لَهُ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا مَا كَانَ يَنْظُرُ فِي حَاجَتِي وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيَّ حَتَّى كَلَّمْتَهُ فِيَّ، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: وَاللَّهِ مَا كَلَّمْتُهُ وَلَكِنْ «شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَأَتَاهُ رَجُلٌ ضَرِيرٌ فَشَكَا إِلَيْهِ ذَهَابَ بَصَرِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ” أَوَ تَصْبِرُ؟ ” فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ” ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ ثُمَّ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ ادْعُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ» فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: فَوَاللَّهِ مَا تَفَرَّقْنَا وَطَالَ بِنَا الْحَدِيثُ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ ضَرَرٌ قَطُّ.

    قُلْتُ رَوَى التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ خَالِيًا عَنِ الْقِصَّةِ، وَقَدْ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ عَقِبَهُ: وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ بَعْدَ ذِكْرِ طُرُقِهِ الَّتِي رُوِيَ بِهَا.

    http://s2.picofile.com/file/7658840749/%D8%B9%D8%AB%D9%85%D8%A7%D9%86_%D9%85%D8%B1%D8%AF_%D8%AA%D9%88%D8%B3%D9%84_%D8%A8%D9%87_%D9%86%D8%A8%DB%8C.jpg

    http://shamela.ws/browse.php/book-61#page-609

    ————

    اس کو المعجم الكبير للطبراني میں بھی طبرانی نے لکھا ہے کتاب میں حدیث نمبر ٨٣١١ ہے لیکن مکتبہ شاملہ میں نمبر نہیں گیا گیا حالانکہ اس سے پیچھے حدیث نمبر ٨٣١٠ ہے اور آگے حدیث نمبر ٨٣١٢ ہے لیکن اس حدیث کا نمبر جو ٨٣١١ بنتا ہے لیکن نمبر نہیں لکھا گیا – الله جانتا ہے کہ کیوں ایسا کیا گیا ہے یا یہ غلطی سے ہو گیا

    مکتبہ شاملہ

    http://shamela.ws/browse.php/book-1733#page-10308

    حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ عِيسَى بْنِ قَيْرَسٍ الْمِصْرِيُّ الْمُقْرِئُ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ الْمَدَنِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ: أَنَّ رَجُلًا، كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِي اللهُ عَنْهُ فِي حَاجَةٍ لَهُ، فَكَانَ عُثْمَانُ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ وَلَا يَنْظُرُ فِي حَاجَتِهِ، فَلَقِيَ ابْنَ حُنَيْفٍ فَشَكَى ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: ” ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ ائْتِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُلْ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّي فَتَقْضِي لِي حَاجَتِي وَتُذَكُرُ حَاجَتَكَ ” وَرُحْ حَتَّى أَرْوَحَ مَعَكَ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَصَنَعَ مَا قَالَ لَهُ، ثُمَّ أَتَى بَابَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِي اللهُ عَنْهُ، فَجَاءَ الْبَوَّابُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِي اللهُ عَنْهُ، فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى الطِّنْفِسَةِ، فَقَالَ: حَاجَتُكَ؟ فَذَكَرَ حَاجَتَهُ وَقَضَاهَا لَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: مَا ذَكَرْتُ حَاجَتَكَ حَتَّى كَانَ السَّاعَةُ، وَقَالَ: مَا كَانَتْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ فَأَذْكُرُهَا، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ، فَقَالَ لَهُ: جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا مَا كَانَ يَنْظُرُ فِي حَاجَتِي وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيَّ حَتَّى كَلَّمْتَهُ فِيَّ، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: وَاللهِ مَا كَلَّمْتُهُ، وَلَكِنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ ضَرِيرٌ فَشَكَى إِلَيْهِ ذَهَابَ بَصَرِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَتَصَبَّرْ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَيْسَ لِي قَائِدٌ وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ ادْعُ بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ» قَالَ ابْنُ حُنَيْفٍ: فَوَاللهِ مَا تَفَرَّقْنَا وَطَالَ بِنَا الْحَدِيثُ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْنَا الرَّجُلُ كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ ضُرٌّ قَطُّ [ص: 31] حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ

    کتاب کے سکین پیجز

    https://ia800306.us.archive.org/BookReader/BookReaderImages.php?zip=/32/items/WAQ15954/mtk09_jp2.zip&file=mtk09_jp2/mtk09_0000.jp2&scale=3&rotate=0

    https://ia800306.us.archive.org/BookReader/BookReaderImages.php?zip=/32/items/WAQ15954/mtk09_jp2.zip&file=mtk09_jp2/mtk09_0016.jp2&scale=3&rotate=0

    https://ia800306.us.archive.org/BookReader/BookReaderImages.php?zip=/32/items/WAQ15954/mtk09_jp2.zip&file=mtk09_jp2/mtk09_0017.jp2&scale=3&rotate=0

    https://ia800306.us.archive.org/BookReader/BookReaderImages.php?zip=/32/items/WAQ15954/mtk09_jp2.zip&file=mtk09_jp2/mtk09_0018.jp2&scale=3&rotate=0

    • Islamic-Belief says:

      اس کی اسناد میں اضطراب ہے
      بعض میں أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ الْمَدَنِيِّ ہے
      اور بعض میں صرف أَبِي جَعْفَرٍ ہے جس پرتعین کرنا ممکن نہیں کہ کون ہے

      امام بخاری کا تاریخ میں کہنا ہے

      قال شهاب حدثنا حماد بن سلمة: عن ابى جعفر الخطمى عن عمارة بن خزيمة بن ثابت: عن عثمان بن حنيف اتى اعمى النبي صلى الله عليه وسلم: فقال: ادع الله تعالى ان يرد بصرى، قال: أو أدعك ؟ قال: لا، بل ادع الله، قال ثلاثا، ثم قال: توضأ وصل ركعتين وقل: ” اللهم انى اسألك وأتوجه اليك ” ففعل فرد بصره
      وقال على حدثنا عثمان بن عمر سمع شعبة: عن ابى جعفر المدينى سمع عمارة بن خزيمة بن ثابت: عن عثمان بن حنيف،
      وقال ابن المثنى حدثنا معاذ بن هشام قال حدثنى ابى: عن ابى جعفر يزيد بن عمير – أو – عمير بن يزيد عن ابى امامة بن سهل رضى الله عنه: عن عمه،
      وقال عبد المتعال بن طالب حدثنا ابن وهب عن ابى سعيد عن روح بن القاسم: عن ابى جعفر المدينى عن ابى امامة بن سهل بن حنيف: عن عمه عثمان ابن حنيف رضى الله عنه، هو المدنى، عامل عمر على العراق، بقى إلى زمن معاوية.

      امام بخاری کا کہنا ہے کہ اس کو ففعل فرد بصره، بعض نے بصری بنا دیا ہے اور بعض نے اس کو ابى جعفر المدينى کہا ہے

      معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني میں ہے

      حدثنا أبو عمرو ، ثنا الحسن ، ثنا أحمد بن عيسى ، ثنا ابن وهب ، أخبرني أبو سعيد واسمه شبيب بن سعيد من أهل البصرة ، عن أبي جعفر المديني ، عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف ، عن عمه عثمان بن حنيف

      تقریب التہذیب از ابن حجر میں ہے
      قلت: وقال أبو الحسن ابن المديني هو مدني قدم البصرة وليس لاهل المدينة عنه اثر ولا يعرفونه
      ابو حسن کا کہنا ہے کہ ابن المديني ہی مدنی ہے جو بصرہ پہنچا اور اہل مدینہ کی س سے کوئی روایت نہیں ہے نہ وہ اس کو جانتے ہیں

      یعنی یہ ابو جعفر اپنے شہر میں مجہول تھا بصرہ پہنچ کر اس نے اس کو روایت کیا ہے

      ———
      طبقات ابن سعد میں ہے أبو جعفر الخطمي واسمه عمير بن يزيد بن عمير بن حبيب بن حباشة ہے

      بیہقی کا کہنا ہے
      عمير بن يزيد، أبو جعفر الخطمي. * لم أر البخاري ومسلما احتجّا به في الحديث
      اس سے بخاری نے کچھ نہیں لیا

      ———-

      مستدرک حاکم میں بھی ہے
      وقال الحاكم: صحيح على شرط البخاري، ووافقه الذهبي.

      امام حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے جبکہ سند میں عَوْنُ بنُ عُمارة، أبو محمد العبْديَ البَصْريُّ منکر حدیث ہے
      اور الذھبی نے خود اس راوی کا ذکر ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين میں کیا ہے

      ———

      اس کی بعض سندوں میں شبيب بن سَعِيد الحبطي أبو سَعِيد التميمي ہے اور ابن وهب سے مناکیر روایت کرتا ہے
      طبرانی کی سند میں یہ مسئلہ ہے
      مستدرک حاکم کی دوسری سند میں یہ مسئلہ ہے
      اس کے باوجود حاکم نے کہا
      هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَإِنَّمَا قَدَّمْتُ حَدِيثَ عَوْنِ بْنِ عُمَارَةَ لِأَنَّ مِنْ رَسْمِنَا أَنْ نُقَدِّمَ الْعَالِيَ مِنَ الْأَسَانِيدِ
      اس شبيب بن سَعِيد الحبطي أبو سَعِيد التميمي کی سند پر عَوْنِ بْنِ عُمَارَةَ کی سند پیش کی ہے

      راقم کہتا ہے دونوں اسناد ضعیف ہیں – ابن القيسراني نے تذكرة الحفاظ (أطراف أحاديث كتاب المجروحين لابن حبان) میں کہا
      أَنَّ أَعْمَى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ، وَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيَّ بَصَرِي. . ” الْحَدِيثَ.
      رَوَاهُ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ.
      وَعَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ غَيْرُ حُجَّةٍ

      عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ حجت نہیں ہے
      ———-

      لیکن ان دو کا اس کی اسناد میں تفرد نہیں ہے

      ترمذی میں بھی ہے
      حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَجُلاً ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي، قَالَ: “إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ وَإِنْ شِئْتَ صَبَرْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ” قَالَ: فَادْعُهْ، قَالَ: فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوئَهُ وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَى لِيَ اللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ”. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي جَعْفَرٍ وَهُوَ الْخَطْمِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ هُوَ أَخُو سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ.
      * تخريج: ق/الإقامۃ ۱۸۹ (۱۳۸۵) (تحفۃ الأشراف: ۹۷۶۰) (صحیح)
      ۳۵۷۸- عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: آپ دعا فرمادیجئے کہ اللہ مجھے عافیت دے، آپ نے فرمایا:” اگر تم چاہو تو میں دعاکروں اور اگر چاہو تو صبر کیے رہو، کیوں کہ یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ( و سود مند) ہے۔ اس نے کہا: دعاہی کردیجئے ،تو آپ نے اسے حکم دیاکہ وہ وضو کرے، اور اچھی طرح سے وضو کرے اور یہ دعا پڑھ کر دعاکرے: ” اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَى لِيَ اللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ ” (اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتاہوں اور تیرے نبی محمد جو نبی رحمت ہیں کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتاہوں ، میں نے آپ کے واسطہ سے اپنی اس ضرورت میں اپنے رب کی طرف توجہ کی ہے تاکہ تو اے اللہ ! میری یہ ضرورت پوری کردے تو اے اللہ تومیرے بارے میں ان کی شفاعت قبول کر ۱؎ )۔
      امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں یعنی ابوجعفر کی روایت سے،۲- اورابوجعفر خطمی ہیں۳- اور عثمان بن حنیف یہ سہل بن حنیف کے بھائی ہیں۔
      ——–

      امام ابن ابی حاتم نے العلل میں اس کا ذکر کیا ہے
      وسمعتُ أَبَا زُرْعَةَ وحدَّثنا بحديثٍ اختلَفَ (4) شُعبةُ وهشامٌ الدَّسْتَوَائِي:
      فَرَوَى شُعبة (5) ، عَنْ أَبِي جَعْفَر الخَطْمِي (6) ، عَنْ عُمَارة بْنِ
      خُزَيمَة، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيف: أنَّ رَجُلا ضريرَ البَصَرِ أَتَى النبيَّ (ص) فَقَالَ: يَا رسولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يعافيَني، فأمرَهُ أَنْ يتوضَّأَ ويُصلِّيَ ركعتَيْنِ ويدعوَ: اللَّهُمَّ، إِنِّي أَسْأَلُكَ، وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتُقْضَى لِي، اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ.
      هَكَذَا رَوَاهُ (1) عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ شُعبة، حدَّثنا بِهِ أَبُو سَعِيدِ بْنُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ القَطَّان (2) ،
      عَنْ عثمان بن عمر.
      وَرَوَاهُ [معاذُ بنُ هِشَامٍ] (1) ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي أُمامة بْن سَهْل بْن حُنَيف، عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيف، عن النبيِّ (ص) .
      فسمعتُ أَبَا زُرْعَةَ يَقُولُ: الصَّحيحُ حديثُ شُعبة.
      قَالَ أَبُو مُحَمَّد: حَكَمَ أَبُو زُرْعَةَ لشُعْبة؛ وذلك: لم يكن عنده أنَّ (2) أحدا تابَعَ (3) هِشَام (4) الدَّسْتَوَائِيَّ، ووجدت عندي: عن يونس
      ابن عبد الأعلى، عَنْ يَزِيد (1) بْن وَهْب، عَنْ أَبِي سَعِيد التَّمِيمِيِّ- يَعْنِي: شَبِيبَ بنَ سَعِيد- عَنْ رَوْح بْن الْقَاسِم، عَنْ أَبِي جَعْفَر، عَنْ أَبِي أُمَامَة بنِ سَهْل بْن حُنَيف، عَنْ عمَّه عُثْمَانَ بْنِ حُنَيف (2) ، عن النبيِّ (ص) … مثلَ حديثِ هشامٍ الدَّسْتَوَائِي، وأشبعَ متنا، ورَوْحُ بنُ الْقَاسِم ثقةٌ يُجمَعُ حديثُهُ؛ فاتفاقُ الدَّسْتَوَائِيِّ ورَوْحِ بنِ الْقَاسِم يدلُّ عَلَى أنَّ روايتهما أصحُّ

      ابی حاتم نے اس روایت کو شعبہ کی سند سے صحیح کہا ہے جس کو ترمذی نے حسن کہا تھا

      راقم کہتا ہے سند صحیح بھی ہو لیکن متن منکر ہے
      دعا کرنے کی درخواست پر رسول الله نے دعا ہی کی ہے یہ واحد روایت ہے جس میں وسیلہ کا حکم ہے

      روایت میں رسول الله کا وسیلہ لینے کا حکم ہے جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے منسوب کیا گیا ہے
      اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ فتقضى، اللهم فشفعه في” وغیرہ

  81. shahzad khan says:

    Qkۚ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا (17:110)

    نہ تو تو اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھ اور نہ بالکل پوشیده بلکہ اس ک درمیان کا راستہ تلاش کرلے (17:110)

    بھائی اس آیت کی تفسیر کیا ہے؟

    • Islamic-Belief says:

      یہ مکی دور کی آیت ہے جب نماز کا حکم ہوا لیکن رات کے پہر میں چھپ کر پڑھی جاتی اس وقت کہا گیا کہ درمیانی آواز سے پڑھو کہ اتنا بلند نہ ہو کہ کفار سن لیں نہ اس قدر آہستہ کہ پاس والا بھی سن نہ سکے

  82. وجاہت says:

    عِمْرَانُ بنُ حِطَّانَ بنِ ظَبْيَانَ السَّدُوْسِيُّ *
    (خَ، د، ت)
    البَصْرِيُّ.

    جو کہ صحیح بخاری میں ٢ سنن ابو داوود اور سنن نسائی میں ایک ایک حدیث کے راوی ہیں – ان کے بارے میں امام ذھبی کہتے ہیں کہ

    مِنْ أَعْيَانِ العُلَمَاءِ، لَكِنَّهُ مِنْ رُؤُوْسِ الخَوَارِجِ.
    حَدَّثَ عَنْ: عَائِشَةَ، وَأَبِي مُوْسَى الأَشْعَرِيِّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.
    رَوَى عَنْهُ: ابْنُ سِيْرِيْنَ، وَقَتَادَةُ، وَيَحْيَى بنُ أَبِي كَثِيْرٍ.
    قَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَيْسَ فِي أَهْلِ الأَهْوَاءِ أَصَحُّ حَدِيْثاً مِنَ الخَوَارِجِ.
    ثُمَّ ذَكَرَ عِمْرَانَ بنَ حِطَّانَ، وَأَبَا حَسَّانٍ الأَعْرَجَ.
    قَالَ الفَرَزْدَقُ: عِمْرَانُ بنُ حِطَّانَ مِنْ أَشْعَرِ النَّاسِ؛ لأَنَّهُ لَوْ أَرَادَ أَنْ يَقُوْلَ مِثْلَنَا، لَقَالَ، وَلَسْنَا نَقْدِرُ أَنْ نَقُوْلَ مِثْلَ قَوْلِهِ.

    http://shamela.ws/browse.php/book-10906#page-3367

    پھر اگلے پیج پر لکھتے ہیں کہ

    وَمِنْ شِعْرِهِ فِي مَصْرَعِ عَلِيٍّ -رَضِيَ اللهُ عَنْهُ-:
    يَا ضَرْبَةً مِنْ تَقِيٍّ مَا أَرَادَ بِهَا … إِلاَّ لِيَبْلُغَ مِنْ ذِي العَرْشِ رِضْوَانَا
    إِنِّي لأَذْكُرُهُ حِيْناً فَأَحْسِبُهُ … أَوْفَى البَرِيَّةِ عِنْدَ اللهِ مِيْزَانَا
    أَكْرِمْ بِقَوْمٍ بُطُوْنُ الطِّيْرِ قَبْرُهُمُ … لَمْ يَخْلِطُوا دِيْنَهُم بَغْياً وَعُدْوَانَا (2)

    یہ شِعْرِ عِمْرَانُ بنُ حِطَّانَ نے حضرت علی رضی الله کے بارے میں کہے اور کتاب کے حاشیہ میں محقق نے ان کا رد پیش کیا ہے

    (2) الابيات عدا الأخير في الكامل ” للمبرد 3 / 169، و” الاغاني ” 18 / 111 ط الدار.
    وقد رد على عمران بن حطان الفقيه الطبري – كما جاء في نسخة من الكامل للمبرد – فقال: يا ضربة من شقي ما أراد بها * إلا ليهدم من ذي العرش بنيانا إني لاذكره يوما فألعنه * إيها وألعن عمران بن حطانا وقال محمد بن أحمد الطبيب يرد على عمران بن حطان: يا ضربة من غدور صار ضاربها * أشقى البرية عند الله إنسانا إذا تفكرت فيه ظلت ألعنه * وألعن الكلب عمران بن حطانا وللسيد الحميري ولغيره قصائد ردوا فيها على عمران، انظرها في ترجمته في الخزانة.

    http://shamela.ws/browse.php/book-10906#page-3368

    ابو شہر یار بھائی آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ عِمْرَانُ بنُ حِطَّانَ نے ایسا کیوں کیا – کیوں ایسے شھر کہے اور ان کا کیوں رد کیا گیا – اس کا مقصد کیا تھا – پلیز وضاحت کر دیں

    سـير أعـلام النبـلاء کی جلد ٤ جس میں یہ لکھا ہے یہاں سے آن لائن دیکھ لیں

    http://ia802609.us.archive.org/14/items/saanz/04.pdf

    کتاب کا صفحہ ٢١٥ ہے

  83. shahzad khan says:

    بھائی لوح محفوظ سے کیا مراد ہے ۔قرآن وحدیث میں اس کی وضاحت موجود ہے؟؟ ۔۔۔اور ہم نے موسیٰ کے لئے الواح میں ہر چیز کا علم لکھ دیا ۔۔۔الواح سے مراد کیا ہے؟؟

    • Islamic-Belief says:

      بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَجِيدٌ (21) فِي لَوْحٍ مَحْفُوظٍ
      بلکہ یہ قرآن مجید ہے جو لوح محفوظ میں ہے
      سورة البروج

      لوح عربی میں تختی کو کہتے ہیں چاہے لکڑی کی ہو یا پتھر کی سل ہو

      إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ
      سورة الواقعة

      بے شک یہ قرآن کریم ہے جو محفوط کردہ کتاب ہے

      مشرک کہتے تھے یہ تو شاعری ہے اس پر کہا گیا کہ یہ شیطان کا القا نہیں ہے اس کی حفاظت ہو رہی ہے
      یہ عالم بالا میں ہے کیونکہ قرآن محفوط کردہ کتاب ہے چونکہ یہ آخری کلام ہے لہذا اس کو حفاظت کی گئی ہے محشر تک

      اس بات کو بعض دفعہ قرآن میں أمّ الكتاب کہا گیا ہے کہ سب ایک اہم کتاب سے آ رہا ہے
      ———-

      موسی علیہ السلام کو توریت الواح پر دی جو سل تھیں
      و کتبنا له فی الالواح من کل شی ء موعظه و تفصیلا لکل شی ءفخذها بقوه
      اور ہم نے موسی کے لئے الواح پر ہر چیز لکھ دی نصحت اور ہر چیز کی تفصیل اس کو قوت سے پکڑنا

      لیکن اس کو انہوں نے طور سے اتر کر پھینک دیا تھا (یعنی کلام الله کو پھینک دیا) جب دیکھا کہ قوم بت پرستی کر رہی ہے
      وألقى الألواح وأخذ برأس أخيه يجره إليه
      أور إس نے الواح پھینک دیں اور اپنے بھائی کو سر سے پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹا

      یہ پتھر کا کتبہ پر تھیں یہود کہتے ہیں قدیم عبرانی کے معدوم رسم الخط میں تھیں اور کتبہ کے دونوں جانب لکھا ہوا تھا اور الفاظ چمک رہے تھے
      ———–

      خیال رہے کہ تمام کلام الله چاہے توریت ہو یا انجیل یا زبور یا قرآن تمام ام الکتاب کا حصہ ہے
      حدیث میں زبور کو بھی قرآن کہا گیا ہے
      داود علیہ السلام پر قرآن کی تلاوت اس قدر آسان ہوئی کہ زین کسنے کا حکم کرتے اور قرآن مکمل کر لیتے

      يَمْحُوا اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ
      الله جو چاہتا ہے مٹا دینا ہے اور اثبات کرتا ہے اور اس کے پاس ام الکتاب ہے

      وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا
      اور ہم نے کتاب میں فیصلہ دے دیا تھا کہ نبی اسرائیل کبیر سرکشی کریں گے اور دو بار فساد کریں گے

      وَلَوْلا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ
      اور تمہارے رب کی طرف سے پہلے کلمہ اگر نہیں ادا ہوا ہوتا

      ام الکتاب یا لوح محفوظ الله کی طرف سے زمین کا پلان ہے جو اس نے تقدیر میں لکھا اور پھر اسی کے تحت ہوا جو ہوا -چاہے مختلف کتب الله کا نزول ہو یا قوموں کی سرکشی ہو یا کوئی حکم ہو مثلا الله نے اپنے پاس عرش کے قریب اس کتاب کو رکھا ہوا ہے جس میں لکھ دیا ہے کہ اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب آئے گی

      یہ تمام منصوبہ الہی ہے کوئی معمولی کتاب نہیں ہے اسی کو لوح محفوظ کہا گیا کہ فی لوح یہ اس لوح میں سے ہے یہ نہیں کہا ھو لوح محفوظ کہ صرف قرآن ہی لوح محفوظ ہے

  84. Aysha butt says:

    Sir ik hadith hai k qayamt k roz phle namz ka sawal hoga jis ki namz sahi hogi uski agli manzelein asan hoti hojae gi agr namz mn koi kotai hoi to Allah usko nafil.k zarye puri kr dy ga… Hadith sahih hai kya

    • Islamic-Belief says:

      اس حوالے سے کسی صحیح حدیث کا علم نہیں اگرچہ یہ لوگوں میں مشہور ہے

  85. Aysha butt says:

    Kya yeh nara theak hai
    Labaik ya rusool Allah….

    Kya iska mutlb hazir nazir k tanzur mn nhi ata q k yehi ilfaz hajj mn Allah k lie b boly jaty hai

    • Islamic-Belief says:

      لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ

      کے الفاظ کثیر احادیث میں ہیں اس کو صحابہ کہتے جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان کو طلب کرتے

      وفات النبی کے بعد یہ کا ذکر احادیث میں نہیں ہے
      البتہ فرقہ پرست رسول الله کو قبر میں زندہ سمجھتے ہیں لہذا یہ قبر پر جا کر لبیک کہتے ہیں
      صوفیاء ہر جگہ حاضر ہونا سمجھتے ہیں لہذا ہر سڑک اور گلی کے نکڑ پر انہوں نے اس کو آویزں کر دیا ہے

  86. Naim says:

    منهج سلف کا کیا معني ہے؟
    سب بولتا ہے منهج سلف پر قرآن اور حدیث کو سمجھ لو

    کیا اصحاب رسول کا مراد ہے؟

    • Islamic-Belief says:

      منہج سلف سے مراد اصحاب رسول کا عمل و منہج نہیں ہے

      منھج سلف کے الفاظ سب سے زیادہ بنی اسرائیلیوں کی طرح اہل حدیث بولتے ہیں یعنی اسباط کا عقیدہ جو نسل در نسل چلا آ رہا ہے
      اس کی ابتداء حقیقت میں ابن تیمیہ سے ہوتی ہے اس کے عقیدہ کو یہ سلف کہتے ہیں
      لہذا ہم نے دیکھا امام احمد کا عقیدہ تھا کہ روز محشر رسول الله کو عرش پر بٹھایا جائے گا یہ حنابلہ وہابیوں کا عقیدہ آج بھی ہے لیکن اہل حدیث اس عقیدہ کا انکار کرتے ہیں کیونکہ ابن تیمیہ نے اس کو قبول نہیں کیا

      لیکن اس گروہ کا پروپیگنڈا ہے کہ یہ منہج سلف پر ہیں – تحقیق کریں تو محدثین کے عقیدہ میں عجیب عجیب باتیں مل رہی ہیں
      مثلا ابن حبان قبر پر سماع الموتی کے قائل اس سے فیض کے قائل ہیں ہاروت ماروت کو کہتے ہیں کہ زہرہ ایک عورت کے ساتھ مل گئے تھے
      صحیح ابن حبان سے یہ سب ملا ہے

      ⇓ محدث ابن حبان قبروں سے فیض لینے کے قائل تھے ؟
      http://www.islamic-belief.net/q-a/محدثین-و-فقہاء-سے-متعلق/

      http://www.islamic-belief.net/جادو-برج-فرشتے-اور-محدثین-٢/

      ⇑ حنبلی علماء کا غیر الله سے توسل لینا کیا ثابت ہے ؟
      http://www.islamic-belief.net/q-a/عقائد/عرض-اعمال/

      ⇓ کیا نبی صلی الله علیہ وسلم کو روز محشر عرش عظیم پر بٹھایا جائے گا ؟
      http://www.islamic-belief.net/q-a/عقائد/الأسماء-و-الصفات/

      • وجاہت says:

        ابو شہر یار بھائی آپ نے کہا کہ

        ===
        تحقیق کریں تو محدثین کے عقیدہ میں عجیب عجیب باتیں مل رہی ہیں
        ====

        لیکن ایک بات پوچھنے ہے کہ اس میں صرف ابن حبان حنبلی علماء اورامام احمد ہی کیوں ہیں – اس میں تو امام ذھبی اور دوسرے محدثین بھی آتے ہیں ان کے بارے میں بھی تھریڈ شامل کریں اس بلاگ میں تا کہ سب کو محدثین کا عقیدہ بھی واضح ہو

        کئی حوالے تو میں آپ کو دے چکا ہوں آپ نے جواب ضرور دیے لیکن ان کو سوال و جواب والے سیکشن میں شامل نہیں کیا آپ نے

        مثال کے طور پر امام ذھبی سمیت کئی محدثین کا عقیدہ تھا کہ موت کے بعد زندہ ہو کر کلام کیا جا سکتا ہے

        http://s5.picofile.com/file/8146352518/003.jpg

        http://s5.picofile.com/file/8146352534/003.png

        ——

        http://s6.picofile.com/file/8218620742/001.png

        http://s6.picofile.com/file/8218620768/002.png

        ===========

        بھائی یہی بات ہے کہ ہم کچھ لوگوں کی غلطیوں کو لکھ دیتے ہیں اور کچھ کی غلطیوں کے بارے میں خاموشی یا پرداداری کرنا شروع کر دیتے ہیں

        میں ہمیشہ الله سے یہی دعا کرتا ہوں کہ ہمیں حق سمجھنے حق کو بیان کرنے اور حق پر چلنے کی توفیق عطا کر – آمین آمین

        اور یہی دعا ہے جو تقریباً سب مانگتے ہیں لیکن اس دعا پر عمل کم کرتے ہیں

        • Islamic-Belief says:

          سلام

          الذہبی کے بد عقیدہ کا ذکر راقم کی کتاب وفات النبی میں موجود ہے

          یہاں صرف مثال دی گئی ہے مکمل لسٹ نہیں

  87. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    صحيح البخاري: كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ (بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَوَاعَدْنَا مُوسَى ثَلاَثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَقَالَ مُوسَى لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِيلَ المُفْسِدِينَ. وَلَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ. قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ. قَالَ لَنْ تَرَانِي} [الأعراف: 143]- إِلَى قَوْلِهِ – {وَأَنَا أَوَّلُ المُؤْمِنِينَ} [الأعراف:) صحیح بخاری: کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں (سورۃ اعراف میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد )

    3399

    حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلاَ بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ، وَلَوْلاَ حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ»

    حکم : صحیح 3399

    مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا‘ کہا ہم کو معمر نے خبردی‘ انہیں ہمام نے اوران سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے ( سلویٰ کا گوشت جمع کرکے نہ رکھتے ) توگوشت کبھی نہ سڑتا ۔ اور اگر حوانہ ہوتیں ( یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے دغانہ کرتیں ) تو کوئی عورت اپنے شوہر کی خیانت کبھی نہ کرتی ۔

  88. وجاہت says:

    ایک طرف صحیح بخاری کی یہ حدیث ہے

    صحيح البخاري: كِتَابُ فَضَائِلِ القُرْآنِ (بَابُ اسْتِذْكَارِ القُرْآنِ وَتَعَاهُدِهِ) صحیح بخاری: کتاب: قرآن کے فضائل کا بیان (باب: قرآن مجید کو ہمیشہ پڑھتے اور یاد کرتے رہنا)

    5032

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَ مَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ نُسِّيَ وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنْ النَّعَمِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ مِثْلَهُ تَابَعَهُ بِشْرٌ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ شُعْبَةَ وَتَابَعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدَةَ عَنْ شَقِيقٍ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

    حکم : صحیح 5032

    ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابو وائل نے اور ان سے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت برا ہے کسی شخص کا یہ کہنا کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ یوں ( کہنا چاہیے ) کہ مجھے بھلادیا گیا اور قرآن مجید کا پڑھنا جاری رکھو کیونکہ انسانوں کے دلوں سے دور ہوجانے میں وہ اونٹ کے بھاگنے سے بھی بڑھ کر ہے ۔ ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبد الحمید نے ، اوران سے منصور بن معتمر نے پچھلی حدیث کی طرح ۔ محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس کو بشر بن عبد اللہ نے بھی عبد اللہ بن مبارک سے ، انہوں نے شعبہ سے روایت کیا ہے اور محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس کو ابن جریج نے بھی عبد ہ سے ، انہوں نے شقیق بن مسلمہ سے ، انہوں نے عبد اللہ بن مسعود سے ایسا ہی روایت کیا ہے ۔

    اس حدیث میں الفاظ ہیں کہ

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت برا ہے کسی شخص کا یہ کہنا کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ یوں ( کہنا چاہیے ) کہ مجھے بھلادیا گیا

    ======

    اور دوسری طرف یہ حدیث ہے

    – بَابُ نِسْيَانِ الْقُرْآنِ وَهَلْ يَقُولُ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا وَكَذَا

    باب: قرآن مجید کو بھلا دینا اور کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ میں فلاں فلاں آیتیں بھول گیا ہوں؟

    حدیث نمبر: 5038

    حدثنا احمد بن ابي رجاء ، حدثنا ابو اسامة ، عن هشام بن عروة ، عن ابيه ، عن عائشة ، قالت : ” سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يقرا في سورة بالليل ، فقال : يرحمه الله لقد اذكرني كذا وكذا آية كنت انسيتها من سورة كذا وكذا ”

    ´ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو رات کے وقت ایک سورت پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے، اس نے مجھے فلاں آیتیں یاد دلا دیں جو مجھے فلاں فلاں سورتوں میں سے بھلا دی گئی تھیں۔

    یہاں ترجمہ صحیح نہیں کیا گیا اور الفاظ بدل دیے گیۓ

    عربی الفاظ یہ ہیں

    يرحمه الله لقد اذكرني كذا وكذا آية كنت انسيتها من سورة كذا وكذا

    اورترجمہ یہ کیا گیا

    اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے، اس نے مجھے فلاں آیتیں یاد دلا دیں جو مجھے فلاں فلاں سورتوں میں سے بھلا دی گئی تھیں

    اب یہاں

    مجھے فلاں فلاں سورتوں میں سے بھلا دی گئی تھیں

    کن عربی الفظ کا ترجمہ ہے

    اصل ترجمہ یہ بنتا ہے

    May Allah have mercy on him. You have reminded me of such and such a verse that I forgot from Surat such and such

    مسند احمد کی ایک حدیث کے تقریباً یہی الفاظ ہیں لیکن ان ویب سائٹ والوں نے صحیح ترجمہ کیا ہے

    http://www.hadithurdu.com/musnad-ahmad/11-9-5032/

    مسند احمد ۔ جلد نہم ۔ حدیث 5032

    ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات

    حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَقَدْ ذَكَّرَنِي آيَةً كُنْتُ أُنْسِيتُهَا

    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو قرآن کریم کی ایک آیت پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ اس پر اپنی رحمت نازل کرے، اس نے مجھے فلاں آیت یاد دلا دی جو میں بھول گیا تھا۔

    ======

    سوال یہ ہے کہ کیا یہ صحیح بخاری کی دو احادیث جو اوپر پیش کی گئی ہیں ان میں تضاد نہیں

    پلیز اصل ترجمہ بھی کر دیں اور تحقیق بھی

    • Islamic-Belief says:

      بھول جانا انبیاء کی بشریت ہے مثلا موسی مچھلی کو بھول گئے جب خضر سے ملاقات کرنے نکلے

      فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ} [الكهف
      مچھلی کو تو میں بھول ہی گیا اور اس کو شیطان نے ہی بھلایا ہے

      صحیح بخاری میں ہے رسول الله نے فرمایا
      إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي،
      بے شک میں تمہارے جیسا بشر ہوں ، بھول جاتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو ، جب میں بھولوں تو یاد دلا دو

      قَاضِى عِيَاض صحیح مسلم کی شرح میں کہتے ہیں
      يجوز على النبى – عليه السلام – من النسيان
      یہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے لئے جائز ہے کہ بھول جائیں
      اس کی مثال قَاضِى عِيَاض نے دی کہ نماز میں بھول گئے بھر سجدہ سہو کیا

      قاضی کے مطابق صوفیاء اورالْأُصُولِيِّينَ میں أَبَا المظفر الاسفرايني کے مطابق رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے بھول و نسیان کو منسوب نہیں کیا جا سکتا – ابن حجر نے فتح الباری میں اس رائے کو وَهُوَ قَوْلٌ ضَعِيفٌ قرار دیا ہے

      بدر الدين العينى نے عمدة القاري شرح صحيح البخاري میں لکھا ہے
      قيل: كَيفَ جَازَ نِسْيَان الْقُرْآن عَلَيْهِ. وَأجِيب: بِأَن النسْيَان لَيْسَ بِاخْتِيَارِهِ.
      کہا جاتا ہے : کیسے جائز ہے قرآن میں بھول جانا ؟ اور جواب دیا گیا : کہ بھول جانے پر اختیار نہیں ہوتا

      راقم کہتا ہے یہاں معاملہ الوحی کے بھول جانے کا ہے جو معمولی بات نہیں ہے – الوحی تو قلب محمد صلی الله علیہ وسلم پر آئی ہے جس کو صرف الله ہی بھلا سکتا ہے

      سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى إِلَّا مَا شَاءَ الله
      ہم اپ پر پڑھیں گے تو اپ بھول نہ سکیں گے سوائے وہ جو اللہ چاہے
      الأعلى

      الله چاہے تو اپنے نبی کو آیات بھلا سکتا ہے لیکن اس آیت کا اس حدیث سے کیا جوڑ ہے ؟ الله جو آیات بھلا دیتا ہے وہ آیات وہ ہیں جو منسوخ کی گئی ہیں اور اس کے بدلے اس جیسی یا اس سے بہتر آیات دی گئی ہیں

      ہشام بن عروہ کی روایت کوفہ عراق والوں نے لی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سوره واللیل کی آیات بھول جاتے تھے
      اس روایت کو ہشام سے ان لوگوں نے لیا ہے

      أَبُو الصَّلْت زَائِدَة بن قدامَة الثَّقَفِيّ الکوفی
      عِيسَى بن يُونُس بن أبي إِسْحَاق عَمْرو السبيعِي الْهَمدَانِي الْكُوفِي
      أبو أسامة حماد بن أسامة الكوفى
      أبو الحسن على بن مسهر القرشى الكوفى
      أبو محمد عبدة بن سليمان الكلابى الكوفى
      أبو سفيان وكيع بن الجراح بن مليح الكوفى
      أَبُو مُعَاوِيَة مُحَمَّد بن حَازِم الضَّرِير التَّمِيمِي السَّعْدِيّ الْكُوفِي
      ابُو هِشَامٍ عَبْدُ اللهِ بنُ نُمَيْرٍ أ الهَمْدَانِيُّ الکوفی

      عراق میں ہشام نے بعض روایات بیان کیں جن پر امام مالک کو بھی اعتراض رہا اگرچہ معلوم نہیں ان میں کون کون سی روایات تھیں
      —————

      روایت کے الفاظ ہیں
      يرحمه الله لقد اذكرني كذا وكذا آية كنت انسيتها من سورة كذا وكذا
      الله اس پر رحم کرے اس نے یاد کرا دیں وہ اور وہ آیات جن کو میں بھول گیا تھا اس اس سورت میں سے

      المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم میں أبو العبَّاس لکھتے ہیں
      قال ابن السيِّد البطليوسي : كذا وكذا : كناية عن الأعداد المعطوف بعضها على بعض ؛ من أحد وعشرين إلى تسعة وتسعين
      ابن السيِّد البطليوسي نے کہا كذا وكذا یہ کنایہ ہے اعداد کی طرف گیارہ سے لے کر ننانوے تک
      مزید لکھا
      وإذا قال : له عندي كذا كذا درهمًا ؛ فهي كناية عن الأعداد ؛ من أحد عشر إلى تسعة عشر ، هذا اتفاق من الكوفيين والبصريين . وقال الكوفيون خاصة
      اگر کہے میرے پاس كذا كذا درہم ہیں تو یہ اعداد پر کنایہ ہے اس میں گیارہ سے لے کر انیس تک ہے اس پر کوفیوں بصریوں کا اتفاق ہے اور یہ کہا ہے خاص کر کوفیوں نے
      مزید کہا
      فيكون قوله ـ صلى الله عليه وسلم ـ : (( كذا وكذا آية )) ؛ [ أنه ] أقل ما يحمل عليه إحدى وعشرون
      رسول اللہ کا کہنا كذا وكذا آية تو یہ کم از کم گیارہ آیات تھیں

      عربی ادب کی اس بحث کا حاصل یہ ہوا کہ روایت کے مطابق رسول الله صلی الله علیہ وسلم کم از کم گیارہ آیات بھول گئے تھے اور یہ روایت کوفیوں کی بیان کردہ ہے – یاد رہے سوره واللیل میں ٢١ آیات ہیں

      شارحین کی اس روایت پر نکتہ سنجی ہے کہ یہ آیات رسول الله صلی الله علیہ وسلم جان بوجھ کر نہیں نسیان کی وجہ سے بھولے
      ایسا متعدد نے کہا مثلا
      فتح المنعم شرح صحيح مسلم
      المؤلف: الأستاذ الدكتور موسى شاهين لاشين
      كنت أسقطتها من سورة كذا) أي كنت أسقطتها نسيانًا لا عمدًا،

      صحیح بخاری میں ہے
      حَدَّثَنا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِئًا يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ فِي المَسْجِدِ، فَقَالَ: «يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً أَسْقَطْتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا
      الله رحم کرے اس پر اس نے یاد دلا دیں وہ اور وہ آیات جو اس سورہ میں اور اس سورہ میں سے گر گئیں تھیں

      یعنی منسوخ ہو گئیں تھیں – اگرچہ اس صریح بات کو تمام شارحین نے منسوخ آیات یا قرات قرار نہیں دیا ہے البتہ مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ملا علی القاری نے کہا

      وَيَكُونُ مَعْنَى قَوْلِهِ نَسِيَ، أَيْ نُسِخَتْ تِلَاوَتُهُ
      اور ممکن ہے کہ قول نبوی میں بھول گیا یعنی ان کی تلاوت منسوخ ہوئی تھا
      ———-

      رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو بعض آیات بھلا دی گئیں اس کا مطلب ہے کہ اس کے جیسی دوسری آیت دی یا حکم منسوخ ہوا

      بعض آیات ہیں جن کی قرات منسوخ ہوئی اور حکم باقی رہا مثلا رجم
      بعض آیات ہیں جن کا حکم منسوخ ہوا اور قرآن میں موجود ہیں مثلا روزے کی چند آیات

      رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا فرمان کہ اس نے گر جانے والی آیات کی قرات کی سے معلوم ہوا کہ یہ شخص جس کا قرآن رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے سنا اس کی قرات باطل تھی کیونکہ وہ کہا گیا منسوخ آیات کی قرات کر رہا تھا جو رسول الله بھول چکے تھے – اس شخص کو اصلاح کی ضرورت تھی خبر کی جاتی کہ تو منسوخ آیات کی قرات کیوں کر رہا ہے ؟ لیکن ایسا روایت میں بیان نہیں ہوا کہ رسول الله نے اس کو طلب کر کے نئی آیات قرات کرنے کا حکم دیا یا خبر دی ہو کہ یہ قرات اب منسوخ ہوئی

      اگر یہ وہ آیات تھیں جن کا حکم منسوخ ہوا لیکن قرات باقی رہی تو ایسا ممکن نہیں کہ یہ آیات رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو بھلا دی گئی ہوں

      اس روایت کی تہہ میں عجیب بات ہے جو غور کرے اس پر اس کی نکارت ظاہر ہو سکتی ہے

      ابن حجر نے فتح الباری میں کہا
      لَمْ أَقِفْ عَلَى تَعْيِينِ الْآيَاتِ الْمَذْكُورَةِ
      کون سی آیات تھیں ان کا تَعْيِينِ نہیں ہو سکا

  89. anum shoukat says:

    بھائی ایک خالص مسلم کو برما کے لوگوں کے لیے کیا کرنا چاہیے اسلام کی رو سے؟

  90. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی صحیحین کی ایک حدیث جو دونوں کتابوں میں آئ ہے

    صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ (بَابُ مَنْ أَحَبَّ الدَّفْنَ فِي الأَرْضِ المُقَدَّسَةِ أَوْ نَحْوِهَا) صحیح بخاری: کتاب: جنازے کے احکام و مسائل (باب: جو شخص ارض مقدس دفن ہونے کا آرزو مند)

    1339

    حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ ارْجِعْ فَقُلْ لَهُ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَهُ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ بِهِ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ قَالَ أَيْ رَبِّ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ الْمَوْتُ قَالَ فَالْآنَ فَسَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنْ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ

    حکم : صحیح 1339

    ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن طاؤس نے‘ انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ملک الموت ( آدمی کی شکل میں ) موسی علیہ السلام کے پاس بھیجے گئے۔ وہ جب آئے تو موسیٰ علیہ السلام نے ( نہ پہچان کر ) انہیں ایک زور کا طمانچہ مارا اور ان کی آنکھ پھوڑ ڈالی۔ وہ واپس اپنے رب کے حضور میں پہنچے اور عرض کیا کہ یا اللہ تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھ پہلے کی طرح کردی اور فرمایا کہ دوبارہ جا اور ان سے کہہ کہ آپ اپنا ہاتھ ایک بیل کی پیٹھ پر رکھئے اور پیٹھ کے جتنے بال آپ کے ہاتھ تلے آجائیں ان کے ہر بال کے بدلے ایک سال کی زندگی دی جاتی ہے۔ ( موسیٰ علیہ السلام تک جب اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچا تو ) آپ نے کہا کہ اے اللہ! پھر کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر بھی موت آنی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام بولے تو ابھی کیوں نہ آجائے۔ پھر انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ انہیں ایک پتھر کی مار پر ارض مقدس سے قریب کردیا جائے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں ان کی قبر دکھاتا کہ لال ٹیلے کے پاس راستے کے قریب ہے۔

    —–

    صحيح مسلم: كِتَابُ الْفَضَائِلِ (بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى ) صحیح مسلم: کتاب: أنبیاء کرامؑ کے فضائل کا بیان (باب: حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فضائل)

    6148

    وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، – قَالَ: عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وقَالَ: ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا – عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ، فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ: أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، قَالَ فَرَدَّ اللهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهِ، فَقُلْ لَهُ: يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَلَهُ، بِمَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ، سَنَةٌ، قَالَ: أَيْ رَبِّ ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ، فَسَأَلَ اللهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ، لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ، تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ»

    حکم : صحیح 6148

    محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے مجھے حدیث بیان کی۔ عبد نے کہا: عبدلرزاق نے ہمیں خبر دی اور ابن رافع نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: ہمیں معمر نے ابن طاوس سے خبر دی ،انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا: ملک الموت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا جب وہ (انسانی شکل اور صفات کے ساتھ ) ان کے پاس آیا تو انھوں نے اسے تھپڑ رسید کیا اور اس کی آنکھ پھوڑدی وہ اپنے رب کی طرف واپس گیا اور عرض کی: تونے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا جو موت نہیں چاہتا ،تو اللہ تعا لیٰ نے اس کی آنکھ اسے لو ٹا دی اور فرما یا :دوبارہ ان کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ وہ ایک بیل کی کمر پر ہاتھ رکھیں ،ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ان میں ہر بال کے بدلے میں ایک سال انھیں ملے گا ۔(فرشتے نے پیغام دیا تو موسیٰ علیہ السلام نے) کہا : میرے رب !پھر کیا ہو گا ؟فر ما یا پھر مو ت ہو گی۔ توانھوں نے کہا : پھر ابھی (آجائے )تو انھوں نے اللہ تعا لیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ارض مقدس سے اتنا قریب کردے جتنا ایک پتھر کے پھینکے جا نے کا فا صلہ ہو تا ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :” اگر میں وہاں ہو تا تو میں تمھیں (بیت المقدس کے) راستے کی ایک جانب سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھا تا ۔”

    ان احادیث پر یہ اعتراضات آیے ہیں – پلیز ان کے جوابات ضرور دیں تا کہ ہمارے علم میں بھی ظف ہو اور ہم ایسے سوالات پوچھنے والوں کو بھی جوابات دے سکیں

    الله آپ کے علم میں اضافہ کرے – آمین

    • وجاہت says:

      یہ سوالات شیعہ کی ویب سائٹ پر تھے میں نے عربی سے انگلش میں ٹرانسلیٹ کیے ہیں گوگل ٹرانسلٹر سے

      http://www.imgrum.org/media/968661730274207665_1742540152

      • Islamic-Belief says:

        ملک الموت آیا اور موسی علیہ السلام نے مرنے سے انکار کیا یہ بات اہل تشیع کی کتب میں بھی ہے

        شیعہ علماء کے مطابق یہ روایت صحیح ہے

        كتاب: لئالى الاخبار
        تأليف: الشيخ محمد نبي بن احمد التوسيركاني
        الناشر: انتشارات جيهان
        الطبعة: الاولى
        جلد اول ص ٩١ پر ہے

        في سلوك موسى عليه السلام في دار الدنيا وزهدها فيها، وفي قصة لطمه ملك الموت حين أراد قبض روحه، واحتياله له في قبضها …. وقد كان موسى عليه السلام أشدّ الأنبياء كراهة للموت ، قد روى إنه لم جاء ملك الموت، ليقبض روحه، فلطمه فأعور ، فقال يارب إنك أرسلتني إلى عبد لا يحب الموت، فأوحى الله إليه أن ضع يدك على متن ثور ولك بكل شعرة دارتها يدك سنة ، فقال: ثم ماذا ؟ فقال الموت، فقال الموتة ، فقال أنته إلى أمر ربك.
        موسی انبیاء میں موت سے کراہت کرنے میں سب سے متشدد تھے روایت کیا گیا ہے کہ فرشتہ ان کی روح قبض کرنے آیا تو انہوں نے اس کی آنکھ پھوڑ دی

        اسی کتاب میں ہے
        عن الصادق (ع)، قال: إن ملك الموت أتى موسى بن عمران ، فسلّم عليه، فقال: من أنت ؟ قال: أنا ملك الموت، قال: ما حاجتك ؟ قال له: جئت أقبض روحك من لسانك، قال كيف وقد تكلمت به ربي ؟ قال فمن يدك فقال له موسى: كيف وقد حملت بهما التورية ؟ فقال: من رجليك، فقال له وكيف وقد وطأت بهما طور سيناء ! قال: وعدّ أشياء غير هذا ، قال: فقال له ملك الموت : فإني أمرت أن أتركك حتى تكون أنت الذي تريد ذلك، فمكث موسى ما شاء الله، ثم مرّ برجل وهو يحفر قبراً فقال له موسى: ألا أعينك على حفر هذا القبر؟ فقال له الرجل: بلى. قال: فأعانه حتى حفر القبر ولحد اللحد وأراد الرجل أن يضطجع في اللحد لينظر كيف هو؟ فقال موسى عليه السلام: أنا اضطجع فيه، فاضطجع موسىفرأى مكانه من الجنة، فقال: يا رب اقبضني إليك فقبض ملك الموت روحه ودفته في القبر واستوى عليه التراب قال: وكان الذي يحفر القبر ملك بصورة آدمي ، فلذلك لا يعرف قبر موسى .
        امام صادق سے روایت ہے کہ ملک الموت موسی کے پاس آیا سلام کیا پوچھا تو کون ؟ کہا موت کا فرشتہ – کہا کس لئے آئے؟ بولا اپ کی زبان پر روح قبض کرنے موسی نے کہا میں نے تو رب سے کلام کیا ہے .. میرے پاس توریت ہے … میں اس پاؤں سے کوہ طور پر چڑھا …

        راقم کہتا ہے یہ بیان
        legends of Jews
        کا چربہ ہے

        نعمت الله الجزائرى سنة 1050 ه کی کتاب الأنوار النعمانية 4 /148 في نور الأجل والموت میں بھی موسی کا فرشتے کی آنکھ نکالنے کا قصہ ہے
        http://ia600502.us.archive.org/4/items/89748920389/12746198181.pdf

    • Islamic-Belief says:

      ⇓ موسی علیہ السلام نے ملک الموت کی آنکھ پھوڑ دی تھی ؟
      http://www.islamic-belief.net/q-a/علم-حدیث-٢/

  91. shahzad khan says:

    سورہ ال لہب ۔۔۔ ترجمہ تباہ ہو جائیں ابو لہب کے دونو ہاتھ اور تباہ ہو ہی گیا وہ ۔۔۔۔۔۔اس سورہ کا شان نزول کیا ہے اور کیا اس جملے سے مراد بدعا ہے ۔۔۔
    ؟؟

    • Islamic-Belief says:

      تباہ ہو جائیں ابو لہب کے دونوں ہاتھ اور تباہ ہو ہی گیا وہ

      یہ الله کا حکم ہوا یعنی اس کا عذاب اس کو گھیر لے گا
      اعاذنا الله منه

  92. shahzad khan says:

    جبکہ اک صاحب نے سورہ ال لہب کا جدید ترجمہ اس، طرح کیا ہے ۔۔۔
    دشمنی کی آگ کے شعلے پھیلانے والے (ابی لہب) کی تمام طاقت (یدا) سلب ہوئی اور، وہ برباد ہو گیا اس کی تمام حاصل کردہ املاک اور مال و دولت اس کے کسی کام نہیں آئیاور وہ ضرور اس آگ میں ڈال دیا جائے گا جو ہمیشہ بھڑکنے والی ہے ۔۔ذات لہب۔۔۔اور اس کی ماتحت جماعت قوم جو اس کی اشتعال انگیزی اور جارحیت ۔۔۔المطب۔۔ کابھاری بوجھ اٹھائے تھی ۔۔۔حمالۃ۔۔۔ اب اس کی گردن میں اس پر مشقت سفر۔۔۔۔مسد۔۔۔سے تحفظ کی یقیقن دہانی۔۔۔حبل۔۔۔آویزاں ہے

    • Islamic-Belief says:

      علامہ پرویز معلوم ہوتے ہیں- یہ انہی کا بوتا اور ہمت ہے کہ کلام الله کو الٹ پلٹ کر کے اپنے الفاظ اس میں شامل کرتے تھے

      وہ الفاظ جو الله نے نہیں کہے ان کو اس کے کلام میں شامل کرنے والے کے بعد یہ الوحی میں تبدیلی کی کاوش ہے – کیا اس جدیدیت کو الله تعالی پسند کریں گے کہ اس کی نازل کردہ الوحی میں سے جنت و جہنم کے مناظر معجزات غیر حقیقی سمجھ کر نکال دیے گئے؟

  93. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    ‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَابُ غَزْوَةِ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ، قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ) صحیح بخاری: کتاب: غزوات کے بیان میں (باب: غزوئہ طائف کا بیان جوشوال سنہ 8ھ میں ہوا ۔ یہ موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیاہے)

    4324

    حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ سَمِعَ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي مُخَنَّثٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ الطَّائِفَ غَدًا فَعَلَيْكَ بِابْنَةِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلَنَّ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُنَّ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ الْمُخَنَّثُ هِيتٌ حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا وَزَادَ وَهُوَ مُحَاصِرُ الطَّائِفِ يَوْمَئِذٍ

    حکم : صحیح 4324

    ہم سے عبد اللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم نے سفیان بن عیینہ سے سنا ، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ان کی والدہ ام المو منین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میرے پاس ایک مخنث بیٹھا ہوا تھاپھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ وہ عبد اللہ بن امیہ سے کہہ رہا تھاکہ اے عبد اللہ ! دیکھو اگر کل اللہ تعالیٰ نے طائف کی فتح تمہیں عطا فرمائی تو غیلان بن سلمہ کی بیٹی ( بادیہ نامی ) کو لے لینا وہ جب سامنے آتی ہے تو پیٹ پر چار بل اور پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو آٹھ بل دکھائی دیتے ہیں ( یعنی بہت موٹی تازہ عورت ہے ) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ اب تمہار ے گھر میں نہ آیا کریں ۔ ابن عیینہ نے بیان کیا کہ ابن جریج نے کہا ، اس مخنث کا نام ہیت تھا ۔ ہم سے محمود نے بیان کیا ، ان سے ابو اسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے اسی طرح بیان کیااوریہ اضافہ کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت طائف کا محاصرہ کئے ہوئے تھے ۔

    مخنث کا کیا مطلب ہے

  94. wajahat says:

    آپ سے پہلے بھی پوچھا تھا اور آپ نے جواب بھی دیا تھا لیکن اب یاد نہیں رہا

    صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ (بَابُ مَا يُذْكَرُ مِنْ شُؤْمِ الفَرَسِ) صحیح بخاری: کتاب: جہاد کا بیان (باب : اس بیان میں کہ بعض گھوڑے منحوس ہوتے ہیں)

    2858

    حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلاَثَةٍ: فِي الفَرَسِ، وَالمَرْأَةِ، وَالدَّارِ

    حکم : صحیح 2858

    ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبردی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ نحوست صرف تین چیزوں میں ہوتی ہے ۔ گھوڑے میں ، عورت میں اور گھر میں ۔

    دوسری طرف مسند أحمد بن حنبل میں ہے

    http://islamport.com/w/mtn/Web/3010/27357.htm

    26130

    حدثنا عبد الله حدثني أبى ثنا روح ثنا سعيد عن قتادة عن أبى حسان الأعرج ان رجلين دخلا على عائشة فقالا ان أبا هريرة يحدث ان نبي الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : إنما الطيرة في المرأة والدابة والدار قال فطارت شقة منها في السماء وشقة في الأرض فقالت والذي أنزل القرآن على أبى القاسم ما هكذا كان يقول ولكن نبي الله صلى الله عليه و سلم كان يقول كان أهل الجاهلية يقولون الطيرة في المرأة والدار والدابة ثم قرأت عائشة { ما أصاب من مصيبة في الأرض ولا في أنفسكم إلا في كتاب } إلى آخر الآية

    تعليق شعيب الأرنؤوط : إسناده صحيح على شرط مسلم

    کیا یہ تضاد ہے

    • Islamic-Belief says:

      یہ تضاد نہیں فہم کا فرق ہے
      اسی سے فقہ کا جنم ہوتا ہے

      • Aysha butt says:

        Kya yeh riwayt sahi hai…. Uper wali es sy toh aurat ki manhosiyt or hhr k manhosiyt ka kha js rha hsi… Mutlb kya hai iska

        • Islamic-Belief says:

          اس روایت پر ابہام ہے کہ کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اور کیا ایام جاہلیت میں مشہور تھا – اس میں اشتباہ ہے
          و الله اعلم

  95. Aysha butt says:

    Sir surah bakra ayat 89 k hawalay se kha jata hai k Aap s.a.w se phle kufar Aap s.a.w k waseely se kuffar pr fatah mangty thy… Iski tafseer k zail hai unki dua k ilfaz naqal kiye gae hai
    Allah huma’aaf ta alaina wan surna bi n
    abi yil ummai…الہم افتح علینا و انصرنا بنبی المی
    Yeh ilfaz raZa khn barelvi ki tafseer mnae hai

    Kya yeh ilfaz kisi hadith se sabit hai
    Yeh ayat waseely pr lai jati hai clear kr dei

    • Islamic-Belief says:

      وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَافِرِينَ
      سوره بقرہ
      اور جب ان (یہود) کے پاس الله کے پاس سے کتاب آ گئی جس میں اس کی تصدیق ہے جو ان کے پاس ہے اور اس سے پہلے تو یہ کفار پر (بحث میں) فتح پاتے – لیکن جب اس (کلام) کو پہچان گئے تو انکار کیا لہذا کافروں پر الله کی لعنت ہے
      —————–

      بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ یہود النبي المنتظر کی وجہ سے فتح پاتے تھے- یعنی یہاں وسیلہ کا ذکر نہیں ہے بلکہ الله کا م تھا کہ وہ یہود کی اس نیکی کہ وہ نبی المنتظر کو مانتے تھے الله اس نیکی کی بنا پر ان کو کفار پر فتح دیتا – طبری نے تفسیر میں لکھا
      قال أبو جعفر: يعني بقوله جل ثناؤه: (وكانوا من قبل يستفتحون على الذين كفروا) ، أي: وكان هؤلاء اليهود – الذين لما جاءهم كتاب من عند الله مصدق لما معهم من الكتب التي أنزلها الله قبل الفرقان، كفروا به – يستفتحون بمحمد صلى الله عليه وسلم = ومعنى”الاستفتاح”، الاستنصار = (1) يستنصرون الله به على مشركي العرب من قبل مبعثه، أي من قبل أن يبعث، كما:-
      طبری نے کہا یعنی یہ یہود … محمد صلی الله علیہ وسلم کی وجہ سے فتح یعنی نصرت پاتے مشرکین عرب پر بعثت نبوی سے پہلے

      اس بات کو ابن اسحاق نے روایت کیا ہے
      حدثني ابن حميد قال، حدثنا سلمة قال، حدثني ابن إسحاق، عن عاصم بن عمر بن قتادة الأنصاري، عن أشياخ منهم قالوا: فينا والله وفيهم – يعني في الأنصار، وفي اليهود = الذين كانوا جيرانهم – نزلت هذه القصة = يعني: (ولما جاءهم كتاب من عند الله مصدق لما معهم وكانوا من قبل يستفتحون على الذين كفروا) = قالوا: كنا قد علوناهم دهرا في الجاهلية – (1) ونحن أهل الشرك، وهم أهل الكتاب – (2) فكانوا يقولون: إن نبيا الآن مبعثه قد أظل زمانه، يقتلكم قتل عاد وإرم. (3) فلما بعث الله تعالى ذكره رسوله من قريش واتبعناه، كفروا به. يقول الله: (فلما جاءهم ما عرفوا كفروا به) .

      اس کی سند میں عن أشياخ منهم مجہولین ہیں
      —–
      طبری کی دوسری سند ہے
      حدثنا ابن حميد قال، حدثنا سلمة قال، حدثني ابن إسحاق قال، حدثني محمد بن أبي محمد مولى آل زيد بن ثابت، عن سعيد بن جبير، أو عكرمة مولى ابن عباس، عن ابن عباس: أن يهود كانوا يستفتحون على الأوس والخزرج برسول الله صلى الله عليه وسلم قبل مبعثه. فلما بعثه الله من العرب، كفروا به، وجحدوا ما كانوا يقولون فيه. فقال لهم معاذ بن جبل وبشر بن البراء بن معرور أخو بني سلمة: يا معشر يهود، اتقوا الله وأسلموا، فقد كنتم تستفتحون علينا بمحمد صلى الله عليه وسلم ونحن أهل شرك، وتخبروننا أنه مبعوث، وتصفونه لنا بصفته! فقال سَلام بن مِشْكَم أخو بني النضير: ما جاءنا بشيء نعرفه، وما هو بالذي كنا نذكر لكم! فأنزل الله جل ثناؤه في ذلك من قوله: (ولما جاءهم

      سند میں محمد بن أبى محمد الأنصارى المدنى ، مولى زيد بن ثابت مجہول ہے

      طبری کی تیسری سند ہے
      حدثني محمد بن سعد قال، حدثني أبي قال، حدثني عمي قال، حدثني أبي عن أبيه، عن ابن عباس: (وكانوا من قبل يستفتحون على الذين كفروا) ، يقول: يستنصرون بخروج محمد صلى الله عليه وسلم على مشركي العرب – يعني بذلك أهل الكتاب – فلما بعث الله محمدا صلى الله عليه وسلم ورأوه من غيرهم، كفروا به وحسدوه.

      اس میں عطیہ العوفی ضعیف ہے
      ———
      طبری کی چوتھی سند ہے

      وحدثنا محمد بن عمرو قال، حدثنا أبو عاصم قال، حدثني عيسى، عن ابن أبي نجيح، عن علي الأزدي في قول الله: (وكانوا من قبل يستفتحون على الذين كفروا) ، قال: اليهود، كانوا يقولون: اللهم ابعث لنا هذا النبي يحكم بيننا وبين الناس، يستفتحون – يستنصرون – به على الناس.

      اس میں علي عبد الله الأزدى ، أبو عبد الله البارقى ہے جو کوئی صحابی نہیں ہے اس کے علم کا مصدر نا معلوم ہے
      ——-
      طبری کی پانچویں سند ہے
      حدثنا بشر بن معاذ قال، حدثنا يزيد قال، حدثنا سعيد، عن قتادة قوله: (وكانوا من قبل يستفتحون على الذين كفروا) ، كانت اليهود ستفتح بمحمد صلى الله عليه وسلم على كفار العرب من قبل، وقالوا: اللهم ابعث هذا النبي الذي نجده في التوراة يعذبهم ويقتلهم! فلما بعث الله محمدا صلى الله عليه وسلم فرأوا أنه بعث من غيرهم، كفروا به حسدا للعرب، وهم يعلمون أنه رسول الله صلى الله عليه وسلم، يجدونه مكتوبا عندهم في التوراة: (فلما جاءهم ما عرفوا كفروا به) .

      اس میں قتادہ بصری کا قول ہے جو صحابی نہیں ہیں
      ———-

      طبری کی چھٹی سند ہے
      حدثني المثنى قال، حدثنا آدم قال، حدثنا أبو جعفر، عن الربيع، عن أبي العالية قال: كانت اليهود تستنصر بمحمد صلى الله عليه وسلم على مشركي العرب، يقولون: اللهم ابعث هذا النبي الذي نجده مكتوبا عندنا حتى يعذب المشركين ويقتلهم! فلما بعث الله محمدا، ورأوا أنه من غيرهم، كفروا به حسدا للعرب، وهم يعلمون أنه رسول الله صلى الله عليه وسلم: فقال الله: (فلما جاءهم ما عرفوا كفروا به فلعنة الله على الكافرين) .

      یہ أبي العالية بصری کا قول ہے صحابی نہیں ہے
      —–
      دلائل النبوه بیہقی کی سند ہے
      أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَ: أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ” كَانَتْ يَهُوَدُ خَيْبَرَ تُقَاتِلُ غَطَفَانَ، فَكُلَّمَا الْتَقَوْا هُزِمَتْ يَهُوَدُ خَيْبَرَ، فَعَاذَتِ الْيَهُودُ، بِهَذَا الدُّعَاءِ، فَقَالَتِ: اللهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي وَعَدْتَنَا أَنْ تُخْرِجَهُ لَنَا فِي آخِرِ الزَّمَانِ إِلَّا نَصَرَتْنَا عَلَيْهِمْ. قَالَ: فَكَانُوا إِذَا الْتَقَوْا دَعَوْا بِهَذَا الدُّعَاءِ، فَهَزَمُوا غَطَفَانَ. فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَرُوا بِهِ،
      سند میں عَبد الملك بْن هارون بْن عنترة جس السعدي نے کو دجال کہا ہے
      ——
      دلائل کی دوسری سند ہے
      أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الصَّفَّارُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ اللَّبَّادُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ وَقَالَ: حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ نَاسٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى ” {وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ} [البقرة: 89] ” قَالَ: ” كَانَتِ الْعَرَبُ تَمُرُّ بِالْيَهُودِ فَيُؤْذُونَهُمْ، وَكَانُوا يَجِدُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ فَيَسْأَلُونَ اللهَ تَعَالَى أَنْ يَبْعَثَهُ نَبِيًّا فَيُقَاتِلُونَ مَعَهُ الْعَرَبَ، فَلَمَّا جَاءَهُمْ مُحَمَّدٌ كَفَرُوا بِهِ حِينَ لَمْ يَكُنْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ

      اس میں اسباط بن نصر اور السدی ضعیف ہیں

      ———
      ان روایات کا مطلب وہ نہیں جو بریلویوں نے سمجھا ہے – یہ ذات محمد کا وسیلہ نہیں ہے یعنی یہود یہ نہیں کہتے تھے کہ النبی المنتظر کے صدقے میں ہم کو فتح دے – یہ نیک عمل و ایمان کا وسیلہ ہے کہ یہود کہتے کہ ہم یہ صحیح عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایک النبی المنتظر آئے گا اس صحیح عقیدہ کی بنا پر ہم کو فتح دے
      ———–

      مفسرین میں نے الفاظ نقل کیے ہیں
      اللهم انصرنا بالنبي المبعوث
      اللهم انصرنا بالنبي المبعوث في آخر الزمان الذي نجد نعته وصفته في التوراة – بیضاوی الصابوني – سند نہیں ہے
      اللهم انصرنا بالنبي المبعوث في آخر الزمان، الذي نجد وصفه ونعته في كتابنا «التوراة – محمد الخطيب (المتوفى: 1402هـ) – سند نہیں دی
      اللَّهم انصرنا بالنَّبيِّ المبعوث في آخر الزَّمان – الواحدی -أبو السعود – سند نہیں دی
      اللهم انصرنا بالنبي المبعوث في آخر الزمان – الزمخشری- سند نہیں ہے

      یہ لوگوں کے ذاتی خیالات ہیں – ان دعاؤں کی کوئی سند نہیں ہے

      دلائل النبوه بیہقی کی روایت میں ہے يَهُوَدُ خَيْبَرَ کی غَطَفَانَ سے جنگ ہو رہی تھی انہوں نے دعا کی
      اللهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي وَعَدْتَنَا أَنْ تُخْرِجَهُ لَنَا فِي آخِرِ الزَّمَانِ إِلَّا نَصَرَتْنَا عَلَيْهِمْ.
      اے الله ہم تجھ سے اس حق پر سوال کرتے ہیں جو محمد النبی الامی کو تجھ پر ہے جس کا تو نے وعدہ کیا کہ جو آخری زمانہ میں نکلے گا کہ ہماری مدد کر ان پر

      سند میں کذاب و دجال ہیں
      وفي إسناده: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، عَنْ أَبِيهِ. قال الدارقطني: هما ضعيفان، وقال احمد:
      ضعيف، وقال يحيى بن معين: كذاب، وقال أبو حاتم: «متروك، ذاهب الحديث» ، وقال ابن حبان: يضع الحديث، وقال السّعدي: «دجال كذاب» . الميزان (2: 666- 667) .

      محدثین میں امام حاکم بد عقیدہ تھے وہ انبیا کا وسیلہ لینے کے قائل تھے لہذا انہوں نے مستدرک الحاکم میں اس روایت کو لکھا ہے اور الذھبی نے کہا
      لا ضرورة في ذلك أي لإخراجه فعبد الله متروك هالك
      اس کو کوئی ضرورت نہیں تھی کہ اس کی تخریج کرتے کہ عبد الله (*) متروک ہے ہلاک کرنے والا ہے

      سند میں عبد الله نہیں ہے – عبد الملک ہے اغلبا یہ نسخہ میں تحریف ہے

      ————
      تاریخی حقیقت
      یہود کے تین بڑے قبائل تھے بنو نضیر اور بنو قریظہ اور بنو قینقاع – مشرکین کے دو قبیلے تھے الاوس اور الخزرج –
      بنو نضیر اور بنو قریظہ الاوس کے ساتھ تھے اور بنو قینقاع والے الخزرج کے ساتھ تھے
      دونوں الخزرج اور الاوس مخالف تھے اور لڑتے تھے دونوں کے ساتھ یہود ہیں- دونوں طرف یہود کی ایک ہی دعا ہو تو ہو میچ ڈرا ہو جانا چاہیے نہ کہ جنگ میں ایک جیتے –

      بعض روایات میں ہے کہ یہ جنگ يَهُوَدُ خَيْبَرَ تُقَاتِلُ غَطَفَانَ، کے درمیان جنگ ہوئی- جس میں یہود جیتے لیکن جیسا تحقیق کی اس کی سند میں عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ کذاب و دجال ہے

      لہذا یہ لوگوں کا اضافہ ہے کہ یہود مشرک سے جیتتے تھے وہ بحث و کلام میں جیتتے تھے کہ ہمارے پاس کتاب الله ہے تمہارے پاس نہیں ہے

      • Aysha butt says:

        Sir surah bakra ki ayat 173 k zail mn likh Gya hai k wo janwar haram hai jis ka zibah k waqt gair Allah ka name liya jae
        Is sy chand masle imam raza khan ne nikle hai. K wo janwer jis mn Allah k name k 7 kisi ka name liya jae to wo haram hai
        Jab k agr zibah se phle ya ya bad mn kisi ka name lia jese falan ka dunbah ya es auliya k esal e swab k lie kiya gya to aisa krna jaiz hai
        Muje samjh nhi ai. Ap bta do .. Kya sahih hai

        • Islamic-Belief says:

          سب سے پہلے تو اپ یہ سمجھ لیں دو مختلف چیزیں ہیں لیکن دھوکہ باز لوگ اس کو کچھ اور کہہ کر اس کو صحیح کہتے ہیں

          اول ایصال ثواب
          اس میں مرنے والے کو ثواب پہنچانے کے لئے عبادات کی جاتی ہیں اس کے بعد الله سے دعا کی جاتی ہے کہ ہمارے اس عمل کا ثواب فلاں شخص کو دے دیا جائے
          یہ کام رشتہ داروں کے حوالے سے کیا جاتا ہے
          یہ بدعت ہے
          —————
          دوم نذر یا فتوح کرنا
          اس عقیدہ کا مطلب ہے
          اس میں کسی بزرک کو خوش کرنے اس کے نام نذر کیا جاتا ہے یعنی کوئی کھانا یا جانور اس سے منسوب کیا جاتا ہے سمجھا جاتا ہے کہ یہ کھانا پھر برزخ میں اس بزرگ پر پیش ہوتا ہے وہ خوش ہوتا ہے کہ واہ کیا کھانا پہنچایا ہے پھر یہ بزرگ جن کی روح اس عالم میں کہیں بھی جا سکتی ہے اس کے علم میں اتا ہے کہ یہ کام تو فلاں صاحب نے کیا
          لہذا قبر پر جب نذر کرنے والے اتے ہیں (اور اکثر یہ لنگر مزار پر ہی بٹتا ہے ) دعا کرتے ہیں تو ولی الله ان لوگوں سے خوش ہو کر ان کی عرضداشت کو لے کر الله کے حضور جاتے ہیں
          یہ حرام ہے

          یعنی یہ نذر و نیاز کرنا
          service charges
          ہے – اپنی دعا الله تک پہنچانے کے لئے یہ چارجز بزرگ کو دیے جاتے ہیں

          ———–

          اس کے دلائل

          مصنف ابن ابی شیبہ میں عبد الله بن عمرو رضی الله عنہ سے منسوب کیا گیا

          غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ قَمْطَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ، فَإِذَا مَاتَ الْمُؤْمِنُ يُخْلَى بِهِ يَسْرَحُ حَيْثُ شَاءَ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ»

          دنیا مومن کا قید خانہ او رکافر کی بہشت ہے۔ جب مومن مرتاہے اس کی راہ کھول دی جاتی ہے کہ جہاں چاہے سیر کرے

          اس کی سند میں يَحْيَى بْنِ قَمْطَةَ کو ابن حبان اور عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے

          کتاب كشف الخفاء ومزيل الإلباس از إسماعيل بن محمد بن عبد الهادي الجراحي العجلوني الدمشقي، أبو الفداء (المتوفى: 1162هـ) میں روایت “الدنيا سجن المؤمن، وجنة الكافر کی بحث میں العجلوني لکھتے ہیں حدیث میں ہے

          فإذا مات المؤمن تخلى سربه يسرح حيث شاء
          ”جب مسلما ن مرتا ہے اُس کی راہ کھول دی جاتی ہے، جہاں چاہے جائے۔

          انہی الفاظ کا ذکر فتاوی رضویہ میں ہے

          وھذا لفظ امام ابن المبارك قال ان الدنیا جنۃ الکافر وسجن المؤمن وانما مثل المؤمن حین تخرج نفسہ کمثل رجل کان فی سجن فاخرج منہ فجعل یتقلب فی الارض ویتفسح فیھا١[1]۔ولفظ ابی بکر ھکذا الدنیا سجن المومن وجنۃ لکافر فاذا مات المومن یخلی سربہ یسرح حیث شاء

          اور یہ روایت امام ابن مبارك کے الفاظ ہیں۔ ت) بیشك دنیا کافر کی جنت اور مسلمان کی زندان ہے، اور ایمان والے کی جب جان نکلتی ہے توا س کی کہاوت ایسی ہے جیسے کوئی قید خانہ میں تھا اب اس سے نکال دیا گیا کہ زمین میں گشت کرتاا ور بافراغت چلتا پھرتا ہے۔(اور روایت ابوبکر کے الفاظ یہ ہیں۔ ت) دنیا مسلمان کا قید خانہ او رکافر کی بہشت ہے۔ جب مسلمان مرتاہے اس کی راہ کھول دی جاتی ہے کہ جہاں چاہے سیر کرے۔

          http://www.dawateislami.net/bookslibrary/1454/page/722

          کتاب فيض القدير شرح الجامع الصغير از المناوي القاهري (المتوفى: 1031هـ) کے مطابق

          قوله (وصلوا علي وسلموا فإن صلاتكم تبلغني حيثما كنتم) أي لا تتكلفوا المعاودة إلي فقد استغنيتم بالصلاة علي لأن النفوس القدسية إذا تجردت عن العلائق البدنية عرجت واتصلت بالملأ الأعلى ولم يبق لها حجاب فترى الكل كالمشاهد بنفسها أو بإخبار الملك لها وفيه سر يطلع عليه من يسر له.

          اپ صلی الله علیہ وسلم کا قول کہ تمہارا درود مجھ تک پہنچ جاتا ہے جہاں کہیں بھی تم ہو یعنی .. تم جو درود کہتے ہو مجھ پر تو بے شک نفوس قدسیہ ( پاک جانیں) جب بدن کے عَلاقوں سے جدا ہوتی ہیں ، یہ ارواح بلند ہوتی ہیں اور عالمِ بالا سے مل جاتی ہیں اور ان کے لئے کوئی پردہ نہیں رہتا اور سب کچھ خود دیکھتی ہیں یا بادشاہت کی خبریں پاتی ہیں اور اس میں راز ہے جس کی اطلاع وہ پاتے ہیں جو کھوج کریں

          اس کو حجة الله البالغة میں شاہ ولی الله نے بھی بیان کیا ہے
          فَإِذا مَاتَ انْقَطَعت العلاقات، وَرجع إِلَى مزاجه، فلحق بِالْمَلَائِكَةِ، وَصَارَ مِنْهُم، وألهم كالهامهم، وسعى فِيمَا يسعون فِيهِ.
          جب اولیاء الله مر جاتے ہیں ان کے علاقات ٹوٹ جاتے ہیں اور وہ اپنے اصل مزاج پر آ جاتے ہیں اور فرشتوں سے مل جاتے ہیں اور ان پر فرشتوں کی طرح الہام شروع ہو جاتا ہے اور وہ بھی جدو جہد کرتے ہیں جیسے فرشتے کرتے ہیں

          نذر کو فتوح بھی کہا جاتا ہے

          جب علماء نے یہ مان لیا کہ ارواح فرشتوں کی طرح الہام پاتی کہیں بھی جا سکتی ہیں ان کو علم ہو جاتا ہے تو پھر اسی قسم کے لوگوں نے کشف قبور اور قبروں سے فیض کا سلسلہ جاری کیا اور اس میں صاحب قبر کو خوش کرنے کے نام کی نذر کرتے ہیں

          ———
          عمل کا مدار نیت پر ہے
          جب ارادہ ہو کہ صاحب قبر کی نذر کرنی ہے تو پھر برابر ہے کہ ذبح کرتے وقت غیر الله کا نام لیا گیا یا نہیں – یہ جانور غیر الله سے منسوب ہو چکا
          کیونکہ یہ ذبح کرنا عبادت ہے جس کا فیصلہ ظاہر پر نہیں دل پر کیا تھا -اس پر اس کا فیصلہ ہوتا ہے اور الله کو دلوں کا حال خوب معلوم ہے
          جب نماز جیسی چیز میں دکھاوا منع ہے تو قربانی میں اصول الگ کیسے ہو گئے ؟

  96. shahzad khan says:

    بھائی متشابہات سے کیا مراد ہے ۔۔متشابہات آیات سے مراد اک صاحب کا کہنا ہے کہ جیسے فرعون کے بارے میں قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ میں تیرے جسم کو عبرت کے لئے باقی رکھوں گا ۔۔۔جب تک فرعون کی لاش سمندر سے باہر نہ آیی تب تک یہ آیت متشابہہ تھی اور جب وہ دریافت کر لی گئی تو یہ آیت محکم ہو گئی ۔۔اسی طرح قرآن میں اور بھی ایسی آیات ہی کہ جن حقیقت کا علم انسان کو آہستہ آہستہ ملتا گیا جس طرح دنیا کی بیضوی شکل چاند ستاروں کی گردش کا علم جو انسان کو بعد میں ٹیکنالوجی کی مدد سے معلوم پڑا جو قرآن پاک میں 1400 سال پہلے لکھا موجود تھا ۔۔۔۔رہنمائی فرما دیں جذاک اللہ خیرا

    • Islamic-Belief says:

      متشابھات کی تعریف قرآن میں موجود ہے

      سوره ال عمران میں ہے
      هُوَ الَّـذِىٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ اٰيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتَابِ وَاُخَرُ مُتَشَابِـهَاتٌ ۖ فَاَمَّا الَّـذِيْنَ فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَآءَ تَاْوِيْلِهٖ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيلَهٝٓ اِلَّا اللّـٰهُ ۗ وَالرَّاسِخُوْنَ فِى الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُو الْاَلْبَابِ (7)
      وہی ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری اُس میں بعض آیتیں محکم ہیں (جن کے معنیٰ واضح ہیں) وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری مُتَشَابِـهَاتٌ ہیں (جن کے معنیٰ معلوم یا معین نہیں)، سو جن لوگو ں کے دل ٹیڑھے ہیں وہ گمراہی پھیلانے کی غرض سے اور مطلب معلوم کرنے کی غرض سے متشابہات کے پیچھے لگتے ہیں، اور حالانکہ ان کا مطلب سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہمارا ان چیزوں پر ایمان ہے یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہی ہیں، اور نصیحت وہی لوگ مانتے ہیں جو عقلمند ہیں۔

      ——————
      شیعہ اہل حدیث اور وہابی کہتے ہیں کہ مُتَشَابِـهَاتٌ کا علم انسانوں کو ہے
      شیعہ کہتے ہیں اہل بیت کو اور اہل حدیث اور وہابی کہتے ہیں کہ اصحاب رسول کو ہے
      راقم اور اشاعرہ علماء کہتے ہیں اس کا علم صرف الله کو ہے

      ————
      ابن تیمیہ کتاب درء تعارض العقل والنقل میں کہتے ہیں
      فتبين أن قول أهل التفويض الذين يزعمون أنهم متبعون للسنة والسلف من شر أقوال أهل البدع والإلحاد.
      فإن قيل: أنتم تعلمون أن كثيراً من السلف رأوا أن الوقف عند قوله {وما يعلم تأويله إلا الله} [آل عمران: 6] ، بل كثير من الناس يقول: هذا هو قول السلف، ونقلوا هذا القول عن أبي بن كعب وابن مسعود وعائشة وابن عباس وعروة بن الزبير وغير واحد من السلف والخلف، وإن كان القول الآخر ـوهو أن السلف يعلمون تأويله ـ منقولاً عن ابن عباس أيضاً، وهو قول مجاهد ومحمد بن جعفر وابن إسحاق وابن قتيبة وغيرهم، وما ذكرتموه قدح في أولئك السلف وأتباعهم.
      پس جان لو کہ اہل تفویض کا قول جو دعوی کرتے ہیں کہ وہ سلف اور سنت کے متبع ہیں ان کا قول اہل بدعت و الحاد میں سب سے شری ہے- پس اگر کہا جائے تم جانتے ہو کہ سلف میں سے کثیر کا قول ہے کہ آیت وما يعلم تأويله إلا الله} [آل عمران: 6] (اور ان آیات کی تاویل کوئی نہیں جانتا سوائے الله کے ) میں یہاں پر وقف ہے (تو میں ابن تیمیہ کہتا ہوں) بلکہ لوگوں میں سے بہت سے کہتے ہیں کہ یہ قول سلف ہے اور یہ أبي بن كعب وابن مسعود وعائشة وابن عباس وعروة بن الزبير اور ایک سے زائد سلف و خلف سے نقل کیا گیا ہے، اور (میں اس کے خلاف کہتا ہوں کہ) دوسرا قول (یہ بھی) ہے کہ سلف ان (آیات متشابھات) کی تاویل جانتے تھے جو ابن عباس سے منقول ہے اور یہ قول ہے مجاہد کا محمد بن جعفر کا ابن اسحاق کا ابن قیتبہ کا اور دوسروں کا اور جو تم (اہل تفویض) نے ذکر کیا اس سے ان سلف کی اور ان کی اتباع کرنے والوں کو قدح ہوتی ہے
      ابن تیمیہ کتاب میں اہل تفویض پر کہتے ہیں
      ويظنون أن هذا معنى قوله: {وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللهُ} [آل عمران: 7] مع نصرهم للوقف على ذلك؛ فيجعلون مضمون مذهب السلف أن الرسول بلغ قرآنًا لا يفهم معناه، بل تكلم بأحاديث الصفات وهو لا يفهم معناها، وأن جبريل كذلك، وأن الصحابة والتابعين كذلك. وهذا ضلال عظيم، وهو أحد أنواع الضلال في كلام الله والرسول صلى الله عليه وسلم، ظن أهل التخييل، وظن أهل التحريف والتبديل، وظن أهل التجهيل
      اور یہ گمان کرتے ہیں کہ الله تعالی کے قول کا معنی ہے کہ ان آیات (متشابھات) کی تاویل کوئی نہیں جانتا سوائے الله کے – تو مدد لیتے ہیں وقف سے یہاں پر – پس یہ سلف کے مذھب کا مضمون بنا دیتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایسا قرآن لائے جس کے معنی کا ان کو علم نہ تھا بلکہ انہوں نے جو صفات میں احادیث بیان کیں ان کا علم نہ تھا اور ایسا ہی جبریل کے لئے ہوا- اور ان کے اصحاب اور تابعین کا بھی یہی عالم تھا اور یہ سخت گمراہی ہے اور یہ ان گمراہیوں میں سے ہے جو کلام الله اور کلام رسول پر ہے
      بن باز فتاوى نور على الدرب لابن باز” (ص 65) میں کہتے ہیں
      المفوضة قال أحمد فيهم : إنهم شر من الجهمية ، والتفويض أن يقول القائل : الله أعلم بمعناها فقط ، وهذا لا يجوز ; لأن معانيها معلومة عند العلماء . .
      المفوضة تو ان پر امام احمد نے کہا یہ الجهمية سے بھی زیادہ شری ہیں- اور التفويض یہ قول ہے کہ کہنے والا کہے (آیات متشابھات) کا مطلب صرف الله جانتا ہے- اور یہ جائز نہیں ہے کیونکہ علماء کو ان کے معنی کی معلومات ہیں-
      الفتوى الحموية الكبرى میں ابن تیمیہ کہتے ہیں
      التأويل هو تفسير الكلام، سواء وافق ظاهره أو لم يوافقه، وهذا هو التأويل في اصطلاح جمهور المفسرين وغيرهم، وهذا التأويل يعلمه الراسخون في العلم، وهو موافق لوقف من وقف من السلف على قوله تعالى: {وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ} كما نقل ذلك عن ابن عباس، ومجاهد، ومحمد بن جعفر بن الزبير، ومحمد بن إسحاق، وابن قتيبة وغيرهم.
      تاویل سے مراد کلام کی تفسیر ہے یہ برابر ہے چاہے یہ ظاہری موافقت رکھتی ہو یا نہیں- اور یہ تاویل جمہور مفسرین اور دیگر کی اصطلاح ہے اور یہ تاویل علم میں راسخ لوگ جانتے ہیں اور یہ موافق ہے اس وقف سے جو سلف سے اس آیت قوله تعالى: {وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ} پر آیا جو ان سے نقل کیا گیا ہے

      الصفدية میں ابن تیمیہ کہتے ہیں
      والمقوصد هنا أن السلف كان أكثرهم يقفون عند قوله {وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلا اللَّهُ} بناء على أن التأويل الذي هو الحقيقة التي استأثر الله بعلمها لا يعلمها إلا هو وطائفة منهم كمجاهد وابن قتيبة وغيرهما قالوا بل الراسخون يعلمون التأويل ومرادهم بالتأويل المعنى الثاني وهو التفسير
      اور یہاں مقصود یہ کہنا ہے کہ سلف میں سے اکثر {وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلا اللَّهُ} پر وقف کرتے ہیں کیونکہ تاویل جو ہے یہ حقیقت ہے جس تک اللہ کی رسائی ہے اپنے علم کی وجہ سے اس کو سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا اور ایک سلف کا گروہ جن میں مجاہد اور ابن قتیبہ ہیں وہ کہتے ہیں بلکہ جو علم میں راسخ ہیں وہ تاویل کو اور مراد تاویل کو جانتے ہیں جو اس کا دوسرا معنی ہے جس کو تفسیر کہتے ہیں
      ———-
      نوٹ
      لب لباب یہ ہے کہ المشبھہ کے نزدیک آیات جو الله تعالی سے متعلق ہیں ان کا علم اصحاب رسول کو تھا کہ ان کیا مطلب ہے اور احادیث صفات میں جو الفاظ ہیں ان کو ظاہر پر لیں گے- المفوضہ کہتے ہیں ان کا مطلب سواۓ الله کے کوئی نہیں جانتا ان کو پڑھا جائے گا ان کے مطلب کی کھوج نہیں کی جائے گی- معتزلہ جن کو اس معاملے میں معطلہ کہا جاتا ہے کہ ان صفات کا انکار کر دیا جائے جو بشر میں بھی ہیں مثلا سمع و بصر

      یعنی وہابی یا اہل حدیث ابن تیمیہ اور بن باز کا قول ہے کہ آیات متشابھات کی تاویل الله تعالی اور علماء کو معلوم ہے جو سلف سے منقول ہے ———
      راقم کہتا ہے یاد رہے کہ قرآن میں حروف مقطات بھی ہیں جن کا علم سوائے الله کے کسی کو نہیں اور ہم ان کو پڑھتے ہیں تو المشبھہ کا کلام باطل ہے کہ الله نے ایسا قرآن بھیجا جس کا مطلب صرف وہ جانتا تھا

      مزید تفصیل کے لئے کتاب التوحید و الاسماء الحسنی کو دوبارہ ڈونلوڈ کر کے اس کا پیش لفظ پڑھیں
      ——–

      جب الله تعالی کوئی حکم کریں مثلا فرشتوں کو کریں یا موسی سے یا فرعون سے براہراست کلام کریں تو یہ محکم ہے
      اس کو متشابہ نہیں کہا جاتا- متشابہ میں وہ حقائق ہیں جن پر ایمان لایا جاتا ہے لیکن اس کا فہم مکمل نہیں ہے
      مثلا فرشتوں کی ساخت ان کا نزول – الله تعالی کا عرش اس کا استوی، سات آسمان کی حقیقت وغیرہ

  97. وجاہت says:

    کیا یہ اسرائیلی روایت ہے

    صحيح البخاري: كِتَابُ بَدْءِ الخَلْقِ (بَابُ صِفَةِ الشَّمْسِ وَالقَمَرِ بِحُسْبَانٍ) صحیح بخاری: کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیوں کر شروع ہوئی (باب : سورہ رحمن کی اس آیت کی تفسیر کہ سورج اور چاند دونوں حسا ب سے چلتے ہیں ۔)

    3199

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِأَبِي ذَرٍّ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ: «أَتَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ؟»، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ العَرْشِ، فَتَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَيُوشِكُ أَنْ تَسْجُدَ، فَلاَ يُقْبَلَ مِنْهَا، وَتَسْتَأْذِنَ فَلاَ يُؤْذَنَ لَهَا يُقَالُ لَهَا: ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ العَزِيزِ العَلِيمِ} [يس: 38]

    حکم : صحیح 3199

    ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابراہیم تیمی نے ، ان سے ان کے باپ یزید بن شریک نے اور ان سے ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورج غروب ہوا تو ان سے پوچھا کہ تم کو معلوم ہے یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے پہنچ کر پہلے سجدہ کرتا ہے ۔ پھر ( دوبارہ آنے ) کی اجازت چاہتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے اور وہ دن بھی قریب ہے ، جب یہ سجدہ کرے گا تو اس کا سجدہ قبول نہ ہو گا اور اجازت چاہے گا لیکن اجازت نہ ملے گی ۔ بلکہ اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے آیا تھا وہیں واپس چلا جا ۔ چنانچہ اس دن وہ مغربی ہی سے نکلے گا ۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴾ وَالشَّمسُ تَجرِی لِمُستَقَرٍّ لَّہَا ذٰلِک َتَقدِیرُ العَزِیزِ العَلِیم﴿ ( یٰس ٓ : ۸۳ ) میں اسی طرف اشارہ ہے ۔

    —–

    اس کے حاشیہ میں یہ لکھا ہے سلفی علماء نے

    حدیث حاشیہ: اس حدیث میں منکرین حدیث نے کئی اشکال پیدا کئے ہیں، ایک یہ کہ سورج زمین کے نیچے جاتا ہے نہ عرش کے نیچے۔ اور دوسری روایت میں یہ مضمون موجود ہے تغرب فی عین حمئۃ دوسرے یہ کہ زمین اور آسمان گول کرے ہیں تو سورج ہر وقت عرش کے نیچے ہے۔ پھر خاص غروب کے وقت جانے کے کیا معنی؟ تیسرے سورج ایک بے روح اور بے عقل جسم ہے اس کا سجدہ کرنا اور اس کو اجازت ہونے کے کیا معنی؟ چوتھے اکثر حکیموں نے مشاہدہ سے معلوم کیا ہے کہ زمین متحرک اور سورج ساکن ہے تو سورج کے چلنے کے کیا معنے؟ پہلے اشکال کا جواب یہ ہے کہ جب زمین کروی ہوئی تو ہر طرح سے عرش کے نیچے ہوئی اس لیے غروب کے وقت یہ کہہ سکتے ہیں کہ سورج زمین کے نچیے گیا اور عرش کے نیچے گیا۔ دوسرے اشکال کا جواب یہ ہے کہ بے شک ہر نقطے اور ہر مقام پر سورج عرش کے نیچے ہے اور وہ ہر وقت اپنے مالک کے لیے سجدہ کررہا ہے اور اس کے آگے بڑھنے کی اجازت مانگ رہا ہے لیکن چونکہ ہر ملک والوں کا مغرب اور مشرق مختلف ہے اس لیے طلوع اور غروب کے وقت کو خاص کیا۔ تیسرے اشکال کا جواب یہ کہ کہاں سے معلوم ہوا کہ سورج بے جان اور بے عقل ہے۔ بہت سی آیات و احادیث سے سورج اور چاند اور زمین اور آسمان سب کا اپنے اپنے درجہ میں صاحب روح ہونا ثابت ہے۔ چوتھے اشکال کا جواب یہ ہے کہ بہت سے حکیم اس امر کے بھی قائل ہیں کہ زمین ساکن ہے اورسورج اس کے گرد گھومتا ہے اور اس بارے میںطرفین کے دلائل متعارض ہیں۔ اور ظاہر قرآن و حدیث سے تو سورج اور چاند اور تاروں ہی کی حرکت نکلتی ہے۔ ( مختصر از وحیدی ) آیت شریفہ والشمس تجري لمستقرلہا ( یٰس: 38 ) میں مستقر سے مراد بقائے عالم کا انقطاع ہے یعنی الی انقطلاع بقاءمدۃ العالم اماقولہ مستقرلہا تحت العرش فلا ینکران یکون لہا استقراءتحت العرش من حیث لاندرکہ ولا نشاہدہ و انما اخبر عن غیب فلا نکذبہ ولا نکیفہ لان علمنا لا یحیط بہ۔ انتہیٰ کلام الطیبی

    =======

    شیعہ حضرت کا یہ اعترض ہے
    http://www.imgrum.org/media/977427206680765884_1742540152

    • Islamic-Belief says:

      انگریزی کا ترجمہ غلط سلط ہو جاتا ہے بعض اوقات لہذا اس کو دینے کی ضرورت نہیں میں خود عربی دان نہیں لیکن مختلف لغت دیکھ کر کام چلا لیتا ہو

      بہر حال شیعہ صاحب نے امام بخاری کو لتاڑا ہے کہ کیا اس شخص کو علم نہیں کہ سورج طلوع ہوتا ہے وغیرہ اور اس روایت کو خرافات کہا ہے

      یہ روایت بلا جرح محمد باقر المجلسيى نے بھی کتاب بحار الأنوار ج ٥٥ ص ٢١٠ میں نقل کی ہے
      وعن أبى ذر – ره – قال: كنت مع النبي صلى الله عليه وآله في المسجد عند غروب الشمس، فقال: يا باذر (9) أتدري أين تغرب الشمس ؟ قلت: الله ورسوله أعلم، فقال: إنها تذهب حتى تسجد تحت العرش فتستأذن في الرجوع، فيؤذن لها، فذلك قوله (والشمس تجري لمستقر لها

      مجلسی نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا
      ———

      آج کے دور میں ہم پر واضح ہوا ہے کہ زمین ، سورج کے گرد کھوم رہی ہے اور محور پر بھی گھوم رہی ہے آج سے ٢٠٠ سال پہلے لوگوں کو اس کا علم نہیں تھا
      لہذا قدیم شیعوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا

      ———–
      لیکن سورج کا مغرب کے طلوع ہونا بطور قیامت کی نشانی اہل تشیع اور اہل سنت میں معروف ہے

      الخصال – از الصدوق – ص 431 – 432 کی روایت ہے

      عن أبي الطفيل ( 2 ) ، عن حذيفة بن أسيد قال : اطلع علينا رسول الله صلى الله عليه وآله من غرفة له ونحن نتذاكر الساعة ، قال رسول الله صلى الله عليه وآله : لا تقوم الساعة حتى تكون عشر آيات : الدجال ، والدخان ، وطلوع الشمس من مغربها ، ودابة الأرض ، و يأجوع ومأجوج ، وثلاث خسوف : خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة ‹ صفحة 432 › العرب ، ونار تخرج من قعر عدن تسوق الناس إلى المحشر ، تنزل معهم إذا نزلوا وتقيل معهم إذا قالوا . عشر خصال جمعها الله عز وجل لنبيه وأهل بيته صلوات الله عليهم

      حذيفة بن أسيد کہتے ہیں ان کو رسول الله صلى الله عليه وآله نے خبر دی اپنے غرفة میں اور ہم وہاں قیامت کا ذکر کر رہے تھے رسول الله صلى الله عليه وآله نے فرمایا قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ دس نشانیاں ہوں دجال دھواں سورج کا مغرب سے طلوع ہونا دابه الارض یاجوج اور ماجوج تین خسوف مغرب مشرق اور عرب میں اور اگ جو عدن کی تہہ سے نکلے گی اور لوگوں کو محشر کی طرف جمع کرے گی

      یہی روایت صحیح مسلم میں بھی ہے
      ———–
      مصطفى البغا صحیح بخاری کی تعلیق میں کہتے ہیں
      السموات والأرض وغيرهما من العوالم كلها تحت العرش ففي أي موضع سقطت وغربت فهو تحت العرش
      آسمان ہوں یا زمین اور دیگر ان عالموں میں سب عرش کے نیچے ہیں جو جہاں سے بھی سورج طلوع ہو یا غروب وہ عرش کے نیچے ہی ہوا

      یہ روایت ایک ہی سند سے ہے
      عَنْ الْأَعْمَشِ, عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ, عَنْ أَبِيهِ, عَنْ أبِي ذَرٍّ
      اس میں اعمش مدلس ہے

      اس میں اعمش کا تفرد ہے جو مدلس ہے اور ذخیرہ احادیث میں اس مخصوص روایت کی ہر سند میں اس نے عن سے ہی روایت کیا ہے

      کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل از العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق

      وقال سفيان الثوري لم يسمع الأعمش حديث إبراهيم في الوضوء من القهقهة منه

      سفيان الثوري کہتے ہیں کہ الأعمش نے ابراہیم کی حدیث وضو میں قہقہہ پر نہیں سنی

      احمد یہ بات العلل میں کہتے ہیں

      قال سفيان: لم يسمع الأعمش حديث إبراهيم في الضحك.

      کتاب المعرفة والتاريخ کے مطابق امام احمد کہتے تھے کہ ابراہیم سے روایت کرنے میں اگر اعمش یا منصور غلطی کریں تو فوقیت منصور کودو

      وقال الفضل بن زياد: سمعت أبا عبد الله أحمد بن حنبل، وقيل له: إذا اختلف

      منصور، والأعمش، عن إبراهيم فبقول من تأخذ؟ قال: بقول منصور، فإنه أقل سقطاً

      تدليس الإسناد کے حوالے سے علم حدیث کی کتابوں میں یہ بات موجود ہے کہ اسناد میں گڑبڑ ہوئی ہے مثلا أبو عوانة نے عن الأعمش عن إبراهيم التيمي، عن أبيه، عن أبي ذر کی سند سے روایت کیا ہے

      أن النبي – صلى الله عليه وسلم – قال: فلان في النار ينادي، يا حنان يا منان.

      قال أبو عوانة: قلت للأعمش سمعت هذا من إبراهيم؟ قال: لا، حدثني به حكيم بن جبير عنه.

      ابو عوانة کہتے ہیں میں نے اعمش سے پوچھا تم نے یہ روایت ابراہیم سے سنی ہے ؟ بولے نہیں اس کو حكيم بن جبير نے ان سے روایت کیا ہے دیکھئے معرفة علوم الحديث ص: 105 پر

      اسی طرح العلل دارقطنی میں ہے

      وَسُئِلَ عَنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاتَيْنِ تَنْتِطَحَانِ.

      فَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، وَلَا يَثْبُتُ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحديث.

      الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ کی سند سے روایت ہے اس کو دارقطنی کہتے ہیں اعمش سے ثابت نہیں ہے

      اب مثالیں موجود ہیں کہ اعمش جب عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ کی سند سے روایت کرتے ہیں تو بعض اوقات انہوں نے تدلیس کی ہے
      ———-

      اگر روایت سندا صحیح ہے تو قرآن مين ہے

      أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ ۖ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ ۗ وَمَن يُهِنِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ
      سوره الحج
      سورج الله کو سجدہ کرتا ہے اس کی ماہیت و کیفیت الله کے علم میں ہے حدیث میں اغلبا کہا گیا کہ سورج کا غروب ہونا اس کا سجدہ کرنا ہے
      و الله اعلم
      ——–
      وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ العَزِيزِ العَلِيمِ} [يس: 38]
      اور سورج چل رہا ہے اپنے مستقر کی طرف یہ مقدر ہے (الله) زبردست جاننے والے کی طرف ہے

      سولر سسٹم کی نئی تھووری ہے کہ سورج کسی مستقر کی طرف جا رہا ہے اور تمام سیارے اس کے ساتھ ساتھ خلا میں جا رہے ہیں

      https://www.youtube.com/watch?v=mvgaxQGPg7I
      میں نے جب اس وڈیو کو دیکھا تو دماغ میں یہی آیت آئی

  98. وجاہت says:

    صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ (بَابُ قَوْلِهِ {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى}) صحیح بخاری: کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں (باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد (( واتخذ وا من مقام ابراہیم مصلی )) کی تفسیر)
    4483 . حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ وَافَقْتُ اللَّهَ فِي ثَلَاثٍ أَوْ وَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلَاثٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ اتَّخَذْتَ مَقَامَ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى وَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَلَوْ أَمَرْتَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِالْحِجَابِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ قَالَ وَبَلَغَنِي مُعَاتَبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ نِسَائِهِ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِنَّ قُلْتُ إِنْ انْتَهَيْتُنَّ أَوْ لَيُبَدِّلَنَّ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا مِنْكُنَّ حَتَّى أَتَيْتُ إِحْدَى نِسَائِهِ قَالَتْ يَا عُمَرُ أَمَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَعِظُ نِسَاءَهُ حَتَّى تَعِظَهُنَّ أَنْتَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبَدِّلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ الْآيَةَ وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ سَمِعْتُ أَنَسًا عَنْ عُمَرَ
    حکم : صحیح 4483 . ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے ، ان سے حمید طویل نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرما یا ، تین مواقع پر اللہ تعالیٰ کے نازل ہونے والے حکم سے میری رائے نے پہلے ہی موافقت کی یا میرے رب نے تین مواقع پر میری رائے کے موافق حکم نازل فرمایا ۔ میں نے عرض کیا تھا کہ یارسول اللہ ! کیا اچھا ہوتا کہ آپ مقام ابراہیم کو طواف کے بعد نما ز پڑھنے کی جگہ بناتے تو بعد میں یہی آیت نازل ہوئی ۔ اور میں نے عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ ! آپ کے گھر میں اچھے اور برے ہرطرح کے لوگ آتے ہیں ۔ کیا اچھا ہوتا کہ آپ امہات المو منین کو پردہ کا حکم دے دیتے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت حجاب ( پردہ کی آیت ) نازل فرمائی اور انہوں نے بیان کیا اور مجھے بعض ازواج مطہرات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خفگی کی خبر ملی ۔ میں نے ان کے یہاں گیا اور ان سے کہا کہ تم باز آجاؤ ، ورنہ اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بدل دے گا ۔ بعد میں ازواج مطہرات میں سے ایک کے یہا ں گیا تووہ مجھ سے کہنے لگیں کہ عمر ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی ازواج کو اتنی نصیحتیں نہیں کر تے جتنی تم انہیں کر تے رہتے ہو ۔ آخر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ۔ ” کوئی تعجب نہ ہونا چاہئیے اگر اس نبی کا رب تمہیں طلاق دلا دے اور دوسری مسلمان بیویاں تم سے بہتربدل دے ، آخر آیت تک ۔ اور ابن ابی مریم نے بیان کیا ، انہیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی ، ان سے حمیدنے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے عمر رضی ا للہ عنہ سے نقل کیا ۔

    —-

    کیا اس حدیث کے یہ الفاظ صحیح ہیں

    =========
    بعد میں ازواج مطہرات میں سے ایک کے یہا ں گیا تووہ مجھ سے کہنے لگیں کہ عمر ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی ازواج کو اتنی نصیحتیں نہیں کر تے جتنی تم انہیں کر تے رہتے ہو
    =======

    جبکہ دوسری حدیث میں یہ الفظ نہیں ہیں

    http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/402

    اسی پر ہی اعترض کیا گیا

    http://www.imgrum.org/media/975898327986103419_1742540152

    • Islamic-Belief says:

      جس میں الفاظ نہیں اس کی سند ہے
      حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ

      جس میں الفاظ ہیں یعنی جو اپ نے دی اس کی سند ہے
      حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ

      یعنی ممکن ہے حمید الطویل نے اس میں سے یہ الفاظ بیان نہ کیے ہوں
      یہ کام مطلقا امام بخاری کا ہے یہاں ثابت نہیں ہوتا

  99. وجاہت says:

    صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے

    http://library.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?idfrom=2583&idto=2583&bk_no=0&ID=1731

    یہی حدیث محدث سافٹ ویئر میں یہاں ہے

    http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/2731

    http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/2732

    لیکن اس حدیث کے یہ الفاظ جو آخر میں ہیں – یہ کیا حدیث کا حصہ نہیں ہیں ان کو نہ عربی میں شامل کیا گیا نہ ان کا اردو ترجمہ کیا گیا

    قال أبو عبد الله معرة العر الجرب تزيلوا تميزوا وحميت القوم منعتهم حماية وأحميت الحمى جعلته حمى لا يدخل وأحميت الحديد وأحميت الرجل إذا أغضبته إحماء وقال عقيل عن الزهري قال عروة فأخبرتني عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يمتحنهن وبلغنا أنه لما أنزل الله تعالى أن يردوا إلى المشركين ما أنفقوا على من هاجر من أزواجهم وحكم على المسلمين أن لا يمسكوا بعصم الكوافر أن عمر طلق امرأتين قريبة بنت أبي أمية وابنة جرول الخزاعي فتزوج قريبة معاوية وتزوج الأخرى أبو جهم فلما أبى الكفار أن يقروا بأداء ما أنفق المسلمون على أزواجهم أنزل الله تعالى وإن فاتكم شيء من أزواجكم إلى الكفار فعاقبتم والعقب ما يؤدي المسلمون إلى من هاجرت امرأته من الكفار فأمر أن يعطى من ذهب له زوج من المسلمين ما أنفق من صداق نساء الكفار اللائي هاجرن وما نعلم أن أحدا من المهاجرات ارتدت بعد إيمانها وبلغنا أنأبا بصير بن أسيد الثقفي قدم على النبي صلى الله عليه وسلم مؤمنا مهاجرا في المدة فكتب الأخنس بن شريق إلى النبي صلى الله عليه وسلم يسأله أبا بصير فذكر الحديث

    —–

    اور یہی حدیث اسی سند سے صحيح ابن حبان میں بھی آئ ہے

    http://shamela.ws/browse.php/book-1734#page-9722

    لیکن اس میں یہ الفظ ہیں

    قال عمر بن الخطاب (رضوان الله عليه): فعملت في ذلك أعمالاً. يعني في نقض الصحيفة

    لیکن صحیح بخاری میں یہ الفظ نہیں

    صحیح بخاری کی سند پوری کی ہی ہے

    مصنف عبد الرزاق الصنعاني

    http://shamela.ws/browse.php/book-13174#page-10482

    یہ الفظ کس نے حذف کیے اور زیادہ ادا کیے

    قال عمر بن الخطاب (رضوان الله عليه): فعملت في ذلك أعمالاً. يعني في نقض الصحيفة

    شیعہ کا پورا اعترض یہ ہے

    https://ahlubait.wordpress.com/2012/05/06/umar-and-his-doubts-on-day-of-hudaibiyya/

    • Islamic-Belief says:

      قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ سے جو الفاظ شروع ہو رہے ہیں وہ امام بخاری کے الفاظ ہیں حدیث نہیں ہے
      قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: ” مَعَرَّةٌ العُرُّ: الجَرَبُ، تَزَيَّلُوا: تَمَيَّزُوا، وَحَمَيْتُ القَوْمَ: مَنَعْتُهُمْ حِمَايَةً، وَأَحْمَيْتُ الحِمَى: جَعَلْتُهُ حِمًى لاَ يُدْخَلُ، وَأَحْمَيْتُ الحَدِيدَ وَأَحْمَيْتُ الرَّجُلَ: إِذَا أَغْضَبْتَهُ إِحْمَاءً
      اس کے بعد ایک روایت بیان ہوئی ہے جس کو بعض کتابوں میں اس حدیث سے ملا دیا گیا ہے اور بعض میں اس کو الگ نمبر دیا گیا ہے
      ایسا شاملہ والے نسخہ میں ہے جس کے الفاظ یہاں ہیں
      http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/2733

      ———-
      شیعوں کے مطابق عمر رضی الله عنہ کو نبوت محمدی پر شک ہوا – یہ ان کا رفض ہے ایسا اس روایت نہیں ہے
      یہ کلام تو ہر انسان کرتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ وہ حق پر ہے لیکن اسکو مصلحتا کہا جاتا ہے کہ ابھی صلح کر لو

      مقاتل الطالبيين میں ہے حسین کے بیٹے نے کہا
      ياابتاه لا اراك الله سوء ابدا السنا على الحق؟
      اے باپ کیا ہم حق پر نہیں ؟

      ينابيع المودة میں ہے
      وفي رواية قال زهير: يا مولاي أرى الانكسار في وجهك بعد قتل العباس وحبيب ألسنا على الحق، قال: (بلى وحق الحق انا على الحق محقين)

  100. shahzad khan says:

    بخاری جلد ششم باب الدعوات 6335…
    ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا ان سے ہشام بن عروہ نے ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات ایک صحابی کو مسجد میں قرآن پڑھتے سنا تو فرمایا اللہ اس پر رحم فرمائے اس نے مجھے فلاں فلاں آیتیں یاد دلا دیں جو میں فلاں فلاں سورتوں سے بھول گیا تھا ۔۔۔۔
    اس کی تحقیق چاہیے بھائی ۔۔۔اس پر اعتراز کیا جا رہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ قرآن بھول جایا کرتے تھے۔۔۔۔

  101. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    أخبرنا محمد بن يوسف عن بن عيينة عن عمرو عن بجالة قال سمعته يقول : لم يكن عمر آخذ الجزية من المجوس حتى شهد عبد الرحمن بن عوف ان رسول الله صلى الله عليه و سلم أخذها من مجوس هجر
    قال حسين سليم أسد : إسناده صحيح على شرط البخاري

    سنن دارمی

    • Islamic-Belief says:

      اس کی سند میں بجاله مجہول ہے

      کتاب إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال از مغلطاي کے مطابق
      في كتاب «المعرفة» لأبي بكر البيهقي: روى الربيع بن سليمان عن الشافعي أنه قال: بجالة مجهول، ولسنا نحتج بمجهول.
      کتاب معرفة السنن والآثار میں بیہقی نے امام شافعی کا قول نقل کیا ہے بجاله مجھول ہے اور ہمارے لئے نہیں کہ ایک مجہول سے دلیل لیں

      اس کے برعکس سنن الکبری بیہقی میں ہے
      قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: حَدِيثُ بَجَالَةَ مُتَّصِلٌ ثَابِتٌ , وَإِنَّهُ أَدْرَكَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , وَكَانَ رَجُلًا فِي زَمَانِهِ كَاتِبًا لِعُمَّالِهِ
      شافعی نے کہا حدیث بجاله متصل ثابت ہے اس نے عمر کو پایا اور ان کے گورنروں کا کاتب تھا

      سنن الکبری میں بہیقی نے شافعی کا قول نقل کیا
      قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ تُقْتَلَ السُّحَّارُ , وَاللهُ أَعْلَمُ إِنْ كَانَ السِّحْرُ شِرْكًا , وَكَذَلِكَ أَمْرُ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا
      عمر رضی الله عنہ نے جادوگروں کے قتل کا حکم کیا و اللہ اعلم اگر مشرک ہوں اور یہ حفصہ رضی الله عنہا کا حکم تھا

      راقم کہتا ہے امام شافعی کی کتاب الام میں بھی بجاله کو مجہول کہا گیا ہے
      الأم 6: 125 قال: “بجالة رجل مجهول ليس بالمشهور، ولا يعرف أن جزء بن معاوية كان لعمر بن الخطاب عاملا

      بیہقی نے کتاب السنن الكبرى میں لکھا
      وَكَأَنَّ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللهُ لَمْ يَقِفْ عَلَى حَالِ بَجَالَةَ بْنِ عَبْدٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ عَبْدَةَ، حِينَ صَنَّفَ كِتَابَ الْحُدُودِ، ثُمَّ وَقَفَ عَلَيْهِ حِينَ صَنَّفَ كِتَابَ الْجِزْيَةِ، إِنْ كَانَ صَنَّفَهُ بَعْدَهُ
      شافعی بجاله کو نہیں جان سکے جب کتاب الحدود لکھی لیکن جن کتاب الجزیہ لکھی تب جان گئے

      بیہقی کہتے ہیں
      فَتَرَكَهُ مُسْلِمٌ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ
      اس کو مسلم نے ترک کر دیا اور بخاری نے حدیث لے لی

      یعنی امام شافعی کے اقوال میں ان کی ایک ہی کتاب میں تضاد ہے ایک مقام پر بجاله کو مجہول کہا دوسرے پر معروف

      قال الدَّارَقُطْنِيّ: لم يسمع من عمر، وإنما يأخذ من كتابه، وهو حجة في قبول المكاتبة، ورواية الإجازة. «الإلزامات والتتبع» صفحة 291.
      دارقطنی نے کہا اس بجالہ کا سماع عمر سے نہیں ہے بلکہ ان کا کاتب تھا اور خطوط کے حوالے سے اس کی بات لی جا سکتی ہے جو اجازہ ہے

      فقہ میں مجہول کی روایت کو حسن کہہ کر اس سے دلیل لی جاتی ہے – اس بنا پر بعض فقہاء نے اس روایت کو دلیل لیا ہے

  102. Aysha butt says:

    Sir sahih bukhri ki 1190 0no riwayt par tehqiq chahiye
    K Nabi s.a w ne kha k meri masjid mn namaz 1hazar namazon k braber hai siwaye harm k

  103. abu abdullah says:

    اسلام و عيلكم
    مسلم كى حديث ,اسلام قرب قيامت مين ,مدینےمیں اس طرح لوٹے گاجیسے سانپ ا پنی کنڈ لی میں لوٹتا ھے
    اپ کی تحقیق ، اس بارے میں کیا ہے

    • Islamic-Belief says:

      و علیکم السلام
      وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَالْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ، وَهُوَ يَأْرِزُ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ فِي جُحْرِهَا»

      سیدنا ابن عمرؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ اسلام اجنبیت میں شروع ہوا اور پھر اجنبی ہو جائے گا جیسے کہ شروع ہوا تھا اور وہ سمٹ کر دونوں مسجدوں (مکہ مدینہ) کے درمیان میں آ جائے گا، جیسے کہ سانپ سمٹ کر اپنے سوراخ (بل) میں چلا جاتا ہے۔

      صحیح بخاری میں ہے
      حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ المُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى المَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا»
      أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے کہا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نے فرمایا ایمان مدینہ کی طرف ملنے اس طرح آئے گا جیسے سانپ بل میں

      اس کی تفسیر پر اختلاف ہے
      شرح السنہ میں بغوی نے اس روایت پر کہا ہے
      قِيلَ: كَانَ هَذَا زَمَانَ الرِّدَّةِ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي خِلافَةِ الصِّدِّيقِ.
      کہا جاتا ہے کہ یہ زمانہ ارتاد کا تھا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو خلافت ابو بکر صدیق میں ہوا

      ابن جوزی کا كشف المشكل من حديث الصحيحين میں کہنا ہے
      وَهَكَذَا فِي آخر الزَّمَان
      یہ آخری زمانے میں ہو گا

      ———

      صحیح مسلم میں ہے

      حَدَّثَني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “لِلْمَدِينَةِ لَيَتْرُكَنَّهَا أَهْلُهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ مُذَلَّلَةً لِلْعَوَافِي” يَعْنِي السِّبَاعَ وَالطَّيْرَ

      : زہیر بن حرب، ابوصفوان، عبداللہ بن عبدالملک، یونس بن یزید، حرملہ بن یحیی، ابن وہب یونس بن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ والوں کے لئے فرمایا کہ لوگ اسے خیر پر ہونے کے باوجود درندوں اور پرندوں کے لئے چھوڑ دیں گے
      —–
      مزید دیکھیں
      ⇑ مدینہ ویران کیوں ہو گا ؟
      http://www.islamic-belief.net/q-a/فتن-و-آثار/

  104. anum shoukat says:

    اذان کے وقت ڈوپٹہ سر پر نہ لینا گناہ ہے؟؟

    عورتوں کی نماز میں آستین فل نہ ہو تو نماز نہیں ہوتی؟؟؟

    سورت توبہ کی پہلی چار آیات میں مشرکین سے برات کا اعلان ہے وہ مشرک جنہوں نے معاہدہ تو ڑ دیا انکی مدت چار مہینے ہیں لیکن جنہوں نے معاہدہ نہیں توڑا انکی مدت جب تک ہے جب تک کہ معاہدہ پورا نہ ہو جائے تو میرا سوال یہ ہے کہ انکا معاہدہ پورا ہونے کی مدت کتنی تھی؟؟

    • Islamic-Belief says:

      اذان کے وقت ڈوپٹہ سر پر نہ لینا گناہ ہے؟؟
      جواب اس کی شرع میں دلیل معلوم نہیں
      ———
      عورتوں کی نماز میں آستین فل نہ ہو تو نماز نہیں ہوتی؟؟؟
      جواب آستیں فل ضروری نہیں ہے لیکن اس کی مقدار کم از کم کہنی تک ہو گی

      صحیح بخاری کی روایت ہے
      عبد الله بن عباس رضی الله عنہ سے مروی ہے  کہ ان سے پوچھا گیا: کیا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید کی نماز میں موجود تھے؟ انھوں نے کہا: ہاں، اگر میں چھوٹا نہ ہوتا تو عید میں موجود نہ ہوتا (آپ عید کے لیے نکلے) یہاں تک کہ کثیر بن الصلت کے گھر کے پاس اس جگہ پہنچے جہاں عید گاہ کا نشان تھا۔ پھر آپ نے نماز پڑھی (راوی کا قول ہے کہ پھر آپ نیچے اترے۔ گویا کہ میں انھیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ لوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے نیچے بٹھا رہے ہیں پھروہ ان کی صفوں کو چیرتے ہوئے عورتوں تک آئے اور آپ کے ساتھ بلال تھے۔ (پھر کہا: ’’اے نبی، جب تمھارے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کے لیے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی‘‘ (الممتحنہ ۶۰: ۱۲)) پھر آپ یہ آیت پڑھنے کے بعد فارغ ہوئے تو پوچھا: کیا تم اس بات پر ہو؟ (یعنی اس بات پر بیعت کرتی ہو)۔ ایک عورت کے سوا کسی نے آپ کو جواب نہ دیا۔ اس نے کہا: ہاں، اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، (راوی کا قول ہے کہ آپ نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور صدقہ و خیرات کا حکم دیا) (راوی کا قول ہے: پھر بلال نے کپڑا پھیلا دیا اور کہا: آؤ۔ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں)، پھر میں نے انھیں دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ بڑھا بڑھا کر صدقہ کو (ایک روایت میں ہے کہ وہ چھلے اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں) بلال کے کپڑے میں ڈال رہی ہیں۔ پھر آپ بلال کے ہمراہ اپنے گھر چلے گئے

      صحابی عورتوں کے ہاتھ دیکھ سکتے ہیں
      ———

      سورت توبہ کی پہلی چار آیات میں مشرکین سے برات کا اعلان ہے وہ مشرک جنہوں نے معاہدہ تو ڑ دیا انکی مدت چار مہینے ہیں لیکن جنہوں نے معاہدہ نہیں توڑا انکی مدت جب تک ہے جب تک کہ معاہدہ پورا نہ ہو جائے تو میرا سوال یہ ہے کہ انکا معاہدہ پورا ہونے کی مدت کتنی تھی؟؟

      جواب
      فَأَتِمُّوا إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلى مُدَّتِهِمْ
      پس تم ان پر تمام کرو اس عہد کی مدت کو
      سوره التوبہ

      جنہوں نے معاہدہ نہیں توڑا انکی مدت جب تک ہے جب تک کہ معاہدہ پورا نہ ہو جائے
      مجھے مدت کا علم نہیں ہے
      البتہ یقینا مدت وفات النبی سے قبل ختم ہوئی ہو گی کیونکہ عرب میں مندروں کو بحکم نبوی توڑ دیا گیا تھا

      وَقَالَ الْبَغَوِيُّ: الْمُرَادُ بِهَؤُلَاءِ الَّذِينَ اسْتَثْنَاهُمُ اللهُ تَعَالَى بَنُو ضَمْرَةَ وَحَيٌّ مِنْ كِنَانَةَ، وَقَالَ السُّدِّيُّ: هَؤُلَاءِ بَنُو ضَمْرَةَ وَبَنُو مُدْلِجٍ، حَيَّانِ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ، كَانُوا حُلَفَاءَ النَّبِيِّ ـ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ـ فِي غَزْوَةِ الْعُسْرَةِ مَنْ بَنِي تَبِيعٍ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: كَانَ لَبَنِي مُدْلِجٍ وَخُزَاعَةَ عَهْدٌ، فَهُوَ الَّذِي قَالَ اللهُ: فَأَتِمُّوا إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَى مُدَّتِهِمْ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ: هُمْ بَنُو خُزَيْمَةَ بْنِ عَامِرٍ مِنْ بَنِي بَكْرِ بْنِ كِنَانَةَ
      بغوی نے کہا اس مدت پوری کرنے والے قبائل میں بَنُو ضَمْرَةَ وَحَيٌّ قبیلہ كِنَانَةَ میں سے تھے اور السدی نے کہا بَنُو ضَمْرَةَ وَبَنُو مُدْلِجٍ، حَيَّانِ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ میں سے تھے اور یہ رسول الله کے حلیف تھے … اور مجاہد نے کہا بَنِي مُدْلِجٍ وَخُزَاعَةَ مراد ہیں جن کا رسول الله سے عہد ہوا ان کے لئے الله نے کہا کہ ان سے مدت پوری کرو اور مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ: هُمْ بَنُو خُزَيْمَةَ بْنِ عَامِرٍ مِنْ بَنِي بَكْرِ بْنِ كِنَانَةَ ہیں

      بنو کنانہ اور بَنُو خُزَيْمَةَ والے ایک دور میں قریش کے حلیف تھے ان کا ہی بت ھبل تھا جو کعبہ کے وسط میں تھا لیکن دور نبوی میں بَنُو خُزَيْمَةَ کا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے معاہدہ ہو گیا – یعنی یہ مشرک قبائل رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے حلیف ہو گئے تھے یہ قبائل مکہ کے جنوب میں تھے یمن کے رستے پر- اس کی وجہ قریش کی اغلبا مکہ میں حج پر اجارہ داری تھی کہ مشرکین عرب میں اپس میں پھوٹ پڑی اور الله تعالی نے اپنے نبی کی مدد کی

      ————
      نوٹ
      أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاهَدَ قُرَيْشًا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَنْ يَضَعُوا الْحَرْبَ عَشْرَ سِنِينَ يَأْمَنُ فِيهَا النَّاسُ
      رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے الْحُدَيْبِيَةِ میں قریش سے دس سال کی مدت کا معاہدہ کیا تھا کہ اس میں جنگ نہ ہو گی لوگوں کو امن ہو گا
      پھر اس میں خُزَاعَةُ والے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ بطور حلیف مل گئے اور بنو بکر قریش کے ساتھ بطور حلیف مل گئے
      قریش نے بنو بکر کی اسلحہ سے مدد کی تاکہ وہ خُزَاعَةُ کی خبر لیں- خُزَاعَةُ والے رسول الله کے پاس پہنچے اور تمام معاملہ بتایا
      اس طرح قریش نے معاہدہ توڑ دیا

  105. وجاہت says:

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    أخبرنا عبد الرزاق عن معمر عن الزهري قال: كنت عند الوليد بن عبد الملك، فكأنه تناول عائشة، فقلت له: يا أمير المؤمنين!
    ألا أحدثك عن رجل من أهل الشام كان قد أوتي حكمة؟ قال: من هو؟
    قلت: هو أبو مسلم الخولاني، وسمع أهل الشام كأنهم يتناولون من عائشة، فقال: أخبركم بمثلكم ومثل أمكم هذه، كمثل عينين (1) في رأس تؤذيان صاحبهما، ولا يستطيع أن يعاقبهما إلا بالذي هو خير لهما، قال: فسكت.
    قال الزهري: أخبرنيه أبو إدريس عنه أبي مسلم الخولاني

    المصنف عبد الرزاق

    http://library.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?ID=866&bk_no=60&flag=1

    http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=7272

    ===

    یعقوب بن سفیان نے اس کو المعرفة والتاريخ میں بیان کیا

    حدثني سلمة ثنا عبد الرزاق عن معمر عن الزهري قال: كنت عند الوليد بن عبد الملك فكأنه تناول من عائشة فقلت: يا أمير المؤمنين ألا أحدثك عن رجل من أهل الشام كان قد أُري حكمة. قال: من هو ؟ قلت أبو مسلم الخولاني

    http://islamport.com/w/tkh/Web/2296/270.htm

    یعقوب بن سفیان نے اس کو المعرفة والتاريخ میں اس کو سلمہ بن شباب کی سند سے بیان کیا

    http://library.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?idfrom=2226&idto=2226&bk_no=60&ID=2087

    ==============

    • Islamic-Belief says:

      حدثني سَلَمَةُ ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَكَأَنَّهُ تَنَاوَلَ مِنْ عَائِشَةَ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ كَانَ قَدْ أُرِيَ حِكْمَةً. قَالَ: من هو؟
      (118 ب) قُلْتُ أَبُو مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ.

      امام زہری نے کہا میں الولید بن عبد الملک کے پاس تھا پس انہوں نے گویا کہ عائشہ رضی الله عنہا پر جرح کی – میں نے کہا امیر المومنین کیا میں اس کی خبر دو اہل شام میں سے جس کو حکیم سمجھا جاتا ہو – الولید نے کہا کون؟ میں نے کہا ابو مسلم خولانی

      دوسری میں ہے
      سَمِعَ أَهْلَ الشَّامِ يَنَالُونَ مِنْ عَائِشَةَ فَقَالَ: أَلا أُخْبِرُكُمْ بِمَثَلِي وَمَثَلِ أُمِّكُمْ هَذِهِ، كَمَثَلِ عَيْنَيْنِ فِي رَأْسٍ يُؤْذِيانِ صَاحِبَهُمَا، وَلا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُعَاقِبَهُمَا إِلا بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ لهما، فَسَكَتَ
      میں نے اہل شام کو سنا وہ عائشہ پر جرح کرتے میں زہری نے ان سے کہا میں نے کہا تم کو خبر دوں کہ تم اور تمہاری ماں ایسے ہی ہیں جسے دو آنکھیں سر میں ہوں اور اس کے صاحب کو تکلیف ہو اور وہ قدرت نہ رکھتا ہو کہ اس کو ختم کر سکے سوائے اس کے کہ جو خیر ان آنکھوں میں ہو وہ لے- پس الولید چپ ہوا

      اغلبا ابو مسلم کا قول حکمت زہری نے الولید کو سنا کر سمجھایا کہ عائشہ رضی الله عنہا پر کلام کرنا بے کار ہے
      ———

      راقم کہتا ہے اس میں عبد الرزاق شیعہ کا اختلاط کا معاملہ لگ رہا ہے – امام زہری کی یہ روایت کسی اور سند سے نہیں ہے

  106. وجاہت says:

    حاشية السندي على سنن ابن ماجه میں اس حدیث اور اس حاشیہ کا ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    2474 – حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مَرْزُوقٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جَدْعَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ «يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمَاءُ وَالْمِلْحُ وَالنَّارُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْمَاءُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا بَالُ الْمِلْحِ وَالنَّارِ قَالَ يَا حُمَيْرَاءُ مَنْ أَعْطَى نَارًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا أَنْضَجَتْ تِلْكَ النَّارُ وَمَنْ أَعْطَى مِلْحًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا طَيَّبَ ذَلِكَ الْمِلْحُ وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَةً وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ لَا يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَحْيَاهَا»

    قَوْلُهُ: (قَالَ يَا حُمَيْرَاءُ) قَالَ السُّيُوطِيُّ فِي النِّهَايَةِ: الْحُمَيْرَاءُ تَصْغِيرُ الْحَمْرَاءِ يُرِيدُ الْبَيْضَاءَ وَقَدْ تَكَرَّرَ فِي الْحَدِيثِ، وَهَذَا الْحَدِيثُ أَوْرَدَهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ فِي الْمَوْضُوعَاتِ وَأَعَلَّهُ بِعَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: كُلُّ حَدِيثٍ وَرَدَ فِيهِ الْحُمَيْرَاءُ ضَعِيفٌ، وَاسْتُثْنِيَ مِنْ ذَلِكَ مَا أَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ الْوَرْدِ عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أُمِّ سَلِمَةَ قَالَتْ «ذَكَرَ النَّبِيُّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – خُرُوجَ بَعْضِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَضَحِكَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ: انْظُرِي يَا حُمَيْرَاءُ أَنْ لَا تَكُونِي أَنْتِ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى عَلِيٍّ فَقَالَ: إِنْ وُلِّيتَ مِنْ أَمْرِهَا شَيْئًا فَارْفُقْ بِهَا.» قَالَ الْحَاكِمُ: صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَمُسْلِمٍ، وَفِي الزَّوَائِدِ هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ لِضَعْفِ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ – وَاللَّهُ أَعْلَمُ -.

    http://shamela.ws/browse.php/book-9810/page-3003

    • Islamic-Belief says:

      ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سی ایسی چیز ہے جس کا روکنا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”پانی، نمک اور آگ” میں نے کہا: اللہ کے رسول! پانی تو ہمیں معلوم ہے کہ اس کا روکنا جائز اور حلال نہیں؟ لیکن نمک اور آگ کیوں جائز نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اے حمیراء! ۱ جس نے آگ دی گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جو اس پر پکا، اور جس نے نمک دیا گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جس کو اس نمک نے مزے دار بنایا، اور جس نے کسی مسلمان کو جہاں پانی ملتا ہے، ایک گھونٹ پانی پلایا گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا، اور جس نے کسی مسلمان کو ایسی جگہ ایک گھونٹ پانی پلایا جہاں پانی نہ ملتا ہو گویا اس نے اس کو نئی زندگی بخشی

      قَوْلُهُ: (قَالَ يَا حُمَيْرَاءُ) قَالَ السُّيُوطِيُّ فِي النِّهَايَةِ: الْحُمَيْرَاءُ تَصْغِيرُ الْحَمْرَاءِ يُرِيدُ الْبَيْضَاءَ وَقَدْ تَكَرَّرَ فِي الْحَدِيثِ، وَهَذَا الْحَدِيثُ أَوْرَدَهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ فِي الْمَوْضُوعَاتِ وَأَعَلَّهُ بِعَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: كُلُّ حَدِيثٍ وَرَدَ فِيهِ الْحُمَيْرَاءُ ضَعِيفٌ، وَاسْتُثْنِيَ مِنْ ذَلِكَ مَا أَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ الْوَرْدِ عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أُمِّ سَلِمَةَ قَالَتْ «ذَكَرَ النَّبِيُّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – خُرُوجَ بَعْضِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَضَحِكَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ: انْظُرِي يَا حُمَيْرَاءُ أَنْ لَا تَكُونِي أَنْتِ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى عَلِيٍّ فَقَالَ: إِنْ وُلِّيتَ مِنْ أَمْرِهَا شَيْئًا فَارْفُقْ بِهَا.» قَالَ الْحَاكِمُ: صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَمُسْلِمٍ، وَفِي الزَّوَائِدِ هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ لِضَعْفِ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ – وَاللَّهُ أَعْلَمُ –

      قول يَا حُمَيْرَاءُ پر سیوطی کا کہنا ہے … اور اس حدیث کی تخریج کی ہے ابن جوزی نے موضوع روایات میں اورعلت بیان کی ہے کہ اس میں علی بن زید ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ اس میں حُمَيْرَاءُ ہے ہر وہ حدیث جس میں يَا حُمَيْرَاءُ ہو وہ ضعیف ہے اور اس پر استثنیٰ وہ روایت ہے جس کی تخریج امام حاکم نے مستدرک میں کی ہے ،،،


      راقم کہتا ہے يَا حُمَيْرَاءُ والی تمام ضعیف ہیں

  107. وجاہت says:

    صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے کہ

    269 – (512) وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: فَقُلْنَا الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ. فَقَالَتْ: «إِنَّ الْمَرْأَةَ لَدَابَّةُ سَوْءٍ لَقَدْ رَأَيْتُنِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَرِضَةً، كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ وَهُوَ يُصَلِّي»

    http://mohaddis.com/View/Muslim/1142

    http://shamela.ws/browse.php/book-1727/page-1353

    صحیح مسلم میں اور بھی احادیث ہیں جن میں یہ ذکر ہے

    http://shamela.ws/browse.php/book-1727/page-1349

    http://shamela.ws/browse.php/book-1727/page-1347

    =====

    دوسری طرف مسند احمد میں حدیث ہے کہ

    رقم الحديث: 23987

    (حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” لَا يَقْطَعُ صَلَاةَ الْمُسْلِمِ شَيْءٌ إِلَّا الْحِمَارُ ، وَالْكَافِرُ ، وَالْكَلْبُ ، وَالْمَرْأَةُ ” فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ قُرِنَّا بِدَوَابِّ سُوءٍ .

    http://library.islamweb.net/hadith/display_hbook.php?bk_no=121&pid=62403&hid=23987

    نيل الأوطار میں محمد بن علي بن محمد بن عبد الله الشوكاني اليمني
    المتوفى: 1250هـ لکھتے ہیں کہ

    وَعَنْ عَائِشَةَ عِنْدَ أَحْمَدَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا يَقْطَعُ صَلَاةَ الْمُسْلِمِ شَيْءٌ إلَّا الْحِمَارُ وَالْكَافِرُ وَالْكَلْبُ وَالْمَرْأَةُ، لَقَدْ قُرِنَّا بِدَوَابِّ السُّوءِ» . قَالَ الْعِرَاقِيُّ: وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ

    http://shamela.ws/browse.php/book-9242/page-793

    =======

    کیا یہ الفاظ صحیح ہیں

    فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ قُرِنَّا بِدَوَابِّ سُوءٍ

    • Islamic-Belief says:

      مسند احمد کی روایت صحیح نہیں ہے

      شعيب الأرنؤوط کہتے ہیں
      إسناده ضعيف وفي متنه نكارة، راشد بن سعد – وهو المَقْرَئي الحُبْراني الحمصي – قد عنعن في روايته عن عائشة، وقد قال الحافظ في “التقريب”: كثير الإرسال، وذكر الحاكم فيما نقل مغلطاي وابن حجر أن الدارقطني ضعفه.
      —–
      سند کے رجال ثقہ بھی ہوں تو ان کا ارسال و تدلیس کا معاملہ رہتا ہے

      فتح الباری ابن رجب میں ہے
      وخرج الإمام أحمد ثنا أبو المغيرة: ثنا صفوان: ثنا راشد بن سعد، عن عائشة، قالت: قال رسول الله – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – ((لا يقطع صلاة المسلم شيء، إلا الحمار والكافر والكلب والمرأة)) . قالت عائشة: يا رسول الله، لقد قرنا بدواب سوء.
      هذا منقطع؛ راشد لَمْ يسمع من عَائِشَة بغير شك.

      یہ روایت منقطع ہے اس میں کوئی شک نہیں راشد کا سماع عائشہ سے نہیں ہے
      ———–

  108. وجاہت says:

    کیا چھپکلی کو مارنے کا حکم ہے یا نہیں – احادیث درکار ہیں

    • Islamic-Belief says:

      گوہ چھپکلی کی قسم ہے – چھپکلی زہریلی ہے لہذا حرام ہے
      گوہ پاک ہے حلال ہے

      چھپکلی پر صریح قتل کرنے کی روایت مجھے معلوم نہیں ہے

      • وجاہت says:

        یہاں کچھ دلائل دیے گیۓ ہیں – کیا یہ صحیح ہیں

        http://www.ahlehadith.org/sawalatjawabat/ibadat-wa-muamlat/chapkali-ko-marna.html

        • Islamic-Belief says:

          صحیح مسلم میں ہے
          وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، لِدُونِ الْأُولَى، وَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، لِدُونِ الثَّانِيَةِ»

          =========
          مسند احمد میں ہے
          حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ” أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا
          رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے چھپکلی مارنے کا حکم کیا

          سنن ابی داود میں ہے
          حدَّثنا أحمدُ بنُ محمدِ بنِ حَنْبلٍ، حدَّثنا عبدُ الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزهريّ، عن عامر بنِ سعدٍ
          عن أبيه، قال: أمرَ رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- بِقَتلِ الوزَغِ، وسماه فُويسِقاً

          دونوں کو شعَيب الأرنؤوط نے صحیح کہا ہے

          ——-
          ابن ماجہ میں ہے
          حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَرَهَا، بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ»

          البانی نے صحیح کہا ہے
          ——

  109. وجاہت says:

    امام ذھبی اپنی کتاب میزان الإعتدال میں لکھتے ہیں کہ

    ومن تلبیس الترمذی قال : ضعفه بعض أهل العلم

    http://s7.picofile.com/file/8252845650/001.png

    http://s7.picofile.com/file/8252845692/002.png

    ابو شہر یار بھائی اس کا کیا مطلب ہے

    • Islamic-Belief says:

      اور ترمذی کی تلبیس میں سے ہے کہ کہا اس کی تضعیف بعض اہل علم نے کی ہے
      الذہبی کی بات کا مصدر معلوم نہیں کیونکہ ترمذی کا قول مروجہ کتب میں نہیں ہے
      ممکن ہے ترمذی کی کسی معدوم کتاب میں ہو

  110. وجاہت says:

    الطبقات الکبری ابن سعد کیسی کتاب ہے – اس کتاب سے کیا مدد مل سکتی ہے

  111. abu abdullah says:

    JAZAKULLAH

  112. shahzad khan says:

    بخاری کتاب الحیض جلد 1 صفحہ 44 ۔۔عائشہ رضی فرماتی ہیں کہ حیض کی حالت ميں آپ صلی الله علیہ وسلم مجھے تہ پوش پہننے کا حکم دیتے ۔اور اس کے بعد مجھ سے مباشرت کرتے ۔۔۔
    صفحہ نمبر 662… آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھ کر اپنی ازواج کے بوسے لیتے اور ان سے مباشرت فرمایا کرتے ۔۔۔۔۔

    بھائی اس پر اعتراض کیا جا رہا ہے کہ قرآن میں ہے کہ حیض کے دوران ازواج دور رہو اور کیا روزے کی حالت میں بھی اجازت ہے؟؟

    • Islamic-Belief says:

      قرآن سوره البقرۃ ٢٢٢ میں ہے
      وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ
      لوگ آپ سے حیض کے متعلق پوچھتے ہیں کہہ دیجئے کہ حیض ایک قسم کی اذیت ہے، اس لیے دوران حیض میں بیویوں سے دور رہیے اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب مت جائیے اور پاک ہونے کے بعد ان کے پاس جائیے جیسا کہ الله نے حکم کیا ہے

      آیت میں جیسا کہ الله نے حکم کیا ہے اور قرب کے الفاظ کنایہ ہیں جماع کے لئے – آیت میں حالت حیض میں جماع کی ممانعت ہے – بوسہ لینے پر پابندی نہیں ہے

      صحیح بخاری حدیث ٣٠٠ میں عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا
      وَكَانَ يَأْمُرُنِي، فَأَتَّزِرُ، فَيُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ
      رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تہ پوش پہننے کا حکم دیتے اور اس کے بعد مجھے چھوتے تھے اور میں حائضہ ہوتی

      مباشرت کا مطلب عربی میں اصل میں ملامس کرنا ، چھونا ہے جماع کرنا ہمیشہ اس کا مطلب نہیں ہے بلکہ جماع کرنا اب اس لفظ کا فقہی مفہوم ہے جو قرآن و حدیث سے استنباط کر کے لیا گیا ہے

      شرح الطيبي على مشكاة المصابيح المسمى میں ہے
      فيباشرني)) أي يضاجعني، ويواصل بشرته بشرتي دون جماع
      فيباشرني یعنی ساتھ لیٹتے اور چھوتے ، جماع کے بغیر

      قسطلانی شرح بخاری میں لکھتے ہیں
      (فيباشرني) عليه الصلاة والسلام أي تلامس بشرته بشرتي
      یعنی چھوتے

      شارحین کا ایسا ہی کہنا ہے

      قرآن نے جب کہا عورتوں سے دور رہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کو گھر سے نکال دیا جائے – کہنے کا مقصد ہے قرب کا تعین کیسے ہو گا کہ یہ قرب ہے یہ قرب نہیں ہے؟ آیت میں قرب کہنا کنایہ ہے کہ فرج کو استعمال نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہاں سے خون اتا ہے
      ————————–
      غور طلب ہے کہ کیا مباشرت کا مطلب عربی میں اصلا چھونا ہے یا جماع کرنا ؟

      قرآن میں ہے
      وَلا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ
      اور عورتوں کو مت چھونا جب تم مسجدوں میں معتکف ہو

      اردو میں مباشرت کنایہ نہیں ہے یہ بطور لفظ جماع کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے لہذا اردو میں ترجمہ کرتے ہیں
      اور عورتوں سے جماع مت کرنا جب تم مسجدوں میں معتکف ہو
      مقصد کے حساب سے ترجمہ درست ہے لیکن یہ عربی الفاظ کا ترجمہ نہیں ہے الفاظ کا فقہی مطلب سمجھ کر اردو میں کیا گیا ترجمہ ہے

      لسان عرب از ابن منظور میں ہے
      أَراد بالمباشَرَةِ المُلامَسَةَ وأَصله مِنْ لَمْس بَشَرَةِ الرَّجُلِ بَشَرَةَ المرأَة،
      مباشرت سے ارادہ ملامس کرنا (چھونا) ہے اور اس کا اصل ہے کہ مرد عورت کی جلد کو چھوتا ہے

      والبَشَرَةُ والبَشَرُ: ظَاهِرُ جِلْدِ الإِنسان
      انسان کی ظاہر جلد کو البشر یا البشرہ کہا جاتا ہے

      عربي لغت لمطلع على ألفاظ المقنع میں ہے
      قال الجوهري: مباشرة المرأة: ملامستها.
      لغوی الجوهري نے کہا عورت سے مباشرت ہے اس کو چھونا

      لب لباب ہے کہ عربی میں مباشرت کا لفظی مطلب چھونا ہے لیکن اس کا اب فقہی مطلب ہوا ہے جماع کرنا کیونکہ قرآن میں جب مباشرت یا چھونے سے منع کیا تو اصل میں یہ کنایہ تھا جماع کرنے پر – لیکن یہ عربی کا ارتقاء ہے دور نبوی کی عربی میں مباشرت لغوا چھونا ہی تھا جس میں لوگ جانتے تھے کہ کہاں کہاں آیات میں اس کو کس مقصد کے تحت بولا گیا ہے – جب مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا کہ الله تعالی جب قرآن مجامعت یا وطی کے عربی الفاظ کی بجائے صرف چھونا کہتا ہے تو وہاں مباشرت سے اس کی مراد جماع کرنا ہوتا ہے تو لفظ مباشرت کے مفہوم میں جماع کرنا بھی آ گیا – واضح رہے کہ یہ مطلب اصحاب رسول نے سمجھا تھا جو ان کو قرآن پر غور سے ملا

  113. وجاہت says:

    المعرفة و التاریخ میں المؤلف: يعقوب بن سفيان بن جوان الفارسي الفسوي، أبو يوسف (المتوفى: 277هـ) لکھتے ہیں کہ

    http://shamela.ws/browse.php/book-12403#page-1487

    حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِی الْأَسْوَدِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ حُذَیْفَةَ قَالَ: مَنْ کَانَ یُحِبُّ { عثمان } مَخْرَجَ الدَّجَّالِ تَبِعَهُ، فَإِنْ مَاتَ قَبْلَ أَنْ یَخْرُجَ آمَنَ بِهِ فِی قَبْرِهِ.

    آگے صفحہ ٧٧٠ پر لکھتے ہیں کہ

    http://shamela.ws/browse.php/book-12403#page-1489

    وهذا مما يستدل على ضعف (245 أ) حَدِيثِ زَيْدٍ كَيْفَ يَقُولُ فِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ: إِنْ أُخْرِجَ الدَّجَّالُ تَبِعَهُ مَنْ كَانَ يُحِبُّ عُثْمَانَ، وَإِنْ كَانَ قَدْ مَاتَ آمَنَ بِهِ فِي قَبْرِهِ، ثُمَّ جَعَلَ قَتْلَهُ أَوَّلَ الْفِتَنِ.

    سکین پیجز

    http://s5.picofile.com/file/8151257376/001.jpg

    http://s5.picofile.com/file/8151257384/002.png

    http://s5.picofile.com/file/8151257392/003.png

    =====================

    ذھبی ميزان الاعتدال میں اس پر یہ لکھتے ہیں

    زید بن وهب من أجلة التابعین وثقاتهم. ومتفق على الاحتجاج به إلا ما کان من یعقوب الفسوی فإنه قال – فی تاریخه: فی حدیثه خلل کثیر، ولم یصب الفسوی. ثم إنه ساق من روایته قول عمر: یا حذیفة، بالله أنا من المنافقین؟ قال: وهذا محال، أخاف أن یکون کذبا.
    قال: ومما یستدل به على ضعف حدیثه روایته عن حذیفة: إن خرج الدجال تبعه من کان یحب عثمان.
    ومن خلل روایته قوله: حدثنا – والله – أبو ذر بالربذة، قال: کنت مع النبی صلى الله علیه وسلم فاستقبلنا أحد.
    فهذا الذی استنکره الفسوی من حدیثه ما سبق إلیه، ولو فتحنا هذه الوساوس علینا لرددنا کثیر من السنن الثابتة بالوهم الفاسد.

    سکین پیجز

    http://s5.picofile.com/file/8151257434/02.png

    http://s5.picofile.com/file/8151257442/03.png

    =============

    ان سب کا کیا مطلب ہے – تحقیق چاہیے

  114. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    قثنا قثنا وَكِيعٌ ، قَالَ : قَالَ سُفْيَانَ ، وَقَالَ الأَعْمَشُ : عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلانِ قَدْ خَرَجَا مِنَ الْحَمَّامِ مُتَزَلِّقِينَ ، مُتَدَهِّنِينَ إِلَى عَلِيٍّ ، فَقَالَ : ” مَنْ أَنْتُمَا ؟ ” ، قَالا : نَحْنُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : ” الْمُهَاجِرُ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ

    فضائل صحابہ// جلد ۲ // صفحہ ۳۷۶ // رقم ۱۶۰۱ // طبع دار ابن الجوزی ریاض

    • Islamic-Belief says:

      سند ضعیف ہے – سند میں عبد الله بن سَلِمة المُرادي ہے جس سے عمرو بن مرة نے روایت لی ہے
      اور عمرو بن مرة کا خود کہنا ہے
      قال عمرو بن مرة: كان يحدثنا فنعرف وننكر كان قد كبر.
      عمرو بن مرة نے کہا یہ ہم سے روایت بیان کرتا جس کو ہم جانتے یا منکر گردانتے اور یہ بوڑھے تھے

  115. وجاہت says:

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَیْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، قَالَ: ” دَخَلَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَحُذَیْفَةُ عَلَى عُثْمَانَ، فَقَالَ عُثْمَانُ لِحُذَیْفَةَ: ” بَلَغَنِی أَنَّکَ قُلْت کَذَا وَکَذَا؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا قُلْتُهُ، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: «مَا لَکَ فَلِمَ تَقُولُهُ مَا سَمِعْتُکَ تَقُولُ؟» قَالَ: «إِنِّی أَشْتَرِی دِینِی بَعْضَهُ بِبَعْضٍ مَخَافَةَ أَنْ یَذْهَبَ کُلُّهُ.

    مصنف ابن ابی شیبة،ج6،ص474،ح33050 ط دار التاج
    حلیة الاولیاء لابی نعیم،ج1،ص279 ط دار التاج
    شرح صحیح البخاری لابن بطال،ج8،ص81 ط مکتبة الرشد
    شرح صحیح البخاری لابن بطال،ج8،ص309 ط مکتبة الرشد
    التوضیح لشرح الجامع الصحیح،ج17،ص19 ط اوقاف قطر
    التوضیح لشرح الجامع الصحیح،ج32،ص53 ط اوقاف قطر
    تهذیب الکمال للمزی،ج5،ص508و509 ط موسسة الرسالة
    اعلام الموقعین لابن القیم الجوزیة،ج5،ص119 ط دار ابن الجوزی
    تهذیب الآثار للطبری،مسند هلی بن ابی طالب،ص143 ط مطبعة المدنی
    الخصاف فی الحیل،ص2 ط بمصر فی القاهرة فی سنة 1314
    المخارج فی الحیل،ص10 ط مکتبة الثقافة الدینیة

    • Islamic-Belief says:

      النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، نے کہا ابْنُ مَسْعُودٍ اور حُذَیْفَةُ عثمان کے پاس داخل ہوئے – پس عثمان نے حُذَیْفَةُ سے کہا مجھے پتا چلا ہے کہ تم نے ایسا ایسا کہا ؟ حُذَیْفَةُ نے کہا اللہ کی قسم میں نے ایسا نہیں کہا پس جب وہ نکلے ابن مسعود نے کہا تم نے یہ کیوں نہیں کہہ دیا جو میں نے تم کو کہتے سنا تھا ؟ حُذَیْفَةُ نے کہا میں نے اپنے دین کے بعض کو بعض سے بیچ دیا اس خوف سے کہ سب چلا جائے گا

      سند میں اعمش مدلس ہے

      • وجاہت says:

        ابو شہر یار بھائی آپ سے پوچھا تھا کہ اعمش کہاں کہاں مدلس ہو گا – اس کی احادیث تو صحیحین میں بھی ہیں – آپ نے جواب نہیں دیا

        • Islamic-Belief says:

          اعمش مدلس ہے لہذا اسناد کو دیکھنا پڑے گا کہ کیا تحدیث ہے یا نہیں – اور کیا اس کا متن قابل قبول ہے بھی یا نہیں کیونکہ تدلیس کا احتمال رہتا ہے

  116. وجاہت says:

    کیا یہ حدیث ضعیف ہے

    فَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیهُ، وَعَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَیْدِیُّ، ثنا سُفْیَانُ، ثنا أَبُو مُوسَى یَعْنِی إِسْرَائِیلَ بْنَ مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ یَقُولُ: ” جَاءَ طَلْحَةُ وَالزُّبَیْرُ إِلَى الْبَصْرَةِ فَقَالَ لَهُمُ النَّاسُ: مَا جَاءَکُمْ؟ قَالُوا: نَطْلُبُ دَمَ عُثْمَانَ قَالَ الْحَسَنُ: أَیَا سُبْحَانَ اللَّهِ، أَفَمَا کَانَ لِلْقَوْمِ عُقُولٌ فَیَقُولُونَ: وَاللَّهِ مَا قَتَلَ عُثْمَانَ غَیْرُکُمْ؟ قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ عَلِیٌّ إِلَى الْکُوفَةِ، وَمَا کَانَ لِلْقَوْمِ عُقُولٌ فَیَقُولُونَ: أَیُّهَا الرَّجُلُ إِنَّا وَاللَّهِ مَا ضَمَنَّاکَ “.

    المستدرک على الصحیحین

    • Islamic-Belief says:

      إِسْرَائِيلَ بْنَ مُوسَى نے کہا میں نے حسن بصری سے سنا کہ طلحہ اور زبیر بصرہ پہنچے لوگوں نے ان سے کہا کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا ہم عثمان کا خون کا قصاص طلب کرنے آئے ہیں – حسن بصری نے کہا سبحان الله کہ قوم میں عقل ہوتی پس (بصرہ کے ) لوگوں نے (طلحہ اور زبیر) کہا تمہارے سوا کون ہے جس نے عثمان کا قتل کیا ؟ حسن نے کہا جب علی کوفہ پہنچے اور قوم میں عقل نہیں تھی قوم نے (علی سے) کہا اے شخص الله کی قسم ہم تمہارے ساتھ نہیں

      ——
      یعنی بصرہ والوں میں عقل کی کمی تھی پہلے طلحہ و زبیر پر قتل عثمان کا الزام دیا پھر علی پہنچے تو ان کا ساتھ دینے سے بھی انکار کر دیا

      ——-
      حسن بصری کا سماع کسی بدری صحابی سے نہیں لہذا یہ حسن کا تجزیہ و تاریخ ہے

  117. وجاہت says:

    صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے کہ

    صحيح البخاري: كِتَابُ الأَدَبِ (بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ النَّمِيمَةِ) صحیح بخاری: کتاب: اخلاق کے بیان میں (باب: چغل خوری کی برائی کا بیان)

    6056

    حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ رَجُلًا يَرْفَعُ الحَدِيثَ إِلَى عُثْمَانَ، فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَتَّاتٌ»

    حکم : صحیح 6056

    ہم سے ابو نعیم ( فضل بن دکین ) نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے منصور بن معمر نے ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے ہمام بن حارث نے بیان کیا کہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ، ان سے کہا گیا کہ ایک شخص ایسا ہے جو یہاں کی باتیں حضرت عثمان سے جا لگا تا ہے ۔ اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے بتلایا کہ جنت میں چغل خور نہیں جائے گا ۔

    مسند امام احمد میں بھی اسی سند سے ہے

    حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِیمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ حُذَیْفَةَ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ یَرْفَعُ إِلَى عُثْمَانَ الْأَحَادِیثَ مِنْ حُذَیْفَةَ، قَالَ حُذَیْفَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ” لَا یَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ “، یَعْنِی: نَمَّامًا.

    صحیح بخاری اور ترمزی کی سند سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ تک ایک جیسی ہے لیکن الفاظ کو امام ترمزی نے بدلا

    صحیح بخاری میں الفاظ ہیں

    إِنَّ رَجُلًا يَرْفَعُ الحَدِيثَ إِلَى عُثْمَانَ

    ترمزی میں الفاظ ہیں

    مَرَّ رَجُلٌ عَلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ هَذَا يُبَلِّغُ الْأُمَرَاءَ

    اب یہ علمی خیانت ہے یا محدث جو مرضی لکھے اور جو مرضی نہ لکھے
    ////////////////////

    صحیح مسلم کی دو احادیث ہیں جس میں یہ ذکرسند اور الفظ الگ الگ ہیں

    صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ (بَابُ بَيَانِ غِلَظِ تَحْرِيمِ النَّمِيمَةِ) صحیح مسلم: کتاب: ایمان کا بیان (باب: چغل خوری کی شدید حرمت)

    291

    حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَنْقُلُ الْحَدِيثَ إِلَى الْأَمِيرِ، فَكُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: الْقَوْمُ هَذَا مِمَّنْ يَنْقُلُ الْحَدِيثَ إِلَى الْأَمِيرِ، قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا فَقَالَ حُذَيْفَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ»

    حکم : صحیح 291

    منصور نے ابراہیم سے اور انہوں نے ہمام بن حارث سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی (لوگوں کی ) باتیں حاکم تک پہنچاتا تھا ، ہم مسجد میں بیٹھے ہوئےتھے تو لوگوں نے کہا : یہ ان میں سے ہے جو باتیں حاکم تک پہنچاتے ہیں ۔ ( ہمام نے ) نےکہا : وہ شخص آیا اور ہمارے پاس بیٹھ گیا ۔ حضرت حذیفہ ﷜ نے کہا : میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ چغل خور جنت میں داخل نہ ہو گا ۔ ‘‘

    صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ (بَابُ بَيَانِ غِلَظِ تَحْرِيمِ النَّمِيمَةِ) صحیح مسلم: کتاب: ایمان کا بیان (باب: چغل خوری کی شدید حرمت)

    292

    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح، وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ حُذَيْفَةَ فِي الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ رَجُلٌ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا فَقِيلَ لِحُذَيْفَةَ: إِنَّ هَذَا يَرْفَعُ إِلَى السُّلْطَانِ أَشْيَاءَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ إِرَادَةَ أَنْ يُسْمِعَهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ»

    حکم : صحیح 292

    اعمش نے ابراہیم سے اور انہوں نے ہمام بن حارث سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم حضرت حذیفہ ﷜ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے تو ایک آدمی آکر ہمارے پاس بیٹھ گیا ۔ حضرت حذیفہ ﷜ کو بتایا گیاکہ یہ شخص (لوگوں کی) باتیں حکمران تک پہنچاتا ہے تو حذیفہ ﷜ نے اسے سنانے کی غرض سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرماتے تھے :’’ چغل خور جنت میں داخل نہ ہو گا۔‘‘

    ترمزی کی حدیث یہ ہے

    جامع الترمذي: أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّمَّامِ​) جامع ترمذی: كتاب: نیکی اورصلہ رحمی کے بیان میں (باب: چغل خورکابیان​)

    2026

    حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ هَذَا يُبَلِّغُ الْأُمَرَاءَ الْحَدِيثَ عَنْ النَّاسِ فَقَالَ حُذَيْفَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ قَالَ سُفْيَانُ وَالْقَتَّاتُ النَّمَّامُ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

    حکم : صحیح 2026

    ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے ایک آدمی گزرا ، ان سے کہا گیا کہ یہ شخص حکام کے پاس لوگوں کی باتیں پہنچاتاہے،توحذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے: ‘چغل خورجنت میں نہیں داخل ہوگا’ ۱ ؎ ۔ سفیان کہتے ہیں: ‘قتات’ ‘نمّام ‘(چغل خور)کو کہتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

    • Islamic-Belief says:

      دو لوگ ہیں اس میں کس کا کام حرام ہے ؟

      اول ایک سیکورٹی یا انٹیلی جنس کا آدمی ہے جو حکومت کو خبر کرتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے – کیا یہ کام اس حدیث کے مطابق حرام ہے ؟
      دوسرا ایک آدمی ہے جو بات کا بتنگڑ بنا کر کچھ سے کچھ کرتا ہے

      اپ کے خیال سے اس میں کس کا ذکر ہے ؟ اول کا یا دوم کا؟
      ———–
      عربی میں قتات سے مراد وہ ہے جو فساد کرانے کے لئے بات ادھر کی ادھر کرتا ہو
      غريب الحديث از أبو عبيد القاسم بن سلام الهروي میں ہے
      وقال “الأصمعي” في الذي ينمي الأحاديث هو مثل القتات إذا كان يبلغ هذا عن هذا على وجه الإفساد والنميمة
      الأصمعي نے کہا جو باتیں غلط بیانی کر کے کرے وہ قتات ہے جو یہ اور وہ فساد و غلط بیانی کے لئے کرے

      ——–

      الفاظ
      إِنَّ رَجُلًا يَرْفَعُ الحَدِيثَ إِلَى عُثْمَانَ
      صحیح بخاری کے علاوہ
      مسند احمد
      الإيمان لابن منده
      ترتيب الأمالي الخميسية للشجري
      میں بھی ہیں

      الفاظ
      إِنَّ فُلَانًا يَرْفَعُ إِلَى عُثْمَانَ الْأَحَادِيثَ
      ،مسند احمد
      میں ہیں
      ——–
      لہذا یہ امام بخاری نے نہیں بدلے

      • وجاہت says:

        کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے میرا سوال اس پر نہیں تھا – میرا سوال تھا کہ ایک ہی سند ہے لیکن ترمزی میں الفاظ کو بدل دیا گیا -ایسا کیوں کیا گیا

        صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے کہ

        صحيح البخاري: كِتَابُ الأَدَبِ (بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ النَّمِيمَةِ) صحیح بخاری: کتاب: اخلاق کے بیان میں (باب: چغل خوری کی برائی کا بیان)

        6056

        حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ رَجُلًا يَرْفَعُ الحَدِيثَ إِلَى عُثْمَانَ، فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَتَّاتٌ»

        حکم : صحیح 6056

        ہم سے ابو نعیم ( فضل بن دکین ) نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے منصور بن معمر نے ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے ہمام بن حارث نے بیان کیا کہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ، ان سے کہا گیا کہ ایک شخص ایسا ہے جو یہاں کی باتیں حضرت عثمان سے جا لگا تا ہے ۔ اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے بتلایا کہ جنت میں چغل خور نہیں جائے گا ۔

        مسند امام احمد میں بھی اسی سند سے ہے

        حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِیمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ حُذَیْفَةَ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ یَرْفَعُ إِلَى عُثْمَانَ الْأَحَادِیثَ مِنْ حُذَیْفَةَ، قَالَ حُذَیْفَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ” لَا یَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ “، یَعْنِی: نَمَّامًا.

        ترمزی کی حدیث یہ ہے

        جامع الترمذي: أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّمَّامِ​) جامع ترمذی: كتاب: نیکی اورصلہ رحمی کے بیان میں (باب: چغل خورکابیان​)

        2026

        حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ هَذَا يُبَلِّغُ الْأُمَرَاءَ الْحَدِيثَ عَنْ النَّاسِ فَقَالَ حُذَيْفَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ قَالَ سُفْيَانُ وَالْقَتَّاتُ النَّمَّامُ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

        حکم : صحیح 2026

        ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے ایک آدمی گزرا ، ان سے کہا گیا کہ یہ شخص حکام کے پاس لوگوں کی باتیں پہنچاتاہے،توحذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے: ‘چغل خورجنت میں نہیں داخل ہوگا’ ۱ ؎ ۔ سفیان کہتے ہیں: ‘قتات’ ‘نمّام ‘(چغل خور)کو کہتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

        • Islamic-Belief says:

          جی معلوم ہے
          لیکن یہ میرا اپ سے سوال ہے اس کا جواب دیں

          امام بخاری کی حدیث کا جواب دے دیا ہے

          • وجاہت says:

            دو لوگ ہیں اس میں کس کا کام حرام ہے ؟

            اول ایک سیکورٹی یا انٹیلی جنس کا آدمی ہے جو حکومت کو خبر کرتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے – کیا یہ کام اس حدیث کے مطابق حرام ہے ؟
            دوسرا ایک آدمی ہے جو بات کا بتنگڑ بنا کر کچھ سے کچھ کرتا ہے

            اپ کے خیال سے اس میں کس کا ذکر ہے ؟ اول کا یا دوم کا؟

            ===========

            صحیح بخاری کی حدیث سے تو یہ دوسرے بندے کا کام ذکر معلوم ہوتا ہے –

          • Islamic-Belief says:

            یعنی اپ کے نزدیک صحیح بخاری کی حدیث میں الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک آدمی ہے جو بات کا بتنگڑ بنا کر کچھ سے کچھ کرتا ہےکا ذکر ہے

            اور باقی احادیث میں الفاظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ ایک سیکورٹی یا انٹیلی جنس کا آدمی ہے جو حکومت کو خبر کرتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے کا ذکر ہے

            ——-
            نہیں ایسا نہیں ہے – ایک ہی روایت اور اسناد ہیں الفاظ بدل جانے سے مدعا نہیں بدلتا بلکہ تفسیر ہوتی ہے
            اس میں ایک سیکورٹی یا انٹیلی جنس کا آدمی ہے جو عثمان رضی الله عنہ کو خبر کرتا ہے لیکن اس کے بارے میں لوگوں کی رائے ہے کہ یہ آدمی ہے جو بات کا بتنگڑ بنا کر کچھ سے کچھ کرتا ہے اس بنا پر اس کو چغل خور کہا گیا ہے

  118. وجاہت says:

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    وَحَدَّثَنِی إِسْحَاقُ وَبَکْرُ بْنُ الْهَیْثَمِ قَالا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یَطْلُعُ عَلَیْکُمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ رَجُلٌ یَمُوتُ عَلَى غَیْرِ مِلَّتِی، قَالَ : وَکُنْتُ تَرَکْتُ أَبِی قَدْ وُضِعَ لَهُ وَضُوءٌ، فَکُنْتُ کَحَابِسِ الْبَوْلِ مَخَافَةَ أَنْ یَجِیءَ، قَالَ: فَطَلَعَ مُعَاوِیَةُ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ هَذَا.

    انساب الاشراف للبلاذری


    حدثنا محمَّد بن إسحاق بن راهُوْیَه، ثنا أبی، أنا عبد الرزَّاق، أبنا مَعْمَر، عن ابن طاوسَ، عن أبیه، عن عبد الله بن عَمرو، قال: قال رسولُ الله صلى الله علیه وسلم: یَطَّلِعُ عَلَیْکُمْ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الفَجِّ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وکنتُ ترکتُ أبی یتوضَّأ، فخَشیتُ أن یکونَ هو، فاطَّلَع رجلٌ غیرُهُ، فقال رسولُ الله صلى الله علیه وسلم: هُو هَذَا.

    المجم الکبیر للطبرانی

    —-

    حدثنا محمَّد بن إسحاقَ بن راهُوْیَه، ثنا أبی، أبنا عبد الرزَّاق، أبنا مَعْمَر، عن ابن طاوسَ، عن أبیه، قال: سمعتُ رجلاً یحدثُ ابنَ عباس، عن عبد الله بن عَمرو، قال: قال رسولُ الله صلى الله علیه وسلم: لَیَطْلُع عَلَیْکُمْ رَجُلٌ یُبْعَثُ یَوْمَ القِیَامَةِ عَلَى غَیْرِ سُنَّتِی ، أَوْ «غَیْرِ مِلَّتِی» ، وکنتُ ترکتُ أبی فی المنزل، فخِفْتُ أن یکونَ هو، فطَلَعَ غیرُه فقال: هُو هَذَا.

    المعجم الکبیر للطبرانی

    ———–

    اوپر سند تقریباً ایک جیسی ہے لیکن الفاظ کا فرق ہے – کیا ان تینوں احادیث میں ایک ہی بات ہو رہی ہے یا الگ الگ

    ============
    ============

    تاریخ اصبهان میں بھی نام کو فلاں سے بدلا گیا

    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرَوَاءَانِیُّ، ثنا أَبَانُ بْنُ شِهَابٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدٍ، ثنا جَرِیرٌ، عَنْ لَیْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «یَطْلُعُ عَلَیْکُمْ رَجُلٌ مِنْ یَثْرِبَ عَلَى غَیْرِ مِلَّتِی» ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ أَبِی، وَکُنْتُ تَرَکْتُهُ یَتَهَیَّأُ، فَاطَّلَعَ فُلَانٌ.

    تاریخ اصبهان

    اور الشریعة للآجری میں بھی ذکر اس طرح ہے

    حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِیَةَ قَالَ: حَدَّثَنِی أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِیمَ الدَّوْرَقِیُّ , وَالْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَزِیدَ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ بَحْرٍ الْقُرَشِیُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِینَارٍ , عَنْ أَبِیهِ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: یَطْلُعُ عَلَیْکُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» . فَطَلَعَ مُعَاوِیَةُ ثُمَّ قَالَ مِنَ الْغَدِ مِثْلَ ذَلِکَ , ثُمَّ قَالَ مِنَ الْغَدِ مِثْلَ ذَلِکَ , فَطَلَعَ مُعَاوِیَةُ. فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ هُوَ ذَا.

    الشریعة للآجری

    ابن عساکر نے یہ یہ لکھا ہے

    أخبرناه أبو بکر محمد بن محمد أنا أبو بکر محمد بن علی أنا أحمد بن عبد الله أنا أحمد بن أبی طالب حدثنی محمد بن مروان بن عمر نا الحسن بن إسحاق بن یزید العطار نا نوح بن یزید المعلم نا عبد الرحمن بن عبد الله بن دینار عن أبیه عن ابن عمر قال کنت عند النبی (صلى الله علیه وسلم) فقال یطلع علیکم رجل من أهل الجنة فطلع معاویة ثم قال الغد مثل ذلک فطلع معاویة فقمت إلیه فأقبلت بوجهه إلى رسول الله (صلى الله علیه وسلم) فقلت یا رسول الله هو هذا قال نعم یا معاویة أنت منی وأنا منک لتزاحمنی على باب الجنة کهاتین وقال بأصبعیه السبابة والوسطی یحرکهما.

    تاریخ مدینة دمشق لابن عساکر

    =====

    ابو شہر یار بھائی ان سب عبارت میں اصل ذکر کیا ہے – پلیز وضاحت کر دیں

    • Islamic-Belief says:

      کتاب الشريعة اور تاریخ مدینة دمشق لابن عساکر دونوں کی روایت کی سند میں عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْعُمَرِيُّ الْمَدَنِيُّ ہے
      قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِيهِ لِينٌ.
      وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ: حَدَّثَ عَنْهُ يَحْيَى بْنُ سعيد، وفي حَدِيثِهِ عِنْدِي ضَعْفٌ.
      اس کی حدیث ضعیف سمجھی گئی ہے

      ==========
      دوسری طرف مندرجہ ذیل تینوں روایات میں ایک ہو بات ہو رہی ہے زیادہ فرق نہیں ہے

      وَحَدَّثَنِی إِسْحَاقُ وَبَکْرُ بْنُ الْهَیْثَمِ قَالا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یَطْلُعُ عَلَیْکُمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ رَجُلٌ یَمُوتُ عَلَى غَیْرِ مِلَّتِی، قَالَ : وَکُنْتُ تَرَکْتُ أَبِی قَدْ وُضِعَ لَهُ وَضُوءٌ، فَکُنْتُ کَحَابِسِ الْبَوْلِ مَخَافَةَ أَنْ یَجِیءَ، قَالَ: فَطَلَعَ مُعَاوِیَةُ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ هَذَا.

      انساب الاشراف للبلاذری


      حدثنا محمَّد بن إسحاق بن راهُوْیَه، ثنا أبی، أنا عبد الرزَّاق، أبنا مَعْمَر، عن ابن طاوسَ، عن أبیه، عن عبد الله بن عَمرو، قال: قال رسولُ الله صلى الله علیه وسلم: یَطَّلِعُ عَلَیْکُمْ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الفَجِّ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وکنتُ ترکتُ أبی یتوضَّأ، فخَشیتُ أن یکونَ هو، فاطَّلَع رجلٌ غیرُهُ، فقال رسولُ الله صلى الله علیه وسلم: هُو هَذَا.

      المجم الکبیر للطبرانی

      —-

      حدثنا محمَّد بن إسحاقَ بن راهُوْیَه، ثنا أبی، أبنا عبد الرزَّاق، أبنا مَعْمَر، عن ابن طاوسَ، عن أبیه، قال: سمعتُ رجلاً یحدثُ ابنَ عباس، عن عبد الله بن عَمرو، قال: قال رسولُ الله صلى الله علیه وسلم: لَیَطْلُع عَلَیْکُمْ رَجُلٌ یُبْعَثُ یَوْمَ القِیَامَةِ عَلَى غَیْرِ سُنَّتِی ، أَوْ «غَیْرِ مِلَّتِی» ، وکنتُ ترکتُ أبی فی المنزل، فخِفْتُ أن یکونَ هو، فطَلَعَ غیرُه فقال: هُو هَذَا.

      ان تین کی سند میں طاوس بن كيسان اليماني نے عبد الله بن عمرو سے روایت کیا ہے
      میرے نزدیک طاوس بن كيسان اليماني کا سماع عبد الله بن عمرو سے نہیں ہے

  119. وجاہت says:

    پہلے بھی پوچھا ہے لیکن شاہد کثرت سوالات کی وجہ سے آپ جواب نہیں دے سکے – پھر پوچھ رہا ہوں کہ

    ابن ہجر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ

    وقال قتیبة ثنا جریر الحافظ المقدم لکنی سمعته یشتم معاویة علانیة

    تهذیب التهذیب

    http://s3.picofile.com/file/8229301276/000.jpg

    http://s6.picofile.com/file/8229301300/001.jpg

    http://s3.picofile.com/file/8229301384/002.jpg

    کیا یہ صحیح ہے

    جَرِیْرُ بنُ عَبْدِ الحَمِیْدِ بنِ یَزِیْدَ الضَّبِّیُّ : الإِمَامُ، الحَافِظُ، القَاضِی، أَبُو عَبْدِ اللهِ الضَّبِّیُّ، الکُوْفِیُّ.

    سیر اعلام النبلاء

  120. وجاہت says:

    امام ذھبی اپنی کتاب سیر أعلام النبلاء جلد ٣ صفحہ ٥٩ پرعمرو بن العاص رضی الله کے بارے میں لکھتے ہیں کہ

    والله یغفر له ویعفو عنه، ولولا حبه للدنیا، ودخوله فی أمور، لصلح للخلافة

    سیر أعلام النبلاء جلد ٣ صفحہ ٥٩

    http://s2.picofile.com/file/8264744376/%D8%B3%DB%8C%D8%B11.png

    http://s2.picofile.com/file/8264744392/%D8%B3%DB%8C%D8%B12.png

    http://s1.picofile.com/file/8264744418/%D8%B3%DB%8C%D8%B13.png

    کیا یہ صحیح ہے

    • Islamic-Belief says:

      الذھبی نے کہا
      عمرو بن العاص کو اگر دنیا کی محبت نہ ہوتی اور انہوں نے اس محبت کو اپنے کاموں میں شامل نہ کیا ہوتا تو خلافت کی اصلاح ہوتی

      ——–
      راقم کہتا ہے یہ الذھبی کی جہالت ہے

      • وجاہت says:

        اوپر ہی آپ سے سوال پوچھا تھا کہ

        http://www.islamic-belief.net/q-a/#comment-10079

        امام ذھبی اپنی کتاب سير أعلام النبلاء ط الرسالة میں لکھتے ہیں کہ

        http://shamela.ws/browse.php/book-10906#page-2737

        وَخَلَفَ مُعَاوِيَةَ خَلْقٌ كَثِيْرٌ يُحِبُّوْنَهُ وَيَتَغَالُوْنَ فِيْهِ، وَيُفَضِّلُوْنَهُ، إِمَّا قَدْ مَلَكَهُم بِالكَرَمِ وَالحِلْمِ وَالعَطَاءِ، وَإِمَّا قَدْ وُلِدُوا فِي الشَّامِ عَلَى حُبِّهِ، وَتَرَبَّى أَوْلاَدُهُمْ عَلَى ذَلِكَ.
        وَفِيْهِمْ جَمَاعَةٌ يَسِيْرَةٌ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَعَدَدٌ كَثِيْرٌ مِنَ التَّابِعِيْنَ وَالفُضَلاَءِ، وَحَارَبُوا مَعَهُ أَهْلَ العِرَاقِ، وَنَشَؤُوا عَلَى النَّصْبِ – نَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الهَوَى

        ========

        آپ نے جواب دیا کہ

        http://www.islamic-belief.net/q-a/#comment-10090

        وَخَلَفَ مُعَاوِيَةَ خَلْقٌ كَثِيْرٌ يُحِبُّوْنَهُ وَيَتَغَالُوْنَ فِيْهِ، وَيُفَضِّلُوْنَهُ، إِمَّا قَدْ مَلَكَهُم بِالكَرَمِ وَالحِلْمِ وَالعَطَاءِ، وَإِمَّا قَدْ وُلِدُوا فِي الشَّامِ عَلَى حُبِّهِ، وَتَرَبَّى أَوْلاَدُهُمْ عَلَى ذَلِكَ.
        وَفِيْهِمْ جَمَاعَةٌ يَسِيْرَةٌ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَعَدَدٌ كَثِيْرٌ مِنَ التَّابِعِيْنَ وَالفُضَلاَءِ، وَحَارَبُوا مَعَهُ أَهْلَ العِرَاقِ، وَنَشَؤُوا عَلَى النَّصْبِ – نَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الهَوَى -.
        كمَا قَدْ نَشَأَ جَيْشُ عَلِيٍّ -رَضِيَ اللهُ عَنْهُ – وَرَعِيَّتُهُ – إِلاَّ الخَوَارِجَ مِنْهُم – عَلَى حُبِّهِ، وَالقِيَامِ مَعَهُ، وَبُغْضِ مَنْ بَغَى عَلَيْهِ، وَالتَّبَرِّي مِنْهُم، وَغَلاَ خَلْقٌ مِنْهُم فِي التَّشَيُّعِ.

        أور معاویہ نے اپنے پیچھے ایک خلق کثیر کو چھوڑا جو ان سے محبت کرتے تھے اور ان کے حوالے سے غلو کرتے اور ان کی فضیلت کرتے اور ان کا دور حکومت کرم و حلم اور جود و عطا کا تھا اور شام میں ان سے محبت پیدا ہوئی اور ان کی اولادوں میں یہ پروان چڑھی جس میں اصحاب رسول کی ایک چھوٹی جماعت تھی اور التَّابِعِيْنَ وَالفُضَلاَءِ کی کثیر تعداد تھی اور ان سے اہل عراق نے جنگ کی اور نصب بڑھا – اس گمراہی سے اللہ کی پناہ – یہ اسی طرح پروان چڑھا جس طرح علی کے لشکر میں ہوا اور ان کی رعیت میں سوائے خوارج کے کہ علی کے ساتھ محبت ان کے لئے کھڑا ہونا اور ان سے بغض کرنا جس سے وہ بغض کریں اور ان پر تبرہ کرنا اور ان کے ساتھ ایک خلق نے شیعیت میں غلو کیا

        ٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
        یہ الذھبی کا قول ہے اور ان کا موقف ہے بطور مورخ ان کا تجزیہ ہے

        کیا یہ امام صاحب کی جہالت نہیں

        ================

        امام الذھبی اپنی کتاب ‘العبر في خبر من غبر’ میں صلح کی شرائط نقل کرتے ہیں

        http://shamela.ws/browse.php/book-25841

        ثم كتب إلى معاویة على أن یسلم إلیه بیت المال وأن لا یسب علیًا بحضرته وأن یحمل إلیه خراج فسا ودارابجرد كل سنة

        جب گالیاں دی ہی نہیں جاتی تھیں تو امام صاحب کا ایسا لکھنا بھی جہالت ہی ہے

        • Islamic-Belief says:

          اپ نے حوالہ دیا کہ جسن نے صلح کی شرائط لکھی کہ علی کو گالی نہیں دی جائے گی جب وہ موجود ہوں
          ——-
          اس سے اپ کا ناقص نکتہ ہے کہ جب گالی نہیں دی جاتی تھی تو ایسا کیوں کہا؟ یہ اپ کا بچپنا ہے جو اپ نے یہ سوال کیا
          حسن نے معاویہ کے آگے ہتھیار ڈالے تھے اور خوف تھا کہ جب حسن خلیفہ نہیں ہوں گے تو کوئی بد زبان ان کے منہ پر ان کے باپ کو گالی دے گا جس کو وہ پسند نہ کر سکیں گے
          اس نفسیات انسانی کو دیکھتے ہوئے حسن نے عاقبت اندیشی میں ایسا صلح میں لکھوایا

          اس سے یہ قطعا ثابت نہیں ہوتا کہ ایسا کیا جا رہا تھا
          فتامل

  121. Aysha butt says:

    Hadith hai Aap s.a.w ne kha mn dar ul hikmat hon or Ali iska darwaza hai … Zubair zai sahib isko zaef khty hai … Bta dein or sahih bukhri ka hawala de k esi hadith k kha jata k Aap s.a.w ne kha mn dar ul hikmat hon Ali iska drawaza usman ki chat Umar dewarein or abu bakr bunyad hai …

    Is hadith ka b bta dei. . Yeh hai b k nai

  122. Aysha butt says:

    Galiban jamia tarmizi ki hadith hai k jab hussain r.a peda hoye to Aap s.a.w ne un k kaan mn azan di … Kya hadith sahih hai

  123. وجاہت says:

    آج ہی ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی کتاب جنگ جمل اور صفین کا یہودی پس منظر

    لنک

    https://ia801001.us.archive.org/28/items/JangJamalKaPusManzar/%D8%AC%D9%86%DA%AF%20%D8%AC%D9%85%D9%84%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AC%D9%86%DA%AF%20%D8%B5%D9%81%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%DB%8C%DB%81%D9%88%D8%AF%DB%8C%20%D9%BE%D8%B3%20%D9%85%D9%86%D8%B8%D8%B1.pdf

    اور محمود احمد عباسی کی کتاب مقتل الحسین

    لنک

    https://archive.org/stream/MuqtalAlHussain_abiMukhanaf/muqtal%20al%20Hussain#page/n0/mode/1up

    ان کتابوں کی حقیقت کیا ہے

    • Islamic-Belief says:

      مقتل الحسین ابو مخنف کی روایات کا مجموعہ ہے اور یہ کتاب بے کار ہے قصے ہیں جو بے سروپا ہیں
      محمود احمد نے ان کو جمع کر کے اور اردو میں لا کر اچھا کیا کیونکہ جو اسکو پڑھے گا وہ جان سکتا ہے کہ ابو مخنف نے کیا کیا کہا
      ——–

      حمید الله کی کتاب بھی میری سمجھ میں نہیں آئی کیونکہ ان کے نزدیک عثمان کا قتل سبائییوں نے کیا – میرے علم میں سبائییوں نے نہیں کیا

  124. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی آپ سے ایک بات پوچھنی ہے کہ امام ذھبی کی کتاب تاریخ الاسلام ہے – جب اس کو مکتبہ شاملہ میں جلد ٢ کو چیک کیا تو دیکھا کہ اس میں کچھ صفحات نہیں ہیں

    اس میں جلد ٢ کے صفحہ ٢٨٦ کے بعد صفحہ ٢٩٣ ہے – اس میں ٦ صفحات کو کیوں غائب کیا گیا

    http://shamela.ws/browse.php/book-35100#page-1138

    http://shamela.ws/browse.php/book-35100#page-1139

    امام ذھبی نے جلد ٢ صفحہ ٢٨٨ پر کچھ اس طرح کی عبارت لکھی ہے

    مروان بن الحکم ہر جمعے کے خطبے کے بعد حضرت علی ابن ابی طالب پر سب(گالی) کیا کرتا

    بعد كل خطبة الجمعة من مروان بن هلك، حضرة علي بن أبي طالب كانت تفعل كل شيء
    (غالي)

    کیا یہ وجہ تو نہیں صفحے غائب کرنے کی – پلیز آپ کی توجہ چاہیے – حقیقت سے اگاہ کریں – اور بیچ والے صفحات کا لنک دے دیں پلیز

    الله آپ کو جزایۓ خیر دے – امین

    • Islamic-Belief says:

      شاملہ سوفٹ ویر میں اس کتاب کے تین نسخے ہیں
      تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام
      المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ)
      الناشر: المكتبة التوفيقية
      عدد الأجزاء: 37

      ——-
      الكتاب: تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام
      المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ)
      المحقق: عمر عبد السلام التدمري
      الناشر: دار الكتاب العربي، بيروت
      الطبعة: الثانية، 1413 هـ – 1993 م
      عدد الأجزاء: 52
      ——

      دونوں میں یہ عبارت نہیں جو اپ نے بیان کی- اور ایسا نہیں ہو سکتا کہ نکال دی گئی ہو
      ——-

      انٹرنیٹ پر جو شاملہ ہے اس میں غلطی سے ایسا ہوا ہو گا

      تیسرانسخہ ہے
      تاريخ الإسلام وَوَفيات المشاهير وَالأعلام
      المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ)
      المحقق: الدكتور بشار عوّاد معروف
      الناشر: دار الغرب الإسلامي
      الطبعة: الأولى، 2003 م
      عدد الأجزاء: 15

      اس کے یونی کوڈ کرنے میں ممکن ہے صفحات حذف ہو گئے ہوں جو غلطی لگتی ہے عمدا نہیں لگتا

  125. وجاہت says:

    کیا یحیی بن معین کے نزدیک امام شافی ثقہ نہیں ہیں – ابن عبدالبر اپنی کتاب جامع بیان العلم وفضله کے صفحہ ١٠٨٣ پر لکھتے ہیں کہ

    قیل لیحیى بن معین: یا أبا زکریا أبو حنیفة کان یصدق فی الحدیث؟ قال: نعم صدوق. وقیل له: والشافعی کان یکذب؟ قال: ما أحب حدیثه ولا ذکره
    قال: وقیل لیحیى بن معین: أیما أحب إلیک أبو حنیفة أو الشافعی أو أبو یوسف القاضی؟
    فقال: أما الشافعی فلا أحب حدیثه، وأما أبو حنیفة فقد حدث عنه قوم صالحون، وأبو حنیفة لم یکن من أهل الکذب وکان صدوقا

    اور آگے چل کر صفحہ ١١١٤ پر لکھتے ہیں کہ

    ومما نقم على ابن معین وعیب به -أیضا- قوله فی الشافعی: إنه لیس بثقة

    http://s6.picofile.com/file/8265616376/shaaafei_1_.png

    http://s6.picofile.com/file/8265616392/11.gif

    http://s6.picofile.com/file/8265616400/22.gif

    http://shamela.ws/browse.php/book-22367#page-1413

    http://shamela.ws/browse.php/book-22367#page-1432

    یحیى بن معین أبو زکریا المری البغدادی الحافظ إمام المحدثین

    الکاشف فی معرفة من له روایة فی الکتب از امام ذھبی

    —–

    ما کان فی أصحابنا أعلم بالإسناد من یحیى بن معین

    تهذیب التهذیب از ابن ہجر

    ———-

    فإن قلت فی إسناده أبو المنیب عبید الله بن عبد الله وقد تکلم فیه البخاری وغیره قلت قال الحاکم وثقه ابن معین وقال ابن أبی حاتم سمعت أبی یقول هو صالح الحدیث وأنکر على البخاری إدخاله فی الضعفاء فهذا ابن معین إمام هذا الشأن وکفى به حجة فی توثیقه إیاه

    عمده القاری شرح صحیح بخاری

    ====

    کیا امام شافی ثقہ ہیں یا نہیں

    • Islamic-Belief says:

      جامع بيان العلم وفضله از المؤلف: أبو عمر يوسف بن عبد الله بن محمد بن عبد البر بن عاصم النمري القرطبي (المتوفى: 463هـ) کے مطابق

      وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَزْدِيُّ الْحَافِظُ الْمَوْصِلِيُّ فِي الْأَخْبَارِ الَّتِي فِي آخِرِ كِتَابِهِ فِي الضُّعَفَاءِ قَالَ: يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، «مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أُقَدِّمُهُ عَلَى وَكِيعٍ» وَكَانَ يُفْتِي بِرَأْيِ أَبِي حَنِيفَةَ وَكَانَ يَحْفَظُ حَدِيثَهُ كُلَّهُ، وَكَانَ قَدْ سَمِعَ مِنَ أَبِي حَنِيفَةَ حَدِيثًا كَثِيرًا قَالَ الْأَزْدِيُّ: هَذَا مِنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ تَحَامُلٌ وَلَيْسَ وَكِيعٌ كَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ وَقَدْ رَأَى يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ هَؤُلَاءِ وَصَحْبِهِمْ، [ص:1083] قَالَ: وَقِيلَ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ يَا أَبَا زَكَرِيَّا، أَبُو حَنِيفَةَ كَانَ يَصْدُقُ فِي الْحَدِيثِ؟ قَالَ: نَعَمْ صَدُوقٌ، قِيلَ لَهُ: وَالشَّافِعِيُّ كَانَ يَكْذِبُ؟ قَالَ: مَا أُحِبُّ حَدِيثَهُ وَلَا ذِكْرَهُ، قَالَ: وَقِيلَ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: أَيُّمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ أَبُو حَنِيفَةَ أَوِ الشَّافِعِيُّ أَوْ أَبُو يُوسُفُ الْقَاضِي؟ فَقَالَ: أَمَّا الشَّافِعِيُّ فَلَا أُحِبُّ حَدِيثَهُ،

      مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَزْدِيُّ الْحَافِظُ الْمَوْصِلِيُّ نے اپنی کتاب الضُّعَفَاءِ میں امام شافعی پر یہ قول نقل کیا گویا کہ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَزْدِيُّ الْحَافِظُ الْمَوْصِلِيُّ نے ان کا شمار ضعیف راوی میں کیا
      ———

      شوافع میں الذھبی نے چڑ کر ازدی کو ہی برا کہا

      لا يُلتفت إلى قول الأزدي، فإن في لسانه في الجرح رهقا. [ ميزان الأعتدال
      الأزدي کے قول کی طرف التفات نہ کرو کیونکہ ان کی زبان پر حرج رہتی

      اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام شافعی حدیث میں ضعیف تھے امام ابن معین کے مطابق جس کا ذکر الازدی نے کیا

  126. وجاہت says:

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَي، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي مُوسَي الْحَنَفِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ” سَارَ النَّبِيُّ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَي خَيْبَرَ، فَلَمَّا أَتَاهَا بَعَثَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَي عَنْهُ، وَبَعَثَ مَعَهُ النَّاسَ إِلَي مَدِينَتِهِمْ أَوْ قَصْرِهِمْ، فَقَاتَلُوهُمْ فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ هَزَمُوا عُمَرَ وَأَصْحَابَهُ، فَجَاءُوا يُجَبِّنُونَهُ وَيُجَبِّنُهُمْ، فَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ” الْحَدِيثُ.

    هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ

    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَي بْنُ يَعْلَي، ثنا مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ” أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ الرَّايَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ إِلَي عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَانْطَلَقَ، فَرَجَعَ يُجَبِّنُ أَصْحَابَهُ وَيُجَبِّنُونُهُ “.

    هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَي شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ

    المستدرك علي الصحيحين

    http://s7.picofile.com/file/8265584034/%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%AF%D8%B1%DA%A93.jpg

  127. وجاہت says:

    هیثمی اپنی کتاب مجمع الزوائد میں ایک روایت جو بہت عجیب ہے لکھتے ہیں

    عن عبدالله بن مسعود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إن الله أمرني أن أزوج فاطمة من علي. رواه الطبراني ورجاله ثقات.

    http://s6.picofile.com/file/8266393400/0000000000000000000000000000000000000000.png

    http://s7.picofile.com/file/8266393484/%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D9%84%DB%8C_2.jpg

    http://s7.picofile.com/file/8266393592/%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%B9%D9%84%DB%8C_3.jpg

    تحقیق چاہیے

    • Islamic-Belief says:

      معجم الکبیر طبرانی میں ہے
      حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّابُونِيُّ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْهَاشِمِيُّ، ثنا عَبْدُ النُّورِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمِسْمَعِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ أَمَرَنِي أَنْ أُزَوِّجَ فَاطِمَةَ مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا»
      ابن مسعود نے کہا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ بے شک الله نے مجھے حکم دیا کہ فاطمہ کو علی سے بیاہ دوں

      ———-
      میزان الاعتدال میں الذھبی نے اس روایت کا خاص ذکر کیا ہے کہ یہ کذاب عبد النور بن عبد الله المسمعي کا قول ہے

      عبد النور بن عبد الله المسمعي.
      عن شعبة.
      كذاب.
      وقال العقيلي: كان يغلو في الرفض، ووضع هذا عن شعبة.
      عن عمرو ابن مرة، عن أبيه، عن إبراهيم، عن مسروق، عن عبد الله، قال لنا رسول الله
      صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك: إن الله أمرني أن أزوج فاطمة من علي.
      ففعلت، فقال لي جبرائيل: إن الله قد بنى جنة من لؤلؤ..وسرد حديثاً طويلا.

  128. خواجہ says:

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ
    أبو جابر دامانوی نے دولابی کو ضعیف کہا کیا ان کی توثیق مل سکتی
    ہے؟؟

  129. Abu abdullah says:

    اسلام وعلیکم
    حدیث اسلام ایا غریب تھا پھر غریب ہو جائے گااس کی
    detail بتائیے

    • Islamic-Belief says:

      اس روایت کو قیامت کے اثار صغری میں شمار کیا جاتا ہے اور دس نشانیوں کو اثار الکبری کہا جاتا ہے
      لیکن اگر اپ اس حدیث کو غور سے دیکھیں تو یہ بہت سخت قول ہے
      اس کا مطلب ہے کہ ایمان مکہ سے نکل جائے گا اور مدنیہ سے بھی نکل جائے گا

      مسند احمد میں ہے
      حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنَ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ (1) ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ “، قِيلَ: وَمَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: ” النُّزَّاعُ مِنَ الْقَبَائِلِ
      عَبْدِ اللهِ نے کہا نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اسلام اجنبت میں شروع ہوا اور ایسا ہی ہو جائے گا پس خوش خبری ہو اجنبییوں کے لئے – کہا گیا اجنبی کون ؟ فرمایا قبائل کا فساد

      شعيب الأرنؤوط کے نزدیک سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے

      مسند ابویعلی میں ہے
      حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، أَنَّ أَبَا حَازِمٍ، حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنٍ لِسَعْدٍ، قَالَ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْإِيمَانَ بَدَأَ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ يَوْمَئِذٍ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ لَيَأْرِزَنَّ الْإِسْلَامُ بَيْنَ هَذَيْنِ الْمَسْجِدَيْنِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ فِي جُحْرِهَا»
      سعد بن ابی وقاص نے کہا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کو فرماتے سنا ایمان اجنبیت میں شروع ہوا اور ایسا ہی ہو جائے گا پس خوشخبری ہو اجنبی کے لئے اس روز لوگوں میں فساد ہو گا اور وہ جس کے ہاتھ میں ابو قاسم کی جان ہے ایمان سانپ کی طرح دو مسجدوں کے درمیان سرکے گا جیسے سانپ بل میں جاتا ہے

      حسين سليم أسد نے اس کو صحیح قرار دیا ہے

      صحیح بخاری میں ہے
      حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ المُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى المَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا»
      أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، نے کہا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نے فرمایا ایمان مدینہ کی طرف سرکے گا جیسے سانپ اپنے بل کی طرف اتا ہے

      اس روایت کے متن میں یہ ہے کہ
      ایمان مسجدوں کے درمیان کہا گیا ہے مسجد النبی اور مسجد الحرام میں قرار نہیں دیا گیا
      ایمان مدینہ میں کہا گیا ہے مسجد النبی کو اس سے نکال دیا گیا ہے
      یہ سب عرب قبائل کے فساد کے وقت ہو گا – ایسا متعدد بار ہوا جنگ جمل بھی قبائل کا فساد ہے – بنو امیہ اور بنو عباس کا فساد بھی قبائل کا اپس کا فساد ہے
      ================

      بعض کے نزدیک روایت کا حصہ جس میں ہے کہ ایمان مدینہ میں آئے گا یہ حدیث پوری ہوئی
      عمدة القاري شرح صحيح البخاري میں بدر الدين العينى (المتوفى: 855هـ) نے کہا
      قلت: هَذَا إِنَّمَا كَانَ فِي زمن النَّبِي، صلى الله عَلَيْهِ وَسلم، وَالْخُلَفَاء الرَّاشِدين إِلَى انْقِضَاء الْقُرُون الثَّلَاثَة، وَهِي تسعون سنة، وَأما بعد ذَلِك فقد تَغَيَّرت الْأَحْوَال وَكَثُرت الْبدع خُصُوصا فِي زَمَاننَا هَذَا على مَا لَا يخفى.
      یہ بات دور نبوی کی تھی اور خلفاء راشدین سے تین قرون پورے ہونے تک اور یہ ٩٠ سال ہیں پس ان کے بعد تغیر آیا ہے اور بدعات کی کثرت ہوئی ہے اس زمانے میں جو کسی سے مخفی نہیں

      كشف المشكل من حديث الصحيحين میں ابن جوزی کا قول ہے
      (إِن الْإِيمَان ليأرز إِلَى الْمَدِينَة)) أَي يجْتَمع إِلَيْهَا بِهِجْرَة الْمُهَاجِرين
      ایمان مدینہ کی طرف سرکے گا یعنی جمع ہو گا جب مہاجرین (اصحاب رسول) نے اس کی طرف ہجرت کی تھی

      یعنی یہ قول دور نبوی میں پورا ہو چکا یا العينى کے بقول اس میں نوے سال کی مدت کا ذکر ہے

      مصابيح الجامع از بدر الدين المعروف بالدماميني، وبابن الدماميني (المتوفى: 827 هـ) کے مطابق
      قال الداودي: كان هذا في حياة النبي – صلى الله عليه وسلم -] (4)، والقَرْن الذي يليه، ومن يليه -أيضاً
      الداودي نے کہا ایسا رسول الله کی زندگی میں ہوا اور اس قرن میں جو ان کے دور سے ملا ہوا ہے اور وہ جو اس سے ملا ہوا ہے

      یعنی الداودي کے بقول اس حدیث کی شرح خیر القرون قرنی والی روایت سے ہوتی ہے یہ وقت گزر چکا
      ——
      پھر اس پر اور قول بھی ہیں ملا علی القاری نے مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں کہا
      وَهَذَا إِخْبَارٌ عَنْ آخِرِ الزَّمَانِ حِينَ يَقِلُّ الْإِسْلَامُ، وَقِيلَ: هَذَا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – لِاجْتِمَاعِ الصَّحَابَةِ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ فِيهَا، أَوِ الْمُرَادُ بِالْمَدِينَةِ جَمِيعُ الشَّامِ فَإِنَّهَا مِنَ الشَّامِ خُصَّتْ بِالذِّكْرِ لِشَرَفِهَا، وَقِيلَ: الْمُرَادُ الْمَدِينَةُ وَجَوَانِبُهَا وَحَوَالَيْهَا لِيَشْمَلَ مَكَّةَ فَيُوَافِقَ رِوَايَةَ الْحِجَازِ وَهَذَا أَظْهَرُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
      یہ آخری زمانہ میں ہو گا جب اسلام کی قلت ہو گی اور کہا گیا کہ دور نبوی میں ہو چکا جب اصحاب رسول اس میں جمع ہوئے یا مدینہ سے مراد ملک شام ہے کیونکہ شام کی فضیلت ہے اور کہا گیا مدینہ کا قرب و جوار ہے اس میں مکہ شامل ہے جو حجاز ہے اور یہ ظاہر ہے و الله اعلم

      ===================
      مدینہ میں ایمان ہوتا تو ساتویں صدی ہجری میں اس میں جھل کا مظاہرہ نہ ہوتا جس کا ذکر وہابی مفتی بن باز کرتے ہیں
      عبد العزيز بن عبد الله بن باز (المتوفى: 1420هـ) اپنے فتویٰ جو کتاب فتاوى نور على الدرب ج ٢ ص ٣٣٢ میں چھپا ہے میں گنبد الخضرا پر کہتے ہیں کہ

      لا شك أنه غلط منه، وجهل منه، ولم يكن هذا في عهد النبي – صلى الله عليه وسلم – ولا في عهد أصحابه ولا في عهد القرون المفضلة، وإنما حدث في القرون المتأخرة التي كثر فيها الجهل، وقل فيها العلم وكثرت فيها البدع، فلا ينبغي أن يغتر بذلك
      اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ غلطی ہے اور جھل ہے، اور یہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے دور میں نہ تھا، نہ ہی صحابہ کے دور میں تھا ، نہ ہی قرون اولی میں تھا، اور بے شک اس کو بعد میں آنے والے زمانے میں بنایا گیا جس میں جھل کی کثرت تھی اور علم کی کمی تھی اور بدعت کی کثرت تھی پس یہ جائز نہیں کہ اس سے دھوکہ کھایا جائے

      یہ شواہد اشارہ کرتے ہیں کہ ایمان مسجدوں سے نکل گیا اور اب اپ مسجد النبی دیکھ سکتے ہیں جہاں صبح و شام قبر پر ہجوم ہے لوگ حیات النبی کا عقیدہ اور سماع عند القبر کا عقیدہ رکھتے ہیں

      =======

      راقم کے نزدیک دجال ایک مسلمان ہے جو کعبہ کا طواف کرے گا

      مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «أُرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ. فَرَأَيْتُ رَجُلاً آدَمَ. كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ. لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ. قَدْ رَجَّلَهَا فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً. مُتَّكِئاً عَلَى رَجُلَيْنِ، أَوْ عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ. يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ. فَسَأَلْتُ: مَنْ هذَا؟
      فَقِيلَ: هذَا الْمَسِيحُ بْنُ مَرْيَمَ – ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ . أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَى. كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ. فَسَأَلْتُ: مَنْ هذَا؟
      فَقِيلَ: هذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ
      مالک ، نافع سے وہ عبد الله بن عمر رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
      میں نے رات میں نیند میں کعبہ کے پاس آدمیوں میں سے ایک بہت خوب آدمی دیکھا ….دو آدمیوں پر سہارا لئے کعبہ کا طواف کر رہا تھا میں نے پوچھا کون ہے کہا گیا مسیح ابن مریم- پھر ایک انگور کی طرح پھولی انکھ سے کانے کو دیکھا جس کے بال گھونگھر والے تھے – پوچھا یہ کون ہے کہا مسیح دجال ہے
      موطا امام مالک

      وہ روایات جن میں ہے دجال مکہ میں داخل نہ ہو گا وہ میرے نزدیک شاذ و ضعیف ہیں
      ———–
      دابه الارض مکہ میں صفا سے نکلے گا

      أخبار مكة وما جاء فيها من الأثار از أبو الوليد بالأزرقي (المتوفى: 250هـ) کی روایت ہے
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: تَخْرُجُ الدَّابَّةُ مِنْ تَحْتِ الصَّفَا
      عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو نے کہا دابه الارض کوہ صفا کی تہہ سے نکلے گا
      اس کی سند بطور شاہد صحیح ہے
      واختلف في روايته عن عبد الله بن عمرو فقيل لم يسمع منه قلت أخرج له البخاري عنه حديثين
      اس میں اختلاف ہے کہ مجاہد کا سماع عبدالله بن عمرو سے ہے یا نہیں البتہ امام بخاری نے ان کی روایت صحیح میں لی ہے

      اخبار مکہ از أبو عبد الله محمد بن إسحاق بن العباس المكي الفاكهي (المتوفى: 272هـ) کی روایت ہے
      وَحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ قَالَ: ثنا أَبُو شِبْلٍ مُهَنَّا عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَرِيزٍ، وَقَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أَخَذَ نَعْلَهُ وَقَالَ: ” لَوْ شِئْتُ أَنْ لَا أَنْتَعِلَ حَتَّى أَضَعَ رِجْلَيَّ حَيْثُ تَخْرُجُ الدَّابَّةُ مِنْ قِبَلِ أَجْيَادَ مِمَّا يَلِي الصَّفَا
      عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو نے کہا دابه الارض ان چٹانوں سے نکلے گا جو کوہ صفا سے ملی ہیں
      اس سند میں انقطاع ہے

      المقصد العلي في زوائد أبي يعلى الموصلي از الهيثمي (المتوفى: 807هـ) کی رویات ہے
      حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فَذَكَرَ بِهَذِهِ التَّرْجَمَةِ أَحَادِيثَ يَقُولُ فِيهَا: وَبِهِ.
      فَمِنْهَا: عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: أَلا أُرِيكُمُ الْمَكَانَ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ دَابَةَ الأَرْضِ تَخْرُجُ مِنْهُ» .
      فَضَرَبَ بِعَصَاهُ الشِّقَّ الَّذِي فِي الصَّفَا
      ابْنِ عُمَرَ نے کہا میں تم کو مکان دکھا دوں جس کے لئے رسول الله نے فرمایا یہاں سے دابه الارض نکلے گا پس انہوں نے کوہ صفا پر اپنے عصا سے ضرب لگائی
      اس کی سند صحیح ہے

      یہ اقوال ثابت کرتے ہیں کہ ایمان مکہ میں نہیں ہو گا اسی بنا پر دابه الارض وہاں سے نکلے گا

      و الله اعلم

  130. وجاہت says:

    وٹس ایپ پر ایک مولوی صاحب یہ حدیث سنا رہے ہیں اور آگے شہئر کرنے کا بھی کہہ رہے ہیں

    ایک بار پیارےآقا حضرت محمد مصطفٰی ؐ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے گھرمیں آرام فرماتھے۔ اس دن نبیؐ بڑے خوش تھے بہت خوشگوار موڈ میں تھے بڑی بشاش سی طبیعت، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ جب تشریف لائیں تو آقاؐ نےمسکرا کر فرمایاتبسم لاکرفرمایا” اے عائشہ مانگو آج جو مانگانا ہے”. نبیؐ کو اتنی بمسکرا کر خوش ہوکر جب ؐ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے سنا کہ اے عائشہ مانگو آج جو مانگانا تو پریشان ہو گئی کہ آج تو آقاؐ بڑےموڈ میں ھیں بڑے خوش ہیں آج مانگو تو کیا مانگو اب آپؓ سوچ میں پڑھ گئیں کہ یہ مانگو تو یہ چھوٹتا ہےیہ مانگو تو یہ چھوٹتا ہے کچھ ایسا مانگو کہ جس میں سب آ جائے اب اسی سوچ میں گم ہو گئیں مگر نتیجہ نہ نکال پائیں۔تو پھر انہوں نے کہا کہ یارسول اللہؐ کیا مجھے اس بات کی اجازت ہے کہ آپؐ سے کیا مانگو اس کے لئے میں مشورہ کرلوں۔ تو آپؐ نے کہا عائشہ کس سے مشورہ کرو گی۔ تو فرمایا ! یارسول الله ؐ اپنے والد گرامی سے تو آپؐ نے مسکرا کر فرمایا اچھا میرے یارغار سے مشورہ کرنا چاہتی ہو ؟ نبیؐ نے فرمایا تو جاو عائشہؓ مشورہ کر لو۔۔اگر آپ میرے یارغار ہی سے مشورہ کرنا چاہتی ہو تو جاو مشورہ کر لو۔ توالمومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ دوڑیں ہوئی اپنے والد محترم حضرت صدیق اکبرؓ کے پاس آئی تو کہا ابّا آج نبیؐ بہت خوش ہیں تو انہوں نے خوش ہو کر کہاکہ ” اے عائشہ مانگو آج جو مانگانا ہے”میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا مانگوں تو کہا اچھا رسول الله ؐ نے ایسے فرمایا۔ ۔ ۔ توحضرت صدیق اکبرؓ بھی بڑے خوش ہوئے ۔ ۔ ۔ تو کہا بیٹی اگر ایسا ہے توسنو ۔ ۔ ۔! اگر تم میرا مشورہ مانگتی ہو تو آقاؐ سے یہی ایک چیز مانگ لو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو کہا کیا مانگوں ۔ ۔ ۔؟
    آقاؐ سے کہو کہ یارسول الله ؐجب آپؐ معراج کی شب گئے تھے ، رب سے ملے تھے، تو جو خاص ملاقات ہوئی تھی، تو اس خاص ملاقات میں کچھ خاص باتیں بھی ہوئیں تھیں، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔تو ان خاص باتوں میں سے کوئی ایک خاص بات ہی بتا دیجئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُ س راز والی بات میں سے جو صرف آپؐ اور رب کریم جانتا ہے اس میں سے صرف کوئی ایک بات ہی بتا دیجئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ دوڑیں ہوئیں آئیں ۔ ۔ ۔تو نبیؐ نے دور سے آتے ہوئے دیکھا توفرمایا ” عائشہ پوچھ آئی۔ ۔ ۔ کیا فرمایا میرےیار غار نے ”
    جی ہاں پوچھ آئی یارسول الله ؐ۔ ۔ ۔یارسول الله ؐمجھے بس وہ جو آپ گئے تھے جو خاص ملاقات ہوئی تھی تو اس خاص ملاقات میں کچھ خاص باتیں بھی ہوئیں تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔تو ان خاص باتوں میں سے کوئی ایک خاص بات ہی بتا دیجئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُ س راز والی بات میں سے جو صرف آپؐ اور رب کریم جانتا ہے اس میں سے صرف کوئی ایک بات ہی بتا دیجئے ۔ ۔ ۔ آقاؐ مسکرا پڑے کہ میرے یارغار نے پوچھا بھی تو کیا پوچھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔! جاننا اچاہا بھی تو کیا جاننا چاہا۔ ۔ ۔ ۔ !تو سرکار دو عالم ؐ فرماتے ہیں کہ عائشہ یہ راز کی بات ہے ۔ ۔ ۔لیکن میں نے وعدہ کر لیا ہے تو میں ان باتوں میں سے ایک بات دیتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔کہ الله رب العزت نے مجھ سے فرمایا “کہ جو ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑدیگااسکو جنّت میں بیجھنا مجھ پر لازم ہو جائےگا ” ( سُبحان اللہ )اب ادھر حضرت صدیق اکبرؓ بڑی بے چینی انتظار فرمائے جا رہے تھے ۔ ۔ ۔ کہ کیا بتایا آقاؐ نے عائشہ جلدی سے آئے اور مجھے بتائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کہ کیا وہ خاص باتوں میں سے بات ہے ۔ ۔ ۔ ۔کچھ دیر بعدحضرت عائشہ صدیقہ ؓاپنے والد حضرت صدیق اکبرؓکے گھر میں داخل ہوتی ہیں تو دیکھتی کیا ہیں کہ حضرت صدیق اکبرؓ بڑی بے چینی سے ٹہل رہے ہیں ۔ ۔ ۔ اور وعدہ لے لیا تھا کہ عائشہ جب حضور ﷺ بتائیں گے تو تم آکرمجھے بتاو گی۔ ۔ ۔ ۔۔ تو وہ جب وعدے کی تکمیل کے لئے پہنچی۔ ۔ ۔ ۔ ۔توحضرت صدیق اکبرؓتیز قدموں کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی طرف لپکے ۔ ۔ آو بیٹی آو ۔ ۔ ۔ ۔میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا ۔ ۔کیا فرمایا آقاؐ نے ۔ ۔ ۔؟ تو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ خضورؐ نےفرمایا الله رب العزت نے مجھ سے فرمایا “کہ جو ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑدیگااسکو جنّت میں بیجھنا مجھ پر لازم ہو جائےگا ” ۔ ۔ ۔ ۔یہ سننا تھا کہ حضرت صدیق اکبرؓ نے زاروقطار رونا شروع کردیا ۔ ۔ ۔ ۔ بلکہ آواز کے ساتھ رونا شروع کردیا ۔ ۔ ؐ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ گبھرا گئیں ۔ ۔ کہ ابّا جان یہ تو خوشی کی بات ہے آپؓ اس پر رو رہے ہیں ، گبھراے ہوئے ہیں ،اس قدر ڈرے ہوئے ہیں ؟ بات کیا ہے؟ حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ نے فرمایا بیٹی ۔ ۔ ۔ ۔ تم نے اس بات کاایک ہی روخ تو دیکھا ہے۔ ۔ ۔
    ” جو ٹوٹے ہوئے دلوں جوڑ دے اس پر جنت لازم ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو کسی کا دل توڑ دے تو اس پر جہنم بھی تو لازم ہوگئی نا “​

    تحقیق اور ریفرنس چاہیے

  131. وجاہت says:

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    قَالَ إِسْمَاعِيْلُ بنُ عَيَّاشٍ: حَدَّثَنَا شُرَحْبِيْلُ بنُ مُسْلِمٍ قَالَ: أَتَى أَبُو مُسْلِمٍ الخَوْلاَنِيُّ المَدِيْنَةَ وَقَدْ قُبِضَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، واستُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ.
    فحدَّثنا شُرَحْبِيْلُ أنَّ الأَسْوَدَ تنبَّأ بِاليَمَنِ، فَبَعَثَ إِلَى أَبِي مُسْلِمٍ، فَأَتَاهُ بِنَارٍ عَظِيْمَةٍ، ثُمَّ إِنَّهُ أَلْقَى أَبَا مُسْلِمٍ، فِيْهَا فَلَمْ تَضَرَّهُ، فَقِيْلَ لِلأَسْوَدِ: إِنْ لَمْ تَنْفِ هَذَا عَنْكَ أَفْسَدَ عَلَيْكَ مَنِ اتَّبَعَكَ، فَأَمَرَهُ بِالرَّحِيْلِ، فَقَدِمَ المَدِيْنَةَ، فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، وَدَخَلَ المَسْجِدَ يُصَلِّي، فَبَصُرَ بِهِ عُمَرُ -رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فقام إِلَيْهِ فَقَالَ: مِمَّن الرَّجُلُ؟ قَالَ: مِنَ اليَمَنِ, قَالَ: مَا فَعَلَ الَّذِي حَرَّقَهُ الكَذَّابُ بِالنَّارِ؟ قَالَ: ذَاكَ عَبْدُ اللهِ بنُ ثُوَبٍ, قَالَ: نَشَدْتُكَ بِاللهِ, أَنْتَ هُوَ؟ قَالَ: اللهمَّ نَعَمْ، فَاعْتَنَقَهُ عُمَرُ وَبَكَى، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ حَتَّى أَجْلَسَهُ فِيْمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصِّدِّيْقِ، فَقَالَ: الحَمْدُ للهِ الَّذِي لَمْ يُمِتْنِي حَتَّى أَرَانِي فِي أُمَّةِ مُحَمَّدٍ مَنْ صُنِعَ بِهِ كَمَا صُنِعَ بإبراهيم الخليل. رواه عبد الوهاب بن نجد، وَهُوَ ثِقَةٌ، عَنْ إِسْمَاعِيْلَ, لَكِنَّ شُرَحْبِيْلَ أَرْسَلَ الحِكَايَةَ.​

    سير أعلام النبلاء

    علامہ ناصر الدین البانیؒ سے اس قصہ کے متعلق سوال ہوا ، تو فرمایا کہ یہ صحیح ہے ،
    شیخ البانی کا یہ جواب ان کی آڈیو کیسٹ میں ہے ان آڈیو کیسیٹس کو مکتبہ شاملہ کیلئے (E book ) کتابی شکل دی گئی ہے ۔
    دیکھئے (تفريغ «فتاوى جدة» للشيخ الألباني – الإصدار الرابع ۔ کیسٹ 29 )

    السائل: طيب ياشيخ فيه قصة أويس القرني وقصة أبي مسلم الخولاني مدى صحتهم؟
    الشيخ: أما قصة أبي مسلم الخولاني فصحيحة ألست تعني لما ألقي في التنور فهي صحيحة وفيه قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه ” الحمد لله الذي جعل في أمة محمد من جعل النار بردا وسلاما عليه كما جعلها على آل إبراهيم ”

    حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس واقعہ کو البدایۃ و النہایۃ میں قدرے تفصیل سے نقل کیا ہے ، جس سے اس کی صحت کے شواہد ملتے ہیں ، مثلا یہ قول نقل کرتے ہیں

    قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عيَّاش: فَأَنَا أَدْرَكْتُ رِجَالًا مِنَ الْأَمْدَادِ الَّذِينَ يمدُّون إِلَيْنَا مِنَ الْيَمَنِ مِنْ خَوْلَانَ، ربَّما تَمَازَحُوا فَيَقُولُ الْخَوْلَانِيُّونَ لِلْعَنْسِيِّينَ: صاحبكم الكذَّاب حرق صاحبنا بالنَّار ولم تَضُرَّهُ۔

    البداية والنهاية

    اسی طرح ایک اور واقعہ ایک اور سند سے نقل کیا ہے

    وَرَوَى الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ دُحَيْمٍ: حدَّثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حدَّثنا الْوَلِيدُ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ أَبِي بِشْرٍ – جَعْفَرِ بْنِ أبي وحشية – أنَّ رجلاً أَسْلَمَ فَأَرَادَهُ قَوْمُهُ عَلَى الْكُفْرِ فَأَلْقَوْهُ فِي نَارٍ فَلَمْ يَحْتَرِقْ مِنْهُ إِلَّا أُنْمُلَةٌ لَمْ يَكُنْ فِيمَا مَضَى يُصِيبُهَا الْوُضُوءُ، فَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: أَنْتَ أحق قال أبو بكر: أنت أُلْقِيتَ فِي النَّار فَلَمْ تَحْتَرِقْ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُ ثمَّ خرج إلى الشَّام، وكانوا يسمُّونه بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهَذَا الرَّجل هُوَ أَبُو مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، وَهَذِهِ الرِّواية بِهَذِهِ الزِّيادة تُحَقِّقُ أنَّه إنَّما نَالَ ذَلِكَ بِبَرَكَةِ مُتَابَعَتِهِ الشَّريعة المحمَّدية المطهَّرة المقدَّسة، كَمَا جَاءَ فِي حَدِيثِ الشَّفاعة

    البداية والنهاية

    • Islamic-Belief says:

      قَالَ إِسْمَاعِيْلُ بنُ عَيَّاشٍ: حَدَّثَنَا شُرَحْبِيْلُ بنُ مُسْلِمٍ قَالَ: أَتَى أَبُو مُسْلِمٍ الخَوْلاَنِيُّ المَدِيْنَةَ وَقَدْ قُبِضَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، واستُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ.
      فحدَّثنا شُرَحْبِيْلُ أنَّ الأَسْوَدَ تنبَّأ بِاليَمَنِ، فَبَعَثَ إِلَى أَبِي مُسْلِمٍ، فَأَتَاهُ بِنَارٍ عَظِيْمَةٍ، ثُمَّ إِنَّهُ أَلْقَى أَبَا مُسْلِمٍ، فِيْهَا فَلَمْ تَضَرَّهُ، فَقِيْلَ لِلأَسْوَدِ: إِنْ لَمْ تَنْفِ هَذَا عَنْكَ أَفْسَدَ عَلَيْكَ مَنِ اتَّبَعَكَ، فَأَمَرَهُ بِالرَّحِيْلِ، فَقَدِمَ المَدِيْنَةَ، فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، وَدَخَلَ المَسْجِدَ يُصَلِّي، فَبَصُرَ بِهِ عُمَرُ -رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فقام إِلَيْهِ فَقَالَ: مِمَّن الرَّجُلُ؟ قَالَ: مِنَ اليَمَنِ, قَالَ: مَا فَعَلَ الَّذِي حَرَّقَهُ الكَذَّابُ بِالنَّارِ؟ قَالَ: ذَاكَ عَبْدُ اللهِ بنُ ثُوَبٍ, قَالَ: نَشَدْتُكَ بِاللهِ, أَنْتَ هُوَ؟ قَالَ: اللهمَّ نَعَمْ، فَاعْتَنَقَهُ عُمَرُ وَبَكَى، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ حَتَّى أَجْلَسَهُ فِيْمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصِّدِّيْقِ، فَقَالَ: الحَمْدُ للهِ الَّذِي لَمْ يُمِتْنِي حَتَّى أَرَانِي فِي أُمَّةِ مُحَمَّدٍ مَنْ صُنِعَ بِهِ كَمَا صُنِعَ بإبراهيم الخليل.
      شُرَحْبِيْلُ بنُ مُسْلِمٍ نے کہا ابو مسلم خولانی مدینہ پہنچے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی روح قبض ہوئی اور ابو بکر خلیفہ ہوئے پس شُرَحْبِيْلُ بنُ مُسْلِمٍ نے بتایا کہ الاسود کو یمن بھیجا گیا اس نےوہاں ایک عظیم اگ جلائی اور اس میں ابو مسلم کو جھونک دیا لیکن ان کو کوئی نقصان نہ ہوا اس پر الاسود نے کہا اگر تم انکار نہ کرو گے تو تمہارے متبعین فساد کریں گے پس ابو مسلم کو لادھ کر مدینہ لائے اور مسجد میں داخل ہوئے جب نماز ہو رہی تھی اور عمر نے دیکھا ان کے سامنے کھڑے ہوئے پوچھا کہاں سے آئے؟ کہا یمن سے پوچھا اس کذاب کا کیا ہوا جس کو اگ میں جلایا؟ کہا یہ عبد الله بن ثوب ہے کہا الله کی قسم کیا تم ہی ہو ؟ کہا ہاں پس عمر نے اس کو آزاد کر دیا اور روئے اور پھر وہ ابو بکر صدیق کے پاس گئے بیٹھے کہا الله کی تعریف ہے جس نے مجھے موت نہیں دی یہاں تک کہ امت میں دکھایا اس کو جس کے ساتھ وہی سب کیا جو ابراہیم کے لئے کیا تھا

      الذھبی نے شرحبيل بن مسلم کا ترجمہ میزان میں قائم کیا ہے وہاں یہ پوری روایت نقل کی ہے اور ابن معین کا قول بھی نقل کیا ہے کہ یہ شرحبيل بن مسلم ضعیف ہے
      ——-

      ابن کثیر کی روایت کی سند میں جعفر بن أبي وحشية إياس، أبو بشر اليشكري الواسطي ہے اس پر بھی جرح ہے
      شعبة اس کو ضعیف کہتے

  132. وجاہت says:

    مسند احمد کی اس حدیث کو احمد شاکر صحیح کہتے ہیں

    1719 حدثنا عبد اللَّهِ حدثني أبي ثنا وَكِيعٌ عن شَرِيكٍ عن أبي إِسْحَاقَ عن هُبَيْرَةَ خَطَبَنَا الْحَسَنُ بن عَلِيٍّ رضي الله عنه فقال لقد فارقكم رَجُلٌ بِالأَمْسِ لم يَسْبِقْهُ الأَوَّلُونَ بِعَلْمٍ وَلاَ يُدْرِكُهُ الآخِرُونَ كان رسول اللَّهِ صلي الله عليه وسلم يَبْعَثُهُ بِالرَّايَةِ جِبْرِيلُ عن يَمِينِهِ وَمِيكَائِيلُ عن شِمَالِهِ لاَ يَنْصَرِفُ حتي يُفْتَحَ له

    http://s6.picofile.com/file/8265582426/%D9%85%D8%B3%D9%86%D8%AF1.jpg

    http://s6.picofile.com/file/8265582468/%D9%85%D8%B3%D9%86%D8%AF2.jpg

    محمد ناصر الدين الباني نيز بھی كتاب سلسلهء الأحاديث

    الصحيحه میں لکھتے ہیں کہ

    http://s7.picofile.com/file/8265582800/%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%D9%871.jpg

    http://s7.picofile.com/file/8265582834/%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%D9%872.jpg

    آپ سے اس کی تحقیق مطلوب ہے

  133. وجاہت says:

    امام ذھبی اپنی دونو کتابوں تاریخ الاسلام اور سیر أعلام النبلاء میں لکھتے ہیں کہ – یہ لکھنے کا ان کا کیا مقصد ہے – کیا وہ بھی اس کو سچ سمجھتے تھے

    سمعت أبا عبد الرحمن السلمی یقول : دخلت على أبی عبد الله الحاکم وهو فی داره لا یمکنه الخروج إلى المسجد من أصحاب أبی عبد الله بن کرام ، وذلک أنهم کسروا منبره ومنعوه من الخروج ، فقلت له : لو خرجت وأملیت فی فضائل هذا الرجل شیئا لاسترحت من هذه المنحة . فقال : لا یجیء من قلبی ، ) لا یجیء من قلبی ، یعنی معاویة .

    • Islamic-Belief says:

      فسمعت أبا الفتح سَمْكَوَيْهِ بَهَراة يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْد الواحد المليحيّ يَقُولُ: سمعتُ أبا عَبْد الرَّحْمَن السُّلَمّي يَقُولُ: دخلتُ علي أبي عَبْد اللَّه الحاكم وهو فِي داره لا يمكنه الخروج إِلَى المسجد من أصحاب أبي عَبْد الله بْن كّرام، وذلك أنّهم كسروا مِنْبَره ومنعوه مِن الخروج، فقلت لَهُ: لو خرجت وأمليتَ في فضائل هذا الرجل شيئًا لاسترحتَ مِن هذه المحنة.
      فقال: لا يجيء من قلبي، لا يجيء من قلبي، يعني معاوية.

      أبا عَبْد الرَّحْمَن السُّلَمّي نے کہا میں امام حاکم کے پاس گیا ان کا گھر سے نکل کر مسجد جانا نا ممکن ہوا جب اصحاب عبد اللہ بن کرام نے ان کا منبر توڑا اور ان کا نکلنا بند کردیا میں نے کہا اگر میں باہر جا کر اس شخص کے فضائل بیان کروں تو اپ سے یہ امتحان میں آسانی ہو گی – کہا میرے دل میں نہیں اتا یعنی معاویہ
      ——
      امام حاکم میں رفض کے اثرات تھے

      ⇓ اہل سنت میں رافضیت کے بیج
      http://www.islamic-belief.net/masalik/شیعیت/

      جس کی وجہ سے ان کے ساتھ یہ سب ہوا

  134. وجاہت says:

    امام ذھبی اپنی تین کتابوں تذکرة الحفاظ ، سیر أعلام النبلاء و تهذیب الکمال میں امام نسائی کے بارے میں یہ لکھتے ہیں – کیا یہ حقیقت ہے کہ امام نسائی کے ساتھ ایسا ہوا

    إنّ النسائی خرج من مصر فی آخر عمره إلى دمشق ، فسئل بها عن معاویة وما جاء فی فضائله ! فقال : لا یرضى رأسا برأس حتى یفضل ! فما زالوا یدفعون فی خصیتیه حتى أخرج من المسجد وحمل إلى الرملة أو مکة فتوفی بها

    ساتھ ساتھ ابن کثیر بھی البدایة والنهایة میں لکھتے ہیں کہ

    ودخل دمشق فسأله أهلها أن یحدّثهم بشئ من فضائل معاویة ، فقال : أما یکفی معاویة أن یذهب رأسا برأس حتى یروى له فضائل ! فقاموا إلیه فجعلوا یطعنون فی خصیتیه حتى أخرج من المسجد

    • Islamic-Belief says:

      وقال أبو عبد الرحمن بن مَنْدَه، عن حمزة العَقَبيّ المصريّ وغيره أنّ النّسائيّ خرج من مصر في آخر عُمَره إلى دمشق، فسُئِل بها عن معاوية وما رُوِيَ في فضائله فقال: لَا يرضى رأسًا برأس حتّى يُفَضَّلَ [2] .
      قال: فما زالوا يدفعون في حضْنَيْه [3] حتَّى أُخْرِج من المسجد. ثمّ حُمِل إلى الرملة [4] ، وتُوُفّي بها، رحمة الله ورضي عنه [5] .
      وقال الدَّارَقُطْنيّ: إنّه خرج حاجًا فامتُحِن بدمشق، وأدرك الشّهادة، فقال:
      احملوني إلى مكّة. فَحُمِل وتوفي بها. وهو مدفون بين الصّفا والمَرْوَة.

      ——–
      المنتظم في تاريخ الأمم والملوك از المؤلف: جمال الدين أبو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد الجوزي (المتوفى: 597هـ) میں اس کی سند ہے

      أَنْبَأَنَا زَاهِرُ بْن طَاهِرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو بكر البيهقي، أخبرنا أبو عبد الله محمد بْن عبد الله الحاكم، قَالَ: حدثني مُحَمَّد بْن إسحاق الأصبهاني، قَالَ: سمعت مشايخنا بمصر يذكرون أن أبا عبد الرحمن فارق مصر في آخر عمره، وخرج إلى دمشق، فسئل عن معاوية وما روي في فضائله، فَقَالَ: لا يرضى معاوية رأسا برأس حتى يفضل، قَالَ:
      وَكَانَ يتشيع، فما زالوا يدفعون في خصيته حتى أخرج من المسجد، ثم حمل إلى الرملة [3] ، فمات فدفن بها سنة ثلاث وثلاثمائة.

      سند میں مشايخنا بمصر مجہول ہیں
      ——-
      بغية الطلب في تاريخ حلب
      المؤلف: عمر بن أحمد بن هبة الله بن أبي جرادة العقيلي، كمال الدين ابن العديم (المتوفى: 660هـ)

      قال علي بن محمد المادرائي: وحدثني أهل بيت المقدس قالوا: قرأ علينا أبو عبد الرحمن النسائي كتاب الخصائص، فقلت «2» له: أين فضائل معاوية؟ فقال:
      وما يرضى معاوية أن يسكت عنه، قال: فرجمناه وضغطناه، وجعلنا نضرب جنبه، فمات بعد ثلاث.

      سند میں حدثني أهل بيت المقدس مجہول ہیں
      ——–

      بعض کے بقول یہ مصر میں ہوا اور بعض کے بقول یہ شام میں ہوا اور بعض کے بقول یہ مصر میں ہوا
      لیکن صحیح سند سے ثابت نہیں ہے

      صحیح سند سے صرف اتنا ہے کہ نسائی کو مسجد سے نکل جانے کو کہا گیا
      قرأت بخط الحافظ أبي طاهر أحمد بن محمد السلفي، وأخبرنا به اجازة عنه أبو علي حسن بن أحمد بن يوسف وغيره، قال: قرأت على أبي عبد الله يعني محمد ابن أحمد بن ابراهيم الرازي بالاسكندرية عن أبيه أبي العباس قال: أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الحسن بن عمر الصيرفي قال: حدثنا أبو اسحاق ابراهيم بن نصر البزاز، وكتبه لي بخطه، قال: حدثنا علي بن محمد الكاتب المادرائي قال: حدثني أبو منصور تكين الامير قال: قرأ علي أبو عبد الرحمن النسائي كتاب الخصائص فقلت له: حدثني بفضائل معاوية، فجاءني بعد جمعة بورقة فيها حديثان، فقلت:
      أهذه بس؟ فقال: وليست بصحاح، هذه غرم معاوية عليها الدراهم، فقلت له:
      أنت شيخ سوء، لا تجاورني، فقال: ولا لي في جوارك حظ، وخرج.

      یعنی قتل نہیں ہوا تھا ان کو فضائل معاویہ نہ بیان کرنے پر مسجد سے چلتا کیا گیا

      ابن عساکر کا تاریخ دمشق میں کہنا ہے
      وهذه الحكاية لا تدل على سوء اعتقاد أبي عبد الرحمن في معاوية بن أبي سفيان، وإنما تدل على الكف عن ذكره بكل حال
      اس حکایت سے یہ دلیل نہیں ملتی کہ امام نسائی ، معاویہ رضی الله عنہ سے سوء اعتقاد رکھتے تھے بلکہ وہ ان کے حوالے سے کوئی بھی ذکر کرنے سے رکتے تھے

      • وجاہت says:

        ابن حجر عسقلانی اپنی کتاب تهذیب و التهذیب میں لکھتے ہیں کہ

        وقال ابن أبی حاتم سألت أبی عن نصر بن علی وأبی حفص الصیرفی فقال نصر أحب إلی وأوثق وأحفظ من أبی حفص قلت فما تقول فی نصر قال ثقة وقال النسائی وابن خراش ثقة وقال عبید الله ابن محمد الفرهیانی نصر عندی من نبلاء الناس وقال أبو علی بن الصواف عن عبد الله ابن أحمد لما حدث نصر بن علی بهذا الحدیث یعنی حدیث علی بن أبی طالب أن رسول الله صلى الله علیه وسلم أخذ بید حسن وحسین فقال من أحبنی وأحب هذین وأباهما وأمهما کان فی درجتی یوم القیامة . أمر المتوکل بضربه ألف سوط فکلمه فیه جعفر بن عبد الواحد وجعل یقول له هذا من فعل أهل السنة فلم یزل به حتى ترکه

        اس کا ترجمہ کر دیں اور کیا یہ صحیح ہے

  135. وجاہت says:

    ابن حجر عسقلانی اپنی کتاب تهذیب التهذیب میں لکھتے ہیں کہ

    عن أم سلمة قالت کان الحسن والحسین یلعبان بین یدی رسول الله صلى الله علیه وسلم فی بیتی فنزل جبریل فقال یا محمد إن أمتک تقتل ابنک هذا من بعدک وأومأ بیده إلى الحسین فبکى رسول الله صلى الله علیه وسلم وضمه إلى صدره ثم قال رسول الله صلى الله علیه وسلم یا أم سلمة ودیعة عندک هذه التربة فشمها رسول الله صلى الله علیه وسلم وقال ویح وکرب وبلاء قالت وقال رسول الله صلى الله علیه وسلم یا أم سلمة إذا تحولت هذه التربة دما فاعلمی أن ابنی قد قتل قال فجعلتها أم سلمة فی قارورة ثم جعلت تنظر إلیها کل یوم وتقول إن یوما تحولین دما لیوم عظیم

    اس کا کیا مطلب ہے

  136. وجاہت says:

    صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ ﷺ وَوَفَاتِهِ) صحیح بخاری: کتاب: غزوات کے بیان میں (باب: نبی کریم کی بیماری اور آپ کی وفات)

    4460

    حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ طَلْحَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا فَقُلْتُ كَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أَوْ أُمِرُوا بِهَا قَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ

    حکم : صحیح 4460

    ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا ، کہاہم سے مالک بن مغول نے بیا ن کیا ، ان سے طلحہ بن مصرف نے بیان کیا کہ میں نے عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو وصی بنا یا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ میں نے پوچھا کہ لوگوں پر وصیت کرنا کیسے فرض ہے یاوصیت کرنے کا کیسے حکم ہے ؟ انھوں نے بتایا کہ آپ نے کتاب اللہ کے مطابق عمل کرتے رہنے کی وصیت کی تھی ۔

    —–

    صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ ﷺ وَوَفَاتِهِ) صحیح بخاری: کتاب: غزوات کے بیان میں (باب: نبی کریم کی بیماری اور آپ کی وفات)

    4459

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ فَقَالَتْ مَنْ قَالَهُ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَمُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي فَدَعَا بِالطَّسْتِ فَانْخَنَثَ فَمَاتَ فَمَا شَعَرْتُ فَكَيْفَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ

    حکم : صحیح 4459

    ہم سے عبد اللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہاہم کو ازہربن سعد سمان نے خبر دی ، کہا ہم کو عبد اللہ بن عون نے خبر دی ، انہیں ابراہیم نخعی نے اور ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس کا ذکر آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کوئی ( خاص ) وصیت کی تھی ؟ تو انہوں نے بتلایا کون کہتاہے ، میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھی ، آپ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے ، آپ نے طشت منگوایا ، پھر ایک طرف جھک گئے اور آپ کی وفات ہوگئی ۔ اس وقت مجھے بھی کچھ معلوم نہیں ہوا ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ نے کب وصی بنا دیا ۔

    —-

    صحیح مسلم کی یہ حدیث بھی ہے

    http://mohaddis.com/View/Muslim/2950

    اس میں بھی ہے کہ

    میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوط پکڑے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہو گے (وہ ہے) اللہ تعالیٰ کی کتاب

    ==

    کیا ان احادیث کی رو سے وصی رسول صلی الله علیہ وسلم قرآن کو کہہ سکتے ہیں – یہنی جس کی وصیت کی وہ الله کی کتاب ہے

    • Islamic-Belief says:

      وصی سے مراد شخص ہوتا ہے کوئی کتاب نہیں
      کہا جائے گا کتاب الله پر عمل کی وصیت کی

  137. وجاہت says:

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے – ابو شہر یار بھائی اس کا ریفرنس بھی بتا دیں – مجھے صرف یہ عبارت ملی ہے

    وروى عبد الرزاق عن معمر ، قال : کان عند الزهری حدیثان عن عروة عن عائشة فی علی علیه السلام ، فسألته عنهما یوما ، فقال : ما تصنع بهما وبحدیثهما ! الله أعلم بهما ، إنی لأتهمهما فی بنی هاشم . قال : فأما الحدیث الأول ، فقد ذکرناه ، وأما الحدیث الثانی فهو أن عروة زعم أن عائشة حدثته ، قالت : کنت عند النبی صلى الله علیه وسلم إذ أقبل العباس وعلى ، فقال : ( یا عائشة ، إن سرک أن تنظری إلى رجلین من أهل النار فانظری إلى هذین قد طلعا ) ، فنظرت ، فإذا العباس وعلی بن أبی طالب

  138. anum shoukat says:

    موسی علیہ السلام کے کوہ طور پر جانے کے بعد انکی قوم نے بچھڑے کو معبود بنا لیا تھا اور ہارون علیہ السلام نے فتنہ کے ڈر سے انکو منع نہیں کیا کیا مسلک پرستوں کو توحید کی دعوت دینا فتنہ ہے؟ پلیز رہنمائی کیجیے

    • Islamic-Belief says:

      ہارون نے گوسالہ پرستی سے منع کیا لیکن بنی اسرائیل کی قوم کے لئے الله کا جو پلان تھا وہ ان کے علم میں تھا لہذا وہ شرک سے منع کرتے رہے اور موسی کا انتظار کرتے رہے کہ اب الله ہی کوئی حکم کرے گا – یہ انتظار تھا مصلحت نہیں تھی- بنی اسرائیل نے ہارون علیہ السلام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا تھا اور وہ ان کو نہیں سن رہے تھے

      وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَارُونُ مِن قَبْلُ يَا قَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِ ۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَٰنُ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِي (90)
      سوره طہ

      ہارون نے منع کیا تھا کون کہتا ہے کہ خوف فتنہ سے منع نہ کیا – لیکن کسی نے ان کو سنا ہی نہیں وہ مجبورا موسی کے انے کا انتظار کر رہے تھے

  139. وجاہت says:

    جمال الدين أبو الحجاج يوسف المزي اپنی کتاب تهذيب الكمال في أسماء الرجال اور امام ذھبی اپنی کتاب سیر اعلام النبلاء میں لکھتے ہیں کہ

    وقال سلمة بن شبیب سمعت أبا عبد الرحمن المقرئ یقول کانت بنو أمیة إذا سمعوا بمولود اسمه علی قتلوه فبلغ ذلک رباحا فقال هو علی وکان یغضب من علی ویجرح على من سماه به

    ——

    ابن ہجر بھی اپنی کتاب لسان المیزان میں لکھتے ہیں کہ

    علی بن الجهم السلمی: … مشهوراً بالنصب کثیراً الحط على علی وأهل البیت وقیل أنه کان یلعن أباه لم سماه علیاً

    کیا ان باتوں میں حقیقت ہے – ان محدثین کا یہ لکھنے کا کیا مقصد ہے

    • Islamic-Belief says:

      ایک راوی کے نام میں والد کا نام علی ہے لیکن اس میں ع پر پیش ہے
      مُوسَى بْنُ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيُّ

      اس کی بحث میں ہے کہ اسکا نام عُلَيِّ اس لئے ہوا کہ بنو امیہ اس کو نا پسند کرتے کہ علی نام رکھا جائے لہذا ع پر زبر کی بجائے پیش کر دیا
      وَيُقَالُ إِنَّ أَهْلَ الْعِرَاقِ كَانُوا يَضُمُّونَ الْعَيْنَ مِنِ اسْمِ أَبِيهِ، وَأَهْلَ مِصْرَ يَفْتَحُونَهَا
      اہل عراق ان کا نام موسی بن علی میں پیش کرتے اور مصر والے زبر سے

      اب غور طلب ہے کہ بنو امیہ تو مصر اور شام اور حجاز اور عراق سب پر قابض تھے تو ایسا تو پورے عالم میں ہونا چاہیے کہ علی کو پیش سے ہی پڑھا جاتا

      لیکن عراق جو شیعوں کا گڑھ رہا وہاں ان کے ناموں میں بھی اس قسم کی کوئی پانبدی نہیں ملتی کہ علی کو پیش سے پڑھتے ہوں
      —–

      أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَتُّوثِيُّ، ثَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الرَّازِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ شَيْبٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، يَقُولُ: إِنَّمَا سُمِّيَ مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ لأَنَّهُ كَانَ فِي زَمَنِ بَنِي أُمَيَّةَ إِذَا سُمِّيَ الْمَوْلُودُ عَلِيًّا قَتَلُوهُ

      اس قول کو أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، سے منسوب کیا گیا ہے جنہوں نے اس قول کا مصدر نہیں بتایا

      تلخيص المتشابه في الرسم
      المؤلف: أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت بن أحمد بن مهدي الخطيب البغدادي (المتوفى: 463هـ) کے مطابق

      أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ الْبَصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذَّهَبِيُّ، قَالا: ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّكَّرِيُّ، ثَنَا أَبُو يَعْلَى الْمِنْقَرِيُّ، ثَنا الأَصْمَعِيُّ، قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ أَهْلَ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ يَكْرَهُونَ أَنْ يَقُولُوا: عُلَيٌّ، وَيَقُولُونَ: هُوَ عَلِيٌّ

      اہل موسی بن علی اس سے کراہت کرتے کہ علی کو پیش کیا جائے اور کہتے علی زبر سے بولو

  140. irfan says:

    السلام علیکم
    جنات انسان کو کس قدر متاثر کر سکتے ہیں. کیا فائدہ یا نقصان دے سکتے ہیں؟

    اور اکثریت میں مشہور ہے کہ وسوسہ ڈالنے کے علاوہ جنات انسان پر قابو بھی پالیتے ہیں جس کے متعلق کئی واقعات بھی مشہور ہیں.

    اور جس طرح سے شیطان ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مال چرانے آیا کیا جنات اب بھی کسی صورت میں ہمیں بہکا سکتے ہیں؟

    اسلام اس بارے میں کتنی معلومات دیتا ہے؟ اور قرآن کی اس آیت کے بارے میں بھی سمجھائیے گا کہ
    “سود کھانے والے قیامت کے دن ایسے اٹھیں گے جیسے شیطان نے انھیں چُھو کر دیوانہ بنا دیا ہو”

  141. Aysha butt says:

    Wajibat e namz bta dein kya in k qasdan tark se insan gunagar hoga
    Farz namz ki sunnat e mokdah qasdan chorne se insan gunaghar hoga kya or kya yeh sunnatein nafil.mn shamil hai

    • Islamic-Belief says:

      واجب وہ ہے جو فرض نہیں لیکن کیا گیا اس میں نماز جنازہ ہے نماز عید ہے اور اس پر فقہاء کی رائے ہے کہ محلہ میں سے چند لوگ یا شہر کے لوگ کر دیں تمام نہ بھی کریں تو کافی ہے
      ——-
      سنت موکدہ اور غیر موکدہ یہ سب متاخرین کی تقسیم ہیں- موکدہ مطلب جس کی جن کی تاکید کی جبکہ حدیث میں ان سنتوں کی تاکید کا کوئی ذکر نہیں – سنت بھی نفل ہیں جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے پڑھے اور یہ تمام ١٢ رکعت ہیں

      اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
      سمعت رسول اﷲﷺ یقول: «من صلّىٰ اثنتی عشرة رکعة في یوم ولیلة بُني له بهن بیت في الجنة» (صحیح مسلم:٧٢٨)
      ترجمہ:میں نے رسول اللہﷺ سے سنا كہ جو شخص دن اور رات میں ١٢ رکعات پڑھ لے، اُن کی وجہ سے اس کے لئے جنت میں ایک محل بنا دیا جاتا ہے۔

      اس روایت میں کوئی تاکید نہیں ہے کہ یہ ضرور پڑھے ورنہ گناہ ہے – تاکیدی حکم الگ ہیں
      اب اپ جمع کریں جس کو سنت موکدہ کہا جاتا ہے ان کی تعداد ہے

      فجر کی دو سنت
      ظہر کی چھ
      مغرب کی دو
      اور عشاء کی دو رکعات
      =====
      ٹوٹل ہوا بارہ

      اس طرح یہ نفل ہیں جو ١٢ کی تعداد میں پڑھے گئے

      یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے پڑھی ہیں جو فرض سے الگ ہیں لوگوں کی جانب سے ان رکعات کو سنت موکدہ کہا گیا ہے
      ===============

      الله نے ہم پر پانچ وقت کی نماز فرض کی ہے – اس کے بعد جنت میں محل چاہیے تو یہ مزید بارہ رکعات پڑھ لیں

  142. anum shoukat says:

    صدقہ کا بکرا کاٹنا کیا بدعت ہو گی؟؟ سوائے عید اور منی میں اور عقیقے میں یا گھر میں کھانے کیلئے یعنی بعض مولوی کہتے ہیں کہ صدقہ کا بکرا کاٹنا اس لیے منع ہے اس کے پیچھے یہ نظریہ ہوتا ہے کہ بلائیں ٹلے گی اوراگر بکرا کاٹنے کی بجائے پیسے دے دئیے جاتے تو غریب کی حاجت پوری ہوجائے اس بارے میں رہنمائی فرما دیجیے؟ شکریہ

    • Islamic-Belief says:

      صدقه کرنا عبادت ہے کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے اور غریب کو دیا جا سکتا ہے
      اب جب کرنسی نہیں تھی تو کیا کرتے تھے ؟ یہی کرتے تھے کہ جانور ذبح کرتے اور غریب کو دیتے
      دور نبوی میں جانور بھی ذبح کیے جاتے تھے لہذا یہ بدعت نہیں ہے

      لیکن یہ تصور کرنا کہ اس بکرے کے صدقه سے بلا ٹل جائے گی تو یہ بات من جانب الله ہے
      اس کا فیصلہ الله ہی کر سکتا ہے
      مجھ کو علم نہیں ہے

      ——-
      صدقه کرتے وقت بکرے پر باتھ پھروانا اور مرغی کو سر پر گھمانا – یہ سب توہمات ہیں
      صدقه کا گوشت اپ خود بھی کھا سکتے ہیں غریب کو دینے کے علاوہ

  143. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی آپ سے کل بھی پوچھ اٹھا لیکن کثرت سوالات کی وجہ سے شاہد آپ جواب نہیں دے سکے

    عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى جو صحیحین سمیت صحاح ستہ کی تقریباً ١٤٧ احادیث کے راوی ہیں

    http://mohaddis.com/Search/0/1/%D8%B9%D9%8E%D8%A8%D9%92%D8%AF%D9%90%20%D8%A7%D9%84%D8%B1%D9%91%D9%8E%D8%AD%D9%92%D9%85%D9%8E%D9%86%D9%90%20%D8%A8%D9%92%D9%86%D9%90%20%D8%A3%D9%8E%D8%A8%D9%90%D9%8A%20%D9%84%D9%8E%D9%8A%D9%92%D9%84%D9%8E%D9%89

    ان کو ثقہ بھی کہا گیا

    http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=4287

    http://www.islamicurdubooks.com/hadith-files/RD.php?RID=4287

    ان راوی کے بارے میں امام ذھبی اپنی کتاب سیر اعلام النبلاء میں لکھتے ہیں کہ

    روی عن أبی حصین ، أن الحجاج استعمل عبد الرحمن بن أبی لیلى على القضاء ثم عزله ، ثم ضربه لیسب أبا تراب رضی الله عنه ، وکان قد شهد النهروان مع علی

    اس کا کیا مطلب ہے – کیا یہ بات صحیح ہے اور اس کے باوجود یہ ثقہ ہیں یا نہیں

    • Islamic-Belief says:

      اس میں ہے کہ حجاج نے ان کو بطور قاضی لیا پھر کبھی کہا علی کو گالی دو انہوں نے نہیں دی تو معزول کیا

      اس قول کی سند نہیں ملی

      البتہ أبي حصين کے عَبْد الرحمن ابن أبي ليلى سے متعلق بعض اقوال اور ملے ہیں – کتاب أخبار القضاة از وَكِيع (المتوفى: 306هـ) میں ہے
      أَخْبَرَنِي عَبْد اللهِ بْن الْحَسَن، عَن النميري، عَن رجاء بْن سلمة، عَن أبيه، عَن قيس عَن أبي حصين، قال: لما قدم الحجاج الكوفة وولي عَبْد الرحمن ابن أبي ليلى القضاء قَالَ: له حوشب بْن يزيد بْن زريق: إن أردت أن ترى أبا تراب فول هَذَا؛ فعزله.
      حَدَّثَنِيه أَبُو قلابة؛ قال: حَدَّثَنِي رجاء بْن سلمة؛ قال: حَدَّثَنَا أبي، عَن قيس بْن الربيع، عَن أبي حصين، قال: لما قدم الحجاج العراق استعمل عَبْد الرحمن بْن أبي ليلى على القضاء، ثم عزله واستعمل أبا بردة بْن أبي موسى، وأقعد معه سعيد بْن جبير.

      سند میں رجاء بن سلمة ہے جس پر اتهم بسرقة الأحاديث احادیث چوری کا الزام ہے

  144. وجاہت says:

    یہ سوال میں اپنے علم کے لئے پوچھ رہا ہوں کہ ایک وہابی عالم محمد احمد باشمیل اپنی کتاب کیف نفهم التوحید میں لکھتے ہیں کہ

    توحید أبی جهل وأبی لهب : أبو جهل وأبو لهب ومن على دینهم من المشرکین، کانوا یؤمنون بالله ویوحدونه فی الربوبیة خالقاً ورازقاً، محییا وممیتا، ضاراً ونافعاً، لا یشرکون به فی ذلک شیئاً

    پھر آگے لکھتے ہیں کہ

    فقلت له: لیس هذا عجیبا ولا غریبا، بل هذا هو الواقع الذی ستعرفه وستسلم به (إن شاء الله) عندما تنکشف لک الحقائق جلیة

    http://s6.picofile.com/file/8223375226/001.png

    http://s3.picofile.com/file/8223375250/002.png

    جب وہابیوں کا یہ عقیدہ بھی ہے

    http://fatwa.islamweb.net/fatwa/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=243898

    http://fatwa.islamweb.net/fatwa/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=96848

    ان کا اصل عقیدہ کیا ہے ابو جہل اور ابو لہب کے بارے میں

    • Islamic-Belief says:

      توحید أبی جهل وأبی لهب : أبو جهل وأبو لهب ومن على دینهم من المشرکین، کانوا یؤمنون بالله ویوحدونه فی الربوبیة خالقاً ورازقاً، محییا وممیتا، ضاراً ونافعاً، لا یشرکون به فی ذلک شیئاً

      فقلت له: لیس هذا عجیبا ولا غریبا، بل هذا هو الواقع الذی ستعرفه وستسلم به (إن شاء الله) عندما تنکشف لک الحقائق جلیة
      ———
      ابو جھل اور ابو لھب کی توحید : یہ دونوں مشرکین کے مذھب پر تھے – یہ الله پر ایمان رکھتے تھے اور اس کو اکیلا کرتے ربوبیت میں خالق اور رازق کے طور پر زندہ کرنے والا مارنے والا نقصان دینے والا اور فائدہ دینے والا اس میں وہ کسی کو شریک نہ کرتے تھے … میں نے اس پر کہا نہ کوئی عجیب و غریب نہیں ہے بلکہ یہ ایسا ہوا اس کو جان لو گے اور مانو گے ان شاء الله اس سے تم پر حقائق کا انکشاف ہو گا
      ========

      جو لنک اپ نے بھیجا اس میں ہے ابو لھب ایمان نہیں لایا تھا
      ——————–

      ان اقوال میں کوئی تضاد نہیں ہے
      مشرکین توحید ربوبیت کو مانتے تھے کہ الله پالنہار ہے پروردگار ہے
      وہ اس کی الوہیت میں اولیاء الله کو فرشتوں کو شریک کرتے کہ ان کو وسیلہ کے طور پر پکارتے تھے کہ دیویاں غرانیق کی طرح آسمان پر جاتی ہیں اور وہاں عالم بالا میں ان کی شفاعت گونجتی ہے

  145. وجاہت says:

    امام طبری اپنی کتاب تاريخ الطبري میں لکھتے ہیں کہ

    تجهيز على ع عَائِشَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنَ الْبَصْرَةِ

    كَتَبَ إِلَيَّ السَّرِيُّ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ سيف، عن محمد وطلحه، قالا

    وجهز على عائشة بِكُلِّ شَيْءٍ يَنْبَغِي لَهَا مِنْ مَرْكَبٍ أَوْ زَادٍ أَوْ مَتَاعٍ، وَأَخْرَجَ مَعَهَا كُلَّ مَنْ نَجَا مِمَّنْ خَرَجَ مَعَهَا إِلا مَنْ أَحَبَّ الْمُقَامَ، وَاخْتَارَ لَهَا أَرْبَعِينَ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ الْمَعْرُوفَاتِ، وَقَالَ: تَجَهَّزْ يَا مُحَمَّدُ، فَبَلِّغْهَا، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي تَرْتَحِلُ فِيهِ، جَاءَهَا حَتَّى وَقَفَ لَهَا، وَحَضَرَ النَّاسُ، فَخَرَجَتْ عَلَى النَّاسِ وَوَدَّعُوهَا وَوَدَّعَتْهُمْ، وَقَالَتْ: يَا بَنِيَّ، تَعْتِبُ بَعْضنا عَلَى بَعْضٍ اسْتِبْطَاءً وَاسْتِزَادَةً، فَلا يعتدن أَحَدٌ مِنْكُمْ عَلَى أَحَدٍ بِشَيْءٍ بَلَغَهُ مِنْ ذَلِكَ، إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا كَانَ بَيْنِي وبين على في القديم إِلا مَا يَكُونُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَأَحْمَائِهَا، وَإِنَّهُ عندي على معتبى من الاخيار [وقال على: يا ايها النَّاسُ، صَدَقَتْ وَاللَّهِ وَبَرَّتْ، مَا كَانَ بَيْنِي وبينها الا ذلك، وانها لزوجه نبيكم ص فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ]

    http://shamela.ws/browse.php/book-9783#page-2433

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    اور کیا یہ الفاظ ثابت ہیں

    وَاللَّهِ مَا كَانَ بَيْنِي وبين على في القديم إِلا مَا يَكُونُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَأَحْمَائِهَا

    • وجاہت says:

      اس کو بھی سوال میں شامل کر دیں

      یہ الفاظ البداية والنهاية میں بھی ہیں

      وَلَمَّا أَرَادَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةُ الْخُرُوجَ مِنَ الْبَصْرَةِ بَعَثَ إِلَيْهَا عَلِيٌّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بِكُلِّ مَا يَنْبَغِي مِنْ مَرْكَبٍ وَزَادٍ وَمَتَاعٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ، وَأَذِنَ لِمَنْ نَجَا مِمَّنْ جَاءَ فِي جَيْشِهَا أَنْ يَرْجِعَ مَعَهَا، إِلَّا أَنْ يُحِبَّ الْمَقَامَ، وَاخْتَارَ لَهَا أَرْبَعِينَ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ الْمَعْرُوفَاتِ. وَسَيَّرَ مَعَهَا أَخَاهَا مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي ارْتَحَلَتْ فِيهِ، جَاءَ عَلِيٌّ فَوَقَفَ عَلَى الْبَابِ وَحَضَرَ النَّاسُ مَعَهُ وَخَرَجَتْ مِنَ الدَّارِ فِي الْهَوْدَجِ، فَوَدَّعَتِ النَّاسَ وَدَعَتْ لَهُمْ وَقَالَتْ: يَا بَنِيَّ لَا يَعْتِبْ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ، إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَلِيٍّ فِي الْقِدَمِ إِلَّا مَا يَكُونُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَأَحْمَائِهَا، وَإِنَّهُ عَلَى مَعْتَبَتِي لَمِنَ الْأَخْيَارِ. فَقَالَ عَلِيٌّ: صَدَقَتْ وَاللَّهِ مَا كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا إِلَّا ذَاكَ وَإِنَّهَا لَزَوْجَةُ نَبِيِّكُمْ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَسَارَ عَلِيٌّ مَعَهَا مُوَدِّعًا وَمُشَيِّعًا أَمْيَالًا وَسَرَّحَ بَنِيهِ مَعَهَا بَقِيَّةَ ذَلِكَ الْيَوْمِ – وَكَانَ يَوْمَ السَّبْتِ مُسْتَهَلَّ رَجَبٍ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ – وَقَصَدَتْ فِي مَسِيرِهَا ذَلِكَ إِلَى مَكَّةَ، فَأَقَامَتْ بِهَا إِلَى أَنْ حَجَّتْ عَامَهَا ذَلِكَ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى الْمَدِينَةِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
      وَأَمَّا مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ فَإِنَّهُ لَمَّا فَرَّ اسْتَجَارَ بِمَالِكِ بْنِ مِسْمَعٍ فَأَجَارَهُ وَوَفَّى لَهُ، وَلِهَذَا كَانَ بَنُو مَرْوَانَ يُكْرِمُونَ مَالِكًا وَيُشَرِّفُونَهُ. وَيُقَالُ: إِنَّهُ نَزَلَ دَارَ بَنِي خَلَفٍ فَلَمَّا خَرَجَتْ عَائِشَةُ، خَرَجَ مَعَهَا، فَلَمَّا سَارَتْ هِيَ إِلَى مَكَّةَ سَارَ هُوَ إِلَى الْمَدِينَةِ

      http://shamela.ws/browse.php/book-4445#page-5969

      یہاں بھی الفاظ ووہی الفاظ ہیں جو اوپر امام طبری نے بیان کیے ہیں

      وَاللَّهِ مَا كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَلِيٍّ فِي الْقِدَمِ إِلَّا مَا يَكُونُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَأَحْمَائِهَا

      • Islamic-Belief says:

        وَاللَّهِ مَا كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَلِيٍّ فِي الْقِدَمِ إِلَّا مَا يَكُونُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَأَحْمَائِهَا
        الله کی قسم میرے اور علی کے درمیان کوئی بحث نہیں سوائے اس کے جو عورت اور اس کے حمو کے درمیان ہو

        حمو مطلب دیور یا سسر
        ——-

    • Islamic-Belief says:

      سند میں محمد وطلحه مجہول ہیں

  146. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی آج سبط بن الجوزی الحنفی، شمس الدين أبو المظفر يوسف بن فرغلی بن عبد الله البغدادی کی کتاب تذكرة الخواص دیکھنے کا اتفاق ہوا – اس میں وہ لکھتے ہیں کہ

    قال علماء السير: منهم ابن عبد البر سمته زوجته جعدة بنت الأشعث بن قيس الكندي
    وقال السدي: دس اليها يزيد بن معاوية أن سمي الحسن وأتزوجك فسمته فلما مات ارسلت الي يزيد تسأله الوفاء بالوعد فقال أنا والله ما ارضاك للحسن افنرضاك لأنفسنا

    وقال الشعبي: إنما دس اليها معاوية فقال سمي الحسن وأزوجك يزيد وأعطيك مائة الف درهم فلما مات الحسن بعث الي معاوية تطلب انجاز الوعده فبعث اليها بالمال وقال: إني احب يزيد وأرجو حياته لولا ذلك لزوجتك اياه.

    وقال الشعبي: و مصداق هذا القول أن الحسن كان يقول عند موته و قد بلغه ما صنع معاوية لقد عملت شربته و بلغ امنيته و الله لا يفي بما وعد و لا يصدق فيما يقول.

    و قد حكي جدي في كتاب الصفوة قال: ذكر يعقوب بن سفيان في تاريخ أن جعدة التي سمته و قال الشاعر في ذلك

    تغر فكم لك من سلوة تفرح عنك غليل الحزن

    بموت النبي و قتل الوصي و قتل الحسين وسم الحسن

    و قال ابن سعد في الطبقات: سمه معاوية مرارا لأنه كان يقدم عليه الشام هو و أخوه الحسين

    قال علماء السير: منهم ابن عبد البر سمته زوجته جعدة بنت الأشعث بن قيس الكندي.

    وقال السدي: دس اليها يزيد بن معاوية أن سمي الحسن وأتزوجك فسمته فلما مات ارسلت الي يزيد تسأله الوفاء بالوعد فقال أنا والله ما ارضاك للحسن افنرضاك لأنفسنا.

    وقال الشعبي: إنما دس اليها معاوية فقال سمي الحسن وأزوجك يزيد وأعطيك مائة الف درهم فلما مات الحسن بعث الي معاوية تطلب انجاز الوعده فبعث اليها بالمال وقال: إني احب يزيد وأرجو حياته لولا ذلك لزوجتك اياه.

    وقال الشعبي: و مصداق هذا القول أن الحسن كان يقول عند موته و قد بلغه ما صنع معاوية لقد عملت شربته و بلغ امنيته و الله لا يفي بما وعد و لا يصدق فيما يقول.

    و قد حكي جدي في كتاب الصفوة قال: ذكر يعقوب بن سفيان في تاريخ أن جعدة التي سمته و قال الشاعر في ذلك:

    تغر فكم لك من سلوة تفرح عنك غليل الحزن

    بموت النبي و قتل الوصي و قتل الحسين وسم الحسن
    قال علماء السير: منهم ابن عبد البر سمته زوجته جعدة بنت الأشعث بن قيس الكندي.

    وقال السدي: دس اليها يزيد بن معاوية أن سمي الحسن وأتزوجك فسمته فلما مات ارسلت الي يزيد تسأله الوفاء بالوعد فقال أنا والله ما ارضاك للحسن افنرضاك لأنفسنا.

    وقال الشعبي: إنما دس اليها معاوية فقال سمي الحسن وأزوجك يزيد وأعطيك مائة الف درهم فلما مات الحسن بعث الي معاوية تطلب انجاز الوعده فبعث اليها بالمال وقال: إني احب يزيد وأرجو حياته لولا ذلك لزوجتك اياه.

    وقال الشعبي: و مصداق هذا القول أن الحسن كان يقول عند موته و قد بلغه ما صنع معاوية لقد عملت شربته و بلغ امنيته و الله لا يفي بما وعد و لا يصدق فيما يقول.

    و قد حكي جدي في كتاب الصفوة قال: ذكر يعقوب بن سفيان في تاريخ أن جعدة التي سمته و قال الشاعر في ذلك:

    تغر فكم لك من سلوة تفرح عنك غليل الحزن

    بموت النبي و قتل الوصي و قتل الحسين وسم الحسن

    و قال ابن سعد في الطبقات: سمه معاوية مرارا لأنه كان يقدم عليه الشام هو و أخوه الحسين

    https://imgur.com/a/aqmWi
    https://ibb.co/mu0XuQ

    لیکن یہ مجھے یہ عبارت الطبقات الكبری ابن سعد میں نہیں ملی

    =========

    اسی طرح السعدي الخزرجي، موفق الدين أبي العباس أحمد بن القاسم بن خليفة بن يونس اپنی کتاب عيون الأنباء في طبقات الأطباء میں لکھتے ہیں کہ

    وَفِي تَارِيخ الطَّبَرِيّ أَن الْحسن بن عَليّ رَضِي الله عَنْهُمَا مَاتَ مسموما فِي أَيَّام مُعَاوِيَة وَكَانَ عِنْد مُعَاوِيَة كَمَا قيل دهاء فَدس إِلَى جعدة بنت الْأَشْعَث بن قيس وَكَانَت زَوْجَة الْحسن رَضِي الله عَنهُ شربة وَقَالَ لَهَا إِن قتلت الْحسن زَوجتك بِيَزِيد
    فَلَمَّا توفّي الْحسن بعثت إِلَى مُعَاوِيَة تطلب قَوْله فَقَالَ لَهَا فِي الْجَواب أَنا أضن بِيَزِيد

    http://shamela.ws/browse.php/book-6687#page-161

    لیکن یہ مجھے یہ عبارت بھی تاریخ طبری میں نہیں ملی

    آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ کیا يوسف بن فرغلی بن عبد الله اور السعدي الخزرجي نے ابن سعد اور طبری پر جھوٹ بندھ یا کسی نے طبقات ابن سعد اور تاریخ طبری میں تحریف کر دی

    کیا يوسف بن فرغلی بن عبد الله جھوٹ لکھ سکتے ہیں جن کے بارے میں امام ذھبی کہتے ہیں کہ

    https://imgur.com/a/zogHT
    https://ibb.co/hkZYZQ

    آپ کی تحقیق کیا کہتی ہے

  147. وجاہت says:

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَقُولُ إِيَّاكُمْ وَأَحَادِيثَ إِلَّا حَدِيثًا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يُخِيفُ النَّاسَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ وَشَرَهٍ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ

    صحیح مسلم

    • Islamic-Belief says:

      : ابوبکر بن ابی شیبہ، زید بن حباب، معاویہ بن صالح، ربیعہ بن یزید دمشقی، عبداللہ بن عامریحصبی، حضرت معاویہ (رض) سے روایت ہے کہ احادیث سے بچو سوائے ان احادیث کے جو حضرت عمر (رض) کے زمانہ خلافت میں مروی تھیں۔ کیونکہ عمر (رض) لوگوں کو اللہ کے بارے میں خوف دیتے تھے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں خزانچی ہوں جس کو میں طیب نفس یعنی دلی خوشی سے کچھ عطا کروں تو اس میں اسے برکت ہوتی ہے اور جس کو میں اس کے مانگنے پر اور ستانے پر دوں اس کا حال اس شخص جیسا ہوتا ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔

      ——
      صحیح مسلم میں ہے

      وحدثني أبو أيوب سليمان بن عبيد الله الغيلاني، حدثنا أبو عامر يعني العقدي، حدثنا رباح، عن قيس بن سعد، عن مجاهد، قال: جاء بشير العدوي إلى ابن عباس، فجعل يحدث، ويقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجعل ابن عباس لا يأذن لحديثه، ولا ينظر إليه، فقال: يا ابن عباس، مالي لا أراك تسمع لحديثي، أحدثك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا تسمع، فقال ابن عباس: ” إنا كنا مرة إذا سمعنا رجلا يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، ابتدرته أبصارنا، وأصغينا إليه بآذاننا، فلما ركب الناس الصعب، والذلول، لم نأخذ من الناس إلا ما نعرف

      بشیر العدوی، ابن عباس کے پاس آیا اور روایت کرنے لگا اور بولا رسول الله نے کہا ،رسول الله نے کہا ،پس ابن عباس نے اس کی حدیث کی اجازت نہیں دی اور نہ اس کی طرف دیکھا. اس پر وہ ابن عبّاس سے مخاطب ہوا کیا وجہ ہے کہ اپ میری حدیث نہیں سنتے جبکہ میں رسول الله کی حدیث سنا رہاہوں؟ پس ابن عباس نے کہا ایک وقت تھا جب ہم سنتے کسی نے کہا قال رسول الله ہم نگاہ رکھتے اور اپنے کان اس (حدیث) پر لگاتے . لیکن جب سے لوگوں نے الصعب اور الذلول کی سواری کی تو ہم روایات نہیں لیتے مگر صرف اس سے جس کو جانتے ہوں
      ——–

      یعنی اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم اسی سے روایت لیتے جس کے بارے میں ان کو یقین ہو کہ صحابی ہے
      کیونکہ اسلام پھیلنے کی وجہ سے بھانت بھانت کے لوگ احادیث بیان کر رہے تھے جیسا کہ بشیر العدوی ان میں سے ایک ہے

  148. وجاہت says:

    امام بخاری یہ تین روایات لا یے اپنی صحیح میں

    ‌صحيح البخاري: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ ذَبِّ الرَّجُلِ عَنِ ابْنَتِهِ فِي الغَيْرَةِ وَالإِنْصَافِ) صحیح بخاری: کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان

    (باب: آدمی اپنی بیٹی کو غیرت اور غصہ نہ آنے کے لئے)

    5230

    حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُوا فِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَلَا آذَنُ ثُمَّ لَا آذَنُ ثُمَّ لَا آذَنُ إِلَّا أَنْ يُرِيدَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ فَإِنَّمَا هِيَ بَضْعَةٌ مِنِّي يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا هَكَذَا قَالَ

    حکم : صحیح 5230

    ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر فرمارہے تھے کہ ہشام بن مغیرہ جو ابو جہل کا باپ تھا اس کی اولاد ( حارث بن ہشام اورسلم بن ہشام ) نے اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کرنے کی مجھ سے اجازت مانگی ہے لیکن میں انہیں ہر گز اجازت نہیں دوں گا یقینا میں اس کی اجازت نہیں دوں گا ہر گز میں اس کی اجازت نہیں دوں گا ۔ البتہ اگر علی بن ابی طالب میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہیں ( تو میں اس میں رکاوٹ نہیں بنوں گا ) کیونکہ وہ ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ) میرے جگر کا ایک ٹکڑا ہے جو اس کو برا لگے وہ مجھ کو بھی برا لگتا ہے اور جس چیز سے اسے تکلیف پہنچتی ہے اس سے مجھے بھی تکلیف پہنچتی ہے

    —-

    http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/3110

    اور یہ

    http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/3729

    یہ سنن ابو داوود میں بھی آئ ہے

    http://mohaddis.com/View/Abu-Daud/2071

    ===============

    ان احادیث کی سند میں الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ کیا یہ ثقہ ہیں – ان کے بارے میں محدثین نے کیا کیا کچھ کہا دیکھتے ہیں

    ابن ہجرکہتے ہیں کہ

    قال يحيي بن بكير وكان مولده بعد الهجرة بسنتين وقدم المدينة في ذي الحجة بعد الفتح سنة ثمان وهو غلام أيفع بن ست سنين

    یحیی بن بکر نے بتایا کہ وہ دو سال بعد نقل مکانی کے بعد پیدا ہوئے تھے ……………….. اور وہ چھ سال کی عمر میں لڑکا تھا

    الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ صحیح بخاری کی حدیث میں خود کہتے ہیں کہ

    أخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَي مِنْبَرِهِ هَذَا وَأَنَا يَوْمَئِذ مُحْتَلِمٌ

    رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسی منبر پر کھڑے ہو کر خطاب فرمایا ۔ میں اس وقت بالغ تھا

    ابن ہجر اس صورت حال سے اگاہ تھے – اب کیا لکھتے ہیں

    وهو مشكل المأخذ لان المؤرخين لم يختلفوا أن مولده كان بعد الهجرة وقصة خطبة علي كانت بعد مولد المسور بنحو من ست سنين أو سبع سنين فكيف يسمي محتلما فيحتمل انه أراد الاحتلام اللغوي وهو العقل والله تعالي أعلم.

    It is a problem because the historians did not differ that the birth was after the migration and the story of a sermon was after the birth of the fenced by about six years or seven years, how to call the occupier is likely he wanted to dream the language is the mind and God Almighty knows

    ابو شہر یار بھائی کتنی عجیب بات ہوئی – اگر بات عقل کی ہے تو

    صحیح مسلم کی حدیث ہے جس میں الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ کو ننگے چلنے سے حضور صلی الله علیہ وسلم نے روکا

    صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَيْضِ (بَابُ الَاعْتِنَاءِ بِحِفْظِ الْعَوْرَةِ) صحیح مسلم: کتاب: حیض کا معنی و مفہوم (باب: ستر کی حفاظت پر توجہ دینا)

    773

    حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: أَقْبَلْتُ بِحَجَرٍ أَحْمِلُهُ ثَقِيلٍ وَعَلَيَّ إِزَارٌ خَفِيفٌ، قَالَ: فَانْحَلَّ إِزَارِي وَمَعِيَ الْحَجَرُ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَضَعَهُ حَتَّى بَلَغْتُ بِهِ إِلَى مَوْضِعِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْجِعْ إِلَى ثَوْبِكَ فَخُذْهُ، وَلَا تَمْشُوا عُرَاةً .
    حکم : صحیح 773 . حضرت مسور بن مخرمہ ﷜ سے روایت ہے ، کہا: میں ایک بھاری پتھر اٹھانے ہوئے آیا اور میں نے ایک ہلکا سے تہبند باندھا ہوا تھا ، کہا: تو میرا تہبند کھل گیا اور پتھر میرے پاس تھا۔ میں اس (پتھر) کے نیچے نہ رکھ سکا حتی کہ اسے اس کی جگہ پہنچا دیا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’واپس جا کر اپنا کپڑا پہنو اور ننگے نہ چلا کرو ۔‘‘

    اس وقت ان بنیادی چیزوں کا علم ان کو نہیں تھا- لیکن پوری حدیث بیان کر دی اور ابن ہجر اس حدیث کو ضعیف کہنے کے بجایے طویل کرتے رہے

    اور الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ تنہا ہیں یہ حدیث بیان کرنے میں

    ======

    کیا یہ حدیث قرآن کے خلاف نہیں

    فَانْكِحُوا ما طابَ لَكُمْ مِنَ النِّساءِ مَثْني وَ ثُلاثَ وَ رُباع

    النساء

    =====

    ایک روایت میں لفظ ہیں کہ

    وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلاَلاً وَلاَ أُحِلُّ حَرَامًا وَلَكِنْ وَاللَّهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ أَبَدًا

    دوسری میں ہیں کہ

    اللَّهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُل وَاحِد

    حضرت عثمان رضی الله نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور دشمن کی خدا کی بیٹی کو جمع کیا

    رملة بنت شيبة بن ربيعة كانت من المهاجرات هاجرت مع زوجها عثمان بن عفان

    إبن عبد البر، يوسف بن عبد الله بن محمد (متوفاي463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 4، ص 1846، تحقيق علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل – بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ؛
    الصفدي، صلاح الدين خليل بن أيبك (متوفاي764هـ)، الوافي بالوفيات، ج 14، ص 98، تحقيق أحمد الأرناؤوط وتركي مصطفي، ناشر: دار إحياء التراث – بيروت – 1420هـ- 2000م

    رملة بنت شيبة بن ربيعة بن عبد شمس العبشمية قتل أبوها يوم بدر كافرا

    العسقلاني، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل الشافعي، الإصابة في تمييز الصحابة، ج 7، ص 654، 11186، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل – بيروت، الطبعة: الأولي، 1412 – 1992.

    رملة بنت شيبة بن ربيعة بن عبد شمس العبشمية قتل أبوها يوم بدر كافرا ذكرها أبو عمر فقال: كانت من المهاجرات هاجرت مع زوجها عثمان بن عفان

    العسقلاني، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل الشافعي، الإصابة في تمييز الصحابة، ج 7، ص 654، 11186، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل – بيروت، الطبعة: الأولي، 1412 – 1992

    وقتل عثمان وعنده رملة بنت شيبة

    الكامل في التاريخ، : أبو الحسن علي بن أبي الكرم محمد بن محمد بن عبد الكريم الشيباني (متوفاي: 630هـ، ج 3، ص 75، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت – 1415هـ، الطبعة: ط2، تحقيق: عبد الله القاضي

    ——

    ولما أسلم عثمان زوجّه رسول الله صلي الله عليه وسلم بابنته رقية وهاجرا كلاهما إلي أرض الحبشة الهجرتين ثم عاد إلي مكة وهاجر إلي المدينة

    الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ)، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج 3، ص 607، تحقيق عادل أحمد الرفاعي، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت / لبنان، الطبعة: الأولي، 1417 هـ – 1996 م؛

    ابو شہر یار بھائی کیا صحیح بخاری کی یہ احادیث ضعیف ہیں یا نہیں

    تحقیق چاہیے

    • Islamic-Belief says:

      میرے نزدیک سند صحیح ہے
      الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ صحابی ہیں ان کی ثقاہت مسلمہ ہے کیونکہ یہ عدول میں سے ہیں
      —————-
      اس روایت کو عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طالب، زين العابدين نے بھی روایت کیا ہے

      أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَلِيًّا خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ فَاطِمَةَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحٌ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَشَهِدْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَشَهَّدَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: “أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ ابْنَتِي فَحَدَّثَنِي، فَصَدَقَنِي، وَإِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي وَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ عِنْدَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ” فَأَمْسَكَ عَلِيٌّ عَنِ الْخِطْبَةِ
      ابو داود میں ہے

      اور صحیح مسلم میں ہے
      حَدَّثَنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَهُ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحًا ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ: “أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ، فَحَدَّثَنِي، فَصَدَقَنِي وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ مُضْغَةٌ مِنِّي، وَإِنَّمَا أَكْرَهُ أَنْ يَفْتِنُوهَا، وَإِنَّهَا، وَاللهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا” قَالَ: فَتَرَكَ عَلِيٌّ الْخِطْبَة.

      اگر یہ جھوٹ ہوتا تو دادا کے حوالے سے عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طالب، زين العابدين اس کو روایت کیوں کرتے تھے؟

      کتاب بغية الباحث عن زوائد مسند الحارث از أبو محمد الحارث بن محمد بن داهر التميمي البغدادي الخصيب المعروف بابن أبي أسامة (المتوفى: 282هـ) میں علی بن حسین نے اپنی سند سے اس کو روایت کیا ہے المسور کا نام لئے بغیر

      حَدَّثَنَا عَفَّانُ , ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ , أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ , عَلَيْهِ السَّلَامُ أَرَادَ أَنْ يَخْطُبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ , فَقَالَ النَّاسُ: أَتَرَوْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِدُ مِنْ ذَلِكَ , فَقَالَ نَاسٌ: وَمَا ذَاكَ إِنَّمَا هِيَ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسَاءِ , وَقَالَ نَاسٌ: لَيَجِدَنَّ مِنْ هَذَا يَتَزَوَّجُ ابْنَةَ عَدُوِّ اللَّهِ عَلَى ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَزْعُمُونَ أَنِّي لَا أَجِدُ لِفَاطِمَةَ , وَإِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي , إِنَّهُ لَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتَزَوَّجَ ابْنَةَ عَدُوِّ اللَّهِ عَلَى ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

      ————–

      صحیح بخاری میں ہے مسور نے کہا میں نے جب یہ سنا مجھ کو احتلام ہوتا تھا
      حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الجَرْمِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، أَنَّ الوَلِيدَ بْنَ كَثِيرٍ، حَدَّثَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيِّ، حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ، حَدَّثَهُ: أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا المَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ، لَقِيَهُ المِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا؟ فَقُلْتُ لَهُ: لاَ، فَقَالَ لَهُ: فَهَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ القَوْمُ عَلَيْهِ، وَايْمُ اللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ، لاَ يُخْلَصُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا حَتَّى تُبْلَغَ نَفْسِي، إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ، فَقَالَ: «إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي، وَأَنَا أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا»، ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ، قَالَ: «حَدَّثَنِي، فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَى لِي، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلاَلًا، وَلاَ أُحِلُّ حَرَامًا، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ أَبَدًا»

      البتہ طبقات ابن سعد میں واقدی کا قول ہے
      قال محمد بن عمر: قبض رسول الله ص. والمسور بن مخرمة ابن ثماني سنين
      رسول الله کی روح قبض ہوئی اس وقت مسور بن مخرمہ آٹھ سال کے تھے اور چند احادیث یاد کیں

      آٹھ سال کی عمر میں احتلام نہیں ہوتا یعنی محدثین کے نزدیک مسور بڑے تھے کم از کم ١٣ یا ١٤ سال کے ہو چکے تھے جبکہ واقدی کے نزدیک وہ ٨ سال کے بچے تھے

      دوسرا قول ہے
      التوضيح لشرح الجامع الصحيح میں ابن ملقن کا کہنا ہے
      قَالَ صاحب “الأفعال”: حلم حلمًا إذا عقل
      “الأفعال” لابن القطاع 1/ 234.
      حلم سے مراد یہاں عقل آنا ہے

      صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَيْضِ (بَابُ الَاعْتِنَاءِ بِحِفْظِ الْعَوْرَةِ) صحیح مسلم: کتاب: حیض کا معنی و مفہوم (باب: ستر کی حفاظت پر توجہ دینا) 773 میں ہے

      حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: أَقْبَلْتُ بِحَجَرٍ أَحْمِلُهُ ثَقِيلٍ وَعَلَيَّ إِزَارٌ خَفِيفٌ، قَالَ: فَانْحَلَّ إِزَارِي وَمَعِيَ الْحَجَرُ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَضَعَهُ حَتَّى بَلَغْتُ بِهِ إِلَى مَوْضِعِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْجِعْ إِلَى ثَوْبِكَ فَخُذْهُ، وَلَا تَمْشُوا عُرَاةً .
      حکم : صحیح 773 . حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت ہے ، کہا: میں ایک بھاری پتھر اٹھانے ہوئے آیا اور میں نے ایک ہلکا سے تہبند باندھا ہوا تھا ، کہا: تو میرا تہبند کھل گیا اور پتھر میرے پاس تھا۔ میں اس (پتھر) کے نیچے نہ رکھ سکا حتی کہ اسے اس کی جگہ پہنچا دیا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: واپس جا کر اپنا کپڑا پہنو اور ننگے نہ چلا کرو ۔

      اس روایت سے مطلقا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ المسور لا شعور بچے تھے

      ———-
      المسور کا اس روایت کو بیان کرنے میں تفرد نہیں ہے – اس کو عبدالله بن زبیر نے بھی بیان کیا ہے

      أَنَّ بن الزُّبَيْرِ وُلِدَ فِي السَّنَةِ الْأُولَى فَيَكُونُ عُمُرُهُ عِنْدَ الْوَفَاةِ النَّبَوِيَّةِ تِسْعَ سِنِينَ
      اور ابن زبیر وفات النبی کے وقت نو سال کے تھے

      ترمذی میں ہے
      حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا، ذَكَرَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: “إِنَّمَا فَاطِمَةُ بِضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا وَيُنْصِبُنِي مَا أَنْصَبَهَا”: ” هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ هَكَذَا قَالَ أَيُّوبُ: عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ المِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، رَوَى عَنْهُمَا جَمِيعًا
      عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ نے کہا علی نے بنت ابی جھل کا ذکر کیا جس کو خبر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ہوئی پس کہا فاطمہ میرا حصہ ہے جس نے اس کو اذیت دی اس نے مجھے دی

      مسند احمد میں ہے
      دَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا ذَكَرَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّهَا فَاطِمَةُ بِضْعَةٌ مِنِّي، يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا، وَيُنْصِبُنِي مَا أَنْصَبَهَا

      اس کو ابن عباس نے بھی بیان کیا ہے
      المعجم الصغير اور المعجم الكبير از طبرانی
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ مِهْرَانَ النَّاقِدُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُرُزِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَامٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبِ، خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتَ تَزَوَّجُهَ