Q & A

You may also send us your questions and suggestions via Contact form

Post for Questions 

قارئین سے درخواست ہے کہ سوال لکھتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ سوال دینی مسئلہ پر ہونا چاہیے- وقت قیمتی شی ہے لہذا بے مقصد سوال سے پرہیز کریں – سوالات کے سیکشن کو غور سے دیکھ لیں ہو سکتا ہے وہاں اس کا جواب پہلے سے موجود ہو –

یاد رہے کہ دین میں غیر ضروری سوالات ممنوع ہیں اور انسانی علم محدود ہے

 اپ ان شرائط پر سوال کر سکتے ہیں

اول سوال اپ کا اپنا ہونا چاہیے کسی ویب سائٹ یا کسی اور فورم کا نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا مواد  اپ وہاں سے یہاں کاپی کریں

دوم : جو جواب ملے اس کو اپ کسی اور ویب سائٹ پر پوسٹ کر کے اس پر سوال نہیں کریں گے نہ ہی اس ویب سائٹ کے کسی بلاگ کو پوسٹ کر کے کسی دوسری سائٹ سے جواب طلب کریں گے – یعنی اپ سوال کو اپنے الفاظ میں منتقل کریں اس کو کاپی پیسٹ نہ  کریں اگر اپ کو کسی اور سے یہی بات پوچھنی ہے تو اپنے الفاظ میں پوچھیں

سوم کسی عالم کو ہماری رائے سے “علمی” اختلاف ہو تو اس کو بھی اپنے الفاظ میں منتقل کر کے اپ اس پر ہمارا جواب پوچھ سکتے ہیں

چہارم نہ ہی اپ ہماری ویب سائٹ کے لنک پوسٹ کریں کہ وہاں دوسری سائٹ پر لکھا ہو “اپ یہ کہہ رہے ہیں اور وہ یہ کہہ رہے ہیں ” یہ انداز مناظرہ کی طرف لے جاتا ہے جو راقم کے نزدیک دین کو کھیل تماشہ بنانے کے مترادف ہے

تنبیہشرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں جوابات پر پانبدی لگا دی جائے گی

542 Responses to Q & A

  1. Aysha butt says:

    Sir ik riwayt hsi k ibn e zubair ne Aap s.a.w ka khoon piya or us hadith mn ueh b hai k Aap s.a.w ka fuzla o pisab b paakbhai… Pta nai yeh tabsra hai k hadith ka hissa hai
    Wazahat kr dein

    • Islamic-Belief says:

      ﻭﻗﺪ ﻭﺭﺩﺕ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﮐﺜﯿﺮۃ ﺍﻥ ﺟﻤﺎﻋۃ ﺷﺮﺑﻮﺍ ﺩﻡ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﷺ ﻣﻨﮭﻢ ﺍﺑﻮ ﻃﯿﺒۃ ﺍﻟﺤﺠﺎﻡ ﻭﻏﻼﻡ ﻣﻦ ﻗﺮﯾﺶ ﺣﺠﻢ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻭﻋﺒﺪ ﷲ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﺰﺑﯿﺮ ﺷﺮﺏ ﺩﻡ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﷺ ﺭﻭﺍﮦ ﺍﻟﺒﺰﺍﺭ ﻭﺍﻟﻄﺒﺮﺍﻧﯽ ﻭﺍﻟﺤﺎﮐﻢ ﻭﺍﻟﺒﯿﮩﻘﯽ ﻭﺍﺑﻮﻧﻌﯿﻢ ﻓﯽ ﺍﻟﺤﻠﯿۃ ﻭﯾﺮﻭﯼ ﻋﻦ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﺍﻧﮧ ﺷﺮﺏ ﺩﻡ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻭﺭﻭﯼ ﺍﯾﻀًﺎ ﺍﻥ ﺍُﻡ ﺍﯾﻤﻦ ﺷﺮﺑﺖ ﺑﻮﻝ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﷺ ﺭﻭﺍﮦ ﺍﻟﺤﺎﮐﻢ ﻭﺍﻟﺪﺍﺭﻗﻄﻨﯽ ﻭﺍﺑﻮ ﻧﻌﯿﻢ ﻭﺍﺧﺮﺝ ﺍﻟﻄﺒﺮﺍﻧﯽ ﻓﯽ ﺍﻻﻭﺳﻂ ﻓﯽ ﺭﻭﺍﯾۃ ﺳﻠﻤﯽ ﺍﻣﺮﺍٔۃ ﺍﺑﯽ ﺭﺍﻓﻊ ﺍﻧﮩﺎ ﺷﺮﺑﺖ ﺑﻌﺾ ﻣﺎﺀ ﻏﺴﻞ ﺑﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻓﻘﺎﻝ ﻟﮩﺎ ﺣﺮﻡ ﷲ ﺑﺪﻧﮏ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﻨﺎﺭ ﻭﻗﺎﻝ ﺑﻌﻀﮩﻢ ﺍﻟﺤﻖ ﺍﻥ ﺣﮑﻢ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﺤﮑﻢ ﺟﻤﯿﻊ ﺍﻟﻤﮑﻠﻔﯿﻦ ﻓﯽ ﺍﻻﺣﮑﺎﻡ ﺍﻟﺘﮑﻠﯿﻔﯿۃ ﺍﻻﻓﯿﻤﺎ ﯾﺨﺺ ﺑﺪﻟﯿﻞ ﻗﻠﺖ ﯾﻠﺰﻡ ﻣﻦ ﮬﺬﺍ ﺍﻥ ﯾﮑﻮﻥ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﻣﺴﺎﻭﯾًﺎ ﻟﻠﻨﺒﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻭﻻ ﯾﻘﻮﻝ ﺫﻟﮏ ﺍﻻﺟﺎﮬﻞ ﻏﺒﯿﯽٌ ﻭﺍﯾﻦ ﻣﺮﺗﺒﺘﮧٗ ﻣﻦ ﻣﺮﺍﺗﺐ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﻭﺍﻻﯾﻠﺰﻡ ﺍﻥ ﯾﮑﻮﻥ ﺩﻟﯿﻞ ﺍﻟﺨﺼﻮﺹ ﺑﺎﻟﻨﻘﻞ ﺩﺍﺋﻤًﺎ ﻭﺍﻟﻌﻘﻞ ﻟﮧٗ ﻣﺪﺧﻞ ﻓﯽ ﺗﻤﯿﺰ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻣﻦ ﻏﯿﺮﮦ ﻓﯽ ﻣﺜﻞ ﮬﺬﺍ ﺍﻻﺷﯿﺎﺀ ﻭﺍﻧﺎ ﺍﻋﺘﻘﺪ ﺍﻧﮧ ﻻ ﯾﻘﺎﺱ ﻋﻠﯿﮧ ﻏﯿﺮﮦ ﻭﺍﻥ ﻗﺎﻟﻮﺍ ﻏﯿﺮ ﺫﻟﮏ ﻓﺎﺫﻧﯽ ﻋﻨﮧ ﺻﻤﺎ۔ ﺍﻧﺘﮩﯽٰ ‏( ﻋﻤﺪۃ ﺍﻟﻘﺎﺭﯼ ﺷﺮﺡ ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ، ﺟﻠﺪ۱، ﺹ۷۷۸ ‏)
      ﺑﮯ ﺷﮏ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺣﺪﯾﺜﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﺭﮦ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺭﺩ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﻧﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﭘﯿﺎ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻃﯿﺒﮧ ﺣﺠﺎﻡ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﻟﮍﮐﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﮯ ﭘﭽﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﷲ ﺑﻦ ﺯﺑﯿﺮ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﺍﻗﺪﺱ ﭘﯿﺎ، ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﺰﺍﺭ ﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻃﺒﺮﺍﻧﯽ ﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﮐﻢ ﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﮩﻘﯽ ﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻮ ﻧﻌﯿﻢ ﻧﮯ ﺣﻠﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﻣﺮﺗﻀﯽٰ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﺍﻗﺪﺱ ﭘﯿﺎ،ﻧﯿﺰ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍُﻡ ﺍﯾﻤﻦ ﻧﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﺎ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﭘﯿﺎ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﻮ ﺣﺎﮐﻢ ﻧﮯ ﺩﺍﺭﻗﻄﻨﯽ ﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻮ ﻧﻌﯿﻢ ﻧﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻃﺒﺮﺍﻧﯽ ﻧﮯ ﺍﻭﺳﻂ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻮ ﺭﺍﻓﻊ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﻠﻤﯽٰ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺳﻠﻤﯽٰ ﻧﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﺎ ﻏﺴﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯿﺎ ﺗﻮ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﺱ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﻭﺯﺥ ﭘﺮ ﺣﺮﺍﻡ ﻓﺮﻣﺎﺩﯾﺎ ﺑﻌﺾ ﮐﺎ ﻗﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﺗﮑﻠﯿﻔﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮕﺮ ﻣﮑﻠﻔﯿﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﯿﮟ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺩﻟﯿﻞ ﺳﮯ ﺧﺎﺹ ﮨﻮ، ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻗﻮﻝ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻻﺯﻡ ﺍٓﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ‏( ﻣﻌﺎﺫ ﺍﷲ ‏) ﻋﺎﻡ ﻟﻮﮒ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﷲ ﷺ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﻭﯼ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺟﺎﮨﻞ ﻏﺒﯽ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﺎ، ﺑﮭﻼ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﮯ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻧﺴﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺩﻟﯿﻞ ﺧﺼﻮﺹ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻧﻘﻞ ﮨﯽ ﺳﮯ ﮨﻮ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﯿﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﻤﺘﺎﺯ ﮨﻮﻧﺎ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻋﻘﻞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺩﺧﻞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻋﺘﻘﺎﺩ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﭘﺮ ﻏﯿﺮ ﮐﺎ ﻗﯿﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻨﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﮩﺮﮮ ﮨﯿﮟ۔ ﻋﺎﻣﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺫﺭﺍ ﺍﺱ ﻧﻮﺭﺍﻧﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺪﻋﻘﯿﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ۔ ‏( ۴ ‏) ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻣﺎﻡ ﻗﺴﻄﻼﻧﯽ ﺷﺎﺭﺡ ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﻣﻮﺍﮨﺐ ﺍﻟﻠﺪﻧﯿﮧ ﺷﺮﯾﻒ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻓﻀﻼﺕ ﺷﺮﯾﻔﮧ ﮐﯽ ﭘﺎﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻃﮩﺎﺭﺕ ﮐﺎ ﺣﺴﺐ ﺫﯾﻞ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﺭﺍﻧﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ : ﻭﺭﻭﯼ ﺍﻧﮧ ﮐﺎﻥ ﯾﺘﺒﺮﮎ ﺑﺒﻮﻟﮧ ﻭﺩﻣﮧ ﷺ۔ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﮯ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻥ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﮯ ﺑﺮﮐﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔

      محدث فورم والوں نے اس کی روایات کی تحقیق کی ہے
      http://forum.mohaddis.com/threads/کیا-کسی-صحابی-نے-نبی-کریم-علیہ-السلام-کا-خون-مبارک-پیا-؟.33833/

  2. Aysha butt says:

    -;- عید میلاد النبی -؛- ۵

    ،، صلی اللہ علیہ والہ وسلم ،،

    عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم سنت کی روشنی میں دیکھیں

    حجۃ للعالمین علامہ نبھانی رحمتہ اللہ نے علامہ حافظ سیوطی کا قول نقل کیا ہے

    قال السیوطی قلت قد ظھرلی تخریجہ علی اصل آخر ھو ما اخرجہ البیہقی عن الس ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم عق عن نقسہ …الخ

    ترجمہ = امام سیوطی نے فرمایا کہ میلاد شریف کی مشروعیت اور کار خیر ہونے پر مجھے ایک اور دلیل معلوم ہوئی ہے کہ بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روائت کیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جانب سے عقیقہ کیا حالانکہ آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے آپ کا عقیقہ کیا ہوا تھا اور دوبارہ عقیقہ نہیں کیا جاتا یعنی یہ قربانی کرنی آپ کا شکر تھا اس بات کا کہ اللہ تعالی نے آپ کو رحمتہ اللعالمین بنایا اور یہ خوشی کر کے اور اپنی ولادت پر اظہار شکر کر کے امت کے لۓ اسے شروع ( جائز ) بنایا

    فیستحب لنا ایضا اظھار الشکر بمولدہ بالا جتماع و اطعام الطعام

    ترجمہ =( جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ولادت کی خوشی اور شکریہ میں قربانی کی تھی )

    تو ہم غلاموں کے لۓ بھی آپ کے
    یوم ولادت کو اظہار شکر کے طور اکٹھا ہونا اور لوگوں کو کھانا کھلانا مستحب ہے

    ایک جانب علامہ ابن حجر اور علامہ سیوطی جیسے فضلاء و محققین ۱۲ – ربیع الاول یعنی ولادت با سعادت سرور کونین کے دن اجتماع ، عبادات ، اور اظہار سرور کو سنت سے ثابت کر رہے ہیں اور باعث ثواب کہہ رہے ہیں اور دوسری طرف ایک نام نہاد مولوی بدعت و ناجائز کا فتاوی دے رہا ہے – تو خود انصاف کریں کہ حق کس کی جانب ہے

    اسی طرح ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے دن روزہ رکھتے تھے حب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا

    ذلک الیوم ولدت فیہ

    ” یعنی اس دن میں میں پیدا کیا گیا ہوں ”

    شراح حدیث اس حدیث کے ماتحت لکھتے ہیں کہ یہ شکریہ کا روزہ تھا تو اس حدیث شریف سے دو ۲ امر ثابت ہوۓ

    امر اول = رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر پیر کو اپنی ولادت مناتے تھے اور اللہ تعالی کے حضور اظہار شکر کرتے تھے

    امر دوم = آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معین دن کو اپنا میلاد شریف مناتے تھے تو نجدی ملاں کی یہ بات از روۓ حدیث رد ہو گئ کہ معین دن کو میلاد شریف منانا بدعت ہے

    ایک اعتراض -;آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو اس دن روزہ رکھتے نہ کہ مجالس منعقد اور جلوس نکالتے تھے
    تو اس کے دو جواب ہیں

    جواب اول = ہم نے اس حدیث پاک سے معین دن پر استدلال کیا ہے جو کہ بالکل بر حق ہے روزہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کو اہمیت دیتے تھے اور روزہ سے مطلق عبادت مراد ہے خواہ وہ روزہ ہو یا کوئی اور عبادت اور اس کی دلیل بعد میں آۓ نجدی ملا کے اس جواب کی یوں مثال دی جا سکتی ہے کہ مثلا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہمان کو جو کی روٹی کھلائی تو اب کوئی نجدی ملا یہ کہے کہ سنت طریقہ صرف جو کی روٹی کھلانا ہے اگر مہمان کو گندم کی روٹی اور گوشت کھلاۓ گا تو یہ بدعت ہے

    جواب دوم = یہ جواب نجدی ملا کا اس وقت ہو سکتا تھا کہ نجدی ملا میلاد شریف کے دن کو روزہ رکھتا اور اعلان کرتا کہ میں بھی اس معین دن کو روزہ رکھ کر میلاد مناتا ہوں حالانکہ ایسا نہیں ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ منکرین صرف اہل سنت کو یہ دن منانے سے روکنا چاہتے ہیں تاکہ اس دن کی اہمیت ختم ہو جائے

    یہاں ایک اور امر قابل ذکر ہے کہ منکرین میلاد مقدس اپنی اور اپنے بچوں کی شادیاں کرتے ہیں اور اسی کے لۓ تاریخ معین ہوتی ہے اور شادی کے دعوت نامے رنگ برنگ کے چھاپے جاتے ہیں اور اس کے ذریعے مہمانوں کو دن معین حاضر ہونے کی درخواست کرتے ہیں اور کئ قسم کے کھانے پکا کر کام و دہن کے لۓ لذت کا سامان تیار کرتے ہیں یہاں ان کو کبھی خیال نہیں آیا کہ ہم یہ دن کیوں معین کرتے ہیں کہ کیا قرون اولی میں اس قسم کی شادیاں ہوتی تھیں
    دوستوں ان سے سوال کریں کہ اس کا ان کے پاس کیا جواب ہے

    فما ھو جوابکم ھو جوابنا

    جو تمہارا جواب ہو گا وہی ہمارا جواب ہو گا

    اعتراض ۲= اب اگر کوئی کم فہم یہ اعتراض کرے کہ ۱۲ ربیع الاول شریف جس طرح سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یوم ولادت ہے اسی طرح یوم وفات بھی ہے – تم اظہار سرور کرتے ہو اظہار غم کیوں نہیں کرتے

    اس کا جواب علامہ سیوطی رحمتہ اللہ تعالی نے ( الحاوی للفتاوی ص ۱۹۳ ) پر دیا ہے
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہمارے لۓ بہت بڑی نعمت ہے اور آپ کی وفات ہمارے لۓ بہت بڑی مصیبت ہے اور شریعت مطہرہ نے ہمیں مصیبت کے چھپانے کا حکم دیا ہے اور حصول نعمت پر اظہار شکر نعمت کا حکم دیا ہے

    جیسے لڑکے یا لڑکی کے پیدا ہونے پر عقیقے کا حکم دیا گیا ہے اور کسی کی وفات پر ذبح وغیرہ کا حکم نہیں دیا گیا — بلکہ جزع فزع کرنے اور آواز کے ساتھ رونے سے بھی منع کر دیا گیا ہے
    علامہ سیوطی رحمتہ اللہ تعالی فرماتے ہیں

    فدلت قواعد الشرعیتہ علی انہ یحسن فی ھذا الشہر اظھار الفرح بولادتہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دون اظھار الحزن فیہ بوفاتہ

    ترجمہ = قواعد شرعیہ اس چیز پر دلالت کرتے ہیں کہ ماہ ربیع الاول میں اظہار خوشی کرنا یہ مستحب اور باعث ثواب ہے نہ کہ آپ کی وفات پر اظہار غم کرنا ۔۔ .
    Jawab chahiye

  3. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 586 حدیث موقوف مکررات 0 متفق علیہ 0

    حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَتْ تَلِي بَنَاتَ أَخِيهَا يَتَامَی فِي حَجْرِهَا لَهُنَّ الْحَلْيُ فَلَا تُخْرِجُ مِنْ حُلِيِّهِنَّ الزَّکَاةَ

    قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت ام المومنین عائشہ پرورش کرتی تھیں اپنے بھائی محمد بن ابی بکر کی یتیم بیٹیوں کی اور ان کے پاس زیور تھا تو نہیں نکالتی تھیں اس میں سے زکوٰۃ ۔

    دوسری روایت ہے

    موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 587 حدیث موقوف مکررات 0 متفق علیہ 0

    حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يُحَلِّي بَنَاتَهُ وَجَوَارِيَهُ الذَّهَبَ ثُمَّ لَا يُخْرِجُ مِنْ حُلِيِّهِنَّ الزَّکَاةَ

    نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر اپنی بیٹیوں اور لونڈیوں کو سونے کا زیور پہناتے تھے اور ان کے زیوروں میں سے زکوٰۃ نہیں نکالتے تھے ۔

    • Islamic-Belief says:

      اسناد صحیح ہیں

      امام محمد کا قول ہے

      قَالَ مُحَمَّدٌ: أَمَّا مَا كَانَ مِنْ حُلِيِّ جَوْهَرٍ وَلُؤْلُؤٍ، فَلَيْسَتْ فِيهِ الزَّكَاةُ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَأَمَّا مَا كَانَ مِنْ حُلِيِّ ذَهَبٍ، أَوْ فِضَّةٍ، فَفِيهِ الزَّكَاةُ، إِلا أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ لِيَتِيمٍ، أَوْ يَتِيمَةٍ لَمْ يَبْلُغَا، فَلا تَكُونُ فِي مَالِهَا زَكَاةٌ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
      اگر زیور موتی و نگ کا ہو تو اس پر زکوات نہیں ہے لیکن اگر سونے چاندی کا ہو تو اس پر الزَّكَاةُ ہے سوائے اس کے کہ یہ یتیم کے لئے ہو تو اس مال پر الزَّكَاةُ نہیں اور یہ قول ابو حنیفہ کا ہے
      ————-

  4. وجاہت says:

    موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 864 حدیث مرفوع مکررات 22 متفق علیہ 6

    انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) داخل ہوئے مکے میں جس سال مکہ فتح ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سر پر خود تھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خود اتارا تو ایک شخص آیا اور بولا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ابن خطل کعبے کے پردے پکڑے ہوئے لٹک رہا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا اس کو مار ڈالو۔ امام مالک نے کہا کہ اس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) محرم نہیں تھے

    ابن خطل کون تھا

    • Islamic-Belief says:

      ابن خطل کا قتل

      حدیث میں ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول الله صلی الله علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو ابن خطل کعبہ کے پردے میں چھپ گیا آپ نے حکم دیا اس کو وہیں قتل کر دیا جائے

      ابو داود کہتے ہیں أَبُو بَرْزَةَ رضی الله عنہ نے اس کا قتل کیا اور امام مالک کا قول ہے کہ اس روز رسول الله احرام میں نہ تھے اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپ نے کالا عمامہ باندھا ہوا تھا یعنی سر بھی ڈھکا ہوا تھا

      کیونکہ احرام کی حالت میں قتل حرام ہے اس لئے فقہاء میں اس پر بحث ہوتی ہے کہ کیا حرم میں بغیر احرام داخل ہو سکتے ہیں یا نہیں ؟ یہ عمل الله کی خاص اجازت سے ہوا

      اب بحث یہ ہے کہ ابن خطل کا قتل کیوں ہوا ؟ کتاب الشريعة از الآجُرِّيُّ کے مطابق علی رضی الله عنہ کا قول ہے

      كَانَ ابْنُ خَطَلٍ يَكْتُبُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

      ابن خطل رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لئے لکھتا تھا

      یعنی ابن خطل ایک کاتب تھا جو مرتد ہو گیا تھا اور چونکہ مرتد کا قتل ہوتا ہے اس لئے اس کا قتل ہوا یہ گناہ تمام دیگر گناہوں پر سبقت لے گیا ورنہ مکہ میں تو سب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے مخالف تھے

      کتاب شرح السنة از البغوي کے مطابق

      أَنَّ ابْنَ خَطْلٍ كَانَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهٍ مَعَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَمَّرَ الْأَنْصَارِيَّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، وَثَبَ عَلَى الْأَنْصَارِيِّ، فَقَتَلَهُ، وَذَهَبَ بِمَالِهِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ لِخِيَانَتِهِ.

      ابن خطل کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک کام سے ایک انصاری صحابی کے ساتھ بھیجا اور انصاری کو امیر کیا پس جب وہ رستہ میں تھے ابن خطل نے انصاری پر قابو پایا اور ان کو قتل کر کے مال لے بھاگا پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کا قتل خیانت کرنے پر کیا

      http://www.islamic-belief.net/4445-2/

  5. وجاہت says:

    سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ الْكَرِيِّ) سنن ابو داؤد: کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل (باب: ( سفر حج میں ) کرائے پر سواری چلانا)

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّاسَ فِي أَوَّلِ الْحَجِّ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ بِمِنًى وَعَرَفَةَ وَسُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَمَوَاسِمِ الْحَجِّ فَخَافُوا الْبَيْعَ وَهُمْ حُرُمٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ قَالَ فَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَؤُهَا فِي الْمُصْحَفِ

    حکم : صحیح 1734

    سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ پہلے ( قبل از اسلام ) حج کے دنوں میں منٰی ، عرفات ، سوق ذی المجاز اور ایام حج میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے ۔ ( اسلام لانے کے بعد ) انہوں نے احرام باندھے ہوئے خرید و فروخت میں حرج سمجھا تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم سورة البقرة آية 198 في مواسم الحج» ” تم پر کوئی حرج یا گناہ نہیں کہ ” ایام حج “ میں اللہ کا فضل تلاش کرو ۔ “ عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ وہ «في مواسم الحج» کے اضافہ کے ساتھ ، مصحف میں پڑھا کرتے تھے ۔

    ——–

    صحيح البخاري: كِتَابُ البُيُوعِ (بَابُ الأَسْوَاقِ الَّتِي كَانَتْ فِي الجَاهِلِيَّةِ، فَتَبَايَعَ بِهَا النَّاسُ فِي الإِسْلاَمِ) صحیح بخاری: کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان (باب : جاہلیت کے بازاروں کا بیان جن میں اسلام کے زمانہ میں بھی لوگوں نے خرید و فروخت کی)

    حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَتْ عُكَاظٌ وَمَجَنَّةُ وَذُو الْمَجَازِ أَسْوَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ تَأَثَّمُوا مِنْ التِّجَارَةِ فِيهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَذَا

    حکم : صحیح 2098

    ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ عکاظ، مجنہ اور ذو المجاز یہ سب زمانہ جاہلیت کے بازار تھے۔ جب اسلام آیا تو لوگوں نے ان میں تجارت کو گناہ سمجھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ﴾لیس علیکم جناح﴿ فی مواسم الحج، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی طرح قرات کی ہے۔

    حدیث حاشیہ: یعنی تم پر گناہ نہیں کہ ایام حج میں ان بازاروں میں تجارت کرو۔

    ——

    صحيح البخاري: كِتَابُ الحَجِّ (بَابُ التِّجَارَةِ أَيَّامَ المَوْسِمِ، وَالبَيْعِ فِي أَسْوَاقِ الجَاهِلِيَّةِ) صحیح بخاری: کتاب: حج کے مسائل کا بیان
    (باب : زمانہ حج میں تجارت کرنا اور جاہلیت کے بازاروں میں خرید و فروخت کا بیان)

    حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ ذُو الْمَجَازِ وَعُكَاظٌ مَتْجَرَ النَّاسِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ كَأَنَّهُمْ كَرِهُوا ذَلِكَ حَتَّى نَزَلَتْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ

    حکم : صحیح 1770

    ہم سے عثمان بن ہیثم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابن جریج نے خبر دی، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا او ران سے حضرت عبدللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ذو المجاز اور عکاظ عہد جاہلیت کے بازار تھے جب اسلام آیا تو گویا لوگوں نے (جاہلیت کے ان بازاروںمیں ) خرید و فروخت کو برا خیال کیا اس پر (سورہ بقرۃ کی ) یہ آیت نازل ہوئی ” تمہارے لیے کوئی حرج نہیں اگر تم اپنے رب کے فضل کی تلاش کرو، یہ حج کے زمانہ کےلیے تھا۔

    ——-

    تحقیق چاہیے – اس آیت کو قرآن میں کیوں نہیں لکھا گیا

    • Islamic-Belief says:

      http://www.islamic-belief.net/قرآن-یقینا-محفوظ-ہے/

      دور صحابہ میں تفسیر کی کتب اور مصاحف الگ الگ نہیں تھے بلکہ تشریحی و تفسیری آراء کو مصحف میں ہی لکھا جا رہا تھا اور اس میں اختلاف بھی ہو سکتا ہے – اسی طرح کی کچھ روایات ہیں جن سے بعض کو اشتباہ ہوا کہ گویا یہ اضافی تشریحی الفاظ قرات کا حصہ ہیں مثلا

      في مواسم الحج

      صحيح بخاري ميں ہے

      حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: ” كَانَتْ عُكَاظٌ، وَمَجَنَّةُ، وَذُو المَجَازِ، أَسْوَاقًا فِي الجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا كَانَ الإِسْلاَمُ، فَكَأَنَّهُمْ تَأَثَّمُوا فِيهِ، فَنَزَلَتْ: {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ} [البقرة: 198] فِي مَوَاسِمِ الحَجِّ ” قَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ

      ابن عباس رضی الله عنہ نے قرآن کی آیت لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ پڑھی تو اس کے بعد فی مواسم الحج بھی پڑھا

      سنن ابو داود میں راوی عُبيد بن عُمَيرٍ کہتا ہے یہ قرات تھی –

      قال: فحدَّثني عُبيد بن عُمَيرٍ أنه كان يقرؤها في المصحف

      عُبيد بن عُمَيرٍ نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عباس اس کو مصحف میں قرات کرتے تھے

      شعَيب الأرنؤوط سنن ابو داود کی روایت کے الفاظ پر تعلیق میں لکھتے ہیں

      وهذا إسناد ضعيف. عبيد بن عمير: هو مولى ابن عباس فيما قاله أحمد بن صالح المصري الحافظ، وأيده المزي في ترجمة عبيد بن عمير مولى ابن عباس من “تهذيب الكمال” 19/ 226 – 227، لأن ابن أبي ذئب – وهو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة العامري – يقول في آخر الحديث: “فحدثني عبيد بن عمير”، ولم يدرك ابن أبي ذئب عبيدَ بن عمير الليثي الثقة. وعبيد بن عمير مولى ابن عباس مجهول

      اس کی اسناد ضعیف ہیں عبيد بن عمير … مجھول ہے

      الذھبی میزان میں لکھتے ہیں

      عبيد بن عمير [د] . عن ابن عباس. لا يعرف. تفرد عنه ابن أبي ذئب

      عبيد بن عمير ، ابن عباس سے روایت کرتا ہے میں نہیں جانتا اس سے روایت کرنے میں ابن أبي ذئب کا تفرد ہے

      کتاب تجريد الأسماء والكنى المذكورة في كتاب المتفق والمفترق للخطيب البغدادي از القاضي أَبِي يَعْلَى البغدادي (المتوفى: 580هـ) کہتے ہیں

      قال عبد الله بن سليمان: ليس هذا عبيد بن عمير الليثي، هذا عبيد بن عمير مولى أم الفضل، ويقال: مولى ابن عباس

      عبد الله بن سلیمان نے کہا یہ عبيد بن عمير الليثي نہیں ہے یہ عبيد بن عمير أم الفضل اور کہا جاتا ہے مولى ابن عباس ہے

  6. anum shoukat says:

    ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دعوت میں شریک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دستی کا گوشت پیش کیا گیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت مرغوب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دستی کی ہڈی کا گوشت دانتوں سے نکال کر کھایا۔ پھر فرمایا کہ میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا۔ تمہیں معلوم ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) تمام مخلوق کو ایک چٹیل میدان میں جمع کرے گا؟ اس طرح کہ دیکھنے والا سب کو ایک ساتھ دیکھ سکے گا۔ آواز دینے والے کی آواز ہر جگہ سنی جا سکے گی اور سورج بالکل قریب ہو جائے گا۔ ایک شخص اپنے قریب کے دوسرے شخص سے کہے گا، دیکھتے نہیں کہ سب لوگ کیسی پریشانی میں مبتلا ہیں؟ اور مصیبت کس حد تک پہنچ چکی ہے؟ کیوں نہ کسی ایسے شخص کی تلاش کی جائے جو اللہ پاک کی بارگاہ میں ہم سب کی شفاعت کے لیے جائے۔ کچھ لوگوں کا مشورہ ہو گا کہ دادا آدم علیہ السلام اس کے لیے مناسب ہیں۔ چنانچہ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے، اے باوا آدم! آپ انسانوں کے دادا ہیں۔ اللہ پاک نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا، اپنی روح آپ کے اندر پھونکی تھی، ملائکہ کو حکم دیا تھا اور انہوں نے آپ کو سجدہ کیا تھسکا۔
    ر جنت میں آپ کو ( پیدا کرنے کے بعد ) ٹھہرایا تھا۔ آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کر دیں۔ آپ خود ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ہم کس درجہ الجھن اور پریشانی میں مبتلا ہیں۔ وہ فرمائیں گے کہ ( گناہ گاروں پر ) اللہ تعالیٰ آج اس درجہ غضبناک ہے کہ کبھی اتنا غضبناک نہیں ہوا تھا اور نہ آئندہ کبھی ہو گا اور مجھے پہلے ہی درخت ( جنت ) کے کھانے سے منع کر چکا تھا لیکن میں اس فرمان کو بجا لانے میں کوتاہی کر گیا۔ آج تو مجھے اپنی ہی پڑی ہے ( نفسی نفسی ) تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ۔ ہاں، نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ چنانچہ سب لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے، اے نوح علیہ السلام! آپ ( آدم علیہ السلام کے بعد ) روئے زمین پر سب سے پہلے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ”عبدشکور“ کہہ کر پکارا ہے۔ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ آج ہم کیسی مصیبت و پریشانی میں مبتلا ہیں؟ آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کر دیجئیے۔ وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ میرا رب آج اس درجہ غضبناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا غضبناک نہیں ہوا تھا اور نہ کبھی اس کے بعد اتنا غضبناک ہو گا۔ آج تو مجھے خود اپنی ہی فکر ہے۔ ( نفسی نفسی ) تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ چنانچہ وہ لوگ میرے پاس آئیں گے۔ میں ( ان کی شفاعت کے لیے ) عرش کے نیچے سجدے میں گر پڑوں گا۔ پھر آواز آئے گی، اے محمد! سر اٹھاؤ اور شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا کہ ساری حدیث میں یاد نہ رکھ سکا۔

    کیا تمام لوگ قیامت کے دن میدان عرفات میں جمع ہو نگے؟

    سورج قریب ہو جائے گا یعنی اتنے ٹمپریچر پر انسان ویسے ہی مر جائے گا حساب و کتاب کیسے دے پائے گا؟
    اے محمد سر اٹھاؤ اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی مانگو تمہیں دیا جائے گا ان الفاظ سے یہ نکالا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرضی سے جنت میں لے جائینگے ؟

    • Islamic-Belief says:

      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَشَ مِنْهَا نَهْشَةً، ثُمَّ قَالَ: ” أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ القِيَامَةِ، وَهَلْ تَدْرُونَ مِمَّ ذَلِكَ؟ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، يُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي وَيَنْفُذُهُمُ البَصَرُ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ، فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنَ الغَمِّ وَالكَرْبِ مَا لاَ يُطِيقُونَ وَلاَ يَحْتَمِلُونَ، فَيَقُولُ النَّاسُ: أَلاَ تَرَوْنَ مَا قَدْ بَلَغَكُمْ، أَلاَ تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ؟ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ: عَلَيْكُمْ بِآدَمَ، فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَيَقُولُونَ لَهُ: أَنْتَ أَبُو البَشَرِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ المَلاَئِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ، أَلاَ تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا؟ فَيَقُولُ آدَمُ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ اليَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنَّهُ قَدْ نَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ، نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ، فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ: يَا نُوحُ، إِنَّكَ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ، وَقَدْ سَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ؟ فَيَقُولُ: إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَضِبَ اليَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ دَعَوْتُهَا عَلَى قَوْمِي، نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُونَ: يَا إِبْرَاهِيمُ أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ، فَيَقُولُ لَهُمْ [ص:85]: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ اليَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنِّي قَدْ كُنْتُ كَذَبْتُ ثَلاَثَ كَذِبَاتٍ – فَذَكَرَهُنَّ أَبُو حَيَّانَ فِي الحَدِيثِ – نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى فَيَأْتُونَ، مُوسَى فَيَقُولُونَ: يَا مُوسَى أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، فَضَّلَكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلاَمِهِ عَلَى النَّاسِ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ؟ فَيَقُولُ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ اليَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنِّي قَدْ قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا، نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، فَيَأْتُونَ عِيسَى، فَيَقُولُونَ: يَا عِيسَى أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، وَكَلَّمْتَ النَّاسَ فِي المَهْدِ صَبِيًّا، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ؟ فَيَقُولُ عِيسَى: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ اليَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ قَطُّ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ ذَنْبًا، نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ، فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا فَيَقُولُونَ: يَا مُحَمَّدُ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَخَاتِمُ الأَنْبِيَاءِ، وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ، فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ العَرْشِ، فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا، لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى أَحَدٍ قَبْلِي، ثُمَّ يُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ سَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَقُولُ: أُمَّتِي يَا رَبِّ، أُمَّتِي يَا رَبِّ، أُمَّتِي يَا رَبِّ، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لاَ حِسَابَ عَلَيْهِمْ مِنَ البَابِ الأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الجَنَّةِ، وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الأَبْوَابِ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ مَا بَيْنَ المِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الجَنَّةِ، كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَحِمْيَرَ – أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَبُصْرَى – ”
      =======

      صحیح سند ہے
      لیکن یہ متن ایک ہی سند سے اتا ہے
      أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
      اور
      عمارة بن القعقاع , عن أَبِي زُرْعَة , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ

      اس کو بیان کرنے میں أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ کا تفرد ہے
      —————

      کیا تمام لوگ قیامت کے دن میدان عرفات میں جمع ہو نگے؟
      اس روایت کے متن میں ایسا تو نہیں لکھا
      ——-
      سورج قریب ہو جائے گا یعنی اتنے ٹمپریچر پر انسان ویسے ہی مر جائے گا حساب و کتاب کیسے دے پائے گا؟

      سورج اپنی تپش کھو چکا ہو گا بے نور ہو گیا ہو گا کیونکہ زمیں اللہ کے خلق کردہ نور سے روشن ہو گی
      قرآن میں ہے چاند و سورج کو جمع کر دیا جائے گا
      سورج تانبے جیسا ہو گا
      ———–
      اے محمد سر اٹھاؤ اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی مانگو تمہیں دیا جائے گا ان الفاظ سے یہ نکالا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرضی سے جنت میں لے جائینگے ؟
      اس متن سے یہ نتیجہ نکلنا صحیح نہیں ہے – رسول الله کو اجازت ملے گی لیکن ظاہر ہے اس امت محمد کے مشرک جنت میں نہیں جاسکتے

  7. anum shoukat says:

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومنین قیامت کے دن پریشان ہو کر جمع ہوں گے اور ( آپس میں ) کہیں گے، بہتر یہ تھا کہ اپنے رب کے حضور میں آج کسی کو ہم اپنا سفارشی بناتے۔ چنانچہ سب لوگ آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونگے اور عرض کریں گے کہ آپ انسانوں کے باپ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا۔ آپ کے لیے فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے۔ آپ ہمارے لیے اپنے رب کے حضور میں سفارش کر دیں تاکہ آج کی مصیبت سے ہمیں نجات ملے۔ آدم علیہ السلام کہیں گے، میں اس کے لائق نہیں ہوں، وہ اپنی لغزش کو یاد کریں گے اور ان کو پروردگار کے حضور میں جانے سے شرم آئے گی۔ کہیں گے کہ تم لوگ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ سب سے پہلے نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ( میرے بعد ) زمین والوں کی طرف مبعوث کیا تھا۔ سب لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں اور وہ اپنے رب سے اپنے سوال کو یاد کریں گے جس کے متعلق انہیں کوئی علم نہیں تھا۔ ان کو بھی شرم آئے گی اور کہیں گے کہ اللہ کے خلیل علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے لیکن وہ بھی یہی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں، موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا تھا اور تورات دی تھی۔ لوگ ان کے پاس آئیں گے لیکن وہ بھی عذر کر دیں گے کہ مجھ میں اس کی جرات نہیں۔ ان کو بغیر کسی حق کے ایک شخص کو قتل کرنا یاد آ جائے گا اور اپنے رب کے حضور میں جاتے ہوئے شرم دامن گیر ہو گی۔ کہیں گے تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول، اس کا کلمہ اور اس کی روح ہیں لیکن عیسیٰ علیہ السلام بھی یہی کہیں گے کہ مجھ میں اس کی ہمت نہیں، تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے مقبول بندے ہیں اور اللہ نے ان کے تمام اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دئیے ہیں۔ چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے، میں ان کے ساتھ جاؤں گا اور اپنے رب سے اجازت چاہوں گا۔ مجھے اجازت مل جائے گی، پھر میں اپنے رب کو دیکھتے ہی سجدہ میں گر پڑوں گا اور جب تک اللہ چاہے گا میں سجدہ میں رہوں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اپنا سر اٹھاؤ اور جو چاہو مانگو، تمہیں دیا جائے گا، جو چاہو کہو تمہاری بات سنی جائے گی۔ شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اللہ کی وہ حمد بیان کروں گا جو مجھے اس کی طرف سے سکھائی گئی ہو گی۔ اس کے بعد شفاعت کروں گا اور میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں انہیں جنت میں داخل کراؤں گا چوتھی مرتبہ جب میں واپس آؤں گا تو عرض کروں گا کہ جہنم میں ان لوگوں کے سوا اور کوئی اب باقی نہیں رہا جنہیں قرآن نے ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا ضروری قرار دے دیا ہے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ قرآن کی رو سے دوزخ میں قید رہنے سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے «خالدين فيها‏» کہا گیا ہے۔ کہ وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔

    سوال: آدم علیہ السلام کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا؟
    سوال : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین بار شفاعت کرینگے چوتھی بار اللہ سے کہے گے کہ مالک اب ہمیشہ جہنم میں رہنے والے رہ گے ہیں یعنی وہ مشرک ہونگے؟

    • Islamic-Belief says:

      سورہ ص
      قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ۖ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ الْعَالِينَ
      الله تعالی نے کہا : اے ابلیس تجھ کو اس کو سجدے سے کس نے روکا جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے خلق کیا ؟ تو نے غرور کیا یا تو کوئی بلندی والا ہے؟

      =========
      ہمیشہ جہنم میں رہنے والے جی ہان مشرک ہی ہو سکتے ہیں
      و اللہ اعلم

  8. وجاہت says:

    ابو شہر یار الله آپ کے کام میں برکت دے – آمین

    we all love you

    بھائی ایک بات پوچھنی ہے کہ صحیح بخاری کی یہ دو احادیث ہیں

    http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/5268

    http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/6972

    ان احادیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور معمول سے زیادہ دیر ان کے گھر ٹھہر ے ۔ اور شہد پیا

    جبکہ دوسری احادیث میں ہے کہ

    http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/4912

    http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/6691

    http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/5267

    صحیح مسلم

    http://mohaddis.com/View/Muslim/3678

    ان احادیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں ٹھہرتے تھے اور ان کے یہاں شہد پیا کرتے تھے ۔

    • Islamic-Belief says:

      شکریہ بہت بہت
      الله اپ کو خوش رکھے

      ============

      یہ دو سندیں اور متن ہیں

      ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی ، انہیں ابن جریج نے ، انہیں عطاءنے ، انہیں عبید بن عمیر اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا … زینب بنت جحش کے یہاں سے شہد پیا

      ہم سے فروہ بن ابی المغراءنے بیان کیا ، کہا ہم سے علی بن مسہر نے ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا … حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور … جب پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ شہد پھر نوش فرمائیں

      اغلبا ان میں سے کسی ایک راوی کو نام یاد نہیں رہا کہ کس ام المومنین نے شہد کا شربت پلایا تھا
      ——-

  9. Aysha butt says:

    Sir khty hai hadith mn hai k Nabi s.a.w k samne khana laya gya. Phir unhon ne jo chaha parha or phir sab ne us mn khaya gareeban300 admi the…..
    Or dosra hai hazrat fatima ata gondty huye quran.prha krti thi is se khtam ka jawaz niklta hai
    B

    • Islamic-Belief says:

      رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو کیا وہ تو معجزہ تھا – کیا ہم قرآن پڑھیں تو ایسا ہو گا کہ ٣٠٠ آدمی کھا لیں؟ یہ تو معجزہ کا دعوی ہو گا- ظاہر ہے اس کا جواب نفی ہے تو ہمارا یہ عمل کرنا بے کار اور عبث ہوا
      فاطمہ اٹا گوندھتے وقت قرآن پڑھتی تھیں اس روایت کا علم نہیں- بالفرض مان لیں ایسا کرتی تھیں تو کیا رزق کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا تھا ؟ ایسا تو نہیں ہے وہ تو غربت کی زندگی میں تھیں – ایسا ہوتا تو فاطمہ کا معجزہ ہوتا جو لوگوں نے کثرت سے بیان کیا ہوتا

      اپ غور کریں کہ غیر متعلق باتوں کو بیان کرکے بریلوی کیا کیا ثابت کرنے پر تلے رهتے ہیں

  10. وجاہت says:

    کیا قرآن و حدیث کی کسی نص سے ثابت ہے کہ اذان کے وقت خواتین کا سر ڈھکا ہونا چاہیے؟

  11. وجاہت says:

    الدمیری المصری الشافعی کون تھے – ان کی کتابوں کی کیا اہمیت ہے – ان کی ایک کتاب ہے حياة الحيوان الكبرى یہ کیسی کتاب ہے

    http://shamela.ws/browse.php/book-10664#page-239

    =========

    اور ایک کتاب جو مجھے کسی شیعہ عالم کی لکھی ہوئی لگتی ہے جس کا نام ہے

    رجال من التاريخ – علي الطنطاوي

    http://waqfeya.com/book.php?bid=3280

    علي الطنطاوي کون تھے – اور اس کتاب کی کیا اہمیت ہے

  12. anum shoukat says:

    ہم نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم کو سورج اور چاند دیکھنے میں کچھ تکلیف ہوتی ہے جب کہ آسمان بھی صاف ہو؟ ہم نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر اپنے رب کے دیدار میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں پیش آئے گی جس طرح سورج اور چاند کو دیکھنے میں نہیں پیش آتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ ہر قوم اس کے ساتھ جائے جس کی وہ پوجا کیا کرتی تھی۔ چنانچہ صلیب کے پجاری اپنی صلیب کے ساتھ، بتوں کے پجاری اپنے بتوں کے ساتھ، تمام جھوٹے معبودوں کے پجاری اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ چلے جائیں گے اور صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو خالص اللہ کی عبادت کرنے والے تھے۔ ان میں نیک و بد دونوں قسم کے مسلمانوں ہوں گے اور اہل کتاب کے کچھ باقی ماندہ لوگ بھی ہوں گے۔ پھر دوزخ ان کے سامنے پیش کی جائے گی وہ ایسی چمکدار ہو گی جیسے میدان کا ریت ہوتا ہے۔ ( جو دور سے پانی معلوم ہوتا ہے ) پھر یہود سے پوچھا جائے گا کہ تم کس کے پوجا کرتے تھے۔ وہ کہیں گے کہ ہم عزیر ابن اللہ کی پوجا کیا کرتے تھے۔ انہیں جواب ملے گا کہ تم جھوٹے ہو اللہ کے نہ کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی لڑکا۔ تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم پانی پینا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے سیراب کیا جائے۔ ان سے کہا جائے گا کہ پیو وہ اس چمکتی ریت کی طرف پانی جان کر چلیں گے اور پھر وہ جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے۔ پھر نصاریٰ سے کہا جائے گا کہ تم کس کی پوجا کرتے تھے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم مسیح ابن اللہ کی پوجا کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم جھوٹے ہو۔ اللہ کے نہ بیوی تھی اور نہ کوئی بچہ، اب تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم چاہتے ہیں کہ پانی سے سیراب کئے جائیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ پیو ( ان کو بھی اس چمکتی ریت کی طرف چلایا جائے گا ) اور انہیں بھی جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہی باقی رہ جائیں گے جو خالص اللہ کی عبادت کرتے تھے، نیک و بد دونوں قسم کے مسلمان، ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگ کیوں رکے ہوئے ہو جب کہ سب لوگ جا چکے ہیں؟ وہ کہیں گے ہم دنیا میں ان سے ایسے وقت جدا ہوئے کہ ہمیں ان کی دنیاوی فائدوں کے لیے بہت زیادہ ضرورت تھی اور ہم نے ایک آواز دینے والے کو سنا ہے کہ ہر قوم اس کے ساتھ ہو جائے جس کی وہ عبادت کرتی تھی اور ہم اپنے رب کے منتظر ہیں۔ بیان کیا کہ پھر اللہ جبار ان کے سامنے اس صورت کے علاوہ دوسری صورت میں آئے گا جس میں انہوں نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا ہو گا اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں! لوگ کہیں گے کہ تو ہی ہمارا رب ہے اور اس دن انبیاء کے سوا اور کوئی بات نہیں کرے گا۔ پھر پوچھے گا: کیا تمہیں اس کی کوئی نشانی معلوم ہے؟ وہ کہیں گے کہ «ساق‏.‏» پنڈلی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا اور ہر مومن اس کے لیے سجدہ میں گر جائے گا۔ صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دکھاوے اور شہرت کے لیے اسے سجدہ کرتے تھے، وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پیٹھ تختہ کی طرح ہو کر رہ جائے گی۔ پھر انہیں پل پر لایا جائے گا۔ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! پل کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا , وہ ایک پھسلواں گرنے کا مقام ہے اس پر سنسنیاں ہیں، آنکڑے ہیں، چوڑے چوڑے کانٹے ہیں، ان کے سر خمدار سعدان کے کانٹوں کی طرح ہیں جو نجد کے ملک میں ہوتے ہیں۔ مومن اس پر پلک مارنے کی طرح، بجلی کی طرح، ہوا کی طرح، تیز رفتار گھوڑے اور سواری کی طرح گزر جائیں گے۔ ان میں بعض تو صحیح سلامت نجات پانے والے ہوں گے اور بعض جہنم کی آگ سے جھلس کر بچ نکلنے والے ہوں گے یہاں تک کہ آخری شخص اس پر سے گھسٹتے ہوئے گزرے گا تم لوگ آج کے دن اپنا حق لینے کے لیے جتنا تقاضا اور مطالبہ مجھ سے کرتے ہو اس سے زیادہ مسلمان لوگ اللہ سے تقاضا اور مطالبہ کریں گے اور جب وہ دیکھیں گے کہ اپنے بھائیوں میں سے انہیں نجات ملی ہے تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہمارے بھائی بھی ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ دوسرے ( نیک ) اعمال کرتے تھے ( ان کو بھی دوزخ سے نجات فرما ) چنانچہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں ایک اشرفی کے برابر بھی ایمان پاؤ اسے دوزخ سے نکال لو اور اللہ ان کے چہروں کو دوزخ پر حرام کر دے گا۔ چنانچہ وہ آئیں گے اور دیکھیں گے کہ بعض کا تو جہنم میں قدم اور آدھی پنڈلی جلی ہوئی ہے۔ چنانچہ جنہیں وہ پہچانیں گے انہیں دوزخ سے نکالیں گے، پھر واپس آئیں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں آدھی اشرفی کے برابر بھی ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ جن کو وہ پہچانتے ہوں گے ان کو نکالیں گے۔ پھر وہ واپس آئیں گے اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ پہچانے جانے والوں کو نکالیں گے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ اگر تم میری تصدیق نہیں کرتے تو یہ آیت پڑھو «إن الله لا يظلم مثقال ذرة وإن تك حسنة يضاعفها‏» ”اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔“ اگر نیکی ہے تو اسے بڑھاتا ہے۔ پھر انبیاء اور مومنین اور فرشتے شفاعت کریں گے اور پروردگار کا ارشاد ہو گا کہ اب خاص میری شفاعت باقی رہ گئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ دوزخ سے ایک مٹھی بھر لے گا اور ایسے لوگوں کو نکالے گا جو کوئلہ ہو گئے ہوں گے۔ پھر وہ جنت کے سرے پر ایک نہر میں ڈال دئیے جائیں گے جسے نہر آب حیات کہا جاتا ہے اور یہ لوگ اس کے کنارے سے اس طرح ابھریں گے جس طرح سیلاب کے کوڑے کرکٹ سے سبزہ ابھر آتا ہے۔ تم نے یہ منظر کسی چٹان کے یا کسی درخت کے کنارے دیکھا ہو گا تو جس پر دھوپ پڑتی رہتی ہے وہ سبزا بھرتا ہے اور جس پر سایہ ہوتا ہے وہ سفید ابھرتا ہے۔ پھر وہ اس طرح نکلیں گے جیسے موتی چمکتا ہے۔ اس کے بعد ان کی گردنوں پر مہر کر دی جائیں گے ( کہ یہ اللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ) اور انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اہل جنت انہیں «عتقاء الرحمن» کہیں گے۔ انہیں اللہ نے بلا عمل کے جو انہوں نے کیا ہو اور بلا خیر کے جو ان سے صادر ہوئی ہو جنت میں داخل کیا ہے۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ تمہیں وہ سب کچھ ملے گا جو تم دیکھتے ہو اور اتنا ہی اور بھی ملے گا۔

    اس حدیث میں لکھا ہے کہ مومنین اور فرشتے بھی شفاعت کرینگے جبکہ آپ کہہ رہے تھے صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت کرینگے؟

  13. anum shoukat says:

    مسلک پرست تو یہی کہتے ہیں کہ میدان عرفات میں سب لوگ جمع ہونگے اگر وہاں نہیں ہونگے تو کہاں ہو نگے؟

    اگر سورج اپنی تپش کھو دیگا تو پھر پسینہ کان کی لو تک کیسے ہو گا بغیر تپش کے؟

    • Islamic-Belief says:

      پوری زمین کروی نہیں چپٹی روٹی کی صورت میں بنا دی جائے گی گویا کہ پلیٹ ہو

      پسینہ الله کے خوف کی وجہ سے آئے گا

  14. anum shoukat says:

    =======

    صحیح سند ہے
    لیکن یہ متن ایک ہی سند سے اتا ہے
    أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
    اور
    عمارة بن القعقاع , عن أَبِي زُرْعَة , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ

    اس کو بیان کرنے میں أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ کا تفرد ہے
    —————
    اس روایت میں تفرد ہے سے کیا مراد ہے
    یعنی جس روایت کو صرف ایک راوی نے ذکر کیا ہو باقی دوسرے رواۃ ضعیف ہوں؟؟

    • Islamic-Belief says:

      تفرد کا مطلب ایک ہی راوی اس کو بیان کرنے میں منفرد ہو کوئی اور بیان نہ کر رہا ہو چاہے ضعیف ہو یا ثقہ

  15. anum shoukat says:

    لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، کیا چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ! پھر آپ نے پوچھا کیا جب بادل نہ ہوں تو تمہیں سورج کو دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اسی طرح اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا اور فرمائے گا کہ تم میں جو کوئی جس چیز کی پوجا پاٹ کیا کرتا تھا وہ اس کے پیچھے لگ جائے۔ چنانچہ جو سورج کی پوجا کرتا تھا وہ سورج کے پیچھے ہو جائے گا، جو چاند کی پوجا کرتا تھا وہ چاند کے پیچھے ہو جائے گا اور جو بتوں کی پوجا کرتا تھا وہ بتوں کے پیچھے لگ جائے گا ( اسی طرح قبروں، تعزیوں کے پجاری قبروں، تعزیوں کے پیچھے لگ جائیں گے ) پھر یہ امت باقی رہ جائے گی اس میں بڑے درجہ کے شفاعت کرنے والے بھی ہوں گے یا منافق بھی ہوں گے ابراہیم کو ان لفظوں میں شک تھا۔ پھر اللہ ان کے پاس آئے گا اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں، وہ جواب دیں گے کہ ہم یہیں رہیں گے۔ یہاں تک کہ ہمارا رب آ جائے، جب ہمارا رب آ جائے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جسے وہ پہچانتے ہوں گے اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں، وہ اقرار کریں گے کہ تو ہمارا رب ہے۔ چنانچہ وہ اس کے پیچھے ہو جائیں گے اور دوزخ کی پیٹھ پر پل صراط نصب کر دیا جائے گا اور میں اور میری امت سب سے پہلے اس کو پار کرنے والے ہوں گے اور اس دن صرف انبیاء بات کر سکیں گے اور انبیاء کی زبان پر یہ ہو گا۔ اے اللہ! مجھ کو محفوظ رکھ، مجھ کو محفوظ رکھ۔ اور دوزخ میں درخت سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے۔ کیا تم نے سعدان دیکھا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ جی ہاں، یا رسول اللہ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سعدان کے کانٹوں ہی کی طرح ہوں گے البتہ وہ اتنے بڑے ہوں گے کہ اس کا طول و عرض اللہ کے سوا اور کسی کو معلوم نہ ہو گا۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے بدلے میں اچک لیں گے تو ان میں سے کچھ وہ ہوں گے جو تباہ ہونے والے ہوں گے اور اپنے عمل بد کی وجہ سے وہ دوزخ میں گر جائیں گے یا اپنے عمل کے ساتھ بندھے ہوں گے اور ان میں بعض ٹکڑے کر دئیے جائیں گے یا بدلہ دئیے جائیں گے یا اسی جیسے الفاظ بیان کئے۔ پھر اللہ تعالیٰ تجلی فرمائے گا اور جب بندوں کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہو گا اور دوزخیوں میں سے جسے اپنی رحمت سے باہر نکالنا چاہے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے انہیں دوزخ سے باہر نکالیں، یہ وہ لوگ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ رحم کرنا چاہے گا۔ ان میں سے جنہوں نے کلمہ لا الہٰ الا اللہ کا اقرار کیا تھا۔ چنانچہ فرشتے انہیں سجدوں کے نشان سے دوزخ میں پہچانیں گے۔ دوزخ ابن آدم کا ہر عضو جلا کر بھسم کر دے گی سوا سجدہ کے نشان کے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دوزخ پر حرام کیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشان کو جلائے ( یا اللہ! ہم گنہگاروں کو دوزخ سے محفوظ رکھیو ہم کو تیری رحمت سے یہی امید ہے ) چنانچہ یہ لوگ دوزخ سے اس حال میں نکالے جائیں گے کہ یہ جل بھن چکے ہوں گے۔ پھر ان پر آب حیات ڈالا جائے گا اور یہ اس کے نیچے سے اس طرح اگ کر نکلیں گے جس طرح سیلاب کے کوڑے کرکٹ سے سبزہ اگ آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ سے فارغ ہو گا۔ ایک شخص باقی رہ جائے گا جس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہو گا، وہ ان دوزخیوں میں سب سے آخری انسان ہو گا جسے جنت میں داخل ہونا ہے۔ وہ کہے گا: اے رب! میرا منہ دوزخ سے پھیر دے کیونکہ مجھے اس کی گرم ہوا نے پریشان کر رکھا ہے اور اس کی تیزی نے جھلسا ڈالا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے وہ اس وقت تک دعا کرتا رہے گا جب تک اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا اگر میں تیرا یہ سوال پورا کر دوں گا تو تو مجھ سے کچھ اور مانگے گا؟ وہ کہے گا نہیں، تیری عزت کی قسم! اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں مانگوں گا اور وہ شخص اللہ رب العزت سے بڑے عہد و پیمان کرے گا۔ چنانچہ اللہ اس کا منہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے گا۔ پھر جب وہ جنت کی طرف رخ کرے گا اور اسے دیکھے گا تو اتنی دیر خاموش رہے گا جتنی دیر اللہ تعالیٰ اسے خاموش رہنے دینا چاہے گا۔ پھر وہ کہے گا: اے رب! مجھے صرف جنت کے دروازے تک پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ جو کچھ میں نے دیا ہے اس کے سوا اور کچھ کبھی تو نہیں مانگے گا؟ افسوس ابن آدم تو کتنا وعدہ خلاف ہے۔ پھر وہ کہے گا: اے رب! اور اللہ سے دعا کرے گا۔ آخر اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اگر میں نے تیرا یہ سوال پورا کر دیا تو اس کے سوا کچھ اور مانگے گا؟ وہ کہے گا تیری عزت کی قسم! اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا اور جتنے اللہ چاہے گا وہ شخص وعدہ کرے گا۔ چنانچہ اسے جنت کے دروازے تک پہنچا دے گا۔ پھر جب وہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہو جائے گا تو جنت اسے سامنے نظر آئے گی اور دیکھے گا کہ اس کے اندر کس قدر خیریت اور مسرت ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ جتنی دیر چاہے گا وہ شخص خاموش رہے گا۔ پھر کہے گا: اے رب! مجھے جنت میں پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ اس پر کہے گا کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ جو کچھ میں نے تجھے دے دیا ہے اس کے سوا تو اور کچھ نہیں مانگے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا افسوس! ابن آدم تو کتنا وعدہ خلاف ہے۔ وہ کہے گا: اے رب! مجھے اپنی مخلوق میں سب سے بڑھ کر بدبخت نہ بنا۔ چنانچہ وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں پر ہنس دے گا، جب ہنس دے گا تو اس کے متعلق کہے گا کہ اسے جنت میں داخل کر دو۔ جنت میں اسے داخل کر دے گا تو اس سے فرمائے گا کہ اپنی آرزوئیں بیان کر، وہ اپنی تمام آرزوئیں بیان کر دے گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے یاد دلائے گا۔ وہ کہے گا کہ فلاں چیز، فلاں چیز، یہاں تک کہ اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ آرزوئیں اور انہی جیسی تمہیں ملیں گی۔ ( «اللھم ارزقنا آمین» )

    یہ روایت صحیح ہے؟

    اولیا اللہ شفاعت کرینگے میرے پوچھنے پر آپ نے کہا تھا کہ اس دن کسی مجال نہ ہو گی رحمن کے سامنے بات کر سکے لیکن پہلے جو حدیث سینڈ کی یے اس سے تو یہی سمجھ آ رہا ہے کہ اولیاء بھی کرینگے شفاعت اللہ کے اذن سے اور فرشتے بھی؟

    • Islamic-Belief says:

      یہ روایت صحیح نہیں منکر ہے
      اس کے متن کے الفاظ ہیں

      اللہ جبار ان کے سامنے اس صورت کے علاوہ دوسری صورت میں آئے گا جس میں انہوں نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا ہو گا
      کیا اس وقت الله اپنے عرش کو چھوڑ دے گا ؟ قرآن میں اس کے خلاف ہے – إس کے مطابق آخر تک الله تعالی عرش پر ہوں گے اور پھر اپنی عظمت کی تجلی کے طور پر تمام سات آسمان لپیٹ دیں گے تمام مخلوق دیکھے گی

      راقم کہتا ہے اگر الله اپنے عرش کو چھوڑ کر زمین پر آئے تو یہ زمین اپنے رب کو نہیں اٹھا سکے گی اور فنا ہو جائے گی جیسا تجلی طور کے وقت سرسری سا ہوا تھا

      محدثین جو امام بخاری سے پہلے گزرے اس روایت کو رد کر چکے تھے

      ⇓ روز محشر الله تعالی محسم ہو کر کسی ایسی صورت میں بھی آئیں گے جس کو مومن پہچانتے ہوں؟
      http://www.islamic-belief.net/q-a/عقائد/الأسماء-و-الصفات/

  16. anum shoukat says:

    Sahih Bukhari Hadees # 3885

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ “”لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ،‏‏‏‏ فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ””.حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ،‏‏‏‏ وَالدَّرَاوَرْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بِهَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ “”تَغْلِي مِنْهُ أُمُّ دِمَاغِهِ””.

    انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آپ کے چچا کا ذکر ہو رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شاید قیامت کے دن انہیں میری شفاعت کام آ جائے اور انہیں صرف ٹخنوں تک جہنم میں رکھا جائے جس سے ان کا دماغ کھولے گا۔“ ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابوحازم اور درا وردی نے بیان کیا یزید سے اسی مذکورہ حدیث کی طرح، البتہ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ ابوطالب کے دماغ کا بھیجہ اس سے کھولے گا۔

    اس حدیث کے مطابق اسکو شفاعت کہے گے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے جہنم میں عذاب کم ہوا یعنی یہ شفاعت ہے؟

    • Islamic-Belief says:

      روایت کے متن میں شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ کا ذکر ہے یعنی روز محشر شفاعت کرنا

      سند میں يزيد بن عبد الله بن أسامة بن الهاد ہے جو ثقہ ہیں
      سند صحیح ہے متن عجیب ہے
      ==============
      یہ حدیث دلیل ہوئی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم مشرک کی شفاعت کریں گے

      قال الحافظ في “الفتح” 7/196: في الحديث جواز زيارة القريب المشرك وعيادته، وأن التوبة مقبولة ولو في شدة مرض الموت حتى يصل إلى المعاينة فلا يقبل، لقوله تعالى: {فلم يَكُ ينفعهم إيمانهم لمّا رأوا بأسنا} ، وأن الكافر إذا شهد شهادة الحق نجا من العذاب لأن الإسلام يجبُّ ما قبله، وأن عذاب الكفار متفاوت، والنفع الذي حصل لأبي طالب من خصائصه ببركه النبي – صلى الله عليه وسلم -.

      ابن حجر کا کہنا ہے کفار کی شفاعت کرنا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی برکت کے خصائص ہیں
      ==========

      غور طلب ہے کہ مشرک الله کا باغی ہوتا ہے اگر بادشاہ کے سامنے کوئی باغی کا دفاع کرے تو بادشاہ خوش ہو گا یا ناراض؟ مجھے اس روایت کا متن کبھی سمجھ نہیں آیا

      ہمیں معلوم ہے کہ مشرک کی شفاعت کرنے پر نوح علیہ السلام کو تنبیہ کی گئی تھی
      قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ۖ فَلَا تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۖ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ

  17. وجاہت says:

    کیا یہ حدیث صحیح ہے – یہ باندی کون تھیں اور اس کا ذکر کن کن احادیث میں آ یا ہے

    سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 1321 حدیث مرفوع مکررات 0 متفق علیہ 0

    أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ حَرَمِيٌّ هُوَ لَقَبُهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَتْ لَهُ أَمَةٌ يَطَؤُهَا فَلَمْ تَزَلْ بِهِ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ حَتَّی حَرَّمَهَا عَلَی نَفْسِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَکَ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ

    ابراہیم بن یونس بن محمد، اپنے والد سے، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس ایک باندی تھی کہ جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم بستری فرماتے تھے تو حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت حفصہ دونوں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پیچھے لگی رہتی تھیں۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس باندی کو اپنے اوپر حرام فرما لیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت” يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَکَ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ” نازل فرمائی آخر تک۔

    • Islamic-Belief says:

      یہ باندی مَارِيَةَ قبطیہ تھیں جو ام ابراہیم ہیں

      الأحاديث المختارة أو المستخرج من الأحاديث المختارة مما لم يخرجه البخاري ومسلم في صحيحيهما المؤلف: ضياء الدين أبو عبد الله محمد بن عبد الواحد المقدسي (المتوفى: 643هـ) کے مطابق یہ حدیث صحیح ہے – البانی نے اس کو صحيح الإسناد قرار دیا ہے – عبد القادر الأرنؤوط نے اس کی اسناد کو قوی کہا ہے اور متابعت میں ایک دوسری روایت بھی دی ہے
      وإسناده قوي. وذكر ابن كثير في تفسيره 8 / 404: عن الهيثم بن كليب قال: حدثنا أبو قلابة عبد الملك بن محمد الرقاشي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا جرير بن حازم، عن أيوب، عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم لحفصة: ” لا تخبري أحداً، وإن أم إبراهيم علي حرام “. فقالت: أتحرم ما أحل الله لك؟ قال: ” فوالله لا أقربها ” قال: فلم يقربها حتى أخبرت عائشة، قال فأنزل الله: {قد فرض الله لكم تحلة أيمانكم} ، وهذا إسناد صحيح، ولم يخرجه أحد من أصحاب الكتب الستة، وقد اختاره الحافظ الضياء المقدسي في كتابه ” المستخرج “.

      إبراهيم بن يونس بن محمد يعرف بحرمي کا درجہ صدوق کا ہے

  18. Aysha butt says:

    Sir sajda tazeemi adam a.s k samne kya ilm ki azmat ki wajh se hoa jo ap.ko Allah ne diya.. Jiska zikr quran.mn hai

  19. Meher khan says:

    Salam

  20. Aysha butt says:

    Sir ik book hai early shia development in islam. Is mn hai k kis trab shahdat e hussain ka badla lia gya… Wo badla lene wale kon the
    Ik shah wali ullah ki quote di jati hai k kis ka qatil namaloom ho hukmran uska qatil hota hai… To kha yeh jata hai k agr qatil na malommm the… Ti

    Yazeed qusoorwar hoa…. Ya agr yazeed qasoor war nai to phir us ne hussain r.a k qatloo se badla q na lia
    Agr yeh sawal mn phly kr chuki ho to eska link de dena yhn

    • Islamic-Belief says:

      اپ نے کہا جب قاتل نہ معلوم ہوں تو الزام حاکم پر ہے
      اگر ایسا ہے تو اپ کو یاد ہو گا نبی اسرائیل میں بھی قتل ہوا تھا جب موسی مصر سے نکلے – قاتل نامعلوم تھے یہاں تک کہ بچھڑے کی قربانی کی مقتول کو اس کے گوشت کی ضرب لگائی گئی
      اس طرح تو موسی علیہ السلام پر قتل کا الزام ماننا پڑے گا یہان تک کہ الله کی جانب سے یہ معجزہ ہوا
      اس حکایت کا درس یہی ہے کہ حاکم قاتل نہیں ہوتا
      دنیا کی عدالتین بھی اس طرح کام نہیں کرتیں کہ اگر قاتل نا معلوم ہوں تو اسں کا الزام حاکم کے سر تھوپ دیا جائے
      لہذا شاہ والی الله کی بات ایک جاہلانہ بات ہے
      ———

      دور قدیم میں جب قاتل نامعلوم ہوں تو کوئی سائنسی ذریعہ نہیں تھا قاتلوں کی تشخص کی جا سکے
      اپ خود اس دور میں جا کر بتائیں اپ کو اگر حسین کے قاتلوں کو کھوج پر مقرر کیا جاتا تو اپ کیا کیا کرتیں
      ذرا میں بھی تو سمجھ سکوں اپ کتنی با صلاحیت ہیں

  21. وجاہت says:

    سوال تو بڑا عجیب سے ہے لیکن ایک بھائی نے کیا ہے – آپ سے پوچھ رہا ہوں

    اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی زبان کونسی ہے اور وہ کس زبان میں آپس میں بات کرتے ہیں

  22. Aysha butt says:

    Ap ny apni waseele wali kitb mn adam a.s ki riwayt k zail.mn kha k hakim is kitab ka likhy huy dimagi tawazun theak.na tha.. Jin aima ya muhadfisern ne aisa kha unka qol hawaly se bata dein

    • Islamic-Belief says:

      اس کا ذکر لسان المیزان میں ابن حجر نے کیا ہے

      والحاكم أجل قدرا وأعظم خطرا وأكبر ذكرا من أن يذكر في الضعفاء لكن قيل في الأعتذار عنه أنه عند تصنيفه للمستدرك كان في أواخر عمره وذكر بعضهم أنه حصل له تغير وغفلة في آخر عمره ويدل على ذلك أنه ذكر جماعة في كتاب الضعفاء له وقطع بترك الرواية عنهم ومنع من الاحتجاج بهم ثم أخرج أحاديث بعضهم في مستدركه وصححها من ذلك أنه أخرج حديثا لعبد الرحمن بن زيد بن أسلم وكان قد ذكره في الضعفاء فقال: أنه روى عن أبيه أحاديث موضوعة لا تخفى على من تأملها من أهل الصنعة أن الحمل فيها عليه وقال في آخر الكتاب فهؤلاء الذين ذكرتهم في هذا الكتاب ثبت عندي صدقهم لأنني لا استحل الجرح إلا مبينا ولا أجيزه تقليدا والذي اختار لطالب العلم أن لا يكتب حديث هؤلاء أصلا.

      امام حاکم نے ضعیف رویوں سے روایت لی لیکن اس کے الأعتذار میں کہا جاتا ہے کہ ان کی تصنیف مستدرک ان کی عمر کے اواخر کی ہے اور بعض نے ذکر کیا کہ ان میں تغیر آ گیا تھا اور غفلت تھی آخری عمر میں اور اس پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے ایک جماعت کا ذکر اپنی کتاب الضعفاء میں کیا تھا اور ان کی روایت کو ترک کرنے کا کہا اور دلیل لینے سے منع کیا پھر انہی سے مستدرک میں بھی روایت لے لی اور اس کو صحیح بھی کہہ دیا ان میں ہے عبد الرحمن بن زيد بن أسلم جس کا ذکر انہوں نے الضعفاء میں کیا اور کہا اپنے باپ سے گھڑی ہوئی روایت لاتا ہے
      ————-
      یہی اس آدم کے وسیلہ والی روایت میں بھی ہے

  23. anum shoukat says:

    حبل اللہ میں ڈاکٹر صاحب سے ایک کیا گیا سوال تحریر کیا گیا ہے کہ جسمیں شفاعت کا کیا معاملہ ہے پوچھا گیا تو ڈاکٹر صاحب نے کہا لمبی تحریر ہے میں صرف وہ الفاظ لکھ رہی ہوں جسمیں لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد باقی انبیاء اور شہید صدیق اور بچہ بھی اللہ کے اذن سے شفاعت کریگا ؟؟

  24. Aysha butt says:

    Sir ik waqia sunaya jata k ik bar Aap s.a.w hazrat Ali r.a ki god mn sar rakh so rhe the. K asr ka waqt hua unhon ne namaz qaza kr di…. Phir siraj paltaya gya tu ap ne or unhon ne woh namaz prhi
    Haqiqat kia hai

    • Islamic-Belief says:

      ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم پر داخل ہوا اور آپ اپنا سر مبارک علی کی گود میں رکھے ہوئے تھے اور سورج غروب ہو چکا تھا۔نبی کریم ، علی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے علی عصر کی نماز پڑھی ہے؟ علی نے کہا نہیں اے اللہ کے رسول میں نے عصر کی نماز نہیں پڑھی ۔کیونکہ میں نے اس بات کو نا پسند جانا کہ آپ کا سرمبارک میری گود میں ہونے کی وجہ سے آپ کو کسی تکلیف کا سامنا ہو۔تو رسول الله نے فرمایا اے علی دعا کرو کہ سورج لوٹا دیا جائے۔ علی نے کہا اے اللہ کے رسولﷺ آپ دعا کریں اور میں آمین کہونگا ۔تو آپﷺ نے فرمایا
      اے اللہ بے شک علی آپ کی اور آپ کے نبیﷺ کی اطاعت میں مصروف میں ہے (کہ عصر کی نماز نہیں پڑھ سکا) اس پر سورج کو لوٹا دیجیے۔(تاکہ عصر کی نماز پڑھ سکے)
      حدیث کے آخر میں یہ بات ہے کہ سورج چمکتا ہوا لوٹ آیا۔

      ابن کثیر نے البدایہ و النھایہ میں لکھا ہے

      وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ فَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُرْجَانِيُّ كِتَابَةً أَنَّ أَبَا طَاهِرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ الْوَاعِظَ أَخْبَرَهُمْ: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُتَيَّمٍ، أَنَا الْقَاسِمُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ على ابن أَبِي طَالِبٍ: [حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدٍ عن أبيه عبد الله عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ قَالَ:] قَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَلِيٍّ وَقَدْ غَابَتِ الشَّمْسُ فَانْتَبَهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: يَا عَلِيُّ أَصَلَّيْتَ الْعَصْرَ؟ قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا صَلَّيْتُ كَرِهْتُ أَنْ أَضَعَ رَأْسَكَ مِنْ حِجْرِي وَأَنْتَ وَجِعٌ، فَقَالَ رسول الله: يا على ادْعُ يَا عَلِيُّ أَنْ تُرَدَّ عَلَيْكَ الشَّمْسُ، فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ أَنْتَ وأنا أؤمن، فَقَالَ: يَا رَبِّ إِنَّ عَلِيًّا فِي طَاعَتِكَ وَطَاعَةِ نَبِيِّكَ فَارْدُدْ عَلَيْهِ الشَّمْسَ، قَالَ أَبُو سعيد: فو الله لَقَدْ سَمِعْتُ لِلشَّمْسِ صَرِيرًا كَصَرِيرِ الْبَكْرَةِ حَتَّى رَجَعَتْ بَيْضَاءَ نَقِيَّةً وَهَذَا إِسْنَادٌ مُظْلِمٌ أَيْضًا ومتنه مُنْكَرٌ

      اس کی سند اندھیرے میں ہے اور متن منکر ہے

      اس کے راوی مجہول ہیں
      محمد بن أحمد بن متيم نامعلوم ہے
      میزان الاعتدال از الذھبی میں ہے
      القاسم بن جعفر بن محمد بن عبد الله بن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب.
      حجازى.
      روى عن آبائه نسخة أكثرها مناكير.
      القاسم بن جعفر اپنے ابا و اجداد سے منکر روایات لاتا ہے

      ابن کثیر نے اس کو روافض کی ایجاد کہا ہے

      اہل سنت میں الذرية الطاهرة از الدولابي میں اس کی دوسری سند ہے
      عن إسحاق بن إبراهيم بن يونس المنجنيقي
      قالا: ثنا سويد بن سعيد ثنا المطلب بن زياد عن إبراهيم بن حيان عن عبد الله بن الحسين عن فاطمة الصغرى ابنة الحسين عن الحسين قال: كان رأس رسول الله – صلى الله عليه وسلم – في حجر عليّ وكان يوحى إليه، فلما سُرِّي عنه قال “يا علي صليت العصر؟
      یہاں سند میں إبراهيم بن حيان کو خطیب بغدادی نے مجہول کہا ہے

      تلخيص كتاب الموضوعات لابن الجوزي از الذھبی میں اس کی اور سندیں بھی ہیں
      أَبُو أُميَّة الطرسوسي وَغَيره، ثَنَا عبيد الله بن مُوسَى، ثَنَا فُضَيْل بن مَرْزُوق، عَن إِبْرَاهِيم بن الْحسن، عَن فَاطِمَة بنت الْحُسَيْن، عَن أَسمَاء بنت عُمَيْس، قَالَت: ” كَانَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم يُوحى إِلَيْهِ، ورأيته فِي حجر على، فَلم يصل الْعَصْر حَتَّى غربت الشَّمْس، فَقَالَ: صليت يَا عَليّ؟ قَالَ: لَا، فَقَالَ النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: اللَّهُمَّ، إِنَّه كَانَ فِي طَاعَتك، وَطَاعَة رَسُولك، فاردد عَلَيْهِ الشَّمْس. قَالَت أَسمَاء: فرأيتها غربت، ثمَّ رَأَيْتهَا طلعت بَعْدَمَا غربت “.
      راقم کہتا ہے : اس کی سند میں صحیح مسلم کا راوی ہے فضيل بن مرزوق الكوفي (م) : جس کو النسائي نے ضعیف قرار دیا تھا عبيد الله بن مُوسَى کو بھی شیعہ کہا جاتا ہے

      الذھبی نے کہا
      رَوَاهُ أَبُو جَعْفَر الْعقيلِيّ، عَن أَحْمد بن دَاوُد، ثَنَا [عمار] بن مطر، ثَنَا فُضَيْل، نَحوه.
      راقم کہتا ہے عقیلی نے اس کا ذکر کیا ہے
      حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: ” كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوحَى إِلَيْهِ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَلِيٍّ، وَلَمْ يَكُنْ عَلِيٌّ صَلَّى الْعَصْرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ عَلِيًّا كَانَ فِي طَاعَتِكَ فَارْدُدْ عَلَيْهِ الشَّمْسَ» . قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهَا غَابَتْ ثُمَّ طَلَعَتْ بَعْدَ مَا غَابَتْ وَلَا يُتَابَعُ عَلَيْهِمَا بِهَذَا الْإِسْنَادِ
      یہاں بھی فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ہے
      عمار بن مطر کو الذھبی نے ہلاک کرنے والا کہا ہے

      پھر الذھبی نے اس کی اور اسناد بھی دی ہیں
      وَقد رَوَاهُ الطَّحَاوِيّ، وَعُثْمَان بن أَحْمد بن دَاوُد، ثَنَا [عمار] بن مطر، ثَنَا فُضَيْل، نَحوه. وَقد رَوَاهُ الطَّحَاوِيّ، وَعُثْمَان بن أَحْمد السَّمرقَنْدِي، عَن أبي أُميَّة كَمَا مر. وَرَوَاهُ سعيد بن مَسْعُود الْمروزِي، عَن عبيد الله كَذَلِك. هَكَذَا رَوَاهُ مُحَمَّد بن أَحْمد بن مَحْبُوب، عَن سعيد. وَرَوَاهُ إِمَام الْأَئِمَّة ابْن خُزَيْمَة، عَن حُسَيْن بن عَليّ البسطامي، عَن عيبد الله بن مُوسَى كَذَلِك وَرُوِيَ عَن [مَسْعُود] بن مَسْعُود، عَن عبيد الله، عَن فُضَيْل بن مَرْزُوق، فَقَالَ: عَن عبد الرَّحْمَن بن عبد اله بن دِينَار، عَن عَليّ بن الْحسن، عَن فَاطِمَة بنت عل عَن أَسمَاء. وَالْأول أشبه، وَإِنَّمَا هَذَا حَدِيث حُسَيْن الْأَشْقَر، عَن عَليّ بن هَاشم بن الْبَرِيد، عَن عبد الرَّحْمَن بن عبد الله بن دِينَار، عَن عَليّ بن الْحسن بِإِسْنَادِهِ. وَاخْتلف على عَليّ بن هَاشم فِيهِ. فَرَوَاهُ عباد بن يَعْقُوب، عَنهُ عَن صباح، عَن عبد الله بن حسن، عَن حُسَيْن الْمَقْتُول، عَن فَاطِمَة، عَن أَسمَاء. وَرَوَاهُ عبد الرَّحْمَن بن شريك – وَهُوَ مُخْتَلف فِي توثيقه – عَن أَبِيه، عَن عُرْوَة بن عبد الله بن قُشَيْر قَالَ. ” دخلت على فَاطِمَة بنت عَليّ وَهِي عَجُوز كَبِيرَة، فحدثتني عَن أَسمَاء بنت عُمَيْس فِي رد الشَّمْس لعَلي “. وَأحمد بن دَاوُد مُتَّهم، وَشَيْخه عُثْمَان تَالِف، وفضيل ضعفه يحيى بن سعيد. إِبْرَاهِيم بن سعيد الْجَوْهَرِي، ثَنَا يحيى بن يزِيد النَّوْفَلِي، عَن أَبِيه، ثَنَا دَاوُد بن فَرَاهِيجَ، وَعمارَة بن فَيْرُوز، عَن أبي هُرَيْرَة: ” أَن رَسُول الله / صلى الله عَلَيْهِ وَسلم أنزل عَلَيْهِ، فأسنده عَليّ
      إِلَى صَدره، فَلم يسر عَنهُ حَتَّى غَابَتْ الشَّمْس، فَالْتَفت فَقَالَ: من هَذَا؟ قَالَ عَليّ: أَنا يَا رَسُول الله، لم أصل الْعَصْر، وَقد غَابَتْ الشَّمْس. فَقَالَ: اللَّهُمَّ، ارْدُدْ الشَّمْس على عَليّ حَتَّى يُصَلِّي، فَرَجَعت لموضعها حَتَّى صلى الله عَلَيْهِ وَسلم “. يحيى وَأَبوهُ ضعيفان. وَقد أمْلى أَبُو الْقَاسِم الحسكاني مَجْلِسا فِي رد الشَّمْس فَقَالَ: رُوِيَ ذَلِك عَن أَسمَاء بنت عُمَيْس، وَعلي، وَأبي هُرَيْرَة، وَأبي سعيد بأسانيد مُتَّصِلَة. قلت: لَكِنَّهَا سَاقِطَة لَيست بصحيحة، ثمَّ سَاقه من طرق مِنْهَا. أَحْمد بن صَالح الْحَافِظ، وَابْن برد الْأَنْطَاكِي وَغَيرهمَا، عَن ابْن أبي فديك، أَخْبرنِي مُحَمَّد بن مُوسَى الفطري، عَن عون بن مُحَمَّد، عَن أمه أم جَعْفَر، عَن جدَّتهَا
      أَسمَاء بنت عُمَيْس، ” أَن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم صلى الله عَلَيْهِ وَسلم الظّهْر، ثمَّ أرسل عليا فِي حَاجَة، فَرجع وَقد صلى رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم الْعَصْر، فَوضع رَأسه فِي حجر عَليّ، وَلم يحركه حَتَّى غَابَتْ الشَّمْس. فَقَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: اللَّهُمَّ إِن عَبدك عليا [احْتبسَ] بِنَفسِهِ على نبيه، فَرد عَلَيْهِ شرقها. قَالَت أَسمَاء: فطلعت الشَّمْس حَتَّى وقفت على الْجبَال وَالْأَرْض، فَقَامَ عَليّ فَتَوَضَّأ وَصلى الْعَصْر، ثمَّ غَابَتْ الشَّمْس، وَذَلِكَ فِي الصَّهْبَاء فِي غَزْوَة خَيْبَر “.

      ان سب کو رد کیا ہے

      یہ روایت ان شیعوں بیان کی ہے جو صحیح مسلم کے راوی ہیں معلوم ہوا کہ سند صحیح بھی ہو تو متن میں بدعقیدگی ہوتی ہے

      یہ الذھبی کی غلطیوں کی بھی مثال ہے جو یہ کہتے تھے

      الذہبی کے نزدیک التابعين میں بھی غالی شیعہ تھے. الذہبی سیر الاعلام النبلاء میں کہتے ہیں

      ان البدعة على ضربين: فبدعة صغرى كغلو التشيع، أو كالتشيع بلا غلو ولا تحرف، فهذا كثير في التابعين وتابعيهم مع الدين والورع والصدق. فلو رد حديث هؤلاء لذهب جملة من الآثار النبوية، وهذه مفسدة بينة. ثم بدعة كبرى، كالرفض الكامل والغلو فيه، والحط على أبي بكر وعمر رضي الله عنهما، والدعاء إلى ذلك، فهذا النوع لا يحتج بهم ولا كرامة.

      بدعت دو طرح کی ہیں: بدعت صغری جیسے تشیع میں غلو یا تشیع بغیر غلو اور انحراف، پس ایسے بہت سے التابعين اور تبع التابعين ہیں اپنے صدق اور پرہیزگاری اور دینداری کے ساتھ پس ان کی روایت رد کی جائے تو بہت سا سرمایہ حدیث ضائع ہونے کا اندیشہ ہے، اوربدعت کبریٰ ہے جسے رفض کامل اور اس میں غلو، اور ابوبکر اور عمر کو (علی سے) کم کرنا اور اس کی طرف دعوت دینا پس ایسے راویوں کی روایت سے دلیل نہ لی جائےاور نہ عزت کی جائے

      فضيل بن مرزوق الأغر ، الرقاشى و يقال الرؤاسى ، أبو عبد الرحمن الكوفى ، مولى بنى عنزة
      الطبقة : 7 : من كبار أتباع التابعين
      الوفاة : 160 هـ تقريبا

      فضيل بن مرزوق یہاں كبار أتباع التابعين میں سے ہیں لیکن یہ غالی ہے
      الذھبی کے نزدیک غالی کی روایت لی جائے ورنہ سرمایہ حدیث ضائع ہو جاتا
      ———

      اہل تشیع کی بصائر الدرجات کی روایت ہے جويرية بن مسهر العبدي الكوفي نے بیان کیا علی بابل میں تھے
      حدثنا احمد بن محمد عن الحسين بن سعيد عن احمد بن عبدالله عن الحسين بن المختار عن ابى بصير عن عبدالواحد الانصارى عن ام المقدام الثقفية قالت قال جويرية بن مسهر قطعنا على امير المؤمنين على بن ابى طالب عليه السلام جسر الصراط في وقت العصر فقال ان هذه الارض معذبة لاينبغى لنبى ولا وصى نبى ان يصلى فيها فمن اردا منكم ان يصلى فليصل قال فتفرق الناس يمنة ويسرة يصلون قال قلت اما والله لاقلدن هذا الرجل صلوتى اليوم ولا اصل حتى يصلى قال فسرنا وجعلت الشمس تسفل قال و جعل يدخلنى من ذلك امر عظيم حتى وجب الشمس وقطعنا الارض قال فقال يا جويرية اذن فقلت تقول لى اذن وقد غابت الشمس قال اذن فاذنت ثم قال لى اقم فاقمت فلما قلت قد قامت الصلوة رايت شفتيه يتحركان وسمعت كلاما كانه كلام عبرانية قال فارتفعت الشمس حتى صارت في مثل وقتها في العصر فلما انصرف هوت إلى مكانها واشتبكت النجوم قال فقلت انى اشهد انك وصى رسول الله صلى الله عليه وآله قال فقال لى ياجويربة اماسمعت الله يقول فسبح باسم ربك العظيم فقلت بلى قال فانى سئلت ربى باسمه العظيم فردها الله على.

      وہاں علی نے نماز نہیں پڑھی کیونکہ وہ عذاب کی جگہ تھی سفر جاری رکھا یہاں تک کہ سورج غروب ہوا ستارے نظر انے لگے پھر علی اس علاقہ سے نکل گئے اور علی نے عبرانی میں دعا کی اور سورج واپس آیا

  25. Aysha butt says:

    امام ذہبی رحمہ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں

    “حضرت ابی بکر بن ابو علی علیہ الرحمہ فرماتے
    ہیں کہ میں (ابی بکر) ,طبرانی اور ابو شیخ رحمھم اللہ
    مدینہ میں رہا کرتے تھے ہمارا سارا خرچ ختم ھوگیا اور
    ہم تنگدستی کا شکار ھوگئے ایک دن عشاء کے وقت
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ انور پر حاضر
    ھوئے اور عرض کی ” یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    ہم بھوک سے نڈھال ہیں امام طبرانی کہنے لگے بیٹھ جاو
    یا ہمیں کھانا مل جائے گا یا موت آجائے گی میں اور
    ابو شیخ اٹھ کر دروازہ کے پاس آئے اور دروازہ کھولا
    تو دیکھا کہ ایک علوی اپنے دو غلاموں کے ساتھ تھا
    وہ ٹوکرے میں بہت سی چیزیں لئے کھڑے تھے علوی
    بولا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت
    کی اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب
    میں آکر تمھیں کچھ دینے کا حکم دیا

    تزکرة الحفاظ جلد 3 ص 122 دارلکتب العلمیہ بیروت

    کیا یہ تینوں بزرگ بھی مشرک تھے?
    اور امام ذہبی پر کیا الزام ھوگا
    کہ ان پر کوئ حکم صادر نہ فرمایا
    حکم نہ.لگا کر خود کیا ھوئے?
    Is it right

    • Islamic-Belief says:

      قبر النبی پر جا کر رسول الله سے طلب کرنا شرک ہے
      قصہ کا مدار مُحَمَّد بْن أحمد بْن عَبْد الرَّحْمَن بْن محمد بْن عُمَر بْن حفص، المحدث أبو بَكْر بْن أَبِي عليّ الهمَدانيّ الذَّكْوانيّ الإصبهاني المعدّل. [المتوفى: 419 هـ] پر ہے
      قَالَ أبو نُعَيْم الحافظ: وُلِد سنة ثلاثٍ وثلاثين وثلاثمائة
      ان کی پیدائش ٣٣٣ ھ کی ہے
      یہ ابو الشیخ اور طبرانی کے شاگرد ہیں

      اور اس کو بیان کیا ابْنُ المُقْرِئِ مُحَمَّدُ بنُ إِبْرَاهِيْمَ بنِ عَلِيٍّ الأَصْبَهَانِيُّ کہ ان کے اور طبرانی اور ابو الشیخ کے ساتھ ایسا ایسا ہوا

      وَرُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ بنِ أَبِي عَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ ابْنُ المُقْرِئِ يَقُوْلُ:
      كُنْتُ أَنَا وَالطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو الشَّيْخِ بِالمَدِيْنَةِ، فضَاقَ بِنَا الوَقْتُ، فَوَاصَلْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ، فَلَمَّا كَانَ وَقتُ العشَاءِ حضَرتُ القَبْرَ، وَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ الجُوْع (1) ، فَقَالَ لِي الطَّبَرَانِيُّ: اجلسْ، فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ الرِّزْقُ أَوِ المَوْتُ.
      فَقُمْتُ أَنَا وَأَبُو الشَّيْخِ، فحضرَ البَابَ عَلَوِيٌّ، فَفَتَحْنَا لَهُ، فَإِذَا مَعَهُ غُلاَمَانِ بِقفَّتَيْنِ فِيْهِمَا شَيْءٌ كَثِيْرٌ، وَقَالَ: شَكَوْتُمُونِي إِلَى النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ رَأَيْتُهُ فِي النَّوْمِ، فَأَمَرَنِي بِحَمْلِ شَيْءٍ إِلَيْكُمْ.

      یہ واقعہ الذھبی نے تین کتابوں تاریخ الاسلام میں تذکرہ الحفاظ میں اور سیر الاعلام النبلاء میں بلا جرح نقل کیا ہے

      ابْنُ المُقْرِئِ – طبرانی اور ابو شیخ یہ قبروں سے فیض کے قائل تھے امام الذھبی بھی قبروں سے فیض کے قائل تھے

      ذهبی کتا ب سیر اعلام النبلاء ،ج ٩ ص ٣٤٤ ، میں لکھتے ہیں
      وعن ابراهیم الحربی ، قال ۰ قبر معروف ( الکرخی ) التریاق المجرب
      اور ابراهیم حربی کہتے هیں کہ معروف (کرخی) کی قبر مجرب تریاق هے

      الذھبی، سیر الاعلام النبلاء ج ٩ ص ٣٤٣ پر اس با ت کی تا ئید کرتے ہیں

      يُرِيْدُ إِجَابَةَ دُعَاءِ المُضْطَرِ عِنْدَهُ؛ لأَنَّ البِقَاعَ المُبَارَكَةِ يُسْتَجَابُ عِنْدَهَا الدُّعَاءُ، كَمَا أَنَّ الدُّعَاءَ فِي السَّحَرِ مَرْجُوٌّ، وَدُبُرَ المَكْتُوْبَاتِ، وَفِي المَسَاجِدِ، بَلْ دُعَاءُ المُضْطَرِ مُجَابٌ فِي أَيِّ مَكَانٍ اتَّفَقَ، اللَّهُمَّ إِنِّيْ مُضْطَرٌ إِلَى العَفْوِ، فَاعْفُ عَنِّي
      ابراہیم حربی کی مراد یہ هے کہ معروف کرخی کی قبر کے پاس مضطر آدمی کی دعا قبول هوتی هے ،کیونکہ مبارک مقامات کے پاس دعا قبول هوتی هے ،جیسا کہ سحری کے وقت ،اور فرض نمازوں کے بعد ،اور مساجد میں ،بلکہ مضطر آدمی کی دعا هر جگہ قبول هو تی هے

      اصحاب قبور سے وسیلہ لینا دین میں ثابت نہیں ہے – اس حکایت سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں کے نزدیک رسول الله صلی الله علیہ وسلم قبر میں زندہ ہیں سنتے ہیں اور غیبی مدد بھی کر سکتے ہیں

      ========

      اس پر شعيب الأرناؤوط تعلیق میں لکھتے ہیں

      هذا الكلام لا يسلم لقائله، إذ كيف يكون قبر أحد من الاموات الصالحين ترياقا ودواءا للاحياء، وليس ثمة نص من كتاب الله يدل على خصوصية الدعاء عند قبر ما من القبور، ولم يأمر به النبي صلى الله عليه وسلم، ولا سنه لامته، ولا فعله أحد من الصحابة والتابعين لهم بإحسان، ولا استحسنه أحد من أئمة المسلمين الذين يقتدى بقولهم، بل ثبت النهي عن قصد قبور الأنبياء والصالحين لاجل الصلاة والدعاء عندها

      ایسا کلام قائل کے لئے مناسب نہیں کیونکہ کسی نیک شخص کی قبر کیسے تریاق یا دوا زندوں کے لئے ہو سکتی ہے ؟اور اس پر ایک رتی بھی کتاب الله میں دلیل نہیں کہ کوئی خصوصیت نکلتی ہو قبروں کے پاس دعا کی اور ایسا نبی صلی الله علیہ وسلم نے حکم نہیں کیا اور امت کو کہا اور نہ صحابہ نے نہ التابعين نے ایسا کیا نہ ائمہ مسلمین نے اس کو مستحسن کہا جن کے قول کی اقتدہ کی جاتی ہے، بلکہ دعا یا نماز کے لئے انبیاء والصالحين کی قبروں (کے سفر ) کے قصد کی ممانعت ثابت ہے

      تذکرہ الحفاظ میں الذھبی نے لکھا ہے
      قد رأى بعض الناس رسول الله -صلى الله عليه وآله وسلم- في النوم فأوصاه بزيارة قبر الجارودي
      بعض لوگوں نے رسول الله کو خواب میں دیکھا انہوں نے وصیت کی کہ أبو الفضل محمد بن أحمد بن محمد الجارودي کی قبر کی زیارت کرو
      یعنی خواب میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی غیبی پہنچ بھی ان کے نزدیک ثابت تھی

      قبروں پر جا کر غیر الله سے طلب کرنا شرک ہے لیکن طبرانی فرشتوں سے مدد طلب کرتے تھے
      المعجم الكبير از طبرانی میں ہے

      حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” إِذَا أَضَلَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا أَوْ أَرَادَ أَحَدُكُمْ عَوْنًا وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا أَنِيسٌ، فَلْيَقُلْ: يَا عِبَادَ اللهِ أَغِيثُونِي، يَا عِبَادَ اللهِ أَغِيثُونِي، فَإِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا لَا نَرَاهُمْ ” وَقَدْ جُرِّبَ ذَلِكَ

      زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ نے کہا عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ نے نبی علیہ السلام سے روایت کیا کہ فرمایا جب تم میں سے کسی کی کوئی چیز کھو جائے یا کوئی مدد طلب کرے جو ایسی زمین میں ہے جہاں کوئی دوست نہ ہو تو پس کہے اے الله کے بندوں مدد کرو اے عباد الله مدد کرو کیونکہ عباد الله نظر نہیں آتے- اورمیں (طبرانی) نے بھی اس کو آزمایا ہے

      افسوس امام سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني (المتوفى: 360هـ) نے بھی اس بد عقیدگی کو پھیلایا

      یعنی غیر الله جن میں انبیاء اور فرشتے شامل ہیں ان سے غیبی مدد طلب کرنا ان لوگوں کے نزدیک شرک نہ تھا

      راقم کہتا ہے یہ عقائد قرآن سے ثابت نہیں – انبیاء اور فرشتے تو خود الله کے محتاج ہیں جو ان لوگوں نے کیا وہ شرک تھا

  26. Aysha butt says:

    Muhadis ka kizi.ko munkir e hadith khny ka kya mutlb hai

    • Islamic-Belief says:

      منکر مطلب ایسی روایت جس کا متن کسی صحیح سے متصادم ہو
      ایسا راوی جس سے کثرت سے منکرات آ ہو رہی ہوں اس کو محدثین منکر الحدیث کا درجہ دیتے ہیں – یہ راوی اب ضعیف سے بڑھ کر ہوا کیونکہ منکر الحدیث ایک سخت جرح ہے – اگر صرف ضعیف کہا جاتا تو یہ جرح کم درجہ کی تھی

      أبان بن جبلة الكوفي. کے حوالے سے الذھبی نے لکھا ہے کہ اس کو البخاري: منكر الحديث. کہتے ہیں
      ونقل ابن القطان أن البخاري قال: كل من قلت فيه منكر الحديث فلا تحل الرواية عنه.
      ابن القطان نے نقل کیا کہ بخاری نے کہا جس کو میں منکر الحدیث کہوں اس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے

  27. Aysha butt says:

    Sir hazrat Ali.k fatah makkah waly waqie ki ky Haqiqat hai

    K Aap s.a.w ne inko khat leny bejha ik aur le k ja rhi thi… Jab punch kr hazrat ali ne magha to us ne inkar kia to inhon ne us aurat ko gali di…m

    • Islamic-Belief says:

      حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ رضی الله عنہ نے قریش مکہ کو خط لکھا کہ رسول الله مکے پر حملہ کرنے والے ہیں میرے گھر والوں کا خیال رکھنا
      =========
      صحیح بخاری میں ہے

      ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ سفیان نے یہ حدیث عمرو بن دینار سے دو مرتبہ سنی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے حسن بن محمد نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے عبیداللہ بن ابی رافع نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، زبیر اور مقداد بن اسود (رضی اللہ عنہم) کو ایک مہم پر بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم لوگ روضہ خاخ (جو مدینہ سے بارہ میل کے فاصلہ پر ایک جگہ کا نام ہے) پر پہنچ جاؤ تو وہاں ایک بڑھیا عورت تمہیں اونٹ پر سوار ملے گی اور اس کے پاس ایک خط ہو گا ‘ تم لوگ اس سے وہ خط لے لینا۔ ہم روانہ ہوئے اور ہمارے گھوڑے ہمیں تیزی کے ساتھ لیے جا رہے تھے۔ آخر ہم روضہ خاخ پر پہنچ گئے اور وہاں واقعی ایک بوڑھی عورت موجود تھی جو اونٹ پر سوار تھی۔ ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال۔ اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں۔ لیکن جب ہم نے اسے دھمکی دی کہ اگر تو نے خط نہ نکالا تو تمہارے کپڑے ہم خود اتار دیں گے۔ اس پر اس نے اپنی گندھی ہوئی چوٹی کے اندر سے خط نکال کر دیا ‘ اور ہم اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے ‘ اس کا مضمون یہ تھا ‘ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین مکہ کے چند آدمیوں کی طرف ‘ اس میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض بھیدوں کی خبر دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب! یہ کیا واقعہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے بارے میں عجلت سے کام نہ لیجئے۔ میری حیثیت (مکہ میں) یہ تھی کہ قریش کے ساتھ میں نے رہنا سہنا اختیار کر لیا تھا ‘ ان سے رشتہ ناتہ میرا کچھ بھی نہ تھا۔ آپ کے ساتھ جو دوسرے مہاجرین
      ہیں ان کی تو مکہ میں سب کی رشتہ داری ہے اور مکہ والے اسی وجہ سے ان کے عزیزوں کی اور ان کے مالوں کی حفاظت و حمایت کریں گے مگر مکہ والوں کے ساتھ میرا کوئی نسبی تعلق نہیں ہے ‘ اس لیے میں نے سوچا کہ ان پر کوئی احسان کر دوں جس سے اثر لے کر وہ میرے بھی عزیزوں کی مکہ میں حفاظت کریں۔ میں نے یہ کام کفر یا ارتداد کی وجہ سے ہرگز نہیں کیا ہے اور نہ اسلام کے بعد کفر سے خوش ہو کر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا کہ حاطب نے سچ کہا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اجازت دیجئیے میں اس منافق کا سر اڑا دوں ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ‘ یہ بدر کی لڑائی میں (مسلمانوں کے ساتھ مل کر) لڑے ہیں اور تمہیں معلوم نہیں ‘ اللہ تعالیٰ مجاہدین بدر کے احوال (موت تک کے) پہلے ہی سے جانتا تھا ‘ اور وہ خود ہی فرما چکا ہے کہ تم جو چاہو کرو میں تمہیں معاف کر چکا ہوں۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ حدیث کی یہ سند بھی کتنی عمدہ ہے۔

      • Aysha butt says:

        Khty hsi chu k yahn hazrat Ali ne gali di islie namoos risalat k masaly mn kisi ko b gali dena theak hai
        Abu bakr r.a ne b idols ko di thi wo b namoss e risalat ka masla tha….
        Islie jo namoos risalat pr qalam kry ga yani nabi ki shan gatay ga usko gsli dene ka yeh jawaz hai
        Is matan mn hazrat Ali ne jo aurat ko jumla bola uska kia mutlb hai

        • Islamic-Belief says:

          میرے نزدیک جب لوگ کوئی اصول ہی نہیں رکھیں اور دین کی تعلیمات کو مسخ کریں تو ایسا ہوتا ہے – وہ نبی جس کی ناموس کا یہ نام لے رہے ہیں کیا اس کی یہی تعلیمات تھیں؟ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تو کبھی گالی نہیں دی – ایک بار ابو بکر نے بتوں کو گالی دی جو خلاف قرآن تھا اور اس کی ممانعت معلوم ہے – ابو بکر نے جو کیا وہ وقتی بات تھی- قرآن میں جو مشرکین کی دیویویؤن کو گالی دینے سے منع کیا گیا ہے ممکن ہے اس آیت کا نزول ابو بکر کے اس واقعہ کے بعد ہوا ہو جو صلح حدیبیہ کے وقت ہوا تھا

          علی نے اس عورت کو گالی نہیں دی – انہوں نے دھمکی دی تھی – علی کو بھی معلوم تھا کہ خط اس کے پاس ہے اب ڈر کر دے گی کیونکہ خبر سچی تھی لہذا علی نے جو کیا وہ حکمت تھی – انہوں نے اس عورت کو ننگی نہیں کہا ننگی کہتے تو گالی بنتی انہوں نے کہا میں ننگا کر کے خط حاصل کر سکتا ہوں

  28. Aysha butt says:

    Noor e muhammadi pr ik daleel yeh samny ai hai… Noor zaat nai noor sift hai or sift or zaat mn fark hota hai or phir misal di hai hai
    K jesy chirag jilaya jae tu har nagah roshni ho jati hai is trh noor e muhaadi ki jalak se sab wujood mn aya
    Iska kia jawab dia jae
    Shyd inka yeh istabah hoa us ayat pr
    K jis mn alame arwah mn ahad lie gya .. Yani ahad to arwah mn hoa tha or roh noor hoti hai islie phle noor yani roh thi or phir jism mn dali gai .. Islie galiban mullah ali qari khty ha i
    Alhaba yeh hadith sahih nai lekin is ka mafhoom sahih hai ap kya khty ho

    • Islamic-Belief says:

      sift or zaat mn fark hota hai

      یہ قول کوئی نہیں مانتا- کیونکہ قرآن کلام الله غیر مخلوق کی بحث کا بنیادی نکتہ ہے کہ الله کی صفات ذات ، اصل میں ذات ہی ہے
      یعنی الله کا کلمہ صرف اور صرف الله کا ہے کسی اور کا نہیں بن سکتا کیونکہ اس کی جیسی کوئی چیز نہیں
      اب اگر ہم الله کو نور کا مان لیں تو یہ نور پھر عین الله ہی ہے اور منکر روایت بسند جابر میں اسی نور کے حصے بخرے کیے گئے ہیں

      ============

      نور محمدی کی جھلک سے وجود میں آیا .. یہ کیا فلسفہ ہے یہ قول باطل ہے نصرانیوں کا قول ہے
      انجیل یوحنا کے مطابق سب وجود میں نور عیسیٰ کی وجہ سے آیا
      http://www.islamic-belief.net/پیدائش-النبی-کی-عید/
      ——-

      roh noor hoti hai islie phle noor yani roh thi
      یہ کس نے بتایا کہ روح نور ہوتی ہے اس کی کیا دلیل ہے؟

      اپ اتنے دن سے ضعیف احادیث پر سوال کر رہی ہیں قرآن بھی دیکھیں سورہ الانعام کی پہلی آیت میں لکھا ہے کہ نور مخلوق ہے

  29. Aysha butt says:

    Yay tb ka wakia hai jb huzoor saw khujooru ka muhaida kr rahay thay madinay mai qabilay k sardar say hazrat Usman ghani likh rahay thay itnay mai hazrat husaif bin huzir aatay hi kaha us kabilay k sardar say o bandar tu mera nabi ki taraf pau kr k betha hai AGR mujay rasool ullah ka hya na

    hota to Teri peshab ki nalia kaat deta
    Is waqie ki kya hawiqat hai

    • Islamic-Belief says:

      ایک شخص حضور کے سامنے پاؤں پھیلا کر بیٹھا تھا، حضرت اُسید رضی اللہ عنہ آئے اور اسے کہا او بندر! تُو حضور کے سامنے پاؤں پھیلا کر بیٹھا ہے! اگر مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حیا نہ ہوتا تو میں تیری پیشاب والی نالیوں کو کاٹ دیتا.

      پاؤں پھیلا کر بیٹھنا: برصغیر کے کلچر میں اس کو معیوب سمجھا جاتا ہے – عربوں میں اس قسم کی کوئی بات نہیں تھی
      عائشہ رضی الله عنہا کے پیر رسول الله کے سامنے ہوتے اور وہ نماز پڑھتے جب سجدہ کرنے لگتے تو وہ اپنے پاؤں سمیٹ لیتی تھیں
      http://www.islamicurdubooks.com/Sahih-Bukhari/hadith.php?vhadith_id=470

  30. Aysha butt says:

    Sir musand ahmed 3600
    Surah hashr 10 … Dua murdo ko punchti hai
    Miskat. Mn hai k abu huraira ne kha kon esha masjid mn mery lie 2 ya 4 rakat pary ga or iska sawab mujy punchaye ga
    Saad ki maa ka khuwah wali hadith se sabit krty hai agr kaane pr foat shuda ka name laina theak nai to kuweh ko saad ki maa ka q kha gya
    Is se log teeja , chalswa 11vi k jawaz ka subuwot dety hai

    • Islamic-Belief says:

      وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ ﴿١٠﴾
      سورة الحشر

      اس آیت میں کہاں ذکر ہے کہ ایصال ثواب ہوتا ہے ؟

      ———
      اپنی زندگی میں کسی کو نیکی سکھانا ثواب کا کام ہے یہ ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا ہے اگر میت کے ورثاء کو میت نے وصیت کی ہو
      مثلا والدین کی تربیت کی وجہ سے نیک اولاد کی وجہ سے ان کو بھی ثواب ملے گا
      کسی نے کتاب لکھی تو اس کا ثواب بھی ملے گا اور اسی طرح عذاب بھی مل سکتا ہے
      جیسے قابیل کو قتل انسانی ایجاد کرنے پر مل رہا ہے

      ہم جب کہتے ہیں ایصال ثواب بدعت ہے تو اس کا تعلق رسم سے ہے جس میں لوگ جمع کیے جاتے ہیں اور پھر قرآن پر قرآن پڑھ کر اس کا ثواب ٹرانسفر کرنے کی دعا کی جاتی ہے یہ بدعت ہے

  31. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے – کیا یہ حدیث صحیح ہے

    اخبرنا احمد بن عثمان بن حكيم الاودي ، قال : حدثنا خالد بن مخلد ، قال : حدثنا علي بن صالح ، عن ميسرة بن حبيب ، عن المنهال بن عمرو ، عن سعيد بن جبير ، قال : كنت مع ابن عباس بعرفات ، فقال : ” ما لي لا اسمع الناس يلبون ؟ قلت : يخافون من معاوية ، فخرج ابن عباس من فسطاطه ، فقال : ” لبيك اللهم لبيك ، لبيك ، فإنهم قد تركوا السنة من بغض علي ” .

    سنن نسائی

    • Islamic-Belief says:

      یہ روایت بے سروپا بکواس ہے
      لبیک کہنے کا علی سے کیا تعلق ہے ؟
      جعفر بن محمد -رحمهما الله- عن أبيه قال: «كانَ عليٌّ يُلبِّي في الحجِّ، حتَّى إذا زَاغَتِ الشَّمْسُ من يَومِ عرفةَ قَطَعَ التَّلْبيَة» . أخرجه الموطأ
      موطا میں ہے امام جعفر نے اپنے باپ سے روایت کیا کہا علی تلبیہ حج میں کہتے اور یوم عرفہ میں جب سورج غروب ہوتا تلبیہ ختم کرتے

      موطا میں ہے ابن عمر بھی
      ثم يُلَبيِّ حين يَغْدو مِن مِنى إلى عرفَةَ، فإذا غَدَا تَرَكَ التَّلبيةَ
      جب منی سے عرفات کے لئے نکلتے تلبیہ کہتے پھر عرفہ کے اگلے دن اس کو ترک کرتے

      معاویہ رضی الله تعالی عنہ نے سنت کو بدلا

      روایت ہے کہ

      سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں عرفات میں ابن عبّاس رضی الله تعالی عنہ کے ساتھ تھا انہوں نے مجھ سے پوچھا کیا وجہ کے کہ لوگ لبیک نہیں کہہ رہے؟ میں نے کہا کہ لوگ معاویہ سے خوف زدہ ہیں. پھر ابن عبّاس باہر آئے لبیک کہا اور کہا کہ علی سے بغض کی وجہ سے انہوں نے سنت رسول ترک کر دی

      سند ہے

      أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِعَرَفَاتٍ، فَقَالَ: “مَا لِي لَا أَسْمَعُ النَّاسَ يُلَبُّونَ؟ ” قُلْتُ: يَخَافُونَ مِنْ مُعَاوِيَةَ، فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ، مِنْ فُسْطَاطِهِ، فَقَالَ: “لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ فَإِنَّهُمْ قَدْ تَرَكُوا السُّنَّةَ مِنْ بُغْضِ عَلِيٍّ

      امام نسائی نے سنن میں، ابن خزیمہ نے صحیح میں ،امام حاکم مستدرک میں یہ روایت بیان کی اور کہا هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ کہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی

      اس کی سند میں منہال بن عمرو ہے جس کو امام جوزجانی سی المذہب یعنی بد عقیدہ کہتے ہیں اور یہ الفاظ جوزجانی شیعہ راویوں کے لئے کہتے ہیں

      یہی راوی منہال بن عمرو روایت کرتا تھا کہ

      علی رضی الله تعالی عنہ نے کہا

      أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ، لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَذَّابٌ

      میں عبد الله ہوں اور رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا بھائی ہوں اور میں سب سے بڑا صدیق ہوں، اس کا دعوی میرے بعد کوئی نہیں کرے گا سوائے كَذَّابٌ کے

      امت آج تک صرف ابو بکر صدیق کو ہی صدیق کہتی آئی ہے جب کہ یہ راوی کہتا ہے کہ علی سب سے بڑے صدیق ہیں

      یاد رہے کہ منہال بن عمرو صحیح بخاری کا راوی ہے لیکن امام بخاری نے اس سے عقیدے میں کوئی روایت نہیں لی اور صرف ایک،دو روایات لکھی ہیں

      ⇑ خلافت تیس سال رہے گی
      http://www.islamic-belief.net/history/

  32. وجاہت says:

    4526

    حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: ” إِذَا قَرَأَ القُرْآنَ لَمْ يَتَكَلَّمْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ، فَأَخَذْتُ عَلَيْهِ يَوْمًا، فَقَرَأَ سُورَةَ البَقَرَةِ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَكَانٍ، قَالَ: تَدْرِي فِيمَ أُنْزِلَتْ؟ قُلْتُ: لاَ، قَالَ: أُنْزِلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ مَضَى

    صحیح بخاری

    آیت کے بارے میں بیان کرتے ہوئے ابن عمررضی الله فلاں فلاں تو نہیں کہیں گے- اصل بات کیا تھی – کیا امام بخاری نے الفاظ کو كَذَا وَكَذَا سے بدلا

    • Islamic-Belief says:

      اس پر اپ سوال کر چکے ہیں

      ⇑ دبر سے جماع کرنا؟
      http://www.islamic-belief.net/q-a/معاملات/

      • وجاہت says:

        القاضي محمد بن عبد الله أبو بكر بن العربي المعافري الاشبيلي المالكي (المتوفى: 543هـ) اپنی کتاب أحكام القرآن میں لکھتے ہیں کہ

        الْمَسْأَلَةُ الثَّانِيَةُ: اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي جَوَازِ نِكَاحِ الْمَرْأَةِ فِي دُبُرِهَا؛ فَجَوَّزَهُ طَائِفَةٌ كَثِيرَةٌ، وَقَدْ جَمَعَ ذَلِكَ ابْنُ شَعْبَانَ فِي كِتَابِ جِمَاعُ النِّسْوَانِ وَأَحْكَامُ الْقُرْآنِ ” وَأَسْنَدَ جَوَازَهُ إلَى زُمْرَةٍ كَرِيمَةٍ مِنْ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ وَإِلَى مَالِكٍ مِنْ رِوَايَاتٍ كَثِيرَةٍ، وَقَدْ ذَكَرَ الْبُخَارِيُّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: ” كَانَ ابْنُ عُمَرَ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – إذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَمْ يَتَكَلَّمْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ، فَأَخَذْت عَلَيْهِ يَوْمًا فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ حَتَّى انْتَهَى إلَى مَكَان قَالَ: أَتَدْرِي فِيمَ نَزَلَتْ؟ قُلْت: لَا. قَالَ: أُنْزِلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ مَضَى، ثُمَّ أَتْبَعَهُ بِحَدِيثِ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ: {فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: 223]. قَالَ: يَأْتِيهَا فِي. . وَلَمْ يَذْكُرْ بَعْدَهُ شَيْئًا.

        عورتوں کے دبر میں جماع کے بارے میں علماء میں اختلاف ہے ، اور کثیر گروہ نے اس کو جائز کہا ہے۔ ابن شعبان نے اپنی کتاب جماع النسوان و احکام القرآن میں انہوں جمع کیا ہے، اور اس کے جائز ہونے کو صحابہ، تابعین، مالک کی طرف کثیر روایت سے ذکر کیا ہے۔ اور بخاری نے اپنی صحیح میں ابن عمر کا قول نقل کیا ہے…………..

        طبری نے اپنی کتاب، اختلاف الفقہا، صفحہ ۲۰۹؛ پر بسند معتبر امام مالک سے نقل کیا کہ

        مالک نے کہا کہ اس میں کوئی برائی نہیں کہ مرد عورت کی دبر میں جماع کرتے جیسے کہ اسکے قبل، یعنی فرج میں کرے

        فقال مالك لا بأس بأن يأتي الرجل امرأته في دبرها كما يأتيها في قبلها حدثنا بذلك يونس عن ابن وهب عنه

        http://shamela.ws/browse.php/book-7492/page-356

        —-

        سیوطی نے اپنی تفسیر در منثور میں ذکر کیا ہے

        ———-

        عمرو عبد المنعم سليم، نے اپنی کتاب، جماع النساء في الأدبار، ،کے صفحہ ۱۴۷، طبع مكتبة ابن تيمية؛ پر باب قائم کیا کہ

        مذہب امام مالک بن انس

        اخرج عنہ النسائی فی الکبری، ۵/۳۲۵

        اخبرنا محمد بن عبداللہ بن عمار الموصلی، قال: نا معن: سمعت مالکا یقول: ما علمتہ حرام

        و ھذا سند صحیح لا مطعن فیہ

        و قد رواہ الطبری – فیما نقلہ الحافظ فی التلخیص، ۳/۲۱۲؛ – من طریق یونس بن عبدالعلی عن مالک باباحتہ۔ و سندہ صحیح ایضا

        ——-

        ابو بکر جصاص الحنفی، اپنی کتاب، احکام القرآن، میں لکھتے ہیں کہ

        قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الْمَشْهُورُ عَنْ مَالِكٍ إبَاحَةُ ذَلِكَ وَأَصْحَابُهُ يَنْفُونَ عَنْهُ هَذِهِ الْمَقَالَةَ لِقُبْحِهَا وَشَنَاعَتِهَا، وَهِيَ عَنْهُ أَشْهُرُ مِنْ أَنْ يَنْدَفِعَ بِنَفْيِهِمْ عَنْهُ

        مالک کے یہ مشہور ہے کہ وہ اس کو مباح کہتے تھے، مگر ان کے ساتھی اس بات کی نفی کرتے ہیں، اس کے قبیح ہونے کے سبب، مگر یہ بات اتنی مشہور ہے کہ ان کے نفی سے دور نہیں ہو گی

        علمائے اہلسنت میں اس بارے میں اختلاف موجود ہے- لیکن آپ نے اپنے جواب کو مختصر کیا – پلیز اس میں یہ حوالےشامل کریں

        • Islamic-Belief says:

          السنن الكبرى المؤلف: أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب بن علي الخراساني، النسائي (المتوفى: 303هـ) ميں ہے

          أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمُوصِلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ: حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ ” لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَأْتِي الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا قَالَ مَعْنٌ: وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ: «مَا عَلِمْتُ حَرَامًا»

          ابن عمر نے کہا کہ اس ميں کوئي برائي نہيں کہ مرد عورت کي دبر ميں جماع کرتے جيسے کہ اسکے قبل، يعني فرج ميں کرے
          معن بن عيسى نے کہا ميں نے مالک کو کہتے سنا اس کا حرام ہونا مجھے معلوم نہيں

          سند ميں خارجة بن عبد الله بن سليمان بن زيد بن ثابت ہے جس کو احمد نے ضعيف کہا ہے
          معن بن عيسى بن يحيى بن دينار الأشجعى امام مالک کے اصحاب ميں سے ہيں

          راقم کہتا ہے امام مالک نے ما علمت حراما بعض اور مسائل ميں بھي کہا ہے جن پر فقہاء مثلا أبو عبيد کا کہنا ہے
          قال أبو عبيد: أما قول مالك ما علمت حراما، فإنما أراد بذلك، والله أعلم، حراما بينا، لأن الحرام لا تعلم حقيقته إلا بنص أو بما يقوم مقامه.
          وكل ما عدم النص فيه فطريق العلم به الاجتهاد، وكل ما كان مأخوذا بوجه الاجتهاد فالاختلاف فيه سائغ
          جہاں تک مالک کے قول کا تعلق ہے ما علمت حراما، تو اس سے ان کا ارادہ ہے و الله اعلم کہ حرام ہونا واضح ہوتا ہے کيونکہ حرام کي حقيقت کا علم نہيں ہوتا سوائے اس کے کہ واضح نص ہو يا اپنے مقام پر بات آئي ہو – اور ہر وہ (مسئلہ) جس ميں نص نہ ہو اس ميں علم کا طريقہ اجتہاد کا ہے اور وہ جو اجتہاد سے اخذ کيا گيا ہو اس ميں اختلاف ہوتا ہے

          بحوالہ التوسط بين مالك وابن القاسم في المسائل التي اختلفا فيها من مسائل المدونة
          المؤلف: قاسم بن خلف بن فتح بن عبد الله بن جبير، أبو عبيد الجبيري (المتوفى: 378هـ)

          دوسری طرف لوگوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ امام مالک اس کو حرام نہیں کہتے مباح کہتے تھے – اختلاف الفقهاء المؤلف: محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب الآملي، أبو جعفر الطبري (المتوفى: 310هـ) ميں ہے

          فقال مالك لا بأس بأن يأتي الرجل إمرأته في دبرها كما يأتيها في قبلها “حدثنا بذلك يونس عن ابن وهب عنه”.
          مالک نے کہا اس میں برائی نہیں کہ مرد اپنی بیوی کی دبر میں جماع کرے جیسے وہ سامنے سے کرتا ہے اس کو روایت کیا یونس نے انہوں نے ابن وھب سے

          لیکن ابن وھب نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ امام مالک نے اس سے رجوع کیا – التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير از ابن حجر میں ہے

          وَذَكَرَ الْخَلِيلِيُّ فِي الْإِرْشَادِ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا رَجَعَ عَنْهُ، وَفِي مُخْتَصَرِ ابْنِ الْحَاجِبِ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ إنْكَارُ ذَلِكَ، وَتَكْذِيبُ مَنْ نَقَلَهُ عَنْهُ، لَكِنَّ الَّذِي رَوَى ذَلِكَ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ غَيْرُ مَوْثُوقٍ بِهِ. وَالصَّوَابُ مَا حَكَاهُ الْخَلِيلِيُّ فَقَدْ ذَكَرَ الطَّبَرِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ أَبَاحَهُ،

          خلیلی نے الارشاد میں ذکر کیا ہے ابن وھب کی سند سے کہ امام مالک نے اس قول سے رجوع کیا اور مختصر ابن حاجب میں ابن وھب سے مروی ہے امام مالک نے اس کا انکار کیا اور اس کی تکذیب کی جس نے اس قول کو ان سے منسوب کیا لیکن جنہوں اس کو ابن وھب سے روایت کیا ہے وہ غیر ثقہ ہیں اور ٹھیک وہ ہے جو خلیلی نے حکایت کیا ہے جس کا ذکر طبری نے يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ کی سند سے قول بیان کیا ہے کہ امام مالک اس کو مباح کہتے

          تاریخ دمشق میں ہے

          إسرائيل بن روح، ويقال: إسماعيل الساحلي الجبيلي حكى عن مالك بن أنس، قال: سألت مالك بن أنس، قلت: يا أبا عبد الله، ما تقول في إتيان النساء في أدبارهن؟ قال: ما أنتم قوم عرب؟ هل يكون الحرث إلا موضع الزرع؟ أما تسمعون الله يقول: ” نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم ” قائمة وقاعدة وعلى جنبها، ولا تعدوا الفرج؛ قلت: يا أبا عبد الله، إنهم يقولون أنك تقول ذلك؛ قال: يكذبون علي، يكذبون علي، يكذبون علي

          إسرائيل بن روح نے امام مالک سے سوال کیا اور کہا لوگ کہتے ہیں اپ اس کو جائز کرتے ہیں کہا جھوٹ بولتے ہیں

          ابن حجر نے لسان المیزان میں إسرائيل بن روح پر لکھا ہے
          إسرائيل بن روح الساحلي. عن مالك. لا يدرى من ذا

          میں نہیں جانتا إسرائيل بن روح الساحلي کون ہے

          یعنی ابن حجر کے نزدیک إسرائيل بن روح مجہول ہے

          کتاب عقد الجواهر الثمينة في مذهب عالم المدينة از أبو محمد جلال الدين الجذامي السعدي المالكي (المتوفى: 616هـ) کے مطابق
          وروى الدارقطني أيضاً عن رجاله عن محمد بن عثمان أنه قال: حضرت مالكاً وعلي بن زياد يسأله فقال: عندنا يا أبا عبد الله قوم بمصر يحدثون عنك أنك تجيز الوطء في الدبر؟
          فقال: كذبوا علي عافك الله.

          دارقطنی نے روایت کیا اپنے رجال کی سند سے کہ محمد بن عثمان بن خالد الأموي أبو مروان نے کہا میں نے امام مالک سے کہا مصر کے لوگ کہتے ہیں کہ اپ دبر سے جماع کو جائز کہتے ہیں امام مالک نے فرمایا جھوٹ بولتے ہیں

          محمد بن عثمان کا درجہ صدوق کا ہے

          یعنی اس قول کو اہل مصر نے امام مالک سے منسوب کیا ہے یعنی يونس بن عبد الأعلى بن ميسرة بن حفص بن حيان الصدفى ، أبو موسى المصرى اور عبد الله بن وھب المصری نے اور امام مالک نے ان کو جھوٹا قرار دیا

          الخلیلی نے ارشاد میں ذکر کیا

          نَافِعٌ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ مِنْ أَئِمَّةِ التَّابِعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ , إِمَامٌ فِي الْعِلْمِ , مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ , صَحِيحُ الرِّوَايَةِ , فَمِنْهُمْ مَنْ يُقَدِّمُهُ عَلَى سَالِمٍ , وَمِنْهُمْ مِنْ يُقَارِنُهُ بِهِ – سَمِعَ مَوْلَاهُ وَأَبَا هُرَيْرَةَ , وَغَيْرَهُمَا , وَلَا يُعْرَفُ لَهُ خَطَأٌ فِي جَمِيعِ مَا رَوَاهُ , إِلَّا فِي حَدِيثٍ فِي إِتْيَانِ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ [ص:206]. قَالَ سَالِمٌ: وَهِمَ الْعَبْدُ عَلَى أَبِي , وَذَهَبَ إِلَى هَذَا جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ , مِنْهُمْ يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ , وَمَالِكٌ، مَعَ جَلَالَتِهِ , وَرَوَى ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا، رَجَعَ عَنْهُ بِآخِرَةٍ

          نَافِعٌ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ تابعین کے ائمہ میں سے ہیں اہل مدینہ کے – علم کے امام ہیں .. ان کو غلطی کا معلوم نہیں جو سارا کچھ انہوں نے روایت کیا سوائے اس حدیث کے جس میں ہے کہ عورتوں کی دبر سے جماع کا ذکر ہے – سالم نے کہا اس بندے کو میرے باپ پر وہم ہوا ہے ہے اسی کی طرف اہل مدینہ کا مذھب ہے جن میں یزید اور امام مالک ہیں اپنی جلالت کے ساتھ اور ابن وھب نے روایت کیا ہے کہ امام مالک نے اس سے آخر میں رجوع کیا

          خلیلی نے نزدیک نہ تو دبر سے جماع کرنا اہل مدینہ کا مذھب ہے نہ یزید بن رومان کا نہ امام مالک کا اور مصری ابن وھب نے رجوع کا ذکر بھی کیا

          اس سے معلوم ہوا کہ مصریوں نے یہ مشہور کیا امام مالک کی زندگی ہی میں کہ وہ دبر سے جماع کا فتوی دیتے ہیں – لوگ امام مالک سے ملے اس پر پوچھا تو انہوں نے انکار کیا اور یہ اہل مدینہ کا ذوق نہ تھا

          معلوم ہوتا ہے دبر سے جماع مصر میں پسندیدہ تھا مدینہ میں معیوب تھا اور بعد میں شامی ابن حجر نے اس کو امام مالک کے حوالے سے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے

  33. وجاہت says:

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ بْنَ الرَّبِيعِ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ : ” كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ عَشْرَ خِلَالٍ الصُّفْرَةَ يَعْنِي الْخَلُوقَ ، وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ وَجَرَّ الْإِزَارِ وَالتَّخَتُّمَ بِالذَّهَبِ وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحَلِّهَا وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ وَعَقْدَ التَّمَائِمِ وَعَزْلَ الْمَاءِ لِغَيْرِ أَوْ غَيْرَ مَحَلِّهِ أَوْ عَنْ مَحَلِّهِ وَفَسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ ” ، قَالَ أَبُو دَاوُد : انْفَرَدَ بِإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ .

    http://library.islamweb.net/hadith/display_hbook.php?bk_no=184&pid=116663&hid=3688

    • Islamic-Belief says:

      رسول الله کراہت کرتے تعویذ لٹکانے سے
      روایت ضعیف ہے عبد الرحمن بن حرملة المدني کی وجہ سے

  34. Aysha butt says:

    وسیلہ کا جواز احادیث مبارکہ کی روشنی میں

    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایک شخص نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا، پھر وہ یہ پوچھتا پھرتا تھا کہ کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ اس نے ایک راہب کے پاس جا کر یہ سوال کیا کہ کیا اس کے لئے توبہ (کی کوئی گنجائش) ہے؟ اس راہب نے کہا : تمہاری توبہ قبول نہیں ہو سکتی۔ یہ سن کر اس (شخص) نے اس راہب کو بھی قتل کر دیا اور اس نے پھر سوال کرنا شروع کیا اور وہ اس بستی سے نکل کر دوسری بستی کی طرف جانے لگا جس میں کچھ نیک لوگ رہتے تھے۔ جب اس نے اس راستہ کا کچھ حصہ طے کیا تھا تو اسے موت نے آ لیا۔ اس نے اپنا سینہ پہلی بستی سے کچھ دور کر لیا (اور اس بستی کی طرف کر دیا)۔ اسی حال میں اسے موت آ گئی۔ پھر رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں میں (اس کی روح لے جانے پر) بحث ہوئی۔ وہ ایک بالشت کے برابر نیک آدمیوں کی بستی کے قریب تھا۔ سو اسے نیک لوگوں کی بستی سے لاحق کر دیا گیا۔ ایک اور روایت میں اضافہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس (برے لوگوں کی) بستی کو حکم فرمایا : تو (اس کی نعش سے) دور ہو جا اور اس (نیک لوگوں کی) بستی کو حکم فرمایا : تو (اس کی نعش سے) قریب ہو جا ۔
    (أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : التوبة، باب : قبول توبة القاتل وإن کثر قتله، 4 / 2119، الرقم : 2766، وأبو يعلی في المسند، 2 / 305، الرقم : 1033)

    حضرت اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ اہل کوفہ ایک وفد لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ وفد میں ایک ایسا آدمی بھی تھا جو حضرت اویس رضی اللہ عنہ سے مذاق کرتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہاں کوئی قرن کا رہنے والاہے؟ یہ سن کر وہ شخص حاضر ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تمہارے پاس یمن سے ایک شخص آئے گا اس کا نام اویس رضی اللہ عنہ ہو گا۔ یمن میں اس کی والدہ کے سوا کوئی نہیں ہو گا۔ اسے برص کی بیماری تھی، اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، تو اللہ تعالیٰ نے ایک دینار یا درہم کے برابر سفید داغ کے سوا باقی (برص کے) داغ اس سے دور کر دیئے، تم میں سے جس شخص کی اس سے ملاقات ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ اس سے تمہاری مغفرت کی دعا کرائے ۔
    (أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : من فضائل أويس القرنی، 4 / 1968، الرقم : 2542، وأبو نعيم في حلية الاولياء، 2 / 79، وابن سعد في الطبقات الکبری، 6 / 162، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 3 / 123، والذهبي في ميزان الاعتدال، 1 / 447.)

    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص نماز کے ارادے سے اپنے گھرسے نکلے اور یہ دعا مانگے : {اَللَّهُمَّ، إِنِّي أَسْأَلُـکَ بِحَقِّ السَّائِلِيْنَ عَلَيْکَ وَأَسْأَلُـکَ بِحَقِّ مَمْشَايَ هَذَا، فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلَا بَطَرًا وَلَا رِيَاءً وَلَا سُمْعَةً وَخَرَجْتُ اتِّقَاءَ سُخْطِکَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِکَ، فَأَسْأَلُـکَ أَنْ تُعِيْذَنِي مِنَ النَّارِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوْبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ}
    ترجمہ : اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے سائلین کے وسیلہ سے سوال کرتاہوں اور میں تجھ سے (نماز کی طرف اٹھنے والے) اپنے قدموں کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں۔ بے شک میں نہ کسی برائی کی طرف چلا ہوں نہ تکبر اور غرور سے، نہ دکھاوے اور نہ کسی دنیاوی شہرت کی خاطر نکلا ہوں۔ میں توصرف تیری ناراضگی سے بچنے کے لئے اور تیری رضا کے حصول کے لئے نکلا ہوں۔ سو میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے دوزخ کی آگ سے نجات دے، میرے گناہوں کو بخش دے۔ بے شک تو ہی گناہوں کو بخشنے والا ہے‘‘۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور ستر ہزار فرشتے اس کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں ۔
    (أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : المساجد والجماعات، باب : المشی إلی الصلاة، 1 / 256، الرقم : 778، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 21، الرقم : 11172، وابن الجعد في المسند، 1 / 299، الرقم : 2031، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 25، رقم : 29202، وابن السني في عمل اليوم والليلة، 1 / 30، الرقم : 83، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 135، الرقم : 488.)

    حضرت یعلی بن سیابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جگہ قضائے حاجت کا ارادہ فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کے دو درختوں کو حکم دیا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے ایک دوسرے سے مل گئے (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پردہ بن گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پیچھے قضائے حاجت فرمائی)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دوبارہ حکم دیا تو وہ اپنی اپنی جگہ پر واپس آ گئے۔ پھر ایک اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اپنی گردن کو زمین پر رگڑتا ہوا حاضر ہوا۔ وہ اتنا بلبلایا کہ اس کے اردگرد کی جگہ گیلی ہو گئی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ یہ اونٹ کیا کہہ رہا ہے؟ اس کا خیال ہے کہ اس کا مالک اسے ذبح کرنا چاہتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے مالک کی طرف آدمی بھیجا (کہ اسے بلا لائے۔ جب وہ آ گیا تو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : کیا یہ اونٹ مجھے ہبہ کرتے ہو؟ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ! مجھے اس سے بڑھ کر اپنے مال میں سے کوئی چیز محبوب نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تم سے اس کے معاملہ میں بھلائی کی توقع رکھتا ہوں۔ اس صحابی نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں اپنے تمام مال سے بڑھ کر اس کا خیال رکھوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ایک قبر سے ہوا جس کے اندر موجود میت کو عذاب دیا جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اسے گناہ کبیرہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک درخت کی ٹہنی طلب فرمائی اور اسے اس قبر پر رکھ دیا اور فرمایا : جب تک یہ ٹہنی خشک نہیں ہو جاتی اسے عذاب میں تخفیف دی جاتی رہے گی ۔ اس حدیث کو امام احمد اور ابن حمید نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس کی اسناد حسن ہے۔
    (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 172، الرقم : 17595، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 154، الرقم : 405، والخطيب البغدادي في موضح أوهام الجمع والتفريق، 1 / 272، الرقم : 271 والنووي في رياض الصالحين، 1 / 243، الرقم : 243، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 / 144، 145، الرقم : 3431، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 6.)

    حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کی سواری جنگل بیاباں میں گم ہو جائے تو اس (شخص) کو (یہ) پکارنا چاہیے : اے اﷲ تعالیٰ کے بندو! میری سواری پکڑا دو، اے اﷲتعالیٰ کے بندو! میری سواری پکڑا دو. بے شک اﷲ تعالیٰ کے بہت سے (ایسے) بندے اس زمین میں ہوتے ہیں، وہ تمہیں تمہاری سواری پکڑا دیں گے ۔
    (أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 103، الرقم : 29818، وأبو يعلی في المسند، 9 / 177، الرقم : 5269، والطبراني في المعجم الکبير، 10 / 217، الرقم : 10518، 17 / 117، الرقم : 290، وابن السني في عمل اليوم والليلة، 1 / 455، والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 330، الرقم : 1311، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 132.)

    حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے، انسان کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ، ایسے بھی ہیں جو درختوں کے پتوں کے گرنے تک کو لکھتے ہیں، پس تم میں سے جب کوئی کسی جگہ (کسی بھی مشکل میں) جائے، جہاں بظاہر اس کا کوئی مددگار بھی نہ ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ پکار کر کہے : اے اللہ کے بندو، اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے، ہماری مدد کرو، تو پس اس کی مدد کی جائے گی۔ اور حضرت روح کی روایت میں ہے کہ بے شک زمین پر اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے ایسے ہیں جنہیں حَفَظَۃ (حفاظت کرنے والے) کا نام دیا جاتا ہے، اور جو زمین پر گرنے والے درختوں کے پتوں تک کو لکھتے ہیں، پس جب تم میں سے کوئی کسی جگہ محبوس ہو جائے یا کسی ویران جگہ پر اسے کسی مدد کی ضرورت ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ یوں کہے : اے اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے، ہماری مدد کرو، پس اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اس شخص کی (فوراً) مدد کی جائے گی ۔ اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس حدیث کے رجال ثقہ ہیں ۔
    ( أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 91، الرقم : 29721، والبيهقي في شعب الإيمان، 6 / 128، الرقم : 7697، 1 / 183، الرقم : 167، والمناوي في فيض القدير، 1 / 307، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 132.)

    حضرت اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فجر کی دو رکعت نماز ادا کی اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہی کھڑے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتوں میں آہستہ آواز میں قراء ت فرمائی، حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے سنا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز سے فارغ ہو کر) یہ دعا مانگ رہے ہیں : ’’اے جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رب! میں دوزخ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تین مرتبہ فرمایا ۔ اس حدیث کو امام حاکم، ابو یعلی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس کی سند میں عباد بن سعید نامی راوی ہے اسے امام ابن حبان نے الثقات میں ذکر کیا ہے ۔
    (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 721، الرقم : 6610، وأبو يعلی في المسند، 8 / 213، الرقم : 4779، والطبراني في المعجم الکبير، 1 / 195، الرقم : 520، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 4 / 205. 206، الرقم : 1422. 1423، وابن سرايا في سلاح المؤمن في الدعاء، 1 / 349، الرقم : 647، والهيثمي في مجمع الزوائد، 2 / 219، والحسيني في البيان والتعريف، 1 / 150، الرقم : 398.)

    حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کی کوئی شے گم ہو جائے، یا تم میں سے کوئی مدد چاہے اور وہ ایسی جگہ ہو کہ جہاں اس کا کوئی مدد گار بھی نہ ہو، تو اسے چاہیے کہ یوں پکارے : اے اﷲتعالیٰ کے بندو! میری مدد کرو، اے اﷲتعالیٰ کے بندو! میری مدد کرو، یقینا اﷲ تعالیٰ کے ایسے بھی بندے ہیں جنہیں ہم دیکھ نہیں سکتے (لیکن وہ لوگوں کی مدد کرنے پر مامور ہیں)۔ اور (راوی بیان کرتے ہیں کہ) یہ آزمودہ بات ہے ۔ اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
    ( أخرجه الطبرانی في المعجم الکبير، 17 / 117، الرقم : 290، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 132، والمناوي في فيض القدير، 1 / 307.)

    حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ خاص بندے ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مخلوق کی حاجت روائی کے لئے خاص فرمایا ہے۔ لوگ گھبرائے ہوئے اپنی حاجتیں ان کے پاس لے کر آتے ہیں (اور وہ ان کی حاجت روائی کرتے ہیں)۔ اللہ تعالیٰ کے وہ خاص بندے عذابِ الٰہی سے امان میں ہیں ۔ اس حدیث کو امام ابونعیم، طبرانی اور قضاعی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس کی سند میں احمد بن طارق راوی کے متعلق ہے میں نہیں جانتا جبکہ باقی تمام رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں ۔
    (أخرجه أبو نعيم في حلية الأولياء، 3 / 225، والطبراني في المعجم الکبير، 12 / 358، الرقم : 13334، والقضاعي في مسند الشهاب، 2 / 117، الرقم : 1007، والنرسي في ثواب قضاء حوائج الإخوان، 1 / 80، الرقم : 42، وإسناده صحيح، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 54 / 5، الرقم : 6559، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 / 262، الرقم : 3966، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 192، والمناوي في فيض القدير، 2 / 477.)

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت فاطمہ بنت اسد بن ہاشم رضی اﷲ عنہا جو کہ حضرت علی بن ابی طالب کرم اﷲ وجہہ کی والدہ ماجدہ ہیں فوت ہوئیں تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں (قبرستان) تشریف لے گئے اور ان کے سرہانے کھڑے ہو گئے اور فرمایا : اﷲ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے۔ اے میری ماں! تو میری ماں کے بعد میری ماں (کی طرح ہی) تھی اور تو مجھے شکم سیر کرتی تھی اور مجھے کپڑے پہناتی تھی اور میری خاطر خود پھٹے پرانے کپڑے پہن لیتی تھی اور اپنے آپ کو اعلیٰ چیزوں سے محروم رکھتی تھی اور مجھے کھلاتی تھی اور اس سارے عمل سے تو اﷲ تعالیٰ کی رضا اور جنت کی طلب رکھتی تھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ انہیں غسل دینے کا حکم فرمایا۔ پس جب کافور ملا پانی پہنچا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے انڈیلا پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا کرتہ مبارک اتارا اور انہیں پہنا دیا اور اس چادر کے ذریعے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تھی انہیں کفن پہنایا پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اسامہ بن زید، ابو ایوب انصاری، عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہم اور ایک حبشی غلام کو قبر کھودنے کے لیے فرمایا۔ انہوں نے قبر کھودی اور جب لحد تک پہنچے تو اسے خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دستِ اقدس سے کھودا۔ اور اس کی مٹی اپنے ہاتھوں سے نکالی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لحد کے کھودنے سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے اندر لیٹ گئے پھر فرمایا : اﷲ تعالیٰ وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ زندہ ہے اسے کبھی موت نہیں آنی۔ اے اﷲ! میری والدہ فاطمہ بنت اسد کو بخش دے اور اسے اس کی حجت کی تلقین فرما اور اپنے نبی اور مجھ سے قبل انبیاء کے واسطہ سے اس کی قبر اس پر کشادہ فرما پس بے شک تو سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے پھر اس پر چار تکبیریں پڑھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور حضرت عباس اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں لحد میں اتارا ۔ اس حدیث کو امام ابونعیم اور طبرانی نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس کی سند میں روح بن صلاح راوی ہے اسے امام ابن حبان اور حاکم نے ثقہ قرار دیا ہے ۔۔۔ اس کے علاوہ تمام رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں ۔
    (أخرجه أبو نعيم في حلية الأولياء، 3 / 121، والطبراني في المعجم الکبير، 24 / 351، الرقم : 871، وفي المعجم الأوسط، 1 / 67، الرقم : 189، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 257.)۔(طالب دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
    Waseele pr yeh dalil die hai is sahib ne Ap kya khty ho

    • Islamic-Belief says:

      نبی صلی الله علیہ وسلم کا دیگر انبیاء سے وسیلہ لینا؟
      ایک روایت ہے جو المعجم الكبير طبرانی اور حلية الأولياء وطبقات الأصفياء اور مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
      میں نقل ہوئی ہے اس کے مطابق علی رضی الله عنہ کی والدہ فاطمہ بنت اسد کی وفات پر صلی الله علیہ وسلم نے دعا کی
      اللهُ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، اغْفِرْ لِأُمِّي فَاطِمَةَ بِنْتِ أَسَدٍ، ولَقِّنْهَا حُجَّتَها، وَوَسِّعْ عَلَيْهَا مُدْخَلَهَا، بِحَقِّ نَبِيِّكَ وَالْأَنْبِيَاءِ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِي فَإِنَّكَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
      اے الله جو زندہ کرتا ہے مردہ کرتا ہے جو زندہ ہے اور جس کو موت نہیں ہے مغفرت کر میری ماں فاطمہ بنت اسد کی اور ان کی قبر وسیع کر اس حق پر جو انبیاء کا ہے اور پچھلے انبیاء کا ہے کہ آپ رحم کرنے والے ہیں
      یہ روایت ایک ہی راوی رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ سے آئی ہے جو ضعیف ہے
      الدَّارَقُطْنِيّ کہتے ہیں : كان ضعيفًا في الحديث، سكن مصر. حدیث میں ضعیف ہے مصر کا باسی تھا «المؤتلف والمختلف
      ابن عدي کہتے ہیں: ضعيف
      ابن ماكولا کہتے ہیں : ضعفوه سكن مصر ضعیف ہے مصر کا باسی تھا
      امام حاکم نے ثقہ کہا ہے لیکن جمہور کے مقابلے پر ان کی تعدیل کلعدم ہے
      مخلوق کا الله پر کوئی حق نہیں بلکہ الله الصمد الله سب سے بے نیاز ہے چاہے فرشتے ہوں یا انبیاء ہوں
      ———-

      اویس قرنی والی روایت کا راوی اسیر بن جابر قوی نہیں ہے
      ابن حزم ليس بالقوي، قوی راوی نہیں کہتے ہیں
      http://www.islamic-belief.net/innovations-in-islam/mysticism-in-muslims-belief/اویس-قرنی-ایک-پراسرار-شخصیت/

      اویس ایک فرضی کردار ہے
      —————–

      http://www.islamic-belief.net/فرشتوں-کو-پکارنا/

      ==========

      مسند احمد اور سنن ابن ماجہ کی ایک حدیث ہے

      حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ – فَقُلْتُ لِفُضَيْلٍ: رَفَعَهُ؟ قَالَ: أَحْسِبُهُ قَدْ رَفَعَهُ – قَالَ: ” مَنْ قَالَ حِينَ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ، وَبِحَقِّ مَمْشَايَ فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلَا بَطَرًا، وَلَا رِيَاءً وَلَا سُمْعَةً، خَرَجْتُ اتِّقَاءَ سَخَطِكَ، وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ، أَسْأَلُكَ أَنْ تُنْقِذَنِي مِنَ النَّارِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ، وَأَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ”
      عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ سے مروی ہے (فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ نے کہا گمان ہے کہ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ نے اس حدیث کو رفع کیا یعنی قول نبوی قرار دیا ) کہ ابو سعید الخدری رضی الله عنہ نے کہا جو نماز سے نکلے وہ کہے : اے الله میں تجھ سے اس حق سے سوال کرتا ہوں جو سوال کرنے والوں کو تیرے اوپر ہے ، اور اپنے اس چلنے کے حق کی وجہ سے، کیونکہ میں غرور، تکبر، ریا اور شہرت کی نیت سے نہیں نکلا، بلکہ تیرے غصے سے بچنے اور تیری رضا چاہنے کے لیے نکلا، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے جہنم سے پناہ دیدے، اور میرے گناہوں کو معاف کر دے، اس لیے کہ گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی نہیں معاف کر سکتا” تو اللہ تعالیٰ اس کی جانب متوجہ ہو گا، اور ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کریں گے”۔

      شعيب الأرناؤوط اور البانی نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے – سند میں عطیہ العوفی سخت ضعیف ہے

      ————
      يَعْلَى بْنِ سِيَابَةَ کی رویات
      سند میں حبيب بن أبي جبيرة. أبو سلمة الخزاعي: مجہول ہے
      ——

      اے جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رب! میں دوزخ سے تیری پناہ مانگتا ہوں
      یہ وسیلہ نہیں ہے
      ——–

  35. وجاہت says:

    أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن الجوزی اپنی کتاب التحقیق فی أحادیث الخلاف میں لکھتے ہیں کہ

    1064 – أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبْدِ الْخَالِقِ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا الدَّارَقطنيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ هِلَالِ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ ثُمَّ يَصُومُ رَمَضَان لرُؤْيَته فَإِن غم عيه عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ثُمَّ صَامَ

    قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قُلْتُ وَهَذِهِ عَصَبِيَّةٌ مِنَ الدَّارَقُطْنِيِّ كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ لَا يَرْضَى مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ لَا يحْتَج بِهِ وَالَّذِي حفظ من هَذَا فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ ثُمَّ أَفْطِرُوا

    http://shamela.ws/browse.php/book-5907#page-549

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    شمس الدین ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان اپنی کتاب تنقيح التحقيق للذهبي میں لکھتے ہیں کہ

    قَالَ الدارقطنيُّ: هَذَا إسنادٌ صحيحٌ. فَهَذِهِ عصبيةٌ منهُ، كَانَ يحيى بنُ سعيدٍ لَا يرضى [ق 86 – ب] / معاويةَ.
    وَقَالَ أَبُو حاتمٍ: لَا يحتجُّ بهِ.
    قلتُ: وَهَذِه مِنْك عصبيةٌ؛ فإنَّ معاويةَ احتجَّ بهِ مُسلمٌ.

    http://shamela.ws/browse.php/book-22848#page-360

    اس کا کیا مطلب ہے

    • Islamic-Belief says:

      دارقطنی نے مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ كي حدیث کو سنن میں هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قرار دیا ہے
      الذھبی نے کہا دارقطنی کی (مسلک کے حوالے سے) عصبیت ہے کیونکہ یحیی بن سعید اس سے راضی نہیں تھے اور ابو حاتم کہتے اس سے دلیل مت لو
      میں الذھبی کہتا ہوں یہ عصبیت ہے اس سے مسلم نے دلیل لی ہے
      ——–
      الفاظ میں ابہام میں ہے کہ حدیث رد کی ہے یا قبول کی ہے

  36. Aysha butt says:

    Ik hadith hai k durod prhi rumgri myskilat hal hojae gi… Is bunyad pr Nabi s.ams ko muskil kusha kehna kya theak hoga

    • Islamic-Belief says:

      کہاں ہے یہ حدیث ؟

      • Aysha butt says:

        https://youtu.be/SsORmOeLSdc
        I.31 pr hadith hai ispr sawal kia tha

        • Islamic-Belief says:

          ✿┈┈┈┈┈••┈┈┈┈┈✿

          عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ قَامَ , فَقَالَ: ” يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ، اذْكُرُوا اللَّهَ جَاءَتِ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ “، قَالَ أُبَيٌّ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلَاتِي؟ فَقَالَ: ” مَا شِئْتَ “، قَالَ: قُلْتُ: الرُّبُعَ؟ قَالَ: ” مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ” , قُلْتُ: النِّصْفَ؟ قَالَ: ” مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ” , قَالَ: قُلْتُ: فَالثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: ” مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ” , قُلْتُ: أَجْعَلُ لَكَ صَلَاتِي كُلَّهَا , قَالَ: ” إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ ”

          قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

          حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول الله ﷺ سے عرض کیا،

          اے الله کے رسول میں آپ پر کثرت سے درود بھیجتا ہوں، اپنی دعا میں سے کتنا وقت درود کے لئے وقف کروں ؟
          آپﷺ نے فرمایا: “جتنا تو چاہے۔ ”

          میں نے عرض کیا ایک چوتھائی(1/4) صحیح ہے۔

          آپﷺ نے فرمایا: “جتنا تو چاہے، لیکن اگر اس سے زیادہ کرے تو تیرے لئے اچھا ہے۔”

          میں نے عرض کیا نصف(1/2) وقت مقرر کردوں؟

          آپﷺ نے فرمایا: “جتنا تو چاہے لیکن اگر اس سے زیادہ کرے تو تیرے لئے اچھا ہے۔”

          میں نے عرض کیا دو تہائی(2/3) مقرر کردوں؟

          آپ ﷺ نے فرمایا: “جتنا تو چاہے لیکن اگر زیادہ کردے تو تیرے ہی لئے بہتر ہے۔”

          میں نے عرض کیا میں اپنی ساری دعا کا وقت درود کے لئے وقف کرتا ہوں۔

          اس پر رسول الله ﷺ نے فرمایا: “یہ تیرے سارے دکھوں اور غموں کے لئے کافی ہوگا اور تیرے گناہوں کی بخشش کا باعث ہوگا۔”
          =============

          البانی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے
          , صَحِيح الْجَامِع: 7863، الصَّحِيحَة: 954 , صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب: 1670

          جبکہ ترمذی نے حسن کہا تھا

          مستدرک الحاکم میں بھی ہے
          أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِيسَى السَّبِيعِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ رُبْعُ اللَّيْلِ قَامَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ، جَاءَتِ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ، جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ، جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ» فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْهَا؟ قَالَ: «مَا شِئْتَ» قَالَ: الرُّبُعُ؟ قَالَ: «مَا شِئْتَ، وَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» قَالَ: النِّصْفُ؟ قَالَ: «مَا شِئْتَ وَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» قَالَ: الثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: «مَا شِئْتَ وَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَجْعَلُهَا كُلَّهَا لَكَ؟ قَالَ: «إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ، وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ ”

          حاکم اور الذھبی نے صحیح کہا ہے

          میں کہتا ہوں عبد الله بن محمد بن عقيل بن أبي طالب الهاشمي کی وجہ سے ضعیف ہے
          يحيى بن معين اور نسائی نے اس کو ضعیف کہا ہے
          الحاكم أبو أحمد نے ليس بذاك المتين المعتمد یعنی غیر مضبوط کہا ہے
          أحمد بن حنبل نے منکر الحدیث بھی کہا ہے
          ابن خزيمة: لا أحتج به نے ناقابل دلیل کہا ہے

  37. Aysha butt says:

    https://m.youtube.com/watch?v=ZiVcv2RqQSk&sns=fb
    Iska jawab kia hoga ..
    Sahib ja kehna hai k Nabi s.a.w ka noor hissi hai
    Daleel di sihabi na kha k bolte
    waqt dant k darmiyani hissay se noor niklta
    Or hazrat aisha r.a khti k meri soi gum gai
    Toh Aap s.a.w muskare ti noo nikla or mujy needle mill gai
    Kya nabi s.a w ko noor e hidayt keh sakty hai

    • Islamic-Belief says:

      عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا فرماتی ہیں کہ میں حفصہ بنت رواحہ سے سوئی عاریتاً لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سی رہی تھی کہ اچانک وہ میرے ہاتھ سے گر گئی اور تلاش بسیار کے بعد بھی نہ ملی۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے :

      فتبينت الابرة من شعاع نور وجهه صلي الله عليه وآله وسلم.

      ’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ اقدس سے نکلنے والے نُور کی وجہ سے مجھے اپنی گم شدہ سوئی مل گئی۔‘‘

      1. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 1 : 325
      2. سيوطي، الخصائص الکبريٰ، 1 : 107

      أخبرنا أبو حفص (2) عمر بن علي بن أحمد الفاضل النوقاني بها أنبأنا أبو محمد (3) الحسن بن أحمد السمرقندي أنبأنا الحسن الحافظ قراءة أنبأنا أبو إبراهيم بن إسماعيل بن عيسى بن عبد الله التاجر السمرقندي (4) بها أنبأنا أبو الحسن علي بن محمد بن أحمد بن يحيى بن الفضل بن عبد الله الفارسي أنبأنا أبو الحسن بن علي بن الحسين الجرجاني الحافظ السمرقندي أنبأنا مسعدة بن بكر الفرغاني بمرو وأنا سألته فأملي علي بعد جهد أنبأنا محمد بن أحمد بن أبي عون أنبأنا عمار بن الحسن أنبأنا سلمة بن الفضل بن عبد الله (5) عن محمد بن إسحاق بن يسار عن يزيد بن رومان وصالح بن كيسان عن عروة بن الزبير عن عائشة قالت استعرت من حفصة بنت رواحة إبره كنت أخيط بها (6) ثوب رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فسقطت مني الإبرة فطلبتها فلم أقدر عليها فدخل رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فتبينت الإبرة من شعاع نور وجهه فضحكت فقال يا حميراء لم ضحكت قلت كان كيت وكيت فنادى بأعلى صوته يا عائشة الويل ثم الويل ثلاثا لمن حرم النظر إلى هذا الوجه ما من مؤمن ولا كافر إلا ويشتهي أن ينظر إلى وجهي

      سند میں عمّار بن الحَسَن بن بشير، أبو الحَسَن الهمداني الرازي. [الوفاة: 241 – 250 ه] نے سَلَمَةَ بن الفضل الأبرش سے روایت کیا ہے – سلمہ پر جرح ہے
      قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لا يُحتَجّ بِهِ. – دلیل مت لینا
      وقال الْبُخَارِيّ: عنده مناكير. اس کے پاس منکر روایات ہیں
      وضعّفه النَّسَائيّ. نے ضعیف قرار دیا
      وقال أبو زُرْعة: كَانَ أهل الرَّيّ لا يرغبون فيه لسوء رأيه وَظُلْمٍ فيه. الرَّيّ والے سملہ ابرش کی طرف رغبت نہیں کرتے تھے
      وقال ابن مَعِين: كَانَ يتشيّع، وكان معلّم كُتّاب. یہ شیعہ کے عالم تھے
      وقال علي ابن المَدِينيّ: ما خرجنا مِن الرَّيّ حتى رَمَينا بحديث سَلَمَةَ الأبرش. ہم الرَّيّ سے نکلے تو اس کی احادیث پھینک دیں

      • Aysha butt says:

        Aap s.a.w k muskurany pr mu se noor niklata . Hadith sahih hai kya

        • Islamic-Belief says:

          رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے حوالے سے یہ روایات غلو پر مبنی ہیں
          اگر نور نکلتا تھا تو یہ تو جسم کا معجزہ ہوا جو ید موسی کے جیسا ہوا لیکن اس کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں
          پھر غار ثور کے اندھیرے میں ابو بکر سے کہا
          لا تحزن إن الله معنا
          إس سے غار روشن ہو گیا ہو گا کفار جو وہاں تک پہنچ گئے تھے انہوں نے اس وجہ سے نبی اور ابو بکر کو نہ دیکھا؟

          سندا یہ روایات مجھے نہیں ملیں

  38. Aysha butt says:

    https://youtu.be/xP3VhnUTlAc
    In sahib ne jo hazrat umr r.a ka waqia btaya hai.kia wo sahih hai
    Is waqie ki bina pr namos e risalat ko.pamaal krne pr gali dena theak hai

    • Islamic-Belief says:

      یہ لنک نہیں کھلا
      البتہ عمر کے حوالے سے جو واقعہ مشہور ہے اس کا ذکر یہاں ہے
      ⇑ عمر رضی الله عنہ بغیر پوچھے قتل کر دیتے تھے
      http://www.islamic-belief.net/q-a/متفرق-٤/

      • Aysha butt says:

        Sahib ka kehna hai
        K umairbin wahab Nabi s.a.w ko qatal k irade se aya
        To hazrat umr ne pas mujood sihaba se kha k es kute ko pakro yeh qatl ki garz se aya or phir gaset kr Nabi s.a.w k pas le gae or kha k yeh kabees hai or gaddar b.. Phir Nabi s.a.w ne pocha k q aye ho kha k bachay se milny aya hon … Kha sach bol . Hateem mn safwan bin ummaya se kia baat ki thi
        Usi waqt qatal k irade se aye hoye shaks ne toba kr li or iman qubol kia
        Iski kya haqiqat hai
        Es sahib ne kha k umr r.a Nabi s.a.w k samny gali de sakte hai to humq nai de sakte

        • Islamic-Belief says:

          عمير بن وهب بن خلف الجمحيّ، أبو أمية رضی الله عنہ کے مدینہ کے قصے میں مجھے نہیں ملا کہ عمر رضی الله عنہ نے ان کو گالی دی ہو
          البتہ یہ مان لیں ایسا ہوا تو اس کی وجہ ہے کہ سمجھا جا رہا تھا کہ یہ قتل نبی کے مقصد سے آئے ہیں لیکن تفتیش پر معلوم ہوا مقصد الگ ہے ان کو چھوڑ دیا گیا تو یہ
          وقتی و ہنگامی بات ہوئی لہذا دلیل نہیں بن سکتی

  39. وجاہت says:

    1.

    حدثنا عثمان بن صالح ، حدثنا عبد الله بن وهب ، اخبرني ابن جريج ، ان نافعا اخبره ، ان ابن عمر رضي الله عنهما ، اخبره قال : “كان سالم مولى ابي حذيفة يؤم المهاجرين الاولين ، واصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في مسجد قباء ، فيهم ابو بكر ، وعمر ، وابو سلمة ، وزيد ،وعامر بن ربيعة ”

    ´ہم سے عثمان بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں نافع نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہا کہ` ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے (آزاد کردہ غلام) سالم، مہاجر اولین کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے۔ ان اصحاب میں ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔

    http://islamicurdubooks.com/Sahih-Bukhari/Sahih-Bukhari-.php?hadith_number=7175

    2.

    حدثنا إبراهيم بن المنذر ، قال : حدثنا انس بن عياض ، عن عبيد الله ، عن نافع ، عن بن عمر ، قال : ” لما قدم المهاجرون الاولون العصبة موضع بقباء قبل مقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم ، كان يؤمهم سالم مولى ابي حذيفة ، وكان اكثرهم قرآنا ”

    ´ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا انہوں نے عبیداللہ عمری سے، انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ` جب پہلے مہاجرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے بھی پہلے قباء کے مقام عصبہ میں پہنچے تو ان کی امامت ابوحذیفہ کے غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے۔ آپ کو قرآن مجید سب سے زیادہ یاد تھا۔

    http://islamicurdubooks.com/Sahih-Bukhari/Sahih-Bukhari-.php?hadith_number=692

    یہاں پہلی حدیث میں ہے کہ

    ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے (آزاد کردہ غلام) سالم، مہاجر اولین کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے۔ ان اصحاب میں ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔

    اور دوسری میں ہے کہ

    جب پہلے مہاجرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے بھی پہلے قباء کے مقام عصبہ میں پہنچے تو ان کی امامت ابوحذیفہ کے غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے۔ آپ کو قرآن مجید سب سے زیادہ یاد تھا۔

    کیا قبا میں کوئی اور مسجد بھی تھی یہنی مسجد قبا کے علاوہ جس میں پہلے مہاجرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے بھی پہلے قباء کے مقام عصبہ پر ابوحذیفہ کے غلام سالم رضی اللہ عنہ امامت کیا کرتے تھے

    اور پھر دوسری طرف یہ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے (آزاد کردہ غلام) سالم، مہاجر اولین کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے۔ ان اصحاب میں ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم بھی ہوتے تھے

    اور کیا ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم المهاجرين الاولين میں تھے

    اگر حضرت ابو بکر رضی الله المهاجرين الاولين میں سے تھے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت وقت کیسے موجود تھے جیسا کہ صحیح بخاری کی اس حدیث میں ہے

    http://islamicurdubooks.com/Sahih-Bukhari/Sahih-Bukhari-.php?hadith_number=3615

    میرے والد نے ان سے پوچھا اے ابوبکر! مجھے وہ واقعہ سنائیے جب آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار ثور سے ہجرت کی تھی تو آپ دونوں نے وہ وقت کیسے گزارا تھا؟

    ==============

    یہ آپ سے پہلے بھی پوچھا تھا لیکن جواب سوال جواب والے سیکشن میں نہیں مل رہا

    کیا قبا سے پہلے کوئی مسجد بنائی گئی

    مسجد تقویٰ

    جب مدینہ کی جانب ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا تو اس بستی میں آنے والے مسلمانوں نے مسجد بنائی جس میں بیت المقدس کی جانب منہ کرکے نماز پڑھی جاتی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہجرت فرمائی اور قباء میں قیام فرمایا تو اسی مسجد میں نماز ادا کی اور یہ “مسجد تقویٰ” کہلائی۔

    https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF_%D9%82%D8%A8%D8%A7%D8%A1

    اجتماعی عبادت رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پہلے کوئی کیسے کر سکتا ہے – مکہ میں کیا رسول الله نے کوئی اجتماعی عبادت نہیں کی

    اوپر احادیث بتا رہی ہیں کہ اجتماہی عبادت ہوتی تھی کیوں حضرت سالم والی حدیث میں وہ امامت کرتے تھے

    حدثنا إبراهيم بن المنذر ، قال : حدثنا انس بن عياض ، عن عبيد الله ، عن نافع ، عن بن عمر ، قال : ” لما قدم المهاجرون الاولون العصبة موضع بقباء قبل مقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم ، كان يؤمهم سالم مولى ابي حذيفة ، وكان اكثرهم قرآنا ”

    ´ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا انہوں نے عبیداللہ عمری سے، انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ` جب پہلے مہاجرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے بھی پہلے قباء کے مقام عصبہ میں پہنچے تو ان کی امامت ابوحذیفہ کے غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے۔ آپ کو قرآن مجید سب سے زیادہ یاد تھا۔

    یہ کچھ کھچڑی سی پکی ہوئی ہے – جو مختلف احادیث میں بیان ہوئی ہے

    نماز کا حکم مدینہ میں ہوا تھا نہ کے مکہ میں

    یعنی جب خود رسول اللہ مدینہ تشریف لے گئے اس کے بعد ہی “اقیمو الصلوۃ”” کا حکم آیا

    ساتھ ساتھ یہ حدیث بھی دیکھ لیں

    سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 585 حدیث موقوف مکررات 3 متفق علیہ 2

    قعنبی، انس، ابن عیاض، ہیثم بن خالد، ابن نمیر، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی آمد سے قبل مہاجرین” عصبہ” میں آئے تو ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام “سالم” لوگوں کی امامت کرتے تھے اور ان کو سب سے زیادہ قرآن یاد تھا۔ ہیثم نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ان مہاجرین میں عمر بن خطاب اور ابوسلمہ بن الاسد بھی تھے۔

    اور وہ کون سی آیات ہیں جو حضرت ابو بکر رضی الله کی شان میں نازل ہویں

    وضاحت چاہیے

  40. anum shoukat says:

    و من لم یحکم بما انزل اللہ ۔۔ھم الکافرون والی آیت سے جو لوگ کفر اکبر مراد لیتے ہیں اسکی کیا دلیل ہے؟؟

    • Islamic-Belief says:

      ⇑ من یحکم بما انزل الله پر ابن عباس کا تفسیری قول ہے؟
      http://www.islamic-belief.net/q-a/مذھب-تکفیر/
      ———

      جو اس سے کفر اکبر مراد لیتے ہیں ان کے نزدیک ان آیات کا ظاہر ہے کہ چونکہ کہا گیا کافر ہیں ظالم ہیں فاسق ہیں تو انہوں نے اسکو کفر اکبر سمجھا ہے

  41. وجاہت says:

    ابن جوزی اپنی کتاب صيد الخاطر میں لکھتے ہیں کہ

    238- وكثر ضجيجي من مرضي، وعجزت عن طلب نفسي، فلجأت إلى قبول الصالحين، وتوسلت في صلاحي، فاجتذبني لطف مولاي بي إلى الخلوة على كراهة مني، ورد قلبي على بعد نفور مني، وأراني عيب ما كنت أوثره

    http://shamela.ws/browse.php/book-12028#page-133

    اس کا کیا مطلب ہوا – کیا یہ وسیلہ کے قائل تھے

    • Islamic-Belief says:

      جو الفاظ اور لوگوں نے نقل کیے ہیں وہ ہیں
      وكثر ضجيجي من مرضي، وعجزت عن طب نفسي، فلجأت إلى قبور الصالحين وتوسلت في صلاحي

      ان الفاظ میں تحریف ہے جو اپ نے بھیجے
      جو دار القلم – دمشق
      سے چھپی ہے

      وكثر ضجيجي من مرضي، وعجزت عن طلب نفسي، فلجأت إلى قبول الصالحين
      طب کو طلب کر دیا ہے قبور کو قبول کر دیا ہے

      معلوم ہوتا ہے کہ ابن جوزی اس کے قائل تھے
      و الله اعلم

  42. anum shoukat says:

    ماں کے پیٹ میں کتنے دنوں بعد اللہ تعالٰی بچہ میں روح ڈالتا ہے ؟

    • Islamic-Belief says:

      رحم مادر میں ٦ ہفتوں میں (٤٢ دن بعد) منی کی آمد کے بعد دل دھڑکنا شروع ہوتا ہے
      اس کو ٨وں ہفتے سے سنا جا سکتا ہے

      حذیفہ بن اسید غفاری سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے جب نطفے پر ٤٢ راتیں گزر جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے پاس ایک فرشتے کو بھیجتاہے ‘ جو اس کی صورت ‘کان ‘آنکھ ‘کھال’ گوشت اور ہڈیاں بناتا ہے ‘پھر عرض کرتا ہے اے پروردگار، یہ مرد ہے یا عورت ‘پھر جو مرضی الٰہی ہوتی ہے وہ فرماتا ہے ‘فرشتہ لکھ دیتا ہے ‘پھر عرض کرتا ہے ‘ اے پروردگار اس کی عمر کیا ہے ‘چنانچہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے حکم فرماتا ہے اورفرشتہ وہ لکھ دیتا ہے پھر عرض کرتاہے کہ اے پروردگار اس کی روزی کیا ہے ‘چنانچہ پروردگار جو چاہتاہے وہ حکم فرمادیتاہے اورفرشتہ لکھ دیتاہے اور پھر وہ فرشتہ وہ کتاب اپنے ہا تھ میں لے کر باہر نکلتاہے جس میں کسی بات کی کمی ہوتی ہے اورنہ زیادتی ” (صحیح مسلم باب القدر)

      انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اﷲ تعالیٰ نے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر فرما رکھا ہے۔ وہ یہ عرض کرتا رہتا ہے اے میرے (رب ابھی تک) یہ نطفہ (کے مرحلہ میں) ہے۔ اے میرے رب (اب)یہ علقہ (یعنی جمے ہوئے خون کے مرحلہ میں) ہے۔ اے میرے رب (اب) یہ مضغہ (یعنی گوشت کے لوتھڑے کے مرحلے میں) ہے۔ پھر جب اﷲ تعالیٰ اس کی خلقت کو پورا کرنے کا ارادہ (ظاہر) کرتے ہیں تو فرشتہ پوچھتا ہے اے میرے رب (اس کے متعلق کیا حکم ہے) یہ مردہو گا یا عورت، بدبخت ہوگا یا نیک بخت، اس کا رزق کتنا ہوگا اور اس کی عمر کتنی ہوگی۔ تو ماں کے پیٹ میں ہی وہ فرشتہ یہ سب باتیں ویسے ہی لکھ دیتا ہے۔ جیسا اسے حکم دیا جاتا ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ہر بچہ اپنا رزق اور عمر لیکر پیدا ہو تا ہے ۔

      مضغہ کی حالت (لغوی مفہوم چبایا ہوا مادہ) کے بعد ہی بچہ دانی میں دل دھڑکتا ہے
      گویا یہ اب ایک بت بن چکا ہوتا ہے جس میں روح اتی ہے

      بیالیس دن بعد فرشتہ کا آنا اور اسی پر دل کی دھڑکن کا سنا جانا ایک بات ہے اس طرح حدیث اور سائنس ایک ہی بات کہتے ہیں
      =======

      اب ایک متضاد روایت جو صحیح بخاری میں ابن مسعود سے مروی ہے جس کے مطابق ١٢٠ دن بعد یعنی ٤ ماہ بعد روح اتی ہے
      حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ المَصْدُوقُ، قَالَ: ” إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ مَلَكًا فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، وَيُقَالُ لَهُ: اكْتُبْ عَمَلَهُ، وَرِزْقَهُ، وَأَجَلَهُ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ، فَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْكُمْ لَيَعْمَلُ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الجَنَّةِ إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ كِتَابُهُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَيَعْمَلُ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الجَنَّةِ ”

      تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں مکمل کی جاتی ہے۔ چالیس دن تک نطفہ رہتاہے پھراتنے ہی وقت تک منجمد خون کا لوتھڑارہتا ہے پھر اتنے ہی روز تک گوشت کا لوتھڑا رہتاہے اس کے بعد اللہ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے کہ اس کا عمل ‘اس کا رزق اوراس کی عمر لکھ دے اوریہ بھی لکھ دے کہ بدبخت ہے یا نیک بخت ،اس کے بعد اس میں روح پھونک دی جاتی ہے ….”(صحیح بخاری باب بدء الخلق ۔صحیح مسلم باب القدر)

      اس روایت کو اگرچہ امام بخاری و مسلم نے صحیح کہا ہے لیکن اس کی سند میں زید بن وھب کا تفرد ہے اور امام الفسوی کے مطابق اس کی روایات میں خلل ہے

      طحاوی نے مشکل الاثار میں اس روایت پر بحث کی ہے اور پھر کہا
      وَقَدْ وَجَدْنَا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رِوَايَةِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , بِمَا يَدُلُّ أَنَّ هَذَا الْكَلَامَ مِنْ كَلَامِ ابْنِ مَسْعُودٍ , لَا مِنْ كَلَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
      اور ہم کو ملا ہے جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , سے کہ یہ کلام ابن مسعود ہے نہ کہ کلام نبوی

      لیکن طحاوی نے کہا یہ بات ابن مسعود کو نبی صلی الله علیہ وسلم نے بتائی ہو گی

      راقم کہتا ہے اس کی جو سند صحیح کہی گئی ہے اس میں زید کا تفرد ہے جو مضبوط نہیں ہے

      اس حدیث پر لوگوں کو شک ہوا لہذا کتاب جامع العلوم والحكم في شرح خمسين حديثا من جوامع الكلم از ابن رجب میں ہے
      وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَسْفَاطِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ الَّذِي حَدَّثَ عَنْكَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ. فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ حَدَّثْتُهُ بِهِ أَنَا ” يَقُولُهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ غَفَرَ اللَّهُ لِلْأَعْمَشِ كَمَا حَدَّثَ بِهِ، وَغَفَرَ اللَّهُ
      مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَسْفَاطِيِّ نے روایت کیا کہ میں نے خواب میں نبی کو دیکھا کہا اے رسول الله حدیث ابن مسعود جو انہوں نے اپ سے روایت کی ہے کہا سچوں کے سچے نے کہا ؟ فرمایا وہ جس کے سوا کوئی الہ نہیں میں نے ہی اس کو ان سے روایت کیا تھا تین بار کہا پھر کہا الله نے اعمش کی مغفرت کی کہ اس نے اس کو روایت کیا

      یعنی لوگوں نے اس حدیث کو خواب میں رسول الله سے ثابت کرایا تاکہ صحیح بخاری و مسلم کی حدیث کو صحیح سمجھا جائے

      میرے نزدیک صحیح وہ روایت ہے جس میں جب نطفے پر ٤٢ راتیں گزر جاتی ہیں کا ذکر ہے یعنی یہ فرشتہ ہی روح بھی لاتا ہے

      • وجاہت says:

        حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ أَنَّ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ فَأَتَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ فَحَدَّثَهُ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ وَكَيْفَ يَشْقَى رَجُلٌ بِغَيْرِ عَمَلٍ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ أَتَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا مَرَّ بِالنُّطْفَةِ ثِنْتَانِ وَأَرْبَعُونَ لَيْلَةً بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهَا مَلَكًا فَصَوَّرَهَا وَخَلَقَ سَمْعَهَا وَبَصَرَهَا وَجِلْدَهَا وَلَحْمَهَا وَعِظَامَهَا ثُمَّ قَالَ يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ ثُمَّ يَقُولُ يَا رَبِّ أَجَلُهُ فَيَقُولُ رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ ثُمَّ يَقُولُ يَا رَبِّ رِزْقُهُ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ ثُمَّ يَخْرُجُ الْمَلَكُ بِالصَّحِيفَةِ فِي يَدِهِ فَلَا يَزِيدُ عَلَى مَا أُمِرَ وَلَا يَنْقُصُ

        اس حدیث کا نمبر کیا ہے

        • Islamic-Belief says:

          صحیح مسلم 2645

          • وجاہت says:

            صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ

            فرشتہ نطفے کے پاس جاتا ہے، جب وہ بچہ دانی میں جم جاتا ہے چالیس یا پینتالیس دن کے بعد

            http://islamicurdubooks.com/Sahih-Muslim/Sahih-Muslim-fawad-.php?hadith_number_fawad=2644

            ٤٢ دن والی حدیث یہ ہے

            http://islamicurdubooks.com/Sahih-Muslim/Sahih-Muslim-.php?hadith_number=6726

            ان احادیث میں ہے کہ چالیس دن کے بعد

            http://islamicurdubooks.com/Sahih-Muslim/Sahih-Muslim-.php?hadith_number=6728

            مسند احمد:جلد ششم:حدیث نمبر 1961 حدیث مرفوع مکررات 3 متفق علیہ 2

            حضرت حذیفہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نطفہ جب رحم مادر میں استقراء پکڑ لیتا ہے تو چالیس دن گذرنے کے بعد ایک فرشتہ آتا ہے اور پوچھتا ہے کہ پروردگار یہ شقی ہوگا یا سعید، مذکر ہوگا یا مونث اللہ تعالیٰ اسے بتا دیتے ہیں اور وہ لکھ لیتا ہے پھر اس کا عمل ، اثر، مصیبت اور رزق بھی لکھ دیا جاتا ہے پھر اس صحیفے کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جاسکتی۔

            یہاں چالیس راتوں سے کچھ زیادہ کہا گیا

            http://islamicurdubooks.com/Sahih-Muslim/Sahih-Muslim-.php?hadith_number=6729

            یہاں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے رحم پر ایک فرشتہ کو مقرر کیا ہے وہ کہتا ہے: اے رب! ابھی نطفہ ہے، اے رب! اب لہو کی پھٹکی ہے، اےرب! اب گوشت کی بوٹی ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ کچھ پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتہ عرض کرتا

            http://islamicurdubooks.com/Sahih-Muslim/Sahih-Muslim-.php?hadith_number=6730

            —–

            یہاں چالیس دن اور چالیس رات کا ذکر ہے

            صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2347 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 16 متفق علیہ 8

            آدم، شعبہ، اعمش، زید بن وہب، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جو صادق و مصدوق ہیں، فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کا نطفہ اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن اور چالیس رات جمع رہتا ہے پھر اسی طرح خون بستہ ہو جاتا ہے پھر اسی طرح خون کا لوتھڑا ہو جاتا ہے، پھر اس کے پاس فرشتہ بھیجا جاتا ہے جس کو چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے چنانچہ وہ اس کی روزی، اس کی عمر، اس کا عمل اور اس کا بد بخت یا نیک بخت ہونا لکھتا ہے، پھر اس میں روح پھونکتا ہے، پس تم میں سے ایک جنتیوں کے سے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے، اس پر تقدیر کا لکھا غالب آتا ہے، چنانچہ وہ دوزخیوں کے سے عمل کرتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوتا ہے اور تم میں سے ایک شخص دوزخیوں کے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے، تو نوشۃ تقدیر غالب آتا ہے وہ جنتیوں کے عمل کرتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے۔


            صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2223 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 16 متفق علیہ 8
            عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، جریر بن عبدالحمید اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، ابوسعید اشج وکیع، عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ بن حجاج اعمش، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے فرق یہ ہے کہ وکیع کی روایت میں ہے تم میں سے ہر ایک کی تخلیق اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس راتیں ہوتی ہے شعبہ کی روایت میں چالیس دن یا چالیس رات ہے جریر اور عیسیٰ کی روایت میں چالیس دن مذکور ہیں۔

            ============

            ساتھ ساتھ ایک اور حدیث بھی ہے مسند احمد میں

            حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ النُّطْفَةَ تَكُونُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا عَلَى حَالِهَا لَا تَغَيَّرُ فَإِذَا مَضَتْ الْأَرْبَعُونَ صَارَتْ عَلَقَةً ثُمَّ مُضْغَةً كَذَلِكَ ثُمَّ عِظَامًا كَذَلِكَ فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُسَوِّيَ خَلْقَهُ بَعَثَ إِلَيْهَا مَلَكًا فَيَقُولُ الْمَلَكُ الَّذِي يَلِيهِ أَيْ رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ أَقَصِيرٌ أَمْ طَوِيلٌ أَنَاقِصٌ أَمْ زَائِدٌ قُوتُهُ وَأَجَلُهُ أَصَحِيحٌ أَمْ سَقِيمٌ قَالَ فَيَكْتُبُ ذَلِكَ كُلَّهُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذَنْ وَقَدْ فُرِغَ مِنْ هَذَا كُلِّهِ قَالَ اعْمَلُوا فَكُلٌّ سَيُوَجَّهُ لِمَا خُلِقَ لَهُ

            مسند احمد:جلد دوم:حدیث نمبر 1632 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 16 متفق علیہ 8

            حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ماں کے رحم میں چالیس دن تک تو نطفہ اپنی حالت پر رہتا ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، جب چالیس دن گذر جاتے ہیں تو وہ جما ہوا خون بن جاتا ہے ، چالیس دن بعد وہ لوتھڑا بن جاتا ہے ، اسی طرح چالیس دن بعد اس پر ہڈیاں چڑھائی جاتی ہیں، پھر جب اللہ کا ارادہ ہوتا ہے کہ وہ اس کی شکل و صورت برابر کر دے تو اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے، چنانچہ اس خدمت پر مقرر فرشتہ اللہ سے پوچھتا ہے کہ پروردگار! یہ مذکر ہوگا یا مؤ نث! بدبخت ہوگا یا خوش بخت؟ ٹھگنا ہوگا یا لمبے قد کا؟ ناقص الخلقت ہوگا یا زائد؟ اس کی روزی کیا ہوگی اور اس کی مدت عمر کتنی ہوگی؟ اور یہ تندرست ہوگا یا بیمار؟ یہ سب چیزیں لکھ لی جاتی ہیں، یہ سن کر لوگوں میں سے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) جب یہ ساری چیزیں لکھی جاچکی ہیں تو پھر عمل کا کیا فائدہ؟ فرمایا تم عمل کرتے رہو، کیونکہ ہر شخص کو اسی کام کی طرف متوجہ کیا جائے گا جس کے لئے اس کی پیدائش ہوئی ہے۔

            یہ زید بن وہب کی بیان کردہ روایت کی طرح ہے کیا اس میں عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ضعیف ہے یا یہ روایت صحیح ہے

          • Islamic-Belief says:

            اس کا جواب دیا جا چکا ہے
            http://www.islamic-belief.net/q-a/#comment-12118

            اپ اس کو غور سے پڑھیں
            ———-

            صحیح مسلم : حدثني ابو الطاهر احمد بن عمرو بن سرح ، اخبرنا ابن وهب ، اخبرني عمرو بن الحارث ، عن ابي الزبير المكي ، ان عامر بن واثلة حدثه ، انه سمع عبد الله بن مسعود…. جب نطفے پر بیالیس راتیں گزر جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے

            صحیح مسلم : حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير ، وزهير بن حرب ، واللفظ لابن نمير، ‏‏‏‏‏‏قالا:‏‏‏‏ حدثنا سفيان بن عيينة ، عن عمرو بن دينار ، عن ابي الطفيل ، عن حذيفة بن اسيد…. رشتہ نطفے کے پاس جاتا ہے، جب وہ بچہ دانی میں جم جاتا ہے چالیس یا پینتالیس دن کے بعد

            ….صحیح مسلم : حدثنا عبد الوارث بن عبد الصمد ، حدثني ابي ، حدثنا ربيعة بن كلثوم ، حدثني ابي كلثوم ، عن ابي الطفيل ، عن حذيفة بن اسيد الغفاري فرشتہ اللہ کے حکم سے چالیس راتوں سے کچھ زیادہ گزرنے پر

            یہ سب صحیح ہیں لیکن زید بن وھب کی سند سے ہے ١٢٠ دن جو صحیح نہیں ہے

            اب ایک متضاد روایت جو صحیح بخاری میں ابن مسعود سے مروی ہے جس کے مطابق ١٢٠ دن بعد یعنی ٤ ماہ بعد روح اتی ہے
            حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ المَصْدُوقُ، قَالَ: ” إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ مَلَكًا فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، وَيُقَالُ لَهُ: اكْتُبْ عَمَلَهُ، وَرِزْقَهُ، وَأَجَلَهُ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ، فَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْكُمْ لَيَعْمَلُ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الجَنَّةِ إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ كِتَابُهُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَيَعْمَلُ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الجَنَّةِ ”

            تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں مکمل کی جاتی ہے۔ چالیس دن تک نطفہ رہتاہے پھراتنے ہی وقت تک منجمد خون کا لوتھڑارہتا ہے پھر اتنے ہی روز تک گوشت کا لوتھڑا رہتاہے اس کے بعد اللہ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے کہ اس کا عمل ‘اس کا رزق اوراس کی عمر لکھ دے اوریہ بھی لکھ دے کہ بدبخت ہے یا نیک بخت ،اس کے بعد اس میں روح پھونک دی جاتی ہے ….”(صحیح بخاری باب بدء الخلق ۔صحیح مسلم باب القدر)

  43. anum shoukat says:

    جنہوں نے سورت المائدہ کا ظاہر لیا ہے تو آپکے نزدیک غلطی پر ہیں یہاں کفر دون کفر ہی مراد ہے؟؟؟

    • Islamic-Belief says:

      اپ نے کہا
      جنہوں نے سورت المائدہ کا ظاہر لیا ہے تو آپکے نزدیک غلطی پر ہیں

      ======
      ایسا میں نے کہاں لکھا ہے کہ یہ میری رائے ہے

  44. Aysha butt says:

    Note: 2 Mulla Ali Qari Hanafi said:
    ومنه قوله اول ما خلق اللّه نورى وفى رواية روحى ومعناهما واحد فان الارواح نورانية اى اول ما خلق اللّه من الارواح روحى

    “The First thing which Allah created was my Nur” and It has also come in another report that It was his “ruh” and both of them “have same meaning because spirits are Noorani. This hadith means Allah created my Soul before all the souls. [Mirqaat alMafateeh]

    as Allah says in Surah al-Araaf Verse 172 “And (remember) when your Lord brought forth from the Children of Adam, from their loins, their seed and made them testify as to themselves (saying): “Am I not your Lord” They said: “Yes! We testify,” lest you should say on the Day of Resurrection: “Verily, we were unaware of this.

    Yeh sahib ne qurani dalil se kha k roh nur hai

    • Islamic-Belief says:

      یہ سب فلسفیانہ کلام ہے – ادھر ادھر کی ملا کر بات کی گئی ہے
      یہ وہی مصنف عبد الرزاق والی روایت ہے جو جابر رضی الله عنہ سے منسوب کی گئی ہے کہ نور محمد کو خلق کیا اور پھر قرآن میں ہے ارواح کو خلق کیا گویا تمام مخلوق کی روحیں نور محمدی سے نکلیں
      جب مصدر ہی مشکوک ہو تو اس پر عمارت قائم نہیں کی جا سکتی

      مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح
      المؤلف: علي بن (سلطان) محمد، أبو الحسن نور الدين الملا الهروي القاري (المتوفى: 1014هـ)
      میں اس آیت کو ملا کر یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ روحیں نوری ہیں

  45. Aysha butt says:

    Hazrat umer k dor mai bachay khail rahay thay to aik paadri k paas bachuu k khelnay wali cheez yani Baal gir gai
    Padri nay Baal b wapis nahi ki aur rasool saw ki gustakhi KR di
    Bachay unhi dandu say us ko ktl KR dia
    Yay Bahrain ka wakia hai
    Hazrat umer ki adalat mai yay mukadma pesh hua
    Makadmay k faislay mai hazrat umer nay kaha
    Baray to baray hamaray bachu ka b jawab nahi aur pir kaha umer ki adaalat mai gustakh e rasool padri k khoon ki koi kemat nahi
    Waqia sahih hai kia

  46. anum shoukat says:

    مستدرک الحاکم کی روایت ہے
    أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: إِنَّهُ ” لَيْسَ بِالْكُفْرِ الَّذِي يَذْهَبُونَ إِلَيْهِ إِنَّهُ لَيْسَ كُفْرًا يَنْقِلُ عَنِ الْمِلَّةِ {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: 44] كُفْرٌ دُونَ كُفْرٍ
    ابن عباس رضی الله عنہ نے کہا : جو اس طرف گئے (اغلبا خوارج مراد ہیں) یہ کفر نہیں- یہ کفر نہیں جو ان کو ملت سے نکالا جائے
    اور وہ جو الله کے نازل کردہ حکم کے مطابق حکم نہ کریں وہ کافر ہیں
    کفر (امیر)، کفر(باللہ) سے الگ ہے

    سفیان ثوری کی تفسیر کے مطابق ابن عباس اس آیت پر کہتے
    قال: هي كفره، وليس كمن كفر بالله واليوم الآخر
    یہ انکار تو ہے لیکن الله اور یوم آخرت کے انکار جیسا نہیں ہے

    تفسیر عبد الرزاق میں ہے
    عبد الرزاق في “تفسيره” (1 / 191) عن معمر، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سئل ابن عباس عن قوله: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ الله فأولئك هم الكافرون} ، قال: هي كفر، قال ابن طاوس: وليس كمن كفر بالله وملائكته وكتبه ورسله.
    ابن عباس سے اس آیت پر سوال ہوا کہا یہ کفر ہے- ابن طاوس نے کہا لیکن الله اور اس کی کتابوں اور فرشتوں کا کفر کرنے جیسا نہیں ہے

    ان حوالوں سے مجھے یہی سمجھ آیا یے کہ یہاں ْ آپکے نزدیک کفر دون کفر ہے پلیز آپ اپنی رائے بتا دیجیے دوسری بات جب ابن عباس کا قول موجود ہے کہ یہاں کفر دون کفر ہی مراد ہے تو پھر ہم کفر اکبر کیسے لے سکتے ہیں؟؟؟

    • Islamic-Belief says:

      ان آیات کا سیاق و سباق اہل کتاب کے حوالے سے ہے کہ وہ عقیدہ وہ نہیں رکھتے جو توریت و انجیل کا ہے اس کا حکم بیان نہیں کرتے یعنی توحید کے معاملے میں
      اور جو کتاب الله کے مطابق حکم نہ کرے یعنی عقیدہ نہ دے وہ کافر ہے
      اسی طرح وہ حکم نہیں کرتے جو ان کی کتاب میں ہے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ وغیرہ
      یہ حکم عام ہے – مسلمانوں پر بھی ہے

      ——-
      سوال کا جواب ابن عباس کے حوالے سے ہے کہ ان کے نزدیک ان آیات کا استعمال خوارج پر نہیں کیا جائے گا جو خلیفہ امیر علی کو نہیں مان رہے تھے اور خوراج کے نزدیک اصحاب رسول نے وہ حکم نہیں کیا جو الله کا تھا جس کی بنا پر علی حق پر نہیں رہے تھے وہ کہتے کہ معاویہ باغی ہے اس سے جنگ جاری رکھی جائے جبکہ علی نے اپنے اور معاویہ کے درمیان ایک فیصل مقرر کیا- خوارج نے کہا یہ تو غیر الله کا حکم لیا جا رہا ہے جو خلاف قرآن ہے

      اس پر ابن عباس نے ان کو آیات سنائیں کہ الله کا حکم ہے کہ

      يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُم} [المائدة: 95] ، وبقوله: {فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا} [النساء: 35]
      عدل والا ان میں حکم کرے
      اور
      اپنے اہل میں حکم کرنے والا کرو

      یعنی یہاں غیر الله کا حکم لینے کا الله نے حکم کیا ہے – ان دو آیات کا تعلق معاملات سے ہے – لہذا یہاں پر سورہ مائدہ کی آیات نہیں لگیں گی اگر معاویہ کو یا کسی صحابی کو فیصلہ کرنے والا بنا دیا جائے

      اس تناظر میں ابن عباس نے ان آیات کی تفسیر کی ہے کہ معاملات میں سورہ مائدہ کی لم یحکم بما انزل الله والی آیات نہیں لگے گی

      اصحاب رسول نے خوارج کو کافر نہیں کہا جبکہ خوارج کے نزدیک اصحاب رسول گمراہ ہو چکے تھے
      یہاں تک کہ ابن زبیر نے اپنی خلافت کے دور میں خوراج کو حج کرنے دیا ہے اور ابن عباس نے ان کو شاگرد بھی بنایا ہے اور خود خوارج نے اپنے متشدد موقف سے بھی رجوع کیا تھا
      http://www.islamic-belief.net/masalik/خوارج/
      ========

      صحیح مسلم میں خوارج کے امیر نجدہ بن عامر حروری کے بارے میں حدیث ہے

      حديث:189
      و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ کَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ الْحَرُورِيُّ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ هَلْ يُقْسَمُ لَهُمَا وَعَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَعَنْ الْيَتِيمِ مَتَی يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ وَعَنْ ذَوِي الْقُرْبَی مَنْ هُمْ فَقَالَ لِيَزِيدَ اکْتُبْ إِلَيْهِ فَلَوْلَا أَنْ يَقَعَ فِي أُحْمُوقَةٍ مَا کَتَبْتُ إِلَيْهِ اکْتُبْ إِنَّکَ کَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ هَلْ يُقْسَمُ لَهُمَا شَيْئٌ وَإِنَّهُ لَيْسَ لَهُمَا شَيْئٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْهُمْ وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَی مِنْ الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ الْيَتِيمِ مَتَی يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيُتْمِ وَإِنَّهُ لَا يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيُتْمِ حَتَّی يَبْلُغَ وَيُؤْنَسَ مِنْهُ رُشْدٌ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ ذَوِي الْقُرْبَی مَنْ هُمْ وَإِنَّا زَعَمْنَا أَنَّا هُمْ فَأَبَی ذَلِکَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا
      ترجمہ : ابن ابی عمر، سفیان، اسماعیل بن امیہ، سعید مقبری، یزید بن ہرمز، حضرت یزید بن ہرمز (رض) سے روایت ہے کہ نجدہ بن عامر حروری نے حضرت ابن عباس (رض) سے غلام اور عورت کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا کہ اگر وہ دونوں مال غنیمت کی تقسیم کے وقت موجود ہوں تو کیا انہیں حصہ دیا جائے گا اور بچوں کے قتل کے بارے میں اور یتیم کے بارے میں پوچھا کہ اس کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے اور ذوی القربی کے بارے میں کہ وہ کون ہے تو ابن عباس (رض) نے یزید سے کہا اس کی طرف لکھو اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ وہ حماقت میں واقع ہوجائے گا تو اس کا جواب نہ لکھتا لکھو تو نے عورت اور غلام کے بارے میں مجھ سے پوچھنے کے لئے لکھا کہ اگر وہ مال غنیمت کی تقسیم کے وقت موجود ہوں تو کیا انہیں بھی کچھ ملے گا ان کے لئے سوائے عطیہ کے کوئی حصہ نہیں ہے اور تو نے مجھ سے بچوں کے قتل کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں قتل نہیں کیا اور تو بھی انہیں قتل نہ کر سوائے اس کے کہ تجھے وہ علم ہوجائے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی (حضرت خضر (علیہ السلام) کو اس بچے کے بارے میں علم ہوگیا تھا جنہیں انہوں نے قتل کیا اور تو نے مجھ سے یتیم کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا کہ یتیم سے یتیمی کب ختم ہوتی ہے یتیم سے یتیمی کا نام اس کے بالغ ہونے تک ختم نہیں ہوتا اور سمجھ کے آثار کے نمودار ہونے تک اور تو نے مجھ سے ذوالقربی کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا کہ وہ کون ہیں ہمارا خیال تھا کہ وہ ہم ہیں لیکن ہماری قوم نے ہمارے بارے میں اس بات کا انکار کردیا۔

      اس روایت میں یہ نہیں ہے کہ ابن عباس نے کہا ہو تم خارجی کافر جہنم کے کتے میں تم کو اسلام کے حوالے سے سوال کا جواب کیوں دوں ہم کو قتل کر کے تم لوگ مرتد ہو چکے ہو وغیرہ وغیرہ
      اس سے معلوم ہوا کہ خوارج کو کافر نہیں سمجھا جاتا تھا جیسا کہ آجکل پروپیگنڈا کیا جاتا ہے

      نجدة بن عامر الحَروري الحنفي من بني حنيفة من بكر بن وائل، ولد سنة (36) هـ، وقتل سنة (69) هـ رئیس خوارج ہے
      =======
      مثال
      اگر کوئی شخص الله کے حکم کو پسند نہ کرے مثلا شراب پینا پسند کرے اور کہے کہ خواہ ما خواہ الله نے اس کو حرام کیا تو یہ کفر ہے اس سے یہ شخص مرتد ہو جائے گا
      اگر کہے شراب حرام ہے لیکن پیتا ہوں تو یہ عاصی گناہ گار ہے کافر نہیں – لیکن محدثین کی ایک جماعت کہتی ہے یہ بھی کافر ہے
      http://www.islamic-belief.net/کیا-ایمان-میں-کمی-و-زیادتی-ہوتی-ہے؟

      جو یہود و نصرانی سے دوستی کرے وہ بھی بعض لوگوں کے نزدیک کافر ہے مثلا جہادی تنظیموں کا یہی موقف ہے اور اسی بنا پر معصوم لوگوں کا قتل ان کے نزدیک حلال ہے کہ الله کے حکم کے خلاف کام ہو لیکن جو نہ بولے وہ کافر

      یعنی ان آیات کو اپنے مقصد و مدعا کے تحت لوگ بغیر سوچے سمجھے لگا دیتے ہیں

  47. anum shoukat says:

    Sahih Muslim Hadees # 6708

    حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ

    ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روحیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والی جماعتیں ہیں ۔ ان میں سے جو ایک دوسرے ( کی ایک جیسی صفات ) سے آگاہ ہو گئیں ان میں یکجائی ( الفت ) ہو گئی اور ( صفات کے اختلاف کی بنا پر ) جو ایک دوسرے سے گریزاں رہیں وہ باہم مختلف ہو گئیں ۔ ”

    یہ دنیا میں آنے سے پہلے و الی روحیں ہیں؟؟

    Sahih Muslim Hadees # 6649

    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا صَوَّرَ اللَّهُ آدَمَ فِي الْجَنَّةِ تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُكَهُ فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ يَنْظُرُ مَا هُوَ فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خُلِقَ خَلْقًا لَا يَتَمَالَكُ ُ

    یونس بن محمد نے حماد بن سلمہ سے ، انہوں نے ثابت سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت بنا لی تو جب تک چاہا ان ( کے جسد ) کو وہاں رکھا ۔ ابلیس اس کے اردگرد گھوم کر دیکھنے لگا کہ وہ کیسا ہے ۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ ( جسم ) اندر سے کھوکھلا ہے تو اس نے جان لیا کہ اسے اس طرح پیدا کیا گیا کہ یہ خود پر قابو نہیں رکھ سکتا ۔ ”

    اس حدیث سے کیا یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان جزباتی ہے؟؟
    کیا ابلیس شیطان بننے سے پہلے جنت میں ہی تھا؟
    فرشتوں کو سجدہ جنت میں ہی کروایا تھا اللہ ننے؟؟

    ابلیس کو کیسے پتا چلا کہ کھوکھلا جسم ہے تو یہ اپنے اوپر قابو نہیں رکھ پائے گا؟
    شیطان ہماری رگوں میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اسکا کیا مطلب ہے میرے خیال میں اسکا جسم ہمارے جسم میں تو نہیں گردش کرتا بلکہ وہ وسوسے خون کی گردش کی طرح ڈالتا ہے کیا یہ فہم صحیح ہے؟؟

    • Islamic-Belief says:

      ابلیس جنت میں ہی تھا قرآن میں ہے
      قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ
      http://quran.ksu.edu.sa/tafseer/tabary/sura38-aya77.html
      نكل یہاں سے تو مردود ہے

      ——-
      ابلیس جنت میں تھا آدم کی تخلیق کا اس کو علم ہو چکا تھا کیونکہ اس کو فرشتوں کے ساتھ مقام ملا تھا اگرچہ جن تھا
      اور فرشتوں میں آدم کے حوالے سے بحث ہو رہی تھی کہ یہ نئی مخلوق قتل و فساد کرے گی
      اور الله کا حکم آ چکا تھا کہ جب میں مکمل کر لو تو سجدہ کرنا
      لہذا ابلیس ذہنی آزمائش سے گزر رہا تھا اس کو اپنا مقام کم ہوتا معلوم ہو رہا تھا اور آدم کے پتلے کے چکر لگا رہا تھا کہ جان سکے کیا آدم یا ابن آدم کر سکے گا کیا نہیں
      تاکہ وقت انے پر اپنا موقف رکھے کہ وہ افضل ہے آدم نہیں
      واللہ اعلم
      ———
      ابلیس کو اس وقت بہت علم تھا وہ جنت میں تھا تو ظاہر ہے اس کو عالم بالا کا معلوم تھا
      ——
      ⇓ کیا آسیب چڑھتا ہے؟ کیا شیطان انسان میں دوڑتا ہے
      http://www.islamic-belief.net/q-a/جنات/

  48. وجاہت says:

    آپ نے لکھا کہ

    امام يعقوب الفسوي رد کرتے اور اس کی روایات کا خلل کہتے – علی رضی الله عنہ پر بھی موصوف نے ہاتھ صاف کیا اور اس کو مسلم نے صحیح میں روایت 2071 بیان کر دیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے علی (رضی الله عنہ) کو ایک چادر دی اور وہ علی رضی الله عنہ نے اوڑھ لی اور رسول الله کے پاس گئے جس پر اپ صلی الله علیہ وسلم کے چہرے پر غضب آیا اور فرمایا کہ فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي اپنی عورتوں میں اس کو بانٹ دو- یعنی چادر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فاطمہ رضی الله عنہا یا علی کی لونڈیوں کے لئے دی تھی لیکن علی اس قدر معصوم تھے یہ سب سمجھ نہ سکے اور ایسی زنانہ چادر اوڑھ بھی لی- حیرت ہے کہ امام مسلم نے اس کو صحیح میں روایت بھی کر دیا

    =========
    دوسری طرف صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2024 کے مطابق عمر نے بھی ریشم پہنا

    حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحُلَّةِ حَرِيرٍ أَوْ سِيَرَائَ فَرَآهَا عَلَيْهِ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أُرْسِلْ بِهَا إِلَيْکَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْکَ لِتَسْتَمْتِعَ بِهَا يَعْنِي تَبِيعَهَا

    آدم، شعبہ، ابوبکر بن حفص، سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کو ایک ریشمی جوڑا بھیجا آپ نے حضرت عمر (رض) کو پہنتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں پہننے کے لئے نہیں بھیجا تھا، اس کو وہی شخص پہنتا ہے، جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں، میں نے صرف اس لئے بھیجا تھا کہ اس کو بیچ کر فائدہ اٹھاؤ۔

    مسند احمد میں یہی بات اسامہ رضی اللہ عنہ کے لئے کی گئی اور علی کے لئے بیان کی گئی ہے

    مسند احمد:جلد سوم:حدیث نمبر 522 حدیث مرفوع مکررات 56 متفق علیہ 27

    حدثنا إسحاق بن سليمان وعبد الله بن الحارث قالا حدثنا حنظلة سمعت سالما يقول سمعت عبد الله بن عمر يقول إن عمر بن الخطاب أتى النبي (صلی اللہ علیہ وسلم) بحلة إستبرق فقال يا رسول الله لو اشتريت هذه الحلة فتلبسها إذا قدم عليك وفود الناس فقال إنما يلبس هذا من لا خلاق له ثم أتي النبي (صلی اللہ علیہ وسلم) بحلل ثلاث فبعث إلى عمر بحلة وإلى علي بحلة وإلى أسامة بن زيد بحلة فأتى عمر بحلته النبي (صلی اللہ علیہ وسلم) فقال يا رسول الله بعثت إلي بهذه وقد سمعتك قلت فيها ما قلت قال إنما بعثت بها إليك لتبيعها أو تشققها لأهلك خمرا قال إسحاق في حديثه وأتاه أسامة وعليه الحلة فقال إني لم أبعث بها إليك لتلبسها إنما بعثت بها إليك لتبيعها ما أدري أقال لأسامة تشققها خمرا أم لا قال عبد الله بن الحارث في حديثه أنه سمع سالم بن عبد الله يقول سمعت عبد الله بن عمر يقول وجد عمر فذكر معناه حدثنا عبد الله بن الحارث حدثني حنظلة عن نافع عن ابن عمر قال وأتاه أسامة وقد لبسها فنظر إليه رسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم) فقال أنت كسوتني قال شققها بين نساك خمرا أو اقض بها حاجتك

    حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی جوڑا فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کہنے لگے کہ اگر آپ اسے خرید لیتے تو وفود کے سامنے پہن لیا کرتے؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو چنددن بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں کہیں سے چند ریشمی حلے آئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان میں سے ایک جوڑا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بھجوادیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ آپ نے خود ہی تو اس کے متعلق وہ بات فرمائی تھی جو میں نے سنی تھی اور اب آپ ہی نے مجھے یہ ریشمی جوڑا بھیج دیا؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا میں نے تمہیں یہ اس لئے بھجوایا ہے کہ تم اسے فروخت کرکے اس کی قیمت اپنے استعمال میں لے آؤ یا اپنے گھروالوں کو اس کے دوپٹے بنادو۔ اسی طرح حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے وہ ریشمی جوڑا پہن رکھا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا میں نے یہ تمہیں پہننے کے لئے نہیں بھجوایا تھا میں نے تو اس لئے بھجوایا تھا کہ تم اسے فروخت کردو یہ مجھے معلوم نہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا یا نہیں کہ اپنے گھروالوں کو اس کے دوپٹے بنادو۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں ریشمی لباس پہن کر آئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے انہیں دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہی نے تو مجھے پہنایاہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا اسے پھاڑ کر اپنی عورتوں کے درمیان دوپٹے تقسیم کردو یا اپنی ضرورت پوری کر لو۔

    صحیح مسلم 2071 میں ہے علی نے بھی یہی کام کیا ریشم پہنا

    حدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا عبد الرحمن يعني ابن مهدي ، حدثنا شعبة ، عن ابي عون ، قال:‏‏‏‏ سمعت ابا صالح يحدث، ‏‏‏‏‏‏عن علي ، قال:‏‏‏‏ اهديت لرسول الله صلى الله عليه وسلم حلة سيراء، ‏‏‏‏‏‏فبعث بها إلي فلبستها، ‏‏‏‏‏‏فعرفت الغضب في وجهه، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ ” إني لم ابعث بها إليك لتلبسها إنما بعثت بها إليك لتشققها خمرا بين النساء ”

    امیرالمؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ریشمی جوڑا آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے بھیج دیا۔ میں نے اس کو پہنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے اس لیے نہیں بھیجا کہ تو پہنے بلکہ اس لیے بھیجا ہے کہ پھاڑ کر اپنی عورتوں کے سربندھن بنا دے۔“

    ———–

    ان احادیث میں کون ہے جس کی روایات میں خلل ہے – یہ لوگ بھی یہی بیان کر رہے ہیں جو زید بن وہب کر رہا ہے

    • Islamic-Belief says:

      روایات سے معلوم ہوا کہ رسول الله نے ریشم پہنے سے منع کیا لیکن تین جلیل القدر اصحاب نے اس کو پہنا عمر نے اسامہ نے اور علی نے – لیکن علی کے حوالے سے روایات میں اضطراب و خلل ہے

      مسند احمد:جلد سوم:حدیث نمبر 1840 میں ہے
      نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان میں سے ایک جوڑا حضرت علی رضی اللہ عنہ کودے دیا ایک حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کودے دیا اور ایک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا اسے پھاڑ کر اس کے دوپٹے عورتوں میں تقسیم کردو اسی اثنا میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر کہنے لگے یا رسول اللہ میں نے ریشم کے متعلق آپ کو جو فرماتے ہوئے سنا تھا وہ آپ ہی نے فرمایا تھا اور پھر آپ ہی نے مجھے یہ جوڑا بھیج دیا؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا میں نے اسے تمہارے پاس اس لئے نہیں بھیجا کہ تم اسے پہن لو بلکہ اس لئے بھیجا ہے کہ تم اسے فروخت کر لو

      صحیح مسلم میں ہے
      حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا غندر ، عن شعبة ، عن عبد الملك بن ميسرة ، عن زيد بن وهب ، عن علي بن ابي طالب ، قال:‏‏‏‏ كساني رسول الله صلى الله عليه وسلم حلة سيراء، ‏‏‏‏‏‏فخرجت فيها، ‏‏‏‏‏‏” فرايت الغضب في وجهه، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فشققتها بين نسائي ”
      امیرالمومنین اسد اللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ریشمی جوڑا مجھے دیا، میں اسے پہن کر نکلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ میں پایا پھر میں نے اس کو پھاڑ کر عورتوں کو دے دیا۔

      راقم کہتا ہے صحیح مسلم میں ترجمہ غلط کیا گیا ہے ترجمہ ہے
      رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں میں تقسیم کر دو

      اضطراب اس طرح ہے کہ
      اول علی کو جب دیکھا تو کیا حکم کیا بیچنے کا یا بانٹے کا –
      أبو عون محمد بن عبيد الله بن سعيد الثقفي. نے عبد الرحمن بن قيس ، أبو صالح الحنفى الكوفى سے روایت کیا ہے کہ سربندھن بنانے کا حکم کیا اور نَافِعٌ نے ابْنِ عُمَرَ سے روایت کیا ہے کہ بیچنے کا حکم کیا اور زید بن وھب نے بیان کیا ہے کہ عورتوں میں باٹنے کا حکم کیا
      دوم علی کو کہا اپنی عورتوں میں تقسیم کر دو- کون سی عورتیں؟ ان کو تو ایک ہی بیوی تھیں اور باقی جو رشتہ دار تھیں وہ تو خود رسول الله کی رشتہ دار ہوئیں

      علی کے حوالے سے اس روایت میں خاص اضطراب پایا جاتا ہے اس کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے لیکن جب الفسوی نے کہا زید کی روایت خلل زدہ ہے تو ان کے علم میں اس کی دیگر روایات بھی ہوں گی جس کی بنا پر یہ حکم اس پر لگایا گیا ہے – زید پر جرح میں نے خود نہیں کی الفسوی کا قول بیان کیا تھا لہذا زید تو مجروح ہے – باقی یہ کام روایت میں تین اصحاب سے منسوب کیا گیا ہے جو عجیب بات ہے کہ کیا لوگ حدیثسنتے لیکن سمجھ نہ پاتے تھے کہ ریشم حرام ہے ؟ اس کے کپڑے پہن کر رسول الله کے پاس جاتے جبکہ کوئی اور نہیں جاتا تھا – آج بھی اپ کو قیمتی کپڑا ملے تو سلواتے وقت یا پہنتے وقت اپ سوچیں گے کہ ایسا کوئی اور پہنتا ہے یا نہیں –

  49. Aysha butt says:

    Ek sahib ne aj kal murawij quran khani ka saboot diya hai ap bta dein
    https://youtu.be/USatFKyQPzA

    • Islamic-Belief says:

      ٦:٣٠ منٹ

      کے بعد کہا گیا کہ ایصال ثواب جائز ہے – راقم کہتا ہے بدعت ہے کیونکہ قرآن سمجھنے کے لئے اپس میں مل بیٹھنا تو حدیث سے ثابت ہے لیکن مل کر طوطے کی طرح رسما ایصال ثواب کی محفل میں پڑھنا ثابت نہیں ہے

  50. anum shoukat says:

    آپ صلوہ میں ہاتھ کہاں تک رکھتے ہیں کلائی تک یا کہنی تک؟؟

  51. Aysha butt says:

    Ameen bil jehar pr mn ne musnaf abi shevbah ki riwayt dekhi thi k yeh kaam fitna prwar mahol mn kia jae ga sirf
    Is k elawa hafiz abdul sattar hammad ne sahih al bukhri hadith782 k teht kuch hawaly ameen bil jehr k die hai ap bta sakty hai k wo hawaly sahi b hai k nI

    • Islamic-Belief says:

      امین بالجہر کا مدعا یہ ہے کہ جس کی امین فرشتوں کی آمین جیسی ہو تو گناہ معاف ہوں گے یعنی خشوع کا ذکر ہے اس کو اس قدر بلند آواز سے کرنا کہ تمام مسجد گونج جائے ایسا دور نبوی میں نہیں ملا- صحیح بخاری میں اس کا مقصد ہے

      حدثنا عبدالله بن يوسف، قال أخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي سلمة بن ابدالرحمن أنهما أخبراه عن هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال إذا أمن الامام فأمنوا فانه من وافق تأمينه تامين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه. وقال ابن شهاب وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول آمين
      ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔ کیونکہ جس کی آمین ملائکہ کے آمین کے ساتھ ہو گئی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آمین کہتے تھے۔

      صحیح میں ایک منفرد بات بھی نقل کی گئی ہے کہ ابن زبیر کی خلافت میں امین کو بلند آواز سے کیا گیا تھا

      أَمَّنَ ابْنُ الزُّبَيْرِ وَمَنْ وَرَاءَهُ حَتَّى إِنَّ لِلْمَسْجِدِ لَلَجَّةً(صحیح البخا ری :ج1ص107بَاب جَهْرِ الْإِمَامِ بِالتَّأْمِينِ)
      ابن زبیر امین کہتے اور ان کے پیچھے لوگ حتی کہ مسجد گونجتی

      اغلبا یہ دور اس وقت کا ہے جب ابن زبیر خلیفہ تھے اور عبد الملک کا لشکر مکہ پہنچ رہا تھا-

      امام بخاری کی صحیح میں کوئی روایت نہیں جس سے ثابت ہو کہ دور نبوی میں اس طرح امین کہی گئی ہو جیسا ابن زبیر نے کیا
      ————
      میرے نزدیک صحیح ہے کہ امین اتنی بلند آواز سے امام کہے گا کہ صف اول کے لوگ سن لیں کیونکہ کسی صحیح حدیث میں عمل نبوی نہیں ملا کہ امین اس قدر زور سے کہی گئی ہو کہ مسجد گونجی ہو

      • وجاہت says:

        اس حدیث کو ضعیف کہا گیا

        حدثنا نصر بن على: أخبرنا صفوان بن عيسى أن بشر بن رافع، عن أبي عبدالله ابن عم ابي هريرة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا تلا (غير المغضوب عليهم ولا الضالين) قال : آمين – حتى يسمع من يليه من الصف الأول

        حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب غير المغضوب عليهم ولا الضالين پڑھتے تو آمین کہتے تھے کہ صف اول کے لوگ جو آپ کے قریب ہوتے آپ کی آواز سن لیتے.

        سنن ابو داؤد – ٩٣٤ – باب التامين وراء الامام

        http://islamicurdubooks.com/Sunan-Abi-Dawud/Sunan-Abi-Dauwd-.php?hadith_number=934

        • وجاہت says:

          جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 240 حدیث مرفوع مکررات 69 متفق علیہ 3

          حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقَالَ آمِينَ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَبِهِ يَقُولُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَرَوْنَ أَنَّ الرَّجُلَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّأْمِينِ وَلَا يُخْفِيهَا وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَرَوَی شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ حُجْرٍ أَبِي الْعَنْبَسِ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقَالَ آمِينَ وَخَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی و سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ حَدِيثُ سُفْيَانَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ فِي هَذَا وَأَخْطَأَ شُعْبَةُ فِي مَوَاضِعَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ عَنْ حُجْرٍ أَبِي الْعَنْبَسِ وَإِنَّمَا هُوَ حُجْرُ بْنُ عَنْبَسٍ وَيُکْنَی أَبَا السَّکَنِ وَزَادَ فِيهِ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ عَلْقَمَةَ وَإِنَّمَا هُوَ عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَقَالَ وَخَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ وَإِنَّمَا هُوَ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ حَدِيثُ سُفْيَانَ فِي هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ قَالَ وَرَوَی الْعَلَائُ بْنُ صَالِحٍ الْأَسَدِيُّ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ نَحْوَ رِوَايَةِ سُفْيَانَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْعَلَائُ بْنُ صَالِحٍ الْأَسَدِيُّ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ

          بندار محمد بن بشار، یحیی بن سعید، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، سلمہ بن کہیل، حجر بن عنبس، وائل بن حجر فرماتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ( غَيْرِالْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ) پڑھا اور آواز کو کھینچ کر آمین کہا اس باب میں حضرت علی اور ابوہریرہ (رض) بھی روایت ہے امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حدیث وائل بن حجر حسن ہے اور کئی صحابہ و تابعین اور بعد کے فقہاء کا یہی نظریہ ہے کہ آمین بلند آواز سے کہی جائے آہستہ نہ کہی جائے امام شافعی احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے شعبہ نے اس حدیث کو بواسطہ سلمہ بن کہیل حجر ابوعبنس اور علقمہ بن وائل حضرت وائل بن حجر (رض) سے روایت کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ) پڑھ کر آمین آہستہ کہی ہے امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام بخاری سے سنا وہ فرماتے تھے سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے شعبہ نے کئی جگہ خطا کی ہے حضرت ابوعنبس کہا جبکہ وہ حجر بن عنبس ہیں جن کی کنیت ابوالسکن ہے شعبہ نے سند میں علقمہ بن وائل کا ذکر کیا حالانکہ علقمہ نہیں بلکہ حضرت بن عنبس نے وائل بن حجر (رض) سے روایت کیا تیسری خطا یہ کہ انہوں نے کہا نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے آہستہ آمین کہی حالانکہ وہاں بلند آواز سے آمین کہنے کے الفاظ ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ سفیان کی حدیث اصح ہے امام ترمذی کہتے ہیں کہ علاء بن صالح اسدی نے مسلم بن کہیل سے سفیان کی حدیث کے مثل روایت کی ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ ہم سے ابوبکر محمد بن ابان نے انہوں نے عبداللہ بن نمیر سے انہوں نے علاء بن صالح اسدی انہوں نے مسلم بن کہیل سے انہوں نے حجر بن عنبس سے انہوں نے وائل بن حجر سے اور انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے سفیان کی حدیث میں مانند نقل کی ہے جو سفیان سلمہ بن کہیل سے بیان کرتے ہیں

          • Islamic-Belief says:

            آواز میں مد کرنا یعنی اس کو لمبا کر کے پڑھنا یہاں مد الصوت کے الفاظ ہیں قرآن میں بھی الفاظ پر مد ہوتا ہے تو لمبا پڑھا جاتا ہے
            بات ہو رہی ہے رفع الصوت کی کہ آواز کتنی اونچی کی جائے کسی صحیح حدیث میں اس کا ذکر نہیں اتا کہ امین مسجد النبی میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہی ہو اور مسجد گونجی ہو
            یعنی میں سمجھتا ہوں امین جھر سے کہی گئی لیکن اس قدر اونچی آواز سے نہیں جس میں تلاوت کی جاتی ہے

        • Islamic-Belief says:

          یہ حدیث ضعیف ہے

  52. وجاہت says:

    کیا ان دونوں احادیث کو ہم ضعیف کہ سکتے ہیں

    باب: آزاد شدہ غلام کو قاضی یا حاکم بنانا۔

    حدیث نمبر: 7175

    حدثنا عثمان بن صالح ، حدثنا عبد الله بن وهب ، اخبرني ابن جريج ، ان نافعا اخبره ، ان ابن عمر رضي الله عنهما ، اخبره قال : “كان سالم مولى ابي حذيفة يؤم المهاجرين الاولين ، واصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في مسجد قباء ، فيهم ابو بكر ، وعمر ، وابو سلمة ، وزيد ،وعامر بن ربيعة ”

    ´ہم سے عثمان بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں نافع نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہا کہ` ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے (آزاد کردہ غلام) سالم، مہاجر اولین کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے۔ ان اصحاب میں ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔

    حدیث نمبر: 692

    حدثنا إبراهيم بن المنذر ، قال : حدثنا انس بن عياض ، عن عبيد الله ، عن نافع ، عن بن عمر ، قال : ” لما قدم المهاجرون الاولون العصبة موضع بقباء قبل مقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم ، كان يؤمهم سالم مولى ابي حذيفة ، وكان اكثرهم قرآنا ”

    ´ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا انہوں نے عبیداللہ عمری سے، انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ` جب پہلے مہاجرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے بھی پہلے قباء کے مقام عصبہ میں پہنچے تو ان کی امامت ابوحذیفہ کے غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے۔ آپ کو قرآن مجید سب سے زیادہ یاد تھا۔

    • Islamic-Belief says:

      باب: آزاد شدہ غلام کو قاضی یا حاکم بنانا۔

      حدیث نمبر: 7175

      حدثنا عثمان بن صالح ، حدثنا عبد الله بن وهب ، اخبرني ابن جريج ، ان نافعا اخبره ، ان ابن عمر رضي الله عنهما ، اخبره قال : “كان سالم مولى ابي حذيفة يؤم المهاجرين الاولين ، واصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في مسجد قباء ، فيهم ابو بكر ، وعمر ، وابو سلمة ، وزيد ،وعامر بن ربيعة ”

      ´ہم سے عثمان بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں نافع نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہا کہ` ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے (آزاد کردہ غلام) سالم، مہاجر اولین کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے۔ ان اصحاب میں ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔

      اس حدیث میں کیا اشکال ہے ؟ اس میں یہ کب لکھا ہے کہ ہجرت مدینہ سے قبل کی بات ہے
      یہ صحیح ہے
      ——
      حدیث نمبر: 692

      حدثنا إبراهيم بن المنذر ، قال : حدثنا انس بن عياض ، عن عبيد الله ، عن نافع ، عن بن عمر ، قال : ” لما قدم المهاجرون الاولون العصبة موضع بقباء قبل مقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم ، كان يؤمهم سالم مولى ابي حذيفة ، وكان اكثرهم قرآنا ”

      ´ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا انہوں نے عبیداللہ عمری سے، انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ` جب پہلے مہاجرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے بھی پہلے قباء کے مقام عصبہ میں پہنچے تو ان کی امامت ابوحذیفہ کے غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے۔ آپ کو قرآن مجید سب سے زیادہ یاد تھا۔

      یہ صحیح نہیں اس کا متن خلاف حقیقت ہے کیونکہ جماعت سے نماز پڑھنے کا اس وقت کوئی حکم نہ تھا

      • وجاہت says:

        ============
        باب: آزاد شدہ غلام کو قاضی یا حاکم بنانا۔

        حدیث نمبر: 7175

        حدثنا عثمان بن صالح ، حدثنا عبد الله بن وهب ، اخبرني ابن جريج ، ان نافعا اخبره ، ان ابن عمر رضي الله عنهما ، اخبره قال : “كان سالم مولى ابي حذيفة يؤم المهاجرين الاولين ، واصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في مسجد قباء ، فيهم ابو بكر ، وعمر ، وابو سلمة ، وزيد ،وعامر بن ربيعة ”

        ´ہم سے عثمان بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں نافع نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہا کہ` ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے (آزاد کردہ غلام) سالم، مہاجر اولین کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے۔ ان اصحاب میں ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔

        اس حدیث میں کیا اشکال ہے ؟ اس میں یہ کب لکھا ہے کہ ہجرت مدینہ سے قبل کی بات ہے
        یہ صحیح ہے
        ========

        اوپر ترجمہ ہے

        ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے (آزاد کردہ غلام) سالم، مہاجر اولین کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے

        صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2087 حدیث مرفوع مکررات 3 متفق علیہ 2

        عثمان بن صالح ، عبداللہ بن وہب ، ابن جریج ، نافع ، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ سالم (ابو حذ یفہ کے آزاد کردہ غلام) مہاجرین اولین کی امامت قبا میں کیا کرتے تھے اس حال میں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے صحابہ موجود ہوتے تھے ان میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت ابوسلمہ اور حضرت زید اور حضرت عامر بن ربیعہ بھی ہوتے تھے۔

        http://www.hadithurdu.com/01/1-3-2087/?s=+%D9%81%D9%90%D9%8A%D9%87%D9%90%D9%85%D9%92+%D8%A3%D9%8E%D8%A8%D9%8F%D9%88+%D8%A8%D9%8E%DA%A9%D9%92%D8%B1%D9%8D+

        یہاں ترجمہ ہے کہ

        سالم (ابو حذ یفہ کے آزاد کردہ غلام) مہاجرین اولین کی امامت قبا میں کیا کرتے تھے اس حال میں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے صحابہ موجود ہوتے تھے

        یہ احادیث ضعیف ہیں – ان احادیث میں یہ کہاں لکھا گیا ہے کہ یہ ہجرت کے بعد کی ہیں

        مسجد قبا ہجرت کے بعد بنی

        http://www.hadithurdu.com/01/1-1-421/?s=+%D9%81%D9%90%D9%8A%D9%87%D9%90%D9%85%D9%92+%D8%A3%D9%8E%D8%A8%D9%8F%D9%88+%D8%A8%D9%8E%DA%A9%D9%92%D8%B1%D9%8D+

        ساتھ ساتھ یہ حدیث بھی ہے

        سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 585 حدیث موقوف مکررات 3 متفق علیہ 2

        قعنبی، انس، ابن عیاض، ہیثم بن خالد، ابن نمیر، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی آمد سے قبل مہاجرین” عصبہ” میں آئے تو ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام “سالم” لوگوں کی امامت کرتے تھے اور ان کو سب سے زیادہ قرآن یاد تھا۔ ہیثم نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ان مہاجرین میں عمر بن خطاب اور ابوسلمہ بن الاسد بھی تھے۔

        • Islamic-Belief says:

          سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 585 حدیث موقوف مکررات 3 متفق علیہ 2

          قعنبی، انس، ابن عیاض، ہیثم بن خالد، ابن نمیر، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی آمد سے قبل مہاجرین” عصبہ” میں آئے تو ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام “سالم” لوگوں کی امامت کرتے تھے اور ان کو سب سے زیادہ قرآن یاد تھا۔ ہیثم نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ان مہاجرین میں عمر بن خطاب اور ابوسلمہ بن الاسد بھی تھے۔

          یہ حدیث صحیح نہیں – باقی کی تاویل ممکن ہے
          ——–

          حدثنا عثمان بن صالح ، حدثنا عبد الله بن وهب ، اخبرني ابن جريج ، ان نافعا اخبره ، ان ابن عمر رضي الله عنهما ، اخبره قال : “كان سالم مولى ابي حذيفة يؤم المهاجرين الاولين ، واصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في مسجد قباء ، فيهم ابو بكر ، وعمر ، وابو سلمة ، وزيد ،وعامر بن ربيعة ”

          ´ہم سے عثمان بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں نافع نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہا کہ` ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے (آزاد کردہ غلام) سالم، مہاجر اولین کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے۔ ان اصحاب میں ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔

          مسجد قبا تو مسجد النبی سے پہلے سے ہے اور یہ پہلی مسجد ہے جو اسلام میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بنائی – اس کے بعد اس میں سالم امام ہوتے اور ابو بکر جب وہاں ہجرت کے بعد جاتے تو سالم کی اقتداء میں نماز پڑھتے
          ——-

          حدیث نمبر: 692

          حدثنا إبراهيم بن المنذر ، قال : حدثنا انس بن عياض ، عن عبيد الله ، عن نافع ، عن بن عمر ، قال : ” لما قدم المهاجرون الاولون العصبة موضع بقباء قبل مقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم ، كان يؤمهم سالم مولى ابي حذيفة ، وكان اكثرهم قرآنا ”

          ´ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا انہوں نے عبیداللہ عمری سے، انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ` جب پہلے مہاجرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے بھی پہلے قباء کے مقام عصبہ میں پہنچے تو ان کی امامت ابوحذیفہ کے غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے۔ آپ کو قرآن مجید سب سے زیادہ یاد تھا۔

          یہ صحیح نہیں اس کا متن خلاف حقیقت ہے کیونکہ جماعت سے نماز پڑھنے کا اس وقت کوئی حکم نہ تھا
          یہ بات کہ قبا سے قبل کسی مقام پر مسلمانوں نے مسجد بنا لی تھی یہ ممکن نہیں کیونکہ اجتماعی عبادت رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پہلے کوئی نہیں کر سکتا – مکہ میں بھی رسول الله نے کوئی اجتماعی عبادت نہیں کی

          التوضيح لشرح الجامع الصحيح از ابن مقلن میں ہے
          ، وكتب الأصيلي عليه: العصبة مهملًا غير مضبوط
          الأصيلي نے کہا العصبة اس میں مہمل ہے مضبوط نہیں ہے

          ابن رجب کا فتح الباری میں کہنا ہے
          والمراد بهذا: أَنَّهُ كَانَ يؤمهم بعد مقدم النَّبِيّ – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
          اس حدیث سے مراد ہے کہ یہ امامت کرتے جب رسول الله مدینہ آ گئے

  53. وجاہت says:

    کیا یہ صحیح ہے

    واقعہ معراج سے قبل صرف دو نمازیں تھیں، ایک سورج نکلنے سے پہلے یعنی فجر اور دوسری سورج غروب ہونے سے پہلے یعنی عصر،

    • Islamic-Belief says:

      صحیح ہے اور بعض کا کہنا ایک تیسری تہجد کے وقت تھی جس کا ذکر سورہ مزمل یا مدثر میں ہے

  54. anum shoukat says:

    غلام مصطفی میں غلام کے معنی نوکر کے بھی ہیں یعنی بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نوکر ہیں تو ایسا کہنے سے شرک کیسے ہو گا؟

    کلائی کے اور کہنی کے بیچ میں ہاتھ صلاہ میں رکھنے کی کیا دلیل ہے؟
    اور جو لوگ کہنی تک رکھتے ہیں کیا یہ عمل سنت کے خلاف ہے؟

    • Islamic-Belief says:

      کلائی کے اور کہنی کے بیچ میں ہاتھ صلاہ میں رکھنے کی دلیل ہے

      مسند البزاز میں اس کی ایک سند ہے جس میں عَاصِم بْنِ كُلَيْبٍ اپنے باپ سے اور وہ وائل بن حجر سے اس کو روایت کرتے ہیں

      حَدَّثنا مُحَمد بْنُ عَبد الْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ، قَال: حَدَّثنا بِشْر بن المُفَضَّل، قَال: حَدَّثنا عَاصِم بْنِ كُلَيْبٍ، عَن أَبيهِ، عَن وَائِلِ بْنِ حُجْر، رَضِي الله عَنْهُ، قَالَ رَمَقْتُ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم فَلَمَّا افْتَتَحَ الصَّلاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى بَلَغَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ، وَكَبَّرَ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلى الْيُسْرَى

      ایک دوسری روایت میں اسی عَاصِم بْنِ كُلَيْبٍ کی روایت پر یہ اضافہ بھی ملتا ہے کہ ہاتھ کس طرح باندھے گئے

      ثم وضع یدہ الیمنیٰ علی ظھر کفہ الیسریٰ والرسغ والساعد
      پھر آپ نے دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ ، کلائی اور بازو پر رکھا۔
      ————
      جو لوگ کہنی تک رکھتے ہیں وہ صحیح مسلم کی اس حدیث سے اس کو اخذ کرتے ہیں جس کی سند منقطع ہے
      ⇓ کیا ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھی جا سکتی ہے
      http://www.islamic-belief.net/q-a/عبادت/

      اپ کی اطلاع کے لئے خبر ہے کہ ابن زبیر رضی الله عنہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے تھے اور کسی روایت میں نہیں کہ باقی اصحاب رسول ان سے اختلاف کرتے ہوں

      مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے
      حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ قَالَ: «كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، إِذَا صَلَّى يُرْسِلُ يَدَيْهِ»
      عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ نے کہا کہ عبد الله بن زبیر جب نماز پڑھتے تو ہاتھ چھوڑ دیتے
      يَزِيْدُ بنُ إِبْرَاهِيْمَ التُّسْتَرِيُّ ثقه ہیں اور عمرو بن دينار المكى بھی ثقہ ہیں

      ——-

      غلام کے معنی عربی میں لڑکے
      boy
      کے ہیں جو خادم ہو – اردو میں غلام کا مطلب
      slave
      ہے

      عبد کے معنی عربی میں غلام
      salve
      کے ہیں
      اس وجہ سے منع کیا جاتا ہے کہ ہم عبد الله یعنی الله کے
      slave
      غلام ہیں

      الفاظ کے کھیل ہیں
      ————

      اس کو غور سے پڑھیں

      ⇓ کیا الله کے سوا کسی اور کو مولانا کہہ سکتے ہیں
      http://www.islamic-belief.net/q-a/متفرق/

  55. Aysha butt says:

    Surah infal.ki ayat .. Allah insan or us k dil k darmyn hail hai ka kya mutlb hai

    • Islamic-Belief says:

      الله انسان کے دل کا حال جانتا ہے یہ مطلب ہے – یہ مطلب نہیں کہ ہم سب میں الله تعالی حلول کیے ہوئے ہے

  56. Aysha butt says:

    Hazrat umr r.a ka darya e neel ko ruqa likha .. Kia waqia hai

  57. وجاہت says:

    تهذيب الكمال في أسماء الرجال میں ہے کہ امام يَحْيَى بن مَعِين کہتے ہیں کہ

    وَقَال الحسن بن القاسم بن دحيم الدمشقي، عَنْ محمد بْن سُلَيْمان المنقري البَصْرِيّ: قدم علينا يَحْيَى بن مَعِين البصرة، فكتب عَن أَبِي سلمة، فَقَالَ: يا أبا سلمة إني أريد أن أذكر لك شيئا فلا تغضب، قال: هات. قال: حديث همام، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَن أَبِي بكر حديث الغار لم يروه أحد من أصحابك إنما رَوَاهُ عفان، وحبان ولم أجده فِي صدر كتابك، إنما وجدته عَلَى ظهره. قال: فتقول: ماذا قال؟ قال: تحلف لي أنك سمعته من همام. قال: ذكرت أنك كتبت عني عشرين ألفا فإن كنت عندك فيها صادقا ما ينبغي أن تكذبني فِي حديث، وإن كنت عندك كاذبا ما ينبغي أن تصدقني فيها ولا تكتب عني شيئا وترمي بها، برة بنت أبي عاصم طالق ثلاثا أن لم أكن سمعته من همام والله لا كلمتك أبدا

    http://shamela.ws/browse.php/book-3722/page-49#page-15598

    پلیز اس کا ترجمہ چاہیے
    ——-
    الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِىَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِى الْغَارِ سے مراد کون ہے

    • Islamic-Belief says:

      قرآن میں سورہ توبہ آیت ٤٠ میں ہے

      اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّـٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِىَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِى الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّـٰهَ مَعَنَا ۖ فَاَنْزَلَ اللّـٰهُ سَكِـيْنَتَهٝ عَلَيْهِ وَاَيَّدَهٝ بِجُنُـوْدٍ لَّمْ تَـرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى ۗ وَكَلِمَةُ اللّـٰهِ هِىَ الْعُلْيَا ۗ وَاللّـٰهُ عَزِيزٌ حَكِـيْـمٌ (40)
      اگر تم رسول کی مدد نہ کرو گے تو اس کی اللہ نے مدد کی ہے جس وقت اسے کافروں نے نکالا تھا کہ وہ دو میں سے دوسرا تھا جب وہ دونوں غار میں تھے جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا تو غم نہ کھا بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے، پھر اللہ نے اپنی طرف سے اس پر تسکین اتاری اور اس کی مدد کو وہ فوجیں بھیجیں جنہیں تم نے نہیں دیکھا اور کافروں کی بات کو پست کر دیا، اور بات تو اللہ ہی کی بلند ہے، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔
      ————
      اس آیت میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اکیلے ہجرت نہیں کی بلکہ ہجرت کے وقت یہ دو شخص غار میں تھے ایک ان کا ساتھی اور دوسرے رسول الله صلی الله علیہ وسلم
      اور رسول الله نے اس شخص سے کہا الله ہمارے ساتھ ہے

      اس آیت کی شرح صحیح بخاری کی حدیث سے ہوتی ہے جس کو حدیث غار بھی کہا جاتا ہے اور جس کی تخریج الصحیح میں بخاري نے ہجرت کے حوالے سے کی ہے سند ہے
      موسى بن إسماعيل، حدثنا همام، عن ثابت، عن أنس، عن أبي بكر رضي الله عنه قال: كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في الغار، فرفعت رأسي، فإذا أنا بأقدام القوم، فقلت: يا نبي الله، لو أن بعضهم طأطأ بصره رآنا. قال:” اسكت يا أبا بكر، اثنان الله ثالثهما “.
      همام نے ثابت سے روایت کیا انہوں نے انس سے انہوں نے ابو بکر سے کہ کہا میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ غار میں تھا پس سر اٹھایا تو اوپر قوم کے قدم تھے پس میں نے کہا یا نبی الله اگر ان میں سے بعض کی نظر ہم پر پڑ گئی تو؟ رسول الله نے فرمایا چپ کرو اے ابو بکر دو (لوگ) ہوں تو تیسرا الله ہے

      پھر اس کی اور سندیں بھی دی ہیں
      محمد بن سنان، عن همام،
      اور
      عبد الله بن محمد، حدثنا حبان، عن همام
      —–
      اس کے علاوہ صحیح مسلم میں بھی حبان بن هلال، عن همام کے طرق سے ہے
      ================

      اس حدیث پر سوال ہوا لکھا ہے

      يَحْيَى بنُ مَعِيْنٍ ہمارے پاس (بصرہ) آئے اور أَبُو سَلَمَةَ مُوْسَى بنُ إِسْمَاعِيْلَ التَّبُوْذَكِيُّ سے لکھا – ابن معین نے التَّبُوْذَكِيُّ سے کہا اگر اپ ناراض نہ ہوں تو ایک چیز کا ذکر کروں؟ التَّبُوْذَكِيُّ نے کہا لاو – ابن معین نے کہا حَدِيْثُ هَمَّامٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ حَدِيْثَ الغَارِ اپ کے کسی بھی اصحاب نے ذکر نہیں کی لیکن اس کو عَفَّانُ اور حِبَّانُ بن هلال روایت کرتے ہیں اور نہ میں نے اس کو (اپ کی) کتاب کے شروع میں دیکھا بلکہ اس کے پیچھے دیکھا ؟ التَّبُوْذَكِيُّ نے کہا تو تم کہنا کیا چاھتے ہو ؟ ابن معین نے کہا اپ قسم اٹھائیں کہ اپ نے اس کو هَمَّامٍ سے سنا تھا ؟
      التَّبُوْذَكِيُّ نے ابن معین سے کہا تم نے مجھ سے ٢٠ ہزار روایات لکھی ہیں تو اگر میں تمھارے نزدیک ان میں سچا ہوں تو تم کو میری ایک حدیث کے حوالے سے تکذیب نہیں کرنی چاہیے- اور اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھے سچانہ نہ گردانو، نہ ہی کچھ لکھو بلکہ اور سب پھینک دو اور بَرَّةُ بِنْتُ أَبِي عَاصِمٍ (زوجہ التَّبُوْذَكِيُّ ) کو تین طلاق ہو جائیں اگر میں نے هَمَّامٍ سے نہ سنا ہو اور اب آئندہ مجھ سے بات نہ کرنا
      ——-
      یعنی حدیث التَّبُوْذَكِيُّ کے طرق سے بھی آئی ہے اور انہوں نے بھی اس کو هَمَّامٍ سے سنا ہے

      ==========

      شیعہ تفسیروں میں اس آیت پر عجیب و غریب تاویلات ملتی ہیں –
      بعض شیعہ کہتے ہیں رسول الله نے اکیلے ہجرت کی کوئی ساتھ نہ تھا دوسری طرف شیعہ مفسرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ابو بکر ساتھ تھے
      بعض کہتے ہیں ساتھ تھے لیکن ان کو کوئی سکون نہ ملا

      أبي جعفر محمد بن الحسن الطوسي تفسیر التبيان في تفسير القرآن میں لکھتا ہے
      وليس في الاية ما يدل على تفضيل أبي بكر، لان قوله ” ثاني اثنين ” مجرد الاخبار أن النبي صلى الله عليه واله خرج ومعه غيره، وكذلك قوله ” اذ هما في الغار ” خبر عن كونهما فيه، وقوله ” اذ يقول لصاحبه ” لامدح فيه أيضا، لان تسمية الصاحب لاتفيد فضيلة ألا ترى أن الله تعالى قال في صفة المؤمن والكافر ” قال له صاحبه وهو
      اس آیت سے ابو بکر کی فضیلت نہیں نکلتی کیونکہ اس میں ہے دو میں دوسرا ان خبروں کی وجہ سے جن میں ہے کہ رسول الله کے ساتھ ابو بکر تھا اسی طرح الله کا قول (جب وہ غار میں تھے) تو خبر ہے یہ وہاں ہو سکتا تھا اور قول (جب اس نے اپنے صاحب سے کہا) اس میں بھی تعریف نہیں کیونکہ نام نہیں لیا تو اس سے فضیلت نہیں نکلتی کیونکہ صاحب تو مومن و کافر کی صفت پر بھی اتا ہے

      ابی الحسن کے مطابق ابو بکر بھی رسول الله کے ساتھ تھے تفسير نور الثقلين میں ہے

      في تفسير العياشي عن عبد الله بن محمد الحجال قال : كنت عند ابي
      الحسن الثاني عليه السلام ومعي الحسن بن الجهم ، فقال له الحسن : انهم يحتجون علينا بقول الله
      تبارك وتعالى : ثاني اثنين اذ هما في الغار قال : وما لهم في ذلك فوالله لقد قال الله
      فأنزل الله سكينته على رسوله وما ذكره فيها بخير قال : قلت له انا : جعلت
      فداك وهكذا تقرؤنها ؟ قال : هكذا قد قرئتها

      ابي الحسن الثاني ( علي بن موسى الرضا ) نے کہا آیت میں تھا فأنزل الله سكينته على رسوله نہ کہ فَاَنْزَلَ اللّـٰهُ سَكِـيْنَتَهٝ عَلَيْهِ

      یعنی ابی الحسن کے بقول ابو بکر تو ساتھ تھے لیکن سکینت رسول الله پر آئی ابو بکر پر نہیں
      یہ ابو الحسن نے جھوٹ بولا ہے کیونکہ خود شیعہ کہتے ہیں کہ امام جعفر کے نزدیک ابی بن کعب رضی الله عنہ کی قرات سب سے صحیح تھی

      الکافي کي روايت ہے

      محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد، عن علي بن الحكم، عن عبدالله بن فرقد والمعلى بن خنيس قالا: كنا عند أبي عبدالله عليه السلام ومعنا ربيعة الرأي فذكرنا فضل القرآن فقال أبوعبدالله عليه السلام: إن كان ابن مسعود لا يقرأ على قراء تنا فهو ضال، فقال ربيعة: ضال؟ فقال: نعم ضال، ثم قال أبوعبدالله عليه السلام: أما نحن فنقرأ على قراء ة أبي
      ابو عبد الله نے کہا ان کے ساتھ (امام مالک کے استاد اہل سنت کے امام ) ربيعة الرأي تھے پس قرآن کي فضيلت کا ذکر ہوا تو ابو عبد الله نے کہا اگر ابن مسعود نے بھي وہ قرات نہيں کي جو ہم نے کي تو وہ گمراہ ہيں – ربيعة الرأي نے کہا گمراہ ؟ امام نے کہا جہاں تک ہم ہيں تو ہم ابي بن کعب کي قرات کرتے ہيں

      حاشيہ ميں محقق کہتے ہيں
      يدل على أن قراء ة ابى بن كعب أصح القراء ات عندهم عليهم السلام
      يہ دليل ہوئي کہ ابي بن کعب کي قرات امام ابو عبد الله کے نزديک سب سے صحيح قرات تھي

      دوم سکینت تو اطمینان قلب کے لئے اتی ہے اور نبی نے ابو بکر سے کہا غم نہ کرو تو ظاہر ہے اس غم کے رفع کے لئے سکینت آئی – اگر ابو بکر کا دل گھبرا رہا تھا اور ان پر سکینت نہیں آئی تو وہ مکہ سے مدینہ تک نہیں جا سکتے کیونکہ ان کو جان جانے کا ہی خطرہ رہتا – شیعوں میں انسانی فطرت سجمھنے کی افسوس ناک حد تک کمی نظر اتی ہے
      اور سکینت کیا صرف یہاں آئی ؟ قرآن میں بعد میں مدینہ میں بھی جنگوں میں سکینت کے نزول کا ذکر ہے جو ان سب پر آئی جو کفار سے جہاد کر رہے تھے
      ——

      تفسير جوامع الجامع از ابي علي الفضل بن الحسن الطبرسي میں ہے

      ثانى اثنين ) * أحد اثنين كقوله : * ( ثالث ثلثة ) * ( 3 ) ، وهما رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) وأبو بكر ،
      یہ رسول الله اور ابو بکر ہیں
      ——
      التفسير الصافي از الفيض الكاشاني میں ہے

      إذ يقول لصاحبه: وهو أبو بكر
      جب اس نے اپنے صاحب سے کہا تو یہ ابو بکر ہیں
      —–
      تفسير الميزان از الطباطبائي میں ہے

      و المراد بصاحبه هو أبو بكر للنقل القطعي.
      و قوله: “إذ يقول لصاحبه لا تحزن إن الله معنا” أي لا تحزن خوفا مما تشاهده من الوحدة و الغربة و فقد الناصر و تظاهر الأعداء و تعقيبهم إياي فإن الله سبحانه معنا ينصرني عليهم.

      نقل القطعي سے ثابت ہے کہ صاحب سے مراد ابو بکر ہیں
      ——-
      الامثل في تفسير كتابِ اللهِ المُنزَل از نَاصِر مَكارم الشِيرازي میں ہے

      وهو أبو بكر (إِذ هما في الغار) أي غار ثور، فاضطرب أبو بكر وحزن فأخذ النّبي(صلى الله عليه وآله وسلم) يسرّي عنه

      ابو بکر غار ثور میں تھے ان کو اضطراب و غم ہوا
      —-

      • وجاہت says:

        آپ نے لکھا ہے کہ

        ——–
        شیعہ تفسیروں میں اس آیت پر عجیب و غریب تاویلات ملتی ہیں –
        بعض شیعہ کہتے ہیں رسول الله نے اکیلے ہجرت کی کوئی ساتھ نہ تھا دوسری طرف شیعہ مفسرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ابو بکر ساتھ تھے
        بعض کہتے ہیں ساتھ تھے لیکن ان کو کوئی سکون نہ ملا
        ——–

        یہ عجیب وغریب تاویلات اہلسنت بھی لکھتے رہے – اور اس طرح شیعہ اور اہلسنت دونوں کی تاویلات نے دین کا بیڑا غرق کیا

        شیعہ کی تو کتب نرالی ہیں – عجیب قصے کہانیاں ہیں – انہی شیعہ راویوں نے دین کا بیڑا غرق کیا اور ہمارے اہلسنت کے محققین بھی ان کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے – اور ہم لوگ مختلف تاویلیں کرتے رھے کبھی کیا لکھتے رہے اور کبھی کیا

        • Islamic-Belief says:

          اہل سنت میں اس آیت پر میرے نزدیک سب نے کہا ہے ابو بکر ہیں
          اپ کو الگ معلوم ہو تو ذکر کریں

  58. وجاہت says:

    کیا منبر رسول حضور صلی الله علیہ وسلم نے خود بنوایا یا کسی صحابی نے بنوایا

    سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1077 حدیث مرفوع مکررات 11 متفق علیہ 7

    حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَقَدْ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِمَّا هُوَ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی فُلَانَةَ امْرَأَةٌ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ أَنْ مُرِي غُلَامَکِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا کَلَّمْتُ النَّاسَ فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَائِ الْغَابَةِ ثُمَّ جَائَ بِهَا فَأَرْسَلَتْهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَاهُنَا فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی عَلَيْهَا وَکَبَّرَ عَلَيْهَا ثُمَّ رَکَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَی فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي

    قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ بن عبدا لقاری، ابوحازم بن دینار سے روایت ہے کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی (رض) کے پاس آئے یہ لوگ منبر کے بارے میں جھگڑ رہے تھے کہ کس لکڑی کا بنا ہوا تھا انہوں نے سہل سے پوچھا انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی کا بنا ہوا تھا اور میں نے اس کو پہلے ہی دن دیکھا تھا جب وہ رکھا گیا تھا اور جب اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) تشریف فرما ہوئے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک سہل نامی عورت کے پاس کہلا بھیجا کہ تو اپنے لڑکے کو جو بڑھئی ہے حکم کر کہ وہ میرے لئے چند ایسی لکڑیاں بنا دے جس پر بیٹھ کر میں لوگوں کو خطبہ دے سکوں اس عورت نے لڑکے کو حکم دیا اس کے لڑکے نے ان لکڑیوں کو مقام غابہ کے ایک درخت سے بنایا جس کو طرفاء کہتے ہیں پھر وہ بنا کر عورت کے پاس لایا اس عورت نے وہ منبر حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس بھیج دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس پر نماز پڑھی، تکبیر کہی، رکوع کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اسی پر رہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اترے پیٹھ موڑے ہوئے اور نیچے اتر کر منبر کی جڑ میں سجدہ کیا پھر اوپر چلے گئے جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف رخ کیا اور فرمایا اے لوگو! میں نے یہ اس واسطے کیا ہے تاکہ میری پیروی کرو اور میری طرح نماز پڑھنا سیکھ لو۔

    ============

    سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1078 حدیث مرفوع مکررات 11 متفق علیہ 7

    حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَدَّنَ قَالَ لَهُ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَلَا أَتَّخِذُ لَکَ مِنْبَرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ يَجْمَعُ أَوْ يَحْمِلُ عِظَامَکَ قَالَ بَلَی فَاتَّخَذَ لَهُ مِنْبَرًا مِرْقَاتَيْنِ

    حسن بن علی، ابوعاصم، ابن ابی رواد، نافع، ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا بدن بھاری ہو گیا تو تمیم داری نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لئے ایک منبر تیار کر دوں جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا بوجھ برداشت کر لیا کرے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہاں! پس انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لئے دو سیڑھیوں والا ایک منبر بنا دیا۔

    • Islamic-Belief says:

      یہ روایت ضعیف ہے متن منکر ہے

      سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1078 حدیث مرفوع مکررات 11 متفق علیہ 7

      حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَدَّنَ قَالَ لَهُ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَلَا أَتَّخِذُ لَکَ مِنْبَرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ يَجْمَعُ أَوْ يَحْمِلُ عِظَامَکَ قَالَ بَلَی فَاتَّخَذَ لَهُ مِنْبَرًا مِرْقَاتَيْنِ

      حسن بن علی، ابوعاصم، ابن ابی رواد، نافع، ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا بدن بھاری ہو گیا تو تمیم داری نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لئے ایک منبر تیار کر دوں جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا بوجھ برداشت کر لیا کرے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہاں! پس انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لئے دو سیڑھیوں والا ایک منبر بنا دیا۔

      http://www.islamic-belief.net/wp-content/uploads/2017/08/وفات-النبی.pdf
      ص ١٤٦ اور آگے تبصرہ ہے

  59. وجاہت says:

    فتح مکّہ کے موقعہ پر حضور صلی الله علیہ وسلم کتنے دن مکہ میں ٹھہرے

    ١.

    سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1226 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 2 متفق علیہ 0

    موسی بن اسماعیل، حماد، ابراہیم بن موسی، ابن علیہ، حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ متعدد جہاد میں شرکت کی فتح مکہ کے موقع پر بھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ تھا مکہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اٹھارہ راتیں قیام کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس دوران دو رکعت ہی پڑھتے رہے۔ اور فرماتے تھے” اے مکہ والوں” تم چار پڑھو کیونکہ ہم مسافر ہیں۔

    یہاں ہے کہ اٹھارہ راتیں قیام کیا
    ============

    ٢.

    سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1229 حدیث مرفوع مکررات 14 متفق علیہ 3

    نصربن علی، ابی، شریک، اصبہانی، عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) مکہ میں سترہ دن تک رہے اور دو رکعتیں پڑھتے رہے۔

    یہاں ہے کہ سترہ دن تک ٹھہرے
    ========

    ٣.

    سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1228 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 14 متفق علیہ 3

    نفیلی، محمد بن سلمہ بن اسحاق ، عبیداللہ بن عبداللہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) فتح مکہ کے سال مکہ میں پندرہ دن مقیم رہے اور نماز قصر کرتے رہے ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ کہ اس حدیث کو بواسطہ ابن اسحاق، عبدہ بن سلیمان احمد بن خالد و ہبی اور سلمہ بن فضل نے روایت کیا ہے لیکن ان حضرات نے اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا۔

    یہاں پر ہے کہ پندرہ دن مقیم رہے

    ٤.

    سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1230 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 13 متفق علیہ 6

    موسی بن اسماعیل، مسلم بن ابراہیم، وہیب یحیی بن ابی اسحاق ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لئے نکلے اور جب تک ہم مدینہ واپس نہ آگئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے (یحیی بن ابی اسحاق) کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت انس (رض) سے سوال کیا کہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) وہاں کچھ دن ٹھہرے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں دس دن ٹھہرے تھے۔

    یہاں پر کہ دس دن ٹھہرے

    ٤.

    سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1227 حدیث مرفوع مکررات 14 متفق علیہ 3

    محمد بن علاء، عثمان بن ابی شیبہ، حفص عاصم، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سترہ راتوں تک مکہ میں قیام پذیر رہے اور قصر نماز پڑھتے رہے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ جو شخص کسی مقام پر سترہ دن تک ٹھہرے وہ قصر کرے اور جو اس سے زیادہ ٹھہرے وہ پوری نماز پڑھے ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ کہ عباد بن منصور نے بواسطہ عکرمہ حضرت عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) انیس دن تک مکہ میں ٹھہرے رہے

    یہاں پر ہے کہ انیس دن تک مکہ میں ٹھہرے

    • Islamic-Belief says:

      سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1226 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 2 متفق علیہ 0

      موسی بن اسماعیل، حماد، ابراہیم بن موسی، ابن علیہ، حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ متعدد جہاد میں شرکت کی فتح مکہ کے موقع پر بھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ تھا مکہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اٹھارہ راتیں قیام کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس دوران دو رکعت ہی پڑھتے رہے۔ اور فرماتے تھے” اے مکہ والوں” تم چار پڑھو کیونکہ ہم مسافر ہیں۔

      یہاں ہے کہ اٹھارہ راتیں قیام کیا
      ============

      ٢.

      سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1229 حدیث مرفوع مکررات 14 متفق علیہ 3

      نصربن علی، ابی، شریک، اصبہانی، عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) مکہ میں سترہ دن تک رہے اور دو رکعتیں پڑھتے رہے۔

      یہاں ہے کہ سترہ دن تک ٹھہرے
      ========
      ان دو میں تطبیق دی گئی ہے کہ
      شعیب نے کہا
      قد جمع بعض العلماء بين الروايتين باحتمال أن يكون الراوي في هذه الرواية لم يعدَّ يومي الدخول والخروج، وعدّها في رواية تسع عشرة
      انے اور جانے کا دن شامل کرو تو ١٩ بنتا ہے اور ٹھہرنے کا ١٨ بنتا ہے

      قَالَ البيهقي: وأصحها عندي: تسع عشرة، وهي التي أوردها البخاري
      بیہقی کا کہنا ہے ١٩ صحیح ہے

      ———————

      پندرہ دن والی کو شاذ کہا گیا ہے
      البتہ فتح الباری میں ہے
      أَخَذَ الثَّوْرِيُّ وَأَهْلُ الْكُوفَةِ بِرِوَايَةِ خَمْسَةَ عَشَرَ
      امام ثوری اور اہل کوفہ کا مذھب ہے کہ ١٥ دن تھے
      —–
      سترہ والی کی سند شريك بن عبد الله النخعي کی وجہ سے ضعیف ہے
      —–

      دس دن والی صحیح بخاری میں بھی ہے
      حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: ” خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ المَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى المَدِينَةِ، قُلْتُ: أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ شَيْئًا؟ قَالَ: أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا ”

      فتح الباری از ابن حجر میں ہے
      قَوْلُهُ أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا لَا يُعَارض ذَلِك حَدِيث بن عَبَّاس الْمَذْكُور لِأَن حَدِيث بن عَبَّاسٍ كَانَ فِي فَتْحِ مَكَّةَ وَحَدِيثَ أَنَسٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
      قول کہ دس دن رکے یہ حدیث ابن عباس سے متعارض نہیں کیونکہ حدیث ابن عباس کا تعلق فتح مکہ سے ہے اور حدیث انس کا تعلق حجه الوداع سے ہے

  60. وجاہت says:

    قرآن پاک میں کتنے سجدے ہیں – اور کن مقامات پر ہیں پلیز اس پر تفصیلی جواب چاہیے حوالوں کے ساتھ

  61. وجاہت says:

    درمیانی نماز کون سی ہے یہنی صلات وسطیٰ

    • Islamic-Belief says:

      اس میں اختلاف کے بعض اصحاب رسول کی تفسیر ہے فجر ہے کیونکہ دن مغرب کی نماز سے شروع ہوتا ہے اور بعض کا کہنا ہے عصر ہے، پہلی نماز فجر سے اگر لی جائے

  62. وجاہت says:

    حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم کی نماز جنازہ پڑھی یا نہیں پڑھی

    سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 1419 حدیث مرفوع مکررات 0 متفق علیہ 0

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

    محمد بن یحیی بن فارس، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، ابن سحق، عبداللہ بن ابی بکر، عمرہ بنت عبدالرحمن، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو ان کی عمر اٹھارہ ماہ (ڈیڑھ سال) تھی۔ آپ نے ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی۔

    —-

    سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 1420 حدیث مرفوع مکررات 0 متفق علیہ 0

    حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَهِيَّ قَالَ لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَقَاعِدِ قَالَ أَبُو دَاوُد قَرَأْتُ عَلَی سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ قِيلَ لَهُ حَدَّثَکُمْ ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ عَطَائٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی عَلَی ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِينَ لَيْلَةً

    ہناد بن سری، محمد بن عبید، حضرت وائل بن داؤد سے روایت ہے کہ میں نے حضرت بہی سے سنا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے صاحبزادے ابرہیم کا انتقال ہوا تو آپ نے اپنی بیٹھنے کی جگہ پر ہی تنہا ان کی نماز پڑھ لی۔ ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی علیہ کہ میں نے سعید بن یعقوب طالقانی پر پڑھا تم سے حدیث بیان کی عبداللہ بن مبارک سے بسند یعقوب بن قعقاع عطاء سے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے بیٹے ابراہیم کی نماز جنازہ پڑھی۔ اس وقت ان کی عمر ستر رات تھی
    (یعنی دو ماہ اور دس دن)

    • Islamic-Belief says:

      عطاء بن أبي رباح تابعی نے رسول الله کا عمل بیان کیا کہ انہوں نے ابراہیم جو ستر رات کے تھے ان پر نماز پڑھی
      روایت مرسل ہے
      اسی طرح شعبی تابعی نے بھی اسکو بیان کیا ہے
      عن سفيان الثوري، عن جابر، عن الشعبي، أن النبي صلي الله عليه وسلم صلَّى على ابنه إبراهيم، وهو ابنُ ستة عشر شهراً.
      یہ بھی مرسل ہے
      —-
      البتہ السنن الكبرى میں اور مسند أبو يعلى الموصلي میں اس کو مسند انس رضی الله عنہ سے روایت کیا گیا ہے
      سند ہے
      عطاء بن عجلان، عن أنس
      اس میں عطاء بن عجلان متروک ہے

      ————-
      بچوں کی نماز جنازہ پر فقہاء میں اس پر اختلاف ہے
      التوضيح لشرح الجامع الصحيح از ابن الملقن سراج الدين أبو حفص عمر بن علي بن أحمد الشافعي المصري (المتوفى: 804هـ) میں ہے

      واختلف في الصلاة عليه فصححه ابن حزم (3)، وقال أحمد: منكر جدًّا
      امام ابن حزم کے نزدیک ابراہیم کا جنازہ پڑھنے والی حدیث صحیح ہے اور امام احمد کے نزدیک سخت منکر ہے

      ——
      معالم السنن، وهو شرح سنن أبي داود از أبو سليمان حمد بن محمد بن إبراهيم بن الخطاب البستي المعروف بالخطابي (المتوفى: 388هـ) میں ہے

      أن الشمس قد خسفت يوم وفاة إبراهيم فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخسوف فاشتغل بها عن الصلاة عليه والله أعلم.
      ابراہیم کی وفات کے دن سورج کو گرہن لگا تو رسول الله اس میں مشغول ہوئے و الله اعلم

      یعنی ابراہیم کی نماز نہیں پڑھی گئی
      ——
      الطحاوي (المتوفى: 321هـ) کا کہنا ہے کہ روایات میں اختلاف ہے لہذا سنت کو دیکھا جائے جو مسلمانوں میں عمل چلا آ ہے
      فَكَانَتْ عَادَةُ الْمُسْلِمِينَ الصَّلَاةَ عَلَى أَطْفَالِهِمْ
      پس مسلمانوں کی عادت میں ہے کہ بچوں کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں

      احناف کے ہاں سنت کا مطلب عادت یا اہل حجاز کا مشہور عمل ہے جو چلا آ رہا ہو
      ——–

  63. وجاہت says:

    کیا یہ دونوں احادیث صحیح ہیں

    سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 365 حدیث مرفوع مکررات 17 متفق علیہ 10

    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَی قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنِي يَحْيَی الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وُضِعَ عَشَائُ أَحَدِکُمْ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَا يَقُومُ حَتَّی يَفْرُغَ زَادَ مُسَدَّدٌ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا وُضِعَ عَشَاؤُهُ أَوْ حَضَرَ عَشَاؤُهُ لَمْ يَقُمْ حَتَّی يَفْرُغَ وَإِنْ سَمِعَ الْإِقَامَةَ وَإِنْ سَمِعَ قِرَائَةَ الْإِمَامِ

    احمد بن حنبل، مسدد، احمد، یحیی، عبیداللہ، نافع، ابن عمر، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا رات کا کھانا (اس کے سامنے) رکھ دیا جائے اور نماز (عشاء) بھی کھڑی ہو جائے تو کھانے سے فراغت تک نہ اٹھے (نماز کے لئے) مسدد نے (جو ایک راوی ہیں اس حدیث کے) اتنا اضافہ کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) کا معمول بھی یہی تھا، کہ جب ان کے لئے رات کا کھانا رکھ دیا جاتا تھا یا ان کے سامنے لے آیا جاتا تھا تو اس سے فراغت تک اٹھتے نہیں تھے اگرچہ وہ اقامت سن لیتے تھے اور باوجودیکہ وہ امام کی قرأت بھی سن لیتے تھے۔

    اس کی تائید صحیح بخاری میں بھی ہے

    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 442 حدیث مرفوع مکررات 17 متفق علیہ 10

    معلی بن اسد، وہیب، ایوب، ابوقلابہ، انس بن مالک کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ جب رات کا کھانا آجائے اور تکبیر کہی جائے تو پہلے کھانا کھا لو اور ایوب نافع سے، نافع ابن عمر (رض) سے اور ابن عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے اسی طرح روایت کرتے ہیں اور ایوب نافع سے بواسطہ ابن عمر (رض) روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر (رض) ایک بار رات کا کھانا کھا رہے تھے، حالانکہ وہ امام کی قرأت سن رہے تھے۔

    اسناد کی بات کر رہا ہوں

    • Islamic-Belief says:

      اسناد صحیح ہیں
      سنن الکبری بیہقی میں ہے
      زَادَ مُسَدَّدٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ إِذَا وُضِعَ عَشَاؤُهُ أَوْ حَضَرَ عَشَاؤُهُ لَمْ يَقُمْ حَتَّى يَفْرُغَ، وَإِنْ سَمِعَ الْإِقَامَةَ، وَإِنْ سَمِعَ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ
      مسدد نے کہا امام احمد اگر رات کا کھانا آ جائے تو کھڑے نہ ہوتے جب تک کھانے سے فارغ نہ ہو جاتے چاہے اقامت سن رہے ہوں یا امام کی قرات

      سنن الترمذي میں ہے
      قال الترمذي: وعليه العمل عند بعض أهل العلم من أصحاب النبي – صلَّى الله عليه وسلم – منهم أبو بكر وعمر. وابن عمر، وبه يقول أحمد وإسحاق، يقولان: يبدأ بالعشاء، وان فاتته الصلاة في الجماعة.

      الترمذي کا کہنا ہے اس پرصحابہ اصحاب علم کا عمل ہے جن میں ابو بکر اور عمر اور ابن عمر ہیں اور یہی قول احمد اور اسحاق کا ہے کہتے ہیں
      رات کے کھانے سے شروع کرتے چاہے جماعت سے نماز چھوٹ جائے

  64. وجاہت says:

    آپ سے زید بن وہب کا بھی پوچھا تھا غلبان سوال کہیں آگے پیچھے ہو گیا

  65. وجاہت says:

    اس بات کی کیا حقیقت ہے – کیا یہ بات صحیح ہے

    اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اصل تو عمل ھی ھے جس پر ا نسان کو نجات. ملی گی لیکن یہ بھی حقیقت کہ مدینہ منورہ اور جنت البقیع میں دفن ھونا یقیناً ایک فضیلت ھے اور اس پر آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شفاعت کی خوشخبری ھے

    • Islamic-Belief says:

      جنت البقیع میں دفن ھونا یقیناً ایک فضیلت ھے اور اس پر آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شفاعت کی خوشخبری ھے

      اس کی کوئی دلیل نہیں

  66. Aysha butt says:

    اللہ تعالی کی رحمت

    حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص ایسا تھا جو اپنی توبہ پر کبھی ثابت قدم نہیں رہتا تھا۔جب بھی وہ توبہ کرتا،اسے توڑ دیتا یہاں تک کہ اسے اس حال میں بیس سال گزر گئے۔اللّہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ میرے اس بندے سے کہہ دو میں تجھ سے سخت ناراض ہوں۔..جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس آدمی کو اللّہ کا پیغام دیا تو وہ بہت غمگین ہُوا اور جنگلوں کی طرف نکل گیا۔ اور وہاں جا کر اس گناہ گار شخص نے ایسی خوبصورت دعا کی کہ اللہ تعالی کو دوبارہ وحی کرنا پڑی.. اس شخص نے بارگاہِ ربّ العزت میں عرض کی..اے ربّ ذوالجلال.. !”تیری رحمت کم ہو گئی یا میرے گناہوں نے تجھے دُکھ دیا؟تیری بخشش کے خزانے ختم ہو گئے یا بندّوں پر تیری نگاہِ کرم نہیں رہی؟تیرے عفوودرگزر سے کونسا گناہ بڑا ہے؟تُو کریم ہے، میں بخیل ہوں، کیا میرا بخل تیرے کرم پر غالب آ گیا ہے؟اگر تُو نے اپنے بندّوں کو اپنی رحمت سے محرومکر دیا تو وہ کس کے دروازے پر جائیں گے؟اگر تُو نے دھتکار دیا تو وہ کہاں جائیں گے؟اے ربِّ قادر و قہار! اگر تیری بخشش کم ہو گی اور میرے لیے عذاب ہی رہ گیا ہے تو تمام گناہ گاروں کا عذاب مجھے دے دے میں اُن پر اپنی جانقربان کرتا ہوں۔ “اللّہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا، جاؤ اور میرے بندّے سے کہہ دو کہ تُو نے میرے کمالِ قدرت اور عفو و درگزر کی حقیقت کو سمجھ لیا ہے۔اگر تیرے گناہوں سے زمین بھر جائےتب بھی میں بخش دوں گا۔
    مُکاشِفۃُ القلُوب =
    صفحہ 170,171
    مصنف = حضرت امام غزالی رحمتہ اللّہ
    Is it sahih

    • Islamic-Belief says:

      یہ سب کشف کا کمال ہے علم روایت میں اس کی خبر نہیں ہے – امام غزالی کے کیا کہنے تھے یہ تو اس وقت بھی موجود تھے جب معراج پر موسی اور رسول الله کا اپس میں نماز پر کلام ہوا یہاں تک کہ غزالی نے موسی پر کوئی جملہ کہا تو رسول الله کو تنبیہ کرنا پڑی اور فرمایا
      ادب یا غزالی

      یہ کشف کے کمالات ہیں

      ہمارے نزدیک یہ سب باطل ہے

  67. وجاہت says:

    صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1631 حدیث مرفوع مکررات 4 متفق علیہ 2

    حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ الْأَنْصَارِيُّ وَکَانَ کَعْبُ بْنُ مَالِکٍ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَقَالَ النَّاسُ يَا أَبَا حَسَنٍ کَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا فَأَخَذَ بِيَدِهِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ لَهُ أَنْتَ وَاللَّهِ بَعْدَ ثَلَاثٍ عَبْدُ الْعَصَا وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْفَ يُتَوَفَّی مِنْ وَجَعِهِ هَذَا إِنِّي لَأَعْرِفُ وُجُوهَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عِنْدَ الْمَوْتِ اذْهَبْ بِنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْنَسْأَلْهُ فِيمَنْ هَذَا الْأَمْرُ إِنْ کَانَ فِينَا عَلِمْنَا ذَلِکَ وَإِنْ کَانَ فِي غَيْرِنَا عَلِمْنَاهُ فَأَوْصَی بِنَا فَقَالَ عَلِيٌّ إِنَّا وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَنَاهَا لَا يُعْطِينَاهَا النَّاسُ بَعْدَهُ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أَسْأَلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

    اسحاق بشر بن شعیب بن ابی حمزہ زہری عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری اور کعب بن مالک ان تین میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول کی گئی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت علی (رض) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس سے باہر آئے تو لوگوں نے حضرت علی (رض) سے پوچھا کہ اے ابوالحسن (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کا مزاج کیسا پایا انہوں نے کہا الحمد للہ! کہ آپ اچھے ہیں حضرت عباس (رض) نے حضرت علی کا ہاتھ تھام کر کہا اللہ کی قسم! تین دن کے بعد تم لاٹھی کے غلام بنو گے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) اس بیماری میں وفات پاجائیں گے اور میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اولاد عبدالمطلب کا چہرہ موت کے قریب کیسا ہوجاتا ہے لہذا تم اور ہم آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس چلیں اور معلوم کرلیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد کون آپ کا جانشین ہوگا؟ اگر آپ بنی ہاشم کو خلافت دیں تو ٹھیک ہے اور اگر کسی دوسرے کو دیں تو پھر اس کو ہمارے ساتھ اچھے برتاؤ کی وصیت فرما دیں گے تو حضرت علی (رض) نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا، کیونکہ اگر آپ نے منع کردیا تو پھر لوگ ہم کو کبھی خلیفہ نہیں بنائیں گے لہذا میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ایسی بات معلوم نہیں کروں گا۔

    ———–

    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1218 حدیث مرفوع مکررات 4 متفق علیہ 2

    حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ کَعْبٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَقَالَ النَّاسُ يَا أَبَا حَسَنٍ کَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا فَأَخَذَ بِيَدِهِ الْعَبَّاسُ فَقَالَ أَلَا تَرَاهُ أَنْتَ وَاللَّهِ بَعْدَ الثَّلَاثِ عَبْدُ الْعَصَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأُرَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيُتَوَفَّی فِي وَجَعِهِ وَإِنِّي لَأَعْرِفُ فِي وُجُوهِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْمَوْتَ فَاذْهَبْ بِنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَسْأَلَهُ فِيمَنْ يَکُونُ الْأَمْرُ فَإِنْ کَانَ فِينَا عَلِمْنَا ذَلِکَ وَإِنْ کَانَ فِي غَيْرِنَا أَمَرْنَاهُ فَأَوْصَی بِنَا قَالَ عَلِيٌّ وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَمْنَعُنَا لَا يُعْطِينَاهَا النَّاسُ أَبَدًا وَإِنِّي لَا أَسْأَلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَدًا

    اسحاق، بشر بن شعیب، شعیب، زہری، عبداللہ بن کعب، عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت علی (رض) بن ابی طالب، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس آئے (دوسری سند) احمد بن صالح، عنبسہ، یونس ابن شہاب، عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ حضرت علی بن ابی طالب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس آپ کے مرض الموت میں جا کر واپس ہوئے تو لوگوں نے پوچھا، اے ابوا لحسن (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طبیعت صبح کو کیسی رہی انہوں نے کہا کہ الحمد اللہ اچھے ہیں (حضرت) عباس (رض) نے ان کا ہاتھ پکڑا اور کہا کیا تم نہیں دیکھتے اللہ کی قسم تین دن کے بعد تم ڈنڈے کے غلام (تابع) ہو جاؤ گے میرا خیال ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس مرض میں وفات پا جائیں گے میں بنی عبدالمطلب کے چہرے میں اسن کی موت کے آثار پہچان لیتا ہوں اس لئے میرے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں چلو تاکہ ہم آپ سے پوچھ لیں کہ خلافت کس خاندان میں ہوگی، اگر ہمارے خاندان میں رہے گی تو ہمیں یہ معلوم ہوجائے گا اور اگر ہمارے علاوہ کسی دوسرے کے ہاتھ میں ہوگی تو ہم کہیں گے کہ ہمارے لئے وصیت کیجئے حضرت علی (رض) نے کہا اللہ کی قسم اگر ہم نے آپ سے پوچھا اور آپ نے منع کردیا تو پھر لوگ ہمیں کبھی نہ دیں گے میں اس کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کبھی سوال نہ کروں گا۔

    ——-

    یہ حدیث مسند احمد میں بھی دو جگہ آئ ہے

    مسند احمد:جلد دوم:حدیث نمبر 514 حدیث مرفوع مکررات 4 متفق علیہ 2

    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مرض الوفات کے زمانے میں نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے یہاں سے باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا ابوالحسن! نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کیسے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ اب تو صبح سے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) الحمدللہ ٹھیک ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کیا تم دیکھ نہیں رہے؟ بخدا! اس بیماری سے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) (جانبر نہ ہوسکیں گے اور) وصال فرما جائیں گے، میں بنو عبدالمطلب کے چہروں پر موت کے وقت طاری ہونے والی کیفیت کو پہچانتا ہوں ، اس لئے آؤ، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس چلتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ ان کے بعدخلافت کسے ملے گی؟ اگر ہم ہی میں ہوئی تو ہمیں اس کا علم ہوجائے گا اور اگر ہمارے علاوہ کسی اور میں ہوئی تو ہم نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بات کر لیں گے تاکہ وہ ہمارے متعلق آنے والے خلیفہ کو وصیت فرما دیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم! اگر ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے اس کی درخواست کی اور نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہماری درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا تو لوگ کبھی بھی ہمیں خلافت نہیں دیں گے، اس لئے میں تو کبھی بھی ان سے درخواست نہیں کروں گا۔

    مسند احمد:جلد دوم:حدیث نمبر 1102 حدیث مرفوع مکررات 4 متفق علیہ 2

    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مرض الوفات کے زمانے میں نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے یہاں سے باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا ابو الحسن! نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کیسے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ اب تو صبح سے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) الحمدللہ ٹھیک ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کیا تم دیکھ نہیں رہے؟ بخدا! اس بیماری سے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) (جانبر نہ ہو سکیں گے) اور وصال فرما جائیں گے، میں بنو عبد المطلب کے چہروں پر موت کے وقت طاری ہونے والی کیفیت کو پہچانتا ہوں ، اس لئے آؤ، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس چلتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ ان کے بعد خلافت کسے ملے گی؟ اگر ہم ہی میں ہوئی تو ہمیں اس کا علم ہو جائے گا اور اگر ہمارے علاوہ کسی اور میں ہوئی تو ہم نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بات کر لیں گے تاکہ وہ ہمارے متعلق آنے والے خلیفہ کو وصیت فرما دیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم! اگر ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے اس کی درخواست کی اور نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہماری درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا تو لوگ کبھی بھی ہمیں خلافت نہیں دیں گے، اس لئے میں تو کبھی بھی ان سے درخواست نہیں کروں گا۔

    ========

    اب ان احادیث کے مطابق حضرت عباس رضی الله اور حضرت علی رضی الله کو خلافت کی پڑی ہوئی ہے بلکہ یہ دونوں خلافت کو غیر اخلاقی طریقے سے بھی حاصل کرنے کے لئے نظر آ رہے ہیں ٠ حضرت علی نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے خلافت کا سوال نہیں کیا صرف اس خوف سے کہ کہیں آپ انکار نہ کر دیں

    اس طرح کی سوچ کو ان حضرات کی طرف منسوب کرنا دین کی کون سی خدمات ہے

    • Islamic-Belief says:

      اپ نے کہا

      اب ان احادیث کے مطابق حضرت عباس رضی الله اور حضرت علی رضی الله کو خلافت کی پڑی ہوئی ہے بلکہ یہ دونوں خلافت کو غیر اخلاقی طریقے سے بھی حاصل کرنے کے لئے نظر آ رہے ہیں ٠ حضرت علی نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے خلافت کا سوال نہیں کیا صرف اس خوف سے کہ کہیں آپ انکار نہ کر دیں
      ——-
      خلافت کی خواہش کرنے میں کوئی برائی نہیں کوئی بھی قریشی اس وقت اس کی خواہش کر سکتا تھا کیونکہ حدیث میں اس کا حکم تھا کہ قریشی خلیفہ ہوں گے دوم وفات النبی کے اثار ظاہر ہو رہے تھے اس لئے عباس رضی الله عنہ اس حوالے سے حمتی چاہتے تھے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اگر حکم کر دیں تو عباس یا علی خلیفہ ہو سکتے ہیں
      یہ غیر اخلاقی کس طرح ہے میں نہیں سمجھ سکا- رشتہ دار اپس میں کیا اس مسئلہ پر کلام بھی نہیں کریں – اتنی پابندی ہم اہل بیت پر نہیں لگا سکتے یہ تو انسانی معاملات ہیں اور خلافت بھی اسی میں سے ہے

  68. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    صحیح بخاری ۔ جلد دوم ۔ وصیتوں کا بیان ۔ حدیث 56

    باب (نیو انٹری)

    راوی: مسدد , عبدالوارث , ابوالتیاح , انس

    بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمْ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ أَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَأَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةُ الْمَوْتِ تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلَاةِ فَيُقْسِمَانِ بِاللَّهِ إِنْ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِي بِهِ ثَمَنًا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللَّهِ إِنَّا إِذًا لَمِنْ الْآثِمِينَ فَإِنْ عُثِرَ عَلَى أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا فَآخَرَانِ يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنْ الَّذِينَ اسْتُحِقَّ عَلَيْهِمْ الْأَوْلَيَانِ فَيُقْسِمَانِ بِاللَّهِ لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَمِنْ الظَّالِمِينَ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يَأْتُوا بِالشَّهَادَةِ عَلَى وَجْهِهَا أَوْ يَخَافُوا أَنْ تُرَدَّ أَيْمَانٌ بَعْدَ أَيْمَانِهِمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاسْمَعُوا وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ الْأَوْلَيَانِ وَاحِدُهُمَا أَوْلَى وَمِنْهُ أَوْلَى بِهِ عُثِرَ أُظْهِرَ أَعْثَرْنَا أَظْهَرْنَا

    ﷲ تعالیٰ کا قول کہ اے ایمان والو جب تم میں سے کوئی مرنے لگے تو وصیت کے وقت تم میں سے یا تمہارے عزیزوں میں سے دو عادل گواہ ہوں اگر تم سفر میں ہو اور تم موت کی مویبت آ جائے تو ان دونوں کو نماز کے بعد روک لو وہ ﷲ کی قسم کھائیں اگر تمہیں شبہ ہو کہ تم اس کے بدلے میں کوئی قیمت نہیں لیں گے اگرچہ قرابت والا ہو اور ہم ﷲ کی گوہی نہیں چھپائیں گے (ایسا کریں تو) اس وقت ہم گناہگاروں میں سے ہو جائیں گے ۔ پھر اگر معلوم ہو واقعی یہ گواہ جھوٹے تھے تو دوسرے وہ گواہ کھڑے ہوں جو میت کے قریبی رشتہ دار ہوں وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں ہماری گواہی پہلے گواہوں کے مقابلہ میں زیادہ معتبر ہے اور ہم نے کوئی ناحق بات نہیں کہی ایسا کیا ہو، تو بے شک ہم گناہگار ہوں گے، یہ تدبیر ایسی ہے جس سے ٹھیک ٹھیک گواہی دینے کی زیادہ امید ہوتی ہے یا اتنا ضرور ہو گا کہ وصی یا گواہوں کو ڈر ہوگا کہ ایسا نہ ہو ان کے قسم کھانے کے بعد پھر وارثوں کو قسم دی جائے اور ﷲ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اس کا حکم سنو اور ﷲ نافرمان لوگوں کو راہ پر نہیں لگاتا اور امام بخاری کہتے ہیں کہ مجھ سے علی بن عبدﷲ نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن آدم نے ان سے ابن ابی زائد نے محمد بن قاسم سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا کہ ایک شخص قبیلہ بنی سہم کا تمیم داری اور عدی بن دباءکے ہمراہ باہر گیا، پھر سہمی ایسی جگہ جا کر مرگیا، جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب تمیم اور عدی اس کا ترکہ لائے، تو چاندی کا ایک جام جس میں سنہری نقش تھے کھو گیا، رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو حلف دے دیا اس کے بعد لوگوں نے وہ جام مکہ میں پایا، اور بیان کیا کہ ہم نے اس کو تمیم سے اور عدی سے خرید لیا ہے پھر وہ شخص میت کے رشتہ داروں میں سے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ ہماری شہادت ان دونوں شہادتوں کی بہ نسبت زیادہ قابل قبول ہے ہم گواہی دیتے ہیں کہ یہ پیالہ ہمارے عزیز کا ہے چنانچہ حضرت انس کہتے ہیں کہ یہ آیت انہیں کے حق میں نازل ہوئی یا ایھا الذین امنوا شھادة بینکم۔

    http://www.hadithurdu.com/01/1-2-56/?s=+%D8%A3%D9%8F%D8%B8%D9%92%D9%87%D9%90%D8%B1%D9%8E+%D8%A3%D9%8E%D8%B9%D9%92%D8%AB%D9%8E%D8%B1%D9%92%D9%86%D9%8E%D8%A7+%D8%A3%D9%8E%D8%B8%D9%92%D9%87%D9%8E%D8%B1%D9%92%D9%86%D9%8E%D8%A7

    • Islamic-Belief says:

      اس پر کیا اشکال ہے ؟

      • وجاہت says:

        ابو شہر یار بھائی اس پر آپ سے سوال پوچھا تھا کہ کیا یہ باب ہے یا حدیث ہے اور یہ صحیح بخاری میں کس جگہ ہے مجھے صرف یہ لنک جو میں نے پیش کر دیا – کیا آپ کو اس کا کوئی لنک ملا – کیا یہ مکتبہ شاملہ میں ہے – اس کا حوالہ چاہیے اور کیا یہ صحیح ہے

        مجھے تلاش کرنے پر یہ تین احادیث ملی ہیں

        http://mohaddis.com/View/Tarimdhi/T1/3360

        http://mohaddis.com/View/Abu-Daud/T1/3624

        اور صحیح بخاری

        http://mohaddis.com/View/Sahi-Bukhari/T1/2800

        • Islamic-Belief says:

          صحیح بخاری میں یہ پہلے باب ہے
          بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ، إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ المَوْتُ حِينَ الوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ، أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ أَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الأَرْضِ، فَأَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةُ المَوْتِ تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلاَةِ، فَيُقْسِمَانِ بِاللَّهِ إِنِ ارْتَبْتُمْ لاَ نَشْتَرِي بِهِ ثَمَنًا، وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى، وَلاَ نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللَّهِ إِنَّا إِذًا لَمِنَ الآثِمِينَ، فَإِنْ عُثِرَ عَلَى أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا، فَآخَرَانِ يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِينَ اسْتُحِقَّ عَلَيْهِمُ الأَوْلَيَانِ، فَيُقْسِمَانِ بِاللَّهِ لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا، وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ، ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يَأْتُوا بِالشَّهَادَةِ عَلَى وَجْهِهَا، أَوْ يَخَافُوا أَنْ تُرَدَّ أَيْمَانٌ بَعْدَ أَيْمَانِهِمْ، وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاسْمَعُوا وَاللَّهُ لاَ يَهْدِي القَوْمَ الفَاسِقِينَ) {الأَوْلَيَانِ} [المائدة: 107] وَاحِدُهُمَا أَوْلَى وَمِنْهُ أَوْلَى بِهِ، عُثِرَ: أُظْهِرَ {أَعْثَرْنَا} [الكهف: 21] أَظْهَرْنَا

          پھر حدیث 2780 دیا گیا ہے
          وَقَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي القَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، وَعَدِيِّ بْنِ بَدَّاءٍ، فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ، فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ، فَقَدُوا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا مِنْ ذَهَبٍ، «فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلّى الله عليه [ص:14] وسلم»، ثُمَّ وُجِدَ الجَامُ بِمَكَّةَ، فَقَالُوا: ابْتَعْنَاهُ مِنْ تَمِيمٍ وَعَدِيٍّ، فَقَامَ رَجُلاَنِ مِنْ أَوْلِيَائِهِ، فَحَلَفَا لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا، وَإِنَّ الجَامَ لِصَاحِبِهِمْ، قَالَ: وَفِيهِمْ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ المَوْتُ} [المائدة: 106]

          یہ حدیث باب کی حدیث ہے کتاب الصحیح کی وہ حدیث نہیں جس کی سند امام بخاری کی شرط پر ہو اس کی وجہ ہے کہ جب امام بخاری و قال لنا یا قال لی کہتے ہیں تو اس کی یہ وجہ بیان کی گئی ہے
          منذری کا کہنا ہے
          فقال: وقال لي علي بن عبد اللَّه -يعني ابن المديني- فذكره- وهذه عادته فيما لم يكن على شرطه، وقد تكلم علي بن المديني على هذا الحديث، وقال: لا أعرف ابن أبي القاسم، وقال: وهو حديث حسن. هذا آخر كلامه.
          وابن أبي القاسم -هذا- هو محمد بن أبي القاسم الطويل، قال يحيى بن معين: ثقة، قد كتبت عنه.
          امام بخاری نے کہا ہے : مجھ سے کہا امام علی یعنی ابن المدینی نے اور ذکر کیا اور یہ ان کی عادت ہے کہ جب روایت ان کی شرط پر نہیں ہوتی – اور امام علی نے اس حدیث پر کلام کیا ہے اور کہا ہے وہ اس میں ابن ابی القاسم کو نہیں جان سکے اور کہا حدیث حسن ہے یہ تمام کلام ہے اور ابن ابی القاسم جو ہے یہ محمد بن ابی قاسم ہے – امام ابن معین نے اس کو ثقہ کہا ہے اس سے لکھا ہے
          =========
          راقم کہتا ہے یہ روایت سندا صحیح ہے سنن ابو داود 3606 میں بھی ہے -سند کو قوی کہا گیا ہے

          حدَّثنا الحسنُ بنُ عليّ، حدَّثنا يحيى بنُ آدمَ، حدَّثنا ابنُ أبي زائدةَ، عن محمد بنِ أبي القاسم، عن عبد الملك بن سعيد بن جبير، عن أبيه
          عن ابنِ عباس، قال: خَرجَ رجلٌ من بني سهم مع تميمٍ الدَّاريِّ وعَديِّ بن بَدَّاء، فمات السَّهميُّ بأرضٍ ليس بها مسلم، فلما قدِما بتَركته، فقدوا جام فضَّة مُخَوَّصاً بالذهب، فأحلَفهما رسولُ الله – صلَّى الله عليه وسلم -، ثم وُجِدَ الجامُ بمكة، فقالوا: اشتريناه من تميمٍ وعَدِيّ، فقام رجلان مِن أولياء السَّهميِّ، فحلفا: لشهادتُنا أحقُّ من شهادتِهما وإن الجامَ
          —-
          سنن دارقطنی میں بھی ہے اور محمد بنِ أبي القاسم کا اس میں تفرد نہیں ہے اس کی دوسری سند ہے

          نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ , نا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ مُسْلِمٍ الْوَشَّاءُ , نا الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُرَنِيُّ , نا أَبُو كُدَيْنَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , [ص:299] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: كَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ , وَعَدِيُّ يَخْتَلِفَانِ إِلَى مَكَّةَ فَخَرَجَ مَعَهُمَا فَتًى مِنْ بَنِي سَهْمٍ فَتُوُفِّيَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ , فَأَوْصَى إِلَيْهِمَا فَدَفَعَا تَرِكَتَهُ إِلَى أَهْلِهِ وَحَبَسَا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ , «فَاسْتَحْلَفْهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّهِ مَا كَتَمْتُمَا وَلَا اطَّلَعْتُمَا» ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ , قَالُوا: اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ عَدِيٍّ وَتَمِيمٍ , فَجَاءَ رَجُلَانِ مِنْ وَرَثَةِ السَّهْمِيِّ فَحَلَفَا أَنَّ هَذَا الْجَامَ لِلسَّهْمِيِّ وَلَشَهَادَتُهُمَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا {وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لِمَنِ الظَّالِمِينَ} [المائدة: 107] , فَأَخَذُوا الْجَامَ وَفِيهِمْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ

          یہاں سند میں الحسن بن الحسين العرني الكوفي ہے جو ابو حاتم کہتے ہیں
          كان من رؤساء الشيعة
          شیعہ کے سرداروں میں سے ہیں

          ——-
          الإصابة في تمييز الصحابة از ابن ہجر کے مطابق
          ومات عدي بن بدّاء نصرانيا
          عدي بن بدّاء ایمان نہیں لایا نصرانی مرا
          معرفة الصحابة از المؤلف: أبو نعيم أحمد بن عبد الله بن أحمد بن إسحاق بن موسى بن مهران
          الأصبهاني (المتوفى: 430هـ) میں ہے

          كَانَ عَدِيٌّ نَصْرَانِيًّا هُوَ وَتَمِيمٌ، وَلَا يُعْرَفُ لِعَدِيٍّ إِسْلَامٌ
          عدی تمیم کا ہی نصرانی تھا اور اس کے اسلام کا نہیں جانا جاتا

          اور تمیم داری کا سن ٩ میں ایمان لانا بیان کیا جاتا ہے

  69. وجاہت says:

    کیا یہ صحیح ہے کہ امام بخاری و مسلم نے اپنی صحیحین میں جو بھی احادیث نقل کیں وہ ان سے پہلے عرب محدثین اپنے نسخوں میں نقل کر چکے تھے۔ موطا امام مالک کی تقریباً ہر حدیث بخاری و مسلم میں مسند موجود ہے، اسی طرح سے صحیفہ ہمام ابن منبہ بھی بخاری و مسلم اور دیگر صحاح ستہ کی کتب میں موجود ہے اور اسی طرح سے مسند احمد جس کے مولف عربی النسل امام احمد بن حنبل تھے اسی کی احادیث کو امام بخاری و مسلم نے اپنی کتابوں میں اپنی سند سے نقل کیا ہے۔ سو اس امت احادیث ہمیشہ سے رواج پذیر تھیں اور ان ہی کی روشنی میں صحابہؓ، تابعین اور خیر القرون کے مسلمان دینی احکام اخذ کیا کرتے تھے۔

    • Islamic-Belief says:

      موطا اور مسند احمد اور ہمام بن منبہ کی روایات ملا کر صحیح بخاری و مسلم لکھی گئی ہیں ایک حد تک صحیح ہے – ان دونوں نے وہ روایات جمع کی جو ان کتب میں ان کے نزدیک صحیح تھیں اور بہت سی صحیح سمجھی جاتی ہیں ان کو انہوں نے چھوڑ بھی دیا ہے

  70. wajahat says:

    حدثنا محمود بن غيلان حدثنا أبو يحيى الحماني قال : سمعت أبا حنيفة يقول : ما رأيت أحدا أكذب من جابر الجعفي ولا أفضل من عطاء بن أبي رباح قال أبو عيسى وسمعت الجارود يقول : سمعت وكيعا يقول لولا جابر الجعفي لكان أهل الكوفة بغير حديث ولولا حماد لكان أهل الكوفة بغير فقه

    ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    • Islamic-Belief says:

      کتاب الضعفاء الكبير از المؤلف: أبو جعفر محمد بن عمرو بن موسى بن حماد العقيلي المكي (المتوفى: 322هـ) میں ہے

      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْذَبَ مِنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ
      أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ نے امام ابو حنیفہ سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا میں نے جابر بن يزيد بن الحارث، الجعفي، أبو عبد الله، الكوفي سے زیادہ کذاب کوئی نہیں دیکھا

      ——–
      عبد الحميد بن عبد الرحمن الحماني، أبو يحيى الكوفي، لقبه بشمين کا درجہ حدیث میں صدوق کا ہے
      ابن معین نے ثقہ کہا ہے احمد نے تضعیف کی ہے
      خیال رہے کہ جابر بن يزيد بن الحارث، الجعفي، أبو عبد الله، الكوفي امام احمد کے نزدیک متروک ہے
      —–
      قال أبو عيسى وسمعت الجارود يقول : سمعت وكيعا يقول لولا جابر الجعفي لكان أهل الكوفة بغير حديث ولولا حماد لكان أهل الكوفة بغير فقه
      الجارود نے کہا میں نے وکیع کو کہتے سنا اگر جابر نہ ہوتا تو اہل کوفہ حدیث کے بغیر ہوتے اور اگر حماد نہ ہوتے تو فقہ کے بغیر

  71. anum shoukat says:

    جنگ یمامہ میں خالد بن ولید نے کیا کہا تھا یا محمدا؟

    قلیب بدر کا واقعہ مجھے اس طرح سمجھ آیا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے کہا کہ مردے نہیں سنتے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قلیب بدر کے مردوں نے سنا ہے اور یہ سننا معجزہ ہے خاص ہے عام نہیں ہے اس بات کی تصدیق چاہیے اس بارے میں کہ کیا میں نے صحیح سمجھا ہے؟؟

    • Islamic-Belief says:

      جنگ یمامہ میں اصحاب رسول کا یامحمداہ کی پکار لگانا
      http://www.islamic-belief.net/wp-content/uploads/2017/10/وسیلہ-کرنا.pdf

      روایت ضعیف ہے
      ———-
      اپ نے صحیح سمجھا ہے
      عائشہ رضی الله عنہا کے نزدیک کلام النبی جو قلیب بدر پر مردہ مشرکین سے ہوا وہ حقیقت حال کا جذباتی اظہار تھا، مردے نہیں سنتے
      ابن عمر رضی الله عنہ کے نزدیک کلام النبی جو قلیب بدر پر مردہ مشرکین سے ہوا وہ خاص واقعہ تھا اور عموم میں ابن عمر مردوں میں روح انے کے قائل نہیں تھے
      روایت میں آتا ہے کہ ابن عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے اسما رضی الله تعالیٰ عنہا سے کہا جب وہ مسجد الحرام کے صحن میں تھیں اور ابن زبیر رضی الله تعالیٰ عنہ کی لاش سولی پر تھی
      إن هذه الجثث ليست بشيء وإنما الأرواح عند الله فاتقي الله وعليك بالصبر
      بے شک یہ لاشہ کوئی شے نہیں اور بے شک ارواح الله کے پاس ہیں پس الله سے ڈریں اور اس پر صبر کریں
      تاريخ الإسلام وَوَفيات المشاهير وَالأعلام از الذهبي

  72. Naim says:

    اسلام علیکم
    لو کنت امرا ان احد یسجد احد لامرت المراة ان تسجد الزوجها
    ترمذی و قال البانی صحیح
    کیا اے رویت صحیح ہے؟؟؟؟
    جزاکم الله خیرا

  73. Aysha butt says:

    Horse halal janwar hai
    Ap kia khty ho is istadlal pr k har zabeh janwr pr sawari krna thea hai islie gora sawari ka janwer hony pr b halal hai

    • Islamic-Belief says:

      خیبر سے بہت پہلے یہ حکم قرآن میں آیا اللہ تعالى نے واضح طور پر فرمایا ہے :
      وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ [الأنعام : 119]
      اور یقینا ہم نے حرام چیزیں تمہارے لیے تفصیل سے بیان کر دی ہیں
      یعنی جنگ خیبر سے قبل حلال و حرام سے متعلق احکام دے دیے گئے تھے
      پہلے یہ ذہن میں رکھیں
      —–
      گھوڑے کے حلال ہونے کے دلائل جو دیے گئے ہیں وہ اضطراری کیفیت کے ہیں مثلا خیبر میں کھانا نہیں تھا گدھوں کو پکا دیا گیا پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کی ہنڈیا پھکوا دیں اور صحیح بخاری میں ہے جابر سے مروی ہے
      حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الحُمُرِ، وَرَخَّصَ فِي لُحُومِ الخَيْلِ
      عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ نے امام باقر ( محمد بن على بن الحسين بن على بن أبى طالب القرشى الهاشمى المدنى ، أبو جعفر الباقر) سے روایت کیا کہ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے کہا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم … نے خیبر کے دن گھوڑے کے گوشت کی رخصت دی

      سندا اس روایت میں علت تھی جس کا ذکر امام بخاری کے استادوں کے استاد سفيان بن عيينة نے کیا تھا – مسند حمیدی میں ہے
      كل شيء سمعتُه من عمرو بن دينار قال لنا فيه: سمعت جابراً، إلا هذين الحديثين، يعني لحوم الخيل والمخابرة، فلا أدري بينه وبين جابر فيه أحد أم لا
      سفيان بن عيينة نے کہا ہر وہ روایت جو عمرو بن دينار نے سنی اس میں اس نے ہم سے کہا میں نے جابر سے سنا سوائے دو حدیثوں کے یعنی ایک گھوڑے کے گوشت والی – پس معلوم نہیں کہ یہاں اس کے اور جابر کے درمیان کوئی تھا یا نہیں

      عمرو بن دینار بار بار نام بھی بدلتا ہے کبھی کہتا ہے رجل نے خبر دی کبھی امام باقر اور کبھی جابر بن زید کا نام لیتا ہے

      سنن ابو داود میں ہے
      حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَسَنٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، عَنْ جَابِرِ بَنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْحُمُرِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْخَيْلِ»، ” قَالَ عَمْرٌو: فَأَخْبَرْتُ هَذَا الْخَبَرَ أَبَا الشَّعْثَاءِ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ الْحَكَمُ الْغِفَارِيُّ فِينَا يَقُولُ هَذَا، وَأَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ يُرِيدُ ابْنَ عَبَّاسٍ ”
      ابْنِ جُرَيْجٍ نے کہا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ نے مجھے خبر دی ان کو ایک رجل نے اس نے جَابِرِ بَنِ عَبْدِ اللَّهِ سے روایت کیا کہ رسول الله … نے گھوڑے کا گوشت کھانے کا حکم کیا- عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ نے کہا یہ خبر أَبُو الشَّعْثَاءِ جَابِرُ بنُ زَيْدٍ الأَزْدِيُّ نے دی اور کہا کہ الْحَكَمُ الْغِفَارِيُّ ہمارے ساتھ تھے ایسا ہی حکم کرتے لیکن یہ (علم کا) سمندر یعنی ابن عباس رضی الله عنہ اس (اباحت کو) رد کرتے

      صحیح ابن حبان میں ہے
      أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ, حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ, حَدَّثَنَا الطُّفَاوِيُّ, عَنْ أَيُّوبَ, عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ, قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُحُومِ الْخَيْلِ
      جابر نے کہا رسول الله نے گھوڑا کھانے کا حکم کیا

      راقم کہتا ہے قابل غور ہے یہاں پر ہے کہ رخصت دی گئی تو یہ وقتی بات ہوئی ورنہ اس کا حلال ہونا سب کو معلوم ہوتا کیونکہ سورہ الانعام میں حلال و حرام کا ذکر آ چکا ہے یعنی یہ خیبر میں کھانے کی قلت کی بنا پر اضطراری کیفیت میں اجازت دی گئی ہے

      بصرہ کے رہنے والوں نے اس کو اضطراری نہیں سمجھا ہے لہذا حسن بصری گھوڑا کھانے میں برائی نہیں جانتے تھے
      حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «لَا بَأْسَ بِلَحْمِ الْفَرَسِ

      أَبُو الشَّعْثَاءِ جَابِرُ بنُ زَيْدٍ الأَزْدِيُّ اور حماد بن زید بھی بصری ہیں جو اباحت کا قول جابر رضی الله عنہ سے منسوب کرتے ہیں

      دوسری حدیث صحیح بخاری میں ٥٥١١ اسماء بن ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتى ہيں
      حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، سَمِعَ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: «ذَبَحْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا، وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ، فَأَكَلْنَاهُ»
      ہم نے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں مدینہ میں گھوڑا نحر كيا اور كھايا

      یہ فاطمہ بنت المنذر رضی الله عنہا کی روایت ہے جو بعض معاملات میں بھول گئیں اور عمر رضی الله عنہ کا فاطمہ کے بارے میں کہنا تھا کہ ہم ایک عورت کے کہنے پر حلال و حرام کو نہیں چھوڑ سکتے جس کو یاد نہ رہا ہو
      راقم کہتا ہے فاطمہ رضی الله عنہ کی روایت حلال و حرام میں نہ لی جائے جیسا عمر رضی الله عنہ کا فیصلہ ہے

      ——
      سنن دارقطنی میں ہے
      حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ , نا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ أَبُو سَعِيدٍ , نا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , نا فُرَاتُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ جَابِرٍ , «أَنَّهُمْ كَانُوا يَأْكُلُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْخَيْلِ» , وَزَعَمَ أَنَّ عَطَاءً نَهَى عَنِ الْبِغَالِ وَالْحُمُرِ
      جابر رضی الله عنہ نے کہا ہم دور نبوی میں گھوڑے کا گوشت کھاتے تھے
      سند میں عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ جس کی روایت عطا سے ردی ہے

      سنن دارقطنی میں ہے
      حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ , نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ , نا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ , نا شَرِيكٌ , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: سَافَرْنَا يَعْنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , «فَكُنَّا نَأْكُلُ لُحُومَ الْخَيْلِ , وَأَشْرَبُ أَلْبَانَهَا»
      جابر نے کہا ہم نے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ سفر كيا اور ہم گھوڑے كا گوشت كھاتے، اور اس كا دودھ پيتے تھے

      دونوں کی سند میں عبد الکریم ہے
      وقال ابن معين: أحاديثه عن عطاء ردية
      ابن معین نے کہا اس کی روایت عطا سے ردی ہے

      وقال عبد الله: حدثني ابن خلاد. قال: سمعت يحيى يقول: حديث عبد الكريم عن عطاء ردية
      یحیی بن سعید کا کہنا ہے عبد الکریم کی عطا سے روایت ردی ہے

      مصنف عبد الرزاق 8737 میں ہے
      أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ قَالَ: «رَأَيْتُ أَصْحَابَ الْمَسْجِدِ أَصْحَابَ ابْنِ الزُّبَيْرِ يَأْكُلُونَ الْفَرَسَ، وَالْبِرْذَوْنَ»
      عطاء بن ابی رباح نے خبر دی کہا میں نے اصحاب ابن زبیر کو گھوڑا کھاتے دیکھا
      کون اصحاب زبیر ؟ مجہول لوگ ہیں
      اغلبا اسی دور کی یہ مقابلتا حدیث ہے جو مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے
      حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ أَكْلِ الْفَرَسِ، – وَقَالَ وَكِيعٌ: عَنْ أَكْلِ الْخَيْلِ -، فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ} [النحل: 5] الْآيَةَ قَالَ: «فَكَرِهَهَا»
      سعید بن جبیر نے ابن عباس سے روایت کیا ان سے ایک رجل پر سوال ہوا جو گھوڑا کھاتا ہے
      ابن عباس نے آیت تلاوت کی … پس انہوں نے کراہت کی اس سے

      طبرانی الکبیر میں ہے
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، وَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِلُحُومِ الْخَيْلِ أَنْ تُؤْكَلَ
      أَبُو الشَّعْثَاءِ جَابِرُ بنُ زَيْدٍ الأَزْدِيُّ نے ابن عباس سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑے کے گوشت کو کھانے کا حکم فرمایا
      سند میں سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ضعیف ہے

      المعجم الأوسط از طبرانی میں ہے
      حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ السِّنْدِيِّ قَالَ: نا يُوسُفُ بْنُ أَسْبَاطٍ قَالَ: نا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُحُومِ الْخَيْلِ، وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ»
      سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، نے ابن عباس سے روایت کیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے گھوڑا کھانے کا حکم کیا
      سند میں يوسف بن أسباط ضعیف ہے

      —-
      سنن ابو داود میں ہے
      حدَّثنا سعيدُ بنُ شَبيبٍ وحيوَةُ بنُ شُرَيحِ الحِمصيُّ، -قال حيوةُ:- حدَّثنا بقيةُ، عن ثور بن يزيد، عن صالح بن يحيى بن المقدام بن معدي كرِب، عن أبيه، عن جدِّه
      عن خالد بن الوليد: أن رسولَ الله – صلَّى الله عليه وسلم – نهى عن أكلِ لحومِ الخَيلِ والبِغالِ والحميرِ، زاد حيوةُ: وكلِّ ذي نَابٍ مِن السِّبَاع (1).
      قال أبو داود: وهو قولُ مالكٍ (2).
      قال أبو داود: لا بأسَ بلحومِ الخيلِ، وليسَ العملُ عليه.
      قال أبو داود: وهذا منسوخٌ، قد أكَلَ لحومَ الخيلِ جماعةٌ من أصحابِ النبي – صلَّى الله عليه وسلم -: منهم ابنُ الزبير، وفضالةُ بنُ عُبيد، وأنسُ بن مالك، وأسماءُ بنتُ أبي بكر، وسُويدُ بنُ غَفلَة، وعلقمةُ، وكانت قريشٌ في عهد رسولِ الله – صلَّى الله عليه وسلم – تَذْبَحُها
      خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑے، خچر اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے اور حيوةُ نے اضافہ کیا ہر ناخن والے درندے سے
      ابو داود نے کہا یہ امام مالک کا قول ہے
      پھر ابو داود نے کہا گھوڑے کے گوشت (کو کھانے) میں کوئی برائی نہیں ہے پر اس (کےذبح) پر عمل بھی نہیں ہے
      ابو داود نے کہا یہ (ممانعت جو حدیث خالد میں ہے) منسوخ ہے گھوڑے کا گوشت اصحاب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کھایا ہے اور ان میں ہیں ابنُ الزبير، وفضالةُ بنُ عُبيد، وأنسُ بن مالك، وأسماءُ بنتُ أبي بكر، وسُويدُ بنُ غَفلَة، وعلقمةُ
      اور قریش دور نبوی میں اس کو ذبح کرتے تھے

      راقم کہتا ہے صالح بن يحيى بن المقدام بن معدي كرب الكندي الشامي کی روایت عن أبيه عن جده المقدام کی سند سے صحیح ابن حبان میں ہے
      بعض محدثین جو گھوڑا خور تھے انہوں نے اس کو مجہول قرار دیا ہے
      لیکن اس روایت پر ابو داود نے جو جو کہا وہ سب عجیب و غریب ہے
      پہلا قول قریش دور نبوی میں گھوڑا کھاتے تھے
      دوم گھوڑے کو حرام امام مالک نے کیا
      سوم گھوڑا کی حرمت منسوخ ہے

      گویا پہلے حکم حرمت کا ہی تھا یعنی ابو داود کے نزدیک ایسا حکم تھا اور حدیث خالد کو منکر نہ کہنا بلکہ اس کو منسوخ کہنا دلالت کرتا ہے کہ ان کے نزدیک صالح بن يحيى بن المقدام بن معدي كرب الكندي الشامي مجہول نہیں تھا
      بہر حال عقیلی کا کہنا ہے
      إِسْنَادُهُمَا أَصْلَحُ مِنْ هَذَا الْإِسْنَادِ
      اسماء رضی الله عنہ کی حدیث کی سند خالد رضی الله عنہ کی حدیث سے زیادہ أَصْلَحُ (افضل) ہے

      عقیلی نے اسماء کی حدیث کو افضل قرار دیا ہے خالد کی حدیث کو مطلقا شاذ یا منکر یا ضعیف نہیں کہا ہے

      ——-
      گھوڑا حرام ہے بغوی کہتے ہیں یہ قول ہے
      ابْنِ عبّاسٍ، وبِهِ قَالَ الحكم، وهُو قوْل مالِك، وأصْحاب الرّأْيِ
      ابن عباس کا اور الحکم کا اور امام مالک کا اور اصحاب رائے کا یعنی امام ابو حنیفہ کا

      امام ابو حنیفہ کا مذھب کوفہ کے ابراہیم النخعی کا مذھب تھا جو ابن مسعود رضی الله عنہ سے لیا گیا – ابو حنیفہ کے نزدیک گھوڑا حلال نہیں اور بعض احناف کہتے ہیں کہ ان کے نزدیک مکروہ ہے

      مصنف ابن ابی شیبہ 24313 میں ہے
      حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «نَحَرَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ فَرَسًا فَقَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ
      عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے شاگردوں نے گھوڑا ذبح کیا، پھر اسے آپس میں تقسیم کیا
      مصنف عبد الرزاق 8732 میں ہے
      عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: «ذَبَحَ بَعْضُ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ فَرَسًا فَأَكَلُوهُ، وَلَمْ يَرَوْا بِهِ بَأْسًا»
      سند میں تدلیس کا امکان ہے کیونکہ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ مدلس ہیں

      خطابی کا کہنا ہے کہ
      وقال الحكم: لحوم الخيل في القرآن حرام. ثم تلا: {وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً} [النحل: 8]
      الحکم بن عتیبہ نے کہا گھوڑے کا گوشت قرآن میں حرام ہے پھر تلاوت کیا
      اور گھوڑے، اور خچر اور گدھے اس ليے ہيں تا كہ تم اس پر سوارى كرو اور زينت كے ليے

      راقم کہتا ہے اونٹ حلال ہے اس پر سوار ہوتے ہیں گھوڑے پر بھی ہو سکتے ہیں سوال کھانے کا ہے اس کی اباحت پر جو روایات ہیں ان پر اطمینان نہیں کیونکہ سندا علت ہے جو ایک جابر والی روایت ہے وہ میرے نزدیک اضطراری کیفیت کی بنا پر ہے

      اگر جابر کی حدیث کو صحیح سمجھا جائے تو سوال ہو سکتا ہے کہ اگر اضطراری حالت تھی تو جنگلی گدھوں کا گوشت کھایا جا سکتا تھا- اس کا جواب ہے کہ شریعت میں جو طیب کے قریب ہو اس کو لیا گیا ہے
      ===============
      مشکل الآثار للطحاوی میں ہے
      حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ قَالَ: ” أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الْخَيْلِ [ص:74] وَالْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ أَنَّهَا لَا تُؤْكَلُ ; لِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: {وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً} [النحل: 8] ، وَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الْأَنْعَامِ: {لِتَرْكَبُوا مِنْهَا وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ} [غافر: 79] ، وَقَالَ: تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ، فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ} [الحج: 28] . قَالَ مَالِكٌ: فَذَكَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْخَيْلَ، وَالْبِغَالَ، وَالْحَمِيرَ لِلرُّكُوبِ وَالزِّينَةِ، وَذَكَرَ الْأَنْعَامَ لِلرُّكُوبِ وَالْأَكْلِ مِنْهَا. قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا

      سب سے بہترین بات جو میں نے گھوڑوں اورخچروں کے بارے میں سنی ہے کہ ان کو کھایا نہیں جائے گا کیونکہ الله کا قول ہے … اور امام مالک نے کہا گھوڑا خچر اور گدھا سواری کے لئے ہے اور زینت کے لئے ہے اور چوپائے کھانے کے لئے اور مالک نے کہا ہمارے نزدیک یہ حکم ہے

      جو بات یہاں مسلسل نظر اتی ہے وہ یہ ہے کہ ابن عباس ہوں یا الحکم ہوں یا امام مالک ہوں یا ابو حنیفہ یہ سب حلال و حرام کا فیصلہ قرآن سے لے رہے ہیں جبکہ ان لوگوں کو معلوم ہے کہ لوگ گھوڑا کھا رہے ہیں اس کو حلال قرار دے رہے ہیں

  74. Aysha butt says:

    Nabi s.a.w ne fatima a.s ko unki moat ki kbr di hadith sahih hai kiya
    Kiya es se alim ul gaib kha ja sakta Nabi s.a.w ko

    • Islamic-Belief says:

      جی موت کی خبر دی یہ علم الغیب ہوا لیکن من جانب الله ہے – رسول الله کو غیب کی خبریں دی جاتی تھیں لیکن تمام نہیں چند

  75. وجاہت says:

    کیا صحیح مسلم میں یہ حدیث ہے

    اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا دنیا شیریں اور سبز جاذب نظر ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس دنیا کا خلیفہ بنایا ہے اس لئے وہ ہر وقت دیکھتا ہے کہ تم اس دنیا میں کس طرح عمل کرتے ہو لہذا دنیا سے بچو اور عورتوں کے فتنہ سے بچو کیونکہ بنی اسرائیل کی تباہی کا باعث سب سے پہلا فتنہ عورتوں ہی کی صورت میں تھا

    ( مسلم)

    مشکوۃ شریف میں اس کی تشریح یہ کی گئی ہے

    مشکوۃ شریف:جلد سوم:حدیث نمبر 308 مکررات 0 متفق علیہ 0

    اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا دنیا شیریں اور سبز جاذب نظر ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس دنیا کا خلیفہ بنایا ہے اس لئے وہ ہر وقت دیکھتا ہے کہ تم اس دنیا میں کس طرح عمل کرتے ہو لہذا دنیا سے بچو اور عورتوں کے فتنہ سے بچو کیونکہ بنی اسرائیل کی تباہی کا باعث سب سے پہلا فتنہ عورتوں ہی کی صورت میں تھا ( مسلم) تشریح : دنیا شیریں اور سبز ہے ، کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح شیرنی طبیعت کے لئے ایک مرغوب چیز ہوتی ہے اور اس طرح سبز چیز آنکھوں کو بہت بھاتی ہے اسی طرح دنیا بھی دل کو بہت پیاری لگتی ہے اور آنکھوں کو بھی بہت بھلی معلوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دنیا کا خلیفہ بنایا ہے الخ، کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے وہی اس کا حقیقی مالک وحاکم ہے تمہیں اس نے زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر گویا اس دنیا کے تصرفات میں تمہیں اپنا وکیل بنایا ہے لہذا اللہ تعالیٰ تمہیں ہر وقت دیکھتا ہے کہ تم اس زمین پر اس کے بارخلافت کو کس طرح اٹھا رہے ہو اور اپنی عملی زندگی کے ذریعہ تصرفات دنیا میں حق وکالت کس طرح ادا کر رہے ہو؟ یا اس جملہ کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ تم سے پہلے اس دنیا سے جا چکے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کا خلیفہ وارث بنایا ہے، لہذا ان کے پاس جو کچھ تھا وہ سب تمہیں دیدیا ہے اور اب وہ تمہیں دیکھتا ہے کہ تم اپنے اسلاف کے احوال وکوائف سے کس طرح عبرت پکڑتے ہو اور ان کے اموال و میراث میں کس طرح تصرف وانتظام کرتے ہو۔ دنیا سے بچو الخ، کا مطلب یہ ہے کہ دنیا مکروفریب کا بچھا ہوا ایک جال ہے اس جال سے حتی الامکان بچتے رہو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس جال میں پھنس کر دنیا کے ظاہری مال وجاہ پر اپنی دینداری گنوا بیٹھو کیونکہ دنیا کو ثبات نہیں ہے یہ ایک فنا ہو جانیوالی چیز ہے پھر اس فناء کے بعد کل جب تم ہمیشہ کی زندگی کے لئے اٹھائے جاؤ گے تو اس کی حلال چیزوں کا حساب دینا ہوگا اور اس کی حرام چیزوں پر عذاب میں مبتلا کئے جاؤ گے ۔ اسی طرح عورتوں کے مکروفریب سے بھی بچتے رہو، کیونکہ ایک مشت خاک کا یہ دل فریب مجسمہ جہاں نیک عورت کی صورت میں اللہ کی ایک نعمت ہے وہیں بری عورت کے روپ میں فتنہ عالم بھی ہے ایسا نہ ہو کہ بری عورتوں کی مکاریاں یا اپنی بیویوں کی بےجانازبرداریاں تمہیں ممنوع وحرام چیزوں کی طرف مائل کر دیں اور ان کی وجہ سے تم تباہی وہلاکت کی کھائیوں میں دکھیل دئیے جاؤ۔ بنی اسرائیل پر تباہی کے دروازے کھولنے والا پہلا فتنہ عورت تباہیوں کے دروازے کھلنے کا پہلا سبب اور ذریعہ بنا ۔ چنانچہ اس کی تفصیل یوں بیان کی جاتی ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص جس کا نام بلعم بن باعور تھا۔ بہت مستجاب الدعوات تھا، اسے اسم اعظم یاد تھا جس کے ذریعہ وہ اپنی ہر دعا مقبول کرا لیتا تھا، چنانچہ جب حضرت موسی علیہ السلام جباروں سے لڑنے کے لئے علاقہ شام میں واقع بنی کنعان کے ایک حصہ میں خیمہ زن ہوئے تو بلعم کی قوم کے لوگ بلعم کے پاس آئے اور کہا کہ موسی علیہ السلام اپنے پیروکاروں کا ایک عظیم لشکر لے کر ہمیں قتل کرنے اور اس علاقہ سے نکالنے کے لئے آئے ہیں تم ان کے لئے کوئی ایسی بددعا کرو کہ وہ یہاں سے واپس بھاگ جائیں۔ بلعم نے جواب دیا کہ جو کچھ میں جانتا ہوں تم وہ نہیں جانتے بھلا میں اللہ کے پیغمبر علیہ السلام اور اس کے ماننے والوں کے حق میں بددعا کیسے کر سکتا ہوں؟ اگر میں ان کے لئے بددعا کرتا ہوں تو میری دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہو جائیں گی۔ جب اس قوم کے لوگوں نے بہت منت سماجت کی اور وہ بددعا کرنے پر اصرار کرتے رہے تو بلعم نے کہا کہ اچھا میں استخارہ کروں گا اور دیکھوں گا کہ کیا حکم ہوتا ہے پھر اس کے بعد کوئی فیصلہ کروں گا۔ بلعم کا یہ معمول تھا کہ وہ بغیر استخارہ کوئی بھی کام نہیں کرتا تھا چنانچہ اس نے جب استخارہ کیا تو خواب میں اسے ہدایت کی گئی کہ پیغمبر اور مؤمنوں کے حق میں ہرگز بددعا مت کرنا ! بلعم نے اس خواب سے اپنی قوم کو مطلع کیا اور بددعا نہ کرنے کے لئے اپنے ارادہ کا پھر اظہار کیا قوم کے لوگوں نے غوروفکر کے بعد ایک طریقہ اختیار کیا کہ اور وہ یہ کہ وہ لوگ اپنے ساتھ بیش قیمت تحفے لے کر بلعم کے پاس آئے اور پھر اس کے سامنے بہت ہی زیادہ منت سماجت کی ، روئے گڑگڑائے اور اسے اتنا مجبور کیا کہ آخر کار وہ ان کے جال میں پھنس ہی گیا چنانچہ وہ بددعا کرنے کی غرض سے اپنے گدھے پر سوار ہو کر جستان پہاڑ کی طرف چلا جس کے قریب حضرت موسی علیہ السلام کا لشکر مقیم تھا، راستہ میں کئی مرتبہ گدھا گرا جسے وہ مار مار کر اٹھاتا رہا یہاں تک کہ جب یہ سلسلہ دراز ہوا اور بلعم بھی اپنے گدھے کو مار مار کر اٹھاتا ہوا پریشان ہو گیا تو حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے گدھے کو گویائی عطاء کی چنانچہ گدھا بولا کہ نادان بلعم ! تجھ پر افسوس ہے کیا تو یہ نہیں دیکھتا کہ تو کہاں جا رہا ہے تو مجھے آگے چلانے کی کوشش کر رہا ہے اور ملائکہ میرے آگے آ کر مجھے پیچھے دھکیل رہے ہیں بلعم نے جب چشم حیرت سے گدھے کو بولتے دیکھا تو بجائے اس کے کہ اس تنبیہ پر اپنے ارادہ سے باز آجاتا گدھے کو وہیں چھوڑا پیادہ یا پہاڑ پر چڑھ گیا اور وہاں بددعا کرنے لگا مگر یہاں بھی قدرت الٰہی نے اپنا یہ کرشمہ دکھایا کہ بلعم اپنی بددعا میں جب بھی حضرت موسی اور ان کے لشکر کا نام لینا چاہتا اس کی زبان سے بنی اسرائیل کے بجائے بلعم کی قوم کا نام نکلتا ۔ یہ سن کر اس کی قوم کے لوگوں نے کہا کہ بلعم یہ کیا حرکت ہے بنی اسرائیل کی بجائے ہمارے حق میں بددعا کر رہے ہو؟ بلعم نے کہا کہ اب میں کیا کروں یہ حق تعالیٰ میرے قصد وارادہ کے بغیر میری زبان سے تمہارا نام نکلوا رہا ہے۔ لیکن بلعم پھر بھی اپنی بددعا سے باز نہ آیا اور اپنی سی کوشش کرتا رہا یہاں تک کہ عذاب الٰہی کی وجہ سے بلعم کی زبان اس کے منہ سے نکل کر سینہ پر آ پڑی پھر تو گویا بلعم کی عقل بالکل ہی ماری گئی اور دیوانہ وار کہنے لگا کہ لو اب تو میری دنیا اور آخرت دونوں ہی برباد ہو گئی اس لئے اب ہمیں بنی اسرائیل کی تباہی کے لئے کوئی دوسرا جال تیار کرنا پڑے گا۔ پھر اس نے مشورہ دیا کہ تم لوگ اپنی اپنی عورتوں کو اچھی طرح آراستہ پیراستہ کر کے اور ان کے ہاتھو میں کچھ چیزیں دے کر ان چیزوں کو فروخت کرنے کے بہانہ سے عورتوں کو بنی اسرائیل کے لشکر میں بھیج دو اور ان سے کہدو کہ اگر بنی اسرائیل میں سے کوئی شخص تمہیں اپنے پاس بلائے تو انکار نہ کرنا یاد رکھو اگر بنی اسرائیل میں سے ایک بھی شخص کسی عورت کے ساتھ بدکاری میں مبتلا ہو گیا تو تہاری ساری کوششیں کامیاب ہو جائیں گی ۔ چنانچہ بلعم کی قوم نے اس مشورہ پر عمل کیا اور اپنی عورتوں’ کو بنا سنوار کر بنی اسرائیل کے لشکر میں بھیج دیا وہ عورتیں جب لشکر میں پہنچیں اور ان میں سے ایک عورت جس کا نام کسی بنت صور تھا ، بنی اسرائیل کے ایک سردار زمزم بن شلوم نامی کے سامنے سے گزری تو وہ اس عورت کے حسن وجمال کا اسیر ہو گیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر حضرت موسی علیہ السلام کے پاس لے گیا اور ان سے کہنے لگا کہ کیا آپ اس عورت کو میرے لئے حرام قرار دیتے ہیں؟ حضرت موسی علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہاں، اس عورت کے پاس ہرگز مت جانا تو زمزم نے کہا کہ میں اس بارے میں آپ کا حکم نہیں مانوں گا چنانچہ وہ اس عورت کو اپنے خیمہ میں لے گیا اور وہاں اس کے ساتھ منہ کالا کیا بس پھر کیا تھا حکم الٰہی نے قہر کی شکل اختیار کر لی اور اس سردار کی شامت عمل سے ایک ایسی وبا پورے لشکر پر نازل ہوئی کہ آن کی آن میں ستر ہزار آدمی ہلاک و تباہ ہو گئے ادھر جب فحاص کو کہ جو حضرت ہارون علیہ السلام کا پوتا اور ایک قوی ہیکل آدمی تھا اور حضرت موسی علیہ السلام کا نگہبان تھا یہ معلوم ہوا کہ ہمارے ایک سردار کی شامت عمل نے قہر الٰہی کو دعوتی دیدی ہے تو فورًا اپنا ہتھیار لے کر زمزم کے خیمہ میں داخل ہوا اور پلک جھپکتے ہی زمزم اور اس عورت کا کام تمام کر ڈالا اور پھر بولا کہ اللہ تعالیٰ نے اسی شخص کی وجہ سے ہم سب کو ہلاک وتباہ کر دیا ہے چنانچہ ان دونوں کے قتل ہوتے ہی وہ وباء جو عذاب الٰہی کی صورت میں نازل ہوئی تھی ختم ہو گئی۔

    کیا یہ تشریح صحیح ہے

    • Islamic-Belief says:

      روایت ہے
      إِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاءِ
      عورت بنی اسرائیل پر پہلا فتنہ تھی
      ———

      یہ متن عجیب و غریب ہے کیونکہ عورت کوئی الگ سے ایلین مخلوق نہیں خود بنی اسرائیل کی بھی ہو سکتی ہے

      سندا اس میں أبي نضرة المنذر بن مالك بن قُطعة کا تفرد ہے جس کی سند سے امام بخاری نے صحیح میں نہیں لکھا ہے البتہ امام مسلم نے حدیث لی ہے – ابن سعد کا کہنا ہے
      قَالَ ابْنُ سَعْدٍ: ثِقَةٌ، وَلَيْسَ كُلُّ أحدٍ يَحْتَجُّ بِهِ
      یہ ثقہ تو ہے لیکن اسکی ہر روایت قابل دلیل نہیں ہے

      یہ متن مبارك بن سحيم متروک کی سند سے انس رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے
      —–
      دوسری حدیث ہے
      فِتْنَةُ أُمَّتِي الْمَالُ
      میری امت کا فتنہ مال ہے

      یہان عورت کا ذکر نہیں کیا
      ———

      تشریح میں بنی اسرائیل کا جو بالم کا قصہ بیان کیا ہے وہ کتاب گنتی سے لیا گیا ہے
      اہل کتاب کا کہنا ہے کہ یہ شخص جھوٹا نبی تھا
      اس تشریح میں اس روایت کا مصدر بیان نہیں کیا گیا

  76. anum shoukat says:

    روایت میں آتا ہے کہ ابن عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے اسما رضی الله تعالیٰ عنہا سے کہا جب وہ مسجد الحرام کے صحن میں تھیں اور ابن زبیر رضی الله تعالیٰ عنہ کی لاش سولی پر تھی
    إن هذه الجثث ليست بشيء وإنما الأرواح عند الله فاتقي الله وعليك بالصبر
    بے شک یہ لاشہ کوئی شے نہیں اور بے شک ارواح الله کے پاس ہیں پس الله سے ڈریں اور اس پر صبر کریں
    تاريخ الإسلام وَوَفيات المشاهير وَالأعلام از الذهبي

    آپ نے
    جو تاریخ الإسلام وَوَفيات المشاهير وَالأعلام از الذهبي
    کا حوالہ دیا ہے یہ جرح و تعدیل کی بک ہے اس سے بات ثابت ہو سکتی ہے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی؟؟
    یہ روایت حدیث کی کونسی بک میں ہے؟؟

    • Islamic-Belief says:

      تاریخ الإسلام وَوَفيات المشاهير وَالأعلام از الذهبي
      صرف جرح و تعدیل کی کتاب نہیں تاریخ اسلام کی کتاب ہے
      اس میں سند سے واقعات لکھے ہیں اور یہ روایت اخبار مکہ از الفاکھی میں ہے
      حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، قَالَ: أنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، [ص:376] عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: ” لَمَّا صُلِبَ ابْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا دَخَلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا الْمَسْجِدَ وَذَلِكَ حِينَ قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مَصْلُوبٌ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَمَالَ إِلَيْهَا فَعَزَّاهَا، وَقَالَ: ” إِنَّ هَذِهِ الْجُثَثَ لَيْسَتْ بِشَيْءٍ، وَإِنَّمَا الْأَرْوَاحُ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى، فَاتَّقِي اللهَ وَعَلَيْكِ بِالصَّبْرِ ” فَقَالَتْ: وَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَصْبِرَ وَقَدْ أُهْدِيَ رَأْسُ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا إِلَى بَغِيٍّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ

      اور التعازي از علي بْن مُحَمَّد بْن عَبْد اللَّه بْن أَبِي سيف أَبُو الحسن المعروف بالمدائني (المتوفى: 224هـ) میں ہے
      أخبرنا عبد الله، قال: أخبرنا الحسن، قال: أخبرنا أبو الحسن، [ص:99] عن سفيان، عن منصور بن صفية، عن أمه قالت:
      دخل عبد الله بن عمر المسجد، فقيل له: يا أبا عبد الرحمن، لو أتيت أسماء بنت أبي بكرٍ، فعزيتها عن ابنها عبد الله بن الزبير؛ فأتاها، فجلس إليها، فقال لها: إن هذه الجثث ليست بشيء، وإنما الأمر في الروح، وإني لأرجو أن تكون روح عبد الله قد أفاضت إلى خير فاصبري. قالت: وكيف يمنعني أن أصبر، وقد حمل رأس يحيى بن زكريا النبي صلى الله عليه وسلم إلى بغي فصبر؟

  77. وجاہت says:

    صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1123 حدیث مرفوع مکررات 22 متفق علیہ 4

    حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ أَبَی فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ

    یحیی بن یحیی، مالک، زید بن اسلم، عبدالرحمن بن ابی سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے سے کسی کو نہ گزرنے دے اور اس کو ہٹائے جہاں تک طاقت ہو اور اگر وہ انکار کرے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔

    اور ایک حدیث میں ہے کہ

    سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 694 حدیث مرفوع مکررات 22 متفق علیہ 4

    حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ أَبَی فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ

    قعنبی، مالک، زید بن اسلم، عبدالرحمن بن ابی سعید، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے نہ گزرنے دے اور جہاں تک ممکن ہو اسے روکے اگر وہ نہ مانے تو اس سے قتال کرے کیونکہ وہ شیطان ہے۔

    ========

    کیا یہ حکم منسوخ ہے – تحقیق چاہیے

    • Islamic-Belief says:

      ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی شخص سترہ کی جانب نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی بندہ تمھارے اور سترہ کے درمیان سے گزرنا چاہے تو تم اس کو روکو، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑائی کرو کیونکہ وہ شیطان ہے
      [بخاری، کتاب الصلاۃ، باب یردالمصلی من مر بین یدیہ، حدیث: ۵۰۹]

      یہ حدیث صحیح مفھوم سے نقل نہیں ہوئی اس کو سن کر ام المومنین عائشہ رضی الله عنہا نے بتایا کہ

      لقد رأيت النبي عليه السلام يصلي وإني لبينه وبين القبلة

      میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا وہ نماز پڑھتے تھے اور میں ان کے اور قبلے کے درمیان ہوتی تھی

      اغلبا ابو سعید الخدری رضی الله عنہ اس کا صحیح مطلب نہیں سمجھ سکے جو رسول الله نے فرمایا

  78. وجاہت says:

    کیا یہ حدیث صحیح ہے

    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1156 حدیث مرفوع مکررات 8 متفق علیہ 7

    حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّی صَلَاةً قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ عَرَضَ لِي فَشَدَّ عَلَيَّ لِيَقْطَعَ الصَّلَاةَ عَلَيَّ فَأَمْکَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَذَعَتُّهُ وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أُوثِقَهُ إِلَی سَارِيَةٍ حَتَّی تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ فَذَکَرْتُ قَوْلَ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَام رَبِّ هَبْ لِي مُلْکًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي فَرَدَّهُ اللَّهُ خَاسِيًا ثُمَّ قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ فَذَعَتُّهُ بِالذَّالِ أَيْ خَنَقْتُهُ وَفَدَعَّتُّهُ مِنْ قَوْلِ اللَّهِ يَوْمَ يُدَعُّونَ أَيْ يُدْفَعُونَ وَالصَّوَابُ فَدَعَتُّهُ إِلَّا أَنَّهُ کَذَا قَالَ بِتَشْدِيدِ الْعَيْنِ وَالتَّائِ

    محمود، شبابہ، شعبہ، محمد بن زیاد، ابوہریرہ (رض) سے اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک نماز پڑھی، تو فرمایا کہ شیطان میرے سامنے آیا اور مجھ پر دشوار کردیا گیا کہ نماز کو توڑ دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اس پر غلبہ عطا کیا اور میں نے اس کو مغلوب کرلیا اور میں نے ارادہ کیا کہ اسے ایک ستون سے باندھ دوں، تاکہ صبح کے وقت تم لوگ اسے دیکھ سکو، پھر میں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد کیا کہ رَبِّ هَبْ لِي مُلْکًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي تو اللہ تعالیٰ نے اس کو نامراد اور ذلیل کر کے واپس کردیا۔ پھر نضر بن اسماعیل نے کہا کہ دعتہ سے مراد ہے میں نے اس کا گلا گھونٹا اور دعتہ اللہ تعالیٰ کے قول یوم یدعون سے ماخوذ ہے یعنی وہ دفع کرتے ہیں اور صحیح فَدَعَتُّهُ ہی ہے مگر یہ عین اور تا کی تشدید کے ساتھ اسی طرح بیان کیا۔

  79. وجاہت says:

    صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 574 حدیث مرفوع مکررات 14 متفق علیہ 2

    خالد بن مخلد سلیمان بن بلال عتبہ بن مسلم عبید بن حنین حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب تمہارے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اور ڈبو دینا چاہیے پھر نکال کر پھینک دیا جائے کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہے۔

    —–

    کیا واقعی مکھی کے ایک پر میں شفا ہے

    • Islamic-Belief says:

      یہ حدیث کئی اصحاب رسول سے مروی ہے
      أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
      ابو ہریرہ
      أَنَس بن مالک
      ———-
      اس کی حقیقت الله کو معلوم ہے
      میری اس پر کوئی تحقیق نہیں ہے

      بہر حال ١٤٠٠ سو سال سے مکھی ڈبونے پر امت کا عمل ہے اور کسی نے نوٹ نہیں کیا کہ یہ قول نبوی غلط ہے
      قابل غور ہے
      ———

      اہل تشیع میں بھی یہ حدیث مقبول ہے
      کتاب بحار الأنوار از باقر مجلسی میں ہے
      طب الائمة:
      عن سهل بن أحمد عن محمد بن اورمة عن صالح بن محمد عن عمرو بن شمر عن جابر عن أبي
      جعفر الباقر عليه السلام قال: قال رسول الله صلى الله عليه واله وسلم: إذا وقع
      الذباب في إناء أحدكم فليغمسه فيه فان في إحدى جناحيه شفاء وفي الاخرى سما وإنه
      يغمس جناحه المسموم في الشراب ولا يغمس الذي فيه الشفاء فاغمسوها لئلا يضركم

      امام باقر نے کہا رسول الله نے فرمایا جب مکھی برتن میں گر جائے اس کو ڈبو دو کیونکہ اس کے ایک پر میں شفا ہے اور دوسرے میں زہر

      اسی کتاب میں دوسری سند بھی ہے

      بحار الأنوار / جزء 63 / صفحة [476]
      وروي عن عمرو بن قيس قال: دخلت على أبي جعفر عليه السلام بالمدينة وبين يديه كوز
      موضوع، فقلت له: فما حد هذا الكوز ؟ قال: اشرب مما يلي شفته، وسم الله عزوجل، وإذا
      رفعت من فيك فاحمد الله، وإياك وموضع العروة أن تشرب منها، فانه مقعد الشيطان، فهذا
      حده. وقال رسول الله صلى الله عليه وآله: إذا وقع الذباب في إناء أحدكم فليغمسه فان
      في أحد جناحيه داء وفي الآخر شفاء، وإنه يغمس بجناحه الذي فيه الداء فليغمسه كله ثم
      لينزعه

      مستدرك الوسائل از ميرزا حسين النوري الطبرسي میں ہے

      ابنا بسطام في طب
      الأئمة ( عليهم السلام) : عن سهل بن أحمد قال : حدثنا محمد بن أورمة قال : حدثنا
      صالح بن محمد ، عن عمرو بن شمر، عن جابر، عن أبي جعفر الباقر (عليه السلام) ، قال
      : ” قال رسول الله (صلى الله عليه و آله ): إذا وقع الذباب في إناء أحدكم
      فليغمسه فيه ، فإن في أحد جناحيه شفاء ، و في الآخر سما، و إنه يغمس جناحه
      المسموم في الشراب ، و لايغمس الذي فيه الشفاء، فاغمسوها لئلايضركم

      • وجاہت says:

        اب اس حدیث کو صحیح سمجھ جایے یا نہیں – اگر آپ کے یا میرے کپ میں کوئی مکھی گر جایے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے

  80. وجاہت says:

    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1756 حدیث مرفوع مکررات 45 متفق علیہ 26

    یحیی بن سلیمان، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ، حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ پانچ جانور ایسے موذی ہیں جن کو حرم میں بھی قتل کیا جا سکتا ہے، کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔

    ——

    ان کو مارنا کیوں ثواب کا کام ہے جس میں کتا بھی ہے – کیا یہ الله کی مخلوق نہیں

    • Islamic-Belief says:

      موذی جانور ہونے کی وجہ سے مارنا جائز ہے – کیا حاجی اپنے اپ کو پاگل کتے سے کٹوا لے ؟ اس طرح تو حج نہیں کر سکے گا- اور جب ١٤٠٠ سو سال پہلے اس کا علاج بھی نہیں تھا تو اس صورت میں تو یہ مسئلہ بہت گھمبیر ہو جاتا ہے

      • وجاہت says:

        شکاری کتے یا گھر کی رکھوالی والے کتے کا کیا حکم ہے

        • Islamic-Belief says:

          جائز ہے لیکن اس کو سدھانا ہو گا کہ جاندار کو قتل نہ کرے – صرف پکڑے اور اور پھر تکبیر پر ذبح کریں
          اصحاب کہف کا کتا دلیل ہے کہ شریعت میں اس پر پابندی نہیں ہے

  81. وجاہت says:

    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1510 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 4 متفق علیہ 1

    حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَکْوَانَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَائٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ النَّارِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ

    مسدد، یحیی ، حسن بن ذکوان، ابورجاء عمران بن حصین (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شفاعت کے ذریعہ سے ایک جماعت دوزخ سے نکلے گی پھر وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے جن کو (جنت کے رہنے والے) جہنمیوں کے نام سے بلائیں گے۔

    یہ حدیث یہاں یہاں بھی آئ ہے

    سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1335
    مسدد، معمتر، اسلم، بشر بن شغاف، حضرت عبداللہ بن عمرو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ صور ایک سنکھ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔
    ________________________________
    جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 507
    محمد بن بشار، یحیی بن سعید، حسن بن ذکوان، ابورجاء عطاردی، حضرت عمران بن حصین (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یقینا میری شفاعت سے ایک قوم دوزخ سے نکلے گی۔ وہ جہنمی کہلاتے ہوں گے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ابورجاء عطاردی کا نام عمران بن تیم ہے۔ انہیں ابن ملحان بھی کہا جاتا ہے۔
    ________________________________
    سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 1196
    محمد بن بشار، یحییٰ بن سعید، حسین بن ذکوان، ابی رجاء عطار، حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا میری شفاعت کیوجہ سے کچھ لوگ جہنم سے نکالے جائیں گے انکانام (ہی) جہنمی ہوگا۔
    =========

    کیا اس کامتن صحیح ہے – جنت میں جانے کے بعد جہنمی کیوں کہا جایے گا – کیا یہ تذلیل نہیں

    • Islamic-Belief says:

      جنت میں جانے کے بعد جہنمی کیوں کہا جایے گا – کیا یہ تذلیل نہیں

      جواب
      جنت میں جانا ہی ایک عزت ہے – جہنمی تو ازراہ تفنن کہا جائے گا نہ کہ تذلیل کے مقام میں

  82. وجاہت says:

    صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 618 حدیث مرفوع مکررات 16 متفق علیہ 8

    حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی أَوْ ابْنُ سَلَامٍ عَنْهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ شَرِيکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَقَالَ کَانَ يَنْفُخُ عَلَی إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام

    عبیداللہ بن موسیٰ یا عبیداللہ بن سلام ابن جریج عبدالحمید بن جبیر سعید بن مسیب ام شریک (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وسلم) نے گرگٹ کو مارنے کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ پھونک رہا تھا۔

    ساتھ میں ایک حدیث یہ بھی ہے

    صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 562 حدیث مرفوع مکررات 16 متفق علیہ 8

    حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَزَغِ الْفُوَيْسِقُ وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ وَزَعَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ

    سعید بن عفیر ابن وہب یونس ابن شہاب عروہ حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے گرگٹ کو فویسق فرمایا اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اس کے مارنے کا حکم دیتے نہیں سنا اور سعد بن ابی وقاص کا یہ دعویٰ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس کے مارنے کا حکم دیا ہے۔

    اگر گرگٹ نے واقعی ایسا کیا ہے تو یہ کہاں کا انصاف ہے کہ دنے کے سارے گرگٹ کو مار دو

    ابو جھل اور ابو لہب اسلام کے دشمن تھے اور انسان تھے – کیا اب سارے انسانوں کو مار دینا چاہیے

    میرے خیال میں جھوٹی بات منسوب کی گئی ہے

    • Islamic-Belief says:

      گرگٹ ابراہیم علیہ السلام پر اگ کو بھونک رہا تھا
      راقم کہتا ہے وہ اگ میں جلا کیوں نہیں جبکہ ابراہیم کو بچانے کے لئے الله تعالی کو اگ کو ٹھنڈا کرنا پڑا لیکن یہ گرگٹ اگ کو دھکاتا رہا ؟ نا ممکن ہے

      صحیح بخاری میں ہے
      حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَوْ ابْنُ سَلاَمٍ عَنْهُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ” أَمَرَ بِقَتْلِ الوَزَغِ، وَقَالَ: كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ”

      اس میں عَبْدِ الحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ کا تفرد ہے جس کو ثقہ کہا گیا ہے

      ——-
      شاہد حدیث ابن ماجہ میں ہے
      سائبة مولاة الفاكه بن المغيرة أنها دخلت على عائشة رضي الله عنها فرأت في بيتها رمحا موضوعا فقالت: يا أم المؤمنين ما تصنعين بهذا؟ قالت: نقتل به هذه الأوزاغ فإن نَبِيُّ اللَّهِ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم- أخبرنا: “أن إبراهيم لما ألقي في النار لم تكن في الأرض دابة إلا أطفأت النار غير الوزغ فإنها كانت تنفخ عليه” فأمر رَسُولَ اللَّهِ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم- بقتله، ابن ماجه حديث رقم “3231”، وأحمد “6/ 83 و109 و217″.
      سائبة مولاة الفاكه بن المغيرة نے روایت کیا ہے

      مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے
      حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَادِقَةَ، مَوْلَاةٍ لِفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ فَرَأَتْ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعًا، فَقَالَتْ: يَا أُمَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا؟ قَالَتْ: «نَقْتُلُ بِهَا هَذِهِ الْأَوْزَاغَ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللَّهِ لَمَا أُلْقِيَ فِي النَّارِ لَمْ تَكُنْ دَابَّةٌ فِي الْأَرْضِ إِلَّا أَطْفَأَتِ النَّارَ عَنْهُ غَيْرَ الْوَزَغِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَنْفُخُ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمُ بِقَتْلِهِ»
      صَادِقَةَ، مَوْلَاةٍ لِفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ نے روایت کیا ہے

      مسند ابو یعلی میں ہے
      قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ السِّرَاجُ: أَنَّ اسْمَهَا سَائِبَةُ، قَالَ شَيْبَانُ: يَعْنِي اسْمَ مَوْلَاةِ فَاكِهٍ

      یہ راویہ سائبة مولاة الفاكه مجہول الحال ہے
      ———
      مسند احمد میں ہے
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، أَنَّ نَافِعًا، مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” اقْتُلُوا الْوَزَغَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ النَّارَ ” قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقْتُلُهُنَّ
      سند میں عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ مجہول ہے
      —-

      سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 743 حدیث مرفوع مکررات 16 متفق علیہ 8

      أَخْبَرَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَی عَائِشَةَ وَبِيَدِهَا عُکَّازٌ فَقَالَتْ مَا هَذَا فَقَالَتْ لِهَذِهِ الْوَزَغِ لِأَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّهُ لَمْ يَکُنْ شَيْئٌ إِلَّا يُطْفِئُ عَلَی إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام إِلَّا هَذِهِ الدَّابَّةُ فَأَمَرَنَا بِقَتْلِهَا وَنَهَی عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ إِلَّا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ وَيُسْقِطَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَائِ

      ابوبکربن اسحاق ، ابراہیم بن محمد بن عرعرہ، معاذ بن ہشام، وہ اپنے والد سے، قتادہ، سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں ایک خاتون حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ایک کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی۔ عائشہ صدیقہ (رض) نے اس سے دریافت کیا یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ یہ چھپکلی کو مارنے کے واسطے ہے کیونکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ابراہیم علیہ السلام کے واسطے جلائی جانے والی آگ کو اس کے علاوہ تمام جانور بجھا رہے تھے۔ اس وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہم کو اس کو قتل کرنے کا حکم فرمایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے سفید سانپ کو مار ڈالنے سے منع فرمایا لیکن اگر سانپ دو نشان والا یا دم کٹا ہوا ہو تو ان کو مارنے کا حکم فرمایا کیونکہ یہ دونوں (آنکھوں کی) روشنی کو ضائع کرتے ہیں۔

      اس کی سند میں ابراہیم بن محمد بن عرعرہ ہے جو خیال نہیں رکھتا تھا کس سے روایت لے رہا ہے
      قال محمد بن عبيد الله: كنت عند أحمد بن حنبل، فقيل له: إن ابن عرعرة يحدث فقال: أف! لا يبالون عمن كتبوا
      وروى الأثرم، عن أحمد أنّه غمز ابن عرعرة.
      امام احمد نے اس کی حیثیت کو کم کیا

      —-
      یعنی اس حدیث کا مدار صرف ایک شخص عَبْدِ الحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ پر ہے
      میرے نزدیک یہ متن شاذ ہے
      ثقہ کی منکر روایت ہے
      =============
      نوٹ

      کہا جاتا ہے کہ ارسطو
      Aristotle
      نے یہ اپنی کسی کتاب میں دعوی کیا کہ ایک مخصوص گرگٹ
      Salamandar
      اگ میں نہیں جلتا
      یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ اس گرگٹ کا نام فارسی سے نکلا ہے جس میں اس کا مطلب ہے جو اگ سے نکلا ہو
      اور انگلش میں اس کو
      Fire Salamandar
      کہا جاتا ہے

      تلمود میں میں نے پڑھا ہے کہ اگر کسی کو اگ میں بھینکا جائے اور وہ جسم پر اس گرگٹ کا خون لیپ لے تو وہ جلے گا نہیں
      http://www.talmudology.com/jeremybrownmdgmailcom/2017/9/10/sanhedrin-63a-the-fireproof-salamnder

      اغلبا یہ کوئی اسرائیلآیات کی خبر تھی تلمود کا قصہ تھی
      و الله اعلم

      • وجاہت says:

        دو اسناد یہ بھی ہیں

        سنن أبي داؤد: كِتَابُ السَّلَامِ (بَابٌ فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ)
        حکم : صحیح سنن ابو داؤد: کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب (باب: سانپوں کو مارنے کا بیان)

        حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا

        سیدنا عامر بن سعد اپنے والد سیدنا سعد بن ابووقاص ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چھپکلی ( اور گرگٹ ) کو قتل کر دینے کا حکم دیا ہے اور اسے چھوٹا فاسق بتایا ۔ “ ( مضرت رساں اور نقصان دہ جانور ) ۔

        —–

        صحیح مسلم

        حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا»

        عامر بن سعد نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے چھپکلی کو مار دینے کا حکم دیا اور اس کا نام چھوٹی فاسق رکھا ۔

        • Islamic-Belief says:

          یہ روایت صحیح ہے – میں نے جو کلام کیا ہے وہ اس روایت پر ہے جس میں ہے کہ ابراہیم پر گرگٹ اگ پھونک رہا تھا

          • وجاہت says:

            سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 743 حدیث مرفوع مکررات 16 متفق علیہ 8

            أَخْبَرَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَی عَائِشَةَ وَبِيَدِهَا عُکَّازٌ فَقَالَتْ مَا هَذَا فَقَالَتْ لِهَذِهِ الْوَزَغِ لِأَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّهُ لَمْ يَکُنْ شَيْئٌ إِلَّا يُطْفِئُ عَلَی إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام إِلَّا هَذِهِ الدَّابَّةُ فَأَمَرَنَا بِقَتْلِهَا وَنَهَی عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ إِلَّا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ وَيُسْقِطَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَائِ

            ابوبکربن اسحاق ، ابراہیم بن محمد بن عرعرہ، معاذ بن ہشام، وہ اپنے والد سے، قتادہ، سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں ایک خاتون حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ایک کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی۔ عائشہ صدیقہ (رض) نے اس سے دریافت کیا یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ یہ چھپکلی کو مارنے کے واسطے ہے کیونکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ابراہیم علیہ السلام کے واسطے جلائی جانے والی آگ کو اس کے علاوہ تمام جانور بجھا رہے تھے۔ اس وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہم کو اس کو قتل کرنے کا حکم فرمایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے سفید سانپ کو مار ڈالنے سے منع فرمایا لیکن اگر سانپ دو نشان والا یا دم کٹا ہوا ہو تو ان کو مارنے کا حکم فرمایا کیونکہ یہ دونوں (آنکھوں کی) روشنی کو ضائع کرتے ہیں۔

          • Islamic-Belief says:

            http://www.islamic-belief.net/q-a/#comment-12234

            اس میں اس کو شامل کر دیا ہے

  83. Aysha butt says:

    Ik sahib ik waqia bta rhy khazrat umr o abbas ne apas mn ehad kia k jo phle foat hoa wo dosre ko khuwab mn ah k kabr khaalat bataiye ga .. Or phir umr in k kuwab mn ae or halaatbayn kiye
    Isit true

  84. anum shoukat says:

    Sahih Bukhari Hadees # 3679

    حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمَاجِشُونِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ “”رَأَيْتُنِي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَيْصَاءِ امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ وَسَمِعْتُ خَشَفَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا بِلَالٌ وَرَأَيْتُ قَصْرًا بِفِنَائِهِ جَارِيَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لِمَنْ هَذَا؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِعُمَرَ:‏‏‏‏ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهُ فَأَنْظُرَ إِلَيْهِ فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَيْكَ أَغَارُ””.

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ( خواب میں ) جنت میں داخل ہوا تو وہاں میں نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی بیوی رمیصاء کو دیکھا اور میں نے قدموں کی آواز سنی تو میں نے پوچھا یہ کون صاحب ہیں؟ بتایا گیا کہ یہ بلال رضی اللہ عنہ ہیں اور میں نے ایک محل دیکھا اس کے سامنے ایک عورت تھی، میں نے پوچھا یہ کس کا محل ہے؟ تو بتایا کہ یہ عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ میرے دل میں آیا کہ اندر داخل ہو کر اسے دیکھوں، لیکن مجھے عمر کی غیرت یاد آئی ( اور اس لیے اندر داخل نہیں ہوا ) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یا رسول اللہ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا۔
    یہ واقعہ برزخ کا ہے یا قیامت کے بعد کا ہے؟

    • Islamic-Belief says:

      یہ اغلبا رسول الله کا خواب ہے کیونکہ ام سلیم رضی الله عنہا سے ملاقات مدینہ میں ہوئی – کسی حدیث میں نہیں کہ یہ معراج کا واقعہ ہے
      متن سے مجھے لگتا ہے کہ یہ برزخ کا معاملہ ہے کہ بعد وفات بلال جنت میں جائیں گے

      الرميصاء، یا أو الغميصاء کا لقب أم سليم تھا یہ انس رضی الله عنہ کی والدہ تھیں اور أبي طلحة کی بیوی تھیں
      نبی صلی الله علیہ وسلم ان کو پردے کے حکم سے پہلے دیکھ چکے تھے
      ان کی وفات خلافت عثمان میں ہوئی

  85. Aysha butt says:

    Surah haj ayat 73 mn ae logo se murad mushirekken hai.. Actual mn yeh ayt ka shane nuzool bta dein

    • Islamic-Belief says:

      يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَـهٝ ۚ اِنَّ الَّـذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ لَنْ يَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَـهٝ ۖ وَاِنْ يَّسْلُبْـهُـمُ الـذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ (73)
      اے لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے کان لگا کر سنو، جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ وہ سب اس کے لیے جمع ہوجائیں، اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین لے تو اسے مکھی سے چھڑا نہیں سکتے، عابد اور معبود دونوں ہی عاجز ہیں۔
      —–

      یہ آیات مشرکین کے حوالے سے ہیں
      میرے علم کے مطابق شان نزول میں مفسرین نے کوئی واقعہ نقل نہیں کیا

      • Aysha butt says:

        Eska mutlb ya ayohan naas se murad ik qoam k sab log b ho sakty bai or saari insaniat b
        Yeh sorat toh madni hai . Or is ayat se phli ayat mn kufaar ka zikr hai or kufaar toh ahlekittab ko b kha jata hai
        .. Kafir mutlb yani haq chupane wala
        Or esko ahlekitab se mansob kia jata hai .quran mn bas taslees walo ko musrik kha gya hai baki ahle kitab se shadi or unka zabeha b khaane ko kha gya hai.. To yeh kafir kya waseela lety the
        Islie inko kafir kha gya. Ajkal b churches mn Esa a.s ki sHDabeh hai toh wo kon hoe mushrik ya kafir
        Agr yeh ayt mushrikeen ki hai to phir log is ko qabr parsto pr q fit krty hai
        Bta dein

        • Islamic-Belief says:

          اہل کتاب نصرانی کفر کرتے ہیں جب تثلیث کا عقیدہ لیتے ہیں – آجکل کے یہودی عزیر کے ابن الله ہونے کا عقیدہ نہیں رکھتے لیکن رسول الله کو نبی بھی نہیں مانتے اس طرح یہودی توحید میں تو نصرانی سے بہتر ہیں لیکن عقیدہ نبوت میں صحیح نہیں ہیں

          ان دونوں کی عورتوں سے نکاح کی الله نے اجازت دی اور ان کا کھانا کھانا بھی حلال کیا
          ——-
          سورہ حج کی آیت مشرکین بت پرستوں کے سلسلے میں آئی ہے اور اس کو عیسیٰ کے بت پر بھی لگایا جا سکتا ہے اس بنا پر اس آیت کا اطلاق مسلمان قبر پرستوں پر کرنا قیاس سے اخذ کردہ ہے جس کی دین میں اجازت ہے

          • Aysha butt says:

            Es ka mutlb ab christianbibne Allah nahi khty hazrat esa a.s …tasless walo ko Allah ne mushrik kha hai quran mn … Jab k qabr prast khty hai hum ibnullah nai khty phir khalistan mushrikeen pr utrny wali ayat ko inpr qqayas kiya jata hai
            Yeh qayas sab se phle kis ne kiya

          • Islamic-Belief says:

            نصرانی عیسیٰ کو ابن الله کہتے ہیں- اپ نے کہاں سے نکالا کہ نہیں کہتے
            ⇓ نصرانی عقیدہ کیا ہے ؟
            http://www.islamic-belief.net/q-a/متفرق-٤/

            یہ سوال پہلے بھی اپ نے کیا تھا
            ——–

            قبر پرست کا مطلب ہے قبر کا پجاری – یعنی جو صاحب قبر ہے اس سے مدد مانگنے والا اس کو وسیلہ سمجھنے والا

            یہ قیاس سب سے پہلے ان علماء نے کیا تو تصوف کے خلاف تھے جن میں ابن تیمیہ وغیرہ ہیں

          • Aysha butt says:

            Kal ik deobndi alim ko suna us ne kha k jo qurbani buzurg k taqarub ki niyyat se krty hai wo jaiz nai lekin jo qurbani buzurgon k esal e sawab k lie hoti hai wo theak hai

          • Islamic-Belief says:

            یہ فراڈ ہے یعنی دیوبندی کے بقول وہ بدعت کر رہا ہے اور بریلوی شرک جبکہ دونوں نیاز کھا رہے ہیں
            میری سمجھ سے باہر ہے

            اس کا لنک دیں

  86. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے – کیا یہ حدیث صحیح ہے

    حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سُئِلَ عَنْ فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ، فَقَالَ: «أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوهُ، وَكُلُوا سَمْنَكُمْ»

    240 . حضرت میمونہ ؓا سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ سے ایک چوہیا کے متعلق پوچھا گیا جو گھی میں گر گئی تھی؟ آپ نے فرمایا: “اسے نکال دو اور اس کے قریب جس قدر گھی ہو اسے بھی پھینک دو، پھر اپنا باقی گھی استعمال کر لو۔”

    صحیح بخاری

    • Islamic-Belief says:

      حدیث صحیح ہے

      اس روایت میں گھی کی حالت کا ذکر نہیں ہے کہ جما ہوا ہے یا مائع ہے
      میرے نزدیک متن معلوم ہوتا ہے جمے ہوئے گھی سے متعلق ہے
      و الله اعلم

  87. Aysha butt says:

    حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضور ﷺ کی امامت میں نماز پڑھتے ہوئے توڑ کر گھر چلے گئے، وہ وقت جب تین جلیل القدر فرشتے جبرائیلؑ، میکائیلؑ اور اسرافیلؑ کو بیک وقت حرکت میں آنا پڑ گیا، ایما ن افروز واقعہ

    ایک دن حضور اکرم ﷺ نے نماز عصر پڑھائی تو پہلا رکوع اتنا طویل فرمایا کہ گمان ہوا کہ شاید رکوع سے سر نہ اٹھائیں گے ۔پھر جب آپ ﷺنے رکوع سے سر اٹھالیا ۔نماز ادا فرما لینے کے بعد آپ ﷺ نے اپنا رُخِ اَنور محراب سے ایک جانب پھیر کر فرمایا کہ میرا بھائی اور چچا زاد علی بن ابو طالب کہاں ہے ؟حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آخری صفوں سے عرض کیالبیک ! میں حاضر ہوں یارسول اللہﷺ ۔۔۔! آپ ﷺنے فرمایااے ابو الحسن ! میرے قریب آجاؤ چنانچہ حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہآپ ﷺ کے قریب آکر بیٹھ گئے۔آپ ﷺ نے فرمایا ابو الحسن ! کیا تم نے اگلی صف کے وہ فضائل نہیں سنے جو اللہ عزوجل نے مجھے بیان فرمائے ہیں ؟ عرض کیا:کیوں نہیں، یارسول اللہ ﷺ ۔۔۔ارشاد فرمایاپھر کس چیز نے تمہیں پہلی صف اور تکبیر اولیٰ سے دور کردیا ،کیا حسن اور حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کی محبت نے تمہیں مشغول کردیا تھا ؟ عرض کیان کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت میں کیسے رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا پھر کس چیز نے تمہیں روکے رکھا ؟عرض کیا کہ جب حضرتِ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان دی تھی میں اس وقت مسجد ہی میں تھا اور دو رکعتیں ا دا کی تھیں پھر جب حضرتِ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اقامت کہی تو میں آپ ﷺ کے ساتھ تکبیرِ اُولیٰ میں شامل ہوا ۔پھر مجھے وضو میں شبہ ہوا تو میں مسجد سے نکل کر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر چلا گیا اور جا کر حسن و حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہما )کو پکارا مگر کسی نے میری پکار کا جواب نہ دیا تو میری حالت اس عورت کی طرح ہوگئی جس کا بچہ گم ہوجاتا ہے یا ہانڈی میں ابلنے والے دانے جیسی ہوگئی ۔میں پانی تلاش کررہا تھا کہ مجھے اپنے دائیں جانب ایک آواز سنائی دی اور سبز رومال سے ڈھکا ہوا سونے کا پیالہ میرے سامنے آگیا۔میں نے رومال ہٹایا تو اس میں دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور مکھن سے زیادہ نرم پانی موجود تھا۔ میں نے نماز کے لئے وضوکیا پھر رومال سے تری صاف کی اور پیالے کو ڈھانپ دیا ۔پھرمیں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیانہ ہی مجھے یہ معلوم ہوسکا کہ پیالہ کس نے رکھا اور کس نے اٹھایا ؟آپ ﷺ نے غیب کی خبر دیتے ہوئے مسکرا کر ارشادفرمایا:مرحبا! مرحبا! اے ابو الحسن !کیا تم جانتے ہو تمہیں پانی کا پیالہ اور رومال کس نے دیا تھا؟ عرض کی اللہ اور اس کے رسول عزوجل و ﷺ بہتر جانتے ہیں ارشاد فرمایا: پیالہ تمہارے پاس جبرئیلِ امین علیہ السلام لے کر آئے اور اس میں حظیرۃ القدس کا پانی تھااوررومال تمہیں حضرتِ میکائیل علیہ السلام نے دیا تھا ،حضرتِ اسرافیل علیہ السلام نے مجھے رکوع سے سر اٹھانے سے روکے رکھایہاں تک کہ تم اس رکعت میں آکر مل گئے، اے ابو الحسن ! جو تم سے محبت کریگا اللہ عزوجل اس سے محبت کریگا اور جو تم سے بغض رکھے گا اللہ عزوجل اسے ہلاک کردے گا ۔(آنسوؤں کا دریا ، ص:220 ، مدینہ لائبریری ،
    Waqia sahih hai

  88. anum shoukat says:

    اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ”.
    کیا وتر میں یہ دعا پڑھنا نہیں چاہیے؟

    • Islamic-Belief says:

      روایات میں جب قنوت کا لفظ اتا ہے تو اس کے معنی نماز وتر ہمیشہ نہیں ہوتی بلکہ یہ قنوت نازلہ کی بات ہو سکتی ہے

      یہ دعا قنوت نازلہ میں پڑھی جائے گی عام نوافل والے وتر میں اس کو پڑھنے کی دلیل نہیں ملی

      ⇑ کون سی دعا قنوت وتر میں پڑھی جائے ؟
      http://www.islamic-belief.net/q-a/عبادت/

  89. anum shoukat says:

    Sahih Bukhari Hadees # 5016

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ “”كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا””.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑتے تو معوذات کی سورتیں پڑھ کر اسے اپنے اوپر دم کرتے ( اس طرح کہ ہوا کے ساتھ کچھ تھوک بھی نکلتا ) پھر جب ( مرض الموت میں ) آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے برکت کی امید میں آپ کے جسد مبارک پر پھیرتی تھی۔

    بخار میں ہو یا جادو کسی نے کیا ہو یا نظر لگی ہو تو، معوذات پڑھ سکتے ہیں یا پھر معوذتین صرف پڑھنی چاہیے اور یہ ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ دم میں ہوا کے ساتھ پانی کا نکالنا صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کیلئے خاص تھا؟

    میرا گمان ہے آپ نے سوال کاٹ دیا ہے اگر کہیں اور جگہ منتقل کیا ہے تو پلیز دو دن بعد کیا کرے اور جگہ سے مجھے نہیں پتہ کہ آپ نے کہاں سیو کیا ہے دوسری بات آپ نے معوذتین کا کہا تھا کہ وہ پڑھ سکتے ہیں جبکہ حدیث میں معوزات یعنی سورت اخلاص بھی پڑھنا بھی دم میں ہے

    • Islamic-Belief says:

      اول
      اس حدیث کا مفہوم بدلنے کی کوشش کی گئی ہے

      رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑتے تو معوذات کی سورتیں پڑھ کر اسے اپنے اوپر دم کرتے ( اس طرح کہ ہوا کے ساتھ کچھ تھوک بھی نکلتا ) پھر جب ( مرض الموت میں ) آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے برکت کی امید میں آپ کے جسد مبارک پر پھیرتی تھی۔

      یہ الفاظ متن میں نہیں ہیں
      اس طرح کہ ہوا کے ساتھ کچھ تھوک بھی نکلتا
      لیکن مترجم اس کو لعاب دھن سے ملا رہا ہے جو معجزہ تھا
      ———–

      بالمعوذات سے مراد الفلق والناس. ہے لیکن لوگوں نے اپنی طرف سے اس میں اخلاص کو ملا دیا ہے جبکہ اس میں تعوذ سرے سے ہے ہی نہیں
      ان کے نزدیک اس کی دلیل صحیح بخاری کی ایک اور حدیث ہے
      حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، نَفَثَ فِي كَفَّيْهِ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَبِالْمُعَوِّذَتَيْنِ جَمِيعًا، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ، وَمَا بَلَغَتْ يَدَاهُ مِنْ جَسَدِهِ» قَالَتْ عَائِشَةُ: «فَلَمَّا اشْتَكَى كَانَ يَأْمُرُنِي أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ بِهِ» قَالَ يُونُسُ: كُنْتُ أَرَى ابْنَ شِهَابٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ إِذَا أَتَى إِلَى فِرَاشِهِ

      وہ ہتھیلی پر پھونک مارتے قل ھو الله احد اور مُعَوِّذَتَيْنِ پڑھ کر

      مزید اسناد ہیں
      حَدَّثَنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا المُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: ” أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا فَقَرَأَ فِيهِمَا: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ، يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ” , (خ) 5017

      – حَدَّثَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ نَفَثَ فِي يَدَيْهِ، وَقَرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَمَسَحَ بِهِمَا جَسَدَهُ» , (خ) 6319

      – حَدَّثَنا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، نَفَثَ فِي كَفَّيْهِ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَبِالْمُعَوِّذَتَيْنِ جَمِيعًا، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ، وَمَا بَلَغَتْ يَدَاهُ مِنْ جَسَدِهِ» قَالَتْ عَائِشَةُ: «فَلَمَّا اشْتَكَى كَانَ يَأْمُرُنِي أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ بِهِ» قَالَ يُونُسُ: كُنْتُ أَرَى ابْنَ شِهَابٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ إِذَا أَتَى إِلَى فِرَاشِهِ , (خ) 5748

      – حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا المُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: ” أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ، جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا، فَقَرَأَ فِيهِمَا: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ، يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ، وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ “: “هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ” , (ت) 3402 [قال الألباني]: صحيح

      – حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، – يَعْنِيَانِ ابْنَ فَضَالَةَ – عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: ” أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا، وَقَرَأَ فِيهِمَا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ: يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ، يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ” , (د) 5056 [قال الألباني]: صحيح

      – حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ قَالَا: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ، “أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ نَفَثَ فِي يَدَيْهِ، وَقَرَأَ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ وَمَسَحَ بِهِمَا جَسَدَهُ” , (جة) 3875 [قال الألباني]: صحيح

      – حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ الْأَيْلِيُّ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، ” أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَى إِلَى فِرَاشِهِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا، وَقَرَأَ فِيهِمَا: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، ثُمَّ مَسْحَ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ، يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ، يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ” (حم) 24853

      – حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: ” كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ النَّوْمَ جَمَعَ يَدَيْهِ، فَيَنْفُثُ فِيهِمَا، ثُمَّ يَقْرَأُ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ وَسَائِرَ جَسَدِهِ، قَالَ عُقَيْلٌ: وَرَأَيْتُ ابْنَ شِهَابٍ يَفْعَلُ ذَلِك. (حم) 25208

      – أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَقِيلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: “كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ النَّوْمَ جَمَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا، ثُمَّ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ وَسَائِرَ جَسَدِهِ” قَالَ عَقِيلٌ: وَرَأَيْتُ ابْنَ شِهَابٍ يَفْعَلُ ذَلِكَ (رقم طبعة با وزير: 5518) , (حب) 5543 [قال الألباني]: صحيح – “الصحيحة” (3104): خ.

      – أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ “أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا، وَقَرَأَ فِيهِمَا بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، ثُمَّ يَسْمَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ، يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ” (رقم طبعة با وزير: 5519) , (حب) 5544 [قال الألباني]: صحيح: خ – انظر ما قبله.
      ———-
      ان میں سورہ اخلاص پڑھنے کا بھی ذکر ہے

      بعض اوقات انہی راویوں نے صرف مُعَوِّذَتَيْنِ پڑھنے کا بھی ذکر کیا ہے
      حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ قَالَا: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ نَفَثَ فِي يَدَيْهِ، وَقَرَأَ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ وَمَسَحَ بِهِمَا جَسَدَهُ»
      سنن ابن ماجه

      حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ نَفَثَ فِي يَدَيْهِ، وَقَرَأَ فِيهِمَا بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا جَسَدَهُ»
      مصنف ابن ابی شیبہ

      یہ غلطی ہے جو عقيل بن خالد بن عقيل الأيلى أبو خالد الأموى اور يُوْنُسُ بنُ يَزِيْدَ نے کی ہے

      وقال عبد الله: حدثني أبي. قال: ذكرنا عد يحيى بن سعيد حديثًا من حديث عقيل، فقال لي يحيى: يا أبا عبد الله عقيل، وإبراهيم بن سعد!! عقيل، وإبراهيم بن سعد!! كأنه يضعفهما، قال أبي: وأي شيء ينفعه من ذا، هؤلاء ثقات لم يخبرهما يحيى. «العلل» (282 و2475 و3422) .

      يحيى بن سعيد کے نزدیک عقيل بن خالد بن عقيل ضعیف ہے

      وقال المروذي: قال سئل (يعني أبا عبد الله أحمد بن حنبل) عن عقيل، ويونس، فقال: عقيل، وذاك أن يونس ربما رفع الشيء من رأي الزهري، يصيره عن ابن المسيب، وقال: قد روى يونس، عن عقيل. «سؤلاته» (44)
      يُوْنُسُ بنُ يَزِيْدَ بعض اوقات امام زہری کی رائے کو ابن مسیب سے بیان کر دیتے تھے

      اور

      قال الاثرم: ضعف أحمد أمر يونس
      احمد : یونس کے امر کو ضعیف کہتے

      ابن سعد کا کہنا ہے ابن سعد في قوله: ليس بحجة
      یہ ناقابل حجت راوی ہے

      وقال الميموني: سئل أحمد: من أثبت الناس في الزهري؟ قال: معمر. قيل فيونس؟ قال: روى أحاديث منكرة.
      الميموني نے احمد سے سوال کیا زہری کے لئے کون سب سے ثابت ہے ؟ کہا معمر – پوچھا یونس؟ کہا یہ منکر احادیث بیان کرتا ہے

      یعنی باوجود یہ کہ یونس اور عقیل کو محدثین نے ثقہ بھی کہا ہے ان سے احادیث میں غلطی ہوئی ہے اور بعض نے ان کو نا قابل حجت قرار دیا ہے
      ———–
      میرے نزدیک قل ھو الله احد کو معوذتین سے ملانے میں ان دو کا تفرد ہے اور ان علتوں کی بنا پر میرے نزدیک اس روایت کے متن میں غلطی ہوئی ہے – یہ صحیح نہیں معلول ہے

      صحیح یہ ہے کہ صرف معوذتین پڑھی جاتی تھیں اس سے دم کیا گیا اس پر کثرت سے احادیث ہیں

  90. وجاہت says:

    ورقہ بن نوفل کون تھے – اور کیا یہ انجیل کو عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے

    کیا یہ صحیح ہے یا نہیں

    • Islamic-Belief says:

      وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ رَاشِدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ إنجيل کو عربی میں لکھتے تھے
      فَكَتَبَ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنَ الْإِنْجِيلِ مَا شَاءَ اللَّهُ

      • وجاہت says:

        احادیث میں مختلف آیا ہے

        صحیح بخاری

        وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی ابْنَ عَمِّ خَدِيجَةَ وَکَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَکَانَ يَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعِبْرَانِيَّ فَيَکْتُبُ مِنْ الْإِنْجِيلِ بِالْعِبْرَانِيَّةِ مَا شَائَ اللَّهُ

        صحیح بخاری

        وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ وَکَانَ رَجُلًا تَنَصَّرَ يَقْرَأُ الْإِنْجِيلَ بِالْعَرَبِيَّةِ

        صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں ہے کہ

        وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا وَکَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَکَانَ يَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعَرَبِيَّ وَيَکْتُبُ مِنْ الْإِنْجِيلِ بِالْعَرَبِيَّةِ مَا شَائَ اللَّهُ

        مشکوۃ شریف

        ” ورقہ بن نوفل ” حضرت خدیجہ (رض) کے حقیقی چچا زاد بھائی تھے ، کیونکہ وہ خالد ابن اسد ابن عبدالعزی کی بیٹی تھی اور ورقہ ، نوفل ابن عبد العزی کے بیٹے تھے ، ورقہ اگرچہ مشرکین مکہ ہی سے نسبی تعلق رکھتے تھے لیکن انہوں نے زمانہ جاہلیت میں نصرانیت (عیسائی مذہب ) اختیار کرلیا تھا ، پھر انہوں نے انجیل پر بڑا عبور حاصل کیا اور عربی میں اس کا ترجمہ کیا

        مسند احمد

        ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں ، انہوں نے عیسائیت قبول کرلی تھی اور بہت بوڑھے اور نابینا ہو چکے تھے اور عربی زبان میں انجیل پڑھ چکے تھے،

        مسند احمد

        ورقہ نے دور جاہلیت میں عیسائی مذہب اختیار کر لیا تھا اور انجیل کا ( سریانی زبان سے) عبرانی میں ترجمہ کر کے لکھا کرتے تھے

        =====

        صحیح بات کون سی ہے

        • Islamic-Belief says:

          تمام صحیح احادیث میں ہے ورقه نصرانی تھے میرے نزدیک یہ صحیح قول ہے
          ————-

          اپ نے لکھا ہے

          ” ورقہ بن نوفل ” حضرت خدیجہ (رض) کے حقیقی چچا زاد بھائی تھے ، کیونکہ وہ خالد ابن اسد ابن عبدالعزی کی بیٹی تھی اور ورقہ ، نوفل ابن عبد العزی کے بیٹے تھے ، ورقہ اگرچہ مشرکین مکہ ہی سے نسبی تعلق رکھتے تھے لیکن انہوں نے زمانہ جاہلیت میں نصرانیت (عیسائی مذہب ) اختیار کرلیا تھا ، پھر انہوں نے انجیل پر بڑا عبور حاصل کیا اور عربی میں اس کا ترجمہ کیا

          یہ منفرد قول ہے کہ مشرک تھے
          اس کا مصدر کیا ہے؟

          • وجاہت says:

            مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 423 مکررات 0 متفق علیہ 0

            وعن عائشة رضي الله عنها قالت : أول ما بدئ به رسول الله صلى الله عليه و سلم من الوحي الرؤيا الصادقة في النوم فكان لا يرى رؤيا إلا جاءت مثل فلق الصبح ثم حبب إليه الخلاء وكان يخلو بغار حراء فيتحنث فيه – وهو التعبد الليالي ذوات العدد – قبل أن ينزع إلى أهله ويتزود لذلك ثم يرجع إلى خديجة فيتزود لمثلها حتى جاءه الحق وهو في غار حراء فجاءه الملك فقال : اقرأ . فقال : ” ما أنا بقارئ ” . قال : ” فأخذني فغطني حتى بلغ مني الجهد ثم أرسلني فقال : اقرأ . فقلت : ما أنا بقارئ فأخذني فغطني الثانية حتى بلغ مني الجهد ثم أرسلني فقال : اقرأ . فقلت : ما أنا بقارئ . فأخذني فغطني الثالثة حتى بلغ مني الجهد ثم أرسلني فقال : [ اقرا باسم ربك الذي خلق . خلق الإنسان من علق . اقرأ وربك الأكرم . الذي علم بالقلم . علم الإنسان ما لم يعلم ] ” . فرجع بها رسول الله صلى الله عليه و سلم يرجف فؤاده فدخل على خديجة فقال : ” زملوني زملوني ” فزملوه حتى ذهب عنه الروع فقال لخديجة وأخبرها الخبر : ” لقد خشيت على نفسي ” فقالت خديجة : كلا والله لا يخزيك الله أبدا إنك لتصل الرحم وتصدق الحديث وتحمل الكل وتكسب المعدوم وتقري الضيف وتعين على نوائب الحق ثم انطلقت به خديجة إلى ورقة بن نوفل ابن عم خديجة . فقالت له : يا ابن عم اسمع من ابن أخيك . فقال له ورقة : يا ابن أخي ما ذا ترى ؟ فأخبره رسول الله صلى الله عليه و سلم خبر ما رأى . فقال ورقة : هذا هو الناموس الذي أنزل الله على موسى يا ليتني فيها جذعا يا ليتني أكون حيا إذ يخرجك قومك . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ” أو مخرجي هم ؟ ” قال : نعم لم يأت رجل قط بمثل ما جئت به إلا عودي وإن يدركني يومك أنصرك نصرا مؤزرا . ثم لم ينشب ورقة أن توفي وفتر الوحي . متفق عليه وزاد البخاري : حتى حزن النبي صلى الله عليه و سلم – فيما بلغنا – حزنا غدا منه مرارا كي يتردى من رؤوس شواهق الجبل فكلما أوفى بذروة جبل لكي يلقي نفسه منه تبدى له جبريل فقال : يا محمد إنك رسول الله حقا . فيسكن لذلك جأشه وتقر نفسه

          • Islamic-Belief says:

            اس روایت میں کہیں نہیں لکھا کہ ورقه مشرک تھے

  91. وجاہت says:

    زبرزیرکوبعدمیں داخل کیا گیا ہے یا یہ قران میں پہلے ہی سے موجود تھے

  92. وجاہت says:

    کیا یہ حدیث صحیح ہے – کیا صحابہ کسی مصلحت کے تحت حضور صلی اللہ وسلم کی شان میں گستاخی کر سکتے ہیں – کبھی نہیں – حضرت علی رضی الله نے تو صلح حدبیہ کے موقعہ پر محمد رسول الله کو کاٹ کر محمد بن عبدالله لکھنے سے انکار کیا تھا – لیکن یہاں صحابہ پر کچھ اور تھوپا جا رہا ہے – پلیز اس حدیث کی تحقیق کر دیں

    کیا یہ ان صحابہ پر بہتان نہیں

    صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1262 حدیث مرفوع مکررات 6 متفق علیہ 5

    حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لِکَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَی اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأْذَنْ لِي أَنْ أَقُولَ شَيْئًا قَالَ قُلْ فَأَتَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ سَأَلَنَا صَدَقَةً وَإِنَّهُ قَدْ عَنَّانَا وَإِنِّي قَدْ أَتَيْتُکَ أَسْتَسْلِفُکَ قَالَ وَأَيْضًا وَاللَّهِ لَتَمَلُّنَّهُ قَالَ إِنَّا قَدْ اتَّبَعْنَاهُ فَلَا نُحِبُّ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّی نَنْظُرَ إِلَی أَيِّ شَيْئٍ يَصِيرُ شَأْنُهُ وَقَدْ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ و حَدَّثَنَا عَمْرٌو غَيْرَ مَرَّةٍ فَلَمْ يَذْکُرْ وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ أَوْ فَقُلْتُ لَهُ فِيهِ وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ فَقَالَ أُرَی فِيهِ وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ فَقَالَ نَعَمِ ارْهَنُونِي قَالُوا أَيَّ شَيْئٍ تُرِيدُ قَالَ ارْهَنُونِي نِسَائَکُمْ قَالُوا کَيْفَ نَرْهَنُکَ نِسَائَنَا وَأَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ قَالَ فَارْهَنُونِي أَبْنَائَکُمْ قَالُوا کَيْفَ نَرْهَنُکَ أَبْنَائَنَا فَيُسَبُّ أَحَدُهُمْ فَيُقَالُ رُهِنَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ هَذَا عَارٌ عَلَيْنَا وَلَکِنَّا نَرْهَنُکَ اللَّأْمَةَ قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي السِّلَاحَ فَوَاعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ فَجَائَهُ لَيْلًا وَمَعَهُ أَبُو نَائِلَةَ وَهُوَ أَخُو کَعْبٍ مِنْ الرَّضَاعَةِ فَدَعَاهُمْ إِلَی الْحِصْنِ فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ أَيْنَ تَخْرُجُ هَذِهِ السَّاعَةَ فَقَالَ إِنَّمَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَأَخِي أَبُو نَائِلَةَ وَقَالَ غَيْرُ عَمْرٍو قَالَتْ أَسْمَعُ صَوْتًا کَأَنَّهُ يَقْطُرُ مِنْهُ الدَّمُ قَالَ إِنَّمَا هُوَ أَخِي مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَرَضِيعِي أَبُو نَائِلَةَ إِنَّ الْکَرِيمَ لَوْ دُعِيَ إِلَی طَعْنَةٍ بِلَيْلٍ لَأَجَابَ قَالَ وَيُدْخِلُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ مَعَهُ رَجُلَيْنِ قِيلَ لِسُفْيَانَ سَمَّاهُمْ عَمْرٌو قَالَ سَمَّی بَعْضَهُمْ قَالَ عَمْرٌو جَائَ مَعَهُ بِرَجُلَيْنِ وَقَالَ غَيْرُ عَمْرٍو أَبُو عَبْسِ بْنُ جَبْرٍ وَالْحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ عَمْرٌو جَائَ مَعَهُ بِرَجُلَيْنِ فَقَالَ إِذَا مَا جَائَ فَإِنِّي قَائِلٌ بِشَعَرِهِ فَأَشَمُّهُ فَإِذَا رَأَيْتُمُونِي اسْتَمْکَنْتُ مِنْ رَأْسِهِ فَدُونَکُمْ فَاضْرِبُوهُ وَقَالَ مَرَّةً ثُمَّ أُشِمُّکُمْ فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ مُتَوَشِّحًا وَهُوَ يَنْفَحُ مِنْهُ رِيحُ الطِّيبِ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ کَالْيَوْمِ رِيحًا أَيْ أَطْيَبَ وَقَالَ غَيْرُ عَمْرٍو قَالَ عِنْدِي أَعْطَرُ نِسَائِ الْعَرَبِ وَأَکْمَلُ الْعَرَبِ قَالَ عَمْرٌو فَقَالَ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَشُمَّ رَأْسَکَ قَالَ نَعَمْ فَشَمَّهُ ثُمَّ أَشَمَّ أَصْحَابَهُ ثُمَّ قَالَ أَتَأْذَنُ لِي قَالَ نَعَمْ فَلَمَّا اسْتَمْکَنَ مِنْهُ قَالَ دُونَکُمْ فَقَتَلُوهُ ثُمَّ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ

    علی بن عبداللہ، سفیان، عمرو بن دینار سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ سے سنا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے صحابہ کرام سے فرمایا کعب بن اشرف یہودی کا کام کون تمام کرتا ہے اس نے اللہ اور رسول کو بہت ستا رکھا ہے محمد بن مسلمہ انصاری نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ! اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے اجازت دیں تو میں اس کام کو انجام دوں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا اجازت ہے محمد بن مسلمہ نے کہا مجھے یہ بھی اجازت دے دیجئے کہ جو مناسب سمجھوں وہ باتیں اس سے کہوں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اجازت دی غرض محمد بن مسلمہ، کعب بن اشرف کے پاس آئے تو کہا کہ یہ شخص محمد بن عبداللہ ہم سے زکوٰۃ مانگتا ہے ہمارے پاس خود نہیں اور یہ ہم کو ستاتا ہے کعب نے کہا ابھی کیا دیکھا ہے واللہ یہ آگے چل کر تم کو بہت ستائے گا محمد بن مسلمہ نے کہا خیر ابھی تو ہم نے اس کی پیروی کرلی ہے فورا چھوڑنا بھی ٹھیک نہیں دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے اس وقت میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں کہ ایک یا دو وسق کھجوریں ہم کو قرض دے دو سفیان کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے ہم کو کئی مرتبہ حدیث سنائی تو اس میں ایک وسق یا دو وسق کا ذکر نہیں کیا جب میں نے یاد دلایا تو کہنے لگے کہ ہاں میرا خیال ہے کہ ہوگا غرض کعب نے کہا قرض مل جائے گا کچھ رہن رکھ دو میں نے کہا کیا رہن رکھ دوں کعب نے کہا کہ اپنی عورتوں کو رہن رکھ دو، محمد بن مسلمہ نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے ہم عورتوں کو کس طرح رہن کردیں سارے عرب میں تم خوبصورت ہو! اس نے کہا اپنے بیٹے رہن رکھ دو میں نے کہا تمہارے پاس بیٹوں کو کیسے رہن رکھ دیں آئندہ جو ان سے لڑے گا وہ طعنہ دے گا کہ تو ایک یا دو وسق میں رہن رکھا گیا ہے اور اس کو ہم برا سمجھتے ہیں البتہ ہم اپنے ہتھیار رکھ سکتے ہیں سفیان نے لفظ لامہ کی تفسیر سلاح یعنی ہتھیار سے کی ہے محمد بن مسلمہ نے کعب سے دوبارہ ملنے کا وعدہ کیا اور چلے گئے رات کو دوبارہ آئے اور ابونائلہ کو ساتھ لائے جو کعب کا دودھ شریک بھائی تھا کعب نے ان کو قلعہ میں بلا لیا اور پھر ان کے پاس نیچے آنے لگا اس کی بیوی نے کہا اس وقت کہاں جاتے ہو؟ کعب نے کہا یہ محمد بن مسلمہ اور ابونائلہ میرا بھائی ہے جو بلاتے ہیں سفیان کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار کے سوا اور لوگوں نے اس حدیث میں اتنا اور زیادہ کیا ہے کہ کعب کی بیوی نے یہ بھی کہا کہ اس کی آواز سے تو خون کی بو آرہی ہے یا خون ٹپک رہا ہے کعب نے کہا کچھ نہیں میرا بھائی ابونائلہ اور محمد بن مسلمہ ہیں اور شریف آدمی کو تو رات کے وقت بھی اگر نیزہ مارنے کے بلائیں تو جانا چاہئے اور محمد بن مسلمہ اپنے ساتھ دو آدمیوں کو اور لائے تھے سفیان سے پوچھا گیا کہ عمرو نے ان کا نام لیا تھا؟ انہوں نے کہا بعض کا لیا تھا مگر دوسروں نے ابوعبس بن جبر اور حارث بن اوس اور عبادہ بن بشر لیا تھا عمرو نے اتنا ہی کہا محمد بن مسلمہ اپنے ساتھیوں کو کہنے لگے کہ کعب جب آئے گا تو میں اس کے سر کے بال تھام کر سونگھوں گا، جب تم دیکھو کہ میں نے مضبوط تھام لیا ہے تو تم اپنا کام کر ڈالنا غرض کعب چادر اوڑھے ہوئے اترا اس کے جسم سے خوشبو مہک رہی تھی محمد بن مسلمہ نے کہا میں نے آج تک ایسی خوشبو نہیں دیکھی جو ہوا میں بسی ہوئی ہے عمرو کے علاوہ دوسرے راوی کہتے ہیں کہ کعب نے جواب میں کہا کہ اس وقت میرے پاس ایسی عورت ہے جو سب عورتوں سے زیادہ معطر رہتی ہے اور حسن و جمال میں بھی بےنظیر ہے عمرو کہتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ نے پوچھا کیا سر سونگھنے کی اجازت ہے؟ اس نے کہا ہاں محمد بن مسلمہ نے خود بھی سونگھا اور ساتھیوں کو بھی سونگھایا پھر دوبارہ اجازت لے کر سونگھا اور زور سے تھام لیا اور ساتھیوں سے کہا ہاں اس کو لو! انہوں نے فورا کام تمام کردیا اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر قتل کعب کی خوشخبری سنائی۔

    یہ حدیث صحیح مسلم اور سنن ابو داوود میں بھی آئ ہے

    • Islamic-Belief says:

      یہ روایت صحیح مشہور ہے

      تمام مورخین نے اسی طرح کعب بن اشرف کا قتل ذکر کیا ہے – اپ اس کا انکار کریں تو صحیح واقعہ بھی پھر اپ بتائیں کہ کیسے قتل ہوا
      ——-

      اور اس میں جو بیان ہوا وہ سیکوریٹی کا حربہ تھا – الله کے رسول کا انکار نہیں کیا گیا ان کی اجازت کے بعد اس عمل کو حربہ کے طور پر کیا گیا
      اس کو سمجھیں
      ——–
      اپ نے کہا

      کیا صحابہ کسی مصلحت کے تحت حضور صلی اللہ وسلم کی شان میں گستاخی کر سکتے ہیں

      جواب
      میں کہتا ہوں اس روایت میں مصلحت کا ذکر کہاں ہے ؟ اس میں تو خفیہ قتل کی تدبیر کی گئی ہے جو مدینہ کی حفاظت کے لئے بطور حاکم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی کی ہے
      اس کو مصلحت نہیں حکمت کہا جائے گا

  93. anum shoukat says:

    20 : سورة طه 85

    قَالَ فَاِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَکَ مِنۡۢ بَعۡدِکَ وَ اَضَلَّہُمُ السَّامِرِیُّ ﴿۸۵﴾

    ’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’پھر بلاشبہ ہم نے یقیناً تمہارے بعد تمہاری قوم کوآزمائش میں ڈال دیااورسامری نے اُن کو گمراہ کردیا ہے ۔

    20 : سورة طه 79

    وَ اَضَلَّ فِرۡعَوۡنُ قَوۡمَہٗ وَ مَا ہَدٰی ﴿۷۹﴾

    اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیااورصحیح راہ نمائی نہ کی ۔

    6 : سورة الأنعام 74

    وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِہَۃً ۚ اِنِّیۡۤ اَرٰىکَ وَ قَوۡمَکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۷۴﴾

    اورجب ابراہیم نے اپنے باپ آزرسے کہا : ’’کیاتم بتوں کومعبودبناتے ہو؟ بلاشبہ میں تمہیں اور تمہاری قوم کوکُھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں‘‘ ۔

    کیا ان تمام آیات میں تکفیر کی گی ہے یہود کی؟

    • Islamic-Belief says:

      نہیں ان مخصوص آیات میں تمام یہود یا امت موسی کی تکفیر نہیں ہے
      —-

      وَ اَضَلَّ فِرۡعَوۡنُ قَوۡمَہٗ وَ مَا ہَدٰی ﴿۷۹﴾

      اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیااورصحیح راہ نمائی نہ کی ۔
      یہ ال فرعون سے متعلق ہے
      ——–

      وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِہَۃً ۚ اِنِّیۡۤ اَرٰىکَ وَ قَوۡمَکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۷۴﴾

      اورجب ابراہیم نے اپنے باپ آزرسے کہا : ’’کیاتم بتوں کومعبودبناتے ہو؟ بلاشبہ میں تمہیں اور تمہاری قوم کوکُھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں‘‘ ۔

      یہ اہل بابل سے متعلق ہے
      ——–

      قَالَ فَاِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَکَ مِنۡۢ بَعۡدِکَ وَ اَضَلَّہُمُ السَّامِرِیُّ ﴿۸۵﴾

      ’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’پھر بلاشبہ ہم نے یقیناً تمہارے بعد تمہاری قوم کوآزمائش میں ڈال دیااورسامری نے اُن کو گمراہ کردیا ہے ۔

      20 : سورة طه 79

      یہ خروج مصر کے بعد کا واقعہ ہے – اس میں ان کا ذکر ہے جنہوںنے گوسالہ پرستی کی اور بعد میں الله کے حکم سے رشتہ داروں نے ان کا قتل کر دیا
      یہ گروہ معدوم ہوا
      سورہ بقرہ میں ذکر ہے

      وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يَا قَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُـمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْآ اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوٓا اَنْفُسَكُمْ ذٰلِكُمْ خَيْـرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۚ اِنَّهٝ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْـمُ (54)
      اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم بے شک تم نے بچھڑا بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا، سو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کرو پھر اپنے آپ کو قتل کرو، تمہارے لیے تمہارے خالق کے نزدیک یہی بہتر ہے، پھر اس نے تمہاری توبہ قبول کر لی، بے شک وہی بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے۔

      اپنے آپ کو قتل کرو کی تفسیر کی گئی ہے کہ موحد رشتہ دار ان کا قتل کریں جو بت پرستی میں مبتلا ہوئے
      تفسیر طبری میں ہے
      فانجلت الظلمة عنهم وقد أجلوا عن سبعين ألف قتيل
      الله کے حکم سے اندھیرا چھا گیا اور جب اجالا ہوا تو ستر ہزار قتل ہوئے تھے

      یعنی موحدوں کو نظر آ رہا تھا لیکن مشرکوں کو اندھیرا نظر آیا یا بینائی صلب ہوئی اور اس میں وہ قتل ہوئے

      نوٹ قرآن میں قوم سے مراد تمام قوم نہیں ہے کیونکہ قوم موسی میں نیک لوگ بھی تھے جو موحد تھے – لیکن یہ موحدین تعداد میں بت پرستوں سے کم تھے

  94. وجاہت says:

    ابو شہر یار بھائی اس کتاب

    آراء محمد رشيد رضا العقائدية في أشراط الساعة الكبرى وآثارها الفكرية
    المؤلف: مشاري سعيد المطرفي

    کے بارے میں معلومات چاہیں – یہ اپنی کتاب جو مکتبہ شاملہ میں ہے لکھتے ہیں کہ

    فقام ـ بدعوى البحث العلمي، وتصفيه العقيدة وتنقية السنة مما علق بها من الإسرائيليات ـ برد العشرات من الأحاديث الواردة في الصحيحين كالأحاديث الواردة في المسيح الدجال وحديث الجساسة.
    والأحاديث الواردة في نزول عيسى بن مريم عليه السلام في آخر الزمان والأحاديث الواردة في طلوع الشمس من مغربها في آخر الزمان أيضا وغيرها من الأحاديث الأخرى الكثيرة.
    وكل ذلك لا لعلةٍ في أسانيدها، بل بدعوى التعارض والتناقض فيما بينها، ومخالفتها للسنن الكونية، وعدم تصديق العقل لها وغيرها من الأعذار التي في الحقيقة لا قيمة لها، ولا ترقي إلا رد جملة من الأحاديث الواردة بأصح الأسانيد في أصح الكتب.

    http://shamela.ws/browse.php/book-32254#page-327

    http://waqfeya.com/book.php?bid=11970

    اس کا ترجمہ اور تحقیق چاہیے

    • Islamic-Belief says:

      رشید رضا کے بقول یہ سب الإسرائيليات میں سے ہے
      المسيح الدجال وحديث الجساسة.
      والأحاديث في نزول عيسى بن مريم عليه السلام في آخر الزمان
      والأحاديث في طلوع الشمس من مغربها
      ——
      میری تحقیق میں حدیث جساسہ الإسرائيليات میں سے ہے – باقی نزول مسیح اور خروج دجال اور سورج کا مغرب سے طلوع صحیح احادیث ہیں

  95. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے آسمان کی جانب اپنی نگاہ مبارک کی اور پھر اسے نیچے کیا، یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ آسمان پر کوئی اہم واقعہ رونما ہوا ہے۔ اتنے میں آپ ﷺ نے فرمایا:’’ خبردار! میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریں گے۔ جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ظلم پر ان کی مدد کی، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کی اور ان کے ظلم پر ان کی موافقت نہیں کی، وہ میرا اور میں اس کا ہوں۔ خبردار! مسلمان کا خون کفارہ ہے اور یہ کلمات باقی رہنے والے اعمال صالحہ ہیں: سُبْحَانَ اللہ ، اَلحَمْدُ للہ ، لَا اِلٰہَ اِلا اللہ اور اَللہُ اَکبَر

    مسند امام احمد بن حنبل
    تخریج: اسنادہ صحیح علیٰ شرط الشیخین ، اخرجہ البزار: 2834 ، والطبرانی فی ’’ الاوسط‘‘ 8486 ، والبرانی فی ’’ الکبیر‘‘ 3020

    کس کی جانب اشارہ ہے؟؟
    اور اسکے راوی بھی چیک کیجیے گا۔۔

    • Islamic-Belief says:

      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الْعَوَّامِ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ، مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ آلِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ خَفَضَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِي السَّمَاءِ شَيْءٌ، فَقَالَ: ” أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَكْذِبُونَ وَيَظْلِمُونَ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَمَالَأَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي، وَلَا أَنَا مِنْهُ. وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُمَالِئْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ، أَلَا وَإِنَّ دَمَ الْمُسْلِمِ كَفَّارَتُهُ، أَلَا وَإِنَّ سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ هُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ

      سند میں رَجُلٌ، مِنَ الْأَنْصَارِ مجہول ہے
      روایت ضعیف ہے

  96. وجاہت says:

    صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1290 حدیث مرفوع مکررات 12 متفق علیہ 8

    عبدان، ابوحمزہ عثمان بن موہب سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ایک شخص (یزید بن بشر) بیت اللہ کا حج کرنے آیا تو کچھ اور لوگوں کو وہاں بیٹھے ہوئے دیکھا تو پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جواب دیا گیا یہ قریش ہیں۔ اس نے پوچھا : یہ ضعیف العمر کون ہیں؟ کہا گیا یہ ابن عمر ہیں چنانچہ وہ حضرت ابن عمر (رض) کے قریب آیا اور کہا میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں پھر اس نے کہا اس مکان کی حرمت کی قسم! کیا عثمان بن عفان احد کے دن بھاگ نکلے تھے؟ ابن عمر (رض) نے کہا ہاں! پھر اس نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ عثمان (رض) جنگ بدر سے غیر حاضر تھے؟ آپ نے کہا ہاں! پھر اس نے کہا کیا تم کو معلوم ہے کہ عثمان بیعت رضوان سے بھی محروم رہے تھے؟ آپ نے کہا ہاں! اس وقت سائل نے اللہ اکبر کہا ابن عمر (رض) نے فرمایا آؤ میں تم کو ان سوالات کی حقیقت بتاؤں احد کے دن بھاگنے والوں کے قصور کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرمایا (جیسا کہ مندرجہ بالا آیت سے ظاہر ہوا) جنگ بدر سے غیر حاضر ہونے کی وجہ یہ تھی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صاحبزادی حضرت رقیہ بیمار تھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان سے فرمایا کہ تم ان کی دیکھ بھال کرو۔ لیکن ثواب تم کو بھی اتنا ہی ملے گا جتنا شریک ہونے والے کو اور مال غنیمت سے بھی حصہ پاؤ گے بیعت رضوان میں شریک نہ ہونے کی وجہ یہ ہوئی کہ وہ مکہ والوں پر گہرا اثر رکھتے تھے لہذا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے انہی کو مکہ والوں کے پاس سمجھانے کے لئے بھیجا اور پھر ان کی غیر موجودگی میں بیعت واقع ہوئی تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے، حضرت ابن عمر (رض) نے اعرابی سے فرمایا : اے اعرابی! یہ باتیں یاد رکھ اور انہیں اپنے ساتھ لے کر واپس جا۔

    مسند احمد میں بھی آئ ہے ایک ایسی ہی حدیث

    http://www.hadithurdu.com/musnad-ahmad/11-1-459/?s=%D8%B9%D9%8F%D8%AB%D9%92%D9%85%D9%8E%D8%A7%D9%86%D9%8E+%D9%81%D9%8E%D8%B1%D9%91%D9%8E+%D9%8A%D9%8E%D9%88%D9%92%D9%85%D9%8E+%D8%A3%D9%8F%D8%AD%D9%8F%D8%AF%D9%8D+

    کیا اس حدیث کو صحیح کہا جا سکتاہے

  97. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    سنن دارمی ۔ جلد دوم ۔ جہاد کا بیان ۔ حدیث 275

    ایک دن اور رات کے لئے پہرہ دینے کی فضیلت۔

    راوی:

    أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ إِنِّي كُنْتُ كَتَمْتُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرَاهِيَةَ تَفَرُّقِكُمْ عَنِّي ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ لِيَخْتَارَ امْرُؤٌ لِنَفْسِهِ مَا بَدَا لَهُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنْ الْمَنَازِلِ

    حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے منبر پر یہ بات بیان کی میں نے تم سے ایک حدیث چھپائی تھی جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زبانی سنی تھی کیونکہ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ تم لوگ مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ گے لیکن پھر میں نے سوچاکہ مجھے وہ تمہارے سامنے بیان کردینا چاہیے تاکہ ہر شخص اپنی پسند کے مطابق فیصلہ کرسکے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے “اللہ کی راہ میں ایک دن کے لئے پہرہ دینا دیگر مقامات پر ایک ہزار بسر کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔

    ———–

    مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 440

    حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مرویات

    حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ الْقُرَشِيُّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي كَتَمْتُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرَاهِيَةَ تَفَرُّقِكُمْ عَنِّي ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ لِيَخْتَارَ امْرُؤٌ لِنَفْسِهِ مَا بَدَا لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنْ الْمَنَازِلِ

    ابوصالح جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو منبر پر دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگو! میں نے اب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث تم سے بیان نہیں کی تاکہ تم لوگ مجھ سے جدا نہ ہو جاؤ لیکن اب میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم سے بیان کردوں تاکہ ہر آدمی جو مناسب سمجھے، اسے اختیار کر لے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں ایک دن کی پہرہ داری، دوسری جگہوں پر ہزار دن کی پہرہ داری سے بھی افضل ہے۔

    • Islamic-Belief says:

      اس کی سند میں أبو صالح مولى عثمان بن عفان – مجہول ہے

      اس سے أَبُو عقيل زهرة بن معبد القرشي المِصْرِي نے یہ روایت لی ہے

      متن منکر ہے

  98. Aysha butt says:

    Behiqi mn hai k hazrat hamza r.a ne Aap s.a.w se kha k muje jibrail a.s ko asal halat mn daikhna hai to kha beth jae jab dekha to behosh ho gae
    Sahih hai

  99. وجاہت says:

    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2017 حدیث مرفوع مکررات 4 متفق علیہ 2

    حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَکْرَةَ قَالَ لَقَدْ نَفَعَنِي اللَّهُ بِکَلِمَةٍ أَيَّامَ الْجَمَلِ لَمَّا بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ فَارِسًا مَلَّکُوا ابْنَةَ کِسْرَی قَالَ لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمْ امْرَأَةً

    عثمان بن ہیثم، عوف، حسن، ابوبکرہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ مجھ کو جنگ جمل کے زمانہ میں اس کلمہ کے ذریعے اللہ نے نفع پہنچایا، وہ یہ کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو خبر ملی کہ فارس کے لوگوں نے کسی کی بیٹی کو بادشاہ بنالیاہے، تو آپ نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جس نے حکومت عورت کے سپرد کی۔

    ———-

    اب یہ کیسے ممکن ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے ایسی بات فرمائی ہو اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله نے فوج کی سربراہی کی ہو – ان کی افواج میں شامل تمام کے تمام بزرگ صحابہ رضی الله میں نے کسی کو حدیث یاد نہ ہو کہ عورت حکمران نہیں ہو سکتی

    • Islamic-Belief says:

      اس حدیث میں حکمران کا ذکر ہے – کیا عائشہ رضی الله عنہا نے ملکہ یا خلیفہ ہونے کا دعوی کیا تھا ؟
      یہ اجتہاد بے معنی اور
      out of context
      ہے

      ابی بکرہ رضی الله عنہ کا اجتہاد صحیح نہیں ہے عائشہ رضی الله عنہا بطور حاکم نہیں تھیں وہ جنگ میں ایک جنرل تھیں جس کی اسلام میں کوئی ممانعت نہیں ہے
      ——
      ⇓ کیا عورت حکمران یا قاضی یا جنرل بن سکتی ہے ؟
      http://www.islamic-belief.net/q-a/متفرق/

  100. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1871 حدیث قدسی مکررات 8 متفق علیہ 5

    حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهِشَامٌ قَالَا حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ بَيْنَا ابْنُ عُمَرَ يَطُوفُ إِذْ عَرَضَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوْ قَالَ يَا ابْنَ عُمَرَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّجْوَی فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُدْنَی الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ وَقَالَ هِشَامٌ يَدْنُو الْمُؤْمِنُ حَتَّی يَضَعَ عَلَيْهِ کَنَفَهُ فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ تَعْرِفُ ذَنْبَ کَذَا يَقُولُ أَعْرِفُ يَقُولُ رَبِّ أَعْرِفُ مَرَّتَيْنِ فَيَقُولُ سَتَرْتُهَا فِي الدُّنْيَا وَأَغْفِرُهَا لَکَ الْيَوْمَ ثُمَّ تُطْوَی صَحِيفَةُ حَسَنَاتِهِ وَأَمَّا الْآخَرُونَ أَوْ الْکُفَّارُ فَيُنَادَی عَلَی رُئُوسِ الْأَشْهَادِ هَؤُلَائِ الَّذِينَ کَذَبُوا عَلَی رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَی الظَّالِمِينَ وَقَالَ شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ

    مسدد، یزید بن زریع، سعید، ہشام، قتادہ، صفوان بن محرز سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ کعبہ کا طواف کر رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور حضرت ابن عمر (رض) سے اس نے مخاطب ہو کر کہا کہ اے ابن عمر (رض) ” یا ” اے ابا عبدالرحمن! کیا تم نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) سے قیامت کے دن کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ حضرت ابن عمر (رض) نے جواب دیا ہاں ! میں نے سنا ہے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) فرما رہے تھے کہ قیامت کے دن مومنین اللہ تعالیٰ سے اس قدر قریب لائے جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر گناہوں کا اقرار کرائے گا بندے عرض کریں گے جی ہاں! ہم اپنے گناہوں کا اقرار اور اعتراف کرتے ہیں بےشک ہم سے گناہ ہوئے ہیں چنانچہ دو مرتبہ اسی طرح اقرار کریں گے اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تمہارے گناہوں اور قصوروں کو چھپایا تھا آج تم کو بخش دیتا ہوں اور تم کو تمہاری نیکیوں کا بدلہ اور جزا دیتا ہوں مگر کافروں کے لئے فرمائے گا یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے یہ اعلان تمام اہل محشر سنیں گے۔

    قیامت کے دن مومنین اللہ تعالیٰ سے اس قدر قریب لائے جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر گناہوں کا اقرار کرائے گا بندے عرض کریں گے جی ہاں

    • Islamic-Belief says:

      سند صحیح ہے البتہ اس کی تاویل یہ ہے کہ یہ ادبی انداز ہے اللہ کی رحمت کے حوالے سے
      ——-
      وہابی اور سلفی اور اہل حدیث فرقے کے نزدیک اس کا مفہوم ادبی نہیں ہے اس کو ظاہر پر لیا جائے گا – راقم کہتا ہے یہ مفہوم صحیح نہیں

  101. وجاہت says:

    کیا یہ حدیث صحیح ہے – اس میں فرشتوں کے دیکھنے کی بھی بات کی گئی ہے

    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 10 مکررات 2 متفق علیہ 2

    وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ قَالَ بَيْنَمَا هُوَ يَقْرَأُ مِنْ اللَّيْلِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَفَرَسُهُ مَرْبُوطَةٌ عِنْدَهُ إِذْ جَالَتْ الْفَرَسُ فَسَكَتَ فَسَكَتَتْ فَقَرَأَ فَجَالَتْ الْفَرَسُ فَسَكَتَ وَسَكَتَتْ الْفَرَسُ ثُمَّ قَرَأَ فَجَالَتْ الْفَرَسُ فَانْصَرَفَ وَكَانَ ابْنُهُ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا فَأَشْفَقَ أَنْ تُصِيبَهُ فَلَمَّا اجْتَرَّهُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ حَتَّى مَا يَرَاهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ قَالَ فَأَشْفَقْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَطَأَ يَحْيَى وَكَانَ مِنْهَا قَرِيبًا فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ فَخَرَجَتْ حَتَّى لَا أَرَاهَا قَالَ وَتَدْرِي مَا ذَاكَ قَالَ لَا قَالَ تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ دَنَتْ لِصَوْتِكَ وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهَا لَا تَتَوَارَى مِنْهُمْ قَالَ ابْنُ الْهَادِ وَحَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ

    لیث یزید بن ہاد کا قول نقل کرتے ہیں کہ محمد بن ابراہیم کہتے تھے کہ اسید بن حضیر ایک رات سورت بقرہ پڑھ رہے تھے اور گھوڑا ان کے پاس بندھا ہوا تھا اچانک گھوڑا بدکنے لگا وہ چپکے ہو رہے تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا پھر وہ پڑھنے لگے گھوڑا پھر بدکنے لگا پھر وہ خاموش ہو رہے تو وہ ٹھہر گیا پھر وہ پڑھنے لگے پھر گھوڑا بدکنے لگا اس کے بعد ابن حضیر رک گئے چونکہ ان کا بیٹا یحیی گھوڑے کے قریب سو رہا تھا انہیں ڈر ہوا کہیں گھوڑا اسے کچل نہ ڈالے جب انہوں نے اپنے لڑکے کو وہاں سے ہٹالیا اور آسمان کی طرف نظر دوڑائی تو آسمان دکھائی نہ دیا بلکہ ایک ابر جس میں روشنیاں چمک رہی تھیں اوپر اٹھتا ہوا نظر آیا صبح کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے آکر پورا قصہ بیان کیا ۔ آپ نے فرمایا اے ابن حضیر تم برابر پڑھتے رہتے تو اچھا تھا انہوں عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) یحیی گھوڑے کے قریب تھا مجھے ڈر لگا کہیں گھوڑا یحیی کو کچل نہ ڈالے اس لئے میں یحیی کی طرف متوجہ ہوگیا پھر میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تو ایک عجیب چھتری سی جس میں بہت سے چراغ لگے ہوئے تھے دکھائی دی پھر جب میں باہر نکل آیا تو وہ مجھے نظر آئی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا تجھے معلوم وہ کیا تھا ابن حضیر نے کہا مجھے نہیں معلوم ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا وہ فرشتے تھے جو تیری آواز سن کر تیرے پاس آگئے تھے اگر تو صبح تک پڑھے جاتا تو لوگ انہیں صاف دیکھ لیتے ۔ ابن الہاد کہتے ہیں یہ حدیث مجھ سے عبداللہ بن خباب نے ابوسعید خدری (رض) سے بیان کی جس کو اسید بن حضیر نے نقل کیا

  102. وجاہت says:

    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1894

    مسلم بن ابراہیم، ہشام، یحیی بن ابی کثیر، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے اجازت نہ لی جائے اور نہ بیوہ کا نکاح کیا جائے جب تک کہ اس سے حکم نہ لیا جائے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کی اجازت کس طرح ہوگی؟ آپ نے فرمایا کہ جب وہ خاموش رہے اور بعض نے کہا کہ اگر کنواری عورت سے اجازت نہ لی گئی اور نہ اس نے شادی کی اور ایک شخص نے حیلہ سے دو جھوٹے گواہ پیش کئے کہ اس نے اس عورت کی رضامندی سے نکاح کیا ہے اور قاضی نے اس کے نکاح کو ثابت رکھا، حالانکہ شوہر جانتا ہے کہ گواہی جھوٹی ہے تو اس سے صحبت کرنے میں کوئی حرج نہیں اور یہ نکاح صحیح ہے۔

    اس حدیث میں ہے کہ

    بعض نے کہا کہ اگر کنواری عورت سے اجازت نہ لی گئی اور نہ اس نے شادی کی اور ایک شخص نے حیلہ سے دو جھوٹے گواہ پیش کئے کہ اس نے اس عورت کی رضامندی سے نکاح کیا ہے اور قاضی نے اس کے نکاح کو ثابت رکھا، حالانکہ شوہر جانتا ہے کہ گواہی جھوٹی ہے تو اس سے صحبت کرنے میں کوئی حرج نہیں اور یہ نکاح صحیح ہے۔

    ________________________________

    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1896

    ابونعیم، شیبان یحیی ، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ بیوہ کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے حکم نہ لیا جائے اور کنواری کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے اجازت نہ لی جائے لوگوں نے پوچھا کہ اس کی اجازت کس طرح ہوگی، آپ نے فرمایا کہ یہ کہ وہ خاموش رہے اور بعض لوگوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص حیلہ کر کے دو جھوٹے گواہ پیش کرے کہ اس نے بیوہ کے حکم سے اس سے نکاح کیا ہے اور قاضی اس کے نکاح کو ثابت رکھے اور شوہر کو اس کا علم بھی ہو کہ اس نے اس سے کبھی بھی نکاح نہیں کیا تو اس کے لئے یہ نکاح جائز ہے اس عورت کے ساتھ رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    اس حدیث میں ہے کہ

    بعض لوگوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص حیلہ کر کے دو جھوٹے گواہ پیش کرے کہ اس نے بیوہ کے حکم سے اس سے نکاح کیا ہے اور قاضی اس کے نکاح کو ثابت رکھے اور شوہر کو اس کا علم بھی ہو کہ اس نے اس سے کبھی بھی نکاح نہیں کیا تو اس کے لئے یہ نکاح جائز ہے اس عورت کے ساتھ رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    =========

    پلیز وضاحت کر دیں کہ یہ بعض لوگ کون تھے – اور ان حیلوں کے بارے میں بھی بتا دیں کہ کیا یہ صحیح ہیں

    • Islamic-Belief says:

      اپ بار بار ایک ہی غلطی کرتے ہیں – حدیث اور امام بخاری کے قول کو سمجھ نہیں پاتے

      اپ نے کہا

      اس حدیث میں ہے کہ

      بعض لوگوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص حیلہ کر کے دو جھوٹے گواہ پیش کرے کہ اس نے بیوہ کے حکم سے اس سے نکاح کیا ہے اور قاضی اس کے نکاح کو ثابت رکھے اور شوہر کو اس کا علم بھی ہو کہ اس نے اس سے کبھی بھی نکاح نہیں کیا تو اس کے لئے یہ نکاح جائز ہے اس عورت کے ساتھ رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
      ——
      یہ حدیث میں کہاں ہے – یہ تو امام بخاری کا قول ہے کہ بعض نے یہ فتوی دیا
      اپنے دور کا ذکر کر رہے ہیں

      • وجاہت says:

        امام بخاری کا یہ قول جو وہ بعض بندوں سے منسوب کر رہے ہیں – کیا یہ قول صحیح ہے

        • Islamic-Belief says:

          یہ اس دور کا قول ہے ظاہر ہے ایسا کسی نے کہا ہو گا اس کی خبر امام بخاری نے دی ہے وہ ثقہ ہیں

  103. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے

    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 334 حدیث مرفوع مکررات 53 متفق علیہ 16

    حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا تَرَکَ غِنًی وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ تَقُولُ الْمَرْأَةُ إِمَّا أَنْ تُطْعِمَنِي وَإِمَّا أَنْ تُطَلِّقَنِي وَيَقُولُ الْعَبْدُ أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي وَيَقُولُ الِابْنُ أَطْعِمْنِي إِلَی مَنْ تَدَعُنِي فَقَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا هَذَا مِنْ کِيسِ أَبِي هُرَيْرَةَ

    عمر وبن حفص، حفص، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ سب سے بہتر صدقہ وہ ہے کہ صدقہ دینے والے کی مالداری قائم رہے اور اوپروالا نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے اور اپنے رشتہ داروں سے ابتدا کرو (اور کیا یہ اچھی بات ہے) کہ عورت کہے یا تو مجھے کھانا دو یا مجھے طلاق دے دو، غلام کہے کہ مجھے کھلاؤ اور مجھ سے کام لو اور بیٹا کہے کہ مجھ کو کھانا کھلاؤ مجھے کس پر چھوڑتے ہو، لوگوں نے پوچھا اے ابوہریرہ تم نے یہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا ہے، انہوں نے کہا نہیں، ابوہریرہ (رض) اپنی طرف سے کہتا ہے۔

    • Islamic-Belief says:

      ابن حزم کے نزدیک یہ کلام النبی نہیں ہے
      کتاب حجة الوداع از أبو محمد علي بن أحمد بن سعيد بن حزم الأندلسي القرطبي الظاهري (المتوفى: 456هـ) میں ہے
      وَقَدْ وَجَدْنَا لِلْأَفَاضِلِ كَلَامًا يَأْتُونَ بِهِ تَفْسِيرًا لِلْحَدِيثِ يَصِلُونَهُ بِهِ، لَا سِيَّمَا هَذَا الْإِسْنَادُ، فَقَدْ رَوَى أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَ النَّفَقَاتِ، ثُمَّ وَصَلَ بِهِ تَقُولُ امْرَأَتُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ، أَوْ طَلِّقْنِي، وَيَقُولُ لَكَ غُلَامُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ وَاسْتَعْمِلْنِي، وَيَقُولُ لَكَ وَلَدُكَ: إِلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَهَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَا هَذَا مِنْ كِيسِ أَبِي هُرَيْرَةَ

      ہم نے افضلوں کے کلام میں پایا کہ وہ حدیث کی تفسیر کو ملا دیتے .. پس حدیث ابو ہریرہ ہے .. پھر کہا یہ ابو ہریرہ کی عقل سے ہے
      ———

      یعنی ابن حزم کے نزدیک یہ تفسیر ابو ہریرہ نے کی ہے

  104. وجاہت says:

    کیا ٹڈیاں کھانا احادیث سے ثابت ہے

  105. anum shoukat says:

    نبی علیہ السلام پر ایک عورت ہر روز کیچڑا پھینکتی تھی جب بیمار ہوئی تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسکی عیادت کو گے تو وہ ایمان لے آئی کیا یہ واقعہ صحیح ہے؟

    عماد الرّحمن شرکیہ نام تو نہیں یعنی رحمن کی ستون کہنا، صحیح ہو گا؟

    • Islamic-Belief says:

      یہ روایت صحیح سند سے معلوم نہیں ہے
      ——–
      عماد الدین کہا جا سکتا ہے یعنی دین کا ستون جن میں پانچ ہیں – عماد الرّحمن بے معنی نام ہے
      صحیح نہیں ہے

  106. Aysha butt says:

    Sunan kubra lil behiqi mn hai k durood jummay ko Aap s.a.w k huzor paish hota ha sahih hai kya

  107. anum shoukat says:

    برزخ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جب یہ سوال ہو گا کہ
    ما علمک بھذا الرجل تو کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شیبہ دکھائی جائے گی؟ مسلک پرستوں کے نزدیک تو اسی قبر میں دکھائی جائے گی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شیبہ میرا عقیدہ ایسا نہیں ہے کہ اسی قبر میں عذاب ہوتا ہے بلکہ برزخ میں ہوتا ہے لیکن برزخ میں کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شیبہ دکھائ جائیگی؟

    دوسرا سوال
    کیا کسی انسان کی نیک اولاد کے نیک عمل سے جنتی کا ایک اوپر درجہ جنت میں دے دیا جاتا ہے اور وہ اوپر کی منزل چلا جاتا ہے تو وہ کہے گا کہ میں نے کوئی نیک عمل نہیں کیا تو یہ ترقی کیسی ہوئی تو اسے کہا جائے گا تم نے نیک اولاد پیچھے چھوڑی تھی اسکے نیک عمل کی وجہ سے تمہیں یہ ترقی حاصل ہوئی کیا یہ حدیث ہے اسکی سند اور متن کے ساتھ تحقیق چاہیے جزاک اللہ خیرا

    • Islamic-Belief says:

      رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی شبیہہ کا ذکر کسی حدیث میں نہیں ہے – حدیث میں ہے کہ ان کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ کیا عقیدہ رکھتا تھا

      اس حدیث کا مجھے علم نہیں ہے

  108. Aysha butt says:

    Mushrik. Baglon mn idols rakhty thy islie. Rafa yadein shru hoa .. Eski sehat k mutalik bta dein

    • Islamic-Belief says:

      والأصنام تحت آباطهم

      کہا جاتا ہے کہ منافقین اپنی بغلوں میں بت دبا کر رکھتے تھے
      ——

      یہ قول جھل ہے جس نے اس کو کہا اس کو جوتے لگائیں جائیں اور تحقیق کی جائے کہ سب سے پہلے کس احمق نے اس کو کہا

      رفع الیدین کا اس سے کوئی تعلق نہیں

    • Islamic-Belief says:

      خلیل صاحب کا یہ موقف بہت پرانا ہے سن ٢٠٠٢ میں ان کی کتاب پہلا زینہ میں سب موجود ہے –
      http://kitabosunnat.com/kutub-library/pehla-zena

      خلیل کے مخالف جہمور سلف اور اہل حدیث ہیں جو مردوں کے سماع کے قائل ہیں اور عود روح والی روایت کو صحیح کہتے ہیں
      ——
      یہ کتاب اہل حدیث کے دماغی انتشار کا مظہر ہے – شروع میں ابو جابر دامانوی اور زبیر علی زئی عود روح کی روایت کا بھر پور دفاع کرتے رہے – پھر ہم نے جواب میں الذھبی کے اقوال دیے کہ روایت میں نکارت ہے
      اس کے بعد خلیل کی پسلی پھڑکی انہوں نے لیپا پوتی میں یہ کتاب لکھی
      قابل غور ہے کہ عود روح کی روایت کو صحیح کہتے کہتے جن کی زبان نہیں تھکتی وہ اپنی ویب سائٹ پر اس کا رد بھی کر رہے ہیں یعنی یہ محدث فورم والے
      اس پر میری ویب سائٹ کے بہت سے مخالف اتے ہیں جو حق کو بدلتے چھپانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے –
      ——-

      خلیل کا عام اہل حدیث کی طرح ہی کہنا ہے کہ مردوں کا چاپ سننا استثنائی ہے لیکن میرے نزدیک یہ احمقانہ بات ہے کیونکہ استثناء سب پر نہیں لگتا جبکہ روایت میں تمام عالم کے مردوں کے دفنانے کے وقت چاپ سننے کا ذکر ہے

      میرے نزدیک چاپ سننے والی “صحیح بخاری” کی روایت معلول و منکر ہے
      اس پر کئی بلاگ اس ویب سائٹ پر موجود ہیں
      ——-

      امام بخاری یہی روایت نہیں لائے چوپائے کے عذاب قبر سننے کی بھی روایت لکھ گئے ہیں – یعنی چوپائے عذاب سنتے ہیں ان کے لئے غیب نہیں ہے ؟ گویا عذاب اسی زمینی قبر میں ہے
      یہ روایت بھی معلول ہے جس پر امام طحاوی نے تحقیق کی ہے

  109. Aysha butt says:

    Goron ki dumon ki trah hath uthana tasshud k salam se mutalik hai dalil chahiye

    • Islamic-Belief says:

      اس روایت کا تعلق سلام پھیرتے وقت ہاتھ اٹھانے سے تھا اس سے روکا گیا

      صحیح مسلم کی روایت ہے
      عن جابر بن سمره رضی الله عنه قال خرج علینا رسول الله صلی الله علیه وسلم فقال مالی اراکم رافعی ایدیکم کانها اذناب خیل شمس اسکنوا فی الصلوته
      جابر بن سمره رضی الله عنه سے روایت هے که رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم همارے پاس تشریف لائے، آپ نے فرمایا که میں تم کو نماز میں شریر گهوڑوں کی دم کی طرح رفع یدین کرتے کیوں دیکهتا هوں نماز میں ساکن اور مطمئن رهو

      یہ روایت ایک اور سند سے طبرانی میں صحیح ابن خزیمہ میں نقل ہوئی ہے اس میں ہے کہ سلام کے وقت ہاتھ ران پر رکھو

      غیر مقلدین اس سے ثابت کرتے ہیں کہ سجدوں والا رفع الیدین منسوخ ہے اور احناف اس کو واضح کرتے ہیں کہ یہ دو الگ روایات ہیں لیکن راقم کا موقف ہے کہ صحیح ابن خزیمہ میں اس پر باب قائم کیا گیا ہے

      بَابُ الزَّجْرِ عَنِ الْإِشَارَةِ بِالْيَدِ يَمِينَا وَشِمَالًا عِنْدَ السَّلَامِ مِنَ الصَّلَاةِ

      باب ڈانٹ کا کہ ہاتھ سے نماز میں سلام (پھیرتے) کے وقت دائیں بائیں اشارہ کیا جائے

      صحیح ابن خزیمہ کی جابر بن سمرہ والی روایت کے الفاظ ہیں

      كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا بِأَيْدِينَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، يَمِينَا وَشِمَالًا

      ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ہم نے اپنے ہاتھوں سے کہا السلام علیکم دائیں اور بائیں

      اسی کتاب کی دوسری روایت میں ہے

      أَشَارَ أَحَدُنَا إِلَى أَخِيهِ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ

      ہم اپنے بھائیوں کو ہاتھ سے دائیں اور بائیں اشارہ کرتے

      یعنی اصحاب رسول ہاتھ اٹھا کر تشہد کے بعد سلام پھیرتے وقت اشارہ کر رہے تھے اس سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے منع کیا اور اسکو گھوڑوں کی دم کی طرح کہا

      معجم ابن عساکر میں روایت کے راوی مسعر بن کدام اس روایت میں کہتے ہیں

      قلنا السلام عليكم السلام عليكم ثم أشار مسعر بيده عن يمينه وعن شماله

      جابر نے کہا ہم نے کہا السلام علیکم السلام علیکم پھر مسعر نے ہاتھ سے دائیں بائیں اشارہ کیا

      امام بخاری کتاب قرة العينين برفع اليدين في الصلاة میں کہتے ہیں

      كَانَ يُسَلِّمُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَفْعِ الْأَيْدِي فِي التَّشَهُّدِ

      وہ ایک دوسرے کو سلام کرتے پس نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس سے منع کیا کہ تشہد میں ہاتھ اٹھائیں

      امام بخاری نے معاملہ صاف کر دیا کہ جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کی روایت کا تعلق سجدوں والے رفع الیدین سے ہے ہی نہیں کیونکہ تشہد تو سجدوں کے بعد ہوتا ہے لہذا اس سے سجدوں میں کیے جانے والے رفع الیدین کی منسوخی لینا غلط ہے

      بعض غیر مقلدین نے جابر بن سمره رضی الله عنہ کی روایت سے دلیل لی ہے کہ سجدوں میں منسوخ ہے اور احناف متاخرین نے اس سے ہر طرح کے رفع الیدین کی منسوخی لے لی ہے جبکہ یہ روایت رفع الیدین کے بارے میں ہے ہی نہیں

  110. Aysha butt says:

    ۱۔ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏”‏مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ اسْكُنُوا فِي الصَّلاَةِ‏”۔‏ قَالَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَرَآنَا حَلَقًا فَقَالَ‏”‏ مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ‏”‏۔‏ قَالَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ ‏”أَلاَ تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا‏”‏۔‏ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا قَالَ ‏”يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الأُوَلَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ‏”۔’’حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ جناب رسول اﷲﷺ ہماری طرف تشریف لائے۔ (ہم نماز پڑھ رہے تھے) فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں شمس قبیلے کے شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ نماز میں سکون سے رہا کرو‘‘۔ (صحیح مسلم، جلد نمبر ۲، کتاب الصلاۃ، باب الأَمْرِ بَالسُّكُونِ فِي الصَّلاَةِ، رقم الحدیث ۹۶۸)
    ۲۔ وَحَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ فُرَاتٍ، يَعْنِي الْقَزَّازَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكُنَّا إِذَا سَلَّمْنَا قُلْنَا بِأَيْدِينَا السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ “مَا شَأْنُكُمْ تُشِيرُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْتَفِتْ إِلَى صَاحِبِهِ وَلاَ يُومِئْ بِيَدِهِ‏”۔’’حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اﷲﷺ کے ساتھ جب ہم نمازپڑھتےتونماز کے ختم پر دائیں بائیں السلام علیکم ورحمۃ اﷲکہتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ بھی کرتے تھے۔ یہ ملاحضہ فرماکر جناب رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا تم لوگ اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہو جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہلتی ہیں۔تمہیں یہی کافی ہے کہ تم قعدہ میں اپنی رانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دائیں اور بائیں منہ موڑ کر السلام علیکم و رحمۃ اﷲ کہا کرو‘‘۔(صحیح مسلم، جلد نمبر ۲، کتاب الصلاۃ، باب عَنِ الإِشَارَةِ بِالْيَدِ وَرَفْعِهَا عِنْدَ السَّلاَمِ وَإِتْمَامِ الصُّفُوفِ الأُوَلِ وَالتَّرَاصِّ فِيهَا وَالأَمْرِ بِالاِجْتِ
    Tarju.ma sahih hai kyaمَاعِ، رقم الحدیث ۹۷۰)
    =====
    Ab jawab k radd mn yeh dalil ai hai ap kya khty ho
    دونوں احادیث کی سند اور متن میں زمین و آسمان کا فرق ہے، لہٰذا ان دونوں احادیث کوایک کہنا اور دونوں احادیث سے ایک ہی مسئلہ اخذ کرنا عقل سے بالاتر ہے۔ دونوں احادیث میں فرق ملاحضہ فرمائیں:
    ۱۔ پہلی حدیث میں ہے کہ ہم اپنی نماز میں مشغول تھے کہ رسول اﷲﷺ تشریف لائے اور دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اﷲﷺ کے ساتھ جب ہم نمازپڑھتے۔
    ۲۔ پہلی حدیث میں ہے کہ رسول اﷲﷺنے صحابہ کرامؓ کو نماز میں رفع یدین کرتے دیکھااور اس پر نکیرفرمائی اور دوسری حدیث میں ہے کہ صحابہ کرامؓ سلام پھیرتے وقت دائیں بائیں ہاتھ اٹھاکراشارہ کرتے تھے جس پر رسول اﷲﷺ نے نکیرفرمائی۔
    ۳۔ پہلی حدیث میں آپﷺ نے نماز میں سکون اختیار کرنے کا حکم فرمایااور دوسری حدیث میں آپﷺ نے دائیں بائیں ہاتھ اٹھاکر اشارہ کرنے سے منع فرمایا۔
    ۴۔ دونوں احادیث الگ الگ سندوں سے مذکورہیں۔ اس لئے دونوں حدیثوں کو جن کا الگ الگ مخرج ہے۔ الگ الگ واقعہ ہے۔ الگ الگ حکم ہے، ایک ہی واقعہ سے متعلق کہہ کر دل کو تسلی دینا کسی بھی لحاظ سے صحیح نہیں ہے۔
    مزید اس حدیث مبارکہ پر جو یہ اشکال کیا جاتاہے کہ اس حدیث کے بارے میں محدثین کی رائے یہ ہے کہ یہ حدیث تشہد کے بارے ہے۔یہ اشکال بالکل غلط ہے،کیونکہ کسی محدث کا کسی حدیث کو کسی باب کے تحت نقل کرنا، یہ محدث کی اپنی ذاتی رائے اور تحقیق ہے۔جس سے اختلاف کیا جاسکتاہے۔اس کا یہ معنیٰ نہیں ہوتا کہ اس حدیث کا وہی مطلب نکلتاہے جووہ محدث بیان کررہا ہے،بعض مرتبہ ایک محدث کسی روایت کو ایک باب کے تحت نقل کرتا ہے اور دوسرا محدث اسی حدیث کوکسی دوسرے عنوان کے تحت لکھتا ہے یہ بات علم حدیث کے ایک عام طالب علم سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ یہی بات حدیث مذکورہ کے متعلق بھی ہے۔ کیونکہ اس حدیث (جابر بن سمرۃ رضی اﷲ عنہ والی روایت) کو اگر بعض محدثین نے تشہد وغیرہ کے باب میں نقل کیا ہے توکیا ہوا کئی دوسرے محدثین نے اسے خشوع وخضوع، نمازمیں سکون اور حرکت نہ کرنے کے عنوان کے تحت بھی نقل کیا ہےاور اسے رفع یدین نہ کرنے کی بھی دلیل بنایا ہے۔مثلاً:
    ۱۔ امام بخاری ؒومسلم ؒکے استاذامام ابن ابی شیبہؒ نے اسے ’’من کرہ رفع الیدین فی الدعا‘‘کے تحت لکھا ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہ: ج۲،ص۳۷۰، طبع ملتان)
    ۲۔ امام سراجؒ نے اسے ’’باب فی السکون فی الصلوٰۃ‘‘ میں نقل کیا ہے۔(مسند سراج :ص ۲۴۳،۲۴۲)
    ۳۔ امام بیہقیؒ نے اسے ’’جماع ابواب الخشوع فی الصلوٰۃ والاقبال علیہما‘‘ کے تحت ’’باب الخشوع فی الصلوٰۃ‘‘ میں درج کیا ہے۔ (سنن کبریٰ :ج۲،ص۲۷۹)
    ۴۔ امام ابوعوانہؒ نے اسے’’بیان النھی عن الاختصار فی الصلوٰۃ وایجاب الانتصاب والسکون فی الصلوٰۃ الا لصاحب العذر‘‘کے تحت لکھا ہے۔(مسند ابی عوانہ:ج۲،ص۸۵)
    ۵۔ غیرمقلد عالم امام شوکانیؒ نے اسے رفع یدین نہ کرنے کی روایات میں نقل کیا ہے۔ (نیل الاوطار :ج۲، ص۱۸۴،باب رفع الیدین وبیان صفتہ ومواضعہ)
    ۶۔ امام بخاریؒ کی طرف منسوب کتاب’’جزء رفع الیدین‘‘سے ثابت ہے کہ اسے ’’رفع یدین‘‘ نہ کرنے کی دلیل اس دور میں بھی بنایا گیا تھا۔ (ملاحظہ ہو: ص۳۲،طبع گرجاکھی کتب خانہ گوجرانوالہ)
    ۷۔ ابن حجر عسقلانیؒ نے بھی اس روایت کو رفع یدین نہ کرنے کی روایات میں ذکر کرکے اس چیز کو تسلیم کیا ہے کہ ان کے زمانے یا اس سے بھی قبل کے لوگوں نے اس روایت سے رفع یدین نہ کرنا مراد لیا ہے۔(تلخیص الحبیر: ج۱،ص۲۲۱)
    ۸۔ علامہ نوویؒ کے عمل سے بھی یہ بات ظاہر ہے۔(ملاحظہ ہو: المجمو ع شرح المہذب ،ج۳،ص؛ السندھی علی النسائی ج۱،ص۱۷۶)
    ۹۔ امام ابن حبان ؒنے اس حدیث کو ’’ذکر مایستحب للمصلی رفع الیدین عند قیامہ من الرکعتین من صلوٰ تہ‘‘میں درج کیا ہے۔ (صحیح ابن حبان :ج۴ ،ص۱۷۸)
    اگر بالفرض دونوں مواقعوں کی احادیث کو ایک تسلیم کرلیا جائے تب بھی سلام کے وقت کے رفع یدین پر دیگر مواقع کے رفع یدین کو قیاس کیا جاسکتا ہے، کیونکہ جب سلام کے وقت رفع یدین نماز کے مُنافی ہے اور سکون کو ختم کرنے والا ہے تو دوسرےمواقع میں رفع دیدین کا حال بھی یہی ہوگا، لہٰذاسب کا ایک ہی حکم ہوگا، اس لئے یہ روایت علاوہ دیگرقرائن کے نسخ کی واضح دلیل ہے۔

    • Islamic-Belief says:

      اس روایت میں رفع الیدین کا سرے سے ذکر نہیں ہے
      ۱۔ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏”‏مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ اسْكُنُوا فِي الصَّلاَةِ‏”۔‏ قَالَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَرَآنَا حَلَقًا فَقَالَ‏”‏ مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ‏”‏۔‏ قَالَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ ‏”أَلاَ تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا‏”‏۔‏ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا قَالَ ‏”يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الأُوَلَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ‏”۔’’حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ جناب رسول اﷲﷺ ہماری طرف تشریف لائے۔ (ہم نماز پڑھ رہے تھے) فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں شمس قبیلے کے شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ نماز میں سکون سے رہا کرو‘‘۔ (صحیح مسلم، جلد نمبر ۲، کتاب الصلاۃ، باب الأَمْرِ بَالسُّكُونِ فِي الصَّلاَةِ، رقم الحدیث ۹۶۸)

      لیکن لوگوں نے اس کو رفع الیدین سے ملا دیا ہے -یہ ان لوگوں کی غلطی ہے جن کا نام اس سوال میں بیان ہوا ہے
      ——–
      دوسری پر میں نے جواب دے دیا ہے کہ یہ سجدوں میں رفع الیدین سے منع کرنے پر ہے

      نکتہ سنجی کی گئی ہے کہ دونوں حدیثوں کو جن کا الگ الگ مخرج ہے۔ الگ الگ واقعہ ہے – جبکہ ایسا نہیں معلوم ہوتا – میرے نزدیک یہ ایک ہی واقعہ ہے

  111. Aysha butt says:

    ’امام بخاریؒ کے استاذامام ابوبکربن ابی شیبہؒ(۲۳۵ھ) حضرت ابواسحاق السبیعی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداﷲبن مسعودرضی اﷲعنہ اور حضرت علی رضی اﷲعنہ کے ساتھی نماز میں صرف پہلی تکبیرکے وقت رفع الیدین کرتے تھےاور وکیع کی روایت میں ہے کہ پھردوبارہ رفع الیدین نہ کرتے تھے‘‘۔ (رواۃ ابن أبی شیبۃ فی المصنف وسندصحیح علی شرط الشیخین:ج۲، ص۶۰) (المعانی الآثارللطحاوی: ج۱، ص۲۲۵)

    ’’حضرت ابراہیم نخعی ؒ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نماز کے شروع میں رفع یدین کرتے تھے پھر نہیں کرتے تھے‘‘۔ (رواۃ ابن أبی شیبۃ فی المصنف وسندصحیح علی شرط الشیخین: ج۲، ص۵۹)

  112. Aysha butt says:

    .‏ وَبِهِ يَقُولُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ
    Iska tarjuma chahiye

    • Islamic-Belief says:

      وَبِهِ يَقُولُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالتَّابِعِينَ. وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الكُوفَةِ.

      اور اصحاب رسول میں ایک سے زائد اہل علم اور التَّابِعِينَ کا اس پر عمل ہے اور یہ قول ہے سفیان ثوری کا اور اہل کوفہ کا

  113. Aysha butt says:

    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ وَأَبِي مُوسَى وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَغَيْرُهُمْ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ وَعَلَيْهِ عَامَّةُ الْفُقَهَاءِ وَالْعُلَمَاءِ ‏
    Iska tarjuma chahiye . Kaas toor pr jo hadith k neeche comments hai unka b

    • Islamic-Belief says:

      ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسول الله ہر جھکنے اٹھنے پر، اور قیام میں اور قعدے میں تکبیر کہتے اور ابو بکر اور عمر بھی
      ترمذی نے کہا اس باب میں ابو ہریرہ اور انس اور ابن عمر اور ابو مالک اور ابو موسی اور عمران اور وائل اور ابن عباس کی احادیث ہیں- ابو عیسیٰ نے کہا حدیث ابن مسعود حسن صحیح ہے اور اس پر اصحاب رسول کا عمل ہے جن میں ابو بکر اور عمر اور عثمان اور علی اور دوسرے ہیں ان کے بعد والے تابعین اور اس پربیشتر فقہاء و علماء کا عمل ہے

  114. anum shoukat says:

    قنوت وتر پر مشہور حدیث مصنف ابن ابی شیبہ اور عبد الرزاق میں ہے کہ عمر اور ابی بن کعب اور ابن مسعود رضی الله عنہما یہ پڑھا کرتے تھے
    حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: عَلَّمَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ أَنْ نَقْرَأَ فِي الْقُنُوتِ: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ، وَلَا نَكْفُرُكَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ، اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي، وَنَسْجُدُ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، وَنَرْجُو رَحْمَتَكَ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ الْجِدَّ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ»

    یہ حدیث تو ضعیف ہے یہی سنا ہے میں نے؟

  115. anum shoukat says:

    یہ مسلک پرست اس قبر کی زندگی کو برزخی زندگی کیوں کہتے ہیں جبکہ برزخ کے تمام معاملات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان پر دیکھے یہ برزخی زندگی کہہ کر کنفیوز کرتے ہیں پلیز یہ کلیر کر دیجیے؟؟

    • Islamic-Belief says:

      ⇓ البرزخ پر متقدمین علماءکی کیا رائے تھی کیا ان کے نزدیک یہ کوئی عالم تھا یا کیفیت تھا؟
      http://www.islamic-belief.net/q-a/عقائد/حیات-بعد-الموت/

      • وجاہت says:

        مودودی صاحب سماع کے انکاری نہیں اس کے لئے رسائل و مسائل دیکھئے- ان کے نزدیک مردہ کی روح ہو سکتا ہے قبر میں نہ ہو اور اس کو پکارا جا رہا ہو – لیکن یہ کہنے کا مقصد یہ نہی ہے کہ مردہ نہیں سن سکتا

        http://www.rasailomasail.net/5128.html

        یہ لنک نہیں کھل رہا – جو آپ نے اپنی پوسٹ میں دیا ہے – مولانا مودودی والا لنک

        بھائی اگر ان احادیث کو لکھ دیا جایے یا ان کا اردو کا لنک دے دیا جایے تو لوگ اصل حقیقت جان سکتے ہیں

        • Islamic-Belief says:

          رسائل مسائل کے یہ حصے ان کی ویب سائٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں پوری جلد سوم ہی غائب ہے
          البتہ اس کا عکس میں نے اس سوال میں وہاں لگا دیا ہے

  116. وجاہت says:

    خیر القرون قرنی ثم اللزین یلونھم ثم الزین یلونھم۔۔
    یہ حدیث سند کے لحاظ سے کیسی ہے۔۔

    • Islamic-Belief says:

      صحیح بخاری میں ہے
      حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ، وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ» قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «وَكَانُوا يَضْرِبُونَنَا عَلَى الشَّهَادَةِ، وَالعَهْدِ»

      اس میں دور نبوی کے لوگوں کو خیر الناس کہا گیا ہے
      صحیح ہے
      ———

      دوسری مشہور ہے خير القرون قرني جس میں قرن یا دور کو سب سے بہتر کہا گیا ہے – یہ بے اصل ہے

      صحیح سند سے اس کا خلاف بھی معلوم ہے- مسند البزار میں ہے

      حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، قَالَ: نا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: نا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أُمْ آخِرُهُ» [ص:245] وَهَذَا الْحَدِيثُ قَدْ رُوِيَ عَنْ عَمَّارٍ، وَهَذَا الْإِسْنَادُ أَحْسَنُ مِنَ الْأَسَانِيدِ الْأُخَرِ الَّتِي تُرْوَى عَنْ عَمَّارٍ
      عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کی مثال بارش کی سی ہے میں نہیں جانتا اس کا اول خیر ہے یا اس کا آخر خیر ہے – البزار نے کہا یہ سب سے احسن اسناد ہیں جن سے اس کو عمار سے روایت کیا گیا ہے اس دوسری سند کے مقابلے پر
      دوسرا طرق مسند احمد میں ہے
      حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ أَبُو عُمَرَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ
      لیکن یہ منقطع ہے
      ——

      حقیقت الله کو پتا ہے

    • Islamic-Belief says:

      یہ تحریر صحیح ہے لیکن اس میں کچھ مباحث اور ہونے چاہییں مثلا صحیح حدیث کی تاویل کون کرے گا –

      اختلاف امت صحیح حدیث کی تاویل کی وجہ سے بھی ہے
      مثلا اہل سنت کے نزدیک صحیح بخاری و مسلم کی احادیث اکثر صحیح ہیں لیکن اختلاف عقیدہ میں انہی روایات کی وجہ سے ہے کہ ان کی تاویل کیا ہے

      مثال: جس نے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا
      تمام فرقے کہتے ہیں رسول الله آج بھی خواب میں اتے ہیں رہنمائی کرتے ہیں – میں انکار کرتا ہوں
      یہ عقیدہ کا فرق ہوا

      مثال : مردہ جوتوں کی چاپ سنتا ہے
      فرقے کہتے ہیں انسان کے قدمون کی لیکن ڈاکٹر عثمانی کا قول ہے فرشتوں کی وہ بھی برزخ میں
      یہ عقیدہ کا اختلاف ہوا

      مثال مردہ کھاٹ پر بولتا ہے
      فرقے کہتے ہیں اس وقت اس کی روح اس میں ہے وہابییوں کا بھی یہی قول ہے
      ڈاکٹر عثمانی کہتے ہیں اس کی تاویل نہیں پتا

      یعنی عقیدہ کا اختلاف صحیح احادیث کی تاویل سے پیدا ہو رہا ہے – اہل حدیث کے نزدیک ڈاکٹر عثمانی کی یہ تاویلات من مانی ہیں

      جب لوگوں نے علماء کو دیکھا کہ عقیدہ میں اس قدر اختلاف کر رہے ہیں اور کہتے سب صحیحین کو صحیح ہیں تو اس کا سب سے آسان حل ہے کہ حدیث کو چھوڑ دو
      یہ بات یہاں سے اتی ہے اور یہ طریقہ بھی صحیح نہیں ہے جیسا ان بھائی کی تحریر ہے

  117. Aysha butt says:

    Kya gumrah log hamesha dozakh mn rahe ge ya unko saza k bad jannat mn bejha jae ga

    • Islamic-Belief says:

      کافر مشرک منافق ہمیشہ رہیں گے
      جیسا قرآن میں ہے

      • Aysha butt says:

        “اُمت کے تہتر فرقے”
        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
        ’’یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے، نصاریٰ اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی‘‘۔
        سنن ابو داؤد
        4596- (حسن صحیح)

        وضاحت : اس حدیث میں مذموم فرقوں سے فروعی مسائل میں اختلاف کرنے والے فرقے مراد نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ فرقے ہیں جن کا اختلاف اہل حق سے اصول دین و عقائد اسلام میں ہے، مثلا مسائل توحید، تقدیر، نبوت، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت و موالات وغیرہ میں، کیونکہ اِنہی مسائل میں اختلاف رکھنے والوں نے باہم اکفار و تکفیر کی ہے، فروعی مسائل میں اختلاف رکھنے والے باہم اکفار و تکفیر نہیں کرتے، (۷۳) واں فرقہ جو ناجی ہے یہ وہ فرقہ ہے جو سنت پر گامزن ہے، بدعت سے مجتنب اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلتا ہے، حدیث سے یہ بھی پتا چلا کہ ان تمام گمراہ فرقوں کا شمار بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت میں کیا ہے وہ جہنم میں تو جائیں گے، مگر ہمیشہ کے لئے نہیں، سزا کاٹ کر اس سے نجات پاجائیں گے (۷۳) واں فرقہ ہی اول وہلہ میں ناجی ہوگا کیونکہ یہی سنت پر ہے.
        ——————————–رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
        ’’سنو! تم سے پہلے جو اہل کتاب تھے ، بہتر (۷۲) فرقوں میں بٹ گئے ، اور یہ امت تہتر (۷۳) فرقوں میں بٹ جائے گی ، بہتّر فرقے جہنم میں ہوں گے اور ایک جنت میں اور یہی’’الجماعة‘‘ ہے‘‘
        ’’اور عنقریب میری امت میں ایسے لوگ نکلیں گے جن میں گمراہیاں اسی طرح سمائی ہوں گی، جس طرح کتے کا اثر اس شخص پر چھا جاتا ہے جسے اس نے کاٹ لیا ہو ‘‘
        “کوئی رگ اور کوئی جوڑ ایسا باقی نہیں رہتا جس میں اس کا اثر داخل نہ ہوا ہو۔
        سنن ابو داؤد
        4597- (حسن)

        وضاحت: جس طرح کتے کا زہر رگ و ریشہ میں سرایت کرجاتا ہے، اسی طرح بدعتیں ان کے رگ و ریشہ میں سماجاتی ہیں۔

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

        “میری امت ۷۳ فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی سوائے ایک جماعت کے سب دوزخ میں جائیں گے”

        عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول وہ کونسا گروہ ہو گا؟
        آپ نے فرمایا :

        “ما انا علیہ واصحابی ۔”
        یہ وہ جماعت ہوگی جو اس راستے پر چلے گی جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں”
        (ترمذی: ۲۵۶۵)

        سلف صالحین نے ۷۲ فرقوں سے وہ گروہ مراد لیے ہیں جو ایسی بدعات کا ارتکاب کرنے والے ہیں جو آدمی کو گمراہ کرتی ہیں کافر نہیں بناتی ۔اس حدیث میں جن گمراہ گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے ،وہ کفر اکبر اور شرک اکبر کا ارتکاب کرنے والے نہیں ہیں کیونکہ ایسے لوگ تو دائرہ اسلام ہی سے خارج ہیں جبکہ اس حدیث میں ان لوگوں کا بیان ہے جو امت یعنی دائرہ اسلام میں داخل ہیں کافر نہیں ۔
        ۷۲ گروہوں کو دائرہ اسلام سے خارج اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنمی قرار دینا غلط ہے.

        امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں
        :”ومن قال اِن الثنتین وسبعین فرقۃ کل واحد منھم یکفر کفرًا ینقل عن الملۃ فقد خالف الکتاب والسنۃ واجماع الأئمۃ الاربعۃ وغیرالاربعۃ ،فلیس فیھم من کفَّرکل واحد من الثنتین وسبعین فرقۃ”
        (مجموع الفتاویٰ:جلد۷ص۲۱۸)

        ”جس شخص نے یہ کہا کہ ۷۲ گروہوں میں سے ہر ایک کافر ہے اور ملت اسلامیہ سے خارج ہے تو اس نے کتاب و سنت اور اجماع ائمہ کی مخالفت کی، ان میں سے کوئی بھی ۷۲ گروہوں میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتا تھا ۔”

        فتویٰ کمیٹی ”اللجنۃ الدائمہ” سے سوال کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیی وسلم نے اپنی امت کے بارے میں فرمایا:
        “[کلھم فی النار الا واحدۃ] ” سب فرقے جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے ۔” اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟ وہ ایک فرقہ کون سا ہے؟ کیا بہتر فرقے سب کے سب مشرکوں کی طرح دائمی جہنمی ہیں یا نہیں ؟ تو اللجنۃ الدائمۃ نے یہ فتویٰ دیا :
        ” اس حدیث میں امت سے مراد امت اجابت ہے ۔وہ تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی ان میں سے 72 فرقے راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں ۔اور ایسی بدعتوں کے مرتکب ہیں جو اسلام سے خارج نہیں کرتیں ۔ان کو ان کی بدعتوں اور گمراہیوں کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔ اللہ چاہے تو کسی شخص کو معاف بھی کر سکتا ہے اور اس کی مغفرت (بغیر عذاب کے ) ہو سکتی ہے۔ اور اس کا انجام جنت ہے ۔ایک نجات یافتہ جماعت ہے اور وہ اہل سنت والجماعت ہے ۔اہل سنت وہ لوگ ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہیں اور اس طریقہ پر قائم رہتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا طریقہ ہے ۔انہی کے متعلق رسول اللہ نے فرمایا:
        میری امت میں سے ایک جماعت حق پر قائم اور غالب رہے گی جو ان کی مخالفت کرے گا یا ان کی مدد نہیں کرے گا وہ انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا حتی کہ اللہ کا حکم آجائے ۔”
        (بخاری :۳۶۳۹،مسلم:۱۹۲۱)
        لیکن جس کی بدعت اس قسم کی ہو کہ اس کی وجہ سے وہ اسلام سے خارج ہو جائے تو وہ امت دعوت میں داخل ہے، امت اجابت میں شامل نہیں۔ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا ۔
        ”(فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء:فتویٰ نمبر :۴۳۶۰)
        ———————-
        فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ناصر بن عبدالکریم العقل حفظہ اللہ فرماتے ہیں :

        ”ان گمراہ فرقوں میں بعض ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو ملت اسلامیہ سے خارج ہونے کے سبب ان ۷۲ گروہوں سے بھی خارج ہوتے ہیں ۔ اُن کا شمار مسلمانوں میں نہیں ہوتا جیسے غالی جہمیہ ، غالی رافضہ ، باطنیہ ، خالص فلاسفہ ،اہل حلول و اتحاد ، وحدت الوجود کا عقیدہ رکھنے والے اور اہل بدعت میں سے وہ مشرکین جو شرک اکبر میں واقع ہوتے ہیں … پھر یہ حوالہ نقل کرتے ہیں :

        ((قال حفص بن حمید : قلت لعبداللہ بن المبارک :علی کم افترقت ھذہ الامۃ؟ فقال : الأصل أربع فرق : ھم الشیعۃ ،والحروریۃ ،والقدریۃ ، والمرجئۃ، فافترقت الشیعۃ علی اثنتین وعشرین فرقۃ وافترقت الحروریۃ علی احدی وعشرین فرقۃ ،وافترقت القدریۃ علی ست عشرۃ فرقۃ ، وافترقت المرجئۃ علی ثلاث عشرۃ فرقۃ ۔قال : قلت :یا أبا عبدالرحمن لم أسمعک تذکر الجھمیۃ ،قال : انما سألتني عن فرق المسلمین ))(الابانۃ لابن بطۃ:۱/۳۷۹)
        ”حفض بن حمید کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن مبارک سے سوال کیا :یہ امت کتنے فرقوں میں تقسیم ہوئی؟ آپ نے فرمایا:ان فرقوں کی اصل چار ہیں :شیعہ، خوارج، قدریہ اور مرجئہ ۔ پھر شیعہ ۲۲ فرقوں میں بٹے ،خوارج ۲۱ گروہوں میں ،قدریہ ۱۶ گروہوں میں اور مرجئہ ۱۳ گروہوں میں ۔حفض بن حمید کہتے ہیں میں نے کہا :اے ابو عبدالرحمن میں نے آپ سے جہمیہ کا تذکرہ نہیں سنا ؟ آپ نے جواب دیا : تو نے مجھ سے مسلمانوں کے گروہوں کے بارے میں سوال کیا ہے (یعنی جہمیہ کافر ہیں مسلمان نہیں) (دراسات في الاھواء والفرق والبدع وموقف السلف منھا :۹۰)

        شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں :امام احمد بن حنبل اور ان کے اصحاب سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ جھمیۃ کفار ہیں اور وہ ان گمراہ 72 فرقوں میں شامل نہیں ہیں جن کا حدیث میں ذکر کیا گیا ہے ۔اسی طرح سے منافقین جو کہ اسلام ظاہر کرتے ہیں اور کفر چھپاتے ہیں وہ بھی ان 72 فرقوں میں داخل نہیں ہیں ۔ بلکہ وہ تو زندیق ہیں۔
        (فتاویٰ ابن تیمیہ:جلد۳ص۳۵۱)
        Yeh dekhein ap ki rae chaye

        • Islamic-Belief says:

          اس بحث میں ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ تمام مسلمان فرقے جنتی ہیں جو عجیب بات ہے کیونکہ حدیث میں اس کے خلاف آیا ہے

          عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مخبر صادق نبی صلی الله علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ
          وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلاَّ مِلَّةً وَاحِدَةً، قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي
          میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی۔سوائے ایک جماعت کےسب دوزخ میں جائیں گے۔پوچھا کہ اے اللہ کے رسول وہ کونسا گروہ ہوگا؟ آپ نے فرمایا : ما انا علیہ و اصحابی یہ وہ جماعت ہو گی جو اس راستے پر چلے گی جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں
          رواه ترمذی
          ابن ماجہ کی روایت ہے
          عوف بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
          یہودی اکہترفرقوں میں بٹے ان میں سے ستر جہنم اور ایک جنت میں ہے ، اور عیسائ بہتر فرقوں میں بٹے ان میں سے اکہتر جہنم اور ایک جنت میں ہے ، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے میری امت تہتر فرقوں میں بٹے گی ایک جنت میں اور بہتر جہنم میں جائيں گے ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ وہ کون ہوں گے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جماعت ہے
          اس روایت میں عقیدے کی اس خرابی کا ذکر ہے جس کی طرف نبی صلی الله علیہ وسلم نےاپنے دوسرے ارشادات میں بھی اشارہ دیا تھا کہ
          لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بَاعًا بِبَاعٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، وَشِبْرًا بِشِبْرٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمْ فِيهِ”، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى؟ قَالَ: “فَمَنْ إِذًا
          تم ضرور پچھلی امتوں کی روش پر چلو گے جسے بالشت بالشت اور قدم با قدم حتیٰ کہ اگر کوئی ان میں سے کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے پوچھا اے الله
          کے رسول کیا یہود و نصاری آپ نے فرمایا اور کون
          آپ نے یہ بھی فرمایا
          بدأ الإسلام غريباً وسيعود كما بدأ غريباً، فطوبى للغرباء
          اسلام ایک اجنبی کی طرح شروع ہوا اور یہ پھر اجنبی بن جائے گا پس ان اجنبیوں (جو اس کو اس زمانے میں قبول کریں) کے لئے بشارت ہے
          یہ بھی فرمایا
          أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، أنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «يخرج فيكم قوم تحقرون صلاتكم مع صلاتهم، وصيامكم مع صيامهم، وعملكم مع عملهم، ويقرءون القرآن لا يجاوز حناجرهم
          أبي سعيد الخدري رضي الله عنه کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کہتے سنا تم میں سے قوم نکلے گی جو تمہاری نمازوں کو اپنی نمازوں سے حقیر سمجھیں گے اور تمھارے روزوں کو اپنے روزوں سے اور تمھارے عمل کو اپنے ہر عمل سے اور قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہ جائے گا

          زبیر علی زئی اہل حدیث عالم تھے- ایک موقعہ پر لکھتے ہیں
          عرض ہے کہ بریلوی و دیوبندی دونوں گروہ، اہل سنت نہیں ہیں، ان کے اصول و عقائد اہل سنت سے مختلف ہیں
          تنبیہ: بریلوی و دیوبندی حضرات حنفی بھی نہیں ہیں۔(ماہنامہ الحدیث،شمارہ نمبر 5،صفحہ 18)
          دوسری طرف ایسی ہی رائے باقی اہلسنت فرقہ اہل حدیث کے لئے رکھتے ہیں-

          شاہدین علی کفرھم کے مصداق اہل سنت کے یہ اہم فرقے ایک دوسرے کو کافر اور مشرک بتا رہے ہیں اس لئے ایک مسلمان کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ تحقیق کرے اور جانے کہ حق کیا ہے- جب آپ ان تمام اہل سنّت و جماعت کے فرقوں سے پوچھتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے جب تمام فرقوں کو جہنّمی قرار دیا تو آپ کی کیا رائے ہے، تو جواب میں جہنّم کی آگ کچھ اس طرح بجھائی جاتی ہے
          : امام ابن تیمیہ کہتے ہیں
          ومن قال اِن الثنتین و سبعین فرقۃ کل واحد منھم یکفر کفراً ینقل عن الملۃ فقد خالف الکتاب و السنۃ و اجماع الأئمۃ الاربعۃ،فلیس فیھم من کفَّر کل واحد من الثنتین و سبعین فرقۃ
          (مجموع الفتاوی،ج۷،ص۲۱۸)
          جس شخص نے یہ کہا کہ بہتر گروہوں میں سے ہر اک کافر ہے اور ملتِ اسلامیہ خارج ہے تو اس نے کتاب وسنت اور اجماع ائمہ کی مخالفت کی،ان میں سے کوئی بھی بہتر گروہوں میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتا

          خلاف قرآن سماع الموتی کا عقیدہ رکھنے امام ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ بہتر قرقوں سے کوئی جہنمی نہیں اور حدیث رسول کے خلاف اجماع کا دعوی بھی کیا

          ابن تیمیہ کی بات قابل رد ہے
          ——————-

          وہابیوں کا کہنا ہے

          فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ناصر بن عبدالکریم العقل حفظہ اللہ فرماتے ہیں :

          ”ان گمراہ فرقوں میں بعض ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو ملت اسلامیہ سے خارج ہونے کے سبب ان ۷۲ گروہوں سے بھی خارج ہوتے ہیں ۔ اُن کا شمار مسلمانوں میں نہیں ہوتا جیسے غالی جہمیہ ، غالی رافضہ ، باطنیہ ، خالص فلاسفہ ،اہل حلول و اتحاد ، وحدت الوجود کا عقیدہ رکھنے والے اور اہل بدعت میں سے وہ مشرکین جو شرک اکبر میں واقع ہوتے ہیں

          جواب
          ایسا نہیں ہے – جو مسلمان شرک کر رہا ہے وہ بھی ان ٧٢ فرقوں میں سے ہے
          حدیث میں ہے کہ کچھ لوگ جو امت محمد کے ہوں گے ان کو رسول الله کے سامنے سے گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا – اپ کہیں گے میرے اصحاب میرے اصحاب لیکن ان لوگوں کو جہنم کی نذر کیا جائے گا یعنی یہ امت محمد کے لوگ ہوں گے

          ——
          روایت پیش کی گئی

          ((قال حفص بن حمید : قلت لعبداللہ بن المبارک :علی کم افترقت ھذہ الامۃ؟ فقال : الأصل أربع فرق : ھم الشیعۃ ،والحروریۃ ،والقدریۃ ، والمرجئۃ، فافترقت الشیعۃ علی اثنتین وعشرین فرقۃ وافترقت الحروریۃ علی احدی وعشرین فرقۃ ،وافترقت القدریۃ علی ست عشرۃ فرقۃ ، وافترقت المرجئۃ علی ثلاث عشرۃ فرقۃ ۔قال : قلت :یا أبا عبدالرحمن لم أسمعک تذکر الجھمیۃ ،قال : انما سألتني عن فرق المسلمین ))(الابانۃ لابن بطۃ:۱/۳۷۹)
          حفض بن حمید کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن مبارک سے سوال کیا :یہ امت کتنے فرقوں میں تقسیم ہوئی؟ آپ نے فرمایا:ان فرقوں کی اصل چار ہیں :شیعہ، خوارج، قدریہ اور مرجئہ ۔ پھر شیعہ ۲۲ فرقوں میں بٹے ،خوارج ۲۱ گروہوں میں ،قدریہ ۱۶ گروہوں میں اور مرجئہ ۱۳ گروہوں میں ۔حفض بن حمید کہتے ہیں میں نے کہا :اے ابو عبدالرحمن میں نے آپ سے جہمیہ کا تذکرہ نہیں سنا ؟ آپ نے جواب دیا : تو نے مجھ سے مسلمانوں کے گروہوں کے بارے میں سوال کیا ہے (یعنی جہمیہ کافر ہیں مسلمان نہیں) (دراسات في الاھواء والفرق والبدع وموقف السلف منھا :۹۰)

          جواب

          اس قول میں کہا گیا کہ شیعہ، خوارج، قدریہ اور مرجئہ مسلمان فرقے ہیں
          اس کی سند ہے
          حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ عِيسَى، قَالَ: قَالَ حَفْصُ بْنُ حُمَيْدٍ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ:
          اس میں يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ عِيسَى مجہول ہے

          راقم کہتا ہے یہ قول غلط سلط ہے – مرجئہ کوئی فرقہ نہیں یہ تو اہل سنت میں ایک رجحان ہے یا رائے ہے کہ گناہ کبیرہ والے بھی مسلمان ہیں
          بہت سے اہل سنت کے فقہاء مرجئہ تھے جن میں امام ابو حنیفہ بھی ہیں اور بہت سے محدثین ہیں
          لہذا ابن مبارک اس قدر جاہل ہوں ممکن نہیں ہے

          راقم کہتا ہے سامری امت موسی میں سے تھا اور تمام یہودی بنی اسرائیلی امت موسی میں سے ہیں اور نصرانی امت عیسیٰ میں سے ہیں
          ان امتوں میں شرک ہوا ہے – اگر ہم یہ اقوال مان لیں تو یہودی امت موسی میں سے نہیں رہے گا اور نصرانی امت عیسیٰ میں سے نہیں رہے گا
          جو اصول اپ اپنے لئے پسند کر رہے ہیں اس کو اور امتوں پر بھی لگانا ہو گا
          ——-
          محدثین کے دور میں یعنی ٣٠٠ ہجری تک شیعہ یا خوراج کو مسلمان میں شمار کیا گیا ہے اور روافض سے روایت بھی لی گئی ہے یعنی مذھب لیا گیا ہے – جھمی تو حدیثکی روایت ہی نہیں کرتے تھے وہ تو فلسفی تھے ان کی تکفیر خلق قرآن پر کی گئی ہے
          لیکن ائمہ اہل تشیع کی تکفیر کسی نے نہیں کی نہ ائمہ خوارج کی تکفیر ملی ہے نہ ائمہ معتزلہ کی نہ خلق قرآن کے قائل عباسی خلفاء کی تکفیر ملی ہے
          یعنی اسلامی تاریخ میں اہل سنت کی طرف سے کفر کا فتوی صرف بے نام جھمیوں پر مل رہا ہے

          میری تحقیق کے مطابق محدثین میں اصحاب رسول کو گالی دینے والے رافضی کی تکفیر پر اختلاف تھا – امام ابن معین اس کو کافر کہتے تھے اور اس کی روایت نہیں لیتے تھے – لیکن احمد اور دیگر محدثین کافر نہیں کہتے تھے اور امام بخاری نے رافضی کی روایت لی ہے گویا رافضی کی روایت سے مذھب اخذ کیا ہے – اس بنا پر میرے نزدیک محدثین کی آراء تکفیر کے حوالے سے کوئی رہنمائی نہیں کرتیں کیونکہ یہ انسان ہیں – نہ میں امام بخاری سے متاثر ہوں کہ ان کا شخصی دفاع کروں نہ امام احمد سے – میرے نزدیک تکفیر کے حوالے سے خود محدثین میں بہت کنفیوژن پایا جاتا ہے

          ——–
          کفر کا فیصلہ الله تعالی کرے گا جو کہتا ہے کہ جو وہ حکم نہ کرے جو اس نے دیا ہے تو وہ کافر ہے – اس میں کوئی بھی ہو سکتا ہے میں اپ اور دوسرے سب لوگ اس لئے انسان کو اپنا عقیدہ قرآن پر رکھنا چاہیے – اور دوسروں کو نصحت کی جائے کہ فلاں عقیدہ کفر ہے
          اب بات دلیل کی ہے – فرقے احادیث صحیحین سے قبر میں مردے کی حیات ثابت کرتے ہیں اور ہم ان کی تاویل کر کے قرآن کے مطابق کرنے کی کوشش کرتے ہیں – اس حوالے سے کیا احادیث دین میں اضافی عقیدہ دیتی ہیں یا قرآن کی وضاحت کرتی ہیں اس پر اختلاف ہے – فرقے کہتے ہیں احادیث قرآن پر اضافی چیز ہیں ان سے نیا عقیدہ لیا جا سکتا ہے – ہم کہتے ہیں خبر احاد سے عقیدہ ثابت نہیں ہوتا

          ——–
          کتاب اکابر پرستی یا صراط مستقیم کا پیش لفظ دیکھیں
          http://www.islamic-belief.net/literature/urdu-booklets/

        • jawad says:

          جزاک الله

          آپ کا تجزیہ صحیح ہے

          امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں
          :”ومن قال اِن الثنتین وسبعین فرقۃ کل واحد منھم یکفر کفرًا ینقل عن الملۃ فقد خالف الکتاب والسنۃ واجماع الأئمۃ الاربعۃ وغیرالاربعۃ ،فلیس فیھم من کفَّرکل واحد من الثنتین وسبعین فرقۃ”
          (مجموع الفتاویٰ:جلد۷ص۲۱۸)
          ”جس شخص نے یہ کہا کہ ۷۲ گروہوں میں سے ہر ایک کافر ہے اور ملت اسلامیہ سے خارج ہے تو اس نے کتاب و سنت اور اجماع ائمہ کی مخالفت کی، ان میں سے کوئی بھی ۷۲ گروہوں میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتا تھا ۔”
          مزید – شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں :امام احمد بن حنبل اور ان کے اصحاب سے منقول ہے
          وہ کہتے ہیں کہ جھمیۃ کفار ہیں اور وہ ان گمراہ 72 فرقوں میں شامل نہیں ہیں جن کا حدیث میں ذکر کیا گیا ہے ۔اسی طرح سے منافقین جو کہ اسلام ظاہر کرتے ہیں اور کفر چھپاتے ہیں وہ بھی ان 72 فرقوں میں داخل نہیں ہیں ۔ بلکہ وہ تو زندیق ہیں۔
          (فتاویٰ ابن تیمیہ:جلد۳ص۳۵۱)

          ابن تیمیہ کی یہ باتیں قران کی آیات سے میل نہیں کھاتی

          قران میں تو الله رب العزت واضح طور پر فرماتا ہے

          وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَھُمُ الْبَيِّنٰتُ ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ
          اور نہ ہو جانا ان لوگوں کی طرح جنہوں نے روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی اختلاف کیا اور فرقہ فرقہ ہو گئے ، اور ان کےلئے بڑا عذاب تیارہے۔” (آل ِ عمران :105)

          اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ ۭ اِنَّمَآ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ
          بے شک جن لوگوں نے اپنے دین میں فرقے بنائے اور گروہوں میں بٹ گئے آپ (ﷺ) کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے ان کا معاملہ اللہ کے سپر د ہے پھر وہ ان کو بتا دے کہ وہ کیا کرتے رہے ۔” ( الانعام :159)

          جب فرقہ پرستوں کا الله کے رسول سے کوئی تعلق نہیں تو پھر ان کا جنّت میں جانے کا امکان ہونا عجیب بات ہے؟؟ یعنی فرقہ پرستی تو بذات خود کفر ہے – تو پھر یہ کہنا کہ ٧٢ فرقے والے کافر نہیں ہو سکتے اور وہ مسلمان ہی ہیں باوجود گمراہی کے – ایک عجیب بات ہے ؟؟

          • Islamic-Belief says:

            اصل میں ابن تیمیہ کا طریقہ کار یہ ہے کہ اگر سلف سے کوئی موقف چلا آ رہا ہے تو وہ اس کو لیتے قبول کرتے ہیں اسی وجہ سے تکفیر کے معاملے میں سماع الموتی میں جنات سوار ہونے میں ان سے بڑی غلطیاں ہوئیں جو عقیدے کی خرابی کو ظاہر کرتی ہیں
            جو موقف ابن مبارک سے منسوب کیا گیا ہے اس کی سند میں مہجول ہے لہذا اس پر دلیل قائم نہیں کر سکتے

            بہر حال سلفی و وہابی فرقوں میں یہ معاملہ بہت الجھا ہوا ہے -آج ہی قاری خلیل کی یہ کتاب دیکھی اس میں جا بجا رافضی کو کافر کہا گیا ہے
            یہ دائمی کیمٹی یعنی بن باز کے فتووں کا ترجمہ ہے
            http://kitabosunnat.com/kutub-library/kharji-firqe-ki-pehchan

            دوسری طرف صالح المنجد کی ویب سائٹ ہے – ابن تیمیہ کے فتوے ہیں جو شیعہ و رافضی کو کافر نہیں کہتے

            بلکہ امام احمد جن کے لئے مشہور ہے کہ خلق قرآن کے قائل کو کافر کہتے تھے وہ کہیں بھی عباسی خلفاء کی تکفیر کرتے نظر نہیں اتے-
            قابل غور ہے کہ حکمران خلق قرآن کے قائل ہیں – ابن تیمیہ “مجموع الفتاوى” (23/349) میں اس تضاد پر کہتے ہیں:
            امام احمد … نے ان مسلمان خلیفوں پر بھی “رحمہ اللہ” کہتے ہوئے دعا کی ہے جنہوں نے جہمی نظریات سے متاثر ہو کر قرآن مجید کو مخلوق سمجھ لیا تھا اور اسی موقف کے داعی بن گئے تھے، امام احمد نے ان کیلیے دعائے مغفرت بھی کی؛ کیونکہ امام احمد جانتے تھے کہ ان مسلمان خلفائے کرام پر یہ بات واضح ہی نہیں ہوئی تھی کہ وہ [قرآن کریم کو مخلوق مانتے ہوئے] غلط ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں، نہ انہیں اس بات کا ادراک ہوا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات کا انکار کر رہے ہیں، انہوں نے تاویل کی تھی اور اسی تاویل میں انہیں غلطی لگی، اور ایسے لوگوں کی تقلید کر بیٹھے جو خلق قرآن کے قائل تھے” انتہی
            https://islamqa.info/ur/85102

            جب خلفیہ کو اتنی چھوٹ دی جا رہی ہے کہ ہو سکتا ہے بے چارے کو صحیح عقیدہ پتا نہ ہو تو عام آدمی پر کفر کی توپ کیوں چلاتے رہے جبکہ وہ تو اور لا علم ہوتے ہیں
            خود عربوں میں مثل مشہور ہے
            الناس علی دین ملوکھم
            لوگ اپنے بادشاہوں کے مذھب پر ہوتے ہیں

  118. وجاہت says:

    اکثر یہ کہا یہ کہا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد مردوں کو حور ملیں گی جنت میں – بعض عالم اپنی تقریروں میں حوروں کا ذکر زیادہ کرتے ہیں – کیا یہ تبلیغ کا طریقہ ٹھیک ہے – اس طرح تو لوگ جنت سے زیادہ حوروں کا لالچ رکھیں گے

    وضاحت چاہیے قرآن اور صحیح احادیث اور محدثین کے کچھ حوالے ہوں تو پلیز پیش کریں

  119. Aysha butt says:

    Ibne masud se mutlik qayamt ki nishaniyno k mutalik hadith hai jis mn 7 nishaniyn zikr hai kya sahih hai

    • Islamic-Belief says:

      روایت کا متن کیا ہے؟

      • Aysha butt says:

        https://youtu.be/Q1AAsEFGeGw
        Yahn dekhein
        Kya yeh hadith sahih hai

        • Islamic-Belief says:

          معجم الکبیر طبرانی میں ہے

          حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ الْأَسْوَارِيُّ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُتَيٍّ السَّعْدِيِّ، قَالَ عُتَيٌّ: خَرَجْتُ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ حَتَّى قَدِمْتُ الْكُوفَةَ، فَإِذَا بِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ بَيْنُ ظَهْرَانَيْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَأُرْشِدْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ فِي مَسْجِدِ الْأَعْظَمِ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، إِ …. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ لِلسَّاعَةِ مِنْ عِلْمٍ تُعْرَفُ بِهِ السَّاعَةُ؟ فَقَالَ لِي: «يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ لِلسَّاعَةِ أَعْلَامًا، وَإِنَّ لِلسَّاعَةِ أَشْرَاطًا، أَلَا وَإِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَكُونَ الْوَلَدُ غَيْظًا، وَأَنْ يَكُونَ الْمَطَرُ قَيْظًا، وَأَنْ تَفِيضَ الْأَشْرَارُ فَيْضًا، يَا ابْنَ مَسْعُودٍ إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يُصَدَّقَ الْكَاذِبُ، وَأَنْ يُكَذَّبَ الصَّادِقُ، يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ، وَأَنْ يُخَوَّنَ الْأَمِينُ، يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ تَوَاصَلَ الْأَطْبَاقُ، وَأَنْ تَقَاطَعَ الْأَرْحَامُ، يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَسُودَ كُلَّ قَبِيلَةٍ مُنَافِقُوهَا، وَكُلَّ سُوقٍ فُجَّارُهَا، يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ تُزَخْرَفَ الْمَسَاجِدُ، وَأَنْ تُخَرَّبَ الْقُلُوبُ، يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَكُونَ الْمُؤْمِنُ فِي الْقَبِيلَةِ أَذَلَّ مِنَ النَّقْدِ، يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَكْتَفِيَ الرِّجَالُ بِالرِّجَالِ وَالنِّسَاءُ بِالنِّسَاءِ، يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ تَكْثُفَ الْمَسَاجِدُ وَأَنْ تَعْلُوَ الْمَنَابِرُ، يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يُعْمَرَ خَرَابُ الدُّنْيَا، وَيُخْرَبَ عُمْرَانُهَا، يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ تَظْهَرَ الْمَعَازِفُ، وَتُشْرَبَ الْخُمُورُ، يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا شُرْبَ الْخُمُورِ، يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا الشُّرَطُ وَالْغَمَّازُونَ وَاللَّمَّازُونَ، يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَكْثُرَ أَوْلَادُ الزِّنَى» . قُلْتُ: أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، وَهُمْ مُسْلِمُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، وَالْقُرْآنُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، قُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَنَّى ذَاكَ؟ قَالَ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُطَلِّقُ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ، ثُمَّ يَجْحَدُ طَلَاقَهَا فَيُقِيمُ عَلَى فَرْجِهَا، فَهُمَا زَانِيَانِ مَا أَقَامَا»
          ———–

          سند میں مبارک بن فضالہ ہے جو مدلس ہے
          احمد کا کہنا ہے
          مبارك كان يرسل، ليس حديثه بالقوي
          یہ حدیث میں قوی نہیں ہے ارسال کرتا ہے

          دوسرا قول ہے
          وقال المروزي، عن أحمد: ما روى عن الحسن فيحتج به
          احمد نے کہا اگر مبارک کی روایت حسن بصری سے ہو تو دلیل ہے

          لیکن سند میں عتي بن ضمرة التميمي السعدي البصري. مجہول ہے کتاب إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال از مغلطاي میں ہے
          قال علي بن المديني في كتاب ” العلل الكبير “، وذكر حديث أبي بن كعب فيمن تعزى بعزاء الجاهلية: حديث بصري رواه الحسن عن رجل لم أسمع منه بحديث إلا من طريق الحسن، وهو مجهول. يقال له: عتي بن ضمرة السعدي
          امام علی نے کہا حسن ایک رجل سے روایت کرتے تھے جو مجہول ہے جس کو عتي بن ضمرة السعدي کہا جاتا ہے

          اسی طرح تیسرا راوی سيف بن مسكين بھی ضعیف ہے
          الهيثمي (المتوفى: 807هـ) کا کہنا ہے

          وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
          ——
          لہذا سند ضعیف ہے اس میں دو ضعیف ایک مدلس ایک مجہول ہے

          كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال کے مولف علاء الدين علي بن حسام الدين ابن قاضي خان القادري الشاذلي الهندي البرهانفوري ثم المدني فالمكي الشهير بالمتقي الهندي (المتوفى: 975هـ کا اس حدیث 38560 پر اسی وجہ سے کہنا ہے
          من أعلام الساعة أن يكون الولد غيظا والمطر قيظا، وتفيض الأشرار فيضا، ويصدق الكاذب ويكذب الصادق، ويؤتمن الخائن ويخون الأمين، ويسود كل قبيلة منافقوها وكل سوق فجارها فتزخرف المحاريب وتخرب القلوب، ويكتفي الرجال بالرجال والنساء بالنساء، وتخرب عمارة الدنيا ويعمر خرابها، وتظهر الريبة، وأكل الربا، وتظهر المعازف والكبول وشرب الخمر، وتكثر الشرط والغمازون والهمازون
          قال ق: إسناده فيه ضعف
          اس کی اسناد میں کمزوری ہے

          ———-

          ویڈیو میں ترجمہ کی دھجیاں بھکیر دی گئی ہے تاکہ اس کو اپنے مدعا سے ملا دیں

          اول أَنْ يَكُونَ الْوَلَدُ غَيْظًا بچے غصہ کریں گے
          دوم وَأَنْ يَكُونَ الْمَطَرُ قَيْظًا تیزابی بارش ہو گی ترجمہ غلط ہے
          سوم وَأَنْ تَفِيضَ الْأَشْرَارُ فَيْضًا برے لوگ پھیل جائیں گے
          چہارم أَنْ يُصَدَّقَ الْكَاذِبُ، وَأَنْ يُكَذَّبَ الصَّادِقُ – أَنْ يُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ، وَأَنْ يُخَوَّنَ الْأَمِينُ مکار لوگوں پر بھروسہ کریں گے
          پنجم أَنْ تَوَاصَلَ الْأَطْبَاقُ آمدورفت کا رابطہ ہو گا – یہ ترجمہ غلط ہے
          ششم وَأَنْ تَقَاطَعَ الْأَرْحَامُ رشتہ داری کو چھوڑا دیا جائے گا
          ہفتم أَنْ يَسُودَ كُلَّ قَبِيلَةٍ مُنَافِقُوهَا منافق لوگ حکومت کریں گے
          ہشتم وَكُلَّ سُوقٍ فُجَّارُهَا بد ترین لوگ مارکیٹ میں ہوں گے
          نہم أَنْ تُزَخْرَفَ الْمَسَاجِدُ، وَأَنْ تُخَرَّبَ الْقُلُوبُ مسجد خوبصورت ہو گی
          دھم أَنْ يَكُونَ الْمُؤْمِنُ فِي الْقَبِيلَةِ أَذَلَّ مِنَ النَّقْدِ مومن بد صورت بکری سے زیادہ ذلیل کیے جائیں گے
          گیارہ أَنْ يَكْتَفِيَ الرِّجَالُ بِالرِّجَالِ وَالنِّسَاءُ بِالنِّسَاءِ مرد مرد پر کفایت کریں گے
          بارہ جوان لوگ امیر ہوں گو – یہ متن میں نہیں ملا
          تیرہ أَنْ يُعْمَرَ خَرَابُ الدُّنْيَا، عورتیں بد تہذیب ہوں گی – یہ ترجمہ غلط ہے
          چودہ وَيُخْرَبَ عُمْرَانُهَا تہذیب تباہ ہو گی
          پندرہ أَنْ تَظْهَرَ الْمَعَازِفُ، وَتُشْرَبَ الْخُمُورُ موسیقی کی کثرت ہو گی آلات سر پر ہوں گے – متن میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ سر پر آلات ہوں گے
          سولہ الشُّرَطُ وَالْغَمَّازُونَ وَاللَّمَّازُونَ پولیس بہت ہو گی اور لوگوں کا مذاق اڑا گا –
          سترہ أَنْ يَكْثُرَ أَوْلَادُ الزِّنَى الوالد الزنا ہو گی
          اٹھارہ فتن ایک ٹی وی ہو گا یہ یہ ترجمہ غلط ہے پتا نہیں کہاں سے اخذ کیا ہے میں کہہ سکتا ہوں یوٹیوب خود ایک فتنہ ہے جس پر یہ ویڈیو ڈالی گئی ہے

          مترجم کے الفاظ موسیقی کے آلات سروں پر ہوں گے حدیث میں موجود نہیں اور ٹی وی سے متعلق کوئی الفاظ نہیں ملے کہ عمودی و ترچھی لکیروں سے جو اس نے بیان کیا ہے یہ اس روایت کے متن میں نہیں لیکن عربی بول کر ایسے کہہ رہا ہے کہ گویا یہ اس میں ہو
          ———–

          متن میں کوئی ایسی بات نہیں کہ اس کو قیامت کی نشانی قرار دیا جائے

          یہ تمام خرابیاں دور نبوی میں موجود مشرک معاشروں میں پہلے سے تھیں مثلا شراب اولاد الزنا رشتہ داری کو چھوڑنا ، ہم جنس پرستی یہ کسی بھی دور میں ہو سکتا ہے

  120. وجاہت says:

    جب پوسٹ

    کیا امت میں تکفیر محدثین سے شروع ہوئی

    پیش کی گئی تو کہا گیا کہ

    اولوالامر سے مراد صرف حکام ہیں دلیل؟؟
    امام بخاری نے عباسیوں کی تکفیر کی دلیل؟؟
    جہمی کافر ہیں دلیل؟؟
    تکفیر کا حق حکام کو ہے دلیل؟؟

  121. Aysha butt says:

    جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی کے دور میں زلزلہ کا عذاب آیا تو آپ کے حکم سے کیسے رک گیا؟
    جب قحط سالی کا عذاب آیا تو آپ کے حکم سے نیلِ مصر میں پانی کا بہاؤ پہلے سے زیادہ کیسے ھو گیا،آج تک اپنے بنیادی بہاؤ سے 16 فُٹ اوپر کیوں بہہ رہا ھے؟؟؟
    Zalzala ka waqia kya hai or kya sahih hai

    Kya darya e neel ka bahao ruqah e umr ki wajh se hai

    • Islamic-Belief says:

      بہن اپ ایک منقطع و ضعیف روایت پر بار بار سوال کیوں کرتی ہیں
      یہ تیسری چوتھی بار اپ عمر اور دریائے نیل کا قصہ لے کر آئی ہیں
      —-
      مدينة میں زلزلہ کب آیا ؟ اور ان کے پاس کیا شماریات
      statistics
      ہیں کہ دریائے نیل ١٦ فٹ اوپر ہے – فرعون کے دور سے لے کر رومیوں اور نصرانیوں کے دور کے تمام شواہد پیش کریں اور ان کی صحت ثابت کریں کہ دور عمر میں ١٦ فٹ اوپر ہو گیا
      اور آج تک اسی طرح بہہ رہا تو بات ہو گی
      ——–
      علم جغرافیہ والے کہتے ہیں نیل کا بھاؤ دور فرعون سے لے کر آج تک مسلسل کم ہو رہا ہے
      غور کریں سورة الزخرف میں ہے
      وَنَادَى فِرْعَوْنُ فِي قَوْمِهِ قَالَ يَاقَوْمِ أَلَيْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ وَهَذِهِ الْأَنْهَارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي أَفَلَا تُبْصِرُونَ
      فرعون نے اپنی قوم کے درمیان پکار کر کہا ، لوگو ، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہه رہی ہیں؟

      نیل سے ہی پانی لے کر فرعون کے محلوں میں نہریں بہہ رہی تھیں کیونکہ وہاں پانی کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا نہ ہے
      آج ہم کو معلوم ہے کہ مصر اتنا زرخیز نہیں کہ نہریں قاھرہ میں بہہ رہی ہوں

  122. Aysha butt says:

    Kya haiza aurat dum kr sakti hai

  123. Aysha butt says:

    Kya paashiq or ishq jesy ilfaz Alah or us k rusool sa.a.w ki lie boly ja sakty hai
    Kya yeh ilfaz amyana hai

  124. وجاہت says:

    تحقیق چاہیے – کیا یہ حدیث صحیح ہے

    حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ ثَلَاثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَبْرَصَ وَأَقْرَعَ وَأَعْمَى بَدَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا فَأَتَى الْأَبْرَصَ فَقَالَ أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ لَوْنٌ حَسَنٌ وَجِلْدٌ حَسَنٌ قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ قَالَ فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ فَأُعْطِيَ لَوْنًا حَسَنًا وَجِلْدًا حَسَنًا فَقَالَ أَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ الْإِبِلُ أَوْ قَالَ الْبَقَرُ هُوَ شَكَّ فِي ذَلِكَ إِنَّ الْأَبْرَصَ وَالْأَقْرَعَ قَالَ أَحَدُهُمَا الْإِبِلُ وَقَالَ الْآخَرُ الْبَقَرُ فَأُعْطِيَ نَاقَةً عُشَرَاءَ فَقَالَ يُبَارَكُ لَكَ فِيهَا وَأَتَى الْأَقْرَعَ فَقَالَ أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ شَعَرٌ حَسَنٌ وَيَذْهَبُ عَنِّي هَذَا قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ قَالَ فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ وَأُعْطِيَ شَعَرًا حَسَنًا قَالَ فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ الْبَقَرُ قَالَ فَأَعْطَاهُ بَقَرَةً حَامِلًا وَقَالَ يُبَارَكُ لَكَ فِيهَا وَأَتَى الْأَعْمَى فَقَالَ أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ يَرُدُّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي فَأُبْصِرُ بِهِ النَّاسَ قَالَ فَمَسَحَهُ فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ بَصَرَهُ قَالَ فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ الْغَنَمُ فَأَعْطَاهُ شَاةً وَالِدًا فَأُنْتِجَ هَذَانِ وَوَلَّدَ هَذَا فَكَانَ لِهَذَا وَادٍ مِنْ إِبِلٍ وَلِهَذَا وَادٍ مِنْ بَقَرٍ وَلِهَذَا وَادٍ مِنْ غَنَمٍ ثُمَّ إِنَّهُ أَتَى الْأَبْرَصَ فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِسْكِينٌ تَقَطَّعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي فَلَا بَلَاغَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ أَسْأَلُكَ بِالَّذِي أَعْطَاكَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ وَالْمَالَ بَعِيرًا أَتَبَلَّغُ عَلَيْهِ فِي سَفَرِي فَقَالَ لَهُ إِنَّ الْحُقُوقَ كَثِيرَةٌ فَقَالَ لَهُ كَأَنِّي أَعْرِفُكَ أَلَمْ تَكُنْ أَبْرَصَ يَقْذَرُكَ النَّاسُ فَقِيرًا فَأَعْطَاكَ اللَّهُ فَقَالَ لَقَدْ وَرِثْتُ لِكَابِرٍ عَنْ كَابِرٍ فَقَالَ إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ وَأَتَى الْأَقْرَعَ فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِهَذَا فَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا رَدَّ عَلَيْهِ هَذَا فَقَالَ إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ وَأَتَى الْأَعْمَى فِي صُورَتِهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِسْكِينٌ وَابْنُ سَبِيلٍ وَتَقَطَّعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي فَلَا بَلَاغَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ أَسْأَلُكَ بِالَّذِي رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ شَاةً أَتَبَلَّغُ بِهَا فِي سَفَرِي فَقَالَ قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللَّهُ بَصَرِي وَفَقِيرًا فَقَدْ أَغْنَانِي فَخُذْ مَا شِئْتَ فَوَاللَّهِ لَا أَجْهَدُكَ الْيَوْمَ بِشَ