ابراہیمی ادیان میں شیطان کا تصور

یہودیوں کی کتب میں شیطان کا تصور محدود ہے – اس کو ایک فرشتہ سمجھا جاتا ہے – لفظ شیطان  توریت میں نہیں ہے – موجودہ یہود کے بعض فرقوں کے نزدیک  نفس امارہ کو ہی شیطان سے ملا دیا گیا ہے اور شیطان بطور ایک الگ ذات کوئی وجود نہیں رکھتا- یہود کے دیگر  فرقوں کے نزدیک شیطان  فرشتہ ہے اور یہود کے نزدیک الله کا دشمن نہیں بلکہ الله کا مدد گار ہے

اگر آپ توریت کا تقابل قرآن سے کریں تو انکشاف ہو گا کہ آدم علیہ السلام  کو فرشتوں کا سجدہ، توریت میں موجود نہیں بلکہ ایک سانپ کو مثبت شخصیت کے طور پر دکھایا گیا ہے الله تعالی نے انسان کو تخلیق کیا اس کو شجر علم سے —   دور رکھا لیکن سانپ  چاہتا تھا کہ انسان علم  حاصل کرے لہذا اس کو شجر علم کی حقیقت بتا دی

گویا الله علم نہیں دینا چاہتا تھا شیطان یا سانپ  نے انسان کی علم حاصل کرنے میں مدد کی اور اس کو شجر ممنوعہ کی حقیقت بتا دی اس کے بر خلاف قرآن میں ہے کہ الله تعالی نے تخلیق آدم کے بعد ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور ان کو اسماء  کا علم فرشتوں سے زیادہ تھا

یعنی توریت میں  شیطان کو سانپ کر دیا اور شجر ممنوعہ کو شجر علم کر دیا اور اسی سانپ کو جنت میں بھی پہنچا دیا

تصویروں میں اس علم کو سیب کی صورت دکھایا جاتا ہے  جو سانپ نے حوا علیہ السلام کو دیا اور انہوں نے آدم علیہ السلام کو- زمانہ حال ہی میں ایک مشھور کمپنی نے اس سیب کواپنا لوگو بھی بنا لیا ہے

شیطان سانپ

Apple-logo1

توریت کی  کتاب الاستثنا کے باب ١٦ کی آیات ہیں

ہارون کو بنی اسرائیلیوں کے لئے دو بکرے گناہ کی قربانی کے طور پر اور ایک مینڈھا جلانے کی قربانی کے لئے لینا چاہئے ۔

٦

اس لئے ہارون ایک بیل کو اپنے گناہ کی قربانی کے لئے اپنے اور اپنے خاندان کے کفّارے کے لئے قربانی کے طور پر پیش کرے گا ۔

٧

” اُس کے بعد ہارون دو بکرے کو لیگا اور اسے خیمہٴ اجتماع کے دروازے پر خدا وند کے سامنے لائے گا ۔

٨

پھر ہارون دونوں بکروں کے لئے قرعہ ~ ڈ الے گا ۔ ایک خدا وند کے لئے اور دوسرے عزازیل کے لئے

٩

” تب ہارون قرعہ ڈال کر چُنے گئے بکرے کو خدا وند کے لئے گناہ کی قربانی کے طور پر قربانی دیگا ۔

١٠

لیکن قرعہ ڈال کر عزازیل کے لئے چُنا گیا بکرا خدا وند کے سامنے زندہ لایا جانا چاہئے ۔ تب یہ بکرا ریگستان میں عزازیل کے پاس کفّارہ دینے کے لئے بھیجا جائے گا ۔

١١

تب ہارون اپنے لائے ہوئے بیل کو گناہ کی قربانی کے طور سے چڑھا ئے گا ۔ اس طرح سے ہارون اپنے اور اپنے خاندان کے لئے کفّارہ ادا کریگا ۔ ہارون بیل کو اپنے لئے گناہ کی قربانی کے طور پر ذبح کرے گا ۔

عزازیل کے لئے بیابان میں بکرا چھوڑا جائے گا  جو  غیر الله کی نذر ہے اور اس کی تہمت ہارون علیہ السلام پر لگائی جا رہی ہے

بعض اہل کتاب عزازیل کا ترجمہ کر دیتے ہیں اور اس کو کفارہ کا بکرا کہتے ہیں – اس بکرے کا انتخاب دوسرے ہیکل کے دور میں  اقلام پھینک کر کیا جاتا تھا – تلمود کے مطابق اس بکرے کو پہاڑ پر لے جایا جاتا اور پھر کھائی میں دھکیل دیا جاتا تھا

اس طرح یہ عزازیل کی عبادت ہوئی- یہاں اس مقام پر یہ وضاحت نہیں کہ عزازیل سے  شیطان ہی مراد ہے

اس کی بنیاد پرشیطان کی منظر کشی ایسے پیروں سے کی جاتی جس میں بکرے کے پیر دکھائے جاتے ہیں

بعض دیگر یہودی کتب میں شیطان کا لفظ موجود ہے

کتاب زکریا  باب ٣ میں ہے کہ شیطان نے امام القدس کی مخالفت کی – یہ زکریا جن کو نبی کہا جاتا ہے ، دوسرے ہیکل کے دور کے ہیں اور عزیر مخالف ہیں ان کا ہی قتل مقدس اور قربان گاہ کے درمیان ہوا جن کا  ذکر انجیل متی میں ہے- یہ قرآن کے زکریا علیہ السلام نہیں جو مریم علیہ السلام کے کفیل تھے

آیات ہیں

اِس کے بعد رب نے مجھے رویا میں امامِ اعظم یشوع کو دکھایا۔ وہ رب کے فرشتے کے سامنے کھڑے تھے ، اور شیطان ان پر الزام لگانے کے لئے اُس کے دائیں ہاتھ کھڑا ہو گیا تھا۔

رب نے شیطان سے فرمایا، ”اے شیطان، رب تجھے ملامت کرتا ہے! رب جس نے یروشلم کو چن لیا وہ تجھے ڈانٹتا ہے! یہ آدمی تو بال بال بچ گیا ہے، اُس لکڑی کی طرح جو بھڑکتی آگ میں سے چھین لی گئی ہے۔“

ایک کتاب جو ایوب علیہ السلام سے منسوب ہے اس کی آیت ہے

الله نے شیطان سے پوچھا تو کہاں سے آ رہا ہے ؟ شیطان نے کہا زمین کی سیر سے ہر کام جو اس میں ہو اس کو دیکھتا ہوں

یہود کے نزدیک شیطان کا مقصد یہود کی آزمائش ہے لیکن اس کا نتیجہ ان کے حق میں ہوتا ہے یعنی یہود الله کی نگاہ میں سر خرو ہوتے ہیں

یسعیاہ نبی  (جن کا دور پہلے ہیکل کا کہا جاتا ہے اور عیسیٰ سے  ٨ صدیاں قبل گزرے ہیں ) کی کتاب میں ہے

یسعیاہ ٤٥  باب ٧ کی آیت ہے

میں ہی خالق نور و ظلمات ہوں اور میں ہی وہ ذات  ہوں جو برباد کرتی ہے

اس آیت سے بعض نصرانی علماء استخراج کرتے ہیں کہ اس میں ظلمت سے مراد شیطان ہے

موجودہ علماء یہود و نصاری کہتے ہیں کہ یسعیاہ کی کتاب تین حصوں میں لکھی گئی ہے پہلے ہیکل کی تباہی سے پہلے اوربعد تک اس پر کام ہوا ہے

اب  سوال پیدا ہوتا ہے کہ شیطان  کا وہ تصور جو قرآن میں ہے اور وہی حق ہے تو اس کو توریت میں کیوں تبدیل کیوں کیا گیا اور لفظ شیطان سرے سے توریت  موجود ہی نہیں؟

اس کی وجہ یہ تھی کہ بنی اسرائیل کو فارس کے لوگوں نے واپس یروشلم بھیجا تھا تاکہ وہ واپس  مسجد سلیمان بنا لیں- فارس کے مذھب میں اہرمن و یزداں کا تصور تھا- جس میں اہرمن کو خدائے شر کہا جاتا تھا لہٰذا اگر توریت جیسی اہم کتاب ، جس کو عزیر اور نحمیاہ لکھوا رہے تھے، میں سے شیطان کا ذکر ہوتا تو اس کو اہرمن سمجھا جاتا لہذا شیطان کا لفظ ہی نکال دیا گیا اور شیطان سانپ بن گیا

اس کے اثرات اردو زبان میں بھی ہیں آج بھی مشیت یزدانی کا لفظ بولا جاتا ہے- یزداں جو آتش پرستوں کا خدائے خیر تھا

دوسرے ہیکل کے دور میں یہود کا اختلاف بڑھا اور ان میں سامرہ کا فرقہ نکلا اور شیطان کے تصور میں تبدیلی آئی

نصرانی مذھب میں  شیطان کا تصور بہت بڑا ہے لوگوں کو دنیا میں بادشاہ بنواتا ہے ( انجیل لوقا)  انسان میں جانور میں حلول کر جاتا ہے (انجیل متی، لوقا ، مرقس)- انجیل یوحنا میں  شیطان کا جسد میں داخل ہونا نہیں بیان کیا گیا – شیطان ایک فرشتہ ہی ہے  جو جنت کا سانپ تھا –

بہرحال اناجیل اربع اور پال کی کتب میں شیطان کا تصور موجود ہے اور اس کو ایک طاقت ور کردار دیا گیا ہے

اسلام کا تصور ہے کہ شیطان جن ہے جو الله کا باغی ہے اور وہ نفس امارہ نہیں اور فرشتہ بھی نہیں- اس کا مقصد انسان کو گمراہ کرنا ہے اور علم دینا اس کا کام نہیں الله کا ہے- لہذا ہر طرح کا علم چاہے خیر کا ہو یا شر کا الله ہی کی جانب سے ہے لیکن اس کا مقصد انسان کی آزمائش ہے

قرآن کہتا ہے کہ بابل میں یہود سحر کا علم حاصل کرتے تھے جو ان کی آزمائش تھا آیات ہیں

واتبعوا ما تتلو الشياطين على ملك سليمان وما كفر سليمان ولكن الشياطين كفروا يعلمون الناس السحر وما أنزل على الملكين ببابل هاروت وماروت وما يعلمان من أحد حتى يقولا إنما نحن فتنة فلا تكفر فيتعلمون منهما ما يفرقون به بين المرء وزوجه وما هم بضارين به من أحد إلا بإذن الله ويتعلمون ما يضرهم ولا ينفعهم ولقد علموا لمن اشتراه ما له في الآخرة من خلاق ولبئس ما شروابه أنفسهم لو كانوا يعلمون

اور  (یہود) لگے اس  (علم) کے پیچھے جو شیطان مملکت سلیمان کے حوالے سے پڑھتے تھے اور سلیمان  نے تو کفر نہیں کیا، بلکہ شیاطین نے کفر کیا جو لوگوں کو سحر سکھاتے تھے اور جو بابل میں فرشتوں هاروت وماروت پر نازل ہوا تھا تو (وہ بھی) اس میں سے کسی کو نہ سکھاتے تھے حتی کہ کہتے ہم فتنہ ہیں، کفر مت کر!  لیکن وہ (یہودی) پھر بھی سیکھتے، تاکہ مرد و عورت میں علیحدگی کرائیں اور وہ کوئی نقصان نہیں کر سکتے تھے الا یہ کہ الله کا اذن ہو-  اور وہ ان سے (سحر) سیکھتے جو نہ فائدہ دے سکتا تھا نہ نقصان- اوروہ جانتے تھے کہ وہ کیا خرید رہے ہیں،  آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا اور بہت برا سودا کیا اگر ان کو پتا ہوتا

سحر کا علم ان کو فرشتوں هاروت وماروت  سے ملا  تھا لیکن ان کو پتا تھا کہ یہ فتنہ ہے لیکن اپنی سابقہ حرکتوں کو توجیہ دینے کے لئے انہوں نے تمام علوم کا مخزن چاہے ( شرک و سحر ہی کیوں نہ ہو ) سانپ کو قراردیا کیونکہ یہ سب اس شجر علم میں چھپا تھا جو جنت عدن کے بیچوں بیچ تھا

لہذا اہل کتاب میں الجھاؤ پیدا ہو گیا کہ ایک طرف تو سانپ  توریت کے مطابق علم دے رہا ہے دوسری طرف انجیل میں یہی سانپ شیطان بن کر لوگوں کو گمراہ کر رہا  ہے ان میں حلول کر رہا ہے

سانپ سے یہود کی محبت بھی عجیب رہی کتاب گنتی باب ٢١ کے مطابق الله تعالی بنی اسرائیل پر ناراض ہوا جبکہ وہ مصر سے باہر دشت میں تھے

snake-number-21موسی علیہ السلام پر بت بنانے کی یہ تہمت تو لگی ہی سانپ میں کوئی نہ کوئی چکر ضرور ہے یہ بات بھی دماغ میں ڈال دی گئی

اس مورت کی پوجا بھی ہونے لگی کتاب سلاطین دوم باب ١٨ میں ہے

snake-2kings18

اسی سانپ کو عیسی کی تاثر مسیحائی سے بھی ملا دیا  گیا اور طب کا نشان سمجھا جاتا ہے

serpent

اسکلپئوس ایک یونانی خدا تھا جس کے ہاتھ میں ایک لاٹھی پر سانپ لپٹا ہوا تھا اس کو طب کا خدا سمجھا جاتا تھا اسی نشان کو

اپنایا گیا ہے

ascilepius

دو سانپ ایک لاٹھی پر اور اپس میں لپٹے ہوئے یونانی دیوتا ہرمس کا نشان ہے اس کو آج کل لیں دیں یا بزنس کا نشان کہا جاتا

ہے جس کو ایک بینک نے بھی پسند کیا

standard-chartred

اسی طرح ایک آرڈر آف ڈریگن بھی بنا جو ترکوں کی یورپ کی طرف پیش قدمی کو روک رہا تھا

Order of the Dragon

dragon1

ڈریگن بھی ایک تخیلاتی مخلوق ہے جو زمیں اور اگ سے نکلا ہے یہ  کچھ اور نہیں اڑنے والا  اژدھا یا سانپ ہے کیونکہ ابلیس اڑتا ہے اور اس کو سانپ بھی کہا

جاتا  ہے اور تقریبا ساری دنیا میں اس کو ایک زمانے میں کسی نہ کسی مقام پر پوجا جاتا تھا

کہا جاتا ہے کہ یہ مخلوق معدوم ہے لیکن آج تک ڈراموں اور فلموں میں اس کو مثبت انداز میں دکھایا جاتا ہے

ڈریگن اصل میں ابلیس ہی کی شکل ہے جس کو  اس کے شائقین مثبت انداز میں پیش کرتے ہیں

اب  اس تصور کا اختتام بہت ممکن ہے ایسے ہو کہ ایک دابّه الارض زمیں کا جانور نکلے اور شرک کی بجائے الوہیت کا علم دے

وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآَيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ

پس جب ان پر ہمارا قول واقع ہو گا ہم ان کے لئے زمین سے جانور نکالیں گے جو کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پرایمان نہیں لاتے

شوکانی اور قرطبی ابن عبّاس سے منسوب ایک قول نقل کرتے ہیں کہ  دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ سے مراد

أنها الثعبان المشرف على جدار الكعبة

ایک عظیم اژدھا ہو گا جو کعبہ کی دیوار سے نکلے گا

لیکن یہ آخری وقت ہو گا

اب اس کے بعد کوئی نیکی نیکی نہ رہے گی اور کوئی ایمان قبول نہ ہو گا

Comments are closed.