غیر مقلدین

الله کا شکر ہے کہ عقیدے کی جس خرابی کا ذکر ڈاکٹر عثمانی رحمہ الله علیہ نے اپنی کتابوں میں کیا تھا اس کی گونج سے مسلک اہل الحدیث کے محراب و منبر لرز اٹھے ہیں اور ان  میں بھی حق کو حق ماننے کی  کچھ صلاحیت پیدا ہوئی ہے. اس بلاگ میں ہمارا روئے سخن کتاب المسند فی عذاب القبر کی طرف ہے جس میں ایک باب خاور رشید بٹ صاحب کا بھی ہے اور انہوں نے مناسب دللائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ سماع الموتی کا عقیدہ باطل ہے

arshd-15

 دلائل کا انداز وہی ڈاکٹر عثمانی والا ہی ہے اور پڑھتے ہوئے قاری گم ھو جاتا ہے  لیکن ایک حسین احساس ہوتا ہے یہ آواز انہی ایوانوں میں اٹھی ہے جہاں کبھی ابن تیمیہ و ابن قیم کا نام اتے ہی نگاہیں عقیدت سے بوجھل ھو جاتی تھیں اور اگر کسی من چلے نے اختلاف کی جسارت بھی کردی تو پیشانیاں تنک جاتیں، منہ سے کف نکلتا اور دار الافتاء کی مہر سے لب بندی کی جاتی

ہر چند کہ ابھی مکمل طور سے اس کیفیت  نے جنم نہیں لیا لیکن ایک آغاز ہے ، انجام رب جانے.  ہماری اہل الحدیث حضرات سے استدعا ہے ابن تیمیہ اور ابن قیم جو لٹریچر چھوڑ گئے ہیں اس سے صرف طلاق کا مسئلہ پڑہںے کے بجائے عقیدہ کو بھی  قرآن و حدیث پر پرکھئیے. شاید یہی سوچ میں تبدیلی اخروی فلاح کا موجب بنے اور انکار طاغوت کی ہمّت پیدا ھو جائے

یہاں ہم کتاب المسند فی عذاب القبر کا ابن تیمیہ کی کتب اور فتاوی سے تقابل کرنا چاہیں گے تاکہ احقاق حق ھو سکے

سماع الموتی کی سب سے بڑی دلیل اس کے قائلین کے نزدیک قلیب بدر کا واقعہ ہے. المسند فی عذاب

القبر  ص ٢١٣ پر خاور صاحب لکھتے ہیں

arshd-213

ابن تیمیہ فتاوی الکبریٰ ج ٣ ص ٤١٢ میں لکھتے ہیں

فَهَذِهِ النُّصُوصُ وَأَمْثَالُهَا تُبَيِّنُ أَنَّ الْمَيِّتَ يَسْمَعُ فِي الْجُمْلَةِ كَلَامَ الْحَيِّ وَلَا يَجِبُ أَنْ يَكُونَ السَّمْعُ لَهُ دَائِمًا ، بَلْ قَدْ يَسْمَعُ فِي حَالٍ دُونَ حَالٍ كَمَا قَدْ يُعْرَضُ لِلْحَيِّ فَإِنَّهُ قَدْ يَسْمَعُ أَحْيَانًا خِطَابَ مَنْ يُخَاطِبُهُ ، وَقَدْ لَا يَسْمَعُ لِعَارِضٍ يَعْرِضُ لَهُ ، وَهَذَا السَّمْعُ سَمْعُ إدْرَاكٍ ، لَيْسَ يَتَرَتَّبُ عَلَيْهِ جَزَاءٌ ، وَلَا هُوَ السَّمْعُ الْمَنْفِيُّ بِقَوْلِهِ : { إنَّك لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى } فَإِنَّ الْمُرَادَ بِذَلِكَ سَمْعُ الْقُبُورِ وَالِامْتِثَالِ .

پس یہ نصوص اور اس طرح کی امثال واضح کرتی ہیں کہ بے شک میّت زندہ کا کلام سنتی ہے اور یہ واجب نہیں آتا کہ یہ سننا دائمی ہو بلکہ یہ سنتی ہے حسب حال جیسے  زندہ سے پیش اتا ہے پس بے شک کبھی کھبی یہ سنتی ہے مخاطب کرنے والے کا خطا ب، .. اور یہ سنا ادرک کے ساتھ ہے  اور یہ سننا الله کے قول  { إنَّك لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى}  کے منافی نہیں جس سے مراد قبروں اور الِامْتِثَالِ  (تمثیلوں) کاسننا ہے

خاوربٹ المسند فی عذاب القبر ص ٢٢٨ پر لکھتے ہیں

arshd-228

خاوربٹ المسند فی عذاب القبر ص ٢٤٤ پر لکھتے ہیں

arshd-244

البانی الایات البینات از نعمان الالوسی میں تعلیق میں لکھتے ہیں

وأما حديث ” من صلى علي عند قبري سمعته ومن صلى علي نائيا أبلغته ” فهو موضوع كما قال شيخ الإسلام ابن تيمية في ” مجموع الفتاوى ” ( 27 / 241 ) وقد خرجته في ” الضعيفة ” ( 203 ) . ولم أجد دليلا على سماعه صلى الله عليه وسلم سلام من سلم عند قبره وحديث أبي داود ليس صريحا في ذلك فلا أدري من أين أخذ ابن تيمية قوله ( 27 / 384 ) : أنه صلى الله عليه وسلم يسمع السلام من القريب

اور جہاں تک حدیث جس نے میری قبر پر درود پڑھا اس کو میں سنتا ہوں اور جس نے دور سے پڑھا وہ مجھے پہنچایا جاتا ہے کا تعلق ہے تو پس وہ  گھڑی ہوئی ہے  جیسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے مجموع الفتاوى ” ( 27 / 241 )  میں کہا اور اس کی تخریج میں نے الضعيفة ” ( 203 ) میں کی اور مجھے اس کی دلیل نہیں ملی کہ نبی صلى الله عليه وسلم قبر کے پاس پڑھے جانے والا درود و سلام سنتے ہیں اور ابو داود کی حدیث اس میں واضح نہیں اور نہیں معلوم کہ ابن تیمیہ نے کہاں سے پکڑ لیا قول ( 27 / 384 )  کہ نبی صلى الله عليه وسلم قریب سے پڑھے جانے والا سلام سنتے ہیں

جو چُپ رہے گي زبانِ خنجرلہو پکارے گا آستيں کا

ابن تیمیہ مجموع الفتاوى  ج ٤ ص ٢٧٣ پر لکھتے ہیں

أَمَّا سُؤَالُ السَّائِلِ هَلْ يَتَكَلَّمُ الْمَيِّتُ فِي قَبْرِهِ فَجَوَابُهُ أَنَّهُ يَتَكَلَّمُ وَقَدْ يَسْمَعُ أَيْضًا مَنْ كَلَّمَهُ؛ كَمَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إنَّهُمْ يَسْمَعُونَ قَرْعَ نِعَالِهِمْ

اور سائل کا سوال کہ کیا میت   قبر میں کلام کرتی ہے؟ پس اس کا جواب ہے بے شک وہ بولتی ہے اور سنتی ہے جو اس سے کلام کرے ، جیسا صحیح میں نبی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے مروی ہے کہ بے شک وہ جوتوں کی چآپ سنتی ہے

ابن تیمیہ ج ١ ص ٣٤٩ پر لکھتے ہیں

وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَغَيْرِهِمَا أَنَّ الْمَيِّتَ يَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ فَهَذَا مُوَافِقٌ لِهَذَا فَكَيْفَ يَدْفَعُ ذَلِكَ ؟ وَمِنْ الْعُلَمَاءِ مَنْ قَالَ : إنَّ الْمَيِّتَ فِي قَبْرِهِ لَا يَسْمَعُ مَا دَامَ مَيِّتًا كَمَا قَالَتْ عَائِشَةُ

اور بے شک صحیحین سے یہ ثابت ہے اور دیگر کتب سے بے شک میت جوتوں کی چاپ سنتی ہے جب دفنانے والے پلٹتے ہیں پس یہ موافق ہے اس (سننے ) سے لہذا اس کو کیسے رد کریں؟ اور ایسے علماء بھی ہیں جو کہتے ہیں : بے شک میت قبر میں نہیں سنتی جب تک کہ وہ مردہ ہے جیسے کہ عائشہ  (رضی اللہ تعالی عنہا) نے کہا

الحمدللہ ڈاکٹر عثمانی اور ان کی تحریک کا عقیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا والا ہی ہے کہ مردہ کسی صورت نہیں سنتا اور ابن تیمیہ نے نزدیک یہ علماء کا قول ہے

خاوربٹ المسند فی عذاب القبر ص ٢٢٧ پر لکھتے ہیں

arshd-227

ہمارے مطابق بریلوی اور دیوبندی علماء یا سرفراز صفدر صاحب پر برسنے کی بجائے یہ دیکھئے کہ ان کا یہ عقیدہ کہاں سے لیا گیا ہے اور یہ سب کو پتا ہے کہ ابن تیمیہ اور ابن قیم سماع الموتی کے متشدد قائلین میں سے تھے

  ابن قیّم کتاب الروح میں لکھتے ہیں

وَالسَّلَف مجمعون على هَذَا وَقد تَوَاتَرَتْ الْآثَار عَنْهُم بِأَن الْمَيِّت يعرف زِيَارَة الْحَيّ لَهُ ويستبشر بِهِ

اور سلف کا اس پر اجماع ہے اور متواتر آثار سے پتا چلتا ہے کہ میّت قبر پر زیارت کے لئے آنے والے کو پہچانتی ہے اور خوش ہوتی ہے

كتاب اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم للإمام ابن تيميه ج ٢ ص ٢٦٢  دار عالم الكتب، بيروت، لبنان میں ابن تیمیہ لکھتے ہیں

فأما استماع الميت للأصوات، من القراءة أو غيرها – فحق.

پس میت کا آوازوں کو،  جیسے قرات اور دیگر کا،  سننا  حق ہے.

سلف کا اجماع ہے مردے کی  پاور فلل صلاحیتوں پر؟ ہمارے خیال میں آپ بھی ابن قیم کی اس بات سے متفق نہیں ہوں گے لہذا عود روح کے عقیدے کو بھی سلف کے نے ان نام نہاد اجماع کے دعووں سے علیحدہ کر کے سوچئے

عبد الوہاب النجدی کے پوتے عبد الرحمن بن حسن بن محمد بن عبد الوهاب بن سليمان التميمي (المتوفى: 1285هـ)  کتاب المطلب الحميد في بيان مقاصد التوحيد  میں لکھتے ہیں

ومن قال: أن الميت يسمع ويستجيب فقد كذب على الله وكذب بالصدق إذ جاءه 

جس نے کہا کہ میت سنتی ہے اور جواب دیتی ہے اس نے بے شک الله پر جھوٹ باندھا اور اس سچ کا انکار کیا جو اس تک آیا

افسوس وقت کے ساتھ وہابیوں میں ابن تیمیہ کے گمراہ عقائد در آئے

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ عود روح کا عقیدہ باطل ہے اور اس امت میں صرف روح پر عذاب کے قائلین بھی رہے ہیں تو یہی اہل الحدیث حضرات ہم پر معتزلہ کا فتوی داغ دیتے ہیں لیکن ابن حزم پر ایسا نہیں کرتے بلکہ ابن حزم تو خود معتزلہ کے خلاف تھے اوریہ عقیدہ کہ روح کو عذاب ہوتا ہے معتزلہ کا تھا بھی نہیں

سلف کے کاندھوں پر بندوق رکھ کر چلائی جاتی رہی لیکن کوئی ہمت ور پیدا نہیں ہوا جو  اپنے ہم مسلک افراد کو کتمان حق اور تلبیس باطل سے منع کرتا اسی کا افسوس ہے

خاوربٹ المسند فی عذاب القبر ص ٢٣٧ پر لکھتے ہیں

arshd-237

افسوس کہ ابن کثیر ، ابن تیمیہ اور ابن قیم نے اسی نا انصافی کا ارتکاب کیا ہے اس کے لئے ڈاکٹر عثمانی کی کتاب ایمان الخالص قسط دوم دیکھی جا سکتی ہے

خاوربٹ المسند فی عذاب القبر ص ٢٣٠ پر لکھتے ہیں

arshd-230

شرک کے چھوڑ دروازے کی پشت پناہی کس نے کی ہے کیا ابن تیمیہ نے نہیں کی کیا ابن قیم نے نہیں کی  کہ مردہ مٹی کی دبیز تہہ کے باہر سے جان لیتا ہے کون زائر آیا ہے وہ نہ صرف جوتوں کی چآپ سنتا ہے بلکہ حسب حال سنتا ہے جب جب کوئی اسے پکارے

اصل میں سماع الموتی  کی وجہ سے شرک نہیں پھیلا بلکہ حیات فی القبر کے عقیدے سے پھیلا ہے کیونکہ ایک دفعہ میت زندہ ہوئی تو موت کی تعریف ہی رد ھو جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ انہی کے ہم مذھب موت کی تعریف میں الجھ جاتے ہیں. سماع الموتی کے مسلے کو حیات فی القبر سے علیحدہ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا

مري تعمير ميں مُضمر ہے اک صورت خرابي  کی

زبیر علی زئی لکھتے ہیں

http://www.tohed.com/2014/09/blog-post_80.html

میرے علم کے مطابق ابن تیمیہ اور ابن القیم رحمہما اللہ کی کتابوں میں شرک اکابر کا کوئی ثبوت نہیں ہے ، تاہم ابن القیم کی ثابت شدہ “کتاب الروح” اور دیگر کتابوں میں ضعیف و مردود روایات ضرور موجود ہیں۔ یہ دونوں حضرات مردوں سے مدد مانگنے کے قائل نہیں تھے ، رہا مسئلہ سماع موتیٰ کا تو یہ سلف صالحین کے درمیان مختلف فیہا مسئلہ ہے ،اسے کفر و شرک سمجھنا غلط ہے

اگر یہ مسئلہ کفر و شرک کا نہیں تو اس پر بحث بےکار ہے

خواجہ محمد قاسم کی بھی یہی رائے ہے کہ  سماع الموتی کا مسئلہ شرک کا چور دروازہ نہیں وہ کتاب کراچی کا عثمانی مذھب میں لکھتے ہیں

kum-62

سماع الموتی کے قائلین علماء کا دفاع کرتے ہوئے ایک اہل حدیث عالم لکھتے ہیں

صرف اتنی بات ہے: ﴿إِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰ﴾اور ﴿وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ ﴾ جس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کے اسماع موتی (مردوں کو سنانے ) کی نفی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ درج بالا آیات سے ایک آیت کریمہ میں آیا ہے: ﴿إِنَّ اللّٰہَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآء ﴾ کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ، سنادیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے اسماع موتی کا اثبات ہے ، جن مردوں کو اللہ تعالیٰ چاہے سنا دے ، اگر وہ اللہ تعالیٰ کے سنانے سے بھی نہ سنیں تو اللہ تعالیٰ کا سنانا چہ معنی دارد؟ تو جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ بعض موتی بعض اوقات بعض چیزیں اللہ تعالیٰ کے سنانے سے سن لیتے ہیں، جیسے خفق نعال اور قلیب بدر والی احادیث میں مذکور ہوا تو ایسے لوگ نہ قرآنِ مجید کی کسی آیت کا انکار کرتے ہیں اور نہ ہی کسی حدیث کا۔ البتہ جو لوگ یہ نظریہ اپنائے ہوئے ہیں کہ کوئی مردہ کسی وقت بھی کوئی چیز نہیں سنتا، حتی کہ اللہ تعالیٰ کے سنانے سے بھی نہیں سنتا تو انہیں غور فرمانا چاہیے کہیں آیت:﴿إِنَّ اللّٰہَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآء﴾اور احادیث خفق نعال اور احادیث قلیب بدر کا انکار تو نہیں کر رہے؟

مسئلہ الله کی قدرت کا نہیں اس کے قانون کا ہے  ان اہل حدیث عالم کی بات جہاں ختم ہوتی ہے وہیں سے بریلوی مکتب فکر کی بات شروع ہوتی ہے

اہل حدیث حضرات ابھی تک سماع الموتی کے مسئلے پر یک زبان نہیں ہیں اور  بریلویوں اور دیوبندیوں پر شرک کی توپیں داغتے رہتے ہیں

مسلک پرستوں کی ایک مشھور شخصیت  ابن تیمیہ اپنے فتوی اور کتاب  شرح حديث النزول میں لکھتےہیں کہ حالت نیند میں زندہ لوگوں کی روح، مردوں سے ملاقات کرتی ہیں . ابن تیمیہ لکھتے ہیں

(ہمارا تبصرہ نیلے رنگ میں ہے)

 ففي هذه الأحاديث من صعود الروح إلى السماء، وعودها إلى البدن، ما بين أن صعودها نوع آخر، ليس مثل صعود البدن

ونزوله.

پس ان احادیث میں ہے کہ روح آسمان تک جاتی ہے اور بدن میں عود کرتی ہے اور یہ روح کا اٹھنا دوسری نوع کا ہے اور بدن اور اس کے نزول جیسا نہیں

 اس کے بعد ابن تیمیہ لکھتے ہیں

وروينا عن الحافظ أبي عبد الله محمد بن منده في كتاب [الروح والنفس] : حدثنا أحمد بن محمد بن إبراهيم، ثنا عبد الله بن الحسن الحراني، ثنا أحمد بن شعيب، ثنا موسى بن أيمن، عن مطرف، عن جعفر بن أبي المغيرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس ـ رضي الله عنهما ـ في تفسير هذه الآية: {اللَّهُ يَتَوَفي الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا} [الزمر: 42] . قال: تلتقي أرواح الأحياء في المنام بأرواح الموتى ويتساءلون بينهم، فيمسك الله أرواح الموتى، ويرسل

أرواح الأحياء إلى أجسادها.

اور الحافظ أبي عبد الله محمد بن منده في كتاب الروح والنفس میں روایت کیا ہے حدثنا أحمد بن محمد بن إبراهيم، ثنا عبد الله بن الحسن الحراني، ثنا أحمد بن شعيب، ثنا موسى بن أيمن، عن مطرف، عن جعفر بن أبي المغيرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس ـ رضي الله عنهما اس آیت کی تفسیر میں : {اللَّهُ يَتَوَفي الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا} [الزمر: 42] کہا:  زندوں کی روحیں نیند میں مردوں کی روحوں سے ملتی ہیں اور باہم سوال کرتی ہیں، پس الله مردوں کی روحوں کو روک لیتا ہے اور زندوں کی روحیں چھوڑ دیتا ہے

لیکن یہ روایت ہی کمزور ہے اسکی سند میں جعفربن أبي المغيرة الخزاعي ہیں . تہذیب التہذیب  کے مطابق جعفر بن أبي المغيرة الخزاعي کے لئے ابن مندہ کہتے ہیں

وقال بن مندة ليس بالقوي في سعيد بن جبير

اور ابن مندہ کہتے ہیں  سعيد بن جبير  سے روایت کرنے میں قوی نہیں

ابن تیمیہ مزید لکھتے ہیں

وروى الحافظ أبو محمد بن أبي حاتم في [تفسيره] : حدثنا عبد الله بن سليمان، ثنا الحسن، ثنا عامر، عن الفُرَات، ثنا أسباط عن السدى: {وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا} قال: يتوفاها في منامها. قال: فتلتقي روح الحي وروح الميت فيتذاكران ويتعارفان. قال: فترجع روح الحي إلى جسده في الدنيا إلى بقية أجله في الدنيا. قال: وتريد روح الميت أن ترجع إلى جسده فتحبس.

اور الحافظ أبو محمد بن أبي حاتم اپنی تفسیر میں روایت کرتے ہیں حدثنا عبد الله بن سليمان، ثنا الحسن، ثنا عامر، عن الفُرَات، ثنا أسباط عن السدى: {وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا} کہا> نیند میں قبض کیا. کہا پس میت اور زندہ کی روح ملتی ہے پس گفت و شنید کرتی ہیں اور پہچانتی ہیں. کہا پس زندہ کی روح جسد میں پلٹی ہے دنیا میں تاکہ اپنی دنیا کی زندگی پوری کرے. کہا:  اور میت کی روح جسد میں لوٹائی جاتی ہے تاکہ قید ہو

اس روایت کی سند بھی کمزور ہے اس کی سند میں السدی ہے جو شدید ضعیف راوی ہے

 اس کے بعد ابن تیمیہ نے کئی سندوں سے ایک واقعہ پیش کیا جس کے الفاظ میں بھی فرق ہے کہ عمر رضی الله تعالی عنہ نے علی رضی الله تعالی عنہ سے سوال کیا کہ انسان کا خواب کھبی سچا اور کبھی جھوٹا کیوں ہوتا ہے ؟ جس پر علی رضی الله تعالی عنہ نے کہا کہ روحیں آسمان پر جاتی ہیں

 وقال ابن أبي حاتم: ثنا أبي، ثنا عمر بن عثمان، ثنا بَقيَّة؛ ثنا صفوان بن عمرو، حدثني سليم بن عامر الحضرمي؛ أن عمر بن الخطاب ـ رضي الله عنه ـ قال لعلي بن أبي طالب ـ رضي الله

عنه: أعجب من رؤيا الرجل أنه يبيت فيرى الشيء لم يخطر له على بال! فتكون رؤياه كأخذ باليد، ويرى الرجل الشيء؛ فلا تكون رؤياه شيئًا، فقال على بن أبي طالب: أفلا أخبرك بذلك يا أمير المؤمنين؟ إن الله يقول: {اللَّهُ يَتَوَفي الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى} [الزمر: 42] ، فالله يتوفي الأنفس كلها، فما رأت ـ وهي عنده في السماء ـ فهو الرؤيا الصادقة. وما رأت ـ إذا أرسلت إلى أجسادها ـ تلقتها الشياطين في الهواء فكذبتها، فأخبرتها بالأباطيل وكذبت فيها، فعجب عمر من قوله.

 وذكر هذا أبو عبد الله محمد بن إسحاق بن منده في كتاب [الروح والنفس] وقال: هذا خبر مشهور عن صفوان بن عمرو وغيره، ولفظه: قال على بن أبي طالب: يا أمير المؤمنين، يقول الله تعالى: {اللَّهُ يَتَوَفي الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى} والأرواح يعرج بها في منامها، فما رأت

وهي في السماء فهو الحق، فإذا ردت إلى أجسادها تلقتها الشياطين في الهواء فكذبتها، فما رأت من ذلك فهو الباطل.

 لیکن اس کے راوی سليم بن عامر کا عمر رضی الله تعالی عنہ سے سماع ثابت نہیں ہو سکا.

 اپنے عیقدہ کے اثبات کے لئے ابن تیمیہ نے ابن لَهِيعَة تک کی سند پیش کی. جب کہ ان کی روایت بھی ضعیف ہوتی ہے

 قال الإمام أبو عبد الله بن منده: وروى عن أبي الدرداء قال: روى ابن لَهِيعَة عن عثمان بن نعيم الرُّعَيْني، عن أبي عثمان الأصْبَحِي، عن أبي الدرداء قال: إذا نام الإنسان عرج بروحه حتى يؤتى بها العَرْش قال: فإن كان طاهرًا أذن لها بالسجود، وإن كان جُنُبًا لم يؤذن لها بالسجود. رواه زيد بن الحباب وغيره.

 ابن تیمیہ نے یہ واقعہ ابن مندہ کے حوالے سے    ایک ضعیف راوی کی سند سے بھی پیش  کیا

وروى ابن منده حديث على وعمر ـ رضي الله عنهما ـ مرفوعًا، حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد، ثنا محمد بن شعيب، ثنا ابن عياش بن أبي إسماعيل، وأنا الحسن بن علي، أنا عبد الرحمن بن محمد، ثنا قتيبة والرازي، ثنا محمد بن حميد، ثنا أبو زهير عبد الرحمن بن مغراء الدوسي، ثنا الأزهر بن عبد الله الأزدي، عن محمد بن عجلان، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه قال: لقي عمر بن الخطاب على بن أبي طالب فقال: يا أبا الحسن … قال عمر: اثنتان. قال: والرجل يرى الرؤيا: فمنها ما يصدق، ومنها ما يكذب. فقال: نعم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ” ما من عبد ينام فيمتلئ نومًا إلا عُرِج بروحه إلى العرش، فالذي لا يستيقظ دون العرش فتلك الرؤيا التي تصدق، والذي يستيقظ دون

العرش فهي الرؤيا التي تكذب

یہ روایت معرفة الصحابة  از أبو نعيم  میں بھی حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الطَّلْحِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَبِيبٍ الطَّرَائِفِيُّ الرَّقِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، ثنا الْأَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَوْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ کی سند سے بیان ہوئی ہے لیکن راوی الْأَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ  ضعیف ہے

ابن حجر لسان المیزان میں اس پر بحث کرتے ہیں کہ

أزهر بن عبد الله خراساني.  عنِ ابن عجلان.

تُكلم فيه.

قال العقيلي: حديثه غير محفوظ، رواه عنه عبد الرحمن بن مغراء، انتهى.

والمتن من رواية ابن عجلان، عن سالم، عَن أبيه، عَن عَلِيّ رفعه: الأرواح جنود مجندة … الحديث.

وذكر العقيلي فيه اختلافا على إسرائيل، عَن أبي إسحاق عن الحارث، عَن عَلِيّ في رفعه ووقفه ورجح وقفه من هذا الوجه.

قلت: وهذه طريق أخرى تزحزح طريق أزهر عن رتبة النكارة.

وأخرج الحاكم في كتاب التعبير من المستدرك من طريق عبد الرحمن بن مغراء، حَدَّثَنَا أزهر بن عبد الله الأزدي بهذا السند إلى ابن عمر قال: لقي عمر عَلِيًّا فقال: يا أبا الحسن الرجل يرى الرؤيا فمنها ما يصدق ومنها ما يكذب قال: نعم، سمعت رسول الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول: ما من عبد، وَلا أمة ينام فيمتلىء نوما إلا عرج بروحه إلى العرش فالذي لا يستيقظ دون العرش ذلك الرؤيا التي تصدق والذي يستيقظ دون العرش فذلك الرؤيا التي تكذب.

قال الذهبي في تلخيصه: هذا حديث منكر، لم يتكلم عليه المصنف وكأن الآفة فيه من أزهر.

 أزهر بن عبد الله خراساني.   ابن عجلان سے (روایت کرتے ہیں)

انکے بارے میں کلام ہے

عقیلی کہتے ہیں: ان کی حدیث غیر محفوظ ہے اس سے عبد الرحمن بن مغراء روایت کرتے ہیں انتھی

اور اس روایت کا متن ابن عجلان، عن سالم، عَن أبيه، عَن عَلِيّ سے مرفوعا روایت کیا ہے …

میں (ابن حجر) کہتا ہوں: اور اس کا دوسرا طرق أزهر کی وجہ سے ہٹ کر نکارت کے رتبے پر جاتا ہے

اور حاکم نے مستدرک میں کتاب التعبیر میں اس کی عبد الرحمن بن مغراء، حَدَّثَنَا أزهر بن عبد الله الأزدي کی ابن عمر سے روایت بیان کی ہے کہ عمر کی علی سے ملاقات ہوئی پس کہا اے ابو حسن  ایک آدمی خواب میں دیکھتا ہے جس میں سے کوئی سچا ہوتا ہے اور کوئی جھوٹا پس علی نے کہا ہاں میں نے رسول الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے سنا ہے کہ  کوئی بندہ نہیں ، اور بندی نہیں جس کو نیند آئے  الا یہ کہ اپنی روح کے ساتھ عرش تک اوپر جائے پس جو نہ سوئے عرش کے بغیر وہ خواب سچا ہے اور جو سوئے عرش کے بغیر  اس کا خواب جھوٹا ہے

الذهبي تلخیص میں کہتے ہیں یہ حدیث منکر ہے  مصنف نے اس پر کلام نہیں کیا اور اس میں آفت أزهر کیوجہ سے ہے

اس تمام بحث کا لب لباب یہ ہے کہ زندہ کی روح حالت نیند میں مردوں کی روح سے ملاقات کرتی ہیں کسی صحیح مرفوع روایت میں نہیں . لہذا اس پر عقیدہ نہیں بنایا جا سکتا

جن  چڑھنے کا عقیدہ بہت قدیم ہے اس کا ذکر تلمود اور نصاری کی کتب میں ملتا ہے-  ایک جسم میں دوسرے جسم میں  داخل ہونا عیسائیوں کے نزدیک عیسیٰ کی الوہیت کی نشانی ہے   کہ الله کی لطیف روح عیسی کے جسم میں داخل ہوئی اور جذب ہو گئی (انجیل مرقس) اس عقیدے کو مزید پختہ کرنے کے لئے شیطان کا عیسی کی مخالفت میں جانوروں اور انسانوں میں داخل ہونا بھی بیان کیا گے ہے، سوائے یوحنا کی انجیل کے

   اس قدیم بدعتی عقیدے کی باز گشت  اسلامی کتب میں بھی سنائی دیتی رہتی ہے اور جن چڑھنے کو بد روح سوار ہونا بھی کہا جاتا ہے اور آسیب لگنا بھی آٹھویں صدی کے ایک عالم ابن تیمیہ جو ارواح  کے دنیا میں انے جانے کے قائل تھے وہ اس عقیدے کے پر چارک تھے

انکے عقائد کی دلیل ہے کہ

الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ (سورۃ البقرۃ : 275
ترجمہ : جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ نہ کھڑے ہوں گے مگر اس طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھوکر خبطی بنادے ۔
سوره  البقرہ کی آیت میں کہا جا رہا ہے کہ اس سود کے خلاف حکم کی مخالفت کرنے والے ایسے ہیں جیسے ان پر شیطان سوار ہو جو ان کو سود کے حق میں تاویلات سکھا رہا ہے کہ سود تجارت کی طرح ہے

 اس  پر   جن چڑھنے کا عقیدہ رکھنے والے کہتے ہیں

اس آیت میں صریح دلیل ہے کہ شیطان انسان کے بدن میں داخل ہوکر اسے خبط الحواس بنا دیتا ہے ۔آئیے چند مشاہر علماء و مفسرین کی طرف رجوع کرتے ہیں جن سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ جن انسان کے بدن میں واقعتا داخل ہوجاتا ہے ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سود خور کو روز قیامت اس مجنوں کی طرح اٹھایا جائے گا جس کا گلا گھونٹا جا رہاہو۔(ابن ابی حاتم)

تفسیر ابن ابی حاتم میں اس  روایت کی سند  ہے

قَوْلُهُ تَعَالَى: إِلا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ

 – حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، ثنا الأَشْعَثُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدٍ الأَشْعَرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يتخبطه الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ قَالَ: آكِلُ الرِّبَا يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَجْنُونًا يُخْنَقُ

اس کی سند میں جَعْفَرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ہے جو مجھول ہے

کہا جاتا ہے

لفظ “تخبط” تفعل کے وزن پر فعل (یعنی خبط) کے معنی میں ہے ۔ اور اس کی اصل مختلف انداز کی مسلسل ضرب ہے ۔ اور ارشاد الہی (من المس) کا مطلب جنون اور پاگل پن ہے ۔ کہاجاتا ہے “مس الرجل فھو ممسوس” یعنی وہ پاگل ہوگیا ، اور مس کا اصل معنی ہاتھ سے چھونا ہے ۔

بخاری کی حدیث ہے

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا وَالشَّيْطَانُ يَمَسُّهُ حِينَ يُولَدُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ، إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا»، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: {وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ}

کوئی پیدا ہونے والا ایسا نہیں جس کو شیطان مس نہ کرے جب پیدا ہو … سوائے ابن مریم علیہ السلام کے پھر ابو ہریرہ رضی الله نے کہا اور اگر چاہو تو  آیت تلاوت کرو وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ 

حدیث کے مطابق پر شخص کو شیطان کا مس چھونا ہوتا ہے تو پھر ہر شخص پاگل کیوں نہیں  ہے

قرآن میں ایوب علیہ السلام کے لئے کہا گیا ہے

وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ

اور ہمارے بندے ایوب کا ذکر کرو جب اس نے پکارا کہ شیطان نے چھو کر عذاب میں مبتلا کر دیا ہے

کیا انبیاء پر بھی جن چڑھا ہے کیا مس کا مفھوم یہاں بھی خبطی کرنا ہے؟

سوره الاعرآف میں ہے

إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ

جو الله سے ڈرتے ہیں انہیں جب کوئی شیطانی خیال مس کرتا ہے تو الله کا ذکر کرتے ہیں

شیطانی مس خیالات کا مس ہے جس میں انسان کو وہ ورغلاتا ہے

   جن چڑھنے کا عقیدہ رکھنے والوں کی طرف سے  حدیث پیش کی جاتی ہے کہ

 عن أبي سعيد – رضي الله عنه – قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم  إذا تثاءب أحدكم فليضع يده على فيه ، فإن الشيطان يدخل مع التثاؤب ) ( صحيح أبو داوود 1375 و صحيح الجامع 426)

ترجمہ : ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا نبی علیہ السلام نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو جماہی آئے تو اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیا کرو کیونکہ شیطان جماہی کے ساتھ اندر داخل ہوجاتاہے ۔

سوال ہے کہ لیکن اگر شیطان منہ میں داخل ہوتا ہے تو انسان اب باولا کیوں نہیں ہوا

اس حدیث سے تو جن چڑھنے کا عقیدہ رد ہوتا ہے

   جن چڑھنے کا عقیدہ رکھنے والوں کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ

 ابوالحسن اشعری نے اپنی کتاب “مقالات اہل السنہ والجماعہ” میں ذکر کیا ہے : وہ کہتے ہیں کہ جن مصروع (آسیب زدہ) کے بدن میں داخل ہوتا ہے جیساکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ (سورۃ البقرۃ : 275)

ترجمہ : سود خور لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اس طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھوکر خبطی بنادے ۔ (مجموع الفتاوی 19/12)

 لیکن امام الاشعری نے ایسا نہیں کہا انہوں نے کتاب میں دونوں رائے لکھی ہیں لیکن نہ ان کو رد کیا ہے نہ قبول اور آیت کا تو ذکر بھی نہیں

امام الاشعری کتاب مقالات الإسلاميين واختلاف المصلين  میں لکھتے ہیں

واختلف الناس في الجن هل يدخلون في الناس على مقالتين:

فقال قائلون: محال أن يدخل الجن في الناس.

وقال قائلون: يجوز أن يدخل الجن في الناس لأن أجسام الجن أجسام رقيقة

  اور لوگوں میں اختلاف ہوا کہ کیا جن لوگوں میں داخل ہوتا ہے اس میں دو رائے ہوئے

پس  کہا یہ محال ہے کہ جن لوگوں میں داخل ہو

اور (بعض نے) کہا یہ جائز ہے کہ داخل ہو کیونکہ جن کا جسم رقیق ہے

امام الاشعری نے لوگوں کی رائے پیش کی ہے لیکن یہ نہیں کہا کہ ان میں سے وہ کس سے متفق ہیں لہذا ان کی بات کو توڑ مروڑ کر ابن تیمیہ اپنا مدعا ثابت کر رہے ہیں

   جن چڑھنے کا عقیدہ رکھنے والے کہتے ہیں

 نبی ﷺ کی حدیث سے صحیح ثابت ہے ۔ “شیطان اولاد آدم کے رگ و پے میں خون کی جگہ دوڑتا ہے ۔ (مجموع الفتاوی 24/276

اس حدیث کے سیاق و سباق میں ہے کہ ایک رات نبی اپنی بیوی صفية بنت حيي رضي الله عنها کے ہاں سے نکلے جبکہ اپ معتكف بھی تھے اور کچھ انصاری صحابہ نے ان کو دیکھا اور تیزی سے جانے لگے- تو آپ نے کہا یہ میری بیوی ہیں اور کہا کہ شیطان انسان کو ایسے بہکآتا ہے کہ اس کے خوں میں ہوں

چونکہ صحابہ کو کہا جا رہا ہے تو کیا ان میں شیطان داخل ہوا یا ہم کو شیطان نے بہکایا تو کیا ہم میں داخل ہوا ؟

ان کی جانب سے حدیث پیش کی جاتی ہے

سنن ابن ماجہ کی روایت ہے

حدثنا محمد بن بشار . حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري . حدثني عيينة بن عبد الرحمن . حدثني أبي عن عثمان بن أبي العاص قال لما استعملني رسول الله صلى الله عليه و سلم على الطائف جعل يعرض لي شيء في صلاتي حتى ما أدري ما أصلي . فلما رأيت ذلك رحلت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم . فقال : ( ابن أبي العاص ؟ ) قلت نعم يا رسول الله قال ( ماجاء بك ؟ ) قلت يا رسول الله عرض لي شيء في صلواتي حتى ما أدري ما أصلي . قال ( ذاك الشيطان . ادنه ) فدنوت منه . فجلست على صدور قدمي . قال فضرب صدري بيده وتفل في فمي وقال ( اخرج . عدو الله ) ففعل ذلك ثلاث مرات . ثم قال ( الحق بعملك ) قال فقال عثمان فلعمري ما أحسبه خالطني بعد

عثمان بن ابی العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ کو نماز پڑھنے میں مشکل ہوتی اس کا ذکر نبی صلی الله وسلم سے کیا تو اپ میرے سینے ضرب لگائی اور کہا نکل اے الله کے دشمن ! ایسا تین دفعہ کیا … اس کے بعد نماز میں کوئی مشکل نہ ہوئی

اس کی سند میں محمد بن عبد الله بن المثنى بن عبد الله بن أنس بن مالك الأنصاري ہیں جن کو وقال أبو داود تغير تغيرا شديدا ابو داود کہتے ہیں یہ بہت تغیر کا شکار تھے گویا کسی ذہنی بیماری کا شکار تھے

یہی واقعہ صحیح مسلم میں بھی ہے جس میں جن نکالنے کا ذکر نہیں

یہی روایت مسلم میں بھی ہے جس میں جن نکالنے کا ذکر نہیں ہے اس میں صرف وسوسہ کا ذکر ہے جیسا کہ قرآن میں سوره المومنون میں ہمزات الشیطان کا ذکر ہے
مسلم کی روایت ہے

حَدَّثَنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيُّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: “أُمَّ قَوْمَكَ” قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا قَالَ: “ادْنُهْ” فَجَلَّسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ فِي صَدْرِي بَيْنَ ثَدْيَيَّ. ثُمَّ قَالَ: “تَحَوَّلْ” فَوَضَعَهَا فِي ظَهْرِي بَيْنَ كَتِفَيَّ، ثُمَّ قَالَ: “أُمَّ قَوْمَكَ. فَمَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ، وَإِنَّ فِيهِمُ الْمَرِيضَ، وَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ، وَإِنَّ فِيهِمْ ذَا الْحَاجَةِ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ وَحْدَهُ، فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ”
عثمان بن ابی العاص روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اپنی قول کی امامت کرو! میں نے کہا اے رسول اللہ ،میں اپنے نفس میں کوئی چیز (خوف) پاتا ہوں اپ نے فرمایا یہ شیطان کا وسوسہ ہے پھر اپ میرے سامنے بیٹھے پھر میرے سینے کے بیچ میں ہاتھ رکھا اور کہا بدل جاؤ، پھر میری پیٹھ پر دونوں شانوں کے درمیان ہاتھ رکھا اور کہا اپنی قوم کی امامت کرو، پس جب امامت کرو تو کمی کرنا کیونکہ ان میں عمر رسیدہ ہوں گے، مریض ہوں گے ، کمزور ہوں گے اور ان میں ضرورت مند ہوں گے لیکن اگر کوئی اکیلا نماز پڑھے تو پھر جیسے چاہے پڑھے

ابن ماجہ اور مسلم کی روایت الگ الگ ہے ایک میں اخرج کا لفظ ہے اور دوسری میں تحول کا دونوں میں فرق ہے اخرج نکلنا ہے اور تحول بدلنا دونوں کا مفھوم الگ ہے ہاں کوئی کھینچ تان کر کے اس کو شیطان کا جسم میں داخل ہونا کرے تو بھی عجیب ہے

   جن چڑھنے کا عقیدہ رکھنے والے روایت پیش کرتے ہیں

عن يعلى بن مرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : أنه أتته إمرأة بإبن لها قد أصابه لمم- اى طرف من الجنون , فقال النبي صلى الله عليه وسلم: “أخرج عدو الله أنا رسول الله “. قال فبرأفاهدت له كبشين و شيئا من إقط و سمن فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يايعلي خذ الإقط والسمن و خذ أحد الكبشين ورد عليها الآخر(سلسلة الأحاديث الصحيحة 1/874)

ترجمہ: یعلی بن مرہ سے روایت ہے کہ کہ نبی ﷺ کے پاس ایک عورت اپنے بچے کے ساتھ آئی جسے جنون ہوگیا تھا ۔ نبی ﷺ نے فرمایا: “اے اللہ کے دشمن نکل جاؤ ، میں اللہ کا رسول ہوں “۔ وہ کہتے ہیں کہ بچہ ٹھیک ہوگیا تو اس عورت نے آپ کو دومینڈھا ، کچھ دودھ اور گھی ہدیہ کیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے یعلی دودھ، گھی اور ایک مینڈھا لے لو اور ایک مینڈھا اسےواپس کردو۔

٭اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے شیطان کو مخاطب کیا جو بچہ میں داخل ہوکر اس کی عقل میں فتور پیدا کردیا تھا جب شیطان کو نبی ﷺ نے رسول ہونے کا واسطہ دے کربچے کے اندرسے نکلنے کا حکم دیا تو بچہ درست ہوگیا۔

مسند احمد میں اس کی سند ہے

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا عبد الله بن نمير عن عثمان بن حكيم قال أخبرني عبد الرحمن بن عبد العزيز عن يعلى بن مرة قال : لقد رأيت من رسول الله صلى الله عليه و سلم ثلاثا ما رآها أحد قبلي ولا يراها أحد بعدي لقد خرجت معه في سفر حتى إذا كنا ببعض الطريق مررنا بامرأة جالسة معها صبي لها فقالت يا رسول الله هذا صبي أصابه بلاء وأصابنا منه بلاء يؤخذ في اليوم ما أدري كم مرة قال ناولينيه فرفعته إليه فجعلته بينه وبين واسطة الرحل ثم فغرفاه فنفث فيه ثلاثا وقال بسم الله أنا عبد الله اخسأ عدو الله ثم ناولها إياه فقال القينا في الرجعة في هذا المكان فأخبرينا ما فعل قال فذهبنا ورجعنا فوجدناها في ذلك المكان معها شياه ثلاث فقال ما فعل صبيك فقالت والذي بعثك بالحق ما حسسنا منه شيئا حتى الساعة …..

تعلیق میں شعيب الأرنؤوط کہتے ہیں : إسناده ضعيف لجهالة عبد الرحمن بن عبد العزيز

عبد الرحمن بن عبد العزيز کے مجھول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے

ایک اور روایت     جن چڑھنے کا عقیدہ رکھنے والوں کی طرف سے  پیش کی جاتی ہے

عن عم خارجة بن الصلت التميمي – رضي الله عنه – : ( أنه أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فأسلم ، ثم أقبل راجعا من عنده ، فمر على قوم عندهم رجل مجنون موثق بالحديد ، فقال أهله : إنا حدثنا أن صاحبكم هذا ، قد جاء بخير ، فهل عندك شيء تداويه ؟ فرقيته بفاتحة الكتاب ، فبرأ ، فأعطوني مائة شاة ، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته ، فقال : ( هل إلا هذا ) وقال مسدد في موضع آخر : ( هل قلت غير هذا ) ؟ قلت : لا ! قال : ( خذها ، فلعمري لمن أكل برقية باطل ، لقد أكلت برقية حق )(السلسلة الصحيحة – 2027)

ترجمہ : خارجہ بن صلت تمیمی رضی اللہ عنہ کے چچا سے مروی ہے : وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا ۔ پھر آپ ﷺ کے پاس سے واپس لوٹ گئے ۔ ان کا گذر ایک قوم کے پاس سے ہوا جن کے پاس ایک آدمی جنوں کی وجہ سے لوہے سے بندھا تھا۔ ان لوگوں نے کہا کہ بتلایا گیا ہے کہ تمہارے ساتھی (نبی ﷺ) نے بھلائی لایاہے ۔ تو کیا آپ کے پاس کچھ ہے جس کے ذریعہ آپ اس کا علاج کرسکیں ؟ تو میں نے اس پرسورہ فاتحہ کے ذریعہ دم کردیا ۔ پس ٹھیک ہوگیاتو انہوں نے مجھے ایک سو بکریاں دی ۔ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو خبر دی ۔ پس آپ نے کہا: کیا یہی تھا۔ مسدد نے کہا دوسری جگہ ہے : کیا اس کے علاوہ بھی پڑھا تھا؟ تو میں نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا: اسے لے لو۔ میری عمر کی قسم ! جس نے باطل دم کے ذریعہ کھایا(اس کا بوجھ اور گناہ اس پر ہے)، تو نے تو صحیح دم کے ذریعہ کھایا(تم پر کوئی گناہ نہیں)۔

سند ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرٌ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ عَمِّهِ

اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سوره فَاتِحَةَ سے دم کیا اور اجرت لی

یہ روایت معلول ہے کیونکہ ابن ابی حاتم نے اسکوالعلل میں ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ
وَرَوَاهُ شُعبة ، عَنْ عبد الله بن أبي السَّفَر، عن الشَّعبي، عن خارِجَة بْنِ الصَّلْت، عَنْ عمِّه، عَنْ أَنَسٍ هَكَذَا.
شُعبة نے بھی اس کو روایت کیا ہے لیکن اس میں خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ کے چچا نے انس سے اس کو بیان کیا ہے – لہذا یہ روایت متصل نہیں

طبقات خليفة بن خياط کے مطابق خارجة بن الصلت کے چچا کا نام عبد الله بن عنيز ہے نہ کہ عِلاَقَةَ بْنِ صُحَارِ السَّلِيطِيّ التَّمِيمِيّ
وعم خارجة بن الصلت اسم عم خارجة: عبد الله بن عنيز بن عبد قيس بن خفاف, من بني عمر بن حنظلة, من البراجم.

بعض نے چچا کا نام عِلاَقَةَ بْنِ صُحَارِ السَّلِيطِيّ التَّمِيمِيّ بتایا ہے –
بعض نے العلاء بن صحار اور علاثة بْن صحار بھی کہا ہے دیکھئے أسد الغابة في معرفة الصحابة

شُعبة کی روایت کے مطابق خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ کے چچا نے اس کو انس رضی الله تعالیٰ عنہ سے سنا ہے اور خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ کے چچا صحابی رسول ہیں اس کو ثابت کرنے کے لئے کوئی اور دلیل بھی نہیں

 

ایک اور روایت جن چڑھنے پر  پیش کی جاتی ہے

 اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ، وَالْحَرَقِ، وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِيَ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا۔(صحيح سنن أبي داود، 5/ 275و صححه الألباني في صحيح النسائي، 3/1123،)

ترجمہ : اے اللہ میں گرنے، ڈوبنے، جلنے ، بڑھاپےسے تیری پناہ مانگتاہوں۔ اور تیری پناہ مانگتاہوں کہ مجھے شیطان موت کےوقت خبطی نہ بنادے ، اور تیری پناہ طلب کرتاہوں کہ راہ جہاد سے پیٹھ پھیرتے ہوئے مارا جاؤں ، اور میں تیری پناہ چاہتاہوں اس بات سے کہ ڈنسنے سے مارا جاؤں ۔

 سیوطی سنن نسائی کی شرح میں الخطابی کا قول لکھتے ہیں

حَاشِيَةُ السِّيُوطِيِّ : ( وَأَعُوذ بِك أَنْ يَتَخَبَّطنِي الشَّيْطَان عِنْد الْمَوْت ) قَالَ الْخَطَّابِيُّ هُوَ أَنْ يَسْتَوْلِي عَلَيْهِ عِنْد مُفَارَقَة الدُّنْيَا فَيُضِلّهُ وَيَحُول بَيْنه وَبَيْن التَّوْبَة

 اور الفاظ وَأَعُوذ بِك أَنْ يَتَخَبَّطنِي الشَّيْطَان عِنْد الْمَوْت پر  الْخَطَّابِيُّ  کہتے ہیں  شیطان کا سوار ہونا دنیا چھوڑنے پر ہے کہ وہ توبہ اور انسان کے درمیان حائل ہو جاتا ہے

گویا الفاظ ادبی ہیں اور ان کا مطلب توبہ کی توفیق نہیں ہونا ہے. الْخَطَّابِيُّ کی اس شرح سے معاملہ بالکل صاف ہو گیا کہ قرآن و حدیث میں جن چڑھنے کی کوئی دلیل نہیں

حدیث  بخاری   جن چڑھنے کا عقیدہ رکھنے والوں کی جانب سے  پیش کی جاتی ہے

عن عطاء بن رباح قال : قال لي ابن عباس – رضي الله عنه – : ( ألا أريك امرأة من أهل الجنة ؟ قلت : بلى ، قال هذه المرأة السوداء أتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت : إني أصرع وإني أتكشف فادع الله لي ، قال : إن شئت صبرت ولك الجنة ، وإن شئت دعوت الله أن يعافيك ؟ فقالت : أصبر ، فقالت : إني أتكشف فادع الله لي أن لا أتكشف ، فدعا لها) (صحيح البخاري ح 5652)

ترجمہ : عطاء بن رباح سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا، مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم کو جنت کی ایک عورت نہ دکھاؤں ؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ۔ تو انہوں نے کہا، یہ کالی عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہی : میں پچھاڑدی جاتی ہوں اور میں ننگی ہوجاتی ہوں پس آپ میرے لئے اللہ سے دعا کر دیجئے ، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم صبر کروگی تو تمہارے لئے جنت ہے ، اور اگر تم چاہوں میں اللہ سے دعا کردوں تاکہ ٹھیک ہوجاؤ؟ تو اس عورت نے کہا: میں صبر کروں گی ، کہی : میں ننگی ہوجاتی ہوں میرے لئے اللہ سے دعا کیجئے تاکہ ننگی نہ ہوسکوں ، تو نبی ﷺ نے اس کے لئے دعا کی ۔

اس میں صراع کا لفظ ہے جو آسیب کے لئے استعمال ہوتاہے  اور مرگی کے لئے بھی-    عہد جاہلیت میں عربوں کا عقیدہ تھا کہ جن چڑھتا ہے اور مرگی کا مرض   آسیب سے ہوتا ہے اس کو زبردستی مشرف با اسلام کیا جا رہا ہے-  مترجمین نے اس حدیث کا ترجمہ   مرگی ہی کیا ہے

روز محشر شیطان کہے گا

و قَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلَّا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ ۖ مَا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِنْ قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

شيطان تو کہہ رہا ہے کہ مجھ کو صرف دعوت کا اختیار تھا جس کو تم لوگوں نے قبول کیا

الله سب کو ہدایت دے

 قرآن کی آیت ہے

الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

وہ لوگ جو سود کھا رہے ہیں وہ (اس حکم کے خلاف) کھڑے نہیں ہونگے لیکن ایسے جیسے کہ وہ شخص جس کو شیطان نے چھو کر حواس باختہ کر دیا ہو. یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں بے شک لین دین (تجارت) ، سود ہے اور ( جبکہ) الله نے  تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام ! پس جس کے پاس  اپنے رب کی طرف سے نصیحت پہنچی اور رک گیا پس   جو ہو چکا وہ اس کا ہے (اس پر پچھلے  لئے گئے سود پر کوئی باز پرس نہیں)  اور اس کا امر ، الله کے لئے ہے اور جو مخالفت کرے وہ اگ والے لوگ ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے

 سوره البقرہ کی آیت میں کہا جا رہا ہے کہ اس سود کے خلاف حکم کی مخالفت کرنے والے ایسے ہیں جیسے ان پر شیطان سوار ہو جو ان کو سود کے حق میں تاویلات سکھا رہا ہے کہ سود تجارت کی طرح ہے

قرآن کے الفاظ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ  کی تشریح سنن نسائی کی حدیث سے ہو جاتی ہے

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ صَيْفِيٍّ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الْيَسَرِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ التَّرَدِّي وَالْهَدْمِ وَالْغَرَقِ وَالْحَرِيقِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا

أَبِي الْيَسَرِ رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی صلی الله علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھےکہ اے الله میں پناہ مانگتا ہوں انحطاط اور تباہی و برداری سے ، غرق ہونے سے اور  آگ  سے اور پناہ مانگتا ہوں کہ  مجھے شیطان موت کے وقت یونہی الجھائے اور  پناہ مانگتا ہوں کہ اپ کی راہ سے بھاگ جاؤں اور  پناہ مانگتا ہوں کہ سانپ کے کاٹنے سے مروں

 موت کے وقت شیطان انسان کو گمراہ کر سکتا ہے اور الجھا سکتا ہے لہذا نبی صلی الله علیہ وسلم نے امت کو یہ الفاظ سکھائے انہی الفاظ کو قرآن سے لیا گیا ہے جس کا مفھوم جن چڑھنا  یا بدن میں سرایت کرنا نہیں بلکہ ادبی انداز ہے.  جس طرح ہم اردو میں کہتے ہیں کہ اس شخص  پر اس بات کا بھوت سوار ہے

 سیوطی سنن نسائی کی شرح میں الخطابی کا قول لکھتے ہیں

حَاشِيَةُ السِّيُوطِيِّ : ( وَأَعُوذ بِك أَنْ يَتَخَبَّطنِي الشَّيْطَان عِنْد الْمَوْت ) قَالَ الْخَطَّابِيُّ هُوَ أَنْ يَسْتَوْلِي عَلَيْهِ عِنْد مُفَارَقَة الدُّنْيَا فَيُضِلّهُ وَيَحُول بَيْنه وَبَيْن التَّوْبَة

 اور الفاظ وَأَعُوذ بِك أَنْ يَتَخَبَّطنِي الشَّيْطَان عِنْد الْمَوْت پر  الْخَطَّابِيُّ  کہتے ہیں  شیطان کا سوار ہونا دنیا چھوڑنے پر ہے کہ وہ توبہ اور انسان کے درمیان حائل ہو جاتا ہے

گویا الفاظ ادبی ہیں اور ان کا مطلب توبہ کی توفیق نہیں ہونا ہے. الْخَطَّابِيُّ کی اس شرح سے معاملہ بالکل صاف ہو گیا کہ قرآن و حدیث میں جن چڑھنے کی کوئی دلیل نہیں

حدیث کے مطابق ہر شخص کو شیطان اس کی پیدائش پر چھوتا ہے لیکن ظاہر ہے ہر کوئی باولا نہیں ہوتا

 افسوس بعض حضرات ان الفاظ کا مفھوم  لیتے ہیں کہ جن نہ صرف انسان بلکہ جانور درخت وغیرہ میں سرایت کر جاتے  ہیں

 ابن تیمیہ سے سوال ہوا کہ کیا جن چڑھ سکتے ہیں؟ اس پر مجموع الفتاوی ج ٢٤ ص ٢٧٦  پر لکھتے ہیں

فَأَجَابَ :الْحَمْدُ لِلَّهِ ، وُجُودُ الْجِنِّ ثَابِتٌ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ وَاتِّفَاقِ سَلَفِ الْأُمَّةِ وَأَئِمَّتِهَا . وَكَذَلِكَ دُخُولُ الْجِنِّيِّ فِي بَدَنِ الْإِنْسَانِ ثَابِتٌ بِاتِّفَاقِ أَئِمَّةِ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : { الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ } وَفِي الصَّحِيحِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ { إنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ } . وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ الْإِمَامِ أَحْمَد بْنِ حَنْبَلٍ قُلْت لِأَبِي : إنَّ أَقْوَامًا يَقُولُونَ : إنَّ الْجِنِّيَّ لَا يَدْخُلُ فِي بَدَنِ الْمَصْرُوعِ فَقَالَ : يَا بُنَيَّ يَكْذِبُونَ هَذَا يَتَكَلَّمُ عَلَى لِسَانِهِ ..

پس اس کا جواب الحمدللہ یہ ہے کہ جن کا وجود ثابت ہے کتاب الله اور سنت رسول صلی الله علیہ وسلم سے اور سلف اور ائمہ کا اس پر اتفاق ہے اور اسی طرح جن کا انسان کے بدن میں داخل ہونا ائمہ اہل سنت و جماعت کے ہاں ثابت ہے الله تعالی کا قول ہے  کہ وہ لوگ جو سود کھا رہے ہیں وہ کھڑے نہیں ہونگے لیکن ایسے جیسے کہ وہ جس کو شیطان نے چھو کر حواس باختہ کر دیا ہو اور صحیح حدیث میں ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا بے شک شیطان ابن آدم   میں دوڑتا ہے جس طرح خون اور عبدللہ بن امام احمد کہتے ہیں میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ  لوگ کہتے ہیں کہ جن مرگی زدہ شخص میں داخل نہیں ہوتا  امام احمد نے کہا اے بیٹے جھوٹ بولتے ہیں یہ لوگ … وہ جن ہی ان کی زبان میں کلام کرتا ہے

 اس سلسلے میں کچھ روایات بھی پیش کی جاتی ہیں

 سنن ابن ماجہ کی روایت ہے

حدثنا محمد بن بشار . حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري . حدثني عيينة بن عبد الرحمن . حدثني أبي عن عثمان بن أبي العاص قال لما استعملني رسول الله صلى الله عليه و سلم على الطائف جعل يعرض لي شيء في صلاتي حتى ما أدري ما أصلي . فلما رأيت ذلك رحلت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم . فقال  : ( ابن أبي العاص ؟ ) قلت نعم يا رسول الله قال ( ماجاء بك ؟ ) قلت يا رسول الله عرض لي شيء في صلواتي حتى ما أدري ما أصلي . قال ( ذاك الشيطان . ادنه ) فدنوت منه . فجلست على صدور قدمي . قال فضرب صدري بيده وتفل في فمي وقال ( اخرج . عدو الله ) ففعل ذلك ثلاث مرات . ثم قال ( الحق بعملك )  قال فقال عثمان فلعمري ما أحسبه خالطني بعد

عثمان بن ابی العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ کو نماز پڑھنے میں مشکل ہوتی اس کا ذکر نبی صلی الله وسلم سے کیا تو اپ میرے سینے ضرب  لگائی اور کہا نکل اے الله کے دشمن !  ایسا تین دفعہ کیا … اس کے بعد نماز میں کوئی مشکل نہ ہوئی

 اس کی سند میں محمد بن عبد الله بن المثنى بن عبد الله بن أنس بن مالك الأنصاري  ہیں جن کو وقال أبو داود تغير تغيرا شديدا ابو داود کہتے ہیں   یہ بہت تغیر کا شکار تھے گویا کسی ذہنی بیماری کا شکار تھے

یہی واقعہ صحیح مسلم میں بھی ہے جس میں جن نکالنے کا ذکر نہیں

اس کے علاوہ اور روایات بھی ہیں جن کی اسناد میں مجہولین اور ضعیف راوی ہیں جو مسند احمد، مسند ابو یعلی اور طبرانی میں ہیں

 قرآن کی سوره الاسراء ٦٤ کی آیت  ہے کہ الله تعالی نے شیطان کو چھوٹ دی کہ

اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا (64

اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ۔ اور ان پر اپنے سواروں اور پیاروں کو چڑھا کر لاتا رہ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدے کرتا رہ۔ اور شیطان جو وعدے ان سے کرتا ہے سب دھوکا ہے

 اس آیت میں مال میں شراکت سے مراد حرام مال ہے اور اولاد میں شراکت سے مراد زنا ہے

 ابن کثیر تفسیر کرتے ہیں

ibn-kaseer-isra-64

ابن تیمیہ فتاوی الکبری ج ١٩ ص ٤٠ پر لکھتے ہیں

وصرعهم للإنس قد يكون عن شهوة وهوى وعشق كما يتفق للإنس مع الإنس وقد يتناكح الإنس والجن ويولد بينهما ولد وهذا كثير معروف وقد ذكر العلماء ذلك وتكلموا عليه وكره أكثر العلماء مناكحة الجن وقد يكون وهو كثير أو الأكثر عن بغض ومجازاة مثل أن يؤذيهم بعض الإنس أو يظنوا أنهم يتعمدو أذاهم إما ببول على بعضهم وإما بصب ماء حار وإما بقتل بعضهم وإن كان الإنسي لا يعرف ذلك وفى الجن جهل وظلم فيعاقبونه بأكثر مما يستحقه وقد يكون عن عبث منهم وشر بمثل سفهاء الإنس

 اور جن کا انسان پر چڑھنا بعض دفعہ شہوت اور خواہش اور عشق کی وجہ سے ہوتا ہے جیسا کہ انسانوں کو ہوتا ہے اور بے شک جن انسان سے نکاح کرتے ہیں اور ان کی اپس میں اولاد بھی ہوتی ہے اور یہ بہت معروف بات ہے اور علماء نے اس کا ذکر کیا ہے اور اس پر کلام کیا ہے اور اکثر علماء اس سے کراہت کرتے ہیں کہ جن سے نکاح کیا جائے اور جن کا چڑھنا اکثر اوقات بغض کے لئے ہوتا ہے جیسے مثلا (جنات) سمجھیں کہ  انسان نے ان کو ایذا دی ہے لہذا ( بدلہ کے طور سے ) کبھی پیشاب کر دیں یا گرم پانی پھینک دیں یا قتل کر دیں  اور ہو سکتا ہے انسان کو پتا بھی نہ ہو (کہ جن انجانے میں یہ سب کر رہے ہیں)  اور جنات میں جھل اور ظلم  ہوتا ہے لہذا اکثر بدلہ لیتے ہیں  جس کا مستحق (وہ انسانوں کو) سمجھتے ہیں اور جن کا چڑھنا عبث بھی ہو سکتا ہے اور   ان کی طرف سے شر کے طور پر جسے بعض احمق انسان (ایک دوسرے پر سوار) ہوتے ہیں

ابن تیمیہ مجموع الفتاوى  ج ١٩ ص ١٢ میں لکھتے ہیں

وَلِهَذَا ذَكَرَ الْأَشْعَرِيُّ فِي مَقَالَاتِ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ: إنَّ الْجِنِّيَّ يَدْخُلُ فِي بَدَنِ الْمَصْرُوعِ كَمَا قَالَ تَعَالَى: {الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ}

اور اسی وجہ سے  الاشعری نے مقالات میں  ذکر کیا ہے کہ اہل سنت و جماعت کہتے ہیں کہ جن مرگی زدہ شخص میں داخل ہوتا ہے جیسا کہ الله تعالی نے فرمایا الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ

 لیکن امام الاشعری نے ایسا نہیں کہا انہوں نے کتاب میں دونوں رائے لکھی ہیں لیکن نہ ان کو رد کیا ہے نہ قبول اور آیت کا تو ذکر بھی نہیں

امام الاشعری کتاب مقالات الإسلاميين واختلاف المصلين  میں لکھتے ہیں

واختلف الناس في الجن هل يدخلون في الناس على مقالتين:

فقال قائلون: محال أن يدخل الجن في الناس.

وقال قائلون: يجوز أن يدخل الجن في الناس لأن أجسام الجن أجسام رقيقة

  اور لوگوں میں اختلاف ہوا کہ کیا جن لوگوں میں داخل ہوتا ہے اس میں دو رائے ہوئے

پس  کہا یہ محال ہے کہ جن لوگوں میں داخل ہو

اور (بعض نے) کہا یہ جائز ہے کہ داخل ہو کیونکہ جن کا جسم رقیق ہے

امام الاشعری نے لوگوں کی رائے پیش کی ہے لیکن یہ نہیں کہا کہ ان میں سے وہ کس سے متفق ہیں لہذا ان کی بات کو توڑ مروڑ کر ابن تیمیہ اپنا مدعا ثابت کر رہے ہیں

الغرض  امام ابن تیمیہ کے جنات کے بارے میں عجیب و غریب عقائد تھے

 اول جن و انسان اپس میں عشق کرتے ہیں

دوم جن و انسان اپس میں نکاح کرتے ہیں اور ان کی اولاد ہوتی ہے

سوم جن انسانی بدن میں داخل ہو سکتا ہے

 ان عقائد کی قرآن و صحیح حدیث میں کوئی دلیل نہیں. یہ ابن تیمیہ صاحب کے دمشق کے آٹھویں صدیہجری کے دور کے  عوام کے خیالات تو ہو سکتے ہیں، قرآن و حدیث ہرگز نہیں

ابن تیمیہ نے الطبقات الحنابلہ سے شاید اس عقیدہ کو لیا ہو. وہابی عالم  محمد صالح المنجد اس کو نقل کرتے ہیں

http://islamqa.info/ar/132673

جاء في “طبقات الحنابلة” (1/233) للقاضي أبي الحسين بن أبي يعلى الفرَّاء : أن الإمام أحمد بن حنبل كان يجلس في مسجده فأنفذ إليه الخليفة العباس المتوكل صاحباً له يعلمه أن جارية بها صرع ، وسأله أن يدعو الله لها بالعافية ، فأخرج له أحمد نعلي خشب بشراك من خوص للوضوء فدفعه إلى صاحب له ، وقال له : امض إلى دار أمير المؤمنين وتجلس عند رأس الجارية وتقول له – يعني الجن – : قال لك أحمد : أيما أحب إليك تخرج من هذه الجارية أو تصفع بهذه النعل سبعين ؟ فمضى إليه ، وقال له مثل ما قال الإمام أحمد ، فقال له المارد على لسان الجارية : السمع والطاعة ، لو أمرنا أحمد أن لا نقيم بالعراق ما أقمنا به ، إنه أطاع الله ، ومن أطاع الله أطاعه كل شيء ، وخرج من الجارية وهدأت ورزقت أولاداً ، فلما مات أحمد عاودها المارد ، فأنفذ المتوكل إلى صاحبه أبي بكر المروذي وعرفه الحال ، فأخذ المروذي النعل ومضى إلى الجارية ، فكلمه العفريت على لسانها : لا أخرج من هذه الجارية ولا أطيعك ولا أقبل منك ، أحمد بن حنبل أطاع الله ، فأمرنا بطاعته . انتهى

 قاضي أبي الحسين بن أبي يعلى کہتے ہیں کہ امام احمد مسجد میں تھے کہ خلیفہ المتوکل کا ایک آدمی آیا اور ان سے لونڈی میں جن  نکالنے کے بارے میں پوچھا امام احمد نے اپنی نعل المتوکل کے آدمی کو دی اور کہا اس کو لونڈی کے سر پر رکھنا اور کہنا تجھے کیا پسند ہے لونڈی میں سے نکلنا یا ایسی ٧٠ جوتیوں  سے تواضع؟  ادمی نے ایسا ہی کیا جیسا امام احمد نے کہا تھا جب وہ اپس آیا تو اس نے بتایا کہ  جن نے کہا   سمع و اطاعت،  اگر امام احمد نے حکم کیا ہے تو ہم اب عراق میں نہیں رہیں گے… امام احمد کی موت کے بعد … أبي بكر المروذي نے اس کو حاصل کیا اور جن نکالتے

 تبرکات کو بلا تاثیر ماننے والے  یہ وہابی علماء  کس قدر شوق سے واقعہ نقل کر رہے ہیں کہ  امام احمد کے نعل مبارک سے نہ صرف زندگی بلکہ موت کے بعد بھی جن نکالنے کے لئے استعمال ہوتے تھے

ابن قیم کتاب زاد المعاد یہ بھی بتاتے ہیں کہ شیخ ابن تیمیہ باقاعدہ بد روح نکالتے تھے اور اس میں تشدد بھی کرتے تھے

والثانى‏:‏ من جهة المعالِج، بأن يكون فيه هذان الأمران أيضاً، حتى إنَّ من المعالجينَ مَن يكتفى بقوله‏:‏ ‏(‏اخرُجْ منه‏)‏، أو بقول‏:‏ ‏(‏بِسْمِ الله‏)‏، أو بقول‏:‏ ‏(‏لا حَوْل ولا قُوَّة إلا بالله‏)‏، والنبىُّ صلى الله عليه وسلم كان يقولُ‏:‏ ‏(‏اخْرُجْ عَدُوَّ اللهِ، أنا رَسُولُ اللهِ‏)‏‏.‏

وشاهدتُ شيخنَا يُرسِلُ إلى المصروع مَن يخاطبُ الروحَ التي فيه، ويقول‏:‏ قال لكِ الشيخُ‏:‏ اخرُجى، فإنَّ هذا لا يَحِلُّ لكِ، فيُفِيقُ المصروعُ، وربما خاطبها بنفسه، وربما كانت الروحُ مارِدةً فيُخرجُها بالضرب، فيُفيق المصروعُ ولا يُحِس بألم، وقد شاهدنا نحن وغيرُنا منه ذلك مراراً‏.‏

وكان كثيراً ما يَقرأ في أُذن المصروع‏:{‏أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثاً وَأَنَّكُمْ إلَيْنَا لاَ تُرْجَعُونَ‏}‏ ‏[‏المؤمنون ‏:‏ 115‏]‏‏.‏

وحدَّثنى أنه قرأها مرة في أُذن المصروع، فقالت الروح‏:‏ نعمْ، ومد بها صوته‏.‏ قال‏:‏ فأخذتُ له عصا، وضربتُه بها في عروق عنقه حتى كَلَّتْ يدَاىَ من الضرب، ولم يَشُكَّ الحاضرون أنه يموتُ لذلك الضرب‏.‏ ففى أثناء الضرب قالت‏:‏ أَنا أُحِبُّه، فقلتُ لها‏:‏ هو لا يحبك‏.‏ قالتْ‏:‏ أنَا أُريد أنْ أحُجَّ به‏.‏ فقلتُ لها‏:‏ هو لا يُرِيدُ أَنْ يَحُجَّ مَعَكِ، فقالتْ‏:‏ أنا أدَعُه كَرامةً لكَ، قال‏:‏ قلتُ‏:‏ لا ولكنْ طاعةً للهِ ولرسولِه، قالتْ‏:‏ فأنا أخرُجُ منه، قال‏:‏ فقَعَد المصروعُ يَلتفتُ يميناً وشمالاً، وقال‏:‏ ما جاء بى إلى حضرة الشيخ ‏؟‏ قالوا له‏:‏ وهذا الضربُ كُلُّه ‏؟‏ فقال‏:‏ وعلى أى شىء يَضرِبُنى الشيخولم أُذْنِبْ، ولم يَشعُرْ بأنه وقع به الضربُ ألبتة‏.‏

زاد١

زاد٢

زاد٣

زاد٤

زاد٥

زاد٦

اس واقعہ میں ابن تیمیہ (بد) روح نکالتے ہوئے اس قدر مآرتے کہ لوگ سمجھتے کہ شخص ہلاک ہو گیا ہے

 بد روح نکالنے کی کوئی صحیح حدیث نہیں لیکن اس کا باقاعدہ عمل ابن قیم بتاتے ہیں

جو چیز قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اس بد روح کو مریض میں سے نکالنے کے الفاظ ہیں  جو ایک بد عقیدگی ہے روح،  عالم البرزخ سے کسی اور روح والے جسم میں کیسے آ سکتی ہے؟ دوم اس بد روح والے عقیدے کو بہت سے اہل حدیث علماء مانتے ہیں مثلا عبد الرحمان کیلانی صاحب روح عذاب قبر اور سماع موتی میں اس کو بیان کرتے ہیں

کیلانی-بدروح

ابن تیمیہ اور ابن قیم دونوں روحوں کو کہیں مقید نہیں مانتے تھے ان کے مطابق روح پرندے کی مانند کہیں بھی آ جا سکتیں ہیں لہذا  کسی دوسرے جسم اس کا آنا کوئی مسئلہ نہیں

یہ سب نفسیاتی بیماریاں تھیں جن کو جن چڑھنا اور بد روحوں کا کسی دوسرے جسم پر قبضہ کہا جا رہا ہے اور اس طرح کے مرگی کے دورے نبی صلی الله علیہ وسلم کے دور میں بھی لوگوں کو پڑتے تھے جیسا کہ حدیث میں ایک عورت کے لئے اتا ہے لیکن کسی حدیث میں نہیں اتا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس مرگی زدہ عورت کی بیماری کو جن چڑھنا قرار دیا  ہو ابن قیم نے باب کے شروع میں یہی روایت دی لیکن پھر میں کہتا ہوں سے اپنے بدعتی عقیدے کو بیان کرنا شروع کر دیا

زاد٠

یہ روایت صحیح ہے اور اس میں مرگی کو بیماری بتایا ہے نہ کہ بد روح کا فعل

ہمارے نزدیک ابن تیمیہ اور ابن قیم کا بد روحوں پر عقیدہ  گمراہی ہے

 البانی اور جنات

البیہقی  کتاب سنن الکبری ج ٧ ص  ٧٣٣ ح   ١٥٥٧٠   بَابُ مَنْ قَالَ بِتَخْيِيرِ الْمَفْقُودِ إِذَا قَدِمَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّدَاقِ وَمَنْ أَنْكَرَهُ  میں روایت  نقل  کرتے ہیں

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، نا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ” أَنَّ رَجُلًا مِنْ قَوْمِهِ مِنَ الْأَنْصَارِ خَرَجَ يُصَلِّي مَعَ قَوْمِهِ الْعِشَاءَ فَسَبَتْهُ الْجِنُّ فَفُقِدَ فَانْطَلَقَتِ امْرَأَتُهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَصَّتْ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَسَأَلَ عَنْهُ عُمَرُ قَوْمَهُ فَقَالُوا: نَعَمْ خَرَجَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ فَفُقِدَ فَأَمَرَهَا ” أَنْ تَرَبَّصَ أَرْبَعَ سِنِينَ، فَلَمَّا مَضَتِ الْأَرْبَعُ سِنِينَ أَتَتْهُ فَأَخْبَرَتْهُ فَسَأَلَ قَوْمَهَا فَقَالُوا: نَعَمْ فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ فَتَزَوَّجَتْ فَجَاءَ زَوْجُهَا يُخَاصِمُ فِي ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ” يَغِيبُ أَحَدُكُمُ الزَّمَانَ الطَّوِيلَ لَا يَعْلَمُ أَهْلُهُ حَيَاتَهُ ” , فَقَالَ لَهُ: إِنَّ لِي عُذْرًا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: وَمَا عُذْرُكَ؟ قَالَ: خَرَجْتُ أُصَلِّي الْعِشَاءَ فَسَبَتْنِي الْجِنُّ فَلَبِثْتُ فِيهِمْ زَمَانًا طَوِيلًا فَغَزَاهُمْ جِنٌّ مُؤْمِنُونَ أَوْ قَالَ: مُسْلِمُونَ شَكَّ سَعِيدٌ فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ فَسَبَوْا مِنْهُمْ سَبَايَا فَسَبَوْنِي فِيمَا سَبَوْا مِنْهُمْ فَقَالُوا: نَرَاكَ رَجُلًا مُسْلِمًا وَلَا يَحِلُّ لَنَا سَبْيُكَ فَخَيَّرُونِي بَيْنَ الْمُقَامِ وَبَيْنَ الْقُفُولِ إِلَى أَهْلِي فَاخْتَرْتُ الْقُفُولَ إِلَى أَهْلِي فَأَقْبَلُوا مَعِي أَمَّا بِاللَّيْلِ فَلَيْسَ يُحَدِّثُونِي وَأَمَّا بِالنَّهَارِ فَعِصَارُ رِيحٍ أَتْبَعُهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ” فَمَا كَانَ طَعَامُكَ فِيهِمْ؟ ” قَالَ: الْفُولُ وَمَا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ , قَالَ: فَمَا كَانَ شَرَابُكَ فِيهِمْ؟ قَالَ: الْجَدَفُ قَالَ قَتَادَةُ: وَالْجَدَفُ مَا لَا يُخَمَّرُ مِنَ الشَّرَابِ قَالَ: فَخَيَّرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَ الصَّدَاقِ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ ” قَالَ سَعِيدٌ: وَحَدَّثَنِي مَطَرٌ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ [ص:733] عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلَّا أَنَّ مَطَرًا زَادَ فِيهِ قَالَ: أَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ أَرْبَعَ سِنِينَ وَأَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى  بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری  عشاء کی نماز پڑھنے نکلے کہ جنوں نے ان کو اغوا کر لیا  پس ان کی بیوی  چار سال بعد عمر رضی الله عنہ کے پاس آئی اور کہا کہ میرا شوہر مفقود ہے ….  پھر مومن جنوں نے کافر جنوں پر حملہ کیا اور ان صاحب کو چار سال بعد آزاد کرایا

اس کی سند میں عبد الوهاب بن عطاء الخفاف ، أبو نصر العجلى مولاهم البصرى المتوفی ٢٠٤ ھ   جن کو امام بخاری اور  النسائى  ليس بقوى  قوی نہیں کہتے ہیں. امام احمد ضَعِيْفُ الحَدِيْثِ، مُضْطَرِبٌ کہتے ہیں اور ایک قول ثقہ کا بھی ہے. کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل  میں خطیب ان کو مدلس کہتے ہیں.  میزان الاعتدال کے مطابق الرازي کہتے ہیں : كان يكذب، جھوٹ بولتا تھا

البانی کتاب إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل میں اس روایت کو صحیح کہتے ہیں

قلت: وإسناده من طريق قتادة والجريرى صحيح , وأما طريق مطر وهو الوراق فإنه ضعيف

البانی کہتے ہیں میں کہتا ہوں اس کی سند قتادة اور الجريرى کے طرق سے صحیح ہے لیکن مطر الوراق والا طرق ضعیف ہے

جن چڑھنے کا عقیدہ بہت سے علماء نے قبول کیا حالانکہ اس کے اثبات میں روایات نہایت کمرور ہیں

الله ہم سب کو ہدایت دے اور گمراہی سے بچائے

ابن قیم کتاب الروح میں لکھتے ہیں

فصل وَأما قَول من قَالَ إِن أَرْوَاح الْمُؤمنِينَ فِي عليين فِي السَّمَاء السَّابِعَة وأرواح الْكفَّار فِي سِجِّين فِي الأَرْض السَّابِعَة فَهَذَا قَول قد قَالَه جمَاعَة من السّلف وَالْخلف وَيدل عَلَيْهِ قَول النَّبِي اللَّهُمَّ الرفيق الْأَعْلَى وَقد تقدم حَدِيث أَبى هُرَيْرَة أَن الْمَيِّت إِذا خرجت روحه عر ج بهَا إِلَى السَّمَاء حَتَّى يَنْتَهِي بهَا إِلَى السَّمَاء السَّابِعَة الَّتِي فِيهَا الله عز وَجل وَتقدم قَول أَبى مُوسَى أَنَّهَا تصعد حَتَّى تَنْتَهِي إِلَى الْعَرْش وَقَول حُذَيْفَة أَنَّهَا مَوْقُوفَة عِنْد الرَّحْمَن وَقَول عبد الله بن عمر إِن هَذِه الْأَرْوَاح عِنْد الله وَتقدم قَول النَّبِي أَن أَرْوَاح الشُّهَدَاء تأوي إِلَى قناديل تَحت الْعَرْش وَتقدم حَدِيث الْبَراء بن عَازِب أَنَّهَا تصعد من سَمَاء إِلَى سَمَاء ويشيعها من كل سَمَاء مقربوها حَتَّى يَنْتَهِي بهَا إِلَى السَّمَاء السَّابِعَة وَفِي لفظ إِلَى السَّمَاء الَّتِي فِيهَا الله عز وَجل

وَلَكِن هَذَا لَا يدل على استقرارها هُنَاكَ بل يصعد بهَا إِلَى هُنَاكَ للعرض على رَبهَا فَيقْضى فِيهَا أمره وَيكْتب كِتَابه من أهل عليين أَو من أهل سِجِّين ثمَّ تعود إِلَى الْقَبْر للمسألة ثمَّ ترجع إِلَى مقرها الَّتِي أودعت فِيهِ فأرواح الْمُؤمنِينَ فِي عليين بِحَسب مَنَازِلهمْ وأرواح الْكفَّار فِي سِجِّين بِحَسب مَنَازِلهمْ

بیان کہ کہنے والے کا قول بے شک  ارواح المومنین عليين  میں ساتویں آسمان پر ہیں اور کفّار کی اورح سجین میں ساتویں زمین میں ہیں پس یہ قول ہے جو سلف و خلف نے کہا ہے اور اس پر دلالت کرتا ہے نبی کا قول کہ اللَّهُمَّ الرفيق الْأَعْلَى اور پیش کی ہے ابو ھریرہ کی حدیث کہ جب میت کی روح نکلتی ہے تو وہ آسمان  پر چڑھتی ہے یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتی ہے جس پر الله عز وَجل ہے اور پیش کرتے ہیں ابو موسیٰ کا قول کہ وہ اوپر جاتی ہے یہاں تک کہ عرش تک اور حذیفہ کا قول کہ وہ رحمان کے پاس رکی ہوئی ہے اور عبد الله ابن عمر کا قول کہ بے شک یہ ارواح الله کے پاس ہیں اور نبی کا قول ہے کہ شہداء کی ارواح قندیلوں میں عرش رحمان کے نیچے ہیں اور الْبَراء بن عَازِب کی حدیث پیش کرتے ہیں کہ یہ ارواح ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک جاتی ہیں .. یہاں تک کہ ساتویں آسمان تک پہنچتی ہیں جس پر الله عز وَجل ہے

لیکن یہ اس پر دلالت نہیں کرتیں کہ ارواح وہاں روکتی بھی ہیں بلکہ وہ تو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لئے چڑھتی ہیں پس ان کا فیصلہ ہوتا ہے  اور ان کی کتاب اہل عليين یا اہل سجیں میں لکھی  جاتی ہے پھر قبر میں لوٹایا جاتا ہے سوال کے لئے پھر لوٹایا جاتا ہے اور انکی جگہ جمع کیا جاتا ہے  ، پس ارواح المومنین عليين میں حسب منازل ہوتی ہیں اور کفار کی ارواح سجین میں حسب منازل ہوتی ہیں

ارشد کمال ص ٨٨ پر لکھتے ہیں

arshad-88

روح کا ٹھکانہ  کیا ہوتا ہے ابن قیم کے نزدیک یہ اہم نہیں بلکہ ابن قیم کے مطابق روحیں قبروں میں اتی جاتی رہتی ہیں ، نہ صرف یہ بلکہ نیک لوگوں کی روحیں تو بہت پاور فل ہیں کتاب الروح میں لکھتے ہیں

وَقد رأى رَسُول الله مُوسَى قَائِما يصلى فِي قبر وَرَآهُ فِي السَّمَاء السَّادِسَة وَالسَّابِعَة فإمَّا أَن تكون سريعة الْحَرَكَة والانتقال كلمح الْبَصَر وَإِمَّا أَن يكون الْمُتَّصِل مِنْهَا بالقبر وفنائه بِمَنْزِلَة شُعَاع الشَّمْس وجرمها فِي السَّمَاء وَقد ثَبت أَن روح النَّائِم تصعد حَتَّى تخترق السَّبع الطباق وتسجد لله بَين يَدي الْعَرْش ثمَّ ترد إِلَى جسده فِي أيسر زمَان وَكَذَلِكَ روح الْمَيِّت تصعد بهَا الْمَلَائِكَة حَتَّى تجَاوز السَّمَوَات السَّبع وتقف بَين يَدي الله فتسجد لَهُ وَيقْضى فِيهَا قَضَاء ويريها الْملك مَا أعد الله لَهَا فِي الْجنَّة ثمَّ تهبط فَتشهد غسله وَحمله وَدَفنه وَقد تقدم فِي حَدِيث الْبَراء بن عَازِب أَن النَّفس يصعد بهَا حَتَّى توقف بَين يَدي الله فَيَقُول تَعَالَى اكتبوا كتاب عبدى فِي عليين ثمَّ أعيدوه إِلَى الأَرْض فيعاد إِلَى الْقَبْر وَذَلِكَ فِي مِقْدَار تَجْهِيزه وتكفينه فقد صرح بِهِ فِي حَدِيث ابْن عَبَّاس حَيْثُ قَالَ فيهبطون على قدر فَرَاغه من غسله وأكفانه فَيدْخلُونَ ذَلِك الرّوح بَين جسده وأكفانه

 اور بے شک رسول الله نے موسیٰ کو اپنی قبر میں نماز پڑھتے دیکھا اور ان کوچھٹے اور ساتویں آسمان پر بھی دیکھا پس یہ روح سریع الحرکت اور ٹرانسفر ہوتی ہے جیسا کہ پلک جھپکتے میں ہوتا ہے اور یا پھر یہ قبر سے متصل ہوتی ہے  جس طرح سورج کی کرن (کہ زمین پر بھی پڑتی ہے)  اور آسمان میں بھی ہوتی ہے اور بے شک یہ ثابت ہے کہ سونے والے کی روح آسمان میں چڑھتی ہے اور ساتوں طبق میں جاتی ہے اور الله کو عرش کے سامنے سجدہ کرتی ہے پھر اسکو جسد میں لوٹایا جاتا ہے آسان اوقات میں (یعنی صبح ہونے پر) اور اسی طرح میت کی روح  کہ فرشتے اس کو آسمان پر چڑھاتے ہیں حتی کہ سات آسمان پار کر جاتی ہے اور الله کے سامنے رکتی ہے اور سجدہ کرتی ہے  اور اس کا فیصلہ کیا جاتا ہے بادشاہ نے جو مقرر کیا ہوتا اس کے مطابق جنت کی سیر کرتی ہے پھر یہ اترتی ہے اور اپنا غسل اور (جنازہ) اٹھانا اور دفنانا دیکھتی ہے … اور یہ روح جسد اور کفن کے درمیان داخل کی جاتی ہے

ابن قیم کہتے ہیں کہ میت سنتی ہے اور روح کا جسد سے اتصال اس سے ثابت ہوتا ہے کہ

وَلها اتِّصَال بِالْبدنِ بِحَيْثُ إِذا سلم الْمُسلم على الْمَيِّت رد الله عَلَيْهِ روحه فَيرد عَلَيْهِ السَّلَام

اور اس کا بدن سے اتصال بے اس طور سے کہ جب کوئی مسلم میت کو سلام کرے تو روح پلٹتی ہے تاکہ سلام کا جواب دے

 

یہ بھی کہتے ہیں

قَالَ مَالك وَغَيره من الْأَئِمَّة أَن الرّوح مُرْسلَة تذْهب حَيْثُ شَاءَت

اور امام مالک اور دیگر کہتے ہیں کہ روح مر سلہ جہاں جانا چاہتی ہے جاتی ہے  

ہمارے نزدیک یہ اقوال بذات خود ثابت نہیں

ان اقوال کو پیش کرنے کا مقصد ہے کہ ابن تیمیہ اور ابن قیم کا عقیدہ جن بنیادوں پر کھڑا ہے اس کو ماننے اور ان کے نتائج کا انکار کرنے سے کوئی فائدہ نہیں جیسا کہ اہل حدیث حضرات کا گمان ہے

روح کا قبر میں اتصال کا مطلب یہ نہیں یہ روح کوئی مقید شے ہے جو اب سجین یا علیین میں ہی رہے گی بلکہ وہ تو جہاں جانا چاہے گی جائے گی اور جب کوئی قبر پر پکارے گا تو دو عالم میں جہاں بھی ھو واپس قبر میں جسد میں عود کرے گی سلام کا جواب دےگی اگر کسی احمق کو یہ گمان ھو کہ یہ سب اتنے جلدی کیسے ھو گا تو وہ جان لےکہ روح اوپر جانے اترنے میں بہت سریع الحرکت ہے

یہ ہے ابن قیم کا عقیدہ جس کو کانٹ چھانٹ کرآج اہل حدیث حضرات اپنا مدعا ثابت کرتے ہیں

چند سال قبل تک ان کا عقیدہ وہ نہیں تھا جو اب بیان کیا جاتا ہے  فتاوی  ثناء الله امرتسری فتوی دیتے ہیں

ثناء مردے سے تعلق

ثناء مردے سے تعلق٢

یہی جب تک جسم ہے روح کا تعلق رہتا ہے لیکن اب اہل حدیث کہتے ہیں عذاب مردے کو ہوتا ہے

تعویذ ، گنڈا ، توله شرک ہے

اک وقت تھا جب اس امّت کا چار دانگ عالم میں رعب تھا – ایمان کا نور تھا – علماء نفس پرست اور شکم پرور نہ تھے – اگر کسی کا خوف تھا تو وہ صرف الہ واحد کا تھا – کسی بھی نقصان اور تکلیف کو با ذن الله سمجھا جاتا تھا – آج جو اس امت کا حال ہے وہ سب کے سامنے ہے – ایک مشکل اور پریشان حال کیفیت ہے – اغیار تو اغیار خود ہم مذہب بھی مارتے ہیں – الغرض ہر طرف ایک بے کلی و بے بسی کی سی کیفیت ہے

سب سے افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ  ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ  یہ امّت قوم یونس کی طرح الله کی طرف پلٹی اور اس سے لو لگاتی ، اس امّت کے سواد ا عظم نے یہ مان لیا ہے کہ  مصیبت  میں الله کے بجاے دوسروں کو پکارا جائے الله کے علاوہ غیر الله کی خوشنودی حاصل کی جائے اور الله  کے کلام اور اسما الحسنیٰ  کو گلے میں لٹکایا جائے – الله کے کلام کو پانی پر پھونکا جائے – امّت کے ان عجیب و غریب  اعمال کی اصلاح کی ذمہ داری علماء کی تھی – شومئی  قسمت  علماء نے تو خود اس گمراہی کو بڑوھتی  دی ہے اور اس امّت کی قد آور شخصیات نے نہ صرف تعویذ سے متعلق عقائد کو محراب و منبر سے بیان کیا ہے بلکہ اس کے جائز ہونے پر فتوے اور کتابیں لکھیں ہیں

تعویذ :تعویذ کا مطلب ہے جس کے زریعے پناہ لی جائے – عرف عام میں اس سے مراد ہوتا ہے کہ قرآنی یا غیر قرآنی آیات پر مشتمل ورق کو چمڑے میں سی کر گلے یا جسم کے کسی اور جز میں باندھا جائے -تعویذ کسی صورت جسم سے علیحدہ نہیں کیا جاتا حتیٰ کہ اسی حالت میں بیت الخلا ء بھی جاتے ہیں – نا پاکی کی حالت میں بھی یہ جسم پر لٹکا ہوتا ہے-

گنڈا : دھاگے پر کلمات پڑھنے کے بعد جسم سے باندھا جاتا ہے – یہ طریقہ ہندووں کے ہاں مروج ہے اور بر صغیر میں معروف ہے

حالانکہ سوره الفلق میں گرہ لگا کر پھونکنے والیوں کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے

تولہ : محبت کا تعویذ جو سحر کی ایک قسم ہے

تصوف  کی ایجاد کے بعد صحیح و غلط کی تمیز باقی نہ رہی  لہذا جہاں اور بد عقید گیاں  اور بد عات  تراشی گئیں وہیں اس امّت میں تعویذ بھی لٹکانے گے – واضح رہے کہ الله کے نبی کا واضح حکم ہے کہ

إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ  سنن ابی داود

 بے شک منتر اور  تعویذ اور توله شرک ہیں

ابن قتیبہ کہتے ہیں  کہ محدث   أبي عبيد جنہوں نے احادیث کے مشکل الفاظ پر کتاب لکھی ہے ان کے مطابق  حدیث کے لفظ  التَّمَائِمَ سے مراد  تعویذ ہے جو گلے میں لٹکایا جائے

قال أبو محمد ابن قتيبة في إصلاح الغلط ص 54: وهذا يدل أن التمائم عند أبي عبيد المعاذات التي يكتب فيها وتعلق

یہی نقطۂ نظر عربی زبان کے معروف محقق الخليل الفراهيدي  کا ہے جو اپنی کتاب کتاب العین میں لکھتے ہیں

التميمة: قلادة من سيور، وربما جعلت العوذة التي تعلق في أعناق الصبيان

التميمة: کانٹوں کا قلادہ ، اورہو سکتا ہے کہ بنایا جائے ایک بچانے والی شے جس کو بچوں کے گلے میں لٹکایا جائے

عصر حاضر کے اک محقق ناصر الدین  البانی اپنی تالیف الصحیحہ میں تبصرہ کرتے ہیں کہ

التمائم : جمع تميمة واصلها خرزات تعلقها العرب على رأس الولد لدفع العين ثم توسعوا فيها فسموا بها كل عوذة . ومن ذلك تعليق نعل الفرس أو الخرز الأزرق وغيره . والأرجح أنه يدخل في المنع أيضا الحجب إذا كانت من القرآن أو الأدعية الثابت

التمائم : تميمة کی جمع ہے اور اصلاً گھونگھے ہیں جو عرب اپنے اولاد کے سروں پر دفع نظر بد کے لیے لٹکاتے تھے پھر اس میں وسعت ہوئی اور یہ نام ہوا ہر اس چیز کا جس کے ذریعے پناہ لی جائے – اور اس میں شامل ہے گھوڑے کی نعل اور نیلے گھونگھے اور راجح ہے کہ منع میں شامل ہے حفاظت چاہے قرآن سے ہو یا ثابت دعاؤں سے

معلوم ہوا کہ قدیم محدثین اور موجودہ محققین سب اس پر متفق ہیں کہ تعویذ سے مراد قرآنی تعویذ بھی ہیں – ان واضح نصوص کے باوجود کچھ حضرات کا اصرار ہے کہ تميمة کے مہفوم  کو صرف گھونگوں اور کانٹوں تک ہی محدود کر دیا جائے حالانکہ ان کے پاس اس محدودیت کی نہ کوئی دلیل ہے نہ کوئی برہان – حقیقت میں یہ مطالبہ محبوب شخصیا ت کے دفاع کے لیے کیا جاتا ہے

امام احمد بن حنبل امّت کی مشہور شخصیت ہیں – معتزلہ کی فلسفیا نہ  موشگافیوں کے خلاف تقریباً تمام محدثین تھے لیکن ساکن بغداد ہونے کی وجہ سے عباسی خلفاء کی خاص توجہ ان پر مذکور رہی – امام احمد اپنے موقف پر ڈٹے رہے – اس بنا پر اپنے زمانے میں بہت  مشہور ہوۓ اور  پھر  اسی شہرت کے  سحر کے زیر اثر امام بخاری کو بد عقیده تک قرار دیا

امّت کو امام احمد کی شحصیت پرستی سے نکلنے  کے لئے امام بخاری نے کتاب  خلق أفعال العباد لکھی جس میں  نہ  صرف  معتزلہ  بلکہ  امام  احمد  کے  موقف  سے  ہٹ  کر  وضاحت  کی گئی

امام بخاری نے امام احمد کا نام   صرف  چار مقام پر صحیح بخاری میں لکھا اور وہ بھی امام احمد کی  سطحی  علمیت کو ظاہر کرنے کے لئے – گھر کے بھیدی امام احمد کے اپنے بیٹے عبدللہ بن احمد اپنی کتاب السنة  میں لکھتے ہیں

سألت أبي رحمه الله قلت : ما تقول في رجل قال : التلاوة مخلوقة وألفاظنا بالقرآن مخلوقة والقرآن كلام الله عز وجل وليس بمخلوق ؟ وما ترى في مجانبته ؟ وهل يسمى مبتدعا ؟ فقال : » هذا يجانب وهو قول المبتدع ، وهذا كلام الجهمية ليس القرآن بمخلوق

میں نے اپنے باپ احمد سے پوچھا : آپ کیا کہتے ہیں اس شخص کے بارے میں جو کہتا ہے کہ قرآن کی تلاوت اور الفاظ مخلوق ہیں اور قرآن الله عز وجل کا کلام غیر مخلوق ہے – اس کے قریب جانے پر آپ کیا کہتے ہیں اور کیا اس کو بدعتی کہا جائے گا ؟ امام احمد نے جواب میں کہا اس سے دور رہا جائے اور یہ بد عت والوں کا قول ہے اور الجهمية کا قول ہے- قرآن مخلوق نہیں

یہاں شخص سے مراد امام بخاری میں کیونکہ یہ ان ہی کا موقف تھا کا الفاظ قرآن مخلوق ہیں لیکن قرآن الله کا کلام غیر مخلوق ہے

    

امام احمد نے خلق القرآن کے اپنے مواقف میں وسعت پیدا کی اور بات یہاں تک پہنچی  کہ قرآن کی آیات کودھو دھو کر پیا جائے اور با وجود یہ کہ یہ اک بدعت تھی انہوں نے ہی اس شجر کی آبیاری کی

امام احمد ہی کے  فرزند نے اپنے باپ سے پوچھے گئے فتووں  پر کتاب تالیف کی جس کا نام المسائل امام احمد بن حنبل ہے اس میں امام احمد نے با قاعدہ تعویذ بتایا کہ

كِتَابَةالتعويذة للقرع والحمى وللمراة اذا عسر عَلَيْهَا الْولادَة

1622 – حَدثنَا قَالَ رَأَيْت ابي يكْتب التعاويذ للَّذي يقرع وللحمى لاهله وقراباته وَيكْتب للمراة اذا عسر عَلَيْهَا الْولادَة فِي جَام اَوْ شَيْء لطيف وَيكْتب حَدِيث ابْن عَبَّاس

کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ کو تعویذ لکھتے دیکھا گنج پن ، بیماری یا درد زہ کے لئے – خاندان والو اور رشتہ داروں کے لئے اور ان عورتوں کے لئے جن کو جںنے میں دشواری ہو ان کے لئے وہ ایک برتن یا باریک کپڑے پر ابن عبّاس کی روایت لکھتے تھے

امام احمد کا دفاع کرنے والوں نے ایک عجیب و غریب موقف اختیار کیا ہوا ہے کہ امام احمد تعویذ کیسے بتا سکتے ہیں جبکہ اپنی مسند احمد میں وہ خود تعویذ کے رد میں روایات بیان کرتے ہیں – شخصیت پرستی بھی بری شے ہے جو عقل سلب کر لیتی ہے . امام احمد نے مسند کو ہر طرح کے رطب و یابس سے بھر دیا ہے چاہے وہ شیعت کے حق میں روایات ہو یا اس کے خلاف –  ان کا سارا زور ایک ضخیم مسند لکھنے پر ہی رہا ہے

ابی داوود مسائل الإمام أحمد رواية أبي داود السجستاني میں کہتے ہیں کہ میں نے

رَأَيْتُ عَلَى ابْنٍ لِأَحْمَدَ، وَهُوَ صَغِيرٌ تَمِيمَةً فِي رَقَبَتِهِ فِي أَدِيم

میں نے احمد کے بیٹے جبکہ وہ چھوٹے تھے ایک تعویذ گلے میں دیکھا

بن باز فتوی میں کہتے ہیں

http://aliftaweb.org/Urdo/Pages/PermanentCommittee.aspx?languagename=ur&View=Page&PageID=130&PageNo=1&BookID=3

اور جہاں تک کاغذ یا تختی یا پلیٹ پر قرآنی آیات یا مکمل سورت لکھنے، اور پھر اس کو زعفران یا پانی سے دھو کر برکت، یا علم سے استفادہ یا آمدنی کے وسائل کی فراوانی، یا صحت وعافیت وغیرہ کی امید اس دھلے پانی کو پینے کا سوال ہے، تو اس بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ نے اس طرح اپنے لئے یا کسی اور کے لئے کیا ہو، اور نہ آپ نے اپنے صحابہ میں کسی کو اس طرح کرنے کی اجازت دی ہے، اور نہ آپ نے اپنی امت کو اس میں چھوٹ دی ہے، جب کہ اس طرح کئے جانے کے بہت سے اسباب موجود تھے، نیز ہمارے علم کے مطابق صحابہ رضی الله عنهم سے منقول صحیح اقوال میں کسی سے یہ ثابت ہے کہ انہوں نے اس طرح کیا ہے اور کسی کو اس کی چھوٹ دی ہے، اس مذکورہ تفصیل کی روشنی میں اس کام کو چھوڑنا ہی بہتر ہے،

كتاب الفروع ومعه تصحيح الفروع لعلاء الدين علي بن سليمان المرداوي میں صاحب کتاب بتاتے ہیں کہ
وَقَالَ الْمَيْمُونِيُّ: سَمِعْت مَنْ سَأَلَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عَنْ التَّمَائِمِ تُعَلَّقُ بَعْدَ نُزُولِ الْبَلَاءِ فَقَالَ: أَرْجُو أَنْ لَا يَكُونَ بِهِ بَأْسٌ

میمونی کہتے ہیں کہ میں نے سنا جس نے احمد سے تعویذ کے بارے میں سوال کیا آفت نازل ہونے کے بعد پس انہوں نے کہا : امید ہے کہ اس میں کوئی برائی نہیں

قَالَ الْخَلَّالُ: قَدْ كَتَبَ هُوَ مِنْ الْحُمَّى بَعْدَ نُزُولِ الْبَلَاءِ، وَالْكَرَاهَةُ مِنْ تَعْلِيقِ ذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِ الْبَلَاءِ
الخلال کہتے ہیں: احمد بخار کے لئے لکھتے تھے آفت آنے کے بعد اور کراہت کرتے تھے تعویذ آفت آنے سے پہلے لٹکانے پر

بیہقی سنن الکبریٰ میں عائشہ رضی الله تعالیٰ عنہا سے روایت بیان کرتے ہیں کہ

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ , ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَيْسَتْ التَّمِيمَةُ مَا يُعَلَّقُ قَبْلَ الْبَلَاءِ إنَّمَا التَّمِيمَةُ مَا يُعَلَّقُ بَعْدَ الْبَلَاءِ لِتَدْفَعَ بِهِ الْمَقَادِيرَ

تعویذ نہیں جو آفت سے پہلے لٹکایا جائے بلکہ تعویذ تو وہ ہے جو آفت کے بعد دفع کے لئے لٹکایا جائے

اس کے برعکس حاکم مستدرک میں روایت بیان کرتے ہیں

وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «لَيْسَتِ التَّمِيمَةُ مَا تَعَلَّقَ بِهِ بَعْدَ الْبَلَاءِ، إِنَّمَا التَّمِيمةُ مَا تَعَلَّقَ بِهِ قَبْلَ الْبَلَاءِ

عائشہ رضی الله روایت کرتی ہیں کہ تعویذ نہیں جو آفت کے بعد  لٹکایا جائے بلکہ تعویذ تو وہ ہے جو آفت سے پہلے  لٹکایا جائے

اس روایت کی صحت کی بحث سے قطع نظر جو چیز واضح ہے وہ یہ کہ مسلک پرستوں کی مسلمہ شخصیت ( یعنی امام بیہقی ) بھی آفت آنے کے بعد تعویذ کی مخالفت کرتی ہیں – اس نقطہ نظر کے حساب سے بھی امام احمد کا عمل درست نہیں   

امام ابن تیمیہ نے فتویٰ دیا کہ تعویذ جائز ہے  فتاویٰ ابن تیمیہ جلد ١٩ ص ٦٤ -٦٥

عبد القادر جیلانی نے غنیہ الطالبین میں امام احمد کے حوالے سے بخار کا تعویذ لکھا

شاہ ولی الله نے قول الجمیل میں میں اصحاب کہف کے  ناموں پر مبنی تعویذ پیش کیا

امّت کی ان جیسی  قد آور شخصیات نے جب تعویذ لکھے تو پھر کوئی اور کیوں نہ لکھے – لہذا اہل حدیث حضرت نے اس گمراہی کو  پھیلانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا –  حافظ محمد لکھو نے  اپنی تصنیف زینت السلام میں اصحاب کہف کے  ناموں پر مبنی تعویذ پیش کیا

سوال یہ ہے کہ کس صحابی نے گلے میں تعویذ  لٹکاے ؟ کس نبی نے تعویذ پہنا – اور جس نبی پر قرآن نازل ہوا کیا اس کے دانت شہید نہ ہوۓ ؟

واضح رہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے دم کرنے کی اجازت دی تھی کیونکہ دم دعا کے مترادف ہے  لہذا وہ دم جن میں شرکیہ الفاظ نہ ہوں ان کی اجازت دی گئی ہے –

اس کے برعکس تعویذ ایک شے ہے جو لٹکائی جاتی ہے

تعویذ اگر اسی ہی کارگر شے ہوتا تو الله کے نبی نے بتایا بھی ہوتا جبکے اس کے برعکس نبی صلی الله علیہ وسلم سے قولی حدیث میں اس کی ممانعت آ رہی ہے

ایک مشھور روایت ہے

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا حسين بن على الجعفي عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن أبي الأشعث الصنعاني عن أوس بن أبي أوس قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أفضل أيامكم يوم الجمعة فيه خلق آدم وفيه قبض وفيه النفخة وفيه الصعقة فاكثروا على من الصلاة فيه فان صلاتكم معروضة على فقالوا يا رسول الله وكيف تعرض عليك صلاتنا وقد أرمت يعنى وقد بليت قال إن الله عز و جل حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء صلوات الله عليهم

عبدللہ کہتے ہیں میرے باپ کہتے ہیں ہم سے حسين بن على الجعفي نے روایت بیان کی انہوں نے عبد الرحمن بن يزيد بن جابر سے  اور انہوں نے أبي الأشعث الصنعاني سے   انہوں نے  أوس بن أبي أوس  کہ رسول الله نے فرمایا تمھارے بہترین دنوں میں جمعہ کا دن ہے اس دن آدم تخلیق ہوئے اور اس دن ان کی وفات ہوئی اور اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور اس دن  الصعقة  (کڑک) ہو گی پس میرے اوپر کثرت سے درود پڑھو کیونکہ یہ مجھ پر پیش ہو گا ہم نے پوچھا ایسا کیسے ہو گا جبکہ آپ مٹی ہو جائیں گے آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک الله نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ انبیاء کے جسموں کو کھائے

مسند احمد ج ٤ ص ٨ ، سنن ابو داود ج٣ ص ٤٠٤، سنن نسائی ج ١ ص ١٠١ ، سنن ابن ماجہ ج ٣ص  ٤٤٧ میں روایت بیان ہوئی ہے

 اس روایت کی سند مسند احمد میں ہے

 حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا حسين بن على الجعفي عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر

 اس روایت کے دو اہم راوی حسين بن على الجعفي  اور عبد الرحمن بن يزيد بن جابر ہیں

امام بخاری کا موقف

 امام بخاری نے اس روایت کا تعاقب کیا ہے  (تاریخ الصغیر ج ٢ ص ١٠٩ ، تاریخ الکبیر ج ٥ ص ٣٦٥ ) اور کہا ہے کہ اس کی سند صحیح نہیں اہل کوفہ  نے نام تبدیل کیا ہے اور کہا ہے  عبد الرحمن بن يزيد بن جابر جبکہ یہ  عبد الرحمن بن يزيد بن تمیم ہے

 امام ابن ابی حاتم کا موقف

امام ابن ابی حاتم نے کتاب العلل الحدیث ج ١ ص ١٩٧ میں لکھتے ہیں

وأمّا حُسينٌ الجُعفِيُّ : فإِنّهُ روى عن عَبدِ الرّحمنِ بنِ يزِيد بنِ جابِرٍ ، عن أبِي الأشعثِ ، عن أوسِ بنِ أوسٍ ، عنِ النّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي يومِ الجُمُعةِ ، أنّهُ قال : أفضلُ الأيّامِ : يومُ الجُمُعةِ ، فِيهِ الصّعقةُ ، وفِيهِ النّفخةُ وفِيهِ كذا وهُو حدِيثٌ مُنكرٌ ، لا أعلمُ أحدًا رواهُ غير حُسينٍ الجُعفِيِّ وأمّا عبدُ الرّحمنِ بنُ يزِيد بنِ تمِيمٍ فهُو ضعِيفُ الحدِيثِ ، وعبدُ الرّحمن بنُ يزِيد بنِ جابِرٍ ثِقةٌ.

 اور جہاں تک  حُسينٌ الجُعفِيُّ  کا تعلق ہے پس یہی وہ راوی ہے جس نے عَبدِ الرّحمنِ بنِ يزِيد بنِ جابِرٍ ، عن أبِي الأشعثِ ، عن أوسِ بنِ أوسٍ ، عنِ النّبِيِّ صلى الله عليه وسلم  (کس سند سے) جُمُعةِ کے دن پر روایت کی ہے کہ اس دن الصّعقةُ اور النّفخةُ ہو گا جو ایک حدیث منکر ہے اور میں نہیں جانتا کسی نے روایت کیا ہو سوائے اس حُسينٌ الجُعفِيُّ   کے. اور جہاں تک عبدُ الرّحمنِ بنُ يزِيد بنِ تمِيمٍ کا تعلق ہے تو وہ ضعیف الحدیث ہے اور عبدُ الرّحمنِ بنُ يزِيد بنِ جابر ثقہ ہے

 امام البزاز المتوفی ٢٩٢ ھ کا موقف

 البزاز  المتوفی ٢٩٢ ھ کتاب مسند البزار المنشور باسم البحر الزخار میں اس روایت پر لکھتے ہیں

 وَهَذَا الْحَدِيثُ بِهَذَا اللَّفْظِ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا يَرْوِيهِ إِلَّا شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ، وَلَا نَعْلَمُ لَهُ طَرِيقًا غَيْرَ هَذَا الطَّرِيقِ عَنْ شَدَّادٍ، وَلَا رَوَاهُ إِلَّا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ وَيُقَالُ: إِنَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ هَذَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ، وَلَكِنْ أَخْطَأَ فِيهِ أَهْلُ الْكُوفَةِ أَبُو أُسَامَةَ وَالْحُسَيْنُ الْجُعْفِيُّ، عَلَى أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ لَا نَعْلَمُ رَوَى عَنْ أَبِي الْأَشْعَثَ، وَإِنَّمَا قَالُوا ذَلِكَ لِأَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ثِقَةٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ لَيِّنُ الْحَدِيثِ، فَكَانَ هَذَا الْحَدِيثُ فِيهِ كَلَامٌ مُنْكَرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: هُوَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ تَمِيمٍ أَشْبَهُ

 اور یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ کسی نے روایت نہیں کیے سوائے شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ کے اور اس سے حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ نے اور کہا ہے عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ اور یہ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بن تمیم ہے لیکن یہ غلطی ہے اہل کوفہ أَبُو أُسَامَةَ اورَالْحُسَيْنُ الْجُعْفِيُّ کی … اور انہوں نے یہ اس لئے کیا کیونکہ  عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ثقه ہے اور عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ بْنِ تمیم کمزور ہے اور اس حدیث میں منکر کلام ہے  جو نبی صلی الله علیہ وسلم سے منسوب ہے

 ابن رجب کا موقف

 ابن رجب کتاب شرح علل الترمذي ج ٢ ص ٨١٨ میں لکھتے ہیں

 وكذلك روى حسين الجعفي عن ابن جابر عن أبي الأشعث عن أوس بن أوس عن النبي ـ صلى الله عليه وسلم ـ. “أكثروا علي من الصلاة يوم الجمعة ـ الحديث” فقالت طائفة:هو حديث منكر، وحسين الجعفي سمع من عبد الرحمن بن يزيد بن تميم الشامي، وروى عنه أحاديث منكرة فغلط في نسبته.  وممن ذكر ذلك البخاري وأبو زرعة وأبو حاتم وأبو داود وابن حبان وغيرهم.

اور اسی طرح حسین الجعفي نے ابن جابر سے انہوں نے أبي الأشعث عن أوس بن أوس عن النبي صلی الله علیہ وسلم سے روایت کیا ہے مجھ پر جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھو حدیث پس ایک گروہ نے کہا کہ یہ منکر حدیث ہے اس کو عبد الرحمن بن يزيد بن تميم الشامي سے سنا ہے اور اس سے منکر حدیثیں نقل کی ہیں اور نسب میں غلطی کی ہے اور اس بات کا ذکر کیا ہے امام بخاری نے ابو زرعة اور أبو حاتم اور أبو داود اورابن حبان اور دوسروں نے

سعودی دائمی کمیٹی کا فتویٰ

اوس بن ابو اوس  سے ایک حدیث ذکرکی ہے ، جس کے آخر میں فرمایا کہ :  یقیناً اللہ تعالی نے زمین کے لئے یہ حرام کر رکھا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے جسموں کو کھائے اور امام ابو داود  اور ابن ماجہ  نے اپنی اپنی سنن میں اسی جیسی ایک حدیث صحیح سند کے ساتھـ روایت کیا ہے

محب الله شاہ راشدی کا موقف

کتاب فتاوی راشدیہ

rashdi-ajsam

موصوف نہ صرف روایت کو صحیح قرار دیتے ہیں بلکہ بخاری کی حدیث پر بھی برسے ہیں گویا امام بخاری کو ہی مناظرانہ انداز میں سبق پڑھا رہے ہیں  جو اس روایت کو معلول قررا دے چکے  ہیں

اسماعیل سلفی کا موقف

 اسماعیل سلفی لکھتے ہیں  میں نے اپنی گزارشات میں عرض کیا تھا کہ حیات انبیاءعلیہم السلام پر اجماع امت ہے گو احادیث کی صحت محل نظر ہے تاہم ان کا مفاد یہ ہےکہ انبیا علیہم السلام کے اجسام مبارکہ کو مٹی نہیں کھاتی۔ان اللہ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء (مسئلہ حیات النبی از مولانا اسماعیل سلفی، ص52)

 جہاں تک ان اللہ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء ٹکڑے کا تعلق ہے وہ صرف تین

سندوں سے مروی ہے اور تینوں مخدوش ہیں۔(حاشیہ مسئلہ حیات النبی از مولانا اسماعیل سلفی، ص37)

خواجہ محمد قاسم کتاب کراچی کا عثمانی مذھب میں لکھتے ہیں

qasim-jism

فتاوی علمائے حدیث ج  ٥ کے مطابق

شہداء کی لاش

 زبیر علی زئی کا موقف

اہل حدیثوں کے ایک محقق زبیر علی زئی کتاب فضائل درود و سلام  (جس کی اشاعت فروری ٢٠١٠ کی ہے) میں تعلیق میں ص ٦٥ اور ٦٦ پر لکھتے ہیں

zubair-65

زبیر علی زئی نے حاشیہ میں جس روایت کا حوالہ دیا ہے اس کا مکمل متن ہے

مصنف ابن ابی شیبہ کی   روایت ہے

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّهُمْ لَمَّا فَتَحُوا تُسْتَرَ قَالَ: فَوَجَدَ رَجُلًا أَنْفُهُ ذِرَاعٌ فِي التَّابُوتِ , كَانُوا يَسْتَظْهِرُونَ وَيَسْتَمْطِرُونَ بِهِ , فَكَتَبَ أَبُو مُوسَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِذَلِكَ , فَكَتَبَ عُمَرُ: «إِنَّ هَذَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالنَّارُ لَا تَأْكُلُ الْأَنْبِيَاءَ , وَالْأَرْضُ لَا تَأْكُلُ الْأَنْبِيَاءَ , فَكَتَبَ أَنِ انْظُرْ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ يَعْنِي أَصْحَابَ أَبِي مُوسَى فَادْفِنُوهُ فِي مَكَانٍ لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ غَيْرُكُمَا» قَالَ: فَذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو مُوسَى فَدَفَنَّاهُ

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ سے  وہ أَنَسٍ رضی الله عنہ سے روایت  کرتے ہیں کہ جب (فارس کا شہر) تستر فتح ہوا تو ایک لمبی ناک والا آدمی (لاشہ) ملا جو تابوت میں تھا  وہ  اس سے بارش طلب کرتے تھے… پس ابو موسیٰ رضی الله عنہ نے عمر بن خطاب کو لکھ بھیجا کہ کیا کیا جائے تو عمر رضی الله تعالی عنہ  نے لکھا یہ نبیوں میں سے ایک نبی ہے اور آگ انبیاء کو نہیں کھاتی اور نہ ہی  زمین انبیاء کو کھاتی ہے  پس ان کو ایسی جگہ دفن کرو جو کسی کو پتا نہ ہو

 یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ یہ بات خالصتا گمان کی بنیاد پر کہی گئی ہے  دوسرے اس بات کے بودہ پن کے لئے یہ ہی کافی ہے کہ خود خلیفہ عبدالملک کے دور میں عمر کا ایک قدم قبر سے باہر ظاہر ہو گیا تھا

اس کے خلاف قرآن کا فیصلہ بھی ہے کہ

و مَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ

ہم نے ان (انبیاء) کے ایسے جسم نہ بنائے جو کھاتے نہ ہوں اور نہ وہ ھمیشہ رہنے والے تھے

اس کے خلاف صحیح حدیث کا بھی فیصلہ ہے

 ابن آدم کے جسم کی کوئی چیز نہیں جو مٹی نہ کھائے سوائے عجب الذنب

یہ روایت کئی وجوہ پر نا قابل دلیل ہے

اول  ہم یہ کیسے مان لیں کہ حسبنا کتاب الله  (ہمارے لئے کتاب الله کافی ہے) کہنے والے عمررضی الله تعالی عنہ کا یہ عقیدہ ہو  گا کہ بنی آدم میں سے انبیاء کا جسد مٹی نہیں کھائے گی

دوئم اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کے اجساد سے بارش بھی طلب کی جا سکتی  ہے جو خلاف قرآن  بات  ہے  .اس نبی کے جسد سے بارش طلب کرنے پر ان کے ہاں زمانہ قدیم سے عمل جاری ہو گا کیونکہ یہ جسد دانیال کا بتایا جاتا ہے جو ایک بنی اسرائیلی  تھے ، یہودیوں نے ان کی مروجہ طریقے پر تدفین کیوں نہیں کی کہ جسد کو بس تابوت میں چھوڑ دیا اور وہ ایرانیوں کے ہاتھ لگ  گیا اور وہ اس سے بارش بھی طلب کرنے لگ گئے

محمد بن علي بن أحمد بن عمر بن يعلى، أبو عبد الله، بدر الدين البعليّ المتوفى ٧٧٨ ھ مختصر الفتاوى المصرية لابن تيمية میں بیان کرتے ہیں کہ

 ابن تیمیہ کہتے ہیں

وَكتب أَبُو مُوسَى إِلَى عمر رَضِي الله عَنهُ لما فتحُوا تستر ووجدوا على سَرِير بِبَيْت مَالهَا جسم دانيال وَكَانَ أهل تستر يستسقون بِهِ 

اور ابو موسی نے عمر کو لکھا جب تستر فتح ہوا اور ایک بستر پر دانیال کا جسم ملا اور اہل تستر اس کے  ذریعے بارش طلب کرتے 

سوئم  یہودی اپنے انبیاء کی جس قدر توقیر کرتے تھے کہ ان کی قبروں کو پوجتے تھے ایسے میں دانیال کا جسد ایرانیوں کے پاس سے برآمد ہونا بھی عجیب بات ہے

چہارم  آتش پرست لوگ اجساد سے طلب کیوں کریں گے ان کے ہاں تو جسد کو جلد از جلد پرندوں اور گدھوں کو کھلایا جاتا ہے یہ روایت خلاف واقعہ بھی ہے

پنجم  اس شہر کا نام شوشتر ہےجو معرب ہو کر تستر ہو گیا ہے

طبری تاریخ میں لکھتے ہیں

السوس، وهي مدينة بناها إلى جانب الحصن الذي في جوفه تابوت فيه جثة دانيال

 السوس وہ شہر ہے جس میں دانیال کا جسد تابوت میں ملا  تھا

بلاذری فتوح البلدان میں لکھتے ہیں

وسار أَبُو موسى إِلَى السوس  … ورأى أَبُو موسى في قلعتهم بيتا وعليه ستر فسأل عنه فقيل أن فيه جثة دانيال النَّبِيّ عَلَيْهِ السلام وعلى أنبياء اللَّه ورسله، فأنهم كانوا أقحطوا فسألوا أهل بابل دفعه إليهم ليستسقوا به ففعلوا، وكان بختنصر سبى دانيال وأتى به بابل فقبض بها، فكتب أَبُو موسى بذلك إِلَى عُمَر

دانیال کی لاش   سوس سے ملی  تھی اور سوس اور تستر دو الگ شہر ہیں

ہمیں کسی لاش کے ملنے یا نہ ملنے یا تستر یا شوشتر سے بحث نہیں ہمیں تو اس عقیدے پر اعتراض ہے  کہ وحی الہی  کے بغیر  عمر رضی الله تعالی عنہ  کے پاس کیا دلیل ہے کہ یہ جسد نبی کا ہے جبکہ ابو موسی رضی الله تعالی عنہ کو یہ پتا نہیں کہ یہ کسی نبی کا جسد ہو سکتا ہے

ابن کثیر کتاب  البداية والنهاية   میں لکھتے ہیں

وَقَالَ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عن أبى خلد بْنِ دِينَارٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ قَالَ لَمَّا افْتَتَحْنَا تُسْتَرَ وَجَدْنَا فِي مَالِ بَيْتِ الْهُرْمُزَانِ سَرِيرًا عَلَيْهِ رَجُلٌ مَيِّتٌ عِنْدَ رَأْسِهِ مُصْحَفٌ .. قُلْتُ مَنْ كُنْتُمْ تَظُنُّونَ الرَّجُلَ قَالَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ دَانْيَالُ قُلْتُ مُنْذُ كَمْ وَجَدْتُمُوهُ قَدْ مَاتَ قَالَ مُنْذُ ثَلَاثِمِائَةِ سَنَةٍ قُلْتُ مَا تَغَيَّرَ مِنْهُ شَيْءٌ قَالَ لَا إِلَّا شَعَرَاتٌ مِنْ قَفَاهُ إِنَّ لُحُومَ الْأَنْبِيَاءِ لَا تُبْلِيهَا الْأَرْضُ وَلَا تَأْكُلُهَا السِّبَاعُ. وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ إِلَى أَبِي الْعَالِيَةِ وَلَكِنْ إِنْ كَانَ تَارِيخُ وَفَاتِهِ مَحْفُوظًا مِنْ ثَلَاثِمِائَةِ سَنَةٍ فَلَيْسَ بِنَبِيٍّ بَلْ هو رجل صالح لأن عيسى بن مَرْيَمَ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ بِنَصِّ الْحَدِيثِ الَّذِي فِي الْبُخَارِيِّ

جب تستر فتح ہوا تو ایک لاش ملی جس کے اوپر مصحف رکھا تھا  …  ظن و گمان ہوا کہ یہ لاش دانیال کی ہے لوگوں سے پتہ کیا کہ یہ کب مرا کہا تین سو سال پہلے .. ابن کثیر کہتے ہیں کہ میں کہتا ہوں اسکی سند أَبِي الْعَالِيَةِ  تک صحیح ہے لیکن اگر یہ تاریخ  ٣٠٠ سال صحیح ہے تو یہ نبی نہیں ہو سکتا…  ہمارے نبی اور عیسیٰ کے ردمیان ٦٠٠ سال کا  فاصلہ ہے جیسا بخاری نے روایت کیاہے

 عمر رضی اللّہ تعالی عنہ کی روایت اہل حدیث علماء عمل میں نہیں مانتے

 فتاوي ثنائيہ ج ٢ ص ٢٥٢ کے الفاظ ہیں

ہم نے عمررضي الله  عنہ کا کلمہ نہيں پڑھا جو ان کي بات مانيں فتاوي ثنائيہ

حضرت عمررضي الله عنہ کے بہت سے مسائل حديث رسول الله  صلي الله عليہ وسلم کے خلاف

تھے فتاوي ثنائيہ

فتاوي ستاريہ جلد ٢ کے الفاظ ہیں

حضرت عمررضي الله  عنہ کا فتوي حجت نہيں

لیکن ضرورت ایجاد کی ماں ہے یہاں اپنے استدلال کے پائے چوبیں کی بے تمکنی کو دور کرنا ضروری ہے لہذا مصنف ابن ابی شیبہ میں موجود عمر رضی الله عنہ کی اس رائے کو  مان لیا گیا

افسوس ناک بات ہے کہ  حسن حدیث پر عقیدہ بنایا گیا ہے مولانا اسمعیل سلفی مسئلہ حیات النبی میں لکھتے ہیں

slfi-hasan-hadis.

نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پیش ہونے والی روایت کو امام بخاری رحمہ الله علیہ امام ابی حاتم رحمہ الله علیہ وغیرہ نے رد کیا اس کے بعد ڈاکٹر عثمانی اور اسمعیل سلفی نے رد کیا. بعض اہل حدیث علماء نے اس روایت کا دفاع کیا مثلا ابو جابر دامانوی اور مسعود بی ایس سی صاحب نے، لیکن اب ڈاکٹر عثمانی رحمہ الله علیہ کی برکت سے خواجہ قاسم اور زبیر علی زئی کو بھی اس کو رد کرنے کی توفیق ہوئی الحمدللہ. واضح رہے کہ حرمین کے وہابی علماء اور اہل سنت کے باقی علماء اسکو آبھی بھی صحیح مانتے ہیں بشمول البانی صاحب

 یوسف  علیہ السلام کی ہڈیاں

البانی  صاحب نے زیر بحث روایت  (إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء) کو کتاب الصحیحہ میں صحیح قرار دیا ہے اور اس ایک دوسری روایت کو بھی صحیح قرار دیا ہے جس میں ذکر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے خروج مصر کے وقت یوسف علیہ السلام کی ہڈیاں مصر سے نکال لیں تھیں

البانی کتاب سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها  ج ١ ص ٦٢٤ پر کہتے ہیں

كنت استشكلت قديما قوله في هذا الحديث ” عظام يوسف ” لأنه يتعارض بظاهره مع الحديث الصحيح: ” إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء ” حتى وقفت على حديث ابن عمر رضي الله عنهما. ” أن النبي صلى الله عليه وسلم لما بدن، قال له تميم الداري: ألا أتخذ لك منبرا يا رسول الله يجمع أو يحمل عظامك؟ قال: بلى فاتخذ له منبرا مرقاتين “. أخرجه أبو داود (1081) بإسناد جيد على شرط مسلم. فعلمت منه أنهم كانوا يطلقون ” العظام “، ويريدون البدن كله، من باب إطلاق الجزء وإرادة الكل، كقوله تعالى * (وقرآن الفجر) * أي: صلاة الفجر فزال الإشكال والحمد لله، فكتبت هذا لبيانه.  [سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها 1/ 624]۔

 میں “یوسف کی ہڈیوں”  والی روایت پر  کافی عرصۂ اشکال میں رہا کہ  یہ (ایک دوسری) حدیث صحیح سے متعارض ہے ۔: “الله نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ انبیاء کے جسموں کو کھائے” یہاں تک کہ میں ابن عمررضی الله عنہ کی روایت سے واقف ہوا کہ  جب نبی صلی الله علیہ وسلم کا جسم بڑھا تو تمیم داری نے کہا کہ اے الله کے رسول آپ منبر کیوں نہیں لیتے جو آپ کی ہڈیوں کو اٹھائے .. ابوداود (1081) روايت كيا ہے.  پس اس سے میں نے جانا کہ  وہ “ہڈی” سے پورا جسم مراد لیتے تھے جیسا الله نے کہا وقرآن الفجر   نماز فجر ہے ۔ لہذا یہ اشکال رفع ہوا اور میں نے لکھا اسکو بیان کرنے کے لئے

اس کے بر عکس ابن الأثير المتوفی ٦٠٦ ھ النهايه في غريب الحديث والأثر  میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے وزن کے حوالے سے ایک دوسری روایت پر لکھتے ہیں

 قال أبو عُبيد: هكذا روي في الحديث “بدن” يعني بالتخفيف وإنما هو بدّن بالتشديد: أي: كبر وأسنّ، والتخفيف من البدانة، وهي كثرة اللحم، ولم يكن – صلَّى الله عليه وسلم – سميناً. قلت [ابن الأثير]: قد جاء في صفته – صلَّى الله عليه وسلم -في حديث ابن أبي هالة: بادن متماسك

أبو عُبيد کہتے ہیں کہ اس طرح حدیث بدن روایت کی ہے … یعنی جب عمر بڑھی .. تو بدن پر گوشت بڑھا  لیکن نبی صلی الله علیہ وسلم چربی والے نہ تھے میں (ابن الأثير) کہتا ہوں ان کی صفت آئی ہے  حدیث ابن أبي هالة میں کہ وہ تو متناسب بدن کے تھے

 البانی صاحب نے دلیل میں جو روایت پیش کی تھی وہ صحیح نہیں  کیونکہ اس میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے وزن بڑھنے کا ذکر ہے جو متقدمین محدثین کے مطابق درست نہیں

الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم تو رات میں نماز میں کھڑے ہوتے کہ پیر سوج جاتے اور یہاں پر بتایا جا رہا ہے کہ وزن کی وجہ سے  صرف خطبے کے  لئے منبر بنوایا

البانی صاحب کے بقول عرب ہڈیوں سے جسم مراد لیتے تھے لیکن کیا بنی اسرائیل والے بھی ایسا ہی مفھوم لیتے تھے

تورات خروج باب ١٣ آیت ١٩ ہے کہ

khuroj1319

عبرانی میں  اس آیت میں الفاظ   עַצְמוֹת   ہیں جن کا مفھوم ہڈیاں ہی ہے نہ کہ جسم

سلیمان علیہ السلام کا جسم

قرآن میں واقعہ بیان ہوا ہے کہ جب سلیمان علیہ السلام کی موت کا وقت آیا تو آپ ایک عصا پر تھے کہ وفات ہو گئی آپ جنوں کے بیگار کا مشاہدہ کر رہے تھے اس کے بعد آپ کتنے عرصے اسی حالت میں رہے اور جن مسلسل کام میں جتے رہے یہاں تک کہ سلیمان علیہ السلام کے عصا کو دیمک نے کھایا اور وہ کمزور ہو کے ٹوٹا اور سلیمان علیہ السلام کا جسد زمین پر گرا اس وقت جنوں نے کہا کہ کاش ہم کو پتا ہوتا کہ ان کی وفات ہو گئی ہے اور ہم اس طرح کام نہ کرتے

قرآن نے اس واقعہ سے کئی باتوں کو واضح کیا

اول جن علم الغیب سے لا علم تھے

دوم سلیمان کو ایسی مملکت دی جو ان کے بعد کسی کونہ دی حتی کہ جنات بھی ان کے لئے کام کرتے

 سوم ان کا جسد ایک لاش تھا جس میں زندگی کی رمق نہ تھی وہ زمین پر گرا الفاظ ہیں

فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّھُمْ عَلٰي مَوْتِه اِلَّا دَآّبَةُ الْاَرْضِ تَاكُلُ مِنْسَاَتَه فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ الْغَيْبَ مَا لَبِشُوْا فِيْ الْعَذَابِ الْمُھِيْنِ (۱۴:۳۴

آیت میں خر سے مراد گرنا ہے جو جسد بے جان ہونے کی نشانی ہے

اس واقعہ کا مقصد  شریرجنات کو رسوا کرنا اور بنی اسرائیل کو یہ سمجھانامقصود تھا کہ جنات علم الغیب سے لا واقف ہیں

دیوبندی عالم محب الله مماتوں کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں

khr-ra

قرآن میں خر کا لفظ جمادات کے لئے بھی آیا ہے سوره مریم میں ہے

تخر الجبال هدا

پہاڑ گر کر ریزہ ہو جائیں

قبر پرستوں کو اس واقعہ میں نبی کا  صرف جسد نظر آ رہا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام اتنے عرصۂ لاٹھی کے سہارے کھڑے رہے اور ایک شخص ان کو دیکھتے نہیں آیا . سلیمان الله کے نبی تھے کوئی جنگل میں غیر معروف سادھو تو نہیں تھے ، ملک کے بادشاہ تھے . ایک زندہ انسان بھی ٹک کر کھڑا نہیں ہو سکتا اس کو پہلو بدلنا پڑتا ہے . مردہ انسان لاٹھی پر ٹک کر کھڑا نہیں ہو سکتا لیکن الله تعالی نے سلیمان علیہ السلام پر موت طاری کی اور وہ کھڑے کے کھڑے رہ گئے . پھر سلیمان علیہ السلام کا یہ کوئی ایک واقعہ تو ہے نہیں اور بھی واقعات ہیں بعض کو صوفیاء استمعال کرتے ہیں تاکہ ولی کو نبی سے بلند کریں . ملک سلیمان کی ان حیرت انگیز واقعات کو بنیاد بنا کر جادو گر بھی  استعمال کرتے ہیں . ان تمام حقائق کی روشی میں یہ واضح ہے کہ یہ سلیمان علیہ السلام کا خاص واقعہ ہے جس کو عام سے الگ سمجھنا چاہیے

اس سے انبیاء کی زندگی کی دلیل لینا بھی عجیب ہے ابھی تو یہ جسد مٹی میں گیا بھی نہیں تو دلیل کیسے بن گیا

افسوس انبیاء کو قبروں میں زندہ کرنے والے مانتے ہیں کہ نبی کا جسم جو گرا ہے یہ قبر میں نماز پڑھتا ہے اس کے لئے پہلے معراج کی موسیٰ والی روایت پیش کرتے ہیں پھر مسند ابی یعلی کی تمام انبیاء سے متعلق روایت کہ وہ نماز پڑھتے ہیں اس کے حوالے سے ہماری رائے ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا نماز پڑھنا  معراج کی معجزہ والی رات کا حصہ ہے لہٰذا دلیل نہیں بن سکتا اور تمام انبیاء کی قبوری زندگی والی روایت ضعیف  ہے جس کی تفصیل بلاگ انبیاءاپنی قبروں میں زندہ ہیں میں دیکھی جا سکتی ہے

انبیاء کے جسد بچانے کا مقصد روایت میں امت کے درود و سلام کے اعمال پیش ہونا بتایا گیا ہے جو علم الغیب میں نقب کے مترادف ہے الله قرآن میں کہے کہ مدینہ اور اس کے قرب و جوار میں منافق ہیں جن کو آپ نہیں جانتے اور روایت زیر بحث کے مطابق  سلام پیش ہونے سے کیا نبی علیہ السلام کو پتا نہیں چل جائے گا کہ کون منافق ہے اور کون مومن

خواجہ محمّد قاسم کتاب کراچی کا عثمانی مذھب میں  الله نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ انبیاء کے اجسام کھائے پر لکھتے ہیں

qasim-41

 روایت میں موت کے بعد جسد پر درود پیش ہونے کا ذکر ہے جو ایک اشکال ہے لیکن یہ اس کے متن سے واضح ہے کہ زندگی میں درود پیش ہونے پر اشکال نہیں  ہے

ڈاکٹر عثمانی رحمہ الله علیہ نے اس روایت پر یہ اعتراض بھی کیا تھا کہ صلح حدبیہ کے وقت عثمان رضی الله تعالی عنہ کو مشرکین نے قید کر دیا تھا اور نبی صلی الله علیہ وسلم نے سب سے بیعت لے لی

اس پر جماعت المسلمین کے مسعود احمد بی ایس سی صاحب نے ذهن پرستی میں لکھا تھا

masoodBSC-53

درود پیش کرنے کا انتظام وفات کے بعد کیا گیا کس حدیث میں ہے اس روایت میں تو زندگی اور وفات کے بعد جسد پر پیش ہونے کا بتایا جا رہا ہے اصل میں یہ روایت گلے میں پھنس چکی ہے اس کو ان کے بڑوں نے صحیح قرار دیا ہے اور ان میں ہمت نہیں کہ ان کو غلط کہہ سکیں لہذا اس کو ضعیف قرار دینے کے باوجود اس سے استنباط کرنا چہ معنی

ہمارے سارے اعمال الله کی طرف جاتے ہیں کسی نبی کی طرف نہیں اور اس کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ صحیح حدیث میں ہے کہ

جب تم تشہد میں سلام کہتے ہو تو وہ الله کے نیک بندوں کو جو آسمان میں ہوں یا رمیں میں پہنچ جاتا ہے

سلام  و درود ایک دعا ہے جو الله کی طرف ہی جاتا ہے

شیعہ کتب میں بھی یہ عقیدہ موجود ہے

أبو جعفر محمد بن الحسن بن فروخ الصفار المتوفى سنة ٢٩٠ جو الإمام الحسن العسكري کے اصحاب میں سے تھے  روایت کرتے ہیں

کتاب بصائر الدرجات از محمد بن الحسن الصفار،تصحيح وتعليق وتقديم: الحاج ميرزا حسن كوچه باغي، مطبعة الأحمدي –   طهران منشورات الأعلمي – طهران کے مطابق

ajsam-shia-conceptابی عبدللہ علیہ السلام  کہتے ہیں ایک زور نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے کہا میری زندگی بھی تمھارے لئے بہتر ہے اور میری موت بھی پس کہا اے رسول للہ یہ اپ کی ابھی زندگی ہے کہا ہان پوچھا اپ کی موت کسی ہو گی کہا بے شک الله نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ ہمارے گوشت میں سے کوئی چیز کھائے

امام بخاری جب اس روایت کو رد کر رہے تھے، أبو جعفر محمد بن الحسن بن فروخ الصفار المتوفى سنة ٢٩٠ اس کو اپنی کتاب میں لکھ رہے تھے اور آج سب قبول کر رہے ہیں

عراق القانون کے مطابق جون ٢٠١٤ داعش  کے دہشت گردوں نے  الله کے نبی  یونس علیہ السلام  کا مزار

مسمار کر کے قبر کھود ڈالی ہے

الغرض   انبیاء کے اجسام والی حدیث  سلف صالحین کے نزدیک مردود تھی لیکن آج زبان زد عام ہے

 اور اس کے دفاع میں اس سے بڑھ کر دور کی کوڑیاں لائی گئی ہیں اور مقصد صرف ایک ہے کہ انبیاء کو قبروں میں زندہ کیا جائے

  اسحاق بن منصور بن بهرام، أبو يعقوب المروزي، المعروف بالكوسج   المتوفی ٢٥١ ھ ، امام اسحاق بن راہویہ  (امام بخاری کے استاد) سے پوچھتے ہیں کہ

 مسلمانوں کے بچے  کہاں  ہیں ؟ اس پر امام اسحاق بن راھویہ  المتوفی ٢٣٨ ھ کہتے ہیں

وأما أولاد المسلمين فإنهم من أهل الجنة

مسلمانوں کی اولادیں اہل جنت میں ہیں

اس کے برعکس

رفیق طاہر  اعادہ روح اور عذاب قبر وبرزخ میں لکھتے ہیں

اسی طرح ایک حدیث صحیح بخاری کے حوالے سے پیش کرتے ہیں کہ نبی نے اپنے بیٹے ابراہیم کے بارے میں فرمایا: اس کےلیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال کے تھے نبی کے بیٹے ابراہیم ۔نبی نے ان کا جنازہ نہیں پڑھایا، بغیر جنازہ پڑھائے ان کو دفن کردیا ….۔لیکن کیا یہ کہا ہے کہ ابراہیم کی روح کو دودھ پلانے والی ہے؟ یہ تو نہیں نہ کہا! ابراہیم , ابراہیم کی روح کا نام نہیں ہے ، روح اور جسم کے مجموعےکا نام ہے۔اور معلوم ہے کہ قبر روضۃ من ریاض الجنۃ ہوتی ہے ، مؤمن کےلیے جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ بن جاتی ہے اور کافر کےلیے ”حفرۃ من حفر النار“ جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا بن جاتی ہے۔ تو اشکال کس چیز کا ہے؟ مؤمن کی قبر کو تاحد نگاہ وسیع کردیا جاتا ہے

موصوف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ابراہیم جو البقیع میں قبر میں دفن ہیں ، اسی قبر میں ایک دودھ پلانے والی بھی ہے. افسوس مطلب براری کے لئے خوب سمجھ کر حدیث کا واضح مفہوم تبدیل کیا ہے. حدیث کا یہ مفہوم کسی بھی شارح نے نہیں کیا

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح کے المؤلف علي بن (سلطان) محمد، أبو الحسن نور الدين الملا الهروي القاري (المتوفى: 1014هـ) لکھتے ہیں

فِيهِ دَلَالَةٌ ظَاهِرَةٌ أَنَّ أَرْبَابَ الْكَمَالِ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فِي الْحَالِ عُقَيْبَ الِانْتِقَالِ، وَأَنَّ الْجَنَّةَ الْمَوْعُودَةَ مَخْلُوقَةٌ مَوْجُودَةٌ

اس میں واضح دلیل ہے کہ ارباب کمال ، انتقال کے فورا بعد جنّت میں داخل ہوتے ہیں اور یہ کہ بے شک جنّت موجود ہے مخلوق ہے

عمدة القاري شرح صحيح البخاري میں العينى (المتوفى: 855هـ) لکھتے ہیں

وَفِي (صَحِيح مُسلم) : قَالَ عَمْرو: فَلَمَّا توفّي إِبْرَاهِيم قَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: إِن إِبْرَاهِيم ابْني وَإنَّهُ مَاتَ فِي الثدي وَإِن لَهُ لظئرين يكملان إرضاعه فِي الْجنَّة

اور صحیح مسلم میں ہے: عمرو نے کہا: جب ابراہیم کی وفات ہوئی تو  رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم نے کہا: بے شک ابراہیم میرا بیٹا ہے اور وہ دودھ پیتے بچے کی عمر میں مرا ہے اور بے شک اس کے لئے دودھ پلانے والی ہے جو جنت میں اس کی رضاعت پوری کرائے گی

إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري میں القسطلاني (المتوفى: 923هـ) لکھتے ہیں

وفي مسند الفريابي: أن خديجة، رضي الله عنها، دخل عليها رسول الله -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، بعد موت القاسم، وهي تبكي، فقالت: يا رسول الله، درت لبينة القاسم، فلو كان عاش حتى يستكمل الرضاعة لهوّن عليّ؟ فقال: إن له مرضعًا في الجنة يستكمل رضاعته، فقالت: لو أعلم ذلك لهوّن علّي، فقال: إن شئت أسمعتك صوته في الجنة. فقالت: بل أصدّق الله ورسوله.

 اور مسند الفريابي میں ہے: بے شک قاسم کی موت کے بعد خديجة، رضي الله عنها کے پاس رسول الله -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آئے  اور وہ رو رہی تھیں پس انہوں نے کہا: يا رسول الله  مجھ پر  (یہ دکھ) آسان ھو جاتا اگر،  بیٹا قاسم اگر زندہ رہتا تو رضاعت پوری کر لیتا . پس آپ نے کہا: اس کے لئے جنت میں دودھ پلانے والی ہے جو اس کی رضاعت مکمل کرائے گی . پس خديجة، رضي الله عنها نے کہا اگر مجھے یہ پتا ھو تو آسان ھو جائے. پس رسول الله -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا اگر ان چاہو تو میں تم کو جنت میں اس کی آواز سنوا دوں . پس انہوں نے کہا: میں الله اور اس کے رسول کی تصدیق کرتی ہوں.

 منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري کے المؤلف، حمزة محمد قاسم لکھتے ہیں

فقه الحديث: دل هذا الحديث على ما يأتي: أولاً: فضل إبراهيم عليه السلام، وأنه يحيى في الجنة حياة برزخية كالصديقين والشهداء، ويرزق كما يرزقون، ويتمثل رزقه في ذلك اللبن الذي يرضعه من مرضعته في الجنة، ثانياً: قال النووي: أجمع من يعتد به من علماء المسلمين على أن من مات من أطفال المسلمين فهو من أهل الجنة

 حدیث کی فقہ: یہ حدیث دلالت کرتی ہے … اول: إبراهيم کی فضیلت، اور یہ کہ وہ جنّت میں زندہ ہیں شہداء اور صدیقین جیسی حیات برزخی کے ساتھ، اور ان کو بھی رزق ملتا ہے جسے آوروں کو ملتا ہے ، اور ان کا رزق دودھ جیسا ہے جو جنت کی دودھ پلانے والی دیتی ہے . دوئم: نووی کہتے ہیں : مسلم علماء کا اجماع ہے جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ان کے مسلم بچے اہل جنّت میں سے ہیں

 اوپر دی گئی کتابوں کے حوالوں سے واضح ہے کہ سب اس سے جنت ہی مانتے ہیں نہ کہ قبر

 باقی رہی روایت کہ قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ اور جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہےتو وہ ایک موضوع روایت ہے جس کی تفصیل رسالے عذاب البرزخ میں دیکھی جا سکتی ہے

البانی ضعیف سنن الترمذی میں اس  روایت کو ضعيف جدا یعنی بہت کمزور روایت کہتے ہیں. ایسی ہی ایک روایت کو سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة میں گھڑی ہوئی کہتے ہیں

 دامانوی عذاب القبر کی حقیقت میں لکھتے ہیں

موصوف نے پانچویں دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی پیش کی ہے کہ ان کے لئے جنت میں ایک دودھ پلانے والی ہے لیکن جیسا کہ واضح کیا گیا ہے کہ قیاس سے کوئی چیز ثابت نہیں کی جا سکتی بلکہ ایسا قیاس، قیاس مع الفارق ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔

 اصل میں اس روایت کی باطل تاویل کرنا ضروری ہے کیونکہ  یہ برزخی جسم  ثابت کرتی ہے. روح کو غذا کی حاجت نہیں. اس روایت سے صریحا جسد ہی بنتا ہے جو دودھ پیتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کو قیاس کہا جا رہا ہے جبکہ یہ قیاس نہیں . قیاس تو دین میں ان مسائل پر کیا جاتا ہے جن کی کوئی دلیل قرآن، حدیث اور اثر میں نہ ھو جبکہ جسد کی طرف واضح اشارہ اس حدیث میں موجود ہے

عذاب القبر تو حق ہے  لیکن قبر اس کا مقام ہے یا نہیں  ایک اہم سوال ہے

قبر یا برزخ

کتاب مجموع فتاوى ورسائل فضيلة الشيخ محمد بن صالح العثيمين  کے مطابق سعودی عالم العثيمين سے سوال ہوتا ہے کہ

وسئل فضيلة الشيخ: ما المراد بالقبر، هل هو مدفن الميت أو البرزخ؟

فأجاب: أصل القبر مدفن الميت، قال الله – تعالى -: {ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ} ، قال ابن عباس: أي أكرمه بدفنه. وقد يراد به البرزخ الذي بين موت الإنسان وقيام الساعة، وإن لم يدفن، كما قال – تعالى -: {وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ} . يعني من وراء الذين ماتوا؛ لأن أول الآية يدل

على هذا: {حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ} .

ولكن هل الداعي إذا دعا «أعوذ بالله من عذاب القبر» ، يريد عذاب مدفن الموتى، أو من عذاب البرزخ الذي بين موته وبين قيام الساعة؟ .

الجواب: يريد الثاني؛ لأن الإنسان في الحقيقة لا يدري هل يموت ويدفن، أو يموت وتأكله السباع، أو يحترق، ويكون رمادا ما يدري! {وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ} ، فاستحضر أنك إذا قلت: من عذاب القبر، أي من العذاب الذي يكون للإنسان بعد موته إلى قيام الساعة.

اور فضيلة الشيخ سے سوال کیا: قبر سے کیا مراد ہے، کیا یہ میت کا مدفن ہے یا برزخ ہے؟

پس جواب دیا: قبر کا اصل  میت کا مدفن ہے . الله تعالی نے کہا ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ ابن عبّاس نے کہا: یعنی دفنا کر تکریم کی . اور برزخ سے مراد وہ (مقام) ہے جو انسان کی موت سے لے کر قیامت قائم ہونے تک ہے اگرچہ اس کو دفن ہی نہ کیا جائے جسے الله تعالی نے کہا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ یعنی مرنے والوں کے پیچھے کہ آیت کا ابتدائی حصہ اس پر دلیل ہے کہ  حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ.

پھر سوال ہوا : لیکن ایک دعا کرنے والا دعا کرتا ہے أعوذ بالله من عذاب القبر اس سے مراد مردے کا مدفن ہے یا یہ عذاب البرزخ ہے جو موت اور قیامت کے درمیان ہے؟

جواب:  یہ ثانی ذکر ہے کیونکہ انسان کو پتا نہیں کہ مرے گا دفن ھو گا، یا مرے گا اور پرندے کھائیں گے، مرے گا یا آگ میں جل کر رکھ ھو گا! وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ  اور انسان کو نہیں پتا کس زمین میں مرے گا اس سے یہ نکلا کہ جب میں کہتا ہوں عذاب القبر سے (پناہ) تو یہ عذاب ہے جو جو موت اور قیامت کے درمیان ہے

عذاب القبر پر قرانی دلیلیں

پہلی دلیل :  وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلآئِكَةُ بَاسِطُواْ أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُواْ أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ

 کاش تم ان ظالموں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں مبتلا ہوں اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں ، آج تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی۔

معلوم ہوا عذاب کا تعلّق دنیاوی قبر سے نہیں ، اس پر دال خود آیت کا لفظ الیوم ہے،  کیونکہ عذاب اسی وقت شروع ھو جاتا ہے جب قبض روح ہوتا ہے. وہ لوگ جو عذاب اس ارضی قبر میں مانتے ہیں وہ بھی اس آیت سے ارضی قبر میں عذاب ثابت نہیں کر سکتے. آیت واضح طور پر عذاب علی روح یا عذاب جہنم کی دلیل ہے.  یہ اعلان اس وقت ھو رہا ہے جب جسد سے نفس کو نکالا جا رہا ہے. موقعہ و محل کے حساب سے یہ بعید تر ہے کہ جس خول کو روح چھوڑ رہی ہے اسی کو عذاب ھو.

سعودی عالم  محمد بن صالح العثيمين  سے سوال ہوا کہ  هل عذاب القبر على البدن أو على الروح؟ کیا عذاب القبر روح کو ہوتا ہے یا بدن کو ، اس پر وہ فتوی میں کہتے ہیں

الأصل أنه على الروح لأن الحكم بعد الموت للروح، والبدن جثة هامدة، ولهذا لا يحتاج البدن إلى إمداد لبقائه، فلا يأكل ولا يشرب، بل تأكله الهوام، فالأصل أنه على الروح،

اصل میں بے شک یہ روح کو ہوتا ہے کیونکہ بے شک موت کے بعد حکم روح کے لئے ہے، اور بدن تو گلنے والا لاشہ ہے اور اسی وجہ سے بدن کو بقا کے لئے امداد کی حاجت نہیں، پس نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے بلکہ بدن کو کیڑے کھاتے ہیں، پس اصلا یہ عذاب روح کو ہے

افسوس یہ سب سمجھنے کے بعد سعودی عالم  محمد بن صالح العثيمين نے ابن تیمیہ کی بات پیش کی کہ عذاب میت کوبھی ہوتا ہے

قال شيخ الإسلام ابن تيمية: إن الروح قد تتصل بالبدن فيعذب أو ينعم معها، وأن لأهل السنة قولاً آخر بأن العذاب أو النعيم يكون للبدن دون الروح واعتمدوا في ذلك على أن هذا قد رئي حسّاً في القبر فقد فتحت بعض القبور ورئي أثر العذاب على الجسم، وفتحت بعض القبور ورئي أثر النعيم على الجسم، وقد حدثني بعض الناس أنهم في هذا البلد هنا في عنيزة كانوا يحفرون لسور البلد الخارجي، فمروا على قبر فانفتح اللحد فوجد فيه ميت أكلت كفنه الأرض وبقي جسمه يابساً لكن لم تأكل منه شيئاً حتى إنهم قالوا: إنهم رأوا لحيته وفيها الحنا وفاح عليهم رائحة كأطيب ما يكون من المسك.

ابن تیمیہ کہتے ہیں

بے شک روح بدن سے متصل ہوتی ہے پس بدن عذاب پاتا ہے یا راحت،

 اور اہل السنہ کے ہاں ایک اور قول ہے کہ عذاب صرف بدن کو روح کے بغیر ہوتا ہے اور اس پر اعتماد کیا گیا ہے کہ بے شک اس کا قبر میں ہونے کا احساس دیکھا گیا ہے پس بعض قبروں کو کھولا گیا اور جسم  پر عذاب کا اثر دیکھا گیا اور بعض قبروں کو کھولا گیا اور جسم  پر راحت کا اثر دیکھا گیا اس عنيزة کے شہر والوں نے مجھے بتایا کہ وہ شہر کے باہر پھر رہے تھے پس قبر پر گزرے اور اسکو کھولا جس میں میت پائی جس کا کفن (زمین نے) کھا لیا تھا اور تازہ جسم باقی تھا جس میں سے کچھ کھایا نہ گیا تھا پس یہاں تک انہوں نے کہا انہوں نے دیکھا کہ جسم کی داڑھی پر مہندی ہے اوراس میں سے اچھی خوشبو ا رہی ہے لیکن مشک نہ تھی

دوسری دلیل:

 اللہ تعالیٰ نے سورۂ التوبہ میں فرمایا

سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيم

 ہم ان کو دو بار عذاب دیں گےپھر بڑے عذاب میں لوٹائے جائیں گے۔

دنیا میں ذلت، برزخ میں عذاب اور عذاب جہنم

اس آیت سے بھی صریحا ارضی قبر میں عذاب ثابت نہیں ہوتا. ہاں بے شک عذاب ھو گا لیکن مقام کی وضاحت نہیں

 تیسری دلیل: قرآن کی غافر آيت٤٦ ہے

النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ

 فرعون والوں کو برے عذاب نے گھیر لیا ، صبح اور شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں اور قیامت کے دن تو فرعون والوں کے لئے کہا جائے گا ان کو سخت عذاب میں لے جاؤ

ارشد کمال کتاب عذاب القبر میں عبد الرحمان کیلانی صاحب کی رائے پیش کرتے  ہیں

arshad-100معلوم ہوا کہ یہ عذاب ارواح کو ہو رہا ہے لیکن  ارشد کمال اور  استاذ  دامانوی صاحب کا پورا زور ہے کہ یہ عذاب اجسام کو ہو رہا ہے

لہذا اس پر حاشیہ میں لکھتے ہیں

arshad-100-b

یہ کیا مسئلہ ہے کہ اہل حدیث اس مسئلہ میں بھی یک زبان نہیں اس کی وجہ ہے کہ آیت میں یہ آ ہی نہیں رہا کہ یہ عذاب

 جسم کو ہوتا ہے

دامانوی صاحب کتاب عذاب القبر کی حقیقت  میں لکھتے ہیں

لیکن ان تمام معاملات کا تعلق پردہ غیب سے ہے اس لئے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں۔ اس آیت میں آل فرعون صبح و شام جس آگ پر پیش کئے جا رہے ہیں وہی عذاب قبر ہے جس میں اجسام (میتوں) کو آگ پر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ روحیں اول دن سے جہنم میں داخل ہو کر سزا بھگت رہی ہیں۔ اور قیامت کے دن وہ جس اشد العذاب میں داخل ہوں گے اس سے جہنم کا عذاب مراد ہے جس میں وہ روح و جسم دنوں کے ساتھ داخل ہوں گے۔ کیونکہ قیامت کے دن عذاب قبر ختم ہو جائے گا اور صرف عذاب جہنم باقی رہ جائے گا۔

اس آیت میں کہیں بھی نہیں کہ یہ  عذاب جو فرعون کو ھو رہا ہے اس کا تعلق جسد سے ہے

دامانوی مزید لکھتے ہیں

اس آیت سے معلوم ہوا کہ آل فرعون کو صبح و شام آگ پر پیش کیا جا رہا ہے۔ جبکہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ کافر کی روح کو قبض روح کے بعد جہنم میں داخل کر دیا جاتا ہے، ملاحظہ فرمائیں: سورئہ نوح: ۲۵۔ التحریم:۱۰۔ النحل:۲۸۔ الانعام:۹۳۔ الانفال:۲۵۔

 جبکہ قرآن مجید سے یہ بات ثابت ہے کہ کافر کی روح کو قبض روح کے بعد جہنم میں داخل کر دیا جاتا ہے تو اب یہ صبح و شام کیا چیز ہے کہ جسے آگ پر پیش کیا جا رہا ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ اجسام ہی ہیں کہ جنہیں قبر میں عذاب دیا جاتا ہے اور صحیح بخاری میں یہ حدیث بھی موجود ہے کہ مومن و کافر پر صبح و شام اس کا ٹھکانہ جنت یا جہنم پیش کیا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ تجھے (قیامت کے دن) یہاں سے اُٹھا کر داخل کرے گا۔

دامانوی صاحب لکھتے ہیں

قرآن کریم کے بیان سے واضح ہوا کہ آل فرعون کو صبح و شام آگ پر پیش کیا جاتا ہے اور یہ ان کے اجسام ہیں کہ جنہیں آگ پر پیش جا رہا ہے۔ اگرچہ ان کے اجسام دنیا میں محفوظ ہیں اور ان پر عذاب کے آثار بھی نظر نہیں آتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان اُمور کو انسانوں اور جنوں کی نگاہوں سے پوشیدہ کر دیا ہے۔ چونکہ انسانوں اور جنوں سے ایمان بالغیب مطلوب ہے لہٰذا یہ عذاب ان سے مخفی رکھا گیا ہے

دامانوی صاحب یہ بھی لکھتے ہیں

موصوف اگر احادیث کا بغور مطالعہ کرتے تو فرعونیوں کے عذاب کا مسئلہ انہیں سمجھ میں آجاتا۔ کافروں کی ارواح جہنم میں عذاب پاتی ہیں جبکہ ان کے اجسام قبروں میں عذاب میں مبتلا رہتے ہیں

چلو کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے

دامانوی صاحب یہ تو مان گئے کہ اس آیت کا عذاب فی الجسد سے تعلّق نہیں بلکہ روایات سے انکا استخراج کیا گیا ہے

تفسيرابن كثيرسوره غافر میں ابن کثیر لکھتے ہیں

أنَّ الْآيَةَ دَلَّتْ عَلَى عَرْضِ الْأَرْوَاحِ إِلَى النَّارِ غُدُوًّا وَعَشِيًّا فِي الْبَرْزَخِ، وَلَيْسَ فِيهَا دَلَالَةٌ عَلَى اتِّصَالِ تَأَلُّمِهَا بِأَجْسَادِهَا فِي الْقُبُورِ، إِذْ قَدْ يَكُونُ ذَلِكَ مُخْتَصًّا بِالرُّوحِ، فَأَمَّا حُصُولُ ذَلِكَ لِلْجَسَدِ وَتَأَلُّمُهُ بِسَبَبِهِ، فَلَمْ يَدُلَّ عَلَيْهِ إِلَّا السُّنَّةُ فِي الْأَحَادِيثِ

بے شک یہ آیت دلالت کرتی ہے ارواح کی آگ پر پیشی پر صبح و شام کو البرزخ میں،  اور اس میں یہ دلیل نہیں کہ یہ عذاب ان کے اجساد سے جو قبروں میں ہیں متصل ھو جاتا ہے، پس اس (عذاب) کا جسد کو پہنچنا اور اس کے عذاب میں ہونے پر احادیث دلالت کرتی ہیں

ابن کثیر اسی آیت کی تفسیر میں یہ بھی لکھتے ہیں

وهذه الآية أصل كبير في استدلال أهل السنة على عذاب البرزخ في القبور

اور یہ آیت قبروں میں عذاب البرزخ پر اہل سنت کے استدلال میں سب سے بڑی ہے

قارئین آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ابن کثیر کتنے کنفیوژن کا شکار ہیں کہ بات بنائے نہیں بن رہی. آیت میں عذاب کسی طرح  بھی جسد کے لئے نہیں پر کیسے اس سے اپنا مدعا ثابت کریں

امام بخاری کے نزدیک یہ آیت عذاب القبر پر دلیل ہے .ابن کثیر نے صریحا اس آیت کو عذاب البرزخ کے لئے بتایا ہے اور کہا ہےکہ عذاب القبر کی دلیل حدیث سے ملتی ہے نہ کہ اس آیت سے

کیا عذاب القبر غیب کا معاملہ ہے

دامانوی صاحب عذاب القبر کی حقیقت میں  لکھتے ہیں

یہاں یہ اعتراض کہ پھر میت کا یہ عذاب دکھائی کیوں نہیں دیتا؟ تو جواب یہ ہے کہ یہ پردئہ غیب کا معاملہ ہے اور دنیا میں عذاب قبر کا دکھائی دینا ناممکن ہے۔ فافہم۔ عذاب قبر کا تعلق آخرت کے ساتھ ہے۔ اور اسے دنیاوی پیمانوں سے نہیں سمجھا جا سکتا

  مجموع الفتاوى ابن تیمیہ ج ٤ ص ٢٧٦ پر لکھتے ہیں

إذا قال السائل : الميت لا يتحرك في قبره والتراب لا يتغير ونحو ذلك مع أن هذه المسألة لها بسط يطول وشرح لا تحتمله هذه الورقة

اگر کوئی سائل کہے: (عذاب کی وجہ سے) میت قبر میں حرکت نہیں کرتی اور مٹی متغیر بھی نہیں ہوتی اور اسی طرح کے سوال تو بے شک اس مسئلہ پر بہت شرح و طوالت سے کام کرنا ھو گا جس کا یہ ورق متحمل نہیں ھو سکتا

جان چھڑانے کا یہ انداز بھی خوب ہے الفتاوى ابن تیمیہ جو ویسے بھی کئی جلدوں پر ہے تو ظاہر ہے موصوف نے ہر طرح کی بحث کر ڈالی ہے تو آخر اس مسئلہ پر بحث سے کیوں جان چھڑائی گئی ہے

پھر یہی لوگ بیان کرتے ہیں کہ قبرستان میں چوپائے عذاب سنتے ہیں کیا غیب غیب نہ رہا

ارشد کمال المسند فی عذاب القبر ص ١٣٥ پر لکھتے ہیں

arshad-135

ارشد کمال ص١٢٦ پر لکھتے ہیں

arshd-126

بے شک الله کا عذاب دیکھنے کی کس کی سکت ہے

نبی صلی الله علیہ وسلم کو تو اتنی تیاری کے بعد سنوایا جا رہا ہے لیکن عام آدمی کو نہیں

کیا یہ عجیب بات نہیں

فتاوی علمائے حدیث ج میں ہے

روحوں کی آمد-١

روحوں کی آمد٢١

عذاب القبر کا کب پتہ چلا

دامانوی لکھتے ہیں

بخاری و مسلم کی تفصیلی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیہ کے عذاب قبر کے ذکر کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عذا ب قبر کی تفصیلات صلوۃ کسوف کے بعد بتائیں اور سورج کو گرہن ۱۰ ؁ھ میں لگا تھااور اسی دن آپ کے صاحبزادے جناب ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات بھی ہوئی تھی ۔ گویا آپ کو بھی اسی سال عذاب قبر کا تفصیلی علم ہوا اور آپ نے اپنی امت کو اس اہم مسئلہ سے آگاہ فرمایا۔
مسند احمد کی حدیث جسے حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ نے بخاری کی شرط پر صحیح کہا ہے جس میں ہے کہ شروع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہود کو جھوٹا قرار دیا تھا حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
کَذَّبَتْ یَہُوْدُ وَھُمْ عَلَی اﷲِ عَزَّ وَ جَلَّ کَذِبٌ لَا عَذَابَ دَوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ
(مسند احمد ج ۶ ص ۸۱، فتح الباری ج ۳ ص ۲۳۶)
’’یہود نے جھوٹ کہا اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹی بات کہی ہے کیونکہ قیامت سے قبل کوئی بھی عذاب نہیں ہے‘‘ ۔ لیکن کچھ دنوں بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے عذاب قبر کی حقیقت کا پتہ چلا تو آپ بے حد غمگین تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری باتوں کے علاوہ یہ بھی فرمایا: فَاِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَقٌ ’’بے شک قبر کا عذاب حق ہے‘‘ اور مسلم کی روایت میں ہے: (اے عائشہ) کیا تجھے معلوم ہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے کہ تمہاری قبروں میں آزمائش ہو گی؟ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس دن سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (نماز میں) عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔ (صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ باب استحباب التعوذ من عذاب القبر (حدیث نمبر ۱۳۱۹) مسند احمد ج۶ ص ۸۹)۔

دامانوی صاحب کے مطابق یہ واقعہ دس ھجری کا ہے

اس کے برعکس رفیق طاہر کہتے ہیں

ہماری تحقیق کے مطابق رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارکہ میں سورج کو کئی بار گرہن لگا ہے ۔
لہذا اس سوال کی بنیاد (۱۰ ہجری کو ہی گرہن لگا ہے اسے سے پہلے نہیں) کے غلط ہونے کی وجہ سےیہ سوال خود ہی ختم ہو جاتا ہے

ابن تیمیہ کتاب التوسل و الوسیله میں کہتے ہیں

وقال الحافظ بن تَيْمِيَةَ فِي كِتَابِ التَّوَسُّلِ وَالْوَسِيلَةِ … وَأَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ الْكُسُوفَ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ

اور حافظ ابن تیمیہ کتاب التوسل و الوسیله میں کہتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے صرف ایک بار گرھن کی نماز پڑھی جس دن ابراہیم کی وفاتہوئی

یہی بات مبارک پوری نے مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں دہرائی ہے ج ٥ ص١٢٨ پر

وأنه لم يصل الكسوف إلا مرة واحدة يوم مات إبراهيم

حاشية السندي على سنن النسائي  میں ابن کثیر کے حوالے سے لکھتے ہیں

فَإِن رَسُول الله صلى الله تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَلِّ الْكُسُوفَ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً بِالْمَدِينَةِ فِي الْمَسْجِدِ هَذَا

تيسير العلام شرح عمدة الأحكام میں البسام  لکھتے ہیں

أن الخسوف لم يقع إلا مرة واحدة في زمن النبي صلى الله عليه وسلم

محمد بن صالح بن محمد العثيمين شرح ریاض الصالحین میں لکھتے ہیں

إن الكسوف لم يقع في عهد النبي صلي الله عليه وسلم إلا مرة واحدة

قارئین اپ دیکھ سکتے ہیں کہ نام نہاد غیر مقلدین کی تحقیق ابھی نا مکمل تھی کہ سب ڈاکٹر عثمانی پر برس

پڑے

 سجین کیا ہے

زاذان کی روایت کے الفاظ ہیں

اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى

اس کانامہ اعمال ” سجین ” میں سے نچلی زمین میں لکھ دو

رفیق طاہر لکھتے ہیں

علیین اور سجین کسی جگہ کا نام نہیں بلکہ “کتاب مرقوم” ہے جن میں نیک وبد کا اندراج کیا جاتا ہے

دامانوی صاحب دین الخالص قسط اول میں لکھتے ہیں

سلف صالحین نے علیین اور سجین کو اعمال ناموں کے دفتر کے علاوہ روحوں کامسکن کہا ہےتوانکی یہ بات بالکل بے بنیاد نہیں

شمس الدين محمد بن عمر بن أحمد السفيري الشافعي (المتوفى: 956هـ) کتاب المجالس الوعظية في شرح أحاديث خير البرية صلى الله عليه وسلم من صحيح الإمام البخاري میں لکھتے ہیں کہ

قال شيخ الإسلام ابن حجر وغيره: إن أرواح المؤمنين في عليين، وهو مكان في السماء السابعة تحت العرش وأرواح الكفار في سجين وهو مكان تحت الأرض السابعة، وهو محل إبليس وجنوده.

شیخ الاسلام ابن حجر اور دیگر کہتے ہیں: بے شک مومنین کی ارواح عليين میں ہیں، اور وہ ساتوے آسمان پر عرش کے نیچے ہے اور کفار کی ارواح سجين میں ہیں اور وہ جگہ ساتویں زمین کے نیچے ہے جو ابلیس اور اسکے لشکروں کا مقام ہے

فتاوی علمائے حدیث میں ہے

روح کہاں ہے

اسی کتاب میں ج  ١٠ میں ہے

روح کا مسکن

فتاوی علمائے حدیث ج ٥ میں یہ بھی ہے کہ سجین جہنم کا پتھر ہے

سجیں

زبیر علی زئی کتاب توضیح الاحکام میں لکھتے ہیں

tozeh-563

یہ تو صرف چند نمونے ہیں اگر تفصیل میں جائیں تو دفتر لکھے جائیں

ارشد کمال صاحب نے اپنی تالیف المسند فی عذاب القبر  میں ہر طرح کا رطب و یابس بھر دیا ہے اس کی ایک جھلک ہم  آپ کو بھی دکھاتے ہیں. موصوف عذاب قبر کی دلیل میں البراء بن عازب رضي الله تعالى عنه  كي روايت پیش کرتے ہیں

arshad-146

سورج کی طرح چمکتے ہوئے چہرے والے فرشتے اتے ہیں

 لیکن چند صفحات پہلے یہی بات رب العالمین کے لئے أبو موسى ألاشعري رضي الله تعالى عنه کے حوالے سے

 لکھ چکے ہیں

arshad-48

کیا رب العالمین کے چہرے کی چمک اور اس کے فرشتوں کے چہرے کی چمک کے برابر ہے. کیا الله تعالی نے یہ نہیں کہ  ليس كمثله شئ کہ اس کی مثل کوئی شی نہیں. روایت پرستی میں بغیر سوچے سمجھے بس موصوف روایات جمع کرتے رہے. واقعی یہ کلیکشن دیکھنے سے تعلّق رکھتا ہے

کتاب المسند فی عذاب القبر ص ١٨٩ پر ارشد کمال روایت پیش کرتے ہیں کہ

 arshad-189

البیہقی جنہوں نے اس روایت کو صحیح کہا وہ خود بھی رطب و یابس جمع کرتے رہے ہیں

اس کے خلاف امام البخاری کہتے ہیں

usmani-soor

مردہ جسد تو مٹی مٹی ھو جاتا ہے  تو وہ گوشت کہاں سے ائے گا جس کو کوئی کھائے؟

موصوف المسند  فی عذاب القبر میں ص ٢٠٤ پر لکھتے ہیں

arshad-205

حالت جنگ میں کتنے کفار تھے جن کی تدفین ہوئی بہت سے تو ابھی خندق میں پڑے سڑ رہے ہونگے جب یہ دعا کی گئی اس سے پتا چلتا ہے کہ عذاب اس قبر میں نہیں ھو رہا تھا

نبی صلی الله علیہ وسلم کو کفار کے بارے میں عذاب کی خبر مکّہ میں ہی  دی گئی تھی مدینہ پہنچ کرمسجد النبی کی جگہ  آپ نے کفار کی قبریں ختم کرا دین

حدثنا مسدد قال حدثنا عبد الوارث عن أبي التياح عن أنس قال : قدم النبي صلى الله عليه و سلم المدينة فنزل أعلى المدينة في حي يقال لهم بنو عمرو بن عوف فأقام النبي صلى الله عليه و سلم فيهم أربع عشرة ليلة ثم أرسل إلى بني النجار فجاؤوا متقلدي السيوف كأني أنظر إلى النبي صلى الله عليه و سلم على راحلته وأبو بكر ردفه وملأ بني النجار حوله حتى ألقى بفناء أبي أيوب وكان يحب أن يصلي حيث أدركته الصلاة ويصلي في مرابض الغنم وأنه أمر ببناء المسجد فأرسل إلى ملأ من بني النجار فقال ( يا بني النجار ثامنوني بحائطكم هذا ) . قالو لا والله لا نطلب ثمنه إلا إلى الله فقال أنس فكان فيه ما أقول لكم قبور المشركين وفيه خرب وفيه نخل فأمر النبي صلى الله عليه و سلم بقبور المشركين فنشبت ثم بالخرب فسويت وبالنخل فقطع فصفوا النخل قبلة المسجد وجعلوا عضادتيه الحجارة وجعلوا ينقلون الصخر وهم يرتجزون والنبي صلى الله عليه و سلم معهم وهو يقول اللهم لا خير إلا خير الآخرة * فاغفر للأنصار والمهاجرة

صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ نبی نے حکم دیا کہ مشرکوں کی قبریں اکھاڑ دی جائیں

معلوم ہوا کہ عذاب ان ارضی قبروں میں ہوتا تو ایسا نہ کیا جاتا

ان هذه القبور

ارشد کمال المسند ص ١٣٣ پر لکھتے ہیں

arshd-133

روایت کے لفظ هذہ سے یہ دلیل لیتے ہیں کہ یہ قبریں دنیاوی تھیں لیکن هذا کے لئے یہ بھی لکھتے ہیں

arshd-39

نام نہاد غیر مقلد عالم حافظ ابو یحی نور پوری، مضمون حدیث عود روح اور ڈاکٹر عثمانی کی جہالتیں میں لکھتے ہیں

اہل فن اورنقاد محدثین میں سے کسی ایک نے بھی اس حدیث کو نا قابل اعتبار قرار نہیں دیا…. کئی ایک محدثین نے اس کے صحیح ہونے کی سراہت بھی کر دی ہے ، جیسا کہ

پھر موصوف ایک لسٹ دیتے ہیں

ابن مندہ  (المتوفی ٣٩٥ ھ) ، حاکم نیشا پوری (المتوفی ٤٠٥ ھ)، ابو نعیم، احمد بن عبدالله اصبہانی (المتوفی ٤٣٠ ھ)،

البیہقی (المتوفی ٤٥٨ ھ)، منذری (المتوفی ٦٥٦ ھ)، ابن تیمیہ (المتوفی ٧٢٨ ھ )، ابن قیّم (المتوفی ٧٥١ ھ) ، ہیثھمی (المتوفی ٨٠٧ ھ)

 موصوف نے ابن حبان  (المتوفی ٣٥٤ ھ) کا حوالہ گول کر دیا جو اس روایت کو رد کرتے ہیں

ابن حبان نے کہا تھا کہ زاذان کا سماع البراء بن عازب رضي الله تعالى عنه سے ثابت نہیں

وزاذان لم يسمعه من البراء

اور زاذان نے البراء سے نہیں سنا

حاکم مستدرک میں اس اعتراض پر کہتے ہیں

لإجماع الأئمة الثقات على روايته عن يونس بن خباب عن المنهال بن عمرو عن زاذان أنه سمع البراء

ائمہ ثقات کا اجماع ہے کہ زاذان نےالبراء سے سنا ہے یونس بن خباب عن المنھال بن عمرو کی سند سے

لیکن يونس بن خباب خود ہی شدید مجروح راوی ہے یہ کہتا تھا کہ عثمان رضی الله تعالی عنہ نے نبی صلی الله علیہ وسلم کی بیٹی کا قتل کیا. ایسے غالی شیعہ راویوں سے عقیدہ لیا  جائے گا؟  ابن حبان کہتے ہیں

لا يحل الرواية عنه لانه كان داعية إلى مذهبه

اس سے روایت کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ اپنے مذھب کی طرف دعوت دیتا ہے

ابن القيسراني (المتوفى: 507هـ) بھی اس  روایت کو کتاب  ذخيرة الحفاظ (من الكامل لابن عدي) میں رد کرتے ہیں

وَأوردهُ فِي ذكر يُونُس بن خباب: عَن الْمنْهَال بن عَمْرو، عَن زَاذَان، عَن الْبَراء، (عَن رَسُول الله – صلى الله عَلَيْهِ وَسلم -: حَدِيث الْقَبْر) ، وسياقه قَالَ: خرجنَا مَعَ رَسُول الله – صلى الله عَلَيْهِ وَسلم – فِي جَنَازَة رجل من الْأَنْصَار فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْر، وَلما يلْحد فَجَلَسَ رَسُول الله – صلى الله عَلَيْهِ وَسلم – قبالة الْقبْلَة فَجَلَسْنَا حوله كَأَن على رؤوسنا الطير فَنَكس رَسُول الله – صلى الله عَلَيْهِ وَسلم – رَأسه سَاعَة، ثمَّ رَفعه فَقَالَ: أعوذ بِاللَّه من عَذَاب الْقَبْر ثَلَاثًا، ثمَّ قَالَ: إِن الْمُؤمن إِذا كَانَ فِي قبل الْآخِرَة وَانْقِطَاع من الدُّنْيَا نزل الله مَلَائِكَة فَذكره بِطُولِهِ. وَيُونُس هَذَا ضَعِيف.

ابن قیّم نے تعليقات على سنن أبي داود – تهذيب سنن أبي داود وإيضاح علله ومشكلاته كتاب ألسنة میں اسکا رد کیا کہ

وَأَمَّا الْعِلَّة الثَّالِثَة : وَهِيَ أَنَّ زَاذَان لَمْ يَسْمَعهُ مِنْ الْبَرَاء ، فَجَوَابهَا : مِنْ وَجْهَيْنِ . أَحَدهمَا : أَنَّ أَبَا عَوَانَة الْإِسْفَرَايِينِي رَوَاهُ فِي صَحِيحه ، وَصَرَّحَ فِيهِ بِسَمَاعِ زَاذَان لَهُ مِنْ الْبَرَاء فَقَالَ  سَمِعْت الْبَرَاء بْن عَازِب  فَذَكَرَه

ابو عوانہ  الْإِسْفَرَايِينِي نے صحیح میں صراحت کی ہے کہ زاذان نے البراء سے سنا ہے

الذہبی کہتے ہیں ابو عوانہ  ، صَاحِبُ “المُسْنَدِ الصَّحِيْحِ”؛ الَّذِي خَرَّجَهُ عَلَى “صَحِيْحِ مُسْلِمٍ”، وَزَادَ أَحَادِيْثَ قَلِيْلَةً فِي أَوَاخِرِ الأَبْوَابِ.

ابو عوانہ  ، صَاحِبُ “المُسْنَدِ الصَّحِيْحِ ہیں جس میں انہوں نے صحیح مسلم کی روایات کی تخریج کی ہے اور کچھ احادیث کا اضافہ کیا ہے آخری ابواب میں.  یہ کتاب مستخرج أبي عوانة کے نام سے دار المعرفة – بيروت

سے چھپی ہے لیکن اس میں زاذان کی البراء سے کوئی روایت نقل نہیں ہوئی لہذا اس سماع کی تصدیق نہیں ھو سکی. اس کے علاوہ دیگر کتب میں زاذان نے سمعت بولا ہے لیکن وہ اسناد ضعیف  ہیں جن میں يونس بن خباب ہے. جن پر شدید جرح کتابوں میں موجود ہے. اس کے علاوہ جن اسناد میں سماع کا اشارہ ہے  ان میں عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ سے روایت بیان ہوئی ہے

ابن حبان اس کو بھی رد کرتے ہیں کہتے ہیں

خبر الأعمش عن المنهال بن عمرو عن زاذان عن البراء سمعه الأعمش عن الحسن بن عمارة عن المنهال بن عمرو

الأعمش کی خبر ، المنهال بن عمرو عن زاذان عن البراء سے اصل میں الأعمش عن الحسن بن عمارة عن المنهال بن عمرو سے ہے

جامع التحصیل میں صلاح الدين أبو سعيد خليل بن كيكلدي بن عبد الله الدمشقي العلائي (المتوفى: 761هـ) لکھتے ہیں کہ

قلت وهذا لا يتم إلا بعد ثبوت أن من دلس من التابعين لم يكن يدلس إلا عن ثقة وفيه عسر وهذا الأعمش من التابعين وتراه دلس عن الحسن بن عمارة وهو يعرف ضعفه

 یہ بات کہ التابعين صرف  ثقه سے تدلیس کرتے تھے بلا ثبوت ہے اس میں مشکل یہ ہے یہ  الأعمش ہے جو   التابعين میں سے ہے لیکن الحسن بن عمارة  سے جو ضعیف ہے تدلیس کرتا ہے

الاعمش کی تدلیس کو رد کرنے کے لئے ابو داوود کی سند پیش کی جاتی ہے

حدَّثنا هنَّادُ بنُ السَّرىّ، حدَّثنا عبدُ الله بنُ نُمير، حدَّثنا الأعمشُ، حدَّثنا المِنهالُ، عن أبي عُمَرَ زاذان، سمعتُ البراء، عن النبي-صلى الله عليه وسلم- فذكر نحوه

اس سے پہلے جس روایت کو ابو داوود کہتے ہیں ایسا ہی روایت کیا ہے اس کے متن میں ہے یعنی جس سند کو الأعمش کے سماع کی دلیل میں پیش کرتے ہیں اس میں ہے

ثمّ يقيَّضُ له أعمى أبكَمُ معه مِرْزَبَّة من حديدٍ، لو ضُرِبَ بها جَبَلٌ لصار تراباً”، قال: “فيضرِبُه بها ضربةً يسمعُها ما بين المشرق والمغرب إلا الثقلين، فيصيرُ تراباً، ثم تُعادُ فيه الرُّوحُ

کہ (پہلے عود روح کے بعد) ایک اندھا مقرر کر دیا جاتا ہے جو گرز سے مارتا ہے اگر پہاڑ پر مارے تو مٹی ھو جائے … پھر دوبارہ عود روح ہوتا ہے

 اس اضافہ کو عود روح کے قائلین نے  درست مانا ہے مثلا البیہقی،  ابن تیمیہ نے دو جگہ اس کو فتوی میں بیان کیا ہے اور البانی صاحب نے متعدد کہا صحیح کہا ہے لیکن ارشد کمال نے کمال کیا کہ لکھتے ہیں

arshad-152-again

اب الأعمشُ کا سماع ثابت نہ رہا؟  دراصل یہ عقیدہ یہ بناتے ہیں کہ عود روح ایک دفعہ ہوتا ہے لیکن روایت میں دو دفعہ بیان ہوا ہے. اصل میں عذاب اب شروع ہوا ہے لہذا عود روح اب ہوتا رہے گا.

 ابن قیم نے  اس روایت کو ثابت کرنے کے لئے یہ بھی کہا

أَنَّ اِبْن مَنْدَهْ رَوَاهُ عَنْ الْأَصَمّ حَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْر عِيسَى بْن الْمُسَيِّب عَنْ عَدِيّ بْن ثَابِت عَنْ الْبَرَاء – فَذَكَرَهُ .فَهَذَا عَدِيّ بْن ثَابِت قَدْ تَابَعَ زَاذَان

عود روح والی روایت کی ایک اور سند بھی ہے جس میں عيسى بن المسيب  ہے.  عيسى بن المسيب  کی اور روایت کے لئے البانی  سلسلہ الاحادیث الضعیفہ  میں کہتے ہیں

و هذا سند ضعيف من أجل عيسى بن المسيب ، ضعفه ابن معين ، و أبو زرعة و النسائي و الدارقطني و

غيرهم كما في ” الميزان ” للذهبي ، ثم ساق له هذا الحديث و قال العقيلي : ” و لا يتابعه إلا من هو مثله أو دونه ” .

یہ  روایت اس سند سے ضعیف ہے ، عيسى بن المسيب کی وجہ سے اس کو ابن معين ، و أبو زرعة و النسائي و الدارقطني اور دیگر نے ضعیف کہا ہے جیسا کہ ذھبی کی الميزان میں ہے اور العقيلي کہتے ہیں اس کی متابعت اسی کے جسے کرتے ہیں

عيسى بن المسيب کی روایت ضعیف ہوتی ہے لیکن جسے ہی یہ عود روح والی روایت بیان کرتا ہے ساری جرح کالعدم ھو جاتی ہے. یا للعجب

ابن حزم  (المتوفی ٤٥٦ ھ)  جو عود روح والی روایت کو رد کرتے ہیں ان کے لئے  نورپوری لکھتے ہیں کہ

ابن حزم اگرچہ مجتہد اور فقہ تھے لیکن بہر الحال وہ متاخر تھے، جرح و تعدیل میں ان کی حیثیت صرف ایک ناقل کی سی ہے

 اب موصوف خود باتیں کہ ان کی لسٹ میں سے متقدمین کون ہیں. سارے متاخرین ہی ہیں. تیسری صدی کے اختتام کو  اہل علم نے متقدمین اور متاخرین میں حد فاصل قرار دیا ہے دیکھئے مقدمہ سیر الاعلام النبلاء ج ١ ص ١٢٠ ،١٢١ بقلم بشار عواد المعروف. جتنے لوگ انہوں نے گنوائے ہیں سب متاخرین ہیں

ابن حزم ٣٨٤ ھ میں پیدا ہوئے اور حاکم نیشاپوری کے ہم عصر ہیں ہے اس روایت کے سخت خلاف ہیں لہذا اس روایت کو رد شروع سے ہی کیا جاتا رہا

قاری خلیل الرحمان جاوید  اپنی کتاب پہلا زینہ میں زاذان کی عود روح والی روایت پر لکھتے ہیں

pehlazh-48

قاری خلیل الرحمان جاوید  اپنی کتاب پہلا زینہ میں صفحہ ٧١ پر یہ بھی لکھتے ہیں

pehlazh-71

ابو ہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے مروی عذاب قبر سے متعلق کچھ متضاد روایات پیش کی جاتی ہیں ان میں سے ایک سنن ابن ماجہ، مسند احمد  میں بیان ہوئی ہے

زبیر علی زئی  توضح الاحکام میں اس کوعود روح کی دلیل پر پیش کرتے ہیں

tozeh-555

مسند احمد  کی روایت  ہے

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: ” إِنَّ الْمَيِّتَ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ  الطَّيِّبَةُ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، اخْرُجِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ، وَرَيْحَانٍ، وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ “، قَالَ: ” فَلَا يَزَالُ يُقَالُ ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيُسْتَفْتَحُ لَهَا، فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ، فَيَقُولُونَ: مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، ادْخُلِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ، وَرَيْحَانٍ، وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ ” قَالَ: ” فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السَّوْءُ، قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، اخْرُجِي ذَمِيمَةً، وأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ، وَآخَرَ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٍ، فَلَا تَزَالُ تَخْرُجُ، ثُمَّ يُعْرَجَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيُسْتَفْتَحُ لَهَا، فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ، فَيُقَالُ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، ارْجِعِي ذَمِيمَةً، فَإِنَّهُ لَا يُفْتَحُ لَكِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَتُرْسَلُ مِنَ السَّمَاءِ، ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ، فَيُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، فَيُقَالُ لَهُ: مِثْلُ مَا قِيلَ لَهُ فِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ، وَيُجْلَسُ الرَّجُلُ السَّوْءُ

اس روایت کا بقیہ حصہ ابن مآجہ بَابُ ذِكْرِ الْقَبْرِ وَالْبِلَى  میں بیان ہوا ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ

إِنَّ الْمَيِّتَ يَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ، فَيُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فِي قَبْرِهِ، غَيْرَ فَزِعٍ، وَلَا مَشْعُوفٍ، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: فِيمَ كُنْتَ؟ فَيَقُولُ: كُنْتُ فِي الْإِسْلَامِ، فَيُقَالُ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَصَدَّقْنَاهُ، فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ اللَّهَ؟ فَيَقُولُ: مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَرَى اللَّهَ، فَيُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَا وَقَاكَ اللَّهُ، ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ الْجَنَّةِ، فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا، وَمَا فِيهَا، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا مَقْعَدُكَ، وَيُقَالُ لَهُ: عَلَى الْيَقِينِ كُنْتَ، وَعَلَيْهِ مُتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَيُجْلَسُ الرَّجُلُ السُّوءُ فِي قَبْرِهِ، فَزِعًا مَشْعُوفًا، فَيُقَالُ لَهُ: فِيمَ كُنْتَ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، فَيُقَالُ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ؟ فَيَقُولُ: سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ قَوْلًا، فَقُلْتُهُ، فَيُفْرَجُ لَهُ قِبَلَ الْجَنَّةِ، فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَا صَرَفَ اللَّهُ عَنْكَ، ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا، يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا مَقْعَدُكَ، عَلَى الشَّكِّ كُنْتَ، وَعَلَيْهِ مُتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

اس کا ترجمہ ارشد کمال المسند فی عذاب القبر میں کرتے ہیں

arshad-taseer-ila-qbr

یہ  دو روایات ہیں اور ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، کی سند سے آ رہی ہے

 مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ الْقُرَشِيّ العامري اور ابن أبي ذئب ثقه  ہیں لیکن  ابن أبي ذئب یعنی محمَّد ابن عبد الرحمن بن المغيرة بن الحارث کے لئے احمد کہتے ہیں ( سوالات ابی داود، تہذیب الکمال ج ٢٥ ص ٦٣٠

 إلا أن مالكًا أشد تنقية للرجال منه، ابن أبي ذئب لا يبالي عمن يحدث

بے شک امام مالک ان سے زیادہ رجال کو پرکھتے تھے جبکہ  ابن أبي ذئب اس کا خیال نہیں رکھتے کہ کس سے روایت کر رہے ہیں

  اس ر وایت کا متن  مبہم اور منکر ہے

اس روایت میں ہے کہ مومن کی

حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.

روح اوپر لے جائی جاتی ہے حتی کہ اس آسمان پر جا پہنچتی ہے جس پر الله عَزَّ وَجَلَّ ہے

قرآن کہتا ہے کہ الله عرش پر ہے اور راوی کہہ رہے ہیں کہ اللّہ تعالی کسی آسمان پر ہے

 زبان و ادب میں  اللہ کو آسمان والا کہا جاتا ہے

  صحیح مسلم کی روایت ہے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈى سے پوچھا تھا كہ : اللہ کہاں ہے ؟ تو اس نے کہا : آسمان میں ، پھر آپ نے فرمایا : میں کون ہوں ؟ تو اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اسے آزاد کردو ، یہ ایمان والی ہے

قرآن کہتا ہے

الرحمن علی العرش الستوی   طٰہٰ :۵

رحمن عرش پر مستوی ہوا۔

سوره الحدید میں ہے
هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَاء وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں‌پیدا کیا ، پھر عرش  پر متمکن ہو گیا ۔ وہ اسے بھی جانتا ہے جو کچھ زمین میں‌داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس میں سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمانوں سے اترتا ہے اورجو کچھ اس میں‌ چڑھتاہے ، اور وہ تمہارے ساتھ ہے خواہ تم کہیں بھی ہو ۔ اور جو کچھ بھی تم کیا کرتے ہواسے وہ دیکھتا ہوتا ہے سورہ الحدید

بخاری میں ہے کہ رسول الل صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

(( اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ کِتَابًا… فَھُوَ مَکْتُوْبٌ عِنْدَہُ فَوْقَ الْعَرْشِ )) [بخاری،کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالٰی : { بل ھو قرآن مجید ¡ فی لوح محفوظ} (۷۵۵۴)]

’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب لکھی ہے … جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے۔

لیکن اس روایت  زیر بحث میں روح کو خاص اس آسمان پر لے جایا جا رہا ہے جس پر الله ہے  جو ایک غلط عقیدہ ہے

دوم  کآفر کی روح کے لئے کہا جاتا ہے

فَإِنَّهُ لَا يُفْتَحُ لَكِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَتُرْسَلُ مِنَ السَّمَاءِ، ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ

بے شک آسمان کے دروازے نہ کھلیں گے پس اس کو آسمان سے چھوڑا جاتا ہے پھر وہ روح قبر میں پہنچتی ہے

لیکن راوی واپس نیک بندے کے بارے میں بتانے لگتا ہے کہ قبر میں اسکو بٹھایا جاتا ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اب واپس آنے والی کافر کی روح کو بٹھایا جائے اور سوال کیا جائے  الٹا مومن کی روح سے سوال جواب ہونے لگتا ہے

اس روایت سے عود روح بھی ثابت نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ اس کو پیش نہیں کیا جاتا کیونکہ اس میں روح کو جسد میں ڈالنے کے الفاظ نہیں جو زاذان بیان کرتا ہے اور نزاع اسی بات پر ہے لہذا یہ دلیل بھی نہیں بنتی

Comments are closed.