وھابیت

کتاب التوحید اور نجدی شطحات

عیسیٰ علیہ السلام نے یہودیوں کی سرزنش کرتے ہوۓ کہا تھا کہ تم کو اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا – بالکل اس کے مصداق حنبلیوں وہابیوں اور نام نہاد اہل حدیثوں کو تبلیغی نصاب ، احمد رضا خان کی تحریرروں میں شرک

نظر آتا ہے لیکن خود ان کے محسنین نے جو خرافات اگلی ہیں ان پر لب کشائی نہیں کی جاتی

محمد بن عبد الوهاب بن سليمان التميمي النجدي (المتوفى: 1206هـ) اپنی کتاب التوحید کے ٤٩ باب میں لکھتے ہیں کہ

 

باب (49) قول الله تعالى: {فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحاً جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا فَتَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ}

قال ابن حزم: اتفقوا على تحريم كل اسم معبد لغير الله كعبد عمرو، وعبد الكعبة، وما أشبه ذلك حاشى عبد المطلب. وعن ابن عباس في الآية: “قال لما تغشاها آدم حملت فأتاهما إبليس فقال: إني صاحبكما الذي أخرجتكما من الجنة لتطيعاني  أو لأجعلن له قرني أيل، فيخرج من بطنك فيشقه، ولأفعلن ولأفعلن يخوفهما، سمياه عبد الحارث. فأبيا أن يطيعاه فخرج ميتا، ثم حملت فأتاهما فقال مثل قوله، فأبيا أن يطيعاه، فخرج ميتا. ثم حملت فأتاهما فذكر لهما فأدركهما حب الولد فسمياه عبد الحارث، فذلك قوله {جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا} ” رواه ابن أبي حاتم.

وله بسند صحيح عن قتادة قال: “شركاء في طاعته ولم يكن في عبادته”.

najdi-toheed

باب ٤٩ کہ الله تعالیٰ کا قول (جب الله تعالیٰ نے ان کو صحیح سالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو شریک ٹھرانے لگے – الله بہت بلند و بر تر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

ابن حزم کہتے ہیں مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر وہ نام رکھنا حرام ہے جس میں غیر الله کی طرف عبدیت کا اظہار ہوتا ہو جیسے عبد عمرو ، عبد الکعبہ وغیرہ -صرف عبد المطلب اس سے مستثنیٰ ہے – اور ابن عبّاس  اس آیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ جب آدم و حوا آپس میں ملے تو یہ حاملہ ہوئیں – ابلیس ان کے پاس آ کر کہنے لگا کہ میں وہی ہوں جس نے تم کو جنّت سے نکالا – میری بات مانو اور ہونے والے بچے کا نام عبد الحارث رکھو ورنہ میں اس کے سر پر بارہ سنهگا جیسا سر بنا دوں  گا اور یہ تمہارا پیٹ چیر کر باہر نکلے گا اور میں یہ کروں گا اور وہ کروں گا-  لیکن انہوں نے نہ مانا اور امید کرنے لگے لیکن بچہ مردہ پیدا ہوا- پھر وہ دوبارہ حاملہ ہوئیں اور ابلیس واپس آیا اور جیسا پہلے کہا تھا ویسا پھر کہا – دونوں (دوبارہ  ویسا ہی کیا  ) اور امید کرنے لگے لیکن مردہ پیدا ہوا – پھر وہ دوبارہ حاملہ ہوئیں اور ابلیس واپس آیا اور جیسا پہلے کہا تھا ویسا پھر کہا – ان کے دل میں بچے کی محبّت پیدا ہوئی اور انہوں نے اس کا نام عبد الحارث رکھا – قرآن کی آیت جَعَلا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا میں اسی طرف اشارہ ہے

اس کو روایت کیا ہے ابن ابی حاتم نے – اور صحیح سند کے ساتھ قتا دہ نے بھی روایت کیا ہے اور کہا کہ ان کا شرک اطاعت میں تھا نہ کہ عبادت میں

ابن عبّاس رضی الله تعالیٰ عنہ کی روایت

تفسیر ابن ابی حاتم میں اس روایت کی سند ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْزَةَ، ثنا حَبَّانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَولِهِ: ” {فَلَمَّا آتَاهُمْا صَالِحًا جَعَلَا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا} [الأعراف: 190] ، قَالَ: اللَّهُ هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا، فَلَمَّا تَغَشَّاهَا آدَمُ حَمَلَتْ آتَاهُمَا إِبْلِيسُ، فَقَالَ: إِنِّي صَاحِبُكُمَا الَّذِي أَخْرَجْتُكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ، لَتُطِيعَنَّنِ أَوْ لَأَجْعَلَنَّ لَهَا قَرْنَيْ إِبِلٍ فَيَخْرُجُ مِنْ بَطْنِكِ فَيَشُقَّهُ وَلَأَفْعَلَنَّ وَلَأَفْعَلَنَّ يُخَوِّفُهُمَا سَمِّيَاهُ عَبْدَ الْحَارِثِ، فَأَبَيَا أَنْ يُطِيعَاهُ فَخَرَجَ مَيِّتًا، ثُمَّ حَمَلَتْ يَعْنِي الثَّانِيَةَ فَأَتَاهُمَا أَيْضًا فَقَالَ: أَنَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي فَعَلْتُ مَا فَعَلْتُ لَتَفْعَلُنَّ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ وَلَأَفْعَلَنَّ يُخَوِّفُهُمَا فَأَبَيَا أَنْ يُطِيعَانِهِ فَخَرَجَ مَيِّتًا، ثُمَّ حَمَلَتِ الثَّالِثَةُ فَأَتَاهُمَا أَيْضًا فَذَكَرَ لَهُمَا فَأَدْرَكَهُمَا حُبَّ الْوَلَدِ فَسَمَّيَاهُ عَبْدَ الْحَارِثِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {جَعَلَا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا}

اس کا راوی خُصَيْفٍ بن عبد الرحمان الجزری ہے جو بیشتر کے نزدیک کمزور ہے یحییٰ بن سعید اس کو ضعیف کہتے ہیں – ابن حبان کہتے ہیں کہ بعض نے ان کی روایت ترک کی تھی – نسائی کہتے ہیں قوی نہیں

 

مسند احمد کی سمرہ رضی الله تعالیٰ عنہ  کی روایت

مسند احمد میں روایت کا متن  اور سند ہے

 

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” لَمَّا حَمَلَتْ حَوَّاءُ طَافَ بِهَا إِبْلِيسُ، وَكَانَ لَا يَعِيشُ لَهَا وَلَدٌ، فَقَالَ: ” سَمِّيهِ عَبْدَ الْحَارِثِ، فَإِنَّهُ يَعِيشُ، فَسَمَّوْهُ عَبْدَ الْحَارِثِ، فَعَاشَ، وَكَانَ ذَلِكَ مِنْ وَحْيِ الشَّيْطَانِ، وَأَمْرِهِ

 

مسند احمد کی سمرہ رضی الله تعالیٰ عنہ  کی اس روایت کے راوی عمر بن إبراهيم العبدي أبو حفص البصري- کے لئے کہا جاتا ہے کہ  في روايته عن قتادة ضعف کہ قتادہ سے روایت کرنے میں کمزور ہیں –

مسند کی اس روایت پر حاشیہ لکھنے والے محقق  شعيب الأرنؤوط  اور ان کی تحقیقی کمیٹی لکھتی ہے کہ

 إسناده ضعيف، کہ اس کی سند ضعیف ہے ابن ابی حاتم والی روایت کے لئے رقم طراز ہیں کہ

 

وأخرجه ابن أبي حاتم في “تفسيره” كما في “تفسير” ابن كثير 3/529، والطبراني في “الكبير” (6895) ، وابن مردويه كما في “تفسير” ابن كثير من طريق شاذ بن فيّاض، عن عمر بن إبراهيم، به. قال الترمذي: هذا حديث حسن غريب، لا نعرفه مرفوعاً إلا من حديث عمر بن إبراهيم عن قتادة، ورواه بعضهم عن عبد الصمد ولم يرفعه

 

 

ابن ابی حاتم کی روایت کی سند میں بھی عمر بن إبراهيم العبدي أبو حفص البصري ہے

اس راوی کے لئے تہذیب الکمال  میں لکھا ہے کہ

قَال أَبُو أَحْمَدَ بْن عدي  : يروي عن قتادة أشياء لا يوافق عليها، وحديثه خاصة عن قتادة مضطرب

 أَبُو أَحْمَدَ بْن عدي کہتے ہیں : قتادہ سے وہ چیزیں روایت کرتے ہیں  جن کی موافقت کوئی نہیں کرتا  اور خاص طور پر ان کی حدیثیں قتادہ سے مضطرب ہیں

ابن حزم کا تبصرہ

اب ذرا ابن حزم کے تبصرے پر بھی نگاہ ڈال لی جائے – ابن حزم  المتوفى ٤٥٦ اپنی  کتاب الفصل في الملل والأهواء والنحل میں لکھتے ہیں

فَهَذَا تَكْفِير لآدَم عَلَيْهِ السَّلَام وَمن نسب لآدَم عَلَيْهِ السَّلَام الشّرك وَالْكفْر كفرا مُجَردا بِلَا خلاف من أحد من الْأمة وَنحن ننكر على من كفر الْمُسلمين العصاة العشارين القتالين وَالشّرط الْفَاسِقين فَكيف من كفر الْأَنْبِيَاء عَلَيْهِم السَّلَام وَهَذَا الَّذِي نسبوه إِلَى آدم عَلَيْهِ السَّلَام من أَنه سمى ابْنه عبد الْحَارِث خرافة مَوْضُوعَة مكذوبة من تأليف من لَا دين لَهُ وَلَا حَيَاء لم يَصح سندها قطّ وَإِنَّمَا نزلت فِي الْمُشْركين على ظَاهرهَا

 

یہ  تو آدم علیہ السلام کی تکفیر ہے اور جنہوں نے شرک کی نسبت آدم علیہ السلام کی طرف کی ہے …….. کہ انہوں نے اپنے بچے کا نام عبد الحارث رکھا  تو ان کو نہ دین کی سمجھ ہے  نہ شرم و حیا – کیونکہ یہ روایت خرافات کا پلندہ ، موضوع  اور گھڑی ہوئی جھوٹی روایت ہے بلکہ یہ تو مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے

قارئین آپ نے دیکھا کہ کس طرح النجدی نے ابن حزم کی نا مکمل بات پیش کی بلکہ ابن حزم کا اس روایت پر تبصرہ بھی پیش نہ کیا تاکہ اپنے تئیں شرک کی اقسام میں اضافہ کیا جائے – شرک تو انبیا سے سر زرد نہیں ہو سکتے لیکن ان نجدی شطحات کا کیا کیا جائے صرف اس کہ کے ان کو ردی کی ٹوکری کے نذر کیا جائے

 

احمد شاکر کا تبصرہ

مزید براں  قتادہ کے قول وله بسند صحيح عن قتادة قال: “شركاء في طاعته ولم يكن في عبادته”.کا حوالہ اغلبا تفسیر طبری سے لیا ہے – احمد شاکر سوره الاعراف کی آیت ١٩٠ میں حاشیہ میں بحث سمیٹے ہوۓ لکھتے ہیں

قلت: وسترى أن أبا جعفر قد رجح أن المعني بذلك آدم وحواء، قال: ((لإجماع الحجة من أهل التأويل علي ذلك)) . وإجماع أهل التأويل في مثل هذا، مما لا يقوم الأول: لأن الآية مشكلة، ففيها نسبة الشرك إلى آدم الذي اصطفاه ربه، بنص كتاب الله، وقد أراد أبو جعفر أن يخرج من ذلك، فزعم (ص: 315) أن القول عن آدم وحواء انقضى عند قوله: ((جعلا له شركاء فيما آتاهما، ثم استأنف قوله: ((فتعالى الله عما يشركون)) ، يعنى عما يشرك به مشركو العرب من عبدة الأوثان.وهذا مخرج ضعيف جداً.

الثاني أن مثل هذا المشكل في أمر آدم وحواء، ونسبة الشرك إليهما، مما لا يقضى به، إلا بحجة يجب التسليم لها من نص كتاب، أو خبر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم. ولا خبر بذلك، إلا هذا الخبر الضعيف الذي بينا ضعفه، وأنه من رواية عمر بن إبراهيم، عن قتادة. وروايته عن قتادة مضطربة

 

احمد شاکر کہتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ : آپ دیکھیں گے کہ ابو جعفر  الطبري کے نزدیک اغلبا آیات آدم و حوا سے متعلق ہیں کہتے ہیں کہ اہل تاویل کا اس کی حجت پر اجتما ع ہے – اور اہل تاویل کا اس جیسی چیز پر اجماع دلیل نہیں کیونکہ  اول : آیات میں اک مشکل ہے کہ اس میں آدم کی طرف شرک کی نسبت ہے جن کو الله نے چنا اور ابو جعفر الطبري نے اس سے یہ نکالا ہے اور یہ زعم کیا کہ (ص  ٣١٥ ) یہ آدم و حوا کے لئے ہے کہا جعلا له شركاء فيما آتاهما اور پھر کہا کہ فتعالى الله عما يشركون یعنی جیسے عرب کے مشرک بتوں کی پوجا کرتے تھے – اور یہ نتیجہ انتہائی بودا ہے – دویئم اس مثال میں مشکل ہے کہ یہ آدم و حوا کے بارے میں ہے – اور ان کی طرف شرک کی نسبت کرتی ہے – جس کی کوئی ضرورت نہیں سوائے اس کہ کتاب الله میں اس پر کوئی نص ہو یا کوئی خبر رسول ہو – اور یہ جو خبر ہے نہایت کمزور ہے اور یہ روایت ہے عمر بن إبراهيم، عن قتادة کی سند سے اور قتادہ سے اس کی روایت مضطرب ہے

اس تمام بحث کا خلاصہ ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عبد الوہاب حق کا ساتھ دیتے اور اس مکذوبہ  روایت کو توحید پر مبنی کتاب میں درج ہی نہ کرتے اور آدم و حوا سے متعلق ان ہفوات کو خاطر میں نہ لاتے – لیکن افسوس ایسا نہ ہوا اور ان کا قلم بھٹک گیا

 

امام مسلم صحيح المسلم بَابُ الْأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ  میں روایت بیان کرتے ہیں کہ

عن أبي الهياج الأسدي قال

قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ «أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ»

أبي الهياج الأسدي کہتے ہیں کہ مجھ سے عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ  نے کہا: کیا میں تم کو اس کام کے لئے نہ بھیجوں جس کے لئے    رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  نے مجھے  بھیجا؟ کوئی تصویر نہ چھوڑوں جس کو مٹا دوں اور کوئی قبر جس کو برابر نہ کر دوں

امت میں اسی شرک کے خوف کی وجہ سے عائشہ رضی  الله تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی تدفین حجرہ میں کی گئی (صحیح البخاری

شیعوں کی کتاب   کی روایت ہے کہ صفحہ 528 الكافي از الكليني – ج 6

عدة من أصحابنا ، عن سهل بن زياد ، عن جعفر بن محمد الأشعري ، عن ابن القداح

عن أبي عبد الله عليه السلام قال : قال أمير المؤمنين عليه السلام بعثني رسول الله صلى الله عليه وآله في هدم القبور وكسر الصور

أبي عبد الله عليه السلام بیان کرتے ہیں کہ  أمير المؤمنين (علی) عليه السلام  کہتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وآله نے مجھے بھیجا کہ قبروں کو منہدم کر دوں اور تصویریں توڑ دوں

یہی بات وسائل الشيعة (الإسلامية) از الحر العاملي ج ٢ میں اور جامع أحاديث الشيعة لسيد البروجردي ج ٣  بیان ہوئی ہے

عید میلاد النبی کے حوالے سے بریلوی مذھب والے تلقین کرتے ہیں کہ

مسلمانوں کو  اس ماہ مبارک میں گنبد خضرا کی شبیہ والے اور صلوٰۃ وسلام لکھے ہوئے سبز پرچم لہرانے چاہئیں

گنبد الخضراء کو ایک اسلامی سمبل سمجھا جانے لگا ہے حالانکہ اس کا دین میں کوئی مقام نہیں

فصول من تاريخ المدينة المنورة  جو علي حافظ کی کتاب ہے اور  شركة المدينة للطباعة والنشر نے اس کو سن  ١٤١٧ ھ  میں چھاپا ہے اسکے مطابق

لم تكن على الحجرة المطهرة قبة، وكان في سطح المسجد على ما يوازي الحجرة حظير من الآجر بمقدار نصف قامة تمييزاً للحجرة عن بقية سطح المسجد.  والسلطان قلاوون الصالحي هو أول من أحدث على الحجرة الشريفة قبة، فقد عملها سنَة 678 هـ، مربَّعة من أسفلها، مثمنة من أعلاها بأخشاب، أقيمت على رؤوس السواري المحيطة بالحجرة، وسمَّر عليها ألواحاً من الخشب، وصفَّحها بألواح الرصاص، وجعل محل حظير الآجر حظيراً من خشب.  وجددت القبة زمن الناصر حسن بن محمد قلاوون، ثم اختلت ألواح الرصاص عن موضعها، وجددت، وأحكمت أيام الأشرف شعبان بن حسين بن محمد سنة 765 هـ، وحصل بها خلل، وأصلحت زمن السلطان قايتباي سنة 881هـ.  وقد احترقت المقصورة والقبة في حريق المسجد النبوي الثاني سنة 886 هـ، وفي عهد السلطان قايتباي سنة 887هـ جددت القبة، وأسست لها دعائم عظيمة في أرض المسجد النبوي، وبنيت بالآجر بارتفاع متناه،….بعد ما تم بناء القبة بالصورة الموضحة: تشققت من أعاليها، ولما لم يُجدِ الترميم فيها: أمر السلطان قايتباي بهدم أعاليها، وأعيدت محكمة البناء بالجبس الأبيض، فتمت محكمةً، متقنةً سنة 892 هـ.  وفي سنة 1253هـ صدر أمر السلطان عبد الحميد العثماني بصبغ القبة المذكورة باللون الأخضر، وهو أول من صبغ القبة بالأخضر، ثم لم يزل يجدد صبغها بالأخضر كلما احتاجت لذلك إلى يومنا هذا.  وسميت بالقبة الخضراء بعد صبغها بالأخضر، وكانت تعرف بالبيضاء، والفيحاء، والزرقاء” انتهى.

حجرہ مطهرہ پر کوئی گنبد نہ تھا، اور حجرہ مطهرہ  کو باقی مسجد سے علیحدہ کرنے کے لئے سطح مسجد سے آدھے قد کی مقدار تک ایک منڈھیر بنی ہوئی تھی. اور سلطان قلاوون الصالحي وہ پہلا شخص ہے جس نے حجرہ مطهرہ پر  سن 678 هـ (بمطابق 1279ء میں آج سے ٧٣٤ سال پہلے)،  میں گنبد بنایا، جو نیچے سے چکور تھا ، اوپر سے آٹھ حصوں میں تھا جو لکڑی کےتھے. … پھر اس کی الناصر حسن بن محمد قلاوون کے زمانے میں تجدید ہوئی. .. پھر سن 765 هـ،  میں الأشرف شعبان بن حسين بن محمد کے زمانے میں  پھر اس میں خرابی ہوئی اور السلطان قايتباي  کے دور میں سن  881هـ میں اس کی اصلاح ہوئی.   پھر سن 886 هـ میں اور السلطان قايتباي  کے دور میں مسجد النبی میں آگ میں گنبد جل گیا. اور سن 887هـ  میں اور السلطان قايتباي ہی  کے دور میں اس کو دوبارہ بنایا گیا…. سن 892 ھ میں اس کو سفید رنگ کیا گیا …  سن 1253هـ  میں  السلطان عبد الحميد العثماني نے حکم دیا اور اس کو موجودہ شکل میں  سبز رنگ دیا گیا. … اور یہ گنبد البيضاء (سفید)، الفيحاء ، والزرقاء (نیلا) کے ناموں سے بھی مشھور رہا

سعودی عرب کے مفتی عبد العزيز بن عبد الله بن باز (المتوفى: 1420هـ) اپنے  فتویٰ میں  کہتے ہیں جو کتاب فتاوى اللجنة الدائمة – المجموعة الأولى میں چھپاہے  اور اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء نے چھاپا ہے

لأن بناء أولئك الناس القبة على قبره صلى الله عليه وسلم حرام يأثم فاعله

ان لوگوں کا قبر نبی صلى الله عليه وسلم پر گنبد بنانا حرام کام تھا اس کا گناہ اس کے بنانے والوں کے سرہے

محمد صالح المنجد  کتاب   القسم العربي من موقع (الإسلام، سؤال وجواب) میں کہتے ہیں کہ

وقد أنكر أهل العلم المحققين – قديماً وحديثاً – بناء تلك القبة، وتلوينها، وكل ذلك لما يعلمونه من سد الشريعة لأبواب كثيرة خشية الوقوع في الشرك.

قدیم محققین اہل علم نے شرک کے دروازون کو روکنے کے لیے اس گنبد  کے بنانے کا رد کیا ہے

بيان الحكم في القبة الخضراء على قبره عليه الصلاة والسلام : نبی صلی الله علیہ وسلم  کی قبر پر گنبد الخضراء کا حکم میں  سعودی عرب کے مفتی  عبد العزيز بن عبد الله بن باز (المتوفى: 1420هـ)   اپنے فتویٰ جو کتاب فتاوى نور على الدرب ج ٢ ص ٣٣٢  میں چھپا ہے  میں کہتے ہیں کہ

لا شك أنه غلط منه، وجهل منه، ولم يكن هذا في عهد النبي – صلى الله عليه وسلم – ولا في عهد أصحابه ولا في عهد القرون المفضلة، وإنما حدث في القرون المتأخرة التي كثر فيها الجهل، وقل فيها العلم وكثرت فيها البدع، فلا ينبغي أن يغتر بذلك

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ غلطی ہے اور جھل ہے، اور یہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے دور میں نہ تھا، نہ ہی صحابہ کے دور میں تھا ، نہ ہی قرون اولی میں تھا، اور بے شک اس کو بعد میں آنے والے زمانے میں بنایا گیا جس میں جھل کی کثرت تھی اور علم کی کمی تھی اور بدعت کی کثرت تھی پس یہ جائز نہیں کہ اس سے دھوکہ کھایا جائے

ج٢ ص ٣٣٩ مزید کہتے ہیں

وأما هذه القبة فهي موضوعة متأخرة من جهل بعض الأمراء، فإذا أزيلت فلا بأس بذلك، بل هذا حق لكن قد لا يتحمل هذا بعض الجهلة، وقد يظنون بمن أزالها بأنه يس على حق، وأنه مبغض للنبي عليه الصلاة والسلام،

اور یہ جو گنبد ہے تو یہ بعد میں انے والوں بعض امراء کے جھل کی وجہ سے بنا، اگر اس کو گرایا جائے تو کوئی برائی نہیں، بلکہ یہی حق ہے لیکن  کچھ جاہل لوگ ایسا نہیں لیتے، اور گمان کرتے ہیں کہ اس کے ہٹانے کو حق نہیں سمجھتے  اور اس کو النبي عليه الصلاة والسلام سے نفرت کا اظھار سمجھتے ہیں

مزید کہتے ہیں

وإنما تركت من أجل خوف القالة والفتنة

اور بےشک اس کو (جھلاء کی) بکواس اور فتنہ کے خوف سے چھوڑ دیا گیاہے

وکیپیڈیا کے مطابق: سعودی عرب کے فرمانروا اور خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ نے مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع کے لئے 4ارب 70کروڑ ریال کے میگا پروجیکٹ کا اعلان کیا ہے ۔ منصوبے کے مطابق مسجد نبوی کے مشرقی حصے کی توسیع کی جائے گی جس کے بعد اس حصہ میں مزید 70 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہوجائے گی۔

افسوس کہ  جو کام شرک کی بیخ کنی کےلئے کیا جانا چاہیے تھا وہ تو موخر کر دیا گیا ہے لیکن توسیع پر کروڑوں خرچ ہو رہے ہیں

سوال یہ ہے کہ سعودی حکومت کی طرف سے اس گنبد کو رنگ کیوں کیا جاتا ہے

FullSizeRender

ان پر تو یہ صادق آتا ہے

لَوْلَا يَنْهَاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَصْنَعُونَ (63

آخر ان کے احبار اور ربی کیوں ان کو گناہ کی بات سے نہیں روکتے اور حرام کھاتے ہیں بہت برا ہے جو یہ کرتے ہیں

غیر مقلدین کی محبوب شخصیت ابن تیمیہ (المتوفى: 728هـ)  کی ، سلطان قلاوون الصالحي کے دور کے بعد وفات ہوئی لیکن جہاں موصوف نے اور قبوں (گںبدوں) کے خلاف مہم کا آغاز کیا اور قبر رسول کی زیارت کے غرض سے کیے جانے والے سفر کو بدعت کہا وہاں اس گنبد پر ایک لفظ نہ کہا

ان کے ہونہار شاگرد  ابن قیّم  (المتوفى: 751هـ ) نے بھی کچھ نہ کہا اور یہی پالیسی اب تک چلی آ رہی ہے

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے

یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے

الله تعالی قرآن میں کہتا ہے

وأن المساجد لله فلا تدعوا مع الله أحدا

اور بے شک یہ مسجدیں اللہ کے لئے ہیں پس ان میں الله کے سوا کسی کو نہ پکارا جائے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا

لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بَاعًا بِبَاعٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، وَشِبْرًا بِشِبْرٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمْ فِيهِ”، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى؟ قَالَ: “فَمَنْ إِذًا

 تم ضرور پچھلی امتوں کی روش پر چلو گے، جسے بالشت بالشت اور قدم با قدم حتیٰ کہ  اگر کوئی ان میں سے کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے- پوچھا  اے الله کے رسول کیا یہود و نصاری؟  آپ نے فرمایا اور کون

گمراہ امتوں نے غلو کیا اور اپنے انبیا کا اس قدر بلند کیا کہ ان کو مسند الوہیت پر بیٹھا دیا  – عسائیوں نے تثلیث کا عقیدہ گڑھا اور مشرک قوموں کی طرح ایک رمز اور اشارہ اپنے مذھب کے لئے ایجاد کیا جس میں صلیب کا نشان تھا جس کو انہوں نے اپنی عبادت گاہوں میں لگایا اور باقاعدہ بت پرستی کا آغاز ہوا اور عیسیٰ کی پوجا پاٹ ہونے لگی – اسلام کی بت پرستی کے خلاف دعوت سے متاثر ہو کر عیسائی بازنیطی سلطنت میں بت کشی کا آغاز ہوا – سن ١١٢ ہجری میں بازنیطی حکمران لیو نے بت شکنی کا آغاز کیا جن کو اکونوکلاسٹ کہا جاتا ہے- سن ١٧٠ ہجری میں بادشاہ ایرین نے واپس عیسیٰ کے بت گرجا گھروں میں رکھوئے- سن ١٩٨ ہجری میں واپس بت پرستی کے خلاف تحریک شروع ہوئی اور سن ٢٢٧ ہجری تک مشرق الوسطی میں اس تحریک کا اثر رہا  اس دوران گرجا گھروں میں عیسیٰ اور صلیب کی کوئی بھی شکل گرجا گھروں میں نہیں رہی لیکن اس تحریک کو کامیابی نہ مل سکی اور اس کے بعد سے آج تک عیسیٰ کا بت یا صلیب گرجا گھروں میں موجود ہے-

وقت کے ساتھ مسلمان بھی انہی رمز و اشاروں کی طرف بڑھتے رہے- بازنیطی سلطنت میں مریم علیہ السلام کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے ان کو تھیوتوکوس یا والدة الإله کہا جاتا ہے- عیسائیت سے قبل شام و ترکی میں عشیرات کی پوجا ہوتی تھی  جو پیدائش و تخلیق کی دیوی تھی اور اس کا نشان چاند اور سات تارے تھے اسی دیوی سے متعلق چیزوں کو مریم علیہ السلام سے منسوب کیا گیا آج بھی عسائیوں میں مریم اور سیون اسٹارز کا تصور موجود ہے-  متھرا دھرم میں بھی سات کا عدد اہمیت رکھتا تھا جس کا اثر فارس کے زرتشت مذھب پر بھی تھا- اج بھی نو روز پر سات چیزوں کا اہتمام کیا جاتا ہے چاہے مسلم ہوں یا غیر مسلم-  ثریا جو آسمان میں ستاروں کا ایک جھرمٹ ہے اس کو پلادث (١) کہا جاتا ہے اس میں سات ستارے ہیں

  • Pleiades
  • ثریا کو کہانت میں بھی  خاص اہمیت حاصل ہے اور اس کو سات کنواریوں کی شکل میں بنایا جاتا ہے ہاروت و ماروت سے منسوب ایک عوام میں مشھور قصے میں بھی اس کا کردار موجود  ہے

 ottoman-flag

سلطنت عثمانیہ کا پر چم

 سلطنت عثمانی میں ترک علاقوں میں، قبل اسلام عیسائیت کی وجہ سے، چاند تارے کی اہمیت پہلے سے تھی -اسی چاند اور تارے کو اسلامی نشان قرار دیا گیا  اور یر  پرچم پر بھی بنایا گیا- وہیں سے یہ چاند تارا تمام مساجد پر پہچ گیا اور ہر مینار پر آ لگا-  وہابیوں نے بھی اس کو سر چڑھایا اور بیت الله  کے گرد اس نشان کو میناروں پر سونے  کا بنا کر لگایا

MakkahTower

آخر اس کی کیا ضرورت تھی اور یہ کب سے ایک اسلامی نشان تھا کسی حدیث میں نہیں- اگر کہا جائے کہ مسلمان چاند سے تاریخ مقرر کرتے ہیں تو ایسا تو یہودی بھی کرتے ہیں وہ بھی چاند سے تاریخ لیتے ہیں-

ruba-al-hizb

اسلامی ربع الحزب کا نشان

star0fdavidیہودی مہر سلیمان

کعبہ الله پر منبی ایک جیومیٹریکل شکل کو بھی خوب پذیرائی ملی- اسلام سے متعلق ویب سائٹ ہو، کتاب کی جلد ہو ، قرآن کی آیت کا اختتام ہو،  ہو مسجد میں نقاشی ہو،  یر جگہ یہ آٹھ کونوں والا نشان نظر اتا ہے- جو مغضوب علیہ قوم کے چھ کونوں والے ستارے کا مقابلہ ہے جس کو مہر سلیمان یا داودی تارہ کہا جاتا ہے- لہذا چار کونوں والے کعبہ کو ایک کے اوپر ایک رکھ کر آٹھ کونوں والا تارہ کا نشان تیار کیا گیا ہے – اس کو خاتم سلیمان کہا جاتا ہے اور ربع الحزب  بھی کہا جاتا ہے – اس کا استمعال مغربی افریقہ کے اسلامی ممالک میں سب سے پہلے ہوا

IMG_1102

Hagia Triada (“Holy Trinity”) Church Istanbul

استنبول میں ١٨٧٦ میں بننے والے مقدس تثلیث گریک چرچ میں موجود تصویر میں ربع الحزب پر سفید کبوتر کی تصویر ہے  جو روح القدس کا نشان ہے یہ تصویر اگرچہ نئی ہے لیکن بین المذاھب رمز و تماثیل کا اشتراک قابل غور ہے

IMG_1061

استنبول کی سولا صدی کی ایک مسجد میں اندرونی نقاشی پر ربع الحزب کا نشان موجود ہے

dast-fatimh

 مسلمانوں میں سے ایک گروہ نے ہاتھ کا نشان اپنے لئے پسند کیا ہے یہ بھی اسلامی نشان نہیں-  اس کو الخمسه یا پنجہ کہا جاتا ہے- قدیم زمانے میں  اس نشان کو ستارہ الزہرہ یا سیارہ وینس  کا ہاتھ کہا جاتا ہے جس کی پرستش مشرق الوسطی میں ہوتی تھی  اور اس نشان کو دیوی کی حفاظت سمجھا جاتا– فاطمه رضی الله عنہا کو بھی الزہرہ کہا جاتا ہے جو ایک مشھور بلا سند  لقب عوام میں مشھور ہے اور ان کو اس الخمسه میں خاص اہمیت حاصل ہے لہذا اس نشان کو دست فاطمه بھی کہا جاتا ہے- پنجہ کو پنج تن یا پانچ اجسام سے بھی منسوب کیا جاتا ہے جس میں علی فاطمہ حسن حسین اور محسن ہیں-  ہندؤں میں اس کو مدرہ کہا جاتا ہے جس میں ہاتھوں سے اشارہ کیا جاتا ہے اور مذہبی رقص میں اس کی ترتیب بہت اہم ہوتی ہے- یہ نشان یہودی تصوف میں بھی مشھور ہے

حدیث میں اتا ہے کہ اس امت میں دجال ظاہر ہو گا جس کے ماتھے پر کفر لکھا ہو گا جس کو ہر مومن پڑھ لے گا –- بہت ممکن ہے کہ وہ ایک نشان اپنے ماتھے پر بنائے جس کو ہم اب اسلامی کہتے ہوں- مسلمانوں کو چاہیے کہ ان مشرکانہ نشانات سے اپنے آپ کو الگ کریں اور اپنی مسجدوں کو ان سے پاک کریں

پاسبان مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے

دریائے سندھ کی تہذیب دنیا کی قدیم تہذیب ہے اس کو ٥٠٠٠ ہزار سال قدیم کہا جاتا ہے اور یہ مصری تہذیب سے بھی قدیم ہے اس کی دریافت برطانوی راج کے دور میں ہوئی اور انہی کے دور میں اس کی کھدائی شروع ہوئی اس میں سے دنیا کی قدیم ترین تحریر بھی دریافت ہوئی جس کو ابھی تک پڑھا نہیں جا سکا ہے  بہرالحال یہ سب کہنے کا مقصد ایک اور اشارہ کی طرف توجہ مبذول کرانی ہے جس سے حرم کعبہ کو مزین کیا گیا ہے

مسمانوں کی رمز و اشارات میں دلچسپی کی یہ دوسری قسط ہے اس سے قبل ہم مساجد کو ان سے پاک رکھنے کی نصیحت کر چکے ہیں

http://www.islamic-belief.net/مساجد-کی-تطہیر/

Swastika

  سواستیکا یا سواستی یا مانجی اصل میں یہ قدیم نشان ہے جو خیر و برکت کی نشانی ہے اور اس میں گھومتی لکیریں کائنات میں مسلسل گردش کا اشارہ دیتی ہیں  اس نشان کا اصل معلوم نہیں لیکن یہ دریانے سندھ کی تہذیب میں دریافت ہوا ہے جو خود ہندو مذہب سے بھی قدیم ہے

swastikawaliseals

ہڑپہ میں دریافت ہونے والی مہریں

یہ نشان قدیم بابل میں بھی نکلا ہے اور ایک دور میں یونانی فلسفی ہندوستان پڑھنے اتے تھے چنانچہ یہنشان ہندوں سے رومیوں اور اہل مغرب کو ملا

hinduswastika

ہندو مت کا قدیم نشان خیر و برکت

بدھا کی وفات کے بعد ہندو مذھب کے برہمنوں سے جان بچا کر بہت سے ہندو چین اور جاپان کی طرف چلے گئے بدھا خود ایک ہندو ہی تھا لیکن بت پرستی کے خلاف تھا بہرالحال  سواستکا چین جاپان تک پھیل گیا اور ساری دنیا میں برتنوں اور دیواروں اور عبادت گاہوں پر بنایا جانے لگا

بازنیطی رومیوں نے قسطنطنیہ میں اپنے وقت کا قبل نبوت میں دنیا کا سب سے بڑا چرچ بنایا اور اس میں دروازوں پر اس نشان کو بنایا گیا

ayaSofia-swastika

آیا صوفیا کا دروازہ استنبول ترکی

IMG_0935

آیا صوفیا کی دیواروں پر بھی سواستیکا بنا ہوا ہے

اسلام کے بعد اندلس میں قرطبہ کی مسجدوں میں اس کو بنایا گیا

اندلس سواستیکا

شیعوں نے یزد میں علی کا نام اس کے ساتھ لکھا

علی-swastika-4

میڈم بلاوتسکی (١) آنجہانی ١٨٩١ ع  جو اپنے وقت کی ایک مشھور شخصیت رہیں – وہ   قدیمی ادیان اور فلسفوں کی چیمپئن  بنتی تھیں اور ساحرہ اور کاہنہ تھیں – انہوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان اصل میں ایک خلائی مخلوق تھا آج کی دنیا میں جس کے قریب ترین  وسط ایشیا کی وہ  اقوام ہیں جو ارین نسل کی ہیں جن میں جرمن اور انڈیا وغیرہ کے لوگ شامل ہیں سواستیکا کو ایک عالمی سمبل کہا گیا

(١)Helena Petrovna Blavatsky

بلاوتسکی کہتی تھیں کہ ان کے پاس کاغذ اڑتے ہوئے اتے ہیں جن میں غیب کی خبر ہوتی ہے شاید انہی سے متاثر ہو کر قدرت الله شہاب  نے شہاب نامہ میں اس کو اپنے لئے بیان کیا ہے ان کو بھی مضامین غیب کی آمد ہوئی وہی کاغذ اڑتا اتا اور غیب القا ہوتا

بلاوتسکی ایک دور میں ہندوستان میں  بھی رہیں اور کافی ذہنوں کو متاثر کر گئیں

بہرالحال بلاوتسکی تھیو سوفیکل سوسائٹی کی بانی تھی جو ایک دوسری خفیہ تنظیم سے مد بھیڑ میں رہی اور سواستیکا کو اس سوسائٹی  کا نشان بھی بنا دیا گیا

تحوسپپھو

تھیو سوفیکل سوسائٹی کا نشان

بلاوتسکی کو برطانوی راج نے دیس نکالا دیا اور وہ واپس ہندوستان سے روس پہنچ گئیں وہاں مغرب میں جنگ عظیم اول سے قبل ان کی کتب کا خوب چرچا ہوا اور آسٹریا اور پرشیا کی سلطنت میں ان کی کتب  پھیل گئیں  اڈولف ہٹلر  نے بلاوتسکی کے فلسفہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور سواستیکا اپنے پرچم پر لگا دیا

Flag_of_German_Reich_(1935–1945).svg

اس وجہ سے سواستیکا بدنام ہو گیا

دوسری طرف تاریخ سے لا علم علماء عرب نے اس کو اب حرم کعبہ میں بھی داخل کر دیا ہے

swastika-haram

مکہ ٹاور پر بھی ہے

makkahclock

کعبہ کے اندر بھی سواستکا سے محمد رسول اللہ لکھا ھے

image

مسجدوں کو خوب صورت بنانے کی دوڑ میں ان کو مشرک اقوام کے اشارات سے پاک رکھیں

بعض تاریخ کی کتب  میں  ہے کہ  عثمان بن طلحہ بن أبي طلحة بن عثمان بن عبد الدار العبدري الحجبي رضی الله عنہ کے پاس کعبہ کی چابی رہتی تھی ان کو حَاجِبَ کعبہ یا چوکیدار کعبہ یا حَاجِبُ البَيْتِ الحَرَامِ  کہا گیا ہے کہا جاتا ہے کہ فتح مکہ کے دن کعبه کی  چابی ان کو دی گئی- یہ واقعہ طبقات ابن سعد : 2 / 136، 137 ، معجم الطبراني: (8395) ،المصنف : (9073) ، سيرة ابن هشام  2 / 412، و تفسير الطبري : 8 / 491، و مجمع الزوائد  6 / 177، و ابن كثير  1 / 515، 516، و شرح المواهب  2 / 340، 341، و لباب النقول  71 وغیرہ میں منقول ہے

کتاب الاستيعاب في معرفة الأصحاب از ابو عمر القرطبي (المتوفى: 463هـ)  اور کتاب معرفة الصحابة از ابو نعیم کے مطابق عثمان رضی الله عنہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے دور میں مدینہ میں رہے اس کے مکہ میں سکونت اختیار کی اور معاویہ رضی الله عنہ کے دور میں موت ہوئی  کہا جاتا ہے اجْنَادِينَ شام  میں ہوئی

 کتاب مشاهير علماء الأمصار وأعلام فقهاء الأقطار از ابن حبان کے مطابق عثمان بن طلحہ کی وفات مدینہ میں ہی ہوئی

کتاب  الإصابة في تمييز الصحابة از ابن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ) کے مطابق

وقد وقع في تفسير الثعلبي، بغير سند في قوله تعالى: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَماناتِ إِلى أَهْلِها [النساء: 58]- أن عثمان المذكور إنما أسلم يوم الفتح بعد أن دفع له النبيّ صلى اللَّه عليه وسلّم مفتاح البيت، وهذا منكر. والمعروف أنه أسلم وهاجر مع عمرو بن العاص، وخالد بن الوليد وبذلك جزم … ، ثم سكن المدينة إلى أن مات بها سنة اثنتين وأربعين

اور تفسير الثعلبي میں   بلا سند  بیان ہوا ہے کہ الله کا قول إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَماناتِ إِلى أَهْلِها [النساء: 58]- عثمان بن طلحہ فتح مکہ کے دن ایمان لائے جب نبی صلی الله علیہ وسلم نے ان کو کعبه کی چابی لوٹا دی اور یہ روایت منکر ہے اور معروف ہے کہ یہ اسلام لائے اور ہجرت کی عمرو بن العاص اور خالد بن ولید رضی الله عنہما کے ساتھ اور اس پر جزم ہے پھر مدینہ میں سکونت کی اور وہیں سن ٤٢ ھ میں وفات ہوئی

صحیح مسلم کی روایت ہے

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ، فَقَالَ: «ائْتِنِي بِالْمِفْتَاحِ»، فَذَهَبَ إِلَى أُمِّهِ، فَأَبَتْ أَنْ تُعْطِيَهُ، فَقَالَ: وَاللهِ، لَتُعْطِينِهِ أَوْ لَيَخْرُجَنَّ هَذَا السَّيْفُ مِنْ صُلْبِي، قَالَ: فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ، فَفَتَحَ الْبَابَ

ابن عمر رضی الله عنہ کی روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایک اونٹنی پر عام الفتح میں تشریف لائے حتی کہ اونٹنی کعبه کے صحن میں بیٹھی پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے عثمان بن طلحہ کو پکارا اور کہا چابی لاؤ پس وہ اپنی والدہ کے پاس گئے انہوں نے انکار کیا پس عثمان نے کہا الله کی قسم دے دیں ورنہ یہ تلوار پیٹ میں سے نکال دوں گا پس ان کی والدہ نے چابی دے دی- پس عثمان وہ لے کر واپس رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس لوٹے اور کعبہ کا دروازہ کھولا گیا

صحیح بخاری کے مطابق عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ بن أبي طلحة بن عثمان بن عبد الدار العبدري الحجبي مکہ میں داخلے کے وقت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے – عثمان بن طلحہ رضی الله عنہ ، صلح حدیبیہ کے بعد ایمان لائے تھے

أخبار مكة وما جاء فيها من الأثار از الأزرقي کے مطابق قرآن سوره النساء: 58 کی آیت

أن الله يأْمُرُكُمْ أن تؤَدُّوا الأمانات إلى أهلها

بے شک الله تم کو حکم کرتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کو لوٹاؤ

اس وقت نازل ہوئی جب عثمان بن طلحہ رضی الله عنہ سے بعض صحابہ نے زبردستی چابی لی اور عباس رضی الله عنہ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے خواہش ظاہر کی کہ کعبہ کی چابی ان کو دی جائے

کتاب الخبار مکہ کے مطابق اس کی سند ہے

وَأَخْبَرَنِي جَدِّي، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ

اسکی سند میں دو عیب ہیں اول اس میں سَعِيد بْنُ سَالِمٍ الْقَدَّاحُ ہے جو ضعیف ہے دوم اس کی سند میں ابن جریج ہیں جو مجاہد سے سن کر اس روایت کو بیان کر رہے ہیں اور ان کا سماع ان سے صرف قرات کے چند الفاظ تک محدود ہے

الذھبی سیر الاعلام النبلاء میں راوی سَعِيد بْنُ سَالِمٍ الْقَدَّاحُ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں

وَقَالَ عُثْمَانُ بنُ سَعِيْدٍ الدَّارِمِيُّ: لَيْسَ بِذَاكَ

عُثْمَانُ بنُ سَعِيْدٍ الدَّارِمِيُّ کہتے ہیں یہ ایسا (قوی) نہیں

اس روایت کی سند میں ابن جریج بھی ہیں جو مجاہد سے اس کو روایت کر رہے ہیں کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل از العلائي (المتوفى: 761هـ) کے مطابق

قال بن الجنيد سألت يحيى بن معين سمع بن جريج من مجاهد قال في حرف أو حرفين في القراءة لم يسمع غير ذلك

ابن جنید کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن معین سے پوچھا کہ ابن جریج نے مجاہد سے سنا ہے بولے ایک دو حرف القراءة کے سوا کچھ نہ سنا

خود تفسیر مجاہد میں اس آیت پر کوئی تفسیر منقول نہیں ہے

تفسیر طبری میں سوره النساء کی آیت پر ایک روایت ہے

حدثنا القاسم قال، حدثنا الحسين قال، حدثني حجاج، عن ابن جريج قوله: إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها ، قال: نزلت في عُثمان بن طلحة بن أبي طلحة، قَبض منه النبي صلى الله عليه وسلم مفاتيح الكعبة، ودخل به البيت يوم الفتح، (3) فخرج وهو يتلو هذه الآية، فدعا عثمان فدفع إليه المفتاح. قال: وقال عمر بن الخطاب لما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يتلو هذه الآية: فداهُ أبي وأمي!  ما سمعته يَتلوها قبل ذلك!

ابن جريج کہتے ہیں آیت إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها، عثمان بن طلحہ رضی الله عنہ کے لئے نازل ہوئی پس نبی صلی الله علیہ وسلم کی روح قبض ہوئی اور کعبه کی چابی ان کے پاس رہی اور فتح مکہ کے دن اس میں داخل ہوئے پس وہ اس سے نکلے یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے اور عثمان کو پکارا ان کو چابی لوٹا دی اور عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم باہر آئے تو یہ تلاوت کر رہے تھے پس کہا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اس سے قبل یہ آیت نہ سنی

یہ روایت ابن جریج کا قول ہے کسی صحابی سے منقول نہیں ہے – ابن جریج مدلس ہیں اور اس لئے لائق التفات نہیں- صحیحین میں اس کے برعکس موجود ہے کہ عثمان بن طلحہ رضی الله عنہ فتح مکہ کے دن رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے

kabahkiChabi

طبری اس آیت کے سلسلے میں اور روایات بھی لکھی ہیں جن کے مطابق یہ آیت عورتوں کے حوالے سے نازل ہوئی تھی – عجیب بات ہے کہ مصنف عبد الرزاق ح ٩٠٦٥ میں ایک روایت ابن جریج سے ہے جس کے مطابق

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، … أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ عَلَى بَعِيرٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَأُسَامَةُ رَدِيفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ بِلَالٍ وَعُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ،

رسول الله صلی الله علیہ وسلم فتح مکہ کے دن حرم میں داخل ہوئے اور ان کے ساتھ عثمان بن طلحہ تھے

یعنی عثمان بن طلحہ رضی الله عنہ کے حوالے سے دو قول منقول ہوئے ایک طرف تو ہے عثمان بن طلحہ کافر تھے اور چابی دینے سے انکار کرتے رہے بعض روایات میں ہے کعبہ کی چھت پر چڑھ گئے اور دوسری طرف صحیحین میں ہے کہ وہ (ایمان لا چکے تھے اور) رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے

اخبار مکہ از ازرقی میں ایک دوسری سند سے بھی یہ چابی والا واقعہ ہے جس کے مطابق عثمان بن طلحہ نے چابی قبضے میں لی وہ مکہ میں اسلام کی تبلیغ کرتے تھے اور الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضی الله عنہ چابی حاصل کرنا چاھتے تھے سند ہے

وَحَدَّثَنِي جَدِّي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ، عَنِ الْوَاقِدِيِّ، عَنْ أَشْيَاخِهِ،

اس میں واقدی ہیں جو اپنے مشائخ کا نام نہیں لیتے لہذا ضعیف ہے

کتاب المعجم الكبير از طبرانی کے مطابق علی رضی الله عنہ نے عثمان بن طلحہ رضی الله عنہ سے چابی چھین لی رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے علی اور عثمان کی

وَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ مَقَالَتَهُ، ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ فَدَفَعَ إِلَيْهِ الْمِفْتَاحَ، وَقَالَ: غَيِّبُوهُ

 بحث سے کراہت کی اور عثمان کو بلا کر چابی لوٹا دی اور کہا اس کو چھپا دو

 اس کی سند ہے

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،

امام الزہری نے  یہ کس سے سنا نہیں بتایا لہذا ضعیف روایت ہے

مصنف عبد الرزاق میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے چابی عثمان بن طلحہ رضی الله عنہ کو دی اور کہا

لَا يَنْتَزِعُهُ مِنْكُمْ إِلَّا ظَالِمٌ

تم سے اس چابی کے لئے سوائے ظالم کوئی تنازع نہ کرے گا

اس کی سند ہے

عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِنَا، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ

یہ بھی کسی صحابی کا قول نہیں ہے سند میں مجہولین ہیں

علل ابن ابی حاتم میں ہے

وسألتُ أَبِي عَنْ حديثٍ رَوَاهُ محمد ابْنِ إِسْحَاقَ  ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جعفر بن الزُّبَير، عن عُبَيدالله بن عبد الله بْنِ أَبِي ثَوْر، عَنْ صفيَّةَ ابْنَتِ   شَيْبة؛ قَالَتْ: إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى رسول الله (ص) الغَدَاةَ، وَهُوَ قائمٌ عَلَى   بَابِ الْكَعْبَةِ، بِيَدِهِ حَمَامةٌ مِنْ عِيدانٍ وجَدَها   فِي الْبَيْتِ، فكرِهَها ؟

قَالَ أَبِي: مَا بعدَ هَذَا الْكَلامِ، فَهُوَ مِنْ كَلامِ ابْنِ إِسْحَاقَ؛ قولُهُ: فلمَّا قامَ عَلَى الْبَابِ، رَمَى بِهَا، ثُمَّ جلَسَ رسولُ الله (ص) فِي الْمَسْجِدِ، حَتَّى فرَغَ مِنْ مقالتِه، فَقَامَ إِلَيْهِ عليُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ – ومِفتاحُ الْكَعْبَةِ فِي يَدِهِ – قَالَ: يَا نبيَّ اللَّهِ، اجمَع لنا الحِجابَة (6) مع السِّقاية   ، فليَكُنَّ   إِلَيْنَا جَمِيعًا، فَقَالَ رسولُ اللَّهِ (ص) : أَيْنَ عُثْمَانُ بْنُ طَلحَةَ؟ ، فدُعِيَ لَهُ، فَقَالَ: هَاكَ مِفْتَاحَكَ، فلمَّا دخلَ رسولُ الله (ص) مكَّةَ، هَرَبَ  عِكْرمَةُ بْنُ أَبِي  جَهْل، فلَحِقَ باليَمَن، فَقَدْ زَعَمَ بعضُ العلماء: أنه كان مِنْ أَمْرِ رسولِ الله (ص) بِقَتلِهِ

قَالَ أَبِي: هَذَا كلُّه مِنْ كَلامِ ابْنِ إِسْحَاقَ، إِلا ما وَصَفْنا فِي أوَّل الحديثِ.

میں نے اپنے باپ سے سوال کیا اس حدیث پر جو ابن اسحاق روایت کرتا ہے … صفیہ رضی الله عنہا سے کہ … علی رضی الله عنہ رسول الله کے سامنے ہیں ان کے ہاتھ میں کعبہ کی چابی ہے اور کہتے ہیں یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ہم  (بنو ہاشم) کو کعبہ کی چوکیداری اور پانے پلانے پر جمع کر دیں کہ یہ دونوں ہمارے لئے ہو جائیں – پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا عثمان بن طلحہ کہاں ہیں ؟ پس ان کو بلایا گیا ان کو رسول الله نے کہا یہ رہی تمہاری چابی- —

میرے باپ ابی حاتم نے کہا یہ سب ابن اسحاق کا قول ہے

کتاب البدء والتاريخ  از المطهر بن طاهر المقدسي (المتوفى: نحو 355هـ) کے مطابق

ثم أقر رسول الله صلى الله عليه وسلم المفتاح في يدي عثمان بن طلحة والسقاية في يدي العباس فهو في ولدهم إلى اليوم

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے چابی عثمان کو دی اور پانی پلانے کا کام عباس کو اور یہ آج تک ان کی اولاد میں ہے

کتاب شفاء الغرام بأخبار البلد الحرام از محمد بن أحمد بن علي، تقي الدين، أبو الطيب المكي الحسني الفاسي (المتوفى: 832هـ) میں ہے

وذكر الواحدي في تفسيره “الوسيط” وكتابه “أسباب النزول” ما يقتضي أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث علي بن أبي طالب -رضي الله عنه- إلى عثمان بن طلحة، ليأخذ منه مفتاح الكعبة في يوم فتح مكة، ولكن كلام والواحدي يقتضي أن عثمان -رضي الله عنه- لم يكن حين أخذ ذلك منه مسلما، وهو يخالف ما ذكره العلماء بهذا الشأن، من أنه كان مسلما. وفي طلب بنفسه المفتاح من عثمان -رضي الله عنه-، والله أعلم.

الواحدي نے تفسیر الوسيط اور  کتاب أسباب النزول میں ذکر کیا ہے کہ علی رضی الله عنہ کو عثمان کے پاس بھیجنے کا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا مقصد تھا کہ ان سے چابی حاصل کی جائے فتح مکہ کے روز لیکن الواحدی کے کلام کا مقصد ہے کہ عثمان اس وقت تک مسلمان نہ تھے اور یہ خلاف ہے اس کے جس کا علماء نے ذکر کیا ہے  اس بارے میں کہ عثمان تو  مسلمان تھے الله کو پتا ہے

تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے

سیر الاعلام از الذھبی میں ہے

أَنّ رَسُولَ الله صلى الله عليه وآله وَسَلَّمَ أَعْطَى الْمِفْتَاحَ شَيْبَةَ بْنَ عُثْمَانَ عَامَ الْفَتْحِ وَقَالَ: «دُونَكَ هَذَا فَأَنْتَ أَمِينُ اللَّهِ عَلَى بَيْتِهِ

بے شک رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کعبہ کی چابی شیبه بن عثمان کو فتح مکہ کے دن دی اور کہا اپنے پاس رکھو کیونکہ تم الله کے امین اس گھر پر ہو

الذھبی لکھتے ہیں

قُلْتُ: شَيْبَةُ أَسْلَمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فيحتمل أن النبيّ صلى الله عليه وآله وَسَلَّمَ وَلَّاهُ الْحِجَابَةَ لَمَّا اعْتَمَرَ مِنَ الْجِعِرَّانَةَ مُشَارِكًا لِعُثْمَانَ هَذَا فِي الْحِجَابَةِ، فَإِنَّ شَيْبَةَ كَانَ حَاجِبَ الْكَعْبَةِ يَوْمَ قَالَ لَهُ عُمَرُ: أُرِيدُ أَنْ أُقَسِّمَ مَالَ الْكَعْبَةِ، كَمَا فِي الْبُخَارِيُّ

میں کہتا ہوں شیبہ یوم حُنَيْنٍ کو اسلام لائے پس ممکن ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان کو چابی دی ہو جب  الْجِعِرَّانَةَ سے عمرہ کیا اور ساتھ ہی عثمان کو چابی کی ذمہ داری میں شریک کیا جس روز عمر نے ان سے کہا میں چاہتا ہوں کعبہ کا مال تقسیم کر دوں

کتاب الأعلام از الزركلي الدمشقي (المتوفى: 1396هـ) کے مطابق

شيبة بن عثمان بن أبي طلحة القرشي، من بني عبد الدار: صحابي، من أهل مكة

أسلم يوم الفتح. وكان حاجب الكعبة في الجاهلية، ورث حجابتها عن آبائه، وأقره النبي صلى الله عليه وسلم على ذلك، ولا يزال بنوه حجابها إلى اليوم

شيبة بن عثمان بن أبي طلحة القرشي، بني عبد الدار میں سے ہیں صحابی ہیں اہل مکہ میں سے ہیں فتح مکہ پر ایمان لائے اور ایام جاہلیت سے ان کے پاس کعبہ کی چابی تھی اور اس کی وراثت ان کو اپنے اجداد سے ملی اور نبی صلی الله علیہ وسلم نے ان کو اس پر باقی رکھا اور اس کی کلیدبرداری سے آج تک ان کی اولاد معزول نہیں ہوئی

کتاب الإصابة في تمييز الصحابة  از أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ)  کے مطابق

وذكر الواقديّ أنّ النّبي صلّى اللَّه عليه وسلم أعطاه يوم الفتح لعثمان، وأن عثمان ولي الحجابة إلى أن مات، فوليها شيبة، فاستمرت في ولده.

واقدی نے ذکر کیا ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے چابی عثمان بن طلحہ  کو دی اور عثمان سے اس کی کلید برداری عثمان بن طلحہ کی موت کے بعد  شیبه بن عثمان بن أبي طلحة بن عبد اللَّه بن عبد العزّى  رضی الله عنہ کو ملی اور شیبه کو اس کی ولایت ملی اور یہ ان کی اولاد میں چلتی رہی

انہی صحابی شیبہ بن عثمان کی بیٹی صفية بنت شيبة بن عثمان بن أبي طلحة بن عبد العزى بن عثمان بن عبد الدار، العبدرية تھیں جن کے لئے ابن اسحاق کا قول تھا کہ وہ خود کہتی تھیں کہ چابی عثمان کو دی گئی لیکن ابن ابی حاتم نے اس کو ابن اسحاق کا قول قرار دے کر رد کر دیا

الغرض آخری خبریں (یعنی الزركلي اور ابن حجر  کی بیان کردہ) انے تک چابی  شیبہ بن عثمان رضی الله عنہ کو منتقل ہو چکی تھی یا صرف انہی کو دی گئی تھی

الذھبی نے سیر الاعلام  میں لکھا ہے کہ

عثمان بن طلحہ بن أبي طلحة بن عثمان بن عبد الدار العبدري الحجبي رضی الله عنہ اور شيبة بن عثمان بن أبى طلحة بن عَبْدِ اللهِ بنِ عَبْدِ العُزَّى العَبْدَرِيُّ، المَكِّيُّ، الحَجَبِيُّ،  رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کعبه کی کلید برداری میں بقول الذھبی كَانَ مُشَارِكاً لابْنِ عَمِّهِ عُثْمَانَ الحَجَبِيِّ فِي سَدَانَةِ بَيْتِ اللهِ  تَعَالَى  اپنے چچا زاد عثمان  الحَجَبِيِّ کے شراکت دار تھے

الغرض چابی عثمان رضی الله عنہ سے چھینے جانے والا واقعہ صحیح سند سے نہیں- کسی صحابی کا اس سسلے میں کوئی قول بھی نہیں، نہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا مرفوع حکم- مزید یہ کہ سوره النساء کی آیات کا تعلق عورتوں سے متعلق ہے

عصر حاضر میں سیاسی مقاصد کے تحت مشھور کیا گیا ہے کہ عثمان بن طلحہ کا خاندان مسلسل چابی رکھتا تھا جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا حکم تھا- قابل غور بات ہے کہ آج یہ تک تو پتا نہیں کہ کون اصلی سید یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے خاندان کا ہے یا علی کے خاندان کا ہے لیکن مولویوں کی ٹیم نے عثمان بن طلحہ کا خاندان ڈھونڈھ لیا ہے

عبد الوہاب النجدی نہ صرف سماع الموتی کے قائل تھے وہ مردوں کے کلام کے بھی قائل تھے اپنی کتاب احکام تمنی الموت میں لکھتے ہیں اور ترجمہ بریلوی عالم کرتے ہیں

najdi-waqiah

تاریخ دمشق میں ابن عساکر نے عمرو بن جامع بن عمرو بن محمد بن حرب أبو الحسن الكوفي  کے ترجمہ میں اس روایت کو پیش کیا ہے

سند میں  يحيى بن أيوب الخزاعي مجھول ہے جو عمر رضی الله عنہ کا دور کسی مجھول سے نقل کر رہا ہے جس کا اس نے نام تک نہیں لیا

حیرت ہے کہ اس قسم کی  بے سر و پا روایات النجدی لکھتے ہیں اور دو دو عالم تحقیق میں شامل ہونے کے باوجود ایک بار بھی نہیں کہتے کہ یہ منقطع  روایت ہے مجہولوں کی روایت کردہ ہے

Comments are closed.